Sūra 74 · 56v
Chapter 7456 verses

Al-Muddathir

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
المدثر
المدثر

سورہ مدثر

یہ سورہ مکہ میں نازل ہوئی اس میں ۵٦ آیات ہیں

سورہ مدثر کے مضامین

اس میں شک نہیں کہ یہ سورہ ان سورتوں میں سے ہے جو مکہ میں نازل ہوئی ہیں، لیکن اختلاف اس مسئلہ میں ہے کہ یہ وہ پہلی سورت ہے جو پیغمبر پر نازل ہوئی ہے یا یہ سورہ اقرأ کے بعد نازل ہوئی ہے۔ لیکن سورہ اقرأ اور سورہ مدّثر کے مضامین میں غور و خوض کرنے سے اس بات کا پتہ چل جاتا ہے کہ اقرأ آغازِ دعوت میں نازل ہوئی تھی، اور سورہ مدّثر اس زمانے کے ساتھ مربوط ہے جب پیغمبر آشکارِ دعوت پر معمور ہوئے، اور پوشیدہ اور پنہاں دعوت کا دور ختم ہوا، لہٰذا بعض نے کہا کہ سورہ اقرأ وہ پہلی سورہ ہے جو آغازِ بعثت میں نازل ہوئی اور سورہ مدّثر وہ پہلی سورہ ہے جو آشکارا دعوت کے بعد ہے، اور یہ بات بہت اچھی نظر آتی ہے۔ اس سورہ کے مباحث مجموعی طور سے سات محوروں کے گرد گردش کرتے ہیں: 1- پیغمبر کو قیام، انذار، آشکارا تبلیغ کی دعوت اور اس راہ میں صبر و استقامت اور اس کام کے لیے ضروری آمادگیوں کی تیاری۔ 2- قیامت کی طرف اشارہ، دوزخیوں کی صفات، وہی جو قرآن سے مقابلے کے لیے کھڑے ہوئے اور جنہوں نے حق کا مذاق اڑایا۔ 3- کافروں کو ڈرانے کے ساتھ دوزخ کی خصوصیات کا ایک حصہ۔ 4- بار بار کی قسموں کے ذریعے امرِ قیامت پر تاکید۔ 5- ہر انسان کی سرنوشت کا اس کے اعمال کے ساتھ ربط اور اس سلسلے میں ہر قسم کے غیر منطقی افکار کی نفی۔ 6- جنتیوں اور دوزخیوں کی بعض خصوصیات اور ان میں سے ہر ایک کی سرنوشت۔ 7- جاہل، بے خبر، مغرور اور خود غرض لوگوں کے حق سے فرار کی کیفیت۔

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت پیغمبرِ گرامیِ اسلامؐ سے ایک حدیث میں آئی ہے: من قرأ سورۃ المدثر اعطی من الاجر عشر حسنات بعدد من صدق بمحمد (ص) و کذب بہ بمکۃ "جو شخص سورۂ مدّثر کو پڑھے گا، اسے ان لوگوں کی تعداد میں جنہوں نے مکہ میں پیغمبرِ اسلامؐ کی تصدیق یا تکذیب کی تھی، دس نیکیاں دی جائیں گی"۔ (بحوالہ: مجمع البیان جلد 10 ص 383) ایک اور حدیث میں امام باقرؐ سے آیا ہے: من قرأ فی الفریضۃ سورۃ المدثر کان حقًا علی اللہ ان یجعلہ مع محمد (ص) فی درجتہ، ولا یدرکہ فی حیاۃ الدنیا شقاء ابدًا "جو شخص سورۂ مدّثر کو واجب نماز میں پڑھے تو خدا پر حق ہے کہ اس کو پیغمبرؐ کے ہمراہ ان کے جوار میں اور ان کے درجے میں قرار دے اور دنیاوی زندگی میں بدبختی اور رنج و تکلیف اسے دامن گیر نہ ہو"۔ (بحوالہ: مجمع البیان جلد 10 ص 383) یہ بات واضح ہے کہ اس قسم کے نتائج صرف سورہ کے الفاظ پڑھنے پر مترتب نہیں ہوں گے بلکہ ضروری ہے کہ سورہ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پر پوری طرح عمل کیا جائے۔

1
74:1
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡمُدَّثِّرُ
اے چادر اوڑھ کر سونے والے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
74:2
قُمۡ فَأَنذِرۡ
اٹھ انذارکر ( ڈرا)۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
74:3
وَرَبَّكَ فَكَبِّرۡ
اور اپنے پروردگار کی بزرگی بیان کر۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
74:4
وَثِيَابَكَ فَطَهِّرۡ
اور اپنے لباس کو پاک کر۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
74:5
وَٱلرُّجۡزَ فَٱهۡجُرۡ
اور پلیدگیوں سے پرہیز کر۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
74:6
وَلَا تَمۡنُن تَسۡتَكۡثِرُ
اور کسی پر منت نہ رکھ اور زیادتی کا مطالبہ نہ کر۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
74:7
وَلِرَبِّكَ فَٱصۡبِرۡ
اور اپنے پروردگار کے لئے صبر کر۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
74:8
فَإِذَا نُقِرَ فِي ٱلنَّاقُورِ
پس جس وقت صور پھونکا جائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
74:9
فَذَٰلِكَ يَوۡمَئِذٖ يَوۡمٌ عَسِيرٌ
وہ دن بہت ہی سخت ہوگا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
74:10
عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ غَيۡرُ يَسِيرٖ
اور کافروں کے لئے آسان نہیں ہوگا۔

تفسیر اٹھ اور عالمین کو ڈرا

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

اس میں شک نہیں کہ ان آیات میں مخاطب خود پیغمبرؐ کی ذات ہے۔ اگرچہ اس بات کی ان میں صراحت نہیں ہوئی ہے، لیکن ان آیات میں موجود قرائن اس حقیقت کو بیان کرتے ہیں۔ پہلے فرماتا ہے: "اے بستر خواب میں آرام کرنے والے اور اے چادر اوڑھ کر سونے والے"۔ (يَآ اَيُّـهَا الْمُدَّثِّرُ)۔ ـــــــــــــــــــــــــــ "اٹھ کھڑا ہو اور انذار کر اور عالمین کو ڈرا" (قُمْ فَاَنْذِرْ)۔ کیونکہ سونے اور آرام کرنے کا وقت گزر گیا ہے اور قیام و تبلیغ کا زمانہ آگیا ہے۔ خصوصیت کے ساتھ انذار پر تکیہ، حالانکہ پیغمبرؐ "بشیر" بھی ہیں اور "نذیر" بھی۔ اسی بناء پر ہے، چونکہ "انذار" خصوصیت کے ساتھ کام کے آغاز میں، سوئی ہوئی ارواح کو بیدار کرنے میں، زیادہ عمیق اور گہری تاثیر رکھتا ہے۔ اس بارے میں کہ پیغمبرؐ بستر میں کیوں آرام کر رہے تھے، کہ اس خطاب نے آپ کو قیام کی دعوت دی، مفسرین نے بہت سے احتمال دیئے ہیں۔ 1- مشرکینِ عرب موسم حج کے قریب جمع ہوئے اور ان کے سرداروں مثلاً ابوجہل، ابو سفیان، ولید بن مغیرہ، نضر بن حارث وغیرہ نے آپس میں مشورہ کیا کہ باہر سے مکہ میں آنے والے لوگوں کے سوالات کے مقابلہ میں، جنھوں نے ادھر ادھر سے پیغمبر اسلامؐ کے ظہور کے سلسلہ میں مختلف مطالب سنے ہیں کیا کہیں؟ اگر ہر ایک الگ الگ جواب دینا چاہے، ایک اسے کاہن کہے، دوسرا مجنون کہے، تیسرا ساحر کہے تو یہ اختلاف رائے اچھا اثر نہ چھوڑے گا لہذا ضروری ہے کہ پیغمبر کے برخلاف پروپیگنڈا کی جنگ میں متحد ہوکر کھڑے ہوجائیں۔ بحث و گفتگو کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ سب سے بہتر یہ ہے کہ وہ سب کے سب اسے "ساحر" کہیں، کیونکہ "جادو" کے واضح آثار میں سے ایک بیوی اور شوہر اور باپ اور بیٹے کے درمیان جدائی ڈالتا ہے اور پیغمبر نے دینِ اسلام کو پیش کرکے اس قسم کا کام انجام دیا ہے۔ یہ بات پیغمبرؐ کے کان تک پہنچی تو آپ کو بہت دکھ ہوا اور بیماروں کی طرح غمگین حالت میں گھر میں آئے اور بستر میں لیٹ گئے، تو اوپر والی آیات نازل ہوئیں اور آپ کو قیام اور مبارزہ کی دعوت دی۔ 2- یہ آیات وہ پہلی آیات تھیں جو پیغمبر اکرمؐ پر نازل ہوئیں، کیونکہ "جابر بن عبداللہ" کے واسطہ سے پیغمبرؐ سے نقل ہوا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: "میں کوہِ حرا پر تھا کہ ایک آواز بلند ہوئی اور کہا، ائے محمدؐ! "تو خدا کا رسول ہے"۔ میں نے دائیں بائیں دیکھا تو مجھے کوئی چیز نظر نہ آئی، میں نے اپنے سر کے اوپر دیکھا تو ایک فرشتے کو عرش پر آسمان و زمین کے درمیان دیکھا، میں ڈر گیا اور خدیجہ کی طرف لوٹ آیا، اور میں نے کہا: "مجھ پر کپڑا ڈال دو، مجھ پر کپڑا ڈال دو اور ٹھنڈا پانی مجھ پر ڈالو"، یہ وہ منزل تھی کہ جبریل مجھ پر نازل ہوئے اور "یایھا المدثر" لائے"۔ لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ اس سورہ کی آیات آشکارا دعوت کو بیان کر رہی ہیں، اس بات کا یقین ہوجاتا ہے کہ یہ آیات کم از کم تین سال تک پوشیدہ طور سے دعوت کرنے کے بعد نازل ہوئی ہیں، اور یہ بات اس چیز سے جو اوپر والی روایت میں بیان کی گئی ہے سازگار نہیں ہے۔ مگر یہ کہ یہ کہا جائے کہ اس سورہ کی چند ابتدائی آیات آغازِ دعوت میں نازل ہوئی تھیں اور بعد والی آیات چند سال کے بعد سے تعلق رکھتی ہیں۔ 3- پیغمبر سوئے ہوئے تھے اور اوپر چادر لی ہوئی تھی کہ جبرائیل نازل ہوئے اور آپ کو بیدار کیا اور یہ آیات آپ کے سامنے پڑھیں کہ اٹھ جائیے اور بستر اور نیند سے کنارہ کشی کیجیے اور رسالت اور پیغام الٰہی کو انجام دیجیے۔ 4- کپڑا اوڑھنے سے مراد ظاہری کپڑا نہیں ہے، بلکہ لباس نبوت و رسالت ہے۔ جیسا کہ پرہیزگاری کو "لباس التقوٰی" کہا گیا ہے۔ 5- "مدثر" سے مراد ایسا شخص ہے جس نے گوشۂ عزلت اختیار کر لیا ہو اور علیحدگی اور تنہائی میں زندگی بسر کرتا ہو، اس بناء پر آیت یہ کہتی ہے کہ عزلت اور گوشہ نشینی سے باہر نکل آؤ اور مخلوق کو انذار اور خدا کے بندوں کو ہدایت کرو۔ ان سب تفاسیر میں سے پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ قابل توجہ بات یہ کہ "فانذر" (انذار کرو) کا جملہ یہ بیان کرتا ہے کہ کس چیز سے ڈراؤ؟ اور کس موضوع میں انذار کرو؟ اور یہ حقیقت میں عمومیت کے بیان کے لیے ہے، یعنی بت پرستی، شرک و کفر، ظلم و بیدادگری اور فساد و عذاب الٰہی اور حسابِ محشر وغیرہ کے بارے میں لوگوں کو خبردار کرو، (اور اصطلاح کے مطابق متعلقہ بات کا محذوف ہونا، عمومیت پر دلالت کرتا ہے) ضمنی طور پر یہ عذاب دنیا کو بھی شامل ہے اور عذابِ آخر کو بھی اور انسان کے اعمال کے برے نتائج کا بھی دامن گیر ہوں گے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اور قیام و انذار کی دعوت کے بعد پیغمبر اسلامؐ کو پانچ حکم دیتا ہے، جو دوسروں کے لیے ایک نمونہ ہیں، ان میں پہلا حکم توحید کے بارے میں ہے۔ فرماتا ہے: "صرف اپنے پروردگار کو بڑا سمجھ"۔ (وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ)۔ (تشریحی نوٹ: فکبر" میں "فا" بعض کے نظریہ کے مطابق زائدہ ہے اور تاکید کے لیے آیا ہے اور بعض کے نظریہ کے مطابق "شرط" کے معنی کا فائدہ حاصل کرنے کے لیے اور جملہ کا معنی اس طرح ہے، چاہے جو واقعہ اور حادثہ آئے، خدا کے بڑا ہونے کو نہ بھول جانا)(بعد والی آیات کے بارے میں بھی یہی گفتگو ہے) وہی خدا جو تیرا مالک و مربی ہے اور جو کچھ تیرے پاس ہے وہ اسی کی طرف سے ہے۔ تو اس کے غیر کو بلکل بھول جا اور تمام جھوٹے معبودوں پر سرخ لکیر پھیر دے، اور ہر قسم کے شرک اور بت پرستی کے آثار کو محو کر دے۔ لفظ " رب " پر تکیہ اور اس کو " کبر " پر مقدم رکھنا انحصار کی دلیل ہے۔ اس مختصر سی عبارت میں مسئلہ توحید کو دلیل کے ذکر کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ قرآن کی تعبیریں کتنی عمدہ اور مضامین پر ہیں کہ ایک مختصر سی عبارت میں یہ سب معنی بیان ہو گئے ہیں۔ "فکبر" کے جملہ سے مراد صرف "اللہ اکبر" کہنا نہیں ـــــــ اگرچہ اللہ اکبر بھی کہنا اس کا ایک معنی ہے، جس کی طرف روایات میں بھی اشارہ ہوا ہے ـــــــ بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اپنے خدا کو اعتقاد کے لحاظ سے بھی، عمل کے لحاظ سے بھی اور گفتگو میں بھی بڑا سمجھو، اور اس کو اوصافِ جمال کے ساتھ متصف اور ہر قسم کے نقص و عیب سے منزہ جان، بلکہ اس کو اس سے برتر سمجھ کہ اس کی تعریف و توصیف ہو سکے، جیسا کہ روایات اہل بیت میں آیا ہے کہ "اللہ اکبر" کا معنی یہ ہے کہ خدا اس سے برتر ہے کہ اس کی توصیف ہو سکے، اور وہ فکر انسانی میں سما سکے، اس بناء پر "تکبیر" "تسبیح" کی نسبت زیادہ وسیع مفہوم رکھتی ہے جو صرف ہر قسم کے نقص و عیب سے تنزیہ کو شامل ہوتی ہے۔ مسئلہ توحید کے بعد دوسرا حکم آلودگیوں سے پاکیزگی کے بارے میں دیتے ہوئے مزید کہتا ہے: "اور اپنے لباس کو پاک کر" (وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ)۔ "لباس" کی تعبیر ممکن ہے انسان سے مراد دل، روح اور جان ہے، یعنی اپنے دل کو ہر قسم کی آلودگی سے پاک کر، جہاں لباس کو پاک ہونا چاہیے، تو صاحبِ لباس اولیت رکھتا ہے کہ وہ پاک ہو۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہاں لباس سے مراد دل، روح اور جان ہے، یعنی اپنے دل کو ہر قسم کی آلودگی سے پاک کر، جہاں لباس کو پاک کرنا چاہیے، تو صاحبِ لباس اولیت رکھتا ہے کہ وہ پاک ہو۔ بعض نے اسی ظاہری لباس کے ساتھ اس کی تفسیر کی ہے۔ کیونکہ لباس کے ظاہر کی پاکیزگی کسی کی شخصیت کے اہم ترین ہونے اور انسان کی تربیت اور تہذیب و تمدن کی نشانی ہے۔ خصوصًا زمانہ جاہلیت میں بہت کم لوگ غلاظت سے اجتناب کرتے تھے اور بہت ہی گندا لباس رکھتے تھے خصوصًا معمول یہ تھا (جیسا کہ اس آخری زمانہ جاہلیت میں گرفتار شدہ افراد میں بھی یہی معمول ہے) کہ لباس کے دامن کو بہت بڑا کرتے ہیں، اس طرح کہ وہ زمین پر کھنچتا ہے اور آلودہ ہوجاتا ہے، اور یہ جو بعض روایات میں امام صادق سے نقل ہوا ہے کہ آپ فرمایا: آیت کا معنی یہ کہ ثیابک فقصر (اپنے لباس کو چھوٹا کر ؎ (بحوالہ: مجمع البیان جلد 10 ص 385) یہ بھی اسی معنی کو بیان کرتا ہے۔ بعض نے اس کی بیویوں کے ساتھ تفسیر کی ہے کیونکہ قرآن کہتا ہے تم اپنی بیویوں کا لباس ہو اور وہ بھی تمھارا لباس ہیں (کیونکہ تم ایک دوسرے کی آبرو کی حفاظت کرتے ہو اور ایک دوسرے کی زینت ہو۔) (هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ) (بقرہ آیہ 187) ان معانی کے درمیان جمع کرنا بھی ممکن ہے۔ حقیقت میں آیت کا اس نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ رہبرانِ الٰہی کی باتیں اس وقت نفوذ کرسکتی ہیں جبکہ ان کا دامن ہر قسم کی آلودگی سے پاک ہو اور ان کا تقویٰ و پرہیزگاری ہر لحاظ سے مسلم ہو، اسی لیے قیام و انذار کے بعد پاکدامنی کو حکم دیتا ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــ تیسرے حکم میں فرماتا: "ناپاکیوں سے اور ان چیزوں سے جو عذاب الٰہی کا موجب ہیں پرہیز کرو"۔ (وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ)۔ رجز (پلیدگی) کے مفہوم کی وسعت کے سبب اس کے لیے گوناگوں تفسیریں بیان کی گئی ہیں۔ کبھی اس کی بتوں کے ساتھ، کبھی ہر قسم کی معصیت و نافرمانی کے ساتھ، کبھی قبیح و ناپسندیدہ اخلاق کے ساتھ، کبھی محبت دنیا کے ساتھ جو ہر گناہ اور خطا کا سرچشمہ ہے، کبھی عذاب الٰہی کے ساتھ کے جو شرک و معصیت کا نتیجہ ہے اور ہر اس چیز کے معنی میں جو انسان کو خدا سے غافل کر دیتی ہے، تفسیر کی ہے۔ نکتہ اصلی یہ ہے کہ "رجز" اصل میں اضطراب و تزلزل کے معنی میں ہے۔ (بحوالہ: مفردات" راغب) اور اس کے بعد ہر قسم کے گناہ، شرک، بت پرستی، شیطانی وسوسوں، اخلاق ذمیمہ اور عذاب الٰہی کے لیے ــــــــ جو انسان کے اضطراب کا سبب بنتے ہیں اور اس کو صحیح رستے سے منحرف کر دیتے ہیں، اطلاق ہونے لگا۔ حالانکہ بعض اس لفظ کا معنی "عذاب" کرتے ہیں۔ (بحوالہ: 2 "المیزان" و "فی ظلال القرآن" -زیر بحث آیت کے ذیل میں) اور چونکہ شرک و گناہ، برے اخلاق اور دنیا کی محبت عذاب الٰہی کو جلب کرتے ہیں، لہذا ان پر بھی "رجز" کا اطلاق ہونے لگا۔ یہ بات بھی یاد رکھنی ضروری ہے کہ قرآن مجید میں لفظ "رجز" (بروزن شرک) عام طور پر عذاب کے معنی آیا ہے۔ (بحوالہ: سورہ اعراف کی آیہ 134، 135۔ اور سبا کی آیہ 5، اور جاثیہ کی آیہ 11 اور بقرہ کی آیہ 59، اور اعراف کی آیہ 162، اور عنکبوت کی آیہ 34 کی طرف رجوع کریں۔) بعض یہ نظریہ بھی رکھتے ہیں کہ "رجز" اور "رجس" جو "پلیدگی" کے معنی میں ہیں، دونوں مترادف اور معنی ہیں۔ (بحوالہ: 4 فخر رازی کی تفسیر میں یہ معنی ایک احتمال کی صورت میں بیان ہوا ہے۔ جلد 30 ص 193) یہ تینوں معانی اگرچہ آپس میں مختلف ہیں، لیکن پھر بھی ایک دوسرے کے ساتھ قریبی ارتباط رکھتے ہیں۔ بہرحال آیت ایک جامع مفہوم رکھتی ہے جو ہر طرح کے انحراف، پلید اور قبیح عمل اور ہر اس کام کو جو دنیا و آخرت میں خدا کے غیض و غضب اور اس کے عذاب کا موجب ہو، شامل ہے۔ مسلمہ طور پر پیغمبر اسلامؐ نبوت سے پہلے بھی ان امور سے پرہیز کرتے تھے اور ان سے دوری رکھتے تھے اور آپ کی زندگی کی تاریخ بھی جس کے دوست و دشمن سب ہی معترف ہیں، اس پر گواہ ہیں، لیکن یہاں دعوت الی اللہ کی راہ میں ایک اساسی اور بنیادی اصل کے عنوان سے بھی اور سب کے لیے ایک نمونہ اور اسوہ کے عنوان سے بھی، اس پر تکیہ ہوا ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ چوتھے حکم میں فرماتا ہے: "احسان نہ جتلاؤ اور زیادتی کا مطالبہ نہ کرو"۔ (وَلا تَمْنُن تَسْتَكْثِرْ)۔ (تشریحی نوٹ: توجہ رکھیے کہ "تستکثر" یہاں حال ہے نہی کا جواب (کیونکہ مرفوع صورت میں آیا ہے) اس بناء پر آیت کا مفہوم اس طرح ہوگا: "احسان نہ جتلاؤ جبکہ تم زیادتی طلب کرتے ہو یا اپنے عمل کو بڑا اور زیادہ سمجھتے ہو)۔ اس بارے میں کہ احسان جتلانے اور زیادتی طلب کرنے سے نہی کن موارد میں ہے۔ یہاں پر آیت کا مفہوم پھر کلی اور وسیع ہے، اور خالق اور مخلوق اور مخلوق پر ہر قسم کے احسان جتلانے کو شامل ہے، نہ تو پروردگار پر احسان جتلاؤ کہ تم اس کے لیے جہاد اور سعی و کوشش کرتے ہو، کیونکہ یہی تو اس نے تم پر احسان کیا ہے کہ یہ بلند مقام تمھیں عطا کیا ہے۔ اسی طرح اپنی عبادت، اطاعت اور نیک اعمال کو زیادہ شمار نہ کرو، بلکہ ہمیشہ اپنے آپ کو "کمی" اور "تقصیر" میں سمجھو اور عبادت کو اپنے لیے ایک قسم کی بہت بڑی توفیق شمار کرو۔ دوسرے لفظوں میں تمھیں اپنے قیام شب و انذار، توحید کی نشر و اشاعت، پروردگار کی عظمت کا بیان کرنے، کپڑوں کو پاک رکھنے اور ہر قسم کے گناہ سے پرہیز کرنے پر، خدا کا ممنون رہنا چاہیے، اس کے عشق و محبت میں اس طرح غرق رہنا چاہیے، کہ تم ان اہم کاموں کو بہت ہی ناچیز سمجھو۔ اور اگر تم مخلوق کی بھی کوئی خدمت کرتے ہو، چاہیے وہ معنوی جہات میں ہو، جیسے تبلیغ و ہدایت، اور چاہے مادی جہات میں ہو مثلاً انفاق و بخشش، ان میں سے کسی چیز کو بھی احسان جتانے یا تلافی کی توقع سے اور وہ تلافی بھی زیادتی کے ساتھ توأم نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ احسان جتلانا نیک اعمال کو باطل اور بے اثر کر دیتا ہے۔ (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَى) (بقرہ ــــــــــ 264)۔ "لا تمنن" "منت" کے مادہ سے، ایسے موارد میں ایسی گفتگو کے معنی میں ہے جو اس نعمت کی اہمیت کو بیان کرے جو انسان نے کسی دوسرے کو دی ہے اور یہاں سے اس کا رابطہ "استکثار" (زیادہ طلب کرنے) کے مسئلہ کے ساتھ واضح ہوجاتا ہے، کیونکہ اگر انسان اپنی خدمت کو ناچیز اور حقیر سمجھے، تو پھر وہ کسی اجر کی توقع نہیں رکھتا، چہ جائیکہ وہ زیادہ کا مطالبہ کرے، اس طرح سے احسان جتلانا ہمیشہ "استکثار" کا سرچشمہ بنتا ہے اور یہ ایک ایسا عمل ہے جو نعمت کی قدر و قیمت کو کلی طور پر ختم کر دیتا ہے۔ اور یہ جو بعض روایات میں آیا ہے کہ آیت کا معنی یہ ہے کہ: لا تعط شیئًا تلتمس اکثر منھا: تو کسی کو کوئی ایسی چیز نہ دے جس سے بیشتر کی توقع رکھتا ہو۔ ( بحوالہ : نور الثقلین جلد 5 ص 404، "تفسیر برہان" جلد 4 ص 400)حقیقت میں یہ آیہ شریفہ کے کلی مفہوم کی ایک شاخ کا بیان ہے۔ جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ امام صادقؑ نے اس آیہ کی تفسیر میں فرمایا: لا تستکثر ما عملت من خیر للہ جو نیک کام تم اللہ کے لیے انجام دیتے ہو اسے ہرگز زیادہ نہ سمجھنا۔ ( بحوالہ : نور الثقلین جلد 5 ص 404، "تفسیر برہان" جلد 4 ص 400) یہ بھی اس مفہوم کلی کی ایک شاخ ہی ہے۔ بعد والی آیت میں اس سلسلہ کے آخری حکم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: "اور اپنے پروردگار کے لیے صبر و شکیبائی اختیار کر"۔ (وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ)۔ ہمیں یہاں پر پھر "صبر و استقامت اور شکیبائی کے ایک وسیع مفہوم کا سامنا ہے، جو ہر چیز کو شامل ہے۔ یعنی اس عظیم رسالت کی ادائیگی کی راہ میں صبر و شکیبائی کر، مشرکین اور جاہل و نادان دشمنوں کی تکلیف کے مقابلہ میں صابر رہ، فرمانِ خدا کی اطاعت کی عبودیت میں استقامت دکھا اور نفس سے جہاد اور دشمن کے ساتھ میدان جنگ کے جہاد میں صابر و شکیبا رہ۔ مسلمہ طور پر صبر و استقامت تمام گزشتہ پروگراموں کے اجراء کی بنیاد اور ضامن ہے۔ اصولی طور پر تبلیغ و ہدایت کی راہ میں اہم ترین سرمایہ یہی صبر و استقامت ہے۔ لہذا قرآن مجید میں بارہا اس پر تکیہ ہوا اور اسی وجہ سے امیرالمومنین علیؑ کے ارشادات گرامی میں آیا ہے: الصبر من الایمان کالراس من الجسد "صبر و استقامت کی ایمان کے مقابلہ میں وہی حیثیت ہے جو سر کی بدن کے مقابلہ میں"۔ ( بحوالہ: نہج البلاغہ، کلمات قصار 82 )۔ اور اسی بناء پر انبیاء اور مردان خدا کا ایک اہم ترین پروگرام یہی صبر و استقامت کا پروگرام تھا۔ جتنے زیادہ سخت اور سنگین حادثے ان پر پڑتے جاتے تھے اتنا ہی ان کا صبر و استقامت بڑھتا جاتا تھا۔ ایک حدیث میں پیغمبر اسلامؐ سے آیا ہے کہ آپ نے صابرین کے اجر کے سلسلہ میں فرمایا: قال اللہ تعالٰی: اذا وجھت الی عبد من عبیدی مصیبۃ فی بدنہ او مالہ او ولدہ، ثم استقبل ذالک بصبر جمیل استحییت منہ یوم القیامۃ ان انصب لہ میزانًا او انشر لہ دیوانًا "خداوند تعالٰی فرماتا ہے: جس وقت میں اپنے بندوں میں سے کسی بندے کی طرف اس کے بدن یا مال یا اولاد کے لیے مصیبت لاتا ہوں اور وہ صبر جمیل کے ساتھ اس کا سامنا کرتا ہے تو مجھے شرم آتی ہے کہ میں اس کے لیے قیامت کے دن اعمال تولنے کے لیے میزان نصب کروں یا میں اس کے نامہ عمل کو کھولوں"۔ (بحوالہ: تفسیر "روح المعانی" جلد 29 ص 120)۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس حکم کے بعد جو قیام و انذار کے سلسلہ میں گزشتہ آیات میں آیا ہے، زیر بحث آیات میں انذار کو ایک بہت ہی تاکیدی اور رعب انگیز بیان کے ساتھ شروع کرتا ہے اور فرماتا ہے: "جب صور پھونکا جائے گا"۔ (فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ "تو وہ ایک دن بہت ہی سخت دن ہوگا" (فَذَلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ)۔ (تشریحی نوٹ: اس جملہ کی ترکیب میں کئی احتمال دیئے گئے ہیں۔ ان میں سے سب سے پہلے وہ چیز ہے جو کتاب "البیان فی غریب اعراب القرآن" میں آئی ہے، جہاں وہ کہتا ہے کہ "ذالک" مبتداء ہے اور "یومئذ" بدل ہے اور "یوم عسیر" اس کی خبر ہے)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ "وہ بہت ہی پُر مشقت دن ہوگا، جو کافروں کے لیے آسان نہیں ہوگا" (عَلَى الْكَافِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍ)۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ "ناقور" اصل میں مادہ "نقر" سے اس طرح دبانے کے معنی میں ہے، جس سے سوراخ ہوجائے اور "منقار" بھی، جو پرندوں کی چونچ ہے، جس سے پرندے دبا کر سوراخ کرتے ہیں اسی معنی سے لی گئی ہے، اسی بناء پر بگل کو، جس کی آواز گویا انسان کے کان میں سوراخ کرتی ہے اور دماغ میں اتر جاتی ہے "ناقور" کہا جاتا ہے۔ قرآن کی آیات سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی انتہا اور قیامت کی ابتداء میں دو مرتبہ صور پھونکا جائے گا یعنی دو حد سے زیادہ وحشت انگیز اور ہلا دینے والی صدائیں ــــــــ جن میں سے پہلی موت کی صدا اور دوسری بیداری اور حیات کی صدا ہوگی ــــــــ پوری دنیا کو گھیر لیں گی۔ جنھیں "نفخہ صورِ اول" اور "نفخہ صور دوم" سے تعبیر کیا جاتا ہے اور زیر بحث آیت "نفخہ دوم" کی طرف اشارہ ہے۔ جس سے قیامت برپا ہوجائے گی اور وہ کافروں پر سخت اور سنگین دن ہوگا۔ ہم "صور" اور "نفخہ صور" کے بارے میں تفصیلی بحث سورہ زمر کی آیہ 86 جلد 11 میں کرچکے ہیں۔ بہرحال اوپر والی آیات اس واقعیت کو بیان کرتی ہیں کہ قیامت کے نفخہ میں کافروں کی مشکلات یکے بعد دیگرے نمایاں ہوں گی، وہ بہت ہی دردناک دن ہوگا اور ایسا مصیبت بار اور طاقت فرسا ہو گا کہ وہ طاقت ور ترین انسان کے بھی گھٹنے ٹکوا دے گا۔

11
74:11
ذَرۡنِي وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِيدٗا
مجھے اس شخص کے ساتھ جسے میں نے اکیلا پیدا کیا ہے چھوڑ دے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
74:12
وَجَعَلۡتُ لَهُۥ مَالٗا مَّمۡدُودٗا
وہی شخص جس کے لئے میں نے وسیع مال قرار دیا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
74:13
وَبَنِينَ شُهُودٗا
اور ایسے بیٹے (دیئے ہیں ) جو ہمیشہ اس کے پاس رہتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
74:14
وَمَهَّدتُّ لَهُۥ تَمۡهِيدٗا
اور میں نے ہر لحاظ سے اس کے لئے زندگی کے وسائل فراہم کئے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔

15
74:15
ثُمَّ يَطۡمَعُ أَنۡ أَزِيدَ
پھر بھی وہ یہی طمع رکھتا ہے کہ میں اس میں اور اضافہ کروں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
74:16
كَلَّآۖ إِنَّهُۥ كَانَ لِأٓيَٰتِنَا عَنِيدٗا
ہرگز ایسا نہیں ہوگا کیونکہ وہ ہماری آیات کے بارے میں دشمنی رکھتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔

17
74:17
سَأُرۡهِقُهُۥ صَعُودًا
عنقریب ہم اسے مجبور کر دیں گے کہ وہ زندگی کی چوٹی کے اوپر جائے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

ان آیات کے لیے دو شانِ نزول بیان کی گئی ہیں۔ ١- قریش "دار الندوہ" (مسجد الحرام کے قریب ایک مرکز تھا جس میں وہ اہم مسائل میں مشورہ کرنے کے لیے جمع ہوتے تھے) میں جمع ہوئے۔ "ولید" (مکہ کا ایک مشہور اور جانا پہچانا شخص تھا، جس کی عقل اور سمجھ کے مشرکین قائل تھے اور اہم مسائل میں اس سے مشورہ لیا کرتے تھے) نے ان کی طرف رخ کر کے کہا: تم بلند نسب اور عقل و خرد کے مالک ہو، اور عرب ہر صورت سے (خانہ کعبہ کی زیارت اور دوسرے امور کے لیے) تمھارے پاس آتے ہیں، اور تم سے مختلف جواب سنتے ہیں، اپنی بات کو (متفق ہو کر) ایک کرو۔ پھر اس کی طرف رخ کر کے کہا: تم اس شخص کے بارے میں (پیغمبر اکرمؐ کی طرف اشارہ ہے) کیا کہتے ہو؟ انھوں نے کہا: ہم کہتے ہیں: وہ "شاعر" ہے۔ ولید نے منہ چڑھا کر کہا: ہم نے بہت شعر سنے ہیں، لیکن اس کی باتیں شعر کے ساتھ مشابہت نہیں رکھتیں۔ انھوں نے کہا: ہم کہتے ہیں وہ "کاہن" ہے۔ اس نے کہا: جب تم اس کے پاس جاتے ہو تو وہ باتیں جو کاہن (اخبارِ غیبی کی صورت میں) کہتے ہیں، وہ تو اس میں تمھیں نہیں ملتیں۔ انھوں نے کہا: ہم کہتے ہیں کہ وہ "دیوانہ" ہے۔ اس نے کہا: جب تم اس کے پاس جاؤ گے تو تم اس میں جنون کا کوئی اثر نہیں پاؤ گے۔ انھوں نے کہا: ہم کہتے ہیں وہ "ساحر" ہے۔ اس نے کہا: ساحر کس معنی میں؟ انھوں نے کہا: ایسا شخص جو دشمنوں اور دوستوں کے درمیان دشمنی پیدا کر دیتا ہے۔ وہ کہنے لگا: ہاں، وہ "ساحر" ہے اور وہ ایسا کرتا ہے (کیونکہ ان میں سے بعض مسلمان ہو جاتے ہیں اور اپنی راہ دوسروں سے الگ کر لیتے ہیں)۔ اس کے بعد وہ "دارالندوہ" سے باہر نکلے اور حالت ان کی یہ تھی کہ جو بھی قریش میں سے پیغمبر اکرمؐ سے ملتا تھا تو کہتا تھا: اے ساحر! اے ساحر! یہ مطلب پیغمبرؐ پر بہت گراں گزرا تو خدا نے اس سورہ کی ابتدائی آیات اور اوپر والی آیات (آیہ ٢٥ تک) نازل فرمائیں (اور اپنے پیغمبرؐ کی دلداری کی)۔ ٢- بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ جس وقت سُورہ الم سجدہ (سورہ غافر) کی آیات نازل ہوئیں تو پیغمبرؐ مسجد الحرام میں (نماز میں) کھڑے تھے اور "ولید بن مغیرہ" حضرت کے قریب تھا اور آپؐ کی تلاوت کو سن رہا تھا، جب پیغمبرؐ نے اس بات کی طرف توجہ کی، تو آپ نے ان آیات کی تلاوت کو دہرایا۔ "ولید" اپنی قوم ـــــ قبیلہ بنو مخزوم ـــــ کی مجلس میں آیا اور کہا: خدا کی قسم! ابھی میں نے محمدؐ سے ایسا کلام سنا جو نہ انسانوں کے کلام کے مشابہ ہے نہ جنوں کی باتوں کے۔ وان لہ لحلاوۃ وان علیہ لطلاوۃ وان علاہ لمثمر، وان اسفلہ لمغدق، وانہ لیعلو وما یعلی۔ "اس کی گفتگو میں ایک خاص شیرینی ہے اور اس میں ایک خاص زیبائی اور طرافت ہے، اس کی شاخیں پھلوں سے پُر ہیں اور اس کی جڑیں قوی اور طاقتور ہیں، وہ ایسا کلام ہے جو دوسرے ہر کلام سے برتر ہے، اور کوئی کلام اس پر برتری حاصل نہیں کر سکتا"۔ یہ کہہ کر وہ اپنے گھر کی طرف پلٹ گیا۔ قریش نے ایک دوسرے سے کہا: خدا کی قسم! وہ محمد کے دین کا فریفتہ ہو گیا ہے، اور ہمارے دین سے نکل گیا ہے اور وہ تمام قریش کو منحرف کر دے گا۔ اور وہ ولید کو "ریحانۃ قریش" (قریش کا گلِ سرسبد) کہتے تھے۔ ابو جہل نے کہا: میں اس کام کا کوئی علاج کرتا ہوں۔ وہ اٹھ کر چل پڑا اور غمگین چہرے کے ساتھ ولید کے قریب آ کر بیٹھ گیا۔ ولید نے کہا: اے بھتیجے! تو کس لیے غمگین ہے؟ اس نے کہا: قریش اس سن و سال کے باوجود تجھ پر عیب لگاتے ہیں اور وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ تو نے محمد کی بات کو زینت بخشی ہے۔ وہ ابو جہل کے ساتھ اٹھا اور اپنے قبیلہ کی مجلس میں آیا اور کہا: کیا تمھارا گمان یہ ہے کہ محمد دیوانہ ہے؟ کیا تم نے کبھی جنون کے آثار دیکھے ہیں؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: کیا تمھارا خیال یہ ہے کہ وہ کاہن ہے؟ کیا تم نے اس میں کبھی کہانت کے آثار دیکھے ہیں؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ وہ شاعر ہے؟ کیا تم نے کبھی اسے شعر کہتے ہوئے دیکھا ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: پھر کیا تمہارا خیال یہ ہے کہ وہ جھوٹا ہے؟ کیا تم نے اسے ماضی میں کبھی جھوٹ بولتے ہوئے دیکھا ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں، وہ دعوائے نبوت سے پہلے بھی ہمارے ہاں ہمیشہ "صادق امین" کے عنوان سے پہچانا جاتا تھا۔ اس مرحلہ پر قریش نے "ولید" سے کہا: تیرے نظریہ کے مطابق ہم اسے کیا کہیں؟ ولید سوچ میں پڑ گیا، نگاہ کی اور منہ چڑھا کر بولا: وہ صرف جادوگر ہے۔ کیا تم نے دیکھا نہیں کہ وہ مرد اور عورت، اولاد اور دوستوں کے درمیان جدائی ڈال دیتا ہے؟ (ایک گروہ اس پر ایمان لے آتا ہے اور اپنے خاندان سے جدا ہو جاتا ہے)۔ اس بناء پر وہ جادوگر ہے اور جو کچھ وہ کہتا ہے ایک عمدہ جادو ہے۔ (بحوالہ: مجمع البیان" جلد ١٠ ص ۳۸٦۔ اس شانِ نزول کو بہت سے مفسرین مثلاً "قرطبی" و "مراغی" و "فخر رازی" و "فی ظلال القرآن" اور "المیزان" وغیرہ نے (کچھ اختلاف کے ساتھ نقل کیا ہے)۔

تفسیر "ولید" ایک حق ناشناس مغرور ثروت مند

گزشتہ آیات کے بعد، جن میں کافروں کو مجموعی طور پر ڈرایا گیا ہے۔ زیر بحث آیات، خصوصیت کے ساتھ ان کے بعض افراد پر، جو زیادہ موثر تھے، انگلی رکھتے ہوئے، اس پر گویا ناطق، رسا اور سرکوبی کرنے والی تعبیروں کے ساتھ، شدید ترین انذاروں کی بوچھاڑ کر رہی ہیں۔ پہلے کہتا ہے: "مجھے اس کے ساتھ جسے میں نے اکیلے ہی پیدا کیا ہے، چھوڑ دے" (ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا)۔ یہ آیت اور بعد والی آیات ــــــــــــ جیسا کہ ہم نے شانِ نزول میں بیان کیا ہے ــــــــــــ ولید بن مغیرہ مخزومی ــــــــــــ جو قریش کے مشہور سرغنوں میں سے تھا ــــــــــــ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ "وحیدًا" (اکیلا) کی تعبیر ممکن ہے خالق کی توصیف میں ہو یا مخلوق کی، پہلی صورت مں بھی دو احتمال ہیں: پہلا یہ کہ مجھے اس کے ساتھ تنہا چھوڑ دے کہ میں خود اس کو شدید سزا دوں، یا یہ کہ میں خود تنہا نے اسے پیدا کیا ہے، اور یہ سب نعمتیں اسے بخشی ہیں، لیکن اس نے نمک حرامی کی ہے۔ اور دوسری صورت میں بھی دو احتمال ہیں: ممکن ہے کہ یہ اس بات کی طرف اشارہ جو کہ وہ ماں کے پیٹ میں بھی اور پیدائش کے وقت بھی یکہ و تنہا تھا، نہ اس کے پاس مال تھا نہ اولاد۔ اور یہ سب کچھ ہم نے اسے بعد میں بخشا ہے۔ یا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو "وعید" (بے مثل و بے مثال)، (عربوں مں بےنظیر شخص) کا نام رہتا تھا، اور وہ یہ کہا کرتا تھا: انا الوحید ابن الوحید، لیس لی فی العرب نظیر، ولا لابی نظیر "میں وحید عصر ہوں اور وحید عصر کا بیٹا ہوں، عرب میں نہ کوئی میرا مثل و نظیر ہے اور نہ ہی میرے باپ کا"۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر "فخر رازی" و "کشاف" و "مراغی" اور "قرطبی" زیرِ بحث آیات کے ذیل میں، بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ "وحید" بغیر باپ کے اور غیر شرعی بیٹے کے معنی میں ہے، لیکن اس روایت میں کوئی ایسا قرینہ موجود نہیں ہے جس سے وہ اوپر والی آیت کی تفسیر بن سکے۔ علاوہ ازیں غور کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ معنی اوپر والی آیت کے ساتھ مناسب نہیں ہے)۔ اس مطلب کا استہزاء کے عنوان سے آیہ میں تکرار ہوا ہے۔ لیکن ان چاروں تفسیروں میں سے پہلی تفسیر سب سے زیادہ مناسب ہے۔ ــــــــــــ اس کے بعد مزید کہتا ہے کہ "میں نے اس کے لیے بہت ہی زیادہ وسیع مال قرار دیا" (وَجَعَلْتُ لَهُ مَالًا مَّمْدُودًا)۔ "ممدود" اصل میں کھینچے ہوئے کے معنی میں ہے، جو یہاں اس کے مال کی وسعت اور حجم کے بیان کے لیے آیا ہے، یا زمانہ اور مکان کے لحاظ سے کشش کے معنی میں ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کے اموال اس قدر وسیع تھے کہ اس کے پاس مکہ اور طائف کے درمیان کے فاصلہ میں بہت سے اونٹ، گھوڑے اور زرعی زمینیں تھیں۔ اور بعض نے یہ کہا ہے کہ اس کے پاس اتنے باغات اور کھیت تھے کہ ان میں سے ایک کا غلّہ ابھی ختم نہیں ہوتا تھا کہ دوسرا تیار ہو جاتا تھا علاوہ ازیں وہ ایک لاکھ دینار طلائی کا مالک تھا، اور یہ تمام معانی لفظ "ممدود" میں جمع ہیں۔ ــــــــــــ اس کے بعد اس کی افرادی قوت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہیں: میں نے اس کے لیے ایسی اولاد قرار دی ہے جو ہمیشہ اس کے پاس اور اس کی خدمت میں حاضر رہتی ہے۔ (وَبَنِينَ شُهُودًا)۔ وہ ہمیشہ اس کی مدد اور خدمت کے لیے تیار رہتے ہیں اور ان کی موجودگی اس کے انس اور راحت کا سبب تھی اور وہ تنگی معشیعت کی وجہ سے ہرگز مجبور نہیں تھے کہ ان میں سے کوئی بھی دور دراز کے علاقے کی طرف سفر کرے اور باپ کو دُوری، ہجر اور تنہائی کا رنج پہینچائیں۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ اس کے دس بیٹے تھے۔ ــــــــــــ اس کے بعد ان تمام نعمتوں کی طرف، جو اس نے اسے دے رکھی تھیں، کلی طور پر اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "میں نے اس کے لیے ہر لحاظ سے وسائل زندگی فراہم کیے" (وَمَهَّدتُّ لَهُ تَمْهِيدًا)۔ نہ صرف مال اور آبرو مند بیٹے ہی، بلکہ وہ اجتماعی اور جسمانی پہلوؤں سے بھی، ہر لحاظ سے نعتموں میں فرق تھا۔ "تمہید" ، "مہد" کے مادہ سے اصل میں اس جگہ کے معنی میں ہے جسے چھوٹے بچے کے لیے تیار کرتے ہیں (گہوارہ اور اسی قسم کی کوئی چیز) اس کے بعد ہر قسم کے راحت و آرام، پیش رفت اور اجتماعی عمدہ مقام و حیثیت پر اس کا اطلاق ہونے لگا اور مجموعی طور پر اس کا ایک وسیع معنی ہے، جو زندگی کی انواع و اقسام کی نعمتوں، اور پیش رفت و موفقیت کے وسائل کو شامل ہے۔ ــــــــــــ لیکن وہ ان تمام نعمتوں کے بخشنے والے کے آگے سرتسلیم خم کرنے اور اس کے آستانہ پر پیشانی کے بجائے کفرانِ نعمت کرنے اور زیادہ طلب کرنے لگا: "اور اس قدر مال اور نعمت رکھنے کے باوجود" پھر بھی یہ لالچ رکھتا ہے کہ ہم اس کی نعمتوں میں اضافہ کریں" (ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ)۔ یہ بات "ولید بن مغیرہ" میں ہی منحصر نہیں تھی، بلکہ تمام دنیا پر بہت ایسے ہی ہوتے ہیں، ان کی پیاس ہرگز نہیں بچھتی اور اگر ہفت اقلیم بھی ان کے زیر نگیں دے دی جائیں تو وہ پھر بھی ایک اور اقلیم کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ ــــــــــــ لیکن بعد والی آیت پوری شدت کے ساتھ اس نامحرم کی خواہشات کو رد کرتے ہوئے کہتی ہے: "ہرگز ایسا نہیں ہو گا کہ ہم اس کی نعمت میں اور اضافہ کریں، کیونکہ وہ ہماری آیات سے دشمنی رکھنا ہے" (كَلَّا إِنَّهُ كَانَ لِآيَاتِنَا عَنِيدًا)۔ اور باوجود اس کے کہ وہ اچھی طرح سے جانتا تھا کہ یہ قرآن نہ تو جن کا کلام ہے اور نہ ہی یہ بشر کا کلام ہے، اور یہ طاقتور جڑیں، پر ثمر شاخیں اور بے مثال کشش رکھتا ہے۔ پھر بھی وہ اس کو "سحر" کا نام دیتا تھا اور اس کے لانے والے کو ساحر کہتا تھا۔ "عنید" ، "عناد" کے مادہ سے، بعض کے قول کے مطابق اس قسم کی مخالفت اور دشمنی کے لیے بولا جاتا ہے، جو جانتے بوجھتے صورت پذیر ہو، یعنی انسان کسی چیز کی حقانیت کو درک کرے، اور پھر اس کی مخالفت کے لیے کھڑا ہو جائے اور "ولید" اس معنی کا روشن مصداق تھا۔ "کان" کی تعبیر بتاتی ہے کہ اس کا حق کے ساتھ عناد ایک امر مستمبر اور ہمشیگی کا تھا، ٹوٹنے والا اور جلدی گزر جانے والا نہیں تھا۔ ــــــــــــ آخر میں آخری زیر بحث آیت میں اس کی دردناک سرنوشت کی طرف مختصر اور پرمعنی عبارت کے ساتھ اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "ہم عنقریب اسے مجبور کریں گے کہ وہ زندگی کی "صعب العبور" ــــــــــــ (جس سے گزرنا مشکل ہے) ــــــــــــ چوٹی سے اوپر جائے" (اور پھر ہم اس چوٹی کی بلندی سے اسے نیچے پھینک دی)۔ (سَأُرْهِقُهُ صَعُودًا)۔ "سأوھقہ" ، "ارھاق" کے مادہ سے، اصل میں کسی چیز کو سختی کے ساتھ ڈھانپ لینے کے معنی میں ہے اور سخت کاموں کے برداشت کرنے اور انواع و اقسام کے عذاب میں مبتلا کرنے کے معنی میں بھی آیا ہے، "صعود" (بروزن کُبود) اس جگہ کے معنی میں ہے جس سے اوپر جاتے ہیں اور "صعود" (بروزن قعود) "اوپر جانے" کے معنی میں ہے۔ اور چونکہ بلند چوٹیوں سے اوپر جانا بہت ہی مشکل کام ہے، اس لیے یہ تعبیر ہر مشکل اور زحمت والے کام کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اسی لیے بعض نے اس کی عذابِ الہی کے ساتھ تفسیر کی ہے اور بعض نے یہ کہا ہے کہ "صعود" جہنم میں آگ کا ایک پہاڑ ہے، اسے مجبور کیا جائے گا کہ وہ اس کے اوپر چڑے، یا ہر ایک ایسا پہاڑ ہے جسے عبور کرنا سخت مشکل ہے، جس کی ڈھلان تیز اور زیادہ ہے، جب وہ اس کے اوپر جائے گا تو گر جائے گا اور نیچے آ پڑے گا اور اس بات کا بار بار تکرار ہو گا۔ یہ احتمال بھی ہے کہ یہ آیت اس جہان میں "ولید" کے دنیاوی عذاب کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ ــــــــــــ جیسا کہ تاریخ میں آیا ہے ــــــــــــ وہ انفرادی و اجتماعی زندگی میں کامیابی کی چوٹی کی بلندی پر پہنچنے کے بعد اس طرح گرا کہ آخر عمر تک مسلسل اپنے مال اور اولاد کو ہاتھ سے دیتا رہا، یہاں تک کہ بےحد مبجور اور دیوالیہ ہو گیا۔

18
74:18
إِنَّهُۥ فَكَّرَ وَقَدَّرَ
اس نے غورو فکر کیا اورمنصوبہ بنا لیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

19
74:19
فَقُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ
وہ ہلاک ہو جائے کس طرح اس نے مطلب تیار کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

20
74:20
ثُمَّ قُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ
پھر وہ مر جائے، اس نے کس طرح (شیطانی) منصوبہ بنایا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

21
74:21
ثُمَّ نَظَرَ
پھر اس نے نگاہ ڈالی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

22
74:22
ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ
پھر اس نے اپنا منہ چڑا یا اور جلدی سے کام میں لگ گیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

23
74:23
ثُمَّ أَدۡبَرَ وَٱسۡتَكۡبَرَ
پھر اس نے (حق کی طرف ) پشت کی اور تکبر کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

24
74:24
فَقَالَ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا سِحۡرٞ يُؤۡثَرُ
اس نے کہا یہ (قرآن) پر تاثیر جادو کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

25
74:25
إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا قَوۡلُ ٱلۡبَشَرِ
یہ انسان کے قول کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔

تفسیر ہلاک ہو جائے وہ، اس نے کتنا برا منصوبہ بنایا

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

ان آیات میں اس شخص کے بارے میں، جسے خدا نے فراواں مال و اولاد دی تھی اور وہ پیغمبر اسلامؐ کی مخالفت کرنے لگا ــــــــــــــ یعنی "ولید بن مغیرہ" مخزومی کی ـــــــــــ مزید وضاحتیں آئی ہیں۔ فرماتا ہے: "اس نے سوچا کہ پیغمبر اور قرآن کو کس چیز کے ساتھ متہم کرے؟ اور اس نے ایک منصوبہ اپنے ذہن میں تیار کرلیا"۔ (اِنَّهٝ فَكَّـرَ وَقَدَّرَ)۔ واضح رہے غور و فکر کرنا اپنی ذات سے ایک اچھا کام ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ حق کی راہ میں ہو۔ بعض اوقات اس کی ایک ساعت ایک سال کی عبادت، بلکہ عمر بھر کی عبادت کی فضیلت رکھتی ہے، کیونکہ وہی ایک لمحہ ہوسکتا ہے کہ انسان کی سرنوشت کو دگرگوں کردے، لیکن اگر غور و فکر کو کفر و فساد اور شیطنت کی راہ میں استعمال کیا جائے تو وہ مزموم اور قبیح ہے اور ولید کی فکر اور سوچ اسی قسم کی تھی۔ "قَدَر" "تقدیر" کے مادہ سے، یہاں مطلب کو ذہن میں آمادہ کرنے اور اس قبیح منصوبے کے اجراء کے لیے مصمم ارادہ کرنے کے معنی میں ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــ پھر اس کی مذمت کے لیے مزید کہتا ہے: "وہ ہلاک ہو جائے، اس نے حق سے مبارزہ کرنے کے لیے کیسا منصوبہ بنایا ہے"۔ (فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد تاکید کے عنوان سے مزید کہتا ہے؛ "پھر بھی وہ مارا جائے، اس نے حق سے مقابلہ کرنے کے لیے کس قسم کا منصوبہ تیار کیا ہے"۔ (ثُـمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ)۔ اور یہ اسی چیز کی طرف اشارہ ہے جو شانِ نزول میں آئی ہے کہ وہ چاہتا تھا کہ مشرکین کے افکار کو متحد کرے اور انھیں ایک ہی جہت دے، تاکہ یک زبان ہوکر پیغمبرؐ کے خلاف ایک ہی طرح کا پروپیگنڈا کریں اور جب انھوں نے یہ پیش نهاد کی کہ حضرت کو "شاعر" کا لقب دیں تو اس نے قبول نہ کیا. اس کے بعد انھوں نے "کاہن" کے عنوان کی پیشکش کی تو اس نے اسے بھی موافقت نہ کی، پھر "مجنون" کے عنوان کو پیش کیا تو اس نے اسے بھی پسند نہ کیا، آخر میں انھوں نے یہ پیشکش کی کہ پیغمبرؐ کو "ساحر" کہہ کر پکاریں تو اس نے ان کے ساتھ موافقت کی، کیونکہ اس کے خیال میں جادو کا اثر دو دوستوں کے درمیان جدائی ڈالنا اور دو مخالف افراد کے درمیان دوستی پیدا کرنا تھا اور یہ بات اسلام اور قرآن کے ظہور کے بعد پیدا ہوگئی تھی۔ اور چونکہ یہ نقشہ اور منصوبہ مطالعہ کرنے اور سوچ بچار کے بعد تیار کیا گیا تھا لہذا قرآن انھیں "فکّر و قدّر" کی تعبیر کے ساتھ جو بہت ہی مختصر اور پرمعنی ہے، پیش کرتا ہے۔ اس طرح سے اگرچہ پیش نهاد دوسروں کی طرف سے ہوئی تھی، لیکن غور و فکر اور انتخاب "ولید" کی طرف ہوا تھا۔ بہرحال یہ جملہ ــــــــ خصوصًا اس کے تکراروں کی طرف توجہ کرتے ہوئے ـــــــ اس بات کی دلیل ہے کہ اسے اپنے شیطانی افکار و نظریات میں پوری مہارت تھی، اس طرح سے کہ اس کی فکر و سوچ باعثِ تعجب ہے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "اس نے دوبارہ نظر کی"۔ (ثُـمَّ نَظَرَ)۔ اور اس نے اپنی ساختہ و پرداختہ فکر کی نئے سرے سے جانچ پڑتال کی، تاکہ اس کے ضروری استحکام و انجام اور مختلف پہلوؤں سے آگاہ و مطمئن ہو جائے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــ "پھر اس نے اپنا منہ چڑایا اور جلدبازی سے کام لیا"۔ (ثُـمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ)۔ "پھر اس نے حق کی طرف پشت پھیرلی اور تکبر کیا"۔ (ثُـمَّ اَدْبَـرَ وَاسْتَكْـبَـرَ)۔ ــــــــــــــــــــــــــــــ اور آخرکار اس نے کہا: "یہ چیز ایک عمدہ اور پرکشش جادو کے سوا ـــــــ جیسا کہ گزشتہ لوگوں سے نقل ہوا ہے ـــــــ کچھ نہیں ہے"۔ (فَقَالَ اِنْ هٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ يُّؤْثَرُ)۔ ــــــــــــــــــــــــــــــ "یہ صرف انسانوں کا قول ہے اور اس کا وحی الٰہی کے ساتھ کوئی ربط نہیں ہے"۔ (اِنْ هٰذَآ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ)۔ اس طرح سے اس نے اپنی آخری بات، قرآن سے مبارزہ اور مقابلہ کرنے کے لیے، بار بار کے مطالعہ اور شیطانی سوچ کے بعد کہی، اور زمانہ جاہلیت و شرک کے اس متفکر دماغ نے اپنی پوری شیطنت خرچ کرنے کے باوجود اپنی اس بات سے قرآن کی حد سے زیادہ مدح و ثناء اور تعریف و تمجید کر ڈالی، حالانکہ وہ خود اس بات کو نہ سمجھا، اس نے اس بات کی نشاندہی کی کہ قرآن ایسی کشش اور حد سے زیادہ قوتِ جاذبہ رکھتا ہے، جو ہر انسان کے دل کو مسخر کرلیتا ہے اور اس کے قول کے مطابق اس میں ایسی سحرانگیز تاثیر ہے جو دلوں کو مسحور کر دیتی ہے اور چونکہ قرآن میں جادوگروں کے جادو سے کسی قسم کی مشابہت نہیں ہے، بلکہ وہ منطقی، موزوں اور جچے تلے اقوال اور باتوں کا مجموعہ ہے، لہذا یہ بات خود اس بات کی دلیل ہے کہ وہ انسان کا کلام نہیں ہے، بلکہ وہ آسمانی وحی ہے اور اس نے ماوراء طبیعت عالم اور خدا کے بےپایاں علم سے سرچشمہ حاصل کیا ہے جس میں پورے نظم و انجام اور استحکام کے ساتھ تمام خوبیاں اور زیبائیاں جمع ہیں۔ "عبس" "عبوس" (بروزن جلوس) کے مادہ سے، منہ چڑانے کے معنی میں ہے اور "عبوس" (بروزن مجوس) اس شخص کے معنی میں ہے جو اس صفت کا حامل ہے۔ "بسر"، "بسور" کے مادہ سے اور "بسر" (بروزن نصر) بعض اوقات تو کسی کام کے وقت آنے سے پہلے اس میں جلدی کرنے کے معنی میں آتا ہے اور کبھی منہ چڑانے اور چہرہ کو دگرگوں کرنے کے معنی میں ہے۔ زیرِ بحث آیت میں اگر دوسرا معنی مراد ہو تو یہ "عبس" کے جملہ سے ہم آہنگ ہوجاتا ہے اور اگر یہ پہلے معنی میں ہو، تو یہ قرآن کے لیے ایک غلط عنوان چسپاں کرنے میں، لہذا گھبراہٹ اور سراسمیگی کے ساتھ جلدبازی سے تصمیم گیری کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ "یؤثر" کا جملہ "اثر" کے مادہ سے، اس روایت کے معنی میں ہے، جو گزشتہ لوگوں سے نقل ہوئی ہو، اور وہ جو ان سے باقی رہ گئے ہوں اور بعض نے اسے "ایثار" کے مادہ سے، انتخاب کرنے، مقدم رکھنے اور ترجیح دینے کے معنی میں سمجھا ہے۔ پہلے معنی کے مطابق "ولید" کہتا ہے: یہ گزشتہ لوگوں سے نقل شدہ جادو کی مانند، ایک جادو ہے اور دوسرے معنی کے مطابق وہ یہ کہتا ہے یہ ایک ایسا جادو ہے جو اپنی حلاوت اور کشش کی بناء پر دلوں میں اثر کرتا ہے، اور لوگ اس کو ہر چیز پر مقدم رکھتے ہیں۔ بہرحال یہ قرآن کے اعجاز کا ایک ضمنی اعتراف ہے۔ کیونکہ قرآن جادوگروں کے غیرا معمولی کاموں کے ساتھ کوئی مشابہت نہیں رکھتا، یہ ایک ایسا سنجیدہ و محکم کلام ہے، جو معنویت سے پر ہے اور بے مثل و نظیر قوتِ جاذبہ و نفوذ رکھتا ہے۔ اگر یہ "ولید" کے قول کے مطابق بشر کا کلام ہوتا، تو پھر دوسرے بھی اس کی مثل و نظیر لاسکتے تھے، حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ قرآن نے بارہا مقابلہ کی دعوت دی ہے، لیکن اس کے ان سخت ترین دشمنوں میں سے ــــــــــــــ جو عربی زبان میں حد سے زیادہ مہارت رکھتے تھے ـــــ کوئی بھی اس جیسی چیز نہ لاسکا، بلکہ وہ اس سے کمتر بھی نہ لاسکے، اور معجزہ کا معنی یہی ہے۔

26
74:26
سَأُصۡلِيهِ سَقَرَ
(لیکن) ہم عنقریب اس کو جہنم میں داخل کریں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔

27
74:27
وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا سَقَرُ
اور تو نہیں جانتا کہ دوزخ کیا چیز ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔

28
74:28
لَا تُبۡقِي وَلَا تَذَرُ
(وہ ایک ایسی آگ ہے جو) نہ کسی چیز کو باقی رہنے دیتی ہے اور نہ ہی کسی چیز کو چھوڑتی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔

29
74:29
لَوَّاحَةٞ لِّلۡبَشَرِ
وہ بدن کی جلد کو کلی طور پر دگر گوں کر دیتی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔

30
74:30
عَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَ
انیس (عذاب کے فرشتے) اس پر مقرر کیے گئے ہیں۔

تفسیر اس کی سر نوشت شوم

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

گزشتہ آیات کو جاری رکھتے ہوئے، جو شرک کے بعض سرغنوں کی وضع و کیفیت، اور قرآنِ مجید اور پیغمبر اسلامؐ کی رسالت کی نفی و انکار کی بات کرتی تھیں، ان آیات میں قیامت میں ان کے وحشت ناک عذاب کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ فرماتا ہے: "ہم عنقریب اس کو جہنم میں داخل کریں گے، اور دوزخ کی آگ میں جلائیں گے"۔ (سَاُصْلِيْهِ سَقَرَ)۔ "سقر" اصل میں "سقر" (بروزن نقر) کے مادہ سے دگرگوں ہونے اور سورج کی گرمی کے اثر سے پگھل جانے کے معنی میں ہے اس کے بعد جہنم کے ناموں میں سے ایک نام کے عنوان سے انتخاب ہوا ہے اور بہت سی قرآنی آیات میں آیا ہے اور اس نام کا انتخاب دوزخ کے ہولناک عذابوں کی طرف اشارہ ہے، جو اہلِ دوزخ کو دامن گیر ہوں گے، اور بعض نے جہنم کے ہول انگیز طبقات و درکات میں سے ایک نام سمجھا ہے۔ اس کے بعد عذابِ دوزخ کی عظمت و شدت کے بیان کے لیے کہتا ہے: "تو کیا جانتا ہے کہ سقر کیا ہے"۔ (وَمَآ اَدْرَاكَ مَا سَقَرُ)۔ یعنی اس کا عذاب اس قدر شدید ہے جو دائرہ تصور سے باہر ہے اور کسی شخص کے فکر و خیال میں نہیں سماتا، جیسا کہ جنت کی نعمتوں کی اہمیت و عظمت کسی فکر و خیال میں نہیں سماتیں۔ "وہ نہ کسی چیز کو باقی رہنے دیتی ہے اور نہ ہی کسی چیز کو چھوڑتی ہے"۔ (لَا تُبْقِىْ وَلَا تَذَرُ)۔ یہ جملہ ممکن ہے اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ جہنم کی آگ، دنیا کی آگ کے بر خلاف ـــــــــ جو کبھی بدن کے ایک حصہ پر اثر انداز ہوتی ہے اور دوسرا حصہ صحیح و سالم رہ جاتا ہے اور کبھی جسم پر اثر کرتی ہے، لیکن روح اس سے امان میں رہتی ہے ـــــــ ایک ایسی گھیرنے والی آگ ہے جو انسان کے پورے وجود کو اپنے احاطہ میں لے لے گی اور کسی چیز کو نہیں چھوڑے گی۔ بعض یہ بھی کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ دوزخیوں کو نہ مارے گی اور نہ ہی زندہ رہنے دے گی، بلکہ وہ ہمیشہ موت و حیات کے درمیان گرفتار رہیں گے، جیسا کہ سورۃ اعلیٰ کی آیہ 13 میں آیا ہے: لایموت فیھا ولا یحیٰی "نہ وہ اس میں مریں گے اور نہ ہی وہ زندہ رہیں گے"۔ یا یہ ہے کہ نہ تو جلد اور گوشت بدن پر رہنے دے گی اور نہ ہی ہڈیوں کو صحیح و سالم چھوڑے گی، اس بناء پر آیت کا مفہوم یہ ہے کہ وہ کلی طور پر جلا دے گی، کیونکہ یہ معنی اس چیز سے، جو سورۃ نساء کی آیہ 56 میں آئی ہے، سازگار نہیں ہے، جہاں فرماتا ہے: (كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُـمْ بَدَّلْنَاهُـمْ جُلُوْدًا غَيْـرَهَا لِيَذُوْقُوا الْعَذَابَ) جس وقت ان کے بدن کی جلدیں جل جائیں گی تو ہم ان پر دوسری جلدیں تبدیل کر دیں گے، تاکہ وہ خدا کے عذاب کا مزا چکھیں۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد قہرِ الٰہی کی اس جلانے والی آگ کی دوسری صفت کو بیان کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "وہ بدن کی جلد کو کامل طور پر بدل کر رکھ دے گی، جو بہت دور کے فاصلہ سے انسانوں کے لیے نمایاں ہوگی"۔ (لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِ)۔ (تشریحی نوٹ: "لواحۃ" مبتدائے محذوف کی خبر ہے اور تقدیر میں "ھی لواحۃ" ہے)۔ وہ چہرے کو اس طرح سے سیاہ اور تاریک بنا دے گی کہ وہ شبِ تاریک سے زیادہ سیاہ نظر آئے گا۔ "بشر" یہاں "بشرہ" کی جمع ہے، جو بدن کی ظاہری جلد کے معنی میں ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ انسانوں کے معنی میں ہو۔ "لواحۃ" "لوح" کے مادہ سے، کبھی تو ظاہر و آشکار ہونے کے معنی میں آتا ہے، اور کبھی تغیر دینے اور دگرگوں کرنے کے معنی میں۔ پہلے معنی کی بناء پر آیت کی تفسیر اس طرح ہوگی: دوزخ دور کے فاصلہ سے انسانوں کے لیے نمایاں ہوگی، جیسا کہ سورۃ نازعات کی آیہ 36 میں آیا ہے: (وَبُرِّزَتِ الْجَحِـيْمُ لِمَنْ يَّرٰى) "دوزخ دیکھنے والوں کے لیے ظاہر و آشکار ہوگی"۔ اور دوسرے معنی کی بناء پر آیت کی تفسیر اس طرح ہے: "دوزخ بدن کی جلد کے رنگ کو کلی طور پر دگرگوں کر دے گی"۔ ـــــــــــــــــــــــــــ اور آخری زیرِ بحث آیات میں فرماتا ہے: "انیس عذاب کے فرشتے جہنم پر مقرر کیے گئے ہیں"۔ (عَلَيْـهَا تِسْعَةَ عَشَرَ)۔ (تشریحی نوٹ: اس جملہ میں "علیہا" خبر مقدم ہے اور "تسعۃ عشر" مبتدائے موخر ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ لفظ مبنی بر فتحہ ہے۔ اس لیے ظاہر میں اس پر رفع نہیں آسکتا اور اس کی وجہ نحویوں نے یہ بتائی ہے کہ وہ حرف عاطفہ کے معنی کو مضمر ہے) ۔ وہ فرشتے جو قطعی طور سے ترحم، شفقت اور مہربانی پر مامور نہیں ہیں، بلکہ سزا دینے، عذاب اور سختی پر مامور ہیں۔ اگر اوپر والی آیت میں صرف انیس کے عدد کا ذکر ہوا ہے اور عذاب پر مامور ملائکہ کی تصریح نہیں ہوئی، لیکن بعد والی آیت سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ تعداد عذاب پر مامور فرشتوں کی تعداد کی طرف اشارہ ہے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ فرشتوں کے انیس گروہوں کی طرف اشارہ ہے، نہ کہ انیس افراد کی طرف، اور "وما یعلم جنود ربک الا ھو" (تیرے پروردگار کے لشکروں کو اس کے سوا اور کوئی نہیں جانتا) کا جملہ، جو بعد والی آیت میں آیا ہے، اس کو اس معنی پر قرینہ سمجھتے ہیں۔ لیکن مامورینِ عذابِ الٰہی کے لیے اعداد میں سے صرف انیس کا عدد ہی کیوں انتخاب کیا گیا، کوئی بھی شخص وقت کے ساتھ ٹھیک ٹھیک نہیں جانتا، لیکن کچھ لوگوں نے یہ احتمال دیا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ انیس کے عدد میں: اکائیوں میں سب سے بڑا عدد (نو کا عدد) اور دہائیوں میں سب سے چھوٹا عدد (دس کا عدد) جمع ہے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اخلاقِ رذیلہ کی جڑیں انیس ظاہری و باطنی اخلاق کی طرف لوٹتی ہیں اور چونکہ اخلاقِ رذیلہ میں سے ہر ایک عذابِ الٰہی کا ایک عامل ہے، اس لیے دوزخ کے انیس طبقے ہیں، جو ان کی تعداد کے مطابق ہیں اور ہر طبقہ پر ایک فرشتہ یا فرشتوں کا ایک گروہ عذاب پر مامور ہے۔ اصولی طور پر قیامت، بہشت و دوزخ اور ان کے جزئیات و خصوصیات سے مربوط مسائل ہم لوگوں کے لیے، جو محدود دنیا کے محیط میں اسیر ہیں، پورے طور پر واضح نہیں ہیں، جو کچھ ہم جانتے ہیں وہ ان کے کلیات ہیں۔ اسی لیے روایات میں یہ آیا ہے کہ ان انیس فرشتوں میں سے ہر ایک بہت بڑی قدرت رکھتا ہے، جس کی وجہ سے وہ ایک بہت بڑے قبیلہ کو آسانی کے ساتھ جہنم میں پھینک سکتا ہے۔ اور یہاں سے ان لوگوں کے افکار کا ضعف و ناتوانی واضح ہوجاتا ہے، جو ابو جہل کی طرح سوچتے ہیں۔ اس نے جب یہ آیت سنی تو اس نے قبیلہ قریش سے بطور استہزاء کے یہ کہا کہ تمھاری مائیں تمھاری عزاء میں بیٹھیں، کیا تم سنتے نہیں ہو کہ "ابن ابی کبشہ" (پیغمبر اکرمؐ کی طرف اشارہ ہے)۔ (تشریحی نوٹ: اس بارے میں کہ قریش پیغمبر کو اس عنوان سے کیوں پکارتے تھے، بعض نے تو یہ کہا ہے کہ قبیلہ "خزاعہ" کا ایک شخص "ابو کبشہ" نامی تھا جو زمانہ جاہلیت میں بتوں کی عبادت سے دستبردار ہوگیا تھا اور چونکہ پیغمبر بت پرستی کے شدید مخالف تھے لہذا وہ آپ کو "ابو کبشہ" کے بیٹے کے نام سے پکارتے تھے اور بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ ابو کبشہ پیغمبر کے مادری اجداد میں سے تھا لیکن بہرحال اس میں شک نہیں کہ ان کا مقصد اس نام کے انتخاب کرنے میں تمسخر اڑانا تھا، کیونکہ عربی زبان میں "کبشہ"، "مینڈھے" کے معنی میں ہے۔ اگرچہ یہ نام مدح کے طور پر بھی آیا ہے اور لشکر کے بہادروں اور کمانڈروں کو بھی کہا جاتا ہے)۔ کیا کہتا ہے؟ وہ کہتا ہے کہ دوزخ کے خازن انیس افراد ہیں، لیکن تم بہادروں کا ایک بہت بڑا گروہ ہو، کیا تم میں سے ہر دس آدمی بھی ان میں سے ایک کو مغلوب نہیں کرسکتا؟ "ابو الاسد جمعی" (قریش میں سے ایک طاقت ور شخص) نے کہا: میں ان میں سے سترہ کے لیے کافی ہوں، باقی کے دو نفر کا حساب چکا لینا۔(بحوالہ:"مجمع البیان" جلد 10 ص 388 اور دوسری تفاسیر)۔ ـــــــــــــــــــــ

ایک نکتہ : انیس کا عدد عذاب کے فرشتوں کا عدد ہے

اوپر والی آیات میں، جہنم کے خازنوں کی تعداد واضح طور پر انیس گروہ اور لشکر بتائی گئی ہے اور بعد والی آیات میں اسی مطلب پر تکیہ ہوا ہے، لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض منحرف فرقے اس عدد کے مقدس ہونے پر اصرار کرتے ہیں، یہاں تک کہ ان کی کوشش یہ ہے کہ سال کے مہینوں کی تعداد ـــــــــــ تمام طبعی اور فلکی موازین کے برخلاف ــــــــــ اسی انیس کے محور پر منظم کریں، اور اپنے عملی احکام بھی اسی کے مطابق قرار دیں۔ اور اس سے بھی بڑھ کر تعجب کی بات یہ ہے کہ ایک مؤلف جو شایدان کے نظریات کے ساتھ ارتباط رکھتا ہے، ایک ہنسانے والا، اور عجیب اصرار رکھتا ہے کہ وہ قرآن کی ہر چیز کی انیس کی بنیاد پر توجہیہ کرے، اور بہت سے ایسے موارد میں، جہاں یہ عدد اس کی دلی خواہش کے مطابق، آیات قرآنی میں موجود واقعیتوں سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ وہاں وہ اپنی مرضی سے کچھ کم اور کچھ زیادہ کرتا ہے کہ تاکہ وہ انیس کے عدد یا انیس کے عدد کی ضربوں سے ہم آہنگ ہو جائے اور ان کے مطالب کو ذکر کرنےمیں وقت صرف کرنا، یا ان کے جواب دینا شاید اتلافِ وقت میں محسوب ہو گا۔ ہاں! ایک "دوزخی مذہب" کو "دوزخی عدد" کے محور پر ہی گردش کرنا چاہیے اور ایک دوزخی گروہ کو عزاب کے فرشتوں کے عدد کے ساتھ ہی ہم آہنگ ہونا چاہیے۔

31
74:31
وَمَا جَعَلۡنَآ أَصۡحَٰبَ ٱلنَّارِ إِلَّا مَلَـٰٓئِكَةٗۖ وَمَا جَعَلۡنَا عِدَّتَهُمۡ إِلَّا فِتۡنَةٗ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ لِيَسۡتَيۡقِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ وَيَزۡدَادَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِيمَٰنٗا وَلَا يَرۡتَابَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَ وَلِيَقُولَ ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ وَٱلۡكَٰفِرُونَ مَاذَآ أَرَادَ ٱللَّهُ بِهَٰذَا مَثَلٗاۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ ٱللَّهُ مَن يَشَآءُ وَيَهۡدِي مَن يَشَآءُۚ وَمَا يَعۡلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَۚ وَمَا هِيَ إِلَّا ذِكۡرَىٰ لِلۡبَشَرِ
ہم نے جہنم کے مامورین (عذاب کے ) فرشتوں کے سوا اور کسی کو قرار نہیں دیا، اور ان کی تعداد بھی کافروں کی آزمائش کے علاوہ اور کسی بات کے لئے معین نہیں کی، تاکہ اہل کتاب (یہودو انصاری) یقین کر لیں اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو اور اہل کتاب اور مومنین (اس آسمانی کتاب کی حقانیت میں شک و تردد نہ کریں، وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے، اور کافر لوگ یہ کہیں : اللہ کا اس تعریف سے کیا مقصد ہے؟ ہاں اللہ جسے چاہتا ہے، اسی طرح سے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور تیرے پروردگار کے لشکروں کو اس کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا، اور یہ انسانوں کی تنبیہ کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔

تفسیر: دوذخ کے مامورین کی تعداد کس لیے ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

جیسا کہ گزشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے کہ خدا نے دوزخ کے خازنوں اور مامورین کی تعداد انیس افراد (یا انیس گروہ) بیان کی ہے۔ اور یہ بھی بیان ہوا ہے کہ اس عدد کا ذکر مشرکین اور کفار کے درمیان گفتگو کا سبب بنا، اور ایک گروہ نے اس کا مذاق اڑایا اور ان کی تعداد کے کم ہونے کو اس بات کی دلیل خیال کیا کہ ان پر غلبہ حاصل کرنا مشکل کام نہیں ہے۔ زیرِ بحث آیت جو اس سورہ کی طویل ترین آیت ہے انھیں جواب دیتی ہے، اور اس سلسلہ میں بہت حقائق کو واضح کرتی ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: "ہم نے جہنم کے مامورین (عذاب کے) فرشتوں کے سوا اور کسی کو قرار نہیں دیا" (وَمَا جَعَلْنَآ اَصْحَابَ النَّارِ اِلَّا مَلَآئِكَـةً)۔ (تشریحی نوٹ: "اصحابِ النار" کی تعبیر قرآنِ مجید کی آیات میں بہت زیادہ ذکر ہوئی ہے، اور جگہ "دوزخیوں" کے معنی میں ہے۔ سوائے اس جگہ کے کہ یہاں "خازنین" کے معنی میں ہے۔ ضمنی طور پر ان کے بارے میں اس تعبیر کا ذکر یہ بتاتا ہے کہ گزشتہ آیات میں "سقر" کا معنی سارا جہنم ہے، نہ کہ اس کا ایک حصہ)۔ طاقتور اور قدرت والے فرشتے اور قرآن کی تعبیر میں، "غلاظ" و "شداد" بہت شدید اور سخت گیر، جن کے سامنے تمام گنہگار ضعیف و ناتواں ہیں۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "ہم نے ان کی تعداد کافروں کی آزمائش کے سوا اور کسی بات کے لیے قرار نہیں دی ہے" (وَّمَا جَعَلْنَا عِدَّتَـهُـمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّـذِيْنَ كَفَرُوْا)۔ یہ آزمائش دو لحاظ سے تھی، ایک تو یہ کہ وہ استہزا اور تمسخر کرتے تھے کہ تمام اعداد میں سے انیس (19) کا عدد ہی کیوں انتخاب کیا گیا، حالانکہ دوسرا جو بھی عدد انتخاب ہوتا، اسی میں یہ سوال پیدا ہوتا۔ اور دوسری طرف وہ اس تعداد کو بہت کم سمجھتے تھے، اور بطور تمسخر اور استہزاء کے کہتے تھے کہ ہم ان میں سے ہر ایک کے مقابلہ کے لیے دس دس افراد کھڑے کر دیں گے اور انھیں درہم برہم کرکے رکھ دیں گے۔ حالانکہ خدا کے فرشتے ایسے ہیں کہ (قرآن کے قول کے مطابق) ان میں سے چند افراد ہی قومِ لوط کی ہلاکت پر مامور ہوئے تھے، اور انھوں نے ان کے آباد شہروں کو زمین سے اٹھا کر زیرو زبر کر دیا تھا اور اس قطعِ نظر، جہنم کے خازنوں کے لیے انیس کے عدد کا انتخاب دوسرے معانی بھی رکھتا ہے، جو گزشتہ آیات کے ضمن میں بیان ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "اس سے مقصد یہ تھا کہ اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) یقین پیدا کریں" (لِيَسْتَيْقِنَ الَّـذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتَابَ)۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ یہودیوں کے ایک گروہ نے بعض اصحابِ پیغمبرؐ سے خازنین جہنم کی تعداد کے بارے میں سوال کیا، اس نے کہا کہ خدا اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ اسی وقت جبرئیل نازل ہوئے اور پیغمبرؐ کو خبر دی: "عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ" انیس افراد (یا انیس گروہ) اس پر مقرر کیے گئے ہیں۔ ( تشریحی نوٹ :اس حدیث کو "بہیقی" و "ابن ابی حاتم" اور "ابن مردویہ" نے پیغمبر اکرمؐ سے نقل کیا ہے۔ (تفسیر مراغی، جلد 29 ص 134) ۔ اور چونکہ انھوں نے اس موضوع پر کوئی اعتراض نہیں کیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اسے اپنی کتب کے ساتھ ہم آہنگ پایا، اور پیغمبر اسلامؐ کی نبوت پر ان کے یقین میں اضافہ ہوا، اور یہی اس بات کا سبب بنی کہ مومنین بھی اپنے عقیدہ میں زیادہ راسخ ہوجائیں۔ اس لیے بعد والے جملہ میں مزید کہتا ہے: "اس سے مقصد یہ تھا کہ مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو جائے" (وَيَزْدَادَ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اِيْمَانًا)۔ اور اس جملہ کے ذکر کے بعد بلا فاصلہ انھی تین اہداف و مقاصد کی طرف، تاکید کے عنوان سے لوٹتا ہے اور نئے سرے سے اہلِ کتاب کے ایمان، اس کے بعد مومنین کے ایمان اور پھر کفار و مشرکین کی آزمائش پر تکیہ کرتے ہوئے کہتا ہے: "اور مقصد یہ تھا اور اہلِ کتاب اور مومنین قرآن کی حقانیت میں شک اور تردید نہ کریں اور کافر اور وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے یہ کہیں کہ خدا کا اس تعریف سے کیا ارادہ ہے اور اس کا کیا مقصد ہے؟" (وَّلَا يَرْتَابَ الَّـذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتَابَ وَالْمُؤْمِنُـوْنَ ۙ وَلِيَقُوْلَ الَّـذِيْنَ فِىْ قُلُوْبِـهِـمْ مَّرَضٌ وَّالْكَافِرُوْنَ مَاذَآ اَرَادَ اللّـٰهُ بِـهٰذَا مَثَلًا)۔ (تشریحی نوٹ: اس بات پر توجہ رہے کہ "لیستیقن" کا "لام" تا "لام علت" ہے اور "لیقول" میں "لام غایت" اور شاید اسی بناء پر تکرار ہوا ہے۔ حالانکہ اگر دونوں کا ایک ہی معنی ہوتا تو پھر تکرار کی ضرورت نہیں تھی اور دوسرے لفظوں میں مومنین میں یقین پیدا کرنا، جو خدا کی مشیت اور اس کا حکم تھا، لیکن کافروں کی کفرآمیز باتیں اس کی مشیت یا حکم نہیں ہیں، بلکہ وہ ان کے اس کام کا انجام اور نتیجہ تھیں)۔ اس بارے میں کہ "الَّـذِيْنَ فِىْ قُلُوْبِـهِـمْ مَّرَضٌ" (وہ لوگ کہ جن کے دل بیماری ہے) سے کون لوگ مراد ہیں؟ ایک گروہ نے یہ کہا ہے کہ اس سے مراد "منافقین" ہیں کیونکہ قرآنی آیات میں یہ تعبیر ان کے بارے میں آئی ہے، جیسا کہ سورۃ بقرہ کی آیہ 10 میں آیا ہے، جو قبل و بعد کی آیات کے قرینہ سے منافقین کے بارے میں گفتگو کرتی ہے: (فِىْ قُلُوْبِـهِـمْ مَّرَضٌ فَزَادَهُـمُ اللّـٰهُ مَرَضًا)۔ ان کے دلوں میں ایک قسم کی بیماری ہے اور خدا ان کی بیماری کو مزید بڑھا دیتا ہے اور اسی بات کو وہ آیت کے مدنی ہونے کی دلیل قرار دیتے ہیں کیونکہ گروہ منافقین اسلام کی قدرت کے موقع پر مدینہ میں پیدا ہوا تھا نہ کہ مکہ میں۔ لیکن آیاتِ قرآنی میں اس تعبیر کے ذکر کا مطلب اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ تعبیر منافقین میں منحصر نہیں ہے، بلکہ یہ ان تمام کفار کے لیے جو حق تعالیٰ کی آیات کے بارے میں عناد، ہٹ دھرمی اور دشمنی رکھتے تھے، ــــــــــــ اطلاق ہوئی ہے، یہاں تک کہ بعض اوقات اس کا منافقین پر عطف ہوا ہے، جو ممکن ہے کہ ان کی دوگانگی اور الگ الگ ہونے کی دلیل ہو، مثلاً سورہ انفال کی آیہ 49 میں آیا ہے: (اِذْ يَقُوْلُ الْمُنَافِقُوْنَ وَالَّـذِيْنَ فِىْ قُلُوْبِـهِـمْ مَّرَضٌ غَـرَّ هٰٓؤُلَآءِ دِيْنُـهُـمْ) "جس وقت منافقین اور ان لوگوں نے جن کے دلوں میں بیماری تھی یہ کہا کہ مسلمانوں کو ان کے دین نے مغرور کر دیا ہے" اور اسی طرح اور دوسری آیات۔ اس بناء پر ایت کے مکی ہونے کی نفی پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے، خصوصاً جبکہ یہ ماقبل کی ایات کے ساتھ مکمل ہم آہنگی اور ارتباط رکھتی ہے۔ جن میں مکی ہونے کی نشانیاں مکمل طور پر نمایاں ہیں۔ ( غورکیجیے) اس بناء پر ان باتوں کے بعد، جو مومنین اور بیمار دل کافروں کی ارشاداتِ الٰہی سے فائدہ اٹھانے کی کیفیت کے بارے میں تھیں، مزید کہتا ہے: "اس طرح سے خدا جسے چاہتا ہے، گمراہ کر دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے" (كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّـٰهُ مَنْ يَّشَآءُ وَيَـهْدِىْ مَنْ يَّشَآءُ)۔ گزشتہ جملے، اس بات کی اچھی طرح سے نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض کی ہدایت اور بعض دوسرے گمراہی کے بارے میں یہ مشیت و ارادۂ الٰہی، بے حساب نہیں ہے، وہ لوگ جو معاند، ہٹ دھرم اور دل کے بیمار ہیں اس کے علاوہ اور کوئی حق نہیں رکھتے، اور لوگ جو خدا کے فرمان کے آگے سرِ تسلیم خم کرتے ہیں اور وہ مومن ہیں وہ اسی قسم کی ہدایت کے مستحق ہیں۔ آیت کے آخر میں فرماتا ہے: "بہرحال، تیرے پروردگار کے لشکر کو اس کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا، اور یہ چیز انسانوں کو تنبیہ کرنے اور تذکرے کے علاوہ کچھ نہیں ہے" (وَمَا يَعْلَمُ جُنُـوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ ۚ وَمَا هِىَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ)۔ اس بناء پر اگر دوزخ کے انیس خازنین کا ذکر درمیان میں آیا ہے تو اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ خدا کے لشکر انھیں میں محدود ہیں، بلکہ پروردگار کے لشکر اس قدر زیادہ ہیں کہ بعض روایات میں کی تعبیر کے مطابق تمام زمین اور آسمان کو انھوں نے بھر رکھا ہے، یہاں تک کہ تمام عالمِ ہستی میں پاؤں رکھنے کی جگہ نہیں ہے مگر یہ کہ وہاں خدا کا ایک فرشتہ تسبیح میں مشغول ہے۔ اس بارے میں کہ "وَمَا هِىَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ" (اور یہ انسانوں کے لیے تذکرے کے علاوہ کچھ نہیں) کے جملہ میں "ھی" کی ضمیر کس چیز کی طرف لوٹتی ہے، مفسرین نے مختلف احتمال دیے ہیں۔ کبھی تو یہ کہا ہے کہ: "سقر" یعنی خود دوزخ کی طرف لوٹتی ہے۔ اور کبھی یہ کہا ہے کہ: قرآن مجید کی آیات کی طرف اشارہ ہے۔ اگرچہ یہ سب چیزیں تذکر، بیداری اور آگاہی کا سبب ہیں، لیکن آیات کے لب و لہجہ کی طرف توجہ کرتے ہوئے پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے کیونکہ مقصد اس حقیقت کو بیان کرنا ہے کہ اگر خدا نے اپنے لیے لشکروں کا انتخاب کیا ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ خود معاندین اور گنہگاروں کو کیفرِ کردار تک نہیں پہنچا سکتا، اور عذاب نہیں دے سکتا، بلکہ یہ سب کچھ تذکر و بیداری اور عذابِ الٰہی کے مسئلہ کے حقیقت ہونے کی طرف توجہ کے لیے ہے۔

ایک نکتہ: پروردگار کے لشکروں کی تعداد

ہر جگہ خدا کی حضور اور اس کی قدرت کی وسعت، تمام عالمِ ہستی میں، اس کی پاک ذات کو ہر قسم کے یار و مددگار اور لشکر سے بے نیاز کر دیتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود مخلوقات کو اپنی عظمت بتانے، اور ان کے تذکر اور یاد دہانی کے لیے اس نے فراواں لشکروں کا انتخاب کیا ہے، جو سارے عالم میں اس کے فرمان کو بجا لانے والے ہیں۔ اسلامی روایات میں پروردگار کے لشکروں کی کثرت و عظمت اور قدرت کے لیے عجیب و غریب تعبیریں وارد ہوئی ہیں، چونکہ وہ ان موازین کے ساتھ، جن سے ہم سروکار رکھتے ہیں، سازگار نہیں ہیں، اسی لیے ان کا سننا ہمارے لیے بہت تعجب آور ہے۔ یہاں پر ہم حضرت علیؑ کے اس عظمت والے کلام پر، جو اس سلسلہ میں نہج البلاغہ کے پہلے خطبہ میں نقل ہوا ہے، قناعت کرتے ہیں، اور چونکہ عبادت طولانی ہے، لہٰذا ہم اس کا صرف ترجمہ پیش کرتے ہیں۔ اس وقت اوپر والے آسمانوں کو ایک دوسرے سے جدا کیا، اور ان کو فرشتوں کی مختلف اصناف و اقسام سے پر کر دیا۔ ان میں سے ایک گروہ ہمیشہ سجدہ میں رہتا ہے اور وہ رکوع میں نہیں جاتا۔ اور ایک گروہ ہمیشہ رکوع میں رہتا ہے اور وہ رکوع سے سر نہیں اٹھاتا۔ اور ایک گروہ ہمیشہ قیام میں رہتا ہے اور عبادت میں مشغول رہتا ہے اور وہ اپنی جگہ کو نہیں بدلتا۔ ایک گروہ ہمیشہ تسبیح کرتا ہے اور تھکتا نہیں۔ کبھی نیند ان کی آنکھوں کو بند نہیں کرتی اور سہو و نسیان ان کی عقل پر غالب نہیں آتے۔ ان کے جسم سستی کی طرف مائل نہیں ہوتے اور غفلت اور فراموشی انھیں لاحق نہیں ہوتی۔ اور ایک دوسرا گروہ اس کی وحی کا امین ہے اور اس کے پیغمبروں کی طرف اس کی زبان ہے اور یہ گروہ اس کے فرمان اور امر کی تبلیغ کے لیے مسلسل آتا جاتا رہتا ہے۔ کچھ اور اس کے بندوں کے محافظ ہیں اور بہشت برین کے دربان ہیں۔ ان میں سے بعض کے پاؤں زمین کے نچلے طبقات میں ثابت اور ان کی گردنیں آسمان برین سے آگے نکل گئی ہیں اور ان کے وجود کے ارکان ابعاد و اطراف جہان سے خارج ہو گئے ہیں اور ان کے کندھے عرشِ خدا کے پایوں کی حفاظت کے لیے آمادہ ہیں۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ اول)۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں (ملک) ایک وسیع و عریض مفہوم رکھتا ہے جو ان فرشتوں کو بھی شامل ہے جو عقل و شعور اور اطاعت و تسلیم کے حامل ہیں اور عالمِ ہستی کی بہت قوتوں اور توانائیوں کو بھی۔ ہم نے اس موضوع کے بارے میں سورہ فاطر کے آغاز کی آیات میں (جلد 18 ص 165 سے آگے) مزید تفصیل بیان کی ہے۔

32
74:32
كَلَّا وَٱلۡقَمَرِ
چاند کی قسم ایسا نہیں ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔

33
74:33
وَٱلَّيۡلِ إِذۡ أَدۡبَرَ
اور رات کی قسم جب وہ پشت پھیرے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔

34
74:34
وَٱلصُّبۡحِ إِذَآ أَسۡفَرَ
اور صبح کی قسم جب وہ چہرہ کھولے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔

35
74:35
إِنَّهَا لَإِحۡدَى ٱلۡكُبَرِ
کہ وہ (قیامت کے ہولناک حوادث) اہم مسائل میں سے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔

36
74:36
نَذِيرٗا لِّلۡبَشَرِ
تمام انسانوں کے لئے تنبیہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔

37
74:37
لِمَن شَآءَ مِنكُمۡ أَن يَتَقَدَّمَ أَوۡ يَتَأَخَّرَ
تم میں سے ان لوگوں کے لئے جو یہ چاہتے ہیں کہ آگے بڑھ جائیں یا پیچھے رہ جائیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

پیغمبرِ اسلامؐ کی نبوت کے منکرین اور قیامت کے انکار کی بحث کو جاری رکھتے ہوئے، ان آیات میں کئی ایک قسمیں کھائی ہیں، اور قیامت، قبروں سے اٹھنے اور دوزخ و عذاب کے مسئلہ پر تاکید ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: "جیسا کہ وہ خیال کرتے ہیں، ایسا نہیں ہے، چاند کی قسم" (كَلَّا وَالْقَمَرِ)۔ "کلّا" حرف "ردع" ہے اور عام طور پر ان باتوں کی نفی کے لیے آتا ہے جنہیں طرف مقابلے نے پہلے ذکر کیا ہو اور کبھی بعد والی باتوں کی نفی کے لیے بھی ہوتا ہے اور یہاں گزشتہ آیات کے قرینہ سے ان مشرکین کے گمان کی جو دوزخ اور اس کے عذاب کے منکر تھے، اور جہنم کے خازن فرشتوں کے مذاق اڑاتے اور تمسخر کرتے تھے، نفی کرتا ہے۔ "چاند" کی قسم کا ذکر اس بناء پر ہے کہ وہ خدا کی عظیم نشانیوں میں سے ایک ہے۔ خلقت کے لحاظ سے بھی اور منظم دور اور گردش کرنے کے لحاظ سے بھی، اور روشنی و خوبصورتی اور تدریجی تغیرات کے لحاظ سے بھی، جو دنوں کی تشخیص کے لیے خوراک زندہ تقویم اور جنتری ہے۔ ـــــــــــ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "اور قسم ہے رات کی جس وقت وہ پشت پھیرے اور دامن سمیٹے" (وَاللَّيْلِ إِذْ أَدْبَرَ)۔ ـــــــــــ "اور قسم ہے صبح کی جس وقت وہ اپنے چہرے سے نقاب اٹھائے" (وَالصُّبْحِ إِذَا أَسْفَرَ)۔ (تشریحی نوٹ: "اسفر" ، "سفر" (بروزن فقر) کے مادہ سے ڈھکنا کھولنا اور حجاب کو دور کرنے کے معنی میں ہے۔ اسی لیے بےپردہ عورتوں کو "سافرات" کہا جاتا ہے اور یہ تعبیر طلوعِ صبح کے لیے ایک خوبصورت اور عمدہ تشبیہ ہے)۔ حقیقت میں یہ تینوں قسمیں ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ چاند کی جلوہ گری راتوں میں ہے اور دن کے وقت چاند کی روشنی، سورج کی روشنی کے تحت الشعاع میں ہوتی ہے اور وہ مطلقاً جلوہ نہیں دکھاتا۔ رات بھی اگرچہ آرام بخش ہوتی ہے اور خاموش اور حق تعالیٰ کے عاشقوں کے راز و نیاز کا وقت ہوتا ہے، لیکن یہ شبِ تاریک اس وقت بہت ہی عمدہ دکھائی دیتی ہے جب وہ پشت پھیرتی ہے اور صبح روشن کی طرف رُخ کرتے ہوئے آگے بڑھتی ہے اور آخر سحر کا وقت ہوتا ہے اور صبح کا طلوع کرنا، جو شبِ تاریک کا اختتام ہے، سب سے زیادہ دل آویز ہوتا ہے، جو ہر انسان کو وجہ و نشاط میں لاتا ہے اور نور و صفا میں غرق کر دیتا ہے۔ ضمنی طور پر یہ تینوں قسمیں "قرآن" کے نور ہدایت اور "شرک و بت پرستی" کی تاریکیوں کے پشت پھیرنے اور "توحید" کی صبح کی سفیدی کے پھوٹنے کے ساتھ مناسبت رکھتی ہیں۔ ان قسموں کو بیان کرنے کے بعد اس چیز کی طرف رُخ کرتا ہے، جس کے لیے یہ قسمیں کھائی گئی ہیں، فرماتا ہے: "یقیناً قیامت کے ہولناک حوادث، دوزخ اور عذاب کے فرشتے اہم مسائل میں سے ہیں۔" (إِنَّهَا لَإِحْدَى الْكُبَرِ)۔ (تشریحی نوٹ: "کبر" کبرٰی کی جمع ہے جو بزرگ اور بڑی چیز کے معنی میں ہے، بعض نے یہ کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ "سقر" دوزخ کا ایک بہت بڑا طبقہ ہے، لیکن یہ تفسیر اس چیز کے ساتھ جس کی طرف ہم نے پہلے اشارہ کیا ہے اور آیات سے معلوم ہوتا ہے، سازگار نہیں ہے)۔ "انھا" کی ضمیر یا تو "سقر" (دوزخ) کی طرف لوٹتی ہے یا "جنود" اور پروردگار کے لشکروں کی طرف، یا قیامت کے تمام حوادث کی طرف اور ان میں سے جو بھی ہو، اس کی عظمت واضح ہے۔ ـــــــــــ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "دوزخ کی خلقت کا مقصد انتقام جوئی ہرگز نہیں ہے، بلکہ یہ تو انسانوں کو ڈرانے کا ایک ذریعہ ہے۔" (نَذِيرًا لِّلْبَشَرِ)۔ (تشریحی نوٹ: "نذیرًا" ، "انھا" کی ضمیر کا حال ہے جو "سقر" کی طرف لوٹتی ہے اور بعض نے "۔۔۔" سمجھا ہے" اور یہ اس صورت میں ہے کہ "نذیر" مصدری معنی رکھتا ہو اور "انذار" کے معنی دیتا ہو، لیکن)۔ تاکہ سب کو ڈرائے اور انذار کرے اور اس وحشت ناک عذاب سے، جو کافروں، گنہگاروں اور حق کے دشمنوں کے انتظار میں ہے، بچائے۔ ـــــــــــ آخر میں زیادہ تاکید کے لیے مزید کہتا ہے: "یہ انذار کسی معین گروہ کے لیے مخصوص نہیں ہے، بلکہ یہ تو تمام افراد بشر کے لیے ہے، تم میں سے ان سب لوگوں کے لیے، جو آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور نیکیوں اور فرمانِ خدا کی اطاعت کی طرف پیش رفت کرنا چاہتے ہیں اور چاہے وہ لوگ ہوں جو اس قافلہ سے پیچھے رہ جانے کی طرف مائل ہوں" (لِمَن شَاءَ مِنكُمْ أَن يَتَقَدَّمَ أَوْ يَتَأَخَّرَ)۔ جو شخص آگے بڑھنے کی راہ پر چل پڑے، تو اس کا کیا ہی کہنا ہے اور جو تاخیر کی راہ اپنائے اور پیچھے کو ہٹے تو اس کا بُرا حال ہو گا۔ بعض نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ یہاں تقدم و تأخر سے مراد جہنم کی آگ کی طرف تقدم اور اسی سے پیچھے ہٹنا ہے۔ اور بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سے مراد، نفسِ انسانی کا تقدم اور تکامل و ارتقاء ہے یا اس کا انحطاط اور تاخیر ہے۔ پہلا اور تیسرا معنی زیادہ مناسب ہے، اور دوسری تفسیر، چنداں مناسب نہیں ہے۔

38
74:38
كُلُّ نَفۡسِۭ بِمَا كَسَبَتۡ رَهِينَةٌ
ہر شخص اپنے اعمال کے لئے گروی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 48 کے تحت ملاحظہ کریں۔

39
74:39
إِلَّآ أَصۡحَٰبَ ٱلۡيَمِينِ
مگر ’’ اصحاب یمین‘‘ ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 48 کے تحت ملاحظہ کریں۔

40
74:40
فِي جَنَّـٰتٖ يَتَسَآءَلُونَ
وہ جنت کے باغات میں ہوں گے اور وہ سوال کریں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 48 کے تحت ملاحظہ کریں۔

41
74:41
عَنِ ٱلۡمُجۡرِمِينَ
مجرموں سے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 48 کے تحت ملاحظہ کریں۔

42
74:42
مَا سَلَكَكُمۡ فِي سَقَرَ
تمہیں دوزخ کی طرف کس چیز نے بھیجا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 48 کے تحت ملاحظہ کریں۔

43
74:43
قَالُواْ لَمۡ نَكُ مِنَ ٱلۡمُصَلِّينَ
وہ کہیں گے: ہم نماز نہیں پڑھتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 48 کے تحت ملاحظہ کریں۔

44
74:44
وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ ٱلۡمِسۡكِينَ
اور مسکینوں اور محتاجوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 48 کے تحت ملاحظہ کریں۔

45
74:45
وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ ٱلۡخَآئِضِينَ
اور ہمیشہ اہل باطل کے ہم نشین و ہم صدا رہتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 48 کے تحت ملاحظہ کریں۔

46
74:46
وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ ٱلدِّينِ
اور ہمیشہ روز جزا کا انکار کرتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 48 کے تحت ملاحظہ کریں۔

47
74:47
حَتَّىٰٓ أَتَىٰنَا ٱلۡيَقِينُ
یہاں تک کہ ہمیں موت آگئی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 48 کے تحت ملاحظہ کریں۔

48
74:48
فَمَا تَنفَعُهُمۡ شَفَٰعَةُ ٱلشَّـٰفِعِينَ
لہٰذا شفاعت کرنے والوں کی شفاعت ان کے لئے سود مند نہیں ہوگی۔

تفسیر تم اہلِ دوزخ کیوں ہو گئے؟

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

اسی بحث کو جاری رکھتے ہوئے جو گزشتہ آیات میں دوزخ اور دوزخیوں کے بارے میں آئی ہے۔ ان آیات میں مزید کہتا ہے: "ہر شخص اپنے اعمال کا گروی ہے" (كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ)۔ "رھینۃ" ، "رھن" کے مادہ سے (گرو) کے معنی میں ہے اور یہ وہ وثیقہ ہے جو عام طور پر "قرض" کے مقابلہ میں دیتے ہیں گویا انسان کا تمام وجود اس کے وظائف، تکالیف اور ذمہ داریوں کے انجام دینے میں گرو ہے، جس وقت انہیں انجام دے لیتا ہے، آزاد ہو جاتا ہے، ورنہ قیدِ سارت میں رہے گا۔ اہلِ لغت کے بعض کلمات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ "رہن" کے معانی میں سے ایک ملازمت و ہمراہی ہے۔ (تشریحی نوٹ: "لسان العرب" مادہ "رہن")۔ اس معنی کے مطابق آیت کا مفہوم اس طرح ہو گا، کہ سب لوگ اپنے اعمال کے ہمراہ ہوں گے چاہے نیکوکار ہو یا بدکار۔ لیکن بعد والی آیات کے قرینہ سے پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔ ـــــــــــ لہذا بلا فاصلہ فرماتا ہے: "مگر اصحابِ یمین، جو اس اسارت کی قید سے آزاد ہیں۔" (إِلَّا أَصْحَابَ الْيَمِينِ)۔ انہوں نے ایمان اور عملِ صالح کے سائے میں، اسارت کے طوق اور زنجیروں کو توڑ دیا ہے، لہذا وہ بےحساب جنّت میں داخل ہوں گے۔ (تشریحی نوٹ: اس بارے میں کہ یہاں استثناء "متصل" ہے یا "منقطع" بعض نے مثلاً مرحوم شیخ طوسی نے "تبیان" میں اسے "منقطح" قرار دیا ہے اور بعض نے مثلاً "روح البیان" نے اسے متصل جانا ہے۔ یہ فرق ان مختلف تفسیروں کے ساتھ مربوط ہے جو ہم نے "رھینُۃ" کے مفہوم کے بارے میں ذکر کی ہیں۔ جس تفسیر کو ہم نے انتخاب کیا ہے، اس کے مطابق استثناء منقطع ہے اور دوسری تفسیر کے مطابق استثناء متصل ہو گا۔ غور کیجئے) اس بارے میں کہ یہاں "اصحاب الیمین" سے کون لوگ مراد ہیں، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض نے تو اس کی ایسے افراد کے ساتھ تفسیر کی ہے جن کا نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں ہو گا۔ اور بعض انہیں ایسے مومنین سمجھتے ہیں، جنہوں نے بالکل گناہ نہ کیا ہو، اور بعض فرشتوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں اور دوسرے احتمالات بھی ہیں۔ لیکن جو کچھ قرآن کی مختلف آیات سے معلوم ہوتا ہے اور اس پر قرآن گواہ ہے، وہی پہلا معنی ہے وہ ایسے لوگ ہیں جو ایمان اور عملِ صالح کے حامل ہیں اور اگر ان سے کوئی چھوٹے موٹے گناہ ہوئے بھی ہوں، تو وہ ان کی نیکیوں کے تحت الشعاع میں ہیں اور (إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّـيِّئَاتِ)۔ (ہود ١۴۴) کے حکم میں ہیں۔ ان کے نیک اعمال ان کے اعمال بد کو چھپا لیں گے، یا تو وہ بلا حساب کے جنت میں وارد ہو جائیں گے، اور اگر ان کا حساب ہوا بھی، تو وہ سہل، سادہ اور آسان ہو گا۔ جیسا کہ سُورہ انشقاق کی آیہ ۷، ۸ میں آیا ہے: فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِO فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا "لیکن وہ شخص جس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں ہو گا، اس کا حساب آسان ہو گا۔" اہلِ سنت کے مشہور مفسر "قرطبی" نے امام باقرؑ سے اس آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ آپؑ نے فرمایا: نحن و شیعتنا اصحاب الیمین، و کل من ابغضنا اھل البیت فھم المرتھنون۔ "ہم اور ہمارے شیعہ اصحابِ یمین ہیں اور جو شخص ہم اہلِ بیت کو دشمن رکھتا ہے، تو وہ اپنے اعمال کی قید میں ہے۔" (بحوالہ: تفسیر "قرطبی" جلد ١٠، ص ٦۸۷۸)۔ اس حدیث کو دوسرے مفسرینِ، منجملہ "مجمع البیان" اور تفسیر "نور الثقلین" کے مؤلف اور بعض دوسروں نے بھی زیرِ بحث آیت کے ذیل میں نقل کیا ہے۔ ـــــــــــ اس کے بعد "اصحاب الیمین" اور ان کے مدّمقابل گروہ کے حالات کے ایک گوشہ کی تشریح کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "وہ جنّت کے پُر نعمت اور باعظمت باغوں میں ہوں گے اور اس حال میں وہ سوال کریں گے۔" (فِي جَنَّاتٍ يَتَسَاءَلُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: "يَتَسَاءَلُونَ" اگرچہ باب "تفاعل" سے ہے، جو عام طور پر دو افراد یا چند افراد کے درمیان ہونے والے کام کے لیے آتا ہے۔ لیکن یہاں بعض دوسرے مقامات کے مانند ہی یہ معنی نہیں دیتا اور یہاں یہ "يَتَسَاءَلُونَ" کے معنی دیتا ہے۔ ضمنی طور پر "جنات" کا نکرہ ہونا اس کی عظمت کے بیان کے لیے ہے۔ اور بہرحال "فی جنات" ایک محذوف مبتداء کی خبر ہے اور تقدیر میں یہ "ھم فی جنات" ہے)۔ "گنہگاروں سے" (عَنِ الْمُجْرِمِينَ)۔ وہ کہیں گے: "تمہیں دوزخ میں کس چیز نے پہنچا دیا۔" (مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ)۔ ان آیات سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ بہشتیوں اور دوزخیوں کے درمیان کلی طور پر رابطہ منقطع نہیں ہو گا۔ جنتی اپنے عالم سے دوزخیوں کی حالت کا مشاہدہ کر سکیں گے اور ان سے گفتگو کر سکیں گے۔ ـــــــــــ اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ مجرمین "اصحاب الیمین" کے اس سوال کا کیا جواب دیتے ہیں؟ وہ اس سلسلہ میں اپنے چار گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ پہلا یہ کہ "وہ کہیں گے: ہم نماز گزاروں میں سے نہیں تھے۔" (قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ)۔ اگر ہم نماز پڑھتے، تو نماز ہمیں خدا کی یاد دلاتی اور فحشاء اور منکر سے روکتی، اور ہمیں خدا کی صراطِ مسقتیم کی دعوت دیتی۔" ـــــــــــ دوسرا یہ کہ "ہم مسکینوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے۔" (وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ)۔ "الطعام مسکین" کا معنی اگرچہ غریوبوں، مسکینوں کو کھانا کھلاتا ہے، لیکن ظاہراً اس سے مراد، ضرورت مندوں کی ہر ضرورت و حاجت میں مدد کرنا ہے، چاہے وہ خوراک ہو یا پوشاک و مسکن وغیرہ۔ اور جیسا کہ مفسّرین نے تصریح کی ہے، اس سے مراد "زکاتِ واجب" ہے، کیونکہ مسجّی انفاقات کو ترک کرنا جہنم میں داخل ہونے کا سبب نہیں بنتا، اور یہ آیت دوبارہ اس مطلب کی تاکید کرتی ہے کہ زکات کا حکم اجمالی طور پر مکّہ میں ہی نازل ہوا تھا، اگرچہ جزئیات کی تشریح اور حدود کی خصوصیات کا تعین، خصوصاً اس کا بیت المال میں مرتکز ہونا، مدینہ میں ہوا تھا۔ ـــــــــــ تیسرا یہ کہ "ہم ہمیشہ اہلِ باطل کے ساتھ ہم نشین اور ہم صدا ہو جاتے ہیں۔" (وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ)۔ حق کے خلاف جس گوشہ سے بھی کوئی صدا بلند ہوتی اور جو مجلس بھی باطل کی ترویج کے لیے برپا ہوتی، اور ہم اس سے باخبر ہو جاتے تو ہم ان کا ساتھ دیتے، اور جماعت کے رنگ میں رنگے جاتے، ان کی باتوں کی تصدیق کرتے اور ان کے تکذیب اور انکار کرنے کو صحیح قرار دیتے اور حق کا استہزاء کرنے اور تمسخر اڑانے س لذّت حاصل کرتے تھے۔ "نخوض" ، "خوض" (بروزن عوض) کے مادہ سے، اصل میں پانی میں داخل ہونے اور اس میں حرکت کرنے کے معنی میں ہے، اس کے بعد تمام امور میں داخل ہونے اور ان مں آلودہ ہونے کے لیے بھی بولا جانے لگا، لیکن قرآن مجید میں اکثر باطل اور بے بنیاد مطالب میں وارد ہونے کے بارے میں استعمال ہوتا ہے۔ "باطن میں خوض" ایک وسیع و عریض معنی رکھتا ہے، جو ان لوگوں کی مجالس میں داخل ہونے کو بھی شامل ہے، جو آیاتِ خدا کا مذاق اڑاتے ہیں اور اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ یا بدعت کی ترویج کرتے ہیں، یا پست اور چھچھوری باتیں کرتے ہیں، یا ان گناہوں کو جنہیں انہوں نے انجام دیا ہے، فخریہ اور مزے لے لے کر بیان کرتے ہیں، اسی طرح غیبت، تہمت اور لہو و لعب وغیرہ کی مجالس میں شرکت کرنا، لیکن زیر بحث آیت میں زیادہ تر ان مجالس کے بارے میں بیان کیا گیا ہے، جو خدا کے دین کو کمزور کرنے اور اس کے مقدسات کا استہزاء اور مذاق اڑانے اور کفر و شرک و بے دینی کی ترویج کے لیے قائم کی جاتی ہیں۔ ـــــــــــ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "اور ہم ہمیشہ روز جزا کا انکار کیا کرتے تھے۔" (وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ)۔ ـــــــــــ "یہاں تک کہ ہماری موت کا وقت آ پہنچا۔" (حَتَّى أَتَانَا الْيَقِينُ)۔ یہ بات واضح ہے کہ معاد و قیامت اور حساب و جزا کے دن کا انکار تمام الہٰی اور اخلاقی قدروں کو متزلزل کر دیتا ہے اور انسان کو گناہ کے ارتکاب کی جرأت دلاتا ہے اور اس راستے کی رکاوٹوں کو دور کر دیتا ہے، خصوصاً اگر یہ مسئلہ آخر عمر تک ایک مسلسل عمل کی صورت اختیار کرے۔ بہرحال ان آیات سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ اولاً کفار بھی، اصولِ دین کی طرح سے، فروغِ دین کے بھی مکّلف ہیں اور اس سے اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ چاروں امور یعنی نماز، زکوٰۃ، اہلِ باطل کی مجالس کو ترک کرنا اور قیامت پر ایمان رکھنا، ایمان کی ہدایت اور تربیت میں حد سے زیادہ اثر رکھتے ہیں اور اس طرح سے جہنم، واقعی نماز گزاروں، زکوٰۃ دینے والوں، باطل کو ترک کرنے والوں اور قیامت پر ایمان رکھنے والوں کی جگہ نہیں ہے۔ البتہ نماز اس لحاظ سے کہ وہ خدا کی عبادت ہے لہذا وہ خدا پر ایمان کے بغیر اسے حاصل نہیں ہو سکتی۔ اس بناء پر اس کا ذکر، خدا پر ایمان و اعتقاد اور اس کے فرمان کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کی ایک رمز ہے۔ لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ چاروں امور توحید سے شروع ہوتے ہیں اور معاد و قیامت پر ختم ہوتے ہیں اور خالق و مخلوق اور انسان کے خود اپنے آپ سے ربط کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ مفسرین کے درمیان مشہور یہ ہے کہ "یقین" سے مراد یہاں موت ہے، کیونکہ یہ مومن و کافر دونوں کے لیے ایک یقینی امر شمار ہوتی ہے اور انسان ہر چیز میں شک کر سکتا ہے لیکن موت میں شک نہیں کر سکتا، سورہ حجر کی آیہ ٩٩ میں بھی آیا ہے: وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ "اپنے خدا کی عبادت کر یہاں تک کہ تجھے یقین (موت) آ جائے۔" لیکن بعض نے یہاں یقین کی، انسان کی موت کے بعد، برزخ و قیامت کے مسائل کے بارے میں آگاہی حاصل ہونے کے معنی کے ساتھ تفسیر کی ہے جو پہلی تفسیر کے ساتھ ایک جہت سے ہم آہنگ ہے۔ ـــــــــــ آخری زیرِ بحث آیت میں اس گروہ کے بُرے انجام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: "لہذا شفاعت کرنے والوں میں سے کسی شفاعت کرنے والوں کی شفاعت ان کی حالت کو کوئی فائدہ نہیں دے گی۔" (فَمَا تَنفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ)۔ نہ تو خدا کے انبیاء، رسولوں اور آئمہ معصومین کی شفاعت اور نہ ہی فرشتوں، صدیقین، شہداء اور صالحین کی شفاعت، کیونکہ شفاعت کے لیے مناسب حالات کی ضرورت ہے اور انہوں نے تمام اسباب کو کلی طور پر ختم کر دیا ہے۔ شفاعت اس شفاف پانی کے مانند ہے، جسے کسی کمزور پودے کی جڑ پر ڈالا جائے، لیکن یہ بات واضح ہے کہ اگر پودا کلی طور پر مر چکا ہو تو یہ صاف پانی اسے زندہ نہیں کر سکتا، دوسرے لفظوں میں جیسا کہ ہم شفاعت کی بحث میں بیان کر چکے ہیں۔ "شفاعت" شفع کے مادہ سے ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ ضمیمہ کرنے کے معنی میں ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ جس کی شفاعت کی جا رہی ہے اس نے راستہ کا کچھ حصہ اپنے پاؤں سے طے کیا ہے اور سخت قسم کے نشیب و فراز میں پیچھے رہ گیا ہے، شفاعت کرنے والا اس کا ضمیمہ بن کر اس کی مدد کرتا ہے تاکہ وہ باقی راستہ طے کر لے۔ (بحوالہ: تفسیر نمونہ، جلد اوّل، سُورہ بقرہ کی آیہ ۴۸ کے ذیل میں)۔ ضمنی طور پر یہ آیت، دوبارہ مسئلہ شفاعت اور بارگاہِ خداوندی میں شفاعت کرنے والوں کے تنوع اور تعدد کی تاکید کرتی ہےاور ان لوگوں کے لیے جو اصل شفاعت کے منکر ہیں، ایک دندان شکن جواب ہے۔ اسی طرح یہ اس بات کے لیے ایک تاکید بھی ہے کہ شفاعت بے قید و شرط کے نہیں ہو گی اور گناہ کے لیے ہری جھنڈی کے معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ یہ انسان کی تربیت کا ایک ایسا عامل ہے جو اسے کم از کم اس مرحلہ تک پہنچا دے، کہ اس میں شفاعت کرانے کی قابلیّت پیدا ہو جائے، اور خدا اور اس کے اولیاء سے اس کا رابطہ کلی طور پر منقطع نہ ہو جائے۔ یہ نکتہ بھی قابل ذکر ہے کہ اوپر والی آیت کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ شفاعت کرنے والے اس قسم کے لوگوں کی شفاعت کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ چونکہ شفاعت ان کی حالت کے لیے سودمند نہیں ہو گی، لہذا وہ ان کی شفاعت نہیں کریں گے، کیونکہ اولیاء خدا لغو و بیہودہ کاموں کے مرتکب نہیں ہوتے۔

ایک نکتہ روزِ جزا کے شفاعت کرنے والے

زیرِ بحث آیات اور اسی طرح قرآنِ مجید کی بعض اور دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت میں شفاعت کرنے والے متعدد ہوں گے (اور ان کے شفاعت کا دائرہ مختلف ہو گا) ان تمام روایات سے جو شیعہ اور اہلِ سنت کے منابع سے نقل ہوئی ہیں ـــــــــــ اور یہ روایات بہت زیادہ ہیں ـــــــــــ معلوم ہوتا ہے کہ یہ شفاعت کرنے والے قیامت کے دن ان گنہگاروں کے لیے، جن میں شفاعت کی استعداد موجود ہے، شفاعت کریں گے۔ ١۔ سب سے پہلی شفاعت کرنے والی ہستی پیغمبر اسلامؐ کی ذاتِ مقّدس ہے، جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا:۔ انا اوّل شافع فی الجنۃ (بحوالہ: تفسیر نمونہ، جلد اوّل، سُورہ بقرہ کی آیہ ۴۸ کے ذیل میں)۔ "جنت کے بارے میں سب سے پہلا شفاعت کرنے والا میں ہوں گا۔" ٢۔ تمام انبیاء قیامت کے دن شفاعت کریں گے، جیسا کہ ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرمؐ سے آیا ہے کہ آپ نے فرمایا: یشفع الانیباء فی کل من یشھد ان لا الٰہ الا اللہ مخلصًا فیخرجونھم منھا "انبیاء ان تمام افراد کے بارے میں شفاعت کریں گے جو خلوصِ نیّت کے ساتھ خدا کی وحدانیت کی گواہی دیں گے اور وہ انہیں دوزخ سے باہر نکال لیں گے۔" (بحوالہ: "مسند احمد"، جلد ۳، ص ١٢)۔ ۳۔ فرشتے بھی روزِ محشر شفاعت کریں گے، جیسا کہ رسولِ خداؐ سے نقل ہوا ہے: یؤذن للملائکۃ والنبیّین والشھداء ان یشفعوا "اس دن فرشتوں، انبیاء اور شہداء کو اجازت دی جائے گی کہ وہ شفاعت کریں۔" (بحوالہ: "مسند احمد"، جلد ٥، ص ۴۳)۔ ۴۔، ٥۔ آئمہ معصومینؑ اور ان کے شیعہ بھی شفاعت کریں گے، جیسا کہ حضرت علیؑ فرماتے ہیں: لنا شفاعۃ ولا ھل مودتنا شفاعۃ "ہمارے لیے حق شفاعت ہے اور ہمارے شیعہ اور دوستوں کے لیے بھی مقام شفاعت ہے۔" (بحوالہ: "خصال الصدوق"، ص ٦٢۴)۔ ٦۔، ۷۔ علماء اور دانش ور اور اسی طرح شہداء راہِ خدا شفاعت کرنے والوں میں سے ہوں گے، جیسا کہ پیغمبر اکرمؐ سے ایک حدیث میں آیا ہے: یشفع یوم القیامۃ الانبیاء ثم العلماء ثم الشھداء روزِ قیامت پہلے انبیاء شفاعت کریں گے، پھر علماء اور اس کے بعد شہداء۔" (بحوالہ: "سنن ابی ماجہ"، جلد ٢، ص ١۴۴٢)۔ یہاں تک کہ ایک حدیث میں آنحضرتؐ سے آیا ہے: یشفع الشھید فی سبعین انساناً من اھل بیتہ "شہید کی شفاعت اس کے خاندان کے ستر افراد تک قابلِ قبول ہو گی۔" (بحوالہ: "سنن ابی ماجہ"، جلد ٢، ص ١٥)۔ ایک اور دوسری حدیث میں جسے مرحوم "علامہ مجلسیؒ" نے "بحار الانوار" میں نقل کیا ہے: "ان کی شفاعت ستر ہزار افراد کے لیے قابلِ قبول ہو گی۔" (بحوالہ: "بحار الانوار"، جلد ١٠٠، ص ١۴)۔ اور اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ستّر اور ستّر ہزار کا عدد دونوں اعداد تکثیر میں سے ہیں، لہذا دونوں روایات میں کوئی منافات نہیں ہے۔ ۸۔ قرآن بھی قیامت کے دن شفاعت کرے گا، جیسا کہ امام علیؑ فرماتے ہیں: واعلموا انّہ (القراٰن) شافع و مشفع "جان لو کہ قرآن شفاعت کرنے والا ہے اور مقبول الشفاعۃ ہے۔" (بحوالہ: "نہج البلاغہ" خطبہ ١۷٦)۔ وہ لوگ جنہوں نے ایک عمر اسلام میں صرف کی ہے، جیسا کہ ایک حدیث میں پیغمبر اکرمؐ سے آیا ہے: اذا بلغ الرجل التسعین غفر اللہ ماتقدّم من ذنبہ و ما تأ خّر و شفّع فی اھلہ "جب انسان نوے سال کا ہو جاتا ہے (اور ایمان کے راستے پر چل رہا ہوتا ہے) تو خدا اس کے گزشتہ اور آئندہ کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اس کے گھر والوں کے لیے اس کی شفاعت قبول کی جاتی ہے۔" (بحوالہ: "مسند احمد" جلد ٢، ص ۸٩)۔ ١٠۔ عبادات بھی شفاعت کریں گی، جیسا کہ ایک حدیث میں رسولِؐ خدا سے آیا ہے: الصیام والقراٰن یشفعان للعبد یوم القیامۃ "روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندوں کی شفاعت کریں گے۔" (بحوالہ: "مسند احمد" جلد ٢، ص ١۷٢)۔ ١١۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ نیک اعمال بھی مثلاً وہ امانت جس کی حفاظت کرنے میں انسان نے کوشش کی ہو، قیامت میں انسان کی شفاعت کریں گے۔ (بحوالہ: "مناقب ابنِ شہر آشوب" جلد ٢، ص ١۴)۔ ١٢۔ سب سے عمدہ بات یہ ہے کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ خود خداوندِ عالم بھی گنہگاروں کی شفاعت کرے گا۔ جیسا کہ ایک حدیث میں رسولِ اکرمؐ سے آیا ہے: یشفع النبیون والملائکۃ والمؤمنون فیقول الجبار بقیت شفاعتی "قیامت میں انبیاء، فرشتے اور مومنین شفاعت کریں گے اور خدا کہے گا، خود میری شفاعت باقی رہ گئی ہے۔" (بحوالہ: "صحیح بخاری" جلد ٩، ص ١۴٩)۔ اس بارے میں روایات بہت زیادہ ہیں اور جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے وہ ان کا ایک گوشہ ہے۔ (بحوالہ: مزید وضاحت کے لیے کتاب "مفاہیم القرآن" جلد ۴، ص ٢۸۸ تا ۳١١ کی طرف رجوع کریں)۔ ہم دوبارہ اس بات کو دہراتے ہیں کہ شفاعت کے کچھ شرائط و قیود ہیں، جن کے بغیر شفاعت ممکن نہیں ہے، جیسا کہ زیرِ بحث آیات میں یہ معنی صراحت کے ساتھ آیا ہے کہ مجرموں کے ایک گروہ کے بارے میں تمام شفاعت کرنے والوں کی شفاعت بے اثر ہو گی۔ اہم بات یہ ہے کہ قابل میں قابلیّت بھی ہو، کیونکہ فاعل کی فاعلیّت اکیلی کافی نہیں ہے (ہم اس سلسلے میں مزید تشریح جلد اوّل میں شفاعت کی بحث میں پیش کر چکے ہیں)۔

49
74:49
فَمَا لَهُمۡ عَنِ ٱلتَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِينَ
وہ اس تذکرہ سے گریزاں کیوں ہیں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 56 کے تحت ملاحظہ کریں۔

50
74:50
كَأَنَّهُمۡ حُمُرٞ مُّسۡتَنفِرَةٞ
گویا وہ وحشت زدہ گدھے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 56 کے تحت ملاحظہ کریں۔

51
74:51
فَرَّتۡ مِن قَسۡوَرَةِۭ
جو شیر سے بھاگ رہے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 56 کے تحت ملاحظہ کریں۔

52
74:52
بَلۡ يُرِيدُ كُلُّ ٱمۡرِيٕٖ مِّنۡهُمۡ أَن يُؤۡتَىٰ صُحُفٗا مُّنَشَّرَةٗ
بلکہ ان میں سے ہر ایک اس بات کا منتظر ہے ( کہ اللہ کی طرف سے) ایک علیحدہ خط اسے بھیجا جائے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 56 کے تحت ملاحظہ کریں۔

53
74:53
كَلَّاۖ بَل لَّا يَخَافُونَ ٱلۡأٓخِرَةَ
جیسا وہ کہتے ہیں ایسا نہیں ہے، بلکہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 56 کے تحت ملاحظہ کریں۔

54
74:54
كَلَّآ إِنَّهُۥ تَذۡكِرَةٞ
ایسا نہیں ہے، وہ ( قرآن) تو ایک یاد آوری ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 56 کے تحت ملاحظہ کریں۔

55
74:55
فَمَن شَآءَ ذَكَرَهُۥ
جو شخص چاہتا ہے اس سے نصیحت حاصل کرتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 56 کے تحت ملاحظہ کریں۔

56
74:56
وَمَا يَذۡكُرُونَ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُۚ هُوَ أَهۡلُ ٱلتَّقۡوَىٰ وَأَهۡلُ ٱلۡمَغۡفِرَةِ
اور کوئی شخص نصیحت نہیں لیتا مگر یہ کہ اللہ چاہے وہ اہل تقویٰ اور اہل مغفرت سے ہے۔

تفسیر حق سے اس طرح بھاگتے ہیں جس طرح شیر سے گدھے

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

اسی بحث کو جاری رکھتے ہوئے جو گزشتہ آیات میں مجرموں اور دوزخیوں کے بارے میں آئی تھی، زیرِ بحث آیات میں اس معاند اور ہٹ دھرم گروہ کی حق بات سننے، اور ہر قسم کی پند و نصیحت سے وحشت کرنے کو، واضح ترین صورت میں بیان کرتا ہے۔ پہلے کہتا ہے: "وہ اس تذکر اور یاد آوری سے روگرداں کیوں ہیں؟" (فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ)۔ (تشریحی نوٹ: اس جملہ میں "ما" ، "متبداء" ہے اور "لھم" ، "خبر" اور "معرضین" ، "فھم" کی ضمیر کے لیے حامل ہے اور "عن التذکرُ" ، "جار و مجرور" ، "معرضین" سے متعلق ہے۔ بعض کا نظریہ یہ ہے کہ "عن التذکرۃ" کا معرضین سے مقدم ہونا عصر پر وکالت کرتا ہے۔ یعنی وہ صرف مفید قسم کیا یاد آوریوں سے منہ پھیرتے ہیں۔ بہرحال یہاں "تذکرہ" سے مراد ہر قسم کی مفید و سود مند یاد آوری ہے، جن کا راس و رئیس [سید و سردار] قرآن مجید ہے)۔ وہ قرآن جیسی شفا بخش دوا سے فرار کیوں کرتے ہیں؟ وہ ہمدرد طبیب کی بات کو رد کیوں کرتے ہیں؟ واقعاً تعجّب کا کام ہے۔ ـــــــــــ "گویا وحشت زدہ ہو کر بھاگنے والے گدھے ہیں۔" (كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنفِرَةٌ)۔ "جنہوں نے شیر یا (شکاری) سے فرار کیا ہے۔" (فَرَّتْ مِن قَسْوَرَةٍ)۔ "حمر"، "حمار" کی جمع ہے، گدھے کے معنی میں، البتہ یہاں شیر یا شکاری کے چنگل سے فرار کے قرینے سے، وحشی گدھا یا "گورخر" مراد ہے۔ (تشریحی نوٹ: "گورخر" ، "گور" بمعنی "صحرا" اور "خر" بمعنی (گدھا) سے مرکب سے، اسی لیے اس کو خر وحشی اور خر صحرائی بھی کہتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ لفظ ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے جو وحشی اور اہل دونوں قسم کے گدھے کو شامل ہے۔ "قسورۃ" ، "قسر" کے مادہ سے ـــــــــــ (جو قہر و غلبہ کے معنی میں ہے) ـــــــــــ لیا گیا ہے، اور وہ شیر کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور بعض نے اس کی تیر انداز یا شکاری کے معنی میں تفسیر کی ہے، لیکن یہاں پہلا معنی زیادہ مناسب نظر آتا ہے۔ مشہور ہے کہ "وحشی گدھا" ، "شیر" سے عجیب و غریب وحشت رکھتا ہے، یہاں تک کہ وہ شیر کی آواز کو سنتا ہے تو اس طرح کی وحشت اس پر طاری ہو جاتی ہے کہ وہ دیوانہ وار ہر طرف کو بھاگتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب شیر اُن کے گلہ میں پہنچ جائے تو وہ اس طرح سے پراگندہ ہو کر ہر طرف کو دوڑتے ہیں کہ یہ نظارہ عجیب افرا تفری کا عالم پیش کرتا ہے۔ (آج کل فلموں میں شیر کو جانوروں کا شکار کرتے ہوئے عام دکھایا جاتا ہے)۔ بہرحال، یہ آیت، مشرکین کے قرآن کی روح پرور آیات سے وحشت کرنے اور ان سے فرار کرنے کی ایک بہت ہی رسا، گویا اور ناطق تعبیر ہے، ان کو گورخر کے ساتھ تشبیہ دی ہے جس میں عقل و شعور بھی نہیں ہے اور وحشی ہونے کی بناء پر ہر چیز سے گریزاں بھی ہے، حالانکہ ان کے سامنے "تذکرہ" (یاد آوری، بیداری اور ہوشیاری کے ایک وسیلہ کے) سوا اور کوئی چیز نہیں ہے۔ ـــــــــــ لیکن اس نادانی اور بےخبری کے باوجود وہ ایسے مفرور اور تکبر ہیں کہ ان میں سے ہر ایک یہ توقع رکھتا ہے کہ خدا کی طرف سے اسے ایک علحیحدہ خط دیا جائے۔ (بَلْ يُرِيدُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ أَن يُؤْتَى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً)۔ یہ اس چیز کے مشابہ ہے، جو سورہ اسراء کی آیہ ٩۳ میں آئی ہے: (وَلَن نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَابًا نَّقْرَؤُهُ) "اگر تو آسمان پر بھی چڑھ جائے تو بھی ہم تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے، مگر یہ کہ (خدا کی طرف سے) ہم پر تو کوئی خط نازل کرے، یا سُورہ انعام کی آیہ ١٢۴ کی طرح ہے جو یہ کہتی ہے: (قَالُواْ لَن نُّؤْمِنَ حَتَّى نُؤْتَى مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللّهِ) "وہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان نہیں لائیں گے، جب تک کہ وہی چیز جو اللہ کے رسولوں پر نازل ہوتی ہے، ہمیں نہ دی جائے۔" اور اس طرح سے ان میں سے ہر ایک یہ توقع رکھتا تھا کہ وہ اولوالعزم پیغمبر ہو اور خدا کی طرف سے اس کے نام کا خصوصی خط آسمان سے نازل ہو، اور اگر اس قسم کی چیز ان پر نازل ہو بھی جاتی تب بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ ایمان لے آئیں گے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ ابوجہل اور قریش کی ایک جماعت نے کہا: اے محمدؐ! ہم تجھ پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے، جب تک کہ تو آسمان سے ایسا ایک خط نہ لے آئے جس کا عنوان یہ ہو: "خداوند رب العالمین کی طرف سے فلاں بن فلاں کے نام، اور اس میں رسمی طور پر یہ حکم دیا جائے کہ ہم تجھ پر ایمان لے آئیں۔ (بحوالہ: تفسیر "قرطبی" و تفسیر "مراغی" اور دوسری تفاسیر)۔ ـــــــــــ اس لیے بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے: "جس طرح سے وہ کہتے ہیں ایسا نہیں ہے۔" (كَلَّا)۔ ان پر آسمانی کتاب کا نازل ہونا اور اسی قسم کے دوسرے مطالب یہ سب بہانے ہیں۔ "حقیقیت میں وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔" (بَل لاَّ يَخَافُونَ الْآخِرَةَ)۔ اگر وہ آخرت سے ڈرتے ہوئے، تو یہ سب بہانے نہ کرتے، رسولِ خداؐ کی تکذیب نہ کرتے، آیاتِ الہٰی کا مذاق نہ اڑاتے اور عذاب پر مامور فرشتوں کی تعداد کو استہزاء کا ذریعہ نہ بناتے۔ اور یہاں سے تقویٰ، گناہ سے پرہیز اور انواع و اقسام کے گناہانِ کبیرہ سے پاک ہونے میں، معاد پر ایمان کا اثر واضح ہو جاتا ہے۔ حق بات یہ ہے کہ یہ کہنا پڑتا ہے کہ عالمِ محشر پر ایمان اور قیامت میں جزا و سزا ملنے کا عقیدہ، انسان کو ایک نئی شخصیت عطا کرتا ہے اور بے قید و بند، متکبّر، خود خواہ اور ظالم افراد کو، عہد کو پابندی کرنے والے، متقی، متواضع اور عدالت پیشہ انسان میں تبدیل کر سکتا ہے۔ ـــــــــــ اس کے بعد ایک مرتبہ اور تاکید کرتا ہے کہ جس طرح وہ قرآن کے بارے میں سوچتے ہیں ایسا نہیں ہے۔" (كَلَّا)۔ "یقیناً قرآن تو تذکر اور یاد آوری ہے۔" (إِنَّهُ تَذْكِرَةٌ)۔ ـــــــــــ "اور جو شخص چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے۔" (فَمَن شَاءَ ذَكَرَهُ)۔ قرآن نے راستے کی نشاندہی کر دی ہے، اور دیکھنے والی آنکھوں کو بھی اختیار دے دیا ہے اور نورِ آفتاب بھی ہے تاکہ انسان اپنے آگے دیکھ کر چلے۔ ـــــــــــ اس کے باوجود اس سے پند و نصیحت حاصل کرنا، خدا کی مشیت اور توفیق کے بغیر ممکن نہیں ہے: "اور وہ نصحیت نہیں لیتے مگر یہ کہ خدا چاہیئے" (وَمَا يَذْكُرُونَ إِلَّا أَن يَشَاءُ اللَّهُ)۔ اس جملہ کی کئی تفسیریں ہیں، ایک تو وہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کی ہے، یعنی انسان پروردگار کی عنایت کے دامن سے متوسل ہوئے بغیر ہدایت کی راہ کو طے نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس کی توفیق و امداد کے بغیر ہدایت پا سکتا ہے۔؎ تاکہ از جانبِ مشوق نبا شد کششی کوکشش عاشق بے چارہ بہ جائے نرسد "جب تک محبوب کی طرف سے کشش نہ ہو بے چارے عاشق کی کوشش کچھ کام نہیں دیتی" البتہ یہ خدائی مدد استعداد رکھنے والوں پر نازل ہوتی ہے۔ دوسری یہ کہ: "فَمَن شَاءَ ذَكَرَهُ" کا جملہ جو گزشتہ آیت میں آیا ہے ممکن ہے یہ توہم پیدا کرے کہ ہر چیز خود انسان کے ارادہ کے ساتھ وابستہ ہے اور اس کا ارادہ ہر لحاظ سے استقلال رکھتا ہے، تو یہ آیت اس اشتباہ کو دور کرنے کے لئے کہتی ہے کہ انسان مختار و آزاد ہونے کے باوجود مشیتِ الہٰی کے ساتھ وابستہ ہے، وہ مشیت جو سارے عالمِ ہستی اور جہان آفرنیش پر حکم فرما ہے، دوسرے لفظوں میں انسان کا یہی اختیار و آزادی بھی، اس کی مشیت کے ساتھ ہے اور وہ جس لمحہ چاہیئے، اس کو اس سے لے لے۔ تیسری یہ کہ کہتا ہے: وہ کسی قیمت پر ایمان نہیں لائیں گے، مگر یہ کہ خدا چاہے اور انہیں مجبور کر دے، اور ہم جانتے ہیں کہ خدا کسی کو ایمانِ کفر پر مجبور نہیں کرتا۔ البتہ پہلی اور دوسری تفسیر بہتر اور زیادہ مناسب ہے۔ اور آیت کے آخر میں کہتا ہے: "وہ اہلِ تقویٰ اور اہلِ مغفرت ہیں۔" (هُوَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ)۔ مناسب یہی ہے کہ اس کے عتاب سے ڈریں اور کسی چیز کو اس کا شریک قرار نہ دیں، اور یہی شائستہ بات ہے کہ اس کی مغفرت کے امیدوار ہیں۔ حقیقت میں یہ جملہ "خوف" و "رجاء" کے مقام اور "عذاب" و "مغفرت" الہٰی کی طرف اشارہ ہے، اور یہ حقیقت میں پہلی آیت کے لیے ایک علت کو بیان کرتی ہے۔ اسی لیے ایک حدیث میں امام صادقؑ سے آیا ہے کہ آپ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: خدا فرماتا ہے: انا اھل ان اتقی، ولا یشرک بی عبدی شیئاً و انا اھل ان لم یشرک بی شیئاً ان ادخلہ الجنۃ "میں اس لائق ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرا بندہ کسی چیز کو میرا شریک قرار نہ دے اور میں اس کا اہل ہوں کہ اگر میرا بندہ کسی چیز کو میرا شریک قرار نہ دے تو میں اسے جنّت میں داخل کروں۔" (بحوالہ: تفسیر برہان، جلد ۴، ص ۴٠۵) اگرچہ تمام مفسرین نے ـــــــــــ جہاں تک ہم نے دیکھا ہے ـــــــــــ "تقویٰ" کی یہاں مفعول کے معنی میں تفسیر کی ہے، اور یہ کہا ہے کہ خدا اس کا اہل ہے کہ اس سے (اس کے شرک اور نافرمانی سے) پرہیز کریں، لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ فاعل کے معنی میں اس کی تفسیر ہو۔ یعنی خدا اہلِ تقویٰ ہے اور وہ ہر قسم کے ظلم، قبیح فعل اور ہر قسم کے خلافِ حکمت کام سے پرہیز کرتا ہے، اور حقیقت میں تقویٰ کا بالا ترین مقام خدا ہی کے لیے ہے، اور بندوں میں جو کچھ ہے وہ اس غیر متناہی تقویٰ کی ایک ضیعف سی چنگاری ہے، اگرچہ خدا کے بارے میں اسمِ فاعل کے معنی میں "تقویٰ" کی تعبیر بہت کم ہوتی ہے۔ بہرحال یہ سُورہ "انذار" اور "وظائف اور ذمہ داریوں" کے حکم سے شروع ہوا اور "تقویٰ" کی دعوت اور "مغفرت کے وعدے" پر ختم ہوا، یہ وہ مقام ہے جہاں ہم انتہائی خضوع اور تضرع کے ساتھ اس کی مقدس بارگاہ میں عرض کرتے ہیں: ــــــــــ پروردگارا! ہمیں تقویٰ اور اپنی مغفرت کے مستحق افراد میں قرار دے۔ خداوندا! جب تک تیری توفیق اور تیرا لطف ہماری دستگیری نہیں کرے گا ہم کچھ نہیں کر سکتے، ہمیں اس عنایت کا مشعول فرما۔ بار الہٰا! جال سخت ہے اور راستہ پر پیچ و خم ہے اور شیطان گمراہ کرنے پر آمادہ ہے، اس راستہ کو تیری مدد کے بغیر طے نہیں کیا جا سکتا، ہماری مدد فرما۔ آمین یا رب العالمین

end of chapter