Sūra 64 · 18v
Chapter 6418 verses

At-Taghabun

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
التغابن
التغابن

سورۂ تغابن

یہ سورہ مدینہ میں نازل ہوئی اس میں ۱۸ آیات ہیں۔

سورۂ تغابن کے مضامین و مطالب

اس بارے میں کہ یہ سورہ مدینہ میں نازل ہوا ہے یا مکہ میں، مفسرین کے درمیان سخت اختلاف ہے۔ اگرچہ اس کا مدنی ہونا مشہور ہے، جبکہ بعض اس کو سارا مکّی، بعض اس کی صرف تین آخری آیات کو مدنی اور باقی سورہ کو مکی جانتے ہیں۔ یقیناً اس سورہ کی آخری آیات کا لب و لہجہ مدنی سورتوں کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے، لیکن اس کا درمیانی حصہ مکی سورتوں کے ساتھ زیادہ موافق ہے۔ بہرحال ہم اسے مجموعی طور پر اس کی شہرت کے مطابق مدنی قرار دیتے ہیں۔ "ابو عبد اللہ زنجانی" اپنی نفیس کتاب "تاریخ القرآن" میں فہرستِ "ابنِ ندیم" سے نقل کرتا ہے کہ سورہ تغابن تیسواں سورہ ہے جو مدینہ میں نازل ہوا۔ لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ مدنی سورتیں کُل اٹھائیس ہیں، یہ کہنا پڑے گا کہ یہ ان آخری سورتوں میں سے ہے جو پیغمبر پر نازل ہوئیں۔ [بحوالہ: "تاریخ القرآن"، ص ۵۴، ۶۱]۔ تاہم مضامین و مطالب کے لحاظ سے اس سورہ کو چند حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: ۱: سورہ کا آغاز، جو توحید اور خدا کی صفات و افعال سے بحث کرتا ہے۔ ۲: اس کے بعد یہ سورہ علمِ خدا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں کو خبردار کرتا ہے کہ وہ اپنے پوشیدہ اور آشکار اعمال کے نگران رہیں اور گزشتہ اقوام کی سرنوشت کو فراموش نہ کریں۔ ۳: سورہ کا تیسرا حصہ معاد کے بارے میں گفتگو کرتا ہے۔ گویا کہ روزِ قیامت "یوم التغابن" یعنی ایک گروہ کے خسارے میں ہونے اور ایک گروہ کے بڑھ جانے کا دن ہے (سورہ کا نام بھی اسی سے لیا گیا ہے)۔ ۴: ایک حصے میں خدا اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی اطاعت کا حکم دیتا ہے اور اس طرح اصلِ نبوت کی بنیادوں کو استحکام بخشتا ہے۔ ۵: سورہ کا آخری حصہ لوگوں کو راہِ خدا میں خرچ کرنے کا شوق دلاتا ہے اور مال، اولاد اور بیویوں کے فریب میں آنے سے ڈراتا ہے، پھر سورہ کو خدا کے نام اور اس کی صفات پر ختم کرتا ہے، جیسا کہ آغاز کیا تھا۔

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت

رسول خدا ص کی ایک حدیث میں آیا ہے: "من قراء سورۃ التغابن دفع عنہ موت الفجاۃ" "جو شخص سورہ تغابن پڑھے گا اس سے ناگہانی موت دور ہو جائے گی۔" [بحوالہ: مجمع البیان، جلد 10، ص 296] ایک حدیث میں امام صادق ع سے آیا ہے: "من قراء سورۃ التغابن فی فریضتہ کانت شفیعۃ لہ یوم القیامۃ و شاھد عدل عند من یجیز شھادتھا ثم لاتفارقہ حتی یدخل الجنۃ" "جو شخص سورہ تغابن کو اپنی فریضہ نماز میں پڑھے گا وہ قیامت کے دن اس کی شفاعت کرے گی اور اس ہستی کے سامنے ایک ایسی شاہد عادل ہو گی جس نے اس کی شفاعت کی اجازت دی ہے۔ پھر اس سے الگ نہیں ہو گی یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہو جائے۔" [بحوالہ: مجمع البیان، جلد 10، ص 296] ظاہر ہے اس کی تلاوت کو غور و فکر کے ہمراہ ہونا چاہیے۔ ایسی فکر جو اس کے مضامین و مطالب کو عمل میں منعکس کرے تاکہ قاری پر یہ تمام آثار و برکات مرتب ہوں۔ ****

1
64:1
يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۖ لَهُ ٱلۡمُلۡكُ وَلَهُ ٱلۡحَمۡدُۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ
جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں وہ اللہ کی تسبیح کر تے ہیں۔ مالکیت اور حکومت بھی اسی کے لئے ہے اور حمد و ستائش بھی اسی کے لئے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
64:2
هُوَ ٱلَّذِي خَلَقَكُمۡ فَمِنكُمۡ كَافِرٞ وَمِنكُم مُّؤۡمِنٞۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٌ
اسی نے تم کو پیدا کیا ہے ( اور تمہیں آزادی اور اختیار دیا ہے) پس تم میں سے ایک گروہ تو کافر ہے اور ایک گروہ مومن اور اللہ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
64:3
خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ بِٱلۡحَقِّ وَصَوَّرَكُمۡ فَأَحۡسَنَ صُوَرَكُمۡۖ وَإِلَيۡهِ ٱلۡمَصِيرُ
اس (اللہ) نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اور تمہیں صورت عطا کی اور تمہاری بہترین صورت بنائی اور آخر میں سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
64:4
يَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَيَعۡلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعۡلِنُونَۚ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ
جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اسے جانتا ہے اور جو کچھ تم پہناں یا آشکار کر تے ہو وہ اس سے با خبر ہے اور جو کچھ دل میں ہے اللہ اس سے آگاہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
64:5
أَلَمۡ يَأۡتِكُمۡ نَبَؤُاْ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَبۡلُ فَذَاقُواْ وَبَالَ أَمۡرِهِمۡ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ
کیا ان (کافر) لوگوں کی خبر جو تم سے پہلے تھے تم تک نہیں پہنچی کہ انہوں نے اپنے گناہوں کا مزہ کس طرح چکھا، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
64:6
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُۥ كَانَت تَّأۡتِيهِمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ فَقَالُوٓاْ أَبَشَرٞ يَهۡدُونَنَا فَكَفَرُواْ وَتَوَلَّواْۖ وَّٱسۡتَغۡنَى ٱللَّهُۚ وَٱللَّهُ غَنِيٌّ حَمِيدٞ
یہ اس بناء پر ہوا کہ ان کے رسول واضح دلائل کے ساتھ ان کے پاس آئے تھے، لیکن انہوں نے کہا: کیا افراد بشر ہمیں ہدایت کر نا چاہتے ہیں اور اس طرح سے وہ کافر ہو گئے ، اور انہوں نے روگردانی کی اور اللہ (ان کی اطاعت سے ) بے نیاز تھا ، اور اللہ غنی اور لائق حمد و ستائش ہے۔

تفسیر: وہ دلوں میں چھپے ہُوئے اسرار سے آگاہ ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

اس سورہ کا بھی تسبیحِ خدا سے آغاز ہوتا ہے۔ وہ خدا جو کل جہانِ ہستی کا مالک اور اس پر حاکم ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، فرماتا ہے: "جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، خدا کی تسبیح کرتا ہے" (يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ)۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "مالکیت اور حاکمیت اسی کے لیے ہے" (لَهُ الْمُلْك)۔ "اور (اسی بنا پر) تمام حمد و ستائش کی بازگشت اسی کی پاک ذات کی طرف ہے" (وَلَهُ الْحَمْدُ)۔ "اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے" (وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ)۔ چونکہ ہم تمام موجوداتِ عالم کی تسبیحِ عمومی کے بارے میں بارہا بیان کر چکے ہیں اور متعدد تفاسیر، جو اس موضوع کے بارے میں بیان ہوئی ہیں، انہیں ہم نقل کر چکے ہیں، اس لیے تکرار کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ تسبیح اور حمد حقیقت میں اس کے ہر چیز پر قادر ہونے اور ہر چیز کے اس کی ملکیت ہونے کا لازمہ ہے، کیونکہ اس کے تمام اوصافِ جمال و جلال انہیں دو امور میں چھپے ہوئے ہیں۔ **** اس کے بعد امرِ خلقت و آفرینش کی طرف، جو قدرت کا لازمہ ہے، اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے" (هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ)۔ اور تمہیں آزادی اور اختیار کی نعمت عطا کی، اس لیے تم میں سے ایک گروہ مومن اور ایک گروہ کافر ہو گیا" (فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَمِنْكُمْ مُؤْمِنٌ)۔ [تشریحی نوٹ: "فَـ" تفریع کا ذکر یہاں اس لیے نہیں ہے کہ (ایمان و کفر بھی اللہ کی مخلوق ہیں)، بلکہ یہ اس بناء پر ہے کہ خلقت کے بعد اس نے انسان کو ارادہ کی آزادی دی ہے اور اس کا لازمہ یہ ہے کہ کافر و مؤمن دو گروہ پیدا ہوئے]۔ اس طرح سے خدائی امتحان اور آزمائش کا بازار گرم ہو گیا اور اس اثناء میں "جو عمل بھی تم انجام دیتے ہو، خدا اسے دیکھتا ہے۔" (وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ)۔ **** اس کے بعد مسئلہ "خلقت" کو مزید وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہوئے اور خلقت و آفرینش کے ہدف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، بعد والی آیت میں فرماتا ہے: "خدا نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔" (خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ)۔ اس کی خلقت میں بھی حق اور ایک دقیق نظام ہے اور اس میں حکیمانہ ہدف اور حق پر مبنی مصلحتیں بھی ہیں۔ چنانچہ سورہ ص کی آیت ۲۷ میں بھی فرماتا ہے: وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ذَٰلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا۔ "ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، بےمقصد پیدا نہیں کیا۔ یہ کافروں کا گمان ہے۔" اس کے بعد انسان کی خلقت کو بیان کرتے ہوئے اور ہمیں سیرِ آفاقی سے سیرِ انفسی کی طرف دعوت دیتے ہوئے مزید کہتا ہے: "اس نے تمہیں صورت عطا کی اور تمہاری بہترین تصویر بنائی۔" (وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ)۔ اس انسان کو، جس کا ظاہر آراستہ اور باطن پیراستہ ہے، ایک روشن عقل اور قوی شعور عطا کیا، اور جو کچھ پورے عالمِ ہستی میں ہے، اس کے نمونے اس کے وجود میں پیدا کیے۔ اس طرح سے کہ "عالمِ کبیر" اس جرمِ صغیر میں خلاصہ ہو گیا۔ لیکن جیسا کہ آیت کے آخر میں فرماتا ہے: "انجام کار ہر چیز کی بازگشت اسی کی طرف ہے۔" (وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ)۔ ہاں! وہ انسان جو مجموعۂ عالمِ ہستی کا ایک جزو ہے، خلقت کے لحاظ سے کل عالم کے باہدف ہونے کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ پست ترین مراحل سے اس نے چلنا شروع کیا اور غیرمتناہی منزل کی طرف، جو حق تعالیٰ کا قرب ہے، آگے بڑھ رہا ہے۔ "فأحسن صوركم" (تمہاری بہترین صورت بنائی) کی تعبیر ظاہری صورت کو بھی شامل ہے اور باطنی صورت کو بھی، جسم کے لحاظ سے بھی اور روح کے لحاظ سے بھی۔ سچ تو یہ ہے کہ انسان کے جسم و جان پر ایک اجمالی نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ عالمِ ہستی کا خوبصورت ترین موجود یہی ہے۔ خدا نے اس موجود کی خلقت میں عجیب و غریب قدرت نمائی کی اور اسے ہر لحاظ سے کامل بنایا ہے۔ **** چونکہ انسان کو ایک عظیم مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے، لہٰذا اسے ہمیشہ پروردگار کی نگرانی میں رہنا چاہیے، وہ پروردگار جو اس کے ظاہر و باطن سے باخبر ہے۔ اس لیے بعد والی آیت میں فرماتا ہے: "خدا اسے بھی جانتا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور اس سے بھی باخبر ہے جسے تم پنہاں یا آشکار کرتے ہو۔" وہ ان عقائد اور نیتوں سے بھی آگاہ ہے جو تمہارے سینوں کے اندر ہیں: (يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ)۔ یہ آیت خدا کے بےپایاں علم کی تین مرحلوں میں تصویرکشی کرتی ہے: اول، اس کا علم آسمانوں اور زمین کے تمام موجودات کے بارے میں۔ دوم، اس کا علم انسانوں کے اعمال کے بارے میں، چاہے وہ چھپا کر کرتے ہوں یا آشکارا۔ سومخصوصیّت کے ساتھ عقائدِ باطنی، نیتوں کی کیفیت اور جو کچھ انسان کے دل و جان پر حکم فرما ہے، اسے بھی جانتا ہے۔ انسان میں خدا کے اس وسیع علم کی معرفت کا حد سے زیادہ تربیتی اثر ہوتا ہے۔ یہ اس کو خبردار کرتا ہے کہ تُو چاہے جو کچھ بھی ہے اور جہاں کہیں بھی ہے، تیرا ہر عقیدہ، تیرے دل کی ہر نیت اور تیری روح و جان کے سارے اخلاق، حق تعالیٰ کے بےپایاں علم کی بارگاہ میں آشکار ہیں۔مسلّمہ طور پر اس حقیقت کی طرف توجہ انسان کی اصلاح و تربیت میں حد سے زیادہ مؤثر ہے۔ یہ ایسی تعلیمات ہیں جو انسان کو مقصدِ خلقت اور قانونِ تکامل تک پہنچنے کے لیے آمادہ کرتی ہیں۔ **** چونکہ وسائلِ تربیت اور انذار کے طریقوں میں سے ایک مؤثر ترین ذریعہ، گزشتہ اقوام اور اُمتوں کی سرنوشت کی طرف توجہ دلانا ہے، لہٰذا بعد والی آیت ان کی زندگی پر ایک اجمالی نظر ڈالتے ہوئے انسان کو مخاطب کر کے کہتی ہے: "کیا تم تک ان کافروں کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے تھے؟ انہوں نے کس طرح اپنے گناہانِ کبیرہ کا تلخ ذائقہ چکھا اور ان کے لیے آخرت میں بھی دردناک عذاب ہے؟ (أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَبَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَبْلُ فَذَاقُوا وَبَالَ أَمْرِهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ)۔ [تشریحی نوٹ: "وبال"، "وَبَل"، "وَآبِل" کے مادہ سے سخت بارش کے معنی میں ہے۔ ہر اس اہم موضوع کو جس کے نقصان سے انسان خائف ہو "وبال" کہا جاتا ہے]۔ تم شام اور دوسرے علاقوں کی طرف جاتے ہوئے ان کے عذابی اور ویران شہروں کے قریب سے گزرتے ہو اور ان کے کفر، ظلم اور گناہوں کا نتیجہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو۔ ہاں! ان کی خبروں کو تم تاریخ میں پڑھتے ہو۔ وہی لوگ جن کی زندگی کا دفتر طوفان و سیلاب سے درہم برہم ہو گیا، بجلیوں نے جن کی خرمنِ عمر میں آگ لگائی، یا ویران و تباہ کرنے والے زلزلوں نے انہیں زمین کے منہ کا لقمہ بنا دیا اور تیز آندھی نے ان کے بھاری بھرکم جسموں کو تنکوں کی طرح ہر طرف اُڑا دیا۔ یہ تو ان کا دنیوی عذاب تھا، لیکن آخرت میں بھی ایک دردناک عذاب ان کا منتظر ہے۔ بعد والی آیت اس دردناک سرنوشت کے منشاء اصلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہتی ہے: "اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے انبیاء و رُسل واضح دلائل اور معجزات کے ساتھ ان کی طرف آئے، لیکن وہ لوگ کبر و غرور کی وجہ سے یہ کہا کرتے تھے: کیا انسان ہماری ہدایت کریں گے؟ کیا یہ بات ممکن ہے"؟ (ذَٰلِكَ بِأَنَّهُ كَانَتْ تَأْتِيهِمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَقَالُوا أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا)۔ اس بیہودہ گفتگو کے بعد وہ ان کی مخالفت کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے، یوں وہ کافر ہو گئے اور انہوں نے حق کو قبول کرنے سے روگردانی کی (فَكَفَرُوا وَتَوَلَّوْا)۔ "حالانکہ خدا ان کے ایمان اور ان کی اطاعتوں سے بھی بےنیاز تھا" (وَاسْتَغْنَى اللَّهُ)۔ اگر انہیں ایمان، اطاعت اور پرہیزگاری کے لیے مکلف فرمایا ہے تو وہ صرف ان کی منفعت، یعنی اس جہان میں اور دوسرے جہان میں ان کی سعادت اور نجات کے لیے تھا۔ ہاں! "خدا بےنیاز ہے اور ہر قسم کی حمد و ستائش کے لائق ہے" (وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَمِيدٌ)۔ اگر ساری کائنات کافر ہو جائے تو اس کے دامنِ کبریائی پر کوئی گرد نہیں بیٹھتی۔ اِسی طرح اگر تمام مخلوقات مؤمن اور اس کی مطیع فرمان ہو جائیں تو اس کے جلال میں کسی چیز کا اضافہ نہیں ہوتا۔ یہ تو ہم ہی ہیں جو اس قسم کے تربیتی، اصلاحی اور کامل و ارتقاء کے اصول و قوانین کے محتاج ہیں۔ "وَاسْتَغْنَى اللَّهُ" (خدا بےنیاز تھا) کی تعبیر، اس طرح مطلق ہے کہ ہر چیز سے، یہاں تک کہ انسانوں کے ایمان اور اطاعت سے بھی، اس کی بےنیازی کو بیان کرتی ہے تاکہ یہ تصور نہ آئے کہ یہ سب تاکیدیں اور اصرار اس بنا پر ہے کہ اس اطاعت کا فائدہ خدا کی طرف لوٹتا ہے۔ اس نے مخلوقات کو ہرگز اس لیے پیدا نہیں کیا کہ اُسے ان سے کوئی فائدہ ہو، بلکہ وہ یہ چاہتا تھا کہ اپنے بندوں پر جود و سخا کرے۔ بعض نے "وَاسْتَغْنَى اللَّهُ" کے جملہ کے لیے ایک اور تفسیر بھی بیان کی ہے کہ خدا نے اس قدر واضح آیات، دلائل اور کافی وعظ و نصائح ان کے لیے بھیجے ہیں کہ اس کے علاوہ کچھ بھیجنے سے بےنیاز تھا۔

7
64:7
زَعَمَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَن لَّن يُبۡعَثُواْۚ قُلۡ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتُبۡعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلۡتُمۡۚ وَذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٞ
کافروں نے یہ گمان کر لیا ہے کہ انہیں ہر گز زندہ کر کے اٹھایا نہیں جائیگا ۔ کہہ دیجئے ہاں ! مجھے اپنے پروردگار کی قسم ہے ۔ تم سب ضرور اٹھا ئے جاؤ گے۔ اس کے بعد جو کچھ تم عمل کیا کر تے تھے ا س کی وہ تمہیں خبر دے گا اور یہ اللہ کے لئے آسان ہے ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
64:8
فَـَٔامِنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَٱلنُّورِ ٱلَّذِيٓ أَنزَلۡنَاۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٞ
اب جبکہ یہ بات ہے تو اللہ اور اس کے رسول اور اس نور پر ایمان لے آؤ جسے ہم نے نازل کیا ہے ۔ اور یہ جان لو کہ اللہ تمہارے ان اعمال سے آگاہ ہے جنہیں تم انجام دیتے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
64:9
يَوۡمَ يَجۡمَعُكُمۡ لِيَوۡمِ ٱلۡجَمۡعِۖ ذَٰلِكَ يَوۡمُ ٱلتَّغَابُنِۗ وَمَن يُؤۡمِنۢ بِٱللَّهِ وَيَعۡمَلۡ صَٰلِحٗا يُكَفِّرۡ عَنۡهُ سَيِّـَٔاتِهِۦ وَيُدۡخِلۡهُ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗاۚ ذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ
یہ وہ وقت ہو گا جب وہ تم سب کو اس ’’اجتماع کے دن ‘‘ جمع کر ے گا۔ وہ تغابن کا دن ہو گا۔ اور جو شخص اللہ پر ایمان لے آئے اور عمل صالح انجام دے تو وہ اس کے گناہوں کو بخش دے گااور وہ اس کو اس جنت کے باغوں میں داخل فرمائے گا جس کے (درختوں کے) نیچے نہریں جاری ہیں۔ اور وہ ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہ ایک عظیم کامیابی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
64:10
وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَكَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَآ أُوْلَـٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِ خَٰلِدِينَ فِيهَاۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ
لیکن وہ لوگ جو کافر ہو گئے ہیں اور انہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی ہے، وہ دوزخ والے ہیں اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے اور ان کا نجام بہت ہی برا ہے۔

تفسیر: تغابن کا دن اور دھوکے کا آشکار ہونا

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

ان مباحث کے بعد جو گزشتہ آیات میں خلقت کے بامقصد ہونے کے بارے میں آئے تھے، ان آیات میں معاد اور قیامت کے مسئلہ کو پیش کرتا ہے، جو انسان کے مقصدِ خلقت کی بحث کی ایک تکمیل ہے۔ پہلے منکرینِ قیامت کے دعوائے بےدلیل سے شروع کرتے ہوئے فرماتا ہے: "کافروں نے یہ خیال کر لیا ہے کہ وہ ہرگز مبعوث نہیں ہوں گے" (زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ لَنْ يُبْعَثُوا)۔ "زَعْم"، "زَعَمَ" کے مادہ سے (بروزنِ طَعِم) اس بات کے معنی میں ہے کہ جس کے جھوٹ ہونے کا احتمال یا یقین ہو۔ کبھی باطل خیال کے معنی میں بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے اور زیر بحث آیت میں وہی پہلا معنی مراد ہے۔ اہلِ لغت کے بعض کلمات سے اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ مادہ بطورِ مطلق خبر دینے کے معنی میں بھی آیا ہے۔ [بحوالہ: مجمع البحرین، مادہ "زعم"]۔ اگرچہ اس لفظ کے مواردِ استعمال اور مفسرین کے کلمات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ جھوٹ کے مفہوم کی آمیزش رکھتا ہے۔ اسی لیے انہوں نے یہ کہا ہے کہ: ہر چیز کی ایک کنیت ہوتی ہے اور دروغ کی کنیت زَعْم ہے۔ بہرحال قرآن اس گفتگو کے بعد پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو حکم دیتا ہے: "کہہ دیجئے: ہاں! مجھے میرے پروردگار کی قسم ہے، تم سب کے سب (زندہ کر کے) اٹھائے جاؤ گے۔ اس کے بعد جو کچھ تم نے عمل کیا ہے، تمہیں اس کی خبر دی جائے گی اور یہ خدا کے لیے آسان ہے۔" (قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ)۔ حقیقت میں، پہلے قاطع لب و لہجہ میں منکرینِ قیامت کے دعوائے بِلادلیل کی نفی کرتا ہے، ایک ایسے تأکیدی لب و لہجے اور قسم کی آمیزش کے ساتھ، جو کہنے والے یعنی پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے اعتقادِ راسخ کی حکایت کرتا ہے۔ اس کے بعد "وَذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ" کے جملے کے ساتھ اس پر استدلال کرتا ہے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ منکرینِ معاد کا اہم ترین شبہ اور اعتراض یہ تھا کہ بوسیدہ اور خاک شدہ ہڈیاں کیسے زندہ ہوں گی؟ اوپر والی آیت کہتی ہے کہ جب کام خداوندِ قادرِ مطلق کے ہاتھ میں ہے، تو پھر کوئی مشکل نہیں ہے۔ چونکہ ابتدا میں تو وہ انہیں عدم سے وجود میں لایا ہے اور مردوں کو زندہ کرنا اس کی نسبت زیادہ آسان ہے۔ بلکہ بعض کے نظریے کے مطابق تو "وَرَبِّي" کی قسم ہی معاد کی دلیل کی طرف خود ایک لطیف اشارہ ہے، کیونکہ خدا کی ربوبیت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کی اس حرکتِ تکاملی کو دنیا کی بےقدر و قیمت زندگی کی حدود میں ہی بانجھ نہ کر دے۔ دوسرے لفظوں میں جب تک ہم معاد کے مسئلہ کو قبول نہ کریں، تو خدا تعالیٰ کی ربوبیت کا انسان اور اس کی تربیت و تکامل کے بارے میں کوئی مفہوم نہیں ہو گا۔ بعض مفسرین "وَذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ" کے جملے کو خصوصیت سے قیامت میں خدا کے انسانوں کو ان کے اعمال کی خبر دینے سے مربوط سمجھتے ہیں، جس کا ذکر "ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ" کے جملے میں آیا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ آیت کے پورے مضمون کی طرف لوٹتا ہے (یعنی اصل قیامت اور اس کی فرع جو اعمال کی خبر دینے کا مسئلہ ہے، ایسی خبر جو حساب و جزا کے لیے ایک مقدمہ ہے)۔ **** بعد والی آیت میں اس سے یہ نتیجہ نکالتا ہے: "اب جبکہ قیامت یقینی طور پر برپا ہو گی، تو تم سب کے سب خدا، اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور اس نور پر ایمان لے آؤ جسے ہم نے نازل کیا ہے۔" (فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالنُّورِ الَّذِي أَنزَلْنَا)۔ "اور جان لو کہ خدا تمہارے ان اعمال سے آگاہ ہے جنہیں تم انجام دیتے ہو۔" (وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ)۔ اس طرح سے یہ حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو قیامت کے لیے ایمان اور عملِ صالح کے طریق سے آمادہ کریں۔ تین اصولوں پر ایمان: "خدا"، "رسول" اور "قرآن"، جس میں دوسرے اصول بھی درج ہیں۔ قرآن کی نور کے عنوان سے تعبیر متعدد آیات میں آئی ہے اور لفظ "أَنزَلْنَا" (ہم نے نازل کیا) کی تعبیر اس پر ایک اور شاہد ہے۔ اگرچہ متعدد روایات میں جو اہلِ بیت کے ذریعے ہم تک پہنچی ہیں، زیر بحث آیت میں لفظ "نور" وجودِ امام سے تفسیر ہوا ہے۔ ممکن ہے یہ تفسیر اس لحاظ سے ہو کہ وجودِ امام علیہ السلام کو کتاب اللہ کا عملی تجسم شمار ہوتا ہے۔ اسی لیے بعض اوقات پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور امام علیہ السلام کو "قرآنِ ناطق" سے یاد کیا گیا ہے۔ ان روایات میں سے ایک میں امام باقر علیہ السلام سے آیا ہے کہ آپ علیہ السلام نے آئمہ علیہم السلام کے بارے میں فرمایا: "وَهُمُ الَّذِينَ يُنَوِّرُونَ قُلُوبَ الْمُؤْمِنِينَ۔" "اور (آئمہ) وہی ہیں جو مومنین کے دلوں کو نور اور روشنی بخشتے ہیں۔" [بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ۳۴۱]۔ بعد والی آیت قیامت کے دن کی توصیف کرتے ہوئے کہتی ہے: "یہ بعث و نشور اور حساب و جزا اس دن ہو گا جب وہ اجتماع کے دن تمہیں اکٹھا کرے گا۔" (يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ)۔ [تشریحی نوٹ: "یَوْمَ یَجْمَعُکُمْ" ممکن ہے کہ "لَتُبْعَثُنَّ" یا جملہ "لَتُنَبَّؤُنَّ" یا "خَبِیرٌ" سے متعلق ہو۔ یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ "اُذْکُرْ" جیسے محذوف جملے سے متعلق ہو، لیکن یہ آخری احتمال بعید نظر آتا ہے، بلکہ گزشتہ احتمالوں میں سے کوئی ایک مناسب ہے]۔ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام "یوم الجمع" بھی ہے، جس کی طرف آیاتِ قرآنی میں مختلف تعبیروں کے ساتھ بارہا اشارہ ہوا ہے۔ منجملہ ان کے سورۂ واقعہ کی آیت ۴۹، ۵۰ میں آیا ہے: قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِینَ وَالْآخِرِینَ، لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِیقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُومٍ۔ "کہہ دیجئے: تمام اوّلین و آخرین ایک معیّن دن کی میقات میں جمع ہوں گے۔" اور اس سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ تمام انسانوں کی قیامت ایک ہی دن ہے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "وہ دن تغابن کا دن ہے" (ذَٰلِكَ یَوْمُ التَّغَابُنِ)۔ وہ ایسا دن ہے کہ جس میں "غابن" (سبقت کرنے والا) اور "مغبون" (ہار جانے والا) پہچانا جائے گا۔ وہ دن جس میں یہ واضح ہو جائے گا کہ کون لوگ اپنی تجارت میں، عالمِ دنیا میں، غبن، زیان اور خسارے میں گرفتار ہوئے ہیں۔ وہ ایسا دن ہے کہ جس میں اہلِ جہنم جنت میں اپنی خالی جگہ کو دیکھیں گے اور افسوس کریں گے، اور جنتی دوزخ میں اپنی خالی جگہ کو دیکھیں گے اور خوش ہوں گے۔ کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ ہر انسان کے لیے ایک جگہ جنت میں اور ایک جگہ جہنم میں ہے۔ اگر وہ جنت میں چلا گیا تو اس کی جہنم والی جگہ دوزخیوں کے سپرد کر دی جائے گی۔ اور اگر وہ جہنم میں چلا گیا تو اس کی جنت والی جگہ بہشتیوں کو دے دی جائے گی۔ [بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۳، صفحہ ۵۳۲]۔ اور احتمال یہ ہے کہ اس مورد میں، آیاتِ قرآنی میں ارث کی تعبیر اسی مطلب کے لیے آئی ہے۔ اس طرح سے قیامت کا ایک نام "یوم التغابن"، غبنوں کے ظہور کا دن ہے۔ [تشریحی نوٹ: "تغابن" باب تفاعل سے ہے اور عام طور پر ایسے موارد میں بولا جاتا ہے جو دو جانبہ ہوں، جیسے تعارض، تزاخم وغیرہ اور قیامت کے بارے میں یہ معنی ممکن ہے اس طرح سے ہو کہ مومنین کے گروہ اور کفّار کے تعارض کا نتیجہ قیامت میں ظاہر ہو گا اور حقیقت میں قیامت کا دن تغابن کے ظہور کا دن ہو گا۔ اہلِ لغت کے بعض کلمات سے بھی اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ باب تفاعل ہمیشہ اس معنی کے لیے نہیں آتا اور یہاں ظُہورِ غَبن کے معنیٰ میں ہے (مفرداتِ راغب، مادہ غبن)]۔ اس کے بعد اس دن میں مومنین کی حالت کو بیان کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "جو شخص خدا پر ایمان لائے گا اور اعمالِ صالح انجام دے گا، خدا اس کے گناہوں کی پردہ پوشی کرتے ہوئے انہیں ختم کر دے گا۔ وہ انہیں جنت کے ایسے باغوں میں وارد کرے گا جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں، وہ ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے اور یہ ایک عظیم کامیابی ہے۔" (وَمَن یُؤْمِنۢ بِاللَّهِ وَیَعْمَلْ صَالِحࣰا یُكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّـَٔاتِهِ وَیُدْخِلْهُ جَنَّـٰتࣲ تَجْرِی مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِینَ فِیهَاۤ أَبَدࣰا ۚ ذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِیمُ)۔ اس طرح سے جب دو اصل شرطیں، یعنی ایمان اور عمل صالح حاصل ہو جائیں گی تو یہ عظیم نعمتیں اسے حاصل ہوں گی: گناہوں کی بخشش، جو فکرِ انسانی کو ہر چیز سے زیادہ اپنی طرف مشغول رکھتی ہے؛ گناہ سے پاک ہونے کے بعد دائمی بہشت میں داخل ہونا؛ اور فوز عظیم حاصل کرنا۔ اس بنا پر تمام چیزیں ایمان اور عمل کے محور پر ہی گردش کرتی ہیں اور یہی اصلی سرمائے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہوں گے جو اُس دن، یعنی "یوم التغابن"، نہ صرف مغبون نہیں ہوں گے بلکہ عظیم کامیابی پر فائز ہوں گے۔ **** اس کے بعد مزید کہتا ہے: "لیکن وہ لوگ جو کافر ہو گئے اور ہماری آیات کی تکذیب کی، بیشک وہ اصحابِ نار یعنی دوزخی ہیں۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے اور ان کا انجام بہت ہی بُرا ہے۔" (وَٱلَّذِینَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔایَـٰتِنَاۤ أُو۟لَـٰۤىٕكَ أَصْحَـٰبُ ٱلنَّارِ خَـٰلِدِینَ فِیهَاۖ وَبِئْسَ ٱلْمَصِیرُ)۔ یہاں بھی دو چیزیں بدبختی کا سبب قرار پائی ہیں: "کفر" اور "آیاتِ الٰہی کی تکذیب"، جو "ایمان" اور "عمل صالح" کی ضد ہیں۔ اس کے نتیجے میں وہاں بہشتِ جاودانی کے بارے میں اور یہاں ہمیشہ کے دوزخ کے بارے میں گفتگو ہے۔ وہاں فوز عظیم ہے اور یہاں بئس المصیر اور مرگبار انجام۔ ان دونوں آیات میں جنتیوں اور دوزخیوں کے درمیان جو فرق نظر آتا ہے، ایک یہ ہے کہ جنتیوں کے بارے میں ہر چیز سے پہلے گناہوں کی مغفرت کا ذکر ہوا ہے، جو دوزخیوں کے بارے میں نہیں آیا۔ دوسرا یہ کہ وہاں جنّت میں خلود یعنی ہمیشہ رہنا، لفظ "ابداً" کے ساتھ ذکر ہوا ہے، لیکن دوزخیوں کے بارے میں صرف خلود اور ہمیشہ رہنے کے مسئلے پر اکتفا کی گئی ہے۔ تعبیر کا یہ فرق ممکن ہے اس بناء پر ہو کہ دوزخیوں کے درمیان ایسے کافر بھی ہوں گے جنہوں نے ایمان و کفر کو آپس میں ملا دیا ہے، پھر وہ اپنے ایمان کی بنا پر انجامِ کار عذاب سے رہائی پا جائیں۔ یا یہ اس کی رحمت کے، اس کے غضب پر غلبہ کی طرف اشارہ ہے۔ لیکن بعض مفسرین کا خیال ہے کہ دوسرے جملے میں ابداً محذوف ہے کیونکہ یہ پہلے جملے میں آ چکا ہے۔ ****

11
64:11
مَآ أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۗ وَمَن يُؤۡمِنۢ بِٱللَّهِ يَهۡدِ قَلۡبَهُۥۚ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٞ
کوئی مصیبت رونما نہیں ہوتی مگر اللہ کے اذن سے اور جو شخص اللہ پر ایمان لاتا ہے تو اللہ اس کے دل کی ہدایت فرما دیتا ہے اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 13 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
64:12
وَأَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَۚ فَإِن تَوَلَّيۡتُمۡ فَإِنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا ٱلۡبَلَٰغُ ٱلۡمُبِينُ
اور تم اللہ کی اطاعت کرو اور پیغمبر کی اطاعت کرو ۔ اور اگر تم روگردانی کرو گے(تو وہ تمہیں مجبور نہیں کرے گا) کیونکہ ہمارے رسول کا وظیفہ تو صرف واضح طور پر احکام پہچا دینا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 13 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
64:13
ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ
اللہ وہی ہے اور اس کے سوا اور کوئی اللہ نہیں پس مومنین کو اسی پر توکل کر نا چاہئے۔

تفسیر: تمام مصائب اسی کے فرمان سے ہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

پہلی زیرِ بحث آیت میں اس جہان کے دردناک مصائب اور حوادث کے بارے میں ایک اصلِ کلی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، شاید اس وجہ سے کہ اس جہان میں مصائب کا وجود کفّار کے لیے ہمیشہ نفیِ عدالت کے بارے میں ایک دستاویز رہا ہے، یا اس لحاظ سے کہ ایمان اور عمل کی انجام دہی کی راہ میں ہمیشہ مشکلات موجود رہتی ہیں، جن کے مقابلہ میں مقاومت کے بغیر مومن کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ اِس طرح سے ان آیات کا ربط گزشتہ آیات سے واضح ہو جاتا ہے۔ پہلے فرماتا ہے: "کوئی مصیبت رونما نہیں ہوتی مگر خدا کے اذن سے" (مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللّٰہِ)۔ اس میں شک نہیں کہ اس جہان کے تمام حوادث اذنِ خدا سے ہیں، کیونکہ "توحیدِ افعالی" کے مقتضیٰ کے مطابق سارے عالمِ ہستی میں کوئی چیز حق تعالیٰ کے ارادہ کے بغیر تحّقق نہیں پاتی۔ لیکن چونکہ مصائب ہمیشہ سے ایک سوالیہ نشان کی صورت میں ذہنوں میں بیٹھے ہوئے ہیں، اس لیے خصوصیت کے ساتھ اس پر توجہ ہوئی ہے۔ البتہ یہاں "اذن" سے مراد وہی خدا کا ارادۂ تکوینی ہے، نہ کہ ارادۂ تشریعی۔ یہاں ایک اہم سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ کہ ان میں سے بہت سے مصائب ظالموں اور جابروں کے ارادہ سے رونما ہوتے ہیں، یا انسان خود ہی اپنی کوتاہی یا جہالت سے کوئی کام کر بیٹھے، یا غلط کاری کی وجہ سے ان میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ تو کیا یہ سب کے سب اذنِ خدا سے ہوتے ہیں؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ وہ تمام آیات جو مصائب کے سلسلہ میں قرآن مجید میں آئی ہیں، ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مصائب دو قسم کے ہیں: ١۔ ایسے مصائب جو انسانی زندگی کی طبیعت اور مزاج میں رچے بسے ہوئے ہیں اور انسان کے ارادہ کا ان میں معمولی سا بھی دخل نہیں ہے، مثلاً موت اور کچھ دوسرے طبیعی اور دردناک حوادث۔ ٢۔ وہ مصائب جن میں انسان کا کسی نہ کسی طرح دخل ہے۔ قرآن پہلی قسم کے مصائب کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ سب اذنِ خدا سے رونما ہوتے ہیں۔ دوسری قسم کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ تمہارے اپنے اعمال کی وجہ سے تمہیں دامنگیر ہوتے ہیں۔ [تشریحی نوٹ: سورہ حدید کی آیت ۲۲، سورہ شوریٰ کی آیت ۳۰ اور آل عمران کی آیت ۱۶۵ کی طرف رجوع کرنے سے مطلب پوری طرح واضح ہو جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں سورہ حدید کی آیت ۲۲ کے ذیل میں زیادہ تفصیل آئی ہے]۔ اس بنا پر کوئی شخص یہ بہانہ نہیں بنا سکتا کہ چونکہ تمام مصائب خدا کی طرف سے ہیں، لہٰذا ظالموں کے مقابلہ میں خاموشی اختیار کرتے ہوئے ان سے مبارزہ کے لیے نہیں اٹھنا چاہیے۔ نیز انسان اس بہانے سے بیماریوں اور آفات سے مقابلہ کرنے اور فقر و جہالت سے مبارزہ کرنے سے بھی دستبردار نہیں ہو سکتا۔ البتہ یہاں ایک اور نکتہ بھی ہے اور وہ یہ کہ ایسے مصائب جن میں انسان کا کچھ عمل دخل ہے، ان کے اسباب کی تاثیر بھی خدا کی طرف سے اور اس کے اذن و فرمان سے ہے۔ اگر وہ ارادہ کرے تو ہر سبب بےرنگ اور بےاثر ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد آیت کے آخر میں مومنین کو بشارت دیتا ہے: "جو شخص خدا پر ایمان لے آئے، خدا اس کے دل کو ہدایت کرتا ہے۔" (اس طرح سے کہ وہ مصائب کے مقابلے میں گھٹنے نہ ٹیکے، مایوس نہ ہو اور شور و بیتابی نہ کرے)۔ (وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللّٰہِ يَهْدِ قَلْبَهُ)۔ یہ خدائی ہدایت جب انسان کے پاس آتی ہے تو وہ نعمتوں میں شاکر، مصیبتوں میں صابر اور قضائے الٰہی کے مقابلے میں سرتسلیم خم کر دیتا ہے۔ البتہ ہدایتِ قلبی ایک وسیع معنی رکھتی ہے، جن میں صبر، شکر، رجاء، تسلیم اور "إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ" کہنا، ان میں سے ہر ایک اس کی شاخ ہے۔ ہاں، یہ جو بعض مفسرین خصوصیت کے ساتھ ان میں سے کسی ایک موضوع کو نقل کرتے ہیں، حقیقت میں وہ آیت کا پورا مفہوم نہیں بلکہ اس کا واضح مصداق بیان ہے۔ آیت کے آخر میں فرماتا ہے: "اور خدا ہر چیز کو جانتا ہے۔" (وَاللّٰہُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ)۔ ممکن ہے اس تعبیر میں مصائب اور بلاؤں کے فلسفہ کی طرف اجمالی اشارہ ہو، کہ خدا اپنے علم اور اپنی بےپایاں آگاہی کی وجہ سے بندوں کی تربیت، بیدار باش کے اعلان اور ہر قسم کے غرور و غفلت سے مبارزہ کے لیے کبھی کبھی ان کی زندگانی میں مصائب کو ایجاد کر دیتا ہے، تاکہ وہ سوئے نہ رہیں، دنیا میں اپنی حیثیت کو بھول نہ جائیں اور طغیان و سرکشی کی طرف ہاتھ نہ بڑھائیں۔ **** چونکہ مبدء و معاد کی معرفت، جن کی گزشتہ آیات میں بنیاد رکھی گئی ہے، اس کا حتمی اثر خدا اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عین اطاعت کے لیے سعی و کوشش ہے، لہٰذا بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے: "اور خدا کی اطاعت کرو اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو" (وَأَطِيعُوا اللّٰہَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ)۔ یہ بات واضح ہے کہ رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت بھی خدا کی اطاعت کا ہی ایک شعبہ ہے، کیونکہ رسول اپنی طرف سے کوئی چیز نہیں کہتا۔ یہاں "أَطِيعُوا" کی تکرار اسی چیز کی طرف اشارہ ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے عرض میں نہیں ہیں بلکہ ان میں سے ایک، دوسری سے قوت حاصل کرتی ہے۔ اس سے قطع نظر، خدا کی اطاعت اصول، قوانین اور تشریعِ الٰہی سے مربوط ہے۔ اس بناء پر ان میں سے ایک اصل ہے اور دوسری اس کی فرع۔ اس کے بعد فرماتا ہے: "اگر تم روگردان ہو جاؤ اور اطاعت نہ کرو، تو وہ تمہیں مجبور کرنے پر مامور نہیں ہے۔ کیونکہ ہمارے رسول کا وظیفہ اور ذمّہ داری تو صرف واضح طور پر احکام پہنچا دینا ہے": (فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَإِنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ)۔ [تشریحی نوٹ: "فَإِن تَوَلَّيْتُمْ" جملہ شرطیہ ہے، جس کی جزا محذوف ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے: فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَقَدْ أَدَّىٰ وَظِيفَتَهُ، یا فَإِن تَوَلَّيْتُمْ لَا يُقْهَرُكُمْ عَلَى الْإِيمَانِ، یا لَا بَأْسَ عَلَيْهِ وغیرہ، یعنی: اگر تم روگردانی کرو تو وہ اپنی ذمّہ داری پوری کر چکا ہے، یا وہ تمہیں ایمان پر مجبور نہیں کرتا، یا اس پر کوئی حرج نہیں ہے]۔ ہاں، وہ پیغامِ حق پہنچانے کا ذمّہ دار ہے اور بس یہی اس کی ذمّہ داری ہے۔ اس کے بعد تمہارا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔ یہ تعبیر ایک قسم کی پختہ اور اجمالی تہدید ہے۔ **** بعد والی آیت میں توحید در عبودیت کے مسئلہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، جو وجوبِ اطاعت کے لیے ایک دلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔ فرماتا ہے: "اللہ وہی ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔" (اللّٰہُ لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ)۔ پھر جب یہ بات ہے تو مومن کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے: (وَعَلَى اللّٰہِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ)۔ اس کے علاوہ کوئی بھی عبودیت کے لائق نہیں ہے، کیونکہ مالکیت، قدرت، علم اور غنٰی سب اسی کے لیے ہیں۔ دوسروں کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اسی کی طرف سے ہے۔ اسی وجہ سے انہیں اس کے علاوہ کسی غیر کے سامنے سرِتسلیم و تعظیم خم نہیں کرنا چاہیے۔ ہر قسم کی مشکل کے حل کے لیے اسی سے مدد مانگنی چاہیے اور صرف اسی پر توکل کرنا چاہیے۔

14
64:14
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّ مِنۡ أَزۡوَٰجِكُمۡ وَأَوۡلَٰدِكُمۡ عَدُوّٗا لَّكُمۡ فَٱحۡذَرُوهُمۡۚ وَإِن تَعۡفُواْ وَتَصۡفَحُواْ وَتَغۡفِرُواْ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٌ
اے ایمان لانے والو! تمہاری ازواج اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں ان سے بچ کے رہو ، اور اگر معاف کر دو اور صرف نظر کر لو اور بخش دو ( تو اللہ تمہیں بخش دے گا) کیونکہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔

15
64:15
إِنَّمَآ أَمۡوَٰلُكُمۡ وَأَوۡلَٰدُكُمۡ فِتۡنَةٞۚ وَٱللَّهُ عِندَهُۥٓ أَجۡرٌ عَظِيمٞ
تمہارے اموال و اولاد تمہاری آزمائش کا ذریعہ ہیں اور عظیم جزا خداہی کے پاس ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
64:16
فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ مَا ٱسۡتَطَعۡتُمۡ وَٱسۡمَعُواْ وَأَطِيعُواْ وَأَنفِقُواْ خَيۡرٗا لِّأَنفُسِكُمۡۗ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفۡسِهِۦ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ
اس لئے جہاں تک ہوسکے تقویٰ اختیار کرو اور کان دھرکے سنو اور اطاعت کرو اور انفاق کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور جو لوگ اپنے بخل سے بچ جائیں وہی رست گارو کامیاب ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔

17
64:17
إِن تُقۡرِضُواْ ٱللَّهَ قَرۡضًا حَسَنٗا يُضَٰعِفۡهُ لَكُمۡ وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡۚ وَٱللَّهُ شَكُورٌ حَلِيمٌ
اگر تم اللہ کو قرض حسنہ دو گے تووہ اسے تمہارے لئے کئی گنا کر دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ قدردان اور بردبار ہے ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔

18
64:18
عَٰلِمُ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ
وہ پنہاں و آشکار سے با خبر ہے اور وہ عزیز و حکیم ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

ایک روایت میں امام باقر علیہ السلام سے آیا ہے کہ آپ نے آیت "إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلَادِكُمْ..." کے بارے میں فرمایا: "اس سے مراد یہ ہے کہ جس وقت بعض مرد ہجرت کرنا چاہتے، تو ان کا بیٹا اور بیوی ان کا دامن پکڑ لیتے اور کہتے تھے: تجھے خدا کی قسم! ہجرت نہ کر، کیونکہ اگر تو چلا گیا تو ہم تیرے بعد بےسرپرست رہ جائیں گے۔" پھر بعض اس بات کو قبول کر لیتے تھے اور وہ رہ جاتے تھے۔ لہٰذا اوپر والی آیت نازل ہوئی اور انہیں اس قسم کی گزارشوں کو قبول کر لینے اور اس سلسلہ میں اولاد اور بیویوں کی اطاعت کرنے سے ڈرایا، لیکن کچھ ایسے افراد بھی تھے جو بالکل پروا نہ کرتے اور چلے جاتے تھے، لیکن وہ اپنے گھر والوں سے یہ کہتے تھے: "خدا کی قسم! اگر تم ہمارے ساتھ ہجرت نہیں کرو گے اور بعد میں (دار الہجرت) مدینہ میں ہمارے پاس آؤ گے، تو ہم بالکل تمہاری پروا نہیں کریں گے۔" چنانچہ انہیں حکم دیا گیا کہ جس وقت ان کے گھر والے ان سے آ ملیں تو گزشتہ امور کو فراموش کر دیں اور: "وَإِنْ تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا وَتَغْفِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ۔" کا جملہ اسی معنی کو بیان کر رہا ہے۔ [بحوالہ: "تفسیر علی ابن ابراہیم" کے مطابق، نقل از نور الثقلین جلد ۵، صفحہ ۳۴۲۔ یہی مطلب مختصر صورت میں تفسیر "درّ المنثور" اور دوسری تفاسیر میں ابنِ عباس سے نقل ہوا ہے، لیکن کسی میں بھی مذکورہ بالا حدیث جیسی جامعیت نہیں ہے]۔

تفسیر: تمہارے اموال و اولاد تمہاری آزمائش کا ذریعہ ہیں

چونکہ گزشتہ آیات میں خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم بِلاکسی قید و شرط کے آیا تھا اور اس راستہ کے اہم موانع میں سے ایک اموال و ازواج و اولاد کے ساتھ زیادہ لگاؤ ہے، لہٰذا زیرِ بحث آیات میں مسلمانوں کو اس سلسلہ میں خبردار کرتے ہوئے پہلے کہتا ہے: "اے ایمان لانے والو! تمہاری ازواج اور اولاد میں بعض تمہارے دشمن ہیں، ان سے بچ کے رہو۔" یَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ۔ یقینا اس عداوت کی نشانیاں کم نہیں ہیں، جب تم یہ چاہتے ہو کہ ہجرت جیسے کسی مثبت کام کو انجام دو تو وہ تمہارا دامن پکڑ لیتے ہیں اور اس فیضِ عظیم میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ نیز بعض اوقات تمہاری موت کا انتظار کرتے رہتے ہیں تاکہ تمہاری دولت کے مالک بن جائیں اور اسی قسم کی دوسری باتیں بھی ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ نہ تو تمام اولاد اور نہ ہی تمام بیویاں ایسی ہوتی ہیں۔ اسی لیے "مِنْ" تبعیضیہ کے ذریعے اس معنی کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ان میں سے بعض ایسے ہیں، لہٰذا تم ان سے بچ کے رہو۔ البتہ یہ دشمنی کبھی دوستی کے لباس میں اور خدمت کے گمان میں ہوتی ہے، کبھی سچ مچ بری نیت اور عداوت و دشمنی کے ارادہ سے انجام پاتی ہے یا اپنے منافع کی غرض سے ہوتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ جب انسان دوراہے پر کھڑا ہوتا ہے، جن میں سے ایک راستہ تو خدا کی طرف اور دوسرا بیوی اور اولاد کی طرف ہوتا ہے اور یہ دونوں کبھی ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں، تو پھر ضروری ہے کہ ارادہ و تصمیم کرتے وقت شک و تردد کو اپنے اندر راہ نہ دے، بلکہ حق تعالیٰ کی رضا کو ہر چیز پر مقدم کرے، کیونکہ دنیا و آخرت کی نجات اسی میں ہے۔ اسی لیے سورہ توبہ آیت ۲۳ میں آیا ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا آبَاءَكُمْ وَإِخْوَانَكُمْ أَوْلِيَاءَ إِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْإِيمَانِ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ۔ "اے ایمان لانے والو! اگر تمہارے آباؤ اجداد اور بھائی بند کفر کو ایمان پر مقدم شمار کریں تو تم انہیں اپنا دوست نہ بناؤ، وہ ظالم و ستمگر ہیں۔" چونکہ یہ ممکن ہے کہ یہ حکم آباؤ اجداد، شوہروں اور ازواج کی طرف سے خشونت، انتقام جوئی اور افراط کا بہانہ بن جائے، لہٰذا اسی آیت کے ذیل میں بلافاصلہ ان کے اعتدال میں رہنے کے لیے فرماتا ہے: "اور اگر تم معاف کر دو، صرفِ نظر کر لو اور بخش دو تو خدا بھی تمہیں اپنے عفو و رحمت کا مورد قرار دے گا، کیونکہ خدا غفور و رحیم ہے۔" وَإِن تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا وَتَغْفِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ۔ اس بنا پر اگر وہ اپنے عمل سے پشیمان ہو جائیں اور عذرخواہی کریں یا ہجرت کے بعد تم سے آ ملیں، تو انہیں اپنے آپ سے دور نہ کرو اور عفو و درگزر کو اختیار کرو، جیسا کہ تم توقع رکھتے ہو کہ خدا بھی تمہارے ساتھ ایسا ہی سلوک کرے۔ "بی بی عائشہ" کی داستانِ افک کے متعلق سورہ نور کی تفسیر میں آیا ہے: جب مدینہ میں چرچا کرنے والوں کا کام اونچا چلا گیا تو بعض مومنین کہ جن کے رشتہ دار یہ چرچا کرنے والوں میں سے تھے، انہوں نے یہ قسم کھا لی کہ انہیں کوئی مالی امداد نہیں دیں گے۔ تب اسی سورۂ نور کی آیت ۲۲ نازل ہوئی: "وہ لوگ جو مالی برتری اور زندگی میں وسعت رکھتے ہیں، انہیں یہ قسم نہیں کھانی چاہیے کہ وہ اپنے عزیزوں، حاجت مندوں اور راہِ خدا میں ہجرت کرنے والوں پر خرچ کرنے سے باز رہیں۔ انہیں چاہیے کہ عفو و درگزر اور صرفِ نظر کریں": أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ۔ "کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ خدا تمہیں بخش دے"؟ اس بارے میں کہ "عفو"، "صفح" اور "غفران" کے درمیان کیا فرق ہے؟ ان کے لغوی مفہوم کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ بخششِ گناہ کے مراتب کو بیان کرتا ہے۔ کیونکہ عفو، سزا سے صرفِ نظر کرنے کے معنی میں ہے۔ اور صفح، اس سے بالاتر ہے، یعنی ہر قسم کی سرزنش کو ترک کرنا۔ اور غفران، گناہ کی پردہ پوشی اور اسے فراموش کر دینے کے معنی میں ہے۔ اس طرح اہلِ ایمان کو اپنے اصول اعتقاد کی قطعی حفاظت کرتے ہوئے، اس اولاد اور بیوی کے سامنے جو انہیں راہِ خطا کی دعوت دیتے ہیں، سرتسلیم خم نہ کرتے ہوئے، جتنا ہو سکے تمام مراحل میں محبت اور عفو و درگزر سے دریغ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ باتیں ان کی تربیت اور انہیں خدا کی اطاعت کی طرف لوٹانے کا ایک ذریعہ ہیں۔ ***** بعد والی آیت میں ایک اور اصلِ کلّی کی طرف، یعنی اموال اور اولاد کے بارے میں اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "تمہارے اموال اور اولاد تمہاری آزمائش کا ایک ذریعہ ہیں۔" إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ۔ اگر تم اس آزمائش کے میدان میں کامیاب ہو جاؤ تو اللہ کے ہاں تمہارے لیے عظیم اجر و پاداش ہے: وَاللَّهُ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ۔ گزشتہ آیت میں انسان کے لیے صرف بعض بیویوں اور اولاد کی عداوت کی گفتگو تھی، جو اُسے خدا کی اطاعت کے راستے سے منحرف کر کے گناہ اور بعض اوقات کفر کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں۔ لیکن یہاں تمام اولاد و اموال کی بات ہو رہی ہے، کہ وہ انسان کی آزمائش کا ایک ذریعہ ہیں۔ درحقیقت خدا انسان کی تربیت کے لیے ہمیشہ اُسے امتحان کی گرم بھٹی میں ڈال دیتا ہے اور مختلف امور کے ساتھ اس کو آزماتا ہے۔ لیکن یہ دونوں (اموال و اولاد) اس کے امتحان کے اہم ترین وسائل ہیں کیونکہ ایک طرف سے ایمان کی کشش اور دوسری طرف سے اولاد سے لگاؤ، انسان میں اس قسم کی قوی کشش پیدا کر دیتے ہیں۔ ایسے مواقع پر جب خدا کی رضا ان کی رضا سے جدا ہو جاتی ہے تو انسان سخت فشار اور دباؤ میں ہوتا ہے۔ "إِنَّمَا" کی تعبیر جو عام طور پر حصر کے لیے لائی جاتی ہے، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ دونوں موضوعات دوسری ہر چیز سے زیادہ امتحان کا ذریعہ ہیں۔ اسی بنا پر امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: "لا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفِتْنَةِ، لِأَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ إِلَّا وَهُوَ مُشْتَمِلٌ عَلَى فِتْنَةٍ، وَلَكِنْ مَنْ اسْتَعَاذَ فَلْيَسْتَعِذْ مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ، فَإِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ يَقُولُ: وَاعْلَمُوا أَنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ۔" "تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ خدایا! میں تجھ سے امتحان و آزمائش سے پناہ مانگتا ہوں، کیونکہ ہر شخص کے پاس آزمائش کا ذریعہ ہوتا ہے (اور کم از کم اس کے پاس مال و اولاد ہوتے ہیں، اور اصولی طور پر دنیا کی زندگی کا مزاج، آزمائش اور امتحان کی کٹھالی ہے) لیکن جو شخص یہ چاہتا ہے کہ خدا سے پناہ لے، تو وہ گمراہ کرنے والے امتحانوں سے پناہ لے، کیونکہ خدا کہتا ہے: جان لو کہ تمہارے اموال و اولاد آزمائش کا ایک ذریعہ ہیں۔" [بحوالہ: نہج البلاغہ، کلماتِ قصار، جملہ ۹۳]۔ یہی مطلب تھوڑے سے فرق کے ساتھ سورہ انفال کی آیت ۳۸ میں بھی نظر آتا ہے (جو کچھ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے کلام اور اوپر والی روایات کے ذیل میں بیان ہوا ہے، وہی تعبیر ہے جو سورۃ انفال میں آئی ہے، غور کیجیے)۔ اس موقع پر بہت سے مفسرین و محدثین نے نقل کیا ہے کہ ایک دن رسول خدا ﷺ منبر پر خطبہ دے رہے تھے۔ حسن و حسین علیہما السلام، جو ان دنوں بچے تھے، مسجد میں وارد ہوئے۔ انہوں نے سرخ رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور چلتے چلتے کبھی پھسل کر گِر جاتے تھے۔ جونہی رسول خدا ﷺ کی نگاہ ان پر پڑی تو خطبہ چھوڑ دیا اور منبر سے اتر کر انہیں اپنی آغوش میں لے لیا، پھر ان کو منبر پر لے گئے اور اپنی گود میں بٹھا کر فرمایا: "خدائے عزّ وجل نے درست فرمایا جو کہتا ہے: 'انما اموالکم و اولادکم فتنہ'۔ جب میری نظر ان دونوں بچوں پر پڑی اور میں نے دیکھا کہ وہ چلتے پھسل جاتے ہیں تو مجھ سے نہ رہا گیا اور میں نے اپنی گفتگو کو چھوڑ کر انہیں اٹھا لیا۔" اس کے بعد آپ ﷺ نے اپنا خطبہ جاری کیا۔ [بحوالہ: "مجمع البیان"، جلد ۱۰، صفحہ ۳۰۱ (زیرِ بحث آیت کے ذیل میں) — اسی حدیث کو تفسیر قرطبی، روح المعانی، فی ظلال القرآن اور المیزان میں بھی مختصر اختلاف کے ساتھ نقل کیا گیا ہے]۔ اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ فتنہ اور آزمائش کبھی تو خیر کی اور کبھی شر کی آزمائش ہوتی ہے۔ یہاں ممکن ہے خیر کی آزمائش مراد ہو، اس معنی میں کہ خدا چاہتا ہے اپنے پیغمبر ﷺ کو آزمائے۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ منبر پر خطبہ دیتے وقت ان دونوں شہزادوں کی حالت سے غافل ہو جائے، جو جگر گوشۂ زہرا سلام اللہ علیہا ہیں اور ان سے ہر ایک آئندہ بلند مقام پر فائز ہونے والا ہے۔ یا خطبہ کا جلال و شوکت، محبت و عاطفت کے اظہار میں مانع تو نہیں ہوتا۔ ورنہ مسلمہ طور پر پیغمبر ﷺ بچوں کی محبت کی بنا پر ہرگز خدا کی یاد اور تبلیغ و ہدایت کی بھاری ذمہ داریوں کے انجام دینے سے غافل نہیں ہوئے تھے۔ بہرحال پیغمبر ﷺ کا یہ عمل تمام مسلمانوں کے لیے ایک تنبیہ تھا کہ وہ علی علیہ السلام اور فاطمہ سلام اللہ علیہا کے ان دونوں شہزادوں کی قدر و منزلت اور حیثیت کو پہچانیں۔ اسی لیے ایک حدیث میں جو اہل سنت کے مشہور منابع میں نقل ہوئی ہے، یہ آیا ہے کہ "براء بن عازب" (مشہور صحابی) یہ کہتے ہیں: "رَأَيْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ۔" "میں نے حسن بن علی علیہما السلام کو پیغمبر ﷺ کے دوش پر دیکھا جب کہ آپ فرما رہے تھے: خدایا! میں اسے دوست رکھتا ہوں، تو بھی اسے دوست رکھ۔" [بحوالہ: صحیح مسلم، جلد ۴، صفحہ ۱۸۸۳ (باب فضائل الحسن و الحسینؑ، حدیث ۸۵)]۔ دوسری روایات میں آیا ہے کہ بعض اوقات حسین علیہ السلام آتے اور سجدہ کی حالت میں پیغمبر ﷺ کے دوش پر سوار ہو جاتے اور حضرت انہیں نہ روکتے۔ [بحوالہ: بحار الانوار، جلد ۴۳، صفحہ ۲۹۶، حدیث ۵۷]۔ چنانچہ یہ سب احادیث ان دو عظیم اماموں کے مقام کی عظمت کو بیان کرتی ہیں۔ ***** بعد والی آیت میں نتیجہ کے عنوان سے فرماتا ہے: "اب جبکہ ایسا ہے تو جتنا بھی تم سے ہو سکتا ہے، تقویٰ الٰہی اختیار کرو، اس کے فرامین کو سنو اور اطاعت کرو اور اس کی راہ میں انفاق کرو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔" "فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَأَنْفِقُوا خَيْرًا لِأَنْفُسِكُمْ۔" پہلے گناہوں سے اجتناب کرنے کا حکم دیتا ہے (کیونکہ تقویٰ کی زیادہ تر نظر گناہ سے اجتناب کرنے کی طرف ہے)۔ اس کے بعد اطاعت کرنے کا حکم اور سننے کا فرمان جو اطاعت کا مقدمہ ہے، پھر اطاعتوں میں سے خصوصیت کے ساتھ، مسئلہ انفاق پر تکیہ کرتا ہے جو خدا کی اہم ترین آزمائشوں میں سے ہے۔ انجام کار کہتا ہے کہ ان سب باتوں کا فائدہ خود تمہیں کو ہے۔ بعض مفسرین نے "خیرًا" کی تفسیر مال سے کی ہے جو مثبت کاموں کے انجام دینے کا ایک ذریعہ ہے۔ جیسا کہ آیتِ وصیت میں بھی اسی معنی میں آیا ہے: "كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ۔" "تم پر واجب ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے تو اگر وہ اپنی طرف سے یادگار کے طور پر خیر چھوڑ جائے تو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں کے لیے شائستہ طور پر وصیت کر جائے" (بقرہ: ۱۸۰)۔ بہت سے مفسّرین نے "خیر" کی ایک وسیع معنیٰ میں بھی تفسیر کی ہے اور اسے انفاق کی قید سے مقیّد نہیں سمجھا ہے بلکہ اسے آیت سے مربوط سمجھا اور انہوں نے اس بارے میں یہ کہا ہے: "اس سے مراد یہ ہے کہ ان تمام احکام کی اطاعت خود تمہارے ہی فائدے میں ہے" (یہ تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے)۔ [تشریحی نوٹ: پہلی تفسیر کی بنا پر "خَیْرًا" (انفِقُوا) کا مفعول ہے اور دوسری تفسیر کے مطابق ایک فعلِ مقدّر کی خبر ہے اور تقدیر میں اس طرح تھا؛ "لَكِنْ خَیْرًا لَكُمْ"]۔ اس نکتہ کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ طاقت کے مطابق تقویٰ کا حکم سورہ آلِ عمران کی آیت ۱۰۲ سے کوئی منافات نہیں رکھتا، جو یہ کہتی ہے: ﴿اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ﴾۔ "جیسا کہ تقویٰ اور پرہیزگاری کا حق ہے، ویسا ہی خدا سے ڈرو۔" بلکہ یہ دونوں حکم ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ کیونکہ ایک جگہ کہتا ہے: "جتنی تم میں طاقت ہے اتنا تقویٰ اختیار کرو" اور دوسری جگہ کہتا ہے: "تقویٰ کا حق ادا کرو۔" مُسلّم ہے کہ تقویٰ کا حق ادا کرنا، انسان کی قدرت اور توانائی کی مقدار پر منحصر ہے، کیونکہ "تکلیف مالایطاق" کا کوئی معنی نہیں اور ہدف و مقصد یہ ہے کہ انسان اس رستے میں اپنی آخری کوشش کو کام میں لائے۔ اس بنا پر جن لوگوں نے زیر بحث آیت کو آلِ عمران کی آیت کا ناسخ سمجھا، وہ غلطی پر ہیں۔ اس آیت کے آخر میں مسئلہ انفاق پر تاکید کے عنوان سے فرماتا ہے: "جو لوگ اپنے بخل اور حرص سے بچ جائیں، وہی رستگار و کامیاب ہیں۔" ﴿وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾۔ "شح" بخل کے معنی میں ہے جو حرص سے توأم ہو۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ دو صفاتِ رذیلہ، انسان کی نجات کے سخت ترین مانع اور انفاق اور کارِ خیر کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔ اگر انسان لطفِ الہی کا دامن تھام لے اپنے پورے وجود کے ساتھ اس کی طلب کرے، خودسازی اور تہذیبِ نفس کی کوشش کرے اور ان دونوں صفاتِ رذیلہ سے نجات حاصل کر لے تو پھر اس نے اپنی سعادت کی ضمانت حاصل کر لی ہے۔ اگرچہ روایات میں امام صادقؑ سے آیا ہے: "مَن أَدّى الزَّكَاةَ فَقَدْ وُقِيَ شُحَّ نَفْسِهِ۔" "جس شخص نے زکوٰة ادا کر دی، اُس نے بخل اور حرص سے رہائی پائی۔" [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱۰، صفحہ ۳۰۱]۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے: امام صادقؑ شام سے صبح تک خانۂ خدا کا طواف بجا لاتے اور یہ فرماتے رہتے تھے: "اللَّهُمَّ قِنِي شُحَّ نَفْسِي۔" "خدایا! مجھے میرے حرص و بخل سے بچا۔" آپ کے اصحاب میں سے ایک نے عرض کیا: "میں آپ پر قربان جاؤں، آج رات میں نے اس دعا کے علاوہ اور کچھ نہیں سُنا، کوئی اور دعا بھی کیجیے۔" آپ نے فرمایا: "نفس کے بخل اور حرص سے بڑھ کر اور کون سی چیز زیادہ خطرناک ہے، جبکہ خدا فرماتا ہے: ﴿وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾۔" [بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ۳۴۶]۔ ***** اس کے بعد انفاق کرنے کی تشویق اور نفس کو بخل و شح سے روکنے کے لیے فرماتا ہے: "اگر تم خدا کو قرضِ حسنہ دو گے تو وہ اسے کئی گنا کر دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور خدا قدردان اور بردبار ہے۔" ﴿إِن تُقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضَاعِفْهُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ شَكُورٌ حَلِيمٌ﴾۔ کتنی عجیب تعبیر ہے، جسے قرآن مجید میں انفاق فی سبیل اللہ کے بارے میں بارہا دہرایا گیا ہے۔ وہ خدا جو ہمارے وجود کی اصل و فرع کا پیدا کرنے والا، تمام نعمتوں کا بخشنے والا اور تمام ملکیتوں کا مالک ہے، وہ ہم سے قرض طلب کرتا ہے، پھر اس کے مقابلے میں اجرِ مضاعف اور بخشش کا وعدہ دیتا ہے اور ہمارا شکریہ بھی ادا کرتا ہے۔ اس سے بالاتر کسی لطف و محبت کا تصور ہو ہی نہیں سکتا اور اس سے بڑھ کر بزرگواری اور رحمت ممکن ہی نہیں ہے۔ ہم کیا ہیں اور ہمارے پاس کیا ہے کہ ہم اسے قرض دیں؟ اور سب سے انوکھی بات یہ کہ ہم یہ سب عظیم اجر و ثواب کیوں لیں گے؟ کیا یہ سب کچھ ایک طرف سے مسئلۂ انفاق کی اہمیت اور دوسری طرف سے خدا کا بندوں کے بارے میں لطفِ بےپایاں نہیں ہے؟ "قرض" اصل میں قطع کرنے اور کاٹنے کے معنی میں ہے۔ اور جب لفظ "حسن" کے ساتھ ہو تو مال کو اپنے سے جدا کرنے اور راہِ خیر میں دینے کے معنی میں ہے۔ "یضاعفہ" (ضِعْفٌ) کے مادہ سے ہے۔ جیساکہ ہم نے پہلے بھی بیان کیا ہے، کہ یہ صرف دو گنا کے معنی میں نہیں بلکہ کئی گنا کے معنی میں بھی آتا ہے۔ یہ لفظ انفاق کے بارے میں سات سو گنا تک، بلکہ اس سے زیادہ کے لیے بھی قرآن میں آیا ہے (بقرہ: ۲۶۱)۔ ضمنی طور پر (یَغْفِرْ لَكُمْ) کا جملہ اس بات کی دلیل ہے کہ انفاق، گناہ کی بخشش کے بہت سے عوامل میں سے ایک ہے۔ "شَکُور" کی تعبیر، جو خدا کی ایک صفت ہے، اس بات کی دلیل ہے کہ خدا اپنے بندوں کا عظیم اجر و ثواب کے ذریعے شکریہ ادا کرتا ہے۔ نیز، اس کا "حَلِیم" ہونا، گناہوں کی بخشش اور بندوں کو سزا دینے میں جلدی نہ کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ ***** یہاں تک کہ آخری آیت میں فرماتا ہے: "وہ پنہاں و آشکار سے آگاہ اور قادر و حکیم ہے": ﴿عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾۔ وہ بندوں کے اعمال، خصوصاً ان کے پنہاں و آشکار انفاق سے باخبر ہے۔ اگر وہ ان سے قرض کا تقاضا کرتا ہے تو یہ احتیاج و نیاز اور عدمِ قدرت کی وجہ سے نہیں، بلکہ کمالِ لطف و محبت کی وجہ سے ہے۔ اگر وہ ان کے انفاق کے مقابلہ میں ان تمام اجروں اور ثوابوں کا وعدہ دیتا ہے تو یہ بھی اس کی حکمت کا تقاضا ہے۔ اس طرح خدا کے پنجگانہ اوصاف، جن کی طرف اس آیت اور اس سے پہلی آیت میں اشارہ ہوا ہے، یہ سب خدا کی راہ میں انفاق کے مسئلہ کے ساتھ ایک قسم کا ربط رکھتے ہیں۔ لیکن خدا کی ان پانچ صفات کی طرف توجہ، انفاق کی تشویق کے مسئلہ کے علاوہ، انسان کو کلی طور پر پروردگار کی اطاعت اور گناہ سے رکنے میں زیادہ مصمّم بناتی ہے اور اسے قوّتِ قلب، ارادہ کی طاقت اور روحِ تقویٰ بخشتی ہے۔ *****

ایک نکتہ: ایک پُرمعنی حدیث

ایک حدیث میں پیغمبر گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آیا ہے: "ما من مولود یولد إلا وفی شبابیک رأسه مکتوب خمس آیات من سورة التغابن۔" "کوئی نومولود متولد نہیں ہوتا مگر یہ کہ اس کے سر کے مشبکوں (جالیوں) پر سورۃ تغابن کی پانچ آیتیں لکھی ہوئی ہوتی ہیں۔ [بحوالہ: روح البیان، جلد ۱۰، صفحہ ۲۴]۔ ممکن ہے کہ اس سورہ کی یہی آخری آیات مراد ہوں جو مال، اولاد اور بیویوں کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں۔ ان پانچ آیات کا سر کی جالیوں پر لکھا جانا اس مسئلہ کے حتمی ہونے کی طرف اشارہ ہے، یعنی ان آیات کا مضمون تمام اولادِ آدم کے لیے بغیر کسی استثناء کے مطلق ہے۔ "شَبابِیک"، "شِباک" (بروزن خُفّاش) کی جمع ہے — (مشک) جالی کے معنیٰ میں۔ ممکن ہے سر کی ان ہڈیوں کی طرف اشارہ ہو جن کے ٹکڑے ایک دوسرے میں گھسے ہوئے ہوتے ہیں، یا دماغ کی جالیوں کی طرف اشارہ ہو۔ بہرحال، یہ انسان میں ان روحیات و خصوصیات کے موجود ہونے کی دلیل ہے۔ ***** خداوندا! مال، اولاد اور بیویوں کی اس عظیم آزمائش میں ہماری مدد فرما۔ پروردگارا! ہمیں بُخل، حرص اور شحِّ نفس سے دور رکھ! کیونکہ جسے تُو ان سے دور رکھے گا، وہی اہلِ نجات اور رستگار ہیں۔ بارِالہٰا! تُو ہمیں قیامت کے دن، جب گنہگار بندوں کا تغابن (نقصان و خسارہ) ظاہر ہو جائے گا، اپنے لطف کے دامن میں اس تغابن سے بچائے رکھ۔ آمِین یا ربّ العالمین

end of chapter