Sūra 65 · 12v
Chapter 6512 verses

At-Talaq

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
الطلاق
الطلاق

سورۂ طلاق

یہ سورہ مدینہ میں نازل ہوئی اس میں ١٢ آ یات ہیں۔

سورہ طلاق کے مضامین

اہم ترین مسئلہ جو اس سورہ میں پیش کیا گیا ہے، جیسا کہ اس سورہ کے نام سے ظاہر ہے، وہ مسئلہ طلاق، اس کے احکام و خصوصیات اور اس کے نتائج ہیں۔ اس کے بعد مبداء و معاد، پیغمبرؐ کی نبوّت اور بشارت و نذارت کے مباحث بیان کئے گئے ہیں۔ اِس طرح اس سورہ کے مضامین کو دو حصّوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: پہلا حصّہ: اس سورہ کی پہلی سات آیات ہیں، جو طلاق اور اس سے مربُوط مسائل کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں۔ ان میں اس مسئلہ کی جزئیات کو منحصر اور پُر معنی عبارتوں میں دقیق اور لطیف انداز میں اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ انسان انہیں دیکھ کرخود کو اس موضُوع میں پورے طور پر مستغنی سمجھتا ہے۔ دوسراحصّہ: جو حقیقت میں پہلے حصّہ کے اجراء کا سبب ہے، خدا کی عظمت، اس کے رسُولؐ کے مقامِ عظمت، صالحین کے اجر و ثواب اور بدکاروں کی سزا اور عذاب کے بارے میں بحث کرتا ہے۔ نیز اس اہم اِجتماعی مسئلہ کے اجراء کی ضمانت کے طور پر ایک منظّم مجموعہ قواعد پیش کرتا ہے۔ ضمناً یہ سورہ ایک دوسرا نام بھی رکھتا ہے اور وہ سورہ نساء قصریٰ (بر وزن و معنی صغریٰ) مشہور سورہ نساء کے مقابلہ میں ہے، جو "نساء کُبریٰ" ہے۔

تلاوت کی فضیلت

ایک حدیث میں پیغمبرؐ اکرم سے آیا ہے: "من قرأ سورۃ الطلاق مات علیٰ سنۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ۔" "جو شخص سورہ طلاق کو پڑھے (اور اسے اپنی زندگی کے امُور میں اپنائے اور اس پر کاربند رہے) وُہ دنیا سے سنّتِ پیغمبرؐ پر جائے گا۔" (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ١٠، ص٣٠٢)۔

1
65:1
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ إِذَا طَلَّقۡتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحۡصُواْ ٱلۡعِدَّةَۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ رَبَّكُمۡۖ لَا تُخۡرِجُوهُنَّ مِنۢ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخۡرُجۡنَ إِلَّآ أَن يَأۡتِينَ بِفَٰحِشَةٖ مُّبَيِّنَةٖۚ وَتِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ ٱللَّهِ فَقَدۡ ظَلَمَ نَفۡسَهُۥۚ لَا تَدۡرِي لَعَلَّ ٱللَّهَ يُحۡدِثُ بَعۡدَ ذَٰلِكَ أَمۡرٗا
اے پیغمبر ! جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو عدت کے زمانہ میں طلاق دو۔ اور عدت کا حساب رکھو اور اس اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا پروردگار ہے۔ نہ تو تم انہیں ان کے گھروں سے باہر نکالو اور نہ وہ (عدت کے دوران) باہر جائیں۔ سوائے اس صورت کے کہ وہ ظاہر بظاہر کوئی برا کام انجام دیں۔ یہ اللہ کی حدود ہیں اور جو شخص حدود الٰہی سے تجاوز کرتا ہے تو وہ خود اپنے ہی اوپر ظلم کرتا ہے۔تو نہیں جانتا ، شاید اللہ اس کے بعد کوئی اور نئی وضع اور اصلاحی ذریعہ فراہم کر دے۔

تفسیر طلاق اور اعلیحدگی کی شرائط

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس سورہ کی اہم ترین بحث وہی طلاق کے بارے میں ہے کہ جو اس کی پہلی آ یت سے شروع ہو رہی ہے۔ مسلمانوں کے عظیم پیشوا و رہبر کے عنوان سے رُوئے سُخن پیغمبرؐ اسلام کی طرف کیا، اور اس کے بعد ایک عمومی حکم جمع کے صیغہ کے ساتھ بیان کرتے ہُوئے فرماتا ہے: "اے پیغمبرؐ! جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو انہیں عدّت کے زمانہ میں طلاق دو۔" (يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ)۔ یہ ان پانچ احکام میں سے پہلا حکم ہے جو اس آیت میں آئے ہیں جیسا کہ مفسّرین نے اِس سے استفادہ کیا. اِس سے مُراد یہ ہے کہ صیغۂ طلاق ایسے زمانہ میں جاری کیا جائے جب عورت اپنی ماہانہ عادت سے پاک ہو گئی ہو اور اپنے شوہر سے اس کی نزدیکی نہ ہوئی ہو۔ کیونکہ سورہ بقرة کی آ یت ٢٢٧ کے مطابق عدت طلاق "ثلاثة قروء" (تین مرتبہ پاک ہونے) کی مقدار میں ہونی چاہیے۔ اب یہاں یہ تاکید کرتا ہے کہ طلاق عدّت کے آغاز کے ساتھ ہو۔ اور یہ صُورت میں ممکِن ہے کہ جب طلاق پاکیزگی کی حالت میں اختلاطِ جنسی کے بغیر متحقّق ہو۔ اگر طلاق حیض کے زمانہ میں واقع ہو جائے تو عدّت کے زمانہ کا اغاز، طلاقِ کے آغاز سے جُدا ہو جائے گا۔ اور عدّت کا اغاز پاک ہونے کے بعد ہو گا۔ اسی طرح سے اگر عورت ایسی طہارت کی حالت میں ہو کہ اس نے اپنے شوہر سے نزدیکی کی اور جدا ہونا مُسلّم ہُوا ہو،کیونکہ اس قسم کی پاکیزگی اختلاط جنسی کی بناء پر رحم میں نطفہ کے نہ ہونے کی دلیل نہیں ہے (غور کیجیے)۔ بہرحال یہ طلاق کی پہلی شرط ہے۔ متعدّد روایات میں پیغمبر گرامیؐ سے نقل ہُوا ہے کہ: "جب کوئی شخص اپنی بیوی کو اس کی ماہانہ عادت میں طلاق دے تو اس طلاق کی پروا نہیں کرنی چاہیے اور پلٹ آنا چاہیئے، یہاں تک کہ عورت پاک ہو جائے اس کے بعد اگر وہ طلاق دینا چاہتا ہے تو دے دے۔" (تشریحی نوٹ: یہ روایات کتاب "اطلاق" صحیح مسلم جلد٢، صفحہ ١٩٠٣ کے بعد نقل ہُوئی ہیں)۔ یہی مطلب روایاتِ اہل بیت علیہم السلام میں بھی بارہا بیان ہوا۔ یہاں تک کہ آیت کی تفسیر کے عنوان سے بھی ذکر ہُوا ہے۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، جلد ١٥، صفحہ ٣٤٨ "باب کیفیة طلاق العدّة")۔ اس کے بعد دُوسرے حکم کو، جو عدّت کا حساب رکھنے کا مسئلہ ہے، پیش کرتے ہُوئے فرماتا ہے: "عدت کا حساب رکھو" (وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ)۔ غور کے ساتھ ملاحظہ کیجیے کہ عورت تین مرتبہ اپنی پاکیزگی کے دن ختم کرے اور ماہانہ عادت دیکھے، جب تیسرا دورِ پاکیزگی ختم ہو اور تیسری ماہانہ عادت میں داخل ہو تو اس کے ایّام عدّت کی مُدّت آخر کو پہنچی اور ختم ہُوئی۔ اگر اس امر میں غور نہ کیا جائے تو ممکِن ہے کہ عدّت کا دَور ضروری مقدار سے زیادہ شمار ہو جائے، اور عورت کو کچھ ضرر اور نقصان پہنچے، کیونکہ یہ چیز اُسے نئے نکاح اور مانع ہو گی۔ اگر یہ عدت کمتر ہو تو عدّت کے اصلی ہدف کی رعایت نہیں ہو گی کہ جو پہلے ازدواج کے حریم کی حفاظت اور انعقاد نطفہ کا مسئلہ ہے۔ "احصوا"، "احصاء" کے مادہ سے شمار کرنے کے معنی میں ہے، اور اصل میں "حصی" سے لیا گیا ہے جس کے معنی سنگریزہ کے ہیں۔کیونکہ قدیم زمانہ میں بہت سے لوگ جبکہ وہ پڑھنے لکھنے سے آشنا نہیں تھے، مختلف موضوعات کا حساب کتاب سنگریزوں کے ذریعے رکھتے تھے۔ قابلِ توجّہ بات یہ ہے: عدّت کا حساب رکھنے کے مخاطب مرد ہیں، اس ک وجہ یہ ہے کہ نفقہ اور مسکن کا مسئلہ ان کے ذمّہ ہے۔ اسی طرح حقِ رجُوع، بھی انہیں کو حاصلِ ہے ورنہ عورتیں بھی مؤظف ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داری کے واضح ہونے کے لیے پورے غور کے ساتھ عدّت کا حساب رکھیں۔ اس حکم کے بعد تمام لوگوں کو تقویٰ اور پرہیزگاری کی دعوت دیتے ہُوئے فرماتا ہے: "اس خُدا سے ڈرو جو تمہارا پروردگار ہے اور تقویٰ اختیار کرو۔" (وَ اتَّقُوا اللَّہَ رَبَّکُم)۔ وہ تمہارا پروردگار اور مُربّی ہے اور اس کے احکام تمہاری سعادت کے ضامن ہیں۔ اِس بناء پر اس کے فرامین پر کاربند ہو جاؤ، اور اس کی نافرمانی سے پرہیز کرو، خصوصاً طلاق اور عدّت کا حساب رکھنے میں دقّت سے کام لو۔ اس کے بعد تیسرے اور چوتھے حکم کے بارے میں، جن میں سے ایک شوہروں اور دوسرا بیویوں سے مربوط ہے۔ فرماتا ہے: "تم انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو، اور وہ بھی عدّت کے دوران گھروں سے باہر نہ نکلیں۔" (لَاتُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ)۔ اگرچہ بہُت سے بےخبر اس حکمِ اسلامی کو طلاق کے وقت اصلاً جاری نہیں کرتے اور محض صیغۂ طلاق کے جاری ہوتے ہی مرد بھی خود کو آمادہ کرتا ہے کہ عورت کو گھر سے باہر نکال دے اور عورت بھی اپنے آپ کو آزاد سمجھ لیتی ہے، کہ شوہر کے گھر سے نکل کر اپنے عزیزوں کے گھر واپس چلی جائے، لیکن یہ اسلامی حکم بہت ہی اہم فلسفہ کا حامل ہے، کیونکہ یہ عورت کے احترام کے علاوہ عام طور پر شورہروں کی طلاق سے بازگشت اور رشتۂ زوجیّت کے استحکام کے لیے بھی اسباب فراہم کرتا ہے۔ اِس اہم اسلامی حکم کو نظر انداز کر دینے سے، جو قرآن کے متن میں آیا ہے، بہُت سی طلاقیں دائمی جدائی کا سبب بن جاتی ہیں۔ حالانکہ اگر اس حکم کا اجرا ہوتا تو یہ اکثر زوجین کی صُلح اور نئے سرے سے بازگشت پر منتہی ہوتا۔ لیکن بعض اوقات ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ طلاق کے بعد عورتوں کو گھر میں رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لہٰذا پانچویں حکم کا استثناء کی صورت میں اضافہ کرتے ہُوئے کہتا ہے: "سوائے اس صورت کے کہ وہ عورتیں کسِی واضح برُئے کام کو انجام دیں۔" (إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ)۔ مثلاً وہ شوہر اور اس کے رشتہ داروں کے ساتھ اس قدر ناسازگاری، بدخلقی اور بدزبانی کرے کہ اُسے گھر میں رکھنا زیادہ مشکلات کا باعث بن جائے۔ یہ بات کئی ایک روایات میں نظر آتی ہے، جو آئمہ اہلِ بیت سے نقل ہوئی ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد٥، صفحہ ٣٥٠، ٣٥١ حدیث ١٧ ، ١٨ ١٩، ٢٠)۔ البتّہ اس سے مُراد ہر قسم کی مخالفت اور جُزئی ناسازگاری نہیں ہے، کیونکہ لفظ فاحشہ کے مفہوم کا تقاضا ہے کہ کوئی بہت بُرا کام ہو گیا ہے، خاص طور پر جب کہ وہ مُبیّنہ کی صفت سے بھی موصوف ہُوا ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ فاحشة سے مُراد عفّت اور پاکدامنی کے منافی عمل ہے، اور یہ ایک روایت میں امام صادق علیہ السلام سے بھی نقل ہوا ہے۔ اس صورت میں خارج کرنے سے مُراد اجراء حد کے لیے باہر لے جانا اور واپس گھر میں لے آنا ہے۔ ان دونوں معانی کے درمیان جمع کرنا بھی ممکِن ہے۔ ان احکام کے بیان کرنے کے بعد پھر تاکید کے عنوان سے مزید کہتا ہے: "یہ خدائی حدُود ہیں اور جو شخص حدُود الہٰی سے تجاوز کرے تو اُس نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے (وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ)۔ کیونکہ یہ قوانین اور احکامِ الہٰی خود مکلّفین کے مصالح کے ضامن اور ان سے تجاوز کرنے سے، چاہے وہ مرد کی طرف سے ہو یا عورت کی طرف سے، خود ان کی سعادت پر ضرب لگتی ہے۔ آیت کے آخر میں عدّت کے فلسفہ اور عورت کے گھر اور اصلی اقامت گاہ سے باہر نہ نکلنے کی علّت کی طرف ضمنا اشارہ کرتے ہُوئے فرماتا ہے: "تو نہیں جانتا کہ خدا اس واقعہ کے بعد نئی وضع اور اصلاح کا ذریعہ فراہم کر دے۔" (لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا)۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ غیظ و غضب کا وہ طُوفان رُک جائے گا جو عام طور پر طلاق و جدائی کے معاملہ میں ناگہانی فیصلوں کا موجب بن جاتا ہے، چنانچہ عدّت کی مُدّت میں عورت کا ہر وقت مرد کے ساتھ ہونا، نیز خصوصاً جہاں اولاد کا معاملہ بھی درمیان میں ہو یا ایسے میں ایک دُوسرے سے محبت کا اظہار رجوع کرنے کا سبب بن جاتا ہے اور دشمنی و عداوت کے تیرہ و تار بادلوں کو ان کے آسمانِ زندگی سے ڈر سے کر دیتا ہے۔ یہاں قابلِ توجہ بات یہ ہے اور امام باقر علیہ السلام سے بھی مروی ہے: "المطلقة تکتحل و تختضب و تطیب و تلبس ماشائت من الثیاب لان اللہ عزّوجل یقول لعل اللہ یحدث بعد ذالک امراً لعلھا ان تقع فی نفسہ فیر اجعھا۔" "مطلقہ عورت اپنی عدّت کے دوران أرائش کرے، انکھ میں سُرمہ لگائے، اپنے بالوں کو رنگین کرے، اپنے آپ کو مُعطّر کرے اور ہر وہ لباس جو اُسے پسند ہو پہنے۔ کیونکہ خدا فرماتا ہے: شاید خدا اس واقعہ کے بعد کوئی نئی کیفیّت فراہم کر دے اور ممکِن ہے کہ اس طریقہ سے عورت دوبارہ شوہر کے دل کو مسخّر کرے اور مرد رجوع کرے۔" (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد٥، صفحہ ٣٥٢، حدیث ٢٤)۔ جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ عام طور پر علیحٰدگی اور طلاق کا ارادہ جلد گزر جانے والے ہیجانوں کو وجہ سے ہوتا ہے، جو وقت کے گزرنے اور مرد و عورت کے ایک مدّت تک، جو نسبتاً طولانی (عدّت) ہوتی ہے، مسلسل معاشرت کرنے اور انجام کار غور و فکر کرنے سے معاملہ کلّی طور پر بدل جاتا ہے۔ اور بہت سی علیٰحدگیوں اور طلاقوں میں صُلح ہو جاتی یہ لیکن اس شرط سے ساتھ کہ مذکورہ اِسلام احکام عدّت کے زمانہ میں عورت کے سابق شوہر کے گھر میں رہنے پر دِقّت کے ساتھ عمل ہو، انشاء اللہ ہم بعد میں بتائیں گے کہ یہ سب امور طلاق رجعی کے بارے میں ہیں۔

چند نکات ١: طلاق حلال چیزوں میں سب سے زیادہ قابل نفرت ہے

اس میں شک نہیں کہ زوجیّت کی قرار داد ایک ایسی قرار داد ہے کہ جسے جُدائی کے قابل ہونا چاہیئے، کیونکہ بعض اوقات ایسے علل و اسباب پیدا ہو جاتے ہیں جو عورت اور مرد کی مشترکہ زندگی کو غیر ممکن یا مشکلات اور مفاسد سے بھر دیتے ہیں۔ ایسے میں اگر ہم یہ اصرار کرتے ہیں کہ یہ قرار داد ابد تک باقی رہے تو یہ بات بہت زیادہ مشکلات کا سرچشمہ بن جاتی ہے، لہٰذا اسلام نے اصل طلاق کے ساتھ موافقت کی ہے۔ آج ہم عیسائی معاشروں میں طلاق کے بالکل ممنوع ہونے کا نتیجہ دیکھ رہے ہیں کہ بہت سے مرد اور عورتیں ایسی ہیں جو عیسائی مذہب کے تحریف شدہ قانون کے حکم کے مطابق طلاق کو ممنوع شمار کرتے ہیں۔ قانونی طور پر دونوں ایک دُوسرے کے شوہر و زوجہ ہیں لیکن عملی طور پر ایک دُوسرے سے الگ زندگی بسر کرتے ہیں، یہاں تک کہ ہر ایک نے اپنے لیے ایک غیر رسمی بیوی یا شوہر کا انتخاب کر رکھا ہے۔ اس بناء پر اصل مسئلہ طلاق ایک ضرورت ہے، لیکن ایک ایسی ضرورت جسے ایک ممکن حد تک کم ہونا چاہیے، اور جب تک زوجیّت کو برقرار رکھنے کی راہ ہو کوئی اس پر عمل نہ کرے۔ اِسی بناء پر اسلامی روایات میں شدّت کے ساتھ طلاق کی مذمّت کی گئی اور اسے (مبغوض ترین حلال) کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے، جیسا کہ پیغمبر اکرمؐ سے ایک روایت میں آیا ہے: "ما من شی ء ابغض الی اللہ عز و جل من بیت یخرب فی الاسلام بالفرقة؛ یعنی الطلاق" "خداوند تعالیٰ کے نزدیک کوئی عمل اس سے زیادہ قابلِ نفرت نہیں ہے کہ اِسلام میں کسِی گھر کی بُنیاد جُدائی (یعنی طلاق) کے ساتھ ویران ہو۔" (بحوالہ: وسائل الشیعہ، جلد١٥، صفحہ ٢٦٦ (حدیث ١۔٥))۔ ایک اور حدیث میں امام جعفر صادقؑ سے آیا ہے: "ما من شیء مما احلہ اللہ ابغض الیہ من الصلاق" "حلال امور میں سے کوئی چیز خدا کی بارگاہ میں طلاق سے زیادہ مبغوض نہیں ہے۔" (بحوالہ: وسائل الشیعہ، جلد١٥، صفحہ ٢٦٦ (حدیث ١۔٥))۔ اس کے علاوہ ایک اور حدیث میں رسُول اکرمؐ سے آیا ہے کہ آپ نے فرمایا: "تزوجوا ولا تطلقوا، فان الطلاق یھتزّ منہ العرش" "نکاح کرو اور طلاق نہ دو، کیونکہ طلاق عرشِ خدا کو لرزا دیتی ہے۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، جلد١٥، صفحہ ٢٦٦ (حدیث٧))۔ ایسا کیوں نہ ہو جبکہ طلاق، عورتوں، مردوں، خاندانوں اور خصوصاً اولاد کے لیے بہت سی مشکلات پیدا کر دیتی ہے، جنہیں تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: ١: عاطفی مشکلات: اس میں شک نہیں کہ وہ مرد اور عورت جو کئی سالوں یا مہینوں سے ایک دُوسرے کے ساتھ زندگی بسر کر رہے تھے، طلاق کے بعد ایک دُوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں۔ وہ عاطفی و جذباتی لحاظ سے مجرُوح ہوں گے اور آئندہ کے ازدواج میں انہیں اس کی تلخ یاد ہمیشہ پریشان کرے گی، یہاں تک کہ دوسری بیوی یا شوہر کو ایک قسم کی بدبینی اور سوءِ ظن کے ساتھ دیکھیں گے۔ اس چیز کے نقصان وہ آثار کسِی پر مخفی نہیں ہیں۔ اِسی لیے اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ اس قسم کی عورتیں اور مرد ہمیشہ کے لیے نکاح کرنے سے اعراض کرتے رہتے ہیں۔ ٢: اجتماعی مشکلات: طلاق کے بعد بہت سی عورتوں کو شائستہ اور دلخواہ طور پر نئی شادی کا موقع ہی نہیں مِلتا۔ اس لحاظ سے وہ شدید پریشانی میں گرفتار ہو جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ مردوں کو بھی اپنی بیویوں کو طلاق دینے کے بعد اپنے مطلب کی شادی کا موقع کم ہی ملتا ہے۔ خصوصاً اگر درمیان میں بچّوں کا معاملہ بھی ہو، تب وہ اکثر ایسی شادی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جو انہیں امن و سکون نہیں پہنچاتی اور اس بناء پر آخر زندگی تک رنج و تکلیف میں مُبتلا رہتے ہیں۔ ٣: اولاد کی مشکلات: اولاد کی مشکل ان سب سے زیادہ اہم ہے اور بہت کم دیکھا گیا ہے کہ سوتیلی مائیں سگی ماں کی طرح شفیق و مہربان ہوں، یعنی وہ اس اولاد میں شفقت و محبت کے خلا کو پُر کر سکے جو ماں کی محبت بھری گود سے جُدا ہوئی ہے۔ اسی طرح سے اگر عورت اپنے بچّوں کو اپنے ساتھ لے جائے تو سوتیلے باپ کے بارے میں بھی یہی بات صادق آتی ہے، البتہ کچھ عورتیں اور مرد ایسے بھی ہوتے ہیں جو دوسروں کے لیے شفیق و مہربان اور وفادار ہوتے ہیں، لیکن مسلمہ طور پر ان کی تعداد بہت ہی کم ہوتی ہے، اسی وجہ سے طلاق کے بعد بیچاری اولاد بہت بڑی مصیبت میں گرفتار ہو جاتی ہے۔ شاید ان میں سے اکثر بچے آخرِ عمر تک روحانی سکون سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ درحقیقت؛ یہ ایک ایسا نقصان ہے جو نہ صرف اس گھرانے کے لیے بلکہ پُورے معاشرے کے لیے ہے، کیونکہ اس قسم کے بچے جو ماں باپ یا دونوں کی محبت سے محرُوم ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات خطرناک افراد کی صُورت اختیار کر لیتے ہیں۔ چنانچہ وہ مناسب توجہ نہ ہونے کی وجہ سے انتقام جوئی کے جذبہ کے زیر اثر آ جاتے ہیں اور اپنا انتقام پُورے مُعاشرے سے لیتے ہیں۔ اگر اسلام نے طلاق کے بارے میں اس قدر سخت گیری کی ہے تو اس کی وجہ یہی نقصان دہ نتائج ہیں جو مختلف جہات میں نمُودار ہوتے ہیں۔ اِسی بناء پر قرآن مجید بھی صراحت کے ساتھ حکم دیتا ہے کہ جس وقت عورت اور مرد کے درمیان کوئی اختلاف پیدا ہو جائے تو دونوں کے عزیز و اقارب ان میں اصلاح کی کوشش کریں۔ وہ لوگ ایک "خاندانی صلح کمیٹی" بنا کر دونوں میاں بیوی کو شرعی عدالت تک جانے اور طلاق و جدائی کے عمل سے روکیں۔ (ہم نے صلح کمیٹی کی تفصیل تفسیر نمونہ جلد ٣ میں سورہ ٔ نساء کی آ یت ٣٥کے ذیل میں بیان کی ہے)۔ اسی بناء پر جو چیز عورت اور مرد میں خوش بینی اور خاندانی تعلقات کی بنیادوں کو مستحکم کرنے میں مدد دے وہ اسلام کی نظر میں محبوب ہے اور جو اسے متزلزل کرے وہ بُری اور قابلِ نفرت ہے۔

٢: اسبابِ طلاق

دُوسرے اجتماعی امور میں پیدا ہونے والے اختلافات کی طرح طلاق کی بھی مختلف وجوہات ہوتی ہیں کہ جن کا دقیق مطالعہ اور مقابلہ کیے بغیر ایسے حادثہ کو روکنا مشکل ہوتا ہے۔ اِس لیے ہر چیز سے پہلے ضروری ہے کہ ہم طلاق کے عوامل کو معلوم کریں اور معاشرے میں اس کی جڑوں کو ختم کریں۔ اگرچہ یہ عوامل بہت زیادہ ہیں لیکن ان میں سے ذیل کے اُمور زیادہ اہم ہیں: الف: عورت یا مرد کی غیر محدود توقعات، جُدائی اور علیحٰدگی کے اہم ترین عوامل میں سے ایک ہے۔ اگر ان میں سے ہر ایک اپنی توقع کے دامن کو محدود کر دے، خواب و خیال کی دُنیا سے باہر نکل آئے، طرفِ مقابل کو اچھی طرح سے سمجھ لے اور جتنی اس کی حدود میں ممکِن ہو اتنی ہی توقع رکھے تو بہت سی طلاقوں کو روکا جا سکتا ہے۔ ب: بہت سے گھرانوں میں حُسن پرستی اور اسراف و تبذیر کی رُوح کا کارفرما ہونا ایک اور اہم عامل ہے جو خاص طور پر عورتوں کو ہمیشہ کے لیے ناراضی کی حالت میں رکھتا اور طرح طرح کے بہانوں سے طلاق و جُدائی کی راہ ہموار کرتا ہے۔ ج: دونوں میاں بیوی کی خصُوصی زندگی خصُوصًا ان کے اختلافات میں عزیز و اقارب اور جان پہچان والوں کی بےجا مداخلتیں طلاق کا ایک اور اہم عامل شمار ہوتی ہیں۔ تجربہ بتاتا ہے کہ اگر وہ دونوں میاں بیوی کے درمیان اختلافات کے ظہور کے وقت انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دیں اور اِس کی یا اُس کی جانبداری میں اختلاف کی آگ کو ہوا نہ دیں تو زیادہ وقت نہیں گزرتا کہ وہ آگ خاموش ہو جاتی ہے۔ لیکن دونوں طرف کے لوگوں کی مداخلت کہ جو اکثر تعصّب اور ناروا محبتوں کے ساتھ ہوتی ہے، وہ مُعاملے کو دن بدن مشکل اور پیچیدہ تر بناتی رہتی ہے۔ البتّہ یہ بات اس معنی میں نہیں ہے کہ عزیز و اقارب ہمیشہ ہی اپنے آپ کو ان اختلافات سے دور رکھیں، بلکہ مُراد یہ ہے کہ وہ انہیں معمولی اختلافات میں ان کی حالت پر چھوڑ دیں۔ لیکن جب اختلافات کُلی صورت میں جڑ پکڑ لیں تو پھر طرفین کی مصلحت پر توجّہ رکھتے ہُوئے اور ہر طرح کی تعصّب آمیز جانبداری سے اجتناب اور پرہیز کرتے ہوئے مداخلت کریں اور فریقین کی صلح کے مقدمات فراہم کریں۔ د: عورت اور مرد کا ایک دُوسرے کی خواہش کے بارے میں بےاعتنائی کرنا، خصوصاً ان چیزوں سے جو عاطِفی اور جنسی مسائل سے تعلّق رکھتے ہیں، مثلاً ہر مرد یہ توقع رکھتا ہے کہ اس کی بیوی پاک و صاف اور پُرکشش رہے۔ اسی طرح ہر بیوی بھی اپنے شوہر سے یہی توقع رکھتی ہے۔ لیکن یہ ایسے امُور ہیں جن کے اِظہار کے لیے وہ عام طور پر تیّار نہیں ہوتے۔ یہ وہ مقام ہے کہ طرف مقابل کا بےاعتنائی برتنا، اپنی ظاہری وضع قطع کا خیال نہ رکھنا، ضروری تزیئں کو ترک کر دینا، اور پریشان بال اور گندہ رہنا، بیوی یا شوہر کو اس قسم کی ازدواج زندگی سے سیر کر دیتا ہے۔ خاص طور پر اگر ان کی زندگی کے ماحول میں ایسے افراد بھی رہتے ہوں جو ان اُمور کی رعایت کرتے ہوں، لیکن وہ اس مسئلہ سے بالکل ہی بے اعتنائی کریں۔ اسی لیے اسلامی روایات میں اِس مطلب کو بہت زیادہ اہمیّت دی گئی ہے جیسا کہ ایک حدیث میں امام صادقؑ سے آیا ہے: "لاینبغی للمرئة ان تعطل نفسھا" "عورت کے لیے یہ بات سزاوار نہیں ہے کہ وہ اپنے شوہر کے لیے زینت و آرائش کیے بغیر رہے۔" (بحوالہ: مکارم الاخلاق، صفحہ ٩١، ١٠٧)۔ ایک اور حدیث سے امام صادقؑ سے آیا ہے کہ آپ نے فرمایا: "ولقد خرجن نساء من العفاف الی الفجور ما اخرجھن الا قلة تھیئة ازواجھن۔" "بہت سی عورتیں جادہ عفّت سے خارج ہو گئیں اور اس کی وجہ اس کے علاوہ کُچھ نہیں تھی کہ ان کے شوہر اپنے آپ کو آمادہ نہیں کرتے تھے۔" (بحوالہ: مکارم الاخلاق، صفحہ ٩١، ١٠٧)۔ ھ: عورت اور مرد کے گھرانے کے تمدن اور رہنے سہنے کے طریقوں کا ایک دُوسرے سے مناسبت نہ رکھنا بھی طلاق کا ایک اہم عامل ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر بیوی یا شوہر کے انتخاب سے پہلے بڑی دقّت کے ساتھ توجّہ کرنی چاہیئے۔ انہیں "کفوشروعی" یعنی مسلمان ہونے کے علاوہ کفر فرعی بھی ہونا چاہیے۔ یعنی ان دونوں کے درمیان مختلف جہات سے ضروری مناسبتوں کو رعایت ہونی چاہیئے اس اہتمام کے بغیر اس قسم کی شادیوں کے ٹوٹ جانے پر تعجّت نہیں کرنا چاہیے۔

٣: عدّت کا فلسفہ

اس میں شک نہیں ہے کہ عدّت کی دو بنیادی وجوہات ہیں جن کی طرف قرآن مجید اور اسلامی روایات میں اشارہ ہُوا ہے: اوّل: نسل کی حفاظت اور عورت کی وضع و حالت کا حاملہ ہونے یا نہ ہونے کے لحاظ سے مشخّص ہونا۔ دوئم: پہلی زندگی کی طرف پلٹ آنے اور علیٰحدگی کے عوامل کو ختم کرنے کا وسیلہ ہونا کہ جس کی طرف اوپر والی آیت میں ایک لطیف اشارہ ہُوا تھا۔ خاص طور پر یہ بات کہ اِسلام اس مسئلہ میں یہ تاکید کرتا ہے کہ عورت عدّت کے زمانہ میں اپنے شوہر کے گھر میں ہی رہے۔ اِس طرح طبعی طور پر ان کے درمیان چند ماہ کی ایک مسلسل معاشرت رہے گی جو انہیں اِس بات کا موقع فراہم کرے گی کہ وہ علیٰحدگی کے مسئلہ کا جلد گزر جانے والے ہیجانات سے بالاتر ہو کہ حالات کا نئے سرے سے جائزہ لیں۔ خصوصاً طلاقِ رجعی (تشریحی نوٹ: "طلاق رجعی" سے مراد وہ طلاق ہے جو پہلی یا دوسری مرتبہ دی جاتی ہے اور جدائی کا ارادہ مرد کی طرف سے ہوتا ہے۔ اِس طرح سے عورت نہ اپنے حق مہر کو اور نہ دوسرے مال کو خرچ کرتی ہے)۔کے سلسلہ میں کہ جہاں زوجیّت کی طرف لوٹنا کسِی قسم کے تکلّفات کا محتاج نہیں۔ اور ہر ایسا قول یا فعل، جو مرد کے بازگشت کی طرف مائل ہونے پر دلالت کرے، وہ رجُوع شمار ہو گا، یہاں تک کہ اگر وہ عورت کے بدن پر شہوت کے ساتھ یا بغیر شہوت کے ہاتھ رکھ دے، چاہے رجوع کا ارادہ نہ ہو تو بھی وہ رُجوع ہی شمار ہو گا۔ اِس طرح سے اگر یہ مدّت ان شرائط کے ساتھ گزر جائے جو ہم نے اوپر بیان کی ہیں، اور وہ دونوں آپس میں صلح نہ کریں تو معلوم ہو جائے گا کہ واقعتا وہ مشترک زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے آمادہ نہیں ہیں۔ لہٰذا مصلحت اسی میں ہے کہ وہ ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں۔ اِس سلسلہ میں ہم نے تفسیر نمونہ کی جلد اوّل میں سورہ بقرہ کی آیت ٢٢٨ کے ذیل میں ایک اور تشریح بھی پیش کی ہے۔

2
65:2
فَإِذَا بَلَغۡنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمۡسِكُوهُنَّ بِمَعۡرُوفٍ أَوۡ فَارِقُوهُنَّ بِمَعۡرُوفٖ وَأَشۡهِدُواْ ذَوَيۡ عَدۡلٖ مِّنكُمۡ وَأَقِيمُواْ ٱلشَّهَٰدَةَ لِلَّهِۚ ذَٰلِكُمۡ يُوعَظُ بِهِۦ مَن كَانَ يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِۚ وَمَن يَتَّقِ ٱللَّهَ يَجۡعَل لَّهُۥ مَخۡرَجٗا
جب ان کی عدت ختم ہو جائے تو پھر یا تو شائستہ طور پر انہیں روک دو یا شائستہ طریقہ سے ان سے جدا ہو جاؤ اور اپنے میں سے دو عادل مردوں کو گواہ بنالو، اور اللہ کے لئے شہادت کو قائم کرو۔ یہ ایسی چیز ہے جس کی ان لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور جو شخص تقویٰ الٰہی اختیار کرتا ہے تو اللہ اس کے لئے کوئی نہ کوئی نجات کی راہ فراہم کر دیتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 3 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
65:3
وَيَرۡزُقۡهُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَحۡتَسِبُۚ وَمَن يَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِ فَهُوَ حَسۡبُهُۥٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ بَٰلِغُ أَمۡرِهِۦۚ قَدۡ جَعَلَ ٱللَّهُ لِكُلِّ شَيۡءٖ قَدۡرٗا
اور اسے ایسی جگہ سے روزی عطا فرماتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔ اور جو شخص اللہ پر توکل کرے تو اللہ اس کے امر کی کفایت کرتا ہے۔ اللہ اپنے امر کو انجام تک پہنچا کر رہتا ہے۔لیکن اللہ نے ہر چیز کے لئے اندازہ مقرر کر دیا ہے۔

تفسیر صلح یا خدا پسند اعلیٰحدگی

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

طلاق سے مربُوط مباحث جو گزشتہ آیات میں آئے ہیں ان کو جاری رکھتے ہُوئے پہلی زیر بحث آیت میں چند مزید احکام کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے پہلے فرماتا ہے: "جب ان کی عدّت کی مدّت آخر کو پہنچ جائے تو انہیں شائستہ طور پر، رجوع کے طریق سے، روک لو یا شائستہ طور پر، رجوع کے طریق سے، روک لو یا شائستہ طور پر ان سے الگ ہو جاؤ۔" (فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ)۔ "بلوغ اجل" (مدّت کے آخر کو پہنچنے) سے مُراد یہ نہیں ہے کہ عدت کی مدت پُورے طور پر ختم ہو جائے بلکہ مُراد مدّت کا آخری دنوں تک پہنچنا ہے۔ ورنہ عدّت کے ختم ہو جانے پر رجُوع کرنا جائز ہی نہیں ہے۔ مگر یہ کہ انہیں روک رکھنا عقدِ جدید کے صیغہ کے ذریعہ ہو، لیکن یہ معنی آیت سے بہت بعید نظر آتا ہے۔ بہرحال اس آیت میں ازدواجی زندگی سے مربُوط ایک اہم ترین اور مناسب ترین حکم پیش ہوا اور وہ یہ ہے کہ عورت اور مرد یا تو شائستہ طور پر آپس میں زندگی بسر کریں یا پھر شائستہ طریقے سے ایک دوسرے سے جُدا ہو جائیں۔ جس طرح مشترک زندگی کو صحیح اصول، انسانی طرز اور شائستہ اور مناسب طور پر ہونا چاہیے۔ اسی طرح سے جدائی بھی ہر قسم کے نزاع اور جھگڑے، بدگوئی اور ناسزا کہنے، ظلم و ستم اور حقوق ضائع کرنے سے خالی ہونی چاہیے۔ اہم بات یہ ہے کہ جس طرح تعلقات صلح صفائی کے ساتھ انجام پائیں اسی طرح علیٰحدگیاں بھی افہام و تفہیم کے ساتھ ہوں۔ کیونکہ ممکِن ہے یہ مرد اور عورت مستقبل میں دوبارہ مشترک زندگی کی سوچ لیں لیکن جُدائی کے وقت بدسلوکیاں ان کی فکری فضا کو اس طرح سے تیرہ و تاریک بنا دیتی ہیں کہ بازگشت کی راہ ان کے لیے بند کر دیتی ہیں اور بالفرض اگر وہ نئے سرے سے ازدواج کرنا بھی چاہیں تو مناسب فکری اور عاطفی ذریعہ موجود نہیں ہوتا۔ دوسری طرف آخر وہ مسلمان ہیں اور ایک ہی معاشرے سے تعلّق رکھتے ہیں، لہٰذا مخاصمت اور ناشائستہ طریقے سے جدائی نہ صرف انہیں میں اثر انداز ہو گی، بلکہ دونوں کے خاندانوں میں بھی نقصان وہ اثرات چھوڑے گی۔ اور بعض حالات میں آئندہ کے لیے بھی ان کی ہمکاریوں کا سلسلہ کلّی طور پر برباد کر دے گی۔ واقعاً یہ کتنی اچھی بات ہے کہ نہ صرف ازدواجی زندگی میں بلکہ ہر قسم کی دوستی اور مشترک عمل میں بھی جہاں تک ہو سکے، انسان شائستہ اور مناسب ہمکاری کو جاری رکھے۔ اگر ایسا نہ ہو سکے تو پھر شائستہ طور پر جدا ہو جائے، کیونکہ شائستہ طور پر جُدائی بھی طرفین کے لیے ایک قسم کی کامیابی اور موفقیت ہے۔ ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے اس سے معلوم ہو گیا کہ "امساک بمعروف" اور "فراق بہ معروف" وسیع معنی رکھتے ہیں۔ یہ ہر قسم کے واجب و مستحب شرائط اور اخلاقی کاموں کو اپنے اندر لیے ہُوئے ہیں اور اِسلامی و اخلاقی آداب کے ایک مجموعہ کو ذہن میں مجسّم کرتے ہیں۔ اس کے بعد دُوسرے حکم کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے مزید کہتا ہے: "تم طلاق اور جدائی کے وقت اپنے (مُسلمانوں) میں سے شاہد گواہ بنا لو": (وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ)۔ تاکہ اگر آئندہ کوئی اختلاف پیدا ہو جائے تو طرفین میں سے کوئی انکار نہ کر سکے۔ بعض مفسّرین نے یہ احتمال دیا ہے کہ گواہ بنانا طلاق کے سلسلہ میں اور رجوع کرنے کے سلسلہ میں بھی ہے۔ لیکن چونکہ رجوع بلکہ تزویج کے وقت بھی گواہ بنانا قطعاً واجب نہیں ہے، لہٰذا اس بناء پر اگر ہم فرض کر بھی لیں کہ اوپر والی آیت رجوع کو بھی شامل ہے تو یہ اِس سلسلہ میں مستحبی حکم ہو گا۔ تیسرے حکم میں گواہ ہوں کی ذمّہ داری کو اس طرح بیان کرتا ہے: "شہادت کو خدا کے لیے قائم کرو۔" (وَأَقِيمُوا الشَّهَادَةَ لِلَّهِ)۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا دونوں میں سے کسِی ایک طرف قلبی میلان، حق کی شہادت سے مانع ہو جائے۔ لہٰذا رضائے خُدا اور حق کو قائم کے سوا اور کسِی چیز کو اس میں راہ نہیں پانا چاہیے۔ یہ ٹھیک ہے کہ گواہوں کو عادل ہونا چاہیے، لیکن عدالت کے باوجود بھی گناہ کا صدُور محال نہیں ہے۔ اِس بناء پر انہیں خبردار کرتا ہے کہ وہ اپنے نگران ہوں اور جان بوجھ کر یا نادانستہ طور پر حق کی راہ سے مُنحرف نہ ہوں۔ ضمناً "ذوی عدل منکم" کی تعبیر اس بات کی دلیل ہے کہ دونوں گواہ مُسلمان، عادل اور مرد ہونے چاہئیں۔ آیت کے آخر میں تاکید کے عنوان سے تمام گزشتہ احکام کے متعلق مزید کہتا ہے: "صرف وہ لوگ جو خُدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں، اس وعظ و نصیحت سے سبق حاصل کرتے ہیں۔" (ذَلِكُمْ يُوعَظُ بِهِ مَن كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ)۔ بعض ذالکم کو صرف خدا کی طرف توجّہ کرنے اور گواہوں کی طرف سے عدالت کی رعایت کرنے کے مسئلہ کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ تعبیر ایک وسیع معنی رکھتی ہے اور طلاق کے بارے میں گزشتہ تمام مسائل کو اپنے اندر لیے ہُوئے ہے۔ بہرصُورت یہ تعبیر ان احکام کی حد سے زیادہ اہمیّت کی دلیل ہے، اِس طرح کہ اگر کوئی شخص ان کی رعایت نہیں کرتا اور ان سے وعظ و نصیحت حاصِل نہیں کرتا تو گویا وہ خدا اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا۔ چُونکہ بعض اوقات آئندہ کی معیشت اور زندگی سے مربُوط مسائل یا دوسری گھریلو مجبوریاں، اس بات کا سبب بن جاتی ہیں کہ میاں بیوی طلاق کے وقت یا رجوع کے وقت یا دونوں گواہ شہادت دینے کے وقت حق و عدالت کی راہ سے منحرف ہو جائیں۔ لہٰذا آیت کے آخر میں فرماتا ہے: "جو شخص خُدا سے ڈرے اور گناہ کو ترک کر دے تو خُدا اس کے لیے نجات کی راہ قرار دے دیتا ہے اور اس کی زندگی کی مشکلات کو حل کر دیتا ہے۔" (وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا)۔ "اور اس کو ایسی جگہ سے جس کا اُسے گمان بھی نہ ہو گا روزی دے گا۔" (وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ)۔ "اور جو شخص خدا پر توکّل کرے اور اپنا امر اس کے سپرد کر دے تو خدا اس کی کفایت کرتا ہے۔" (وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ)۔ "کیونکہ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کا فرمان ہر چیز میں نافذ ہے۔ اور جس کام کا وہ ارادہ کرے اُسے انجام دے دیتا ہے۔" (إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ)۔ "لیکن خُدا نے ہر کام اور ہر چیز کے لیے ایک اندازہ اور حساب قرار دیا ہے۔" (قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا)۔ اِس طرح سے وہ مردوں، عورتوں اور گواہوں کو خبردار کرتا ہے کہ وہ حق کی مشکلات سے نہ گھبرائیں اور عدالت کو جاری کریں۔ پھر اپنے مشکل کاموں کی کشائش خُدا سے چاہیں کہ خدا نے یہ ضمانت لی ہے، کہ وہ پرہیزگاروں کی مشکل کو حل کرے گا اور انہیں ایسی جگہ سے روزی دے گا جہاں سے خود انہیں بھی گمان نہیں ہو گا۔ خدانے ضمانت دی ہے کہ جو توکّل کرے گا وہ مصیبت میں گرفتار نہیں رہے گا، اور خدا اس ضمانت کے ادا کرنے پر قادر ہے۔ یہ صحیح ہے کہ یہ آ یات طلاق اور اس سے مربُوط احکام کے سلسلہ میں نازل ہُوئی ہیں، لیکن ان کا مضمون وسیع ہے جو دیگر موارد کو بھی شامل ہے۔ یہ خدا کی طرف سے تمام پرہیزگاروں اور توکّل کرنے والوں کے لیے ایک امید بخش وعدہ ہے کہ انجام کار لطفِ الہٰی انہیں اپنی پناہ میں لے لے گا، انہیں مشکلات کے پیچ و خم سے گزار دے گا، سعادت کے تانباک افق کی طرف ان کی رہنمائی کرے گا، معیشت کی سختیوں کو برطرف کر دے گا اور مشکلات کے تیرہ و تاریک بادلوں کو ان کی زندگی کے آسمان سے ہٹا دے گا۔ " قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا" کا جملہ اس نظام کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے جو عالمِ تشریع و تکوین پر حاکم ہے۔ یعنی یہ احکام جو خدا نے طلاق وغیرہ کے بارے میں صادر فرمائے ہیں سب کے سب ایک حساب اور دقیق حکیمانہ اندازے کے مطابق ہیں۔ اسی طرح سے وہ مشکلات جو انسان کی زندگی میں ازدواجی مسئلہ میں یا کسِی اور مسئلہ میں رُونما ہوں، ان میں سے ہر ایک کا اندازہ و حساب اور مصلحت و اختتام ہوتا ہے۔ انہیں حوادث کے ظاہر ہونے پر گھبرانا نہیں چاہیے اور زبان پر گلہ اور شکوہ کے الفاظ نہیں لانے چاہئیں۔ نیز مشکلات کے حل کے لیے خلاف تقوٰی اُمور سے متوسّل نہیں ہونا چاہیے، بلکہ تقوٰی اور خود داری کے ساتھ ان سے جنگ کرنی چاہیے اور ان کا حل خدا سے طلب کرنا چاہیے۔

چند نکات ١: مشکلات سے نجات اور تقوٰی

اوپر والی آیات قرآنی مجید کی سب سے زیادہ امّید دلانے والی آیات ہیں۔ ان کی تلاوت دل کو صفائی اور رُوح کو نور و روشنی بخشتی ہے۔ یہ تلاوت یاس و نا اُمید ی کے پردوں کو چاک کر دیتی ہے، دل میں اُمید کی حیات بخش شعاعیں چمکاتی ہے اور تمام پرہیزگار اور باتقوٰی افراد کو نجات اور حل مشکلات کا وعدہ دیتی ہے۔ ایک حدیث میں ابو ذر غفاری سے نقل ہُوا ہے کہ پیغمبرؐ نے فرمایا: "انی لاعلم اٰیة لو اخذ بھا الناس لکفتھم و من یتق اللہ یجعل لہ مخرجاً۔.. فما زال یقولھا و یعیدھا۔" "میں ایک ایسی آ یت کو پہچانتا ہُوں کہ اگر تمام انسان اس کے دامن کو تھام لیں تو وہ ان کی مشکلات کے حل کے لیے کافی ہے۔" اس کے بعد آپؐ نے آیت "وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ" کی تلاوت فرمائی اور اس کی بار بار تکرار فرماتے رہے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد١٠، صفحہ ٣٠٦)۔ ایک اور حدیث میں رسُولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے نقل ہُوا ہے کہ آپ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: "من شبھات الدّنیا و من غمرات الموت و شدائدیوم القیامة۔" "خدا پرہیزگاروں کو دُنیا کے شبہات، موت کی سختی اور روزِ قیامت کے شدائد سے رہائی بخشے گا۔" (بحوالہ: نورالثقلین، جلد٥، صفحہ حدیث ٤٤)۔ یہ تعبیر اس بات کی دلیل ہے کہ اہل تقوٰے کے لیے اُمور کی کشائش دنیا میں ہی منحصر نہیں بلکہ قیامت کو بھی شامل ہے۔ ایک اور حدیث میں بھی آ نحضرتؐ سے آیا ہے: "مَن اَکثرَ الاستغفارَ جعلہ اللہ لہ من کل ھمّ فرجاً و من کل ضیق مخرجاً۔" "جو شخص کثرت سے استغفار کرے گا (اور لوحِ دل کو گناہوں کے زنگ سے دھوئے گا) تو خُدا اس کے لیے ہر غم و اندوہ سے کشائش اور ہر تنگی سے نجات کی راہ قرار دے گا۔" (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ٥، صفحہ ٣٥٧، حدیث ٤٥)۔ مفسّرین کی ایک جماعت نے کہا ہے کہ اُوپر والی پہلی آیت عوف بن مالک کے بارے میں نازل ہُوئی ہے جو اصحابِ پیغمبر میں سے تھا اور دشمنانِ اِسلام نے اس کے بیٹے کو قید کر لیا تھا۔ وہ پیغمبرؐ کی خدمت میں آیا، اس واقعے اور فقر و فاقہ، نیز تنگدستی کی شکایت کی۔ آپ نے فرمایا تقوٰی اختیار کر، صبر کر، اور لاحول ولا قوّة الا باللہ کا بہت زیادہ ذکر کیا کر۔ اس نے اس کام کو انجام دیا تو اچانک جبکہ وہ اپنے گھر میں بیٹھا ہُوا تھا اس کا بیٹا دروازے سے اندر آیا معلوم ہوا کہ وہ دشمن کی غفلت کے ایک لمحہ سے فائدہ اُٹھا کر بھاگ آیا ہے، یہاں تک کہ دشمن کا اونٹ بھی اپنے ساتھ لے آیا ہے۔ یہ وہ مقام تھا جس پر اوپر والی آیت نازل ہوئی اور اس باتقوٰی شخص کی مشکِل کی کشائش اور جہاں سے توقع نہیں تھی وہاں سے روزی کی خبر دی۔ (تشریحی نوٹ: مجمع البیان، جلد١٠، صفحہ ٣٠٦ یہی ماجرا "تفسیر فخر رازی" اور رُوح البیان میں بھی تھوڑے سے فرق کے ساتھ آیا ہے اور بعض نے ایک سو اونٹ کی تعداد لکھی ہے)۔ اِس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ آیت کا مفہوم ہرگز یہ نہیں ہے کہ انسان سعی و کوشش کو بالکل ہی ترک کر دے اور یہ کہے کہ میں گھر میں بیٹھ جاؤں گا، تقوٰی اختیار کروں گا اور لاحول ولا قوّة الا باللہ کا ذکر کروں گا یہاں تک کہ جہاں سے مجھے گُمان بھی نہیں ہے میری روزی پہنچ جائے گی۔ نہیں! آیت کا یہ مفہوم ہرگز نہیں ہے، تقوٰی و پرہیزگاری کا مقصد سعی و کوشش کے ساتھ ہے۔ اگر اس حالت میں انسان پر دروازے بند ہوں گے تو خُدا نے ان کے کھولنے کی ضمانت لی ہے۔ اسی لیے ایک حدیث میں آیا ہے کہ امام صادق علیہ السلام کا صحابی عمر بن مسلم ایک مُدّت تک آپ کی خدمت میں نہ آیا۔ حضرت نے اس کے حالات دریافت فرمائے تو لوگوں نے بتلایا کہ اس نے تجارت چھوڑ دی، اور عبادت کی طرف رُخ کر لیا ہے۔ آپ نے فرمایا: وائے ہو اس پر: "اما علم ان تارک الطلب لایستجاب لہ۔" "کیا وہ یہ نہیں جانتا کہ جو شخص سعی و کوشش اور روزی طلب کرنے کو ترک کر دے تو اس کی دُعا قبول نہیں ہوتی۔" اس کے بعد مزید فرمایا: "اصحابِ رسول میں سے ایک جماعت نے جب آیت " وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ" نازل ہوئی تو اپنے دروازے بند کر لیے، عبادت میں مصروف ہو گئے، اور انہوں نے کہا: خُدا نے ہماری روزی کا ذمّہ لے لیا ہے۔" اس واقعہ کی اطلاع پیغمبرؐ کو ہُوئی تو آپ نے کسِی کو ان کے پاس بھیج کر بُلوایا اور اُن سے کہا: تم نے ایسا کیوں کہا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: یا رسولؐ اللہ چُونکہ خدا ہماری روزی کا کفیل ہو گیا ہے لہٰذا ہم عبادت میں مشغول ہو گئے ہیں۔ پیغمبرؐ نے فرمایا: "انہ من فعل ذالک لم یستجب لہ، علیکم بالطلب۔" "جو شخص ایسا کرے گا اس کی دُعا قبول نہیں ہو گی۔ تم پر لازم ہے کہ سعی و کوشش اور جدّ و جہد کرو۔" (بحوالہ: "کافی" مُطابق نقل نور الثقلین، جلد٥، صفحہ ٣٥٤ (حدیث ٣٥))۔

٢: روحِ توکّل

خدا پر توکّل کرنے سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے کام کی سعی و کوشش کو اس کے سپرد کر دے اور اپنی مشکلات کا حل اسی سے چاہے۔ وہ خدا جو اس کی تمام احتیاجات سے آگاہ ہے، وہ خدا جو اس کے بارے میں رحیم و مہربان ہے، اور وہ خُدا جو ہر مشکل کو حل کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ اب جو شخص روحِ توکل کا حامل ہے، وہ ہرگز یاس و نا امیدی کو اپنے پاس پھٹکنے نہیں دیتا۔ مشکلات کے مقابلہ میں ضعف و زبوں حالی کا احساس نہیں کرتا اور سخت حوادث کے مقابلے میں ڈٹا رہتا ہے۔ اس کا یہی علم و عقیدہ اسے ایسی رُوحانی طاقت دیتا ہے۔ جس سے وہ مشکلات پر غلبہ حاصل کر سکتا ہے۔ دوسری طرف سے غیبی امدادیں کہ توکّل کرنے والوں کو جن کی خوشخبری دی گئی ہے، وہ اس کی مدد کو آ جاتی ہیں اور اُسے شکست و ناتوانی سے نجات بخشتی ہیں۔ ایک حدیث میں پیغمبر گرامیؐ سے آیا ہے کہ آپ نے فرمایا: میں نے خدا کی وحی پہنچانے والے فرشتے جبرئیل سے پوچھا: توکّل کیا ہے؟ تو اس نے کہا: العلم بان المخلوق لا یضر و لا ینفع، و لا یعطی و لا یمنع، و استعمال الیأس من الخلق، فاذا کان العبد کذالک لم یعمل لاحد سوی اللہ و لم یرج و لم یخف سوی اللہ و لم یطمع فی احد سوی اللہ فھٰذا ھو التوکل۔" "توکل کی حقیقت یہ ہے کہ انسان یہ جان لے کہ مخلوق نہ نقصان پہنچا سکتی ہے، نہ ہی نفع، نہ کچھ عطا کر سکتی ہے، نہ روک سکتی ہے۔ مخلوق سے کوئی اُمید نہ رکھنا (اور خدا ہی سے لَو لگانا) جس وقت ایسا ہو جائے گا تو پھر انسان خدا کے علاوہ کسِی کے لیے کام نہیں کرتا اور اس کے غیر سے اُمید نہیں کرتا، نہ اس کے غیر سے ڈرتا ہے اور نہ ہی اس کے علاوہ کسِی اور کے ساتھ دل لگاتا ہے، یہ ہے توکّل کی روح۔ (بحوالہ: بحار الانوار، جلد٦٩، صفحہ ٣٧٣، حدیث ١٩)۔ اس عمیق مضمون کے ساتھ، توکّل انسان کو ایک نئی شخصیّت بخشتی ہے، اور اس کے تمام اعمال میں اثر پیدا کرتی ہے۔ اسی لیے ایک حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبراکرمؐ نے شب معراج بارگاہِ خداوندی میں سوال کیا: پروردگارا: ای الاعمال افضل؟ "کون سا عمل سب سے افضل و برتر ہے"؟ خداوند متعال نے فرمایا: "لیس شیء عندی افضل من التوکل علیّ و الرضا بما قسمت" "میرے نزدیک مجھ پر توکّل کرنے اور جو کچھ میں نے تقسیم کیا ہے اس پر راضی رہنے سے افضل و برتر کوئی چیز نہیں ہے۔" (بحوالہ: بحار الانوار، جلد٦٩، صفحہ ٣٧٣، حدیث ١٩)۔ یہ بات واضح ہے کہ اس معنیٰ میں توکّل ہمیشہ جہاد اور سعی و کوشش کے ساتھ ہوتی ہے۔ سُستی اور ذمّہ داریوں سے فرار کے ساتھ نہیں ہوتی۔ ہم نے اس سلسلہ میں تفسیر نمونہ کی جلد ٦ میں (سورۂ ابراہیم کی آیت ١٢ کے ذیل میں ایک اور تشریح بھی پیش کی ہے۔

4
65:4
وَٱلَّـٰٓـِٔي يَئِسۡنَ مِنَ ٱلۡمَحِيضِ مِن نِّسَآئِكُمۡ إِنِ ٱرۡتَبۡتُمۡ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَٰثَةُ أَشۡهُرٖ وَٱلَّـٰٓـِٔي لَمۡ يَحِضۡنَۚ وَأُوْلَٰتُ ٱلۡأَحۡمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعۡنَ حَمۡلَهُنَّۚ وَمَن يَتَّقِ ٱللَّهَ يَجۡعَل لَّهُۥ مِنۡ أَمۡرِهِۦ يُسۡرٗا
تمہاری عورتوں میں سے جو ماہانہ عادت سے ناامید ہیں، اگر تمہیں ان کی وضع میں (حاملہ ہونے کے لحاظ سے) شک ہو تو ان کی عدت تین ماہ ہے اور اسی طرح وہ عورتیں جنہوں نے ابھی ماہانہ عادت نہیں دیکھی ہے۔ اور حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ وہ وضع حمل کریں۔ اور جو شخص تقویٰ اختیار کرے گا، اللہ اس پر کام آسان کر دے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
65:5
ذَٰلِكَ أَمۡرُ ٱللَّهِ أَنزَلَهُۥٓ إِلَيۡكُمۡۚ وَمَن يَتَّقِ ٱللَّهَ يُكَفِّرۡ عَنۡهُ سَيِّـَٔاتِهِۦ وَيُعۡظِمۡ لَهُۥٓ أَجۡرًا
یہ اللہ کا فرمان ہے جو اس نے تم پر نازل کیا ہے اور جو شخص تقویٰ اختیار کرے گا تو اللہ اس کے گناہوں کو بخش دے گا اور اس کے اجرو ثواب کو بڑھا دے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
65:6
أَسۡكِنُوهُنَّ مِنۡ حَيۡثُ سَكَنتُم مِّن وُجۡدِكُمۡ وَلَا تُضَآرُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُواْ عَلَيۡهِنَّۚ وَإِن كُنَّ أُوْلَٰتِ حَمۡلٖ فَأَنفِقُواْ عَلَيۡهِنَّ حَتَّىٰ يَضَعۡنَ حَمۡلَهُنَّۚ فَإِنۡ أَرۡضَعۡنَ لَكُمۡ فَـَٔاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ وَأۡتَمِرُواْ بَيۡنَكُم بِمَعۡرُوفٖۖ وَإِن تَعَاسَرۡتُمۡ فَسَتُرۡضِعُ لَهُۥٓ أُخۡرَىٰ
جہاں تم سکونت رکھتے ہو اور جو تمہارے اختیار میں ہے، وہاں ان (مطلقہ عورتوں ) کو سکونت دو، اور انہیں ضرر نہ پہنچاؤ کہ معاملے کو ان پر تنگ نہ کردو ( اور وہ گھر چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں ) اور اگر وہ حاملہ ہوں تو ان کو نفقہ دو یہاں تک کہ وہ وضع حمل کریں اور اگر و ہ تمہارے بچے کو دودھ پلائیں تو تم اس کی اجرت دو اور بچوں کے بارے میں معاملے کوشا ئستہ مشورے کے ذریعے انجام دو، اور اگر تم میں باہم موافقت نہ ہو تو بچے کو دودھ پلانے کا کام دوسری عورت اپنے ذمہ لے گی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
65:7
لِيُنفِقۡ ذُو سَعَةٖ مِّن سَعَتِهِۦۖ وَمَن قُدِرَ عَلَيۡهِ رِزۡقُهُۥ فَلۡيُنفِقۡ مِمَّآ ءَاتَىٰهُ ٱللَّهُۚ لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفۡسًا إِلَّا مَآ ءَاتَىٰهَاۚ سَيَجۡعَلُ ٱللَّهُ بَعۡدَ عُسۡرٖ يُسۡرٗا
جن لوگوں کے پاس وسیع ذرائع و وسائل ہیں وہ تو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کریں۔ لیکن جو تنگ دست ہیں تو جو کچھ اللہ نے انہیں دیا ہے وہ اس میں سے خرچ کریں اللہ کسی شخص کو اس توانائی سے زیادہ جو اس نے اسے دی ہے، تکلیف نہیں دیتا۔ اللہ عنقریب سختی کے بعد آسانی قرار دے گا۔

تفسیر مطلقہ عورتوں کے احکام اور ان کے حقوق

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

منجملہ ان احکام کے جو گزشتہ آیات سے معلُوم ہُوئے ہیں، طلاق کے بعد عدّت پوری کرنے کا ضروری ہونا ہے۔ چُونکہ سورۂ بقرہ کی آیت ٢٢٨ میں عدّت کے مسئلہ میں ان عورتوں کا حکم واضح ہو گیا ہے جو ماہانہ عادت دیکھتی ہیں کہ انہیں تین بار پاکیزہ ہو کر ماہانہ عادت دیکھنی چاہیے۔ جب وہ تیسری مرتبہ ماہانہ عادت میں وارد ہوں تو ان کی عدّت ختم ہو جائے گی، لیکن انہیں میں سے کچھ ایسی عورتیں بھی ہیں جو کئی اسباب کی بنا پر ماہانہ عادت نہیں دیکھتیں یا وہ حاملہ ہوتی ہیں، تو اوپر والی آیات ان عورتوں کے حکم کو واضح کرتے ہُوئے عدّت کی بحث کی تکمیل کر رہی ہیں۔ پہلے فرماتا ہے: تمہاری عورتوں میں سے جو ماہانہ عادت سے نا امید ہو گئی ہیں اگر ان کی وضع و کیفیّت میں (حاملہ ہونے کے لحاظ سے) شک کرو تو ان کی عدّت تین ماہ ہے۔ (وَ اللاَّئی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحیضِ مِنْ نِسائِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلاثَةُ أَشْہُرٍ)۔ اور اسی طرح سے وہ عورتیں بھی جنہوں نے ماہانہ عادت دیکھی ہی نہیں وہ بھی تین ماہ عدّت رکھیں (وَ اللاَّئی لَمْ یَحِضْن)۔ اس کے بعد تیسرے گروہ کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے مزید کہتا ہے: "حاملہ عورتوں کی عدّت یہ ہے کہ وہ وضع حمل کریں۔" (وَ أُولاتُ الْأَحْمالِ أَجَلُہُنَّ أَنْ یَضَعْنَ حَمْلَہُن)۔ اِس طرح سے اوپر والی آیت میں عورتوں کے دُوسرے تین گروہوں کے لیے حکم مشخّص ہو گیا ہے۔ یعنی دو گروہوں کو تو تین ماہ تک عدّت رکھنی چاہیے اور تیسرے گروہ، یعنی حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل کے ساتھ ہی ختم ہو جاتی ہے چاہے وہ طلاق کے ایک لمحہ بعد یا آٹھ ماہ بعد وضع حمل کریں۔ "ان ارتبتمّ" (اگر تمہیں شک اور تردّد ہو) کے جُملہ سے کیا مراد ہے؟ اس بارے میں تین احتمال بیان کیے گئے ہیں: ١: اس سے مراد وجود "حمل" میں احتمال اور شک ہے، اِس معنی میں کہ اگر سِن یاس (عام عورتوں میں پچاس سال کے سِن اور قرشی عورتوں میں ساٹھ سال کے سِن)کے بعد کسِی عورت میں وجود حمل کا احتمال ہو تو اُسے عدّت گزارنی چاہیے۔ اگرچہ اس بات کا بہت کم اتفاق ہوتا ہے، لیکن بعض اوقات ایسا ہُوا ہے۔ (توجّہ رہے کہ روایات اور کلمات فقہا میں لفظ "ربیبة" حمل میں شک کے معنی میں بارہا آیا ہے) (بحوالہ: 'جواہر' جلد ٣٢، صفحہ ٢٤٩ "وسائل الشیعہ" جلد ١٥، باب ٤، از ابواب عدد، حدیث ٧)۔ ٢: ایسی عورتیں مُراد ہیں جن کے بارے میں ٹھیک طرح سے معلوم نہ ہو کہ سِن یا س کو پہُنچی ہیں کہ نہیں۔ ٣: اس مسئلہ کے حکم میں شک اور تردّد مراد ہے۔ اِس بناء پر آیت یہ کہتی ہے کہ اگر تم حکم خدا کو نہیں جانتے تو وہ یہ ہے کہ اس قسم کی عورتیں عدّت گزاریں۔ لیکن ان تمام تفاسیر میں سے پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔ کیونکہ والّی یئسن کے جملہ کا ظاہر یہ ہے کہ یہ عورتیں سِن یاس کو پہنچ گئی ہیں۔ ضمناً جب عورتوں کی ماہانہ عادت بیماریوں یا دُوسرے عوامل کی بناء پر منقطع ہو جائے تو وہ اس حکم کی مشمول ہیں یعنی انہیں چاہیے کہ تین ماہ تک عدّت گزاریں۔ (اس حکم کو قاعدۂ اولیّت کے طریق سے یا لفظ آیت کے مشمول سے معلوم کیا جا سکتا ہے)۔ (تشریحی نوٹ: البتّہ فقہاء کے درمیان مشہور یہ ہے کہ عورت جب سِن یاس کو پہنچ جائے تو اس کی عدت بالکل نہیں، لیکن اس قول کے مُقابلہ میں علماءِ قدیم کی ایک تھوڑی سی تعداد عدّت کی قائل ہے۔ اور بعض روایات بھی اس پر شاہد ہیں۔ اگرچہ دوسری روایات اس سے معارضہ کرتی ہیں جو بات اوپر والی آیت کے ظاہر سے موافق ہے وہ یہ ہے کہ احتمالِ حمل کی صورت میں وہ عدت رکھتی ہیں۔ اس موضوع کی مزید تشریح فقہی کتابوں میں دیکھنی چاہیے)۔ "واللائی لم یحضن" (وہ عورتیں جنہوں نے ماہانہ عادت نہیں دیکھی) کا جملہ ممکن ہے اِس معنی میں ہو کہ وہ سن بلوغ کو پہنچ گئی ہیں لیکن ابھی ماہانہ عادت شروع نہیں ہُوئی۔ اس صورت میں بلاشک و شبہ انہیں تین ماہ تک عدت گزارنی چاہیئے۔ ایک اور احتمال جو علماء نے آیت کی تفسیر میں دیا وہ یہ ہے کہ اس سے مراد وہ تمام عورتیں ہیں جو ماہانہ عادت نہیں دیکھیتں، چاہے وہ سن بلوغ تک پہنچی ہوں یا نہ پہنچی ہوں۔ لیکن ہمارے فقہاء کے درمیان مشہور یہ ہے کہ اگر عورت سن بلوغ کو نہ پہنچی ہو تو طلاق کے بعد اس کی عدت نہیں ہے، لیکن اس مسئلہ کے مخالف بھی ہیں جنہوں نے اس سلسلے میں بعض روایات سے استدلال کیا اور اوپر والی آیت کا ظاہر بھی ان کے موافق ہے۔ (اس مسئلہ کی مزید تشریح کا بھی فقہ کی کتابوں میں مطالعہ کرنا چاہیئے)۔ (بحوالہ: "جواہر الکلام" جلد ٣٢، صفحہ ٢٣٢، اور فقہ کی دوسری کتابیں)۔ وہ شان نزول جو آخری جُملوں کے لیے بیان کی گئی ہے۔ اِس سے بھی اوپر والی تفسیر ہی صحیح معلوم ہوتی ہے۔ شان نزُول یہ ہے کہ ابی بن کعب نے حضرت رسولؐ سے عرض کیا کہ بعض عورتوں کی عدّت قرآن میں نہیں آئی ہے، ان میں غیر بالغ لڑکیاں، کبیرہ (یائسۂ) عورتیں اور حاملہ عورتیں ہیں۔ تو اوپر والی آیت نازل ہُوئی اور ان کے احکام بیان کیے گئے۔ (بحوالہ: کنز العرفان، جلد٢، صفحہ ٢٦٠)۔ عدّت اس صورت میں ہے کہ اس بارے میں حمل کا احتمال ہو، کیونکہ اوپر والی آیت میں یائسہ عورتوں پر عطف ہُوا ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ دونوں کا حکم یکساں ہے۔ (تشریحی نوٹ: مرحوم طبرسی مجمع البیان میں کہتے ہیں: "تقدیرہ واللائی لم یحضن ان ارتبتم فعدتھن ایضا ثلاثة اشھر")۔ پھر آیت کے آخر میں نئے سرے سے مسئلہ تقوٰی پر تکیہ کرتے ہُوئے فرماتا ہے: اور جو شخص تقوائے الہٰی اختیار کرے گا، خدا معاملے کو اس پر آسان کر دے گا (وَ مَنْ یَتَّقِ اللَّہَ یَجْعَلْ لَہُ مِنْ أَمْرِہِ یُسْراً)۔ وہ اس کی مشکلات کو اس جہان میں اور دوسرے جہان میں بھی چاہے وہ علیٰحدگی، مسئلہ طلاق اور اس کے احکام سے مربُوط ہوں اور چاہے دوسرے مسائل سے تعلّق رکھتی ہوں، اپنے لطف و کرم سے حل کر دے گا۔ نیز بعد والی آیة میں تاکید کے لیے ان احکام کے بارے میں جو طلاق اور عدّت کے سلسلہ میں گزشتہ آیات میں آئے ہیں، مزید کہتا ہے: یہ خدا کا حکم ہے جسے اس نے تم پر نازل کیا ہے۔" (ذلِکَ أَمْرُ اللَّہِ أَنْزَلَہُ ِالیْکُم)۔ "اور جو شخص تقوائے الہٰی اختیار کرے گا اور اس کے فرمان کی مخالفت سے پرہیز کرے گا خدا اس کے گناہوں کو بخش دے گا۔ اور اس کے اجر و ثواب کو بہُت بڑھا دے گا۔" (وَ مَنْ یَتَّقِ اللَّہَ یُکَفِّرْ عَنْہُ سَیِّئاتِہِ وَ یُعْظِمْ لَہُ أَجْراً)۔ بعض مفسّرین نے کہا ہے کہ یہاں 'سیئات' سے مُراد گناہانِ صغیرہ ہیں اور تقوٰی سے مُراد گناہان کبیرہ سے پرہیز ہے۔ اور اس طرح کبائر سے پرہیز صغائر کے بخشے جانے کا سبب بن جاتا ہے۔ یہ بات اس کے مشابہ ہے جو سورۂ نساء کی آ یت ٣١ میں بیان ہُوئی ہے، اس گفتگو کا لازمہ ہے کہ طلاق اور عدت کے سلسلہ میں گزشتہ احکام کی مخالفت گناہانِ کبیرہ میں شمار ہوتی ہے۔ (بحوالہ: المیزان، جلد١٩، صفحہ ٣٦٧)۔ البتّہ یہ درست ہے کہ بعض اوقات 'سیئات' صغیرہ گناہوں کے معنی میں بھی آیا ہے لیکن قرآنِ مجید کی بہت سی آیات میں تمام گناہوں کے لیے چاہے وہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ لفظ سیئات کا اطلاق ہُوا ہے۔ مثلاً سورہ مائدة کی آیت ٦٥ میں آیا ہے: وَ لَوْ أَنَّ أَہْلَ الْکِتابِ آمَنُوا وَ اتَّقَوْا لَکَفَّرْنا عَنْہُمْ سَیِّئاتِہِمْ اگر اہل کتاب ایمان لے آئیں اور تقوٰی اختیار کریں تو ہم ان کے تمام گزشتہ گناہوں کو بخش دیں گے (یہ معنی دوسری آیات میں بھی آیا ہے)۔ مُسلّمہ طور پر ایمان اور قبولِ اسلام تمام گزشتہ گناہوں کی بخشش کا سبب ہے۔ بعد والی آیت طلاق کے بعد عورت کے حقوق کے بارے میں مسکن اور نفقہ کے لحاظ سے اور دوسرے جہات سے بھی وضاحت کرتی ہے۔ پہلے مطلقہ عورتوں کے مسکن کی کیفیّت کے بارے میں فرماتا ہے: "جہاں تم سکونت رکھتے ہو اور تمہارے وسائل تقاضا کرتے ہیں انہیں بھی وہیں سکونت دو۔" (أَسْکِنُوہُنَّ مِنْ حَیْثُ سَکَنْتُمْ مِنْ وُجْدِکُمْ)۔ "وجد" (بر وزن حکم) توانائی اور تمکن کے معنی میں ہے۔ بعض مفسّرین نے اس کی اور تفاسیر بھی بیان کی ہیں، جو نتیجہ میں اسی معنی کی طرف لوٹتی ہیں۔ "راغب" بھی مفردات میں یہی کہتا ہے کہ "من وجدکم" کی تعبیر کا مفہوم یہ ہے کہ مطلقہ عورتوں کو اپنی توانائی اور مقدُود کے مطابق رہنے کے لیے مناسب مکان دو۔ فِطری طور پر جب مکان شوہر کے ذمّہ ہے تو باقی اخراجات بھی اسی کے ذمّہ ہوں گے۔ آیت کا اخری حصّہ جو حاملہ عورتوں کے نفقہ کے بارے میں ہے، وہ اسی مدعا پر شاہد ہے۔ اس کے بعد ایک دُوسرے حکم کو پیش کرتے ہُوئے کہتا ہے: "انہیں کوئی نقصان نہ پہُنچاؤ کہ معاملے کو ان پر ایسا تنگ کر دو کہ وہ تمہارے مکان کو چھوڑنے اور نفقہ کو ترک کرنے پر مجبور ہو جائیں۔" (وَ لا تُضآرُّوہُنَّ لِتُضَیِّقُوا عَلَیْہِن)۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کینہ پروری، عداوت اور نفرت تمہیں حق اور عدالت کے راستہ سے مُنحرف کر دے، تم انہیں ان کے مسلّمہ حقوقِ مسکن و نفقہ سے محرُوم کر دو اور ان پر اتنا دباؤ پڑے کہ وہ ہر چیز کو چھوڑ کر نکِل کھڑی ہوں۔ تیسرے حکم میں حاملہ کے بارے میں کہتا ہے: "اور اگر وہ حاملہ ہوں تو جب تک وہ وضع حمل نہ کر لیں ان کے اخراجات دیتے رہو۔" (وَإِن كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ)۔ کیونکہ جب تک انہوں نے وضع حمل نہیں کیا وہ حالتِ عدّت میں ہیں اور ان کا نفقہ اور مسکن شوہر پر واجب ہے۔ چوتھے حکم میں دودھ پلانے والی عورتوں کے حقوق کے بارے میں فرماتا ہے: "اگر وہ علیٰحدگی کے بعد بچّوں کو دودھ پلانے پر رضامند ہو جائیں تو ان کی اُجرت انہیں دے دو۔" (فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ)۔ اتنی اُجرت جو عرف و عادت کے لحاظ سے دودھ پلانے کی مقدار اور وقت کے ساتھ مناسبت رکھتی ہو۔ چونکہ ایسا اکثر ہوتا ہے کہ طلاق کے بعد شوہر اور بیوی میں نوزاد بچّے کے سلسلے میں مصالحت کرنے پر اختلاف پیدا ہو جاتے ہیں، لہٰذا پانچویں حکم میں اس سلسلے میں ایک قاطع حکم صادر فرماتے ہُوئے کہتا ہے: "اولاد کی سرنوشت کے سلسلے میں ایک دوسرے کے مشورے سے شائستہ فیصلہ کرو۔" (وَ أْتَمِرُوا بَیْنَکُمْ بِمَعْرُوف)۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ شوہر اور بیوی کے اختلافات بچوں کے منافع پر ایسی ضرب لگائیں کہ جس سے وہ جسمانی اور ظاہری لحاظ سے خسارے میں گرفتار ہو جائیں یا عاطفی لحاظ سے ضروری محبت اور شفقت سے محروم رہ جائیں۔ والدین کی ذمّہ داری یہ ہے کہ وہ خدا کو نظر میں رکھیں اور دفاع نہ کر سکنے والے نومؤلود کو اپنے اختلافات اور اغراض پر قربان نہ کر دیں۔ "وأتمرو" کا جُملہ "ایتمار" کے مادّہ سے بعض اوقات کسِی دستور کو قبول کرنے اور کبھی مشاورت کے معنی میں آتا ہے۔ اور یہاں دوسرا معنی زیادہ مناسب ہے۔ نیز معروف کی تعبیر بڑی جامع ہے جو ہر قسم کے مشورے کو شامل ہے کہ جس میں خیر و صلاح ہو۔ چونکہ بعض اوقات طلاق کے بعد بچے کے مصالح اور اُسے دُودھ پلانے کے سلسلے میں بیوی اور شوہر میں ضروری اور لازمی موافقت پیدا نہیں ہوتی، لہٰذا چھٹے حکم میں فرماتا ہے: "اور اگر تم ایک دُوسرے کے لیے سخت ہو جاؤ اور موافقت نہ کرو، تو پھر کوئی دوسری عورت بچّے کو دودھ پلانے کی ذمّہ داری لے سکتی ہے۔ تاکہ کشمکش جاری نہ رہے۔" (وَ اِنْ تَعاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَہُ أُخْری)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر اختلافات طول پکڑ جائیں تو اپنے آپ کو مُعطّل نہ رکھو اور بچے کو کسِی دوسری عورت کے سپرد کر دو۔ پہلے درجہ میں تو ماں ہی کا حق تھا کہ وہ اس بچّے کو دودھ پلائے، لیکن جب سخت گیری اور کش مکش کی بناء پر یہ امر امکان پذیر نہیں رہا تو بچے کے منافع کو فراموشی کے سپرد نہیں کرنا چاہیے، لہٰذا اس کی ذمّہ داری کسِی دایہ کے سپرد کر دو۔ بعد والی آیت اس سلسلہ میں ساتویں اور آخری حکم کو بیان کرتے ہُوئے مزید کہتی ہے: "وہ لوگ جو وسیع وسائل رکھتے ہیں وہ اپنے وسائل اور امکانات کے مطابق خرچ کریں، لیکن جو تنگ دست ہیں تو جو کُچھ خدا نے انہیں دے رکھا ہے وہ اس میں سے خرچ کریں۔ خدا کسِی شخص کو اس سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا کہ جو اس کو عطا کیا ہوا ہے¬¬¬¬¬¬¬¬---" (لِیُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِہِ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْہِ رِزْقُہُ فَلْیُنْفِقْ مِمَّا آتاہُ اللَّہُ لا یُکَلِّفُ اللَّہُ نَفْساً اِلاَّ ما آتاھا)۔ کیا یہ حکم، یعنی طاقت کے مطابق خرچ کرنا ان عورتوں سے مربُوط ہے جو طلاق کے بعد بچّوں کو دودھ پلانے کی ذمّہ داری قبول کر لیتی ہیں یا عدّت کے دنوں کے ساتھ مربُوط ہے کہ جس کی طرف گزشتہ آیات میں اجمالی طور پر اشارہ ہوا یا یہ دونوں کے ساتھ مربُوط ہے؟ آخری معنی سب سے مناسب ہے۔ اگرچہ مفسرین کی ایک جماعت اسے صرف دُودھ پلانے والی عورتوں سے مربُوط سمجھتی ہے۔ حالانکہ گزشتہ آیات میں اس بارے میں اجر (اُجرت) کی تعبیر آئی ہے، نفقہ اور انفاق کی تعبیر نہیں آئی۔ بہرحال؛ جن لوگوں میں کافی طاقت اور توانائی ہے انہیں تنگ دلی اور سخت گیری نہیں کرنی چاہیے۔ جن میں کچھ زیادہ مالی طاقت نہیں ہے وہ اپنی توانائی سے زیادہ پر مامور نہیں اور عورتیں ان پر اعتراض نہیں کر سکتیں۔ اِسی طرح جو وسعت رکھتے ہیں انہیں بخل نہیں کرنا چاہیے، اور جو وسعت نہیں رکھتے، وہ ملامت کے لائق نہیں ہیں۔ معیشت کی تنگی لوگوں کے حق و عدالت کے راستہ سے خارج ہونے کا سبب نہ بنے اور کوئی بھی شخص شکایت کے لیے زبان نہ کھولے۔ اس بناء پر آیت کے آخر میں فرماتا ہے: "خدا عنقریب سختی کے بعد راحت اور آسانی قرار دے گا۔" (سَیَجْعَلُ اللَّہُ بَعْدَ عُسْرٍ یُسْراً)۔ یعنی غم نہ کھاؤ، بیتابی نہ کرو، دنیا ایک حالت پر باقی نہیں رہتی۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ منقطع ہو جانے والی اور جلدی سے گزر جانے والی مشکلات تمہارے صبر و شکیبائی کے رشتہ کو توڑ کر پارہ پارہ نہ کر دیں۔ یہ تعبیر ہمیشہ کے لیے، خصوصا ان آیات کے نزول کے وقت کو جب مسلمان معیشت کے لحاظ سخت تنگی میں تھے، صابرین کے مستقبل کی ایک اُمید بخش بشارت ہے، پھر اتفاق سے کچھ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ خدا نے اپنی رحمت و برکت کے دروازے ان پر کھول دیئے۔

چند نکات ١: طلاقِ رجعی کے احکام

ہم بیان کر چکے ہیں کہ طلاق رجعی وہ ہے کہ جس میں شوہر عدت ختم ہونے سے پہلے پہلے جس وقت چاہے رجوع کر سکتا ہے اور میاں بیوی کے رشتہ کو بحال کر سکتا ہے۔ اور اس میں کسِی نئے عقد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ رجُوع کم سے کم بات اور عمل سے بھی حاصل ہو سکتا ہے کہ جو بازگشت کی علامت ہو۔ بعض احکام جو اوپر والی آیات میں بیان کیے گئے ہیں، جیسے نفقد و مسکن کے احکام، وہ طلاقِ رجعی کی عدّت کے ساتھ مخصُوص ہیں۔ اِسی طرح عدّت کی حالت میں عورت کا اپنے شوہر کے گھر سے نہ نکلنے کا مسئلہ بھی ہے۔ لیکن طلاق بائن یعنی وہ طلاق جو قابلِ رجُوع نہیں (مثلاً تیسری طلاق) تو اس میں اوپر والے احکام کا وجود نہیں ہے۔ صرف حاملہ عورت کے بارے میں وضع حمل کے وقت تک نان و نفقہ اور مسکن کا حق ثابت ہے۔ "لا تدری لعل اللہ یحدث بعد ذالک امراً" (تو نہیں جانتا شاید خدا کوئی نئی وضع و کیفیّت پیدا کر دے) کی تعبیر بھی اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ سب یا اوپر والے احکام کا ایک حصّہ طلاق رجعی کے ساتھ مربُوط ہے۔ (تشریحی نوٹ: مزید وضاحت کے لیے فقہ کی کتابوں منجملہ "جواہر الکلام" جلد٣٢، صفحہ ١٢١، کی طرف رجوع کریں۔

٢: خدا طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا

نہ صرف عقل کا حکم یہی ہے، بلکہ حکمِ شریعت بھی اسی مطلب کا گواہ ہے کہ انسانوں کی ذمّہ داریاں ان کی طاقت کے مُطابق ہونی چاہئیں: لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا کا جملہ جو اوپر والی آیات کے ضمن میں آیا ہے اس میں اسی معنی کی طرف اشارہ ہے۔ لیکن بعض روایات میں آیا ہے کہ مَا آتَاهَا سے مُراد ما اعلمھا ہے۔ یعنی ہر شخص پر اتنی ہی ذمّہ داری ڈالتا ہے جتنی اسے تعلیم دی ہے۔ اسی لیے عُلماء نے "علم اصول" میں اصل برأت کے مباحث میں، اس آیت کے ساتھ استدلال کیا ہے کہ اگر انسان کسی حکم کو نہیں جانتا تو وہ اس کے لیے جواب دِہ نہیں ہے۔ لیکن چونکہ عدم آگاہی بعض اوقات عدم توانائی کا سبب بن جاتی ہے، لہٰذا ممکن ہے اس سے مُراد وہ جہالت ہو جو عجز و ناتوانی کا سرچشمہ بنے۔ اس بناء پر ممکن ہے یہ آیت ایک وسیع مفہوم رکھتی ہو کہ جو عدم قدرت کو اور اس جہالت کو بھی شامل ہو، جو کسی کام کے انجام دینے میں میں عدم قدرت کی موجب ہو۔

٣: گھرانے کے نظام کی اہمیّت

وہ باریکی اور عمدگی جس سے مُطلقہ عورتوں کے احکام اور ان کے حقوق بیان کرنے کے سلسلہ میں اوپر والی آیت میں کام لیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ آیات قرآن میں اس مسئلہ کی بہت ساری جزئیات بیان ہوئی ہیں کہ جو حققیقت میں اسلام کا بنیادی قانون ہے، اس اہمیت کی ایک واضح دلیل ہے کہ گھریلو نظام نیز عورتوں اور بچوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے اسلام کا قائل ہے۔ جہاں تک ہو سکتا ہے اسلام طلاق سے روکتا ہے اور اس کی جڑوں کو کاٹتا ہے لیکن جب معاملہ یہاں تک پہنچ جائے کہ ہر طرف کے راستے بند ہو جائیں اور طلاق و علیحدگی کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہ ہو تو پھر اس بات کی اجازت نیہں دیتا کہ اس کشمکش میں اولاد یا عورتوں کے حقوق پامال ہو جائیں، یہاں تک کہ علیحدگی کا طریقہ کار بھی اس طرح سے پیش کرتا ہے کہ عام طور پر رجوع اور بازگشت کا امکان موجود رہے۔ معروف طریقہ سے روکے رکھنا اور معروف سے جُدائی، عورتوں کو نقصان اور ضرر کا نہ پہنچانا اور تنگی اور سخت گیری نہ کرنا، نیز بچوں کی سرنوشت کو محفوظ کرنے کے لئے شائستہ اور مناسب مشورہ کرنا، اور اسی قسم قسم کے دُوسرے احکام جو اوپر والی آیات میں آئے ہیں، وہ سب اس بات کے گواہ ہیں۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ ان امُور سے بہت سے مسلمانوں کی لاعلمی یا علم کے باوجود عمل نہ کرنا، اس بات کا سبب ہوتا ہے کہ طلاق اور علیحدگی کے وقت گھرانوں اور خصوصاً اولاد کے لئے بہت سی مشکلات پیدا ہو جائیں۔ اس کا سبب سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہے کہ مسلمان قران کے فیض بخش چشمہ سے دُور ہو گئے ہیں۔ مثلاً اس بات کے باوجود کہ قرآن صراحت کے ساتھ یہ کہتا ہے کہ عورتیں عدّت کے دوران شوہر کے گھر سے باہر نہ جائیں، اور نہ ہی شوہر کو یہ حق ہے کہ وہ انہیں گھر سے نکالے۔ یہ ایسا عمل ہے کہ اگر اسی طرح انجام پا جائے تو اکثر عورتوں کے ازدواجی زندگی کی طرف لوٹ آنے کی بہت زیادہ اُمید ہے۔ لیکن آپ بہت کم مسلمان مرد اور مسلمان عورت کو دیکھیں گے، جو طلاق و جُدائی کے بعد اس اسلامی حکم پر عمل کرتے یہں۔ یہ امر واقعی طور پر قابلِ افسوس ہے۔

8
65:8
وَكَأَيِّن مِّن قَرۡيَةٍ عَتَتۡ عَنۡ أَمۡرِ رَبِّهَا وَرُسُلِهِۦ فَحَاسَبۡنَٰهَا حِسَابٗا شَدِيدٗا وَعَذَّبۡنَٰهَا عَذَابٗا نُّكۡرٗا
کتنے ہی شہر اور آبادیاں ایسی ہیں جن کے رہنے والوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کے فرمان سے سر تابی کی تو ہم نے بھی ان کا حساب شدت کے ساتھ چکایا اور انہیں بہت ہی برے عذاب میں گرفتار کر دیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
65:9
فَذَاقَتۡ وَبَالَ أَمۡرِهَا وَكَانَ عَٰقِبَةُ أَمۡرِهَا خُسۡرًا
انہوں نے اپنے کردار و عمل کا وبال(وعذاب) چکھا اور ان کا انجام کار خسارہ اور نقصان تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
65:10
أَعَدَّ ٱللَّهُ لَهُمۡ عَذَابٗا شَدِيدٗاۖ فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ يَـٰٓأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْۚ قَدۡ أَنزَلَ ٱللَّهُ إِلَيۡكُمۡ ذِكۡرٗا
اللہ نے ان کے لئے شدید عذاب فراہم کیا، پس اے صاحبان ایمان و عقل ! تم اللہ کے حکم کی مخالفت سے پرہیز کرو، (کیونکہ) اللہ نے تم پر وہ چیز نازل کی ہے جو تمہارے لئے ایک نصیحت ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
65:11
رَّسُولٗا يَتۡلُواْ عَلَيۡكُمۡ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ مُبَيِّنَٰتٖ لِّيُخۡرِجَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ مِنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِۚ وَمَن يُؤۡمِنۢ بِٱللَّهِ وَيَعۡمَلۡ صَٰلِحٗا يُدۡخِلۡهُ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗاۖ قَدۡ أَحۡسَنَ ٱللَّهُ لَهُۥ رِزۡقًا
تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے جو اللہ کی واضح آیات کی تم پر تلاوت کرتا ہے، تاکہ ان لوگوں کی ، جو ایمان لائے اور عمل صالح انجا م دیتے ہیں، تاریکیوں سے نور کی طرف ہدایت کرے۔ پس جو شخص اللہ پرایمان لاتا، اور عمل صالح انجام دیتا ہے، اللہ اسے جنت کے باغات میں داخل فرمائے گا جن کے(درختوں کے )نیچے نہریں جا ری ہیں، وہ ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور اللہ نے ان کے لئے اچھی روزی قرار دی ہے۔

تفسیر سرکشوں کا درد ناک انجام

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

قرآن کا شیوہ یہ ہے کہ اکثر مواقع پر عملی احکام کے ایک سلسلے کو بیان کرنے کے بعد گزشتۂ امّتوں کے حالات کی طرف اشارہ کرتا ہے، تاکہ مُسلمان ان کی سرگذشت میں اطاعت و عصیاں کا نتیجہ اپنی آنکھ سے دیکھ لیں اور یہ مسئلہ بطور خود ایک حسِی صورت اختیار کر لے۔ اِسی لیے اس سورہ میں بھی طلاق و علیٰحدگی کے موقع پر مردوں اور عورتوں کے وظائف اور ذمّہ داریاں بیان کرنے کے بعد اسی مطلب کو پیش کر کے گنہگاروں اور سرکشی کرنے والوں کو خبردار کرتا ہے۔ پہلے فرماتا ہے: "کتنے ہی شہر اور آبادیاں ایسی تھیں جن کے رہنے والوں نے خُدا اور اس کے رسولوں کے فرمان سے سر پیچی کی تو ہم نے بھی ان کا حساب شدت کے ساتھ چکایا اور انہیں بہت ہی بُرے عذاب میں گرفتار کر دیا۔" (وَ کَأَیِّنْ مِنْ قَرْیَةٍ عَتَتْ عَنْ أَمْرِ رَبِّہا وَ رُسُلِہِ فَحاسَبْناھا حِساباً شَدیداً وَ عَذَّبْناھا عَذاباً نُکْراً)۔ (تشریحی نوٹ: "کأین" مشہور عُلمائے ادب کے نظریہ کے مطابق یہ ایک مرکب اسم ہے۔ "کاف" تشبیہ اور 'ی' سے جو تین کے ساتھ توام ہے۔ چونکہ تنوین اس اسم کی بناء میں داخل ہے اس لیے حالتِ وقف میں بھی پڑھی جاتی ہے، اور قرآن کی کتابت میں بھی لکھی جاتی ہے۔ اور اس کا معنی 'کم' خبریہ کے مانند ہے، اگرچہ اس کے ساتھ فرق ہے، ایک غیر مشہور نظریہ ہے کہ یہ ایک اسم بسیط ہے اور اس کا کاف اور'نون' جزوِ حکمہ ہے)۔ "قریة" سے مُراد، جیسا کہ ہم نے پہلے بھی بیان کیا ہے، انسانوں کے اجتماع کی جگہ ہے، چاہے وہ شہر ہو یا گاؤں۔ اور یہاں مُراد اس میں رہنے والے ہیں۔ "عتت"، "عتو" (بر وزن غلو) کے مادّہ سے اطاعت سے روگرادنی کرنے کے معنی میں ہے۔ "نکر" (بر وزن شکر) ایسی مشکل کے معنی میں ہے کہ جس کی مثال نہ ہو یا بہت کم پائی جاتی ہو۔ "حساباً شدیدا" یا تو دقیق اور سخت گیری کے ساتھ حساب لینے کے معنی میں یا شدید عذاب کے معنی میں ہے کہ جو دقیق حساب کا نتیجہ ہے۔ بہرحال یہ ان سرکش اقوام کے اس دنیا میں عذاب کی طرف اشارہ ہے کہ کسِی قوم کی طوفان کے ساتھ، کسِی گروہ کی تباہ کرنے والے زلزلے کے ساتھ اور کسی گروہ کی صاعقہ یعنی بجلی اور اسی قسم کی چیزوں کے ساتھ بیخ کنی کی گئی، اور ان کے تباہ اور ویران شدہ شہر و دیار آنے والے لوگوں کے لیے درسِ عبرت کی صُورت میں باقی رہ گئے۔ لہٰذا بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے: "انہوں نے اپنے کفر و گناہ کا عذاب چکھا اور ان کا انجام کار خسارہ اور نقصان تھا۔" (فَذاقَتْ وَبالَ أَمْرِھا وَ کانَ عاقِبَةُ أَمْرِہا خُسْراً)۔ اس سے بڑھ کر خسارہ اور کیا ہو گا کہ وہ خدا داد سرمایہ کو ہاتھ سے گنوا بیٹھے۔ اور اس دُنیا کے بازار تجارت سے نہ صرف یہ کہ انہوں نے کوئی مال و متاع نہیں خریدا بلکہ انجامِ کار عذاب الہٰی سے نابود ہو گئے۔ بعض نے یہاں "حساب شدید" اور "عذاب نکر" کو عذابِ قیامت کی طرف اشارہ سمجھا، اور فعل ماضی کو مستقبل کے معنی میں لیا ہے، لیکن ایسا کرنے کا کوئی سبب موجُود نہیں ہے، بالخصوص جبکہ عذاب قیامت کے سلسلہ میں بعد والی آیت میں بات کی جائے گی اور یہ بات خود ایک زندہ گواہ ہے کہ یہاں عذاب سے مُراد عذابِ دنیا ہی ہے۔ اس کے بعد اُن کے اُخروی عذاب کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے فرماتا ہے: "خدا نے ان کے لیے شدید عذاب تبّار کر رکھا ہے۔" (أَعَدَّ اللَّہُ لَہُمْ عَذاباً شَدیدا)۔ ایک درد ناک، شدید، وحشت انگیز، ذلیل کرنے والا اور رُسوا کرنے والا عذاب اور ان کے لیے دوزخ میں ہمیشہ رہنے کی جگہ ابھی سے فراہم ہے۔ جب یہ بات ہے تو "اے صاحبانِ عقل اور اے ایمان لانے والو! خُدا کے حکم کی مخالفت سے پرہیز کرو۔" (فَاتَّقُوا اللَّہَ یا أُولِی الْأَلْبابِ الَّذینَ آمَنُوا)۔ ایک طرف سے غور و فکر اور دُوسری طرف سے ایمان اور آیاتِ الہٰی تمہیں خبردار کرتی ہیں کہ تم سرکش اور رُوگرادنی کرنے والے قوموں کی سرنوشت کو دیکھو اور اس سے عبرت حاصل کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی ان کی صفت میں جا کھڑے ہو، پھر تمہیں اس جہان میں بھی ہولناک اور بےسابقہ عذاب میں گرفتار کر دے گا، اور آخرت کا شدید عذاب بھی تمہارے انتطار میں ہو گا۔ اس کے بعد غور و فکر کرنے والے مومنین کو مخاطب کرتے ہُوئے مزید کہتا ہے: "خُدا نے تم پر ایسی چیز نازل کی ہے جو تمہارے لیے باعثِ نصیحت ہے۔" (قَدْ أَنْزَلَ اللَّہُ ِالَیْکُمْ ذِکْراً)۔ "اور ایک رسُولؐ تمہاری طرف بھیجا ہے، جو خدا کی واضح آیات کی تمہارے سامنے تلاوت کرتا ہے تاکہ ایمان لانے والوں اور عملِ صالح بجا لانے والوں کی تاریکیوں سے نور کی طرف ہدایت کرے:" (رَسُولاً یَتْلُوا عَلَیْکُمْ آیاتِ اللَّہِ مُبَیِّناتٍ لِیُخْرِجَ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ مِنَ الظُّلُماتِ اِلَی النُّور)۔ یہاں ذکر سے کیا مُراد ہے؟ اور رسُول سے کون مُراد ہے؟ اس بارے میں مفسّرین کے درمیان اختلاف ہے۔ مفسّرین کا ایک گروہ ذکر کو قرآن کے معنی میں لیتا ہے، جبکہ ایک جماعت نے اس کی رسُولِ خداؐ کے ساتھ تفسیر کی ہے، کیونکہ آپ لوگوں کے لیے یاد آوری کا سبب ہیں۔ اِس تفسیر کے مُطابق اس کے بعد لفظ رسولاً آیا ہے اس سے پیغمبرؐ کی ذات مُراد ہے (اور اس کلام میں کوئی محذوف نہیں ہے) لیکن یہاں "نازل کرنے سے مُراد" خدا کی طرف سے امّت کو پیغمبرؐ کے وجود کا عطا کرنا ہے۔ لیکن اگر ذکر کو قرآن مجید کے معنی میں لیں تو "رسولاً" اِس کا بدل نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس جملے میں ایک محذُوف ہے۔ اور تقدیر میں اِس طرح ہے: " أَنزَلَ اللَّهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا و ارسل رَّسُولًا" خُدا نے ایک نصیحت والی چیز نازل کی اور ایک رسُول بھیجا۔ بعض نے رسول کی 'جبرئیل' کے ساتھ تفسیر کی ہے، اِس صُورت میں اس کا نزول نزولِ حقیقی ہو گا، کیونکہ وہ آسمان سے نازل ہوتا تھا۔ لیکن یہ تفسیر "يَتْلُواْ عَلَيْكُمْ آيَاتِ اللَّهِ" وہ خدا کی آیات تمہارے سامنے پڑھتا ہے کے جُملہ کے ساتھ ساز گار نہیں ہے، کیونکہ جبرئیل براہِ راست مومنین کے سامنے نہیں پڑھتا تھا۔ خلاصہ یہ کہ ان سے ہر ایک تفسیر میں ایک اضافہ اور ایک مشکِل موجُود ہے، لیکن مجموعی طور پر پہلی تفسیر (یعنی ذکر کا معنی قرآن اور رسول کا معنی پیغمبر اکرمؐ) سب سے بہتر ہے۔کیونکہ قرآن مجید کی بہت سی آیات میں لفظ ذکر کا قرآن پر اطلاق ہُوا ہے، خصوصاً جہاں لفظ 'انزال' کے ساتھ ہو، اِس طرح سے کہ جب "نزولِ" ذکر کہا جائے تو یہ قرآن کے معنی کا ہی ادعا کرتا ہے۔ سورۂ نحل کی آیت ٤٤ میں آیا ہے: وَ أَنْزَلْنا اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ ما انُزِّلَ اِلَیْہِمْ: "ہم نے ذکر کو تجھ پر نازل کیا ہے، تاکہ تو لوگوں کے لیے اس چیز کو بیان کرے جو ان پر نازل ہُوئی ہے۔" نیز سورۂ حجر کی آیت ٦میں آیا ہے: "وَ قالُوا یا أَیُّہَا الَّذی نُزِّلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ اِنَّکَ لَمَجْنُون۔" دشمنوں نے کہا: "اے وہ شخص کہ جس پر ذکر نازل ہُوا ہے تو ایک دیوانہ ہے۔" اگر آئمہ اہل بیتؑ سے بعض روایات میں آیا ہے کہ ذکر سے مُراد حضرت رسُول ہیں اور ہم اہل ذکر ہیں، تو ممکِن ہے کہ یہ آیت کے بطون کی طرف اشارہ ہو، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اہل الذکر جو آیت فَسْئَلُوا أَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لا تَعْلَمُون (اگر تم نہیں جانتے تو اہل ذکر سے پوچھ لو) (نحل ٤٣) میں آیا ہے یہ خاص طور پر اہل بیت کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ اس کی شانِ نزول میں علماء اہل کتاب آتے ہیں۔ لیکن اس بات کی طرف توجہ رکھتے ہُوئے کہ 'ذکر' ایک وسیع معنی رکھتا ہے کہ جو پیغمبر اسلامؐ کو شامل ہے تو یہ بھی اس کا ایک مصداق ہو گا۔ (تشریحی نوٹ: مزید وضاحت کے لیے تفسیر نمونہ جلد ٦ سے رجوع کریں)۔ بہرحال؛ اس رسُول کے بھیجنے اور اس کتاب آسمانی کے نازل کرنے کا اصلی مقصد یہ ہے کہ وہ انہیں آیات الہٰی کی تلاوت کے ذریعے کفر و جہالت، معصیّت اور اخلاقی فساد کی تاریکیوں سے باہر نکالتے ہُوئے ایمان، توحید اور تقوٰی کے نُور کی رہنمائی کرے۔ جبکہ حقیقت میں بعثتِ پیغمبرؐ اور نزولِ قرآن کے تمام اہداف و مقاصد کا خلاصہ اسی ایک جملہ میں آ گیا ہے: یعنی تاریکیوں سے باہر نکال کر نور کی طرف لانا، اور قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ "ظلمات" کا صیغہ جمع کے ساتھ اور نور کا صیغہ واحد کے ساتھ ذکر ہُوا ہے۔ کیونکہ شرک و کفر و فساد، پراگندگی و کثرت کے عامل ہیں، جبکہ ایمان و توحید و تقوٰی، وحدت و یگانگت کے عامل ہیں۔ آیت کے آخر میں ان لوگوں کے اجر و ثواب کی طرف، اشارہ کرتے ہُوئے جو ایمان و عملِ صالح رکھتے ہیں، مزید کہتا ہے: جو شخص خدا پر ایمان لائے، عمل صالح بجا لائے اور اسی راستے پر چلتا رہے، تو خُدا اُسے جنّت کے ان باغات میں داخل کرے گا جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ وہیں پر رہے گا، اور خُدا نے اس کے لیے اچھی روزی قرار دی ہے:" (وَ مَنْ یُؤْمِنْ بِاللَّہِ وَ یَعْمَلْ صالِحاً یُدْخِلْہُ جَنَّاتٍ تَجْری مِنْ تَحْتِہَا الْأَنْہارُ خالِدینَ فیہا أَبَداً قَدْ أَحْسَنَ اللَّہُ لَہُ رِزْقا)۔ 'یومن' اور 'یعمل' کی تعبیر فعل مضارع کی صُورت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کا ایمان اور عملِ صالح کسِی خاص زمانہ کے ساتھ محدُود نہیں بلکہ استمرار و دوام رکھتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: توجّہ رکھنی چاہیے کہ جو ضمیریں آیت میں استعمال ہُوئی ہیں بعض تو جمع کی صورت میں ہیں اور بعض مُفرد کی صورت میں ہیں۔ یہ اس بناء پر ہے کہ جہاں مفرد کی صورت میں ہیں وہاں وہ جنس اور جمع کے معنی میں ہیں)۔ خالدین کی تعبیر جنّت کی ہمیشگی کی دلیل ہے۔ اس بناء پر اس کے بعد "ابداً" کے لفظ کا ذکر "خلود" کے لیے ایک تاکید شمار ہوتا ہے۔ "رزقا" کی تعبیر "نکرہ" کی صورت میں ان اچھی اچھی روزیوں کی عظمت و اہمیّت کی طرف اشارہ ہے جو خدا ان لوگوں کے لیے فراہم کرے گا۔ یہ *ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے جو آخرت میں ہر قسم کی خدائی نعمت، یہاں تک کہ دنیاوی موہبت کو بھی اپنے اندر لیے ہُوئے ہے، کیونکہ ایمان و تقوٰی کا نتیجہ صرف آخرت کے ساتھ مربُوط نہیں بلکہ مومن و پرہیزگار لوگ اس دنیا میں بھی پاکیزہ تر، آرام وہ زیادہ لذّت بخش زندگی رکھتے ہیں۔

12
65:12
ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَ سَبۡعَ سَمَٰوَٰتٖ وَمِنَ ٱلۡأَرۡضِ مِثۡلَهُنَّۖ يَتَنَزَّلُ ٱلۡأَمۡرُ بَيۡنَهُنَّ لِتَعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ وَأَنَّ ٱللَّهَ قَدۡ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عِلۡمَۢا
اللہ نے ہی ساتوں آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور اتنی ہی زمینیں ( پیدا کی ہیں ) اس کا حکم ہمیشہ ان کے درمیان نازل ہوتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، اور اس کا علم ہر چیز پر احاطہ رکھتا ہے۔

تفسیر خلقت عالم کا مقصد معرفت ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

سورة طلاق کی یہ آخری آیت آسمانوں اور زمینوں کو خِلقت میں اللہ کی قدرت کی عظمت اور اس خلقت کے مقصدِ اصلی کی طرف ایک پُر معنی اور واضح اشارہ ہے۔ نیز یہ ان مباحث کی تکمیل کر رہا ہے جن مین پرہیزگار مومنین کے لیے ثوابِ عظیم کے وعدے کے سلسلے میں اور اسی طرح ان وعدوں کے سلسلے میں جو ان کی مشکلات کی گرہ کھولنے کے بارے میں کیے تھے۔ یہ بات واضح ہے کہ وہ خُدا جو اس عظیم خلقت پر قدرت رکھتا ہے، وہ اس جہان میں بھی اور دوسرے جہان میں بھی ان وعدوں کو پورا کرنے کی طاقت اور قوت رکھتا ہے۔ پہلے فرماتا ہے: "خدا وہی ہے جس نے ساتوں آسمان پیدا کیے": (اللَّہُ الَّذی خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ)۔ "اور اتنی ہی زمین پیدا کی ہیں": (وَ مِنَ الْأَرْضِ مِثْلَھُن)۔ یعنی جس طرح آسمان سات ہیں اسی طرح زمینیں بھی سات ہیں۔ "یہ قرآن مجید کی واحد آیت ہے جو سات زمینوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ان سات آسمانوں اور اتنی ہی زمنیوں سے کیا مُراد ہے؟ اس سلسلے میں ہم نے تفسیر نمونہ جلد اوّل میں، سورہ بقرہ کی آیت ٢٩ کے ذیل میں اور جلد ١١ میں سورہ حٰم سجدہ کی آ یت ١٣ کے ذیل میں تفصیلی بحث کی ہے۔ لہٰذا یہاں ایک مختصر سے اشارہ پر قناعت کرتے ہیں اور وہ یہ ہے: ممکن ہے کہ سات کے عدد سے مُراد وہی کثرت ہو، کیونکہ یہ تعبیر قرآن مجید میں اور اس کے علاوہ بھی کثرت کے معنی میں آتی ہے، جیسے ہم کہتے ہیں اگر تم سات سمندر بھی لے آؤ تو کافی نہیں ہوں گے۔ اس بناء پر سات آسمانوں اور سات زمینوں سے مُراد آسمانی کواکب اور زمین سے مشابہ کُرّوں کی عظیم و کثیر تعداد ہے۔ لیکن اگر ہم ساتھ کے عدد کو تعداد اور گنتی کے لیے سمجھیں تو اس کا مفہوم سات آسمانوں کا وجود ہو گا۔ چنانچہ سورۂ صافات کی آیت ٦ کہتی ہے: "إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةٍ الْكَوَاكِبِ: ہم نے نزدیکی آسمان (پہلے آسمان) کو کواکب اور ستاروں سے زینت بخشی ہے۔ اس کی طرف توجّہ کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں اور انسانی علم و دانش جس پر احاطہ رکھتی ہے وہ سب کچھ پہلے آسمان سے مربُوط ہے۔ لیکن ان ثوابت و اشارات کے علاوہ اور بھی چھ عالم موجود ہیں جو ہمارے علم کی دسترس سے باہر ہیں۔ یہ بات تو سات آسمانوں کے بارے میں تھی۔ باقی رہا سات زمینوں کے بارے میں تو ممکن ہے کہ یہ کرّہ زمین کے مختلف طبقات کی طرف اشارہ ہو۔ کیونکہ اِس وقت یہ بات ثابت ہو چکی ہے۔ کہ زمین طرح طرح کے پردوں اور تہوں سے بنی ہے۔ یا یہ زمین کے ساتھ برّاعظموں کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ آج کے زمانے میں اور گزشتہ زمانے میں بھی کرّہ زمین کو سات منطقوں میں تقسیم کرتے تھے۔ (البتّہ گزشتہ اور موجودہ زمانے کے طرزِ تقسیم میں فرق ہے۔ موجودہ زمانہ میں دو منجمد منطقوں شمالی و جنوبی، دو معتدل منطقوں، دو گرم منطقوں اور ایک استوائی منطقہ میں تقسیم ہوتی ہے۔ لیکن گزشتہ زمانے میں سات اقلیمیں (برّ اعظم) دوسری شکل میں تقسیم ہوتی تھیں)۔ لیکِن ممکن ہے کہ یہاں بھی سات کا عدد جو "مثلھن" کی تعبیر سے معلوم ہوتا ہے، تکثیر کے لیے ہی ہو، اور یہ بھی متعدد زمینوں کی طرف اشارہ ہو کہ جو عالم ہستی میں موجود ہیں۔ یہاں تک کہ بعض ماہرین فلکیات کہتے ہیں کہ کرّۂ زمین سے مشابہ وہ کرّے جو اس عظیم عالم میں مختلف آفتابوں کے گرد گردش کر رہے ہیں، ان کی کم از کم تعداد تین سو ملین ہے۔ (تشریحی نوٹ: "تفسیر مراغی" جلد٢٨، صفحہ، ١٥١۔ ایک حدیث جو امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے نقل ہُوئی ہے، اس میں کبھی آیا ہے ہے: "لھذہ النجوم التی فی السماء مدائن مثل المدائن التی فی الارض": "ان ستاروں میں بھی جو آسمان پر ہیں روئے زمین کے شہروں کی طرح سے شہر ہیں" (تفسیر برہان، جلد٤، صفحہ ١٥)۔ اگرچہ منظومۂ شمسی کے علاوہ اجرام کے بارے میں ہم جو معلومات رکھتے ہیں۔ ان کے نا کافی ہونے کی باعث ان کی تعداد مقرّر کرنا خاص مشکلِ ہو جاتا ہے۔ لیکن بہرحال دوسرے ماہرین فلکیات بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں، کہ اس کہکشاں میں، کہ منظومہ شمسی جِس کا ایک جُزء ہے، کئی ملین کرّے موجود ہیں، جو کرّۂ زمین سے مشابہ اور حیات و زندگی کا مرکز ہیں۔ البتہ ممکن ہے کہ آگے چل کر علم و دانش میں انسان کی پیش رفت، اس قِسم کی آیات کے بارے میں ہمیں مزید اطلاعات مہیّا کر سکے۔ اس کے بعد خُدا کے حکم و فرمان کے ذریعے اس عظیم عالم کی تدبیر کے مسئلہ کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے مزید کہتا ہے: "اس کا حکم و فرمان ہمیشہ ان کے درمیان نازل ہوتا رہتا ہے۔" (یَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَیْنَہُن)۔ یہ بات واضح ہے کہ یہاں امر سے مُراد وہی خدا کا حکم و امر تکوینی ہے جو وہ اس عالمِ بزرگ اور ساتوں آسمانوں اور زمینوں کی تدبیر کے سلسلے میں جاری کرتا ہے، کیونکہ وہ ہمیشہ اپنے مخصوص حکم کے ساتھ ایک منظّم طریقے سے ہدایت و رہبری کرتا ہے۔ حقیقت میں یہ آیت سورہ سجدہ کی آ یت٥ کے مشابہ ہے جس میں فرماتا ہے: "يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ: "وہ آسمان سے لے کر زمین تک تدبیرِ امور کرتا ہے۔" بہرحال؛ اگر اس کی تدبیر ایک لمحہ کے لیے بھی اس عالم سے جُدا ہو جائے تو سارا نظام درہم برہم ہو جائے، اور سب کے سب فنا ہو جائیں۔ آخر میں اس عظیم خلقت کے ہدف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: "یہ سب کچھ اس بناء پر ہے تاکہ تم جان لو کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے اور اس کا علم و آگہی ہر چیز پر مُحیط ہے۔" (لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ عَلی کُلِّ شَیْء ٍ قَدیر وَ أَنَّ اللَّہَ قَدْ أَحاطَ بِکُلِّ شَیْء ٍ عِلْما)۔ کِتنی عمدہ تعبیر ہے کہ وہ اس عظیم خلقت کا ہدف یہ قرار دیتا ہے کہ انسان خدا کے علم اور اس کی قدرت کی صفات سے آگاہ ہو جائے کیونکہ ان دو صفات سے آ گاہی انسان کی تربیّت کے لیے کافی ہے۔ انسان کو یہ جان لینا چاہیے کہ خدا اس کے وجود کے تمام اسرار پر احاطہ رکھتا ہے، اور اس کے تمام اعمال سے باخبر ہے۔ نیز اسے یہ بھی جان لینا چاہیے کہ معاد و قیامت، جزا و سزا اور مومنین کی کامیابی کے بارے میں خدا کے وعدوں میں کسِی تخلّف کا شائبہ تک نہیں ہے۔ ہاں! وہ خدا جو اس قسم کا علم و قدرت رکھتا ہے اور عالم ہستی کے نظام کا ارادہ کرتا ہے۔ اگر اس نے انسانوں کی زندگی کے بارے میں طلاق اور عورتوں کے حقوق سے مربُوط کچھ احکام صادر فرمائے ہیں تو وہ سب کے سب دقیق اور پختہ حساب پر مبنی ہیں۔ "ہدفِ آفرینش" کے سلسلے میں ہم نے تفسیر نمونہ کی جلد ١٢، سورہ ذاریٰت کی آیت ٥٦ کے ذیل میں ایک تفصیلی بحث کی ہے۔ قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ قرآن کی مختلف آیات میں انسان کی خلقت کے ہدف کی طرف یا اس جہان کی خلقت کے ہدف کی طرف ایسے اشارے ہُوئے ہیں جو ابتداء میں مختلف دکھائی دے سکتے ہیں۔ لیکن اگر ہم غور سے دیکھیں تو وہ سب ایک ہی حقیقت کی طرف لوٹتے ہیں۔ ١: سورۂ ذاریات کی آیت ٥٦ میں انسان اور جنّ کی خلقت کا مقصد "عبادت" کو قرار دیا ہے۔ "وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ۔" ٢: سورہ ہود کی آیت ٧ میں آسمانوں اور زمین کی عظیم خلقت کا ہدف و مقصد انسان کی آزمائش بتائی گئی ہے۔ "وَ ہُوَ الَّذی خَلَقَ السَّماواتِ وَ الْأَرْضَ فی سِتَّةِ أَیَّامٍ وَ کانَ عَرْشُہُ عَلَی الْماء ِ لِیَبْلُوَکُمْ أَیُّکُمْ أَحْسَنُ عَمَلا"۔ ٣: سورہ ہود کی آیت ١١٩ میں ہدف و مقصد خدا کی رحمت کو قرار دیا ہے "وَلِذَلِكَ خَلَقَهُمْ" ٤: آخر میں زیر بحث آیت میں خدا کی صفات کے علم و آگہی کو ہدف بتایا ہے (لِتَعْلَمُوا ۔۔۔) ان آیات میں تھوڑا سا غور کرنے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ ان میں سے بعض بعض کے لیے مقدمہ ہیں۔ آگاہی و معرفت، بندگی و عبادت کے ایک مقدمّہ ہے۔ وہ انسان کی آزمائش اور تربیّت کے لیے ایک مقدّمہ ہے اور وہ خدا کی رحمت سے فیض یاب ہونے کے لیے ایک مقدمہ ہے (غور کیجئے)۔ خداندا! اب جبکہ تو نے ہمیں اپنی عظیم خلقت کے ہدف سے آشنا کر دیا ہے اس عظیم ہدف تک پہنچنے کے سلسلہ میں ہماری مدد فرما! پروردگارا! تیرا علم و قدرت بےپایاں ہے اور تیری رحمت بھی غیر متناہی ہے، ہمیں اس بےانتہا رحمت کا ایک حصّہ عنایت فرما! بارِ الہٰا! تو نے قرآن و پیغمبرؐ کو ظلمات سے نور کی طرف لانے والے بنا کر بھیجا ہے۔ ہمیں گناہ اور ہوائے نفس کی ظلمت اور تاریکی سے باہر نکال لے اور ہمارے دلوں کو نور ایمان و تقویٰ سے منوّر کر دے! آمین یا رب العالمین

end of chapter
At-Talaq (65) — Tafseer e Namoona