Sūra 99 · 8v
Chapter 998 verses

Az-Zalzalah

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
الزلزلة
الزلزال

سورہ الزّلزال

یہ سُورہ مدینہ میں نازل ہوئی اس میں ۸ آیات ہیں۔

سورہ "زلزلہ" کے مطالب اور فضیلت

اِس بارے میں کہ یہ سُورہ مکہ میں نازل ہوا یا مدینہ میں، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ بہت سے اسے مدنی سمجھتے ہیں جب کہ بعض کا نظریہ یہ ہے کہ یہ مکّہ میں نازل ہوا ہے۔ اس کی آیات کا لب و لہجہ جو "معاد" اور "قیامت کی شرائط" کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں، مکّی سورتوں سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے، لیکن ایک حدیث میں آیا ہے کہ جس وقت یہ سُورہ نازل ہوا تو "ابو سعید خدری" نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے آیہ فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ۔۔۔ کے بارے میں سوال کیا، اور ہم جانتے ہیں کہ "ابو سعید" مدینہ میں مسلمانوں سے ملحق ہوئے تھے۔ (بحوالہ: "رُوح المعانی" جلد ۲۰، ص ۲۰۸)۔ لیکن اس سُورہ کا مکّی یا مدنی ہونا اس کے مفاہیم اور تفسیر پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ بہرحال، یہ سورہ خصوصیت کے ساتھ تین محوروں کے گرد گردش کرتا ہے۔ پہلے "الشراط الساعة" اور قیامت کے وقوع کی نشانیوں سے بحث کرتا ہے۔ اور اس کے بعد انسان کے تمام اعمال کے بارے میں زمین کی گواہی کی گفتگو ہے۔ اور تیسرے حصہ میں لوگوں کی دو گروہوں "نیکو کار" و "بدکار" میں تقسیم، اور ہر شخص کے اپنے اعمال کا نتیجہ پانے کی بات ہے۔ اس سورہ کی فضیلت میں اسلامی روایات میں اہم تعبیریں آئی ہیں۔ منجملہ ایک حدیث میں پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیا ہے: "من قراٴھا فکانما قراٴ البقرة و اعطی من الاجر کمن قراٴ ربع القراٰن: "جو شخص اس کی تلاوت کرے گویا اُس نے سُورہ بقرہ کی قرأت، اور اس کا اجز و ثواب اس شخص کے برابر ہے جس نے قرآن کے چوتھے حصہ کی قرأت کی ہو۔ (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد۱۰، ص ۵۲۴)۔ اور ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے کہ آپؑ نے فرمایا: سُورہٴ "إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ" کی تلاوت کرنے سے ہرگز خستہ نہ ہونا، کیونکہ جو شخص اس کو نافلہ نمازوں میں پڑھے گا وہ ہرگز زلزلہ میں گرفتار نہ ہو گا اور نہ ہی اس کی وجہ سے مرے گا۔ اور مَرتے دم تک صاعقہ اور آفاتِ دُنیا میں سے کسی آفت میں گرفتار نہ ہو گا۔ (بحوالہ: "اصول کافی" (مطابق نقل نور الثقلین، جلد ۵، ص ۳۴۷)۔

1
99:1
إِذَا زُلۡزِلَتِ ٱلۡأَرۡضُ زِلۡزَالَهَا
جس وقت زمین شدت کے ساتھ لرزنے لگے گی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
99:2
وَأَخۡرَجَتِ ٱلۡأَرۡضُ أَثۡقَالَهَا
اور زمین اپنے سنگین بوجھ کو باہر نکال کر رکھ دے گی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
99:3
وَقَالَ ٱلۡإِنسَٰنُ مَا لَهَا
اور انسان کہے گا کہ زمین کو کیا ہو گیا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
99:4
يَوۡمَئِذٖ تُحَدِّثُ أَخۡبَارَهَا
اس دن زمین اپنی تمام خبروں کو بیان کر دے گی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
99:5
بِأَنَّ رَبَّكَ أَوۡحَىٰ لَهَا
کیونکہ تیرے پروردگار نے اسے وحی کی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
99:6
يَوۡمَئِذٖ يَصۡدُرُ ٱلنَّاسُ أَشۡتَاتٗا لِّيُرَوۡاْ أَعۡمَٰلَهُمۡ
اس دن لوگ مختلف گروہوں کی صورت میں قبروں سے نکلیں گے، تاکہ ان کے اعمال انہیں دکھائے جائیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
99:7
فَمَن يَعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرٗا يَرَهُۥ
پس جس شخص نے ایک ذرہ برابر بھی اچھا کام انجام دیا ہو گاوہ اسے دیکھے گا۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

8
99:8
وَمَن يَعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٖ شَرّٗا يَرَهُۥ
اور جس نے ایک ذرہ برابر برا کام کیا ہو گا وہ اسے دیکھے گا۔

تفسیر جس دن انسان اپنے تمام اعمال دیکھے گا

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

جس طرح سورہ کے مطالب کے بیان میں اشارہ ہوا ہے یہ سورہ اس جہان کے اختتام اور قیامت کے شروع کے بعض ہولناک اور وحشت ناک حوادث کے بیان کے ساتھ شروع ہوا ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: "جس وقت زمین شِدّت کے ساتھ ہلنے لگے گی۔" (إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا)۔ (تشریحی نوٹ: "اذا" یہاں شرطیہ ہے، اور اس کے بارے میں کہ جزائے شرط کیا ہے کئی احتمال دئے گئے ہیں، بعض اس کی جزا "یومئذ تحدث اخبارھا" کو سمجھتے ہیں، بعض "یومئذ یصدر الناس اشتاتا" کو، اور بعض نے جزا کو محذوف جانا ہے۔ اس طرح کہ لوگ یہ سوال کرتے تھے کہ متی الساعة (قیامت کب واقع گی) تو جواب میں فرمایا: جب وہ عظیم زلزلہ آئے گا، یعنی اس وقت قیامت واقع ہو گی)۔ اور اس طرح زیر و زبر ہو گی کہ "وہ سارے سنگین بوجھ، جو اس کے اندر ہیں، باہر نکال کر رکھ دے گی۔" (وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا)۔ "زلزالھا" (اس کا زلزلہ) کی تعبیر یا تو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس دن سارا کرہٴ زمین لرزنے لگے گا۔ (عام زلزلوں کے برخلاف جو سب کے سب کسی خاص موضع یا علاقہ میں ہوتے ہیں)۔ اور زلزلہٴ معہود یعنی زلزلہٴ قیامت کی طرف اشارہ ہے۔ (۱۔ تشریحی نوٹ: پہلی صُورت میں اضافت عمومی معنی رکھتی ہے اور دوسری صورت میں عہد کے معنی دیتی ہے)۔ (٢۔ تشریحی نوٹ: "زِلزال"، "زا" کی زیر کے ساتھ مصدری معنی دیتا ہے اور زَلزال (زا کی زبر کے ساتھ) اسم مصدر کے معنی دیتا ہے اور یہ وضع عام طور پر ان افعال میں آتی ہے جو مضاعف کی صورت میں استعمال ہوتے ہیں، مثلاً "صلصال" اور "وسواس")۔ اس بارے میں کہ "اثقال" (سنگین بوجھ) سے کیا مُراد ہے، مفسّرین نے متعدد تفاسیر بیان کی ہیں، بعض نے تو یہ کہا ہے کہ اس سے مُراد انسان ہیں جو قیامت کے زلزلہ سے قبروں کے اندر سے باہر اُچھل پڑیں گے، جیسا کہ سُورہٴ انشقاق کی آیہ۴ میں آیا ہے۔ ”وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ" اور بعض نے یہ کہا ہے کہ وہ اپنے اندرونی خزانوں کو باہر پھینک دے گی۔ اور بےخبر دُنیا پرستوں کے لئے حسرت کا سبب بنے گی۔ (تشریحی نوٹ: "اثقال" جمع ہے "ثقل" (بروزن فکر) کی جو "بار" کے معنی میں ہے، اور بعض نے اُسے "ثقل" (بروزن عمل) کی جمع سمجھا ہے جو وسائلِ خانہ یا وسائل مسافر کے معنی میں ہے، لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب ہے)۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد زمین کے اندر بہہنے والے بھاری مواد کو باہر پھینکنا ہے جن کی کچھ مقدار عام طور پر آتش فشانی اور زلزلوں کے وقت باہر نکلتی ہے۔ عالم کے اختتام پر جو کچھ زمین کے اندر ہے وہ اس زلزلہ عظیم کے بعد باہر آ جائے گا۔ پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے، اگرچہ ان تفاسیر کے درمیان جمع بھی بعید نہیں ہے۔ بہرحال، اس دن انسان اس اَن دیکھے منظر کو دیکھ کر سخت متوحش ہو گا، اور کہے گا: "یہ کیا ہو گیا ہے کہ زمین اس طرح لرز رہی ہے، اور جو کچھ اس کے اندر تھا اُسے باہر پھینک دیا ہے۔" (وَقَالَ الْإِنسَانُ مَا لَهَا)۔ اگرچہ بعض نے یہاں انسان کی کافر انسانوں کے ساتھ تفسیر کی ہے، جو مسئلہ معاد و قیامت میں شک کرتے تھے، لیکن ظاہر یہ ہے کہ انسان یہاں ایک وسیع معنی رکھتا ہے جو شامل ہے، کیونکہ زمین کے اوضاع و احوال سے تعجّب اس دن کفّار کے ساتھ مخصوص نہیں ہو گا۔ کیا یہ تعجّب، اور اس سے پیدا ہونے والا سوال "نفخہٴ اولیٰ" سے مربوط ہے یا "نفخہٴ دوم" سے،؟ ظاہر یہ ہے کہ یہ وہی پہلا نفخہ ہے جو اس عالم کے اختتام کا نفخہ ہے۔ کیونکہ یہ زلزلہ عظیم اختتامِ جہان پر آئے گا۔ یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ اس سے مراد نفخہ قیامت اور مردوں کے زندہ ہونے اور ان کے زمین سے باہر پھینک دینے کا نفخہ ہے کیونکہ بعد والی آیات بھی سب کی سب نفخہ دوم کے ساتھ مربوط ہیں۔ لیکن چونکہ قرآن کی آیات میں ان دونوں نفخوں کے حوادث بارھا اکھٹے ذکر ہوئے ہیں، لہٰذا اختتام جہاں پر وحشت ناک زلزلہ کے بیان کی طرف توجہ کرتے ہوئے پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے، اور اس صورت میں کے "اثقال" سے مُراد معدنیات، خزانے اور اس کے اندر موجود پگھلے ہوئے مواد ہیں۔ اور اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ "زمین اس دن اپنی ساری خبریں بیان کرے گی" (يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا)۔ جو خُوبیاں اور بُرائیاں، اور خیر و شر کے اعمال رُوئے زمین پر واقع ہوئے ہیں، وہ ان سب کو ظاہر کر دے گی۔ اور اس دن انسان کے اعمال کے گواہوں میں سے اہم ترین گواہ یہی زمین ہو گی جس پر ہم اپنے اعمال انجام دیتے ہیں۔ اور جو ہماری شاہد و ناظر ہے۔ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیا ہے کہ آپؑ نے فرمایا: "اتدرون ما اخبارھا"؟: "کیا تم جانتے ہو کہ زمین کے اخبار سے یہاں کیا مُراد ہے"؟ "قالوا: اللہ و رسولہ اعلم": "انہوں نے کہا: خدا اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں۔" آپؐ نے فرمایا: "اخبارھا ان تشھد علی کل عبد و امّة بما عملوا علی ظھرھا، تقول عمل کذا و کذا، یوم کذا، فھٰذا اخبارھا": "زمین کے خبر دینے والے سے مُراد یہ ہے کہ زمین ہر مرد اور عورت کے اعمال کی، جو انہوں نے رُوئے زمین پر انجام دیے ہیں، خبر دے گی، وہ کہے گی کہ فلاں شخص نے فلاں دن فلاں کام کیا ہے، یہ ہے زمین کا خبر دینا۔" (بحوالہ: "نور الثقلین" جلد۵، ص ۶۴۹)۔ ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے آیا ہے: "حافظوا علی الوضوء و خیر اعمالکم الصلوٰة فتحفظوا من الارض فانّھا امّکم، ولیس فیھا احد یعمل خیراً او شراً الا و ھی مخبرة بہ۔" "وضوء اور اپنے اعمال میں سے بہترین عمل، نماز کی حفاظت کرو، اور زمین کی طرف دیکھتے رہو، کیونکہ وہ تمہاری ماں ہے۔ کوئی انسان بھی اچھا یا بُرا کام انجام نہیں دیتا مگر یہ کہ زمین اس کی خبر دیتی ہے۔" (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ۱، ص ۵۲۶)۔ ابو سعید خدری سے نقل ہوا ہے کہ وہ کہا کرتے تھے: جب کبھی تم بیابان میں ہو، تو بلند آواز کے ساتھ اذان دو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: "لا یسمعہ جنّ ولا انس ولا حجر الّایشھد لہ" "کوئی جنّ و انس، اور پتھر کو کوئی ٹکڑا اُسے نہیں سُنتا، مگر یہ کہ (قیامت میں) اس کے لیے گواہی دے گا۔" (بحوالہ: وہی مدرک)۔ کیا واقعاً خدا کے حکم سے زمین کی زبان کُھل جائے گی اور وہ بات کرے گی؟ یا اس سے مُراد رُوئے زمین پر انسان کے اعمال کے آثار کا ظاہر ہونا ہے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ انسان جو عمل بھی انجام دیتا ہے، وہ خواہ مخواہ اس کے اطراف میں کچھ آثار چھوڑتا ہے۔ چاہے وہ آج ہمارے لیے محسوس نہ ہوں۔ ٹھیک ایک دوست یا دشمن کی انگلیوں کے انہیں آثار کے مانند، جو دروازے کے قبضہ پر رہ جاتے ہیں، اور اس دن یہ سب کے سب آثار ظاہر ہو جائیں گے، اور زمین کا بات کرنا اس عظیم ظہور کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ جیسا کہ ہم کسی خواب آلود شخص سے کہتے ہیں، کہ تیری آنکھیں بتلا رہی ہیں کہ تو کل رات سویا نہیں ہے۔ یعنی بےخوابی کے آثار اس میں نمایاں ہیں۔ بہرحال، یہ کوئی غیر مانوس بات نہیں ہے، کیونکہ موجودہ زمانے میں انسان کے علم و دانش کی پیش رفت کی وجہ سے ایسے آلات و وسائل اختراع ہو چکے ہیں جو ہر جگہ اور ہر لمحہ انسان کی آواز کو گرفت میں لے سکتے ہیں، یا انسان اور اس کے اعمال و افعال کی تصویریں کھینچ سکتے ہیں، اور ایک مسلّم سند کے عنوان سے اُسے عدالت میں پیش کر سکتے ہیں، اس طرح کہ انکار کی کوئی گنجائش ہی باقی نہ رہے۔ اگر لوگ گزشتہ زمانہ میں زمین کی گواہی سے تعجّب کرتے تھے، تو موجودہ زمانہ میں ایک پتلی سی ریل (فیتہ) یا (ریکارڈ) ضبط کے کرنے کی مشین جو ایک بٹن کی صُورت میں لباس سے ٹکی ہوئی ہوتی ہے، بہت سے مسائل کو بیان کر سکتی ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ایک حدیث میں علی علیہ السلام سے آیا ہے کہ آ پؑ نے فرمایا: "صلوا المساجد فی بقاع مختلفة، فان کل بقعة تشھد للمصلی علیھا یوم القیامة" "مساجد کے مختلف حصوں میں نماز پڑھا کرو، کیونکہ زمین کا ہر ٹکڑا، اس شخص کے لئے جو اس پر نماز پڑھتا ہے، گواہی دے گا۔ (بحوالہ: "لئالی الاخبار" جلد ۵، ص ۷۹، چاپ جدید)۔ ایک اور دوسری حدیث میں آیا ہے کہ امیر المومنین علی علیہ السلام جب بیت المال تقسیم فرماتے تھے، اور وہ خالی ہو جاتا تھا تو وہاں دو رکعت نماز بجا لاتے اور فرماتے: "اشہدی انی ملاٴتک بحق و فرغتک بحق" (قیامت کے دن) "گواہی دینا کہ میں نے تجھے حق کے ساتھ پُر کیا تھا اور حق کے ساتھ ہی خالی کیا ہے۔" (بحوالہ: "لئالی الاخبار" جلد ۵، ص ۷۹، چاپ جدید)۔ بعد والی آیت میں مزید فرماتا ہے: یہ اس خبر (نباء) پر ہے کہ تیرے پروردگار نے زمین کی وحی کی ہے۔" (بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَى لَهَا)۔ اور زمین اس فرمان کے اجزاء میں کوتاہی کرے گی، "اوحٰی" کی تعبیر یہاں اس بناء پر ہے کہ اس قسم کی اسرار آمیز گفتگو کرنا زمین کی طبیعت کے خلاف ہے۔ اور یہ چیز ایک وحی الٰہی کے طریقے کے سوا ممکن نہیں ہے۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ اس سے مُراد یہ ہے کہ وہ زمین کو وحی کرے گا کہ جو کچھ اس کے اندر ہے وہ باہر پھینک دے۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح اور مناسب نظر آتی ہے۔ اس کے بعد فرماتا ہے: "اس دن لوگ مختلف گروہوں کی صورت میں قبروں سے نکل کر عرصہٴ محشر میں وارد ہوں گے، تاکہ ان کے اعمال انہیں دکھائے جائیں۔ (يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتَاتًا لِّيُرَوْا أَعْمَالَهُمْ)۔ "اشتات"، "شت" (بروزن شط) کی جمع ہے، پراگندہ اور متفرق کے معنی میں ہے، یہ اختلاف و پراگندگی ممکن ہے اس بناء پر ہو کہ ہر مذہب والے الگ الگ عرصہٴ محشر میں وارد ہوں گے، یا زمین کے علاقوں میں سے ہر علاقے کے لوگ جدا جدا وارد ہوں گے، یا یہ ہے کہ ہر ایک گروہ تو ہشاش بشاش، شاد و خنداں، حسین و خوبصورت چہروں کے ساتھ آئے گا اور ایک گروہ تیوری چڑھائے تیرہ و تاریک چہروں کے ساتھ محشر میں وارد ہو گا۔ یا ہر اُمّت اپنے امام، رہبر اور پیشوا کے ساتھ ہو گی جیسا کہ سُورہ اسراء کی آیہ ۷۱ میں آیا ہے،: يَوْمَ نَدْعُواْ كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ": "اس دن ہم ہر گروہ کو اس کے امام و پیشوا کے ساتھ بلائیں گے۔ یا یہ ہے کہ مؤمنین، مؤمنین ساتھ، اور کفار، کفار کے ساتھ محشور ہوں گے۔ اِن تمام تفاسیر کے درمیان جمع بھی پورے طور پر ممکن ہے کیونکہ آیت کا مفہوم وسیع ہے۔ "یصدر"، "صدر" (بروزن صبر) کے مادّہ سے اُونٹوں کے پانی والی جگہ سے نکلنے کے معنی میں ہے، جو انبوہ کی صورت میں ہیجان میں آئے ہوئے باہر آتے ہیں۔ "ورود" کے برعکس جو پانی کی جگہ میں داخل ہونے کے معنی میں ہے۔ اور یہاں مختلف قوموں کے قبروں سے نکلنے اور حساب دینے کے لیے محشر میں آنے سے کنایہ ہے۔ یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ اس سے مُراد محشر سے نکل کر جنّت یا جہنم میں اپنی جگہ کی طرف چلنا ہے۔ پہلا معنی گزشتہ آیات کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ "لیروا اعمالھم" (تاکہ ان کے اعمال انہیں دکھائے جائیں) کے جملہ سے مراد اعمال کی جزا کا مشاہدہ ہے۔ یا نامہٴ اعمال کا مشاہدہ مراد ہے جس میں ہر نیک و بدعمل ثبت ہے۔ یا مشاہدہ باطنی مراد ہے جس کا معنی ان کے اعمال کی کیفیت کی معرفت و شناخت ہے۔ یا "تجسم اعمال" کی صُورت میں خُود اعمال کا مشاہدہ مراد ہے۔ آخری تفسیر ظاہر آیہ کے ساتھ سب سے زیادہ موافق ہے، اور یہ آیت مسئلہ تجسم اعمال پر روشن ترین آیات میں سے شمار ہوتی ہے کہ اس دن انسان کے اعمال مناسب صُورتوں میں مجسم ہو کر اس کے سامنے حاضر ہوں گے، اور ان کی ہم نشینی خوشی کا موجب یا رنج و بلا کا باعث ہو گی۔ اس کے بعد ان دونوں گروہوں مومن و کافر، نیکوکار و بدکار کے انجام کار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "پس جس شخص نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھے گا۔" (فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ)۔ اور جس شخص نے ذرہ برابر بُرا کام کیا ہو گا وہ اُسے دیکھے گا۔" (وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ)۔ یہاں بھی مختلف تفسیریں ذکر ہوئی ہیں، کہ کیا اعمال کی جزا کو دیکھے گا، یا نامہٴ اعمال کا مشاہدہ کرے گا، یا خود عمل کو۔ ان آیات کا ظاہر بھی قیامت کے دن "تجسم اعمال" اور خُود عمل کے مشاہدہ کے مسئلہ پر، نئے سرے سے ایک تاکید ہے، چاہے وہ عمل نیک ہو یا بُرا، یہاں تک کہ اگر ایک سوئی کے برابر بھی نیک یا بُرا کام ہو گا تو وہ بھی اپنے کرنے والے کے سامنے مجسّم ہو جائے گا، اور وہ اس کا مشاہدہ کرے گا۔ "مثقال" لغت میں بوجھ اور سنگینی کے معنی میں بھی آیا ہے، اور اس ترازو کے معنی میں بھی جس سے چیزوں کو تولا جاتا ہے، اور یہاں یہ پہلے معنی میں ہی ہے۔ "ذرة" کے لئے بھی لغت اور مفسرین کے کلمات میں مختلف تفسیرں ذکر ہوئی ہیں، کبھی تو چھوٹی چیونٹی کے معنی میں، اور کبھی اس گرد و غبار کے معنی میں جو زمین پر ہاتھ رکھ کر اُٹھانے کے بعد اس سے چپک جاتا ہے اور کبھی غبار کے ان چھوٹے چھوٹے ذرّات کے معنی میں تفسیر ہوئی ہے جو فضا میں معلق ہوتے ہیں اور جب سُورج کی شعاعیں کسی سوراخ سے تاریک کمرے میں پڑتی ہیں تو وہ ظاہر ہو جاتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں "ذرہ" کا "ایٹم" پر بھی اطلاق کرتے ہیں۔ اور ایٹم بم کو "القنبلة الذریة" کہتے ہیں۔ "ایٹم" اس قدر چھوٹا ہوتا ہے کہ نہ تو وہ عام آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے اور نہ ہی دقیق ترین خورد بینوں کے ذریعے قابل مشاہدہ ہے، اور صرف اس کے آثار کا ہی مشاہدہ کرتے ہیں، اور اس کا حجم اور وزن علمی حساب و کتاب کے ذریعے ہی ناپا تولا جاتا ہے، اور وہ اس قدر چھوٹا ہوتا ہے کہ سوئی کی ایک نوک پر لاکھوں کی تعداد میں سما جاتے ہیں۔ ذرّہ کا مفہوم چاہے جو بھی ہو یہاں مراد سب سے چھوٹا وزن ہے۔ بہرحال، یہ آیت ان آیات میں سے ہے جو آدمی کی پشت میں لرزہ پیدا کر دیتی ہیں، اور اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ اس دن حساب و کتاب حد سے زیادہ دقیق اور حساس ہو گا۔ اور قیامت میں ناپ تول کا ترازو اس قدر ظریف ہو گا، کہ وہ انسان کے چھوٹے سے چھوٹے اعمال کا وزن اور اس کا حساب کر لے گا۔

چند نکات ۱: قیامت کے حساب و کتاب میں دقت اور سخت گیری

نہ صرف اس سورہ کی آخری آیات سے، بلکہ قرآن کی مختلف آیات سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ قیامت میں اعمال کی حساب رسی میں حد سے زیادہ دقت اور موشگافیاں ہوں گی۔ سُورہٴ لقمان کی آیہ ۱۶ میں آیا ہے: يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ: "اے بیٹے! اگر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی (نیک یا بدعمل ہو گا) اور وہ پتھر کے اندر یا آسمان یا زمین کے کسی گوشہ میں چھپا ہوا ہو گا، تو خدا (قیامت میں) حساب رسی کے لیے اُسے لے آئے گا، بےشک خدا لطیف و خبیر ہے۔ "خردل" رائی کا دانہ، جو بہت ہی چھوٹا ہوتا ہے، اور وہ چھوٹے ہونے میں صرف ضرب المثل ہے۔ یہ تعبیریں اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ اس حساب رسی میں چھوٹے چھوٹے کاموں کا بھی محاسبہ ہو گا۔ ضمنی طور پر یہ آیات اس بات کی تنبیہ کرتی ہیں کہ نہ تو چھوٹے گناہوں کو کم اہمیت شمار کریں، اور نہ ہی چھوٹے نیک کاموں کو وہ چیز جس کا خدا حساب لے گا، چاہے کچھ بھی ہو کم اہمیت نہیں ہے۔ اس لیے بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں ہیں جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعض صحابہ تھوڑے مال کے خرچ کرنے کے سلسلہ میں بےاعتنا تھے، وہ یہ کہتے تھے کہ اجر و ثواب تو ان چیزوں پر دیا جاتا ہے جنہیں ہم دوست رکھتے ہیں، اور چھوٹی چھوٹی چیزیں ایسی نہیں ہوتیں جن سے ہمیں کچھ لگاؤ اور محبت ہو، اور اسی طرح سے وہ چھوٹے چھوٹے گناہوں کے سلسلہ میں بھی بےاعتنا تھے، لہٰذا یہ آیات نازل ہوئیں، اور انہیں چھوٹی اور کم خیرات کرنے کی بھی ترغیب دی، اور چھوٹے چھوٹے گناہ کرنے سے ڈرایا۔

۲۔ ایک سوال کا جواب

یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ ان آیات کے مطابق انسان قیامت میں اپنے سب اعمال، چاہے وُہ اچھے ہوں یا بُرے، چھوٹے ہوں یا بڑے، دیکھے گا۔ یہ معنی آیات "احباط" و "تکفیر" اور آیات "عفو" و "توبہ" کے ساتھ کیسے سازگار ہو سکتا ہے۔ کیونکہ آیات "احباط" تو یہ کہتی ہیں کہ بعض عمل مثلاً "کفر" انسان کی تمام نیکیوں کو ختم کر دیتا ہے۔ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ (زمر۔ ۶۵) اور آیات "تکفیر" کے مطابق بعض اوقات نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں۔ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّـيِّئَاتِ (ہود۔۱۱۴) اور عفو و توبہ کی آیات یہ کہتی ہیں کہ عفو الٰہی کے سائے میں۔ یا توبہ کرنے سے: گناہ محو ہو جاتے ہیں، یہ سارے مفہوم تمام نیک و بد اعمال کا مشاہدہ کرنے کے مسئلہ کے ساتھ کیسے مطابقت کرتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں ایک نکتہ کی طرف توجہ کرنا چاہئیے اور وہ یہ ہے کہ: وہ دو اصول جو اُوپر والی آیات میں بیان ہوئے ہیں۔ اور جو یہ کہتے ہیں کہ انسان اچھے اور بُرے کام کا ایک ایک ذرہ تک دیکھے گا، ایک قانون کلّی کی صورت میں ہے، اور ہم جانتے ہیں کہ ہر قانون میں کچھ مشتثنیات ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا آیات عفو و توبہ، اور احباط و تکفیر حقیقت میں اس قانونِ کلّی میں استثناء کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ "احباط" و "تکفیر" کے سلسلہ میں درحقیقت موازنہ اور ایک عجز و انکسار رونما ہوتا ہے، اور یہ ٹھیک مطالبات اور قرضوں کے مانند ہے، جن میں ایک دوسرے منہا ہو جاتے ہیں، جس وقت انسان اس موازنہ کا نتیجہ دیکھتا ہے تو حقیقت میں اُس نے اپنے تمام اچھے اور بُرے اعمال کو دیکھ لیا ہے۔ یہی بات "عفو" و "توبہ" میں بھی جاری ہے، کیونکہ عفو لیاقت و شائستگی کے بغیر صورت پذیر نہیں ہوتا، اور توبہ خود ایک نیک عمل ہے۔ بعض نے یہاں ایک اور جواب دیا ہے، جو صحیح نظر نہیں آتا، اور وہ یہ ہے کہ کافر اپنے اچھے اعمال کا نتیجہ اسی دنیا میں دیکھ لیں گے، جیسا کہ مومن اپنے بُرے اعمال کی سزا اسی جہان میں پا لیتے ہیں۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ زیر بحث آیات قیامت کے ساتھ مربوط ہیں نہ کہ دُنیا کے ساتھ، علاوہ ازیں یہ کوئی کلّیہ نہیں کہ ہر مومن و کافر اپنے اعمال کا نتیجہ دنیا میں دیکھے۔

۳۔ قرآن کی سب سے زیادہ جامع آیات

"عبد اللہ بن مسعود" سے نقل ہوا ہے کہ قرآن مجید کی سب سے زیادہ محکم آیات "فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُO وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ" ہی ہیں۔ اور وہ انہیں "جامعہ" سے تعبیر کیا کرتے تھے، اور سچی بات یہ ہے کہ ان کے مطالب پر گہرا ایمان، اس بات کے لیے کافی ہے کہ انسان کو راہِ حق پر چلائے اور ہر قسم کی فساد و شر سے روکے۔ اسی لیے ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آ کرعرض کی: "علمنی مما علمک اللہ" جو کچھ خدا نے آپ کو تعلیم دی ہے اس میں سے مجھے بھی تعلیم دیجئے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اپنے اصحاب میں سے ایک کے سپرد کر دیا تاکہ وہ اُسے قرآن کی تعلیم دے۔ اور اس نے اُسے سُورہ "إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ" کی آخر تک تعلیم دی۔ وہ شخص اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا اور کہا: میرے لیے تو یہی کافی ہے۔ (اور ایک اور دوسری روایت میں آیا ہے کہ اس نے کہا: "تکفینی ھٰذہ الاٰیة"، "یہی ایک آیت میرے لیے کافی ہے)۔ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا اسے اس کے حال پر چھوڑ دو کہ وہ ایک مرد فقیہ ہو گیا ہے۔ (اور ایک روایت کے مطابق آپؐ نے فرمایا: "رجع فقیھا" وہ فقیہ ہو کر لوٹا ہے) اس کی وجہ بھی واضح ہے، کیونکہ جو شخص یہ جانتا ہو کہ ہمارے اعمال، چاہے ایک ذرہ کے برابر ہوں، یا رائی کے ایک دانہ کے برابر، ان کا حساب لیا جائے گا، تو وہ آج ہی سے اپنے حساب و کتاب میں مشغول ہو جائے گا اور اس کا اس تربیت پر سب سے زیادہ اثر ہو گا۔ (بحوالہ: "تفسیر رُوح البیان" جلد۱۰، ص ۴۹۵۔ یہی مضمون "نور الثقلین" جلد۶۰ میں بھی آیا ہے)۔ اس کے باوجود "ابو سعید خدری" سے آیا ہے کہ جس وقت آیہٴ فَمَن يَعْمَلْ۔۔۔ نازل ہوئی تو مَیں نے عرض کیا: اے رسول خداؐ کیا مَیں اپنے تمام اعمال کو دیکھوں گا؟ آپؐ نے فرمایا:ہاں مَیں نے کہا: اُن بڑے بڑے کاموں کو؟ فرمایا: ہاں مَیں نے کہا: چھوٹے چھوٹے کام بھی؟ فرمایا ہاں! مَیں نے کہا وائے ہو مُجھ پر، میری ماں میری عزا میں بیٹھے، فرمایا: اے ابو سعید! تجھے بشارت ہو، کیونکہ نیکیاں دس گناہ شمار ہوں گی، جو سات سو تک ہو سکتی ہیں اور خدا جس شخص کے لیے چاہے گا اس سے بھی کئی گناہ کر دے گا۔ لیکن ہر گناہ کے لیے صرف ایک ہی گناہ کی سزا ملے گی، یا خدا معاف کر دے گا، اور جان لے کہ کوئی شخص اپنے عمل کی وجہ سے نجات نہیں پائے گا (مگر یہ کہ خُدا کا کرم اس کے شاملِ حال ہو) مَیں نے عرض کیا: اے رسُولِ خداؐ کیا آپ بھی؟ فرمایا: ہاں مَیں بھی مگر یہ کہ خدا مجھے اپنی رحمت کا مشمول قرار دے۔ (بحوالہ: "در المنثور" جلد۶، ص ۳۸۱)۔ خداوندا! جب تیرا پیغمبرؐ اس عظمت و بزرگی کے باوجود صرف تیری بخشش اور عفو پر دل بستہ ہے تو پھر ہماری حالت تو واضح ہے۔ پروردگارا! اگر ہمارے اعمال ہماری نجات کا معیار ہوں، تو وائے ہے ہماری حالت پر، اور اگر تیرا کرم ہمارا یار و مددگار ہو تو پھر خوشا بحال ِما۔ بارالٰہا! جس دن ہمارے سارے چھوٹے بڑے گناہ ہمارے سامنے مجسم ہو جائیں گے، اس دن کے لیے ہم صرف تیرے ہی لُطف و کرم پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ آمین یا ربّ العالمین

end of chapter