Sūra 92 · 21v
Chapter 9221 verses

Al-Layl

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
الليل
اللیل

سُورہ اللیل

یہ سُورہ مکہ میں نازل ہوا۔ اِس کی ۲۱ آیا ت ہیں۔

سُورہٴ "اللیل" کے مضامین اور اس کی فضیلت

یہ سُورہ مکی سُورتوں میں سے ہے اور مکی سُورتوں کی خصوصیات کا حامل ہے۔ یہ مختصر آیات کے ٹکڑوں میں ہے، لیکن ان کے مضامین گرما گرم اور تیز ہیں، اس میں زیادہ تر قیامت، خدائی جزا و سزا اور اس کے عوامل و اسباب کے بارے میں ہے۔ ابتداء میں تین قسموں کو ذکر کرنے کے بعد لوگوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا ہے: ۱۔ تقویٰ کے ساتھ انفاق کرنے والے۔ ۲۔ وہ بخیل جو قیامت کے اَجر و پاداش کے منکر ہیں۔ پہلے گروہ کا انجام خوش بختی اور راحت و آرام ہے جب کہ دُوسرے گروہ کا انجام کار، سختی، تنگی اور بدبختی ہے۔ اس سورہ کے دوسرے حصہ میں اس معنی کی طرف اشارہ کرنے کے بعد کہ بندوں کو ہدایت کرنا خدا کا کام ہے، سب لوگوں کو دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈرایا گیا ہے۔ اور آخری حصہ میں، ان لوگوں کے، جو اس آگ میں جلیں گے، اور اس گروہ کے، جو اس سے نجات پائیں گے، اوصاف بیان کرتے ہوئے تعارف کرایا ہے۔ اِس سُورہ کی تلاوت کی فضیلت میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "من قرأھا اعطاہ اللہ حتی یرضی، و عافاہ من العسر و یسّر لہ الیسر": "جو شخص اس سُورہ کی تلاوت کرے گا خدا اُسے اس قدر عطا کرے گا کہ وہ راضی اور خوش ہو جائے گا، اور اُسے سختیوں سے نجات دے گا اور زندگی کی راہوں کو اس کے لئے آسان کر دے گا۔"

1
92:1
وَٱلَّيۡلِ إِذَا يَغۡشَىٰ
قسم ہے رات کی جب کہ وہ عالم کو ڈھانپ لے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
92:2
وَٱلنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ
اور قسم ہے دن کی جب وہ ظاہر ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
92:3
وَمَا خَلَقَ ٱلذَّكَرَ وَٱلۡأُنثَىٰٓ
اور قسم ہے اس کی جس نے مذکر و مونث خلق کئے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
92:4
إِنَّ سَعۡيَكُمۡ لَشَتَّىٰ
کہ تمہاری سعی و کوشش مختلف ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
92:5
فَأَمَّا مَنۡ أَعۡطَىٰ وَٱتَّقَىٰ
پس وہ شخص کہ جو (راہ خدا میں ) انفاق کرے اور پرہیزگاری اختیار کرے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
92:6
وَصَدَّقَ بِٱلۡحُسۡنَىٰ
اور (اللہ کی) نیک جزا کی تصدیق کرے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
92:7
فَسَنُيَسِّرُهُۥ لِلۡيُسۡرَىٰ
ہم اس کی راہوں کو آسان بنا دیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
92:8
وَأَمَّا مَنۢ بَخِلَ وَٱسۡتَغۡنَىٰ
لیکن جو شخص بخل کرے، اور اس طریقہ سے بے نیاز ہونا چاہئے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
92:9
وَكَذَّبَ بِٱلۡحُسۡنَىٰ
اور (اللہ کی) اچھی جزاؤں کی تکذیب کرے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
92:10
فَسَنُيَسِّرُهُۥ لِلۡعُسۡرَىٰ
ہم عنقریب اس کی راہوں کو دشوار بنا دیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
92:11
وَمَا يُغۡنِي عَنۡهُ مَالُهُۥٓ إِذَا تَرَدَّىٰٓ
اور جس وقت وہ (جہنم یا قبر میں ) گرے گا تو اس کے اموال اس کی حالت کے لئے مفید نہیں ہوں گے۔

سُورہٴ "اللیل" کا شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

مفسرین نے اس سالم سُورہ کے لئے ابنِ عباسؓ سے ایک شانِ نزول نقل کی ہے۔ ہم اس شانِ نزول کو مرحوم طبرسی کی "مجمع البیان" سے نقل کرتے ہیں: مُسلمانوں میں سے ایک شخص کے کھجور کے درخت کی ایک شاخ ایک فقیر عیال دار کے گھر کے اُوپر پہنچی ہوئی تھی۔ کھجور والا جب خرمے اتارنے کے لئے کھجور پر چڑھتا تو بعض اوقات خرمے کے کچھ دانے اس فقیر آدمی کے گھر میں جا گرتے، اور اس کے بچے انہیں اُٹھا لیتے وہ شخص کھجور کے درخت سے اُتر کر خرمے چھین لیتا، (اور وہ اتنا بخیل اور سنگ دل تھا کہ) اگر ان میں سے کسی کے مُنہ میں بھی خرمے کا دانہ دیکھتا تو اس کے منہ میں انگلی ڈال کر نکال لیتا۔ اس مرد فقیر نے پیغمبرؐ کی خدمت میں شکایت کی: حضور نے فرمایا: تم جاؤ میں تمہارا یہ کام کرتا ہوں: اس کے بعد آپ نے کھجور والے سے ملاقات کی اور فرمایا یہ درخت جس کی شاخیں فلاں شخص کے گھر کے اُوپر پہنچی ہوئی ہیں، مجھے دے دے تاکہ اس کے مقابلہ میں جنت میں ایک درخت ہو۔ اس نے کہا میرے پاس کھجور کے بہت سے درخت ہیں لیکن کسی کے خرمے اس درخت کے جیسے اچھے نہیں ہیں۔ (لہٰذا میں یہ سودا کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں)۔ اصحاب پیغمبر میں سے کسی نے یہ گفتگو سُن لی۔ اس نے عرض کیا: اے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اگر میں جا کر یہ درخت اس شخص سے خرید لوں اور آپ کو دے دوں تو آپؐ وہی چیز جو اس کو دے رہے تھے مجھے عطا فرمائیں گے؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں! اس شخص نے جا کر درخت والے سے ملاقات کی اور اس سے اس سلسلہ میں بات کی، کھجور کے مالک نے کہا: کیا تجھے معلوم ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اس کے بدلے میں جنت میں کھجور کا ایک درخت مجھے دینے کے لئے تیار تھے۔ (لیکن مَیں نے قبول نہیں کیا)۔ اور مَیں نے انہیں یہ کہ دیا کہ مَیں اس کے خرموں سے بہت لذّت اندوز ہوتا ہوں، میرے پاس بہت سے کھجور کے درخت ہیں لیکن کسی کے خرمے اتنے اچھے نہیں ہیں۔ خریدار نے کہا کیا تو اسے بیچنا چاہتا ہے یا نہیں؟ اس نے کہا: مَیں اسے نہیں بیچوں گا، مگر صرف اس صُورت میں کہ تو اتنی رقم مجھے دے دے کہ کوئی نہیں دے گا۔ اس نے کہا: تو کتنی رقم لینا چاہتا ہے؟ اس نے کہا چالیس درخت۔ خریدار نے تعجّب کرتے ہوئے کہا : تو ایسے کھجور کے درخت کی جو ٹیڑھا ہو چکا ہے بہت ہی بھاری قیمت مانگتا ہے۔ چالیس کھجور کے درخت! پھر تھوڑے سے سکوت کے بعد اس نے کہا: بہت اچھا، میں خرمے کے چالیس درخت تجھے دیتا ہوں۔ بیچنے والے (لالچی) نے کہا: اگر تو سچ کہتا ہے تو کچھ آدمیوں کو گواہی کے لئے بُلا لے! اتفاقاً کچھ لوگ وہاں سے گُزر رہے تھے اس نے انہیں آواز دی اور انہیں اس معاملہ پر گواہ بنایا۔ اس کے بعد وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: اے رسولِ خداؐ! وہ کھجور کا درخت میری ملکیّت میں آ گیا ہے، اور مَیں اُسے (آپؐ کی بارگاہِ میں) پیش کرتا ہوں۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فقیر کے گھر والوں کے پاس گئے اور صاحب خانہ سے کہا: "یہ کھجور کا درخت تیرا اور تیرے بچوں کا ہے۔" اِس موقع پر سورہٴ "و اللیل" نازل ہوئی۔ (اور بخیلوں اور سخیوں کے بارے میں ان کے لائق باتیں کہیں)۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ اس خریدار کا نام :ابو الاحداح" تھا۔ (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ۱۰، ص ۵۰۱)۔

تفسیر تقویٰ اور خدائی اِمدادیں

اِس سُورہ کے آغاز میں ہم پھر تین فکر انگیز (مخلوقات اور خالقِ عالم کی) قسموں کا سامنا کر رہے ہیں، فرماتا ہے: "قسم ہے رات کی جبکہ وہ سارے جہاں کو ڈھانپ لے۔" (وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى)۔ "یغشیٰ" کی تعبیر ممکن ہے اس بناء پر ہو کہ رات کی تاریکی پردہ کی طرح آدھے کرہٴ زمین پر پڑتی ہے، اور اُسے اپنے نیچے ڈھانپ لیتی ہے۔ یا اس بناء پر کی دن کا چہرہ یا آفتابِ عالمتاب کا چہرہ اس کے پہنچ جانے سے ڈھک جاتا ہے۔ بہرحال، یہ رات کی اہمیّت اور انسانوں کی زندگی میں اس کے اثرات کی طرف سورج کے اعتدال سے لے کر، اس کے سائے میں تمام زندہ موجودات کے آرام و سکون اور شب زندہ دار، بیدار دل اور آگاہ افراد کے مسئلہ تک ایک اشارہ ہے۔ اس کے بعد دُوسری قسم کو بیان کرتا ہے اور مزید کہتا ہے: "اور قسم ہے دن کی جب کہ وہ آشکار و ظاہر ہو۔" (وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى)۔ (تشریحی نوٹ: قابل توجہ بات یہ ہے "یغشیٰ" فعل مضارع کی صورت میں ذکر ہوا ہے، لیکن "تجلیّٰ" فعل ماضی کی صُورت میں ہے۔ بعض نے کہا ہے: یہ اس بناء پر ہے کہ اس زمانہ میں جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت کا آغاز تھا تو جاہلیّت کی تاریکی نے ہر جگہ کو گھیر رکھا تھا۔ لیکن اس صُورت میں ایسی ظلمت و تاریکی کی قسم کھانا کچھ اچھا دکھائی نہیں دیتا۔ بہتر یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ یہ فعل ماضی چونکہ "اذا" شرطیہ کے بعد واقع ہوا ہے، لہٰذا فعل مضارع کا معنی دیتا ہے، یا یہ اصل میں "تتجلی" تھا اور اس کی ایک "تاء" حذف ہو گئی ہے، لیکن اس صُورت میں فعل مؤنث ہو جائے گا، اور پھر "نہار" (دن) اس کا فاعل نہیں ہو سکتا بلکہ پھر تقدیر میں اس طرح ہونا چاہئیے۔ "اذا تجلی الشمس فیہ" (جب اس میں سُورج آشکار و ظاہر ہو))۔ اور یہ اس لمحہ کی بات ہے جب سپیدہ صبح رات کے ظلماتی پردہ کو چیر دیتا ہے اور تاریکیوں کو پیچھے دھکیل کر سارے صفحہ آسمانی پر حاکم بن جاتا ہے۔ اور ہر چیز کو نُور اور روشنی میں نہلا دیتا ہے۔ وہی نور و روشنی جو حرکت و حیات کی رمز اور تمام زندہ موجودات کی پرورش کا سبب ہے۔ قرآن مجید میں "نور" و "ظلمت" کے نظام کے مسئلہ اور ان کی انسانی زندگی پر تاثیر کی طرف بہت زیادہ توجہ دی گئی، کیونکہ یہ دو عظیم دائمی نعمتیں پروردگار کی اہم آیات میں سے دو آیتیں ہیں۔ اس کے بعد آخری قسم کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اور قسم ہے اس ذات کی جس نے مذکر و مؤنث کی جنس کو پیدا کیا۔" (وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنثَى)۔ کیونکہ عالم "انسان" و "حیوان" اور "نبات" میں ان دونوں جنسوں کا وجُود، اور وہ تغیّرات جو انعقاد نطفہ سے لے کر تولد تک رُونما ہوئی ہیں، اور وہ خصوصیات و صفات جو دونوں جنسوں میں ان کی فعالیتوں اور پروگراموں کی نسبت سے پائی جاتی ہیں اور وہ بہت سے اسرار جو جنسیت کے مفہوم میں چھپے ہوئے ہیں، یہ سب عظیم عالمِ آفرینش کی نشانیاں اور آیات ہیں جن کے ذریعے ان کے پیدا کرنے والے سے واقفیت حاصل کی جا سکتی ہے۔ "ما" (وہ چیز) کی تعبیر یہاں خدا کے بارے میں اس کی ذات پاک کی حد سے زیادہ عظمت سے کنایہ ہے، اور یہ وُہ ابہام ہے جو اس لحاظ سے یہاں اس طرح حکم فرما ہے کہ وُہ اسے خیال قیاس و گمان و وہم سے برتر کر دیتا ہے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ "ما" یہاں مصدریہ ہے، تو اس بناء پر اس جملہ کا معنی یہ ہو گا: قسم ہے مذکر و مؤنث کی خلقت کی لیکن یہ احتمال بھی ضعیف نظر آتا ہے۔ حقیقت میں پہلی اور دُوسری دو قسمیں آیاتِ آفاقی کی طرف اشارہ ہیں، اور تیسری قسم آیات انفسی کی طرف اشارہ ہے۔ آخرکار ان قسموں کے ہدف کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: "زندگی کے لئے تمہاری سعی و کوشش گوناں گوں ہے۔" (إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّى)۔ ان کوششوں کی سمت، اور ان کے نتائج بھی مکمل طور پر مختلف اور متفاوت ہیں، جو اس طرف اشارہ ہے کہ تم بہرحال، زندگی میں سکون و آرام سے نہیں رہو گے، اور یقینی طور پر سعی و کوشش کے لئے ہاتھ پاؤں مارو گے، اور خدا داد قوتوں اور توانائیوں کو، جو تمہارے وجود کا سرمایہ ہیں۔ کسی نہ کسی راستہ میں خرچ کرو گے اب تم خود دیکھو گے کہ تمہاری سعی و کوشش کس راستے، کس سمت اور کس نتیجہ کی حامل ہے؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اپنے سرمایوں اور صلاحیتوں کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ ڈالو، یا فضول مفت میں ضائع کر بیٹھو۔ "شتی"، "شتیت" کی جمع ہے جو "شت" (بر وزن شط) کے مادّہ سے جمیعت کو پراگندہ کرنے کے معنی میں ہے۔ اور یہاں کیفیت و مقصد حصول اور ان کے نتیجہ کے لحاظ سے لوگوں کی کوششوں کے اختلاف کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے بعد لوگوں کو دو گروہوں میں تقسیم کر کے ہر ایک کی خصوصیت کو شمار کرتے ہوئے فرماتا ہے: "پس وہ شخص جو راہ خدا میں بخشش کرے اور پرہیزگاری اختیار کرے۔" (فَأَمَّا مَن أَعْطَى وَاتَّقَى)۔ "اور راہ خدا کی اچھی جزا پر ایمان رکھتا ہو" (وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى)۔ "ہم اس کے لئے راستہ کو آسان بنا دیں گے اور بہشتِ جاوداں کی طرف ہدایت کریں گے۔" (فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى)۔ "اعطٰی" سے مراد وہی راہِ خدا میں خرچ کرنا اور حاجت مندوں کی مدد کرنا ہے۔ اور اس کے بعد تقویٰ کے لئے تاکید ممکن ہے کہ پاک نیت، اور خرچ کرتے وقت قصدِ خالص، اور مشروع طریقہ سے اموال کا حصٗول اور انہیں مشروع و جائز طریقہ سے خرچ کرنا اور ہر قسم کا احسان جتانے اور اذیت و آزار پہنچانے سے خالی ہونے کے لزوم کی طرف اشارہ ہو کیونکہ ان اوصاف کا مجموعہ تقویٰ کے عنوان میں جمع ہے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ "اعطیٰ" مالی عبادتوں کی طرف اشارہ ہے اور "اتقٰی" باقی تمام عبادتوں کی طرف، اور واجبات کو انجام دینے اور محرمات کو چھوڑ دینے کی طرف، لیکن پہلی تفسیر ظاہر آیت کے ساتھ سازگار ہے، اور شانِ نزول کے ساتھ بھی جو ہم نے اُوپر بیان کی ہے۔ "حسنٰی" کی تصدیق ("حسنٰی"، "احسن" کی مؤنث ہے جو زیادہ اچھے کے معنی میں ہے)۔ یہ خُدا کی اچھی جزاؤں پر ایمان رکھنے کی طرف اشارہ ہے، جیسا کہ شانِ نزول میں بیان ہوا ہے کہ "ابو الدحداح" نے خدا کی جزاؤں پر ایمان رکھتے ہوئے اپنے اموال خرچ کئے۔ سُورہٴ نساء کی آیہ ۹۵ میں آیا ہے: وَكُـلاًّ وَعَدَ اللّهُ الْحُسْنَى: "خدا نے ان میں سے ہر ایک کو اچھے اجر اور جزاؤں کا وعدہ دیا ہے۔ (اس آیت میں بھی حسنی اچھی جزا کے معنی میں ہے)۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سے مراد "شریعت حسنی" یعنی دینِ اسلام پر ایمان ہے، جو بہترین دین ہے۔ اور بعض نے اس کی کلمہ لا الہ الاَّ اللہ یا شہادتین کے ساتھ تفسیر کی ہے۔ لیکن سیاقِ آیات، شانِ نزول، اور بہت سی آیاتِ قرآنی میں حسنٰی کا اچھی جزا کے معنی میں ہونے کے ذکر کی طرف توجہ کرتے ہوئے پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ "فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى" کا جملہ ممکن ہے توفیق الٰہی، اور ایسے اشخاص پر امر اطاعت کے آسان کرنے کی طرف اشارہ ہو، یا ان کی طرف جنت کی راہ کھولنے اور تحیت و سلام کے ساتھ ملائکہ اور فرشتوں کے استقبال کرنے، یا ان تمام چیزوں کی طرف اشارہ ہو۔ یہ بات یقینی ہے کہ جو لوگ انفاق و تقویٰ کی را ہ اختیار کرتے ہیں اور عظیم خدائی جزاؤں پر گرم جوشی کے ساتھ ایمان رکھتے ہیں، ان کے لئے مشکلات آسان ہو جاتی ہیں اور وہ دنیا و آخرت میں ایک خاص قسم کے سکون و آرام کے حامل ہوتے ہیں۔ ان سب سے قطع نظر ممکن ہے کہ مالی انفاق ابتداء میں انسان کی طبیعت و مزاج کے لئے شاق اور مشکل ہو، لیکن تکرار کرنے اور مسلسل جاری رکھنے سے اس پر راستہ اس طرح آسان ہو جاتا ہے کہ وہ اس سے لذت آٹھاتا ہے۔ کتنے ہی سخی لوگ ایسے ہیں جو اپنے دستر خوان پر مہمان کی موجودگی میں خوش ہوتے ہیں، لیکن اس کے برعکس اگر کسی دن ان کے پاس مہمان نہ آئے تو وہ پریشان ہو جاتے ہیں اور یہ بھی مشکلات آسان کرنے کی ایک قسم ہے۔ اور اس نکتہ سے بھی غافل نہیں ہونا چاہئیے کہ اصولی طور پر خدائی عظیم جزاؤں پر ایمان، انسان کے لئے انواع و اقسام کی مشکلات کی برداشت کو آسان اور سہل بنا دیتا ہے، نہ صرف مال بلکہ وہ اپنی جان کو بھی اخلاص کے مطابق گزارتا ہے اور عشق شہادت میں میدان جہاد میں شرکت کرتا ہے، اور اپنی اس قربانی اور ایثار سے لذت حاصل کرتا ہے۔ "یسریٰ"، "یسر" کے مادہ سے اصل میں گھوڑے پر زین کسنے، اُسے لگام دینے اور سواری کے لئے آمادہ و تیار کرنے کے معنی میں ہے۔ اس کے بعد اس کا ہر سہل اور آسان کام کے لئے اطلاق ہوا ہے۔ (بحوالہ: "تفسیر کشاف" جلد ۴، ص ۷۶۲)۔ بعد والی آیات میں اس گروہ کے نقطہٴ مقابل کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "لیکن وہ شخص جو بخل کرے اور اس طریقے سے بےنیازی چاہے۔" (وَأَمَّا مَن بَخِلَ وَاسْتَغْنَى)۔ "اور خدا کی اچھی جزاؤں کی تکذیب کرے" (وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى)۔ "ہم عنقریب راستوں کو اس پر دشوار اور مشکل بنا دیں گے۔" (فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى)۔ " بخل" یہاں "اعطاء" کا نقطہِ مقابل ہے، جو پہلے گروہ (سعادت مند سختیوں کے گروہ) میں بیان ہوا ہے۔ " وَاسْتَغْنَى" (بےنیازی چاہے) یا بُخل کرنے کے لئے ایک بہانہ، یا مال جمع کرنے کے لئے ایک وسیلہ ہے، اور یا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ خدائی جزاؤں سے اپنے آپ کو بےنیاز شمار کرتا ہے، پہلے گروہ کے برعکس، جن کی آنکھ ہمیشہ لطفِ خدا پر لگی رہتی ہے یا وہ اپنے آپ کو خدا کی اطاعت سے بےنیاز سمجھتا ہے، اور ہمیشہ گناہ میں آلودہ رہتا ہے۔ اِن تینوں تفاسیر میں سے پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ اگرچہ تینوں تفاسیر کے درمیان جمع بھی ممکن ہے۔ "حسنٰی" کی تکذیب سے مراد وہی قیامت کی جزاؤں کا انکار ہے، یا پیغمبروں کے دین و آئین اور نیک روش کا انکار ہے۔ "فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى" کی تعبیر جو واقعی طور پر دو ظاہر اً متضاد تعبیریں ہیں (ہم ان کی راہ کو مشکلات کی طرف آسان کر دیں گے)۔ "فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى" کا نقطہٴ مقابل ہے، اس طرح سے کہ خدا پہلے گروہ کو تو اپنی توفیقات کا مشمول قرار دے گا اور ان کے لئے اطاعت و انفاق کی راہ کو طے کرنا آسان بنا دے گا تاکہ وہ زندگی کی مشکلات سے رہائی حاصل کر لیں۔ لیکن دوسرے گروہ کی توفیقات سلب ہو گئی ہیں، لہٰذا ان کے لئے طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے، اور انہیں دنیا و آخرت میں سختیوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور اصولی طور پر ان بےایمان بخیلوں کے لئے نیک اعمال کو انجام دینا ٓ، خصوصاً راہ خدا میں انفاق کرنا سخت اور دشوار کام ہے، جب کہ پہلے گروہ کے لئے نشاط آور اور، روح افزا ہے۔ (تشریحی نوٹ: "یسریٰ" و "عسرٰی" دونوں مؤنث کے صیغے ہیں (ان کا مذکر "الیسر" و "العسر" ہے اور ان دونوں کا مؤنث کے صیغہ کی صورت میں ذکر کرنا تو اس بناء پر ہے کہ ان کا موصوف (افعال کا مجموعہ) ہے اور تقدیر میں اس طرح ہو گا۔" فسنیسرہ الاعمال یسریٰ۔ او۔ الاعمال عسری یا تمام مسائل اور زندگی میں پیش آنے والے واقعات میں، اور اگر اس کا موصوف مفرد ہو تو ممکن ہے کہ "طریقة" یا "خلّة" یا اس قسم کا کوئی لفظ ہو)۔ اور آخری زیر بحث آیت میں ان دل کے اندھے بخیلوں کو خبردار کرتے ہوئے فرماتا ہے: "جب وہ قبر یا جہنم میں جا گرے گا، تو اس کے اموال اس کے کچھ کام نہ آئیں گے۔" (وَمَا يُغْنِي عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَدَّى)۔ نہ تو وہ ان اموال کو دنیا سے اپنے ساتھ لے جا سکتا ہے اور اگر وہ گروہ لے بھی جائے تو وہ اس کے جہنم کی آگ میں جانے سے مانع نہیں ہوں گے۔ "ما" اس آیت کے آغاز میں ممکن ہے "نافیہ" ہو (جیسا ہم نے اُوپر بیان کیا ہے) یا استفہام انکاری کے لئے ہو، یعنی اس کے اموال قبر یا دوزخ میں جا گرنے کے وقت اس کو کیا فائدہ دیں؟ "تردّٰی"، "ردئت" اور "ردٰی" کے مادّہ سے ہلاکت کے معنی میں ہے اور بلندی سے گرنے کے معنی میں بھی آیا ہے جو ہلاکت کا سبب ہو۔ بلکہ بعض تو اس کی اصل ہی سقط کے معنی میں سمجھتے ہیں، اور چونکہ جگہ سے گرنا ہلاکت کا سبب ہوتا ہے، لہٰذا ہلاکت کے معنی میں بھی آیا ہے اور زیر بحث آیت میں ممکن ہے کہ قبر یا دوزخ میں گرنے کے معنی میں ہو یا ہلاکت عذاب کے معنی میں ہو۔ اس طرح قرآن ان آیات میں دو گروہوں کے بارے میں گفتگو کرتا ہے، ایک گروہ مومن، متقی اور سخی اور دوسرے گروہ بےایمان، بےتقویٰ اور بخیل، اور ان دونوں گروہوں کا نمونہ شانِ نزول میں وضاحت کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ پہلا گروہ توفیقاتِ الہٰی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے، اپنی راہ کو سہولت کے ساتھ طے کرتا ہے، اور جنت اور اس کی نعمتوں کی طرف بڑھا چلا جاتا ہے، جب کہ دوسرا گروہ زندگی میں بےشمار مشکلات میں گھرا ہوا ہوتا ہے، بہت سال مال جمع کرتا ہے اور یہیں پر چھوڑ کر آگے چلا جاتا ہے، اور سوائے حسرت، اندوہ و بال اور خدائی عذاب کے انہیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا، اور وہ اس سے کوئی چیز نہیں خریدتے۔

12
92:12
إِنَّ عَلَيۡنَا لَلۡهُدَىٰ
یقیناً ہدایت کرنا ہمارے ذمہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 21 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
92:13
وَإِنَّ لَنَا لَلۡأٓخِرَةَ وَٱلۡأُولَىٰ
یقینی طور پر دنیا و آخرت ہماری ہی ملکیت ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 21 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
92:14
فَأَنذَرۡتُكُمۡ نَارٗا تَلَظَّىٰ
پس میں تمہیں شعلہ پیدا کرنے والی آگ سے ڈراتا ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 21 کے تحت ملاحظہ کریں۔

15
92:15
لَا يَصۡلَىٰهَآ إِلَّا ٱلۡأَشۡقَى
بدبخت ترین لوگوں کے سوا کوئی شخص اس میں داخل نہیں ہو گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 21 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
92:16
ٱلَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ
وہی شخص جس نے آیات (خدا کی) تکذیب کی اور پیٹھ پھیر لی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 21 کے تحت ملاحظہ کریں۔

17
92:17
وَسَيُجَنَّبُهَا ٱلۡأَتۡقَى
جب کہ زیادہ تقویٰ اختیار کرنے والے عنقریب اس سے دور رہیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 21 کے تحت ملاحظہ کریں۔

18
92:18
ٱلَّذِي يُؤۡتِي مَالَهُۥ يَتَزَكَّىٰ
وہی شخص جو اپنے مال کو (اللہ کی راہ) میں بخش دیتا ہے تاکہ اپنے نفس کا تزکیہ کرے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 21 کے تحت ملاحظہ کریں۔

19
92:19
وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُۥ مِن نِّعۡمَةٖ تُجۡزَىٰٓ
اور کسی شخص کا اس کے پاس کوئی حق نعمت نہیں ہے تاکہ وہ (اس انفاق کے ذریعے) اس کا بدلہ دے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 21 کے تحت ملاحظہ کریں۔

20
92:20
إِلَّا ٱبۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِ ٱلۡأَعۡلَىٰ
بلکہ اس کا مقصد تو اپنے بزرگ و برتر پروردگار کی رضا حاصل کرنا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 21 کے تحت ملاحظہ کریں۔

21
92:21
وَلَسَوۡفَ يَرۡضَىٰ
اور وہ عنقریب راضی و خوشنود ہو جائے گا۔

تفسیر انفاق اور جہنم کی آگ سے دُوری

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

گزشتہ آیات میں لوگوں کی دو گرہوں: مومنِ سخاوت مند اور بےایمان بخیل، میں تقسیم کرنے، اور ان میں سے ہر ایک کی سرنوشت بیان کرنے کے بعد زیر بحث آیات میں، پہلے اس بات کو بیان کرتا ہے کہ ہمارا کام ہدایت کرنا ہے کسی کو مجبُور کرنا نہیں ہے۔ اَب یہ ہماری ذمّہ داری ہے کہ اپنے ارادہ و اختیار کے ساتھ مردانہ وار راستہ پر گامزن ہو جاؤ۔ علاوہ ازیں اس راستہ کو طے کرنا خود تمہارے نفع میں ہے اور ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ فرماتا ہے: "یقینا ہدایت کرنا ہمارے ہی ذمہ ہے۔" (إِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدَى)۔ چاہے تکوین (فطرت و عقل) کے طریق سے ہدایت ہو، اور چاہے تشریح (کتاب و سُنّت) کے طریق سے ہو۔ اس سلسلہ میں جو کچھ ضروری تھا وہ ہم نے بیان کر دیا ہے اور اس کا حق ادا کر دیا۔ "اور یقینی طور پر آخرت اور دنیا ہماری ہی ملکیت ہے۔" (وَإِنَّ لَنَا لَلْآخِرَةَ وَالْأُولَى)۔ (تشریحی نوٹ: "للاٰخرة" کا "لام" اور اسی طرح (گزشتہ آیت میں "للھدٰی" کا "لام" ظاہراً لام تاکید ہے جو یہاں "اسم انّ" کے اوپر ہے، اگرچہ عام طور پر خبر کے اوپر داخل ہوا کرتی ہے، یہ اس بناء پر ہے کہ بعض ادب کی کتابوں کی تصریح کے مطابق جب "انّ" کی خبر مقدم ہو تو اس کے اسم پر لام داخل ہوتی ہے)۔ ہمیں تمہارے ایمان و اطاعت کی کوئی ضرورت نہیں ہے، نہ تمہاری اطاعت ہمیں کوئی فائدہ پہنچاتی ہے اور نہ ہی تمہاری نافرمانی سے ہمیں کوئی نقصان پہنچتا ہے۔ یہ تمام پروگرام تمہارے فائدے کے لئے ہیں اور خود تمہارے لئے ہیں۔ اِس تفسیر کے مطابق یہاں ہدایت "ارائہ طریق" کے معنی ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ ان دو آیات کا ہدف سخاوت کرنے والے مومنین کو شوق دلانا اور اس معنی پر تاکیدی ہو کہ ہم انہیں مزید ہدایت کا مشمول قرار دیں گے، اور اس جہان میں بھی اور دوسرے جہان میں بھی راستہ کو ان پر آسان کر دیں گے، اور چونکہ دنیا و آخرت ہمارے ہی ملکیت ہے لہٰذا ہم اس کام کو انجام دینے کی قدرت رکھتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ زمانہ کے لحاظ سے دنیا آخرت پر مقدم ہے، لیکن اہمیت اور ہدف اصلی کے لحاظ سے مقصودِ اصلی آخرت ہے، اور اسی بناء پر اسے مقدم رکھا گیا ہے۔ اور چونکہ ہدایت کے شعبوں میں سے ایک خبردار کرنا اور ڈرانا ہے، لہٰذا بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے: اَب جب کہ یہ بات کہ میں تمہیں اس آگ سے ڈراتا ہوں جو شعلہ ور ہو گی "(فَأَنذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّى)۔ "تلظّٰی"، "لظٰی" (بروزن قضا) کے مادّہ سے، خالص شعلہ کے معنی میں ہے اور ہم جانتے ہیں کہ خالص شعلوں میں کو ہر قسم کے دُھوئیں سے خالی ہوں زیادہ گرمی اور حرارت ہوتی ہے۔ اور بعض اوقات لفظ "لظٰی" کا خود بھی اطلاق ہوتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: "تلظی" اصل میں "تتلظی" تھا، دو "تا" میں سے ایک "تا" تخفیف کے لئے گر گئی ہے)۔ اس کے بعد اس گروہ کی طرف، جو اس بھڑکتی ہوئی اور جلانے والی آگ میں داخل ہوں گے، اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "بدبخت ترین آدمی کے سوا اس میں کوئی بھی داخل نہیں ہو گا۔ (لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى)۔ اور اشقی کی توصیف میں فرماتا ہے: "وہی شخص جو آیات الٰہی کی تکذیب کرتا ہے اور ان سے پیٹھ پھیر لیتا ہے۔" (الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّى)۔ اس بناء پر خوش بختی و بختی کا معیار وہی کفر و ایمان ہے یا وہ عملی نتائج جو ان دونوں کے ہوتے ہیں، اور وہ واقعاً جو شخص ہدایت کی ان نشانیوں، اور ایمان و تقویٰ کے امکانات و وسائل کو نظر انداز کر دے تو وہ "اشقی" کا مصداق، اور بدبخت ترین شخص ہے۔ "الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّى" کے جملہ میں ممکن ہے کہ "تکذیب" تو کفر کی طرف اشارہ ہو، اور "تولی" اعمال صالح کے ترک کرنے کی طرف اشارہ ہو، کیونکہ کُفر کا لازمہ یہی ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ترک ایمان کی طرف اشارہ ہوں۔ اس طرح سے کہ پہلے تو پیغمبرؐ کی تکذیب کرتے ہیں، اور اس کے بعد پیٹھ پھیر کر ہمیشہ کے لئے اس سے دُور ہو جاتے ہیں۔ بہت سے مفسرین نے یہاں ایک اعتراض پیش کیا ہے اور اس کا جواب دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اُوپر والی آیات اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ جہنم کی آگ کفار کے ساتھ جہنم مخصوص ہے۔ یہ بات اس چیز کے مخالف ہے جو قرآن کی دوسری آیات اور مجموعہ روایات اسلامی سے معلوم ہوتی ہے کہ گنہگار مومن بھی جہنم کی آگ میں حصہ دار بنیں گے، لہٰذا منحرف گروہوں میں سے بعض نے، جو یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ ایمان کے ہوتے ہوئے کوئی گناہ ضرر نہیں پہنچاتا اُنہوں نے اپنے مقصود پر ان آیت سے استدلال کیا ہے۔ (اس گروہ کا نام "مرجئہ" ہے)۔ اس کے جواب میں دو نکتوں کی طرف توجہ کرانا چاہئیے: پہلا یہ کہ یہاں جہنّم میں ورود سے مراد وہی "خلود" ہمیشہ رہنا ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ خلود کفار کے ساتھ ہی مخصوص ہے۔ اِس بات کا قرینہ وہ آیات ہیں جو اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ غیرِ کفار بھی جہنم میں وارد ہوں گے۔ دوسرا یہ کہ اوپر والی آیات اور بعد والی آیات یہ کہتی ہیں کہ جہنم کی آگ سے دوری "اتقی" (زیادہ متقی افراد) سے مخصوص ہے، یعنی مجموعی طور پر وہ یہ چاہتا ہے کہ صرف دو گروہوں کی حالت بیان کرے: (۱) بےایمان بخیل گروہ اور (۲) زیادہ تقویٰ رکھنے والے سخاوت مند مومن۔ ان دونوں گروہوں میں سے صرف پہلا گروہ جہنم میں وارد ہو گا، اور دُوسرا گروہ بہشت میں داخل ہو گا، اور اس طرح سے تیسرے گروہ یعنی گنہگار مومنین کے بارے میں تو اصلا کوئی بات ہی نہیں ہوئی ہے۔ دُوسرے لفظوں میں یہاں "حصر"، "حصر اضافی" ہے۔ گویا جنّت صرف دوسرے گروہ کے لئے، اور جہنّم صرف پہلے گروہ کے لئے پیدا کی گئی ہے، اس بیان سے ایک دوسرے اعتراض کا جواب بھی، جو زیر بحث آیات اور ان آیندہ آنے والی آیات کے رابطہ سے ہوا ہے، جو نجات کو "اتقی" سے مخصوص کرتی ہیں، واضح ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد اس گروہ کے بارے میں گفتگو کرتا ہے جو اس جلانے والی شعلہ ور آگ سے دُور ہے، فرماتا ہے: "عنقریب سب سے زیادہ تقویٰ کرنے والا آدمی اس بھڑکتی ہوئی آگ سے دُور رکھا جائے گا۔" (وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى)۔ وہی آدمی جو اپنے مال کو راہ خدا میں انفاق کرتا ہے اور اس کا مقصد رضائے خدا کا حصول، تزکیہ نفس، اور اموال کو پاک کرنا ہوتا ہے، (الذالَّذِي يُؤْتِي مَالَهُ يَتَزَكَّى)۔ "یتزکٰی" کی تعبیر حقیقت میں قصدِ قربت اور نیتِ خالص کی طرف اشارہ ہے، چاہے یہ جملہ معنوی و رُوحانی رشد و نمو کے حصول کے معنی میں ہو یا اموال کی پاکیزگی کے حاصل کرنے کے معنی میں، کیونکہ "تزکیہ"، "نمو دینے" کے معنی میں بھی آیا ہے، اور "پاک کرنے" کے معنی میں بھی، سورہ توبہ کی آیہ ۱۰۳ میں آیا ہے: خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاَتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ: "ان کے اموال میں سے زکوٰة وصول کرلے تاکہ اس کے ذریعے تو انہیں پاک کرے اور ان کی پرورش کرے، اور (زکوٰة لیتے وقت) اس کے لئے دُعا کر کیونکہ تیری دعا ان کے سکون و آرام کا باعث ہے۔" اس کے بعد ان کے خلوصِ نیت کے مسئلہ پر، جو وہ خرچ کرنے میں رکھتے ہیں، تاکید کے لئے مزید فرماتا ہے: "کسی شخص کا اس کے اوپر حقِ نعمت نہیں ہے کہ اس انفاق کے ذریعے اس کی جزا دی جائے۔": (وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُ مِن نِّعْمَةٍ تُجْزَى)۔ بلکہ اس کا مقصد تو اپنے بزرگ و برتر پروردگار کی رضا حاصل کرنا ہے۔ (إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلَى)۔ دُوسرے لفظوں میں لوگوں کی درمیان بہت سے انفاق ایسے ہوتے ہیں جو ویسے ہی انفاق کا جواب ہوتے ہیں جو طرف مقابل کی طرف سے پہلے سے کئے ہوئے ہوتے ہیں، البتہ حق شناسی اور احسان کا احسان کے ساتھ جواب دینا ایک اچھا کام ہے، لیکن اس کا حساب پرہیز گاروں کے مخلصانہ انفاق سے جُدا ہے۔ اُوپر والی آیات کہتی ہیں کہ پرہیزگار مومنوں کا دُوسروں پر خرچ کرنا نہ تو ریا کاری کی وجہ سے ہوتا ہے، اور نہ ہی ان کی سابقہ خدمات کے جواب کے طور پر، بلکہ اس کا سبب صرف اور صرف خدا کی رضا کا حاصل کرنا ہوتا ہے اور یہی چیز ان انفاقوں کو حَد سے زیادہ قدر و منزلت عطا کرتی ہے۔ "وجہ" کی تعبیر یہاں "ذات" کی معنی میں ہے اور اس سے مراد اس کی پاک ذات کی رضا و خوشنودی ہے۔ "رَبِّهِ الْأَعْلَى" کی تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ انفاق پوری معرفت کے ساتھ صورت پذیر ہوتا ہے، اور اس حالت میں ہوتا ہے کہ وہ پروردگار کی ربوبیت سے بھی آشنا ہوتا ہے، اور اس کے مقامِ اعلیٰ سے بھی باخبر ہوتا ہے۔ ضمنی طور پر یہ استثناء ہر قسم کی انحرافی نیتوں کی بھی نفی کرتا ہے، مثلاً نیک نامی، لوگوں کی توجہ مبذول کرنے، اور معاشرے میں مقام و حیثیت وغیرہ حاصل کرنے کے لئے خرچ کرنا، کیونکہ اس کا مفہوم ان اموال کے انفاق کامحرک، پروردگار کی خوشنودی حاصل کرنے میں ہے۔ (تشریحی نوٹ: "إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلَى" کے جملہ میں استثناء، استثناء منقطع ہے، البتہ پہلی آیت میں ایک تقدیر ہے جو اس طرح ہے۔ (وما لاحد عندہ من نعمة تجزٰی فلاینفق مالہ لنعمة الا ابتغاء وجہ ربہ الاعلی)ٰ۔ کسی کا اس پر کوئی احسان نہیں ہے کہ اس کا بدلہ دیا جائے لہٰذا وہ اپنا مال کسی احسان کے بدلے میں خرچ نہیں کرتا مگر اپنے بزرگ و برتر پروردگار کی خوشنودی کے لئے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ یہ استثناء متصل ہو، ایک محذوف کو نظر میں رکھتے ہوئے اور تقدیر اس طرح ہو: لاینفق لنعمة عندہ ولا لغیر ذالک الاابتغاء وجہ ربہ الاعلیٰ (غور کیجئے))۔ انجام کار اس سورہ کی آخری آیت میں اس گروہ کی عظیم و بےنظیر جزاؤں کو پیش کرتے ہوئے ایک مختصر سے جملہ میں فرماتا ہے: "اور ایسا آدمی عنقریب راضی و خوشنود ہو جائے گا۔" (وَلَسَوْفَ يَرْضَى)۔ ہاں! جس طرح وُہ رضائے الٰہی خدا کے لئے کام کرتا ہے، خدا بھی اس کو راضی کرے گا، ایسی رضا جو مطلق اور بےمطلق اور بےقید و شرط ہو گی، ایسی رضا جو وسیع و غیر محدود ہو گی، ایسی پُر معنی رضا جس میں تمام نعمتیں جمع ہو گی، ایسی رضا جس کا تصّور کرنا بھی آج ہمارے لئے غیر ممکن ہے اور وہ کون سی نعمت ہو گی جو اس سے برتر بالاتر ہو گی۔ بعض مفسرین نے بھی یہی احتمال دیا ہے کہ "یرضیٰ" کی ضمیر خدا کی طرف لوٹتی ہے، یعنی عنقریب خدا اس گروہ سے راضی ہو جائے گا کہ وہ بھی ایک عظیم و بےنظیر انعام ہے کہ خدائے بزرگ اور پروردگارِ برتر اس قسم کے بندے سے راضی و خوشنود ہو جائے۔ وہ بھی ایسی رضا جو مطلق عظیم و بےقید و شرط ہو، اور یقینی طور پر اس رضائے الٰہی کے پیچھے اس باایمان اور باتقویٰ بندہ کی رضایت ہے، کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہیں جیسا کہ سُورہ بینہ کی آیہ ۸ میں آیا ہے، رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ، یا سورہ فجر کی آیہ ۲۸ میں آیا ہے، رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً، لیکن تفسیر اول زیادہ مناسب ہے۔

ایک نکتہ سورہٴ و اللیل کے شانِ نزول کے بارے میں ایک بات

فخر رازی: "مفسرین اہل سنت عموماً یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ "سَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى" میں "اتقی" سے مراد حضرت ابوبکر ہیں، اور شیعہ عام طور پر اس بات کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ (بحوالہ: "تفسیر فخر رازی" جلد ۳۱، صفحہ ۲۰۴)۔ اس کے بعد وہ اپنے مخصوص انداز میں تجزیہ کرتے ہوئے اس طرح کہتا ہے: امتِ اسلامی (عام اس سے کہ اہل سنت ہوں یا شیعہ)ٌ اس چیز پر اتفاق رکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد افضل ترین شخص یا ابو بکر ہے یا علیؑ، اور اس آیت کو علیؑ پر منطبق نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ قرآن اس فرد اتقیٰ کے بارے میں کہتا ہے: وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُ مِن نِّعْمَةٍ تُجْزَى کوئی شخص اس پر کوئی حق نہیں اور احسان نہیں رکھتا، کہ جس کی جزا دی جائے اور یہ صفت علی علیہ السلام پر تطبیق نہیں کرتی کیونکہ پیغمبرؐ ان پر حقِ نعمت رکھتے تھے، لیکن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہ صرف یہ کہ ابو بکر پر کوئی مادی حق نعمت نہیں رکھتے تھے، بلکہ اس کے برعکس وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر انفاق کرتے تھے اور حقِ نعمت رکھتے تھے! اس کا نتیجہ یہ بنتا ہے کہ "اتقیٰ" کا مصداق ابوبکر ہے، اور چونکہ اتقیٰ کا معنی سب لوگوں سے زیادہ پرہیز گار ہے، لہٰذا اس کی افضلیت ثابت ہے۔ (بحوالہ: "تفسیر قرطبی" جلد ۱۰، ص ۷۱۸۰)۔ اگرچہ ہم اس تفسیر کے مباحث میں، اس قسم کے مسائل میں وارد ہونے کی طرف زیادہ مائل نہیں ہیں لیکن بعض مفسرین کا اپنے پہلے سے کئے ہوئے فیصلہ کو قرآن کی آیات کے ذریعے ثابت کرنے پر اصرار اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ وہ ایسی تعبیریں کرنے لگے ہیں جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مرتبہ، اور بلند مقام کے لائق نہیں ہے۔ لہٰذا اسی سبب سے ہم بھی یہاں چند نکات کا ذکر کرتے ہیں۔ اولاً: یہ جو فخر رازی کہتا ہے کہ اہل سنت کا اس پر اجماع و اتفاق ہے کہ یہ آیت ابوبکر کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اس چیز کے برخلاف ہے جسے اہل سنت کے مشہور و معروف مفسرین نے صراحت کے ساتھ نقل کیا ہے، منجملہ "قرطبی" اپنی تفسیروں میں ابن عباسؓ سے ایک روایت میں نقل کرتا ہے کہ یہ سارا سورہ (سورہٴ للیل) "ابو الدحداح" کی شان میں نازل ہوا ہے۔ (جس کی داستان ہم نے سُورہ کے آغاز میں بیان کر دی ہے)۔ (بحوالہ: "تفسیر قرطبی" جلد ۱۰، ص ۷۱۸۰)۔ خاص طور پر جب وہ آیہ وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى پر پہنچتا ہے تو پھر دوبارہ کہتا ہے کہ اس سے مُراد "ابو الد حداح" ہے۔ اگرچہ اکثر مفسرین سے اس نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ (ان کے نزدیک) یہ ابو بکر کے بارے میں نازل ہوئی ہے، لیکن خود اس نے اس نظریہ کو قبول نہیں کیا۔ ثانیاً: جو اُس نے کہا ہے کہ شیعوں کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ آیت علی علیہ السلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے، ٹھیک نہیں ہے، کیونکہ بہت سے مفسرین نے وہی ابوالدحداح کی داستان ہی بیان کی ہے اور اُسے قبول کیا ہے۔ البتہ بعض روایات میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ "اتقی" سے مُراد ان کے پیروکار اور شیعہ ہیں اور الّذی یؤتی مالہ یتزکّٰی سے مراد امیر المومنین علی علیہ السلام، لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ باتیں شانِ نزول کا پہلو نہیں رکھتیں، بلکہ یہ واضح اور روشن مصداق کی تطبیق کی قبیل سے ہیں۔ ثالثاً: اس میں شک نہیں کہ اوپر والی آیت میں لفظ "اتقی" لوگوں میں سے زیادہ تقویٰ رکھنے والے کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ اس کا مفہوم وہی متقی ہونا ہے، اور اس بات کا واضح گواہ یہ ہے کہ اس کے مقابلہ میں "اشقی" لوگوں میں سے بدبخت ترین کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد وہ کافر ہیں جو انفاق سے بُخل کرتے تھے۔ علاوہ ازیں یہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جب کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زندہ تھے، تو کیا ابوبکر کو پیغمبر سے بھی مقدم رکھا جا سکتا ہے؟ پہلے سے کئے ہوئے فیصلوں اور ذہنیتوں کی بناء پر ایسی تعبیر کیوں کریں جو پیغمبرؐ تک کے مقامِ بلند کو بھی ضرب لگائیں۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ پیغمبرؐ کا معاملہ الگ ہے، تو پھر ہم کہتے ہیں کہ آیہ وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُ مِن نِّعْمَةٍ تُجْزَى میں ان کے معاملے کو کیوں الگ نہیں رکھا گیا اور علی علیہ السلام کو آیت کے مورد سے خارج کرنے کے لئے کیوں کہا گیا کہ چونکہ وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مادی نعمتوں کے مشمول ہیں لہٰذا وہ اس آیت میں داخل نہیں ہیں۔ رابعاً: ایسا کونسا آدمی ہے جس سے اس کی زندگی میں کسی نے محبت کی ہی نہ ہو اور کسی نے بھی نہ اسے ہدیہ دیا ہو نہ کبھی دعوت کی ہو۔ کیا واقعاً ایسا ہوا ہے کہ ابوبکر اپنی ساری عمر میں نہ تو کسی کی مہمانی پر گئے اور نہ ہی کبھی کسی کا کوئی ہدیہ قبول کیا اور نہ ہی کوئی اور دوسری مادی خدمت کس سے قبول کی کیا یہ چیز باور کرنے کے لائق ہے؟ نتیجہ یہ ہے کہ آیہ وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُ مِن نِّعْمَةٍ تُجْزَى سے مُراد یہ نہیں ہے کہ کسی بھی شخص کا اس پر کوئی حق نعمت ہے ہی نہیں، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ان سے انفاق کرنا کسی حق نعمت کی بناء پر نہیں ہے۔ یعنی اگر وہ کسی پر انفاق کرتے ہیں تو وہ صرف خدا کے لئے ہوتا ہے، نہ کہ وہ کسی خدمت کی بناء پر اسے اجر و پاداش دینا چاہتے ہیں۔ خامساً: اس سُورہ کی آیات اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ یہ سُورہ ایک ایسے ماجرے کے بارے میں، جس کے دو قطب ہیں، نازل ہوا ہے، ایک "اتقی" کے قطب میں تھا اور دوسرا "اشقی" کے قطب میں۔ اگر ہم "ابو الدحداح" کی داستان کو شانِ نزول سمجھیں تو مسئلہ حل شدہ ہے لیکن اگر ہم کہیں کہ مُراد ابوبکر تھے تو "اشقی" کی مشکل باقی رہ جاتی ہے کہ اس سے مُراد کون شخص ہے؟ شیعوں کو اس بات پر کوئی اصرار نہیں ہے کہ یہ آیت خصوصیت کے ساتھ علی علیہ السلام کے بارے میں ہے۔ ان کی شان میں آیات بہت زیادہ ہیں، لیکن اگر اس کی تطبیق علیؑ پر کی جائے تو "اشقی" کی مشکل حل ہے، کیونکہ سُورہ شمس کی آیہ ۱۲ (إِذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا) کے ذیل میں اہلِ سُنّت کے طرق سے کافی روایات نقل ہوئی ہیں کہ "اشقی" سے مراد علی بن ابی طالبؑ کا قاتل ہے۔ (ان روایات کو ، جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے، حاکم حسکانی نے شواہد التنزیل میں جمع کیا ہے)۔ خلاصہ یہ ہے کہ فخر رازی کی گفتگو اور اس آیت کے بارے میں اس کی تحلیل بہت ہی کمزور اور بہت سے اشتباہات پر مشتمل ہے۔ اسی لئے اہلِ سُنّت کے بعض مشہور مفسرین مثلاً آلوسی تک نے بھی رُوح المعانی میں اس تجزیہ کو پسند نہیں کیا، اور اس پر اعتراض کیا ہے، جیسا کہ وہ کہتا ہے: "و استدل بذالک الامام علی انہ (ابو بکر) افضل الامة و ذکر ان فی الاٰیات ما یأبی قول الشیعة انھا فی علی و أطال الکلام فی ذالک و اٰتی بما لایخلو عن قیل و قال: "امام فخر رازی نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ ابوبکر افضل اُمّت ہیں، اور مزید کہا ہے کہ آیات میں بعض قرائن ایسے ہیں جو شیعوں کے قول کے ساتھ سازگار نہیں ہیں۔ اور یہاں گفتگو کو طول دیا ہے اور ایسے مطالب بیان کئے ہیں جو قیل و قال (اور اشکال) سے خالی نہیں ہیں۔ (بحوالہ: روح المعانی، جلد ۳۰، ص ۱۵۳)۔

۲۔ انفاق فی سبیل اللہ کی فضیلت

راہِ خدا میں انفاق اور بخشش کرنا، محروم، خصوصاً آبرو مند لوگوں کی مالی امداد کرنا، جو خلوصِ نیّت سے لی ہوئی ہو، ایسے امور میں سے ہے جس کا قرآن مجید کی آیات میں بار بار ذکر ہوا ہے، اور اس کو ایمان کی نشانیوں سے لیا گیا ہے۔ اِس بارے میں اسلامی روایات بھی تاکید سے بھری ہوئی ہیں، یہاں تک کہ وُہ اِس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ اسلامی معاشرے اور تمدّن میں مالی انفاق کرنا، بشرطیکہ اس کا محرک پروردگار کی رضا کے علاوہ اور کچھ نہ ہو، اور وہ ہر قسم کی ریا کاری، احسان جتانے اور آزار سے خالی ہو، تو بہترین اعمال میں سے ہے۔ ہم اس بحث کو چند معنی خیز احادیث کے ذکر کے ساتھ مکمل کرتے ہیں۔ ۱۔ ایک روایت میں امام محمد باقر علیہ السلام سے آیا ہے: "ان احب الاعمال الی اللہ ادخال السرور علی المؤمن، شبعة مسلم او قضاء دینہ" "خدا کے نزدیک محبُوب ترین عمل ضرورت مند مومن کے دل کو خوش کرنا ہے، اس طرح سے کہ اُسے سیر کیا جائے یا اس کا قرض ادا کیا جائے۔ (بحوالہ: "بحار الانوار"، جلد ۷۴، حدیث ۳۵، ص ۳۶۵)۔ ۲۔ ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیا ہے: "من الایمان حسن الخلق، و اطعام الطعام، و اراقة الدماء": "حسنِ خلق، کھانا کھلانا، اور خون بہانا (راہِ خدا میں قربانی دینا) ایمان کے اجزاء میں سے ہیں۔ (بحوالہ: "وہی مدرک"، حدیث ۳٨)۔ ۳۔ ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "ما اری شیئاً یعدل زیارة المؤمن الا اطعامہ، وحق علی اللہ ان یطعم من اطعم مؤمناً من طعام الجنّة": "میرے نزدیک کوئی چیز مومن کے دیدار اور زیارت کے برابر نہیں ہے سوائے اس کو کھانا کھلانے کے۔ اور جو شخص کسی مومن کو کھانا کھلائے خدا پر لازم ہے کہ وہ اُسے جنّت کے کھانوں میں سے کھانا کھلائے۔" (بحوالہ: "اصول کافى"، جلد ۲، باب اطعام المؤمن، حدیث ۱۷)۔ ۴۔ ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے آیا ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سواری کی مہار پکڑ لی اور عرض کیا: اے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم! ای الاعمال افضل؟ تمام اعمال میں کون سا عمل افضل ہے۔" تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا: "اطعام الطعام، و اطیاب الکلام": "لوگوں کو کھانا کھلانا اور خوش کلام ہونا۔" (بحوالہ: "بحار الانوار"، جلد ۷۴، ص ۳۸۸، حدیث۱۱۳)۔ ۵۔ اور آخر میں ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہے: "من عال اھل بیت من المسلمین یومھم ولیلتھم غفر اللہ ذنوبہ": "جو شخص مسلمانوں کے کسی گھرانے کی ایک رات دن پذیرائی کرے تو خدا اس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔" (بحوالہ: "بحار الانوار"، جلد ۷۴، ص ۳۸۹، حدیث ۲)۔ خدا وندا! ہم سب کو توفیق دے تاکہ ہم اس عظیم کارِ خیر میں قدم رکھیں۔ پروردگارا! تمام اعمال میں ہمارے خلوص نیت میں اضافہ فرما۔ بار الہٰا! ہم تجھ سے دُعا کرتے ہیں کہ تو ہمیں اپنی نعمت و رحمت کا اس طرح سے مشمول قرار دے کہ تو بھی ہم سے خوش ہو اور ہم بھی خوش اور راضی ہوں۔ آمین یا ربّ العالمین

end of chapter
Al-Layl (92) — Tafseer e Namoona