تفسیر بسم اللہ الرحمن الرحیم
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تمام لوگوں میں یہ رسم ہے کہ ہر اہم اور اچھے کام کا آغاز کسی بزرگ کے نام سے کرتے ہیں۔ کسی عظیم عمارت کی پہلی اینٹ اس شخص کے نام پر رکھی جاتی ہے جس سے بہت زیادہ قلبی لگاؤ ہو یعنی اس کام کو اپنی پسندیدہ شخصیت کے نام منسوب کر دیتے ہیں۔ مگر کیا یہ بہتر نہیں کہ کسی پروگرام کودوام بخشنے اور کسی مشن کو برقرار رکھنے کے لئے اسے ایسی ہستی سے منسوب کیا جائے جو پائیدار، ہمیشہ رہنے والی ہو اور جس کی ذات میں فنا کا گزر نہ ہو۔ اس جہاں کی تمام موجودات کہنگی پذیر ہیں اور زوال کی طرف رواں دواں ہیں۔ صرف وہی چیز باقی رہ جائےگی، جو اس ذات لایزال سے وابستہ ہوگی۔ انبیاء و مرسلین کے نام باقی ہیں تو پروردگار عالم سے رشتہ جوڑنے اور عدالت و حقیقت پر قائم رہنے کی وجہ سے اور یہ وہ رشتہ ہے جو زوال آشنا نہیں۔ اگر حاتم کا نام باقی ہے تو سخاوت کے باعث جو زوال پذیر نہیں۔ تمام موجودات میں سے فقط ذات خدا ازلی و ابدی ہے ۔ اس لئے چاہئے کہ تمام امور کو اس کے نام سے شروع کیا جائے۔ اس کے سائے میں تمام چیزوں کو قرار دیا جائے اور اسی سے مدد طلب کی جائے۔ اسی لئے قرآن کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے ہوتا ہے۔ اپنے امورکو برائے نام خدا سے وابستہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ حقیقتا اور واقعتا خدا سے رشتہ جوڑنا چاہئے کیونکہ یہ ربط انسان کو صحیح راستہ پر چلائے گا اور ہر قسم کی کجروی سے باز رکھے گا۔ ایسا کام یقینا تکمیل کو پہنچے گا اور باعث برکت ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی مشہور حدیث میں ہم پڑھتے ہیں: کل امر ذی بال لم یذکر فیہ اسم اللہ فھو ابتر جو بھی اہم کام خدا کے نام کے بغیرشروع ہوگا ناکامی سے ہمکنار ہوگا۔(بحوالہ: تفسیر البیان، جلد اول، ص۴۶۱ بحوالہ بحار، جلد ۶، باب ۵۸۔) انسان جس کام کو انجام دینا چاہے، چاہئے کہ بسم اللہ کہے اور جو عمل خدا کے نام سے شروع ہو وہ مبارک ہے۔ امام باقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں : جب کوئی کام شروع کرنے لگو، بڑاہو یا چھوٹا بسم للہ کہوتاکہ وہ بابرکت بھی ہو اور پرا ز امن و سلامتی بھی۔ خلاصہ یہ کہ کسی عمل کی پائیداری و بقا اس کے ربط خدا سے وابستہ ہے۔ اسی مناسبت سے جب خدا وند تعالی نے پیغمبر اکرم ﷺ پر پہلی وحی نازل فرمائی تو انہیں حکم دیا کہ تبلیغ اسلام کی عظیم ذمہ داری کو خدا کے نام سے شروع کریں۔ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ہم دیکھتے ہیں کہ جب تعجب خیز اور نہایت سخت طوفان کے عالم میں حضرت نوح کشتی پر سوار ہوئے، پانی کی موجیں پہاڑوں کی طرح بلند تھیں اور ہر لحظہ بے شمار خطرات کا سامنا تھا۔ ایسے میں منزل مقصود تک پہنچنے اور مشکلات پر قابو پانے کے لئے آپ نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ کشتی کے چلتے اور رکتے بسم اللہ کہو۔ وَقَالَ ارْكَبُواْ فِيهَا بِسْمِ اللّهِ مَجْرِےهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ ( ہود، آیت ۴۱)۔ چنانچہ ان لوگوں نے اس پر خطر سفر کو توفیق الہی کے ساتھ کامیابی سے طے کر لیا اور امن و سلامتی کے ساتھ کشتی سے اترے۔ جیسا کہ ارشاد الہی ہے: قِيلَ يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلَامٍ مِنَّا وَبَرَكَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَىٰ أُمَمٍ مِمَّنْ مَعَكَ ۚ حکم ہوا اے نوح (کشتی سے) ہماری طرف سے سلامتی او ربرکات کے ساتھ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اتریے (ہود، آیت ۴۸ )۔ جناب سلیمان نے جب ملکہ سبا کو خط لکھا تو اس کا سرنامہ بسم اللہ ہی کو قرار دیا۔ إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ یہ (مراسلہ) ہے سلیمان کی طرف سے اور بے شک یہ ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم(نمل، آیت ۳۰)۔ اسی بناء پر قرآن حکیم کی تمام سورتوں کی ابتدا ٴ بسم اللہ سے ہوتی ہے تا کہ نوع بشر کی ہدایت و سعادت کا اصلی مقصد کامیابی سے ہمکنار ہو اور بغیر کسی نقصان کے انجام پذیر ہو۔ صرف سورہ توبہ ایسی سورت ہے جس کی ابتداء میں ہمیں بسم اللہ نظر نہیں آتی کیونکہ اس کا آغاز مکہ کے مجرموں او رمعاہدہ شکنوں سے اعلان جنگ کے ساتھ ہو رہا ہے ۔ لہذا ایسے موقع پر خدا کی صفات رحمان و رحیم کا ذکر مناسب نہیں۔ یہاں ایک نکتہ کی طرف توجہ ضروری ہے وہ یہ کہ ہر جگہ بسم اللہ کہا جاتا ہے بسم الخالق یا بسم الرزاق وغیرہ نہیں کہا جاتا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لفظ اللہ خدا کے تمام اسما اور صفات کا جامع ہے۔ اس کی تفصیل عنقریب آئے گی۔ اللہ کے علاوہ دوسرے نام بعض کمالات کی طرف اشارہ کرتے ہیں، مثلا خالقیت، رحمت وغیرہ۔ اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ ہر کام کی ابتداء میں بسم اللہ کہنا جہاں خدا سے طلب مدد کے لئے ہے وہاں اس کے نام سے شروع کرنے کے لئے بھی ہے۔ اگرچہ ہمارے بزرگ مفسرین نے طلب مدد اور شروع کرنے کو ایک دوسرے سے جدا قرار دیا ہے خلاصہ یہ کہ آغاز کرنا او رمدد چاہنا ہر دو مفہوم یہاں پر لازم و ملزوم ہیں۔ بہرحال جب تمام کام خدا کی قدرت کے بھروسہ پر شروع کئے جائیں تو چونکہ خدا کی قدرت تمام قدرتوں سے بالاتر ہےاس لئے ہم اپنے میں زیادہ قوت و طاقت محسوس کرنے لگتے ہیں۔ زیاد مطمئن ہو کر کوشش کرتے ہیں۔ بڑی سے بڑی مشکلات کا خوف نہیں رہتا اور مایوسی پیدا نہیں ہوتی اور اس کے ساتھ ساتھ اس سے انسان کی نیت اورعمل زیادہ پاک اور زیادہ خالص رہتا ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں جتنی گفتگو کی جائے کم ہے کیونکہ مشہور ہے کہ حضرت علی(علیہ السلام) ابتدائے شب سے صبح تک ابن عباس کے سامنے بسم اللہ کی تفسیر بیان فرماتے رہے صبح ہوئی تو آپ بسم کی “ب” سے آگے نہیں بڑھے تھے۔ آنحضرت (علیہ السلام) ہی کے ایک ارشاد سے ہم یہاں اس بحث کو ختم کرتے ہیں۔ آئندہ مباحث میں اس سلسلے کے دیگر مسائل پرگفتگو ہوگی۔ عبداللہ بن یحیی امیرالمومنین )علیہ السلام( کے محبوں میں سے تھے۔ ایک مرتبہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بسم اللہ کہے بغیر اس چارپائی پر بیٹھ گئے جو وہاں پڑی تھی۔ اچانک وہ جھکے اور زمین پر آ گرے۔ ان کا سر پھٹ گیا۔ حضرت علی(علیہ السلام) نے سر پر ہاتھ پھیرا تو ان کا زخم مندمل ہوگیا۔ آپ نے فرمایا تمہیں معلوم نہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے خدا کی طرف سے یہ حدیث مجھ سے بیان فرمائی ہے کہ جو کام نام خدا کے بغیر شروع کیا جائے بے انجام رہتا ہے۔ (عبداللہ کہتے ہیں) میں نے عرض کیا : میرے ماں باپ آپ پر قربان، میں یہ جانتا ہوں او راب کے بعد پھر اسے ترک نہ کروں گا۔ آپ نے فرمایا: پھر تو تم سعادتوں سے بہرہ ور ہوگئے۔ امام صادق(علیہ السلام) نے اسی حدیث کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے بعض شیعہ کام کی ابتداء میں بسم اللہ ترک کردیتے ہیں اور خدا انہیں کسی تکلیف میں مبتلا کر دیتا ہے تاکہ وہ بیدار ہوں اور ساتھ ساتھ یہ غلطی بھی ان کے نامہ عمل سے دھو ڈالی جائے۔(بحوالہ: سفینة البحار، جلد اول، ص۶۳۳۔)
کیا بسم اللہ سورہ حمد کا جزء ہے؟
شیعہ علماء و محققین میں اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں کہ بسم اللہ سورہ حمد اور دیگر سورقرآن کا جزء ہیں۔ بسم اللہ کا متن تمام سورتوں کی ابتداء میں ثبت ہونا اصولی طور پر اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ یہ جزو قرآن ہے کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ متن قرآن میں کوئی اضافی چیز نہیں لکھی گئی او ربسم اللہ زمانہ پیغمبرﷺ سے لے کر اب تک سورتوں کی ابتداء میں موجود ہے۔ باقی رہے علمائے اہل سنت تو صاحب تفسیر المنار نے ان کے اقوال درج کئے ہیں جن کی تفصیل کچھ یوں ہے: گذشتہ علمائے اہل مکہ، فقہا، قاری حضرات جن میں ابن کثیر بھی شامل ہیں، اہل کوفہ کے قراء میں سے عاصم اور کسائی اور اہل مدینہ میں سے بعض صحابہ اور تابعین اسی طرح شافعی اپنی کتاب جدید میں اور اس کے پیروکار نیز ثوری اور احمد اپنے قول میں اس بات کے معتقد ہیں کہ بسم اللہ جز سورہ ہے۔ اسی طرح علماء امامیہ اور ن کے اقوال کے مطابق صحابہ میں سے علی )علیہ السلام(، ابن عباس، عبداللہ بن عمر اور ابوہریرہ، تابعین میں سے سعید بن جبیر، عطا، زہری اور ابن مبارک بھی اسی نظرئے کے حامل تھے۔ اس کے بعد مزید لکھتے ہیں کہ ان کی اہم ترین دلیل یہ ہے کہ صحابہ اور ان کے بعد برسر کار لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ سورہ برائت کے سوا تمام سورتوں کے آغاز میں بسم اللہ مذکور ہے جب کہ وہ بالاتفاق ایک دوسرے کو وصیت کرتے تھے کہ ہر اس چیز سے جو جزو قرآن نہیں قرآن کو پاک رکھا جائے۔ اسی لئے تو آمین کو انہوں نے سورہٴ فاتحہ کے آخر میں ذکر نہیں کیا۔ اس کے بعد انہوں نے مالک او رابوحنیفہ کے پیروکاروں اور بعض دوسرے لوگوں کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ وہ بسم اللہ کو مستقل آیت سمجھتے تھے جو سورتوں کی ابتداء کے بیان اور ان کے درمیان حد فاصل کے طور پر نازل ہوئی ہے۔ انہوں نے اہل سنت کے معروف فقیہ اور بعض قارئین کوفہ سے نقل کیا ہے کہ وہ بسم اللہ کو سورہ حمد کاتو جزء سمجھتے تھے لیکن باقی سورتوں کا جزء نہیں سمجھتے تھے۔(بحوالہ: تفسیر المنار، جلد اول، ص ۳۹، ۴۰۔) اس گفتگو سے معلوم ہوا کہ اہل سنت کی یقینی اکثریت بھی بسم اللہ کو سورت کا جزء سمجھتی ہے۔ اب ہم بعض روایات پیش کرتے ہیں جو شیعہ و سنی طرق سے اس سلسلے میں نقل ہوئی ہیں(ہمیں اعتراف ہے کہ اس ضمن کی تمام احادیث کے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں اور ان کا تعلق فقہی بحث سے ہے)۔ ۱۔ معاویہ بن عمار(جوامام صادق(علیہ السلام) کے محب و موالی تھے) کہتے ہیں میں نے امام سے پوچھا کہ جب میں نماز پڑھنے لگوں تو کیا الحمد کی ابتداء میں بسم اللہ پڑھوں؟ “ آپ نے فرمایا: ہاں”۔ (بحوالہ: کافی، جلد ۳، ص ۳۱۲۔) ۲۔ دار قطنی نے جو علماء اہل سنت میں سے ہیں، سند صحیح کے ساتھ حضرت علی )علیہ السلام( سے نقل کیا ہے: ایک شخص نے آپ سے پوچھا: “سبع مثانی کیا ہے؟” آپ نے فرمایا : سورہ حمد۔ اس نے عرض کیا “سورہ حمد کی تو چھ آیتیں ہیں” ، آپ نے فرمایا : بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی اس کی ایک آیت ہے ۔ (بحوالہ: الاتفاق، جلد اول ،ص ۱۳۶۔) ۳۔ اہل سنت کے مشہور محدث بیہقی، سند صحیح کے ساتھ ابن جبیر کے طریق سے اس طرح نقل کرتے ہیں : استرق الشیطان من الناس اعظم آیة من القرآن بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ شیطان صفت اشخاص نے قرآن کی بہت بڑی آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم کو چرا لیا ہے (یہ اس طرف اشارہ ہے کہ سورتوں کے شروع میں اسے نہیں پڑھا جاتا۔(بحوالہ: بیہقی، جلد ۲، ص۵۰)۔ ان سب کے علاوہ ہمیشہ مسلمانوں کی یہ سیرت رہی ہے کہ وہ قرآن مجید کی تلاوت کے وقت بسم اللہ ہر سورت کی ابتداء میں پڑھتے رہے ہیں۔ تواتر سے ثابت ہے کہ پیغمبر اکرمﷺ بھی اس کی تلاوت فرماتے تھے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ جو چیز جزو قرآن نہ ہو اسے پیغمبرﷺ اور مسلمان ہمیشہ قرآن کے ضمن پڑھتے رہے ہوں اور سدا اس عمل کوجاری رکھا ہو۔ باقی رہابعض کا یہ احتمال کہ بسم اللہ مستقل آیت ہے جو جزو قرآن تو ہے لیکن سورتوں کا حصہ نہیں تو یہ احتمال نہایت ضعیف اور کمزور دکھائی دیتا ہے کیونکہ بسم اللہ کا مفہوم او رمعنی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ ابتداء اور آغاز کے لئے ہے نہ کہ یہ ایک علیحدہ اور مستقل اہمیت کی حامل ہے۔ در اصل یہ فکر جمود اور سخت تعصب کی غماز ہے اور یوں لگتا ہے گویا اپنی بات کو برقرار رکھنے کے لئے ہر احتمال کو پیش کیا جارہا ہے او ربسم اللہ جیسی آیت کو مستقل اور سابق و لاحق سے الگ ایک آیت قرار دیاجارہا ہے جس کا مضمون پکار پکار کر اپنے سرنامہ اور بعد والی ابحاث کے لئے ابتداء ہونے کا اعلان کر رہا ہے۔ ایک اعتراض البتہ قابل غور ہے جسے مخالفین اس مقام پر پیش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں جب قرآن کی سورتوں کی آیات شمار کرتے ہیں(سوائے سورہ حمد کے)تو بسم اللہ کو ایک آیت شمار نہیں کیا جاتا بلکہ پہلی آیت بسم اللہ سے بعد والی آیت کو قرار دیاجاتاہے۔ اس اعتراض کا جواب فخر الدین رازی نے تفسیر کبیر میں وضاحت کے ساتھ دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: کوئی حرج نہیں کہ بسم اللہ سورہٴ حمد میں تو الگ ایک آیت ہو اور دوسری سورتوں میں پہلی آیت کا جزء قرار پائے (اس طرح مثلا سورہ کوثر میں بسم اللہ الرحمن الرحیم انا اعطیناک الکوثر سب ایک آیت شمار ہو) بہرحال مسئلہ اس قدر واضح ہے کہ کہتے ہیں: ایک دن معاویہ نے اپنی حکومت کے زمانے میں نماز با جماعت میں بسم اللہ نہ پڑھی تو نماز کے بعد مہاجرین و انصار کے ایک گروہ نے پکار کرکہا: “اسرقت ام نسیت” یعنی کیا معاویہ نے بسم اللہ کو چرا لیا ہے یا بھول گیا ہے؟ (بحوالہ: بیہقی، جزء دوم، ص۴۹۔ حاکم نے مستدرک جزء اول، ص ۲۳۳ میں اس روایت کو درج کرکے اسے صحیح قرار دیا ہے۔)
خدا کے ناموں میں سے اللہ، جامع ترین نام ہے
بسم اللہ کی ادائیگی میں ہمارا سامنا سب سے پہلے لفظ اسم سے ہوتا ہے۔ عربی ادب کے علماء کے بقول اس کی اصل “سمو” بر وزن علو ہے جس کے معنی ہیں ارتفاع اور بلندی۔ تمام ناموں کو اسم کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس سے ہر چیزکا مفہوم، اخفاء سے ظہور و ارتفاع کے مرحلے میں داخل ہوجاتا ہے یا اس کی وجہ یہ ہے کہ لفظ، نام ہو جانے کے بعد معنی پیدا کر لیتا ہے۔ مہمل اور بے معنی کی منزل سے نکل آتا ہے اور اس طرح ارتفاع و بلندی حاصل کر لیتا ہے۔ بہرحال کلمہ “اسم” کے بعد، ہم کلمہ “اللہ” تک پہنچتے ہیں جو خدا کے ناموں میں سب سے زیادہ جامع ہے۔ خدا کے ان ناموں کو جو قرآن مجید یا دیگر مصادر اسلامی میں آئے ہیں، اگر دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ خدا کی کسی ایک صفت کو منعکس کرتے ہیں لیکن وہ نام جو تمام صفات و کمالاتِ الہی کی طرف اشارہ کرتا ہے، دوسرے لفظوں میں جو صفات جلال و جمال کا جامع ہے و ہ صرف “اللہ” ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خدا کے دوسرے نام عموما کلمہ اللہ کی صفت کی حیثیت سے کہے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر چند ایک کا ذکر کیا جاتا ہے: غفور و رحیم: یہ صفت خدا کی صفت بخشش کی طرف اشارہ ہے: فان اللہ غفور رحیم (بقرہ، ۲۲۶)۔ سمیع وعلیم: سمیع اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ خدا تمام سنی جانے والی چیزوں سے آگاہی رکھتا ہے اور علیم اشارہ ہے کہ وہ تمام چیزوں سے باخبر ہے۔ فان اللہ سمیع علیم (بقرہ ، ۲۲۷)۔ بصیر : یہ لفط بتاتا ہے کہ خدا تمام دیکھی جانے والی چیزوں سے آگاہ ہے: واللہ بصیر بما تعملون (حجرات، ۱۸)۔ رزاق: یہ صفت اس کے تمام موجودات کو روزی دینے کے پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہے اور ذوالقوة اس کی قدرت کو ظاہر کرتی ہے اور متین، اس کے افعال اور پروگرام کی پختگی کا تعارف ہے: ان اللہ ھو الرزاق ذو القوة المتین (ذاریات ، ۵۸) خالق اور باری: اس کی آفرینش اور پیدا کرنے کی صفت کی طرف اشارہ ہے اور مصور اس کی تصویر کشی کی حکایت کرتا ہے: ھو اللہ الخالق الباری المصور لہ الاسماء الحسنی (حشر، ۲۴) ظاہر ہوا کہ “اللہ “ ہی خدا کے تمام ناموں میں سے جامع ترین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی آیت میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے نام “اللہ” قرار پائے ہیں: ھو اللہ الذی لا الہ الا ھو الملک القدوس السلام المومن المھیمن العزیز الجبار المتکبر۔ اللہ وہ ہے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ وہ حاکم مطلق ہے، منزہ ہے، ہر ظلم و ستم سے پاک ہے، امن بخشنے والا ہے، سب کا نگہبان ہے، توانا ہے، کسی سے شکست کھانے والا نہیں اور تمام موجودات پرقاہر و غالب اور باعظمت ہے(حشر ۲۳)۔ اس نام کی جامعیت کا ایک واضح شاہد یہ ہے کہ ایمان و توحید کا اظہار صرف “ لا الہ الا اللہ” کے جملے سے ہوسکتا ہے اور جملہ “لا الہ الا العلیم.. الا الخالق.... لا الرزاق اور دیگر اس قسم کے جملے خود سے توحید و اسلام کی دلیل نہیں ہوسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ دیگر مذاہب کے لوگ جب مسلمانوں کے معبود کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں تو لفظ اللہ کا ذکر کرتے ہیں کیونکہ خدا وندعالم کی تعریف و توصیف لفظ اللہ سے مسلمانوں کے ساتھ مخصوص ہے۔
خدا کی رحمت عام او ررحمت خاص
مفسرین کے ایک طبقے میں مشہور ہے کہ صفت رحمان، رحمت عالم کی طرف اشارہ ہے۔ یہ وہ رحمت ہے جو دوست و دشمن ، مومن و کافر، نیک و بد غرض سب کے لئے ہے۔ کیونکہ اس کی بے حساب رحمت کی بارش سب کو پہنچتی ہے اور اس کا خوان نعمت ہر جگہ بچھا ہوا ہے۔اس کے بندے زندگی کی گوناگوں رعنائیوں سے بہرہ ور ہیں۔ اپنی روزی اس کے دسترخوان سے حاصل کرتے ہیں جس پربے شمار نعمتیں رکھی ہیں۔ یہ وہی رحمت عمومی ہے جس نے عالم ہستی کا احاطہ کر رکھا ہے اور سب کے سب اس دریائے رحمت میں غوطہ زن ہیں۔ رحیم، خداوند عالم کی رحمت خاص کی طرف اشارہ ہے۔ یہ وہ رحمت ہے جو اس کے مطیع، صالح اور فرمانبردار بندوں کے ساتھ مخصوص ہے کیونکہ انہوں نے ایمان او رعمل صالح کی بناء پر یہ شائستگی حاصل کرلی ہے کہ وہ اس رحمت و احسان خصوصی سے بہرہ مند ہوں جو گنہگاروں اورغارت گروں کے حصے میں نہیں ہے۔ ایک چیز جو ممکن ہے اسی مطلب کی طرف اشارہ ہو یہ ہے کہ لفظ “رحمان” قرآن میں ہر جگہ مطلق آیا ہے جو عمومیت کی نشانی ہے جبکہ رحیم کبھی مقید ذکر ہوا ہے، مثلا وکان بالمومنین رحیما (خدا، مومنین کے لئے رحیم ہے۔احزاب ۴۳) اور کبھی مطلق، جیسے کہ سورہ حمد میں ہے ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: واللہ الہ کل شیئی الرحمان بجمیع خلقہ الرحیم بالمومنین خاصة۔(بحوالہ: المیزان بسند کافی، توحید صدوق اور معانی الاخبار۔) خدا ہر چیز کا معبود ہے۔ وہ تمام مخلوقات کے لئے رحمان او رمومنین پر خصوصیت کے ساتھ رحیم ہے۔ ایک پہلو یہ بھی ہے کہ رحمان صیغہ مبالغہ ہے جوا سکی رحمت کی عمومیت کے لئے خود ایک مستقل دلیل ہے اور رحیم صفت مشبہ ہے جو ثبات و دوام کی علامت ہے اور یہ چیز مومنین کے لئے ہی خاص ہوسکتی ہے۔ ایک اور شاہد یہ ہے کہ رحمان خدا کے مخصوص ناموں میں سے ہے اور اس کے علاوہ کسی کے لئے یہ لفظ استعمال نہیں کیا جاتا جب کہ رحیم ایسی صفت ہے جو خدا اور بندوں کےلئے استعمال ہوتی ہے۔ جیسے نبی اکرمﷺ کے لئے ارشاد الہی ہے: عزیز علیہ ما عنتم حریص علیکم باالمومنین روٴف رحیم۔ تمہاری تکلیف و مشقت نبی پر گراں ہے، تمہاری ہدایت اسے بہت پسندیدہ ہے اور وہ مومنین کے لئے مہربان اور رحیم ہے (توبہ ، ۱۲۸)۔ ایک دوسری حدیث میں امام صادق (علیہ السلام) سے منقول ہے: الرحمن اسم خاص بصفة عامة والرحیم اسم عام بصفة خاصة۔ رحمن اسم خاص ہے لیکن صفت عام اور رحیم اسم عام ہے لیکن صفت خاص ہے۔(بحوالہ:مجمع البیان جلد ۱، ص ۲۱) یعنی رحمن ایسا نام ہے جو خدا کے لئے مخصوص ہے لیکن اس میں اس کی رحمت کا مفہوم سب پر محیط ہے۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ رحیم ایک صفت عام کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ البتہ اس میں (صفت خاص کے طور پر استعمال ہونے میں) کوئی مانع نہیں۔ جو فرق بتایا گیا ہے وہ تو اصل لغت کے لحاظ سے ہے لیکن اس میں استثنائی صورت پائی جاتی ہے۔ امام حسین (علیہ السلام) کی ایک بہترین اور مشہور دعا جو دعائے عرفہ کے نام سے معروف ہے، کے الفاظ ہیں: یا رحمان الدنیا والآخرة و رحیمہما۔ اے وہ خدا جو دنیا و آخرت کا رحمان اور دونوں ہی کا رحیم ہے۔ اس بحث کو ہم نبی اکرمﷺ کی ایک پرمعنی اور واضح حدیث کے ساتھ ختم کرتے ہیں۔ آپ کا ارشاد ہے: ان اللہ عزوجل مآة رحمة و انہ انزل منھا واحدة الی الارض فقسھا بین خلقہ بھا یتعاطفون و یتراجعون واخر تسع و تسعین لنفسہ یرحم بھا عبادہ یوم القیامة۔ خدا وندتعالی کی رحمت کے سو باب ہیں جن میں سے اس نے ایک کو زمین پر نازل کیا ہے اور (اس رحمت) کو اپنی مخلوق میں تقسیم کیا ہے۔ لوگوں کے درمیان جو عطوفت، مہربانی اور محبت ہے وہ اسی کا پرتو ہے لیکن نناوے حصے رحمت اس نے اپنے لئے مخصوص رکھی ہے اور قیامت کے دن اپنے بندوں کو اس سے نوازے گا۔ ( مجمع البیان ج۱)
خدا کی دیگر صفات بسم اللہ میں کیوں مذکور نہیں؟
یہ بات قابل توجہ ہے کہ قرآن کی تمام سورتیں(سوائے سورہ برات کے جس کی وجہ بیان ہوچکی ہے)بسم اللہ سے شروع ہوتی ہیں اوربسم اللہ میں مخصوص نام “اللہ” کے بعد صرف صفت رحمانیت کا ذکر ہے۔ اس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں پر باقی صفات کا ذکر کیوں نہیں ؟ اگر ہم ایک نکتے کی طرف توجہ کریں تو اس سوال کاجواب واضح ہوجاتا ہے اور وہ یہ کہ ہر کام کی ابتداء میں ضروری ہے کہ ایسی صفت سے مدد لی جائے جس کے آثار تمام جہان پر سایہ فگن ہوں، جو تمام موجودات کا احاطہ کئے ہوئے ہو اورعالم بحران میں مصیبت زدوں کونجات بخشنے والی ہو۔ مناسب ہے کہ اس حقیقت کوقرآن کی زبان سے سنا جائے۔ ارشاد الہی ہے: و رحمتی وسعت کل شئی میری رحمت تمام چیزوں پر محیط ہے۔ (اعراف ، ۱۵۶) ایک اور جگہ پر حاملان عرش کی ایک دعاء خدا وند کریم نے یوں بیان فرمایا ہے: ربنا وسعت کل شئی رحمة۔ پروردگار! تو نے اپنا دامن رحمت ہر چیز تک پھیلا رکھا ہے۔ (المومن، ۷) ہم دیکھتے ہیں کہ انبیاء کرام نہایت سخت اور طاقت فرسا حوادث اور خطرناک دشمنوں کے چنگل سے نجات کے لئے رحمت خدا کے دامن میں پناہ لیتے ہیں۔ قوم موسی )علیہ السلام( فرعونیوں کے ظلم سے نجات کے لئے پکارتی ہے: و نجنا برحمتک ۔ خدایا ہمیں (ظلم سے) نجات دلا اور اپنی رحمت (کا سایہ) عطا فرما۔ (یونس ، ۸۶) حضرت ہود (علیہ السلام) اور ان کے پیروکاروں کے سلسلے میں ارشاد ہے: فانجیناہ والذین معہ برحمة منا۔ ہود(علیہ السلام) اور ان کے ہمراہیوں کو ہم نے اپنی رحمت کے وسیلے سے نجات دی۔ (اعراف ، ۷۲) اصول یہ ہے کہ جب ہم خداسے کوئی حاجت طلب کریں تو اسے ایسی صفات سے یاد کریں جو اس حاجت سے میل اور ربط رکھتی ہوں۔ مثلا حضرت عیسی )علیہ السلام( مائدہ آسمانی (مخصوص غذا) طلب کرتے ہیں تو کہتے ہیں: اللھم ربنا انزل علینا مائدة من السماء و ارزقنا و انت خیر الرازقین۔ بار الہا ! ہم پر آسمان سے مائدہ نازل فرما اورہمیں روزی عطا فرما اور تو بہترین روزی رساں ہے۔(مائدہ،۱۱۴) خدا کے عظیم پیغمبر حضرت نوح(علیہ السلام) بھی ہمیں یہی درس دیتے ہیں۔ وہ جب ایک مناسب جگہ کشتی سے اترنا چاہتے ہیں تو یوں دعا کرتے ہیں: رب انزلنی منزلا مبارکا و انت خیرالمنزلین۔ پروردگار ! ہمیں منزل مبارک پر اتار کہ تو بہترین اتارنے والا ہے۔ (مومنین، ۲۹) حضرت زکریا (علیہ السلام) خدا سے ایسے فرزند کے لئے دعا کرتے ہیں جو ان کاجانشین و وارث ہو۔ اس کی خیر الوارثین سے توصیف کرتے ہیں: رب لا تذرنی فردا و انت خیر الوارثین۔ خداوند ! مجھے تنہا نہ چھوڑ اور تو توبہترین وارث ہے۔ (انبیاء ، ۸۹) کسی کام کو شروع کرتے وقت جب خدا کے نام سے شروع کریں تو خدا کی وسیع رحمت کے دامن سے وابستگی ضروری ہے۔ ایسی رحمت جو عام بھی ہو اور خاص بھی۔ کاموں کی پیش رفت او رمشکلات میں کامیابی کے لئے کیا ان صفات سے بہتر کوئی اور صفت ہے؟ قابل توجہ امر یہ ہے کہ و ہ توانائی جو قوت جاذبہ کی طرح عمومیت کی حامل ہے، جو دلوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیتی ہے، وہ یہی صفت رحمت ہے لہذا مخلوق کا اپنے خالق سے رشتہ استوار کرنے کے لئے بھی اسی صفت رحمت سے استفادہ کرنا چاہئے۔ سچے مومن اپنے کاموں کی ابتداء میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کہہ کر تمام جگہوں سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اپنےدل کو صرف خدا سے وابستہ کرتے ہیں اور اسی سے مدد و نصرت طلب کرتے ہیں۔ وہ خدا جس کی رحمت سب پر چھائی ہوئی ہے اور کوئی موجود ایسا نہیں جو اس سے بہرہ ور نہ ہو۔ بسم اللہ سے واضح طور پر یہ درس حاصل کیا جا سکتا ہے کہ خداوند عالم کے ہر کام کی بنیاد رحمت پر ہے اور بدلہ یا سزا تو استثنائی صورت ہے۔ جب تک قطعی عوامل پیدا نہ ہوں، سزا متحقق نہیں ہوتی ۔ جیسا کہ ہم دعا میں پڑھتے ہیں: یا من سبقت رحمتہ غضبہ۔ اے وہ خدا کہ جس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت لے گئی ہے۔(دعائے جوشن کبیر۔) انسان کو چاہئے کہ وہ زندگی کے پروگرام پر یوں عمل پیرا ہو کہ ہر کام کی بنیاد رحمت و محبت کو قرار دے اور سختی و درشتی کو فقط بوقت ضرورت اختیار کرے۔ قرآن مجید کی ۱۱۴ سورتوں میں سے ۱۱۳ کی ابتداء رحمت سے ہوتی ہے اور فقط ایک سورہٴ توبہ ہے جس کا آغاز بسم اللہ کی بجائے اعلان جنگ اور سختی سے ہوتا ہے۔