Sūra 42 · 53v
Chapter 4253 verses

Ash-Shura

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
الشورى
الشوریٰ

سوره شـــورىٰ

یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی (البتہ چند آیات کے بارے میں اختلاف ہے)۔ اس میں ۵۳ آیات ہیں

سورہ شورٰی کے مندرجات

اس سورت کا نام اس کی آیت ۳۸ کی وجہ سے ہے۔ جس میں مسلمانوں کو اپنے امور میں باہمی مشورے کی دعوت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس میں مکی سورتوں کی خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں یعنی مبداٴ و معاد اور قرآن و نبوت کے بارے میں گفتگو ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں اور بھی مختلف چیزیں ملتی ہیں جن کا مندرجہ ذیل حصوں میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے۔ پہلا حصّہ جو اس سورت کا اہم ترین حصہ شمار ہوتا ہے کہ، اس میں وحی، انبیاء کے ساتھ خدا کا اس مرموز طریقے سے رابطہ کے متعلق گفتگو ہوتی ہے۔ جو اس سورہ کا سر آغاز بلکہ حرف آخر بھی ہے۔ اور تمام مندرجات پر حاوی ہے۔ کیونکہ سورت کے درمیان میں بھی کہیں نہ کہیں اس کے متعلق گفتگو کی گئی ہے۔ اسی مناسبت سے قرآن مجید اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت کا تذکرہ بھی اور نوح علیہ السلام کی نبوت و رسالت کا بھی ذکر ہے۔ دوسرا حصّہ مشتمل ہے۔ توحید کے دلائل، آفاق و انفس میں خدا کی آیات کے اشارات پر کہ جن سے وحی کی گفتگو کی تکمیل ہوتی ہے۔ اسی طرح توحید ربوبیت کی گفتگو بھی ہے۔ تیسرے حصہ میں معاد کے مسئلے اور قیامت کے دن کفار کے انجام کی طرف اشارہ ہے۔ البتہ دوسری سورتوں کی نسبت اس سورت میں یہ مسائل بہت کم بیان ہوئے ہیں۔ چوتھے حصّہ میں اخلاقی مباحث کا ایک سلسلہ جو نہایت ہی احسن انداز میں بیان ہوا ہے۔ جس میں عموماً صبر و استقامت، توبہ، عفو و درگز اور آتش غضب کے بجھانے جیسے برجستہ ملکات کی طرف، لطیف انداز میں دعوت دی گئی ہے۔ اسی طرح خدائی نعمات کے حصول کے وقت سرکشی، ضد اور ہٹ دھرمی، دنیا پرستی، مشکلات کے وقت چیخ و پکار جیسی صفات رذیلہ سے واضح طور پر روکا گیا ہے۔ قصہ مختصر یہ راہ حق کے راہیوں کے لیے ایک مکمل مجموعہ اور شفا عطا کرنے والی دوا ہے۔

تلاوت کی فضیلت

اس سورت کی تلاوت میں اسلام کے عظیم الشان پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک حدیث میں یوں وارد ہوا ہے۔ من قرء سورة حٰم عسق کان ممن تصلی علیہ الملائکة، و یستغفرون لہ و یسترحمون جو شخص سورہ شورٰی کی تلاوت کرے گا وہ ان لوگوں میں سے ہو گا کہ جن کے لیے فرشتے درود بھیجتے اور استغفار کرتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: مجمع البیان، سورہ شورٰی کا آغاز)۔ ایک اور حدیث حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: جو شخص سورہٴ شورٰی کی تلاوت کرے وہ بروز قیامت آفتاب کے مانند چمکدار چہرے کے ساتھ محشور ہو گا اور اسی حالت میں اللہ رب العزت کی بارگاہ میں پیش ہو گا۔ خدا فرمائے گا: میرے بندے! تو نے سورہ حٰم عسق کی پابندی کے ساتھ تلاوت جاری رکھی جبکہ تو اس کے ثواب سے بےخبر تھا اور اگر اس ثواب سے باخبر ہوتا تو تُو اس کی تلاوت سے کبھی نہ تھکتا۔ لیکن آج میں تجھے اس کا ثواب ضرور عطا کروں گا، پھر حکم دے گا کہ اسے بہشت کی خصوصی نعمتوں تک پہنچا دیا جائے۔ (بحوالہ: ثواب الاعمال؛ منقول از تفسیر نور الثقلین، جلد ۴، ص ۵۵۶۔ مختصر سی تلخیص کے ساتھ)۔

1
42:1
حمٓ
حٰم

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
42:2
عٓسٓقٓ
عسق

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
42:3
كَذَٰلِكَ يُوحِيٓ إِلَيۡكَ وَإِلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكَ ٱللَّهُ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ
خداوند عزیزو حکیم تیری طرف اور جو پیغمبر تجھ سے پہلے ہو گزرے ہیں اسی طرح وحی کرتا ہے

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
42:4
لَهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۖ وَهُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡعَظِيمُ
جو کچھ آسمانوں میں ہے وہ بھی اور جو کچھ زمین میں ہے وہ بھی سب خدا کے لئے ہے اور وہ بلند مرتبہ اور صاحب عظمت ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
42:5
تَكَادُ ٱلسَّمَٰوَٰتُ يَتَفَطَّرۡنَ مِن فَوۡقِهِنَّۚ وَٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَيَسۡتَغۡفِرُونَ لِمَن فِي ٱلۡأَرۡضِۗ أَلَآ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ
نزدیک ہے کہ مشرکین کی ناجائز تہمتوں کی وجہ سے آسمان اوپر سے پھٹ جائیں۔ فرشتے ہمیشہ اپنے پروردگار کی تسبیح اور حمد بجا لاتے ہیں اور جو لوگ زمین پر ہیں ان کے لئے استغفار کرتے ہیں، آگاہ رہو کہ خدا وند عالم بخشنے والا اور مہربان ہے۔

تفسیر نزدیک ہے۔ آسمان پھٹ جائیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

اس سورت میں ایک بار پھر ہم "حروف مقطعات" کی تلاوت کر رہے ہیں اور اب کی مرتبہ نسبتاً زیادہ تعداد میں انہیں دیکھ رہے ہیں۔ یعنی پانچ حروف کی تعداد میں (حٰم عسق)۔ "حٰم" قرآن مجید کی ساتھ سورتوں (مؤمن، حٰم سجدہ، شورٰی، زخرف، دخان، جاثیہ اور احقاف) کے آغاز میں آیا ہے۔ لیکن اس سورت (شورٰی) میں "عسق" کا اس کے ساتھ اضافہ ہے۔ ہم کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ قرآن پاک کے حروف مقطعات کے بارے میں بہت کچھ کہا جا چکا ہے۔ اور ہر مفسر نے اس بارے میں لمبی چوڑی گفتگو کی ہے۔ عظیم مفسر مرحوم طبرسی کے بقول قرآن کے حروف مقطعات کی گیارہ تفسیریں بیان ہوئی ہیں۔ جن میں سے اہم تفسیروں کو ہم سورہٴ بقرہ، آ ل عمران، اعراف اور مریم میں بیان کر چکے ہیں اور چونکہ باقی تفسیریں چنداں قابل توجہ نہیں تھیں، لہذا ہم نے انہیں ذکر کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ البتہ ان میں کچھ ایسی تفسیریں ہیں جو کسی حد تک قابل ذکر ہیں ہر چند کہ کوئی دلیل قطع ان کے ثبوت میں نہیں ملتی۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ "حروف مقطعات" کفار کو خاموش کرنے اور لوگوں کی توجہ قرآن کی جانب مبذول کرانے کے لیے ذکر کئے گئے ہیں۔ کیونکہ ہٹ دھرم مشرکین نے خاص طور پر ایک دوسرے کو ہدایت کر رکھی تھی کہ جب بھی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قرآن مجید کی تلاوت کریں کوئی شخص بھی اس کو کان لگا کر نہ سنے۔ بلکہ اس حد تک شور و غل برپا کریں کہ دوسرے لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آواز نہ سُن سکیں لہٰذا خداوند عالم نے قرآن مجید کی بہت سی سورتوں (تقریباً۲۹ سورتوں) میں حروف مقطعات کو ذکر کیا فرمایا ہے۔ جن میں تازہ مطالب تھے اور لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا رہے تھے۔ علامہ طباطبائی (رضوان اللہ علیہ) نے ایک اور احتمال کو ذکر کیا ہے۔ جسے ان حروف کی بارہویں تفسیر کہا جا سکتا ہے۔ ہر چند کہ خود انہوں نے بھی اسے ایک احتمال کے طور پر ذکر کیا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے۔ جب ہم ان سورتوں میں غور کرتے ہیں جن کی ابتداء حروف مقطعات سے ہوتی ہے۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ ایسی سورتیں جن کا آغاز ایک جیسے حروف مقطعات سے ہوتا ہے۔ ان کے مطالب بھی ایک جیسے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر جو سورتیں "حٰم" سے شروع ہوتی ہیں تو اس کے فوراً بعد " تَنْزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ... کا جملہ یا اس سے ملتا جلتا ذکر ہوا ہے۔ اور جو سورتیں "الرٰ " سے شروع ہوتی ہیں تو اس کے فوراً بعد " تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ۔۔۔" یا اس کے مانند کوئی اور جملہ ہوتا ہے۔ جن سورتوں کا آغاز "الم" سے ہوتا ہے۔ "ذلِکَ الْکِتابُ لا رَیْبَ فیہِ" یا اس جیسا کوئی اور جملہ بھی اسی کے ساتھ آیا ہے۔ یہاں سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ حروف مقطعات اور ان سورتوں کے درمیان ایک خاص قسم کا رابط ہے۔ حتٰی کہ مثلاً سورہٴ اعراف کہ جس کا آغاز "المص" سے ہوتا ہے۔ "الم" کے ساتھ شروع ہونے والی سورتوں اور سورہ "ص" کے مضامین کی جامع ہے۔ یعنی ان تمام سورتوں کے مضامین سورہٴ اعراف میں جمع ہیں۔ البتہ ایسا رابط نہایت ہی گہرا اور دقیق ہو سکتا ہے۔ جس تک عام معمولی اذہان کی رسائی ناممکن ہے۔ اور شاید اگر ان سورتوں کی آیات کو ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ رکھ کر ان کا آپس میں تقابل کریں تو ہمیں کوئی نئے مطالب مل جائیں۔ (بحوالہ: تفسیر المیزان، جلد ۱۸، ص ۵ تا ۶)۔ ایک اور تفسیر کہ جس کی طرف ہم پہلے بھی اشارہ کر چکے ہیں یہ ہے کہ ممکن ہے۔ یہ حروف خداوند عالم کے ناموں اور اس کی نعمتوں وغیرہ کی طرف اشارات اور ان کے رموز ہوں، مثال کے طور پر اسی سورہٴ شورٰی میں بعض مفسرین نے "ح" کو "رحمن" "م" کو "مجید" "ع" کو "علیم" "س" کو "قدوس" اور "ق" کو "قاھر" کی طرف اشارہ سمجھا ہے۔ (تشریحی نوٹ: یہ تفسیر امام جعفر علیہ السلام کی ایک حدیث سے منقول ہے۔ ملاحظہ ہو: تفسیر قرطبی، جلد ۹، ص ۵۸۲۲)۔ اگرچہ بعض مفسرین نے اس گفتگو پر اعتراض کیا ہے کہ اگر اسرار اور رموز سے مراد یہ ہے کہ ان سے کوئی دوسرا شخص آگاہ نہ ہو تو یہ تعریف حروف مقطعات کے بارے میں صادق نہیں آتی، کیونکہ خداوند متعال کے یہ عظیم نام دوسری آیات میں صراحت کے ساتھ آئے ہوئے ہیں۔ لیکن ان معترضین کو معلوم نہیں کہ اشاروں اور رموز کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ کوئی بات ہمیشہ کے لیے محرمانہ رہے بلکہ بعض اوقات سے مراد اختصاد بھی ہوتا ہے۔ اور یہی چیز گزشتہ زمانے میں مروج تھی اور آج بھی رائج ہے۔ بلکہ اس دور میں تو اس کا رواج بڑی وسعت اختیار کر چکا ہے۔ اور وہ اس طرح کہ بہت سے اداروں، انجمنوں اور محکموں وغیرہ کے ناموں کو بھی حروف مقطعہ کی صورت میں لکھتے اور بولتے ہیں اور وہ اس طرح کہ ہر لفظ کے پہلے ایک حرف کو لے کر انہیں آپس میں ملا دیتے ہیں۔ حروف مقطعات کے بعد حسب معمول وحی اور قرآن کی بات شروع ہوتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اسی طرح خداوند عزیز و حکیم تیری طرف اور تجھ سے پہلے انبیاء کی طرف وحی کرتا ہے۔ (كَذَلِكَ يُوحِي إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ)۔ "كَذَلِكَ" کا کلمہ درحقیقت اس سورہ کے عظیم مطالب اور مضامین کی طرف اشارہ ہے۔ وحی کا سرچشمہ تو ہر جگہ ایک ہی ہے۔ اور وہ ہے۔ خداوند عالم کا علم اور اس کی قدرت اور تمام ابنیاء کی وحی کے مطالب و مضامین بھی اصولی اور قواعد بھی ایک جیسے ہوتے ہیں۔ ہر چند کہ ان کی خصوصیات زمانے کی ضرورتوں کے مطابق اور انسان کے ارتقائی مراحل کے پیش نظر بدلتی رہتی ہیں۔ (تشریحی نوٹ: اگرچہ مفسرین نے "کذالک" کے مشار الیہ کے بارے میں مختلف احتمالات اور مختلف تفسیریں بیان کی ہیں لیکن ظاہر یہ ہے کہ اس کا مشار الیہ یہی آیات ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوئی ہیں۔ اسی لیے آیات کا مفہوم یوں ہو گا "وحی اسی انداز کی ہے۔ جو مجھ پر اور تجھ سے پہلے انبیاء پر نازل کرتا ہے۔ اور مشار الیہ کے نزدیک ہونے کے باوجود دور کا اشارہ اس کی عظمت اور احترام کے لیے ہے۔ جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ انہی آیات میں خداوند متعال کی صفات کمالیہ میں سے سات صفتوں کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ جن میں سے ہر ایک کا کسی نہ کسی طرح وحی سے تعلق ہے۔ جن میں سے دو صفات اسی آیت میں ہیں، ایک عزیز اور دوسری حکیم۔ اس کی ناقابل شکست عزت اور قدرت کا تقاضا ہے کہ وہ وحی اور اس کے عظیم مضامین پر قدرت رکھتا ہو۔ اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ وحی ہر لحاظ سے حکمت پر مبنی اور انسان کی ارتقائی ضرورتوں سے ہم آہنگ ہو، "یُوحی" (وحی بھیجتا ہے۔ فعل مضا رع ہونے کی بنا پر آغاز خلقت آدم علیہ السلام سے لے کر عصر پیغمبر خاتم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک استمرار اور تسلسل پر دلالت کر رہا ہے۔ پھر فرمایا گیا ہے۔ جو کچھ آسمانوں میں ہے۔ اور جو کچھ زمین میں ہے۔ صرف اس کے لیے ہے۔ اور وہ بلند مرتبے اور عظمت کا مالک ہے۔ (لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ)۔ زمین اور آسمان میں اس کی ملکیت اس بات کی متقاضی ہے کہ وہ اپنی مخلوق اور اس کے انجام سے بےخبر نہ ہو، بلکہ ان کے امور کو سنبھالے اور وحی کے ذریعے ان کی ضروریات کو پورا کرے اور یہ خدا کی مذکورہ سات صفات میں سے تیسری صفت ہے۔ اس کے مقام کی بلندی اور عظمت جو اس آیت میں خدا کی چوتھی اور پانچویں صفتیں ہیں اس بات کی طرف اشارہ ہیں کہ اُسے بندوں کی اطاعت اور بندگی کی قطعاً احتیاج نہیں۔ اگر اس نے بندوں کے لیے عبادت کے پروگرام مرتب کئے ہیں اور وحی کے ذریعے ان کے لیے نازل کئے ہیں تو صرف بندوں پر جو دوسخا کے لیے ہیں۔ بعد کی آیت میں فرمایا گیا ہے۔ قریب کہ (خدا کی طرف سے باعظمت وحی کے نزول یا مشرکین کی خدا کی ذات پاک کی طرف ناروا تہمتوں اور بتوں کے شریک بنانے کی وجہ سے) آسمان اوپر سے پھٹ جائیں (تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِن فَوْقِهِنَّ)۔ جیسا کہ ہم اشارہ کر چکے ہیں کہ اس جملے کی دو طرح سے تفسیر کی جاتی ہے کہ جن میں سے ہر ایک کے لیے شاہد موجود ہے۔ پہلی تو یہ کہ اس کا تعلق مسئلہ وحی سے ہے۔ جو گزشتہ آیات میں زیر بحث رہ چکا ہے۔ اور درحقیقت یہ آیت سورہٴ حشر کی ۲۱ ویں آیت سے ملتی جلتی ہے۔ جس میں ارشاد ہوتا ہے: لَوْ أَنزَلْنَا هَذَا الْقُرْآنَ عَلَى جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللَّهِ یعنی اگر ہم اس قرآن کو پہاڑ پر نازل کرتے تو تم دیکھتے کہ خوف خدا کی وجہ سے خاشع ہو جاتے اور پھٹ جاتے۔ جی ہاں! یہ کلام خدا ہی ہے۔ آسمان سے جس کا نزول پہاڑوں پر لرزہ طاری کر دیتا ہے۔ اور قریب ہے کہ انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔ اگر واقعاً یہ پہاڑوں پر نازل ہوتا تو انہیں ریزہ ریزہ کر دیتا کیونکہ یہ خداوند حکیم کا عظیم کلام ہے۔ یہ تو صرف اس ضدی مزاج اور ہٹ دھرم انسان کا دل ہے۔ جو نہ تو نرم ہوتا ہے۔ اور نہ ہی اس کے آگے جھکتا ہے۔ جبکہ دوسری تفسیر یہ ہے کہ نزدیک ہے کہ ان مشرکین کے شرک اور بت پرستی کی وجہ سے آسمان پھٹ پڑے کیونکہ وہ پست ترین مخلوق کو کائنات کے عظیم مبداٴ کا شریک بناتے ہیں۔ لیکن پہلی تفسیر وحی کے سلسلے میں زیر تفسیر آیات سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔ اور دوسری تفسیر سورہٴ مریم کی آیت ۹۰، ۹۱ سے مناسبت رکھتی ہے۔ جن میں خداوند عالم نے ان کفار کی نامناسب گفتگو کے ذکر کے بعد فرمایا ہے۔ جو خدا کی اولاد کے قائل ہیں: تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّاo أَن دَعَوْا لِلرَّحْمَنِ وَلَدًا نزدیک ہے کہ اس بات کی وجہ سے آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں، زمین پھٹ جائے اور پہاڑ زور سے ٹوٹ پڑیں کیونکہ وہ خداوند رحمان کے لیے اولاد کے قائل ہو چکے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: یتفطرن، "فطر"، بروزن "سطر" کے مادہ سے ہے۔ جس کا معنی طول میں شگاف ہے۔ ) یہ دونوں تفسیریں ایک دوسرے سے متضاد نہیں ہے۔ اور آیت کے مفہوم میں جمع بھی ہو سکتی ہیں، سوال پیدا ہوتا ہے کہ آسمان اور پہاڑ دو ٹھوس چیزیں ہیں وہ وحی کی عظمت یا کفار و مشرکین کی ناہنجار گفتگو کے سامنے کیسے پھٹ سکتی ہیں؟ اس بارے میں متعدد تفسیریں ملتی ہیں۔ جن کی تفصیل ہم سورہٴ مریم کی آیت۹۰، ۹۱ کے ذیل میں بیان کر چکے ہیں اور جن کا خلاصہ یہ ہے۔ عالم ہستی جو کہ جمادات اور نباتات وغیرہ کا مجموعہ ہے۔ ایک طرح کے عقل و شعور کا حامل ہے۔ خواہ ہم اس کا ادراک نہ بھی کر سکیں اور اسی بنا پر وہ خدا کی حمد و تسبیح کرتے ہیں اور اس کے کلام کے آگے سر جھکائے ہوئے ہیں۔ یا یہ کہ یہ تعبیر اس مطلب کی اہمیت اور عظمت کیلئے کنایہ ہے۔ جیسے ہم کہتے ہیں کہ فلاں حادثہ اس قدر عظیم تھا گویا آسمان زمین پر ٹوٹ پڑا۔ سلسلہ آیت کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ فرشتے اپنے رب کی تسبیح اور حمد بجا لاتے ہیں اور زمین میں رہنے والوں کے لیے استغفار کرتے ہیں (وَالْمَلَائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَن فِي الْأَرْضِ)۔ اس جملے کا پہلے حصّے سے رابط پہلی تفسیر کی بنا پر یوں ہو گا کہ اس عظیم آسمانی وحی کے حامل فرشتے ہمیشہ خدا کی حمد اور تسیبح بجا لاتے ہیں اور اس کی ہر کمال کے ساتھ ستائش کرتے ہیں اور اسے ہر نقص سے منزہ و مبرا سمجھتے ہیں اور چونکہ اس وحی کے مضامین میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ فرائض اور ان کی ادائیگی کا حکم ہے۔ اور ہو سکتا ہے۔ اس بارے میں مؤمنین سے کسی قسم کی لغزش سرزد ہو جائے۔ لہٰذا قرآن کہتا ہے کہ فرشتے مؤمنین کی امداد کے لیے آگے بڑھتے ہیں اور ان کی لغزشوں کی معافی چاہتے ہیں اور خدا سے ان کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ لیکن دوسری تفسیر کی بنا پر ملائکہ کی حمد و تسبیح خداوند عالم کی دی جانے والی شرک کی نسبت کے سلسلے میں ہے۔ اور ان کی استغفار بھی مشرکین کے لیے ہے کہ وہ بیدار ہو کر ایمان لے آئیں، توحید کی راہ پر گامزن، ہو کر وحدہ لا شریک خدا کی طرف لوٹ جائیں۔ جب فرشتے مؤمنین کے بارے میں ان کے اس عظیم گناہ کے لیے استغفار کرتے ہیں تو دوسرے گناہوں کے لیے تو بطریق اولی استغفار کریں گے اور آیت میں استغفار کا مطلق ہونا بھی شاید اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔ اس عظیم خوشخبری کے مانند سورہٴ مؤمن کی ساتویں آیت میں بھی ایک بشارت ہے۔ الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ حاملین عرش اور جو فرشتے عرش کے اطراف میں ہیں اپنے پروردگار کی حمد و تسبیح بجا لاتے ہیں اور مؤمنین کے لیے استغفار کرتے ہیں اور کہتے ہیں پروردگارا! تیری رحمت اور علم نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ جن مؤمنین نے تیرے راستے کی پیروی کی ہے۔ انہیں بخش دے۔ آخر میں خداوند عالم کی چھٹی اور ساتویں صفات کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ جو رحمت اور مغفرت کے بارے میں ہے۔ اور مسئلہ وحی اور اس کے مطالب و مضامین اور مؤمنین کے فرائض کے سلسلے میں ہے۔ اور ارشاد فرمایا گیا ہے۔ آگاہ رہو! خداوند عالم بخشنے والا مہربان ہے۔ (أَلَا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ)۔ تو اس طرح سے مسئلہ وحی سے متعلق خداوند عالم کے اسمائے حسنہ بیان ہوئے ہیں اور ان کے ضمن میں مؤمنین کے بارے میں فرشتوں کی دعا کی قبولیت بلک اس پر رحمت الہٰی کے اضافے کی طرف اشارہ ہے۔ جو اس کا فضل عظیم ہے۔ "وحی" کی حقیقت کے بارے میں اسی سورت کے آخر میں ۵۱، ۵۲ ویں آیات کی تفسیر میں سے گفتگو کریں گے۔

آیا فرشتے سب کے لئے استغفار کرتے ہیں؟

یہاں پر ایک سوال پیدا اور وہ یہ کہ "وَ یَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِی الْاٴرْض" کا جملہ مطلق ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام روئے زمین پر رہنے والوں کے لیے فرشتے استغفار کرتے ہیں، خواہ وہ مؤمن ہوں یا کافر، آیا یہ بات ممکن ہے۔ اس سوال کا جواب سورہٴ مؤمن کی ساتویں آیت میں دیا جا چکا ہے۔ جہاں فرمایا گیا ہے۔ "وَ یَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذینَ آمَنُوا" وہ باایمان لوگوں کے لیے استغفار کرتے ہیں اور پھر یہ کہ فرشتے معصوم ہیں اور ان لوگوں کے لیے ہرگز محال چیز کا تقاضا نہیں کرتے جو بخشش کی لیاقت نہیں رکھتے۔

6
42:6
وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَ ٱللَّهُ حَفِيظٌ عَلَيۡهِمۡ وَمَآ أَنتَ عَلَيۡهِم بِوَكِيلٖ
جنہوں نے خدا کے علاوہ اوروں کو اپنا ولی بنایا ہے اللہ ان کے تمام اعمال کاحساب محفوظ رکھتا ہے اور تیرا یہ کام نہیں ہے کہ انہیں حق کے قبول کرنے پر مجبور کرے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
42:7
وَكَذَٰلِكَ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ قُرۡءَانًا عَرَبِيّٗا لِّتُنذِرَ أُمَّ ٱلۡقُرَىٰ وَمَنۡ حَوۡلَهَا وَتُنذِرَ يَوۡمَ ٱلۡجَمۡعِ لَا رَيۡبَ فِيهِۚ فَرِيقٞ فِي ٱلۡجَنَّةِ وَفَرِيقٞ فِي ٱلسَّعِيرِ
اور اس طرح ہم نے تیری طرف فصیح عربی قرآن نازل کیا ہے تاکہ ام القری اور اس کے اطراف میں رہنے والوں کو ڈرائے اور انہیں اس روز سے بھی خوف دلائے جس میں تمام لوگ جمع ہوں گے اور اس میں کسی قسم کا شک بھی نہیں ہے، وہی دن جس میں کچھ لوگ تو بہشت میں اور کچھ جہنم میں ہوں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
42:8
وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَعَلَهُمۡ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ وَلَٰكِن يُدۡخِلُ مَن يَشَآءُ فِي رَحۡمَتِهِۦۚ وَٱلظَّـٰلِمُونَ مَا لَهُم مِّن وَلِيّٖ وَلَا نَصِيرٍ
اور اگر خدا چاہتا تو ان سب کو ایک ہی امت قرار دیتا اور انہیں زبردستی ہدایت کرتا لیکن زبردستی ہدایت کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا لیکن خدا جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کر دیتا ہے اور ظالموں کے لئے کوئی ولی اور مدد گار نہیں ہے۔

تفسیر "ام القرٰی" سے قیام

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

چونکہ گزشتہ آیات میں شرک کے مسئلہ کی طرف اشارہ ہو چکا ہے۔ لہٰذا زیر نظر آیات میں سے پہلی آیت میں مشرکین کے انجام کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: جن لوگوں نے خدا کے علاوہ دوسرے لوگوں کو اپنا ولی بنایا ہے۔ خدا ان کے اعمال کا حساب محفوظ رکھتا ہے۔ اور ان کی نیتوں سے آگاہ ہے۔ (وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَولِيَاءَ اللَّهُ حَفِيظٌ عَلَيْهِمْ)۔ تاکہ موقع پر ہی ان کا حساب چکا دے اور انہیں ضروری سزا دے دے۔ پھر روئے سخن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف کر کے فرمایا گیا ہے۔ تیرا یہ کام نہیں ہے کہ انہیں حق قبول کرنے پر مجبور کرے (وَمَا أَنتَ عَلَيْهِم بِوَكِيلٍ)۔ آپ کا کام تو صرف تبلیغ رسالت اور خدا کے احکام خدائی بندوں تک پہنچانا ہے۔ اس جملہ سے ملتے جلتے اور بھی بہت سے جملے قرآن مجید میں ملتے ہیں جیسے: لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ تیرا کنٹرول تو نہیں ہے۔ (غاشیہ/ ۲۲) وَمَا أَنتَ عَلَيْهِم بِجَبَّارٍ تیرا کام انہیں مجبور کرنا نہیں۔ (ق/ ۴۵) وَمَا جَعَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا ہم نے تجھے ان کے اعمال کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا۔ (انعام/ ۱۰۷) مَّا عَلَى الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلاَغُ رسول کا کام صرف تبلیغ و پیام رسانی ہے۔ (مائدہ/ ۹۹) یہ آیات اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں کہ خداوند تبارک و تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کے بندے آزا د رہ کر اس کے راستے کو اپنائیں کیونکہ ایمان اور عمل صالح کی حقیقی قدر و قیمت بھی اسی وقت ہوتی ہے۔ جب اسے بغیر کسی پابندی کے اپنایا جائے اور مجبوری سے لایا جانے والا ایمان اور انجام دیا جانے والا عمل صحیح معنوں میں کسی قدر و قیمت اور اہمیّت کا حامل نہیں ہوتا۔ اس کے بعد ایک بار پھر مسئلہ وحی کو بیان کیا جا رہا ہے۔ اور اگر سابقہ آیات میں خود وحی کی بات ہو رہی تھی تو یہاں پر وحی کا مقصد بتایا جا رہا ہے۔ فرمایا گیا ہے۔ اور اسی طرح ہم نے تیری طرف فصیح عربی قرآن نازل کیا ہے۔ اور تجھ پر اس کی وحی کی ہے۔ تاکہ تو ام القری (مکہ) اور اس کے ارد گرد والوں کو ڈرائے (وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لِّتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا)۔ اور انہیں اس دن سے ڈرائے کہ جس دن تمام لوگ جمع ہوں گے اور اس میں کسی قسم کا شک و شبہ بھی نہیں ہے۔ (وَتُنذِرَ يَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَيْبَ فِيهِ)۔ جس دن کہ لوگوں دو حصوں میں تقسیم ہو جائیں گے "ایک گروہ بہشت میں اور ایک جہنم کی آگ میں ہو گا" (فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ)۔ "کذالک" کی تعبیر ممکن ہے۔ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ جس طرح ہم نے گزشتہ انبیاء کی طرف ان کی اپنی زبان میں وحی نازل کی ہے۔ آپ کی طرف بھی اسی طرح قرآن عربی زبان میں وحی کیا ہے۔ (بنابریں، "كَذَلِكَ" کا اشارہ "وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ" کی طرف ہو گا)۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ بعد کے جملے کی طرف اشارہ ہو یعنی آپ پر ہماری وحی اس طرح ہے۔ قرآن کو عربی زبان میں اور ڈرانے کی غرض سے۔ یہ ٹھیک ہے کہ "فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ" سے یہ بات سمجھی جا سکتی ہے کہ پیغمبر خدا کا فریضہ انذار بھی ہے۔ اور بشارت دینا بھی ہے۔ لیکن چونکہ "انذار" کی تاثیر خصوصاً نادان اور ہٹ دھرم لوگوں کے دلوں میں زیادہ ہوتی ہے۔ لہذا آیت میں بھی دو مرتبہ "انذار" کو بیان کیا گیا ہے۔ البتہ فرق اتنا ہے۔ پہلے مرحلے میں ڈرائے جانے والے لوگوں کی بات ہے۔ اور دوسرے مرحلے میں جس چیز سے ڈرایا جا رہا ہے۔ یعنی قیامت کی۔ جس دن کہ تمام انسانوں کے اجتماع کی وجہ سے ذلت و رسوائی سخت اور درد ناک ہو گی۔ (تشریحی نوٹ: توجہ رہے کہ "انذار" دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوتا ہے۔ اور زیر نظر آیات میں پہلے جملہ میں اس کا پہلا مفعول ذکر ہوا ہے۔ اور دوسرے جملے میں اس کا دوسرا مفعول۔ البتہ کبھی اس کا دوسرا مفعول "با" کے ساتھ آتا ہے۔ اور کہتے ہیں "انذرہ بذالک")۔ یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ اور وہ یہ کہ آیا "لِّتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا" سے یہ بات نہیں سمجھی جاتی کہ قرآن کے نزول کا مقصد مکہ اور اس کے اطراف کے لوگوں کو ڈرانا نہیں ہے۔ اگر ایسا ہے۔ تو پھر یہ بات اسلام کے عالمگیر ہونے کے منافی نہیں ہے۔ لیکن ایک نکتہ کی طرف توجہ کرنے سے اس کا جواب واضح ہو جاتا ہے۔ اور وہ یہ کہ "ام القرٰی" کا کلمہ دو الفاظ سے مرکب ہے۔ ایک "ام" ہے۔ جس کا اصل معنی کسی چیز کی بنیاد، ابتدا اور آغاز ہے۔ اور "ماں" کو "ام" اس لیے کہتے ہیں کہ وہ اولاد کے لیے اصل اور بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ جبکہ "قرٰی"، "قریہ" کی جمع ہے۔ جس کا معنی ہر قسم کی آبادی ہے۔ خواہ شہری ہو یاد یہاتی۔ شہر بڑے ہوں یا چھوٹے، اس بات کے شواہد قرآن میں بہت ملتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ "مکہ" کو "ام القرٰی" (تمام آبادیوں کی اصل و بنیاد) کسی لیے کہتے ہیں؟ چنانچہ روایات اس بات کی صراحت کرتی ہیں کہ پہلے پہلی تمام زمین، پانی میں غرق تھی اورآہستہ آہستہ خشکی پانی سے ظاہر ہونا شروع ہوئی (جدید سائنس بھی اسی نظریے کی تائید کرتی ہے۔ یہی روایات کہتی ہیں کہ سب سے پہلے جس سرزمین نے پانی سے سر نکالا "خانہ کعبہ" تھا پھر اس کے اطراف کی زمین ظاہر ہونا شروع ہوئی جسے "دحو الارض" (یعنی زمین کا بچھنا) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس تاریخ پس منظر سے ظاہر ہوتا ہے کہ مکہ معظمہ روئے زمین کی تمام آبادیوں کی بنیاد، اصل اور نقطہ آغاز ہے۔ اسی لئے جب بھی " أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا" کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد روئے زمین کے تمام لوگ ہوتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: یہ تعبیر سورہ انعام کی آیت ۹۲ میں بھی آئی ہے۔ اور ہم نے اس بارے میں مذکورہ آیت کی تفسیر کے ذیل میں تفسیر نمونہ کی پانچویں جلد میں مزید تفصیل بیان کی ہے۔ علاوہ ازیں، ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اسلام نے تدریجی ترقی کی ہے۔ کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پہلے پہل حکم ہوا کہ وہ اپنے قریب کے رشتہ داروں کو تبلیغ کریں جیسا کہ سورہ ٴ شعراء کی ۲۱۴ ویں آیت میں ہے۔ "وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ" تاکہ اس طرح سے اسلام کی بنیادیں مضبوط ہوں اور بڑھنے پھیلنے کے لیے آمادہ ہو۔ پھر دوسرے مرحلے میں آپ صلی للہ علیہ و آلہ وسلم کو حکم ہوا کہ عرب قوم کو تبلیغ و انذار کریں، جیسا کہ سورہٴ حٰم سجدہ کی تیسری آیت میں آیا ہے۔ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لِّقَوْمٍ يَعْلَمُونَ یہ قرآن عربی ہے۔ اس قوم کے لیے جو فہم و ادراک رکھتی ہے۔ (تشریحی نوٹ: یہ اس صورت میں ہے۔ جب "عربی زبان" کیا جائے۔ لیکن اگر اس کا معنی "فصیح" کیا جائے تو پھر اس کا مفہوم کچھ اور ہو گا)۔ سور ہٴ زخرف کی ۴۴ ویں آ یت میں بھی ہے۔ وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ یہ قرآن تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے یاد آوری ہے۔ چنانچہ جب اس قوم میں اسلام کی بنیادیں پختہ ہو گئیں تو پھر آپؐ کو وسیع اور عالی سطح پر تبلیغ اسلام کا حکم ہوا، جیسا کہ سورہٴ فرقان کے آغاز میں ہے۔ تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا بابرکت ہے۔ وہ ذات جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل کیا تاکہ وہ تمام جہان والوں کو ڈرائے۔ یہ اور اس قسم کی کئی دوسری آیات ہیں۔ یہ اسی حکم کی وجہ تھی کہ اس زمانے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جزیرة العرب سے باہر کے بادشاہوں کے نام خطوط روانہ کئے اور کسری، قیصر اور نجاشی جیسے بادشاہوں کو اسلام کی دعوت دی۔ اور ا نہی خطوط اور بنیادوں پر ہی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد آپؐ کے پیروکاروں نے تبلیغ اسلام کا سلسلہ جاری رکھا اور عالمی سطح پر آگے بڑھ کر پوری دنیا میں اسلام کو روشناس کروایا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قیامت کہ “یوم الجمع” کیوں کہتے ہیں؟ چنانچہ اس بارے میں کئی تفسیریں ملتی ہیں۔ کئی مفسرین کہتے ہیں چونکہ اس دن ارواح اور اجسام جمع ہوں گے۔ بعض کہتے ہیں چونکہ اس دن انسان اور اس کے اعمال جمع ہوں گے۔ بعض کہتے ہیں چونکہ اس دن ظالم اور مظلوم جمع ہوں گے۔ لیکن بظاہر یہ ہے کہ اس عظیم دن میں تمام مخلوقات جمع ہوں گی خواہ وہ اولین میں سے ہوں یا آخرین میں سے۔ جیسا کہ سورہ واقعہ کی ۴۹ ۔ ۵۰ ویں آیت میں آیا: (قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَoلَمَجْمُوعُونَ إِلَى مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ)۔ اور چونکہ “فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ" کا جملہ لوگوں کی دو حصوں میں تقسیم کی نشاندہی کرتا ہے۔ لہٰذا بعد کی آیت میں ارشاد ہوتا ہے: اگر خدا چاہتا ان سب کو ایک ہی امت قرار دیتا ان کو جبری طور پر ہدایت کرتاور مؤمن بناتا (وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَعَلَهُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً)۔ لیکن جبری طور پر ایمان لانے کا کیا فائدہ؟ اور یہ انسان کمال کا معیار کیونکر قرار پا سکتا ہے۔ حقیقی تکامل اور ارتقاء وہی ہوتا ہے۔ جو انسان اپنے ارادے، اختیار اور مکمل آزادی سے طے کرے۔ قرآنی آیات، انسان کی آزادی، ارادے اور اختیار کے دلائل سے معمور ہیں اصولی طور پر انسان کو یہی چیز دوسرے جانوروں سے ممتاز کرتی ہے۔ اگر انسان سے آزاد ی چھین لی جائے تو گویا اس سے انسانیت چھین لی جاتی ہے۔ یہ ایک عظیم ترین امتیاز اور اعزاز ہے۔ جو خدا نے انسان کو عطا فرمایا ہے۔ اور تکامل و ارتقاء کا غیر محدود راستہ بھی اس کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ اور یہ خداوند عالم کی ناقابل تردید اور اٹل سنت ہے۔ تعجب تو اس بات پر ہوتا ہے کہ اب بھی کچھ ناآگاہ اور بےخبر لوگ ایسے ہیں جو جبر کے عقیدے کی حمایت کرتے ہیں اور طرّہ یہ کہ انبیاء علیہم السلام کے پیروکار بھی کہلاتے ہیں۔ حالانکہ جبر کے عقیدے کو مان لینا تمام ابنیاء کے مسلک کی نفی اور انکار کے مترادف ہے۔ اس طرح نہ تو فرائض و واجبات کا کوئی مفہوم ہو گا، نہ سوال و جواب کا اور نہ ہی وعظ و نصیحت کا حتٰی کہ ثواب اور عقاب یعنی جزا اور سزا اپنی حیثیت کھو دیں گے۔ اس طرح سے نہ تو انسان اپنے عمال پر نظرثانی کر سکتا ہے۔ نہ ندامت اور پشیمانی کا کوئی مفہوم ہو گا اور نہ ہی توبہ اور گزشتہ اعمال کی اصلاح کی ضرورت ہو گی۔ پھر اس بارے میں ایک اور اہم مسئلہ بیان فرمایا گیا ہے۔ اور ایسے لوگوں کو تعریف اور توصیف کی گئی ہے۔ جو بہشت کے مستحق اور سعادت مند ہیں اور یہ ان لوگوں کے مقابلہ میں ہے۔ جو جہنم میں جائیں گے۔ ارشاد ہوتا ہے: لیکن خدا جسے چاہے۔ اپنی رحمت میں داخل کر دے اور ظالموں کے لیے کوئی ولی اور مددگار نہیں ہے۔ (وَلَكِن يُدْخِلُ مَن يَشَاءُ فِي رَحْمَتِهِ وَالظَّالِمُونَ مَا لَهُم مِّن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ)۔ چونکہ دوزخی لوگوں کو "ظلم" کی صفت سے موصوف کیا جا رہا ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلے جملے میں "من یشاء" (جسے چاہے۔ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ظالم نہیں ہیں اور اس طرح سے گویا عادل افراد بہشتی اور ظالم جہنمی ہیں۔ لیکن توجہ رہے کہ اس آیت میں اور قرآن مجید کی بہت سی دوسری آیات میں لفظ "ظالم" وسیع معنی ہے۔ اور صرف ان لوگوں کے لیے نہیں جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں بلکہ ایسے لوگوں کے لیے بھی ہے۔ جو اپنے آپ ظلم کرتے ہیں یا عقیدے کے لحاظ سے گمراہ ہیں اور شرک و کفر سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہو سکتا ہے۔ حضرت لقمان اپنے فرزند سے فرماتے ہیں: يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ میرے بیٹے خدا کا شریک نہ ٹھہراؤ کہ شرک عظیم ظلم ہے۔ (لقمان / ۱۳) ایک اور آیت میں ہے۔ أَلاَ لَعْنَةُ اللّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ oالَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا وَهُم بِالْآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَ خبردار رہو کہ خدا کی لعنت ظالموں پر ہے۔ وہی کہ جو لوگوں کو راہ حق سے روکتے ہیں اور اسے تبدیل کر دیتے ہیں اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ (ہود/۱۸. ۱۹) "ولی" اور "نصیر" کے درمیان فرق کے بارے میں بعض کہتے ہیں "ولی" وہ ہوتا ہے۔ جو کسی درخواست کے بغیر کسی انسان کی مدد کرے لیکن "نصیر" کا معنی اس سے عام ہے۔ (بحوالہ: "مجمع البیان" طبرسی، جلد ۸، ص ۲۷۹ (سورہ عنکبوت کی آیت ۲۲ کے ذیل میں)۔ یہ احتمال بھی ہے کہ "ولی" ایسے سرپرست کی طرف اشارہ ہے۔ جو ولایت کے حکم کے تحت اور کسی درخواست کے بغیر حمایت اور مدد کرتا ہے۔ اور "نصیر" وہ فریا درس ہے۔ جو امداد کی درخواست کے بعد انسان کی امداد کو آتا ہے۔

9
42:9
أَمِ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَۖ فَٱللَّهُ هُوَ ٱلۡوَلِيُّ وَهُوَ يُحۡيِ ٱلۡمَوۡتَىٰ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ
آیا انہوں نے خدا کے علاہ دوسروں کو اپنا ولی بنالیا ہے؟ جبکہ ولی تو صرف اللہ ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
42:10
وَمَا ٱخۡتَلَفۡتُمۡ فِيهِ مِن شَيۡءٖ فَحُكۡمُهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبِّي عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ وَإِلَيۡهِ أُنِيبُ
تم جس چیز میں بھی اختلاف کرتے ہو اس کا فیصلہ خدا کے ہاتھ ہے وہی خدا میرا پروردگار ہے میں نے اسی پر بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف پلٹ جاؤں گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
42:11
فَاطِرُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ جَعَلَ لَكُم مِّنۡ أَنفُسِكُمۡ أَزۡوَٰجٗا وَمِنَ ٱلۡأَنۡعَٰمِ أَزۡوَٰجٗا يَذۡرَؤُكُمۡ فِيهِۚ لَيۡسَ كَمِثۡلِهِۦ شَيۡءٞۖ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡبَصِيرُ
وہ ہی آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے اور تمہاری جنس ہی سے تمہارے لئے جوڑا بنایا ہے اور جانوروں میں بھی جوڑے بنائے ہیں۔ اور اسی جوڑے ہونے کے کے ذریعے تمہاری تعداد بڑھاتا ہے اس کی مثل کوئی چیز نہیں ہے وہی سننے اور دیکھنے والا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
42:12
لَهُۥ مَقَالِيدُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ يَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقۡدِرُۚ إِنَّهُۥ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٞ
آسمانوں اور زمین کی چابیاں اسی کے پاس ہیں جن کے لئے چاہتا ہے اس کا رزق وسیع کر دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے محدود کر دیتا ہے یقیناً وہ ہر چیز سے آگا ہے۔

تفسیر ولی مطلق صرف خدا ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

چونکہ گزشتہ آیات کی تفسیر میں یہ حقیقت بیان ہوئی تھی کہ خدا کے سوا کوئی بھی ولی اور مددگار نہیں ہے۔ زیر نظر آیات میں اس حقیقت کی تائید اور غیر خدا کی ولایت کی نفی میں کچھ معتبر اور مضبوط دلائل پیش کئے جا رہے ہیں۔ چنانچہ سب سے پہلے تعجب اور انکار کے اندر میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ آ یا انہوں نے خدا کے علاوہ دوسروں کو اپنا ولی بنا لیا ہے۔ (أَمِ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ)۔ (تشریحی نوٹ: زمخشری نے کشاف میں اور فخر الدین رازی نے تفسیر کبیر میں اور دوسرے بہت سے مفسرین نے یہاں پر"ام" کا معنی استفہام انکاری لیا ہے۔ اور بعض دوسرے مفسرین مثلاً طبرسی نے مجمع البیان میں اور قرطبی نے الجامع لاحکام القرآن میں اس کا معنی "بل" کا لیا ہے۔ جبکہ ولی تو صرف خدا ہے۔ (فَاللَّهُ هُوَ الْوَلِيُّ)۔ لہذا اگر وہ اپنے لیے کوئی ولی اور سرپرست بنانا بھی چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ خدا کو ہی بنائیں کیونکہ گزشتہ آیات میں اس کی ولایت کے دلائل اس کی صفات کمالیہ کے ساتھ ہی بیان ہو چکے ہیں یعنی جو خداوند عزیز و حکیم ہے۔ جو مالک، علی اور عظیم ہے۔ جو غفور اور رحیم ہے۔ یہ سات اوصاف جو ابھی بیان ہو چکے ہیں بذات خود خداوند عالم کی ولایت کے لیے بہترین دلیل ہیں۔ اس کے بعد ایک دلیل بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے۔ (وَهُوَ يُحْيِي المَوْتَى)۔ اور چونکہ معاد اور قیامت کا معاملہ اسی کے ہاتھ میں ہے۔ اور انسان کی سب سے بڑی پریشانی اس کے مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کی کیفیت کے بارے میں ہے۔ لہٰذا اسی کی ذات پر توکل کرنا چاہیے نہ کہ کسی اور پر۔ پھر تیسری دلیل بیان فرماتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ وہی ہر چیز پر قادر و توانا ہے۔ (وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ "ولی" ہونے کی اصل شرط قدرت رکھنے اور صحیح معنوں میں قادر ہونے میں مضمر ہے۔ بعد کی آیت میں اللہ تعالیٰ اپنی ولایت کی چوتھی دلیل کو اس صورت میں بیان کرتا ہے۔ "تم جس چیز میں اختلاف کرو گے اس کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ اور وہی تمہارے اختلافات ختم کر سکتا ہے۔ (وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ)۔ جی ہاں! ولایت کی ایک شان یہ بھی ہے کہ جو لوگ اس کے پرچم تلے زندگی بسر کر رہے ہوں اگر ان کے درمیان کسی قسم کا اختلاف ہو جائے تو وہ صحیح فیصلے کے ذریعے اس اختلاف کو ختم کر دے۔ کیا بت یا شیاطین کہ جنہیں معبود بنا لیا گیا ہے۔ اس بات کی قدرت رکھتے ہیں یا پھر یہ کام خداوند عالم کی ذات کے ساتھ خاص ہے۔ جو ہر قسم کے اختلافات حل کرنے کے ذریعوں سے بھی آگاہ ہے۔ حکیم بھی ہے۔ اور اپنے فیصلہ پر عملدر آمد کروانے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔ لہذا خداوند عزیز و حکیم ہی کو حاکم ہونا چاہیئے نہ کہ کسی اور کو۔ اگرچہ بعض مفسرین نے "مَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ" کے مفہوم کو آیات متشابہات کی تأویل کے بارے میں اختلافات یا صرف قانونی لڑائی جھگڑوں میں محدود کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آیت کا مفہوم وسیع ہے۔ اور اس مفہوم میں ہر قسم کے اختلافات آ جاتے ہیں خواہ وہ معارف الہیٰہ اور عقائد کے بارے میں ہوں یا احکام تشریعی کے بارے میں اور یا قانونی معاملات وغیرہ میں۔کیونکہ انسانی معلومات محدود اور ناچیز ہوتی ہیں لہٰذا ان کے درمیان پیدا ہونے والے اختلاف کو علم حق کے سرچشمہ فیض اور وحی کے ذریعے دور کیا جانا چاہیئے۔ خداوند عالم کی پاک ذات میں ولایت کے انحصار کے مختلف دلائل ذکر کرنے کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبانی ارشاد فرمایا گیا ہے۔ "وہی خدا میرا پروردگار ہے۔ جس میں کمال کی یہ صفات پائی جاتی ہیں (ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبِّي)۔ (تشریحی نوٹ: اس جملے کے آغاز میں لفظ "قُل" مقدر ہے۔ لہٰذا صرف یہی جملہ اور اس کے بعد کا جملہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبانی ادا ہو رہا ہے۔ اور " مَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ" کا جملہ پروردگار عالم کے بیانات کا تسلسل ہے۔ اور جن لوگوں نے اس کے علاوہ کوئی اور مؤقف اپنایا ہے۔ ظاہراً وہ صحیح نہیں ہے۔ "اسی لیے تو میں نے اسے اپنا ولی اور مددگار منتخب کیا ہے۔ اسی پر توکل کیا ہے۔ اور تمام مشکلات و مصائب کے وقت اسی کی جانب رجوع کرتا ہوں (عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ)۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے۔ "ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبِّي" کا جملہ خداوند عالم کی ربوبیت مطلقہ کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی ایسی مالکیت جس میں تدبیر بھی پائی جاتی ہو، اور ربوبیت کی دو قسمیں ہیں۔ ایک تو ربوبیت تکوینی جو کائنات کا نظام چلانے کے لیے ہوتی ہے۔ اور دوسری ربوبیت تشریعی جو خداوند عالم کے سفیروں کے ذریعے احکام و قوانین وضع کرنے اور لوگوں کو ہدایت اور تبلیغ کرنے کے لئے ہوتی ہے۔ اسی بنیاد پر اس کے بعد "توکل" اور "انابہ" کے الفاظ آئے ہیں جن میں سے پہلا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تکوینی نظام میں اپنے تمام امور کو خدا کے سپرد کر دیا جائے اور دوسرا اس امر کی جانب کہ تشریعی امور کی بازگشت بھی اسی کی ذات کی جانب ہے۔ (غور کیجئے گا)۔ (بحوالہ: المیزان، جلد ۱۸، ص ۲۳)۔ بعد کی آیت خداوند کریم کی ولایت مطلقہ کی پانچویں دلیل بھی ہو سکتی ہے۔ اور مقام ربوبیت اور توکل و انابہ کی لیاقت اور اہلیت کی دلیل بھی ہو سکتی ہے۔ فرمایا گیا ہے۔ وہی ہے۔ جس نے آسمانوں اور زمین کو وجود بخشا ہے۔ (فَاطِرُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ)۔ "فاطر"، "فطر" (بروزن سطر) کے مادہ سے ہے۔ جس کا اصل معنی کسی چیز کو پھاڑنا ہے۔ جو کہ "قطّ" کے مقابل میں ہے۔ جس کا معنی بعض لوگوں کے بقول عرض میں کاٹنا ہے۔ گویا چیزوں کی تخلیق کے وقت عدم کا تاریک پردہ چاک ہو جاتا ہے۔ اور ہستی اس سے باہر نکل آتی ہے۔ اسی مناسبت کے تحت ہی جب خرما کے خوشہ کا غلاف شق ہوتا ہے۔ اور خوشہ اس سے باہر نکلتا ہے۔ تو اسے "فطر" (بروزن شتر) کہتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: "فطر" کے معنی کے سلسلہ میں تفسیر نمونہ کی پانچویں جلد میں سورہ انعام کی آیت ۱۴ کے ذیل میں دلچسپ گفتگو ہو چکی ہے۔ یہاں پر اسے دہرانے کی ضرورت نہیں)۔ البتہ یہاں پر آسمانوں اور زمین سے مراد تمام آسمان، زمین اور ان میں موجود تمام چیزیں ہیں۔ کیونکہ خداوند عالم کی خلاقیت ان سب پر محیط ہے۔ پھر خدا کے دوسرے افعال کی توصیف کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے۔ "تمہاری جنس ہی سے تمہارے لیے جوڑا بنایا ہے۔ اور جانوروں کے بھی جوڑے بنائے ہیں اور تمہیں اس (جوڑے ہونے کے) ناطے سے بڑھاتا اور پھیلاتا ہے۔ (جَعَلَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَمِنَ الْأَنْعَامِ أَزْوَاجًا يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ)۔ (تشریحی نوٹ: "فیہ" کی ضمیر یا تو "تدبیر" کی طرف لوٹ رہی ہے۔ یا پھر"جعل ازواج" کی طرف ضمنی طور پر یہ بھی بتاتے چلیں کہ "یذرؤ"، "ذراٴ" (بروزن "زرع") کے مادہ سے ہے۔ جس کا معنی "تخلیق" اور "پیدائش" ہے۔ لیکن تخلیق ایسی جس سے مخلوق ظاہری طور پر منصہ شہود پر آ جائے اور یہ لفظ پھیلانے اور منتشر کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ یہ بذات خود پروردگار عالم کی تدبیر اور اس کی ربوبیت اور ولایت کی عظیم نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے انسانوں کے لیے جوڑا بھی انسانی جنس ہی سے بنایا ہے کہ ایک طرف تو روحانی طور پر اس کی تسکین و آرام کا سبب ہے۔ اور دوسری طرف اس کی نسل کی بقاء تولید اور اس کے وجود کو برقرار رکھنے کا ذریعہ ہے۔ اگرچہ قرآن مجید نے "یذرؤ کم" (تم انسانوں کو بڑھاتا اور پھیلاتا ہے کہہ کر انسانوں مخاطب کیا ہے۔ لیکن ظاہر سی بات ہے کہ نسل کے بڑھانے کا سلسلہ جانوروں اور دوسرے زندہ موجودات میں بھی جاری اور ساری ہے۔ لیکن درحقیقت خداوند عالم نے سب کو ایک خطاب میں جمع نہ کر کے انسانی عظمت کو برقرار رکھا ہے۔ لہٰذا خطاب صرف انسانوں ہی کو کیا ہے۔ تاکہ دوسری چیزوں کا حکم بھی اس کے ضمن میں آ جائے۔ اس آیت میں جو تیسری صفت بیان ہوئی ہے۔ وہ یہ کہ "اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔ (لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ)۔ دراصل یہ جملہ تمام خدائی صفات کی معرفت کی بنیاد ہے۔ جب تک اس جملے کو پیش نظر نہ رکھا جائے خدا کی کسی بھی صفت کی حقیقت تک رسائی نہیں کر سکتی۔ کیونکہ "معرفة اللہ" کی راہ کے راہیوں کے لیے جو سب سے زیادہ اور خطرناک مقام آتا ہے۔ وہ "تشبیہ کا مقام" کہ جہاں پر وہ اسے مخلوق کی صفات سے تشبیہ دیتے ہیں اور یہ امر اس بات کا سبب بن جاتا ہے کہ انسان شرک کی گھاٹی میں جا گرتا ہے۔ بالفاظ دیگر خدا ہر لحاظ سے غیر محدود اور لامتناہی وجود ہے۔ اور اس کے علاوہ بھی ہے۔ وہ ہر لحاظ سے محدود اور متناہی ہے۔ عمر، قدرت، علم، حیات، ارادہ، فعل غرض ہر لحاظ سے اور اسی چیز کا نام "تنزیہ" ہے۔ جس کے ذریعے خداوند عالم کو ممکنات کے تمام نقائص سے پاک سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مفہوم ایسے ہیں جو غیر خدا کے لیے تو ثابت ہیں لیکن ذات خداوند ذوالجلال کے لئے ان کا اطلاق بےمعنی ہے۔ بطور مثال بعض کام ہمارے لیے آسان ہوتے ہیں اور بعض سخت، بعض چیزیں ہم سے دور ہیں اور بعض نزدیک، بعض واقعات ماضی میں رونما ہوئے ہیں اور بعض حال اور مستقبل میں رونما ہوں گے۔ اسی طرح بعض چیزیں ہمارے لیے چھوٹی ہیں اور بعض بڑی ہیں۔ کیونکہ ہمارا وجود محدود ہے۔ اور دوسری چیزوں کے ساتھ موازنہ کرنے سے یہ مفہوم پیدا ہوتا ہے۔ لیکن جو وجود ہر لحاظ سے غیر متناہی ہے۔ اور ازل اور ابد پر محیط ہے۔ اس کے لئے اس قسم کے معانی کا تصّور کرنا ہی غلط ہے۔ نزدیک یا دور کا سوال اس کے نزدیک بےمعنی سی بات ہے۔ سب اس کے نزدیک ہیں۔ اس کے لئے مشکل اور آسان کی اصطلاح کوئی حقیقت نہیں رکھتی سب کام اس کے لئے آسان ہیں۔ ماضی اور مستقبل کا مفہوم اس کے لیے بےمعنی مفہوم ہیں اس کے لئے سب حال ہی حال ہے۔ اور یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ان معانی کے ادراک کے لیے خوب غور و خوض کی ضرورت ہے۔ اور ذہن کو ان تمام چیزوں سے خالی کرنا ہو گا جن کا وہ خوگر ہو چکا ہے۔ اسی لیے تو ہم کہتے ہیں وجود خدا کی معرفت تو آسان ہے۔ لیکن اس کی صفات کی شناخت ہی مشکل ہے۔ امیر المؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں: و ماالجلیل واللطیف والثقلیل والخفیف والقوی والضعیف فی خلقہ الا سواء چیزیں خواہ بڑی ہوں یا چھوٹی، بھاری ہوں یا ہلکی، طاقتور ہوں یا کمزور، تخلیق و پیدائش میں سے یکساں ہیں اور اس کی قدرت کے سامنے سب ایک سی ہیں۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ۱۸۴)۔ آیت کے آخر میں اس کی پاک ذات کی ایک اور صفت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ وہ سننے اور دیکھنے والا ہے۔ (وَهُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ)۔ جی ہاں وہی خالق بھی ہے۔ اور مدبر بھی، سننے والا بھی ہے۔ اور دیکھنے والا بھی ہے۔ اس کے باوجود نہ تو اس کی کوئی مثال ہے۔ نہ شبیہ اور نظیر۔ اس لیے اسی کے سائیہ ولایت و ربوبیت میں پناہ لینی چاہیے اور اس کے غیر کی بندگی کا جُوا گردن سے اتار کر پھینک دینا چاہیے۔ زیر نظر آیات میں سے آخری آیت میں خداوند عالم کی تین اور صفات بیان کی جا رہی ہیں کہ جن میں سے ہر ایک صفت ولایت اور ربوبیت کے مسئلے کو خاص انداز میں پیش کر رہی ہے۔ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے۔ "آسمانوں اور زمین کی چابیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں" (لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ)۔ اسی لیے جو شخص بھی جو کچھ رکھتا ہے۔ سب اسی کا ہے۔ جو کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اسی سے حاصل کرے۔ صرف چابیاں ہی اس کے ہاتھ میں نہیں بلکہ زمین و آسمان کے خزانے بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں: وَلِلَّهِ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ "آسمانوں اور زمین کے خزانے خدا کے لئے ہیں۔ " (منافقوں/ ۷ )۔ "مقالید"، "مقید" (بروزن "اقلید") کی جمع ہے۔ جس کا معنی ہے۔ چابی۔ یہ کلمہ بہت سے مقامات پر کنایہ کی صورت میں کسی چیز پر کامل تسلط حاصل ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ اس کام کی چابی میرے ہاتھ میں ہے۔ یعنی وہاں تک رسائی اور اسے سر کرنے اور اس پر تسلط پانے کا سارا اختیار میرے پاس ہے۔ (اس لفظ کی اصل، اور خصوصیات کی تفصیل تفسیر نمونہ جلد ۱۹ سورہٴ زمر کی آیت ۶۳ کے ضمن مین بیان ہوئی ہے۔ بعد کی صفت (جو کہ درحقیقت پہلی صفت کا نتیجہ ہے۔ کے بارے میں فرمایا گیا ہے۔ "جس کے لیے چاہے۔ رزق کے کشادہ کر دے اور جس کے لیے چاہے۔ روزی تنگ کر دے" (يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاءُ وَيَقْدِرُ)۔ چونکہ خزائن عالم اسی کے ہاتھ میں ہیں لہٰذا ہر شخص کا رزق و روزی بھی اسی کے دست قدرت میں ہے۔ اپنی مشیّت کے مطابق جو کہ اس کی حکمت سے ظاہر ہوتی ہے۔ اور بندگان خدا کی مصلحت بھی اسی میں ہوتی ہے۔ رزق تقسیم کرتا ہے۔ چونکہ تمام موجودات کو رزق سے بہرہ مند کرنا، ان کی ضروریات اور دوسری بہت سی خصوصیات کو جاننے اور ان سے آگاہ ہونے پر موقوف ہے۔ لہٰذا آخری صفت کے بارے میں فرمایا گیا ہے۔ "وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ (إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ)۔ یہاں بعینہ وہی بات ہو رہی ہے۔ جو سورہٴ ہود کی چھٹی آیت میں آئی ہے کہ: وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الأَرْضِ إِلاَّ عَلَى اللّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ "روئے زمین پر کوئی بھی چلنے والا ایسا نہیں ہے۔ جس کی روزی خدا کے ذمہ نہ ہو۔ وہ اس کے رہنے اور منتقل ہونے کی جگہ کو جانتا ہے۔ یہ سب کچھ کتاب مبین میں درج ہے۔ " تو اس طرح سے چار آیات میں خدا کی گیارہ (ذاتی اور فعلی) صفات بیان ہوئی ہیں۔ یعنی اس کی ولایت مطلقہ، مردوں کو زندہ کرنا، ہر چیز پر قدرت رکھنا، آسمان و زمین کی تخلیق، انسانوں کے جوڑے جوڑے بنانا اور انہیں پھیلانا اور بڑھانا، اس کا شریک نہ ہونا، سننے اور دیکھنے والا ہونا، آسمان و زمین کے خزانوں پر قدرت رکھنا، رازق ہونا اور تمام چیزوں سے آگاہ اور عالم ہونا۔ یہ صفات بیان کے لحاظ سے ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں اور سب اس کی ولایت اور ربوبیت کی دلیل ہیں نتیجتاً توحید عبادت کے ثبوت کا راستہ ہیں۔

چند اہم نکات ۱۔ خدائی صفات کی معرفت:

چونکہ ہماری معلومات بلکہ ہمارا تمام وجود محدود ہے۔ لہٰذا ہم لامحدود ذات خداوند عالم کی کُنہ و حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے، کیونکہ کسی چیز کی حقیقت سے آگاہی دراصل اس کے احاطہ کرنے کے معنی میں ہوتا ہے۔ اسی لیے ایک محدود چیز کسی لامحدود ذات کا کیسے احاطہ کر سکتی ہے۔ نیز جس طرح اس کی ذات کی حقیقت سے آشنائی مشکل ہے۔ اسی طرح اس غیر محدود ذات کی صفات کے بارے میں بھی آگاہی ہم جیسے محدود افراد کے بس سے باہر ہے۔ کیونکہ اس کی صفات بھی تو عین ذات ہوتی ہیں۔ بنابریں ہم خدا کی ذات اور صفات کے بارے میں جو کچھ بھی جانتے یا سمجھتے ہیں وہ صرف اپنے ایک اجمالی علم کی بناء پر ہے۔ جس کا زیادہ تر محور اس کے آثار ہیں۔ پھر یہ کہ ہمارے الفاظ، ہماری روزمرہ کی زندگی کی ضروریات پورا کرنے کے لیے ہوتے ہیں اور برحق خدا کی لامحدود ذات اور صفات کو بیان نہیں کر سکتے۔ لہٰذا علم و قدرت، حیات و ولایت اور مالکیت جیسے الفاظ جو کہ اس کی صفات ثبوتیہ اور صفات سبیہ کو بیان کرتے ہیں درحقیقت ان کا اصل معنی کچھ اور ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ہمیں ایسی تعبیرات دیکھنے میں آتی ہیں جو بادی النظر میں متناقض اور متضاد معلوم ہوتی ہیں لیکن جب ان پر اچھی طرح غور و خوض کیا جائے تو کچھ اور حقیقت سامنے آتی ہے۔ مثلاً ہم کہتے ہیں کہ خدا "اول" بھی ہے۔ اور "آخر" بھی "ظاہر" بھی ہے۔ اور "باطن" بھی۔ سب کے ساتھ بھی ہے۔ مگر ان کے ہمراہ نہیں، سب سے جدا ہے۔ لیکن ان سے اجنبی نہیں۔ البتہ اگر ان الفاظ کے معیار اور مفہوم کے ساتھ محدود اور ممکن موجودات کے متعلق بات کریں تو یہ چیز سمجھ میں آتی ہے کہ جو چیز اوّل ہوتی ہے۔ وہ آخر نہیں ہو سکتی اور جو ظاہر ہوتی ہے۔ وہ باطن نہیں ہو سکتی۔ لیکن جب ان الفاظ کو غیر متناہی اور لامحدود ذات کے افق میں دیکھنا چاہیں تو سب اس میں جمع ہیں۔ کیونکہ غیر متناہی وجود اول ہونے کے باوجود آخر ہے۔ اور ظاہر ہونے کے ساتھ باطن ہے۔ جب یہ بات سمجھ آ گئی تو ہم یہیں پر ایک اور بات کہیں گے اور وہ یہ کہ اس کی اجمالی اور جلالی صفات کی معرفت کے لئے جو سب سے ضروری اور اہم بات پیش نظر رکھنی چاہیئے وہ یہ ہے کہ یہ حقیقت ہمیشہ پیش نظر رہے کہ "نہ تو کوئی چیز اس کی مثل ہے۔ اور نہ ہی وہ کسی کے مشابہ ہے۔ (لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ)۔ امیر المؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام نے اسی حقیقت کو بڑی وضاحت کے ساتھ نہج البلاغہ کے خطبات میں بیان فرمایا ہے۔ مثلاً: ما وحدہ من کیفہ، ولا حقیقتہ اصاب من مثلہ، ولا ایاہ عنی من شبھہ، ولاصمدہ من اشار الیہ و توھمہ جو شخص اس کی کیفیت کا قائل ہوا اس نے اسے اکیلا نہ جانا اور جس نے اس کے لیے شبیہ اور مثال قرار دی وہ اس کی ذات کی حقیقت تک رسائی حاصل نہ کر سکا اور جس نے اسے کسی کے مشابہ سمجھا اس نے اس کا قصد نہیں کیا اور جس نے اس کی طرف اشارہ کیا یا اسے اپنے وہم و گمان میں لے آیا، اس سے اسے منزہ نہیں سمجھا۔ (بحوالہ : خطبہ، ص ۱۸۶)۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: کل مسمی بالوحدة غیرہ قلیل اس کے علاوہ ہر وہ چیز جس کو وحدت کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ وہ قلیل ہے۔ (بحوالہ: خطبہ، ۶۵)۔ مختصر یہ کہ صفات خداوندی کے باب میں، ہمیشہ "لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ" (اس کے مانند کوئی چیز نہیں) کا چراغ لے کر حرکت کرنی چاہیئے اور "لَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ" (اس کے مانند و مشابہ کوئی چیز نہیں) کے پر تو میں اسے دیکھنا چاہیئے اور عبادات وغیرہ میں "سبحان اللہ" (وہ پاک و پاکیزہ ہے۔ کا ارشارہ بھی اسی حقیقت کی طرف ہے۔

۲۔ ایک ادبی نکتہ:

" لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ " میں "کاف" حرف تشبیہ ہے۔ جس کا معنی ہے۔ "مثل" اور یہ پورا جملہ مل کر یہ معنی دے گا "اس کی مثل جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔ اس لفظی تکرار کی وجہ سے بہت سے مفسرین نے "کاف" کو زائدہ تسلیم کیا ہے۔ جو عام طور پر تاکید کے لیے آتا ہے۔ فصحاء عرب کے کلام میں ایسی ہزاروں مثالیں ملتی ہیں۔ لیکن یہاں پر ایک نہایت ہی لطیف تفسیر ملتی ہے۔ اور وہ یہ کہ بعض لوگ کہتے ہیں تمہارے جیسے میدان سے فراز نہیں کرتے۔ یعنی تمہارے جیسے لوگوں کو میدان حوادث سے نہیں بھاگنا چاہیئے جن میں اس قدر شجاعت، بہادری، عقل اور ہوش و خرد ہو۔ (یعنی جن لوگوں میں تمہارے جیسی صفات پائی جائیں انہیں یہ کام کرنا چاہیئے)۔ زیر بحث آیات کا یہ معنی ہو گا: خداوند عالم کی مثل کی مثل کبھی نہیں ہو سکتی جس میں وسیع علم اور عظیم و لامتناہی صفات پائی جائیں۔ یہ نکتہ بھی پیش نظر رہے کہ بعض ارباب لغت کے بقول چند الفاظ ایسے ہیں جو"مثل" کا معنی دیتے ہیں۔ البتہ اس کے مفہوم کے جامع ہونے کو نہیں پہنچ سکتے۔ "ند" (بروزن ضد) کا لفظ وہاں بولا جاتا ہے۔ جہاں پر صرف جو ہر اور ماہیت میں شباہت مقصود ہو۔ "شبہ" کا لفظ وہاں بولا جاتا ہے۔ جہاں کیفیت کی بات درپیش ہو۔ "مسا وی" کا اطلاق وہاں ہوتا ہے۔ جہاں پر تعداد (کمیّت) کی بات کرنی مقصود ہو۔ "شکل" وہاں پر بولتے ہیں جہاں پر مقدار کی بات ہو۔ لیکن "مثل" کا مفہوم وسیع اور عام ہے کہ جس میں سب مفاہیم جمع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب خداوند عالم اپنی ذات سے ہر قسم کی شبیہ و نظیر کی نفی کرنا چاہتا ہے۔ تو فرماتا ہے۔ "لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ" (تشریحی نوٹ: مفردات راغب۔ مادہ "مثل")۔

۳۔ خدا کے رازق ہونے کے بارے میں کچھ باتیں۔

(الف): روزی کے وسیع اور تنگ ہونے کا معیار کیا ہے۔ یہ بات تو ہمیشہ ذہن میں رہنی چاہیئے کہ کسی کے رزق کی وسعت کا ہمیشہ یہ مطلب نہیں کہ خدا اس پر راضی ہے۔ اور کسی پر رزق کی تنگی سے ہمیشہ یہ مراد نہیں کہ خدا اس پر ناراض ہے۔ کیونکہ خدا کبھی انسان کو روزی کی وسعت کے ذریعے آزماتا ہے۔ اور بےانتہا مال اس کے اختیار میں دے دیتا ہے۔ اور کبھی معیثت کی تنگی کی وجہ سے اس کے صبر استقامت اور پامردی کا امتحان لینا چاہتا ہے۔ اور اس طرح سے ان صفات کو پروان چڑھاتا ہے۔ کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ مال و دولت کی فراوانی صاحبان مال کے لئے وبال جان بن جاتی ہے۔ اور ان سے ہر قسم کا سکھ اور چین چھین لیتی ہے۔ چنانچہ سور ہٴ توبہ کی ۵۵ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے: فَلاَ تُعْجِبْكَ أَمْوَالُهُمْ وَلاَ أَوْلاَدُهُمْ إِنَّمَا يُرِيدُ اللّهُ لِيُعَذِّبَهُم بِهَا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنفُسُهُمْ وَهُمْ كَافِرُونَ "ان لوگوں کے مال و دولت اور اولاد کی فراوانی تجھے حیران نہ کر دے، خدا تو یہی چاہتا ہے کہ انھیں اس ذریعے سے دنیاوی زندگی میں عذاب دے اور وہ کفر کی حالت میں مریں۔" سورہٴ مؤمنون کی آیات ۵۵. ۵۶ میں فرمایا گیا ہے۔ اَیَحْسَبُونَ اَنَّما نُمِدُّھُمْ بِہِ مِنْ مالٍ وَ بَنینَ، نُسارِعُ لَھُمْ فِی الْخَیْراتِ بَلْ لا یَشْعُرُونَ کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ ہم نے جوا نہیں مال و اولاد عطا کی ہے۔ اس لیے ہے کہ ان پر اچھائیوں کے دروازے کھول دیئے ہیں، ایسا نہیں ہے۔ وہ اس بات کو نہیں سمجھتے۔ (ب):روزی کا مقرر کرنا اس کی تلاش کے منافی نہیں: روزی کے بارے میں خداوند عالم کی طرف سے تقدیر کی جو آیات قرآن مجید میں آئی ہیں ان سے یہ نتیجہ نہیں نکالنا چاہیئے کہ چونکہ خداوند عالم نے انسان کی روزی تو مقرر فرما ہی دی ہے۔ لہٰذا اس بارے میں تلاش اور کوشش کی کیا ضرورت ہے۔ اس بات کو سستی کا بہانہ بنا کر انفرادی اور اجتماعی کوششوں سے فرار نہیں کرنا چاہیئے۔ وگرنہ یہ سوچ قرآن مجید کی ان اکثر و بیشتر آیات کے خلاف ہو گی جن میں سعی و کوشش اور تلاش و حصول کو کامیابی کا معیار سمجھا گیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ تمام تلاش اور کوششوں کے باوجود بھی کبھی ہم واضح طور پر دیکھتے ہیں کہ کوئی ایسا ہاتھ کار فرما ہوتا ہے کہ ان سب کوششوں کا نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلتا اور کبھی اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ ایسا اس لیے ہے۔ تاکہ دنیا کو معلوم ہو جائے کہ اس عالم اسباب کے پس پردہ ذات "مسبب الاسباب" کا دست قدرت کار فرما ہے۔ بہرحال، سستی اور کاہلی کی وجہ سے حاصل ہونے والی محرومیوں کی ہرگز خدا کے کھاتے میں نہیں ڈالنا چاہیئے کیونکہ اس نے تو پہلے دن سے فرما دیا ہے کہ تلاش و کوشش کے مطابق روزی ملے گی۔ (ج): رزق صرف دنیاوی نعمتوں ہی کا نام نہیں: رزق اور روزی کا وسیع معنی ہے۔ جو معنوی اور روحانی روزی پر بھی بولا جاتا ہے۔ بلکہ حقیقت میں روزی کہتے ہی معنوی رزق کو ہیں۔ دعاؤں میں بھی اسی معنوی روزی کے بارے میں رزق کا لفظ اکثر مقام پر بولا گیا ہے۔ مثلاً حج کے بارے میں ہم دعا مانگتے ہیں۔ اللھم ارزقنی حج بیتک الحرام اطاعت کی توفیق اور معصیت سے دوری کے لئے کہتے ہیں: اللّٰھم ارزقنی توفیق الطاعة و بعد المعصیة ..." ماہ رمضان کی دعاؤں میں کہتے ہیں (۱۵ ویں روزے کی دعا میں): اللّٰھم ارزقنی فیہ طاعة الخاشعین اور اسی طرح دوسری چیزوں کے بارے میں ہے۔ (د): قرآن مجید اور روزی کی کثرت: قرآن مجید نے چند امور ایسے ذکر کئے ہیں جو بذات خود انسانی تربیت کے لیے تعمیری درس کی حیثیت رکھتے ہیں، ایک مقام پر ارشاد فرماتا ہے۔ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ اگر تم نے نعمتوں کا شکر ادا کیا (انہیں اپنے صحیح مصرف میں خرچ کیا) تو تمہیں زیادہ نعمتیں عطا کروں گا۔ (ابرہیم ./۷) ایک دوسرے مقام پر لوگوں کو تلاش و حصول روزی کی دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِن رِّزْقِهِ خدا تو وہ ذات ہے۔ جس نے زمین کو تمہارے لیے خاضع اور خاشع بنا دیا ہے۔ تاکہ تم اس کی پشت پر چلو پھرو اور اس کے رزق سے کھاؤ پیو۔ (ملک / ۱۵) ایک اور مقام پر تقویٰ اور پرہیزگاری کو وسعت رزق کا معیار بتایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: وَ لَوْ اَنَّ اَہْلَ الْقُری آمَنُوا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنا عَلَیْھِمْ بَرَکاتٍ مِنَ السَّماءِ وَ الْاَرْضِ یعنی اگر روئے زمین کے لوگ ایمان لے آئیں اور تقویٰ اختیار کر لیں تو ہم آسمان و زمین کی برکتیں ان کے لیے کھول دیں۔ (اعراف / ۹۶) (ھ): رزق کی تنگی اور تربیتی مسائل: بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر لوگوں پر رزق کی تنگی اس لیے کی جاتی ہے۔ تاکہ ان کی طرف سے پیدا ہونے والے فتنہ و فساد کے آگے بند باندھا جا سکے جیسا کہ اسی سورہ (شوریٰ) کی ۲۷ ویں آیت میں ہے۔ وَلَوْ بَسَطَ اللَّهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الْأَرْضِ اگر خدا اپنے بندوں کے لئے روزی کشادہ کر دے تو وہ ظلم و طغیان کی راہ اختیار کر لیں۔ (و): رزق صرف خدا کے ہاتھ میں ہے۔ قرآن مجید نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انسانوں کو چاہیئے کہ وہ اپنا روزی رسان صرف خدا کو جانیں اور غیر خدا سے کبھی روزی نہ مانگیں اور اس کے ساتھ خدا پر ایمان اور توکل کے بعد سعی و کوشش سے کام لیں سورہٴ فاطر کی تیسری آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّهِ يَرْزُقُكُم مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ آیا خدا کے علاوہ کوئی اور خالق ہے۔ جو تمہیں زمیں و آسمان سے روزی بہم پہنچائے؟ سورہٴ عنکبوت کی آیت ۱۷ میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ فَابْتَغُوا عِندَ اللَّهِ الرِّزْقَ رزق صرف خدا ہی سے مانگو۔ اس طرح کا حکم دے کر انسان کے اندر عزت نفس، بےنیازی، خود داری اور غیر وابستگی کی روح کو اجاگر کر دیا ہے۔ روزی کی تقسیم، زندگی بسر کرنے کے لیے رزق کی تلاش، روزی کے اسباب کے سرچشمے کے بارے میں ہم نے تفسیر نمونہ کی ۱۱ ویں جلد (سور ہ نحل کی ۷۱ ویں آیت کے ذیل) میں اور جلد ۵ (سورہٴ ہود کی چھٹی آیت کے ذیل میں) تفصیل سے گفتگو کی ہے۔

13
42:13
۞شَرَعَ لَكُم مِّنَ ٱلدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِۦ نُوحٗا وَٱلَّذِيٓ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ وَمَا وَصَّيۡنَا بِهِۦٓ إِبۡرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰٓۖ أَنۡ أَقِيمُواْ ٱلدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُواْ فِيهِۚ كَبُرَ عَلَى ٱلۡمُشۡرِكِينَ مَا تَدۡعُوهُمۡ إِلَيۡهِۚ ٱللَّهُ يَجۡتَبِيٓ إِلَيۡهِ مَن يَشَآءُ وَيَهۡدِيٓ إِلَيۡهِ مَن يُنِيبُ
تمہارے لئے وہی دین مقرر کیا ہے جس کے متعلق نوح کو ہدایت کی تھی اور وہ جو ہم نے تیری طرف وحی بھیجی اور جو ہدایت ہم نے ابراہیم ، موسیٰ اور عیسی کو کی وہ یہ تھی کہ دین کو قائم و برقرار رکھو اور اس میں تفرقہ ایجاد نہ کرو۔ ہر چند کہ تیری یہ دعوت مشرکین پر سخت گراں ہے ، خدا جسے چاہے منتخب کر لیتا ہے اور جو اس کی طرف لوٹے اس کی ہدایت کرتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
42:14
وَمَا تَفَرَّقُوٓاْ إِلَّا مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلۡعِلۡمُ بَغۡيَۢا بَيۡنَهُمۡۚ وَلَوۡلَا كَلِمَةٞ سَبَقَتۡ مِن رَّبِّكَ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗى لَّقُضِيَ بَيۡنَهُمۡۚ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ أُورِثُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِنۢ بَعۡدِهِمۡ لَفِي شَكّٖ مِّنۡهُ مُرِيبٖ
وہ علم اور آگاہی کے بعد ہی تفرقہ کا شکار ہوئے ہیں اور اور یہ تفرقہ بازی حق سے انحراف اور عداوت و حسد کی وجہ سے تھی اور اگر تیرے پروردگار کی جانب سے فرمان صادر نہ ہو چکا ہوتا کہ وہ ایک خاص مقرر شدہ مدت تک کے لئے زندہ اور آزاد رہیں۔ تو خدا نے ان کے درمیان فیصلہ کر دیا، ہوتا اور جو لوگ ان کے بعد کتاب کے وارث ہوئے ہیں وہ بدگمانی پر مبنی شک و شبہ میں مبتلا ہیں۔

تفسیر آپؐ کا دین تمام انبیاءؑ کے دین کا نچوڑ ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

اس سورہ کی اکثر گفتگو مشرکین سے متعلق ہے۔ اور گزشتہ آیات میں بھی اسی موضوع پر بات ہو رہی تھی۔ لہٰذا زیر نظر آیات بھی اس حقیقت کو واضح کر رہی ہیں کہ توحید الہٰی کی طرف اسلام کی دعوت کوئی نئی بات نہیں ہے۔ بلکہ تمام اولوالعزم انبیاء کی دعوت ہے۔ نہ صرف توحید کی حد تک، تمام بنیادی مسائل میں تمام انبیاء کی دعوت کے اصول تمام آسمانی ادیان میں ایک ہی تھے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: خدا نے ایسا دین تمہارے لیے مقرر فرمایا ہے۔ جس کی ہدایت پہلے اولوالعزم پیغمبر نوح کی فرمائی تھی (شَرَعَ لَكُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا)۔ "اور اسی طرح جس چیز کی ہم نے تیری طرف وحی بھیجی اور ابراہیم، موسٰی اور عیسٰی کو اس کی سفارش کی" (وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى)۔ تو اس طرح سے جو کچھ گزشتہ پیغمبروں کی شریعتوں میں موجود تھا وہ سب کچھ آپ کی شریعت میں موجود ہے۔ ؏آنچہ خوبان ہمہ دارند تو تنہا داری "من الدین" کی تعبیر سے واضح ہوتا ہے۔ آسمانی شریعتوں کی ہم آہنگی صرف توحید یا اصول دین کے دوسرے مسائل تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ دین الہٰی اساسی اور بنیادی لحاظ سے مجموعی طور پر ہر جگہ ایک ہے۔ ہر چند کہ انسانی معاشرے کے ارتقائی تقاضاوں کے تحت فروعی قوانین کو انسان کے ارتقائی مراحل سے ہم آہنگ کرنا پڑتا ہے۔ تاکہ وہ بالتدریج اپنی آخری حدود اور "خاتم ادیان" تک پہنچ جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک کی دیگر آیات میں بہت سارے شواہد موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ تمام ادیان کے عقائد، فرائض اور قوانین کے کلی اصول ایک جیسے ہیں۔ مثلاً قرآن مجید بہت سے ابنیاء کے حالات ہم پڑھتے ہیں کہ ان کی ابتدائی دعوت یہی تھی "یاقوم اعبدوا اللہ" (تشریحی نوٹ: ملاحظہ ہو سورہ اعراف کی آیات ۵۹، ۶۵، ۷۳ ،۸۵۔ سورہ ہود کی آیات ۵۰، ۶۱ ،۸۴ جو بالترتیب جناب نوح، ہود، صالح اور شعیب علیہم السلام کے بارے میں ہیں)۔ ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے: وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللّهَ "ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو کہے کہ خدائے واحد کی عبادت کرو۔" (سورہ نحل۔ ٣٦)۔ قیامت کے بارے میں ڈرانے کا سلسلہ بھی بہت سے انبیاء کی دعوت میں آیا ہے۔ ملاحظہ ہوں سورہٴ انعام کی ۱۳۰ ویں آیت، سورہٴ اعراف کی ۵۹ ویں آیت، سورہ شعراء کی ۱۳۵ ویں، سورہ مریم کی ۳۱ ویں اور طٰہٰ کی ۱۵ ویں۔ حضرت موسٰی، عیسٰی اور شعیب علیہم السلام نماز کی تبلیغ کرتے ہیں ملاحظہ ہو سورہ طٰہٰ /۱۴، سور ہٴ مریم / ۳۱، اور سورہٴ ہود / ۸۷، اورحضرت ابراہیم علیہ السلام حج کی دعوت دیتے ہیں ملاحظہ ہو سورہٴ حج / ۲۷۔ روزہ تمام گزشتہ اقوام میں تھا۔ ملاحظہ ہوں سورہٴ بقرہ / ۱۸۳۔ لہٰذا آیت میں ایک کلّی حکم کے تحت تمام انبیاء کے بارے میں فرمایا گیا ہے۔ ہم نے ان سب کو حکم دیا: دین کو قائم و برقرار رکھو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو (أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ)۔ دو اہم امور کا حکم تھا، ایک تو تمام امور میں خدا کے دین کو قائم و برقرا ر رکھیں (صرف عمل کی حد تک نہیں بلکہ اسے قائم، زندہ اور برقرار بھی رکھیں) اور دوسرے بہت بڑی بلا سے پرہیز کریں یعنی دین میں تفرقہ اور نفاق ایجاد نہ کریں۔ اسی آیت میں آگے چل کر فرمایا گیا ہے۔ ہر چند کہ تیری یہ دعوت مشرکین کے لیے سخت گراں ہے۔ (كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ)۔ سالہاسال کے تعصب اور جہالت کی وجہ سے وہ لوگ شرک اور بُت پرستی سے مانوس ہو چکے ہیں اور شرک ان کے وجود میں حلول کر چکا ہے۔ جس کی بناء پر توحید کی دعوت سے انہیں وحشت ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں شرک سے مشرکین کے سرغنوں کے شخصی مفادات وابستہ ہیں جبکہ دعوت توحید تو مستضعفین کو ایسے لوگوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے پر آمادہ کرتی ہے۔ اور مشرکین کی ہوا و ہوس پرستی اور مظالم کی روک تھام کرتی ہے۔ لیکن پھر بھی جس طرح انبیاء کا انتخاب خدا کے ہاتھ میں ہے۔ اسی طرح لوگوں کی ہدایت بھی اسی کے دست قدرت میں ہے۔ "خدا جسے چاہے۔ منتخب کر لے اور جو اس کی طرف لوٹ جائے اسے ہدایت کرتا ہے۔ (اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَن يُنِيبُ)۔

قابلِ غور نکات

۱۔ "شَرَعَ"، "شرع“ (بروزن "زرع") کا اصل معنی روشن اور واضح راستہ ہے۔ اور جو راستہ نہر یا دریا میں داخل ہوتا ہے۔ اسے بھی "شریعة" کہتے ہیں۔ بعد ازاں یہ کلمہ خدائی ادیان اور آسمانی شریعتوں کے بارے میں استعمال ہونے لگا کیونکہ سعادت اور بھلائی کا روشن اور واضح راستہ انہی میں ہے۔ اور ایمان، تقوی، صلح اور عدالت کے آب حیات تک پہنچنے کے لیے بھی یہی راستہ ہے۔ اور چونکہ پانی طہارت، پاکیزگی اور زندگی کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ لہذا یہ لفظ بھی خدائی دین کے ساتھ واضح مناسبت رکھتا ہے۔ کیونکہ یہ بھی معنوی لحاظ سے انسانی معاشرے اور انسان کی جان اور روح کے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے۔ جو پانی کرتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: یہ معنی اجمالی طور پر لسان العرب، مفردات راغب اور لغت کی دوسری کتابوں میں آیا ہے۔ ۲۔ اس آیت میں خدا کے صرف پانچ ابنیاء کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ (یعنی نوح، ابراہیم، موسٰی، عیسٰی، اور حضرت محمد علیہم الصلوٰة والسلام کی طرف) کیونکہ یہی پانچ اولواالعزم رسول ہیں یعنی نئے دین و آئین کے مالک صرف یہی پانچ بزرگوار ہیں درحقیقت یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شریعت صرف ان پانچ بزرگوں میں منحصر ہے۔ ۳۔ سب سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر ہے۔ کیونکہ سب سے پہلے شریعت کہ جس میں ہر قسم کی عبادی اور اجتماعی قوانین موجود تھے آپ ہی سے آغاز ہوئی ہے۔ اور آپ سے پہلے کے انبیاء علیہم السلام کے پاس محدود پروگرام اور احکام تھے۔ (تشریحی نوٹ اس سلسلے میں مزید تفصیل سورہٴ بقرہ کی آیت ۲۱۳ کے ذیل (تفسیر نمونہ جلد اوّل) میں ملاحظہ فرمائیں)۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید اور روایات میں نوح علیہ السلام سے پہلے کسی آسمانی کتاب کا ذکر نہیں ملتا۔ ۴۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ان پانچ اولوا العزم رسولوں میں سب سے پہلے نوح علیہ السلام کا ذکر آیا ہے۔ پھر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا پھر ابراہیم علیہ السلام، موسٰی علیہ السلام، عیسٰی علیہ السلام کا اور اس کی ترتیب اس لیے ہے۔ کیونکہ نوح علیہ السلام بوجہ آغاز گر شریعت کے پہلے ذکر ہوئے ہیں اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر بوجہ ان کی عظمت کے ہے۔ پھر دیگر حضرات کا ذکر بلحاظ ان کے زمانہ کے ہے۔ ۵۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ آیت میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں "اوحینا الیک" (ہم نے آپ کی طرف وحی بھیجی) کی تعبیر آئی ہے۔ لیکن دوسرے انبیاء کے لیے "توصیہ" کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ شاید یہ فرق اس لیے ہے کہ دوسرے آسمانی ادیان کی نسبت اسلام کی اہمیت کو واضح کیا جائے۔ ۶۔ آیت کے آخر میں انبیاء کے انتخاب کے طریقہ کار کو "من یشاء" کے اشارہ کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے۔ یعنی انبیاء کا انتخاب ان کی وجودی لیاقت کی بناء پر ہوتا ہے۔ لیکن امت کے بارے میں "من ینیب" (جو خدا کی طرف رجوع کرے، گناہوں سے توبہ کرے اور اطاعت اختیار کرے) کی تعبیر ہے۔ تاکہ خداوند عالم کی ہدایت کا معیار اور اس کی شرائط سب لوگوں پر واضح ہو جائیں اور ان پر عمل پیرا ہو کر اس کے دریائے رحمت تک پہنچ جائیں۔ حدیث قدسی میں آیا ہے۔ من تقرب منی شبراً تقربت منہ ذراعاً و من اتانی یمشی، اتیتہ ھرولة جو ایک بالشت کے برابر میرے قریب ہو گا میں ایک ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوں گا۔ جو شخص چل کر میرے پاس آئے گا میں دوڑ کر اس کی طرف جاؤں گا۔ (بحوالہ: تفسیر کبیر فخر رازی، جلد ۲۷، ص ۱۵۷ (اس آیت کے ذیل میں))۔ آخری جملے کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ "اجتباء" اور انتخاب صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ خدا کے وہ خالص و مخلص بندے جو اس مقام کی لیاقت کے حامل ہیں وہ بھی اس کا مصداق ہیں۔ چونکہ اولواالعزم انبیاء کی دعوت کے دو ارکان میں سے ایک دین میں تفرقہ بازی سے پرہیز ہے۔ اور یقیناً ان سب نے اسی اساس پر تبلغ بھی کی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان مذہبی اختلافات کا سرچشمہ کیا ہے۔ اور یہ کہاں سے پیدا ہوئے ہیں؟ بعد کی آیت اسی سوال کا جواب دیتی ہے۔ اور دینی اختلافات کے سرچشمہ کی نشاندہی کرتی ہے۔ انہوں نے تو تفرقہ بازی کا رستہ اُس وقت اختیار کیا جب ان پر اتمام حجت ہو گی اور کافی حد تک علم ان کے پاس پہنچ گیا اور یہ فرقہ بازی دنیاوی محبت، جاہ طلبی، حسد اور عداوت کی وجہ سے تھی" (وَمَا تَفَرَّقُوا إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ)۔ جی ہاں ظالم دنیا پرست اور کینہ پرور حاسد لوگ انبیاء کے اس یکجہتی پر مبنی دین و آیئن کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور ہر ایک گروہ کے لیے ایک ایک رستہ بنا کر انہیں اسی راہ پر لگا دیا تاکہ اس طرح سے اپنی حکومتوں کی بنیادوں کو مستحکم بنا سکیں، دنیاوی منفعت حاصل کر سکیں اور سچے مومنین اور انبیاء کے ساتھ اپنے بغض و حسد کو آشکار کر سکیں۔ لیکن یہ سب کچھ اتمام حجت ہو جانے کے بعد تھا۔ معلوم ہوا کہ ان کے مذہبی اختلافات کا سرچشمہ جہالت اور بےخبری نہیں بلکہ بغاوت، سرکشی، ظلم، راہ حق سے انحراف اور ذاتی آرا تھیں۔ یہ آیت ان لوگوں کے لئے ایک واضح جواب ہے۔ جو یہ کہتے ہیں کہ مذہب نے آ کر آدمیّت کے درمیان اختلاف اور انتشار پیدا کر دیا ہے۔ اور پوری تاریخ میں منصب ہی خونریزی کا سبب بنا ہے۔ کیونکہ اگر اچھی طرح غور و فکر سے کام لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ہمیشہ مذہب ہی اپنے ماحول اور محیط میں اتحاد اور وحدت کا سبب رہا ہے۔ (جیسا کہ اسلام نے حجازی قبائل بلکہ جزیرہ نمائے عرب سے باہر کی اقوام کو بھی ساتھ ملا کر اُن کے درمیان موجود اختلافات کو ختم کر کے انہیں "امت واحدہ" قرار دیا)۔ لیکن استعمال سیاست نے لوگوں کے درمیان تفرقہ پیدا کر دیا اور اختلافات کو ہوا دی جس سے لوگوں کا خون بہا اور سر پھٹول ہوئی. شخصی اور ذاتی خواہشات اور طریقہ کار کو مذہب میں شامل کر لیا گیا اور اسے آسمانی مذاہب پر مسلّط کر دیا گیا جس کے نتیجے میں لوگوں کے درمیان تفرقہ بڑھ گیا۔ اور یہ سب لوگوں کی سرکشی یعنی "بغی" کے باعث ہوا۔ "بغی" کا اصلی معنی جو ارباب لغت نے ذکر کیا ہے۔ کچھ اس طرح "درمیانی خط سے انحراف و تجاوز کی طلب اور افراط و تفریط کی جانب رجحان "خواہ یہ طلب پایہ تکمیل تک پہنچے، کبھی تو یہ طلب افراط و تفریط کسی چیز کی کمیت میں ہوتی ہے۔ اور کبھی کیفیت میں۔ اسی لیے عام طور پر لفظ ظلم کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ یہ لفظ کبھی ہر قسم "طلب اور حصول" کے معنی میں بھی آتا ہے۔ ہر چند کہ یہ امر مناسب ہی کیوں نہ ہو! لہذا راغب نے مفرات میں "بغی" کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک "قابل تعریف" اور دوسرا "قابل مذمت" پہلا عدالت کی حد سے بڑھ کر احسان اور ایثار تک اور واجبات سے بڑھ کر مستحبات تک جا پہنچنے کے معنی میں اور دوسرا حق سے ہٹ کر باطل کی طرف جھک جانے کے معنی میں آتا ہے۔ پھر خداوند عالم فرماتا ہے۔ اگر تمہارے پروردگار کی طرف فرمان جاری نہ ہو چکا ہوتا کہ وہ ایک مقررہ وقت تک کے لیے زندہ اور آزاد رہیں تو خدا نے ان کے درمیان فیصلہ کر دیا ہوتا ہے۔ یعنی وہ باطل کے طرفداروں کو نیست و نابود کر دیتا اور حق کے پیروکاروں کو کامیابی عطا کرتا (وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِيَ بَيْنَهُمْ)۔ یقیناً یہ دنیا آزمائش، نشوونما اور ارتقاء کا گھر ہے۔ اور یہ چیز آزادی عمل کے بغیر امکان پذیر نہیں ہے۔ یہ خداوند عالم کا تکوینی فرمان ہے۔ جو ابتدائے آفرینش سے چلا آ رہا ہے۔ جس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی واقع نہیں ہو سکتی۔ یہ دنیاوی زندگانی کی طبیعت میں شامل ہے۔ لیکن آخرت کے امتیازات میں سے یہ بات ہے کہ یہ تمام اختلافات وہاں پر حل ہوں گے اور انسانیت ایک ہی لڑی میں منسلک ہو گی۔ اسی لیے تو قیامت کو "یوم الفصل" کے نام سے بھی یاد کیا گیا ہے۔ آخری جملے میں ان لوگوں کے حالات بیان فرمائے گئے ہیں جو ان لوگوں کے بعد برسرکار آئے ہیں یعنی جنہوں نے انبیاء کا زمانہ نہیں دیکھا اور ایسے زمانے میں آنکھ کھولی جس میں نفاق پرور اور تفرقہ انداز لوگوں نے عالم انسانیت کی فضا کو اپنے شیطانی اعمال کے ذریعے تاریک کر دیا تھا۔ لہٰذا یہ لوگ بخوبی حق تک نہیں پہنچ سکے اور اسے حاصل نہیں کر پائے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے۔ جو لوگ ان کے بعد آسمانی کتاب کے وارث ہوئے ہیں وہ اس کے بارے میں شک و شبہ میں مبتلا ہو گئے اور شک بھی ایسا کہ جس میں بدگمانی شامل ہے۔ (وَإِنَّ الَّذِينَ أُورِثُوا الْكِتَابَ مِن بَعْدِهِمْ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيبٍ)۔ (تشریحی نوٹ: اسی تفسیر کی بنا پر جو کہ پہلے جملوں مکمل ہم آہنگ ہے۔ "بعدھم" کی ضمیر گزشتہ امتوں کی طرف لوٹ رہی ہے۔ جنہوں نے مذہب میں تفرقے ڈالے۔ نہ کہ انبیاء کی طرف جو گزشتہ آیت میں مذکور ہوئے ہیں۔ (غور کیجئے گا))۔ مفسرین نے "ریب" کے معنی کی حقیقت میں اس شرط کو بھی ذکر کیا ہے کہ "ریب ایسے شک کو کہتے ہیں کہ جس سے آخرکار پردہ اٹھایا جائے اور وہ حقیقت میں بدل جائے اور شاید یہ امر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ظہور کی طرف اشارہ ہو کہ جنہوں نے روشن دلائل کے ذریعے حق طلب لوگوں کے دلوں سے شک و ریب کو دور کر دیا۔ ایک نکتہ: تفسیر علی بن ابراہیم میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ صلی للہ علیہ و آلہ وسلم نے "شرع لکم من الدین" کی تفسیر میں فرمایا گیا "ان اقیمو االدین" سے مخاطب امام ہے۔ اور "لاتتفرقوا فیہ" کا جملہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے بارے میں کنایہ ہے۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ۴، ص ۵۶۷)۔ ظاہر سی بات ہے کہ دین سے منحصراً علی علیہ السلام کی ولایت مراد نہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ امیر المؤمنین کی ولایت کا شمار ارکان دین میں تو ضرور ہوتا ہے۔

15
42:15
فَلِذَٰلِكَ فَٱدۡعُۖ وَٱسۡتَقِمۡ كَمَآ أُمِرۡتَۖ وَلَا تَتَّبِعۡ أَهۡوَآءَهُمۡۖ وَقُلۡ ءَامَنتُ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِن كِتَٰبٖۖ وَأُمِرۡتُ لِأَعۡدِلَ بَيۡنَكُمُۖ ٱللَّهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمۡۖ لَنَآ أَعۡمَٰلُنَا وَلَكُمۡ أَعۡمَٰلُكُمۡۖ لَا حُجَّةَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمُۖ ٱللَّهُ يَجۡمَعُ بَيۡنَنَاۖ وَإِلَيۡهِ ٱلۡمَصِيرُ
تو بھی ان لوگوں کو اس خدا کے واحد دین کی طرف بلا اور جیسا تجھے حکم دیا گیا ہے استقامت دکھا اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کر اور کہہ دے کہ میں ہر اس کتاب پر ایمان لا چکا ہوں جو نازل ہوئی ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمہارے درمیان عدالت کروں۔ اللہ ہمارا اور تمہار رب ہے ہمارے اعمال کا نتیجہ ہمارے لئے اور تمہارے اعمال کا نتیجہ تمہارے لئے ہے ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی ذاتی جھگڑا تو ہے نہیں۔ خد اہمیں اور تمہیں ایک جگہ پر جمع کر یگا اور سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے۔

تفسیر حکم کے مطابق استقامت کیجئے

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

گزشتہ آیات میں بغاوت، ظلم اور انحراف کی وجہ سے امتوں کے درمیان اختلافات اور تفرقہ بازی کی بات ہو رہی تھی، لہٰذا ان آیات میں خداوند عالم نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ اختلافات کو دور کرنے اور ابنیاء کے دین کے احیاء کی کوشش میں لگے رہیں اور اس راہ میں پوری استقامت سے کام لیں۔ ارشاد ہوتا ہے: انسانوں کو خدا کے واحد دین کی طرف دعوت دے اور انہیں اختلافات سے نجا دلا (فَلِذَلِكَ فَادْعُ)۔ (تشریحی نوٹ: کچھ مفسرین نے "لذالک" کی "لام" کو"الیٰ" کے معنی میں لیا ہے۔ اور کچھ نے "علت" کے معنی میں۔ پہلی صورت میں "ذالک" گزشتہ انبیاء کے دین کی طرف اشارہ ہے۔ اور دوسری صورت میں امتوں کے اختلاف کی طرف)۔ پھر اس راہ میں استقامت کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ اور جیسا کہ تجھے حکم دیا گیا ہے۔ استقامت دکھا (وَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ)۔ "كَمَا أُمِرْتَ" (جیسا کہ تجھے حکم دیا گیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ استقامت کے اعلیٰ درجہ کی طرف اشارہ ہو اور یا پھر اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ یہ استقامت بھی کمیّت، کیفیت، مدت اور دوسری خصوصیات کے لحاظ سے خدائی احکام کے مطابق ہونی چاہیئے۔ چونکہ انسانی خواہشات اس راہ میں بہٹ بڑی رکاوٹ ہوتے ہیں لہٰذا تیسرے حکم میں ارشاد ہوتا ہے: ان کی خواہشات کی پیروی نہ کر (وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ)۔ کیونکہ یہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے رجحانات اور مفادات کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ جس کا انجام تفرقہ جدائی انتشار اور نفاق ہے۔ ان کی خواہشات کو ٹھوکر لگائیں اور سب کو پروردگار کے ایک دین پر جمع کریں۔ ہر دعوت کا ایک نقطہ آغاز ہوتا ہے۔ اور اس کا نقطہ آغاز خود پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قرار دیتے ہوئے چوتھا حکم دیا گیا ہے کہہ دے کہ میں ایمان لایا ہوں ہر اس کتاب پر جو خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔ (وَقُلْ آمَنتُ بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ مِن كِتَابٍ)۔ میں آسمانی کتابوں کے درمیان فرق کا قائل نہیں ہوں، سب کو مانتا ہوں اور سب کو توحید، پاک دینی معارف، تقویٰ، پاکیزگی، حق اور عدالت کا داعی سمجھتا ہوں۔ میرا دین درحقیقت ان سب کا جامع اور تکمیل کنندہ ہے۔ میں اہل کتاب کی طرح نہیں ہوں کہ جو ایک دوسرے کی نفی کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو جھٹلاتے ہیں۔ یہود، نصاری کو اور نصاری یہود کو، حتٰی کہ ہر دین کے پیروکار بھی اپنی دینی کتابوں کی ان آیات کو مانتے ہیں جو ان کو خواہشات سے ہم آہنگ ہوں، میں کسی استثناء کے بغیر سب کو تسلیم کرتا ہوں کیونکہ بنیادی اصول سب کے ایک ہیں۔ وحدت اور اتحاد کو وجود میں لانے کے لیے "اصول عدالت" کی پاسداری ضروری ہوتی ہے۔ لہٰذا پانچویں حکم میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہہ دے کہ مجھے حکم مل چکا ہے کہ تم سب کے درمیان عدالت کروں (وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ)۔ یہ عدالت خواہ فیصلہ جات میں ہو یا اجتماعی حقوق اور دوسرے مسائل میں۔ (تشریحی نوٹ: اس مقام پر کچھ مفسرین نے "عدالت" کو صرف فیصلوں کی حد تک محدود رکھا ہے۔ جبکہ اس محدودیت پر کوئی قرینہ موجود نہیں ہے۔ اس طرح سے زیر نظر آیت پانچ اہم احکام پر مبنی ہے۔ جن کا آغاز اصل دعوت سے ہوتا ہے۔ پھر اس کی ترقی کے وسائل کو بیان کیا گیا ہے۔ اس کے بعد ہوا اور ہوس پرستی کا ذکر ہے۔ جو اس دعوت کے موانع میں سے ہے۔ اس سے آگے چل کر اپنی ذات سے اس کے آغاز کرنے کا بیان ہے۔ اور آخر میں ان سب کا آخری مقصد ذکر ہوا ہے۔ جو کہ عدالت کو عام کرنا اور پھیلانا ہے۔ ان پانچ احکام کے بعد تمام اقوام کے مشترکہ نکات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اور فرمایا گیا ہے۔ "اللہ ہمارا اور تمہارا پروردگار ہے۔ (اللَّهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ)۔ ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ہیں اور ہر شخص اپنے اعمال کا جوابدہ ہے۔ (لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ)۔ "ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی لڑائی اور کسی قسم کا جھگڑا نہیں" کسی کو ایک دوسرے پر فوقیت حاصل نہیں ہے۔ اور ہمارا تم سے کوئی ذاتی مفاد وابستہ نہیں ہے۔ (لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ)۔ اصولی طور پر احتجاج اور استدلال کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ حق کافی حد تک واضح ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ آخرکار ہم ایک جگہ اکٹھے ہوں گے "اور خدا ہمیں اور تمہیں قیامت میں جمع کرے گا" (اللَّهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا)۔ (تشریحی نوٹ: "بیننا" میں متکلم مع الغیر کی ضمیر پیغمبر اکرمؐ اور مؤمنین کی طرف اشارہ ہے۔ اور "بینکم" کی ضمیر جمع تمام کفار کی طرف اشارہ ہے۔ خواہ اہل کتاب ہوں یا مشرک)۔ اور اس دن ہم سب کے درمیان فیصلہ کرنے والا ایک ہی ہو گا اور"ہم سب کی بازگشت اسی کی طرف ہو گی" (وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ)۔ تو اس طرح سے ہم سب کا خدا ایک، انجام ایک، قاضی اور مرجع ایک اور پھر یہ کہ ہم سب اپنے اعمال کے جوابدہ ہیں اور ایمان اور عمل صالح کے بغیر کسی کو کسی پر کوئی فوقیّت حاصل نہیں۔ اس تمام بحث کو ایک جامع حدیث کے ذریعے ہم پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔ پیغمبر اسلامؐ فرماتے ہیں: ثلاث منجیات و ثلاث مھلکات، فالمنجیات: العدل فی الرضا و الغضب، والقصد فی الغنی والفقر، وخشیة اللہ فی السر والعلانیة، والمھلکات: شح مطاع و ھوی متبع، واعجاب المرء بنفسہ تین چیزیں انسان کی نجات کا سبب اور تین ہلاکت کا ذریعہ ہیں۔ جو تین چیزیں اس کی نجات کا باعث ہیں وہ خوشی اور غصے کی حالت میں عدل و انصاف، خوشحالی اور تنگدستی کی حالت میں اعتدال پسندی اور جلوت و خلوت میں خوف خدا ہے۔ جو تین چیزیں انسان کی ہلاکت کا سبب بنتی وہ ہیں: بخل کہ جس کی انسان پیروی کرتا ہے۔ سرکشی اور حاکم خواہشات نفسانی کی اتباع اور تکبر اور غرور۔ (تشریحی نوٹ: مجمع البیان زیر بحث آیات کے ذیل میں (تحف العقول کلمات پیامبر اسلام)۔

16
42:16
وَٱلَّذِينَ يُحَآجُّونَ فِي ٱللَّهِ مِنۢ بَعۡدِ مَا ٱسۡتُجِيبَ لَهُۥ حُجَّتُهُمۡ دَاحِضَةٌ عِندَ رَبِّهِمۡ وَعَلَيۡهِمۡ غَضَبٞ وَلَهُمۡ عَذَابٞ شَدِيدٌ
جو لوگ اس کی دعوت قبول کر لینے کے بعد خدائے واحد کے بارے میں جھگڑا کر تے ہیں ان کی دلیل ان کے پروردگا رکے نزدیک باطل اور بے بنیاد ہے ان پر خدا کا غضب ہے اور ان کے لئے سخت عذاب ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔

17
42:17
ٱللَّهُ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ وَٱلۡمِيزَانَۗ وَمَا يُدۡرِيكَ لَعَلَّ ٱلسَّاعَةَ قَرِيبٞ
اللہ تو وہ ہے جس نے کتاب کو برحق نازل کیا اور حق و باطل کی پہچان کا ترازو بھی تجھے کیا معلوم کہ شاید قیام قیامت کی گھڑی قریب ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔

18
42:18
يَسۡتَعۡجِلُ بِهَا ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِهَاۖ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مُشۡفِقُونَ مِنۡهَا وَيَعۡلَمُونَ أَنَّهَا ٱلۡحَقُّۗ أَلَآ إِنَّ ٱلَّذِينَ يُمَارُونَ فِي ٱلسَّاعَةِ لَفِي ضَلَٰلِۭ بَعِيدٍ
جو لوگ قیامت پر ایمان نہیں رکھتے وہ اس کے بارے میں جلدی کرتے ہیں لیکن جو ایمان دار ہیں وہ ہمیشہ خوف و ہراس کے ساتھ اس کے منتظر ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ حق ہے آگاہ ہو جو لوگ قیامت کے بارے میں شک کرتے ہیں وہ پرلے درجے کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔

تفسیر جلدی نہ کرو قیامت آ کر رہے گی

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

گزشتہ آیات میں آنحضرت کو حکم ملا تھا کہ تمام آسمانی کتابوں کا احترام کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے درمیان عدل و انصاف بھی رائج فرمائیں۔ اور ان سے کسی قسم کا جھگڑا نہ کریں زیرنظر آیات میں ان باتوں کی تکمیل ہو رہی ہے۔ اور یہ بتایا جا رہا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حقانیت کسی دلیل کی محتاج نہیں ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اس کی دعوت لوگوں کی طرف سے ہو جانے کے بعد خدائے واحد کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں ان کی دلیل ان کے پروردگار کے نزدیک باطل اور بےبنیاد ہے۔ (وَالَّذِينَ يُحَاجُّونَ فِي اللَّهِ مِن بَعْدِ مَا اسْتُجِيبَ لَهُ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِندَ رَبِّهِمْ)۔ "اور ان پر خدا کا غضب ہے۔ کیونکہ وہ جان بوجھ کر اس کی مخالفت کرتے ہیں (وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ)۔ اور قیامت کے دن بھی ان کے لیے خدا کا سخت عذاب ہو گا (وَلَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ)۔ کیونکہ ہٹ دھرمی اور جھگڑے کا انجام یہی ہوتا ہے۔ یہاں پر"مِن بَعْدِ مَا اسْتُجِيبَ لَهُ" (اس کی دعوت قبول کر لیے جانے کے بعد) سے کیا مراد ہے۔ مفسرین نے اس بارے میں کئی تفاسیر بیان کی ہیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے مراد پاکدل اور بےلوث لوگوں کی طرف سے دعوت کی قبولیت ہے۔ جو فطرت الہٰی کی راہنمائی، وحی پروردگار کے مضامین اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مختلف معجزات دیکھنے کی وجہ سے مسلمان ہو گئے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں اس سے مراد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعا کی قبولیت ہے۔ جو آپ نے جنگ بدر کے دن اسلام دشمن طاقتوں کے برخلاف کی تھی، جس کے نتیجے میں ان کا ایک عظیم لشکر نیست و نابود ہو گیا اور ان کی شان و شوکت جاتی رہی اور انہیں رسواکن شکست نصیب ہوئی۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس سے مراد خود ان اہل کتاب کی اپنی دعا کی قبولیت ہے۔ جو وہ اسلام سے پہلے کیا کرتے تھے اور آنحضرتؐ کے ظہور کی انتظار میں تھے اور اپنی کتابوں میں آپؐ کی نشانیاں لوگوں کو پڑھ پڑھ کر سنایا کرتے تھے اور آنحضرتؐ کی ذات سے اپنے ایمان اور تعلق کا اظہار کیا کرتے تھے۔ لیکن جب اسلام کا ظہور ہو گیا اور ان کے ناجائز مفادات کو خطرات لاحق ہونے لگے تو انہوں نے انکار کر دیا۔ سب سے زیادہ مناسب تفسیر وہی پہلی ہے۔ کیونکہ دوسری تفسیر کی رو سے ان آیات کو غزوہ بدر کے بعد نازل ہونا چاہیئے تھا جب کہ ہمارے پاس اس بارے میں کوئی واضح دلیل موجود نہیں ہے۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب آیات مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہیں۔ تیسری تفسیر آیت کے لب و لہجہ سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ کیونکہ اس کے مطابق یوں کہنا چاہیئے تھا "من بعد استجابوالہ" یعنی اس کے بعد وہ اس (رسول) کی دعوت کو قبول کر چکے۔ اور پھر یہ کہ "يُحَاجُّونَ فِي اللَّهِ" کا جملہ بظاہر مشرکین کی خدا کے بارے میں گفتگو کی طرف اشارہ ہے۔ نہ کہ اہل کتاب کی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں۔ اب یہ باطل اور غلط جھگڑا کن مسائل کی طرف اشارہ ہے۔ اس میں بھی مختلف آراء ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہود کے اس دعویٰ کی طرف اشارہ ہے۔ جس میں وہ کہتے ہیں تھے کہ ہمارا دین، اسلام سے پہلے کا ہے۔ لہذا بہتر اور برتر ہے۔ یا یہ کہ آپ چونکہ اتحاد کے علمبردار ہیں لہذآ آئیے موسیٰ علیہ السلام کے دین کو اختیار کر لیں جو سب کے لیے قابل قبول ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ یہ بات بعید معلوم ہوتی ہے کہ ان آیات میں روئے سخن یہود اور اہل کتاب کی طرف ہو، کیونکہ "خدا کے بارے میں جھگڑا" زیادہ تر مشرکین کی طرف سے ہی متوقع معلوم ہوتا ہے۔ بنابریں مندرجہ بالا جملہ ان بےبنیاد اور بودے دلائل کی طرف اشارہ ہے۔ جو مشرک لوگ شرک کی قبولیت کے لیے گھڑا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک دلیل تو ہے کہ یہ بُت ان کی شفاعت کریں گے اور دوسری یہ کہ وہ اپنے بزرگوں کے دین کی پیروی کر رہے ہیں۔ بہرحال، جو ضدی مزاج لوگ حق آشکار ہو جانے کے بعد بھی اپنی ہٹ دھرمی اور ضد پر باقی رہ جاتے ہیں وہ مخلوق خدا کی نگاہوں میں بھی رسوا ہیں اور اس دنیا اور آخرت دونوں جہانوں میں غضب الہٰی کے بھی مستحق ہیں۔ پھر خداوند عالم کی توحید اور اس کی قدر کے دلائل میں سے ایک دلیل کو بیان فرمایا گیا ہے۔ جس میں بےمنطق جھگڑا کرنے والوں کے لئے نبوت کا ثبوت بھی موجود ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: خدا تو وہ ہے۔ جس نے آسمانی کتاب کو برحق نازل فرمایا ہے۔ اور اسی طرح میزان کو بھی (اللَّهُ الَّذِي أَنزَلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ وَالْمِيزَانَ)۔ "حق" ایک جامع کلمہ ہے۔ جو معارف اور عقائد حقہ، صحیح خبروں، فطری اور اجتماعی ضرورتوں اور اس قسم کی دوسری تمام چیزوں پر محیط ہے۔ کیونکہ حق وہ چیز ہوتی ہے۔ جو عینیت خارجی سے موافق ہو اور ذہنی اور خیالی پہلو نہ رکھتی ہو۔ اسی طرح ایسے مواقع پر "میزان" کا بھی ایک جامع معنی ہے۔ ہر چند کہ لغوی طور پر اس کا اطلاق "ترازو" اور وزن کرنے والے آلات پر ہوتا ہے۔ لیکن کنائے کے طور پر اس کا اطلاق پرکھنے کے ہر قسم کے معیار، خدا کے صحیح قوانین اور حتٰی کہ پیغمبر اسلامؐ اور ائمہ اطہار علیہم السلام کی ذات پر بھی ہوتا ہے۔ کیونکہ ان کا وجود بھی حق اور باطل کے درمیان امتیاز کا معیار ہے۔ اور قیامت کے دن کا میزان بھی اسی معنی کا ایک نمونہ ہے۔ اسی طرح سے خداوند عالم نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایک ایسی کتاب نازل فرمائی ہے۔ جو حق بھی ہے۔ اور اقدار کو پرکھنے کا معیار اور میزان بھی ہے۔ وہ اس طرح کہ اس کتاب کے مضامین میں غور کرنے سے بہت سے امور ظاہر ہوتے ہیں۔ معارف و عقائد سے لے کر اس کے منطقی طرز استدلال تک، اجتماعی قوانین سے لے کر ان پروگراموں تک جو تہذیب نفوس اور ارتقائے انسانیت کے لئے بنائے گئے ہیں، سب اس کی حقانیت کی دلیل ہیں۔ ذرا غور تو کیجئے کہ اس قدر اعلیٰ اور معیاری مطالب اور وہ بھی اس گہرائی اور عظمت کے ساتھ اور پھر ایک اُمّی شخص کی طرف سے جس نے دنیا کے کسی فرد سے تعلیم حاصل نہیں کی اور ایک پسماندہ ترین ماحول سے کھڑا ہوا۔ یہ سب کچھ بذات خود پروردگار عالم کی عظمت اور عالم ماورائے طبیعت پر روشن بُرہان اور اس کتاب کے لانے والے کی حقانیت و صداقت پر کھلی دلیل ہے۔ تو گویا مندرجہ جملہ مشرکین کے لئے بھی ایک جواب ہے۔ اور اہل کتاب کے لیے بھی۔ چونکہ ان تمام مسائل کا خصوصی نتیجہ حق و عدالت اور قیامت کے دن میزان اعمال کا ظہور ہے۔ لہذا آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے۔ تجھے کیا معلوم، شاید قیامت کی گھڑی قریب ہو (وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيبٌ)۔ وہی قیامت جو جب برپا ہو گی تو سب اس کی عدالت میں حاضر ہوں گے اور وہاں پر ان کے اعمال کو میزان پر تولا جائے گا اور رائی کے دانے کے برابر بلکہ اس سے بھی کمتر کو ٹھیک ٹھیک سے پرکھا اور تولا جائے گا۔ پھر قرآن قیامت کے بارے میں کفار اور مؤمنین کے ردعمل کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے۔ جو لوگ قیامت پر ایمان نہیں رکھتے وہ اس کے بارے میں جلدی کرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ قیامت کب آئے گی (یَسْتَعْجِلُ بِہَا الَّذینَ لا یُؤْمِنُونَ بِہا)۔ وہ اس قسم کی باتیں اس لیے ہرگز نہیں کرتے کہ انہیں قیامت سے کوئی محبت ہے۔ یا محبوب سے ملاقات کا شوق ہے۔ نہیں بلکہ وہ تو قیامت کا مذاق اڑانے کے لئے ایسی باتیں کرتے ہیں، لیکن اگر وہ جان لیں کہ قیامت ان کے لئے کیا لے کر آئے گی تو وہ ایسی باتیں ہرگز نہ کریں۔ البتہ جو لوگ ایمان لا چکے ہیں وہ ہمیشہ خوف و ہراس کے ساتھ اس کے منتظر ہیں اور وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ ہمیشہ حق ہے۔ اور یقیناً آ کر رہے گی (وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ)۔ (تشریحی نوٹ: "مشفقون"، "اشفاق" کے مادہ سے ہے۔ جس کا معنی ہے۔ ایسی محبت جس میں خوف پایا جاتا ہو۔ جب یہ لفظ "من" کے ساتھ متعدی ہو تو خوف کا پہلو غالب ہوتا ہے۔ اور جب "علیٰ" کے ساتھ متعدی ہو تو توجہ اور محبت و انتظار کا اس میں غلبہ ہوتا ہے۔ لہذا انسان اپنے دوست سے کہتا ہے۔ "انا مشفق علیک"۔ ملاحظہ ہو تفسیر روح المعانی اور مفردات راغب)۔ البتہ قیام قیامت کا لمحہ ہر شخص سے پوشیدہ ہے۔ حتٰی کہ ابنیائے مرسل اور ملائکہ مقرب بھی اسے نہیں جانتے۔ تاکہ ایک طرف سے تو مؤمنین کے لیے ہمیشہ کی تربیت کا ذریعہ بن جائے اور دوسری طرف منکرین کے لئے آزمائش اور اتمام حجت ہو۔ لیکن اس کے واقع ہونے میں انہیں کوئی شک نہیں ہے۔ یہیں سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ قیامت اور خدا کی عظیم عدالت پر ایمان، خاص کر اس امر کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ قیامت کسی وقت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ مومنین کی تربیت کے لئے کس قدر مؤثر ہے۔ آیت کے آخر میں ایک عمومی اعلان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا ہے۔ آ گاہ رہو! جو لوگ قیامت کے بارے میں شک کرتے ہیں اور اس کے بارے میں کٹ جحتی کرتے ہیں وہ سخت گمراہی میں ہیں (أَلَا إِنَّ الَّذِينَ يُمَارُونَ فِي السَّاعَةِ لَفِي ضَلَالٍ بَعِيدٍ)۔ کیونکہ اس دنیا کا نظام بذات خود اس بات پر دلیل ہے کہ یہ کسی اور جہان کا مقدمہ ہے کہ جس کے بغیر اس دنیا کی آفرینش لغو اور بےمعنی ہو گی جو نہ تو حکمت الہٰی سے ہم آہنگ ہے۔ اور نہ ہی اس کی عدالت سے۔ "ضلال بعید" کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کبھی کبھار انسان راہ کو گم کر بیٹھتا ہے۔ لیکن اس سے زیادہ فاصلہ نہیں ہوتا ممکن ہے۔ تھوڑی سی تلاش اور جستجو سے اسے پا لے، لیکن کبھی فاصلہ اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ راستے کی تلاش مشکل یا ناممکن ہو جاتی ہے۔ یہ بات بھی بڑی دلچسپ ہے کہ آنحضرتؐ کے بارے میں روایت ہے کہ "ایک شخص نے ایک سفر کے دوران میں آنحضرتؐ سے بلند آواز سے پوچھا: یامحمد! تو آنحضرت نے بھی بلند آواز میں فرمایا: "کیا کہتے ہو؟" اس نے کہا "متی الساعة" (قیامت کب برپا ہو گی؟) آپؐ نے فرمایا "انھا کائنة فما اعددت لھا" (قیامت تو آ کر رہے گی، لیکن تم نے اس کے لئے تیاری کی ہے۔ ) اس نے عرض کیا: "حب اللہ و رسولہ" (خدا اور رسولِ خدا سے محبت ہی میرا سارا سرمایہ ہے۔ نبی اکرمؐ نے فرمایا: "انت مع من احببت" (تم ان لوگوں کے ساتھ ہو گے جن سے محبت کرتے ہو)۔ (بحوالہ: تفسیر مراغی، جلد ۲۵، ص ۳۲)۔

19
42:19
ٱللَّهُ لَطِيفُۢ بِعِبَادِهِۦ يَرۡزُقُ مَن يَشَآءُۖ وَهُوَ ٱلۡقَوِيُّ ٱلۡعَزِيزُ
خدا اپنے بندوں کے لیے صاحب لطف و کرم ہے جسے چاہے رزق عطا کرتا ہے اور وہ طاقتور اور ناقابل تسخیر ہے ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔

20
42:20
مَن كَانَ يُرِيدُ حَرۡثَ ٱلۡأٓخِرَةِ نَزِدۡ لَهُۥ فِي حَرۡثِهِۦۖ وَمَن كَانَ يُرِيدُ حَرۡثَ ٱلدُّنۡيَا نُؤۡتِهِۦ مِنۡهَا وَمَا لَهُۥ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِن نَّصِيبٍ
جو شخص آخرت کی کھیتی کو چاہتا ہے ہم اسے برکت دیتے ہیں اور اس کے محصول میں اضافہ کر دیتے ہیں اور جو شخص دنیاوی کھیتی کا طلب گار ہے اسے اس میں سے حصہ دیتے ہیں لیکن آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہو گا۔

تفسیر دنیا اور آخرت کی کھیتی

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

گزشتہ آیات میں خداوند عالم کے سخت عذاب کی بات ہو رہی تھی اور ساتھ ہی منکرین قیامت کا یہ تقاضا بھی زیربحث آیا تھا کہ قیامت جلدی کیوں نہیں آتی؟ اب زیر نظر آیات میں سے سب سے پہلی آیت میں اس کے "قہر " کا تذکرہ اس کے "لطف" کے ساتھ ساتھ کیا گیا ہے۔ اور منکرین معاد کے قیامت کے بارے میں بےمعنی جلد بازی پر مبنی سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ خدا اپنے بندوں کے بارے میں لطیف ہے۔ اور صاحب لطف و کرم ہے۔ (اللَّهُ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ)۔ اگر وہ کہیں پر عذاب شدید کی دھمکی دیتا ہے۔ تو دوسری طرف اپنے لطف و کرم کا وعدہ بھی کرتا ہے۔ اور لطف بھی ایسا جو غیر محدود اور نہایت وسیع ہوتا ہے۔ چنانچہ اگر مغرور جاہلوں کو عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا تو یہ بھی اس کا لطف و کرم ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے لطف عمیم کے مظاہر میں سے ایک کو بیان فرماتا اور وہ ہے۔ اس کی طرف سے عطا ہونے والا رزق۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ جسے چاہے۔ رزق عطا فرماتا ہے۔ (يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ)۔ اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ کچھ لوگ اس کی روزی سے محروم ہیں بلکہ اس سے مراد رزق کی وسعت ہے کہ جسے چاہے۔ وسیع روزی عطا فرما دیتا ہے۔ جیسا کہ سورہٴ رعد کی ۲۶ ویں آیت میں فرمایا گیا ہے۔ اللہ یبسط الرزق لمن یشاء و یقدر خدا جسے چاہے۔ وسیع روزی دے دیتا ہے۔ اور جس پر چاہے۔ روزی تنگ کر دیتا ہے۔ ہر چند کہ اسی سورت کی بعد والی آیت ہے۔ وَلَوْ بَسَطَ اللَّهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الْأَرْضِ اگر خدا سب بندوں کے لئے روزی فراخ کر دے تو وہ زمین میں سرکشی کرنے لگیں۔(شوریٰ/۲٧)۔ ظاہر ہے کہ یہاں پر "روزی" کے مفہوم میں معنوی اور مادی دونوں طرح کی روزی شامل ہے۔ اور جسمانی اور روحانی روزی بھی زمرے میں آتی ہے۔ جب لطف و کرم کا مبدأ اور روزی رسان وہی ذات ہے۔ تو پھر تم بتوں کے پیچھے کیوں جاتے ہو جو نہ تو رازق ہیں اور نہ لطیف، نہ تو کسی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ نفع۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے۔ وہ طاقتور اور ناقابل تسخیر ہے۔ (وَهُوَ الْقَوِيُّ العَزِيزُ)۔ اگر وہ اپنے بندوں کے ساتھ روزی اور لطف کا وعدہ کرتا ہے۔ تو اس کا نجام دہی پر قادر بھی ہے۔ اسی لیے اس کے وعدہ کے بارے میں خلاف ورزی کا تصّور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس نکتے کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ "لطیف" کے دو معنی ہیں ایک تو وہی جو سطور بالا میں ذکر ہو چکا ہے۔ یعنی صاحب لطف و کرم اور دوسرا معنی ہے۔ باریک ترین اور مخفی ترین امور سے آگاہی رکھنے والا اور چونکہ بندوں کے بارے میں اس کی رزاقیت اس بات کی متقاضی ہوتی ہے کہ وہ اپنے تمام بندوں کی ضروریات سے اچھی طرح آگاہ ہو چاہے۔ وہ زمین میں ہیں یا آسمان میں۔ لہٰذا آیت کے آغاز میں اپنے لطیف ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پھر اپنی رزاقیت کے مقام کو بیان فرماتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سورہٴ ہود کی چھٹی آیت میں فرماتا ہے۔ "روئے زمین پر تمام چلنے والوں کی روزی خدا کے ذمہ ہے۔ اس کے بعد پھر فرماتا ہے۔ وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا وہ ان کے ٹھکانوں اور آمد و رفت کے مقامات کو بھی جانتا ہے۔ البتہ ان دونوں معانی میں نہ صرف تناقض نہیں بلکہ یہ ایک دوسرے کی تکمیل بھی کرتے ہیں۔ لطیف وہ ہوتا ہے۔ جوعلم اور آگاہی کے لحاظ سے بھی کامل ہو اور بندوں کے حق میں لطف و کرم کی رو سے بھی مکمل ہو۔ چونکہ خداوند عالم اپنے بندوں کی ضروریات سے بخوبی آگاہ بھی ہے۔ اور بہترین طریقے سے ان کی ضروریات کو پورا بھی فرماتا ہے۔ لہٰذا سب سے بڑھ کر یہ نام اسی کے شایان شان ہے۔ بہرحال، مندرجہ بالا آیت میں خدا کے اوصاف میں سے چار کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ لطف، رازقیت، قوت اور عزت اور یہی چیز اس کی "ربوبیت" کی بہترین دلیل ہے۔ کیونکہ "رب" (مالک و مدبر) کو ان صفات کا حامل ہونا چاہیے۔ بعد کی آیت میں ایک لطیف تشبیہ کے ذریعے دنیا والوں کو خدا کی روزی سے استفادہ کرنے کے لحاظ سے ایسے کسانوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جن میں سے کچھ تو آخرت کے لیے کھیتی باڑی کرتے ہیں اور کچھ دنیا کے لئے اور پھر ان دونوں زراعتوں کا نتیجہ واضح طور پر بیان فرمایا گیا ہے۔ جو شخص آخرت کی زراعت کا طلب گار ہے۔ ہم اسے برکت دیں گے اوراس کے محصولات میں اضافہ کریں گے (مَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ)۔ اور جو لوگ صرف دنیا کے لئے کاشت کرتے ہیں اور ان کے پیش نظر بھی صرف یہی فانی دنیا اور اس کا مال و متاع ہے۔ تو اس میں سے کچھ حصہ ہم انہیں دیں گے لیکن آخرت میں انہیں کچھ بھی نصیب نہیں ہو گا (وَمَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِن نَّصِيبٍ)۔ (تشریحی نوٹ: راغب نے مفردات میں لفظ "حرث" کے بارے میں لکھا ہے کہ "حرث" دراصل زمین میں بیچ ڈالنے اور زمین کو کھیتی باڑی کے لئے تیار کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ اور قرآن مجید میں بھی کئی مرتبہ یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ لیکن معلوم نہیں کہ بعض مفسرین نے اس سے "عمل اور کام" کیونکر مراد لیا ہے۔ یہ ایک عمدہ تشبیہ اور خوبصورت کنایہ ہے۔ تمام انسان کسان ہیں اور یہ دنیا ایک کھیتی ہے۔ ہمارے اعمال اس کا بیج ہیں۔ خدائی ذرائع بارش کے مانند ہے۔ جو اس پر برستی ہے۔ لیکن یہ بیج مختلف ہوتے ہیں بعض بیج تو ایسے ہوتے ہیں جن کا محصول غیر محدود اور جاودانی ہوتا ہے۔ اس کے پودے ہمیشہ سرسبز و شاداب اور ثمرات سے معمور ہوتے ہیں۔ جب کہ کچھ بیج ایسے ہوتے ہیں جن کا محصول بہت کم، زندگی مختصر اور پیداوار کڑوی اور ناخشگوار ہوتی ہے۔ "یرید" (چاہتا ہے۔ ارادہ کرتا ہے۔ کی تعبیر درحقیقت لوگوں کی نیتوں کی مختلف ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ اور یہ آیت گزشتہ آیت میں مجموعی طور پر پروردگار عالم کی عطا کردہ روزی اور نعمتوں کے بارے میں اس کی شرح ہے کہ کچھ لوگ تو ان نعمتوں سے بیج کی صورت میں آخرت کے لئے استفادہ کریں گے اور کچھ لوگ صرف دنیاوی فائدہ اٹھائیں گے۔ یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہو گی کہ آخرت کے زراعت کاروں کے لیے ہے۔ "نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ" (ہم اس کی زراعت میں اضافہ کر دیں گے) لیکن یہ نہیں کہا کہ وہ دنیاوی متاع سے محروم جائیں گے۔ لیکن دنیاوی کسانوں کے بارے میں ہے۔ "جو وہ چاہیں گے اس میں سے کچھ انہیں دیں گے" پھر فرمایا گیا ہے۔ آخرت میں ان کا کوئی حصّہ نہیں ہو گا۔ اس طرح سے نہ تو دنیا پرست اپنی آرزو کو پہنچ پائیں گے اور نہ ہی آخرت کے طلب گار دنیا سے محروم رہ جائیں گے لیکن فرق یہ ہو گا کہ دنیا کے طلب گار خالی ہاتھ آخرت کو سدھاریں گے اور آخرت کے خواہاں بھرے دامن کے ساتھ وہاں پہنچیں گے۔ اسی سے ملتی جلتی سورہٴ بنی اسرائیل کی ۱۸ ویں اور ۱۹ ویں آیت دوسری صورت میں بیان ہوئی ہیں: ارشاد ہوتا ہے: مَّن كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلاَهَا مَذْمُومًا مَّدْحُورًاo وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا "یعنی جو شخص اس جلد گزر جانے والی زندگی کو پسند کرتا ہے۔ ہم جتنی مقدار جس شخص کے لئے چاہیں اسے دے دیتے ہیں۔ پھر اس کے لئے جہنم قرار دیتے ہیں۔ وہ اس میں ایسی صورت میں داخل ہو گا جب کہ قابل مذمت اور راندہ درگاہ ہو گا اور جو شخص سرائے آخرت کا طلبگار ہے۔ اور اپنی کوشش بھی اسی کے لئے صرف کرتا ہے۔ اور ایما ن بھی رکھتا ہے۔ اس کی کوششوں کو سراہا جائے گا اور اسے بدلہ دیا جائے گا۔" "نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ" کی تعبیر قرآن مجید کی دیگر آیات سے ہم آہنگ ہے۔ جو اس بارے میں بیان ہوئی ہیں۔ ان میں سے سورہٴ انعام کی آیت ۱۶۰ میں ہے۔ مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا "جو نیک کام انجام دے اس کا دس گنا ثواب ہے۔ " سورہ فاطر کی آیت ۳۰ میں ہے۔ لِيُوَفِّيَهُمْ أُجُورَهُمْ وَيَزِيدَهُم مِّن فَضْلِهِ "خدا انہیں مکمل جزا دے گا اور اپنے فضل و کرم کی وجہ سے اس میں مزید اضافہ کر دے گا۔" بہرحال، زیر بحث آیت دنیاوی زندگی کے بارے میں اسلامی نکتہ نظر کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ جو دنیا مطلوب بالذات ہے۔ وہ ناپسندیدہ ہے۔ اور جو دنیا دوسرے جہان کے لیے مقدمہ اور مطلوب بالغیر ہے۔ اسلام اس دنیا کو ایک ایسی کھیتی کی حیثیت سے دیکھتا ہے۔ جس کا ثمر قیامت میں ملے گا۔ روایات اور قرآن مجید کی بعض دیگر آیات میں جو تعبیرات بیان ہوئی ہیں وہ اسی معنی کی تائید اور تاکید کرتی ہیں۔ مثلاً سورہٴ بقرہ کی ۲۶۱ ویں آیت میں راہ خدا میں خرچ کرنے والوں کے خرچ کو اس بیچ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جس سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو سو دانے ہوں اور اس سے بھی بیشتر، اور یہ آخرت میں اجرِ جزیل کی علامت ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک حدیث میں ہے۔ و ھل تکبّ الناس علی مناخرھم فی النار الاحصائد السنتھم آیا لوگوں کو جہنم میں منہ کے بل ڈالنے والی چیزیں سوائے زبان کے بوئے کا کاٹنے کے کچھ اور ہو سکتا ہے۔ (بحوالہ: محجتہ البیضاء، جلد ۵، ص ۱۹۳ (کتاب آفات اللسان))۔ امیر المؤمنین علی علیہ السلام سے منقول ہے۔ ان المال والبنین حرث الدنیا، والعمل الصالح حرث الاٰخرة و قد یجمعھما اللہ لاقوام مال اور اولاد دنیا کی کھیتی ہیں اور عمل صالح آخرت کی اور کبھی بعض قوموں کے لئے اللہ ان دونوں کو جمع کر دیتا ہے۔ (بحوالہ: کافی (نور الثقلین، جلد ۴، ص ۵۶۹ کے مطابق))۔ آیت مذکورہ بالا سے یہ نکتہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ دنیا اور آخرت دونوں کے لیے سعی اور کوشش کی ضرورت ہے۔ اور کوئی بھی مشقت اور تکلیف اٹھائے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔ جس طرح کوئی بیج تکلیف اٹھائے بغیر محصول نہیں دیتا۔ لہٰذا کیا ہی بہتر ہے کہ انسان رنج و مشقت کے ذریعہ ایسے درخت کو پروان چڑھائے جس کا ثمر میٹھا، مستقل، دائم اور برقرار ہو نہ کہ ایسا درخت جو خزاں میں خشک ہو کر تباہ ہو جائے۔ ہم اس گفتگو کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس فرمان کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں: من کانت نیتہ الدنیا فرق اللہ علیہ امرہ، و جعل الفقر بین عینیہ، ولم یأیہ من الدنیا الاّ ما کتب لہ، و من کانت نیتہ الاٰخرة جمع اللہ شملہ، و جعل غناہ فی قلبہ، واتتہ الدنیا وھی راغمة جس شخص کی نیت دنیا ہو خدا اس کے امور کو دگرگون کر دیتا ہے۔ فقر و تنگدستی کو اس کی آنکھوں کے سامنے مجسم کر دیتا ہے۔ اور اس کے پاس، دنیاوی حصے میں سے وہی کچھ آ کر رہتا ہے۔ جو اس کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ اور جس کی نیت آخرت کا جہان ہو خدا کے منتشر امور کو بھی یکجا کر دیتا ہے۔ اس کے دل کو تونگری اور بےنیازی سے معمور کر دیتا ہے۔ اور دنیا سرجھکائے اس کے پاس آ جاتی ہے۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر مجمع البیان انہی آیات کے ذیل میں)۔ یہ جو علماء کے درمیان مشہور ہے کہ "الدنیا مزرعة الاخرة" (دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ درحقیقت مندرجہ بالا فرمان ہی سے حاصل شدہ ہے۔

21
42:21
أَمۡ لَهُمۡ شُرَكَـٰٓؤُاْ شَرَعُواْ لَهُم مِّنَ ٱلدِّينِ مَا لَمۡ يَأۡذَنۢ بِهِ ٱللَّهُۚ وَلَوۡلَا كَلِمَةُ ٱلۡفَصۡلِ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡۗ وَإِنَّ ٱلظَّـٰلِمِينَ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ
آیا ان کے ایسے معبود ہیں جنہوں نے خدا کی اجازت کے بغیر ان کے لیے کوئی دین بنادیا ہے ؟ اگر ان کے لیے ایک مہلت مقرر نہ ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ ہو چکا ہو تا اور خدا کے عذاب کا حکم نازل ہو چکا ہوتا اور ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔

22
42:22
تَرَى ٱلظَّـٰلِمِينَ مُشۡفِقِينَ مِمَّا كَسَبُواْ وَهُوَ وَاقِعُۢ بِهِمۡۗ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ فِي رَوۡضَاتِ ٱلۡجَنَّاتِۖ لَهُم مَّا يَشَآءُونَ عِندَ رَبِّهِمۡۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَضۡلُ ٱلۡكَبِيرُ
اس دن تو ظالموں کو دیکھے گا کہ وہ اپنے انجام دیئے ہوئے اعمال کی وجہ سے سخت خائف ہوں گے لیکن وہ انہیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا لیکن جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے عمل صالح بھی انجام دیئے وہ بہشت کے بہترین باغوں میں ہوں گے اور جو کچھ بھی وہ چاہیں گے ان کے پروردگار کے پاس ان کے لیے فراہم ہے اوریہی فضل عظیم ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔

23
42:23
ذَٰلِكَ ٱلَّذِي يُبَشِّرُ ٱللَّهُ عِبَادَهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِۗ قُل لَّآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ أَجۡرًا إِلَّا ٱلۡمَوَدَّةَ فِي ٱلۡقُرۡبَىٰۗ وَمَن يَقۡتَرِفۡ حَسَنَةٗ نَّزِدۡ لَهُۥ فِيهَا حُسۡنًاۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ شَكُورٌ
یہ وہی چیز ہے جس کی خدا اپنے ان بندوں کو خوشخبری دیتا ہے جو ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے عمل صالح انجام دیئے ہیں کہہ دے میں تم سے رسالت کا کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے اپنے قریبیوں کی دوستی کے جو شخص نیک عمل انجام دے گا ہم اس کی نیکی میں اضافہ کریں گے۔ کیونکہ خداوندعالم بخشنے والا اور قدردان ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر مجمع البیان میں اس سورت کی ۲۳ ویں تا ۲۶ ویں آیت کی شان نزول پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں مروی ہے۔ جس کا خلاصہ اس طرح ہے۔ "جب پیغمبر اسلامؐ مدینہ تشریف لا چکے اور اسلام کی بنیادیں مضبوط ہو گئیں تو انصار نے کہا کہ ہم رسول اللہ کی خدمت میں جا کر عرض کرتے ہیں کہ اگر آپ کو مالی مشکلات درپیش ہیں تو ہمارے یہ مال غیر مشروط طور پر آپؐ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ جب آنحضرتؐ نے ان کی باتیں سُن لیں تو یہ آیت نازل ہوئی "قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى" کہہ دیجئے کہ میں تم سے اپنی رسالت کا اجر نہیں مانگتا مگر یہ کہ میرے نزدیکیوں سے محبت کرو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت انہیں سنائی اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ میرے بعد میرے قریبیوں سے محبت کرنا۔ یہ سُن کر وہ خوشی خوشی وہاں سے واپس آ گئے، لیکن منافقین نے یہ شوشہ چھوڑ دیا کہ یہ بات (معاذ اللہ) رسول نے از خود کہی ہے۔ اور خدا پر جھوٹ باندھا ہے۔ اور اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے بعد ہمیں اپنے رشتہ داروں کے آگے ذلیل و رسوا کرے۔ چنانچہ اس کے بعد اگلی آیت نازل ہوئی "أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا..." جو ان لوگوں کا جواب تھا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی کو بھیج کر یہ آیت انہیں سنائی۔ کچھ لوگ نادم ہو کر رونے لگے اور سخت پریشان ہوئے آ خرکار اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی جس میں کہا گیا ہے۔ "وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ..." آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر کسی کو بھیج کر یہ آیت ان تک پہنچائی اور انہیں خوشخبری دی کہ ان کی خالص توبہ قبول بارگاہ ہو چکی ہے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۹، ص ۲۹)۔

تفسیر مودّت اہل بیتؑ اجرِ رسالت ہے

اسی سورت کی ۱۴ ویں آیت میں ذکر تھا دین کا تعین پروردگار عالم کی طرف سے اور تبلیغ کا اور الوا العزم ابنیاء کے ذریعے ہوتا ہے۔ اب مذکورہ بالا آیات میں سے پہلی آیت میں اس تعین کی غیر خدا سے نفی کی بات ہو رہی ہے۔ اور یہ بتایا جا رہا ہے کہ قانونِ الہٰی کے مقابلے میں کسی اور قانون کو کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ بلکہ اصولی طور پر قانون گزاری کا حق ہی صرف خدا کو حاصل ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: آیا ان کے ایسے معبود ہیں جنہوں نے خدا کی اجازت کے بغیر ان کے لئے کوئی دین بنا دیا ہے۔ (أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ)۔ جبکہ کائنات ک خالق، مالک اور مدبر صرف خدا ہے۔ لہٰذا قانون گزاری کا حق بھی صرف اسے حاصل ہے۔ اور اس کی اجازت کے بغیر کوئی شخص بھی اس کی اس قلمر و میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ لہٰذا اس کی قانون سازی کے مقابلے میں جو کچھ بھی ہو گا وہ باطل ہو گا۔ اس کے فوراً بعد باطل قانون سازوں کو دھمکی اور تنبیہ کے لہجے میں خبردار کیا جا رہا ہے۔ اگر ان لوگوں کو مہلت دینے کے بارے میں خدا کا فرمانِ حق نہ ہوتا اور ان کے لیے مہلت مقرر نہ ہو چکی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ ہو چکا ہوتا۔ ان کے لئے عذاب کا حکم آ چکا ہوتا اور انہیں کسی قسم کی مہلت نہ ملتی (وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ)۔ اس کے باوجود انہیں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیئے کہ "ظالموں کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ (وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ)۔ "كَلِمَةُ الْفَصْلِ" سے مراد وہ مقررہ مہلت ہے۔ جو خدا نے انہیں دی ہے۔ تاکہ وہ آزادی سے کام کریں اور ان پر اتمام حجت ہو جائے۔ خدائی قوانین کے مقابلے میں اپنے خود ساختہ قوانین اپنانے والے مشرکین پر "ظالمین" کا اطلاق اس لیے کیا گیا ہے کہ "ظلم" کے مفہوم میں اس قدر وسعت ہے کہ اس کا اطلاق ہر اس کام پر ہوتا ہے۔ جو بےموقع و محل انجام دیا جائے "عَذَابٌ أَلِيمٌ" سے بظاہر مراد روز قیامت کا عذاب ہے۔ کیونکہ قرآن مجید میں عام طور پر " عَذَابٌ أَلِيمٌ" اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اور بعد کی آیت سے بھی اسی حقیقت کی گواہ ہے۔ اور قرطبی جیسے بعض مفسرین نے جو اس دنیا اور آخرت کا عذاب مراد لیا ہے۔ بعد معلوم ہوتا ہے۔ پھر"ظالمین کے لئے عذاب" اور ان کی مقابلے میں "مؤمنین کی جزا" کی کچھ مزید وضاحت فرماتے ہوئے کہا گیا ہے۔ اس دن آپ ظالموں کو دیکھیں گے کہ وہ اپنے انجام دیئے گئے اعمال سے سخت خائف ہوں گے، لیکن اس کا کیا فائدہ ان کے اعمال کی سزا انہیں مل کر رہے گی (تَرَى الظَّالِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا كَسَبُوا وَهُوَ وَاقِعٌ بِهِمْ)۔ لیکن جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے نیک اعمال انجام دیئے وہ بہشت کے بہترین اور سرسبز و شاداب باغات میں ہوں گے (وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فِي رَوْضَاتِ الْجَنَّاتِ)۔ "روضات"، "روضة" کی جمع ہے۔ جس کا معنی ہے۔ ایسی جگہ ہے۔ جہاں پانی اور درخت وافر مقدار میں ہوں۔ لہذا سرسبز و شاداب باغات کو "روضة" کہا جاتا ہے۔ اس تعبیر سے یہ بات بخوبی سمجھی جا سکتی ہے کہ بہشت کے باغات بھی مختلف ہیں اور صالح مؤمنین کی رہائش بہشت کے بہترین باغات میں ہو گی۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ جب گناہگار مؤمنین کو خدا کی طرف سے معافی ملے گی تو وہ بہشت میں تو ضرور جائیں گے مگر ان کی جگہ "روضات" نہیں ہو گی۔ جبکہ صالح مؤمنین کے بارے میں خداوند عالم کا فضل و کرم یہیں پر ختم ہو جاتا۔ ان پر خدا کی اس قدر مہربانی ہو گی کہ جو کچھ بھی چاہیں گے ان کے پروردگار کے پاس ان کے لیے سب کچھ فراہم ہو گا (لَهُم مَّا يَشَاؤُونَ عِندَ رَبِّهِمْ)۔ گویا ان کے "عمل" اور "جزا" کا کوئی تقابل نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ "لَهُم مَّا يَشَاؤُونَ" کا جملہ اس حقیقت کا ترجمان ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر دلچسپ بات “عندر بھم" (ان کے پروردگار کے پاس) کی تعبیر ہے۔ جو مؤمنین کے بارے میں خداوند عالم کے بےحد و حساب لطف و کرم کو بیان کر رہی ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا مہربانی ہو سکتی ہے کہ انہیں خدا کا قرب حاصل ہو گا۔ جیسا کہ شہداء کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ (سورہ آل عمران۔۱٦٩)۔ اور صالح مؤمنین کے بارے میں فرماتا ہے۔ لَهُم مَّا يَشَاؤُونَ عِندَ رَبِّهِمْ چنانچہ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے۔ یہ ہے۔ خدا کا بہت بڑا فضل (ذَلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الكَبِيرُ)۔ ہم کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کی نعمتیں اس قدر وسیع و عظیم ہیں کہ قلم و زبان ان کے بیان سے قاصر ہیں اور ہم مادی دنیا کے اسیروں کے لیے اس کا تصور بھی محال ہے۔ ہم سمجھ سکیں کہ "لَهُم مَّا يَشَاؤُونَ عِندَ رَبِّهِمْ" کے جملے میں کیا کیا مفہوم پوشیدہ ہیں؟ مؤمنین کیا چاہیں گے اور خداوند عالم کے قرب میں انہیں کیا کچھ ملے گا؟ اصولی طور پر خداوند عالم جس چیز کی فضل کبیر کے عنوان سے توصیف کرے صاف ظاہر ہے کہ وہ چیز اس قدر عظمت کی مالک ہو گی کہ ہم جس قدر بھی اس کا تصور کریں پھر بھی ہمارا طائر خیال وہاں تک نہیں پہنچ سکتا۔ دوسرے لفظوں میں خدا کے ان خاص بندوں کا مرتبہ قدر بلند ہو گا کہ وہ جس چیز کا ارادہ کریں گے وہ چیز فوراً مہیا ہو جائے گی۔ گویا وہ اس خداوند عالم کی اس لامتناہی قدرت کے آئینہ دار ہوں کے جو فرماتا ہے۔ إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (یٰس۔۸۲) اور اس سے بڑھ کر اور کیا فضیلت ہو سکتی ہے۔ اس عظیم جزا کی عظمت کو بعد کی آیت میں بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ یہ وہی چیز ہے۔ جس کی خوشخبری خدا نے اپنے ان بندوں کو دی ہے۔ جو ایمان لے آئے اور عمل صالح بجا لائے ہیں (ذَلِكَ الَّذِي يُبَشِّرُ اللَّهُ عِبَادَهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ)۔ وہ خشخبری دیتا ہے۔ تاکہ اطاعت اور بندگی کرتے ہوئے اور خواہشات نفسانی سے مقابلے کے دوران اور دشمنوں سے جہاد کرتے ہوئے وہ جن مشکلات سے گزریں انہیں خوشی سے جھیل لیں اور وہ اس عظیم جزا کی وجہ سے خداوند کریم کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے زندگی کے نشیب و فراز والے راستوں میں زیادہ سے زیادہ ہمت و طاقت کا مظاہرہ کریں۔ چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تبلیغ رسالت کی وجہ سے یہ خیال لوگوں کے دل میں آ سکتا تھا کہ آپؐ اپنی رسالت کی تبلیغ کا لوگوں سے اجر طلب فرمائیں گے۔ اسی بارے میں فوراً پیغمبر اکرمؐ کو حکم دیا گیا ہے کہ "کہہ دے! میں اس بارے میں تم سے کچھ نہیں مانگتا مگر یہ کہ میرے قریبیوں کے ساتھ محبت کرو" (قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى)۔ ذوی القربیٰ کی دوستی جیسا کہ آگے چل کر بیان ہو گا ولایت کے مسئلے اور خاندان رسالت میں سے ہونے والے آئمہ معصومین کی پیشوائی اور رہبری کی طرف لوٹ جاتی ہے۔ جو درحقیقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رہبری اور ولایت الہٰیہ کے تسلسل کے مترادف ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اس ولایت اور رہبری کو تسلیم کرنا ایسا ہے۔ جیسا کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت و نبوت کو تسلیم کرنا، جو کہ انسان کی اپنی سعادت کا ذریعہ ہوتا ہے۔ اور اس کا نتیجہ خود انسان کی طرف ہی لوٹ جاتا ہے۔

مودّت فی القربیٰ کی وضاحت

اس جملہ کے بارے میں مفسرین نے لمبی جوڑی گفتگو اور خوب بحث کی ہے۔ اور جب ہم خالی الذہن ہو کر ان کے پہلے سے طے شدہ فیصلے کے تحت بیان کردہ تفاسیر کی طرف نگاہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ مختلف عوامل اور اسباب کی وجہ سے آیت کے اصلی مفہوم سے ہٹ گئے ہیں اور انہوں نے ایسے احتمالات کو اپنایا ہے۔ جو نہ تو آیت کے مفہوم سے مطابقت رکھتے ہیں نہ شان نزول سے اور نہ ہی دوسرے تاریخی اور روایاتی قرائن سے۔ اس سلسلے میں تقریباً چار مشہور تفسیریں بیان ہوئی ہیں: ۱ ۔ جیسا کہ اشارہ ہو چکا ہے کہ ذوی القربی سے مراد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہل بیت ہیں اور ان کی محبت ائمہ معصومین علیہم السلام کی امامت اور رہبری کو تسلیم کرنے کا ایک ذریعہ اور فریضے کی ادائگی کی ضمانت ہے۔ اس معنی کو بہت سے قدیمی مفسرین اور تمام شیعہ مفسرین نے اپنایا ہے۔ شیعہ، سنی دونوں کی طرف سے اس بارے میں بہت سی روایات منقول ہوئی ہیں جن کی طرف ہم بعد میں اشارہ کریں گے۔ ۲۔ دوسری تفسیر کے مطابق مراد یہ ہے کہ رسالت کا اجر یہی ہے کہ تم ان چیزوں کو دوست رکھو جو تمہیں "خدا کے قرب" کی دعوت دیتی ہیں۔ اس تفسیر کو بعض اہلسنت مفسرین نے اپنایا ہے۔ جو کسی بھی لحاظ سے آیت کے ظاہر ی مفہوم سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ کیونکہ اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہو گا کہ میں تم سے یہ چاہتا ہوں کہ تم خدا کی اطاعت کو دوست رکھو اور اس کی محبت کو دل میں جگہ دو، جبکہ کہنا یہ چاہیے تھا کہ میں تم سے خدا کی اطاعت کو چاہتا ہوں (نہ کہ اطاعت الہٰی کی محبت) اس کے علاوہ آیت کے مخاطب افراد میں کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو خدا کا قرب نہ چاہتا ہو، حتٰی کہ مشرکین بھی اس بات کے خواہش مند تھے کہ خدا نزدیک ہوں اور اصولی طور پر وہ بتوں کی پرستش کو اسی بات کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ ۳۔ تیسری تفسیر کے مطابق مراد یہ ہے کہ تم اجر رسالت کے طور پر اپنے قریبی رشتہ داروں کو دوست رکھو اور صلہ رحمی بجا لاؤ۔ اس تفسیر میں رسالت اور اجر رسالت کے درمیان کوئی مناسبت نظر نہیں آتی کیونکہ اپنے رشتہ داروں سے دوستی کرنے سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کونسی خدمت ہو سکتی ہے۔ اور پھر یہ دوستی کس طرح اجر رسالت قرار پا سکتی ہے۔ ۴۔ چوتھی تفسیر کے مطابق مراد یہ ہے کہ تم سے جو میری قرابت ہے۔ اس کی حفاظت کرو اور اسے محفوظ رکھو۔ یہی مری رسالت کا اجر ہے۔ چونکہ میرا، تمہارے اکثر قبائل سے رشتہ ہے۔ لہٰذا مجھے تکلیف نہ پہنچایا کرو (کیونکہ آنحضرت کا نسبی لحاظ سے قریش کے قبائل سے رشتہ تھا اور سببی (از دواجی) لحاظ سے بہت سے قبائل سے تعلق تھا نیز مادی لحاظ سے مدینہ بنی نجار کے متعدد لوگوں سے اور رضاعی ماں کے لحاظ سے قبیلہ بنی سعد سے آپؐ کا رشتہ تھا۔ یہ تعبیر تمام معنوں میں سے بدترین معنی ہے۔ جو آیت کے لیے کیا جاتا ہے۔ کیونکہ اجر رسالت کا تقاضا ان لوگوں سے کیا جاتا ہے۔ جو آپؐ کی رسالت کو قبول کر چکے ہیں جب یہ لوگ آپ کی رسالت کو قبول کر چکے ہیں تو پھر ان سے اس قسم کی خواہش کا اظہار غیر ضروری معلوم ہوتا ہے۔ یہ لوگ آنحضرت کا بحیثیت رسول اللہ احترام کیا کرتے تھے۔ پھر کیا ضرورت تھی کہ وہ آپؐ کا بحیثیت نسبی یا سببی رشتہ دار کے احترام کریں، کیونکہ رسالت کی وجہ سے کیا جانے والا احترام دوسرے تمام اسباب و وجوہات سے بالا تر ہوتا ہے۔ درحقیقت اس تفسیر کا شمار بہت بڑی غلطیوں میں سے ہوتا ہے۔ جو بعض مفسرین سے سرزد ہوئی ہے۔ اور اس نے آیت کے مفہوم کو مکمل طور پر مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔ یہاں پر آیت کے مضمون و مفہوم کی حقیقت سے خوب آگاہی کے لئے بہترین راہ یہ ہے کہ قرآن مجید کی دوسری آیات سے امداد حاصل کریں۔ قرآن مجید کی بہت سی آیات میں ہم پڑھتے ہیں کہ: انبیاء کرام فرماتے تھے: وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (سورہ شعراء آیت۱۰٩۔ آیت ۱۲٧۔آیت ۱۴۵۔آیت ۱٦۴۔آیت ۱۸۰)۔ دعوت رسالت کے بدلے ہم تم سے کوئی اجر نہیں مانگتے، ہمارا اجر تو صرف پروردگار عالم کے پاس ہے۔ اور خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات کے بارے میں بھی مختلف تعبیریں دیکھی جا سکتی ہیں۔ کہیں ارشاد ہوتا ہے: قُلْ مَا سَأَلْتُكُم مِّنْ أَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ "کہہ دے میں نے جو بھی اجر رسالت تم سے طلب کیا ہے۔ وہ صرف تمہارے ہی فائدہ کے لئے ہے۔ اور میرا اجر تو صرف خدا کی ذات پر ہے۔ " (سباء / ۴۷)۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے: قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِلَّا مَن شَاءَ أَن يَتَّخِذَ إِلَى رَبِّهِ سَبِيلًا "کہہ دے میں تبلیغ رسالت کے بدلے تم سے کچھ بھی اجر نہیں مانگتا مگر جو لوگ پروردگار کے راستے کو اختیار کریں۔ (فرقان / ۵۷)۔ اور آخر میں ایک اور آیت: قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ "کہہ دے: مَیں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ ہی تم پر کوئی بوجھ ڈالتا ہوں۔ (ص/ ۸۶)۔ جب ہم ان تینوں آیات کو زیر بحث آیت کے ساتھ ملا کر دیکھتے ہیں تو نتیجہ نکالنا آسان ہو جاتا ہے۔ ایک مقام پر تو اجر اور اجرت کی بالکل نفی کی گئی ہے۔ دوسرے مقام پر فرماتے ہیں میں اجر رسالت صرف ان لوگوں سے مانگتا ہوں جو خدا کی راہ کو اپناتے ہیں۔ تیسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے: میں تم سے جو بھی اجر مانگتا ہوں وہ صرف اور صرف تمہارے فائدہ کے لیے ہے۔ اور زیر نظر آیات میں فرماتے ہیں: میرے قریبیوں سے مودت ہی میری رسالت کا اجر ہے۔ یعنی: میں نے تم سے ایسا اجر رسالت طلب کیا ہے کہ جس کی یہ خصوصیات ہیں کہ یہ بالکل ایسی چیز نہیں ہے۔ جس کا فائدہ مجھے پہنچنے، بلکہ اس کا سو فیصد فائدہ خود تمہیں ہی ملے گا اور یہ ایسی چیز ہے۔ جو خدا تک پہنچنے کے لیے تمہاری راہ ہموار کرتی ہے۔ اس لحاظ سے کیا اس کا اس کے علاوہ کوئی مفہوم ہو سکتا ہے کہ رسول اللہؐ کے مکتب کے راستے کو ان ہادیانِ الہٰی اور آپؐ کے معصوم جانشینوں کے ذریعے تسلسل بخشا جائے کہ جو تمام تر آپؐ کے خاندان میں سے ہوں۔ اور چونکہ مودت کا مسئلہ اس تسلسل اور رابطے کی بنیاد ہے۔ لہٰذا اس آیت میں صراحت اور وضاحت کے ساتھ اس کا ذکر ہوا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی آیت "مود ت فی القربیٰ" کے علاوہ قرآن مجید میں اور پندرہ مقامات پر "القربیٰ" کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جو ہر جگہ پر قریبیوں اور نزدیکیوں کے معنی میں ہے۔ پھر معلوم نہیں کہ بعض لوگ اس بات پر کیوں اصرار کرتے ہیں کہ صرف اسی آیت میں "قربیٰ" کو "تقرب الی اللہ" کے معنی میں منحصر کر دیا جائے اور اس کے واضح اور ظاہر معنی کو جو کہ قرآن میں ہر جگہ استعمال ہوا ہے۔ صرف نظر کر دیا جائے۔ پھر یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ اسی زیر بحث آیت کے آخر میں آیا ہے۔ جو شخص نیک عمل بجا لائے تو ہم اس کی نیکیوں میں اضافہ کریں گے کیونکہ خدا بخشنے والا اور شکر گزار ہے۔ اور بندوں کے اعمال کی مناسب جزا عطا فرماتا ہے۔ (وَمَن يَقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهُ فِيهَا حُسْنًا إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ شَكُورٌ)۔ اس سے بڑھ کر اور کیا نیکی ہو سکتی ہے کہ انسان ہمیشہ خدائی رہبروں کے پرچم تلے رہے ان کی محبت کو دل میں جگہ دے، ان کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل پیرا ہو، کلام الہٰی کے سمجھنے میں جہاں ابہام پیدا ہو وہاں ان سے وضاحت حاصل کرے، ان کے اعمال کو اپنے لیے معیار عمل قرار دے اور خود ان کی ذات کو اپنے لیے اسوہ اور نمونہ قرار دے۔

مودت فی القربیٰ روایات کی نظر سے

مندرجہ بالا آیت کی اس تفسیر پر شاہد ناطق وہ بہت سی روایات ہیں جو شیعہ اور سنی کتب میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان نقل ہوئی ہیں اور پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ "قربیٰ" سے مراد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیکی اور مخصوص لوگ ہیں۔ نمونے کے طور پر: ۱۔ احمد نے "فضائل الصحابہ" میں اسناد کے ساتھ سعید بن جیر سے اور انہوں نے عامر سے یوں روایت نقل کی ہے۔ لما نزلت قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى ، قالوا: یا رسول اللہ! من قرابتک؟ من ھٰؤ لاء الذین وجبت علینا مودّتھم؟ قال:علی و فاطمة و ابناھما (علیھم السلام) وقالھا ثلاثاً۔ جب آیت "قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى" نازل ہوئی تو اصحاب نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ کے وہ نزدیکی کون لوگ ہیں کہ جن کی مودت ہم پر واجب ہوئی ہے۔ تو آپ نے ارشاد فرمایا علی، فاطمہ اور اُن کے دو بیٹے ہیں۔ اور اس بات کو آپ نے تین مرتبہ دہرایا۔ (تشریحی نوٹ: "احقاق الحق" جلد ۳، ص ۲، نیز قرطبی نے بھی اسی روایت کو اسی آیت کے ذیل میں درج کیا ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر قرطبی، جلد ۸ ، ص ۵۸۴۳)۔ ۲۔ "مستدرک الصحیحیں" میں امام علی بن الحسین (زین العابدین) علیہ السلام سے منقول ہے کہ امیر المؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کی شہادت کے بعد امام حسین علیہ السلام نے لوگوں سے جو خطاب فرمایا اس کا ایک حصّہ یہ بھی ہے۔ انا من اھل البیت الذین افترض اللہ مودّتھم علٰی کل مسلم فقال تبارک و تعالیٰ لنبیہ (ص) قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى ومن یقترف حسنة نزدلہ فیھا حسناً فاقتراف الحسنة مودتنا اھل البیت میں اس خاندان میں سے ہوں خدا نے جس کی مودت ہر مسلمان پر فرض کر دی ہے۔ اور اپنے رسول سے فرمایا ہے۔ " قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى ---" اور نیکی کمانے سے خدا کی مراد ہم اہلبیت کی مودت ہے۔ (بحوالہ: "متدرک الصحیحین" جلد ۳، ص ۱٧۲۔ محب الدین طبرسی نے بھی اسی حدیث کو اپنی کتاب "ذخائر العقبٰی" کے ص ۱۳۷ میں اور ابن حجر مکی نے اپنی کتاب "صواعق محرقہ" میں نقل کیا ہے۔ ملاحظ ہو ص ۱۰۱)۔ ۳۔ "سیوطی" نے "درمنثور" میں اسی آیت کے ذیل میں مجاہد سے، انہوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ "قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى" کی تفسیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ان تحفظونی فی اھل بیتی و تودوھم بی یراد یہ ہے کہ تم میرے حق کی میرے اہلبیت علیہم السلام کے بارے میں حفاظت کرو اور میری وجہ سے ان سے محبت کرو۔ (بحوالہ: تفسیر درمنثور، جلد ۶ ۷، اسی آیت کے ذیل میں)۔ یہاں سے یہ بات بھی اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ ابن عباس سے جو ایک اور روایت نقل ہوئی ہے۔ وہ مسلم نہیں ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عرب قبائل سے قرابت کی وجہ سے انہیں تکلیف نہ دی جائے کیونکہ جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے۔ ابن عباس سے اس کے خلاف روایت نقل ہوئی ہے۔ ۴۔ ابن جریر طبری نے اپنی تفسیر میں اپنی اسناد کے ساتھ سعید بن جبیر سے اور دوسری اسناد کے ساتھ عمر بن شعیب سے نقل کیا ہے کہ اس آیت سے مراد ھی قربیٰ رسول اللہ رسول خدا کے نزدیکی افراد ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر طبری، جلد ۲۵، ص ۱۶.۱۷)۔ ۵۔ مشہور مفسرین مرحوم طبرسی رحمتہ اللہ علیہ نے حاکم حسکانی کی کتاب "شواھد التنزیل" سے ایک روایت نقل کی ہے۔ حاکم کا شمار اہل سنت کے مشہور مفسرین اور محدثین میں ہوتا ہے۔ انہوں نے "ابو امامہ باہلی" سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں: ان اللہ خلق الانبیاء من اشجار شتی، وانا وعلی من شجرة واحدة، فانا اصلھا، وعلی فرعھا، وفاطمة لقاحھا، والحسن الحسین ثمارھا، واشیاعنا اوراقھا،... یہاں تک کہ فرمایا... لو ان عبداً عبد اللہ بین الصفا و المروة الف عام، ثم الف عام، ثم الف عام، حتی یصیر کالشن البالی، ثم لم یدرک محبتنا اکبّہ اللہ علی منخریہ فی النار، ثم تلا: قل لا اسئلکم علیہ اجراً خدا نے تمام انبیاء کو مختلف درختوں سے پیدا کیا ہے۔ لیکن مجھے اور علی کو ایک ہی درخت سے پیدا کیا جس کی جڑ میں ہوں، شاخ علی، فاطمہ اس کی افزائش کا ذریعہ ہیں، حسن اور حسین اس کے میوے ہیں اور ہمارے شیعہ اس کے پتے ہیں... پھر فرمایا ... اگر کوئی شخص صفا اور مروہ کے درمیان ہزار سال تک خدا کی عبادت کرے ، پھر ہزار سال اور، پھر ہزار اور اس کی عبادت کرے اور اتنی عبادت کرے کہ سوکھ کر پرانی مشک کے مانند ہو جائے لیکن ہماری محبت اس کے دل میں نہ ہو تو خدا اسے منہ کے بل جہنم میں ڈالے گا۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی " قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى۔" قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس روایت کو اس قدر شہرت حاصل ہوئی ہے کہ مشہور شاعر کمیت نے بھی اپنے اشعار میں اس کی جانب اشارہ کیا ہے۔ اور کہا ہے۔ وجدنا لکم فی اٰل حامیم اٰیة... تاولھا منا تقی و معرب تمہاری (ایلبیت علیہم السلام) شان میں ہمیں حم سورتوں میں ایک ایسی آیت مل گئی ہے۔ جسے تقیہ کرنے والوں نے تأویل کر کے اور واضح بیان کرنے والوں نے آشکار طور پر بیان کیا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع الیبیان، جلد ۹، ص ۲۹)۔ ۶۔ "سیوطی" نے اپنی تفسیر درمنثور میں "ابن جریر" سے انہوں نے "ابی دیلم" سے یوں نقل کیا ہے۔ "جب علی بن الحسین کو قید کر کے دمشق کے دروازے پر لایا گیا تو اہل شام میں سے ایک شخص نے کہا "الحمد اللہ الذی قتلکم و استاصلکم" (خدا کا شکر جس نے تمہیں قتل کیا اور تمہاری بیخ کنی کر دی) تو علی بن الحسین علیہ السلام نے فرمایا: کیا تم نے قرآن پڑھا ہے۔ اس نے کہا، ہاں! پھر فرمایا حٰم سورتوں کو بھی پڑھا ہے کہا نہیں۔ امام نے کہا: آیا اس آیت کی تلاوت نہیں کی قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى؟ وہ کہنے لگا تو کیا وہ “قربیٰ” آپ لوگ ہیں جن کی طرف آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔ فرمایا جی ہاں۔ (بحوالہ: تفسیر درمنثور، جلد ۶، ص ۷)۔ ۷۔ زمخشری نے اپنی تفسیر کشاف میں ایک حدیث نقل کی ہے۔ جسے فخر رازی اور قرطبی نے تفسیروں میں لکھا ہے۔ یہ حدیث بڑی صراحت کے ساتھ آل محمدؐ کے مقام اور ان کی محبت کی اہمیت کو بیان کر رہی ہے۔ رسولؐ خدا فرماتے ہیں: من مات علیٰ حب اٰل محمدؐ مات شھیدًا۔ الا ومن مات علیٰ حب اٰل محمدؐ مات مغفورًا لہ۔ الا ومن مات علیٰ حب اٰل محمدؐ مات تائبا۔ الا ومن مات علیٰ حب اٰل محمدؐ مؤمناً مستکمل الایمان۔ الا ومن مات علیٰ حب اٰل محمدؐ بشرہ ملک الموت بالجنة ثم منکر و نکیر۔ الا ومن مات علیٰ حب اٰل محمدؐ یزف الی الجنة کما تزف العروس الیٰ بیت زوجھا۔ الا ومن مات علیٰ حب اٰل محمدؐ فتح لہ فی قبرہ بابان الی الجنة۔ الا ومن مات علیٰ حب اٰل محمدؐ جعل اللہ قبرہ مزار ملائکة الرحمة۔ الا ومن مات علیٰ حب اٰل محمدؐ مات علی السنة والجماعة۔ الا ومن مات علیٰ بعض اٰل محمدؐ جاء یوم القیامة مکتوب بین عینیہ اٰیس من رحمة اللہ۔ الا ومن مات علیٰ بعض اٰل محمدؐ مات کافراً۔ الا ومن مات علیٰ بغض اٰل محمدؐ لم یشم رائحة الجنة۔ جو شخص آل محمدؐ کی محبت پر مرا وہ شہید ہو کر مرا۔ خبردار ہو! جو شخص آل محمدؐ کی محبت کے ساتھ مرا اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔ خبردار رہو! جو شخص آل محمدؐ کی محبت کے ساتھ مرا وہ تائب ہو کر مرا۔ خبردار رہو! جو شخص آل محمدؐ کی محبت کے ساتھ مرا وہ کامل الایمان مؤمن ہو کر مرے گا۔ خبردار رہو! جو شخص آل محمدؐ کی محبت کے ساتھ مرا موت کے فرشتے اسے بہشت کی خوشخبری دیں گے، پھر (قبر میں سوال کرنے والے فرشتے) منکر اور نکیر اسے خوشخبری دیں گے۔ خبردار رہو! جو شخص آل محمدؐ کی محبت کے ساتھ مرا اسے یوں آراستہ کر کے احترام کے ساتھ بہشت میں لے جایا جائے گا جس طرح دلہن کو اس کے دولہا کے گھر لے جایا جاتا ہے۔ خبردار رہو! جو شخص آل محمدؐ کی محبت پر مرا اس کی قبر میں بہشت کے دو دروازے کھول دیئے جائیں گے۔ خبردار رہو! جو شخص آل محمدؐ کی محبت کے ساتھ مرا خدا اس کی قبر کو ملائکہ رحمت کی زیارت گاہ بنا دے گا۔ خبردار رہو! جو شخص آل محمدؐ کی محبت کے ساتھ مرا وہ اسلام کی سنت اور مسلمانوں کی جماعت پر مرے گا۔ آگاہ رہو! جو شخص آل محمدؐ کی دشمنی کے ساتھ مرا قیامت کے دن وہ ایسی حالت میں عرصہ محشر میں داخل ہو گا کہ اس کی پیشانی پر لکھا ہو گا کہ یہ خدا کی رحمت سے مایوس ہے۔ آگاہ رہو! جو شخص آل محمدؐ کی دشمنی کے ساتھ مرے گا وہ کافر ہو کر مرے گا۔ آگاہ رہو! جو شخص آل محمدؐ کی دشمنی کے ساتھ مرے گا وہ بہشت کی خوشبو کو نہیں سونگھ پائے گا۔ (بحوالہ: تفسیر کشاف، جلد ۴، ص ۲۲۰، ص ۲۲۱، تفسیر فخر رازی، جلد ۲۷، ص ۱۶۵ و ص ۱۶۶، تفسیر قرطبی، جلد ۸، ص ۴۳ ۵۸۔ تفسیر ثعلبی جلیل بن عبداللہ بجلی سے اسی آیت کے ذیل میں (منقول از المرجعات خط ۱۹))۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فخر رازی اس حدیث کو جسے صاحب کشاف نے "حدیث مرسل مسلّم" کے نام سے یاد کیا ہے۔ ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں: "آل محمدؐ وہ لوگ ہیں جن کے امور کی بازگشت آپؐ ہی کی طرف ہوتی ہے۔ جن لوگوں کا رابطہ زیادہ محکم اور کامل ہو گا انہی کا "آل" میں شمار ہو گا اور اس میں شک نہیں کہ فاطمہ، علی، حسن اور حسین (علیہم السلام) کا رسول خدا سے محکم ترین رشتہ ہے۔ اور یہ بات مسلّمات میں سے ہے۔ اور متواتر احادیث سے ثابت ہے۔ بنابریں لازم ہے کہ ہم انہیں "آل رسولؐ" سمجھیں۔" آگے چل کر کہتے ہیں: "کچھ لوگوں نے آل کے مفہوم میں اختلاف کیا ہے۔ بعض لوگ تو کہتے ہیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے قریبی رشتہ داری آل رسول ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ آپؐ کی امت آپؐ کی آل ہے۔ اگر ہم اس لفظ کو پہلے معنی پر محمول کریں تو اس سے مراد صرف اور صرف مذکورہ بزرگ ہستیاں ہیں اور اگر اس سے مراد امت یعنی وہ افراد ہیں جنہوں نے آنحضرتؐ کی دعوت کو قبول کیا تو پھر بھی رسول خداؐ کے نزدیکی رشتہ دار آپؐ کی آل سمجھے جائیں گے، بنابریں ہر لحاظ سے یہ ہستیاں تو آپؐ کی آل ہیں، البتہ ان کے علاوہ لوگ آل میں داخل ہیں یا نہیں اس میں اختلاف ہے۔ " اس کے بعد فخررازی نے صاحب کشاف سے یوں نقل کیا ہے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو لوگوں نے عرض کی، یا رسول اللہ! آپ کے قریبی رشتہ دار کون ہیں جن کی محبت ہم پر فرض ہوئی ہے۔ تو آنحضرتؐ نے ارشاد فرمایا: وہ علی و فاطمہ اور ان کے دو فرزند ہیں۔ پس معلوم ہوا یہ چار بزرگوار ہستیاں پیغمبر اسلامؐ کی ذوی القربی ہیں اور جب یہ ثابت ہو گیا پھر ضروری ہے کہ اُن کا انتہائی احترام کیا جائے۔ فخر الدین رازی مزید کہتے ہیں کہ اس مسئلے پر مختلف دلائل دلالت کرتے ہیں: ۱۔ "إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى" کا جملہ کہ جس کا طرز استدلال بیان ہو چکا ہے۔ ۲۔ اس میں شک نہیں کہ رسول اللہ کو حضرت فاطمہ سے محبت تھی اور ان کے بارے میں فرمایا "فاطمة بضعة منی یؤذینی ما یؤذیھا" (فاطمہؑ میرے بدن کا ٹکڑا ہے۔ جو چیز اسے تکلیف دے گی وہ مجھے تکلیف دے گی اور رسول خداؐ کی متواتر حدیثیوں سے یہ بات پایہٴ ثبوت کو پہنچ چکی ہے۔ آپ علیؑ، اور حسنؑ اور حسینؑ سے محبت فرماتے تھے، اور جب یہ بات ثابت ہو گی تو ان کی محبت تمام امت پر واجب ہے۔ چونکہ خدا فرماتا ہے۔ "وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ" (رسول خداؐ کی پیروی کرو تاکہ تم ہدایت پاؤ)۔ سورہ اعراف آیت ۱۔۵۸)۔ نیز فرماتا ہے۔ "فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ" (جو لوگ فرمان رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں عذاب الہٰی سے ڈرنا چاہیئے)۔ (سورہ نور آیت ۶۳)۔ اور یہ بھی فرماتا ہے۔ "قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّهُ" (پیغمبر! کہہ دیجئے کہ اگر خدا کو دوست رکھنا چاہتے ہو تو میری اتباع کرو تاکہ خدا تمہیں دوست رکھے)۔ (سورہ آل عمران ۳۱)۔ ساتھ ہی اس کا یہ فرمان بھی ہے کہ "لَقَدْ کانَ لَکُمْ فی رَسُولِ اللَّہِ اٴُسْوَةٌ حَسَنَةٌ" (تمہارے لیے رسولؐ خدا کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ ۔ (سورہ احزاب آیت ۲۱)۔ ۳۔ "آل" کے لیے دعا ایک عظیم اعزاز ہے۔ لہذا یہ دعا تشہد کے اختتام پر موجود ہے۔ "اللّٰھم صلی علیٰ محمد و علی اٰل محمد، و ارحم محمداً و اٰل محمد" اور اس قسم کی عظمت اور احترام آل کے علاوہ کسی اور کے بارے میں نظر نہیں آتا لہٰذا ان سب دلائل کی روشنی میں یہ بات پایہٴ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ آل محمدؐ کی محبت واجب ہے۔ آخر الامر فخر الدین رازی اپنی گفتگو کو امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کے ان مشہور اشعار پر ختم کرتے ہیں: یا راکبا قف بالمحصب من منی ... واھتف بساکن خیفھا والناھض سحراً اذا فاض الحجیج الی منی ... فیضا کما نظر الفرات الفائض ان کان رفضا حب اٰل محمد ... فلیشھد الثقلان انی رافضی اے حج کے لئے جانے والے سوار! جہاں پر منی کے نزدیک رمی جمرات کے لئے کنکریاں اکٹھا کرتے ہیں اورجو خانہٴ خدا کے زائرین کا عظیم اجتماعی مرکز ہے۔ تو وہاں پر ٹھہر جا اور ان لوگوں کو آواز دے جو مسجد خیف میں مصروف عبادت ہیں یا چل رہے۔ ہیں۔ اس وقت پکار جب بوقت سحر حجاج مشعر الحرام سے منیٰ کی جانب چل پڑتے ہیں اور عظیم اور ٹھاٹھیں مارتے دریا کے مانند سرزمین منٰی میں داخل ہوتے ہیں۔ ہاں تو بآواز بلند کہہ دے کہ اگر آل محمدؐ کی محبت کا نام رفض (رافضی ہونا) ہے۔ تو تمام جن و انس گواہ رہیں کہ میں رافضی ہوں۔ (بحوالہ: تفسیر فخر رازی، جلد ۲۷، ص ۱۶۶)۔ جی ہاں یہ ہے۔ آل محمدؐ کا مقام اور ان کی قدر و منزلت، ہم جن کے دامان سے متمسک ہیں اور جنہیں ہم نے اپنا دین اور دنیا ہم کا راہبر و رہنما تسلیم کیا ہے۔ ہم انہیں اپنے لیے اسوہ حسنہ اور نمونہ کامل سمجھتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ اُن کی امامت کے ذریعے راہِ نبوت کا تسلسل باقی ہے۔ البتہ مندرجہ بالا احادیث کے علاوہ اسلامی کتابوں میں اور بھی بہت سی احادیث موجود ہیں لیکن ہم اختصار اور تفسیری پہلوؤں پر قناعت کرتے ہیں اور مندرجہ بالا سات احادیث پر اکتفا کرتے ہیں، لیکن اس نکتے کو بیان کرنا مناسب سمجھتے ہیں کہ علم کلام کی بعض کتابوں مثلاً "احقاق الحق" اور اس کی مبسوط شرح میں"قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى" کی تفسیر میں مذکورہ بالا مشہور حدیث اہل سنّت کی پچاس سے زائد کتابوں سے نقل کی گئی ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت کس قدر مشہور و معروف ہے۔ البتہ کتب شیعہ میں بھی یہ حدیث اہل بیت کے حوالے سے بہت سی کتب حدیث میں نقل کی گئی ہے۔

چند نکات ۱۔ مشہور مفسر "آلوسی" سے کچھ باتیں:

یہاں پر ایک سوال جو بہت سے لوگوں کے پیش نظر ہے۔ اور مشہور مفسر آلوسی نے اسے شیعوں پر ایک اعتراض کی صورت میں اپنی تفسیر روح المعانی میں پیش کیا ہے۔ بیان کر کے اس کے تجزیہ و تحلیل کریں گے آلوسی کی گفتگو کا خلاصہ کچھ یوں ہے۔ "بعض شیعوں نے اس آیت کو علی علیہ السلام کی امامت پر دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ اور کہا ہے کہ علی علیہ السلام کی محبت واجب ہے۔ اور جس کی محبت واجب ہوتی ہے۔ اس کی اطاعت بھی واجب ہوتی ہے۔ اور جس کی اطاعت واجب ہوتی ہے۔ وہ امام ہوتا ہے۔ اس سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ علی علیہ السلام مقام امامت کے مالک ہیں اور اسی آیت کو انہوں نے دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ لیکن ان کی یہ باتیں کئی لحاظ سے قابل اعتراض ہیں پہلے تو یہ کہ اس آیت کو محبت کے وجوب پر دلیل ہم اس وقت مانیں گے ... جب ہمیں یہ معلوم ہو جائے کہ یہ آ یت پیغمبر خدا کے اقرباء کی محبت کے معنی میں ہے۔ جب کہ بہت سے مفسرین نے اس معنی کو تسلیم نہیں کیا ان کی دلیل ہے کہ یہ بات مقام نبوت کے شایان شان نہیں ہے۔ کیونکہ اس سے آپ کی ذات پر تہمت آتی ہے کہ آپ کا یہ مقام دنیا پرستوں کے کام جیسا ہو گا کہ پہلے تو وہ کسی کام کو شروع کر دیتے ہیں پھر اس کے فوائد اور منافع کا اپنی اولاد اور رشتہ داروں کے لئے مطالبہ کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ بات سورہٴ یوسف کی آیت ۱۰۴ کے بھی منافی ہے۔ جس میں ارشاد ہے۔ "وَمَا تَسْأَلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ" یعنی اے پیغمبر! تم ان لوگوں سے اپنی اجرت طلب نہیں کرتے۔ دوسرے یہ کہ: ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ محبت کا وجود اطاعت کی دلیل بن سکے کیونکہ ابن بابویہ اپنی کتاب "اعتقادات" میں کہتے ہیں کہ: امامیہ کا اس پر اتفاق ہے کہ علویوں کی محبت لازم ہے۔ جبکہ وہ ان سب کو واجب الاطاعت نہیں سمجھتے۔ تیسرے یہ کہ: ہم یہ بات بھی نہیں مانتے جس شخص کی اطاعت واجب ہوتی ہے۔ وہ امام یعنی زعامت کبری کا مالک بھی ہو وگرنہ پیغمبر اپنے زمانے میں امام ہوتا ہے۔ جب کہ ہم جناب طالوت کی داستان میں پڑھتے ہیں کہ وہ ایک گروہ کے امام ہوئے جبکہ اس زمانے میں ایک اور پیغمبر بھی موجود تھے۔ چوتھے یہ کہ: آ یت کا تقاضا ہے کہ تمام اہلبیت واجب الاطاعت ہوں، اور اسی بناء پر وہ سب امام ہوں جبکہ امامیہ کا ایسا عقیدہ نہیں ہے۔ (بحوالہ: تفسیر رُوح المعانی، جلد ۲۵، ص ۲۷ (اسی آیت کے ذیل میں))۔

اعتراض پر ایک تحقیقی نظر

آیہٴ مؤدت اور دوسری آیات میں بہت سے موجود قرائن میں غور کرنے سے ان میں سے کئی اعراض کا جواب واضح طور پر معلوم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ ہم پہلے ہی بیان کر چکے ہیں کہ یہ محبت کوئی معمولی اور عام چیز نہیں ہے۔ بلکہ یہ تو نبوت کی جزا اور رسالت کا اجر ہے۔ اور فطرةً اس محبت کو بھی نبوت و رسالت کے ہم پلّہ ہونا چاہیئے۔ تاکہ اس کا اجر قرار پا سکے۔ پھر دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے۔ اور قرآن مجید گواہی دیتا ہے کہ اس محبت کا فائدہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے۔ جو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پہنچے بلکہ اس کا سو فیصد فائدہ خود مؤمنین کو پہنچتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ ایک ایسا معنوی امر ہے۔ جو مسلمانوں کی ہدایت کے ارتقاء میں مؤثر ہے۔ اس طرح سے اگرچہ آیت کے ظاہر سے محبت کے وجوب کے علاوہ اور کوئی چیز معلوم نہیں ہوتی لیکن اس محبت کے وجوب کے لئے جو قرائن مذکور ہوئے ہیں وہ مسئلہ امامت کو واضح کرتے ہیں کہ جو مقام نبوت و رسالت کا مددگار اور پشت بناہ ہے۔ مندرجہ بالا مختصر سی وضاحت کے بعد ہم مذکورہ اعتراض کا جواب پیش کرتے ہیں۔ پہلے تو یہ کہ: آلوسی کہتے ہیں کہ بعض مفسرین اس آیت سے مودّت اہلبیت مراد نہیں لیتے۔ یہ بات ماننی پڑے گی کہ پہلے سے کئے ہوئے فیصلے اور رسومات ایسا کرنے میں حامل ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ لوگ تو"قربیٰ" کا معنی "خدا کا تقرب کرتے ہیں" جب کہ قرآن مجید کی تمام آیات میں جہاں جہاں بھی یہ کلمہ استعمال ہوا ہے۔ وہاں پر"قر یبی رشتہ دارو" کے معنی میں ہے۔ یا بعض لوگ اس کی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عرب قبائل کے ساتھ رشتہ داری سے تفسیر کرتے ہیں جب کہ یہ تفسیر آیت کے نظام کو مکمل طور پر درہم برہم کر دیتی ہے۔ کیونکہ اس صورت میں اجر رسالت ان لوگوں سے طلب کیا جا رہا ہے۔ جنہوں نے رسالت کو قبول کر لیا ہے۔ اور جو لوگ پیغمبر اکرمؐ کی رسالت کو قبول کر چکے ہوں پھر کیا ضرورت ہے کہ ان سے یہ تقاضا کیا جائے کہ وہ پیغمبر اکرمؐ کی رشتہ داری کا پاس کرتے ہوئے انہیں تکلیف دینے سے باز رہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ جب بےانتہا روایات آیت کو اہلبیت علیہم السلام کی ولایت سے تفسیر کرتی ہیں انہیں چھؤا تک نہ جائے؟ اس لیے یہ بات قبول کرنا پڑے گی کہ مفسرین کے اس گروہ نے ہرگز خالی الذہن ہو کر آیت کی تفسیر نہیں کی، ورنہ کوئی پیچیدہ بات آیت کے مطلب میں موجود نہیں ہے۔ اسی سے واضح ہو جاتا ہے کہ مودّت اہلبیت علیہم السلام کا تقاضا نہ تو مقام نبوت کے منافی ہے۔ اور نہ ہی اسے دنیا پرستوں کے طریقہ کار پر قیاس کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ معنی سورہٴ یوسف کی آیت ۱۰۴ سے بھی مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ جو ہر قسم کی اجرت کی نفی کر رہی ہے۔ کیونکہ اہلبیت علیہم السلام کی مؤدت کا اجر حقیقت میں ایسا اجر نہیں ہے۔ جس سے خود رسول اللہؐ کو کوئی فائدہ ہو، بلکہ اس میں خود مسلمانوں کا اپنا فائدہ ہے۔ دوسرے یہ کہ: یہ صحیح ہے کہ عام اور معمولی محبت اطاعت کے وجوب کی ہرگز دلیل نہیں بن سکتی لیکن جب ہم اس بات کو پیش نظر لاتے ہیں کہ یہ محبت کوئی عام محبت نہیں بلکہ نبوت و رسالت کے ہم پلہ ہے۔ تو یقین ہو جاتا ہے کہ اطاعت کا وجوب بھی اسی میں پوشیدہ ہے۔ اور یہیں پر یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ ابن بابویہ (شیخ صدوق) کی گفتگو بھی اس امر کے منافی نہیں ہے۔ تیسرے یہ کہ: یہ ٹھیک ہے کہ ہر اطاعت کا وجوب زعامت کبری اور امامت کی دلیل نہیں بن سکتی لیکن یہ بات بھی تو مدنظر ہونی چاہیئے کہ جس اطاعت کا وجوب، رسالت کا اجر قرار پا رہا ہے۔ وہ امام کے علاوہ کسی اور کے شایان شان نہیں ہو سکتی۔ چوتھے یہ کہ: امام بمعنی رہبر و پیشوا ... ہر دور میں صرف ایک ہی شخصیت ہو سکتی ہے۔ اور بس لہٰذا تمام اہلبیت کی امامت کا کوئی معنی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ آیت کا معنی سمجھنے میں روایات کے تعلق کو بھی بہرصورت پیش نظر رکھنا چاہیئے۔ پھر یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ آلوسی نے ذاتی طور پر مودت اہلبیت کو بہت بڑی اہمیت دی ہے۔ اور مندرجہ بالا بحث سے چند سطور پہلے وہ لکھتے ہیں: حق بات یہ ہے کہ پیغمبر اسلامؐ کے اقرباء کی مودت بوجہ ان کے پیغمبر کا رشتہ دار ہونے کے واجب ہے۔ اور قرابت جتنی زیادہ قوی ہو گی محبت کا وجوب اس قدر بیشتر ہو گا۔ آخر میں کہتے ہیں: اس مودت کے آثار پیغمبر اسلامؐ کے اقرباء کی تعظیم، احترام اور ان کے حقوق کی ادائیگی سے ظاہر ہوتے ہیں۔ جبکہ بعض لوگ اس بارے میں سستی سے کام لیتے ہیں حتٰی کہ اقرباء پیغمبرؐ سے محبت کو ایک قسم کی رافضیت سمجھتے ہیں لیکن میں ایسا نہیں کہتا بلکہ وہی کہتا ہوں جو امام شافعی نے اپنے جاذب اور دل نشین اشعار میں کہا ہے۔ پھر وہ امام شافعی کے مذکورہ اشعار نقل کرتے ہیں اور کہتے ہیں: اس کے ساتھ میرا یہ بھی عقیدہ ہے کہ میں اہلسنت کے بزرگوں کے عقائد سے باہر نہیں ہوں جو وہ صحابہ کرام کے بارے میں رکھتے ہیں اور ان کی محبت کو بھی واجب سمجھتا ہوں۔ (بحوالہ: رُوح المعانی، جلد ۲۵، ص ۲۸)۔

۲۔ کشتی نجات:

جناب فخر الدین رازی نے اسی بحث کے ذیل میں ایک نکتے کو بیان کیا ہے۔ اور اسے اپنا پسندیدہ نکتہ قرار دیا ہے۔ اور مفسر آلوسی نے بھی اسے "ایک لطیف نکتہ" کے عنوان سے اپنی تفسیر رُوح المعانی میں، انہیں سے نقل کیا ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے۔ جو ان کے خیال کے مطابق بہت سے تضادات کو برطرف کر رہا ہے۔ ایک طرف پیغمبر اسلامؐ ارشاد فرماتے ہیں "مثل اھل بیتی کمثل سفینة نوح من رکبھا نجٰی" (میرے اہل بیت کشتی نوح کے مانند ہیں جو اس پر سوار ہوا وہ نجات پا گیا) اور دوسری طرف ارشاد فرماتے ہیں "اصحابی کالنجوم بایھم اقتدیتم اھتدیتم" (میرے اصحاب ستاروں کے مانند ہیں ان میں سے جس کی اقتداء کرو گے ہدایت پا جاؤ گے)۔ اب ہم فرائض کی ادائیگی کے سمندر میں گرفتار ہیں، شکوک و شبہات اور خواہشات نفسانی کی موجیں ہمیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہیں اور جسے سمندر عبور کرنا ہوتا ہے۔ اسے دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک کشتی جو ہر طرح کے عیب و نقص سے پاک ہو اور دوسرے چمکدار اور روشن ستارے جن کے ذریعے کشتی کی راہوں کو متعین کیا جاتا ہے۔ جب انسان کشتی پر سوار ہو جائے اور اپنی نگاہیں ستاروں پر لگائے رکھے تو نجات کی امید ہو سکتی ہے۔ اسی طرح اہل سنت میں جو شخص آل محمدؐ کی محبت کی کشتی پر سوار ہو کر ستاروں جیسے اصحاب پر اپنی نگاہیں جمائے رکھے تو اُمید ہے کہ خدا اسے دنیا و آخرت کی سلامتی اور سعادت سے بہرہ مند کر دے۔ (بحوالہ: تفسیر فخر رازی، جلد ۲۷، ص ۱۶۷)۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ یہ شاعرانہ تشبیہ اگرچہ ظاہری طور پر دلکش اور جاذب نظر تو ہے۔ لیکن صحیح معنوں میں درست نہیں ہے۔ کیونکہ ایک تو: کشتی نوح اس وقت نجات کا ذریعہ بنی جبکہ طوفان کے پانی نے ہر جگہ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا اور وہ ہمیشہ چلتی رہی تھی، دوسری عام کشتیوں کے مانند کسی ایک منزل مقصود کی طرف اس کی حرکت نہیں تھی کہ ستاروں کے ذریعے اس منزل کا تعین کیا جاتا۔ بلکہ منزل مقصود خود کشتی ہی تھی اور یہ اس وقت تک اپنے حال پر قائم رہی جب تک کہ طوفان کا پانی ختم نہیں ہو گیا اور کشتی کوہ جودی پر ٹھہر نہیں گئی اور کشتی کے سواروں نے نجات نہیں پالی۔ دوسرے یہ کہ: اہلسنت بھائیوں کی کتابوں میں درج ایک روایت میں جو کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہے۔ یوں آیا ہے۔ النجوم امان لاھل الارض من الغرق و اھل بیتی امان لامتی من الاختلاف فی الدین ستارے اہل زمین کے لئے امان ہیں ان کی غرق ہونے سے اور میرے اہل بیت میری امت کے لئے دین میں اختلاف سے امان ہیں۔ (تشریحی نوٹ: مستدرک حاکم، جلد ۳، ص ۱۴۹، منقول از عباس، حاکم پھر کہتے ہیں "ھٰذا حدیث صحیح الاسناد و لم یخرجاہ" (یہ حدیث معتبر ہے۔ لیکن بخاری اور مسلم نے اسے نقل نہیں کیا ہے۔

۳۔ "وَمَن يَقْتَرِفْ حَسَنَةً..." کی تفسیر:

"وَمَن يَقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهُ فِيهَا حُسْنًا" (جو شخص کوئی نیکی کمائے گا ہم اس کی اچھائی میں اضافہ کر دیں گے) اس جملے میں لفظ "اقتراف" اصل میں "قرف" (بروزن "حرف") کے مادہ سے ہے۔ جس کا معنی ہے۔ درخت کی اضافی چھال کا اتار لینا یا زخم کی اضافی کھال کا اتار لینا کہ بعض اوقات جس سے صحت و تندرستی حاصل ہو جاتی ہے۔ بعد میں یہ کلمہ اکتساب (کمانے اور حاصل کرنے) کے معنی میں استعمال ہونے لگا خواہ یہ اکتساب اچھا ہو یا برا۔ لیکن راغب کہتے ہیں کہ یہ کلمہ خوبی کی نسبت برائی کے لئے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ (اگرچہ اس آیت میں خوبی کے لئے استعمال ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عربوں میں ایک ضرب المثل مشہور ہے۔ الاعتراف یزیل الاقتراف گناہ کا اعتراف گناہ کو مٹا دیتا ہے۔ یہ بات لائق توجہ ہے کہ ابن عباس اور ایک اور متقدم مفسر "سدّی" سے منقول ہے کہ آیت میں "اقتراف حسنة" سے مراد، آل محمدؐ کی مؤدت ہے۔ (بحوالہ: تفسیر "مجمع البیان" اسی آیت کے ذیل میں، تفسیر صافی اور تفسیر قرطبی)۔ ایک اور حدیث میں جو کہ ہم امام حسن علیہ السلام کے حوالے سے بیان کر آئے ہیں، آیا ہے۔ اقتراف الحسنة مودتنا اھل البیت نیکی کمانے سے مراد ہم اہلبیت کی مؤدت ہے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کی تفسیروں کی مراد اکتساب حسنہ کے معنی کو اہلبیت علیہم السلام کی مؤدت میں محدود کرنا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا نہایت وسیع اور عمومی معنی ہے۔ لیکن چونکہ یہاں پر ذوی القربیٰ کی مؤدت کے بعد آیا ہے۔ لہٰذا اس کا واضح ترین مصداق یہی مودّت ہے۔

۴۔ یہ چند آیات مدنی ہیں:

جیسا کہ ہم آغاز میں کہہ چکے ہیں کہ سورہ شورٰیٰ مکی ہے۔ لیکن بہت سے مفسرین کا نظریہ ہے کہ یہ چار آیات (آیت ۲۳ تا ۲۶) مدینہ میں نازل ہوئی ہیں لیکن جیسا کہ ہم آغاز میں بتا چکے ہیں کہ ان آیات کی شان نزول ہمارے اس مدعا کی دلیل ہے۔ اور وہ روایات بھی اسی بات کے لئے اچھی دلیل ہیں جن کے مطابق اہل بیت سے علیؑ، فاطمہؑ، حسنؑ، حسینؑ مراد ہیں۔ کیونکہ معلوم ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کا سیدہ طاہرہؑ سے عقد مدینہ منورہ میں انجام پایا اور مشہور روایات کی بناء پر جناب حسن علیہ السلام اور جناب حسین علیہ السلام کی ولادت تیسری اور چوتھی ہجری میں ہوئی۔

24
42:24
أَمۡ يَقُولُونَ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبٗاۖ فَإِن يَشَإِ ٱللَّهُ يَخۡتِمۡ عَلَىٰ قَلۡبِكَۗ وَيَمۡحُ ٱللَّهُ ٱلۡبَٰطِلَ وَيُحِقُّ ٱلۡحَقَّ بِكَلِمَٰتِهِۦٓۚ إِنَّهُۥ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ
کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خدا پر جھوٹ باندھا ہے لیکن اگر خدا چاہے تو تیرے دل پر مہر لگادے اور ان آیات کے اظہار کی قدرت تجھ سے چھین لے اور وہ باطل کو نابود کر دیتا ہے اور حق کو اپنے فرمان سے قائم کر دیتا ہے کیوں کہ وہ دلوں کے اندر سے آگاہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔

25
42:25
وَهُوَ ٱلَّذِي يَقۡبَلُ ٱلتَّوۡبَةَ عَنۡ عِبَادِهِۦ وَيَعۡفُواْ عَنِ ٱلسَّيِّـَٔاتِ وَيَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُونَ
وہ وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی تو بہ قبول کر تا ہے اور گناہ معاف کر دیتا ہے اور جو کچھ تم انجام دیتے ہو اسے جانتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔

26
42:26
وَيَسۡتَجِيبُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ وَيَزِيدُهُم مِّن فَضۡلِهِۦۚ وَٱلۡكَٰفِرُونَ لَهُمۡ عَذَابٞ شَدِيدٞ
اور جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے عمل صالح انجام دیئے ہیں ان کی دعاؤں کو قبول کر تا ہے اور ان پر اپنے فضل کا اضافہ کر دیتا ہے لیکن کافروں کے لیے سخت عذاب ہے۔

تفسیر وہ بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

یہ آیات، رسالت، اجرر سالت، مؤدت ذی القربی اور اہلبیتؑ کے بارے میں سابقہ آیات کے سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے کہ وہ لوگ اس وحی خدا کو قبول نہیں کرتے بلکہ "کہتے ہیں کہ اس نے خدا پر جھوٹ باندھا ہے۔ یہ سب باتیں اس کے اپنے ذہن کی پیداوار ہیں جنہیں خدا کی طرف منسوب کرتا ہے۔ (أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا)۔ "جب کہ اگر خدا چاہے۔ تو تیرے دل پر مہر لگا دے اور ان آیات کے اظہار کی قدرت تجھ سے چھین لے" (فَإِن يَشَاءِ اللَّهُ يَخْتِمْ عَلَى قَلْبِكَ)۔ درحقیقت یہ چیز اس مشہور منطقی استدلال کی طرف اشارہ ہے کہ اگر کوئی شخص نبوت کا دعوی کرے اور معجزے اور آیات بیّنات بھی اس کے ہاتھوں اور زبان سے ظاہر ہوں اور خدا کی تائید اور نصرت بھی اسے حاصل ہو۔ لیکن وہ خدا پر جھوٹ باندھنا شروع کر دے تو حکمت الہٰی اس بات کی متقاضی ہو گی کہ وہ تمام معجزات اور خدا کی نصرت و حمایت سب اس سے واپس لے لی جائے اور خدا اسے ذلیل و رسوا کر دے جیسا کہ سورہ "حاقّہ" کی آیت ۴۴ تا ۴۶ میں ہے۔ وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِoلَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِoثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ اگر وہ ہم پر جھوٹ باندھنا شروع کر دے تو ہم اس سے پوری طاقت سے مؤاخذہ کریں گے اور اسے سزا دیں گے اور اس کے دل کی رگ کو کاٹ ڈالیں گے۔ البتہ آیت کی اس تفسیر میں مفسرین نے اور بھی بہت سے احتمال ذکر کئے ہیں لیکن جو تفسیر ہم سطور بالا میں بیان کر چکے ہیں وہ زیادہ واضح معلوم ہوتی ہے۔ یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ کفار و مشرکین منجملہ دیگر ناجائز تہمتوں کے جو وہ رسول گرامی اسلامؐ پر لگا کرتے تھے ایک تہمت یہ بھی تھی کہ رسول اللہؐ نے خدا پر جھوٹ باندھ کر اپنی رسالت کا اجر اپنے اہلبیت سے مؤدت کی صورت میں لیا ہے۔ (جیسا کہ گزشتہ آیات میں اس چیز کا ذکر ہو چکا ہے۔ اور یہ آیت اس تہمت کی نفی کر رہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود آیت کا مفہوم اس معنی میں منحصر بھی نہیں۔ کیونکہ دوسری قرآنی آیات کی رو سے دشمنان دین و اسلام تمام قرآن اور وحی کے بارے میں بھی آنحضرتؐ کی ذات بابرکات کو مورد الزام ٹھہرایا کرتے تھے۔ چنانچہ سورہٴ یونس کی آیت ۳۸ میں ہے۔ " أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ فَأْتُواْ بِسُورَةٍ مِّثْلِهِ" بلکہ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبرؐ) نے خدا پر جھوٹ باندھا ہے۔ تو کہہ دے کہ تم بھی اس جیسی ایک سورت لے آؤ۔ اسی سے ملتی جلتی بات لیکن کچھ فرق کے ساتھ سورہٴ ہود کی تیرھویں اور پینتیسویں آیات کے علاوہ قرآن پاک کی بعض دوسری آیات میں بھی موجود ہے۔ اور یہ آیات ہماری مذکورہ تفسیر کی گواہ ہیں۔ پھر اسی امر پر تاکید کے طور پر ارشاد فرمایا گیا ہے۔ خدا باطل کو مٹاتا ہے۔ اور حق کو اپنے حکم سے قائم اور ثابت کرتا ہے۔ (وَيَمْحُ اللَّهُ الْبَاطِلَ وَيُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ)۔ (تشریحی نوٹ: توجہ رہے کہ "یمح" دراصل "یمحو" تھا جو عام طور پر قرآن کے بہت سے اسم الخط میں"و" کے ساقط ہونے کے ساتھ آ یا ہے۔ جیسا کہ "وَيَدْعُ الْإِنسَانُ بِالشَّرِّ" (سورہٴ بنی اسرائیل۔ ۱۱) اور "سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ" (سورہٴ علق۔ ۱۸) ... ایسے تمام موارد میں موجودہ رسم الخط میں واؤ ذکر ہوتی ہے۔ لیکن عام طور پر قرآن میں محذوف ہے۔ یہ خداوند عالم کا فریضہ ہوتا ہے کہ اپنی حکمت کی بناء پر حق کو ظاہر اور باطل کو ذلیل و خوار کرے تو پھر کیونکہ کسی کو اس بات کی کھلی چھٹی دے سکتا ہے کہ وہ اس پر افتراء پردازی کرے اور پھر وہ اس کی امداد بھی کرے اور پھر معجزات کو اس کے ہاتھوں پر آشکار کرے؟ اور اگر کوئی شخص یہ تصور کرے کہ پیغمبر اسلامؐ علم خدا سے چھپ کر ایسا اقدام کرتے ہیں تو یہ اس کی زبردست غلطی ہو گی کیونکہ "وہ تو دلوں میں موجود ہر چیز سے آگاہ ہے۔ (إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ)۔ جیسا کہ سورہٴ فاطر کی آیت ۳۸ کی تفسیر میں ہم بتا چکے ہیں کہ عربی زبان میں"ذات" کا لفظ اشیاء کی عین اور حقیقت کے لئے استعمال نہیں ہوا بلکہ یہ تو فلاسفہ (بحوالہ: دیکھئے مفردات راغب) کی اصطلاح ہے۔ جبکہ عربی میں"ذات"، "صاحب" کے معنی میں آیا ہے۔ لہٰذا اس لحاظ سے "إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ" کے جملے کا معنی اور مفہوم یہ ہو گا کہ خدا ان افکار اور عقائد سے اچھی طرح واقف ہے۔ جو ان لوگوں کے دلوں پر حاکم ہیں اور گویا ان دلوں کے مالک ہو چکے ہیں اور یہ انسانوں کے قلوب و ارواح پر ان کے افکار کی حاکمیت کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے۔ (غور کیجئے گا)۔ اور چونکہ خداوند عالم نے اپنے بندوں کے لئے بازگشت کا راستہ ہمیشہ کھلا رکھا ہے۔ اور آیات قرآن مجید میں بارہا مشرکین اور گناہگاروں کے بُرے اعمال ذکر کرنے کے بعد گناہگاروں کے لئے توبہ کے دروازوں کو کھلا رکھنے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ زیر تفسیر آیات میں بھی سابق گفتار کے بعد فرمایا گیا ہے۔ خدا تو وہ ہے۔ جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ اور گناہوں کو معاف کرتا ہے۔ (وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُواْ عَنِ السَّيِّئَاتِ)۔ لیکن اگر ظاہر میں تو توبہ کر لو اور باطن میں کچھ اور کام کرو تو یہ تصور مت کرو کہ تمہارا یہ طریقہ کار خداوند عالم کے علم کی تیزبین نگاہوں سے چھپا رہے گا، نہ! نہ!! "جو کچھ تم بجا لاتے ہو وہ اسے جانتا ہے۔ (وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ)۔ گزشتہ آیات کے آغاز میں شان نزول کے بارے میں ہم بیان کر چکے ہیں کہ کہا جاتا ہے کہ آیہٴ مؤدت نازل ہونے کے بعد بعض منافقین اور ضعیف الایمان لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ تو وہ باتیں ہیں جو محمدؐ نے خدا پر جھوٹ باندھتے ہوئے اپنی طرف سے گھڑ لی ہیں اور وہ چاہتا ہے کہ اپنے بعد ہمیں اپنے رشتہ داروں کے آگے ذلیل کرے۔ اس پر "أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا" والی آیت نے نازل ہو کر ان کے اعتراض کا جواب دے دیا اور جب وہ نزول آیات سے باخبر ہوئے تو کچھ لوگوں نے اظہار ندامت کیا اور پشیمان ہوئے، رونے لگے اور غمگین ہوئے تو آیت " وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ..." نازل ہوئی، یعنی اگر ان لوگوں نے خاص توبہ کر لی ہے۔ تو خدا نے بھی ان کی توبہ کو قبول فرما لیا ہے۔ اور ان کی خطاؤں کو معاف کر دیا ہے۔ زیر تفسیر آیات کے سلسلے کی آخری آیت میں مؤمنین کی عظیم جزا اور کافرین کے درد ناک عذاب کو مختصر سے جملوں میں بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ خدا ان لوگوں کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے۔ جو ایمان لے آئے ہیں اور اعمال صالح بجا لاتے ہیں (وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ)۔ "بلکہ ان کے لئے اپنا فضل بڑھا دیتا ہے۔ اور جن چیزوں کے لئے وہ دعا بھی نہیں کرتے انہیں عطا کر دیتا ہے۔ (وَيَزِيدُهُم مِّن فَضْلِهِ)۔ "لیکن کافروں کے لئے سخت عذاب ہے۔ (وَالْكَافِرُونَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ)۔ اور یہ کہ مؤمنین کی کن دعاؤں کو قبول کرتا ہے۔ اس بارے میں مختلف تفسیریں ہیں بعض مفسرین نے انہیں بعض دعاؤں میں محدود سمجھا ہے۔ جن میں سے: بعض کہتے ہیں کہ وہ مؤمنین کی ایک دوسرے کے حق میں دعاؤں کو قبول کرتا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ ان کی عبادتوں اور اطاعتوں کو قبول کرتا ہے۔ اور بعض مفسرین نے یہ دعائیں مؤمنین کی ان کے اپنے بھائی بندوں کے بارے میں شفاعت کے بارے میں سمجھی ہیں۔ لیکن اس قسم کی محدودیت پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں بلکہ خداوند عالم صالح مؤمنین کی ہر قسم کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے۔ اور اس سے بڑھ کر ان باتوں کو بھی جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہیں کہ وہ خدا سے طلب کریں لیکن وہ اپنے فضل و کرم کی بناء پر انہیں عطا فرماتا ہے۔ اور مؤمنین کے بارے میں یہ خدا کا انہتائی لطف و کرم ہے۔ "وَيَزِيدُهُم مِّن فَضْلِهِ" کی تفسیر میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک حدیث ہے۔ جو آپؑ نے حضرت رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل فرمائی ہے۔ الشفاعة لمن و جبت لہ النار ممن احسن الیھم فی الدنیا خدا ان پر اپنا اضافی فضل یہ فرمائے گا کہ ان مؤمنین کی ان لوگوں کے بارے میں شفاعت قبول فرمائے گا جنہوں نے دنیا میں ان کے ساتھ نیکی کی ہو گی لیکن (اپنے بُرے اعمال کی بنا پر) جہنم کے مستحق ہو چکے ہوں گے۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، اسی آیت کے ذیل میں). اس معنی خیز حدیث کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ خدا کا اضافی فضل اسی چیز میں منحصر ہے۔ بلکہ یہ تو صرف اس کے روشن مصداقوں میں سے ایک ہے۔

27
42:27
۞وَلَوۡ بَسَطَ ٱللَّهُ ٱلرِّزۡقَ لِعِبَادِهِۦ لَبَغَوۡاْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَٰكِن يُنَزِّلُ بِقَدَرٖ مَّا يَشَآءُۚ إِنَّهُۥ بِعِبَادِهِۦ خَبِيرُۢ بَصِيرٞ
جب اللہ اپنے بندوں کی روزی وسیع کر دیتا ہے تو وہ زمین میں سرکشی اور ظلم کرنے لگ جاتے ہیں لہٰذا جتنی مقدار وہ چاہتا ہے نازل کر تا ہے کیونکہ وہ اپنے بندوں سے آگاہ اور بینا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 31 کے تحت ملاحظہ کریں۔

28
42:28
وَهُوَ ٱلَّذِي يُنَزِّلُ ٱلۡغَيۡثَ مِنۢ بَعۡدِ مَا قَنَطُواْ وَيَنشُرُ رَحۡمَتَهُۥۚ وَهُوَ ٱلۡوَلِيُّ ٱلۡحَمِيدُ
اور وہ تو وہی ہے جو مفید بارش کو اس وقت نازل کر تا ہے جب وہ مایوس ہو چکے ہو تے ہیں اور اپنی رحمت کا دامن پھیلادیتا ہے اور وہ ولی اورحمید ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 31 کے تحت ملاحظہ کریں۔

29
42:29
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦ خَلۡقُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَثَّ فِيهِمَا مِن دَآبَّةٖۚ وَهُوَ عَلَىٰ جَمۡعِهِمۡ إِذَا يَشَآءُ قَدِيرٞ
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کی خلقت، اور ان کے اندر چلنے والی مخلوق بھی کہ جسے اس نے پھیلایا ہے اور جب بھی وہ چاہے انہیں اکٹھا کر نے پر قادر ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 31 کے تحت ملاحظہ کریں۔

30
42:30
وَمَآ أَصَٰبَكُم مِّن مُّصِيبَةٖ فَبِمَا كَسَبَتۡ أَيۡدِيكُمۡ وَيَعۡفُواْ عَن كَثِيرٖ
جو مصیبت بھی تم پر نازل ہو تی ہے وہ خود تمہارے اپنے ہی انجام دیئے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہو تی ہے اور وہ بہت سے (گناہ) تو معاف کر دیتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 31 کے تحت ملاحظہ کریں۔

31
42:31
وَمَآ أَنتُم بِمُعۡجِزِينَ فِي ٱلۡأَرۡضِۖ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِن وَلِيّٖ وَلَا نَصِيرٖ
اور تم زمین میں خدا کی قدرت سے ہر گز فرار نہیں کر سکتے اور خدا کے علاوہ تمہارا کوئی بھی ولی اور مدد گار نہیں ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

مشہور صحابی خباب بن ارت کہتے ہیں کہ پہلی آیت "وَلَوْ بَسَطَ اللَّهُ..." ہم لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری یہودی قبائل بنی قریظہ، بنی نضیر اور بنی قینقاع کے فراواں مال پر نظر تھی اور ہماری آرزو تھی کہ اسے کاش! ہمارے پاس بھی ایسا ہی مال ہوتا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس نے ہمیں خبردار کر دیا کہ اگر خداوند عالم اپنے بندوں کی روزی فراواں کر دے تو وہ سرکشی پر اتر آئیں گے۔ (بحوالہ: تفسیر فخر رازی، تفسیر ابو الفتوح رازی، اور تفسیر قرطبی، (اسی آیت کے ذیل میں))۔ تفسیر "در منثور" میں ایک اور حدیث بیان ہوئی ہے۔ وہ یہ کہ آیت اصحاب صفہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ کیونکہ ان کی آرزو تھی کہ ان کی دنیاوی زندگی بہتر ہو جائے۔ (بحوالہ: تفسیر در منثور میں اس روایت کو حاکم، بہیقی اور ابونعیم سے نقل کیا گیا ہے۔ ( ج ۶، ص ۸)۔ (اصحاب صفہ کون لوگ تھے، انشاء اللہ اس بارے میں ان آیات کے آخر میں تفصیلی ذکر ہو گا)۔

تفسیر سرکش ثروتمند

ان آیات کا گزشتہ آیات سے تعلق شاید اس وجہ سے ہو سکتا ہے کہ گزشتہ آیات میں سے آخری آیت میں آیا تھا کہ خدا مؤمنین کی دعا قبول فرماتا ہے۔ جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہی صورت حال ہے۔ تو پھر ان مؤمنین میں لوگ غریب کیوں ہیں اور وہ، جو دعا کرتے ہیں قبول کیوں نہیں ہوتی؟ اس قسم کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے خداوند عالم فرماتا ہے۔ اگر خدا نے بندوں کی روزی وسیع کر دے تو وہ زمین میں طغیان، سرکشی اور ظلم کرنے لگتے ہیں (وَلَوْ بَسَطَ اللَّهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الْأَرْضِ)۔ لہذا جتنی مقدار میں وہ چاہتا ہے۔ اور مصلحت سمجھتا ہے۔ روزی نازل کرتا ہے۔ (وَلَكِن يُنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا يَشَاءُ)۔ گویا اس طرح سے روزی کی تقسیم کا مسئلہ باقاعدہ حساب و کتاب کے تحت ہے۔ جو خدا نے اپنے بندوں کے بارے میں مقرر کر دیا ہوا ہے۔ "کیونکہ وہ اپنے بندوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اور ان سے خوب واقف ہے۔ (إِنَّهُ بِعِبَادِهِ خَبِيرٌ بَصِيرٌ)۔ وہ ہر شخص کے ظرف کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اور اسی کی مصلحت کے پیش نظر اسے روزی عطا کرتا ہے۔ نہ اس قدر زیادہ دیتا ہے کہ سرکش ہو جائے اور نہ اس قدر کم دیتا ہے کہ فقر و فاقہ سے داد و فریاد کرنے لگے۔ اسی طرح کی دو اور آیتیں سورہٴ علق میں بھی آئی ہیں: إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىoأَن رَّآهُ اسْتَغْنَىo انسان اس وقت سرکشی کرتا ہے۔ جب وہ خود کو بےنیاز اور غنی سمجھنے لگتا ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے۔ اور انسان کے بارے میں مطالعہ بھی اس حقیقت کا سچا گواہ ہے کہ جب دنیا کسی کی طرف رُخ کرتی ہے۔ وہ خوشحال ہو جاتا ہے۔ اور حالات اُس کی مرضی کے مطابق ہو جاتے ہیں تو پھر وہ خدا کا بندہ نہیں رہتا، بہت جلد خدا سے دور ہو جاتا ہے۔ دریائے شہوات میں غرق ہو جاتا ہے۔ اور ایسی ایسی حرکتوں کا ارتکاب کرتا ہے۔ جن کے ذ کر سے شرم آتی ہے۔ اور ہر ظلم و فساد روا سمجھنے لگتا ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں ابن عباس نے کہا ہے۔ "بغی" سے مراد یہاں پر ظلم و ستم اور سرکشی نہیں بلکہ اس سے مراد طلب ہے۔ یعنی اگر خدا اپنے بندوں کو وسیع روزی بھی دے دے پھر بھی وہ اس پر قانع نہیں ہوتے بلکہ اور مانگتے ہیں اور کبھی سیر ہونے میں نہیں آتے۔ لیکن پہلی تفسیر جسے بہت سے مفسرین نے انتخاب کیا ہے۔ زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن مجید کی کئی آیات میں "یبغون فی الارض" کا مفہوم زمین میں فساد اور ظلم لیا گیا ہے۔ جیسے سورہٴ یونس، آیت ۲۳ میں ہے۔ فَلَمَّا أَنجَاهُمْ إِذَا هُمْ يَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ نیز سورہٴ شورٰیٰ کی ۴۲ ویں آیت میں ہے۔ إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ یہ ٹھیک ہے کہ "بغی" بمعنی "طلب" بھی آیا ہے۔ لیکن جب اس کا اطلاق "فی الارض" کے ساتھ ہو تو زمین میں فساد اور ظلم کے معنی میں ہوتا ہے۔

دو سوال

یہاں پر دو سوال پیدا ہوتے ہیں: پہلا سوال: اگر روزی کی تقسیم کا مسئلہ ایسا ہی ہے۔ تو پھر ہم کچھ لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ ان کے پاس بےانتہا دولت ہوتی ہے۔ اور وہ طغیان اور فساد برپا کر کے دنیا کو تباہ کر رہے ہیں، جبکہ خدا انہیں کچھ نہیں کہتا۔ یہی حالت طاقتور استعماری حکومتوں کی بھی ہے۔ آخر ایسا کیوں ہے۔ اس سوال کے جواب کے لئے ضروری ہے کہ اس نکتے پر غور کیا جائے کہ کبھی رزق کی فراوانی امتحان اور آزمائش کا ذریعہ بھی ہوتی ہے۔ کیونکہ اس دنیا میں ہر شخص کا امتحان ہوتا ہے۔ اور امتحان کبھی دولت اور ثروت کے ذریعے بھی عمل میں آتا ہے۔ نیز کبھی اس لیے کہ دولت حاصل کر کے انسان خود بھی اور دوسرے لوگ بھی یہ جان لیں کہ دولت مندی خوش قسمتی کی موجب نہیں ہوا کرتی اور اس طرح سے ہو سکتا ہے کہ انسان اپنے خالق کی طرف متوجہ ہو جائے۔ اس وقت جو صورت حال ہے۔ وہ یہ کہ ہم بہت سے ایسے معاشروں کو دیکھ رہے ہیں جو ہر طرح کی نعمتوں، ثروت اور خوشحالی میں غرق ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ مختلف مصائب اور مشکلات سے بھی دوچار ہیں۔ بےچینی، قتل و غارت، انتہائی اخلاقی بےراہروی، اضطراب اور دیگر کئی مادی اور روحانی پریشانیاں نے انہیں گھیر رکھا ہے۔ علاوہ ازیں کبھی بےاندازہ مال و دولت خدا کا ایک طرح کا عذاب بھی ہوتا ہے۔ جس میں خداوند عالم بعض لوگوں کو مبتلا کر دیتا ہے۔ دور سے تو ایسے لوگوں کی زندگی بڑی بھلی اور دل فریب ہوتی ہے۔ لیکن اگر انہیں نزدیک سے دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ وہ اپنے آپ سے بیزار ہوتے ہیں۔ اس بارے میں کئی بادشاہوں کے قصے کہانیاں ہیں جنہیں بیان کرنے سے بات لمبی ہو جائے گی۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ آیا اس بات سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ جب انسان محروم، غریب اور فقیر ہی ہے۔ تو پھر اسے وسعتِ رزق کے لیے اِدھر اُدھر ہاتھ پاؤں مارنے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ خدا کی مصلحت بھی اس کی غربت اور افلاس ہی میں ہو۔ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے بھی اس نکتے کی جانب توجہ کرنی چاہیے کہ بعض اوقات رزق کی تنگی انسان کی اپنی غفلت، سستی اور کاہلی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس قسم کی محرومی اور رزق کی کمی خدا کے حتمی منشاء کے مطابق نہیں ہوتی بلکہ انسان کے اپنے اعمال ہی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ جسے وہ دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اسلام نے سعی و کوشش کے اصولوں کے پیش نظر، جو قرآن کی متعدد آیات، سنتِ رسولؐ اور سیرتِ آئمہ ہدیٰ علیہم الصلوٰة والسلام میں بیان ہوئے ہیں سب لوگوں کو تلاش اور جدوجہد کی دعوت دی ہے۔ لیکن جب انسان بےحد جدوجہد اور سعی و کوشش میں بھی ناکام ہو جاتا ہے۔ اور اس پر رزق کے سارے دروازے بند ہو جاتے ہیں تو پھر اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اس امر میں ضرور کوئی مصلحت ہے۔ لہٰذا اسے کسی قسم کی بےچینی کا اظہار نہیں کرنا چاہیے اور مایوس ہو کر کفر کے کلمے اپنی زبان پر جاری نہیں کرنے چاہییں بلکہ اپنی کوشش کو جاری رکھتے ہوئے رضائے الہٰی پر راضی رہنا چاہیے۔ یہاں پر یہ نکتہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ "عبادہ" (اس کے بندے) کی تعبیر، رزق کی فراوانی کی صورت میں ان کے طغیان اور سرکشی کے منافی نہیں ہے۔ کیونکہ اس قسم کی تعبیر ہر قسم کے نیک، بد اور متوسط لوگوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ جیسے قرآن میں ہے۔ قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ "کہہ دے اے میرے وہ بندو کہ جنہوں نے اپنے بارے میں اسراف کیا ہے۔ خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو" (الزمر: ۵٣)۔ یہ ٹھیک ہے کہ خدا تعالیٰ روزی کو حساب کے ساتھ نازل کرتا ہے۔ تاکہ اس کے بندے سرکشی نہ کریں لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ انہیں محروم کر دے اور روزی ان سے بالکل روک دے۔ لہٰذا بعد کی آیت میں فرمایا گیا ہے۔ اور وہ تو وہ ہے۔ جو مفید بارش، لوگوں کے مایوس ہو جانے کے بعد نازل کرتا ہے۔ اور اپنی رحمت کا دامن پھیلا دیتا ہے۔ (وَهُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِن بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَيَنشُرُ رَحْمَتَهُ)۔ ایسا ہونا بھی چاہیے "کیونکہ وہ ایک ولی و سرپرست اور تعریف کے لائق ہے۔ (وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ)۔ یہ آیت باوجودیکہ پروردگارِ عالم کی نعمتوں اور مہربانیوں کو بیان کر رہی ہے۔ لیکن توحید کی نشانیوں کو بھی ظاہر کر رہی ہے۔ کیونکہ باران کا نزول ایک دقیق اور منظم نظام کے تحت عمل میں آتا ہے۔ سورج، سمندروں پر ضیا پاشی کرتا ہے۔ پانی کے لطیف ذرات کو نمکیات سے جدا کرتا ہے۔ اور انہیں بادلوں کے ٹکڑوں کی صورت میں آسمان کی طرف بھیجتا ہے۔ جب فضا کا سرد بالائی حصہ انہیں آپس میں جوڑ کر ملا دیتا ہے۔ تو پھر ہوائیں انہیں اپنے دوش پر سوار کر لیتی ہیں اور تشنہ و خشک زمینوں کی فضا میں پہنچاتی ہیں جہاں پر وہ ہوا کے مخصوص دباؤ اور ٹھنڈک کی وجہ سے بارش کے چھوٹے چھوٹے قطروں میں تبدیل ہو کر آہستہ آہستہ زمین پر اترنے لگتے ہیں اور نقصان پہنچائے بغیر زمین کے اندر جذب ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم اس نظام کا بغور مطالعہ کریں تو اس میں ہمیں خدا کے علم و قدرت کی نشانیاں واضح طور پر نظر آئیں گی۔وہ ایسا ولی اور حمید ہے۔ جو اپنے بندوں کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ اور انہیں اپنی رحمت میں شامل کر دیتا ہے۔ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ "غیث" کا معنی "مفید بارش" ہے۔ .. جیسا کہ بہت سے مفسرین اور بعض اہلِ لغت نے اس کی وضاحت کی ہے۔ .. اور "مطر" ہر مفید اور غیر مفید بارش کو کہا جاتا ہے۔ اسی لیے اس کے فوراً بعد "وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَہُ" (اپنی رحمت کو پھیلاتا ہے۔ کا جملہ آیا ہے۔ کس قدر زیبا اور جامع تعبیر ہے۔ مردہ زمینوں کو زندہ کرنے میں، نباتات کے اگانے میں، فضا کو دھونے اور صاف کرنے میں، انسانوں اور دوسرے زندہ موجودات کے لئے پینے کا پانی مہیا کرنے میں، غرض تمام صورتوں میں اپنی رحمت کو پھیلاتا ہے۔ اور اسے ہر چیز تک پہنچاتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس قرآنی جملے کا صحیح معنوں میں مفہوم سمجھنا چاہتا ہے۔ تو اسے چاہیے کہ بارش ہو جانے کے بعد جب مطلع صاف ہو جاتا ہے۔ پہاڑ، جنگل یا بیابان کی سیر کرے اور خدا کی رحمت کے نظارے کرے کہ کیونکہ اس کی رحمت لطافت، زیبائی اور طراوت کی صورت میں کرشمہ سازی کر رہی ہوتی ہے۔ "غیث" کے لفظ سے یہ معنی شاید اس لیے مراد لیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ "غوث" بمعنی فریاد رسی، کے ساتھ مشترک ہے۔ اسی لیے بعض مفسرین نے مندرجہ بالا تعبیر کو ہر قسم کی ناامیدیوں کے بعد خدا کی فریاد رسی اور اس کے دامنِ رحمت کے پھیلنے کی طرف اشارہ سمجھا ہے۔ (تشریحی نوٹ: راغب مفردات میں کہتے ہیں کہ "غوث" مدد کرنے کے موقع پر بولا جاتا ہے۔ اور"غیث" بارش کے لیے: الغوث یقال فی النصرة والغیث فی المطر)۔ اور اسی مناسبت سے ایک بار پھر بعد کی آیت میں خداوندِ عالم کے علم و قدرت کی اہم ترین نشانیوں میں سے ایک نشانی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ اس کی نشانیوں میں سے ہے۔ آسمان اور زمین کی تخلیق اور ان کے اندر چلنے والی مخلوق بھی کہ جسے اس نے پھیلایا ہے۔ (وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَثَّ فِيهِمَا مِن دَابَّةٍ)۔ یہ سب آسمان اس قدر عظمت کے ساتھ، اس قدر نظام ہائے شمسی اور کہکشاؤں کے ساتھ، کروڑوں عظیم اور روشن ستاروں کے ساتھ اور ایسے نظام کے ساتھ کہ جس کے مطالعے سے انسان ورطۂ حیرت میں پڑ جاتا ہے۔ اور زمین اپنے مختلف حیاتیاتی منابع کے ساتھ، رنگارنگ اور مختلف النوع نباتات کے ساتھ، پھولوں اور پھلوں کے ساتھ، مختلف نعمتوں اور برکتوں کے ساتھ اور مختلف زیبائیوں کے ساتھ سب کے سب خدائے واحد کی آیات اور نشانیاں ہیں۔ یہ تو تھا ایک طرف، ادھر دوسری طرف زمین اور آسمان میں چلنے والی مخلوق، مختلف قسم کے پرندے، لاکھوں قسم کے حشرات اور کیڑے مکوڑے، وحشی اور پالتو جانوروں کی مختلف قسمیں رینگنے اور کاٹنے والے جانور، چھوٹی سے چھوٹی، خوبصورت اور اسی طرح بڑی سے بڑی اور غول پیکر مچھلیاں اور پانی میں رہنے والی دوسری مخلوق اور پھر مذکورہ مخلوقات کے ڈھانچے اور طرزِ تخلیق محیرالعقول اور حیرتناک ہے۔ اور ان سب سے زیادہ اہم اور اصل چیز زندگی کی حقیقت اور اس پر حکم فرما وہ اسرار و رموز ہیں کہ لاکھوں سائنس دان ہزارہا سال کی تحقیق اور ریسرچ کے بعد بھی اس کی گہرائیوں تک نہیں پہنچ سکے۔ یہ سب کچھ خدا کی نشانیاں ہیں۔ یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ "دابّة" کا اطلاق اس زندہ چیز پر بھی ہوتا ہے۔ جو خوردبین کے علاوہ دکھائی نہیں دیتی اور اس کی حرکت انتہائی ظریف اور مخفی ہوتی ہے۔ اور ان غول پیکر حیوانات پر بھی ہوتا ہے۔ جن کی لمبائی بیسیوں میٹر اور وزن بیسیوں ٹن ہوتا ہے۔ ہر ایک چیز کسی نہ کسی صورت میں تسبیحِ حق بیان کرتی ہے۔ اور اس کی ثنا خوانی میں مصروف ہے۔ اور زبانِ حال کے ساتھ اس کے بےپایاں علم کی عظمت اور قدرت بیان کر رہی ہے۔ آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اور وہ ان کو جب چاہے۔ جمع کرنے پر قادر ہے۔ (وَهُوَ عَلَى جَمْعِهِمْ إِذَا يَشَاءُ قَدِيرٌ)۔ (تشریحی نوٹ: صاحب کشاف کے بقول "اذا" کا کلمہ جس طرح فعل ماضی پر داخل ہوتا ہے۔ اسی طرح فعل مضارع پر بھی داخل ہوتا ہے۔ "واللیل اذا یغشٰی" لیکن "اذا" کے بعد فعل زیادہ تر ماضی کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور مضارع کی صورت میں بہت کم ہوتا ہے۔ اس آیت میں تمام چلنے والی چیزوں کو جمع کرنے سے کیا مراد ہے۔ بہت سے مفسرین نے انہیں بروزِ قیامت حساب و کتاب اور اعمال کی جزا کے لئے جمع ہونے کے معنی میں لیا ہے۔ اور جن آیات میں قیامت کو "یوم الجمع" کے نام سے بھی یاد کیا گیا ہے۔ انہیں لیے اس معنی پرشاہد کی صورت میں لایا جا سکتا ہے۔ (جیسے اسی سورۂ شوریٰ کی ساتویں آیت اور سورۂ تغابن کی نویں آیت ہے۔ لیکن اس صورت میں یہ سوال درپیش آتا ہے کہ آیا قیامت میں تمام چلنے والی چیزیں محشور ہوں گی، حتیٰ کہ غیر انسانی مخلوق بھی؟ بلکہ کچھ لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ "دابّہ" (چلنے والی چیز) کا اطلاق ہی عام طور پر غیر انسانی مخلوق پر ہوتا ہے۔ تو ایسی صورت میں یہ مشکل پیش آ جاتی ہے کہ چلنے والی غیر انسانی مخلوق کا حشر و نشر اور حساب و کتاب کیسا جب کہ نہ ان کا عقل و شعور ہے۔ اور نہ ہی ان کے ذمہ کسی فرض کی ادائیگی ہے۔ ہم اس سوال کا جواب سورہٴ انعام کی ۳۸ ویں آیت کی تفسیر میں دے چکے ہیں۔ آیت یوں ہے۔ وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلاَ طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلاَّ أُمَمٌ أَمْثَالُكُم مَّا فَرَّطْنَا فِي الكِتَابِ مِن شَيْءٍ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ ہم بتا چکے ہیں کہ بہت سے حیوانات کی زندگی کا نظام جاذبِ نظر اور محیر العقول ہے۔ اور کیا مانع ہے کہ یہ اعمال ان کے اندر موجود عقل و شعور کی کسی قسم کو بیان کر رہے ہوں؟ یہ کیا ضروری ہے کہ ہم ان سب اعمال کو جبلّت کے زیر اثر قرار دیں تو ایسی صورت میں ان کے لیے ایک طرح کے حشر و نشر اور حساب و کتاب کا تصور کیا جا سکتا ہے۔ (اس موضوع کی مزید تفصیل کے لیے تفسیر نمونہ کی جلد ٣ میں سورہٴ انعام کی ۳۸ ویں آیت کی تفسیر کی طرف رجوع فرمائیں)۔ زیرِ تفسیر آیت میں یہ امکان بھی ہے کہ یہاں پر "جمع" کا لفظ "بث" کا نقطہ مقابل ہو۔ یعنی "بث" کا لفظ تمام زندہ اور چلنے والی مخلوق کی پیدائش اور توسیع کی طرف اشارہ ہو۔ پھر فرمایا گیا ہے کہ جب بھی خدا چاہے۔ گا انہیں "جمع" کر کے نیست و نابود کر دے گا۔ جیسا کہ تاریخی طور پر اب تک روئے زمین پر کئی قسم کی چلنے پھرنے والی چیزیں عجیب طریقے پر بڑھیں اور ساری زمین میں پھیل گئیں اور اس کے کچھ عرصے بعد جمع اور منقرض ہو گئیں۔ ان کی افزائش اور وسعت بھی خدا کے ہاتھ میں ہے۔ اور ان کا جمع کرنا اور خاتمہ کرنا بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ یہ آیت درحقیقت ان آیات کے مشابہ ہے۔ جن میں کہا گیا ہے کہ زندگی دینے والا بھی خدا ہے۔ اور مارنے والا بھی وہی ہے۔ ایسی صورت میں اس آیت میں جانوروں کے لئے حساب و کتاب اور سزا و جزا کا مسئلہ پیدا نہیں ہو گا۔

ستاروں میں مخلوق رہتی ہے

اس آیت سے جو قابلِ غور نکتہ پیدا ہوتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ یہ آیت اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ آسمانوں میں بھی کئی قسم کی زندہ مخلوق رہتی ہے۔ اگرچہ اس بارے میں سائنس دانوں نے کوئی قطعی اور حتمی فیصلہ نہیں کیا بلکہ وہ صرف اسی حد تک دبے لفظوں میں کہتے ہیں کہ: آسمانی ستاروں میں قوی اندازے کے مطابق بہت سے ستارے ایسے ہیں جن میں زندہ مخلوق رہتی ہے۔ لیکن "وَمَا بَثَّ فِيهِمَا مِن دَابَّةٍ" کہ آسمانوں اور زمین میں چلنے والی مخلوق پھیلا دی ہے۔ کا جملہ واضح طور پر اس حقیقت کو بیان کر رہا ہے کہ آسمانی وسعتوں میں بھی چلنے والی مخلوق کی فراوانی ہے۔ بعض مفسرین نے جو یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ "فیہما" صرف کرۂ ارض ہی میں منحصر ہے۔ بہت بعید معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ ضمیر تثنیہ کی ہے۔ اور زمین و آسمان دونوں کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اسی طرح "دابّة" کے لفظ کا فرشتوں پر اطلاق بھی بہت بعید معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ اس لفظ کا اطلاق عام طور پر چلنے پھرنے والی مادی مخلوق پر ہوتا ہے۔ اور قرآن مجید کی کئی اور آیات سے بھی یہی معنی معلوم ہوتا ہے۔ حضرت امیر المؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام سے منقول ہے۔ ھٰذِهِ النُّجومُ الَّتی فِی السَّمآءِ مَدائِنُ مِثلُ الْمَدائِنِ الَّتی فِی الْاَرضِ مَربُوطَةٌ کُلُّ مَدینَةٍ إِلیٰ عَمودٍ مِن نُورٍ یہ ستارے جو آسمان میں ہیں ان میں بھی زمین کے شہروں کے مانند شہر ہیں، ہر شہر دوسرے شہر سے (ہر ستارہ دوسرے ستارے سے) نور کے ستون کے ذریعے ملا ہوا ہے۔ (بحوالہ: سفینتہ البحار مادہ نجم جلد ۲، ص ۵۷۴ (منقول از تفسیر علی بن ابراہیم))۔ اس بارے میں بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں (مزید تفصیلات کے لیے کتاب "الہیئة والاسلام" کا مطالعہ فرمائیں)۔ گزشتہ آیات میں رحمتِ خدا کی بات ہو رہی تھی، اور اس سے فطری طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ جن مصائب میں ہم گھرے ہوئے ہیں، یہ کہاں سے آتے ہیں؟ تو بعد کی آیت اسی سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتی ہے۔ جو مصائب اور ناخوشگوار واقعات تمہیں پیش آتے ہیں، وہ ان اعمال کی وجہ سے ہوتے ہیں جن کو تم نے خود انجام دیا ہے۔ (وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ)۔ نیز یہ بات بھی یاد رکھو کہ یہ تمہارے غلط اعمال کی مکمل سزا نہیں ہے۔ کیونکہ "وہ تمہارے بہت سے کاموں کو بخش دیتا ہے۔ " (وَيَعْفُواْ عَن كَثِيرٍ)۔

مصائب کیوں نازل ہوتے ہیں؟

اس آیت میں چند ایک قابل غور نکتے موجود ہیں: ۱۔ یہ آیت واضح طور پر بتا رہی ہے کہ جو مصائب انسان پر نازل ہوتے ہیں، وہ خداوندِ عالم کی ایک قسم کی سزا ہے۔ جو انسان کو خبردار کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ (مگر بعض استثنائی مقامات ہیں کہ جن کی طرف بعد میں اشارہ ہو گا)۔ اس طرح دردناک حوادث اور زندگی کی مشکلات کا ایک فلسفہ تو واضح ہو جاتا ہے۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں: خَیْرُ آیَةٍ فِی کِتابِ اللَّهِ هَذِهِ الآیَةُ! یَا عَلِی! مَا مِنْ خَدْشِ عُودٍ، وَ لا نَکْبَةِ قَدَمٍ إِلاّ بِذَنْبٍ، وَ مَا عَفَی اللَّهُ عَنْهُ فِی الدُّنْیَا فَهُوَ أَکْرَمُ مِنْ أَنْ یَعُودَ فِیهِ، وَ مَا عَاقَبَ عَلَیْهِ فِی الدُّنْیَا فَهُوَ أَعْدَلُ مِنْ أَنْ یُثَنِّی عَلَی عَبْدِهِ یہ آیت (وَ ما اَصابَکُمْ مِنْ مُصیبَةٍ...) قرآن کی بہترین آیات میں سے ہے۔ یا علی! انسان کے جسم پر اگر لکڑی کی بھی خراش واقع ہوتی ہے۔ یا قدم سے کوئی لغزش سرزد ہوتی ہے۔ تو یہ ان گناہوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جن کا انسان ارتکاب کرتا ہے۔ اور جو گناہ خدا دنیا میں معاف کر دیتا ہے۔ (قیامت کے دن) ان پر پھر نظر کرنا اس کی شان کے خلاف ہے۔ اور دنیا میں جن گناہوں کی سزا دے دیتا ہے۔ آخرت میں ان کی سزا دینا اس کے عدل کے منافی ہے۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر مجمع البیان جلد ۹، ص ۳۱۔ (اسی آیت کے ذیل میں) اس سے ملتی جلتی حدیث در منثور اور رُوح المعانی میں بھی آیات زیر بحث کے ذ یل میں کچھ فرق کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ اس بارے میں احادیث بھی بہت ملتی ہیں)۔ گویا اس قسم کے مصائب ایک تو انسان کے گناہوں کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں اور دوسرے اسے مستقبل کے لئے کنٹرول بھی کر لیتے ہیں۔ ۲۔ اگرچہ آیت ظاہری طور پر عمومیت کی حامل ہے۔ اور اس میں تمام مصائب آ جاتے ہیں لیکن معمول کے مطابق، عموم میں استثناء ہوتا ہے۔ جیسے وہ مصائب اور مشکلات جو ائمہ یا انبیاء علیہم السلام کو پیش آتے رہے ہیں۔ وہ یا تو ان کے مقامات کی بلندی کے لئے تھے یا پھر ان کی آزمائش کے لیے۔ اسی طرح بعض مصائب جو غیر معصوم پر نازل ہوتے ہیں ان میں بھی آزمائش کا پہلو ہوتا ہے۔ یا پھر کچھ مصائب ایسے ہوتے ہیں جو انسان کے اپنی غور نہ کرنے، بےسمجھی اور کسی سے مشورہ لئے بغیر کام کرنے یا سہل انگاری سے کام لینے کی وجہ سے لاحق ہوتے ہیں۔ درحقیقت ایسے مصائب انسان کے اپنے اعمال کا تکوینی نتیجہ ہوتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں قرآن کی مختلف آیات اور اسلامی روایات کو جب ایک جگہ اکٹھا کیا جائے تو اس سے یہ نتیجہ نکلے گا کہ اس آیت کا عمومی حکم کچھ صورتوں میں تخصیص پیدا کر لے گا اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لہٰذا بعض مفسرین نے جو اس پر اعتراض کیا اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ سخت مصائب اور مشکلات کے کئی فلسفے ہیں جن کی طرف توحید اور عدل کے مباحث میں اشارہ ہو چکا ہے۔ مثلاً مصیبتوں کے سائے میں استعداد اور لیاقتوں کا اجاگر ہونا، مستقبل کے بارے میں تنبیہ، خدا کی آزمائش، غرور اور غفلت سے بیداری، اور گناہوں کا کفارہ وغیرہ۔ البتہ چونکہ ان میں سے اکثر کا تعلق سزا اور کفارے سے ہوتا ہے۔ لہٰذا مندرجہ بالا آیات نے اسے عمومی صورت میں پیش کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روایت میں ہے کہ جب حضرت امام زین العابدین علیہ السلام یزید ملعون کے دربار میں پہنچے تو اس نے امام کی طرف منہ کر کے کہا: "یا علی! ما أصابکم من مصیبة فبما کسبت أیدیکم" اس کا اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ حادثاتِ کربلا خود تمہارے ہی اعمال کا نتیجہ ہیں۔ تو امام زین العابدین علیہ السلام نے فوراً اس کا ان الفاظ میں جواب دیا: کلّا! ما ھذہ فینا نزلت، إنما أنزل فینا: "ما أصاب من مصیبة في الأرض ولا في أنفسکم إلا في کتاب من قبل أن نبرأحا ان ذلک علی اللہ یسیر، لکیلا تأسوا علی ما فاتکم ولا تفرحوا بما آتاکم" فنحن الذین لا نأسی علی ما فاتنا من أمر الدنیا، ولا نفرح بما أوتینا۔ (بحوالہ: تفسیر علی بن ابرہیم، مطابق نورا لثقلین، جلد ۴، ص ۵۸۰)۔ "ایسا نہیں ہے۔ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل نہیں ہوئی، بلکہ ہمارے بارے میں ایک اور آیت اتری ہے۔ جس میں کہا گیا ہے۔ "جو مصیبت بھی زمین یا تمہارے جسم و جان پر نازل ہوتی ہے۔ تمہاری تخلیق سے پہلے کتاب (لوحِ محفوظ) میں درج تھی اور اس کا علم خدا کے لیے آسان ہے۔ اور یہ صرف اس لیے ہے کہ جو چیز تمہارے ہاتھوں سے چلی جائے اس پر غمگین نہ ہو، اور جو کچھ تمہارے پاس موجود ہے۔ اس پر زیادہ خوشی نہ مناؤ۔" (ان مصیبتوں کا مقصد یہ ہے کہ چند روزہ دنیاوی زندگی کے ساتھ دل نہ لگا اور یہ ایک طرح سے تمہاری تربیت اور آزمائش ہے۔ پھر امام علیہ السلام نے فرمایا: "ہم جو کچھ دے چکے ہیں، اس پر ہرگز غمگین نہیں ہیں اور جو کچھ ہمارے پاس موجود ہے۔ اس پر خوش نہیں ہیں۔ (ہم سب چیزوں کو عارضی اور چند روزہ سمجھتے ہیں اور صرف خدا کے لطف و عنایت کے منتظر ہیں")۔ ہم اپنی اس گفتگو کو حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی اس حدیث پر ختم کرتے ہیں کہ جس کے مطابق جب امام علیہ السلام سے مذکورہ بالا آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: "تم جانتے ہو کہ علی اور ان کے اہل بیت مصیبتوں میں گرفتار ہوئے، آیا یہ ان کے اعمال کی وجہ سے تھا؟ حالانکہ وہ سب اہل بیتِ طہارت ہیں اور ہر قسم کے گناہوں سے پاک ہیں!" پھر فرمایا: "إن رسول اللہ کان یتوب إلی اللہ ویستغفر في کل یوم ولیلة مأة مرة من غیر ذنب، إن اللہ یخص اولیائہ بالمصائب لیأجرھم علیہا من غیر ذنب۔" رسول اللہ ہمیشہ توبہ کیا کرتے تھے اور ہر دن رات میں سو مرتبہ استغفار کیا کرتے تھے، حالانکہ کسی قسم کا گناہ ان سے سرزد نہیں ہوتا تھا۔ خدا نے اپنے دوستوں کے لیے کچھ مصائب مقرر کیے ہیں تاکہ ان پر صبر کر کے وہ اس کا ثواب پائیں، حالانکہ ان سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوتا۔ (بحوالہ: اصول کافی، منقول تفسیر نور الثقلین، جلد ۴، ص ۵۸۱)۔ ۳۔ کچھ لوگوں کو اس بات میں تردد ہے کہ مذکورہ آیت میں مصائب سے مراد دنیاوی مصیبتیں ہیں، کیونکہ دنیا عمل کا گھر ہے۔ نہ کہ سزا یا جزا کا۔ لیکن یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ بہت سی آیات اور روایات شاہد ہیں کہ بعض اوقات انسان اسی دنیا میں اپنے کیے کا نتیجہ سزا یا جزا کی صورت میں دیکھ لیتا ہے۔ اگر یہ کہا جاتا ہے کہ دنیا سزا یا جزا کا گھر نہیں ہے۔ تو اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اسے اپنے تمام اعمال کی سزا یا جزا یہاں نہیں ملتی، نہ یہ کہ اسے ہرگز سزا یا جزا نہیں ملتی اور آیات و روایات سے باخبر لوگوں کی نگاہ میں اس حقیقت کا انکار ایسے ہی ہے۔ جیسے کسی ظاہر چیز کا انکار ہوتا ہے۔ ۴۔ کبھی مصائب، مجموعی حیثیت کے ہوتے ہیں جو کئی لوگوں کے مجموعی گناہوں کی وجہ سے ظاہر ہوتے ہیں، جیسا کہ سورۂ روم کی ۴۱ ویں آیت میں ہے۔ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ لوگوں کے اعمال کی وجہ سے خشکی اور سمندروں میں خرابی پیدا ہو گئی تاکہ خدا انہیں ان کے کچھ ایسے اعمال کے انجام کا مزہ چکھائے جو انہوں نے انجام دیے ہیں تاکہ وہ ان سے باز آ جائیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ بات انسانی معاشروں سے متعلق ہے کہ جن کے افراد مل کر گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور مشکلات و مصائب میں پھنس جاتے ہیں۔ سورہٴ رعد کی ۱۱ویں آیت میں ہے۔ إِنَّ اللّهَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنے آپ کو نہیں بدلتی۔ اس قسم کی آیات اس بات کی شاہد ہیں کہ انسانی اعمال اور کائنات کے تکوینی نظام زندگی کا ایک گہرا اور نزدیکی رابطہ ہے کہ اگر وہ فطری اصولوں اور تخلیقی قوانین کے مطابق چلیں گے تو خدا کی برکتیں ان کے شاملِ حال ہوں گی اور اگر بےراہروی اختیار کریں گے تو ان کی زندگی میں بگاڑ پیدا ہو جائے گا۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مذکورہ صورت میں انسانوں میں سے ہر ایک فرد پر صادق آ جاتی ہے۔ اور جو بھی شخص کسی گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اس کا اپنا جسم و جان یا مال و متعلقات کسی مصیبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ زیرِ تفسیر آیت میں مذکور ہے۔ (بحوالہ: تفسیر المیزان، جلد ۱۸، ص ۶۱)۔ بہرحال، ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ اس بات کا تصور کریں کہ وہ خدا کے اس حتمی قانون اور ناقابلِ اجتناب طریقہ کار سے راہِ فرار اختیار کر سکتے ہیں لہٰذا اس سلسلے کی آخری آیت میں فرمایا گیا ہے۔ تم زمین میں خدا کی قدرت سے ہرگز فرار نہیں کر سکتے (وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ)۔ (تشریحی نوٹ: "معجزین" کا کلمہ "اعجاز" کے مادہ سے لیا گیا ہے۔ جس کا معنی ہے۔ کسی کو عاجز کر دینا۔ لیکن یہی کلمہ قرآن کی بہت سی آیات میں قدرت الہٰی اور اس کے عذاب سے فرار کرنے کے معنی میں بھی آیا ہے۔ جو اصل معنی کا لازمہ ہے۔ تم کس طرح اس کی قدرت اور حکومت کے دائرۂ اختیار سے فرار کر سکتے ہو، جبکہ تمام کائناتِ ارض و سماوی پر بلاشرکتِ غیرے اس کی حکومت ہے۔ اگر تم یہ باور کرتے ہو کہ اس بارے میں کوئی امداد کو آ پہنچے گا تو یاد رکھو "خدا کے علاوہ نہ تو کوئی تمہارا ولی ہے۔ اور نہ ہی مددگار (وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ)۔ ممکن ہے۔ "ولی" اور "نصیر" کے درمیان فرق اس لحاظ سے ہو کہ "ولی" وہ سرپرست ہوتا ہے۔ جو فائدہ چاہتا ہے۔ اور "نصیر" وہ مددگار ہوتا ہے۔ جو نقصان دور کرتا ہے۔ یا یہ فرق اس لحاظ سے ہو کہ "ولی" اس شخص کو کہتے ہیں جو مستقل صورت میں کسی کا دفاع کرے اور "نصیر" وہ ہوتا ہے۔ جو خود شانہ بشانہ رہ کر مدد کرتا ہے۔ درحقیقت آخری آیت انسان کی کمزوری اور ناتوانی کو مجسم کرتی ہے۔ جب کہ اس سے پہلی آیت خدا کی عدالت اور رحمت کو ۔ (بحوالہ: تفسیر فی ظلال القرآن، ج ۷، ص ۲۹۰)۔

چند اہم نکات ۱۔ تمہاری مصیبتیں خود تمہاری ہی پیدا کردہ ہیں:

بہت سے لوگ گمان کرتے ہیں کہ انسانی اعمال کا خدا کی سزا اور جزا کے ساتھ رابطہ اس کے مقرر کردہ قوانین سے ایسے ہی ہے۔ جیسے دنیاوی قوانین اور جرم کا باہمی رابطہ ہوتا ہے۔ حالانکہ ہم بارہا بتا چکے ہیں کہ انسانی جرم اور خدائی قانون کا باہمی رابطہ تشریعی اور مقرر کردہ سزاؤں کی نسبت تکوینی بنیادوں سے زیادہ مشابہ ہے۔ بالفاظ دیگر گناہوں کی سزا بیشتر انسان کے اعمال کا طبعی اور تکوینی نتیجہ ہے کہ جو انسان کو بھگتنا پڑے گا اور مندرجہ بالا آیات اس بات کی واضح گواہ ہیں۔ اس سلسلے میں احادیثِ اسلامی کی کتابوں میں بہت سی روایات ذکر ہوئی ہیں جن میں سے چند ایک کو ہم گفتگو کی تکمیل کے لیے بیان کرتے ہیں: (۱) نہج البلاغہ کے خطبہ ۱٧۸ میں ہے کہ امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: "ما کان قوم قط فی غض نعمة من عیش، فزال عنہم، الا بذنوب اجترحوھا، لان اللہ لیس بظلام للعبید۔ ولو ان الناس حین تنزل بہم النقم، و تزول عنہم النعم، فزعوا الی ربہم بصدق من نیاتھم، و ولہ فی قلوبہم، لرد علیہم کل شارد، و اصلح لہم کل فاسد" کوئی بھی قوم ناز و نعمت کی آغوش سے اسی وقت جدا ہوئی ہے۔ جب اس نے گناہوں کا ارتکاب کیا، کیونکہ خدا اپنے بندوں پر ہرگز ظلم نہیں کرتا۔ اگر لوگ بلاؤں کے نزول اور نعمتوں کے چھن جانے کے موقع پر سچی نیت کے ساتھ خدا کی بارگاہ میں اپنی عاجزی کا اظہار کریں اور خدا کی محبت سے والہ و شیفتہ دل کے ساتھ ان کی تلافی کی دعا کریں، تو یقیناً خدا ان کی ضائع شدہ چیزوں کو پلٹا دے اور ان کے ہر قسم کے بگاڑ کی اصلاح فرما دے۔ (۲) جامع الاخبار میں امیر المؤمنین علیہ السلام سے ایک اور حدیث بھی منقول ہے۔ امام علیہ السلام فرماتے ہیں: "ان البلاء للظالم ادب، وللمؤمن امتحان، وللانبیاء درجة، وللاولیاء کرامة" بلائیں، ظالموں کے لئے تادیب ہوتی ہیں، مومنوں کے لیے امتحان، انبیاء کے لئے درجات اور اولیاء کے لئے مقام و مرتبہ اور بزرگی ہوتی ہیں۔ (بحوالہ: بحار انوار، جلد ۸۱، ص ۱٩۸)۔ یہ حدیث ہمارے بیان کردہ اس استثناء کی شاہد ہے۔ جو آیتِ مذکورہ کے بارے میں ہے۔ (٣) کافی میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک اور حدیث یوں مروی ہے۔ "ان العبد اذا کثرت ذنوبہ، ولم یکن عندہ من العمل ما یکفرھا، ابتلاہ بالحزن لیکفرھا" جب انسان کے گناہ زیادہ ہو جاتے ہیں اور عمل بھی اتنی مقدار میں نہیں ہوتے جو ان گناہوں کا کفارہ بن سکیں تو خدا اسے رنج و غم میں مبتلا کر دیتا ہے۔ جس سے اس کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے۔ (بحوالہ: کافی، جلد دوم، کتاب الایمان و الکفر، باب تعجیل عقوبة الذنب، حدیث ۲)۔ (۴) کتابِ کافی میں اس موضوع پر مستقل اور مکمل باب قائم کیا گیا ہے۔ جس میں بارہ حدیثیں درج کی گئی ہیں۔ (بحوالہ: کافی، جلد دوم، کتاب الایمان و الکفر، باب تعجیل عقوبة الذنب، حدیث ۲)۔ پھر بھی یہ گناہ ان گناہوں کے علاوہ ہیں جو مذکورہ صریح آیت کے مطابق خداوندِ کریم کی عفو و رحمت کی وجہ سے معاف کر دیے جائیں گے اور وہ بھی اپنے مقام پر بہت سے ہیں۔

۲۔ ایک زبردست غلط فہمی کا ازالہ:

ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ اس قرآنی حقیقت سے غلط نتیجہ نکالتے ہوئے، جو مصیبت بھی ان پر آن پڑے اسے قبول کر لیں اور کہیں کہ ہر تکلیف مصیبت اور ناخوشگوار واقعے کے سامنے ہتھیار ڈال دینے چاہئیں اور یوں وہ قرآن کے ایک سبق آموز اور متحرک اصول کا الٹا نتیجہ نکالیں۔ یہ بہت ہی خطرناک بات ہو گی۔ قرآن مجید یہ کبھی نہیں کہتا کہ مصیبتوں کے آگے ہتھیار ڈال دیے جائیں، مشکلات کو دور کرنے کے لئے کسی قسم کی کوشش نہ کی جائے اور اپنے آپ کو ظلم و ستم اور بیماریوں کے حوالے کر دیا جائے بلکہ وہ تو کہتا ہے کہ اگر سعی و کوشش اور تلاشِ بسیار کے بعد بھی مصیبتیں تم پر غالب ہیں تو تمہیں جان لینا چاہیے کہ تم سے کوئی ایسا گناہ سرزد ہو گیا ہے۔ جس کا نتیجہ اور کفارہ اب بھی تمہارا دامن نہیں چھوڑ رہا۔ لہٰذا اپنے گزشتہ اعمال پر نظر کرو، اپنے کیے کی معافی مانگو، اپنی اصلاح کرو اور خامیوں کی تلافی کرو۔ یہ جو بعض روایات میں اس آیت کو بہترین قرآنی آیت قرار دیا گیا ہے۔ تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس میں اہم تربیتی آثار پائے جاتے ہیں۔ یہ آیت انسان کا بوجھ ہلکا کرتی ہے۔ قلب و روح میں عشقِ پروردگار کی جوت جگاتی ہے۔ اور چراغِ اُمید کو روشن کرتی ہے۔

۳۔ "اصحابِ صفہ" کون لوگ ہیں؟

جو لوگ آج کل مسجدِ نبوی کی زیارت کے لیے مدینہ منورہ جاتے ہیں تو مسجد کے پاس اور قبرِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک ایک جگہ دیکھتے ہیں جو زمین سے قدرے بلند ہے۔ اور اس کے اطراف کو ایک مختصر اور معمولی سی دیوار کے ذریعے باقی مسجد سے زیبا اور دلپذیر صورت میں جدا کیا گیا ہے۔ اور بہت سے لوگ نماز اور تلاوتِ کلامِ پاک کے لئے اس جگہ کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہ جگہ اس "صفہ" اور چبوترے کی یادگار کے طور پر ہے۔ جس پر پیغمبر اسلامؐ کے حکم سے چھپر ڈال کر مدینے کے باہر سے آنے والے ان لوگوں کے لیے تیار کیا گیا تھا جو اسلام قبول کرتے تھے لیکن ان کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا تھا۔ (تشریحی نوٹ: "صفہ" بروزنِ "غصہ" لغت میں گرمیوں کے اس حجرے کو کہتے ہیں جس پر کھجور کی لکڑیوں کی چھت ڈالی جائے)۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ سب سے پہلے جس ایسے شخص نے اسلام قبول کیا اور مدینہ میں اس کی کوئی رہائش گاہ نہیں تھی یمامہ کا رہنے والا ایک جوان تھا جس کا نام جُویبر تھا کہ جس کی شادی کی داستان کو تاریخِ اسلام میں شہرت حاصل ہے۔ اور اس کی شادی ذُلفا نامی خاتون سے ہوئی اور شادی طبقاتی نظام پر ایک اچھی ضرب تھی۔ چونکہ جویبر کے لئے رہائش کی کوئی جگہ نہیں تھی لہٰذا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں رات کو مسجد میں سونے کی اجازت دے دی۔ لیکن جوں جوں اسلام قبول کرنے والے بےگھر افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا اور وہ سب کے سب مسجد میں اپنا ڈیرہ جمانے لگے تو مسجد کے انتظامی امور میں پیچیدگیاں پیدا ہونے لگیں لہٰذا انہیں حکم دیا گیا کہ وہ مسجد سے باہر جا کر رہیں تاکہ مسجد ہر لحاظ سے پاک و پاکیزہ رہے اور ساتھ ہی آنحضرتؐ کا یہ حکم بھی ہوا کہ اصحاب کے گھروں کے جو دروازے مسجد کی طرف تھے ان سب کو بند کر دیا جائے سوائے علی و فاطمہ علیہم السلام کے دروازے کے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اسی موقع پر رسول اکرمؐ نے حکم دیا کہ ایک جگہ پر کھجور کی لکڑیوں کا چھپر ڈال دیا جائے تاکہ باہر سے آنے والے اور فقیر مسلمان وہاں رہا کریں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ذاتی طور پر ان کی دیکھ بھال فرماتے تھے۔ انہیں روٹی، کھجور اور دوسری اشیائے خوردنی عطا کرتے تھے۔ دوسرے مسلمان بھی ان کا خیال رکھا کرتے تھے اور زکوٰة و صدقات وغیرہ سے ان کی معاونت کیا کرتے تھے۔ وہ ہر اسلامی جنگ میں شرکت کیا کرتے تھے اور پورے خلوص کے ساتھ جہاد کرتے تھے۔ قرآن مجید کی کچھ آیات بھی ان کی فضیلت، پاکدامنی، صفائے قلبی اور تقدس کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ بہرحال، اس "صفہ" میں ان کے رہنے کی وجہ سے انہیں "اصحابِ صفہ" کہا جانے لگا۔

32
42:32
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِ ٱلۡجَوَارِ فِي ٱلۡبَحۡرِ كَٱلۡأَعۡلَٰمِ
اس کی نشانیوں میں سے وہ کشتیاں ہیں جو پہاڑوں کی طرح سمندر میں رواں دواں ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

33
42:33
إِن يَشَأۡ يُسۡكِنِ ٱلرِّيحَ فَيَظۡلَلۡنَ رَوَاكِدَ عَلَىٰ ظَهۡرِهِۦٓۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّكُلِّ صَبَّارٖ شَكُورٍ
اگر وہ چاہے تو ہوا کو روک دے اور یوں وہ کشتیاں پشت سمندر پر رکی رہیں، اس میں ہر صبر اور شکر کرنے والے کے لئے نشانیاں ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

34
42:34
أَوۡ يُوبِقۡهُنَّ بِمَا كَسَبُواْ وَيَعۡفُ عَن كَثِيرٖ
یا اگر وہ چاہے تو ان میں سوار افراد کے انجام شدہ اعمال کی وجہ سے انہیں تباہ کردے جبکہ وہ بہت سے لوگوں کو معاف کریتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

35
42:35
وَيَعۡلَمَ ٱلَّذِينَ يُجَٰدِلُونَ فِيٓ ءَايَٰتِنَا مَا لَهُم مِّن مَّحِيصٖ
تاکہ جو لوگ ہماری آیات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں وہ یہ بات جان لیں کہ ان کی کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

36
42:36
فَمَآ أُوتِيتُم مِّن شَيۡءٖ فَمَتَٰعُ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۚ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ خَيۡرٞ وَأَبۡقَىٰ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَلَىٰ رَبِّهِمۡ يَتَوَكَّلُونَ
جو چیز تمہیں عطا کی گئی ہے وہ دنیاوی زندگی کا ناپائیدار مال و متاع ہے اور جو کچھ پروردگار کے پاس ہے وہ ایمانداروں اور اپنے رب پر بھروسہ کرنے والوں کے لئے زیادہ بہتر اور زیادہ پائیدار ہے ۔

تفسیر ہواؤں اور کشتیوں کی روانی ... خدا کی نشانی

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

قرآن مجید نے ان آیات میں ایک بار پھر پروردگارِ عالم کی نشانیوں اور توحید کے دلائل کو بیان کیا ہے۔ اور اس سلسلے کی گزشتہ گفتگو کو جاری رکھا ہوا ہے۔ یہاں پر ان چیزوں کو بیان کیا جا رہا ہے۔ جن سے انسان کو اپنی مادی زندگی میں ہر روز واسطہ رہتا ہے۔ خاص کر جو لوگ ساحل پر رہتے ہیں یا دریائی سفر اختیار کرتے ہیں۔ فرمایا گیا ہے۔ خدا کی آیات اور نشانیوں میں سے وہ کشتیاں ہیں جو پہاڑوں کی طرح سطحِ سمندر پر رواں دواں ہیں (وَمِنْ آيَاتِهِ الْجَوَارِ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلَامِ)۔ "جوار"، "جاریة" کی جمع ہے۔ جو "سفن" یعنی "سفینة" بمعنی کشتی کی جمع کی صفت ہے کہ جو عبارت کے اختصار کے پیش نظر حذف ہے۔ اور چونکہ آیت کشتیوں کی حرکت کو خاص طور پر بیان کر رہی ہے۔ لہٰذا اسی صفت کو بطورِ خاص موضوعِ سخن بنایا گیا ہے۔ یہ جو لغت عربی میں جوان لڑکیوں کو "جاریة" کہا جاتا ہے۔ س کی وجہ بھی یہی ہے کہ ان کے وجود میں نشاطِ جوانی جاری ہوتا ہے۔ "اعلام"، "علم" (بروزن قلم) کی جمع ہے۔ جس کا معنی "پہاڑ" ہے۔ لیکن اصولی طور پر علم کا معنی ایسی علامت اور نشان ہوتا ہے۔ جو کسی چیز کی خبر دیتا ہے۔ جیسے "علم الطریق" (نشانِ راہ) اور "علم الجیش" (لشکر کا نشان) وغیرہ۔ اگر پہاڑ کو "علم" کہا جاتا ہے۔ تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ دور سے نمایاں ہوتا ہے۔ اور بعض اوقات اس کی چوٹی پر آگ جلائی جاتی تھی تاکہ مسافروں کے لیے کوئی نشانی موجود ہو، لیکن آگ کے ہونے یا نہ ہونے کا اس کی وجہ تسمیہ میں کوئی کردار نہیں ہے۔ اس طرح سے قرآن مجید نے متعدد دوسری آیات کی مانند اس آیت میں بھی منظم ہواؤں کی وجہ سے سطحِ سمندر پر کوہ پیکر کشتیوں کی حرکت کو خدا کی نشانیوں میں شمار کیا ہے۔ اگر چھوٹی چھوٹی کشتیاں ہواؤں کی وجہ سے سطح آب پر حرکت کریں تو کوئی اہم بات نہیں، اہم بات تو یہ ہے کہ کوہ پیکر بحری جہاز ہوا کی لطیف لہروں کے ذریعے بڑی تعداد میں مسافروں اور سامان کے ساتھ ہزاروں میل کا سمندری سفر کریں اور منزلِ مقصود تک جا پہنچیں۔ سچ مچ کس ذات نے ان گہرے اور عمیق سمندروں کو اس خصوصیت کا حامل بنا کر پیدا کیا ہے۔ کس ذات نے لکڑی اور کشتی کے دوسرے مواد کو اس مخصوص انداز میں پیدا کیا ہے کہ اس سے کشتیاں بنا کر انہیں پانی کی سطح پر چلایا جاتا ہے۔ کس ذات نے ہواؤں کو حکم دیا ہے کہ وہ پانی اور سمندروں کی سطح پر ایسی منظم صورت میں چلیں کہ جس شخص کا جیسے جی چاہے۔ ایک نقطہ سے دوسرے نقطہ تک پہنچنے کے لئے اس سے استفادہ کرے؟ نظم و انضباط ہر جگہ عقل و دانش کی علامت ہے۔ اور یہاں پر بھی یہی صورتِ حال ہے۔ اصولی طور پر اگر ان نقشوں کو غور سے دیکھا جائے جو سمندری سفر کرنے والے لوگوں کے پاس ہوتے ہیں تو معلوم ہو گا کہ ہواؤں کے چلنے میں کس قدر منظم اور باقاعدہ حساب و کتاب پایا جاتا ہے۔ ان نقشوں میں ہواؤں کے چلنے کے بارے میں جو معلومات درج ہوتی ہیں، ان سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے یہ راستے قطب شمالی اور قطب جنوبی سے خطِ استوا اور خطِ استوا سے قطب شمالی اور قطب جنوبی کی طرف، اسی طرح ساحل اور خشکی سے سمندروں کی طرف اور سمندروں سے خشکی کی جانب ہوتے ہیں، جنہیں دیکھ اور سمجھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ البتہ موجودہ دور میں کشتیوں اور بحری جہازوں کو چلانے کے لئے زبردست طاقتور انجنوں سے کام لیا جاتا ہے۔ جو جہازوں کے پروں کو متحرک کرتے اور انہیں چلاتے ہیں لیکن پھر بھی ان جہازوں کے چلانے میں ہواؤں کا بڑا عمل دخل ہے۔ مزید تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے۔ اگر خدا چاہے۔ تو ہواؤں کو روک دے اور کشتیاں سطحِ سمندر پر ٹھہر جائیں (إِن يَشَأْ يُسْكِنِ الرِّيحَ فَيَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلَى ظَهْرِهِ)۔ آیت کے آخر میں نتیجے کے طور پر اشارہ فرمایا گیا ہے۔ اس میں ہر شخص کے لئے نشانیاں ہیں جو صبر اور شکر کرتا ہے۔ (إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ)۔ یقیناً ہواؤں کی اس حرکت، کشتیوں کے چلنے، سمندر کی تخلیق اور ان امور میں حکم فرما نظام اور ہم آہنگی میں خدا کی پاک ذات کے لیے گوناگوں نشانیاں ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہواؤں کی حرکت پہلے مرحلے میں، روئے زمین پر دو نقاط کے درجہ حرارت کے اختلاف کی وجہ سے عمل میں آتی ہے۔ کیونکہ حرارت کی وجہ سے ہوا پھیلتی ہے۔ پھر وہ اوپر کی طرف اٹھتی ہے۔ جس کی وجہ سے ایک تو اطراف کی ہوا میں دباؤ پیدا ہو جاتا ہے کہ جو اسے متحرک کرتا ہے۔ اور دوسرے جب وہ اوپر کو اٹھتی ہے۔ تو اپنی جگہ اطراف کی ہوا کو دے دیتی ہے۔ لہٰذا اگر خداوندِ عالم صرف پھیلاؤ کی خاصیت کو سلب کر لے تو فضا پر ٹھہراؤ اور سکوت حکم فرما ہو جائے اور بادبانوں سے جانے والی کشتیاں بےحرکت سطحِ سمندر پر کھڑی رہ جائیں۔ "صبار" اور "شکور" دونوں مبالغہ کے صیغے ہیں ایک میں زیادہ صبر اور دوسرے میں زیادہ شکر کا معنی پایا جاتا ہے۔ زیرِ تفسیر آیت اور قرآن کی دوسری آیات میں (بحوالہ: سورہٴ ابراہیم آیت ۵، سورہٴ لقمان آیت ۳۱ و سورہٴ سبا آیت ۱۹ اور آیت زیر بحث) ان دونوں صیغوں کا استعمال چند لطیف نکات کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ ۱۔ یہ دو اوصاف مجموعی صورت میں حقیقتِ ایمان کی منہ بولتی تصویریں ہیں۔ کیونکہ مومن مشکلات اور مصائب میں صبور ہوتا ہے۔ اور نعمتوں پر شاکر۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں: "الایمان نصفان: نصف صبر و نصف شکر" ایمان کے دو حصے ہیں، ایک صبر ہے۔ اور دوسرا شکر۔ (بحوالہ: تفسیر صافی، تفسیر مجمع البیان، تفسیر فخر رازی اور تفسیر قرطبی، سورہٴ لقمان کی آیت ۳۱ کے ذیل میں)۔ علاوہ ازیں تخلیقِ کائنات کے نظام کے اسرار میں مطالعہ اور غور و فکر کے لیے جہاں صبر اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہاں پر یہ منعمِ حقیقی کے شکر کا موجب بھی ہوتا ہے۔ جب یہ دونوں صفات مل جاتی ہیں تو انسان کو ان آیات کے مطالعے کے لئے آمادہ کرتی ہیں بلکہ اصولی طور پر تو اسرارِ آفرینش کا مطالعہ بذاتِ خود شکر کی ایک قسم ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ جب انسان کشتی پر سوار ہوتا ہے۔ تو اس میں یہ دونوں صفتیں دیگر اوقات کی نسبت زیادہ نمایاں ہوتی ہیں صبر، سمندر کی مشکلات اور حادثات کے موقع پر اور شکر، ساحلِ مقصود پر پہنچ جانے کے موقع پر۔ بعد کی آیت میں اس نعمت کو ایک بار پھر اجاگر کرنے کے لئے ارشاد فرمایا گیا ہے۔ "یا اگر اللہ چاہے۔ تو ان کشتیوں میں سوار افراد کے انجام شدہ اعمال کی وجہ سے انہیں تباہ و برباد کر دے" (أَوْ يُوبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوا)۔ جیسا کہ ہم گزشتہ آیات میں بھی پڑھ چکے ہیں کہ جو مصیبتیں انسان پر نازل ہوتی ہیں عام طور پر اس کے اپنے اعمال کا ہی نتیجہ ہوتی ہیں۔ لیکن پھر بھی لطفِ خداوندی انسان کے شاملِ حال ہوتا ہے۔ "اور وہ بہت سے لوگوں کو معاف کر دیتا ہے۔ "(وَ یَعْفُ عَنْ کَثیر)۔ اگر وہ معاف نہ کرے تو اس کے خاص و پاک بندوں اور معصومین کے علاوہ کوئی بھی شخص اس کی سزا سے نہ بچ سکے، جیسے کہ سورہ فاطر کی آیت ۴۵ میں ہے۔ "وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَى ظَهْرِهَا مِن دَابَّةٍ وَلَكِن يُؤَخِّرُهُمْ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى اگر خدا لوگوں کو ان کے کیے کی سزا دینا شروع کر دے تو زمین پر کوئی بھی چلنے والی چیز باقی نہ رہے لیکن (اپنی مہربانی کی وجہ سے) وہ انہیں ایک مقررہ مدت تک مہلت دیتا ہے۔ جی ہاں! اگر وہ چاہے۔ تو ہواؤں کو چلنے سے روک دے جس کی وجہ سے کشتیاں سمندروں کے بیچ میں رکی رہیں اور اگر چاہے۔ تو ہواؤں کو زبردست طوفانوں میں تبدیل کر دے جن کی وجہ سے کوہ پیکر جہاز ایک دوسرے سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جائیں اور سمندر کی موجوں میں تنکوں کے مانند اڑتے پھریں، لیکن اس کا لطف و کرم ان چیزوں سے مانع ہے۔ "تاکہ وہ لوگ جو ہماری آیات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں اور مخالفت اور انکار پر کمربستہ ہو جاتے ہیں وہ جان لیں کہ (ذاتِ خدا کے علاوہ) ان کو کوئی بھی پناہ گاہ نہیں ہے۔ (وَيَعْلَمَ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِنَا مَا لَهُم مِّن مَّحِيصٍ)۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر کشاف میں زمخشری کے بقول "وَيَعْلَمَ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ..." کا جملہ اس لیے منصوب ہے۔ کیونکہ اس کا عطف، محذوف تعلیل پر ہے۔ جس کی تقدیر یوں ہے۔ "و لینتقم منھم وَيَعْلَمَ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ" یعنی جس کا مقصد یہ ہے کہ خدا اس گروہ سے انتقام لے اور ہدف یہ ہے کہ مجادلہ کرنے والے جان لیں کہ نجات کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو عفوِ الٰہی کے مستحق نہیں ہیں، اس لیے کہ وہ سوچ سمجھ کر اور جان بوجھ کر مخالفت پر کمربستہ ہو چکے ہیں اور دشمنی و ہٹ دھرمی کی وجہ سے اپنی ستیزہ کاری جاری رکھے ہوئے ہیں، لہٰذا وہ خدا کے عفو و رحمت کے فیضان سے محروم ہیں اور عذاب کے چنگل میں پھنس چکے ہیں۔ "محیص"، "حیص" (بروزنِ حیف) کے مادہ سے ہے۔ جس کا معنی ہے۔ بازگشت، لوٹ آنا اور کسی چیز سے کنارہ کشی اختیار کر لینا۔ اور چونکہ "محیص" کا لفظ اسمِ مکان ہے۔ لہٰذا فرار کی جگہ یا پناہ گاہ کے معنی میں آتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر نمونہ، جلد دہم، صفحہ ۲۶۴ پر یہ کلمہ "محص" کے مادہ کے طور پر ذکر ہوا ہے۔ جس کی اصلاح ہونی چاہیے)۔ اس سلسلے کی آخری آیت میں روئے سخن تمام لوگوں کی طرف کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ "جو کچھ تمہیں عطا کیا گیا ہے۔ وہ دنیاوی زندگی کا ناپائیدار مال و متاع ہے۔ (فَمَا أُوتِيتُم مِّن شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا)۔ مبادا دنیا تمہیں فریب دے کر غفلت میں ڈال دے اور تم یہ سمجھتے رہو کہ وہ ہمیشہ تمہارے پاس رہے گی! وہ تو بجلی کی ایسی رو ہے۔ جو ایک لمحے میں گزر جاتی ہے۔ ایسا شعلہ ہے۔ جو ہوا کے ایک جھونکے سے بجھ جاتا ہے۔ سطحِ آب پر ایک بلبلہ ہے۔ اور طوفانوں کی راہ میں ایک غبار ہے۔ "لیکن جو کچھ پروردگار کے پاس ہے۔ وہ ایمان داروں اور اپنے رب پر بھروسا کرنے والوں کے لیے زیادہ بہتر اور زیادہ پائیدار ہے۔ (وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَى لِلَّذِينَ آمَنُوا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ)۔ اگر تم کر سکتے ہو تو اس مادی کائنات کی پست، محدود اور چند روزہ متاعِ زندگی کا اس جاودانی سرمایہ سے تبادلہ کر لو۔ یہی تمہاری سود مند تجارت اور بےمثال کامیابی ہے۔ کیونکہ اس دنیا کی نعمتیں سردردی سے خالی نہیں، ہمیشہ ہر گل کے ساتھ خار اور ہر نوش کے ساتھ نیش ہوتا ہے۔ جب کہ خدا کی جزا خیر ہی خیر اور ہر قسم کی ناخوشگوار چیزوں سے بالکل پاک ہوتی ہے۔ پھر یہ دنیاوی نعمتیں جس قدر اور جیسی بھی ہیں، دیرپا نہیں ہیں لیکن وہ نعمتیں پائیدار اور جاودانی ہیں، کون سی عقل اس بات کی اجازت دے گی کہ انسان اس قسم کے سودمند سودے کو چھوڑ کر غرور و غفلت کا شکار ہو جائے اور دنیوی رزقِ برق کے فریب میں آ جائے؟ یہی وجہ ہے کہ سورہٴ توبہ کی ۳۸ ویں آیت کہتی ہے۔ أَرَضِيتُم بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الْآخِرَةِ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلاَّ قَلِيلٌ "اے وہ لوگو! جو جہاد سے روگردانی کرتے ہو! آیا تم آخرت کے مقابلے میں دنیاوی زندگی پر راضی ہو گئے ہو؟ حالانکہ دنیاوی زندگی کی متاع آخرت کے مقابلے میں بہت ہی معمولی ہے۔ " اصولی طور پر اگر دیکھا جائے تو "الحَیَاةُ الدُّنْيَا" (اس کے وصفی معنی کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے) پست اور گھٹیا زندگی کی طرف اشارہ ہے۔ اور واضح سی بات ہے کہ ایسی زندگی سے بہرہ مند ہونے کے وسائل اور مال و متاع بھی ایسا ہی ناچیز ہو گا۔ اسی لیے تو اسلام کے عظیم الشان پیغمبرؐ فرماتے ہیں: وَاللَّهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّامِثْلُ أَنْ يَجْعَلَ أَحَدُكُمْ أُصْبُعَهُ هَذِهِ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ "خدا کی قسم! آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال ایسے ہے۔ جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنی انگلی کو سمندر میں ڈبوئے اور پھر اسے نکال کر دیکھے کہ اس سے اسے کیا ملا؟" (بحوالہ: تفسیر روح البیان، جلد ۳، ص ۴۲۹ (سورۂ توبہ کی ۳۸ ویں آیت کے ذیل میں)۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ اس آیت میں زیادہ زور خدا پر ایمان اور بھروسے پر دیا گیا ہے۔ کیونکہ خدا کی سزا و جزا کی امید ان لوگوں کو ہوتی ہے۔ جو خدا پر ایمان کے علاوہ اپنے کاموں کو بھی اسی کے سپرد کر دیتے ہیں۔ اس گروہ کے مقابلے میں وہ لوگ ہیں جو دنیا سے محبت اور اس کی ناپائیدار متاع سے دلچسپی کی وجہ سے خدائی آیات کے بارے میں جھگڑے پر کمربستہ ہو جاتے ہیں اور حقائق کو پامال کر دیتے ہیں۔ تو اس طرح یہ آخری آیت علت کے بیان کی وجہ سے پہلی آیت کے ساتھ بالکل ملتی جلتی ہے۔ جس میں آیاتِ الٰہیہ کے بارے میں مجادلہ کرنے والوں کی بات کی گئی ہے۔

37
42:37
وَٱلَّذِينَ يَجۡتَنِبُونَ كَبَـٰٓئِرَ ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡفَوَٰحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُواْ هُمۡ يَغۡفِرُونَ
وہی لوگ جو بڑے گناہوں اور برے اعمال سے اجتناب کرتے ہیں اور جب غصے میں آتے ہیں تو معاف کر دیتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

38
42:38
وَٱلَّذِينَ ٱسۡتَجَابُواْ لِرَبِّهِمۡ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَأَمۡرُهُمۡ شُورَىٰ بَيۡنَهُمۡ وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ
وہی جنہوں نے اپنے پرور دگار کی دعوت کو قبول کیا ہے اور نماز قائم کرتے ہیں اور ان کے کام باہم مشورے کے ذریعے انجام پاتے ہیں اور ہم نے جو کچھ انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

39
42:39
وَٱلَّذِينَ إِذَآ أَصَابَهُمُ ٱلۡبَغۡيُ هُمۡ يَنتَصِرُونَ
وہی لوگ جب ان پر ظلم ہوتا ہے تو وہ ظلم کے آگے جھک نہیں جاتے بلکہ مدد طلب کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

40
42:40
وَجَزَـٰٓؤُاْ سَيِّئَةٖ سَيِّئَةٞ مِّثۡلُهَاۖ فَمَنۡ عَفَا وَأَصۡلَحَ فَأَجۡرُهُۥ عَلَى ٱللَّهِۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلظَّـٰلِمِينَ
اور برائی کا بدلہ اسی جیسی سزا ہے اور جو شخص معاف کردے اور اصلاح کرے اس کا اجر خدا پر ہے۔ بے شک خدا ظالموں کو دوست نہیں رکھتا ہے۔

تفسیر اہل ایمان ظلم کے آگے نہیں جُھکتے

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

یہ آیات اس گفتگو کا تسلسل ہیں جو گزشتہ آیات میں توکل پیشہ مؤمنین کے لئے خدا کی جزا کے بارے میں ہو چکی ہے۔ ایمان اور توکل کی صفات کے بعد، جو کہ قلبی صفات ہیں، ان آیات میں ان کے سات قسم کے اعمال کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ ان میں سے کچھ تو منفی پہلو کے حامل ہیں اور کچھ مثبت، کچھ انفرادی ہیں اور کچھ اجتماعی، کچھ مادی ہیں اور کچھ معنوی۔ اور یہ ایسے اعمال ہیں جو ایک صالح اور طاقتور حکومت اور صحیح و سالم معاشرے کے بنیادی ارکان ہیں۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ ظاہری طور پر یہ آیات مکہ میں نازل ہوئی ہیں اور ان دنوں میں نازل ہوئی ہیں جب اسلامی معاشرے کی تشکیل نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی اسلامی حکومت وجود عمل میں آیا تھا۔ لیکن ان آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہی دنوں سے ایسی آیات کے ذریعے مسلمانوں کو صحیح اسلامی بصیرت سے آگاہ کیا جانے لگا تھا، کیونکہ مکہ میں قیام کے دوران ہی مستقبل کے لئے ایک صحیح اسلامی معاشرے کی تشکیل کے لئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں مسلسل اور مکمل تعلیم سے بہرہ مند فرما رہے تھے۔ پہلی صفت کو اصلاح سے شروع کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ خدا کی جزا اور جو کچھ خدا کے پاس ہے۔ ان لوگوں کے لئے سب سے بہتر اور سب سے زیادہ پائیدار ہے۔ جو گناہان کبیرہ سے اجتناب کرتے ہیں اور بری باتوں سے پرہیز کرتے ہیں (وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ)۔ (تشریحی نوٹ: اکثر مفسرین کے خیال کے مطابق "الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ" کا عطف گزشتہ آیت "لِلَّذِينَ آمَنُوا"پر ہے۔ ہر چند کہ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ یہ جملہ مبتدا ہے۔ اور اس کی خبر محذوف ہے۔ جو تقدیری طور پر یوں ہو گا: "وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ... لَهُم مِّثْلُ ذَلِكَ مِنَ الثَّوَابِ" لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ۔ "کبائر"، "كبيرة" کی جمع ہے۔ جس کا معنی ہے۔ بڑے گناہ، اب رہا یہ سوال کہ گناہوں کے بڑے ہونے کا کیا معیار ہے۔ کچھ مفسرین نے تو اس سے ایسے گناہ مراد لیے ہیں جو قرآن میں مذکور ہوئے ہیں اور خداوند عالم نے ان کے ارتکاب پر عذاب کی وعید کی ہے۔ یا ایسے گناہ جو شرعی حد کا سبب بنتے ہیں۔ بعض مفسرین نے کہا کہ شاید اس سے مراد بدعتیں ہیں اور لوگوں کے ذہن میں اعتقادی شکوک و شبہات کا پیدا کرنا ہے۔ لیکن جس طرح ہم پہلے بیان کر چکے ہیں، اگر ہم "كبيرة" کے لغوی معنی کی طرف رجوع کریں تو معلوم ہوگا کہ کبیرہ سے مراد ہر وہ گناہ ہے۔ جو اسلامی نقطہ نظر سے بڑا اور بااہمیت ہے۔ اس کے بڑے ہونے کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ قرآن مجید میں اس کے بارے میں عذاب کی دھمکی ہو۔ اسی لیے روایات اہل بیت (علیہم السلام) میں بھی "کبائر" کی اس صورت میں تفسیر ہوئی ہے کہ: "التي أوجب الله عزوجل عليها النار" گناہان کبیرہ وہ ہوتے ہیں جن کی سزا خداوند عزوجل نے جہنم مقرر فرمائی ہے۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد اول، ص ۴۷۳)۔ اسی طرح اگر کسی گناہ کی عظمت اور بڑائی دوسرے حوالوں سے ثابت ہو جائے تو بھی اس پر کبیرہ کا عنوان صادق آتا ہے۔ "فواحش"، "فاحشة" کی جمع ہے۔ جس کا معنی ہے۔ "نہایت ہی برے اور ناپسندیدہ اعمال"۔ اس کلمے کو "کبائر" کے بعد ذکر کرنا اصطلاحی طور پر عام کے بعد خاص کا ذکر ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ سچے مؤمنین کے بارے میں یہ بتانے کے بعد کہ وہ تمام کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں، اب برے اور شرم آور گناہوں سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ تاکہ ان کی اہمیت واضح ہو۔ اس طرح سے خدا پر ایمان اور توکل کی پہلی نشانی گناہان کبیرہ سے پرہیز اور اجتناب ہے۔ یہ بات کیونکر ممکن ہے کہ انسان، خدا پر ایمان اور توکل کا دعویٰ کرے لیکن خود کئی قسم کے گناہوں میں آلودہ ہو اور اس کا دل شیطان کا ٹھکانہ ہو؟ دوسری صفت بھی پاکیزگی اور اصلاح کے پہلو کی حامل ہے۔ اور انسان کے زبردست بحرانی حالات میں غیظ و غضب پر کنٹرول کی علامت ہے۔ خدا فرماتا ہے۔ وہ ایسے لوگ ہیں جو غصے کے وقت معاف کر دیتے ہیں۔ (وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ)۔ نہ صرف غصے کے وقت زمامِ اختیار ان کے قابو میں رہتی ہے۔ اور وہ کسی غلط کام کا ارتکاب نہیں کرتے بلکہ وہ عفو و غفران سے اپنے اور دوسرے لوگوں کے دل کینوں سے صاف کر دیتے ہیں۔ یہ وہ صفت ہے۔ جو خدا پر صحیح معنوں میں ایمان اور ذاتِ حق پر توکل کے سوا پیدا نہیں ہوتی۔ یہ بات لائقِ غور ہے کہ خدا یہ نہیں فرماتا کہ وہ غصہ نہیں کرتے، کیونکہ یہ تو انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔ اور بعض مقامات پر تو اس کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ جیسے خدا کی راہ اور مظلوم لوگوں کے حق کو ثابت کرنے کے لئے غیظ و غضب کا اظہار، بلکہ فرماتا ہے کہ وہ غصّے کے وقت گناہوں سے آلودہ نہیں ہوتے اور معاف بھی کر دیتے ہیں اور ایسا ہونا بھی چاہیے۔ انسان کیونکر خدا کی مغفرت کی توقع کر سکتا ہے۔ جبکہ وہ خود کینہ پرور اور منتقم مزاج ہو اور غیظ و غضب کے موقع پر کسی قانون کو خاطر میں نہ لاتا ہو؟ اگر ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں پر "غصے"کے مسئلے پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ حالت ایک ایسی جلا ڈالنے والی آگ ہوتی ہے۔ جو انسان کے اندر ہی اندر سلگتی رہتی ہے۔ اور بہت سے لوگ ایسی حالت میں اپنے نفس پر قابو پانے سے عاجز ہوتے ہیں۔ لیکن حقیقی مؤمن کسی بھی حالت میں مغلوب الغضب نہیں ہوتے۔ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: "مَن مَلَکَ نَفْسَهُ إِذَا رَغِبَ، وَإِذَا رَهِبَ، وَإِذَا غَضِبَ، حَرَّمَ اللَّهُ جَسَدَهُ عَلَى النَّارِ" جو شخص خواہشات، خوف اور غصے کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھتا ہے۔ خدا اس کے جسم کو جہنم کی آگ پر حرام کر دیتا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ۴، ص ۵۸۳، منقول از تفسیر علی بن ابراہیم)۔ بعد کی آیت میں تیسری سے چھٹی صفات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ "وہی لوگ جنہوں نے اپنے پروردگار کی دعوت کو قبول کیا ہے۔ اور اس کے فرمان کو دل و جان سے مانا ہے۔ (وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ)۔ "اور نماز کو قائم کیا ہے۔ (وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ)۔ "اور ان کے کام باہم مشورے کی صورت میں انجام پاتے ہیں" (وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ)۔ (تشریحی نوٹ: "شُورَىٰ" کا لفظ مصدر ہے۔ اور مشاورت کے معنی میں آتا ہے۔ لہٰذا مذکورہ آیت میں "ذُو"کے لفظ کو مقدر مانا جائے گا اور اسے تقدیری طور پر یوں سمجھا جائے گا "أَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ" یہ بعض مفسرین کا موقف ہے۔ یا پھر اسے مبالغہ اور تاکید پر محمول کیا جائے گا کیونکہ جہاں "صفت" کے بجائے "مصدر" ذکر ہوتا ہے۔ وہاں عام طور پر یہی معنی ظاہر ہوتا ہے۔ لیکن اگر "شُورَىٰ" کا معنی ایسا ہو جس میں مشورہ لیا جاتا ہے۔ تو مفردات میں راغب کے بقول: "الأَمْرُ الَّذِي يُتَشَاوَرُ فِيهِ" کے معنی میں ہو گا اور کسی لفظ کو مقدر ماننے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ (غور کیجیے گا)۔ "اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے۔ اس میں سے ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں" (وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ)۔ گزشتہ آیت میں مؤمنین کے وجود کی گناہوں سے دوری اور غیظ و غضب پر قابو پانے کی بات کی گئی تھی لیکن زیرِ تفسیر آیت میں ان کے وجود کی مختلف پہلوؤں سے اصلاح کی بات ہو رہی ہے۔ جن میں سب سے اہم ترین چیز دعوتِ پروردگار کی قبولیت اور اس کے فرمان کے آگے سرِتسلیم خم کر دینا ہے۔ یہ ایک ایسی چیز ہے۔ جس میں تمام نیکیاں، اچھائیاں اور فرمانِ الٰہی کی اطاعت سب کے سب یکجا ہو جاتی ہیں اور مؤمنین پورے وجود کے ساتھ اللہ کے حکم کے آگے سر جھکائے ہوتے ہیں، اس کے ارادے کے مقابلے میں اپنے ارادے کو نہں لاتے اور ہونا بھی ایسا ہی چاہیئے کیونکہ گناہ کہ جو راہِ حق میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوتے ہیں، قلب و روح کو ان کے آثار سے پاک کرنے کے بعد، اسی کے آگے سرِتسلیم خم کر دینے کا مرحلہ قطعی ہو جاتا ہے۔ نیز خدائی احکام میں سے بھی بعض ایسے ہیں جو نہایت ہی اہم مسائل پر مشتمل ہیں اور خاص طور پر جن کی نشاندہی کی جانی چاہیے، چنانچہ یہاں پر اسی قسم کے مسائل کو ذکر کیا گیا ہے۔ جن میں سے اہم ترین نماز ہے۔ نماز دین کا ستون ہے۔ خالق اور مخلوق کے درمیان رابطہ ہے۔ نفوس کی تربیت کنندہ ہے۔ مؤمن کی معراج ہے۔ اور برائیوں سے روکنے والی ہے۔ اس کے بعد اہم معاشرتی اور اجتماعی مسئلہ بیان کیا گیا ہے۔ اور وہ ہے۔ "شورٰیٰ" کا مسئلہ، جس کے بغیر تمام کام ناقص ہوتے ہیں۔ ایک انسان فکری لحاظ سے جتنا بھی قوی کیوں نہ ہو مختلف مسائل کو ایک یا چند پہلوؤں سے سوچتا ہے۔ اس لیے دوسرے پہلو اس سے پوشیدہ رہ جاتے ہیں مگر جب مسائل کو شورٰیٰ میں پیش کیا جائے اور مختلف عقلیں، تجربے اور نقطہ ہائے نظر ایک دوسرے کی مدد کریں تو مسائل یقیناً مکمل، پختہ اور نقص و عیب سے تقریباً خالی ہو کر سامنے آ جاتے ہیں جن میں لغزش کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم فرماتے ہیں: "إِنَّهُ مَا مِنْ رَجُلٍ يَشَاوِرُ أَحَدًا إِلَّا هُدِيَ إِلَى الرَّشَادِ" جو شخص بھی اپنے کاموں میں کسی دوسرے شخص سے مشورہ کرتا ہے۔ اسے مطلوبہ اور سیدھے راستے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ یہاں پر عبارت کے الفاظ ایسے انداز میں ذلر ہوئے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مؤمنین کے مستقل طرزِ عمل میں شامل ہے۔ نہ صرف کسی فوری اور عارضی کام میں مؤمنین ایک دوسرے سے مشورہ کرتے ہیں بلکہ ان کے سارے کام ہی بایمی مشوروں سے انجام پاتے ہیں اور پھر دلچسپی کی بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم عقل کل ہونے اور مبدأ وحی سے مستقل رابطہ رکھنے کے باوجود مختلف اجتماعی، معاشرتی، انتظامی، نیز جنگ اور صلح کے مسائل اور دوسرے اہم امور میں صحابہ سے مشورہ کیا کرتے تھے بلکہ بعض اوقات ان کی رائے کو ترجیح دیا کرتے تھے، خواہ اس میں انہیں مشکلات کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑتا۔ اس طرح سے آپؐ نے لوگوں کے لئے ایک مثال قائم کر دی کیونکہ مشورے کی برکتیں اس کے امکانی نقصانات سے کہیں زیادہ ہوتی ہیں۔ مشورے کی اہمیت، شورٰیٰ کی شرائط اور مشیر کے اوصاف اور فرائض کے بارے میں تفسیرِ نمونہ کی دوسری جلد میں، سورہ آلِ عمران کی ۱۵۹ ویں آیت کے ذیل میں تفصیل کے ساتھ گفتگو ہو چکی ہے۔ یہاں پر اسے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ البتہ چند ایک موضوعات کو یہاں پر اضافی صورت میں ذکر کیا جاتا ہے۔ الف: شورٰی صرف انتظامی امور اور موضوع کی شناخت کے بارے میں ہوتا ہے۔ نہ کہ احکامِ الٰہی کے سلسلے میں، کیونکہ احکام الہٰی کا تعلق مبدأ وحی اور کتاب و سنت سے ہوتا ہے۔ اور "أَمْرُهُمْ" (ان کے کام) کی تعبیر بھی اسی بات کو بیان کرتی ہے۔ کیونکہ احکام کا نفاذ خدا کا کام ہوتا ہے۔ لوگوں کا نہیں۔ بنابریں اگر آلوسی جیسے بعض مفسرین نے اس کے دائرہ کو وسیع کر دیا ہے۔ اور جن احکام کے بارے میں خاص نص وارد نہیں ہوئی انہیں بھی اس میں شامل کر دیا ہے۔ تو ان کا یہ نظریہ بےبنیاد ہے۔ بالخصوص جب ہم اس بات کے معتقد ہیں کہ اسلام میں کوئی ایسا امر نہیں ہے۔ جس کے بارے میں خاص یا عام نص موجود نہ ہو، وگرنہ "الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ (مائدہ۔۳) کا نزول صحیح نہیں ہو گا۔ (اس کی تفصیل اور تشریح کا اصول فقہ کی کتابوں میں مطالعہ کیا جائے جہاں پر اسلام میں قانون سازی کے بارے میں اجتہاد کے باطل ہونے کے بارے میں بحث کی گئی ہے۔ ۔ ب: بعض مفسرین کہتے ہیں کہ "أَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ " کا جملہ انصار کے بارے میں نازل ہوا ہے۔ اور ان کے لئے یہ حکم یا تو اس لیے ہے کہ قبل از اسلام بھی ان کے امور شورائی طریقے پر انجام پاتے تھے یا پھر انصار کے اس گروہ کے لئے ہے۔ جو ہجرت سے پہلے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان لے آئے، مقام "عقبہ" پر آپؐ کی بیعت کی اور آپؐ کو مدینہ تشریف لانے کی دعوت دی (چونکہ یہ سورت مکی ہے۔ اور مذکورہ بالا آیات بھی بظاہر مکہ ہی میں نازل ہوئی ہیں)۔ صورتِ حال خواہ کچھ بھی ہو آیت کا حکم اپنی شانِ نزول کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ بلکہ ایک عام اور وسیع حکمت عملی کو بیان کر رہا ہے۔ ہم اپنی اس گفتگو کو حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام کی ایک حدیث کے ساتھ ختم کرتے ہیں۔ آپؐ فرماتے ہیں: "لَا ظَهِيرَ كَالْمَشُورَةِ، وَالِاسْتِشَارَةُ عَيْنُ الْهُدَايَةِ" باہمی مشورت جیسا کوئی پشت پناہ نہیں اور مشورہ لینا عینِ ہدایت ہے۔ ۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، جلد ۸، ص ۴۲۵ (احکام العشرة کا ۲۱ واں باب)۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ اس آیت میں جو آخری صفت بیان ہوئی ہے۔ صرف مال خرچ کرنے کو بیان نہیں کر رہی بلکہ ہر اُس چیز میں سے خرچ کرنے کو بتا رہی ہے کہ جو خدا نے انسان کو عطا فرمائی ہے۔ خواہ وہ مال ہو یا علم، عقل ہو یا فکر اور یا پھر اجتماعی تجربہ، غرض ہر ایک چیز میں سے خرچ کرنے کا بتا رہی ہے۔ ایک اور توصیف میں جو سچے مؤمنین کی ساتویں صفت ہے۔ فرمایا گیا ہے۔ وہ ایسے لوگ ہیں کہ جب بھی ان پر ظلم کیا جاتا ہے۔ (ظلم کے آگے ہتھیار نہیں ڈالتے بلکہ) دوسروں سے مدد طلب کرتے ہیں (وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنتَصِرُونَ)۔ یہ وضاحت بھی ضروری معلوم ہوتی ہے کہ جہاں پر ستم رسیدہ لوگوں کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ظلم و ستم کے مقابلے کے لئے دوسرے لوگوں سے مدد طلب کریں، وہاں پر دوسرے لوگوں کا بھی فرض بنتا ہے کہ ان کی مدد کریں۔ کیونکہ جب مدد کرنے والا موجود نہ ہو مدد طلب کرنا فضول ہوتا ہے۔ درحقیقت مظلوم کا فرض ہے کہ ظلم کا مقابلہ کرے اور دوسروں سے مدد طلب کرے اور دوسرے مؤمنین پر لازم ہے کہ اس کی فریاد کو پہنچیں اور مدد کریں۔ چنانچہ سورۂ انفال کی ۷۲ ویں آیت میں ہے۔ إِنِ اسْتَنصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ جب بھی وہ تم سے دین کی حفاظت کے لئے نصرت طلب کریں تو تم پر بھی لازم ہے کہ ان کی مدد کرو۔ "یَنْتَصِرُونَ" کا کلمہ "انتظار" سے لیا گیا ہے۔ جس کا معنی مدد طلب کرنا ہے۔ لیکن بعض مفسرین نے اسے "تناصر" (باہم مدد کرنا) کے معنی میں لیا ہے۔ لیکن اگر توجہ سے کام لیا جائے تو مندرجہ بالا تشریح کے پیش نظر دونوں کا ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے۔ بہرصورت اگر مظلوم تنہا ظلم و ستم کو دور کرنے پر قادر نہیں ہے۔ تو خاموشی اختیار نہ کرے بلکہ دوسرے لوگوں کی توانائیوں سے استفادہ کرتے ہوئے ظالم کے مقابلے میں ڈٹ جائے اور تمام دوسرے مسلمانوں کا فرض بنتا ہے کہ اس کی نصرت طلبی کا مثبت جواب دیں۔ لیکن جہاں تک ایک دوسرے کی مدد کرنے کا سوال ہے۔ وہ مدد عدل و انصاف کی راہوں سے ہٹ کر جذبۂ انتقام، کینے اور تجاوز کی حد تک نہ پہنچ جائے، اسی لیے بعد کی آیت میں فوراً ہی اسے ان چیزوں سے مشروط کرتے ہوئے خداوندِ عالم فرماتا ہے کہ اس بات کا خاص خیال رہے کہ "برائی کی سزا، اسی برائی جیسی ہوتی ہے۔ " (وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا)۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے دوستوں پر ظلم ہوا ہے۔ تو تم حد سے بڑھ جاؤ اور خود ظالم بن جاؤ۔ خاص کر بعض معاشروں میں جیسے اوائلِ اسلام میں عرب معاشرہ تھا، ظلم کا جواب دیتے وقت حد سے بڑھ جانے کا بہت بڑا اندیشہ تھا، اسی لیے مظلوم کی نصرت اور جذبۂ انتقام کا فرق بتا دینا ضروری تھا۔ یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ظالم کے کام کو تو "سیّئہ" اور برائی سے تعبیر کرنا صحیح ہے۔ لیکن اسے سزا دینا تو یقیناً "سیّئہ" اور برائی نہیں ہے۔ یہاں پر "سیّئہ" کا لفظ کیوں استعمال ہوا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر آیت میں مظلوم کی نصرت طلبی کے جواب میں ظالم کی سزا کو "سیّئۃ" سے تعبیر کیا گیا ہے۔ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لفظ درحقیقت برابر کے قرینے کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ یا اس لیے کہ چونکہ سزا پانے والے ظالم کی نگاہ میں یہ ردعمل "سیّئہ" ہوتا ہے۔ نیز ایک احتمال یہ بھی ہے کہ اس کو "سیّئہ" سے اس لیے تعبیر کیا گیا ہے کہ سزا بھی ایک تکلیف اور دکھ ہوتی ہے۔ جو بذاتہ ایک بُری چیز ہے۔ ہر چند کہ قصاص اور ظلم کی سزا اچھی چیز شمار ہوتی ہے۔ یہ بات اُس تعبیر سے ملتی جلتی ہے۔ جو سورۂ بقرہ کی آیت ۱٩۴ میں یوں بیان ہوئی ہے۔ فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُواْ عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ وَاتَّقُواْ اللّهَ جو شخص تم پر تجاوز کرے تم بھی ایسے ہی اس پر تجاوز کرو اور خدا سے ڈرو (اور حد سے نہ بڑھ جاؤ))۔ لیکن صورتِ حال خواہ کچھ بھی ہو، ہو سکتا ہے کہ یہ تعبیر اس عفو و درگزر کا مقدمہ ہو جو بعد کے جملے میں بیان ہوا ہے۔ گویا قرآن یہ کہنا چاہتا ہے کہ: سزا جیسی بھی ہو ایک قسم کی تکلیف ضرور ہوتی ہے۔ لہٰذا اگر فریقِ مخالف نادم اور پشیمان ہو جائے تو عفو و درگزر کے لائق ہے۔ ایسے حالات میں درگزر سے کام لو کیونکہ "جو شخص عفو اور اصلاح سے کام لیتا ہے۔ اس کا ثواب خدا کے پاس ہے۔ " (فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ)۔ یہ ٹھیک ہے کہ ضائع شدہ حقوق کے بدلے میں بظاہر کوئی چیز نہیں ملتی، لیکن درگذشت سے جو نتیجہ حاصل ہوتا ہے۔ وہ ایسے حقوق سے کہیں زیادہ فوائد کا حامل ہوتا ہے۔ کیونکہ اس سے ایک تو معاشرے میں اتحاد فروغ پاتا ہے۔ دوسرے دلوں سے کینے اور بغض دور ہوتے ہیں، تیسرے محبت بڑھتی ہے۔ چوتھے جذبۂ انتقام ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ اور پانچویں معاشرے میں سکون اور سکھ کا سانس لیا جاتا ہے۔ اسی لیے اس کا اجر اللہ خود ہی عطا فرماتا ہے۔ جو یقیناً اس کا بےانتہا فضل و کرم ہے۔ اور کیا ہی بہترین تعبیر ہے۔ "عَلَى اللَّهِ" کے کلمہ سے، گویا خداوندِ عالم اپنے آپ کو ایسے افراد کا مرہونِ منت سمجھتا ہے۔ اور فرماتا ہے کہ اس کا اجر میرے ذمہ ہے۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے۔ "خدا ظالموں کو ہرگز دوست نہیں کرتا" (إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ)۔ ہو سکتا ہے کہ یہ جملہ ذیل کے چند نکات کی طرف اشارہ ہو: پہلا نکتہ یہ کہ عفو و درگزر کا حکم شاید اس لیے ہے کہ قصاص اور سزا کی صورت میں بعض اوقات انسان خود کو صحیح معنوں میں کنٹرول نہیں کر پاتا اور حد سے بڑھ جاتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ظالموں کی فہرست میں شامل ہو جاتا ہے۔ دوسرا نکتہ یہ کہ اگر عفو کا حکم دیا گیا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ظالموں کا دفاع کیا گیا ہے۔ کیونکہ خدا ظالموں کو ہرگز دوست نہیں رکھتا، بلکہ اصل مقصد گمراہوں کی ہدایت اور اجتماعی روابطوں کو مضبوط بنانا ہے۔ تیسرا نکتہ یہ کہ جو لوگ عفو کے مستحق ہیں جو ظلم کا راستہ ترک کریں، اپنے کیے پر ندامت اور پشیمانی کا اظہار کریں اور اپنی اصلاح کے لئے آمادہ ہوں وہ ایسے ظالم نہ ہوں جنہیں عفو مزید جسارت پر آمادہ کرے اور وہ مزید جری ہو جائیں۔ زیادہ واضح الفاظ میں یہ ہے کہ ہر ایک کے لئے عفو اور سزا کے اپنے حالات اور مواقع ہوتے ہیں۔ عفو ایسے مقام پر ہوتا ہے۔ جہاں انسان انتقام کی قدرت رکھتا ہو، اور اگر معاف کر دے تو یہ اس کی کمزوری نہیں ہو گی ایسی معافی کا بہت فائدہ ہوتا ہے۔ کامیاب مظلوم کے لئے اس لیے مفید ہوتی ہے کہ وہ اپنے نفس پر قابو رکھتے ہوئے اور صاف دل کے ساتھ معاف کر دیتا ہے۔ اور مغلوب ظالم کے لئے اس لئے کہ اسے اپنے نفس کی اصلاح پر آمادہ کرتی ہے۔ کسی کے کیے کی سزا اور انتقام ایسے مقام پر عمل میں آنے چائییں جہاں ظالم ہنوز شیطانی راستے پر قائم ہو اور مظلوم اپنی طاقت کی بنیادوں کو مضبوط مستحکم نہ کر سکا ہو اور معاف کرنا کمزوری سمجھا جاتا ہو تو ایسے مقامات پر ظالم کو سزا ملنی چاہیئے۔ ایک حدیثِ میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم فرماتے ہیں: اذا کان یوم القیامۃ نادی مناد من کان اجرہ علی اللہ فلیدخل الجنۃ، فیقال من ذا الذی اجرہ علی اللہ؟ فیقال العافون عن الناس، فیدخلون الجنۃ بغیر حساب جب قیامت کا دن ہو گا، (خدا کی طرف سے) ایک منادی ندا دے گا کہ جس جس شخص کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ وہ بہشت میں چلا جائے: خدا کے ذمہ کس کا اجر ہے۔ تو جواب ملے گا، جنہوں نے لوگوں کو معاف کر دیا ہے۔ چنانچہ وہ حساب کے بغیر بہشت میں چلے جائیں گے۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، اس آیت کے ذیل میں)۔ درحقیقت یہ حدیث زیرِ تفسیر آیات میں سے آخری آیت سے نتیجے کے طور پر اخذ کی گئی ہے۔ اور اسلام کا اصل اور صحیح راستہ بھی یہی ہے۔

41
42:41
وَلَمَنِ ٱنتَصَرَ بَعۡدَ ظُلۡمِهِۦ فَأُوْلَـٰٓئِكَ مَا عَلَيۡهِم مِّن سَبِيلٍ
جو شخص مظلوم ہونے کے بعد مدد طلب کرے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 43 کے تحت ملاحظہ کریں۔

42
42:42
إِنَّمَا ٱلسَّبِيلُ عَلَى ٱلَّذِينَ يَظۡلِمُونَ ٱلنَّاسَ وَيَبۡغُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّۚ أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ
اعترض اور سزا تو ان لوگوں کے لئے ہے جو دوسرے لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق ظلم روا رکھتے ہیں ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 43 کے تحت ملاحظہ کریں۔

43
42:43
وَلَمَن صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَٰلِكَ لَمِنۡ عَزۡمِ ٱلۡأُمُورِ
لیکن جو لوگ صبر کرتے ہیں اور معاف کر دیتے ہیں تو یہ بڑے کاموں میں سے ہے

تفسیر نصرت طلبی عیب نہیں- ظلم کرنا عیب ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

یہ آیات درحقیقت نصرت طلبی، ظالم کی سزا اور عفو و درگزر کے سلسلے میں گزشتہ آیات کی تاکید، تشریح اور تتمہ ہیں اور اس کا مقصد یہ ہے کہ ظالم کو سزا دینا اور اس سے انتقام لینا مظلوم کا حق ہے۔ اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اس کی راہ میں کسی قسم کی رکاوٹ کھڑی کرے اور اس کے ساتھ ساتھ اگر مظلوم کو اس پر غلبہ حاصل ہو جائے تو اگر وہ صبر سے کام لے کر اس سے انتقام نہ لے تو یہ اس کے لئے بہت بڑی فضیلت ہو گی۔ پہلے فرمایا گیا ہے۔ جو شخص مظلوم ہونے کے بعد کسی سے مدد طلب کرے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں (وَلَمَنِ انتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُوْلَئِكَ مَا عَلَيْهِم مِّن سَبِيلٍ)۔ (تشریحی نوٹ: "ظلمہ" میں مصدر کو مفعول کی طرف مضاف کیا گیا ہے۔ کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اس کام سے اسے روکے یا اسے ملامت اور سرزنش کرے یا سزا دے۔ بلکہ ایسے مظلوم کی مدد کرنے میں کسی قسم کا شک و شبہ بھی نہ ہو۔ کیونکہ استغاثہ اور نصرت طلبی مظلوم کا مسلم حق ہے۔ اور مظلوم کی مدد کرنا ہر آزادی پسند اور بیدار ضمیر کے مالک انسان کا فرض ہے۔ اعتراض اور سزا تو صرف ان لوگوں کے لئے ہے۔ جو لوگوں پر ستم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق ظلم کو روا رکھتے ہیں (إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ)۔ دنیا میں کیفر اور سزا پانے کے علاوہ "ان کے لئے آخرت میں بھی دردناک عذاب ہے۔ (أُوْلَئِكَ لَهُم عَذَابٌ أَلِيمٌ)۔ "يَظْلِمُونَ ٱلنَّاسَ" اور "وَيَبْغُونَ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ" کا آپس میں فرق ہے۔ بعض مفسرین نے پہلے جملے کو "ظلم و ستم" کی طرف اشارہ سمجھا ہے۔ اور دوسرے کو "تکبر اور خود پسندی" کی طرف (تشریحی نوٹ: ملاحظہ ہوں، تفسیر کشاف، تفسیر رُوح المعانی اور تفسیر روح البیان، اسی آیت کے ذیل میں)۔ جبکہ بعض دوسرے مفسرین نے نے پہلے جملے کو "ظلم" کی طرف اور دوسرے جملے کو "اسلامی حکومت کی مخالفت" کی طرف اشارہ قرار دیا ہے۔ "بغی" کا اصل معنی کسی چیز کے حصول کے لیے سعی و کوشش کرنا ہے۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ یہ لفظ دوسروں کے حقوق غصب کرنے یا خدا کے حقوق و حدود سے تجاوز کرنے کے موقع پر بولا جاتا ہے۔ اسی لیے "ظلم" کا مفہوم خاص ہوتا ہے۔ اور "بغی" کا مفہوم عام ہوتا ہے۔ اور حقوق الہٰی سے ہر قسم کے تجاوز اور تعدی پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ "بغیر الحق" کی تعبیر بھی اسی معنی کے لیے تاکید کے طور پر آئی ہے۔ اور اس طرح سے دوسرا جملہ "خاص کے بعد دام کا ذکر" ہے۔ اس سلسلے کی آخری آیت میں صبر و استقامت اور عفو و درگزر کے مسئلے کو ایک بار پھر بیان کیا گیا ہے۔ تاکہ ایک مرتبہ پھر اس حققیقت کو زور دار لفظوں میں بیان کر دیا ائے کہ مظلوم کا ظالم سے انتقام، قصاص اور اسے سزا، ہرگز عفو و درگذشت سے مانع نہں ہے۔ جیسا کہ فرمایا گیا ہے۔ جو لوگ صبر کرتے ہیں اورفریق مخالف کو معاف کردیتے ہیں تو یہ ان کے بڑے کاموں میں سے ہے۔ (وَلَمَن صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ)۔ (تشریحی نوٹ: "لمن صبر" میں لام، لام قسم ہے۔ اور "لمن عزم الامور " میں لام تاکید ہے۔ اور دونوں اس خدائی حکم (عفو) کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں)۔ "عزم الامور" کا مطلب وہ اعمال ہیں جن پر پختہ ارادے کے ساتھ عمل کیا جائے اور جو اللہ کے حکم سے کبھی منسوخ نہیں ہوں گے۔ یہ بھی قابلِ غور ہے کہ "صبر" کا ذکر "غفران" سے پہلے کیا گیا ہے۔ کیونکہ اگر صبر نہ ہو تو معافی ممکن نہیں ہوتی۔ جو شخص نفس پر قابو نہ رکھ سکے، وہ انتقام پر اصرار کرتا ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ معافی اور درگزر اسی وقت مستحسن ہیں جب مظلوم طاقتور ہو اور قدرت کے باوجود معاف کرے، اور ظالم بھی اس سے سبق حاصل کرے۔ اگر معافی کسی پر زبردستی مسلط کی جائے یا ظالم کو مزید جری کر دے، تو ایسی معافی مطلوب نہیں۔ بعض روایات کے مطابق، ان آیات میں امام مہدی (عجل اللہ فرجہ) کے قیام اور ان کے ساتھیوں کے ذریعے ظالموں اور مفسدین سے انتقام لینے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جیسا کہ بارہا ذکر ہوا ہے۔ ایسی تفسیریں آیات کے ایک واضح مصداق کی وضاحت کرتی ہیں، جبکہ آیت کے عمومی مفہوم کو محدود نہیں کرتیں۔ "عزم" دراصل "کسی کام کے انجام دینے کے لیے پختہ ارادہ کر لینے" کو کہتے ہیں اور محکم ارادے پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ "عزم الامور" کی تعبیر سے ممکن ہے۔ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ یہ ایسے کاموں سے ہے۔ جن کا خدا نے حکم دیا ہے۔ اور ہرگز منسوخ نہیں ہو گا۔ یا ایسے کاموں میں سے ہے۔ جن کے بارے میں انسان کو عزم راسخ سے کام لینا چاہیئے۔ ان دونوں معانی میں سے جو بھی مراد ہو ہر صورت میں اس کام کی اہمیت کی دلیل ہے۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ "صبر" کا ذکر "غفران" سے پہلے ہوا ہے۔ کیونکہ اگر صبر و شکیبائی نہ ہو تو عفو و درگزر کی نوبت نہیں آتی۔ نفس، انسان کے قابو میں نہیں رہتا اور وہ انتقام پر ہی ڈٹا رہتا ہے۔ اس حقیقت کی ایک بار پھر یاد دہائی کروائی جاتی ہے کہ "عفو اور درگز" ایسی صورت میں مطلوب اور قابل تعریف ہے کہ مظلوم طاقتور ہو اور طاقت کے ہوتے ہوئے اسے معاف کر دے اور فریق مخالف بھی اس سے صحیح معنوں میں فائدہ اٹھائے اور "من عزم الامور" کی تعبیر بھی شاید اسی معنی کی تاکید کر رہی ہے۔ کیونکہ کسی چیز کے بارے میں حتمی فیصلہ اسی وقت کیا جاتا ہے کہ جب انسان اس کے انجام پر قادر ہو۔ لیکن جو معافی ظالم کی طرف سے مسلط کی جائے یا اسے اپنے اعمال میں زیادہ جری اور گستاخ بنا دے وہ قابلِ تعریف اور مطلوب نہیں ہے۔ بعض روایات کے مطابق مندرجہ بالا آیات میں حضرت امام مہدی عجل اللہ فرجہ کے قیام اور زمین میں آپؑ کے اور آپؑ کے رفقاء کار کے ظالموں اور مفسدین سے انتقام لینے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جیسا کہ بارہا بتایا جا چکا ہے کہ اس قسم کی تفسیریں آیات کا واضح اور روشن مصداق ہوا کرتی ہیں اور آیت سے عمومی مفہوم مراد لینے سے مانع نہیں ہوتیں۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ۴، ص ۵۸۵)۔

44
42:44
وَمَن يُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِن وَلِيّٖ مِّنۢ بَعۡدِهِۦۗ وَتَرَى ٱلظَّـٰلِمِينَ لَمَّا رَأَوُاْ ٱلۡعَذَابَ يَقُولُونَ هَلۡ إِلَىٰ مَرَدّٖ مِّن سَبِيلٖ
جسے خدا گمراہی میں ڈال دے اس کے لئے اس کے بعد کوئی بھی ولی اور مدد گار نہیں ہو گا اور قیامت کے دن تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب وہ عذاب الٰہی کا مشاہدہ کریں گے تو کہیں گے کہ آیا واپسی (اور تلافی) کی کوئی سبیل ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 46 کے تحت ملاحظہ کریں۔

45
42:45
وَتَرَىٰهُمۡ يُعۡرَضُونَ عَلَيۡهَا خَٰشِعِينَ مِنَ ٱلذُّلِّ يَنظُرُونَ مِن طَرۡفٍ خَفِيّٖۗ وَقَالَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّ ٱلۡخَٰسِرِينَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ وَأَهۡلِيهِمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۗ أَلَآ إِنَّ ٱلظَّـٰلِمِينَ فِي عَذَابٖ مُّقِيمٖ
اور تو انہیں دیکھے گا کہ وہ آگ کے لئے پیش کئے جائیں گے جب کہ سخت ذلت کی بنا پر وہ سر جھکائے ہوں گے اور کنکھیوں سے (اس کی طرف) دیکھیں گے اور جو لوگ ایمان لا چکے ہیں وہ کہیں گے صحیح معنوں میں ان لوگوں نے خسارہ اٹھایا ہے جو بروز قیامت اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو کھو چکے ہیں۔ آگاہ رہو (آج کے دن) ظالم دائمی عذاب میں ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 46 کے تحت ملاحظہ کریں۔

46
42:46
وَمَا كَانَ لَهُم مِّنۡ أَوۡلِيَآءَ يَنصُرُونَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِۗ وَمَن يُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِن سَبِيلٍ
ان کیلئے خدا کے علاہ ان کے اولیاء اور مددگار نہیں کہ جو ان کی مدد کو پہنچیں اور جسے خدا گمراہی میں ڈال دے اس کے لئے نجات کی کوئی سبیل نہیں ہے۔

تفسیر آیا واپسی کی کوئی سبیل ہے؟

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

گزشتہ آیات میں ظالموں، ستمگاروں اور تجاوز کاروں کے بارے میں گفتگو تھی، زیرنظر آیات میں ان کے انجام اور کچھ سزاؤں کی بات ہو رہی ہے۔ پہلے توا نہیں ایسا گمراہ قرار دیا گیا ہے۔ جن کا کوئی ولی اور سرپرست نہیں ہوتا، ارشاد ہوتا ہے: جسے خدا گمراہی میں چھوڑ دے، اس کے بعد اُس کا کوئی ولی مدد گار نہیں ہو گا (وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِن وَلِيٍّ مِّن بَعْدِهِ)۔ جو لوگ ہدایت اور ضلالت کے بارے میں قرآنی تعبیرات سے آشنا ہیں ان کے لئے یہ بات اچھی طرح واضح ہے کہ نہ تو ہدایت کا پہلو جبری ہوتا ہے۔ اور نہ ہی ضلالت کا۔ بلکہ یہ انسانوں کے اپنے اعمال کا براہ راست نتیجہ ہوتا ہے۔ بعض اوقات انسان ایسے کام انجام دیتے ہیں جن کی وجہ سے خدا ان کی توفیق سلب کر لیتا ہے۔ اور نورِ ہدایت ان کے دل میں خاموش کر دیتا ہے۔ اور انہیں گمراہی کی تاریکیوں میں چھوڑ دیتا ہے۔ یہ انسان کا عین اختیار ہے۔ جس طرح اگر کوئی شخص زبردست مے خواری کی وجہ سے گوناگوں بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہ برا انجام اس شخص نے خود اپنے ہی ہاتھوں سے فراہم کیا ہے۔ چونکہ خدا کا کام اشیاء کو اسباب فراہم کرنا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نتیجہ اسی کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: اس بارے میں تفصیلی گفتگو ہم نے تفسیر نمونہ کی ۱۱ ویں جلد میں سورہ ٴ زمر کی ۳۶ ویں آیت کے ذیل میں کی ہے۔ اور اس مسئلہ کے تمام پہلوؤں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ بہرحال، یہ ان ظالموں کی دردناک سزاؤں میں سے ایک ہے۔ پھر فرمایا گیا ہے۔ تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب وہ عذاب الہٰی کا مشاہدہ کریں گے تو سخت پشیمان ہو کر کہیں گے کہ آیا واپسی اور ان گناہوں کی تلافی کی کوئی سبیل ہے۔ (وَتَرَى الظَّالِمِينَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ يَقُولُونَ هَلْ إِلَى مَرَدٍّ مِّن سَبِيلٍ)۔ قرآن مجید نے کئی مرتبہ کافروں اور ظالموں کی واپسی کی درخواست کا ذکر کیا ہے۔ کبھی تو یہ درخواست موت کے قریب ہونے کے وقت ہوتی ہے۔ جیسا کہ سورہٴ مؤمنون کی آیات ۹۹ تا ۱۰۰ میں ہے کہ: حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِoلَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ جب ان میں سے کسی ایک کے پاس موت آ جاتی ہے۔ تو کہتا ہے کہ پروردگارا! مجھے لوٹا دے تاکہ میں نے جو کوتاہی کی تھی، اس کے لئے کوئی عمل صالح بجا لاؤں۔ کبھی یہ تقاضا عرصہ محشر میں ہو گا، جب وہ جہنم کے کنارے لاکھڑے کئے جائیں گے، جیسا کہ سورہٴ انعام کی ۲۷ ویں آیت میں ہے۔ وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُواْ عَلَى النَّارِ فَقَالُواْ يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ جب وہ آگ کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے اگر تم دیکھو تو وہ کہیں گے اے کاش! ہم دنیا کی طرف لوٹ جاتے اور اپنے رب کی آیات کو نہ جھٹلاتے اور مومنین میں سے ہوتے۔ لیکن ان کی درخواست خواہ کسی بھی صورت میں ہو، مسترد کر دی جائے گی۔ کیونکہ واپسی کے سب امکانات ختم ہو چکے ہوں گے اور یہ خدا کا ایک اٹل فیصلہ ہے۔ جس طرح انسان بڑھاپے سے جوانی کی طرف، جوانی سے بچپن کی طرف اور بچپن سے شکم مادر کی طرف واپس نہیں جا سکتا، اسی طرح عالم برزخ اور آخرت سے بھی رجعت قہقرائی قطعاً ناممکن ہے۔ بعد کی آیت اس گروہ کی تیسری سزا کو یوں بیان کرتی ہے۔ اس دن تم ان کو دیکھو گے کہ جب وہ جہنم کی آگ کے سامنے پیش کئے جائیں گے تو سخت ذلت کی وجہ سے سرجھکائے ہوئے کنکھیوں سے اس کی طرف نگاہ کریں گے (وَتَرَاهُمْ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا خَاشِعِينَ مِنَ الذُّلِّ يَنظُرُونَ مِن طَرْفٍ خَفِيٍّ)۔ (تشریحی نوٹ: "طرف" (بروزن "برف") مصدر ہے۔ اور آنکھ کی گردش کے معنی میں ہے۔ اور"طرفتہ العین" آنکھ کی ایک گردش کے معنی میں ہے۔ نیز "علیھا" میں "ھا" کی ضمیر عذاب کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اگرچہ مذکر ہے۔ لیکن چونکہ یہاں پر نار اور جہنم کے معنی میں ہے۔ لہٰذا مؤنث کی ضمیر اس کی طرف لوٹ رہی ہے۔ وحشت اور اضطراب کی حالت ان کے تمام وجود پر مسلّط ہو گی اور ذلت انہیں سرتاپا گھیرے ہوئے ہو گی اب نہ تو تکبر کا نام و نشان ہو گا، نہ ہی مقابلہ بازی، سرکشی، ظلم استبداد اورمظلوموں کے لئے اذیت اور آ زار کا کوئی موقع ہو گا اور وہ کنکھیوں سے آتش جہنم کو دیکھیں گے اور بس۔ یہ اس شخص کی صورت حال ہوتی ہے۔ جو کسی چیز سے زبردست ڈر جاتا ہے۔ اور پوری آنکھ سے اسے انہیں دیکھنا چاہتا اور اس سے غافل بھی نہیں رہنا چاہتا۔ مجبوراً اسے اس چیز کا خیال بھی رکھنا پڑتا ہے۔ اور بار بار اسے دیکھنا بھی پڑتا ہے۔ لیکن پوری آنکھ سے نہیں بلکہ نظر بچا کے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہاں پر "طرف خفی" کا معنی نیم باز آنکھوں کے ساتھ دیکھنا ہے۔ کیونکہ وہ سخت گھبراہٹ اور زبردست خوف کی وجہ سے پوری آنکھ کھولنے پر قادر نہیں ہوں گے یا اس حد تک ہلکے اور سوا ہو جائیں گے کہ پوری آنکھ بھی نہیں کھول سکیں گے۔ جب جہنم میں داخل ہونے سے پہلے یہ حال ہو گا تو جب وہ اس کے اندر چلے جائیں گے تو ان کی کیا کیفیت ہو گی اور جب وہ عذاب میں مبتلا ہو جائیں گے تو پھر ان کا کیا حال ہو گا؟ آخری سزا جو یہاں پر بیان ہوئی ہے۔ وہ مؤمنین کی طرف سے سخت ملامت اور درد ناک سرزنش ہو گی، جیسا کہ آیت کے آخر میں ہے۔ ایماندار لوگ کہیں گے صحیح معنوں میں وہ لوگ خسارے میں ہیں جو اپنے وجود کا سرمایہ اور اپنے اہل خاندان کو قیامت کے دن کھو چکے ہیں اور نقصان اٹھا چکے ہیں (وَقَالَ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ)۔ اس سے بڑھ کر اور کیا نقصان ہو گا کہ انسان اپنی ہستی کو کھو دے اور پھر اپنے بیوی بچوں اور قریبی عزیزوں سے جدا ہو جائے اور عذاب الہٰی میں گرفتار ہو کر حسرت اور جدائی کی آگ میں بھی جلتا رہے پھر فرمایا گیا ہے۔ اے اہل محشر! تم سب کو معلوم ہو جانا چاہیئے کہ آج سے تمام ظالم اور ستمگر دائمی عذاب میں ہوں گے (أَلَا إِنَّ الظَّالِمِينَ فِي عَذَابٍ مُّقِيمٍ)۔ ایسا عذاب جس کے ختم ہونے کی کوئی امید نہیں ہے۔ اور نہ ہی اس کی کوئی مدت مقرر ہے۔ ایسا عذاب جو جسم و جان کے اندرونی اور بیرونی حصوں کو جلاتا اور بھسم کرتا رہے گا۔ بعید نہیں ہے کہ یہ الفاظ کامل الایمان مومنین کے ہوں کہ جن میں سرفہرست ابنیاء اللہ و ائمہ اور خدا کے اولیاء اور خاص بندے ہیں، کیونکہ وہ گناہوں سے پاک اور سربلند ہوتے ہیں اور انہیں ایسی باتیں کہنے کا حق بھی پہنچتا ہے۔ وہ ایسے مظلوم ہیں جو ان ظالموں کے ہاتھوں بہت دکھ جھیلتے رہے ہیں وہ ایسی باتیں کہنے کے مجاز اور مستحق ہیں۔ (بعض روایاتِ اہلبیت علیہم السلام میں بھی اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ۴، ص ۵۸۶)۔ اس نکتے کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ جن ظالموں کے لئے "دائمی عذاب" ہے۔ قرینے کے مطابق ان سے کافر لوگ مراد ہیں۔ جس طرح کہ قرآن کی بعض آیات میں اسی چیز کو بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً: وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ کافر ہی ظالم ہیں۔ بعد کی آ یت بھی اسی بات کی گواہ ہے کہ جس میں کہا گیا ہے۔ ان کے اولیاء اور مددگار نہیں ہیں جو ان کی مدد کریں اور عذاب الہٰی ان سے دور کریں (وَمَا كَانَ لَهُم مِّنْ أَوْلِيَاءَ يَنصُرُونَهُم مِّن دُونِ اللَّهِ)۔ ان لوگوں نے اپنے تعلقات خدا کے خالص بندوں، انبیاء و اولیاء سے منقطع کر لئے تھے، لہٰذا وہاں پر بھی ان کا کوئی یارو مددگار نہیں ہو گا، مادی طاقتیں بھی بیکار ہو چکی ہوں گی، اسی لیے وہ تن تنہا عذاب الہٰی میں گرفتار ہوں گے۔ اس معنی کو مزید تاکید کے لئے آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے۔ جسے خدا گمراہی میں چھوڑ دے اس کی نجات کی کوئی سبیل نہیں ہے۔ (وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِن سَبِيلٍ)۔ اس سے پہلی آیات میں " وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِن ولی من بعدہ" آیا ہے۔ جس میں ولی اور سرپرست کی نفی کی گئی ہے۔ اور یہاں پر "راہ نجات" کی نفی ہے۔ کیونکہ مقصد تک پہنچنے کے لئے دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک راہ اور دوسرے راہنما لیکن یہ گمراہ ان دونوں چیزوں سے محروم ہیں۔

47
42:47
ٱسۡتَجِيبُواْ لِرَبِّكُم مِّن قَبۡلِ أَن يَأۡتِيَ يَوۡمٞ لَّا مَرَدَّ لَهُۥ مِنَ ٱللَّهِۚ مَا لَكُم مِّن مَّلۡجَإٖ يَوۡمَئِذٖ وَمَا لَكُم مِّن نَّكِيرٖ
اپنے پروردگار کی دعوت قبول کر، اس سے پہلے کہ وہ دن آپہنچے جس کے لئے ارادہ خداوندی کے سامنے کوئی بازگشت نہیں۔ اس دن نہ تو تمہاری کوئی پناہ گاہ ہے اور نہ ہی کوئی بچانے والا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔

48
42:48
فَإِنۡ أَعۡرَضُواْ فَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيظًاۖ إِنۡ عَلَيۡكَ إِلَّا ٱلۡبَلَٰغُۗ وَإِنَّآ إِذَآ أَذَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ مِنَّا رَحۡمَةٗ فَرِحَ بِهَاۖ وَإِن تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةُۢ بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيهِمۡ فَإِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ كَفُورٞ
اگر وہ منہ پھیر لیں تو (غم نہ کھا کیونکہ) ہم نے تجھے ان کا نگران بنا کر نہیں بھیجا۔ تیرا فرض صرف پیغام پہنچانا ہے اور جب ہم اپنی رحمت (کا لطف) انسان کو چکھاتے ہیں تو وہ اس سے خوش ہو جاتا ہے اور جب ان کے انجام دیئے ہوئے عمل کی وجہ سے ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو پھر انسان کفران کرنے لگتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔

49
42:49
لِّلَّهِ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُۚ يَهَبُ لِمَن يَشَآءُ إِنَٰثٗا وَيَهَبُ لِمَن يَشَآءُ ٱلذُّكُورَ
زمین و آسمان کی ملکیت اور حاکمیت خدا ہی کے لئے ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جسے چاہے بیٹی عطا کرتا ہے اور جسے چاہے بیٹا عطا کرتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔

50
42:50
أَوۡ يُزَوِّجُهُمۡ ذُكۡرَانٗا وَإِنَٰثٗاۖ وَيَجۡعَلُ مَن يَشَآءُ عَقِيمًاۚ إِنَّهُۥ عَلِيمٞ قَدِيرٞ
یا اگر چاہے تو بیٹا اور بیٹی دونوں عطا کر دیتا ہے اور جسے چاہے بانجھ بنا دیتا ہے کیونکہ وہ علیم اور قدیر ہے۔

تفسیر اولاد، اس کا عطیہ ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

جہاں تک گزشتہ آیات کا تعلق ہے۔ ان میں کافروں اور ظالموں کی کچھ دردناک، ہولناک اور وحشت ناک حصے کو بیان کیا گیا ہے۔ لیکن زیرنظر آیات میں روئے سخن تمام لوگوں کی طرف ہے۔ اور انہیں خبردار کیا جا رہا ہے کہ وہ بھی ایسے ہی دردناک انجام سے دوچار ہونے سے پہلے اپنے پروردگار کی دعوت کو لبیک کہتے ہوئے راہ حق کو اختیار کریں۔ ارشاد ہوتا ہے: اپنے پروردگار کی دعوت قبول کرو، اس سے پہلے کہ وہ دن آ پہنچے کہ جس کے لئے ارادہ خداوندی کے سامنے کوئی بازگشت نہیں (اسْتَجِيبُوا لِرَبِّكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهُ مِنَ اللَّهِ)۔ (تشریحی نوٹ: مندرجہ بالا جملے میں"من اللہ" کا کلمہ ہو سکتا ہے۔ "من قبل اللہ" کے معنی میں ہو یعنی خدا کی طرف سے کوئی بازگشت نہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ "فی مقابل اللہ" کے معنی میں ہو۔ یعنی خدائی ارادے کے مقابلے میں کوئی شخص دنیا میں لوٹانے کی قدرت نہیں رکھتا)۔ اور اگر تم یہ خیال کرو کہ اس دن لطف الہٰی کے سائے کے علاوہ کوئی جائے پناہ اور اس کی رحمت کے علاوہ اور کوئی بچانے والا اور مدافع ہو گا تو یہ تمہاری بھول ہے۔ کیونکہ "اس دن تمہارے لیے نہ تو کوئی جائے پناہ ہے کہ جہاں تم عذاب الہٰی سے پناہ لو اور نہ ہی کوئی یارو مددگار ہے۔ جو تمہارا دفاع کرے گا" (مَا لَكُم مِّن مَّلْجَإٍ يَوْمَئِذٍ وَمَا لَكُم مِّن نَّكِيرٍ)۔ "یوم لامردّلہ من اللہ" کا جملہ قیامت کے دن کی طرف اشارہ ہے۔ نہ کہ موت کے دن کی طرف اور "من اللہ" کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس کے ارادے اور فرمان جو واپس نہ لوٹ سکنے پر مبنی ہے۔ کے مقابلے میں کوئی شخص اپنے ارادے پر عمل درآمد نہیں کر سکتا۔ بہرحال، عذاب الہٰی سے بچنے کے لئے جو راہیں تصوریں آ سکتی ہیں ان سب کے دروازے، بند کئے جا چکے ہوں گے۔ عذاب سے بچنے کی جو راہ ہیں تصور میں آ سکتی ہیں ان میں سے ایک تو دنیا میں واپس جا کر گناہوں اور غلطیوں کی تلافی کرنا ہے۔ دوسرے ایسی جائے پناہ کا تصور کہ جس کے زیر سایہ انسان خود کو محفوظ کر سکے اور تیسرے کسی ایسے شخص کا وجود جو اس کا دفاع کر سکے۔ اور مذکورہ بالا آیت میں مذکور تینوں جملوں کے ذریعے ہر راستے کی نفی کر دی گئی ہے۔ بعض مفسرین نے "مالکم من نکیر" کے جملے کی اس معنی میں تفسیر کی ہے کہ "تم ہرگز وہاں پر اپنے گناہوں کا انکار نہیں کر سکو گے" کیونکہ دلائل اور شواہد اس قدر زیادہ ہوں گے کہ انکار کی گنجائش ہی باقی نہیں رہے گی۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔ بعد کی آیت میں روئے سخن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف کر کے ان کی دلجوئی کے طور پر فرمایا گیا ہے۔ اس کے باوجود اگر وہ تجھ سے منہ پھیر لیتے ہیں تو تو غم نہ کھا کیونکہ ہم نے تجھے انہیں روگرانی سے روکنے کے نگران بنا کر نہیں بھیجا (فَإِنْ أَعْرَضُوا فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا)۔ "تیرا فیصلہ تو صرف خدائی پیغام پہنچانا ہے۔ اور بس" خواہ وہ مانیں نہ مانیں (إ إِنْ عَلَيْكَ إِلَّا الْبَلَاغُ)۔ اپنے فریضہ کو صحیح معنوں میں انجام دیتا رہ اور ان پر اتمام حجت کرتا رہ۔ جن لوگوں کے دل اس کے لئے آمادہ ہیں وہ مان لیں گے اگرچہ بہت سے لوگ اس سے منہ پھیر لیں، تو اس بارے میں جوابدہ نہیں ہے۔ اسی مفہوم سے ملتی جلتی ایک آیت اسی سورت کے اوائل میں بھی آ چکی ہے۔ جس میں فرمایا گیا ہے۔ وَمَا أَنتَ عَلَيْهِم بِوَكِيلٍ توا نہیں حق قبول کرنے کے لئے آمادہ کرنے پر مامور نہیں ہے۔ (شورٰی۔ ۶)۔ پھر ایمان اور روگردانی کرنے والے افراد کی صورت حال اور ان کی کیفیت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ "جب ہم انسان کو اپنی طرف سے کوئی رحمت نصیب کرتے ہیں تو وہ اس سے خوش ہو جاتا ہے۔ _____ (وَإِنَّا إِذَا أَذَقْنَا الْإِنسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا)۔ "اور جب ان کے عمل انجام دینے کی وجہ سے ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے۔ تو انسان کفران کرتا ہے۔ (وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ فَإِنَّ الْإِنسَانَ كَفُورٌ)۔ جب کہ شکرِ منعم ضروری ہے۔ لیکن خدا کی نعمتیں پا کر بھی وہ بیدار نہیں ہوتے اور اس کا شکر بجا نہیں لاتے اور اس منعم حقیقی کی معرفت اور اطاعت کا فریضہ انجام نہیں دیتے اور نہ ہی گناہوں کی وجہ سے ملنے والی سزاؤں کے ذریعے وہ خواب غفلت سے بیدار ہوتے ہیں اور نہ رسول اللہ کی دعوت حق ان پر کچھ اثر کرتی ہے۔ تشریعی لحاظ سے ہدایت کا ذریعہ ابنیاء الہٰی کی دعوت ہے۔ اور تکوینی لحاظ سے کبھی مصیبتیں ہوتی ہیں اور کبھی نعمتیں۔ لیکن ان دل کے اندھوں کے لئے کوئی بھی چیز مؤثر نہیں ہوتی۔ قصور خود ان کا اپنا ہے۔ تو اس معاملے میں بالکل بےقصور ہے۔ تو نے اپنا پیغام رسانی سے اپنا فریضہ انجام دے دیا ہے۔ مندرجہ بالا آیت میں "اذااذ قنا" (جب ہم چکھاتے ہیں) کی تعبیر رحمت کے بارے میں ہے۔ اور کئی دوسری قرآنی آیات میں عذاب الہٰی کے بارے میں ہے۔ اور ممکن ہے کہ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ اس دنیا کی نعمتیں ہوں یا مصیبتیں جس قدر زیادہ ہوں پھر بھی آخرت کی نعمتوں اور مصیبتوں کے مقابلے میں بالکل معمولی ہوتی ہیں۔ یا پھر یہ مراد ہے کہ یہ کم ظرف لوگ معمولی سی نعمت پر مست اور مغرور ہو جاتے ہیں اور ذرا سی مصیبت پر مایوس اور منکر۔ یہاں پر یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ خدا نعمت کو اپنی طرف نسبت دیتا ہے۔ کیونکہ یہ اس کی رحمت کا تقاضا ہوتا ہے۔ اور مصائب کو انسانوں کی طرف، کیونکہ یہ ان کے اعمال کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ پہلے بھی ہم یہ نکتہ بتا چکے ہیں کہ اس قسم کی آیات میں لفظ "انسان" کی تعبیر "غیر تربیت یافتہ انسانوں کے مزاح کی طرف اشارہ ہوتی ہے۔ جن کی فکر کوتاہ اور روح پست ہوتی ہے۔ اور آیت بالا میں اس کا تکرار اسی معنی کی تاکید کے لئےہے۔ پھر اس حقیقت کو ظاہر کرنے کے لئے کہ اس دنیا میں ہر طرح کی نعمت اور رحمت خدا کی طرف سے ہے۔ اور کوئی شخص ازخود کسی بھی چیز کا مالک نہیں ہے۔ ایک کلی مسئلہ اور اس کے واضح مصداق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ آسمانوں اور زمین کی ملکیت اور حکومت خدا ہی کے لئے ہے۔ وہ چاہے۔ پیدا کر ے (لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ)۔ اسی وجہ سے سب اس کے خوان نعمت کے ریزہ خوار ہیں اور اسی کی مہربانی اور رحمت کے نیاز مند، اسی لیے نہ تو نعمت کے موقع پر غرور کوئی عقلمندی کی بات ہے۔ اور نہ ہی مصیبت کے وقت مایوسی۔ اس حقیقت کا کہ کوئی شخص از خود کسی بھی چیز کا مالک نہیں جو کچھ ہے۔ اسی کی طرف سے ہے۔ کا ایک واضح نمونہ یہ ہے کہ "جسے چاہے۔ لڑکی عطا کر دے اور جسے چاہے۔ لڑکا دے دے" (یَھَبُ لِمَنْ یَشاء ُ إِناثاً وَ یَہَبُ لِمَنْ یَشاء ُ الذُّکُور)۔ "یا اگر چاہے۔ تو لڑکا اور لڑکی دونوں دے دے اورجسے چاہے۔ بانجھ اور بےاولاد بنا دے" (أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا وَيَجْعَلُ مَن يَشَاءُ عَقِيمًا)۔ تو اس لحاظ سے لوگ چار حصّوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ ایک وہ جن کے ہاں صرف لڑکا ہے۔ اور وہ بیٹی کے خواہش مند ہیں۔ دوسرے وہ جن کے ہاں صرف لڑکی ہے۔ اور لڑکے کے خواہش مند ہیں۔ تیسرے وہ جن کے ہاں دونوں ہیں اور چوتھے وہ جو ان دونوں سے محروم ہیں اور ان کا دل اولاد کی آرزو میں تڑپ رہا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ نہ تو گزشتہ دور میں اور نہ ہی آج کے سائنسی اور ترقی یافتہ دور میں کسی شخص کو اس بارے میں انتخاب کی قدرت حاصل ہے۔ اور تمام تر کوششوں کے باوجود آج تک کوئی بھی شخص حقیقی معنوں میں بانجھ عورت کے بچہ جننے کے قابل نہیں بنا سکا اور نہ ہی اولاد کی نوع کو اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ اگرچہ بعض غذاؤں یا دواؤں کی وجہ سے لڑکے یا لڑکی کی پیدائش کے امکان میں اضافے کا انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ صرف امکان اور احتمال کی حد تک ہی ہوتا ہے۔ کسی چیز کا قطعی حاصل نہیں ہوتا۔ یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ ان آیات میں "اناث" (لڑکیوں) کو"ذکور" (لڑکوں) پر مقدم کیا گیا ہے۔ تاکہ ایک تو اس اہمیت کو بیان کیا جائے جو اسلام نے عورتوں کو عطا فرمائی ہے۔ اور دوسر ے یہ کہ جو لوگ غلط تصور کی بنا پر لڑکیوں کی پیدائش کو ناپسند کرتے ہیں انہیں ذہن نشین کروا دے کہ وہ (خدا) تمہاری مرضی کے خلاف ایسی اولاد عطا کرتا ہے۔ جسے تم پسند نہیں کرتے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اولاد کا انتخاب تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ "یھب" (عطا کرتا ہے۔ کی تعبیر اس بات کی روشن دلیل ہے کہ جس طرح لڑکے خدا کا عطیہ ہوتے ہیں اسی طرح لڑکیاں بھی اسی کا عطیہ ہیں اور ان میں فرق سمجھنا ایک سچے مسلمان کے لئے صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ دونوں خدائی "ھبہ" (عطیہ) ہیں۔ یہاں پر "یزوّجھم" کا لفظ "تزویج" کے معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ کچھ انسانوں کے لئے ان دو نعمتوں کو ملا کر دینے کے معنی میں ہے۔ بالفظ دیگر "تزویج" کا لفظ بعض اوقات دو مختلف چیزوں یا دو مختلف جنسوں کو اکٹھا کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ کیونکہ اصل میں "زوج" دو ایسی چیزوں یا دو شخصوں کے جوڑے کے معنی میں آتا ہے۔ جو ایک دوسرے کے ہم پلہ ہوں۔ بعض مفسرین نے لڑکوں اور لڑکیوں کی بالترتیب اور پےدرپے پیدائش کے معنی میں لیا ہے۔ جب کہ بعض نے جڑواں بچوں کی پیدائش کے معنی کئے ہیں یعنی ایک لڑکا اور دوسری لڑکی۔ لیکن مندرجہ بالا تفاسیر پر آیت میں کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ اور ساتھ ہی یہ معانی ظاہر آیت کے ساتھ ہم آہنگ نہیں کیونکہ آیت تیسرے گروہ کی خبر دینا چاہتی ہے۔ جن کے ہاں لڑکے بھی ہیں اور لڑکیاں بھی۔ بہرحال، یہ صرف اولاد کی پیدائش ہی کی بات نہیں بلکہ ہر چیز پر خدا کی مشیت مطلقاً حکم فرما ہے۔ اور وہ ایسا حاکم ہے۔ جو قادر بھی ہے۔ اور آگاہ و حکیم بھی جس کا علم اور قدرت ساتھ ساتھ ہیں۔ لہٰذا فرمایا گیا ہے۔ وہ دانا و قادر ہے۔ (إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ)۔ اس نکتے کی طرف بھی توجہ رہے کہ لفظ "عقیم"، "عقیم" (بروزن "بخل"، یا بروزن "فہم") کے مادہ سے لیا گیا ہے۔ جس کا معنی ایسی خشکی اور یبوست ہے۔ جو کسی بھی اثر کو قبول کرنے سے مانع ہوتی ہے۔ اور "عقیم عورتیں" ان عورتوں کو کہا جاتا ہے۔ جن کا رحم، مرد کا نطفہ قبول کرنے یا بچے کو اپنے اندر پرورش دینے کے لئے آمادہ نہ ہو اور عقیم ہواؤں کو اس لیے عقیم کہا جاتا ہے کہ وہ بارش برسانے والے بادلوں کو آپس میں نہیں جوڑ سکتیں نیز روز عقیم اس دن کو کہا جاتا ہے۔ جس میں کسی قسم کی مسرت اور خوشی نہ ہو جب کہ قیامت کو "یوم عقیم" کے عنوان سے اس لیے یاد کیا گیا ہے۔ کیونکہ اس کے بعد کوئی اور دن نہیں ہے کہ جس میں گزشتہ اعمال کی تلافی کی جا سکے۔ اور جس غذا کے تمام جراثیم ختم کر دیئے گئے ہوں اسے "معقم" کہتے ہیں کیونکہ یہ ضرر رسان چیزیں اس میں پرورش نہیں پاتیں۔

51
42:51
۞وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ ٱللَّهُ إِلَّا وَحۡيًا أَوۡ مِن وَرَآيِٕ حِجَابٍ أَوۡ يُرۡسِلَ رَسُولٗا فَيُوحِيَ بِإِذۡنِهِۦ مَا يَشَآءُۚ إِنَّهُۥ عَلِيٌّ حَكِيمٞ
کسی انسان کے لائق یہ بات نہیں ہے کہ خدا اس سے باتیں کرے مگر وحی کے ذریعے یا پردے کے پیچھے سے یا پھر وہ اپنے کسی پیغامبر کو بھیجتا ہے اور وہ حکم خدا کے مطابق جو کچھ اللہ چاہتا ہے وحی کرتا ہے کیونکہ وہ بلند مرتبہ اور حکمت والا ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

بعض مفسرین نے اس آیت کی شان نزول بیان کی ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ کچھ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آ کر عرض کی "آپؐ خدا کے ساتھ براہ راست باتیں کیوں نہیں کرتے؟ اسے اپنی آنکھوں سے کیوں نہیں دیکھتے؟ اگر آپ نبی ہیں تو جیسے موسیٰؑ نے خدا سے گفتگو کی ہے۔ اور اسے دیکھا ہے۔ تو آپؐ کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔ ہم اس وقت تک آپؐ پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک آپؐ یہی کام انجام نہیں دیں گے!" یہ سن کر آنحضرتؐ نے ارشاد فرمایا: "موسیٰ علیہ السلام نے خدا کو کبھی نہیں دیکھا۔" اس موقع پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی، جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ انبیاء کا رابطہ اللہ سے کن ذرائع سے ہوتا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر قرطبی، جلد ۸، ص ۵۸۷۳)۔

تفسیر انبیاء کے خدا کے ساتھ رابطے کے ذرائع

جیسا کہ سورت کے آغاز میں بتایا جا چکا ہے کہ اس سورت میں زیادہ تر وحی و نبوت جیسے مسئلہ پر زور دیا گیا ہے۔ سورت کا آغاز بھی وحی کے مسئلے کے ساتھ ہوا اور اس کا اختتام بھی اسی مسئلے پر ہو رہا ہے۔ گزشتہ آیات میں خدائی نعمتوں کا تذکرہ تھا لیکن ان آیات میں عالمِ انسانیت میں پروردگار کی تمام نعمتوں میں سے اہم ترین نعمت اور تمام مہربانیوں میں سے بالاترین مہربانی وحی اور انبیاء کے خدا کے ساتھ رابطے کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ پہلے تو فرمایا گیا ہے۔ کسی بھی انسان کے لائق نہیں ہے کہ خدا اس سے باتیں کرے (اور اس کے آمنے سامنے آئے، کیونکہ وہ جسم و جسمانیت سے منزہ اور مبرا ہے۔ مگر اس کے دل پر وحی اور مخفیانہ ہر آیت کے ذریعے (وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا)۔ "یا پردے کے پیچھے سے" خدا کی باتیں سننے کے ذریعے (أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ)۔ جیسے حضرت موسیٰؑ بن عمران کوہِ طور پر خدا سے باتیں کیا کرتے تھے اور جواب بھی سنا کرتے تھے۔ یہ باتیں صوتی لہروں کے ذریعے پیدا ہوتی تھیں جنہیں خدا فضا میں ایجاد کر دیتا تھا اور وہ خود خدا کو نہیں دیکھا کرتے تھے کیونکہ وہ دکھائی دینے والا نہیں ہے۔ "یا کوئی پیغامبر بھیجنے کے ذریعے کہ جو اس تک خدا کا پیغام پہنچائے" (أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا)۔ جس طرح کہ وحی کا فرشتہ اور خدا کا قاصد "جبرائیل امین" پیغمبر اسلامؐ پر نازل ہوتا تھا۔ "اس وقت خدا کا بھیجا ہوا حکم پروردگار کے مطابق جو کچھ خدا چاہتا ہے۔ اس کے پیغمبر پر وحی کرتا ہے۔ (فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ)۔ جی ہاں! خدا کا اپنے بندوں کے ساتھ گفتگو کا ذریعہ ان تین راستوں کے علاوہ اور کوئی نہیں" کیونکہ وہ بلند مرتبہ اور صاحبِ حکمت ہے۔ (إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ)۔ اس کی شان اس سے بالاتر ہے کہ وہ دیکھا جائے یا زبان کے ساتھ بات کرے اور اس کے تمام افعال حکیمانہ ہیں اور اس کا اپنے انبیاء کے ساتھ رابطہ حساب و کتاب پر مبنی ہے۔ یہ آیت ان لوگوں کے لئے ایک واضح جواب ہے۔ جو شاید اپنی بےخبری کی بناء پر یہ خیال کریں کہ وحی کا آنا اس بات کی دلیل ہے کہ انبیاء کرام خدا کو دیکھتے ہیں اور اس کے ساتھ باتیں کرتے ہیں۔ چنانچہ اس آیت نے وحی کی حقیقت اور روح کو خلاصے کی صورت میں اور جچے تلے الفاظ کے ساتھ منعکس کر دیا ہے۔ آیت سے مجموعی طور پر یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ انبیاء کا خدا کے ساتھ رابطہ ان تین ذرایعوں ہی میں منحصر ہے۔ ۱۔ دل پر القاء: ایسا بہت سے انبیاء کے ساتھ ہوتا تھا جیسے حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہے۔ فَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِ أَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا "ہم نے نوح کی طرف وحی کی کہ ہمارے سامنے اور ہمارے حکم کے مطابق کشتی تیار کرو۔" (المؤمنون۔ ۲۷)۔ ۲۔ پردے کے پیچھے سے: جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ خدا نے کوہِ طور پر باتیں کیں۔ چنانچہ فرماتا ہے۔ وَكَلَّمَ اللّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا (نساء۔۱٦۴) بعض مفسرین نے "من وراء حجاب" میں سچے خوابوں کو بھی شمار کیا ہے۔ ۳۔ پیغامبروں کو بھیج کر: جس طرح کہ اسلام کے عظیم پیغمبرؐ کے بارے میں ہے۔ قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللّهِ "کہہ دے جو شخص جبرائیل کا دشمن ہے۔ (وہ خدا کا دشمن ہے۔ کیونکہ اس نے خدا کے حکم سے قرآن تیرے دل پر اتارا ہے۔ " (البقرہ۔ ۹۷)۔ البتہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی کا نزول صرف اسی طریقے سے نہیں تھا بلکہ اور بھی طریقوں سے آپؐ پر وحی نازل ہوتی تھی۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ دل پر القاء کے ذریعے وحی کا نزول کبھی بیداری کی صورت میں انجام پاتا تھا جیسا کہ اُوپر بیان ہو چکا ہے۔ اور کبھی نیند میں رؤیائے صادقہ کے ذریعے عمل میں آتا تھا، جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جناب اسماعیل علیہ السلام کے ذبح کرنے کا حکم ہوا۔ (ہر چند کہ بعض مفسرین نے اسے "من وراء حجاب" کا ایک مصداق شمار کیا ہے۔ اگرچہ نزولِ وحی کی اصل قسمیں وہی تین ہیں جو مذکورہ بالا آیت میں مذکور ہو چکی ہیں لیکن ان تینوں قسموں میں سے بعض کی کئی فروعی قسمیں بھی ہیں، جیسا کہ بعض حضرات کا عقیدہ ہے کہ فرشتے کے ذریعے وحی کا نزول بذاتِ خود مندرجہ ذیل چار طریقوں سے عمل میں آتا تھا: (۱) فرشتہ پیغمبر پر ظاہر ہوئے بغیر وحی ان کی روح میں القاء کر دیتا تھا، جیسا کہ خود رسولؐ اکرم ارشاد فرماتے ہیں: إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ نَفَثَ فِي رُوعِي أَنَّهُ لَنْ تَمُوتَ نَفْسٌ حَتَّى تَسْتَكْمِلَ رِزْقَهَا فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ "روح القدس نے میرے دل میں یہ بات ڈالی ہے کہ کوئی شخص اس وقت تک نہیں مرتا جب تک اپنی روزی مکمل طور پر نہ لے لے۔ اس لیے تم خدا سے ڈرتے رہو اور روزی طلب کرنے میں حریص نہ بنو۔" (۲) کبھی فرشتہ انسانی صورت میں ظاہر ہوتا تھا اور نبی کو مخاطب کر کے اس پر وحی کرتا تھا (جیسا کہ جبرائیلؑ کے بارے میں حدیثیں ہیں کہ وہ وحیہ کلبی کی صورت ظاہر ہوتے تھے)۔ (تشریحی نوٹ: "وحیہ بن خلیفہ کلبی" پیغمبر اسلامؐ کے رضاعی بھائی تھے اور اپنے زمانے کے خوبصورت ترین لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔ جب جناب پیغمبرؐ کے جبرائیلؑ آتے تھے و ان کی صورت اختیار کر کے آتے تھے۔ (مجمع البحرین مادہ "وحی") ان کا شمار پیغمبر اکرمؐ کے مشہور صحابی میں ہوتا ہے۔ وہ خوبصورت لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔ آنحضرت نے ٦ھ یا ۷ھ میں انہیں اپنا قاصد بنا کر قیصر روم ہرقل کئ پاس بھیجا تھا۔ وہ معاویہ کی خلافت کے زمانے تک زندہ رہے (ملاحظہ لغتنامہ دہخدا)۔ (۳) کبھی ایسا ہوتا تھا کہ وحی کا نزول گھنٹی کی سی آواز پیدا ہونے کے ساتھ شروع ہو جاتا تھا اور یہ پیغمبر اکرمؐ پر وحی کے نزول کی سخت ترین صورت تھی۔ حتیٰ کہ جب ایسا ہوتا تو سخت سردی کے دنوں میں بھی آپ کی پیشانی اور چہرہ پسینے سے شرابور ہو جاتا تھا۔ اگر کسی سواری پر سوار ہوتے تو سواری اس قدر بوجھل ہو جاتی تھی کہ بےاختیار زمین پر بیٹھ جاتی۔ (۴) کبھی جبرائیلؑ اپنی اس اصلی صورت میں ظاہر ہوتے تھے جس میں خدا نے انہیں پیدا کیا ہے۔ اور یہ صورت حال آنحضرتؐ کی ساری زندگی میں صرف دو بار پیش آئی۔ (جیسا کہ آگے چل کر سورہ نجم کی ۱۲ ویں آیت کی تفسیر میں بیان ہو گا)۔ (بحوالہ: تفسیر فی ظلال القرآن، جلد ٧، ص ۳۰٦)۔

چند نکات ۱۔ وحی قرآن اور سنّت کی روشنی میں:

جیسا کہ راغب اصفہانی اپنی کتاب مفردات میں کہتے ہیں وحی کااصل معنی "تیزی کے ساتھ اشارہ ہے۔ خواہ وہ رمز یہ کلام کے ذریعے ہو یا لفظی ترکیب سے خالی آواز کی صورت میں، یا (ہاتھ، آنکھ اور سر جیسے) اعضاء کے ذریعے یا تحریر کے ذریعہ۔" ان تعبیرات سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ وحی میں دو چیزیں مخفی ہیں ایک اشارہ اور دوسرے تیزی۔ اسی لیے انبیاء کے عالم غیب اور خدا کی ذات سے مرموز اور سریع رابطے کے لئے اسی کلمے کا انتخاب کیا گیا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث معصومینؑ میں لفظ "وحی" کو مختلف معانی کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ کبھی انبیاء کے بارے میں، کبھی دوسرے انسانوں کے بارے میں، کبھی انسانوں کے باہمی روابط کے بارے میں، کبھی شیاطین کے مرموز باہمی رابطوں کے بار ے میں اور کبھی حیوانات کے بارے میں۔ اس بارے میں سب سے زیادہ جامع گفتگو امیر المؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کی وہ گفتگو ہے۔ جو آپؑ نے ایک شخص کے وحی کے بارے میں سوال کے جواب میں ارشاد فرمائی۔ اس گفتگو میں امام علیہ السلام نے وحی کو سات قسموں پر تقسیم فرمایا: (۱) وحی رسالت و نبوت: جیسے قرآن مجید میں ہے۔ إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَى نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِن بَعْدِهِ وَأَوْحَيْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإْسْحَقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَعِيسَى وَأَيُّوبَ وَيُونُسَ وَهَارُونَ وَسُلَيْمَانَ وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا "ہم نے تیری طرف ویسے ہی وحی بھیجی جیسے نوح اور ان کے بعد دوسرے انبیاء کی طرف وحی بھیجی تھی اور ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، اسباط،(بنی اسرائیل کے طائفوں) عیسٰی، ایوب، یونس، ہارون اور سلیمان کی طرف وحی بھیجی تھی اور داؤد کو ہم نے زبور عطا کی۔" (سورہٴ نساء آیت ۱۶۳)۔ (۲) وحی بمعنی الہام و ہدایت: جیسے قرآن مجید میں ہے۔ وَأَوْحَى رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ "اور تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھی کی طرف الہام کیا۔" (سورہٴ نحل، آیت ۶۸)۔ (۳) وحی بمعنی اشارہ: جیسے قرآن مجید میں ہے۔ فَخَرَجَ عَلی قَوْمِہِ مِنَ الْمِحْرابِ فَاَوْحی إِلَیْھِمْ اَنْ سَبِّحُوا بُکْرَةً وَ عَشِیًّا "زکریا نے محراب عبادت سے باہر کے لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ صبح و شام خدا کی تسبیح کیا کرو۔" (سورہٴ مریم، آیت ۱۱)۔ (۴) وحی بمعنی تقدیر: جیسے قرآن میں ہے۔ وَأَوْحَى فِي كُلِّ سَمَاءٍ أَمْرَهَا "خدا نے ہر آسمان میں تقدیر اور تدبیر کو لازم فرما دیا ہے۔ " (سورہٴ حم سجدہ، آیت ۱۲)۔ (۵) وحی بمعنی امر: جیسے قرآن میں ہے۔ وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى الْحَوَارِيِّينَ أَنْ آمِنُواْ بِي وَبِرَسُولِي "اس وقت کو یاد کرو جب میں نے حواریوں کو حکم دیا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لے آؤ۔" (سورہٴ مائدہ، آ یت ۱۱۱)۔ (۶) وحی بمعنی جھوٹ بولنا: جیسے قرآن میں ہے۔ وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا "اسی طرح ہم نے ہر نبی کے مقابلے میں انسانوں اور جنوں کے شیطانوں میں سے ایک نہ ایک دشمن قرار دیا کہ وہ شیاطین جھوٹ اور فریب پر مبنی باتوں کو ایک دوسرے تک مخفی طور پر پہنچاتے ہیں۔ " (سورہ انعام، آیت ۱۱۲)۔ (۷) وحی بمعنی خبر: جیسے قرآن میں ہے۔ وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ "اور ہم نے انہیں پیشوا بنایا جو ہمارے فرمان کے مطابق ہدایت کیا کرتے تھے اور ہم نے انہیں نیک کاموں کے بجا لانے کی خبر دی۔ (سورہ انبیاء، آیت ۷۳) ، (بحوالہ: بحار الانوار، جلد ۱۸، ص ۲۵۴)۔ البتہ ان سات قسموں میں سے کچھ ایسی بھی ہیں جن کی اور قسمیں بھی بن سکتی ہیں جن کی رو سے کتاب و سنت میں وحی کے استعمال کے موارد زیادہ ہو جائیں گے۔ اسی لیے تفلیسی نے کتاب وجوہ القرآن میں وحی کی دس قسمیں شمار کی ہیں بلکہ بعض علماء نے دس سے بھی زیادہ اقسام بتائی ہیں۔ لیکن ایک لحاظ سے وحی اور اس کے مشتقات کے مقامات استعمال سے مجموعی طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پروردگار عالم کی طرف سے وحی کی دو قسمیں ہیں ایک وحی تشریعی اور دوسری وحی تکوینی۔ وحی تشریعی وہی ہے۔ جو انبیاء علیہم السلام پر نازل ہوتی تھی اور ان کے خدا کے درمیان یہ ایک رابط تھا جس سے وہ احکام و فرامین الہٰی اور حقائق وصول کیا کرتے تھے۔ اور وحی تکوینی درحقیقت وہ خاص تکوینی جبلتیں، استعداد، شرائط اور قوانین ہیں جو خدا نے کائنات کی مختلف موجودات کے اندر مقرر کر دیئے ہیں۔

۲۔ وحی کی اسرار آمیز حقیقت:

وحی کی ماہیت کے بارے میں بہت کچھ کہا جا چکا ہے۔ لیکن چونکہ یہ مخفی اور مرموز رابط ہمارے ادراک کی حدود سے خارج ہے۔ لہٰذا یہ سب بیانات بھی مسئلے کو صحیح صورت میں اور واضح طور پر بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ بلکہ بعض صورتوں میں تو غلط راستے کی نشاندہی بھی کرتے ہیں درحقیقت جو کہنے کی بات تھی وہ تو خلاصے کے طور پر خوبصورت انداز میں زیر تفسیر آیت میں بیان ہو چکی ہے۔ اور اس بارے میں علماء کی بہت زیادہ کوشش بھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچی۔ لیکن پھر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس مقام پر قدیم اور جدید فلاسفہ کی ان تفاسیر کو پیش کیا جائے جو انہوں نے وحی کے بارے میں کی ہیں۔ الف: بعض قدیم فلاسفہ کی تفسیر بعض قدیم فلسفی تفصیلی مقدمات کی بناء پر اس بات کے معتقد تھے کہ وحی نام ہے۔ نفس پیغمبر کے "عقل فعال" کے ساتھ انتہائی زیادہ اتصال کا کہ جس عقل کا سایہ "مشتر ک حس" اور "خیال" پر بھی چھایا ہوا ہے۔ اس کی تشریح یہ ہے کہ ان کا عقیدہ تھا کہ ۱۔ انسانی روح میں تین قوتیں پائی جاتی ہیں۔ (۱) حسّ مشترک (۲) قوہٴ خیال (۳) قوہٴ عقل (i) حسّ مشترک وہ ہوتی ہے۔ جس کے ذریعے انسان محسوس چیزوں کا ادراک کرتا ہے۔ (ii) قوہٴ خیال وہ ہوتی ہے۔ جس کے ذریعے انسان جزئی صورتوں کا ادراک کرتا ہے۔ (iii) قوہٴ عقل وہ ہوتی ہے۔ جس کے ذریعے وہ کلی صورتوں کا ادراک کرتا ہے۔ ۲۔ وہ نوبطلمیوسی افلاک پر بھی عقیدہ رکھتے تھے اور ان افلاک کے لئے "نفس مجرد" (ٓجس طرح ہمارے بدن کے لئے روح کی حیثیت ہوتی ہے۔ کے بھی قائل تھے۔ وہ کہتے تھے کہ یہ فلکی نفوس، مجرد موجودات کے جن کا نام "عقول" ہے۔ سے ہدایت پاتے ہیں۔ اس طرح سے وہ نو افلاک کے ساتھ نو عقول کے ارتباط کے قائل تھے۔ ۳۔ ان کا عقیدہ تھا کہ انسانی نفوس اور ارواح کو اپنی استعدادات اور صلاحیتوں کو عملی وجود میں لانے اور حقائق کا ادراک کرنے کے لئے "مجرد وجود" سے کسب فیض کرنا چاہیئے جسے وہ "عقل فعّال" کا نام دیتے تھے۔ اس کا نام تو "دسویں عقل"، "عقل عاشر" تھا لیکن اسے "عقل فعال" اس لیے کہتے تھے کہ وہ جزئی عقول کی صلاحیتوں کو عملی صورت عطا کرنے کا سبب تھی۔ ۴۔ ان کا نظریہ تھا کہ انسان کی روح جس قدر قوی ہو گی، عقلِ فعال سے اس کا رابطہ اور اتصال اتنا ہی زیادہ ہو گا، جو معلومات کا منبع اور خزانہ ہے۔ اسی لیے ایک قوی اور کامل روح انتہائی کم مدت میں حکمِ الٰہی کے مطابق عقلِ فعال سے زیادہ معلومات حاصل کر سکتی ہے۔ اسی طرح قوتِ خیال جس قدر قوی ہو گی ان مطالب کی حسی صورتوں میں اسی قدر زیادہ سے زیادہ ڈھال سکے گی، اور حسِ مشترک جتنی زیادہ قوی ہو گی انسان اتنا ہی زیادہ خارج میں موجود محسوس چیزوں کا ادراک کر سکے گا۔ پھر وہ ان تمام مقدمات سے یہ نتیجہ نکالتے تھے کہ پیغمبر کی روح چونکہ انتہائی زیادہ قوی ہوتی ہے۔ اور اس کا "عقلِ فعال" کے ساتھ رابطہ اور اتصال بہت قوی ہوتا ہے۔ اسی لیے وہ اکثر اوقات، معلومات کو کلی صورت میں "عقلِ فعال" سے حاصل کر سکتا ہے۔ نیز نبی کی قوتِ خیال بھی چونکہ زبردست قوی ہوتی ہے۔ اور ساتھ ہی قوتِ عقل کے تابع ہوتی ہے۔ لہٰذا "عقلِ فعال" سے حاصل ہونے والی محسوس اور مناسب صورتوں کو وہ ان کلی صورتوں کے حوالے کر سکتا ہے۔ اور اپنے ذہنی افق میں انہیں حسّی لباس میں دیکھ سکتا ہے۔ مثلاً اگر وہ کلی حقائق، معانی اور احکام کی قسموں سے ہیں تو انہیں نہایت ہی موزوں اور نہایت ہی فصیح و بلیغ الفاظ میں کسی شخص کی زبان سے نہایت ہی مکمل صورت میں سن سکتا ہے۔ نیز چونکہ اس کی قوتِ خیال کو اس کی حسِ مشترک پر مکمل تسلط حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ ان صورتوں کو محسوسیت کے سانچے میں ڈھال سکتی ہے۔ اور نبی اس شخص کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے۔ اور اس کی باتوں کو اپنے کانوں سے سن سکتا ہے۔ تنقید و تبصرہ: یہ سب تصریحات ایسے مقدمات پر مشتمل ہیں جن میں سے اکثر آج مسترد کیے جا چکے ہیں، ان مسترد شدہ مقدمات میں سے نو افلاک اور ان سے متعلقہ عقول اور نفوس کا بطلیموسی نظریہ بھی ہے۔ جسے آج قصے کہانیوں سے زیادہ اہمیت حاصل نہیں ہے۔ کیونکہ ان کے اثبات پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ بلکہ ان کے خلاف دلائل موجود ہیں۔ اور ساتھ ہی یہ مفروضہ، وحی کے بارے میں قرآن کی واضح آیات کے ساتھ بھی ہم آہنگ نہیں ہے۔ کیونکہ قرآنی آیات صراحت کے ساتھ وحی کو خدا کے ساتھ ایک طرح کا رابطہ بتاتی ہیں جو کبھی تو دل پر الہام، کبھی فرشتۂ وحی کے نزول اور کبھی صوتی لہروں کے سننے کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ اور ان کا یہ اعتقاد کہ یہ سب کچھ قوتِ خیال اور حسِ مشترک کی فعالیت کے نتیجے میں حاصل ہوتا ہے۔ بالکل بےبنیاد اور قرآنی تصریحات کے یکسر منافی ہے۔ اس عقیدے کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اس سے نبی کو بھی فلاسفہ اور دوسرے نابغۂ روزگار لوگوں کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔ البتہ نبی کو ان سے زیادہ طاقتور عقل اور زبردست روح کا مالک مانا جاتا ہے۔ جبکہ ہم سب جانتے ہیں کہ وحی کا راستہ کچھ اور ہے۔ اور عقلی ادراکات کا راستہ کچھ اور۔ اس قسم کے فلاسفہ نے سوچے سمجھے بغیر وحی اور نبوت کی بنیادوں کو بگاڑ کر رکھ دیا اور حقیقت انہیں سمجھ نہ آئی تو یوں افسانہ بنا دیا۔ اس کی مزید تشریح آئندہ گفتگو میں پیش کی جائے گی۔ ب: وحی کے بارے میں جدید فلاسفہ کیا کہتے ہیں؟ فلاسفہ کا یہ گروہ بطورِ خلاصہ وحی کو "باطنی شعور" یا "ناآگاہ شعور" کا ایک مظہر سمجھتے ہیں۔ بیسویں صدی کے انسائیکلو پیڈیا میں "وحی" کے مادّہ میں لکھا ہے کہ: "اہلِ یورپ سولہویں صدی عیسوی تک دوسری اقوام کے مانند وحی کے قائل تھے کیونکہ ان کی مذہبی کتابیں انبیاء کرام علیہم السلام کی خبروں سے بھری ہوئی تھیں۔ نئے علوم کی آمد سے تمام روحی اور ماوراءِ طبیعت مباحث پر انہوں نے خطِ تنسیخ کھینچ دیا اور وحی کا مسئلہ بھی قدیم افسانوں میں شمار ہونے لگا۔" انیسویں صدی عیسوی کے آغاز سے ہی دانشوروں اور اسکالروں کے ذریعے روح کی دنیا کا حِسّی دلائل سے اثبات کیا جانے لگا اور مسئلۂ وحی پھر ایک بار زندہ ہو گیا۔ ان مباحث کی انہوں نے تجربی اور عملی بنیادوں پر تحقیق کی اور ایسے نتائج پر پہنچے جو اگرچہ مسلم دانشوروں کے نظریے سے تو مختلف تھے، لیکن ایک اہم موضوع کے اثبات کی جانب ایک اہم اقدام ضرور سمجھے جانے لگے جسے کل تک خرافات میں شمار کیا جاتا تھا۔ فلاسفہ کے اس گروہ نے روحی مباحث کا مطالعہ کیا اور اب تک (انسائیکلو پیڈیا کے زمانے تک) پچاس ضخیم کتابیں مذکورہ موضوع کے بارے میں ان کی طرف سے لکھی جا چکی ہیں۔ ان کتابوں کے ذریعے انہوں نے بہت سے اہم روحی مسائل کو حل کر دیا ہے۔ جن میں ایک مسئلہ وحی بھی ہے۔ (تشریحی نوٹ: دائرة المعارف قرن بیستم (بیسوی صدی کا انسائیکلو پیڈیا) از فرید و جدی (مادہ وحی))۔ اس بات میں بھی بہت سی باتیں قابل بحث ہیں لیکن ان کی گفتگو کا لب لباب یہی ہے کہ وہ وحی کو "ناآگاہ شعور کی ایک تجلی" سمجھتے ہیں۔ (ناآگاہ شعور کا دوسرا نام مخفی وجدان ہے۔ جو آگاہ شعور سے کئی درجے زیادہ قوی اور طاقتور ہے۔ اور چونکہ انبیاء عام آدمی تھے بلکہ غیر معمولی انسان تھے لہٰذا ان کا مخفی وجدان یا ناآگاہ شعور بھی زبردست طاقتور تھا اور اس کے نتائج بھی نہایت اہم اور قابل توجہ تھے۔ تنقید اور تبصرہ: یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ ان حضرات نے جو کچھ کہا ہے۔ وہ صرف ایک مفروضہ ہے۔ اور اس پر کوئی ٹھوس اور وزنی دلیل پیش نہیں کی۔ ان لوگوں نے درحقیقت انبیاء کا نابغۂ روزگار اور عظیم شخصیت کے عنوان سے تعارف کروایا ہے۔ نہ کہ اس عنوان سے کہ ان کا عالمِ ہستی کے مبدأ خدا سے کوئی رابطہ ہوتا ہے۔ اور یہ کہ وہ اپنے وجود سے باہر سے علوم حاصل کرتے ہیں۔ ان کی غلط فہمی کی اصل وجہ یہ ہے کہ انہوں نے وحی کو بھی اپنے سائنسی معیار پر جانچنے کی کوشش کی ہے۔ اُن کے اس معیار پر جو چیز بھی پوری نہیں اترتی وہ اس کا انکار کر دیتے ہیں۔ وہ صرف انہیں موجوداتِ عالم تسلیم کرتے ہیں کہ جنہیں وہ درک کرتے ہیں اور جس چیز کو درک نہیں کرتے اسے معدوم سمجھتے ہیں۔ اس قسم کی طرزِ فکر کے غلط نتائج نہ صرف وحی کے سلسلے میں ظاہر ہوئے ہیں بلکہ اور بھی بہت سے فلسفی اور عقائدی مسائل میں ظاہر ہو چکے ہیں۔ اصولی طور پر اس طرح کے طرزِ فکر کی بنیاد ہی غلط رکھی گئی ہے۔ کیونکہ وہ کائنات کی تمام موجودات کو مادّیت اور اس کے عوارض میں منحصر کر دینے کو کسی دلیل کے ساتھ ثابت نہیں کر پائے۔ ج: نبوغِ فکری بعض اور حضرات مذکورہ دانشوروں سے بھی دو قدم آگے بڑھ گئے ہیں اور انہوں نے وحی کو انبیاء کے نبوغِ فکر کا نتیجہ سمجھ لیا ہے۔ اور وہ کہتے ہیں کہ چونکہ انبیاء پاک فطرت اور بالا ترین نبوغ کے حامل لوگ تھے لہٰذا وہ انسانی معاشروں کی مصلحتوں کو سمجھتے تھے اسی لیے وہ معارف اور قوانین کی صورت میں انسانوں کے سامنے اپنے افکار کو پیش کیا کرتے تھے۔ درحقیقت اس قسم کی باتیں انبیاء کی نبوت کا صریح انکار اور ان کی باتوں کی کھلی تکذیب ہے۔ اور اس طرح سے انہیں طرح طرح کی کذب بیانی سے متہم کرنے کی کوشش ہے۔ (العیاذ باللہ)۔ زیادہ واضح الفاظ میں ہم بتا دیں کہ فلاسفہ کی مذکورہ بیان شدہ عبارتوں میں کوئی بھی وحی کی تفسیر نہیں ہے۔ بلکہ ان کے اپنے مفروضے ہیں جو ان کے افکار و خیالات کی اختراع ہیں چونکہ وہ اپنی معلومات کے ماوراء دوسرے تمام حقائق کے انکار پر تلے ہوئے ہیں لہٰذا ایسی گمراہی کا شکار ہو گئے ہیں۔

وحی کے بارے میں سچی بات

اس میں شک نہیں کہ ہم وحی کے رابطے اور اس کی حقیقت سے کماحقہ واقف نہیں ہیں کیونکہ یہ ایک قسم کا ادراک ہے۔ جو ہمارے ادراکات کی حدود سے باہر ہے۔ اور ایک ایسا رابطہ ہے۔ جو ہماری پہچان کے ذرائع سے خارج ہے۔ غرض عالمِ وحی ہمارے لیے ایک نامعلوم اور ہمارے ادراک سے بالاتر عالم ہے۔ سچ مچ ایک خاکی انسان کائنات کے مبدأ سے کس طرح رابطہ پیدا کرتا ہے۔ اور ازلی و ابدی اور بےانتہا خالق اپنی محدود اور ممکن الوجود مخلوق سے رابطہ پیدا کرتا ہے۔ اور نزولِ وحی کے وقت نبی کو کیسے یقین ہو جاتا ہے کہ یہ خدا کی طرف سے رابطہ ہے۔ یہ سب ایسے سوالات ہیں جن کا جواب ہمارے پاس نہیں ہے۔ اور اس بارے میں اصرار کرنا بھی بےموقع ہے۔ یہاں پر جو بات ہماری عقل میں آتی ہے۔ اور بحث کرنے کے قابل بھی ہے۔ وہ ہے۔ اس قسم کے رمزیہ رابطے کا اصل وجود یا امکان۔ چنانچہ ہم یہ کہتے ہیں کہ کوئی ایسی دلیل موجود نہیں ہے۔ جو اس امر کے امکان کی نفی کرے بلکہ اس کے برعکس ہم کائنات میں بہت سے رمزیہ رابطے دیکھتے ہیں لیکن ان کی تفسیر کرنے سے عاجز ہیں اور ایسے رابطے ثابت کرتے ہیں کہ ہمارے حواس اور رابطوں کے مافوق بھی کچھ ادراکات اور ارتباط موجود ہیں۔ مناسب ہو گا اگر ہم یہاں پر ایک مثال کے ذریعے اس بات کی وضاحت کریں۔ فرض کیجیے کہ آپ ایک ایسے شہر میں رہتے ہیں جس میں تمام (مادر زاد) اندھے رہتے ہیں لیکن ان سب لوگوں میں سے صرف آپ ہی آنکھوں سے دیکھنے والے ہیں۔ اس شہر میں سارے لوگ چار حس والے ہیں (اگر انسان کی ظاہری حسیات پانچ مانی جائیں یعنی حواسِ خمسہ)۔ صرف آپ ہی ہیں جو حواسِ خمسہ کے مالک ہیں۔ آپ ہمیشہ اس شہر میں نت نئے واقعات کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے رہتے ہیں اور ان مشاہدات کو اہلِ شہر تک پہنچاتے رہتے ہیں۔ لیکن وہ سب اس بات پر تعجب کرتے ہیں کہ یہ مرموز پانچویں حس کیا ہے۔ جس کا دائرہ کار اس قدر وسیع ہے۔ اور آپ جس قدر بھی حسِ باصرہ کے متعلق وضاحت اور اس کے طریقے کے بارے میں تفصیلی گفتگو کریں بےفائدہ ہے۔ سوائے موہوم سے تصور کے ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آئے گا۔ ادھر ایک تو وہ اس کا انکار بھی نہیں کر سکیں گے کیونکہ وہ اس کے مختلف آثار کو محسوس کر رہے ہوتے ہیں اور دوسرے اس کے متعلق کوئی قطعی فیصلہ بھی نہیں کر پائیں گے کہ بینائی کی حقیقت کیا ہوتی ہے۔ کیونکہ انہوں نے اپنی ساری زندگی کے دوران میں ایک لمحے کے لئے بھی بینائی سے کام نہیں لیا۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ وحی "چھٹی حِسّ" ہے۔ بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ ایک قسم کا اور ادراک اور عالمِ غیب اور خدا کی پاک ذات کے ساتھ رابطہ ہوتا ہے۔ چونکہ ہم اس قسم کے ادراک اور رابطے سے محروم ہیں اس لیے اس حقیقت کا کماحقہ ادراک نہیں کر سکتے۔ صرف اس کے آثار کی وجہ سے اس کے وجود پر ایمان رکھتے ہیں۔ ہم تو صرف اتنا جانتے ہیں کہ بڑے عظیم لوگ انسانوں کی طرف ایسی دعوت لے کر آئے جس کے مطالب افکارِ انسانی کی پہنچ سے بہت بلند ہیں۔ انہوں نے لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف دعوت دی اور اپنے ساتھ کچھ معجزات بھی لائے جو انسان کے بس کی بات نہیں تھے البتہ ان سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ ان انبیاء کا عالمِ غیب سے رابطہ ہے۔ آثار ظاہر ہیں لیکن حقیقتِ امر مخفی ہے۔ کیا ہم نے کائنات کے تمام رازوں سے پردہ اٹھا لیا ہے۔ اور صرف وحی کی حقیقت سمجھنے سے قاصر ہیں اس لیے اس کا انکار کرتے ہیں؟ جبکہ ابھی تک تو ہم جانوروں کے مرموز طریقۂ کار کے سمجھنے اور اس کی تفسیر کرنے سے عاجز ہیں۔ آیا ان مہاجر پرندوں کی اسرار آمیز زندگی ہم پر روشن ہو چکی ہے۔ جو بعض اوقات سالانہ اٹھارہ ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے قطبِ جنوبی سے قطبِ شمالی تک جا پہنچتے ہیں؟ ہمیں تو آج تک اس بات کا پتہ بھی نہیں چل سکا کہ وہ سمت کی پہچان کیوں کر کرتے ہیں؟ راستے کو صحیح طور پر کس طرح پہچانتے ہیں؟ دن رات، روشنی اور تاریکی میں دور دراز کا سفر کس طرح طے کرتے ہیں؟ جبکہ اگر ہم یہ سفر فنی وسائل اور راہ شناس کی مدد کے بغیر طے کرنا شروع کریں تو اس کا ایک فیصد فاصلہ طے کیے بغیر گم ہو جائیں۔ یہ ایک ایسا راز ہے۔ جس سے علم و دانش، سائنس اور ٹیکنالوجی نے ابھی تک پردہ نہیں اٹھایا۔ اسی طرح سمندروں کی گہرائیوں میں مچھلیوں کے غول رہتے ہیں جو عام طور پر انڈے دینے کے لیے ہزاروں میل کا فاصلہ طے کر کے اپنی اصل پیدائش گاہ کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ وہ اپنی اصل پیدائش گاہ کو اس آسانی کے ساتھ کیسے پا لیتے ہیں؟ اس قسم کے مرموز حقائق ہماری دنیا میں بےانتہا ہیں اور یہی مرموز حقائق ہمیں وحی کا انکار اور نفی کرنے سے روکتے ہیں اور شیخ الرئیس بو علی سینا کے اس قول کی یاد دلاتے ہیں: "کل ما قرع سمعک من الغرائب فضعہ فی بقعة الامکان، ما لم یذودک عنہ قاطع البرہان" اگر عجائبات کے بارے میں تم سنو تو ان کا فوراً انکار نہ کر دو بلکہ انہیں امکانی خطے میں رکھ چھوڑو، جب تک کہ کوئی قاطع دلیل اس کے قبول کرنے سے نہ روکے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ مادہ پرستوں نے مسئلہ وحی کے انکار کے لئے کیا ہاتھ پاؤں مارے ہیں؟

منکرینِ وحی کے دلائل

جونہی وحی کے مسئلے کی بات ہوتی ہے۔ تو بعض مادہ پرست بڑی جلدی سے یہ جواب دے دیتے ہیں کہ یہ چیز سائنسی اصول کے خلاف ہے۔ لیکن جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ اس کی کون سی چیز سائنسی اصولوں کے خلاف ہے۔ تو وہ فوراً ہی مغرور ہو کر دوٹوک انداز میں کہہ دیتے ہیں کہ جن چیزوں کو سائنس نے ثابت نہیں کیا ان کو نہیں مانا جا سکتا۔ وہ کہتے ہیں کہ اصولی طور پر وہی چیز ہمارے لیے قابلِ قبول ہے۔ جو سائنسی تجربات سے ثابت ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ وحی کی بات تو بعد کی ہے۔ سائنسی تجربات اور تحقیقات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابھی انسانی جسم و روح کے بارے میں تحقیقات اور سائنسی مطالعات سے ہمیں کسی ایسی مرموز حس کا پتہ نہیں چلا جو ہمیں عالمِ ماوراء سے مربوط کرے۔ وہ کہتے ہیں کہ انبیاء بھی ہماری ہی نوع سے تھے ہم کس طرح باور کر سکتے ہیں کہ ان میں ہمارے احساس و ادراک سے کوئی مافوق احساس و ادراک ہو۔

ہمیشہ کا اعتراض اور ہمیشہ کا جواب

مادہ پرستوں کا یہ طریقۂ کار صرف مسئلہ وحی کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ وہ ہر ماوراء طبیعت مسئلے کے بارے میں یہی رویہ اختیار کرتے ہیں اور ہم بھی ان کی غلط فہمی دور کرنے کے لئے ہمیشہ انہیں یہ کہتے ہیں کہ یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ علمی قلمرو (البتہ جہاں پر علم کی بات ہوتی ہے۔ وہاں پر ان کی مراد سائنسی اور تجرباتی علوم ہوتے ہیں) یہی مادی دنیا ہے۔ سائنسی مباحث کے معیار اور آلات یا تو لیبارٹریاں ہیں یا پھر ٹیلی اسکوپ، مائیکرو اسکوپ اور پوسٹ مارٹم کے لئے آپریشن تھیٹر ہیں اور سب ریسرچ اسکالرز اسی محدودے میں اپنا اپنا کام انجام دیتے ہیں۔ یہ علوم اپنے ان آلات اور معیار کے ذریعے کبھی بھی مادی دنیا سے ہٹ کر کوئی بات نہیں کرتے، نہ تو کسی بیرونی چیز کی نفی کرتے ہیں اور نہ ہی اس کا اثبات۔ اس کی دلیل واضح ہے کہ اس قسم کے آلات اور معیار کی توانائی محدود اور حدِکار مخصوص ہے۔ بلکہ سائنس کے آلات اسی چیز کے لئے کارآمد ہیں جس کے لیے وہ بنائے گئے ہیں اور دوسری چیز کے لئے وہ بیکار ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ہم تپِ دق کے جراثیموں کو ستارے دیکھنے والے کسی عظیم ٹیلی اسکوپ کے ذریعے دیکھنا چاہیں تو نظر نہیں آئیں گے لیکن اس طرح سے ہم جراثیموں کا انکار نہیں کر سکتے۔ یا اگر پلوٹون ستارے کو ہم خوردبین کے ذریعے دیکھنا چاہیں تو وہ نظر نہیں آئے گا لیکن اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ وہ ہے۔ ہی نہیں۔ غرض کسی علم کی شناخت کے لئے اسی سے متعلق آلات کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اور ماوراء طبیعت کائنات کی شناخت کا آلہ بھی قوی عقلی دلائل کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ جو ہمارے لیے عظیم کائنات کی راہیں کھولتے ہیں۔ جو لوگ علم کو اس کی قلمرو سے خارج کرتے ہیں درحقیقت نہ تو وہ عالم ہیں اور نہ ہی فلسوف بلکہ علم کے صرف جھوٹے اور گمراہ دعویدار ہیں۔ ہم تو صرف اتنا جانتے ہیں کہ کچھ عظیم انسان اس دنیا میں آئے اور انہوں نے ہمارے سامنے ایسے مسائل پیش کیے جو انسانی طاقت سے بالکل باہر ہیں اور ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مادی کائنات سے ماوراء دنیا کے ساتھ ان کا بہت مستحکم ربط تھا۔ اب رہا یہ سوال کہ ان کا یہ رابطہ کس قسم کا تھا؟ تو اس کی حقیقت ہمیں معلوم نہیں ہے۔ سب سے اہم بات یہی ہے کہ ہم یہ جانتے ہیں کہ اس طرح کا رابطہ تھا ضرور۔

مسئلہ وحی کے بارے میں چند حدیثیں

وحی کے بارے میں اسلامی کتب میں بہت ساری حدیثیں وارد ہوئی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کرام کا مبداءِ وحی کے ساتھ اسرار آمیز رابطہ تھا۔ ۱۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر فرشتے کے ذریعے وحی نازل ہوتی تھی تو اس وقت آپؐ کی حالت معمول کے مطابق ہوتی تھی لیکن جب براہِ راست رابطہ قائم ہوتا تھا تو آپؐ ایک زبردست بوجھ محسوس کرتے تھے حتیٰ کہ بعض اوقات آپؐ پر غشی طاری ہو جاتی تھی۔ جیسا کہ شیخ صدوقؒ نے اپنی کتاب "توحید" میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک حدیث نقل کی ہے کہ جب آپؑ سے پوچھا گیا: ما الغشیة التی کان تصیب رسول اللہؐ اذا نزل علیہ الوحی؟ قال ذالک اذا لم یکن بینہ وبین اللہ احد، ذاک اذا تجلی اللہ لہ" وہ غشی کیا تھی جو وحی کے موقع پر رسول اللہؐ پر طاری ہو جاتی تھی؟ تو امامؑ نے فرمایا: یہ اس وقت ہوتا تھا جب آپؐ کے اور خدا کے درمیان کسی اور کا واسطہ نہیں ہوتا تھا اور آپ پر براہِ راست خدا کی تجلی ہوتی تھی۔ (بحوالہ: بحار الانوار، جلد ۸، ص ۲۵۶، بحوالہ توحید صدوق)۔ ۲۔ جب جناب جبرائیل علیہ السلام حضورِ گرامی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوتے تھے تو نہایت ہی ادب اور احترام کے ساتھ آپؐ کے پاس آتے تھے، جیسا کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "کان جبرئیل اذا اتی النبیؐ قعدبین یدیہ قعدة العبید، وکان لایدخل حتی یستأذنه" جب جبرائیل نبیؐ کی خدمت میں آتے تو آپؐ کے سامنے غلاموں کی طرح بیٹھ جاتے اور بغیر اجازت کے کبھی بھی اندر نہ آتے تھے۔ (بحوالہ: بحار الانوار، جلد ۸ ۱، ص ۲۵۶ بحوالہ علل الشرائع)۔ ۳۔ ایک اور روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسل اکرمؐ ایک طرح کی توفیق الہٰی (اور باطنی شہود) کے ذریعے جبرائیلؑ کو اچھی طرح پہچان لیتے تھے جیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ماعلم رسول اللہ ان جبرئیل من قبل اللہ الا بالتوفیق رسول اللہ جبرائیل کو توفیق الہٰی کے ذریعے پہچان لیا کرتے تھے۔ (بحوالہ: بحار الانوار، جلد ۱۸، ص ۲۵۶)۔ ۴۔ ایک اور روایت میں عبد اللہ بن عباس سے، نزول وحی کے وقت پیغمبر اسلامؐ پر غشی طاری ہو جانے کی تفسیر یوں بیان ہوئی ہے۔ کان النبی اذا نزل علیہ الوحی وجد منہ الما شدیدًا و یتصدع راسہ ویجد ثقلا و ذالک قولہ "انا سنلقی علیک قولاً ثقیلاً، وسمعت انہ نزل جبرئیل علی رسول اللہ ستین الف مرة جب رسو ل اللہؐ پر وحی نازل ہوتی توآپ اپنے اندر سخت درد محسوس کرتے اور سر مبارک میں بھی درد ہو جاتا اور آپؐ زبردست بوجھ بھی محسوس کرتے اور یہی وہ چیز ہے۔ جسے قرآن نے بیان کیا ہے کہ "ہم بہت جلد تجھ پر سنگین باتیں القا کریں گے" (عبداللہ کہتے ہیں کہ) میں نے سنا ہے کہ رسول اللہؐ کے پاس جبرائیلؑ ساٹھ ہزار مرتبہ نازل ہوئے۔ (بحوالہ: بحار الانوار، جلد ۸، ص ۲٦۱)۔

52
42:52
وَكَذَٰلِكَ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ رُوحٗا مِّنۡ أَمۡرِنَاۚ مَا كُنتَ تَدۡرِي مَا ٱلۡكِتَٰبُ وَلَا ٱلۡإِيمَٰنُ وَلَٰكِن جَعَلۡنَٰهُ نُورٗا نَّهۡدِي بِهِۦ مَن نَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِنَاۚ وَإِنَّكَ لَتَهۡدِيٓ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ
اور جس طرح ہم نے گزشتہ انبیاء کی طرف وحی بھیجی اسی طرح تیری طرف بھی اپنے فرمان سے روح کو وحی کیا ، قبل ازیں تجھے معلوم نہ تھا کہ کتاب کیا ہے ؟ اور ایمان کیا ہے (اور قرآن کے مطالب سے آگاہ نہ تھا) لیکن ہم نے اسے نور بنایا ہے کہ اس کے ذریعے ہم اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتے ہیں ہدایت کر تے ہیں اور تو یقیناً سیدھے راستے کی ہدایت کر تا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 53 کے تحت ملاحظہ کریں۔

53
42:53
صِرَٰطِ ٱللَّهِ ٱلَّذِي لَهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ أَلَآ إِلَى ٱللَّهِ تَصِيرُ ٱلۡأُمُورُ
اس خدا کا راستہ ، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے ، آگاہ رہو کہ سب چیزوں کی بازگشت خدا ہی کی طرف ہے۔

تفسیر قرآن، خدا کی طرف سے رُوح ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

گزشتہ آیت میں وحی کی کلی اور عمومی گفتگو کے بعد، زیرِ تفسیر آیات میں خود پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات پر وحی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ جس طرح ہم نے گزشتہ انبیاء پر مختلف طریقوں سے وحی نازل کی تجھ پر بھی اپنے فرمان سے روح کو وحی کیا (وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا)۔ "کذلک" اسی طرح کی تعبیر سے ممکن ہے کہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ گزشتہ آیت میں وحی کی جو تین قسمیں بیان ہوئیں ان سب صورتوں میں تجھ پر وحی نازل ہوئی ہے۔ کبھی تو براہِ راست تیرا پروردگار کی پاک ذات سے رابطہ پیدا ہوا ہے۔ کبھی وحی فرشتے کے ذریعے اور کبھی صوتی لہروں سے ملتی جلتی آواز کے ذریعے، جیسا کہ روایات میں بھی ان تینوں قسموں کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ اور گزشتہ آیت کی تفسیر میں ہم تفصیل کے ساتھ ان کا ذکر کر چکے ہیں۔ یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیتِ مذکور میں "روح" سے کیا مراد ہے۔ تو اس بارے میں مفسرین کے دو نظرئیے ہیں۔ ایک یہ کہ اس سے مراد قرآن مجید ہے۔ جو قلب و رُوح کی زندگی کا سبب ہے۔ اسی قول کو اکثر مفسرین نے اپنایا ہے۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر مجمع البیان میں طبرسی نے، تبیان میں شیخ طوسی نے، تفسیر کبیر میں فخر رازی نے، تفسیر مراغی میں مراغی نے اور دوسرے بہت سے مفسرین نے)۔ راغب بھی مفردات میں یہی کہتے ہیں کہ: سمی القرآن روحاً فی قولہ "وَکَذلِکَ أَوْحَیْنا إِلَیْکَ رُوحاً مِنْ أَمْرِنا" وذلک لکون القرآن سبباً للحٰیوة الأخرویة۔ قرآن کو "وَکَذلِکَ أَوْحَیْنا..." کی آیت میں روح کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ اخروی زندگی کا سبب ہے۔ یہ معنی آیت میں موجود مختلف قرائن کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ جیسے "کذلک" کا کلمہ ہے۔ جو مسئلہ وحی کی طرف اشارہ ہے۔ اور "اوحینا" کا کلمہ ہے۔ اسی طرح اور بھی کلمات ہیں جو اسی آیت میں ذکر ہوئے ہیں۔ اگرچہ قرآن کی دوسری آیات میں "روح" کا لفظ زیادہ تر دوسرے معانی کے لئے آیا ہے۔ لیکن مذکورہ بالا قرائن کو مدنظر رکھتے ہوئے اس آیت میں موجودہ روح کا ظاہری معنی قرآن مجید ہے۔ سورہ نحل کی دوسری آیت "یُنَزِّلُ الْمَلائِکَةَ بِالرُّوحِ مِنْ أَمْرِہِ عَلی مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِہِ" کی تفسیر میں بھی ہم بتا چکے ہیں کہ قرائن کی رو سے "روح" وہاں بھی "قرآن، وحی اور نبوت" کے معنی میں ہے۔ اور حقیقت میں دونوں آیات ایک دوسرے کی تفسیر کر رہی ہیں۔ قرآن مانند روح کیوں نہ ہو جب کہ سورہ انفال کی ۲۴ ویں آیت میں ہے۔ "یَا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا اسْتَجیبُوا لِلَّہِ وَ لِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیکُمْ" "اے ایمان دارو! خدا اور اس کے رسول کے بلاوے کا جواب دو جب وہ تمہیں ایسی چیزوں کی طرف بلائیں جو تمہاری زندگی کا سبب ہے۔ " دوسری تفسیر یہ ہے کہ یہاں پر "روح" سے مراد "روح القدس" ہے۔ (یا وہ فرشتہ جو جبرائیل اور میکائیل سے بھی بڑا ہے۔ اور ہمیشہ رسول اسلامؐ کے ہمراہ رہا ہے۔ تو اس تفسیر کے مطابق "اوحینا" کا معنی "انزلنا" بنے گا، یعنی "روح القدس" یا وہ عظیم فرشتہ ہم نے تجھ پر نازل کیا۔ (اگرچہ قرآن مجید میں کسی اور مقام پر "اوحینا"، "انزلنا" کے معنی میں نہیں آیا ہے۔ بعض روایات سے بھی اس تفسیر کی تائید ہوتی ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں، پہلی تفسیر آیت میں موجود متعدد قرائن کے لحاظ سے زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔ لہٰذا ممکن ہے کہ ایسی روایات جن میں روح کی تفسیر "روح القدس" یا خدا کے بلند مقام والے فرشتے سے کی گئی ہے۔ ان میں آیت کے باطنی معنی کی طرف اشارہ ہو۔ بہرحال، سلسلہ آیت کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ اس سے پہلے تو کتاب اور ایمان سے آگاہ نہیں تھا لیکن ہم نے اسے ایسا نور بنایا ہے کہ جس کے ذریعے ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہیں ہدایت کریں۔ (مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيْمَانُ وَلَكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَنْ نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا)۔ یہ خدا کی مہربانی تھی جو تیرے شاملِ حال رہی اور یہ آسمانی وحی تھی جو تجھ پر نازل ہوئی اور تو نے اس کے تمام مطالب کو مان لیا۔ خدا کا ارادہ بھی یہی تھا کہ اس عظیم آسمانی کتاب اور اس کی تعلیمات کے ذریعے وہ تیرے علاوہ اپنے دوسرے بندوں کو بھی اس آسمانی نور کے پر تَو میں ہدایت کرے، کائنات کے مشرق و مغرب کو، ہر زمانے میں تاقیامِ قیامت اس نور کی تابانیوں سے منور فرماتا رہے بعض کم فہم لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نبوت سے پہلے (معاذ اللہ) خدا پر ایمان نہیں رکھتے تھے۔ جب کہ آیت کا معنی بالکل واضح ہے۔ آیت کہتی ہے کہ قرآن نازل ہونے سے پہلے آپ قرآن کو نہیں جانتے تھے اور اس کے مندرجات اور مطالب سے آگاہ نہیں تھے اور یہ چیز پیغمبر اکرمؐ کے عقیدۂ توحید اور عبادت و بندگی کے اصولوں کے بارے میں ان کی اعلیٰ معرفت کے قطعاً منافی نہیں۔ خلاصۂ کلام یہ کہ قرآنی مندرجات سے ناآشنائی اور بات ہے۔ اور خدا کی عدم معرفت اور بات ہے۔ دورِ نبوت سے پہلے آنحضرت کے بارے میں جو کچھ تاریخ کی کتابوں میں ملتا ہے۔ وہ بھی اسی بات کا روشن گواہ ہے۔ اور اس سے بڑھ کر روشن بات امیر المؤمنین علی علیہ السلام کا وہ کلام ہے۔ جو نہج البلاغہ میں درج ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں: "ولقد قرن اللہ بہ(ص) من لدن ان کان فطیماً اعظم ملک من ملائکتہ یسلک بہ طریق المکارم، ومحاسن اخلاق العالم لیلہ و نہارہ۔" جب سے پیغمبرِ اسلامؐ دودھ بڑھائی ہوئی، خدا نے اپنے فرشتوں میں سے ایک عظیم فرشتہ آپؐ کے ساتھ ملا دیا جو شب و روز مکارمِ اخلاق اور نیک راستوں پر آپؐ کو اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ۱۹۲ (خطبہ قاصعہ))۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے۔ "یقیناً تو لوگوں کو، صراطِ مستقیم کی ہدایت کرتا ہے۔ (وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ)۔ یہ قرآن صرف تیرے لیے نور نہیں بلکہ دوسرے تمام لوگوں کے لئے بھی نور ہے۔ اور صراطِ مستقیم کی طرف لوگوں کی ہدایت کرتا ہے۔ اور راہِ حق پر چلنے والوں کے لئے یہ خدا کا ایک عظیم احسان ہے۔ اور تمام تشنہ کاموں کے لئے آبِ حیات ہے۔ یہی مفہوم سورۂ حٰمٓ سجدہ کی چوالیسویں آیت میں آیا ہے۔ البتہ دوسرے الفاظ کے ساتھ: "قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ" کہہ دے کہ یہ کتاب ان لوگوں کے لئے ہدایت اور شفا کا سبب ہے۔ جو ایمان لائے ہیں اور جو اس پر ایمان نہیں لاتے ان کے کان بہرے ہیں۔ لہٰذا تفسیر کے طور پر "صراطِ مستقیم" سے مراد ہے کہ: "اللّٰہ تعالیٰ کی راہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سب کی سب اسی کی ہیں۔ " (صِرَاطِ اللَّهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ)۔ اس راہ سے بڑھ کر اور کون سی راہ سیدھی ہو گی جو مبدأ عالمِ ہستی تک جا پہنچائے؟ اس سے بڑھ کر اور کون سی راہ زیادہ صاف ہو گی جو کائنات کے خالق تک جا پہنچے؟ حقیقی سعادت وہ ہوتی ہے۔ جس کی طرف خدا بلائے اور جس تک پہنچنے کا تنہا راستہ وہی ہے۔ جسے اس نے خود منتخب کیا ہے۔ اس آیت کا آخری جملہ جو سورۂ شوریٰ کا آخری جملہ بھی ہے۔ درحقیقت اس معنی کی دلیل ہے کہ راہِ مستقیم صرف وہ راہ ہے۔ جو خدا کی طرف جاتی ہے۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے۔ "آگاہ ہو! سب چیزوں کو اسی کی طرف لوٹ جانا ہے۔ (أَلَا إِلَى اللَّهِ تَصِيرُ الْأُمُورُ)۔ چونکہ وہ کائنات کا مالک اور حاکم و مدبر ہے۔ اور چونکہ انسان کے ارتقائی مراحل اسی عظیم مدبر کی زیرِ عنایت انجام پانے چاہئیں لہٰذا سیدھی راہ وہی ہے۔ جو اسی کی طرف جاتی ہے۔ اور اس کے علاوہ دوسرے تمام راستے گمراہی کے ہیں کیونکہ وہ باطل کی طرف جاتے ہیں۔ کیا اس کی ذاتِ پاک کے علاوہ کچھ اور عالمِ وجود میں حق ہو سکتا ہے۔ یہ جملہ جہاں پرہیزگاروں کے لئے خوشخبری ہے۔ وہاں ظالموں اور گناہگاروں کے لئے ایک تنبیہ بھی ہے کہ یاد رکھو تم سب نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل بھی ہے کہ وحی صرف خدا ہی کی جانب سے نازل ہونی چاہیے کیونکہ ہر ایک چیز کی بازگشت اسی کی طرف ہے۔ اور ان کی تدبیر بھی خدا ہی کی طرف سے ہے۔ اسی لیے اسے انبیاء پر نازل ہونے والی وحی کا مبدأ بھی ہونا چاہیے، تاکہ صحیح معنوں میں ہدایت انجام پا سکے۔ اس طرح سے ان آیات کا سیاق و سباق ایک دوسرے سے ہم آہنگ اور مربوط ہے۔ اور سورت کا اختتام بھی اسی کے آغاز کے ساتھ مربوط اور ہم آہنگ ہے۔ اور سب پر ایک ہی طریقۂ کار حکم فرما ہے۔

چند اہم نکات ۱۔ نبوّت سے پہلے آنحضرتؐ کس دین پر تھے؟:

اس بات میں تو شک کی گنجائش ہی نہیں کہ بعثت سے پہلے آنحضرتؐ نے نہ تو کسی بت کو سجدہ کیا اور نہ ہی توحید کی راہ سے سرِ مو انحراف کیا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کس دین پر کاربند تھے؟ تو اس بارے میں علماء کی آراء مختلف ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ آپؐ دینِ مسیح علیہ السلام پر تھے، کیونکہ آنحضرتؐ کی بعثت سے پہلے جو مستقل، قانونی اور غیر منسوخ دین تھا وہ حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کا دین ہی تھا۔ بعض علماء آپؐ کو دینِ ابراہیمی پر کاربند سمجھتے ہیں۔ کیونکہ جب ابراہیمؑ شیخ الانبیاء اور ابو الانبیاء تھے اور قرآن کی بعض آیات میں بھی دینِ اسلام کا دینِ ابراہیم کے نام سے تعارف کروایا گیا ہے۔ جیسا کہ سورۂ حج کی ۷۸ ویں آیت میں ہے۔ "مِلَّةَ أَبِیکُمْ إِبْرَاهِیمَ" بعض علماء نے اس بارے میں اپنی لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ اور دلیل یہ دی ہے کہ آپ یقیناً کسی دین پر تو کاربند تھے لیکن یہ معلوم نہیں کہ وہ کون سا دین تھا؟ اگرچہ ان احتمالات میں سے ہر ایک کی اپنی جگہ پر دلیل تو ہے۔ لیکن مسلّم کوئی بھی نہیں۔ البتہ ان تینوں اقوال سے ہٹ کر ایک چوتھا احتمال زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اور وہ یہ کہ ""آنحضرتؐ خداوندِ عالم کی طرف سے اپنے لیے ایک خاص پروگرام رکھتے تھے، اور اسی پر عمل پیرا تھے اور درحقیقت یہ ان کی ذات کے لئے مخصوص ایک دین تھا، جب تک کہ اسلام نازل نہیں ہو گیا۔" اس قول پر وہ حدیث شاہد ہے۔ جو نہج البلاغہ میں موجود ہے۔ اور ہم بھی اسے اوپر بیان کر چکے ہیں کہ "جس وقت سے پیغمبرؐ دودھ بڑھائی ہوئی اللہ نے اپنے فرشتوں میں سے ایک عظیم فرشتے کو آپ کے ساتھ ملا دیا، جو شب و روز مکارمِ اخلاق اور نیک راستوں پر آپؐ کو اپنے ساتھ رکھتا۔" اس فرشتے کی ماموریت، رسول اللہؐ کے لئے مخصوص پروگرام کی دلیل ہے۔ اس قول کا ایک اور گواہ یہ ہے کہ کسی بھی تاریخ میں یہ نہیں ملتا کہ پیغمبرِ اسلامؐ یہود و نصاریٰ یا کسی اور مذہب کے عبادت خانوں میں عبادت کے لئے تشریف لے گئے ہوں، نہ تو کفار کے ساتھ مل کر کبھی کسی بت خانے میں گئے اور نہ ہی اہلِ کتاب کے ساتھ کسی عبادت خانے میں! بلکہ ہمیشہ راہِ توحید پر گامزن رہے اور آپؐ اخلاقی اصولوں اور عبادتِ الٰہی کے سخت پابند تھے۔ بحار الانوار میں علامہ مجلسیؒ کے مطابق، بہت سی اسلامی روایات اس بات کا پتہ دیتی ہیں کہ پیغمبرِ اسلامؐ اپنی عمر کے آغاز ہی سے روح القدس کے ساتھ مؤیَّد تھے اور اس تائید کے ساتھ یقیناً وہ روح القدس کی راہنمائی کے مطابق عمل کیا کرتے تھے۔ (بحوالہ: بحار الانوار، جلد ۱۸، ص ۲۸۸)۔ علامہ مجلسیؒ ذاتی طور پر اس بات کے معتقد ہیں کہ پیغمبرِ اسلامؐ رسالت کے مرتبے پر فائز ہونے سے پہلے مقامِ نبوت پر فائز تھے، کبھی تو فرشتے آپؐ سے باتیں کرتے تھے اور کبھی آپؐ ان کی آواز سنا کرتے تھے اور کبھی سچے خواب کی صورت میں آپؐ پر خدائی الہام ہوا کرتا تھا۔ چالیس سال کے بعد اعلانِ رسالت کا حکم ہوا اور اسلام و قرآن باقاعدہ طور پر آپؐ پر نازل ہوئے۔ علامہ مجلسیؒ نے اپنے اس مدعا پر چھ دلائل ذکر کیے ہیں جن میں سے کچھ ان دلائل کے ساتھ ملتے جلتے اور ہم آہنگ ہیں جو ہم اوپر بیان کر چکے ہیں۔ (مزید تفصیل کے لئے بحار الانوار، جلد ۱۸، صفحہ ۲۷۷ ملاحظہ فرمائیں)۔

۲۔ ایک سوال اور اس کا جواب:

اس گفتگو کی روشنی میں یہ سوال پیش آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے قبل از نبوت ایمان اور اعمال کے بارے میں اگر یہ کچھ ہے۔ تو پھر مندرجہ بالا آیت میں یہ کیوں کہا گیا ہے۔ ماکنت تدری ماالکتاب ولا الایمان (قبل ازیں تجھے معلوم نہ تھا کہ کتاب کیا ہے۔ اور ایمان کیا ہے۔ اگرچہ اس سوال کا جواب تو کسی حد تک ہم آیت کی تفسیر کے دوران میں ہی دے چکے ہیں لیکن پھر بھی مزید وضاحت کے طور پر اس سوال پر کچھ روشنی ڈالتے ہیں: اس آیت سے مراد یہ ہے کہ نزولِ قرآن و اسلام سے پہلے حضورؐ اس دین کی تفصیلات اور قرآن مجید کے مضامین سے باخبر نہیں تھے۔ لیکن جہاں تک "ایمان" کا تعلق ہے۔ چونکہ "کتاب" کے بعد ذکر ہوا ہے۔ اور ان جملوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے جو آیت میں اس کے بعد آئے ہیں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس سے مراد آسمانی کتاب کے مضامین پر ایمان ہے۔ نہ کہ مطلقاً ایمان، لہٰذا مذکورہ گفتگو اور اس آیت کے درمیان تضاد پیدا نہیں ہوتا۔ اور نہ ہی ان دل کے اندھے لوگوں کے لئے کوئی دستاویز ثابت ہو سکتی ہے۔ جو پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں قبل از بعثت مطلقاً ایمان کی نفی کرنا چاہتے ہیں اور تاریخی حقائق کو پسِ پشت ڈالنا چاہتے ہیں۔ بعض مفسرین نے اس سوال کے کئی اور جواب بھی دیے ہیں، جن میں سے کچھ یہ ہیں: الف: ایمان سے مراد صرف تصدیق اور عقائد ہی نہیں بلکہ اسلامی تعبیرات کے مطابق مجموعی طور پر دل سے اعتقاد، زبان سے اقرار اور اعضاء سے عمل کا نام ہے۔ ب: ایمان سے مراد توحید و رسالت پر اعتقاد ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ پیغمبرِ اسلامؐ قبل از اعلانِ رسالت توحید پرست تو تھے لیکن ابھی تک انہیں اپنی رسالت پر ایمان نہ تھا۔ ج: اس سے مراد ارکانِ ایمان کا وہ حصہ ہے۔ جن تک انسان کی رسائی عقلی دلائل کے ساتھ نہیں ہوتی اور صرف نقلی دلائل سے انہیں تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ (جیسے معاد کی بہت سی خصوصیات)۔ د: اس آیت میں ایک محذوف موجود ہے۔ جو اس طرح ہے۔ "ما کنتَ تدری کیف تدعوا الخلقَ إلی الإیمان" (تجھے معلوم نہیں تھا کہ لوگوں کو ایمان کی دعوت کیسے دے)۔ (بحوالہ: "آلوسیؒ" نے تفسیر روح المعانی، جلد ۲۵، صفحہ ۵۵ میں کچھ اور احتمالات کا ذکر بھی بیان کیا ہے۔ لیکن چونکہ ان کی زیادہ اہمیت نہیں ہے۔ لہٰذا یہاں پر وہ ذکر نہیں کیے گئے)۔ لیکن ہمارے نزدیک تمام جوابات میں سے سب سے زیادہ مناسب اور آیت کے مفہوم سے زیادہ ہم آہنگ وہی پہلا جواب ہے۔

۳۔ ایک ادبی نکتہ:

"لَکِن جَعَلْنَاهُ نُورًا..." (لیکن ہم نے اسے نور بنایا ہے۔ کے جملے میں ضمیر کا مرجع کیا ہے۔ اس بارے میں مختلف اقوال ملتے ہیں۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد قرآن مجید ہے۔ لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ اس نور سے مراد نورِ ایمان ہے۔ جو اللہ کا نور ہے۔ لیکن ان دونوں میں سے زیادہ مناسب یہ ہے کہ اس سے مراد "قرآن" اور "ایمان" دونوں ہیں، اور ضمیر ان دونوں کی طرف لوٹ رہی ہے۔ چونکہ یہ دونوں ایک ہی حقیقت پر جا کر ختم ہوتے ہیں لہٰذا اس مقام پر مفرد ضمیر لائی جا سکتی ہے۔ پروردگارا! ہمارے دلوں کو ہمیشہ کے لئے نورِ ایمان کے ساتھ منور فرما اور ہمیں اس طرف ہدایت فرما جہاں خیر اور سعادت ہے۔ بارِ الٰہا! ہمیں اس قدر بلند ظرفی اور صبر عطا فرما کہ نعمتوں کے موقع پر سرکشی نہ کریں اور مصائب و مشکلات میں ہمت نہ ہاریں۔ خداوندا! جس دن ظالم اور مستکبر لوگ حیران و سرگردان اور بغیر کسی جائے پناہ کے ٹھوکریں کھاتے پھریں گے اور مؤمنین تیری پناہ اور حمایت میں محفوظ و مامون ہوں گے ہمیں مخلص مؤمنین کی صف میں قرار دینا۔ آمین یا رب العالمین

end of chapter