Sūra 76 · 31v
Chapter 7631 verses

Al-Insan

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
الإنسان
الانسان

سُورہ انسان (دہر)

یہ سُورہ مدینہ میں نازل ہوئی اس میں ۳۱ آیات ہیں

سُورہ انسان (دہر) کے مضامین

یہ سورہ مختصر ہونے کے باوجود عمیق، متنوع اور جامع مضامین رکھتا ہے اور ایک لحاظ سے اسے پانچ حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلے حصہ میں انسان کی آفرینش اور اس کی نطفۂ امشاج (ملے جلے) سے خلقت اور پھر اس کی ہدایت اور ارادہ کی آزادی کے بارے میں گفتگو کرتا ہے۔ دوسرے حصہ میں ابرار اور نیک افراد کے اجر و ثواب کے بارے میں گفتگو ہے، جو اہلِ بیتؑ کے بارے میں ایک خاص شانِ نزول رکھتا ہے، جس کی طرف اشارہ ہو گا۔ تیسرے حصہ میں ان ثوابوں کے استحقاق کے دلائل کو مختصر اور موثر جملوں میں بیان کرتا ہے۔ چوتھے حصہ میں قرآن کی اہمیت، اور اس کے احکام کے اجراء کے طریقہ اور خود سازی کی نشیب و فراز سے بھری ہوئی راہ کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ اور پانچویں حصہ میں (انسان کے مختار ہونے کے باوجود) مشیت الٰہی کی حاکمیت کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے۔ اس سُورہ کے متعدد نام ہیں جن میں سے زیادہ مشہور سُورہ "انسان" اور سورہ "دہر" اور سورہ "ہل اتٰی" ہے۔ جن میں سے ہر ایک اس سُورہ کے اوائل کے الفاظ سے لیا گیا ہے۔ اگرچہ ان روایات میں جو بعد میں اس سُورہ کی فضلیت کے متعلق بیان ہوں گے۔ صرف "ہل اتٰی" کا ذکر آیا ہے۔

کیا یہ سُورہ مدینہ میں نازل ہوا ہے؟

اس بارے میں کہ سُورہ "ہل اتی" مدنی ہے یا مکی؟ مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، لیکن شیعہ علماء و مفسرین کا اجماع و اتفاق اس بات پر ہے کہ سارا کا سارا سُورہ، یا کم از کم سُورہ کے آغاز کی آیات کا وہ حصہ جو ابرار کے مقام اور ان کے اعمال صالح کو بیان کرتا ہے، وہ مدینہ میں نازل ہوا ہے، جس کا شانِ نزول، یعنی علیؑ، فاطمہ زہراؑ، امام حسنؑ، امام حسینؑ اور فضہ کے نذر کرنے کی داستان تفصیل کے ساتھ بیان ہو گی۔ اور اسی طرح سے علماء اہلِ سنت کے درمیان بھی مشہور اس کا مدینہ میں نزول ہی ہے جیسا کہ اہل سنت کے مشہور مفسر قرطبی اپنی تفسیر میں کہتے ہیں۔ و قال الجمھور مدینۃ "مشہور علماء کا نظریہ اور عقیدہ یہ ہے کہ یہ سورہ مدینہ میں نازل ہوا ہے۔" (بحوالہ: تفیسر قرطبی، جلد ۱۰، ص٦٩۰٩)۔ ان علماء میں سے جو اس ساری سورت کو یا آیات کے ایک حصہ کو ــــــــــ جس کی طرف اوپر اشارہ ہوا ہے ــــــــــــ "مدنی" سمجھتے ہیں، ذیل کے علماء کا نام لیا جا سکتا ہے۔ ۱- حاکم ابو القاسم جسکانی نے ابن عباس سے ان آیات کی تعداد، جو مکہ میں اور مدینہ میں نازل ہوئی ہیں، بالتربیت تفصیل کے ساتھ نقل کی ہیں اور اس سورہ کو مدنی سورتوں میں شمار کیا ہے، جو سورہ "رحمٰن" کے بعد اور سورہ "طلاق" سے پہلے نازل ہوا ہے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱۰، ص ٤۰٥)۔ صاحب کتاب "ایضاح" استاد احمد زاہد نے بھی یہی معنی ابن عباس سے نقل کیا ہے۔ (سابقہ حوالہ) ٢- "تاریخ القرآن" میں ابو عبداللہ زنجانی نے کتاب "نظم الدررو تناسق الاٰیات والسور" سے اہل سنت کے بزرگوں کی ایک جماعت سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے سورہ انسان کو مدنی سورتوں کی ردیف میں شمار کیا ہے۔ (بحوالہ: تاریخ القرآن، ص ٥٥)۔ ۳- اور اسی کتاب میں "فہرست ابن ندیم" سے بھی ابن عباس ہی سے یہ نقل ہوا ہے کہ وہ سورہ ہل اتٰی کو گیارہویں مدنی سورت شمار کرتے ہیں۔ (بحوالہ: تاریخ القرآن)۔ ٤- سیوطی نے "اتقان" میں بہیقی کی "دلائل النبوت" سے عکرمہ سے نقل کیا ہے کہ سُورہ ہل اتی مدینہ میں نازل ہوا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر المیزان، جلد ٢۰، ص ٢٢۱)۔ ٥- "درالمنثور" میں بھی یہی مضمون ابن عباس سے مختلف طریقوں سے نقل ہوا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر المیزان، جلد ٢۰، ص ٢٢۱)۔ ٦۔ زمخشری نے "تفسیر کشاف" میں اس سورہ کی ابتدائی آیات کو مشہور شانِ نزول علیؑ اور ان کی زوجہ محترمہ اور ان کے بچوں کی نذرکے بارے میں نقل کیا ہے۔ (بحوالہ: کشاف، جلد ٤، ص ٦٧۰)۔ ٧- مذکورہ بالا موارد کے علاوہ اہل سنت کے دوسرے بزرگ علماء کی ایک کثیر جماعت نے اس سورہ کی ابتدائی آیات (إِنَّ الْأَبْرَارَ...) کا نزول علیؑ، فاطمہ زہراؑ، امام حسنؑ اور امام حسینؑ کے بارے میں نقل کیا ہے، جو اس بات کی شہادت ہے کہ یہ سُورہ مدنی ہے (کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ امام حسنؑ اور امام حسینؑ کی ولادت مدینہ میں ہوئی ہے)۔ مثلاً واحدی نے "اسباب النزول" میں، بغوی نے "معالم التنزیل" میں، سبط بن جوزی نے "تذکرہ" میں، گنجی شافعی نے "کفایت الطالب"میں ، اور بہت سے دوسرے علماء نے۔ (بحوالہ: احقاق الحق، جلد ٢، ص ۱٥٧ تا ۱٧۰ (کتابوں کے نام اور صفحات کے ذکر کے ساتھ))۔ یہ مسئلہ اس قدر مشہور و معروف ہے کہ (اہلِ سنت کے چار اماموں میں سے ایک) "محمد بن ادریس شافعی" اپنے مشہور اشعار میں کہتے ہیں: الی م الی م و حتی متٰی؟ اعتب فی حب ھٰذا الفتٰی وھل زوجت فاطمہ غیرہ؟ و فی غیرہ ھل اتٰی ھل اتٰی؟ "کب تک، کس وقت تک اور کس زمانہ تک؟ مجھے اس جواں مرد کی محبت میں سرزنش کرتے رہو گے کیا فاطمہ کی اس کے علاوہ کسی اور سے شادی ہوئی ہے؟ اور کیا سُورہ ہل اتٰی اس کے علاوہ کسی اور کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ (بحوالہ: گزشتہ مدرک، ص ۱٥٨)۔ اس سلسلہ میں اور بھی بہت سے مدرک موجود ہیں، جن کے ایک حصہ کی طرف ہم "إِنَّ الْأَبْرَارَ يَشْرَبُونَ..." والی آیات کا شانِ نزول بیان کرتے وقت اشارہ کریں گے۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود بعض متعصب افراد کا اصرار ہے کہ اس سُورہ کو مکی سمجھیں اور مدینہ میں اس کے نزول کی تمام روایات کا اور اسی طرح اس سورہ کے کے علیؑ و فاطمہؑ اور حسنینؑ کے بارے میں نزول کا انکار کریں۔ واقعاً عجیب بات ہے کہ جب کوئی آیت یا روایت علیؑ اور اہل بیتؑ کے فضائل بیان کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے تو ایک گروہ داد فریاد بلند کرنے لگ جاتا ہے اور حد سے زیادہ حساسیت دکھانے لگتا ہے، گویا کہ اسلام خطرے میں پڑ گیا ہے۔ حالانکہ دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ وہ علیؑ کو خلفاء راشدین اور اسلام کے عظیم پیشواؤں میں سے سمجھتے ہیں اور اہل بیت کے بارے میں بھی اظہارِ عقیدت کرتے ہیں۔ ہمارے نظریہ کے مطابق یہ تعصّب اس گروہ کے افکار پر روح اموی کی حاکمیت کا نتیجہ ہے اور اسی شوم و منحوس دور کے پروپیگنڈوں کی پیداوار ہے۔ خدا ہم سب کو اسی قسم کے اشتباہات سے محفوظ رکھے۔

سورہ انسان (دہر) کی فضیلت

ایک حدیث میں پیغمبر اکرمؐ سے آیا ہے: من قرأ سورۃ "ھل اتٰی" کان جزاؤہ علی اللہ جنۃ و حریرًا "جو شخص سورہ ہل اتٰی کو پڑھے گا اس کی جزا و ثواب خدا پر جنت اور جنت کے ریشمی لباس ہیں۔" (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱۰، ص ٤۰٢)۔ اور ایک حدیث میں امام باقرؑ سے آیا ہے: "جو شخص ہر جمعرات کی صبح کو سورہ ہل اتٰی پڑھے گا، اس کی جزاؤں میں سے ایک جزا یہ ہے کہ وہ قیامت کے دن پیغمبرِؐ خدا کے ساتھ ہو گا۔" (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱۰، ص ٤۰٢)۔

1
76:1
هَلۡ أَتَىٰ عَلَى ٱلۡإِنسَٰنِ حِينٞ مِّنَ ٱلدَّهۡرِ لَمۡ يَكُن شَيۡـٔٗا مَّذۡكُورًا
کیا ایسا نہیں ہے کہ انسان پر ایک طویل زمانہ ایسا گزرا ہے کہ وہ کوئی قابل ذکر شے نہیں تھا؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 4 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
76:2
إِنَّا خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ مِن نُّطۡفَةٍ أَمۡشَاجٖ نَّبۡتَلِيهِ فَجَعَلۡنَٰهُ سَمِيعَۢا بَصِيرًا
ہم نے انسان کو ملے جلے نطفہ سے پیدا کیا ہے، ہم اس کو آزمائیں گے ( اس لئے ) ہم نے اسے سننے والا اور دیکھنے والا قرار دیا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 4 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
76:3
إِنَّا هَدَيۡنَٰهُ ٱلسَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرٗا وَإِمَّا كَفُورًا
ہم نے اسے راستے کی نشاندہی کر دی ہے، اب چاہے وہ شاکر ہو جائے ( اور قبول کرے) یا کفران کرے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 4 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
76:4
إِنَّآ أَعۡتَدۡنَا لِلۡكَٰفِرِينَ سَلَٰسِلَاْ وَأَغۡلَٰلٗا وَسَعِيرًا
ہم نے کفار کے لئے زنجیریں، طوق اور جلانے والے شعلے تیار کر رکھے ہیں۔

تفسیر ہم نے ناچیز نطفہ کو انسان بنا دیا، اور ہدایت کے تمام ذرائع اس کے اختیار میں دے دیئے

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

اس کے باوجود کہ اس سورہ کے زیادہ تر مباحث قیامت اور جنت کی نعمتوں کے بارے میں ہیں، لیکن اس کی ابتداء میں گفتگو انسان کی خلقت کے بارے میں ہے، کیونکہ اس زمینہ ساز خلقت کی طرف توجہ کرنا، قیامت و معاد کی طرف توجہ کرنا ہے۔ جیسا کہ ہم سورہ قیامت کی تفسیر میں اس سے چند صفحہ پہلے تشریح کر چکے ہیں۔ فرماتا ہے: "کیا ایسا نہیں ہے کہ انسان پر ایک طویل زمانہ ایسا گزرا ہے کہ وہ کوئی قابلِ ذکر چیز نہیں تھا"۔ (هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنسَانِ حِينٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُن شَيْئًا مَّذْكُورًا)۔ ہاں! اس کے وجود کے ذرّات میں سے ہر ذرّہ کسی گوشہ میں بکھرا پڑا تھا۔ مٹی کے درمیان، دریاؤں اور سمندروں کے پانی کے قطروں میں، اس ہوا میں جو زمین کی فضا میں موجود ہے، اس کے وجود کا اصلی مواد، ہر ایک ان تینوں وسیع محیطوں کے کسی ایک گوشہ میں پڑا ہوا تھا، اور وہ حقیقت میں ان کت درمیان گم شدہ اور بالکل قابل ذکر نہیں تھا۔ کیا یہاں "انسان" سے مراد نوعِ انسانی ہے، اور یہ تمام افراد بشر کو شامل ہے؟ یا اس سے خاص طور پر حضرت آدمؑ مراد ہیں۔؟ بعد والی آیت جو یہ کہتی ہے کہ ہم نے انسان کو نطفہ سے پیدا کیا ہے، وہ پہلے معنی پر ایک واضح اور روشن قرینہ ہے، اگرچہ بعض کا نظریہ یہ ہے کہ "انسان" پہلی آیت میں حضرت آدمؑ کے معنی میں ہے اور دوسری آیت میں اولاد آدم اشارہ ہے، لیکن اس مختصر سے فاصلہ میں یہ جدائی بعید نظر آتی ہے۔ "لَمْ يَكُن شَيْئًا مَّذْكُورًا" (کوئی قابلِ ذکر چیز نہیں تھا) کے جملہ کی تفسیر میں، دوسرے نظریات کا بھی اظہار ہوا ہے۔ منجملہ ان کے یہ ہے کہ: انسان جب عالمِ نطفہ میں تھا اور جنین تھا تو وہ قابلِ ذکر وجود نہیں تھا، لیکن بعد میں جب اس نے تکامل و ارتقاء کے مراحل طے کر لیے تو وہ ایک قابلِ ذکر وجود میں تبدیل ہو گیا۔ ایک حدیث میں امام باقرؑ سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: "انسان" ، "علمِ خدا میں" مذکور تھا، اگرچہ "عالمِ خلق" میں مذکور نہیں تھا" (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱۰، ص ٤۰٦)۔ بعض تفاسیر میں یہ بھی آیا ہے کہ یہاں "انسان" سے مراد علماء اور دانش مند ہیں، جو علم کے حاصل کرنے سے پہلے قابلِ ذکر نہیں تھے لیکن علم حاصل کرنے کے بعد، زندگی میں بھی اور موت کے بعد بھی، تمام لوگوں کے درمیان ہر جگہ ان کا ذکر ہوتا ہے۔ بعض نے یہ نقل کیا ہے کہ "عمر بن خطاب" نے کسی سے آیت سنی تو کہا: اے کاش! آدم اسی طرح سے غیر مذکور رہتا اور ماں سے پیدا ہی نہ ہوتا اور اس کی اولاد امتحان میں مبتلا نہ ہوتی۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد 10 جلد ۱۰، ص ٤۰٦)۔ یہ بات حیرت انگیز ہے چونکہ یہ تو مسئلہ آفرینش و خلقت پر ایک اعتراض ہے۔ بہرحال، اس مرحلہ کے بعد انسان کی خلقت اور اس کے قابلِ ذکر موجود ہونے کی بات آتی ہے، فرماتا: "ہم نے انسان کو ملے جلے نطفہ سے پیدا کیا ہے، ہم اس کو آزمائیں گے لہذا ہم نے اسے سننے والا اور دیکھنے والا قرار دیا ہے۔" (إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا)۔ "امشاج" ، "مشج" (بروزن نسج یا بروزن سبب) کی جمع ہے یا "مشیج" (بروزن مریض) کی جمع ہے، جو مخلوط اور ملی جلی چیز کے معنی میں ہے۔ "نطفہ مخلوط" سے انسان کی خلقت، ممکن ہے کہ عورت اور مرد کے نطفہ کے ملنے اور "اسپرا" اور "اوول" کی ترکیب کی طرف اشارہ ہو، جیسا کے روایات اہلِبیتؑ میں اجمالی طور پر اس کی طرف اشارہ ہوا ہے یا ان مختلف استعدادوں کی طرف اشارہ ہے جو عامل وراثت کے لحاظ سے، کروموسوم اور اس کے مانند دوسری چیزوں کے طریق سے نطفہ کے اندر پائی جاتی ہے، یا نطفہ کی ترکیب میں مختلف مواد کے اختلاط کی طرف اشارہ ہے کیونکہ وہ دسیوں مختلف مادوں سے مل کر بنا ہے یا ان سب کا ایک دوسرے کے ساتھ اختلاط، آخری معنی سب سے زیادہ جامع اور سب سے زیادہ مناسب ہے۔ یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ امشاج، جنینی دور میں نطفہ کی مختلف حالات میں تبدیلیوں کا اشارہ ہے۔ (تشریحی نوٹ: اس بات پر توجہ رکھنا چایے کہ نطفہ کے مفرد ہونے کے باوجود، اس کی صفت "امشاج" جمع کی صورت میں آئی ہے۔ یہ اس بناء پر ہے کہ نطفہ مختلیف اجزاء سے ترکیب پایا ہے اور جمع کے حکم میں ہے اور بعض مثلاً "زمخشری" نے "کشاف" میں کہا ہے کہ امشاج مفرد ہے اگرچہ جمع کے وزن پر ہے)۔ "نبتلیہ" کا جملہ انسان کے "تکلیف و ذمّہ داری" تعہد و مسئولیت اور آزمائیش و امتحان کے مقام تک پہنچنے کی طرف اشارہ ہے اور یہ خدا کی نعمتوں میں ایک بڑی نعمت ہے، جو اس نے انسان کو ودیعت فرمائی ہے اور اسے "تکلیف، ذمّہ داری اور مسئولیت" کے لیے شائستہ اور اہل قرار دیا ہے۔ اور چونکہ آزمائش اور تکلیف "آگاہی اور علم" کے بغیر ممکن نہیں ہے، اس لیے آیت کے آخر میں شناخت اور معرفت کے آلات، آنکھ اور کان کی طرف اشارہ کرتا ہے جو اس نے انسانوں کے اختیار میں دے دیئے ہیں۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہاں ابتلاء و آزمائش سے مراد وہ تبدلیاں ہیں، جو جنین کو نطفہ کے مرحلہ سے لے کر ایک مکمل انسان تک پہنچنے کے لیے پیش آتی ہیں، لیکن "نبتلیہ" کی تعبیر اور اسی طرح "انسان" کی تعبیر کی طرف توجہ کرنے سے پہلی تفسیر ہی زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ ضمنی طور پر اس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے تمام ادراکات کی اصل اور بنیاد اس کے حسی ادراکات ہوتے ہیں، دوسرے لفظوں میں حسی ادراکات تمام "معقولات" کی "ماں" ہوتے ہیں، اور بہت سے اسلامی فلاسفہ کا یہی نظیریہ ہے، اور فلاسفہ یونان میں "ارسطو" بھی اسی نظیرہ کا طرفدار تھا۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ چونکہ انسان کی تکلیف و ذمّہ داری اور آزمائش، علم و آگاہی اور آلات شناخت کے علاوہ دو اور عوامل کی محتاج ہے۔ یعنی مسئلہ "ہدایت" و "اختیار" اس لیے بعد والی آیت میں ان دونوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: "ہم نے اسے راستہ کی نشاندہی کر دی ہے، اب چاہیے وہ شاکر ہو جائے اور اسے قبول کر لے، یا کفران کر کے قبول نہ کرنے والا بن جائے۔" (إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا)۔ (تشریحی نوٹ: بہت سے مفسرین کے نظریہ کے مطابق "شاکرًا" اور "کفورًا" ، "ھدیناہ" کے مفعول کی ضمیر سے حال ہے، یہ احتمال بھی ہے کہ یہ "یکون" محذوف کی خیر ہو اور تقدیر میں اس طرح ہو (اما یکون شاکرًا و اما یکون کفورًا))۔ "ھدایت" یہاں ایک وسیع و عریض معنی رکھتا ہے جو "ہدایت تکوینی" کو بھی شامل ہے اور "ہدایت فطری" اور "ہدایت تشریعی" کو بھی اگرچہ آیت کا سیاق زیادہ تر تشریعی کی طرف ہے۔ اس کی "وضاحت" اس طرح ہے کہ چونکہ خدا نے انسان کو ابتلاء و آزمائش اور تکامل و ارتقاء کے مقصد کے لیے پیدا کیا ہے۔ لہذا اس مقصد تک پہنچنے کے مقدمات تو اس نے اس کے وجود میں پیدا کی ہیں اور اسے ضروری قوتیں بخشی ہیں، اور اسی کو ہدایت تکوینی کہتے ہیں، اس کے بعد اس کی فطرت کی گہرائیوں میں اس راستہ کو طے کرنے کا عشق پیدا کر دیا اور فطری الہامات کے طریق سے اسے راستہ کی نشاندہی کر دی، لہذا اس لحاظ سے اسے "فطری" ہدایت بھی کر دی اور دوسری طرف سے آسمانی رہبر اور بزرگ انبیاء روشن اور واضح تعلیمات اور قوانین کے ساتھ راستہ دکھانے کے لیے مبعوث کیے اور ان کے ذریعہ "ہدایت تشریعی" فرمائی، البتہ ہدایت کے یہ تینوں شعبے عمومی پہلو رکھتے ہیں، اور تمام انسانوں کو شامل ہیں۔ مجموعی طور پر یہ آیت انسانی زندگی میں تین اہم اور سرنوشت ساز مسائل کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ "مسئلہ تکلیف" و "مسئلہ ہدایت" اور "مسئلہ آزادی ارادہ و اختیار" کو ایک دوسرے کے لازم و ملزوم اور ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے ہیں۔ ضمنی طور پر "إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا" کا جملہ مکتبِ جبر پر خطِ بطلان کھنیچتا ہے۔ "شاکرًا" اور "کفورًا" کی تعبیر وہ مناسب ترین تعبیر ہے جو یہاں ممکن ہو سکتی ہے، کیونکہ جن لوگوں نے خدا کی ہدایت جیسی عظیم نعمت کو قبول کرتے ہوئے اس سامنے سر تسلیم خم کر دیا اور راہِ ہدایت پر چل پڑے تو وہ اس نعمت کا شکر بجا لائے اور جنھوں نے مخالفت کی انھوں نے کفران کیا۔ اور چونکہ ہاتھ اور زبان سے کوئی شخص بھی اس کے شکر سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتا۔ لہذا شکر کے بارے میں اسمِ فاعل کی تعبیر لایا ہے، جبکہ کفران کے بارے میں "کفور" (مبالغہ صیغہ) آیا ہے کیونکہ وہ لوگ جو اس نعمت کو نظر انداز کر دیتے ہیں وہ سب سے بڑے کفران کا ارتکاب کرتے ہیں، کیونکہ خدا نے انواع و اقسام کے وسائل ہدایت ان کے اختیار میں دے رکھے ہیں اور یہ انتہائی کُفران ہے کہ انھیں نظر انداز کر کے خطا اور غلطی کی راہ پر چل پڑیں۔ ضمنی طور پر اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ "کفورًا" ایک لفظ ہے جو کفرانِ نعمت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، اور کفر اعتقادی کے بارے میں بھی، (جیسا کہ راغب نے مفرادات میں بیان کیا ہے)۔ آخری زیرِ بحث آیت میں، ان لوگوں کی سرنوشت کی طرف جو کفر و کفران کا راستہ طے کرتے ہیں، ایک مختصر اور پر معنی اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "ہم نے کفار کے لیے زنجیریں طوق اور جلانے والے شعلے تیار کر رکھے ہیں" (إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ سَلَاسِلَا وَأَغْلَالًا وَسَعِيرًا)۔ "اعتدنا" (ہم نے تیار کر رکھا ہے) کی تعبیر اس گروہ کی سزا کے حتمی و یقینی ہونے کے مسئلہ پر ایک تاکید ہے یہ ٹھیک ہے کہ پہلے سے تیار کر رکھنا ، ایسے لوگوں کا کام ہے جو محدود توانائی رکھتے ہوں اور انھیں یہ احتمال ہو کہ ضرورت کے وقت توانائی پیدا نہ کر سکیں گے، لیکن یہ مفہوم خدا کے بارے میں کوئی معنی نہیں رکھتا، کیونکہ خدا تو جس چیز کا ارادہ کرے وہ "کن" کے فرمان سے فورًا موجود ہو جاتی ہے اس کے باوجود کافروں کی سزا کے قطعی ہونے کے بیان کے لیے اعلان کرتا ہے کہ ان کی سزا کے وسائل ابھی سے آمادہ و تیار ہیں۔ "سلاسل" جمع ہے سلسلہ کی، جو زنجیر کے معنی میں ہے اور "اغلال" جمع ہے "غل" کی جو اس حلقہ (طوق) کے معنی میں ہے جسے گردن یا ہاتھوں میں ڈال دیتے ہیں، اس کے بعد اسے زنجیر سے باندھ دیتے ہیں۔ (بحوالہ: "اغلال" کے معنی کی مزید وضاحت سورہ یٰس کی آیہ ٨ کے ذیل میں جلد ۱۰۔ بہرحال، غل و زنجیر کا ذکر اور اس کے بعد آگ جلانے والے شعلوں کا تذکرہ، اس گروہ کی بہت بڑی سزا کو بیان کرتے ہیں، جس کی طرف قرآن کی دوسری آیات میں بھی اشارہ ہوا ہے، اور اس میں "عذاب" اور "اسارت" دونوں جمع ہیں۔ یہاں کی شہوات میں آزادی ان کے لیے وہاں کی اسارت کا سبب بن جائے گی اور وہ آگ جو انھوں نے اس دنیا میں بھڑکائی ہے وہ وہاں جسم اختیار کرے گی اور وہ ان کے دامن گیر ہو جائے گی۔

ایک نکتہ جنین کا پُر غوغا عالم

ہم جانتے ہیں کہ انسان کا نطفہ، مرد اور عورت کے نطہ سے ــــــــــــ جن میں پہلا "اسپرم" یا (جرثومہ) اور دوسرا "اوول" یا بیضہ کہلاتا ہےـــــــــــ مل کر بنتا ہے۔ "نطفہ" کا اصل وجود، اور اس کے بعد اس کی ترکیب، اور پھر جنین کے مختلف مراحل، عالمِ آفرنیش کے عظیم عجائبات میں سے ہیں، جس کے اسرار سے "جنین شناسی" کے علم کی پیش رفت کے باعث پردہ ہٹ چکا ہے۔ اگرچہ بہت سے اسرار ابھی تک پردۂ اخفا میں ہیں۔ مذکورہ عجائبات میں سے، جو ایک چھوٹے سے گوشہ کو تشکیل دیتے ہیں، ذیل کے امور ہیں۔ ۱- "سپرم" جو مرد کا نطفہ کے پانی سے خارج ہوتا ہے، ایک بہت ہی چھوٹا سا خوردبینی زندہ و محترک موجود ہے، جو ایک سر، گردن اور متحرک دم کا حامل ہوتا ہے، اور تعجب کی بات یہ ہے کہ مرد کے ہر انزال میں دو سو سے پانچ سو ملین تک اسپرم موجود ہو سکتے ہیں جو کئی ملکوں کی تعداد کے برابر ہوتے ہیں، لیکن اس بے شمار تعداد میں سے صرف ایک یا چند عدد بیضہ میں داخل ہوتے ہیں، اور وہ بارور ہو جاتا ہے۔ نر کے نطفہ کی اس تعداد کے وجود کی وجہ یہ ہے کہ سپرموں کے بیضوں تک پہنچنے اور اس سے ترکیب پانے کے لیے، بہت زیادہ تلف ہو جاتے ہیں اور اگر یہ اتنی بڑی تعداد نہ ہوتی تو شاید بارآور ہونے کا معاملہ مشکل ہو جاتا۔ ٢- رحم حاملہ ہونے سے پہلے صرف ایک اخروٹ کے برابر ہوتا ہے، لیکن نطفہ کے انعقاد، اور جنین کی پرورش کے بعد اتنا بڑا ہو جاتا ہے کہ وہ کافی جگہ کو گھیر لیتا ہے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ اس کی دیوار اپنی پہلی حالت پر آ جانے کی اتنی قابلیت رکھتی ہے کہ اس عظیم حجم کا بخوبی مقابلہ کر سکتی ہے۔ ۳- رحم کی دیوار کی رگوں میں خون نہیں ہوتا، بلکہ وہ عضلات کے اندر پرنالے کی صورت میں جاری ہوتا ہے، کیونکہ اگر اس میں کوئی رگ ہوتی، تو یقنی طور پر رحم کی دیوار کی حد سے زیادہ کشش کے مقابلہ میں نہ ٹھہر سکتی۔ ٤- بعض ماہرین کا نظریہ یہ ہے کہ عورت کا نطفہ "مثبت برقی بار" کا حامل ہوتا ہے اور "سپرم" "منفی برقی بار" رکھتا ہے، لہذا وہ ایک دوسرے کی طرف کھینچتے سہیں، اور اسی بناء پر دوسرے "سپرم" جو اس کے اطراف میں ہوتے ہیں، یپچھے دھکیل دیئے جاتے ہیں، اور بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ "سپرم" کے داخل ہونے کے ساتھ ہی اس سے مخصوص کیمیائی مادہ نکلتا ہے جو باقی تمام سپرموں کو دور دھکیل دیتا ہے۔ ٥- جنین ایک بڑے تھیلے کے اندر ایک گاڑھے قسم کے پانی میں ــــــــــــــ جسے "آمنی بوس" کہا جاتا ہے، غوطہ ور ہوتا ہے، جو ماں کی طرح طرح کی تند و تیز حرکات، یا شکم کے اوپر کسی چیز کے لگنے کے مقابلہ میں ضدِ ضرب کی خاصیّت رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں، جنین کو ایک خاص حد تک گرم رکھنے کی صورت میں حفاظت کرتا ہے اور بیرونی حرارت میں تبدیلیاں اس میں جلدی سے اثر نہیں کرتیں، اور سب سے زیادہ عمدہ اور قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اسے بے وزنی کی حالت میں قرار دے دیتا ہے، اور جنین کے مختلف اعضاء کو، ایک دوسرے پر دباؤ ڈالنے سے ــــــــ جو بعض نقصانات کا سبب بن سکتے ہیں ـــــــــــــ روکتا ہے۔ ٦- جنین کی خوراک اور غذا "جفت" (آنول) "بندناف" کے راستہ سے صورت پذیر ہوتی ہے۔ یعنی ماں کا خون تمام غذائی مواد اور آکسیجن کے ساتھ آنول نال میں داخل ہو جاتا ہے اور نئے سرے سے صاف ہو کر بند ناف کی راہ سے جنین کے دل میں داخل ہو جاتا ہے، اور وہاں سے تمام اعضائے بدن میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ دل کا دایاں اور بایاں بطن ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔ چونکہ وہاں خون کے صاف ہونے کا مسئلہ پھیپھڑے کے ذریعہ نہیں ہوتا، کیونکہ جنین سانس نہیں لیتا، لیکن پیدا ہونے کے ساتھ ہی بطن کے دونوں غار (گڑھے) ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں، اور آلاتِ تنفس اپنا کام شروع کر دیتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: اس بحث میں کتاب "اولین دانشگاہ و آخرین پیغمبر" کی جلد اوّل اور دوسری کتابوں سے استفادہ ہوا ہے)۔

5
76:5
إِنَّ ٱلۡأَبۡرَارَ يَشۡرَبُونَ مِن كَأۡسٖ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا
ابرار ( نیک لوگ) ایسے پیالوں سے پئیں گے ، جس میں عمدہ عطر کی آمیزش ہوگی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
76:6
عَيۡنٗا يَشۡرَبُ بِهَا عِبَادُ ٱللَّهِ يُفَجِّرُونَهَا تَفۡجِيرٗا
وہ ایسا چشمہ ہوگا جس سے اللہ کے خاص بندے پئیں گے اور وہ اسے جہاں چاہیں گے جاری کر لیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
76:7
يُوفُونَ بِٱلنَّذۡرِ وَيَخَافُونَ يَوۡمٗا كَانَ شَرُّهُۥ مُسۡتَطِيرٗا
وہ اپنی نذر کو پورا کرتے ہیں اور اس دن سے کہ جس کا عذاب وسیع ہوگا، ڈرتے رہتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
76:8
وَيُطۡعِمُونَ ٱلطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِۦ مِسۡكِينٗا وَيَتِيمٗا وَأَسِيرًا
اور ’’ اپنا ‘‘ کھانا، اس کی خواہش اور احتیاج رکھنے کے باوجود ، مسکین و یتیم و اسیر کو دے دیتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
76:9
إِنَّمَا نُطۡعِمُكُمۡ لِوَجۡهِ ٱللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمۡ جَزَآءٗ وَلَا شُكُورًا
( اور وہ یہ کہتے ہیں : ) ہم تو تمہیں اللہ کے لئے کھانا کھلاتے ہیں، اور ہم تم سے نہ تو کسی قسم کا کوئی اجر مانگتے ہیں اور نہ ہی ہم تم سے کسی شکریہ کے طلبگار ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
76:10
إِنَّا نَخَافُ مِن رَّبِّنَا يَوۡمًا عَبُوسٗا قَمۡطَرِيرٗا
ہم تو اپنے پروردگار سے اس دن سے ڈرتے ہیں جو بہت ہی سخت اور شدید ہوگا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
76:11
فَوَقَىٰهُمُ ٱللَّهُ شَرَّ ذَٰلِكَ ٱلۡيَوۡمِ وَلَقَّىٰهُمۡ نَضۡرَةٗ وَسُرُورٗا
اسی وجہ سے اللہ انہیں اس دن کے شر سے بچا لے گا اور ان کا اس حال میں استقبال کرے گا کہ وہ شادمان اور مسرور ہوں گے۔

شانِ نزول اہل بیت، پیغمبرؐ کی فضیلت پر ایک عظیم سند

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

ابن عباس کہتے ہیں کہ حسنؑ و حسینؑ بیمار ہوئے تو پیغمبرؐ صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ ان کی عبادت کے لیے آئے اور علیؑ سے کہا اے ابوالحسنؑ بہتر یہ ہے کہ تم اپنے بچوں کی شفا کے لیے نذر مانو، تو علیؑ اور فاطمہؑ اور فضہ نے ــــــــــ جو ان کی خادمہ تھیں، نذر مانی، کہ اگر انھوں نے شفاء پائی تو وہ تین دن روزہ رکھیں گے۔ (بعض روایات کے مطابق حسنؑ و حسینؑ نے بھی کہا کہ ہم بھی نذر مانتے ہیں کہ ہم بھی روزہ رکھیں گے)۔ زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ دونوں شفایاب ہو گئے لیکن حالت یہ تھی کہ ان کے پاس کھانے کا کوئی سامان موجود نہ تھا۔ علیؑ نے تین صاع جَو قرض لیے اور فاطمہؑ نے اس میں سے ایک تہائی کا آٹا پیسا اور روٹیاں پکائیں، ایک سائل گھر کے دروازے پر آیا اور اس نے کہا: اسلام علیکم اہلِ بیت محمدؐ! اے اہلِ بیتِ محمد تم پر سلام ہو! میں ایک مسلمان فقیر و مسکین ہوں، مجھے کھانا دو، خدا تمھیں بہشتی کھانے دے، ان سب نے مسکین کو اپنے اوپر ترجیح دی اور اپنا اپنا حصہ اس کو دے دیا اور اس رات انھوں نے صرف پانی سے افطار کیا۔ دوسرے دن اسی طرح روزہ رکھا اور افطار کے وقت جب (اسی نانِ جویں کا) کھانا تیار ہو گیا تو ایک یتیم گھر کے دروزے پر آیا، تو اس دن بھی ایثار کیا اور اپنا کھانا اسے دے دیا (دوبارہ پھر پانی سے ہی افطار کیا اور تیسرا روزہ بھی رکھا)۔ تیسرے دن غروب آفتاب کے وقت ایک اسیر (قیدی) گھر کے دروازے پر آیا، پھر سب نے اپنے اپنے کھانے کا حصہ اسے دے دیا، جب صبح ہوئی تو علیؑ نے حسنؑ و حسینؑ کا ہاتھ پکڑا اور پیغمبرؐ کی خدمت میں آئے، جب پیغمبرؐ نے مشاہدہ کیا تو دیکھا کہ وہ بھوک کی شدّت سے سے کانپ رہے تھے، آپ نے فرمایا: تمھاری یہ حالت جو میں دیکھ رہا ہوں میرے لیے بہت ہی گراں ہے۔ پھر آپ کھڑے ہو گئے اور ان کے ساتھ چل پڑے جب آپ فاطمہؑ کے گھر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہ محزومہ محرابِ عبادت میں کھڑی ہیں اور بھوک کی شدت سے ان کا پیٹ پشت سے لگا ہوا ہے اور آنکھیں دھنسی ہوئی ہیں، پیغمبرؐ کو بہت دکھ ہوا۔ اسی وقت جبرئیل نازل ہوئے اور کہا اے محمدؐ! یہ سورہ لیجیے، خدا ایسے اہل بیت کے لیے آپ کو مبارک باد دیتا ہے۔ اس کے بعد سورہ "ہل اتٰی" کی تلاوت کی، (بعض نے کہا ہے کہ آیہ "إِنَّ الْأَبْرَارَ" سے لے کر "كَانَ سَعْيُكُم مَّشْكُورًا" کی آیت تک، جو مجموعی طور پر اٹھارہ آیات ہیں اسی موقع پر نازل ہوئی ہیں)۔ ہم نے جو کچھ اوپر بیان کیا ہے، یہ اس حدیث کی نص ہے جو کتاب "لغدیر" میں اسی سلسلہ کی بہت سی روایات میں "قدر مشترک" کے عنوان سے، تھوڑے سے اختصار کے ساتھ بیان کی گئی ہیں اور اسی کتاب میں اہل سنت کے مشہور علماء میں سے ۳٤ افراد کے نام لکھے ہیں، جنھوں نے اس حدیث کو اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے (کتاب کے نام اور اس کے صفحہ کے ذکر کے ساتھ)۔ اس طرح سے اوپر والی روایت ان روایات میں سے ہے اہلِ سنت میں مشہور بلکہ متواتر ہے۔ (بحوالہ: "الغدیر" جلد ۳، ص ۱۰٧ تا ۱۱۱ اور کتاب "احقاق الحق" جلد ۳، ص ۱٥٧ تا ۱٧۱، میں اوپر والی حدیث اہل سنت کے ۳٦ علماء سے ماغذ کے ساتھ نقل ہوئی ہے)۔ باقی رہے شیعہ علماء تو وہ سب کے سب اس بات پر متفق ہیں کہ یہ اٹھارہ آیات، یا یہ سارے کا سارا سورہ، اوپر والے واقعہ میں نازل ہوا ہے اور سب نے بلا استثناء، تفسیر یا حدیث کی کتابوں میں، اس واقعہ سے مربوط روایت کو، علیؑ و فاطمہؑ اور ان کے بیٹوں کے افتخارات اور اہم فضائل میں سے ایک کے عنوان سے نقل کیا ہے۔ یہاں تک کہ ـــــــــ جیسا کہ ہم نے سُورہ کے آغاز میں بیان کیا تھا ــــــــ یہ مطلب اتنا مشہور و معروف ہے کہ شعراء اشعار اور حتیٰ کہ "امام شافعی" کے مشہور اشعار میں آیا ہے۔ یہاں بہانہ جوئی کرنے والے لوگوں نے ــــــــ جو علیؑ کے فضائل تک پہنچتے ہی حد سے زیادہ حساس ہو جاتے ہیں ــــــــــ اس شانِ نزول کے سلسلہ میں انتہائی محنت کے ساتھ اعتراض گھڑے ہیں اور بہت زیادہ نکتہ چینیاں کی ہیں ، منجملہ ان کے یہ ہیں:- ۱- یہ سورہ "مکی" ہے، جبکہ شانِ نزول کی داستان امام حسینؑ اور امام حسنؑ کی ولادت کے بعد سے مربوط ہے، جو یقینی طور پر مدینہ میں ہوئی ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم نے اس سورہ کے آغاز میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے کہ ہمارے پاس ایسے واضح اور روشن دلائل موجود ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سارے کا سارا سورہ "ہل اتٰی" یا کم از کم اس کی اٹھارہ آیات مدینہ میں نازل ہوئی ہیں۔ ٢- آیت کے الفاظ عام ہیں، انھیں معین افراد کے ساتھ کس طرح تخصیص دی جا سکتی ہے۔ لیکن یہ بات کہے بغیر واضح ہے کہ آیت کے مفہوم کا عام ہونا، اس کے خاص محل میں نازل ہونے کے ساتھ منافات نہیں رکھتا، قرآن کی بہت سی آیات عام اور وسیع مفہوم رکھتی ہیں، لیکن اس کی شانِ نزول جو اس کا کامل اور اعلٰی مصداق ہے۔ وہ ایک خاص محل کے لیے ہوتا ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ کوئی شخص آیت کے مفہوم کو شانِ نزول کی نفی پر دلیل قرار دے۔ ۳- بعض نے کچھ اور دوسرے شانِ نزول نقل کیے ہیں جو اوپر والے شانِ نزول کے ساتھ سازگار نہیں ہیں، منجملہ ان کے "سیوطی" نے "در المنثور" میں یہ نقل کیا ہے کہ ایک سیاہ فام آدمی پیغمبر کی خدمت میں آیا، اور اس نے "تسبیح" و "تہلیل" کے بارے میں سوال کیا، تو عمر نے کہا بس کرو۔ رسولِؐ خدا سے زیادہ سوالات نہ کرو، پیغمبرؐ نے فرمایا: اے عمر خاموش رہ، تو اس موقع پر "سورہ ہل اتٰی" پیغمبرؐ پر نازل ہوئی۔ (بحوالہ: "در المنثور"، جلد ٦، ص ٢٩٧)۔ ایک اور دوسری حدیث میں اسی کتاب میں آیا ہے کہ حبشہ کا ایک شخص رسولِؐ خدا کی خدمت میں آیا، وہ آپ سے کچھ سوال کرنا چاہتا تھا۔ پیغمبرؐ نے فرمایا: کہ سوال کرو اور اس کا جواب لو، اس نے عرض کیا : اے رسولِؐ خدا آپ کا گروہ رنگ، صورت اور نبوت کے لحاظ سے ہم پر برتری رکھتا ہے۔ لیکن اگر میں اس چیز پر ایمان لے آؤں جس پر آپ ایمان لائے ہیں اور جو عمل آپ کرتے ہیں میں بھی وہی عمل کروں، تو کیا میں جنت میں آپؐ کے ساتھ ہوں گا؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں! قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، جنت میں سیاہ رنگ والوں کی سفیدی ہزار سال کی راہ سے نظر آئے گی اور پھر پیغمبرؐ نے لاالٰہ الا اللہ اور سبحان اللہ و بحمدہ کہنے کے لیے بہت سے اہم ثواب بیان فرمائے اور اس موقع پر سورہ "ہل اتٰی" نازل ہوئی۔ (تشریحی نوٹ: گزشتہ ماخذ)۔ لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ روایات تقریباً کسی قسم کی مناسبت، سورہ "ہل اتٰی" کی آیات کے مضمون کے ساتھ نہیں رکھتیں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سابقہ شانِ نزول کو پائمال کرنے کے لیے، بنی امیہ کے کارندوں یا ان ہی جیسے لوگوں کی طرف سے گھڑی گئی ہے۔ ٤- ایک اور بہانہ جو ممکن ہے یہاں پیش کیا جائے، یہ ہے کہ انسان تین دن تک کس طرح بھوکا رہ سکتا ہے کہ صرف پانی پر یہ افطار کرے؟ لیکن یہ ایک عجیب اعتراض ہے، کیونکہ ہم خود کئی ایسے افراد کو دیکھا ہے کہ انھوں نے بعض طبی علاجون کے لیے ـــــــــ تین دن تو بہت ہی آسان ہیں ــــــــــ مشہور "چالیس دن" کا چلّہ کاٹا ہے، یعنی مکمل چالیس دن تک پانی پیا ہے اور بالکل کوئی کھانا نہیں کھایا اور یہی چیز ان کو بہت سی بیماریوں کا شفا کا با عث بن گئی۔ یہاں تک کہ ایک غیر مسلم مشہور طبیب "الکسی سوفورین" نے ایک کتاب اس قسم کے صبر کرنے سے علاج کے اہم اثرات کے سلسلہ میں، اس کے دقیق پروگرام کے ذکر کے ساتھ لکھی ہے۔ (تشریحی نوٹ: یہ کتاب "روزہ، روش نویں برائے درمان بیمار مہیا" کے نام سے فارسی میں ترجمہ و نشر ہو چکی ہے)۔ یہاں تک کہ اگر آپ تعجب نہ کریں تو تفسیر نمونہ کے بعض ہم کاروں نے یہ چلّہ ٢۳ دن تک عملاً انجام دیا ہے۔ ٥۔ بعض دوسرے افراد اس بناء پر کہ آسانی کے ساتھ اس فضیلت کے قریب سے گزر جائیں، ایک اور طریقہ سے وارد ہوئے ہیں مثلاً "آلوسی" کہتا ہے کہ اگر ہم یہ کہیں کہ یہ سورہ علیؑ و فاطمہؑ کے بارے میں نازل ہوا تو ان کی قدر و منزلت میں کسی چیز کی کمی نہیں ہو گی، کیونکہ ان کا "ابرار" کے عنوان میں داخل ہونا ایک واضح و آشکار مطلب ہے، جسے ہر شخص جانتا ہے، اس کے بعد ان کے بعض فضائل پیش کر کے کہتا ہے، ان دو بزرگ ہستیوں کے بارے میں انسان کیا کہہ سکتا ہے، سوائے اس کے کہ علیؑ مومنین کے مولا اور پیغمبرؐ کے وصی ہیں، اور فاطمہ پیغمبر کے بدن کا حصہ اور وجودِ محمدیؐ کا جز ہیں اور حسنینؑ روح و ریحان اور جوانانِ جنّت کے سردار ہیں، لیکن اس بات کا مفہوم دوسروں کو چھوڑ دینا اور انھیں ترک کرنا نہیں ہے، بلکہ جو شخص اس راستہ کے علاوہ کوئی اور راہ اختیار کرے وہ گمراہ ہے۔ (بحوالہ: "روح المعانی"، جلد ٢٩، ص ۱٥٨)۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ اگر بناء یہ ہو کہ اس فضیلت کو باوجود اس شہرت کے نظر انداز کر دیں، تو باقی فضائل بھی آہستہ آہستہ اس قسم کی سرنوشت سے دوچار ہو جائیں گے اور ایک دن ایسا آ جائے گا کہ بعض لوگ علیؑ اور خاتون اسلام اور حسنین علیہما السلام کی اصل فضیلت کا ہی انکار کر دیں گے۔ قابلِ توجہ بات یہ کہ بعض روایات میں خود علیؑ سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے متعدد موارد میں، ان آیات کے اپنے اور اپنے شہزادوں کے بارے میں نزول سے مخالفین کے مقابلہ میں استدلال کیا ہے۔ (بحوالہ: "احتجاج طبرسئ" و "خصال صدوق" (مطابق نقل المیزان، جلد ٢۰، ص ٢٢٤))۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ "اسیر" عام طور پر "مدینہ" میں ہی موجود تھے اور مکہ میں اس بناء پر کہ ابھی اسلامی جنگیں شروع ہی نہیں ہوئی تھیں، لہذا کسی اسیر کا وجود ہی نہیں تھا، اور یہ اس سُورہ کے مدنی ہونے کی ایک اور گواہی ہے۔ آخری نکتہ کہ جس کا ذکر کرنا یہاں ضروری سمجھتے ہیں یہ ہے کہ علماء اسلام کی ایک جماعت کے قول کے مطابق، جن میں اہلِ سنت کے مشہور مفسر "آلوسی" بھی ہیں، اس سورہ میں جنت کی بہت سی نعمتوں کو شمار کیا گیا ہے۔ لیکن حورالعین کے بارے میں ـــــــــ جنھیں عام طور پر قرآن مجید میں جنت کی نعمتوں کا شمار کرتے وقت بیان کیا جاتا ہے ــــــــــ بالکل گفتگو نہیں کی گئی ہے۔ ممکن ہے کہ یہ امر اس بناء پر ہو کہ چونکہ اس سورہ کا نزول فاطمہ زہراؑ، ان کے شوہر نامدار اور ان کے فرزندانِ عالی قدر کے بارے میں ہے، لہذا بانوائے اسلام کے احترام کو مدنظر رکھتے ہوئے "حور" کا کوئی ذکر درمیان میں نہیں آیا۔ (بحوالہ: روح المعانی، جلد ٢٩، ص ۱٥٨)۔ اگرچہ ہماری بحث اس شانِ نزول کے سلسلہ میں طویل ہو گئی ہے، لیکن بہانہ گھڑنے والے لوگوں کی اعتراض تراشیوں کے مقابہ میں اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا۔

تفسیر ابرار کے لیے عظیم اجر

گزشتہ آیات میں، انسانوں کو دو گروہوں "شکور" و "کفور" یا "شکرگزار" اور "کفران کرنے والوں" میں تقسیم کرنے کے بعد، کفران کرنے والوں کے لیے سخت سزا اور عذاب کا ایک مختصر سا اشارہ ہوا تھا۔ زیرِ بحث آیات میں شکر کرنے والوں اور ابرار (نیک و پاک) لوگوں کی جزا کو بیان کرتا ہے، اور اس سلسلہ میں بہت ہی عمدہ نکات پیش کرتا ہے۔ پہلے فرماتا ہے: "نیک لوگ ایسے جام سے نوش کریں گے، جس میں بہت ہی اچھے عطر کی آمیزش ہو گی۔" (إِنَّ الْأَبْرَارَ يَشْرَبُونَ مِن كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا)۔ "ابرار" جمع ہے "بر" (بروزن رب) کی جو اصل میں وسعت اور پھیلاؤ کے معنی میں ہے اور اسی بناء پر وسیع و عریض صحراؤں کو "بر" کہتے ہیں اور چونکہ نیکو کار افراد کے اعمال معاشرے کی سطح پر وسیع نتائج رکھتے ہیں، لہذا اس لفظ کا ان پر اطلاق ہوتا ہے اور "بر" (باء کی زیر کے ساتھ)۔ "نیکو کاری" کے معنی میں ہے، بعض نے کہا ہے کہ اس کے اور "خیر" کے درمیان یہ فرق ہے کہ "بر" اس نیکی کے معنی میں ہے جو توجہ کے ساتھ ملی ہوئی ہو، جبکہ خیر اس سے عام معنی رکھتا ہے۔ "کافور" کے لغت میں متعدد معنی ہیں، اس کے مشہور معانی میں سے ایک اچھی خوشبو ہے اسی طرح سے ایک خوشبودار گھاس ہوتی ہے اور اس کے معانی میں سے ایک وہی عام "کافور" ہے جس کی بُو تیز ہوتی ہے اور طبی مصارف کے لیے، منجملہ ان کے عفونت کے توڑ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ بہرحال، اوپر والی آیت بتاتی ہے کہ جنت کی یہ شراب طہور بہت ہی معطّر اور خوشبودار ہے، جس سے قوتِ ذائقہ بھی لذّت حاصل کرتی ہے اور قوّتِ شامہ بھی۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ کافور "جنت کے ایک چشمہ کا نام ہے، لیکن یہ تفسیر" كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا" کی تعبیر کے ساتھ جو کہتی ہے کہ کافور کی اس میں آمیزش ہو گی، سازگار نہیں ہے۔ دوسری طرف اس بات پر توجہ کرتے ہوئے کہ "کافور" ، "کفر" کے مادہ سے "ڈھانپنے" کے معنی میں ہے۔ بعض اربابِ لغت کا نظریہ، جیسا کہ "راغب" نے "مفردات" میں لکھا ہے، یہ ہے کہ "کافور" کے لیے اس نام کا انتخاب اس وجہ سے کیا گیا ہے کہ اس درخت کا پھل ــــــــ جس سے یہ مادہ لیا جاتا ہے ـــــــــــ لفافوں کے درمیان پوشیدہ ہوتا ہے۔ بعض نے "کافور" کی تعبیر کو اس کی حد سے زیادہ سفیدی اور ٹھنڈک کی طرف اشارہ سمجھا ہے، کیونکہ عام کافور بھی "ٹھنڈک" اور "سفیدی" کے لحاظ سے ضرب المثل ہے۔ لیکن مجموعی طور پر اگر دیکھا جائے تو پہلی تفسیر سب سے زیادہ مناسب نظر آتی ہے، خصوصًا اس بناء پر کہ بعض اوقات تعبیروں میں کافور کو مشک و عنبر کا ہم پلہ شمار کرتے ہیں جو بہترین خوشبوؤں میں سے ہیں۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد اس سرچشمہ کی طرف جس سے شرابِ طہور کا یہ جام پُر ہوتا ہے، اشارہ کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "یہ ایک خاص چشمہ ہے جس سے خدا کے خاص بندے پیئں گے اور وہ اسے جہاں چاہیں گے، جاری کر لیں گے۔ (عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللَّهِ يُفَجِّرُونَهَا تَفْجِيرًا)۔ (تشریحی نوٹ۱: اس بارے میں کہ "عیناً" کی نصب کس بناء پر ہے بہت سے احتمال دئیے گئے ہیں، شاید سب سے زیادہ مناسب یہ ہے کہ "عینا" ، "منصوب بہ نزع خافض" ہے اور تقدیر میں "من عین" تھا اور بعض نے یہ بھی کہا کہ "کافورًا" سے "بدل" ہے، یا اختصاص یا مدح کی بناء پر منصوب ہے، یا ایک مقدر فعل کا مفعول ہے اور تقدیر میں "یشربون عینا" ہے لیکن جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے، پہلا معنی زیادہ مناسب ہے)۔ (تشریحی نوٹ ۲: "یشرب" ، "باء" کے ساتھ بھی متعدی ہوتا ہے اور اس کے بغیر بھی، اور "بھا" کی "باء" ممکن ہے کہ "من" کے معنی میں ہو)۔ ہاں! یہ شرابِ طہور کا چشمہ کچھ اس طرح سے ابرار اور عباد اللہ کے اختیار میں ہے کہ وہ جہاں کہیں سے ارادہ کریں گے وہیں سے پھوٹ پڑے گا اور قابلِ توجہ بات یہ کہ ایک حدیث میں امام باقرؑ سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے اس کی تعریف و توصیف میں فرمایا: ھی عین فی دار النبی (ص) تفجر الی دور الانبیاء والمؤمنین "یہ ایک ایسا چشمہ ہے جو پیغمبر اسلامؐ کے گھر میں ہے اور وہاں سے تمام انبیاء اور مومنین کے گھروں میں جاری ہو گا۔" (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ٥، ص ۴۷۷ اور روح المعانی، جلد ۲۹، ص ۱٥٥)۔ ہاں!جس طرح دنیا میں علم و رحمت کے چشمے پیغمبر اکرمؐ کے گھر سے خدا کے بندوں اور نیک لوگوں کی طرف جاتے ہیں، آخرت میں بھی جو اس پروگرام کا ایک عظمیم تجسم ہے۔ خدا کی شراب طہور کا چشمہ اسی بیتِ وحی سے پھوٹے گا، اور اس کی شاخیں مومنین کے گھروں تک جائیں گی۔ "یفجّرون" ، "تفجیر" کے مادہ سے اصل میں "فجر" سے لیا گیا ہے، جو وسیع پیمانہ پر شگاف کرنے کے معنی میں ہے، چاہے زمین میں شگاف کرنا ہو، یا کسی دوسری چیز میں اور چونکہ صبح کی روسشنی گویا رات کے پردے کو پھاڑ دیتی ہے، اس لیے اس کو فجر کہا جاتا ہے اور فاسق شخص کو اس لیے "فاجر" کہتے ہیں، کیونکہ اس نے حیاء و شرم اور پاکیزگی کے پردہ کو چاک کر دیا ہے، اور حق کے راستہ سے باہر ہو گیا ہے۔ لیکن زیرِ بحث آیت میں زمین میں شگاف کرنے کے معنی میں ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ جنت کے فراواں نعمتوں میں سے جو اس سُورہ میں بیان کی گئی ہیں، پہلی نعمت "خاص قسم کی معطر شراب طہور" کا ذکر ہوا ہے، اور یہ شاید اس بناء پر ہے کہ مشحر کے حساب سے فارغ ہونے کے بعد، پہلے ہی قدم میں وہ جنت میں رکھیں گے، تو اس شراب کے پیتے ہی ہر قسم کے غم و اندوہ پریشانی اور آلائش کو اپنی جان سے دھو ڈالیں گے، اور حق تعالٰی کے عشق سے سرمست ہو کر جنت کے باقی موابب اور نعمتوں سے فائدہ اٹھائیں گے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بعد والی آیت میں ان اعمال و اوصاف کا ذکر کرتا ہے جو "ابرار" اور "عباد اللہ" میں پائے جاتے ہیں، پانچ صفات کا ذکر کرنے کے ساتھ ان بے مثل و بےنظیر نعمتوں کے لیے ان کے استحقاق کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتا ہے: "وہ اپنی نذر کو پورا کرتے ہیں۔" (يُوفُونَ بِالنَّذْرِ)۔ "اور اس دن سے کہ جس کا شر اور عذاب پھیلا ہوا ہو گا، ڈرتے ہیں۔" (وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيرًا)۔ "یوفون" و "یخافون" اور اس کے بعد والے جملے، جو سب کے سب "فعل مضارع" کی صورت میں آئے ہیں اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ ان کا دائمی اور ہمیشہ کا پروگرام ہے، البتہ جیسا کہ ہم نے شانِ نزول میں بیان کیا ہے۔ ان آیات کے اتم و اکمل مصداق امیر المومنین علیؑ و فاطمہ زہرؑا اور ان کے فرزند حسنؑ و حسینؑ "سلام اللہ علیہم اجمعین" ہیں، جنھوں نے تین دن روزہ رکھنے کے سلسلہ میں اپنی نذر پوری کی، اور انھوں نے پانی کے علاوہ اور کسی چیز سے افطار نہیں کیا اور ان کے دل خوفِ خدا اور خوفِ قیامت سے مالا مال تھا۔ "مستطیر" وسیع اور پھیلے ہوئے کے معنی ہے اور اس دن کے گوناگوں اور وسیع عذابوں کی طرف اشارہ ہے۔ بہرحال جب وہ ان نذروں کو جو انھوں نے اپنے اوپر واجب کر لی ہیں، پورا کرتے ہیں، تو واجباتِ الٰہی کو تو بطریقِ اولٰی احترام کے ساتھ پورا کرتے ہیں، یعنی ان کو بخوبی انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس عظیم دن کے شر سے ان کاخوف، مسئلہ معاد کے بارے میں ان کے ایمان، اور حکم خدا کے مقابلہ میں شدید احساس مسئولیت کی طرف اشارہ ہے۔ وہ معاد پر اچھی طرح یقین رکھتے ہیں اور بدکاروں کی تمام سزاؤں پر ان کا ایمان ہے اس ایمان کا اثر ان کے عوامل میں پورے طور نمایاں ہے۔ اس کے بعد ان کے تیسرے اچھے عمل کا ذکر کہتا ہے: "اور اپنا کھانا اس کی ضرورت و احتیاج ہونے کے باوجود، مسکین، یتیم اور اسیر کو دے دیتے ہیں۔" (وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا)۔ ان کا کھانا کھلانا کوئی آسان بات نہیں ہے بلکہ شدید ضرورت اور احتیاج کے وقت میں ایثار و قربانی کے ساتھ وابستہ ہے، اور دوسری طرف وہ ایک ایسا وسیع پیمانہ کا کھانا کھلانا ہے جو کوئی قسم کے ضرورت مندوں، مسکین، یتیم و اسیر کو شامل ہے، تو اس طرح ان کی رحمت عام اور ان کی خدمت وسیع ہے۔ "علٰی حبہ" کی ضمیر "طعام" کی طرف لوٹتی ہے، یعنی باوجود اس کے کہ انھیں کھانے کی خود ضرورت ہے، پھر بھی وہ انفاق کر دیتے ہیں اس طرح یہ اسی چیز سے مشابہ ہے جو سورہ آلِ عمران کی آیہ ۹٢ میں آئی ہے، (لَن تَنَالُواْ الْبِرَّ حَتَّى تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَ) تم ہرگز بھی نیکو کاری کی حقیقت کو نہ پہنچو گے، جب تک کہ تم اس میں سے خرچ نہ کرو، جسے تم دوست رکھتے ہو۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ مذکورہ ضمیر "اللہ" کی طرف لوٹتی ہے، جو گزشتہ آیات میں آیا ہے، یعنی وہ پروردگار کے عشق میں کھانا کھلاتے ہیں، لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ معنی بعد والی آیت میں آ رہا ہے، پہلا معنی زیادہ صحیح نظر آتا ہے۔ "مسکین" و "یتیم" و "اسیر" کے معنی واضح ہیں۔ لیکن اس بارے میں کہ اسیر سے مراد کون سا اسیر ہے؟ مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ بہت سوں نے یہ کہا ہے کہ اس سے مراد وہ اسیر ہیں جنھیں مشرکین و کفار میں سے پکڑ کر حکومت اسلامی کے قلمرد، مدینہ میں لے آتے تھے، بعض نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ اس سے مراد وہ غلام ہیں جو اپنے مالک کے ہاتھوں میں اسیر ہوتے ہیں اور بعض نے اس کی زندان کے قیدیوں کے ساتھ تفسیر کی ہے، لیکن پہلی تفسیر سب سے زیادہ مناسب اور مشہور ہے۔ یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ شانِ نزول کے مطابق وہ اسیر شخص علیؑ کے دروازے پر افطار کے وقت آیا، تو کیا قیدی زنداں میں نہیں ہوتے تھے؟ لیکن ایک نکتہ کی طرف توجہ کرتے ہوئے یہ سوال واضح ہو جاتا ہے کہ تواریخ کی نقل کے مطابق پیغمبرؐ کے زمانہ میں کوئی قید خانہ نہیں تھا، اور آنحضرتؐ اسیروں کو تقسیم کر کے مسلمانوں کے سپرد کر دیا کرتے تھے، اور انھیں یہ حکم دیا کرتے تھے کہ تم ان کی نگرانی کرو، اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو، مگر جب وہ ان کو کھانا دینے کی توانائی نہیں رکھتے تھے، تو وہ دوسرے مسلمانوں سے قیدیوں کے کھانے کے سلسلہ میں مدد لیتے تھے، اور انھیں اپمے ہمراہ لے جا کر یا کبھی اپنے ہمراہی کے بغیر بھی دوسرے مسلمانوں کی طرف بھیج دیتے تھے، تاکہ وہ ان کی مدد کریں، کیونکہ اس وقت مسلمان انتہائی تنگی میں تھے۔ البتہ بعد میں جب سلطنت اسلامی میں وسعت پیدا ہو گئی اور اسیروں کی تعداد بڑھ گئی، اور حکومت کے دامن کی وسعت کی بناء پر مجرمین کی تعداد میں اضافہ ہو گیا تو پھر قید خانے بنائے گئے اور اسیروں اور مجرموں کے کھانے پینے کا انتظام بیت المال کے ذریعہ ہونے لگا۔ (تشریحی نوٹ: مزید وضاحت کے لیے کتاب "احکام زندان دار اسلام" کی طرف رجوع کریں)۔ بہرحال، اوپر والی آیت سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ بہترین اعمال میں سے ایک عمل محروم اور ضرورت مندوں کو کھانا کھلانا ہے، نہ صرف مسلمان ضرورت مند بلکہ بلا و شرک کے اسیر بھی اسلام کے اس حکم کے ماتحت آتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کو کھانا کھلانا "ابرار" کے عمدہ کاموں میں سے ایک عمدہ کام شمار ہوا ہے۔ ایک حدیث میں رسول خداؐ سے آیا ہے: استوصوا بالاسرٰی خیرًا یعنی: اسیروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ مسلمانوں نے جب یہ بات سنی تو: و کان احدھم یؤثر اسیرہ بطعامہ یعنی: بعض اوقات وہ اپنا کھانا بھی قیدی کو دے دیتے تھے، اور اسے اپنے اوپر ترجیح دیتے تھے۔ (بحوالہ: "کامل ابن ایثر" جلد ۲، ص ۱۳۱)۔ ــــــــــــــــــــــــــــــ ابرار کا چوتھا عمدہ عمل اخلاص کو شمار کرتے ہوئے فرماتا ہے: "وہ کہتے ہیں ہم تو تمیں صرف خدا کے لیے کھانا کھلاتے ہیں، ہم تم سے نہ تو اس کا کوئی اجر مانگتے ہیں اور نہ ہی کسی شکریہ کے طالب ہیں۔" (إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا)۔ یہ پروگرام مسئلہ اطعام پر ہی منحصر نہیں ہے، بلکہ ان کے تمام اعمال مخلصانہ اور خدا کی پاک ذات کے لیے ہوتے تھے۔ اور وہ لوگوں کی طرف سے کسی اجر کی امید، بلکہ ان کی طرف سے کسی قدر دانی اور تشکر کی تمنا بھی نہیں کرتے، اور اسلام میں اصولی طور پر عمل کی قدر و قیمت خلوصِ نیت پر ہے، ورنہ وہ اعمال جو غیر اللہ کے لیے کئے جائیں، چاہے وہ ریا کارانہ ہوں یا ہوائے نفس کی بناء پر ہوں، یا لوگوں کے تشکر اور قدر دانی کی وجہ سے یا مادی اجر و پاداش کی بناء پر، ان کی کوئی معنوی اور خدائی قدر و قیمت نہیں ہے، اور پیغمبر اکرمؐ کی مشور حدیث: "لا عمل الّا بالنیۃ و انما الاعمال بالنیات" بھی اسی معنی کی طرف اشارہ ہے۔ "وجہ اللہ" سے مراد، وہی خدا کی ذات ہی ہے، ورنہ کوئی جسمانی چہرہ نہیں رکھتا، اور یہ وہی چیز ہے، جس پر قرآن کی تمام آیات تکیہ و تاکید ہوئی ہے، سورہ بقرہ کی آیہ ۲۷۲ میں آیا ہے: (وَمَا تُنفِقُونَ إِلاَّ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللّهِ) تم خدا کے علاوہ اور کسی کے لیے انفاق نہ کرو، اور سورہ کہف کی آیہ ۲۸ میں پیغمبر کے شائستہ اصحاب کی توصیف میں اس طرح آیا ہے: (وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ)۔ "ایسے لوگوں کے ساتھ رہ جو اپنے پروردگار کو صبح و شام پکارتے ہیں اور صرف اسی کی ذات کو چاہتے ہیں۔" ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اور "ابرار" کی آخری توصیف میں فرماتا ہے: "وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم تو اپنے پروردگار سے اس دن کے لیے خائف ہیں جو بہت ہی سخت اور شدید ہو گا۔" (إِنَّا نَخَافُ مِن رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ یہ بات "ابرار" کی زبانِ حال بھی ہو سکتی ہے اور زبانِ قال بھی۔ روز قیامت کی "عبوس" اور "سخت" دن کے ساتھ تعبیر، جبکہ عبوس انسان کی ایک صفت ہے اور افراد کو کہتے ہیں، جن کے چہرے بگڑ جائیں، یہ اس دن کی وحشت ناک وضع و کیفیت کی تاکید کے لیے ہے، یعنی اس دن کے حوادث اس قدر سخت اور تکلیف دہ ہیں کہ نہ صرف انسان اس دن منہ لٹکائے اور تیور بنائے ہوں گے، بلکہ گویا خود وہ دن بھی سخت اور بگڑے ہوئے چہرے والا ہو گا۔ اس بارے میں کہ "قمطریر" کس مادہ سے لیا گیا ہے، مفسرین اور اربابِ لغت کے درمیان اختلاف ہے، بعض اس کو "قمطر" سے سمجھتے ہیں اور بعض اس کو "قطر" (بروزن مرغ) سے مشتق اور اس کی میم کو زائد سمجھتے ہیں۔ لیکن مشہور وہی پہلا ہے جو شدید اور عبوس کے معنی میں ہے۔ (تشریحی نوٹ: "مفردات" ، "راغب" ، "لسان العرب" ، "المنجد" ، "قرطبی" و "مجمع البیان")۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر "ابرار" صرف خدا ہی کی پاک ذات کے لیے کام کرتے ہیں تو پھر وہ یہ کیوں کہتے ہیں کہ ہم قیامت کے دن کے عذاب سے ڈرتے ہیں، کیا خدائی محرک، قیامت کے عذاب کے خوف کے محرک کے ساتھ سازگار ہے؟! لیکن ایک نکتہ کی طرف توجہ کرنے سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ بہرحال خدا کے لیے قدم اٹھاتے ہیں، اور اگر وہ قیامت کے عذاب سے ڈرتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ خدا کا عذاب ہے، اور اگر وہ جنت کی تعنتوں کو چاہتے ہیں تو اس بناء پر کہ وہ تعمتیں اللہ کی طرف سے ہیں، اور یہ وہی چیز ہے جو فقہ میں "نیت عبادت" کے باب میں بیان ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ: عبادت میں قصدِ قربت، ثواب کی آرزو، عذاب کے خوف، یہاں تک کہ خدا سے اس دنیا کی مادی نعمتوں کے طلب کرنے (مثلاً بارش کے طلب کرنے کے لیے نماز استسقاء) کے محرکات کے ساتھ کوئی منافات نہیں رکھتا، کیونکہ ان سب کی بازگشت خدا کی طرف سے ہے اور اصطلاح کے مطابق "داعی پر داعی" کی قسم سے ہے، اگرچہ عبادت کا علٰی ترین مرحلہ یہ ہے کہ جنت کی نعمتوں کی خواہش اور دوزخ کے عذاب کا خوف بھی اس کا محرک نہ ہو بلکہ وہ سراسر "حبا للہ" کے عنوان سے انجام پائے۔ "إِنَّا نَخَافُ مِن رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا" کی تعبیر بھی اس بات پر شاہد ہے کہ یہ خوف بھی پروردگار کے خوف میں سے ہے۔ قابلِ توجہ نکتہ یہ ہے کہ ان پانچوں اوصاف میں سے دوسرا وصف اور پانچواں وصف، دونوں خوف کا مسئلہ ہیں، اس فرق کے ساتھ کہ پہلی میں صرف قیامت کے دن کے خوف کے متعلق گفتگو ہے اور دوسری میں قیامت کے دن پروردگار کا خوف ہے، ایک موقع پر روز قیامت کی اس طرح سے توصیف ہوئی ہے کہ اس کا شر اور عذاب وسیع اور پھیلا ہوا ہے اور دوسرے موقع پر عبوس اور شدید ہے، جو حقیقت میں ایک تو اس کی وسعت کا بتاتی ہے اور دوسری اس کی کیفیت کی وسعت کو۔ ـــــــــــــــــــــــــــــ آخری زیر بحث آیت میں "ابرار" کے نیک اعمال اور پاک نیّتوں کے اجمالی نتیجہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "انھیں امور کی بناء پر خدا انھیں اس دن کے شر سے بچا لے گا اور ان کا مسرت و شادمانی کی حالت میں استقبال کرےگا۔" (فَوَقَاهُمُ اللَّهُ شَرَّ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا)۔ "نضرۃ" طراوت، خرمی اور ایک خاس قسم کی شادابی کے معنی میں ہے جو وفورِ نعمت اور آسودگی کے زیر اثر انسان کو حاصل ہوتی ہے، ہاں! اس دن ان کے رخساروں کا رنگ ان کے سکون و آرام اور اندرونی سرور و نشاط کی خبر دے گا۔ اس بناء پر اگر وہ دنیا میں اس دن کے احساس مسئولیت سے خوف زدہ تھے، تو خدا اس کے بدلے میں انھیں قیامت کے دن سرور و شادمانی میں غرق کر دے گا۔ "لقاھم" کی تعبیر بہت ہی عمدہ تعبیروں میں سے ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خداوندِ عالم ان گرامی قدر مہمانوں کا اپنے خاص لطف سے استقبال کرے گا اور انھیں جو خوشی و سرور میں غرق ہوں گے، اپنی رحمت کے سایہ میں جگہ دےگا۔

ایک نکتہ بھوکوں کو سیر کرنا بہترین حسنات میں ہے

نہ صرف زیر بحث آیات میں، کھانا کھلانے کو ابرار اور عباد اللہ کے عمدہ کاموں میں سے ایک شمار کرتا ہے، بلکہ قرآن کی بہت سی آیات میں اس معنی پر تکیہ اور تاکید ہوئی ہے، اور یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ کام خدا کی بارگاہ میں ایک خاص قسم کی محوبیت رکھتا ہے۔ اور اگر ہم آج کی دنیا پر نگاہ کریں تو منتشر ہونے والی خبروں کے مطابق، ہر سال کئی ملین افراد بھوک سے مر جاتے ہیں، جبکہ دنیا کے دوسرے امیر علاقوں میں، اس قدر زیادہ بچے ہوئے کھانے کوڑے میں پھینک دیئے جاتے ہیں کہ جس کا کوئی حساب نہیں ہے، اس سے ایک طرف تو اس اسلامی حکم کی اہمیت اور دوسری طرف سے آج کی دنیا کا اخلاقی اقدار و موازین سے دور ہو جانا واضح ہو جاتا ہے۔ اسلامی روایات میں بھی اس سلسلہ میں بہت زیادہ تاکید نظر آتی ہے، ہم نمونہ کے طور پر یہاں چند احادیث نقل کرتے ہیں۔ ۱- ایک حدیث میں پیغمبر اکرمؐ سے آیا ہے: من اطعم ثلاثۃ نفر من المسلمین اطعمہ اللہ من ثلاث جنان فی ملکوت السماوات "جو شخص مسلمانوں میں سے تین افراد کو کھانا کھلائے گا تو خدا اسے آسمانوں کے ملکوت میں جنت کے تین باغوں سے کھانا کھلائے گا۔" (بحوالہ: "اصول کافی" جلد دوم باب "اطعام المومن" حدیث ۳)۔ ۲- ایک اور حدیث میں امام صادق سے آیا ہے: من اطعم مؤمنًا حتٰی یشبعہ لم یدر احد من خلق اللہ ما لہ من الاجر فی الاٰخرۃ، لا ملک مقرب ولا نبی مرسل الّا اللہ رب العالمین "جو شخص کسی مومن کو کھانا کھلائے گا، یہاں تک کہ وہ سیر ہو جائے، تو مخلوقِ خدا میں سے کوئی شخص بھی نہیں جانتا کہ اسے آخرت میں کس قدر اجر و ثواب ملے گا، نہ کوئی خدا کا مقرب فرشتہ اور نہ ہی کوئی نبی مرسل، سوائے خدا کے جو عالمین کا پروردگار ہے۔" (بحوالہ: اصولِ کافی، جلد دوم باب "اطعام المومن" حدیث ۶)۔ ۳۔ ایک اور حدیث میں اسی امامؑ سے آیا ہے کہ آپ نے فرمایا: لان اطعم مؤمنًا محتاجًا احب الی من ان ازورہ، ولان ازورہ احب الی من ان اعتق عشر رقاب "اگر میں کسی محتاج مومن کو کھانا کھلاؤں، تو یہ بات میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں صرف اس کے دیدار اور زیارت کے لیے جاؤں، اور اگر میں اس کے دیدار اور زیارت کے لیے جاؤں تو یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں دس غلاموں کو آزاد کروں۔" (بحوالہ: مدرک بالا، حدیث ۱۸)۔ قابلِ توجہ بات یہ کہ روایات میں صرف محتاجوں اور بھوکوں پر تکیہ نہیں ہوا ہے، بلکہ بعض روایات میں تو صراحت کے ساتھ آیا ہے، کہ مومنین کو کھانا کھلانا، اگرچہ وہ بےنیاز ہی کیوں نہ ہوں، غلام آزاد کرنے کے مانند ہے، اور یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس کام کا مقصد احتیاجات کو دور کرنے اور ضروریات کو پورا کرنے کے علاوہ، جلب محبت اور دوستی و الفت کے رشتوں کی مضبوطی بھی ہے۔ اس کے برعکس کہ جو کچھ آج کی مادی دنیا میں معمول ہو چکا ہے کہ بعض اوقات دو قریبی دوست یا دو رشتہ دار کسی ہوٹل یا مہمان خانے میں جاتے ہیں، تو ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے حصہ کی رقم ادا کرتا ہے، گویا مہمان بنانے کا مسئلہ خصوصًا زیادہ افراد کو مہمان بنانا گویا ان کے لیے بہت ہی تعجب کا باعث ہے۔ ۴- بعض روایات میں یہ تصریح بھی ہوئی ہے کہ بھوکوں کو مطلق طور پر کھانا کھلانا (چاہے وہ مومن اور مسلمان نہ بھی ہوں) افضل اعمال میں سے ہے۔ جیسا کہ ایک روایت میں پیغمبر گرامی اسلامؐ سے آیا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: من افضل الاعمال عند اللہ ابراد الکباد الحارۃ واشباع الکباد الجائعۃ والذی نفس محمد صلی اللہ علیہ و الٰہ، بیدہ لا یؤمن بی عبد یبیت شبعان وا خواہ ــــــ او قال جارہ ــــــ المسلم جائع "خدا کے نزدیک افضل اعمال میں سے ایک عمل پیاسوں کو ٹھنڈا پانی پلانا، اور بھوکے شکموں کو سیر کرنا ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂِ قدرت میں محمدؐ کی جان ہے، جو بندہ رات کو سیر ہو کر سو جائے اور اس کا بھائی ــــــ یا یہ فرمایا کہ اس کا مسلمان ہمسایہ ـــــ بھوکا ہو تو وہ مجھ پر ایمان نہیں لایا۔" (بحوالہ: "بحار الانوار" جلد ۷۴، ص ۳۶۹) قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ مرحوم علامہ مجلسی نے اس سلسلہ میں ایک باب عنوان کیا ہے جس میں ۱۱۳ احادیث نقل کی ہیں جو مومن کو کھانا کھلانے، سیراب کرنے، لباس پہنانے اور اس کا قرض ادا کرنے کے بارے میں ہیں اور ان میں سے بعض عمومیت بھی رکھتی ہیں)۔ اوپر والی حدیث کا آخری حصہ اگرچہ مسلمان کو سیر کرنے کے بارے میں ہے، لیکن اس کا آغاز ہر پیاسے اور بھوکے سے ہوا ہے اور بعید نہیں ہے کہ اس کے مفہوم کی وسعت جانوروں تک کو بھی شامل ہو۔ اور اس سلسلہ میں روایات بہت ہیں۔ (سابقہ حوالہ)۔

12
76:12
وَجَزَىٰهُم بِمَا صَبَرُواْ جَنَّةٗ وَحَرِيرٗا
اللہ ان کے صبر کرنے کے صلہ میں بطور جزا انہیں جنت اور بہشت کے ریشمی لباس عطا کرے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
76:13
مُّتَّكِـِٔينَ فِيهَا عَلَى ٱلۡأَرَآئِكِۖ لَا يَرَوۡنَ فِيهَا شَمۡسٗا وَلَا زَمۡهَرِيرٗا
وہ اس(جنت) میں خوبصورت تختوں کے اوپر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے، نہ وہاں وہ سورج کو دیکھیں گے اور نہ ہی سخت سردی کو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
76:14
وَدَانِيَةً عَلَيۡهِمۡ ظِلَٰلُهَا وَذُلِّلَتۡ قُطُوفُهَا تَذۡلِيلٗا
اور ان (بہشتی درختوں ) کے سائے ان کے اوپر پڑ رہے ہوں گے، اور ان کے پھلوں کو توڑنا ان کے لئے بہت ہی آسان ہوگا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

15
76:15
وَيُطَافُ عَلَيۡهِم بِـَٔانِيَةٖ مِّن فِضَّةٖ وَأَكۡوَابٖ كَانَتۡ قَوَارِيرَا۠
اور ان کے گردا گردچاندی کے برتنوں اور بلوریں پیالوں کو گردش دے رہے ہوں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
76:16
قَوَارِيرَاْ مِن فِضَّةٖ قَدَّرُوهَا تَقۡدِيرٗا
چاندی کے بلوریں ظروف ، جنہیں ضروری اندازوں کے مطابق تیار کیا ہوا ہوگا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

17
76:17
وَيُسۡقَوۡنَ فِيهَا كَأۡسٗا كَانَ مِزَاجُهَا زَنجَبِيلًا
اور وہاں ایسے پیالوں سے سیراب کیا جائے جو ایسی شراب طہور سے لبریز ہوں گے، جس میں زنجبیل کی آمیزش ہوگی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

18
76:18
عَيۡنٗا فِيهَا تُسَمَّىٰ سَلۡسَبِيلٗا
بہشت کے ایک چشمہ سے جس کا نام سلسبیل ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

19
76:19
۞وَيَطُوفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَٰنٞ مُّخَلَّدُونَ إِذَا رَأَيۡتَهُمۡ حَسِبۡتَهُمۡ لُؤۡلُؤٗا مَّنثُورٗا
اور ان کے گرد ہمیشہ رہنے والے نوجوان ( پذیرائی کے لئے ) گردش میں ہوں گے ، جس وقت تو انہیں دیکھے گا تو گمان کرے گا کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

20
76:20
وَإِذَا رَأَيۡتَ ثَمَّ رَأَيۡتَ نَعِيمٗا وَمُلۡكٗا كَبِيرًا
اور جس وقت تو اس جگہ کو دیکھے ، تو پھر تو نعمتوں اور ایک ملک عظیم کو دیکھے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

21
76:21
عَٰلِيَهُمۡ ثِيَابُ سُندُسٍ خُضۡرٞ وَإِسۡتَبۡرَقٞۖ وَحُلُّوٓاْ أَسَاوِرَ مِن فِضَّةٖ وَسَقَىٰهُمۡ رَبُّهُمۡ شَرَابٗا طَهُورًا
ان (بہشتیوں ) کے جسموں پر نازک سبز رنگ کے ریشمی اور دیباج کے لباس ہوں گے، اور انہوں نے چاندی کے دست بند پہنے ہوئے ہوں گے اور ان کا پروردگار انہیں شراب طہور پلائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

22
76:22
إِنَّ هَٰذَا كَانَ لَكُمۡ جَزَآءٗ وَكَانَ سَعۡيُكُم مَّشۡكُورًا
یہ تو تمہاری جزا ہے اور تمہاری سعی و کوشش لائق قدردانی ہے۔

بہشت کی عظیم جزائیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

گزشتہ آیات میں "ابرار اور نیک افراد" کے قیامت کے دن کے درد ناک عذاب سےنجات پانے اور لقائے محبوب کو پہنچنے، اور سرور وشادی میں غرق ہونے کی طرف اجمالی اشارہ کرنے کے بعد زیر بحث آیات میں ان بہشتی نعمتوں کی تشریح کرتا ہے اور ان آیات میں کم ازکم پندرہ نعمتوں کو شمار کرتا ہے۔ سب سے پہلے ان بہشتیوں کے مکان اور لباس کے بارے میں گفتگو کرتا ہے، اور فرماتا ہے:"خدا ان کے صبر و شکیبائی کے صلہ میں انھیں جنت اور ریشمی لباس وفرش جزا کے طور پر دے گا"۔(وَجَزَاهُـمْ بِمَا صَبَـرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِيْـرًا )۔ ہاں! اس استقامت، پامردی اور ایثار کے مقابلہ میں ـــــــــــ جس کا ایک نمونہ نذر کو پورا کرنا اور روزے رکھنا اور اپنا وہ کھانا جس کی انھیں خود ضرورت تھی، مسکین و یتیم و اسیر کو بخش دیناــــــــــ خدا انھیں جنت کے باغات میں جگہ دے گا، اور انھیں بہترین لباس پہنائے گا۔ نہ صرف ان آیات میں بلکہ قرآن کی دوسری آیات میں بھی اس حقیقت کو صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کی جزائیں، انسان کے صبر و شکیبائی کے مقابلہ میں ہیں (اطاعت کی راہ میں صبر کرنا ، معصیت کے مقابلہ میں صبر کرنا اور مشکلات و مصائب کے مقابلہ میں صبر کرنا)۔ سورہ رعد کی آیہ 24 میں آیا ہے کہ فرشتے جنتیوں کو اس طرح خوش آمدید کہیں گے: سلام علیکم بما صبرتم: "اس صبرواستقامت پر جو تم نے کیا تم پر سلام ہے۔" اور سورہ مؤمنون کی آیہ 111 میں آیا ہے (اِنِّـىْ جَزَيْتُهُـمُ الْيَوْمَ بِمَا صَبَـرُوٓا اَنَّـهُـمْ هُـمُ الْفَآئِزُوْنَ) "میں نے آج انھیں انکے صبرو استقامت کی جزا دی ہے، یقینًا وہ کامیاب درست گار ہیں۔" اس کے بعد مزید کہتا ہے: "وہ اس میں خوبصورت تختوں کے اوپر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے، نہ وہاں سورج کی گرمی ہو گی اور نہ ہی ہوا کی سردی لگے گی"۔(مُّتَّكِئِيْنَ فِيْـهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ ۖ لَا يَرَوْنَ فِيْـهَا شَمْسًا وَّلَا زَمْهَرِيْـرًا )۔ (تختون پر تکیہ لگا کر بیٹھنےکی) اس حالت کا ذکر ان کے مکمل راحت و آرام کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ انسان عام طور پر آرام و سکون کی حالت میں اس طرح بسر کرتا ہے۔ اور آیت کے ذیل میں بھی جنت کے فضا کے مکمل اعتدال کی طرف اشارہ ہے۔ نہ یہ کہ سورج اور چاند وہاں موجود ہی نہ ہوں گے، بلکہ سورج کی تکلیف دینے والی تپش نہیں ہو گی، کیونکہ وہاں جنت کے درختوں کا سایہ ہو گا۔ "زمھریر"، "زمھر" کے مادہ سے سردی کی شدت یا غضب کی شدت، یا غصہ کے اثر سے آنکھ کے سرخ ہونے کے معنی میں ہے اور یہاں وہی پہلا معنی مراد ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ جہنم میں ایک جگہ ایسی ہے، جہاں سردی کی شدت کی وجہ سے جسم کے اعضاء ریزہ ریزہ ہو کر ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں گے۔ (بحوالہ: در المنثور جلد 6 ص ۳۰۰) "ارائک"، "اریکہ" کی جمع ہے، اصل میں ان پلنگون کو کہتے ہیں جنھیں حجلۂ عروسی میں رکھتے ہیں، اور یہاں خوبصورت، زیبا اور فاخرہ پلنگ مراد ہے۔ اہلسنت کے ایک مشہور مفسر آلوسی "روح المعانی" میں ابنِ عباس سے ایک حدیث اس طرح نقل کرتے ہیں: "بینا اھل الجنۃ فی الجنۃ اذ راوا ضوءًا کضوء الشمس و قد اشرفت الجنان بہ فیقول اھل الجنۃ یارضوان ماھٰذا ؟ وقد قال ربنا لایرون فیھا شمسًا الا زمھریرًا فیقول لھم رضوان لیس ھٰذا بشمس ، ولاقمر، ولٰکن علی (ع) و فاطمہ (ع) ضحکًا و اشرقت الجنان من نور ثغریھما" "جب بہشتی ،بہشت میں داخل ہوں گے تو اچانک سورج کی روشنی کی مانند ایک روشنی مشاہدہ کریں گے ، جو جنت کے منظر کو روشن کر دے گی، جنت والے رضوان(جنت پر مامور فرشتہ) سے کہیں گے؛ یہ نور کیسا ہے حالانکہ ہمارے پروردگار نے فرمایا ہے، کہ جنت میں نہ تو سورج کو دیکھیں گے اور نہ ہی سردی کو، تو وہ جواب میں کہے گا، یہ سورج اور چاند کا نور نہیں ہے، یہ تو علیؑ اور فاطمہؑ ہنسے ہیں، اور جنت ان کے دانتوں سے روشن ہو گئی ہے۔" (بحوالہ: روح المعانی، جلد ۲۹، ص ۱۵۹) بعد والی آیت ان نعمتوں کے بیان کو جاری رکھتے ہوئے مزید کہتی ہے:"اور ان بہشتی درختوں کے سایے ان کے اوپر پڑ رہے ہوں گے، اور ان کے پھلوں کو توڑنا ان کے لیے بہت آسان ہو گا"۔(وَدَانِيَةً عَلَيْـهِـمْ ظِلَالُـهَا وَذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِيْلًا )۔ (تشریحی نوٹ: "قطوف" بر وزن "ظروف" جمع "قطف" (بروزن فقط) یا جمع "قطف"(بر وزن حذف)ہے جس میں سے پہلا تو وصفی معنی ہے اور دوسرا مصدری اور چنے ہوئے پھلوں یا پھل چننے کے معنی میں ہے۔) نہ تو کوئی مشکل پیش آتی ہے، نہ ہاتھ میں کوئی کانٹا چبھتا ہے اور نہ ہی پھلوں کے لیے کوشش کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ ہی کہیں چل کر جانے کی۔ ہم ایک مرتبہ پھر اس نکتہ کو یاد دلانہ ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ اصول جو انسان کی زندگی پر اس جہان پر حاکم ہیں وہ اس جہان سے بہت ہی مختلف ہیں اور قرآن کی ان آیات میں اور دوسری آیات میں ، جنت کی نعمتوں کے بارے میں جو کچھ بیان ہوا ہے وہ ان عظیم نعمتوں کی طرف صرف پر معنی اشارے ہیں ، ورنہ بعض روایات کی تصریح کے مطابق وہاں اس قسم کی نعمتیں ہیں جنھیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے ، اور نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ وہ کبھی کسی کے وہم و گمان میں آئی ہیں۔ "ابن عباس" کا ایک کلام ہے جو انھوں نے اس سورہ کی بعض آیات کے ذیل میں بیان کیا ہے : وہ کہتے ہیں کہ خدا نے قرآن میں جن ںعمتوں کا ذکر کیا ہے ، اس کی مثل و نظیر دنیا میں نہیں ہے، لیکن خدا نے ہمارے جانے پہچانے ناموں کے ساتھ ان کا نام لیا ہے، مثلاً شراب طہور کا ذکر کرتا ہے کہ جس میں زنجیل کی آمیزش ہو گی یہ ایک معطر مادہ ہوتا تھا جسے عرب بہت پسند کرتے تھے۔(بحوالہ: مجمع البیان، ج ۱۰، ص ۴۹۱۔ ) ــــــــــــــــــــــــــــ بعد والی آیات میں خدا کے ان جنتی مہمانوں کی پذیرائی کی کیفیت کے ایک حصہ کی وضاحت، ان کی پذیرائی کے وسائل اور پذیرائی کرنے والوں کی حالت بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے :"اور ان کے گردا گرد چاندی کے برتنوں اور بلورین پیالوں کو گردش دے رہے ہوں گے۔"(وَيُطَافُ عَلَيْـهِـمْ بِاٰنِيَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّاَكْوَابٍ كَانَتْ قَوَارِيْـرَا )۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــ "چاندی کے بلورین ظروف، جنھیں ضروری اندازوں کے مطابق تیار کیا ہوا ہو گا"۔(قَوَارِيْـرَ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِيْـرًا)۔ ان برتنوں میں جنت کے انواع واقسام کے کھانے، اور ان بلوریں پیالوں میں انواع اقسام کے لذت بخش اور نشاط آفریں مشروبات جتنی مقدار میں وہ چاہیں گے اور پسند کریں گے موجود ہوں گے اور جنت کے خدمت گار مسلسل ان کے گردا گرد گھوم رہے ہوں گے، اور ان کے سامنے پیش کر رہے ہوں گے۔ "اٰنیۃ" جمع ہے "اناء" کی، ہر قسم کے برتن کے معنی میں ہے اور "اکواب" جمع ہے "کوب" (بروزن خوب)کی، پانی کے برتن کے معنی میں ہے، جس میں دستہ نہیں ہوتا ، جسے بعض اوقات "قدح" سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ "قواریر" جمع ہے "قارورہ" کی جو بلورین اور شیشہ کے برتن کے معنی میں ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ فرماتا ہے: جنت کے بلوریں اور شیشہ والے برتن چاندی کے بنائے گئے ہیں ، جبکہ عالمِ دنیا میں اس قسم کا برتن مطلقًا موجود نہیں ہے اور بلوریں برتنوں کو مخصوص قسم کے پتھروں کو پگھلاکر بناتے ہیں، لیکن وہی خدا جس نے سیاہ اور تاریک پتھر میں یہ امکان پیدا کر دیا کہ وہ شیشہ اور بلور میں تبدیل ہو جائے، چاندی جیسی دھات میں بھی یہ امکان پیدا کر سکتا ہے۔ بہرحال، اس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کے برتن اور پیالے، بلور اور شیشہ کی طرح صاف و شفاف بھی ہوتے ہیں اور چاندی کی خوبصورتی اور درخشندگی بھی رکھتے ہیں، اور ان میں مشروب ہیں وہ مکمل طور پر نمایاں ہیں۔ قابل توجہ بات ہی کہ ایک حدیث میں امام صادقؑ سے آیا ہے، آپ نے فرمایا: ینفذ البصر فی فضۃ الجنۃ کما ینفذ فی الزجاج "انسان کی آنکھ کو نور جنت کی چاندی میں اس طرح نفوذ کر جائے گا، جیسا کے شیشیہ اور بلور میں نفوذ کرتا ہے۔" (بحوالہ: مجمع البیان" جلد 10 ص 410) ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارے زمانہ میں ماہرین نے کچھ ایسی شعاعیں میں معلوم کرلی ہیں (ایکس شعاعوں کے مانند) جو تاریک اور ٹھوس جسموں سے بھی گزر جاتی ہیں اور انھیں بلور اور شیشہ کی مانند دکھاتی ہیں۔ ابن عباس کہتے ہیں: جنت کی تمام نعمتیں اپنی مشابہ اور مثل و نظیر رکھتی ہیں، سوائے بلوریں اور شیشہ کے برتنوں جو چاندی سے بنے ہوئے ہوں گے، جس میں دنیا میں شبیہ اور نظیر نہیں۔(بحوالہ: "روح المعانی" جلد ۲۹ ص ۱۵۹) ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "اور وہاں ایسے پیالوں سے سیراب ہوں گے جو شرابِ طہور سے لبریز ہوں گے، جس میں زنجبیل کی آمیزش ہو گی"۔(وَيُسْقَوْنَ فِيْـهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيْلًا)۔ بہت سے مفسرین نے تصریح کی ہے کہ زمانہ جاہلیت کے عرب ایسی شراب سے جس میں زنجبیل کی آمیزش ہوتی تھی، لذت حاصل کرتے تھے، کیونکہ اس سے ایک خاص قسم کی تیز شراب میں آ جاتی ہے تھی، اور قرآن یہاں ایسے جاموں کی بات کرتا ہے، جس کی شرابِ طہور میں زنجبیل کی آمیزش ہو گی، لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس شراب اور اس شراب میں زمین آسمان کا فرق ہے یا دوسرے لفظوں میں دنیا اور آخرت کا فرق ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عرب دو قسم کی شراب رکھتے تھے، جن کی دو مختلف حالتیں ہوتی تھیں، ایک تو اصطلاح میں نشاط آور اور محرک ہوتی تھی اور دوسری سست کرنے والی اور آرام بخش؛ پہلی میں "زنجبیل" کی آمیزش کرتے تھے، اور دوسری میں "کافور" کی اور چونکہ علمِ آخرت کے حقائق اس جہان کے الفاظ کے قالب میں نہیں آ سکتے، لہذا اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے کہ ان عظیم حقائق کو بیان کرنے کے لیے انھیں الفاظ کو زیادہ وسیع اور بلند معانی کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ اگرچہ "زنجبیل" کے معنی کے بارے میں مختلف تفسیریں نقل ہوئی ہیں ، لیکن زیادہ تر اسی معطر اور خشبودار جڑ کے ساتھ اس کی تفسیر کی ہے کو کھانے پینے کی مخصوص دواؤں میں استعمال ہوتی ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "یہ جام بہشت کے ایک چشمے سے پُر کیے جاتے ہیں، جسے سلسبیل کہا جاتا ہے"۔(عَيْنًا فِيْـهَا تُسَمّـٰى سَلْسَبِيْلًا)۔ (تشریحی نوٹ: "عینا" کے محل اعراب کے سلسلہ میں جو بات ہم نے پہلے کی چند آیات میں کہی ہے، وہ بعینہ جاری ہے اور مناسب یہ ہے کہ یہ "منصوب بہ نزع خافض" کی قسم سے ہو۔) "سلسبیل" بہت ہی لذیذ قسم کے مشروب کو کہتے ہیں، جو آرام کے ساتھ منہ اور گلے سے اترتا اور بڑا ہی خوش گوار ہوتا ہے۔ بہت سوں کا نظریہ یہ ہے کہ یہ "سلاسہ" کے مادہ سے لیا گیا ہے جو "روانی" کے معنی میں ہے؛ جیسا کہ رواں اور عمدہ عبارتوں کو بھی "سلیس" کہا جاتا ہے۔ بعض نے یہ کہا کہ یہ "تسلسل" کے مادہ سے لیا گیا ہے ، جو پے درپے "حرکت" کے معنی میں ہے اور نتیجہ میں کسی چیز کے رواں ہونے کو بیان کرتا ہے، اس بناء پر دونوں معانی ایک دوسرے کے قریب ہیں اور ہر صورت میں "باء" اس میں اضافی ہے۔ بعض کا یہ بھی نظریہ ہے کہ یہ لفظ دو الفاظ سے مرکب ہے "سل" اور "سبیل" اور بعض اسے "سال" اور "سبیل" سے مرکب سمجھتے ہیں، پہلی صورت میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ "راستہ طلب کرو"۔ اور دوسری صورت میں مطلب یہ ہے کہ "اس نے راستہ طلب کیا" اور دونوں کا کنائی معنی "خوشگوار"ہے۔ بعض نے یہ تصرٰح بھی کی یٓہے کہ عربی زبان میں "سلسبیل" کے لفظ کاوجود ہی نہیں تھا اور یہ قرآن مجید کی ایجادات میں سے ہے۔ ؎1 لیکن پہلا معنی سب سے زیادہ مشہوت اور زیادہ مناسب ہے۔ (تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے کہا ہے کہ "سلسبیل" قاعدتاً غیر منصرف ہے، کیونکہ علمیت اور عجمہ اس میں جمع ہے اور وہ تنوین جو اس نے اپنا لی ہے وہ اس سورہ کی دوسری آیات سے ہم آہنگی بناء پر ہے۔) ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد اس پر سرور بزم کی پذیرائی کرنے والوں کے بارے میں ــــــــــ جو بہشت بریں میں حق تعالٰی کے جوارِ رحمت میں برپا ہو گی ـــــــ گفتگو کرتے ہوئے کہتا ہے:"اور ان کے گرد ہمیشہ رہنے والے نوجوان گردش میں ہوں گے، جب تو انھیں دیکھے گا، تو گمان کرے گا کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں"۔(وَيَطُوْفُ عَلَيْـهِـمْ وِلْـدَانٌ مُّخَلَّـدُوْنَۚ اِذَا رَاَيْتَـهُـمْ حَسِبْتَـهُـمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا)۔ وہ خود بھی جنت میں ہمشہ رہیں گے اور ان کی جوانی طرٰوت و زیبائی اور نشاط و خوشی بھی جادوانی اور ہمیشہ رہے گی، اور ان کا پذیرائی کرنا بھی، کیونکہ "مخلدون" کی تعبیر ایک طرف سے، اور "یطوف علیھم" "(ان کے گرد طواف کریں گے) کی تعبیر دوسری طرف سے ، اس واقعیت کو بیان کرتی ہے۔" "لؤلؤًا منثورًا" (بکھرے ہوئے موتی) کی تعبیر ان کے خوبصورت و زbائی ، صفا و درخشندگی اور جاذبیت کی طرف بھی ہے،اور اس روحانی بزم خداوندی میں، ان کے ہر جگہ پر حاضر رہنے کی طرف بھی اشارہ ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اور چونکہ دوسرے جہان کی نعمتوں کی تعریف و توصیف ہو ہی نہیں سکتی ، چاہے الفاظ کتنے ہی گویا اور رسا کیوں نہ ہوں، لہذا بعد والی آیت میں سربستہ طور پر مزید کہتا ہے: "اور جس وقت تو اس وہاں دیکھے گا، تو پھر بہت سی نعمتوں اور ایک ملک عظیم کو دیکھے گا۔"۔ (وَاِذَا رَاَيْتَ ثَـمَّ رَاَيْتَ نَعِيْمًا وَّمُلْكًا كَبِيْـرًا)۔ (تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے تصریح کی ہے کہ "ثم" یہاں "ظرف مکان" ہے اور "رایت" فعل لازم کا معنی رکھتا ہے اور آیت کا معنی اس طرح ہو گا "اذا رمیت ببصرک ثم رایت نعیمًا و ملکا کبیرًا" (جب تو نظر ڈالے گا تو نعمتوں اور ملکِ کبیر کو دیکھے گا)۔ یہ احتمال بھی ہے کہ "ثم" دور کے لیے اسمِ اشارہ ہو اور "رایت" کا مفعول ہو۔) "نعیم" اور "ملک کبیر" کے لیے بہت سی تفسیریں بیان کی گئی ہیں، منجملہ ان کے ایک حدیث میں امام صادقؑ سے آیا ہے کہ : "اس آیت کے معنی یہ ہے کہ وہ ایک ایسا ملک ہے جو کبھی زائل اور فنا پذیر نہیں ہو گا۔" (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد 10 ص 411) یا جنت کی نعمتیں اس قدر وسیع ہیں کہ کثرت کے لحاظ سے ان کی تعریف و توصیف نہیں ہو سکتی۔ یا "ملک کبیر" یہ ہے کہ فرشتے اہلِ جنت کے پاس جانے کے وقت ان سے اجازت لیں گے، اور سلام کے ساتھ ان کو خوش آمدید کہیں گے۔ یا یہ ہے کہ جنت والے جس چیز کا ارادہ کریں گے ، وہ انھیں مل جائے گی۔ یا ادنٰی سے ادنٰی جنتی کی حدود سلطنت اس قدر ہو گی کہ جب وہ نگاہ کرے گا تو ایک ہزار سال راہ کے فاصلہ کو دیکھے گا۔ یا یہ دائمی اور ابدی ملک کے معنی میں ہے، جس میں اس کی تمام آرزوئیں پوری ہوں گی۔ "نعیم" کا لفظ جو لغت "فراواں نعمتوں" کے معنی میں ہے اور "ملکِ کبیر" جو جنت کے باغات کی عظمت اور وسعت کی خبر دیتا ہے، ایک وسیع و عریض مفہوم رکھتا ہے۔ جو اوپر کی تمام تفاسیر کو شامل ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ یہاں تک جنت کی نعمتوں کی ایک حصہ کی طرف جو مکانوں، پلنگوں، سایوں، پھلوں، مشروبات، برتنوں اور پذیرائی کرنے والوں کی قسم سے ہیں اشارہ ہوا ہے، اب جنتیوں کی زینت و آراستگی کے وسائل کی نوبت ہے، فرماتا ہے : "ان کے جسموں پر نازک سبز رنگ کے ریشمی اور دیباج کے لباس ہوں گے"۔(عَالِيَـهُـمْ ثِيَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْـرَقٌ)۔ (تشریحی نوٹ: "عالیھم" کے محل اعراب کے بارے میں دو احتمال ہیں۔ پہلا یہ کہ یہ ظرف ہے "فوق" (اوپر) کے معنی میں ہے، اس قول کی بناء پر آیت کا مفہوم اس طرح ہے "فوقھم ثیاب سندس" دوسرا یہ کہ یہ اس "ھم" ضمیر کا حال ہے جو پہلی آیات میں آئی ہے اور "ابرار" کی طرف لوٹتی ہے اور جملہ کا معنی اس طرح سے ہو گا "حالکونھم یعلوھم ثیاب سندس خضر" (جبکہ سبز نازک ریسم کے کپڑے ان کے اوپر ہوں گے)۔ "سندس" ریشم کے نازک کپڑے کے معنی میں ہے جبکہ "استبرق" موٹے ریشمی کپڑے کے معنی میں ہے، بعض اسے فارسی کا لفظ استبر یا ستبر سمجتھے ہیں ، بعض نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ عربی اصل "برق" سے جو چمکنے کے معنی میں ہے، لیا گیا ہے، اس کے بعد مزید کہتا ہے:"اور ان کی چاندی کے دست بندوں کے ذریعہ تزئیں کی گئی ہو گی"۔(وَحُلُّوٓا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍۚ )۔ ایسی صاف شفاف چاندی ، جو بلور کی طرح چمکتی ہے، اور یا قوت، دُر اور مروارید سے زیادہ خوبصورت ہے۔ "اساور" جمع ہے "اسورۃ" (بروزن مغفرۃ)کی اور وہ بھی اپنی نوبت پر "سوار" (بروزن غبار) یا سوار (بروزن کتاب) کی جمع ہے، جو اصل میں فارسی کے لفظ "دستوار" سے لیا گیا ہے ، جو "دست بند" (کنگن) کے معنی میں ہے اور عربی زبان کی طرف منتقل ہوتے وقت اس میں مختصر سی تبدیلی پیدا ہو گئی ہے اور اس نے "سوار" کی صورت اختیار کرلی ہے۔ جنت کے لباسوں کے لیے سبز رنگ کو انتخاب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ رنگ بہت ہی نشاط آفرین ہوتا ہے، درختوں کے خوبصرت پتوں کی طرح ، البتہ سبز رنگ کی بھی کئی انواع و اقسام ہوتی ہیں اور ان میں سے ہر ایک اپنے مقام پر عمدہ ہوتا ہے۔ بعض آیاتِ قرآنی: مثلاً سورہ کہف کی آیہ 31 میں آیا ہے کہ جنتیوں کے سونے کے کنگنوں سے زینت کی جائے گی "يُحَلَّوْنَ فِيْـهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ" لیکن یہ بات اس لیے کہ جو زیر بحث آیت میں ہے، کوئی منافات نہیں رکھتی کیونکہ ہوسکتا ہے کہ تنوع کی بناء پر کبھی اس سے زینت کریں اور کبھی اس سے۔ یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ کیا سونے اور چاندی کے کنگن عورتوں کی زینت نہیں ہیں؟ تو پھر جنت کے مردوں کے لیے اس زینت کا ذکر کیوں کیا گیا ہے؟ لیکن اس کا جواب واضح ہے کیونکہ بہت سے معاشرے اور ماحول ایسے ہیں جن میں سونا اور چاندی مردوں کے لیے بھی زینت ہے اور عورتوں کے لیے بھی (اگرچہ اسلام نے سونے کی زینت کو مردوں کے لیے حرام قرار دیا ہے) لیکن یقینی طور پر مردوں اور عورتوں کے دست بندوں کی نوعیت مختلف ہو گی اور سورہ زخرف کی آیہ 53 میں فرعون کے قول سے جو نقل ہوا ہے ــــــــ فَلَوْلَآ اُلْقِىَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ "موسٰی کو سونے کے کنگن کیوں نہ دیئے گئے"ـــــــــ یہ معلوم ہوتا ہے کہ سونے کے دست بند مصر کے ماحول میں مردوں کے لیے عظمت کی نشانی سمجھے جاتے تھے۔ علاوہ ازیں جیسا کہ ہم نے بارہا اشارہ کیا ہے، چونکہ جنت کی نعمتوں کے بیان کے لیے اس دنیا لے عام الفاظ ہر گز کافی نہیں ہیں، لہزا اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے کہ ان عظیم اور ناقابل تعریف و توصیف نعمتوں کی طرف انھی الفاظ کے ساتھ کچھ اشارے کیے جائیں۔ اور بالآخر آیت کے آخر میں نعمتوں کے اس سلسلہ کی آخری اور اہم ترین نعمت جے عنوان سے فرماتا ہے:"اور ان کا پروردگار انھیں شراب طہور پلائے گا"۔(وَّسَقَاهُـمْ رَبُّهُـمْ شَرَابًا طَهُوْرًا )۔ یہ ٹھیک ہے کہ ان نعمتون کےئ بیان کے درمیان بھی ، خوشگوار مشروبات کے بارے میں ـــــــــــ جو ایسے جاموں سے جو سلسبیل کے چشمے سے پُر ہوں گے اور جنتی ان سے سیراب ہوں گے ـــــــــــ ذکر ہوا تھا ۔ لیکن ان میں اور کچھ اس آیت میں بیان ہوا ہے، بہت فرق ہے ، کیونکہ ایک طرف تو وہاں ساقی "ولدان مخلدون" تھے لیکن یہاں ساقی "خدا" ہے اور کیا ہی عجیب و غریب تعبیر ہے۔ خصوصًا "رب" کے لفظ پر تکیہ کے ساتھ وہ خدا جس نے ہمیشہ اس انسان کی پرورش کی ہے اور اس کا مالک و مربی ہے، اسے تکامل و ارتقاء کے مراحل میں ہمیشہ آگے لے گیا ہے، یہاں تک کہ وہ آخری مرحلہ تک جا پہنچا ہے اور اب اس بات کی نوبت آ گئی ہے کہ وہ اپنی ربوبیت کو حداعلٰی تک پہنچا دے، اور اپنے دست قدرت سے ابرار اور نیک بندوں کو شرابِ طہور کے جام سے سیراب اور سر مست کر دے۔ اور دوسری طرف "طھور" اس چیز کے معنی میں ہے جو خود بھی پاک ہے اور دوسروں کو بھی پاک کرتی ہے، اس طرح سے یہ شراب انسان کے جسم ع روح کو ہر قسم کی آلودگی اور ناپاکی سے پاک کرتی ہے اور ایسی روحانیت، نورانیت اور نشاط بخشتی ہے کہ کسی عبارت سے اس کی توصیف نہیں ہو سکتی، یہاں تک کہ ایک حدیث میں امام صادقؑ سے آیا ہے: یطھرھم عن کل شیء سوی اللہ " (مجمع البیان" جلد 10 ص 411) ان کے دل وجان کو خدا کے علاوہ ہر چیز سے ہاک کر دے گی"۔ غفلت کے پردوں کو چاک کردیتی ہے، حجابوں کو دور کردیتی ہے، اور انسان کو خدا کے جوار قرب میں دائمی خضور کے لیے شائستہ اور لائق بنا دیتی ہے، اس شراب طہور کا نشہ ہر نعمت سے برتر اور ہر موبیت سے بالاتر ہے۔ اگر دنیا کی آلودہ اور گندی شراب عقل کو زائل کردیتی ہے اور خدا سے دور کردیتی ہے، تو یہ شراب طہور جو ساقی "الست" کے ہاتھ سے دی جائے گی وہ اسے "ماسوی اللہ" سے بیگانہ کرکے اس کے جمال و جلال میں غرق کر دے گی۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو لطف اس آیت اور اس نعمت میں چھپا ہوا ہے وہ سب سے برتر اور بالا تر ہے۔ ایک حدیث سے جو رسول خدا سے نقل ہوئی ہے معلوم ہوتا ہے کہ شراب طہور کا چشمہ جنت کے دروازے پر واقع ہے: فیسقون منھا شربۃ فیطھر اللہ بھا قلوبھم من الحسد ...... و ذالک قول اللہ عزوجل و سقاھم ربھم شراباً طھورًا۔ "انھیں اس شراب طہور کا ایک گھونٹ پلایا جائے گا اور خدا اس کے ذریعہ سے ان کے دلوں کو حسد (اور ہر قسم کے صفات رذیلہ سے) پاک کر دے گا." (تشریحی نوٹ: اس آیت میں حقیقت میں ایک جملہ مقدر ہے مثلاً "یقال لھم" یا "یقول اللہ لھم"یعنی: خدا ان سے کہے گا)۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں "طھور" کی تعبیر صرف دو موقعوں پر آئی ہے، ایک تو بارش کے بارے میں (فرقان ـــــــ 48) جو ہر چیز کو پاک اور زندہ کر دیتی ہے اور دوسرے زیر بحث آیت میں جنت کی مخصوص شراب کے بارے میں کہ وہ بھی پاک کرنے والی اور حیات بخش ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اور آخری زیر بحث آیت میں، اس سلسلہ میں آخری بات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:"خدا کی طرف سے انھیں کہا جائے گا: یہ عظیم نعمتیں اور بے نظیر مواہب تمھارے اعمال کا اجر ہیں، اور حق تعالٰی کے فرمان کی اطاعت کی راہ میں تمھاری سعی و کوشش اور جدو جہد مقبول و مشکور ہے ۔"(اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّكَانَ سَعْيُكُمْ مَّشْكُـوْرًا )۔ شاید کوئی یہ تصور کرے کہ یہ مواہب اور عظیم اجر انھیں کسی حساب کے بغیر ہی دے دیا جائے گا، یہ سب کچھ کوشش اور عمل کی جزا ہے اور مجاہدات، خود سازیوں اور گناہ سے چشم پوشی کا اجر ہے۔ اس مطلب کو بیان کرنے میں خود ایک خاص لذت اور لطف ہے کہ خداوند تعالٰی یا اس کے فرشتے ابرار اور نیک لوگوں کو مخاطب کرکے قدردانی اور تشکر کے طور پر ان سے کہیں:"یہ سب کچھ تمھارے اعمال کا اجر ہے اور تمھاری سعی کوشش قابلِ قدر ہے، بلکہ بعض مفسرین کے قول کے مطابق یہ تو ایک ایسی نعمت ہے، جو تمام نعمتوں اور مواہب سے بالا تر ہے کہ خدا انسان کا شکریہ ادا کرے۔" "کان" کی تعبیر ، جو فعل ماضی ہے، گذشتہ زمانہ کی خبر دیتا ہے، ممکن ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ یہ نعمتیں پہلے سے ہی تمھارے لیے فراہم ہو چکی ہیں ، کیونکہ جب کوئی شخص اپنے کسی مہمان کو زیادہ اہیمت دیتا ہے تو اس کی پذیرائی کے وسائل مدتوں پہلے سے آمادہ کر لیتا ہے۔

23
76:23
إِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ ٱلۡقُرۡءَانَ تَنزِيلٗا
یقیناً ہم نے تم پر قرآن نازل کیا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔

24
76:24
فَٱصۡبِرۡ لِحُكۡمِ رَبِّكَ وَلَا تُطِعۡ مِنۡهُمۡ ءَاثِمًا أَوۡ كَفُورٗا
پس تم اپنے پروردگار کے حکم ( کی تبلیغ اور اس کے اجراء) کے لئے صبرو شکیبائی اختیار کرو، اور ان میں سے کسی گنہگار اور کافر کی اطاعت نہ کرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔

25
76:25
وَٱذۡكُرِ ٱسۡمَ رَبِّكَ بُكۡرَةٗ وَأَصِيلٗا
اور اپنے پروردگار کے نام کا صبح و شام ذکر کرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔

26
76:26
وَمِنَ ٱلَّيۡلِ فَٱسۡجُدۡ لَهُۥ وَسَبِّحۡهُ لَيۡلٗا طَوِيلًا
اور رات کو اس کے لئے سجدہ کرو اور رات کے ایک طویل حصہ میں اس کی تسبیح کرو۔

خدا کے حکم اجرا پر موفق ہونے کے لیے پانچ احکام

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

اس سورہ کی آیات میں آغاز سے لے کر اب تک ، انسان کی خلقت اور اس کے بعد معاد و قیامت کی بات ہو رہی تھی۔ زیر بحث آیات میں روئے سخن پیغمبر کی طرف کرتے ہوئے، انسانون کی ہدایت اور اس راہ میں صبر و استقامت کے تاکیدی احکام انھیں دیتا ہے۔ حقیقت میں یہ آیات ان سب بے نظیر نعمتوں تک پہنچنے کی راہ بتاتی ہیں کہ یہ صرف قرآن سے تمسک اور پیغمبر اسلامؐ جیسے رہبر کی پیروی، اور ان کے احکام سے الہام و ہدایت لینے کے طریق سے ہی امکان پذیر ہے۔ پہلے فرماتا ہے :"یقینًا ہم نے تجھ پر قرآن نازل کیا ہے"۔(اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِيْلًا)۔ بعض مفسرین نے "تنزیلاً" جو کہ اوپر والی آیت میں مفعول مطلق کی صورت میں آیا ہے، "قرآن کے تدریجی نزول" کی طرف اشارہ سمجھا ہے، جس کا تربیتی اثر واضح ہے اور بعض اسے آسمانی کتاب کے مقام کی عظمت کی طرف ایک اشارہ قرار دیتے ہیں، اور خدا کی طرف سے اس کے نزول پر ایک تاکید گردانتے ہیں ــــــــــ خصوصاً دوسری تاکیدوں کی طرف توجہ کرتے ہوئے، جو اس آیت میں آئی ہے۔ ("ان" و "نحن" اور "جملہ اسمیہ" کے ذریعہ تاکید)ـــــــ اور حقیقت میں یہ ان لوگوں کا ایک جواب ہے جو پیغمبر کو کہانت ، سحر اور خدا پر افتراء باندھنے سے متہم کرتے تھے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد پیغمبر اسلامؐ کو پانچ اہم حکم دیتا ہے، جن میں سے اولین صبر و استقامت کی دعوت ہے، فرماتا ہے:"اب جبکہ یہ بات ہے، تو اپنے پروردگار کے احکام کی تبلیغ اوران کے اجراء میں صبروشکیبائی سے کام لے" (فَاصْبِـرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ)۔ یعنی راستے کی مشکلات اور رکاوٹوں ، دشمنوں کی کثرت اور ان کی سختی سے نہ ڈرو اور اسی طرح سے آگے بڑھتے چلے جاؤ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ صبرواستقامت کے حکم کو ("فاصبر"میں "فاءتفریع" کی طرف توجہ کرتے ہوئے) خدا کی طرف سے قرآن کے نزول کی فرع قرار دیتا ہے، یعنی چونکہ تیرا مددگار خدا ہے، لہذا قطعی طور پر اس راستے میں صبرو استقامت سے کام لے اور "رب" کی تعبیر بھی اسی معنی کی طرف ایک اور لطیف اشارہ قرار پاتی ہے۔ اور دوسرے حکم میں ہیغمبرؐ کو منحرفین کے ساتھ ہر قسم کے میل جول سے منع کرتے ہوئے کہتا ہے:"ان میں سے کسی گنہگار اور کافر کی اطاعت نہ کرو"۔(وَلَا تُطِعْ مِنْـهُـمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًا )۔ حقیقت میں یہ دوسرا حکم پہلے حکم پر ایک تاکید ہے، کیونکہ دشمنوں کی جماعت اس کوشش میں رہتی تھی کہ ہیغمبرؐ کو مختلف طریقوں سے سازش کر کے، باطل کے راستہ پر کھینچ لے جائیں، جیسا کہ نقل ہوا ہے کہ "عتبہ بن ربیعہ" اور "ولید بن مغیرہ" پیغمبرؐ سے یہ کہتے تھے کہ تم اپنی دعوت سے رک جاؤ، ہم تمھیں اتنا مال و دولت دیں گے کہ تم راضی ہو جاؤ گے اور عرب کی خوبصورت ترین عورت سے تمھاری شادی کر دیں گے۔ اور اسی قسم کی دوسری پیش کشیں اور پیغمبرؐ کو ایک سچے رہبر کے طور پر، ان شیطانی وسوسوں یا ان دھمکیوں کے مقابلہ میں، جو ان لالچوں کے بے اثر ہو جانے کے بعد دی جاتی ہیں، صبر و استقامت سے کام لینے کی ضرورت تھی کہ وہ نہ تو ان کے کسی لالچ میں آئے اور نہ ہی ان کی کسی دھمکی کے آگے سر جھکائے۔ یہ ٹھیک ہے کہ پیغمبر کبھی بھی ان کے آگے نہیں جھکے ، لیکن یہ آنحضرتؐ کے بارے میں، اس موضوع کی اہیمت کے لیے ایک تاکید ہے اور تمام راہ حق کے رہبروں کے لیے ایک ہمیشہ کا دستور العمل قرار پاتا ہے۔ اگرچہ بعض مفسرین نے "آثم" کی "عتبہ بن ربیعہ" اور "کفور" کی "ولید بن مغیرہ" یا "ابوجہل" کے ساتھ ـــــ جو تینوں ہی مشرکین عرب میں سے تھے ــــــــــ تفسیر کی ہے۔ لیکن واضح ہے کہ "آثم" (گنہگار) اور "کفور"(کافر اور کفران کرنے والا) ایک وسیع و عریض مفہوم رکھتے ہیں، جو تمام مجرمیں اور مشرکین کو شامل ہے، اگرچہ یہ تینوں افراد اس کے واضح مصداق میں سے ہیں۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ "آثم" ایک عام مفہوم رکھتا ہے جو "کفور" کو بھی شامل ہے۔ اس بناء پر "کفور" کا ذکر "عام" کے بعد "خاص" کے ذکر کی قسم سے ہے اور تاکید کے لیے ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــ لیکن چونکہ ان عظیم مشکلات کے ہجوم کے مقابلہ میں صبرواستقامت کوئی آسان کام نہیں ہے اور اس راستہ کو طے کرنے کے لیے دو خاص قسم کے زادِ راہ کی ضرورت ہے، لہذا بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے:"اور اپنے پروردگار کے نام کا صبح وشام ذکر کر۔"(فَاصْبِـرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تُطِعْ مِنْـهُـمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًا)۔ ــــــــــــــــــــــــــــــ "اور رات کے وقت اس کے لیے سجدہ کر، اور رات کےزیادہ حصہ میں اس کی تسبیح کر"۔(وَمِنَ اللَّيْلِ فَاسْجُدْ لَـهٝ وَسَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيْلًا)۔ تاکہ اس "ذکر" اور اس "سجدہ" اور اس "تسبیح" کے سایے میں اس رستے کی مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری قدرت و توانائی، قدرت معنوی اور کافی مدد فراہم کرے۔ "بکرۃ" (بروزن نکتہ) دن کی ابتداء اور آغاز کے معنی میں ہے اور "اصیل" اس کا نقطۂ مقابل ہے، یعنی دن کا آخری حصہ اور شام کا وقت۔ بعض نے کہا ہے کہ اس لفظ کا دن کے آخری حصے پر اطلاق اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ وہ "اصل" کے مادہ سے لیا گیا ہے، اس بنا پر ہے کہ دن کا آخری حصہ رات کی اصل اور بنیاد ہوتا ہے۔ بعض تعبیرات سے معلوم ہوتا ہے کہ "اصیل" کا بعض اوقات ظہر اور غروب کے درمیانی فاصلہ اطلاق ہوتا ہے۔ ـــــــــــــــــــ(مفردات راغب)ــــــــــــــــــــ اور بعض دوسری تعبیروں سے پتہ چلتا ہے کہ "اصیل" رات کے اوائل حصہ کو بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ انھوں نے اس کی "عشی" کے ساتھ تفسیر کی ہے اور "عشی" رات کے آغاز کو کہا جاتا ہے، اسی لیے مغرب اور عشاء کی نماز کو "عشائین" کہتے ہیں، یہاں تک کہ بعض کلمات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ "عشی" زوال ظہر سے لے کر اگلے دن کی صبح تک کو بھی شامل ہے۔ (مفردات راغب)ـ لیکن اس بات کی توجہ کرتے ہوئے کہ اس آیہ شریفہ میں "اصیل" "بکرۃ" (صبح)کے مقابلہ میں آیا ہے اور اس کے بعد بھی رات کی عبادت کی بات ہوئی ہے اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ اس سے مراد رات کے آخری حصہ کی طرف ہی ہے۔ بہرحال، یہ دونوں آیات حقیقت میں پروردگار کی مقدس ذات کی طرف شبانہ روز اور ہمیشہ توجہ رکھنے کے لزوم کو بیان کرتی ہیں۔ بعض نے اس کی خصوصیت کے ساتھ نماز پنجگانہ سے یا نماز تہجد کے اضافہ کے ساتھ، یا خصوصیت سے صبح، عصر اور مغرب و عشاء کے ساتھ تفسیر کی ہے لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ نمازیں خدا کے اس دائمی و مسلسل ذکر اور اس کی مقدس بارگاہ میں تسبیح و سجدہ کے مصادیق میں سے ہیں۔ "لیلاً طویلاً" کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رات کی زیادہ تر مقدار میں تسبیح خدا کر، ایک حدیث میں امام علی بن موسٰی الرضاؑ سے اس کی تفسیر میں آیا ہے کہ آپ نے اس سوال کے جواب میں کہ اس تسبیح سے کیا مراد ہے؟ فرمایا : اس سے مراد نماز شب ہے۔ ( مجمع البیان جلد 10 ص 413) لیکن بعیدنہیں ہےکہ یہ تفسیربھی ایک واضح مصداق کےبیان کی قسم سےہو،کیونکہ تہجدکی نماز،روح ایمان کی تقویت، تہذیبِ نفوس اور خدا کی اطاعت کی راہ میں انسان کے ارادہ کو زندہ رکھنے میں حد سے زیادہ تاثیر رکھتی ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــ یہاں اس نکتےکی طرف بھی توجہ کرنا چاہیے کہ اوپر والی آیات کے پانچ احکام اگرچہ پیغمبر اسلامؐ کے لیے ایک پروگرام کی صورت میں ذکر ہوئے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ ان تمام افراد کے لیے ایک دستور العمل ہے جو انسانی معاشرے کی معنوی اور انسانی رہبری کے راستے میں قدم اٹھاتے ہیں۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ انھیں اس ہدف اور پیغامِ رسالت پر اطمینان اور ایمان کامل کے بعد صبرواستقامت اختیار کرنا لازم ہے، اور راستے کی انبوہ مشکلات سے گھبرانا نہیں چاہیے، کیونکہ ایک معاشرے کی ہدایت میں، خصوصاً اس وقت جبکہ جاہل اور ہٹ دھرم دشمن مقابلہ میں ہوں، ہمیشہ عظیم مشکلات ہوتی ہیں، اگر رہبروں کی طرف سے صبرواستقامت نہ ہو تو کوئی رسالت بھی بار آور نہیں ہو سکتی۔ اور بعد والے مرحلہ میں اشیاطین کے وسوسوں کے مقابلہ میں جو آثم و کفور کے مصداق ہیں اور مختلف حیلوں اور بہانوں سے رہبروں اور پیشواؤں کو منحرف کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ ان کی رسالت بیکار اور بے نتیجہ رہ جائے، پوری طاقت کے ساتھ ڈٹ جانا چاہیے، نہ لالچ کے فریب میں آنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی دھمکیوں سے خوف کھانے کی ضرورت۔ اور تمام مراحل میں روحانی قدرت، قوت ارادی، عزمِ راسخ اور پختہ ارادے کے حصول کے لیے صبح و شام خدا کی یاد میں رہیں اور اس کی بارگاہ میں اپنی پیشانی جھکا دیں، خصوصًا رات کی عبادتوں اور اس سے رازونیاز کے ذریعہ مدد حاصل کریں، کیونکہ اگر ان امور کی رعایت کی جائے، تو پھر کامیابی حتمی و یقینی ہے۔ اور اگر بعض مراحل میں کسی مصیبت یا شکست سے دوچار ہونا پڑے تو ان اصولوں کے ساتھ ان کی تلافی کی جا سکتی ہے۔ پیغمبر اسلامؐ کی زندگی کا پروگرام اور ان کی دعوت و رسالت، اس راستہ کے راہرو افراد کے لیے مؤثر دستور العمل ہے۔

27
76:27
إِنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ يُحِبُّونَ ٱلۡعَاجِلَةَ وَيَذَرُونَ وَرَآءَهُمۡ يَوۡمٗا ثَقِيلٗا
وہ دنیا کی جلدی گزر جانے والی زندگی کو دوست رکھتے ہیں، اور سخت اور سنگین دن کو اپنے پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 31 کے تحت ملاحظہ کریں۔

28
76:28
نَّحۡنُ خَلَقۡنَٰهُمۡ وَشَدَدۡنَآ أَسۡرَهُمۡۖ وَإِذَا شِئۡنَا بَدَّلۡنَآ أَمۡثَٰلَهُمۡ تَبۡدِيلًا
ہم نے انہیں پیدا کیا اوران کے وجود کے جوڑ بند مضبوط بنائے اور جب ہم چاہیں گے، ان کی جگہ دوسروں کو دے دیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 31 کے تحت ملاحظہ کریں۔

29
76:29
إِنَّ هَٰذِهِۦ تَذۡكِرَةٞۖ فَمَن شَآءَ ٱتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِۦ سَبِيلٗا
یہ ایک تذکرہ اور یاد آوری ہے، پس جو شخص چاہے اپنے پروردگار کی طرف راستہ اختیار کر لے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 31 کے تحت ملاحظہ کریں۔

30
76:30
وَمَا تَشَآءُونَ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمٗا
اور تم کسی چیز کو نہیں چاہتے، مگر یہ کہ اللہ چاہے، بیشک اللہ عالم و حکیم ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 31 کے تحت ملاحظہ کریں۔

31
76:31
يُدۡخِلُ مَن يَشَآءُ فِي رَحۡمَتِهِۦۚ وَٱلظَّـٰلِمِينَ أَعَدَّ لَهُمۡ عَذَابًا أَلِيمَۢا
جسے و ہ چاہتا ہے (اور لائق سمجھتا ہے) اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے، اور ظالموں کے لئے اس نے دردناک عذاب فراہم کیا ہے۔

یہ ایک تنبیہہ ہے اور راستے کا انتخاب کرنا تمھارے اختیار میں

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

گزشتہ آیات میں پیغمبر کو خبردار کیا گیا تھا کہ وہ "آثم" و "کفور" (مجرموں اور کافروں) کی اطاعت نہ کریں، اور تاریخ گواہ ہے کہ وہ ایسے لوگ تھے جو اپنی خام خیالی میں پیغمبر کے ارادوں میں نفوذ کرنے کے لیے ، مال و دولت، مقام و منصب اور خوبصرت عورتوں کا لالچ دے کر کام چلانا چاہتے تھے۔ زیر بحث آیات ان کا مزید تعارف کراتے ہوئے کہتی ہیں:"وہ اس دنیا کی جلدی گزرجانے والی زندگی کو دوست رکھتے ہیں، جبکہ ایک سخت اور سنگین دن کو اپنے پیچھے چھوڑ دیتے ہیں اور اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔"(اِنَّ هٰٓؤُلَآءِ يُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَـةَ وَيَذَرُوْنَ وَرَآءَهُـمْ يَوْمًا ثَقِيْلًا)۔ ان کے افکار کھانے، سونے اور شہوت رانی سے آگے نہیں بڑھتے اور ان کا آخری نقطۂ نظر یہی بے قید و شرط مادی لذتیں ہیں اور تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ پیغمبر کی عظیم روح کو بھی اسی ترازو میں تولیں۔ لیکن یہ بےخبر دل کے اندھے، اس بات پر توجہ نہیں کرتے کہ کیسا سنگین دن ان کے آگے آ رہا ہے؟ تو یہ اس بناء پر کہ وہ اس دن کو فراموشی کے سپرد کریں گے، گویا انھوں نے اسے پس پشت ڈال دیا ہے۔ لیکن بعض مفسرین کے قول کے مطابق "وراء" کبھی تو پشت کے معنی استعمال ہوتا ہے، اور کبھی آگے کے معنی میں۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر "روح البیان" میں آیا ہے کہ اگر "وراء" کی "فاعل" کی طرف اضافت ہو تو "پیچھے" کے معنی ہے اور اگر "مفعول" کی طرف اضافت ہو تو آگے کے معنی میں ہے۔ دیکھیں: روح البیان، جلد ۸، ص ۲۲۹) بعد والی آیت میں انھیں خبردار کرتا ہے کہ وہ اپنی قدرت و تونائی پر غرور نہ کریں ، کیونکہ یہ سب خدا کی عطا ہے، اور جب چاہے گا اچانک واپس لے لےگا، لہذا فرماتا ہے: "ہم نے انھیں پیدا کیا اور ان کے جوڑ بندوں کو مضبوط بنایا ہے اور انھیں قدرت و طاقت عطا کی ہے اور جس وقت ہم چاہیں گے انھیں لے جائیں گے اور ان کی جگہ دوسرے گروہ کو ان کا جانشین بنا دیں گے"۔(نَّحْنُ خَلَقْنَاهُـمْ وَشَدَدْنَآ اَسْرَهُـمْ ۖ وَاِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَآ اَمْثَالَـهُـمْ تَبْدِيْلًا)۔ (تشریحی نوٹ: اس آیت میں ایک محذوف ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے: "بدّلناھم امثالھم" توجہ رہے کہ تبدیل عام طور پر دو مفعول لیتا ہے۔ یہاں "ھم" کی ضمیر مفعول اوّل ہے اور "امثالھم" مفعول دوم ہے۔) "اسر" (بروزن عصر) اصل میں کسی چیز کو زنجیر سےباندھےکےمعنی میں ہے، اور اسیروں کواسی وجہ سے "اسیر" کہا جاتا ہے کہ انھیں زنجیروں سے باندھ دیتے ہیں۔ لیکن یہاں "اسر" انسانی وجود کے جوڑ بندوں کو مستحکم کرنے کی طرف اشارہ ہے جو اہم کاموں کے انجام دینے کے لیے اسے حرکت کی قدرت اور توانائی بخشتے ہیں۔ واقعاً قرآن نے یہاں ایک حساس نقطہ پر انگلی رکھی ہے اور وہ وجود انسانی کے مختلف اجزاء کے جوڑ بند ہیں چھوٹے اور بڑے اعصاب ـــ جو لوہے کی رسیوں کی طرح عضلات کو ایک دوسرے کے ساتھ جکڑ دیتے ہیں ـــــــــــ لہذا پٹھوں اور مختلف عضلات تک، انسانی بدن کی چھوٹی اور بڑی ہڈیوں اور گوشت کے ٹکڑوں کو اس طرح سے ایک دوسرے کے ساتھ باندھ دیتے ہیں کہ جن کے مجموعہ سے جسم کی ایسی کامل وحدت تیار ہو جاتی ہے، جو ہر قسم کی فعالیت کے انجام دینے کے لیے آمادہ و تیار ہوتی ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ جملہ قدرت و قوت سے کنایہ ہے۔ یہ آیت ضمنی طور پر خدا کی پاک ذات کی ، ان سے اور ان کی اطاعت و ایمان سے بے نیازی اور استثناء کو واضح کرتی ہے، تاکہ وہ یہ جان لیں کہ اگر ان کے ایمان کے لیے کچھ اصرار ہے تو حقیقت میں یہ پروردگار کی طرف سے ایک لطف و رحمت ہے۔ اس معنی کی نظیر سورہ انعام کی آیہ 133 میں بھی آئی ہے، جہاں فرماتا ہے:(وَرَبُّكَ الْغَنِىُّ ذُو الرَّحْـمَةِ ۚ اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ وَيَسْتَخْلِفْ مِنْ بَعْدِكُمْ مَّا يَشَآءُ)۔ "تمہارا پروردگار بے نیاز و مہربان ہے، اگر وہ چاہے تو تم سب کو لے جائے اور تمھارے بعد جسے چاہے تمھارا جانشین بنا دے۔" ــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد ان تمام مباحث کی طرف ــــــــ جو اس سورہ میں بیان ہوئےے ہیں اور جو سعادت و نیک بختی کا ایک جامع پروگرام پیش کرتے ہیں ــــــــــ اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: "یہ ایک تذکرہ اور یاد آوری ہے، پس جو شخص چاہے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے پروردگار کی طرف راستہ اختیار کر لیتا ہے"۔(اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِـرَةٌ ۖ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيْلًا)۔ (تشریحی نوٹ: بعض لوگ اس آیت کے لیے ایک محذوف کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تقدیر میں اس طرح ہے "فمن شاء اتخذ الی رضا ربہ سبیلا" یا "الی طاعۃ ربہ سبیلا" لیکن انصاف یہ ہے کہ تقدیر کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ تکامل کے سب راستے خدا ہی کی طرف جا کر ختم ہوتے ہیں۔) ہماری ذمہ داری تو راستہ دکھادینا ہے، نہ کہ انتخابِ راہ پر مجبور کرنا، اب یہ تمھاری ذمہ داری ہے کہ اپنی عقل و ادراک کے ذریعہ حق کو باطل سے پہچانو، اور اپنے ارادہ و اختیار کے ساتھ راستہ کا انتخاب کرو۔ حقیقت میں یہ اس چیز کے لیے تاکید ہے جو اس سورہ کے آغاز میں گزر چکی ہے، جس میں فرماتا ہے: اِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا ہم نے اسے راستے کی نشاندہی کر دی ہے، اب چاہیے وہ اسے قبول کرلے اور اس نعمت کا شکر ادا کرے یا روگردانی کرکے کفران کرے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــ اور چونکہ یہ ممکن ہے کہ کوتاہ فکر افراد اوپر والی تعبیر سے بندوں کے لیے تفویض اور مطلق سپردگی کا تصور کر لیں ، لہذا بعد والی آیت میں اس توہم کی نفی کے لیے مزید کہتا ہے:"اور تم کسی چیز کو نہیں چاہتے، مگر یہ کہ خدا چاہے"۔(وَمَا تَشَآءُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّشَآءَ اللّـٰهُ)۔ (تشریحی نوٹ: اس بارے میں کہ "ان یشاءاللہ" کا محل اعراب کیا ہے، مفسرین کی ایک جماعت نے کہا ہے کہ یہ ظرفیت کی وجہ سے منصوب ہے اور معنوی طور پر اس طرح ہے:"ماتشاءون الا وقت مشیت اللہ" لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ یہاں "شیئا" مقدر ہو، اور معناً اس طرح ہو "وما تشاءون الا شیئا یشاء اللہ") کیونکہ خدا علیم و حکیم ہے(اِنَّ اللّـٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِـيْمًا )۔ اور یہ حقیقت میں (الامربین الامرین) والی مشہور اصل کا اثبات ہے، ایک طرف فرماتا ہے: "خدا نے راستہ تو بتا دیا ہے، اس کا انتخاب تمھارے ہاتھ میں ہے اور دوسری طرف مزید کہتا ہے:"تمھارا انتخاب مشیتِ خدا پر موقوف ہے، یعنی تم مکمل استقلال نہیں رکھتے ، بلکہ قدرت و توانائی اور تمھارے ارادے کی آزادی سب مشیتِ خداوندی اور اس کی جانب سے ہے اور جس وقت وہ چاہیے اس قدرت و آزادی کو تم سے چھین سکتا ہے۔ اس طرح نہ تو "تفویض" اور مکمل سپردگی ہے اور نہ ہی جبر اور سلب اختیار، بلکہ ان دونوں کے درمیان ایک دقیق و ظریف حقیقت ہے یا دوسرے لفظوں میں: آزادی کی نوعیت خدائی مشیت کے ساتھ وابستہ ہے کہ جس وقت بھی وہ چاہے اسے واپس لے سکتا ہے، تاکہ بندے تکلیف و مسئلولیت اور ذمہ داری کے بوجھ کو ــــــــ جو ان کے تکامل و ارتقاء کی رمز ہے ــــــــــ اپنے کندھوں پر بھی اٹھا سکیں، اور اپنے آپ کو خدا سے بے نیاز بھی خیال نہ کریں۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ تعبیر اس بناء پر ہے کہ بندے اپنے آپ خدا کی پاک ذات کی ہدایت، حمایت اور توفیق و تائید سے بے نیاز نہ سمجھیں اور کاموں میں عزم راسخ کے باوجود اپنے آپ کو اسی کے سپرد کر دیں، اور اس کی حمایت کے ماتحت کام کریں۔ یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ جو بعض جبری مسلک والے مفسرین مثلاً "فخر رازی" ااس آیت کے ساتھ چپکے ہیں تو یہ ان پہلے سے کیے ہوئے فیصلوں کی بناء پر ہے جو انھوں نے اس مسئلہ میں اپنائے ہوئے ہیں۔ وہ کہتا ہے: واعلم ان ھٰذہ الاٰیۃ من جملۃ الاٰیات التی تلاطمت فیھا امراج الجبر و القدر یعنی: "جان لے کہ یہ آیت ان آیات میں سے ایک ہے جس میں جبر کی موجیں ٹھاٹھیں مار رہی ہیں۔" (بحوالہ: تفسیر فخر رازی، جلد ۳۰، ص ۲۶۲) ہاں! اگراس آیت کو قبل کی آیات سے جدا کر دیں تو پھر اس توہم کی گنجائش ہے، لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ایک آیت میں اختیار کی تاثیر بیان ہوئی ہے اور دوسری آیت میں مشیت پروردگار کی تاثیر ، تو پھر "الامر بین الامرین" کا مسئلہ اچھی طرح سے ثابت ہو جاتا ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ تفویض کے طرفدار صرف اسی آیت سے واسطہ رکھتے ہیں جو اختیار مطلق کی بات کرتی ہے، اور جبر کے طرفدار محض ا آیت کو دیکھتے ہیں کہ اگر وہی سامنے ہو تو پھر جبر کی بو آتی ہے اور پھر ان میں سے ایک یہ چاہتا ہے کہ اپنے پہلے سے کیے ہوئے فیصلوں سے اس کی توجیہہ کریں، حالانکہ کلامِ الٰہی (اور ہر دوسرے کلام) کے صحیح فہم و ادراک کا تقاضا یہ ہے کہ سارے کلام کو ایک دوسرے کے پاس رکھ کر دیکھا جائے، اور کسی تعصب اور پہلے سے لیے ہوئے فیصلہ کے بغیر فیصلہ کریں۔ آیت کے ذیل میں جو فرمایا ہے: ِانَّ اللّـٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِـيْمًا : ممکن ہے یہ بھی اسی معنی کی طرف اشارہ ہو، کیونکہ خدا کے علم و حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ بندوں کو راہِ تکامل و ارتقاء کے طے کرنے میں آزاد چھوڑ دے ، رونہ اجباری و تحمیلی تکامل، تکامل نہیں ہے۔ علاوہ ازیں، اس کا علم و حکمت اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کچھ افراد کو تو کار خیر پر مجبور کرے اور کچھ افراد کو شر پر اور اس کے بعد پہلے گروہ کو اجر و پاداش دے، اور دوسرے گروہ کو عذاب و سزا دے۔ اور آخر کار اس سورہ کی آخری آیت میں نیکو کار اور بدکاروں کی سرنوشت کی طرف ایک مختصر اور پر معنی جملہ کے ساتھ اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "خدا جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کر لیتا ہے، اور ظالموں کے لیے اس نے دردناک عذاب فراہم کیا ہے"۔(يُدْخِلُ مَنْ يَّشَآءُ فِىْ رَحْـمَتِهٖ ۚ وَالظَّالِمِيْنَ اَعَدَّ لَـهُـمْ عَذَابًا اَلِيْمًا)۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ آیت کے آغاز میں کہتا ہے:"جس شخص کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کر لیتا ہے، لیکن آیت کے آخر میں، عذاب کو ظالموں کے لیے مخصوص قرار دیتا ہے اور یہ چیز اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس کی عذاب کے لیے مشیت، انسان کے ظلم و گناہ کا ارادہ کے بعد ہے، اور مقابلہ کے قرینہ سے واضح ہو جاتا ہے کہ رحمت میں بھی اس کی مشیت ایمان، عمل صالح اور اجرائے عدل میں انسان کے ارادہ کے بعد ہے اور ایک حکیم و دانا سے اس کے علاوہ اور کوئی توقع نہیں ہو سکتی۔ تعجب کی بات ہے کہ اس واضح قرینہ کے باجود پھر بھی کچھ افراد، مثلاً فخر رازی آیت کے مضمون کو جبر کی دلیل قرار دیتا ہے، اور آیت کے ذیل میں ارادہ کی آزادی اور ظالموں کے بارے میں جو گفتگو ہوئی ہے اس پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔ (آیات "مشیت" کے بارے میں مزید تشریح کے لیے جلد 19 ص 460-461 - سورہ زمر کی آیہ 37 کے ذیل میں- مطالعہ فرمائیں) خداوندا! ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر ، اور دردناک عذاب سے جو ظالموں کے انتظار میں ہے رہائی دے۔ پروردگارا! تونے راستہ بتادیا ہے ، ہم بھی اس راہ کو طے کرنے کا مصمم ارادہ کر چکے ہیں ، ہماری مدد فرما۔ بارِالٰھا! اگر ہم "ابرار" نہیں ہیں تو ان کے دوست اور محبت کرنے والے ضرور ہیں ، ہمیں ان کے ساتھ ملحق کر دے۔

end of chapter
Al-Insan (76) — Tafseer e Namoona