Al-Qiyamah
سورہ قیامت
یہ سورہ مکہ میں نازل ہوئی اس میں ۴۰ آیات ہیں
سورہ قیامت کے مضامین
سورۂ قیامت کے مضامین جیسا کہ اس سورہ کے نام سے واضح ہے، یہ قیامت کے دن اور معاد سے مربوط مسائل کے محور کے گرد گردش کرتی ہے، سوائے چند آیات کے، جو قرآنِ مجید اور اس کی تکذیب کرنے والوں کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں، اور وہ مباحث جو اس سورۂ قیامت کے بارے میں آئے ہیں وہ مجموعی طور پر چار قسم پر ہیں۔ 1- اشراطُ الساعۃ (وہ عجیب و غریب اور بہت ہی ہولناک حوادث، جو اس جہان کے اختتام اور قیامت کے آغاز کے وقت رونما ہوں گے) سے مربوط مسائل۔ 2- اس دن نیکوکاروں اور بدکاروں سے مربوط مسائل۔ 3- موت کے پُر اضطراب لمحوں اور اس جہان سے دوسرے جہان کی طرف انتقال سے مربوط مسائل۔ 4- انسان کی خلقت کے مقصد سے مربوط مسائل اور مسئلۂ معاد سے ربط۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت
ایک حدیث میں پیغمبرِ اکرمؐ سے آیا ہے: من قرأ سورۃَ القیامۃ شھدتُ أنا و جبرئیلُ لہ یومَ القیامۃ أنّہ کان مؤمنًا بیومِ القیامۃ، وجاءَ وجھُہ مسفرًا علی وجوہِ الخلائق یومَ القیامۃ "جو شخص سورۂ قیامت کو پڑھے گا تو میں اور جبرئیل اس کے لیے قیامت کے دن گواہی دیں گے کہ وہ قیامت کے دن پر ایمان رکھتا تھا، اور اس دن اس کا چہرہ تمام لوگوں سے زیادہ درخشندہ ہو گا"۔(بحوالہ: مجمع البیان" جلد 10، ص 393) ایک حدیث میں امام صادقؑ سے آیا ہے: من أدمن قراءۃَ "لا أُقسم" و کان یعملُ بھا، بعثھا اللہ یومَ القیامۃ معہ فی قبرہ، فی أحسنِ صورۃٍ تبشّرہ و تضحکُ فی وجھہ، حتی یجوزَ الصراطَ والمیزان "جو شخص سورۂ ‘لا أُقسم’ (قیامت) کو پابندی کے ساتھ پڑھے گا اور اس پر عمل کرے گا تو خدا اس سورہ کو قیامت کے دن اس کے ہمراہ، اس کی قبر سے بہترین چہرے کے ساتھ اٹھائے گا، اور یہ مسلسل اس کو بشارت دیتی رہے گی اور اس کے سامنے ہنستی رہے گی، یہاں تک کہ وہ پلِ صراط اور میزان سے گزر جائے گا"۔ (بحوالہ: مجمع البیان" جلد 10، ص 393)۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ قرآن کی سورتوں کی تلاوت کی فضیلت کے بارے میں دوسرے مقامات پر جو ہم نے قرائن سے معلوم کیا تھا، وہ یہاں متنِ روایت میں صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے، کیونکہ آپ نے فرمایا ہے: جو شخص اس کو پابندی کے ساتھ پڑھے گا "اور اس پر عمل کرے گا"۔ اس بنا پر یہ سب کچھ اس کے مضمون کا پابند ہونے اور اس پر عمل کرنے کا ایک مقدمہ ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: قیامت کے دن اور ملامت کرنے والے
Tafsīr Nemūna · Vol. 11یہ سورہ دو پُر معنی قسموں کے ساتھ شروع ہو رہا ہے، فرماتا ہے:"قیامت کے دن کی قسم" (لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ)۔ "اور قسم ہے انسان کے بیدار وجدان اور ملامت کرنے والے نفس کی" (وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ)۔ اس بارے میں کہ "لا" ان دونوں آیات میں "زائدہ" اور تاکید کے لیے ہے (اس بنا پر قسم کی نفی نہیں کرتا، بلکہ اس کی اور تاکید کرتا ہے) یا "لا" نافیہ ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ کہے کہ یہ موضوع اس قدر اہم ہے کہ میں اس کی قسم نہیں کھاتا (جیسا کہ لوگ ایک دوسرے سے کہتے ہیں، میں تیری جان کی قسم نہیں کھاتا کہ یہ قسم سے برتر ہے)، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ اکثر مفسرین نے پہلے احتمال کو انتخاب کیا، جبکہ بعض دوسری تفسیر کے طرفدار ہیں اور ان کا نظریہ یہ ہے کہ "لا" زائدہ ابتداءِ کلام میں نہیں آتا، بلکہ اسے وسطِ کلام میں ہونا چاہیے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح نظر آتی ہے، کیونکہ قرآن نے قیامت سے زیادہ اہم امور مثلاً خدا کی پاک ذات کی قسم کھائی ہے، اس بنا پر کوئی وجہ نہیں کہ یہاں قیامت کے دن کی قسم نہ کھائی جائے، اور "لا" زائدہ کے آغازِ کلام میں ہونے کی کئی مثالیں موجود ہیں، جیسا کہ امرؤ القیس کے اشعار میں آیا ہے کہ اس نے اپنے قصائد کے آغاز میں "لا" زائدہ کا استعمال کیا ہے۔ (تشریحی نوٹ : لا وَأَبِيكِ ابْنَةَ الْعَامِرِ لَا يَدَّعِي الْقَوْمُ أَنِّي أَفِرُّ یعنی: "اے دخترِ عامر! تیرے باپ کی قسم ہے، قوم ہرگز یہ دعویٰ نہیں کر سکتی کہ میں بھاگ جاؤں گا")۔ لیکن ہمارے نظریے کے مطابق "لا" کے زائدہ ہونے یا نافیہ ہونے کے بارے میں بحث کوئی زیادہ اہمیت نہیں رکھتی، کیونکہ دونوں کا آخری نتیجہ ایک ہے، اور وہ اس موضوع کی اہمیت ہے جس کے لیے قسم کھائی گئی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ ان دونوں قسموں (قیامت کے دن کی قسم اور بیدار وجدان کی قسم) کے درمیان کیا رابطہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معاد کے وجود کی ایک دلیل انسان کی روح کے اندر "محکمۂ وجدان" کا وجود ہے، جو نیک کام کو انجام دینے کے وقت انسان کی روح کو خوشی اور نشاط سے پُر کر دیتا ہے، اور اس طریقے سے اسے جزا دیتا ہے، اور برے کام کے انجام دینے یا کسی جرم کا ارتکاب کرنے کے موقع پر اس کی روح پر سخت دباؤ ڈال کر اسے سزا دیتا ہے اور شکنجے میں جکڑتا ہے۔ یہاں تک بعض روایات میں ہے کہ وجدان کے عذاب سے نجات پانے کے لیے انسان خودکشی تک کا اقدام کر لیتا ہے۔ یعنی حقیقت میں وجدان نے اس کے قتل کرنے کا حکم صادر کیا ہے اور وہ اسے اپنے ہاتھ سے اجرا کرتا ہے۔ "نفسِ لوّامہ" کا ردِعمل اور اثر انسانوں کے وجود میں بہت ہی وسیع و عریض ہے اور ہر لحاظ سے قابلِ غور و مطالعہ ہے، اور ہم نکات کی بحث میں اس کی طرف مزید اشارہ کریں گے۔ جب "عالمِ صغیر" یعنی انسان کا وجود اپنے اندر ایک چھوٹا سا محکمہ اور عدالت رکھتا ہے تو "عالمِ کبیر" اپنی اس عظمت کے باوجود ایک عظیم محکمۂ عدل کیوں نہ رکھتا ہو گا۔ اور یہ وہ مقام ہے جہاں سے ہم "وجدانِ اخلاقی" کے وجود سے "قیامت اور معاد" کے وجود کی ٹوہ لگاتے ہیں، اور یہیں سے ان دونوں قسموں کا ایک عمدہ ربط واضح ہو جاتا ہے، اور دوسرے لفظوں میں پہلی قسم دوسری قسم کی دلیل ہے۔ اس بارے میں کہ "نفسِ لوّامہ"(لوّامہ" مبالغے کا صیغہ ہے، اور بہت زیادہ ملامت کرنے والے کے معنی میں ہے۔) سے کیا مراد ہے؟ مفسرین نے اس کی بہت سی تفسیریں بیان کی ہیں، ان میں ایک مشہور تو وہی ہے جو ہم نے بیان کی ہے، یعنی "اخلاقی وجدان" جو انسان کو غلط اعمال کے وقت اسی دنیا میں ملامت کرتا ہے اور تلافی و تجدیدِ نظر پر اسے ابھارتا ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد تمام انسانوں کا قیامت میں اپنے آپ کو ملامت کرنا ہے، مؤمنین اس لیے اپنے آپ کو ملامت کریں گے کہ ہم نے نیک اعمال تھوڑے کیوں کیے؟ اور کفار اس وجہ سے کہ انہوں نے کفر و شرک اور گناہ کی راہ کیوں اختیار کی؟ ایک اور تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد صرف کافروں کا نفس ہے، جو قیامت میں ان کے برے اعمال کی وجہ سے بہت زیادہ ملامت اور سرزنش کرے گا۔ لیکن قبل و بعد کی آیات کے ساتھ مناسب وہی پہلی تفسیر ہے۔ ہاں! یہ عدالتِ وجدان اتنی عظمت و احترام کی حامل ہے کہ خدا اس کی قسم کھا رہا ہے اور اس کو عظیم شمار کر رہا ہے، اور واقعاً وہ عظیم و بزرگ ہے، کیونکہ وہ انسان کی نجات کا ایک اہم عامل شمار ہوتی ہے، بشرطیکہ وجدان بیدار ہو اور کثرتِ گناہ کی وجہ سے ضعیف و ناتواں نہ ہو جائے۔ یہ نکتہ قابلِ توجہ ہے کہ ان دو پُر اہمیت اور پُر معنی قسموں کے بعد یہ بیان نہیں ہوا کہ یہ کس چیز کے لیے قسم کھائی گئی ہے، اور اصطلاح کے مطابق "مقسم لہ" محذوف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعد والی آیات کے سیاق سے مطلب بالکل واضح ہے، اس بنا پر اوپر والی آیات اس طرح کا معنی دیتی ہیں: "قیامت کے دن اور نفسِ لوامہ کی قسم ہے کہ تم سب قیامت میں اٹھائے جاؤ گے اور اپنے اعمال کا بدلہ پاؤ گے۔" (تشریحی نوٹ: "لوّامہ" مبالغہ کا صیغہ ہے، اور بہت زیادہ ملامت کرنے والے کے معنی ہے۔ تقدیر میں "لَتُبْعَثُنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" یا "اِنَّكُمْ تُبْعَثُونَ" ہے تقدیر میں "لَتُبْعَثُنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" یا "إِنَّكُمْ تُبْعَثُونَ" ہے)۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ قیامت کے دن کی قسم کھائی گئی ہے، جو قیامت اور قبروں سے اٹھنے کا دن ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ قبروں سے اٹھنے کا مسئلہ اتنا مسلم شمار کیا گیا ہے کہ منکرین کے مقابلے میں اس کی قسم تک کھائی جا سکتی ہے۔ اس کے بعد ایک استفہامِ انکاری کے عنوان سے بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے: "کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہیں کریں گے؟" (اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَجْمَعَ عِظَامَهُ) "ہاں! ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں (کے سروں کی لکیروں) تک کو بھی ٹھیک اسی طرح بنا دیں" (بَلٰى قَادِرِيْنَ عَلٰٓى اَنْ نُّسَوِّىَ بَنَانَهٝ)۔ ایک روایت میں ہے کہ مشرکین میں سے ایک شخص جو پیغمبر کی ہمسائیگی میں رہتا تھا اور اس کا نام "علی بن ربیعہ" تھا، آنحضرتؐ کی خدمت میں آیا اور اس نے روزِ قیامت کے بارے میں سوال کیا کہ وہ کس طرح ہے؟ اور کب آئے گی؟ اس کے بعد اس نے مزید کہا: اگر اس دن کو اپنی آنکھ سے دیکھ لوں تو پھر بھی تیری تصدیق نہیں کروں گا اور تجھ پر ایمان نہیں لاؤں گا، کیا یہ ممکن ہے کہ خدا ان ہڈیوں کو جمع کرے؟ یہ بات قابلِ یقین نہیں ہے۔ اس موقع پر اوپر والی آیات نازل ہوئیں اور اس کو جواب دیا، لہٰذا پیغمبرؐ نے اس ہٹ دھرم اور عناد رکھنے والے شخص کے بارے میں فرمایا: اللّٰهُمَّ اكْفِنِي شَرَّ جَارِيَ السُّوءِ خداوندا! اس برے ہمسائے کے شر کو مجھ سے دور کر۔ (بحوالہ: اس روایت کو "مراغی" نے اور اسی طرح "روح المعانی" اور "تفسیر صافی" نے مختصر فرق کے ساتھ نقل کیا ہے۔ اس معنی و مفہوم کی نظیر قرآن کی دوسری آیات میں نظر آتی ہے، منجملہ ان کے سورۂ یٰس کی آیت 78 میں آیا ہے کہ معاد کے منکرین میں سے ایک شخص ایک بوسیدہ ہڈی کا ٹکڑا ہاتھ میں لیے ہوئے تھا اور پیغمبرؐ سے یہ کہہ رہا تھا: (مَنْ يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ) "ان ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا، درآں حالانکہ یہ بوسیدہ ہو چکی ہیں؟" ضمنی طور پر "يَحْسَبُ" کی تعبیر ("حُسْبَان" کے مادہ سے ہے، گمان کے معنی میں) اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ منکرین اپنی کہی ہوئی بات پر ہرگز ایمان نہیں رکھتے تھے بلکہ صرف بے ہودہ اور بے بنیاد خیال اور گمان پر تکیہ کرتے تھے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ انہوں نے خصوصیت کے ساتھ ہڈیوں پر ہی کیوں تکیہ کیا ہے۔ اولاً تو ہڈیاں باقی اعضاء کی نسبت زیادہ دیر تک قائم رہتی ہیں، لہٰذا جب یہی بوسیدہ ہو جائیں اور ان کے غبار کے ذرات پراگندہ ہو جائیں تو ان کی بازگشت کی امید سطحی افراد کی نظر میں کم ہو جاتی ہے۔ ثانیاً ہڈی انسانی بدن کا اہم ترین رکن ہے، کیونکہ بدن کا ہر ستون ہڈیوں سے مل کر بنتا ہے اور تمام حرکات، گھومنا پھرنا اور بدن کی اہم کارکردگی ہڈیوں کے ذریعے ہی انجام پاتی ہیں، اور انسان کے بدن میں ہڈیوں کی کثرت اور مختلف اشکال و اندازے خدا کی خلقت کے عجائبات میں شمار ہوتے ہیں، اور انسان کی پشت کے ایک ہی مہرے کی قدر و قیمت کا اس وقت پتا چلتا ہے جب وہ بیکار ہو جائے؛ اس وقت ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کا سارا بدن مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ "بَنان" لغت میں "انگلیوں" کے معنی میں بھی آتا ہے اور "انگلیوں کے سروں" (پوروں) کے معنی میں بھی، اور دونوں صورتوں میں ایک ہی نکتے کی طرف اشارہ ہے کہ خدا نہ صرف ہڈیوں کو جمع کرے گا اور انہیں پہلی حالت کی طرف پلٹائے گا بلکہ انگلیوں کی چھوٹی، پتلی اور باریک ہڈیوں کو بھی ان کی اپنی جگہ پر قرار دے گا، اور ان سے بھی بالاتر بات یہ ہے کہ انگلیوں کے پوروں تک کو موزوں صورت میں پہلی حالت پر پلٹا دے گا۔ یہ تعبیر ممکن ہے انسانی پوروں کی لکیروں کی طرف ایک لطیف اشارہ ہو۔ کہتے ہیں کہ انسان روئے زمین پر ایسے پیدا ہوتے ہیں جن کے پوروں کی لکیریں ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں، یا دوسرے لفظوں میں باریک اور پیچیدہ لکیریں جو ہر انسان کے پوروں میں نقش ہوتی ہیں، اس شخص کے تعارف کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ اس لیے ہمارے زمانے میں "انگشت نگاری" (پوروں کی لکیروں کے آثار کو ضبط کرنے) کا شعبہ ایک مستقل علم کی صورت اختیار کر گیا ہے اور اس کے ذریعے بہت سے مجرم پہچانے جاتے ہیں اور بہت سے جرائم کا انکشاف ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر جب ایک چور کمرے یا کسی گھر میں داخل ہوتا ہے تو وہ اپنا ہاتھ دروازے کے قبضے یا کمرے کے شیشے یا تالے اور صندوق پر رکھتا ہے تو اس کی انگلیوں کی لکیریں اس پر رہ جاتی ہیں، تو فوراً اس کا نمونہ حاصل کر کے چوروں اور مجرموں کے سابقہ ریکارڈ کے ساتھ مطابقت کر کے مجرم کو ڈھونڈ لیا جاتا ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بعد والی آیت میں معاد کے انکار کی ایک حقیقی علت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:ایسا نہیں ہے کہ انسان ہڈیوں کے جمع کرنے اور مردوں کو زندہ کرنے پر خدا کی قدرت کے بارے میں شک رکھتا ہو، بلکہ ان کا مقصد انکار کرنے سے یہ ہے کہ وہ ساری زندگی گناہ کرتا رہے" (بَلْ يُرِيْدُ الْاِنْسَانُ لِيَفْجُرَ اَمَامَهٝ)۔ وہ چاہتا ہے کہ انکارِ معاد کے ذریعے ہر قسم کی ہوس رانی، ظلم و بیدادگری اور گناہ کے لیے آزادی حاصل کرے اور اس طریقے سے جھوٹ طور پر سیر کرے، اور مخلوقِ خدا کے مقابلے میں بھی اپنے لیے کسی جواب دہی کا قائل نہ ہو، کیونکہ معاد و قیامت پر ایمان رکھنا اور دادگاہِ عدلِ الٰہی کا قائل ہونا ہر قسم کے عصیان و گناہ کے مقابلے میں ایک عظیم رکاوٹ ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس لگام کو کھول دے اور اس بند کو توڑ دے اور آزادانہ طور پر جو عمل چاہے وہ کرتا پھرے۔ یہ بات گزشتہ زمانوں تک ہی محدود نہیں تھی؛ آج بھی مادیت کی طرف میلان اور مبداء و معاد کے انکار کا ایک سبب فسق و فجور، ذمہ داریوں سے گریز اور ہر قسم کے خدائی قانون کو توڑنے کے لیے آزادی حاصل کرنا ہے، ورنہ مبداء و معاد کے دلائل واضح و آشکار ہیں۔ تفسیرِ علی بن ابراہیم میں آیا ہے کہ اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: يُقَدِّمُ الذَّنْبَ وَيُؤَخِّرُ التَّوْبَةَ وَيَقُولُ سَوْفَ اَتُوبُ "آیت میں ایسے شخص کی طرف اشارہ ہے جو گناہ کو آگے رکھتا ہے اور توبہ کو تاخیر میں ڈالتا ہے، اور کہتا ہے: میں بعد میں توبہ کر لوں گا۔" بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ آیت میں "فجور" سے مراد "جھٹلانا" ہے، اس طرح آیت کا معنی یہ ہے: انسان چاہتا ہے کہ معاد و قیامت کو جو اس کے سامنے ہے جھٹلائے، لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔ اور اس کے بعد مزید کہتا ہے:"اس لیے پوچھتا ہے: قیامت کب آئے گی؟" (يَسْاَلُ اَيَّانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ)۔ ہاں! وہ ذمہ داریوں سے گریز کے لیے قیامِ قیامت کے وقت کے بارے میں استفہامِ انکاری کے طور پر پوچھتا ہے، تاکہ اپنے فسق و فجور کے لیے راستہ ہموار کرے۔ اس نکتے کی یاد دہانی بھی ضروری ہے کہ قیامت کے وقت کے بارے میں ان کا سوال کرنا اس معنی میں نہیں ہے کہ وہ اصل قیامت کو قبول کرتے ہیں اور صرف اس کے وقت کے بارے میں سوال کرتے ہیں، بلکہ یہ سوال اصل قیامت کے انکار کے لیے ایک مقدمہ اور تمہید ہے، ٹھیک اسی طرح جیسے کوئی کہے: "فلاں شخص سفر سے آئے گا" اور جب اس کے آنے میں تاخیر ہو اور وہ نہ آئے تو دوسرا شخص جو اس مسافر کے آنے کا منکر ہو یہ کہتا ہے: وہ مسافر کب آئے گا؟ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
چند نکات ۱۔ عدالت وجدان اور قیامت صغری
قرآنِ مجید سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ روح اور نفسِ انسانی تین مراحل رکھتا ہے: 1- "نفسِ امّارہ" یعنی سرکش نفس، جو انسان کو ہمیشہ برائیوں اور بدیوں کی دعوت دیتا ہے اور شہوت اور فجور کو اس کے سامنے زینت بخشتا ہے۔ یہ وہی چیز ہے کہ جب اس ہوس باز عورت، عزیزِ مصر کی بیوی نے اپنے برے کام کے انجام کا مشاہدہ کیا تو کہا: وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ "میں ہرگز اپنے نفس کو بری قرار نہیں دیتی، کیونکہ سرکش نفس ہمیشہ برائیوں کا حکم دیتا ہے" (یوسف ـــــــــ 53) 2- "نفسِ لوّامہ" جس کی طرف زیرِ بحث آیات میں اشارہ ہوا ہے، وہ بیدار اور نسبتاً آگاہ و باخبر نفس ہے، اگرچہ اس نے گناہ کے مقابلے میں مصونیت حاصل نہیں کی ہے، لہٰذا اس سے بعض اوقات لغزش ہو جاتی ہے۔ اور وہ گناہ کر بیٹھتا ہے، لیکن تھوڑی دیر کے بعد بیدار ہو جاتا ہے اور توبہ کر لیتا ہے اور سعادت کی راہ کی طرف لوٹ آتا ہے۔ اس کی طرف سے انحراف کامل طور پر ممکن ہے، لیکن یہ وقتی ہوتا ہے، دائمی نہیں۔ اس سے گناہ تو سرزد ہو جاتا ہے، لیکن زیادہ دیر نہیں گزرتی کہ وہ خود کو ملامت، سرزنش اور توبہ کا آغاز کر دیتا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جسے "اخلاقی وجدان" کے عنوان سے یاد کرتے ہیں، اور بعض انسانوں میں بہت قوی اور طاقتور ہوتا ہے، بعض میں بہت ضعیف و ناتواں، لیکن اس کے باوجود یہ ہر انسان میں موجود ہوتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کثرتِ گناہ کی وجہ سے اسے بیکار بنا دیا جائے۔ 3- "نفسِ مطمئنہ" یعنی تکامل و ارتقاء کو پہنچی ہوئی روح، جو اطمینان کے مرحلے تک پہنچ چکی ہو، جس نے سرکش نفس کو رام کر لیا ہو اور تقوائے کامل اور احساسِ مسئولیت کے مقام پر پہنچ گئی ہو کہ اس کے لیے آسانی کے ساتھ لغزش کرنا ممکن نہ رہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کے بارے میں سورۂ فجر کی آیات 27، 28 میں فرماتا ہے: يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ * ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً "اے نفسِ مطمئنہ! اپنے پروردگار کی طرف لوٹ آ، جبکہ تو بھی اس سے راضی ہے اور وہ بھی تجھ سے خوش ہے۔" بہرحال — جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے — یہ "نفسِ لوّامہ" انسان میں ایک چھوٹی سی قیامت ہے، اور نیک یا بد کام انجام دینے کے بعد جان کے اندر اس کا محکمہ بلا فاصلہ قائم ہو جاتا ہے اور وہ اس کا حساب و کتاب کرتا ہے۔ اسی لیے بعض اوقات وہ ایک اچھے اور اہم کام کے مقابلے میں ایسا اندرونی سکون محسوس کرتا ہے اور اس کی روح مسرت و نشاط سے اس طرح لبریز ہو جاتی ہے کہ جس کی لذت، شان اور زیبائی کسی بیان اور قلم سے قابلِ توصیف نہیں۔ اس کے برعکس وہ بعض اوقات کسی غلطی اور عظیم جرم کے بعد ایسے وحشت ناک خوابوں اور غم و اندوہ کے طوفان میں گرفتار ہو جاتا ہے اور اندر ہی اندر اس طرح جلتا رہتا ہے کہ زندگی سے کلی طور پر سیر ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ اس پریشانی کے چنگل سے آزاد ہونے کے لیے قاضی کو اپنا تعارف کراتے ہوئے سولی پر چڑھنے کے لیے اپنے آپ کو سپرد کر دیتا ہے۔ یہ عجیب و غریب اندرونی عدالت، قیامت کی عدالت کے ساتھ بلا کی مشابہت رکھتی ہے۔ 1- حقیقت میں یہاں قاضی، شاہد اور حکم کا اجراء کرنے والا ایک ہی ہے، جیسا کہ قیامت میں بھی اسی طرح ہے: عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ "پروردگارا! تو پنہاں اور آشکار بھیدوں سے آگاہ ہے اور تو ہی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا" (زمر ـــــــــ 46) 2- یہ وجدانی عدالت سفارش، رشوت، پارٹی بازی اور انسانوں میں رائج سفارشی خطوں کو قبول نہیں کرتی، جیسا کہ قیامت کی عدالت کے بارے میں بھی یہی آیا ہے: وَاتَّقُوا يَوْمًا لَّا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَيْئًا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلَا هُمْ يُنْصَرُونَ "اس دن سے ڈرو جس میں کسی شخص کو کسی کی جگہ سزا نہیں دی جائے گی، اور نہ ہی کوئی سفارش قبول ہوگی، اور نہ ہی کوئی فدیہ یا رشوت لی جائے گی، اور نہ ہی ان کی کوئی مدد کی جائے گی" (بقرہ ـــــــــ 48) 3- عدالتِ وجدان اہم ترین اور ضخیم ترین اعمال ناموں کی مختصر ترین مدت میں جانچ پڑتال کر لیتی ہے اور اپنا آخری فیصلہ بڑی تیزی کے ساتھ صادر کر دیتی ہے۔ نہ اس میں نئے سرے سے درخواست دینے کی ضرورت ہے، نہ تجدیدِ نظر کی، اور نہ ہی مہینوں اور سالوں تک چکر لگانے کی؛ جیسا کہ قیامت کی عدالت کے بارے میں بھی فرمایا گیا ہے: وَاللّٰهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ "خدا حکم کرتا ہے، اس کے حکم کو کوئی ٹالنے والا نہیں، اور وہ بہت تیز حساب لینے والا ہے" (رعد ـــــــــ 41) 4- اس کی سزا اور کیفرِ کردار اس جہان کی رسمی عدالتوں کی سزاؤں کے برخلاف، پہلے دل و جان کی گہرائیوں میں شعلے بھڑکاتے ہیں اور وہاں سے باہر کی طرف سرایت کرتے ہیں۔ پہلے وہ انسان کی روح کو تکلیف پہنچاتے ہیں، اس کے بعد اس کے اعصاب، جسم اور چہرے میں، اور اس کے خواب و خوراک کے دگرگوں ہونے میں ظاہر ہوتے ہیں، جیسا کہ قیامت کی عدالت کے بارے میں بھی بیان ہوا ہے: نَارُ اللّٰهِ الْمُوقَدَةُ * الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْئِدَةِ "خدا کی بھڑکائی ہوئی آگ جو دلوں تک جا پہنچتی ہے" (ہمزہ ـــــــــ 6، 7) 5- اس وجدانی عدالت کو دیکھنے والوں اور گواہوں کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ خود متہم انسان کی معلومات اور آگاہیاں، اس کے نفع یا اس کے خلاف "گواہیوں" کے عنوان سے قبول کی جاتی ہیں، جیسا کہ قیامت کی عدالت میں بھی انسان کے وجود کے ذرات، یہاں تک کہ اس کے ہاتھ پاؤں اور اس کے بدن کی کھال اس کے اعمال کے گواہ ہوں گے، جیسا کہ فرمایا: حَتَّىٰ إِذَا مَا جَاءُوهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَأَبْصَارُهُمْ وَجُلُودُهُمْ "جب وہ جہنم کے پاس پہنچیں گے تو ان کے کان، آنکھیں اور ان کی کھالیں ان کے خلاف گواہی دیں گی" (حٰم السجدہ ـــــــــ 20) ان دونوں عدالتوں کے درمیان یہ عجیب و غریب مشابہت مسئلۂ معاد کے فطری ہونے کی ایک اور نشانی ہے، کیونکہ یہ کیسے باور کیا جا سکتا ہے کہ ایک انسان کے وجود میں — جو اس عالمِ ہستی کے عظیم سمندر میں ایک چھوٹا سا قطرہ ہے — اس قسم کا حساب و کتاب اور مرموز و اسرار آمیز عدالت موجود ہو، لیکن اس عظیم عالم کے اندر بالکل کوئی حساب و کتاب، عدالت اور محکمہ موجود نہ ہو؟ بھلا یہ بات قابلِ باور ہے؟( بحوالہ :محمکہ وجدان کے سلسلہ مزید وضاحت کے لیے " رہبران بزرگ" ( بحث وجدان) اور کتاب " معاد و عالم پس از مرگ" بحث دلائل " کی طرف رجوع کریں)۔
۲۔ قرآن مجید میں قیامت کے نام
ہم جانتے ہیں کہ قرآن معارف، اور اس کے اعتقادی مسائل کا ایک اہم حصہ، قیامت و معاد سے مربوط مسائل کے محور کے گرد گردش کرتا ہے، کیونکہ وہ انسان کی تربیت اور تکامل و ارتقاء کی طرف بڑھنے میں اہم ترین تاثیر رکتھے ہیں۔ قرآن میں اس عظیم دن کے لیے جو نام انتخاب کیے گئے ہیں وہ بھی بہت کم ہیں،جن میں سے ہر ایک اس دن کے مختلف جہات و ابعاد میں سے ایک جہت و بعد کو بیان کرتا ہے اور اس سلسہ میں بہت سے مسائل کو اکیلا ہی واضح کر دیتا ہے۔ "فیض کاشانی" کے قول کے مطابق، جو انھوں نے" المحجۃ البیضاء" میں لکھا ہے۔ ان ناموں میں سے ہر ایک کے نیچے کوئی نہ کوئی راز چھپا ہوا ہے اور ہر توصیف میں کوئی نہ کوئی اہم معنی بیان ہوا ہے، لہذا کوشش سے ان معانی کا ادراک کرنا چاہیے اور ان اسرار کو معلوم کرنا چاہیے۔ انھوں نے قیامت کے ایک سو سے زیادہ نام ذکر کیے ہیں، ان تمام کو یا ان میں سے اکثر کو قرآن مجید سے معلوم کیاجا سکتاہے مثلا "یوم الحسرۃ"، "یوم الندامۃ"، "یوم المحاسبۃ"، "یوم المسالۃ"، "یوم الواقعۃ"، "یوم القارعۃ"، "یوم الراجفۃ"، "یوم الرادفۃ"، "یوم الفراق"، "یوم الحساب"، "یوم التناد"، "یوم العذاب"، "یوم الفرار"، "یوم الحق"، "یوم الحکم"، "یوم الفصل"، "یوم الجمع"، "یوم الدین"، "یوم تبلی السرائر"، "یوم لایغنی مولی عن مولی شیئا"، "یو یفرّ المرء من اخیہ"، "یوم لا ینفع مال و لابنون"، و "یوم التغابن" و ۔۔۔۔۔ ( بحوالہ: " المحجۃ البیضاء" جلد 8 ص 221) لیکن اس کا زیادہ مشہور نام "یوم القیامۃ" ہی ہے جس کا قرآن میں ستر بار ذکر ہوا ہے اور بندوں کے عمومی قیام اور انسانوں کے عظیم معاد کی ترجمانی کرتاہے۔ اور اس کی طرف توجہ کرنا بھی، انسان کو اس دنیا میں، اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے قیام کی عوت دیتا ہے۔ ہمارے نظریہ کے مطابق، خواب غفلت اور فریب سے بیدار ہونے اور سرکش نفس کو لگام دینے اور انسان کی تعلیم و تربیت کے لیے یہی کافی ہے کہ ہم ان ناموں میں غورو فکر کریں اور اس عظیم دن میں ـــــــــــ جس میں ہم سب خدا کی عظیم بارگاہ میں حاضر ہوں گے اور پردے ہٹ جائیں گے اور اندرونی بھید کھل جائیں گے اور بہشت کو مزین کیا جائے گا۔ اور سب کے سب میزان عدل الہی کے پاس حاضر ہوں گے۔ ـــــــــــــــــــــ ہم اپنی حالت کو نظر میں رکھیں۔ ( خداوندا : اس دن ہمیں اپنی پناہ میں جگہ دے دے)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر انسان خود اپنے لیے بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔
Tafsīr Nemūna · Vol. 11گزشتہ آیات میں گفتگو اس سوال پر کہ ـــــــــ جو منکرینِ قیامت اور معاد کے بارے میں کرتے تھے ــــــــــــــ ختم ہوئی تھی۔ وہ کہتے تھے کہ اگر قیامت سچ ہے تو کب آئے گی؟ زیرِ بحث آیات گویا اس سوال کا ایک واضح جواب ہیں۔ پہلے قیامت سے قبل کے حوادث کی طرف ــــــــــ یعنی انقلابِ عظیم کے سلسلے میں جو دنیا میں پیدا ہو گا اور اس دنیا کا نظام متلاطم اور خراب ہو جائے گا ــــــــــ اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "جب آنکھیں خوف اور وحشت کی شدت سے گردش کر رہی ہوں گی اور مضطرب ہوں گی"۔ (فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ)۔ ( تشریحی نوٹ: "برق"، " برق" کے مادہ سے " بروزن فرق) اصل میں روشنی اور اس بجلی کے معنی میں ہے جو بادل کے درمیان ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے بعد ہر قسم کی روشنی پر اطلاق ہونے لگا، آنکھوں کا چمک مارنا، جس کی طرف اس آیت میں اشارہ ہوا ہے، شدید اور اضطراب آمیز حرکت کے معنی میں ہے جو ہول اورخوف کی شدت سے ہوتی ہے، بعض اسے آنکھ کے ڈھیلے کے رک جانے اور ٹکٹکی باندھ کر ایک ہی نکتہ کی طرف نگاہ کرنے کے معنی میں ـــــــــــ جو عام طور پر وحشت کی نشانی ہےــــــــــــ تفسیر کرتے ہیں اور اس معنی پر کہ آنکھ کا چمک مارنا، تحیر کے معنی میں ہے،اشعار عرب سے کچھ شواہد لائے ہیں لیکن پہلی تفسیر زیادہ بہتر مناسب نظر آتی ہے)۔ "اور جس وقت چاند بے نور اور مضمحل ہو جائے گا"۔ (وَخَسَفَ الْقَمَرُ)۔ "اور جب سورج اور چاند ایک جگہ جمع ہو جائیں گے"۔ (وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ)۔ اس بارے میں کہ "چاند اور سورج" کے جمع ہونے سے مراد کیا ہے؟ مفسرین نے مختلف تفاسیر بیان کی ہیں۔ کبھی کہا ہے: دونوں ایک ساتھ اکٹھے ہو جائیں گے، یا دونوں اکٹھے مشرق سے طلوع کر کے مغرب میں غروب ہوں گے۔ اور کبھی کہا ہے: دونوں اس صفت میں کہ اپنا نور کھو بیٹھیں گے، جمع ہوں گے۔ (تشریحی نوٹ: مرحوم "طبرسی" مجمع البیان میں فرماتے ہیں کہ جمع تین قسم کی ہوتی ہے: ایک مکان میں جمع ہونا ایک وقت میں جمع ہونا اور ایک چیز میں کئی اوصاف کا جمع ہونا ۔" مثلا علم و دولت کا ایک شخص میں جمع ہونا ) لیکن دو چیزوں کے ایک صفت میں اشتراک کے میں معنی میں جمع ہونا، مثلا چاند اور سورج کا بے نور ہونا، ایک قسم مجازی تعبیر ہے (جیسے قرینہ سے معلوم ہونا چاہیے) بحوالہ : مجمع البیان ، جلد 10 ص 395)۔ یہ احتمال بھی ہے کہ چاند بتدریج سورج کی قوّتِ جاذبہ کے زیرِ اثر اس کے نزدیک آ جائے اور انجامِ کار اس میں جذب ہو جائے اور پھر دونوں بے نور ہو جائیں گے۔ بہرحال، یہاں دنیا کے آخر میں ظاہر ہونے والے انقلابوں میں سے دو اہم ترین حصّوں، یعنی چاند کے بے نور ہو جانے اور سورج اور چاند کے ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہو جانے کی طرف اشارہ ہوا ہے، جن کی طرف قرآن کی دوسری آیات میں بھی کم و بیش اشارے ہوئے ہیں۔ مثلاً سورۂ تکویر کی آیہ 1 میں فرماتا ہے:"اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ"، "جس وقت سورج تاریک ہو جائے گا"۔ اور ہم جانتے ہیں کہ چاند کا نور سورج سے ہے، تو جب سورج تاریک ہو گا تو پھر چاند بھی تاریک ہو جائے گا اور نتیجے میں کرۂ زمین ایک وحشت ناک ظلمت اور تاریکی میں ڈوب جائے گا۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس طرح سے یہ دنیا ایک عظیم تحوّل اور انقلاب کے ساتھ ختم ہو جائے گی، اس کے بعد ایک دوسرے انقلاب سے (دوسرے نفخۂ صور سے جو نفخۂ حیات ہے) انسانوں کا قبروں سے اٹھنا شروع ہو گا۔ اس دن انسان کہے گا کہ فرار کی راہ کہاں ہے؟" (يَقُوْلُ الْاِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ اَيْنَ الْمَفَرُّ)۔ (تشریحی نوٹ: "مفر" فرار" سے اسم مکان ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ مصدر ہے ،لیکن یہ احتمال یہاں بعید نظر آتا ہے)۔ ہاں! کافر اور گنہگار انسان، جو قیامت کے دن کی تکذیب کیا کرتے تھے، اس دن شدّتِ ندامت اور شرم سے کوئی پناہ گاہ تلاش کریں گے اور گناہوں کی سنگینی اور عذاب کے خوف سے فرار کی راہ ڈھونڈیں گے، بالکل اسی دنیا کی طرح کہ جب وہ کسی خطرناک حادثے کا سامنا کرتے تھے تو بھاگنے کی سوچتے تھے، لہٰذا وہ اس جگہ کا بھی اس دنیا سے قیاس کریں گے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ لیکن بہت جلد ان سے کہہ دیا جائے گا: "ہرگز ایسا نہیں، کوئی راہِ فرار اور پناہ گاہ نہیں ہے"۔ (كَلَّا لَا وَزَرَ)۔ (تشریحی نوٹ: "وزر" ( بروزن قمر) اصل میں پہاڑی پناہ گاہ و غیرہ کے معنی میں ہے اور "وزیر" اس لیے کہتے کہ لوگ اپنے کاموں میں اس کی اس کی پناہ لیتے ہیں، بہرحال زیر بحث آیت میں ہر قسم کی پناہ گاہ کے معنی میں ہے)۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ "بلکہ اصل قرارگاہ پروردگار کی طرف ہے"، اور اس کے علاوہ کوئی اور پناہ گاہ نہیں ہے۔ (اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ)۔ اس آیت کے لیے اوپر والی تفسیر کے علاوہ دوسری تفسیریں بھی بیان کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ: اس دن آخری حکم خدا کے ہاتھ میں ہے۔ یا یہ کہ آخری قرار گاہ، جنّت اور دوزخ میں اس کے حکم سے ہوگی۔ یا یہ کہ محکمہ اور حساب کے لیے اسی کی بارگاہ میں ٹھہرنا ہو گا۔ لیکن بعد والی آیت کی طرف توجّہ کرتے ہوئے وہ تفسیر جو ہم نے انتخاب کی ہے سب سے زیادہ مناسب ہے۔ بعض کا نظریہ یہ ہے کہ یہ آیت ان آیات میں سے ایک ہے جو انسان کے ابدی تکامل و ارتقاء کے راستے کو بیان کرتی ہیں، اور یہ آیت ان آیات کے زمرے میں ہے جو کہتی ہیں:"وَاِلَيْهِ الْمَصِيْرُ"، "سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے"۔ (تغابن: 3)اور"يَا أَيُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَاقِيْهِ"، "اے انسان! تو سعی و کوشش اور زحمت و مشقّت کے ساتھ اپنے پروردگار کی طرف بڑھ رہا ہے، اور تو اس سے ملاقات کرے گا"۔ (انشقاق: 6) "وَاَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰى"، "اور یہ کہ آخر کار تیرے پروردگار ہی کی طرف انتہا ہے"۔ (نجم: 42) (تشریحی نوٹ: البتہ ان آیات کی تفسیر میں کچھ دوسرے نظریات بھی ہیں جو ہم نے انہیں آیات کے ذیل میں بیان کیے ہیں)۔ زیادہ واضح تعبیر میں انسان ایسے رہرو ہیں جو عدم کی سرحد سے چلے ہیں اور انہوں نے سلطنتِ وجود کا یہ سارا راستہ طے کیا ہے، اور اس سلطنتِ وجود میں بھی وہ خدا کے وجودِ مطلق اور بے پایاں ہستی کی طرف چلے جاتے ہیں۔ اور اگر وہ اصل راستے اور صراطِ مستقیم سے منحرف نہ ہوں تو یہ ارتقائی حرکت ابد تک جاری رہے گی اور وہ ہر روز قربِ خدا کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوں گے، لیکن اگر وہ اپنی راہ سے منحرف ہو جائیں تو گر کر تباہ ہو جائیں گے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد اس گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے مزید کہتا ہے: "اس دن انسان کو ان تمام امور سے جنہیں اس نے ‘مقدّم’ رکھا تھا یا ‘مؤخّر’ کیا تھا، آگاہ کیا جائے گا"۔ (يُنَبَّؤاُ الْاِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ)۔ اس بارے میں کہ ان دونوں تعبیرات سے کیا مراد ہے؟ بہت سی تفاسیر بیان کی گئی ہیں۔ پہلی تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد وہ اعمال ہیں جو اس نے اپنی زندگی میں آگے بھیجے ہیں، یا وہ آثار جو موت کے بعد اس سے باقی رہ گئے ہیں، چاہے وہ نیک سنت ہو یا بد، جو اس نے لوگوں میں چھوڑی ہے اور وہ اس پر عمل کرتے ہیں اور اس کی نیکیاں اور برائیاں اس کو پہنچتی رہتی ہیں، یا کتابیں اور تحریریں اور خیر و شر کی یادیں، یا نیک و بد اولاد، جن کے آثار اس تک پہنچیں گے۔ دوسری تفسیر سے مراد وہ اعمال ہیں جو وہ پہلے بجا لایا تھا اور وہ آخری اعمال جنہیں اس نے اپنی تمام عمر میں انجام دیے، دوسرے لفظوں میں وہ اپنے تمام اعمال سے باخبر ہو گا۔ تیسری تفسیر یہ ہے کہ اس سے وہ مال مراد ہے جو اس نے آگے بھیجا ہے اور وہ مال جو اس نے وارثوں کے لیے چھوڑا ہے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سے مراد وہ گناہ ہیں جنہیں اس نے مقدّم رکھا اور وہ اطاعتیں ہیں جنہیں اس نے مؤخر رکھا تھا، یا اس کے برعکس۔ لیکن سب سے مناسب پہلی تفسیر ہے، خاص طور پر جبکہ ایک حدیث میں امام باقرؑ سے اس آیت کی تفسیر میں آیا ہے کہ آپؑ نے فرمایا: (يُنَبّؤُا بِمَا قَدَّمَ مِنْ خَيْرٍ وَشَرٍّ، وَمَا أَخَّرَ مِنْ سُنَّةٍ لَيْسَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ، فَإِنْ كَانَ شَرًّا كَانَ عَلَيْهِ مِثْلُ وِزْرِهِمْ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا، وَإِنْ كَانَ خَيْرًا كَانَ لَهُ مِثْلُ أُجُورِهِمْ، لَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا)۔ "اس دن انسان کو اس خیر اور شر سے باخبر کیا جائے گا جسے اس نے مقدّم رکھا تھا یا مؤخر کیا تھا، ان سنتوں کے طور پر جنہیں اس نے یادگار کے طور پر چھوڑا تھا، تاکہ وہ لوگ جو اس کے بعد آئیں گے اس پر عمل کریں۔ اگر وہ بری سنت تھی تو عمل کرنے والوں کے گناہوں کے برابر اس کے گناہ میں اضافہ ہو گا اور ان کے گناہوں میں کسی قسم کی کمی نہ ہوگی، اور اگر وہ اچھی سنت تھی تو انہی جیسے اجر و ثواب اس کے لیے بھی ہوں گے اور ان کے اجر و ثواب میں کوئی کمی نہ ہوگی"۔( بحوالہ : تفسیر برہان جلد 4 ص 406۔ اسی حدیث کے مانند تفسیر قرطبی جلد 10 ص 6891 میں بھی آیا ہے)۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بعد والی آیات میں مزید کہتا ہے:"اگرچہ خدا اور اس کے فرشتے انسان کو اس کے تمام اعمال سے آگاہ کریں گے، لیکن اس اطلاع کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بلکہ انسان خود اپنی حالت سے آگاہ ہے اور اس عظیم دن میں خود اس کے اعضاء اس کی گواہی دیں گے"۔ (بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِيْرَةٌ)۔ (تشریحی نوٹ: پہلے احتمال کی بنا پر اس کی " تاء" مصدری ہے اور دوسرے احتمال کی بناء پر تاء تانیث " ہے کیونکہ انسان یہاں " اعضآء و جوارح" کے معنی میں ہے یا " نفس" کے معنی میں ہے جو تانیث مجازی ہے اور بعض اسے " تاء مبالغہ" سمجھتے ہیں، جو انسان کی اپنے بارے میں شدت آگاھی کی خبر دیتی ہے)۔ "چاہے وہ ظاہر میں اپنے لیے کتنے ہی عذر تراشتا رہے"۔ (وَلَوْ اَلْقٰى مَعَاذِيْرَهُ)۔ یہ آیات درحقیقت وہی بات بیان کر رہی ہیں جو قرآن کی دوسری آیات میں انسان کے اعمال پر اس کے اعضاء کی گواہی کے بارے میں آئی ہے۔ مثلاً سورۂ حم سجدہ کی آیہ 20 میں آیا ہے: (شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَاَبْصَارُهُمْ وَجُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ) "ان کے کان، آنکھیں اور بدن کی کھالیں ان کے اعمال کی گواہی دیں گی"۔اور سورۂ یٰس کی آیہ 65 میں آیا ہے: (وَتُكَلِّمُنَا اَيْدِيْهِمْ وَتَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ)"ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پاؤں ان اعمال کی گواہی دیں گے جو وہ انجام دیتے تھے"۔ اس بنا پر قیامت کی اس عظیم عدالت میں انسان کے اعمال کا بہترین گواہ وہ خود ہی ہے، کیونکہ وہ اپنی حالت سے سب سے زیادہ آگاہ ہے، اگرچہ خدا نے اتمامِ حجّت کے طور پر بہت سے دوسرے گواہ بھی اس کے لیے مقرر کیے ہیں۔ "بصیرۃ" مصدری معنی بھی رکھتی ہے (بینائی و آگاہی) اور وصفی معنی بھی (آگاہ شخص)، اس لیے بعض نے اس کی تفسیر "حجّت، دلیل اور برہان" کے معنی میں کی ہے۔ "معاذیر"، "معذرت" کی جمع ہے، جو اصل میں ایسی چیز کے پیدا کرنے کے معنی میں ہے جو گناہ کے آثار کو ختم کر دے، جو کبھی واقعی عذر ہوتا ہے اور کبھی ظاہری۔ اور بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ "معاذیر"، "معذار" کی جمع ہے، جو پردہ اور پوشش کے معنی میں ہے۔ اس تفسیر کے مطابق آیت کا معنی اس طرح ہوتا ہے: انسان اپنے اوپر آگاہی رکھتا ہے، چاہے وہ اپنے اعمال پر کتنے ہی پردے ڈالے اور اپنے کاموں کو پوشیدہ رکھے۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔ بہرحال، اس عظیم دن حساب و جزا پر حاکم وہ ہستی ہے جو ظاہر و باطن کے بھیدوں سے آگاہ ہے، اور خود انسان کو بھی اس کے اعمال پر حساب کرنے والا قرار دیا ہے، جیسا کہ سورۂ اسراء کی آیہ 14 میں آیا ہے:"اِقْرَأْ كِتَابَكَ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا"۔"اپنا نامۂ اعمال پڑھ، آج تو اپنے حساب کے لیے خود ہی کافی ہے"۔ اگرچہ زیرِ بحث آیات سب کی سب معاد اور قیامت کے بارے میں گفتگو کر رہی ہیں، لیکن ان کا مفہوم وسیع ہے اور اس دنیا کو بھی شامل ہے۔ یہاں بھی لوگ اپنے حال سے آگاہ ہیں، اگرچہ کچھ لوگ جھوٹ موٹ اسے پسِ پشت ڈال کر ظاہر سازی اور ریاکاری سے اپنے حقیقی چہرے کو چھپا لیتے ہیں۔ اسی لیے ایک حدیث میں امام صادقؑ سے آیا ہے کہ آپؑ نے فرمایا: (مَا يَصْنَعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يُظْهِرَ حَسَنًا وَيُسِرَّ سَيِّئًا؟ أَلَيْسَ إِذَا رَجَعَ إِلٰى نَفْسِهِ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَيْسَ كَذٰلِكَ؟ وَاللّٰهُ سُبْحَانَهُ يَقُوْلُ: بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهِ بَصِيْرَةٌ، إِنَّ السَّرِيْرَةَ إِذَا صَلَحَتْ قَوِيَتِ الْعَلَانِيَةُ)۔ "جب تم میں سے کوئی شخص اپنے ظاہر کو آراستہ کرے لیکن پوشیدہ طور پر بدکار ہو تو وہ کیا کر سکتا ہے؟ کیا جب وہ اپنے نفس کی طرف لوٹتا ہے تو نہیں جانتا کہ وہ ایسا نہیں ہے؟ جیسا کہ خداوندِ تعالیٰ فرماتا ہے: بلکہ انسان اپنی حالت سے آگاہ ہے۔ جب انسان کا باطن صالح اور درست ہو جائے تو اس کے ظاہر کو بھی تقویت ملتی ہے"۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد 10، ص 396)۔ بیمار کے روزے کی احادیث میں بھی آیا ہے کہ امام صادقؑ کے ایک صحابی نے آپؑ سے سوال کیا: (مَا حَدُّ الْمَرَضِ الَّذِي يُفْطِرُ صَاحِبُهُ؟) "اس بیماری کا معیار کیا ہے جس سے افطار جائز ہو جاتا ہے؟"تو امامؑ نے اس کا جواب دیا: (بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهِ بَصِيْرَةٌ، هُوَ أَعْلَمُ بِمَا يُطِيقُ) "انسان اپنی حالت پر سب سے زیادہ آگاہ ہے اور وہی بہتر طور پر جانتا ہے کہ اس میں کس قدر توانائی ہے"۔ (سابقہ حوالہ: اس حدیث کو مرحوم صدوق نے ‘من لا یحضره الفقیه’ کی کتاب الصیام میں بھی نقل کیا ہے، جلد 2، ص 132، باب حدّ المرض الذی يُفْطِرُ صاحبه، حدیث 1941)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
قرآن کا جمع کرنا اور اس کی حفاظت ہمارے ذمہ ہے۔
Tafsīr Nemūna · Vol. 11یہ آیات حقیقت میں جملۂ معترضہ کے طور پر آئی ہیں، جسے گفتگو کرنے والا اپنی گفتگو کے درمیان میں لاتا ہے، مثلاً کوئی شخص تقریر کر رہا ہو اور وہ یہ دیکھے کہ مجلس کا آخری حصہ لوگوں سے بھر گیا ہے جبکہ اس کا اگلا حصہ خالی ہے، تو وقتی طور پر اپنی تقریر روک کر حاضرین کو آگے آنے کی دعوت دیتا ہے تاکہ بعد میں آنے والوں کے لیے جگہ کھل جائے، اور پھر اپنی تقریر کو شروع کر دیتا ہے۔ یا کوئی استاد درس کے دوران اپنے کسی شاگرد کو غافل دیکھتا ہے تو وہ اپنی گفتگو کو توڑ کر اسے تنبیہ کرتا ہے اور پھر درس کو جاری کر دیتا ہے۔ اگر کوئی بے خبر آدمی اس تقریر یا درس کو ٹیپ سے سنے تو ممکن ہے وہ اشتباہ میں پڑ جائے اور ان جملوں کے قبل و بعد کے جملوں سے غیر مربوط ہونے پر تعجب کرے، لیکن مجلس کے مخصوص حالات میں وقت اور غور کرنے سے ان معترضہ جملوں کا فلسفہ واضح ہو جاتا ہے۔ اس سادہ سے مقدمہ کی طرف توجہ کرنے کے بعد ہم زیرِ بحث آیات کی تفسیر پیش کرتے ہیں۔ خدا نے قیامت، مومنین اور کفار کے حالات کے بارے میں جو سلسلۂ گفتگو تھا، اسے وقتی طور پر چھوڑ دیا ہے اور اپنے پیغمبر کو قرآن کے بارے میں ایک مختصر سی یاد دہانی کراتا ہے، اور فرماتا ہے: "اپنی زبان کو اس کے پڑھنے میں جلدی کرنے کے لیے حرکت نہ دے"۔ (پڑھنے میں جلدی کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دے)۔ اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے بہت زیادہ اختلاف کیا ہے اور مجموعی طور پر اس کے لیے کئی تفاسیر بیان کی گئی ہیں۔ پہلی تفسیر وہی معروف تفسیر ہے جو ابنِ عباس سے کتبِ حدیث و تفسیر میں بیان ہوئی ہے، اور وہ یہ ہے کہ پیغمبرؐ اس شدید عشق اور لگاؤ کی بنا پر، جو آپ قرآن کو حاصل کرنے اور اسے حفظ کرنے کے بارے میں رکھتے تھے، جب وحی لانے والا فرشتہ آپ کے سامنے قرآنی آیات کو پڑھتا تھا تو آپ اس کے ساتھ ساتھ اپنی زبان کو حرکت دیتے تھے اور جلدی کرتے تھے۔ خدا نے آپ کو منع کیا کہ یہ کام نہ کیجیے، ہم خود اسے تمہارے لیے جمع کر رہے ہیں۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ قرآن کے دو نزول ہیں: "نزولِ دفعی" یعنی وہ سارا کا سارا یکجائی طور پر شبِ قدر میں پیغمبر کے پاک دل پر نازل ہوا، اور "نزولِ تدریجی" جو 23 سال کے عرصہ میں صورت پذیر ہوا۔ پیغمبرؐ اس جلدی کی بنا پر جو انہیں دعوت کی تبلیغ کے بارے میں تھی، بعض اوقات نزولِ تدریجی سے پہلے یا اس کے ہمراہ آیات کی تلاوت کرتے تھے، تو انہیں حکم دیا گیا کہ یہ کام نہ کریں اور ہر آیت کی اپنے موقع پر ہی تلاوت اور تبلیغ کریں۔ اس طرح سے اس آیت کا مضمون سورۂ طٰہٰ کی آیہ 114 کے مانند ہے: (وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يُّقْضٰى اِلَيْكَ وَحْيُهٝ) "وحی کے مکمل ہونے سے پہلے قرآن کے بارے میں جلدی نہ کرو"۔ یہ دونوں تفاسیر ایک دوسرے سے زیادہ فرق نہیں رکھتیں اور مجموعی طور پر ان کی بازگشت اس معنی کی طرف ہے کہ پیغمبر کو وحی کے حاصل کرنے میں عجلت اور جلدبازی نہیں کرنی چاہیے۔ تیسری تفسیر، جس کے طرف دار بہت ہی کم ہیں، یہ ہے کہ ان آیات میں مخاطب قیامت میں گنہگار ہیں، جنہیں حکم دیا جائے گا کہ اپنے نامۂ اعمال کو پڑھیں اور اپنا حساب خود کریں، اور انہیں کہا جائے گا کہ اس کے پڑھنے میں جلدی نہ کریں۔ یہ فطری بات ہے کہ وہ اپنا نامۂ اعمال پڑھتے وقت جب اپنی برائیوں تک پہنچیں گے تو پریشان ہو جائیں گے اور ان سے جلدی کے ساتھ گزر جانا چاہیں گے، تو یہ حکم انہیں دیا جائے گا اور انہیں جلدبازی سے روکا جائے گا، اور ان کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ جس وقت خدا کے فرشتے ان کے نامے پڑھیں تو وہ ان کی پیروی کریں۔ اس تفسیر کے مطابق یہ آیات جملۂ معترضہ کی صورت میں نہیں ہیں بلکہ یہ گزشتہ اور آئندہ کی آیات کے ساتھ مربوط ہیں اور سب کی سب ایک دوسرے کے ساتھ ربط رکھتی ہیں، کیونکہ یہ سب ہی قیامت و معاد کے حالات کے ساتھ مربوط ہیں۔ لیکن پہلی اور دوسری تفسیر کے مطابق — جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے — یہ آیات جنبۂ معترضہ رکھتی ہیں۔ بہرحال، تیسری تفسیر، خصوصاً قرآن کے نام کے ذکر کی طرف توجہ کرتے ہوئے جو بعد کی آیات میں آیا ہے، بہت بعید نظر آتی ہے، اور اصولی طور پر آیات کا لب و لہجہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ گزشتہ دو تفسیروں میں سے کوئی ایک مراد ہے، اور ان دونوں کو جمع کرنے میں بھی کوئی مانع نہیں ہے، اگرچہ بعد والی آیات کا لب و لہجہ پہلی تفسیر یعنی مشہور تفسیر کے موافق ہے (غور کیجیے)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "اس کو جمع کرنا اور پڑھانا ہمارے ذمہ ہے" (اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهٝ وَقُرْاٰنَهٝ)۔ خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کے جمع کرنے کے سلسلہ میں پریشان نہ ہو، ہم اس کی آیات کو جمع بھی کریں گے اور وحی لانے والے فرشتے کے ذریعے تیرے سامنے پڑھیں گے بھی۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــ "اور جب ہم اسے پڑھ چکیں تو اس کی پیروی کر اور اسے پڑھ" (فَاِذَا قَرَاْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٝ)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــ "پھر اس کو بیان کرنا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے۔" (ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهٝ)۔ اس بنا پر قرآن کا جمع کرنا، اس کی تیرے سامنے تلاوت کرنا اور اس کے معانی کی توضیح و تفصیل بتانا، یہ تینوں امور ہمارے ذمہ ہیں۔ لہٰذا تو کسی طرح بھی اس سلسلہ میں پریشان نہ ہو۔ جس ہستی نے اس وحی کو نازل کیا ہے، وہی تمام مراحل میں اس کا محافظ ہے۔ تیری ذمہ داری صرف یہ ہے کہ ایک طرف وحی لانے والے فرشتے کی تلاوت کی پیروی کرے اور دوسری طرف عامۂ الناس کو اس رسالت کی تبلیغ کرے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ جمع کرنے سے مراد وحی کو زبان میں جمع کرنا نہیں بلکہ پیغمبر کے سینہ میں جمع کرنا اور آنحضرتؐ کی زبان سے اس کی تلاوت ہے، یعنی جلدی نہ کرو، ہم ان تمام آیات کو تیرے سینہ میں جمع کر دیں گے اور پھر اس کی قراءت تیری زبان پر جاری کریں گے۔ بہرحال، یہ تمام تعبیریں پہلی تفسیر کی تائید کرتی ہیں کہ پیغمبرؐ جبرئیل کے ذریعے نزولِ وحی کے وقت ہمیشہ جلدی کرتے تھے کہ آیات کو فوراً تکرار کریں، تاکہ کہیں وہ حافظہ سے نکل نہ جائیں، اور اس موقع پر خدا کی طرف سے انہیں یہ بتایا گیا کہ آپ مطمئن رہیں کہ نہ صرف آیات کے جمع کرنے اور ان کے پڑھنے بلکہ ان کے معانی کی توضیح و تشریح کی بھی خدا کی طرف سے ضمانت دی جاتی ہے۔ مجموعی طور پر یہ آیات قرآن کی اصالت اور اس کی ہر قسم کی تحریف اور تبدیلی سے حفاظت کو بیان کرتی ہیں، کیونکہ خدا نے اس کے جمع کرنے، اس کی تلاوت کرنے اور اس کے معانی کی وضاحت و تشریح کرنے کا وعدہ دیا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اکرمؐ، ان آیات کے نزول کے بعد، جب جبرئیلؑ آپ پر نازل ہوتے تو آپ مکمل طور پر سکوت اختیار کرتے، اور جب جبرئیلؑ چلے جاتے تو پھر آپ آیات کی تلاوت شروع کرتے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد 10، ص 397)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
میدان محشر میں کچھ چہرے ہنستے ہوئے اور کچھ بگڑے ہوئے ہوں گے۔
Tafsīr Nemūna · Vol. 11ان آیات میں پھر دوبارہ معاد و قیامت سے مربوط مباحث کو شروع کرتا ہے، قیامت کی کچھ خصوصیات اور اسی طرح معاد کے انکار کے علل و اسباب کو بیان کرتا ہے۔ فرماتا ہے: اس طرح نہیں ہے کہ معاد و قیامت کے دلائل مخفی ہوں اور تم اس کی حقانیت تک نہ پہنچ سکتے ہو، "بلکہ تم جلدی گزر جانے والی دنیا کو دوست رکھتے ہو" (كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ)۔ ـــــــــــــــــــــ "اور اسی بنا پر تم آخرت کو چھوڑ دیتے ہو" (وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَ)۔ معاد کے انکار کی اصلی وجہ خدا کی قدرت، "بوسیدہ ہڈیوں" کو جمع کرنے اور پراگندہ مٹی کو اکٹھا کرنے میں شک و تردید نہیں ہے، بلکہ دنیا اور سرکش شہوات اور ہوس رانیوں کے ساتھ تمھارا شدید لگاؤ اس بات کا سبب بنتا ہے کہ تم ہر قسم کے موانع اور رکاوٹوں کو اپنے راستے سے ہٹا دو۔ اور چونکہ معاد اور خدا کے امر و نہی کو قبول کر لینا اس راستے میں بہت سے موانع اور رکاوٹیں کھڑی کر دیتا ہے، اس لیے یہ لوگ اصل مطلب کے انکار کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں اور آخرت کو کلی طور پر چھوڑ دیتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی بیان کیا ہے کہ مادیت کی طرف اور مبداء و معاد کے انکار کا ایک اہم سبب شہوات و لذات اور ہر قسم کے گناہ کے مقابلے میں بے قید و شرط آزادی حاصل کرنا ہے۔ نہ صرف گزشتہ زمانے میں بلکہ موجودہ زمانے میں بھی یہ معنی زیادہ واضح اور آشکار صورت میں صادق آتا ہے۔ یہ دونوں آیات حقیقت میں اسی چیز کی ایک تاکید ہیں جو گزشتہ آیات میں گزر چکی ہے، جن میں فرمایا تھا: بل یرید الانسان لیفجر امامہ۔ یسئل ایّان یوم القیامۃ۔ (تشریحی نوٹ: بعض نے اوپر والی آیات میں "کلاٰ" کو ان کے قرآنِ مجید میں تدبیر کرنے کی نفی سمجھا ہے لیکن یہ تفسیر صحیح نہیں ہے، کیونکہ ــــــــــ جیساکہ ہم نے بیان کیا ہے ـــــــــــــ قرآن سے مربوط آیات میں مخاطب پیغمبرؐ ہیں اور وہ جنبہ معترضہ رکھتی لیکن زیر بحث آیات کا قیامت کے سلسلہ میں ایک تسلسل ہے)۔ ــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد اس دن میں نیکوکار مومنین اور بدکار کفار کی حالت کو بیان کرتے ہوئے اس طرح کہتا ہے: "اس دن کچھ صورتیں ہنسی خوشی اور نورانی و خوب صورت ہوں گی" (وُجُوْهٌ يَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ)۔ "ناضرۃ"، "نضرۃ" کے مادہ سے ایک خاص قسم کی خوشی کے معنی میں ہے جو وفورِ نعمت اور مرفہ حالی کی وجہ سے انسان کو حاصل ہوتی ہے، جس میں سرور و زیبائی اور نورانیت ہوتی ہے، یعنی ان کے رخسار کا رنگ ان کی حالت کی خبر دیتا ہے کہ وہ خدا کی نعمتوں میں کس طرح سے غرق ہیں۔ حقیقت میں یہ اسی چیز کے مشابہ ہے جو مطففین کی آیت 24 میں آیا ہے: تَعْرِفُ فِي وُجُوهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيمِ: ــــــــــــ "تم ان (بہشتیوں) کے چہروں پر نعمت کی شادابی کا مشاہدہ کرو گے" ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ یہ تو مادی جزاؤں کے لحاظ سے ہے، لیکن ان کی روحانی جزاؤں کے بارے میں فرماتا ہے: "وہ صرف اپنے پروردگار کی پاک ذات کی طرف دیکھیں گے" (اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ)۔ دل کی آنکھ اور شہودِ باطنی سے وہ اس بے مثال ذات اور اس کے کمال و جمالِ مطلق کے مجذوب بن جائیں گے، اور ایک روحانی اور ناقابلِ بیان لذت انھیں حاصل ہو گی، جس کا ایک ایک لمحہ دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے برتر و بالاتر ہے۔ اس بات پر توجہ رہے کہ "اِلٰى رَبِّهَا" کا "نَاظِرَةٌ" پر مقدم ہونا حصر کا فائدہ دیتا ہے، یعنی اسی کی طرف دیکھیں گے، نہ کہ اس کے غیر کی طرف۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ بہشتی یقینی طور پر اس کے غیر کی طرف بھی نگاہ کریں گے، تو ہم کہتے ہیں: اگر وہ اس کے غیر کی طرف نگاہ کریں گے تو ان سب کو اس کے آثار میں سے سمجھیں گے، اور اثر کی طرف نگاہ کرنا مؤثر کی طرف نگاہ کرنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ ہر جگہ اسی کو دیکھیں گے اور ہر چیز میں اسی کی قدرت اور جمال و کمال کا مشاہدہ کریں گے، لہٰذا جنت کی نعمتوں کی طرف توجہ بھی انھیں خدا کی ذات کی طرف نظر کرنے سے غافل نہیں کرے گی۔ اس وجہ سے بعض روایات میں ــــــــــ جو اس آیت کی تفسیر میں بیان کی گئی ہیں ــــــــــ آیا ہے کہ: وہ خدا کی رحمت، اس کی نعمت اور اس کے ثواب کی طرف نظر کریں گے۔ (بحوالہ: نور الثقلین جلد5 ص 464،465 ) کیونکہ ان چیزوں کی طرف دیکھنا بھی اس ذاتِ مقدس کی طرف دیکھنا ہے۔ بعض بے خبروں نے اوپر والی آیت کو قیامت میں خدا کے حسی مشاہدے کی طرف اشارہ سمجھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس دن خدا کو اسی ظاہری آنکھ کے ساتھ دیکھیں گے، حالانکہ اس قسم کے مشاہدے کا لازمہ خدا کا جسمانی ہونا، اور کسی خاص مکان، کیفیت اور حالتِ جسمانی میں ہونا ہے، اور ہم جانتے ہیں کہ اس کی پاک ذات ان آلودگیوں سے منزہ ہے، جیسا کہ قرآن کی مختلف آیات میں بارہا اس پر تاکید ہوئی ہے۔ منجملہ ان کے سورۂ انعام کی آیت 103 میں آیا ہے: لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ: "اس کو آنکھیں نہیں دیکھتیں اور وہ آنکھوں کو دیکھتا ہے"۔ یہ آیت مطلق ہے اور دنیا کے ساتھ کسی قسم کا اختصاص نہیں رکھتی۔ بہرحال، خدا کا حسی مشاہدہ نہ ہونا اس سے کہیں زیادہ واضح ہے کہ ہم اس پر مزید بحث کرنا چاہیں۔ جو شخص قرآن اور معارفِ اسلامی سے معمولی بھی آشنائی رکھتا ہے وہ اس حقیقت کا اعتراف کرے گا۔ بعض نے "ناظرۃ" کی ایک اور تفسیر بیان کی ہے اور یہ کہا ہے کہ وہ "انتظار" کے مادہ سے ہے، یعنی اس دن مومنین صرف خدا کی ذاتِ پاک سے توقع رکھتے ہوں گے، یہاں تک کہ وہ اپنے نیک اعمال پر بھی تکیہ نہیں کریں گے، اور ہمیشہ اس کی رحمت اور نعمت کے منتظر رہیں گے۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ اس انتظار میں ایک قسم کی پریشانی آمیختہ ہو گی، حالانکہ وہاں مومنین کے لیے کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہو گی، تو وہ جواب میں یہ کہتے ہیں: اس انتظار میں ایک قسم کی پریشانی ہوتی ہے جس کے انجام کے بارے میں اطمینان نہ ہو، لیکن جب اطمینان حاصل ہو جائے تو پھر ایسا انتظار آرام و سکون کے ساتھ آمیختہ ہوتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: بعض کا نظریہ یہ ہے کہ" نظر" جو انتظار کے معنی میں ہے وہ " الی" کے ساتھ متعدی نہیں ہوتا، بلکہ وہ حرف جبر کے بغیر متعدی ہو گا۔ لیکن اشعار عرب سے کچھ شواہد موجود ہیں جو اس بات کی نشادہی کرتے ہیں کہ "نظر" جو انتظارکے معنی میں ہے وہ " الی کے ساتھ معتدی ہوتا ہے مجمع البیان جلد10 ص 298 اور تفسیر قرطبی جلد 10 س 6900کی طرف رجوع کریں)۔ ــــــــــــــــــــــــــــ "نظر کرنے" اور "انتظار کرنے" کے معنی کے درمیان جمع کرنا بھی بعید نظر آتا ہے، کیونکہ ایک لفظ کا استعمال متعدد معانی میں جائز ہے، لیکن اگر بنا یہ ہو کہ ان دو معانی میں سے صرف ایک ہی مراد ہو تو ترجیح پہلے معنی کو ہے۔ ہم اس گفتگو کو پیغمبرِ اکرمؐ کی ایک پُر معنی حدیث کے ساتھ ختم کرتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: "اذا دخل اھل الجنۃ الجنۃ یقول اللہ تعالیٰ: تریدون شیئاً ازیدکم؟ فیقولون الم تبیض وجوھنا؟ الم تدخلنا الجنۃ و تنجینا من النار؟ قال فیکشف اللہ تعالیٰ الحجاب فما اعطوا شیئاً احب الیہم من النظر الی ربہم!" "جب اہلِ جنت جنت میں داخل ہو جائیں گے تو خداوندِ عالم فرمائے گا: کیا تم کوئی اور چیز چاہتے ہو جس کا میں تمھارے لیے اضافہ کروں؟ وہ کہیں گے: کیا تو نے ہمارے چہرے سفید نہیں کیے؟ کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا اور جہنم سے نجات نہیں بخشی؟ اس وقت تمام پردے ہٹا دیے جائیں گے، اور ان کے نزدیک کوئی چیز اپنے پروردگار کی طرف نگاہ کرنے سے زیادہ محبوب نہیں ہو گی۔" (بحوالہ: روح المعانی جلد 29 ص 145)۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ایک حدیث میں انس بن مالک کے واسطے سے آنحضرتؐ سے آیا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ینظرون الی ربہم بلا کیفیت ولا حد محدود ولا صفة معلومة: "وہ اپنے پروردگار کو دیکھیں گے، لیکن کسی کیفیت کے بغیر، نہ کسی محدود حد کے ساتھ اور نہ کسی معین صفت کے ساتھ"۔ (بحوالہ: تفسیر المیزان جلد 20 ص 204)۔ ــــــــــــــــــــــــــــ "مومنین کے اس گروہ کے مقابلے میں ایک ایسا گروہ بھی ہو گا جن کے چہرے بگڑے ہوئے ہوں گے" (وَوُجُوْهٌ يَّوْمَئِذٍ بَاسِرَةٌ)۔ "باسرۃ"، "بسر" (بروزن نصر) کے مادہ سے ناپختہ چیز اور وعدے سے پہلے کام کرنے کے معنی میں ہے، اسی لیے کھجور کے کچے پھل کو "بسر" (بروزن عسر) کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد چہرے کے بگڑنے اور ترش رو ہونے پر بولا جانے لگا، کیونکہ یہ وہ عکس العمل ہے جس کا انسان رنج، تکلیف اور پریشانی کے آنے سے پہلے اظہار کرتا ہے۔ بہرحال جس وقت وہ لوگ عذاب کی نشانیوں کو دیکھیں گے اور اپنے نامۂ اعمال کو نیکیوں سے خالی اور برائیوں سے بھرا ہوا پائیں گے تو سخت پریشان، رنجیدہ اور غمگین ہوں گے اور منہ چڑھائیں گے۔ ــــــــــــــــــــــــــــ "انھیں معلوم ہے کہ وہ سخت عذاب جو ان کی کمر توڑ ڈالے گا ان پر واقع ہو کر رہے گا"۔ بہت سے مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ یہاں "ظن" علم کے معنی میں ہے، یعنی انھیں اس قسم کے عذاب کے بارے میں یقین ہو جائے گا، جبکہ بعض نے یہ کہا ہے کہ یہاں "ظن" اپنے اصلی معنی، یعنی گمان میں ہے، البتہ وہ اجمالی طور پر یہ یقین رکھتے ہیں کہ انھیں عذاب ہو گا، لیکن اس قسم کے کمر توڑ عذاب کے بارے میں وہ گمان کرتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ : منجملہ شواہد کے جو اس موضوع کے سلسلہ میں انھوں نے نقل کیے ہیں، یہ ہے کہ اگر "ظن" علم کے معنی میں ہو تا اس کے بعد جو " ان " ہے اسے " متقلہ" نہیں چاہیے۔ بلکہ مخففہ ہونا چاہیے، حالانکہ زیر بحث آیت میں " ان " مصدریہ ہے اور اس میں قرینہ یہ ہے کہ اس نے نصب دی ہے)۔ "فاقرۃ"، "فقرۃ" (بروزن ضربۃ) کے مادہ سے ہے اور اس کی جمع فقار ہے جو پشت کے مہروں کے معنی میں ہے۔ اس بنا پر "فاقرۃ" اس سنگین حادثے کو کہتے ہیں جو کمر کے مہروں کو توڑ دیتا ہے، اور "فقیر" کو اس وجہ سے فقیر کہا گیا ہے کہ گویا اس کی کمر ٹوٹی ہوئی ہے۔ (فاقرہ" ایک محذوف موصوف کی صفت ہے اور تقدیر میں " داھیۃ فاقرہ" ہے اور تظن " فعل ہے جس کا فاعل " وجوہ" ہے اور تقدیر میں " ارباب الوجوہ" یا " ذوات الوجوہ" ہے)۔ بہرحال، یہ تعبیر ان سنگین اور سخت سزاؤں سے کنایہ ہے جو دوزخ میں اس گروہ کے انتظار میں ہیں۔ یہ گروہ کمر شکن عذابوں کا منتظر ہے، جبکہ سابقہ گروہ پروردگار کی رحمت کے انتظار میں ہے اور محبوب کی ملاقات کے لیے آمادہ ہے۔ ان کے لیے بدترین عذاب ہے اور ان کے لیے بہترین جسمانی نعمت اور روحانی لذت ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11دوسرے عالم اور مومنین و کفار کی سرنوشت سے مربوط مباحث کو جاری رکھتے ہوئے، ان آیات میں ، موت کے دردناک لمحہ کے بارے میں گفتگو ہے جو دوسرے جہان کا یک دریچہ ہے۔ فرماتا ہے: اس طرح نہیں ہے، جب اس کی جان اس کے گلے تک نہ پہنچ جائے، وہ ایمان نہیں لائے گا" (کَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَ) اس دن اس کی برزخی آنکھ کھل جائے گی، حجاب اور پردے ہٹ جائیں گے اور وہ عذاب و کیفر کردار کی نشانیاں دیکھیں گے اور اپنے اعمال سے واقف ہو جائیں گے اور اس لمحہ میں وہ ایمان لے آئیں گے لیکن وہ ایسا ایمان ہو گا جو ان کی حالت کے لیے ہرگز مقید نہیں ہو گا۔ "تراقی"، "ترقوہ" کی جمع ہے جو حلق اور گلے کے گرد کی ہڈیوں کے معنی میں ہے اور روح کا گلے تک پہنچنا، عمر کے آخری لمحوں کی طرف اشارہ ہے کیونکہ جس وقت روح بدن سے نکلتی ہے تو وہ اعضاء جو دل سے زیادہ فاصلہ رکھتے ہیں( مثلا ہاتھ پاؤں) وہ جلدی بیکار ہو جاتے ہیں، گویا روح خود کو بدن سے تدریجا سمیٹتی ہے ، یہاں تک گلے تک پہنچ جاتی ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس موقع پر اس کے اردگرد کے لوگ سراسیما اور پریشان ہوجاتے ہیں اور اس کی نجات کی تدبیریں کرتے ہیں" اور یہاں کہا جاتا ہے کہ کوئیہے جو آ کر اس بیمار کو نجات دے" (وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ )۔ یہ بات عجز و نا امیدی اور بے چارگی کی بنا پر کہتے ہیں۔ حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ اب کام بس سے باہر ہو گیا ہے۔ اور طبیب سے بھی اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ " راق"، " رقی" (بروزن نہی) کے مادہ سے اور رقیہ" ( بروزن خفیہ) " اوپر جانے " کے معنی میں ہے۔ یہ لفظ "رقیہ" ان ادراد اور دعاوں پر بولا جاتا ہے جو بیمار موجبِ نجات ہیں، خود طبیب کو بھی اسی وجہ سے کہ وہ بیمار کو رہائی بخشتا ہے اور اسے نجات دیتا ہے " راقی " کہا جاتا ہے۔ اس بناء پر آیت کا مفہوم اس طرح ہے کہ مریض کے اردگرد کے لوگ اور کبھی وہ خؤد تکلیف کی شدت کی وجہ سے پکارتا ہے، کیا کوئی طبیب مل جائے گا؟ کیا کوئی ہے جو دعا پڑھے اور بیمار رہائی پائے؟ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ آیت کا معنی یہ ہے، کہ فرشتوں میں سے کون اس کی روح کو قبض کرے گا اور اوپر لے جائے گا؟ کیا عذاب کے فرشتے یا رحمت کے فرشتے؟ اور بعض نے یہ اضافہ کیا ہے کہ چونکہ خدائی فرشتے اس قسم کے بےایمان انسان کی روح کو قبض کرنا اور اوپر لے جانا پسند نہیں کرتے، تو ملک الموت کہتا ہے، کہ کون ہے جو اس کی روح کو اوپر لے جائے؟ لیکن پہلی تفسیر سب سے زیادہ صحیح اور سب سے زیادہ مناسب ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بعد والی آیت میں "محتضر" کی مکمل مایوسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے؟ اس حالت میں وہ زندگی سے مطلق طور مایوس ہو جائے گا اور اسے دنیا کے فراق اور جدائی کا یقین ہو جائے گا" ( و ظن انہ الفراق) ۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ " اور پاؤں کی پنڈلیاں ایک دوسرے کے ساتھ پیچ کھائیں گی اورموت کا لمحہ آ پہنچے گا" ان کا ایک دوسرے کے ساتھ پیچ کھانا یا تو جان کنی کی تکلیف کی شدت کی وجہ سے ہو گا، یا ہاتھ پاؤں کے بیکار ہو جانے اور ان سے روح کے نکل جانے کا نتیجہ میں ہو گا۔ اس آیت کے لیے اور تفسیریں بھی نقل کی گئی ہیں منجملہ ان کے ایک حدیث میں امام باقرؑ سے آیا ہے۔ التفّت الدنیا بالاٰ خرۃ " دنیا آخرت کے ساتھ لپیٹ دی جائے گی"( بحوالہ" نور الثقلین" جلد 5 ص 465)۔ تفسیر علی بن ابراہیم میں بھی یہی مضمون بیان ہوا ہے۔( بحوالہ" نور الثقلین" جلد 5 ص 465)۔ ابن عباس سے بھی یہی نقل ہوا ہے کہ اس سے مراد امرِ آخرت کی شدت کے شدائد کے ساتھ مل جاتا ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ سب تفاسیر اسی معنی کی طرف لوٹتی ہیں جو مام باقرؑ سے نقل ہوئے ہیں۔ یہ تفسیر اس وجہ سے کی، ہے کہ لغتِ عرب میں ساق کا ایک معنی شدید حادثہ ، مصیبت اور بلائے عظیم بھی ہے۔ اور بعض نےیہ بھی کہا ہے کہ اس سے مراد پاؤں کی پنڈلیوں کا کفن میں لپیٹا جانا ہے۔ البتہ تفاسیر آپس میں کوئی تضاد نہیں رکھتی اور یہ سب کی سب آیت کے معنی میں جمع ہو سکتی ہیں۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ آخری زیر بحث آیت میں فرماتا ہے:" اس دن تمام خلوق کی باز گشت تیرے پروردگار کی عدالت کی طرف سے ہو گی (اِلٰی رَبِّکَ یَوۡمَئِذِ ۣ الۡمَسَاقُ) ہاں! سب کے سب اسی کی طرف لوٹیں گے اور اس کی دادگاہِ عدل میں حاضر ہوں گے اور تمام راستے اس پر جا کرختم ہو جائیں گے، یہ آیت مسئلہ معاد و قیامت اور بندوں کی عمومی رستاخیز پر ایک تاکید بھی ہے اور اس کی ذاتِ پاک کی طرف مخلوق کی حرکت تکاملی کے رخ کرنے کا اشارہ بھی ہو سکتی ہے کیونکہ وہ ایک ایسی ذات ہے جو ہر لحاظ سے غیر متناہی ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایک نکتہ موت کا دردناک لمحہ
جیسا کہ ہم جانتے ہیں قرآن بار بار موت کے مسئلے کی بات کرتا ہے اور انسانوں کو خبردار کرتا ہے کہ ان کو اس قسم کا لمحہ درپیش ہے۔ کبھی تو اسے "سَكْرَةُ الْمَوْتِ" (موت کی حالت کی مستی اور تنگی) سے تعبیر کیا ہے۔(وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ (ق: 19) اور کبھی "غَمَرَاتُ الْمَوْتِ" یعنی "موت کی شدائد" سے تعبیر کیا ہے۔ (بحوالہ: سورۂ انعام: 93 )۔ کبھی "روح کے حلق تک پہنچنے" کی تعبیر کی ہے۔ ( بحؤالہ : فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ (الواقعہ: 83) اور کبھی "روح کے تراقی تک پہنچنے" کی تعبیر ہے، یعنی گلے کے گرد ہڈیوں تک۔ (زیرِ بحث آیات) ان تمام باتوں سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ لمحہ — بعض مادّیین کے کہنے کے برخلاف — سخت اور دردناک لمحہ ہے، اور ایسا کیوں نہ ہو کیونکہ وہ اس جہان سے دوسرے جہان کی طرف انتقال کا لمحہ ہو گا۔ یعنی جس طرح انسان کے عالمِ جنین (شکمِ مادر) سے عالمِ دنیا کی طرف انتقال کا لمحہ بہت زیادہ درد اور تکلیف سے وابستہ ہوتا ہے، دوسرے جہان کی طرف انتقال بھی طبعی طور پر ایسا ہی ہو گا۔ لیکن اسلامی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لمحہ سچے مومنین پر آسانی سے گزر جائے گا، جبکہ بے ایمان افراد کے لیے سخت دردناک ہو گا۔ یہ اس بنا پر ہو گا کہ پروردگار کی لقاء اور اس کی بے پایاں رحمت اور نعمتوں کا شوق پہلے گروہ کو اس طرح اپنے آپ سے بے خود کر دے گا کہ وہ انتقال کے لمحے کی تکلیف کو محسوس ہی نہیں کرے گا۔ جبکہ دوسرے گروہ کے لیے سزا کی وحشت ایک طرف سے اور اس دنیا کے فراق کی مصیبت — جس سے اس نے دل لگایا ہوا تھا — دوسری طرف سے، انتقال کے لمحے کی تکلیفوں کو کئی گنا کر دے گی۔ ایک حدیث میں امام علی بن حسینؑ سے آیا ہے، جب آپ سے موت کے بارے میں سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: "موت مومن کے لیے میلے کچیلے، جوؤں سے بھرے لباس کو اتارنے اور سنگین و وزنی طوق اور زنجیروں کو کھولنے، اور انھیں بہترین لباسوں، خوشبو ترین عطروں، تیز رو سواریوں اور مرفہ ترین مکانوں سے تبدیل کرنے کے مانند ہے، اور کافر کے لیے فاخر لباس اتارنے، مرفہ مکانوں سے نقل مکانی کرنے اور اسے کثیف ترین اور سخت ترین لباسوں، وحشت ناک ترین مکانوں اور عظیم ترین عذابوں میں بدل جانے کے مانند ہے"۔ (بحوالہ: بحارالأنوار، جلد 6، ص)۔ ایک اور حدیث میں امام صادقؑ سے آیا ہے کہ ایک شخص نے آپ سے موت کی تعریف کرنے کی درخواست کی، تو آپ نے فرمایا: "لِلْمُؤْمِنِ كَالطِّيبِ رِيحٍ يَشُمُّهُ فَيَنْعَسُ لِطِيبِهِ وَيَنْقَطِعُ التَّعَبُ وَالْأَلَمُ كُلُّهُ عَنْهُ، وَلِلْكَافِرِ كَلَسْعِ الْأَفَاعِي وَلَدْغِ الْعَقَارِبِ أَوْ أَشَدَّ"۔ "مومن کے لیے تو بہت ہی خوشبودار عطر کے مانند ہے جسے سونگھنے سے نیند کے مانند کیفیت اس پر طاری ہو جاتی ہے اور درد و تکلیف کلی طور پر اس سے منقطع ہو جاتے ہیں، اور کافر کے لیے سانپوں اور بچھوؤں کے کاٹنے کی مانند ہے یا اس سے بھی زیادہ شدید"۔ (سابقہ حوالہ ص 156)۔ بہرحال, موت عالمِ بقا کے لیے ایک دروازہ ہے، جیسا کہ ایک حدیث میں علیؑ سے آیا ہے کہ آپ نے فرمایا: "لِكُلِّ دَارٍ بَابٌ وَبَابُ دَارِ الْآخِرَةِ الْمَوْتُ" "ہر گھر کا ایک دروازہ ہوتا ہے اور آخرت کے گھر کا دروازہ موت ہے"۔ (بحوالہ: شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، جلد 20، ص 345)۔ ہاں! موت کی طرف توجہ شہوت کے توڑنے، لمبی چوڑی آرزوؤں کو ختم کرنے اور آئینۂ دل سے غفلت کا زنگ اتارنے میں گہرا اثر رکھتی ہے۔ اسی لیے ایک حدیث میں امام صادقؑ سے آیا ہے: "ذِكْرُ الْمَوْتِ يُمِيتُ الشَّهَوَاتِ فِي النَّفْسِ وَيَقْلَعُ مَنَابِتَ الْغَفْلَةِ، وَيُقَوِّي الْقَلْبَ بِمَوَاعِدِ اللَّهِ، وَيُرِقُّ الطَّبْعَ، وَيَكْسِرُ أَعْلَامَ الْهَوَى، وَيُطْفِئُ نَارَ الْحِرْصِ، وَيُحَقِّرُ الدُّنْيَا، وَهُوَ مَعْنَى مَا قَالَ النَّبِيُّؐ: فِكْرُ سَاعَةٍ خَيْرٌ مِنْ عِبَادَةِ سَنَةٍ"۔ "موت کی یاد انسان کے اندر سرکش شہوتوں کو مار دیتی ہے اور غفلت کی جڑوں کو دل سے اکھاڑ دیتی ہے، دل کو خدائی وعدوں کے ساتھ تقویت بخشتی ہے، انسان کی طبیعت میں نرمی اور لطافت پیدا کرتی ہے، ہوا پرستی کی نشانیوں کو توڑ دیتی ہے، حرص کی آگ کو بجھا دیتی ہے اور دنیا کو انسان کی نظروں میں حقیر بنا دیتی ہے، اور یہی اس بات کا مطلب ہے جو پیغمبرؐ نے فرمایا کہ ایک ساعت کی فکر ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے"۔ (بحوالہ: بحارالانوار جلد 6 ص 123)۔ البتہ اس سے مراد غور و فکر کے ایک واضح مصداق کو بیان کرنا ہے، نہ یہ کہ غور و فکر کو صرف اسی میں منحصر کر دیا جائے۔ اس سلسلے میں ایک اور بحث جلد 22، ص 235 پر (سورۂ ق، آیہ 19 کے ذیل میں) گزر چکی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 11tafseer for this ayah is linked with ayah below.
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر وہ خدا جس نے انسان کو ایک ناچیز نطفہ سے پیدا کیا۔
Tafsīr Nemūna · Vol. 11موت سے مربوط مباحث کو جاری رکھتے ہوئے، جو سفر آخرت کا پہلا قدم ہے اور وہ گزشتہ آیات میں آچکے ہیں، زیر بحث آیات میں، کافروں کے اس توشہ مسافرت سے خالی ہاتھ ہونے کی بات کرتا ہے۔ پہلے فرماتا ہے: "یہ منکر معاد انسان ہرگز ایمان نہیں لایا، نہ ہی اس نے آیاتِ خدا کی تصدیق کی، اور نہ اس کے لیے نماز پڑھی"۔ (فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلّـٰى)۔ (تشریحی نوٹ: "صدق و صلٰی" کے جملوں میں جو ضمیر ہے وہ معاد کے منکر انسان کی طرف لوٹتی ہے جو کلام کے لب ولہجہ سے سمجھا جاتا ہے، اور سورہ کے آغاز میں بھی اس کی طرف اشارہ ہوا ہے)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ "بلکہ اس نے تکذیب کی راہ اختیار کی، اور حکم خدا کی طرف پشت پھیر لی"۔ (وَلٰكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلّـٰى)۔ "فلا صدق" کے جملہ سے مراد قیامت، حساب وکتاب، جزا و سزا، آیات الٰہی، توحید و نبوت اور پیغمبر اسلامؐ کی تصدیق نہ کرنا ہے، لیکن بعض نے اسے، اس کے نماز ذکر ہونے کی بناء پر، کفار کی طرف سے "انفاق و صدقہ" کو ترک کرنے کی طرف اشارہ سمجھا ہے۔ لیکن دوسری آیت اچھی طرح سے اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اس تصدیق کا نقط مقابل تکذیب ہے۔ اس بناء پر پہلی تفسیر زیادہ صحیح نظر آتی ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــ بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے: "پھر وہ اپنے گھر والوں کی طرف پلٹ گیا جبکہ وہ متکبرانہ چال کے ساتھ چل رہا تھا"۔ (ثُـمَّ ذَهَبَ اِلٰٓى اَهْلِـهٖ يَتَمَطّـٰى)۔ وہ اس گمان میں کہ اس نے بے اعتنائی اور پیغمبر اور آیات الٰہی کی تکذیب کی بناء پر اہم کامیابی حاصل کرلی ہے۔ بادۂ غرور سے مست اپنے گھروالوں کی طرف آ رہا تھا تاکہ معمول کے مطابق ان افتخار مسائل کو جوگھر سے باہر رونما ہوئے تھے ان کے سامنے بیان کرے، یہاں تک کہ اس کا چلنا اور اس کے جسم کے اعضاء کی حرکت، سب ہی اس کے کبرو غرور کو بیان کررہے تھے۔ "یتمطی" "مطی" کے مادہ سے اصل میں پشت کے معنی میں ہے اور "تمطی" بے اعتنائی، غرور یا تھکان اور بے حالی سے پشت کو کھینچنے کے معنی میں ہے اور یہاں وہی پہلا معنی مراد ہے۔ بعض اس کو "مط" (بروزن خط) کے مادہ سے، پاؤں یا باقی اعضاء بدن کو بے اعتنائی یا تھکان کے اظہار کے وقت کھینچنے کے معنی میں سمجھتے ہیں، لیکن اس کا "مطا" سے اشتقاق ظاہر لفظ کے ساتھ زیادہ مناسب ہے۔ (تشریحی نوٹ: کیونکہ اگر یہ "مطا" کے مادہ سے ہو تو پھر ظاہر لفظ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی لیکن اگر یہ "مط" کے مادہ سے ہو تو پھر "یتمطی" کا جملہ اصل میں "یتمطط" تھا جس کی آخری "طاء" "یاء" کے ساتھ تبدیل ہوگئی ہے)۔ بہرحال, یہ مطلب اس چیز کے مشابہ ہے جو سورۃ "مطففین" کی آیہ 31 میں آیا ہے: وَاِذَا انْقَلَبُـوٓا اِلٰٓى اَهْلِهِـمُ انْقَلَبُوْا فَكِهِيْنَ: جس وقت وہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ کر جاتے ہیں تو استہزاء کے طور پر مومنین کے بارے میں باتیں کرتے ہیں۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــ پھر اس قسم کے بے ایمان افراد کو مخاطب کرتے ہوئے تہدید کے طور پر کہتا ہے: "عذابِ الٰہی تیرے لیے زیادہ مناسب ہے اور زیادہ مناسب ہے"۔ (اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى)۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــ "پھر بھی عذابِ الٰہی تیرے لیے زیادہ مناسب ہے اور زیادہ مناسب ہے"۔ (ثُـمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى)۔ مفسرین نے اور دوسری متعدد تفاسیر بھی اس آیت کے لیے بیان کی ہیں، منجملہ ان کے یہ ہیں کہ: یہ ان کے لیے ایک تہدید ہے کہ تجھ پر عذاب ہو اور پھر تجھ پر عذاب ہو۔ یا یہ حالت جو تو رکھتا ہے یہی تیرے لیے زیادہ لائق ہے اور زیادہ لائق ہے۔ یا وائے ہو تجھ پر یا پھر بھی داۓ ہو تجھ پر یا دنیا کی نیکیاں تجھ سے دور رہیں۔ یا آخرت کی بھلائیاں بھی تجھ سے دور رہیں۔ یا شروع عذاب تجھے دامنگیر رہے اور پھر شروع عذاب تجھے دامن گیر رہے۔ یا جس عذاب کا میدانِ بدر میں تو نے مشاہدہ کیا ہے وہ تیرے لیے اس دنیا میں زیادہ مناسب ہے اور قبر و قیامت کا عذاب بھی تیرے لیے زیادہ مناسب ہے۔ (تشریحی نوٹ: بعض تفاسیر کے مطابق یہاں "اولٰی" "افعل تقصیل" ہے اور بعض کے مطابق "الٰی" فعل ماضی ہے۔ باب افعال سے "ولی" کے مادہ اور جملہ کا مفہوم اس طرح ہو گا: "قاربک اللہ العذاب"۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ 'اولٰی' اسماء افعال سے ہے اور 'قارب' کا معنی رکھتا ہے لیکن مناسب وہی پہلا معنی ہے۔ البیان فی غریب رسائل القرآن، روح المعانی، المیزان اور المنجد کی طرف رجوع کریں)۔ لیکن یہ بات کہے بغیر واضح ہے کہ ان معانی میں سے اکثر ایک کلی اور واضح معنی کی طرف لوٹتے ہیں، جو عذاب، مزمت، شر اور عقاب کی تہدید کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے، چاہے وہ عذابِ دنیا ہو یا عذابِ برزخ و قیامت۔ روایات میں آیا ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوجہل کا پاتھ پکڑا (اور بعض روایات کے مطابق اس کا گریبان پکڑا) اور پھر فرمایا: اولٰی لک فاولٰی ثم اولٰی لک فاولٰی تو ابوجہل نے کہا: "مجھے کس چیز کی دھمکی دیتے ہو تم اور تمھارا پروردگار مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، میں اس سرزمین کے قدرت مند ترین انسانوں میں سے ہوں۔ " اس موقع پر یہی جملے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آیات کی صورت میں نازل ہوئے۔(بحوالہ: مجمع البیان جلد 10 ص 401)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد قیامت کے بارے میں دو بہت ہی عمدہ استدلال پیش کرتا ہے، جن میں سے ایک تو "خلقت کے ہدف اور خدا کی حکمت" کے بیان کے طریق سے ہے اور دوسرا عالمِ جنین کے مختلف مراحل میں انسانی نطفہ کی تبدیلیوں اور تکامل و ارتقاء کے استناد سے اس کی قدرت کے بیان کے طریق سے۔ پہلے فرماتا ہے: "کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ اسے فضول اور بے مقصد چھوڑ دیا جائے گا"۔ (اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْـرَكَ سُدًى)۔ "سُدًى" (بروزن ہدیٰ) مہمل، فضول، بےہودہ اور بےمقصد کے معنی میں آتا ہے۔ عرب کہتے ہیں "اہل سدی" اس اونٹ کے بارے میں جو ساربان کے بغیر چھوڑا گیا ہو اور جہاں چاہے چرنے کے لیے چلا جائے۔ اس آیت میں "انسان" سے مراد حقیقی انسان ہے، جو معاد و قیامت کا منکر ہے، آیت کہتی ہے کہ اسے کیسے یقین آیا کہ خدا نے اس وسیع و عریض عالم کو تو اس عظمت اور ان تمام عجائبات کے ساتھ انسان کے لیے پیدا کیا ہے، لیکن خود انسان کی خلقت میں کوئی ہدف اور مقصد نہ رکھا ہو۔ یہ کیسے یقین کیا جاسکتا ہے کہ انسان کے اعضاء میں سے ہر عضو تو کسی خاص ہدف اور مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہو، آنکھ دیکھنے کے لیے، کان سننے کے لیے اور دل غذا و آکسیجن اور پانی تمام بدن کے لَسلولوں تک پہنچانے کے لیے، یہاں تک کہ انسان کی انگلیوں کی لکیریں بھی حکمت و فلسفہ رکھتی ہیں لیکن اس کے پورے وجود کا کوئی ہدف و مقصد نہ ہو اور وہ یونہی فضول، مہمل اور امور نہی اور ذمہ داری اور مسئولیت کے پروگرام کے بغیر ہی پیدا کر دیا گیا ہو؟ ایک عام آدمی بھی اگر ایک چھوٹی سی چیز بغیر کسی مقصد کے بنائے تو اس پر اعتراض کرتے ہیں اور اس کا نام عقل مند انسانوں کی فہرست سے خارج کر دیتے ہیں تو پھر خالقِ مطلق خدا سے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اس قسم کی بے مقصد مخلوق کو پیدا کرے۔ اب اگر یہ کہا جائے کہ ہدف و مقصد یہی دنیا کی چند روزہ زندگی ہے، یہی بار بار کا کھانا اور سونا، جس میں ہزاروں قسم کے درد اور تکلیفیں ملی ہوئی ہیں، تو یقیناً یہ ایسی چیز نہیں ہے جو اس عظیم خلقت کی توجیہہ کر سکے۔ اس بناء پر ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ یہ انسان ایک عظیم ترین ہدف، یعنی قرب رحمتِ حق میں جاودانی زندگی اور بے وقفہ اور بے پایاں تکامل و ارتقاء کے لیے پیدا ہوا ہے۔ (بحوالہ: ہم نے اس سلسلے میں ایک بحث سورۃ مومنون کی آیہ 115 کے ذیل میں (جلد 14 ص 346 پر) بھی کی ہے)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد دوسری دلیل کو پیش کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "کیا انسان ابتداء میں منی کا نطفہ نہیں تھا جو رحم میں ڈالا جاتا ہے۔" (اَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِيٍّ يُّمْنٰى)۔ "پھر اس مرحلے کے بعد جمعے ہوئے خون کی صورت اختیار کی اور خدا نے اسے نئی خلقت بخشی اور موذوں بنایا"۔ (ثُـمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى)۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ "پھر اس مرحلے میں بھی متوقف نہ رہا، خدا نے اسی نطفہ سے دو جفت مرد و عورت پیدا کیے"۔ (جَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْاُنْثٰى)۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کیا وہ ہستی، جو ایک جھوٹے سے حقیر و ناچیز نطفہ کو ظلمت کدہ رحم مادر میں، ہر روز ایک نئی آفرینش رچا کرتی ہے اور حیات و زندگی کا ایک نیا لباس اسے پہناتی ہے، اور ایک نئے سے نیا چہرہ اسے دیتی ہے، یہاں تک کہ وہ ایک کامل مذکر و مؤنث انسان ہوجاتا ہے اور ماں سے متولد ہوتا ہے، تو کیا ایسی ذات مردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں ہے!؟ (اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقَادِرٍ عَلٰٓى اَنْ يُحْيِىَ الْمَوْتٰى)۔ یہ بیان حقیقت میں ایسے منکرین کے مقابلہ میں ہے جو معاد جسمانی کے مسئلے میں عام طور پر اس کے محال ہونے کا دم بھرتے ہیں اور مرنے اور خاک ہوجانے کے بعد زندگی کی بازگشت کے امکان کی نفی کرتے ہیں اور قرآن اس مطلب کو ثابت کرنے کے لیے انسان کا ہاتھ پکڑ کر اسے اس کی خلقت کے آغاز کی طرف پلٹاتا ہے۔ جنین کے عجیب و غریب مرحلے، اور ان مرحلوں میں، انسان کی حیرت انگیز تبدیلیوں کی، اسے نشاندہی کراتا ہے تاکہ وہ جان لے کہ خدا ہر چیز پر قادر و توانا ہے، اور دوسرے لفظوں میں کسی چیز کے وقوع کی بہترین دلیل اس کا وقوع میں آجانا ہے۔
چند نکات 1. جنین کی تبدیلیاں یا بار بار کی رستاخیز
"نطفہ" اصل میں تھوڑے یا صاف پانی کے معنی میں ہے۔اس کے بعد پانی کے ان قطرات پر بولا جاتا ہے جو لقاح اور جفتی کرنے کے طریقہ سے انسان یا حیوان کی پیدائش کا سبب بنتے ہیں۔ حقیقت میں نطفہ کا جنینی دور میں مختلف مراحل میں تبدیل ہونا، عالم ہستی کے عجیب ترین مراحل میں سے ہے، جو " جنین شناسی" کے علم کا موضوع ہے اورآخری صدیوں میں اس کے اسرار سے بہت زیادہ حد تک پردہ اٹھ چکا ہے۔ قر+ن نے اس زمانے میں جب تک یہ مسائل نہیں ہوتے تھے، بارہا خدا کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک ہونے کے تحت اس کا ذکر کیا ہے۔اور یہ بات خود اس عظیم آسمانی کتاب کی عظمت کی ایک نشانی ہے۔ اگرچہ ان آیات میں صرف جنین کے بعض مراحل ذکر ہو ئے ہیں۔ لیکن قرآن کی دوسری آیات میں سورہ حج کے آغاز کی آیات اور سورہ مومنون کے اوائل میں بہت سے مراحل بیان ہوئے ہیں اور ہم نے ان آیات کے ذیل میں اس ضمن میں بہت تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔(بحوالہ: تففسیر نمونہ جلد7)۔ "ذلک" جو اہم اشارہ بعید ہے، خدا کے لیے اس کے مقام کی عظمت سے کنایہ ہے، اور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس کی پاک ذات اس قدر بلند ہے کہ وہ افکارِ بشر کی دسترس سے باہر ہے۔ ایک روایت میں آیا ہےکہ جس وقت الیس ذلک بقادر علی ان یحی الموتیٰ: کیا خدا ان تمام توانائیوں کے ساتھ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ مردوں کو زندہ کرے"؟ کی آیات نازل ہوئیں؟ تو رسولِ خدا نے فرمایا: سبحانک اللھم و بلیٰ "اے خدا! تیری ذات پاک ہے، بیشک تو یہ توانائی رکھتا ہے" یہی معنی امام باقرؑ اور امام صادقؑ سے بھی نقل ہوا ہے۔(بحوالہ: مجمع البیان جلد10، ص 402)۔
2۔ جہاں بشریت میں نظام جنسیت
ان تمام باتوں کے باوجود، جو جنین کی جنسیت کے عوامل کے بارے میں ہوئی ہیں اور اس بارے میں کہ کن امور کے ماتحت "مذکر" یا "مونث" کی جنس میں تبدیل ہوتی ہے، ابھی تک کوئی شخص ٹھیک طرح سے نہیں جانتا کہ اس کے عوامل اصلی کیا ہیں؟ یہ ٹھیک ہے کہ بعض مواد غذائی یا چند ایک دوائیاں ممکن ہے کہ اس مسئلے میں بے اثر نہ ہوں، لیکن ان میں سے کوئی چیز بھی یقینی طور پر تعین کنندہ شمار نہیں ہوتی، دوسرے لفظوں میں یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا علم خدا ہی کے پاس ہے۔ دوسری طرف تمام معاشروں میں ہمیشہ ایک تعادل نسبی ان دونوں صنفوں کے درمیان نظر آتا ہے، اگرچہ اکثر معاشروں میں عورتیں کچھ زیادہ ہوتی ہیں اور بعض معاشروں میں شاذ و نادر مردوں کی تعداد کچھ زیادہ ہوتی ہے لیکن مجموعی طور پر ان دونوں اصناف میں ایک تعادل نسبی پایا جاتا ہے۔ اگر فرض کریں کہ کوئی ایسا وقت آ جائے کہ یہ تعادل اور برابری ٹوٹ جائے اور مثلاً عورتوں کی تعداد مردوں سے دس گنا ہو جائے یا مردوں کی تعداد عورتوں سے دس گنا ہو جائے تو پھر غور کیجیے کہ انسانی معاشرے کا نظام کس طرح درہم برہم ہو سکتا ہے اور اس طرح سے کیسے عجیب و غریب مفاسد وجود میں آئیں گے کہ ہر ایک عورت کے مقابلہ میں دس مرد ہوں گے یا ہر دس مردوں کے مقابلہ میں ایک عورت ہو تو کیسا جنجال برپا ہونے کا خطرہ ہے۔ اوپر والی آیات جو یہ کہتی ہیں: فجعل منہ الزوجین الذکر والا نثیٰ تو یہ ان دونوں موضوعات کی طرف ایک لطیف اور سربستہ اشارہ ہے: ایک طرف تو انسانوں کے پراسرار تنوع اور ان کے جنینی دور میں، ان دو جنسوں میں تقسیم ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے اور دوسری طرف اس تعادل نسبی اور برابری کی طرف اشارہ ہے۔ (تشریحی نوٹ: یہ جو مشہور ہے کہ معاشرے میں عورتوں کی تعداد مردوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے اور اسے وہ تعداد ازدواج کی ایک دلیل قرار دیتے ہیں۔ قابل قبول ہے، لیکن یہ بات تعادل نسبی کے ساتھ منافات نہیں رکھتی۔ مثال کے طور پر ایک معاشرے میں 50 ملین افراد ہیں، جن میں سے ممکن ہے کہ 26 ملین عورتیں اور 24 ملین مرد ہوں، یعنی ان دونوں کا فرق 1/10 یا اس سے بھی کم ہو۔ لیکن یہ بات کہ عورتوں کی تعداد مردوں سے کئی گنا زیادہ ہو، کسی بھی معاشرے میں نہیں دیکھی گئی.) خداوندا! ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ ایک ہی لمحہ میں تمام مردوں کو حیات و زندگی کا لباس پہنا دے، کوئی بھی چیز تیری قدرت کے مقابلے میں مشکل اور پیچیدہ نہیں ہے۔ پروردگارا! جس دن روحیں گلے تک پہنچ جائیں گی، اور ہم ہر چیز سے قطع امید کر لیں گے، تیری پاک ذات ہی ہماری امید ہے۔ بارالٰہا! ہمیں خلقت و آفرینش کے ہدف سے آشنا فرما۔ آمین یا ربّ العالمین۔