Sūra 90 · 20v
Chapter 9020 verses

Al-Balad

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
البلد
البلد

سورہ بلد

یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی۔ اس کی بیس آیات ہیں۔

سورہ بلد کی فضیلت اور اس کا مضمون

یہ سورہ مختصر ہونے کے باوجود عظیم حقائق اپنے اندر لئے ہوئے ہے:۔ ۱۔ اس سُورہ کے پہلے حصہ میں پُر معنی قسموں کے ذکر کے بعد اس حقیقت کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ انسان کی زندگی اس عالم میں مشکلات اور تکلیفوں کے ساتھ توأم ہوتی ہے، تاکہ وہ ایک طرف تو اپنے آپ کو مشکلات سے جنگ کرنے کے لئے آمادہ کرے اور دُوسری طرف اس دنیا میں راحت و آرام اور مطلق آسُودگی توقع اپنے ذہن سے نکال دے، کیونکہ مطلق آسودگی و راحت تو صرف آخرت کی زندگی میں ہی ممکن ہے۔ ۲۔ یہ سورہ دُوسرے حصہ میں انسان پر اللہ کی کچھ نعمتوں کو شمار کرتا ہے، اور اس کے بعد ان نعمتوں کے مقابلہ میں اس کی ناشکری اور کفران نعمت کی طرف اشارہ ہے۔ ۳۔ اس سُورہ کے آخری حصّہ میں لوگوں کو دو گروہوں "اصحابِ میمنہ" اور "اصحابِ مشئمہ" میں تقسیم کرتا ہے، اور پہلے گروہ (صالح مومنین) کے صفاتِ اعمال کے ایک گوشہ کو اور پھر ان کی سرنوشت کو بیان کرتا ہے۔ اس کے بعد ان کے نقطہٴ مقابل یعنی کفار و مجرمین اور ان کی سرنوشت کو پیش کرتا ہے۔ اس سُورہ کی آیات کی تعبیریں بہت ہی قاطع اور دو ٹوک اور چُھبھنے والی ہیں، اس کی جُملہ بندیاں مختصر اور زوردار ہیں الفاظ بہت ہی مؤثر اور انتہائی فصیح ہیں، آیات کی صُورت اور اس کا مضمون اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ یہ سُورہ مکی سُورتوں میں سے ہے۔ اس سُورہ کی تلاوت کی فضیلت میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل ہوا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: "من قرأھا اعطاہ اللہ الامن من غضبہ یوم القیامة۔" "جو شخص سورہٴ بلد کو پڑھے گا خدا اُسے قیامت میں اپنے غضب سے امان میں رکھے گا۔" (بحوالہ: مجمع البیان، جلد۱۰، ص ۴۹۰) نیز ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ: "جو شخص نمازِ واجب میں سُورہ لَا أُقْسِمُ بِهَذَا الْبَلَدِ کو پڑھے گا وہ دُنیا میں صالحین میں شمار ہو گا اور آخرت میں ایسے لوگوں میں سے پہچانا جائے گا جو بارگاہِ خدا میں مقام و منزلت رکھتے ہیں، اور وہ انبیاء، شہداء اور صلحاء کے دوستوں میں سے ہو گا۔ (بحوالہ: "ثواب الاعمال" مطابق نور الثقلین، جلد ۵، ص۵۷۸)۔

1
90:1
لَآ أُقۡسِمُ بِهَٰذَا ٱلۡبَلَدِ
قسم ہے اس شہر مقدس (مکہ) کی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
90:2
وَأَنتَ حِلُّۢ بِهَٰذَا ٱلۡبَلَدِ
وہ شہر کہ جس میں تو ساکن ہے!

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
90:3
وَوَالِدٖ وَمَا وَلَدَ
اور قسم ہے باپ اور اس کے بیٹے کی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
90:4
لَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ فِي كَبَدٍ
کہ ہم نے انسان کو تکلیف میں پیدا کیا ہے۔ (اور اس کی زندگی رنج و الم سے پر ہے)۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
90:5
أَيَحۡسَبُ أَن لَّن يَقۡدِرَ عَلَيۡهِ أَحَدٞ
کیا وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اس پر کوئی بھی قدرت نہیں رکھتا؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
90:6
يَقُولُ أَهۡلَكۡتُ مَالٗا لُّبَدًا
وہ یہ کہتا ہے کہ میں نے بہت سا مال (اچھے کاموں میں ) تلف کر دیا ہے!

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
90:7
أَيَحۡسَبُ أَن لَّمۡ يَرَهُۥٓ أَحَدٌ
کیا وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اسے کسی نے نہیں دیکھا۔ (اور نہ ہی کوئی دیکھتا ہے)؟

تفسیر اس شہرِ مقدس کی قسم

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

بہت سے مقامات پر قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ بہت زیادہ اہم حقائق کو قسم کے ساتھ شروع کرتا ہے، ایسی قسمیں جو خود بھی انسانی عقل اور فکر و نظر کے تحرک کا سبب ہوتی ہیں، ایسی قسمیں اس مورد نظر مطلب کے ساتھ ایک خاص رابطہ رکھتی ہیں۔ یہاں بھی اس حقیقت کو بیان کرنے کے لئے کہ دُنیا میں انسان کی زندگی دُکھ، درد اور رنج و اَلم کےساتھ توأم ہے ایک نئی قسم سے شروع کرتا ہے اور فرماتا ہے: "قسم ہے اس شہر مقدس مکہ کی" (لَا أُقْسِمُ بِهَذَا الْبَلَدِ)۔ (تشریحی نوٹ: یہاں "لا" زائدہ ہے، جو تاکید کے لئے آیا ہے۔ البتہ ایک دوسری تفسیر کے مطابق احتمال ہے کہ "لا" نافیہ ہو (اس سلسلہ میں مزید وضاحت سورہٴ قیامت کی ابتداء میں دی گئی ہے)۔ "وہ شہر کہ جس میں تو ساکن ہے" (وَأَنتَ حِلٌّ بِهَذَا الْبَلَدِ)۔ اگرچہ ان آیات میں مکہ کا نام صراحت کے ساتھ نہیں آیا، لیکن ایک طرف تو اس سُورہ کے مکہ ہونے کی طرف توجہ کرتے ہوئے اور دُوسری طرف اس مقدس شہر کی حد سے زیادہ اہمیت کی بناء پر یہ بات واضح ہے کہ اس سے مُراد مکہ ہی ہے۔ اور مفسرین کا اجماع بھی اسی پر ہے۔ یقیناً سر زمین مکہ کی شرافت اور عظمت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ خدا کی قسم کھائے، کیونکہ توحید اور پروردگار کی عبادت کا پہلا مرکز یہیں بنایا گیا تھا، اور عظیم پیغمبروں نے اس گھر کے گرد طواف کیا ہے۔ لیکن "وَأَنتَ حِلٌّ بِهَذَا الْبَلَدِ" کا جملہ ایک نئے مطلب کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے، جو یہ کہتا ہے کہ یہ شہر تیرے وجود کے فیض و برکت سے اس قسم کی عظمت کا حامل ہو گیا ہے کہ وہ اس قسم کے لائق ہو گیا ہے۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ سرزمینوں کی قدر و قیمت ان میں مقیم انسانوں کی قدر و قیمت کی وجہ سے ہوا کرتی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کفّار یہ تصور کرنے لگیں کہ قرآن نے جو اس سرزمین کی قسم کھائی ہے تو وہ ان کا وطن ہونے، یا ان کے بتوں کا مرکز ہونے کی وجہ سے اس کی اہمیت کا قائل ہو گیا۔ ایسا نہیں ہے بلکہ اس شہر کی قدر و قیمت (اس کے مخصوص تاریخی حالات سے قطع نظر) خدا کے خاص بندے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وجودِ ذیجود کی بناء پر ہے: اے کعبہ راز یمن قدوم تو صد شرف دی مَردہ رازِ مقدمِ پاکِ تو صد صفا بطحا ز نورِ طلعت تو یافتہ فروغ یثرب ز خاک پائے تو بارونق و نوا اے وہ کہ تیرے قدوم میمنت لزوم سے کعبہ کا شرف سو گنا ہو گیا ہے۔ اور تیرے پاک قدم کے آنے سے مَروہ کو صفائی حاصل ہو گئی ہے۔ بطحا نے تیرے نُور کی چمک سے روشنی حاصل کی ہے۔ اور یثرب تیرے پاؤں کی خاک کی وجہ سے بارونق اور خوشحال ہو گیا ہے۔ یہاں ایک اور تفسیر بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ: "میں اس شہر مقدس کی قسم کھاتا، جب کہ انہوں نے تیرے احترام کی ہتک کی ہے، اور تیری جان و مال اور عزت و آبرو کو حلال اور مباح شمار کر لیا ہے۔" اور یہ کفّار قریش کے لئے ایک شدید سرزنش اور توبیخ ہے کیونکہ وہ خُود کو حرم مکہ کے خادم اور محافظ سمجھتے تھے اور وہ اس سرزمین کے احترام کے اس قدر قائل تھے کہ اگر ان کے باپ کا قاتل بھی اس میں آ جاتا تو وہ بھی امان میں ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ کہتے کہ جو لوگ مکہ کے درختوں کا چھلکا بھی لے کر اپنے بدن پر باندھ لیتے تھے تو وہ بھی اس کی وجہ سے امان میں ہوتے تھے، لیکن اس کے باوجود اُنہوں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں ان تمام آٓداب و سنن کو پاؤں تلے کیوں روند ڈالا؟! اور آپؐ اور آپؐ کے اصحاب کے بارے میں ہر قسم کے آزار اور اذیت کو جائز کیوں سمجھ لیا، یہاں تک کہ ان کے خُون کو بھی مباح سمجھنے لگے؟! یہ تفسیر ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے بھی نقل ہوئی ہے۔ (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد۱۰، ص ۴۹۳) اس کے بعد مزید کہتا ہے: "قسم ہے باپ اور اس کے بیٹے کی۔ (وَوَالِدٍ وَمَا وَلَدَ)۔ اس کے بارے میں کہ اس باپ اور بیٹے سے کون مراد ہے؟ کئی تفاسیر بیان کی گئی ہیں۔ پہلی تفسیر یہ کہ "والد" سے مراد "ابراہیمؑ خلیل" اور "ولد" سے مُراد اسماعیلؑ ذبیح" ہیں اور اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ گزشتہ آیت میں شہر مکہ کی قسم کھائی گئی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ کعبہ اور شہر مکہ کی بنیاد رکھنے والے ابراہیم علیہ السلام اور ان کے فرزند اسماعیل علیہ السلام تھے، یہ تفسیر بہت ہی مناسب نظر آتی ہے، خصوصاً زمانہٴ جاہلیت کے عرب بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے فرزند کی حد سے زیادہ اہمیت کے قائل تھے، اور ان پر فخر کرتے تھے اور اُن میں سے بہت سے اپنا نسب اور ان دونوں تک پہنچاتے تھے۔ دُوسری تفسیر یہ ہے کہ اس سے مُراد حضرت آدم علیہ السلام اور ان کے بیٹے ہیں۔ تیسری تفسیر یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی ذرّیت میں سے جو پیغمبر اور انبیاء مبعوث ہوئے، وُہ مراد ہیں۔ چوتھی تفسیر یہ ہے کہ اس سے ہر باپ اور بیٹا مراد ہیں کیونکہ مختلف زمانوں میں تولد اور نسلِ انسانی کی بقا کا مسئلہ خلقت کی آفرینش کے حیرت انگیز ترین مسائل میں ہے، اور خدا نے خصُوصیّت کے ساتھ اس کی قسم کھائی ہے۔ ان چاروں تفسیروں کے درمیان جمع بھی بعید نہیں ہے اگرچہ پہلی تفسیر سب سے زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ (تشریحی نوٹ: بعض تفاسیر میں والدسے مراد امیر المومنین علیہ السلام اور اولاد سے مراد ان کے فرزندانِ گرامی ہیں، اور شاید وہ جناب اس کے بہترین مصداق ہوں۔ لہٰذا اس تفسیر کو ذکر کرنا زیادہ مناسب تھا۔ (مترجم))۔ اس کے بعد اس چیز کو بیان کرتا ہے جو ان قسموں کا اصل مقصد ہے فرماتا ہے: "یقیناً ہم نے انسان کو رنج و تکلیف میں پیدا کیا ہے، (لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي كَبَدٍ)۔ "کبد"، "مجمع البیان" میں طبرسی کے قول کے مطابق اصل میں شدّت کے معنی میں ہے، اسی لئے جب دُودھ گاڑھا ہو جاتا ہے تو اُسے"تکبد اللبن" کہتے ہیں۔ لیکن "مفردات" میں "راغب" کے قول کے مطابق "کبد" (بروزن حسد) اس درد کے معنی میں ہے، جو انسان کے "کبد" (سیاہ جگر) کو عارض ہوتا ہے۔ اس کے بعد ہر قسم کی مشقت اور دُکھ تکلیف کے لئے اطلاق ہونے لگا۔ اس لفظ کی اصل چاہے جو کچھ بھی ہو اس کا اس مقام پر مفہوم وہی رنج و تکلیف اور دکھ درد ہی ہے۔ ہاں! انسان آغازِ زندگی سے ہی، یہاں تک کہ اسی لمحہ سے جب اس کا نطفہ قرار گاہ رحم میں واقع ہوتا ہے، مشکلات اور درد و رنج کے بہت سے مرحلے طے کرتا ہوا متولد ہوتا ہے اور پیدا ہونے کے بعد بچپنے میں، اور اس کے بعد جوانی میں، اور زیادہ بڑھاپے میں، طرح طرح کی زحمتوں، مشقتوں اور تکلیفات سے روبرو ہوتا ہے۔ دُنیا کی زندگی کا مزاج یہی ہے اور اس کے علاوہ کوئی توقع رکھنا غلطی ہی غلطی ہے۔ ایک شاعر عرب کے قول کے مطابق: طبعت علی کدر و انت تریدھا صفواً عن الاکدار و الاقذار؟ و مکلف الایام ضد طباعھا متطلب فی الماء جدوة نار؟ جہاں کی طبیعت کدورت اور گندے پن پر ہے اور تو چاہتا ہے کہ ہر قسم کی کدورت اور ناپاکی سے صاف ہو، وہ جو شخص دُنیا کے دَور کو اُس مزاج کے برخلاف طلب کرے گا۔ وُہ اس شخص کی مانند ہے جو پانی کی موجوں کے درمیان آگ کا شعلہ طلب کرے۔ انبیاء اور اولیاء اللہ کی زندگیوں کی طرف نگاہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے آفرینش کے ان سرِ سبد پُھولوں کی زندگی بھی انواع و اقسام کے غیر مناسب امور اور درد و تکلیف میں گھری ہوئی تھی۔ جب دُنیا کے لئے اس طرح ہے تو دُوسروں کے لئے اس کی وضع و کیفیت واضح ہے۔ اور اگر ہمیں کچھ افراد یا معاشرے ایسے نظر آتے ہیں جنہیں بظاہر کوئی دُکھ اور تکلیف نہیں ہوتی تو وہ یا تو ہمارے سطحی مطالعہ کی وجہ ایسا دکھائی دیتے ہیں۔ اس لئے جب ہم اور زیادہ نزدیک ہوتے ہیں تو انہیں مرفہ الحال زندگی والوں کی درد و رنج کے عمق اور گہرائی سے آشنا ہو جاتے ہیں، اور یا پھر وہ ایک محدود مدّت اور استثنائی زمانہ کے لئے ہوتا ہے، جو عالم کے قانوںِ کلی کو نہیں توڑتا۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "کیا یہ انسان یہ گمان کرتا ہے کہ کوئی بھی اس پر دست رسی کی قدرت نہیں رکھتا۔" (أَيَحْسَبُ أَن لَّن يَقْدِرَ عَلَيْهِ أَحَدٌ)۔ (تشریحی نوٹ: "ان" اس جملہ میں "مثقلہ سے مخففہ ہے" اور تقدیر میں "انہ لن یقدر علیہ احد" ہے)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کی زندگی کی ان تمام درد، دُکھ اور تکالیف کے ساتھ آمیزش اس بات کی دلیل ہے کہ وہ بالکل کوئی قدرت نہیں رکھتا۔ لیکن غرور و تکبر کے گھوڑے پر سوار ہے اور ہر قسم کے غلط کام گناہِ جرم اور حد سے بڑھ جانے کا مرتکب ہوتا رہتا ہے، گویا وہ خود کو امن و امان میں سمجھتا ہے اور اپنے آپ کو سزاؤں کی قلم رَو سے دُور خیال کرتا ہے۔ جب اُسے قدرت حاصل ہو جاتی ہے تو تمام خُدائی احکام کو پاؤں کے نیچے روند ڈالتا ہے، جیسے مطلقاً خدا کا بندہ نہیں ہے۔ کیا واقعاً وہ یہی خیال کرتا ہے کہ پروردگار کے عذاب کے چنگل سے رہائی حاصل کر لے گا؟ کتنا بڑا اشتباہ اور غلط فہمی ہے! یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ دولت مند ہیں جو یہ خیال کرتے تھے کہ کوئی ان کی دولت و ثروت کو ان سے چھین لینے کی قدرت نہیں رکھتا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مُراد وہ لوگ ہیں جن کا عقیدہ یہ تھا کہ ان کے اعمال کی کوئی بھی باز پُرس نہیں کرے گا۔ لیکن آیت ایک جامع مفہوم رکھتی ہے جو ان تمام تفاسیر کو شامل ہو سکتی ہے۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ اُوپر والی آیت قبیلہ "جمع" کے ایک شخص کی طرف جس کا نام "ابو الاسد" تھا اشارہ ہے وہ اس قدر طاقت وَر تھا کہ چمڑے کے ایک ٹکڑے پر بیٹھ جاتا تھا اور دس آدمی اسے اس کے نیچے سے کھینچنا چاہتے تھے تو نہیں کھینچ سکتے تھے وہ چمڑا ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا تھا، لیکن وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلتا تھا۔ (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ۱۰، ص ۴۹۳)۔ لیکن آیت کا اس قسم کے مغرور شخص یا اشخاص کے بارے میں بیان اس مفہوم کی عمومیت و وسعت سے مانع نہیں ہے۔ اس کے بعد اس گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے مزید فرماتا ہے: "وہ یہ کہتا ہے کہ میں نے بہت زیادہ مال تباہ کر دیا ہے۔" (يَقُولُ أَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًا)۔ یہ ایسے لوگوں کی طرف اشارہ ہے کہ جب انہیں کارِ خیر میں مال صرف کرنے کو کہتے تھے تو وہ غرور و نخوت کی بناء پر یہ کہتے تھے: ہم نے بہت زیادہ مال ان کاموں میں صرف کیا ہے، حالانکہ انہوں نے خدا کی راہ میں کوئی چیز خرچ نہیں کی تھی۔ اور اگر انہوں نے کسی کو مال دیا بھی تھا تو وہ دکھاوے، ریا کاری اور شخصی اغراض کی بناء پر تھا۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ آیت میں ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دُشمنی اور اسلام کے برخلاف سازشوں میں صَرف کیا تھا اور وہ اس پر فخر کرتے تھے، جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ جنگِ خندق کے دن جب علی علیہ السلام نے عمر بن عبدود کے سامنے اسلام کو پیش کیا تو اس نے جواب میں کہا: "فاین ما انفقت فیکم مالاً لبداً" "پس وُہ سارا مال جو مَیں نے تمہاری مخالفت میں صَرف کیا ہے اس کا کیا بنے گا۔" (بحوالہ: نور الثقلین،جلد ۵، ص ۵۸۰، حدیث ۱۰)۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ آیت "حارث بن عامر جیسے بعض سردارانِ قریش کے بارے میں ہے، جو ایک گناہ کا مرتکب ہوا تھا۔ اس نے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نجات کے بارے میں پُوچھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اُسے کفارہ دینے کا حکم دیا۔ اُس نے کہا: جب سے مَیں دینِ اسلام میں داخل ہوا ہوں میرا تمام مال و دولت کفاروں اور نفقات میں نابود ہو گیا ہے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱۰، ص ۴۹۳)۔ اِن تینوں تفاسیر کے درمیان جمع میں کوئی امر مانع نہیں ہے اگرچہ پہلی تفسیر آیت کے ساتھ زیادہ مناسب ہے۔ "اھلکت" کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس کے اموال درحقیقت نابودہی ہوئے ہیں، اور اُسے ان سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ "لبد" (بر وزن لغت) تہ بہ تہ اور انبوہ کثیر کے معنی میں ہے اور یہاں بہت زیادہ مال کے معنی میں ہے۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "کیا وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اُسے کسی نے نہیں دیکھا، اور نہ ہی دیکھے گا"؟! (أَيَحْسَبُ أَن لَّمْ يَرَهُ أَحَدٌ)۔ وہ اس حقیقت سے غافل ہے کہ نہ صرف اس کے ظاہری اعمال کو خلوت و جلوت میں دیکھتا ہے، بلکہ اس کے دل اور روح کی گہرائیوں سے بھی آگاہ ہے، اور اس کی نیتوں سے باخبر ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ وہ خدا جس کا غیر متناہی وجود ہر چیز پر احاطہ رکھتا ہے کسی چیز کو نہ دیکھے اور نہ جانے؟ یہ غافل اس بات سے بےخبر ہیں کہ وہ اپنی جہالت اور نادانی کی وجہ سے خُود کو پروردگار کی دائمی نگرانی سے باہر خیال کر رہے ہیں۔ ہاں خدا کو علم ہے کہ انہوں نے یہ اموال کہاں سے حاصل کئے ہیں اور انہیں کس راہ میں صَرف کیا ہے؟! ایک حدیث میں ابن عباسؓ سے نقل ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "لا تزول قدما العبد حتی یسائل عن اربعة: عن عمرہ فیما افناہ و عن مالہ من این جمعہ، و فیما ذا انفقہ؟ و عن عملہ ماذا عمل بہ؟ و عن حبنا اھل البیت" "قیامت میں کوئی شخص اپنے قدم سے قدم نہیں اٹھائے گا، مگر یہ کہ چار چیزوں کے بارے میں اس سے سوال ہو گا: اس کی عمر کے بارے میں کہ اُسے کس راہ میں فنا کیا، اس کے مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے جمع کیا، اور کس راہ میں اُسے صَرف کیا، اور اس کے عمل کے بارے میں کہ اس نے کون کون سا عمل انجام دیا، اور ہم اہل بیتؑ کی محبت و مودت کے بارے میں۔" (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ۱۰، ص ۴۹۴۔ اسی معنی کے مانند تفسیر "رُوھ البیان" جلد۱، ص۴۳۵ میں بھی آیا ہے)۔ خلاصہ یہ ہے کہ انسان کس طرح سے مغرور ہو جاتا ہے اور قدرت و طاقت کا دعویٰ کیسے کرتا ہے، حالانکہ اس کی زندگی درد و رنج اور تکلیفات کے ساتھ خمیر ہوئی ہے۔ اگر اس کے پاس کچھ مال ہے تو ایک رات کے لئے ہے، اور اگر جان رکھتا ہے تو ایک بخار تک ہے۔ اور پھر وہ یہ دعویٰ کیسے کرتا ہے کہ مَیں نے بہت زیادہ مال خدا کی راہ میں خرچ کیا ہے جب کہ وہ اس کی نیت سے آگاہ ہے، اور ان اموال کے غیر شرعی حصول کی کیفیت سے بھی آگاہ ہے، اور ریا کاری اور مغرضانہ طور پر صَرف کرنے کی کیفیت سے بھی باخبر ہے۔

8
90:8
أَلَمۡ نَجۡعَل لَّهُۥ عَيۡنَيۡنِ
کیا ہم نے اس (انسان) کے لئے دو آنکھیں قرار نہیں دیں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
90:9
وَلِسَانٗا وَشَفَتَيۡنِ
اور ایک زبان اور دو ہونٹ (اسے نہیں دیئے)؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
90:10
وَهَدَيۡنَٰهُ ٱلنَّجۡدَيۡنِ
اور ہم نے اسے اس کی بھلائی اور برائی کی دونوں راہیں دکھا دیں۔

تفسیر آنکھ، زبان اور ہدایت کی نعمت

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

گزشتہ آیات کے بعد، جن میں سرکشی کرنے والے انسانوں کے غرور و غفلت کے بارے میں گفتگو تھی، زیر بحث آیات میں انسان پر خدا کی اہم ترین مادی و معنوی نعمتوں کا کچھ حصہ بیان کرتا ہے، تاکہ ایک طرف تو اس کے غرور و غفلت کو توڑے اور دُوسری طرف اُسے ان نعمتوں کو خلق کرنے والے میں تفکر اور غور و خوض کرنے پر آمادہ کرے اور اس کے دل و جان کے اندر شکر گذاری کے احساس کو بیدار کر کے اُسے خالق کی معرفت کی طرف چلائے۔ پہلے فرماتا ہے: "کیا ہم نے اس انسان کے لئے دو آنکھیں قرار نہیں دیں۔" (أَلَمْ نَجْعَل لَّهُ عَيْنَيْنِ)۔ "اور ایک زبان اور دو ہونٹ (نہیں دیئے)"؟! (وَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِ)۔ اور ہم نے اُسے اس کی بھلائی اور بُرائی کو دونوں راہیں دکھا دیں۔" (وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ)۔ اس طرح ان چند مختصر جملوں میں تین اہم مادی نعمتوں اور ایک عظیم معنوی نعمت کی طرف، جو سب کی سب خدا کی عظیم ترین نعمتیں ہیں، اشارہ کیا ہے۔ ایک طرف تو آنکھوں، زبان اور لبوں کی نعمت ہے اور دوسری طرف خیر و شر کی معرفت و ہدایت کی نعمت ہے۔ (اس بات کی طرف توجہ رہے کہ "نجد" اصل میں مرتفع اور بلند مقام کے معنی میں ہے، "تھامہ" کے مقابلہ میں جو پست زمینوں پر بولا جاتا ہے، یا دوسرے لفظوں میں "بلند جگہ" اور "پست جگہ" اور یہاں خیر و شر و سعادت و شقاوت کی راہ سے کنایہ ہے۔ (تشریحی نوٹ: یہ تفسیر ایک حدیث میں امیر المؤمنین علی علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے (مجمع البیان زیر بحث آیات کے ذیل میں) اور یہ جو بعض نے ماں کے دو پستانوں سے جو سینہ پر اُبھرے ہوئے ہوتے ہیں تفسیر کی ہے بہت ہی بعید ہے۔ ضمنی طور پر "نجد" کی تعبیر خیر کے بارے میں اس کی عظمت کی وجہ سے ہے اور شر کے بارے میں بابِ تغلب سے ہے)۔ اُوپر والی نعمتوں کی اہمیت کے بارے میں بس اتنا کافی ہے کہ: "آنکھ" بیرونی دنیا سے انسان کے رابطہ کے لئے ایک اہم ترین ذریعہ ہے آنکھ کے عجائبات اس قدر ہیں کہ وہ واقعی طور پر انسان کو خالق کے مقابلہ میں خضوع کرنے پر آمادہ کر دیتے ہیں، آنکھ کے سات طبقے ہیں جو صلبیہ (قرنیہ) مشیمیہ، عیبیہ، جلدیہ، زلالیہ، زجاجیہ اور شبکیہ کے نام سے موسوم ہیں، ان میں سے ہر ایک عجیب و غریب اور عمدہ ساخت رکھتا ہے جن میں نور اور روشنی اور آئینوں سے مربوط طبیعاتی اور جسمانی قوانین کا بہت ہی باریک بینی کے ساتھ خیال رکھا گیا ہے۔ اس طرح سے کہ تصویر کشی کی ترقی یافتہ دور بینیں بھی اس کے مقابلہ میں بےقدر و قیمت ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ اگر ساری دنیا میں انسان کے سوا، اور سارے وجودِ انسانی میں انکھ کے علاوہ اور کوئی چیز نہ ہوتی تو اس کی عجائبات کا مطالعہ پروردگار کے عظیم علم قدرت کی شناخت کے لئے کافی تھا۔ باقی رہی "زبان" تو وہ انسان کے لئے دوسرے انسانوں سے ارتباط، اور ایک قوم سے دوسری قوم، اور ایک نسل سے دوسری نسل کی طرف اطلاعات و معلومات کے نقل ہونے، اور مبادلہ کا ایک اہم ترین ذریعہ ہے، اور اگر یہ ارتباط کا ذریعہ نہ ہوتا تو انسان ہرگز بھی علم و دانش اور مادّی تمدن اور معنوی مسائل میں اس حد تک ترقی نہ کر سکتا۔ باقی رہے "لب" تو "اولاً" بول چال میں ان کا بہت بڑا حصہ ہے کیونکہ بہت سے حروف لبوں ہی کے ذریعہ ادا ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہونٹ کے چبانے، اور منہ کی رطوبت کو محفوظ رکھنے اور پانی کے پینے میں بہت زیادہ مدد کرتے ہیں، اور اگر یہ نہ ہوتے تو انسان کے کھانے پینے کا مسئلہ، یہاں تک کہ اس کے چہرہ کا منظر، اس کے لعاب دہن کے باہر کی طرف بہنے کی وجہ سے، اور بہت سے حروف کی ادائیگی پر قدرت نہ رکھنے کی بناء پر افسوس ناک ہوتا۔ اور چونکہ حقائق کا ادراک پہلے درجہ میں آنکھ اور زبان سے ہوتا ہے۔ ان کے بعد "عقل" اور فطری ہدایت آتی ہے، یہاں تک کہ آیت کی تعبیر "ہدایت تشریعی" کو بھی جو انبیاء و اولیاء کے ذریعے ہوتی ہے شامل ہے۔ ہاں! اس نے دیکھنے والی آنکھ اور زبان کو بھی انسان کے اختیار میں رکھا ہے، اور"راہ اور چاہ" کی بھی اسے نشاندھی کرا دی ہے "تا آدمی نگاہ کند پیش پائے خویش" تاکہ انسان اپنے سامنے کی ہر چیز کو دیکھ لے۔ لیکن ان روشن چراغوں کے باوجود، جو اس کے راستے میں موجود ہیں، اگر پھر بھی کوئی راستہ سے ہٹ جاتا ہے تو پھر کہنا چاہئیے: "بگذار تا بیفتد و بیند سزای خویش"! اُسے گرنے دو تاکہ وہ اپنی سزا پالے۔ "وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ"۔ (ہم نے اُسے بھلائی اور برائی کے دونوں راستے دکھا دیئے) کا جملہ علاوہ اس کے کہ وہ انسان کے ارادہ کی آزادی اور اختیار کے مسئلہ کو بیان کرتا ہے، اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے "نجد" اُونچی جگہ کو کہتے ہیں لہٰذا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خیر اور بھلائی کی راہ کو طے کرنا مشکلات، زحمت اور رنج سے خالی نہیں ہے، جیسا کہ اُونچی زمینوں کی طرف جانا مشکل ہے یہاں تک کہ شر اور برائی کی راہوں کو طے کرنا بھی مشکلات رکھتا ہے۔ لہٰذا کیسی اچھی بات ہے کہ انسان سعی و کوشش سے خیر کی راہ کو اختیار کرے۔ لیکن اس کے باوجود راستہ کا انتخاب کرنا خود انسان کے اختیار میں ہے۔ یہ وہی ہے جو اپنی آنکھ اور زبان کو حلال یا حرام کے راستہ میں گردش دے سکتا ہے اور خیر و شر کی دونوں راہوں میں جسے چاہے انتخاب کر سکتا ہے۔ لہٰذا ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مروی ہے خداوند تعالیٰ آدم علیہ السلام کی اولاد سے کہتا ہے: "یابن اٰدم! ان نازعک لسانک فیما حرمت علیک فقد اعنتک علیہ بطبقتین فاطبق، ان نازعک بصرک الیٰ بعض ماحرمت علیک فقد اعنتک علیہ بطبقتین فاطبق" "اے اولاد آدمؑ! اگر تیری زبان تجھے کسی فعلِ حرام پر اُبھارنا چاہئیے، تو مَیں نے اُسے روکنے کے لئے دو ہونٹ تیرے اختیار میں دئے ہیں۔ پس تو ہونٹوں کو بند کرلے اور اگر تیری آنکھ تجھے حرام کی طرف لے جانا چاہے تو مَیں نے پلکیں تیرے اختیار میں دے دی ہیں تو انہیں بند کر لے۔۔۔" (بحوالہ: "نور الثقلین"، جلد ۵، صفحه ۵۸۱)۔ اس طرح سے خدا نے ان عظیم نعمتوں پر کنٹرول کے وسائل و ذرائع بھی انسان کے اختیار میں دیئے ہیں اور یہ ایک اور اس کا عظیم لُطف ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اُوپر والی آیات میں زبان کے بارے تو لبوں کی طرف اشارہ ہوا ہے، لیکن آنکھوں کے بارے میں پلکوں کی طرف اشارہ نہیں ہُوا۔ اس کے بظاہر دو اسباب ہیں، ایک تو یہ ہے کہ کہ لبوں کا کام بات کرنے، کھانا کھانے اور تمام پہلوؤں میں پلکوں کی نسبت آنکھوں کے لئے کام کرنے سے کئی گناہ زیادہ ہے، اور دوسرا سبب یہ ہے کہ زبان کا کنٹرول کرنا آنکھ کے کنٹرول سے کئی درجے زیادہ اہم ہے، اور زیادہ بخت ساز ہے۔

چند نکات ۱۔ آنکھ کی حیرت انگیزیاں

آنکھ کو عام طور ہر کیمرے کی دوربین سے تشبیہ دیتے ہیں، جو اپنی بہت ہی چھوٹی سی پتلی کے ساتھ مختلف مناطر کے فوٹو اتارتی ہے، ایسی تصویریں جو فلم کے بجائے "شبکیہ چشم" (آنکھ کی سکرین) پر منعکس ہوتی ہیں اور وہاں سے بینائی کے اعصاب کے ذریعے دماغ میں منتقل ہوتی ہیں۔ تصویر کشی کا یہ حَد سے زیادہ لطیف و دقیق کا خانہ، شب و روز میں کئی ہزار تصویریں، مختلف مناظر کی اتار سکتا ہے، لیکن تصویر کشی اور فلمیں بنانے کی ترقی یافتہ مشینوں پر بھی اس کا بہت سے پہلوؤں سے قیاس نہیں ہو سکتا، کیونکہ: ۱۔ اس مشین میں روشنی کو منظم کرنے والا دریچہ وہی آنکھ کی پتلی ہے جو خودکار طریقہ سے زیادہ قوی روشنی کے مقابلہ میں زیادہ تنگ اور کمزور روشنی کے مقابلہ میں زیادہ کُشادہ ہو جاتی ہے حالانکہ کیمرے کی مشین کو اشخاص کے ذریعے منظم کرنا پڑتا ہے۔ ۲۔ آنکھ کا عدسہ، ان تمام شیشوں کے برخلاف، جو دُنیا کے تصویر کشی کے کیمروں میں استعمال ہوتے ہیں، ہمیشہ اپنی شکل بدلتا رہتا ہے، اس طور پر کہ کبھی تو اس کا قطر ۱/۵ ملی میٹر ہو جاتا ہے اور کبھی ۸ ملی میٹر تک پہنچ جاتا ہے تاکہ وہ دور اور نزدیک کے مناظر کی تصویریں بنا سکے۔ اور یہ کام ان عضلات کے ذریعے، جنہوں نے عدسہ کو گھیرا ہوا ہے، اور وہ کبھی اُسے کھینچ لیتے ہیں اور کبھی چھوڑ دیتے ہیں، انجام پاتا ہے، اس طرح سے آنکھ کا ایک عدسہ تنہا سینکڑوں عدسوں کا کام انجام دیتا ہے۔ ۳۔ تصویر کشی کی یہ مشین چار مختلف سمتوں کی طرف حرکت کرتی ہے، یعنی آنکھ کے عضلات کی مدد سے جس طرف چاہے حرکت کر سکتی ہے اور تصویر بنا سکتی ہے۔ ۴۔ یہاں ایک اور اہم نکتہ بھی ہے کہ تصویر کشی کے کیمروں کے لیے یہ ضروری ہے کہ ان کی فلموں کو تبدیل کرتے رہیں، اور جب فلم کی ایک ریل ختم ہو جائے تو اس کی جگہ دوسری ریل رکھنی پڑتی ہے۔ لیکن انسان کی آنکھیں زندگی بھر تصویریں اُتارتی رہتی ہیں، اور اس میں کوئی چیز تبدیل نہیں کرنی پڑتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آنکھ کی سکرین کا وہ حصہ، جس پر تصویریں منعکس ہوتی ہیں، اس میں دو قسم کے سلول ہوتے ہیں: ۱۔ مخروطی سلول، ۲۔ عمودی سلول، جو روشنی کے مقابلہ میں بہت ہی زیادہ حسّاس مادّہ رکھتے ہیں اور روشنی کی تھوڑی سی چمک سے ہی ان کا تجزیہ ہو جاتا ہے اور وہ ایسی لہریں پیدا کر دیتے ہیں جو دماغ کی طرف منتقل ہو جاتی ہیں اور اس کے بعد اس کا اثر زائل ہو جاتا ہے اور اسکرین دوبارہ نئی تصویر کھینچنے کے لئے آمادہ ہو جاتی ہے۔ ۵۔ تصویریں کھینچنے والی دُوربینیں بہت ہی محکم اور مضبوط مادّوں سے بنائی گئی ہیں، لیکن آنکھ کی تصویر کھینچنے کی مشین اتنی لطیف ہے کہ جمع میں معمولی سی چیز سے بھی خراش آ جاتی ہے، اسی وجہ سے اس کو ایک مضبوط ہڈیوں سے بنی ہوئی حفاظت گاہ میں رکھا گیا ہے۔ لیکن اتنی ظرافت و نزاکت کے باوجود یہ لوہے اور فولاد سے بھی زیادہ چلنے والی چیز ہے۔ ۶۔ فلمیں بنانے والوں اور تصویریں کھینچنے والوں کے لئے "روشنی کے منظم ہونے" کا مسئلہ ایک بہت ہی اہم مسئلہ ہے، اور اس مقصد کے لئے کہ تصویریں صاف ہوں، بعض اوقات کئی کئی گھنٹے روشنی اور اس کے مقدمات کو منظّم کرنے میں مشغول رہنا پڑتا ہے، جب کہ آنکھ تمام حالات میں، چاہے روشنی قوی ہو، درمیانی ہو یا کمزور، یہاں تک کہ تاریکی میں بھی، بشرطیکہ معمولی اور خفیف سی روشنی بھی وہاں پر موجود ہو، تصویر لے لیتی ہے۔ اور یہ چیز آنکھ کے عجائبات میں سے ہے۔ ۷۔ بعض اوقات ہم روشنی سے تاریکی کی طرف جاتے ہیں، یا بجلی کے بلب اچانک بجھ جاتے ہیں، تو ہم اس وقت کسی چیز کو نہیں دیکھ سکتے، لیکن چند ہی لمحے گزر جانے کے بعد ہماری آنکھ خُودکار طور پر اپنی کیفیت کو اس کمزور روشنی کے ساتھ منطبق کر لیتی ہے، اس طرح کہ جب ہم اپنے اردگرد نظر کرتے ہیں کہ ہماری آنکھ تاریکی کی عادی ہو گئی ہے، اور یہ عادت والی تعبیر جو سادہ اور عام زبان میں ادا ہو جاتی ہے، ایک بہت ہی پیچیدہ میکانزم (طرزِ ساخت) کا نتیجہ ہے جو آنکھ میں رکھی گئی ہے، اور وہ خُود کو بہت ہی مختصر وقت میں نئے حالات پر منطبق کر سکتی ہے۔ اس کے برعکس جب ہم تاریکی سے روشنی میں داخل ہوتے ہیں تو اس کے برعکس ہوتا ہے۔ یعنی ابتدا میں ہماری آنکھ قوی روشنی کو برداشت نہیں کرتی، لیکن چند لمحات کے بعد وہ اس سے منطبق ہو جاتی ہے اور اصطلاح کے مطابق عادی ہو جاتی ہے۔ لیکن یہ امور تصویر بنانے والے کیمروں میں ہرگز موجود نہیں ہیں۔ ۸۔ تصویر بنانے والے کیمرے محدود فضا سے تصویر بنا سکتے ہیں، جب کہ انسان کی آنکھ تمام اُفق کا نیم دائرہ جو اس کے سامنے ہوتا ہے، دیکھ لیتی ہے، اور دوسرے لفظوں میں ہم اپنے اطراف کے تقریباً ۱۸۰ درجے کے دائرے کو دیکھ لیتے ہیں، جب کہ تصویر کشی کا کوئی کیمرہ ایسا نہیں ہے۔ ۹۔ عجیب و غریب بات یہ ہے کہ انسان کی دونوں آنکھیں، جن میں سے ہر ایک ایک مستقل مشین ہے، اس طرح منظم ہوئی ہیں کہ ان دونوں سے لیے گئے فوٹو ایک ہی نقطے پر جا کر پڑتے ہیں۔ اس طرح اگر یہ تنظیم تھوڑی سی بھی خراب ہو جائے تو انسان اپنی دو آنکھوں سے ایک ہی جسم کو دو جسم دیکھتا ہے، جیسا کہ احول (جسے دو دو نظر آتے ہوں) اشخاص میں یہ معنی مشاہدہ ہوتا ہے۔ ۱۰۔ دُوسرا قابل غور نکتہ یہ ہے کہ وہ تمام مناظر جن کی آنکھ تصویر کشی کرتی ہے، آنکھ کی سکرین پر الٹے پڑتے ہیں، حالانکہ ہم کسی چیز کو الٹا نہیں دیکھتے، آنکھ کی عاد اور چیزوں کی ایک دوسرے سے نسبت کو محفوظ رکھنے کی بناء پر ہے۔ ۱۱۔ آنکھ کی سطح ہمیشہ مرطوب ہونی چاہیے، کیونکہ اگر وہ چند ساعت بھی خشک رہ جائے تو اس پر شدید ضرب پڑے۔ یہ رطوبت ہمیشہ آنسوؤں کے غدودوں سے حاصل ہوتی ہے جو آنکھ میں ایک طرف وارد ہوتے ہیں اور بہت ہی باریک اور ظریف رگوں سے، جو آنکھوں کے کناروں پر ہوتی ہیں، باہر نکلتے ہیں، اور ناک کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں اور اُسے مرطوب رکھتے ہیں۔ اگر آنکھ کے غدود خشک ہو جائیں تو آنکھ خطرے میں پڑ جاتی ہے اور پلکوں کی حرکت غیر ممکن ہو جاتی ہے، اور اگر اس کا فعل حد سے بڑھ جائے تو ہمیشہ چہرے پر آنسو بہتے رہتے ہیں، یا آنکھ کے فاضل پانی کو خشک کرتے رہیں، اور یہ کتنا بڑا دردِ سر ہے۔ ۱۲۔ آنسوؤں کی ترکیب ایک پیچیدہ ترکیب ہے، اور اس میں دس سے زیادہ عناصر ہوتے ہیں، اور وہ مجموعاً آنکھ کی نگہداشت کے لئے ایک بہترین اور مناسب ترین مائع یا مرکب ہوتا ہے۔ مختصر یہ ہے کہ آنکھ کے عجائبات اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کے بارے میں کئی دن تک بیٹھ کر گفتگو کرنے کی ضرورت ہے، اور ان پر کئی کتابیں لکھنی پڑیں، اور ان تمام چیزوں کے باوجود اگر ہم اس کے اصلی مادّہ کو دیکھیں تو وہ تقریباً چربی کے ایک ٹکڑے سے زیادہ نہیں ہے۔ امیر المومنین علی علیہ السلام اپنی ایک قابل قدر گفتگو میں فرماتے ہیں: "اعجبوا لھٰذا الانسان ینظر بشحم، و یتکلم بلحم، و یسمع بعظم، و یتنفس من خرم!" "تعجب ہے اس انسان پر جو چربی کے ایک ٹکڑے سے دیکھتا ہے، اور گوشت کے ایک ٹکڑے سے بولتا ہے، ہڈی سے سُنتا ہے اور سُوراخ سے سانس لیتا ہے، اور وہ ان بزرگ حیاتی کاموں کو ان چھوٹے وسائل کے ذریعے انجام دیتا ہے۔" (بحوالہ: نہج البلاغہ، کلمات قصار، حکمت ۸)۔

۲۔ زبان کی حیرت انگیزیاں

زبان بھی اپنی جگہ پر انسانی بدن کے بہت ہی حیرت انگیز اعضاء میں سے ہے اور اس کے ذمّے بہت ہی سخت ذمہ داریاں ہیں۔ وہ غذا کو نگلنے میں مدد دینے کے علاوہ اسے چبانے میں بھی اہم کام انجام دیتی ہے، اور بار بار غذا کے لقمہ کو دانتوں کی ہتھوڑی کے نیچے دھکیلتی رہتی ہے، لیکن اس کام کو اتنے ماہرانہ انداز میں انجام دیتی ہے کہ خود کو دانتوں کی ضربوں سے محفوظ رکھتی ہے، حالانکہ ہمیشہ ان کے پاس اور ان سے چمٹی ہوئی رہتی ہے۔ بعض اوقات اتفاقیہ طور پر کھانے کو چباتے وقت ہم اپنی زبان کو بھی چبا لیتے ہیں تو ہماری چیخ نکل جاتی ہے اور ہم یہ بات سمجھ جاتے ہیں کہ اگر زبان میں وہ مہارت نہ ہوتی تو ہم پر کتنی مصیبت آن پڑتی۔ ضمنی طور پر، غذا کھانے کے بعد منہ کی فضا اور دانتوں کو پاک و صاف کرتی اور جھاڑ دیتی ہے۔ اور ان سب کاموں سے زیادہ اہم بات کرنے کا مسئلہ ہے، جو زبان کی تیزی کے ساتھ منظم طور پر پے در پے حرکات اور چھ سمتوں میں حرکت کرنے سے انجام پاتا ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ خدا نے بات کرنے اور تکلّم کے لئے ایک ایسا وسیلہ انسانوں کے اختیار میں دیا ہے جو بہت ہی سہل اور آسان، اور سب کی دسترس میں ہے، نہ کچھ تھکان ہوتی ہے اور نہ ہی رنج و ملال حاصل ہوتا ہے، اور نہ ہی کچھ خرچ ہوتا ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ عجیب بات انسان میں گفتگو کرنے کی استعداد کا مسئلہ ہے، جو انسان کی رُوح میں ودیعت کر دیا گیا ہے، اور انسان اپنے طرح طرح کے حد سے زیادہ مقاصد کو بیان کرنے کے لئے بےحد مختلف صُورتوں میں زیادہ سے زیادہ جملہ بندیاں کر سکتا ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ اہم، مختلف زبانوں کی وضع کی استعداد ہے، اور ان ہزاروں زبانوں کے مطالعہ سے جو دُنیا میں موجود ہیں، اس کی اہمیّت واضح ہو جاتی ہے۔ واقعاً "العظمة للہ الواحد القھار!" (عظمت و بزرگی واحد و قہار خدا کے لئے ہی ہے)۔

۳۔ نجدین کی طرف ہدایت

"نجد" جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے، بلندی یا بلند سرزمین کے معنی میں ہے اور یہاں "خیر" و "شر" کی راہ مراد ہے۔ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیا ہے کہ آپؑ نے فرمایا: "یا أیھا الناس! ھما نجدان: نجد الخیر و نجد الشر، فما جعل نجد الشر أحب إلیکم من نجد الخیر؟" "اے لوگو! دو بلند سرزمینیں موجود ہیں، خیر کی سرزمین اور شر کی سرزمین، اور شر کی سرزمین تمہارے لیے خیر کی سرزمین سے ہرگز زیادہ محبوب قرار نہیں دی گئی۔" (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ۱۰، صفحہ ۴۹۴، اور تفسیر قرطبی، جلد ۱۰، ص۷۱۵۵)۔ اس میں شک نہیں کہ "تکلیف" اور مسؤلیت، معرفت و آگاہی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اور اُوپر والی آیت کے مطابق خدا نے یہ آگاہی انسانوں کے اختیار میں دے دی ہے۔ یہ آگاہی تین طریقوں سے انجام پاتی ہے: ۱۔ عقلی اور اکات اور استدلال کے طریق سے۔ ۲۔ فطرت و وجدان کے طریق سے، جس میں استدلال کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ۳۔ وحی اور انبیاء و اوصیاء کی تعلیمات کے طریق سے۔ اور تکامل کی راہ کو طے کرنے کے لئے انسان کو جن جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے، وہ ان کی خدا نے ان تین طریقوں میں سے کسی ایک سے یا بہت سے موارد میں ان تینوں ہی طریقوں سے اسے فراہم کی گئی ہیں۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اس حدیث میں اس بات کی تصریح ہوئی ہے کہ ان دونوں راستوں میں سے کسی ایک کو طے کرنا انسان کی طبیعت اور مزاج کے لئے دوسرے سے زیادہ آسان نہیں ہے۔ اور یہ بات حقیقت میں اس عمومی تصور کی کہ انسان بُرائیوں کی طرف زیادہ میلان رکھتا ہے اور شر کے راستے کو اختیار کرنا اس کے لئے زیادہ آسان ہے، نفی کرتی ہے۔ اور سچی بات یہ ہے کہ اگر غلط تربیتیں اور فاسد ماحول نہ ہو تو انسان کو نیکیوں کے ساتھ زیادہ لگاؤ اور محبت ہوتی ہے۔ اور شاید "نجد" (بلند سرزمین) کی تعبیر نیکیوں کے بارے میں اسی بناء پر ہے، کیونکہ بلند زمینیں بہتر اور زیادہ عمدہ فضا رکھتی ہیں، اور شرور کے بارے میں یہ تغلیب کی بناء پر ہے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ تعبیر خیر و شر کے راستہ کی ظاہر، نمایاں اور آشکار ہونے کی طرف اشارہ ہے، جس طرح سے مرتفع اور بلند سرزمین مکمل اور پُورے طور پر نمایاں ہوتی ہے۔ (تشریحی نوٹ: جیسا کہ چاند اور سُورج کو "قمران" (دو چاند) کہا جاتا ہے)۔

11
90:11
فَلَا ٱقۡتَحَمَ ٱلۡعَقَبَةَ
لیکن وہ (ناشکرا انسان) اس اہم گھاٹی سے اوپر نہیں گیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
90:12
وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا ٱلۡعَقَبَةُ
اور تجھے کیا معلوم کہ وہ گھاٹی کیا ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
90:13
فَكُّ رَقَبَةٍ
غلام کو آزاد کرنا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
90:14
أَوۡ إِطۡعَٰمٞ فِي يَوۡمٖ ذِي مَسۡغَبَةٖ
یا بھوک کے دن کھانا کھلانا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔

15
90:15
يَتِيمٗا ذَا مَقۡرَبَةٍ
رشتہ داروں میں سے کسی یتیم کو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
90:16
أَوۡ مِسۡكِينٗا ذَا مَتۡرَبَةٖ
یا خاک پر پڑے ہوئے مسکین کو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔

17
90:17
ثُمَّ كَانَ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلصَّبۡرِ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلۡمَرۡحَمَةِ
پھر اسے ایسے لوگوں میں سے ہونا چاہئے جو ایمان لائے ہیں اور جو ایک دوسرے کو صبر و شکیبائی اور رحم کرنے کی وصیت کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔

18
90:18
أُوْلَـٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡمَيۡمَنَةِ
وہ اصحاب الیمین ہیں (او ران کے نامۂ اعمال کو ان کے دائیں ہاتھ میں دیں گے)۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔

19
90:19
وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَٔايَٰتِنَا هُمۡ أَصۡحَٰبُ ٱلۡمَشۡـَٔمَةِ
اور جن لوگوں نے ہماری آیات کا انکار کر دیا، وہ بدبخت لوگ ہیں اور ان کا نامۂ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔

20
90:20
عَلَيۡهِمۡ نَارٞ مُّؤۡصَدَةُۢ
ان کو آگ نے ہر طرف سے گھیر رکھا ہے۔

تفسیر دُشوار گزار گھاٹی

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

اِن عظیم نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد، جو گزشتہ آیات میں آئی تھیں، زیر نظر آیات میں ناشکر گزار بندوں کو موردِ ملامت و سرزنش قرار دیتا ہے، کہ ان تمام وسائل سعادت کے ہوتے ہوئے انہوں نے نجات کی راہ کیوں طے نہیں کی۔ پہلے فرماتا ہے:۔ "یہ ناشکرا انسان اس عظیم گھاٹی سے اُوپر نہیں گیا۔" (فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ)۔ (تشریحی نوٹ: ظاہر یہ ہے کہ اس جملہ میں "لا"، "نافیہ" اور "خربیہ" ہے اور یہ جو بعض نے اسے لفرین یا استفہام کے معنی میں سمجھا ہے، بہت بعید نظر آتا ہے: وہ واحد اعتراض جو یہاں موجود ہے یہ ہے کہ فعل ماضی پر "لا" آتا ہے تو عام طور پر اس کا تکرار ہوتا ہے، جیسا کہ سورہ قیامت کی آیہ ۳۱ میں آیا ہے کہ فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّى: (نہ تو اس نے صدقہ دیا اور نہ ہی نماز پڑھی جب کہ زیر بحث آیت میں "لا" کا تکرار نہیں ہوا، لیکن جیسا کہ مرحوم "طبرسی" نے "مجمع البیان" میں نقل کیا ہے کہ بعض اوقات یہ تکرار کے بغیر بھی استعمال ہوتا ہے۔ "فخر رازی" اور "قرطبی" نے اپنی تفاسیر میں بعض عربی ادب کے بزرگوں سے نقل کیا ہے کہ اگر "لا"، "لم" کے معنی میں ہو تو پھر تکرار کی ضرورت نہیں ہے یہ احتما۔ بھی دیا ہے کہ یہاں تقدیر میں تکرار ہوا ہے: فلا اقتحم العقبہ ولافک رقبۃ ولا اطبعم فی یوم ذی سنسبۃ")۔ اس بارے میں کہ یہاں عقبہ سے کیا مُراد ہے، بعد والی آیات اس کی تفسیر کرتی ہیں۔ فرماتا ہے: "تو نہیں جانتا وہ گھاٹی کیا ہے؟" (وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ)۔ "غلام کو آزاد کرنا ہے۔" (فَكُّ رَقَبَةٍ)۔ "یا بُھوک کے دن کھانا کھلانا ہے۔" (أَوْ إِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ)۔ "قریبوں میں سے کسی یتیم کو" (يَتِيمًا ذَا مَقْرَبَةٍ)۔ "یا خاک پر پڑے ہوئے مسکین کو" (أَوْ مِسْكِينًا ذَا مَتْرَبَةٍ)۔ اس طرح یہ دُشوار گزار گھاٹی جس سے گزرنے کے لئے ناشکرے انسانوں نے ہرگز خود کو تیار نہیں کیا ہے، اعمالِ خیر کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو ارادی طور پر خدمتِ خلق اور کمزوروں و ضعیفوں کی مدد کرنے کے گِرد گھومتا ہے، اور ان صحیح اور خالص عقائد کا مجموعہ بھی ہے جن کی طرف بعد والی آیات میں اشارہ ہوا ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ اس شدید لگاؤ کو دیکھتے ہوئے جو عام طور سے لوگ مال و ثروت کے ساتھ رکھتے ہیں، اس دشوار گزار گھاٹی سے گزرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اِسلام اور ایمان صرف دعویٰ اور باتوں سے حاصل نہیں ہوتے بلکہ ہر مومن مسلمان کے سامنے ایسی دُشوار گزار گھاٹیاں ہیں جن سے یکے بعد دیگرے، حول و قوۃ خدا اور روح ایمان و اخلاص سے مدد طلب کرتے ہوئے گزرنا پڑتا ہے۔ بعض نے یہاں "عقبہ" کی تفسیر ہوائے نفس کے معنی میں کی ہے، جس سے جہاد کرنے کو، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم، مشہور حدیث کے مطابق، "جہادِ اکبر" کا نام دیا ہے۔ البتہ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہاں آیات نے "عقبہ" کی تفسیر کی ہے تو اس تفسیر سے مراد اس طرح ہونا چاہیے کہ اصلی گھاٹی ہوائے نفس کی گھاٹی ہے، لیکن غلاموں کو آزاد کرنا اور مسکینوں کو کھانا کھلانا، اس سے مبارزہ کرنے کے واضح مصادیق میں سے ہیں۔ بعض دُوسرے مفسرین نے یہ کہا ہے کہ اس "عقبہ" سے مُراد قیامت میں ایک دشوار گزار گھاٹی ہے، جیسا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک حدیث میں آیا ہے: "إِنَّ أَمَامَكُمْ عَقَبَةً كَؤُودًا لَا يَجُوزُهَا إِلَّا الْمُثْقَلُونَ، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُخَفِّفَ عَنْكُمْ لِتِلْكَ الْعَقَبَةِ"۔ "تمہارے سامنے ایک دُشوار گزار گھاٹی ہے، جس سے بھاری بوجھ والے نہیں گزر سکیں گے، اور میں چاہتا ہوں کہ اس گھاٹی سے عبور کرنے کے لئے تمہارے بوجھ کو ہلکا کر دوں"۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱۰، ص ۴۹۵)۔ البتہ یہ حدیث جو پیغمبرؐ سے نقل ہوئی ہے زیر بحث آیت کی تفسیر کے عنوان سے نہیں ہے، لیکن مفسرین نے اس سے یہی سمجھا ہے، لیکن ایسا سمجھنا اُس تفسیر کی طرف توجہ کرتے ہوئے جو صراحت کے ساتھ آیات میں آئی ہے، مناسب دکھائی نہیں دیتا، مگر یہ کہ مراد یہ ہو کہ قیامت کی دشوار گزار گھاٹیاں اس جہاں کی سخت اور سنگین اطاعتوں کا تجسم ہیں، اور ان سے عبور کرنا ان اطاعتوں سے عبور کرنے کی فرع ہے۔ (غور کیجئے)۔ یہاں پر "اقتحم" کی تعبیر جو "اقتحام" کے مادہ سے ہے، قابلِ توجہ ہے، جو اصل میں سخت اور خوفناک کام میں داخل ہونے کے معنی میں ہے۔ (مفرداتِ راغب) یا کسی چیز میں داخل ہونا یا اس کے پاس سے شدت و مشقت سے گزرنا ہے (تفسیر کشاف) اور یہ چیز بتاتی ہے کہ اس گھاٹی سے گزرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اور یہ اس بات پر ایک تاکید ہے جو سُورہ کے آغاز میں آئی ہے، جس میں فرماتا ہے: "ہم نے انسان کو دُکھ اور تکلیف میں پیدا کیا ہے، اور اس کی زندگی بھی دُکھ اور رنج و تکلیف سے توأم ہے اور پروردگار کی اطاعت کرنا بھی بہرحال، کوئی آسان کام نہیں ہے۔" امیر المومنین علی علیہ السلام کے ایک ارشاد میں آیا ہے: "إِنَّ الْجَنَّةَ حُفَّتْ بِالْمَكَارِهِ وَإِنَّ النَّارَ حُفَّتْ بِالشَّهَوَاتِ"۔ "بےشک جنّت سختیوں کے درمیان گِھری ہوئی ہے، اور دوزخ شہوات کے درمیان گھری ہوئی ہے۔" (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ۱۷۶)۔

چند قابل توجہ نکات

۱۔ "فک رقبۃ" سے مُراد ظاہراً وہی غلاموں کو آزاد کرنا ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک اعرابی پیغمبرؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: ائے رسولِ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل تعلیم کیجئے کہ جو مجھے جنت میں داخل کرے، آپؐ نے فرمایا: "ان کنت اقصرت الخطبۃ لقد عرضت السألۃ" "اگرچہ تُو نے بات تو مختصر کی ہے، لیکن ایک بہت بڑے مطلب کا سوال کیا ہے۔" (یا یہ کہ اگرچہ تُو نے مختصر سی بات کی ہے لیکن تُو نے اپنے مقصُود کو اچھی طرح سے بیان کیا ہے)۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا: "اعتق النسمۃ و فک رقبۃ" "غلاموں کو آزاد کر اور گردنوں کو (طوقِ غلامی سے) رہائی دے۔ راوی سوال کرتا ہے، کیا یہ دونوں چیزیں ایک ہی نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا: "نہیں! پہلے سے میری مُراد یہ ہے کہ تو غلام کو مُستقل طور پر آزاد کر دے، اور دوسرے سے میری مُراد یہ ہے کہ تو اس کی قیمت کی ادائیگی میں اِمداد کرے تاکہ وہ آزاد ہو جائے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے مزید فرمایا: "والفئ علی ذی الرحم الظالم، فان لم یکن ذالک فاطعم الجائع، واسق الظمأن، وامر بالمعروف و انہ عن المنکر، فان لم تطق ذالک فکف لسانک الا من الخیر۔" "ان رشتہ داروں کی طرف جنہوں نے تجھ سے قطع رحمی کی ہے اور تجھ پر ظلم کیا ہے، لوٹ جا۔ (اور ان سے نیکی کر) اور اگر اس قسم کا کام ممکن نہ ہو تو پھر بھوکوں کو کھانا کھلا اور پیاسوں کو پانی پلا، اور امر بالمعروف اور نہی از منکر کر اور اگر تجھ میں اس کام کے کرنے کی بھی طاقت نہیں ہے تو کم از کم اپنی زبان نیکی کے علاوہ کسی چیز کے لئے نہ کھول، (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۵، ص۵٨۳)۔ ۲۔ بعض مفسرین نے "فک رقبۃ" کو، اپنی گردن کو گناہوں کے ہار سے توبہ کے ذریعے آزاد کرنے، یا خُود کو اطاعتوں کے ذریعے عذابِ الٰہی سے آزاد کرنے کے معنی میں سمجھا ہے، لیکن ان آیات کی طرف توجہ کرتے ہوئے جو اس کے بعد آئی ہیں، اور یتیم و مسکین کے بارے میں وصیت کر رہی ہیں، ظاہراً اس سے مراد وہی غلاموں کو آزاد کرنا ہی ہے۔ ۳۔ "مسغبۃ"، "سغب" (بروزن غضب) کے مادّہ سے بُھوک کے معنی میں ہے، اس بناء پر "یوم ذی مسغبۃ" بھوک کے دن کے معنی میں ہے، اگرچہ بُھوکے افراد انسانی معاشروں میں رہتے ہیں، لیکن یہ تعبیر تھا قحط رسانی اور خشک سالی اور اسی قسم کے دنوں میں کھانا کھلانے کی ایک تاکید ہے، جو اس موضوع کی اہمیّت کی بناء پر ہے، ورنہ تو بھوکوں کو کھانا کھلانا ہمیشہ افضل اعمال سے رہا ہے اور ہے۔ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے آیا ہے: "من اشبع جائعاً فی یوم سغب ادخلہ اللہ یوم القیامۃ من باب من ابواب الجنّۃ لایدخلھا الا من فعل مثل مافعل۔" "جو شخص کسی بُھوکے کو قحط کے دِنوں میں پیٹ بھر کر کھانا کھلائے گا تو خدا اس کو قیامت میں جنّت کے دروازوں میں سے اس دروازے سے داخل کرے گا جس سے کوئی دُوسرا داخل نہیں ہو گا سوائے اس شخص کے جس نے اس جیسا عمل انجام دیا ہو گا۔" (بحوالہ: "مجمع البیان"، جلد ۱۰، ص۴۹۵)۔ ۴۔ "مقربۃ" قرابت اور رشتہ داری کے معنی میں ہے اور یتیم رشتہ داروں کے بارے میں تاکید بھی ان کی اولویت کی بناء پر ہے، ورنہ تمام یتیموں کو کھانا کھلانا اور ان پر نوازش کرنا چاہئے۔ یہ چیز اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ رشتہ دار اپنے خاندان کے یتیموں کے بارے میں زیادہ سخت ذمہ داری رکھتے ہیں۔ اس سے قطع نظر وہ غلط فائدے، جو خاص طور پر اس زمانے میں رشتہ دار یتیموں کے اموال سے اُٹھائے جاتے تھے، تقاضا کرتے ہیں کہ اِس دُشوار گزار گھاٹی کے بارے میں ایک خاص قسم کی تنبیہ کی جائے۔ ابو الفتوع رازی کا نظریہ یہ ہے کہ "مقربۃ" قرابت کے مادّہ سے یہیں ہے، بلکہ "قرب" کے مادّہ سے ہے اور ایسے یتیموں کی طرف اشارہ ہے جن کے پہلو بُھوک کی شدّت سے ایک دُوسرے سے چمٹے ہوئے ہیں۔ (بحوالہ: تفیسر ابو الفتوح رازی، جلد ۱۲، ص۹۶)۔ لیکن یہ تفسیر بعید نظر آتی ہے۔ ۵۔ "متربۃ" مصدر میمی ہے "ترب" (بروزن طرب) کے مادّہ سے جو اصل میں "تراب" بمعنی "خاک" سے لیا گیا ہے۔ اور اس شخص پر بولا جاتا ہے جو فقر و فاقہ کی شدّت کی بناء پر خاک نشین ہو گیا ہو۔ پھر یہاں یہ تاکید اس قسم کے مساکین کے لئے ان کی اولیت کی بناء پر ہے، ورنہ تمام مساکین کو کھانا کھلاتا اعمالِ حسنہ میں سے ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے: "امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام جب کھانا کھانا چاہتے تھے تو یہ حکم دیتے تھے کہ ایک بہت بری سینی دستر خواں کے پاس رکھ دی جائے، اور دستر خوان پر جتنے کھانے ہوتے تھے ان میں سے بہترین کھانا اُٹھا کر اس سینی میں ڈال دیتے تھے، اور پھر یہ حکم دیتے تھے کہ وہ حاجت مندوں کو دے دیں۔ پھر آپ اس آیت کی تلاوت فرماتے: فلا اقتحم العقبۃ۔۔۔ اس کے بعد مزید فرماتے: خداوند تعالیی جانتا تھا کہ سب لوگ غلاموں کو آزاد کرنے پر قادر نہیں ہیں، لہذا اپنی بہشت کی طرف ایک اور راستہ بھی قرار دیا ہے۔" (بحوالہ: کافی مطابق نقل تفسیر المیزان، جلد۲۰، ص۴۲۴)۔ بعد والی آیت میں، اس تفسیر کو جاری رکھتے ہوئے، جو اس دشوار گزار گھاٹی کے لئے یہاں فرمائی ہے، مزید کہتا ہے: پھر وہ ایسے لوگوں میں سے ہو جو ایمان لائے ہیں، اور ایک دوسرے کو صبر و اسقامت اور رحم کرنے کی وصیّت کرتے ہیں۔" (ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ)۔ اس طرح سے وہ لوگ اس دُشوار گزار گھاٹی سے عبور کر لیں گے جو صاحبِ ایمان بھی ہوں اور صبر کی دعوت کرنے اور عواطفِ انسانی جیسے اعلیٰ اخلاق بھی رکھتے ہوں اور انہوں نے غلاموں کو آزاد کرنے اور یتیموں اور مسکینوں کو کھانا کھلانے جیسے اعمال صالح بھی انجام دیئے ہیں۔ یا دُوسرے لفظوں میں وہ تین میدانوں، ایمان، اخلاق اور عمل میں قدم رکھیں اور اس سے سربلند و سرفراز ہو کر نکلیں۔ یہی ہیں وہ لوگ جو اس قسم کی دُشوار گزار گھاٹی کو عبور کر لیں گے۔ "ثم" (بعد) کی تعیبر ہمیشہ ہی تاخیر زمانی کے معنی میں نہیں ہوتی کہ اس کلام کا لازمہ یہ ہو کہ پہلے کھانا کھلائیں اور انفاق کریں اور اس کے بعد ایمان لائیں، بلکہ اس قسم کے موارد ہیں۔ جیسا کہ مفسرین کی ایک جماعت نے تصریح کی ہے۔ مقام کی برتری کے بیان کے لئے ہے۔ کیونکہ مسلّمہ طور پر ایمان کا رُتبہ، اور صبر و مرحمت کی وصیّت کرنے کا مرتبہ، حاجت مندوں کی مدد کرنے کے مرتبہ سے بالاتر ہے، بلکہ اعمالِ صالح کا سرچشمہ ایمان اور اخلاق ہی ہیں، اور ان سب کی جڑ بنیاد اعتقادات اور اعلیٰ اخلاق میں ہی تلاش کرنا چاہئے۔ بعض نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ "ثُم" یہاں تاخیر زمانی کے معنی میں ہے، کیونکہ بعض اوقات اعمال صالح ایمان کی طرف جھکاؤ کا سرچشمہ بن جاتے ہیں اور خاص طور پر اخلاق کی بنیادوں کو محکم کرنے میں مؤثر واقع ہوتے ہیں، کیونکہ انسان کا خلق و خو پہلے۔ "فعل" کی صُورت میں ہوتا ہے، اس کے بعد "حالت" کی صُورت میں اور پھر "عادت" بن جاتا ہے اور اس کے بعد وہ ایک "ملکہ" کی صُورت اختیار کر لیتا ہے۔ "تواصوا" کی تعبیر جس کا مفہوم ایک دوسرے کو وصیّت اور سفارش کرنا ہے، ایک اہم نکتہ اپنے اندر لیے ہوئے ہے اور وُہ یہ ہے کہ پروردگار کی اطاعت کی راہ میں صبر و استقامت اور ہوائے نفس سے مبارزہ و مقابلہ جیسے اہم مسائل، اور اسی طرح اصل محبت و مرحمت کو تقویت دینا معاشرے میں انفرادی صُورت میں نہیں ہونے چاہئیں، بلکہ اسے ایک عمومی صُورت میں سارے معاشرے میں جاری ہونا چاہئے، اور سب افراد ہی ایک دوسرے کو اس "اصول" کی رعایت و حفاظت کرنے کی وصیّت کرین تاکہ اس طریقہ سے اجتماعی تعلقات اور زیادہ محکم سے محکم ہوں۔ بعض نے کہا ہے کہ "صبر" یہاں فرمانِ خدا کی اطاعت میں استقامت اور اس کے اوامر میں اہتمام کرنے کے معنی میں ہے اور "مرقت" مخلوقِ خدا کے لئے محبت کی طرف اشارہ ہے، اور ہم جانتے ہیں کہ خالق و مخلوق سے ارتباط ہی دین کی اساس و بُنیاد ہے۔ بہرحال، صبر و استقامت ہی ہر قسم کی اطاعت و بندگی اور گناہ و عصیان کے ترک کرنے کی اصل و بنیاد ہے۔ اور ان اوصاف کے آخر میں ان اوصاف کے حاملین کے مقام کے اس طرح بیان فرماتا ہے: "وہ اصحابِ یمین ہیں۔" (أُوْلَئِكَ أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ)۔ اور ان کا نائمہ اعمال بارگاہِ خداوندی میں مقبول ہونے کی نشانی اور علامت کے طور پر ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ "میمنہ"، "یمن" کے مادّہ سے ہے یعنی وہ صاحبانِ برکت ہیں اور ان کا وجود خُود ان کے لئے بھی برکت ہے اور معاشرے کے لئے بھی۔ اس کے بعد اس گروہ کے نقطئہ مقابل یعنی ان لوگوں کا بیان کرتے ہوئے، جو اس دُشوار گزار گھاٹی سے نہیں گُزرے، فرماتا ہے: وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کا انکار کر دیا، ایسے بدبخت اور شوم ہیں کہ ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔"( وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا هُمْ أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ)۔ اور یہ اس بات کی نشانی ہے کہ ان کا ہاتھ حسنات اور نیکیوں سے خالی ہے اور ان کا نامہ اعمال سئیات اور بُرائیوں سے سیاہ ہے۔ "مشئمۃ"، "شوم" کے مادّہ سے "میمنۃ" کا جو "یمن" کے مادّہ سے ہے، نقطہ مقابل ہے۔ یعنی یہ کافر گروہ شوم، بدبخت اور نامبارک افراد ہیں، جو اپنی بدبختی کا سبب بھی ہیں اور معاشرے کی بدبختی کا بھی، لیکن چونکہ قیامت میں بدبخت و شوم ہونا اور مبارک ہونا۔ اس چیز سے پہچانا جائے گا کہ ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں یا دائیں ہاتھ میں ہو گا۔ لہذا بعض نے اس تفسیر کو اسی وجہ سے پسند کیا ہے، خصوصاً جب کہ شوم کا مادّہ لغت میں بائیں طرف کے جھکاؤ کے معنی میں بھی آیا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر ابو الفتوح رازی، جلد ۱۲، ص ۹۷ اور المنجد مادّہ "شأم")۔ اس سُورہ کی آخری آیت میں آخری گروہ کی سزا کی طرف ایک مختصر اور پُرمعنی اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: ان کے اُوپر آگ ہے، جو انہیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے، جس سے فرار کی کوئی راہ نہیں ہے۔" (عَلَيْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ)۔ "مؤصدۃ"، "ایصاد" کے مادّہ سے دروازہ کو بند کرنے اور اسے محکم کرنے کے معنی میں ہے۔ یہ بات کئے بغیر واضح ہے کہ انسان اس کمرے میں جس کی فضا گرم ہو یہ چاہتا ہے کہ اس کے دروازوں کو کھول دے، تاکہ تازہ ہوا آئے اور فضا کی گرمی کو معتدل کر دے۔ اَب سوچنا چاہئے کہ دوزخ کی جلانے والی بھٹی میں، جب کہ تمام دروازے بند ہو جائیں، کیا حالت پیدا ہو گی؟ خداوندا! ہمیں اس قسم کے جان گداز عذاب سے اپنے لطف و کرم کی پناہ میں محفوظ رکھنا۔ پروردگارا! ان گھاٹیوں سے گُزرنا جو ہمارے سامنے ہیں، تیری توفیق کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ تو اپنی توفیق کو ہم سے نہ روکنا۔ بارِ الہا! ہمیں اصحابِ میمنہ کی صف میں جگہ دینا اور نیک اور ابرار لوگوں کے ساتھ محشور فرمانا۔ آمین یا ربّ العالمین

end of chapter
Al-Balad (90) — Tafseer e Namoona