Sūra 01 · 7v
Chapter 017 verses

Al-Fatihah

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
الفاتحة
الفاتحہ

سوره حمد (فاتحه الکتاب)

یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۷ آیات هیں

سورہ حمد کی خصوصیات

یہ سورت قرآن مجید کی دیگر سورتوں کی نسبت بہت سی خصوصیات کی حامل ہے۔ ان امتیازات کا سر چشمہ مندرجہ ذیل خوبیاں ہیں:

لب و لہجہ اور اسلوب بیان

۱۔ لب و لہجہ اور اسلوب بیان: لب و لہجہ اور اسلوب بیان : یہ سورت دیگر سورتوں سے اس لحاظ سے واضح امتیاز رکھتی ہے کہ وہ خدا کی گفتگو کے عنوان کی حامل ہیں اور یہ بندوں کی زبان کے طورپر نازل ہوئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس میں خداوند عالم نے بندوں کو خدا سے گفتگو اور مناجات کا طریقہ سکھایا ہے۔ سورة کی ابتداء خداوند عالم کی حمد وثنا سے کی گئی ہے۔ خدا شناسی اور قیامت پر ایمان کے اظہار کے ساتھ ساتھ گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے بندوں کے تقاضوں، حاجات اور ضروریات پر کلام کو ختم کیا گیا ہے۔ بیدار مغز اور ذی فہم انسان جب اس سورہ کو پڑھتا ہے تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ فرشتوں کے پروں پر سوار ہو کر عالم بالا کی طرف محو پرواز ہے اور عالم روحانیت و معنویت میں لمحہ بہ لمحہ خدا سے زیادہ سے زیادہ قریب ہوتا جا رہا ہے۔ یہ نکتہ بڑا جاذب نظر ہے کہ خود ساختہ یا تحریف شدہ مذاہب جو خالق و مخلوق کے درمیان معاملہ میں واسطہ کے قائل ہیں ان کے برخلاف اسلام انسانوں کو یہ دستور دیتا ہے کہ وہ کسی بھی واسطہ کے بغیر خدا سے اپنا رابطہ برقرار رکھیں۔ خدا و انسان اور خالق و مخلوق کے درمیان اس نزدیکی اور بے واسطہ تعلق کے سلسلے میں یہ سورہ آئینہ کا کام دیتی ہے۔ یہاں انسان صرف خدا کو دیکھتا ہے۔ اسی سے گفتگو کرتا ہے اور فقط اس کا پیغام اپنے کانوں سے سنتا ہے۔ یہاں تک کہ کوئی مرسل یا ملک مقرب بھی درمیان میں واسطہ نہیں بنتا۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہی پیوند و ربط جو براہ راست خالق و مخلوق کے درمیان ہے۔ قرآن مجید کا آغاز ہے۔

اساس قرآن (ام الکتاب)

نبی اکرم ﷺ کے ارشاد کے مطابق سورہ حمد ام الکتاب ہے۔ ایک مرتبہ جابر بن عبداللہ انصاری آنحضرتﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپﷺنے فرمایا : الا اعلمک افضل سورة انزلھا اللہ فی کتابہ قال فقال لہ جابر بلی بابی انت و امی یا رسول اللہ علمنیھا فعلمہ الحمد ام الکتاب۔۔۔ کیا تمہیں سب سے فضیلت والی سورت کی تعلیم دوں جو خدا نے اپنی کتاب میں نازل فرمائی ہے؟ جابر نے عرض کیا جی ہاں! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھےاس کی تعلیم دیجئے۔ آنحضرتﷺ نے سورہ حمد جو ام الکتاب ہے انہیں تعلیم فرمائی اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ سورہ حمد موت کے علاوہ ہر بیماری کے لئے شفاء ہے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، نور الثقلین، آغاز سورہ حمد) آپ کا یہ بھی ارشاد ہے : والذی نفسی بیدہ ما انزل اللہ فی التوراة ولا فی الزبور و لا فی القرآن مثلھا ھی ام الکتاب۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے خدا وند عالم نے تورات، انجیل، زبور یہاں تک کہ قرآن میں بھی اسی کوئی سورة نازل نہیں فرمائی اور یہ ام الکتاب ہے۔(ایضا) اس سورت میں غور و فکر کرنے سے اس کی وجہ معلوم ہوتی ہے ۔ حقیقت میں یہ سورہ پورے قرآن کے مضامین کی فہرست ہے۔ اس کا ایک حصہ توحید اور صفات خدا وندی سے متعلق ہے، دوسر ا حصہ قیامت و معاد سے گفتگو کرتا ہے اور تیسرا حصہ ہدایت و گمراہی کو بیان کرتا ہے جو مومنین و کفار میں حد فاصل ہے۔ اس سورہ میں پروردگار عالم کی حاکمیت مطلقہ او رمقام ربوبیت کا بیان ہے نیز اس کی لامتناہی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے جن کے دو حصے ہیں، ایک عمومی اور دوسرا خصوصی (رحمانیت اور رحیمیت) اس میں عبادت و بندگی کی طرف بھی اشارہ ہے جو اسی ذات پاک کے لئے مخصوص ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سورہ میں توحید ذات، توحید صفات، توحید افعال اور توحید عبادت سب کو بیان کیاگیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ سورت ایمان کے تینوں مراحل کا احاطہ کرتی ہے : ۱۔ دل سے اعتقاد رکھنا۔ ۲۔ زبان سے اقرار کرنا۔ ۳۔ اعضاء و جوارح سے عمل کرنا۔ ہم جانتے ہیں کہ ام کا مطلب ہے بنیاد اور جڑ۔ شاید اسی بناء پر عالم اسلام کے مشہور مفسرابن عباس کہتے ہیں : ان لکل شیء اساسا و اساس القرآن الفاتحہ۔ ہر چیز کی کوئی اساس و بنیاد ہوتی ہے اور قرآن کی اساس سورہ فاتحہ ہے۔ انہی وجود کی بنا پر اس سورہ کی فضیلت کے سلسلے میں رسول اللہ سے منقول ہے: ایما مسلم قرء فاتحة الکتاب اعطی من الاجر کانما قرء ثلثی القرآن و اعطی من الاجر کانما تصدق علی کل مومن و مومنة۔ جو مسلمان سورہ حمد پڑھے اس کا اجر و ثواب اس شخص کے برابر ہے جس نے دو تہائی قرآن کی تلاوت کی ہو (ایک اور حدیث میں پورے قرآن کی تلاوت کے برابر ثواب مذکور ہے) اور اسے اتنا ثواب ملے گا گویا اس نے ہر مومن اور مومنہ کو ہدیہ پیش کیا ہو۔(بحوالہ: مجمع البیان، نور الثقلین، آغاز سورہ حمد) سورہ فاتحہ کے ثواب کو دو تہائی قرآن کے تلاوت کے برابر قرار دینے کی وجہ شاید یہ ہو کہ قرآن کے ایک حصے کا تعلق خدا سے ہے، دوسرے کا قیامت سے اور تیسرے کا احکام و قوانین شرعی سے۔ ان میں سے پہلا اور دوسرا حصہ سورہ حمد میں مذکور ہے ۔ دوسری حدیث میں پورے قرآن کے برابر فرمایا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کا خلاصہ ایمان اور عمل ہے اور یہ دونوں چیزیں سورہ حمد میں جمع ہیں۔

پیغمبر اکرم(ص) کے لئے اعزاز

یہ بات قابل غور ہے کہ قرآنی آیات میں سورہ حمد کا تعارف آنحضرتﷺکے لئے ایک عظیم انعام کے طور پر کرایا گیا ہے اور اسے پورے قرآن کے مقابلے میں پیش فرمایا گیا ہے جیسےکہ ارشاد الہی ہے : ولقد اتیناک سبعا من المثانی والقرآن العظیم ہم نے آپ کو سات آیتوں پر مشتمل سورہ حمد عطا کیا جودو مرتبہ نازل کیا گیا اور قرآن عظیم بھی عنایت فرمایا گیا۔ (حجر:آیہ ۷۸) قرآن مجید اپنی تمام تر عظمت کے باوجود یہاں سورہ حمد کے برابر قرار پایا۔ اس سورہ کا دو مرتبہ نزول بھی اس کی بہت زیادہ اہمیت کی بناء پر ہے۔ (سبعا من المثانی،قرار دینے کی وجہ اور سورہ حمد کی کچھ مزید خوبیاں اسی تفسیر(نمونہ) میں سورہ حجر کی آیت ۸۷ کے ذیل میں ملاحظہ فرمائیے۔) اسی مضمون کی ایک روایت رسول اللہ ﷺ سے حضرت امیرالمومنین(علیہ السلام) نے بیان فرمائی ہے: ان اللہ تعالی افرد الامتنان علی بفاتحة الکتاب و جعلھا بازاء القرآن العظیم و ان فاتحة الکتاب اشرف ما فی کنوز العرش۔ خدا وند عالم نے مجھے سورہ حمد دے کر خصوصی احسان جتایا ہے اور اسے قرآن کے مقابل قرار دیا ہے عرض کے خزانوں میں سے اشرف ترین سورہ حمد ہے۔

تلاوت کی تاکید

۴۔ تلاوت کی تاکید: سورہ حمد کی فضیلتوں کے بیانات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ احادیث اسلامی میں جو شیعہ و سنی کتب میں موجود ہیں، اس کی تلاوت کے متعلق اتنی تاکید کیوں کی گئی ہے۔اس کی تلاوت انسان کو روح ایمان بخشتی ہے اور اسے خدا کے نزدیک کرتی ہے۔ اس سے دل کو جلا ملتی ہے اور روحانیت پیدا ہوتی ہے۔ اس سے انسانی ارادے کو کامیابی میسر آتی ہے۔ اس سورہ کی تلاوت سے خالق و مخلوق کے ما بین انسانی جستجو فزوں تر ہوتی ہے۔ نیز انسان اور گناہ و انحراف کے درمیان رکاوٹ بنتی ہے۔ اسی بناء پر حضرت صادق (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا ہے : ان الابلیس اربع رفات اولھن یوم لعن وحین اھبط الی الارض و حین بعث محمد علی حین فترہ من الرسل و حین انزلت ام الکتاب۔ شیطان نے چار دفعہ نالہ و فریاد کیا۔ پہلا وہ موقع تھا جب اسے راندہِ ہ درگاہ کیا گیا۔ دوسرا وہ وقت تھا جب اسے بہشت سے زمین کی طرف اتارا گیا۔ تیسرا وہ لمحہ تھا جب حضرت محمدﷺکو مبعوث برسالت کیا گیا اور آخری وہ مقام تھا جب سورہ حمد کو نازل کیا گیا۔( بحوالہ: نور الثقلین جلد اول ص۴۔)

سورہ حمد کے موضوعات

اس سورہ کی سات آیات میں سے ہر ایک، ایک اہم مقصد کی طرف اشارہ کرتی ہے: “بسم اللہ” ہر کام کی ابتداء کا سرنامہ ہے اور ہر کام کو شروع کرتے وقت ہمیں خدا کی ذات پاک سے مدد طلب کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔ “الحمد للہ رب العالمین” یہ اس بات کا درس ہے کہ تمام نعمتوں کی برگشت او رتمام موجودات کی پرورش و تربیت کا تعلق صرف اللہ کے ساتھ ہے۔ یہ امر اس حقیقت سے مربوط ہے کہ تمام عنایات کا سر چشمہ اسی کی ذات پاک ہے۔ “ الرحمٰن الرحیم” یہ اس بات کا تکرار ہے کہ خدا کی خلقت، تربیت او رحاکمیت کی بنیاد رحمت و عطوفت پر ہے اور دنیا کا نظام تربیت اسی قانون پر قائم ہے۔ “مالک یوم الدین” یہ آیت معاد، اعمال کی جزا و سزا اور اس عظیم عدالت میں خدا وند عالم کی حاکمیت کی جانب توجہ دلاتی ہے۔ " ایاک نعبد و ایاک نستعین" یہ توحید عبادی کا بیان ہے اور انسانوں کے لئے اس اکیلے مرکز کا تذکرہ ہے جو سب کا آسرا او سہارا ہے۔ “اھدنا الصراط المستقیم” یہ آیت بندوں کی احتیاج ہدایت اور اشتیاق ہدایت کو بیان کرتی ہے۔ یہ آیت اس طرف بھی توجہ دلاتی ہے کہ ہر قسم کی ہدایت اسی کی طرف سے ہے۔ سورہ کی آخری آیت اس بات کی واضح اور روشن نشانی ہے کہ صراط مستقیم سے مراد ان لوگوں کی راہ ہے جو نعمات الہیہ سے نوازے گئے ہیں اور یہ راستہ مغضوب اور گمراہوں کے راستے سے جدا ہے۔ ایک لحاظ سے یہ سورہ دو حصوں میں تقسیم ہوجاتی ہے۔ ایک حصہ خدا کی حمد وثناء ہے اور دوسرا بندے کی ضروریات وحاجات۔ عیون اخبار الرضا میں سرکار رسالتﷺسے اس سلسلے میں ایک حدیث بھی منقول ہے۔ آپﷺنے فرمایا : خدا وندعالم کا ارشاد ہے کہ میں نے سورہ حمد کو اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان تقسیم کردیا ہے لہذا میرا بندہ حق رکھتا ہے کہ وہ جو چاہے مجھ سے مانگے۔ جب بندہ کہتا ہے “بسم اللہ الرحمن الرحیم” تو خدائے بزرگ و برتر ارشاد فرماتا ہے میرے بندے نے میرے نام سے ابتداء کی ہے مجھ پر لازم ہے کہ میں اس کے کاموں کو آخر تک پہنچادوں اور اسے ہر حالت میں برکت عطا کروں۔ جب و ہ کہتا ہے “الحمد للہ رب العالمین” تو خدا وند تعالی فرماتا ہے میرے بندے نے میری حمد وثنا کی ہے۔ اس نے سمجھا ہے کہ جو نعمتیں اس کے پاس ہیں وہ میری عطا کردہ ہیں لہذا میں مصائب کو اس سے دور کئے دیتا ہوں۔ گواہ رہو کہ میں دنیا کی نعمتوں کے علاوہ اسے دار آخرت میں بھی نعمات سے نوازوں گا اور اس جہان کے مصائب سے بھی اسے نجات عطا کروں گا جیسے اس دنیا کی مصیبتوں سے اسے رہائی دی ہے۔ جب وہ کہتا ہے “الرحمن الرحیم” تو خدا وند عالم فرماتا ہے میرا بندہ گواہی دے رہا ہے کہ میں رحمن و رحیم ہوں۔ گواہ رہو کہ میں اس کے حصے میں اپنی رحمت و عطیات زیادہ کئے دیتا ہوں۔ جب وہ کہتا ہے “مالک یوم الدین” تو خدافرماتا ہے کہ گواہ رہو جس طرح اس نے روز قیامت میری حاکمیت و مالکیت کا اعتراف کیا ہے، حساب و کتاب کے دن میں اس کے حساب و کتاب کو آسان کردوں گا۔ اس کی نیکیوں کو قبول کر لوں گا اور اس کی برائیوں سے در گذر کروں گا۔ جب وہ کہتا ہے “ایاک نعبد” تو خداتعالی فرماتا ہے میرا بندہ سچ کہہ رہا ہے وہ صرف میری عبادت کرتاہے۔ میں تمہیں گواہ قرار دیتا ہوں کہ اس خالص عبادت پر میں اسے ایسا ثواب دوں گا کہ وہ لوگ جو اس کے مخالف تھے اس پر رشک کریں گے جب وہ کہتا ہے “ایاک نستعین” تو خدا فرماتا ہے میرے بندے نے مجھ سے مدد چاہی ہے اور صرف مجھ سے پناہ مانگی ہے۔ گواہ رہو اس کے کاموں میں ، مَیں اس کی مددکروں گا۔ سختیوں اور تنگیوں میں اس کی فریادپر پہنچوں گا اور پریشانی کے دن اس کی دستگیری کروں گا۔ جب وہ کہتا ہے” اھدنا الصراط المستقیم ولا الضالین” تو خدا وند عالم فرماتا ہے میرے بندے کی یہ خواہش پوری ہوگئی ہے۔ اب جو کچھ وہ چاہتا ہے مجھ سے مانگے، میں اس کی دعا قبول کروں گا۔ جس چیز کی امید لگائے بیٹھا ہے وہ اسے عطا کروں گا اور جس چیز سے خائف ہے اس سے مامون قرار دوں گا۔(بحوالہ: المیزان ج اول ص۳۷ بحوالہ عیون اخبار الرضا۔)

اس سورہ کا نام فاتحة الکتاب کیوں ہے؟

فاتحة الکتاب کا معنی ہے آغاز کتاب(قرآن) کرنے والی۔ مختلف روایات جو نبی اکرم ﷺ سے نقل ہوئی ہیں ان سے واضح ہوتا ہے کہ یہ سورت آنحضرت ﷺ کے زمانے میں بھی اسی نام سے پہچانی جاتی تھی۔ یہیں سے دنیائے اسلام کے ایک اہم ترین مسئلے کی طرف فکر کا دریچہ کھلتا ہے اور وہ ہے جمع قرآن کے بارے میں۔ ایک گروہ میں یہ بات مشہور ہے کہ قرآن مجید نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں منتشر و پراگندہ صورت میں تھا اور آپ ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر،حضرت عمر یا حضرت عثمان کے زمانے میں جمع ہوا لیکن “فاتحة الکتاب “ سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن مجید پیغمب اکرم ﷺ کے زمانے میں اسی موجودہ صورت میں جمع ہوچکا تھا اور اسی سورہ حمد سے اس کی ابتداء ہوئی تھی۔ ورنہ یہ کوئی سب سے پہلے نازل ہونے والی سورہ تو نہیں جو یہ نام رکھا جائے اور نہ ہی اس سورة کے لئے فاتحة الکتاب نام کے انتخاب کے لئے کوئی دوسری دلیل موجود ہے۔ بہت سے دیگر مدارک بھی ہمارے پیش نظر ہیں جو اس حقیقت کے موید ہیں کہ قرآن مجید بصورت مجموعہ جس طرح ہمارے زمانے میں موجود ہے اسی طرح پیغمبر اکرم ﷺ کے زمانے میں آپ کے حکم کے مطابق جمع ہوچکا تھا۔ ان میں سے چند ایک ہم پیش کرتے ہیں : ۱۔ علی بن ابراہیم نے حضرت امام صادق (علیہ السلام) سے روایت کی ہے : رسول اکرم ﷺ نے حضرت علی )علیہ السلام( سے فرمایا کہ قرآن ریشم کے ٹکڑوں، کاغذ کے پرزوں اور ایسی دوسری چیزوں میں منتشر ہے، اسے جمع کردو۔ اس پر حضرت علی(علیہ السلام) مجلس سے اٹھ کھڑے ہوئے اور قرآن کو زرد رنگ کے پارچے میں جمع کیا اور پھر اس پر مہر لگا دی۔ انطلق علی فجمعہ فی ثوب اصفر ثم ختم علیہ (بحوالہ: تاریخ القرآن، ابوعبداللہ زنجانی ص۴۴۔) ۲۔ اہل سنت کے مشہور مولف حاکم نے کتاب مستدرک میں زید بن ثابت سے نقل کیا ہے : ہم پیغمبر اکرم ﷺ کی خدمت میں قرآن کے پراکندہ ٹکڑوں کوجمع کرتے تھے اور ہر ایک کو نبی اکرم ﷺ کی راہنمائی کے مطابق اس کے مناسب محل و مقام پر رکھتے تھے لیکن پھر بھی یہ تحریریں متفرق تھیں چنانچہ پیغمبراکرم ﷺ نے علی)علیہ السلام( کو حکم دیا کہ وہ انہیں ایک جگہ جمع کریں، (اس جمع آوری کے بعد) اب آپ ہمیں اسے ضائع کرنے سے ڈراتے تھے۔ ۳۔ اہل تشیع کے بہت بڑے عالم سید مرتضی کہتے ہیں : قرآن رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اسی حالت میں اسی موجودہ صورت میں جمع ہوچکا تھا۔(بحوالہ: مجمع البیان، جلد اول ص۱۵۔) ۴ ۔طبرانی اورابن عساکر نے شعبی سے یوں نقل کیا ہے : انصار میں سے چھ افراد نے قرآن کو پیغمبر ﷺ کے زمانے میں جمع کیا تھا۔ (بحوالہ: منتخب کنزالعمال جلد دوم ص۵۲۔) ۵۔ قتادہ ناقل ہیں : میں نے انس سے سوال کیا کہ پیغمبر ﷺ کے زمانے میں کس شخص نے قرآن جمع کیا تھا۔ اس نے کہا چار افرا د نے جو سب کے سب انصار میں سے تھے۔ ابی بن کعب، معاذ ، زید بن ثابت اور ابوزید۔(بحوالہ: صحیح بخاری جلد۶ ص۱۰۔) ان کے علاوہ بھی روایات ہیں جن کا ذکر کرنا طول کا باعث ہوگا۔ بہرحال یہ احادیث جو شیعہ وسنی کتب میں موجود ہیں ان سے قطع نظر اس سورہ کے لئے فاتحة الکتاب نام کا انتخاب اس موضوع کے اثبات کا زندہ ثبوت ہے۔

ایک اہم سوال

یہاں یہ سوال پیدا ہوگا کہ اس بات کوکیسے باور کیا جا سکتا ہے کہ قرآن رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جمع ہوا جبکہ علماء کے ایک گروہ میں مشہور ہے کہ قرآن پیغمبر اکرم ﷺ کے بعد جمع ہوا ہے (حضرت علی کے ذریعے یا دیگر اشخاص کے ذریعے)۔ جواب: جو قرآن حضرت علی )علیہ السلام( نے جمع کیا تھا وہ قرآن، تفسیر، شان نزول آیات وغیرہ کا مجموعہ تھا۔ باقی رہا حضرت عثمان کا معاملہ تو ہمارے پاس ایسے قرائن موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اختلاف قرائت کو روکنے کے لئے اسے ایک قرائت اور نقطہ گذاری کے ساتھ معین کیا کیونکہ اس وقت تک نقطے لگانا معمولات میں داخل نہیں تھا۔ رہا بعض لوگوں کا یہ اصرار کہ قرآن کسی طرح بھی رسول اللہ کے زمانے میں جمع نہیں ہوا اور یہ اعزاز حضرت عثمان، خلیفہ اول یا خلیفہ دوم کو حاصل ہوا ہے۔ شاید اس سے زیادہ تر مقصود فضیلت سازی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر گروہ اس فضیلت کی نسبت خاص شخصیت کی طرف دیتا ہے اوراسی سے متعلق روایت پیش کرتا ہے۔ اصولی اور بنیادی طور پر یہ کس طرح باور کیا جا سکتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اس اہم ترین کام کو نظر انداز کردیا ہو حالانکہ آپ ﷺ تو چھوٹے چھوٹے کاموں کی طرف بھی توجہ دیتے تھے جبکہ قرآن، اسلام کا اصول اساسی ہے، تعلیم و تربیت کی عظیم کتاب ہے اور تمام اسلامی پروگراموں اور عقاید کی بنیاد ہے۔ کیا نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں جمع نہ ہونے سے یہ خطرہ پیدا نہیں ہو سکتا تھا کہ قرآن کا کچھ حصہ ضائع ہو جائے یا مسلمانوں میں اختلافات پیدا ہوجائیں؟ علاوہ ازیں حدیث ثقلین جسے شیعہ و سنی دونوں نے نقل کیا ہے، گواہی دیتی ہے کہ قرآن کتابی صورت میں رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جمع ہوچکا تھا۔ پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا : میں تم سے رخصت ہو رہا ہوں اور تم میں دو چیزیں بطور یادگار چھوڑے جارہا ہوں ،خدا کی کتاب اور میرا خاندان۔ وہ روایات جودلالت کرتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی زیر نگرانی صحابہ نے قرآن جمع کیا تھا، ان میں صحابہ کی تعداد مختلف بیان ہونے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ہر روایت نے چند ایک کی نشاندہی کی ہے۔ اس سے کام فقط ان شخصیتوں میں منحصر نہیں ہو جاتا لہذا یہ پہلو باعث اختلاف نظر نہیں ہونا چاہئے۔

1
1:1
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو (تمام مخلوقات کے لئے) رحمان اور (مومنین کے ساتھ) رحیم ہے۔

تفسیر بسم اللہ الرحمن الرحیم

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تمام لوگوں میں یہ رسم ہے کہ ہر اہم اور اچھے کام کا آغاز کسی بزرگ کے نام سے کرتے ہیں۔ کسی عظیم عمارت کی پہلی اینٹ اس شخص کے نام پر رکھی جاتی ہے جس سے بہت زیادہ قلبی لگاؤ ہو یعنی اس کام کو اپنی پسندیدہ شخصیت کے نام منسوب کر دیتے ہیں۔ مگر کیا یہ بہتر نہیں کہ کسی پروگرام کودوام بخشنے اور کسی مشن کو برقرار رکھنے کے لئے اسے ایسی ہستی سے منسوب کیا جائے جو پائیدار، ہمیشہ رہنے والی ہو اور جس کی ذات میں فنا کا گزر نہ ہو۔ اس جہاں کی تمام موجودات کہنگی پذیر ہیں اور زوال کی طرف رواں دواں ہیں۔ صرف وہی چیز باقی رہ جائےگی، جو اس ذات لایزال سے وابستہ ہوگی۔ انبیاء و مرسلین کے نام باقی ہیں تو پروردگار عالم سے رشتہ جوڑنے اور عدالت و حقیقت پر قائم رہنے کی وجہ سے اور یہ وہ رشتہ ہے جو زوال آشنا نہیں۔ اگر حاتم کا نام باقی ہے تو سخاوت کے باعث جو زوال پذیر نہیں۔ تمام موجودات میں سے فقط ذات خدا ازلی و ابدی ہے ۔ اس لئے چاہئے کہ تمام امور کو اس کے نام سے شروع کیا جائے۔ اس کے سائے میں تمام چیزوں کو قرار دیا جائے اور اسی سے مدد طلب کی جائے۔ اسی لئے قرآن کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے ہوتا ہے۔ اپنے امورکو برائے نام خدا سے وابستہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ حقیقتا اور واقعتا خدا سے رشتہ جوڑنا چاہئے کیونکہ یہ ربط انسان کو صحیح راستہ پر چلائے گا اور ہر قسم کی کجروی سے باز رکھے گا۔ ایسا کام یقینا تکمیل کو پہنچے گا اور باعث برکت ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی مشہور حدیث میں ہم پڑھتے ہیں: کل امر ذی بال لم یذکر فیہ اسم اللہ فھو ابتر جو بھی اہم کام خدا کے نام کے بغیرشروع ہوگا ناکامی سے ہمکنار ہوگا۔(بحوالہ: تفسیر البیان، جلد اول، ص۴۶۱ بحوالہ بحار، جلد ۶، باب ۵۸۔) انسان جس کام کو انجام دینا چاہے، چاہئے کہ بسم اللہ کہے اور جو عمل خدا کے نام سے شروع ہو وہ مبارک ہے۔ امام باقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں : جب کوئی کام شروع کرنے لگو، بڑاہو یا چھوٹا بسم للہ کہوتاکہ وہ بابرکت بھی ہو اور پرا ز امن و سلامتی بھی۔ خلاصہ یہ کہ کسی عمل کی پائیداری و بقا اس کے ربط خدا سے وابستہ ہے۔ اسی مناسبت سے جب خدا وند تعالی نے پیغمبر اکرم ﷺ پر پہلی وحی نازل فرمائی تو انہیں حکم دیا کہ تبلیغ اسلام کی عظیم ذمہ داری کو خدا کے نام سے شروع کریں۔ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ہم دیکھتے ہیں کہ جب تعجب خیز اور نہایت سخت طوفان کے عالم میں حضرت نوح کشتی پر سوار ہوئے، پانی کی موجیں پہاڑوں کی طرح بلند تھیں اور ہر لحظہ بے شمار خطرات کا سامنا تھا۔ ایسے میں منزل مقصود تک پہنچنے اور مشکلات پر قابو پانے کے لئے آپ نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ کشتی کے چلتے اور رکتے بسم اللہ کہو۔ وَقَالَ ارْكَبُواْ فِيهَا بِسْمِ اللّهِ مَجْرِےهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ ( ہود، آیت ۴۱)۔ چنانچہ ان لوگوں نے اس پر خطر سفر کو توفیق الہی کے ساتھ کامیابی سے طے کر لیا اور امن و سلامتی کے ساتھ کشتی سے اترے۔ جیسا کہ ارشاد الہی ہے: قِيلَ يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلَامٍ مِنَّا وَبَرَكَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَىٰ أُمَمٍ مِمَّنْ مَعَكَ ۚ حکم ہوا اے نوح (کشتی سے) ہماری طرف سے سلامتی او ربرکات کے ساتھ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اتریے (ہود، آیت ۴۸ )۔ جناب سلیمان نے جب ملکہ سبا کو خط لکھا تو اس کا سرنامہ بسم اللہ ہی کو قرار دیا۔ إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ یہ (مراسلہ) ہے سلیمان کی طرف سے اور بے شک یہ ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم(نمل، آیت ۳۰)۔ اسی بناء پر قرآن حکیم کی تمام سورتوں کی ابتدا ٴ بسم اللہ سے ہوتی ہے تا کہ نوع بشر کی ہدایت و سعادت کا اصلی مقصد کامیابی سے ہمکنار ہو اور بغیر کسی نقصان کے انجام پذیر ہو۔ صرف سورہ توبہ ایسی سورت ہے جس کی ابتداء میں ہمیں بسم اللہ نظر نہیں آتی کیونکہ اس کا آغاز مکہ کے مجرموں او رمعاہدہ شکنوں سے اعلان جنگ کے ساتھ ہو رہا ہے ۔ لہذا ایسے موقع پر خدا کی صفات رحمان و رحیم کا ذکر مناسب نہیں۔ یہاں ایک نکتہ کی طرف توجہ ضروری ہے وہ یہ کہ ہر جگہ بسم اللہ کہا جاتا ہے بسم الخالق یا بسم الرزاق وغیرہ نہیں کہا جاتا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لفظ اللہ خدا کے تمام اسما اور صفات کا جامع ہے۔ اس کی تفصیل عنقریب آئے گی۔ اللہ کے علاوہ دوسرے نام بعض کمالات کی طرف اشارہ کرتے ہیں، مثلا خالقیت، رحمت وغیرہ۔ اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ ہر کام کی ابتداء میں بسم اللہ کہنا جہاں خدا سے طلب مدد کے لئے ہے وہاں اس کے نام سے شروع کرنے کے لئے بھی ہے۔ اگرچہ ہمارے بزرگ مفسرین نے طلب مدد اور شروع کرنے کو ایک دوسرے سے جدا قرار دیا ہے خلاصہ یہ کہ آغاز کرنا او رمدد چاہنا ہر دو مفہوم یہاں پر لازم و ملزوم ہیں۔ بہرحال جب تمام کام خدا کی قدرت کے بھروسہ پر شروع کئے جائیں تو چونکہ خدا کی قدرت تمام قدرتوں سے بالاتر ہےاس لئے ہم اپنے میں زیادہ قوت و طاقت محسوس کرنے لگتے ہیں۔ زیاد مطمئن ہو کر کوشش کرتے ہیں۔ بڑی سے بڑی مشکلات کا خوف نہیں رہتا اور مایوسی پیدا نہیں ہوتی اور اس کے ساتھ ساتھ اس سے انسان کی نیت اورعمل زیادہ پاک اور زیادہ خالص رہتا ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں جتنی گفتگو کی جائے کم ہے کیونکہ مشہور ہے کہ حضرت علی(علیہ السلام) ابتدائے شب سے صبح تک ابن عباس کے سامنے بسم اللہ کی تفسیر بیان فرماتے رہے صبح ہوئی تو آپ بسم کی “ب” سے آگے نہیں بڑھے تھے۔ آنحضرت (علیہ السلام) ہی کے ایک ارشاد سے ہم یہاں اس بحث کو ختم کرتے ہیں۔ آئندہ مباحث میں اس سلسلے کے دیگر مسائل پرگفتگو ہوگی۔ عبداللہ بن یحیی امیرالمومنین )علیہ السلام( کے محبوں میں سے تھے۔ ایک مرتبہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بسم اللہ کہے بغیر اس چارپائی پر بیٹھ گئے جو وہاں پڑی تھی۔ اچانک وہ جھکے اور زمین پر آ گرے۔ ان کا سر پھٹ گیا۔ حضرت علی(علیہ السلام) نے سر پر ہاتھ پھیرا تو ان کا زخم مندمل ہوگیا۔ آپ نے فرمایا تمہیں معلوم نہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے خدا کی طرف سے یہ حدیث مجھ سے بیان فرمائی ہے کہ جو کام نام خدا کے بغیر شروع کیا جائے بے انجام رہتا ہے۔ (عبداللہ کہتے ہیں) میں نے عرض کیا : میرے ماں باپ آپ پر قربان، میں یہ جانتا ہوں او راب کے بعد پھر اسے ترک نہ کروں گا۔ آپ نے فرمایا: پھر تو تم سعادتوں سے بہرہ ور ہوگئے۔ امام صادق(علیہ السلام) نے اسی حدیث کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے بعض شیعہ کام کی ابتداء میں بسم اللہ ترک کردیتے ہیں اور خدا انہیں کسی تکلیف میں مبتلا کر دیتا ہے تاکہ وہ بیدار ہوں اور ساتھ ساتھ یہ غلطی بھی ان کے نامہ عمل سے دھو ڈالی جائے۔(بحوالہ: سفینة البحار، جلد اول، ص۶۳۳۔)

کیا بسم اللہ سورہ حمد کا جزء ہے؟

شیعہ علماء و محققین میں اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں کہ بسم اللہ سورہ حمد اور دیگر سورقرآن کا جزء ہیں۔ بسم اللہ کا متن تمام سورتوں کی ابتداء میں ثبت ہونا اصولی طور پر اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ یہ جزو قرآن ہے کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ متن قرآن میں کوئی اضافی چیز نہیں لکھی گئی او ربسم اللہ زمانہ پیغمبرﷺ سے لے کر اب تک سورتوں کی ابتداء میں موجود ہے۔ باقی رہے علمائے اہل سنت تو صاحب تفسیر المنار نے ان کے اقوال درج کئے ہیں جن کی تفصیل کچھ یوں ہے: گذشتہ علمائے اہل مکہ، فقہا، قاری حضرات جن میں ابن کثیر بھی شامل ہیں، اہل کوفہ کے قراء میں سے عاصم اور کسائی اور اہل مدینہ میں سے بعض صحابہ اور تابعین اسی طرح شافعی اپنی کتاب جدید میں اور اس کے پیروکار نیز ثوری اور احمد اپنے قول میں اس بات کے معتقد ہیں کہ بسم اللہ جز سورہ ہے۔ اسی طرح علماء امامیہ اور ن کے اقوال کے مطابق صحابہ میں سے علی )علیہ السلام(، ابن عباس، عبداللہ بن عمر اور ابوہریرہ، تابعین میں سے سعید بن جبیر، عطا، زہری اور ابن مبارک بھی اسی نظرئے کے حامل تھے۔ اس کے بعد مزید لکھتے ہیں کہ ان کی اہم ترین دلیل یہ ہے کہ صحابہ اور ان کے بعد برسر کار لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ سورہ برائت کے سوا تمام سورتوں کے آغاز میں بسم اللہ مذکور ہے جب کہ وہ بالاتفاق ایک دوسرے کو وصیت کرتے تھے کہ ہر اس چیز سے جو جزو قرآن نہیں قرآن کو پاک رکھا جائے۔ اسی لئے تو آمین کو انہوں نے سورہٴ فاتحہ کے آخر میں ذکر نہیں کیا۔ اس کے بعد انہوں نے مالک او رابوحنیفہ کے پیروکاروں اور بعض دوسرے لوگوں کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ وہ بسم اللہ کو مستقل آیت سمجھتے تھے جو سورتوں کی ابتداء کے بیان اور ان کے درمیان حد فاصل کے طور پر نازل ہوئی ہے۔ انہوں نے اہل سنت کے معروف فقیہ اور بعض قارئین کوفہ سے نقل کیا ہے کہ وہ بسم اللہ کو سورہ حمد کاتو جزء سمجھتے تھے لیکن باقی سورتوں کا جزء نہیں سمجھتے تھے۔(بحوالہ: تفسیر المنار، جلد اول، ص ۳۹، ۴۰۔) اس گفتگو سے معلوم ہوا کہ اہل سنت کی یقینی اکثریت بھی بسم اللہ کو سورت کا جزء سمجھتی ہے۔ اب ہم بعض روایات پیش کرتے ہیں جو شیعہ و سنی طرق سے اس سلسلے میں نقل ہوئی ہیں(ہمیں اعتراف ہے کہ اس ضمن کی تمام احادیث کے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں اور ان کا تعلق فقہی بحث سے ہے)۔ ۱۔ معاویہ بن عمار(جوامام صادق(علیہ السلام) کے محب و موالی تھے) کہتے ہیں میں نے امام سے پوچھا کہ جب میں نماز پڑھنے لگوں تو کیا الحمد کی ابتداء میں بسم اللہ پڑھوں؟ “ آپ نے فرمایا: ہاں”۔ (بحوالہ: کافی، جلد ۳، ص ۳۱۲۔) ۲۔ دار قطنی نے جو علماء اہل سنت میں سے ہیں، سند صحیح کے ساتھ حضرت علی )علیہ السلام( سے نقل کیا ہے: ایک شخص نے آپ سے پوچھا: “سبع مثانی کیا ہے؟” آپ نے فرمایا : سورہ حمد۔ اس نے عرض کیا “سورہ حمد کی تو چھ آیتیں ہیں” ، آپ نے فرمایا : بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی اس کی ایک آیت ہے ۔ (بحوالہ: الاتفاق، جلد اول ،ص ۱۳۶۔) ۳۔ اہل سنت کے مشہور محدث بیہقی، سند صحیح کے ساتھ ابن جبیر کے طریق سے اس طرح نقل کرتے ہیں : استرق الشیطان من الناس اعظم آیة من القرآن بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ شیطان صفت اشخاص نے قرآن کی بہت بڑی آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم کو چرا لیا ہے (یہ اس طرف اشارہ ہے کہ سورتوں کے شروع میں اسے نہیں پڑھا جاتا۔(بحوالہ: بیہقی، جلد ۲، ص۵۰)۔ ان سب کے علاوہ ہمیشہ مسلمانوں کی یہ سیرت رہی ہے کہ وہ قرآن مجید کی تلاوت کے وقت بسم اللہ ہر سورت کی ابتداء میں پڑھتے رہے ہیں۔ تواتر سے ثابت ہے کہ پیغمبر اکرمﷺ بھی اس کی تلاوت فرماتے تھے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ جو چیز جزو قرآن نہ ہو اسے پیغمبرﷺ اور مسلمان ہمیشہ قرآن کے ضمن پڑھتے رہے ہوں اور سدا اس عمل کوجاری رکھا ہو۔ باقی رہابعض کا یہ احتمال کہ بسم اللہ مستقل آیت ہے جو جزو قرآن تو ہے لیکن سورتوں کا حصہ نہیں تو یہ احتمال نہایت ضعیف اور کمزور دکھائی دیتا ہے کیونکہ بسم اللہ کا مفہوم او رمعنی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ ابتداء اور آغاز کے لئے ہے نہ کہ یہ ایک علیحدہ اور مستقل اہمیت کی حامل ہے۔ در اصل یہ فکر جمود اور سخت تعصب کی غماز ہے اور یوں لگتا ہے گویا اپنی بات کو برقرار رکھنے کے لئے ہر احتمال کو پیش کیا جارہا ہے او ربسم اللہ جیسی آیت کو مستقل اور سابق و لاحق سے الگ ایک آیت قرار دیاجارہا ہے جس کا مضمون پکار پکار کر اپنے سرنامہ اور بعد والی ابحاث کے لئے ابتداء ہونے کا اعلان کر رہا ہے۔ ایک اعتراض البتہ قابل غور ہے جسے مخالفین اس مقام پر پیش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں جب قرآن کی سورتوں کی آیات شمار کرتے ہیں(سوائے سورہ حمد کے)تو بسم اللہ کو ایک آیت شمار نہیں کیا جاتا بلکہ پہلی آیت بسم اللہ سے بعد والی آیت کو قرار دیاجاتاہے۔ اس اعتراض کا جواب فخر الدین رازی نے تفسیر کبیر میں وضاحت کے ساتھ دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: کوئی حرج نہیں کہ بسم اللہ سورہٴ حمد میں تو الگ ایک آیت ہو اور دوسری سورتوں میں پہلی آیت کا جزء قرار پائے (اس طرح مثلا سورہ کوثر میں بسم اللہ الرحمن الرحیم انا اعطیناک الکوثر سب ایک آیت شمار ہو) بہرحال مسئلہ اس قدر واضح ہے کہ کہتے ہیں: ایک دن معاویہ نے اپنی حکومت کے زمانے میں نماز با جماعت میں بسم اللہ نہ پڑھی تو نماز کے بعد مہاجرین و انصار کے ایک گروہ نے پکار کرکہا: “اسرقت ام نسیت” یعنی کیا معاویہ نے بسم اللہ کو چرا لیا ہے یا بھول گیا ہے؟ (بحوالہ: بیہقی، جزء دوم، ص۴۹۔ حاکم نے مستدرک جزء اول، ص ۲۳۳ میں اس روایت کو درج کرکے اسے صحیح قرار دیا ہے۔)

خدا کے ناموں میں سے اللہ، جامع ترین نام ہے

بسم اللہ کی ادائیگی میں ہمارا سامنا سب سے پہلے لفظ اسم سے ہوتا ہے۔ عربی ادب کے علماء کے بقول اس کی اصل “سمو” بر وزن علو ہے جس کے معنی ہیں ارتفاع اور بلندی۔ تمام ناموں کو اسم کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس سے ہر چیزکا مفہوم، اخفاء سے ظہور و ارتفاع کے مرحلے میں داخل ہوجاتا ہے یا اس کی وجہ یہ ہے کہ لفظ، نام ہو جانے کے بعد معنی پیدا کر لیتا ہے۔ مہمل اور بے معنی کی منزل سے نکل آتا ہے اور اس طرح ارتفاع و بلندی حاصل کر لیتا ہے۔ بہرحال کلمہ “اسم” کے بعد، ہم کلمہ “اللہ” تک پہنچتے ہیں جو خدا کے ناموں میں سب سے زیادہ جامع ہے۔ خدا کے ان ناموں کو جو قرآن مجید یا دیگر مصادر اسلامی میں آئے ہیں، اگر دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ خدا کی کسی ایک صفت کو منعکس کرتے ہیں لیکن وہ نام جو تمام صفات و کمالاتِ الہی کی طرف اشارہ کرتا ہے، دوسرے لفظوں میں جو صفات جلال و جمال کا جامع ہے و ہ صرف “اللہ” ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خدا کے دوسرے نام عموما کلمہ اللہ کی صفت کی حیثیت سے کہے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر چند ایک کا ذکر کیا جاتا ہے: غفور و رحیم: یہ صفت خدا کی صفت بخشش کی طرف اشارہ ہے: فان اللہ غفور رحیم (بقرہ، ۲۲۶)۔ سمیع وعلیم: سمیع اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ خدا تمام سنی جانے والی چیزوں سے آگاہی رکھتا ہے اور علیم اشارہ ہے کہ وہ تمام چیزوں سے باخبر ہے۔ فان اللہ سمیع علیم (بقرہ ، ۲۲۷)۔ بصیر : یہ لفط بتاتا ہے کہ خدا تمام دیکھی جانے والی چیزوں سے آگاہ ہے: واللہ بصیر بما تعملون (حجرات، ۱۸)۔ رزاق: یہ صفت اس کے تمام موجودات کو روزی دینے کے پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہے اور ذوالقوة اس کی قدرت کو ظاہر کرتی ہے اور متین، اس کے افعال اور پروگرام کی پختگی کا تعارف ہے: ان اللہ ھو الرزاق ذو القوة المتین (ذاریات ، ۵۸) خالق اور باری: اس کی آفرینش اور پیدا کرنے کی صفت کی طرف اشارہ ہے اور مصور اس کی تصویر کشی کی حکایت کرتا ہے: ھو اللہ الخالق الباری المصور لہ الاسماء الحسنی (حشر، ۲۴) ظاہر ہوا کہ “اللہ “ ہی خدا کے تمام ناموں میں سے جامع ترین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی آیت میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے نام “اللہ” قرار پائے ہیں: ھو اللہ الذی لا الہ الا ھو الملک القدوس السلام المومن المھیمن العزیز الجبار المتکبر۔ اللہ وہ ہے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ وہ حاکم مطلق ہے، منزہ ہے، ہر ظلم و ستم سے پاک ہے، امن بخشنے والا ہے، سب کا نگہبان ہے، توانا ہے، کسی سے شکست کھانے والا نہیں اور تمام موجودات پرقاہر و غالب اور باعظمت ہے(حشر ۲۳)۔ اس نام کی جامعیت کا ایک واضح شاہد یہ ہے کہ ایمان و توحید کا اظہار صرف “ لا الہ الا اللہ” کے جملے سے ہوسکتا ہے اور جملہ “لا الہ الا العلیم.. الا الخالق.... لا الرزاق اور دیگر اس قسم کے جملے خود سے توحید و اسلام کی دلیل نہیں ہوسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ دیگر مذاہب کے لوگ جب مسلمانوں کے معبود کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں تو لفظ اللہ کا ذکر کرتے ہیں کیونکہ خدا وندعالم کی تعریف و توصیف لفظ اللہ سے مسلمانوں کے ساتھ مخصوص ہے۔

خدا کی رحمت عام او ررحمت خاص

مفسرین کے ایک طبقے میں مشہور ہے کہ صفت رحمان، رحمت عالم کی طرف اشارہ ہے۔ یہ وہ رحمت ہے جو دوست و دشمن ، مومن و کافر، نیک و بد غرض سب کے لئے ہے۔ کیونکہ اس کی بے حساب رحمت کی بارش سب کو پہنچتی ہے اور اس کا خوان نعمت ہر جگہ بچھا ہوا ہے۔اس کے بندے زندگی کی گوناگوں رعنائیوں سے بہرہ ور ہیں۔ اپنی روزی اس کے دسترخوان سے حاصل کرتے ہیں جس پربے شمار نعمتیں رکھی ہیں۔ یہ وہی رحمت عمومی ہے جس نے عالم ہستی کا احاطہ کر رکھا ہے اور سب کے سب اس دریائے رحمت میں غوطہ زن ہیں۔ رحیم، خداوند عالم کی رحمت خاص کی طرف اشارہ ہے۔ یہ وہ رحمت ہے جو اس کے مطیع، صالح اور فرمانبردار بندوں کے ساتھ مخصوص ہے کیونکہ انہوں نے ایمان او رعمل صالح کی بناء پر یہ شائستگی حاصل کرلی ہے کہ وہ اس رحمت و احسان خصوصی سے بہرہ مند ہوں جو گنہگاروں اورغارت گروں کے حصے میں نہیں ہے۔ ایک چیز جو ممکن ہے اسی مطلب کی طرف اشارہ ہو یہ ہے کہ لفظ “رحمان” قرآن میں ہر جگہ مطلق آیا ہے جو عمومیت کی نشانی ہے جبکہ رحیم کبھی مقید ذکر ہوا ہے، مثلا وکان بالمومنین رحیما (خدا، مومنین کے لئے رحیم ہے۔احزاب ۴۳) اور کبھی مطلق، جیسے کہ سورہ حمد میں ہے ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: واللہ الہ کل شیئی الرحمان بجمیع خلقہ الرحیم بالمومنین خاصة۔(بحوالہ: المیزان بسند کافی، توحید صدوق اور معانی الاخبار۔) خدا ہر چیز کا معبود ہے۔ وہ تمام مخلوقات کے لئے رحمان او رمومنین پر خصوصیت کے ساتھ رحیم ہے۔ ایک پہلو یہ بھی ہے کہ رحمان صیغہ مبالغہ ہے جوا سکی رحمت کی عمومیت کے لئے خود ایک مستقل دلیل ہے اور رحیم صفت مشبہ ہے جو ثبات و دوام کی علامت ہے اور یہ چیز مومنین کے لئے ہی خاص ہوسکتی ہے۔ ایک اور شاہد یہ ہے کہ رحمان خدا کے مخصوص ناموں میں سے ہے اور اس کے علاوہ کسی کے لئے یہ لفظ استعمال نہیں کیا جاتا جب کہ رحیم ایسی صفت ہے جو خدا اور بندوں کےلئے استعمال ہوتی ہے۔ جیسے نبی اکرمﷺ کے لئے ارشاد الہی ہے: عزیز علیہ ما عنتم حریص علیکم باالمومنین روٴف رحیم۔ تمہاری تکلیف و مشقت نبی پر گراں ہے، تمہاری ہدایت اسے بہت پسندیدہ ہے اور وہ مومنین کے لئے مہربان اور رحیم ہے (توبہ ، ۱۲۸)۔ ایک دوسری حدیث میں امام صادق (علیہ السلام) سے منقول ہے: الرحمن اسم خاص بصفة عامة والرحیم اسم عام بصفة خاصة۔ رحمن اسم خاص ہے لیکن صفت عام اور رحیم اسم عام ہے لیکن صفت خاص ہے۔(بحوالہ:مجمع البیان جلد ۱، ص ۲۱) یعنی رحمن ایسا نام ہے جو خدا کے لئے مخصوص ہے لیکن اس میں اس کی رحمت کا مفہوم سب پر محیط ہے۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ رحیم ایک صفت عام کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ البتہ اس میں (صفت خاص کے طور پر استعمال ہونے میں) کوئی مانع نہیں۔ جو فرق بتایا گیا ہے وہ تو اصل لغت کے لحاظ سے ہے لیکن اس میں استثنائی صورت پائی جاتی ہے۔ امام حسین (علیہ السلام) کی ایک بہترین اور مشہور دعا جو دعائے عرفہ کے نام سے معروف ہے، کے الفاظ ہیں: یا رحمان الدنیا والآخرة و رحیمہما۔ اے وہ خدا جو دنیا و آخرت کا رحمان اور دونوں ہی کا رحیم ہے۔ اس بحث کو ہم نبی اکرمﷺ کی ایک پرمعنی اور واضح حدیث کے ساتھ ختم کرتے ہیں۔ آپ کا ارشاد ہے: ان اللہ عزوجل مآة رحمة و انہ انزل منھا واحدة الی الارض فقسھا بین خلقہ بھا یتعاطفون و یتراجعون واخر تسع و تسعین لنفسہ یرحم بھا عبادہ یوم القیامة۔ خدا وندتعالی کی رحمت کے سو باب ہیں جن میں سے اس نے ایک کو زمین پر نازل کیا ہے اور (اس رحمت) کو اپنی مخلوق میں تقسیم کیا ہے۔ لوگوں کے درمیان جو عطوفت، مہربانی اور محبت ہے وہ اسی کا پرتو ہے لیکن نناوے حصے رحمت اس نے اپنے لئے مخصوص رکھی ہے اور قیامت کے دن اپنے بندوں کو اس سے نوازے گا۔ ( مجمع البیان ج۱)

خدا کی دیگر صفات بسم اللہ میں کیوں مذکور نہیں؟

یہ بات قابل توجہ ہے کہ قرآن کی تمام سورتیں(سوائے سورہ برات کے جس کی وجہ بیان ہوچکی ہے)بسم اللہ سے شروع ہوتی ہیں اوربسم اللہ میں مخصوص نام “اللہ” کے بعد صرف صفت رحمانیت کا ذکر ہے۔ اس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں پر باقی صفات کا ذکر کیوں نہیں ؟ اگر ہم ایک نکتے کی طرف توجہ کریں تو اس سوال کاجواب واضح ہوجاتا ہے اور وہ یہ کہ ہر کام کی ابتداء میں ضروری ہے کہ ایسی صفت سے مدد لی جائے جس کے آثار تمام جہان پر سایہ فگن ہوں، جو تمام موجودات کا احاطہ کئے ہوئے ہو اورعالم بحران میں مصیبت زدوں کونجات بخشنے والی ہو۔ مناسب ہے کہ اس حقیقت کوقرآن کی زبان سے سنا جائے۔ ارشاد الہی ہے: و رحمتی وسعت کل شئی میری رحمت تمام چیزوں پر محیط ہے۔ (اعراف ، ۱۵۶) ایک اور جگہ پر حاملان عرش کی ایک دعاء خدا وند کریم نے یوں بیان فرمایا ہے: ربنا وسعت کل شئی رحمة۔ پروردگار! تو نے اپنا دامن رحمت ہر چیز تک پھیلا رکھا ہے۔ (المومن، ۷) ہم دیکھتے ہیں کہ انبیاء کرام نہایت سخت اور طاقت فرسا حوادث اور خطرناک دشمنوں کے چنگل سے نجات کے لئے رحمت خدا کے دامن میں پناہ لیتے ہیں۔ قوم موسی )علیہ السلام( فرعونیوں کے ظلم سے نجات کے لئے پکارتی ہے: و نجنا برحمتک ۔ خدایا ہمیں (ظلم سے) نجات دلا اور اپنی رحمت (کا سایہ) عطا فرما۔ (یونس ، ۸۶) حضرت ہود (علیہ السلام) اور ان کے پیروکاروں کے سلسلے میں ارشاد ہے: فانجیناہ والذین معہ برحمة منا۔ ہود(علیہ السلام) اور ان کے ہمراہیوں کو ہم نے اپنی رحمت کے وسیلے سے نجات دی۔ (اعراف ، ۷۲) اصول یہ ہے کہ جب ہم خداسے کوئی حاجت طلب کریں تو اسے ایسی صفات سے یاد کریں جو اس حاجت سے میل اور ربط رکھتی ہوں۔ مثلا حضرت عیسی )علیہ السلام( مائدہ آسمانی (مخصوص غذا) طلب کرتے ہیں تو کہتے ہیں: اللھم ربنا انزل علینا مائدة من السماء و ارزقنا و انت خیر الرازقین۔ بار الہا ! ہم پر آسمان سے مائدہ نازل فرما اورہمیں روزی عطا فرما اور تو بہترین روزی رساں ہے۔(مائدہ،۱۱۴) خدا کے عظیم پیغمبر حضرت نوح(علیہ السلام) بھی ہمیں یہی درس دیتے ہیں۔ وہ جب ایک مناسب جگہ کشتی سے اترنا چاہتے ہیں تو یوں دعا کرتے ہیں: رب انزلنی منزلا مبارکا و انت خیرالمنزلین۔ پروردگار ! ہمیں منزل مبارک پر اتار کہ تو بہترین اتارنے والا ہے۔ (مومنین، ۲۹) حضرت زکریا (علیہ السلام) خدا سے ایسے فرزند کے لئے دعا کرتے ہیں جو ان کاجانشین و وارث ہو۔ اس کی خیر الوارثین سے توصیف کرتے ہیں: رب لا تذرنی فردا و انت خیر الوارثین۔ خداوند ! مجھے تنہا نہ چھوڑ اور تو توبہترین وارث ہے۔ (انبیاء ، ۸۹) کسی کام کو شروع کرتے وقت جب خدا کے نام سے شروع کریں تو خدا کی وسیع رحمت کے دامن سے وابستگی ضروری ہے۔ ایسی رحمت جو عام بھی ہو اور خاص بھی۔ کاموں کی پیش رفت او رمشکلات میں کامیابی کے لئے کیا ان صفات سے بہتر کوئی اور صفت ہے؟ قابل توجہ امر یہ ہے کہ و ہ توانائی جو قوت جاذبہ کی طرح عمومیت کی حامل ہے، جو دلوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیتی ہے، وہ یہی صفت رحمت ہے لہذا مخلوق کا اپنے خالق سے رشتہ استوار کرنے کے لئے بھی اسی صفت رحمت سے استفادہ کرنا چاہئے۔ سچے مومن اپنے کاموں کی ابتداء میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کہہ کر تمام جگہوں سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اپنےدل کو صرف خدا سے وابستہ کرتے ہیں اور اسی سے مدد و نصرت طلب کرتے ہیں۔ وہ خدا جس کی رحمت سب پر چھائی ہوئی ہے اور کوئی موجود ایسا نہیں جو اس سے بہرہ ور نہ ہو۔ بسم اللہ سے واضح طور پر یہ درس حاصل کیا جا سکتا ہے کہ خداوند عالم کے ہر کام کی بنیاد رحمت پر ہے اور بدلہ یا سزا تو استثنائی صورت ہے۔ جب تک قطعی عوامل پیدا نہ ہوں، سزا متحقق نہیں ہوتی ۔ جیسا کہ ہم دعا میں پڑھتے ہیں: یا من سبقت رحمتہ غضبہ۔ اے وہ خدا کہ جس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت لے گئی ہے۔(دعائے جوشن کبیر۔) انسان کو چاہئے کہ وہ زندگی کے پروگرام پر یوں عمل پیرا ہو کہ ہر کام کی بنیاد رحمت و محبت کو قرار دے اور سختی و درشتی کو فقط بوقت ضرورت اختیار کرے۔ قرآن مجید کی ۱۱۴ سورتوں میں سے ۱۱۳ کی ابتداء رحمت سے ہوتی ہے اور فقط ایک سورہٴ توبہ ہے جس کا آغاز بسم اللہ کی بجائے اعلان جنگ اور سختی سے ہوتا ہے۔

2
1:2
ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
حمد و ثنا اس خدا کے لئے مخصوص ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار و مالک ہے۔

سارا جہاں اس کی رحمت میں ڈوبا ہو ا ہے۔

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

بسم اللہ جو سورت کی ابتداء ہے، اس کے بعد بندوں کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ عالم وجود کے عظیم مبداء اور اس کی غیر متناہی نعمتوں کو یاد کریں۔ وہ بے شمار نعمتیں جنہوں نے ہمارے پورے وجود کو گھیر رکھا ہے، پروردگار عالم کی معرفت کی طرف راہنمائی کرتی ہیں بلکہ اس راستے کا سبب ہی یہی ہے کیونکہ کسی انسان کو جب کوئی نعمت حاصل ہوتی ہے تو وہ فورا چاہتا ہے کہ اس نعمت کے بخشنے والے کو پہچانے اور فرمان فطرت کے مطابق اس کی سپاس گزاری کے لئے کھڑا ہو اور اس کے شکریے کا حق ادا کرے۔ یہی وجہ ہے کہعلمائے علم کلام (عقاید) اس علم کی پہلی بحث میں جب معرفت خدا کی علت و سبب کے متعلق گفتگو کرتے ہیں کہتے ہیں کہ فطری و عقلی حکم کے مطابق معرفت خدا اس لئے واجب ہے چونکہ محسن کے احسان کا شکریہ واجب ہے۔ یہ جو ہم کہتے ہیں کہ معرفت کی رہنمائی اس کی نعمتوں سے حاصل ہوتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ (مبداء) خدا کو پہچاننے کا بہترین اور جامع ترین راستہ اسرار آفرینش و خلقت کا مطالعہ کرنا ہے۔ ان میں خاص طور پر ان نعمتوں کا وجود ہے جو نوع انسانی کی زندگی کو ایک دوسرے سے مربوط کرتی ہیں۔ ان دو وجوہ کی بناء پر سورہ فاتحۃ کتاب “الحمد للہ رب العالمین” سے شروع ہوتی ہے۔ اس جملے کی گہرائی اورعظمت تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ حمد، مدح اور شکر کے درمیان فرق اور اس کے نتائج کی طرف توجہ کی جائے۔ حمد : نیک اختیاری کام یا نیک صفت کی تعریف کو عربی زبان میں حمد کہتے ہیں۔ یعنی جب کوئی سوچ سمجھ کر کوئی اچھا کام انجام دے یا کسی اچھی صفت کو انتخاب کرے جو نیک اختیاری اعمال کاسر چشمہ ہو تو اس پر کی گئی تعریف و توصیف کو حمد و ستائش کہتے ہیں۔ مدح : مدح کا معنی ہے ہر قسم کی تعریف کرنا۔ چاہے وہ کسی اختیاری کام کے مقابلے میں ہو یا غیر اختیاری کام کے۔ مثلا اگر ہم کسی قیمتی موتی کی تعریف کریں تو عرب اسے مدح کہیں گے۔ دوسرے لفظوں میں مدح کا مفہوم عام ہے جبکہ حمد کا مفہوم خاص ہے۔ شکر : شکر کا مفہوم حمد اور مدح دونوں سے زیادہ محدود ہے ۔ شکر فقط انعام و احسان کے مقابلے میں تعریف کو کہتے ہیں۔ انعام و احسان بھی وہ جو کسی دوسرے سے اس کی رضا و رغبت سے ہم تک پہنچے۔ (البتہ ایک جہت سے شکر میں عمومیت بھی کیونکہ شکریہ زبان و عمل دونوں سے ہوتا ہے۔ جب کہ حمد ومدح عموما فقط زبان سے ہوتی ہے۔) اب اگر ہم اس نکتے کی طرف توجہ کریں کہ اصطلاحی مفہوم میں “الحمد” کا الف اور لام جنس ہے اور یہاں عمومیت کا معنی دیتا ہے تو نتیجہ نکلے گا کہ ہر قسم کی حمد و ثنا مخصوص ہے اس خدا کے لئے جو تمام جہانوں کا مالک و پروردگار ہے۔ یہاں تک کہ جو انسان بھی خیر و برکت کا سرچشمہ ہے، وہ پیغمبر اور خدائی راہنما نور ہدایت سے دلوں کو منور کرتا ہے اور درس دیتا ہے ۔ جو سخی بھی سخاوت کرتا ہے اور جو کوئی طبیب جان لیوا زخم پر مرہم پٹی لگاتا ہے، ان کی تعریف کا مبداء بھی خدا کی تعریف ہے اور ان کی ثنا در اصل اسی کی ثناء ہے بلکہ اگر خورشید نور افشانی کرتا ہے، بادل بارش برساتا ہے اور زمین اپنی برکتیں ہمیں دیتی ہے تو یہ سب کچھ بھی اس کی جانب سے ہے لہذا تمام تعریفوں کی بازگشت اسی ذات با برکات کی طرف ہے۔ دوسرے لفظوں میں “الحمد للہ رب العالمین” ، توحید ذات، توحید صفات اور توحید افعال کی طرف اشارہ ہے (اس بات پر خصوصی غور کیجئے گا)۔ یہاں اللہ کی توصیف “رب العالمین” سے کی گئی ہے۔ اصولی طور پر یہ مدعی کے ساتھ دلیل پیش کی گئی ہے۔ گویا کوئی سوال کر رہا ہو کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے کیوں مخصوص ہیں تو جواب دیا جارہا ہے کہ چونکہ وہ رب العالمین ہے یعنی تمام جہانوں میں رہنے والوں کا پروردگار ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے : الذی احسن کل شئی خلقہ ۔ یعنی خدا وہ ہے جس نے ہر چیز کی خلقت کو بہترین صورت میں انجام دیا (سجدہ، ۷)۔ نیز فرمایا : وما من دابة فی الارض الا علی اللہ رزقھا۔ زمین میں چلنے والے ہر ایک کی روزی خدا کے ذمے ہے (ہود، ۶)۔ کلمہ حمد سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ خدا وند عالم نے یہ تمام عطیات اور نیکیاں اپنے ارادہ و اختیار سے ایجاد کی ہیں اور یہ بات ان لوگوں کے نقطہٴ نظر کے خلاف ہے جو یہ کہتے ہیں کہ خدا بھی سورج کی طرح ایک مبداء مجبور فیض بخش ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ حمد صرف ابتدائے کار میں ضروری نہیں بلکہ اختتام کار پر بھی لازم ہے۔ جیسا کہ قرآن ہمیں تعلیم دیتا ہے۔ اہل بہشت کے بارے میں ہے: دعواھم فیھا سبحانک اللھم و تحیتھم فیھا سلام و آخر دعواہم ان الحمد للہ رب العالمین۔ پہلے تو وہ کہیں گے کہ اللہ تو ہر عیب و نقص سے منزہ ہے، ایک دوسرے سے ملاقات کے وقت سلام کہیں گے او رہر بات کے خاتمے پر کہیں گے “الحمد للہ رب العالمین” (سورہ یونس ، ۱۰)۔ کلمہ “رب “ کے اصلی معنی ہیں کسی چیز کا مالک یا صاحب جو اس کی تربیت و اصلاح کرتا ہو۔ کلمہ “ربیبہ” کسی شخص کی بیوی کی اس بیٹی کو کہتے ہیں جو اس کے کسی پہلے شوہر سے ہو۔ لڑکی اگر چہ دوسرے شوہر سے ہوتی ہے لیکن منہ بولے باپ کی نگرانی میں پرورش پاتی ہے۔ لفظ “رب” مطلق اور اکیلا تو صرف خدا کے لئے بولا جاتا ہے ۔ اگر غیر خدا کے لئے استعمال ہو تو ضروری ہے کہ اضافت بھی ساتھ ہو۔ مثلا ہم کہتے ہیں رب الدار (صاحب خانہ) یا رب السفینة (کشتی والا) (بحوالہ: قاموس اللغات، مفردات راغب، تفسیر مجمع البیان، تفسیر البیان۔) تفسیر مجمع البیان میں ایک اور معنی بھی ہے: بڑا شخص جس کے حکم کی اطاعت کی جاتی ہو۔ بعید نہیں کے دونوں معانی کی بازگشت ایک ہی اصل کی طرف ہو ۔ (یاد رہے کہ رب کا مادہ ”رب ب“ ہے نہ کہ ”رب“ یعنی یہ مضاعف ہے ناقص نہیں لیکن رب کے اصلی معنی میں پرورش اور تربیت ہے اسی لئے فارسی میں عموما اس کا ترجمہ پروردگار کرتے ہیں۔) لفظ “عالمین”“عالم کی جمع ہے اور عالم کے معنی ہیں مختلف موجودات کا وہ مجموعہ جو مشترکہ صفات کا حامل ہو یاجن کا زمان و مکان مشترک ہو۔ مثلا ہم کہتے ہیں عالم انسان، عالم حیوان یا عالم گیاہ یا پھر ہم کہتے ہیں عالم مشرق، عالم مغرب، عالم امروز یا عالم دیروز۔ لہذا عالم اکیلا جمعیت کا معنی رکھتا ہے اورجب عالمین کی شکل میں جمع کا صیغہ ہو تو پھر اس سے اس جہان کے تمام مجموعوں کی طرف اشارہ ہوگا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوگا کہ “ی اور ن” والی جمع عموما ذی العقول کے لئے آتی ہے جب کہ اس جہان کے سب عالم تو صاحب عقل نہیں ہیں۔ اسی لئے بعض مفسرین یہاں لفظ عالمین سے صاحبان عقل کے گروہوں اور مجموعوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں۔ مثلا فرشتے، انسان اور جن۔ یہ احتمال بھی ہے کہ یہ جمع تغلیبی ہو(جس کا مقصد مختلف صفات کے حامل مجموعے کو بلند تر صنف کی صفت سے متصف کیا جانا ہے)۔ صاحب تفسیر المنار کہتے ہیں ہمارے جد امام صادق(ان پر اللہ کا رضوان ہو) سے منقول ہے کہ عالمین سے مراد صرف انسان ہیں۔ مزید لکھتے ہیں کہ قرآن مجید میں بھی عالمین اسی معنی کے لئے آیا ہے جیسا کہ لیکون للعالمین نذیرا۔ یعنی خدا وند عالم نے قرآن اپنے بندے پر اتارا تاکہ وہ عالمین کو ڈرائے۔ (فرقان، ۱)۔ لیکن اگر عالمین کے موارد استعمال قرآن میں دیکھے جائیں تو ہمیں نظر آئے گا کہ اگر چہ بہت سے مقامات پر لفظ عالمین انسانوں کے معنی میں آیا ہے تاہم بعض موارد میں اس سے وسیع تر مفہوم کے لئے بھی استعمال ہوا ہے جہاں اس سے انسانوں کے علاوہ دیگر موجودات بھی مراد ہیں۔ مثلا : فللہ الحمد رب السموات و رب الارض رب العالمین ۔ تعریف و ستائش مخصوص ہے اس خدا کے لئے جو آسمانوں اور زمین کا مالک و پروردگار ہے، جو مالک و پروردگار ہے عالمین کا۔ (الجاثیہ، ۳۶)۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہے : قال فرعون و مارب العالمین۔ قال رب السموات والارض و ما بینھما۔ فرعون نے کہا عالمین کا پروردگار کون ہے۔ موسی نے جواب دیا آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان کا پروردگار۔ (شعراء، ۲۴، ۲۳)۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ ایک روایت میں جو شیخ صدوق نے عیون الاخبار میں حضرت علی(ع) سے نقل کی ہے اس میں ہے کہ امام نے الحمد للہ رب العالمین کی تفسیر کے ضمن میں فرمایا: رب العالمین ھم الجماعات من کل مخلوق من الجمادات والحیوانات۔ رب العالمین سے مراد تمام مخلوقات کا مجموعہ ہے چاہے وہ بے جان ہوں یا جاندار ۔ (بحوالہ: تفسیر الثقلین، جلد ۱ ص17) یہاں یہ اشتباہ نہیں ہونا چاہئے کہ شاید ان روایات میں کوئی تضاد ہے کیونکہ لفظ عالمین کا مفہوم اگر چہ وسیع ہے لیکن تمام موجودات عالم کا سہرا مہرہ انسان ہے لہذا بعض اوقات اس پر انگشت رکھ دی جاتی ہے اور باقی کائنات کو اس کا تابع اور اس کے زیر سایہ سمجھا جاتا ہے اس لئے اگر امام سجاد(ع) کی روایت میں اس کی تفسیر انسان کی گئی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مجموعہ کائنات کا اصلی ہدف و مقصد انسان ہی ہے۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ بعض نے عالم کی دو حصوں میں تقسیم کی ہے عالم کبیر اور عالم صغیر۔ عالم صغیر سے ان کی مراد انسان کا وجود ہے کیونکہ ایک انسان کا وجود مختلف توانائیوں اور قوی کا مجموعہ ہے اور اس بڑے عالم پر حاکم ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ انسان تمام کائنات میں ایک نمونہ اور ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہم نے عالم سے یہ جو وسیع مفہوم مراد لیا ہے اس کا سبب یہ ہے کہ لفظ عالمین جملہ الحمد للہ کے بعد آیا ہے ۔ اس جملہ میں تمام تعریف و ستائش کو خدا کے ساتھ مختص قرار دیاگیا ہے اس کے بعد رب العالمین کو بطور دلیل ذکر کیا گیا ہے گویا ہم کہتے ہیں کہ تمام تعریفیں مخصوص ہیں خدا کے لئے کیونکہ ہر کمال، ہر نعمت اور ہر بخشش جو عالم میں وجود رکھتی ہے اس کا مالک و صاحب اور پروردگار وہی ہے۔

چند اہم نکات تمام ارباب انواع کی نفی

تاریخ ادیان و مذاہب کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ صحیح توحید سے منحرف لوگ ہمیشہ اس جہان کے لئے ارباب انواع کے قائل تھے۔ اس غلط فکر کی بنیاد یہ تھی کہ ان کے گمان کے مطابق موجودات کی ہر نوع ایک مستقل رب نوع کی محتاج ہے جو اس نوع کی تربیت و رہبری کرتا ہے گویا وہ خدا کو ان انواع کی تربیت کے لئے کافی نہیں سمجھتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ عشق، عقل، تجارت اور جنگ جیسے امور کے لئے بھی رب نوعی کے قائل تھے۔ یونانی بارہ بڑے خداؤں کی عبادت کرتے تھے(جن میں سے ہر کوئی رب النوع تھا)۔ یونانیوں کے بقول وہ المپ کی چوٹی، بزم خدائی سجائے بیٹھے تھے ان میں سے ہر ایک انسان کی ایک صفت کا مظہر تھا۔ (بحوالہ: اعلام القرآن، ص ۲۰۲۔) ملک آشور کے دارالحکومت، کلاہ میں لوگ پانی کے رب نوع، چاند کے رب نوع، سورج کے رب نوع اور زہرہ کے رب نوع کے قائل تھے۔ انہوں نے ہر ایک کیلئے الگ الگ نام رکھے تھے اور ان سب کے اوپر ماردوک کو رب الارباب سمجھتے تھے۔ روم میں بھی بہت سے خدا مروج تھے۔ شرک، تعدد خدا اور ارباب انواع کا بازار شاید وہاں سب سے زیادہ گرم تھا۔ اہل روم تمام خداؤں کو دو حصوں میں تقسیم کرتے تھے : گھریلو خدا اور حکومتی خدا۔ خدایان حکومت سے لوگوں کو زیادہ لگاؤ نہ تھا (کیونکہ وہ ان کی حکومت سے خوش نہ تھے)۔ ان خداؤں کی تعداد بہت زیادہ تھی کیونکہ ہر خدا کی ایک خاص پوسٹ(post) تھی اور وہ محدود معاملات میں دخیل ہوتا تھا۔عالم یہ تھا کہ گھر کے دروازے کا ایک مخصوص خدا تھا بلکہ ڈیوڑھی اور صحن خانہ کا بھی الگ الگ رب النوع تھا۔ ایک مورخ کے بقول اس میں تعجب کی بات نہیں کہ رومیوں کے ۳۰ ہزار خدا ہوں ۔ جیسا کہ ان کے ایک بزرگ نے کہا تھا کہ ہمارے ملک کے خداؤں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ گذر گاہوں اور محافل میں وہ افراد قوم سے زیادہ ہیں۔ ان خداؤں میں سے زراعت، باورچی خانہ، غلہ خانہ، گھر، گیس، آگ، میوہ جات، دروازہ، درخت، تاک، جنگل، حریق، شہر روم کے بڑے دروازے اور قومی آتشکدہ کے رب نوع شمار کئے جاسکتے ہیں۔ (بحوالہ: تاریخ آلبر مالہ، ج۱ فصل ۴، تاریخ زم۔) خلاصہ یہ کہ گذشتہ زمانے میں انسان قسم قسم کے خرافات سے دست و گریباں تھا جیسا کہ اب بھی اس زمانے کی یادگار بعض خرافات باقی رہ گئے ہیں۔ نزول قرآن کے زمانے میں بھی بہت سے بتوں کی پوجا اور تعظیم کی جاتی تھی اور شاید وہ سب یا ان میں سے بعض پہلے ارباب انواع کے جانشین بھی ہوں۔ علاوہ از ایں بعض اوقات تو خود انسان کو بھی عملی طور پر رب قرار دیاجاتا رہا ہے ۔ جیسا کہ ان لوگوں کی مذمت کرتے ہوئے جو احبار(علمائے یہود) اور رہبانیوں(تارک الدنیا مرد اور عورتیں) کو اپنا رب سمجھتے تھے۔ قرآن کہتا ہے : اتخذوا احبارھم و رھبانہم اربابا من دون اللہ۔ (توبہ، ۳۱) انہوں نے خدا کو چھوڑ کر علماء اور راہبوں کو خدا بنا رکھا تھا۔ بہرحال علاوہ اس کے کہ یہ خرافات انسان کو عقلی پستی کی طرف لے گئے تھے، تفرقہ پسندی، گروہ بندی اور اختلافات کاسبب بھی تھے ۔ پیغمبران خدا بڑی پامردی سے ان کے مقابلے میں کھڑے ہوئے یہاں تک کہ بسم اللہ کے بعد پہلی آیت جو قرآن میں آئی ہے وہ اسی سلسلے سے تعلق رکھتی ہے: الحمد للہ رب العالمین یعنی تمام تعریفیں مخصوص ہیں اس خدا کے لئے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ اس طرح قرآن نے تمام ارباب انواع پر خط تنسیخ کھینچ دیا اور انہیں ان کی اصلی جگہ وادی عدم میں بھیج دیا اور ان کی جگہ توحید و یگانگی اور ہمبستگی و اتحاد کے پھول کھلائے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ روزانہ اپنی شب وروز کی نمازوں میں کم از کم دس مرتبہ یہ جملہ پڑھیں اور اس اللہ کے سایہ رحمت میں پناہ لیں جو ایک اکیلا خدا ہے، جو تمام موجودات کا مالک، رب، سرپرست اور پرورش کرنے والا ہے تا کہ کبھی توحید کو فراموش نہ کریں اور شرک کی پر پیچ راہوں میں سرگرداں نہ ہوں۔

خدائی پرورش، خدا شناسی کا راستہ

کلمہ “رب” در اصل مالک و صاحب کے معنی میں ہے لیکن ہر مالک و صاحب کے لئے نہیں بلکہ وہ جو تربیت و پرورش بھی اپنے ذمہ لے۔ اسی لئے فارسی میں اس کا ترجمہ پروردگار کیاجاتاہے ۔ زندہ موجودات کی سیر تکامل اور بے جان موجودات کا تحول و تغیر نیز موجودات کی پرورش کے لئے حالات کی سازگاری و اہتمام جو ان میں نہاں ہے، اس پر غور و فکر کرنا خدا شناسی کے راستوں میں سے ایک بہترین راستہ ہے۔ ہمارے اعضائے بدن میں ایک ہم آہنگی ہے جو زیادہ تر ہماری آگاہی کے بغیر قائم ہے، یہ بھی ہماری بات پر ایک زندہ دلیل ہے۔ ہماری زندگی میں جب کوئی اہم حادثہ پیش آتا ہے اور ضروری ہوتا ہے کہ ہم پوری توانائی کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں تو ایک مختصر سے لحظے میں ہمارے تمام اعضاء و ارکان بدن کو ہم آہنگی کا حکم ملتا ہے تو فورادل دھڑکنے لگ جاتا ہے، سانس میں شدت پیدا ہوجاتی ہے، بدن کے تمام قوی مجتمع ہوجاتے ہیں،غذا اور آکسیجن خون کے راستے فراوانی سے تمام اعضاء تک پہنچ جاتی ہے، اعصاب آمادہ کار، عضلات اور پٹھے زیادہ حرکت کے لئے تیار ہوجاتے ہیں، انسان میں قوت تحمل بڑھ جاتی ہے، درد کا احساس کم ہوجاتا ہے، نیند آنکھوں سے اڑ جاتی ہے اور اعضاء میں سے تکان اور بھوک کا احساس بالکل ختم ہو جاتا ہے۔ کون ہے جو یہ عجیب و غریب ہم آہنگی اس حساس موقع پر اس تیزی کے ساتھ وجود انسانی کے تمام ذرات میں پیدا کر دیتا ہے؟ کیایہ پرورش خدائے عالم و قادر کے سوا ممکن ہے۔ اس پرورش و تربیت کے سلسلے میں بہت سی قرآنی آیات ہیں جو انشاء اللہ اپنی اپنی جگہ پر آئیں گی اور ان میں سے ہر ایک معرفت خدا کی واضح دلیل ہے۔

3
1:3
ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
وہ خدا جو مہربان اور بخشنے والا ہے۔

تفسیر رحمن رحیم

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

رحمان و رحیم کے معنی و مفہوم کی وسعت اور ان کا فرق ہم اللہ کی تفسیر میں تفصیل سے بیان کرچکے ہیں۔اب دہرانے کی ضرورت نہیں۔ جس نکتے کا یہاں اضافہ ہونا چاہئے وہ یہ ہے کہ دونوں صفات جو اہم ترین اوصاف خدا وندی ہیں، ہر روز کی نمازوں میں کم از کم ۳۰ مرتبہ ذکر ہوتی ہیں(دو مرتبہ سورہ حمد میں اور ایک مرتبہ بعد والی سورت میں)۔ اس طرح ۶۰ مرتبہ ہم خدا کی تعریف صفت رحمت کے ساتھ کرتے ہیں۔ در حقیقت یہ تمام انسانوں کے لئے ایک درس ہے کہ وہ اپنے آپ کو زندگی میں ہر چیز سے زیادہ اس اخلاق خدا وندی کے ساتھ متصف کریں۔ علاوہ ازیں واقعیت کی طرف بھی اشارہ ہے ۔ اگر ہم اپنے آپ کو خدا کا بندہ سمجھتے ہیں تو ایسانہ ہو کہ بے رحم مالک اپنے غلاموں سے جو سلوک روا رکھتے ہیں، ہماری نگاہ میں جچنے لگے۔ غلاموں کی تاریخ میں ہے کہ ان کے مالک ان سے عجیب قساوت و بے رحمی سے پیش آتے تھے۔ کہتے ہیں کہ اگر کوئی غلام ان کی خدمات کی انجام دہی میں معمولی سی کوتاہی کرتا تو اسے سخت سزا سے دوچار ہونا پڑتا، اسے کوڑے مارے جاتے، بیڑیوں میں جکڑا جاتا، چکی سے باندھا جاتا، کان کنی پر لگایا جاتا، زیر زمین او رتاریک و ہولناک قیدخانوں میں رکھا جاتا اور اس کا جرم زیادہ ہوتا تو سولی پر لٹکا دیا جاتا۔ ایک اور جگہ لکھا ہے کہ محکوم غلاموں کو درندوں کے پنجروں میں پھینک دیا جاتا، اگر وہ جان بچا لیتے تو دوسرے درندہ کے پنجرہ میں داخل کردیا جاتا۔ یہ تو تھا نمونہ، مالکوں کے اپنے غلاموں سے سلوک کا لیکن خدا وند عالم بار بار قرآن میں انسانوں کو یہ فکر دیتا ہے کہ اگر میرے بندوں نے میرے قانون کے خلاف عمل کیا ہو اور وہ پشیمان ہو جائیں تو میں انہیں بخش دوں گا، انہیں معاف کردوں گا کہ میں رحیم اور مہربان ہوں۔ ارشاد الہی ہے : قل یا عبادی الذین اسرفوا علی انفسہم لا تقنطوا من رحمة اللہ ان اللہ یغفرالذنوب جمیعا۔ کہیے کہ اے میرے وہ بندو جنہوں نے (قانون الہی سے سرکشی کر کے)خود اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ۔ خدا تمام گناہوں سے در گذر فرمائے گا(یعنی توبہ کرو رحمت خدا کے بے پایاں دریا سے بہرہ مند ہوجاؤ)۔ (زمر، ۵۳) لہذا رب العالمین کے بعد “الرحمن الرحیم” کو لانا اس نکتے کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہم قدرت کے باوجود جو کہ ہماری عین ذات ہے، اپنے بندوں پر مہربانی اور لطف وکرم کرتے ہیں۔ یہ بندہ نوازی اور لطف، بندے کو خدا کا ایسا شیفتہ و فریفتہ بنا دیتا ہے کہ وہ انتہائی شغف سے کہتا ہے “الرحمن الرحیم”۔ یہاں سے انسان اس بات کی طرف متوجہ ہوتا ہے کہ خدا وند عالم کے اپنے بندوں سے اور مالکوں کے اپنے ماتحتوں سے سلوک میں کس قدر فرق ہے۔ خصوصا غلامی کے بد قسمت دور میں۔

4
1:4
مَٰلِكِ يَوۡمِ ٱلدِّينِ
وہ خدا جو روز جزا کا مالک ہے۔

قیامت پر ایمان دوسری اصل ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

یہاں اسلام کی دوسری اہم اصل یعنی قیامت اور دوبارہ قبروں سے اٹھنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اورفرمایا گیا ہے وہ خدا جوجزا کے دن کا مالک ہے(مالک یوم الدین)۔اس طرح محور اور مبداء و معاد جو ہر قسم کی اخلاقی اور معاشرتی اصلاح کی بنیاد ہے، وجود انسانی میں اس کی تکمیل ہوتی ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ یہاں قیامت، خدا کی ملکیت سے تعبیر کی گئی ہے اور یہ بات اس دن کے لئے خدا کے انتہائی تسلط اور اشیاء و اشخاص پر اس کے نفوذکو مشخص کرتی ہے۔ وہ دن کہ جب تمام انسان اس بڑے دربار میں حساب کے لئے حاضر ہوں گے۔ لوگ اپنے مالک حقیقی کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اپنی تمام کہی ہوئی باتیں، کیے ہوئے کام یہاں تک کہ سوچے ہوئے افکار کو اپنے سامنے موجود پائیں گے۔ حتی کہ سوئی کی نوک کے برابر بھی کوئی بات نابود نہ ہوگی اور فراموش نہ کی گئی ہوگی ۔ اب وہ انسان حاضر ہے جسے اپنے تمام اعمال و افعال کی جواب دہی کا بوجھ اپنے کندھے پر اٹھا نا ہوگا۔ نوبت یہ ہوگی کہ جن امور کو وہ خود بجا نہیں لایا بلکہ کسی طریقہ یا پروگرام کا بانی تھا، اس میں بھی اسے اپنے حصے کی جواب دہی کا سامنا ہوگا۔ اس میں شک و شبہ نہیں کہ خدا وند عالم کی یہ مالکیت اس طرح سے اعتباری نہیں جس طرح اس دنیا میں چیزیں ہماری ملک ہیں کیونکہ ہماری مالکیت تو ایک قرار داد کی بناء پر ہے یا اعزازی و اسنادی ہے۔ دوسرے اسناد و اعزاز کے ساتھ یہ مالکیت ختم بھی ہوسکتی ہے لیکن جہان ہستی کے لئے خدا کی مالکیت حقیقی ہے اور موجودات کا خدا کے ساتھ ایک ربط ہے جوایک لحظہ کیلئے منقطع ہوجائے تو نابود ہوجائیں۔ جیسے بجلی کے قمقموں کا رابطہ اپنے بجلی گھر سے ٹوٹ جائے تو اسی لمحہ روشنی ختم ہوجائے۔ دوسرے لفظوں میں اس کی مالکیت، خالقیت اورربوبیت کا نتیجہ ہے۔ وہ ذات جس نے موجودات کو خلق کیا، اپنی رحمت کے زیر نظر ان کی پرورش کی اور لمحہ بہ لمحہ انہیں فیض وجود ہستی بخشا، وہی موجودات کا حقیقی مالک ہے۔ ایک حقیر سا نمونہ مالکیت حقیقی کا ہم اپنی ذات میں اپنے اعضاء بدن کے بارے میں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ ہم آنکھ، کان، دل اور اپنے اعصاب کے مالک ہیں۔ اس سے مراد اعتبار ی مالکیت نہیں بلکہ ایک قسم کی حقیقی مالکیت ہے جس کا سرچشمہ ربط، تعلق اور احاطہ ہے۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا خدا اس جہان کا مالک نہیں؟ اگر ہے تو پھر کیوں ہم اسے مالک روز جزا کہتے ہیں؟ اس سوال کا جواب ایک نکتے کی طرف متوجہ ہونے سے واضح ہو جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ خدا کی مالکیت اگر چہ دونوں جہانوں پر محیط ہے لیکن اس مالکیت کا ظہور قیامت کے دن بہت زیادہ ہوگا۔ کیونکہ اس دن تمام مادی رشتے اوراعتباری ملکیتیں ختم ہوجائیں گی۔ اس دن کسی شخص کی کوئی چیز نہیں ہوگی۔ یہاں تک کہ شفاعت بھی فرمان خدا سے ہوگی۔ یوم لا تملک نفس لنفس شیئا والامر یومئذ للہ۔ (الانفطار، ۱۹) وہ دن کہ جب کوئی شخص کسی چیز کا مالک نہ ہوگا کہ اس کے ذریعے کسی کی مدد کرسکے اور تمام معاملات اللہ کے ہاتھ میں ہوں گے۔ دوسرے الفاظ میں اس دنیا میں انسان دوسرے کی مدد کے لئے اٹھ کھڑا ہوتاہے۔ کبھی زبان سے، کبھی مال سے، کبھی افرادی قوت سے اور کبھی مختلف کاموں سے دوسرے کو اپنی حمایت و مدد فراہم کرتا ہے لیکن اس دن ان امور میں سے کوئی چیز بھی نہ ہوگی۔ اسی لئے تو جب لوگوں سے سوال ہوگا: لمن الملک الیوم۔ آج کس کی حکومت ہے؟ تو جواب آئے گا : للہ الواحد القھار۔ (المومن ، ۱۶) صرف خدائے یگانہ، کامیاب و کامران کی حکمرانی ہے۔ قیامت کے دن پر اور اس بڑی عدالت گاہ پر ایمان کہ جس میں تمام چیزوں کا بڑی باریک بینی سے حساب لیا جائے گا، انسان کو غلط اور ناشائستہ اعمال سے روکنے کے لئے بہت موثر ہے۔ نماز کے قبیح اور برے اعمال سے روکنے کی ایک وجہ یہی ہے کہ ایک تو یہ انسان کو مبداء کی یاد دلاتی ہے جو اس کے تمام کاموں سے واقف ہے اور دوسرے عدل خدا کی بڑی عدالت کو بھی یاد دلاتی ہے۔ روز قیامت خدا کی مالکیت پر ایمان کا فائدہ یہ بھی ہے کہ قیامت کا اعتقاد رکھنے والا مشرکین او رمنکرین قیامت کے مقابل قرار پاتا ہے کیونکہ آیات قرآنی سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اللہ پر ایمان ایک عمومی عقیدہ تھا یہاں تک کہ زمانہ ٴ جاہلیت کے مشرکین بھی یہ عقیدہ رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ان سے سوال ہوتا تھا کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا کون ہے تو کہتے تھے “خدا”۔ ولئن سالتھم من خلق السموات و الارض لیقولن اللہ۔ (لقمان، ۲۵) اور اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ آسمانوں اور زمین کا خالق کون ہے تو ضرور کہیں گے “اللہ”۔ جب کہ وہ لوگ پیغمبر اکرم(ﷺ) سے قیامت کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ایک عجیب و غریب انکار کرتے اور اسے تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہوتے۔ قرآن حکیم میں ہے : و قال الذین کفروا ہل ندلکم علی رجل ینبئکم اذا مزقتم کل ممزق انکم لفی خلق جدید افتری علی اللہ کذبا ام بہ جنة۔ (سبا ، ۸، ۷) کافر کہتے ہیں کیا تمہیں ایسے شخص سے متعارف کرائیں جو یہ کہتا ہے کہ جب تم خاک ہو کر ریزہ ریزہ ہو جاؤ گے تو تمہارے ان منتشر اجزاء کو (سمیٹ کر) پھر سے زندہ کیا جائے گا۔ جانے وہ خدا پر جھوٹ باندھتا ہے یا دیوانہ ہے۔ ایک حدیث میں امام سجاد(علیہ السلام) کے بارے میں ہے کہ آپ جب آیت مالک یوم الدین تک پہنچتے تو اس کا اس طرح سے تکرار کرتے کہ یوں لگتا جیسے آپ کی روح ، بدن سے پرواز کرجائےگی۔ حدیث کے الفاظ ہیں : “کان علی بن الحسین اذا قرء مالک یوم الدین یکودھا حتی یکاد ان یموت" (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، ج۱، ص۱۹) باقی رہالفظ یوم الدین، یہ تعبیر قرآن میں جہاں جہاں استعمال ہوئی اس سے مراد قیامت ہے جیسا کہ قرآن مجید میں سورہ انفطار کی آیات ۱۷، ۱۸ اور ۱۹ میں وضاحت کے ساتھ اس مفہوم کی طرف اشارہ ہوا ہے(یہ تعبیر قرآن مجید میں دس سے زیادہ مرتبہ اسی معنی میں استعمال ہوئی ہے)۔ اب رہی یہ گفتگو کہ اس دن کو یوم الدین کیوں کہتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دن جزا کا دن ہے اوردین لغت میں جزا کے معنی میں ہے اور قیامت کا واضح ترین پروگرام جزا و سزا اور عوض و ثواب ہے۔ اس دن پردے ہٹ جائیں گے اور تمام اعمال کاتمام تر باریک تفصیلات کے ساتھ محاسبہ ہوگا اور ہر شخص اپنے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا پالے گا۔ ایک حدیث میں امام صادق (علیہ السلام) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : " یوم الدین سے مراد روز حساب ہے۔" (بحوالہ: مجمع البیان ، ذیل آیہ مذکور) اس روایت کے مطابق تو یہاں دین حساب کے ہم معنی ہے۔ شاید یہ تعبیر ذکر علت اور ارادہ معلول کے قبیل میں سے ہو کیونکہ ہمیشہ حساب جزا کی تمہید اور مقدمہ ہوتا ہے۔ بعض مفسرین کا یہ نظریہ بھی ہے کہ قیامت کے دن کو یوم الدین اس لئے کہا گیا ہے کہ اس دن ہر شخص اپنے دین و آئین کے مطابق جزا و سزا پائےگا لیکن پہلا معنی (حساب و جزا)زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔

5
1:5
إِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَإِيَّاكَ نَسۡتَعِينُ
پروردگار! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد چاہتے ہیں۔

انسان کے دربار خدا میں

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

یہاں سے ابتداء ہوتی ہے انسان کے دربار خدا میں پیش ہو کر حاجات اور تقاضوں کو بیان کرنے کی۔ حقیقت میں گفتگو کا لب و لہجہ یہاں سے بدل جاتا ہے کیونکہ گذشتہ آیات میں خدا کی حمد وثنا اور اس کی ذات پاک پر ایمان کا اظہار نیز قیامت کا اعتراف تھا۔ لیکن یہاں سے گویا بندہ اس محکم عقیدہ اور معرفت پروردگار کی وجہ سے اپنے آپ کو اس کے حضور اور اس کی ذات پاک کے روبرو دیکھنے لگ جاتا ہے۔ اسے مخاطب کرکے پہلے اپنی عبدیت کا اظہار کرتا ہے اور پھر اس سے طلب امداد کے لئے گفتگو کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میں صرف تیری پرستش کرتا ہوں اور تجھی سے مدد چاہتا ہوں(ایاک نعبد و ایاک نستعین)۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ جب گذشتہ آیات کے مفاہیم انسان کی روح میں سرایت کرجاتے ہیں، اس کے وجود کی گہرائیاں اس اللہ کے نور سے روشن ہوجاتی ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے اور اس کی عمومی و خصوصی رحمت اور روز جزا کی مالکیت کو جان لیتا ہے تو اب عقیدے کے لحاظ سے فرد کامل نظر آنے لگتا ہے۔ توحید کے اس گہرے عقیدے کا پہلا ثمرہ اور نتیجہ یہ ہے کہ ایک طرف انسان خدا کا خالص بندہ بن جاتا ہے، بتوں، جباروں اور شہوات و خواہشات کی عبادت کے دائرے سے نکل آتا ہے اور دوسری طرف طلب امداد کے لئے اس کی ذات پاک کی طرف ہاتھ پھیلانے کے قابل ہوجاتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ گذشتہ آیات توحید ذات وصفات بیان کررہی ہیں اور یہاں توحید عبادت اور توحید افعال سے متعلق گفتگو ہے۔ توحید عبادت یہ ہے کہ کسی شخص یا چیز کو ذات خدا کے علاوہ پرستش کے لائق نہ سمجھا جائے،صرف اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کیا جائے۔ صرف اس کے قوانین و احکام کو قبول کیاجائے اور اس کی ذات پاک کے علاوہ کسی کی کسی قسم کی عبادت و بندگی کرنے اور کسی اور کے سامنے سر افکندہ ہونے سے پرہیز کیا جائے۔ توحید افعال یہ ہے کہ سارے جہاں میں موثر حقیقی اسی کو سمجھا جائے (لاموٴثر فی الوجود الّا اللہ، یعنی اللہ کے علاوہ کوئی موثر وجود نہیں رکھتا)۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عالم اسباب کا انکار کردیا جائے اور سبب کی تلاش نہ کی جائے بلکہ ہمیں یہ اعتقاد رکھنا چاہئے کہ ہر سبب کی یہ تاثیر حکم خدا کے تابع ہے۔ وہی ہے جس نے آگ کو جلانے، سورج کو روشنی دینے اور پانی کو حیات بخشنے کی تاثیر دی ہے۔ اس عقیدے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ انسان صرف اللہ پر بھروسہ کرے گا اور قدرت و عظمت کو اسی سے مربوط سمجھے گا اور اس کا غیر اس کی نظر میں فانی، زوال پذیر اور فاقد قدرت ہوگا۔ صرف خدا کی ذات قابل اعتماد و ستائش ہے اور یہ لیاقت رکھتی ہے کہ انسان اسے تمام چیزوں میں اپنا سہارا قرار دے۔ یہ فکر اور اعتماد انسان کا ناطہ تمام موجودات سے توڑ کر صرف خدا سے جوڑ دے گا۔ یہاں تک کہ اب وہ عالم اسباب کی تلاش بھی حکم خدا کے تحت کرتا ہے۔ یعنی اسباب میں بھی وہ قدرت خدا کا مشاہدہ کرتا ہے کیونکہ خدا ہی مسبب الاسباب ہے۔

چند اہم نکات ۱۔ آیت میں حصر کا مفہوم:

عربی ادبیات کے قواعد کے مطابق جب مفعول، فاعل پر مقدم ہوجائے تو اس سے حصر کے معنی پیدا ہوجاتے ہیں۔ یہاں بھی ایاک کا نعبد اورنستعین پر مقدم ہونا دلیل حصر ہے اور اس کا نتیجہ وہی توحید عبادت اور توحید افعال ہے جسے ہم پہلے بیان کر آئے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندگی اور عبودیت میں بھی ہم اس کی مدد کے محتاج ہیں اور اس کے لئے بھی ہم اسی سے طلب اعانت کرتے ہیں تاکہ کہیں انحراف، خود پسندی، ریاکاری اور ایسے دیگر امور میں گرفتار نہ ہو جائیں کیونکہ یہ چیزیں عبودیت کوریزہ ریزہ کردیتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ ہم پہلے جملے میں کہتے ہیں کہ ہم صرف تیری پرستش کرتے ہیں اس میں کچھ نہ کچھ استقلال کی بو آتی ہے لہذا فورا ایاک نستعین سے ہم اس کی اصلاح کرلیتے ہیں۔ اس طرح بین الامرین(نہ جبر نہ تفویض) کو اپنی عبادت میں جمع کر لیتے ہیں۔ یہ حالت ہمارے تمام کاموں کے لئے ایک نمونہ ہے۔

2۔ نعبد و نستعین اور اسی طرح بعد کی آیات میں جمع کے صیغے آئے ہیں

۲ نعبد و نستعین اور اسی طرح بعد کی آیات میں جمع کے صیغے آئے ہیں۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عبادت اور خصوصا نماز کی اساس جمع و جماعت پر رکھی گئی ہے یہاں تک کہ جب بندہ خدا کے سامنے راز و نیاز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اسے چاہئے کہ اپنے آپ کو جماعت و اجتماع کے ساتھ شمار کرے۔ چہ جائے کہ اس کی زندگی کے دیگر کام۔ اس بناء پر ہر قسم کی انفرادیت علیحدگی، گوشہ نشینی اور اس قسم کی چیزیں قرآن اور اسلام کی نظر میں مردود قرار پاتی ہیں۔ نماز میں اذان و اقامت (جو نماز کے لئے اجتماع کی دعوت ہے)سے لے کر حی علی خیرالصلواة(نماز کی طرف جلدی آوٴ)سے گزرتے ہوئے سورہ الحمد تک جو نماز کی ابتداء اور السلام علیکم تک جو نماز کااختتام ہے، سب اس امر کی دلیل ہے کہ یہ عبادت در اصل اجتماعی پہلو رکھتی ہے یعنی اسے صورت جماعت میں انجام پذیر ہونا چاہئے۔ اگر چہ یہ صحیح ہے کہ نماز فرادی بھی اسلام میں صحیح ہے لیکن عبادت فرادی جنبہ فرعی کی حامل ہے اور ایسی عبادت دوسرے درجے کی عبادت قرار پاتی ہے۔

۳ - طاقتوں کے ٹکراؤ کے وقت استعانت خدا کی طلب

۔ طاقتوں کے ٹکراؤ کے وقت استعانت خدا کی طلب: انسان اس جہاں میں کئی ایک طاقتوں سے نبرد آزما ہے۔ چاہے وہ طاقتیں طبیعی و مادی ہوں یا انسان کے اندر کی طاقتیں۔ تباہ و برباد اور منحرف کرنے والی چیزوں کا مقابلہ کرنے کےلئے انسان کو یارو مددگار کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے جہاں انسان اپنے تئیں پروردگار کے سایہ رحمت کے سپرد کرتا ہے۔ ہر روز انسان بستر خواب سے اٹھتا ہے اور ایاک نعبد و ایاک نستعین کی تکرار سے پروردگار کی عبودیت کا اعتراف کرکے اس کی ذت پاک سے اس بڑے مقابلے میں مدد حاصل کرتا ہے اور شام کے وقت بھی اسی جملے کی تکرار سے سر اپنے بستر پر رکھتا ہے، گویا اس کی یاد سے اٹھتا ہے اور اسی کو یاد کرتے ہوئے طلب استعانت کے بعد سوتا ہے۔ ایسا شخص کتنا خوش نصیب ہے ۔ یہی شخص ایمان کے اس درجے پر پہنچ جاتا ہے کہ پھر کسی سرکش و طاقت ور کے سامنے سر نہیں جھکاتا اور مادیات کی کشمکش کے مقابلے میں اپنے آپ کو دھوکا نہیں دیتا اور وہ پیغمبر اسلام(ﷺ) کی پیروی میں کہتا ہے : ان صلاتی و نسکی و محیای و مماتی للہ رب العالمین۔ (الانعام، ۱۶۲) یقینا میری نماز، میری عبادت، میری زندگی اور میری موت سب کچھ اس خدا کے لئے ہے جو عالمین کا پروردگار ہے۔

6
1:6
ٱهۡدِنَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلۡمُسۡتَقِيمَ
ہمیں سیدھی راہ کی ہدایت فرما۔

صراط مستقیم پر چلنا

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

پرور دگار کے سامنے اظہار تسلیم، اس کی ذات کی عبودیت ، اس سے طلب استعانت کے مرحلے تک پہنچ جانے کے بعد بندے کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ اسے سیدھی راہ، پاکیزگی و نیکی کی راہ، عدل و داد کی راہ اور ایمان و عمل صالح کی ہدایت نصیب ہو تا کہ خدا، جس نے اسے تمام نعمتوں سے نوازا ہے، ہدایت سے بھی سرفراز فرمائے۔ اگر چہ یہ انسان ان حالات میں مومن ہے اور اپنے خدا کی معرفت رکھتا ہے لیکن یہ امکان ہے کہ کسی لحظے یہ نعمت کچھ عوامل کے باعث اس سے چھن جائے اور یہ صراط مستقیم سے منحرف اور گمراہ ہو جائے۔ لہذا چاہئے کہ شب و روز میں دس مرتبہ اپنے خدا سے خواہش کرے کہ اسے کوئی لغزش و انحراف در پیش نہ ہو۔ اس صراط مستقیم جو باالفاظ دیگر آئین و دستور حق ہے، کے کئی مراتب و درجات ہیں۔ تمام افراد ان مدارج کو برابر طے نہیں کرتے۔ انسان جس قدر ان درجات کو طے کرے، اس سے بلند تر درجات موجود ہیں۔ پس صاحب ایمان کو چاہئے کہ وہ خدا سے خواہش و دعا کرے کہ وہ اسے ان درجات کی ہدایت کرے۔ یہاں یہ مشہور سوال سامنے آتا ہے کہ ہم ہمیشہ خدا سے صراط مستقیم کی ہدایت کی درخواست کرتے رہتے ہیں، کیا ہم گمراہ ہیں؟ اور اگر بالفرض یہ بات ہمارے لئے درست ہے تو پیغمبر اکرم(ﷺ) اور ائمہ اہل بیت جو انسان کامل کا نمونہ ہیں، ان کے لئے کیونکر صحیح ہے؟؟ اس سوال کے جواب میں ہم کہتے ہیں : جیسے پہلے اشارہ کیا جا چکا ہے کہ انسان کے لئے راہ ہدایت میں ہر لمحہ لغزش و کجروی کا خوف ہے لہذا چاہئے کہ اپنے آپ کو پروردگار کے اختیار میں دے دے اور اس سے تقاضا کرے کہ وہ اسے سیدھی راہ پر ثابت قدم رکھے۔ ہمیں فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ وجود ہستی اور دیگر تمام نعمات لمحہ بہ لمحہ اس مبداء عظیم ہی سے ہم تک پہنچی ہیں۔ اس سے قبل بھی کہا جا چکا ہے کہ ہماری اور تمام موجودات کی مثال بجلی کے بلب کی سی ہے۔ اگر ہم دیکھیں کہ بلب کی روشنی مسلسل پھیل رہی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر لحظہ بجلی کے مرکز سے قوت حاصل کر رہی ہے کیونکہ بجلی کے مرکز سے ہر لحظہ نئی روشنی کی تولید جاری ہے اور یہ مربوط تاروں کے ذریعہ اسے بلب تک پہنچاتا ہے۔ ہمارا وجود بھی بلب کی روشنی کی طرح ہے جو بظاہر ایک مستقل پھیلے ہوئے وجود کی طرح ہے لیکن حقیقت میں ہمیں مرکز ہستی، آفریدگار فیاض سے ہر لحظہ ایک نیا وجود ملتا رہتا ہے۔ چونکہ ہمیں ہر لمحہ ایک تازہ وجود میسر آتا ہے اس لئے ہر لمحہ ہم نئی ہدایت کے محتاج ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ خدا اور ہمارے درمیان رابطے کی معنوی تاروں میں اگر کوئی مانع پیدا ہوجائے مثلا بے راہ روی، ظلم، ناپاکی وغیرہ تو اس سے منبع ہدایت کے ساتھ ہمارا رابطہ منقطع ہوجائے گا اور یوں ہم صراط مستقیم سے منحرف ہو جائیں گے۔ ہم خدا سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں یہ موانع پیش نہ آئیں اور ہم صراط مستقیم پر ثابت قدم رہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہدایت کے معنی ہیں طریق تکامل کو طے کرنا یعنی انسان تدریجا مراحل نقص پیچھے چھوڑتا جائے اور مراحل بلند تک پہنچتا جائے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ راہ کمال، یعنی ایک کمال سے دوسرے کمال تک پہنچنے کا راستہ نامحدود ہے۔ گویا یہ ایک لامتناہی سلسلہ ہے۔ اس بنا پر کوئی تعجب نہیں کہ انبیاء و آئمہ علیہم السلام بھی خدا سے صراط مستقیم کی ہدایت کا تقاضہ کریں کیونکہ کمال مطلق تو صرف ذات خدا ہے اور باقی سب بلا استثناء سیر تکامل میں ہیں۔ لہذا کیا حرج ہے کہ وہ بھی خدا سے بالاتر درجات کی تمنا کریں۔ کیا ہم نبی اکرم (ﷺ( پر درود و سلام نہیں بھیجتے؟ اور کیا درود در اصل محمد و آل محمد پر پروردگار عالم سے نئی رحمت کا تقاضا نہیں؟ ؟ کیا رسول اللہ نہیں فرماتے تھے: رب زدنی علما۔ خدایا میرے علم(اور ہدایت)کو زیادہ فرما۔ کیا قرآن یہ نہیں کہتا : و یزید اللہ الذین اھتدوا ھدی۔ (مریم، ۷۶) یعنی: خدا ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت میں اضافہ کرتا ہے۔ یہ بھی قرآن میں ہے : و الذین اھتدوا ازادھم ھدی و اتاھم تقواھم۔ (محمد، ۱۷) یعنی : جو ہدایت یافتہ ہیں خدا ان کی ہدایت میں اضافہ کرتا ہے اور انہیں تقوی عطا کرتا ہے۔ اسی سے نبی اکرم اور آئمہ علیہم السلام پر درود بھیجنے کے متعلق سوال کا جواب مل جاتا ہے۔ ہم نے جو کچھ کہا ہے اس کی وضاحت کے لئے ذیل کی دو حدیثوں کی طرف توجہ فرمائیں : ۱۔ حضرت امیرالمومنین علی(علیہ السلام) جملہ اھدنا الصراط المستقیم کی تفسیر میں ارشاد فرماتے ہیں : یعنی آدم لنا توفیقک الذی اطعناک بہ فی ماضی ایامنا حتی نطیعک کذلک فی مستقبل اعمادنا۔ خداوندا جو توفیقات تو نے ماضی میں ہمیں عنایت کی ہیں ، جن کی برکت سے ہم نے تیری اطاعت کی ہے انہیں اسی طرح برقرار رکھ تاکہ ہم آئندہ بھی تیری اطاعت کرتے رہیں۔(بحوالہ: تفسیر صافی (آیہ مذکورہ) بحوالہ معانی الاخبار و تفسیر امام حسن عسکری)۔ ۲۔ حضرت امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں : یعنی ارشدنا للزوم الطریق الموٴدی الی محبتک والمبلغ الی جنتک والمانع من ان نتبع اھوائنا فنعطب او ان ناخذ بآرائنا فنھلک۔ خداوندا ہمیں اس راستہ پر جو تیری محبت اور جنت تک ہے، ثابت قدم رکھ کہ یہی راستہ ہلاک کرنے والی خواہشات اورانحرافی و تباہ کرنے والی آراء سے مانع ہے۔ایضا)۔

صراط مستقیم کیا ہے ؟

آیات قرآن مجید کے مطالعے سے معلوم ہوتاہے کہ صراط مستقیم آئین خدا پرستی، دین حق اور احکام خدا وندی کی پابندی کا نام ہے۔ جیسے سورہ انعام کی آیت ۱۶۱ میں ہے : قل اننی ھدانی ربی الی صراط مستقیم۔ دینا قیما ملة ابراھیم حنیفا۔ و ماکان من المشرکین۔ یعنی: کہہ دیجئے کہ میرے پروردگار نے مجھے صراط مستقیم کی ہدایت کی ہے جو سیدھا دین ہے وہ کہ جو اس ابراہیم کا آئین ہے جس نے کبھی خدا سے شرک نہیں کیا۔ دین ثابت یعنی وہ دین جو اپنی جگہ قائم رہے ، ابراہیم کے آئین توحیدی اور ہرقسم کے شرک کی نفی کا تعارف یہاں پر صراط مستقیم کے عنوان سے ہوا ہے اور یہی بات اس اعتقادی پہلو کو مشخص کرتی ہے۔ سورہ یسین آیت ۶۰، ۶۱ میں ہے : الم اعھد الیکم یبنی آدم ان لا تعبدوا الشیطان، انہ لکم عدو مبین، و ان اعبدونی ھذا صراط مستقیم۔ اے اولاد آدم! کیا میں نے تم سے یہ عہد و پیمان نہیں لیا تھا کہ شیطان کی پرستش نہ کرنا(اس کے احکام پر عمل نہ کرنا)کیونکہ یقینا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا، یہی صراط مستقیم ہے۔ یہاں دین حق کے عملی پہلوؤں کی طرف اشارہ ہے جو ہر قسم کے شیطانی فعل اور عملی انحراف کی نفی ہے۔ سورہ آل عمران، آیت ۱۰۱ میں قرآن کے مطابق صراط مستقیم تک پہنچنے کا طریقہ خدا سے تعلق اور ربط پیدا کرنا ہے۔ ومن یعتصم باللہ فقد ھدی الی صراط مستقیم۔ جنہوں نے اللہ کے دامن رحمت کو تھامے رکھا انہی نے صراط مستقیم کی ہدایت پائی۔ اس نکتہ کی طرف بھی نظر ضروری ہے کہ صراط مستقیم صرف ایک ہی راستہ ہے کیونکہ دو نقطوں کے درمیان خط مستقیم صرف ایک ہی ہوسکتا ہے جو نزدیک ترین راستے کو تشکیل دیتا ہے۔ لہذا اگر قرآن کہتا ہے کہ صراط مستقیم در اصل اعتقادی و عملی پہلوؤں سے دین و آئین الہی ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ دین ہی نزدیک ترین راستہ ہے خدا سے ربط پیدا کرنے کا اور یہی وجہ ہے کہ دین حقیقی و واقعی ہے بھی فقط ایک۔ ان الدین عنداللہ الاسلام۔ (آل عمران ، ، ۱۹) دین خدا کے نزدیک اسلام (ہی) ہے۔ ان شاء اللہ ہم بعد میں بیان کریں گے کہ اسلام ایک وسیع معنی رکھتا ہے اور اس میں ہر وہ آئین توحید شامل ہے جو کسی بھی زمانے میں جاری تھا اور کسی نئے آئین سے منسوخ نہیں ہوا۔ یہاں سے واضح ہوتا ہے کہ مفسرین نے صراط مستقیم کی جو مختلف تفاسیر بیان کی ہیں، ان سب کی برگشت ایک ہی حقیقت کی طرف ہے۔ بعض نے اس کے معنی اسلام کئے ہیں، بعض نے قرآن، کچھ مفسرین نے اس سے رسول و ائمہ برحق مراد لئے ہیں اور کچھ نے اللہ کا آئین کہ جس کے علاوہ خدا کو کوئی چیز قبول نہیں۔ ان تمام معانی کی برگشت اسی دین و آئین الہی کی طرف ہے، تمام تر اعتقادی و عملی پہلوؤں کے ساتھ۔ جو روایات مصادر اسلامی میں اس سلسلے میں وارد ہوئی ہیں، ان میں سے ہر ایک اس مسئلے کے ایک زاویے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ سب کی بازگشت ایک ہی اصل کی طرف ہے۔ رسول اکرم(ﷺ) نے ارشاد فرمایا : الصراط المستقیم صراط الانبیاء وھم الذین انعم اللہ علیھم۔ صراط مستقیم، انبیاء کا راستہ ہے اور انبیاء وہ ہستیاں ہیں جن پر اللہ نے انعام کیا۔ امام صادق (علیہ السلام) کا ارشاد اھدنا الصراط المستقیم کی تفسیر میں یوں ہے : الطریق و معرفة الامام ۔ اس سے مراد امام کا راستہ اور اس کی معرفت ہے۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، ج ۱ ص ۲۱، ۲۰۔) ایک اور حدیث میں امام صادق ہی سے منقول ہے : واللہ نحن صراط المستقیم۔ بخدا ہم صراط مستقیم ہیں۔ (ایضا) ایک اور حدیث میں امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا : صراط مستقیم امیرالمومنین علی(علیہ السلام) ہیں۔ (ایضا) یہ مسلم ہے کہ رسول اکرم، امیرالمومنین اور دیگر آئمہ اہل بیت علیہم السلام سب کے سب اسی آئین توحید کی دعوت دیتے رہتے ہیں۔ وہ دعوت جس میں اعتقاد بھی ہے اور عمل بھی۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ راغب نے کتاب مفردات میں صراط کے معنی میں کہا ہے کہ صراط کے معنی ہیں سیدھا راستہ۔ لہذا مستقیم ہونے کا مفہوم خود صراط میں مضمر ہے۔ گویا مستقیم ساتھ بطور صفت ہے جو اس مسئلے پر تاکید کے مفہوم میں ہے۔

7
1:7
صِرَٰطَ ٱلَّذِينَ أَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِمۡ غَيۡرِ ٱلۡمَغۡضُوبِ عَلَيۡهِمۡ وَلَا ٱلضَّآلِّينَ
ان لوگوں کی راہ پر جن پر تونے انعام کیا۔ ان کی راہ نہیں جن پر تیرا غضب ہوا اور نہ وہ کہ جو گمراہ ہو گئے۔

دو انحرافی خطوط

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

یہ آیت حقیقت میں صراط مستقیم کی واضح تفسیر ہے جسے ہم گذشتہ آیت کے ذیل میں پڑھ چکے ہیں۔ دعا ہے کہ مجھے ان لوگوں کے راستے کی ہدایت فرما جنہیں قسم قسم کی نعمتوں سے نوازا ہے (نعمت ہدایت و نعمت توفیق، مردان حق کی رہبری کی نعمت، نعمت علم وعمل اور نعمت جہاد و شہادت)۔ ان لوگوں کی راہ نہیں جن کے برے اعمال اور ٹیڑھے عقائد کے باعث تیرا غضب انہیں دامن گیر ہوا اور نہ ہی ان لوگوں کی راہ جو شاہراہ حق کو چھوڑ کر بے راہ روی کے عالم میں ہیں، گمراہ و سرگرداں ہیں۔ صراط الذین انعمت علیھم غیر المغضوب علیہم ولاالضالین۔ حقیقت یہ ہے کہ چونکہ ہم راہ و رسم ہدایت سے پورے طور سے آشنا نہیں لہذا خدا ہمیں دستور ہدایت دے رہا ہے کہ ہم انبیاء ، صالحین اور دیگر وہ لوگ جو نعمت و الطاف الہی سے نوازے گئے ہیں، ان کے راستے کی خواہش کریں۔ نیز ہمیں خبردار کیا گیا ہے کہ تمہارے سامنے دو ٹیڑھے خطوط موجود ہیں، خط مغضوب علیھم اور خط ضالین۔ ان دونوں کی تفسیر ہم بہت جلد ذکر کریں گے۔

چند اہم نکات ۱۔ الذین انعمت علیھم کون ہیں

الذین انعمت علیھم کون ہیں: سورہ نساء آیت ۶۹ میں اس گروہ کی نشاندہی یوں کی گئی ہے : ومن یطع اللہ والرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبیین والصدیقین والشھداء والصالحین، وحسن اولئک رفیقا۔ جو لوگ خدا و رسول کے احکام کی اطاعت کرتے ہیں، خدا انہیں ان لوگوں کے ساتھ قرار دے گا جنہیں نعمات سے نوازا گیا ہے اور وہ ہیں انبیاء، صدیقین، شہدائے راہ حق اور صالح انسان اور یہ لوگ بہترین ساتھی ہیں۔ جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں، اس آیت میں شاید اس معنی کی طرف اشارہ ہو کہ ایک صحیح وسالم، ترقی یافتہ اور مومن معاشرے کی تشکیل کے لئے پہلے انبیاء اور رہبران حق کو میدان عمل میں آنا چاہئے، ان کے بعد سچے اور راست باز مبلغ ہوں جن کی گفتار اور کردار میں ہم آہنگی ہو تاکہ وہ اس راستے سے انبیاء کے مقاصد کو تمام اطراف میں پھیلادیں۔ فکری تربیت کے اس پروگرام پر عمل در آمد کے دوران میں بعض گمراہ عناصر راہ حق میں حائل ہونے کی کوشش کریں گے۔ ان کے مقابل ایک گروہ کو قیام کرنا چاہئے۔ ان میں سے کچھ لوگ شہید ہوں گے او راپنے خون مقدس سے شجر توحید کی آبیاری کریں گے۔ چوتھے مرحلے میں ان کوششوں کے نتیجے میں صالح لوگ وجود میں آئیں گے اور یوں ایک پاک و پاکیزہ،شائستہ اور معنویت و روحانیت سے پر معاشرہ وجود میں آ جائے گا۔ اس لئے ہم روزانہ صبح وشام سورہ حمد میں پے در پے خدا سے دعا کرتے ہیں کہ ہم بھی ان چار گروہوں کے طریق حق کے راہی قرار پائیں۔ حق کا راستہ، انبیاء کا راستہ، صدیقین کا راستہ، شہداء کا راستہ اور صالحین کا راستہ ہے۔ واضح ہے کہ ہر زمانے کو انجام تک پہنچانے کے لئے ہمیں ان میں سے کسی خط کی پیروی میں اپنی ذمہ داری کو انجام دینا ہوگا۔

۲- مغضوب علیھم اور ضالین کو ن ہیں

مغضوب علیھم اور ضالین کون ہیں: ان دونوں کو آیت میں الگ الگ بیان کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک کسی خاص گروہ کی طرف اشارہ ہے۔ دونوں میں فرق کے سلسلے میں تین تفسیریں موجود ہیں : i. قرآن مجید میں دونوں الفاظ کے استعمال کے مواقع سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغضوب علیھم کا مرحلہ ضالین سے سخت تر اور بدتر ہے۔ بالفاظ دیگر ضالین سے مراد عام گمراہ لوگ ہیں اور مغضوب علیھم سے مراد لجوج (گمراہی پر مصر) یا منافق ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ایک موقعوں پر ایسے لوگوں کے لئے خدا کے غضب اور لعنت کا ذکر ہوا ہے۔ سورہٴ نحل آیت ۱۰۶ میں آیا ہے : ولکن من شرح بالکفر صدرا فعلیھم غضب من اللہ۔ جنہوں نے کفر کے لئے اپنے سینوں کو کھول رکھا ہے ان پر اللہ کا غضب ہے۔ سورہٴ فتح آیت ۶ میں ہے: و یعذب المنافقین و المنافقات والمشرکین والمشرکات الظانین باللہ ظن السوء علیھم دائرة السوء وغضب اللہ علیھم و لعنھم و اعدلھم جھنم۔ منافقین مرد اور عورتیں اور مشرک مرد اور عورتیں جو خدا کے بارے میں برے گمان کرتے ہیں، خدا ان سب پر عذاب نازل کرے گا۔ ان سب پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے۔ وہ انہیں اپنی رحمت سے دور رکھتا ہے اور انہی کے لئے اس نے جہنم تیار کررکھی ہے۔ بہرحال مغضوب علیھم وہ ہیں جو راہ کفر میں لجاجت و عناد اورحق سے دشمنی رکھنے کے علاوہ رہبران الہی اور انبیاء مرسلین کو ہر ممکن اذیت و آزار پہنچانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ سورہ آل عمران آیت ۱۱۲ میں ہے : وباء و بغضب من اللہ و ضربت علیھم المسکنة ذلک بانھم کانو یکفرون بایت اللہ و یقتلون الانبیاء بغیر حق ذلک بما عصوا وکان یعتدون۔ ان (یہودیوں) پر خدا کا غضب ہوا اور انہیں رسوائی نصیب ہوئی کیونکہ وہ انبیاء الہی کو ناحق قتل کرتے تھے اور حدود و شریعت سے تجاوز کے مرتکب ہوتے تھے۔ ii. مفسرین کا ایک گروہ اس بات کا قائل ہے کہ ضالین سے منحرف عیسائی اور مغضوب علیھم سے منحرف یہودی مراد ہیں۔ یہ نظریہ ان دونوں گروہوں کے دعوت اسلام کے مقابلے میں ردعمل کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ قرآن جس طرح مختلف آیات میں صراحت کے ساتھ یاددہانی کراتا ہے کہ یہودی دعوت اسلام کے بارے میں مخصوص کینہ و عداوت کا مظاہرہ کرتے تھے۔ اگر چہ ابتداء میں انہی کے علماء لوگوں کو اسلام کی بشارت دیا کرتے تھے لیکن تھوڑا ہی عرصہ گذرا کہ کئی ایک وجوہ(جن کی تفصیل کا یہ مقام نہیں) کی بناء پر وہ اسلام کے سخت ترین دشمن ہوگئے۔ ان وجوہ میں ایک ان کے مادی مفادات کا خطرے میں پڑ جانا بھی تھا۔ وہ اسلام اور مسلمانوں کی پیش رفت روکنے کے لئے ہر ممکن رکاوٹیں کھڑی کرتے( آج بھی صیہونیوں کا مسلمانوں کے بارے میں وہی طریق کار ہے)۔ ان حالات میں انہیں مغضوب علیھم سے تعبیر کرنا درست معلوم ہوتا ہے لیکن یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ یہ تعبیر حقیقت میں ان کے عمل کے باعث تطبیق کی صورت ہے نہ کہ مغضوب علیھم سے صرف یہودی مراد ہیں۔ رہے نصاری تو اسلام کے بارے میں ان کا موقف اس قدر سخت نہ تھا بلکہ وہ فقط آئین حق کی پہچان میں گمراہ تھے۔ لہذا لفظ ضالین سے عیسائی مراد لئے گئے ہیں اور یہ بھی ایک تطبیق ہے۔ احادیث اسلامی میں بارہا مغضوب علیھم سے یہودی اور ضالین سے عیسائی مراد لئے گئے ہیں۔ اس کی وجہ پہلے ہی بیان کی جا چکی ہے۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین ج۱ ص ۲۴، ۲۳۔ ) iii. یہ احتمال بھی ہے کہ ضالین سے وہ گمراہ لوگ مراد ہیں جو دوسروں کو گمراہ کرنے پر مصر نہیں جب کہ مغضوب علیھم وہ لوگ ہیں جو خود تو گمراہ ہیں ہی، دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں اور دوسروں کو اپنا ہم رنگ بنانے کے لئے مختلف ذرائع استعمال کرتے ہیں۔ اس بات کی دلیل وہ آیات ہیں جو ایسے اشخاص کے بارے میں ہیں جو راہ راست کی ہدایت حاصل کرنے کے لئے کوشاں دوسرے لوگوں کے درمیان میں حائل ہو جاتے ہیں۔ ان کے بارے میں کہا گیا ہے : یصدون عن سبیل اللہ۔ (اعراف، ۴۵) یہ وہ لوگ ہیں جو دوسروں کو راہ خدا سے روکتے ہیں۔ سورہ شوری آیت ۱۶ کے الفاظ ہیں : والذین یحاجون فی اللہ من بعد ما استجیب لہ حجتھم داحضة عند ربھم و علیھم غضب ولھم عذاب شدید۔ وہ لوگ جو مومنین کی طرف سے دعوت اسلام قبول ہونے کے بعد نبی اکرم سے جھگڑتے اور کج بحثی کرتے ہیں، خدا کے ہاں ان کی دلیل وحجت بے اساس ہے۔ ان پر اللہ کا غضب ہے اور سخت عذاب ان کا منتظر ہے۔ باوجود اس کے یوں نظر آتا ہے کہ ان تفاسیر میں جامع تر وہی پہلی تفسیر ہے اور وہ ایسی تفسیر ہے جس میں باقی تفسریں بھی مجتمع ہیں۔ حقیقت میں۔ باقی تفاسیر اس کے مصادیق میں شمار ہوتی ہیں لہذا کوئی وجہ نہیں کہ ہم آیت کے وسیع مفہوم کو محدود کردیں۔ والحمد للہ رب العالمین (تفسیر سورہٴ حمد اختتام کو پہنچی)

end of chapter