Sūra 17 · 111v
Chapter 17111 verses

Al-Isra

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
الإسراء
بنی اسرائیل

سورہ بنی اسرائیل

یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۱۱۱ آیات ہیں۔

نام اور مقامِ نزول

اس کا مشہور نام ”سورہ بنی اسرائیل“ ہے؛ البتہ دیگر چند نام بھی ہیں۔ مثلاً: ”سورہ اسراء“ ”سورہ سبحان“ وغیرہ (بحوالہ: تفسیر آلوسی ج ۱۵ ص ۲)۔ ظاہر ہے کہ ان میں سے ہر نام اس سورت میں موجود مطالب کے حوالے سے ہے۔ سورہ بنی اسرائیل اسے اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس سورت کی ابتداء اور اختتام کا ایک اچھا خاصا حصّہ بنی اسرائیل کے بارے میں ہے۔ ”اسراء“ اسے اس کی پہلی آیت کی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ جو رسولِ اکرم (ص) کے اسراء (یعنی معراج) کے بارے میں گفتگو کرتی ہے اور سورہٴ سبحان اسے اس کے پہلے لفظ کی وجہ سے کہتے ہیں۔ البتہ جن روایات میں اس سورہ کی فضیلت بیان کی گئی ہے ان میں اسے صرف ”بنی اسرائیل“ کہا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر مفسرین نے اس سورہ کے لیے یہی نام انتخاب کیا ہے۔ بہرحال، مشہور یہ ہے کہ اس سورہ کی تمام آیتیں مکہ میں نازل ہوئی ہیں اور اس کے مفاہیم و مضامین بھی مکّی سورتوں سے پوری طرح ہم آہنگ ہیں۔ تا ہم بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ اس کی کچھ آیتیں مدینہ میں نازل ہوئی ہیں لیکن پہلے والا قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔

فضیلت

پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم اور امام صادق علیہ السلام سے اس سورت کی تلاوت کرنے والے کے لیے بہت زیادہ اجر و ثواب منقول ہے۔ ان روایات میں سے ایک کہ جو امام صادق علیہ السلام سے مردی ہے اس میں آپ (ع) فرماتے ہیں: من قرء سورة بنی اسرائیل فی کل لیلة جمعة لم یمت حتّی یدرک القائم و یکون من اصحابہ جو شخص ہر شبِ جمعہ سورہ بنی اسرائیل کی تلاوت کرے گا وہ اس وقت تک دنیا سے نہ جائے گا جب تک ”قائم(ع)“کو نہ دیکھ لے اور وہ آپ کے یارو و انصار میں سے ہو گا۔ ہم نے بارہا اس امر کا تکرار کیا ہے کہ قرآن پاک کی سورتوں کا جو اجر و ثواب بیان کیا گیا ہے وہ ہرگز صرف زبانی پڑھ لینے کے لیے نہیں ہے بلکہ ان روایات میں پڑھنے سے مراد ایسا پڑھنا ہے کہ جس میں غور و فکر اور سوچ بچار شامل ہوا اور اس کے نتیجے میں انسان اس قرات اور فکر کے تقاضوں کے مطابق عمل بھی کرے۔ خصوصاً اسی سورہ کی فضیلت سے مربوط ایک روایت میں ہے: فرّق قلبہ عند ذکر الوالدین اس سورہ کا قاری جب اس میں اللہ کی نصیحتوں تک پہنچتا ہے تو اس کے احساسات میں تحریک پیدا ہوتی ہے اور ماں باپ سے محبت کا جذبہ اس میں فزوں تر ہو جاتا ہے۔ لہٰذا وہ شخص ایسے اجر کا حامل ٹھہرتا ہے۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ اگر چہ قرآنی الفاظ محترم اور اہم ہیں لیکن یہ الفاظ تمہید ہیں معانی و مفاہیم کے لیے اور معانی مقدمہ ہیں عمل کے لیے۔

مضامین ایک نگاہ میں

ہم کہہ چکے ہیں، جیسا کہ مشہور ہے یہ سورہ مکہ میں نازل ہوئی، لہٰذا فطری امر ہے کہ اس میں مکی سورتوں کی خصوصیات موجود ہیں۔ ان میں دعوت توحید بھی ہے۔ معاد کی جانب بھی توجہ دلائی گئی ہے۔ مفید نصیحتیں بھی ہیں اور شرک، ظلم، انحراف اور کج روی کے خلاف بھی اس میں بہت سارا مواد ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ مجموعی طور پر اس سورت کی آیتیں ان امور پر مشتمل ہیں: ۱۔ نبوت کے دلائل۔ بالخصوص قرآن اور معراج کے حوالے سے۔ ۲۔ معاد سے مربوط بحثیں۔ انجام کار، اجر و ثواب، نامہ اعمال اور اس کے نتائج۔ ۳۔ سورہ کے آغاز اور اختتام پر بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک حصّہ۔ ۴۔ ارادہ و اختیار کی آزادی۔ اور یہ کہ ہر قسم کے اچھے برے عمل کا نتیجہ خود انسان کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ۵۔ اس جہان کی زندگی کا حساب کتاب دوسرے جہان کے لیے نمونہ ہے۔ ۶۔ ہر سطح پر حق شناسی۔ خصوصاً اعزاء و اقرباء کے بارے میں اور ان میں سے بھی خاص طور پر ماں باپ کے بارے میں۔ ۷۔ فضول خرچی، کنجوسی، اولاد کشی، زناء، مالِ یتیم کھانا، کم فروشی، تکبر اور خونریزی سب حرام ہیں۔ ۸۔ توحید اور خداشناسی سے متعلق مباحث۔ ۹۔ پیش حق ہر قسم کی ہٹ دھرمی کے خلاف مقابلہ اور یہ کہ گناہ انسان اور چہرہ حق کے درمیان پردہ ڈال دیتے ہیں۔ ۱۰۔ انسان کا مقام اور دوسری مخلوقات پر اس کی فضیلت۔ ۱۱۔ ہر قسم کی اخلاقی اور اجتماعی بیماری کے علاج کے لیے تاثیر قرآن۔ ۱۲۔ اعجازِ قرآن اور اس کے مقابلے کی عدم توانائی۔ ۱۳۔ شیطانی وسوسے اور ان کے خلاف مومنین کو تنبیہ۔ ۱۴۔ مختلف اخلاقی تعلیمات۔ ۱۵۔ تاریخ انبیاء کے بعض نشیب و فراز۔ تمام انسان کے لیے عبرت کے درس۔ بہرحال، مجموعی طور پر عقائد، اخلاق اور معاشرت کے حوالے سے راہنمائی پر مبنی یہ ایک جامع اور کامل سورت ہے اور یہ مختلف میدانوں میں انسان کے ارتقاء و کمال کا زمینہ بن سکتی ہے۔ یہ امر جاذب توجہ ہے کہ یہ سورت تسبیح خدا سے شروع ہوتی ہے اس کی حمد و تکبیر پر تمام ہوتی ہے۔ تسبیح نشانی ہے ہر قسم کے عیب و نقص سے دوری اور پاک رہنے کی اور حمد و ثنا نشانی ہے صفاتِ فضیلت سے آراستہ ہونے کے لیے اور تکبیر کمال و عظمت کی طرف بڑھنے کے لیے علامت ہے۔

1
17:1
سُبۡحَٰنَ ٱلَّذِيٓ أَسۡرَىٰ بِعَبۡدِهِۦ لَيۡلٗا مِّنَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ إِلَى ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡأَقۡصَا ٱلَّذِي بَٰرَكۡنَا حَوۡلَهُۥ لِنُرِيَهُۥ مِنۡ ءَايَٰتِنَآۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡبَصِيرُ
پاک و منزہ ہے وہ ذات کہ جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ کی طرف لے گئی کہ جس کا ماحول پر برکت ہے، تاکہ ہم اسے اپنی نشانیاں دکھائیں۔ یقیناً وہ سننے والا، دیکھنے والا ہے۔

معراجِ رسول صلی الله علیہ وآلہ وسلم

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

اس سورت کی پہلی آیت میں ”اسراء“کا ذکر ہے۔ راتوں رات جو رسول الله نے مسجد الحرام سے مسجدالاقصیٰ(بیت المقدس)کا سفر کیا تھا اس میں اس کا ذکر ہے۔ یہ سفر معراج کا مقدمہ بنا۔یہ سفر جو رات کے بہت کم وقت میں مکمل ہو گیا کم از کم اس زمانے کے حالات، راستوں اور معمولات کے لحاظ سے کسی طرح بھی ممکن نہ تھا۔یہ بالکل اعجاز آمیز اور غیر معمولی تھا۔ پہلے فرمایا گیا ہے: منزہ ہے وہ خدا کہ جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجدالحرام سے مسجدالاقصیٰ کی طرف لے یے گیا (سُبْحَانَ الَّذِی اَسْریٰ بِعَبْدِہِ لَیْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَی)۔ رات کی یہ غیر معمولی سیر اس لیے تھی تاکہ ہم اسے اپنی عظمت کی نشانیاں دکھائیں (لِنُرِیَہُ مِنْ آیَاتِنَا )۔ آخر آیت میں فرمایا گیا ہے: الله سننے والا اور دیکھنے والا ہے(إِنَّہ ھُوَ السَّمِیعُ الْبَصِیرُ )۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ الله نے اپنے پیغمبر کو اس افتخار کے لیے چنا ہے تو یہ بلاوجہ نہیں ہے کیونکہ رسول کی گفتار اور ان کا کردار اس قابل تھا کہ یہ لباس ان کے بدن کے لیے بالکل زیبا تھا۔ الله نے اپنے رسول کی گفتار سنی،اس کا کردار دیکھا اور اس مقام کے لیے اس کی لیاقت مان لی۔ اس جملے کے بارے میں بعض مفسریں نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس اعجاز کے منکریں کو تہدید کی جائے کہ اللهان کی باتیں سنتاہے۔ ای کے اعمال دیکھنا ہے اور ان کی سازش سے آگاہ ہے۔ یہ آیت نہایت مختصر اور جچے تلے الفاظ پر مشتمل ہے تا ہم اس رات کے معجزہ نما سفر کے بہت سے پہلو اس آیت سے واضح ہو جاتے ہیں: (۱) لفظ ”اسریٰ“ نشاندہی کرتا ہے کہ یہ سفررات کے وقت ہوا کیونکہ ”اسراء“عربی زبان میں رات کے سفر کے معنی ہے جبکہ لفظ”سیر“دن کے سفر کے لیے بولا جاتا ہے۔ (۲) لفظ ”لیلا“ ایک تو ”اسرا“ کے مفہوم کی تاکید ہے اور دوسرے اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ یہ سارے کا سارا سفر ایک ہی رات میں ہوا اور اہم بات بھی یہی ہے کہ مسجدالحرام اور مسجد الاقصیٰ کے در میان ایک سو فرسخ سے زیادہ کا فاصلہ کئی دنوں بلکہ کئی ہفتوں میں طے کیا جاتا تھا جبکہ شب اسراء تھوڑے سے وقت میں یہ سفر مکمل ہو گیا۔ (۳) لفظ ”عبد“ نشاندہی کرتا ہے کہ یہ افتخار و اکرام رسول الله کے مقام عبودیت کی وجہ سے تھا کیونکہ انسان کے لیے سب سے بلند منزل یہی ہے کہ وہ الله کا سچا اور صحیح بندہ ہو جائے۔ اس کی بارگاہ کے سوا کہیں تھا نہ جھکائے،اس کے علاوہ کسی کے فرمان کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرے،جو بھی کام کرے فقط خدا کے لیے ہو اور جو بھی قدم اٹھائے اسی کی رضا مطلوب ہو۔ (۴) ”عبد“ کی تعبیر یہ واضع کرتی ہے کہ سفر عالم بیداری میں تھا اور یہ جسمانی سیر تھی نہ کہ روحانی کیونکہ سیر روحانی کا کوئی معقول معنی خواب یا خواب کی مانند حالت کے سوا نہیں ہے لیکن لفظ”عبد“ نشاندہی کرتا ہے کہ جسم و روح پیغمبر اس سفر میں شریک تھے۔یہ اعجاز جن میں نہیں آتا انہوں نے جو زیادہ بات کی ہے یہ ہے کہ انہوں نے آیت کی توجیہ کے نام پر اسے روحانی کہہ دیا ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کہے کہ میں فلاں شخص کو فلاں جگہ سے لے گیا تو اس کا یہ مفہوم نہیں ہو گا کہ عالم خواب میں یا عالم خیال میں یا فکری طور پر لے گیا۔ (۵) اس سفر کا آغاز مکہ کی مسجدالحرام سے وہاں سے بیت المقدس میں موجود مسجدالاقصیٰ پہنچے(اور یہ سفر معراج آسمانی کا مقدمہ تھا کہ جس کے بارے میں ہم بعد میں دلایل پیش کریں گے)۔ البتہ تمام مکہ کو بھی چونکہ احترام کی وجہ سے مسجد الحرام کہا جاتا ہے۔ لہذا مفسرین میں اس بات پر اختلاف ہے کہ رسول الله کا یہ سفر خانہ کعبہ کے قریب سے شروع ہوا تھا یا کسی عزیز رشتہ دار کے گھر سے۔ لیکن اس میں شک نہیں کہ آیت کا ظاہری مفہوم یہی ہے کہ سیر خانہ کعبہ سے شروع ہوئی۔ (۶) اس سیر کا مقصد یہ تھا کہ رسول الله عظمت الٰہی کی نشانیوں کا مشاہدہ کریں۔آسمانوں کی سیر بھی اسی مقصد سے تھی کہ پیغمبراکرم صلی الله علیہ وآلہ کی باعظمت روح ان آیات بینات کا مشاہدہ کرکے اور بھی عظمت و بزرگی پا لے اور انسانوں کی ہدایت کے لیے آپ خوب تیار ہو جائیں۔ یہ سفر معراج بعض کوتاہ فکر لوگوں کے خیال کے برعکس اس لیے نہ تھا کہ آپ خدا کو دیکھیں۔ ان لوگوں کا خیال یہ تھا کہ خدا آسمانوں میں رہتا ہے۔ بہرحال، اگر چہ رسول الله عظمت الٰہی کو پیچانتے تھے اور اس کی خلقت کی عظمت سے بھی آگاہ تھے لیکن بقولے: ولی شنیدن کی بود مانند دیدن سورہ نجم کی آیات میں بھی اس سفر کے آخری حصے یعنی معراج آسمانی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: لَقَد رَاٰی مِن اٰیَاتِ رَبِّہِ الکُبرٰی اس سفر میں اس نے اپنے رب کی عظیم آیات دیکھیں۔ (۷) ”بارکنا حولہ “یہ مطلب واضح کرتا ہے کہ مسجد الاقصیٰ علاوہ اس کے کہ خود مقدس ہے اس کے اطراف کی سرزمین بھی مبارک اور با برکت ہے۔ ممکن ہے یہ اس کی ظاہری برکات کی طرف اشارہ ہو کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ سر سبز و شاداب سرزمین ہے۔ درخت اس زمین پر سایہ فگن ہیں۔پانی وہاں جاری رہتا ہے اور یہ ایک آباد علاقہ ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی روحانی برکات کی طرف اشارہ ہو؛ کیونکہ یہ سرزمین ایک طویل عرصہ اللہ کے عظیم نبیوں اور نورِ توحید و خدا پرستی کا مرکز رہی ہے۔ (۸) جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں’ ’اِنَّہ ھُوَالسَّمِیعُ الْبَصِیر“کا جملہ اس طرف اشارہ ہے کہ رسول الله کو اس نعمت کی عطا بلا وجہ نہ بلکہ اس اہلبیت و لیاقت کے باعث تھی کہ جو آپ کی گفتار و کردار سے ہویدا تھی اور الله ہر عیب و نقص سے پاک و منزہ ہے۔ (۹) ضمنی طور پر لفظ ”سبحان “اس بات کی دلیل ہے اور رسول الله کا یہ سفر بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ اللهہر عیب و نقص سے پاک و منزہ ہے۔ (۱۰) ”من اٰیاتنا“ میں لفظ ”من“ نشاندہی کرتا ہے کہ آیات عظمت الٰہی اس قدر زیادہ ہیں کہ اپنی تمام تر عظمت کے با وجود رسول الله (ص) نے اس با عظمت سفر میں صرف بعض کا ہی مشاہدہ کیا۔

مسئلہ معراج

علماء اسلام کے در میان مشہور یہ ہے کہ رسول اکرم (ص) جس وقت مکہ میں تھے تو ایک ہی رات میں آپ قدرت الٰہی سے مسجد الحرام سے مسجد المقدس میں ہے۔ وہاں سے آپ آسمانوں کی طرف گئے آسمانی وسعتوں میں عظمت الٰہی کے آثار مشاہدہ کیے اور اسی رات مکہّ واپس آگئے۔ نیز یہ بھی مشہور ہے کہ یہ زمینی اور آسمانی سیر جسم اور روح کے ساتھ تھی البتہ یہ سیر چونکہ بہت عجیب و غریب اور بے نظیر تھی۔ لہذا بعض حضرات نے اس کی توجیہ کی اور اسے معراج روحانی قرار دیا اور کہا کہ یہ ایک طرح کا خواب تھا یا مکاشفہ روحی تھا۔ لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں یہ بات آیات کے ظاہری مفہوم کے بالکل خلاف ہے کیونکہ ظاہرِ آیات اس معراج کے جسمانی ہونے کی گواہی دیتا ہے۔ بہرحال، اس بحث سے بہت سے سوالات پیدا پیدا ہوتے ہیں مثلاً: ۱۔ قرآن، حدیث اور تاریخ کی نظر سے معراج کی کیفیت کیا تھی؟ ۲۔ شیعہ اور سنی علماء اسلام کا اس سلسلے میں کیا عقیدہ ہے؟ ۳۔ معراج کا مقصد کیا تھا؟ ۴۔ دور حاضر کے علم اور سائنس کی رو سے معراج کا کیا امکان ہے؟ ان تمام مسائل کا کماحقہ جائزہ پیش کرنا اگر چہ تفسیر کی حدود سے باہر ہے تاہم ہم کوشش کریں گے کہ مختصراً ان تمام مسائل کو قارئین محترم کے سامنے ذکر کریں۔

معراج- قرآن و حدیث کی نظر میں

قرآن حکیم کی دو سورتوں میں اس مسئلے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ پہلی سورت۔ یہی سورہ بنی اسرائیل ہے۔ اس میں اس سفر کے ابتدائی حصے کا تذکرہ ہے۔ یعنی مکہ کی مسجد الحرام سے بیت المقدس کی مسجدِ الاقصیٰ تک کا سفر۔ اس سلسلے کی دوسری سورت۔ سورہ نجم ہے۔ اس کی آیت ۱۳ تا ۱۸ میں معراج کا روسرا حصہ بیان کیا گیا ہے اور یہ آسمانی سیر کے متعلق ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: وَلَقَدْ رَآہُ نَزْلَةً اُخْری عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَھَی عِنْدَھَا جَنَّةُ الْمَاْوَی إِذْ یَغْشَی السِّدْرَةَ مَا یَغْشَی مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَی لَقَدْ رَاَی مِنْ آیَاتِ رَبِّہِ الْکُبْریٰ ان آیات کا مفہوم یہ ہے کہ۔ رسول اللہ نے فرشتہ وحی جبریل کو اس کی اصل صورت میں دوسری مرتبہ دیکھا (پہلے آپ اسے نزول وحی کے آغاز میں کوہِ حرا میں دیکھ چکے تھے) یہ ملاقات بہشت جاوداں کے پاس ہوئی۔ یہ منظر دیکھتے ہوئے رسول اللہ کسی اشتباہ کا شکار نہ تھے۔ آپ نے عظمت الٰہی کی عظیم نشانیاں مشاہدہ کیں۔ یہ آیات کہ جو اکثر مفسرین کے بقول واقعہ معراج سے متعلق ہیں یہ بھی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ واقعہ عالم بیداری میں پیش خصوصاً ”مازاغ البصر و ما طغیٰ“ اس امر کا شاہد ہے کہ رسول اللہ کی آنکھ کسی خطا، اشتباہ اور انحراف سے دوچار نہیں ہوئی۔ اس واقعے کے سلسلے میں مشہور اسلامی کتابوں میں بہت زیادہ روایات نقل ہوئی ہیں۔ علماء اسلام نے ان روایات کے تو اتر اور شہرت کی گواہی دی ہے۔ ہم نونے کے طور پر چند روایات ذکر کرتے ہیں: ۱۔ عظیم فقیہ و مفسر شیخ طوسی تفسیر تبیان میں زیر بحث آیت کے ذیل میں کہتے ہیں: شیعہ علما کا موٴقف ہے کہ جس رات اللہ اپنے رسول کو مکہ سے بیت المقدس لے گیا اسی رات اس نے آپ کو آسمانوں کی طرف بلند کیا اور آپ کو اپنی عظمت کی نشانیاں دکھائیں اور یہ سب کچھ عالم بیداری میں تھا۔خواب میں نہ تھا۔ ۲۔ بلند مرتبہ مفسر مرحوم طبرسی اپنی تفسیر مجمع البیان میں سورہٴ نجم کی آیات کے ذیل میں کہتے ہیں: ہماری روایات میں مشہور یہ ہے کہ اللہ اپنے رسول کو اسی جسم کے ساتھ عالم بیداری و حیات میں آسمانوں پر لے گیا اور اکثر مفسرین کا یہی عقیدہ ہے۔ ۳۔ مشہور محدث علامہ مجلسی بحار الانوار میں کہتے ہیں: مسجد الحرام سے بیت المقدس کی طرف اور وہاں سے آسمانوں کی طرف رسول اسلام کی سیر ایسی بات ہے جس پر آیات قرآن اور شیعہ و سنی متواتر احادیث دلالت کرتی ہیں۔ اس کا انکار یا اسے روحانی معراج کہنا یا عالم خواب کی بات قرار دینا۔ آئمہ ہدیٰ (ع) کی احادیث سے عدم اطلاع یا یقین کی کمزوری کے باعث ہے۔ اس کے بعد علامہ مجلسی مزید کہتے ہیں: اگر ہم اس واقعے سے متعلقہ احادیث جمع کرنا چاہیں تو ایک ضخیم کتاب بن جائے گی۔(بحوالہ: بحار الانوار، ج ۶ طبع قدیم ص ۳۶۸) ۴۔ اہل سنت کے معاصر علماء میں سے الا زہر کے منصور علی ناصف مشہور کتاب ”التاج“ کے مصنف ہیں۔ انہوں نے اس میں احادیث معراج کو جمع کیا ہے۔ ۵۔ مشہور فسر فخر الدین رازی نے زیر بحث آیت کے ذیل میں واقعہ معراج کے امکان پر بہت سی عقلی دلیلیں پیش کی ہیں۔ دلائل ذکر کرنے کے بعد وہ کہتے ہیں: حدیث کے لحاظ سے احادیث معراج مشہور روایات میں سے ہیں کہ جو اہل سنت کی کتب صحاح میں نقل ہوئی ہیں اور ان کا مفہوم یہ ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے مکہ سے بیت المقدس اور وہاں سے آسمانوں کی سیر کی۔ ۶۔ شیخ عبد العزیز بن عبداللہ بن باز ادارہ ”بحوث علمیہ و افتاء و دعوة و ارشاد“ کے سر براہ ہیں وہ دور حاضر کے متعصب وہابی علماء میں سے ہیں۔ وہ اپنی کتاب ”التحذیر من البدع“ میں کہتے ہیں: اس میں شک نہیں ہے کہ معراج ان عظیم نشانیوں میں سے ہے جو رسول کی صداقت اور بلند منزلت پر دلالت کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ کہتے ہیں: رسول اللہ سے اخبار متواتر نقل ہوئی ہیں کہ اللہ انہیں آسمانوں پر لے گیا اور آپ پر آسمانوں کے دروازے کھول دیئے۔(بحوالہ: لتحذیر ص۷) اس نکتے کا ذکر کرنا بھی انتہائی ضروری ہے کہ احادیث معراج میں بعض جعلی یا ضعیف ہیں کہ جو کسی طرح سے بھی قابل قبول نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عظیم مفسر طبرسی مرحوم نے اسی زیر بحث آیت کے ذیل میں لحادیث معراج کو ان چار قسموں میں تقسیم کیا ہے: (۱) وہ روایات جو متواتر ہونے کی وجہ سے قطعی ہیں مثلاً اصل واقعہ معراج۔ (۲) وہ احادیث کہ عقلی لحاظ سے جنہیں قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں اور روایات میں اس امر کی تصریح کی گئی ہے۔ مثلاً صحن آسمان میں عظمتِ الٰہی کی بہت سی نشانیوں کا مشاہدہ کرنا۔ (۳) وہ روایات جد ہمارے ہاں موجود اصول و ضوابط پر تو پوری نہیں اترتیں البتہ ان کی توجیہ کی جا سکتی ہے۔ مثلاً وہ احادیث جو کہتی ہیں کہ رسول الله نے آسمانوں میں ایک گروہ کو جنت میں اور ایک گروہ کو دوزخ میں ددیکھا۔کہنا چاہئے کہ اہل جنت اور اہل دوزخ کی صفات دیکھیں (یا برزخ کی جنت اور دوزخ کی)۔ (۴) وہ روایات جو نامعقول اور باطل امور پر مشتمل ہیں اور ان کی کیفیت ان کے جعلی ہونے پر گواہ ہے۔ مثلاً وہ روایات جو کہتی ہیں کہ رسول الله نے خدا کو واضح طور پر دیکھا، اس کے ساتھ باتیں کیں اور اس کے پاس بیٹھے۔ایسی احادیث کسی دلیل و منطق کے لحاظ سے درست نہیں ہیں اور بلاشبہ اس قسم کی روایات من گھڑت اور جعلی ہیں۔ واقعہٴ معراج کی تاریخ کے سلسلے میں اسلامی مورخین کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ واقعہٴ بعثت کے دسویں سال ۲۷ رجب کی شب پیش آیا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ بعثت کے بارہوں سال ۱۷ رمضان المبارک کی رات وقوع پذیر ہوا جبکہ بعض اسے اوائل بعثت میں میں ذکر کرتے ہیں۔ لیکن اس کے وقوع پذیر ہونے کی تاریخ میں اختلاف اصل واقعہ پر اختلاف میں حائل نہیں ہوتا۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ صرف مسلمان ہی معراج کا عقیدہ نہیں رکھتے، دیگر ادیان کے پیروکاروں میں بھی یہ عقیدہ کم و بیش موجود ہے۔ ان میں سے حضرت عیسیٰ کے بارے میں یہ عقیدہ عجیب تر صورت نظر آتا ہے جیسا کہ انجیل مرقس کے باب ۶، لوتا کے باب ۲۴ اور یوحنا کے باب ۲۱ میں ہے کہ: عیسیٰ مصلوب ہونے کے بعد دفن ہو گئے تو مُردوں میں سے اٹھ کھڑے ہونے اور چالیس روز تک لوگوں میں موجود دہے پھر آسمان کی طرف چڑھ گئے (اور ہمیشہ کے لیے معراج پر چلے گئے)۔ ضمناً یہ وضاحت بھی ہو جائے کہ بعض اسلامی روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ بعض گزشتہ انبیاء کوبھی معراج نصیب ہوئی تھی۔

معراج جسمانی تھی یا روحانی؟

شیعہ اور سنی علمائے اسلام کے در میان مشہور یہ ہے کہ یہ واقعہ عالم بیداری میں صورت پذیر ہوا۔ سوورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت اور سورہ نجم کی موذکرہ آیات کا مظاہری مفہوم بھی اس امر کا شاہد ہے کہ یہ واقعہ بیداری کی حالت میں پیش آیا۔ تواریخ اسلامی بھی اس امر پر شاہد صادق ہیں۔ تاریخ کہتی ہے: جس دقت رسول الله نے واقعہ معراج کا ذکر کیا تو مشرکین نے شدت سے اس کا انکار کر دیا اور اسے آپ کے خلاف ایک بات بنا لیا۔ یہ بات گواہی دیتی ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم ہرگز خواب یا مکاشفہ روحانی کے مدعی نہ تھے ورنہ مخالفین اس قدر شور و غوغا نہ کرتے۔ یہ جو حسن بصری سے روایت ہے کہ: کان فی المنام روٴیاً راٰھا یہ واقعہ خواب میں پیش آیا۔ اور اسی طرح جو حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ: والله ما فقد جسد رسول الله و لکن عرج بروحہ خدا کی قسم بدن رسول اللہ ہم سے جدا نہیں ہوا صرف آپ کی روح آسمانوں پر گئی۔ ایسی روایات ظاہراً سیاسی پہلو رکھتی ہیں۔(تشریحی نوٹ: حسن بصری اور حضرت عائشہ سے مروی روایات بذاتِ خود محل اشکال ہیں کیونکہ واقعہ معراج مکہ مکرمہ میں پیش آیا تھا۔ ثاقب)۔

معراج کا مقصد

گزشتہ مباحث پر غور کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ معراج کا مقصد یہ نہیں کہ رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم دیدار خدا کے لیے آسمانوں پر جائیں، جیسا کہ سادہ لوح افراد خیال کرتے ہیں۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض مغربی دانشور بھی نا آگاہی کی بناء پر دوسروں کے سامنے اسلام کا چہرہ بگاڑ کر پیش کرنے کے لیے ایسی باتیں کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک مسٹر ”گیورگیو“ ہیں۔ وہ اپنی کتاب ”محمد وہ پیغمبر ہیں جنہیں پھر سے پہچاننا چاہیے“ میں کہتے ہیں: محمد ص اپنے سفر معراج میں ایسی جگہ پہنچے کہ انہیں خدا کے قلم کی آواز سنائی دی انہوں نے سمجھا کہ اللہ اپنے بندوں کے حساب کتاب میں مشغول ہے البتہ وہ اللہ کے قلم کی آواز تو سنتے تھے مگر انہیں اللہ دکھائی نہ دیتا تھا کیونکہ کوئی شخص خدا کو نہیں دیکھ سکتا خواہ پیغمبر ہی کیوں نہ ہو۔(مذکورہ کتاب کے فارسی ترجمہ کا نام ہے ”محمد پیغمبری کہ از نو باید شناخت“ ص ۱۲۵ دیکھیے)۔ یہ عبارت نشاندہی کرتی ہے کہ قلم لکڑی کا تھا۔ ایسا کہ کاغذ پر لکھتے وقت لرزتا تھا اور آواز پیدا کرتا تھا۔اسی طرح کی اور بہت ساری خرافات اس میں موجود ہیں۔ جبکہ مقصدِ معراج یہ تھا کہ اللہ کے عظیم پیغمبر کائنات میں بالخصوص عالمِ بالا میں موجود عظمت الٰہی کی نشانیوں کا مشاہدہ کریں اور انسانوں کی ہدایت و رہبری کے لیے ایک نیا ادراک اور نئی بصیرت حاصل کریں۔ امام صادق علیہ السلام سے مقصدِ معراج پوچھا گیا تو آپ (ع)نے فرمایا: ان الله لا یوصف بمکان، ولا یجری علیہ زمان، ولکنہ عزوجل اراد ان یشرف بہ ملائکتہ و سکان سماواتہ، و یکرمہم بمشاھدتہ، و یریہ من عجائب عظمتہ ما یخبربہ بعد ھبوطہ۔ خدا ہر گز کوئی مکان نہیں رکھتا اور نہ اس پر کوئی زمانہ گزرتا ہے لیکن وہ چاہتا تھا کہ فرشتوں اور آسمان کے باسیوں کو اپنے پیغمبر کی تشریف آوری سے عزت بخشے اور انہیں آپ کی زیارت کا شرف عطا کرے نیز آپ کو اپنی عظمت کے عجائبات دکھائے تاکہ واپس آکر آپ انہیں لوگوں سے بیان کریں۔(بحوالہ: تفسیر برہان، ج۲، ص۴۰۰)۔

معراج اور دور حاضر کا علم اور سائنس

گزشتہ زمانے میں بعض فلاسفہ بطلیموس کی طرح یہ نظریہ رکھتے تھے کہ نو آسمان پیاز کے چھلکے کی طرح ایک دوسرے کے اوپر ہیں۔ واقعہٴ معراج کو قبول کرنے میں ان کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ان کا یہی نظریہ تھا۔ ان کے خیال میں اس طرح تو یہ ماننا پڑتا ہے کہ آسمان شگافتہ ہو گئے تھے اور پھر آپس میں مل گئے تھے۔(تشریحی نوٹ: بعض قدیم فلاسفہ کا نظریہ تھا کہ آسمانوں میں ایسا ہوتا ممکن نہیں ہے۔ اصطلاح میں وہ کہتے تھے کہ افلاک میں ”خرق“ (پھٹنا) اور ”التیام“(ملنا) ممکن نہیں)۔ لیکن بطلیموسی نظریہ ختم ہو گیا تو آسمانوں کے شگافتہ ہونے کا مسئلہ ہی ختم ہو گیا؛ البتہ علم ہیئت میں جو ترقی ہوئی ہے اس سے معراج کے سلسلے میں نئے سوالات ابھرے ہیں مثلاً: (۱) ایسے فضائی سفر میں پہلی رکاوٹ کشش ثقل ہے کہ جس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے غیر معمولی وسائل و ذرائع کی ضرورت ہے کیونکہ زمین کے مدار اور مرکز ثقل سے نکلنے کے لیے کم از کم چالیس ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کی ضرورت ہے۔ (۲)دوسری رکاوٹ یہ ہے کہ زمین کے باہر خلا میں ہوا نہیں ہے جبکہ ہوا کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔ (۳) تیسری رکاوٹ ایسے سفر میں اس حصے میں سورج کی جلا دینے والی تپش ہے کہ جس حصے پر سورج کی مستقیماً روشنی پڑ رہی ہے اور اس حصے میں مار ڈالنے والی سردی ہے کہ جس میں سورج کی روشنی نہیں پڑ رہی۔ (۴) اس سفر میں چوتھی رکاوٹ وہ خطر ناک شعاعیں ہیں کہ فضائے زمین سے اوپر موجود ہیں مثلاً کاسمک ریز Cosmic Rays الٹراوائلٹ ریز Ultra Violet Rays اور ایکس ریز X-Rays۔ یہ شعاعیں اگر تھوڑی مقدار میں انسانی بدن پر پڑیں تو بدن کے آرگانزم Organism کے لیے نقصان دہ نہیں ہیں لیکن فضائے زمین کے باہر یہ شعاعیں بہت تباہ کن ہوتی ہیں۔ (زمین پر رہنے والوں کے لیے زمین کے اوپر موجود فضا کی وجہ سے ان کی تابش ختم ہو جاتی ہے)۔ (۵) ایک اور مشکل اس سلسلے میں یہ ہے کہ خلامیں انسان بے وزنی کی کیفیت سے دوچار ہو جاتا ہے اگر چہ تدریجاً بے وزنی کی عادت پیدا کی جا سکتی ہے لیکن اگر زمین کے باسی بغیر کسی تیاری اور تمہید کے خلاص جا پہنچیں تو بے وزنی سے نمٹنا بہت ہی مشکل یا ناممکن ہے۔ (۶) آخری مشکل اس سلسلے میں زمانے کی مشکل ہے اور یہ نہایت اہم رکاوٹ ہے کیونکہ دور حاضر کے سائنسی علوم کے مطابق روشنی کی رفتار ہر چیز سے زیادہ ہے اور اگر کوئی شخص آسمانوں کی سیر کرنا چاہے تو ضروری ہے کہ اس کی رفتار روشنی کی رفتار سے زیادہ ہو۔ ان امور کے جواب میں ان نکات کس طرف توجہ ضروری ہے: (۱) ہم جانتے ہیں کہ فضائی سفر کی تمام ترمشکلات کے باوجود آخر کار انسان علم کی قوت سے اس پر دسترس حاصل کر چکا ہے اور سوائے زمانے کی مشکل کے باقی تمام مشکلات حل ہو چکی ہیں اور زمانے والی مشکل بھی بہت دور کے سفر سے مربوط ہے۔ (۲) اس میں شک نہیں کہ مسئلہ معراج عمومی اور معمولی کا پہلو نہیں رکھتا بلکہ یہ اللہ کی لامتناہی قدرت و طاقت کے ذریعے صورت پذیر ہوا اور انبیاء کے تمام معجزات اسی قسم کے تھے، زیادہ واضح الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ معجزہ عقلاً محال نہیں ہونا چاہئے اور یہ معجزہ بھی عقلاً ممکن ہے۔ باقی معاملات اللہ کی قدرت سے حل ہو جاتے ہیں۔ جب انسان یہ طاقت رکھتا ہے کہ سائنسی ترقی کی بنیاد پر ایسی چیزیں بنا لے کہ جو زمینی مرکز ثقل سے باہر نکل سکتی ہیں، ایسی چیزیں تیار کر لے کہ فضائے زمین سے باہر کی ہولناک شعاعیں ان پر اثر نہ کر سکیں اور مشق کے ذریعے کے ذریعے بے وزنی کی کیفیت میں رہنے کی عادت پیدا کرلے۔ یعنی جب انسان اپنی محدود قوت کے ذریعے یہ کام کر سکتا ہے تو پھر کیا اللہ اپنی لامحدود طاقت کے ذریعے یہ کام نہیں کر سکتا؟ ہمیں یقین ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو اس سفر کے لیے انتہائی تیز رفتار سواری دی تھی اور اس سفر میں درپیش خطرات سے محفوظ رہنے کے لیے انہیں اپنی مدد کا لباس پہنایا تھا۔ ہاں یہ سواری کس قسم کی تھی اور اس کا نام کیا تھا۔براق؟ یا کوئی اور---؟ یہ مسئلہ قدرت کا راز ہے۔ ہمیں اس کا علم نہیں۔ ان تمام چیزوں سے مقطع نظر تیز ترین رفتار کے بارے میں مذکورہ نظر یہ آج کے سائنسدانوں کے درمیان متزلزل ہو چکا ہے اگر چہ آئن سٹائن اپنے مشہور نظریے پر پختہ یقین رکھتا ہے۔ آج کے سائنسدان کہتے ہیں کہ امواج جاذبہ Rays of Attraction زمانے کی احتیاج کے بغیر آنِ واحد میں دنیا کی ایک طرف سے دوسری طرف منتقل ہو جاتی ہیں اور اپنا اثر چھوڑتی ہیں یہاں تک کہ یہ احتمال بھی ہے کہ عالم کے پھیلاؤ سے مربوط حرکات میں ایسے منظومے موجود ہیں کہ جو روشنی کی رفتار سے زیادہ تیزی سے مرکز جہان سے دور ہو جاتے ہیں (ہم جانتے ہیں کہ کائنات پھیل رہی ہے اور ستارے اور نظام ہائے شمسی تیزی کے ساتھ ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہیں)(غور کیجئے گا)۔ مختصر یہ کہ اس سفر کے لیے جو بھی مشکلات بیان کی گئی ہیں ان میں سے کوئی بھی عقلی طور پر اس راہ میں حائل نہیں ہے اور ایسی کوئی بنیاد نہیں کہ واقعہ معراج کو محال عقلی سمجھا جائے۔اس راستے میں در پیش مسائل کو حل کرنے کے لیے جو وسائل درکار ہیں وہ موجود ہوں تو ایسا ہو سکتا ہے۔ بہرحال، واقعہ معراج نہ تو عقلی دلائل کے حوالے سے ناممکن ہے اور نہ دور حاضر کے سائنسی معیاروں کے لحاظ سے، البتہ اس کے غیر معمولی اور معجزہ ہونے کو سب قبول کرتے ہیں لہٰذا جب قطعی اور یقینی نقلی دلیل سے ثابت ہو جائے تو اسے قبول کر لینا چاہیے۔(مزید وضاحت کے لیے کتاب ”ہمہ می خواہند بدانند“ کی طرف رجوع فرمائیں۔ اس میں ہم نے معراج، شق القمر اور قطبین میں عبادت کے سلسلے میں بحث کی ہے)۔ واقعہ معراج کے سلسلے میں کچھ اور پہلو بھی ہیں جن پر انشاء اللہ سورہ نجم کی تفسیر میں گفتگو ہو گی۔

2
17:2
وَءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ وَجَعَلۡنَٰهُ هُدٗى لِّبَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ أَلَّا تَتَّخِذُواْ مِن دُونِي وَكِيلٗا
ہم نے موسیٰ کو( آسمانی) کتاب عطا فرمائی اور اسے بنی اسرائیل کیلئے ہدایت کا ذریعہ قرار دیا اور ہم نے کہا کہ ہمارے غیر کو سہارا نہ بناؤ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
17:3
ذُرِّيَّةَ مَنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوحٍۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَبۡدٗا شَكُورٗا
اے ان لوگوں کی اولاد کہ جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی پر) سوار کیا تھا، وہ ایک شکر گزار بندہ تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
17:4
وَقَضَيۡنَآ إِلَىٰ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ فِي ٱلۡكِتَٰبِ لَتُفۡسِدُنَّ فِي ٱلۡأَرۡضِ مَرَّتَيۡنِ وَلَتَعۡلُنَّ عُلُوّٗا كَبِيرٗا
ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (تورات )میں بتادیا تھا کہ تم زمین میں دو مرتبہ فساد برپا کرو گے اور بڑی سر کشی کرو گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
17:5
فَإِذَا جَآءَ وَعۡدُ أُولَىٰهُمَا بَعَثۡنَا عَلَيۡكُمۡ عِبَادٗا لَّنَآ أُوْلِي بَأۡسٖ شَدِيدٖ فَجَاسُواْ خِلَٰلَ ٱلدِّيَارِۚ وَكَانَ وَعۡدٗا مَّفۡعُولٗا
جب ان میں سے پہلی سر کشی کا موقع آیا تو ہم تم پر نہایت زور آور لوگ بھیجیں گے (اور مجرموں کو پکڑنے کیلئے) گھروں کی تلاشی لیں گے اور یہ وعدہ قطعی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
17:6
ثُمَّ رَدَدۡنَا لَكُمُ ٱلۡكَرَّةَ عَلَيۡهِمۡ وَأَمۡدَدۡنَٰكُم بِأَمۡوَٰلٖ وَبَنِينَ وَجَعَلۡنَٰكُمۡ أَكۡثَرَ نَفِيرًا
اس کے بعد ہم تمہیں ان پر غلبہ دیں گے، تمہارا مال اور اولاد بڑھا دیں گے اور تمہاری تعداد( دشمن سے) زیادہ کر دیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
17:7
إِنۡ أَحۡسَنتُمۡ أَحۡسَنتُمۡ لِأَنفُسِكُمۡۖ وَإِنۡ أَسَأۡتُمۡ فَلَهَاۚ فَإِذَا جَآءَ وَعۡدُ ٱلۡأٓخِرَةِ لِيَسُـُٔواْ وُجُوهَكُمۡ وَلِيَدۡخُلُواْ ٱلۡمَسۡجِدَ كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٖ وَلِيُتَبِّرُواْ مَا عَلَوۡاْ تَتۡبِيرًا
اگر نیکی کرو گے تو اپنے آپ سے بھلائی کرو گے اور اگر بدی کرو گے تو بھی اپنے آپ ہی سے کرو گے۔ پس جب دوسرے وعدے کا وقت آن پہنچا( تو دشمن تمہارا یہ حال کرے گا کہ) تمہارے چہرے غمزدہ ہو جائیں گے اور وہ مسجد( اقصیٰ) میں یوں داخل ہوں گے جیسے پہلے دشمن داخل ہوئے تھے اور جو چیز بھی ان کے ہاتھ پڑے گی اسے درہم برہم کر دیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
17:8
عَسَىٰ رَبُّكُمۡ أَن يَرۡحَمَكُمۡۚ وَإِنۡ عُدتُّمۡ عُدۡنَاۚ وَجَعَلۡنَا جَهَنَّمَ لِلۡكَٰفِرِينَ حَصِيرًا
ہو سکتا ہے تمہارا رب تم پر رحم کرے ۔جب تم پلٹ آؤ گے تو ہم بھی پلٹ آئیں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کیلئے سخت قید خانہ بنا رکھا ہے۔

دو عظیم طوفانی واقعات

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

اس سورت کی پہلی آیت میں رسول الله کے مسجد الحرام سے مسجد الاقصیٰ کے اعجاز آمیز سفر کا ذکر تھا۔ ایسے واقعات کا عموماً مشرکین اور مخالفین انکار کر دیتے تھے، وہ کہتے تھے کہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہمارے درمیان میں سے ایک پیغمبر مبعوث ہو اور پھر اسے یہ سب اعزاز وا کرام حاصل ہو۔ لہٰذا زیر بحث آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ نے اپنی کتاب کی طرف دعوت دی تھی تاکہ واضح ہو جائے کہ رسالت کا پروگرام کوئی نئی چیز نہیں اور تاریخ شاہد ہے بنی اسرائیل نے بھی ایسی مخالفت اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا تھا جیسی اب مشرکین کر رہے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: ہم نے موسیٰ کو آسمانی کتاب عطا کی (وَآتَیْنَا مُوسَی الْکِتَابَ) اور ہم نے بنی اسرائیل کے لئے وسیلہ ہدایت قرار دیا (وَجَعَلْنَاہُ ھُدًی لِبَنِی إِسْرَائِیلَ)۔ اس میں شک نہیں کہ کتاب سے یہاں مراد ”تورات“ ہے کہ جو بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے الله تعالیٰ نے حضرت موسیٰ(ع) پر نازل فرمائی تھی۔ اس کے بعد بعثتِ انبیاء کا بنیادی مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ان سے ہم کہا کہ میرے غیر کو سہارا نہ بناوٴ (اَلاَّ تَتَّخِذُوا مِنْ دُونِی وَکِیلًا)۔ [تشریحی نوٹ: ترکیب نحوی کے اعتبار سے بعض مفسرین نے ”اَلاَّ تَتَّخِذُوا مِنْ دُونِی وَکِیلًا“ کو ”لئلاَّ تَتَّخِذُو----“ سمجھا ہے اور بعض نے ”ان“ کو زائد اور ”قلنا لھم“ کو مقدر سمجھا ہے کہ جو مجموعی طور پر یوں ہو گا: و قلنا لھم لاتتخذوا من دونی وکیلا اور ہم نے اُن سے کہا کہ میرے سوا کسی کو پناہ گاہ نہ بناو۔] ”عمل میں توحید“، ”عقیدے میں توحید“ کی علامت ہے اور یہ امر توحید کی بنیادی باتوں میں سے ہے جو شخص عالمِ کائنات میں موٴثر حقیقی صرف الله کو جانتا ہے وہ اس کے غیر پر تکیہ نہیں کرے گا اور جو کسی اور سہارا بناتے ہیں یہ ان کے اعتقادِ توحید کی کمزوری کی دلیل ہے۔ آسمانی کتب کی عالی تجلیاتِ ہدایت دلوں کو نورِ توحید سے روشن کر دیتی ہے اور اس کے سبب انسان ہر غیر الله سے کٹ کر خدا سے وابستہ ہو جاتا ہے اور اسی پر تکیہ کرتا ہے۔ بنی اسرائیل کو جن نعماتِ الٰہی سے نوازا گیا بالخصوص کتابِ آسمانی میں روحانی نعمت، اگلی آیت میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے تاکہ ان کے احساساتِ تشکر کو ابھارا جائے، ارشاد ہوتا ہے: اے ان لوگوں کی اولاد کہ جنھیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا نھا (ذُرِّیَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ)۔ [تشریحی نوٹ: ”ذُرِّیَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ“جملہٴ ندائیہ ہے اور تقدیر میں ”یا ذریة من حملنا مع نوح“ تھا۔ رہا یہ احتمال کہ ”ذریة“ ”وکیلا“کا بدل ہے یا ”تتخذوا“ کا مفعول ثانی ہے- یہ بہت بعید معلوم ہوتا ہے اور "انہ کان عبدا شکورا" سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ (غور کیجیے گا]۔ یہ بات مت بھولو کہ ”نوح ایک شکر گزار بندہ تھا“(إِنَّہُ کَانَ عَبْدًا شَکُورًا )۔ تم کہ جو اصحاب نوح کی اولاد ہوا اپنے با ایمان بزرگوں کی پیروی کیوں نہیں کرتے ہو؟ کیوں کفرانِ نعمت کی راہ اپنا تے ہو؟ ”شکور“ مبالغے کا صیغہ ہے اور اس کا معنی ہے ”زیادہ شکر گزار“۔ بنی اسرائیل کو اصحاب نوح کی اولاد شاید اس لیے کہا گیا ہے کہ مشہور تواریخ کے مطابق حضرت نوح علیہ السلام کے تین بیٹے تھے۔ ان کے نام ”سام“، ”حام“ اور ”یافث“ تھے۔ طوفان نوح کے بعد بنی نوع انسان انہی کی اولاد میں سے ہیں اور بنی اسرائیل بھی اس لحاظ سے انہی کی اولاد سے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ تمام انبیاء اللہ کے شکر گزار بندے تھے لیکن حضرت نوح علیہ السلام کی کچھ ایسی خصوصیات احادیث میں مذکورہ ہیں کہ جن کے باعث انہیں خاص طور پر ”عبداً شکوراً“ کے لفظ سے نوازا گیا ہے۔ ان کے بارے میں روایات میں ہے کہ جب وہ لباس پہنتے، پانی پیتے، کھانا کھاتے یا انہیں کوئی بھی نعمت نصیب ہوتی تو فوراً ذکر خدا کرتے اور شکر الٰہی بجا لاتے۔ ایک حدیث میں امام باقر علیہ السلام اور امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے: حضرت نوح ہر روز صبح اور عصر کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے: اللّٰہم انی اشہدک ان ما اصبح او امس بی من نعمة فی دین او دنیا فمنک، وحدک لاشریک لک، لک الحمد و لک الشکر بہا علی حتّی ترضی، و بعد الرضا۔ خداوندا !میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ جو بھی نعمت مجھے صبح و شام پہنچتی ہے وہ نعمتِ دین ہو یا نعمت دنیا، وہ نعمتِ روحانی ہو یا نعمتِ مادی۔ سب تیری طرف سے ہے تو ایک اکیلا ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں، حمد وثنا تیرے لیے مخصوص ہے اور شکر بھی تیرے ہی لیے ہے۔ میں تیرا اس قدر شکر کرتا ہوں کہ تو مجھ سے راضی ہو جا اور تیری رضا کے بعد بھی میں تیرا شکر کرتا ہوں۔ اس کے بعد امام نے مزید فرمایا کہ:--- ایسا تھا نوح کا شکر۔(بحوالہ: مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کی داستان انگیز تاریخ کے ایک گوشے کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: ہم نے تورات میں بنی اسرائیل کو بتادیا تھا کہ تم زمین میں دو دفعہ فساد کرو گے اور بڑی سرکشی کا ارتکاب کرو گے (وَقَضَیْنَا إِلیٰ بَنِی إسْرائِیلَ فِی الْکِتَابِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا کَبِیرًا)۔ ”قضاء“ کے اگرچہ بہت سے معانی ہیں لیکن یہاں یہ لفظ ”بتانے“ کے معنی میں آیا ہے۔ نیز بعد کی آیت کے قرینے سے لفظ ”الارض“ سے یہاں مراد فلسطین کی مقدس زمین ہے کہ جس میں مسجد الاقصیٰ واقع ہے۔ آئندہ آیات میں ان دو عظیم حوادث کا ذکر ہے جو اللہ کی طرف سے سزا کے طور پر رونما ہوئے۔ ارشاد ہوتا ہے: جب پہلے وعدے کا مرحلہ آ پہنچا اور تم فساد، خونریزی اور ظلم کے مرتکب ہوئے او ہم اپنے بندوں میں سے ایک جنگ آزما گروہ تمہاری طرف بھیجیں گے تاکہ وہ تمہارے اعمال کی سزا کے طور پر تمہاری سرکوبی کرے (فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ اُولَاھُمَا بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَادًا لَنَا اُولِی بَاْسٍ شَدِیدٍ)۔ یہ روز آور لوگ اس طرح سے تم پر حملہ کریں گے کہ تمہارے افراد کو پکڑنے کے لیے گھر گھر کی تلاشی لیں گے(فَجَاسُوا خِلَالَ الدِّیَارِ)۔ اور یہ ایک قطعی اور ناقابلِ تغیر وعدہ ہے ( وَکَانَ وَعْدًا مَفْعُولًا)۔ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر اللہ کا لطف و کرم تمہارے شاملِ حال ہوا اور ہم نے تمہیں اس حملہ آور قوم پر غلبہ عطا کیا (ثُمَّ رَدَدْنَا لَکُمْ الْکَرَّةَ عَلَیْھِمْ)۔ اور ہم نے تمہیں بہت مال و ثروت سے نوازا اور کثرت اولاد سے تمہیں تقویت بخشی (وَاَمْدَدْنَاکُمْ بِاَمْوَالٍ وَبَنِینَ)۔ اس قدر کہ تمہاری تعداد دشمن سے زیادہ ہو گئی ( وَجَعَلْنَاکُمْ اَکْثَرَ نَفِیرًا)۔(تشریحی نوٹ: ”نفیر“ اسم جمع ہے اس کا معنی ہے ”لوگوں کا ایک گروہ“ بعض کہتے ہیں کہ یہ ”نفر“ کی جمع ہے اور دراصل یہ ”نفر“ (بوزن ”عفو“)کے مادہ سے کوچ کرنے اور کسی چیز کو سامنے لانے کے معنی میں ہے۔ اسی وجہ سے اس گروہ کو ”نفیر“ کہتے ہیں کہ جو کسی چیز کی طرف حرکت کرنے کی طاقت رکھتا ہو۔) یہ الطاف الٰہی تمہارے لیے ہے کہ شاید تم ہوش میں آؤ، اپنی اصلاح کرو، برائیوں کو ترک کر دو اور نیکیوں کا راستہ اختیار کرو کیونکہ ”اگر نیکی کرو گے تو اپنے آپ ہی سے بھلائی کرو گے اور اگر بدی کرو گے تو اپنے آپ ہی سے کرو گے (إِنْ اَحْسَنتُمْ اَحْسَنتُمْ لِاَنفُسِکُمْ وَإِنْ اَسَاْتُمْ فَلَھَا)۔ یہ ایک دائمی اصول ہے کہ نیکیاں اور برائیاں آخر کار خود انسان کی طرف لوٹتی ہیں۔ اگر کوئی ضرب لگاتا ہے تو دراصل وہ اپنے جسم پر لگاتا ہے اور اگر کوئی کسی کی خدمت کرتا ہے تو درحقیقت، اپنی ہی خدمت کرتا ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ نہ اس سزا نے تمہیں بیدار کیا اور نہ بارِ دیگر نعماتِ الٰہی حاصل ہونے نے۔تم پھر بھی سرکشی کرتے رہے اور راہِ ظلم و تجاوز اختیار کیے رہے۔ تم نے زمین پر بہت فساد پیدا کر دیا اور غرور و تکبر میں حد سے گزر گئے۔ پھر اللہ کے دوسرے وعدے کی تکمیل کا مرحلہ آ پہنچا تو ایک اور زبر دست جنگجو گروہ تم پر مسلط ہو جائے گا اور وہ تمہارا یہ حال کرے گا کہ تمہارے چہرے غمزدہ ہو جائیں گے (فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ لِیَسُوئُوا وُجُوھَکُمْ)۔ یہاں تک کہ وہ تمہاری عظیم عبادت گاہ بیت المقدس کو تمہارے ہاتھ سے چھین لیں گے ”اور اس مسجد میں داخل ہو جائیں گے جیسے پہلی مرتبہ دشمن اس میں داخل ہوئے تھے“ (وَلِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ کَمَا دَخَلُوہُ اَوَّلَ مَرَّةٍ)۔ وہ اسی پر بس نہیں کریں گے بلکہ ”ان کے سارے آباد شہر اور زمین اجاڑ کے رکھ دیں گے“( وَلِیُتَبِّرُوا مَا عَلَوْا تَتْبِیرًا)۔ اس کے باوجود توبہ اور خدا کی طرف بازگشت کے دروازے تم پر بند نہیں ہوئے پھر بھی ”ممکن ہے اللہ تم پر رحم کرے“(عَسیٰ رَبُّکُمْ اَنْ یَرْحَمَکُمْ)۔ اور اگر ہماری طرف لوٹ آؤ تو ہم بھی اپنے لطف ں کرم کا رخ پھر تمہاری جانب کر دیں گے اور اگر تم نے فساد اور اکڑپن کو نہ چھوڑا تو پھر تمہیں ہم شدیدعذاب میں مبتلا کر دیں گے ( وَإِنْ عُدْتُمْ عُدْنَا)۔ اور پھر یہ تو دنیا کی سزا ہے جبکہ ”جہنم کو ہم نے کافروں کے لیے سخت قید خانہ قرار دیا ہے“( وَجَعَلْنَا جَھَنَّمَ لِلْکَافِرِینَ حَصِیرًا)۔(تشریحی نوٹ: ”حصیر“ ”حصر“ کے مادہ سے ”قید“ کے معنی میں ہے اور ہر وہ جگہ جس سے نکلنے کی راہ نہ ہوا سے ”حصیر“کہتے ہیں چٹائی کو بھی حصیر اس لیے کہتے ہیں کہ اس کے مختلف حصے باہم بنے ہوئے اور محصور ہوتے ہیں)۔

چند اہم نکات: ۱۔ بنی اسرائیل کے دو تاریخی فسادات

زیر نظر آیات میں بنی اسرائیل کے دو اجتماعی انحرافات کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ یہ انحرافات فساد اور سرکشی پر منتج ہوئے۔ ان میں سے ہر ایک کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت زور آور لوگوں کو مسلط کر دیا تاکہ وہ انہیں سخت سزا دیں اور کیفرِ کردار تک پہنچائیں۔ بنی اسرائیل کی تاریخ بہت داستان انگیز ہے۔ وہ تاریخ کے بہت سے نشیب و فراز سے گزرے ہیں کبھی انہیں کامیابی نصیب ہوئی اور کبھی وہ شکست سے دوچار ہوئے لیکن قرآن یہاں کن حوادث کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں مفسرین میں بہت اختلاف ہے۔ اس سلسلے میو ہم بطور نمونہ چند ایک کا ذکر کرتے ہیں: ۱۔ بنی اسرائیل کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلا شخص جس نے ان پر حملہ کیا اور بیت المقدس کو تباہ کر دیا وہ بخت النصر تھا۔ یہ بابل کا حکمران تھا۔ اس حملے کے بعد بیت المقدس ستر برس تک اسی طرح برباد رہا یہاں تک کہ پھر یہودی اٹھے اور انہوں نے اس کی تعمیر نو کی۔ دوسرا شخص جس نے ان پر حملہ کیا وہ قیصرِ روم ”اسپیانوس“ تھا۔ اس نے اپنے وزیر ”طرطوز“ کو اس کام پر مامور کیا۔ اس نے بیت المقدس کو تباہ کرنے اور بنی اسرائیل کو کمزور اور قتل کرنے میں پوری قوت صرف کر دی۔ یہ واقعہ تقریباً سو سال قبل مسیح پیش آیا۔ لہٰذا ممکن ہے کہ وہ دو داقعات جن کی طرف قرآن حکیم میں اشارہ کیا گیا ہے یہی ہوں کہ جو بنی اسرائیل کی تاریخ میں بھی آئے ہیں کیونکہ بنی اسرائیل کی تاریخ میں پیش آنے والے دوسرے واقعات اس قدر سنگین اور شدید نہیں تھے کہ ان کی حکومت بالکل ملیا میٹ ہو گئی ہو بخت النصر کے حملے نے ان کی طاقت و شوکت کو بالکل تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ ”کورش“ کے زمانے تک ان کی صورتِ حال اسی طرح رہی۔ اس کے بعد پھر بنی اسرائیل بر سر اقتدار آئے۔ ان کی حکومت اسی طرح برقرار رہی یہاں تک کہ پھر قیصرِ روم نے ان پر حملہ کیا اور ان کی حکومت کو ختم کر دیا۔ پھر ایک طویل مدت وہ در بدر رہے (اور اب پھر کچھ عرصہ پیشتر ان لوگوں نے انسانیت کُش سامراجی قوتوں کی مدد سے ایک حکومت قائم کی ہے اور اب وہ اس کی توسیع کے لیے کوشاں ہیں)۔(بحوالہ: تفسیر المیزان، ج ۱۳ ص ۴۶)۔ ۲۔ طبری اپنی تفسیر میں نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پہلے فساد سے مراد زکریا اور بہت سے انبیاء کا قتل ہے اور پہلے وعدے سے مراد بخت النصر کے ذریعے اللہ کی طرف سے ان سے انتقام لینے کا وعدہ ہے اور دوسرے فساد سے مراد وہ شورش ہے جو انہوں نے ”آزادی“ کے بعد ایران کے ایک بادشاہ کی سرکردگی میں برپا کی اور یہ لوگ فساد اور خرابی کے مرتکب ہوئے جبکہ دوسرے وعدے سے مراد بادشاہِ روم ”انطیاخوس“ کا حملہ ہے۔ ایک حد تک تو یہ تفسیر پہلی تفسیر پر منطبق کی جا سکتی ہے لیکن اس کا راوی قابلِ اعتماد نہیں ہے نیز حضرت زکریا علیہ السلام کی تاریخ کو بخت النصر اور اسپیانوس یا انطیاخوس کے زمانے پر منطبق نہیں کیا جا سکتا بلکہ بعض کے بقول بخت النصر ”ارمیا“ یا دانیال پیغمبر کا ہم عصر تھا اور یہ زمانہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کے دور سے تقریباً چھ سو برس پہلے کا ہے۔ لہٰذا کیونکر ممکن ہے کہ بخت النصر نے حضرت یحییٰ کے خون کے انتقام کے لیے قیام کیا ہو؟ ۳۔ بعض دوسرے مفسرین نے کہا ہے کہ حضرت داؤد(ع) اور حضرت سلیمان (ع) کے زمانے میں ایک مرتبہ بیت المقدس تعمیر ہوا اور بخت النصر نے اسے تباہ و برباد کر دیا۔ یہی وہ پہلا وعدہ ہے جس کی طرف قرآن نے اشارہ کیا ہے۔ اس کے بعد بیت المقدس ہخامنشی بادشاہوں کے زمانے میں تعمیر ہوا۔ پھر اسے طیطوس رومی نے برباد کیا (توجہ رہے کہ ہو سکتا ہے یہ ”طیطوس“ وہی ”طرطوز“ ہوجس کا سطورِ بالا میں ذکر آچکا ہے)۔ اس شہر کی یہی حالت رہی، یہاں تک کہ خلیفہ ثانی کے زمانے میں اسے مسلمانوں نے فتح کیا۔(بحوالہ: تفسیر ابوالفتوح رازی، ج ۷ حاشیہ ص ۲۰۹ از قلم عالمِ معظم شعرانی مرحوم)۔ یہ تفسیر بھی مندرجہ بالا دو تفسیروں سے کوئی زیادہ اختلاف نہیں رکھتی۔ ۴۔ مندرجہ بالا تفاسیر اور دیگر تفاسیر کہ جو کم و بیش ان سے ہم آہنگ ہیں، کے مقابلے میں ایک اور تفسیر بھی ہے۔ اس کا احتمال سید قطب نے اپنی تفسیر فی ذکر کیا ہے۔ یہ تفسیر مذکورہ تفسیروں سے بالکل مختلف ہے۔ اس تفسیر کے مطابق یہ واقعات گزشتہ زمانے میں اور نزولِ قرآن کے زمانے میں پیش نہیں آئے بلکہ ان کا تعلق نزول قرآن سے بعد کے زمانے سے ہے۔ احتمالاً ان کا پہلا فساد ہٹلر کے زمانے سے مربوط ہے کہ جب ہٹلر کی قیادت میں جرمن کے نازیوں نے یہودیوں کے خلاف قیام کیا۔(بحوالہ: تفسیر فی ظلال، ج ۵ ص ۳۰۸)۔ لیکن۔ اس تفسیر میں یہ اشکال ہے کہ ان واقعات میں سے کسی واقعے میں بھی فتح مند قوم بیت المقدس میں داخل بھی نہیں ہوئی چہ جائیکہ بیت المقدس برباد ہوتا۔ ۵۔ ایک احتمال اور بھی بعض حضرات کی طرف سے ذکر ہوا ہے اور وہ یہ کہ یہ دونوں واقعات دوسری جنگِ عظیم کے بعد کے ہیں جبکہ صیہونزم کی بنیاد پڑی اور اسلامی ممالک کے قلب میں اسرائیل نامی حکومت تشکیل دی گئی بنی اسرائیل کے پہلے فساد اور سرکشی سے یہی مراد ہے اور پہلے انتقام سے مراد یہ ہے کہ جب ابتداء میں اسلامی ممالک اس سازش سے آگاہ ہوئے تو انہوں نے اس کے مقابلے کے لیے قیام کیا نتیجتاً انہوں نے بیت المقدس اور فلسطین کے کچھ شہر اور قبضے یہودیوں کے چنگل سے آزاد کروا لیے اور مسجدِ اقصیٰ سے یہودی اثر و نفوذ بالکل ختم ہو گیا۔ دوسرے فساد سے مراد درندہ صفت سامراجی طاقتوں کے سہارے بنی اسرائیل کا وہ حملہ ہے جس کے نتیجے میں انہوں نے بہت سے اسلامی علاقوں پر قبضہ جما لیا اور بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کو اپنے زیر نگین کر لیا۔ اس بنا پر مسلمانوں کو بنی اسرائیل پر دوسری کامیابی کا انتظار کرنا چاہیے، مسجد اقصیٰ کو ان کے چنگل سے آزاد کروانا چاہیے اور اسلامی سرزمین سے ان کے اثر و نفوذ کا پوری طرح خاتمہ کر دینا چاہیے۔ ساری دنیا کے مسلمان اسی روز کے منتظر ہیں اور اللہ نے اسی کے لیے مسلمانوں سے فتح و نصرت کا وعدہ کیا ہے۔ (بحوالہ: مجلہ مکتب اسلام شوارہ ۱۲ سال ۱۲ و یک سال ۱۳ بحث تفسیر آقائی ابراہیم انصاری)۔ ان کے علاوہ بھی کچھ تفاسیر ہیں کہ جن کے ذکر کی کوئی ضرورت نہیں۔ چوتھی اور پانچویں تفسیر کے مطابق آیات میں جو ماضی کے صیغے استعمال ہوئے ہیں ان سب کو مضارع کی حالت میں ہونا چاہیے تھا البتہ عربی ادب کے لحاظ سے جہاں فعل حروفِ شرط کے بعد آئے وہاں یہ معنی بعید نہیں ہے۔ لیکن یہ آیت: ثم رددنا لکم الکرة علیہم و امددناکم باموال و بنین وجعلناکم اکثر نفیراً ظاہری اعتبار سے اس بات کی غماز ہے کہ کم از کم بنی اسرائیل کا پہلا فساد اور اس کا انتقام گزشتہ زمانے میں وقوع پذیر ہوا ہے۔ ان تمام چیزوں سے قطع نظر ایک اہم مسئلہ اس مقام پر لائق توجہ ہے۔ اس آیت پر غور کیجیے: بعثنا علیکم عباداً لنا اولی باس شدید ہم اپنے بندوں میں سے ایک زور آور گروہ تم پر مسلط کریں گے۔ ظاہراً یہ آیت نشاندہی کرتی ہے کہ انتقام لینے والے افراد با ایمان بہادر تھے کہ جو ”عباد“،”لنا“ اور ”بعثنا“ کے اہل تھے۔ یہ وہ بات ہے کہ جس کا ذکر بہت سی مذکورہ تفاسیر میں نہیں آیا۔ البتہ اس بات کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ لفظ (اٹھانا، ابھارنا) ہمیشہ انبیاء اور مومنین ہی کےلیے استعمال نہیں ہوتا، بلکہ قرآن حکیم میں یہ لفظ ان کے علاوہ بھی استعمال ہوا ہے۔ مثلا ہابیل اور قابیل کے واقعے میں ہے: فَبَعَثَ اللهُ غُرَابًا یَبْحَثُ فِی الْاَرْضِ اللہ نے ایک کوّا بھیجا کہ جو زمین کو کریدتا تھا۔(مائدہ۔۳۱) نیز یہی لفظ زمین و آسمان کے عذاب کے لیے استعمال ہوا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: قُلْ ھُوَ الْقَادِرُ عَلیٰ اَنْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِکُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِکُمْ۔(انعام۔۶۵) اسی طرح لفظ ”عباد“اور ”عبد“ قابل مذمت افراد کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔ مثلاً سورہٴ فرقان کی آیت ۵۸ میں یہ لفظ گنہگاروں کے لیے استعمال ہوا ہے: وَکَفیٰ بِہِ بِذُنُوبِ عِبَادِہِ خَبِیرًا نیز سورہ شورایٰ کی آیت ۲۷میں سرکشوں کے لیے یہ لفظ اس پیرائے میں استمال ہوا ہے: وَلَوْ بَسَطَ اللهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِہِ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ اسی طرح سورہ مائدہ کی آیت ۱۱۸ میں خطا کاروں اور منکرین توحید کے بارے میں فرمایا گیا ہے: إِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَإِنَّھُمْ عِبَادُکَ لیکن۔ ان تمام چیزوں کے باوجو اس بات کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اگر یقینی قرینہ موجود نہ ہو تو زیربحث آیات کاظاہری اسلوب یہی کہتا ہے کہ انتقام لینے والے اہلِ ایمان ہیں۔ بہرحال، مندرجہ بالا آیات اجمالاً ہم سے کہتی ہیں کہ بنی اسرائیل نے دو مرتبہ فساد برپا کیا اور سرکشی اختیار کی اور اللہ نے ان سے سخت انتقام لیا۔ اس بات کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ بنی اسرائیل، ہم اور تمام انسان اس سے عبرت حاصل کریں اور یہ جان لیں کہ ظلم و ستم اور فساد انگیزی خدا کی بارگاہ میں سزا کے بغیر نہیں رہ سکتی اور جب ہمیں اقتدار یاقوت حاصل ہو تو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ دردناک حوادث ہمارے انتظار میں ہیں۔ لہٰذا گزشتہ لوگوں کی تاریخ سے ہمیں سبق حاصل کرنا چاہیے۔

۲۔ جو کام بھی کرو گے اپنے ساتھ ہی کرو گے

زیر بحث آیات میں اس بنیادی اصول کی نشاندہی کی گئی ہے کہ تمہاری اچھائیاں اور برائیاں خود تمہاری طرف لوٹتی ہیں۔ اگر چہ ظاہراً اس جملے کے مخاطب بنی اسرائیل ہیں لیکن واضح ہے کہ اس مسئلے میں بنی اسرائیل کو کوئی خصوصیت حاصل نہیں ہے۔ یہ تو پوری تاریخ انسانی کے لیے ایک دائمی قانون ہے اور خود تاریخ اس کی شاہد ہے۔(بحوالہ: نور الثقلین ج ۳، ص ۱۳۸)۔ بہت سے ایسے لوگ تھے جنہوں نے غلط اور برے کاموں کی بنیاد رکھی، ظالمانہ قوانین بنائے اور غیر انسانی بدعتوں کو رواج دیا اور آخر کار ان کا نتیجہ خود ان کے لیے کھودا تھا خود اس میں جا گرے۔ خاص طور پر زمین پر فتنہ و فساد برپا کرنا، برتری جتانا اور اپنے تئیں بڑا سمجھنا (علواً کبیراً) ایسے امور ہیں کہ جن کا اثر اسی جہان میں انسان کا دامن آ پکڑتا ہے۔ اسی بناء پر بنی اسرائیل بارہا سخت شکست سے دوچار ہوئے، پراگندہ ہوئے اور انہیں رسوا کن انجام کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ انہوں نے زمین پر فتنہ و فساد برپا کیا۔ اس وقت بھی صیہونی یہودیوں نے دوسروں کی زمین غضب کرنے، دوسروں کو بدر آوارہٴ وطن کرنے اور ان کی اولاد کو قتل و برباد کرنے کا ہمل شروع کر رکھا ہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اللہ کے گھر بیت المقدس کی حرمت کا بھی پاس نہیں کیا۔ عالمی سطح پر ان کا طرز عمل یہ ہے کہ وہ کسی قانون اور اصول کی پرواہ نہیں کرتے۔ اگر کوئی ایک فلسطینی مجاہدان کی طرف رائفل کی ایک گولی چلاتا ہے تو اس کے بدلے وہ مہاجر کمپوں، بچوں کے اسکولوں اور ہسپتالوں پر وحشیانہ بمباری کرتے ہیں اور اپنے ایک شخص کے بدلے بعض اوقات سینکڑوں بے گناہوں کو خاک و خون میں تڑپا دیتے ہیں اور بہت سے گھروں کو تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو کسی بین الاقوامی قانون کا پابند نہیں سمجھتے اور اعلانیہ سب کو پاؤں تلے روند دیتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ یہ تمام تر قانون شکنی، بے انصافی اور خلافِ انسانیت کردار اس لیے ہے کہ اسرائیل کو انسان کش عالمی طاقت امریکہ کی سرپرستی حاصل ہے لیکن یہ امر بھی قابل تردید و شک نہیں کہ خود یہ قوم سراپا ظلم و بربریت ہے اور تمام تر انسانی اقدار کو پامال کرنے پر اپنی مثال آپ ہے۔ ان کا یہ طرز عمل بذاتِ خود زمین پر فساد برپا کرنے، بڑا بننے کی خواہش اور ظلم و استکبار کا مصداق ہے۔ انہیں اب انتظار کرنا چاہیے کہ پھر ”عباداً لنا اولی باس شدید“ کے مصداق لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور ان پر غلبہ پائیں گے اور ان کے بارے میں اللہ کا قطعی وعدہ عملی شکل اختیار کرے گا۔

۳۔ آیات کی تطبیق اسلامی تاریخ پر

متعدد روایات میں زیر نظر آیات کو مسلمانوں کی تاریخ میں پیش آنے والے حوادث پر منطبق کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق پہلا فساد اور ظلم حضرت علی علیہ السلام کی شہادت ہے اور دوسرا امام حسن علیہ السلام کی شہادت جبکہ ”بعثنا علیکم عباداً لنا اولی باس شدید“ کے مصداق مہدی قائم علیہ السلام اور ان کے انصار ہیں۔ بعض دوسری روایات کے مطابق یہ ایک ایسی قوم کی طرف اشارہ ہے جو حضرت مہدی علیہ السلام سے پہلے قیام کرے گی۔(بحوالہ: نور الثقلین، ج ۳، ص ۱۳۸)۔ یہ واضح ہے کہ ان احادیث کا یہ مفہوم ہرگز نہیں ہے کہ زیر بحث آیات ی تفسیر اپنے لفظی مفہوم کے مطابق نہیں ہے کیونکہ یہ آیات پوری صراحت کے ساتھ بنی اسرائیل کے بارے میں گفتگو کررہی ہیں بلکہ ان روایات سے مراد یہ ہے کہ اس امت میں بھی ایسے فسادات اور مظالم کی ایسی ہی سزا ہو گی۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ مذکورہ بالا طرزِ عمل اگر چہ بنی اسرائیل کے بارے میں ہے لیکن یہ ایک عمومی قانون ہے جو تمام اقوام و ملل کیلئے ہے اور ساری تاریخ انسانی پر جاری و ساری ایک عمومی سنت ہے۔

9
17:9
إِنَّ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانَ يَهۡدِي لِلَّتِي هِيَ أَقۡوَمُ وَيُبَشِّرُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ٱلَّذِينَ يَعۡمَلُونَ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ أَنَّ لَهُمۡ أَجۡرٗا كَبِيرٗا
یہ قرآن بالکل سیدھے راستے کی ہدایت کرتا ہے اور اعمال صالح انجام دینے والے مومنین کو بشارت دیتا ہے کہ ان کیلئے بہت بڑا اجر ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
17:10
وَأَنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ أَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ عَذَابًا أَلِيمٗا
اور جو لوگ آخرت پر ایمان، نہیں لاتے ان کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
17:11
وَيَدۡعُ ٱلۡإِنسَٰنُ بِٱلشَّرِّ دُعَآءَهُۥ بِٱلۡخَيۡرِۖ وَكَانَ ٱلۡإِنسَٰنُ عَجُولٗا
اور انسان (جلد بازی کی وجہ) سے ایسے برائی طلب کرنے لگتا ہے جیسے بھلائی طلب کرنا چاہئے اور انسان ہمیشہ ہی سے جلد باز ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
17:12
وَجَعَلۡنَا ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَ ءَايَتَيۡنِۖ فَمَحَوۡنَآ ءَايَةَ ٱلَّيۡلِ وَجَعَلۡنَآ ءَايَةَ ٱلنَّهَارِ مُبۡصِرَةٗ لِّتَبۡتَغُواْ فَضۡلٗا مِّن رَّبِّكُمۡ وَلِتَعۡلَمُواْ عَدَدَ ٱلسِّنِينَ وَٱلۡحِسَابَۚ وَكُلَّ شَيۡءٖ فَصَّلۡنَٰهُ تَفۡصِيلٗا
اور ہم نے رات اور دن کو (توحید اور اپنی عظمت کی) دو نشانیاں قرار دیا ہے۔ پھر ہم نے رات کی نشانی کو محو کر دیا اور دن کی نشانی کو ضیاء بخش بنا دیا تاکہ( اس روشنی میں ) تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو (اور اٹھ کھڑے ہو) اور سالوں کی گنتی اور حساب جان لو اور ہم نے ہر چیز کو مشخص کرکے اور واضح طور پر بیان کیا ہے۔

سعادت کا بالکل سیدھا راستہ

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل، ان کی آسمانی کتاب تورا ت، ان کی طرف سے احکام الہٰی خلاف ورزی اور اس سلسلے میں ان کی سزاوٴں سے متعلق گفتگو تھی۔ اب مسلمانوں کی آسمانی کتاب قرآن مجید کی طرف بات کا رخ موڑا گیا ہے کہ جو کتب آسمانی کی آخری کڑی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: یہ قرآن لوگوں کو مستقیم ترین اور بالکل سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے ( إِنَّ ھٰذَا الْقُرْآنَ یَھْدِی لِلَّتِی ھِیَ اَقْوَمُ)۔ ”اقوم“، ”قیام “کے مادہ سے ہے اور چونکہ انسان جب کسی اہم کام کو انجام دینا چاہتا ہے تو قیام کرتا ہے اور کام شروع کر دیتا ہے اسی لحاظ سے احسن طریقے اور تندہی سے انجام دینے کے لیے ”قیام“ بطور کنایہ استعمال ہوا ہے۔ ضمناً یہ بھی کہہ دیا جائے کہ لفظ” استقامت“ بھی اسی مادے سے ہے اور”قیم“بھی اسی مادے سے ہے جس کا معنی ہے صاف و شفاف، مستقیم،ثابت اور ٹھوس۔ ”اقوم“چونکہ افعل التفضیل کا صیغہ ہے لہٰذا صاف تر، مستقیم تر اور بالکل سیدھا کے معنی میں ہے۔ اس لحاظ سے زیر بحث آیت کا مفہوم یہ ہو گا: قرآن ایسے راستے کی طرف دعوت دیتا ہے جو زیادہ مستقیم، زیادہ صاف اور زیادہ محفوظ و مضبوط ہے۔ قران کے پیش کردہ عقائد صاف اور مستقیم ہیں، روشن و واضح ہیں، قابل ادراک ہیں، ہر قسم کے ابہام اور خرافات سے پاک ہیں۔وہ عقائد کہ جو عمل کی دعوت دیتے ہیں انسانی صلاحیتوں کو مجتمع کرتے ہیں اور انسان اور عالم فطرت کے قوانین میں ہم آہنگی بر قرار رکھتے ہیں۔ یہ قرآن زیادہ صاف اور زیادہ مستقیم۔ اس لحاظ سے کہ ظاہر و باطن، عقیدہ و عمل،فکر و نظر اور طرز حیات کے در میان یکجہتی پیدا کر کے سب کو الله کی طرف دعوت دیتا ہے۔ یہ قرآن صاف تر اور مستقیم تر ہے۔ سماجی، اقتصادی اور سیاسی نظام اور قوانین کے اعتبار سے۔ اس کا نظام تمام روحانی پہلووٴں کی بھی پرورش کرتا ہے اور مادی لحاظ سے بھی کمال و ارتقاء آفرین ہے۔ یہ قرآن عبادت میں بھی افراط و تفریط سے بچاتا ہے۔ اسی طرح قرآن کا اخلاقی نظام بھی ہر طرح کے افراط و تفریط سے محفوظ رکھتا ہے۔ حرص اور طمع سے بھی بچاتا ہے۔ اسراف اور فضول خرچی سے بھی نجات دلاتا ہے۔ بخل اور کنجوسی سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ حسد سے بھی دوکتا ہے کمزور بن جانے اور دوسروں کو کمزور کرکے خود بڑا بن بیٹھنے سے بھی بچانا ہے۔ یہ قرآن صاف تر اور مستقیم تر ہے۔ اپنے پیش کردہ نظام حکومت کے لحاظ سے کہ جو عدل و انصاف پر مبنی ہے اور ظلم اور ظالموں کی سرکوبی کرتا ہے۔ جی ہاں! قرآن ایسے راستے کی ہدایت کرتا ہے جو ہر لحاظ سے زیادہ صاف، زیادہ مستقیم، زیادہ محفوظ اور زیادہ مضبوط ہے۔ یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ ”افعل التفضیل “کا صیغہ یہ معنی دیتا ہے کہ دوسری اقوام کے مذاہب میں بھی استقامت اور عدالت کی خوبیاں موجود تھیں جبکہ قرآن میں ان کی نسبت زیادہ ہیں لیکن چند پہلووٴں کی طرف توجہ کرنے سے یہ مسئلہ واضح ہو جاتا ہے۔ کیونکہ: اولاً: اگر موازنہ دوسرے آسمانی ادیان کے ساتھ ہو تو۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ان میں سے ہر ایک اپنے زمانے میں صاف، مستقیم اور مضبوط دین تھا لیکن تکامل و ارتقاء کے مطابق جب ہم آخری مرحلے یعنی مرحلہ خاتمیت تک پہنچیں گے تو ایسا دین موجود ہو گا کہ جو صاف تر، مستقیم تر اور مضبوط تر ہو گا۔ ثانیاً: اگر موازنہ دیگر آسمانی مذاہب کی بجائے دیگر مذاہب سے ہو تو بھی” افعل التفضیل“ با معنی ہو گا کیونکہ ہر مکتب و مذاہب کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ کم از کم ان خوبیوں کا لحاظ رکھیں لیکن ان میں موجود کوتاہیوں، خرابیوں اور انحرافوں کو مجموعی طور پر دیکھا جائے اور پھر قرآن سے ان کا موازنہ کیا جائے تو واضح ہو جائے گا کہ یہ دین زیادہ صاف اور انسان کی روحانی و مادی ضروریات سے زیادہ ہم آہنگ ہے۔ لہٰذا یہ زیادہ مضبوط اور زیادہ محفوظ ہے۔ ثالثاً: جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کر چکے ہیں کہ” افعل التفضیل“ کا صیغہ ہمیشہ اس بات کی دلیل نہیں ہوتا کہ لازماً کسی چیز سے موازنہ کیا جا رہا ہے اور لازماً دوسری طرف کوئی چیز اس کے کچھ مفہوم کی حامل ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: اَفَمَنْ یَّھْدِیٓ اِلَی الْحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَھِدِّیٓ اِلَّا اَنْ یُّھْدٰی جو شخص حق کی طرف دعوت دیتا ہے کیا رہبری کا وہ زیادہ حق رکھتا ہے اور زیادہ اہل ہے یا وہ شخص جو حق کے راستے کا راہی ہی نہیں۔ (یونس۔۳۵) ضمنی طور پر اس نکتے کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ” اقوم“ کا ایک معنی زیادہ ثابت اور زیادہ محفوظ و مضبوط ہے۔ نیز آیت کی عبارت میں موازنے کے طور پر کسی دوسری چیز کا ذکر نہیں ہے جبکہ اصطلاح کے مطابق”متعلق کا حذف ہونا عمومیت و شمولیت کی دلیل ہے۔“ ان امور کی طرف توجہ کرنے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ آیت ان آیات میں سے ہے جو اسلام اور رسول کی خاتمیت کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں کیونکہ اس آیت کے مطابق یہ دین زیادہ ثابت، زیادہ باقی، زیادہ ٹھوس، زیادہ مضبوط اور زیادہ محفوظ ہے۔ (غور کیجیے گا)۔ اس مستقیم الٰہی پروگرام سے لوگوں کا تعلق چونکہ دو طرح ہے لہٰذا اس کے بعد اس رابطے اور تعلق کے نتیجے کا انہی دو حوالوں سے ذکر کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: جن با ایمان لوگوں نے نیک عمل انجام دئیے ہیں قرآن انہیں خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے( وَیُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِینَ الَّذِینَ یَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ اَنَّ لَھُمْ اَجْرًا کَبِیرًا) اور وہ کہ جو آخرت اور اس کی عظیم عدالت پر ایمان نہیں رکھتے (اور اس لیے انہوں نے اعمال صالح انجام نہیں دیئے) انہیں آگاہ کر دیتا ہے کہ ان کے لیے دردناک عذاب ہم نے تیار کر رکھا ہے( وَاَنَّ الَّذِینَ لَایُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ اَعْتَدْنَا لَھُمْ عَذَابًا اَلِیمًا) مومنین کے لیے بشارت کی تعبیر تو واضح ہے لیکن بے ایمان اور سرکش افراد کے لیے درحقیقت، یہ ایک قسم کا استہزاء ہے یا پھر مومنین کے لیے بشارت ہے کہ ان کے دشمنوں کا یہ انجام ہو گا۔ [تشریحی نوٹ: سورہٴ نساء کی آیت ۳۸ کے ذیل میں ہم کہہ چکے ہیں کہ لفظ ”بشارت“ دراصل ”بشرة“ سے لیا گیا ہے اور ”بشرة“ کا ہے ”چہذہ“ اور ہر چیز جو انسان پر اثر انداز ہو، اسے مسرور یا مغموم کردے اسے ”بشارت“ کہتے ہیں)۔ اس طرف بھی نظر جاتی ہے کہ مومنین کے لیے اجمالاً ”اجراً کبیراً“ فرمایا گیا ہے جبکہ بے ایمان افراد کی سزا کے لیے صراحتاً ”عذابا الیماً“ فرما گیا ہے۔ ان دونوں تعبیرات کا مفہوم اس قدر وسیع ہے کہ معنوی و مادی اور روحانی و جسمانی تمام پہلووں پر محیط ہے۔ رہی یہ بات کہ دوزخیوں کی صفات میں سے صرف”آخرت پر ایمان نہ لانے“کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ ان کے اعمال کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی۔ہو سکتا ہے کہ یہ اس بناء پر ہو کہ اگر انسان اس عظیم عدالت پر ایمان رکھتا ہو تو گناہوں سے بچانے کے لیے یہ ایمان سب سے زیادہ موٴثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس سے قطع نظر انکار قیامت کا مطلب انکارِ خدا بھی ہے کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ عادل و حکیم خدا اس جہان کے لوگوں کو ان حالات میں کہ جو ہم دیکھ رہے ہیں، ان کی حالات پر چھوڑ دے اور کوئی دوسرا جہاں موجود نہ ہو۔یہ امر نہ اس کی حکمت سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ اس کی عدالت سے۔ علاوہ ازیں، آیت میں موجود جزاء سزا کے بارے میں گفتگو جاری ہے اور یہ گفتگو آخرت اور عدالتِ الٰہی کے مسئلے سے مناسبت رکھتی ہے اس لیے یہاں آخرت پر ان کے ایمان نہ لانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اگلی آیت میں گزشتہ بحث کی مناسبت سے بے ایمانی ایک اہم علت بیان کی گئی ہے اور وہ مختلف امور کے بارے میں درکار آگاہی کا نہ ہونا۔ ارشاد ہوتا ہے: جیسے انسان بھلائی کا خواہشمند ہوتا ہے اسی طرح جلد بازی کرتے ہوئے اور درکار آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے برائی طلب کرنے لگتا ہے (وَیَدْعُ الْإِنسَانُ بِالشَّرِّ دُعَائَہُ بِالْخَیْر)۔ کیونکہ انسان پر جلد باز ہے(وَکَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا )۔ اس مقام پر ”دعا“کا ایک وسیع مفہوم ہے اور اس میں ہر قسم کی خواہش و طلب شامل ہے چاہے زبان سے ہو یا عمل سے۔ درحقیقت، زیادہ سے زیادہ اور جلد منافع کے حصول کی تڑپ اس امر کا سبب بنتی ہے کہ مسائل کے تمام پلووٴں کے بارے میں غور و فکر اور تحقیق و مطالعہ نہیں کرتا اور بسا ایسا ہوتا ہے کہ اس جلد بازی کے باعث انسان حقیقی فائدے اور منافع کی تمیز نہیں کر پاتا بلکہ خواہشات کی سرکش اور بے تابی حقیقت کا چہرہ چھپادیتی ہے اور انسان اپنی بھلائی کی بجائے برائی کے پیچھے چل نکلتا ہے۔ اس حالت میں جس طرح انسان الله سے بھلائی کا تقاضا کرتا ہے عدم معرفت اور غلط پہچان کے باعث برائیوں کا بھی تقاضا کرنے لگتا ہے اور جس طرح بھلائی کے لیے کوشش کرتا ہے برائی کے بھی پیچھے چل پڑتا ہے۔ یہ نوع انسانی کے لئے ایک بہت بڑی مصیبت ہے اور سعادت کے راستے میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ کتنے ہی ایسے لوگ ہیں کہ جو جلد بازی کی وجہ سے خطرناک گڑھوں میں گر جاتے ہیں۔ اپنے تئیں وہ امن و خوشحالی کے راستے پر جا رہے ہوتے ہیں لیکن بے راہ روی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ منزل سعادت کے تصور میں برائیوں اور بدبختیوں میں جا پڑتے ہیں افتخار و عزت کی بجائے ذلت و رسوائی کے پانیوں میں جا اتر تے ہیں۔ یہ برا نتیجہ عجلت پسندی اور جلد بازی کا ہے۔ جو کچھ ہم کہہ چکے ہیں اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ آیت کا مفہوم نہ لفظی دعا میں منحرف ہے اور نہ عملی طلب میں۔ بلکہ یہ سب کچھ ایک جامع مفہوم میں موجود ہے۔ لہٰذا اگر بعض مفسریں نے اسے کسی ایک حصے میں محدود کیا ہے تو اس کی کوئی وجہ موجود نہیں ہے۔ نیز اگر بعض روایات میں صرف لفظی دعا کا ذکر ہے تو وہ دراصل ایک مصداق کی نشاندہی ہے نہ کہ پورے مفہوم کا ذکر ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: واعرف طریق نجاتک وھلاکک، کی لاتدعوا الله بشیء عسی فیہ ھلاکک، وانت تظن ان فیہ نجاتک، قال الله تعالیٰ ”وَیَدْعُ الْإِنسَانُ بِالشَّرِّ دُعَائَہُ بِالْخَیْرِ وَکَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا“ اپنی نجات اور اپنی ہلاکت کے راستے کو خوب پہچان لے تا کہ تو ا لله سے کسی ایسی چیز کا مطالبہ نہ کر بیٹھے کہ جس میں تیری ہلاکت ہے جبکہ تیرا یہ گمان ہو کہ اسی میں تیری نجات ہے۔ الله تعالیٰ کہتا ہے کہ انسان جس طرح سے بھلائی کی دعا کرتا ہے اسی طرح برائی کی طلب کرنے لگتا ہے کیونکہ انسان جلد باز ہے۔ لہٰذا حیر و سعادت تک پہنچنے کے لیے واحد راستہ یہ ہے کہ انسان جو بھی کام کرنا چاہے بڑے غور و خوض، سمجھداری اور جلد بازی سے بچتے ہوئے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر کے اور اس سلسلے میں بے سوچے سمجھے فیصلوں سے بچے اور خواہشات نفسانی کی آلودگیوں سے اپنی رائے کو پاک رکھے پھر الله سے اس کام کے لئے مدد طلب کرے تا کہ منزل سعادت سے ہمکنار ہو سکے اور ہلاکت کے گڑھے میں نہ جا گرے۔ اگلی آیت میں خلقت شب و روز، ان کی برکات اور علم میں ایک نظم وحساب کی موجودگی کے بارے گفتگو کی گئی ہے تا کہ توحید و معرفت الٰہی کی دلیل بھی بنے اور گزشتہ سے پیوستہ بحث قیامت کی بھی تکمیل ہو جائے اور اس کے علاوہ کاموں میں غور و حوض کرنے اور عجلت سے کام نہ لینے کے ضروری ہونے کے لیے بھی مشاہدہ بن سکے۔ارشاد ہوتا ہے: رات اور دن کو ہم نے اپنی نشانیاں قرار دیا ہے( وَجَعَلْنَا اللَّیْلَ وَالنَّھَارَ آیَتَیْنِ )۔ پھر ہم نے رات کی نشانی کو محو کر دیا اور اس کی جگہ دن کی نشانی لے آئے کہ جو ضیاء بخش ہے(فَمَحَوْنَا آیَةَ اللَّیْلِ وَجَعَلْنَا آیَةَ النَّھَارِ مُبْصِرَةً)۔ اس سے ہمارے دو مقصد تھے۔ پہلا یہ کہ” تم اپنے رب کے فضل سے بہرہ ور ہو جاوٴ“ (لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّکُمْ)۔ رات کو آرام کرو اور دن میں کام کاج اور بھاگ دوڑ کرو اور اس کے نتیجہ میں نعمات الٰہی سے فائدہ اٹھاوٴ۔ دوسرا یہ کہ اپنے کاموں کے نظم و حساب کے لیے سالوں کی تعداد اور مدت معین کرو اور وقت کا حساب کتاب اور تقسیم طے کر لو (وَلِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِینَ وَالْحِسَابَ)۔ اور ہم نے سب کچھ مفصل اور واضح کر دیا ہے( وَکُلَّ شَیْءٍ فَصَّلْنَاہُ تَفْصِیلًا)۔ تا کہ کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہ رہے۔ ”اٰیة اللیل“ اور ”ایة النہار“ سے مراد خود رات دن ہیں اور ان میں سے ہر ایک پروردگار کی ایک نشانی ہے یا”آیة اللیل“ سے مراد چاند اور ”آیة النہار“ سے مراد سورج ہے۔ اس بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ لیکن آیت پر ہی غور و خوض کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ پہلی تفسیر صحیح ہے۔ ”وَجَعَلْنَا اللَّیْلَ وَالنَّھَارَ آیَتَیْنِ“ کی تعبیر اس بات کی دلیل ہے کہ ان میں سے ہر ایک اثباتِ وجود خدا کے لیے دلیل، ایک نشانی ہے اور آیتِ شب محو ہونے سے مراد یہ ہے کہ رات کے تاریک پردے دن کے اجالے کی وجہ سے چھٹ جاتے ہیں اور رات کے وقت جوکچھ چھپ جاتا ہے دن کے روشنی میں آشکار ہو جاتا ہے۔ قرآن نے جو بعض دوسری آیات( یونس۔۵) میں سال اور مہینے کے حساب کے لیے سورج اور چاند کو پیمانہ اور ذریعہ قرار دیا ہے وہ ہمارے مذکورہ بیان کے منافی نہیں ہے کیونکہ انسانی زندگی میں نظم اور حساب کے پیدا ہونے کو رات دن کی طرف بھی نسبت دی سکتی ہے اور چاند سورج کی طرف بھی چونکہ یہ ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ نہج البلاغہ کے خطبہٴ اشباح میں عظمتِ الٰہی کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے امیرالمومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ”وجعل الشمس آیة مبصرة لنھارھا، وقمرھا آیة ممحوة من لیلھا، واجراھما فی مناقل مجراھما، وقدّر سیرھما فی مدارج درجھما، لیمز بین اللیل والنھار بھما، ولیعلم عدد السنین والحساب بمقادیرھما“ سورج کو دن ضیاء بخش نشانی قرار دیا اور چاند کو رات کی محو کرنے والی نشانی بنایا اور ان دونوں کو رواں دواں کر دیا۔ ان کی حرکت کے مراحل مقرر کیے تا کہ رات اور دن کے درمیان فرق پیدا کرے اور دونوں سے حاصل کیے گئے حساب کتاب سے سالوں کا اندازہ لگا یا جا سکے۔ یہ تفسیر بھی مذکورہ بالا پہلی تفسیر کے منافی نہیں ہے کیونکہ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں سال کے حساب کتاب کو رات دن سے بھی منسوب کیا جا سکتا ہے اور چاند سورج سے بھی کیونکہ دونوں ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ اشباح- خطبہ نمبر ۹۱)۔

چند اہم نکات: ۱۔ کیا انسان ذاتی طور پر جلد باز ہے ؟

زیر بحث آیت میں تو انسان کو جلد باز کہا گیا ہے لیکن کسی آیات بھی ہیں جن میں انسان کو ”ظلوم‘،” جھول“، ”کفور“، سرکش، کم ظرف اور مغرور وغیرہ کہا گیا ہے۔ ان تعبیروں سے بعض اوقات یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک ظرف یہ کہا گیا ہے اور دوسری طرف انسان کے پاک فطرت اور الٰہی روح کے حامل ہونے کا ذکر ہے۔ ان دونوں کو کس طرح ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے؟ دوسری لفظوں میں اسلامی تصور کائنات کے مطابق انسان ایک عالی مرتبہ موجود ہے خلیفة الله اور زمین میں الله کی نمائندگی کے لایق ہے۔ انسان فرشتوں کا استاد اور ان سے برتر ہے۔ یہ بات مذکورہ مذمت آمیز تعبیرات سے کیونکہ ہم آہنگ ہے؟ اس سوال کا جواب ایک ہی جملے میں دیا جا سکتا ہے کہ انسان کا یہ تمام تر مقام، اہمیت اور قیمت سے مشروط ہے اور وہ شرط ہے” ہادیاں الٰہی کے زیر نظر تربیت“۔ اس صورت کے علاوہ انسان خودرو گھاس پھونس کی طرح پرورش پاتا ہے اور خواہشات و شہوات میں غوطے کھاتا رہتا ہے اور اپنی عظیم صلاحتیں کھو دیتا ہے اور اس میں منفی پہلو آشکار ہو جاتے ہیں۔ اس بنا پر۔ اگر مذکورہ شرط پوری ہو جائے تو وہ تمام مثبت صفات جو قرآن حکیم میں انسان کے بارے میں آئی ہیں وہ صورت پذیر ہو جائیں گی اور اگر یہ شرط پوری نہ ہوئی تو مذکورہ منفی صفات نمایان ہو جائیں گی۔ اسی لیے سورہ معارج کی آیہ ۱۹ تا ۲۳ میں ہے: إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ ھَلُوعًا، إِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوعًا، وَإِذَا مَسَّہُ الْخَیْرُ مَنُوعًا، إِلاَّ الْمُصَلِّینَ، الَّذِینَ ھُمْ عَلیٰ صَلَاتِھِمْ دَائِمُونَ انسان بہت کم ظرف پیدا ہوا ہے۔ جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بے تاب ہو جاتا ہے اور جب اسے کوئی اچھائی میسر آتی ہے تو بخل کرتا ہے سوائے ان نمازگزاروں کے کہ جو ہمیشہ اس طرز عمل پر باقی رہتے ہیں۔ اس سلسلے میں مزید تفصیل تفسیر نمونہ کی آٹھویں جلد میں سورہٴ یونس کی آیت ۱۲ کے ذیل میں بیان کی جا چکی ہے۔

۲۔ جلد بازی۔ ایک مصیبت:

کسی چیز کو زیادہ پسند کرنا، سطحی اور محدود فکر، خواہشات کا انسان پر غلبہ اور کسی چیزکے بارے میں حد سے زیادہ اچھا گمان۔ یہ سب جلد بازی کے عوامل ہیں۔ عام طور پر سطحی مطالعہ اور ابتدائی آگاہی کسی امر کی حقیقت اور اس کے نفع و نقصان کو سمجھنے کے لیے کافی نہیں ہوتے لہٰذا عموماً جلد بازی ندامت، نقصان اور پشیمانی کا موجب بنتی ہے۔ یہاں تک کہ زیر بحث آیات کے مطابق بعض اوقات عجلت کے باعث انسان غلط کاموں کے پیچھے ایسی تیزی سے اچھے کاموں کے پیچھے جاتا ہے۔ پوری تاریخ انسانی میں انسان کو جن تلخ کامیوں، شکستوں اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا ان کا شمار ممکن نہیں اور خود ہم نے اپنی زندگی میں اس کے کئی نمونے دیکھے ہیں اور اس کے تلخ ثمرات چکھے ہیں۔ ”عجلت“کے مقابل ”تثبت“ اور ”تانی“ یعنی توقف کرنا، تفکر و تامل کرنا اور کسی کام کے انجام دینے کے لیے اس کے تمام پہلووں کا جائز لینا ہے۔ ایک حدیث میں رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: ”انما اھلک الناس العجلة ولو ان الناس تثبتوا لم یھلک احد“ لوگوں کو ان کی جلد بازی نے مار ڈالا اگر لوگ تامل اور سوچ بچار سے کام انجام دیتے تو کوئی شخص ہلاک نہ ہوتا۔ (بحوالہ: سفینة البحار، ج۱، ص۱۲۹)۔ ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: مع التثبت تکون السلامة، و مع العجلة تکون الندامة توقف اور تامل کرنے میں سلامتی ہے اور جلد بازی میں ندامت ہے۔ (سابقہ حوالہ) نیز رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: ان الاناة من الله والعجلة من الشیطان سوچ سمجھ کر کام کرنا الله کی طرف سے ہے اور عجلت شیطان کی جانب سے ہے۔(سابقہ حوالہ) البتہ اسلامی روایات میں”نیک کام جلدی کرنے کا باب“ بھی موجود ہے۔ ان میں سے ایک حدیث رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے۔ آپ فرماتے ہیں: انّ الله یحب من الخیر ما یعجل الله کو پسند ہے کہ نیک کام میں جلدی کی جائے۔ (بحوالہ: اصول کافی، ج۱، کتاب ایمان وکفر، باب ”تعجیل فعل الخیر“)۔ اس سلسلے میں بہت سی روایات ہیں۔ یہاں بے جا تاخیر، تساہل اور آج کل کرنے کے مقابل عجلت کا حکم ہے کیونکہ یہ طرز عمل عام طور پر کاموں میں مشکلیں اور رکاوٹیں پیدا ہونے کا سبب بنتا ہے۔ اس امر کی شاہد وہ حدیث ہے جو اسی باب میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے۔ آپ فرماتے ہیں: من ھم بشیء من الخیر فلیعجلہ فان کل شیء فیہ تاخیر فان للشیطان فیہ نظرة جو شخص کسی کار خیر کا ارادہ کرے اسے چاہئے کہ اس میں جلدی کرے کیونکہ جس کام میں تاخیر کرو گے شیطان اس میں حیلے بہانے پیدا کر دے گا۔ (سابقہ حوالہ) اس بنا پر کہنا چاہئے کہ کاموں میں سرعت اور مضبوط ارادہ تو ضرور ہونا چاہیئے لیکن جلد بازی نہیں۔ دوسرے لفظوں میں مذموم ایسی جلد بازی ہے کہ نتیجے میں کام بغیر تمام پہلووں کا جائزہ لیے اور بغیر تحقیق و شناخت کے، صورت پذیر ہو جائے اور لائق تحسین ایسی سرعت ہے جو مصمم اردہ کر لینے کے بعد تاخیر سے بچنے کے لیے ہو۔ روایات میں ہے کہ”نیک کام میں جلدی کرو“ یعنی پہلے یہ جان لو کہ یہ کام۔ کار خیر ہے اور جب اس کا اچھا ہونا ثابت ہو جائے تو پھر اس میں تساہل نہ برتو۔

۳۔ کائنات میں نظم و حسا ب کا انسانی زندگی پر اثر:

تمام تر نظام کائنات کسی حساب کتاب اور نظم و شمار پر قائم ہے۔ نظام عالم کی کوئی چیز بغیر کسی حساب کتاب کے نہیں ہے۔ فطری امر ہے کہ انسان کہ جواس سارے نظام کا ایک جزو ہے کسی حساب کتاب کے بغیر زندگی بستر نہیں کر سکتا۔ اسی بناء پر قرآن کی مختلف آیات میں یہ فرمایا گیا ہے کہ چاند، سورج یا رات دن کا وجود انسان کے لیے نعمات الٰہی میں سے ہے کیونکہ یہ انسان زندگی میں نظم و حساب پیدا کرنے کا ایک عامل ہے۔ کیونکہ بے نظم زندگی فنا اور نابود کا سبب ہے۔ یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ زیر مطالعہ آیات میں رات اور دن کی نعمت کے دو فائدے ذکر کیے ہیں: ایک۔ ”ابتغاء فضل الله“۔ کہ جو عام طور پر مفید اور تعبیر کام کے معنی میں ہے۔ دوسرا۔سالوں کا حساب جاننا۔ ان دونوں کا اکٹھا ذکرشاید اس بات کی دلیل ہے کہ”ابتغاء فضل الله“”نظم و حساب“ سے استفادہ کیے بغیر ممکن نہیں ہے۔ گزشتہ زمانے میں شاید یہ بات اتنی واضح نہیں تھی لیکن آج کی دنیا تو اعداد و شمار کی دنیا ہے۔ آج تو ہر اقتصادی، سماجی، سیاسی، سائنسی اور ثقافتی ادارے میں شماریات کا شعبہ ہوتا ہے۔ ہر کارخانے میں شعبہ ہوتا ہے۔ دور حاضر میں اس قرآنی اشارے کی گہرائی کی طرف توجہ کرنا چاہئے اور یہ جاننا چاہیئے کہ قرآن نہ صرف یہ کہ قرآن نہ صرف یہ کہ زمانہ گزرنے سے پرانا نہیں ہوتا بلکہ جوں جوں وقت گرزتا ہے اس کی تازگی زیادہ نکھر کر سامنے آتی ہے۔ (تشریحی نوٹ: اس سلسلے میں ہم نے سورہٴ یونس کی آیت ۵ کے ذیل میں بھی تفصیلی بات کی ہے۔ اس سلسلے میں تفسیر نمونہ کی آٹھویں جلد میں مذکورہ آیت کی تفسیر کی طرف رجوع کیجئے)۔

13
17:13
وَكُلَّ إِنسَٰنٍ أَلۡزَمۡنَٰهُ طَـٰٓئِرَهُۥ فِي عُنُقِهِۦۖ وَنُخۡرِجُ لَهُۥ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ كِتَٰبٗا يَلۡقَىٰهُ مَنشُورًا
اور ہم نے ہر چیز کو مشخص کر کے( واضح طور پر) بیان فرمایا ہے۔ اور ہر شخص کے اعمال کو ہم نے اس کے گلے کا ہار بنا دیا ہے‘اور روز قیامت اس کیلئے ہم ایک کتاب نکالیں گے کہ جسے وہ اپنے سامنے کھلا ہوا پائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
17:14
ٱقۡرَأۡ كِتَٰبَكَ كَفَىٰ بِنَفۡسِكَ ٱلۡيَوۡمَ عَلَيۡكَ حَسِيبٗا
(ہم اس سے کہیں گے) اپنی کتاب پڑ ھ۔ آج اپنا حساب لگانے کیلئے تو خود ہی کافی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔

15
17:15
مَّنِ ٱهۡتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهۡتَدِي لِنَفۡسِهِۦۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيۡهَاۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٞ وِزۡرَ أُخۡرَىٰۗ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبۡعَثَ رَسُولٗا
جو شخص بھی ہدایت پالے تو اس نے اپنے ہی لئے ہدایت پائی اور جو شخص گمراہ ہو وہ خوداپنے ہی نقصان میں گمراہ ہوا اور کوئی شخص دوسرے کا بوجھ اپنے کاندھے پر نہیں اٹھائے گا اور ہم پیغمبر مبعوث کئے بغیر کسی( شخص یا قوم )کو عذاب نہیں دیتے۔

چار اہم اسلامی اصول

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں معاد و قیامت اور حساب و کتاب کے بارے میں گفتگو تھی۔ اسی مناسب سے زیر بحث آیات میں انسان کے اعمال کے حساب و کتاب کے ابرے میں بات کی گئی۔ گفتگو قیامت میں اس معاملے کی کیفیت سے شروع ہوتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ہر شخص کے اعمال کو ہم نے اس کے گلے کا ہار بنادیا ہے ( وَکُلَّ إِنسَانٍ اَلْزَمْنَاہُ طَائِرَہُ فِی عُنُقِہِ)۔ ”طائر“ پرندے کے معنی میں ہے لیکن عربوں کے درمیان معمول تھا کہ وہ پرندوں کے ذریعے نیک یابد فال نکالتے تھے اور ان کی حرکت کی کیفیت سے نتیجہ نکالتے تھے۔ یہاں اس چیز کی طرف اشارہ ہے۔ مثلاً اگر ایک پرندہ ان کی دائیں طرف اڑ رہا ہوتا تو ایک اسے نیک فال سمجھتے اور اگر بائیں طرف اڑ رہا ہوتا تو اسے بدفال خیال کرتے۔ اسی لیے یہ لفظ زیادہ تر فال بد کے معنی میں استعمال ہوتا ہے حالانکہ ”تفال“ زیادہ تر نیک فال کے لیے بولا جاتا ہے۔ آیات قرآن میں بھی بارہا ”تطیر“ فال بد کے معنی میں آیا ہے۔ مثلاً: وَإِنْ تُصِبْھُمْ سَیِّئَةٌ یَطَّیَّرُوا بِمُوسیٰ وَمَنْ مَعَہُ فرعوں والوں کو کوئی پریشانی لاحق ہوتی تو وہ اسے موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست سمجھتے تھے۔ (اعراف۔۱۳۱) نیز سورہ نمل کی آیت ۴۷ میں ہے: قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِکَ وَ بِمَنْ مَعَکَ قوم صالح کے مشرکین کہنے لگے: ہم تجھے اور تیرے ساتھیوں کو منحوس اور فال بد سمجھتے ہیں۔ اسلامی احادیث میں”تطیر“سے منع کیا گیا ہے اور اس کے مقابلے میں ”توکل علی الله‘ ‘کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ بہرحال، زیر بحث آیت میں بھی”طائر“ اس معنی کی طرف اشارہ ہے یا پھر یہ قسمت کے معنی میں ہے کہ جو نیک و بد فال کے قریب قریب ہے۔ قرآن درحقیقت، کہتا ہے کہ نیک و بد فال اور اچھی بری قسمت کوئی چیز نہیں۔ یہ تو تمہارے اعمال ہیں کہ جنہیں تمہاری گردن میں لٹکایا جائے گا۔ ”الزمناہ“ (ہم نے لازم قرار دیا ہے اس کو) اور ”فی عنقہ“ (اس کی گردن میں) کی تعبیر اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کے اعمال اور ان کے نتائج دنیا اور آخرت میں اس سے جدا نہیں ہوتے اور ہر حالت میں اسے ان کا مسئول اور ذمہ دار ہونا چاہئے۔ جو کچھ ہے عمل ہے باقی سب باتیں ہیں۔ بعض مفسرین نے لفظ ”طائر“ کے انسانی اعمال پر اطلاق سے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ انسان کے اچھے برے اعمال گویا ایک پرندے کی مانند ہیں کہ جو اس کے وجود سے پرواز کرتا ہے۔ اسی لیے ان پر ”طائر“کا اطلاق ہوا ہے۔ زیر بحث آیت میں لفظ”طائر“ اچھائی اور برائی سے انسان کے حصے کے معنی میں ہے یا دلیل اور رہنما کے معنی میں ہے یا نامہ اعمال کے معنی میں ہے یا برکت و نحوست کے معنی میں ہے۔ ان میں سے بعض تفاسیر سے تو وہی مفہوم نکلتا ہے جس کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں جبکہ بعض تفاسیر آیت کے مفہوم سے بہت دور ہیں۔ اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے: روزِ قیامت ہم اس کے لیے کتاب نکالیں گے کہ جسے وہ اپنے سامنے کھلا ہوا پائے گا (وَنُخْرِجُ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ کِتَابًا یَلْقَاہُ مَنشُورًا)۔ واضح ہے کہ ”کتاب“ سے مراد انسان کے نامہ اعمال کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے۔ وہی نامہ اعمال کہ جو اس دنیا میں بھی موجود ہے کہ جس میں اس کے اعمال ثبت ہوئے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ یہاں وہ نامہ اعمال پوشیدہ اور وہاں کھلا ہوا سامنے رکھا ہو گا۔ ”نخرج“‘ (نکالیں گے) اور ”منشور“ (کھلا ہوا) کی تعبیر اسی معنی کی طرف اشارہ ہے کہ جو اس جہان میں مخفی ہے وہاں آشکار اور کھلا ہوا ہو گا۔ نامہ اعمال اور اس کی حقیقت کے بارے میں آئندہ صفحات میں ہم مزید گفتگو کریں گے۔ تو اس وقت اس سے کہا جائے گا: اپنا نامہ اعمال خود پڑھ لے (اقْرَاْ کِتَابَک)۔ اپنا حساب کتاب کرنے کے لیے آج تو خود ہی کافی ہے (کَفیٰ بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ حَسِیبًا) یعنی مسائل اس قدر واضح ہیں کہ جائے کلام نہیں ہے۔ جو شخص بھی اس نامہ اعمال کودیکھے گا خود فیصلہ کر سکے گا، چا ہے وہ خود مجرم ہی کیوں نہ ہو کیونکہ یہ نامہ اعمال خود اسی کے اعمال یا اعمال کے آثار کا مجموعہ ہے لہٰذا کرئی ایسی چیز نہیں کہ جس کا انکار ہو سکے۔ اگر میں اپنی ریکارڈ شدہ آواز سنوں یا کرئی اچھایا برا کام کرتے ہوئے کھینچی گئی اپنی تصویر دیکھوں تو کیا اسکا انکار کر سکتا ہوں۔ نامہ اعمال کی کیفیت روز قیامت اس سے بھی زیادہ واضح اور باریک تفصیلات کے ساتھ ہو گی۔ اگلی آیت میں حساب اور جزاء کے بارے میں چار اصولی احکام بیان کیے گیے ہیں: ۱۔ جو شخص ہدایت پا لے تو اس نے اپنے ہی فائدے میں ہدایت پائی ہے اور اس کا نتیجہ خود اسی کو حاصل ہو گا (مَنْ اھْتَدیٰ فَإِنَّمَا یَھْتَدِی لِنَفْسِہِ)۔ ۲۔ اور جوشخص گمراہی کا راستہ اپنا لے تو وہ اپنے ہی نقصان میں گمراہ ہوا ہے اور اس کے برے نتائج خود اسی کے دامن گیر ہوں گے (وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْھَا)۔ ان دو احکام کی نظیر اسی سورت کی ساتویں آیت میں بھی گزر چگی ہے۔ ۳۔ کوئی شخص دوسرے کے گناہ کا بوجھ اپنے دوش پر نہیں اٹھائے گا اور کسی کو دوسرے کے جرم کی سزا نہیں دی جائے گی (وَلَاتَزِرُ وَازِرَةٌ وزَر اُخْری) ”وزر“ کا معنی ہے”بھاری بوجھ“ یہ لفظ مسئولیت اور جوابدہی کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے کیونکہ روحانی اعتبار سے یہ بھی انسان کے کندھے پر ایک بھار بوجھ کی مانند ہی ہے۔ ”وزیر“ کو بھی اسی لیے ”وزیر“ کہتے ہیں کہ سربراہ مملکت یا عوام کی طرف سے اس کے کندھے پر ایک بھاری بوجھ ہوتا ہے۔ یہ ایک عمومی قانون ہے کہ کوئی شخص دوسرے کے گناہ کا بوجھ اپنے کندھے پر نہیں اٹھائے گا۔ البتہ یہ قانون سورہٴ نحل کی آیت ۲۵ کے مفہوم کے منافی نہیں ہے کہ جس میں ہے کہ گمراہ کرنے والے افراد سے ان لوگوں کے بارے میں بھی جوابدہی ہو گی جنہیں انہوں نے گمراہ کیا ہے کیونکہ دوسروں کو گمراہ کرنا بھی بذات خود گناہ ہے یا گمراہ کرنے والے مثل فاعل شمار ہوں گے لہٰذا درحقیقت، یہ ان کے اپنے گناہوں کا بوجھ ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہاں ”سبب“ کام انجام دینے والے کے حکم میں ہے۔ متعدد روایات کے مطابق جو اچھی یا بری رسم کی بنیاد رکھے گا وہ جزا اور سزا میں اس رسم کی پیروی کرنے والوں کا شریک ہے۔ جو کچھ ہم نے سطور بالا میں کہا ہے یہ روایات اس سے متضاد نہیں ہیں کیونکہ کسی سنت یا رسم کی بنیاد رکھنے والا درحقیقت، عمل کے بنیادی اسباب میں سے ہے اور عمل میں شریک ہے۔ ۴۔آخر میں چوتھا حکم یوں بیان کیا گیا ہے: ہم کسی شخص یا قوم کو اس وقت تک سزا نہیں دیتے جی تک ان کے لیے کوئی پیغمبر مبعوث نہ کریں تا کہ وہ پوری طرح انہیں ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرکے ان پر حجت تمام کر دے (وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِینَ حَتَّی نَبْعَثَ رَسُولًا)۔ مفسرین میں اس سلسلے میں اختلاف ہے کہ یہاں عذاب سے مراد ہر قسم کا دنیاوی یا اخروی عذاب ہے یا خصوصیت سے”عذابِ استیصال“ ہے (یعنی طوفان نوح کی طرح کا ہولناک عذاب)۔ لیکن اس میں شک نہیں کہ آیت کا ظاہری مفہوم مطلق ہے اور اس میں ہر قسم کا عذاب شامل ہے۔ نیز اس بارے میں بھی مفسرین میں اختلاف ہے کہ یہ حکم شرعی مسائل کہ جنہیں نقلی دلائل سے معلوم کیا جاتا ہے کے لیے مخصوص ہے یا اصولی و فرعی اور عقلی و نقلی تمام مسائل سے مربوط ہے۔ البتہ اگر ہم آیت کے ظاہری مفہوم کو دیکھیں تو مطلق ہے۔ لہٰذا کہنا چاہئے اصول و فروع دین سے مربوط تمام عقلی و نقلی احکام اس میں شامل ہے۔ آیت کے ظاہری مفہوم کے لحاظ سے اس گفتگو کا مفہوم یہ ہے کہ وہ مسائل بھی جن کے بارے میں عقل مستقلاً اچھا یا برا ہونے کا فیصلہ رکھتی ہے(مثلاً عدل کا اچھا ہونا اور ظلم کا برا ہونا) الله تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے ان کے بارے میں بھی کسی کو اس وقت تک سزا نہیں دیتا جب تک خدا کے پیغمبر نہ آئیں اور حکم نقل کے ذریعے حکم عقل کی تائید نہ کریں۔ (غور کیجئے گا)۔ لیکن یہ بات بہت بعید معلوم ہوتی ہے کیونکہ عقل جن امور کے بارے میں مستقل فیصلہ رکھتی ہے وہ بیان شرعی کے محتاج نہیں ہیں اور ایسے امور کے لیے حکم عقل اتمام حجت کے لیے کافی ہے لہٰذا ہمارے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم مستقلات عقلی کو اس آیت سے مستثنیٰ سمجھیں اور اگر ایسا نہ سمجھیں تو پھر عذاب کے اس جملے میں عذابِ استیصال کا معنی لینا ہو گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ الله تعالیٰ اپنے لطف اور کرم کی وجہ سے ظالموں اور منحرفوں کواس وقت تک نابود نہیں کرے گا جب تک انہیں سعادت کی تمام راہیں بتانے والا پیغمبر ان میں مبعوث نہ کرے۔ وہ پیغمبر ان سے مستقلات عقلی کے بارے میں بھی شرعی حکم بیان کرے گا اور عقل و نقل دونوں حوالوں سے اتمام حجت کرے گا (غور کیحئے گا)۔

چند اہم نکات: ۱۔ اچھی اور بری فال

کسی چیز یا کام سے نیک و بد فال لینا تمام قوموں میں تھا اور آج بھی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اس کا سرچشمہ حقائق تک دسترس نہ ہونا اور واقعات کے اسباب و علل سے لا علمی ہے۔ بہرحال، اس میں شک نہیں کہ نیک یا بد فال کا کوئی طبیعی اثر نہیں ہے البتہ اس کا نفیساتی اثر ہوتا ہے۔ لیکن فال امید آفریں ہوتی ہے جبکہ بد فال یاس، ناامیدی اور کمزوری کا موجب بنتی ہے۔ اسلام چونکہ ہمیشہ اچھی چیزوں کا خیر مقدم کرتا ہے اس لیے اسلام نے نیک فال سے منع نہیں کیا، البتہ بد فال کی شدید مذمت کی ہے۔ یہاں تک کہ بعض روایات میں اسے سرحد شرک میں شمار کیا گیا ہے۔ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: الطیرة شرک بری فال لینا (اور خدا کے مقابلے میں اسے اپنی قسمت میں موثر جاننا) ایک قسم کا خدا کی ذات میں شرک کرنا ہے۔ اس سلسلے میں چھٹی جلد میں ہم سورہٴ اعراف میں آیت ۱۳۱ کے ذیل میں گفتگو کر چکے ہیں۔ یہ بات جاذب نظر ہے کہ صحیح اور اصلاحی پہلووں سے اس قسم کے تخیلاتی امور سے اسلام نے بھی فائدہ اٹھایا ہے۔ مثلاًعمو ماً کہا جاتا ہے کہ فلاں دلہن خوش قدم تھی یا بَد قدم تھی۔ جس دن سے اس نے فلاں شخض کے گھر میں قدم رکھا ہے وہ ایسا ایسا ہو گیا ہے۔ یہ ایک فضول بات سے زیادہ نہیں ہے۔ لیکن اسلام نے اسے تعمیری اور اصلاحی شکل دی ہے۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے: من شوم المرئة غلاء مھرھا وشدة مئونتھا---- عورت کی ایک نحوست یہ ہے کہ اس کاحق مہر زیادہ ہو اور اخراجات بھاری ہوں----(بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۳، ص۱۰۴)۔ ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ (ص) وسلم سے منقول ہے: اما الدار فشومھا ضیقھا وخبث جیرانھا منحوس گھر وہ ہے کہ جو تنگ وتاریک ہو اور جس کے ہمسائے برے لوگ ہوں۔ (بحوالہ: سفینة البحار، ج۱، ص۶۸۰)۔ خوب غور کریں کہ وہی الفاظ جنہیں لوگ غلط اور بے ہودہ مفاہیم کے لیے استعمال کرتے ہیں انہیں حقیقی اور اصلاح مفاہیم کے لیے صرف کیا گیا ہے اور بے راہ روی کی طرف جانے والے خیال و افکار کو سیدھے راستے کی طرف ہدایت کی گئی ہے۔ اس بحث کی موید رسول صلی الله علیہ وآلہ(ص) وسلم کی ایک حدیث پر ہم اپنی اس گفتگو کو ختم کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں: اللّٰھم لا خیر الّا خیرک، ولا طیر الّا طیرک ولا رب غیرک بار الہا! خیر وہی ہے جو تیری طرف سے ہو اور کوئی اچھی بری فال تیرے ارادے کے بغیر کچھ نہیں اور تیرے علاوہ کوئی رب نہیں۔

۲۔ انسان کا عجیب اعمال نامہ

قرآن حکیم کی بہت سی آیات اور روایات میں انسانوں کے نامہ اعمال کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ مجموعی طور پر ان آیات و روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے تمام اعمال اپنی تمام تر تفصیلات کے ساتھ ایک رجسٹر میں لکھے جاتے ہیں اور اگر انسان نیک ہوا تو روز قیامت اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور اگر برا ہوا تو بائیں ہاتھ میں۔ سورہ ٴحاقہ میں ہے: فَاَمَّا مَنْ اُوتِیَ کِتَابَہُ بِیَمِینِہِ فَیَقُولُ ھَاؤُمْ اقْرَئُوا کِتَابِیہ جسے اس نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں تھمایا جائے گا فخر سے کہے گا کہ آئیے اور ہمارا نامہٴ اعمال پڑھیے۔ (حاقہ۔۱۹) نیز یہ بھی فرمایا ہے: وَاَمَّا مَنْ اُوتِیَ کِتَابَہُ بِشِمَالِہِ فَیَقُولُ یَالَیْتَنِی لَمْ اُوتَ کِتَابِیہ لیکن جسے اس نامہٴ اعمال بائیں ہاتھ میں تھما یا جائے گا وہ کہے گا: اے کاش! میر نامہٴ اعمال مجھے نہ تھمایا جآتا۔ (حاقہ۔ ۲۵) سورہ کہف کی آیت ۴۹ میں ہے: وَوُضِعَ الْکِتَابُ فَتَرَی الْمُجْرِمِینَ مُشْفِقِینَ مِمَّا فِیہِ وَیَقُولُونَ یَاوَیْلَتَنَا مَالِ ھٰذَا الْکِتَابِ لَایُغَادِرُ صَغِیرَةً وَلَاکَبِیرَةً إِلاَّ اَحْصَاھَا وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا وَلَایَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا بنی آدم کے اعمال نامے کھول دیئے جائیں گے تم دیکھو گے کہ مجرم لوگ اس کی تحریر سے خوف کھائیں گے اور کہیں گے! ہائے ہم پر افسوس! یہ کیسی کتاب ہے کہ اس میں کوئی چھوٹا بڑا گناہ شمار کیے بغیر نہیں چھوڑا گیا اور جو کچھ انہوں نے انجام دیا تھا اسے موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ ایک حدیث میں زیر بحث آیت ”اقرء کتابک---“کے ذیل میں اما م صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: یذکر العبد جمیع ما عمل، وما کتب علیہ، حتی کانہ فعلہ تلک الساعة، فلذلک قالوا یا ویلتنا ما لھٰذا الکتاب لایغادر صغیرة ولا کبیرة الّا احصاھا- جو کچھ انسان انجام دے چکا ہے اور اس کے نامہٴ اعمال میں درج ہے سبب کچھ اسے یاد آجائے گا اور اس طرح سے کہ جیسے اس نے ابھی ابھی انجام دیا ہے لہٰذا مجرمین پکاریں گے اور کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے کہ جس نے کوئی چھوٹا بڑا گناہ لکھے بناء نہیں چھوڑا۔ (بحوالہ: نور الثقلین، ج۳، ص۱۴۴)۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ نامہٴ اعمال کیا ہے اور کیسا ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ عام کتاب، یار جسٹر یا فائل کی طرح کا تو نہیں ہو گا۔ اس لیے بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ نامہٴ اعمال”روح انسان“ کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ہے کہ جس میں تمام اعمال کے آثار ثبت ہیں۔ (تفسیر صافی) کیونکہ ہم جو بھی عمل انجام دیتے ہیں وہ لازمی طور پر ہماری روح پر اثر مرتب کرتا ہے۔ یا یہ کہ یہ نامہٴ اعمال ہمارے جسم کے اعضاء اور گوشت پوست اور اس کے گرد کی زمین، ہوا اور فضا ہے کہ جس میں ہم اعمال انجام دیتے ہیں کیونکہ ہمارے اعمال ہمارے جسم پر اثرات مرتب کرنے کے علاوہ ہوا اور زمین پر بھی اثر چھوڑتے ہیں اگرچہ اس دنیا میں ہم ان آثار کو محسوس کر نہیں سکتے لیکن بلاشبہ وہ موجود ہوتے ہیں اور روز قیامت کہ جب ہمیں ایک نئی قوت ادراک حاصل ہو گی، ہم دیکھ سکیں گے۔ سطورِ بالا میں جو تفسیر بیان ہوئی ہے اس کے بارے میں لفظ ”اقرا“ (پڑھ) سے غلط فہمی پیدا نہیں ہونا چاہئے کیونکہ پڑھنے کا بھی ایک وسیع مفہوم ہے اور اس میں ہر قسم کا مشاہدہ شامل ہے۔ مثلاً روز مرہ کی گفتگو میں ہم کبھی کبھی کہتے ہیں: ”میں نے اس کی آنکھوں سے پڑھ لیا ہے کہ اس کا ارادہ کیا ہے“ یا ”فلاں آدمی کے فلاں کام سے میں نے باقی بات پڑھ لی ہے۔“ اسی طرح بیماروں کے ایکس رے کو دیکھنے کے لیے بھی پڑھنے کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مندرجہ بالا آیات میں ہے کہ اس کے نامہ اعمال کے مندرجات کسی طرح بھی قابلِ انکار نہیں ہیں کیونکہ وہ خود عمل کے حقیقی اور تکوینی آثار ہیں۔بالکل انسان کی ٹیپ شدہ آواز کی طرح اور یا اس کی انگلی کے نشان کی طرح۔

۳۔ گنگار کے ساتھ بے گناہ نہیں جلے گا:

عوام میں مشہور ہے کہ جب آگ لگتی ہے تو خشک و تر سب کچھ جل جاتا ہے۔ لیکن منطق، عقل اور تعلیمات انبیاء کے مطابق کسی بے گناہ کو کسی دوسرے کے گناہ کی وجہ سے سزا نہیں ملے گی قوم لوط کے تمام شروں میں صرف ایک گھر ایمان والوں کا تھا۔ جب الله نے اس منحرف اور غلیظ قوم پر عذاب نارل کیا تو اس ایک گھرانے کو بچا لیا۔ زیر بحث آیات میں بھی صراحت سے فرمایا گیا ہے: ولا تزر وازرة وزر اخری کوئی شخص دوسرے کا بوجھ دوسرے کا بوجھ اپنے کندھے پر نہیں اٹھا ئے گا۔ اس بناء پر اگر کچھ غیر معتبر روایات میں اسلام کے کلی قانون کے خلاف کچھ نظر آئے تو اسے لازمی طور پر ایک طرف پھینک دینا چاہئے یا اس کی توجیہ کی جانا چاہئے۔ مثلاً ایک روایت میں ہے: مر جانے والے کو اس کے پسماندگان کی گریہ و زاری کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے یہاں عذاب سے عذاب الٰہی مراد نہ ہو بلکہ اس سے وہ ناراحتی اور دکھ مراد ہو کہ جو اس کی روح کو اپنے عزیزوں کی بے تابی و اضطراب سے آگاہ ہونے پر ہوتا ہے۔ نیز اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ بعض لوگوں کا یہ عقیدہ کہ کافروں کی اولاد اپنے ماں باپ کے ساتھ جہنم میں جائے گی، ایک اسلامی عقیدہ نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد کو ماں باپ کے گناہ کی سزا نہیں مل سکتی یہی وجہ ہے کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ غیر شرعی طور پرپیدا ہونے والی اولاد کا بھی ذاتی طور پر کوئی گناہ نہیں اور اگر وہ چاہے تو سعادت و نجات کے دروازے اس کے سامنے کھلے ہیں اگر چہ ایسی اولاد کے لیے تربیت کا مسئلہ بہت دشوار ہے۔

۴۔ برائت کا اصول اور آیت”ما کنا معذبین“

علمِ اصول میں”برائت “کی بحث میں زیر نظر آیت سے استدال کیا گیا ہے کیونکہ آیت کا کم از کم مفہوم یہ ہے کہ جن مسائل کا عقل ادراک نہیں کر سکتی، انبیاء بھیجے بغیر یعنی احکام اور ذمہ داریاں بیان کیے بغیر خدا کسی کو سزا نہیں دے گا۔ یہ بات اس امر کی دلیل ہے کہ جن امور کے بارے میں کوئی حکم موجود نہیں ہے ان پر کوئی سزا نہ ہو گی۔ اس کو قانونِ برائت کہتے ہیں یعنی حکم بیان کیے بغیر سزا صحیح نہیں ہے۔ باقی رہا یہ معاملہ کہ بعض نے کہا ہے کہ زیر نظر آیت میں عذاب سے مراد صرف عذابِ استیصال ہے جیسا قومِ نوح پر آیا تھا۔ تو اس کے لیے کوئی دلیل موجود نہیں ہے بلکہ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں آیت مطلق ہے اور اس کے مفہوم میں ہر قسم کا عذاب اور سزا شامل ہے۔

16
17:16
وَإِذَآ أَرَدۡنَآ أَن نُّهۡلِكَ قَرۡيَةً أَمَرۡنَا مُتۡرَفِيهَا فَفَسَقُواْ فِيهَا فَحَقَّ عَلَيۡهَا ٱلۡقَوۡلُ فَدَمَّرۡنَٰهَا تَدۡمِيرٗا
اور جب ہم کسی شہر کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اس کے مترفین( نفس پرستی میں مست دولت مندوں ) سے اپنے احکامات بیان کرتے ہیں۔ پھر جب وہ مخالفت پر ا ٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور سزا کے مستحق ہو جاتے ہیں تو ہم شدت سے ان کی سر کوبی کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔

17
17:17
وَكَمۡ أَهۡلَكۡنَا مِنَ ٱلۡقُرُونِ مِنۢ بَعۡدِ نُوحٖۗ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ بِذُنُوبِ عِبَادِهِۦ خَبِيرَۢا بَصِيرٗا
اور ایسے کتنے ہی لوگ تھے جو نوح کے بعد کی صدیوں میں رہے اور (اسی سنت کے مطابق) ہم نے انہیں ہلاک کر دیا اورتیرا پروردگار اپنے بندوں کے گناہ سے پوری طرح آگاہ و بینا ہے۔

عذاب الٰہی کے چار مرحلے

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں سے آخری میں بیان کیا گیا تھا کہ” ہم کسی فرد یا کروہ کو انبیاء بھیجنے اور اپنے احکام بیان کرنے کے بغیر ہرگز سزا نہیں دیتے“۔ اب زیر بحث پہلی آیت میں ہی بنیادی بات ایک اور پیرائے میں بیان کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: جب ہم کسی قوم کو ہلاک کرنے کا مصمم ارادہ کر لیتے ہیں تو پہلے ہم مترفین اور دولت کے نشے میں غرق لوگوں سے اپنے احکام بیان کرتے ہیں۔ اس کے بعد جب وہ اطاعت نہیں کرتے بلکہ مخالفت کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور عذاب کے مستحق ہو جاتے ہیں تو ہم ان کی شدت سے سرکوبی کرتے ہیں اور انہیں ہلاک کر دیتے ہیں (وَإِذَا اَرَدْنَا اَنْ نُھْلِکَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِیھَا فَفَسَقُوا فِیھَا فَحَقَّ عَلَیْھَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاھَا تَدْمِیرًا)۔ (”قول“ کا لفظ اگرچہ وسیع معنی ہے لیکن ایسے موقع پر حکم، عذاب کے معنی میں ہے)۔ اس آیت کے مفہوم کے بارے میں بہت سے مفسرین نے متعدد احتمالات ذکر کیے ہیں لیکن ہماری نظر میں آیت ظاہری معنی کے اعتبار سے ایک سے زیادہ واضح تفسیر نہیں رکھتی۔ اور وہ یہ کہ الله تعالیٰ اتمام حجت اور اپنے احکام بیان کرنے سے پہلے ہرگز کسی سے مواخذہ نہیں کرتا اور نہ کسی کو عذاب دیتا ہے بلکہ پہلے اپنے احکام بیان کرتا ہے اگر لوگ اطاعت کریں اور ان احکام کو اپنا لیں تو خوب، اسی میں ان کی دنیا و آخرت کی سعادت ہے اور اگر وہ فسق و فجور کریں اور مخالفت پر اٹھ کھڑے ہوں اور احکام کو پاوٴں تلے روند ڈالیں تو یہ وہ مقام ہے جہاں وہ عذاب کے مستحق ہو جاتے ہیں اور پھر اس کے بعد ان کے لیے ہلاکت ہے۔ اگر آیت میں صحیح طور پر غور و فکریں تو اس کام کے لیے چار مراحل واضح طور پر بیان ہوئے ہیں: (۱) اوامر (و نواھی)کا مرحلہ (۲) مخالفت اور فسق وفجور کا مرحلہ (۳) عذاب کے استحقاق کا مرحلہ (۴) ہلاکت کا مرحلہ فاء تفریع کے ساتھ یہ تمام مرحلے دوسرے پر عطف ہوئے ہیں۔ یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ صرف”مترفین“(”مترفین“ ”ترفہ“ کے مادہ سے فراواں نعمت کے معنی میں ہے یعنی وہ نعمتوں کے پلے ہوئے اور دولت مند جو خدا سے بے خبر ہیں)کو حکم کیوں دیا گیا ہے۔ اس سوال کے جواب میں ایک نکتے کی طرف توجہ کی جائے تو معاملہ واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ بہت سے معاشروں (مراد غلط قسم کے معاشرے ہیں) میں معاشرے کی باگ ڈور مترفین ہی کے قبضے میں ہوتی ہے اور لوگ ان کے تابع اور پیرو ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس میں ایک اور نکتے کی طرف اشارہ ہے وہ یہ کہ معاشرے کی زیادہ تر برائیوں کا سرچشمہ مترفین اور خدا کو بھولے ہوئے دولت مندہی ہوتے ہیں جو ناز و نعمت، عیش و عشرت اور ہوا و ہوس میں مستغرق ہوتے ہیں۔ ہر اصلاحی، انسانی اور اخلاقی آواز انہیں بُری لگتی ہے۔ لہٰذا یہی لوگ انبیاء کے مقابلے میں پہلی صف میں ہوتے تھے اور ان کی دعوت کہ جو عدل و انصاف کے لیے اور مستضعفین کی حمایت میں ہوتی تھی اسے ہمیشہ اپنے بر خلاف سمجھتے تھے۔ ان وجوہ کی بناء پر خصوصیت سے انہی کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ فساد اور برائی کی اصلی جڑ یہی لوگ ہیں۔ ضمنا۔ ”دمرنا“ اور ”تدمیر“’، ”دمار“کے مادہ سے ہلاکت کے معنی میں ہیں۔ بہرحال، مندرجہ بالا آیت تمام اہل ایمان کے لیے تنبیہ ہے کہ وہ خبردار رہیں اور اپنی حکومت مترفین اور نفسانی خواہشوں میں سرمست دولت مندوں کے ہاتھ میں نہ دیں اور ان کے پیچھے نہ لگیں کیونکہ یہ لوگ آخر کار ان کے معاشرے کو ہلاک و نابود ی سے ہمکنار کریں گے۔ اس کے بعد والی آیت میں اس مسئلے کے کئی ایک نمونوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: کتنے ہی لوگ تھے جو نوح کے بعد کی صدیوں میں آئے اور (اسی سنت کے مطابق) ہلاک اور نابود ہو گئے (وَکَمْ اَھْلَکْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِنْ بَعْدِ نُوحٍ) اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی فرد یا یا گرو ہ کا ظلم اور گناہ علم خدا کی تیزبین نگاہ سے مخفی رہ جائے ”خدا اپنے بندوں کے گناہ سے کافی یعنی پورا آگاہ ہے ان کے لیے بینا ہے“(وَکَفیٰ بِرَبِّکَ بِذُنُوبِ عِبَادِہِ خَبِیرًا بَصِیرًا) ”قرون“، ”قرن“کی جمع ہے۔ اس کا معنی ہے وہ لوگ جو ایک زمانے میں زندگی گزاریں۔بعد ازاں یہ لفظ ایک زمانے اور ایک دَور کے لیے استعمال ہونے لگا۔ ایک”قرن“کتنے سال کا ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف نظریات ہیں۔ بعض چالیس سال کا کہتے ہیں، بعض اَسّی سال کا، بعض سو سال کا اور بعض اس سے بھی زیاد ہ، ایک سو بیس سال کا کہتے ہیں۔ لیکن بناکہے واضح ہے کہ یہ ایک امر اعتبار ہے جو مختلف صورتوں میں مختلف ہوتا ہے البتہ ہمارے زمانے میں معمول یہ ہے کہ لفظ ”قرن“ کا اطلاق سو سال پر ہوتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: سورہء یونس کی آیت ۱۳ کے ذیل میں بھی ہم نے اس موضوع کی طرف اشارہ کیا ہے۔ تفسیر نمونہ، ج۸، ص۱۹۸ اردو ترجمہ)۔ نیز یہ کہ نوح علیہ السلام کے بعد کے قرنوں کا خصوصی ذکر کیوں کیا گیا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ اس لیے ہو کہ حضرت نوح علیہ السلام سے پہلے انسانی زندگی انتہائی سادہ تھی۔ یہ سب اختلاف خصوصاً معاشرے کی”مترف“ اور ”مستضعف“ کی طبقاتی تقسیم بہت کم تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ بہت کم عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے۔ ”خبیر“ و ”بصیر“(آگاہ و بینا) کا اکھٹا ذکر اس طرف اشارہ ہے کہ ”خبیر“ نیت اور عقیدے سے آگاہ کے معنی میں ہے اور ”بصیر“ اعمال وکردار کو دیکھنے والے کے معنی ہے۔ لہٰذا خداوند تعالیٰ لوگوں کے اعمال کے باطنی وجود اور اسباب پر بھی مطلع ہے اور خود اعمال کو بھی جانتا ہے اور ایسی ہستی ہرگز کسی پر ظلم روا نہیں رکھتی اور اس کی حکومت میں کسی کا حق صنائع نہیں ہوتا۔

18
17:18
مَّن كَانَ يُرِيدُ ٱلۡعَاجِلَةَ عَجَّلۡنَا لَهُۥ فِيهَا مَا نَشَآءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلۡنَا لَهُۥ جَهَنَّمَ يَصۡلَىٰهَا مَذۡمُومٗا مَّدۡحُورٗا
جو شخص( صرف) جلد گزر جانے والی( مادی دنیا) طلب کرتا ہے تو ہم اسے اس قدر دے دیتے ہیں جو ہم چاہیں اور جس مقدار کا اس کے بارے میں ارادہ کریں۔ اس کے بعد اس کیلئے دوزخ قرار دینگے کہ وہ اسکی جلا دینے والی آگ میں جلے گا‘ (جبکہ وہ در گاہ الٰہی سے) راندہ اور مذموم ہو گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 21 کے تحت ملاحظہ کریں۔

19
17:19
وَمَنۡ أَرَادَ ٱلۡأٓخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعۡيَهَا وَهُوَ مُؤۡمِنٞ فَأُوْلَـٰٓئِكَ كَانَ سَعۡيُهُم مَّشۡكُورٗا
اور جو شخص صرف آخرت کو چاہے اور اپنی سعی و کوشش اس کیلئے انجام دے، وہ ایمان بھی رکھتا ہو، تو (خدا کی طرف سے) اسے اس کی سعی و کوشش پر اس کو جزا ملے گی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 21 کے تحت ملاحظہ کریں۔

20
17:20
كُلّٗا نُّمِدُّ هَـٰٓؤُلَآءِ وَهَـٰٓؤُلَآءِ مِنۡ عَطَآءِ رَبِّكَۚ وَمَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحۡظُورًا
ان میں سے ہر گروہ کو تیرے پروردگار کی عطا میں سے حصہ اور مدد ملے گی، اور تیرے پروردگار کی عطا و بخشش کبھی کسی کے لئے ممنوع قرار نہیں دی گئی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 21 کے تحت ملاحظہ کریں۔

21
17:21
ٱنظُرۡ كَيۡفَ فَضَّلۡنَا بَعۡضَهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖۚ وَلَلۡأٓخِرَةُ أَكۡبَرُ دَرَجَٰتٖ وَأَكۡبَرُ تَفۡضِيلٗا
دیکھو کس طرح ہم نے بعض کو بعض پر برتری عطا فرمائی ہے اور آخرت کے درجات و فضیلتیں تو اس سے کہیں زیادہ ہیں۔

طالبان دنیا اور طالبان آخرت

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں اوامرِ الٰہی کے مقابلے میں منکرین کی مخالفت اور پھر ان کی ہلاکت کے بارے میں گفتگو تھی۔ زیر نظر آیات میں اس سرکشی اور طغیان کے حقیقی سبب یعنی حبّ دنیا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جن لوگوں کی نظر اسی زود گزر مادّی دنیا پر ہے، ہم جس مقدار میں چاہتے ہیں اور اس کے لیے مناسب سمجھتے ہیں اسی زندگی میں اسے دے دیتے ہیں، اس کے بعد اس کے لیے ہم جہنم قرار دیں گے کہ جس کی آگ میں وہ جلے گا اس حالت میں کہ وہ رحمت الٰہی کی درگاہ سے راندہ اور مذموم ہو گا (مَنْ کَانَ یُرِیدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَہُ فِیھَا مَا نَشَاءُ لِمَنْ نُرِیدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَہُ جَھَنَّمَ یَصْلَاھَا مَذْمُومًا مَدْحُورًا) ”عاجلة“ کا معنی ہے جلد گزر جانے والی نعمتیں یا زود گزر دنیا۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ یہ نہیں فرمایا کہ جو شخص دنیا کے پیچھے جائے گا، وہ جو کچھ چاہے گا اس تک پہنچ جائے گا بلکہ اس کے لیے دو شرطیں بیان کی گئی ہیں پہلی یہ کہ وہ جو چاہے گا اس کا کچھ حصہ اسے ملے گا، اتنا ہی جتنا ہم چاہیں گے (ما نشاء)۔ دوسری یہ کہ سب لوگ بھی یہ حصہ نہیں پا سکیں گے، بلکہ ان میں سے کچھ متاع دنیا کے ایک حصے تک پہنچیں گے وہی کہ جن کے بارے میں ہم چاہیں گے (لمن نرید)۔ اس طرح نہ تمام دنیا پرست دنیا تک پہنچیں گے اور نہ ہی پہنچ پانے والے اتنی دنیا حاصل کر سکیں گے جتنی وہ چاہیں گے۔ روزمرہ کی زندگی میں بھی ہم اس امر کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ کتنے لوگ شب و روز دوڑتے رہتے ہیں لیکن کہیں نہیں پہنچتے اور کتنے افرادہیں جو اس دنیا میں بڑی بڑی آرزوئیں رکھتے ہیں مگر ان میں سے کچھ ہی کی تکمیل ہوتی ہے۔ یہ امر دنیا پرستوں کے لیے تنبیہ ہے کہ اگر تم خیال کرتے ہو کہ آخرت کو دنیا کے بدلے بیچ کر اپنامقصد حاصل کر لوگے تو یہ تمہاری بہت بڑی غلطی ہے۔ ایسا کبھی نہ ہو سکے گا۔ مقصد کا کچھ حصہ ہی تمہیں ملے گا۔ ویسے بھی انسان کی آرزووٴں کا دامن اتنا وسیع ہے کہ محدود عالم مادہ میں وہ سب پوری نہیں ہو سکتیں۔ ایک شخص کو سازی دنیا مل جائے تو بھی اکثر وہ سیر نہیں ہوتا۔ رہے وہ لوگ کہ جو کوششیں کرتے ہیں مگر انہیں کچھ حاصل نہیں ہوتا، تو اس کی کئی وجوہ ہیں۔ یا تو اس لیے کہ ابھی ان کی بیداری اور نجات کی امید ہوتی ہے اور خدا ان سے محبت کرتا ہے اور یا اس وجہ سے کہ اگروہ کچھ حاصل کر لیں تو اس قدر سرکشی کریں گے کہ مخلوق خدا پر عرصہ حیات تنگ کریں گے۔ ”یصلی“، ”صلی“کے مادہ سے آگ روشن کرنے اور آگ میں جلنے کے معنی میں ہے۔ یہاں دوسرا معنی مراد ہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ سزا کے طور پر جہنم کی آگ کے ساتھ ”مذموم“ اور ”مدحور“ کے الفاظ بھی تاکید کے طور پر آئے ہیں۔ ان میں سے پہلی سزا سرزنش اور مذمت ہونے کی طرف اشارہ ہے اور دوسری خدا سے دور رہنے کے معنی میں ہے۔ درحقیقت، جہنم کی آگ تو ان کے لیے جسمانی سزا ہے اور مذموم و مدحور ہونا ان کے لیے روحانی عذاب ہے۔ کیونکہ معاد جسمانی بھی ہے اور روحانی بھی، اس کا عذاب و ثواب اور سزا جزاکے بھی دونوں پہلوں ہیں۔ اس کے بعد دوسرے گروہ کے حالات بیان کیے گئے ہیں تا کہ قرآن کی روش کے مطابق تقابل سے مطلب زیادہ آشکار ہو جائے۔ ارشاد ہوتا ہے: باقی رہا وہ شخص جو آخرت طلب کرتا ہے اور اسی راستے میں سعی و کوشش کرتا ہے اور وہ صاحب ایمان ہے تو اس کی سعی و کوشش بارگاہ الٰہی میں قبول ہو گی (وَمَنْ اَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعیٰ لَھَا سَعْیَھَا وَھُوَ مُؤْمِنٌ فَاُوْلٰئِکَ کَانَ سَعْیُھُمْ مَشْکُورًا) لہٰذا جاودانی سعادت اور دائمی خوش بختی تک پہنچے کے لیے تین بنیادی شرائط ہیں: (۱) انسانی ارادہ۔ایسا ارادہ جو حیا ت ابدی سے تعلق رکھتا ہو اور زود گزر لذات، ناپائیدار نعمات اور نرے مادی مقاصد سے تعلق نہ رکھنا۔ بلند ہمت اور اعلی جذبہ اسے قوت دینے والا ہو۔ اور یہ جذبہ و ہمت اسے ہر غیر الٰہی وابستگی اور تعلق سے آزاد کر دے۔ (۲) یہ ارادہ فکر و نظر، تصور اور روح میں کمزور و ناتوان نہ ہو بلکہ ایسا ہو کہ وجود انسانی کے سبب ذرات کو حرکات میں لائے اور انسان اپنی تمام تر کوشش صرف کر دے (توجہ رہے کہ لفظ”سعیھا“ جو تاکید کے طور پر آیا ہے، نشاندہی کرتا ہے کہ وہ اپنی حتمی کوشش کہ جو آخرت تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے۔ انجام دیتا ہے اور کوئی -------دقیقہ فرو گزاشت نہیں کرتا)۔ (۳) یہ سب امور ایمان کے ساتھ لازم وملزوم ہیں۔ ایمان کہ جو استوار اور پختہ ہو کیونکہ مصمم ارادہ اور کوشش جب ہی ثمر آور ہو گی جب اس کا سرچشمہ صحیح جذبہ ایمان بالله کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ یہ صحیح ہے کہ آخرت کے لیے کوشش ایمان کے بغیر نہیں ہو سکتی اور ایمان کا مفہوم اس میں پوشیدہ ہے لیکن اس راہ میں چونکہ ایمان کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ لہٰذا اس سلسلے میں دلالت التزامی پر قناعت نہیں کی گئی اور ایمان کو بالصراحت کے شرط کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ دنیا پرستوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ ان کے لیے ہم جہنم قرار دیں گے لیکن آخرت کے عاشقین کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے کہ ان کی سعی و کوشش مشکور ہو گی یعنی پروردگار اس کا تشکر اور قدر دانی کرے گا۔ اس کی نسبت کہ کہا جائے ”ان کی جزا بہشت ہو گی“، یہ مذکورہ تعبیر بہت زیادہ جامع اور بلند تر ہے کیونکہ ہر شخص کے لیے تشکر اور قدر دانی اس کی شخصیت کی وسعتِ وجودی کے مطابق ہوتی ہے نہ کہ عمل کی مقدار کے مطابق۔ اس لحاظ سے خدا کا شکر اور قدر دانی اس کی لامتنا ہی ذات کی مناسب سے ہے۔ انواع و اقسام کی مادی و معنوی نعمتیں اور وہ سب کچھ جو ہمارے تصور میں آ سکتا ہے۔ اس میں جمع ہے۔ بعض مفسرین نے ”مشکور“ کا معنی ”کئی گناہ اجر“ بیان کیا ہے (تفسیر قرطبی، ج ۶، ص ۳۸۵۲) اور بعض نے اس سے ”مقبولیتِ عمل مراد لیا ہے (تفسیر صافی، زیر بحث آیت کے ذیل میں) لیکن واضح ہے کہ”مشکور“ ان سے وسیع تر معنی رکھتا ہے۔ ممکن ہے یہاں یہ تو ہم ہوکہ دنیا کی نعمتیں دنیا پرست لوگوں کاحصہ ہیں اور طالبانِ آخرت اس سے محروم ہیں۔ اس تو ہم کو دُور کرنے کے لیے بعد والی آیت کہتی ہے: ہم اس گروہ کو یعنی ان میں سے ہر ایک کو اپنی عطا و بخشش کا حصہ دیں گے اور اس کی مدد کریں گے (کُلًّا نُمِدُّ ھَؤُلَاء وَھٰؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّکَ)۔ کیونکہ پروردگار کی بخشش کسی سے ممنوع نہیں ہے۔ یہودی و نصاریٰ، مومن و مسلمان سب اس کے خوانِ نعمت سے حصہ پاتے ہیں۔ ”نمد“، ”امداد“ کے مادہ سے زیادہ کرنے کے معنی میں ہے۔ اس کے بعد والی آیت اس سلسلے میں ایک بنیادی امر بیان کرتی ہے اور وہ یہ کہ جس طرح اس دنیا میں کوشش مختلف ہو تو نتیجہ مختلف ہو جاتا ہے اخروی امور میں بھی پوری طرح یہ بنیاد کارفرما ہے۔ فرق یہ ہے کہ دنیا محدود ہے اور یہاں کا فرق بھی محدود ہے لیکن آخرت چونکہ لامحدود ہے لہٰذا وہاں فرق بھی لامحدود ہو گا۔ ارشاد ہوتا ہے: دیکھو کس طرح ہم ان میں سے بعض کو بعض دوسروں پر (ان کی کوشش میں اختلاف کی وجہ سے) برتری دیتے ہیں البتہ آخرت کے درجات زیادہ بڑے ہیں اور اس کی برتری و فضیلت بھی بہت زیادہ ہے (انظُرْ کَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلیٰ بَعْضٍ وَلَلْآخِرَةُ اَکْبَرُ دَرَجَاتٍ وَاَکْبَرُ تَفْضِیلًا)۔ ہو سکتا ہے کہا جائے کہ اس دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ افراد بغیر کسی کوشش کے بہت سے فوائد حاصل کر لیتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ یہ استثنائی مواقع ہیں۔ سعی و کوشش کو عمومی بنیاد کی حیثیت حاصل ہے اور یہی کامیابی کی میزان ہے اس کے مقابلے میں ان استثنائی مواقع کی پرواہ نہیں کی جا سکتی اور نہ یہ استثنائی مسئلہ عمومی و کلی بنیاد کے منافی ہے۔ ضمنی طور پر توجہ رہے کہ کوشش سے مراد فقط اس کی مقدار نہیں ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ تھوڑی سی کوشش بہت سی کوششوں کے مقابلے میں اپنی کیفیت کہ وجہ سے زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے۔

چند اہم نکات: ۱۔ کیا دنیا و آخرت میں تضاد ہے؟

بہت سی آیات میں دنیا اور اسی کے مادّی وسائل کی تعریف کی گئی ہے۔ بعض آیات میں مال دنیا کو ”خیر“ کہا گیا ہے (بقرہ۔ ۱۸۰)۔ بہت سی آیات میں مادّی نعمتوں کو ”فضل الله“ کہا گیا ہے۔ مثلاً: وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللهِ ایک اور جگہ فرمایا گیا ہے: خَلَقَ لَکُمْ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیعًا دنیا کی تمام نعمتیں تمہارے لیے پیدا کی گئی ہے۔ بہت سے آیات میں ”سَخَّرَ لَکُمْ“ (انہیں تمہارے لیے مسخر کیا گیا ہے) کے حوالے سے ان کا ذکر آیا ہے۔ اگر ہم ان آیات کو جمع کریں کہ جن میں مادّی وسائل کی تعریف کی گئی ہے تو آیات کا اچھا خاصا ذخیرہ ہو جائے۔ لیکن مادّی نعمات کو اس قدر اہمیت دینے کے باوجود ایسے الفاظ آیات قرآن میں وجود ہیں جن میں ان کی تحقیر و تذلیل کی گئی ہے: ایک مقام پر اسے متاع فانی شمار کیا گیا ہے: تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا __نساء ۹۴۔ ایک جگہ اسے غرور غفلت کا سبب قرار دیا گیا ہے: وَمَا الْحَیَاةُ الدُّنْیَا إِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُورِ __حدید:۲۰۔ ایک موقع پر اسے لہو و لعب اور کھیل کود کا ذریعہ شمار کیا گیا ہے: وَمَا ھٰذِہِ الْحَیَاةُ الدُّنْیَا إِلاَّ لَھْوٌ وَلَعِبٌ __عنکبوت: ۶۴۔ نیز ایک مقام پر اسے یادخدا سے غفلت کا سبب گردانا گیا ہے: رِجَالٌ لَاتُلْھِیھِمْ تِجَارَةٌ وَلَابَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللهِ __نور: ۳۷۔ یہی دو قسم کی تعبیرات روایات اسلامی میں بھی نظر آتی ہیں۔ ایک رُخ سے دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ مردانِ خدا کا مرکز تجارت ہے۔ دوستان حق کی مسجد ہے۔ وحی پروردگار کے نزول کا مقام ہے اور پند و نصیحت کا گھر ہے۔ امیر المومنین علی السلام فرماتے ہیں: مسجد احباء الله ومصلی ملائکة الله ومھبط وحی الله ومتجر اولیاء الله-(بحوالہ: نہج البلاغہ، کلماتِ قصار، جملہ)۔ جبکہ دوسری طرف اسے یاد خدا غفلت کا سبب اور متاع غرور وغیرہ بھی قرار دیا گیا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ دو طرح کی آیت و ورایات ایک دوسرے سے متضاد ہیں؟ اس سوال کا جواب خود قرآن سے تلاش کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ قرآن جہاں دنیا داور اس کی نعمتوں کی مذمت کرتا ہے تو اس کا تعلق ان لوگوں سے ہے جن کا مقصد فقط یہی زندگی ہے۔ سورہ نجم کی آیہ ۲۹ میں ہیں: وَلَمْ یُرِدْ إِلاَّ الْحَیَاةَ الدُّنْیَا وہ لوگوں کہ جو دنیاوی زندگی کے سوا کچھ نہیں چاہتے۔ دوسرے لفظوں میں یہاں ان لوگوں کے بارے میں گفتگو ہے جو دنیا کے بدلے آخرت کو بیچ دیتے ہیں اور مادّی خواہشات کی تکمیل کے لیے کسی قسم کی غلط کاری اور جرم سے نہیں چوکتے۔ سورہٴ توبہ آیہ ۳۸ میں ہے: اَرَضِیتُمْ بِالْحَیَاةِ الدُّنْیَا مِنَ الْآخِرَةِ کیا تم آخرت کے بدلے دنیا وی زندگی قبول کرنے پر راضی ہو گئے ہو؟ زیر بحث آیات خود اس دعوی کی شہادت دیتی ہیں۔ فرمایا گیا ہے: مَنْ کَانَ یُرِیدُ الْعَاجِلَةَ یعنی ان کے پیش نظر یہی زود گزر مادّی زندگی ہے۔ اصولی طور پر کھیتی یا مزکر تجارت و غیرہ کے الفاظ خود اسی پر زندہ شاہد ہیں۔ مختصر یہ کہ مادّی دنیا کی نعمتیں سب کی سب الله کی نعمتیں ہیں۔ ان کا وجود نظام خلقت میں یقیناً ضروری تھا اور ہے۔ اگر انسان ان سے سعادت اور روحانی کمال تک پہنچنے کا وسیلہ سمجھ کر استفادہ کرے تو یہ ہر لحاظ سے قابل تحسین ہے۔ لیکن اگر وسیلے کی بجائے انہی کو مقصد سمجھ لیا جائے اور انہیں معنوی اور انسانی قدروں سے الگ کر لیا جائے تو فطرتاً یہ امر غرور، طغیان، سرکشی، ظلم اور بیدادگری کا سبب ہو گا۔ ایسی دنیا یقیناً ہر قسم کی برائی کا محل قرار پائے گی اور قابل مذمت ٹھہرے گی۔ حضرت علی علیہ السلام نے اپنے اس پُرمغز اور مختصر سے جملے میں کیا خوب فرمایا ہے: من ابصر بھا بصرتہ ومن ابصر الیھا اعمتہ جو اس کے ذریعے چشم بصیرت سے دیکھے تو دنیا اسے آگہی بخشتی ہے اور خود دنیا کی طرف دیکھے تو یہ اسے اندھا کر دیتی ہے۔ (نہج البلاغہ، خطبہ۳۸)۔ درحقیقت، مذموم اور ممدوح دنیا میں وہی فرق ہے جو ”الیھا“ اور ”بھا“ میں ہے۔ پہلی صورت میں دنیا مقصد ہے اور دوسری صورت میں دنیا وسیلہ ہے اور کسی اور تک پہنچے کا ذریعہ ہے۔

۲۔ کامیابی میں کوشش کا دخل

یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ قرآن کوشش کا ذکر کرتے ہوئے سست اور بیکار افراد کو تنبیہ کر رہا ہے اور نہیں بیدار کر تے ہوئے کہہ رہا ہے کہ دوسری جہان کی سعادت وخوش بختی صرف اظہار ایمان اور گفتار سے حاصل نہیں ہو سکتی بلکہ سعادت وخوش بختی کا حقیقی عامل کوشش اور جستجو ہے۔ یہ حقیقت بہت سی قرانی آیات سے معلوم ہوتی ہے۔ ذیل کی آیت میں انسان کو اپنے اعمال کا گروی قرار دیا گیا ہے: کُلُّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ رَھِینَةٌ (مدّثر-۳۸) ایک اور مقام پر فرمایا گیا ہے کہ انسان کا حصّہ وہی کچھ ہے جو وہ کوشش کرتا ہے: وَاَنْ لَیْسَ لِلْإِنسَانِ إِلاَّ مَا سَعیٰ _ النجم-۳۹ بہت سی آیات قرآن میں ایمان کا ذکر کرنے کے بعد عمل صالح کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاکہ یہ خیال خام ذہن سے نکل جائے کہ کو شش کے بغیر بھی کسی مقام تک پہنچا جا سکتا ہے۔ جب مادّی دنیا کی نعمات کوشش کے بغیر حاصل نہیں جا سکتی تو کیسے جا سکتی ہے کہ سعادت جاودانی اس کے بغیر ہاتھ لگ جائے گی۔

۳۔ امدادِ الہی

”نمد“، ”امداد“ کے مادہ سے مدد دینے کے معنی میں ہے۔ مفردات میں راغب کہتا ہے: لفظ ”امداد“ عام طور پر مفید اور موٴثر کمک کے لیے استعمال ہوتا ہے اور ”مد“ ناپسندیدہ کمک کے لیے۔ بہرحال، زیر بحث آیات کے مطابق خداوند تعالیٰ اپنی نعمتوں کا کچھ حصہ تو سب کو دیتا ہے اور نیک اور بد سب اس سے استفادہ کرتے ہیں یہ نعمتوں کے اس حصے کی طرف اشارہ ہے جس پر دنیاوی زندگی کے بقا موقوف ہے اور جس کے بغیر کوئی باقی رہ سکتا۔ دوسرے لفظوں میں خدا کا وہی مقام رحمانیت ہے جس کا فیض مومن و کافر کے لیے عام ہے لیکن اس کے علاوہ بھی ایسی لامتناہی نعمتیں ہیں جو صرف مومنین اور نیک لوگوں کے ساتھ مخصوص ہیں۔

22
17:22
لَّا تَجۡعَلۡ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ فَتَقۡعُدَ مَذۡمُومٗا مَّخۡذُولٗا
اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود قرار نہ دو ورنہ مذموم و رسوا ہو جاؤ گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

23
17:23
۞وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّآ إِيَّاهُ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحۡسَٰنًاۚ إِمَّا يَبۡلُغَنَّ عِندَكَ ٱلۡكِبَرَ أَحَدُهُمَآ أَوۡ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَآ أُفّٖ وَلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوۡلٗا كَرِيمٗا
تیرے پروردگار نے حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ کسی کی پرستش نہ کرو، ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو جب ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے پاس بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو (ان کی ذرہ بھر اہانت بھی نہ کرو ) یہاں تک کہ غیر مؤدبانہ لفظ’’اف‘‘ تک بھی انہیں نہ کہو اور انہیں جھڑکو نہیں بلکہ کریمانہ انداز سے ان سے لطیف و سنجیدہ گفتگو کرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

24
17:24
وَٱخۡفِضۡ لَهُمَا جَنَاحَ ٱلذُّلِّ مِنَ ٱلرَّحۡمَةِ وَقُل رَّبِّ ٱرۡحَمۡهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرٗا
لطف و محبت سے ان کے سامنے خاکساری کا پہلو جھکائے رکھو۔ اور کہو پروردگارا ! جیسے انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

25
17:25
رَّبُّكُمۡ أَعۡلَمُ بِمَا فِي نُفُوسِكُمۡۚ إِن تَكُونُواْ صَٰلِحِينَ فَإِنَّهُۥ كَانَ لِلۡأَوَّـٰبِينَ غَفُورٗا
تمہارا پروردگار تمہارے دلوں کے نہاں خانہ سے آگاہ ہے اوراگر تم صالح اور نیک ہو گے تو وہ توبہ کرنے والوں کو بخش دیتاہے۔

اہم اسلامی احکام کا سلسلہ: توحید اور ماں باپ سے حسنِ سلوک

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

زیرِ نظرِ آیات اسلامی احکام کے ایک سلسلے کا آغاز ہیں یہ سلسلہ توحید اور ایمان سے شروع ہوتا ہے۔ توحید تمام مثبت اور اصلاحی کاموں کے اسباب کا خمیر ہے۔ توحید سے احکام کے بارے میں گفتگو شروع کرکے ان آیات کا گزشتہ آیات سے تعلق باقی رکھا گیا ہے کیونکہ گزشتہ آیات میں ایمان، کوشش اور دار آخرت کا ارادہ رکھنے کے بارے میں گفتگو تھی۔ نیز یہ اس امر کی بھی تاکید ہے کہ قرآن صاف ترین اور بہترین راستہ کہ طرف دعوت دینے والا ہے۔ توحید کے ذکر سے بعد شروع کرتے ہوئے قران کہتا ہے: ”الله“ خدائے یگانہ کے ساتھ کوئی معبود قرار نہ دے (لَاتَجْعَلْ مَعَ اللهِ إِلَھًا آخَرَ)۔ قرآن یہ نہیں کہتا کہ خدا کے ساتھ دوسرے معبود کی پرستش نہ کرو بلکہ کہتا ہے کہ اس کے ساتھ کسی اور کو معبود قرار نہ دو۔ یہ بات زیادہ وسیع مفہوم رکھتی ہے۔ یعنی عقیدے میں، عمل میں، دعا میں اور پرستش میں، کسی حالت میں بھی الله کے ساتھ کسی اور کہ معبود قرار نہ دو۔ اس کے بعد شرک کا ہلاکت انگیز نتیجہ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: اگر تم اس کے لیے شریک کے قائل ہو گئے تو مذمت اور رسوائی میں ڈوب جاوٴ گے(فَتَقْعُدَ مَذْمُومًا مَخْذُولًا)۔ لفظ ”قعود“(بیٹھ جانا) یہاں ضعف و ناتوانی کی طرف اشارہ ہے کیونکہ عربی ادب میں لفظ ضعف کے لیے کنایہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً ”قعد بہ الضعف عن القتال“ ناتوانی کی وجہ سے دشمن سے جنگ کرنے سے بیٹھ گیا۔ مذکورہ بالا جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ شرک انسان میں تین بہت برے اثر مرتب کرتا ہے۔ (۱) شرک ضعف وناتوانی اور ذلت و زبوں حالی کاسبب ہے جبکہ قیام، حرکت اور سر فرازی کا عامل ہے۔ (۲ )شرک مذمت و سرزنش کا سبب ہے کیونکہ یہ ایک واضح انحرافی راستہ ہے۔ منطقِ عقل کا انکار ہے نعمتِ پروردگار کا واضح کفران ہے۔ جو شخص ایسا انحراف اختیار کرے وہ قابلِ مذمت ہے۔ (۳) شرک مشرک کو اس کے بنائے معبودوں کے پاس چھوڑ دیتا ہے اور خدا اس کی مدد سے ہاتھ اٹھا لیتا ہے۔ بناوٹی معبود بھی چونکہ کسی کہ مدد کرنے کے قابل نہیں اور خدا بھی ان افراد کی مدد ترک کر دیتا ہے تو وہ ”مخذول“ یعنی بے یار و مددگار ہو کر رہ جاتے ہیں۔ قرآن کی دوسری آیات میں بھی یہی مفہوم کسی اور شکل میں بیان کیا گیا ہے۔ سورہ عنکبوت کی آیہ ۴۱ میں ہے: مَثَلُ الَّذِینَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللهِ اَوْلِیَاءَ کَمَثَلِ الْعَنکَبُوتِ اتَّخَذَتْ بَیْتًا وَإِنَّ اَوْھَنَ الْبُیُوتِ لَبَیْتُ الْعَنْکَبُوتِ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ غیر خدا کو اپنا معبود بنانے والوں کی مثال مکڑی کی سی ہے جس نے کمزور اور بے بنیاد گھر کو اپنا سہارا بنا رکھا ہے اور کمزور ترین گھر مکڑی کا ہے۔ توحید کے بعد اس پر تاکید کے ساتھ انبیاء کی انسانی تعلیمات میں سے ایک انتہائی بنیادی تعلیم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے: ” تیرے پروردگار نے حکم دیا ہے کہ صرف اسی کی عبادت کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو“ (وَقَضَی رَبُّکَ اَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ إِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا) ”قضاء“، ”امر“ کی نسبت زیادہ تاکید کا مفہوم رکھتا ہے اور قطعی و محکم فرمان کا معنی دیتا ہے۔ یہ لفظ اس مسئلے میں پہلی تاکید ہے۔ توحید۔ کہ جو اسلام کی عظیم ترین بنیاد ہے۔ ماں باپ سے نیکی کرنے کو اس کے ساتھ قرار دینا اس اسلامی حکم کی اہمیت کے لیے دوسری تاکید ہے۔ لفظ ”احسان“ یہاں مطلق ہے۔ اس میں ہر قسم کی نیکی کا مفہوم مضمر ہے۔ یہ اس معاملے پر تیسری تاکید ہے۔ اسی طرح لفظ ”والدین“ کا اطلاق مسلمان اور کافر دونوں پر ہوا ہے۔ یہ اس مسئلے پر چوتھی تاکید ہے۔ لفظ ”احساناً“یہاں نکرہ صورت میں ہے جو ایسے مواقع پر بیان عظمت کے لیے آتا ہے۔ یہ پانچویں تاکید ہے۔ (تشریحی نوٹ: بعض کا نظریہ ہے کہ ”احسان“ عام طورپر ”الیٰ“ کے ساتھ متعدی ہوتا ہے ”احسن الیہ“ (اس سے احسان کیا“ اور کبھی ”باء“ کے ذریعہ متعدی ہوتا ہے۔ یہ تعبیر شاید دیکھ بھال کرنے کا معنی دینے کے لئے ہو، یعنی ذاتی طور پر بغیر کسی واسطے کے ماں باپ سے حُسنِ سلوک اور احترام ومحبت کا مظاہرہ کرو، یہ اس مسئلے کے لئے چھٹی تاکید ہے)۔ اس نکتے کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ حکم عمومی عموماً امر اثباتی کے لیے ہوتا ہے حالانکہ یہاں نفی پر ہے (تیرے پروردگار نے حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ کسی کی پرستش نہ کرو) ہو سکتا ہے یہ اس بناء پر ہو کہ لفظ ”قضیٰ“ سے سمجھے جاتا ہے کہ دوسرا جملہ اثباتی شکل میں مقدر ہے اور معنی کے لحاظ سے اس طرح ہے: تیرے پروردگار نے تاکیدی حکم دیا ہے کہ اس کی پرستش کر و، اس کہ غیر کی نہ کرو۔ یا یہ کہ نفی اور اثبات پر مشتمل یہ جملہ ”اَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ إِیَّاہُ“ ایک اثباتی جملے کی حیثیت رکھتا ہے یعنی پروردگار کے لیے عبادت منحصر ہے کا اثبات۔ اس کہ بعد ماں باپ سے حسن سلوک کا ایک واضح مصداق بیان کیا گیا ہے: جب ان دونوں میں سے ایک یا دونوں تیرے پاس بڑھاپے تک پہنچ جائیں اور شکستہ سِن ہو جائیں (اس طرح سے انہیں تیری طرف سے مستقل دیکھ بھال کی احتیاج ہو) تو ان کے لیے کسی طرح سے محبت میں دریغ نہ کرنا اور ان کی تھوڑی سی بھی اہانت نہ کرنا یہاں تک کہ خفیف سا غیر موٴد بانہ لفظ ”اُف“تک منہ سے نہ نکالنا (إِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُھُمَا اَوْ کِلَاھُمَا فَلَاتَقُلْ لَھُمَا اُفٍّ)۔ (تشریحی نوٹ: ”إِمَّا یَبْلُغَنَّ“ میں ”إِمَّا“بعض کے بقول ”ان“ شرطیہ اور ”ما“ شرطیہ کا مرکب ہے جو کہ تاکید کے لئے یکے بعد دیگرے آئے ہیں۔ تفسیر فخر الدین رازی یعض دوسروں کے بقول ”ان“ شرطیہ اور ”ما“ زائدہ سے مرکب ہے جو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ لفظ شرط اس فعل پر آ سکے جو نون تاکید سے موٴکد ہے۔ (المیزان))۔ انہیں جھڑک نہ دینا اور ان کے سامنے بلند آواز نہ بولنا (وَلَاتَنْھَرْھُمَا)۔ بلکہ سنجیدہ، لطیف، کریمانہ اور شریفانہ انداز سے کلام کرنا (وَقُلْ لَھُمَا قَوْلًا کَرِیمًا)۔ اور تنہائی عجر وانکساری سے ان کے سامنے پہلو جھکائے رکھنا (وَاخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ)۔ اور کہو: پروردگار ا اپنی رحمت ان کے شامل حال کر جس طرح کہ انہوں نے بچپن میں پرورش کی ہے (وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیَانِی صَغِیرًا)۔

ماں باپ کا انتہائی احترام

گزشتہ دو آیات میں ادلاد کے لیے ماں باپ کا انتہائی ادب و احترام بیان کیاگیا ہے کہ اس سلسلہ میں مختلف پہلو قابل غور ہیں: (۱) ایک تو ان کے عالمِ پیری کا ذکر کیا گیا ہے کہ جب وہ زیادہ توجہ، محبت اور احترام کے محتاج ہوتے ہیں۔ فرمایا گیا ہے کہ ان سے ذرہ بھر اہانت آمیز بات نہ کرو کیو نکہ ہو سکتا ہے بڑھاپے کی وجہ سے اس عالم کو پہنچ چکے ہوں کہ ادب دوسرے کی مدد کے بغیر چل پھر نہ سکتے ہوں اور نہ اپنی جگہ سے اٹھ سکتے ہوں یہاں تک کہ ہو سکتا ہے کہ گندگی بھی اپنے سے دور نہ کر سکتے ہوں۔ایسی حالت میں ادلاد کی بہت بڑی آزمایش شروع ہو جاتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس حالت میں اولاد ماں باپ کے وجود کو رحمت سمجھتی ہے یا مصیبت، کیا ایسے میں کافی صبر و حوصلہ کے ساتھ ماں باپ کی پورے احترام سے نگہداشت کرتی ہے یا گھٹیا اور اہانت آمیز الفاظ کے ساتھ انہیں زبان کے نشتر چبھوتی ہے، یا یہاں تک کہ بعض اوقات خدا سے ان کی موت کا تقاضا کر کے انہیں اذیت پہنچاتی ہے۔ (۲) قرآن یہ بھی کہتا ہے کہ اس موقع پر انہیں”اف“تک نہ کہو یعنی ناراحتی، پریشانی اور تنفر کا اظہار نہ کرو۔ قرآن مزید کہتا ہے کہ ان سے بلند اور اہانت آمیز آواز سے بات نہ کرو۔ مزید تاکید کرتا ہے کہ ان سے کریمانہ اور شریفانہ لہجے میں کلام کرو۔ بہ سب چیزیں انتہائی ادب سے گفتگو کرنے کے بارے میں ہیں کیونکہ دل کی کلید زبان ہے۔ (۳) نیز قرآن عجز و انکساری کا حکم دیتا ہے۔ ایسی انکساری جس سے محبت اور لگاوٴ ظاہر ہو نہ کہ کوئی اور چیز۔ (۴) نیز آخر میں یہ تک کہتا ہے کہ جب بارگاہ خداوندی کا رخ کرو تو(وہ زندہ ہو یا نہ) انہیں فراموش نہ کرو اور ان کے لیے رحمت پروردگار کا تقاضا کرو۔ اس تقاضے کے ساتھ خصوصیت سے یہ دلیل رکھو کہ خداوندا! جس طرح انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی تو بھی ویسے ہی اپنی رحمت ان کے شاملِ حال فرما۔ دیگر چیزوں کے علاوہ اس سے یہ اہم نکتہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر ماں باپ اس قدر ناتواں ہو جائیں کہ تنہا چلنے پھرنے کے قابل نہ رہیں اور گندگی اپنے سے دور نہ کر سکیں تو پھر بھی انہیں فراموش نہ کرو و کیونکہ تم بھی بچپن میں اسی طرح تھے اور و ہ تمہاری حفاظت اور تجھ سے محبت میں کوئی دریغ نہ کرتے تھے۔ لہٰذا ان کی محبت کا جواب ویسی ہی محبت سے دو۔ نیز ممکن ہے ماں باپ کے حقوق کی ادائیگی، ان کا احترام اور ان کے سامنے انکساری کے معاملے میں اولاد سے جان بوجھ کر یا لاعلمی میں کچھ لغزشیں ہو جائیں لہٰذا زیرِ بحث آخری آیت میں قرآن کہتا ہے: جو کچھ تمہارے دل میں ہے پروردگار اس سے زیادہ آگاہ ہے (رَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِی نُفُوسِکُمْ)۔ کیونکہ اس کا علم تمام پہلووں سے حضور، ثابت اور ازلی و ابدی ہے اور ہر طرح سے غلطی اور اشتباہ سے پاک ہے جبکہ تمہارا علم ان صفات کا حامل نہیں ہے لہٰذا اگر تم سے سرکشی کی ارادے کے بغیر حکمِ الٰہی کے خلاف ماں باپ کے احترام اور ان سے حُسنِ سلوک میں کوئی لغزش ہو جائیں اور تم فوراً پشیمان ہو کر توبہ و تلافی کا رُخ کرو تو یقینا رحمت الٰہی تمھارے شاملِ حال ہو گی۔” اگر تم صالح اور نیک ہو اور توبہ کرتے ہو، کیونکہ خدا توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا ہے“ (إِنْ تَکُونُوا صَالِحِینَ فَإِنَّہُ کَانَ لِلْاَوَّابِینَ غَفُورًا) ”اَوّاب“، ”اَوب“ (بروزن ”قَوم“) کے مادہ سے ہے۔ یہ اس بازگشت کو کہتے ہیں جس میں ارادہ شامل ہو جبکہ ”رجوع“ بھی بازگشت کو کہتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ ارادہ بھی اس میں شامل ہو۔ اسی بناء پر ”توبہ“ کو ”اوبہ“ کہا جاتا ہے کیونکہ توبہ درحقیقت، خدا کی طرف ارادے کے ساتھ بازگشت ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ صیغہ مبالغہ کا ذکر خداکی طرف بازگشت اور رجوع کے متعدد عوامل کی طرف اشارہ ہو کیونکہ: (۱) پروردگار پر ایمان، (۲) قیامت کی عدالت کی طرف توجہ، (۳) بیداریٴ ضمیر اور (۴) گناہ کے عواقب و آثار کی طرف توجہ یہ چاروں با ہم مل کر انسان کو تاکید در تاکید کے ذریعے کج روی سے نکال کر خدا کی طرف لے جاتے ہیں۔

چند اہم نکات: ۱۔ منطقِ اسلام میں والدین کا احترام

اگر چہ انسانی جذبات اور حق شناسی والدین کی احترام گزاری کے لئے کافی ہے لیکن اسلام ایسے امور میں بھی خاموشی روا نہیں رکھتا جن میں عقل، جذبات اور طبعی میلانات واضح رہنمائی کرتے ہیں بلکہ ایسے امور بھی اسلام تاکید کے طور پر ضروری احکام صادر کرتا ہے۔ والدین کے احترام کے بارے میں اسلام نے اس قدر تاکید کی ہے کہ اتنی تاکید بہت کم کسی مسئلہ میں کی گئی ہے۔ نمونے کے طور پر ہم چند ایک پہلووٴں کی طرف اشارہ کرتے ہیں: (۱) قرآن مجید میں چار سورتوں میں مسئلے توحید کے فوراً بعد والدین سے حسن سلوک کا حکم آیا ہے۔ ان دونوں مسائل کا اکٹھا بیان ہونا اس امر کو واضح کرتا ہے کہ اسلام کس حد تک ماں باپ کے احترام کا قائل ہے۔ سورہ بقرہ کی آیت ۸۳ میں ہے: لَاتَعْبُدُونَ إِلاَّ اللهَ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا سورہ نساء کی آیت ۳۶ میں ہے: وَاعْبُدُوا اللهَ وَلَاتُشْرِکُوا بِہِ شَیْئًا وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا سورہ، انعام کی آیت۱۵۱ میں ہے: اَلاَّ تُشْرِکُوا بِہِ شَیْئًا وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا اور زیر بحث آیات میں بھی ان دونوں کو ایک

26
17:26
وَءَاتِ ذَا ٱلۡقُرۡبَىٰ حَقَّهُۥ وَٱلۡمِسۡكِينَ وَٱبۡنَ ٱلسَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرۡ تَبۡذِيرًا
اور نزدیکیوں کو ان کا حق دے دو اور( اسی طرح) مسکین اور مسافر کا اور ہرگز اسراف اور فضول خرچی نہ کرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔

27
17:27
إِنَّ ٱلۡمُبَذِّرِينَ كَانُوٓاْ إِخۡوَٰنَ ٱلشَّيَٰطِينِۖ وَكَانَ ٱلشَّيۡطَٰنُ لِرَبِّهِۦ كَفُورٗا
کیونکہ اسراف کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان نے اپنے پروردگار (کی نعمتوں ) کا کفران کیاہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔

28
17:28
وَإِمَّا تُعۡرِضَنَّ عَنۡهُمُ ٱبۡتِغَآءَ رَحۡمَةٖ مِّن رَّبِّكَ تَرۡجُوهَا فَقُل لَّهُمۡ قَوۡلٗا مَّيۡسُورٗا
اور اگر تو ان (حاجتمندوں ) سے اعراض کرے اور تم اپنے پروردگار کی رحمت کے انتظار میں ہو توان سے نرم اور لطف و کرم کے پیرائے میں بات کر۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔

29
17:29
وَلَا تَجۡعَلۡ يَدَكَ مَغۡلُولَةً إِلَىٰ عُنُقِكَ وَلَا تَبۡسُطۡهَا كُلَّ ٱلۡبَسۡطِ فَتَقۡعُدَ مَلُومٗا مَّحۡسُورًا
کبھی بھی اپنے ہاتھ کو اپنی گردن کا حلقہ نہ بنا (اور بخشش کو ترک نہ کر) اور نہ ہی اسے بالکل کھول دے کہ (آخر کار) تو ملامت زدہ اوربے کار ہو کر رہ جائے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔

30
17:30
إِنَّ رَبَّكَ يَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقۡدِرُۚ إِنَّهُۥ كَانَ بِعِبَادِهِۦ خَبِيرَۢا بَصِيرٗا
تیرا پروردگار جس کے لئے چاہتا ہے اس کی روزی کشادہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس کی روزی تنگ کر دیتا ہے،اور وہ اپنے بندوں کے بارے میں آگاہ و بینا ہے۔

انفاق و بخشش میں اعتدال

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

ان آیات میں اسلام کے بنیادی احکام کا ایک اور حصہ بیان کیا گیا ہے۔ ان میں قریبیوں، حاجت مندوں اور مسکینوں کے حق کی ادائیگی کے بارے میں حکم ہے نیز انفاق میں فضولی خرچی سے روکا بھی گیا ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: قریبیوں اور نزدیکیوں کا حق انہیں دے (وَآتِ ذَا الْقُرْبیٰ حَقَّہُ)۔ اسی طرح حاجت مندوں اور راہ میں رہ جانے والوں کا حق انہیں دے (وَالْمِسْکِینَ وَابْنَ السَّبِیلِ)۔ لیکن اس طرح سے کہ ہرگز فضولی خرچی نہ ہو (وَلَاتُبَذِّرْ تَبْذِیرًا)۔ ”تبذیر“ اصل میں ”بذر“ کے مادہ سے بیج ڈالنے اور دانہ چھڑکنے کے معنی میں ہے لیکن یہ لفظ ایسے مواقع سے مخصوص ہے جہاں انسان اپنے اموال کو غیر منطقی اور غلط کام میں خرچ کرے۔ فارسی میں اس کا متبادل ہے ”ریخت وپاش“۔ دوسرے لفظوں میں ”تبذیر“ نامناسب مقام پر مال خرچ کرنے کو کہتے ہیں چاہے تھوڑا سا ہی کیوں نہ ہو۔ بر محل مقام پر خرچ کرنے کو ”تبذیر“ نہیں کہتے چاہے زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔ جیسا کہ تفسیر عیاشی میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(ص) نے اس آیت کے بارے میں سوال کرنے والے کے جواب میں فرمایا: من انفق شیئاً فی غیر طاعة الله فہو مبذّر و من انفق فی سبیل الله فہو مقتصد- جو شخص حکم الٰہی اطاعت کے خلاف کہیں خرچ کرے وہ ”مبذر“ (فضولی خرچ) ہے اور جو شخص راہ خدا میں خرچ کرے وہ مقتصد (میانہ رو) ہے(بحوالہ: تفسیر صافی، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں)۔ آپ ہی سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ آپ(ص) نے حاضرین کے لیے ترو تازہ کھجوریں لانے کا حکم دیا۔ بعض لوگ کھجور کھاتے اور ان کی کٹھلیاں دور پھینک دیتے۔آپ(ص) نے فرمایا: ایسا نہ کرو یہ ”تبزیر“ ہے اور خدا برائی کو پسند نہیں کرتا۔ (تفسیر صافی، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں)۔ اسراف اور تبذیر کا معاملے اتنا باریک ہے کہ ایک حدیث میں ہے کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ والہ(ص) وسلم ایک راستہ سے گزر رہے تھے۔ آپ کے ایک صحابی سعد وضو کر رہے تھے اور پانی زیاد ہ ڈال رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: اسراف کیوں کرتے ہو؟ سعد نے عرض کیا: کیا وضو کے پانی میں بھی اسراف ہے؟ آپ نے فرمایا: نعم وان کنت علی نھر جار- ہاں اگر چہ تم جاری دریا کے کنارے ہی کیوں نہ ہو۔ (تفسیر صافی، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں)۔ اس سلسلے میں کہ ”ذی القربیٰ“ سے آنحضرت کے سب رشتہ دار مراد ہیں یا مخصوص رشتہ دار(کیونکہ آیت میں مخاطب آنحضرت ہی ہیں)، اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے۔ متعدد احادیث کہ جن کے بارے میں”چند اہم نکات“ کے زیر عنوان بحث آئے گی، میں ہم پڑھیں گے کہ یہ آیت رسول الله کے”ذوی القربیٰ“ سے تفسیر ہو گئی ہے۔ یہاں تک کہ بعض احادیث میں ہے کہ یہ آیت آنحضرت کی طرف سے حضرت فاطمہ الزہرا اسلام الله علیہا کو فدک کا علاقہ بخشے کے بارے میں ہے لیکن جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے ایسی تفسیر آیات کے وسیع مفہوم کو محدود نہیں کرتیں۔ دراصل ان میں روشن اور واضح مصداق کا ذکر ہوتا ہے۔ ”واٰت“ میں رسول الله سے خطاب کیا گیا ہے لیکن یہ بات اس امر کی دلیل نہیں کہ حکم آنحضرت ہی سے مخصوص ہے۔ کیونکہ باقی احکام جوان آیات میں آئے ہیں مثلا فضولی خرچی کی ممانعت، سائل اور مسکین سے نرمی یا بخل کی ممانعت سب رسول اکرم سے خطاب کی صورت میں ہیں حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ احکام آپ سے مخصوص نہیں ہیں اور ان کا مفہوم طرح عام ہے۔ اس نکتے کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرنے کے حکم کے بعد فضولی خرچی کی ممانت اس طرف اشارہ ہے کہ کہیں انسان قرابت کے جذبات یا مسکین اور مسافر سے کسی جذباتی وابستگی کے زیر اثر نہ آ جائے اور ان کے استحقاق سے زیادہ خرچ نہ کرے اور سرف کی راہ اختیار نہ کرے کیونکہ اسراف اور فضولی خرچی ہر مقام پر مذموم ہے۔ بعد والی آیت”تبذیر“ کی ممانعت پر استدال اور تاکید کے طور پر ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اسراف کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں(إِنَّ الْمُبَذِّرِینَ کَانُوا إِخْوَانَ الشَّیَاطِینِ)۔ اور شیطان نے پروردگار کی نعمتوں کا کیسے کفران کیا تو اس کا جواب واضح ہے کیونکہ الله تعالیٰ نے اسے بہت زیادہ قوت و استعداد دے رکھی تھی۔ اس نے ان سب قوتوں کوغلط مقام پر صرف کیا یعنی لوگوں کو گمراہ کیا۔ رہا یہ کہ اسراف کرنے والے شیطان کے بھائی کیسے ہیں؟ تو اس کو وجہ یہ ہے کہ وہ بھی خدا داد نعمتوں کا کفران کرتے ہیں اور جہاں انہیں استعمال کرنا چاہئے وہاں کی بجائے انہیں غلط مقام پر خرچ کرتے ہیں۔ ”اخوان“ (بھائی) یا اس بناء پر ہے کہ ان کے اعمال شیطانوں سے اس طرح ہم آہنگ ہیں جیسے بھائیوں کے کہ جو ایک جیسے عمل کرتے ہیں اور یا اس بناء پر کہ وہ دوزخ میں شیطانوں کے ہم نشین ہوں گے جیسا کہ سورہ زخرف آیہ ۳۹ میں شیطان کا گناہوں سے آلودہ انسانوں سے بہت نزدیکی تعلق بیان کرنے کے بعد فرمایا گیا ہے: وَلَنْ یَنفَعَکُمْ الْیَوْمَ إِذْ ظَلَمْتُمْ اَنَّکُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِکُونَ آج شیطان سے اظہار برائت اور علیحد گی کا تقاضا تمہارے لیے سود مند نہیں ہے کیونکہ تم سب عذاب میں مشترک ہو۔ رہا یہ کہ”شیاطین“ یہاں جمع کی صورت میں ہے۔ ہو سکتا ہے یہ اس چیز کی طرف اشارہ ہو جو سورہ ز خرف کی آیات سے معلوم ہوتی ہے کہ جو شخص یاد خدا سے منہ پھیر لے ایک شیطان کو اس کا ہمنشین قرار دیا جاتا ہے جو نہ صرف اس جہاں میں اس کے ہمراہ ہو گا بلکہ اس جہان میں بھی ساتھ ہو گا۔ قرآن کے الفاظ میں: وَزُخْرُفًا وَإِنْ کُلُّ ذٰلِکَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَالْآخِرَةُ عِنْدَ رَبِّکَ لِلْمُتَّقِینَ، وَمَنْ یَعْشُ عَنْ ذِکْرِ الرَّحْمَانِ نُقَیِّضْ لَہُ شَیْطَانًا فَھُوَ لَہُ قَرِینٌ، ---- حَتَّی إِذَا جَائَنَا قَالَ یَالَیْتَ بَیْنِی وَبَیْنَکَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِینُ (زخرف/۳۶و۳۸) بعض اوقات کوئی مسکین کسی کے پاس آتا ہے لیکن اس کی ضرورت کے مطابق اس کی مدد کرنا اس کے بس میں نہیں ہوتا۔ اس سلسلے میں اگلی آیت بتاتی ہے کہ ضرورت مندوں سے کیسا سلوک کرنا چائیے۔ ارشاد ہوتا ہے: ”اگر تو ان ضرورت مندوں سے (وسائل نہ ہونے کی وجہ سے اور) رحمت کے انتظار میں ہونے کے باعث رُخ موڑے تو ایسا تحقیر اور بے حرمتی سے نہیں ہونا چاہئے بلکہ ان سے نرم اور سنجیدہ گفتگو سے بڑی محبت سے پیش آنا چاہئے۔“ یہاں تک کہ اگر ہو سکے تو ان سے آئندہ کا وعدہ کرلے تا کہ وہ مایوس نہ ہوں (وَإِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْھُمْ ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّکَ تَرْجُوھَا فَقُلْ لَھُمْ قَوْلًا مَیْسُورًا)۔ ”میسور“، ”یسر“ کے مادہ سے راحت اور آسان کے معنی میں ہے۔ یہاں یہ لفظ وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ اس میں ہر قسم کی اچھی گفتگو اور محبت آمیز برتاوٴ کا مفہوم شامل ہے۔ لہٰذا اگر بعض نے اس کی تفسیر کسی خاص عبارت سے کی ہے آئندہ کا وعدہ کرنا مراد لیا ہے تو یہ مصداق کی حیثیت رکھتا ہے۔ روایات میں ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد جب کوئی شخص رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے کچھ مانگتا اور آپ کے پاس دینے کو کچھ نہ ہوتا تو فرماتے: یرزقنا الله وایاکم من فضلہ- میں امید رکھتا ہوں کہ خدا ہمیں اپنے فضل سے رزق دے گا۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان ، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں)۔ ہمارے ہاں قدیمی طریقہ ہے کہ کوئی سائل گھر کے دروازے پر آئے اور اسے دینے کو کچھ نہ ہوتا تو کہتے ہیں: معاف کرو۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ تیرے آنے سے ہمارے اوپر ایک حق عائد ہو گیا ہے اور تو اخلاقی طور پر ہم سے کچھ طلب کر رہا ہے۔ ہم تجھ سے درخواست کرتے ہیں کہ اپنا یہ اخلاقی حق ہمیں بخش دے کیونکہ ہم تمہارے حق کا تقاضا پورا نہیں کر سکتے۔ اعتدال چونکہ ہر چیز میں ضروری ہے یہاں تک کہ انفاق میں بھی، لہٰذا اگلی آیت میں اس بارے میں تاکید کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اپنے ہاتھ کا گردن کے گرد حلقہ نہ بنا (وَلَاتَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُولَةً إِلیٰ عُنُقِکَ)۔ یہ تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دینے والا ہاتھ تیرے پاس ہونا چاہئے اسے بخیلوں کے ہاتھ کی طرح گردن کی زنجیر نہیں بن جانی چاہیے کہ انسان مدد کرنے کے قابل نہ رہے۔ دوسری طرف یہ بھی ہے کہ”اپنا ہاتھ اتنا بھی کھلا نہ رکھ اور بخشش اتنی بھی بے حساب نہ کر کہ تو کام کاج سے رہ جائے اور کبھی اِس اور کبھی اُس کی ملامت سنتا رہے اور لوگوں سے جدا ہو جائے“ (وَلَاتَبْسُطْھَا کُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَحْسُورًا)۔ جیسے ہاتھ کا گردن کے لیے حلقہ زنجیر بن جانا بخل کے لیے کنایہ ہے اسی طرح ہاتھ کا بالکل کھلا ہونا بے حساب بخشش کر کے بیٹھ رہنے اور بیکار ہوجانے کی طرف اشارہ ہے۔ لفظ ”تقعد“، ”قعود“ کے مادہ سے بیٹھنے کے معنی میں ہے۔ لفظ”ملوم“ اس طرف اشارہ ہے کہ بعض اوقات زیادہ انفاق اور بخشش نہ صرف انسان کی فعالیت ختم کر دیتی ہے اور اسے لوگوں کی ملامت کا بہی شکار کر دیتی ہے۔ ”محسور“، ”حسر“ (بروزن ”قصر“ )کے مادہ سے دراصل لباس اتار کر کچھ حصہ برہنہ کرنے معنی میں۔ اسی بناء پر ”حاسر“اس جنگجو کو کہتے ہیں جس کے بدن پر زِرہ اور سر پر خود نہ ہو۔ نیز جانور جو زیادہ چلنے کی وجہ سے تھک کر رہ گئے ہوں انہیں بھی ”حسیر“ یا ”حاسر“ کہا جتا ہے۔ گویا ان کی جسمانی طاقت کا لباس اتر جاتا ہے اور وہ برہنہ ہو جاتے ہیں۔ بعد ازاں اس لفظ مفہوم میں وسعت پیدا ہو گئی اور ہر اس شخص کو جو تھکا ماندہ ہو اور مقصد تک پہنچنے سے عاجز ہو ”حسیر“یا ”حاسر“”محسور“یا ”حسیر“یا ”حاسر“کہا جانے لگا۔ لفظ ”حسرت“ (بمعنی غم واندازہ) اسی مادہ سے لیاگیا ہے کیونکہ یہ حالت عام طور پر انسان پر ایسے عالم میں طاری ہوتی ہے جب وہ مشکلات کو ختم کر نے کی سکت نہ رکھتا ہو گویا اس کی طاقت کا جامہ اتر گیا ہو۔ انفاق میں بھی انسان حد سے گزر جائے اور اس میں اپنی تمام قوت ہاتھ سے دے بیٹھے تو فطری امر ہے کہ وہ اپنی کار کردگی اور رکھنے اور زندگی کا ساز و سامان مہیا کرنے سے رہ جاتا ہے گویا اس کی قوتیں برطرف ہو جاتی ہیں اور وہ غم والم میں ڈوب جاتا ہے اور لوگوں سے بھی اس کا میل ملاپ منقطع ہو جاتا ہے۔ بعض روایات جو اس آیت کی شان نزول میں منقول ہیں، ان میں یہ مفہوم وضاحت سے نظر آتا ہے۔ ایک روایات میں ہے: رسول ا لله ایک گھر میں موجود تھے۔ اس گھر کے دروازہ ے پر ایک سائل آیا اسے دینے کے لیے کوئی چیز مہیانہ تھی۔اس نے قمیص مانگی تھی۔ رسول الله نے اپنی قمیص اتار کر اسے دے دی۔ اس وجہ سے آپ اس روز مسجد میں نماز کے لیے نہ جا سکے۔ کفار نے اس مسئلے کو اچھا لا طرح طرح کی باتیں کرنے لگے۔ انہوں نے کہا: محمّد(ص) سو گیا ہے یا لہو ولعب میں مشغول ہے اور اس نے اپنی نماز بھلا دی ہے۔ اس طرح یہ کام دشمن کی علامت وشماتت کا سبب بھی بنا اور دوستوں کی جدائی کا بھی۔ یعنی ”ملوم ومحسور “کا مصداق ہوا۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور رسول الله سے کہا گیا کہ اس کام کا اعادہ نہ ہو۔ یہ مسئلہ ظاہر اًجس مو قع پر مسئلہ ایثار سے متضاد ہے، اس کے بارے میں ہم ”چند اہم نکات“کے زیر عنوان بحث کریں گے۔ بعض نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ بعضی اوقات رسول الله بیت المال میں جو کچھ ہوتا کسی ضرورت مند کو دے دیتے۔ بعد میں کوئی حاجت مند آتا تو پھر آپ کے پاس کچھ نہ ہوتا اور آپ کو شرمندگی محسوس ہوتی۔ ایسے میں بسا اوقات ضرورتمند شخص ملامت کرنے لگتا اور پیغمبر اکرم کے پاک دل کو آزردہ کرتا لہٰذا حکم دیا گیا کہ جو کچھ بیت المال میں ہو سارے کا سارا نہ دیا جائے اور نہ ہی سارا رکھ چھوڑا جائے تاکہ اس قسم کی مشکلات پیش نہ آئیں۔ یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ اصلاً بعض لوگ محروم، نیاز اور مسکین کیوں ہیں کہ جن کی وجہ سے ان کے لیے خرچ کرنا ضروری ہے۔ کیا بہتر نہ تھا کہ خدا تعالیٰ خود انہیں جس چیز کی ضرورت ہے دے دیتا تاکہ وہ اس کے محتاج نہ ہوتے کہ ان پر خرچ کیا جائے۔ زیر نظر آخری آیت گویا اس سوال کا جواب ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: خدا اپنی روزی جس کے لیے چاہتا ہے کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے کیونکہ وہ اپنے بندوں کے بارے میں آگاہ وبینا ہے(إِنَّ رَبَّکَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَشَاءُ وَیَقْدِرُ إِنَّہُ کَانَ بِعِبَادِہِ خَبِیرًا بَصِیرًا) یہ تمھارے لئے ایک آزمائش اور امتحان ہے ورنہ اس کے لئے ہر چیز ممکن ہے، وہاس طرح سے تمھاری تربیت کرنا چاہتا ہے۔ وہ تم میں سخاوت اور فداکاری کے جذبے پروان چڑھانا چاہتا ہے وہ تمہارے اندر خود غرضی کا خاتمہ چاہتا ہے۔ علاوہ ازیں، بہت سے ایسے لوگ ہیں کہ اگر وہ بالکل بے نیاز ہو جائیں تو سرکشی کی راہ اختیار کر لیں۔ ان کے لیے مصلحت اسی میں ہے کہ ان کو محدود طور پر روزی ملے کہ جس سے وہ فقر و فاقہ میں بھی مبتلا نہ ہوں اور طغیان و سرکشی کی راہ بھی اختیار نہ کریں۔ ان تمام امور سے قطع نظر انسانوں میں(معلول، معذور اور مجبور افراد کے علاوہ) رزق کی تنگی اور وسعت ان کی سعی و کوشش سے وابستہ ہے اور یہ جو فرمایا گیا ہے کہ خدا جس کے لیے چاہتا ہے روزی کشادہ کر دیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے، اس کا یہ چاہنا اس کی حکمت کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ جس شخص کی کوشش زیادہ ہے اس کا حصہ زیادہ ہو اور جس کی کوشش کم ہے اس کا حصہ کم ہو۔ بعض مفسرین نے اس آیت کے گزشتہ آیات سے متعلق کے بارے میں ایک اور احتمال قبول کیا ہے وہ یہ کہ زیر نظر آخری آیت انفاق میں افراط و تفریط سے روکنے کے حکم کی دلیل کے طور پر آئی ہے۔ فرمایا گیا ہے کہ یہاں تک کہ خدا اپنی اس قدرت و طاقت کے با وجود عطائے رزق میں اعتدال رکھتا ہے نہ اس طرح سے بخشا ہے کہ برائی اور سرکشی بر پا ہوجائے اور نہ اس طرح تنگ کرتا ہے کہ لوگ زحمت و مصیبت میں پڑ جائیں۔ یہ سب کچھ بندوں کے مفاد کے پیش نظر ہے۔ لہٰذا حق یہی ہے کہ تم بھی خدائی اخلاق اپنا کر اعتدال کی راہ اختیار کرو اور افراط اور تفریط سے پرہیز کرو۔ (بحوالہ: المیزان، ج۱۳، ص ۸۸)-

چند اہم نکات ۱۔ ذی القربیٰ سے یہاں کون مراد ہیں؟

”ذی القربیٰ“ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں وابستہ اور نزدیکی افراد کے معنی میں ہے۔ مفسرین نے اس بارے میں بحث کی ہے کہ یہ لفظ یہاں مخصوص افراد کے لیے ہے یا عام ہے۔ بعض کا نظریہ یہ ہے کہ تمام مومنین و مسلمین مخاطب ہیں اور انہیں اپنے زشتہ داروں کا حق ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بعض دیگر کہتے ہیں کہ مخاطب پیغمبر اکرم صلی الله علیہ آلہ وسلم ہیں اور آپ سے کہا گیا ہے کہ اپنے نزدیکیوں کو ان کا حق ادا کریں۔ مثلا خمس غنائم اور خمس سے باقی متعلقہ چیزوں میں سے اور کلی طور پر بیت المال میں جو ان کے حقوق ہیں وہ ادا کریں۔ متعدد روایات جو شیعہ اور سنی طرق سے نقل ہوئی ہیں ان کے مطابق جب یہ آیت نارل ہوئی تو رسول اکرم صلی الله علیہ آلہ وسلم نے حضرت فاطمہ سلام الله علیہا کو بلایا اور فدک کی سرزمین آ پ کو بخشش دی۔ [تشریحی نوٹ: فدک خیبر کے پاس اور مدینہ سے تقریباً ۱۴۰ کلو میٹر کے فاصلے پر ایک آباد اور زرخیز زمین ہے، خیبر کے بعد حجاز کے یہودیوں کا یہ واحد سہارا شمار ہوتی تھی۔ (کتاب ”مراصد الاطلاع“ کے مادہ ”مادہ فدک“ کی طرف رجوع کریں)۔ جب اس علاقے کے یہودیوں نے جنگ کیے بغیر ہتھیار ڈال دیئے اور انھوں نے اپنے تئیں آنحضرت کی خدمت میں پیش کر دیا تو معتبر اسناد اور تواریخ کے مطابق آنحضرت نے یہ زمین حضرت فاطمہ زہر(ص) کو بخش دی لیکن آنحضرت کی رحلت کے بعد مخالفین نے اسے غصب کر لیا، سالہا سال تک یہ علاقہ ایک سیاسی حربے کے طور پر ان کے ہاتھ میں رہا لیکن بعض خلفاء نے اسے اولادِ فاطمہ(ص) کو واپس کر دیا۔ (بعض تواریخ کے مطابق فدک کا علاقہ تقریباً دس مرتبہ چھینا گیا اور واپس کیا گیا]۔ اہل سنت کی منابع سے ایک حدیث مشہور صحابی رسول ابو سعد خددی سے منقول ہے: لما نزل قولہ تعالیٰ: ”واٰتِ ذا القربی حقہ“ اعطی رسول الله فاطمة فدکا- جب یہ آیت نازل ہوئی:”واٰتِ ذا القربی حقہ“ تو رسو ل اللہ نے فدک کا علاقہ فاطمہ(ص) کو دے دیا۔ (تشریحی نوٹ: بزاز ابو بعلی، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے یہ حدیث ابو سعید سے نقل کی ہے (کتاب میزان الاعتدال، ج۲، ص۲۸۸ اور کنز العمال، ج۲، ص۱۵۸ کی طرف رجوع کریں) مجمع البیان میں اور اسی طرح در منثور میں زیرِ بحث آیت کے ذیل میں شیعہ اور سنن طرق کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے)۔ بعض روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں تک کہ حضرت سجاد علیہ السلام نے اسیری کے دوران شام میں اسی آیت سے شامیوں کے سامنے استدلال کر تے ہوئے فرمایا : آیت ”اٰتِ ذا القربی حقہ“سے مراد ہم میں کہ جن کے بارے میں خدا نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا ہے کہ ان کا حق انہیں ادا کر ہم (جبکہ شامیو! تم نے ہمارے سب حقوق ضائع کر دیئے ہیں)۔(بحوالہ: نور الثقلین، ج۳، ص۲۵۵)۔ لیکن ان تمام چیزوں کے باوجود، جیساکہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے کہ یہ دونوں تفاسیر ایک دوسرے کے مخالفت نہیں ہیں۔ سب لوگوں کا فرض ہے کہ ذی القربیٰ کا حق ادا کریں۔ رسول اللہ چونکہ اسلامی معاشرت کے رہبر ہیں لہٰذا ان کی بھی ذمہ داری ہے کہ اس عظیم خدائی فریضہ پر عمل کریں۔ درحقیقت، اہل بیت رسول ”ذی القربیٰ“ کے واضح ترین مصداق ہیں اور رسول اللہ خود اس آیت کے روشن ترین مخاطب ہیں۔لہٰذا پیغمبر اکرم نے ذی القربیٰ کا حق کہ جو خمس، فدک یا اسی طرح دوسری چیزوں کی صورت میں تھا انہیں دے دیا کیونکہ زکوہٰ کہ جو درحقیقت عمومی اموال میں شمار ہو تی ہے اس کا لینا ان کے لیے ممنوع تھا۔

۲۔ اسراف کے برے اثرات

اس میں شک نہیں کہ کرہٴ ارض میں موجود نعمتیں اس میں رہنے والوں کے لیے کافی و وافی ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ انہیں بے ہودہ اور فضول استعمال نہ کیا جائے بلکہ صحیح اور معقول طریقے سے ہر قسم کی افراط وتفریط سے بچ کر ان سے استفادہ کیا جائے ورنہ یہ نعمات اس قدر غیر محدود بھی نہیں کہ ان کے استعمال کے مہلک نتائج نہ نکلیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ اکثر اوقات زمین کے ایک علاقے میں اسراف اور فضول خرچی کے باعث دوسرا علاقہ محرومیت کا شکار ہو جاتا ہے یا ایک زمانے کے لوگوں کا اسراف آیندہ نسلوں محرومیت کا باعث بن جاتا ہے۔ جس زمانے میں آج کے دَور کی طرح لوگوں کے پاس آبادی کے اعداد وشمار مو جود نہ تھے، اسلام نے خبر دار کیا تھا کہ خدائی نعمتوں سے استفادہ کرتے ہوئے اسراف اور فضول چرخی نہ کرو۔ قران حکیم نے بہت سی آیات میں مسرفین کی بڑی شدت سے مذمت کی ہے۔ ایک جگہ فرمایا ہے: وَلَاتُسْرِفُوا إِنَّہُ لَایُحِبُّ الْمُسْرِفِینَ اسراف نہ کرو کہ اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (انعام۔۱۴۱،اعراف۔۳۱)۔ ایک اور مقام پر فرماتا ہے: وَاَنَّ الْمُسْرَفِینَ ھُمْ اَصْحَابُ النَّارِ اور یقینا مسرفین اصحاب دوزخ ہیں۔ (مومن۔۴۳)۔ ایک اور مقام پر مسرفین کی پیروی سے روکتے ہوئے فرماتا ہے: وَلَاتُطِیعُوا اَمْرَ الْمُسْرِفِینَ اور مسرفین کے حکم کی پیروی کی اطاعت نہ کرو۔ (شعراء۔۱۵۱)۔ ایک ا ور جگہ فرماتا ہے: مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّکَ لِلْمُسْرِفِینَ مسرفین پر تیرے پروردگا ر کی طرف سے نشان لگا دیئے گئے ہیں۔ (ذارعات۔۳۴) ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے: وَإِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ وَإِنَّہُ لَمِنَ الْمُسْرِفِینَ شک نہیں کہ فرعون روئے زمین پر بڑا بن بیٹھا تھا اور اس میں بھی شک نہیں کہ وہ مسرفین میں سے تھا۔ (یونس۔۸۳) ایک اور جگہ فرماتا ہے: إِنَّ اللهَ لَایَھْدِی مَنْ ھُوَ مُسْرِفٌ کَذَّابٌ یقینا اللہ جھو ٹے مسرف کہ ہدایت نہیں کرتا۔ (مومن۔۲۸) اور آخر کا ر ان کا انجام ہلاکت ونابودی بتایا گیا ہے: وَاَھْلَکْنَا الْمُسْرِفِینَ اور ہم نے مفسرین کو ہلاکت کر ڈالا۔ (انبیاء۔۲۸) نیز جیسا کہ ہم نے لکھا ہے کہ زیر بحث آیت میں مسرفین کو شیطان کا بھائی اور ہمنشین شمار کیا گیا ہے۔ ”اسراف“اپنے وسیع معنی کہ لحاظ سے ہر قسم کے کام میں تجاوز کا مفہوم رکھتا ہے لیکن عام طو ر پر اخراجات میں حد سے تجاوز کے لیے بولا جاتا ہے۔ خود آیات سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ اسراف کنجوسی اور تنگی کا متضاد ہے۔ قرآن کہتا ہے: وَالَّذِینَ إِذَا اَنفَقُوا لَمْ یُسْرِفُوا وَلَمْ یَقْتُرُوا وَکَانَ بَیْنَ ذٰلِکَ قَوَامًا وہ لوگ کہ خرج کرتے وقت اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل سے کام لیتے ہیں بلکہ میانہ روی سے کام لیتے ہیں۔ (فرقان۔۴۷)

۳۔ اسراف اور تبذیر میں فرق

اس سلسلہ میں مفسّرین کی طرف سے کوئی واضح بحث نظر سے نہیں گزری لیکن ان دونوں الفاظ کے بنیادی معانی پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس و قت یہ دونوں ایک دوسرے کے مقابلے پر ہوں تو اسراف حد اعتدال سے نکل جانے کے معنی میں ہے بغیر اس کے کہ ظاہراً کسی چیز کو ضائع کیا ہو۔ مثلاً یہ کہ ہم ایسا گراں قیمت لباس پہنتے ہیں کے جو ہماری ضرورت کے لباس سے سوگنا زیادہ قیمت کا ہے یا اپنی ایسی گراں قیمت غذا تیار کرتے ہیں کہ جتنی قیمت سے بہت سے لوگون کو عزت وآبرو سے کھانا کھلایا جا سکتا ہے۔ ایسے موقع پر ہم حد سے تجاوز کر گئے ہیں لیکن ظاہراًکوئی چیز ختم اور ضائع نہیں ہوئی۔ جبکہ ”تنذیر “اس طرح سے خرچ کرنے کو کہتے ہیں کہ جو اتلاف اور ضیاع کی حد تک پہنچ جائے مثلاً دو مہمانو ں کے لیے دس افراد کا کھا نا پکا لیں؛ جیساکہ بعض نادان کرتے ہیں اور پھر اس پر فخر کرتے ہیں اور بچے ہوئے کھا نے کو کُوڑ ے کرکٹ میں پھینک کر ضا ئع کرتے ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں: ”الا ان اعطاء المال فی غیر حقہ تبذیر واسراف وھو یرفع صاحبہ فی الدنیا ویضعہ فی الآخرة و یکرمہ فی الناس و یھینہ عند الله“ خبردار! مال کو اس کے مقام استحقاق کے علاوہ خرچ کرنا تبدیر واسراف ہے۔ ہو سکتا ہے یہ کام انسان کو دنیا میں بلند مرتبہ کر دے لیکن آخرت میں وہ یقینا پست وحقیر ہو گا۔ ہو سکتا ہے عام لوگوں کی نظر میں اسے عزت واکرام حاصل ہو جائے مگر بارگاہ الٰہی میں یہ کام انسان کی تنزلی اور سقوط کا سبب ہے۔ زیر بحث آیات کی تشریح میں ہم نے پڑھا ہے کہ احکام اسلامی میں اسراف اور تبذیر کی اس قدر ممانعت کی گئی ہے کہ وضوکے لیے زیادہ پانی ڈالنے سے بھی منع کیا گیا ہے اگرچہ وضو کرنے والا لب دریا ہی کیوں نہ بیٹھا ہو۔ اسی طرح امام (ص)نے خرمے کی گٹھلیاں تک دُور پھینکنے سے منع کیا ہے۔ آج کی دنیا میں بعض مواد کی کمی کے احساس نے اس امر کی طرف اتنی شدت سے توجہ دلائی ہے کہ اب ہر چیزسے استفاوہ کیا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ کوڑا کرکٹ سے کھاد تیار کی جا رہی ہے اور پھوک سے اشیائے ضرورت تیار کی جا رہی ہیں۔ استعمال شدہ گندے اور بچے ہوئے پانی سے زراعت کے لیے استفادہ کیا جا رہا ہے کیو نکہ آج لوگ محسوس کرتے ہیں کہ عالم طبیعی میں موجود مواد غیر محدود نہیں ہے کہ جس کے باعث اس امر سے آسانی سے صرف نظر کر لیا جائے بلکہ لوگ سمجھتے ہیں ہر چیز سے دوہرا استفادہ کرنا چاہیے۔

۴۔کیا میانہ روی ایثار کے منا فی ہے؟

زیر بحث آیات کہ جو انفاق میں اعتدال ملحوظ رکھنے کا حکم کر نے والوں کی تعریف اور توصیف اور مدح وثنا کی گئی ہے یہاں تک کہ انتہائی مشکل کا حالات میں بھی اپنی ذات کو فراموش کر کے دوسرں کے لیے ایثار کر نے کی تشویق کی گئی ہے۔ لہٰذا یہ دونوں با تیں آپس میں کس طرح ہم آہنگ ہو سکتی ہیں۔ زیر بحث آیات کی شان نزول پر غور و خوص کرنے سے اور اسی طرح دیگر قرائن کو سامنے رکھنے سے مسئلہ واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ اعتدال ملحوظ رکھنے کا حکم وہاں ہے جہاں زیادہ بخشش انسان کی اپنی بے سروسامانی کا سبب بن جائے اور اصطلاح کے مطابق وہ ”ملوم و محسور “ہو جائے۔ یا ایثار اس کی اولاد کے لیے نا راحتی، پریشانی دباوٴ اور تنگی کابا عث ہو جائے اور اس کے اپنے گھر کا نظام خطرے میں پڑ جائے لیکن اگر ایسا نہ ہو تو یقینا ایسے میں ایثار بہترین راہ ہے۔ س سے قطع نظر اعتدال ملحوظ رکھنے کا حکم عمومی ہے جبکہ ایثار ایک خواص حکم جو معین مواقع سے مربوط ہے لہٰذا یہ دونوں حکم ایک دوسرے سے متضاد نہیں ہیں۔

31
17:31
وَلَا تَقۡتُلُوٓاْ أَوۡلَٰدَكُمۡ خَشۡيَةَ إِمۡلَٰقٖۖ نَّحۡنُ نَرۡزُقُهُمۡ وَإِيَّاكُمۡۚ إِنَّ قَتۡلَهُمۡ كَانَ خِطۡـٔٗا كَبِيرٗا
اور اپنی اولاد کو فقر و فاقہ کے خوف سے قتل نہ کرو۔ہم انہیں اور تمہیں رزق دیتے ہیں انہیں قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔

32
17:32
وَلَا تَقۡرَبُواْ ٱلزِّنَىٰٓۖ إِنَّهُۥ كَانَ فَٰحِشَةٗ وَسَآءَ سَبِيلٗا
اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ کہ یہ بہت بڑا گناہ (اوربراعمل)ہے اور بہت بری روش ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔

33
17:33
وَلَا تَقۡتُلُواْ ٱلنَّفۡسَ ٱلَّتِي حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلۡحَقِّۗ وَمَن قُتِلَ مَظۡلُومٗا فَقَدۡ جَعَلۡنَا لِوَلِيِّهِۦ سُلۡطَٰنٗا فَلَا يُسۡرِف فِّي ٱلۡقَتۡلِۖ إِنَّهُۥ كَانَ مَنصُورٗا
اور جس شخص کا خون خدا نے حرام قرار دیا ہے اسے سوائے حق کے قتل نہ کرو۔اور جو شخص مظلوم مارا گیا ہے اس کے ولی کو ہم نے (حق قصاص پر) تسلط دیا ہے لیکن وہ قتل میں اسراف نہ کرے،کیونکہ وہ مدد دیا گیا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔

34
17:34
وَلَا تَقۡرَبُواْ مَالَ ٱلۡيَتِيمِ إِلَّا بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُ حَتَّىٰ يَبۡلُغَ أَشُدَّهُۥۚ وَأَوۡفُواْ بِٱلۡعَهۡدِۖ إِنَّ ٱلۡعَهۡدَ كَانَ مَسۡـُٔولٗا
اور سوائے احسن طریقے کے مال یتیم کے قریب نہ جاؤ،یہاں تک کہ وہ حد بلوغ کو پہنچ جائے اور اپنے عہد (وپیمان) کو پورا کرو کیونکہ عہد کے بارے میں تم سے پو چھا جا ئیگا،

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔

35
17:35
وَأَوۡفُواْ ٱلۡكَيۡلَ إِذَا كِلۡتُمۡ وَزِنُواْ بِٱلۡقِسۡطَاسِ ٱلۡمُسۡتَقِيمِۚ ذَٰلِكَ خَيۡرٞ وَأَحۡسَنُ تَأۡوِيلٗا
اور جب تم ناپ تول کرو تو پیمانہ کا حق ادا کرو اور ترازو سے وزن صحیح کرو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور اس کا انجام بہت اچھا ہے۔

چھ اہم احکام

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں احکام اسلامی کے کچھ حصے آئے ہیں۔ ان کے بعد زیر نظر آیات میں کچھ مزید احکام پیش کیے گئے ہیں۔ چھ اہم احکام پانچ آیات میں بہت پر معنی اور دلنشین پیرائے میں بیان کیے گئے ہیں۔ (۱) پہلے زمانہ جاہلیت کے ایک بہت قبیح اور برے عمل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ انتہائی دردناک گناہوں میں سے تھا۔ ارشاد ہوتا ہے: اپنی اولاد کو فقر و فاقہ کے خوف سے قتل نہ کرو (وَلَاتَقْتُلُوا اَوْلَادَکُمْ خَشْیَةَ إِمْلَاقٍ)۔ان کی روزی تمہارے ذمہ نہیں ہے بلکہ انہیں اور تمہیں ہم رزق دیتے ہیں (نَحْنُ نَرْزُقُھُمْ وَإِیَّاکُمْ)۔ کیونکہ ان کا قتل ایک بہت بڑا گناہ تھا اور ہے (إِنَّ قَتْلَھُمْ کَانَ خِطْئًا کَبِیرًا)۔ اس آیت سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ زمانہٴ جاہلیت میں عربوں کی اقتصادی حالت اتنی سخت اور پریشان کن تھی کہ وہ اپنی مالی حالت پتلی ہونے کی وجہ سے اپنی عزیز اولاد تک کو قتل کر دیتے تھے۔ مفسرین میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ کیا زمانہ جاہلیت کے عرب فقر کے خوف سے صرف اپنی بیٹیوں کو مٹی میں دبا دیتے تھے یا بیٹیوں کو بھی زندہ در گور کر دیتے تھے۔ بعض کا نظریہ ہے کہ یہ سب گفتگو بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ وہ لوگ ایسا دو وجوہ کی بناء پر کرتے تھے۔ ایک تو اس خیال کی بناء پر کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی جنگ میں دشمنوں کی قید میں چلی جائیں اور اس طرح ان کی عزت و ناموس دوسروں کے ہاتھ آ جائے۔ دوسرا فقر و فاقہ کی وجہ سے اور اسباب زندگی مہیا کرنے کی طاقت نہ ہونے کے سبب وہ لڑکیوں کو قتل کر دیتے تھے۔ کیونکہ اس زمانہ میں لڑکی مالی پیداوار کا ذریعہ نہ تھی بلکہ اکثر اوقات اخراجات کا سبب شمار ہوتی تھی۔ یہ ٹھیک ہے کہ ابتداء میں بیٹے بھی اخراجات ہی کا باعث تھے لیکن زمانہٴ جاہلیت کے عرب ہمیشہ بیٹیوں کو اہم سرمائے کے طور پر دیکھتے تھے اور انہیں گنوانے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔ بعض دوسروں کا نظریہ ہے کہ وہ دو طرح سے اولاد کو قتل کرتے تھے۔ ایک قتل وہ ناموس کی حفاظت کے غلط نام پر لڑکیوں کا کرتے تھے اور دوسرا فقر و فاقہ کے خوف سے بلا تخصیص بیٹے اور بیٹی کا۔ آیت کی ظاہری تعبیر کہ جو جمع مذکر (قتلھم اور نرزقھم)کی صورت میں آئی ہے۔ اس نظریے کی دلیل بن سکتی ہے کیونکہ عربی ادب کے لحاظ سے جمع مذکر کا اطلاق بیٹیوں پر مجموعی طور پر درست ہے لیکن خصوصیت سے اس کا بیٹیوں کے لیے ہونا بعید معلوم ہوتا ہے۔ البتہ یہ جو کہا گیا ہے کہ بیٹے پیداواری صلاحیت رکھتے تھے اور سرمایہ شمار ہوتے تھے، یہ بالکل صحیح ہے لیکن یہ اس صورت میں کہ جب اس تھوڑی مدت کے لیے وہ اجراجات برداشت کر سکتے۔ حالانکہ بعض اوقات تو وہ اس قدر تنگ دستی میں ہوتے کہ اس تھوڑی سی مدت کے لیے بھی اسبابِ زندگی مہیا کرنے کے قابل نہ ہوتے۔ لہٰذا دوسری تعبیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ بہرحال، یہ بات ایک وہم و گمان سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی کہ روزی دینے والے ماں باپ ہی ہیں۔ خداوند تعالیٰ اعلان کر رہا ہے کہ اس شیطانی خیال کو دماغ سے نکال دو زیادہ سے زیادہ سعی و کوشش کے لئے اٹھ کھڑے ہو تو خدا بھی مدد کرے گا اور ان کی زندگی کا نظام چلادے گا۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ ہم اس قبیح اور شرمناک جرم سے وحشت کرتے ہیں حالانکہ یہی جرم ہمارے زمانے میں ایک اور شکل میں موجود ہے۔ یہاں تک کہ یہ کام بہت زیادہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی انجام پاتا ہے اور وہ ہے اسقاطِ حمل۔ یہ کام بہت زیادہ بڑھتی ہوئی آبادی کی روک تھام اور اقتصادی حالات کے نام پر کیا جا رہا ہے۔ (مزید توضیح کے لیے تفسیر نونہ جلد ۶ سورہٴ انعام کی آیہ ۱۵۱ کی طرف رجوع کریں) ”خشیة املاق“ بھی اس شیطانی وہم کی نفی کے لیے لطیف اشارہ ہے کہ یہ صرف ایک خوف ہے جو تمہیں اس بہت بڑے جرم پر ابھارتا ہے ورنہ اس میں حقیقت نہیں ہے۔ ضمناً توجہ رہے کہ ”کان خطاً کبیراً“ کہ جو فعل ماضی کے ساتھ آیا ہے اس امر کے لیے اشارہ اور تاکید ہے کہ اولاد کو قتل کرنا ایک بہت بڑا گناہ ہے کہ جو قدیم زمانے سے لوگوں میں موجود ہے اور اس کی قباحت اور برائی فطرت کی گہرائیوں میں موجود ہے لہٰذا یہ قباحت کسی زمانے سے مخصوص نہیں ہے۔ (۲) ایک اور عظیم گناہ کہ جس کی طرف اگلی آیت اشارہ کرتی ہے وہ زنا اور منافی عفت عمل ہے۔ قرآن کہتا ہے: زنا کے قریب نہ جاؤ کیونکہ یہ بہت بُرا اور قبیح عمل ہے اور بہت بری روشن ہے (وَلَاتَقْرَبُوا الزِّنَی إِنَّہُ کَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِیلًا)۔ اس مختصر سے جملے میں تین نکات کی طرف اشارہ ہوا ہے: الف۔ یہ نہیں فرمایا کہ زنا نہ کرو۔ بلکہ فرمایا کہ اس شرمناک کام کے قریب نہ جاؤ۔ یہ تعبیر اپنی گہرائی کے اعتبار سے اس حکم کے لیے تاکید ہے نیز یہ اس امر کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ اکثر اوقات اس گناہ کے کچھ تمہیدی اعمال بھی ہوتے ہیں جو تدریجاً انسان کو اس کے قریب کر دیتے ہیں۔ ہوا و ہوس کی نظر سے عورتوں کو دیکھنا بھی اس کا ایک مقدمہ ہے۔ بےپردگی اس کا دوسرا مقدمہ ہے۔ بری باتیں سکھانے والی کتابیں، گندی فلمیں، گھٹیا جرائد اور برائی کے مختلف مراکز بھی اس کام کا مقدمہ فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح نامحرم عورتوں کے ساتھ خلوت بھی اس کا ایک عامل ہے (یعنی ایک نامحرم مرد اور عورت کسی خالی مکان یا مقام پر ہوں تو وہ بھی اس کا عامل بن سکتا ہے)۔ اسی طرح جوان لڑکے اور لڑکی کی شادی نہ کرنا اور دونوں پر بلا وجہ سختیاں عائد کرنا بھی اس کا سبب بن جاتا ہے۔ یہ سب ”زنا کے قریب جانے کے“ عامل ہیں۔ مذکورہ آیت اپنے مختصر جملے میں ان سب سے روکتی ہے۔ اسلامی روایات میں ان مقدمات میں سے ہر ایک کی الگ الگ ممانعت کی گئی ہے۔ ب۔ ”انہ کان فاحشة“ میں تین تاکیدیں موجود ہیں: ایک ”انّ“ دوسری فعل ماضی اور تیسری ”فاحشة“۔ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ گناہ کتنا بڑا ہے۔ ج۔ ”ساء سبیلا“ (یعنی زنا بہت بری روش ہے)۔ یہ جملہ اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ یہ عمل معاشرے میں دیگر بُرائیوں کو بھی کھینچ لاتا ہے۔

حرمتِ زنا کا فلسفہ

ماں باپ اور اولاد کے درمیان رابطہ ختم ہو جاتا ہے جبکہ یہ وہ رابطہ ہے جو نہ صرف معاشرے کی شناخت کا سبب ہے بلکہ خود اولاد کی نشود و نما کا موجب بھی ہے۔ یہی رابطہ ساری عمر محبت کے ستونوں کو قائم رکھتا ہے اور انہیں دوام دیتا ہے۔ مختصر یہ کہ جس معاشرے میں غیرشرعی اور بے باپ کی اولاد زیاد ہ ہو اس کے اجتماعی روا بط سخت تزلزل کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ ان روابط کی بنیاد خاندانی روابط ہیں۔ اس مسئلے کی اہمیت سمجھنے کے لیے لحظہ بھر اس امر پر غور کرنا کافی ہے کہ اگر سارے انسانی معاشرے میں زنا جائز اور مباح ہو جائے اور شادی بیاہ کا قانون ختم کر دیا جائے تو ان حالات میں غیر مشخص اور بےٹھکانہ اولاد پیدا ہو گی۔ اس اولاد کو کسی کی مدد اور سرپرستی حاصل نہ ہو گی۔ اسے نہ پیدائش کے وقت کوئی پوچھے گا نہ بڑا ہو کر۔ اس سے قطع نظر برائیوں، سختیوں اور مشکلوں میں محبت کا اثر تسلیم شدہ ہے جبکہ ایسی اولاد اس محبت سے محروم ہو جائے گی اور انسانی معاشرہ پوری طرح تمام پہلوؤں سے حیوانیدرندگی کی شکل اختیار کر لے گا۔ (ب) یہ شرمناک اور قبیح عمل ہوس باز لوگوں کے درمیان طرح طرح کے جھگڑوں اور کشمکشوں کا باعث بنے گا۔ وہ واقعات کہ جو بعض افراد نے بد نام محلوں اور غلط مراکز کی داخلی کیفیت کے بارے میں لکھے ہیں ان سے یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ جنسی بے راہ رویاں بدترین جرائم کو جنم دیتی ہیں۔ (ج) یہ بات علم اور تجربے نے ثابت کر دی ہے کہ زنا طرح طرح کی بیماریاں پھیلنے کا سبب بنا ہے۔ اس کے آثارِ بد اور برے نتائج کی روک تھام کے لیے آج کے دور میں بہت سے ادارے قائم ہیں اور بہت سے اقدامات کیے گئے ہیں مگر اعداد و شمار نشاندہی کرتے ہیں کہ کس قدر افراد اس راستے میں اپنی صحت و سلامتی گنوا بیٹھے ہیں۔ (د) اکثر اوقات یہ عمل اسقاطِ حمل، قتل اولاد اور انقطاع نسل کا سبب بنتا ہے کیونکہ ایسی عورتوں ایسی اولاد کی نگہداری کے لیے ہرگز تیار نہیں ہوتیں اور اصولاً اولاد ان کے لیے ایسا منحوس عمل جاری رکھنے میں بہت بڑی رکاوٹ ہوتی ہے لہٰذا وہ ہمیشہ اسے پہلے سے ختم کر دینے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہ مفروضہ بالکل موہومی ہے ایسی اولاد حکومت کے زیر کنٹرول اداروں میں رکھی جا سکتی ہے۔ اس مفروضے کی ناکامی عملی طور پر واضح ہو چکا ہے اور ثابت ہو چکا ہے کہ اس صورت میں بِن باپ کی اولاد کی پرورش کس قدر مشکلات کا باعث ہے اور نتیجتاً بہت ہی نامرغوب اور غیر پسندیدہ ہے۔ ایسی اولاد سنگدل، مجرم، بے حیثیت اور ہر چیز سے عاری ہوتی ہے۔ (ہ) یہ بات فراموش نہیں کرنا چاہیئے کہ شادی بیاہ کا مقصد صرف جنسی تقاضے پورے کرنا نہیں بلکہ تشکیل حیات میں اشتراک، روحانی محبت، فکری سکون، اولاد کی تربیت اور تمام حالاتِ زندگی میں ہمکاری شادی کے نتائج میں سے ہیں اور ایسا بغیر اس کے نہیں ہو سکتا کہ عورت اور مرد باہم مخصوص ہوں اور عورتیں دوسروں پر حرام ہوں۔ امام علی بن ابی طالب علیہ السلام ایک حدیث میں فرماتے ہیں: میں نے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا: فی الزناست خصال: ثلث فی الدنیا و ثلث فی الاٰخرة، فاما اللّواتی فی الدنیا فیذھب بنور الوجہ، و یقطع الرزق، ویسرع الفناء۔ و اما اللّواتی فی الاٰخرة فغضب الرب و سوءِ الحساب و الدخول فی النار، او الخلود فی النار۔ زنا کے چھ بُرے اثرات ہیں: ان میں سے تین کا تعلق دنیا سے ہے اور تین کا تعلق آخرت سے ہے۔ دُنیاوی بُرے اثرات یہ ہیں کہ یہ عمل انسان کی نورانیت گنوا دیتا ہے۔ روزی منقطع کر دیتا ہے اور جلد فنا سے ہمکنار کر دیتا ہے۔ اُخروی آثار یہ ہیں کہ یہ عمل پروردگار کے غضب، حساب کتاب میں سختی اور آتشِ جہنم میں دخول یا دوام کا سبب بنتا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان ج ۶ ص ۴۱۴)۔ (۳) اگلی آیت میں ایک اور حکم ہے۔ یہ حکم انسانوں کے خون کے احترام کے بارے میں ہے اور قتل نفس کی انتہائی حرمت کا ترجمان ہے۔ قرآن کہتا ہے: جس شخص کا خون خدا نے حرام قرار دیا ہے اسے سوائے حق کے قتل نہ کرو (وَلَاتَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِی حَرَّمَ اللهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ)۔ انسان کے خون کا احترام اور قتل نفس کی حرمت ایسے مسائل ہیں جن میں تمام آسمانی شریعتیں، دین اور انسانی قوانین متفق ہیں اور اس قتل کو ایک بہت بڑا جرم اور گناہ شمار کرتے ہیں لیکن اسلام نے اس مسئلے کو بہت ہی زیادہ اہمیت دی ہے یہاں تک کہ ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا ہے۔ قرآن کہتا ہے: مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیعًا جو کسی کو نہ جان کے بدلے اور نہ فساد فی الرض کی سزا میں قتل کر دے تو اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر ڈالا۔ (مائدہ۔۳۲) یہاں تک کہ قرآن کی بعض آیات سے تو معلوم ہوتا ہے کہ دائمی عذابِ جہنم کہ جو کفار کے لیے مخصوص ہے قاتل کے لیے بھی بیان ہوا ہے اور ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ممکن ہے یہ تعبیر اس بات کی دلیل ہو کہ وہ افراد جن کے ہاتھ بے گناہ افراد کے خون سے رنگین ہوتے ہیں وہ دنیا سے ایمان کے ساتھ نہیں جائیں گے۔ بہرحال، قرآن کہتا ہے: وَمَنْ یَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُہُ جَھَنَّمُ خَالِدًا فِیھَا جس کسی نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر دیا تو اس کی جزاء جہنم ہے کہ جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ (نساء/ ۹۳) یہاں تک کہ جو افراد لوگوں کے سامنے ہتھیار کھینچتے ہیں ان کے لیے اسلام میں محارب کی حیثیت سے سنگین سزا مقرر ہوئی ہے جس کی تفصیل فقہی کتب میں آئی ہے اس سلسلے میں ہم سورہٴ مائدہ آیہ ۳۳کے ذیل میں اشارہ کر آئے ہیں۔ نہ صرف قتل کرنا بلکہ کسی شخص کو کم سے کم اور چھوٹا آزار پہنچانے پر بھی اسلام میں سزا موجود ہے۔ یہ بات بڑے اطمینان سے کہی جا سکتی ہے کہ خون، جان اور انسان کے مقام کا یہ سب احترام جو اسلام میں ہے کسی اور دین و آئین میں موجود نہیں ہے۔ لیکن بالکل اسی وجہ سے کچھ ایسے مواقع آتے ہیں کہ خون کا احترام اٹھ حاتا ہے اور ان افرا د کے لیے ہے جو قتل یا اس جیسے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اسی لیے زیر بحث آیت میں پہلے حرمت قتل نفس کا بنیادی اور عمومی قانون بیان کیا گیا اور اس کے فوراً بعد”الّا بالحق“ کہہ کر ایسے افراد کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے ایک مشہور حدیث میں فرمایا ہے: لایحل دم امرء مسلم یشھد ان لا الٰہ الّا الله وانّ محمداً رسول الله الّا باحدی الثلاث: النفس بالنفس، والزانی المحصن، والتارک لدینہ المفارق للجماعة- کسی مسلمان کا خون کہ جو ”لا الہ الا الله“ اور ”محمد رسول الله“ کی گواہی دیتا ہو حلال نہیں ہے مگر تین مواقع پر۔ ایک یہ کہ وہ قاتل ہو، زانی محصن ہو اور وہ کہ جو اپنا دین چھوڑ کر مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہو جائے۔ (بحوالہ: تفسیر فی ضلال، ج۵، ص۳۲۳ بحوالہ صحیح بخاری وصحیح مسلم)۔ قاتل کے بارے میں حکم تو واضح ہے۔ اس کے قصاص میں معاشرے کی حیات اور انسانوں کی حفظِ جان کی ضمانت اور اگر اولیاءِ مقتول کو حقِ قصاص نہ دیا جائے تو قاتلوں کوشہ ملے گی اور معاشرے کا امن وامان تباہ ہو جائے گا۔ باقی رہا زانی محصن تو اس کا قتل ایک ایسے انتہایی قبیح گناہ کے بدلے میں ہے جو قتل کے برابر ہے۔ نیز مرتد کا قتل اسلامی معاشرے میں حرج مرج کو روکتا ہے اور جیسا کہ ہم نے کہا ہے یہ ایک سیاسی حکم ہے۔ تا کہ نظام اجتماعی کی حفاظت کی جا سکے کیونکہ ارتداد نہ صرف اجتماعی امن و امان کے لیے خطرہ ہے بلکہ خود نظام اسلام کے لیے بھی خطرہ ہے۔ اصولی طور پر اسلام کسی شخص کو مجبور نہیں کرتا کہ وہ یہ دین قبول کرے۔ دوسرے ادیان سے اسلام منطقی بنیادپر معاملہ کرتا ہے اور آزاد بحث و مباحثہ کا تامل ہے لیکن اگر کسی نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کر لیا اور اسلامی معاشرے کا جز بن گیا اور اس طرح مسلمانوں کے اسرار سے آگاہ ہو گیا۔اب اگر وہ دین سے پلٹ جانا چاہے اور عملی طور پر نظام اسلام کی بنیاد کمزور کرنا چاہے اور اسلامی معاشرے کے ستون گرانا چاہے تو یقیناً یہ عمل ناقابل برداشت ہے اور ان شرائط کے ساتھ اس کی سزا قتل ہے۔ (تشریحی نوٹ: ارتداد اور اس کی سخت سزا کے بارے میں سورہٴ نحل کی آیہ۱۰۶ کے ذیل میں تفسیر نمونہ کی جلد ۱۱ میں ہم تفصیلی بحث کر چکے ہیں)۔ البتہ اسلام میں انسانوں کے خون کا احترام مسلمانوں سے مخصوص نہیں ہے بلکہ وہ غیر مسلمان جو مسلمانوں سے بر سر جنگ نہیں ہیں اور ان سے دامن و سلامتی کی زندگی بسر کرتے ہیں ان کی جان و مال ائر نا موس بھی محفوظ ہے اور ان پر تجاوز کرنا حرام اور ممنوع ہے۔ اس کے بعد قرآن اولیاء مقتول کے حق قصاص کے بارے میں کہتا ہے: جو شخص مظلوم مارا جائے اس کے ولی کو ہم نے (قاتل سے قصاص لینے کا) تسلط دیا ہے (وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَانًا)۔ لیکن اسے بھی نہیں چاہیے کہ ان حالات میں وہ اپنے حق سے زیادہ کا مطالبہ کرے اور قتل میں اسراف کرے کیونکہ وہ مدد دیا گیا ہے (فَلَایُسْرِفْ فِی الْقَتْلِ إِنَّہُ کَانَ مَنصُورًا)۔ جی ہاں! اولیاءِ مقتول جب تک حد اسلام کے اندر رہتے ہیں اور اپنی حد سے تجاوز نہیں کرتے وہ نصرت الٰہی کے زیر سایہ ہیں یہ جملہ ان اعمال کی طرف اشارہ ہے زمانہٴ جاہلیت میں تھے اور بعض اوقات آج کل بھی ہوتے ہیں۔ کبھی ایک شخص کے قتل کے علاوہ اور بہت سے بے گناہ افراد قتل کر دیئے جاتے ہیں۔ جیسے زمانہٴ جاہلیت کی رسوم میں تھا کہ جب کسی قبیلے کا کوئی معروف آدمی قتل ہو جاتا تو مقتول کا قبیلہ قاتل کے قتل پر قناعت نہ کرتا بلکہ ضروری سمجھتا کہ قاتل کے قبیلے کا سردار معروف شخص قتل کرے چاہے اس قتل میں اس کا کوئی حصّہ نہ ہو۔ (تفسیر روح المعانی از آلوسی، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں)۔ ہمارے زمانے میں بھی بعض اوقات ایسے جرائم ہوتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ خصوصاً غاصب اسرائیل کا یہی کردار ہے۔ جب کوئی فلسطینی مجاہدان میں سے کسی کو قتل کر دے تو وہ فوراً فلسطینی بچوں اور عورتوں پر بم برسانے لگتے ہیں اور بعض اوقات ایک شخص کے بدلے بیسیوں بے گناہ افراد کو خاک و خون میں تڑپا دیتے ہیں۔ عراق کی بعث پاڑٹی کی طرف سے ہمارے اسلامی ملک پر مسلط کردہ جنگ میں بھی یہی صورتِ حال دیکھتے ہیں۔آئندہ تاریخ ان کے بارے میں فیصلہ کرے گی ہم یہ معاملہ اسی کے سپرد کرتے ہیں۔ اسلام میں عدالت کی اس قدر اہمیت ہے کہ اسے قاتل تک کے لیے ملحوظ رکھا گیا ہے۔ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام اپنی وصیتوں میں فرماتے ہیں: یا بنی عبد المطلب لا الفینکم تخوضون دماء المسلمین خوضاً تقولون قتل امیرالمومنین، الّا لاتقتلن بی الّا قاتلی، انظروا اذا انامت من ضربتہ ھذہ فاضربوہ، ولاتمثلوا بالرجل۔ اے اولادِ عبد المطلب! مبادا میری شہادت کے بعد مسلمانوں کا خون بہا نے لگو اور کہو کہ امیرالمومنین مارے گئے ہیں اور اس بہانے سے لوگوں کا خون بہانے لگو۔ آگاہ رہو کہ صرف میرا قاتل (عبدالرحمن بن ملجم مرادی) قتل ہو گا۔ پوری طرح غور کرنا کہ جب میں اس ضرب سے شہید ہو جاؤں کہ جو مجھ پر لگائی گئی ہے تو اسے صرف ایک ضرب کاری لگانا اور قتل کے بعد اس کا مثلہ نہ کرنا (ناک کان وغیرہ نہ کاٹنا)۔(بحوالہ: نہج البلاغہ، حصّہ مکتوبات نمبر ۴۷)۔ (۴) اگلی آیت میں اس سلسلہٴ احکام کا چوتھا حکم ہے۔ پہلے یتیموں کے مال کی حفاظت کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ اس میں وہی لب ولہجہ اختیار کیا گیا ہے جو منافی ٴ عفت عمل کے بارے میں گزشتہ آیات میں اختیار کیا گیا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے: یتیموں کے مال کے قریب نہ جاوٴ (وَلَاتَقْرَبُوا مَالَ الْیَتِیمِ) نہ صرف یہ کہ یتیموں کا مال نہ کھاوٴ بلکہ اس کے حریم و حدود کو بھی محترم سمجھو۔ لیکن ممکن تھا کہ ناآگاہ لوگ اس حکم کو منفی حوالے سے دیکھتے اور یتیموں کا مال بے سرپرست چھوڑنے کے لیے اسے سند بنا لیتے اور یوں یتیموں کا مال حوادث کے رحم و کرم پر رہ جاتا۔ لہٰذا فوراً بلافاصلہ استثناء فرمایا گیا ہے: مگر نہایت اچھے طریقے سے(إِلاَّ بِالَّتِی ھِیَ اَحْسَنُ)۔ اس جامع اور واضح تعبیر کے مطابق یتیموں کے اموال میں ہر ایسا تصرف جائز ہے جو ان کی حفاظت، اصلاح اور اضافے کی نیت سے ہو اور جس میں قبل ازیں ان کے ضروری پہلووٴں کا اتلاف نہ ہونے کی منصوبہ بندی کر لی گئی ہو بلکہ ایسا تصرف ان یتیموں کی ایک خدمت ہے جو اپنے مفادات کی حفاظت نہیں کر سکتے۔ البتہ یہ کیفیت یتیم کے فکری واقتصادی رشد تک پہنچنے کے وقت تک ہونا چاہئے۔ جیسا کہ زیرِ بحث آیت جاری رکھتے ہوئے قرآن کہتا ہے: اس زمانے تک کہ ان میں یہ طاقت پیدا ہو جائے (حَتَّی یَبْلُغَ اَشُدَّہُ)۔ ”اشد“ مادہ ”شدّ“ (بروزن ”جَد“) سے محکم گرہ کے معنی میں ہے۔ بعد ازاں اس کے مفہوم میں وسعت پیدا ہو گئی اور اب یہ لفظ ہر قسم کے جسمانی و روحانی استحکام کے لیے بولا جاتا ہے۔ یہاں”اشد“ سے مراد حدّ بلوغ کو پہنچنا ہے لیکن جسمانی و بلوغت کافی نہیں بلکہ فکری و اقتصادی بلوغت ہونا چاہیے۔ اس طرح سے کہ یتیم اپنے اموال کی حفاظت کر سکے یہ تعبیر اسی لیے منتخب کی گئی ہے کہ یقینی طور پر آزما کر دیکھ لیا جائے۔ اس میں شک نہیں کہ ہر معاشرے میں مختلف حوادث کے باعث یتیم موجود ہوتے ہیں۔ انسانی اقدار اور دیگر حوالوں سے ضروری ہے کہ یہ یتیم تمام پہلووں سے معاشرے کے خیر خواہ افراد کی سرپرستی میں ہوں۔ اسی لیے اسلام نے اس مسئلے کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے۔ اس کا کچھ حصہ ہم سورہٴ نساء کی آیہ ۲ کے ذیل میں ذکر کر آئے ہیں( تفسیر نمونہ جلد ۳ کی طرف رجوع فرمائیں)۔ جس چیز کا ہمیں یہاں اضافہ کرنا چاہیے وہ یہ ہے کہ بعض روایات میں یتیم وسیع تر معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ان افراد کو بھی یتیم کہا گیا ہے جو اپنے امام اور پیشوا سے جدا ہو چکے ہیں اور ایک مادی حکم سے معنوی استفادہ کیا گیا ہے۔ (۵) اس کے بعد ایفائے عہد کا مسئلہ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اپنا عہد وفا کرو کیونکہ ایفائے عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا (وَاَوْفُوا بِالْعَھْدِ إِنَّ الْعَھْدَ کَانَ مَسْئُولًا)۔ بہت سے معاشرتی روابط، اقتصادی نظام اور سیاسی مسائل عہد و پیمان کے گرد گھومتے ہیں۔ اگر عہد و پیمان متز لزل ہو جائے اور اعتماد اٹھ جائے تو معاشرے کا نظام تیزی سے درہم برہم ہو جائے اور اس پر وحشتناک حرج و مرج مسلط ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن آیات میں ایفائے عہد پر بہت زور دیا گیا ہے۔ عہد و پیمان کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ اس میں افراد کے درمیان جو اقتصادی اور کاروباری پیمان ہوتے ہیں وہ بھی شامل ہیں اور شادی بیاہ وغیرہ کے پیمان بھی شامل ہیں۔ ان میں وہ معاہدے بھی شامل ہیں جو اقوام وملل اور حکومتوں کے درمیان ہوتے اور ان سے بڑھ کر خدائی پیمان اور آسمانی رہبروں کے اپنی امتوں سے کیے گئے پیمان یا امتوں کی طرف سے ان سے باندھے گئے پیمان بھی اس میں شامل ہیں۔(ایفائے عہد اور قسم پوری کرنے کی اہمیت کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد ۱۱ سورہٴ نحل آیہ ۹۱ تا ۹۴ کے ذیل میں ہم تفصیلی بحث کر چکے ہیں)۔ (۶) آخری زیرِ بحث آیت میں آخری حکم ناپ تول میں عدالت کے بارے میں ہے۔ اس کے ذریعے حقوق الناس کی حغاظت اور کم فروشی کا سدِّباب مقصود ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: جب کسی پیمانہ سے کوئی چیز نہ پو تو اس کا حق ادا کرو (وَاَوْفُوا الْکَیْلَ إِذَا کِلْتُمْ)۔ اور صحیح اور سیدھے ترازو سے وزن کرو (وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیمِ)۔ کیونکہ یہ کام تمہارے فائدے میں ہے اور اس کا انجام سب سے بہتر ہے (ذٰلِکَ خَیْرٌ وَاَحْسَنُ تَاْوِیلًا)۔

چند اہم نکات: ۱۔ کم فروشی کا نقصان:

پہلا نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ کرنا چاہیے یہ ہے کہ قرآن مجید میں بارہا کم فروشی، وزن میں کمی اور دھوکا بازی کے خاتمے پر زور دیا گیا ہے۔ ایک مقام پر یہ مسئلہ وسیع عالمِ ہستی کے نظامِ خلقت کے ہم پّلہ رکھا گیا ہے: وَالسَّمَاءَ رَفَعَھَا وَوَضَعَ الْمِیزَانَ، اَلاَّ تَطْغَوْا فِی الْمِیزَان۔ خدا نے آسمان بلند کیا اور ہر چیز میں میزان اور حساب و کتاب رکھا تا کہ تم وزن اور حساب و کتاب میں سرکشی نہ کرو۔ (رحمٰن۔۷و۸)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ناپ تول پورا رکھنا کوئی کم اہم مسئلہ نہیں بلکہ اصل عدالت اور اس آفرینش کے نظم و ضبط کا حصّہ ہے جو پورے عالم ہستی پر حکم فرما ہے۔ ایک اور مقام پر شدید اور دھمکی آمیز لہجے میں ارشاد فرمایا گیا ہے: وَیْلٌ لِلْمُطَفِّفِینَ، الَّذِینَ إِذَا اکْتَالُوا عَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُون، وَإِذَا کَالُوھُمْ اَوْ وَزَنُوھُمْ یُخْسِرُون، اَلَایَظُنُّ اُولَئِکَ اَنَّھُمْ مَبْعُوثُونَ، لِیَوْمٍ عَظِیمٍ وائے اور ہلاکت ہے کم فروشی کرنے والوں کے لیے کہ جو خرید تے وقت اپنا حق پورا پورا لیتے ہیں اور بیچتے وقت کم وزن میں کمی کرتے ہیں کیا وہ یہ گمان نہیں کرتے کہ قیامت کے عظیم دن عدل الٰہی کی بارگاہ میں مبعوث ہوں گے۔ (مطففین۔۱۔۵) یہاں تک کہ قرآن مجید میں بعض انبیاء کے حالات میں ہے کہ ان کے شدید مبارزہ کا رُخ شرک کے بعد کم فروشی کی طرف تھا مگر ان کی ظالم قوم نے پرواہ نہ کی اور خدا کے شدید عذاب میں گرفتار ہو کر نابود ہو گئی۔ (تفسیر نمونہ جلد ۶ دیکھیے۔سورہ اعراف کی آیہ ۸۵ کے ذیل میں، مدین میں حضرت شعیب(ص) کی تبلیغ کے ضمن میں تفصیلات ذکر کی گئی ہیں)۔ اصولی طور پر حق و عدالت، نظم و ضبط اور حساب و کتاب ہر چیز میں اور ہر جگہ بنیادی اور حیاتی حیثیت رکھتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ یہ روح ہے جو تمام عالم ہستی پر حکم فرما ہے۔ لہٰذا اس بنیادی مسئلے سے کسی بھی قسم کا انحراف خطرناک اور بد انجام ہو گا خصوصاً کم فروشی اعتماد و اطمینان کا سرمایہ ختم کر دیتی ہے کہ جو مبادلات کا اہم رکن ہے۔ یہ کام اقتصادی نظام کو درہم برہم کر دیتا ہے۔ بہت ہی افسوس کا مقام ہے کہ بعض اوقات ہم دیکھتے ہیں اس اصول کو اپنا نے میں غیر مسلم بعض فرض شناسی مسلمانوں سے آگے بڑھ جاتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ دنیا کی منڈیوں میں اسی وزن کے مطابق اجناس پہنچائیں جو ان پر لکھا ہوا ہے تا کہ دوسروں کا اعتماد حاصل کر سکیں۔ جی ہاں! وہ جانتے ہیں کہ انسان اہل دنیا بھی ہو تا اس راستہ یہی ہے کہ معاملہ میں خیانت نہ کرے۔ یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ حقوق کے اعتبار سے کم فروش خریداروں کے مقروض ہیں۔ لہٰذا ان کی توبہ یہ حقوق ادا کیے بغیر نہیں ہو سکتی جو انہوں نے غصب کیے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر وہ ان حقوق کے مالکوں کو نہیں پہچانتے تب بھی انہیں چاہئے کہ ان کے برابر ”ردّ مظالم“ کے طور پر اصلی مالکوں کی طرف سے سے فقرا اور مساکین کو دیں۔

۲۔ کم تولنے کے مفہوم کی وسعت:

بعض اوقات کم فروشی کا مفہوم وسعت اختیار کر جاتا ہے اور اس میں عمومیت آجاتی ہے۔ اس طرح سے کہ ہر قسم کی کوتاہی اور فرائض کی انجام دہی میں کمی اس کے مفہوم میں شامل ہو جاتی ہے۔ لہٰذا وہ کاریگر جو اپنے کام میں کچھ کمی چھوڑ دیتا ہے۔ وہ استاد جو ٹھیک طرح سے درس نہیں دیتا، وہ مزدور جو بر وقت کام پر حاضر نہیں ہوتا اور دل جمعی سے کام نہیں کرتا۔ اس حکم کے مخاطب ہیں اور اس کی خلاف ورزی کے نتائج کے حصہّ دار ہیں۔ البتہ زیرِ بحث آیت کے الفاظ براہِ راست اس عمومیت کے لیے نہیں ہیں بلکہ مفہوم کی یہ وسعت عقلی ہے لیکن سورہ رحمن میں جو تعبیر آئی ہے وہ اس عمومیت اور وسعت کی طرف اشارہ کرتی ہے: وَالسَّمَاءَ رَفَعَھَا وَوَضَعَ الْمِیزَانَ، اَلاَّ تَطْغَوْا فِی الْمِیزَانِ

۳۔ قسطاس کا مفہوم

قاف کے نیچے زیر اور پیش کے ساتھ بھی استعمال ہوتا ہے (”بروزن ”مقیاس“ اور کبھی بر وزنِ ”قُرآن“) اس کا معنی ہے ترازو۔ بعض اسے رومی زبان کا لفظ سمجھتے ہیں اور بعض عربی کا۔ بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ اصل میں یہ دو لفظوں کا مرکب ہے ”قسط“ بمعنی عدل انصاف اور ”طاس“ بمعنی ترازوکا پلڑا۔ بعض کہتے ہیں کہ ”قسطاس“بڑے ترازو کو اور ”میزان“ چھو ٹے ترازو کو کہتے ہیں۔( تفسیر المیزان، تفسیر فخر الدین رازی وتفسیر مجمع البیان، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں)۔ بہرحال، ”قسطاس“ سے مراد متقسیم اور صحیح سالم ترازو ہے جو بے کم وکاست عادلانہ وزن کرے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ ایک روایت میں امام باقر علیہ السلام اس لفظ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ھو الذی لہ لسان ترازو وہ میزان ہے جس کی زبان (دو پلڑوں کا توان بتانے والی سوئی) ہو۔ (تفسیر صافی، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ جو ترازو اس سوئی کے بغیر ہوتے ہیں وہ دو پلڑوں کی حرکات اور توازن کو پوری طرح واضح نہیں کرتے لیکن اگر ترازو میں یہ معیاری سوئی ہو تو پلڑوں کی تھوڑی سی حرکت بھی اس سے ظاہر ہو جائے گی اور عدالت پوری طرح ملحوظ رکھی جا سکے گی۔

36
17:36
وَلَا تَقۡفُ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهِۦ عِلۡمٌۚ إِنَّ ٱلسَّمۡعَ وَٱلۡبَصَرَ وَٱلۡفُؤَادَ كُلُّ أُوْلَـٰٓئِكَ كَانَ عَنۡهُ مَسۡـُٔولٗا
اس کی پیروی نہ کر جس کا تجھے علم نہ ہو کیونکہ کان‘ آنکھ اور دل ان سب سے سوال کیا جائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

37
17:37
وَلَا تَمۡشِ فِي ٱلۡأَرۡضِ مَرَحًاۖ إِنَّكَ لَن تَخۡرِقَ ٱلۡأَرۡضَ وَلَن تَبۡلُغَ ٱلۡجِبَالَ طُولٗا
اورزمین پر تکبر سے نہ چل، تو زمین کو چیر نہیں سکتا اور تیرے قد کی لمبائی ہرگز پہاڑوں تک نہیں پہنچ سکتی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

38
17:38
كُلُّ ذَٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهُۥ عِندَ رَبِّكَ مَكۡرُوهٗا
ان سب کے گناہ تیرے پروردگا کے ہاں قابل نفرت قرارپاتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

39
17:39
ذَٰلِكَ مِمَّآ أَوۡحَىٰٓ إِلَيۡكَ رَبُّكَ مِنَ ٱلۡحِكۡمَةِۗ وَلَا تَجۡعَلۡ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ فَتُلۡقَىٰ فِي جَهَنَّمَ مَلُومٗا مَّدۡحُورًا
یہ احکام ان حکمتوں میں سے ہیں جو تجھے تیرے پروردگار نے وحی کے ذریعے دی ہیں،اور اللہ کے ساتھ ہرگز کسی کو معبود قرار نہ دے کہ تو جہنم میں جا گرے گا اس حالت میں کہ در گاہ خدا سے ملامت شدہ اور راندہ ہو گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

40
17:40
أَفَأَصۡفَىٰكُمۡ رَبُّكُم بِٱلۡبَنِينَ وَٱتَّخَذَ مِنَ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةِ إِنَٰثًاۚ إِنَّكُمۡ لَتَقُولُونَ قَوۡلًا عَظِيمٗا
کیا خدا نے بیٹے تمہارے لئے مخصوص کر دیئے ہیں اور خود ملائکہ میں سے بیٹیاں لے لی ہیں ؟ تم یقیناً بہت بڑی اور (انتہائی غلط)بات کہتے ہو۔

چند مزید اہم احکام: ۱۔ صرف علم کی پیروی کرو

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں ہم نے اسلام کی کچھ انتہائی بنیاد ی تعلیمات پڑھی ہیں۔یہ مسئلہ توحید سے شروع ہوتا ہے کہ جس سے ان تمام تعلیمات کا خمیر اٹھتا ہے اور پھر وہ احکام ہیں کہ جو انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے مختلف پہلووٴں سے مربوط ہیں زیرِ نظر آیات میں ہم ان احکام کے آخر ی حصّے تک جاتے ہیں۔یہاں چند مزید اہم احکام کی طرف اشارہ گیا ہے۔ ۱۔ صرف علم کی پیروی کرو: پہلے تمام چیزوں میں تحقیق کو ضرورت قرار دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے:جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کی پیروی نہ کرو (وَلَاتَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ)۔ نہ اپنے ذاتی عمل میں علم کے بغیر عمل کر اور نہ دوسروں کے بارے میں فیصلہ کر تے وقت بغیر علم کے شہادت دے اور نہ ہی علم کے بغیر کوئی عقیدہ و نظریہ قائم کر۔ گویا غیر عالم کی پیروی سے ممانعت ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے۔ اس میں اعتقادی امور بھی شامل ہیں، شہادت، قضائت اور عمل بھی۔ یہ جو بعض مفسرین نے اسے کچھ امور محدود کر دیا ہے اس کی کوئی واضح دلیل نہیں ہے کیونکہ”تقف“، ”قفو“ (بروزن ”عفو“) کے مادہ سے کسی چیز کے پیچھے لگنے کے معنی میں ہے اور ہم جانتے ہیں کہ غیر علم کے پیچھے لگنا وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ اور اس میں تمام مذکورہ چیزیں شامل ہیں۔ لہٰذا ہر چیز کی شناخت کا معیار علم و یقین ہے اور اس کے علاوہ ظن وگمان ہو، حدس و تخمین ہو یا شک و احتمال کچھ بھی قابل اعتماد نہیں ہے۔ جو لوگ ان امور کی بنیاد پر اعتماد کر لیتے ہیں یا فیصلے کی مسند پر بیٹھ جاتے ہیں یا شہادت دیتے ہیں یہاں تک کہ اپنے ذاتی عمل میں ان کی بنیاد پر قدم اٹھاتے ہیں وہ اس صریح حکم اسلامی کے خلاف عمل کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں نہ شہرت پانے والی چیزیں قضاوت، شھادت اور عمل کی بنیاد بن سکتی ہیں قرائن ظنی اور غیر یقینی خبریں کہ جو غیر موٴثق ذرائع سے ہم تک پہنچتی ہیں۔ آیت کے آخر میں اس ممانعت کی دلیل اس طرح بیان کی گئی ہے:”کان، آنکھ اور دل سب کے سب مسئول ہیں“ اور جو کچھ وہ انجام دیتے ہیں اس کے بارے میں ان سے پوچھا جائے گا(إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ اُوْلٰئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْئُولًا)۔ یہ ذمہ داری اس بناء پر ہے کہ جو باتیں انسان علم و یقین کے بغیر کہتا ہے وہ یا اس نے غیر موٴثق افراد سے سنی ہوتی ہیں۔ یا وہ کہتا ہے کہ میں نے دیکھا ہے جبکہ اس نے دیکھا نہیں ہوتا، یا وہ اپنے فکر و خیال کی بنیاد پر بے بنیاد فیصلے کرتا ہے کہ جو حقیقت پر منطبق نہیں ہوتے۔ اسی بناء پر اس کی آنکھ، کان اور فکر و عقل سے سوال کیا جائے گا کہ کیا واقعاً تم ان امور کے بارے میں یقین رکھتے تھے کہ تم نے ان کے بارے میں گواہی دی یا فیصلہ کیا یا ان کے معتقد ہوئے اور ان کے مطابق عمل کیا۔ اگر چہ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ان اعضاء وجوارح سے سوال کرنے سے مرادیہ اعضاء رکھنے والوں سے سوال کرنا ہے لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ قرآن دیگر آیات (مثلاً فصلت۔۲۱) میں تصریح کرتا ہے کہ روز قیامت انسانی جسم کے اعضاء یہاں تک کہ بدن کی کھال بھی بات کرے گی اور یہ اعضاء حقائق بیان کریں گے، تو کوئی دلیل موجود نہیں کہ ہم آیت کے ظاہری مفہوم کو چھوڑ دیں اور یہ نہ کہیں کہ خود ان اعضاء سے سوال ہو گا۔ رہا یہ سوال کہ حواس انسانی میں سے صرف آنکھ اور کان کا ذکر کیوں کیا گیا ہے۔ تو اس کی دلیل اور وجہ واضح ہے کیونکہ انسان کی حسّی معلومات کا ذریعہ عام طور پر دوہی ہیں اور باقی حواس ان کے تحت ہیں۔

نظم معاشرہ کےلیے ایک اہم درس

مذکورہ بالا آیت اجتماعی زندگی کے ایک انتہائی اہم اصول کی طرف اشارہ کرتی ہے جسے نظر انداز کر دینے کا نتیجہ سوائے اس کے کچھ نہیں ہو گا کہ معاشرہ حرج مرج کا شکار ہو جائے گا، انسانی رابطہ ختم ہو جائیں گے اور احساسات کے رشتے ٹوٹ جائیں گے۔ اور اگر یہ قرآنی پروگرام تمام انسانی معاشروں میں پوری طرح سے جاری ہو جائے تو بہت سی بدنظمیاں، بے اعتدالیاں اور مشکلات ختم ہو جائیں کہ جن کا سرچشمہ جلد بازی کے فیصلے، بے بنیاد گمان، مشکوک اور جھوٹی خبریں ہوتی ہیں۔ اگر قرآن کا یہ حکم رائج نہ ہو تو معاشرہ پر حرج مرج اور فتنہ و فساد کی فضا چھا جائے گی اور کوئی شخص دوسرے کی بدگمانی سے نہیں بچ سکے گا، کسی کو کسی پر اطمینان نہیں ہو گا اور تمام افراد کی عزت و آبرو اور مقام ہمیشہ خطرے میں رہے گا ۔ بہت سی دیگر قرآنی آیات اور اسلامی روایات میں اس بات پر زور دیا گیا ہے۔ مثلاً: ۱۔ وہ آیات کہ جو ظن و گمان کی پیروی کرنے کی وجہ سے بے ایمان افراد کی شدید مذمت کرتی ہیں۔مثلاً: وَمَا یَتَّبِعُ اٴَکْثَرُھُمْ إِلاَّ ظَنًّا إِنَّ الظَّنَّ لَایُغْنِی مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا۔ ان میں اکثر اپنے فیصلوں میں صرف ظن و گمان کی پیروی کرتے ہیں حالانکہ ظن و گمان انسان کو کسی طرح بھی حق و حقیقت تک نہیں پہنچا سکتے ۔ (یونس۔۳۶) ۲۔ ایک اور مقام پر پیروی ظن کو ہوائے نفس کی پیروی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے: إِنْ یَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَمَا تَھْوَی الْاَنْفس وہ صرف گمان اور ہوائے نفس کی پیروی کرتے ہیں۔ (نجم۔۲۳) ۳۔ ایک حدیث میں امام صادق سے مروی ہے: ان من حقیقة الایمان ان لایجوز منطقک علمک ایمان کی حقیقت میں سے یہ ہے کہ تیری گفتگو تیرے علم سے زیادہ نہ ہو اور جتنا تو جانتا ہے تو اس سے زیادہ بات نہ کرے۔ (وسائل الشیعہ، ج ۱۸ ص ۱۶- ۴۔ ایک اور حدیث میں امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام سے مروی ہے، آپ(ص) اپنے آباؤ اجداد سے نقل کرتے ہیں: لیس لک ان تتکلم بما شئت، لان اللّٰہ عزوجل یقول "ولا تقف ما لیس لک بہ علم"۔ تو جو چاہے نہیں کہہ سکتا کیونکہ خدا کہتا ہے: جس کا تجھے علم نہیں اس کی پیروی نہ کر۔ (وسائل الشیعہ، ج ۱۸ ص ۱۷)- ۵۔ ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم سے منقول ہے، آپ فرماتے ہیں: ایّاکم والظن فان الظن اکذب الکذب گمان سے پرہیز کرو کیونکہ گمان بدترین جھوٹ ہے۔ (وسائل الشیعہ، ج ۱۸ ص ۳۸). ۶۔ ایک شخص امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا۔ اس نے عرض کی: میرے کچھ ہمسائے ہیں۔ ان کے پاس گانے بجانے والی کنیزیں ہیں۔ وہ گاتی بجاتی ہیں۔ بعض اوقات میں بیت الخلاء میں جاتا ہوں تو زیادہ دیر بیٹھا رہتا ہوں تاکہ ان کے گیت سن سکوں حالانکہ میں اس مقصد کے لیے نہیں جاتا۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: کیا تو نے خدا کا یہ ارشاد نہیں سنا: إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ اُوْلٰئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْئُولًا (یقینا کان، آنکھ اور دل سب سے سوال ہو گا) اس نے عرض کیا: مجھے یوں لگا ہے کہ جیسے یہ آیت میں نے ہرگز کبھی کسی عرب یا عجم سے نہیں سنی میں ابھی سے یہ کام چھوڑتا ہوں اور بارگاہ الٰہی میں توبہ کرتا ہوں۔ (نور الثقلین، ج۳، ص۱۶۴)- بعض مصادر حدیث میں اس روایت کے ذیل میں ہے کہ امام (ص)نے اسے حکم دیا: جاؤ اور غسل توبہ کرو اور جس قدر ہو سکے نماز پڑھو کیونکہ تم نے بہت بُرا کام کیا۔ اگر تو اس حالت میں مرجاتا تو تجھے عظیم جواب وہی کا سامنا کرنا پڑتا۔ یہ آیات اور پیغمبر اکرم صلی ا لله علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ ہدیٰ(ص) سے منقول احادیث سے واضح ہو جاتا ہے کہ اسلام کس طرح انسان کی آنکھ اور کان کو مسئول قرار دیتا ہے۔ اسلام کا تقاضا ہے کہ انسان جب تک نہ دیکھے نہ کہے، جب تک نہ سنے فیصلہ نہ کرے اور تحقیق، علم اور یقین کے بغیر کسی چیز کا اعتقاد نہ رکھے، نہ عمل کرے اور نہ قضاوت کرے ۔ گمان ، تخمینے، اندازے اور سنی سنائی باتوں کی پیروی کرنا اور علم و یقین کے بغیر کسی چیز کے پیچھے لگنا فرد اور معاشرے کے لیے بہت بڑے خطرات پیدا کرتی ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے بہت زیادہ نقصانات ہیں۔ مثلاً: ۱۔ غیر علم پر بھروسہ کرنا لوگوں کے حقوق کی پامالی اور غیر مستحق افراد کو کسی کا حق دینے کا سرچشمہ ہے۔ ۲۔غیر علم کی پیروی آبرو مند افراد کی غزت و آبرو کو خطرے میں ڈال دیتی ہے اور خدمت گزاروں کو بد دِل کر دیتی ہے۔ ۳۔ غیر علم پر اعتماد پر ا پیگنڈا، افواہوں اور جعل سازیوں کا بازار گرم کر دیتا ہے۔ ۴۔ غیر علم کی پیروی انسان میں تحقیق وجستجو کا جذبہ ختم کر دیتی ہے اور اسے ایک جلد باور کرنے والا اور احمق شخص بنا دیتی ہے۔ ۵۔ غیر علم کی پیروی گھر، بازار، کاروبار غرض ہر جگہ پر سے گرم جوشی اور دوستی کے روابط ختم کر دیتی ہے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے بارے میں بدگمان بنا دیتی ہے۔ ۶۔ غیر علم کی پیروی ہمارے استقلالِ فکری کو ختم کر دیتی ہے اور ہماری روح کو ہر قسم کا زہریلا پراپیگنڈاقبول کرنے پر آمادہ کر دیتی ہے۔ ۷۔ غیر علم کی پیروی ہر شخص اور ہر چیز کے بارے میں جلد بازی سے فیصلہ کرنے کا سرچشمہ ہے اور یہ خود طرح طرح کی ناکامیوں اور پشیمانیوں کا سبب ہے۔

گمان کی طرف میلان کا سدّباب

اب جو سوال باقی رہ گیا ہے وہ یہ ہے کہ ہم اس بُری اور منحوس عادت اور اس کے دردناک انجام سے کس طرح اپنے آپ کو اور معاشرے کو نجات دلا سکتے ہیں؟ اس سوال کے جواب کے لئے ایک طویل بحث کی ضرورت ہے البتہ ہم یہاں مختصر اور چچے تلے نکات کی صورت میں ایک دستور العمل پیش کرتے ہیں: (الف) اس عمل کے دردناک نتائج اور انجام سے لوگوں کو پیہم آگاہ کرنا چاہیے اور ان سے تقاضا کرنا چاہیے کہ وہ غیر علم کے منحوس نتائج پر غور وفکر کریں۔ (ب) اسلامی طرزِ تفکر اور اسلام کے اندازِ جہاں بینی کو لوگوں میں زندہ کرنا چاہیے تاکہ وہ جان سکیں کہ خدا ہر حالت میں لوگوں پر نگران ہے، وہ سمیع وبصیر ہے، یہاں تک کہ وہ ہمارے افکار ونظریات سے بھی آگاہ ہے: یَعْلَمُ خَائِنَةَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِیَ الصُّدُوْرِ وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور جو کچھ سینوں میں چھپاتے اس سے بھی وہ آگاہ ہے۔ (مومن/۱۹) ہم جو بھی بات کرتے ہیں اور جو بھی قدم اٹھاتے ہیں ہمارے حساب میں لکھا جاتا ہے اور ہم اپنے اتمام اعمال، فیصلوں اور اعتقادات کے جوابدہ ہیں۔ (ج) رشدِ فکری کی سطح بلند کرنا چاہیے کیونکہ غیرعلم کی پیروی عام طور پر آگاہ اور بے علم عوام کرتے ہیں کہ جو ایک بے بنیاد خبر سن کر فوراً اس سے چمٹ جاتے ہیں اور فیصلہ کر لیتے ہیں اور اسی کے مطابق پھر اقدام کرتے ہیں۔

۲۔ متکبر نہ بنو

اگلی آیت میں غرور وتکبر کے خلاف ہے، اس میں مومنین کو زندہ اور روشن تعبیر سے غرور کرنے کی ممانعت کی گئی ہے۔ رسول الله کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: روئے زمین پر غرور وتکبر سے نہ چلو (وَلَاتَمْشِ فِی الْاٴَرْضِ مَرَحًا) (تشریحی نوٹ: ”مَرَحَ“ (بروزن ”فَرَحَ“) ایک باطل اور بے بنیاد بات پر بہت زیادہ خوشی کے معنی میں ہے) کیونکہ تم ہرگز زمین کو چیز نہیں سکتے اور تمھارا لمبا قد پہاڑوں تک نہیں پہنچ سکتا (إِنَّکَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولًا)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ مغرور لوگ عام طور پر چلتے وقت زمین پر زور زور سے پاؤں پٹختے ہیں تاکہ لوگوں کو بتائیں کہ ہم آ رہے ہیں۔ گردن اوپر اکڑا کر رکھتے ہیں تاکہ اہلِ زمین پر بزعمِ خود اپنی برتری جتا سکیں لیکن قرآن کہتا ہے کہ تم بھی زمین پر کیسے ہی اپنے پاؤں پٹخو، کیا اسے چیر سکو گے جبکہ اس کرہٴ خاکی پر تمہارا وجود بالکل ناچیز ہے۔ یہ تو بالکل اس چیونٹی کی طرح ہے جو بہت بڑے پتھر پر چل رہی ہو اور اپنا پاؤں اس پر پٹخے تو پتھر اس کی حماقت اور کم ظرفی پر ہنسے گا ہی۔ تو اپنی گردن کو جتنا بھی اکڑا لے کیا پہاڑوں کا ہمطراز ہو سکتا ہے اس طرح تو زیادہ سے زیادہ چند سنٹی میٹر اپنے تئیں اونچا کر سکتا ہے جبکہ اس زمین کے بلند ترین پہاڑوں کی چوٹی بھی اس کرہ کے مقابلے میں کوئی قابل ذکر حیثیت نہیں رکھتی اور خود زمین پوری گائنات کے مقابلے میں ایک ذرہ بے مقدار ہے۔ پس تیرا یہ غرور و تکبر چہ معنی دارد؟ یہ امر قابل توجہ ہے کہ غرور و تکبر ایک خطرناک باطنی بیماری ہے لیکن قرآن نے براہِ راست اس پر بحث نہیں کی بلکہ اس کے ظاہری آثار میں سے بھی سادہ ترین اثرات کی نشاندہی کی ہے اور خود پسند بے مغز متکبروں اور مغروروں کی چال کے بارے میں بات کی ہے۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ تکبر و غرور اپنے کمترین آثار کی سطح پر بھی مذموم، ناپسندیدہ اور شرمناک ہے۔ نیز یہ اس طرف بھی اشارہ ہے کہ انسان کی اندرونی صفات جو بھی ہوں وہ چاہے نہ چاہے ان کی جھلک اس کے اعمال میں ضرر نظر آجاتی ہے۔ اس کی چال ڈھال میں، اس کے دیکھنے کے اندر میں، اس کی بات کرنے کے طریقے میں اور اس کے تمام کاموں میں اس کی داخلی صفات جھلکتی ہیں۔ لہٰذا اگر ان صفات کا کچھ بھی اثر اعمال میں نظر آئے تو ہمیں متوجہ ہونا چاہیے کہ خطرہ نزدیک آگیا ہے اور ہمیں فکر کرنا چاہیے کہ اس مذموم عادت نے ہماری روح میں گھونسلا بنا لیا ہے لہٰذا ہمیں اس کے خلاف مقابلے کے لیے اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔ ضمنی طور پر ہم نے جو کچھ کہا ہے اس سے اچھی طرح معلوم ہو سکتا ہے کہ زیر بحث آیت میں (اسی طرح سورہ ٴلقمان میں اور قرآن کی دوسری سورتوں میں) قرآن کا ہدف یہ ہے کہ غرور و تکبر کی کلّی طور پر مذمت کی جائے نہ کہ اس کے کسی خاص موقع کی یعنی چلنے پھرنے کے انداز کی۔ کیونکہ غرور و تکبر خدا فراموشی، خود فراموشی، فیصلے میں اشتباہ، راہِ عق سے گمراہی، شیطان کے راستے سے وابستگی اور طرح طرح کے گناہوں سے آلودگی کا سرچشمہ ہے۔ حضرت علی علیہ السلام خطبہ ”ہمام“ میں پرہیزگاروں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: و مشیھم التواضع اور ان کی چال ڈھال میں انکساری ہوتی ہے۔ (نہج البلاغہ، خطبہ ۱۹۳)۔ نہ صرف کوچہ بازار میں چلتے ہوئے ان میں انکساری ہوتی ہے بلکہ زندگی کے تمام امور میں یہاں تک کہ مطالعات فکری میں اور نظریات و افکار کے سفر میں انکساری ان کے ساتھ ساتھ ہوتی ہے۔ ہادیانِ اسلام کی اپنی زندگی اس سلسلے میں ہر مسلمان کے لیے بہت ہی سبق آموز اور نمونہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی سیرت میں ہم پڑھتے ہیں کہ آپ ہرگز اجازت نہیں دیتے تھے کہ جس وقت آپ سوار ہوں تو کچھ لوگ پیادہ آپ کے ہمرکاب چلیں بلکہ فرماتے تھے: تم فلاں جگہ پہنچو، میں بھی آ جاؤں گا۔ وہاں ملاقات ہو گی۔ پیادہ شخص کا سوار کے ساتھ چلنا سوار کے غرور اور پیادہ کی ذلت کا سبب بنتا ہے۔ نیز ہم بڑھتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم زمین پر بیٹھتے، غلاموں کی سی سادہ غذا کھاتے، بکری کا دودھ دوہتے اور گدھے کی ننگی پشت پر سوار ہوتے۔ یہاں تک کہ جب آپ کے اقتدار کا زمانہ تھا مثلاً فتح مکّہ کے دن بھی اسی طرح کے کام انجام دیتے تھے تاکہ لوگ یہ گمان نہ کریں کہ کسی مقام پر پہنچنے سے غرور پیدا ہو گیا ہے اور آپ کوچہ و بازار کے لوگوں اور مستضعفین سے الگ رہنے لگے ہیں اور محنت کش عوام سے بیگانہ ہو گئے ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام کے حالات میں بھی ہے کہ آپ گھر کے لیے خود پانی بھرتے اور بعض اوقات گھر میں جھاڑو دیتے۔ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے حالات میں ہے کہ کئی سواریاں آپ(ص) کے پاس تھیں اس کے باوجود آپ(ص) بیس مرتبہ پا پیادہ بیت اللہ کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ آپ(ع) فرماتے تھے: میں ایسا بارگاہِ الٰہی میں عجزو انکساری کے لیے کرتا ہوں۔ (تفسیر نونہ جلد ۶ میں بھی غرور و تکبر کے نقصان کے بارے میں گفتگو کر چکے ہیں (دیکھیے اردو ترجمہ) اگلی آیت میں گزشتہ آیات میں بیان کیے گئے احکام پر تاکید کی گئی ہے۔ شرک، قتل نفس، زنا، قتلِ اولاد، مالِ یتیم میں تصرف اور ماں باپ کو آزار پہنچانے کے بارے میں فرمایا گیا ہے: ان تمام کا گناہ تیرے پروردگار کے نزدیک قابلِ نفرت ہے (کُلُّ ذٰلِکَ کَانَ سَیِّئُہُ عِنْدَ رَبِّکَ مَکْرُوھًا)۔ (”سیئہ“ کی ضمیر ”ذٰلک“یا” کل“ کی طرف لوٹتی ہے اور یہ ان الفاظ کے مفرد ہونے کی وجہ سے مفرد ہے اگر چہ یہاں جمع کے معنی رکھتی ہے) اس تعبیر سے واضح ہو جاتا ہے کہ مکتب جبر کے پیرو کاروں کے قول کے برخلاف خدا نے ہرگز ارادہ نہیں کیا کہ کسی سے گناہ سر زد ہو اگر اس نے ایسا ارادہ کیا ہوتا تو اس آیت میں اس سے کراہت اور ناراضگی مناسب نہ تھی۔ ضمناً واضح ہوجاتا ہے کہ قرآن کی زبان میں بہت بڑے گناہوں کے لیے بھی لفظ مکروہ استعمال ہوا ہے۔

۳۔ مشرک نہ بنو

تاکید مزید کے لیے اور اس لیے کہ ان تمام حکیمانہ احکام کا سرچشمہ وحی الٰہی ہے فرمایا گیا ہے: یہ سب حکمت آمیز احکام ہیں کہ جن کی تیرے پروردگار نے تیری طرف وحی کی ہے (ذٰلِکَ مِمَّا اَوْحیٰ إِلَیْکَ رَبُّکَ مِنَ الْحِکْمَةِ)۔ ”حکمت“ کی تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ ان آسمانی احکام کا سرچشمہ وحی الٰہی ہے، اس کے علاوہ، یہ میزان عقل پر بھی بالکل پوری اترتے ہیں اور عقل کے مطابق قابل ادراک ہیں۔ کون شخص شرک، قتل نفس یا ماں باپ کو آزار پہنچانے کی قباحت کا انکار کر سکتا ہے۔ اسی طرح کون زنا تکبر، یتیموں پر ظلم اور پیمان شکنی کے منحوس نتائج کا انکار کر سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، یہ احکام عقلی کے ذریعے بھی قابت شدہ ہیں اور وحی الٰہی کے ذریعے سے بھی اور تمام احکام الٰہی کے اصول اسی طرح ہیں اگر چہ عقل کے کم فروغ چراغ سے ان کی تفصیلات کو اکثر اوقات مشخص نہیں کیا جا سکتا اور صرف وحی الٰہی کے طاقتوں نور ہی سے انہیں پہنچانا جا سکتا ہے۔ بعض مفسرین نے حکمت کی تعبیر سے یہ استفادہ بھی کیا ہے کہ متعدد احکام جو گزشتہ آیات میں گزرے ہیں ثابت، مستحکم اور ناقابل تنسیخ ہیں اور یہ تمام آسمانی ادیان میں تھے۔ مثلاً شرک، قتل نفس، زنا، پیمان شکنی ایسی چیزیں نہیں ہیں کہ جو کسی بھی مذہب میں جائز شمار ہوتی ہوں۔ پس یہ احکام محکمات اور قوانین ثابت کا حصہّ ہیں۔ اس کے بعد جس طرح ان احکام کی ابتداء تحریم شرک سے کی گئی ہے حرمت شرک کی تاکید کے ساتھ ان کا اختتام ہوتا ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے: خدائے یگانہ کے ساتھ ہرگز شریک کا قائل نہ ہونا اور الله کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود قرار نہ دینا(وَلَاتَجْعَلْ مَعَ اللهِ إِلَھًا آخَرَ(۔ کیونکہ اس امر کے سبب تو دوزخ میں جا گرے گا جبکہ مخلوق خدا کی ملامت بھی تجھے دامن گیر ہو گی اور بارگاہ الٰہی سے بھی تو دھتکارا جائے گا اور اس کا قہر و غضب بھی تجھے لاحق ہو گا۔ (فَتُلْقَی فِی جَھَنَّمَ مَلُومًا مَدْحُورًا)۔ درحقیقت، تمام انحرافات، جرائم اور گناہوں کا خمیر شرک اور دوگانہ پرستی سے اٹھتا ہے۔ اسی لیے اسلام کے اساسی احکام کا یہ سلسلہ حرمتِ شرک سے شروع ہوتا ہے اور تحریمِ شرک پر ہی تمام ہوتا ہے۔ آخری زیرِ بحث آیت میں مشرکیں کی ایک بیہودہ خرافاتی فکر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کے پایہٴ منطق اور سطح فکر کو واضح کیا گیا ہے۔ ان میں سے لوگ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں حالانکہ خود بیٹی کا نام سن کر شرم محسوس کرتے تھے اور اپنے گھر میں اس کی ولادت کو بدبختی کا باعث خیال کرتے تھے قرآن مجید خود انہی کی منطق کی زبان میں انہیں جواب دیتا ہے: کیا تمہارے پروردگار نے بیٹے صرف تمہارے حصّے میں دے دیئے ہیں اور خود اپنے لیے اس نے فرشتوں میں سے بیٹیاں لے لی ہیں (اَفَاَصْفَاکُمْ رَبُّکُمْ بِالْبَنِینَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلَائِکَةِ إِنَاثًا)۔ اس میں شک نہیں کہ بیٹیاں بھی بیٹیوں کی طرح نعماتِ الٰہی ہیں اور انسانی قدر و قیمت کے لحاظ سے ان میں کوئی فرق نہیں۔ اصولی طور پر بقائے نسل انسانی ان دونوں میں سے کسی ایک کے بغیر ممکن نہیں لہٰذا زمانہ جاہلیت میں لڑکیوں کو جو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا وہ بیہودہ، فضول اور خرافاتی فکر تھی۔ اس کا پس منظر کیا تھا، اس کے بارے میں ہم تفصیلی بحث کر چکے ہیں۔ (تفسیر نونہ، ج ۱۱ ،سورہٴ نحل کی آیات ۵۸ و ۵۹ کے ذیل میں دیکھئے)۔ لیکن قرآن کا مقصد یہ ہے کہ انہیں ان ہی کی منطق کے ذریعے مغلوب کرے کہ تم کیسے نادان لوگ ہوکہ اپنے پروردگار کے لیے ایسی چیز کا نظریہ رکھتے ہو جس سے خود تم عار محسوس کرتے ہو۔ اس کے بعد آیت کے آخر میں ایک قاطع اور یقینی حکم کی صورت میں فرمایا گیا ہے: تم بہت بڑی اور کفر آمیز بات کرتے ہو (إِنَّکُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِیمًا)۔ ایسی بات جو کسی منطق سے مناسبت نہیں رکھتی اور کئی حوالوں سے بے بنیاد ہے۔ مثلاً: ۱۔ خدا کی اولاد ہونے کا اعتقاد اس کی ساحتِ مقدس میں ایک بہت بڑی اہانت ہے کیونکہ نہ وہ جسم ہے نہ عوارض جسمانی رکھتا ہے اور نہ بقائے نسل کا محتاج ہے۔ لہٰذا اس کے لیے اولاد کا اعتقاد صرف اس کی پاکیزہ صفات کو نہ پہچاننے کی وجہ سے ہے۔ ۲۔ تم خدا کی ساری اولاد بیٹیوں میں منحصر کیوں سمجھتے ہو جبکہ بیٹی کے لیے بہت پست قدر و منزلت کے قائل ہو۔ تمہارے خیالات کے لحاظ سے یہ احمقانہ اعتقاد خدا کی بارگاہ میں ایک اور اہانت ہے۔ ۳۔ ان تمام باتوں سے قطع نظر یہ عقیدہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کے مقام کی بھی تو ہین ہے، جبکہ وہ فرمانِ حق پر قائم ہیں اور مقربِ بارگاہِ الٰہی ہیں۔ خود بیٹی کے نام سے گھبرا جاتے ہو لیکن ان سب مقربانِ الٰہی کو بیٹی فرض کرتے ہو۔ ان امور کی جانب توجہ سے اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ یہ بات ایک بہت بڑی بات ہے۔ واقعات سے انحراف کے لحاظ سے بڑی ہے کہ تم معصوم بیٹیوں کی تحقیر و تذلیل کرتے ہو اور ان کے احترام میں کمی کرتے ہو۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ مشرکینِ عرب ، فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کیوں خیال کرتے تھے۔ اسی طرح زمانہٴ جاہلیت کے عرب بیٹیوں کو زندہ درگور کیوں کرتے تھے اور ان کے نام سے وحشت کیوں کرتے تھے نیز دوسری طرف اسلام نے عورت کو کیا مقام و منزلت عطا کیا اور کس طرح سے صنفِ عورت کی تذلیل کے نظریات کا مقابلہ کیا۔ ان تمام امور پر تفصیلی بحث تفسیر نمونہ جلد ۱۱، سورہ نحل آیات ۵۷ تا ۵۹ کے ذیل میں آ چکی ہے۔

41
17:41
وَلَقَدۡ صَرَّفۡنَا فِي هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ لِيَذَّكَّرُواْ وَمَا يَزِيدُهُمۡ إِلَّا نُفُورٗا
ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے مؤثر طور پر(دلائل کو) بیان کیا تاکہ وہ کسی طرح سمجھیں،لیکن (جن کے دل اندھے تھے) ان میں نفرت کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ ہو ا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔

42
17:42
قُل لَّوۡ كَانَ مَعَهُۥٓ ءَالِهَةٞ كَمَا يَقُولُونَ إِذٗا لَّٱبۡتَغَوۡاْ إِلَىٰ ذِي ٱلۡعَرۡشِ سَبِيلٗا
(اے رسول ان سے) کہہ دو: اگر اس (خدائے قادر) کے ساتھ اور خدا ہوتے، جیسا کہ تمہارا خیال ہے، تو وہ کوشش کرتے کہ مالک عرش خدا کی طرف کوئی راہ نکالیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔

43
17:43
سُبۡحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوّٗا كَبِيرٗا
جو کچھ وہ کہتے ہیں اللہ اس سے پاک و منزہ ہے(اورجو کچھ یہ سوچتے ہیں اس سے) بہت ہی برترہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔

44
17:44
تُسَبِّحُ لَهُ ٱلسَّمَٰوَٰتُ ٱلسَّبۡعُ وَٱلۡأَرۡضُ وَمَن فِيهِنَّۚ وَإِن مِّن شَيۡءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمۡدِهِۦ وَلَٰكِن لَّا تَفۡقَهُونَ تَسۡبِيحَهُمۡۚ إِنَّهُۥ كَانَ حَلِيمًا غَفُورٗا
سات آسمان اور زمین اور جو ان میں ہیں ‘ سب اس کی تسبیح کرتے ہیں اور ہر موجود اس کی تسبیح و حمد کرتا ہے،لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے۔ بیشک اللہ حلیم، بخشنے والا ہے۔

وہ حق سے کیو نکر فرار کرتے ہیں؟

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں گفتگو مسئلہ توحید پر تمام ہوئی۔زیر بحث آیات میں واضح اور قاطع اندازہ میں اسی مسئلے پر تاکید کی جا رہی ہے۔ پہلے توتوحید کے مختلف دلائل کے سامنے ایک گروہ مشرکین کی انتہائی ہٹ دھر می کا ذکر کیا گیا ہے۔ ارشاد ہو تا ہے: ہم نے اس قرآن میں بہت سے استدلال پیش کیے اور طرح طرح سے موٴثر طور پر بیان کیا تاکہ وہ سمجھیں اور راہ حق میں قدم اٹھائیں لیکن ان سب استدلال اور بیانات پر انہوں نے فرار ہی کیا اور ان کی نفرت کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ ہوا (وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِی ھٰذَا الْقُرْآنِ لِیَذَّکَّرُوا وَمَا یَزِیدُھُمْ إِلاَّ نُفُورًا)۔ ”صرّف“، مادہ ”تصریف“سے تبدیل کرنے اور دگرگوں کرنے کے معنی میں ہے۔ خصوصاً اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ بابِ تفعیل سے ہے۔ کثرت کا مفہوم اس میں پنہاں ہے۔ قرآن میں توحید کے اثبات اور شرک کی نفی کے لیے کبھی منطقی استدلال پیش کیا گیا ہے۔ کبھی برہان فطرت سے کام لیا گیا ہے۔ کبھی تہدیہ کی صورت اپنائی گئی ہے اور کبھی تشویق کی راہ اختیار کی گئی ہے خلاصہ یہ کہ مشرکین کو بیدار اور آگاہ کرنے کے لیے کلام کے مختلف طریقوں اور فنوں سے استفادہ کیا گیا ہے۔ لہٰذا ”صرفنا“ کی تعبیر اس مقام پر بہت ہی مناسب ہے۔ اس تعبیر کے ذریعے قرآن کہتا ہے: ہم ہر دروازے سے وارد ہوئے اور ہم نے ہر راستے سے استفادہ کیا تاکہ ان کے اندھے دلوں میں توحید کا چراغ روشن کر دیں لیکن ان میں سے ایک گروہ اس قدر ہٹ دھرم، متعصب اور سخت ہے کہ نہ صرف ان بیانات سے وہ حقیقت کے قریب نہیں ہوئے الٹا ان کی نفرت اور دوری میں اضافہ ہوا ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان بیانات کا الٹا نتیجہ نکلتا ہے تو پھر ان کے ذکر کا کیا فائدہ؟ جواب واضح ہے اور وہ یہ کہ قرآن ایک خاص گروہ کے لیے نازل نہیں ہوا بلکہ یہ سارے انسانی معاشرے کے لیے ہے اور مسلّم ہے کہ سب انسان تو ایسے نہیں ہیں۔ بہت سے ایسے بھی ہیں کہ وہ یہ دلائل سنتے ہیں تو راہِ حق ان پر آشکار ہو جاتی ہے۔ ان تشنگانِ حقیقت کا ہر دستہ قرآن کے کسی ایک طرح کے بیان سے فائدہ اٹھاتا ہے اور بیدار ہو جاتا ہے اور ان آیات کے نزول کا یہی اثر کافی ہے اگر چہ کور دِل اس سے الٹا اثر لیتے ہیں۔ علاوہ ازیں، اس متعصب اور ہٹ دھرم گروہ کا راستہ اگر چہ غلط ہے اور یہ خود بدبخت ہیں لیکن حق طلب افراد ان سے اپنا موازنہ کر کے راہ حق کو بہتر طور پر پا سکتے ہیں کیونکہ نور ظلمت کے مقابلے سے نور کی قیمت بیشتر معلوم ہوتی ہے یہاں تک کہ بے ادبوں سے بھی سیکھا جا سکتا ہے۔ ضمنی طور پر اس آیت سے تربیت اور تبلیغ مسائل کے سلسلے میں یہ درس لیا جا سکتا ہے کہ اعلیٰ تربیتی اہداف و مقاصد تک پہنچنے کے لیے صرف ایک ہی طریقے سے استفادہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ مختلف اور طرح طرح کے وسائل سے استفادہ کیا جانا چاہئے کیونکہ استعداد مختلف ہوتی ہے۔ ہر ایک پر اثر انداز ہونے کے لیے خاص انداز ہونا چاہیے۔ فنونِ بلاغت میں سے ایک یہ اسلوب ہے۔

دلیل تمانع

اگلی آیت توحید کی ایک دلیل کی طرف اشارہ کرتی ہے جو علماء اور فلاسفہ میں”دلیل تمانع“ کے نام سے مشہور ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اے رسول! ان سے کہہ دو: اگر خداوند قادر متعال کے ساتھ اور بھی خدا ہوتے، جیسا کہ تمہارا خیال عے، تو وہ خدا کوشش کرتے کہ خدائے عظیم صاحب عرش تک پہنچنے کی کوئی راہ نکالیں اور اس پر غلبہ حاصل کر لیں(قُلْ لَوْ کَانَ مَعَہُ آلِھَةٌ کَمَا یَقُولُونَ إِذًا لَابْتَغَوْا إِلیٰ ذِی الْعَرْشِ سَبِیلًا)۔ ”إِذًا لَابْتَغَوْا إِلیٰ ذِی الْعَرْشِ سَبِیلًا“ کا مفہوم اگر چہ یہ ہے کہ”وہ صاحب عرش کی طرف راہ نکالتے“ لیکن طرز بیان نشاندہی کرتا ہے کہ مراد اس پر غلبہ حاصل کرنے کی کوئی سبیل پیدا کرنا ہے۔ خصوصاً ”الله“ کے بجائے”ذی العرش“ کی تعبیر اسی مطلب کی طرف اشارہ کرتی ہے یعنی وہ بھی چاہتے کہ عرش اعلیٰ کے مالک بن جائیں اور سارے جہان ہستی پر حکومت کریں۔ لہٰذا ا س سے مقابلے کے لیے اٹھ کڑے ہوتے۔ بہرحال، یہ امر فطر ی اور طبیعی ہے کہ ہر صاحب قدرت چاہتا ہے کہ اپنے اقتدار کامل کرے اور اپنے قلمرو حکومت کو تو سیع دے اور اگر سچ مچ کوئی خدا موجود ہوتے تو توسیع حکومت کا یہ تنارع اور تمانع ان میں رونما ہوتا۔ (۱تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس جملے کا معنی یہ ہے کہ دوسرے خدا کوشش کرتے کہ اپنے آپ کو ”الله“ کی بارگاہ میں مقرب بنائیں یعنی یہ تمھارے بُت اور خدا جب خود الله کا تقرب حاصل نہیں کر سکتے تمھارے تقرب کا وسیلہ کیسے بن سکتے ہیں۔ لیکن اگلی آیت کی تعبیرات اور بعد کی آیت اس تفسیر سے ہرگز مناسبت نہیں رکھتیں۔) ممکن ہے کہا چاہیے کہ کونسا مانع ہے اور کیا حرج ہے کہ متعدد خدا ایک دوسرے کے ساتھ ہمکاری اور تعاون کرتے ہوئے ا س عالم پر حکومت کریں اور کیا ضروری ہے کہ وہ آپس میں جھگڑیں۔ اس سوال کے جواب میں اس حقیقت کی طرف توجہ کرنا چاہیے کہ اگر چہ ہر موجود کے لیے تکامل اورتوسیعِ اقتدار سے لگاوٴ فطری اور طبیعی ہے اور یہ بھی کہ جن خداوٴں کا مشرکین عقیدہ رکھتے تھے وہ بہت سی بشری صفات کے حامل تھے کہ جن میں حکومت و قدرت سے لگاوٴایک زیادہ واضح صفت ہے لیکن ان سب امور سے قطع نظر اختلاف تعدّدِ وجود کا لازمہ ہے کیونکہ اگر کسی رویّے، پروگرام اور دیگر پہلووٴں سے کوئی اختلاف نہ ہو تو تعدّد کا کوئی معنی ہی نہیں اور دونوں ایک چیز ہوں گے(غور کیجیے گا)۔ اس بحث کی نظیر سورہ انبیاء کی آیت ۲۲ میں بھی موجود ہے۔ جہاں فرمایا گیا ہے: لَوکَانَ فِیھِمَا آلِھَةٌ الّا الله لَفَسَدَتَا اگر زمین و آسمان میں ”الله“ کے علاوہ اور وہ خدا ہوتے تو نظام جہاں دگرگوں اور فاسد ہو جاتا۔ اشتباہ نہیں ہونا چاہیے، یہ دونوں بیان بعض جہات سے اگر چہ ایک دوسرے کے مشابہ میں لیکن دو مختلف دلیلوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ایک کی خداوٴں کے تعدد کی وجہ سے نظام جہاں کے فساد کی طرف بازگشت ہے اور دوسری نظام جہاں سے قطع نظر متعدد خداوٴں کے درمیان وجود تمانع و تنازع کے بارے میں گفتگو کرتی ہے۔ (سورہ انبیاء کی آیہ ۲۲ کے ذیل میں بھی ہم انشاء الله اس سلسلے میں بحث کریں گے) چونکہ مشرکین کہتے ہیں کہ خدائے بزرگ نے ایک طرف نزاع کیا ہے لہٰذا اگلی آیت میں بلافاصلہ فرمایا گیا ہے: جو کچھ وہ کہتے ہیں خدا اس سے پاک اور منزہ ہے اور جو کچھ وہ سوچتے ہیں خدا اس سے بہت برتر اور بالاتر ہے (سُبْحَانَہُ وَتَعَالیٰ عَمَّا یَقُولُونَ عُلُوًّا کَبِیرًا)۔ اس مختصر سے جملہ میں حقیقت الله تعالیٰ نے چار مختلف تعبیروں سے ناروا نسبتوں سے اپنے دامن کبریایی کی پاکیزگی بیان کی ہے: ۱۔خدا ان نقائص اور نارواں نسبتوں سے منزہ ہے(سُبْحَانَہُ) ۲۔ جو کچھ یہ کہتے ہیں وہ اس سے بالاتر ہے(وَتَعَالیٰ عَمَّا یَقُولُونَ) ۳۔ لفظ ”علواً“ مفعول مطلق ہے اور تاکید کے لیے آیا ہے۔ ۴۔ اور آخر میں ”کبیراً“ کہہ کر مزید تاکید کی گوئی ہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ ”عما یقولون“ (جو کچھ وہ کہتے ہیں)۔ ایک وسیع معنی رکھتا ہے۔ اس میں ان کی تمام ناروا نسبتیں اور ان کے لوازم شامل ہیں(غور کیجیے گا)۔ ا س کے بعد پروردگار کا مقام عظمت بیان کیا گیا ہے کہ وہ مشرکین کے وہم و خیال سے برتر ہے۔ فرمایا گیا ہے کہ موجود جہاں اس کی ذات مقدس کی تسبیح کرتی ہیں۔ ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب خدا کی تسبیح کرتے ہیں(تُسَبِّحُ لَہُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِیھِنَّ)۔ اس کے با وجود خود حلیم و غفور ہے (إِنَّہُ کَانَ حَلِیمًا غَفُورًا)۔ تمہارے کفر اور شرک پر الله تمہارا فوری مواخذہ نہیں کرتا بلکہ کافی مہلت دیتا ہے اور تمہارے لیے توبہ کے دروازے کھلے رکھتا ہے تا کہ اتمام حجت ہو جائے۔ دوسرے لفظوں میں تم یہ صلاحیت رکھتے ہو کہ عالم کے تمام ذرات میں سے سن سکو کہ موجودات تسبیح الٰہی کا نغمہ گنگنا رہے ہیں اور تم اس قابل ہو کہ خدائے یگانہ قادر متعال کی معرفت حاصل کر سکو لیکن تم کوتاہی کرتے ہو اور ا س کوتاہی کے باوجود وہ فوراً مواخذہ اور عذاب نہیں کرتا اور تمہیں زیادہ سے زیادہ موقع فراہم کرتا ہے کہ تم توحید کی شناخت کر سکو اور راہ شرک ترک کر سکو۔

موجودات عالم کی عمومی تسبیح

قرآن کی مختلف آیات میں یہ بات آئی ہے کہ عالم ہستی کے موجودات خدائے عظیم کی تسبیح اور حمد کرتے ہیں۔ ان سب آیات میں شاید زیادہ صریح زیرِ بحث آیت ہے۔ اس آیت کے مطابق عالم ہستی کے تمام موجودات بلا استثناء مصروف تسبیح ہیں۔ اس کے مطابق زمین، آسمان، ستارہ، کہکشاں، انسان، حیوان، نباتات یہاں تک کہ ایٹم کے چھوٹے چھوٹے ذرّات بھی اس عموی تسبیح و حمد میں شریک ہیں۔ قرآن کہتا ہے عالم ہستی سر تا پا زمزمہ و نغمہ ہے۔ ہر موجود ایک طرح سے حمد و ثنائے حق میں مشغول ہے۔ بظاہر خاموش عالم ہستی کے صحن میں مسلسل ایک نغمہ ہے۔ بے خبر لوگ اسے سننے کی توانایی نہیں رکھتے لیکن وہ صاحبان فکر و نظر جن کا قلب و روح نور ایمان سے زندہ اور روشن ہے ہر طرف سے کان اور جان سے یہ صدا سن رہے ہیں۔ بقول شاعر: ۱۔گر تو را از غیب چشمی باز شد با تو ذراتِ جہاں ہمراز شد ۲۔نطق آب و نطق خاک و نطق گل ہست محسوسِ حواس اہلِ دل! ۳۔جملہ ذرّات در عالم نہاں با تو می گویند روزان و شباں ۴۔ ما سمیعیم و بصیر و باشیم با شما نامحرمان ما خامشیم! ۵۔ا زجمادی سوئی جان حاں شوید غلغل اجزای عالم بشنوید ۶۔فاش تسبیح جمادات آیدت وسوسہ ی تاویلھا بزدایدت [ترجمہ] ۱۔ اگر تجھے نگاہ غیب حاصل ہو جائے تو ذرات عالم تجھ سے باتیں کرنے لگیں۔ ۲۔ پانی، خاک اور مٹی کا بولنا اہلِ دل محسوس کرتے ہیں۔ ۳۔ سارے عالم کے موجودات چپکے چپکے شب و روز تجھ سے کہتے ہیں۔ ۴۔ ہم سنتے ہیں، دیکھتے ہیں اور باہوش ہیں البتہ تم نا محرموں سے بات نہیں کرتے۔ ۵۔ ایک جماد بے جاں سے جانِ جاں ہوجاوٴ تو اجرائے عالم کا غلغلہ سنو۔ ۶۔جمادات کی تسبیح تمہیں صاف سنائی دے گی اور تاویلوں کا وسوسہ کم کر دے گی۔ اس حمد و تسبیح کی حقیقت کے بارے میں فلاسفہ اورمفسرین کے درمیان بہت اختلاف ہے۔ بعض نے اسے ”حالی“ کہا ہے اور بعض نے ”قالی“ ہمارے نزدیک اان کے جو قابلِ قبول نظریات ہیں، ذیل میں ان کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے۔ ۱۔ ایک گروہ کا نظریہ ہےں کہ اس جہان کے سب ذرّات انہیں ہم عاقل سمجھیں یا غیر عاقل ایک قسم کے ادراک اور شعور کے حامل ہیں اگر چہ ہم میں یہ قدرت نہیں کہ ان کے ادراک و احساس کی کیفیت سمجھ سکیں اور ان کی حمد و تسبیح سن سکیں۔ وہ مختلف آیات اپنے نظریے کا شاہد قرار دیتے ہیں، مثلاً: وَإِنَّ مِنْھَا لَمَا یَھْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللهِ بعض پتھر خوفِ خدا سے پہاڑوں کی چوٹی سے نیچے گِر جاتے ہیں۔ (بقرہ۔۷۴) فَقَالَ لَھَا وَلِلْاَرْضِ اِئْتِیَا طَوْعًا اَوْ کَرْھًا قَالَتَا اَتَیْنَا طَائِعِینَ اللہ نے آسمان و زمین سے فرمایا طوعاً یا کرہاً میرے فرمان کی طرف آؤ تو انہوں نے کہا کہ ہم اطاعت کا راستہ اپنائیں گے۔ (حٰم ٓ السّجدہ۔۷۴) ۲۔ بہت سوں کا نظریہ ہے کہ یہ تسبیح اور حمد وہی چیز ہے جسے ہم ”زبان حال“ کہتے ہیں۔یہ تسبیح حقیقی ہے نہ کہ مجازی لیکن زبانِ حال سے ہے نہ کہ زبان قال سے (غور کیجئے گا)۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اگر کسی شخص کے چہرے اور آنکھوں سے تکلیف، رنج و غم اور بے خوابی نمایاں ہو تو ہم کہتے ہیں کہ اگر چہ تم اپنی تکلیف اور رنج و غم کے بارے میں زبان سے کچھ نہیں کہتے لیکن تمہاری آنکھیں کہہ رہی ہیں کہ تم کل رات نہیں سوئے اور تمہارا چہرہ کہہ رہا ہے کہ تم کسی جان کاہ رنج و غم سے گزر رہے ہو۔ یہ زبان حال کبھی اس قدر قوی ہوتی ہے کہ زبان قال سے انکار چھپانے کی کوشش بھی کی جائے تو حقیقت چھپ نہیں سکتی۔ بقول شاعر: گفتم کہ با مکرو فسوں پنہان کنم رازِ دروں پنہاں نمی گردو کہ خوں از دیدگانم می رود میں نے چاہا کہ کسی حیلے سے رازِ دروں چھپا لوں۔ لیکن وہ نہیں چھپتا کیونکہ میری آنکھوں سے خون جاری ہے۔ یہی بات حضرت علی علیہ السلام اپنے مشہور جملے میں فرماتے ہیں: ما اضمر احد شیئاً الاظہر فی فلتات لسانہ و صفحات وجھہ کوئی شخص اپنے دل کا بھید نہیں چھپاتا مگر یہ کہ لا علمی میں اس کی گفتگو کے دوران اور اس کے چہرے کے صفحہ پر آشکار ہو جاتا ہے۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، کلمات قصار۲۶) کیا انکار کیا جا سکتا ہے کہ عظیم نامور شعراء کا دیوان ان کے ذوقِ ادراک اور طبیعت عالی کی حکایت کرتا ہے اور ہمیشہ صاحبِ دیوان کی تعریف کرتا ہے۔ کیا انکار کیا جا سکتا ہے کہ عظیم عمارتیں اور بڑے بڑے کاخانے اور پیچیدہ کمپیوٹر وغیرہ زبانی سے اپنے موجد کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور ہر ایک اپنی اپنی حد تک اپنے موجد کی ستائش کرتا ہے۔ لہٰذا ماننا پڑے گا کہ یہ عجیب و غریب عالم ہستی اپنے عجیب نظام، اسرار، خیرہ کن عظمت اور حیرت انگیز باریکییوں کے ساتھ خدا کی تسبیح و حمد کرتا ہے۔ کیا”تسبیح“ عیوب سے پاک شمار کرنے کہ علاوہ کچھ اور ہے؟ اس عالم ہستی کے ساخت اور اس کا نظم اور نسق ہوتا ہے کہ اس کا خالق ہر قسم کے نقص اور عیب سے مبرا و منزہ ہے۔ کیا حمد و ثنا صفات کمال بیان کرنے کے علاوہ کچھ اور ہے؟ جہان آفرینش کا نظام۔ الله کی صفات کمال،اس کے بے پایان علم، بے انتہا قدرت اور وسیع اور ہمہ گیر حکمت کی حایت کرتا ہے۔ خصوصاً سائنس اور علم و دانش کی پیشرفت سے اور اس وسیع عالم کے اسرار کے بعض گوشوں سے پردہ اٹھنے سے موجودات عالم کی یہ عمومی حمد وتسبیح زیادہ آشکار ہوئی ہے۔ اگر ایک دن کوئی نکتہ پرداز شاعر سبز و درختوں کے ہر پتے کو معرفت پروردگار کا ایک دفتر سمجھتا تھا تو آج کے ماہرین نباتات اور سائنس دانوں نے ایک دفتر نہیں بلکہ کئی کتابیں لکھی ہیں آج ان ماہرین نے پتوں کے چھوٹے سے چھوٹے اجرا کی حیرت انگیز ساخت پر بحث کی ہے۔ پتوں کے اجرائے حیات،cellules سے لے کر ان کی سات تہوں، ان کے تنفس کے نظام،آب غذا کے حصول کے لیے ان کے رشتے ناتوں پر کتابیں لکھی گئی ہیں۔ کئی پیچیدہ پتوں کی خصوصیات پر بھی ایسی کتابوں میں بحث کی گئی ہے۔ لہٰذا ہر پتّہ شب و روز مزمہٴ توحید گنگناتا ہے۔ پتوں کی تسبیح کی دلنشین آواز باغوں، کہساروں اور درّوں کے پُر پیچ راستوں میں گونج رہی ہے لیکن بے خبر لوگوں کو کچھ نہیں آتا وہ انہیں خاموش اور گونگا سمجھتے ہیں۔ موجودات کی عمومی تسبیح و حمد کا یہ مفہوم پوری قابلِ فہم ہے اور ضروری نہیں کہ ہم اس بات کے قائل ہوں کہ عالم ہستی کے تمام ذرّات ادراک و شعور رکھتے ہیں کیونکہ اس بات کے لیے ہمارے پاس کوئی قطعی دلیل نہیںہے اورزیادہ احتمال یہی ہے کہ مذکورہ آیات اسی”زبانِ حال“ کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

ایک سوال کا جواب

یہاں ایک سوال باقی رہ جاتا ہے۔ وہ یہ کہ اگر تسبیح و حمد سے مراد یہ ہے کہ نظامِ آفرینش خدا کی پاکیزگی، عظمت،قدرت اور صفات ثبوتیہ و سلبیہ کی حکایت و ترجمانی کرتا ہے تو پھر قرآن کیوں کہتا ہے کہ تم ان کی حمد و تسبیح نہیں سمجھتے کیونکہ بعض لوگ نہیں سمجھتے تو کم از کم علماء اوردانشمند تو سمجھتے ہیں۔ اس سوال کے دو جواب ہیں: پہلا یہ کہ روئے سخن لوگوں کی نادان اکثریت خصوصاً مشرکین کی طرف ہے اور صاحب ایمان علماء کہ جو اقلیت میں ہیں اس عموم سے مستثنیٰ ہیں کیونکہ ہر عام میں استثناء ہے۔ دوسرا یہ کہ اسرار عالم میں سے جو کچھ ہم جانتے ہیں وہ اس کے مقابلے میں کہ جسے ہم نہیں جانتے سمندر کے مقابلے میں قطرے کی مانند ہے اور عظیم پہاڑ کے مقابلے میں ذرّے کی طرح ہے۔ اگر کسی میں صحیح طور پر غور و فکر کیا جائے تو اسے علم و دانش کا نام بھی نہیں دیا جا سکتا۔ تا بدانجا رسید دانشِ من کہ بدانستمی کہ نادانم! میرا علم یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ میں نہیں جانتا۔ اس بناء پر اگر ہم عالم بھی ہوں تو بھی ان موجودات کی حمد وتسبیح نہیں پہچانتے کیونکہ جو کچھ ہم سُن رہے ہیں وہ ایک عظیم کتاب کا ایک لفظ ہے۔ اس لحاظ سے ایک عمومی حکم کے طور پر یہ سب لوگوں سے خطاب ہے کہ عالم ہستی کی موجودات زبانِ حال سے جو تسبیح و حمد کرتے ہیں تم انہیں نہیں سمجھتے کیونکہ جو کچھ تم سمجھتے ہو وہ اس قدر ناچیز اورحقیر ہے کہ کسی حساب و شمار ہی میں نہیں آتا۔ ۳۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ یہاں موجودات کی عمومی تسبیح و حمد زبانِ حال اور زبانِ قال دونوں کا مرکب ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ تسبیح، ”تسبیح تکوینی“ بھی ہے اور”تسبیح تشریعی“ بھی کیونکہ بہت سے انسان اور تمام فرشتے ادراک و شعور کے ساتھ اس کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور باقی تمام موجودات کے ذرّے بھی اپنی زبانِ حال سے خالق کی عظمت کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔ یہ دونوں قسم کی حمد و تسبیح اگر چہ آپس میں فرق رکھتی ہے لیکن حمد و تسبیح کے وسیع مفہوم میں دونوں مشترک ہیں لیکن جیسا کہ واضح ہے دوسری تفسیر اس تشریح کے ساتھ کہ جو ہم نے بیان کی سب سے زیادہ دلچسپ ہے۔

اہل بیت علیہم السلام سے چند روایات

پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ اہل بیت علیہم السلام سے جو روایات اس سلسلے میں ہم تک پہنچی ہیں ان میں جاذبِ نظر تعبیرات دکھائی دیتی ہیں۔ امام صادق علیہ السلام کا ایک صحابی کہتا ہے: میں نے آیہ”وَ إِنْ مِنْ شَیْءٍ إِلاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِہِ“ کے متعلق سوال کیا تو امام ع نے جواب میں فرمایا: کل شیء یسبح بحمدہ وانا لنریٰ ان ینقض الجدار وھو تسبیحھا- جی ہاں ہر چیز خدا کی تسبیح و حمد کرتی ہے۔ یہاں تک کہ جب دیوار گر رہی ہوتی ہے اور اس کے گرنے کی آواز ہمیں سنائی دے رہی ہوتی ہے تو وہ بھی تسبیح ہوتی ہے۔ (بحوالہ: نور الثقلین ج ۳ ص ۱۶۸) امام باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا: نھی رسول الله عن ان توسھم البھائم فی وجوھھا، وان تضرب وجوھھا لانّھا تسبح ربھا- رسول الله نے فرمایا کہ جانوروں کے منہ نہ داغو اور ان کے منہ پر تازیانہ نہ مارو کیونکہ خدا کی حمد و ثنا کرتے ہیں(بحوالہ: نور الثقلین ج ۳ ص ۱۶۸) امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: ما من طیر یصاد فی بر ولا بحر ولا شیء یصاد من الوحش الّا بتضییعہ التسبیح- کوئی پرندہ صحرا و دریا میں شکار نہیں ہوتا اور کوئی جانور دام صیاد میں نہیں پھنستا مگر تسبیح ترک کرنے سے۔(بحوالہ: ور الثقلین ج ۳ ص ۱۶۸) امام باقر علیہ السلام نے چڑیا کی آواز سنی تو فرمایا: جانتے ہو یہ کیا کہتی ہیں؟ ابو حمزہ ثمالی جو آپ کے خاص اصحاب میں سے تھے نے عرض کیا: نہیں۔ اس پر آپ (ع) نے فرمایا: یسبحن ربھن عزوجل و یسئلن قوت یومھن یہ خدائے عزوجل کی تسبیح کرتی ہیں اور اس سے دن کی روزی مانگتی ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر المیزان، بحوالہ حلیة الاولیاء از ابونعیم اصفہانی) ایک اور حدیث میں ہے: ایک روز رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم حضرت عائشہ کے پاس آئے۔ فرمایا: میرے یہ دونوں کپڑے دھو ڈالو۔ کہنے لگیں: یا رسول اللہ! کل میں نے انہیں دھویا تھا۔ رسول اللہ نے فرمایا: اما علمت ان الثوب یسبحن فاذا اتسخ انقطع تسبیحہ۔ کیا جانتی نہیں ہو کہ کپڑے تسبیح کرتے ہیں اور جب میلے ہو جائیں تو ان کی تسبیح رُک جاتی ہے۔(بحوالہ: تفسیر المیزان، بحوالہ حلیة الاولیاء از ابونعیم اصفہان) ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا: للدابة علی صاحبہا ستة حقوق لا یحملہا فوق طاقتہا، ولا یتخذ ظھرہا مجلساً یتحدث علیھا، و یبدء بعلفھا اذا نزل، ولا یسمھا فی وجھھا، ولا یضربھا فانہا تسبح و یعرض علیھا الماء اذا مرّ بھا۔ جانور اپنے مالک پر چھ حق رکھتا ہے: ۱۔ اس کی طاقت سے زیادہ اس پر بار نہ لادے۔ ۲۔ اس کی پشت کو باتیں کرنے کی مجلس نہ بنائے (بلکہ جب کسی سے سرِ راہ ملاقات ہو جائے اور اس سے باتیں کرنا چاہے تو سواری سے اتر کر باتیں کرے اور بات چیت ختم ہو جائے تو سوار ہو کر چل دے)۔ ۳۔ جس منزل پر پہنچے اسے پہلے چارہ مہیا کرے۔ ۴۔ اس کے منہ کو نہ داغے۔ ۵۔ اور نہ اس کے منہ پر مارے کیونکہ وہ خدا کی تسبیح کرتا ہے۔ ۶۔ اور چشمہ آب یا ایسی کسی جگہ سے گزرے تو اسے پانی کے پاس لے جائے (تاکہ اگر وہ پیاسا ہے تو پانی پی لے)۔ (بحوالہ: تفسیر المیزان، بحوالہ کافی ۴)۔ مجموعی طور پر یہ روایات کہ جن میں سے بعض دقیق اور باریک معانی کی حامل ہیں، نشاندہی کرتی ہیں کہ موجودات کی تسبیح والا عام حکم بلا استثناء سب چیزوں پر محیط ہے اور یہ سب چیزیں مذکورہ بالا دوسری تفسیر (تفسیر تکوینی اور زبان حال کے معنی میں تسبیح) سے پوری طرح مطابقت رکھتی ہیں اور یہ جو ان روایات میں ہے کہ جس وقت لباس کثیف ہو جاتا ہے تو اس کی تسبیح رُک جاتی ہے۔ ممکن ہے یہ اس طرف اشارہ ہو کہ جب تک موجودات طبیعی حالت میں اور پاک صاف ہوں تو انسان کو یاد الٰہی میں ڈالتی ہیں۔ لیکن جب طبیعی حالت میں اور پاک صاف نہ ہوں تو پھر یاد کا یہ سلسلہ باقی نہیں رہتا۔

45
17:45
وَإِذَا قَرَأۡتَ ٱلۡقُرۡءَانَ جَعَلۡنَا بَيۡنَكَ وَبَيۡنَ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ حِجَابٗا مَّسۡتُورٗا
اور جب تو قرآن پڑھتا ہے تو ہم تیرے اور آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے درمیان ایک غیر محسوس حجاب پیدا کر دیتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 48 کے تحت ملاحظہ کریں۔

46
17:46
وَجَعَلۡنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ أَكِنَّةً أَن يَفۡقَهُوهُ وَفِيٓ ءَاذَانِهِمۡ وَقۡرٗاۚ وَإِذَا ذَكَرۡتَ رَبَّكَ فِي ٱلۡقُرۡءَانِ وَحۡدَهُۥ وَلَّوۡاْ عَلَىٰٓ أَدۡبَٰرِهِمۡ نُفُورٗا
اور ہم ان کے دلوں پر غلاف چڑھا دیتے ہیں تاکہ وہ اسے نہ سمجھیں، اور ان کے کانوں میں گرانی( پیدا کر دیتے ہیں )اور جب تو قرآن میں اپنے پروردگار کو تنہا یاد کرتا ہے تو وہ پشت کر لیتے ہیں اور تجھ سے پیٹھ پھیر لیتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 48 کے تحت ملاحظہ کریں۔

47
17:47
نَّحۡنُ أَعۡلَمُ بِمَا يَسۡتَمِعُونَ بِهِۦٓ إِذۡ يَسۡتَمِعُونَ إِلَيۡكَ وَإِذۡ هُمۡ نَجۡوَىٰٓ إِذۡ يَقُولُ ٱلظَّـٰلِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلٗا مَّسۡحُورًا
ہم جانتے ہیں کہ وہ کیوں تیری باتیں کان لگاکر سنتے ہیں اور جب وہ آپس میں سرگوشی کرتے ہیں، جبکہ ظالم کہتے ہیں کہ تم تو بس ایک سحر زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 48 کے تحت ملاحظہ کریں۔

48
17:48
ٱنظُرۡ كَيۡفَ ضَرَبُواْ لَكَ ٱلۡأَمۡثَالَ فَضَلُّواْ فَلَا يَسۡتَطِيعُونَ سَبِيلٗا
دیکھ ! یہ تجھ پر کیسی پھبتیاں کستے ہیں اور اسی بناء پر یہ گمراہ ہو گئے ہیں اور یہ (حق کا) راستہ پا ہی نہیں سکتے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

مجمع البیان میں طبرسی نے تفسیر کبیر میں فخر الدین رازی نے اور بعض دیگر مفسرین نے مندرجہ بالا آیات کی شان نزول کے بارے میں کہا ہے کہ ان میں سے پہلی آیت مشرکین کے ایک گروہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جب رات کے وقت آپ قرآن کی تلاوت کرتے اور خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھتے تو یہ لوگ آپ کو اذیت پہنچاتے۔ آپ کو پتھر مارتے اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے سے روکتے۔ خداوند تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم سے ایسا کیا کہ وہ آپ کو اذیت نہ دے سکیں (اور شاید یہ اس طرح سے تھا کہ ان کے دلوں میں آپ کا رعب ڈال دیا تھا)۔ (بحوالہ: مجمع البیان) ایک اور روایت میں ہے کہ جس وقت رسول اللہ قرآن پڑھتے تو مشرکین میں سے دو آدمی دائیں طرف اور دو آدمی بائیں طرف کھڑے ہو جاتے۔ تالیاں بجاتے، سیٹیاں بجاتے اور بلند آواز سے شعر پڑھتے تاکہ آپ کی آواز لوگوں کے کانوں تک نہ پہنچے۔ (بحوالہ: تفسیر کبیر، زیر بحث آیت کے ذیل میں) ابن عباس کہتے ہیں کہ کبھی کبھار ابوسفیان اور ابوجہل، رسول اللہ کے پاس آتے اور آپ کی باتیں سنتے۔ ایک دن ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: مجھے سمجھ نہیں آتا کہ محمد کیا کہتا ہے؟ صرف یہ نظر آتا ہے کہ اس کے لب ہلتے ہیں۔ ابو سفیان نے کہا: میں سوچتا ہوں کہ اس کی بعض باتیں حق ہیں۔ ابوجہل نے اظہار کیا: وہ دیوانہ ہے۔ ابولہب نے مزید کہا: وہ کاہن ہے۔ ایک اور نے کہا: وہ شاعر ہے۔ ان غیر موزوں اور ناروا باتوں اور تہمتوں کے بعد مذکورہ بالا آیات نازل ہوئیں۔ (بحوالہ: تفسیر کبیر، زیر بحث آیت کے ذیل میں).

تفسیر: جاہل مغرور

گزشتہ آیات کے بعد بہت سے لوگوں کے سامنے یہ سوال ابھرتا ہے کہ مسئلہ توحید اس قدر واضح ہے کہ تمام موجودات عالم اس کی گواہی دیتے ہیں تو پھر مشرکین اس حقیقت کو کیوں قبول نہیں کرتے، وہ یہ گویا اور رسا آیات قرآن سننے کے باوجود بیدار کیوں نہیں ہوتے؟ ہو سکتا ہے زیرِ بحث آیات اس سوال کے جواب کی طرف اشارہ ہوں۔ پہلی آیت کہتی ہے: ائے رسول! ”جس وقت تو قرآن پڑھتا ہے ہم تیرے اور آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے درمیان پردہ حائل کر دیتے ہیں“ (وَإِذَا قَرَاْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ الَّذِینَ لَایُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَسْتُورًا)۔ یہ حجاب دراصل ہٹ دھرمی، تعصب، خود پرستی، غرور و تکبر اور جہالت ہی تھی کہ جوان کی فکر و نظر سے حقائق قرآن چھپا دیتی تھی اور انہیں اجازت نہ دیتی تھی کہ وہ توحید و معاد، دعوتِ پیغمبر کی صداقت اور اس قسم کے دیگر حقائق کا ادراک کر سکیں۔ لفظ ”مستور“یہاں ”حجاب“ کی صفت یا ذاتِ پیغمبر کی حقائقِ قرآن کی، اس بارے میں مفسرین نے مختلف آراء پیش کی ہیں۔ اس سلسلے میں ہم ان آیات کی تفسیر کے آخر میں بحث کریں گے۔ اسی طرح خدا کی طرف سے اس حجاب کے پیدا ہونے کی کیفیت کے بارے میں بھی وہیں پر بحث آئے گی۔ اگلی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے: ”ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں تاکہ وہ قرآن کو نہ سمجھ سکیں اور ان کے کانوں میں گرانی اور بوجھ ہے“ (وَجَعَلْنَا عَلیٰ قُلُوبِھِمْ اَکِنَّةً اَنْ یَفْقَھُوہُ وَفِی آذَانِھِمْ وَقْرًا)۔ اسی لیے جب تو اپنے پروردگار کو قرآن میں تنہا یاد کرتا ہے تو وہ پیٹھ پھیر لیتے ہیں (وَإِذَا ذَکَرْتَ رَبَّکَ فِی الْقُرْآنِ وَحْدَہُ وَلَّوْا عَلیٰ اَدْبَارِھِمْ نُفُورًا)۔ واقعاً حق سے فرار کیسی عجیب بات ہے یعنی بات ہے یعنی سعادت و نجات سے فرار، خوش بختی اور کامیابی سے فرار اور فہم و شعور سے فرار۔ اس معنی کی نظیر سورہٴ مدثر کی آیات ۵۰ اور ۵۱ میں بھی ہے: کَاَنَّھُمْ حُمُرٌ مُسْتَنْفِرَةٌ فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ۔ ”گویا وہ خو فزدہ گدھے ہیں کہ غضبناک شیر سے بھاگ رہے ہیں۔“ مزید فرمایا گیا: ہم جانتے ہیں کہ وہ کیوں تمہاری باتیں کان دھر کر سنتے ہیں (نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُونَ بِہِ إِذْ یَسْتَمِعُونَ إِلَیْک)۔ اور جب وہ آپس میں سر گوشیاں اور کان پھونسیاں کرتے ہیں ( وَإِذْ ھُمْ نَجْوَی)۔ جس وقت ظالم لوگ مومنین سے کہتے ہیں ہیں کہ صرف تم ایسے شخص کی پیروی کرتے ہو جو سحر زدہ ہے اور ساحروں نے جس کی عقل و ہوش کو ختم کر دیا ہے (إِذْ یَقُولُ الظَّالِمُونَ إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلاَّ رَجُلًا مَسْحُورًا)۔ یہ لوگ دراصل ادراک حقیقت کے لیے تیرے پاس نہیں آتے اور تیری باتیں دل کے کانوں سے نہیں سنتے بلکہ ان کا مقصد تو یہ ہے کہ وہ آ کر مخل ہوں اور اگر ہو سکے تو مومنین کو راستے سے بھٹکا دیں۔ اصولی طور پر جس کے دل پر پردہ پڑا ہو اور جس کے کان ایسے بوجہل ہوں کہ وہ حق بات سن ہی نہ سکے وہ مردان حق کی باتیں ایسے مقاصد کے علاوہ نہیں سنتے۔ زیرِ بحث آخری آیت میں پیغمبر اکرم کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے مختصرسی عبارت میں ان گمراہوں کو دندان شکن جواب دیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: دیکھ! تیرے بارے میں کیسی کیسی پھبتیاں کستے ہیں (کوئی تجھے جادو گر کہتا ہے۔ کوئی سحر زدہ، کوئی کاہن اور کوئی مجنون)، یہی وجہ ہے کہ وہ گمراہ ہوئے ہیں اور راہِ حق پانے کی سکت نہیں رکھتے (انظُرْ کَیْفَ ضَرَبُوا لَکَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَایَسْتَطِیعُونَ سَبِیلًا)۔ ایسا نہیں کہ راستہ واضح نہیں ہے اور حق کا چہرہ چھپ گیا ہے بلکہ ان کے پاس چشم بینا نہیں ہے اور وہ بعض و جہالت، تعصب اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اپنی عقل و خرد گنوا بیٹھے ہیں۔

چند اہم نکات: ۱۔ ان آیات کا مجموعی جائزہ:

زیرنظر آیات میں گمراہ لوگوں کی حالت اور شناخت حق کی راہ میں حائل ہونے والی رکاوٹوں کا عمدہ نقشہ کھینچا گیا ہے۔ مجموعی طور پر یہ آیات کہتی ہیں کہ حق کی پہنچان میں ان کے لیے تین بڑی رکاوٹیں موجود ہیں، وہ نہ ہوں تو اُن کے لئے حق کا چہرہ دیکھنا آسان ہو جائے۔ پہلی یہ کہ قرآن رسول اللہ سے کہتا ہے کہ تیرے اور ان کے درمیان ایک حجاب حائل ہے یہ حجاب سوائے بغض، کینے، حسد اور عداوت کے کچھ اور نہیں کہ جو ان کے سینوں میں تیرے لیے موجود ہے۔ اسی وجہ سے وہ تیری بلند شخصیت کو نہیں دیکھ پاتے اور تیری گفتار و رفتار کی عظمت کو نہیں سمجھ پاتے۔ یہاں تک کہ اچھائیاں بھی انہیں برائیاں معلوم ہوتی ہیں۔ دوسری یہ کہ وہ رسول اللہ سے کینہ اور حسدہی نہ رکھتے تھے بلکہ ان کے دلوں پر جہالت اور اندھی تقلید کے پردے بھی پڑے ہوئے تھے یہاں تک کہ وہ کسی شخص سے حق بات سننے کے لیے بھی تیار نہ تھے۔ تیسری رکاوٹ شناختِ حق میں یہ حائل تھی کہ ان کے آلاتِ شناخت ہی حق قبول کرنے کے لئے آمادہ نہ تھے۔ مثلاً ان کے کان ہی حق بات سے ایسی نفرت کرتے تھے کہ گویا حق بات کو دفع کرتے تھے اور اس کے سامنے گویا بہرے ہو جاتے تھے جبکہ اس کے برعک باطل کی باتیں انہیں پسند تھیں۔ باطل ان کے لیے لذت بخش تھا اور ان پر فوری اثر کرتا تھا۔ خصوصاً یہ بات تو تجربے سے ثابت ہوئی ہے کہ جن باتوں کی طرف انسان رغبت نہ رکھتا ہو انہیں مشکل ہی سے سنتا ہے اور جن کی طرف میلان رکھتا ہے انہیں خاص تیزی کے ساتھ سنتا اور سمجھتا ہے گویا اندرونی میلانات بھی انسان کے ظاہری حواس پر اثر انداز ہوتے ہیں اور اسے اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں۔ ان تین موانع کا نتیجہ یہ تھا کہ: اولاً: وہ کلمہ حق سننے سے بھاگتے تھے خصوصاً جب اللہ کی وحدانیت کے بارے میں گفتگو ہوتی کہ جوان کے تمام مشرکانہ عقائد کی بنیاد ہی سے متصادم تھی تو وہ تیزی سے بھاگ کھڑے ہوتے تھے۔ ثانیاً: وہ اپنے انحرافی خط کو صحیح ثابت کرنے کے لیے رسول اللہ اور ان کے ارشادات کے بارے میں غلط توجہیں کرتے تھے اور آپ پر طرح طرح کی تہمتیں لگاتے تھے۔ کوئی ساحر کہتا اور کوئی شاعر، کوئی آپ کو مجنون قرار دیتا اور کوئی دیوانہ۔ تمام دشمنانِ حق کہ جن کے اعمال و صفات رذیلہ ان کے لیے حجاب ہیں، کی یہی حالت ہے۔ اسی مقام پر ہم کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص راہِ حق اور صراط مستقیم پر چلنا چاہتا ہے اور انحراف و گمراہی سے بچنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اسے اپنی اصلاح کی کوشش کرنا چاہئے۔ دل کو بغض و کینہ اور حسد و عناد سے پاک کرنا چاہیے۔ روح کو غرور و نخوت سے پاک کرنا چاہیے۔ خلاصہ یہ کہ اپنے وجود کو صفاتِ رذیلہ سے پاک کرنا چاہیے چونکہ جب دل کا آئینہ ان رذائل سے پاک صاف ہو کر صیقل ہو جائے گا تو پھر تمام حقائق اس پر اپنا پَرتَو ڈال سکیں گے یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات بے علم پاک دل افراد حقائق سمجھ لیتے ہیں لیکن غیر تہذیب یافتہ عالم نہیں سمجھ پاتے۔

۲۔ خدا کی طرف نسبت کا مفہوم:

دوسری بہت سی آیات کی طرح زیر بحث آیات میں بھی حجابوں کی نسبت خدا کی طرف دی گئی ہے۔ فرمایا گیا ہے: ہم ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔ تیرے اور ان کے درمیان ہم حجاب حائل کر دیتے ہیں اور ان کے کانوں میں سنگینی قرار دیتے ہیں۔ ہو سکتا ہے ایسی تعبیرات سے جاہل افراد مکتبِ جبر کا مفہوم لیں حالانکہ یہ تو ان کے اعمال ہی کے آثار اور نتائج ہیں۔ درحقیقت، وہ خود ہی ہیں جو اپنے گناہوں اور بری صفات کے ذریعے یہ حجاب پیدا کرتے ہیں لیکن چونکہ ہر چیز کی خاصیت خدا کی طرف سے ہے اور عملِ قبیح اور صفاتِ رذیلہ میں خدانے یہ تاثیر پیدا کی ہے۔ لہٰذا اس خاصیت اور حجاب کی نسبت خدا کی طرف بھی دی جا سکتی ہے۔ اس بارے میں گزشتہ مباحث میں ہم بارہا گفتگو کرچکے ہیں اور اس سلسلے میں قرآن سے بھی بہت سے شواہد پیش کیے جا چکے ہیں۔

۳۔ حجاب مستور کیا ہے؟

اس سلسلے میں مفسرین کی کئی مختلف آراء ہیں۔ مثلاً: (الف) بعض ”مستور“ کو ”حجاب“ کی صفت سمجھتے ہیں کہ قرآن کی تعبیر کا ظہور یہ ہے کہ حجاب نگاہوں سے پوشیدہ ہیں۔ درحقیقت، کینہ و عداوت اور حسد وبغض کے حجاب ایسے نہیں ہیں جو آنکھ سے دکھائی دیں بلکہ ان کے باعث جس سے حسد اور کینہ ہوتا ہے اُس کے اور اِس کے درمیان ایک ضخیم پردہ حائل ہوجاتا ہے۔ (ب) بعض دیگر مفسرین ”مستور “ کو ”ساتر“ کے معنی میں سمجھتے ہیں (کیونکہ اسم مفعول بعض اوقات فاعل کے معنی میں آتا ہے جیسا کہ آیات مذکورہ میں بھی بعض مفسرین ”مسحور“ کو ”ساحر“ کے معنی میں سمجھتے ہیں)۔ (تشریحی نوٹ: اخفش سے منقول ہے، وہ کہتا ہے: اسم مفعول کبھی اسم فاعل کے معنی میں ہوتا ہے۔ مثلا "میمون"، "یامن" کے معنی میں اور "مشئوم"، "شائم" کے معنی میں۔)۔ (ج) بعض ”مستور“ کو ”حجاب“ کی مجازی توصیف سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مراد یہ نہیں ہے کہ یہ حجاب مستور ہے بلکہ وہ حقائق جو اس حجاب کے ماو راء ہیں وہ مستور ہیں (مثلاً پیغمبر اکرم کی شخصیت آپ کی دعوت کی عظمت اور آپ کے ارشادات کی عظمت)۔ لیکن ان تینوں تفسیروں میں غور کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ پہلی تفسیر ظاہر آیت سے زیادہ ہم آہنگ ہے، بعض روایات میں بھی ہے کہ بعض اوقات رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے سخت ترین دشمن آپ کی طرف آتے جبکہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ قرآنِ مجید کی تلاوت میں مشغول ہوتے لیکن وہ آپ کو نہ دیکھ پاتے گویا آپ کی خیرہ کن عظمت کے باعث یہ دل کے اندھے آپ کو نہ دیکھ پاتے اور نہ پہچان پاتے لہٰذا آپ ان کی طرف سے اذیت سے محفوظ رہتے۔

۴۔ ”اکنہ “اور ”وقر“ کیا چیز ہے؟

”اکنہ“، ”کنان“ (برورزن ”زیان“) کی جمع ہے، یہ در اصل ہر قسم کی ڈھانپتے اور مستور کرتے ہیں لیکن ”کن“ (بروزن ”جِنّ“) اس برتن کو کہتے ہیں جس میں کسی چیز کو محفوظ رکھا جاتا ہے۔ ”کن“ کی جمع ”اکنان“ ہے۔ بعد ازان اس معنی میں وسعت پیدا ہوگئی اور ہر چیز کہ جو مستور ہونے کا باعث بنے کے لئے بولا جانے لگا، مثلاً پردہ، گھر اور وہ اجسام کہ جن کے پیچھے انسان اپنے آپ کو چھپائے۔ ”وقر“ (بروزن ”جبر“) سنگینی کے معنی میں ہے کہ جو کان میں پیدا ہوجائے اور ”وقر“ (بروزن ”رزق“) بارِ سنگین کے معنی میں ہے۔

۵۔ ”ما یستمعون بہ“ کی تفسیر

اس کی مفسرین نے دو تفسیر کی ہیں: طبرسی نے مجمع البیان میں اور فخر الداین رازی نے تفسیر کبیر میں اور بعض دیگر مفسّرین نے اسے ”سببِ استماع“ کے معنی میں لیا ہے یعنی ہم جانتے ہیں کہ وہ تیری باتیں کیوں کان لگار سنتے ہیں، ادراکِ حق کے لئے؟ نہیں بلکہ استہزاء اور جوڑ توڑ لگانے اور الٹی سیدھی توجیہات کرنے کے لئے مختصر یہ کہ گمراہ ہونے اور گمراہ کرنے کے لئے۔ علامہ طباطبائی نے المیزان میں اور بعض دیگر مفسّرین نے اسے ”وسیلہ استماع“ کے معنی میں لیا ہے یعنی ہم جانتے ہیں کہ وہ کن کانوں سے تیری باتیں کان لگار سنتے ہیں اور ہم ان کے دلوں اور ان کی سرگوشیوں سے آگاہ ہیں۔ (پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے)۔

۶۔ ”مسحور“ کیوں کہتے تھے؟

وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کیوں کہتے تھے؟ ”مسحور“ کا معنی ہے سحر شدہ اور ”ساحر“ کا معنی ہے سحر کرنے والا۔ دشمن رسول لله کو ”مسحور“ یا تو اس بناء پر کہتے تھے کہ وہ اس طرح آپ کی طرف جنون کی نسبت دینا چاہتے تھے اور کہنا چاہتے تھے کہ جادوگروں نے آپ کو فکر وعقل پر اثر کیا ہے اور ساحروں نے (معاذ الله) آپ کے حواس مختل کر دیئے ہیں۔ بعض مفسّرین نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ ”مسحور“ یہاں ”ساحر “کے معنی میں ہے (کیونکہ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں اسم مفعول کبھی اسمِ فاعل کے معنی میں آتا ہے)۔ اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ رسول الله کا غیر معمولی کلام جادو ہے جو لوگوں کے دلوں پر اثر کرتا ہے۔ ضمنی طور پر یہ بات کہہ کر وہ آپ کے کلام کی عجیب تاثیر کا اعتراف کرتے تھے۔

۷۔ توحید کی آواز پر مشرکین کا خوف

زیرِ بحث آیات میں ہم نے پڑھا ہے مشرکین خاص طور پر توحید کی آواز سن کر سخت خوف میں مبتلا ہوجاتے تھے اور بھاگ کھڑے ہوتے تھے کیونکہ ان کی تمام تر زندگی کی بنیاد شرک اور بت پرستی تھی اور ان کے معاشرے پر مشرکانہ نظام حکمران تھا۔ اگر توحید کی بنیاد پڑجاتی تو نہ صرف ان کے مذہبی عقائد پر ضرب پڑتی تھی بلکہ ان کا معاشرتی، اقتصادی، سیاسی، ثقافتی اور تمدنی نظام بھی جو شرک پر مبنی تھا وہ تباہ ہو کر رہ جاتا، اس طرح حکومت پسے ہوئے مستضعف لوگوں کے ہاتھ آجاتی۔ مستکبرین کا خاتمہ ہوجاتا، اور استعمار اور لوٹ کھسوٹ کہ جو مشرکانہ نظاموں کا نتیجہ ہے ختم ہوجاتا، اور طبقاتی تفاوت ختم ہوجاتا تھا، لہٰذا جن کے اقتدار کا انحصار شرک پر تھا ان کی سخت کوشش تھی کہ توحید کی پکار کسی کے کان تک نہ پہنچنے پائے۔ لیکن جیسا کہ زیرِ بحث آیات اشارہ کرتی ہیں وہ ظالم اور ستمگر لوگ تھے کہ جو مستضعف عوام پر بھی ظلم کرتے تھے اور اپنے آپ پر بھی، کیونکہ ہر ظالم منحرف اپنی قبر آپ کھودتا ہے۔ یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ قرآن کہتا ہے کہ مشرکین چاہتے تھے کہ انھیں فسق وفجور اور گناہ جاری رکھنے کا کوئی جواز ہاتھ آجائے لہٰذا باربار پوچھتے تھے قیامت کا دن کب آئے گا: بَلْ یُرِیدُ الْإِنسَانُ لِیَفْجُرَ اٴَمَامَہُ، یَسْاٴَلُ اٴَیَّانَ یَوْمُ الْقِیَامَةِ ”بلکہ انسان تو یہ چاہتا ہے کہ ہمیشہ بُرائی کرتا رہے۔ (جبھی تو) پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب آئے گا“۔ (قیامت/۵,۶) یہ اس طرف اشارہ ہے کہ یہ بھی ذمہ داری اور جوابدہی سے فرار کے لئے ایک بہانہ سازی تھی۔

49
17:49
وَقَالُوٓاْ أَءِذَا كُنَّا عِظَٰمٗا وَرُفَٰتًا أَءِنَّا لَمَبۡعُوثُونَ خَلۡقٗا جَدِيدٗا
اور انہوں نے کہا کہ جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے اور بکھر جائیں گے تو کیا ہم دوبارہ نئی خلقت حاصل کریں گے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 52 کے تحت ملاحظہ کریں۔

50
17:50
۞قُلۡ كُونُواْ حِجَارَةً أَوۡ حَدِيدًا
کہہ دو:تم پتھر یا لوہا ہو جاؤ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 52 کے تحت ملاحظہ کریں۔

51
17:51
أَوۡ خَلۡقٗا مِّمَّا يَكۡبُرُ فِي صُدُورِكُمۡۚ فَسَيَقُولُونَ مَن يُعِيدُنَاۖ قُلِ ٱلَّذِي فَطَرَكُمۡ أَوَّلَ مَرَّةٖۚ فَسَيُنۡغِضُونَ إِلَيۡكَ رُءُوسَهُمۡ وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هُوَۖ قُلۡ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ قَرِيبٗا
یا جو مخلوق تمہاری نظر میں ان سے بھی زیادہ سخت ہو (اور جس میں زندگی کے دور دور تک کوئی آثار نہ ہوں پھر بھی خدا قادر ہے کہ تمہیں نئی زندگی کی طرف پلٹا دے)۔ عنقریب وہ کہیں گے کون، ہمیں دوبارہ پلٹائے گا؟ کہہ دو: وہی جس نے پہلے تمہیں پیدا کیا تھا۔ وہ( تعجب اور انکار) سے تیرے سامنے اپنے سر جھکاتے ہیں اور کہتے ہیں ایسا کس وقت ہو گا کہہ دو شاید (وہ وقت) نزدیک ہی ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 52 کے تحت ملاحظہ کریں۔

52
17:52
يَوۡمَ يَدۡعُوكُمۡ فَتَسۡتَجِيبُونَ بِحَمۡدِهِۦ وَتَظُنُّونَ إِن لَّبِثۡتُمۡ إِلَّا قَلِيلٗا
وہی دن کہ جب وہ تمہیں (تمہاری قبروں سے) بلائے گا، تم بھی جواب دو گے، اس حالت میں کہ اس کی حمد کر رہے ہو گے اور خیال کرو گے کہ تم تھوڑی سی مدت ہی (عالم برزخ میں ) رہے ہو۔

قیامت یقینی ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات توحید سے متعلق اور شرک کے خلاف مبارزہ کے بارے میں تھیں لیکن زیرِ نظر آیات میں معاد اور قیامت کے بارے میں گفتگو ہے اور ہر مقام پر اس گفتگو سے مسئلہ توحید کی تکمیل ہوتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے کہ عقائدِ اسلامی میں سے بنیادی ترین مبداء ومعاد کا عقیدہ ہے یہی عقیدہ انسان کی عملی اور اخلاقی طور پر تربیت کرتا ہے۔ یہ عقیدہ آلودگی اور گناہ سے بچاتا اور ادائیگی فرض کی دعوت دیتا ہے اور انسان کو تکامل وارتقاء کے راستے پر جاتا ہے۔ ان آیات میں منکرین معاد کے تین سوالات یا تین اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: انھوں نے کہا کہ جب ہم ہڈیوں میں تبدیل ہو گئے اور یہ ہڈیاں بھی بوسیدہ ہو کر منتشر ہو گئیں تو کیا ہمیں نئے سرے سے تخلیق کیا جائے گا (وَقَالُوا اَئِذَا کُنَّا عِظَامًا وَرُفَاتًا اَئِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِیدًا)۔ ( رفاف، بروزن کرات)۔ کیا اصولی طور پر اس بات کا امکان ہے کہ بوسیدہ اور ذرہ ذرہ ہو کر بکھر جانے والی ہڈیاں نئے سے جمع ہوں اور اس کے بعد پھر انھیں لباسِ حیات عطا ہو جائے، بوسیدہ اور پراکندہ ہڈیاں کہاں اور ایک زندہ طاقتور اور عقلمند انسان کہاں۔ معاد کے بارے میں قرآن کی دیگر بہت سی تعبیرات کی طرح یہ تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ رسول الله اپنی گفتگو میں ہمیشہ معادِ جسمانی کی بات کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ بکھر جانے کے بعد یہ جسم پھر پلٹ آئے گا، ورنہ اگر معادِ روحانی کی بات ہوتی تو مخالفین کے ایسے اعتراضات کے کوئی معنی نہ تھے۔ قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے: کہہ دو: کہ بوسیدہ اور خاک شدہ ہڈی سے لباسِ حیات عطا کرنا تو آسان کام ہے ”تم پتھر یا لوہا بن جاوٴ“ تو پھر بھی خدا قادر ہے کہ تمھارے بدن کو لباسِ حیات پہنادے (قُلْ کُونُوا حِجَارَةً اَوْ حَدِیدًا)۔ یہاں تک کہ اگر کوئی مخلوق پتھر اور لوہے سے بھی سخت تر ہو اور زندگی سے بہت دُور ہو اور اس لحاظ سے تمھاری نظر میں زیادہ بڑا کام ہو تو خدا قادر ہے کہ اس کے بدن پر جامہٴ حیات پہنادے (اَوْ خَلْقًا مِمَّا یَکْبُرُ فِی صُدُورِکُمْ)۔ واضح رہے کہ ہڈیاں بوسیدہ ہو کر خاک ہو جاتی ہیں اور مٹی میں ہمیشہ آثارِ حیات ہوتے ہیں، نباتات خاک ہی سے اُگتے ہیں، زندہ موجودات خاک ہی میں پرورش پاتے ہیں اور انسانی وجود کی اصل بھی خاک ہے۔ مختصر یہ کہ خاک زندگی کات دروازہ ہے لیکن پتھر، لوہا یا وہ موجودات جو ان سے زیادہ سخت ہیں ان کا فاصلہ زندگی سے بہت زیادہ ہے۔ نباتات کبھی بھی ہو اور جو کچھ بھی ہوجاوٴ تمھاری طرف زندگی لوٹا دینا اس کے لئے کچھ مشکل نہیں۔ پتھر بوسیدہ ہو کر خاک میں بدل جاتے ہیں اور پھر مٹھی کے سینے سے زندگی پیدا ہو جاتی ہے۔ لوہا بھی بوسیدہ ہو کر پراکندہ ہو جاتا ہے اور پھر اس کرہٴ خاکی کے دوسرے موجودات سے مل کر تمام مبداء حیات بن جاتا ہے۔ اس زمین میں ہم جس موعود کا بھی تصور کریں، وہ معدنیات میں سے ہو یا معدنیات سے مشابہ کسی چیز سے، انسانی بدن کی عمارت میں ساعمتال ہوتا ہے۔ یہ چیز نشاندہی کرتی ہے کہ اس عالم کے تمام ذرّات میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ موجودِ زندہ میں تبدیل ہو جائے اگرچہ ان میں سے بعض کسی مرحلے میں زندگی سے زیادہ قریب ہوتے ہیں مثلاً مٹی اور بعض نسبتاً دور ہوتے ہیں مثلاً پتھر اور لوہا۔ ان کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ وہ کہتے تھے کہ اچھا اگر ہم مان لیں کہ یہ بوسیدہ اور منتشر ہڈیاں پھر زندگی حاصل کر سکتی ہیں تو یہ کام انجام دینے کی قدرت کسی میں ہے؟ وہ یہ اس لئے کہتے تھے کیونکہ وہ اس تبدیلی کو ایک نہایت پیچیدہ اور مشکل امر سمجھتے تھے۔ ”وہ کہتے تھے کہ کون انھیں اٹھائے گا“ (فَسَیَقُولُونَ مَنْ یُعِیدُنَا)۔ اس سوال کا جواب قرآن اس طرح دیتا ہے: ان سے کہو کہ وہی جس نے پہلی مرتبہ تمھیں پیدا کیا تھا (قُلْ الَّذِی فَطَرَکُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ)۔ اگر ”قابل“ کی قابلیت میں تمھیں شک ہے تو سوچو کہ تم پہلے بھی تو خاک تھے، پھر اب کیا رکاوٹ ہے پھر خاک بننے کے بعد تمھیں زندگی دے دی جائے، اگر ”فاعل“ کی فاعلیت میں شک ہے تو وہی خدا جس نے تمھیں مٹی سے پیدا کیا وہ پھر بھی یہ کام کر سکتا ہے کیونکہ: حکم الامثال فیما یجوز وفیما لایجوز واحد- ہم مثل چیزوں کے جائز اور ناجائز فیصلہ ایک جیسا ہوتا ہے۔ آخر میں ان کا تیسرا اعتراض بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ تعجب اور انکار کرتے ہوئے اپنا سر ہلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ قیامت کب برپا ہو گی (فَسَیُنْغِضُونَ إِلَیْکَ رُئُوسَھُمْ وَیَقُولُونَ مَتیٰ ھُوَ)۔ ”فَسَیُنْغِضُونَ“، ”انغاض“ کے مادہ سے کسی مقابل شخص کی جانب تعجب سے سر بلانے کے معنی میں ہے۔ اس اعتراض سے ان کی مراد یہ تھی کہ فرض کریں یہ مادہ خاکی انسان میں تبدیل ہونے کے مقابل ہے اور یہ بھی مان لیں کہ خدا میں یہ قدرت ہے لیکن یہ تو ایک ادھار والے وعدے سے زیادہ بات نہیں ہے اور معلوم نہیں کہ قیامت کب واقع ہو گی، اگر ہزاروں یا لاکھوں سال بعد ہوتی تو ہماری آج کی زندگی میں اس کا کیا اثر ہو گا، نقد بات کرو ادھار بات چھوڑو۔ قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے: ان سے کہہ دو: اس کا زمانہ قریب ہے (قُلْ عَسیٰ اَنْ یَکُونَ قَرِیبًا)۔ قیامت کی گھڑی قریب ہی ہے کیونکہ اس عالم کی مجموعی عمر کتنی ہی کیوں نہ ہو دوسرے جہاں کی بے پایاں زندگی کے مقابلے میں تو جلدی گزر جانے والے ایک لمحے سے زیادہ نہیں ہے۔ اس سے قطع نظر اگر قیامت ہمارے چھوڑے اور محدود معیار کے مطابق دور بھی ہوتو بھی قیامت کا آستانہ۔ یعنی موت۔ ہم سب کے قریب ہے۔ کیونکہ موت قیامت صغریٰ ہے: ”اذا مات الانسان قامت قیامتہ“ جب انسان کو موت آجاتی ہے تو اس کے لیے قیامت واقع ہو جاتی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ موت قیامت کبریٰ نہیں ہے لیکن اس کی یاد تو دلاتی ہے۔ ضمنی طور پر ”عَسیٰ “ کی تعبیر شاید اس طرف اشارہ ہو کہ کوئی شخص دقیقاً قیامت کی تاریخ نہیں جانتا اور یہ ان علوم میں سے ہے جو ذاتِ پروردگار سے مخصوص ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی بھی اس سے آگاہ نہیں۔ اگلی آیت میں قیامت کی متعین تاریخ ذکر کیے بغیر اس خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: زندگی کی طرف یہ بازگشت اس دن ہو گی جس دن تمہیں قبروں سے پکارا جائے گا اور تم چاہو یا نہ چاہو اس کی دعوت پر لبیک کہو گے اور خدا کی حمد و ثناء کرتے ہوئے زندگی کی طرف پلٹ آوٴ گے (یَوْمَ یَدْعُوکُمْ فَتَسْتَجِیبُونَ بِحَمْدِہِ )۔ اور وہ ایسا دن ہے کہ تم موت اور قیامت کے درمیان کے فاصلہ(دور ِبرزخ) کو کم سمجھو گے اور خیال کرو گے کہ برزخ میں تو تم تھوڑی سی مدت ہی رہے ہو ( وَتَظُنُّونَ إِنْ لَبِثْتُمْ إِلاَّ قَلِیلًا)۔ اگر چہ یہ طولانی ہو لیکن عالم بقاء کی انتہا عمر کے مقابلے میں چند جلدی سے گزر جانے والے لمحات سے زیادہ نہیں ہے۔ بعض مفسّرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ یہ دنیال میں توقف کی طرف اشارہ ہے یعنی وہ دن کہ جب تم جان لوگ کہ دنیاوی زندگی کوئی زیادہ طولانی نہ تھی چند مختصر سی گزر گھڑیاں تھیں۔

53
17:53
وَقُل لِّعِبَادِي يَقُولُواْ ٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُۚ إِنَّ ٱلشَّيۡطَٰنَ يَنزَغُ بَيۡنَهُمۡۚ إِنَّ ٱلشَّيۡطَٰنَ كَانَ لِلۡإِنسَٰنِ عَدُوّٗا مُّبِينٗا
اورمیرے بندوں سے کہہ دو: ایسی بات کریں کہ جو زیادہ اچھی ہو کیونکہ شیطان (ناموزوں باتوں کے ذریعے )ان کے درمیان فتنہ و فساد کھڑا کر دیتا ہے، شیطان ہمیشہ انسان کا کھلا دشمن رہا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 57 کے تحت ملاحظہ کریں۔

54
17:54
رَّبُّكُمۡ أَعۡلَمُ بِكُمۡۖ إِن يَشَأۡ يَرۡحَمۡكُمۡ أَوۡ إِن يَشَأۡ يُعَذِّبۡكُمۡۚ وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ عَلَيۡهِمۡ وَكِيلٗا
تمہارا پروردگار (تمہاری نیتوں اور اعمال )کو تم سے زیادہ جانتا ہے۔اگر وہ چاہے (اور تمہیں اس لائق سمجھے) تو اپنی رحمت تمہارے شامل حال کر دے، اور اگر چاہے تو عذاب دے اور ہم نے تجھے ان پر وکیل نہیں بنایا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 57 کے تحت ملاحظہ کریں۔

55
17:55
وَرَبُّكَ أَعۡلَمُ بِمَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۗ وَلَقَدۡ فَضَّلۡنَا بَعۡضَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ عَلَىٰ بَعۡضٖۖ وَءَاتَيۡنَا دَاوُۥدَ زَبُورٗا
وہ تمام لوگ کہ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں ان کے حالات سے تیرا پروردگار زیادہ آگاہ ہے۔ ہم نے بعض نبیوں کو بعض دوسرے نبیوں پر فضیلت عطا کی ہے اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 57 کے تحت ملاحظہ کریں۔

56
17:56
قُلِ ٱدۡعُواْ ٱلَّذِينَ زَعَمۡتُم مِّن دُونِهِۦ فَلَا يَمۡلِكُونَ كَشۡفَ ٱلضُّرِّ عَنكُمۡ وَلَا تَحۡوِيلًا
ان سے کہہ دو :تم نے خدا کے علاوہ جو( اپنے معبود) بنا رکھے ہیں انہیں پکار کر دیکھو،وہ تمہاری کوئی مشکل حل نہیں کر سکتے اور نہ اس میں کوئی تبدیلی لا سکتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 57 کے تحت ملاحظہ کریں۔

57
17:57
أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ يَبۡتَغُونَ إِلَىٰ رَبِّهِمُ ٱلۡوَسِيلَةَ أَيُّهُمۡ أَقۡرَبُ وَيَرۡجُونَ رَحۡمَتَهُۥ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُۥٓۚ إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحۡذُورٗا
وہ تو وہ ہیں جو خود اپنے پروردگار سے( تقرب کا) وسیلہ طلب کرتے ہیں،ایسا وسیلہ جو زیادہ قریب ہو اور یہ اس کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں کیونکہ سب تیرے پروردگار کے عذاب سے بچنے کی فکر میں اور وحشت زدہ ہیں۔

تمام مخالفین سے منطقی طرزِ عمل

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں مبداء ومعاد کے بارے میں گفتگو تھی اور دو اہم عقائد کے بارے میں دلائل پیش کئے گئے تھے۔ زیرِ بحث آیات میں مخالفین خصوصاً مخالفین مشرکین کے ساتھ گفتگو اور استدلال کے آداب سکھائے گئے ہیں کیونکہ مکتب جتنا عالی ہو اور منطق جتنی قوی ہو اگر بحث وگفتگو صحیح طریقے اور لطف ومحبت کی بجائے خشونت وسختی پر مبنی ہو گی تو بے اثر ہو کر رہ جائے گی۔ لہٰذا پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: میرے بندوں سے کہہ دو کی ایسی گفتگو صحیح کریں جو بہت اچھی ہو (وَقُلْ لِعِبَادِی یَقُولُوا الَّتِی ھِیَ اَحْسَنُ)۔ ان کی گفتگو مضمون کے لحاظ سے، طرزِ بیان کے لحاظ سے، اخلاق کے حوالےں سے، انسانی آداب کے حوالے سے سے بہترین ہو۔ کیونکہ اگر انھوں نے ”قولِ احسن“ کو ترک کر دیا اور کلام میں خشونت، سختی اور ہٹ دھرمی ہوئی تو شیطان ان کے درمیان فتنہ وفساد اٹھادے گا (إِنَّ الشَّیْطَانَ یَنزَغُ بَیْنَھُمْ)۔ اور یہ بات کبھی فراموش نہ کرو کہ شیطان کمین لگائے بیٹھا ہے اور چین سے نہیں بیٹھا ”کیونکہ شیطان شروع ہی سے نوعِ انسان کا کھُلا دشمن ہے“ (إِنَّ الشَّیْطَانَ کَانَ لِلْإِنسَانِ عَدُوًّا مُبِینًا)۔ اس آیت میں لفظ ”عباد“ سے کون لوگ مراد ہیں اس سلسلے میں مفسّرین میں دو مختلف نظریے ہیں۔ بعض قرائن سے ان میں سے ہر ایک کی تائید ہوتی ہے۔ ۱۔ ”عباد“ سے مراد مشرک بندے ہیں اگرچہ انھوں نے غلط راہ اختیار کر رکھی ہے لیکن الله تعالیٰ نے انسانی جذبات کی تحریک کے لئے انھیں ”عبادی“ (میرے بندے) سے یاد کیا ہے اور انھیں دعوت دی ہے کہ وہ ”احسن“ یعنی توحید اور نفی شرک کا راستہ اختیار کریں اور شیطانی وسوسوں سے خبردا ر ہیں۔ گویا ان آیات کا مقصد یہ ہے کہ توحید ومعاد کے دلائل پیش کرنے کے بعد مشرکین کے دلوں کواپیل کی جائے تاکہ ان میں سے جو تھوڑی بہت آمادگی رکھتے ہیں وہ بیدار ہو جائیں اور راہِ راست پر آجائیں۔ یہ سورہ مکّی ہے اور اس وقت ابھی جہاد کا حکم نازل نہیں ہوا تھا اور اس صورت میں منطق و استدلال کے علاوہ ان سے مقابلے کا اور کوئی راستہ نہ تھا اس حوالے سے اس مفہوم کی تائید ہوتی ہے۔ ۲۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ لفظ ”عبادی“ مومنین کی طرف اشارہ ہے اور انہیں دشمنوں سے بحث کرنے کا طریقہ سکھایا گیا ہے کیونکہ بعض اوقات نو وارد مومنین اپنے پہلے والے طرز عمل ہی کا مظاہرہ کرتے، اپنے عقیدے کے ہر مخالف سے سخت رویہ اختیار کرتے، انہیں صراحت سے اہلِ جہنم، اہلِ عذاب، بدبخت اور گمراہ کہتے پھرتے اور اپنے تئیں اہل نجات قرار دیتے۔ اس سے رسول اللہ کی دعوت کے بارے میں مخالفین میں ایک منفی ردّ عمل جنم لیتا۔ اس سے قطع نظر بعض اوقات مخالفین رسول اللہ کے بارے میں جو تو ہیں آمیز الفاظ استعمال کرتے اس پر بھی مومنین بے اختیار ہو کر انہیں سخت سست کہتے تھے۔ جیسا کہ گزشتہ آیات میں گزرچکا ہے۔ مخالفین رسول اللہ کے لیے مسحور، مجنون، کاہن اور شاعر جیسے الفاظ کہتے تھے۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ بعض مومنین بھی ان سے جھگڑ پڑتے اور جو منہ میں آتا کہہ ڈالتے۔ قرآن مومنین کو اس طرز عمل سے روکتا ہے اور انہیں دعوت دیتا ہے کہ نرمی و لطافت سے جواب دیں اور بحث و گفتگو میں بہترین الفاظ استعمال کریں تاکہ شیطانی نقصان سے بچ جائیں۔ اس تفسیر کے مطابق لفظ ”بینہم“(ان کے درمیان )کا مفہوم یہ ہو گا کہ شیطان کوشش کرتا ہے کہ مومنین اور مخالفین کے درمیان فتنہ و فساد پیدا کر دے یا کوشش کرتا ہے کہ مومنین میں غیر محسوس طور پر نفوذ کرے اور انہیں فتنہ و فساد پر ابھارے۔ کیونکہ ”ینزغ“”نزغ“ کے مادہ سے فساد کروانے کی نیّت سے کسی کام میں مداخلت کرنے کے معنی میں ہے۔ لیکن تمام قرائن کو ملحوظِ نظر رکھا جائے تو دوسری تفسیر ظاہر آیت سے زیادہ میل کھاتی ہوئی معلوم ہوتی ہے کیونکہ عام طور پر لفظ ”عبادی“ قرآن میں مومنین کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں بعض مفسرین نے اس آیت کی جوشانِ نزول نقل کی ہے اس میں ہے کہ مکّہ میں مشرکین اصحاب رسول کو اذیت دیتے تھے تو گا ہے دل تنگی کے عالم میں اصحاب رسول اللہ سے اصرار کرتے تھے کہ ہمیں جہاد کی اجازت دی جائے (یا پھر گفتگو میں سخت کلامی اور جیسا سوال ویسا جواب کی اجازت دی جائے) اس پر رسول خدا فرماتے تھے کہ ابھی تک مجھے ایسا کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ اس موقع پر مذکورہ بالا آیات نازل ہوئیں اور انہیں حکم دیا گیا کہ صرف منطقی گفتگو سے جواب دینے کا اسلوب جاری رکھیں۔ (مجمع البیان اور تفسیر قرطبی، زیر بحث آیات کے ذیل میں) بعد والی آیت مزید کہتی ہے: تمہارا پروردگار تمہارے حالات سے زیادہ آگاہ ہے۔ اگر وہ چاہے تو اپنی رحمت تمہارے شامل حال کر دے اور اگر چاہے تو تمہیں سزادے (رَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِکُمْ إِنْ یَشَاْ یَرْحَمْکُمْ اَوْ إِنْ یَشَاْ یُعَذِّبْکُمْ )۔ پہلی آیت کی دو تفسیروں کے پیشِ نظر اس آیت کی بھی دو تفسیریں ممکن ہیں: پہلی یہ کہ اے مشرکین اور اے تہی از ایمان لوگو! تمہارا خدا وسیع رحمت بھی رکھتا ہے اور دردناک عذاب بھی۔ تمہیں وہ جس لائق سمجھے گا وہ سلوک کرے گا۔ کیا ہی بہتر ہے کہ تم اس وسیع رحمت کے سائے میں آجاؤ اور اس کے عذاب سے بچو۔ دوسری یہ کہ اے اہلِ ایمان! یہ گمان نہ کرو بس تمہی اہلِ نجات ہو اور دوسرے سب اہلِ جہنم ہیں۔ خدا تمہارے اعمال اور قلوب سے زیادہ آگاہ اور باخبر ہے اگر چاہے تو تمہارے گناہوں کے سبب تمہیں عذاب دے اور چاہے تو اپنی رحمت تمہارے شامل حال کر دے۔ اپنی حالت پر کچھ غور و فکر کرو اور اپنے اور دوسروں کے درمیان عدل و انصاف سے فیصلہ کرو۔ بہرحال، آیت کے آخر میں روئے سخن پیغمبر اکرم کی طرف ہے۔ آپ کی دلجوئی کی گئی ہے اور مشرکین کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے آپ کے انتہائی رنج کو دور کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے: ہم نے تجھے ان پر وکیل نہیں بنایا کہ تم یہ سمجھو کہ انہیں لازمی طور پر ایمان لانا چاہیے (وَمَا اَرْسَلْنَاکَ عَلَیْھِمْ وَکِیلًا)۔ تیری ذمہ داری تو یہ ہے کہ نہیں کھُلے بندوں حق کی طرف دعوت دو اور اپنی جد و جہد جاری رکھو۔ اگر وہ ایمان لے آئیں تو بہت خوب وگرنہ تجھے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا توُ نے تو اپنا فریضہ ادا کر دیا۔ اس جملے میں مخاطب اگرچہ رسول اللہ کی ذات ہے لیکن بعید نہیں کہ قرآن کے ایسے دیگر بہت سے مقامات کی طرح مراد تمام مومنین ہوں۔ یہ بات دوسری تفسیرکی تائید میں ایک اور قرینہ ہے کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ تم مسلمانوں کی ذمہ داری حق کی طرف دعوت دینا ہے چاہے وہ ایمان لائیں یا نہ لائیں لہٰذا گفتگو میں سختی اور توہین و ہتک کا طریقہ اختیار کرنے اور اس طرح حد سے زیادہ جوش و خروش دکھانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگلی آیت اس سے بھی بڑھ کر بات کرتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: خدا تمہارے ہی حالات سے آگاہ نہیں بلکہ ”تیرا پروردگار آسمان اور زمین کے سب باسیوں کی نسبت زیادہ آگاہ ہے اور زیادہ علم رکھتا ہے“(وَرَبُّکَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ)۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: ہم نے بعض نبیوں پر فضیلت بخشی ہے اور داؤد کو زبور عطا کی ہے( وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیِّینَ عَلیٰ بَعْضٍ وَآتَیْنَا دَاوُودَ زَبُورًا)۔ یہ جملہ درحقیقت، مشرکین کے ایک اعتراض کا جواب ہے۔ وہ نہایت تحقیر انداز میں کہتے تھے کہ کیا خدا کے پاس اور کوئی شخص نہ تھا کہ اس نے ایک یتیم محمد کو نبوت کے لیے انتخاب کیا اور اسے کیا ضرورت پڑی تھی کہ اسے تمام انبیاء کا سردار اور خاتم النبیین قرار دے دے۔ قرآن کہتا ہے کہ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ خدا ہر شخص کے انسانی مقام اور قدر و یمت سے آگاہ ہے اور انہی عام لوگوں میں سے اپنے انبیاء کو منتخب کرتا ہے اور اس نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ کسی کو خلیل کے اعزاز سے نوازا، کسی کو کلیم اللہ کا مقام عطا کیا کسی کو ”روح اللہ“ قرار دیا اور پیغمبر اسلام کو ”حبیب اللہ“ کی حیثیت سے چن لیا۔ خلاصہ یہ کہ اس نے بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہے اور یہ فضیلت اس نے ان معیاروں کے مطابق عطا کی ہے جنہیں وہ خود جانتا ہے اور جو اس کی حکمت کے مطابق ہیں۔ رہا یہ سوال کہ سب انبیاء میں سے یہاں صرف حصرت داؤد(ص) کو زبور عطا کرنے کی بات کیوں کی گئی ہے۔ ہو سکتا ہے اس کی وجہ یہ پہلو ہوں: ۱۔ کتبِ انبیاء میں حضرت داؤد کی زبور کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ وہ تمام ترمناجات، دعاؤں اور پند و نصیحت پر مشتمل ہے اور تمام تر ”قول احسن“اور اچھی گفتگو کا نمونہ ہے کہ جس کا حکم پہلی آیات میں دیا گیا ہے۔ یہ کتاب اس حکم سے سب سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔ ۲۔ زبورِ داؤد میں صالحین اوذ نیک بندوں کی حکومت کی خبردی گئی ہے اور فرمایا گیا ہے کہ اگر چہ وہ لوگ ظاہراً تہی دست، فقرا ور یتیم ہوں گے۔ (تشریحی نوٹ: کتاب مزامیر داؤد (زبور)جس صورت میں آج ہماری دسترس میں ہے اس کے مزمور ۳۷ میں ہے: ”--- کیونکہ شریر منقطع ہو جائیں گے لیکن اللہ پر توکل کرنے والے زمین کے وارث ہوں گے۔ہاں ایک عرصے بعد ثرید باقی نہ رہے گا تو اس کے بارے میں سوچ بچا کرے گا اور وہ نہیں ہو گا لیکن اہلِ حکمت (صالحین) زمین کے وارث ہوں گے۔“ اسی مزمور کے بائسویں اور انتیسویں جملے میں اس سے بالکل مشابہ تعبیرات موجود ہیں۔ یہی بات قرآن مجید کی سورہ انبیاء کی آیہ ۱۰۵ میں ہے: ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکران الارض یرثھا عبادی الصالحون ہم نے زبور میں یہ بات رقم کی ہے کہ کچھ عرصے بعد ہمارے نیک بندے زمین کے وارث ہوں گے)۔ اور یہ بات رسول اللہ اور سچے مومنین کی دعوت سے بالکل ہم آہنگ ہے کہ جو بہت تہی دست تھے اور یہ مشرکین کے اعتراض کا جواب ہے۔ ۳۔ حضرت داؤد علیہ السلام اگر چہ وسیع حکومت کے مالک تھے لیکن خداوند تعالیٰ اس بات کو ان کے لیے اعزاز و افتخار قرار نہیں دیتا بلکہ کتابِ زبور کو ان کے لیے اعزاز شمار کرتا ہے تاکہ مشرکین جان لیں کہ ایک انسان کی عظمت کا معیار مال و دولت اور ظاہری اقتدار و حکومت نہیں ہے۔ لہٰذا یتیم اور غریب ہونا تحقیر و تذلیل کی دلیل نہیں ہے۔ ۴۔ یہودی کہتے تھے کہ موسیٰ(ص) کے بعد کسی کتاب کا نازل ہونا ممکن نہیں ہے۔ اس پر قرآن انہیں جواب دیتا ہے کہ جبکہ ہم نے داؤد کو زبور عطا کی تو تم نزولِ قرآن کے بارے میں کیوں تعجب کرتے ہو (البتہ حضرت داؤد علیہ السلام کی کتاب احکام کی کتاب نہ تھی بلکہ اخلاق کی کتاب تھی لیکن جو کچھ بھی تھی تورات کے بعد اور خدا کی طرف سے نازل ہوئی تھی)۔ بہرحال کوئی مانع نہیں کہ زیرِ بحث آیت میں تمام انبیاء اور تمام کتب میں سے حضرت داؤد(ص) اور زبور کا انتخاب ان مذکورہ چاروں پہلوؤں کی بناء پر ہو۔ بعد والی آیت میں پھر مشرکین کے بارے میں گفتگو ہے۔ گزشتہ مباحث کو جاری رکھتے ہوئے پیغمبر اکرم سے فرمایا گیا ہے: ان سے کہو کہ خدا کے علاوہ جن معبودوں کو لائقِ پرستش سمجھتے ہیں انہیں صدا دیں۔نہ ان کے بس میں یہ ہےکہ وہ تمہاری مشکلات اور مصائب دور کر سکیں اور نہ ہی ان میں کوئی تغیّر و تبدیل پیدا کر سکتے ہیں(قُلْ ادْعُوا الَّذِینَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِہِ فَلَایَمْلِکُونَ کَشْفَ الضُّرِّ عَنکُمْ وَلَاتَحْوِیلًا)۔ درحقیقت، یہ آیت قرآن کی دیگر بہت سی آیات کی طرح مشرکین کے عقیدے اور منطق کو اس حوالے سے باطل قرار دیتی ہے کہ معبودوں کی پرستش یا تو حصول مفاد کے لیے ہے یا دفعِ نقصان کے لیے جبکہ ان کے تو بس میں نہیں کہ کسی کی مشکل کو ٹال سکیں یہاں تک کہ وہ تو کسی مشکل میں کوئی تبدیلی بھی پیدا نہیں کر سکتے یعنی اس کی شدت میں کمی بھی نہیں کرسکتے کہ جس سے ان کی کوئی قدرت ظاہر ہو سکے۔ لہٰذا ”فلایملکون کشف الضر“ کے بعد ”ولا تحویلاً“ اس طرف اشارہ ہے کہ وہ نہ تو مشکلات کی پوری تاثیر برطرف کر سکتے ہیں نہ ان میں تغیّر کرکے کچھ تھوڑی تاثیر کم کر سکتے ہیں۔ ”زعمتم“، ”زعم“کے مادہ اور عام طور پر غلط خیال و تصّور کو کہا جاتا ہے۔ اسی لیے ابنِ عباس سے منقول ہے کہ جہاں کہیں قرآن میں لفظ ”زعم“ استعمال ہوا ہے جھوٹ اور کذب (اور بے بنیاد عقیدے) کے معنی میں ہے۔ مفردات میں راغب کہتا ہے: الزعم حکایة قول یکون مظنة للکذب--- زعم نقلِ قول (یا عقیدہ) ہے کہ جس میں جھوٹ کا احتمال ہو یہ قرآن میں جن جن مواقع پر استعمال ہوا ہے وہاں مذمت و سرزنش کا پہلو لیے ہوئے ہے۔ لفظ ”کشف“اصل میں کسی چیز سے پردہ، لباس یا ایسی کسی چیز کو ہٹانے کے معنی میں ہے اور یہ جو ”کشف الضر‘ ‘غم اندوہ، بیماری یا پریشانی برطرف ہونے کے موقع پر بولا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ غم و اندوہ، بیماری یا پریشانی انسانی بدن اور روح پر گویا پردے کی طرح آ گرتی ہے اور آسائش، آرام اور سکون کہ جو حقیقی چہرہ ہے۔ اسے چھپا دیتی ہے لہٰذا غم، دکھ اور پریشانی کے دور ہونے کو ”کشف الضر“ کہا جاتا ہے۔ اس نکتے کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ اس آیت میں ”الذین“ کی تعبیر یہ بات بیان کرتی ہے کہ مراد اللہ کے علاوہ سب معبود نہیں ہیں بلکہ فرشتے، حضرت عیسی(ع) اور ان جیسے معبود مراد ہیں (کیونکہ ”الذین“ عام طور پر ذوی العقول کی جمع کے لیے بولا جاتا ہے)۔ بعد والی آیت درحقیقت، پہلی آیت میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کے لیے دلیل ہے۔ یہ آیت کہتی ہے: جانتے ہو کہ تمہاری مشکلوں کو اذنِ پروردگار کے بغیر ٹالنے پر کیوں قادر نہیں ہیں، اس لیے کہ وہ تو خود اپنی مشکلات بارگاہِ الٰہی میں پیش کرتے ہیں۔ وہ خود کوشش کرتے ہیں کہ اس کی پاک ذات کا تقرب حاصل کریں اور وہ جو کچھ بھی چاہتے ہیں اسی سے چاہتے ہیں ”وہ ایسے افراد ہیں جو خدا کو پکارتے ہیں اور اس کے تقرب کے لیے اس کی اطاعت کو وسیلہ بناتے ہیں“(اُوْلٰئِکَ الَّذِینَ یَدْعُونَ یَبْتَغُونَ إِلیٰ رَبِّھِمْ الْوَسِیلَةَ)۔ ”ایسا وسیلہ جو قریب ترین ہو“ ( اَیُّھُمْ اَقْرَبُ)۔”اور اس کے امیدوار ہیں“(وَیَرْجُونَ رَحْمَتَہُ)۔ ”اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں“( وَیَخَافُونَ عَذَابَہُ)۔ ”کیونکہ تیرے پروردگار کا عذاب اس قدر شدید ہے کہ سب اس سے بچتے ہیں اور وحشت زدہ ہیں“(إِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ کَانَ مَحْذُورًا)۔ اسلام کے عظیم مفسّرین نے ”ایھم اقرب“ کے مختلف تفسیریں کی ہیں: بعض کہتے ہیں: یہ اولیا ء خدا فرشتے ہوں یا انبیاء، ان میں سے جسے بھی معبود سمجھا گیا جتنا وہ اللہ کے زیادہ نزدیک ہو اتناہی مزید بارگاہ الٰہی میں تقرب کے درپے ہوتا ہے۔ کیونکہ ان کے پاس اپنی طرف سے کچھ بھی ہے خدا کی طرف سے ہے اور ان کا مقام و منزلت جتنا بلند ہوتا جاتا ہے ان کی طرف سے اطاعت و بندگی اتنی ہی زیادہ ہوتی جاتی ہے۔ (تشریحی نوٹ: اس تفسیر کے مطابق ”ایہم“”یبتغون“ کی ضمیر کا بدل ہے یاکسی مخدوف کا مبتداء ہے اور تقدیر میں اس طرح تھا: ”ایہم اقرب“ ہو اکثر دعاءً وابتغاءً للوسیلة)۔ بعض کا نظریہ ہے کہ جملے کا مفہوم یوں ہے: وہ کوشش کرتے ہیں کہ تقربِ پروردگار میں ایک دوسرے پر سبقت لے جائیں۔ گویا اطاعت پروردگار اور تقرب الٰہی کے راستے میں وہ ایک روحانی مقابلے میں شریک ہیں اور ہر ایک کی کوشش ہے کہ اس میدان میں دوسرے پر بازی لے جائے۔ وہ لوگ جو ایسے ہوں کیا معبود ہو سکتے ہیں اور کیا وہ خدا سے ہٹ کر کوئی ذاتی حیثیت رکھتے ہیں؟۔ (تشریحی نوٹ: اس صورت میں ”ایہم“صرف”یبتغون“ کی ضمیر کا بدل ہی ہو سکتا ہے)۔ رہی یہ تفسیرکہ وہ ہر اس وسیلہ سے تقرب الٰہی چاہتے ہیں جو خدا کے زیادہ قریب ہو، بہت بعید احتمال ہے کیونکہ ”ایہم“ میں ”ہم“ کی ضمیر کہ جو عام طور پر جمع مذکر کے لیے ہوتی ہے اس معنی سے مناسبت نہیں رکھتی بلکہ اس طرح تو ”ایہا“ ہونا چاہہے تھا۔ (اس سے قطع نظر”ایہم اقرب“ مبتداء اور خبر کی صورت میں ہے حالانکہ اس معنی کے مطابق مفعول کی صورت میں یا مفعول سے بدل کی شکل میں ہونا چاہیے۔ (غور کیجئے گا)۔

”وسیلہ“ کیا ہے؟

لفظ ”وسیلہ“ قرآن مجید میں دو مواقع پر استعمال ہوا ہے۔ ایک آیات بالا میں اور دوسرا سورہ مائدہ کی آیہ ۳۵ میں۔ جیسا کہ ہم سورہ مائدہ کی آیہ ۳۵ کے ذیل میں کہہ چکے ہیں ”وسیلہ“ قرب حاصل کرنے کے معنی میں یا اس چیز کے معنی میں جو قرب کا باعث بنے استعمال ہوتا ہے یا پھر اس کا مطلب ہے وہ نتیجہ جو قرب سے حاصل ہو۔ اس طرح سے ”وسیلہ“ ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے جس میں ہر اچھا کام اور ہر اچھی صفت شامل ہے کیونکہ یہ سب چیزیں قربِ پروردگار کا موجب ہیں۔ نہج البلاغہ کے خطبہ ۱۱۰ میں اس سلسلے میں حضرت علی علیہ السلام کے انتہائی پُر مغز جملے ہیں: بہترین وسیلہ کہ جس سے بندے قربِ خدا چاہتے ہیں خدا پر ایمان، قیام نماز، ادائیگی زکوٰة، ماہِ رمضان کے روزےن حج و عمرہ، صلہٴ رحمی، راہ خدا میں پنہاں و آشکار انفاق اور تمام نیک اعمال ہیں کہ جو انسان کو زوال اور پستی سے نجات دیں۔ (تشریحی نوٹ: تلخیص خطبہ ۱۰۰ نہج البلاغہ۔ اس کی تشریح ہم تفسیر نمونہ جلد ۴ ص ۲۷۶ (اردو ترجمہ) پر کر چکے ہیں)۔ اسی طرح نبیوں، خدا کے نیک بندوں اور اس کی بارگاہ کے مقرب لوگوں کی شفاعت بھی اسی کے تقرب کا ایک وسیلہ ہے اور اس شفاعت کو آیاتِ قرآن میں صراحت سے بیان کیا گیا ہے۔ غلط فہمی نہ ہو- بارگاہ ِپروردگار کے مقرب لوگوں سے توسل سے یہ مراد نہیں کہ انسان نبی یا امام سے مستقلاً تقاضا کرے یا اس مفہوم میں ان سے کسی مشکل کا حل چاہے بلکہ مقصد یہ ہے کہ ان کے راستے پر چلے، اُن کے پروگراموں سے ہم آہنگ ہو جائے اور ان کے مقام و منزلت کا واسطہ دے کر خدا کو پکارے تاکہ خدا شفاعت و سفارش کی اجازت دے۔ (تشریحی نوٹ: مزید و ضاحت کے لیے تفسیر نمونہ جلد ۴ ص ۲۷۷ (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع فرمائیں)۔

58
17:58
وَإِن مِّن قَرۡيَةٍ إِلَّا نَحۡنُ مُهۡلِكُوهَا قَبۡلَ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ أَوۡ مُعَذِّبُوهَا عَذَابٗا شَدِيدٗاۚ كَانَ ذَٰلِكَ فِي ٱلۡكِتَٰبِ مَسۡطُورٗا
قیامت سے پہلے ہم ہر شہر اور آبادی کو ہلاک کردیں گے،یا (اگر گنہگار ہیں تو) انہیں سخت عذاب میں گرفتار کریں گے یہ کتاب الٰہی (لوح محفوظ) میں ثبت ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔

59
17:59
وَمَا مَنَعَنَآ أَن نُّرۡسِلَ بِٱلۡأٓيَٰتِ إِلَّآ أَن كَذَّبَ بِهَا ٱلۡأَوَّلُونَۚ وَءَاتَيۡنَا ثَمُودَ ٱلنَّاقَةَ مُبۡصِرَةٗ فَظَلَمُواْ بِهَاۚ وَمَا نُرۡسِلُ بِٱلۡأٓيَٰتِ إِلَّا تَخۡوِيفٗا
ہمارے لئے کوئی امر مانع نہیں کہ ہم (بہانہ ساز لوگوں کے تقاضوں پر) یہ معجزات بھیجتے سوائے اس کے کہ گزرے ہوئے لوگوں نے ان کی تکذیب کی‘ (انہی میں سے )ثمود کو ہم نے ناقہ دیا (اور وہ ایسا معجزہ تھا ) جو واضح اور روشن تھا، لیکن انہوں نے اس پر ظلم کیا (اور ناقہ کو ہلاک کر دیا) ہم معجزات صرف ڈرانے (اور اتمام حجت) کیلئے بھیجتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔

60
17:60
وَإِذۡ قُلۡنَا لَكَ إِنَّ رَبَّكَ أَحَاطَ بِٱلنَّاسِۚ وَمَا جَعَلۡنَا ٱلرُّءۡيَا ٱلَّتِيٓ أَرَيۡنَٰكَ إِلَّا فِتۡنَةٗ لِّلنَّاسِ وَٱلشَّجَرَةَ ٱلۡمَلۡعُونَةَ فِي ٱلۡقُرۡءَانِۚ وَنُخَوِّفُهُمۡ فَمَا يَزِيدُهُمۡ إِلَّا طُغۡيَٰنٗا كَبِيرٗا
وہ وقت یاد کر جب ہم نے تجھ سے کہا کہ تیرا پروردگار لوگوں پر پوری طرح محیط ہے (اور ان کی کیفیت سے پوری طرح آگاہ ہے) ہم نے جو خواب تجھے دکھایا تھا وہ صرف لوگوں کی آزمائش کیلئے تھا۔اسی طرح جس شجر ملعونہ کا ہم نے قرآن میں ذکر کیا ہے ہم انہیں ڈراتے (اور تنبیہ کرتے) ہیں، لیکن ان کے طغیان و سر کشی کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہیں ہوتا۔

بہانہ سازوں کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرو

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

پہلے مشرکین سے توحید و معاد کے بارے میں گفتگو تھی۔ زیرِ بحث پہلی آیت میں بیدار کرنے کے انداز میں انہیں پند و نصیحت کی گئی ہے۔ اس میں ان کی نگاہِ عقل کے سامنے اس دنیا کے فانی ہونے کو مجسم کیا گیا ہے تاکہ وہ جان لیں کہ یہ دنیا سرائے فانی ہے اور سرائے بقا کوئی دوسری جلہ ہے۔ مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے اعمال کے نتائج کا سامنا کرنے کے لیے خود کو تیار کر لیں۔ ارشاد ہوتا ہے: روئے زمین پر کوئی ایسی آبادی نہیں جس روزِ قیامت سے قبل ہم ہلاک نہ کریں یا اسے عذابِ شدید میں گرفتار نہ کریں (وَإِنْ مِنْ قَرْیَةٍ إِلاَّ نَحْنُ مُھْلِکُوھَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیَامَةِ اَوْ مُعَذِّبُوھَا عَذَابًا شَدِیدًا)۔ ستمگروں، بدکاروں اور سرکش باغیوں کو غذابِ شدید کے ذریعے ہلاک کر دیں گے اور دوسرے طبعی موت یا عام حوادث کا سامنا کریں گے۔ آخر کار یہ دنیا ختم ہو جائے گی اور سب راہِ فنا اختیار کریں گے اور یہ ایک تسلیم شدہ اور قطعی اصول ہے کہ جو کتابِ الٰہی میں ثبت ہے ( کَانَ ذٰلِکَ فِی الْکِتَابِ مَسْطُورًا)۔ یہ کتاب وہی لوح محفوظ، پروردگار کا علم بے پایان اور عالم ہستی میں اس کے ناقابلِ تغیّر قوانین کا مجموعہ ہے۔ اس قطعی اور ناقابل تغیّر قوانین کا مجموعہ ہے۔ اس قطعی اور ناقبال تغیّر کتاب الٰہی کی طرف توجہ کرتے ہوئے گمراہوں، ستمگروں اور آلودہ مشرکین کو ابھی سے اپنے اعمال کے انجام کا اندازہ کرلینا چاہیے، انھیں جان لینا چاہیے کہ اگر وہ اس جہان کے اختتام تک زندہ رہے تو تھی آخرکار ان کے لئے فنا ہے اور اس کے بعد انھیں حساب اور جزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہاں مشرکین کا ایک اعتراض باقی رہ جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اچھا، ہمیں کوئی اعتراض نہیں، ہم ایمان لے آئیں گے لیکن ایک شرط کے ساتھ اور وہ یہ کہ ہم جس معجزے کی فرمائش کریں پیغمبر اسلام وہ پیش کریں اور درحقیقت ہمارے عذر بہانوں کے سامنے سر جھکادیں۔ قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے: ان معجزات کی تکذیب کی تھی (وَمَا مَنَعَنَا اَنْ نُرْسِلَ بِالْآیَاتِ إِلاَّ اَنْ کَذَّبَ بِھَا الْاَوَّلُونَ)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ وہ معجزات جو صداقتِ پیغمبر کی دلیل ہیں کافی مقدار میں بھیجے جا چکے ہیں اور اب تمھارے من پسند کے معجزات اور تقاضے ایسے نہیں ہیں کہ جن سے موافقت کی جائے کیونکہ تم مشاہدہ کے بعد بھی ایمان نہیں لاوٴگے، اگر تم پوچھو کہ اس کی دلیل کیا ہے تو اس کی دلیل ان گزشتہ امتوں کا طرزِ عمل ہے جن کی حالت بالکل تم جیسی تھی وہ بھی بہانے تراشنے اور طرح طرح کے تقاضے کرتے تھے لیکن بعد میں وہ ایمان نہ لائے۔ اس کے بعد قرآن اس کی ایک واضح مثال بیان پیش کرتا ہے: ہم نے قوم ثمود کو ایک ناقہ دیا کہ جو واضح کرنے والا تھا (وَآتَیْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً)۔ یہ اوٹنی تھی جو حکم خدا سے پہاڑ سے برآمد ہوئی، کیونکہ ”انھوں نے ایسا ہی معجزہ طلب کیا“ یہ ایک واضح اور واضح کرنے والا معجزہ تھا لیکن اس کے باوجود ایمان نہ لائے، ”انھوں نے اس ناقہ ظلم کیا“ اور اسے قتل کر دیا (فَظَلَمُوا بِھَا)۔ اصولی طور پر ہمارا یہ پروگرام نہیں کہ جو شخص بھی معجزے کی فرمائش کرے ہمارا پیغمبر اسے قبول کرلے ”ہم تو لوگوں کو سوائے متنبہ کرنے اور ان پر اتمام حجّت کرنے کے، آیات ومعجزات نہیں بھیجتے“ (وَمَا نُرْسِلُ بِالْآیَاتِ إِلاَّ تَخْوِیفًا)۔ ہمارے انبیاء معجزہ گر لوگ نہیں کہ بیٹھ جائیں اور جو شخص بھی کوئی بھی کوئی فرمائشِ معجزہ کرے اور اسے پورا کرتے ہیں، ان کا فریضہ بس یہ ہے کہ لوگوں تک دعوتِ الٰہی پہنچائیں، تعلیم وتربیت کریں اور حکومتِ عدل قائم کریں البتہ خدا سے اپنے رابطے کے اثبات کے لئے اس قدر معجزے پیش کریں کہ جو کافی ہوں اور بس۔ اس کے بعد دشمنوں کی سختی اور ہٹ دھرمی کے مقابلے میں، خداوند تعالیٰ اپنے رسول کی دلجوئی کرتا ہے اور کہتا ہے: تیری باتیں سُن کر اگر یہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ”وہ وقت یاد کرو جب ہم نے تجھ سے کہا تھا کہ تیرا پروردگار لوگوں کی کیفیت سے بخوبی آگاہ ہے اور ان پر احاطہٴ علمی رکھتا ہے“(وَإِذْ قُلْنَا لَکَ إِنَّ رَبَّکَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ)۔ ہمیشہ یہ ہوا کہ انبیاء کی دعوت سُن کر کچھ پاک دل لوگ ایمان لے آئے جبکہ متعصب اور ہٹ دھرم لوگ بہانہ تراشی، مخالفت اور دشمنی کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے، گزشتہ زمانے میں بھی ایسا ہی تھی اور اب ویسا ہی ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: ہم نے جو خواب تجھے دکھایا وہ صرف لوگوں کی آزمائش کے طور پر تھا ( وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْیَا الَّتِی اَرَیْنَاکَ إِلاَّ فِتْنَةً لِلنَّاسِ)۔ اسی طرح جس شجرہٴ ملعونہ کی طرف ہم نے قرآن میں اشارہ کیا ہے وہ بھی لوگوں کی آزمائش کے لئے ہے (وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِی الْقُرْآنِ)۔ آخر میں مزید فرمایا گیا ہے: ان کے دل اندھے اور ہٹ دھرم لوگوں کو ہم مختلف طریقوں سے ڈراتے ہیں لیکن اصلاحی اور تربیتی پروگرام ان کی سرکشی کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتے (وَنُخَوِّفُھُمْ فَمَا یَزِیدُھُمْ إِلاَّ طُغْیَانًا کَبِیرًا)۔ کیونکہ انسان کا دل قبولِ حق کے لئے آمادہ نہ ہو تو صرف یہ کہ حق بات اس پر اثر نہیں کرتی بلکہ عام طور پر اس کا الٹا نتیجہ نلکتا ہے اور اس کی سختی واصرار کی وجہ سے ان کی گمراہی اور ہٹ دھرمی بڑھ جاتی ہے (غور کیجئے گا)۔

چند اہم نکات: ۱۔ رسول الله کا خواب اور شجرہٴ ملعونہ:

اس ”روٴیا“ کے بارے مفسّرین میں بہت اختلاف ہے: (الف)کچھ مفسّرین کا کہنا ہے کہ ”روٴیا“ یہاں خواب کے معنی میں نہیں ہے بلکہ آنکھ کا واقعی مشاہدہ ہے۔ ان مفسّرین نے اس واقعہٴ معراج کی طرف اشارہ سمجھ ہے کہ جس کا ذکر اسی سورہٴ کی ابتداء میں آیا ہے۔ اس تفسیر کے مطابق قرآن کہتا ہے: معراج کا واقعہ لوگوں کے لئے آزمائش تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب دن چڑھا تو رسول الله نے لوگوں کو واقعہٴ معجراج سنایا، اس پر بہت شور اٹھا۔ دشمن اس کا مذاق اڑانے لگے، کمزور ایمان والے اس پر شک کرنے لگے اور حقیقی مومنین نے اسے مکمل طور پر قبول کر لیا، کیونکہ قدرتِ الٰہی کے سامنے یہ سب مسائل معمولی ہیں۔ اس تفسیر پر ایک ہی اہم اعتراض ہے اور وہ یہ کہ لفظ ”روٴیا“ عام طور پر خواب کے معنی میں ہے نہ کہ جاگتے ہوئے دیکھنے کے معنی میں۔ (ب) ابنِ عباس سے منقول ہے کہ ”روٴیا“ اس خواب کی طرف اشارہ ہے جو آپ نے (ہجرت کے چھٹے برس) حدیبیہ کے سال میں مدینہ میں دیکھا تھا اور لوگوں کو بشارت دی تھی کہ تم جلدی ہی قریش پر فتح پاوٴگے اور بڑے امن وآرام سے مسجد الحرام میں داخل ہو جاوٴ گے لیکن ہم جانتے ہیں کہ اس سال اس خواب نے عملی صورت اختیار نہ کی بلکہ دو سال بعد فتح مکہ کے موقع پر صورزت پذیر ہوا لیکن اتنی تاخیر کی وجہ سے مومنین آزمائش میں سے گزرے اور کمزور ایمان والے شک میں پڑ گئے حالانکہ رسول الله نے ان سے بالصراحت فرمایا کہ میں نے تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ تم اس سال مکّہ جاوٴگے بلکہ مَیں نے کہا تھا کہ جلد ایسا ہو گا (اور اسی طرح ہوا)۔ اس تفسیر پر یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ یہ سورہٴ بنی اسرائیل مکّی سورتوں میں سے ہے اور حدیبیہ کا واقعہ ہجرت کے چھٹے سال میں ہوا۔ (ج) بعض سُنی اور شیہ مفسّرین نے نقل کیا ہے کہ یہ ایک مشہور خواب کی طرف اشارہ ہے جس میں رسول الله نے دیکھا کہ بندر آپ کے منبر پر اُچھل کود رہے ہیں، اس پر آپ بہت غمگین ہوئے اور اس واقعہ کے بعد آپ بہت کم ہنستے تھے۔ (ان بندروں سے بنی امیہ مراد لی گئی ہے، وہ یکے بعد دیگرے رسول الله کی جگہ اور منبر پر بیٹھتے انھوں نے اس میں ایک دوسرے کی تقلید کی، وہ بے حیثیت افراد تھے۔ وہ اسلامی حکومت اور خلافتِ رسول الله کو تباہی کی طرف لے گئے)۔ یہ تفسیر فخر الدین رازی نے ”تفسیر کبیر“ میں اہل سنت کے مشہور مفسّر قرطبی نے تفسیر الجامع میں طبرسی نے مجمع البیان میں اور متعدد دیگر مفسرین نے نقل کی ہے۔ مرحوم فیض کاشانی تفسیر صافی میں کہتے ہیں کہ یہ روایت عامہ اور خاصہ میں مشہور روایات میں سے ہے۔ البتہ یہ تینوں تفسیریں ایک دوسرے کے منافی ہیں، ہو سکتا ہے یہ تینوں آیت میں جمع ہوں لیکن جیسا کہ ہم نے کہا ہے دوسری تفسیر سورہ کے مکّی ہونے سے مناسبت نہیں رکھتی۔ ”شجرہٴ ملعونہ“ کے بارے میں اسی طرح متعدد تفاسیر ہیں: الف) قران میں جس ”شجرہٴ ملعونہ“ کا ذکر ہے وہ ”شجرہٴ زقوم“ ہے۔ یہ وہ درخت ہے جو سورہٴ صافّات کی آیہ۶۴ کے مطابق جہنّم کی بنیاد میں اُگے گا۔ اس کا پھل ناگوار اور رنج آور ہو گا، قرآنی الفاظ ہیں: إِنَّھَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِی اَصْلِ الْجَحِیمِ ”یہ وہ درخت ہے جو جہنّم کی بنیاد سے اٹھے گا“۔ سورہٴ دخان کی آیت ۴۶ اور ۴۷ کے مطابق یہ درخت گنہگاروں کی خوراک ہے۔ یہ اس دنیا کے کھانوں کی طرح نہیں ہے بلکہ یہ پگھلی ہوئی دھات کی طرح دل میں جوش مارے گا، اس کی مکمل تفسیر انشاء الله سورہٴ دخان کی آیات کے ذیل میں آئے گی۔ اس میں شک نہیں کہ ”شجرہٴ زقوم“ اس دنیا کے درختوں سے کوئی مشابہت نہیں رکھتا، اسی بناء پر آگ کے اندر سے اُگے گا۔ واضح ہے کہ اس قوم کے مسائل کے جو دوسرے جہان سے مربوط ہیں ہمارے لئے تو ایک خیالی تصویر کی طرح ہیں جسے دور سے دیکھا جائے تو بس سیاہی سی معلوم ہوتی ہے۔ مشرکینِ قریش قرآن کی اس تعبیر کا مذاق اڑاتے تھے، ابوجہل کہتا تھا: محمد تمھیں ایسی آگ کی دھمکی دیتا ہے جو پتھروں کو جلائے گی اور اس کا خیال ہے کہ دوزخ میں درخت اُگے گا۔ نیز یہ بھی منقول ہے وہ تمسخر کے طور پر کجھوریں اور مکھن منگواتا، انھیں کھاتا اور اپنے ساتھیوں سے کہتا: اسے کھاوٴ یہی زقوم ہے۔ (تفسیر روح المعانی، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں)۔ اسی بناء پر قران زیرِ بحث آیات میں شجرہٴ ملعونہ کا لوگوں کی آزمائش کے ذریعے کے طور پر تعارف کرواتا ہے کیونکہ ہٹ دھرم مشرک اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور سچّے مومنین سرتسلیم خم کرتے ہیں۔ ممکن ہے سوال کیا جائے کہ یہ درخت قرآن میں ”شجرہٴ ملعونہ“ کے نام سے نہیں آیا، اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے مراد کھانے والوں پر لعنت ہو، علاوہ ازیں لعنت رحمتِ خدا سے دوری کے علاوہ کچھ نہیں اور واضح ہے کہ ایسا درخت رحمتِ پروردگار سے بہت دور ہے۔ ب) ”شجرہٴ ملعونہ“ سے مراد سرکش یہودی قوم ہے، وہ ایسے درخت کی طرح ہیں جس کی بہت شاخیں اور پتّے ہیں لیکن بارگاہِ الٰہی میں دھتکارے ہوئے ہیں۔ ج) بہت سے شیعہ اور سُنّی تفاسیر میں منقول ہے کہ شجرہٴ ملعونہ بنی امیہ ہیں۔ فخرا رازی نے مشہور اسلامی مفسّر ابن عباس سے اس سلسلے میں اپنی تفسیر میں ایک رویات نقل کی ہے: یہ تفسیر رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے خواب کے بارے میں مذکورہ بالا روایت سے بھی مناسبت رکھتی ہے۔ نیز اس حدیث سے بھی مناسبت رکھتی ہے جو حضرت عائشہ سے منقول ہے، انھوں نے مروان کی طرف منہ کر کے کہا: لعن الله اٴباک واٴنت فی صلبہ فانت بعض من لعنہ الله- الله نے تیرے باپ پر لعنت کی جبکہ تُو اس کی صلب میں تھا لہٰذا تُو اس کا ایک حصّہ ہے جس پر خدا نے لعنت کی ہے۔ (بحوالہ: تفسیر قرطبی، ج۶، ص۳۹۰۲ اور تفسیر فخر رازی، ج۲۰، ص۲۳۷)۔ یہاں پھر ایک سوال سامنے آتا ہے کہ قرآن میں کہاں بنی امیہ کے شجرہ پر لعنت ہوئی ہے۔ جواب یہ ہے کہ سورہ ابراہیم میں آیہ ۲۶ میں جہاں شجرہٴ خبیثہ کا ذکر آیا ہے۔ اگر شجرہٴ خبیثہ کے وسیع مفہوم کی طرف نظر رکھی جائے اور اس آیت کی تفسیر میں وارد روایات کہ جن میں بنی امیہ کو شجرہٴ خبیثہ قرار دیا گیا ہے کہ طرف توجہ کی جائے اور یہ دیکھا جائے کہ ”خبیثہ“ معنی کے لحاظ سے لفظ ”ملعونہ“ کے ساتھ لازم و ملزوم ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ قرآن میں بنی امیہ کے شجرہ خبیثہ پر لعنت ہوئی ہے۔(بحوالہ: نور الثقلین، ج۲، ص۵۳۸)۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ یہ تمام تر یا زیادہ تر تفاسیر ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں ممکن ہے ہر منافق، خبیث اور درگاہِ الٰہی سے راندہ ہوا شجرہٴ ملعونہ کے مقہوم میں شامل ہو اور خصوصاً بنی امیہ، سنگدل، ہٹ دھرم یہودی اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے تمام لوگ اس سے مراد ہوں اور ہو سکتا ہے شجرہٴ زقوم دوسرے جان میں انہی شجراتِ خبیثہ کی تجسیم ہو اور یہ سب شجرات خبیثہ اِس جہان میں سچّے مومنین کی آزمائش اور امتحان کا باعث ہوں۔ وہ یہودی کہ جو آج کل حساس اسلامی مراکز پر غاصبانہ طور پر مسلط ہوں اور ہر لمحہ دنیا کے کسی نہ کسی گوشے میں آگ لگا رہے ہیں اور جو کچھ جرائم اور بے انصافیاں کر رہے ہیں، اسی طرح وہ منافقین جن کے ان سے سیاسی یا غیر سیاسی روابط ہیں اور تمام آمر حکمران کہ جنھوں نے اسلام کا راستہ چھوڑ کر اسلامی ممالک میں بنی امیہ کا راستہ اپنا رکھا ہے اور معاشرے کے منظر سے نیک لوگوں کو دُور کر رکھا ہے، جنھوں نے پست اور کمینے افراد کو عوام کے سروں پر مسلط کر رکھا ہے، وہ کہ جو داستانِ حق پر مظالم ڈھا رہے ہیں اور سچّے مجاہدین کو شہید کر رہے ہیں، وہ جنھوں نے ایسے افراد کے ہاتھ میں معاشرے کی باگ ڈور دے رکھی ہے جو دَورِ جاہلیت کی یادگار ہیں _ یہ سب ”شجرہٴ ملعونہ“ کے شاخ وبرگ ہیں اور لوگوں کے لئے آزمائش اور امتحان کا باعث ہیں۔

۲۔ منکرینِ اعجاز کی عذر تراشیاں

ہمارے زمانے کے بعض بے خبر افراد یہ راگ الاپتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کا قرآن کے علاوہ کوئی معجزہ نہ تھا، اپنی اس بات کے لئے وہ کئی طرح کے بہانے تراشتے ہیں، وہ ”وَمَا مَنَعنَا ان نُرسِلَ بِالآیاتِ---“ کو بھی اس بات کی دلیل بتاتے ہیں کہ پیغمبر اسلام نے گزشتہ انبیاء کے برخلاف کوئی معجزہ پیش نہیں کیا لیکن تعجب کی بات ہے کہ وہ آیت کے ابتدائی حصّے کا تو ذکر کرتے ہیں لیکن آخری حصّے کو چھوڑ دیتے ہیں جس میں ہے کہ: وَمَا نُرْسِلُ بِالْآیَاتِ إِلاَّ تَخْوِیفًا ہم آیات صرف مخالفین کو ڈارنے کے لئے بھیجتے ہیں۔ یہ تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ معجزات دو قسم کے ہیں۔ ایک قسم ان معجزات کی ہے جو دعوتِ رسول کی صداقت ثابت کرنے کے لئے، اہل ایمان کی تشویق کے لئے اور منکرین کو ڈرانے کے لئے ضروری ہیں۔ جبکہ دوسری قسم ان من پسند معجزات کی ہے جن کا تقاضا ہے بہانہ جوئی کے طور پر کرتے تھے۔ تاریخ انبیاء میں اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں، انبیاء نے ایسے معجزات منکرین کے سامنے پیش کئے لیکن وہ ہرگز ایمان نہ لائے۔ اسی لیے وہ لوگ خدائی عذاب میں گرفتار ہوئے کیونکہ ان مجوزہ معجزات کے ظہور پذیر ہونے کے باوجود وہ ایمان نہ لائے۔ لہٰذا فوری عذاب کے مستحق قرار پائے۔ اس بناء پر مندرجہ بالا آیت میں قرآن جس چیز کی پیغمبر اسلام کے بارے میں نفی کر رہا ہےوہ صرف دوسری قسم کے معجزات ہیں نہ کہ پہلی قسم کے معجزات کی کیونکہ ان کا دعویٰ نبوت کے ثبوت کے لئے ناگزیر ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ قرآن خود تنہا ایک واضح اور جاوداں معجزہ ہے اور اگر اس کے علاوہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کا کوئی اور معجزہ نہ بھی ہوتا تب بھی آپ کی دعوت صداقت ہمارے لئے ثابت ہو سکتی تھی لیکن اس میں شک نہیں کہ قران آپ کا روحانی اور معنوی معجزہ ہے اور اہلِ فکر ونظر کے لئے یہ بہترین شاہد ہے لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس معجزے کو اگر دوسرے محسوس مادی معجزات کے ساتھ ملا دیا جائے تو عامة الناس کے لئے انتہائی اہم ہو جائے بالخصوص جبکہ قرآن نے دیگر انبیاء کے لئے ایسے معجزے کا بارہا ذکر کیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ان معجزات کا ذکر اس بات کا سبب ہے کہ لوگ آپ سے تقاضا کریں کہ آپ کیسے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ سب انبیاء الٰہی سے افضل اور آخری پیغمبر ہیں جبکہ ان کے معجزات میں سے چھوٹا یا معجزہ بھی پیش نہیں کر سکے۔ یقیناً اس سوال کا مطمئن کرنے والا جواب اس کے علاوہ نہ تھا کہ پیغمبرِ اکرم انبیائے سلف کے معجزات کا نمونہ پیش کریں اور متواتر اسلامی تاریخ بھی کہتی ہے کہ رسول الله نے ایسے معجزات دکھائے۔ قرآن کی متعدد آیات میں ان معجزات کے نمونے موجود ہیں، مثلاً آئندہ کے واقعات کے بارے میں مختلف پیش گوئیاں، دشمن کے خلاف فرشتوں کا لشکر اسلام کی مدد کرنا اسی طرح دیگر معجزات خصوصاً وہ معجزات جو اسلامی جنگوں میں وقوع پذیر ہوئے۔

۳۔ گزشتہ لوگوں کے انکار کا آئندہ لوگوں سے تعلق

مندرجہ بالا آیات میں قرآن کہتا ہے کہ گزشتہ لوگوں نے چونکہ معجزات کا طالبہ کیا تھا اور ان کے ظہور پذیر ہونے کے باوجود انھوں نے تکذیب کی لہٰذا اس سلسلے میں اب تمھارے مطالبے تسلیم نہیں کئے جا سکتے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا گزشتہ لوگوں کی تکذیب بعد کی نسلوں کی محرومیت کا سبب بن سکتی ہے؟ جو کچھ سطور گزشتہ میں کہا گیا ہے اس سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے۔ یہ ایک رائج طریقہ ہے کہ مثلاً ہم کہتے ہیں کہ ہم تمھاری بہانہ سازیوں کو نہیں مانتے، اگر دوسرا پوچھے کہ کیوں؟ تو ہم کہتے ہیں کہ پہلے بھی ایسا ہو چکا ہے کہ لوگوں نے ایسے تقاضے کئے تھے مگر بعد میں حق کو تسلیم نہیں کیا تمھاری کیفیت بھی انھی جیسی ہے۔ اس کے علاوہ تم ان کی روش کی تائید کرتے ہو اور عملی طور پر تم نے ثابت کیا ہے کہ تمہارا مقصد تحقیق وجستجو نہیں ہے بلکہ تو تم صرف بہانے تراشتے ہو اور پھر ہٹ دھرمی، ڈھٹائی اور انکار پر باقی رہتے ہو لہٰذا تمھارے تقاضوں کا کچھ نتیجہ نہیں نکلے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جب رسول الله نے خبر دی کہ جہنم کی گہرائیوں میں ایک درخت اُگے گا کہ جو ان اوصاف کا حامل ہو گا اور اس سے اہلِ دوزخ کو غذا حاصل ہو گی، تو وہ فوراً تمسخر اڑانے لگے، کبھی کہتے کہ ”زقوم“ کھجور اور مکھن کے علاوہ کچھ نہیں، آوٴ یہ میٹھی اور روغنی غذا ”زقوم“ کی یاد میں کھائیں اور کبھی کہتے کہ جس دوزخ کے پتھروں میں سے اُگے گی اس میں درخت کیسے اُگے گا حالانکہ واضح تھا کہ وہ درخت اس جہان کے درختوں کی مانند نہیں ہے۔

61
17:61
وَإِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلَـٰٓئِكَةِ ٱسۡجُدُواْ لِأٓدَمَ فَسَجَدُوٓاْ إِلَّآ إِبۡلِيسَ قَالَ ءَأَسۡجُدُ لِمَنۡ خَلَقۡتَ طِينٗا
وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ تو ان سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے کہ جس نے کہا : کیا ایسے کو سجدہ کرو جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 65 کے تحت ملاحظہ کریں۔

62
17:62
قَالَ أَرَءَيۡتَكَ هَٰذَا ٱلَّذِي كَرَّمۡتَ عَلَيَّ لَئِنۡ أَخَّرۡتَنِ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ لَأَحۡتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُۥٓ إِلَّا قَلِيلٗا
(پھر) اس نے کہا یہ شخص جسے تو نے مجھ پر ترجیح دی ہے اگر تو نے مجھے قیامت تک زندہ رکھا،تو تھوڑے سے افراد کے سوا اس شخص کی ساری اولاد کو گمراہ کرونگا اور ان کی بیخ کنی کروں گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 65 کے تحت ملاحظہ کریں۔

63
17:63
قَالَ ٱذۡهَبۡ فَمَن تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمۡ جَزَآءٗ مَّوۡفُورٗا
( خدانے) فرمایا: نکل جا! ان میں سے جو شخص بھی تیری اتباع کرے گا اس کی سزا جہنم ہے اور یہ بہت سخت سزا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 65 کے تحت ملاحظہ کریں۔

64
17:64
وَٱسۡتَفۡزِزۡ مَنِ ٱسۡتَطَعۡتَ مِنۡهُم بِصَوۡتِكَ وَأَجۡلِبۡ عَلَيۡهِم بِخَيۡلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكۡهُمۡ فِي ٱلۡأَمۡوَٰلِ وَٱلۡأَوۡلَٰدِ وَعِدۡهُمۡۚ وَمَا يَعِدُهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ إِلَّا غُرُورًا
ان میں سے جس پر تیرا بس چلے اسے آواز دے کر ابھارے اور اپنے سوار اور پیادہ لشکر کو ان پر لگا دے اور مال و اولاد میں ان کے ساتھ شریک ہو، اور ان سے( جھوٹے) وعدے کر، لیکن شیطان کا وعدہ سوائے جھوٹ اور فریب کے کچھ نہیں ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 65 کے تحت ملاحظہ کریں۔

65
17:65
إِنَّ عِبَادِي لَيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطَٰنٞۚ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ وَكِيلٗا
(لیکن جان لے) تو ہرگز میرے بندوں پر تسلط حاصل نہیں کر کسے گا یہی کافی ہے کہ تیرا پروردگار ان کا محافظ و وکیل ہے۔

شیطان کے جال

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

یہ آیات ابلیس کی رُوگردانی کےبارے میں ہیں۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے آدمؑ کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو اس نے انکار کردیا۔ علاوہ ازیں، اس میں اس کے بُرے انجام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ نیز اس واقعے کے بعد کے کچھ امور کا بھی ذکر ہے۔ قبل ازیں ہٹ دھرم مشرکین سے متعلق مباحث تھیں۔ ان کے بعد شیطان کے بارے میں یہ آیات اس طرف اشارہ ہیں کہ شیطان استکبار اور کفر و حصیان کا مکمل نمونہ نہ تھا۔ دیکھو کہ اس کا کیا انجام ہوا لہذا تم کہ جو اس کے پیروکار ہو تمہارا ابھی وہی انجام ہو گا۔ علاوہ ازیں، یہ آیت اس طرف بھی اشارہ کرتی ہیں کہ یہ دل کے اندھے مشرکین کہ جو خلاف حق راستے پر ڈٹے ہوئے ہیں تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ شیطان کئی طریقوں سے انہیں گمراہ کرنے کے درپے ہے اور درحقیقت وہ اپنے اس پروگرام پر عمل پیرا ہے کہ جس کا اعلان اس نے ان الفاظ میں کیا تھا: میں اکثر اولاد آدم کو گمراہ کروں گا۔ پہلے ارشاد فرمایا گیا ہے: وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب سجدہ ریز ہو گئے (وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَآئِكَةِ اسْجُدُواْ لِآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِيسَ)۔ جیسا کہ خلقتِ آدمؑ سے مربوط آیات کی تفسیر میں ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ یہ سجدہ ایک طرح کا خضوع اور اظہارِ احترام تھا اور اس سے خلقتِ آدمؑ کی عظمت اور دیگر مخلوقات کی نسبت ان کے امتیازی مقام کے اظہار کے طور پر تھا اور یا یہ عبادت کے طور پر خدا کو سجدہ تھا کہ اُس نے ایسی عجیب و غریب مخلوق پیدا کی ہے۔ ہم یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اگرچہ یہاں ابلیس کا ذکر فرشتوں کے ساتھ آیا ہے لیکن قرآن کی شہادت کے مطابق ان میں سے نہیں تھا بلکہ بندگی خدا کے باعث ان کی صف میں جا پہنچا تھا۔ وہ جنات میں سے تھا اور اس کی خلقت مادی تھی۔ ابلیس کے سر پر غرور و تکبر سوار تھا۔ خود غرضی و خود بینی نے اس کی عقل و ہوش پر پردہ ڈال رکھا تھا۔ اسے گمان تھا کہ مٹی آگ سے بہت کم حیثیت کی حامل ہے جبکہ مٹی تمام برکات کا منبع اور سرچشمہ حیات ہے۔ اس نے اعتراض کے لہجے میں بارگاہ خدا وندی میں کہا: کیا میں ایسے شخص کو سجدہ کروں جسے تو نے گیلی مٹی سے پیدا کیا ہے (قَالَ أَأَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِينًا)۔ جس وقت اس نے دیکھا کہ فرمانِ خدا کے سامنے غرور و تکبر اور سرکشی کی وجہ سے وہ ہمیشہ کے لئے اس کی بارگاہِ مقدس سے دھتکار دیا گیا ہے تو اس نے عرض کیا، اگر تُو مجھے قیامت تک مہلت دے تو جسے تُو نے مجھ پر ترجیح دی ہے اور اعزاز بخشا ہے میں تھوڑے سے افراد کے سوا اس کی ساری اولاد کو گمراہ کردوں گا اور اس ک بیخ کنی کر دوں گا (قَالَ أَرَأَيْتَكَ هَـذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلاَّ قَلِيلاً)۔ (تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے کہا ہے کہ "أَرَأَيْتَكَ" کا کاف حرفِ خطاب ہے کہ جو تاکید کے طور پر آیا ہے اور"أَرَأَيْتَكَ" کا معنی "خبرّنی" (مجھے خبر دے) جس کا جواب محذوف ہے۔ تقدیر میں اس طرح تھا: جسے تو نے ترجیح دی ہے کیا اُس شخص کو تو نے دیکھا ہے؟ اگر مجھے زندہ رہنے دیا تو تُو دیکھے گا کہ میں اس کی اکثر اولاد کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔ دوسرا احتمال آیت کی ترکیب اور معنی کے لحاظ سے زیادہ صحیح معلوم ہونا ہے)۔ "أَحْتَنِكَنَّ"، "احتناک" کے مادہ سے کسی چیز کو جڑ سے اکھاڑ پھیکنے کے معنی میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ٹڈی دل رزاعت کو بالکل کھا جائے تو عرب کہتے ہیں: احتنک الجراد الزرع لہذا مذکورہ گفتگو کا مفہوم یہ ہے کہ میں معدود چند افراد کے سوا ساری اولادِ آدم کو تیرے جاد و اطاعت سے ہٹا دوں گا۔ یہ احتمال بھی ہے کہ "احتنکن" "حنک" کے مادہ سے زیر گلو اور زیر حلق کے معنی میں ہو۔ جس وقت جانور کی گردن میں رسی یا لگام ڈالتے ہیں تو عرب اسے حنتک الدابہ کہتے ہیں۔ اس بناء پر مذکورہ گفتگو کا مطلب یہ ہے کہ شیطان کہتا ہے کہ میں سب کی گردن میں وسو سے کی رسی ڈال دوں گا اور انہیں گناہ کے راستے کی طرف کھینچ لے جاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے شیطان کو مہلت دے دی گئی تاکہ ساری اولادِ آدم کے لئے میدان امتحان معرض وجود میں آ جائے اور حقیقی مومنین کی تربیت کا وسیلہ فراہم ہو جائے۔ کیونکہ حوادث کی بھٹی میں انسان ہمیشہ پختہ تر ہوتا ہے اور طاقتور دشمن کے مقابلے میں دلبر ہو جاتا ہے۔ فرمایا: نکل جا، ان میں سے جو لوگ تمہاری پیروی کریں گے ان کے سزا جہنم ہوگی اور یہ بہت سزا ہے (قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَاءً مَّوْفُورًا)۔ اس ذریعے سے آزمائش کا اعلان کیا گیا ہے اور آخر میں اس عظیم خدائی آزمائش میں کامیابی اور شکست کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ اس کے بعد شیطان کے ان ہتھکنڈوں، حربوں اور وسائل کا ذکر کیا گیا جن سے وہ کام لیتا ہے۔ اس سلسلے میں بہت واضح اور جاذب توجہ انداز میں فرمایا گیا ہے: ان میں سے ہر ایک کو اپنی آواز کے ذریعے تحریک کر سکتا ہے اور وسوسے میں ڈال سکتا ہے (وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ) اور اپنی آواز کے ذریعے اپنے سوار اور پیادہ لشکر کو ان کی طرف ہانک سکتا ہے وَأَجْلِبْ عَلَيْهِم بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ )۔ وہ ان کے اموال اور اولاد میں شریک ہو جاتا ہے (وَشَارِكْهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلادِ) اور اپنے جھوٹے وعدوں کے ذریعے انہیں فریب دیتا ہے (وَعِدْهُمْ)۔ اس کے بعد قرآن خبردار کرتا ہے: شیطان فریب، دھوکا اور غرور پر مبنی وعدوں کے علاوہ کچھ نہیں دیتا (وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلاَّ غُرُورًا)۔ پھر خدا اس سے کہتا ہے: لیکن جان لے کہ "میرے بندوں پر تیرا کچھ بس نہ چلے گا" (إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ)۔ اتنا ہی کافی ہے کہ تیرا پروردگار ان بندوں کا ولی و حافظ ہے (وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلاً)۔

چند اہم نکات: ۱۔ چند الفاظ کا مفہوم

"استفزز"، "استفزاز" کے مادہ سے تحریک کرنا اور ابھارنا کے معنی میں ہے۔ اس میں سریع اورسادہ تحریک کا مفہوم پنہاں ہے لیکن دراصل یہ لفظ قطع و برید کرنے کے معنی میں ہے۔ اسی لئے جب کوئی کپڑا یا لباس پھٹ جائے تو عرب کہتے ہیں: تفزز الثوب تحریک پانے اور برانگیختہ ہونے کے معنی حق سے قطع ہونے اور باطل کی طرف ملتفت ہو جانے کی وجہ سے ہے۔ "اجلب" "اجلاب" کے مادہ دراصل "جلبہ" یعنی سخت قسم کی چیخ و پکار کے معنی میں ہے۔ "اجلاب"کا معنی ہے شور و غل مچا کر ہانکنا اور چلانا۔ بعض روایات میں "جلب" سے منع کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زکوۃ جمع کرنے پر مامور شخص حق شرعی لینے کے لئے چرگاہ میں جائے تو چلائے نہیں کہ کہیں چراگاہ کے چوپائے وحشت زدہ ہو جائیں یا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ گھڑ سواری کے مقابلے میں شریک کوئی بھی دوسرے کے گھوڑے کے سامنے غل غپاڑہ نہ کرے تاکہ وہ خود دوڑ لگائے۔ (بحوالہ: مفردات راغب اور مجمع البیان کی طرف رجوع کریں)۔ "خیل" دو معانی میں آیا ہے۔ گھوڑوں کے معنی میں اور گھڑسواروں کے معنی میں۔ یہاں البتہ دوسرے معنی میں ہے اور سوار لشکر کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے برعکس "رجل" پیادہ لشکر کے معنی میں ہے۔ البتہ شیطان کا سوار اور پیادہ لشکر کسی باقاعدہ فوج کے مفہوم میں نہیں ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ خود اس کی اپنی جنس میں سے اور انسانوں میں سے بہت سے افراد گمراہی اور بےراہ روی پھیلانے کے لئے اس کے مددگار اور ساتھی ہیں۔ اس کے ان مددگاروں میں بعض زیادہ تیز اور زیادہ طاقتور ہیں کہ جو سوار لشکر کی طرح ہیں اور بعض نسبتاً سُست ہیں کہ جو پیادہ لشکر کی طرح ہیں۔

۲۔ وسوسے کے لیے شیطانی ذرائع

مندرجہ بالا آیات میں اگرچہ مخاطب شیطان ہے اور خداوند تعالیٰ تہدید آمیز لہجے میں اُس سے کہتا ہے کہ تجھ سے جو کچھ ہو سکتا ہے کرلے مختلف ذرائع سے بنی آدم کو گمراہ کرنے کے لئے اٹھ کھڑا ہو۔ لیکن یہ درحقیقت تمام انسانوں کے لئے تنبیہ اور بیداری کا الارم ہے۔ انہیں شیطانی ہتھکنڈوں سے آگاہ کیا گیا ہے اور انہیں بتایا گیا ہے کہ وہ کس طرح وسوسے پیدا کرتا ہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں شیطانی ذرائع کے چاراہم اور بنیادی حصوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور انسانوں سے فرمایا گیا ہے کہ وہ ان سے خبردار رہیں: الف۔ شیطان کا پہلا ہتھکنڈا پراپیگنڈا ہے: ابھی ہم نے پڑھا ہے: وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ بعض مفسرین نے اِس جملے سے صرف ہوس انگیز گانوں اور موسیقی کا مفہوم لیا ہے لیکن اس کا مفہوم وسیع تر ہے۔ اس میں سمعی اور صوتی ذرائع سے کیا جانے والا تمام تر گمراہ کن پراپیگنڈا شامل ہے۔ آج کی دنیا ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی دنیا ہے۔ آج کی دنیا وسیع سمعی وبصیری کی دنیا ہے۔ آج کی دنیا میں آواز کے ذریعے گمراہ کرنے کا مفہوم زیادہ واضح ہے۔ کیونکہ مشرق و مغرب میں شیطان اور شیطانی گروہ اس مؤثر ذریعے کو استعمال کر رہے ہیں۔ یہ لوگ بہت زیادہ دولت اسی راستے پر خرچ کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو راہِ حق سے گمراہ کر سکیں۔ وہی راہِ حق کو جو حریت و استقلال اور ایمان و تقویٰ کی راہ ہے۔ وہ انسانوں کو بےارادہ اور کمزور غلاموں میں بدل دینا چاہتے ہیں۔ ب۔ شیطان کا دوسرا ہتھکنڈا فوجی قوت کا استعمال ہے: شیطان کا یہ طرزِ عمل صرف ہمارے زمانے ہی میں نہیں۔ فوجی طاقت ہمیشہ سے ظالموں اور جابروں کا اہم اور خطرناک ہتھیار رہا ہے جب بھی وہ ضرورت محسوس کرتے ہیں فوری طور پر اپنی مسلح طاقتوں کو پکارتے ہیں اور ان علاقوں کی طرف روانہ کر دیتے ہیں جہاں وہ محسوس کرتے ہیں کہ لوگوں میں آزادی اور استقلال کی تڑپ پیدا ہو رہی ہے اور خطرہ ہے کہ وہ پھر سے آزادی حاصل نہ کر لیں۔ خود آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ سریع الحرکت فوج (تشریحی نوٹ: امریکہ نے ایران کے خلاف یہ فوج تیار کی تھی اسے انگریزی میں Rapid Deployed Armyکا نام دیا گیا تھا۔مصصح) تیار کی گئی ہے جو بالکل "اجلاب" کا مفہوم رکھتی ہے۔ اسی طرح مغرب کی بعض دیگر طاغوتی طاقتوں نے بھی خاص فوج تیار کی ہے تاکہ دنیا کے جس کسی حصے میں بھی ان کے غیر شرعی شیطانی مفادات کو خطرہ ہو اسے وہاں بھیج سکیں اور حق کی ہر آواز اور حرکت کو دبا سکیں۔ یہ قوتیں اپنی سریع الحرکت فوج پہنچنے سے پہلے اپنے ماہر جاسوسوں کے ذریعے زمین ہموار کرتی ہیں۔ یہ جاسوس درحقیقت ان کا پیادہ لشکر ہے۔ یہ طاقتیں اس بات سے غافل ہیں کہ خدا کا اپنے سچے بندوں سے وعدہ ہے کہ شیطان اور اس کی فوج ہرگز ان پر غلبہ حاصل نہیں کر سکے گی۔ ج۔ اقتصادی ہتھکنڈا: یہ ظاہراً انسانی طرزِ عمل معلوم ہوتا ہے لیکن درحقیقت شیطانی اثر و نفوذ کے لئے مالی و اقتصادی امور میں شرکت کا راستہ اختیار کی جاتا ہے۔ بعض مفسرین نے اموال میں شرکت سے صرف سود اور اولاد میں شرکت سے صرف غیرشرعی اولاد مراد لیا ہے۔ (تشریحی نوٹ: ان آیات کے بارے میں وارد روایات میں بھی شیطان کے شریک اولاد ہونے کا مفہوم۔ غیر شرعی اولاد یا وہ اولاد جن کا نطفہ مالِ حرام سے بنا اور یا نطفہ ٹھہرتے وقت جن کے ماں باپ یادِ خدا سے غافل تھے، بیان کیا گیا ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے اس قسم کی تفاسیر بعض واضح مصادیق کو بیان کرتی ہیں البتہ آیت کا مفہوم انہی میں منحصر نہیں ہے۔ تفسیر نورالثقلین ج۳ ص۱۸۴ کی طرف رجوع کریں)۔ حالانکہ ان کا مفہوم بہت وسیع ہے جس میں ہر طرح کا حرام مال اور ہر طرح کی غیر شرعی اولاد وغیرہ ہے۔ ہم خود اپنے اس زمانے میں دیکھتے ہیں کہ عالمی شیطانی سامراجی انسان دشمن قوتیں کس کس طرح سرمایہ لگاتی ہیں۔ یہ طاقتیں اقتصادی کمیٹیاں قائم کرتی ہیں۔ کمزور ملکوں میں مختلف قسم کے کارخانے لگاتی ہیں اور پیداواری مراکز قائم کرتی ہیں اور پھر ان کے ذریعے طرح طرح کے خطرناک کھیل کھیلتی ہیں۔ یہ طاقتیں فنی اور اقتصادی ماہرین کے نام پر ان ملکوں میں اپنے جاسوس بھیجتی ہیں اور ہمدرد بن کر ان ملکوں کے خون کا آخری قطرہ تک چوس لیتی ہیں۔ یہ طاقتیں ان ملکوں میں ان ذرائع سے اقتصادی ترقی، استقلال اور خود مختاری پر ضرب لگاتی ہیں اور انہیں آگے نہیں بڑھنے دیتیں۔ اسی طرح شیطانی قوتیں اسکولوں، کالجوں، لائبریریوں، ہسپتالوں اور سیاحت کے راستے ان کی اولاد میں شرکت کرتی ہیں۔ ان ممالک میں بعض افراد کو اپنی طرف مائل کر لیتی ہیں۔ یہاں تک کہ بعض اوقات بڑی سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے کچھ افراد کو اپنے ہاں اعلیٰ تعلیم کے نام پر بلاتی ہیں اور ان ملکوں کے جوانوں کو اپنی تمدن و ثقافت کے رنگ میں پوری طرح رنگ لیتی ہیں اوراس طرح ان کے افکار و نظریات میں شریک ہو جاتی ہیں۔ یہ شیطان برائی کے مراکز بھی قائم کرتے ہیں۔ انٹرنیشنل ہوٹلوں، جدید تفریحی کلبوں، سینماؤں اور گمراہ کن فلموں کے ذریعے قومون کا اخلاق تباہ کرتے ہیں۔ صرف ان ذرائع سے برائیوں ہی کو جنم نہیں دیتے بلکہ غیر شرعی اولاد میں بھی اضافے کا باعث بنتے ہیں بلکہ ان ذرائع سے یہ شیطان ایک بھٹکی ہوئی، بے راہ رو، بے ارادہ، اوباش اور ہوس پرست نسل کو پروان چڑھاتے ہیں۔ ان کے طور طریقوں پر ہم جتنا گہرا غور کریں گے اتنا زیادہ ان کے خطرناک شیطانی وسوسوں کی گہرائی سے آشنا ہوں گے۔ د۔نفسیاتی تباہی کے شیطانی پروگرام: مغرور کرنے اور طرح طرح کے پُرفریب وعدے، شیطانوں کا ایک اور چلن ہیں۔ انہوں نے لوگوں کو فریب دینے کے لئے بڑے بڑے ماہرین نفیسات رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کام لوگوں کو حقائق سے غافل کرنا ہے۔ کبھی یہ کہتے ہیں کہ عظیم تمدن کا دروازہ تم سے چند قدم دور ہے۔ کبھی سمجھاتے ہیں کہ تم جلد ہی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو جاؤ گے۔ کبھی کہتے ہیں کہ تمہاری قوم بڑی عظیم ہے جو اس پروگرام پر عمل کر کے اوچ عظمت تک جا پہنچے گی۔ وہ پسماندہ قوموں اور لوگوں کو انہی تصورات میں لگائے رکھتے ہیں اور یہ سب کام "وعدھم" کا مصداق ہیں۔ کبھی وہ اس کے برعکس دوسرا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ تحقیر و تضیف کرتے ہیں۔ چھوٹے اور کمزور ملکوں سے کہتے ہیں کہ تم بری عالمی طاقتوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ تمہارے اور ترقی یافتہ ممالک میں سینکڑوں سالوں کا فرق ہے۔ اس طرح یہ شیطان انہیں ہمت و کوشش سے روکتے ہیں۔ یہ قصہ بہت طویل ہے۔ شیطان اور اس کے لشکروں کے نفوذ کا کوئی ایک طریقہ نہیں۔ یہ وہ مقام ہے کہ جہاں "عباداللہ" اور خدا کے سچے بندے ہمت نہیں ہارتے، ان کے وہ جذبے اسی طرھ سلامت رہتے ہیں کہ جو وہ ان آیات سے حاصل کرتے ہیں۔ ان آیات میں وہ خدا کا قطعی وعدہ دیکھتے ہوئے ان شیطانوں کے خلاف جنگ کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور ان سے ذرہ بھر خوف نہیں کھاتے۔ وہ جانتے ہیں کہ شیطانوں کا شور وغل جتنا زیادہ ہو اتنا ہی بےمعنی اور کھوکھلا ہوتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ قوت ایمان اور توکل علی اللہ سے ان سب پر کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے اور ان کے منصوبوں کو نقش برآب کہا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے: وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلاً خدا ان کا بہترین محافظ، نگہبان اور یارو مدد گار ہے۔

۳۔ خدا نے شیطان کو کیوں پیدا کیا؟

اس بارے میں سورہ بقرہ کی آیہ ۳٦کی تفسیر میں ہم تفصیلی بحث کر چکے ہیں۔ اسی طرح مختلف طرح کے شیطانی وسوسوں اور لفظ شیطان کےسلسلہ میں ج۴ ص٦۵اور ج۱ ص۱٦۲ پر بحث کی جا چکی ہے۔ (اردو ترجمہ)

66
17:66
رَّبُّكُمُ ٱلَّذِي يُزۡجِي لَكُمُ ٱلۡفُلۡكَ فِي ٱلۡبَحۡرِ لِتَبۡتَغُواْ مِن فَضۡلِهِۦٓۚ إِنَّهُۥ كَانَ بِكُمۡ رَحِيمٗا
تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمہارے لئے دریا میں کشتی چلاتا ہے تاکہ تم اس کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ۔وہ تم پر مہربان ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 69 کے تحت ملاحظہ کریں۔

67
17:67
وَإِذَا مَسَّكُمُ ٱلضُّرُّ فِي ٱلۡبَحۡرِ ضَلَّ مَن تَدۡعُونَ إِلَّآ إِيَّاهُۖ فَلَمَّا نَجَّىٰكُمۡ إِلَى ٱلۡبَرِّ أَعۡرَضۡتُمۡۚ وَكَانَ ٱلۡإِنسَٰنُ كَفُورًا
اور جس وقت تمہیں دریا میں کوئی پریشانی لاحق ہوتی ہے تو اس کے سوا ہر ایک کو بھول جاتے ہو لیکن جس وقت وہ تمہیں لے جا کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو منہ پھیر لیتے ہو۔اور انسان (نعمتوں کا)کفران کرنے والا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 69 کے تحت ملاحظہ کریں۔

68
17:68
أَفَأَمِنتُمۡ أَن يَخۡسِفَ بِكُمۡ جَانِبَ ٱلۡبَرِّ أَوۡ يُرۡسِلَ عَلَيۡكُمۡ حَاصِبٗا ثُمَّ لَا تَجِدُواْ لَكُمۡ وَكِيلًا
کیا تم اس سے مامون ہو کہ وہ خشکی پر (ایک شدید زلزلے کے ذریعہ) تمہیں زمین میں دھنسا دے، یا تم پر سنگریزوں کا طوفان بھیج دے اور پھر تمہیں کوئی محافظ (ومدد گار) نہ ملے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 69 کے تحت ملاحظہ کریں۔

69
17:69
أَمۡ أَمِنتُمۡ أَن يُعِيدَكُمۡ فِيهِ تَارَةً أُخۡرَىٰ فَيُرۡسِلَ عَلَيۡكُمۡ قَاصِفٗا مِّنَ ٱلرِّيحِ فَيُغۡرِقَكُم بِمَا كَفَرۡتُمۡ ثُمَّ لَا تَجِدُواْ لَكُمۡ عَلَيۡنَا بِهِۦ تَبِيعٗا
یا کیا تم اس سے مامون ہو کہ وہ پھر تمہیں دریا کی طرف پلٹا دے،تمہاری طرف شدید آندھی بھیج دے اور تمہیں تمہارے کفر کی وجہ سے غرق کر دے،یہاں تک کہ کسی ایسے شخص کو بھی پیدا نہ کرے کہ جو تمہارے خون کا مطالبہ کرے۔

نعمتوں کے باوجود کفران کیوں؟

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

اس سے قبل توحید کے بارے میں شرک کے خلاف بحث ہو چکا ہے۔ زیرِ نظر آیات بھی اس بحث کا تسلسل ہیں۔ ان آیات میں اس موضوع پر دو حوالے سے بحث کی گئی ہے۔ ایک استدلال و برہان کے حوالے سے اور دوسرے وجدان و ضمیر کے حوالے سے۔ پہلا توحیدِ استدلالی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: تمہارا پروردگار وہ ہے کہ جو دریا میں کشتی کو حرکت عطا کرتا ہے۔ ایک مسلسل اور دائمی حرکت ( رَبُّکُمْ الَّذِی یُزْجِی لَکُمْ الْفُلْکَ فِی الْبَحْر)۔ واضح ہے کہ دریا یا سمندر میں کشتیوں کے چلنے کے لیے بہت سے باہم پیوستہ نظام موجود ہیں۔ ایک طرف پانی کو مرکب کی طرح پیدا کیا گیا ہے۔ دوسری طرف بعض چیزوں کا مخصوص وزن پانی سے بہت ہلکا ہے۔ اس طرح سے کہ وہ پانی کے اوپر رہ سکیں یا پھر انہیں ایسی شکل میں بنایا جا سکتا ہے کہ عملی طور پر ان کا وزن پانی سے کم ہو جائے بلکہ یہاں تک کہ بھاری بوجھ اور بہت سے انسانوں کو اٹھا سکیں۔ تیسری طرف کشتی کو حرکت دینے والی قوت کی ضرورت ہے۔ پُرانے زمانے میں یہ ضرورت منظم ہوا ئیں پورا کرتی تھیں۔ یہ ہوائیں سمندروں پر ایک خاص نظم کے ساتھ چلتی ہیں۔ ملاح ان سے آشنائی حاصل کرکے ان کے ذریعے بادبانی کشتیوں کو چلاتے ہیں راہوں کو پہنچاننے کے لیے سورج اور ستاروں سے مدد لیتے تھے اور آج کے دور میں قطب نما اور نقشوں سے۔ بہرحال، اگر یہ چاروں امور باہم مربوط نہ ہوتے اور کشتیوں کو چلانے کے لیے آپس میں ہم آہنگ نہ ہوتے تو انسان نقل و حمل کے اس انتہائی اہم وسیلے سے محروم ہوتا۔ آپ جانتے ہیں کہ کشتیاں ہمیشہ سے انسان کے لیے نقل و حمل اور آمد و رفت کا ایک انتہائی اہم وسیلہ رہی ہیں۔ آج تو ایسے ایسے بحری جہاز ہیں جو اپنے آپ میں ایک چھوٹے سے شہر کے برابر ہوتے ہیں۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: اور یہ سب کچھ اس لیے ہے تاکہ تم فضل خدا سے بہرہ مند ہو (لِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِہ)۔اپنی آمد و رفت کے لیے، مالِ تجارت کی نقل و حمل کے لیے اور دین و دنیا میں تمہاری مدد کیلئے ”کیونکہ پروردگار تم پر مہذبان ہے“(ِ إِنَّہُ کَانَ بِکُمْ رَحِیمًا)۔ نظام خلقت کے ایک چھوٹے سے گوشے کے حوالے سے یہ توحید استدلالی کے بارے میں بات تھی۔ اس میں خالق کے علم، قدرت اور حکمت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اب بات کا رخ استدلال فطری کی طرف مڑتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: کہیں بھول نہ جانا کہ ”جب کبھی تم کسی دریا یا سمندر میں ہوتے ہو اور تمہیں پریشانیاں اور مشکلات آگھیرتی ہیں (اور تم وحشت ناک طوفانی لہروں میں گھِر جاتے ہو)“ تو وہ تمام معبود تمہیں بھول جاتے ہیں جنہیں تم خدا کے علاوہ پکارتے ہو اور وہی ایک تمہارا سہارا رہ جاتا ہے ( وَإِذَا مَسَّکُمْ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُونَ إِلاَّ إِیَّاہُ)۔ اور ایسے میں انہیں کھوہی جانا چاہیے کیونکہ طوفانی حوادث میں جب تقلید و تعصب کے پردے فطرتِ انسانی کے چہرے سے ہٹتے ہیں تو نور فطرت چمکنے لگتا ہے۔ وہی نور فطرت کہ جو نورِ توحید، نورِ خدا پرستی اور نور یگانہ پرستی ہے۔ جی ہاں! ایسے لمحات میں تمام تصوراتی و خیالی معبود کہ جنہیں انسانی تو ہم نے وجود بخشا ہوتا ہے ذہن سے محو ہو جاتے ہیں، اس طرح سے جیسے تیز دھوپ میں برف پانی ہو جاتی ہے۔ یہ ایک عمومی قانون ہے کہ جس کا تقریباً ہر شخص نے تجربہ کیا ہے کہ مصائب و آلام کی شدت میں جب جان پر بن جاتی ہے۔ اس وقت تمام ظاہری اسباب بیکار ہو جاتے ہیں اور مادی امداد و ناتوان ہو جاتی ہے۔ ایسے میں انسان علم و قدرت کے عظیم مبداء کو یاد کرتا ہے کہ جو سخت ترین مشکلات کو حل کرنے پر قادر ہے۔ ہمیں اس سے سروکار نہیں کہ اس مبداء کا نام کیا رکھتے ہیں۔ ہم اتنا جانتے ہیں کہ امید کا ایک دریچہ دل کی طرف کھل جاتا ہے اور ایک لطیف و طاقتور نور دل کو اپنی آغوش میں لے لیتا ہے۔ انسانی روح و قلب کے اندر خداشناسی کا یہ ایک بہت ہی نزدیک راستہ ہے۔ (تشریحی نوٹ: توحید فطری کی تفصیل ”آفریدگار جہاں“میں مطالعہ کیجئے۔ نیز سورہ نحل کی آیہ ۱۴ کی تفسیر میں بھی ہم اس مسئلے کی طرف اشارہ کرچکے ہیں)۔ اس کے بعد مزید ارشاد ہوتا ہے: لیکن تم ایسے مرد و فراموش ہوکہ ”ادھر دست قدرت الٰہی تمہیں ساحل تک پہنچاتا ہے اور ادھر تم اس سے منہ پھیر لیتے ہو اور انسان دراصل ہے ہی کفران کرنے والا ( فَلَمَّا نَجَّاکُمْ إِلَی الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ وَکَانَ الْإِنْسَانُ کَفُورًا)۔ ایک بار پھر غرور، غفلت، اندھی تقلید اور تعصب کے پردے اس نور الٰہی کو چھپا دیتے ہیں اور گناہ و نافرمانی کا غبار اور مادی زندگی کی سرگرمیاں اس کا تابناک چہرہ پنہان کر دیتی ہیں۔ لیکن کیا تمہارا خیال ہے کہ خدا خشکی اور صحرا میں تمہیں عذاب شدید میں مبتلا نہیں کر سکتا ”کیا تم اس سے مامون ہو کہ اس کے حکم سے زمین پھٹ جائے اور تم اس میں دھنس جاؤ"(اَفَاَمِنتُمْ اَنْ یَخْسِفَ بِکُمْ جَانِبَ الْبَرِّ)۔ اور کیا تم اس سے مامون ہوکہ تم پر پتھروں کی بارش ہو اور تم پتھروں کے نیچے دفن ہو جاؤ (جبکہ یہ ایسا عذاب ہے کہ جو غرقاب ہونے سے کئی گنا سخت تر ہے) اور پھر تمہیں کوئی محافظ و نگہبان بھی نہ ملے ( اَوْ یُرْسِلَ عَلَیْکُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَاتَجِدُوا لَکُمْ وَکِیلًا)۔ صحرا نور د اس بات سے خاص طور پر آشنا تھے کہ کبھی کبھی بیابان میں ایسے طوفان آتے ہیں کہ ریت اور سنگریزوں کے انبار اٹھائے ہوتے ہیں، دیکھتے ہی دیکھتے نئے ٹیلے بن جاتے ہیں اور بعض اوقات تو اونٹوں کی قطار کی قطار ان کے نیچے دفن ہو جاتی ہے۔ قرآن کی اس دھمکی کو یہ بیابان نورد زیادہ سمجھ سکتے تھے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: اے بھول جانے والو! کیا تمہارا خیال ہے یہ تمہرا آخری بحری سفر تھا ”کیا اس سے مامون ہوکہ تمہیں تمہاری ضرورتیں پھر سمندر میں نہ لے جائےں اور وہاں خدا تباہ کن تیز ہواؤں کو حکم دے کہ تمہیں تمہارے کفر اور کفران نعمت کے باعث غرق کر دیں اور اس وقت پھر یہ عالم ہو گا کہ کوئی تمہارے خون کا مطالعہ کرنے والا نہ ہو گا، کوئی نہ ہو گا جو کہے کہ ایسا کیوں ہوا“ (اَمْ اَمِنتُمْ اَنْ یُعِیدَکُمْ فِیہِ تَارَةً اُخْریٰ فَیُرْسِلَ عَلَیْکُمْ قَاصِفًا مِنَ الرِّیحِ فَیُغْرِقَکُمْ بِمَا کَفَرْتُمْ ثُمَّ لَاتَجِدُوا لَکُمْ عَلَیْنَا بِہِ تَبِیعاً)۔

چند اہم نکات: ۱۔ کم ظرف انسان

بہت سے لوگ یہ کرتے ہیں کہ مشکلات میں تو خدا کو یاد کرتے ہیں لیکن راحت و آرام میں اسے بھول جاتے ہیں۔ یہ لوگ حقائق زندگی پر توجہ نہیں دیتے. لہٰذا انہیں بھول جانے کی راحت و آرام میں اسے بھول جاتے ہیں۔ یہ لوگ حقائق زندگی پر توجہ نہیں دیتے لہٰذا انہیں بھول جانے کی عادت پڑچکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی ان کی توجہ خدا اور حقائق زندگی کی طرف ہو تو یہ ان کی ایک استثنائی حالت ہو گی کہ جس کے لیے انتہائی شدید عوامل کی ضرورت ہے۔ جب تک ان عوامل کے تحت کوئی غیر معمولی صورت حال باقی رہے گی انہیں خدایا درہے گا لیکن جو نہی وہ گھڑی ٹلے گی یہ لوگ اپنی انحرافی طبیعت کی طرف پلٹ آئیں گے اور اللہ کو بھول جائیں گے۔ خلاصہ یہ کہ ایسے لوگ بہت کم ملیں گے جو سنگین و روح فرسا مشکلات میں اللہ کی باعظمت بارگاہ میں سر نہ جھکائیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ اس اضطراری بیداری اور توجہ کی کوئی قیمت نہیں۔ صاحبانِ ایمان اور سچے مسلمان وہ ہیں جو راحت و مشکل میں، سلامتی و بیماری میں، خوشحالی و قحط میں، اقتدار و زندان میں۔ غرض ہر حالت میں اس کی یاد میں رہتے ہیں اور اصولی طور پر حالات کی تبدیلی ان پر ہرگز کوئی اثر نہیں کرتی۔ ان کی روح اس قدر عظیم ہے کہ سب کچھ ان کے اندر سما جاتا ہے جیسے حضرت علی علیہ السلام کی مثال ہے۔ ان کی عبادت، ان کا زہد اور ان کی دردمندوں کی خبر گیری تخت و اقتدار پر بھی ایسی ہی تھی جیسی گوشہ تنہائی میں تھی۔ جیسا کہ آپ خود پرہیزگاروں کی صفات کے بارے میں فرماتے ہیں: ”نزلت انفسہم منہم فی البلاء کالتی نزلت فی الرخاء“ خوشی اور غمی میں ان کی ایک سی حالت رہتی ہے۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ۱۹۳)۔ مختصر یہ کہ ایمان، توجہ الی اللہ، توسل، عبادت، توبہ اور اللہ کے حضور سر تسلیم خم کی تبھی کوئی قدر و قیمت ہے جب یہ دائمی اور پائیدار ہوں۔ باقی رہا موسمی ایمان، موسمی تو بہ اور موسمی عبادتیں کہ جو اضطراری حالت میں انجام دی جائیں یا اس حالت میں کہ جب ذاتی مفادات کا تقاضا ہو تو یہ سب بے فائدہ یا انتہائی کم قیمت ہیں۔آیاتِ قرآنی میں ایسے لوگوں کی بارہا مذمت کی گئی ہے۔

۲۔ خدا کی حدود حکومت سے فرار ممکن نہیں

بعض لوگ۔ مثلاً زمانہ جاہلیت کے بت پرست۔ صرف اس وت خدا کی طرف رُخ کرتے تھے جب کسی مشکل میں گرفتار ہوتے ہھے۔ مثلاً کبھی وسط سمندر میں طوفان میں گھر جانے پر یا کسی خطرناک گھاٹی پر یا کسی شدید بیماری میں، حالانکہ اگر صحیح طرح سے سوچا جائے تو ہر حالت میں ہر جگہ انسان کے لیے خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے۔ دریا ہو یا صحرا، سلامتی ہو یا بیماری، ہلاکت کے گھڑے کا سامنا ہو یا کوئی اور موقع۔ درحقیقت سب برابر ہیں۔ ہو سکتا ہے زلزلے کا ایک مختصر سا جھٹکا ہمارے خانہ امن و امان کو وحشت ناک ویرانے میں تبدیل کر دے۔ خون کا ایک چھوٹا سا ذرہ ہمارے دل کی شہ رگ کو بند کر سکتا ہے۔ دل یا دماغ کے ایک ثانیے کے سکتے کی وجہ سے موت آ سکتی ہے۔ ان امور کی طرف توجہ کی جائے تو واضح ہو گا کہ خدا سے غفلت اور اس کی پاک ذات کو فراموش کر دینا کس قدر جاہلانہ ہے۔ وہ لوگ کہ جو اس مفروضے کے حامی ہیں کہ مذہب کی بنیاد خوف ہے۔ ہو سکتا ہے اس بات کو دستاویز کے طور پر پیش کریں کہ مختلف طبیعی عوامل کا خوف انسان کو خدا کے تصور کی طرف لے جاتا ہے اور ایسے خیالات کو تقویت پہنچاتا ہے۔ قرآنی آیات نے ایسے اوہام کا جواب دیا ہے کیونکہ قرآن نے خداشناسی کی بنیاد کبھی اس مسئلے پر نہیں رکھی بلکہ اس کی بنیاد نظام خلقت کے مطالعے اور اس مطالعے کے ذریعے اس کی پاک ذات تک پہنچنے کو قرار دیا ہے۔ یہاں تک کہ زیر بحث آیات میں ہم نے دیکھا ہے کہ توحید فطری سے پہلے ایمان استدلالی کے بارے میں بات کی گئی ہے اور درحقیقت، ان حوادث کو خدایا دلانے والے شمار کیا گیا ہے نہ کہ اس کی شناحت و معرفت کا موجب کیونکہ حق طلب افراد کے لیے اس کی شناخت و معرفت طریقِ استدلال سے بھی واضح ہے اور راہِ فطرت سے بھی واضح ہے اور راہِ فطرت سے بھی آشکار ہے۔

۳۔ چند الفاظ کا مفہوم:

”یزجی“جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں ”ازجاء“ کے مادہ سے کسی چیز کو مسلسل حرکت دینے کے معنی میں ہے۔ ”حاصب“ایسی ہوا کو کہتے ہیں کہ جو سنگریزوں کو اپنے ہمراہ اٹھالائے اور ان کے ٹیلے بنا دے۔ یہ لفظ دراصل ”حصباء“ سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے ”سنگریزہ“۔ ”قاصف“ توڑنے والے کے معنی میں ہے۔ یہاں ایسی شدید آندھی کی طرف اشارہ ہے کہ جو ہر چیز کو درہم برہم کرکے رکھ دے۔ ”تبیع“، "تابع" کے معنی میں ہے۔ یہاں ایسے شخص کی طرف اشارہ ہے کہ خون یا خونبہا کا مطالبہ لے کر اٹھ کھڑا ہو اور اس کا پیچھا کرے۔

70
17:70
۞وَلَقَدۡ كَرَّمۡنَا بَنِيٓ ءَادَمَ وَحَمَلۡنَٰهُمۡ فِي ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِ وَرَزَقۡنَٰهُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَفَضَّلۡنَٰهُمۡ عَلَىٰ كَثِيرٖ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِيلٗا
ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی، خشکی و دریا میں انہیں سواریاں عطا فرمائیں طرح طرح کے پاکیزہ رزق میں سے انہیں روزی دی اور انہیں اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت عطا کی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 72 کے تحت ملاحظہ کریں۔

71
17:71
يَوۡمَ نَدۡعُواْ كُلَّ أُنَاسِۭ بِإِمَٰمِهِمۡۖ فَمَنۡ أُوتِيَ كِتَٰبَهُۥ بِيَمِينِهِۦ فَأُوْلَـٰٓئِكَ يَقۡرَءُونَ كِتَٰبَهُمۡ وَلَا يُظۡلَمُونَ فَتِيلٗا
وہ دن یاد کرو کہ جب ہر گروہ کو ہم اس کے امام کے ساتھ پکاریں گے، پس جس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں ہو گا وہ اسے (بڑی مسرت سے) پڑھیں گے اور ان پر رائی برابر بھی ظلم نہیں ہو گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 72 کے تحت ملاحظہ کریں۔

72
17:72
وَمَن كَانَ فِي هَٰذِهِۦٓ أَعۡمَىٰ فَهُوَ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ أَعۡمَىٰ وَأَضَلُّ سَبِيلٗا
لیکن وہ لوگ جو اس دنیا میں چہرہ (حق کو دیکھ کر بھی) اندھے بنے رہے،وہ وہاں بھی اندھے رہیں گے، بلکہ گمراہ تر۔

انسان گلشن حیات کا بہترین پھول

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تربیت و ہدایت کا ایک طریقہ یہ ہے لوگوں کو ان کی عظمت اور مقام یاد دلایا جائے۔ قرآن مجید بھی یہ طریقہ اختیار کرتا ہے۔ گزشتہ آیات میں مشرکین اور منحرف افراد کے بارے میں گفتگو تھی۔ اب زیر نظر آیات میں نوعِ انسانی کے بلند مقام کا تذکرہ ہے نیز اس عطا ہونے والی نعمات الٰہی کا بیان ہے تا کہ وہ اپنے اس انتہائی اعلیٰ مقام کی طرف توجہ کرے اور اپنے مقامِ گراں بہا کو ضائع نہ کر دے اور اپنے تئیں کسی حقیر سی قیمت پر نہ بیچ ڈالے۔ ارشاد ہو تا ہے: ہم نے اولاد ِآدم کو عزت و تکریم بخشی اور گرامی قدر بنایا (وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِی آدَمَ)۔ اس کے بعد انسان کو عطا ہو نے والی تین طرح کی نعمات الٰہی کا ذکر کیا گیا ہے۔ پہلی نعمت: ”ہم نے انہیں خشکی ودریا میں سواریاں عطا ہیں“ (وَحَمَلْنَاھُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْر)۔ دوسری نعمت: ”پاکیزہ رزق میں سے ہم نے انہیں روزی دی ہے “(وَرَزَقْنَاھُمْ مِنَ الطَّیِّبَاتِ) لفظ ”طیب“کے مفہوم میں ہر پاکیزہ موجود شامل ہے۔ اس مفہوم پر توجہ کی جائے تو اس عظیم خدائی نعمت کی وسعت واضح ہو جاتی ہے۔ تیسری نعمت: ”ہم نے انہیں اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی ہے “( وَفَضَّلْنَاھُمْ عَلیٰ کَثِیرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیلًا)۔

چند اهم نکات: ۱۔ سواری- انسان کےلیے اولین نعمت

یہ نکتہ قا بلِ توجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو نعمتیں عطا کی ہیں ان میں سے سب سے پہلے خشکی اور دریا میں اس کی آمد ورفت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ممکن ہے یہ اس بناء پر ہو کہ طبیات اور مختلف قسم کے رزق سے حرکت اور سفر کے بغیر فائدہ اٹھانا ممکن نہیںاور صفحہٴ زمین پر اس سفر کے لیے انسان کو سواری کی ضرورت ہے۔ یہ بجا کہا جاتا ہے کہ حرکت میں برکت ہے۔ یا پھر اس بنا ء پر ہے کہ خداوند تعالیٰ اس زمین پر انسانی حکمرانی کو بیان کر نا چاہتا ہے۔ دریا ہو یا صحرا انسان کا اقتدار مو جود ہے۔ اس زمین پر دیگر موجود کا تسلط محدود اور ایک حصے پر ہے۔ یہ صرف انسان ہے جو پورے کرہ خاکی پر حکومت کرتا ہے۔ دریا، صحرا، اونچائی، اترائی اور ہوا سب میں انسان کی حکومت ہے۔

۲۔ خدا کی طرف سے انسان کی عزت و تکریم

مندرجہ بالا آیت میں اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ ہم نے انسان کو عزت بخشی۔ یہ ایک سربستہ سی بات ہے۔ اللہ نے انسان کو کس چیز سے عزت بخشی اس سلسلے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس اعطاء سے مراد عقل و نطق کی قوت،مختلف استعدادیں اور ارادے کی آزادی ہے۔ بعض سمجھتے ہیں کہ اس سے مراد انسان کی موزوں جسامت اور قامتِ راست ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس اعطاء سے انگلیاں مراد ہیں جن کے ذریعے انسان بہت سے ظریف اور دقیق کام انجام دے سکتا ہے اور اسی طرح لکھنے کی قدرت رکھتا ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ اس سے انسان کی اس صلاحیت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ تقریباً واحد موجود ہے جو اپنی غذا اپنے ہاتھ سے کھا سکتا ہے۔ بعض سمجھتے ہیں کہ یہ انسان کی اس سربلندی کی طرف اشارہ ہے کہ وہ روئے زمین کی تمام موجودات پر تسلط رکھتا ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ اس عطاء کی طرف اشارہ ہے کہ انسان معرفت الٰہی پر اور اس کے فرمان کی اطاعت پر قدرت رکھتا ہے۔ لیکن یہ واضح ہے کہ یہ سب نعمتیں انسان میں جمع ہیں اور ان میں سے کوئی دوسرے کے متضاد نہیں ہے۔ لہٰذا اس عظیم مخلوق کو خدا نے جو گرامی قدر بنایا اور عزت عطا کی ہے وہ ان تمام نعمات اور ان کے علاوہ دیگر نعمات کی بنیاد پر ہے۔ مختصر یہ کہ انسان دیگر مخلوقات پر بہت سے امتیازات رکھتا ہے اور ان میں سے ہر ایک دوسرے سے بلند تر اور جاذبِ نظر ہے۔ انسان کے جسمانی امتیازات کے علاوہ انسان ایسی روح کا حامل ہے جو کمال حاصل کرنے کے لیے اعلیٰ صلاحتیں اور بہت توانائی رکھتی ہے۔

۳۔ "کرّمنا" اور "فضّلنا" میں فرق

اس سلسلے میں مختلف نظریات بیان کیے گئے ہیں: بعض کا کہنا ہے کہ ”کرّمنا“ ان نعمات کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ذاتاً انسان کو دی ہیں جبکہ ”فضّلنا“ ان فضائل کی طرف اشارہ ہے جو انسان نے توفیق الٰہی سے کسب کیے ہیں۔ یہ احتمال بھی بہت صحیح معلوم ہوتا ہے کہ”کرّمنا“ مادی پہلوؤں کی طرف اشارہ ہو اور ”فضّلنا“روحانی پہلوؤں کی طرف کیونکہ لفظ ”فضّلنا“ عام طور پر قرآن میں اسی معنی میں آیا ہے۔

۴۔ آیت میں "کثیر" کا مفہوم

بعض مفسّرین کا خیال ہے کہ زیرِ بحث آیت تمام اولادِ آدم پر فرشتوں کی برتری کی دلیل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ چونکہ قرآن اس آیت میں کہتا ہے کہ ہم نے انسانوں کو اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت وبرتری عطا کی ہے۔ لہٰذا اس کا واضح مطلب ہے کہ ایک گروہ ایسا ہے کہ جس سے انسان افضل نہیں ہے اور یہ گروہ فرشتوں کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو سکتا لیکن خلقتِ آدم اور فرشتوں کا ان کے سامنے سجدہ وخضوع کرنے اور آدم(ص) کی طرف سے انھیں علمِ اسماء کی تعلیم کی طرف توجہ کی جائے تو اس امر میں شک کی گنجائش نہیں رہ جاتی کہ انسان فرشتوں سے افضل وبرتر ہے۔ لہٰذا ”کثیر“ یہاں پر ”جمیع“ کے معنی میں ہو گا۔ عظیم مفسّر طبرسی نے مجمع البیان میں کہا ہے کہ قرآن میں عرب محاورات میں بہت معمول ہے کہ یہ لفظ ”جمیع“ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ طبرسی کہتے ہیں کہ اس جملے کا معنی یہ گا: ”انّا فضلناھم علیٰ من خلقنا وھم کثیر“ ہم نے انسان کو ان سب پر فضیلت عطا کی ہے جنھیں ہم نے پیدا کیا ہے اور یہ مخلوقات کثیر ہیں۔ شیاطین کے بارے میں قرآن کہتا ہے: وَاَکْثَرُھُمْ کَاذِبُونَ (شعراء/۲۲۳) واضح ہے کہ شیطان تو سب جھوٹے ہیں نہ کہ ان میں سے اکثر۔ بہرحال، اس معنی کو خلاف ظاہر سمجھیں تو خلقتِ انسان کے بارے میں موجود آیات ہماری مذکورہ بات کے لئے واضح قرینہ ہیں۔

۵۔ انسان کیوں افضل ہے؟

اس سوال کا جواب کوئی پیچیدہ نہیں ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ انسان ہی وہ واحد موجود ہے جس میں مختلف مادی ومعنوی اور جسمانی وروحانی قوتیں اور توانائیاں موجود ہیں، یہی انسان متضاد چیزوں میں رہ کر پرورش پا سکتا ہے۔ صرف انسان ہی ہے جو کمال وارتقاء اور پیشرفت کی لامحدود صلاحیت رکھتا ہے۔ حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام سے منقول ایک حدیث بھی اس مدعا پر ایک گواہ ہے آپ(ص) فرماتے ہیں: الله نے عالم کو تین قسم کا پیدا کیا ہے: فرشتے، حیوان اور انسان۔ فرشتے عقل رکھتے ہیں اور ان میں شہوت وغضب کی قوت نہیں ہے۔ حیوان شہوت وغضب کا مجموعہ ہیں لیکن انسان دونوں کا مجموعہ ہے تاکہ معلوم ہو کہ کون سی قوت غالب آتی ہے۔ اگر اس کی عقل شہوت پر غالب آجائے تو بہ فرشتوں سے افضل ہے اور اگر اس کی شہوت اس کی عقل پر غالب آجائے تو یہ حیوانات سے پست تر ہے۔ (بحوالہ: نور الثقلین، ج ۳، ص ۱۸۸۔) یہاں ایک سوال باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ تمام انسان فرشتوں سے افضل ہیں جبکہ بہت سے لوگ بے ایمان، شریر اور ستمگر ہیں اور ایسے لوگ مخلوقِ خدا میں سے پست ترین شمار ہوتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں کیا زیرِ بحث آیت میں لفظ ”بنی آدم“ سب انسانوں کے لئے ہے یا ان میں سے صرف ایک گروہ کے لئے۔ اس سوال کا جواب ایک جملے میں دیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ: جی ہاں! تمام انسان برتر ہیں لیکن بالقوة واستعداد کے لحاظ سے۔ یعنی سب یہ مقام اور اہلیت رکھتے ہیں، البتہ اس سے استفادہ نہ کریں اور اپنے مقام سے گر جائیں تو یہ کام خود ان سے مربوط ہے۔ انسان کی تمام موجودات پر برتری اگرچہ روحانی اور انسانی حوالے سے ہے تاہم نامناسب نہیں کہ ہم علماء کے بقول بعض حوالوں سے جسمانی قوت کے لحاظ سے بھی افضل جانیں۔ (اگرچہ بعض پہلووٴں سے انسان کمزور نظر آتا ہے)۔ کتاب ”انسان موجود ناشناختہ“ کا موٴلف الیکسز کارل کہتا ہے: انسانی بدن غیرمعمولی استحکام ار قابلیت کا حامل ہے۔ یہ ہر قسم کے حادثے میں استقامت دکھاتا ہے۔ اسی طرح بھوک، بے خوابی، تکان، بہت زیادہ غصّے، درد، بیماری، دُکھ، مشقّت اور روح وبدن میں موجود حیرت انگیز اعتدال کی حفاظت کے موقع بہت عجیب وغریب فکری وجسمانی توانائی کی وجہ سے وہ صنعت وتمدن میں اس مقام پر آ پہنچا ہے اور تمام جانداروں پر اپنی برتری ثابت کر چکا ہے۔ (بحوالہ: "انسان موجود ناشناختہ"، ص ۷۳ و ۷۴) اگلی آیت میں انسان کے لئے ایک اور خدائی نعمت کی طرف اشارہ ہے۔ نیز اس نعمت کے بعد انسان پر جو سنگین ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔ پہلے مسئلہ رہبری اور انسانی سرنوشت میں اس کی تاثیر کو بیان گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: قیامت کے دن ہم ہر گروہ کو اس کے امام اور ہبر کے ساتھ پکاریں گے ( یَوْمَ نَدْعُو کُلَّ اُنَاسٍ بِإِمَامِھِمْ)۔ یعنی وہ لوگ کہ جنھوں نے ہر زمانے میں انبیاء اور ان کے اوصیاء کی رہبری کو قبول کیا ہے اپنے ان پیشواوٴں کے ساتھ ہوں گے اور جنھوں نے شیطان، آئمہ ضلال اور جابر وظالم پیشواوٴں کی رہبری کو اختیار کیا ہے وہ ان کے ساتھ محشور ہوں گے۔ خلاصہ یہ کہ رہبری اور پیروی کا جو رشتہ اس جہان میں ہو گا وہ پوری طرح اُس جہان میں منعکس ہو گا۔ اسی بنیاد پر اہلِ نجات اور اہلِ عذاب ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں گے۔ اگرچہ بعض مفسّرین نے چاہا ہے کہ یہاں ”امام“ کا وسیع مفہوم ہے اور اسی میں ہر پیشوا شامل ہے چاہے وہ انبیاء ہوں یا آئمہ ہدیٰ یا علماء اور کتاب وسنت اور اسی طرح آئمہ کفر وضلال بھی۔ لہٰذا وہاں ہر شخص اس رہبر کی صف میں ہو گا جس کا یہاں طریقہ اپنایا ہو گا۔ انسان کے کمال وارتقاء کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ یہ تعبیر سب انسانوں کے لیے ایک تنبیہ بھی ہے اور اسے خبردار کرتی ہے کہ رہبر کے انتخاب میں بہت زیادہ غور غور و فکر سے کام لے اور اپنی فکر و نظر اور زندگی کی مہار ہر کسی کے سپرد نہ کر دے۔ اس کے بعد قرآن کہتا ہے کہ وہاں لوگ دوحصوں میں تقسیم ہو جائیں گے ”جن کا نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ افتخار اور سرور کے ساتھ اپنا نامہ اعمال پڑھیں گے اور ان پر ذرہ بھر ظلم نہ ہو گا“ (فَمَنْ اُوتِیَ کِتَابَہُ بِیَمِینِہِ فَاُوْلٰئِکَ یَقْرَئُونَ کِتَابَھُمْ وَلَایُظْلَمُونَ فَتِیلًا)۔ (تشریحی نوٹ: "فتیل" اس باریک اور نازک تار کو کہتے ہیں جو کھجور کی گٹھلی کے شگاف کے اندر ہوتی ہے۔ جبکہ کھجور کی گٹھلی کی پشت پر جو تار ہوتی ہے اسے "نْیر" کہتے ہیں جبکہ "قمطیر" اس نازک چھلکے کو کہتے ہیں جس نے کھجور کی گٹھلی کو چھپا رکھا ہوتا ہے اور یہ تمام الفاظ بہت چھوٹی اور حقیر چیز کےلیے کنایہ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں)۔ لیکن جو لوگ اس جہاں میں کور دل تھے وہ آخرت میں بھی اندھے ہوں گے ( وَمَنْ کَانَ فِی ھٰذِہِ اَعْمَی فَھُوَ فِی الْآخِرَةِ اَعْمَی)۔ اور فطری امر ہے کہ دل کے یہ اندھے سب سے زیادہ گمراہ ہوں گے ( وَاَضَلُّ سَبِیلًا)۔ وہ نہ اس دنیا میں راہِ ہدایت پائین گے اور نہ آخرت میں بہشت و سعادت کی راہ۔ کیونکہ انہوں نے خود سے اپنی آنکھیں تمام حقائق کے سامنے بند کر رکھی ہیں۔ انہوں نے حق کا چہرہ دیکھنے کے لیے آنکھیں نہ کھولیں۔ آیات خدا اور جو کچھ یاعث ہدایت و عبرت تھا اس سے آنکھیں چرائے رکھیں اور خدا کی عطا کردہ نعمتوں سے انہوں نے اپنے آپ کو محروم رکھا اور دارِ آخرت چونکہ اس جہاں کا عکس العمل ہے تو کیا تعجب کی بات ہے کہ یہ کور دل وہاں عرصہ محشر میں نابینوں کی صورت میں پیش ہوں۔

چند قابل توجہ نکات

۱۔ انسان زندگی پر رہبری کا اثر

انسان کی اجتماعی اور معاشرتی زندگی کو رہبری کے مسئلے سے جدا نہیں کیا جا سکتا کیونکہ کسی بھی گروہ کے حقیقی راستے کو واضح کرنے کے لیے ہمیشہ رہبر اور پیشوا کی ضرورت ہوتی ہے۔ اصولی طور پر کمال و ارتقاء وجود رہبر کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ انبیاء اور اوصیاء کے بھیجے جانے اور انتخاب کا یہی راز ہے۔ علم عقائد و کلام میں بھی قاعدہ لطف سے استفادہ کرتے ہوئے اور معاشرے کے نظم و نسق کے حصول اور انحراف سے بچانے میں رہبر کی ضرورت کے حوالے سے بعثت انبیاء اور ہر زمانے میں موجود امام کا ضروری ہونا ثابت کیا گیا ہے لیکن ایک خدائی رہبر اور عالم و صالح انسان کی رہبری انسان کے لیے اصلی ہدف تک رسائی کو جیسے آسان اور تیز تر کر دیتی ہے ایسے ہی آئمہ کفر و ضلال کی رہبری کو قبول کرنے سے انسان بد بختی اور بد انجام کے گڑ ھے میں جا گرتا ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں معتدد احادیثِ اسلامی مصادر میں موجود ہیں۔ ان کے مطالعے سے مفہوم آیت اور ہدف امامت واضح ہو جاتا ہے۔ ایک حدیث شیعہ اور سنی حضرات نے امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے صحیح اسناد کے ساتھ نقل کی ہے۔ اس میں ہے کہ امام نے اپنے آباؤ اجداد کے واسطے سے رسولِ اکرم سے اس آیت کی تفسیر میں نقل فرمایا: ”یدعی کل اناس بامام زمانہم و کتاب ربہم وسنة نبیہم“ اس روز ہر قوم کو اس کے زمانے کے امام، اس کی کتاب الٰہی اور اس کے پیغمبر کی سنت کے ساتھ پکارا جائے گا۔ (بحوالہ: مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں) نیز امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ (علیه السلام) نے فرمایا: الا تحمدون الله اذا کان یوم القیامة فدعا کل قوم الیٰ من یتولونہ و دعانا الیٰ رسول الله و فزعتم الینا فالی این ترون یذھب بکم الی الجنہ و رب الکعبة _ قالھا ثلالاً __ کیا تم الله کی حمد و ثنا بجا نہیں لاتے کہ جب قیامت کا دن ہو گا، خدا ہر گروہ کو اس شخص کے ساتھ پکارے گا جس کی اس نے ولایت قبول کی ہو گی، ہمیں رسول الله کے ساتھ پکارے گا اور تمہیں ہمارے ساتھ۔ تم سوچتے ہو کہ ایسے میں تمہیں کدھر لے جائیں گے۔ ربِّ کعبہ کی قسم! بہشت کی طرف۔ پھر امام (علیه السلام)نے اس حملے کو تین مرتبہ دہرایا۔ (بحوالہ: مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں)

۲۔ بنی آدم کا شرف

”بنی آدم“ عموماً قرآن میں انسان کے لئے ایک ایسا عنوان ہے جس میں مدح وستائش اور احترام شامل ہے جبکہ لفظ انسان کی توصیف”ظلوم“،”جہول“،”ہلوع“( کم ظرف)،”ضعیف“ نافرمان اور ناسپاسی کے الفاظ سے کی گئی ہے۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ لفظ”بنی آدم“تربیت یافتہ انسانوں کی طرف اشارہ کرتا ہے یا کم از کم یہ انسان کی مثبت صلاحیتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ (حضرت آدم علیه السلام کا افتخار و اعزاز اور فرشتوں پر ان کی فضیلت کہ جو اس لفظ ”بنی آدم“میں پنہان ہے یہ بھی اس معنی کی ایک موئد ہے)۔ جبکہ لفظ ”انسان“ اس کے مطلق معنی کے لحاظ سے ہے اور کبھی کبھی انسان کے منفی پہلووٴں کی طرف اشارے کےلیے استعمال کیا گیا ہے۔ اسی لیے زیر بحث آیات کہ جن میں انسان کے شرف و فضیلت کا ذکر ہے یہاں لفظ”بنی آدم“ استعمال ہوا ہے۔ قرآن مجید میں انسانوں کے معنی کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد ۵ صفحہ۵۱ پر ہم نے تفصیلی بحث کی ہے۔

۳۔ رہبری، اسلام کی نظر میں

امام باقر علیہ السلام سے ایک مشہور حدیث منقول ہے۔ اس میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ(علیه السلام) اسلام کے بنیادی ارکان کے بارے میں گفتگو فرما رہے تھے۔ اس وقت آپ نے پانچواں رکن ولایت (رہبری) کو قرار دیا اور اس کا تعارف اہم ترین رکن کی حیثیت سے کروایا، جبکہ اس حدیث کے مطابق نماز کہ جو خالق و مخلوق کے مابین تعلق کا مظہر ہے۔ روزہ کہ جو شہوات سے مقابلے کا راز ہے۔ زکوٰة کہ جو انسان کے تعلق کا اظہار ہے اور حج کہ جو اسلام کے اجتماعی پہلووٴں کا ترجمان ہے دیگر چار بنیادی رکن ہیں۔ بعد میں امام(علیه السلام) نے مزید فرمایا: کسی چیز کو ولایت کی سی اہمیت حاصل نہیں ہے (کیونکہ دیگر ارکان کا اجراء اسی کے سائے میں ہو گا)۔ (تشریحی نوٹ: حدیث کی عبارت یوں ہے: قال الباقر (ع): بنی الاسلام علیٰ خمس علی الصلوٰة والزکوٰة والصوم والحج والولایة ولم یناد بشیءٍ کما نودی بالولایة (اصول کافی ج۲ ص ۱۵)۔ یہی وجہ ہے کہ رسولِ اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی ایک مشہور حدیث میں منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: ”من مات بغیر امام مات میتة الجاھلیة“ جو شخص اس دنیا سے امام و رہبر کے بغیر چلا جائے گا وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔(بحوالہ: نور الثقلین، ج ۳، ص ۱۹۴ اور دیگر بہت سی کتابیں) تاریخ میں ایسے بہت سے مواقع دکھائی دیتے ہیں کہ کبھی ایک ملت، ایک عظیم اور لائق قیادت و رہبری کی بدولت دنیا کی قوموں میں پہلی صف میں آ کھڑی ہوئی اور کبھی وہی ملت اسی افرادی قوت اور انہی وسائل کے باوجود کمزور اور نالائق قائدو رہبر کی بدولت ایسی گرِی کہ شاید کوئی باور نہ کرے کہ یہ وہی ملت ہے۔ کیا زمانہ جاہلیت کے عرب نہ تھے کہ جو جہالت، بدبختی، فتنہ و فساد، ذلت و نکبت اور انتشار و انحطاط میں غوطہ ور تھے کیونکہ ان کا کوئی قابل قائد نہ تھا لیکن جب الٰہی رہبر یعنی حضرت محمّد تھے ظہور فرمایا تو اس قوم نے وہ ترقی و کمال اور عظمت حاصل کی کہ پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ جی ہاں۔ یہ ہے رہبر کی تاثیر_ اُس زمانے میں، اِس زمانے میں اور ہر زمانے میں۔ البتہ خدائے تعالیٰ نے ہر زمانے کے انسانوں کی نجات و ہدایت کے لیے رہبر مقرر کیے ہیں کیونکہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ فرمانِ سعادت ضامن کے بغیر جاری نہ ہو۔ لیکن یہ بات بہت اہم ہے کہ لوگ اپنے رہبر کو پہچانیں اور گمراہ و فاسد اور مفسد رہبروں کے دام فریب میں گرفتار نہ ہوں کیونکہ پھر ان کے چنگل سے نجات مشکل ہے۔ شیعوں کا اعتقاد ہے کہ ہر زمانے میں ایک معصوم امام ہوتا ہے۔ اس اعتقاد کا بھی یہی فلسفہ ہے۔ جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: اللّٰہم بلیٰ لا تخلوا الارض من قائم للّٰہ بحجة، اما ظاھراً مشہوراً و اما خائفاً مغموراً، لئلا تبطل حجج اللّٰہ و بیّناتہ جی ہاں! بخدا زمین کبھی ایسے رہبر سے خالی نہیں ہوتی کہ جو حجتِ الٰہی کے ساتھ قیام کرے چاہے وہ ظاہر و آشکار ہو یا (درکار پیروکار نہ ہونے کی وجہ سے) مخفی و تنہاں ہو۔ ایسے رہبر کا وجود اس لیے ضروری ہے کہ خدا کی نشانیاں اور اس کے فرمان کے دلائل ختم نہ ہونے پائیں۔(نہج البلاغہ، کلمات قصار ۱۴۷)۔ مفہوم امامت اور جہاں انسانیت کے لیے اس کی ناگزیر ضرورت کے بارے میں ہم پہلی جلد میں سورہٴ بقرہ کی آیہ ۱۲۴ کے ذیل میں بھی بحث کر چکے ہیں۔

۴۔ دل کے اندھے

مشرکوں اور ظالموں کے بارے میں زیر بحث آیت میں قرآن نے ایک نہایت عمدہ تعبیر استعمال کی ہے اور وہ ہے ”اعمیٰ“(اندھے)۔ یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ حق کا چہرہ ہر جگہ آشکار ہوتا ہے البتہ چشم بینا کی ضرورت ہے۔ ایسی آنکھ کہ جو اس وسیع کائنات میں آیات الٰہی کو دیکھ سکے، وہ آنکھ کہ جو صفحاتِ تاریخ میں سے درسِ عبرت کا مطالعہ کر سکے اور ایسی آنکھ کہ جو ظالموں اور جابروں کے انجام کا مشاہدہ کر سکے۔ خلاصہ یہ کہ ایسی کھلی آنکھ کی ضرورت ہے کہ جو حق کو دیکھ سکے۔ لیکن جب جہالت، غرور، تعصب، ہٹ دھرمی، شہوت اور ہوا و ہوس کے موٹے موٹے پردے انسان کی آنکھ کے سامنے پڑجائیں تو پھر وہ دیکھنے کے قابل نہیں رہتی۔ جمالِ حق تو حجاب میں نہیں ہوتا مگر ایسی آنکھ اس کے مشاہدے سے عاجز ہوتی ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک حدیث امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا: ”من لم یدلّہ خلق السمٰوات والارض، واختلاف اللّیل والنہار، و دوران الفلک والشمس والقمر والاٰیات العجیبات علیٰ ان وراء ذٰلک امر اعظم منہ، فہو فی الاٰخرة اعمیٰ واضل سبیلا“۔ جس شخص کو زمین و آسمان کی خلقت، روز و شب کی آمد و شد، سورج چاند ستاروں کی گردش اور اس کی عجیب و غریب نشانیاں اس عالم کے ماوراء چھپی ہوئی عظیم حقیقت سے آگاہ نہ کریں، وہ آخرت میں اندھا ہو گا اور بہت زیادہ گمراہ۔(بحوالہ: تفسیر نور الثقلین ج ۳ ص ۱۹۶)۔ نیز متعد روایات میں اس آیت کی تفسیر میں بیان کیا گیا ہے کہ اس سے وہ شخص مراد ہے کہ جو حج کی استطاعت رکھنے کے باوجود آخر عمر تک حج پر نہ جائے۔(بحوالہ: تفسیر نور الثقلین ج ۳ ص ۱۹۶و ۱۹۷) اس میں شک نہیں کہ ایسا شخص اس آیت کا ایک مصداق ہے نہ کہ آیت کا مفہوم اسی میں منحصر ہے شاید اس مصداق کا ذکر اس بناء پر ہو کہ مراسم حج میں شرکت سے، اس عظیم اسلامی سیمینار میں حاضری سے اور اس میں پنہاں عبادی وسیاسی اسرار کے مشاہدے سے انسان کی آنکھ بینا ہو جاتی ہے اور اس بہت سے حقائق ددکھائی دینے لگتے ہیں۔ بعض دیگر روایات میں بدترین اندھاپن دل کے اندھے پن کو قراردیا گیا ہے: شر العمی عمی القلب بدترین نابینائی دل کا اندھا پن ہے۔ (3) بہرحال، جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے کہ عالمِ قیامت ہمارے اس عالم کے عقائد و اعمال کا عکس العمل ہے۔ اسی بناء پر سورہ طٰہٰ کی آیت ۱۲۴ سے لے کر ۱۲۶ تک میں ہے: وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِی فَإِنَّ لَہُ مَعِیشَةً ضَنکًا وَنَحْشُرُہُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ اَعْمَی قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِی اَعْمَی وَقَدْ کُنتُ بَصِیرًا قَالَ کَذٰلِکَ اَتَتْکَ آیَاتُنَا فَنَسِیتَھَا وَکَذٰلِکَ الْیَوْمَ تُنسیٰ ”جو شخص ہمارے ذکر سے منہ پھیرے گا وہ سخت زندگی سے دوچار ہو گا اور روزِ قیامت اندھا محشور ہو گا۔ اس وقت کہے گا: پرورگار !مجھے تونے کیوں اندھا محشور کیا ہے حالانکہ پہلے تو (دنیا میں) میں بینا تھا۔ وہ فرمائے گا: اسی طرح ہماری آیتیں تیرے پاس آتی تھیں اور تو ان سے آنکھیں بند کر لیتا تھا اور انہیں بھُلا رکھا تھا آج تجھے بھی بھلا دیا جائے گا“۔

73
17:73
وَإِن كَادُواْ لَيَفۡتِنُونَكَ عَنِ ٱلَّذِيٓ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ لِتَفۡتَرِيَ عَلَيۡنَا غَيۡرَهُۥۖ وَإِذٗا لَّٱتَّخَذُوكَ خَلِيلٗا
قریب تھا کہ ہم نے تجھے جو وحی کی ہے اس کے بارے میں (اپنے وسوسوں کے ذریعہ) تجھے فریب دیں تاکہ تو اس کی بجائے کسی اور کی ہماری طرف نسبت دے اور اس صورت میں وہ تجھے اپنا دوست قرار دے لیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 75 کے تحت ملاحظہ کریں۔

74
17:74
وَلَوۡلَآ أَن ثَبَّتۡنَٰكَ لَقَدۡ كِدتَّ تَرۡكَنُ إِلَيۡهِمۡ شَيۡـٔٗا قَلِيلًا
اگر ہم تمہیں ثابت قدم نہ رکھتے (اور تو مقام عصمت کی وجہ سے محفوظ نہ ہوتا) تو قریب تھا کہ توان کی طرف کچھ مائل ہو جاتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 75 کے تحت ملاحظہ کریں۔

75
17:75
إِذٗا لَّأَذَقۡنَٰكَ ضِعۡفَ ٱلۡحَيَوٰةِ وَضِعۡفَ ٱلۡمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيۡنَا نَصِيرٗا
اور اگر تو ایسا کرتا تو ہم تجھے( مشرکین کی نسبت) دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دو گنی سزا کا مزہ چکھا تے، پھر ہمارے مقابلے میں تجھے کوئی مدد گار نہ ملتا۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

ان بحث انگیز آیات کے بارے میں مفسرین نے مختلف شان نزول نقل کی ہیں۔ ان میں سے کچھ تو ایسی ہیں جو ان آیات کی تاریخ نزول سے مطابقت نہیں رکھتیں لیکن چونکہ بعض منحرف لوگوں نے انہیں دستاویز بنا لیا ہے لہٰذا ہم ان سب کا ذکر کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں پانچ مختلف اقوال نقل کیے ہیں: ۱۔ قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا: ہم تجھے اس وقت تک حجرِ اسود کو ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں دے سکتے جب تک کم از کم تو ہمارے خداؤں کو احترام کی نظر سے نہ دیکھے۔ رسول اللہ نے دل میں خیال کیا کہ خدا تو جانتا ہے کہ میں ان بتوں سے متنفر ہوں لہٰذا اس میں کیا حرج ہے کہ میں ان کی طرف دیکھ لوں تاکہ یہ لوگ مجھے حجر اسود کو ہاتھ لگانے دیں۔ اس مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کام سے منع کیا گیا۔ ۲۔ قریش نے تجویز کیا: ہمارے خداؤں کو برا کہنا چھوڑ دے۔ ہمیں کم عقل کہنے سے باز آجا اور ان حقیر غلاموں کو اپنے سے دور کر دے کہ جن سے ہمیں بدبو آتی ہے تاکہ ہم تیری مجلس میں حاضر ہوں اور تیری باتیں سنیں۔ اس امید پر کہ شاید یہ لوگ مسلمان ہو جائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے سوچا کہ (چاہے وقتی طور پر ہی سہی) ان کی بات مان لی جائے۔ اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں اور آپ کو اس کام سے روکا گیا۔ ۳۔ رسول اللہ نے بتوں کو مسجد حرام سے نکال باہر پھینکا تو قریش نے تقاضا کیا کہ آپ اجازت دیں کہ جو بت خانہ کعبہ کے نزدیک کوہ مروہ پر تھا اسے وہیں رہنے دیا جائے۔ پہلے تو پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے سیاسی مقاصد کے پیش نظر ارادہ کیا کہ ان کی بات مان لی جائے لیکن بعد ازاں اس ارادے کو ترک کریا اور حکم دیا کہ یہ بت بھی توڑ دیا جائے۔ اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ ۴۔ ثقیف قبیلے کے کچھ نمائندے رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کیا: ہم آپ کی بیعت کرنے کو تیار ہیں لیکن ہماری تین شرطیں ہیں۔ پہلی یہ کہ ہم نماز میں رکوع و سجود کے لیے نہیں جکھیں گے۔دوسری یہ کہ ہم اپنے بتوں کو اپنے ہاتھ سے نہیں توڑیں گے بلکہ آپ خود توڑ دیں۔ تیسری یہ کہ آپ اجازت دیں کہ ”لات“ کو ایک سال تک باقی رہنے دیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا : وہ دین جس میں رکوع و سجود نہ ہو وہ کسی کام کا نہیں۔رہا تمہارے بتوں کو تمہارے اپنے ہاتھ سے توڑنا تو اگر چاہوں تو اپنے ہاتھ سے توڑ دو اگر تمہارا دل یہ نہیں چاہتا تو ہم خود توڑ دیں گے۔ رہی ”لات “کے بارے میں تمھاری بات تو مَیں تمھیں اس قسم کی اجازت نہیں دیتا۔ اس موقع پر رسول الله کھڑے ہو گئے اور وضو کیا تو حضرت عمر نے لوگوں کی طرف رخ کیا اور کہا: رسول کو کیوں اذیت دیتے ہو وہ ہرگز اجازت نہیں دیں گے کہ سر زمینِ عرب میں بُت باقی رہیں۔ لیکن وہ لوگ یہی تقاضا کرتے رہے یہاں تک کہ مذکورہ بالا آیات نازل ہوئیں۔ ۵۔ قبیلہٴ ”ثقیف“ کے چند نمائندے آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہ کہنے لگے: ہمیں ایک سال کے لئے اجازت دیجئے کہ لوگ بتوں کے لئے جو ہدیے اور تحفے لاتے ہیں وہ ہم لے لیں، اس کے بعد ہم خود بتوں کو توڑ دیں گے اور اسلام لے آئیں گے۔ رسول الله اس سوچ میں تھے کہ بعض پہلووٴں کے پیش نظر انھیں یہ مہلت دے دیں کہ مذکورہ بالا آیت نازل ہوئیں اور اس امر سے شدّت کے ساتھ منع کیا گیا۔ اِن کے علاوہ بھی اِن سے ملتی جلتی کچھ شانِ نزول نقل ہوئی ہیں لیکن شاید وضاحت کی ضرورت نہ ہو کہ ان میں سے اکثر کا غلط ہونا خود انھیں میں سے پوشیدہ ہے کیونکہ رسول الله کی خدمت میں قبائل کے نمائندوں کا آنا جانا اور آپ سے تقاضا کرنا یا بتوں کو مسجد الحرام سے باہر پھینکنا اور انھیں توڑنا یہ سب فتح مکہ کے بعد ہجرت کے آٹھویں سال کے واقعات ہیں جبکہ یہ سورت بنیادی طور پر ہجرت سے پہلے نازل ہوئی اور اس زمانے میں ظاہری طور پر پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کو ایسا اقتدار حاصل نہ تھا کہ مشرکین آپ کے سامنے ایسی انکساری کرتے۔ اس سے قطع نظر بعض دیگر شانِ نزول کا بے بنیاد ہونا تفسیر کے ضمن میں پیش کی جانے والی توضیحات سے واضح ہو جائے گا۔

تفسیر: شرک کےلیے تھوڑے سے جھکاو کی سزا

گزشتہ آیات میں شرک اور مشرکین کے بارے میں بحث تھی۔ زیر نظر آیات میںم پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کو خبر دار کیا گیا ہے کہ وہ ان لوگوں کے وسوسوں سے بچیں تاکہ ایسا نہ ہو کہ شرک وبت پرستی کے خلاف معرکے میں تھوڑی سی کمزوری پیدا ہو جائے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ مکمل قاطعیت کے ساتھ یہ معرکہ جاری ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: قریب تھا کہ وسوسے تیرے دل پر اثر انداز ہوتے اور ہم نے جو تجھے وحی کی ہے اس کے بارے میں تجھے فریب دیتے تاکہ تُو اس کی بجائے کسی اور کی ہماری طرف نسبت دے اور پھر وہ تجھے اپنا دوست مان لیتے (وَإِنْ کَادُوا لَیَفْتِنُونَکَ عَنْ الَّذِی اَوْحَیْنَا إِلَیْکَ لِتَفْتَرِی عَلَیْنَا غَیْرَہُ وَإِذًا لَاتَّخَذُوکَ خَلِیلًا)۔ اور اگر ہم تیرے دل کو حق وحقیقت پر ثابت قدم نہ رکھے ہوتے (اور نورِ عصمت کے باعث تُو ثابت قدم نہ ہوتا) تو قریب تھا کہ تُو تھوڑا سا ان پر اعتماد کرتا اور ان کی طرف مائل ہو جاتا (وَلَوْلَااَنْ ثَبَّتْنَاکَ لَقَدْ کِدْتَ تَرْکَنُ إِلَیْھِمْ شَیْئًا قَلِیلًا)۔ اور اگر تو ایسا کر لیتا تو ہم تجھے مشرکین کی دنیاوی اور اُخروی سزا سے دوگنی سزا چکھاتے اور پھر ہمارے مقابلے میں تیرا کوئی مددگار نہ ہوتا (إِذًا لَاَذَقْنَاکَ ضِعْفَ الْحَیَاةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَاتَجِدُ لَکَ عَلَیْنَا نَصِیرًا)۔

چند اہم نکات

۱۔ کیا یہ کشادہ دِلی تھی؟

بعض بہانہ سازوں میں انبیاء کے غیر معصوم ہونے کے بارے میں اپنے عقیدے کے لئے مندرجہ بالا آیات کو دستاویز بنانا چاہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان آیات اور ان کے بارے میں منقول شانہائے نزول سے ظاہر ہوتا ہے کہ بُت پرستوں کے وسوسوں کے سامنے رسول الله نے کچھ میلان ظاہر کیا اور فوراً الله نے ان سے موٴاخذہ کیا۔ لیکن زیرِ بحث آیات خود اس قدر واضح اور منo بولتا ثبوت ہیں کہ اس طرز کے بطلان کے لئے ہمیں دیگر شواہد پیش کرنے سے بے نیاز کر دیتی ہیں. زیرِ بحث دوسری آیت صراحت سے کہتی ہے: ”اگر ہم نے تجھے ثابت قدم نہ رکھا ہوتا تو قریب تھا کہ تُو اُن کی طرف مائل ہو جاتا“۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ”تثبیتِ الٰہی“ یعنی اللہ کی طرف سے ثباتِ قدم جسے ہم ”مقامِ عصمت“ سے تعبیر کرتے ہیں اس میلان میں رکاوٹ بن گیا نہ یہ کہ رسول اللہ مائل ہو چکے تھے اور خدا نے انہیں منع کیا اور ان کا مواخذہ کیا۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ پہلی اور دوسری آیت میں درحقیقت، رسول الله کی دو مختلف حالتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ پہلی حالت کہ جو بشری اور ایک عم انسان کی حالت ہے۔ اس کی طرف پہلی آیت میں اشارہ کیا گیا ہے اور یہ حالت ہے دشمنوں کے وسوں کی اثر اندازی خصوصاً جبکہ اس میلان میں ظاہراً مصلحتیں بھی دکھائی دیں، مثلاً اس میلان کے بغیر سردارانِ قریش کے اسلام لانے کی امید یا خونریزی اور زیادہ مشکلات سے بچت، ہر عام آدمی چاہے وہ جتنا بھی قوی ہو ایسے وسوسوں کی اثر خیزی کا احتمال ہوتا ہے۔ لیکن دوسری آیت روحانی پہلو، عصمتِ الٰہی اور پروردگار کا لطفِ خاص بیان کرتی ہے. وہ لطفِ خاص کہ جو انبیاء اور خصوصاً پیغمبر اسلام کے بحرانی حالات کے شاملِ حال تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ طبیعتِ بشری کی وجہ سے رسول ا للہﷺ، ان وسوسوں کو قبول کرنے کے قریب تو ہوئے لیکن تائیدِ الٰہی نے انہیں بچا لیا اور ان کی حفاظت کی۔ یہ بعینہ وہی تعبیر ہے جو سورہ یوسف میں ہے کہ انتہائی بحرانی لمحات میں برہان الٰہی نے ان کا رخ کیا اور اگر اس برھان کا مشاہدہ نہ ہوتا تو عزیزِ مصر کی بیوی کے انتہائی قوی وسوسوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے۔ قرآنی الفاظ میں ہے: وَلَقَدْ ھَمَّتْ بِہِ وَھَمَّ بِھَا لَوْلَااَنْ رَاَی بُرْھَانَ رَبِّہِ کَذٰلِکَ لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّہُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِینَ (یوسف:۲۴) ہمارے نظریے کے مطابق زیرِ بحث آیات نہ صرف یہ کہ نفیِ عصمت کے لئے دلیل نہیں ہے بلکہ عصمت پر دلالت کرنے والی آیات میں سے ہیں کیونکہ مسلماً تثبیتِ الٰہی (افکار ومیلانات اور عملی اقدامات کے لحاظ سے خدا کی طرف سے ثباتِ قدم) صرف اسی موقع پر نہ تھا کیونکہ اس سے مشابہ مواقع پر بھی اس کی دلیل موجود ہے۔ لہٰذا یہ انبیاء اور ہادیانِ الٰہی کے معصوم ہونے پرایک شاہدِ زندہ ہے۔ رہی تیسری آیت کہ جو یہ کہتی ہے: اگر تیرا میلان ان کی طرف ہوجا تا تو تجھے شدید عذاب ہوتا۔ تو یہ اسی چیز کی دلیل ہے کہ عصمتِ انبیاء سے مربوط مباحث میں آئی ہے کہ ان کا معصوم ہونا اضطراری پہلو نہیں رکھتا بلکہ ایک قسم کی خود آگہی کے ساتھ ہے کہ جو اختیار اور ارادے کی آزادی کے ساتھ انجام پاتی ہے لہٰذا ایسی حالت میں ارتکابِ گناہ عقلاً محال نہیں ہے بلکہ آگہی وایمان کے اعلیٰ درجے کی وجہ سے عملاً یہ حضرات ہرگز گناہ کے مرتکب نہیں ہوتے، فرض کریں اگر وہ گناہ کرتے تو ان پر بھی کدائی عذاب ہوتا(غور کیجئے گا)۔(اس بات کی مزید تفصیل کتاب ”رہبران بزرگ“ میں پڑھیں)۔

۲۔دوگنا عذاب کیوں؟

واضح ہے کہ علم وآگہی، معرفت وایمان اور ایقان کے لحاظ سے انسان کا مقام جس قدر بلند ہو گا اس کے نیک اعمال اتنے ہی گہرے اور زیادہ قدر وقیمت کے ہوں گے۔ ظاہر ہے ثواب وجزا بھی زیادہ ہو گی۔ اسی بعض روایات میں ہے: ان الثواب علیٰ قدر العقل ثواب انسان کی عقل کے حساب سے دیا جائے گا۔(بحوالہ: اصول کافی،ج۱،کتاب ”العقل والجہل“ ص ۹،حدیث ۸)۔ عذاب اور سزا بھی اسی نسبت سے ہو گی، ایک اَن پڑھ ضعیف الایمان انسان گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا زیادہ غیر متوقع نہیں ہے لہٰذا اسے سزا بھی کم ملے گی لیکن اگر ایک با ایمان، صاحبِ علم جس کا ماضی روشن ہو وہ کوئی چھوٹا سا گناہ بھی انجام دے تو بہت تعجب ہو گا اور ہو سکتا ہے کہ اس چھوٹے گناہ پر اس کی سزا عام اَن پڑھ آدمی کے گناہ کبیرہ کی سزا سے شدیدتر ہو اور سنگین تر ہو۔ اسی بنا پر قرآن مجید میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی بیویوں کے بارے میں ہے: یَانِسَاءَ النَّبِیِّ مَنْ یَاْتِ مِنْکُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُبَیِّنَةٍ یُضَاعَفْ لَھَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللهِ یَسِیرًا۔ وَمَنْ یَقْنُتْ مِنْکُنَّ لِلّٰہِ وَرَسُولِہِ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُؤْتِھَا اَجْرَھَا مَرَّتَیْنِ وَاَعْتَدْنَا لَھَا رِزْقًا کَرِیمًا اے نبی کی بیویوں! تم میں سے جو کوئی واضح بُرا اور ناپسندیدہ عمل انجام دے گی اس کے لئے دوگنا عذاب ہو گا اور خدا کے لئے یہ امر آسان ہے اور تم میں سے جو خدا اور اس کے رسول کے سامنے خضوع کرے گی اورعمل صالح انجام دے گی ہم اسے دوگنی جزا دیں گے اور اس کے لئے ہم نے آبرومندانہ رزق تیار کر رکھا ہے۔ (احزاب:۳۰،۳۱) روایات میں بھی ہے: یغفر للجاھل سبعون ذنباً قبل ان یغفر للعالم ذنب واحد۔(بحوالہ: اصول کافی، ج اول، صفحہ ۳۷)۔ خدا جاہل کے ستر گناہوں سے در گزر کر دے گا اس سے پہلے کہ عالم کے ایک گناہ سے درگذر کرے۔ مندرجہ بالا آیات بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں، یہ پیغمبر سے کہہ رہی ہیں کہ اگر تم نے شرک مشرکین کی طرف میلان کیا تو تمہاری دنیا وآخرت سزا دوگنی ہو گی۔

۳۔”ضعف“ کا مفہوم

اس نکتے کی طرف بھی پوری توجہ ضروری ہے کہ عربی زبان میں ”ضعف“ صرف دوگنا کے معنی میں نہیں ہے بلکہ دوگنا اور کئی گنا کے معنی میں ہے۔ آٹھویں صدی کا مشہور لغت شناس فیروز آبادی کتاب”قاموس“ میں کہتا ہے: کبھی”ضعف فلان شی“ کہا جاتا ہے اور اس کا مطلب دوگنا یا تین گنا ہوتا ہے کیونکہ یہ لفظ لامحدود اضافے کے معنی میں آتا ہے۔ اس بات کا شاہد یہ ہے کہ آیات قرآن میں ”حسنات“ کے بارے میں ہے: اِنْ تَکُ حَسَنَةً یُضَاعِفْھَا اگر عملِ حسنہ ہوتو خدا اسے کئی گنا کر دیتا ہے۔ (نساء: ۴۰) اور کبھی قرآن کہتا ہے: مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَہُ عَشْرُ اَمْثَالِھَا جو کوئی ایک نیکی انجام دے گا اسے اس کے دس گنا جزا ملے گی۔(انعام:۱۶۰) روایات اسلامی میں امام صادق علیہ السلام سے سورہ بقرہ کی آیہ ۱۶۱کی تفسیر میں مروی ہے: اذا احسن المومن عملہ ضاعف اللّٰہ عملہ بکل حسنة سبع ماة ضعف، وذالک قول اللّٰہ واللّٰہ یضاعف لمن یشاء جس وقت کوئی صاحبِ ایمان کوئی نیک عمل انجام دیتا ہے تو اللہ ہر ایک عمل کے بدلے سات سو کا اضافہ کر دیتا ہے اور خدا کے اس قول کا یہی مطلب ہے جس میں وہ فرماتا ہے: واللّٰہ یضاعف لمن یشاء خدا جس کے عمل کو چاہتا ہے کئی گنا کر دیتا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر المیزان،ج۲ص ۴۲۴،بحوالہ تفسیر عیاشی)۔ لیکن یہ بات اس سے مانع نہیں کہ اس لفظ کے تثنیہ یعنی”ضاعفان“ یا ”ضاعفین“ کا معنی دوگناہ ہوتا ہے یا جس وقت اضافت کے ساتھ ہو تو تین گنا کا معنی ہوتا ہے مثلاً ہم کہیں”ضعف الواحد“ (غور کیجئے گا)۔

4۔ ”اذاً لاتّخذوک خلیلا“ کی تفسیر

مفسرین میں اس کا یہ معنی مشہور ہے: ”اگر تُو مشرکین کی خواہشات کی طرف مائل ہوتا تو تجھے اپنا دوست قرار دیتے“۔ لیکن بعض نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ اس جملے کے معنی یہ ہے: ”اگر تُو مشرکین کی خواہشات کی طرف مائل ہوتا تو وہ تجھے فقیر اور اپنا نیازمند قرار دیتے۔“ پہلی صورت میں ”خلیل“، ”خلہ“ (بروزن ”قلہ“) سے دوست کے معنی میں ہے۔ دوسری صورت میں خلیل“، ”خلہ“ (بروزن ”غَلہ“) نیاز مند وفقیر کے معنی میں ہے۔ لیکن واضح ہے کہ صحیح وہی پہلی تفسیر ہے۔

۵۔ خدایا ! ہمیں ہمارے سپرد نہ کر

منابع اسلامی میں ہے کہ جس وقت زیرِ نظر آیات نازل ہوئیں تو پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا: ”اللھم لاتکلنی الیٰ نفسی طرفة عین ابدا“۔ خدایا! مجھے پلک چھپکنے کے برابر بھی میرے اپنے سپرد نہ کر۔ رسول اللہ کی یہ معنی خیز دعا ہم سب کو اہم درس دیتی ہے اور وہ یہ کہ ہمیں ہرحالت میں خدا کی بارگاہ میں پناہ لینی چاہییے اور اس کے لطف وکرم کا سہارا لینا چاہیئے کیونکہ معصوم انبیاء بھی اس کی مدد کے بغیر لغزشوں سے محفوظ نہیں رہ سکتے تھے چہ جائیکہ ہم کو جو شیطانی وسوسوں میں گھِرے رہتے ہیں۔

76
17:76
وَإِن كَادُواْ لَيَسۡتَفِزُّونَكَ مِنَ ٱلۡأَرۡضِ لِيُخۡرِجُوكَ مِنۡهَاۖ وَإِذٗا لَّا يَلۡبَثُونَ خِلَٰفَكَ إِلَّا قَلِيلٗا
قریب تھا کہ وہ تجھے مکرو فریب اور شاطرانہ سازش کے ذریعے اس سر زمین سے باہر نکال دیتے، لیکن اگر وہ ایسا کرتے تو (عذاب خدا میں گرفتار ہو جاتے اور ) تیرے بعد زیادہ دیر باقی نہ رہتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 77 کے تحت ملاحظہ کریں۔

77
17:77
سُنَّةَ مَن قَدۡ أَرۡسَلۡنَا قَبۡلَكَ مِن رُّسُلِنَاۖ وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحۡوِيلًا
(ہماری) یہ سنت ان انبیاء کے بارے میں ہے کہ جنہیں ہم نے تجھ سے پہلے بھیجا ہے اور تو ہماری سنت میں ہرگز کوئی تغیر نہیں پائے گا۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

مشہور ہے کہ زیرِ نظر آیات اہل مکہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ انہوں نے رسول اللہ کو مکہ سے نکال دینے کے لئے آپس میں گٹھ جوڑ کر لیا تھا۔ بعد میں ان کا پروگرام بدل گیا۔ اب انہوں ارادہ کیا کہ رسول اللہ کو قتل کر دیں۔ انہوں نے آپ کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔ آپ اس محاصرے میں سے اعجاز آمیز طریقے سے باہر آ گئے اور مدینے کی طرف روانہ ہوئے۔ یہاں سے آپ کی ہجرت کی ابتدا ہوتی ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ آیات مدینے کے یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئیں جنہوں نے آپ کو مدینے سے نکالنے کے لئے سازش تیار کی۔ اس کے تحت وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: یہ سرزمین تو انبیاء کہ سرزمین نہیں ہے۔ انبیاء کا علاقہ تو شام ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی دعوت ترقی کرے تو وہاں چلے جائیں۔ لیکن یہ دیکھتے ہوئے کہ یہ سورت مکی ہے، دوسری شانِ نزول درست معلوم نہیں ہوتی۔ علاوہ ازیں جیسا کہ ہم تفسیر میں دیکھیں گے زیرِ نظر آیات کے الفاط بھی اس شانِ نزول سے مناسبت نہیں رکھتے۔

ایک اور منحوس سازش

گزشتہ آیات میں ہم نے دیکھا ہے کہ مشرکین طرح طرح کے وسوسوں کے ذریعے رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر اثر انداز ہونا چاہتے تھے اور ان کی کوشش تھی کہ آپ جادہ مستقیم سے اِدھر اُدھر کر دیں لیکن لطفِ الٰہی نے بنی کریم کی مدد کی اور مشرکوں کی سازشیں نقشِ بر آب ہو گئیں۔ اس واقعے کے بعد زیرِ بحث آیات بتاتیں ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ کی دعوت کو ناکام بنانے کے لئے ایک پلان تیار کیا اس کے مطابق ان کا پروگرام تھا کہ آپ کو آپ کے پیدائشی وطن سے دور کسی ایسی جگہ جلا وطن کر دیں جو ویران، غیر متحرک اور دُور افتادہ ہو۔ ان کا یہ منصوبہ بھی لطفِ الٰہی سے ناکام ہو گیا۔ زیرِ نظر پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: قریب تھا کہ وہ ایک شاطرانہ سازش کے ذریعے تجھے اس سرزمین سے باہر نکال دیں (وَإِنْ کَادُوا لَیَسْتَفِزُّونَکَ مِنَ الْاَرْضِ لِیُخْرِجُوکَ مِنْھَا)۔ ”یَسْتَفِزُّونَ“ کا مادہ ”استفزاز“ ہے۔ یہ کبھی بیخ کنی کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی سرعت اور مہارت کے ساتھ کسی کو کسی کام پر ابھارنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس مادہ کے ان معانی کی طرف توجہ کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین نے بڑی سوچ سمجھ کے ایک سازش تیار کی تھی کہ حالات ایسے پیدا کر دےے جائیں کہ جنہیں رسول اللہ گوارا نہ کر سکیں یا سادہ لوح افراد کو رسول اللہ کے خلاف اس قدر بھڑکا دیا جائے کہ وہ آپ کو مکہ سے نکال کر دم لیں۔ لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کی طاقت سے بالاتر خدائے بزرگ وبرتر کی قدرت ہے اور وہ اس کے ارادے کے مقابلے میں بہت ہی ناتواں ہیں۔ اس کے بعد قرآن انہیں خبردار کرتا ہے کہ ”اگر وہ اس قسم کا کام انجام دیتے تو تیرے بعد دیر تک باقی نہ رہ سکتے (وَإِذًا لَایَلْبَثُونَ خِلَافَکَ إِلاَّ قَلِیلا) اور وہ بہت جلد نابود ہو جاتے کیونکہ یہ بہت ہی بڑا گناہ ہے کہ لوگ اپنے ہمدرد اور نجات بخش رہبر کو اپنے شہر سے نکال دیں اور اس طرح خدا کی سب سے بڑی نعمت کا کفران کریں، لوگ ایسے کام کے بعد زندہ رہنے کا حق نہیں رکھتے اور خدا کا نابود کن عذاب ان کے پاس آکے رہے گا۔ یہ بات صرف مشرکینِ عرب سے مربوط نہیں ہے ”یہ ان انبیاء کے ساتھ سنت رہی ہے جنہیں ہم نے تجھ سے پہلے بھیجا اور ہماری سنت کبھی نہیں بدلتی“ (سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ مِنْ رُسُلِنَا وَلَاتَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیلًا) اس سنت کا سرچشمہ ایک واضح منطق ہے اور وہ یہ کہ اس قسم کی ناشکری قوم کہ جو اپنے چراغِ ہدایت کو خود بجھا دے جو اپنی نجات کے لنگر کو خود گنوا دے اور اپنے ایسے طبیب کو آزار پہنچائے جو ان کے جانکاہ امراض کا علاج کرنے والا ہو۔ یقیناً ایسی قوم رحمتِ الٰہی کے لائق نہیں اور اسے عذاب آ لے گا۔ ہم جانتے ہیں ایسے نہیں ہو سکتا کہ خدا اپنے بندوں میں تبعیض وامتیاز قائل نہیں۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ کسی ایک عمل پر بعض کو تو سزا دے اور بعض کو چھوڑ دے، ایک جیسے حالات میں ایک جیسے اعمال پر ایک جیسی سزا دیتا ہے۔ یہ ہے پروردگار کی سنت کا تبدیل نہ ہونا،جب کہ خود غرض انسانون کے طور طریقے اور اصول ہرروز ان کے مفادات کی روشنی میں بنتے بگڑتے رہتے ہیں۔ آج ایک چیز ان کے لئے سود مند ہے تو آج کی سنت اور کل اگر ان کا مفاد کسی اور میں ہے تو کل ان کا اصول کوئی اور ہو گا یہاں تک کہ ایک ہی سانس میں تضاد طور طریقے اختیار کر لیتے ہیں۔ انسانی معاشرے میں سنن اور طور طریقے یا تو مجہول معاملات کی وجہ سے بدل جاتے ہیں اس طرح سے کہ مجہول معاملات وقت گزرنے کے ساتھ واضح ہو جاتے ہیں جس سے یہ کھلتا ہے کہ ماضی میں لوگ اشتباہات میں تھے یا پھر مخصوص مفادات اور حالات کے تقاضے بدل جاتے ہیں یا پھر ایسا خودغرضی کی بنا ء پر ہوتا ہے جب کہ خدا کی پاک ذات میں اس مسائل کی کوئی گنجائش نہیں اس نے حکمت کی بنا پر جو سنت مقرر کی ہوتی ہے ان حالات کے لئے وہ ہمیشہ جاری رہتی ہے۔

78
17:78
أَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ لِدُلُوكِ ٱلشَّمۡسِ إِلَىٰ غَسَقِ ٱلَّيۡلِ وَقُرۡءَانَ ٱلۡفَجۡرِۖ إِنَّ قُرۡءَانَ ٱلۡفَجۡرِ كَانَ مَشۡهُودٗا
نماز قائم کر زوال خورشید سے لے کر (نصف) شب کی انتہائی تاریکی تک اور اسی طرح قرآن فجر (نماز فجر) کیونکہ قرآن فجر کا رات اور دن کے فرشتے مشاہدہ کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 81 کے تحت ملاحظہ کریں۔

79
17:79
وَمِنَ ٱلَّيۡلِ فَتَهَجَّدۡ بِهِۦ نَافِلَةٗ لَّكَ عَسَىٰٓ أَن يَبۡعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامٗا مَّحۡمُودٗا
رات کے ایک حصے میں نیند سے اٹھ کھڑا ہو اور قرآن (نماز) پڑھ۔ یہ تیرے لئے ایک اضافی فریضہ ہے تاکہ تیرا پروردگار تجھے مقام محمود کی بلندی عطا کرے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 81 کے تحت ملاحظہ کریں۔

80
17:80
وَقُل رَّبِّ أَدۡخِلۡنِي مُدۡخَلَ صِدۡقٖ وَأَخۡرِجۡنِي مُخۡرَجَ صِدۡقٖ وَٱجۡعَل لِّي مِن لَّدُنكَ سُلۡطَٰنٗا نَّصِيرٗا
اور کہہ دے :پروردگارا ! مجھے (ہر کام میں ) سچے طریقے سے داخل فرما اور سچے طریقے سے نکال اور اپنی طرف سے کسی کو میرا سلطان و مدد گار قرار دے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 81 کے تحت ملاحظہ کریں۔

81
17:81
وَقُلۡ جَآءَ ٱلۡحَقُّ وَزَهَقَ ٱلۡبَٰطِلُۚ إِنَّ ٱلۡبَٰطِلَ كَانَ زَهُوقٗا
اور (اے پیغمبر) کہہ دے حق آ گیا اور باطل نابود ہو گیا، (اصولاً) باطل ہے ہی (فنااور) نابود ہونے والا۔

باطل کا انجام نابودی ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں توحید و شرک کے مسائل پر گفتگو تھی۔ مشرکوں کی سازشوں اور وسوسوں کا ذکر تھا۔ زیر نظر آیات میں نماز توجہ اِلَی اللہ، عبادتِ خدا اور اس کے حضور میں تضرع وزاری کا ذکر ہے۔ یہ سب کچھ شرک کے مقابلے کے لئے مؤثر عامل ہے اور انسانی قلب و روح سے ہر قسم کے شیطانی وسوسے دور کرنے کا ذریعہ ہے۔ جی ہاں! نماز ہی ہے جو انسان کو خدا کو یاد دلاتی ہے، انسانی قلب و روح سے غبار گناہ کو صاف کرتی ہے اور شیطانی وسوسوں کو دُور کرتی ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: زوالِ خورشید سے نصف شب تک نماز قائم کر اور اسی طرح قرآن فجر (یعنی نماز فجر) کیونکہ یہ وہ نماز ہے جس پر رات اور دن کے فرشتوں کی توجہ ہے (أَقِمِ الصَّلاَةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا)۔ "دُلُوكِ الشَّمْسِ " کا معنی نصف النہار سے زوال آفتاب ہے کہ جو نمازِ ظہر کا وقت ہے۔ یہ "دلک" کے مادہ سے لیا گیا ہے اس کا معنی ہے "ملنا" کیونکہ اس موقع پر سورج کی شدتِ تپش کے باعث انسان اپنی آنکھوں کو ملتا ہے یا پھر یہ ترکیب "دلک" سے مائل ہونے اور جھکنے کے معنی میں ہے چونکہ سورج اس موقع پر مقام نصف النہار سے مغرب کی طرف جھکتا ہے یا یہ کہ انسان اپنے ہاتھ کو سورج کے سامنے حائل کرتا ہے گویا اس کی روشنی کو اپنی آنکھوں سے دور کرتا ہے اور آنکھ کو دوسری طرف مائل کرتا ہے۔ بہرحال، مصادرِ اہل بیتؑ سے پہنچنے والی روایت میں "دلوک" کا معنی زوالِ آفتاب ہی کیا گیا ہے۔ امام صادق علیہ السلام سے ایک روایت مروی ہے۔ آپؑ سے عبیدین زرارہ نے اسی آیت کی تفسیر پوچھی تو امامؑ نے فرمایا: خدا نے مسلمانوں پر چار نمازیں واجب کی ہیں جن کی ابتداء زوالِ آفتاب ہے اور انتہا نصف شب ہے۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۳، ص۱۱۵)۔ ایک اور روایت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے ۔ عظیم شیعہ محدث زرارہ نے اس آیت کی تفسیر کے متعلق سوال کیا تو امام ؑ نے فرمایا: دلوکھا زوالھا، غسق اللیل الی نصف اللیل، ذلک اربع صلوات وضعھن رسول اللہ(ص) و وقتھن للناس و قرآن الفجر صلوۃ انضمہ۔ "دُلُوكِ الشَّمْسِ إ" زوالِ آفتاب کے معنی میں ہے اور "غَسَقِ اللَّيْلِ" آدھی رات کے معنی میں ہے۔ یہ چار نمازیں ہیں کہ جو رسول اللہؐ نے لوگوں کے لئے واجب قرار دی ہیں اور ان کا وقت معین کیا ہے اور "قُرْآنَ الْفَجْرِ" نمازِ صبح کی طرف اشارہ ہے۔ (نورالثقلین، ج۳، ص۲۰۵)۔ البتہ بعض مفسرین نے "دلوک" کے معنی کے بارے میں کچھ اور احتمالات بھی ذکر کیے ہیں کہ جو قابلِ ملاحظہ نہیں ہیں۔ باقی رہا " غَسَقِ اللَّيْلِ" تو اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ "غسق" کا معنی انتہائی تاریکی ہے اور رات کی انتہائی تاریکی نصف شب کے وقت ہوتی ہے، یہ آدھی رات کے معنی میں ہے۔ " قُرْآنَ" کا معنی ہے وہ چیز جسے پڑھا جائے" لہذا " قُرْآنَ الْفَجْرِ" بھی نتیجتاً نمازِ فجر کی طرف اشارہ ہے۔ ان مفاہیم کے پیش نظر زیر بحث آیت اُن آیات میں سے ہے جن میں پنجگانہ نمازوکی طرف اجمالی طور پر اشارہ کیا گیا ہے۔ اسے دیگر متعلقہ آیات کے ساتھ باہم ملا کر دیکھا جائے تو اس سے نمازوں کے اوقات معین ہوتے یہں۔ اس سلسلے میں جو بہت سی روایات مروی ہیں ان میں وضاحت سے پنجگانہ نماز کا وقت بتایا گیا ہے۔ یہاں اس نکتے کی طرف توجہ ضروری ہے کہ قرآن کی بعض آیات صرف ایک نماز کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ مثلاً: حَافِظُواْ عَلَى الصَّلَوَاتِ والصَّلاَةِ الْوُسْطَى اپنی نماز کی حفاظت کرو اور نمازِ وسطیٰ کی (بقرہ۔ ۲۳۸) صحیح تفسیر کے مطابق "صَّلاَةِ الْوُسْطَى" سے مراد نمازِ ظہر ہے۔ کبھی پنجگانہ نمازوں میں سے تین کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ مثلاً: وَأَقِمِ الصَّلاَةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ (ہود۔۱۱۴) اس آیت میں " طَرَفَيِ النَّهَارِ" نمازِ صبح اور نمازِ مغرب کی طرف اشارہ ہے اور "زُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ"نمازِ عشاء کی طرف اشارہ ہے۔ کبھی قرآن میں پنجگانہ نمازوں کے اوقات اجمالی طور پر بیان کیے گئے ہیں۔ اس کی مثال زیر بحث آیت ہے۔ (اس سلسلے میں مزید تفصیل ہم تفسیر نمونہ جلد۵ میں سورہ ہود کی آیہ ۱۱۴ کی تفسیر کے ضمن میں بیان کر چکے ہیں)۔ بہرحال، اس میں شک نہیں کہ ان آیات میں پنجگانہ نمازوں کے اوقات کی تفصیل بیان نہیں ہوئی بلکہ دیگر اسلامی احکام کی طرح صرف کلیات بیان کرنے پر اکتفاء کی گئی ہے۔ ان کی تشریح و تٖفصیل رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اور ان کے سچے جانشین آئمہ علیہم السلام کی سنت میں آئی ہے۔ ایک اور نکتہ جو اس جگہ باقی رہ جاتا ہے یہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت کہتی ہے: "إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا" نمازِ صبح کو دیکھا جاتا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہےکون اس کا مشاہدہ کرتا ہے۔ آیت کے اس حصے کی تفسیر میں جو روایات ہم تک پہنچی ہیں ان کے مطابق شب و روز کے فرشتے اس نماز کو دیکھتے ہیں کیونکہ ابتدائے صبح کے وقت رات کے فرشتے جو بندگانِ خدا کے نگران و محافظ ہوتے ہیں وہ دن کے فرشتوں کو اپنی جگہ سونپتے ہیں اور جب نمازِ صبح اسی طلوعِ سحر کے آغاز میں ادا کی جاتی ہے تو رات کو جانے والے اور دن کے آنے والے فرشتوں کے دونوں گروہ اس کا مشاہدہ کرتے ہیں اور اس پر گواہی دیتے ہیں۔ ایسی روایات شیعہ علماء نے بھی نقل کی ہیں اور سُنّی علماء نے بھی۔ تفسیر روح المعانی میں احمد، نسائی، ابنِ ماجہ، ترمذی اور حاکم کے حوالے سے ایک روایت رسول اکرمؐ سے نقل کی ہے۔ آپؐ نے اس جملے کی تفسیر میں فرمایا: تشھدہ ملائکۃ اللیل و ملائکۃ النھار رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے اسے دیکھتے ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر روح المعانی، ج۱۵، ص۱۲٦)۔ اہلِ سنت کے مشہور محدث بخاری اور مسلم نے بھی اپنی اپنی صحیح میں اس کا یہی معنی نقل کیا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر روح المعانی، ج۱۵، ص۱۲٦)۔ اس تعبیر سے اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ نمازِ فجر کی ادائیگی کا بہترین موقع طلوعِ سحر کے ابتدائی لمحات ہیں۔ پنجگانہ واجب نمازوں کے ذکر کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: رات کے کچھ حصے میں نیند سے اٹھ کھڑا ہواور قرآن پڑھ (وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ)۔ (تشریحی نوٹ: جیسا کہ مفردات میں راغب نے کہا ہے "تھجد"، "ھجود" کے مادہ سے اصل میں نیند کے معنی میں ہے لیکن جب یہ لفظ بابِ تفصیل میں استعمال ہو گا تو نیند اڑ جانے اور بیداری کی حالت میں لوٹ آنے کے معنی دے گا۔ نیز "فَتَهَجَّدْ بِهِ" کی ضمیر قرآن کی طرف لوٹتی ہے۔ یعنی رات کے ایک حصہ میں بیدار رہ کر قرآن پڑھ۔ بعد ازاں یہ لفظ اہلِ شرع کی زبان میں نمازِ شب (نمازِ تہجد) کے لئے استعمال ہونے لگا اور "فَتَهَجَّدْ" نمازِ شب پڑھنے والے کو کہا جانے لگا)۔ مشہور اسلامی مفسرین نے اس تعبیر کو نوافلِ شب (نمازِ تہجد) کی طرف اشارہ سمجھا ہے۔ ان نوافل کی روایات میں بہت فضیلت بیان ہوئی ہے۔ آیت میں اگرچہ صراحت نہیں ہے لیکن ہمارے پاس موجود مختلف قرائن کے پیش نظر یہ تفسیر بالکل صحیح معلوم ہوتی ہے۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: تیرے لئے یہ واجب نمازوں کے علاوہ ایک اضافی ذمہ داری ہے (نَافِلَةً لَّكَ)۔ بہت سے علماء نے اس جملے کو اس امر کی دلیل جانا ہے کہ نامزِ شب رسول اللہؐ پر واجب ہے کیونکہ "نَافِلَةً "کا معنی ہے "زیادہ" گویا یہ اس طرف اشارہ ہے کہ یہ اضافی فریضہ صرف تجھ سے مربوط ہے۔ بعض دیگر علماء نے سورہ مزمل کی آیات کے قرینے سے کہا ہے کہ نمازِ تہجد رسول اللہؐ پر پہلے سے واجب تھی البتہ زیرِ نظر آیت نے پہلے حکم کو منسوخ کر کے اس کے مستحب ہونے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن یہ تفسیر کمزور معلوم ہوتی ہے کیونکہ لفظ "نَافِلَةً " یہاں آج کے اصطلاحی معنی یعنی "مستحب نماز" کے معنی میں نہیں ہے بلکہ اضافے کے معنی میں ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ نمازِ شب اگر رسول اللہؐ کے لئے واجب قرار دی گئی ہے تو یہ فرائضِ یومیہ پر اضافہ ہے۔ بہرحال، آیت کے آخر میں اس الہٰی، روحانی اور قلب و روح کو پاک کرنے والے کا کام کا نتیجہ یوں بیان کیا گیا ہے: قریب ہے کہ اس عمل کے باعث خدا تجھے مقام محمود پر فائز کر دے (عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا)۔ اس میں شک نہیں کہ "مقامِ محمود" ایک بہت بڑا، اعلیٰ اور لائقِ ستائش مقام ہے کیونکہ "محمود" "حمد" کے مادہ سے ستائش و تعریف کے معنی میں ہے۔ یہ لفظ یہاں چونکہ مطلق کے طور پر آیا ہے لہذا اشارہ ہے کہ اولین و آخرین سب تیرے مداح خواں ہیں۔ اسلامی روایات چاہے اہل بیتؑ سے مروی ہوں یا برادرانِ اہل سنت کی کتابوں میں، ان میں "مقامِ محمود" کی تفسیر "مقامِ شفاعتِ کبریٰ" کے طور پر کی گئی ہے کیونکہ پیغمبر اکرمؐ دوسرے جہان میں سب سے بڑے شفیع ہیں اور جو لوگ شفاعت کے لائق ہوں گے انہیں یہ عظیم شفاعت میسر آئے گی۔ بعد والی آیت میں اسلام کے ایک اصولی حکم کی طرف اشارہ ہے۔ ایسا اصولی حکم جس کا ساتھ داخل کر اور سچائی کے ساتھ نکال (وَقُل رَّبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ)۔ (تشریحی نوٹ: " مُدْخَلَ" اور "مخرج" یہاں داخل ہونے اور نکلنے کے مصدری معنی میں ہیں)۔ کوئی کام ایسا نہ ہو جسے میں سچائی اور صدق سے شروع نہ کروں اور اسی طرح کو ئی کام ایسا نہ ہو جسے میں سچائی اور صدق پر تمام نہ کروں۔ سچائی، صداقت، راستی اور امانت ہی میرا اصل راستہ ہو اور ہر کام کا آغاز و انجام اسی سچائی کے ساتھ ہو۔ بعض مفسرین نے کوشش کی ہے کہ اس آیت کے وسیع مفہوم کو ایک یا کئی ایک مصادیق میں محدود کر دیا جائے، مگر پوری طرح واضح ہے کہ زیرِ بحث آیت کی یہ جامع تعبیر اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہر کام اور ہر پروگرام میں صادقانہ طور پر داخل ہوا جائے اور صادقانہ طور پر نکلا جائے۔ کامیابی کی اصل رمز درحقیقیت اسی میں پوشیدہ ہے۔ انبیاء الہٰی اور اولیاء اللہ کی روش یہی تھی۔ ان کی فکر، ان کی گفتار اور ان کا عمل ہر قسم کی ملاوٹ، مکرو فریب اور دھوکے سے پاک تھا۔ ہر وہ چیز جس میں صدق و راستی نہ ہو اس کا ان سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اصولی طور پر وہ بہت سی بدبختیاں اور مسائل جو ہم آج دیکھ رہے ہیں اور جو افراد کو بھی دامن گیر ہیں اور اقوام وملل کو بھی، اسی اصول سے انحراف کی وجہ سے ہیں۔ کہیں تو انہوں نے اپنے کام کی بنیاد ہی جھوٹ اور مکرو فریب پر رکھی ہے اور کہیں وہ کاموں کا آغاز تو سچائی کے ساتھ کرتے ہیں لیکن آخر تک اس سچائی پر باقی نہیں رہتے۔ ان کی ناکامی کا یہی عامل ہے۔ دوسری بات جو آیت کے آخر میں بیان کی گئی ہے وہ دراصل شجرِ توحید کا ثمر ہے اور دوسرے حوالے سے کاموں میں سچائی کے ساتھ داخل ہونے اور نکلنے کا نتیجہ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: خداوندا! اپنی طرف سے میرا سلطان و مددگار قرار دے (وَاجْعَل لِّي مِن لَّدُنكَ سُلْطَانًا نَّصِيرًا)۔ کیونکہ میں اکیلا ہوں اور تنہا کوئی کام سرانجام نہیں دے سکتا۔ خود اپنی طاقت کے بھروسے پر ان مشکلات کے مقابلے میں کامیابی حاصل نہیں کر سکوں گا۔ تو میری مدد کر اور تو میرے لئے مددگار فراہم کر۔ اس راستے میں مجھے طاقتور منطق، دشمن کے مقابل دندان شکن دلائل، جانباز دوست، قوی ارادہ، روشن فکری اور رشاد عقل مرحت فرما تاکہ یہ تمام چیزیں میری مددگار ہوں۔ تو ہی یہ سب کچھ عطا فرما کیونکہ تیرے علاوہ یہ کام کسی کے بس کا نہیں۔ صدق و توکل کے بعد حتمی کامیابی کی امید بذاتِ خود کامیابی کا ایک عامل ہے لہذا زیرِ نظر آخر آیت میں خدا تعالیٰ اپنے پیغمبر سے کہتا ہے: کہہ دے: حق آ گیا اور باطل نابود ہو گیا (وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ)۔ (تشریحی نوٹ: "زَهَقَ" "زھوق" کے مادہ سے ہلاکت و نابودی کے معنی میں ہے اور "زھوق" (بروزن"قبول") مبالغے کا صیغہ ہے اس کا معنی ہے ایسی چیز جو پوری طرح محو اور نابود ہو جائے)۔ اور اصولی طور پر باطل ہے ہی نابود ہونے والا (إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا)۔ باطل بہت زور دکھاتا ہے لیکن اس کے لئے دوام و بقا نہیں ہے۔ کامیابی آخر کار حق اور اہلِ حق کے لئے ہے۔

۱۔ نمازِ تہجد ایک عظیم روحانی عبادت ہے

دن بھر کا شور مختلف حوالوں سے انسان کی توجہ اپنی طرف کھینچتا ہے اور انسانی افکار کو طرح طرح کی وادیوں میں لئے لئے پھر تا ہے۔ ایسے میں دل جمعی اور حضورِ قلب بہت مشکل ہوتا ہے۔ لیکن رات کی تاریکی میں وقتِ سحر جب مادی زندگی کا ہنگامہ نہیں ہوتا اور کچھ دیر سو جانے کے بعد جب انسانی جسم وروح کو سکون ملتا ہے, اس وقت انسان نشاط اور توجہ کی ایک خاص بے مثل کیفیت میں ہوتا ہے۔ ریا sy پاک، خود نمائی سے دور اور حضورِ قلب کے اس ماحول میں انسان میں آمادگی کی ایک ایسی کیفیت پیدا ہوتی ہے جو بہت زیادہ روح پرور اور کمال آفریں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوستانِ خدا اور محبانِ خدا ہمیشہ رات کے پچھلے پہر عبادت کے ذریعے روح کی پاکیزگی، دل کی زندگی، ارادے کی تقویت اور خلوص کی تکمیل کے لئے قوت حاصل کرتے ہیں۔ ابتدائے اسلام میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے اسی روحانی طریقہ سے استفادہ کرتے ہوئے مسلمانوں کی تربیت اور ان کی شخصیت کو اتنا بلند کر دیا کہ وہ پہلے والے انسان معلوم ہی نہ ہوتے تھے۔ گویا آپ نے ان کے اندر سے نئے انسان پیدا کر دئے، وہ انسان جن کا ارادہ پختہ تھا۔ جو بہادر، باایمان، پاک باز اور باخلوص تھے اور شاید مقامِ” محمود“کہ جس کا ذکر زیرِبحث آیت میں نمازِ شب کے نتیجے کے طور پر ہے اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہو۔ نمازِ تہجد کی فضیلت میں مروری روایات بھی اسی حقیقت کو واضح کرتی ہیں۔ ہم ذیل میں چند مثالیں ذکر کرتے ہیں: ۱۔پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم فرماتے ہیں: ”خیرکم من اطاب الکلام واطعم الطعام وصلی باللیل والناس نیام“۔ تم میں سے بہترین وہ شخص ہے جو بات بڑے ادب سے اور پاکیزگی سے کرے، بھوکوں کو کھانا کھلائے اور رات جب لوگ سو رہے ہوں وہ اٹھ کر نماز بڑھے۔(بحوالہ: بحارالا نوار،ج۸۷،ص ۱۴۲تا ۱۴۸)۔ ۲۔ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: قیام اللیل مصحة للبدن ومرضات للرب عزّوجل وتعرض للرحمة وتمسک باخلاق النبیین۔ رات کو اٹھ کر تہجد پڑھنا صحتِ بدن اور خوشنودی خدا اور اس کی رحمت کا وسیلہ ہے۔ اس عبادت سے انسان نبیوں کے اخلاق سے وابستہ ہو جاتا ہے۔(بحوالہ: بحار الانوار،ج ۸۷،ص ۱۴۲تا ۱۴۸)۔ ۳۔ امام صادق علیہ السلام نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا: لاتدع قیام اللیل فان المغبون من حرم قیام اللیل۔ نمازِ شب کے لئے اٹھنا ترک نہ کرو۔ وہ شخص خسارے میں ہے جو قیامِ شب سے محروم ہے۔(سابقہ حوالہ) ۴۔ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں: من صلی باللیل حسن وجھہ بالنھار۔ جو شخص نمازِ شب پڑھتا ہے دن کے وقت اس کی صورت (وسیرت) اچھی ہو گی۔(سابقہ حوالہ) ۵۔ ایک شخص حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی خدمت میں آیا۔ اس نے عرض کی: میں نمازِ شب سے محروم ہو گیا ہوں۔ آپ (علیه السلام) نے فرمایا: انت رجل قد قیّدتک ذنوبک۔ تجھے تیرے گناہوں نے گرفتار کر لیا ہے۔ (سابقہ حوالہ) ۶۔ امام صادق علیہ السلام سے ایک حدیث ان الفاظ میں منقول ہے: ان الرجل لیکذب الکذبة ویحرم بھا صلٰوة اللیل فاذا حرم بھا صلٰوة اللیل حرم بھا الرزق۔ انسان کبھی ایسا جھوٹ بولتا ہے کہ اس کی وجہ سے نمازِ تہجدسے محروم ہو جاتا ہے اور جب نمازِ شب سے محروم ہوتا ہے تو روزی (اور مادی وروحانی نعمتوں) سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔ (سابقہ حوالہ) ۷۔ ہم جانتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام کبھی نمازِ شب ترک نہیں کرتے تھے لیکن اس نماز کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ اس کے باوجود پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے اپنی وصیتوں میں ان سے فرمایا: اوصیک فی نفسی بخصال فاحفظھا ثم قال: اللھم اعنہ۔۔۔ وعلیک بالصلٰوة اللیل، وعلیک بالصلٰوة اللیل، وعلیک باصلٰوة اللیل۔ مَیں تمہیں چند امور کی وصیت کرتا ہوں ان کی حفاظت کرنا ------ یہاں تک کہ فرمایا: تیرے لئے نمازِ شب ضروری ہے۔ تیرے لئے نمازِ شب ضروری ہے۔ تیرے لئے نمازِ شب ضروری ہے۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۵،ص۲۶۸)۔ ۸۔ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے جبرئیل سے فرمایا: کہ مجھے کوئی نصیحت کرو تو انہوں نے کہا: یا محمد عش ما شئت فانک میت، واحبب ما شئت فانک مفارقہ، واعمل ماشئت فانک ملاقیہ، واعلم ان شرف المومن صلٰوتہ باللیل وعزّہ کفہ عن اعراض الناس۔ یا محمد! جتنا چاہو جی لو آخر مرنا ہے۔ جس سے چاہو محبت کر لو آخر اس سے بچھڑنا ہے۔ جو کام چاہے کر لو آخر اپنے عمل کو دیکھنا ہے اور یہ بھی جان لو کہ مومن کا شرف اس کی نمازِ شب میں ہے اور اس کی عزت دوسروں کو بے عزت کرنے سے بچنے میں ہے۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۵،ص ۲۶۹) جبرئیل (علیه السلام) کی ملکوتی نصیحتیں کہ جو بہت سوچی سمجھی اور جچی تُلی ہیں، نشاندہی کرتی ہیں کہ نمازِ تہجد انسان کی تربیت، روحانیت اور ایمان افروزی میں اس قدر پُرتاثیر ہے کہ اس کے شرف اور اس کی آبرو کا سرمایہ بن جاتی ہے جیسا کہ لوگوں کی آبرو سے مزاحم نہ ہونا اس کی عزت کا سبب بنتا ہے۔ ۹۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ثلاثۃ من فخر المومن وزینة فی الدنیا والآخرة، الصلٰوة فی اٰخر اللیل ویاسہ مما فی ایدی الناس وولایة الامام من آل محمد۔ تین چیزیں مومن کے لئے باعثِ افتخار ہیں اور دنیا وآخرت کی زینت ہیں: ۱۔ آخر شب کی نماز۔ ۲۔ لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے بے اعتنائی کرنا اور۔ ۳۔ آلِ محمد میں سے امامِ برحق کی حکومت وولایت۔ ۱۰۔ امام صادق علیہ السلام ہی سے منقول ہے۔ فرمایا: ایک باایمان شخص جو کوئی بھی نیک کام انجام دیتا ہے، اس کی جزا وثواب کا قرآن میں صراحت سے ذکر ہے۔ سوائے نمازِ تہجد کے، کیونکہ اس کی انتہائی زیادہ اہمیت کے پیشِ نظر اس کا ثواب صراحت سے بیان نہیں کیا گیا اور صرف اسی قدر فرمایا گیا ہے: تَتَجَافیٰ جُنُوبُھُمْ عَنْ الْمَضَاجِعِ یَدْعُونَ رَبَّھُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاھُمْ یُنفِقُونَ فَلَاتَعْلَمُ نَفْسٌ مَا اُخْفِیَ لَھُمْ مِنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ جَزَاءً بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ (سجدہ:۱۶،۱۷) وہ رات کے وقت اپنے بستروں سے اٹھتے ہیں اور اپنے رب کو خوف وامید کی ملی جُلی کیفیت میں پکارتے ہیں اور جو رزق ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں لیکن کوئی شخص نہیں جانتا کہ خدا نے ان کے لئے کیسی کیسی جزا رکھی ہے، ایسی جزا کہ جو ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کر دے گی۔(بحوالہ: بحار الانوار،ج۸۷،ص ۱۴۰)۔ البتہ۔ نمازِ شب کے بہت سے آداب ہیں، مناسب ہو گا اس کی اجمالی کیفیت ہم یہاں بیان کر دیں تاکہ اس روحانی عمل کے سچے عاشق اس سے زہادہ فائدہ اٹھا سکیں۔ انتہائی سادہ شکل میں نمازِ نمازِ تہجد کی گیارہ رکعتیں ہیں، ان کے مندرجہ ذیل تین حصے ہیں: الف۔ دو، دو رکعت کرکے آٹھ رکعتیں۔ انہیں نافلہ شب کہتے ہیں۔ ب۔ دو رکعت ”نافلہ شفع“ ج۔ایک رکعت جسے”نافلہ وتر“ کہتے ہیں۔ انہیں بالکل نمازِ صبح کی طرح ادا کرنا ہے۔ البتہ ان میں اذان واقامت نہیں ہے۔ نیز نماز وتر کے قنوت کو جتنا طول دیا جا سکے بہتر ہے۔ (کچھ فقہاء نے یہ احتیاط بیان کی ہے کہ شفع میں قنوت نہ پڑھا جائے یا پھر قصدِ رجاء سے پڑھا جائے)۔

۲۔ ”مقامِ محمود“ کیا ہے؟

جیسا کے الفاظ بتا رہے ہیں ”مقامِ محمود“ ایک وسیع معنی رکھتا ہے۔ اس میں ہر وہ مقام شامل ہے جو لائق تعریف وستائش ہے لیکن مسلم ہے کہ یہاں ایسے ممتاز اور انتہائی اعلیٰ مقام کی طرف اشارہ ہے کہ جو پیغمبرِ اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو عبادتِ شب، آہِ سحرگاہی اور دعائے نیمہ شب سے حاصل ہوا ہے۔ مفسرین میں مشہور ہے اور ہم بھی پہلے کہہ چکے ہیں یہ آپ کے لئے مقامِ شفاعتِ کبریٰ ہے۔ متعدد روایات میں بھی یہ تفسیر بیان ہوئی ہے۔ تفسیر عیاشی میں ہے کہ امام محمد باقر (علیه السلام) یا امام صادق علیہ السلام نے اس آیت”عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا“کی تفسیر میں فرمایا: ”ھی الشفاعة“ یہ شفاعت ہی ہے۔ بعض مفسرین نے کوشش کی ہے کہ خودِ آیت کے مفہوم سے یہ حقیقت اخذ کریں۔ ان کا خیال ہے کہ”عسی ان یبعثک“اس بات کی دلیل ہے کہ یہ وہ مقام ہے جو خدا تجھے عطا کرے گا ایسا مقام کہ جو سب کو تعریف پر ابھارے گا کیونکہ سب کو اس سے فائدہ پہنچے گا (کیونکہ زیرِ بحث جملے میں لفظِ”محمود“ مطلق طور پر آیا ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی قید یا شرط نہیں ہے)۔ علاوہ ازیں، تعریف وثنا ایک اختیاری عمل پر ہوتی ہے اور ان میں صفات کی حامل چیز رسول اللہ کے عمومی مقامِ شفاعت کے سوا اور کوئی نہیں۔ (بحوالہ: المیزان، ج ق، ص ۱۷۸)۔ یہ احتمال بھی ہے کہ مقام محمودپروردگار کے انتہائی قرب کا نام ہو کہ جس کے آثار میں سے ایک شفاعت کرنا بھی ہے۔ (غور کیجئے گا) اس آیت میں اگرچہ ظاہراً رسول اللہ مخاطب ہیں لیکن اس حکم کو ایک لحاظ سے عمومیت دی جا سکتی ہے اور کہا جا سکتا ہے کہ تمام با ایمان افراد کو جو تلاوتِ شب اور نمازِ شب کے الٰہی روحانی کام کو انجام دیتے ہیں ”مقامِ محمود “ سے اپنا حصہ لیں گے اور اپنے ایمان وعمل کے حساب سے بارگاہِ قربِ الٰہی تک رسائی حاصل کریں گے اور اسی نسبت سے راستے بھولے بھٹکوں کے شفیع اور دستگیر ہوں گے؛ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہر مومن اپنے ایمان کی شعاع کے اعتبار سے مقامِ شفاعت سے ہمکنار ہو گا لیکن اس آیت کا اتم واکمل مصداق پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی ذاتِ گرامی ہے۔

۳۔ کامیابی کے تین عوامل

حق وباطل کے معرکوں میں باطل کا لشکر عام طور پر مقدار اور سازوسامان کے لحاظ سے زیادہ بہتر ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود کم تعداد اور کم وسائل کے ہوتے ہوئے حق کا لشکر حیران کن کامیابی حاصل کرتا ہے۔ بدر، احزاب اور حنین کی جنگیں اس کی مثالیں ہیں۔ خود ہمارے زمانے میں ہم نے دیکھا کہ مستضعف حلقوں نے سُپر پاورز کے خلاف اپنی انقلابی جد وجہد میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ یہ اس لئے ہے کہ حامیانِ حق خاص روحانی طاقت کے حامال ہوتے ہیں۔ یہی طاقت ایک ”انسان“ سے ایک ”امّت“ بناتی ہے۔ زیرِ بحث آیات میں کامیابی کے تین اہم عوامل بتائے گئے ہیں۔ مسلمانوں نے آج کل ان عوامل سے زیادہ تر دوری اختیار کر رکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مستکبر دشمنوں سے مسلسل ہزیمتیں اٹھا رہے ہیں۔ یہ تین عوامل یہ ہیں: ۱و۲: کاموں میں سچائی کے ساتھ داخل ہونا اور نکلنا اور یہ طرزِ عمل مسلسل اختیار کئے رکھنا: رَبِّ اَدْخِلْنِی مُدْخَلَ صِدْقٍ وَاَخْرِجْنِی مُخْرَجَ صِدْقٍ“ ۳۔ قدرت الٰہی پر بھروسہ اور خود اعتمادی نیز دوسروں سے ہر قسم کی وابستگی اور انحصار کا خاتمہ: وَاجْعَلْ لِی مِنْ لَدُنْکَ سُلْطَانًا نَصِیرًا لہٰذا کامیابی کے لئے سچائی کی سیاست سے زیادہ موثر کوئی چیز نہیں اور استقلال، غیر پر عدمِ انحصار۔ اور توکل علی اللہ سے بہتر وبرتر کوئی سہارا نہیں، مسلمان ان دشمنوں کے خلاف کیونکر کامیابی حاصل کر سکتے ہیں جنہوں نے ان کے وسائلِ حیات لوٹ لئے ہیں جب کہ وہ فوجی، اقتصادی اور سیاسی لحاظ سے خود انہی دشمنوں سے وابستہ ہیں اور انہی پر انحصار کرتے ہیں۔ وہ ہتھیار جو ہم نے ایک دشمن سے خریدا ہے اس کی مدد سے اس دشمن پر ہم کیسے کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ کیسا خام خیال اور غلط اندازِ فکر ہے۔

۴۔ کامیابی حق کے لئے اور نابودی باطل کے لئے

مندرجہ بالا آیات میں ایک اور کُلی اور بنیادی اصول اور خدا کی ایک دائمی سنت کا تذکرہ ہے۔ یہ وہ اصول اور سنت ہے جو حق کے تمام پیروکاروں کے لئے ولولہ انگیز ہے۔ وہ یہ ہے کہ آخرکار حق کامیاب اور باطل قطعی طور پر نابود ہونے والا ہے۔ باطل صولت ودولت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ کرّ وفرو دکھاتا ہے۔ کڑکتا اور گرجتا ہے لیکن اس کی عمر مختصر ہے اور آخر کار نابودی کے گھاٹ اتر جاتا ہے۔ یا پھر قرآن کے بقول۔باطل پانی کے اوپر کے جھاگ کی مانند ہے؛ آنکھ مچولی کرتا ہے۔ شور وغوغا برپا کرتا ہے اور پھر خاموش ہو جاتا ہے اور پانی کہ جو سببِ حیات ہے باقی رہ جاتا ہے۔ قرآنی الفاظ میں: فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْھَبُ جُفَاءً وَاَمَّا مَا یَنفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِی الْاَرْضِ (رعد:۱۷) اس بات کی دلیل خود لفظ ”باطل“ میں پنہاں ہے کیونکہ باطل سے مراد ایسی چیز ہے جو عالمِ خلقت کے قوانین سے ہم آہنگ نہیں ہے اور جس کا واقعیت اور حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کا وجود بناوٹی، پُر فریب، بے اصل اور بے بنیاد ہے۔ یہ اندر سے کھوکھلا ہے۔ مسلّم ہے جس چیز کی یہ صفات ہوں وہ زیادہ دیر تک باقی نہیں رہ سکتی۔ لیکن”حق“ عین واقعیت ہے۔ راستی ودرستی پر مبنی ہے۔ اس کی اصل اور بنیاد ہے اس میں گہرائی ہے اور یہ قوانین آفرینش سے ہم آہنگ ہے۔ اور ایسی چیز کو بہرحال باقی رہنا چاہیئے۔ حق کے پیروکار ایمان کے ہتھیار سے لیس ہوتے ہیں۔ وہ ایفائے عہد کی منطق پر یقین رکھتے ہیں، صدقِ حدیث، فداکاری اور سرفروشی ان کی خصوصیات ہیں، وہ شہادت تک جانبازی دکھاتے رہنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ علم وآگاہی کے نور نے ان کا دل روشن کر رکھا ہوتا ہے۔ وہ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور اس کے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرتے۔ یہی ان کی کامیابی کا راز ہے۔

۵۔ آیت”جاء الحق“ اور قیامِ مہدی (علیه السلام)

بعض روایات میں ”جاء الحق وزھق الباطل“ کے جملے کی تفسیر قیامِ حضرت مہدی (علیه السلام) کے حوالے سے کی گئی ہے۔ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: خدا کے اس کلام کا مفہوم یہ ہے کہ: اذا قام القائم ذھبت دولة الباطل۔ جس وقت امامِ قائم قیام کریں گے باطل کی حکومت ختم ہو جائے گی۔(بحوالہ: نور الثقلین،ج ۳،ص ۱۱۲، ۱۱۳)۔ ایک اور روایت میں :جب امام مہدی پیدا ہوئے تو ان کے بازو پر کندہ تھا : ”جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا“۔(سابقہ حوالہ)۔ مسلم ہے کہ ان احادیث کا مطلب یہ نہیں کہ آیت کا مفہوم اسی ایک مصداق میں منحصر ہے بلکہ ان سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قیامِ مہدی اس آیت کے واضح ترین مصادیق میں سے ہے کہ جب پوری دنیا میں باطل پر حق کو آخری فتح حاصل ہو گی۔ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے حالات میں ہے کہ فتح مکہ کے روز آپ مسجدا لحرام میں داخل ہوئے وہاں عرب قبائل کے ۳۶۰ بُت، خانہ کعبہ کے گرد رکھے ہوئے تھے، آپ اپنے عصائے مبارک سے ہر ایک کو یکے بعد دیگرے سرنگوں کرتے تھے اور مسلسل فرما رہے تھے: جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا آ گیا حق اور مٹ گیا باطل باطل کو تو مٹنا ہی تھا۔ مختصر یہ کہ یہ اللہ کا ایک کُلی قانون اور خلقت کا غیر متبدل اصول ہے۔ ہر دَور میں اس کا اپنا مصداق ہے۔ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے قیام اور شرک وبُت پرستی کے لشکر پر آپ کی کامیابی اس کا ایک روشن رُخ ہے اور اسی طرح عالمی ستمگروں اور جابروں کے خلاف قیام مہدی (علیه السلام) (ارواحنا الفداء) اس کا ایک اور تابناک مصداق ہے۔ اسی طرح قانونِ الٰہی ہے کہ وہ راہ ِ حق کے راہیوں کو مشکلات میں پُرامید، پُراستقامت رکھتا ہے اور اسلام کے لئے ہماری کاوشوں پر ہمیں نشاط اور قوت بخشتا ہے۔

82
17:82
وَنُنَزِّلُ مِنَ ٱلۡقُرۡءَانِ مَا هُوَ شِفَآءٞ وَرَحۡمَةٞ لِّلۡمُؤۡمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ ٱلظَّـٰلِمِينَ إِلَّا خَسَارٗا
ہم قرآن نازل کرتے ہیں جو مومنین کیلئے شفا اور رحمت ہے اور اس سے ظالموں کیلئے نقصان و زیان کے سوا کچھ اضافہ نہیں ہوتا۔

قرآن شفا بخش نسخہ ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں توحید اور حق کے بارے میں گفتگو تھی نیز شرک اور باطل کے خلاف جد وجہد کے بارے میں بات تھی۔ زیرِ بحث آیت میں قرآن کی انتہائی اثر انگیزی اور تعمیری تاثیر کے بارے میں بات کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ہم قرآن نازل کرتے ہیں کہ جو مومنین کے لئے شفاء اور رحمت کا سبب ہے(وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا ھُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِینَ)۔لیکن ظالم (جیسا کہ ان کا ہمیشہ سے وطیرہ ہے اس وسیلہ ہدایت سے فائدہ اٹھانے کی بجائے) اس سے اپنی زیان کاری میں اضافہ کے سوا کچھ نہ پائے گے (وَلَایَزِیدُ الظَّالِمِینَ إِلاَّ خَسَارًا)۔

۱۔”من القرآن“ میں لفظ”من“ کا مفہوم

ہم جانتے ہیں کہ لفظ ”مِن“ ایسے مواقع پر ایک حصہ کے مفہوم میں آتا ہے لیکن چونکہ شفا اور رحمت ہونا قرآن کے کسی ایک حصے سے مخصوص نہیں, یہ تمام آیات قرآن کا قطعی اثر ہے لہٰذا بزرگ مفسرین نے لفظ ”مِن“ کو یہاں تبعیضیہ کی بجائے بیانیہ سمجھا ہے۔ لیکن بعض نے یہ احتمال ذکر ہے ”مِن“ یہاں بھی تبعیض کے مفہوم میں ہے اور یہ قرآن کے تدریجی نزول کی طرف اشارہ ہے (خصوصا جب کہ ”ننزل“ فعل مضارع ہے) اس صورت میں جملے کا معنی تقریباً یہ ہو گا: ہم قرآن نازل کرتے ہیں اور اس کا جو حصہ بھی نازل ہو وہ خود شفاء اور رحمت کا سبب ہے(غور کیجئے گا)۔

۲۔”شفاء “اور ”رحمت“ میں فرق

ہم جانتے ہیں کہ شفاء عام طور پر امراض، عیوب اور نقائص کے مقابلے میں ہوتی ہے۔ لہٰذا انسانوں کے لئے قرآن کا پہلا کام یہ ہے کہ وہ فرد اور معاشرے کو فکری اور اخلاقی ہر طرح کی بیماریوں سے پاک کرتا ہے۔ اس کے بعد ”رحمت“ کا مرحلہ آتا ہے۔ یہ دراصل انسانی اخلاق کو اخلاقِ الٰہی کے سانچے میں ڈھالنے کا مرحلہ ہے۔ اس مرحلے میں قرآن انسانی وجود میں اعلی انسانی فضائل کے شگوفوں کی پیوند کاری کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں "شفاء" پاکسازی کی طرف اور ”رحمت“ تعمیرِ نو کی طرف اشارہ ہے۔ یا فلاسفہ اور عرفاء کی اصطلاح میں پہلے مقام ”تخلیہ“ اور پھر مقام” تحلیہ“ کی طرف اشارہ ہے۔

۳۔ ظالموں پر الٹا اثر کیوں ہوتا ہے ؟

صرف اسی آیت میں نہیں بلکہ قرآن کی بہت سی دوسری آیات میں بھی ہم پڑھتے ہیں کہ دشمنانِ حق نور آیاتِ الٰہی سے اپنا قلب وروح منور کرنے کی بجائے اور اپنی تاریکیاں کم کرنے کی بجائے ان پر الٹا اثر لیتے ہیں۔ ان سے ان کی جہالت اور شقاوت میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ یہ اس لئے ہے چونکہ کفر، ظلم اور نفاق کے باعث ان کا ضمیر ہی دوسری شکل اختیار کر چکا ہوتا ہے۔ لہٰذا جہاں کہیں وہ نورِ حق دیکھتے ہیں اس سے جنگ کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور حق کے خلاف ان کی یہ معرکہ آرائی ان کی ناپاکیوں اور غلاظتوں میں اضافہ ہی کرتی ہے اور ان کے سرکشی کے جذبے اور قوی ہو جاتے ہیں۔ ایک مقوی غذا اگر کسی عالمِ مجاہد اور دانشمندِ مبارز کو دی جائے تو وہ اس سے تعلیم وتربیت یا راہِ خدا میں جہاد کے لئے قوت حاصل کرے گا لیکن یہی مقوی غذا اگر کسی ظالم کو دیں تو وہ زیادہ ظلم کے لئے اس سے استفادہ کرے گا۔ یہاں غذا میں فرق نہیں بلکہ مزاج اور طرزِ فکر میں اختلاف ہے۔ قرآنی آیات بارش کے قطروں کی مانند ہیں، باغ میں یہ قطرے گل و لالہ اگاتے ہیں اور شور زمین میں خس وخاشاک۔ لہٰذا قرآن سے استفادہ کے لئے پہلے آمادگی کی ضرورت ہے۔ استعدادِ قبولیت کی حاجت ہے۔ اصطلاح میں کہتے ہیں فاعل کی فعالیت کے ساتھ ساتھ محل کی قابلیت بھی شرط ہے۔ اسی بحث سے اس سوال کا جواب بھی مل جاتا ہے کہ قرآن کہ جو سبب ہدایت ہے وہ ان افراد کو ہدایت کیوں نہیں کرتا۔کیونکہ- قرآن بلا شبہ گمراہوں کی ہدیات کا باعث، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ حق کی تلاش میں ہوں۔ لہٰذا وہ اسی جذبے سے دعوتِ قرآن کی طرف آئیں گے اور حق فہمی کے لئے اپنی عقل وفکر استعمال کریں گے۔ لیکن ہٹ دھرم، متعصب اور سوگند کھائے ہوئے حق کے دشمن قرآن کی طرف سو فیصد منفی حالت میں آئیں گے۔ ظاہر ہے اس طرح وہ اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھائیں گے، بلکہ ان کے عناد اور کفر میں اضافہ ہو گا کیونکہ غلط عمل کے تکرار سے انسانی روح میں یہ اور گہرا ہو جاتا ہے۔

۴۔معاشرتی اور اخلاقی بیماریوں کے لئے ایک موثر دوا

اس میں شک نہیں کہ انسان کی روحانی واخلاقی بیماریاں اس کی جسمانی بیماریوں سے بہت مشابہت رکھتی ہیں۔ دونوں طرح کی بیماریاں انسانی کی دشمن ہیں دونوں کے لئے طبیب۔ علاج اور پرہیز کی ضرورت ہے۔ دونوں طرح کی بیماریاں ایک سے دوسرے کو لگ سکتی ہے۔ دونوں کا بنیادی سبب جاننا چاہییے اور دونوں کی اصل جڑ کو معلوم کرکے علاج کرنا چاہیئے۔ دونوں طرح کی بیماریاں بعض اوقات ایسے مرحلے پر پہنچ جاتی ہیں کہ انسان کو لاعلاج کر دیتی ہیں؛ البتہ اکثر مواقع پریہ قابل علاج ہوتی ہیں۔ یہ کسی جاذب۔ عمدہ اور معنی آفرین تشبیہ ہے۔ جی ہاں! قرآن حیات بخش نسخہ ہے۔ ان کے لئے جو جہالت۔ تکبر۔ حسد اور نفاق کے خلاف جہاد کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ جی ہاں! قرآن شفا بخش دوا ہے۔ زبوں حالیوں۔ پس ماندگیوں۔ بے اتفاقیوں اور بے بنیاد خطرات کے علاج کے لئے۔ جی ہاں! قرآن شفا بخش علاج ہے۔ اس کے لئے جو دنیا کے عشق میں مبتلا ہو۔ جو مادیات میں گھر گیا ہو اور جو شہوتوں کے سامنے بے بس ہو گیا ہو۔ جی ہاں! قرآن آرام شفا بخش نسخہ ہے۔ اس دنیا کے لئے جس کے ہر طرف جنگوں کی آگ بھڑک رہی ہے۔ اسلحے کے انباروں تلے جس کی کمر جھک گئی ہے۔ جس کے سب سے زیادہ اقتصادی وانسانی سرمائے کو جنگ اور اسلحے کے دیو اپنے قدموں تلے پامال کر رہے ہیں۔ جی ہاں! قرآن شفا بخش نسخہ ہے۔ اس کے لئے جس کی خواہشوں اور ہوا ہوس کے تاریک پردے اس کے لئے قربِ الٰہی کے راستے میں حائل ہو گئے ہیں۔ سورہ یونس کی آیت ۵۷ میں ہے: قَدْ جَائَتْکُمْ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّکُمْ وَشِفَاءٌ لِمَا فِی الصُّدُورِ یہ قرآن تمہارے رب کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی شفا بن کر آیا ہے۔ سورہ فصلت کی آیت ۴۴ میں بھی ہے: قُلْ ھُوَ لِلَّذِینَ آمَنُوا ھُدًی وَشِفَاءٌ ان سیاہ دل ہٹ دھرموں سے کہوکہ یہ قرآن اہل ایمان کے لئے ہداہت اور شفا کا سرچشمہ ہے۔ حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں اپنی ایک گفتگو میں اس حقیقت کو انتہائی خوبصورتی سے بیان کیا ہے: فاستشفوہ من ادوائکم واستعینوا بہ علی لاوائکم۔ فان فیہ شفاء من اکبر الداء۔ وھو الکفر والنفاق والغی والضلال۔ اس عظیم آسمانی کتاب سے اپنی بیماریوں کی شفا حاصل کرو۔ اپنی مشکلات حاصل کرنے کے لئے اس سے مدد لو کیونکہ یہ وہ کتاب ہے جس میں سب سے بڑی بیماری کی شفا ہے۔ وہی بیماری جسے کفر۔ نفاق۔ گمراہی اور ضلالت کہتے ہیں۔(بحوالہ: نہج البلاغہ۔ خطبہ ۱۷۶) قرآن کے بارے میں ایک اور عبارت حضرت علی علیہ السلام ہی سے منقول ہے۔ آپ فرماتے ہیں: الا انّ فیہ علم ما یاتی والحدیث عن الماضی و دواء دائکم و نظم ما بینکم۔ آگاہ رہو کہ اس میں آئندہ کی خبریں اور علم ہے۔ اس میں گزشتہ قوموں کا ذکر ہے اس میں درد کی دوا ہے اور یہ تمہاری اجتماعی زندگی کو منظم کرنے کا پروگرام ہے۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ۔ خطبہ۱۵۸ ) ایک اور مقام پر اسی بزرگ امام (علیه السلام) سے مروی ہے کہ آپ (علیه السلام) نے فرمایا: وعلیکم بکتاب اللّٰہ فانہ الجبل المتین والنور المبین والشفاء النافع۔ والرای الناقع۔ والعصمة للمتمسک والنجاة للمتعلق۔ لایعوج فیقام۔ ولا یزیغ فستعتب۔ ولاتخلقة کثرة الرد و ولوج السمع۔ من قال بہ صدق ومن وعمل بہ سبق۔ کتاب اللہ کو مضبوطی سے تھام لو کیونکہ یہ محکم رسی ہے۔ نورِ مبین ہے۔ شفا بخش اور بابرکت دوا ہے اور یہ وہ آبِ حیات ہے جو تشنہ گانِ حق کی پیاس بجھاتی ہے۔ جو شخص اس سے وابستہ ہو جائے یہ اس کی حفاظت کرتی ہے۔ جو اس کا دامن تھام لے اسے نجات بخشتی ہے۔ اس میں انحراف کے لئے کوئی راہ نہیں کہ اسے سیدھا کرنے کی ضرورت پڑے۔ یہ کبھی خطا نہیں کرتی کہ اسے اپنے قاریوں سے عذر خواہی کرنا پڑے۔ اس کی تکرار سے کہنگی نہیں ہوتی اور اسے بار بار سُن کر کان ناراحت نہیں ہوتے (اسے جس قدر پڑھا جائے اس کی شیرینی اور دلپذیری اس قدر ہی بڑھتی رہتی ہے) قرآن سے بات کرنے والے کو سچا جواب ملتا ہے اور اس پر عمل کرنے والا سب پر سبقت لے جائے گا۔(بحوالہ: نہج البلاغہ۔ خطبہ ۱۵۶) یہ رسا اور منہ بولتی تعبیریں کہ جن کی نظیر پیغمبر ِ اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم۔ حضرت علی علیہ السلام اور دیگر ائمہ ہدیٰ (علیه السلام) کے ارشادات میں کم نہیں۔ اچھی طرح ثابت کرتی ہیں کہ قرآن ایسا نسخہ ہے جس کے ذریعے تمام تر بدحالیاں دور ہو سکتی ہیں۔ یہ فرد اور معاشرے کو ہر طرح کی اخلاقی اور اجتماعی بیماریوں سے نجات دلانے کے لئے آیا ہے۔ اس حقیقت کے اثبات کے لئے بہترین دلیل زمانہ جاہلیت کے عربوں کا ابتدائی اسلام میں مکتبِ رسالت کے تربیت یافتہ گان سے موازنہ ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ وہ خونخوار۔ جاہل اور نادان قوم کہ جسے سرتا پا طرح طرح کی اجتماعی اور اخلاقی بیماریوں نے گھیر رکھا تھا اس شفا بخش نسخے کی بدولت نہ صرف اس کا علاج ہو گیا بلکہ وہ اتنی بڑی طاقت بن کر ابھری کہ عالمی جابروں اور سُوپر طاقتوں نے ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے دَورِ حاضر کے مسلمان فراموش کر چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ موجودہ حالات میں گرفتار ہیں کہ جس کے ہم اور آپ شاہد ہیں۔ آج مسلمان تفرقہ بازی اوراختلاف کا شکار ہیں۔ عالمی غارت گر طاقتیں ان کے وسائل اور دولت پر مسلط ہو چکی ہیں۔ آج ان کی تقدیر کا فیصلہ دوسرے کرتے ہیں۔ مختلف حوالوں سے غیروں سے ان کی وابستگیاں اور عدمِ استقلال نے انہیں کمزوری، زبوں حالی اور ذلت سے دو چار کر دیا ہے۔ وہ لوگ جن کے گھر میں شفا بخش نسخہ موجود ہو وہ اپنے علاج کے لئے ایسے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں کہ جو ان سے زیادہ بیمار ہوں۔ ان کا انجام ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔ قرآن نہ صرف شفا بخشتا ہے بلکہ صحت یابی کے بعد نقاہت کے زمانے میں انہیں مختلف پیغامات کے ذریعے تقویت عطا کرتا ہے کیونکہ قرآن ”شفا“ اور ”رحمت“ ہے۔ یہ بات لائق توجہ ہے کہ جسمانی بیماریوں کی دوائیں عموماً اعضاء بدن پر ناپسندیدہ اثرات چھوڑتی ہیں۔ یہاں تک کہ ایک مشہور حدیث میں ہے: ”ما من دواء الا ویھیج داء“۔ کوئی ایسی دوائی نہیں کہ جو کسی دوسری بیماری کا سرچشمہ نہ ہو۔(بحوالہ: سفینة البحار) لیکن قرآن۔ وہ شفا بخش دوا ہے جو انسانی روح وفکر اور قلب ونظر پر ہرگز کوئی غیر مطلوب اثر مرتب نہیں کرتا۔ بلکہ اس کے برعکس یہ سارے کا سارا خیروبرکت ہے۔ نہج البلاغہ کی ایک عبارت میں ہے: ”شفاء لاتخشی اسقامہ“۔ قرآن ایسی شفا بخش دوا ہے کہ جس سے کوئی بیماری پیدا نہیں ہوتی۔(بحوالہ: نہج البلاغہ۔ خطبہ ۱۹۸) اگر ہم ایک ماہ کے لئے بھی اس شفا بخش نسخے پر عمل کرنے کا عہد کریں اور اس عہد کی پاسداری کریں۔ اس کے حکم کو علم و آگاہی۔ عدل وانصاف۔ تقویٰ وپرہیز گاری۔ اتحاد واخلاص اور فدا کاری وجانبازی میں اپنائیں تو ہم دیکھے گے کہ ہماری بدحالیاں خوشیوں میں بدل جائیں گی۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ یہ نسخہ۔ دوسرے نسخوں کی طرح اس وقت موثر ہو سکتا ہے جب اس پر عمل کیا جائے ورنہ کسی بہترین شفا بخش نسخے کو ہم ہزار بار پڑھیں۔ سر پر رکھیں۔ آنکھوں سے لگائیں اور اسے بوسے لیں۔ اس پر عمل نہ کریں تو اس سے ہمیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا۔

83
17:83
وَإِذَآ أَنۡعَمۡنَا عَلَى ٱلۡإِنسَٰنِ أَعۡرَضَ وَنَـَٔا بِجَانِبِهِۦ وَإِذَا مَسَّهُ ٱلشَّرُّ كَانَ يَـُٔوسٗا
جس وقت ہم انسان کو کوئی نعمت بخشتے ہیں تو وہ (حق سے) منہ پھیر لیتا ہے اور تکبر کے عالم میں دور ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر اسے کوئی چھوٹی سی برائی پہنچتی ہے تو اور (ہر طرف سے)مایوس ہوجاتاہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 84 کے تحت ملاحظہ کریں۔

84
17:84
قُلۡ كُلّٞ يَعۡمَلُ عَلَىٰ شَاكِلَتِهِۦ فَرَبُّكُمۡ أَعۡلَمُ بِمَنۡ هُوَ أَهۡدَىٰ سَبِيلٗا
کہہ دو: ہر شخص اپنی روش(اور خلق و عادت) کے مطابق عمل کرتا ہے جن کی روش زیادہ اچھی ہے، تمہارا پروردگار انہیں بہتر طور پر پہچانتا ہے۔

ہر شخص اپنی فطرت کی راہ لیتا ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

زیرِ نظر آیات سے غیر تربیت یافتہ انسانوں کی ایک نہایت گہری اخلاقی بیماری کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ارشادہوتا ہے: جس وقت ہم انسان کو کوئی نعمت بخشتے ہیں تو (اس میں نخوت وغرور پیدا ہو جاتا ہے اور) وہ اپنے پروردگار سے منہ موڑ لیتا ہے اور عالمِ تکبر میں اس سے دور ہو جاتا ہے (وَإِذَا اَنْعَمْنَا عَلَی الْإِنسَانِ اَعْرَضَ وَنَاَی بِجَانِبِہ)۔ لیکن جب اس سے نعمت سلب کر لیتے ہیں۔ یہاں تک کہ اسے چھوٹی سی پریشانی لاحق ہو جاتی ہے تو سرتاپا اس پر ناامیدی چھا جاتی ہے (وَإِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ کَانَ یَئُوسًا)۔ ”اعرض“۔ "اعراض“ کے مادہ سے منہ پھیرنے کے معنی میں ہے۔ یہاں مراد اللہ اور حق سے منہ پھیرنا ہے۔ ”ناٰ“۔ ”نٲی“ (بروزن”رای“) کے مادہ سے دور ہونے کے معنی میں ہے۔ لفظ”بجانبہ“ کا اضافہ غرور وتکبر اور دشمنی کی وجہ سے ایک طرف ہو جانے کے معنی دیتا ہے۔ اس پورے جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ بے ایمان لا کمزور ایمان کے انسانوں کو جب نعمتیں میسر آتی ہیں تو ایسے مغرور ہوتے ہیں کہ منعم کو بالکل بھول جاتے ہیں۔ نہ فقط بھول جاتے ہیں۔ اس سے بے اعتنائی کرتے ہیں۔ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں اور عالمِ تکبر میں آ جاتے ہیں۔ ”مَسَّہُ الشَّر“ توڑی سی تکلیف اور پریشانی کی طرف اشارہ ہے یعنی وہ اس قدر کم ظرف ہیں کہ ذرہ بھر پریشانی کی صورت میں ہمت ہار بیٹھتے ہیں اور سوچنے سمجھنے سے عاری ہو جاتی ہیں اور یاس و ناامیدی کے سائے ان کے پورے وجود پر چھا جاتے ہیں۔ دوسری آیت میں رسول اللہ صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی طرف روئے سخن ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: کہہ دو: ہرشخص اپنی روش۔ خُلق اورعادت کے مطابق عمل کرتا ہے( قُلْ کُلٌّ یَعْمَلُ عَلیٰ شَاکِلَتِہ)۔ مومنین آیات قرآن سے شفا طلب کرتے ہیں اور رحمت کسب کرتے ہیں جب کہ ظالم وستمگر سوائے نقصان کے ان سے کچھ نہیں پاتے۔ کم ظرف انسان کہ جنہیں نعمت ملے تو مغرور ہو جاتے ہیں اور مشکل پڑے تو مایوس و بدحال ہو جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ اپنی طبیعت اور مزاج کے مطابق کرتے ہیں۔ یہ طبیعت اور مزاج انسان کے بار بار کے عمل کے زیرِ اثر بنتا ہے۔ ایسی حالت میں خدا سب کے حالات پر شاہد وناظر ہے”جی ہاں! تمہارا رب ان لوگوں کی کیفیت سے زیادہ آگاہ ہے جن کی روش بہتر اور ہدایت کے اعتبار سے زیادہ پُربار ہے ( فَرَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ ھُوَ اَھْدیٰ سَبِیلًا)۔

چند اھم نکات: ۱۔ تکبر اور مایوسی۔ دو خطرناک اخلاقی بیماریاں

ہم نے یہ جملہ بارہا دوسروں سے سنا ہے یا ہم خود دوسروں سے کہتے ہیں: فلاں شخص اب خدا کا بندہ نہیں رہا کیونکہ اب وہ دولت مند ہو گیا۔ نیز ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ جنہیں نئی نئی دولت ملتی ہے وہ خدا کو بھول جاتے ہیں لیکن جب یہ دولت جاتی رہتی ہے یا وہ مشکلات میں پھنستے ہیں تو ایسے مضطرب اور مایوس ہوتے ہیں کہ انسان کو یقین نہیں آتا کہ یہ وہی پہلے والے آدمی ہیں۔ جی ہاں ! تمام کوتاہ فکر، بے ایمان اور کم ظرف لوگوں کا یہی حال ہوتا ہے جبکہ اس کے برعکس دوستانِ خدا اور اولیاء اللہ کو حوادث درپیش ہوتے تو وہ ان سے نمٹنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، فرمانِ الٰہی کے سامنے ان کی حالت تنکے کی سی ہوتی ہے۔ انہیں ساری دنیا دے دیں تو وہ کھو نہیں جاتے اور ساری دنیا ان سے لے لو تو ان کی ماتھے پر شکن نہیں پڑتی۔ تعجب کی بات یہ ہے خود باختہ اور کم ظرف لوگ مشکل کے عالم میں خدا پرست بن جاتے ہیں اور فطرتِ الٰہی ان میں جاگ اٹھتی ہے اور وہ اپنے آپ میں واپس آ جاتے ہیں لیکن ادھر طوفانِ مصیبت تھمتا ہے اور ادھر یہ ایسے بدلتے ہیں گویا انہوں نے ہرگز کبھی خدا کا نام سنا تک نہیں، قرآن نے انسان کی یہ حالت متعدد مقامات پر بیان کی ہے (مثلا یونس۔۱۲، لقمان۔۳۲، فجر۔۱۴و۱۵، حم السجدہ۔۴۸و ۴۹)۔ یہ ایک بہت بڑی مصیبت ہے کیونکہ اس کے سبب انسان زندگی میں کبھی صحیح مقام حاصل نہیں کر سکتا۔ اس بیماری کا واحد علاج یہ ہے کہ انسان علم اور ایمان کے ذریعے اپنی سطحِ فکر بلند کرے، اپنے آپ کو مادیات کے چنگل سے نکالے اور اصلاحی وتعمیری زہد اختیار کرے۔ ضمنی طور پر اس بیان سے اس سوال کا جواب بھی مل جاتا ہے کہ زیرِ بحث آیات میں ایسے افراد کو مشکلات میں ناامید کہا گیا ہے جب کہ دوسری آیات (مثلا عنکبوت۔۶۵) میں انہیں ”مخلصین لہ الدین“ کہا گیا ہے اور یہ جملہ تو خدا کی طرف سے انتہائی توجہ کی حکایت کرتا ہے۔ یہ فرق کیوں ہے؟ اس کی وضاحت یہ ہے یہ دونوں حالتیں آپس میں کوئی تضاد نہیں رکھتی بلکہ ان میں سے ایک دوسری کی تمہید ہے۔ ایسے افراد کو جب مشکلات کا سامنا ہوتا ہے تو اپنی زندگی سے بالکل مایوس ہو جاتے ہیں اور یہی ناامیدی سبب بنتی ہے کہ ان کے چہرہ فطرت سے پردے ہٹ جاتے ہیں اور وہ بارگاہِ خداوندی کا رخ کرتے ہیں لیکن یہ اضطراری توجہ نہ ان کے لئے عزو شرف کا باعث ہے اور نہ ان کی بیداری کی دلیل ہے کیونکہ ادھر یہ مشکلات دور ہوتی ہیں اور ادھر یہ اپنی پہلی حالت پر لوٹ آتے ہیں وہی حالت جو اب ان کی فطرتِ ثانیہ بن چکی ہوتی ہے۔ لیکن۔ اولیائے حق اور خدا کے سچے بندے مشکلات کو چہرہ دیکھ کر مایوس نہیں ہو جاتے بلکہ حوادث تو ان کی استقامت اور پامردی میں اضافہ کرتے ہیں، وہ خدا پر بھروسے اور اپنی خود اعتمادی باعث مشکلات پر گویا حملہ آور ہوتے ہیں کیونکہ یاس و ناامیدی کے لئے ان کی وجود میں کوئی گنجائش نہیں ہوتی، وہ خدا کو صرف مشکلات میں نہیں پہچانتے بلکہ ہر حالت میں اس کی یاد میں بسر کرتے ہیں اس کی پاک ذات پر بھروسہ کرتے ہیں اور اس کا نورِ رحمت ان کے دل پر سایہ فگن رہتا ہے۔

2- ”شاکلة“سے کیا مراد ہے؟

”شاکلة“ دراصل، ”شکل“ کے مادہ سے جانور کو لگام دینے کے معنی میں ہے۔ ”شکال“ خود مہار کو کہتے ہیں اور چونکہ ہر انسان کو اس کی طبیعت، جذبات اور عادتیں کسی خاص روّیے میں مقید کر دیتے ہیں لہٰذا اسے ”شاکلة“ کہتے ہیں۔ سوالات، ضروریات اور تمام مسائل کے لئے یہ جو لفظ” اشکال“ بولا جاتا ہے یہ بھی اس لحاظ سے ہے کہ یہ ایک لحاظ سے انسان کو مقید کر دیتے ہیں۔(بحوالہ: مفردات ازراغب، مادہ ”شکل“) اس گفتگو سے ظاہر ہوا کہ ”شاکلة“ کا مفہوم انسان کی ذاتی طبعیت کے لئے مخصوص نہیں، اسی لئے علامہ طبرسی مرحوم مجمع البیان میں اس کے دو معانی ذکر کئے ہیں: ۱۔ طبیعت وخلقت۔ ۲۔ طریقہ، مذہب اور سنت۔ کیونکہ ان میں سے ہر ایک انسان کو عمل کے لحاظ سے کسی طرح مقید کرتا ہے۔ یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ وہ لوگ کس قدر اشتباہ اور غلط فہمی میں مبتلا ہیں جو زیرِ بحث آیت کو صفاتِ ذات کی انسان پر حکومت اور جبر واکراہ کی دلیل خیال کرتے ہیں اور یہاں تک کہ تربیت وتزکیہ پر اعتماد نہیں رکھتے۔ یہ طرزِ فکر مختلف سیاسی، معاشرتی اور نفسیاتی اسباب کے باعث پیدا ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں ہم نے جبر واختیارکی بحثوں میں وضاحت کی ہے۔ بہت سی قوموں ادب میں یہ فکر غالب نظر آتی ہے۔ لوگ اپنی کوتاہ اور غلط باتوں کی توجیہ کے لئے اس کا سہارا لیتے ہیں، یہ وہ خطرناک ترین نظریہ ہے جو معاشرے کو ذلت وخواری اور پسماندگی کی طرف کھینچ لے جاتا ہے اور سالہا سال یہ صدیوں تک کے لئے اسے اس پسماندگی کے گڑھے میں ڈالے رکھتا ہے۔ ذیل کے اشعار اس طرزِ فکر کی کامل نمائندگی کرتے ہیں: درختی کہ تلخ است اندر سرشت گرش بر نشانی بہ باغ بہشت واز جوی خلدش بہ ہنگام آب بہ بیخ انگبین ریزی وشہدناب سرانجام گوہر بہ کار آورد ہمان میوہ تلخ بار آورد یعنی۔ جس درخت کی سرشت میں ہی تلخی ہے اگر اسے جنت میں بھی لگا دیا جائے۔ اور جنت سے اسے پانی دیتے وقت اس میں شہد ملا دیا جائے۔ لیکن آخر کار اس کی سرشت اپنا کام دکھائے گی اور وہ جو پھل دے گا وہ کڑوا ہی ہو گا۔ اگر تربیتی اور اجتماعی مسائل کی بنیاد واقعاً اس منطق کو قرار دیا جائے تو تعلیم وتربیت کو لازمی طور پر فضول ماننا پڑے گا۔ اسی بناء پر ہمارا عقیدہ ہے کہ مسلکِ جبر ہمیشہ استعماری حکومتوں کے ہاتھ میں ایک دستاویز اور حربے کے طور پر رہا ہے تاکہ وہ اس ذریعے سے کسی انقلابی تحریک کو روک سکیں اور جواں مرد انقلابیوں کو بیڑیاں پہنا سکیں۔ مشہور جملہ ہے: الجبر والتشبیہ امویان والعدل والتوحید علویان عقیدہ جبر اور خدا کو موجودات کے ساتھ تشبیہ دینا بنی امیہ کے عقائد میں سے ہے اور عدل وتوحید کا عقیدہ مکتبِ علوی کی بنیاد ہے۔ یہ جملہ بھی اس حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے ”شاکلة“ ہر گز ذاتی تربیت کے معنی میں نہیں ہے بلکہ ہر قسم کی عادت، طریقہ، روش اور مذہب انسان کی زندگی کو ایک جہت اور سمت دے دے اسے ”شاکلة“ کہتے ہیں۔ اسی بنا پر عادات وسنن جنہیں اختیاری عمل کے تکرار سے انسان اپنا لیتا ہے اور اسی طرح عقائد ونظریات جو استدلال یا عصب کی وجہ سے قبول کر لیتا ہے یہ سب انسانی زندگی پر گہرا ثر مرتب کرتے ہیں اور انہیں ”شاکلة“ کہا جاتا ہے۔ اصولی طور پر انسانی ملکات وجذبات عموماً اختیاری ہوتے ہیں کیونکہ جب انسان کسی عمل کا تکرار کرتا ہے تو اس کی پہلی اسٹیج کو ”حالت“ کہتے ہیں، دوسری کو ”عادت“ اور تیسری کو”ملکہ“۔ یہ عمل آہستہ آہستہ تدریجی طور پر ہوتا ہے۔ یہی ملکات ہیں جو انسان کے اعمال کو ایک خاص شکل دیتے ہیں اور اس کی راہِ حیات کو معین کرتے ہیں، حالانکہ یہ ملکات اختیاری عوامل سے پیدا ہوتے ہیں اور اختیاری عوامل ہی انہیں پروان چڑھاتے ہیں۔ بعض روایت میں ”شاکلة“ سے ”نیت“ مراد لیا گیا ہے۔ اصول کافی میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک روایت ہے۔ آپ (علیه السلام) فرماتے ہیں: النیة افضل من العمل الا وانّ النیة ھی العمل، ثم تلا قولہ عزّوجل: ”قل کل یعمل علی شاکلتہ “ یعنی علی نیتہ۔ نیت عمل سے افضل ہے بلکہ اصلاً نیت ہی عمل ہے۔ اس کے بعد آپ (علیه السلام) نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: ”قل کل یعمل علی شاکلة“ اور ساتھ ہی فرمایا: ”شاکلة“ سے مراد نیت ہے۔ (نور الثقلین، ج۳ ص۱۱۴) اس تفسیر میں ایک جاذبِ نظر اور عمدہ نکتہ پنہاں ہے اور وہ یہ کہ انسان کی نیت کہ جو اس کے عقائد ونظریات سے ابھرتی ہے اسی سے اس کا عمل جنم لیتا ہے اور اصولاً خود نیت”شاکلة“کی ایک قسم ہے یعنی مقید کرنے والا امر ہے۔ اسی لئے بعض اوقات نیت ہی کو عمل قرار دیا گیا ہے اور کبھی اسے عمل سے برتر گردانا گیا ہے۔ کیونکہ بہرحال عمل وہی راستہ اختیار کرتا ہے جو نیت کی روش ہوتی ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ امام صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا : کیا یہودیوں کی عبادت گاہوں اور نصاریٰ کے گرجوں میں نماز پڑھی جا سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں تم ان میں نماز پڑھ سکتے ہو۔ کسی نے پوچھا: اگر وہ ان میں نماز پڑھ رہے ہوں ہم پھر بھی ان میں نماز پڑھ لیں؟ فرمایا: ہاں۔ کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا کہ اللہ فرماتا ہے: ”قل کل یعمل علی شاکلتۃ فربکم اعلم بمن ھو اھدی سبیلا۔ اس کے بعد مزید فرمایا: تم اپنے قبلہ کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھو اور انہیں رہنے دو (وہ جو بھی کر رہے ہو ں)۔(بحوالہ: نور الثقلین، ج۲ ص۱۱۴)۔

85
17:85
وَيَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلرُّوحِۖ قُلِ ٱلرُّوحُ مِنۡ أَمۡرِ رَبِّي وَمَآ أُوتِيتُم مِّنَ ٱلۡعِلۡمِ إِلَّا قَلِيلٗا
تجھ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں۔کہہ دے: روح میرے رب کے امر میں سے ہے اور تمہیں تو بہت تھوڑا سا علم دیا گیا ہے۔

روح کیا ہے؟

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات کے بعد۔ اب مشرکین یا اہلِ کتاب کے بعض اہم سوالات کے جوابات دئےے جا رہے ہیں۔ ارشادہوتا ہے:تجھ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دو : روح میرے رب کے فرمان میں سے ہے اور تمہیں بہت تھوڑا سا علم دیا گیا ہے(وَیَسْاَلُونَکَ عَنْ الرُّوحِ قُلْ الرُّوحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّی وَمَا اُوتِیتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِیلاً)۔ گزشتہ اور موجودہ دَور کے عظیم مفسرین نے”روح “ کے معنی اور اس آیت کی تفسیر کے بارے میں بہت کچھ کہا، ہم پہلے لغت کے حوالے سے ”روح “ کے معنی کے بارے میں بات کریں گے، اس کے بعد قرآن میں یہ لفظ جہاں جہاں آیا ہے اسے دیکھیں گے اور اس سلسلے میں وارد شدہ روایات بیان کریں گے۔ ۱۔ لغت کے حوالے سے: لُغت کے لحاظ سے ” روح“ دراصل، ”نفس“ اور ”دوڑنے“ کے معنی میں ہے۔ بعض نے تصریح کی ہے کہ ”روح“ اور ”ریح“ (ہوا) ایک ہی معنی سے مشتق ہیں اور روحِ انسان کہ جو مستقل اور مجرد گوہر ہے اسے اس نام سے اس لئے موسوم کیا گیا ہے کہ یہ تحرک، حیات آفرینی اور ظاہر نہ ہونے کے لحاظ سے نفس اور ہوا کی طرح ہے۔ ۲۔ قرآنی آیات کے حوالے سے: قرآن حکیم میں یہ لفظ مختلف اور متنوع صورت میں آیا ہے۔ کبھی یہ لفظ انبیاء ومرسلین کو ان کی رسالت کی انجام دہی میں تقویت پہنچانے والی روحِ مقدس کے بارے میں آیا ہے۔ مثلاً سورہٴ بقرہ کی آیہ ۲۵۳میں ہے: وَآتَیْنَا عِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنَاتِ وَاَیَّدْنَاہُ بِرُوحِ الْقُدُس ہم نے عیسیٰ کو واضح دلائل دئےے اور روح القدس کے ذریعے اسے تقویت بخشی۔ کبھی یہ لفظ مومنین کو تقویت بخشنے والی اللہ کی روحانی ومعنوی قوت کے مفہوم میں آیا ہے۔ جیسا کہ سورہ مجادلہ کی آیہ ۲۲میں ہے: اُوْلٰئِکَ کَتَبَ فِی قُلُوبِھِمْ الْإِیمَانَ وَاَیَّدَھُمْ بِرُوحٍ مِنْہُ وہ ایسے لوگ ہیں کہ اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان لکھ دیا ہے اور روح کے ذریعے انہیں تقویت بخشی ہے۔ اور کبھی وحی کے خاص فرشتے کے مفہوم میں یہ لفظ استعمال ہوئے: ”امین“ کے لفظ سے اس کی توصیف کی گئی ہے مثلاً سورہ شوریٰ کی آیہ ۱۹۳۔۱۹۴میں ہے: نَزَلَ بِہِ الرُّوحُ الْاَمِینُ، عَلیٰ قَلْبِکَ لِتَکُونَ مِنَ الْمُنذِرِین۔ یہ قرآن روح الامین نے تیرے دل پر اتارا ہے تاکہ تُو ڈرانے والوں میں سے ہو۔ کبھی یہ لفظ خدا کے خاص فرشتوں میں سے ایک عظیم فرشتے یا فرشتوں سے برتر ایک مخلوق کے معنی میں آیا ہے۔ مثلاً: تَنَزَّلُ الْمَلَائِکَةُ وَالرُّوحُ فِیھَا بِإِذْنِ رَبِّھِمْ مِنْ کُلِّ اَمْر شبِ قدر میں ملائکہ اور روح اپنے پروردگار کے امر کے ساتھ تقدیرِ امور کے لئے نازل ہوتے ہیں(قدر:۴) نیز سورہ نباء کی آیہ ۳۸ میں بھی ہے: یَوْمَ یَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِکَةُ صَفًّا روزِ قیامت روح اور ملائکہ ایک ہی صف میں قیام کریں گے۔ کبھی یہ لفظ قرآن اور وحی آسمانی کے معنی میں آیا ہے۔ مثلاً: وَکَذٰلِکَ اَوْحَیْنَا إِلَیْکَ رُوحًا مِنْ اَمْرِنَا اور اسی طرح ہم نے تیری طرف روح کووحی کیا کہ جو ہمارے امر میں سے ہیں(شوریٰ: ۵۲) کبھی یہ لفظ روحِ انسانی کے معنی میں آیا ہے جیسا کہ خلقتِ آدم سے متعلق آیات میں ہے: ثُمَّ سَوَّاہُ وَنَفَخَ فِیہِ مِنْ رُوحِہ۔ اس کے بعد خلقتِ آدم کو نظام بخشا اور اس میں اپنی روح پھونکی(سجدہ:۹) اسی طرح سورہٴ حجر کی آیہ ۲۹ میں ہے: فَإِذَا سَوَّیْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیہِ مِنْ رُوحِی فَقَعُوا لَہُ سَاجِدِین پس ہم نے خلقتِ آدم کو عملی صورت دے دی اور اس میں اپنی روح پھونک دی تو اس کے لئے سجدہ کرو۔(تشریحی نوٹ: ہم کہہ چکے ہیں کہ یہاں روح کی اضافت خدا کی طرف اظہارِ عظمت کے لئے ہے اور مراد یہ ہے کہ خدا نے انسانوں کو ایک عظیم اور الٰہی مقدس روح بخشی ہے)۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زیرِ بحث آیت میں روح سے کیا مراد ہے؟ یہ کس روح کا تذکرہ ہے کہ جس کے بارے میں کچھ لوگوں نے رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سوال کیا ہے اور آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے اور تمہیں تھوڑے سے علم کے سوا کچھ پتہ نہیں۔ آیت کے داخلی وخارجی قرائن سے ایسا لگتا ہے کہ سوال کرنے والوں نے انسان کی روح سے متعلق سوال کیا ہے۔ وہی عظیم روح کہ جو انسان کو حیوانات سے جدا کرتی ہے۔ جو ہمارا افضل ترین شرف ہے اور جو ہماری تمام تر طاقت اور فعالیت کا سرچشمہ ہے۔ جس کی مدد سے ہم زمین و آسمان کو اپنی جولان گاہ بنائے ہوئے ہیں، جس کے ذریعے ہم علمی اسرار کی گتھیاں سلجھاتے ہیں، جس کے ذریعے ہم موجودات کی گہرائیوں تک پہنچنے کا راستہ پاتے ہیں۔ چاہتے تھے کہ عالمِ آفرینش کے اس عجوبہ کی حقیقت معلوم کریں۔ روح کی ساخت مادہ کی ساخت سے مختلف ہے۔ وہ اصول جو اس پر حاکم ہیں وہ حاکم اصولوں اور طبیعیاتی اور کیمیائی خواص سے مختلف ہیں۔ لہٰذا پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایک مختصر اور پر معنی جملہ کہیں کہ: روح عالمِ امر میں سے ہے۔ یعنی اس کی خلقت اسرار آمیز ہے۔ اس کے بعد اس بناء پر کہ انہیں اس جواب کا تعجب نہ ہو مزید فرمایا کہ تمہارا علم بہت ہی کم ہے۔ لہٰذا کون سے تعجب کی بات ہے کہ تم روح کے اسرار نہ جان سکو اگرچہ وہ ہر چیز کی نسبت تم سے زیادہ قریب ہے۔

دس روایات کے حوالے سے

تفسیر عیاشی میں امام باقر (علیه السلام) اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ (علیه السلام) نے آیہ ” وَیَسْاَلُونَکَ عَنْ الرُّوح“ کی تفسیر کے سلسلے میں فرمایا: انما الروح خلق من خلقہ، لہ بصر وقوة وتایید یجعلہ فی قلوب الرسل والموٴمنین۔ روح مخلوقاتِ خدا میں سے اور یہ بینائی قوت رکھتی ہے۔ خدا اسے انبیاء اور مومنین کے دلوں میں قرار دیتا ہے۔ (بحوالہ: ور الثقلین، ج۳،ص ۲۱۶) ایک اور حدیث انہیں دو بزرگوار ائمہ میں سے ایک سے منقول ہے۔ اس میں ہے: ھی من الملکوت من القدرة روح عالمِ ملکوت اور خدا کی قدرت میں سے ہے۔ (بحوالہ: ور الثقلین، ج۳،ص ۲۱۶)۔ شیعہ اور سنی کتب کی متعدد روایات میں ہے کہ مشرکینِ قریش نے یہ سوال علماء اہلِ کتاب سے حاصل کیا، وہ اس کے ذریعے رسول اللہ صلی الله علیہ وآلہ وسلم کو آزمانا چاہتے تھے، ان سے کہا گیا تھا کہ اگر (محمد)نے روح کے بارے میں تمہیں بہت کچھ بتا دیا تو یہ اس کی عدمِ صداقت کی دلیل ہو گا، جب کہ آپ نے ایک مختصر اور پر معنی جواب دے کر انہیں حیران کر دیا۔ لیکن کچھ اور روایات جو طرقِ اہل بیت (علیه السلام) سے ہم تک پہنچی ہیں، ان میں روح کو ایک ایسی مخلوق بتایا گیا ہے کہ جو جبرئیل اور میکائیل سے افضل ہے اور جو انبیاء اور ائمہ کے ساتھ ہوتی ہے اور انہیں ان کے کام میں انحراف سے باز رکھتی ہے۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، ج۳،ص ۲۱۵) آیت کی تفسیر کے بارے میں جو کچھ ہم نے کہا ہے یہ روایات نہ فقط اس کے منافی نہیں ہیں، بلکہ اس سے ہم ٓاہنگ ہیں کیونکہ انسانی روح کے مختلف درجے اور مراتب ہیں، انبیاء اور ائمہ کے مرتبہ غیر معمولی اور بہت بلند ہے اور گناہ و خطا سے معصوم ہونا جس کے آثار میں سے ہے۔ نیز بہت زیادہ علم و آگاہی بھی اس کے آثار میں سے ہے اور مسلم ہے کہ روح کا یہ مرتبہ تمام فرشتوں سے افضل ہو گا یہاں تک کہ جبرئیل اور میکائیل سے بھی۔ (غور کیجئے گا)۔

روح کی اصالت واستقلال

علمِ انسان کی تاریخ شاہد ہے کہ روح، اس کی ساخت اور اس کی اسرار آمیز خصوصیات کا مسئلہ ہمیشہ علماء کے غور وفکر کا عنوان رہا ہے۔ ہر عالم نے اپنی بساط بھر کوشش کی ہے کہ روح کی وادی اسرار میں قدم رکھے۔ یہی وجہ ہے کہ روح کے بارے میں علماء کے نظریات بہت زیادہ اور متنوع ہیں، ہو سکتا ہے ہمارا آج کا علم بلکہ آئندہ آنے والوں کا علم بھی روح کے تمام اسرار ورموز تک پہنچنے کے لئے کافی نہ ہو اگرچہ ہماری روح اس دنیا کی ہر چیز سے ہمارے قریب تر ہے اگرچہ اس کا گوہر ہر چیز سے بالکل مختلف ہے جس سے ہمیں اس عالمِ مادہ میں سابقہ پڑتا ہے۔ اس پر زیادہ تعجب بھی نہیں کرنا چاہیئے کہ ہم اس عجوبہ روزگار اور ما فوقِ مادہ مخلوق کے اسرارو حقیقت تک نہیں پہنچ سکے۔ بہرحال یہ صورت حال اِس سے مانع نہیں ہے کہ ہم روح کے دور سے نظر آنے والے منظر کو عقل کی تیزبین نگاہ سے دیکھ سکیں، اس پر حکم فرما اصول اور عمومی نظام سے آگاہی حاصل کر سکیں، اس سلسلے میں اہم ترین روح کی اصالت واستقلال کا مسئلہ ہے۔ جسے جاننا چاہیئے۔ مادہ پرست روح کو مادی اور دماغ کے مادی خواص اور نسوں کے خلیوں Nerve Cells میں سے سمجھتے ہیں۔ ان کی نظر میں روح اس کے علاوہ کچھ نہیں، ہم یہاں زیادہ تر اسی نکتے پر بحث کریں گے بقائے روح کی بحث اور تجرد کامل یا تجرد مکتبی کی گفتگو کا انحصار اسی مسئلہ پر ہے۔ لیکن پہلے اس نکتے کا ذکر ضروری ہے کہ انسانی بدن سے روح کا تعلق ایسا نہیں جیسا بعض نے گمان کر رکھا ہے۔ روح نے بدن میں حلول نہیں کر رکھا اور نہ یہ ہوا میں مشک کی طرح، انسانی جسم میں موجود ہے۔ بلکہ بدن اور روح کے مابین ایک قسم کا ارتباط ہے اور یہ ارتباط روح کی بدن پر حاکمیت، تصرف اور اس کی تدبیر کی بنیاد پر ہے۔ بعض نے اس ارتباط کو لفظ اور معنی کے ما بین تعلق سے تشبیہ دی ہے۔ جب ہم استقلالِ روح کے مسئلہ پر بحث کریں گے، یہ بات بھی واضح ہو جائے گی۔ اب ہم اصل گفتگو کی طرف آتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان پتھر اور لکڑی سے مختلف ہے کیونکہ ہم اچھی طرح سے محسوس کرتے ہیں کہ ہم بے جان موجودات بلکہ نباتات سے بھی مختلف ہیں۔ ہم سوچتے ہیں، ارادہ کرتے ہیں، محبت اور نفرت کرتے ہیں وغیرہ۔ لیکن پتھر اور نباتات میں یہ احساسات نہیں ہیں۔ لہٰذا ہمارے اور ان کے درمیان ایک اصولی فرق موجود ہے اور اس کی وجہ روحِ انسانی ہے۔ مادہ پرست یا کوئی اور نفس اور روح کے وجود کے منکر نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ علمِ نفسیات Psychology اور Psychoanalism کو ایک مثبت علم سمجھتے ہیں۔ یہ دونوں علم اگرچہ کئی ایک جہات سے اپنے ابتدائی مراحل طے کر رہے ہیں تاہم دنیا کی بری سے بڑی یونیورسٹیوں میں اساتذہ اور طلبہ اس بارے میں مطالعہ وتحقیق میں مصروف ہیں۔ جیسا کہ ہم دیکھے گے کہ نفس اور روح دو الگ الگ حقائق نہیں ہیں، بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو مختلف مراحل ہیں، جہاں جسم سے روح کے ارتباط کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے اور ان دونوں کی متقابل تاثیر بیان ہوتی ہے وہاں”نفس“ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اور جہاں جسم سے الگ روح سے ظاہر ہونے والے اثرات پر گفتگو ہوتی ہے وہاں لفظ”روح“ استعمال ہوتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ کوئی شخص انکار نہیں کرتا کہ ہم میں روح اور نفس کے نام کی ایک حقیقت موجود نہیں ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مادہ پرستوں(Materialists)اور ماوراء الطبیعت کے فلاسفہ اور روحیوں(Spiritualists)کے درمیان جنگ کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ علماء الہیون اور فلاسفہ روحیوں کا نظریہ ہے کہ جس مواد سے انسانی جسم بنتا ہے اس کے علاوہ اس میں ایک اور حقیقت اور گوہر مخفی ہے کہ جو مادہ نہیں ہے لیکن انسانی بدن بلاواسطہ ان کے زیرِ اثر ہے۔ دوسرے لفظوں میں روح ایک ماوراء الطبیعاتی (Metaphysical) حقیقت ہے۔ اس کی ساخت اور فعالیت مادی دنیا کی ساخت اور فعالیت سے مختلف ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ یہ ہمیشہ مادی دنیا سے مربوط رہتی ہے لیکن یہ خود مادہ یا خاصیتِ مادہ نہیں ہے۔ ان کے مد مقابل مادیت کے فلاسفہ ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہمارے وجود میں روح نام کے مادہ کے علاوہ کوئی مستقل وجود نہیں اور مادہ سے ہٹ کر روح نام کی کوئی چیز نہیں۔ جو کچھ ہے یہی مادہ جسمانی ہے اور یا اس کے طبیعیاتی اور کیمیائی Physical and Chemical آثار ہیں۔ہمارے اندر دماغ اور اعصاب کے نام کی ایک مشینری ہے کہ جو ہماری زندگی کے اعمال کا ایک اہم حصہ ہے اور یہ بھی مادی بدن کی مشینریوں کی طرح ہے اور مادی قوانین کے تحت کام کرتی ہے۔ ہماری زبان کے نیچے کچھ غدود ہیں جنہیں غدود ہائے بزاق Salivary Glands(لعاب دہن کی غدودیں)کہا جاتا ہے۔ یہ طبیعیاتی عمل بھی کرتی ہیں اور کیمیائی بھی۔ جس وقت غذا منہ میں لی جاتی ہے تو یہ خود کار کنویں (Artisans) خود بخود کام شروع کر دیتے ہیں۔ یہ حساب کے اس قدر ماہر ہیں کہ پانی کی بالکل اتنی مقدار جتنی غذا کو چبانے اور نرم کرنے کے لئے ضروری ہے اس پر چھڑکتے ہیں، پانی والی غذا، کم پانی والی غذا یا خشک غذا، ہر ایک اپنی ضرورت کے مطابق آبِ دہان سے اپنا حصہ لیتی ہے۔ تیزابی مواد، خصوصاً جس وقت زیادہ سخت ہوں ان غدودوں کی کار کردگی بڑھا دیتا ہے تاکہ اسے زیادہ مقدار میں پانی ملے اور یہ خوب پتلا ہو جائے اور معدے کی دیواروں کو نقصان نہ پہنچے۔ جس وقت انسان غذا کو نگل لیتا ہے ان کنوؤں کا عمل خود بخود رک جاتا ہے۔ مختصر یہ کہ ان ابلنے والے چشموں پر ایک عجیب وغریب نظام حکم فرما ہے۔ ایسا نظام کہ اگر اس کا توازن بگڑ جائے یا ہمیشہ لعابِ دہن ہمارے منہ سے گرتا رہے یا پھر ہماری زبان اور حلق کسی قدر خشک ہو جائے تو لقمہ ہمارے حلق میں پھنس جائے۔ یہ لعابِ دہن کا طبیعیاتی کام ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ اس کا زیادہ اہم کام کیمیائی ہے۔ اس میں مختلف طرح کا مواد مخلوط ہوتا ہے اور یہ غذا سے مل کر نئی ترکیب کو جنم دیتا ہے جس سے معدے کی زحمت کم ہوجا تی ہے۔ مادہ پرست(Materialists)کہتے ہیں کہ ہمارے اعصاب اور مغز کا سلسلہ لعابِ دہن کے غدودوں کی مانند ہے اور یہ اسی طرح کے طبیعیاتی اور کیمیائی عمل کا حامل ہے کہ جسے مجموعی طور پر طبیعیاتی کیمیائی Physico Chemical کہا جاتا ہے اور یہی طبیعیاتی کیمیائی فعالیتیں ہیں جنہیں ہم آثار، روح یا روح کہتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جب ہم سوچ رہے ہوتے ہیں تو ایک خاص برقی سلسلہ ہمارے دماغ سے اٹھتا ہے۔ دورِ حاضر میں مشینوں کے ذریعے ان لہروں کو کاغذ پر ثبت کر دیا جاتا ہے خصوصاً نفسیاتی بیماریوں کے ہسپتالوں میں ان لہروں کے مطالعے سے نفسیاتی بیماریوں کی تشخیص اور علاج کیا جاتا ہے۔ ہمارے دماغ کی فیزیکلPhysicalفعالیت ہے۔ اس کے علاوہ غور فکر کرتے وقت اور نفسیاتی فعالیت کے موقع پر ہمارے دماغ کی سیل Cells ایک کیمیائی فعالیت بھی کرتے ہیں لہٰذا روح اور آثار روح ہمارے دماغ اور اعصاب کے خلیوں کی کیمیائی فعل وانفعالات کے طبیعیاتی خواص کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں ہے۔ اس بحث میں مادیین یہ نتیجہ نکالتے ہیں : ۱۔ جیسے لعابِ دہن کے غدودوں کی فعالیت اور ان کے مختصر اثرات بدن سے پہلے نہ تھے اور نہ اس کے بعد ہوں گے اسی طرح ہماری روح کی کار کردگی بھی دماغ اور اعصاب کی مشینری کے پیدا ہونے سے وجود میں آتی ہے اور اس کے مرنے سے مر جاتی ہے۔ ۲۔ روح جسم کے خواص میں سے ہے۔ لہٰذا وہ مادی شے ہے اور ماورائے طبیعت کا پہلو نہیں رکھتی۔ ۳۔ روح پر بھی وہی قوانین حکم فرما ہیں جو جسم پرحکومت کرتے ہیں۔ ۴۔ روح بدن کے بغیر کوئی مستقل وجود نہیں رکھتی اور نہ ہی رکھ سکتی ہے۔

روح کے عدم استقلال پر مادیین کے دلائل

مادیین کا نظریہ ہے کہ روح وفکر اور روح کے تمام آثار مادی ہیں یعنی دماغ اور اعصاب کے خلیوں کی طبیعیاتی اور کیمیائی خواص ہیں انہوں نے اپنے دعویٰ کے اثبات کے لئے کچھ شوہد پیش کئے ہیں مثلاً: ۱۔ آسانی سے نشاندہی کی جا سکتی ہے کہ مراکز کا ایک حصہ یا اعصاب کا ایک سلسلہ بیکار ہو جائے تو آثار روح کا ایک حصہ معطل ہو جاتا ہے۔ (بحوالہ: Phycology از ڈاکٹر ارانی، ص۲۳) مثلاً تجربہ کیا گیا ہے کہ کبوتر کے مغز کا ایک خاص حصہ الگ کر لیا جائے تو کبوتر مرتا نہیں لیکن اس کی معلومات کا بہت سا حصہ ختم ہوجا تا ہے۔ اگر اسے غذا کھلائیں تو کھاتا ہے اور ہضم کرتا ہے اور اگر کھلائیں نہیں صرف دانہ اس کے سامنے ڈال دیں تو نہیں کھاتا اور بھوک سے مرجاتا ہے۔ اسی طرح اگر انسان کے دماغ پر کچھ ضربیں لگائی جائیں یا بعض بیماریوں کی وجہ سے اس کے دماغ کا کچھ حصہ بیکار ہو جائے تو دیکھا گیا ہے کہ انسان کو بہت سی چیزیں بھول جاتی ہیں۔ کچھ عرصہ ہوا ہم نے جرائد اور اخبار میں پڑھا ہے کہ ایک تعلیم یافتہ نوجوان کو اہواز کے قریب ایک حادثہ پیش آیا اس حادثے میں اس کے دماغ پر ضرب آئی، وہ اپنی زندگی کے تمام گزشتہ واقعات بھول گیا یہاں تک کہ وہ اپنے ماں باپ تک کو نہیں پہچانتا تھا۔ اسے اس کے گھر لے جایا گیا، وہ اسی گھر میں میں پلا بڑھا تھا مگر وہ وہاں اپنے آپ کو بالکل اجنبی محسوس کر رہا تھا۔ ایسے وقعات نشاندہی کرتے ہیں کہ دماغ کے خلیوں کی فعالیت اور آثارِ روح کے درمیان ایک قریبی ربط ہے۔ ۲۔ غور وفکر کرتے وقت دماغ کی سطح پر مادی تغیرات زیادہ ہوتے ہیں، دماغ زیادہ غذا لیتا ہے۔ اور فاسفورس Phosphorus واپس کرتا ہے۔ سوتے وقت جب کہ دماغ فکری کام نہیں کرتا تھوڑی غذا لیتا ہے۔ یہ امر آثارِ فکری کے مادی ہونے کی دلیل ہے۔ (بحوالہ: کتاب "بشر از نظر مادی" از ڈاکٹر ارانی، ص ۲) ۳۔ مشاہدات سے معلوم ہوتا ہے کہ غور وفکر کرنے والوں کے دماغ کا وزن عام لوگوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ اوسطاً مَردوں کے دماغ کا وزن ۱۴۰۰ گرام ہوتا ہے اور عورتوں کے دماغ کا وزن اوسطاً اس سے کچھ کم ہوتا ہے۔ یہ امر بھی نشاندہی کرتا ہے کہ روح مادی شے ہے۔ ۴۔اگر قوائے فکری اور مظاہر ِ روح، روح کی ایک مستقل وجود ہونے کی دلیل ہیں تو یہ بات ہمیں حیوانات کے لئے بھی ماننا چاہیئے کیونکہ وہ بھی اپنی حد تک ادراک رکھتے ہیں۔ مختصر یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہماری روح موجود مستقل نہیں ہے اور انسان شناسی کے علم نے جو ترقی کی ہے وہ بھی اس حقیقت کی تائید کرتی ہے۔ ان دلائل سے یہ مجموعی نتیجہ نکلتا ہے کہ انسانی اورحیوانی فزیالوجی Physiology کی ترقی اور وسعت روز بروز اس حقیقت کو زیادہ واضح کر رہی ہے کہ آثار روح اور دماغی خلیوں کے درمیان قریبی تعلق ہے۔

مادی استدلال کے کمزور پہلو

اس استدلال میں مادیین کو ایک بہت بڑا اشتباہ ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ انہوں نے آلات کار کو کام کا فاعل سمجھا ہے۔ یہ واضح کرنے کے لئے کہ انہوں نے آلات کو فاعل کیسے سمجھے لیا ہے اجازت دیجئے کہ ہم ایک مثال پیش کریں۔ اس مثال پر غور کیجئے گا: گیلیلیوکے بعد آسمانوں کی وضع وکیفیت کے مطالعہ میں ایک انقلاب پیدا ہوا ہے۔ اطالوی گیلیلیو ایک عینک ساز کی مدد سے ایک چھوٹی سی دوربین بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ وہ اس پر بہت خوش ہوا۔ جب اس نے رات کے وقت اس کی مدد سے آسمانی ستاروں کا مطالعہ شروع کیا تو اسے حیرت انگیز منظر معلوم ہوا۔ ایسا منظر اس سے پہلے کسی انسان نے نہیں دیکھا تھا۔ اس نے سمجھا کہ مَیں نے ایک اہم انکشاف کیا ہے۔ اس طرح اس دن کے بعد انسان عالمِ بالا کے اسرار کا مطالعہ کرنے کے قابل ہو گیا۔ اس وقت تک انسان ایک ایسے پروانے کی طرح تھا کہ جس نے فقط اپنے ارد گرد کی چند شاخیں دیکھی تھیں، لیکن جب اس نے دُوربین کے ذریعے جھانکا تو اسے فطرت کا ایک عظیم جنگل دکھائی دیا۔ اس سلسلے میں ترقی وکمال جاری رہا یہاں تک کہ ستاروں کو دیکھنے کے لئے بڑی بڑی دُوربینیں ایجاد ہو گئیں کہ جن کے عدسے کا قطر پانچ میٹر یا اس سے بھی زیادہ تھا۔ انہیں پہاڑوں کی ایسی بلند چوٹیوں پر نصب کیا گیا کہ جو صاف وشفاف ہوا کے اعتبار سے مناسب تھیں، ایسی ایسی دُوربینیں بنیں کہ جو کئی منزلہ عمارت کے برابر تھیں، ان کے ذریعے انسان کو عالمِ بالا میں کئی جہان دکھائی دئیے، ایسے ایسے جہان کہ عام نظر سے انسان کو ہزاروں حصہ بھی نظر نہ آتا تھا۔ اب آپ سوچیں کہ اگر ایک دن ٹیکنالوجی اتنی ترقی کر جائے کہ انسان ایسی دُوربین بنا لے کہ جس کے عدس کا قطر ایک سو میٹر کے برابر ہو اور جس کا سازوسامان اور وسعت ایک شہر کی مانند ہو تو ہم پر کتنے جہان منکشف ہو جائیں گے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ دُوربینیں ہم سے لے لی جائیں تو یقینی طور پر آسمان کے بارے میں ہماری معلومات اور مشاہدات کا ایک حصہ معطل ہو جائے گا لیکن کیا حقیقی طور پر دیکھنے والے ہم ہیں یا دُوربینیں؟ کیا ٹیلی سکوپ ہمارے لئے آلاتِ کار ہیں یا خود فاعلِ کار اور خود دیکھنے والی؟ دماغ کے بارے میں بھی کوئی شخص انکار نہیں کرتا کہ دماغ کی سیل Cells کے بغیر غور وفکر نہیں کیا جا سکتا لیکن کیا دماغ روح کے کام کا آلہ ہے یا خود روح؟؟ مختصر یہ کہ مادیین نے جو تمام تر دلائل پیش کئے ہیں وہ صرف یہ ثابت کرتے ہیں کہ دماغ کے سیل اور ہمارے ادراک کے درمیان ربط موجود ہے لیکن ان میں سے کوئی دلیل یہ ثابت نہیں کرتی کہ دماغ خود غور وفکر کرتا ہے نا کہ ادراک کا آلہ ہے (غور کیجئے گا) یہاں سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مردے اگر کچھ نہیں سمجھتے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ روح کا بدن سے ربط ختم ہو گیا ہے نہ یہ کہ روح فنا ہو گئی ہے۔ یہ بات بالکل اسی طرح ہے جیسے کسی بحری یا ہوئی جہاز کا وائر لیس خراب ہو جائے اور وہ ساحل یا ائیرپوٹ سے رابطہ نہ کر سکے کیونکہ کہ رابطے کا ذریعہ منقطع ہو گیا ہے۔

استقلالِ روح کے دلائل

بات یہ ہو رہی تھی کہ مادیین کا اصرار ہے کہ روح سے ظاہر ہونے والے آثار و افعال کو دماغی Cells کے خواص سمجھنا چاہیے اور فکر، حافظہ، ایجاد، محبت، نفرت، غصہ اور علم و دانش سب کو ایسے امور میں سے سمجھنا چاہیے جنہیں تجربہ گاہ میں دیکھا اور پرکھا جا سکتا ہے اور انہیں بھی عالمِ مادہ کے قوانین کے تحت سمجھنا چاہیے۔ اس کے برعکس، استقلالِ روح کے فلاسفہ اس کی نفی پر زور دار دلائل رکھتے ہیں جن میں سے بعض کی طرف ہم ذیل میں اشارہ کرتے ہیں:

۱۔ روح کے کام خارجی پہلو رکھتے ہیں

پہلا سوال جو مادیین سے کیا جا سکتا ہے یہ ہے کہ روح کے افکار و آثار دماغ کے طبیعیاتی کیمیائی Physico Chemical خواص ہیں تو پھر دماغ، معدہ، دل اور جگر وغیرہ کے کاموں میں کوئی اصولی فرق نہیں ہونا چاہیئے۔ مثلاً معدے کا کام طبیعیاتی اور کیمیائی کارکردگی کا مرکب ہے۔ معدہ اپنی خاص حرکات کے ذریعے اور تیزابوں کے ترشح سے غذا کو ہضم اور بدن میں اس کے جذب کے لئے تیار کرتا ہے۔ اسی طرح جیسا کہ کہا گیا ہے لعابِ دہن کا کام طبیعیاتی اور کیمیائی عمل کی ترکیب ہے حالانکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ روح کے کام ان سب سے مختلف ہیں۔ بدن کی تمام مشینریوں کے کام ایک دوسرے سے تھوڑی بہت مشابہت رکھتے ہیں لیکن دماغ کی کیفیت استثنائی ہے۔ تمام مشینریوں کے کام داخلی پہلو رکھتے ہیں جب کہ روح سے ظاہر ہونے والے کام خارجی پہلو رکھتے ہیں اور ہمیں ہمارے وجود سے باہر کی کیفیت سے آگاہ کرتے ہیں۔ اس گفتگو کی وضاحت کے لئے چند نکات کی طرف توجہ کرنا چاہیئے: پہلا یہ کہ کیا ہمارے وجود سے باہر کوئی جہان ہے یا نہیں؟ مسلم ہے کہ باہر بھی کوئی جہان ہے۔ ائٓیڈیالسٹ حضرات ldealists خارجی جہان کے وجود کا انکار کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہے بس ہم ہی ہیں۔ اور ہمارے تصورات اور خارجی جہان بالکل ان مناظر کی طرح ہیں کہ جنہیں ہم عالمِ خواب میں دیکھتے ہیں اور سب کچھ تصورات ہی ہیں اور کچھ نہیں۔ یہ لوگ سخت غلطی پر ہیں۔ ہم نے متعلقہ بحث میں ان کے اشتباہ کو ثابت کیا ہے کہ کس طرح آیڈیالسٹ عمل میں رئلیسٹ (Realists) ہو جاتے ہیں اور جو کچھ وہ کتابی دنیا میں سوچتے ہیں اسے کوچہ وبازار اور عام زندگی کے ماحول میں قدم رکھتے ہی بھول جاتے ہیں۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ کیا ہم اپنے وجود سے باہر کے جہان سے آگاہ ہیں یا نہیں؟ یقینا اس سوال کا جواب بھی مثبت ہے کیونکہ ہم اپنے وجود سے باہر کے جہان کے بارے میں بہت سا علم وآگاہی رکھتے ہیں اور ان موجودات کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں کہ جو ہمارے آس پاس سے بہت دُور ہیں۔ اس وقت یہ سوال پیدا ہو گا کہ خارجی جہان ہمارے وجود میں آسکتا ہے؟ مسلم ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا بلکہ اس کا نقشہ ہمارے پاس ہے اور ہم واقع نمائی کی خاصیت سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے وجود سے باہر کے جہان کو معلوم کر سکتے ہیں، یہ واقع نمائی دماغ کے صرف طبیعیاتی کیمیائی Physico Chemicalعمل کے خواص نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ خواص بیرونی دنیا کے بارے میں ہمارے تاثیرات کی پیداوار ہیں یعنی ان کے معلول ہیں، جیسے غذا ہمارے معدے پر اثر چھوڑتی ہے تو کیا غذا کے معدے پر تاثیر اس کا طبیعیاتی وکیمیائی فعل وانفعال سبب بن سکتا ہے کہ معدہ غذا کے بارے میں آگاہی رکھتا ہو، تو پھر کس طرح ہمارا دماغ اپنے سے باہر کی دنیا سے با خبر ہو سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں خارجی اور عینی موجودات سے آگاہی کے لئے ان پر ایک قسم کا احاطہ ضروری ہے اور یہ احاطہ کرنا دماغ کے سَیلوں کا کام نہیںہے۔ دماغ کے سیل تو صرف خارج سے متاثر ہوتے ہیں اور یہ تاثیر بدن کی مشینوں کی طرح ہے کہ جو خارجی کیفیت سے ان پر مرتب ہوتا ہے۔ یہ ہم اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ اگر خارجی جہان سے متاثر ہونا خارج کے بارے میں آگاہی کی دلیل ہوتا تو پھر ضروری تھا ہم اپنے معدے اور زبان کے ذریعے بھی آگاہی حاصل کرتے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ مختصر یہ کہ ہمارے ادراکات کی استثنائی کیفیت اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں کوئی اور حقیقت چھپی ہوئی ہے کی جس کا نظام طبیعیاتی اور کیمیائی نظام سے بالکل مختلف ہے(غور کیجئے گا)

۲۔ وحدت شخصیت

استقلالِ روح کے بارے میں جو دوسری دلیل ذکر کی جا سکتی ہے وہ انسان کی پوری زندگی میں وحدتِ شخصیت کا مسئلہ ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ ہم ہر چیز میں شک وتردد رکھتے ہیں تب بھی اس بات میں شک نہیں رکھتے کہ ”ہم وجود رکھتے ہیں“۔ ”مَیں ہوں“ اور اپنی ہستی کے بارے میں مجھے کوئی شک نہیں ہے اوراپنے وجود کے بارے میں میرا علم حضوری ہے حصولی نہیں یعنی میں اپنے آپ کے سامنے حاضر ہوں اور اپنے آپ سے جدا نہیں ہوں۔ بہرحال، اپنے آپ سے آگاہی ہماری واضح تعین معلومات میں سے ہے اور اس کے لئے کسی استدلال کی احتیاج نہیں۔ مشہور فرانسی فلسفی ڈیکارٹ نے اپنے وجود کے لئے جو معروف استدلال کی ہے وہ یہ ہے: مَیں سوچ رہا ہوں پس مَیں ہوں۔ یہ ایک اضافی اور غیر صحیح استدلال نظر آتا ہے کیونکہ اس نے اپنے وجود کو ثابت کرنے سے پہلے دو مرتبہ اپنے وجود کا اعتراف کیا ہے۔ ایک مرتبہ ”مَیں“ کہہ کر اور دوسری مرتبہ ”رہا ہوں“ کہہ کر۔ دوسری طرف دیکھا جائے تو یہ ”مَیں“ ابتدائے عمر سے آخر عمر تک ایک اکائی سے زیادہ نہیں ہے۔ آج کا ”مَیں“ وہی کل کا ”مَیں“، وہی بیس سال پہلے کا”مَیں“، بچپن سے لے کر اب تک ایک شخص سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ ”مَیں“ وہی شخص ہوں کہ جو پہلے تھا اور آخر عمر تک یہی شخص رہوں گا ناکہ کوئی اور شخص، البتہ ”مَیں“ نے تعلیم حاصل کی اور ”مَیں“پڑھا لکھا ہو گیا، ”مَیں“ نے کمال وترقی کی منزل طے کی اور پھر بھی کروں گا لیکن پھر میں ”مَیں“ کوئی دوسرا آدمی نہیں ہو گیا۔ لہٰذا سب لوگ ابتدائے عمر سے لے کر آخر عمر تک مجھے ایک ہی آدمی جانتے ہیں\، میرا ایک ہی نام ہے اور وہی اسی شخص کا شناختی کارڈ وغیرہ۔ اب ہم سوچیں اور دیکھیں کہ یہ موجود واحد کی جس میں ہماری ساری عمر پوشیدہ ہے کیا ہے؟ کیا یہ ہمارے بدن کے ذرات اور اور خلیوں یا دماغی سَیلوں اور ان کے فعل وانفعالات کا مجموعہ ہے؟ یہ دور ہماری زندگی میں بارہا بدلتے رہتے ہیں اور تقریباً ہر سات سال کے بعد ایک مرتبہ تمام سَیلز بدل جاتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ایک روز وشب میں ہمارے بدن کے لاکھوں سَیل مرتے ہیں اور ان کی جگہ نئے سَیل لیتے ہیں۔ جیسے کسی پرانی عمارت کی پرانی اینٹیں نکالتے رہیں اور ان کی جگہ نئی اینٹیں لگاتے رہیں تو ایک عرصے بعد یہ عمارت بالکل بدل جائے گی؛ اگرچہ عام لوگوں کو اس کا اندازہ نہ ہو۔ جیسے کسی ایک بڑے تالاب کا پانی ایک تالاب سے نکلتا رہتا ہے اور دوسری طرف سے تازہ پانی داخل ہوتا رہتا ہے۔ واضح ہے کچھ عرصے بعد سارا پانی بدل جائے گا اگرچہ ظاہر میں افراد توجہ نہ کریں اور اسے پہلے والا ہی سمجھتے رہیں۔ کلی طور پر ہر موجود جو غذا کو حاصل کرتا ہے اور غذا کا مصرف رکھتا ہے اس کی تعمیرِ نو کا سلسلہ جاری رہے گا اور وہ بدل جائے گا۔ لہٰذا ایک ستر سالہ انسان کے تما اجزائے بدن تقریباً دس مرتبہ بدل چکے ہوتے ہیں، اگر ہم مادیین کی طرح انسان کو وہی جسم اور وہی داماغ واعصاب اور وہی اس کے طبیعیاتی وکیمیائی خواص سمجھیں تو یہ ”مَیں“ تو ستر سال کی عمر میں دس مرتبہ بدل چکا ہوں گا اور یہ وہی پہلے والا شخص نہیں ہوں گا حالانکہ کوئی عقل اس بات کو قبول نہیں کرے گی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مادی اجزاء کی بجائے کوئی اور ایک واحد ثابت حقیقت ہے جو ساری عمر میں موجود رہتی ہے کہ یہ جو مادی اجزاء کی طرح بدلتی نہیں اور وہی دراصل بنیاد وجود ہے۔ وہی ہماری شخصیت کی وحدت کا عامل وباعث ہے۔

ایک اشتباہ سے اجتناب

ایک اشتباہ سے اجتناب بعض لوگوں کا خیال ہے کی داماغ کے سَیل نہیں بدلتے۔ وہ کہتے ہیں کہ فزیالوجی کی کتابوں کے مطابق دماغ کے سَیلوں کی تعداد آغازِ عمر سے آخرِ عمر تک ایک ہی رہتی ہے یعنی وہ بالکل کم یا زیادہ نہیں ہوتے، البتہ بڑے ہو جاتے ہیں لیکن یہ نہیں ہوتا کہ اُن جیسے اور سَیل پیداہوتے ہوں، یہی وجہ ہے کہ انہیں کوئی نقصان پہنچے تو ا ن کی جگہ نئے سَیل پیدا نہیں ہوتے۔ لہٰذا ہمارے بدن میں ایک”واحد ثابت“ موجود رہتا ہے اور یہ دماغ کے سَیل ہیں یہی ہماری شخصیت کی وحدت کے محافظ ہیں۔ یہ خیال ایک بہت بڑا اشتباہ ہے کیونکہ یہ بات کرنے والوں نے دومسئلوں کو آپس میں خلط ملط کر دیا ہے۔ دورِ حاضر کی سائنس نے جو کچھ ثابت کیا ہے یہ ہے کہ دماغ کے سَیل آغاز سے آخر تک تعداد کے لحاظ سے اتنے ہی اتنے ہی رہتے ہیں اور ان کی تعداد میں کمی بیشی نہیں ہوتی نہ یہ کہ ان سِیلوں کے ذرات بدلتے، کیونکہ جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ انسانی بدن کے تمام سَیلوں کو ہمیشہ غذا کی احتیاج رہتی ہے۔ نیز پرانے سَیل مرتے رہتے ہیں، جیسے کوئی شخص ایک طرف کماتا رہتا ہے اور دوسری طرف خرچ کرتا رہتا ہے۔ مسلم ہے کہ اس شخص کا سرمایہ آہستہ آہستہ بدل جائے گا اگرچہ اس کی مقدار نہ بدلے،جیسے کسی تالاب سے ایک طرف سے پانی نکلتا رہے اور دوسری طرف سے نیا پانی آتا رہے۔ ایک عرصے بعد اس کا سارا پانی بدل جائے گا اگرچہ اس کی مقدار اتنی ہی رہے۔ (فزیالوجی کی کتابوں میں بھی اس بات کا ذکر موجود ہے۔ نمونے کے طور پر کتاب ”ہورمونہا“ صفحہ،۱۱، اور کتاب ”فیزیولوژی حیوانی“ از ڈاکڑ محمود بہزاد اور ان کے ہمکار صفحہ ۳۲ کی طرف رجوع کریں)۔ لہٰذا دماغ کے سَیل بھی باقی نہیں رہتے اور دیگر سَیلوں کی طرح بدلتے رہتے ہیں۔

۳۔بڑے کو چھوٹے پر منطبق نہیں کیا جا سکتا

فرض کریں کہ ہم دریا کے ایک خوبصورت کنارے پر بیٹھے ہیں، چند چھوٹی چھوٹی کشتیاں پانی کی موجوں پر تیر رہی ہیں۔ ایک بڑی کشتی بھی ہے۔ ایک طرف سورج غروب ہو رہا ہے اور دوسری طرف چاند طلوع ہو رہا ہے۔ خوبصورت آبی پرندے پانی پر آ کر بیٹھتے ہیں اور اُڑ جاتے ہیں، ایک طرف بہت بڑا پہاڑ ہے۔ اس کی چوٹی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ ہم ساحل پر بیٹھے چند لمحوں کے لئے اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہیں، جو کچھ دیکھا ہے اسے اپنے ذہن پر مجسم کر لیتے ہیں، وہی بڑا سا پہاڑ، دریا کی وہی وسعت، وہی بڑی سی کشتی، سب ہمارے صفحہ ذہن پر ابھر آتے ہیں۔ یعنی جیسے ایک بہت بڑا منظر ہماری روح کے سامنے یا ہماری روح کے اندر موجود ہو۔ اب یہ سوال سامنے آتا ہے کہ اس منظر کی جگہ کہاں ہے۔ کیا چھوٹے سے دماغ کے سَیلوں میں اتنا بڑا نقشہ سما جاتا ہے۔ یقینا نہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہمارے وجود کا ایک اور حصہ ہو کہ جو اس جسمانی مادہ سے ماوراء ہو اور اس قدر وسیع ہو کہ یہ تمام منظر اور نقشے اس میں سما سکیں۔ کیا ایک ۵۰۰ مربع میٹر عمارت کا نقشہ اسی لمبائی چوڑائی کے ساتھ چند مربع ملی میٹر زمین پر بنایا جا سکتا ہے؟ مسلم ہے کہ اس سوال کا جواب نفی میں ہے کیونکہ بہت بڑا موجود اپنی اسی وسعت کے ساتھ کسی چھوٹے سے موجود پر منطبق نہیں ہو سکتا۔ انطباق کے لئے ضروری ہے کہ جیسے منطبق کرنا ہے وہ، اس کے مساوی ہو یا اسے چھوٹا۔ لہٰذا ہم انتہائی بڑے بڑے ذہنی نقشوں کو اپنے دماغ کے چھوٹے چھوٹے خلیوں میں جگہ کیسے دے سکتے ہیں؟ کرہ زمین تقریباً چار کروڑ مربع میٹر ہے اس ہم اپنے ذہن میں ترسیم کر سکتے ہیں، کرہ آفتاب زمین سے بارہ لاکھ گناہ ہے اور کہکشائیں ہمارے آفتاب کی نسبت کئی ملین گنا ہیں، انہیں ہم اپنی فکر میں تصویر کشی کر سکتے ہیں لیکن اگر ہم چاہیں کہ اپنے دماغ کے چھوٹے چھوٹے خلیوں میں یہ نقشے اسی وسعت کے ساتھ بنائیں تو بڑے کے چھوٹے پر منطبق نہ ہو سکنے کے قانون کے مطابق ممکن نہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اس جسم سے مافوق ایک وجود کا اعتراف کریں کہ جس میں بڑے بڑے نقشے سما سکیں۔

ایک اہم سوال اور اس کا جواب

ہو سکتا ہے کہ کہا جائے کہ ہمارے ذہنی نقشے مائیکرو فلم یا جغرافیائی نقشوں کی طرح ہیں۔ مثلاً 1/1000000 یا 1/100000000 (یانی ایک سنیٹی میٹر برابر ہے۔ ۱۰ لاکھ سینٹی میٹر وغیرہ )، جغرافیائی نقشوں یا مائیکرو فلموں میں ہم اس طرح کا تناسب معین کر لیتے ہیں. یہ سکیل Scale ہمیں بتاتی ہے کہ اس نقشے کو ہم اسی نسبت کے ساتھ بڑا کریں گے تو اصل پیمائش ہمیں میسر آ جائے گی. نیز ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ کسی دیو پیکر جہاز کی ایک تصویر سے ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ کتنا بڑا ہے لہٰذا اس کی تصویر کھینچنے سے پہلے کسی انسان کو اس کے عرشے پر کھڑا کر کے دونوں کی تصویر کھینچتے ہیں تاکہ موازنے سے اندازہ ہو جائے کہ جہاز کتنا بڑا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کہا جائے کہ ہمارے ذہنی نقشے بھی چھوٹی چھوٹی تصویریں ہیں جنہیں معین سکیل کے تحت چھوٹا کیا گیا ہے اور اگر انہیں اس نسبت سے بڑا کر دیا جائے تو ایک حقیقی نقشہ مل جائے گا اور مسلم ہے کہ یہ چھوٹے نقشے دماغ کے سَیلوں میں بن سکتے ہیں (غور کیجئے گا )۔ اب ہم اس سوال کے جواب کی طرف آتے ہیں۔ اہم بات یہی ہے کہ مائیکرو فلموں کو عام طور پر پروجیکٹروں کے ذریعے بڑا کر کے پردہ سکرین پر منعکس کرتے ہیں۔ اسی طرح جغرافیائی نقشوں میں دی گئی سکیل کے مطابق ہم نقشے کو ضرب دے کر اپنے ذہن میں منعکس کرتے ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ بڑا پردہ جس پر ہماری بڑی بڑی ذہنی فلمیں منعکس ہوتی ہیں کہاں ہے؟ کیا وہ بڑا پردہ دماغ کے خلیے ہیں؟ وہ تو قطعاً نہیں اور وہ چھوٹا جغرافیائی نقشہ کہ جسے ہم بڑے عدد سے ضرب دے کر بڑے نقشے میں تبدیل کرتے ہیں یقینا اس کے لئے کوئی جگہ چاہییے، کیا دماغ کے چھوٹے چھوٹے خلےے اس کی جگہ بن سکتے ہیں؟ زیادہ واضح عبارت میں__ مائیکرو فلم اور جغرافیائی نقشے میں جو کچھ خارج میں ہے وہ تو وہی چھوٹی فلم اور نقشہ ہے لیکن ہمارے ذہنی نقشوں میں تو بعینہ وہ نقشے اپنے خارجی وجود کی مقدار کے مطابق ہیں۔ لہٰذا انہیں تو جگہ چاہیئے خود انہیں کے برابر اور انہی کی مقدار کے مطابق؛ اور ہم جانتے ہیں کہ دماغ کے خلیے اس سے کہیں چھوٹیں ہیں کہ انہیں اسی مقدار کے مطابق اس پر منعکس کیا جا سکتا ہے۔ مختصر یہ کہ وہ ذہنی نقشوں کو ہم ان کے ذہن کے مطابق تصور کرتے ہیں اور یہ بڑی تصویر چھوٹے سے خلیوں میں منعکس نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا ان کے لئے کسی جگہ کی ضرورت ہے۔ یہی سے ہم سَیلوں سے مافوق ایک حقیقی وجود کا سراغ پاتے ہیں۔

۴۔ روح کے مظاہر مادی کیفیات کی مانند نہیں

ایک اور دلیل جو ہمیں استقلالِ روح اور اس کے غیر مادی ہونے کی طرف رہنمائی کر سکتی ہے یہ ہے کہ مظاہرِ روح میں کچھ خواص وکیفیات ایسی دکھائی دیتی ہیں جو مادی موجودات کے خواص وکیفیات سے کوئی مشابہت نہیں رکھتی، کیونکہ: اولاً، موجودات کے لئے زمانہ درکار ہے اور وہ تدریجی پہلو رکھتے ہیں۔ ثانیاً، وقت اور زمانے کے ساتھ ساتھ وہ کہنہ اور فرسودہ ہو جاتے ہیں۔ ثالثا، ان کا متعدد اجزاء میں تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن _ ذہنی موجودات اور اس میں پیدا ہونے والی چیزوں میں یہ آثارو خواص نہیں ہیں۔ ہم موجودہ جہان جیسا ایک جہان اپنے ذہن میں ترسیم کر سکتے ہیں، بغیر اس کے کہ زمانہ گزرے اور اس کے لئے تدریجی پہلو کی ضرورت ہو۔ اس سے قطع نظر، وہ مناظر کہ مثلاً جو بچپن میں ہمارے صفحہ ذہن پر نقش ہو گئے تھے زمانہ گزرنے کے باوجود پرانے اور فرسودہ نہیں ہوتے اور ان کی شکل اسی طرح محفوظ ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے انسان کو دماغ کہنہ ہو گیا ہو لیکن اس کہنگی سے وہ گھر کے جس کا نقشہ بیس سال قبل ہمارے ذہن میں ثبت ہوا تھا اسی طرح رہتا ہے۔ اس میں ایک طرح کا ثبات رہتا ہے کہ جو ماورائے مادہ جہان کی خاصیت ہے۔ نقشوں اور تصویروں کے بارے میں ہماری روح عجیب وغریب صلاحیت رکھتی ہے۔ ہم لمحہ بھر میں کسی تمہید کے بغیر ہر قسم کا نقشہ اپنے ذہن میں کھنیچ سکتے ہیں۔ مثلاً آسمانی کرے، کہکشائیں یا زمینی موجودات دریا، پہاڑ وغیرہ ان سب کا تصور ہمارے ذہن میں آنِ واحد میں ابھر سکتا ہے۔ یہ خاصیت ایک مادی موجودکی نہیں ہے بلکہ مافوق مادہ موجود کی نشانی ہے۔ اس کے علاوہ ہم جانتے ہیں کہ اس میں شک نہیں کہ 4=2+2کی مساوات میں مساوات کی ہر طرف کو ہم جزو جزو کر سکتے ہیں؛ یعنی ۲ کا تجزیہ کریں یا چار کا لیکن اس مساوات کا تجزیہ نہیں کر سکتے اور یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ مساوات 2 آدھے رکھتی ہے اور ہر آدھا دوسرے آدھے کے غیرہے۔ مساوات کا ایک ہی مفہوم ہے کو قابلِ تجزیہ نہیں ہے۔ یعنی 4=2+2 یا ہے یا نہیں ہے؛ اسے دو نیم ہرگز نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا اس قسم کے ذہنی مفاہیم قابلِ تقسیم وتجزیہ نہیں ہیں اسی بناء پر وہ مادی نہیں ہو سکتے کیونکہ اگر وہ مادی ہوتے تو ان کا تجزیہ ہو سکتا اور انہیں تقسیم کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری روح جو ایسے غیرمادی مفاہیم کا مرکز ہے مادی نہیں ہو سکتی اس لئے وہ مافوق مادہ ہے (غور کیجئے گا)۔(کتاب ”معاد وجہان پس از مرگ“ کے حصہ ”استقلالِ روح“ کی تلخیص)۔

86
17:86
وَلَئِن شِئۡنَا لَنَذۡهَبَنَّ بِٱلَّذِيٓ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهِۦ عَلَيۡنَا وَكِيلًا
اور اگر ہم چاہیں تو جو کچھ وحی کی صورت میں تجھے دیا گیا ہے وہ تجھ سے لے لیں۔پھر تو ہمارے مقابلے میں کوئی حمایتی نہ پائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 87 کے تحت ملاحظہ کریں۔

87
17:87
إِلَّا رَحۡمَةٗ مِّن رَّبِّكَۚ إِنَّ فَضۡلَهُۥ كَانَ عَلَيۡكَ كَبِيرٗا
مگر یہ کہ تیرے رب کی رحمت (تیرے شامل حال) ہو،کیونکہ تیرے رب کا فضل تجھ پر بہت زیادہ ہے۔

تجھے جوکچھ حاصل ہے اس کی رحمت سے ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں قرآن کے بارے میں گفتگو تھی۔ زیرِ نظر دو آیات میں اس سلسلے کی بات کی گئی ہے۔ فرمایا گیا ہے: ہم اگرچاہیں تو جو کچھ تجھے وحی کی صورت میں دیا گیا ہے وہ تجھ سے لے لیں(وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْھَبَنَّ بِالَّذِی اَوْحَیْنَا إِلَیْک)، اور ایسا ہو جائے تو پھر تو ہمارے مقابلے میں،کوئی حمایتی نہ پائے گا ( ثُمَّ لَاتَجِدُ لَکَ بِہِ عَلَیْنَا وَکِیلًا)۔ ہم ہی نے تجھے یہ علوم بخشے ہیں تاکہ تو لوگوں کا ہادی و رہبر بنے اور ہم ہی اگر مصلحت سمجھیں تو یہ تجھ سے واپس لے لیں اور اس میں کسی شخص کو کوئی دخل اور تصرف نہیں ہے۔ گزشتہ آیات سے ان آیات کے ربط کے سلسلے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کے علاوہ یہ احتمال بھی ہے کہ گزشتہ بحث کے آخری جملے میں ہے: تمیں صرف تھوڑا سا علم دیا گیا ہے۔ زیرِ بحث آیت میں ہے کہ خدا نے علم کا جو حصہ پیغمبر کو دیا ہے اگر چاہے تو وہ بھی واپس لے سکتا ہے لہٰذا تمہاری ہر چیز یہاں تک کہ تمہارا علم اور آگہی بھی اُسی کی طرف سے ہے۔ بعد والی آیت استثناء کی صورت میں آئی ہے۔ اس میں فرمایا گیا ہے: اگر یہ علم تجھ سے واپس نہیں لیتے تو یہ تیرے رب کی رحمت ہے( إِلاَّ رَحْمَةً مِنْ رَبِّکَ)، خود تیری ہدایت ونجات کے لئے بھی رحمت ہے اور عالمِ بشریت کی ہدایت ونجات کے لئے بھی یہ رحمت درحقیقت اسی رحمتِ خلقت کا تسلسل ہے۔ وہ خدا کہ جس نے عام اور خاص رحمت کے تقاضے کے مطابق انسانوں کو پیدا کیا اور انہیں لباسِ ہستی عطا کیا، کیا وہ لباس کہ جو تکامل و ارتقاء کے لئے بہترین ہے۔ اسی خدا نے راہِ حیات طے کرنے کے لئے اپنی رحمت کے تقاضے پر ان کو نہیں دیا، آگاہ، معصوم، انتھک، ہمدرد، مہربان اور بااستقامت رہبران کی ہدایت کے لئے مبعوث کیے۔یہی رحمت ہے کہ جس کا تقاضا ہے کہ روئے زمین کبھی حجتِ خدا سے خالی نہ رہے۔ آیت کے آخر میں تاکید کے طور پر یا گزشتہ بات کی دلیل کے طور پر بیان کیا گیا ہے: تیرے رب کا فضل تجھ پر بہت زیادہ ہے (إِنَّ فَضْلَہُ کَانَ عَلَیْکَ کَبِیرًا)۔ ایک طرف تو تیری عبادت، تہذیبِ نفس اور جہاد نے تیرے دل کی آبیاری کی اور یہ اس کے فضل کا سبب بنی اور دوسری طرف ایک رہبر کے لئے انسانوں کی ناگزیر احتیاج کے تقاضے پرتجھ پر خدا کا انتہائی فضل ہوا، اس نے علم کے دروازے تیرے لئے وا کیے، تجھے انسانی ہدایت کے اسرار سے آگاہ کیا اور تجھے خطاؤں سے محفظ رکھا تاکہ تو اختتامِ جہان تک لوگوں کے اسوہ نمونہ بن جائے۔ ضمناً اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ مندرجہ بالا جملہ استثنائیہ قبل کی آیت سے مربوط ہے اور مستثنیٰ ومستثنیٰ منہ کا مفہوم اس طرح ہے: اگر ہم چاہیں تو تجھ پر بھیجی ہوئی وحی واپس لے لیں لیکن ہم ایسا نہیں کریںگے کیونکہ رحمتِ الٰہی تیرے اور لوگوں کے شاملِ حال ہے۔ (تشریحی نوٹ: درحقیقت جملے کا مفہوم اس طرح ہے: ولاکن لا نشاء ان نذھب بالذی اوحینا الیک رحمة من ربک۔ لیکن ہم نہیں چاہتے کہ تیرے طرف جو وحی کیا گیا ہے اسے واپس لے لیں کیونکہ یہ تیرے رب کی رحمت ہے)۔ واضح ہے کہ ایسا استثنا اس امر کی دلیل نہیں کہ ہو سکتا ہے خدا عملی طور پر کسی دن یہ رحمت اپنے پیغمبر سے واپس لے لے بلکہ اس بات کی دلیل ہے کہ پیغمبر کے پاس بھی اپنی طرف سے کچھ نہیں ہے اس کا علم اور آسمانی وحی سب خدا کی طرف سے ہیں اور اس کی مشیت سے وابستہ ہیں۔

88
17:88
قُل لَّئِنِ ٱجۡتَمَعَتِ ٱلۡإِنسُ وَٱلۡجِنُّ عَلَىٰٓ أَن يَأۡتُواْ بِمِثۡلِ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ لَا يَأۡتُونَ بِمِثۡلِهِۦ وَلَوۡ كَانَ بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٖ ظَهِيرٗا
کہہ دو :اگر انسان اور جن مل کر اس قرآن کی مثل لانا چاہیں تو اس کی مثل نہیں لا سکیں گے اگرچہ اس کام میں وہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 89 کے تحت ملاحظہ کریں۔

89
17:89
وَلَقَدۡ صَرَّفۡنَا لِلنَّاسِ فِي هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ مِن كُلِّ مَثَلٖ فَأَبَىٰٓ أَكۡثَرُ ٱلنَّاسِ إِلَّا كُفُورٗا
اس قرآن میں ہم نے لوگوں کے سامنے طرح طرح کی مثالیں اور نمونے پیش کئے ہیں لیکن اکثر لوگ انکار حق کے سوا کچھ نہیں کرتے۔

قرآن کی مثل کبھی نہیں لائی جا سکتی

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

قبل اور بعد کی آیات قرآن کے بارے میں گفتگو کر رہی ہیں جب کہ زیرِ بحث آیات میں صراحت کے ساتھ اعجازِ قرآن کے متعلق بات کر رہی ہیں، اس لحاظ سے زیرِ نظر آیات کا گزشتہ اور بعد کی آیات سے ربط محتاجِ بیان نہیں ہے۔ علاوہ ازیں، آئندہ آیات میں مشرکین کی بہانہ تراشیوں کا ذکر تفصیل کی کیا گیا ہے کہ وہ طرح طرح کے من پسند معجزات کا تقاضا کرتے تھے، اس حوالے سے زیرِ نظر آیات آئندہ کی بحث کے لئے مقدمہ کی حیثیت رکھتی ہیں اور ان بہانہ تراش لوگوں پر واضح کرتی ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی حقانیت کا اعلی ترین، زندہ اور جاوداں معجزہ یہی قرآن ہے کہ جو تاریخ میں ہمیشہ چمکتا رہے گا اور اس کے ہوتے ہوئے بہانہ سازیاں بے جا ہیں۔ بعض نے ان آیات کا تعلق گزشتہ آیات سے اس پہلو سے بیان کیا ہے کہ روح کے اسرار آمیز ہونے کا موازنہ قرآن کے اسرار آمیز ہونے سے کیا گیا ہے(فی ظلال القرآن،ج۵،ص ۳۵۸، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں)، البتہ جس ربط کا ہم نے ذکر کیا ہے وہ واضح نظر آتا ہے۔ بہرحال، اللہ تعالیٰ یہاں روئے سخن اپنے رسول کی جانب کرتے ہوئے کہتا ہے:ان سے کہو : اگرتمام انسان اور جِن مل کر قرآن کی مثل لانا چاہیں تو بھی وہ اس جیسا کلام لانے پر قادر نہیں ہو سکتے اگرچہ وہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں( قُلْ لَئِنْ اجْتَمَعَتْ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلیٰ اَنْ یَاْتُوا بِمِثْلِ ھٰذَا الْقُرْآنِ لَایَاْتُونَ بِمِثْلِہِ وَلَوْ کَانَ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ ظَھِیرًا)۔ یہ آیت پوری صراحت کے ساتھ پورے عالم کو چیلینج کرتی ہے۔ سب لوگ چاہے چھوٹے ہوں یا بڑے، عرب ہوں یا غیر عرب حتی کہ انسان ہو یا غیر انسان ذوی العقول موجودات، علماء، فلاسفہ، ادباء، مورخین، نوابغ یا غیر نوابغ، غرض یہ کہ قرآن بلا استثنا سب کو مقابلے کی دعوت دیتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر تمہارا خیال ہے کہ قرآن خدا کا کلام نہیں ہے اور انسانی دماغ کی ایجاد ہے تو تم بھی انسان ہو، اس کی مثال لے آؤ اور اگر مشترکہ کاوش کے باوجود اپنے آپ کو ناتواں پاؤ تو یہ اعجازِ قرآن کی بہترین دلیل ہے۔ عقائد اور کلام کے علماء مقابلے کی اس دعوت کو ”تحدی“(چیلنج)کے نام سے یاد کرتے ہیں، یہ تحدی ہر معجزہ کا ایک رکن ہے۔ جہاں کہیں اس قسم کی تعبیر آئے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ امر معجزات میں سے ہے۔

آیت کے چند قابلِ توجہ نکات

۱۔ یہ چیلنج عام ہے اور سب انسانوں اور دیگر ذوی العقول موجودات پر محیط ہے۔ ۲۔ یہ تحدی اور دعوت دائمی ہے کیونکہ اس میں زمانے کی شرط نہیں ہے۔ اس طرح سے یہ دعوت جس طرح رسول اللہ کے زمانے میں تھی آج بھی ہے اور کل بھی ہو گی۔ ۳۔”اجتمعت“ کی تعبیر مل جل کر، ہم فکر ہو کر اور باہمی تعاون سے مقابلے کے لئے آنے کی دعوت کا انتظار کر رہی ہے اور یہ بات مسلم ہے کہ اس طرح سے قوت میں سینکڑوں گناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ ۴۔”ولولاکان بعضھم لبعض ظھیرا“ (اگرچہ ایک گروہ دوسرے کی مدد کرے) یہ جملہ ہمفکر ہونے اور باہمی تعاون کے لئے تاکیدِ مزید ہے نیز ضمناً یہ مقاصد واہداف کی پیش رفت میں ہم فکری وتعاون کی اہمیت وتاثیر کے لئے سربستہ اشارہ ہے۔ ۵۔ ”مثل ھذاالقرآن“_ یہ ایک جامع تعبیر ہے جو ہر لحاظ سے مثل ومشابہ ہونے کی طرف اشارہ ہے یعنی فصاحت وبلاغت کے لحاظ سے، مضامین ومفاہیم کے لحاظ سے، انسان سازی کے حوالے سے علمی مباحث کے پہلو سے، حیات بخش معاشرتی قانون کے لحاظ سے، خرافات سے پاک تاریخ کے اعتبار سے، پیش گوئیوں کے لحاظ سے اور دیگر تمام پہلوؤں کے اعتبار سے _ اس کی مثل ہو۔ ۶۔ سب انسانون کی دعوت دینا اس بات کی دلیل ہے کہ مسئلہ اعجاز میں صرف الفاظِ قرآن اور فصاحت و بلاغت کا پہلو ملحوظ نظر نہیں ہے کیونکہ ایسا ہوتا تو عربی زبان سے نا آشنا لوگوں کو دعوت دینا بے فائدہ تھا۔ ۷۔ ایک منہ بولتا اور رسا معجزہ وہ ہے جس کے لانے والا مخالفین کو نہ صرف مقابلے کی دعوت دے بلکہ مختلف طریقوں سے اس کام کی تحریک کرے اور تشویق دلائے، بالفاظ، دیگر غیرت دلائے تا کہ اس کام کے لئے جو کچھ ان کے بس میں ہو وہ کریں، بھر جب وہ ایسا نہ کر سکیں تو اعجاز کی عظمت اور گہرائی واضح ہو جائے، زیرِ بحث آیت میں عملی طور پر بالکل ایسا ہی کیا گیا ہے۔ کیونکہ ایک طرف تو سب انسانوں کو دعوت دی گئی ہے اور ”لایاتون بمثلہ“ کہہ کر ان کے عجز کی تصریح کی گئی ہے اور اس انہیں اکسایا گیا ہے اور دوسری طرف ”ولولاکان بعضھم لبعض ظھیرا“ کہہ کر مزید تحریک دلائی گئی ہے۔ بعد والی آیت درحقیقت، اعجازِ قرآن کے ایک اور پہلو کو بیان کرتی ہے اور وہ ہے اس کی جامعیت۔ ارشاد ہوتا ہے: اس قرآن میں ہم نے تمام طرح کے معارف کا نمونہ بیان کیا ہے ( وَلَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِی ھٰذَا الْقُرْآنِ مِنْ کُلِّ مَثَل)، لیکن اس کے باوجود اکثر جاہل و نادان لوگوں نے نہ صرف انکارِ حق ہی کیا ہے بلکہ ان کا ردِ عمل ایسا گویا انہوں نے دلائلِ ہدایت کو دیکھا تک نہیں( فَاَبیٰ اَکْثَرُ النَّاسِ إِلاَّ کُفُورًا)۔ ”صرفنا“، ”تصریف“ کے مادہ سے ہے یہ تغیر یا تبدل اور ایک حالت سے دوسری حالت میں بدلنے کے معنی میں آیا ہے۔ ”کفور“ انکارِ حق کے معنی میں آیا ہے۔ واقعاً مضامینِ قرآن کا یہ تنوع اور وہ بھی ایک ایسی شخص کے ذریعے کی جس نے کسی کے سامنے زانوئے تلمذ طے نہ کیا ہو، عجیب و غریب ہے کیونکہ اس آسمانی کتاب میں عقائد کے بارے میں متین اور پختہ عقلی دلائل بھی ہیں اور نوعِ بشر کی تمام ضروریات کی بنیا دپر متین و استوار احکام بھی ہیں، تاریخ کے بارے میں بھی اس کی گفتگو بے نظیر، جذبوں کو ابھارنے و الی، بیدار کن، دلچسپ، ہلادینے والی خرافات سے پاک ہے۔ نیز اس کی اخلاقی مباحث بھی دلوں پر وہی تاثرات مرتب کرتی ہیں جو ابرِ بہار بے جان زمین پر، اسی طرح اس سے عملی مسائل ایسے حقائق سے پردہ اٹھاتے ہیں جن کی کم از کم اس زمانے میں علماء خبر نہ تھی۔ خلاصہ یہ قرآن کی ہر وادی حسین ترین اور عالی ترین ہے۔ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ انسان کی معلومات محدودہیں، جیسا کہ گزشتہ آیات میں اشارہ ہوا ہے اور خصوصاً اس ماحول پر نظر کریں کہ جس میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم پروان چڑھے کہ جب اس محدود علم کی بھی لوگوں کو خبر نہ تھی اس کے باوجود قرآن نے توحید، اخلاق، معاشرت، سیاست اور انتظامی امور پر ایسے متون مضامین پیش کئے ہیں، کیا یہ امر اس بات کی دلیل نہیں کہ اسے انسانی دماغ میں نہیں تراشا بلکہ یہ خدا کی طرف سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر جن وانس مل کر اس کی مثل لانا چاہیں تو وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ فرض کریں کہ دورِ حاضر کے علماء، دانشمند اور مختلف علوم کے ماہرین جمع ہو جائیں اور وہ ایک انسائیکلوپیڈیا تیار کریں اور اسے بہترین قالب میں ڈھالیں تو ہو سکتا ہے کہ یہ آج کے لئے آج کے زمانے کے لحاظ سے تو جامعیت رکھتا ہو لیکن مسلم ہے کہ پچاس سال بعد نہ صرف یہ ناقص اور نارسا معلوم ہو گا بلکہ اس کی کہنگی کے آثار بھی نمایان ہوں گے جب کہ قرآن جس زمانے میں بھی پڑھا جائے گا خصوصاً ہم نے اسے دورَ حاضر کے حوالے سے دیکھا تو ایسا لگتا ہے جیسے آج ہی اور آج کے لئے نازل ہوا ہے اس پر مرور زمانے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔

90
17:90
وَقَالُواْ لَن نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ ٱلۡأَرۡضِ يَنۢبُوعًا
اور انہوں ( مشرکین) نے کہا: کہ ہم تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے جبتک تو ہمارے لئے اس (خشک اور بنجر) زمین سے ایک چشمہ جاری نہ کر دے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 93 کے تحت ملاحظہ کریں۔

91
17:91
أَوۡ تَكُونَ لَكَ جَنَّةٞ مِّن نَّخِيلٖ وَعِنَبٖ فَتُفَجِّرَ ٱلۡأَنۡهَٰرَ خِلَٰلَهَا تَفۡجِيرًا
یا تیرے لئے کھجور اور انگور کا باغ پیدا ہو جس کے درختوں کے درمیان تو نہریں جاری کر دے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 93 کے تحت ملاحظہ کریں۔

92
17:92
أَوۡ تُسۡقِطَ ٱلسَّمَآءَ كَمَا زَعَمۡتَ عَلَيۡنَا كِسَفًا أَوۡ تَأۡتِيَ بِٱللَّهِ وَٱلۡمَلَـٰٓئِكَةِ قَبِيلًا
یا جیسا کہ تیرا دعویٰ ہے تو آسمان سے پتھروں کے ٹکڑے ہمارے سروں پر گرا دے،یا اللہ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لے آئے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 93 کے تحت ملاحظہ کریں۔

93
17:93
أَوۡ يَكُونَ لَكَ بَيۡتٞ مِّن زُخۡرُفٍ أَوۡ تَرۡقَىٰ فِي ٱلسَّمَآءِ وَلَن نُّؤۡمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتَّىٰ تُنَزِّلَ عَلَيۡنَا كِتَٰبٗا نَّقۡرَؤُهُۥۗ قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّي هَلۡ كُنتُ إِلَّا بَشَرٗا رَّسُولٗا
یا تیرے لئے سونے کا ایک مزین گھر ہو یا تو آسمان پر چڑھ جائے( لیکن) ہم تیرے آسمان پر چڑھ جانے پر بھی ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جبتک تو ہمارے لئے کوئی ایسا نامہ نہ لے آئے جسے ہم پڑھیں۔ ان سے کہہ دے :میرا رب( ان بے قیمت باتوں سے )پاک ہے جبکہ میں اس کے فرستادہ ایک انسان کے سوا کچھ نہیں ہوں۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

اسلامی روایات میں اور مختلف مفسرین کی تفسیروں مندرجہ بالا آیات کے بارے میں مختلف عبارتوں میں شانِ نزول نقل ہوئی ہے۔ ان کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے: بعض مشرکینِ مکہ کہ جن میں ولید بن مغیرہ اور ابوجہل بھی تھا۔ خانہ کعبہ کے سامنے جمع ہوئے انہوں نے ایک دوسرے سے رسول اللہ کے بارے میں گفتگو کی، آخرکار نتیجہ بحث یہ نکالا کہ کسی کو محمد کے پاس بھیجا جائے جویہ پیغام دے کہ تیرے قبیلہ قریش کے اشرف جمع ہوئے ہیں وہ تجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں لہٰذاتم ہمارے پاس آؤ۔ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو امید ہوئی کہ شاید نورِ ایمان ان کے دلوں میں چمک اٹھا ہو اور وہ حق کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوئے ہوں لہٰذا وہ فورا ان کے پاس تشریف لے گئے۔ جب آپ ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے ایسی باتیں کیں: ”اے محمد! ہم نے تمیں اتمامِ حجت کے لئے بلایا ہے۔ ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے کہ جس نے اپنے قوم وقبیلے کو اتنی تکلیفیں پہنچائی ہوں جتنی تم نے پہنچائی ہے۔ تم نے ہمارے خداؤں کو گالیاں دیں، ہمارے دین کا مذاق اڑایا، ہماری عقل کو حماقت قرار دیا اور اتحاد میں نفاق کا بیج بویا، ہمیں بتاؤ آخر تم چاہتے کیا ہو؟ تمیں دولت کی ضرورت ہے تو ہم اتنی دولت دیں گے کہ تم بے نیاز ہو جاؤ گے، مقام و منصب چاہتے ہو تو ہم تمہیں بہت بڑا منصب دینے کو تیار ہیں، تم بیمار ہو (اور تمہیں کوئی نفسیاتی تکلیف ہے) تو ہم تیرے علاج کے لئے بہترین طبیب لے آتے ہیں۔ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا: ان میں سے کوئی بھی مسئلہ نہیں۔ خدا نے مجھے تمہاری طرف بھیجا ہے اور آسمانی کتاب مجھے دی ہے۔ اگر اسے قبول کر لوتو اس میں تمہاری دنیا وآخرت کی بھلائی ہے اور اگر تم قبول نہ کرو گے تو میں صبر کروں گا یہاں تک کہ خدا تمہارے اور میرے درمیان فیصلہ کر دے۔ وہ کہنے لگے: بہت اچھا، یہ بات ہے تو ہمارے شہر جیسا تنگ کوئی اور شہر نہیں ہے(مکہ کے اطراف میں پہاڑیاں ہیں) اپنے پروردگار سے سوال کرو کہ ان پہاڑوں کو پیچھے کر دے اور شام و عراق کی طرح یہاں دریا جاری کر دے تاکہ خشک وبے آب وگیاہ زمین سیراب ہو جائے۔ نیز اس سے یہ بھی تقاضا کرو کہ ہمارے بڑوں کو زندہ کر دے البتہ ان میں قصی بن کلاب ضرور ہو کیونکہ وہ راستگو بزرگ تھا۔ تاکہ ہم اس سے پوچھیں کہ تو جو کچھ کہتا ہے وہ حق ہے یا باطل۔ رسول اللہ نے بے اعتنائی سے فرمایا: میں ان کاموں پر مامور نہیں ہوں۔ وہ کہنے لگے: اگر ایسے نہیں کرتے تو کم از کم اپنے خدا سے کہوکہ کوئی فرشتہ بھیج دے کہ جو تیری تصدیق کرے۔ علاوہ ازیں، ہمیں باغات، خزانے اور سونے کے محلات دے دے۔ آپ نے فرمایا: مَیں ان امور کے لئے مبعوث نہیں ہوا، میں خدا کی طرف سے ایک دعوت لے کر آیا ہوں، اگر قبول کرتے ہو تو خوب ورنہ خدا میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گا۔ وہ کہنے لگے: پھر جیسا کہ تیرا گمان ہے کہ تیرا خدا جب چاہے ہمارے سروں پر پتھر گرا سکتا ہے۔ یہ آسمانی پتھر ہمارے سروں پر برسا۔ آپ نے فرمایا: یہ کام خدا سے متعلق ہے وہ چاہے گا تو کرے گا۔ ان میں سے ایک کہنے لگا: تو یہ کام کر بھی دکھائے تب بھی ہم ایمان نہیں لائیں گے، ہم تو اس وقت ایمان لائیں گے جب تو خدا اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لے آئے گا۔ رسول اللہ نے یہ فضول باتیں سنیں تو اٹھ کھڑے ہوئے اور مجلس سے جانے لگے اور ان میں سے بعض افراد آپ کے پیچھے آئے اور کہنے لگے: اے محمد! تیری قوم نے تیرے سامنے جو بھی تجویز رکھی ہے تونے قبول نہیں کی، پھر انہوں نے کچھ امور کہ جو ان سے متعلق تھے، ان کی خواہش کی، تونے وہ بھی پوری نہیں کی انہوں نے تجھ سے اس عذاب کی خواہش کی ہے کہ جس کی تو دھمکی دیتا رہتا ہے کہ ان پر لائے گا۔ خدا کی قسم ! ہم تجھ پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب کہ تو یہ نہ کرے کہ آسمان کی طرف سے ایک سیڑھی لگائے اور اس کے ذریعے تو ہمارے سامنے اوپر جائے اور واپسی پر اپنے ساتھ چند فرشتے لے کر آئے اور ساتھ ہی تیرے پاس ایک خط بھی ہو کہ جو تیرے دعویٰ کی صداقت کی گواہی دے۔ ابوجہل کہنے لگا: چھوڑو اسے، یہ تو ہمارے بتوں کو گالیاں دینے کے علاوہ کچھ نہیں جانتا اور مَیں نے خدا سے عہد کیا ہے کہ جس وقت یہ سجدے میں ہو گا ایک بہت بڑا پتھر اٹھا کر اس کے دماغ پر دے ماروں گا۔ رسول اللہ وہاں سے اس حالت میں لوٹے، اس قوم کی جہالت، ہٹ دھرمی اور غرور کے باعث آپ کا دل غم واندوہ سے مامور تھا۔ اس موقع پر زیرِ نظر آیات نازل ہوئیں۔ (تفسیر مجمع البیان، زیرِ نظر آیات کے ذیل میں؛ در المنثور میں بھی ان آیات کے ذیل میں کچھ اختلافات کے ساتھ شانِ نزول بیان ہوئی ہے)۔

طرح طرح کے بہانے

گزشتہ آیات میں قرآن حکیم کی عظمت اور اعجاز کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ اب زیرِ نظر آیات میں مشرکین کے کچھ بہانوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ وہ ایسی بہانہ تراشیاں کرتے تھے کہ جن سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ ان کافروں کا مقصد سوائے اس کے کچھ نہ تھا کہ رسول اللہ کی حیات آفریں دعوت کے جواب میں ہٹ دھرمی، عناد، سرکشی اور غرور کا مظاہرہ کریں کیونکہ وہ پیغمبرِ اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی منطقی بات اور زندہ سند کے جواب میں نہایت نامعقول تقاضے کرتے تھے۔ مندرجہ بالا آیات میں ان کے کچھ مختلف تقاضے بیان ہوئے ہیں: ۱۔پہلے ارشاد ہوتا ہے:اور انہوں نے کہاکہ ہم اس وقت تک تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے جب تُو ہمارے لئے اس زمین سے پانی کا چشمہ نہ جاری کر دکھائے( وَقَالُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَکَ حَتَّی تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْبُوعًا)۔ ”فجور“ اور ”تفجیر“ شگافتہ کرنے اور چیرنے کے معنی میں ہے۔ چاہے زمین کو چشمہ کے ذریعے شگافتہ کیا جائے یا نورِ سحر کے ذریعے افق کو، البتہ”تفجیر“، ”فجور“ کی نسبت زیادہ مبالغے کو ظاہر کرتا ہے۔ ”ینبوع“،”نبع“ کے مادہ سے ہے۔ یہ پانی کے جوش مارنے کو اور پھوٹنے کی جگہ کے معنی میں ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ ”ینبوع“ پانی کے اس چشمے کو کہتے ہیں کہ جو کبھی خشک نہ ہوتا ہو۔ ۲۔ یا تمہارے پاس کجھور اورا نگور کاباغ ہو کہ جس کے درختوں کے درمیان تُو نہریں جاری کر دے( اَوْ تَکُونَ لَکَ جَنَّةٌ مِنْ نَخِیلٍ وَعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنھَارَ خِلَالَھَا تَفْجِیرًا“۔ ۳۔ یا جیسا تو کہتا ہے آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہمارے سروں پر گرا دے (اَوْ تُسْقِطَ السَّمَاءَ کَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا کِسَفًا)۔ ۴۔ یا اللہ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لے ا ٓ( اَوْ تَاْتِیَ بِاللهِ وَالْمَلَائِکَةِ قَبِیلًا)۔ ”قبیل“ کا معنی بعض اوقات کفیل اور ضامن کیا گیا ہے اور کبھی یہ اس چیز کو کہتے ہیں جو انسان کے سامنے ہو، بعض نے اسے ”قبیلة“ کی جمع سمجھا ہے جس کا معنی ہے جماعت۔ پہلے معنی کے مطابق آیت کی تفسیر اس طرح ہو گی: تو اللہ اور فرشتوں کو اپنی بات کی صداقت کے ضامن کے طور پر لے آ۔ دوسرے معنی کے مطابق تفسیر یوں ہو گی: تو اللہ اور فرشتوں کو سامنے لے آ۔ تیسرے معنی کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہو گا: گروہ گروہ کر کے ہمارے پاس لے آ۔ توجہ رہے کہ ان تینوں مفاہیم کا آپس میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ سب مفاہیم آیت میں جمع ہوں کوینکہ ہمارے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں کہ ایک لفظ ایک سے زیادہ معانی کے ساتھ استعمال ہو۔ ۵۔ یا پھر تیرے پاس سونے کا گھر ہو، نقش ونگار اور مزین گھر( اَوْ یَکُونَ لَکَ بَیْتٌ مِنْ زُخْرُفٍ)۔ ”زخرف“، اصل میں زینت کے معنی میں ہے اور چونکہ سونا مشہور زینت بخش دھاتوں میں سے ہے لہٰذا اسے ”زخرف“ کہا جاتا ہے۔ نقش ونگار سے مزین گھروں کو بھی ”زخرف“ کہا جاتا ہے۔ اسی طرح دلفریب اور پُرفریب باتوں کو بھی ”مزخرف“ کہتے ہیں۔ ۶۔ یا پھر آسمان پر چڑھ کر دکھاؤ لیکن ہم تمہارے صرف آسمان پر چڑھنے سے ایمان نہیں لائیں گے بلکہ اپنے ساتھ واپسی پر کو ئی خط بھی لے کر آؤ جسے ہم پڑھیں( اَوْ یَکُونَ لَکَ بَیْتٌ مِنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقَی فِی السَّمَاءِ وَلَنْ نُؤْمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتَّی تُنَزِّلَ عَلَیْنَا کِتَابًا نَقْرَؤُہ)۔ ان آیات کے آخر میں ہے کہ خدا نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ ان ایک دوسرے کی ضد، مہمل اور مضحکہ خیز تجاویز کے جواب میں کہو: میرا پروردگار ان اوہام سے پاک اور منزہ ہے( قُلْ سُبْحَانَ رَبیِّ)، کیا میں خدا کا فرستادہ ایک انسان کے سوا کچھ اور ہوں(قلْ کُنتُ إِلاَّ بَشَرًا رَسُولًا)۔

چند اہم نکات: ۱۔ بہانہ تراشیوں کا جواب

جیسا کہ شانِ نزول کے علاوہ خود مندرجہ بالا آیات کا لب ولہجہ گواہی دیتا ہے کہ مشرکین کے ان عجیب وغریب تقاضوں کی بنیاد حق جوئی نہ تھی بلکہ ان کا مقصد یہ تھا کہ بُت پرستی اور شرک کا مذہب باقی رہ جائے کیونکہ اس مذہب سے مکہ کے رؤسا کی قدرت وابستہ تھی اور وہ چاہتے تھے کہ کسی نہ کسی طرح رسول اللہ کو راہِ توحید کا سفر جاری رکھنے سے روک سکیں۔ لیکن رسول اکرم صلی الله علیہ والہ وسلّم نے انہیں دو منطقی، واضح اور مختصر جوابات دیئے۔ پہلا یہ کہ میرا پروردگار ان امور سے منزہ ہے۔ وہ اس سے منزہ ہے کہ کبھی اس کا حکم مانے اور کبھی اِس کا، وہ فضول مہمل اور بے بنیاد تقاضوں کے سامنے سر جھکانے سے منزہ ہے(سبحان ربی)۔ دوسرا یہ کہ اس سے قطع۔ اصولی طور پر معجزات بھیجنا اس کا کام ہے اور معجزات اسی کے ارادے اور فرمان کے تحت انجام پاتے ہیں، مَیں تو یہاں تک بھی حق نہیں رکھتا کہ ان کا خود تقاضا ہی کروں، وہ جس وقت ضرور سمجھے گا اپنے رسول کی دعوت کی صداقت کے لئے جو معجزہ ضروری ہو گا بھیج دے گا (ھل کنت الا بشراً رسولا)۔ یہ صحیح ہے کہ یہ دونوں جواب ایک دوسرے سے مربوط ہیں تاہم دو جواب شمار ہوتے ہیں، ایک یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ کام انسان کے بس کا نہیں اور دوسرا انسان کے خدا کا ان من پسند کے معجزات کی خواہش قبول کرنے سے منزہ ہونا ثابت کرتا ہے۔ اصولی طور پر رسول کوئی معجزہ گھڑنے والا انسان نہیں ہے کہ وہ کسی جگہ بیٹھ جائے اور جو شخص بھی آئے اور اپنی پسند کا کوئی بھی معجزہ طلب کرلے اور یہ پسند نہ ہو تو کوئی دوسری تجویز پیش کر دے یعنی خلقت کے قوانین اور سنتیں کھیل تماشہ بن جائیں اور پھر بھی دل چاہے تو معجزہ طلب کرنے والے قبول کر لیں اور نہ چاہیں تو انکار کر دیں۔ نبی کی ذمہ داری ہے کہ معجزے کے ذریعے خدا سے اپنا تعلق ثابت کرے اور جب درکار ضرورت کے مطابق معجزہ پیش کر دے تو پھر اس ضمن میں اس کی کوئی ذمہ داری باقی نہیں رہتی، ممکن ہے وہ نزولِ معجزہ کا وقت بھی نہ بتا سکے، وہ خدا سے صرف اس موقع پر معجزہ کا تقاضا کرتا جب اسے معلوم ہو کہ خدا اس امر پر راضی ہے۔

۲۔ کوتاہ فکری اور نامعقول تقاضے

ہر شخص اپنی فکر کی حد تک بات کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر شخص کی باتیں اس کی سطحِ فکر کی غماز ہوتی ہیں، وہ لوگ جنہیں مال ومقام کے علاوہ کسی اور چیز کا خیال ہی نہیں وہ یہی سمجھتے ہیں کہ ہر شخص اسی فکر میں غلطاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قریش کے کوتاہ فکر سردار بعض اوقات رسولِ اکرم کو مال کی پیش کش کرتے تھے اور کبھی مقام ومنصب کی تاکہ آپ (علیه السلام) اپنی دعوت سے دستبردار ہو جائیں، وہ پیغمبراکرم کی حکیم روح کو اپنی فکر کے محدود پیمانے سے ماپتے تھے۔ یہاں تک کہ ان کا خیال تھا کہ اگر کسی شخص کی کوشش مال ومقام کے لئے نہیں تو وہ پاگل ہے اور اس کے علاوہ کوئی چھوتھی چیز نہیں ہے۔ لہٰذا انہوں نے کہا: کہ اگر نہ تُو مال چاہتا ہے اور نہ مقام تو پھر تیسری بات مان لے اور ہمیں اجازت دے کہ تیرے لئے طبیب لے آئیں۔ ان کی مثال اس شخص کی سی ہے کہ جو بہت چھوٹے سے کمرے میں قید ہو، اس نے کُھلے وسیع آسمان، چمکتے سورج، پہاڑوں، دریاؤں اور صحراؤں کو نہ دیکھا ہو اور اسے عالمِ ہستی کی عظمت کا اندازہ نہ ہو۔ وہ رسول اللہ کی عظیم اور ناپید کنار روح کو اپنے پیمانوں سے ماپنا چاہتے تھے۔ ان سب باتوں سے قطعِ نظر وہ رسول اللہ سے کونسی ایسی چیز کی خواہش کرتے تھے کہ جو اسلام میں نہ تھی۔ وہ سرسبز زمینوں، پانی سے لبریز چشموں، کھجور اور انگور کے باغوں اور مزین وخوشحال گھروں کی فرمائش کرتے تھے اور ہم جانتے ہیں اپنی پیش رفت کے پروگرام میں اسلام ہر چیز سے مالا مال تمدن کا حامل تھا۔ ایسا تمدن کہ جس میں ہر قسم کی اقتصادی ترقی کا امکان تھا۔ اور ہم نے دیکھا کہ مسلمان اسی قرآن اور پروگرام کے سائے میں اس سے کہیں آگے بڑھ گئے کہ جس کی مشرکینِ عرب اپنی ناقص فکر سے تمنا کرتے۔ اگر ان کی آنکھ حقیقت میں ہوتی تو وہ اس دین میں روحانی کمال بھی دیکھتے، مادی ارتقاء بھی۔کیونکہ ہر دو کے لئے سعادت کا ضامن ہے۔ ہم ان بچکانہ یا احمقانہ تقاضوں سے صرفِ نظر کرتے ہیں کہ__ وہ کبھی کہتے کہ ہمارے لئے خدا کا عذاب لے آؤ اور آسمانی پتھر ہمارے سروں پر برساؤ، یا یہ کہ سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھ جاؤ اور تجھ پر قربان، وہاں سے کوئی خط ہمارے لئے لے آؤ یا یہ کہ خدا اور فرشتوں کو ٹولیوں میں ہمارے سامنے لے آؤیا یہ کہ خدا اور فرشتوں کو ٹولیوں میں ہمارے سامنے لے آؤ۔ یہاں تک کہ یہ نہیں کہا کہ ہمیں ان کے پاس لے جا۔ یہ انسان عجیب جہالت، غرور اور تکبر کے مظاہرے کرتا ہے۔

۳۔ معجزے کے منکرین کی ایک اور دستاویز۔

زیرِ بحث آیات کا کا مفہوم کوئی پیچیدہ نہیں ہے اور یہ واضح ہے کہ مشرکینِ مکہ رسول اللہ سے کیوں اور کس طرح کے تقاضے کرتے تھے اور یہ بھی واضح ہے کہ رسولِ اکرم نے انہیں منفی جواب کیوں دیا مگر اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ بعض ہمعصر عذر ترش افراد کا اصرار ہے کہ یہ آیات پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے ہر قسم کے معجزہ کی نفی کرتی ہیں، وہ ان آیات کو پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے معجزے کی نفی کرنے والی بہت واضح آیات شمار کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان آیات کے مطابق مخالفین نے آپ سے چھ قسم کے معجزوں کا مطالبہ کیا، ان میں زمین وآسمان سے کچھ فوائد کے حصول سے متعلق معجزوں کا تقاضا بھی ہے اور مرگ آمرین معجزات بھی، لیکن آپ نے ان میں سے کوئی تجویز بھی قبول نہ کی اور صرف یہی جواب دیا: میرا خدا پاک ہے۔ مَیں تو خدا کے فرستادہ ایک بشر کے علاوہ کچھ نہیں ہوں۔ ہمارے زمانے کے بہانہ ساز عہدِ پیغمبر کے اپنے بہانہ ساز دوستوں کی طرح نہ ہوں تو انہیں ان کا جواب خود انہیں آیات میں مل جائے گا۔کیونکہ: ۱۔ان چھ تقاضوں میں سے بعض اصولی طور پر مضحکہ خیز اور نامعقول تھے، مثلا خدا اور فرشتوں کو حاضر کرنا یا آسمان پر سے ان نام پر خصوصی خط لے کر آنا۔ بعض دوسرے تقاضے بے سوچے سمجھے تھے، ایسے کہ اگر ان پر عمل کیا جاتا تو خود تقاضا کرنے والوں کا نام ونشان ہی باقی نہ رہتا، تو وہ ایمان کہاں لاتے، مثلاً ان پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسنا۔ ان کے باقی تقاضے تو دنیاوی عیش وعشرت تو اور مال ودولت سے متعلق تھے جب کہ ہم جانتے ہیں کہ انبیاء ان کاموں کے لئے نہیں آتے۔ بالفرض اگر ان تقاضوں میں یہ اشکالات نہ بھی ہوتے تو وہ تو بہانہ سازی ہی کر رہے تھے جیسا کہ ان آیات میں موجود قرینوں سے ظاہر ہو رہا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ نبی کا فریضہ یہ نہیں کہے کہ وہ بہانہ تراش لوگوں کے تقاضوں کے سامنے سر جھکا دے بلکہ ان کی ذمہ داری معجزہ دکھانا ہے صرف اس قدر کہ ان کی دعوت ثابت ہو جائے، اس سے زیادہ ان کے ذمہ نہیں۔ ۲۔ انہیں آیات کی کچھ تعبیرات صراحت کے ساتھ بتاتی ہیں کہ یہ تقاضے کرنے والے کس قدر بہانہ ساز اور ہٹ دھرم تھے، جب انہوں نے رسول اللہ سے آسمان پر چڑھ کے دکھانے کا تقاضا کی تو ساتھ ہی کھل کر کہا کہ اگر تم آسمان پر چڑھ بھی جاؤ توبھی ہم ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ آسمان سے ہمارے نام کوئی خط نہ لے کر آؤ۔ اگر واقعاً انہیں معجزے کی طلب تھی تو کیوں کہتے تھے کہ تمہارا آسمان پر چڑھنا بھی ہمارے لئے کافی نہیں ان کے غیر منطقی ہونے پر کیا اس سے زیادہ واضح کوئی قرینہ ہو سکتا ہے؟۔ ۳۔ان سب چیزوں سے قطعِ نظر ہم جانتے ہیں کہ معجزہ فعلِ خدا ہے نہ کہ فعلِ نبی؛ جب کہ ان بہانہ تراشوں کا لب ولہجہ واضح کر رہا ہے کہ وہ معجزے کو فعلِ پیغمبر سمجھتے تھے، یہی وجہ ہے کہ تمام افعال کی نسبت پیغمبر کی طرف دیتے تھے: وہ کہتے تھے: تم اسے چیر کر دکھاؤ۔ تم اس میں نہریں جاری کرو۔ تم آسمان کے پتھر ہمارے سروں پر برساؤ۔ تم خدا اور فرشتوں کو ہمارے پاس لے آؤ۔ حالانکہ کہ نبی کے لئے ضروری ہے کہ اس کے ذہن میں یہ کیال نہ ہو اور وہ اس پر ثابت کرے کہ ”میں نہ خدا ہوں اور نہ اس کا شریک، معجزہ صرف اسی کا کام ہے۔ مَیں تو دیگر انسانوں کو کی طرح بشر ہوںفرق یہ ہے کہ مجھ پر وہی نازل ہوتی ہے اورجس قدر معجزے کی ضرورت ہے وہ خدا مجھے عطا کر چکا ہے۔ اس سے بڑھ کر مَیں کچھ نہیں کر سکتا “۔ خصوصاً”سبحان ربی“ کا جملہ اسی معنی کا شاہد ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مقامِ پروردگار ہر قسم کے شریک اور شبیہ سے پاک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اگرچہ متعدد معجزات کی حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کی طرف نسبت دی گئی ہے۔ مثلاً مردوں کو زندہ کرنا،، ناقابلِ علاج بیماروں کو شفا دینا یا مادرزاد اندھوں کو بینا کرنا وغیرہ لیکن اس کے باوجود تمام مواقع پر ”باذنی“ یا ”باذن اللہ“ آیا ہے جو واضح کرتا ہے کہ یہ کام صرف حکمِ خدا سے ہوئے ہیں اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ یہ معجزات اگرچہ حضرتِ عیسیٰ (علیه السلام) کے دستِ مبارک پر ظاہر ہوئے لیکن یہ خود حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کی طرف سے نہیں تھے بلکہ سارے کے سارے حکم خدا سے ظہور میں آئے تھے۔(مائدہ، ۱۱۰،اور آلِ عمران ۴۹ کی طرف رجوع کریں)۔ ۴۔ کونسی عقل باور کرتی ہے کہ ایک انسان نبوت کا دعویٰ کرے، یہاں تک کہ اپنے آپ کو خاتم الانبیاء وخاتم المرسلین سمجھے اور اپنی کتابِ آسمانی میں گزشتہ انبیاء کے معجزات کا ذکر کرے لیکن خود کسی قسم کا معجزہ پیش کرنے سے قاصر ہو؟ کیا لوگ اس سے کہیں گے نہیں کہ تم کس قسم کے نبی ہو کہ کوئی ایسا معجزہ پیش نہیں کر سکتے جو دوسروں کو قائل کر سکے جب کہ تمہیں تو دعوت ہے کہ تم سب گزشتہ انبیاء سے برتر ہو اور ان کے سردار ہو اور حالت یہ ہے کہ ان کا شاگرد ہونے کا ثبوت بھی پیش نہیں کر سکتے ہو۔ ان کا یہ نہ کہنا خود اس امر کی دلیل ہے کہ آپ ضروری موقع پر معجزات پیش کرتے تھے لہٰذا واضح ہوجا تا ہے کہ اگر رسول اللہ نے ان آیات میں بیان کئے گئے ان کے تقاضوں کو نہیں مانا تو یقینا یا یہ تقاضے بے بنیاد ہیں یا پھر عذر تراشی پر مبنی ہیں ورنہ آپ منطقی اور معقول بات تو تسلیم کرتے تھے۔

94
17:94
وَمَا مَنَعَ ٱلنَّاسَ أَن يُؤۡمِنُوٓاْ إِذۡ جَآءَهُمُ ٱلۡهُدَىٰٓ إِلَّآ أَن قَالُوٓاْ أَبَعَثَ ٱللَّهُ بَشَرٗا رَّسُولٗا
ہدایت آنے کے بعد وہ تنہا چیز جس نے لوگوں کو ایمان لانے سے روکا یہ تھی کہ ( جہالت کی بناء پر) انہوں نے کہا : کیا اللہ نے ایک بشر کو رسول بنا کر بھیجا؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 95 کے تحت ملاحظہ کریں۔

95
17:95
قُل لَّوۡ كَانَ فِي ٱلۡأَرۡضِ مَلَـٰٓئِكَةٞ يَمۡشُونَ مُطۡمَئِنِّينَ لَنَزَّلۡنَا عَلَيۡهِم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ مَلَكٗا رَّسُولٗا
کہدو: اگر روئے زمین پر فرشتے بھی (زندگی بسر کر رہے ہوتے اور) اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم آسمان سے فرشتے کو رسول بنا کر ان کے پاس بھیجتے۔

پھر وہی بہانے

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں توحید کے بارے میں مشرکین کی بہانہ تراشیوں کے حوالے سے گفتگو کی گئی تھی۔ زیرِ بحث آیات میں بھی ان سے ملتے جلتے ایک بہانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ہدایت آ جانے کے بعد وہ تنہا چیز جو لوگوں کے ایمان لانے میں حائل ہوئی یہ تھی کہ کہتے تھے کہ خدا نے انسان کو نبی بنا کر کیوں بھیجا ہے (وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُؤْمِنُوا إِذْ جَائَھُمَ الْھُدیٰ إِلاَّ اَنْ قَالُوا اَبَعَثَ اللهُ بَشَرًا رَسُولًا)۔ وہ کہتے کی کیا یہ باور کیا جا سکتا ہے کہ یہ بلند مقام اور بہت اہم منصب کسی انسان کے سپرد کیا جائے، یہ عظیم رسالت کسی افضل مخلوق مثلا فرشتوں کے سپرد کیوں نہ ہوتا کہ وہ اس سے اچھی طرح سے عہدہ برآ ہوں، خاکی انسان کہاں اور رسلات الٰہی کہاں، اس مقام کے اہلِ افلاک کے باسی ہیں نہ کہ خاکی انسان۔ یہ کمزور سی منطق کسی ایک یا دو گروہوں نے ہی پیش نہیں کی، بلکہ پوری تاریخ میں اکثر بے ایمان افراد نے انبیاء کے سامنے یہ بات کی۔ قومِ نوح، اس عظیم پیغمبر کی مخالفت میں کہتی تھی: مَا ھٰذَا إِلاَّ بَشَرٌ مِثْلُکُمْ۔ یہ تو ہماری طرح کا ایک انسان ہے۔ (مومنون:۲۴) حضرت ہود (علیه السلام) کی بے ایمان قوم کہتی تھی: مَا ھٰذَا إِلاَّ بَشَرٌ مِثْلُکُمْ یَاْکُلُ مِمَّا تَاْکُلُونَ مِنْہُ وَیَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُونَ یہ تو تمہاری طرح کا ایک انسان ہے۔ جو کچھ تم کھاتے ہو یہ بھی کھاتا ہے اور جو کچھ تم پیتے ہو یہ بھی پیتا ہے۔ (مومنون:۳۳) یہاں تک کہ وہ یہ بھی کہہ گزرتے: وَلَئِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِثْلَکُمْ إِنَّکُمْ إِذًا لَخَاسِرُونَ۔ اگر تم نے اپنے جیسے بشر کی اطاعت کی تو نقصان اٹھاؤ گے۔(مومنون:۳۴) بعینہ یہی اعتراض پیغمبر اسلام ﷺپر بھی کیا جاتا تھا۔ مخالفین کہتے تھے: مَالِ ھٰذَا الرَّسُولِ یَاْکُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِی فِی الْاَسْوَاقِ لَوْلَااُنزِلَ إِلَیْہِ مَلَکٌ فَیَکُونَ مَعَہُ نَذِیرًا یہ رسول کھاتا پیتا کیوں ہے اور بازاروں میں کیوں چلتا پھرتا ہے۔ کم از کم اس کے ساتھ ایک فرشتہ کیوں نازل نہیں ہوا جو اس کے ساتھ مل کر لوگوں کو ڈراتا(فرقان:۷) قرآن ایک نہایت مختصر سا معنی خیز اور واضح جواب دیتا ہے: کہہ دو اگر روئے زمین پر فرشتے ہوتے کہ جو آرام وسکون سے رہ رہے ہوتے تو ہم ان پر آسما ن سے فرشتے کو پیغمبر کے طور پر نازل کرتے( قُلْ لَوْ کَانَ فِی الْاَرْضِ مَلَائِکَةٌ یَمْشُونَ مُطْمَئِنِّینَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْھِمْ مِنَ السَّمَاءِ مَلَکًا رَسُولاً)۔ یعنی رہبر ہمیشہ اس نوع میں سے ہونا چاہیئے جس میں اس کے پیروکار ہوں، انسان انسانوں کے لئے اور فرشتہ فرشتوں کے لئے، رہبر اور پیروکاروں کے ایک جیسے ہونے پر دلیل بھی واضح ہے کیونکہ کسی رہبر کی تبلیغ کا اہم ترین حصہ اس کی عملی تبلیغ ہے۔ ایس کو نمونہ اور اسوہ ہونا چاہیئے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ وہ وہی احساسات وجذبات اور طبیعت وفطرت رکھتا ہو اور اس کی جسمانی و روحانی ساخت بھی وہی ہو، ایک فرشتہ کہ جو شہوتِ جنسی سے پاک ہوتا ہے۔ جسے مکان کی ضروت ہے نہ لباس کی اور جو غذا کی احتیاج بھی نہ رکھتا ہو اور جس میں انسانی مزاج اور غرائض کی باقی چیزیں بھی موجود نہیں وہ انسانوں کے کے لئے نمونہ اور اسوہ کیسے بن سکتا ہے بلکہ وہ رہبر ہو تو لوگ کہیں کہ اسے ہمارے دل کی کیا خبر؟ اسے کیا معلوم کہ ہماری روح پر شہوت اور غضب کس طرح سے اثر انداز ہوتے ہیں، وہ تو صرف اپنے دل کی بات کرتا ہے۔ اس کے احساسات وجذبات ہماری طرح کے ہوتے تو وہ ہم جیسا ہی ہوتا یا ہم سے بھی برتر، لہٰذا اس کی باتوں کی کیا اہمیت ہے۔ لیکن جب علی علیہ السلام جیسا ہادی کہے: انما ھی نفسی اروضھا بالتقویٰ لتاتی اٰمنة یوم الخوف الاکبر۔(بحوالہ: ہج البلاغہ، نامہ۴۵)۔ میرا نفس بھی تمہاری طرح کا ہے لیکن مَیں نے اسے تقوی ٰ کی لگام دی ہے تاکہ روزِ قیامت امن میں رہے۔ دوسری طرف رہبر ایسا ہونا چاہیئے کہ جو اپنے پیروکاروں کی مشکلات، احتیاجات اور خواہشات کو اچھی طرح سے سمجھ سکے تاکہ ان کے حل اور انہیں پورا کرنے کے لئے آمادہ رہے۔ اور اس مصرعے کا مصداق نہ بنے: آگہ نئی از حال من مشکل ھمین است مشکل یہ ہے کہ تجھے میری حالت کی خبر ہی نہیں۔ خاص طور پر یہی وجہ ہے کہ انبیاء عام انسانوں میں سے تھے اور انہوں نے عموماً نہایت اور مشکل اور کٹھن زندگی گزاری ہوتی تھی۔ یہ اس لئے تھا تاکہ وہ زندگی کی تمام تلخیوں کو چکھیں اور دردناک حقیقتوں کو چھوئیں اور ان کے ھل کے لئے اپنے آپ کوتیار کریں۔

چند اھم نکات

۱۔ ”ما منع الناس“ کا مفہوم: یہ جملہ کہتا ہے کہ ان کے ایمان کے لئے واحد رکاوٹ ان کی یہی بہانہ جوئی تھی البتہ یہ تعبیر انحصار کی دلیل نہیں ہے بلکہ مسئلے کی اہمیت کے اظہار کے لئے اور تاکید کے طور پر ہے۔ ۲۔ ”ملائکة یمشون مطمئنین“ کا مفہوم: اس کے بارے میں مفسرین نے بحث کی ہے اور انھوں نے اس کی متعدد تفسیریں بیان کی ہیں۔ بعض نے اسے زمانہ جاہلیت کے عربوں کی گفتگو کی طرف اشارہ سمجھا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ ہم اس جزیرہ میں رہتے تھے اور اطمینان کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ محمد (ص) آیا اس نے ہمارا امن و سکون تباہ کر دیا۔ قرآن کہتا ہے کہ اگر فرشتے بھی اس طرح کے امن و سکون سے زمین میں رہ رہے ہوتے تو ہم انہی کی نوع میں سے ان کے لیے پیغمبر بھیجتے۔ بعض دیگر نے کہا ہے کہ اس سے مراد دنیا اور اس کی لذات پر مطمئن ہونا ہر دین و مذہب سے لا تعلق ہونا ہے۔ بعض نے اس سے زمین میں ”سکونت و توطن“ مراد لیا ہے۔ البتہ یہ احتمال قوی معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد ہ ہے کہ اگر فرشتے بھی زمین میں بس رہے ہوتے اور زندگی تصادم، دشمنی اور کشمکش سے پاک ہوتی پھر بھی ان کی اپنی نوع سے ایک رہبر کی ضرورت ہوتی کیونکہ انبیاء کو فقط بے سکونی اور بے اطمینانی ختم کرنے کے لیے اور آرام و سکون پیدا کرنے کے لیے نہیں بھیجا جاتا بلکہ یہ سب کچھ تو تکامل و ارتقاء کا مقدمہ ہے اور مختلف پہلوؤں سے روحانی و انسانی تربیت کی تمہید ہے اصل اس کام کے لیے خدائی رہبر کی ضرورت ہے۔ ۳۔ لفظ ”ارض“ سے ایک استفادہ: زیر نظر آیت میں جو لفظ ”ارض“ آیا ہے اس سے استفادہ کرتے ہوئے علامہ طباطبائی تفسیر المیزان میں لکھتے ہیں: روئے زمین پر مادی زندگی کا مزاج وجودِ پیغمبر کا محتاج ہے اور اس کے بغیر زندگی ہرگز پنپ نہیں سکتی۔ علاوہ ازیں، علامہ طباطبائی اس لفظ کو زمین کی کشش ثقل کی طرف ایک لطیف اشارہ سمجھتے ہیں کیونکہ اس کے بغیر امن سکون و اطمینان سے چلا پھر ا نہیں جا سکتا۔

96
17:96
قُلۡ كَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدَۢا بَيۡنِي وَبَيۡنَكُمۡۚ إِنَّهُۥ كَانَ بِعِبَادِهِۦ خَبِيرَۢا بَصِيرٗا
کہدو: یہی کافی ہے کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے کیونکہ وہ اپنے بندوں کے بارے میں آگاہ اور بینا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 97 کے تحت ملاحظہ کریں۔

97
17:97
وَمَن يَهۡدِ ٱللَّهُ فَهُوَ ٱلۡمُهۡتَدِۖ وَمَن يُضۡلِلۡ فَلَن تَجِدَ لَهُمۡ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِهِۦۖ وَنَحۡشُرُهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمۡ عُمۡيٗا وَبُكۡمٗا وَصُمّٗاۖ مَّأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ كُلَّمَا خَبَتۡ زِدۡنَٰهُمۡ سَعِيرٗا
جسے خدا ہدایت دے وہی حقیقی ہدایت یافتہ ہے اور جس شخص کو (اس کے اعمال کے باعث) وہ گمراہی میں ڈال دے ایسے لوگوں کیلئے تو اللہ کے سوا کسی کو ہادی و سر پرست نہیں پائے گا، اور روز قیامت ان لوگوں کو ہم اوندھے منہ محشور کریں گے اس حال میں کہ وہ اندھے‘ گونگے اور بہرے ہوں گے ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور جس وقت اس کی آگ بجھنے لگے گی ہم اسے اور بھڑکا دیں گے۔

حقیقی ہدایت یافتہ

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

قبل ازیں آیات توحید و نبوّت اور مخالفین سے گفتگو کے بارے میں تھیں۔ زیر بحث آیات میں ان گزشتہ کباحث کا ایک طرح سے اختتام ہو رہا ہے اور نتیجہ بحث پیش کیا جا رہا ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: اگر وہ توحید و نبوت اور معاد و قیامت کے بارے میں تیرے واضح دلائل قبول نہیں کرتے تو انہیں بتا دو اور ”کہو کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے کیونکہ وہ اپنے بندوں کے حالات سے آگاہ ہے اور ان کے کام کو دیکھتا ہے ( قُلْ کَفیٰ بِاللهِ شَھِیدًا بَیْنِی وَبَیْنَکُمْ إِنَّہُ کَانَ بِعِبَادِہِ خَبِیرًا بَصِیرًا)۔(تشریحی نوٹ: ترکیبب کے لحاظ سے ”کفیٰ بالله“ میں ”باء“ زائدہ ہے اور ”الله“ ”کفیٰ“ کا فاعل ہے اور ”شھیداً“ تمیز ہے جبکہ بعض کے بقول حال ہے)۔ یہ بات کہتے ہوئے دراصل دو مقصد پیشِ نظر تھے۔پہلا یہ کہ متعصب اور ہٹ دھرم مخالفین کی تہدید کی جائے کہ خدا اگاہ اور بینا ہے اور ہمارے تمہارے اعمال پر گواہ ہے۔ یہ خیال نہ کرو کہ تم اس کہ احاطہٴ قدرت سے بہار نکل جاوٴ گے یا تمہارے اعمال میں سے کوئی چیز اس پر مخفی رہ جائے گی۔ دوسرا یہ کہ یہ بات کہہ کہ رسول اللہ خدا کہ بارے میں اپنے ایمان قاطع کا اظہار کر دیں کیونکہ کہنے والے کہ اپنی بات میں قاطعیت سننے والے پر گہر انفساتی اثر مرتب کر تی ہے۔ ہو سکتا تھا کہ یہ حکم اور قاطع تعبیر کہ جس میں ایک قسم کی تہدید ہوتی ہے ان پر اثر انداز ہوتی،ان کہ دل اور فکر کو بیدار کرتی اور انہیں راہِ مستقیم کی طرف دعوت دیتی۔ اس کہ بعد مزید ارشاد ہوتا ہے:وہی شخص ہدایت پاتا ہے کہ جس کے دل میں اللہ نور ہدایت ڈال دے (وَمَنْ یَھْدِ اللهُ فَھُوَ الْمُھْتَدِ ) لیکن جنہیں وہ (ان کہ اعمال کے باعث )گمراہ کر دی توان کے لیے تو خدا کے اعلاوہ کوئی سر پرست وراہنما نہیں پائے گا (وَمَنْ یُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَھُمْ اَوْلِیَاءَ مِنْ دُونِہِ)۔ لوٹ آنے کا ایک ہی راستاہے اور وہ یہ کہ وہ خدا کی طر ف رجوع کریں اور اس سے نور ہدایت طلب کریں اور اس سے نور ہدایت طلب کریں۔ یہ دو جملے درحقیقت، اس طرف اشارہ ہیں کہ قوی اور زبردست دلائل ہی ایمان لانے کے لیے کافی نہیں ہیں بلکہ جب تک کسی میں توفیق الہٰی شامل حال نہ ہو اور ہدایت کے لیے اہلیت پیدانہ ہو محال ہے کہ وہ ایمان لائے۔ اس کی مثال میں یوں ہے ہم چند لوگوں کہ ایک اہم کار ِخیر انجام دینے ہیں اور اس کی اہمیت کے لیے بہت دلائل دیتے ہیں لیکن ان میں سے بعض قبول کر دیتے ہیں اور بعض مخالفت کرتے ہیں تو ہم کہتے میں کہ سب لوگ اس کام گہ اہلیت نہیں رکھتے۔ نطفہٴ پاک بباید کہ شود قابل فیض ورنہ ہر سنگ گلی لوٴلوٴ ومرجان نشود پاک مٹی ہی فیض دی سکتی ہے ورنہ پتھر اور مٹی موتی اور مونگے نہیں ہوتے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر دل نور حق کی لیاقت نہیں رکتا اور ہر دل میں اس کا عاشق پیدا نہیں ہو تا۔علاوہ از یں تحریک کرنے والے کے اندازِ بیا ن کا اثر سننے والے پر ہو تا ہے اور بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ سننے والا اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لیے ہٹ دھرمی چھوڑ کر حق کے سامنے سرتسلیم کر لیتا ہے۔ بہ بات بھی ہم نے بارہا کہی ہے کہ خدا کی طرف سے کبھی بھی جبری ہدایت یا گمراہی نہیں ہوتی بلکہ یہ خود انسان کے اعمال کا براہ راست اثر ہوتی ہے۔ وہ لوگ کہ جو اس کی راہ میں جہاد ک لیے اٹھ کھڑے ہوں اور حصول حق کے لیے ہر قسم کی قربانی پیش کریں یقیناً اس بات کے لائق ہیں کہ ہدایت ان کے شامل حال ہو۔ لہٰذا قرآن فرماتا ہے: وَ الَّذِینَ جَاھَد و افِینَا لَنَھدِ یَنَّھُم سُبُلَنَا جو لوگ ہماری خاطرجہاد کرتے ہیں ہم انہیں اپنے راستوں کی راہنمائی کرتے ہیں۔(عنکبوت۔۶۹) لیکن وہ لوگ کہ جو عناد، ہٹ دھری، گناہ، ظلم اور فساد کی راہ اپنائے ہوئے ہیں انہوں نے اپنی اہلیت کو خود ذبح کر دیا ہے اور وہ سلبِ توفیق اور گمراہی کے مستحق ہوتے ہیں۔ مسلّم ہے کہ ایسے افراد کو وہ گمراہی ہیں سرگرداں کرے گا۔ جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے: وَیُضِلُّ اللهُ الظَّالِمِینَ الله ظالموں کو گمراہ کرتا ہے۔ (ابراہیم۔۲۷) یہ بھی ارشاد ہے: وَمَا یُضِلُّ بِہِ إِلاَّ الْفَاسِقِینَ وہ تو صرف فاسقوں کو بھٹکاتا ہے۔ (بقرہ۔۲۶) یہ بھی فرمایا گیا ہے: کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللهُ مَنْ ھُوَ مُسْرِفٌ مُرْتَابٌ جو حد سے گزرجانے والا شاکی ہو خدا اسے یونہی گمراہی میں چھوڑدیتا ہے۔ (مومن۔۳۴) رہا یہ مسئلہ کہ ”اولیاء“ جمع کی صورت میں کیوں ذکر ہوا ہے۔ تو ہو سکتا ہے یہ فرضی خداؤں کے تعدد کی طرف اشارہ ہویا ان وسائل و اسباب کے تنوع کی طرف کہ جن کی وہ پناہ لیتے تھے۔ یعنی ان وسائل و اسباب سے انسانوں اور غیر انسانوں میں سے اور خیالی و فرضی خداؤں میں سے کوئی ان کی فریاد کو نہیں پہنچ سکتا، ان میں سے کوئی انہیں گمراہی اور بدبختی سے نجات نہیں دے سکتا۔ اس کے بعد ایک قاطع اور شدید تہدید کے انداز میں قیامت کے ایک منظر کی نشاندہی کی گئی ہے وہ منظر کہ جو ان کے اعمال کا قطعی نتیجہ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: روز قیامت ہم اہیں اوندھے منہ محشور کریں گے (وَنَحْشُرُھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ عَلیٰ وَجُوہِھِمْ)۔اس روز وہ سیدھے نہیں چل رہے ہوں گے بلکہ عذاب کے فرشتے انہیں اوندھے منہ زمین پر کھینچیں گے۔ بعض نے یہ احتمال بھی احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ ان گنہگاروں میں چونکہ وہاں چلنے کی طاقت نہیں ہو گی لہٰذا بے دست و پا جانوروں کی مانند اوندھے منہ گھسٹتے ہوئے جائیں گے اور انتہائی دردناک اور ذلت آمیز حالت میں آگے بڑھیں گے۔ جی ہاں! وہ پاؤں سے چلنے کی سی عظیم نعمتوں سے محروم ہوں گے کیونکہ اس دنیا میں انہوں نے ان چیزوں سے راہ سعادت کے لیے فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ راہِ گناہ میں انہیں استعمال کیا۔ نیز اللہ کی عظیم عدالت میں اس حالت میں پیش ہوں گے وہ اندھے، گونگے اور بہرے ہوں گے (عُمْیًا وَبُکْمًا وَصُمًّا)۔ اس مقام پر یہ سوال پیش آتا ہے کہ قرآن کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ مجر مین اور اہلِ جہنم دیکھیں گے، سنیں گے اور باتیں کریں گے تو پھر زیر نظر آیت کیونکر کہتی ہے کہ وہ اندھے، گونگے اور بہرے ہوں گے۔ [سورہ کہف کی آیہ ۵۳ میں ہے: وَرَاَی الْمُجْرِمُونَ النَّار مجرمین آتش جہنم کو دیکھیں گے۔ سورہٴ فرقان کی آیہ ۱۳ میں ہے: دَعَوْا ھُنَالِکَ ثُبُورًا دوزخی ہلاکت کے مارے چیخیں گے۔ نیز سورہٴ فرقان ہی کی آیہ ۱۲ میں ہے: سَمِعُوا لَھَا تَغَیُّظًا وَزَفِیرًا مجرمین اس آگ کی آواز سنیں گے کہ جو بہت وحشت ناک ہو گی۔] اس سوال کے جواب میں مفسرین نے متعدد تفاسیر کی ہیں۔ ان میں سے ذیل کی دو تفاسیر بہتر ہیں: ۱۔ قیامت کے مختلف مراحل ہیں۔ ان میں سے بعض مراحل میں اندھے، گونگے اور بہرے ہوں گے اور یہ بجائے خود ان کے لیے ایک قسم کی سزا اور عذاب ہے (کیونکہ انہوں نے دنیا میں اللہ کی ان عظیم نعمتوں سے صحیح استفادہ نہیں کیا)۔ لیکن بعض دیگر مراحل میں ان کی آنکھ دیکھتی ہو گی، ان کے کان سنتے ہوں گے اور زبان باتیں کرتی ہو گی تاکہ وہ عذاب کے مناظر دیکھیں، ملامت کرنے والوں کی آواز سنیں اور پھر اپنی بے بسی پر واویلا کریں اور یہ بھی بجائے خود ایک عذاب و سزا ہے۔ ۲۔ مجرمین ایسی چیز نہ دیکھ سکیں گے جس سے انہیں سرور و راحت ملے، ایسی آواز نہیں سن سکیں گے کہ جو ان کے لیے باعثِ نشاط و سکون ہو اور اور ایسی آواز نہیں سن سکیں گے کہ جو ان کے لیے باعث رنج ہو۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: ان کا دائمی ٹھکانا جہنم ہے ( مَاْوَاھُمْ جَھَنَّمُ )۔لیکن یہ گمان نہ کرنا کہ آتش جہنم دنیا کی آگ کی طرح آخر کار بھیج جائے گی۔ نہیں بلکہ ”جب اس کی تپش کم ہو گی تو پھر سے اسے بھڑکا دیا جائے گا اور اس کی تپش میں اضافہ کر دیا جائے گا“(کُلَّمَا خَبَتْ زِدْنَاھُمْ سَعِیرًا)۔

98
17:98
ذَٰلِكَ جَزَآؤُهُم بِأَنَّهُمۡ كَفَرُواْ بِـَٔايَٰتِنَا وَقَالُوٓاْ أَءِذَا كُنَّا عِظَٰمٗا وَرُفَٰتًا أَءِنَّا لَمَبۡعُوثُونَ خَلۡقٗا جَدِيدًا
یہ ان کی سزا ہے کیونکہ وہ ہماری آیات کے منکر ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں اور پراگندہ خاک ہو جائیں گے کیا اس وقت ہماری تخلیق نو ہو گی؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 100 کے تحت ملاحظہ کریں۔

99
17:99
۞أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّ ٱللَّهَ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ قَادِرٌ عَلَىٰٓ أَن يَخۡلُقَ مِثۡلَهُمۡ وَجَعَلَ لَهُمۡ أَجَلٗا لَّا رَيۡبَ فِيهِ فَأَبَى ٱلظَّـٰلِمُونَ إِلَّا كُفُورٗا
کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ جس خدا نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے وہ ان جیسے اور بھی پیدا کرنے پر قادر ہے (اور انہیں حیات نو عطا کر سکتا ہے)؟ اور اس نے ان کے لئے قطعی مدت مقرر کی ہے،لیکن ظالم لوگ سوائے کفر و انکار کے کچھ نہیں کرتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 100 کے تحت ملاحظہ کریں۔

100
17:100
قُل لَّوۡ أَنتُمۡ تَمۡلِكُونَ خَزَآئِنَ رَحۡمَةِ رَبِّيٓ إِذٗا لَّأَمۡسَكۡتُمۡ خَشۡيَةَ ٱلۡإِنفَاقِۚ وَكَانَ ٱلۡإِنسَٰنُ قَتُورٗا
ان سے کہہ دو :اگر تمہارے پاس میرے رب کی رحمت کے خزانے بھی ہوتے تو بھی تنگدلی کی وجہ سے تم انہیں روکے رکھتے اس خوف سے کہ کہیں خرچ کرنے سے تم تنگدست نہ ہو جاؤ اور انسان ہے ہی بہت تنگدل۔

معاد کیونکر ممکن ہے؟

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں بتایا گیا ہے کہ دوسرے جہان میں کیسا برا انجام مجرموں کے انتظار میں ہے۔ ایسا انجام کہ جو ہر عقلمند انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ زیر نظر آیات میں اس کی علت کو ایک اور حوالے سے واضح کیا گیا ہے۔ ارشا ہوتا ہے: یہ ان کی سزا ہے۔ کیونکہ انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا جس وقت ہم بوسیدہ ہڈیوں میں بدل چکے ہوں گے اور ہمارا جسم پراگندہ مٹی کی صورت اختیار کر چکا ہو گا کیا اس وقت ہماری خلقت نو ہو گی (ذٰلِکَ جَزَاؤُھُمْ بِاَنَّھُمْ کَفَرُوا بِآیَاتِنَا وَقَالُوا اَئِذَا کُنَّا عِظَامًا وَرُفَاتًا اَئِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِیدًا)۔ جیسا کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے”رفات“ گھاس کے تنکوں کو کہتے ہیں جو ٹوٹتے نہیں اور بکھر جاتے ہیں۔ بنا کہے واضح ہے کہ تہ زمین پہلے انسان بوسیدہ ہڈیوں میں تبدیل ہوتا ہے اور پھر خاک میں بدل جاتا ہے اور خاک کے یہ ذرے بھی بکھر جاتے ہیں۔ جو لوگ معادِ جسمانی کے مسئلہ پر تعجب کرتے ہیں یا اسے ناممکن سمجھتے ہیں قرآن حکیم نے فوراً ہی انہیں جواب دیا ہے: کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ جس خدا نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے وہ ان کی نظیر بھی پیدا کر سکتا ہے(اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللهَ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ قَادِرٌ عَلیٰ اَنْ یَخْلُقَ مِثْلَھُمْ) لیکن انہیں جلدی نہیں کرنا چاہئے، قیامت اگر چہ دیر سے آئے مگر آ کے رہے گی۔ خدا نے ان کے لیے ایک قطعی مدت مقرر کی ہے اورجب تک وہ وقت معین نہ آجائے قیامت برپا نہیں ہو گی(وَجَعَلَ لَھُمْ اَجَلًا لَارَیْبَ فِیہ)۔ لیکن اہل ستم یہ باتیں سننے کے باوجود اپنی کج روی پر باقی رہتے ہیں اور کفرو انکار کے سوا کوئی راستہ اختیار نہیں کرتے(فَاَبَی الظَّالِمُونَ إِلاَّ کُفُورًا)۔ انہیں اصرار تھا کہ رسول کو نوع بشر میں سے نہیں ہونا چاہئے لہٰذا یہ باور کرنے میں انہیں کچھ حسد اورکم ظرفی مانع تھی کہ ہو سکتا ہے خدا یہ نعمت کسی انسان کو عطا کرے، لہٰذا زیر بحث آخر آیت میں فرمایا گیا ہے:ان سے کہہ دو : اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے بھی تمہارے ہاتھ میں ہوتے تو بھی اپنی تنگ دلی کی وجہ سے تم انہیں روکے رکھتے کہ انہیں خرچ کرنے میں تم تنگ دست نہ ہوجاوٴ(قُلْ لَوْ اَنتُمْ تَمْلِکُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّی إِذًا لَاَمْسَکْتُمْ خَشْیَةَ الْإِنفَاقِ )۔اور انسان طبعاً بخیل ہے(وَکَانَ الْإِنْسَانُ قَتُورًا)۔ ”قتور“کا مادہ”قتر“(بروزن”قتل“) ہے۔ یہ خرچ کرنے میں بخل سے کام لینے کے معنی میں ہے اور ”قتور“ چونکہ مبالغہ کا صیغہ ہے لہٰذا سخت تنگ دلی کا معنی دیتا ہے۔

چند اہم نکات

۱۔ معاد جسمانی: زیر نظر آیات معاد جسمانی کے اثبات کے لیے نہایت واضح آیات میں سے ہیں کیونکہ مشرکین اس بات پر تعجب کرتے تھے کہ کیسے ممکن ہے کہ خدا بوسیدہ اور خاک شدہ ہڈیوں کو پھر حیات نو سے آراستہ کرے۔ قرآن جواب بھی اسی حوالے سے دیتا ہے اور کہتا ہے: وہ خدا کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے یہ قدرت رکھتا ہے کہ انسان کے منتشر اجزاء کو جمع کر کے اسے حیات نو عطا فرما دے۔ معلوم نہیں کہ ان واضح آیات کے باوجود اور ان جیسی اور بہت سی آیات کے ہوتے ہوئے اسلام کے بعض دعویدار معاد کو معادِ روحانی میں کیوں منحصر سمجھتے ہیں۔ ضمناً، مسئلہ معاد کے اثبات کے لیے اللہ کی ہمہ گیر قدرت کے حوالے سے قران نے بارہا استدلال کیا ہے۔ سورہٴ یٰسین کے آخر میں معاد جسمانی کے لیے جو چند دلیلیں پیش کی گئی ہیں ان میں سے بھی ایک یہی اللہ کی ہمہ گیر قدرت ہے۔ (مزید تشریح کے لیے اس سلسلے کی کتاب ”معاد و جہان پس از مرگ“کا مطالعہ کیجئے۔) ۲۔ ”آیات “سے مراد: اس سلسلے میں کہ ”کفروا باٰیاتنا“میں ”آیات“سے مراد آیات توحید ہیں یا دلائلِ نبوت یا معاد سے مربوط آیات؟ اس بارے میں مختلف احتمالات ذکر کیے گئے ہیں لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ جملہ معاد کی بحث میں آیا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ معاد کی آیات کی طرف اشارہ ہے اور درحقیقت، منکرینِ معاد کو جواب دینے کے لیے تمہید کے طور پر آیا ہے۔ ۳۔ ”مثلہم“کا مفہوم: قاعدتاً کہنا چاہیے کہ اللہ اپنی قدرت کے ذریعے ان انسانوں کو روز قیامت پھر سے زندگی عطا کر سکتا ہے جبکہ زیر بحث آیات میں ہے کہ وہ ان کی ”مثل“خلق کرے گا۔ اس تعبیر سے بعض لوگوں کو اشتباہ ہوتا ہے یا کم از کم ان کے ذہن میں سوال ابھرتا ہے کہ کیا قیامت والے انسان یہی نہیں ہوں گے؟ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ”مثل“سے ”عین“ مراد لیا ہے کیونکہ بعض اوقات ہم کہتے ہیں: تیری مثل (تجھ جیسے) کو یہ کام نہیں کرنا چاہیے۔ حالانکہ ہماری مراد یہ ہے کہ ”تجھے یہ کام نہیں کرنا چاہیے“۔ لیکن یہ تفسیر بہت ہی بعید معلوم ہوتی ہے کیونکہ ایسے جملے ہم اور مواقع پر استعمال کرتے ہیں کہ جو ہمارے زیر بحث موقع سے مناسبت نہیں رکھتے۔ ظاہری مفہوم کے اعتبار سے زیر بحث آیت میں ”مثل“سے مراد وہی اعادہ اور تجدیدِ حیات ہے کیونکہ دوسری خلقت مسلماً پہلی خلقت کا ”عین“نہیں ہے کیونکہ اور نہیں تو کم از کم دوسرے زمانے اور دوسرے حالات میں وجود میں آئی ہے اگر چہ مادہ وہی پرانا پہلے والا ہے۔ جیسے ہم کسی ریزہ ریزہ ہوجانے والی اینٹ کو نئے سرے سے نئے قالب میں ڈھالیں، کہ جو پہلے قالب کی طرح ہوتو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ بعینہ وہی اینٹ ہے اگر چہ اس کی غیر بھی نہیں ہے بلکہ اس کی ”مثل“ہے۔ یہ بات نشاندہی کرتی ہے کہ قرآن کی تعبیرات کس قدر گہری اور دقیق ہیں۔(غور کیجئے گا) البتہ تسلیم شدہ ہے کہ انسان کی شخصیت اس کی روح کے ساتھ ہے اور ہم جانتے ہیں کہ وہی پہلی روح روز قیامت قبروں سے اٹھنے کے وقت پلٹ آئے گی لیکن معاد جسمانی کا تقاضا ہے کہ روح اسی پہلے قالب میں ہو گی یعنی وہی بکھرے ہوئے اجزائے مادہ جمع ہو کر وجودِنو پائیں گے اور روح اس کے ساتھ ہم آہنگ ہو گی۔ معاد کی بحث میں ہم نے یہ بات ثابت کی ہے کہ اصولی طور پر انسانی روح کسی ایک شکل میں متشکل ہونے کے بعد کسی اور بدن کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو سکتی سوائے اپنے اصلی بدن کے کہ جس کے ساتھ اس نے پرورش پائی ہے۔ قبا صرف اسی بدن پر فٹ آتی ہے اور اسی کے لیے موزوں ہے (اسی سے معادِ جسمانی و روحانی ثابت ہوتی ہے)۔ ۴۔ ”اجل“ کیا ہے؟: ہم جانتے ہیں کہ ”اجل“کسی چیز کی عمر کی حد کو کہتے ہیں لیکن کیا زیر بحث آیات میں ”اجل“انسان کی عمر کے خاتمے کی طرف اشارہ ہے یا دنیا کی عمر کے خاتمے اور قیامت کی ابتداء کی طرف اشارہ ہے؟ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ گفتگو معاد کے بارے میں ہے دوسری بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ بعض بزرگ مفسرین نے کہا ہے کہ یہ بات ”لا ریب فیہ“سے مطابقت نہیں رکھتی کیونکہ معاد کے منکرین مسلماً معاد کے بارے میں شک رکھتے ہیں۔ ہمیں یہ بات صحیح معلوم نہیں ہوتی کیونکہ ایسی تعبیرات کا مفہوم یہ ہے کہ اس قسم کے مسئلہ میں شک نہیں کرنا چاہیے اور اصولی طور پر اس میں جائے تردّد نہیں ہے۔ نہ یہ کہ اس میں کسی کو شک نہیں ہے۔ لہٰذا آیت کا مفہوم یہ ہو گا کہ وہ خدا کہ جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ہے یقیناً انسانوں کو دوبارہ لباس حیات عطا کر سکتا ہے البتہ اگر یہ کام جلدی نہ ہو تو اس کی وجہ یہ ہے کہ سنتِ الٰہی نے اس کیلئے ایک قطعی وقت مقرر کیا ہے کہ جس میں جائے تردّد نہیں ہے۔ نتیجہ گفتگو یہ ہے کہ یہاں منکرین معاد کے سامنے وہی قدرتِ الٰہی کے حوالے سے دلیل پیش کی گئی ہے۔ باقی رہا ”جعل لہم اجلاً لا ریب فیہ“ کا جملہ تو یہ ایک سوال کا جواب ہے کہ جو تاخیر قیامت کے بارے میں کیا جاتا تھا (غور کیجئے گا) ۵۔ زیر نظر آیات کا باہمی ربط: زیر نظر آیات کے مطالعے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخری زیرِ بحث آیت میں انسان کے بخیل ہونے کاذکر آیا ہے۔ اس بات کا گزشتہ مباحث سے کیا تعلق ہے؟ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ جملہ ایک مطلب کی طرف اشارہ ہے جو قبل کی چند آیات میں بت پرستوں کے حوالے سے ذکر کیا گیا تھا اور وہ یہ کہ ان کا تقاضا تھا کہ رسول اسلام سرزمین مکہ کو چشموں اور باغات سے مالا کر دیں۔ قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے کہ اگر تمہیں تمام خدائی خزانے بھی دے یئے جائیں پھر بھی تم بخل کو ترک نہیں کرو گے۔ لیکن یہ تفسیر بہت بعید معلوم ہوتی ہے کیونکہ وہ ان باغوں اور چشموں کی مالکیت کے بارے میں بات نہیں کر رہے تھے بلکہ وہ معجزے کا تقاضا کر رہے تھے۔ مفسرین نے اس ارتباط کے بارے میں ایک تفسیر اور بھی کی ہے اور وہ صحیح بھی معلوم ہوتی ہے اور وہی ہے جس کی طرف ہم نے سطور بالا میں اشارہ کیا ہے۔ یعنی بخل اور تنگ دلی کی بناپر انہیں اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ کسی انسان کو نبوت عطا کی گئی ہے۔ یہ آیت درحقیقت انہیں جواب دیتی ہے کہ اگر تم سارے جہاں کے بھی مالک بن جاؤ تو بھی اپنی بری روش کو ترک نہیں کرو گے۔ ۶۔ کیا سب انسان بخیل ہیں: ہم نے بارہا کہا کہ قرآن کی بہت سی آیات میں مطلق طور پر انسان کی مختلف حوالے سے ملامت کی گئی ہے۔ اس کے لیے بخل، جہل، ظلم، عجلت اور ان جیسی کئی صفات بیان کی گئی ہیں لیکن یہ تعبیر اس بات کے منافی نہیں کہ مومنین اور تربیت یافتہ افراد ان صفات کی بالکل مخالفت جہت میں ہیں۔ یہ تعبیرات اس طرف اشارہ ہیں کہ انسان کی طبیعت ایسی ہوتی ہے۔ اگر انسان ہادیانِ الٰہی سے تربیت حاصل نہ کرے اور گھاس پھونس کی طرح اسے اس کی حالت پر چھوڑ دیا جائے تو انسان یہ تمام منفی صفات قبول کر سکتا ہے نہ یہ کہ وہ ذاتاً اس طرح پیدا کیا گیا ہے اور نہ یہ کہ سب کا انجام یہی ہو گا۔(گزشتہ مباحث میں بھی اس سلسلے میں تفصیلی گفتگو کر چکے ہیں)۔ ۷۔ ”خشیة الانفاق“کا مفہوم: یہ تعبیر فقر سے خوف کے معنی میں ہے۔ فقر کہ جوان کے خیال میں کثرتِ انفاق کا نتیجہ ہو گا۔

101
17:101
وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَىٰ تِسۡعَ ءَايَٰتِۭ بَيِّنَٰتٖۖ فَسۡـَٔلۡ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ إِذۡ جَآءَهُمۡ فَقَالَ لَهُۥ فِرۡعَوۡنُ إِنِّي لَأَظُنُّكَ يَٰمُوسَىٰ مَسۡحُورٗا
ہم نے موسیٰ کو نو واضح معجزات عطا فرمائے۔ اب تم بنی اسرائیل سے پوچھ لو کہ جس وقت یہ( نو معجزات) ان کی مدد کیلئے آئے (تو ان کی کیا حالت تھی)۔ اور فرعون کہنے لگا :اے موسیٰ ! مجھے تو یہ گمان ہے کہ تو پاگل ہے( یا ساحر ہے)۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 104 کے تحت ملاحظہ کریں۔

102
17:102
قَالَ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَآ أَنزَلَ هَـٰٓؤُلَآءِ إِلَّا رَبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ بَصَآئِرَ وَإِنِّي لَأَظُنُّكَ يَٰفِرۡعَوۡنُ مَثۡبُورٗا
اس نے جواب دیا : دلوں کو روشن کرنے کیلئے یہ معجزات زمین و آسمان کے پروردگار کے سواکسی نے نہیں بھیجے اور اے فرعون ! میں سمجھتا ہوں کہ تو نیست و نابود ہو جائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 104 کے تحت ملاحظہ کریں۔

103
17:103
فَأَرَادَ أَن يَسۡتَفِزَّهُم مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ فَأَغۡرَقۡنَٰهُ وَمَن مَّعَهُۥ جَمِيعٗا
اس (فرعون )نے ارادہ کر لیا کہ زمین سے ان سب کی بیخ کنی کر دے، لیکن ہم نے اسے اور اس کے سب ساتھیوں کو غرق کر دیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 104 کے تحت ملاحظہ کریں۔

104
17:104
وَقُلۡنَا مِنۢ بَعۡدِهِۦ لِبَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ ٱسۡكُنُواْ ٱلۡأَرۡضَ فَإِذَا جَآءَ وَعۡدُ ٱلۡأٓخِرَةِ جِئۡنَا بِكُمۡ لَفِيفٗا
اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا: (مصر و شام کے) اس علاقے میں رہو سہو لیکن جب وعدئہ آخرت کا وقت پورا ہو جائے گا۔توہم تم سب کو اکٹھا (اس عدالت میں )لا کھڑا کریں گے۔

ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

پہلے کی چند آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ مشرکین، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیسے عجیب و غریب تقاضے کرتے تھے۔ خود ان کی اپنی باتوں سے ظاہر تھا کہ ان کا مقصد تلاش حق نہیں ہے بلکہ وہ رسول اللہ کے سامنے ہٹ دھرمی اور عذر تراشی کا مظاہرہ کرتے تھے۔ زیر بحث آیات میں درحقیقت گزشتہ امتوں کی تاریخ سے اسی صورتِ حال کا ایک نمونہ پیش کیا گیا ہے۔ ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے کیسے کیسے معجزات دیکھے مگر پھر بھی بہانے تراشے اور انکار کا راستہ ترک نہ کیا۔ پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: ہم نے موسیٰ کو نو آیات اور واضح نشانیاں دیں (وَلَقَدْ آتَیْنَا مُوسیٰ تِسْعَ آیَاتٍ بَیِّنَاتٍ)۔ یہ نو آیتیں کیا تھیں _ اس سلسلے میں ہم اسی بحث کے آخر میں گفتگو کریں گے۔ مزید تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے: تیرے مخالفین اگر اس بات کا بھی انکار کر دیں تو اتمام حجت کے لیے ”بنی اسرائیل سے پوچھ لوکہ جب ہی نشانیاں ان کے پاس آئیں تو کیا صورتِ حال تھی“( فَاسْالْ بَنِی إِسْرَائِیلَ إِذْ جَائَھُمْ)۔ لیکن مغرور سرکش اور جابر فرعون نے نہ صرف ان کے سامنے سرِ تسلیم خم نہ کیا بلکہ موسی(علیه السلام)ٰ کو جادوگر یا دیوانہ ہونے کا الزام دیا اور کہا: اے موسیٰ! میرا گمان ہے کہ تو جادو گر ہے یا دیوانہ (فَقَالَ لَہُ فِرْعَوْنُ إِنِّی لَاَظُنُّکَ یَامُوسیٰ مَسْحُورًا)۔ ” مَسْحُورًا“کے معنی کے حوالے سے مفسرین نے دو تفسیریں کی ہیں: بعض نے اسے ساحر و جادو گرکے معنی میں لیا ہے اور اس کے لیے قرآن حکیم کی ان آیات کو شاہد کے طور پر پیش کیا ہے جو کہتی ہیں کہ فرعون اور اس کے حواری ہر کہیں انہیں ساحر ہونے کا الزام دیا کرتے تھے۔ اور اسم مفعول کہ جو فاعل کے معنی میں آیا ہے لغت عرب میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں مثلاً ”مشئوم“، ”شائم“کے معنی میں (یعنی وہ شخص جو بدبختی کا باعث ہو) اور”میمون“، ”یامن“کے معنی میں (یعنی وہ شخص جو خوش بختی کا باعث ہو)۔ جبکہ بعض دیگر مفسرین نے ” مَسْحُور“کو اسی مفعول کے معنی میں لیا ہے یعنی وہ شخص جس پر جادو نے اثر کیا ہو۔جیسا کہ سورہ ذاریات کی آیہ ۳۹ سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے حضرت موسیٰ کو جادو کا الزام بھی دیا اور جنوں کا بھی۔ بہرحال مستکبرین کا ہمیشہ یہ طریقہ رہا ہے کہ نظام بدلنے کے لیے مردان حق کی جدو جہد کو سبو تاژ کرنے کے لیے اس طرح کا پراپیگنڈا کیا کرتے تھے۔ مردان حق جب فاسد معاشرے کے خلاف قیام کرتے اور معجزات پیش کرتے تو یہ لوگ کبھی انہیں جادو گر کہتے اور کبھی دیوانہ تاکہ ساتدہ لوح لوگوں کو بھٹکا سکیں اور انہیں انبیاء کے پاس سے دور کر سکیں۔ اس ناروا تہمت پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سکوت نہیں کیا اور پورے اعتماد اور یقین سے کہا: اے فرعون! تو خوب جانتا ہے کہ ان نور بخش آیات کو آسمانوں اور زمین کے رب کے علاوہ کسی نے نازل نہیں کیا ( قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا اَنزَلَ ہَؤُلَاء إِلاَّ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ بَصَائِرَ)۔ لہٰذا تو علم و آگہی کے باوجود حقائق کا انکار کرتا ہے۔ تو اچھی طرح سے جانتا ہے کہ یہ معجزات و آیات خدا کی طرف سے ہیں اور مجھے بھی علم ہے کہ تو جانتا ہے۔ یہ ”بَصَائِر“ہیں، آشکار و واضح دلائل۔ کہ جن کے ذریعے لوگ راہِ حق تلاش کر لیتے ہیں اور جادہ حق کو طے کرنے کے لیے جن سے بصیرت حاصل کرتے ہیں۔ لہٰذا تو چونکہ شناختِ حق کا باوجود انکار کرتا ہے اے فرعون! میں سمجھتا ہوں کہ آخر کار تو ہلاک ہو کر رہے گا ( وَإِنِّی لَاَظُنُّکَ یَافِرْعَوْنُ مَثْبُورًا)۔ ”مَثْبُور“”ثْبُور“کے مادہ سے ہلاکت کے معنی میں ہے۔ فرعون چونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دندان شکن دلائل کی تاب نہیں لا سکتا تھا لہٰذا اس نے اسی چیز کا سہارا لیا کہ جس کا ہر دور میں بے منطق طاغوت سہارا لیتے آئے ہیں۔ ”اس نے ارادہ کر لیا کہ انہیں اس علاقے سے باہر نکال دے گا لیکن ہم نے اسے اور اس کے سب ساتھیوں کو غرق کر دیا“ ( فَاَرَادَ اَنْ یَسْتَفِزَّھُمْ مِنَ الْاَرْضِ فَاَغْرَقْنَاہُ وَمَنْ مَعَہُ جَمِیعًا)۔ ”یستفز“، ”استفزار“کے مادہ سے زور اور سختی کے ساتھ باہر دھکیلنے کے معنی میں ہے۔ اس عظیم کامیابی کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا: (مصر و شام کے) اس علاقے میں رہو سہو (وَقُلْنَا مِنْ بَعْدِہِ لِبَنِی إِسْرَائِیلَ اسْکُنُوا الْاَرْضَ)۔ لیکن جب وعدہ آخرت کا وقت آ پہنچے گا تو ہم تم سب کو میزان حساب کے پاس اکٹھا حاضر کریں گے ( فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ جِئْنَا بِکُمْ لَفِیفًا)۔ ”لَفِیف“، ”لَفِ“کے مادہ سے پیچ و خم دینے کے معنی میں ہے اور یہاں وہ لوگ مراد ہیں کہ جو ایک وسرے کے ساتھ بالکل اس طرح گھُلے ملے ہوں کہ ان کی انفرادیت اور قبیلہ نہ پہنچانا جاتا ہو۔

چند اہم نکات ۱۔ حضرت موسیٰ کے نو معجزات

قرآن مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بہت سے معجزوں کا ذکر آیا ہے۔ مثلاً: ۱۔ آپ کا عصا بہت بڑے اژدھا میں تبدیل ہو گیا اور اس نے جادوگروں کے آلات کو نگل لیا۔ جیسے کہ سورہ طٰہٰ کی آیت ۲۰ میں ہے: فَاِذَا ھِیَ حَیَّةٌ تَسْعیٰ ۲۔ آپ کا دوسرا بڑا معجزہ ”یدبیضاء“ کا تھا۔آپ کا ہاتھ اس طرح سے چمک اٹھا کہ جیسے کوئی منبع نور ہو۔ وَاضْمُمْ یَدَکَ إِلیٰ جَنَاحِکَ تَخْرُجْ بَیْضَاءَ مِنْ غَیْرِ سُوءٍ آیَةً اُخْریٰ۔ اور اپنا ہاتھ اپنی بغل میں لے جا کر نکالو تو تم دیکھو گے کہ کسی خرابی کے بغیر کیسا چمکتا دمکتا نکلتا ہے اںور یہ دوسرا معجزہ ہو گا۔ (طٰہٰ۔۲۲) ۳۔تباہ کن طوفان۔ آپ(علیه السلام) کا تیسرا اہم معجزہ تھا۔ سورہٴ اعراف کی آیت ۱۳۳ میں ہے: فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ الطُّوفَانَ پس ان پر ہم نے طوفان بھیجا۔ ۴۔ ٹڈی دل کہ جو ان کی فصلوں اور درختوں پر مسلط ہو گیا اور ان کے لیے آفت و مصیبت بن گیا۔ وَالْجَرَاد (اعراف۔۱۳۳) ۵۔نباتات پر آنے والی جووٴں کی آفت کہ جو غلّوں کو نابود کر دیتی تھی: وَالْقُمَّل (اعراف۔۱۳۳) ۶۔ دریائے نیل سے نکلنے والے مینڈک کہ جن کی نسل اتنی بڑھی کہ فرعونیوں کی زندگی اجیرن ہو گئی: وَالضَّفَادِع (اعراف۔۱۳۳) ۷۔”دم“ یعنی خون کی مصیبت۔ انہیں خون کی نکسیر پھوٹنے لگی یا دریائے نیل کا پانی خون رنگ ہو گیا اور اس کی حالت ہو گئی کہ وہ پینے کے قابل رہا نہ کھیتی باڑی کے۔ وَالدَّمَ آیَاتٍ مُفَصَّلَات (اعراف۔۱۳۳) ۸۔ دریا میں راستے بن گئے اوربنی اسرائیل ان میں سے گزر کر پار اتر گئے: وَإِذْ فَرَقْنَا بِکُمْ الْبَحْرَ (بقرہ۔۵۰) ۹۔ بنی اسرائیل پر من و سلویٰ نازل ہوا۔ اس کی تفصیل سورہ بقرہ کی آیہ ۵۷ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ قرآنی الفاظ میں: وَاَنزَلْنَا عَلَیْکُمْ الْمَنَّ وَالسَّلْوَی (بقرہ۔ ۵۷) ۱۰۔پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ ارشاد قرآنی ہے: فَقُلْنَا اضْرِبْ بِعَصَاکَ الْحَجَرَ فَانفَجَرَتْ مِنْہُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا۔ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ اپنا عصا پتھر پر مارو پس اس میں سے بارہ چشمے جاری ہو گئے۔(بقرہ۔۶۰) ۱۱۔پہاڑ کا ایک حصّہ الگ ہو کر سائبان کی طرح ان کے سروں پر آکھڑا ہو گیا۔ وَإِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَھُمْ کَاَنَّہُ ظُلَّة اور جب ہم نے ان کے سروں پر پہاڑ کو اس طرح سے لٹکا دیا کہ جیسے سائبان ہو۔(اعراف۔۱۷۱) ۱۲۔ آلِ فرعون کو قحط اور خشک سالی نے آ لیا۔ یہ بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزات میں سے تھا۔ قرآن کہتا ہے: وَلَقَدْ اَخَذْنَا آلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِینَ وَنَقْصٍ مِنَ الثَّمَرَاتِ اور بے شک ہم نے آل فرعون کو برسوں تک قحط اور پھلوں کی کمی کے عذاب میں گرفتار کیے رکھا۔(اعراف۔۱۳۰)۔ ۱۳۔ اس مقتول کو پھر سے زندگی مل گئی کہ جس کا قتل بنی اسرائیل میں اختلاف کا باعث بن گیا تھا۔ فَقُلْنَا اضْرِبُوہُ بِبَعْضِھَا کَذٰلِکَ یُحْیِ اللهُ الْمَوْتیٰ۔ پس ہم نے کہا: اس گائے کا کوئی ٹکڑا لے کر اس کی لاش پر مارو۔ یوں خدا مردے کو زندہ کرتا ہے۔ (بقرہ۔ ۷۳) ۱۴۔ بیابان میں بنی اسرائیل سخت گرمی میں مبتلا تھے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بادلوں کا سائباں عطا فرما دیا۔ یہ بھی ایک معجزہ تھا۔ ارشادِ الٰہی ہے: وَظَلَّلْنَا عَلَیْکُمْ الْغَمَامَ اور ہم نے تم پر بادلوں کا سایہ کر دیا۔ (بقرہ۔ ۵۷) لیکن زیر نظر آیت میں تو نو آیات کا ذکر ہے۔ اس سے پھر کون سے نو معجزات مراد ہیں؟ ان آیات میں جو تعبیرات آئی ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں وہ معجزات مراد ہیں کہ جو فرعون اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں ظہور پذیر ہوئے نہ وہ کہ جو صرف بنی اسرائیل پر مربوط ہیں، مثلاً من و سلویٰ کا نزول، یتھر سے چشموں کا پھوٹنا وغیرہ۔ اگر غور کیا جائے تو سورہ اعراف میں بیان کیے گئے پانچ معجزات یعنی طوفان، نباتاتی آفت، ٹڈی دل، مینڈک اور خون ہی خون نظر آنا، ان نو معجزات میں شامل ہیں۔ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دومشہور معجزے یعنی عصاء اورید بیضابھی یقیناً ان میں شامل ہیں خصوصاً جبکہ سورہ نمل کی آیت ۱۰تا۱۲میں ان دو عظیم معجزوں کے ذکر کے بعد تسع آیات(نو آیات) کی تعبیر استعمال کی گئی ہے۔ اس طرح یہ کل سات معجزے ہوئے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اور وہ کون سے معجزات ہیں؟ اس میں شک نہیں کہ فرعونیوں کی غرقابی اور اس قسم کے دیگر امور ان معجزات میں شامل نہیں ہو سکتے کیونکہ یہاں جن نو معجزات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ان کا مقصد فرعونیوں کی ہدایت ہے نہ کہ ان کی نابودی۔ سورہٴ اعراف میں بہت سے معجزات کا ذکر ہے۔ ان میں غور و خوض کیا جائے تو یہ دو معجزات خشک سالی اور مختلف پھلوں کا قحط ہے کیونکہ عصا اورید بیضا کے معجزے کا ذکر کرنے کے بعد اور ٹڈی دل و غیرہ مذکورہ پانچ معجزات سے پہلے فرمایا گیا ہے: وَلَقَدْ اَخَذْنَا آلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِینَ وَننَقْصٍ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُو ہم نے بنی اسرائیل کو خشک سالی اور مختلف قسم کے پھلوں کی کمی میں مبتلا کیا کہ شاید وہ بیدار ہو جائیں۔ (اعراف۔۱۳۰) ممکن ہے بعض یہ خیال کریںکہ خشک سالی پھلوں کی کمی سے الگ کوئی چیز نہیں ہے۔ اس طرح یہ ایک ہی”آیت“شمار ہو گی لیکن جیسا کہ ہم سورہ اعراف کی اس آیت کی تفسیر میں بیان کر چکے ہیں کہ ہو سکتا ہے محدود خشک سالی سے درختوں پر تھوڑا اثر مرتب ہو لیکن خشک سالی جب طول کھینچ جائے تو اس درخت تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا پھلوں کی تباہی صرف خشک سالی سے نہیں ہوتی۔ اس ساری بحث کا نتیجہ یہ ہے کہ جن نو معجزات کی طرف زیر بحث آیت میں اشارہ ہوا ہے وہ یہ ہیں: ۱۔ عصا ۲۔ یدبیضاء ۳۔ طوفان ۴۔ ٹڈی دَل ۵۔ ”قمل“نامی ایک نباتاتی آفت ۶۔ مینڈکوں کی کثرت ۷۔ خون ۸۔ خشک سالی ۹۔ پھلوں میں کمی سورہ اعراف کی مذکورہ آیات میں ان نو معجزات کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا گیا ہے: یہ نو آیات دیکھ کر بھی جب وہ ایمان نہ لائے تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور انہیں غرقِ دریا کر دیا کیونکہ انہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی تھی اور ان سے غفلت برتی تھی۔(اعراف۔۱۳۶) ہمارے منابع حدیث میں اس آیت کی تفسیر کے ضمن میں کچھ روایات نقل ہوئی ہیں لیکن ان روایات میں آپس میں اختلاف ہے۔ لہٰذا انہیں فیصلے کے لیے معیار قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ان سے اطمینان ہو سکتا ہے۔

۲۔ کیا سوال کرنے والے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم تھے؟

زیر بحث آیات کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ پیغمبرِ اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ نبی اسرائیل سے حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے نو معجزات کے بارے میں سوال کریں کہ آلِ فرعون نے کس طرح سے معجزات دیکھنے کے باوجود بہانے بنائے اور حضرت موسیٰ(علیه السلام) کی حقانیت قبول نہ کی۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسی صاحب علم و عقل ہستی کو ایسے سوال کی ضرورت نہ تھی۔ سمجھتے ہیں کہ سوال کرنے کے لیے دوسرے مخاطبین کو حکمدیا گیا تھا۔ لیکن ___ اگر ہم اس امر کی طرف توجہ کریں کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو یہ سوال اپنے لیے نہیں کرنا تھا بلکہ اس لیے تھا کہ مشرکین یہ بات مان لیں لہٰذا اس میں کوئی مانع نہیں کہ سوال خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ہوتا کہ مشرکین جان لیں کہ اگر پیغمبرِ اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم ان کے طرح طرح کے تقاضے قبول نہیں کرتے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تقاضے حق طلبی کے لیے نہ تھے بلکہ ہٹ دھرمی، تعصب اور عناد پر مبنی تھے جس کی مثال حضرت موسیٰ اور فرعون کے واقعے میں موجود ہے۔

۳۔ آیت میں ”ارض“سے کیا مراد ہے؟

زیر نظر آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ دشمن پر کامیابی کے بعد اب تم اس زمین پر رہو سہو جس کے بارے میں تم سے عہد لیا گیا ہے۔ کیا اس سے مراد مصر کی سرزمین ہے؟ (قبل کی آیت میں یہی لفظ مصر کی سرزمین کے لیے آیا ہے۔ مذکورہ آیت کہتی ہے کہ فرعون انہیں اس زمین سے نکالتا چاہتا تھا اور دوسری آیات بھی کہتی ہیں کہ بنی اسرائیل فرعونیوں کے وارث ہوئے)۔ یا پھر کیا ”ارض“یہاں فلسطین کی مقدس سرزمین کی طرف اشارہ ہے؟ کیونکہ اس واقعے کے بعد بنی اسرائیل فلسطین کی طرف گئے اور انہیں حکم دیا گیا کہ وہ اس سرزمنی میں داخل ہوں۔ ہم بعید نہیں سمجھتے کہ یہاں دونوں علاقے مراد ہوں کیونکہ قرآن کے مطابق بنی اسرائیل آلِ فرعون کی زمینوں کے بھی وارث ہوئے اور سرزمنی فلسطین کے بھی مالک بنے۔

۴۔ ”وعد الاٰخرة“سے کیا مراد ہے؟

”وعد الاٰخرة“ زیر بحث آیات میں دارَ آخرت کے معنی میں ہے؟ اس سوال کا جواب ظاہراً مثبت ہے کیونکہ ”جئنا بکم لفیفاً“(یعنی ہم تمہیں اکٹھے ایک دوسرے سے ملے جلے ہوئے لائیں گے) اس امر کے لیے قرینہ ہے۔ لیکن بعض بزرگ مفسرین نے یہ احتمال پیش کیا ہے کہ ”وعد الاٰخرة“ اس سورہ کے آغاز کی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ: اللہ نے بنی اسرائیل سے دو کامیابیوں اور دو شکستوں کا وعدہ کیا تھا۔ ایک کو ”وعد الاُولیٰ“اور دوسری کو ”وعد الاٰخرة“ کہا گیا ہے۔ مگر ”جئنا بکم لفیفاً“کی طرف توجہ کی جائے تو یہ احتمال بہت ہی بعید معلوم ہوتا ہے (غور کیجیے)۔

105
17:105
وَبِٱلۡحَقِّ أَنزَلۡنَٰهُ وَبِٱلۡحَقِّ نَزَلَۗ وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ إِلَّا مُبَشِّرٗا وَنَذِيرٗا
اس قرآن کو ہم نے حق کے ساتھ نازل فرمایا، حق ہی کے ساتھ یہ نازل ہوا ہے اور تجھے سوائے اس کے ہم نے کسی کام کیلئے نہیں بھیجا کہ تو بشارت دینے والا اور متنبہ کرنے والا ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 109 کے تحت ملاحظہ کریں۔

106
17:106
وَقُرۡءَانٗا فَرَقۡنَٰهُ لِتَقۡرَأَهُۥ عَلَى ٱلنَّاسِ عَلَىٰ مُكۡثٖ وَنَزَّلۡنَٰهُ تَنزِيلٗا
ہم نے قرآن تجھ پر جدا جدا آیتوں کی صورت میں نازل کیا تاکہ تو اسے لوگوں کے سامنے تدریجاً اور سکون کے ساتھ پڑ ھے اور یقیناً یہ قرآن ہم ہی نے نازل کیا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 109 کے تحت ملاحظہ کریں۔

107
17:107
قُلۡ ءَامِنُواْ بِهِۦٓ أَوۡ لَا تُؤۡمِنُوٓاْۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ مِن قَبۡلِهِۦٓ إِذَا يُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ يَخِرُّونَۤ لِلۡأَذۡقَانِۤ سُجَّدٗاۤ
ان سے کہہ دو :تم مانو یا نہ مانو! جنہیں قبل ازیں علم عطا کیا گیا ہے یہ آیات جب ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو وہ زمین پر سجدے میں گر پڑتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 109 کے تحت ملاحظہ کریں۔

108
17:108
وَيَقُولُونَ سُبۡحَٰنَ رَبِّنَآ إِن كَانَ وَعۡدُ رَبِّنَا لَمَفۡعُولٗا
اور کہتے ہیں :پاک ہے ہمارا رب جس کے وعدے حتماً پورے ہو کر رہتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 109 کے تحت ملاحظہ کریں۔

109
17:109
وَيَخِرُّونَ لِلۡأَذۡقَانِ يَبۡكُونَ وَيَزِيدُهُمۡ خُشُوعٗا۩
وہ (بے اختیار) زمین پر گر جاتے ہیں،اشک بہاتے ہیں اور ہر لمحہ ان کا خضوع و خشوع بڑھتا ہی رہتا ہے۔

عاشقانِ حق

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

ان آیات میں ایک مرتبہ پھر قرآن کی عظمت و اہمیت واضح کی گئی ہے اور مخالفین کے بعض اعتراضات اور بہانہ سازیوں کا جواب دیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ہم نے قرآن کو حق کے ساتھ نازل کیا ہے( وَبِالْحَقِّ اَنزَلْنَاہُ)۔ ساتھ ہی مزید فرمایا گیا ہے: اور یہ حق کے ساتھ نازل ہواہے ( وَبِالْحَقِّ نَزَلْ)۔ اور تجھے ہم نے صرف بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے۔(وَمَا اَرْسَلْنَاکَ إِلاَّ مُبَشِّرًا وَنَذِیرًا)۔ یہ جو پہلے فرمایا گیا ہے ”وَبِالْحَقِّ اَنزَلْنَاہ“اور ساتھ ہی فرمایا گیا ہے ”وَبِالْحَقِّ نَزَلْ“ ان دونوں جملوں میں کیا فرق ہے؟ اس سلسلے میں مفسرین نے مختلف باتیں کی ہیں، مثلاً: ۱۔ پہلے جملے سے مراد یہ ہے کہ ہم نے مقدر کیا ہے کہ قرآن حق کے ساتھ نازل ہو اور دوسرا جملہ کہتا ہے کہ اس فیصلے پر عمل در آمد ہو گیا ہے۔ اس بناء پر ایک جملہ تقدیر کی طرف اشارہ ہے اور دوسرا اس پر عمل در آمد کی طرف۔(بحوالہ: تفسیر قربطی، ج ۶ ص ۳۹۵۵ ۲۔) ۲۔ پہلے جملے سے مراد یہ ہے کہ قرآن کا مواد، مضمون حق ہے اور دوسرے جملے سے مراد یہ ہے کہ اس نتیجہ اور ثمرہ بھی حق ہے۔ (بحوالہ: تفسیر فی ظلال القرآن، زیر بحث آیت کے ذیل میں۔) ۳۔ پہلے جملے سے مراد ہے کہ ہم نے قرآن کو حق کے ساتھ نازل کیا اور دوسرا جملہ کہتا ہے کہ رسول اللہ چونکہ اس میں دخل و تصرف کا حق نہیں رکھتے تھے لہٰذا یہ حق کے ساتھ نازل ہوا ہے۔ لیکن یہاں ایک اور احتمال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جو مذکورہ بالا تفاسیر کی نسبت واضح تر ہے اور وہ یہ کہ بعض اوقات انسان ایک کام شروع کرتا اس کی طاقت چونکہ محود ہے اس لیے وہ اسے آخر تک اسی صحیح طریقے سے نبھا نہیں سکتا مگر جو تمام چیزوں سے آگاہ ہے اور تمام چیزوں پر قدرت رکھتا ہے وہ ابتداء بھی صحیح طریقے سے کرتا ہے اور اختتام پر بھی اس کام کو مکمل طور پر اور صحیح طرح انجام دیتا ہے۔ مثلاً کوئی شخص کسی ایک مقام سے صاف و شفاف پانی جاری کرتا ہے لیکن اسے راستے آلودگیوں سے محفوظ نہیں رکھ پاتا لہٰذا استعمال کرنے والوں کو وہ صاف پانی میسر نہیں آتا لیکن جو اپنے کام پر پوری گرفت رکھتا ہے وہ ابتدائی طور پر بھی پاک صاف پانی نکلتا ہے اور اسے پیاسوں کے برتنوں تک بھی پاک و صاف حالت میں پہنچا دیتنا ہے۔ قرآن بھی بالکل ایک ایسی کتاب ہے کہ وہ ا لله کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے اور ابلاغ کے سارے راستے میں صحیح اور محفوظ رہی ہے۔ اس مرحلے میں بھی کہ جب جبرائیل اس کا واسطہ تھے اور اس مرحلے میں بھی کہ حب رسول الله اسے لینے والے تھے، یہاں تک کہ زمانہ گزرنے کے باوجود ہر قسم کی تحریف سے بیباک اور محفوظ رہی ہے جیسا کہ اس آیت کا تقاضا ہے: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ یقیناً ہم ہی نے اس ذکر کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔(الحجر۔۹) یہ کتاب ہر لحاظ سے محفوظ ہے کیونکہ اس کی حفاظت الله نے اپنے ذمہ لی ہے۔ لہٰذا یہ وحی الٰہی کا صاف و شفاف پانی دور نبوی سے لے کر اختتام عالم تک محفوظ ہے اور ہر قسم کی دست اندازی سے پاک دلوں کی تشنگی کو سیراب کرتا ہے۔ اگلی آیت میں مخالفین کی بہانہ سازیوں میں سے ایک جواب دیا گیا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ قرآن ایک ہی مقام پر سارا رسول الله پر کیوں نارل نہیں ہو گیا اور اس کی روش بالکل تدریجی کیوں ہے؟ (جیسا کہ سورہ فرقان ک یآیہ۳۲ میں اس اعتراض کی طرف اشارہ کیا گیا ہے)۔ ارشاد ہوتا ہے:”ہم نے الگ الگ آیتوں کی صورت میں تجھ پر قرآن نازل کیا ہے تاکہ تو اسے لوگوں کے سامنے اطمینان کے ساتھ تدریجی طور پر پڑھے“ اور یہ دل و ماغ میں اچھی طرح سے اتر جائے اور پوری طرح عملی شکلی بھی اختیار کرلے(وَقُرْآنًا فَرَقْنَاہُ لِتَقْرَاَہُ عَلَی النَّاسِ عَلیٰ مُکْثٍ)۔(تشریحی نوٹ: بہت سے مفسرین کے مطابق ”َقُرْآنًا“ کہ جو مندرجہ بالا آیت میں منصوب صورت میں آیا ہے ایک فعل مقدر کے ذریعے ہیں۔”فَرَقْنَاہ“اس کی تفسیر کر رہا ہے اور تقدیر میں یوں تھا: ”فَرَقْنَاہُ َقُرْآنًا“) مزید تاکید کرتے ہوئے غرمایا گیا ہے:یقیناً یہ سارا کا سارا قرآن ہم نے نازل کیا ہے( وَنَزَّلْنَاہُ تَنزِیلًا)۔ سطحی نظر رکھنے والے خصوصاً بہانہ ساز لوگوں کی نظر میں بے شک نزول قرآن کی یہ کیفیت قابل اعتراض ہو گی۔ وہ کہیں گے کہ یہ کتاب کہ جو بنیاد اسلام ہے۔ ساری انسانیت کی راہنما ہے۔ مسلمانوں کے لیے تمام معاشرتی حقوق اور سیاسی و عبادتی قوانین کا سرچشمہ ہے ایک ہی مرتبہ ساری کی ساری رسول الله پر نازل کیوں نہیں ہو گئی تا کہ لوگ ہمیشہ اسے شروع سے آخر تک پڑھ کر ان امور سے باخبر ہو جائیں۔ لیکن۔ تھوڑا سا غور کیا جائے تو اس اعتراض کا کافی و وافی جواب مل جاتا ہے۔ کیونکہ: اولاً: قرآن اگر چہ ایک کتاب ہے لیکن یہ انسانوں کی کسی تالیف کی مانند نہیں ہے کہ جو کسی ایک موضوع پر کتاب لکھنے بیٹھتے ہیں تو اسے پیش نظر رکھ کر اس کے ابواب کی تقسیم و تنظیم کرتے ہیں اور پھر اسے ضبط تحریر میں لاتے ہیں۔ یہ تو ایسی کتاب ہے کہ جس کا پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے تیئس سالہ دور نبوت کے واقعات سے نہ ٹوٹنے والا تعلق ہے۔ کیسے ممکن ہے کہ جو کتاب ۲۳ سالہ واقعات سے مربوط ہو اکھٹی ایک ہی روز میں نازل ہو جائے۔کیا ۲۳ سال کے واقعات ایک دن میں جمع ہو سکتے ہیں؟ قرآن حکیم کے بہت سے حصے اسلامی غزدات سے مربوط ہیں۔ اس کا کچھ حصہ منافقین کی دسیسہ کاریوں سے متعلق ہے۔ اس کے کچھ مسائل ان وفود سے متعلق ہیں کہ جو مختلف قوموں کی طرف سے رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے پاس آئے تھے اور آپ حکمِ الٰہی کے مطابق ان کے جواب کے لیے عملی اقدام کرتے تھے۔ کیا ممکن ہے کہ یہ سب امور پہلے ہی دن لکھ لیے جائیں؟ ثانیاً: قرآن صرف تعلیمی کتاب نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ ہر آیت کے نزول کے بعد اس کا اجراء ہو اور اس پر عمل در آمد ہو۔ لہٰذا سارا قرآن یکجا نازل ہوتا تو یکجا اس کا اجراء بھی ہونا چاہئے تھا جبکہ ہم جانتے ہیں کہ اس کا یکجا اور اکھٹا اجراء ایک امر محال تھا کیونکہ جو معاشرہ سر تا پا فاسد تھا ایک ہی دن میں اس کی اصلاح نہیں ہو سکتی تھی۔ ایک ان پڑھ بچے کو ایک ہی دن میں پہلی کلاس سے ڈاکٹریٹ تک نہیں پہنچایا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن تدریجاً نازل ہوا ہے تاکہ اس کا اجزاء اچھے طریقے سے ہو سکے اور یہ پوری طرح معاشرے میں اپنا مقام بنا سکے، کسی تزلزل کا شکار نہ ہو اور معاشرے اسے قبول و محفوظ رکھنے کے قابل ہو سکے۔ ثالثاً: خود رسول اللہ کہ جو اس عظیم انقلاب کے رہبر تھے اگر سارے قرآن کے نافذ کرنے کے لئے تقسیم کرنا چاہتے تو اس کی نسبت تدریجی اجراء کا طریقہ ان کے لیے قوی تر تھا اور آمادگی پیدا کرنے کے لحاظ سے بہتر تھا۔ یہ ٹھیک ہے کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے تھے اور بے نظیر عقل و توانائی کے حامل تھے۔تاہم زیادہ بہتر اور اکمل تر تدریجی قبولیت اور تدریجی اجراء ہی کی صورت تھی۔ رابعاً: تدریجی نزول کا مفہوم یہ ہے کہ مبداء وحی کے ساتھ پیغمبر کا ارتباط دائمی ہے جبکہ یکجا اور یکبار نزول ایک سے زیادہ مرتبہ سرچشمہ وحی سے ارتباط کی ضمانت نہیں دیتا۔ سورہ فرقان کی آیہ ۳۲ میں ہے: کَذٰلِکَ لِنُثَبِّتَ بِہِ فُؤَادَکَ وَرَتَّلْنَاہُ تَرْتِیلًا ہم نے قرآن کو تجھ پر اس طرح نازل کیا ہے کہ تیرا دل مضبوط ہو اور ہم نے تیرے لیے آہستہ آہستہ اور تدریجاً پڑھا ہے۔ یہ آیت تدریجی نزول کے تیسرے فلسفے کی طرف اشارہ کرتی ہے جبکہ ہماری زیر بحث آیت زیادہ تر دوسرے فلسفے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ بہرحال، یہ تمام عوامل قرآن کے تدریجی نزول کی حکمت و فلسفہ کے لیے روشن دلیل ہیں۔ اگلی آیت نادان مخالفین کا غرور ختم کرنے کے لیے کہتی ہے: چاہے ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جنہیں اس سے پہلے علم دیا گیا ہے ان کے سامنے جب قرآن پڑھا جاتا ہے تو وہ منہ کے بل خاک پر گر پڑتے ہیں اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتے ہیں ( قُلْ آمِنُوا بِہِ اَوْ لَاتُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِینَ اُوتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِہِ إِذَا یُتْلَی عَلَیْھِمْ یَخِرُّونَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا)

چند قابل توجہ نکات

۱۔ "اٰمنوا بہ او لاتومنوا" کا تسلسل: عام طور پر مفسرین کا نظریہ ہے کہ ”اٰمنوا بہ اولا توٴمنوا“کا ایک تسلسل ہے جو مخدوف ہے اور کلام کے قرینے سے واضح ہوتا ہے۔ مفسرین نے اسے کئی طرح سے ذکر کیا ہے: بعض کہتے ہیں مراد یہ کہ تم مانو یا نہ مانو، اعجاز قرآن اور اس کا ”منزل من اللّٰہ“ ہونا واضح ہے۔ بعض دیگر کہتے ہیں اس جملے کی تکمیل یہ ہے کہ تم مانو یا نہ مانو، اس کا فائدہ یا نقصان تو تمہیں ہی پہنچے گا۔ یہ احتمال بھی ہے کہ بعد والا جملہ پہلے جملے کی تکمیل کرتا ہو۔ اس کی نظیر اردو زبان میں بھی ہے۔ مثلاً ہم کہتے ہیں: تو میری بات مانے یا نہ مانے، جو اہلِ علم و دانش اور صاحبِ علم و فراست ہیں وہ مانتے ہیں۔ یہ جملہ اس امر کی طرف کنایہ ہے کہ تیرے نہ ماننے کی وجہ تیری عدمِ آگاہی اور بے علمی ہے اگر تو صاحبِ علم و دانش ہوتا تو مان لیتا۔ دوسرے لفظوں میں: اگر تو ایمان نہ لائے تو آگاہ اور داشمند افراد ایمان لے آئیں گے۔ ۲۔ ”الذین اوتوا العلم من قبلہ“سے کون مراد ہیں؟ اس سے مراد وہ یہیودی اور عیسائی علماء ہیں جنہوں نے قرآنی آیات سنیں اور تورات و انجیل کے مطابق علامات پائیں تو ایمان لے آئے اور حقیقی مومنین کی صف میں شامل ہو گئے اور علماء اسلام میں سے شمار ہونے لگے۔ قرآن پاک کی کچھ دیگر آیات میں بھی اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ مثلاً: لَیْسُوا سَوَاءً مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اُمَّةٌ قَائِمَةٌ یَتْلُونَ آیَاتِ اللهِ آنَاءَ اللَّیْلِ وَھُمْ یَسْجُدُونَ وہ سب برابر نہیں ہیں۔ اہلِ کتاب میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو (حق اور ایمان کے ساتھ)قیام کرتے ہیں اور رات کے وقت ہمیشہ آیاتِ خدا کی تلاوت کرتے ہیں اور سجدے بجا لاتے ہیں۔(آلِ عمران۔۱۱۳) ۳۔ ”یخرّون“کا مفہوم: اس کا معنی ہے ”بے اختیار زمین پر گر پڑتے ہیں۔“ یہ تعبیر ”یسجدون“(وہ سجدہ کرتے ہیں) کی بجائے آئی ہے۔ یہاں اس کا استعمال ایک لطیف نکتے کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ وہ یہ کہ جن افراد کے دل بیدار و آگاہ ہوتے ہیں آیات الٰہی سنتے ہی وہ خدائی باتوں کے ایسے شیفتہ ہوتے ہیں کہ دیوانہ وار بے اختیار سجدہ ریز ہو جاتے ہیں گویا دل و جان اس کی نذر کر دیتے ہیں۔(تشریحی نوٹ: راغب نے مفردات میں کہا ہے: ”یخرّون“دراصل ”خریر“کے مادہ سے ہے کہ جو پانی یا اس جیسی چیز بلندی سے گر رہی ہوتو اس کی آواز کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ سجدہ کرنے والوں کے لیے اس تعبیر کا استعمال اس چیز کی نشانی ہے کہ وہ اپنے رب کے حضور زمین پر اس عالم میں گرتے ہیں کہ ان کی تسبیح کی آواز بلند ہوتی ہے)۔ ۴۔ ”اذقان“کا مطلب: ”اذقان“”ذقن“کی جمع ہے۔ اس کا معنی ہے ”ٹھوڑی“۔ ہم جانتے ہیں کہ کوئی شخص بھی سجدہ کرتے وقت اپنی ٹھوڑی زمین پر نہیں رکھتا لیکن آیت کی تغبیر اس طرف اشارہ ہے کہ وہ بارگاہِ الٰہی میں پورا چہرہ زمین پر رکھ دیتے ہیں یہاں تک کہ ٹھوڑی جو اس سلسلے میں چہرے کا آخری حصہ ہو سکتا ہے وہ بھی زمین پر لگ جاتا ہے اور اس طرح وہ اس طرح وہ اس کی بارگاہ کی عظمت کا اظہار کرتے ہیں۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ سجدے میں عموماً انسان پہلے اپنی پیشانی خاک پر رکھتا ہے لیکن جو شخص مدہوشی کے عالم میں بے اختیار زمین پر گرتا ہے اس کی زمین پر پہلے ٹھوڑی لگتی ہے۔ یہ تعبیر آیت میں ”یخرّون“کے مفہوم کی تاکید کرتی ہے۔ (بحوالہ: روح المعانی، ج ۱۵ ص۱۷۵)۔ اگلی آیت میں ان کی اس گفتگو کا ذکر ہے جو وہ سجدہ ریز ہوتے ہوئے کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: پاک ہے ہمارا رب، یقینا ہمارے رب کے وعدے پورے ہو کے رہیں گے (وَیَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنْ کَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا)۔(تشریحی نوٹ: ”ان کان وعد ربنا“میں”ان“ شرطیہ نہیں بلکہ تاکید کے طور پر اور مثقلہ سے مخففہ ہے۔ ) وہ اپنے ان الفاظ میں پروردگار کی ربوبیت، اس کی پاکیزہ صفات اور اس کے وعدوں کی سجائی کے بارے میں اپنے حقیقی ایمان اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ وہ گفتگو ہے جس میں توحید پر ایمان، حق تعالیٰ کی صفات اور اس کی عدالت سب کچھ موجود ہے۔ اس میں پیغمبر کی نبوت اور معاد کا عقیدہ بھی موجود ہے۔ گویا انہوں نے اصولِ دین کو ایک ہی جملے میں جمع کر دیا ہے۔ ان آیات الٰہی اور اس عاشقانہ سجدے کا تاثیر کا ذکر اگلی آیت میں بھی جاری ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ پورے چہرے کے بل خاک پر گر پڑتے ہیں، ان کے اشک روان ہوتے ہیں اور پروردگار کے حضور ان کے خشوع و خضوع میں اضافہ ہی ہوتا رہتا ہے( وَیَخِرُّونَ لِلْاَذْقَانِ یَبْکُونَ وَیَزِیدُھُمْ خُشُوعًا)۔ ”وَیَخِرُّونَ لِلْاَذْقَانِ“کا تکرار تاکید کی دلیل بھی ہے اور ہمیشگی کی بھی۔اسی طرح ”یَبْکُونَ“فعل مضارع کا استعمال عشق و مستی میں ان کے دائمی گریے کی دلیل ہے۔ نیز ”یَزِیدُھُمْ خُشُوعًا“(ان کا خشوع بڑھتا ہے)میں فعل مضارع کا استعمال، اس امر کی ایک اور دلیل ہے کہ ان کی حالت ایک سی نہیں رہتی بلکہ وہ ہمیشہ رشد و کمال کی بلندیوں کی طرف پیش قدمی کرتے رہتے ہیں اور ان کا خشوع و خضوع ہر لمحہ بڑھتا رہتا ہے۔ خشوع جسمانی و روحانی انکساری، ادب اور تواضع کی ایک کیفیت ہے جو کسی شخصیت یا حقیقت کے سامنے ہوتی ہے۔

چند اہم نکات ۱۔ تعلیمی و تربیتی پروگرام

زیر بحث آیات سے ایک اہم درس جو حاصل ہو رہا ہے یہ ہے کہ ثقافتی، تمدنی، فکری اور ہر قسم کے اجتماعی انقلاب کے لیے تربیتی پروگرام ضروری ہے کیونکہ اگر ایسا مرتب و منظم پروگرام نہ ہو اور پھر ہر مرحلے میں اس پر عملدر آمد نہ ہو تو شکست یقینی ہے۔ یہاں تک کہ قران مجید یکجا اور یکبار رسول اللہ پر نازل نہیں ہوا اگر چہ علم خدا میں یکجا ہی تھا اور رسول اکرم کے سامنے شبِ قدر میں مجموعی صورت میں پیش ہوا تھا لیکن اس کا نزول اجرائی مختلف اوقات میں دقیق پروگرام کے تحت ۲۳ سال کی مدت میں مکمل ہوا۔ لہٰذا جب خدا اپنی بے پایان قدرت و علم کے باوجود اس طرح کرتا ہے تو انسانوں کی ذمہ داری اس سے واضح ہو جاتی ہے۔ اصولی طور پر یہ ایک قانون و سنت الٰہی ہے کہ جو نہ فقط عالم تشریع میں بلکہ عالم تکوین میں بھی جاری و ساری ہے۔ کیا کبھی آپ نے سنا ہے کہ کوئی بچہ ایک ہی رات میں ماں کے بطن سے پیدا ہو گیا ہو یا کوئی پھل درخت پر گھنٹے بھر میں پک کر میٹھا ہو گیا ہو۔ لہٰذا یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ کسی معاشرے کی فکری، ثقافتی، تمدنی یا اقتصادی و سیاسی لحاظ سے رات بھر میں ساری اصلاح ہو جائے۔ اس بات سے یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ اگر ہم مختصر مدت میں اپنی مساعی کا کوئی نتیجہ نہ دیکھ پائیں تو ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے اور کوشش جاری رکھنا چاہیے اور ہمیں اس بات کی طرف توجہ رکھنا چاہیے کہ حقیقی اور مکمل کامیابیاں ہمیشہ طویل عرصے کے بعد ہی حاصل ہوتی ہیں۔

۲۔ علم و ایمان کا ربط

مندرجہ بالا آیات سے جو دوسرا واضح سبق حاصل کیا جا سکتا ہے وہ ہے علم اور ایمان کا باہمی ربط۔ قرآن کہتا ہے: تم ان آیات پر ایمان لاؤ جو صاحبان علم ہیں وہ نہ صرف ان پر ایمان لائے ہیں بلکہ عشق الٰہی اس طرح سے ان کے دل میں بھڑک رہا ہے کہ وہ بے اختیار اس کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو جاتے ہیں۔ اشکوں کا ایک سیلاب ان کے رخساروں پر جاری ہو جاتا ہے اور ہر لحظہ ان کا خضوع و خشوع بڑھتا رہتا ہے اور ان کے دل میں ان آیات کا احترام فزوں تر ہوتا رہتا ہے۔ یعنی۔ یہ تو جاہل ہیں کہ جو حقائق کو دیکھتے ہیں تو کبھی ایمان کی طرف راغب بھی ہوں تو ان کا ایمان کمزور نا پائدار ہر ہو گا اور عشق، جذبہ اور حرارت سے خالی ہو گا۔ علاوہ ازیں، یہ ان کے بیہودہ مفوضے کی پھر تردید ہے کہ جن کا خیال ہے دین انسان کی جہالت کی وجہ سے ہے۔ قرآن مجید اس دعویٰ کے برخلاف مختلف مواقع پر تاکید کرتا ہے کہ علم و ایمان ہر جگہ اکھٹے ہوتے ہیں اور گہرا مستحکم ایمان سایہ علم کے بغیر ممکن نہیں اور علم بھی اعلیٰ تر اور بالا تر مراحل میں ایمان سے کمک حاصل کرتا ہے (غور کیجئے گا)۔

110
17:110
قُلِ ٱدۡعُواْ ٱللَّهَ أَوِ ٱدۡعُواْ ٱلرَّحۡمَٰنَۖ أَيّٗا مَّا تَدۡعُواْ فَلَهُ ٱلۡأَسۡمَآءُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ وَلَا تَجۡهَرۡ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتۡ بِهَا وَٱبۡتَغِ بَيۡنَ ذَٰلِكَ سَبِيلٗا
کہہ دو:اللہ کو پکارو یا رحمن کو جسے بھی پکارو (اس کی پاک ذات ایک ہی ہے اور) اس کے اچھے اچھے نام ہیں۔اور اپنی نماز نہ زیادہ بلند پڑھ اور نہ زیادہ آہستہ، بلکہ درمیانی (معتدل) راہ اختیار کرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 111 کے تحت ملاحظہ کریں۔

111
17:111
وَقُلِ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي لَمۡ يَتَّخِذۡ وَلَدٗا وَلَمۡ يَكُن لَّهُۥ شَرِيكٞ فِي ٱلۡمُلۡكِ وَلَمۡ يَكُن لَّهُۥ وَلِيّٞ مِّنَ ٱلذُّلِّۖ وَكَبِّرۡهُ تَكۡبِيرَۢا
اور کہہ دو :حمد و ستائش اس اللہ کیلئے ہے جس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا ہے، نہ جس کی حکومت میں کوئی شریک ہے اور نہ وہ کمزور و عاجز ہے کہ کوئی اس کا ولی و حامی ہے اور اس کی کبریائی بیان کرو کمال درجے کی کبریائی۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

مفسرین نے زیر نظر پہلی آیت کی شانِ نزول کے بارے میں ابن عباس کے حوالے سے یوں نقل کیا ہے: مکہ میں ایک رات پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سجدے میں تھے۔ آپ خدا کو ”یا رحمٰن“اور ”یا رحیم“ کہہ کر پکار رہے تھے کہ عذر تراش مشرکوں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا: دیکھو! یہ شخص (ہمیں تو سرزنش کرتا ہے کہ ہم کئی خدا کیوں مانتے ہیں لیکن)خود دو خداؤں کی پرستش کرتا ہے حالانکہ اس کا خیال ہے کہ یہ موحد ہے اور اس کا ایک سے زیادہ معبود نہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں جواب دیا گیا (کہ یہ متعدد نام ایک ہی ذات پاک کی خبر دیتے ہیں)۔(بحوالہ: مجمع البیان، زیر نظر آیت کے ذیل میں)

آخری بہانے

گزشتہ آیات میں مشرکین کے کمزور اور بے بنیاد بہانوں کا ذکر تھا اور ان کا جواب دیا گیا تھا۔ زیر نظر آیات میں ان کے آخری بہانوں کا ذکر ہے۔ وہ کہتے تھے کہ پیغمبر خدا کو مختلف ناموں سے کیوں پکارتے ہیں جبکہ یہ توحید کے مدعی ہیں۔ قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے: کہہ دو : تم اسے ”اللہ “کے نام سے پکارو یا ”رحمٰن“کے نام سے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اس کے کئی اچھے اچھے نام ہیں (قُلْ ادْعُوا اللهَ اَوْ ادْعُوا الرَّحْمَانَ اَیًّا مَا تَدْعُوا فَلَہُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنَی)۔ دل کے یہ اندھے اپنی روز مرہ کی زندگی پر بھی نظر نہیں کرتے تھے۔ خود ان کے ہاں ایک شخص، ایک جگہ یا ایک چیز کے لیے کئی کئی نام ہوتے تھے اور یہ مختلف پہلوؤں کے حوالے سے رکھے جاتے تھے۔ تو کیا ان حالات میں باعثِ تعجب ہے کہ جس کے ہاتھ میں ہے۔ جو تمام کمالات، نعمات اور اچھائیوں کا سرچشمہ ہے۔ اس جہان کی ہر گردش جس کے ہاتھ میں ہے۔ اس ذات مقدس کے ہر کمال اور ہر کام کی مناسبت سے کوئی خاص نام ہو۔ اصولی طور پر اللہ کو صرف ایک نام سے نہ پکارا جا سکتا ہے اور نہ پہنچانا جا سکتا ہے بلکہ ضروری ہے کہ اس کے نام اس کی صفات کی طرح لامتناہی ہوں تاکہ اس ذات کے ترجمان ہوں لیکن ہمارے الفاظ چونکہ ہمارے الفاظ چونکہ ہماری ہر چیز کی طرح محدود ہیں۔ لہٰذا ہمارے پاس اس کے نام بھی محدود ہی ہیں۔ اس لیے اللہ کے بارے میں ہماری جتنی بھی معرفت ہو محدود ہے۔ یہاں تک کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی روح کی عظیم وسعت کے باوجود فرماتے ہیں: ما عرفناک حق معرفتک تیری معرفت کا جو حق ہے اتنا ہم تجھے پہچان نہیں پائے۔ لیکن یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ ہماری جتنی عقل اور شعور ہے اتنا اسے نہ پہنچانیں خصوصاً جبکہ وہ اپنی ذات کی معرفت کے لیے خود ہماری مدد بھی بہت کرتا ہے اور اپنی کتاب میں مختلف ناموں سے اپنا ذکر کرتا ہے اور اس کے اولیاء دین کے بیانات میں اس کے ایک ہزار کے قریب اسما ہم تک پہنچے ہیں۔ واضح ہے کہ یہ سب ”اسم“ہیں اور ”اسم“کا ایک معنی علامت اور نشانی ہے لہٰذا یہ سب اس کی پاک ذات کی نشانیاں ہیں اور یہ سب خطوط ایک ہی نقطے تک جا پہنچتے ہیں اور اس سے اس کی ذات و صفات کی توحید ووحدت پر کوئی فرق نہیں آتا۔ ان اسماء میں سے بعض زیادہ اہمیت و عظمت کے حامل ہیں کیونکہ ان کے توسط سے ہمیں زیادہ معرفت و آگہی نصیب ہوتی ہے۔ ان اسماء کو قرآن حکیم اور اسلامی روایات میں ”اسماء الحسنیٰ“سے تعبیر کیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے ایک مشہور روایت میں ہے: اللہ کے ننانوے نام ہیں جو شخص انہیں شمار کرے گا جنت میں داخل ہو گا۔ اسماء الحسنیٰ کے مفہوم اور ان ننانوے ناموں کے بارے میں ہم ساتویں جلد میں سورہ اعراف کی آیہ ۱۸۰ کی تفسیر میں تفصیلی گفتگو کر چکے ہیں۔ آیت یوں ہے: و للّٰہ الاسماءُ الحسنیٰ فادعُوُبہا اور اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں۔ اسے ان ناموں سے پکارا کرو۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ ہم سمجھیں کہ ان ناموں کو شمار کرنے کا یہ معنی نہیں کہ ان ناموں کو صرف زبان پر جاری کر لیں اور اللہ کو ان ناموں سے پکاریں تاکہ جنتی یا مستجاب الدعوة ہو جائیں۔ مقصد یہ ہے کہ ان اسماء کو عملی طور پر اپنا یا جائے۔ عالم، رحمان، رحیم، جواد، کریم۔۔۔ جیسے ناموں کا پرتو اپنے وجود پر ڈالا جائے اور عملی زندگی میں انہیں اپنایا جائے تاکہ ہم جتنی بھی ہو جائیں اور ہماری دعا بھی ہر حالت میں مستجاب ہو۔ مرحوم صدوق نے اپنی کتاب توحید میں ہشام بن حکم سے ایک حدیث نقل کی ہے۔ اس میں ہے: ہشام کہتا ہے میں نے امام سے اللہ کے ناموں کے بارے میں پوچھا اور یہ بھی پوچھا کہ ان کی بنیاد کیا ہے۔ نیز میں نے کہا کہ ”اللہ“کس سے مشتق ہے۔ تو امام نے فرمایا: اے ہشام ! یہ لفظ ”الہ“ سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے ”تحیّر“اور”الہ“ کا مفہوم یہ ہے کہ وہ کوئی ”مالوہ“رکھتا ہو (وہ ذات کہ کوئی شخص جس کی ذات کی حقیقت اور کہنہ کی شناخت کے لیے حیران و سرگردان ہو)۔ لیکن اس بات کو جانو کہ اسم مسمیٰ کا غیر ہے لہٰذا جو صرف نام کی پرستش کرتا ہے بغیر مفہوم و مطلوب کے، وہ کافر ہے اور درحقیقت، اس نے کسی چیز کی پرستش نہیں کی اور جو اسم اور مسمٰی دونوں کی پرستش کرتا ہے وہ بھی کافر ہے کیونکہ وہ دو کی پرستش کرتا ہے نہ کہ اسم کی (بلکہ اسم کو اس معنی تک پہنچنے کے لیے علامت سمجھے) تو یہ سچی توحید کی حقیقت ہے۔ اے ہشام! سمجھ۔ ہشام کہتا ہے: میں نے عرض کیا کہ کچھ سمجھا ہوں۔ میرے لیے کچھ وضاحت اور کیجیے آپ(علیه السلام) نے فرمایا: خدائے بزرگ و برتر کے نانوے نام ہیں۔ ہر اسم کا اگر ایک مسمی ہو تو ننانوے خدا ہونے چاہئیں لیکن ”اللہ“ایک نام ہے کہ جو ان صفات کی طرف اشارہ کرتا ہے اور بہرحال اس کے تمام نام اس کی ذات کے غیر ہیں۔ اے ہشام: روٹی نام ہے ایک چیز کا جسے کھایا جاتا ہے اور پانی نام ہے ایک چیز کا جسے پیا جاتا ہے اور لباس نام ہے ایک چیز کا جسے پہنا جاتا ہے اور آگ نام ہے اس چیز کو جو جلاتی ہے (لیکن یہ سب نام ہیں اور وہ چیز کہ جسے ہم کھاتے ہیں، پیتے ہیں، پہنتے ہیں اور جس کے جلانے سے ڈرتے ہیں وہ نام نہیں ہیں بلکہ عینیتِ خارجی ہے)۔( تفسیر المیزان، زیر بحث آیت کے ذیل میں، بحوالہ توحید صدوق) مشرکین مکہ رسول اللہ پر ایک اعتراض اور کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ یہ اپنی نماز بلند آواز سے پڑھتا ہے اور ہمیں بے آرام کرتا ہے۔ یہ کیسی عبادت ہے اور کیا طرز عمل ہے؟ قرآن رسول اللہ کو حکم دیتا ہے: اپنی نماز نہ زیادہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ بہت آہستہ بلکہ درمیانی راہ اپناؤ (وَلَاتَجْھَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَاتُخَافِتْ بِھَا وَابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیلًا)۔ لہٰذا مذکورہ بالا آیت مشہور فقہی اصطلاح کے مطابق جہریہ اور اخفائیہ نمازوں سے متعلق نہیں ہے بلکہ اس کے پیش نظر بلند یا آہستہ پڑھنے میں افراط و تفریط کا مسئلہ ہے۔ فرمایا گیا ہے کہ نہ زیادہ بلند پڑھو کہ شور معلوم ہو اور نہ اتنا آہستہ کہ صرف جنبشِ لب باقی رہ جائے اور کان تک آواز ہی نہ آئے۔ اکثر مفسرین نے آیت کی جوشانِ نزول ابن عباس سے نقل کی ہے وہ بھی اسی معنی کی موٴید ہے۔ نیز امام باقر(علیه السلام) اور امام صادق علیہ السلام سے مروی جو متعدد روایات طرقِ اہلِ بیت(علیه السلام) سے ہم تک پہنچی ہیں وہ بھی اسی تفسیر کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔(تفسیر نور الثقلین، ج ۳ ص ۲۳۳) مندرجہ بالا گفتگو کے پیشِ نظر اس آیت کے بارے میں جو دیگر تفاسیر بیان ہوئی ہیں وہ سب اصل مطلب سے دور معلوم ہوتی ہیں۔ البتہ یہاں حد اعتدال سے کیا مراد ہے اور جس جہرو اخفات سے منع کیا گیا ہے۔ وہ کیا ہے؟ اس سلسلے میں بتہر یہ ہے کہ ”جہر“ شور مچانے کے معنی میں ہے اور ”اخفات“اس قدر آہستہ بڑھنے کے معنی میں کہ انسان خود بھی نہ سن سکے۔ تفسیر علی بن ابراہیم میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(علیه السلام) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: الجھر بھا رفع الصوت، والتخافت بھا مالم تسمع نفسک، واقرا بین ذٰلک۔ ”جہر“آواز زیادہ بلند کرنے کو کہتے ہیں اور ”اخفات“یہ ہے کہ تم خود بھی نہ سن سکو۔ ان دو میں سے کسی کو انجام نہ دو بلکہ ان دونوں کے درمیان حدِ وسط اختیار کرو۔ (تفسیر نور الثقلین، ج ۳ ص ۲۳۴) رہا دن اور رات کی نمازوں میں جہرواخفات کا مسئلہ، تو جیسے ہم سطور بالا میں اشارہ کر چکے ہیں، یہ ایک الگ حکم ہے۔ اس کا مفہوم اور دلائل مختلف ہیں۔ ہمارے فقہاء (رضوان اللہ علیہم) نے ان کے مدارک کتاب الصلوٰة میں بیان کیے ہیں۔

جہر و اخفات میں اعتدلال کے دو پہلو

جہر و اخفات میں اعتدال کا یہ اسلامی حکم ہمیں دو لحاظ سے متوجہ کرتا ہے: پہلے اس نظر سے کہ ہم اپنی عبادات اس طرح سے انجام نہ دیں کہ دشمنوں کے ہاتھ بہانہ آجائے۔ وہ تمسخر اڑانے لگیں یا اعتراض کرنے لگیں۔ کیا ہی اچھا ہے کہ عبادت، متانت، سکون اور ادب کے ساتھ ہو کہ جس پر نہ صرف اعتراض نہ کیا جا سکے بلکہ اپنے شکوہ، آداب ارو عظمت کے لحاظ سے بھی نمونہ ہو۔ کچھ لوگ یہ کوشش کرتے ہیں کہ جب لوگ آرام کر رہے ہیں اپنے جلسوں میں ایسے لاؤڈ سپکر لگائیں کہ جن کی آواز کان پھاڑنے والی ہو اور اس طرح اپنے جلسوں کے وجود کی خبر دیں۔ یہ لوگ اپنے خیالِ خام میں اس عمل کے ذریعے اسلام کی آواز دوسروں تک پہنچاتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف یہ اسلام کی آواز نہیں ہے بلکہ اسلام سے لوگوں کی دوری کا باعث ہے اور اس طرزِ عمل سے نتیجتاً دینی تبلیغات پر ضرب لگتی ہے۔ اس حکم کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ عبادت ہمارے دوسرے اعمال کے لیے نمونہ بن جائے۔ ہمارے تمام سماجی، سیاسی اور اقتصادی امور اسی آئینے میں انجام پائیں۔ ان امور میں ہمیں ہر طرح کے افراط و تفریط اور تندروی و سہل انگاری سے بچنا چاہیے اور ”وابتغ بین ذٰلک سبیلاً “(درمیانی راہ اختیار کرو)کا اصول ہر کہیں کار فرما ہونا چاہیے۔ اب ہم سورہ بنی اسرائیل کی آخری آیت پر پہنچتے ہیں۔ اس میں حمد کے ساتھ سورہ کا اختتام ہوتا ہے جیسے اس کی ذات پاک کی تسبیح کے ساتھ اس سورہ کی ابتداء ہوئی تھی۔ درحقیقت، یہ آخری آیت اس سورہ کے تمام توحیدی مباحث اور مفاہیم کا نتیجہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: کہہ دو: حمد مخصوص ہے اس خدا کے لیے جس کا کوئی بیٹا ہے نہ عالم ہستی کی حکومت و مالکیت میں جس کا کوئی شریک ہے اور نہ توانائی کے لیے اس کا کوئی سرپرست ہے( وَقُلْ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ یَکُنْ لَہُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ وَلِیٌّ مِنَ الذُّلِّ)۔اور وہ ایسی صفات کا حامل خدا ہے کہ ہر لحاظ سے تمہاری فکر سے برتر و بالاتر ہے لہٰذا اس کی بڑائی اور کبریائی کو سمجھو اور اس کی لامتناہی عظمت سے آشنائی حاصل کرو ( وَکَبِّرْہُ تَکْبِیرًا)۔

چند اہم نکات ۱۔ تین صفات کا باہمی ربط

زیرِ نظر آیت میں خدا کی تین قسم کی صفات کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ نیز آیت کے ذیل کی طرف توجہ کی جائے تو کُل چار صفات ہو جاتی ہیں: پہلی صفت: یہ ہے کہ اس کی کوئی اولاد نہیں کیونکہ اولاد کا ہونا نیاز و احتیاج کی دلیل ہے۔ جسمانی ہونے کی دلیل اور شبیہ و نظیر رکھنے کی دلیل ہے جبکہ اس کا جسم ہے نہ وہ احتیاج رکھتا ہے اور نہ شبیہ و نظیر۔ دوسری صفت: یہ ہے کہ اس کا کوئی شریک کا وجود قدرت و حکومت کی محدودیت یا عجز و توانائی یا شبیہ و نظیر ہونے کی دلیل ہے اور اس کی کوئی شبیہ و نظیر بھی نہیں ہے۔ تیسری صفت: یہ ہے کہ مشکلات اور ناتوانیوں کے لیے اس کا کوئی ولی نہیں کیونکہ اس خدائے عظیم و لامتناہی سے اس صفت کی نفی بھی واضح ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ آیت اللہ سے ہر قسم کے مددگار اور شبیہ کی نفی کرتی ہے چاہے وہ اس سے کم تر ہو مثلاً اولاد یا اس جیسا ہو مثلاً شریک یا اس سے بالا تر ہو مثلاً ولی۔ مرحوم طبرسی نے بعض مفسرین سے کہ جن کے نام انہوں نے نہیں لکھے، نقل کیا ہے کہ یہ آیت تین انحرافی گروہوں کے اعتقاد کی نفی کرتی ہے۔ پہلے عیسائی اور یہودی کہ جو خدا کے بیٹے کے قائل تھے۔ دوسرے مشرکین عرب جو اس کے لیے شریک خیال کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ صبح کے وقت اپنے مراسم عبادت میں کہتے تھے: لبیک لا شریک لک الا شریکا ھو لک تیسرے ستارہ پرست اور مجوسی کہ جو خدا کے لیے ولی اور مددگا کے قائل تھے۔

۲۔ تکبیر کیا ہے؟

یہ جو قرآن نے یہاں رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو بڑی تاکید سے حکم دیا ہے کہ خدا کی بڑائی شمار کرو یقینا اس کا مفہوم یہ ہے کہ پروردگار کی بزرگی اور بڑائی کا اعتقاد رکھا جائے نہ کہ صرف زبان سے ”اللہ اکبر“کہا جائے۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ خدا کی بزرگی کا اعتقاد رکھنے کا یہ معنی نہیں کہ دوسرے موجودات کے مقابلے میں اسے برتر و بالاتر سمجھا جائے بلکہ ایسا مواز نہ اصلاً ہے ہی غلط۔ چاہیے کہ ہم اسے کسی چیز کے موازنہ سے برتر سمجھیں جیسا کہ امام صادق علیہ السلا نے ایک مختصر اور معنی خیز حدیث میں ہمیں تعلیم دی ہے: کسی نے آپ(علیه السلام) کے پاس کہا: اللہ اکبر امام نے فرمایا: اللہ کس چیز سے زیادہ بڑا ہے؟ اس نے عرض کیا: ہر چیز سے۔ امام نے فرمایا: یہ کہہ کر تونے اللہ کو محدود کر دیا (کیونکہ دیگر موجودات سے اس کا موازنہ کیا ہے اور ان سے برتر سمجھا ہے)۔ اس نے عرض کی: پھر ہم کیا کہیں؟ فرمایا : کہو: اللّٰہ اکبر من ان یوصفت یعنی خدا اس سے بڑا ہے کہ اس کی توصیف کی جا سکے۔( نور الثقلین،ج ۳ ص ۲۳۹) ای برتر از خیال و قیاس و گمان و وہم و از آنچہ دیدہ ایم و نوشتیم و خواندہ ایم مجلش تمام گشت و بہ آخر رسید عمر ما ہمچنان در اوّل وصف تو ماندہ ایم اے! خیال، قیاس، گمان اور وہم سے بالا! اور اس سے بالا کہ جو ہم نے دیکھا، لکھا اور پڑھا ہے مجلس تمام ہو گئی اور عمر آخر کو پہنچ گئی لیکن ہم تیری پہلی صف پر کھڑے ہیں۔ یہ بات جاذب نظر ہے ہے ایک نظر ہے کہ ایک اور حدیث جو امام صادق علیہ السلام ہی سے نقل ہوئی اس میں آپ (علیه السلام) نے فرمایا: و کان ثم شیء فیکون اکبر منہ کیا اصولی طور پر ذاتِ خدا کے مقابلے میں کوئی وجود ہے کہ جس سے وہ بڑا ہو؟ اس صحابی نے عرض کیا: تو پھر ہم کیا کہیں؟ فرمایا : کہو: اکبر من ان یوصف وہ اس سے برتر ہے کہ اس کی توصیف کی جا سکے۔(نور الثقلین، ج ۳ ص ۲۳۹)

۳۔ ایک سوال کا جواب

یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے۔ وہ یہ کہ زیر بحث آیات میں صفات سبیلہ کے ساتھ خدا کی حمد کیونکر آئی ہے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ حمد صفاتِ ثبوتیہ یعنی علم و قدرت وغیرہ کے ساتھ آنی چاہیے۔ ولد، شریک اور ولی کی نفی جیسی صفات کے ساتھ تسبیح مطابقت رکھتی ہے نہ کہ حمد۔ اس سوال کے جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ صفات ثبوتیہ اور صفاتِ سبیلہ کا مقام اگر چہ ایک دوسرے سے جدا ہے اور صفات ثبوتیہ حمد کے ساتھ مطابقت رکھتی ہیں اور صفاتِ سبیلہ تسبیح کے ساتھ لیکن عینیت خارجی میں یہ ایک دوسرے کی لازم و ملزوم ہیں۔ خدا سے جہل کی نفی اثباتِ علم کے ساتھ ہے جیسا کہ اس کی ذاتِ پاک کے لیے اثبات علم، جہل کی نفی کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ لہٰذا کوئی مانع نہیں کہ کبھی لازم کو بیان کیا جائے اور کبھی ملزوم کو۔ جیسا کہ اس سورہ کی ابتداء میں ایک اثباتی امر کیلئے تسبیح آئی ہے: سُبْحَانَ الَّذِی اَسْریٰ بِعَبْدِہِ لَیْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصیٰ منزہ ہے وہ خدا کہ جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجد اقصیٰ کی طرف لے گیا۔ پروردگارا! ہمارے دل کو نورِ علم و ایمان سے سرشار کر دے تاکہ ہم تیری عظمت کے سامنے ہمیشہ جھُکے رہیں، تیرے وعدوں پر ایمان رکھیں اور تیرے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں، تیرے علاوہ کسی کی پرستش نہ کریں اور تیرے غیر کا سہارا نہ لیں۔ بار الٰہا! ہمیں توفیق دے کہ ہم زندگی بھر کبھی اعتدال سے باہر نہ نکلیں اور ہر قسم کی افراط و تفریط سے پرہیز کریں۔ خداوندا! ہم تیری حمد کرتے ہیں۔ تجھے یگانہ و یکتا سمجھے برتر سمجھتے ہیں، اس سے برتر کہ تیری توصیف کی جا سکے۔ تو بھی ہمیں بخش دے۔ ہمارے قدم اپنی راہمیں استوار کر اور داخلی و خارجی دشمنوں پر ہمیں کامیابی فرما اور ہماری کامیابیوں کو قیام مہدی موعود (ہماری جانیں ان پر فدا) کی آخری کامیابی کے ساتھ متصل کر دے اور اس تفسیر کی ایسی تکمیل کی توفیق دے کہ جس سے تو راضی و خشنود ہو۔

end of chapter