Al-Falaq
سُورہ الفلق
یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۵ آیات ہیں۔
سُورہ "فلق" کے مطالب اور اس کی فضیلت
ایک جماعت کا نظریہ یہ ہے کہ یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا اگرچہ مفسّرین کی ایک دوسری جماعت اسے "مدنی" سمجھتی ہے۔ اِس سُورہ کے مطالب ایسی تعلیمات ہیں جو خدا نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو بالخصوص، اور سب مسلمانوں کو بالعموم، تمام اشرار کے شر سے، اس کی ذات پاک سے پناہ مانگنے کے سلسلہ میں دی ہیں تاکہ خود کو اس کے سپرد کر دیں اور اس کی پناہ میں ہر صاحب شر موجود کے شر سے امان میں رہیں۔ اِس سُورہ کے شانِ نزول کے بارے میں اکثر کتب تفاسیر میں کچھ روایات نقل ہوئی ہیں جن کے مطابق بعض یہودیوں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم پر جادو کر دیا تھا، جس سے آپ بیمار ہو گئے تھے۔ جبرئیل نازل ہوئے اور جس کنویں میں جادو کے آلات چھپائے ہوئے تھے۔ اُس جگہ کی نشان دہی کی، اسے باہر نکالا گیا، پھر اس سورہ کی تلاوت کی تو پیغمبرؐ کی حالت بہتر ہو گئی۔ لیکن مرحوم طبرسی اور بعض دوسرے محقیقن نے اس قسم کی روایات کو، جن کی سند صرف "ابن عباس" اور عائشہ تک منتہی ہوتی ہے، قابل اعتراض سمجھا ہے اور درست قرار نہیں دیا، کیونکہ: اوّلاَ۔ یہ سُورہ مشہور قول کے مطابق مکّی ہے اور اس کا لب و لہجہ بھی مکّی سورتوں والا ہے، جب کہ پیغمبرؐ کا یہودیوں سے واسطہ مدینہ میں پڑا اور خود یہی بات اس قسم کی روایات کی عدم اصالت کی ایک دلیل ہے۔ دوسری طرف اگر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم پر جادوگر اتنی آسانی کے ساتھ جادو کر لیا کریں کہ وہ بیمار پڑ جائیں اور بستر علالت پر دراز ہو جائیں تو پھر یہ بھی ممکن ہے کہ وہ آپ کو آپ کے عظیم ہدف اور مقصد سے آسانی روک دیں۔ مسلّمہ طور پر وہ خدا جس نے آپ کو اس قسم کی ماموریت اور عظیم رسالت کے لیے بھیجا ہے، وہ آپ کو جادوگروں کے جادو کے نفوذ سے بھی محفوظ رکھے گا تاکہ نبوت کا بلند مقام ان کے ہاتھ میں بازیجہ اطفال نہ بنے۔ سوم اگر یہ مان لیا جائے کہ جادو پیغمبرؐ کے جسم میں اثر انداز ہو سکتا ہے، تو پھر ممکن ہے کہ لوگوں کے ذہن میں یہ وہم پیدا ہو جائے کہ جادو آپ کی رُوح میں بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، اور یہ ممکن ہے کہ آپ کے افکار جادوگروں کا شکار ہو جائے۔ یہ معنی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم پر اعتماد کی اصل کو عام لوگوں کے افکار میں متزلزل کر دیں گے۔ اس لیے قرآن مجید اس معنی کی نفی کرتا ہے کہ پیغمبرؐ پر جادو کیا گیا ہو، فرماتا ہے: "وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًاo انظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا"، "اور ظالموں نے کہا تم ایک سحر زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو، دیکھو تو سہی! تیرے لیے انہوں نے کیسی کیسی مثالیں بیان کی ہیں اور ایسے گمراہ ہوئے ہیں کہ راستہ پا ہی نہیں سکتے۔" (فرقان ۔۸ ،۹)۔ "مسحور" چاہے یہاں اس شخص کے معنی میں ہو جس پر عقلی لحاظ سے جادو کیا گیا ہو یا اس کے جسم پر، دونوں صورتوں میں ہمارے مقصود پر دلالت کرتا ہے۔ بہرحال، ایسی صورت مشکوک روایات کے ساتھ مقامِ نبوت کی قدرت پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی فہمِ آیات کے لیے ان پر تکیہ کیا جا سکتا ہے۔ اس سُورہ کی فضیلت میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے نقل ہوا ہے، آپؐ نے فرمایا: "انزلت علی آیات لم ینزل مثلھن: المعوذتان:" "مُجھ پر ایسی آیتیں نازل ہوئی ہیں کہ ان کی مثل اور مانند اور نازل نہیں ہوئیں، اور وہ دو سورتیں "فلق" اور "ناس" ہیں۔" (بحوالہ: "نور الثقلین" جلد ۵، ص ۷۱۶ و "مجمع البیان" جلد ۱۰، ص ۵۶۷)۔ ایک اور حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے آیا ہے: "جو شخص نمازِ وتر میں سورہ "فلق"، "ناس" اور "قل ھو اللہ احد" کو پڑھے گا، تو اس کو یہ کہا جائے گا کہ اے بندۂ خدا تجھے بشارت ہو، خدا نے تیری نمازِ وتر قبول کر لی ہے۔" (بحوالہ: "نور الثقلین" جلد ۵، ص ۷۱۶ و "مجمع البیان" جلد ۱۰، ص ۵۶۷)۔ ایک اور روایت میں پیغمبر اکرمؐ سے بھی آیا ہے کہ آپؐ نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا: "کیا تو چاہتا ہے کہ میں تجھے ایسی دو سورتوں کی تعلیم دوں جو قرآن کی سورتوں میں سب سے زیادہ افضل و برتر ہیں؟" اس نے عرض کیا: ہاں! اے رسول اللہؐ۔ تو حضرت نے اُسے معوذتین (سورہ فلق و ناس) کی تعلیم دی۔ اس کے بعد ان دونوں کی نمازِ صبح میں قرأت کی اور اس سے فرمایا، جب تو بیدار ہو یا سونے لگے تو ان کو پڑھا کر۔ (بحوالہ: "نور الثقلین" جلد ۵، ص ۷۱۶ و "مجمع البیان" جلد ۱۰، ص ۵۶۷)۔ یہ بات واضح ہے کہ یہ سب کچھ ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنی رُوح و جان اور عقیدہ و عمل کو اس کے مطالب کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 17تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 17تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 17تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر میں سپیدہ صبح کے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں۔
Tafsīr Nemūna · Vol. 17قرآن اس سورہ کی پہلی آیت میں خود پیغمبرؐ کو ایک نمونہ اور پیشوا کے عنوان سے اس طرح حکم دیتا ہے: کہہ دیجئے، میں سفیدۂ صبح کے پروردگار سے پناہ مانگتا ہوں جو رات کی سیاہی کو چیر دیتا ہے۔ (قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ)۔ ان تمام چیزوں کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہیں۔ (مِن شَرِّ مَا خَلَقَ)۔ تمام شریر موجودات کے شر سے، شریر انسانوں سے، جنوں، حیوانات، شر کے پیش آنے والے واقعات اور نفسِ امّارہ کے شر سے۔ "فلق" (بر وزنِ شفق) "فلق" (بر وزنِ خلق) کے مادّہ سے اصل میں کسی چیز میں شگاف کرنے اور ایک کو دوسرے سے جدا کرنے کے معنی میں ہے، اور چونکہ سفیدۂ صبح کے پھوٹنے کے وقت رات کا سیاہ پردہ چاک ہو جاتا ہے، لہٰذا یہ لفظ طلوعِ صبح کے معنی میں استعمال ہوا۔ جیسا کہ "فجر" کا بھی اسی مناسبت سے طلوعِ صبح پر اطلاق ہوتا ہے۔ بعض اسے تمام موالید اور تمام زندہ موجودات کے معنی میں سمجھتے ہیں، چاہے وہ انسان ہو یا حیوان و نباتات، کیونکہ ان موجودات کا پیدا ہونا، جو دانہ یا گٹھلی وغیرہ کے شگافتہ ہونے سے صورت پذیر ہوتا ہے، وجود کے عجیب ترین مراحل میں سے ہے اور حقیقت میں تولد کے وقت اس موجود میں ایک عظیم تحرک رونما ہوتا ہے اور وہ ایک عالم سے دوسرے عالم میں قدم رکھتا ہے۔ سورۂ انعام کی آیہ ۹۵ میں آیا ہے: "إِنَّ اللّهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَى يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَيِّ"، "خدا دانہ اور گٹھلی کا شگافتہ کرنے والا ہے، جو زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے خارج کرتا ہے۔" بعض نے "فلق" کے مفہوم کو اس سے بھی زیادہ وسیع معنی میں لیا ہے اور اس کا ہر قسم کی آفرینش و خلقت پر اطلاق کیا ہے، کیونکہ ہر موجود کی آفرینش و خلقت سے عدم کا پردہ چاک ہو جاتا ہے، اور وجود کا نور ظاہر و آشکار ہو جاتا ہے۔ ان تینوں معانی (طلوعِ صبح، زندہ موجودات کا تولد، اور ہر موجود کی خلقت و آفرینش) میں سے ہر ایک عجیب و غریب وجود میں آنے والی چیز ہے جو پروردگار اور اس کے خالق و مدبر کی عظمت کی دلیل ہے، اور اس وصف کے ساتھ خدا کی توصیف ایک عمیق مفہوم و مطلب رکھتی ہے۔ بعض احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ: "فلق" دوزخ میں ایک کنواں یا زندان ہے، اور وہ جہنم کے وسط میں ایک شگاف کی مانند دکھائی دیتا ہے۔ یہ روایت ممکن ہے اس کے مصادیق میں سے ایک مصداق کی طرف اشارہ ہو، لیکن یہ "فلق" کے وسیع مفہوم کو محدود نہیں کرتی۔ "مِن شَرِّ مَا خَلَقَ" کی تعبیر کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ آفرینش و خلقتِ الٰہی اپنی ذات میں کوئی شر رکھتی ہے کیونکہ آفرینش و خلقت تو ایک ایجاد ہی ہے، اور ایجادِ وجود خیرِ محض ہے، قرآن کہتا ہے: الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ "وہی خدا جس نے ہر چیز کو بھی پیدا کیا بہتر اور زیادہ سے زیادہ اچھا کر کے پیدا کیا" (السجدہ: ۷)۔ بلکہ شر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مخلوقات قوانینِ آفرینش سے منحرف ہو جائیں اور معینہ راستے سے الگ ہو جائیں۔ مثلاً ڈنک مارنے والے جانوروں کے کاٹنے والے دانت ایک دفاعی حربہ ہیں، جنہیں وہ اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں استعمال کرتے ہیں۔ اب اگر یہ ہتھیار اپنے موقع و محل پر ہوں تو خیر ہی خیر ہیں، لیکن اگر یہ بےموقع اور دوست ہی کے مقابلہ میں استعمال ہونے لگیں تو پھر شر اور برائی ہیں۔ بہت سے ایسے امور ہیں، جنہیں ہم ظاہر میں شر سمجھتے ہیں، لیکن وہ باطن میں خیر ہیں، مثلاً بیدار کرنے والے اور ہوشیار و خبردار کرنے والے حوادث، بلائیں اور مصائب، جو انسان کو خوابِ غفلت سے بیدار کر کے خدا کی طرف متوجہ کرتے ہیں، یہ مسلمہ طور پر شر نہیں ہیں۔ اس کے بعد اس مطلب کی توضیح و تفسیر میں مزید کہتا ہے: "اور ہر مزاحمت کرنے والے موجود کے شر سے جب کہ وہ وارد ہوتا ہے۔" (وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ)۔ "غاسق"، "غسق" (بر وزنِ شفق) کے مادّہ سے، "مفردات" میں "راغب" کے قول کے مطابق، رات کی ظلمت کی اس شدّت کے معنی میں ہے جو آدھی رات کے وقت ہوتی ہے، اسی لیے قرآنِ مجید نمازِ مغرب کے اختتام کے وقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: اِلٰی غَسَقِ اللَّیْلِ، اور یہ جو لغت کی بعض کتابوں میں "غسق" کی آغازِ شب کی تاریکی کے معنی میں تفسیر ہوئی ہے، بعید نظر آتا ہے، خصوصاً جب کہ اس کا اصلی ریشہ اور جڑ، امتلاء (پُر ہونے) اور بہنے کے معنی میں ہے، اور مسلمہ طور پر رات کی تاریکی اس وقت زیادہ یعنی پُر اور لبریز ہوتی ہے جب آدھی رات ہو جائے۔ اس کے مفاہیم میں سے ایک، جو اس معنی کا لازمہ ہے، ہجوم کرنا اور حملہ آور ہونا ہے، اس لیے یہ اس معنی میں بھی استعمال ہوا ہے۔ اس بناء پر زیرِ بحث آیت میں "غاسق" کا معنی یا تو حملہ کرنے والا شخص ہے، یا ہر وہ شریر موجود ہے جو حملہ کرنے کے لیے رات کی تاریکی سے فائدہ اُٹھاتا ہے، کیونکہ نہ صرف درندے اور ڈنک مارنے والے جانور ہی رات کے وقت اپنے بلوں اور ٹھکانوں سے باہر نکل آتے ہیں، بلکہ شریر و ناپاک اور پلید افراد بھی اپنے بُرے مقاصد کے لیے عام طور پر رات کی تاریکی سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ "وقب" (بر وزنِ شفق) "وقب" (بر وزنِ نقب) کے مادّہ سے گڑھے اور خندق کے معنی میں ہے۔ اس کے بعد اس کا فعل گڑھے میں داخل ہونے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ گویا شریر اور نقصان پہنچانے والے موجودات رات کی تاریکی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے نقصان پہنچانے والے گڑھے کھود کر اپنے پلید اور گندے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے اقدام کرتے ہیں۔ یا یہ ہے کہ یہ تعبیر "نفوذ کرنے" کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "اور ان کے شر سے جو گِرہوں میں دم کرتے ہیں۔" (وَمِن شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ)۔ "نفاثات"، "نفث" (بر وزنِ حبس) کے مادّہ سے اصل میں تھوڑی سی مقدار میں تھوکنے کے معنی میں ہے۔ اور چونکہ یہ کام پھونک مارنے کے ساتھ انجام پاتا ہے، لہٰذا "نفث"، "نفخ" (پھونکنے اور دم کرنے) کے معنی میں آیا ہے۔ لیکن بہت سے مفسرین نے "نفاثات" کی "جادوگر عورتوں" کے معنی میں تفسیر کی ہے۔ (نفاثات جمع مؤنث ہے اور اس کا مفرد "نفاثہ"، "نفث" کے مادّہ سے صیغۂ مبالغہ ہے) وُہ عورتیں کچھ اوارد پڑھتی تھیں اور گرہوں پر دم کیا کرتی تھیں اور اس طرح سے وہ جادو کرتی تھیں، لیکن کچھ لوگ اسے وسوسے پیدا کرنے والی عورتوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں، جو مسلسل مردوں کے، خصوصاً جو اپنے شوہروں کے کان بھرتی رہتی تھیں، تاکہ مثبت کاموں کے انجام دینے میں ان کی آہنی عزم کو کمزور کر دیں۔ اور اس قسم کی عورتوں کے وسوسوں نے طولِ تاریخ میں کیسے کیسے حوادث پیدا کیے، کیسی کیسی آگ بھڑکائی، اور کیسے کیسے استوار و مضبوط ارادوں کو کمزور کر کے رکھ دیا۔ "فخر رازی" کہتا ہے: عورتیں مردوں کے دلوں میں اپنی محبت کے نفوذ کی بنا پر تصرف کر لیتی ہیں۔ یہ معنی ہمارے زمانہ میں ہر وقت سے زیادہ ظاہر ہے، کیونکہ دنیا کے سیاست دانوں میں جاسوسوں کے نفوذ کرنے کا ایک اہم ترین ذریعہ جاسوسہ عورتوں سے فائدہ اٹھانا ہے، کیونکہ ان "نفاثات فی العقد" کے ذریعے پوشیدہ بھیدوں کے صندوقوں کے تالے کھل جاتے ہیں اور وہ انتہائی مرموز اور پوشیدہ مسائل سے باخبر ہو جاتی ہیں، اور انھیں دشمن کے حوالے کر دیتی ہیں۔ بعض نے نفاثات کی "نفوسِ شریرہ" یا "وسوسے پیدا کرنے والی جماعتوں" کے ساتھ بھی تفسیر کی ہے جو اپنے مسلسل پروپیگنڈوں کے ذریعے پختہ ارادوں کی گرہوں کو کمزور کر دیتے ہیں۔ بعید نہیں ہے کہ یہ آیت ایک عام اور جامع مفہوم رکھتی ہو جو ان تمام معانی کو شامل ہو، یہاں تک کہ سخن چینی کرنے والوں اور چغل خوروں کی باتوں کو بھی، جو محبت کے مراکز کو سست، کمزور اور ویران کر دیتے ہیں۔ البتہ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ سابقہ شانِ نزول سے قطعِ نظر، آیت میں کوئی ایسی نشانی موجود نہیں ہے کہ اس سے خصوصیت کے ساتھ جادوگروں کا جادو مراد ہو، اور بالفرض اگر ہم آیت کی اس طرح تفسیر بھی کریں، تو بھی یہ اس شانِ نزول کی صحت پر دلیل نہیں ہو گی۔ بلکہ یہ اس بات کی دلیل ہو گی کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم جادوگروں کے شر سے خدا کی پناہ مانگ رہے ہیں، ٹھیک اسی طرح جیسے صحیح و سالم افراد سرطان کی بیماری سے پناہ مانگتے ہیں، چاہے وہ ہرگز بھی اس میں مبتلا نہ ہوئے ہوں۔ اس سُورہ کی آخری آیت میں فرماتا ہے: "اور ہر حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔" (وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ)۔ یہ آیت اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ حسد بدترین اور قبیح ترین صفاتِ رذیلہ میں سے ہے، کیونکہ قرآن نے اسے درندہ جانوروں، ڈسنے والے سانپوں اور وسوسے ڈالنے والے شیاطین کے کاموں کے ساتھ قرار دیا ہے۔
چند نکات ۱- شر و فساد کے اہم ترین سرچشمے
اس سورہ کے آغاز میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ وہ تمام شریر مخلوقات کے شر سے خدا کی پناہ مانگیں، اس کے بعد اس کی وضاحت میں تین قسم کے شروں کی طرف اشارہ کرتا ہے: ۱۔ ان تاریک دل حملہ کرنے والوں کے شر سے جو تاریکیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حملہ آور ہوتے ہیں۔ ۲۔ ان وسوسہ پیدا کرنے والوں کے شر سے جو اپنی باتوں اور برے پروپیگنڈوں سے، ارادوں، ایمانوں، عقیدوں، محبتوں اور رشتوں کو سست اور کمزور کر دیتے ہیں۔ ۳۔ اور حسد کرنے والوں کے شر سے۔ اس اجمال و تفصیل سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ بڑے بڑے شرور و آفات کا سرچشمہ یہی ہیں، اور شر و فساد کے اہم ترین منابع یہی تینوں ہیں۔ اور یہ بات بہت ہی پُرمعنی اور قابلِ غور ہے۔
۲۔ آیات کا تناسب
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اس سورہ کی پہلی آیت میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ شر والی تمام موجودات کے شر سے "فلق" کے پروردگار سے پناہ مانگ۔ "ربِّ فلق" کا انتخاب شاید اس بناء پر ہے کہ شریر موجودات، سلامتی و ہدایت کے نور اور روشنی کو منقطع کر دیتے ہیں، لیکن فلق کا پروردگار ظلمتوں اور تاریکیوں کو شگافتہ کرنے والا ہے۔
۳۔ جادو کی تاثیر
ہم نے پہلی جلد میں، سُورہ بقرہ کی آیہ ۱۰۲ و ۱۰٣ کے ذیل میں، گزشتہ اور موجودہ زمانہ میں جادو کی حقیقت کے بارے میں، اور اسلام کی نظر میں جادو کے حکم، اور اس کے اثر کرنے کی کیفیت کے سلسلے میں تفصیلی بحث کی ہے۔ اور ان مباحث میں ہم نے جادو کی تاثیر کو اجمالی طور پر قبول کیا ہے، لیکن اس صُورت میں نہیں، جیسا کہ خیالی پلاؤ پکانے والے، اور بیہودہ لوگ اس کے بارے میں باتیں کرتے ہیں۔ زیادہ وضاحت کے لئے اسی بحث کی طرف رجوع کریں۔ لیکن وہ نکتہ جس کا ذکر کرنا یہاں ضروری ہے یہ ہے کہ اگر وہ زیرِ بحث آیات میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو یہ حکم دے رہا ہے کہ جادوگروں کے جادو یا اس کے مانند چیزوں سے خدا کی پناہ مانگو تو اس کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ پیغمبرؐ پر انہوں نے جادو کر دیا تھا۔ بلکہ اس کی ٹھیک مثال یہ ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم ہر قسم کی غلطی اور خطا و گناہ سے بھی خدا کی پناہ مانگتے تھے یعنی خدا کے لطف سے استفادہ کرتے ہوئے ان خطرات سے بچے رہیں۔ اور اگر خدا کا لُطف نہ ہوتا تو آپ پر جادو کے اثر کرنے کا امکان تھا۔ یہ بات تو ایک طرف رہی۔ دُوسری طرف ہم پہلے ہی یہ بیان کر چکے ہیں کہ اس بات کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے کہ "النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ" سے مُراد جادوگر ہوں۔
۴۔ حاسدوں کا شر
"حسد" ایک بُری شیطانی عادت ہے جو مختلف عوامل جیسے ایمان کی کمزوری، تنگ نظری اور بُخل کی وجہ سے انسان میں پیدا ہو جاتی ہے، اور اس کا مطلب دوسرے شخص کی نعمت کے زوال کی درخواست اور آرزو کرنا ہے۔ حسد بہت سے گناہانِ کبیرہ کا سرچشمہ ہے۔ حسد، جیسا کہ روایات میں وارد ہوا ہے، انسان کے ایمان کو کھا جاتا ہے اور اُسے ختم کر دیتا ہے، جیسا کہ آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔ جیسا کہ امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: "إن الحسد ليأكل الإيمان كما تأكل النار الحطب" (بحوالہ: "بحار الانوار" جلد ٧٣، ص ۲٣٧)۔ ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے: "آفۃ الدین الحسد والعجب والفخر" "حسد" خٗود کو بڑا سمجھنا اور ایک دوسرے پر "فخر" کرنا، دین کے لئے آفت ہے۔ (بحوالہ: "بحار الانوار" جلد ٧٣، ص ۲٣٧)۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حسد کرنے والا حقیقت میں خدا کی حکمت پر اعتراض کرتا ہے کہ اس نے کچھ افراد کو نعمت سے کیوں نوازا ہے؟ اور انہیں اپنی عنایت کا مشمول کیوں قرار دیا ہے؟ جیسا کہ سورۂ نساء کی آیہ ۵۴ میں آیا ہے: "أم يحسدون الناس على ما آتاهم الله من فضله۔" حسد کا معاملہ ممکن ہے کہ اس حد تک پہنچ جائے کہ محسود سے نعمت کے زوال کے لیے حاسد خود کو پانی اور آگ میں ڈال کر نابود کر لے، جیسا کہ اس کے نمونے داستانوں اور تواریخ میں مشہور ہیں۔ حسد کی مذمت میں بس یہی کافی ہے کہ دنیا میں جو سب سے پہلا قتل ہوا وہ "قابیل" کی طرف سے "ہابیل" پر حسد کرنے کی وجہ سے ہوا تھا۔ "حسد کرنے والے" ہمیشہ ہی انبیاء و اولیاء کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتے رہے ہیں، اسی لیے قرآن مجید پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو یہ حکم دے رہا ہے کہ وہ حاسدوں کے شر سے خدا اور ربِّ فلق سے پناہ مانگیں۔ اگرچہ اس سورہ میں اور بعد والے سورہ میں خُود پیغمبرؐ کی ذات مخاطب ہے، لیکن مسلّمہ طور پر اس سے نمونہ اور اسوہ مراد ہے، اور سب لوگوں کو حاسدوں کے شر سے خدا کی پناہ مانگنی چاہیے۔ خداوندا! ہم بھی حاسدوں کے شر سے تیری مقدس ذات سے پناہ مانگتے ہیں۔ پروردگارا! ہم تجھ سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ تو ہمیں بھی دوسروں پر حسد کرنے سے محفوظ رکھ۔ بارالہٰا! ہمیں "نَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَد" اور راہِ حق میں وسوسے ڈالنے والوں کے شر سے بھی محفوظ رکھ۔ آمین یا رب العالمین