Al-Jathiyah
سوره جاثیــہ
یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۳۷ آیات ہیں
سُورہ جاثیہ کے مضامین
"حوامیم" سُورتوں میں سے چھٹی سُورت ہے اور اس کا شمار مکی سُورتوں میں ہوتا ہے، یہ اس زمانے میں نازل ہوئی جب مکہ کی اجتماعی فضاء مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان انتہائی کشیدہ تھی، اسی بناء پر اس سُورت میں زیادہ تر توحید، شرک کے ساتھ نبرد آزمائی، قیامت کے عدل و انصاف سے ظالموں کو تنبیہ، اعمال کا لِکھا جانا اور اسی طرح گزشتہ سرکش اقوام کے انجام جیسے مسائل کو زیادہ تر بیان کیا گیا ہے۔ اس سُورت کے مندرجات کو ساتھ حصّوں میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے۔ ۱۔ قرآن مجید کی عظمت اور اس کی اہمیّت۔ ۲۔ مشرکین کے سامنے توحید کے کچھ دلائل کا بیان۔ ۳ ۔ نیچریوں کے کچُھ دعوے اور ان کے مُنہ توڑ جوابات۔ ۴۔ بنی اسرائیل جیسی بعض اقوام کے انجام کی طرف کچھ اشارہ جو سُورت کے مباحث پر شاہد ہے۔ ۵۔ ان گمراہ لوگوں کو زبردست تنبیہ جو اپنے گمراہ کُن عقاید پر سختی سے ڈٹے ہُوئے ہیں۔ ۶۔ حق کی راہ سے سرمو انحراف کیے بغیر عفو و درگذشت سے کام لینے کی دعوت۔ ۷۔ قیامت کے لرزا دینے والے واقعات کی طرف اشارے، خاص کر نامہٴ اعمال کا تذکرہ جو انسان کے تمام اعمال کو بے کم و کاست بیان کر دے گا۔ یہ سُورت خداوندِ عالم کے "عزیز" و "رحیم" جیسے بزرگ ناموں سے شروع ہوتی ہے اور انہی ناموں پر ختم ہوتی ہے۔ اس سُورت کا نام "جاثیہ" اس لیے ہے ___ اس کی ۲۸ ویں آیت سے یہ لفظ لیا گیا ہے جس کا معنی ہے "گھٹنے ٹیکنے والا" قیامت کے دن عدلِ الہٰی کی داد گاہ میں بہت سے لوگوں کی یہی کیفیت ہو گی۔ مرحوم طبرسیؒ نے "مجمع البیان" میں اس کا ایک اور نام بھی تحریر کیا ہے جو زیادہ مشہور نہیں ہے اور وہ ہے "شریعت" جو اِسی سُورت کی ۱۸ ویں آیت کی مناسبت سے ہے۔
سورت جاثیہ کی تلاوت کا ثواب
سُورت جاثیہ کی تلاوت کاثواب پیغمبر اسلامؐ کی ایک حدیث میں ہے: " مَن قرأ حاميم الجاثية ستر الله عورته وسكن روعته عندَ الحساب ۔" "جو شخص سُورہٴ جاثیہ کی تلاوت کرے گا (البتہ اس کے مطالب میں غور و فکر کرے گا، اور اپنی زندگی کو ان مطالب کے مطابق ڈھالے گا) خدا بروزِ قیامت اس کے تمام عیوب کی پردہ پُوشی کرے گا اور اس کے خوف کو اطمینان میں بدل دے گا۔ ( ۱) ۔ (تشریحی نوٹ: تفسیرمجمع البیان، سُورہٴ جاثیہ کے غاز میں)۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک حدیث مروی ہے، آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: "مَن قرأ سورة الجاثية كان ثوابها أن لَا يرى النّار أبدًا، وَلَا يسمع زفير جهنّم وَلَا شهيقها، وهو مع محمد (ص) ۔" جو شخص سُورہٴ جاثیہ کی (غور و فکر کے ساتھ جو عمل کا مقدمہ ہے) تلاوت کرے گا اُس کا ثواب یہ ہے کہ وہ آتش جہنم کو ہرگز نہیں دیکھ پائے گا اور دوزخ کی آواز نہیں سُن پائے گا اِسے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہم نشینی کا شرف حاصل ہو گا (بحوالہ: تفسیر برہان سُورہٴ جاثیہ کے آغاز میں، جلد ۴، ص ۱۶۷)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر ہر جگہ اس کی نشانیاں موجُود ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 7ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ یہ چھٹی سُورت ہے جس کا آغاز حروف مقطعہ (حٰم) سے ہو رہا ہے۔ بعد کی سُورت (احقاف) سے مِل کر یہ پُوری سات سورتیں ہو جاتی ہیں، حروفِ مقطعات کے بارے میں ہم سُورہ بقرہ، سورہ ٴ آلِ عمران، سُورہٴ اعراف اور اسی طرح "حٰم" سورتوں کے آغاز میں تفصیلی گفتگو کر چکے ہیں۔ مشہور مفسر طبرسی اس آیت کے آغاز میں فرماتے ہیں: "بہترین قول یہ ہے کہ یہ کہا جائے "حٰم" اس سُورت کا نام ہے، (پھر بعض مفسرین سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں) اسے "حٰم" کے نام سے موسوم کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ قرآن جو سراپا اعجاز ہے، حُروفِ تہجی سے تشکیل یافتہ ہے: جی ہاں! یہ کتاب جو نور و ہدایت، را ہنما اور رہبر ہے اور پیغمبر اسلامؐ کا زندہ جاوید معجزہ ہے انہی سادہ سے حرفوں کی ترکیب سے وجُود میں آئی ہے۔ یہ اس کی نہایت عظمت کی دلیل ہے کہ اس قدر اہم کتاب اس قدر سادہ سے حرفوں سے تشکیل پائی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ فوراً قرآن کی عظمت کا تذکرہ کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے: یہ کتاب خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہے جو غالب و دانا ہے (تَنْزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ)۔ (تشریحی نوٹ: " تَنْزِيلُ الْكِتَابِ" ایک محذوف کی خبر ہے، جس کی تقدیر "ھٰذا تَنْزِيلُ الْكِتَابِ" ہے ساتھ ہی یہ بتاتے چلیں کہ "تنزیل" مصدر ہے اور یہاں پر اسمِ مفعول کے معنی میں ہے اور موصُوف صفت کی طرف مضاف ہے، جو تقدیری طور پر "ھٰذا کتاب منزل ..." ہے)۔ "عزیز" کا معنی صاحب قدرت اور ناقابلِ شکست ہے اور "حکیم" کا معنی ایسی ذات ہے جو تمام چیزوں کے اسرار سے آگاہ ہے اور جس کے تمام افعال جچے تُلے اور حکمت پر مبنی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کی کتاب نازل کرنے کے لیے ہی بے انتہا حکمت اور غیر محدُود قدرت ضروری ہوتی ہے جو خدا کے علاوہ کسی اور میں نہیں پائی جاتی۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ آیت بعینہٖ قرآن مجید کی چار سُورتوں کی ابتداء میں آئی ہے، جن میں سے تین حوامیم سورتیں ہیں (موٴمن، جاثیہ اور احقاف) اور ایک سُورہٴ زمر ہے، جو حوامیم کے علاوہ ہے، یہ تکرار اور تاکید اس لیے ہے کہ تمام لوگوں کی توجہ قرآنی اسرار کی گہرائی اور گیرائی اور اس کے مطالب کی عظمت کی طرف مبذُول کروائی جائے تاکہ وہ اس کی کسی تعبیر کو معمُولی نہ سمجھیں، کسی کلمہ کو بےحساب و کتاب نہ سمجھیں اور نہ ہی فہم و ادراک کی کسی حد پر قانع ہو جائیں۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ "عزیز" کے لفظ کے ساتھ بعض مقامات پر خود قرآن مجید کی بھی توصیف کی گئی ہے، جیسے "وَإِنَّهُ لَكِتَابٌ عَزِيزٌ" یعنی قرآن مجید وہ کتاب ہے جو طاقتور اور ناقابلِ شکست ہے (حم سجدہ۔ ۴۱)۔ یا وہ لوگوں کی دسترس نہیں ہو سکتی، مرور زمانہ کے ساتھ اس کی قدر و قیمت میں کمی نہیں آ سکتی، اس کے حقائق کبھی بوسیدہ نہیں ہو سکتے، تحریف کرنے والوں کو رسوا کرتے ہُوئے روز بروز آگے بڑھتا جائے گا۔ بعض مقامات پر خود قرآن نازل کرنے والے کی توصیف کی گئی ہے، جیسے زیرِ تفسیر آیت میں ہے اور دونوں جگہ اس کا استعمال صحیح ہے۔ پھر آفاق وانفس میں عظمت خداوندی کی آیات اور نشانیوں کا ذکر کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے: بےشک آسمانوں اور زمین میں ایمان والوں اور حق کے طلب گاروں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں (إِنَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِّلْمُؤْمِنِينَ)۔ آسمانوں کی عظمت ایک طرف اور اس کا محیرالعقُول نظام کہ جس پر کروڑوں سال گزرنے کے باوجُود اس میں سرمو انحراف نہ آنا دوسری طرف اور زمین کی ساخت اور اس کے عجائبات تیسری طرف، سب مل جُل کر خدا کی نشانیوں میں سے ہے۔ زمین، جو بعض دانش وروں کے بقول ۱۴ قسم کی حرک کی حامل ہے اور بہت تیزی کے ساتھ اپنے محور کے گِرد گھوم رہی ہے اور بڑی سرعت کے ساتھ سُورج کے گرد گھوم رہی ہے، اور پھر منظومہ شمسی کے ہمراہ ایک اور حرکت بھی ہے جو کہکشاں کے ساتھ ہوتی ہے۔ اس طرح سے وہ اپنی بےانتہا مسافرت میں سرگرم عمل ہے، لیکن ان تمام حرکات کے باوجود اس قدر پُرسکون ہے کہ انسانی آسائش وآرام کا گہوارہ اور تمام موجودات کے لیے باعث سکون و اطمینان ہے اور کبھی یہ محسُوس نہیں ہوٴا کہ اس میں ذرّہ بھر بھی حرکت ہے۔ نہ تو اس قدر سخت اور ٹھوس ہے کہ اس میں زراعت نہ کی جا سکے اور گھرنہ بنائے جا سکیں، اور نہ ہی اس قدر نرم اور ملائم ہے کہ اس میں رہائش اختیار نہ کی جا سکے اور بقا کے تسلسل کو آگے نہ بڑھایا جا سکے۔ گذشتہ، مُوجودہ اور آئندہ اربوں کھربوں انسانوں کے لیے ذخائر، معدنیات اور وسائل زندگی اس میں فراہم کر دیئے گئے ہیں اور پھر اس قدر جاذبِ نظر اور زیبا ہے کہ انسان کو اپنا مسحُور بنا لیتی ہے، اس میں موجُود پہاڑ ہوں یا دریا اور فضا غرض ہر چیز خدا کی اسرار آمیز آیت اور نشانی ہے، لیکن توحید اور عظمتِ خالق کی نشانیوں کو صرف صاحبان ایمان یعنی راہِ خدا پر گامزن اور حق کے طلبگار سمجھتے ہیں اور بےخبر دل کے اندھے اور مغرور لوگ ان کے ادراک سے محرُوم ہیں۔ پھر ان "آفاقی" آیات کے بعد "انفسی" آیات کا تذکرہ کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے: اور تمہاری تخلیق میں بھی اور زمین میں پھیلے ہُوئے جانوروں کی خِلقت میں بھی یقین کرنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں (وَفِي خَلْقِكُمْ وَمَا يَبُثُّ مِن دَابَّةٍ آيَاتٌ لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ)۔ امیر المومنین علیہ السلام کی طرف منسُوب ایک مشہور عبارت میں یہ جُملہ مِلتا ہے۔ "یہ انسان ایک چھوٹا سا جِرم (جسم) ہے جس میں ایک بہت بڑا عام سمایا ہوٴا ہے۔" یعنی درحقیقت، جو کچُھ ایک عالمِ کبیر میں موجُود ہے، اس کا ایک نمونہ انسان ہی کے جسم و جان میں موجُود ہے۔ اس کے خصائل و صفات تمام ذی رُوح اور متحرک مخلوق کی صفات و خصائل کا مرکب ہیں اور اس کی تنوع پر مبنی تخلیق اس عظیم کائنات کے مجموعی امور کا نچوڑ ہے۔ اس کے ایک خلیئے کی ساخت ایک اسرار آمیز علم صنعتی جیسی ہے، اس کے ایک بال تخلیق اپنی مختلف خصوصیات کے ساتھ کہ جو علمِ و دانش اور سائنس کے ذریعے دریافت ہوئی ہیں، آیات الہٰی میں سے خود ایک عظیم آیت ہے۔ اس کے بدن میں ہزاروں کلو میٹر چھوٹی بڑی نہایت باریک، نازک اور لطیف رگیں ہیں اور ہزار کلو میٹر سلسلہ اعصاب کی کمیونیکل اور اطلاعاتی تاریں ہیں اور ان کا دماغ کی کمانڈ کے مرکز کے ساتھ طاقت ور، اسرار آمیز اور پیچیدہ رابط موجُود ہے، بدن کی ہرایک داخلی مشینری کا طریقہٴ کار اور ناگہانی واقعات کے موقع پر ان کی عجیب و غریب ہم آہنگی اور خارجی عوامل کی یورش کے وقت بدن کی محافظ طاقتوں کا زبردست دفاع، ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے مقام پر خدا کی قدرت کاملہ کی ایک نشانی ہیں۔ پھر انسان کے علاوہ زمین پر چلنے والے حیوانوں کی لاکھوں قسمیں ہیں، خواہ وہ خوربین سے دیکھی جانے والی ہوں یا غول پیکر، ہر ایک خدا کی ایک آیت ہیں۔ ان کو اپنی خصوصیات اور ساخت ہوتی ہے، جو بالکل متنوع اور ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے، حتی کہ بعض قسمیں ایسی بھی ہیں، جن میں سے کسِی قسم کے مطالعہ پر سائنس دانوں اور دانش وروں کی ایک جماعت اپنی تمام عمریں صرف کر دے یا ان کے تخلیقی اسرار پر ہزاروں کتابیں لکھی جائیں پھر بھی ان کے بارے میں ہماری معلومات کا دائرہ مجہولات کی نسبت بہت کم ہو گا، ان میں سے ہر ایک اپنے مقام پر مبدائے آفرینش کی حکمت اور اس کے بےپایاں علم کی ایک آیت اور نشانی ہے۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ کچھ لوگ بیسیوں سال ان آیات میں اپنی زندگی گزار دیتے ہیں لیکن ان میں سے کسی ایک کے بارے میں بھی ذرہ برابر معلومات حاصل نہیں کر سکتے؟ تو اس کی وجہ صرف وہی ہے، جس کی قرآن مجید نے ان الفاظ میں نشاندہی کر دی ہے کہ "یہ آیات ان لوگوں کے ساتھ مخصوص ہیں، جو صاحبانِ ایمان و یقین ہیں اور غور و فکر کے مالک ہیں" ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو اپنے دل کے دریچے باز کرتے اور اپنے تمام وجُود کے ساتھ علم و دانش اور یقین کے طلب گار ہوتے ہیں، حتٰی کہ کسی تھوڑی سے تھوڑی حرکت اور چھوٹے سے چھوٹے موجُود کو بھی نظر انداز نہیں کرتے بلکہ کئی کئی گھنٹے اس کے بارے میں سوچنے پر صرف کر دیتے ہیں۔ "ذاتِ خدا تک رسائی" کے لیے اس سے زینے کا کام لیتے ہیں اور "معرفت کردگار" کے لیے اسے ذریعہ بناتے ہیں۔ پھر اس سے راز و نیاز کرتے ہیں اور اپنے جامِ دل کو اس کے بادہٴ عشق سے لبریز کرتے ہیں۔ اگلی آیت میں تین عظیم نعمتوں کا تذکرہ ہے جو انسان اور دوسری مخلوقات کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور ہر ایک آیاتِ خداوندی میں سے ایک آیت ہے، اور وہ نعمتیں ہیں، نور، پانی اور ہوا۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: رات اور دن کے آنے جانے میں اور اس نے آسمان سے جو رزق نازل فرمایا ہے اور اس کے ذریعے زمین کو مرنے کے بعد زندہ کیا ہے۔ اس میں بھی اور ہواؤں کے چلنے میں بھی عقل سے کام لینے والوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں (وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا أَنزَلَ اللهُ مِنَ السَّمَاءِ مِن رِّزْقٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ آيَاتٌ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ)۔ "نور و ظلمت" اور رات دن کے آنے جانے کا مسئلہ جو ایک خاص نظم کے ساتھ ایک دوسرے کے خلیفہ اور جانشین ہوتے رہتے ہیں، حساب شدہ تعجب آور ہے، اگر ہمیشہ دن رہتا یا بےانتہا لمبا ہوتا تو اس کا درجہ حرارت اس قدر اُوپر چلا جاتا کہ تمام زندہ مخلوق جل کر راکھ ہو جاتی س اور اگر رات ہمیشہ رہتی یا حد سے زیادہ طولانی ہوتی تو سردی کی شدت سے ہر چیز منجمد ہو جاتی۔ آیت کی تفسیر میں ایک احتمال یہ بھی ہے کہ اختلاف کا معنی ایک دوسرے کی جانشینی نہ ہو بلکہ اس فرق کی طرف اشارہ ہو جو سال بھرکے مختلف موسموں میں رات اور دن کے درمیان پیدا ہوتا رہتا ہے، جس کے نتیجے میں انسان کو مختلف فوائد یعنی مختلف فصلیں، درخت، پھل، برف و باراں کا نزُول اور دوسری برکتیں حاصل ہوتی ہیں۔ یہ بات بھی بڑی دلچسپ ہے کہ سائنس دان کہتے ہیں کہ رُوئے زمین کے مختلف خطّوں میں شب و روز کی لمبائی میں جو فرق ہوتا ہے اگر سال بھر کے تمام دنوں کا حساب کیا جائے اور اسی حساب سے سُورج کی روشنی کو تقسیم کیا جائے تو بالکل ٹھیک ٹھیک صُورت میں ہر ایک خطہ دوسرے خطّے کے برابر اسی روشنی سے استفادہ کرتا ہے (۲)۔ (تشریحی نوٹ: "رات اور دن کے اختلاف" کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد اوّل سورہٴ بقرہ کی آیت ۱۶۴ کے ذیل ہیں، جلد ۳ سورہٴ آلِ عمران کی آیت ۱۹۰ کے ذیل میں، جلد ۵، سُورہٴ یونس کی آیت ۶ کے ذیل میں اور جلد ۹، سُورہٴ قصص کی آ یت ۷۱ کے ذیل تفصیلی گفتگو ہو چکی ہے)۔ دوسرے مرحلے میں زندگی عطا کرنے والے آسمانی رزق یعنی بارش کا تذکرہ ہے کہ نہ تو جس کی لطافت طبع میں کوئی حرف ہے اور نہ ہی اس کی زندگی عطا کرنے والی قدرت میں کوئی کلام، ہر جگہ زندگی، تر و تازگی اور زیبائی کی نشانیاں پائی جاتی ہیں۔ ایسا کیوں نہ ہو؟ جب کہ انسانوں اور بہت سے دوسرے جانوروں اور نباتات کے بدن کا اصل حصّہ اسی پانی سے تشکیل پاتا ہے۔ تیسرے مرحلے پر ہواؤں کے چلنے کی بات ہو رہی ہے۔ ایسی ہوائیں جوآکسیجن ایک سے دوسری جگہ پہنچاتی رہتی اور جانداروں کی ضرورت پوری کرتی رہتی ہیں، کاربن ڈائی آکسائیڈ سے آلودہ ہواؤں کو صاف کرنے کے لیے دشت و جنگل اور صحراؤں کی طرف بھیجتی رہتی ہیں اور صاف ہونے کے بعد انہیں دوبارہ شہروں اورآبادیوں کی طرف لے آتی ہیں، عجیب بات ہے کہ زندہ موجُود کے یہ دونوں گروہ یعنی "حیوانات" اور "نباتات" بالکل ایک دوسرے کے برعکس عمل کرتے ہیں، حیوانات آکسیجن گیس حاصل کرتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں جبکہ نباتات کاربن ڈائی آکسائیڈ حاصل کرتے ہیں اور آکسیجن خارج کرتے ہیں تاکہ نظامِ زندگی میں توازن برقرار رہے اور مرور ایام کے ساتھ زمین پر موجُود مفید ہواؤں کے ذخائر ختم نہ ہونے پائیں۔ اس کے علاوہ یہی ہوائیں ہوتی ہیں جو نباتات میں نسل کشی کا کام دیتی ہیں، انہیں ثمر آور بناتی ہیں، مختلف زمینوں میں مختلف قسم کی تخم پاشی کرتی ہیں، قدرتی چراگاہوں اور جنگلوں کو پروان چڑھاتی ہیں۔ سمندروں کے دل میں موجیں ابھارتی ہیں، جن سے سمندروں کی حیات اور حرکت کا پتہ چلتا ہے، پانی کو بدبودار اور خراب ہونے سے بچاتی ہیں اور یہی ہوائیں ہیں جو سفینوں کو سمندروں کے سینوں پر رواں دواں رکھے ہُوئے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: "باد و باراں" کے آثار کے سِلسلے میں تفسیر نمونہ کی جلد۹ میں سُورہٴ روم کی آیت ۴۶ تا ۵۰ کے ذیل میں تفصیل سے گفتگو کی گئی ہے)۔ یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ مندرجہ بالا آیات میں پہلے توآسمانوں اور زمین کے آیات ہونے کی بات ہوئی ہے اور آخر میں فرمایا گیا ہے کہ اس میں "اہل یقین" کے لیے نشانیاں ہیں، پھر دوسری زندہ مخلوق کی تخلیق کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اس میں "اہل یقین" کے لیے نشانیاں ہیں اور نور و ظلمت اور باد و باراں کے نظام کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا گیا ہے کہ اس میں "عقل سے کام لینے والوں" کے لیے نشانیاں ہیں۔ تعبیرات کے اس اختلاف کی وجہ شاید یہ ہو کہ انسان "معرفة اللہ" کی راہوں کو تین مراحل میں طے کرتا ہے پھر کہیں جا کر منزلِ مقصُود تک پہنچتا ہے، مثلاٍ مرحلہ "فکر" کا ہے دوسرا "یقین و علم" کا اور تیسرا مرحلہ "ایمان" کا ہے، جِسے اصطلاح میں قلبی عقیدہ کہتے ہیں۔ اگرچہ مرتبے کے لحاظ سے ایمان پہلے مرحلہ پر، یقین دوسرے مرحلے پر اور فکر تیسرے مرحلے پر ہوتے ہیں اور آیات مذکورہ میں بھی اسی ترتیب سے ذکر کیے گئے ہیں، لیکن خارجی وجُود کے اعتبار سے فکر تیسرے مرحلے پر ہوتے ہیں اور آیات مذکورہ میں بھی اسی ترتیب سے ذکر کیے گئے ہیں لیکن خارجی وجُود کے اعتبار سے فکر پہلے مرحلے پر، یقین دوسرے اور ایمان تیسرے مرحلے پر ہیں، بالفاظ دیگر جواہل ایمان ہوتے ہیں وہ آیات الہٰی کے مشابدے ہی سے اس اعلیٰ ترین مرحلے تک پہنچتے ہیں اور جو اہل ایمان ہیں وہ کم از کم یقین یا فکر کے مرحلے رسائی حاصل کرتے ہیں۔ مفسرین نے اس بارے میں اور بھی وجوہات کو ذکر کیا ہے لیکن جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے وہ زیادہ مناسب ہے، اسی سلسلے کی آخری آیت میں گذشتہ آیات کا مجموعی طور پر نتیجہ نکالتے ہُوئے قرآنی آیات کی عظمت و اہمیّت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: یہ خدا کی آیات ہیں، جن کو ہم ٹھیک تمہارے سامنے پڑھتے ہیں (تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ)۔ آیا "تلک" کا کلمہ قرآنی آیات کی طرف اشارہ ہے یا آفاق و انفس میں خدا کی آیات کی طرف جو گذشتہ آیات میں مذکورہ ہو چکی ہیں؟ اس بارے میں مفسرین نے دونوں قسم کی آیات کا احتمال ذکر ہے۔ لیکن "نتلو" کے قرینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے قرآنی آیات مراد ہیں، البتہ یہی قرآنی آیات ساری کائنات میں خدا کی نشانیوں کو بیان کر رہی ہیں تو اس طرح سے دونوں قسم کی تعبیریں یکجا ہونے کے قابل ہیں (غور کیجئے گا)۔ بہرحال, "تلاوت" "تلو" (بروزن فکر) کے مادہ سے ہے، جس کا معنی بات کو مسلسل بیان کرنا ہے۔ اسی لیے قرآنی آیات کی تلاوت کا معنی ان کا مسلسل اور پے در پے پڑھنا ہے۔ "حق" کی تعبیر ان آیات کے مضامین و مندرجات کی طرف بھی اشارہ ہے اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی نبوّت اور خدا کی وحی کی حقانیت کی طرف بھی، باالفاظ دیگر "یہ آیات اس حد تک واضح و آشکار اور استدلال پر مبنی ہیں کہ بذات ِ خود اپنی اور اپنے بھیجنے والے کی حقانیت کی دلیل بھی انہی میں مضمر ہے۔ سچ مُچ اگر یہ لوگ ان آیات پر ایمان نہیں لائیں گے تو پھر کِس چیز پر ایمان لائیں گے؟ اسی لیے آ یت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: تو خدا اور اس کی آیتوں کے بعد کونسی بات ہو گی جس پر یہ کافر لوگ ایمان لائیں گے (فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: "بَعْدَ اللهِ" کی تعبیر میں ایک محذوف پایا جاتا ہے جس کی تقدیر یوں ہے: "فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ حَدیثِ اللهِ ")۔ مرحوم طبرسیؒ "مجمع البیان" میں فرماتے ہیں کہ کلمہ "حدیث"سے گذشتہ اقوام اور ان کی عبرت آموز داستانوں کی طرف اشارہ ہے، جبکہ "آیات" ان دلائل کو کہا جاتا ہے جو صحیح کو باطل سے جدا کرتی ہیں اور قرآن مجید کی آیات دونوں چیزوں کو بیان کر رہی ہیں۔ سچ مچ قرآن مجید توحید کے استدلال اور برہان و وعظ و نصیحت کے لحاظ سے اس قدر مضامین کا حامل ہے کہ جس دِل میں ذرہ بھر بھی آمادگی اور جس سر میں تھوڑی سی حق کی قبولیت کی آمادگی موجُود ہے اسے خدا، طہارت اور تقویٰ کی دعوت دیتے ہیں، اگر یہ آیات بینات کسی پر اثر انداز نہیں ہوتیں تو اس کی ہدایت کی امید بھی نہیں رکھنی چاہیئے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر گناھگار جھوٹے پر پھٹکار
Tafsīr Nemūna · Vol. 7گزشتہ آیات میں آیات الہٰی کی عظمت کے بارے میں گفتگو ہو رہی تھی۔ زیر تفسیر آیات بھی اس موضوع پر گفتگو کر رہی ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: یہ قرآن مجید سببِ ہدایت ہے (هَذَا هُدًى)۔ حق کو باطل سے جدا کرتا ہے، انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کو اُجاگر کرتا ہے، راہ حق کے راہیوں کا ہاتھ پکڑ کر انہیں منزل مقصود تک پہنچاتا ہے، لیکن جن لوگوں نے اپنے پیروکار کی آیتوں کا انکار کیا ہے، ان کے لیے سخت اور درد ناک عذاب ہے (وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مَّن رِّجْزٍ أَلِيمٌ)۔ کتاب مفرادت میں راغب کے بقول "رِجز" (بروزن "حِرص") کا اصلی معنی اضطراب، لرزہ اور بدنظمی ہے، خاص کر جب اُونٹ بیمار ہوتا ہے تو زبردست کمزوری کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے اور غیر منظم قدم اٹھاتا ہے، ایسی حالت کو عرب اپنی زبان میں "رجز" کہتے ہیں۔ طاعون کی بیماری سخت مصیبت یا زبردست برف باری اور ژالہ باری کو "رجز" کہتے ہیں، اِس طرح شیطانی وسوسوں وغیرہ پر بھی اس کلمہ کا اطلاق ہوتا ہے، کیونکہ یہ سب اضطراب و بےچینی، تزلزل اور بدنظمی کا باعث ہوتے ہیں اور اگر جنگی اشعار کو "رجز" (بروزن "عرض") کہتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان اشعار کے مقطع چھوٹے اور قریب ہوتے ہیں (یا پھر دشمن کے پیکر میں تزلزل اور اضطراب پیدا ہونے کی وجہ سے کہتے ہیں۔ پھر سلسلہٴ گفتگو کو توحید کی بحث کی جانب موڑ دیا گیا ہے، اس سُورت کی ابتدائی آیات میں بھی اسی ضمن میں گفتگو موجُود ہے مشرکین کو توحید اور خدا شناسی کے موثر درس دیئے گئے ہیں۔ کبھی قرآن ان کے احساسات کو جھنجوڑتے ہوتے کہتا ہے: خدا ہی تو ہے، جس نے دریا کو تمہارے لیے مسخر کر دیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور اس کے فضل سے تم اپنا حِصّہ حاصل کرو، شاید کہ اس کی نعمتوں کا شکر بجا لاؤ (اللهُ الَّذِي سخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِيَ الْفُلْكُ فِيهِ بِأَمْرِهِ وَلِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ)۔ کس ذات نے بحری جہازوں اور کشتیوں میں یہ خاصیّت خلق فرمائی ہے کہ وہ پانی میں ڈوبتی نہیں ہیں اور کس نے ان کی حرکت کے لیے پانی کو ایسا نرم بنایا ہے کہ وہ آرام سے اس پر چلتی رہتی ہیں اور کس نے ہواؤں کو حکم دیا ہے کہ وہ منظم صُورت میں سمندروں کی سطح پر چلتی رہیں اور کشتیوں کو اس پر رواں دواں رکھیں (یا کس نے بخارات کی طاقت کو ہواؤں کا جانشین بنایا ہے، تاکہ وہ ان عظیم جہازوں کو بڑی تیزی کے ساتھ جاری و ساری رکھیں؟ ہم جانتے ہیں کہ گزشتہ اور موجودہ دور میں انسان کے وسائل کی حمل و نقل کا عظیم ترین اور اہم ترین ذریعہ چھوٹی بڑی اور غول پیکر کشتیاں اور بحری جہاز ہیں جو سالہ بھر لاکھوں انسانوں اور ان سے زیادہ تجارتی مال کو دنیا کے دور دراز ترین علاقوں سے دوسری جگہ منتقل کرتے رہتے ہیں، بلکہ بعض بحری جہاز تو ایسے بھی ہیں جو ایک چھوٹے سے شہر جتنی وسعت اور آبادی کے حامل ہوتے ہیں اور تمام قسم کے وسائل اور ہر قسم کی چیزیں اُن میں موجود ہوتی ہیں۔ یقیناً اگر یہ تینوں طاقتیں موجود نہ ہوتیں تو انسان اپنی دوسری معمول کی سواریوں کے ذریعے حمل و نقل کی مشکلات کو کس طرح حل کر سکتا؟ ہر چند کہ دوسرے ذرائع آمد و رفت بھی اس کی نعمت ہیں اور اپنی اپنی جگہ پر مفید ہیں۔ پھر یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ سُورہٴ ابراہیم علیہ السلام کی بتیسویں آیت میں فرمایا گیا ہے: "وَسَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِيَ فِي الْبَحْرِ بِأَمْرِهِ" "کشتیوں کو تمہارے تابع فرمان کر دیا ہے اس کے حکم کے مطابق دریا میں چلتی رہیں۔" لیکن یہاں پر فرمایا گیا ہے: "دریا کو تمہارے تابع فرمان بنا دیا ہے اس میں کشتیاں چلتی رہیں" کیونکہ وہاں پر زیادہ نظر تسخیر پر ہے، لہذا اس کے فوراً بعد فرمایا گیا ہے: " وَسَخَّرَ لَكُمُ الْأَنْهَارَ" "اور اس نے نہروں کو بھی تمہارے لیے مسخر کر دیا ہے۔" لیکن یہاں پر کشتیوں کی تسخیر پیش نظر ہے۔ صُورت حال خواہ کچُھ ہو دونوں چیزیں حکمِ خدا کے مطابق انسان کے لیے مسخر اور اس کے تابع ہیں اور اس کی خدمت کے لیے کمربستہ ہیں۔ اس تسخیر کا مقصد یہ ہے کہ تم "فضل خداوندی سے اپنا حِصّہ پاؤ" کیونکہ اس قسم کی تعبیر عام طور پر تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ البتہ مسافرین کی نقل وحرکت اور انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کی تعبیر بھی اس میں پائی جاتی ہے۔ اور خداوند تعالیٰ کے فضل سے بہرہ برداری کا اصل مقصد یہ ہے کہ انسان کے احساس شکر گزاری کو متحرک کیا جا سکے اور اس کے تمام احساسات کو ایک جگہ مرتکز کیا جا سکے تاکہ اس طرح سے انسان "معرفة اللہ" کی راہوں کو طے کر سکے۔ لفظ "فلک" (کشتی) جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں مفرد اور جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ دریاؤں، کشتیوں اور ان کے فائدوں اور برکتوں کی بیشتر وضاحت کے لیے تفسیر نمونہ کی گیارہویں جلد سورہٴ نحل کی ۱۴ ویں آیت کی تفسیر کا مطالعہ فرمائیں۔ کشتیاں اور بحری جہاز ایسی نعمت ہیں جو انسان کی روز مرّہ کی زندگی سے زیادہ قریب کا تعلق رکھتی ہے۔ اس کے ذکر کے بعد تمام مخلوق کی تسخیر کو کلی طور پر بیان فرماتے ہُوئے کہتا ہے: اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچُھ زمینوں میں ہے سب کو اپنی طرف سے تمہارے لیے مسخر کر دیا ہے (وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِّنْهُ)۔ (تشریحی نوٹ: "جَمِيعًا مِّنْهُ" کے اعراب اور اس کی ترکیب میں متعدد احتمال مِلتے ہیں۔ زمخشری نے اپنی تفسیر کشاف میں دو احتمال ذکر کیے ہیں، پہلا یہ کہ "جَمِيعًا مِّنْهُ"، "مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ" کا حال واقع ہو رہا ہے۔ یعنی یہ سب کچھ تمہارے لیے مسخر ہے، حالانکہ اُسی کی طرف سے ہے دوسرا یہ کہ مبتدا محذوف کی خبر ہے جو تقدیری صورت میں یوں ہے۔ "ھی جَمِيعًا مِّنْهُ" بعض مفسرین نے ایک اور احتمال بھی ذکر کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ جملہ "ما فی السماوات وما فی الارض" کی تاکید ہے)۔ اس نے تمہیں اس قدر حیثیت، قدر و قیمت اور عظمت عطا فرمائی ہے کہ کائنات کی تمام چیزیں تمہارے لیے مسخر کر دی ہیں اور وہ تمہارے مفادات کی نگرانی کر رہی ہیں۔ آفتاب اور ماہتاب، باد اور باران، پہاڑ اور درّے، جنگل اور صحرا، درخت اور حیوان، معدنیات اور زیرِ زمین ذخائر غرض اس کائنات کی تمام چیزوں کو اس نے تمہاری خدمت کے لیے وقف کر رکھا ہے اور ہر چیز کو تمہارے زیر فرمان کر دیا ہے تاکہ تم اس کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ اور غفلت کا شکار نہ ہو جاؤ۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ وہ فرماتا ہے: "جَمِيعًا مِّنْهُ" یہ تمام چیزیں خصوصیات اور اختلاف کے باوجُود اسی ذات کی پیدا کردہ ہیں اور اسی کے زیر فرمان تمہاری خدمت کے لیے حاضر ہیں۔ جب تمام نعمتیں اس کی جانب سے ہیں اور ساری کائنات کی خالق، مدبر اور پروردگار اسی کی ذات پاک ہے تو پھر انسان دوسروں کے پیچھے کیوں جائے اوراپنا سر ضعیف مخلوق کے آستانے پر کیوں جھکائے اور منعم حقیقی کی معرفت سے کیوں غافل ہو؟ اسی لیے آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: اس میں اہل فکر کے لیے اہم نشایاں ہیں (إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لَّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ)۔ پہلی آیت میں انسانی احساسات سے استفادہ کیا گیا ہے اور اس آیت میں ان کے عقول و افکار سے کام لیا گیا ہے۔ کیونکہ خداوند مہربان ہر ممکنہ زبان کے ذریعے اپنے بندوں کے ساتھ باتیں کرتا ہے، کبھی تو دل کی زبان کے ساتھ عقل و فکری زبان کے ساتھ، ان سب میں سوائے ایک ہدف کے اور کچھ بھی مطلوب و مقصُود نہیں اور وہ ہے غافل انسانوں کی بیداری اور انہیں خدائی راستے پر گامزن کرنا۔ کائنات کی مختلف موجودات کی تسخیر کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد ۶ میں سُورہٴ ابراہیم کی آیات ۳۱ تا ۳۳ کی تفسیر میں تفصیل کے ساتھ گفتگو کی گئی ہے۔ پھر کفّار کے ساتھ میل جُول کے موقع پر مومنین کو ایک اخلاقی سبق دیا جا رہا ہے تاکہ سابق منطقی بحثوں کو اس کے ذریعے سے پایہٴ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ اسی لیے روئے سخن پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے: مومنین سے کہہ دے کہ جو لوگ خدا کے دنوں (روزِ قیامت) کی توقع نہیں رکھتے، ان سے درگزر کریں اور سخت گیری سے کام نہ لیں (قُل لِّلَّذِينَ آمَنُوا يَغْفِرُوا لِلَّذِينَ لاَ يَرْجُون أَيَّامَ اللهِ)۔ ممکن ہے کہ وہ ایمان اور خدائی تربیّت کی مبادیات سے دُور ہونے کی وجہ سے سخت اور نامناسب روش اپنائے ہوئے ہوں اس لیے غلط الفاظ استعمال کرتے ہوں، لہذا تمہارا فرض بنتا ہے کہ تم اپنی طرف سے عظمت کا ثبوت دو اور کھلے دل کے ساتھ ایسے لوگوں سے ملاپ رکھو، مبادا ان کی ہٹ دھرمی میں اضافہ ہو اور حق سے ان کا فاصلہ بڑھتا جائے۔ تمہاری طرف سے حسن خلق اور کھلے دل کے ساتھ میل ملاپ کا مظاہرہ ایک تو ان کے دباؤ میں کمی کر دے گا اور دوسرے ممکن ہے کہ ان کی ایمان کی طرف کشش کا موجب بن جائے۔ اس طرح کا حکم قرآن مجید میں کئی مرتبہ آیا ہے۔ مثلاً سُورہٴ زخرف آیت ۸۹ میں ہے۔ "فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَقُلْ سَلَامٌ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ" ان سے چشم پوشی کیجیےٴ اور کہہ دیجیےٴ "سلام ہو تو پر، لیکن بہت جلد وہ اپنا انجام جان لیں گے۔" اصولی طور پر بے سمجھ لوگوں کے ساتھ سختی کا برتاؤ اور سزا پر اصرار، عام طور پر کسی خاطر خواہ نتیجے کا باعث نہیں بن سکتا اور ان سے بے پرواہی اور عظمت کا مظاہرہ ہی انہیں بیدار کرنے کا ذریعہ اور ہدیت کا عامل بنتا ہے۔ البتہ یہ کوئی کلیہ قاعدہ نہیں ہے، کیوں کہ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ کچھ مقام ایسے بھی ہوتے ہیں جہاں پر سختی اور سزا کے سوا کوئی اور چارہٴ کار نہیں ہوتا، لیکن ایسا اتفاق کم ہوتا ہے۔ ایک نُکتہ یہ بھی ہے کہ ویسے تو تمام دن خدا کے دن ہوتے ہیں لیکن "أیّام اللہ" کا اطلاق خاص دنوں پر ہوتا ہے، کیونکہ یہ ان کی اہمیّت اور عظمت کی علامت ہے۔ اس قسم کی تعبیر قرآن مجید میں دو مقام پر آئی ہے، ایک تو اسی آیت میں اور دوسرے سُورہٴ ابراہیم میں، جہاں اس کے وسیع معانی ہیں۔ احادیث میں "أیّام اللہ" کی تفسیر میں مختلف دنوں کی نشاندہی کی گئی ہے، ان میں سے علی بن ابراہیم کی تفسیر میں مذکور ہے کہ "أیّام اللہ" سے تین روز مراد ہیں۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کا دن، موت کا دن اور قیامت کا دن۔ (بحوالہ: تفسیر نورالثلقین، جلد ۲، ص ۵۲۶)۔ ایک حدیث پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: "أيّام اللہ نعمائه، وبلائه ببلائه سبحانه۔" "أیام اللہ" خدا کی نعمتوں کے دن ہیں اور اس کی طرف سے آزمائش بتلاؤں کے ذریعے ہوتی ہے۔ (بحوالہ: تفسیر نورالثلقین، جلد ۲، ص ۵۲۶)۔ بہرحال یہ تعبیر روز قیامت کی اہمیّت کی علامت ہے، خداوند عالم کی آشکار اور واضح صورت میں ہر چیز اور ہر شخص پر حاکمیت کا دن، عظیم عدل و انصاف کا دن۔ تاکہ اس قسم کے لوگ اس عظمت اور عفو و درگزر سے ناجائز فائدہ اٹھائیں، اس لیے آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: تاکہ خداوند عالم اس دن ہر قوم کو اس کے ان اعمال کی جزا دے جو وہ انجام دیتی رہی ہے (لِيَجْزِيَ قَوْمًا بِما كَانُوا يَكْسِبُونَ)۔ کچھ مفسرین نے اس جُملے کو کفّار اور مجرمین کے لیے ایک قسم کی دھمکی مراد لیا ہے جبکہ بعض نے اسے مومنین کے عفو و درگزر کی جزاء کے معنوں میں لیا ہے۔ لیکن اس بات سے کوئی چیز مانع نہیں ہے کہ یہ کفار کے لیے دھمکی اور مومنین کے لیے خوشخبری ہو، جیسا کہ بعد کی آیت کی جزا کے معنوں میں لیا ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے: جو شخص نیک کام کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدہ کے لیے کرتا ہے اور بُرا کام کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہو گا، پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور اپنے اعمال کا نتیجہ پا لو گے (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهَا ثُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ)۔ یہ تعبیر جو قرآنی آیات میں کئی بار ذکر ہوئی ہے اور مختلف عبارتوں کے ساتھ بیان ہوئی ہے اُن لوگوں کا جواب ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ہماری اطاعت یا نافرمانی خدا کو کیا نفع یا نقصان پہنچا سکتی ہے اور اس کی اطاعت یا معصیت سے نہی پر اصرار کے کیا معنی ہیں؟ یہ آیت کہتی ہے کہ یہ سب نفع یا نقصان تمہارے ہی لیے ہے اور تم ہی اپنے اعمال صالحہ کے پر تو میں ارتقائی مراحل طے کرو گے اور قربِ الہٰی کے آسمان تک پرواز کرو گے، یا جرم و گناہ کے نتیجے میں پستی میں جا گرو گے اور غضبِ الہٰی کے گڑھوں اور رحمتِ خداوندی کے بعد اس کی ابدی لعنت کی اتھاہ گہرائیوں میں جا گرو گے۔ ادائے فرض کے تمام پروگرام ، انبیاء کی بعثت اور کتابوں کا نزُول بھی اسی لیے ہے۔ اسی لیے قرآن مجید ایک جگہ پر فرماتا ہے۔ "وَمَن يَشْكُرْ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ" "جو شخص شکر بجا لاتا ہے اپنے فائدہ ہی کے لیے شکر گزاری کرتا ہے اور جو شخص کفر کرتا ہے تو خدا غنی و حمید ہے (لقمان۔۱۲)۔ ایک اور جگہ پر فرمایا گیا ہے: " فَمَنِ اهْتَدَى فَلِنَفْسِهِ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا " "جو شخص ہدایت حاصل کرتا ہے اپنے ہی فائدہ کے لیے کرتا ہے اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے، اس کا نقصان بھی اسے ہی ہو گا۔" ( زمر /۴۱)۔ ایک اور مقام پر ہے: " وَمَن تَزَكَّى فَإِنَّمَا يَتَزَكَّى لِنَفْسِهِ وَإِلَى اللهِ الْمَصِيرُ " "جو شخص پاکیزگی اپناتا ہے اپنے ہی فائدے کے لیے اپناتا ہے اور سب لوگوں کی بازگشت خدا ہی کے طرف ہے۔" (فاطر۔۱۸)۔ خلاصہ یہ کہ اس قسم کی تعبیریں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ "خدا کی طرف بلانے والے افراد" کی دعوت، ہر پہلو سے انسانیت کی ایک عظیم خدمت ہے نہ کہ خدا کی، جو ہر چیز سے بےنیاز اور نہ ہی خود انبیاء کی خدمت ہوتی ہے، کیونکہ ان کا اجر تو صرف خدا کے پاس ہے۔ اس حقیقت کی طرف توجہ، اطاعت الہٰی کی طرف اقدام اور گناہوں سے پرہیز کا ایک نہایت موٴثر عامل ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر سب تیرے لیے سرگرداں اور تیرے زیرِ فرمان ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 7گزشتہ آیات میں آیات الہٰی کی عظمت کے بارے میں گفتگو ہو رہی تھی۔ زیر تفسیر آیات بھی اس موضوع پر گفتگو کر رہی ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: یہ قرآن مجید سببِ ہدایت ہے (هَذَا هُدًى)۔ حق کو باطل سے جدا کرتا ہے، انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کو اُجاگر کرتا ہے، راہ حق کے راہیوں کا ہاتھ پکڑ کر انہیں منزل مقصود تک پہنچاتا ہے، لیکن جن لوگوں نے اپنے پیروکار کی آیتوں کا انکار کیا ہے، ان کے لیے سخت اور درد ناک عذاب ہے (وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مَّن رِّجْزٍ أَلِيمٌ)۔ کتاب مفرادت میں راغب کے بقول "رجز" (بروزن "حرص") کا اصلی معنی اضطراب، لرزہ اور بدنظمی ہے، خاص کر جب اُونٹ بیمار ہوتا ہے تو زبردست کمزوری کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے اور غیر منظم قدم اٹھاتا ہے، ایسی حالت کو عرب اپنی زبان میں "رجز" کہتے ہیں۔ طاعون کی بیماری سخت مصیبت یا زبردست برف باری اور ژالہ باری کو "رجز" کہتے ہیں، اِس طرح شیطانی وسوسوں وغیرہ پر بھی اس کلمہ کا اطلاق ہوتا ہے، کیونکہ یہ سب اضطراب و بےچینی، تزلزل اور بدنظمی کا باعث ہوتے ہیں اور اگر جنگی اشعار کو "رجز" (بروزن "عرض") کہتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان اشعار کے مقطع چھوٹے اور قریب ہوتے ہیں (یا پھر دشمن کے پیکر میں تزلزل اور اضطراب پیدا ہونے کی وجہ سے کہتے ہیں۔ پھر سلسلہٴ گفتگو کو توحید کی بحث کی جانب موڑ دیا گیا ہے، اس سُورت کی ابتدائی آیات میں بھی اسی ضمن میں گفتگو موجُود ہے مشرکین کو توحید اور خدا شناسی کے موثر درس دیئے گئے ہیں۔ کبھی قرآن ان کے احساسات کو جھنجوڑتے ہوتے کہتا ہے: خدا ہی تو ہے، جس نے دریا کو تمہارے لیے مسخر کر دیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور اس کے فضل سے تم اپنا حِصّہ حاصل کرو، شاید کہ اس کی نعمتوں کا شکر بجا لاؤ (اللهُ الَّذِي سخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِيَ الْفُلْكُ فِيهِ بِأَمْرِهِ وَلِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ)۔ کس ذات نے بحری جہازوں اور کشتیوں میں یہ خاصیّت خلق فرمائی ہے کہ وہ پانی میں ڈوبتی نہیں ہیں اور کس نے ان کی حرکت کے لیے پانی کو ایسا نرم بنایا ہے کہ وہ آرام سے اس پر چلتی رہتی ہیں اور کس نے ہواؤں کو حکم دیا ہے کہ وہ منظم صُورت میں سمندروں کی سطح پر چلتی رہیں اور کشتیوں کو اس پر رواں دواں رکھیں (یا کس نے بخارات کی طاقت کو ہواؤں کا جانشین بنایا ہے، تاکہ وہ ان عظیم جہازوں کو بڑی تیزی کے ساتھ جاری و ساری رکھیں؟ ہم جانتے ہیں کہ گزشتہ اور موجودہ دور میں انسان کے وسائل کی حمل و نقل کا عظیم ترین اور اہم ترین ذریعہ چھوٹی بڑی اور غول پیکر کشتیاں اور بحری جہاز ہیں جو سالہ بھر لاکھوں انسانوں اور ان سے زیادہ تجارتی مال کو دنیا کے دور دراز ترین علاقوں سے دوسری جگہ منتقل کرتے رہتے ہیں، بلکہ بعض بحری جہاز تو ایسے بھی ہیں جو ایک چھوٹے سے شہر جتنی وسعت اور آبادی کے حامل ہوتے ہیں اور تمام قسم کے وسائل اور ہر قسم کی چیزیں اُن میں موجود ہوتی ہیں۔ یقیناً اگر یہ تینوں طاقتیں موجود نہ ہوتیں تو انسان اپنی دوسری معمول کی سواریوں کے ذریعے حمل و نقل کی مشکلات کو کس طرح حل کر سکتا؟ ہر چند کہ دوسرے ذرائع آمد و رفت بھی اس کی نعمت ہیں اور اپنی اپنی جگہ پر مفید ہیں۔ پھر یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ سُورہٴ ابراہیم علیہ السلام کی بتیسویں آیت میں فرمایا گیا ہے: "وَسَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِيَ فِي الْبَحْرِ بِأَمْرِهِ" "کشتیوں کو تمہارے تابع فرمان کر دیا ہے اس کے حکم کے مطابق دریا میں چلتی رہیں۔" لیکن یہاں پر فرمایا گیا ہے: "دریا کو تمہارے تابع فرمان بنا دیا ہے اس میں کشتیاں چلتی رہیں" کیونکہ وہاں پر زیادہ نظر تسخیر پر ہے، لہذا اس کے فوراً بعد فرمایا گیا ہے: " وَسَخَّرَ لَكُمُ الْأَنْهَارَ" "اور اس نے نہروں کو بھی تمہارے لیے مسخر کر دیا ہے۔" لیکن یہاں پر کشتیوں کی تسخیر پیش نظر ہے۔ صُورت حال خواہ کچُھ ہو دونوں چیزیں حکمِ خدا کے مطابق انسان کے لیے مسخر اور اس کے تابع ہیں اور اس کی خدمت کے لیے کمربستہ ہیں۔ اس تسخیر کا مقصد یہ ہے کہ تم "فضل خداوندی سے اپنا حِصّہ پاؤ" کیونکہ اس قسم کی تعبیر عام طور پر تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ البتہ مسافرین کی نقل وحرکت اور انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کی تعبیر بھی اس میں پائی جاتی ہے۔ اور خداوند تعالیٰ کے فضل سے بہرہ برداری کا اصل مقصد یہ ہے کہ انسان کے احساس شکر گزاری کو متحرک کیا جا سکے اور اس کے تمام احساسات کو ایک جگہ متمرکز کیا جا سکے تاکہ اس طرح سے انسان "معرفة اللہ" کی راہوں کو طے کر سکے۔ لفظ "فلک" (کشتی) جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں مفرد اور جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ دریاؤں، کشتیوں اور ان کے فائدوں اور برکتوں کی بیشتر وضاحت کے لیے تفسیر نمونہ کی گیارہویں جلد سورہٴ نحل کی ۱۴ ویں آیت کی تفسیر کا مطالعہ فرمائیں۔ کشتیاں اور بحری جہاز ایسی نعمت ہیں جو انسان کی روز مرّہ کی زندگی سے زیادہ قریب کا تعلق رکھتی ہے۔ اس کے ذکر کے بعد تمام مخلوق کی تسخیر کو کلی طور پر بیان فرماتے ہُوئے کہتا ہے: اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچُھ زمینوں میں ہے سب کو اپنی طرف سے تمہارے لیے مسخر کر دیا ہے (وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِّنْهُ)۔ (تشریحی نوٹ: "جَمِيعًا مِّنْهُ" کے اعراب اور اس کی ترکیب میں متعدد احتمال مِلتے ہیں۔ زمخشری نے اپنی تفسیر کشاف میں دو احتمال ذکر کیے ہیں، پہلا یہ کہ "جَمِيعًا مِّنْهُ"، "مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ" کا حال واقع ہو رہا ہے۔ یعنی یہ سب کچھ تمہارے لیے مسخر ہے، حالانکہ اُسی کی طرف سے ہے دوسرا یہ کہ مبتدا محذوف کی خبر ہے جو تقدیری صورت میں یوں ہے۔ "ھی جَمِيعًا مِّنْهُ" بعض مفسرین نے ایک اور احتمال بھی ذکر کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ جملہ "ما فی السماوات وما فی الارض" کی تاکید ہے)۔ اس نے تمہیں اس قدر حیثیت، قدر و قیمت اور عظمت عطا فرمائی ہے کہ کائنات کی تمام چیزیں تمہارے لیے مسخر کر دی ہیں اور وہ تمہارے مفادات کی نگرانی کر رہی ہیں۔ آفتاب اور ماہتاب، باد اور باران، پہاڑ اور درّے، جنگل اور صحرا، درخت اور حیوان، معدنیات اور زیرِ زمین ذخائر غرض اس کائنات کی تمام چیزوں کو اس نے تمہاری خدمت کے لیے وقف کر رکھا ہے اور ہر چیز کو تمہارے زیر فرمان کر دیا ہے تاکہ تم اس کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ اور غفلت کا شکار نہ ہو جاؤ۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ وہ فرماتا ہے: "جَمِيعًا مِّنْهُ" یہ تمام چیزیں خصوصیات اور اختلاف کے باوجُود اسی ذات کی پیدا کردہ ہیں اور اسی کے زیر فرمان تمہاری خدمت کے لیے حاضر ہیں۔ جب تمام نعمتیں اس کی جانب سے ہیں اور ساری کائنات کی خالق، مدبر اور پروردگار اسی کی ذات پاک ہے تو پھر انسان دوسروں کے پیچھے کیوں جائے اوراپنا سر ضعیف مخلوق کے آستانے پر کیوں جھکائے اور منعم حقیقی کی معرفت سے کیوں غافل ہو؟ اسی لیے آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: اس میں اہل فکر کے لیے اہم نشایاں ہیں (إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لَّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ)۔ پہلی آیت میں انسانی احساسات سے استفادہ کیا گیا ہے اور اس آیت میں ان کے عقول و افکار سے کام لیا گیا ہے۔ کیونکہ خداوند مہربان ہر ممکنہ زبان کے ذریعے اپنے بندوں کے ساتھ باتیں کرتا ہے، کبھی تو دل کی زبان کے ساتھ عقل و فکری زبان کے ساتھ، ان سب میں سوائے ایک ہدف کے اور کچھ بھی مطلوب و مقصُود نہیں اور وہ ہے غافل انسانوں کی بیداری اور انہیں خدائی راستے پر گامزن کرنا۔ کائنات کی مختلف موجودات کی تسخیر کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد ۶ میں سُورہٴ ابراہیم کی آیات ۳۱ تا ۳۳ کی تفسیر میں تفصیل کے ساتھ گفتگو کی گئی ہے۔ پھر کفّار کے ساتھ میل جُول کے موقع پر مومنین کو ایک اخلاقی سبق دیا جا رہا ہے تاکہ سابق منطقی بحثوں کو اس کے ذریعے سے پایہٴ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ اسی لیے روئے سخن پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے: مومنین سے کہہ دے کہ جو لوگ خدا کے دنوں (روزِ قیامت) کی توقع نہیں رکھتے، ان سے درگزر کریں اور سخت گیری سے کام نہ لیں (قُل لِّلَّذِينَ آمَنُوا يَغْفِرُوا لِلَّذِينَ لاَ يَرْجُون أَيَّامَ اللهِ)۔ ممکن ہے کہ وہ ایمان اور خدائی تربیّت کی مبادیات سے دُور ہونے کی وجہ سے سخت اور نامناسب روش اپنائے ہوئے ہوں اس لیے غلط الفاظ استعمال کرتے ہوں، لہذا تمہارا فرض بنتا ہے کہ تم اپنی طرف سے عظمت کا ثبوت دو اور کھلے دل کے ساتھ ایسے لوگوں سے ملاپ رکھو، مبادا ان کی ہٹ دھرمی میں اضافہ ہو اور حق سے ان کا فاصلہ بڑھتا جائے۔ تمہاری طرف سے حسن خلق اور کھلے دل کے ساتھ میل ملاپ کا مظاہرہ ایک تو ان کے دباؤ میں کمی کر دے گا اور دوسرے ممکن ہے کہ ان کی ایمان کی طرف کشش کا موجب بن جائے۔ اس طرح کا حکم قرآن مجید میں کئی مرتبہ آیا ہے۔ مثلاً سُورہٴ زخرف آیت ۸۹ میں ہے۔ "فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَقُلْ سَلَامٌ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ" ان سے چشم پوشی کیجیےٴ اور کہہ دیجیےٴ "سلام ہو تو پر، لیکن بہت جلد وہ اپنا انجام جان لیں گے۔" اصولی طور پر بے سمجھ لوگوں کے ساتھ سختی کا برتاؤ اور سزا پر اصرار، عام طور پر کسی خاطر خواہ نتیجے کا باعث نہیں بن سکتا اور ان سے بے پرواہی اور عظمت کا مظاہرہ ہی انہیں بیدار کرنے کا ذریعہ اور ہدیت کا عامل بنتا ہے۔ البتہ یہ کوئی کلیہ قاعدہ نہیں ہے، کیوں کہ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ کچھ مقام ایسے بھی ہوتے ہیں جہاں پر سختی اور سزا کے سوا کوئی اور چارہٴ کار نہیں ہوتا، لیکن ایسا اتفاق کم ہوتا ہے۔ ایک نُکتہ یہ بھی ہے کہ ویسے تو تمام دن خدا کے دن ہوتے ہیں لیکن "أیّام اللہ" کا اطلاق خاص دنوں پر ہوتا ہے، کیونکہ یہ ان کی اہمیّت اور عظمت کی علامت ہے۔ اس قسم کی تعبیر قرآن مجید میں دو مقام پر آئی ہے، ایک تو اسی آیت میں اور دوسرے سُورہٴ ابراہیم میں، جہاں اس کے وسیع معانی ہیں۔ احادیث میں "أیّام اللہ" کی تفسیر میں مختلف دنوں کی نشاندہی کی گئی ہے، ان میں سے علی بن ابراہیم کی تفسیر میں مذکور ہے کہ "أیّام اللہ" سے تین روز مراد ہیں۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کا دن، موت کا دن اور قیامت کا دن۔ (بحوالہ: تفسیر نورالثلقین، جلد ۲، ص ۵۲۶)۔ ایک حدیث پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: "أيام اللہ نعمائه، وبلائه ببلائه سبحانه۔" "أیّام اللہ" خدا کی نعمتوں کے دن ہیں اور اس کی طرف سے آزمائش بلاؤں کے ذریعے ہوتی ہے۔ (بحوالہ: تفسیر نورالثلقین، جلد ۲، ص ۵۲۶)۔ بہرحال یہ تعبیر روز قیامت کی اہمیّت کی علامت ہے، خداوند عالم کی آشکار اور واضح صورت میں ہر چیز اور ہر شخص پر حاکمیت کا دن، عظیم عدل و انصاف کا دن۔ تاکہ اس قسم کے لوگ اس عظمت اور عفو و درگزر سے ناجائز فائدہ اٹھائیں، اس لیے آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: تاکہ خداوند عالم اس دن ہر قوم کو اس کے ان اعمال کی جزا دے جو وہ انجام دیتی رہی ہے (لِيَجْزِيَ قَوْمًا بِما كَانُوا يَكْسِبُونَ)۔ کچھ مفسرین نے اس جُملے کو کفّار اور مجرمین کے لیے ایک قسم کی دھمکی مراد لیا ہے جبکہ بعض نے اسے مومنین کے عفو و درگزر کی جزاء کے معنوں میں لیا ہے۔ لیکن اس بات سے کوئی چیز مانع نہیں ہے کہ یہ کفار کے لیے دھمکی اور مومنین کے لیے خوشخبری ہو، جیسا کہ بعد کی آیت کی جزا کے معنوں میں لیا ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے: جو شخص نیک کام کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدہ کے لیے کرتا ہے اور بُرا کام کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہو گا، پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور اپنے اعمال کا نتیجہ پا لو گے (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهَا ثُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ)۔ یہ تعبیر جو قرآنی آیات میں کئی بار ذکر ہوئی ہے اور مختلف عبارتوں کے ساتھ بیان ہوئی ہے اُن لوگوں کا جواب ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ہماری اطاعت یا نافرمانی خدا کو کیا نفع یا نقصان پہنچا سکتی ہے اور اس کی اطاعت یا معصیت سے نہی پر اصرار کے کیا معنی ہیں؟ یہ آیت کہتی ہے کہ یہ سب نفع یا نقصان تمہارے ہی لیے ہے اور تم ہی اپنے اعمال صالحہ کے پر تو میں ارتقائی مراحل طے کرو گے اور قربِ الہٰی کے آسمان تک پرواز کرو گے، یا جرم و گناہ کے نتیجے میں پستی میں جا گرو گے اور غضبِ الہٰی کے گڑھوں اور رحمتِ خداوندی کے بعد اس کی ابدی لعنت کی اتھاہ گہرائیوں میں جا گرو گے۔ ادائے فرض کے تمام پروگرام ، انبیاء کی بعثت اور کتابوں کا نزُول بھی اسی لیے ہے۔ اسی لیے قرآن مجید ایک جگہ پر فرماتا ہے۔ "وَمَن يَشْكُرْ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ" "جو شخص شکر بجا لاتا ہے اپنے فائدہ ہی کے لیے شکر گزاری کرتا ہے اور جو شخص کفر کرتا ہے تو خدا غنی و حمید ہے (لقمان۔۱۲)۔ ایک اور جگہ پر فرمایا گیا ہے: " فَمَنِ اهْتَدَى فَلِنَفْسِهِ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا " "جو شخص ہدایت حاصل کرتا ہے اپنے ہی فائدہ کے لیے کرتا ہے اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے، اس کا نقصان بھی اسے ہی ہو گا۔" ( زمر /۴۱)۔ ایک اور مقام پر ہے: " وَمَن تَزَكَّى فَإِنَّمَا يَتَزَكَّى لِنَفْسِهِ وَإِلَى اللهِ الْمَصِيرُ " "جو شخص پاکیزگی اپناتا ہے اپنے ہی فائدے کے لیے اپناتا ہے اور سب لوگوں کی بازگشت خدا ہی کے طرف ہے۔" (فاطر۔۱۸)۔ خلاصہ یہ کہ اس قسم کی تعبیریں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ "خدا کی طرف بلانے والے افراد" کی دعوت، ہر پہلو سے انسانیت کی ایک عظیم خدمت ہے نہ کہ خدا کی، جو ہر چیز سے بےنیاز اور نہ ہی خود انبیاء کی خدمت ہوتی ہے، کیونکہ ان کا اجر تو صرف خدا کے پاس ہے۔ اس حقیقت کی طرف توجہ، اطاعت الہٰی کی طرف اقدام اور گناہوں سے پرہیز کا ایک نہایت موٴثر عامل ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر بنی اسرائیل کی ناشکری
Tafsīr Nemūna · Vol. 7گزشتہ آیات میں خداوندِ عالم کی مختلف نعمتوں، شکر گزاری اور اعمالِ صالح سے متعلق گفتگو ہو رہی تھی، اِن آیات میں ان گزشتہ اقوام کا تذکرہ ہے جن کو خدا کی نعمتیں ملیں، انہوں نے ان کی قدردانی نہیں کی۔ ارشاد ہوتا ہے: ہم نے بنی اسرائیل کوآسمانی کتاب، حکومت اور نبّوت عطا کی اور انہیں پاکیزہ رزق دیا اور انہیں (اپنے) زمانے کے تمام لوگوں پر فضیلف عطا کی (وَلَقَدْ آتَیْنا بَنی إِسْرائیلَ الْکِتابَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّةَ وَرَزَقْناهُمْ مِنَ الطَّیِّباتِ وَفَضَّلْناهُمْ عَلَی الْعالَمین)۔ اس آیت میں ان پانچ نعمتوں کا تذکرہ ہے جو خداوندِ عالم بنی اسرائیل کو عطا کی تھیں، بعد میں ذکر ہونے والی نعمت کو ملا کر یہ چھ عظیم نعمتیں بن جاتی ہیں۔ سب سے پہلی نعمت تو آسمانی کتاب یعنی تورات ہے جو دینی معارف، حلال و حرام اور ہدایت و سعادت کی راہیں بیان کرتی تھی۔ دوسر ی نعمت حکومت اورمنصب ہے ،کیونکہ ہم جانتے ہیں بنی اسرائیل ایک طویل عرصے تک نہایت ہی طاقت ور اور وسیع وعریض حکومت کے مالک رہے ہیں ، نہ صرف حضرت داؤد اور سلیمان علیہمالسلام منصب حکومت پرفائز رہے ہیں، بلکہ بنی اسرائیل کے دوسر ے بہت سے افراد بھی اپنے دور کے طاقت ور حکمران رہے ہیں۔ قرآنی تعبیر میں "عام طور پر فیصلہ کرنے کو کہتے ہیں، لیکن چونکہ عدل و انصاف کا محکمہ ہمیشہ حکومت ہی کا ایک اہم حِصّہ ہوتا ہے اور حکومت کی امداد اور طاقت کے بغیر " قاضی" کے فیصلوں کی کوئی اہمیّت نہیں ہوتی لہذا التزامی دلالت کے طور پر اس کا اطلاق حکرانی پر بھی ہوتا ہے۔ تورات کے بارے میں سُورہٴ مائدہ کی ۴۴ ویں آیت میں ہے کہ: " يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُواْ" "جو انبیاء حکم خدا کے سامنے سر جھکا چکے تھے وہ تورات ہی کے ذریعے لوگوں کے درمیان فیصلے کرتے تھے۔" ان پر خدا کی طرف سے تیسرے نعمت "نبّوت" کی تھی، کیونکہ خداوند عالم نے بنی اسرائیل میں سے بہت انبیاء منتخب کئے تھے۔ چنانچہ ایک روایت میں ہے: بنی اسرائیل میں سے برگزیدہ انبیاء کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ تھی۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۹، ص ۷۵)۔ ایک اور روایت میں ہے کہ بنی اسرائیل کے انبیاء کی تعداد چار ہزار افراد تھی ( بحوالہ: بحار الانوار طبع جدید، جلد۱۱، ص ۳۱)۔ یہ سب ان پر خدا کی نعمتیں تھیں۔ چوتھے مرحلے پر مادی نعمتوں کا تذکرہ ہوتا ہے، نہایت ہی جامع اور نانع تذکرہ، ارشاد ہوتا ہے: ہم نے انہیں پاک و پاکیزہ روزی عطا فرمائی (وَرَزَقْنَاهُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ)۔ پانچویں نعمت بلاشرک غیرے فضیلت و برتری اور قدرت و طاقت تھی، جیسا کہ اسی آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا گیا ہے: اور انہیں اپنے زمانے کے تمام لوگوں پر فضیلت عطا کی (ِوَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ)۔ اس میں شک نہیں ہے کہ یہاں پر "عالمین" سے مراد زمانے ہی کے لوگ ہیں، کیونکہ سورہٴ آل عمران کی۱۱۰ ویں آیت کہتی ہے: "كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ" "تم مسلمان ایک بہترین امت تھے، جنہوں نے انسانوں کے فائدہ کے لیے عالم وجُود میں قدم رکھا۔" ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ حضرت رسالت مآب محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم افضل الانبیاء ہیں اسی طرح آپ کی اُمّت بھی افضل ترین امت ہوں گی، جیسا کہ سُورہٴ نحل کی ۸۹ ویں آیت میں ہے: "وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِي كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا عَلَيْهِم مِّنْ أَنفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيدًا عَلى هؤُلاءِ" "اس دن کا سوچیےٴ جب ہم ہر اُمت میں سے ایک گواہ خُود انہی میں سے معبُوث کریں گے اور آپ کو ان سب پر گواہ ٹھہرائیں گے۔" بعد کی آیت میں خداوند عالم اس چھٹی نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے فرماتا ہے جو اس قدر ناشناس قوم کو عطا کی گئی، فرماتا ہے: اور ہم نے ان کو نبّوت اور شریعت کے روشن دلائل عطا کئے (وَآتَيْنَاهُم بَيِّنَاتٍ مِّنَ الْأَمْرِ)۔ ممکن ہے "بینات" سے ان روشن معجزات کی طرف اشارہ ہو جو خداوندِ عالم نے جناب مُوسیٰ بن عمران اور بنی اسرائیل کے دوسرے انبیاء کو عطا فرمائے، یا پھر منطقی اور آشکار دلائل و براہین، قوانین اور محکم اور پختہ احکام کی طرف اشارہ ہو۔ بعض مفسرین کا احتمال ہے کہ یہ تعبیران روشن علامات و آیات کی طرف اشارہ ہے جو خداوندِ عالم پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے بارے میں انہیں عطا کی تھیں کہ جن کے ذریعے وہ پیغمبر خاتم الأنبیاء علیہما السلام کو اپنی اولاد کی طرح پہچان سکتے تھے، جیسا کہ سُورہٴ بقرہ میں ارشاد ہوتا ہے: "الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ" "جنہیں ہم نے کتاب عطا کی وہ اُسے (رسول اسلام کو) یوں پہچانتے ہیں جیسے اولاد کو پہچانتے ہیں۔" (بقرہ۔ ۱۴۶)۔ لیکن اگر یہ تمام معانی آیت میں جمع کر لیے جائیں تو بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ بہرحال، ان تمام عظیم نعمتوں اور روشن دلیلوں کے ہوتے ہوئے اختلاف کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ گئی تھی، لیکن ان ناشکروں نے بہت جلد آپس میں اختلاف کھڑے کر دیئے، جیسا کہ اسی آیت کے ضمن میں قرآن فرماتا ہے: انہوں نے اختلاف نہیں کیا مگر اپنے پاس علم و معرفت کے آ جانے کے بعد اور اس اختلاف کا منشاء دہی جاہ طلبی اور بالا دستی کی خواہش تھی (فَمَا اخْتَلَفُوا إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمْ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ)۔ جی ہاں! انہوں نے سرکشی کے جھنڈے بلند کر دیئے اور ایک گروہ دوسرے کی جان کے درپے ہو گیا، یہاں تک کہ اتحاد و اتفاق کے ذرائع کو اختلاف اور تفرقہ بازی کے اسباب بنا لیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی طاقت کمزوری میں بدل گئی، اِن کی عظمت کے ستارے ڈوب گئے، ان کی حکومت دگر گوں ہو گئی اور خود دربدر کی ٹھوکریں کھانے لگے۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سے مراد وہ اختلاف ہیں جو انہوں نے پیغمبر ِاسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفات جاننے کے بعد اُن کے بارے میں ظاہر کیے۔ قرآن مجید اسی آیت کے آخر میں انہیں خبردار کرتے ہُوئے کہتا ہے: لیکن یہ لوگ جن باتوں میں اختلاف کر رہے ہیں، قیامت کے دن تمہارا پروردگار ان کے بارے میں فیصلہ کر دے گا۔ (إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ)۔ تو گویا آپس میں اختلاف کر کے ایک تو انہوں نے دنیا میں اپنی عظمت اور طاقت کو کھو دیا اور دوسرے اپنے لیے آخرت کا عذاب مول لے لیا۔ خداوندِ عالم نے بنی اسرائیل کو جو نعمتیں عطا کی تھیں اور انہوں نے کفرانِ نعمت کیا، اس کے ذکر کے بعد اس عظیم نعمت کا بیان ہے جو خالقِ کائنات نے پیغمبر اسلام ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور دوسرے مسلمانوں کو عطا فرمائی ہے، ارشاد ہوتا ہے: پھر ہم نے تجھے برحق شریعت اور دین پر برقرار رکھا (ثُمَّ جَعَلْنَاكَ عَلَى شَرِيعَةٍ مِّنَ الْأَمْرِ)۔ "شر یعت" کا معنی ایسا راستہ ہے جو پانی تک پہنچنے کے لیے دریا وغیرہ کے کنارے پر بناپا جاتا ہے کہ جہاں پر پانی کی سطح دریا حاصل سے نیچے ہوتی ہے۔ بعد ازاں اس کا اطلاق ہر اس راستے پر ہونے لگا جو انسان کو منزل مقصود تک پہنچاتا ہے اور دینِ حق کے بارے میں اس کے استعمال کی وجہ یہ ہے کہ وہ دین حق انسان کو وحی کے سرچشمہ اور خدا کی رضا اور سعادت ابدی تک پہنچاتا ہے جو آبِ حیات کے مانند ہے یہ لفظ قرآن مجید میں صرف ایک بار استعمال ہوا ہے اور وہ بھی صرف اسلام کے بارے میں۔ یہاں پر "ألأمر" سے مراد دین حق ہے، جس کی طرف گزشتہ آیت میں اشارہ ہو چکا ہے، جہاں پر کہا گیا ہے: " بَيِّنَاتٍ مِّنَ الْأَمْرِ" چونکہ یہ راستہ، نجات اور کامیابی کا ضامن ہوتا ہے، لہٰذا اس کے فوراً بعد فرمایا گیا ہے۔ "اے میرے رسُول! بس تو اس کی پیروی کرتا رہ (فَاتَّبِعْهَا)۔ اور چونکہ اس کے برعکس جاہلوں کی خواہشات کی پیروی ہی ہوتی ہے لہذا آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: اور نادان سرکشوں کی خواہشاتِ نفسانی کی پیروی نہ کرنا (وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ)۔ حقیقت یہ ہے کہ دو راستوں کے علاوہ تیسرا راستہ ہے، ایک تو انبیاء اور وحی کا راستہ اور دوسرے جاہلوں کی خواہشات نفسانی کا راستہ، اگر کوئی شخص پہلے راستے سے مُنہ موڑلے گا تو دوسرے راستے پر چل پڑے گا اور اگر جاہلوں کے راستے سے روگردانی کرے گا تو انبیاء کی راہوں پر چل نکلے گا، اسی لیے تو قرآن مجید نے ہدایت کے ہر اس طرزِ عمل پر خط تنسیخ کھینچ دیا ہے جو سرچشمہٴ وحی سے مدد حاصل نہیں کرتا۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ رؤسائے قریش پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر عرض کرنے لگے: آیئے! آپ اپنے بزرگوں کے دین کی طرف پلٹ آیئے، کیونکہ وہ ایک توآپ سے افضل تھے اور دوسرے صحت مند۔ اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی مکّہ میں ہی تھے کہ اس موقع پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی۔ (بحوالہ: تفسیر کبیر فخر الدین رازی، جلد ۲۷، ص ۲۶۵)۔ اس میں ان قریشیوں کو جواب دیا گیا ہے کہ حق تک پہنچنے کا راستہ آسمانی وحی ہے جو تجھ پر نازل ہوئی ہے، نہ کہ جن خواہشات کا یہ قر یشی جاہل تقاضا کرتے ہیں۔ ہمیشہ سچے دینی رہبروں نے جب بھی کوئی تازہ اور پاک دین پیش کیا، انہیں جہلاء کے ایسے ہی وسوسوں کا سامنا کرنا پڑا، وہ کہتے ہیں کہ کیا تم بہتر سمجھتے ہو یا تمہارے وہ بزرگ اور آباؤ اجداد تم سے پہلے گزر چکے ہیں؟ ان کا اصرار ہو تاکہ وہ اسی خرافاتی روش کو اپنائیں جس پر وہ لوگ خود گامزن ہیں، اگر ان کی اس قسم کی تجویز پر عمل درآمد کیا جاتا تو انسان ارتقاء کی طرف ایک قدم بھی نہ اُٹھا سکتا۔ بعد کی آیت درحقیقت، مشرکین کے آگے جُھکنے کی نہی کی ایک دلیل اور علّت ہے، ارشاد ہوتا ہے: یہ لوگ خدا کے مقابلے میں نہ تو تجھے بےنیاز کر سکتے ہیں اور نہ عذاب سے بچا سکتے ہیں (إِنَّهُمْ لَن يُغْنُوا عَنكَ مِنَ اللهِ شَيئًا)۔ اگر کوئی شخص ان کے باطل دین کی پیروی کرے گا اور عذاب الہٰی اس کے دامن گیر ہو گا تو یہ لوگ ہرگز ہرگز اس کی امداد نہیں کر سکیں گے اور اگر خداوند عالم کوئی نعمت اس سے سلب کر لے تو وہ لوگ اس کی تلافی نہیں کر سکتے۔ اس آیت میں اگرچہ روئے سخن پیغمبر اسلام کی ذات کی طرف ہے، لیکن مراد تمام مومنین ہیں۔ پھر فرمایا گیا ہے: "ظالم لوگ ایک دوسرے کے مددگار ہیں (وإِنَّ الظَّالِمِينَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ)۔ یہ سب ایک قماش کے لوگ ہیں اور ایک ہی راستے کے راہی ہیں، سب کمزور و ناتواں ہیں۔ لیکن یہ باور بھی آپ ہرگز نہ کریں کہ آپ اور دوسرے باایمان افراد اس وقت اگر اقلیّت میں ہیں، تو آپ لوگوں کا کوئی یارو مددگار نہیں ہے، کیونکہ "اللہ پرہیزگاروں کا مددگار ہے۔" (وَاللهُ وَلِيُّ الْمُتَّقِينَ)۔ یہ ٹھیک ہے کہ بظاہر وہ لوگ بہت بڑی تعداد میں ہیں اور بڑی طاقت و دولت کے ماک بھی ہیں، لیکن حق کی بےانتہا قدرت کے سامنے تو وہ ایک ناچیز ذرّے سے زیادہ قیمت نہیں رکھتے۔ زیر تفسیر سلسلے کی آخری آیت میں گزشتہ مضامین اور دینِ الہٰی کی پیروی کی طرف انبیاء کی دعوت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: یہ قرآن اور شریعت ان لوگوں کے لیے بینائی کے وسائل اور ہدایت و رحمت کے ذرائع ہیں جو ان پر یقین رکھتے ہیں (هَذَا بَصَائِرُ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّقَوْمِ يُوقِنُونَ)۔ "بصائر" جمع ہے "بصیرت" کی جس کے معنی ہیں بینائی، ہر چند کہ یہ لفظ زیادہ تر عقلی اور فکری بنیش کے بارے میں بولا جاتا ہے، لیکن کبھی ان سب امور پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے جو مطلب کے ادراک اور فہم کا سبب ہوتے ہیں۔ پھر یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ "یہ قرآن اور شریعت بینائیاں ہیں۔" یعنی یہ خود عین بینائی ہیں، وہ بھی نہ صرف ایک بینائی بلکہ کئی بینائیاں جو نہ صرف ایک پہلو کے لحاظ سے بلکہ تمام پہلوؤں کی رُو سے زندگی میں انسان کو صحیح بنیش عطا کرتی ہیں۔ اس قسم کی تعبیرات قرآن مجید کی کئی اور آیات میں بھی ہیں، جن میں سے ایک سُورہ انعام کی آیت ۱۰۴ بھی ہے، جس میں ارشاد ہوتا ہے: "قَدْ جَاءَكُم بَصَآئِرُ مِن رَّبِّكُمْ" "تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس بینائیاں آ چکی ہیں۔" یہاں پر آیت میں تین موضوع بیان ہوئے ہیں، ایک "بَصَائِر" دوسرے "ہدایت" اور تیسرے "رحمت" کہ بالترتیب تینوں ایک دوسرے کے علّت و معلول بن رہے ہیں، روشنی عطا کرنے والی آیات اور بینائی عطا کرنے والی شریعت انسان کو ہدایت کی طرف لے جاتی ہیں اور ہدایت بھی رحمت الہٰی کا ذریعہ ہے۔ یہ بات بھی دل چسپ ہے کہ "بصائر" کو عامۃ النّاس کے لیے بیان کیا گیا ہے، لیکن "ہدایت" اور "رحمت" کو ان لوگوں سے مخصوص کیا گیا ہے جو صاحبان یقین ہیں اور ایسا ہونا بھی چاہیئے، کیونکہ قرآنی آیات کسِی قوم اور قبیلے سے مخصوص ہیں، بلکہ جو لوگ بھی "النّاس" کے مفہوم میں آتے ہیں، اس میں شریک ہیں۔ اس میں زمان و مکان کی کوئی قید نہیں ہے، لیکن یہ ایک فطری امر ہے کہ ہدایت یقین کی ایک شاخ ہے اور رحمتِ خداوندی بھی اسی کا نتیجہ ہوتی ہے، لہذا ہر ایک کے شامل حال نہیں ہو سکتی۔ بہرحال، یہ جو فرمایا گیا ہے کہ قرآن میں عین بصیرت اور عین ہدایت و رحمت ہے، یہ ایک نہایت ہی خوبُصورت تعبیر ہے، جو اس آسمانی کتاب کی عظمت و تاثیر اور گہرائی و گیرائی پر دلالت کرتی ہے۔ لیکن ان لوگوں کے لیے جو رہر و منزل اور متلاشی حق ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر ان لوگوں کا مرنا جینا ایک سا نہیں ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 7گزشتہ آیات میں دو مختلف اور متضاد گروہوں کا ذکر تھا، ایک مومنین کا گروہ اور دوسرا کافروں کا یا ایک پرہیزگاروں کا اور دوسرا مجرمین کا، اس کے بعد زیر نظر آیات میں ان دونوں گروہوں کوآمنے سامنے رکھ کر ان کا باہمی تقابل کیا گیا ہے۔ پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: جو لوگ بُرے کاموں کے مرتکب ہُوئے ہیں کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم انکو اُن لوگوں کے برابر کر دیں گے جو ایمان لائے اور اچھے اچھے کام بھی کرتے رہے کہ ان کا مرنا جینا یکساں ہو گا (أًمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئَاتِ أَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَاءً مَّحْيَاهُم وَمَمَاتُهُمْ)۔ یہ لوگ کیا بُرا فیصلہ کرتے ہیں (سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ)۔ کیا یہ بات ممکن ہے کہ نور اور ظلمت، علم اور جہل، نیک اور بد اور ایمان اور کُفر یکساں ہوں؟ آیا یہ بات ممکن ہے کہ نا برابر امُور کا نتیجہ اور پھل مساوی ہو؟ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ نیک عمل مومنین، بےایمان مجرمین سے ہر جگہ علیٰحدہ ہیں، ایمان ہو یا کفر، نیک اعمال ہوں یا بُرے، ان میں سے ہر ایک کو ان کی زندگی اور موت دونوں عالتوں میں اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں۔ یہ آیت سورہٴ ص کی ۲۸ ویں آیت کے مانند ہے، جس میں فرمایا گیا ہے: "أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ" "کیا جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل دیئے ہم ان کو "ْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْضِ" جیسا بنا دیں؟ یا پرہیزگاروں کو فاجروں کے مانند؟ سورہٴ قلم کی ۳۵ و ۳۶ ویں آیت میں بھی فرمایا گیا ہے۔ "اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمینَ کَالْمُجْرِمینَ، ما لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُونَ" آیا ہم مُسلمانوں کو گناہگاروں جیسا بنا دیں؟ تمہیں کیا ہو گیا ہے۔ کیسے فیصلے کرتے ہو؟ "اجترحوا" ، "جرح" کے مادہ سے ہے، جس کا معنی وہ زخم یا اثر ہے جو بیماری یا کسِی اور تکلیف کی وجہ سے انسان کے بدن پر ہوتا ہے، چونکہ گناہ کا ارتکاب بھی گویا انسانی رُوح کو مجروح کر دیتا ہے، اسی لیے "اجتراح" کا مادہ گناہوں کی انجام دہی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، بلکہ بعض اوقات اس سے بھی وسیع تر معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے، یعنی ہر قسم کا اکتساب اور ارتکاب نیز انسانی اعضاء کو اس لیے "جوارح" کہتے ہیں کہ ان کے ذریعے انسان پر مقاصد انجام دیتا ہے اور جو کچُھ چاہتا ہے حاصل کرتا ہے اور کماتا ہے۔ بہرحال، یہ آیت کہتی ہے کہ یہ ایک غلط سوچ ہے کہ کوئی شخص یہ تصوّر کر لے کہ ایمان یا گناہ اور کُفر کا انسانی زندگی میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا، ایسا بالکل نہیں ہے، ان دونوں قسم کے لوگوں کی زندگی اور موت مکمل طور پر مختلف ہے۔ مومنین کرام ایمان اور عمل صالح کے پر تو میں ایک مخصوص قسم کے اطمینان کے حامل ہوتے ہیں، حتی کہ حوادثاتِ زمانہ کے سخت سے سخت ادوار بھی ان کی رُوح پر ذرہ برابر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔ جب کہ بےایمان اور گناہوں میں تھڑے ہوئے لوگ ہمیشہ مضطرب بے چین اور پریشان خیالی کا شکار رہتے ہیں۔ اگرچہ وہ نعمتوں میں سرمست ہوں، پھر بھی انہیں ہمیشہ ان کے زوال کا خطرہ رہتا ہے اور اگر مصیبت اور تکالیف میں مبتلا ہوں، بھی ان کے مقابلے کی تاب نہیں رکھتے، جیسا کہ سُورہٴ انعام کی ۸۲ ویں آیت میں ہے۔ "الَّذِينَ آمَنُواْ وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ أُوْلَـئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُونَ" "جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے اپنے ایمان کو شرک سے آلودہ نہیں کیا ان کے لیے اطمینان خاطر ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔" صاحب ایمان افراد خدا کے وعدوں پر مطمئن ہیں اور اس کی خاص عنایتوں کے زیر سایہ ہیں، جیسا کہ سُورہٴ مومن کی ۵۱ ویں آیت میں ہے۔ "إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ" "ہم اپنے رسُولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لے آئے ہیں، دُنیاوی زندگی میں بھی یقیناً مدد کرتے ہیں اور جس دن گواہ کھڑے ہوں گے، اس دن (بروز قیامت) بھی۔ نورِ ہدایت، پہلے گروہ کے لوگوں کے دل کو منور کرتا ہے اور وہ اپنی مقدس منزل مقصود کی جانب استوار اور مضبُوط قدموں کے ساتھ رواں دواں ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: "اللهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُواْ يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّوُرِ" "اللہ ایمان داروں کا ولی ہے، انہیں ظلمت سے نور کی طرف ہدایت کرتا ہے۔" (بقرہ۔ ۲۵۷)۔ لیکن دوسرا گروہ جس کی زندگی کا نہ تو کوئی واضح مقصد ہوتا ہے اور نہ ہی واضح پروگرام ہوتا ہے وہ ظلمت کی لہروں میں ٹامک ٹوئیاں مارتا پھرتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: "وَالَّذِينَ كَفَرُواْ أَوْلِيَآؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ" "جو لوگ کافر ہو گئے ہیں ان کے ولی طاغوت اور شیطان ہوتے ہیں کہ جو انہیں نُور سے نکال کر ظلمت کی طرف لے جاتے ہیں" (بقرہ۔ ۲۵۷)۔ موٴمنین کی یہ حالت تو اس جہان کی دُنیاوی زندگی کی ہے، لیکن بوقت وفات جو ان کے لیے عالمِ بقا کی جانب ایک دریچہ اور آخرت کے لیے ایک دروازہ ہوتا ہے، قرآن کی زبان میں ان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ: "الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَآئِكَةُ طَيِّبِينَ يَقُولُونَ سَلاَمٌ عَلَيْكُمُ ادْخُلُواْ الْجَنَّةَ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ" "پرہیزگاروں کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب فرشتے ان کی رُوح کو قبض کرتے ہیں تو وہ پاک و پاکیزہ ہوتے ہیں، فرشتے انہیں کہتے ہیں تم پر سلام ، بہشت میں داخل ہو جاؤ، یہ ان اعمال کا نتیجہ ہے جو تم انجام دیتے رہے ہو" (نحل۔ ۳۲)۔ جب کہ بےایمان مجرمین کے ساتھ دوسرے لفظوں میں بات کرتا ہے، جیسا کہ اسی سُورت (نحل ) کی ۲۸ ویں ۲۹ ویں آیات میں ہے کہ: "الَّذینَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلائِکَةُ ظالِمی اَنْفُسِهِمْ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ ما کُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوء ٍ بَلی إِنَّ اللہَ عَلیمٌ بِما کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ، فَادْخُلُوا اَبْوابَ جَهَنَّمَ خالِدینَ فیهَا فَلَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرینَ" "ظالم کافروں کی حالت یہ ہوتی ہے کہ جب فرشتے ان کی رُوح قبض کرتے ہیں تو وہ بےبسی کی حالت میں سر جھکا کر یہی کہتے ہیں کہ ہم بُرے کام نہیں کیا کرتے تھے، بلکہ جو کچھ تم کیا کرتے تھے خدا اس سے اچھی طرح آگاہ ہے، اب تم دوزخ سے داخل ہو جاؤ اور اس ہمیشہ رہو، یہ متکبرین کے لیے کیسا بُرا ٹھکانا ہے۔" خلاصہ ٴ کلام یہ کہ ان دونوں گروہوں کے درمیان دنیاوی زندگی کے تمام شعبوں، بوقت مرگ، عالم برزخ اور قیامت میں واضح فرق موجود ہے۔ (تشریحی نوٹ: مندرجہ بالا آیت کی تفسیر میں مفسرین نے کئی اور احتمالات بھی ذکر کیے ہیں، جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ "سَوَاءً مَّحْيَاهُم وَمَمَاتُهُمْ " کے جُملے سے مراد یہ ہے کہ بےایمان مجرمین کی زندگی اور موت برابر ہیں، نہ تو زندگی میں ان سے خیر و برکت اور اطاعت الہٰی کی امید ہوتی ہے اور نہ ہی مرنے کے بعد، وہ زندہ تو ہیں، لیکن مردوں کے مانند (تو ایسی صورت میں دونوں ضمیریں مجرمین کی لوٹ رہیں ہیں)۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ حیات سے مراد، قیامت کے دن کی زندگی ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہو سکتا ہے کہ مومنین اور بےایمان لوگوں کا موت کے وقت اور قیامت کے دن زندہ ہونے کے موقع پر ایک جیسا انجام ہو، لیکن آیت کا ظاہری اعتبار سے وہی معنی صحیح ہے جو ہم اوپر بیان کر چکے ہیں)۔ بعد کی آیت درحقیقت، گزشتہ آیات کی تفسیر اور توجیہہ، پروردگار فرماتا ہے: اور خداوند عالم نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیاہے (وَخَلَقَ اللهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ)۔ تاکہ ہر شخص کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے اور ان پر کسی قسم کا ظلم نہیں کیا جائے گا (وَلِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ)۔ ساری کائنات اس بات کی غمازی کر رہی ہے کہ اس کائنات کے پیدا کرنے والے نے اسے محورِ حق پر ٹھہرایا ہے اور ہر مقام پر حق و عدالت حکم فرما ہے۔ جب صُورتِ حال یہ ہے کہ تو پھر یہ بات کیونکر ممکن ہے کہ وہ صالح العمل مؤمنین اور بےایمان مجرمین کو ایک جیسا قرار دے اور یہ بات قانون خلقت میں ایک استثنائی صُورت حال اختیار کر لے؟ فطری بات ہے کہ جو لوگ حق و عدالت کے اس قانون کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں وہ کائنات کی برکتوں اور خدا کی مہربانیوں سے بھی بہرہ مند ہوتے ہیں اور جو لوگ اس کے برخلاف قدم اٹھاتے ہیں انہیں غضب الہٰی کی آگ کا ایندھن ہی بننا چاہیے اور عدالت کا بھی یہی تقاضا ہے۔ یہیں سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ "عدالت" کا معنی "مساوات" یا "برابری" نہیں بلکہ عدالت اس بات کا نام ہے کہ ہر شخص لیاقت اور اہلیت کی بناء پر نعمات الہٰی سے بہرہ مند ہو۔ زیر تفسیر آیات میں سے آخری آیت کافروں اور مومنوں کی عدم مساوات پر ایک اور دلیل ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: بھلا تو نے اس شخص کو بھی دیکھا ہے جس نے اپنی نفسانی خواہش کو اپنا معبُود بنا رکھّا ہے (أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ)۔ اور چونکہ خدا جانتا تھا کہ وہ ہدایت کے لائق ہی نہیں، لہذا اُس نے اسے گمراہی میں ہی چھوڑ دیا ہے (وَأَضَلَّهُ اللهُ عَلَى عِلْمٍ)۔ "اور اس کے کان اور دِل پر مہر لگا دی ہے اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ہے۔" تاکہ وہ گمراہی کی وادی میں بھٹکتا پھرے (وَخَتَمَ عَلَى سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَى بَصَرِهِ غِشَاوَةً)۔ تو پھر ایسی حالت میں خدا کے سوا اسے کون ہدایت کر سکتا ہے (فَمَن يَهْدِيهِ مِن بَعْدِ اللهِ)۔ "تو کیا اب بھی تم لوگ غور و فکر نہیں کرتے ہو؟ "اور ایسے شخص کے اور اس شخص کے درمیان فرق نہیں سمجھتے ہو جو راہ حق کو پا چکا ہے (أَفَلَا تَذَكَّرُونَ)۔ یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیونکر ممکن ہے کہ انسان اپنی خواہشات کو اپنا معبُود بنا لے؟ تو یہ بات صاف ظاہر ہے کہ جب انسان خدائی فرمان کو پس پشت ڈال دے اور اپنے دل اور ہوائے نفس کا مطیع و فرمانبردار بن جائے اور ہوائے نفس کی اطاعت کو حق کی اطاعت پر مقدم کرے تو یہی ہوائے نفس کی پرستش ہے، کیونکہ عبادت اور پرستش کا ایک معنی اطاعت بھی تو ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں بارہا شیطان یاعلماء اور احبار یہود کے بارے میں آیا ہے: کہ "کچھ لوگ شیطان کی عبادت کرتے ہیں" ( یس۔ ۶۰)۔ اور یہود کے متعلق ہے کہ: "انہوں نے اپنے علماء کو اپنا ربّ اور پروردگار بنا لیا ہے۔ (توبہ۔ ۳)۔ اور حدیث میں ہے کہ امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہما السلام فرماتے ہیں کہ: أما والله ما صاموا لهم، ولَا صلوا، و لكنّهم احلوا لهم حرامًا وَحرموا عليهم حلالا، فاتّبعوهم و عبدوهم من حيث لا يشعرون:۔" "خدا کی قسم ان لوگوں (یہود و نصاریٰ) نے اپنے پیشواؤں کے لیے نماز اور روزے بجا نہیں لائے، لیکن ان کے پیشواؤں نے حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دے دیا اور انہوں نے اس کو تسلیم کر لیا اوران کی پیروی کی اور بغیر توجہ کیے، ان کی عبادت اور پرستش شروع کر دی۔ (بحوالہ: تفسیر نورالثقلین، جلد ۲، ص ۲۰۹)۔ لیکن بعض مفسرین نے اس تعبیر کو قریش کے بُت پرستوں کی طرف اشارہ سمجھا ہے کہ جس چیز کے متعلق ان کا جی چاہتا تھا اس کا بُت بنا دیتے تھے اور اس کی عبادت کرنا شروع کر دیتے تھے، اور جب کسی دوسری جاذب نظر چیز کو دیکھتے تو پہلے بُت کو چھوڑ کر اس کا بُت بنا کر اس کی عبادت میں لگ جاتے تھے۔ اس طرح سے ان کا معبُود وہ چیز ہوتی جِسے ان کی نفسانی خواہشات پسند کرتیں۔ (بحوالہ: تفسیر درمنثور، جلد ۶، ص ۳۵)۔ لیکن "مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ" (جس شخص نے اپنا معبود اپنی خواہشات نفسانی کو بنا لیا ہے) کی تعبیر پہلی تفسیر سے زیادہ مہم آہنگ ہے۔ "وَأَضَلَّهُ اللهُ عَلَى عِلْمٍ" کے بارے میں مشہور تفسیر تو وہی ہے جو سطورِ بالا میں بیان ہو چکی ہے اور جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے اپنے ہی ہاتھوں سے چراغ ہدایت گُل کر دیا ہے اور نجات کے دروازے اپنے اوپر بند کر لیے ہیں اور واپسی کے راستے برباد کر چکے ہیں تو ایسی صُورت میں اللہ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت و مہربانی کو ان سے سلب کر لیا ہے، نیک و بد کی پہچان کی صلاحیت ان سے واپس لے لی ہے، گویا ان کے دل اور کانوں کو محفوظ مقام پر بند کر دیا ہے اور اس پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پروبیز پردے ڈال دیئے ہیں۔ درحقیقت، یہ سب کچھ اس چیز کے آثار ہیں جو آثار انہوں نے اپنے لیے منتخب کی ہے اور ایسے بدبخت معبُود کا نتیجہ ہے جِسے انہوں نے اپنے لیے منتخب کیا ہے۔ سچ مچ نفس پرستی کسِی قدر خطرناک بُت ہے، جو رحمت اور نجات کے تمام دروازوں کو انسان پر بند کر دیتا ہے اور اس بارے میں رسُول اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی یہ حدیث کس قدر ناطق اور واضح ہے کہ: "مَا عبد تحت السّماء الٰه أبْغض الى الله مِنَ الهوىٰ۔" "آسمان کے زیر سایہ ہرگز کسِی معبُود کی عبادت نفس پرستی جیسی عبادت سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں ہے۔" ( بحوالہ: تفسیر قرطبی جلد ۹، ص ۵۹۸۷، تفسیر رُوح البیان اور تفسیر مراغی اسی آیت کے ذیل میں)۔ لیکن بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ جُملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ نفس پرست اور خود ہٹ دھرم افراد جان بوجھ کر ہدایت کی راہوں سے ہٹ کر گمراہیوں کو اختیار کرتے ہیں، کیونکہ نہ تو علم و دانش ہمیشہ ہدایت کے ہمراہ ہوتے ہیں اور نہ ہی گمراہی ہمیشہ جہالت کے ہم رکاب ہوتی ہے۔ علم اس وقت سبب ہدایت بنتا ہے جب انسان اس کے لوازمات کو اپنائے اور اس کے ساتھ ساتھ قدم اُٹھائے، تب کہیں جا کر منزل مقصُود تک پہنچاتا ہے، جیسا کہ قرآن مجید کچھ، ہٹ دھرم کافر لوگوں کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے: "وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ " "انہوں نے خدا کی آیات کا انکار کر دیا، حالانکہ ان کے دِل اس کی حقانیّت پر یقین رکھتے تھے۔ (بحوالہ: تفسیرالمیزان، جلد ۱۸، ص ۱۸۷)۔ (نمل۔ ۱۴) اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ آیت میں موجود ضمیروں کا مرجع خدا تعالیٰ ہے پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے، کیونکہ قرآن فرماتا ہے کہ خدا نے اِسے گمراہی میں چھوڑ دیا ہے اوراس کے کان اور دِل پر مہر لگا دی ہے۔ ہمارے اس بیان سے بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ آیت میں عقیدہ جبری کے بارے میں کوئی علامت نہیں ملتی، بلکہ اختیار کے اصول اور انسان کے اپنے ہاتھوں سے اپنی تقدیر سنوارنے پر تاکید کی گئی ہے۔ خداوند عالم کے انسان کے دِل اور کانوں پر مہر لگانے اورآنکھوں پر پردہ ڈالنے کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد اوّل میں سورہٴ بقرہ کی ساتویں آیت کی تفسیر ہم تفصیل کے ساتھ بحث کر چکے ہیں۔
چند اہم نکات ۱۔ خواہشات نفسانی سب سے زیادہ خطرناک بُت ہے:
ہم ابھی حدیث میں پڑھ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب بتوں سے ناپسندیدہ بُت کہ جس کی عبادت کی جاتی ہے نفس پرستی کا بت ہے۔ اس بات میں ذرہ بھر مبالغہ نہیں ہے، کیونکہ عام قسم کے بُت ایسی چیزیں ہیں، جن کی اپنی کوئی خاصیّت اور خصوصیت نہیں ہوتی، لیکن خواہشات نفسانی کا بُت گمراہ کُن ہے اور مختلف گناہوں اور گمراہیوں اور بےراہروی کی جانب لے جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اِس بُت میں وہ خصوصیات پائی جاتی ہیں جنہوں نے اسے سب سے زیادہ قابلِ نفرت بُت کے نام کا مستحق بنا دیا ہے۔ یہ بُت برائیوں کو انسان کی نگاہ میں اتنا مزین کر دیتا ہے کہ وہ اپنے بُرے کارناموں پر فخر کرتا دکھائی دیتا ہے اور : "وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا" (کہف۔ ۱۰۴)۔ کے مصداق انسان اسے صالح العمل سمجھ کر فخر کرتا ہے۔
۲۔ شیطان کے لیے موثر ترین راستہ:
شیطان کے عمل دخل کا موٴثر ترین راستہ خواہشات کی اطاعت ہے، کیونکہ جب تک انسان کے اندرونی وجود میں شیطان کا ٹھکانا نہ ہو اس وقت تک وہ دلوں میں وسوسے پیدا نہیں کر سکتا اور وہ ٹھکانا نفس پرستی کے سوا اور کچھ نہیں۔ وہی چیز کہ خود شیطان جس کی وجہ سے اپنے مقام سے گرِ گیا اور فرشتوں کی صف اور قربِ الہٰی سے راندہ گیا۔
۳۔ نفس پرستی ہدایت سے محرومی کا سبب:
نفس پرستی حقائق کے صحیح ادراک جیسے ہدایت کے اہم ترین ذریعے کو انسان سے سلب کر لیتی ہے اور انسان کی آنکھوں اور عقل پر پردے ڈال دیتی ہے۔ جیسا کہ زیر تفسیرآیات میں نفس پرستی کے مسئلے کو بیان کرنے کے بعد صاف طور پر اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور قرآن کی بہت سی دوسری آیات بھی اس حقیقت کی گواہ ہیں۔
۴۔ خدا کے مقابل:
نفس پرستی انسان کو (نعوذ باللہ) خدا سے مقابلے کے مرحلے تک لے جاتی ہے، جیسا کہ خواہش پرستوں کا پیشوا یعنی شیطان اس منحوس انجام سے دوچار ہوا اور آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کے مسئلے پر اُس نے حکمت خداوندی پر اعراض کیا، اور اسے غیر حکیمانہ سمجھا۔
۵۔ ہوس پرستی کا انجام:
اس حد تک منحوس اور دردناک اور خطرناک ہوتا ہے کہ کبھی ایک لمحہ کی نفس پرستی انسان کو زندگی بھر کی پشیمانی اور ندامت سے دوچار کر دیتی ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک لمحے کی نفس پرستی انسان کی ساری زندگی کے نتائج اور اس کے اعمال صالحہ کو تباہ و برباد اور ملیامیٹ کر دیتی ہے۔ اسی لیے قرآنی آیات اور اسلامی روایات میں اس بات کو زور دے کر بیان کیا گیا ہے اوراس سے خبردار کیا گیا ہے، جیسا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک مشہور حدیث میں آیا ہے: "إن أخوف ماأخاف علی اُمّتی الھویٰ وطول الأمل؛ اما الھویٰ فإنّه یصدّ عن الحق، وأما طول الأمل، فینسی الاٰخرة۔" "دو چیزیں ایسی خطرناک ہیں، جن سے مجھے اپنی اُمّت کے بارے میں خوف آتا ہے، ایک تو خواہشات نفسانی کی پیروی اور دوسری لمبی چوڑی امیدیں، کیونکہ نفس پرستی انسان کو حق سے باز رکھتی ہے اور لمبی چوڑی آرزوئیں آخرت کو بھلا دیتی ہیں۔ (بحوالہ: بحار الانوار، جلد۷۰، ص ۷۵ تا ۷۷)۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ حضرت امیرالموٴمنین علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ: "ای سلطان أغلب واقوٰی" "کون سی طاقت زیادہ غالب اور طاقت ور ہے؟" تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: "الھوٰی" "خواہشاتِ نفسانی۔" (بحوالہ: بحار الانوار، جلد ۷۰، ص ۷۵ تا ۷۷)۔ ایک اور روایت میں ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ خداوند تعالیٰ فرماتا ہے: " وعزتى وعظمتى، وجلالى وبهايى، وعلوى وإرتفاع مكانى، لا يؤثر عبد هواى على هواه إلّا جعلت همه فى آخرته، وغناه فى قلبه، و كففت عنه ضيعته، و ضمنت السّماوات و الأرض رزقه، و اٰتته الدنيا وهى راغمة۔" مجھے اپنی عزّت،عظمت، جلال، نورانیت اور بلند مقام اور مرتبے کی قسم کوئی بندہ بھی میری خواہشات کو اپنی خواہشات پر مقدم نہیں کرتا مگر یہ کہ میں اس کی تمام تر توجہات کو آخرت کی طرف مبذول کر دیتا ہوں، مخلوق سے بےنیازی کو اس کے دل میں جاگزیں کر دیتا ہوں، معاشی مسائل کو اس کے لیے آسان کر دیتا ہوں، آسمان اور زمین کو اس کی روزی کا ضامن بنا دیتا ہوں اور دُنیاوی نعمتیں سر جُھکائے اس کے حضُور پہنچ جاتی ہیں۔ ( بحوالہ: بحار الانوار، جلد۷۰، ص ۷۵ تا ۷۷)۔ ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "إحْذَرُوا أَهْوَاءَكُمْ كَمَا تَحْذَرُونَ أَعْدَاءَكُمْ فَلَيْسَ شَيْءٌ أَعْدَى لِلرِّجَالِ مِنِ اتِّبَاعِ أَهْوَائِهِمْ وَحَصَائِدِ أَلْسِنَتِهِمْ۔" "خواہشات نفسانی سے ویسے بچو، جیسے اپنے دشمن سے بچتے ہو، کیونکہ انسان کے لیے خواہشات نفسانی کی پیروی اور زبان پر جاری ہونے والے کلمات سے بڑھ کر اس کا کوئی اور دُشمن نہیں ہے۔" (بحوالہ: )۔ آخر میں ایک حدیث جو امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقُول ہے، پیشِ خدمت ہے: " إِنِّي لَأَرْجُو اَلنَّجَاةَ لِهَذِهِ اَلْأُمَّةِ لِمَنْ عَرَفَ حَقَّنَا مِنْهُمْ إِلاَّ لِأَحَدِ ثَلاَثَةٍ صَاحِبِ سُلْطَانٍ جَائِرٍ وَصَاحِبِ هَوًى وَاَلْفَاسِقِ اَلْمُعْلِنِ ۔" "اس امّت سے جن لوگوں نے ہمارے حق کو پہچانا ہے ان کی نجات کی امید رکھتا ہوں سوائے تین قسم کے لوگوں کے۔ ایک ظالم بادشاہوں کے ساتھی، دوسرے نفس پرست اور تیسرے جو کھلم کھلا گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں (اور کسِی قسم کا خوف و محسُوس نہیں کرتے)۔" (بحوالہ: بحار الانوار، جلد ۷۰، ص ۷۶)۔ اس بارے میں بہت سی آیات اور روایات موجُود ہیں۔ ہم اپنی اس گفتگو کو ایک معنی جُملے کے ساتھ پایہٴ تکمیل تک پہنچاتے ہیں، جو شانِ نزُول کی صُورت میں بیان کی گیا ہے اور ہمارے مُدعا پر زندہ گواہ ہے۔ ایک مفسر کہتے ہیں۔ ایک رات کا واقعہ ہے کہ ابوجہل ولید بن مغیرہ کے ہمراہ خانہ کعبہ کے طواف میں مشغول تھا۔ طواف کے دوران اُس نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں بات شروع کردی۔ ابوجہل نے کہا: واللہ إنِّی لَأعلَم أنَّه صادقٌ (خدا کی قسم میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ سچّا ہے)۔ "ولید نے کہا: "چپ رہو تم کہاں سے جانتے ہو کہ وہ سچّا ہے؟" ابوجہل نے کہا: ہم اسے بچپن اور لڑکپن میں "صادق اور امین" کے نام سے پکارا کرتے تھے۔ اَب جبکہ اس کی عقل کامل ہو چکی ہے اور وہ شعور کے درجہ کمال تک پہنچ چکا ہے تو پھر اسے ہم کذاب اور خائن کیونکہ کہہ سکتے ہیں؟ میں ایک بار پھر کہتا کہ "وہ سچ کہتا ہے۔" ولید نے کہا: تو پھر تم اس کی تصدیق کیوں نہیں کرتے اور اس پر ایمان کیوں نہیں لاتے؟ ابوجہل نے کہا: تم چا ہتے ہو کہ قریشی عورتیں آپس میں بیٹھ کر یہ کہیں کہ شکست کے خوف سے ابو طالب کے بھتیجے کے سامنے جھک گیا ہوں، لات و عزٰی کی قسم میں ہرگز اس کی اتباع نہیں کروں گا۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی: (وَخَتَمَ عَلی سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ) ( بحوالہ: تفسیر مراغی، جلد ۲۵، ص ۲۷)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر دہریوں کے عقائد
Tafsīr Nemūna · Vol. 7ان آیات میں منکرین توحید کے بارے میں ایک اور بحث کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، البتہ یہاں پر منکرین کے ایک خاص گروہ یعنی "دہر یوں" کا نام لیا گیا ہے جوعالمِ ہستی اور اس کائنات میں صانع حکیم کے وجود کا مطلقاً انکار کرتے تھے، جبکہ اکثر و بیشتر مشرکین عام طور پر ظاہر میں خدا پر ایمان رکھتے تھے اور بتوں کو اس کی بارگاہ تک رسائی کے لیے اپنا شفیع سمجھتے تھے، خداوند عالم فرماتا ہے: انہوں نے کہا ہماری زندگی تو بس دُنیا ہی کی ہے، ہم میں سے کچھ لوگ مرتے ہیں اور کچُھ پیدا ہو جاتے ہیں اور ان کی جگہ لے لیتے ہیں۔ اور اس طرح سے انسانی نسل کا سِلسلہ جاری ہے (وَقَالُوا مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا)۔ اور ہمیں تو زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے (وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ)۔ اس طرح وہ ایک تو "معاد" کا انکار کرتے تھے اور دوسرے "مبداء" کا پہلا جُملہ ان کے معاد کے انکار کی غمازی کرتا ہے، جبکہ دوسرا جُملہ مبداء کے انکار کی۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ اس جیسی آیات قرآن مجید کے دو اور مقامات پر بھی موجود ہیں۔ ایک سُورہٴ انعام کی ۲۹ ویں آیت ہے جس میں ہے: "وَقَالُواْ إِنْ هِيَ إِلاَّ حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ" "اور انہوں نے کہا کہ ہماری زندگی فقط اسی دُنیا کی ہے اور ہم پھر نہیں اُٹھائے جائیں گے۔" اور دوسری سورۀ مؤمنون کی 37 آیت ہے، جس میں ہے۔ إِنْ هِيَ إِلَّا حَياتُنَا الدُّنْيا نَمُوتُ وَنَحْيا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ ہماری زندگی اسی دنیا کی ہے، نہیں مرتے جیتے ہیں اور ہم پھر نہیں اٹھائے جائیں گے۔ لیکن ان دونوں آیتوں میں صرف معاد کے انکار کی جھلک ملتی ہے، جبکہ زیر تفسیرآیت میں مبداء اور معاد دونوں کا انکار کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان کا زیادہ زور معاد کے انکار پر تھا، اس لیے کہ وہ اس سے زیادہ خائف اور وحشت زدہ تھے، اس کے اقرار سے ان کی زندگی میں تبدیلی مُمکن تھی وہ اس سے بھی پریشان تھے۔ " نَمُوتُ وَنَحْيَا" (ہم مرتے اور زندہ ہوتے ہیں) کی مفسرین نے کئی تفسیریں بیان کی ہیں، پہلی تفسیر تو وہی ہے جو ہم سطُور بالا میں بیان کر چکے ہیں، یعنی بڑے اور عمر سے سیدہ لوگ چلے جاتے ہیں اور نومولُود عرصہِٴ زندگی میں قدم رکھتے اور ان کی جگہ لیتے ہیں۔ دوسری یہ ہے کہ یہاں پر یہ جُملہ تقدیم اور تاخر کی صُورت میں ہے، جس کا اصلی معنی یہ ہے کہ ہم زندہ ہوتے اور مرتے رہتے ہیں اور اس زندگی اور موت کے علاوہ اور کُچھ نہیں۔ تیسری یہ کہ بعض لوگ مر جاتے ہیں اور بعض زندہ رہ جاتے ہیں (ہر چند کہ انجام سب کا موت ہی ہے)۔ چوتھی یہ کہ ہم ابتداء میں مُردہ اور بےجان تھے، پھر ہمیں حیات و زندگی کا لباس پہنایا گیا۔ لیکن سب سے مناسب وہی پہلی تفسیر ہے۔ بہرحال، یہ عقیدہ کہ اس کائنات کا فاعل حوادث دہر اور زمانہ ہے یا کچھ دوسرے لوگوں کی تعبیر کے مطابق افلاک کی گردش اور ستاروں کی کیفیت ہے، گزشتہ زمانے میں یہ کُچھ مادہ پرستوں کا عقیدہ تھا۔ وہ واقعات روزگار کے سلسلے کی کڑی کو افلاک تک جا ملاتے تھے۔ ان کا یہ عقیدہ تھا کہ کائنات میں جو کچھ رونما ہوتا ہے وہ سب انہی کی بدولت ہے۔ (تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے ایک پانچواں احتمال بھی ذکر کیا ہے اور وہ یہ کہ تناسخ (آواگون) کے عقیدہ کی طرف اشارہ ہے، جس کے کئی بُت پرست معتقد تھے، اور وہ کہتے تھے کہ ہم ہمیشہ مرتے رہتے ہیں اور اسی دُنیا میں دوسرے ڈھانچوں اور جسموں میں منتقل ہوتے رہتے ہیں اور یہیں پر زندہ رہتے ہیں، لیکن یہ تفسیر "وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ" ہم آہنگ نہیں ہے، کیونکہ اس جُملے میں صرف ہلاکت کی بات ہو رہی ہے (غور کیجئے گا)۔ حتٰی کہ دہریے فلسفی وغیرہ بھی أفلاک کے لیے عقل کے قائل تھے اور اس کائنات کے نظم و نسق کا ذمہ دار انہیں جانتے ہیں۔ اس قسم کے خرافاتی عقائد مرور ایّام کے ساتھ آہستہ آہستہ ختم ہوتے گئے، خاص کر"علمِ ہیئت" کی ترقی سے یہ بات پاپہٴ ثبوت کو پہنچ گئی ہے کہ "أفلاک" (بلوریں، پیاز کے تہ تہ چھلکے کے مانند) نام کی کسِی چیز کا خارجی اور ظاہری وجُود بالکل نہیں ہے عالم بالا کے ستاروں کی بھی کرّہ زمین جیسی ساخت ہے، یہ اور بات ہے کہ ان میں سے کچھ بجھے ہُوئے ہیں اور دوسرے کرّوں سے نُور حاصل کرتے ہیں اور کچھ جل رہے ہیں اور نور افشانی کر رہے ہیں۔ دہرئیے جب کبھی تلخ اور ناخوشگوار حوادث کا شکار ہو جاتے تو زمانے کو برا بھلا کہتے ہیں، اور تعجب کی بات ہے کہ اس قسم کے عقائد کے آثار آج کی ادبیات میں بھی پائے جاتے ہیں کہ جن میں خدا پرست شعرا نے "دھوکے باز زمانے" اور"فلک کجرفتار" کو بُرا بھلا کہا ہے اور زمانے پر نفرین کی ہے کہ اس نے ان کے ساتھ ایسا کیوں کیا ہے؟ ایک مشہور شعر ہے: فلك به مردم نادان دهد زمام مراد تو اهل دانش وفضلى همين گناهت بس "فلک تو نادان اور ان پڑھ لوگوں کی مرادیں بر لاتا ہے، تم چونکہ اہل علمِ و فضل ہو یہی تمہارا بہت بڑا گناہ ہے۔" ایک اور شاعر کہتا ہے: روزگار است اينكه گه عزت دهد گه خار دارد چرخ بازيگر از اين بازيچهها بسيار دارد! (یہ زمانہ ہے کبھی عزت عطا کرتا ہے اور کبھی ذلیل و خوار کرتا ہے، بازیگر فلک اس قسم کے کھیل روزانہ کھیلتا رہتا ہے۔ "دھر" (زمانہ) کے بارے میں بھی شعراء کا کلام مِلتا ہے۔ دهر چون نيرنگ سازد چرخ چون دستان كند مغز را آشفته سازد عقل را حيران كند! (زمانے کی نیرنگیاں اور فلک کی کج رفتاریاں ہی ذہن کو پریشان اور عقل کو حیران کر دیتی ہیں۔ لیکن احادیث میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں منقول ہے کہ: "لا تسبّو الدّھر فإن اللہ ھوالدَّھر۔" "زمانے کو گالیاں نہ دو کیونکہ خدا ہی زمانہ ہے۔" ( بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، جلد ۹، ص ۷۸)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ زمانہ تو صرف ایک لفظ ہے، لیکن اس جہان اور عالم کا مدبر اور اس کا نظم و نسق چلانے والا تو خداوند تعالیٰ ہی ہے، اگر تم نے اس کائنات اور عالم کے مدبر کو بُرا بھلا کہا تو بے سوچے سمجھے خداوند قادر متعال کو برا بھلا کہو گے۔ اس بات پر شاہد ناطق ایک اور حدیث ہے، جسے حدیث قدسی کے طور پر نقل کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "يؤذينى إبن آدم يسب الدهر، وَأنا الدّهر! بيدى ألأمر، أقلب الليل والنّهار۔" "فرزند آدم علیہ السلام جب زمانے کو گالیاں دیتا ہے تو اس کی یہ بات مجھے تکلیف پہنچاتی ہے کیونکہ زمانہ میں خود ہوں، ساری چیزیں میرے ہاتھ میں ہیں اور شب و روز کو میں ہی اُلٹ پھیر کرتا ہوں۔ (بحوالہ: تفسیر قرطبی، جلد ۹، ص ۵۰۹۱)۔ البتہ بعض جگہ "دہر" کا معنی "زمانے والے" اور "افرادِ زمانہ" کیا گیا ہے جن کی بےوفائی کا شکوہ بزرگوں نے بھی کیا ہے۔ جیسے وہ مشہور شعر ہے جو حضرت امام حسین علیہ السلام سے نقل کیا گیاہے کہ آپ علیہ السلام نے شب عاشور فرمایا: يا دهر اف لك من خليل كم لك بالاشراق و الاصيل من صاحب و طالب قتيل و الدهر لا يقنع بالبديل "اے زمانے! تجھ پر افسوس ہے کہ تواچھا دوست ثابت نہیں ہوا، کتنی صُبیحں اور شامیں یوں گزرتی رہیں کہ تو نے ہمارے دوستوں اور چاہنے والوں کو قتل کیا اور زمانہ بدلہ لے کر بھی راضی نہیں ہوتا۔" اس طرح سے "دہر" کے گویا دو معنی ہُوئے۔ ایک تو"زمانہ اور افلاک" جو ہمیشہ دہریوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے اوروہ اسے آفاقی اور انسانی زندگی پر حکمران سمجھتے تھے، اور دوسرے "اہل زمانہ اور ابنائے روز گار۔" یقینی بات ہے کہ پہلے معنی کے لحاظ سے "دھر" صرف ایک خیالی چیز ہی ہے اور اگر کوئی چیز ہے بھی تو پھر اس کی تعبیر میں غلطی کی جاتی ہے اور تمام عالمِ وجُود پر خداوندِ عالم کی حکمرانی ہے، اسی لیے اسے ” دھر" کا نام دیتے ہیں، لیکن دوسرے معنی کے لحاظ سے 'دہر" وہ چیزہے، جس کی دینی پیشواؤں اور بزرگوں نے بھی مذمت کی ہے۔ ہرحال قرآن مجید نے ان لوگوں کی فضول باتوں کا جواب ایک مختصر لیکن جامع جُملے میں دے دیا ہے، اور قرآن مجید کے اور بھی بہت سے مقامات پر یہی جواب ملتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ جو یہ کہتے ہیں کہ کوئی معاد نہیں ہے اور جہان کا مبداء بھی زمانہ ہی ہے، اپنی ان باتوں پر یقین نہیں رکھتے، بلکہ بےبنیاد و گمان ہی کرتے ہیں (وَمَا لَهُم بِذَلِكَ مِنْ عِلْمٍ إِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ)۔ اس سے مِلتی جُلتی گفتگو سُورہٴ نجم کی ۲۸ ویں آیت میں ان لوگوں کے بارے میں ہے جو فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں سمجھتے تھے، ارشاد ہوتا ہے: "وَمَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا۔" "وہ جو یہ بات کہتے ہیں اس پر انہیں خود کو یقین نہیں ہے وہ تو صرف بےبنیاد و گمان کی پیروی کرتے ہیں اور گمان تو حق سے کبھی بھی بےنیاز نہیں کرتا۔" یہی تعبیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کی نسبت کے بارے میں (نساء ۔ ۱۵۷) اور مشرکین عرب کے بتوں کے بارے میں عقیدے سے متعلق (یُونس ۔۶ ۶) بھی بیان کی گئی ہے۔ یہ آسان ترین دلیل ہے جو اس قسم کے لوگوں کے سامنے پیش کی جاتی ہے کہ تمہارے پاس اپنے مدعا کے ثبوت میں کو منطقی دلیل اور ناطق گواہ موجود نہیں ہے، صرف اٹکل پچو باتوں اور تخمینوں سے کلام چلا تے رہتے ہو۔ بعد کی آیت میں معاد کے بارے میں ان لوگوں کے عقیدے کے سلسلے میں بہانہ تراشیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اور جب ان کے سامنے ہماری کُھلی اور روشن آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو ان کے مقابلے میں ان کے پاس کوئی دلیل تو ہوتی نہیں، سوائے اس کے کہ وہ کہیں کہ اگر تم سچّے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کر کے لے آؤ تاکہ وہ تمہاری صداقت کی گواہی دیں (وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا ائْتُوا بِآبَائِنَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ۔ (تشریحی نوٹ: مندرجہ بالا آیت میں "حُجَّتَهُمْ"، "کان" کی خبر ہے اور "أن قالوا ... "کان" کا اسم ہے)۔ وہ اس بات کے مدعی تھے کہ اگر مردُوں کو زندہ کرنا حق ہے تو نمونے کے طور پر ہمارے بزرگوں اور آباؤ و اجداد کو زندہ کرو تاکہ ہم اپنی آنکھوں سے انہیں دیکھیں اور یقین کریں اور ان سے پوچھیں کہ مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے؟ دیکھتے ہیں، کہ کیا وہ تمہاری تصدیق کرتے ہیں۔ جی ہاں! ان کی صرف یہی دلیل تھی اور کس قدر بودی اور بےبنیاد دلیل، کیونکہ خداوندِ تعالیٰ نے تو مردوں کے زندہ کرنے پر اپنی قدرت کی مختلف دلیلیں پیش کی ہیں، مثلاً سب سے پہلے انسان کی مٹی سے پیدائش، رحم میں نطفہ کی مختلف تبدیلیاں، وسیع و عریض زمین و آسمان کی آفرینش، نزولِ باراں کے بعد زمینوں کا زندہ ہونا جو کہ قرآنی آیات میں قیامت کے قیام پر منہ بولتی دلیل ہے اب ان دلائل کے باوجود پھر کس بات کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ اس کے علاوہ وہ عملی طور پر ثابت کر چکے تھے کہ بہانہ تراشی کے علاوہ ان کا کوئی مقصد ہے ہی نہیں اور بالفرض اگر یہ سب کُچھ ان کی آنکھوں کے سامنے مجسّم ہو بھی جاتا تو وہ فوراً کہہ اٹھتے کہ یہ تو جادُو ہے، جیسا کہ اس قسم کے مواقع پر انہوں نے ایسا کہا بھی ہے۔ ان کی بےبنیاد گفتگو کو "محبّت" سے تعبیر کرنا درحقیقت اس بات کی سے کنایہ ہے کہ ان کے پاس کٹ جحتی کے علاوہ اور کوئی دلیل نہیں ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 31 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 31 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 31 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 31 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 31 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر سب گھٹنے ٹیک دیں گے
Tafsīr Nemūna · Vol. 7یہ آیتیں درحقیقت، ان دہریوں کا ایک اور جواب ہیں جو مبداء اور معاد کے منکر تھے اور گزشتہ آیات میں ان کی باتوں کی طرف اشارہ بھی ہو چکا ہے۔ چنانچہ ان آیات میں سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: کہہ دے کہ خدا ہی تم کو زندہ کرتا ہے، پھر وہی تمہیں مارتا ہے پھر تمہیں قیامت کے دن حساب و کتاب کے لیے جمع کرے گا، وہی دن کہ جس کے بارے میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں (قُلِ اللهُ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يَجْمَعُكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا رَيبَ فِيهِ)۔ وہ نہ تو خدا کو مانتے تھے اور نہ ہی روزِ جزا کو اور اس آیت کے مضامین درحقیقت، ان دونوں قسموں کے لیے استدلال ہیں، کیونکہ پہلے تو "حیات" کے مسئلے پر زور دیا گیا ہے، بالفاظ دیگر وہ پہلی زندگی کے وجود اور بےجان چیزوں سے زندہ چیزوں کی پیدائش کا انکار نہیں کر سکتے تھے اور یہ بات بذاتِ خود اس امر کی دلیل ہے کہ کوئی علمِ کل اور عقلِ کل موجود ہے، کیا یہ بات ممکن ہے کہ زندگی کا محیر العقول نظام، کائنات کے پچیدہ اسرار اور گونا گوں صورتیں کہ جس کے بارے میں تمام دانشوروں کی عقلیں مات، مبہود اور حیران و سرگرداں ہیں، صاحبِ قدرت اور صاحبِ علم خدا کے وجُود کے بغیر منصہ شہود پر آ سکتے ہیں؟ اسی لیے تو قرآن مجید کی مختلف آیات میں حیات کے مسئلے کو توحید کی ایک علامت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ پھر یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ جو ذات پہلی مرتبہ زندگی عطا کرنے پر قادر ہے، وہ دوبارہ زندگی عطا کرنے پر کیونکر قدرت نہیں رکھتی "لَا رَيبَ فِيهِ" (اس میں کسی قسم کا شک نہیں) یہ عبارت جو قیامت کے بارے میں ہے اور اس کے "واقع" ہونے کی خبر دے رہی ہے نہ کہ اس کے "امکان" کی، ممکن ہے کہ پروردگار عالم کے "قانون عدالت" کی طرف اشارہ ہو، کیونکہ یہ بات تو یقینی ہے کہ اس دُنیا میں تمام حق داروں کو صحیح معنوں میں ان کا حق نہیں مِل پاتا اور نہ ہی تمام ظالموں کو ان کے کیے کی صحیح معنوں میں سزا ملتی ہے اور اگر قیامت کی عدالت بھی نہ ہو تو پھر پروردگار عالم کی عدالت اپنا مفہوم کھو دے گی۔ نیز چونکہ بہت سے لوگ ان آیات میں غور و فکر سے کام نہیں لیتے اس لیے آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (وَلَكِنَّ أَكَثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ)۔ قیامت کا ایک نام کہ جس کی طرف مندرجہ بالا آیت میں اشارہ ہوا ہے "یوم الجمع" بھی ہے، کیونکہ تمام اوّلین و آخرین اور انسانوں کو تمام قسمیں! اس روز ایک جگہ پر جمع ہوں گی، یہ تعبیر قرآن کی چند دیگر آیات میں بھی بیان ہوئی ہے، جن میں سے سُورہ ٴ شوریٰ کی آیت ۱۷ اور سورہٴ تغابن کی آیت ۹ بھی ہے)۔ بعد کی آیت معاد کے مسئلے پر ایک اور دلیل ہے اور اس طرح کی گفتگو ہم قرآن کی اور بھی آیات میں پڑھ چکے ہیں، ارشاد فرمایا گیا ہے: اور سارے آسمانوں اور زمین کی مالکیّت اور حاکمیّت خاص خدا کے لیے ہے (وَلِلهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ)۔ جو ذات تمام کائنات کی مالک اور حاکم ہے وہ یقینا مردُوں کی زندہ کرنے پر بھی قدرت رکھتی ہے اور ایسا کام اس کی قدرت کے لیے قطعاً مشکل نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دُنیا کو آخرت کی کھیتی اور مرنے کے بعد کے جہان کے لیے نفع بخش تجارت کا مرکز قرار دیا ہے، لہٰذا آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: جس دن قیامت برپا ہو گی، اس دن اہلِ باطل خسارے میں رہیں گے (وَيَومَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَخْسَرُ الْمُبْطِلُونَ)۔ کیونکہ وہ زندگی کا سرمایہ کھو بیٹھے ہوں گے اور اس سے کوئی تجارت بھی نہیں کی ہو گی اور انہوں نے حسرت و غم کے سوا کوئی مال نہیں خریدا ہو گا۔ اس تجارتی منڈی میں حیات، عقل و ہوش اور دنیاوی نعمتیں انسان کا سرمایہ ہوتی ہیں، باطل پرست افراد اسے یہیں پر جلد ختم ہو جانے والے مال کے بدلے میں بیچ ڈالتے ہیں جب کہ روزِ قیامت صرف قلبِ سلیم، ایمان اور عمل صالح ہی کام آ ئیں گے، لیکن وہ لوگ اپنے خسارے کو اپنی ہی آنکھوں سے مشاہدہ کریں گے۔ "یَخْسَر"، "خسران" کے مادہ سے ہے، جس کا معنی ہے "سرمائے کو صنائع کر دینا" اور مفردات میں راغب کے بقول کبھی تو اس کی نسبت خود انسان کی طرف دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے "خسر فلان" یعنی فلاں شخص نے نقصان اُٹھایا اور کبھی تجارت کی طرف دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے "خسرت تجارته" یعنی اس کی تجارت نے نقصان اُٹھایا، اگرچہ دنیا پرست لوگ اس بغیر کو مال، مقام، منصب اور مادی نعمتوں کے بارے میں استعمال کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مادی خسارے زیادہ اہم نقصان عقل و ایمان کے سرمائے اور ثواب کو کھو دینا ہوتا ہے۔ "مُبْطل"، "إبطال" کے مادہ سے ہے، جس کے لُغت میں بہت سے معانی ہیں، مثلاً کسِی چیز کو باطل کر دینا، جُھوٹ بولنا، ہنسی مذاق کرنا اور باطل چیز پیش کرنا وغیرہ مذکورہ تمام معانی کا اطلاق مندرجہ بالا آیت پر ہو سکتا ہے۔ جن لوگوں نے حق کو باطل کر دیا، جنہوں نے باطل عقائد کا پرچار کیا، جنہوں نے انبیائے کرام علیہم السلام کے سامنے جُھوٹ بولا اور ان کی باتوں کا تمسخر اڑایا، غرض سب اس دن اپنا نقصان اور خسارہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ بعد کی آیت قیامت کے منظر کی نہایت واضح الفاظ میں تصویر کشی کر رہی ہے اور کہتی ہے: اس دن تم ہر اُمّت کو دیکھو گے کہ گھٹنوں کے بل بیٹھی ہو گی (وَتَری کُلَّ اُمَّةٍ جاثِیَةً)۔ بعض عظیم مفسرین کے اقوال سے استفادہ ہوتا ہے کہ گزشتہ زمانے میں مدعی اور مدعیٰ علیہ قاضیوں اورحکام کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھا کرتے تھے تاکہ اس طرح سے وہ دوسروں سے الگ نظر آئیں۔ قیامت کے دن بھی وہ خدا کی عظیم عدالت میں اسی طرح گھٹنوں ٹیک کر بیٹھیں گے تاکہ ان پر مقدمہ چلایا جائے نیز یہ بات بھی ممکن ہے کہ یہ تعبیران کی خدا کے ہر قسم کے احکام و فرمان کی بجاآوری کے لیے مکمل آمادگی کی طرف اشارہ ہو، کیونکہ جو لوگ بالکل تیاری کی حالت میں ہوتے ہیں وہ گھٹنوں کے بُل بیٹھا کرتے ہیں۔ یا پھر ہو سکتا ہے ان کی کمزوری، ناتوانی، خوف و ہر اس کی طرح اشارہ ہو جو اُنہیں لاحق ہو گا (یہ تمام معانی آیت کے مفہوم میں جمع ہو سکتے ہیں)۔ "جاثیه" کے کئی اور معانی بھی ہیں جن میں سے "لوگ کا جم غفیر" ٹولے ٹولے" ہونا بھی ہے۔ جو اس بات کی طرف اشارہ ہو سکتے ہیں کہ اللہ کی عدالت میں لوگوں کا جم غفیر ہو گا یا ہر اُمّت اور ہر ٹولہ علیٰحدہ ہوں گے، لیکن پہلا معنی زیادہ مشہور اور مناسب ہے۔ پھر قیامت کے ایک اور منظر کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : اور ہر اُمّت اپنے نامہٴ اعمال کی طرف بلائی جائے گی اور اس سے کہا جائے گا جو کُچھ تم لوگ کیا کرتے تھے آج اس کا تم کو بدلہ دیا جائے گا۔ (کُلُّ اُمَّةٍ تُدْعی إِلی کِتابِهَا الْیَوْمَ تُجْزَوْنَ ما کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ)۔ "یہ کتاب" نامہٴ اعمال ہی ہے کہ جس میں انسان کی تمام نیکی، برائی، رفتار، گفتار اور کردار درج ہوں گے اور قرآنی الفاظ میں " لاَ يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلاَ كَبِيرَةً إِلاَّ أَحْصَاهَا" یعنی کوئی بھی چھوٹا اور بڑا کام ایسا نہیں ہو گا جو اس میں درج نہ ہو (کہف۔۴۹)۔ "كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَى إِلَى كِتَابِهَا" کی تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان کے انفرادی اعمال نامے کے علاوہ ہر اُمت اور گروہ کے اجتماعی اعمال نامے بھی ان کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ انسان کے دو قسم کے اعمال نام ہوں گے، اگر اس معنی پر توجہ کئی جائے تو بات عجیب سی معلُوم ہوتی ہے، لیکن اگر غور سے کام لیا جائے دو طرح کے اعمال ناموں کا ہونا ایک فطری بات ہے۔ (تشریحی نوٹ: بعض مفسرین کا احتمال ہے کہ مذکورہ آیت میں "کتاب" سے مراد "آسمانی کتاب" ہے جو اس امّت پر نازل ہوئی ہے، لیکن بظاہر آیت کا اپنا معنی اور بعد کی آیت کو پیش نظر رکھتے ہُوئے، کتاب کا معنی نامہٴ اعمال ہے اور اکثر مفسرین اسی کے قائل ہیں)۔ "تدعیٰ" کی تعبیر سے معلُوم ہوتا ہے کہ انہیں اپنا نامہٴ اعمال پڑھنے کی دعوت دی جائے گی۔ یہ معاملہ بعینہٖ سُورہٴ بنی اسرائیل کو چودھویں آیت سے مِلتا جُلتا ہے، جس میں کہا گیا ہے: "اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا" "اپنے نامہٴ اعمال کو پڑھو، آج یہ بات کافی ہے کہ تم اپنا حساب خود ہی کرو۔" یہ ہماری کتاب ہے جو تم سے حق کہہ رہی ہے اور تمہیں تمہارے اعمال بتا رہی ہے (هَذَا كِتَابُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِالْحَقِّ)۔ اس دن تم جو چاہتے تھے انجام دیتے تھے اور اس بات کا ہرگز گمان تک نہیں کرتے تھے کہ تمہارے اعمال کہیں درج بھی ہو رہے ہیں، لیکن "ہم نے حکم دے دیا تھا کہ جو کچھ بھی تم انجام دو گے لکھتے رہیں" (ا إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ)۔ "نَسْتَنسِخُ"، "استنساخ" کے مادہ سے ہے، یہ دراصل "نسخ" سے لیا گیا ہے، اس کا معنی کسی چیز کو کسِی دوسری چیز کے ذریعے زائل کرنا ہے، مثلاً کہا جاتا ہے: "نسخت الشمس الظل" "سُورج نے سایئے کو زائل کر دیا۔" بعد ازاں اس کا استعمال ایک کتاب سے دیکھ کر دوسری کتاب پر اس طرح سے لکھنے کے لیے بھی ہوا ہے کہ اصل اور پہلی کتاب بھی محفوظ رہے۔ یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ اگر خدا نے حکم دیا ہے کہ انسان کے اعمال کو "استنساخ" کریں تو اس سے پہلے کوئی کتاب ہونی چاہیے، جس سے دیکھ کر اس کے نامہٴ اعمال لکھے جائیں۔ اسی لیے تو بعض مفسرین اس بات کے معتقد ہیں کہ تمام لوگوں کے اعمال پہلے سے ہی "لوح محفوظ" میں لکھے جا چکے ہیں اور انسان اعمال کے محافظ فرشتے انہیں لوح محفوظ سے نقل کر کے نامہٴ اعمال میں لکھتے رہتے ہیں۔ لیکن یہ معنی زیرِ تفسیر آیت میں چنداں مناسب نہیں ہے، جو معنی مناسب معلوم ہوتا ہے وہ ان دونوں معانی میں سے ایک ہے، پہلا یہ کہ یہاں پر "استنساخ" سے مراد خود "لکھنا" ہے (جیسا کہ بعض مفسرین کہتے ہیں) اور دوسرا یہ کہ انسان کے اپنے اعمال بذات خود ایک تکوینی کتاب کے مانند ہیں جِسے دیکھ کر فرشتے نسخہٴ کتاب تیار کرتے ہیں اور اس کی کاپی تیار کرتے ہیں، اسی لیے قرآن کی دوسری آیات میں اس لفظ کے بجائے "کتاب" کا کلمہ استعمال ہوا ہے، جیسا کہ سُورہٴ ایٰس کی بارہویں آیت میں ہے۔ "إ إِنَّا نَحْنُ نُحْيِي الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ" "ہم مُردوں کو زندہ کریں گے اور جو کُچھ وہ پہلے بھیج چکے ہیں اسے اور ان کے باقی ماندہ آثار کر لکھتے رہتے ہیں۔" (تشریحی نوٹ: امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں ہے: "إنّ للہ ملائکة ینزلون فی کل یوم یکتبون فیه أعمال بنی اٰدم۔" "خدا کی طرف سے کچھ فرشتے ہیں جو روزانہ آسمان سے نازل ہوتے ہیں اور بنی آدم کے اعمال لکھتے رہتے ہیں۔" شیخ طُوسیؒ تفسیر "تبیان" میں مذکورہ آیت کے ذیل میں اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں۔ "نَستنسِخ" سے مراد یہ ہے کہ کہ ہم انسانی اعمال کے محافظ فرشتوں کو حکم دیتے ہیں کہ جو اعمال ثواب یا عذاب کا موجب ہوتے ہیں وہ اس گروہ سے لے کر درج کریں اور بقیہ اعمال پر خط تنسیخ کھینچ دیں، کیونکہ پہلا گروہ انسان کے تمام اعمال کو لکھ دیتا ہے (ملاحظہ ہو تفسیر تبیان، جلد ۹،ص۲۶۰)۔ اعمال کے اندراج کے بارے میں کتابوں کا ذکر سُورہٴ یٰس کی آ یت ۱۲ کے تحت تفسیر نمونہ کی جلد ۱۸ میں تفصیل سے کیا گیا ہے، جس میں انسان کے ذاتی نامہٴ اعمال، امتوں کے نامہٴ اعمال اور تمام انسانوں کی جامع اور عمومی کتاب کے بارے میں بڑی تفصیل سے گفتگو کی گئی ہے۔ بعد کی آیت میں قیامت کی عدالت کے آخری مرحلے کا ذکر کیا گیا ہے، جب کہ ہر گروہ اپنے اعمال کا نتیجہ پا لے گا، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: لیکن جو لوگ ایمان لائے اور وہ اچھے اعمال بجا لائے، تو ان کو ان کا پروردگار اپنی رحمت میں داخل کریگا (فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَيُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِي رَحْمَتِهِ)۔ یہاں پر"فاء تفریعیه" کا آنا اس بات کی دلیل ہے کہ اعمال کی حفاظت اور عدالت الہٰی کا نتیجہ یہی ہے کہ موٴمنین رحمت الہٰی میں داخل ہوں گے۔ اس آیت کی رُو سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صرف ایمان کافی نہیں ہے، بلکہ عمل صالح کی بجا آوری بھی اس کے ساتھ شرط ہے۔ "ربّھم" (ان کا پروردگار) کی تعبیر خدا وند کریم کے خاص لطف و کرم کی غمازی کر رہی ہے اور "بہشت" کے بجائے "رحمت" کی تعبیر اس لُطف و کرم کے کمال کو ظاہر کر رہی ہے۔ آیت کے آخری جُملے میں فرمایا گیا ہے: یہ بہت واضح کامیابی ہے (ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِينُ) یہ جملہ اس لُطف و کرم کو اوج کمال پر پہنچا رہا ہے۔ "رحمت إلہٰی" کا وسیع مفہوم ہے جو دُنیا اور آخرت دونوں پر محیط ہے، قرآنی آیات میں بہت سے معانی پر اس کا اطلاق ہوا ہے، کبھی ہدایت پر، کبھی دُشمن کے چنگل سے چھٹکارا حاصل کرنے پر، کبھی بابرکت پر اور کبھی نور و ظلمت جیسی دُوسری نعمتوں پر اور بہت سے مقامات پر بہشت اور قیامت میں خدا کی نعمتوں پر بھی اس کا اطلاق ہوا ہے۔ "ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِينُ" کا جُملہ ایک مرتبہ سُورہٴ انعام کی آیت ۱۶ میں بھی آیا ہے، لیکن وہاں پر "فَوْزُ الْمُبِينُ" (واضح کامیابی) کا ان لوگوں کے بارے میں ذکر ہوا ہے جو عذابِ الہٰی سے بچ جائیں گے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ "مَنْ یُصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهُ وَذلِکَ الْفَوْزُ الْمُبین" لیکن یہاں پر ان لوگوں کے بارے میں ہے جو بہشت اور رحمت خداوندی میں داخل ہوں گے اور حقیقت ہوں گے اور حقیقت میں یہ دونوں بڑی کامیابیاں ہیں، عذاب الہٰی سے نجات اور رحمت حق کے سایے میں داخلہ۔ یہاں پر مُمکن ہے یہ سوال پیش ہو کہ جو مومنین عمل صالح سے عاری ہیں آیا وہ بہشت میں ہیں جائیں گے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ضرور جائیں گے، لیکن قبل ازیں وہ جہنم میں اپنی بد اعمالیوں کی سزا پائیں گے اور پاک و صاف ہو کر داخلِ جنّت ہوں گے۔ حساب و کتاب کے بعد وہی لوگ براہ راست رحمتِ الہٰی میں داخلہ حاصل کر سکیں گے جو ایمان کے علاوہ عمل صالح کے سرمائے کے بھی حامل ہوں گے۔ "فَوز" کا لفظ جس طرح کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے اس "کامیابی" کے معنی میں ہے جس کے ساتھ "صحت و سلامتی" بھی ہو یہ کلمہ قرآنی آیات میں ۱۹ مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ کہیں پر تو اس کی "مبین" کے لفظ کے ساتھ صفت بیان کی گئی ہے اور کہیں پر "کبیر" کے لفظ کے ساتھ، لیکن اکثر آیات میں "عظیم" کے لفظ کے ساتھ اس کی توصیف کی گئی ہے، اور عام طور پر بہشت ہی کے سِلسلے میں ہے، لیکن بعض مقامات پر اطاعت الہٰی اور گناہوں کی بخشش وغیرہ کے بارے میں بھی استعمال ہوا ہے۔ بعد کی آیت میں ایک اور ٹولے کے انجام کا ذکر ہے، جو ٹھیک اس گروہ کا مدمقابل ہے، ارشاد ہوتا ہے: لیکن جن لوگوں نے کُفر اختیار کیا ان سے کہا جائے گا: کیا تمہارے سامنے ہماری آیتیں نہیں پڑھی جاتی تھیں؟ تم نے تکبّر کیا اور حق کے سامنے سر نہیں جھکایا اور تم لوگ تو گناہگار تھے (وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا أَفَلَمْ تَكُنْ آيَاتِي تُتْلَى عَلَيْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَكُنتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِينَ)۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ یہ آیت صرف کفر کے متعلق گفتگو کر رہی ہے۔ لیکن اس میں بُرے اعمال کا تذکرہ نہیں ہے جو عذابِ الہٰی میں داخل ہونے کا سبب ہیں، یہ سب اس لیے ہے کہ مسئلہ کفر ہی بذاتِ خود عذاب کا موجب ہوتا ہے، یا پھراس لیے کہ آیت کے ذیل میں "مجرمین" کی تعبیر ہی اس معنی کو ذکر کرنے کے لیے کافی ہے۔ ایک اور نکتہ یہ بھی ہے کہ یہاں پر دوزخ کی سزاؤں کا ذکر نہیں ہوا، دراصل پروردگار عالم کی سرزنش کا ذکر ہی بہت بڑی سزا محسُوب ہوتی ہے، جس کے مقابلہ میں دوزخ کی اہمیّت بہت کم ہے۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ اس آیت سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ انبیاء کی بعثت، رسولوں کے بھیجنے اور آیاتِ الہٰی کے نزُول جِسے اصطلاح میں احکام عقل کی احکامِ شریعت کے ساتھ تاکید کا نام دیا جاتا ہے) کے بغیر خدا وند رحمان کی جانب سے سزا نہیں ملے گی اور یہ اس کا انتہائی لطف و کرم ہے۔ آخری نکتہ یہ ہے کہ اس ٹولے کے لیے سب سے بڑی مصیبت ایک تو آیاتِ الہٰی کے مقابلے میں "إستکبار" کا مظاہرہ اور دوسری "جرم و گناہ دوام" ہے، جو "كُنتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِينَ" کے جملے سے سمجھی جاتی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر جِس دِن اِنسان کے بُرے اَعمال ظاہر ہو جائیں گے
Tafsīr Nemūna · Vol. 7زیر تفسیر آیات میں سب سے پہلی آیت درحقیقت، ان امور کی وضاحت ہے جو گزشتہ آیات میں اجمالی صُورت میں بیان ہوئے ہیں اور خدا کی آیات اور انبیاء کی دعوت کے مقابلے میں کفار کے استکبار کی تشریح ہے، ارشاد ہوتا ہے: جب کہا جاتا تھا کہ خدا کا وعدہ سچا ہے اور قیام میں کچھ شک نہیں ہے تو تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا چیز ہے، ہم تو اس بارے میں صرف گمان رکھتے ہیں اور اس پر ہرگز یقین نہیں رکھتے (وَإِذَا قِيلَ إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ لَا رَيْبَ فِيهَا قُلْتُم مَّا نَدْرِي مَا السَّاعَةُ إِنْ نَّظُنُّ إِلَّا ظَنًّا وَمَا نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِينَ)۔ "مَّا نَدْرِي مَا السَّاعَةُ" (ہم نہیں جانتے قیامت کیا چیز ہے) کی تعبیر کیوں بیان کی گئی ہے؟ جب کہ قیامت کا مفہوم ان کے لیے کوئی پیچیدہ بات نہیں تھی اور اگرانہیں کوئی شک تھا بھی تو صرف اس کے وجود کے بارے میں تھا۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ تکبر کا شکار تھے اور بالکل بےاعتنائی سے کام لیتے تھے، اگر ان میں حق طلبی کی تڑپ ہوتی تو روز قیامت کی حقیقت بھی ان کے لیے روز روشن کی طرح ظاہر تھی اور اس کے وجُود کے دلائل بھی بہت تھے۔ یہیں سے اس سوال کا جواب بھی واضح ہو جاتا ہے کہ اگر وہ قیامت کے بارے میں واقعاً شک و شبہ میں پڑے ہوئے تھے تو اس بارے میں نہ تو ان پر کسی قسم کا گناہ تھا اور نہ ہی ان پر کوئی ذمہ داری بنتی تھی، کیونکہ ان کا یہ شک و شبہ تو حق کے واضح نہ ہونے کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ تکبّر، غرور، ہت دھرم اور معاندانہ رویّے کی وجہ سے تھا۔ ایک احتمال یہ بھی ہے کہ ان کی اس تضاد بیانی کا مقصد مذاق اور تمسخر اڑانا تھا۔ بعد والی آیت ان کی سزا اورعذاب کی بات کر رہی ہے، یہ سزا ہماری دنیاوی مقرر کردہ سزاؤں جیسی نہیں ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: وہاں پر ان کے کرتوتوں کی برائیاں ظاہر ہو جائیں گی (وَبَدَا لَهُمْ سَيِّئَاتُ مَا عَمِلُوا)۔ تمام برائیاں مجسم ہو کر سامنے آ جائیں گی اوران کے رُو بُرو واضح اور آشکار صُورت میں پیش ہوں گے، ان کی ہم دم اور ہم نشین ہو کر انہیں ہمیشہ دُکھ پہنچاتی رہیں گی۔ آخرکار جس چیز کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے وہ ان پر واقع ہو کر رہے گی (وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُون)۔ (تشریحی نوٹ: "حاق"، "حوق" کے مادہ سے ہے جس کا معنی داخل ہونا، نازل ہونا، جا لگنا، پہنچ جانا اور گھیر لینا ہے۔ بعض حضرات کے نزدیک یہ کلمہ دراصل "حق" ہے (جس کا معنی ثابت ہونا ہے) پہلی قاف کو واؤ میں تبدیل کر کے پھر اسے الف میں بدل دیا گیا ہے)۔ سب سے درد ناک بات یہ ہے کہ خداوند رحمان و رحیم کی جانب سے انہیں خطاب ہو گا "اور کہا جائے گا آج ہم بھی تمہیں اسی طرح بھلا دیں گے، جس طرح تم آج کے دن کی ملاقات کو بھلا چکے تھے"وَقِيلَ الْيَوْمَ نَنسَاكُمْ كَمَا نَسِيتُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَذَا۔" یہ ایک ایسی تعبیر ہے جو مختلف صورتوں میں قرآن پاک میں کئی مرتبہ آئی ہے، جیسا کہ سُورہٴ اعراف کی ۵۱ ویں آیت میں ہے۔ "فَالْيَوْمَ نَنسَاهُمْ كَمَا نَسُواْ لِقَاءَ يَوْمِهِمْ هَـذَا" "آج ہم بھی انہیں بھلا دیں گے، جس طرح کہ انہوں نے آج کے دن کی ملاقات کو فراموش کر دیا تھا۔" یہی چیز سُورہٴ "الم سجدہ" کی ۱۴ ویں آیت میں ایک اور انداز میں ذکر کی گئی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ خداوندِ عالم کی ذات پاک کے لیے فراموشی ایک بےمعنی سی بات ہے، کیونکہ اس کا علم تو تمام کائنات پر حاوی ہے، دراصل یہ ایک لطیف کنایہ ہے ایک مجرم اور گناہگار انسان سے بےپروائی اور بےنیازی کے لیے، حتی کہ ہمارے روز مرّہ میں یہی بات دیکھنے میں آتی ہے کہ ہم کہتے ہیں۔ "تم فلاں بےوفا دوست کو ہمیشہ کے لیے بھلا دو۔" یعنی ایک بھولے بسرے انسان کے مانند اس سے سلوک کرو، اس کے ساتھ مہر و محبت، دیدار و ملاقات، دِل جوئی اور حال احوال پوچھنا ترک کر دو اور کبھی اس کا نام تک نہ لو۔ ضمنی طور پر یہ تعبیر "اعمال کے مجسم ہونے" اور "جرم و سزا کا مناسبت" کے مسئلے پر ایک اور تاکید ہے، کیونکہ ان کا قیامت کا فراموش کر دینا اس بات کا سبب بن جائے گا خداوند تعالیٰ بھی انہیں فراموشی کے خانے میں ڈال دے اور کِس قدر جانکاہ اور درد ناک ہو گی یہ عظیم مصیبت کہ خداوندِ رحیم اور مہربان کسی شخص کو گوشہٴ فراموشی میں ڈال کر اسے ہر قسم کے لطف و کرم سے محروم کر دے۔ مفسرین نے یہاں پر اس نسیان کی مختلف تفسیریں بیان کی ہیں، جن سب کی رُوح تقریباً وہی مذکورہ بالا جامع معنی بن جاتی ہے، لہٰذا ان کے دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ساتھ ہی یہ بات بھی بتاتے چلیں کہ روز قیامت کی فراموشی سے مراد اس روز واقع ہونے والے تمام واقعات کی فراموشی ہے، خواہ وہ حساب و کتاب ہو یا کوئی اور معاملہ کہ قیامت کے انکار کے ضمن میں وہ ان سب کا انکار کر جاتے تھے۔ ایک احتمال یہ بھی ہے کہ اس سے مراد قیامت کے دن لقاء الہٰی (خدا کی ملاقات) کی فراموشی ہے، کیونکہ قیامت کے دن کو قرآن مجید میں "یَوْمِکُمْ لِقاء اللہ" (خدا کی ملاقات کا دن) کہا گیا ہے۔ البتہ یہ ملاقات اور مشاہدہ ظاہری اعظا اورآنکھوں سے نہیں، بلکہ باطنی اعضاء اور دِل کی آنکھوں سے ہو گا۔ آیت کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہُوئے فرمایا گیا ہے ہے کہ ان سے کہا جائے گا "تمہارا ٹھکانا جہنّم ہے" (وَمَاْواکُمُ النَّارُ)۔ اور اگر تمہارا یہ گمان ہو کہ کوئی شخص تمہاری مدد کو پہنچے گا تو یہ بھی دو ٹوک الفاظ سے سُن لو کہ، "تمہارا کوئی مدد گار نہیں ہو گا" (وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ)۔ لیکن تم کیوں اور کس لیے مصیبت میں گرفتار ہُوئے ہو؟ تو سن لو کہ "یہ اس لیے ہے کہ تم لوگوں نے خدا کی آیتوں کی ہنسی مذاق بنا رکھّا تھا اور دُنیاوی زندگی نے تمہیں غرور ہیں مبتلا کر رکھا تھا" (ذَلِكُم بِأَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ آيَاتِ اللهِ هُزُوًا وَغَرَّتْكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا)۔ اصولی طور پر یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں، ایک "غرور" اور دوسرے "استہزاء" مغرور اور خود پسند افراد دوسروں کو حقارت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور عام طور پر ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ان کے غرور کا اصل سبب بھی دنیاوی زندگی کا مال و متاع، قدرت و طاقت، مال و دولت اور عارضی کامیابی ہوتی ہے جو کم ظرف لوگوں کو اس قدر غافل کر دیتی ہے کہ وہ انبیائے الہٰی کی دعوت تک و ذرہ بھر اہمیّت نہیں دیتے، بلکہ اپنے آپ کو ان کی دعوت کے مطالعے تک کی زحمت دینا گوارا نہیں کرتے۔ آیت کے آخر میں ایک مرتبہ پھر اسی چیز کو دوسرے لفظوں میں دہرایا گیا ہے اور اس کی تاکید کی گئی ہے جو گزشتہ آیات میں بیان ہو چکی ہے، ارشاد ہوتا ہے: آج کے دن وہ نہ تو دوزخ سے نکا لے جائیں گے اور نہ ہی ان سے کوئی عذر قبول کیا جائے گا (فَالْيَوْمَ لَا يُخْرَجُونَ مِنْهَا وَلَاهُمْ يُسْتَعْتَبُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: "یستعتبون" کے معنیٰ اور اس کے اصل مادہ کے بارے میں تفسیر نمونہ کی جلد ۹ میں سُورہٴ رُو م کی ۵۷ ویں آیت کی تفسیرمیں ضروری وضاحت کی جا چکی ہے)۔ وہاں پر ان کے ٹھکانے اور مستقل جگہ کی بات ہو رہی تھی اور یہاں پر ان کے دوزخ سے نہ نکلنے کی گفتگو ہو رہی ہے، وہاں پر بتایا گیا تھا کہ ان کا کوئی مددگار نہیں اور یہاں پر فرمایا گیا ہے کہ ان کا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہو گا، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کے لیے کوئی راہِ نجات نہیں ہے۔ اس سُورت کے آخر میں توحید اور معاد کی بحث کو تکمیل کے لیے دو آیتوں میں ربوبیت کی وحدت اور خداوندِ عالم کی عظمت قدرت اور حکمت کو بیان کیا جا رہا ہے اور اِس حصّے میں خداوند عالم کی پانچ صفات کو منعکس کیا جا رہا ہے اور یہی اس سُورت کا اہم ترین حصہ ہے۔ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: بنابریں، تمام حمد و ستائش خدا ہی کے سزا وار ہے (فَلِلَّهِ الْحَمْدُ)۔ کیونکہ وہی ہے "جو سارے آسمانوں کا پروردگار، زمین کا ربّ اور سارے جہانوں کا مالک ہے" (رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَرَبِّ الْأَرْضِ رَبِّ الْعَالَمِينَ)۔ "ربّ" کا معنی مالک، مدبّر، حاکم اور اصلاح کرنے والا ہے، اسی لیے جو بھی خیر اور برکت ہے، اسی کی ذات پاک کی جانب سے ہے، اسی لیے تمام تعریفیں اسی کی ذات کی طرف لوٹ جاتی ہیں، حتی کہ پُھول کی تعریف، چمن کی لطافت، نسیم سحر کی دلربائی اور ستاروں کی زیبائی کا ذکر اسی پاک ذات کی ستائش ہے، کیونکہ ان کا سب کچھ ذاتِ کردگار کی جانب سے اور اسی کے لُطف و کرم سے ہے۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ ایک مرتبہ فرماتا ہے کہ سارے آسمانوں کا پروردگار، پھر کہتا ہے زمین کا ربّ اور آخر میں فرماتا ہے کہ تمام کائنات اور کائنات والوں کا مالک، یہ سب کچھ اس لیے ہے تاکہ ارباب النّوع اور مختلف خداؤں کے عقیدے کی نفی کی جائے، جس کے بہت سے لوگ معتقد تھے اور ان سب کو ربوبیت کی توحید کی جانب متوجہ کیا جائے۔ ذاتِ کردگار کی "حمد" و"ربوبیت" کے ساتھ توصیف کرنے کے بعد تیسری صفت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: سارے آسمانوں اور زمین میں اس کے لیے بڑائی، عظمت، سربلندی اور بلند و بالا مرتبہ ہے (وَلَهُ الْكِبْرِيَاءُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ)۔ کیونکہ اس کی عظمت کے آثار آسمانوں کی وسعتوں اور زمین کی پہنائیوں، بلکہ سراسر کائنات میں پائے جاتے ہیں اس سے پہلے آیت میں اس کی ربوبیّت یعنی کائنات کی مالکیّت اور تدبیر کی بات ہو رہی تھی اور یہاں پر اس کی عظمت کا تذکرہ ہے کہ جس قدر زمین و آسمان کی آفرینش کے بارے میں غور و فکر کرتے جائیں اسی قدر اس سے زیادہ آشنا اور آگاہ ہوتے جائیں گے۔ آخر میں چوتھی اور پانچویں صفت کو بیان کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے: وہی غالب اور ناقابلِ تسخیر قادر اور مطلق صُورت میں حکمت والا ہے (وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ)۔ اس طرح سے "علم"، "قدرت" ، "عظمت" ، "ربوبیّت" اور "محمُود یت" کی مجموعی صُورت مکمل ہو جاتی ہے اور یہ اس کی اہم ترین صفات اور اسماء حسنیٰ کا مجموعہ ہے۔ اور گویا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ: له الحمد فاحمدوه، وهُو الرّب فاشْكُرُوا له، ولهُ الْكبْرياء فكبروه، وهُو العزيزُ الْحكيم فأطيعوهُ۔" "حمد اسی کی ذات کے لیے مخصوص ہے، لہٰذا اسی کی حمد بجا لاؤ، وہی پروردگار ہے، لہٰذا اسی کا شکر ادا کرو، عظمت اسی کی ذات کو زیبا ہے، لہذا اس کی تکبیر بجا لاؤ اور وہ عزیز وحکیم ہے لہذا اسی کی اطاعت کرو“۔ اس طرح سے سُورہٴ "جاثیه" جو خداوندِ عالم کی "عزیز وحکیم" صفات کے ساتھ شروع ہوئی تھی، انہی اوصاف کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچتی ہے، اس سُورت کے سار ے مندرجات بھی اس کی بےانتہا عزت و حکمت کے گواہ ہیں۔