Sūra 10 · 109v
Chapter 10109 verses

Yunus

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
يونس
یونس

اس سورہ کے مضامین اور فضیلت

یہ سورة مکی ہے۔ بعض مفسرین کے بقول سورہ بنی اسرائیل کے بعد اور سورہ ہود سے پہلے نازل ہوئی ہے۔ دیگر مکی سورتوں کی طرح یہ بھی چند اصولی اور بنیادی مسائل پر مشتمل ہے۔ ان میں سے سب سے اہم مبداء اور معاد کا مسئلہ ہے۔ البتہ پہلے وحی اور مقام پیغمبرؐ کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے اس کے بعد عظمت آفرینش کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں جو کہ عظمت خدا کی علامت ہیں۔ بعد از اں، لوگوں کو مادی زندگی کی ناپائیداری اور دار آخرت کی طرف متوجہ کیا ہے اور اس کے لیے ایمان اور عمل صالح کے ذریعے تیاری پر ابھارا گیا ہے۔ انھی مسائل کی مناسبت سے بزرگ انبیاء کی زندگی کے مختلف پہلووں کو بیان کیا گیا ہے۔ مثلا حضرت نوح، حضرت موسیٰ اور حضرت یونس علیہم السلام کے تذکرے ہیں۔ اسی حوالے سے سورہ کا نام سورہٴ یونس رکھا گیا ہے۔ اس کے بعد مذکورہ مباحث کی تائید کے لیے بت پرستوں کی ہٹ دھرمی اور سخت مزاجی کا ذکر ہے۔ ہر جگہ خدا کا حضور و شہود ان کے لیے ثابت کیا گیا ہے خصوصیت سے اس مسئلہ کے اثبات کے لیے ان کی فطرت کی آگاہی سے مدد لی گئی ہے۔ وہی فطرت کہ جو مشکلات کے وقت ظاہر ہوتی ہے اور وہ خدائے یکتا کو یاد کرتے ہیں۔ اسی لیے امام صادق علیہ السلام سے ایک روایت میں مروی ہے: من قرء سورة یونس فی کل شھرین او ثلاثہ لم یخف علیہ ان یکون من الجاہلین وکان یوم القیامة من المقربین۔ جو شخص سورہٴ یونس ہر دو یا تین ماہ میں ایک دفعہ پڑھے تو اس کے لیے یہ خوف نہیں کہ وہ جاہلوں میں سے قرار پائے گا نیز قیامت کے دن وہ مقربین میں سے ہو گا۔(بحوالہ: تفسیر نور الثقلین ج ۲ ص ۲۹۰ اور دیگر تفاسیر) یہ اس بناء پر ہے کہ اس سورہ میں خبر دار اور بیدار کرنے والی بہت سی آیات ہیں اور اگر انہیں غور و خوض سے پڑھا جائے تو جہالت کی تاریکی انسانی روح سے دور کر دیتی ہیں اور اس کے اثرات کم از کم چند ماہ تک انسان کے وجود میں رہتے ہیں اور اگر سورہ کے مضامیں کو سمجھنے کے علاوہ ان پر عمل بھی کیا جائے تو یقینی طور پر قیامت کے دن پڑھنے والا مقربین کے زمزہ میں قرار پائے گا۔ شاید یاددہانی کی ضرورت نہ ہو کہ سورتوں کے فضائل جیسا کہ ہم کہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں، صرف آیات کی تلاوت سے بغیر معانی سمجھے اور بغیر اس کے مضامین پر عمل کیے فراہم نہیں ہوتے۔ کیونکہ تلاوت سمجھنے کا مقدمہ اور سمجھنا عمل کرنے کی تمہید ہے۔

1
10:1
الٓرۚ تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱلۡكِتَٰبِ ٱلۡحَكِيمِ
ا۔ل۔ر۔ وہ کتاب حکیم کی آیات ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 2 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
10:2
أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنۡ أَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ رَجُلٖ مِّنۡهُمۡ أَنۡ أَنذِرِ ٱلنَّاسَ وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَنَّ لَهُمۡ قَدَمَ صِدۡقٍ عِندَ رَبِّهِمۡۗ قَالَ ٱلۡكَٰفِرُونَ إِنَّ هَٰذَا لَسَٰحِرٞ مُّبِينٌ
کیا یہ بات لوگوں کے لئے باعث تعجب ہے کہ ان میں سے ایک کی طرف ہم نے وحی بھیجی کہ لوگوں کو ڈراؤ ااور جو ایمان لائے ہیں انہیں بشارت دو کہ ان کے لئے ان کے پروردگار کے پاس مسلم جزا ہے، کافر کہتے ہیں کہ یہ شخص (پیغمبراکرمؐ) واضح جادوگر ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

اس سورہ میں پھر ہمیں حروف مقطعات کا سامناہے اور یہ ہیں الف، لام اور راء۔ سورہٴ بقرہ، سورہ آل عمران اور سورہ اعراف کی ابتداء میں ہم ایسے حروف کے بارے میں کافی بحث کر چکے ہیں۔ آئندہ بھی انشاء اللہ اس سلسلے میں مناسب موقع پر بحث کریں گے، اور اس میں نئے مطالب کا اضافہ کریں گے۔ حروف مقطعات کے بعد پہلے آیات قرآن کی عظمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے -: وہ کتاب حکیم کی آیات ہیں۔ (الٓرٰ ۟ تِلۡکَ اٰیٰتُ الۡکِتٰبِ الۡحَکِیۡمِ)۔ ”یہ“ (اسم اشارہ قریب کی)بجائے ”وہ“ (اسم اشارہ بعید) سے ابتداء کی گئی ہے اس کی نظیر سورہ بقرہ کی ابتدا میں بھی موجود ہے یہ قرآن کریم کی لطیف تعبیرات میں سے شمار ہوتی ہے اور یہ قرآن کریم کے مفاہیم کی عظمت اور بلندی کے لیے کنایہ ہے۔ کیونکہ سامنے پڑے ہوئے اور عام مطالب کے لیے زیادہ تر اسم اشارہ قریب استعمال کیا جاتا ہے لیکن اہم مطالب جو بلند سطح کے ہوں جو گویا آسمانوں کی بلندی میں ایک افق اعلیٰ میں موجود ہیں انھیں اسم اشارہ بعید کے ساتھ بیان کرتے ہیں اور اتفاق کی بات ہے کہ ہم روزمرہ کی تعبیرات میں بھی ایسی تعبیر استعمال کر تے ہیں مشلابعض اشخاص کی عظمت کے اظہار کے لیے ”آنجناب“ یا”آنحضرت“ استعمال کرتے ہیں اگرچہ وہ پاس ہی بیٹھے ہوں لیکن انکساری کے اظہار کے لیے ”اینجانب“ کہا جاتا ہے۔ آسمانی کتاب یعنی قرآن کی تعریف کے لیے لفظ ”حکیم“ استعمال کیا گیا ہے یہ اس طرف اشارہ ہے کہ آیت قرآنی استحکام نظم و ضبط اور حساب و کتاب کی حامل ہیں اور ہر قسم کے باطل سے، فضول باتوں سے اور ہزل گوئی سے دور ہیں اور قرآن حق کے سوا کچھ نہیں کہتا اور سوائے راہ حق کے کسی چیز کی دعوت نہیں دیتا۔ اس اشارے کی مناسبت سے جو پہلی آیت میں قرآن مجید میں وحی آسمانی کے لیے ہے دوسری آیت میں رسول اللہ کے بارے میں مشرکین کا ایک اعتراض بیان کیا گیا ہے یہ وہی اعتراض ہے جس کا قرآن مجید میں کئی مرتبہ ذکر کیا گیا ہے اس کا تکرار نشان دہی کرتا ہے کہ مشرکین یہ اعتراض بار بار کیا کرتے تھے اور وہ یہ کہ آسمانی وحی کیوں خدا کی طرف سے ایک انسان پر نازل ہوئی ہے اور عظیم رسالت کی یہ ذمہ داری کسی فرشتے کے ذمہ کیوں نہیں ہوئی۔ ایسے سوالات کے جواب میں قرآن کہتا ہے کیا لوگوں کے لیے یہ امر باعث تعجب ہے کہ ہم نے ان میں سے ایک شخص کی طرف وحی بھیجی ہے۔ (اَکانَ لِلنَّاسِ عَجَباً اَنْ اَوْحَیْنا إِلی رَجُلٍ مِنْھمْ)۔ درحقیقت ان کے اعتراض کا جواب لفظ ”منھم“ (ان کی نوع سے)کے ذریعہ دیا گیا ہے یعنی اگر رہبر وراہنما اپنے پیرو کاروں کا ہم نوع ہو اور ان کے درداور تکالیف کو جانے اور ان کی ضروریات سے آگاہ ہو تو کوئی تعجب کا مقام تو نہیں ہے بلکہ تعجب کا مقام تو یہ ہے کہ ان کی نوع میں سے نہ ہواوران کی کیفیت سے بے خبر ہو نے کی وجہ سے ان کی رہبری نہ کر سکے۔ اس کے بود اس آسمانی وحی سے مضمون کا دو چیزوں میں خلاصہ بیان کیا گیا ہے پہلی یہ کہ ہم نے تیری طرف وحی کی ”تا کہ لوگوں کو کفر و گناہ کے انجام سے ڈر اوٴ (اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ)۔ اور دوسرا یہ کہ ”صاحب ایمان افراد کو بشارت دو کہ ان کے لیے بارگاہ خدا میں ”صدق ہے“ (اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنَّ لَہُمۡ قَدَمَ صِدۡقٍ عِنۡدَ رَبِّہِم)، ”قدم صدق“ سے کیا مراد ہے، اس سلسلہ میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے لیکن ان کی پیش کردہ تمام تفاسیر میں سے تین ایسی ہیں جن میں سے ایک تفسیر قابل قبول ہے یا پھر تینوں اکھٹی قبول کی جا سکتی ہیں۔ پہلی یہ کہ اس طرف اشارہ ہے کہ ایمان ”فطری سابقہ“ رکھتا ہے اور حقیقت میں مومنین نے ایمان کو ظاہر کرکے اپنے تقاضائے فطرت کی تصدیق اور تاکید کی ہے (کیونکہ ”قدم“ کا ایک معنی ”سابقہ“ ہے) جیسا کہ کہتے ہیں: لفلان قدم فی الاسلام او قدم فی الحرب۔ یعنی۔۔۔۔۔فلاں شخص اسلام یا جنگ میں سابقہ رکھتا ہے۔ دوسری۔۔۔۔ یہ کہ یہ مسئلہ معاد و قیامت اور آخرت کی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ”قدم“ کا ایک معنی ”مقام“ اور ”منزلت“ بھی ہے۔ (اس مانسبت سے کہ انسان اپنے پاوں کے ساتھ اپنی منزل میں داخل ہوتا ہے) یعنی صاحب ایمان افراد کے لیے خدا کی بارگاہ میں مسلما اور یقینا مقام و منزلت ہے کہ جسے کوئی چیز متغیر نہیں کر سکتی۔ تیسری۔۔۔۔۔ یہ کہ ”قدم“ پیشوا اور رہبر کے معنی میں ہے یعنی مومنین کے لیے سچا پیشوا اور رہبر بھیجا گیا ہے اس آیت کے ذیل میں سنی شیعہ تفاسیر میں متعدد روایات میں "قدم صدق " کی تفسیر پیغمبر اکرمؐ کی ذات یا ولایت علیؑ سے کی گئی ہے یہ روایات اس معنی کی موٴید ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر برہان۔ ج ۲ ص ۱۷۷ اور تفسیر قرطبی۔ ج ۵ ص ۳۱۴۵) جیسا کہ ہم نے کہا ہے، ہو سکتا ہے اس تعبیر کامقصد ان تمام امور کی بشارت دینا ہو۔ آیت کے آخر میں پھر ایک ایسے اتہام کی طرف اشارہ ہے جو مشرکین بار ہا رسول اللہ پر باندھتے تھے ارشاد ہوتا ہے: کافر کہتے ہیں کہ یہ شخص واضح جادو گر ہے۔ (قالَ الْکافِرُونَ إِنَّ ہذا لَساحِرٌ مُبین۔) لفظ ”انّ“ لام تاکید اور صفت ”مبین“ یہ سب اس تاکید کی علامت ہے جو وہ اس تہمت کے بارے میں کرتے تھے اور ”ھذا“ (جو کہ اسم اشارہ قریب ہے) کی تعبیر اس لیے تھی کہ وہ مقام پیغمبر کی تحقیر کریں۔ رہا یہ سوال کہ وہ پیغمبر اکرمؐ کی طرف جادو کی نسبت کیوں دیتے ہیں، تو اس کا جواب واضح ہے کیونکہ آپ کی پر اعجاز باتوں، درخشاں منصوبہ جات، روشن قوانین اور دیگر معجزات کا ان کے پاس کوئی اطمینان بخش جواب نہیں تھے۔ سوائے اس کے کہ ان کی خارق عادت اور غیر معمولی ہونے کو وہ جادو قرار دے دیں تا کہ اس طرح وہ سادہ لوح افراد پر جہالت کا پردہ ڈال سکیں۔ رسول اللہ کے دشمن کی طرف سے ایسی تعبیریں خود اس بات کی دلیل ہیں کہ آپ کے کام خارق عادت اور غیر معمولی تھے جو لوگوں کے قلب و نظر کو اپنی طرف جذب کر لیتے تھے۔ خصوصا ان کا قرآن مجید کو جادو قرار دینا اس بات کازندہ شاہد ہے کہ وہ اس آسمانی کتاب کی انتہائی قوت جاذبہ سے لوگوں کو دور رکھنے کے لیے اس تہمت کا سہارا لیتے تھے۔ انشاء اللہ متعلقہ آیات کے ذیل میں اس سلسلے میں ہم پھر گفتگو کریں گے۔۔

3
10:3
إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِۖ يُدَبِّرُ ٱلۡأَمۡرَۖ مَا مِن شَفِيعٍ إِلَّا مِنۢ بَعۡدِ إِذۡنِهِۦۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمۡ فَٱعۡبُدُوهُۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ
تمہارا پروردگاراللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھرامور عالم کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لی۔ تمام چیزیں اس کے قبضہ تدبیر میں ہیں اس کے اذن کے بغیر کوئی شفاعت کرنے والا نہیں۔ اللہ تمہارا پروردگار ہے، پس اس کی عبادت کرو، کیا تم (ان واضح دلیلوں میں ) غور نہیں کرتے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 4 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
10:4
إِلَيۡهِ مَرۡجِعُكُمۡ جَمِيعٗاۖ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقًّاۚ إِنَّهُۥ يَبۡدَؤُاْ ٱلۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ لِيَجۡزِيَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ بِٱلۡقِسۡطِۚ وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَهُمۡ شَرَابٞ مِّنۡ حَمِيمٖ وَعَذَابٌ أَلِيمُۢ بِمَا كَانُواْ يَكۡفُرُونَ
تم سب کی باز گشت اس کی طرف ہے۔ خدا نے حق وعدہ فرمایا ہے اس نے مخلوق کا آغاز کیا اس کے بعد انہیں پلٹائے گا تاکہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو عادلانہ جزا دے اور جو کافر ہو گئے ہیں ان کے پینے کے لئے جلانے والا مائع اور دردناک عذاب ہے کیونکہ انہوں ں نے کفر اختیار کیا ہے۔

خدا شناسی اور قیامت

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

وحی اور نبوت کے مسئلہ کی طرف اشارہ کرنے کے بعد، اس سورہ کی ابتدائی آیات میں قرآن تمام انبیاء کی تعلیمات کے دو بنیادی اصولوں یعنی مبداء اور معاد کا رخ کرتا ہے زیر نظر دو آیت میں ان دو اہم اصولوں کو مختصر اور واضح عبارت میں بیان کیا گیا ہے پہلے فرمایا گیا ہے: تمہارا پروردگار وہی خدا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا (إِنَّ رَبَّکُمُ اللَّہُ الَّذی خَلَقَ السَّماواتِ وَ الْاَرْضَ فی سِتَّةِ اَیَّام)۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کر چکے ہیں لفظ ”یوم“ عربی زبان میں اور ”روز“ فارسی زبان میں اور اسی طرح دوسری زبانوں میں ان کے متبادل الفاظ بہت سے موقع پر دور کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں جیسا کہ ہم کہتے ہیں کہ ایک دن تھا جب استبداد کا دور تھا اور اس دور کے خاتمے پر لوگوں کی نجات اور آزادی کا دور آن پہنچا ہے۔ (تشریحی نوٹ: مزید توضیح اور اس سلسلے میں عربی فارسی مثالوں کے لیے تفسیر نمونہ جلد ششم سورہ اعراف کی آیت ۵۴ کے ذیل میں رجوع کریں)۔ اس بناء پر مندرجہ بالا جملے کا مفہوم یہ ہو گاکہ پروردگار نے آسمان اور زمین کو چھ ادوار میں پیدا کیا اور چونکہ ان چھ ادوار کے بارے میں ہم پہلے گفتگو کر چکے ہیں لہذا یہاں تکرار نہیں کرتے۔ (تشریحی نوٹ: مزید توضیح اور اس سلسلے میں عربی فارسی مثالوں کے لیے تفسیر نمونہ جلد ششم سورہ اعراف کی آیت ۵۴ کے ذیل میں رجوع کریں)۔ اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے: خدا نے عالم کو پیدا کرنے کے بعد اس کے امور کی باگ ڈور اپنے دست قدرت میں لی (ثم استوی علیٰ العرش)۔ تمام کام اس کے فرمان سے ہوتے ہیں اور تمام چیزیں اس کے قبضہ تدبیر میں ہیں (ید بر الامر) لفظ ”عرش“ بعض اوقات چھت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی اس چیزکے معنی میں بولا جاتا ہے جو چھت کے رکھتی ہو اور بعض اوقات یہ اونچے پاوں والے تخت کے معنی میں آتاہے اس کا اصلی معنی ہے ”قدرت“ مثلاً ہم کہتے ہیں فلاں شخص بیٹھا یا اس کے تخت کے پائے گر گئے یا اس ے تخت سے اتار دیا گیا۔ یہ سب اقتدار حاصل کرنے یا اقتدار کھو دینے کے لیے کنایہ ہیں حالانکہ ہو سکتا ہے، تخت اصلاً ہو ہی نہیں۔ لہٰذا "استوی علی العرش" کے معنی ہیں خدا نے امور عالم کی باگ دوڑ اپنے دست قدرت میں لی۔(تشریحی نوٹ: زیادہ وضاحت اور "عرش" کے مختلف معانی سے باخبر ہونے کےلیے تفسیر نمونہ ج ۳ ص١۳۳ (اردو ترجمہ) اور ج١ ص۵٩٨ (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع کریں۔) ”تدبر“ تدبیر“ کے مادہ سے مشتق ہے اور دراصل ”دبر“ (بر وزن) ”ابر“) کسی چیز کے پیچھے اور انجام کے معنی میں ہے اس بناء پر”تدبیر“کاموں کے انجام کی تحقیق کرنے اور مصالح کو منظم کرکے ان کے مطابق عمل کرنے کے معنی میں ہے۔ جب یہ واضح ہو گیا کہ خالق اللہ ہے اور عالم ہستی کو وہی چلاتا ہے اور تما م امو رکی تدبیر اس کے فرمان سے ہو تی ہے واضح ہے کہ بے جان، عاجز اور ناتواں بتوں انسانوں کی سرنوشت میں کوئی اثر نہیں ہے اس لیے بعد والے جملہ میں فرمایا گیا ہے: اس کے اذن کے بغیر کوئی شفاعت کرنے والا نہیں ہے (ما مِنْ شَفیعٍ إِلاَّ مِنْ بَعْدِ إِذْنِہ)۔ (تشریحی نوٹ:شفاعت جیسے اہم مسئلہ پر ہم بحث پہلے ہی کر چکے ہیں اس کے لیے جلد اول ص۱۸۳ (اردو ترجمہ) اور ج اوّل ص ۵٩۵(اردو ترجمہ) کی طرف رجوع فرمائیں)۔ جی ہاں ـــــــ حقیقت یہی ہے کہ اللہ تمہارا پروردگار ہے لہٰذا اس کی پرستش کرو نہ کہ اس کے غیر کی (ِ ذلِکُمُ اللَّہُ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوہُ)۔ کیا اس واضح دلیل سے تم متذکر اور متوجہ نہیں ہوتے (اَفَلا تَذَکَّرُونَ)۔ جیسا کہ ہم اشار ہ کر چکے ہیں ”بعد والی آیت میں معاد اور قیامت کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے اور چھوٹے چھوٹے جملوں میں یہ معاملہ، اس کی دلیل اور اس کا مقصد بیان کیا گیا ہے۔ پہلے قرآن کہتا ہے: تم سب کی باز گشت خدا کی طرف ہے (إِلَیْہِ مَرْجِعُکُمْ جَمیعاً)۔ اس کے بعد تاکیداً فرمایا گیا ہے: خدا کا یہ قطعی وعدہ ہے (وَعْدَ اللَّہِ حَقًّا)۔ بعد از آں اس کی دلیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے: خدانے خلقت کی ابتداء کی اور پھر اس کی تجدیدکرے گا (إِنَّہُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعیدُہُ)۔ یعنی جو لوگ معاد اور قیامت کے بارے میں شک کرتے ہیں انھیں آغازخلقت کے بارے میں غور و فکر کرنا چاہئیے۔ خدا جس نے دنیا کو ابتداء میں ایجادکیا وہ اسے دوبار پیدا کرنے کی طاقت رکھتا ہے یہ استدلال ایک دوسری شکل میں سورہ اعراف آیت ۲۹ میں ایک مختصر سے جملہ میں بیان ہوا ہے اس کی تفصیل سورہ اعراف کی تفسیر میں گذر چکی ہے۔ قیامت اور معاد سے مربوط آیات نشان دہی کرتی ہیں کہ مشرکین اور مخالفین کے شک کی سب سے بڑی دلیل یہ تھی کہ انھیں ایسی چیز کے امکان میں شک تھا اور تعجب سے سوال کرتے تھے کہ کیا یہ بوسیدہ اور خا ک بنی ہوئیں ہڈیاں دوبارہ لباس حیات پہنیں گی اور اپنی پہلی شکل میں پلٹ آئیں گی۔ اس لیے قرآن نے بھی اس مسئلہ کے امکان پر انگلی رکھی ہے اور کہتا ہے: اس ذات کو فراموش نہ کرو جو اس جہاں کو از سر نو ساز و سامان بخشے گا اور مردوں کو زندہ کرے گا کیونکہ وہی آفریدگار ہے جس نے آغاز میں یہی کا م کیا تھا۔ اس کے بعدمعادکے مقصد کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: یہ اس بناء پر ہے کہ خدا ایسے افراد کو جو ایمان لائے ہیں اور انھوں نے نیک اعمال انجام دئیے ہیں انھیں عادلانی جزا اور بدلہ دے گا۔ بغیر اس کے کہ ان کا کوئی چھوٹا سا عمل بھی بغیر لطف و رحمت کی نظر سے مخفی رہے اور اجر و ثواب کے بغیر رہ جائے (لِیَجْزِیَ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ بِالْقِسْطِ)۔ ”اور وہ لوگ کہ جنہوں کفر اور انکا ر کا راستہ طے کیا ہے اور پھر فطری طور پر ان کاکوئی نیک عمل بھی نہ تھا (کیونکہ اچھے عمل کی جڑ اچھا عقیدہ ہے) ان کے درد ناک سزا ہے۔ ان کے پینے کے لیے گرم اور جلانے والا پانی ہے اور ان کے کفر کی وجہ سے عذاب الیم ان کے انتظار میں ہے۔ (وَالَّذینَ کَفَرُوا لَہُمْ شَرابٌ مِنْ حَمیمٍ وَ عَذابٌ اَلیمٌ بِما کانُوا یَکْفُرُون)۔

دو قابل توجہ نکات

۱۔ " الیہ مرجعکم جیمعاً" کا مفہوم: اگرچہ خداکے لیے مکان و محل نہیں ہے۔ اس کے باوجود اس جہاں میں وہ ہرجگہ ہے اور ہم سے ہمارے نسبت زیادہ قریب ہے۔ اس کے امر کے سبب مفسرین نے زیر نظر آیت میں " الیہ مرجعکم جمیعاً" اور قرآن کی ایسی دیگر آیات کی مختلف تفسیریں کی ہیں۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ مراد یہ ہے کہ ثواب اور جزا کی طرف پلٹ جائیں گے۔ نیز شاید بعض جاہل افراد اسے قیامت میں خدا کے مجسم ہو نے کی دلیل سمجھیں کہ جس عقیدہ کا بطلان اس قدر واضح ہے کہ محتاج بیان نہیں۔ لیکن ــــــــــ جو کچھ آیات قرآن میں غورو فکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے وہ یہ کہ عالم حیات ایسے کاروں کی طرح جو جہان عدم سے چلا ہے اور اپنے لامتناہی سفر اور گردش میں لامتناہی کی طرف ہی آگے بڑھ رہا ہے جو کہ خدا کی ذات پاک ہے اگرچہ مخلوق محدود ہے اور محدود کبھی لامتناہی (Infinite)نہیں ہوتا پھر بھی اس کا سفر تکامل رکتا۔ یہاں تک کہ قیام قیامت کے بعد بھی یہ سیر ت کامل جاری و ساری رہے گی (جیسا کہ ہم نے معادکی بحث میں اس کی تشریح کی ہے)(تشریحی نوٹ: زیادہ وضاحت کے لیے کتا ب "معاد و جہان پس از مرگ" کی طرف رجوع کرے)۔ قرآن کہتا ہے:۔ یا ایھا الانسان انک کادح الی ربک کدحاً۔ اے انسان !تو سعی وکو شش کے ساتھ اپنے پروردگارکی طرف جارہا ہے۔ نیز کہتا ہے:۔ یا اایتھا النفس المطمئنہ ارجعی الی ربک۔ اے وہ روح کہ جوایمان اور عمل صا لح کے ذریعے سکو ن واطمینان کی سرحد تک پہنچ گئی ہے، اپنے پروردگار کی طرف پلٹ آ۔ اس تحر یک کی ابتدا خدا کی طرف سے ہوئی ہے اور زند گی کا پہلا شعلہ اس کی طرف سے ظا ہر ہو ا ہے نیزیہ ارتقائی سفر اور حرکت اسی کی طرف ہے جسے ”رجوع“ اور بازگشت سے تعبیر کیا جاتا ہے. المختصر ایسی تعبیر یں علاوہ اس کے کہ موجو دات کی خدا کی طرف عمومی حرکت کی طرف اشارہ ہیں اس حرکت کے مقصد کو بھی مشخص کرتی ہیں اور وہ اس کی پاک ذات ہے۔ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ لفظ ”الیہِ“ مقدم ہے اور اس کا مقد م ہونا انحصار کی دلیل ہے واضح ہو جا تا ہے کہ انسان کی ارتقائی اور تکا ملی حرکت کا مقصد اس کی پاک ذات کے علاوہ کوئی وجود نہں ہو سکتا نہ بت اور نہ ہی کوئی اور مخلوق۔کیونکہ یہ سب چیزیں محدود ہیں اور انسان کی راہ غیر محدود ہے۔ ۲۔ ”قسط“کا مفہوم: ”قسط“ لغت میں دوسرے کاحصہ اداکرنے کے معنی میں ہے لہذا اس میں انصاف کا مفہوم چھپا ہوا ہے۔یہ بات جاذب نظر ہے مندرجہ بالا آیت میںیہ لفظ صرف ا ن افراد کے لیے بولا گیا ہے جو عمل صا لح بجالاتے ہیں اور اچھی جزا چا ہتے ہیں لیکن بدکارو ں کی سزا کے ذکر میں یہ لفظ نہیں آیا کیونکہ عذاب اور سزامیں کوی حصہ نہیں ہوتا۔با لفا ظ دیگر”قسط“ صرف نیک جزا کیلیے مناسب ہے، سزا کے لیے مناسب نہیں ہے۔

5
10:5
هُوَ ٱلَّذِي جَعَلَ ٱلشَّمۡسَ ضِيَآءٗ وَٱلۡقَمَرَ نُورٗا وَقَدَّرَهُۥ مَنَازِلَ لِتَعۡلَمُواْ عَدَدَ ٱلسِّنِينَ وَٱلۡحِسَابَۚ مَا خَلَقَ ٱللَّهُ ذَٰلِكَ إِلَّا بِٱلۡحَقِّۚ يُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ
وہ وہی ہے کہ جس نے سورج کو روشنی اور چاند کو نور قرار دیا ہے اور اس کے لئے منزلین مقرر کی ہیں تاکہ تم برسوں کی تعداد اور (کاموں کا)حساب جان لو۔ خدا نے اسے سوائے حق کے پیدا نہیں کیا۔ وہ (اپنی) آیات صاحبان علم کے لئے تفصیل (و تشریح) کے ساتھ بیان کرتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
10:6
إِنَّ فِي ٱخۡتِلَٰفِ ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ وَمَا خَلَقَ ٱللَّهُ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَتَّقُونَ
مسلم ہے کہ رات اور دن کے آنے جانے میں اور ان چیزوں میں کہ جنہیں خدا نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے۔ ان لوگوں کے لئے آیات(نشانیاں ) ہیں جو پرہیزگار ہیں۔

عظمت الہی کی نشانیاں

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ آیت میں مبداء اور معاد کے مسئلہ کی طرف اشارہ کیا گیا تھا لیکن ان آیات کے بعد ان دو اصولی مسائل کو شرح و بسط سے بیان کیا گیا ہے کیونکہ یہ مسائل دعوت انبیاء کے اہم ترین ارکان ہیں۔ با الفاظ دیگر آنے والی آیات گذشتہ آیات کی نسبت تفصیلی ہیں۔ زیر نظر پہلی آیت میں جہان آفرینش میں عظمت خدا کی نشانیوں کے ایک حصہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے، وہ وہ ہے کہ جس نے سورج کو ضیاء اور چاند کو نور قرار دیا (ہُوَ الَّذی جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیاءً وَ الْقَمَرَ نُوراً)۔ سورج اپنے عالمگیر نور سے نہ صرف موجودات کے وجود کو گرم کرتا اور روشنی بخشتا ہے بلکہ سبزہ زاروں کی نشو و نما اور جانوروں کی پرورش میں عمدہ اوربنیادی کرداراداکرتاہے اصولی طور پر ہر حرکت وجنبش جو کرہ زمین موجود ہے۔ یہاں تک کہ ہواوں کے چلنے میں دریاوں کی موجوںمیں نہروں کی لہروں میں اورآبشاروں کی روانی میں، اگر صیح طور پرغور و فکر کیا جا ئے تو یہ نور آفتاب کی برکت ہے اور اگر کسی دن یہ حیات بخش شعا عیں ہما رے کرہ خاکی سے منقطع ہو جائیں تو قلیل عرصے میں تاریکی ہسکوت اور موت تمام جگہوں پر چھا جائے۔ چاند اپنے خوبصورت نور کے ساتھ ہماری تاریک راتوں کا چراغ ہے۔ماہ تاباں نہ صرف بیابانوں میں رات کے مسافروں کی رہبری کرتاہے بلکہ اس کی مناسب اور ملائم روشنی سارے کرہ ارضی کے رہنے والوں کے لیے سکون وآرام اور نشاط و مسرت کا باعث ہے۔اس کے بعد چاند کے وجودکے ایک اور مفید اثر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: خدا نے اْس کے لیے کئی منزلیں مقرر کی ہیں تا کہ وہ اپنے برسوں کی تعداد اور زندگی کے حسابات جان سکیں (وَ قَدَّرَہُ مَنازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنینَ وَ الْحِسابَ)۔ یعنی اگر تم دیکھتے ہو کہ پہلی رات میں چاند ایک باریک سا ہلال ہوتا ہے اور پھر ہر روز بڑھتا رہتا ہے، تقریباً آدھے مہینے تک یوں ہی بڑھتا چلا جاتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ کم ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ مہینے کے آخری دودن میں محاق کی تاریکی میں ڈوب جاتا ہے (تشریحی نوٹ: چاند کا گھٹنا، چاند کی وہ آخری تین تاریخیں جن میں وہ نظر نہیں آتا۔ ہندی میں اسے”اوماس“ کہتے ہیں ـــ مترجم) اور پھر دوبارہ ہلال کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے اور انھیں پہلی منزلوں کو طے کرتا ہے تو یہ تبدلی عبث اور فضول نہیں ہے بلکہ یہ ایک بہت ہی وقیق اور زندہ طبیعی تقوییم ہے (تشریحی نوٹ: اس بارے میں کہ چاند ایک فطری تقویم ہے، اس کے مختلف حالات سے مہینہ کے دنوں کو غور و خوض سے معین کیا جا سکتاہے۔اس سلسلے میں تفسیر نمونہ جلد اوّل، ص ٤٦٢ (اردو ترجمہ) پر بحث کر چکے ہیں)۔جسے عالم وجاہل پڑھ سکتے ہیں اور اس سے اپنے امور حیات کا حساب رکھ سکتے ہیں اور روشنی کے علاوہ ہمارے لیے چاند کا یہ ایک اور فائدہ ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے کہ مہرومہ کی یہ آفرینش و گردش بغیر سوچے سمجھے اور کھیل کود کے لیے نہیں ہیں ”خدا نے انھیں صرف حق کے ساتھ پیدا کیا ہے“ (ما خَلَقَ اللَّہُ ذلِکَ إِلاَّ بِالْحَقِّ)۔ آیت کے آخر میں تاکیداً فرمایا گیا ہے: خدا سمجھنے والوں کے لیے اپنی نشانیاں شرح و بسط کے ساتھ بیان کرتا ہے (یُفَصِّلُ الْآیاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ)۔ باقی رہے بے خبر و بے بسر تو وہ بارہا خدا کی ان نشانیوں کے پاس سے گزر جاتے ہیں لیکن ان سے کچھ نہیں سمجھتے۔ ____________________ دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ آسمان و زمیں میں اپنے وجود کی کجھ مزید نشانیاں اور دلائل بیان کرتا ہے، فرماتا ہے: رات دن کے آنے جانے میں اور جو کچھ خدا نے آسمانوں اور زمینوں میں پیدا کیا اس میں پرہیزگاروں کے لیے نشانیاں ہیں (إِنَّ فی اخْتِلافِ اللَّیْلِ وَ النَّہارِ وَ ما خَلَقَ اللَّہُ فِی السَّماواتِ وَ الْاَرْضِ لَآیاتٍ لِقَوْمٍ یَتَّقُونَ)۔ نہ صرف آسمان اور زمین خدا کی نشانیاں ہیں بلکہ موجودات کے تمام ذرات جو ان میں موجود ہیں ہر کوئی ایک نشانی ہے لیکن انھیں صرف وہی لوگ سمجھ جاتے ہیں جنہوں نے تقویٰ اور گناہ سے پرہیز کے سائے میں روح کی پاکیزگی اور روشن بینی حاصل کی ہے جو حقیقت اور جمال کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

چند اہم نکات

۱۔ ضیا ءاور نور میں فرق: اس سلسلے میں مفسرین میں بہت اختلاف ہے۔ بعض دونوں کو مترادف اور ہم معنی سمجھتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ ضیاء جو مندرجہ بالا آیت میں سورج کی روشنی کے لیے استعمال ہوا ہے وہ قوی اور طاقتور نور ہے لیکن لفظ”نو ر“ جو چاند کے بارے میں آیا ہے، کمزور نور کے بارے میں ہے۔ تیسرا نظریہ یہ ہے کہ ”ضیاء“ ذاتی طور پر یہ نور کے معنی میں ہے لیکن نور ایک عام مفہوم رکھتا ہے جو ذاتی اور دوسرے سے حاصل کردہ دونوں کے لیے ہے۔ اس صورت میں مندرجہ بالا آیت میں تعبیر کا فرق اس نکتے کی طرف اشارہ ہے کہ خدا نے سورج کو نور پھوٹنے کا منبع قرار دیا ہے جبکہ چاند کا نور دوسرے سے حاصل کردہ ہے اور اس کا سرچشمہ سورج ہے۔ قرآن کی کچھ آیات کی طرف توجہ کرنے سے یہ فرق زیادہ واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ سورہ نوح کی آیہ ۱۶ میں ہے: و جعل القمر فیھن نوراً وجعل الشمس سراجاً ان میں سے چاند کو نور اور سورج کو چراغ قرار دیا ہے۔ سورہ فرقان آیہ ۶۱ میں ہے -: و جعل فیھا سراجا و قمرا منیرا۔ ان میں سے چراغ اور روشنی دینے والا چاند قرار دیا ہے۔ اور اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ”سراج“ (یعنی چراغ) اپنی طرف سے نور برساتا ہے اور وہ نور کا منبع اور سرچشمہ ہے اور سورج کو مندرجہ بالا دو آیات میں چراغ سے تشبیہ دی گئی ہے واضح ہو جاتا ہے کہ زیر بحث آیات میں بھی یہ فرق بہت ہی مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ۲۔”ضیاء“ جمع ہے یا مفرد: اس سلسلے میں اہل ادب اور اہل لغت میں اختلاف ہے۔ موٴلف قاموس کی طرح بعض نے اسے مفرد سمجھا ہے لیکن زجاج کی طرح بعض دوسرے افراد نے ”ضیاء“ کو ”ضو“ کی جمع قرار دیا ہے۔ تفسیر المنار اور تفسیر قرطبی کے موٴلفین نے بھی دوسرا معنی قبول کیا ہے۔ خصوصاً المنار کے موٴلف نے اسی بنیاد پرآیت سے بہت استفادہ کیا ہے۔ وہ کہتا ہے: سورج کے نور کے بارے میں قرآن میں ”ضیاء“ کا جمع کی صورت میں ذکر اس چیز کی طرف اشارہ ہے جسے اس زمانے کی سائنس نے کئی صدیوں کے بعد ثابت کیا ہے اور وہ یہ کہ سورج کا نور سات انوار سے مرکب ہے یا دوسرے لفظوں میں سات رنگوں میں ہے وہی رنگ جو قوس قزح میں اور بلوریں سوراخوں سے گذرتے ہوتے ہوئے روشنی میں نظر آتے ہیں۔ لیکن یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ چاند کا نور اگرچہ ضعیف ہے پھر بھی کیا وہ مختلف رنگوں سےمرکب نہیں ہے ؟ ۳۔ "قدرہ منازل " کی ضمیر: ”قدرہ منازل“(اس کے لیے کئی منزلیں مقرر کیں)کی ضمیر کا مرجع صرف چاند ہے یا یہ چاند اور سورج دونوں کی طرف اشارہ ہے۔ اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے بعض کا نظریہ ہے کہ یہ ضمیر اگرچہ مفرد ہے پھر بھی دونوں کی طرف لوٹتی ہے۔ ایسی نظیریں عربی ادب میں بہت ہے۔ اس نظریہ کا انتخاب اس بنیاد پر کیا گیا ہے کہ صرف چاند ہی کی نہیں بلکہ سورج کی بھی منزلیں ہیں اور وہ ہر وقت کسی مخصوص برج میں ہوتا ہے۔برجوں کا یہی اختلاف تاریخ اور شمسی مہینوں کے بننے کی بنیاد ہے۔ لیکن انصاف یہ ہے کہ آیت کاظہورنشاندہی کرتا ہے کہ یہ ضمیرمفرد صرف ”قمر“ کی طرف لوٹتی ہے جواس کے قریب ہے اوراس میں بھی ایک نکتہ ہے۔۔۔۔۔کیونکہ: وہ مہینے کہ جنہیں اسلام میں قانونی طور پر قبول کیا گیا ہے، قمری مہینے ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ چاند ایک متحرک کرّہ ہے اور اس کی کئی منزلیں ہیں لیکن سورج نظام شمسی کے وسط میں ہے اور اس نظام میں اس کی کوئی حرکت نہیں۔ باقی رہا برجوں کا اختلاف اور بارہ فلکی برجوں میں سورج کی سیر کہ جو حمل سے شروع ہو کر حوت پر جا کر ختم ہوتی ہے تو وہ سورج کی حرکت کی وجہ نہیں ہے بلکہ زمین کی چاند کے گرد حرکت کی وجہ سے ہے اور زمین کی یہ گردش سبب بنتی ہے کہ ہم سورج کو ہر مہینے میں بارہ آسمانی برجوں میں سے ایک میں دیکھتے ہیں۔ لہذا سورج کی مختلف منزلیں نہیں ہیں بلکہ صرف چاند ہی کی منزلیں ہیں (غور کیجئے گا)۔ مندرجہ بالا آیات درحقیقت ایک علمی مسئلے کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جو آسمانی کرات سے مربوط ہے اس زمانے میں یہ بات نوع بشر کے علم کی نگاہ سے پوشیدہ تھی اور وہ یہ کہ چاند حرکت کرتا ہے لیکن سورج حرکت نہیں رکھتا۔ ۴۔ رات دن کا آنا جانا: زیر نظر آیت میں رات دن کے آنے جانے کو خدا کی ایک نشانی شمار کیا گیا ہے اور یہ اس بنا پر ہے کہ اگر سورج کی روشنی ایک ہی طرح مسلسل زمین پر پڑتی رہتی تو یقینا زمین کا درجہ حرارت اتنا بٹرھ جاتا کہ وہ زندگی گزارنے کے قابل نہ رہتی (جیسے چاند پر جلانے والی حرارت ہے جو کہ اس کے دنوں میں زمین کے ۱۵ شب و روز کے برابر ہے) اور اگر اسی طرح رات مسلسل جاری رہتی تو تمام چیزیں سردی کی شدت سے خشک ہو جاتیں (جیسا کہ چاند کی طویل راتیں ہیں) لیکن خدا نے ان دونوں کو یکے بعد دیگرے قرار دیا ہے تا کہ زندگی کو کرہ ٴارض پر باقی رکھے۔)تشریحی نوٹ: جلد اول تفسیر نمونہ ص ۳۹۷ (اردو ترجمہ) اور جلد دوم ص ۳۳٤ (اردو ترجمہ) پر بھی اس کے بارے میں وضاحت کی جا چکی ہے(۔ عدد، حساب، تاریخ، سال اور مہینہ کا انسانی نظام حیات، اس کے معاشرتی رابطوں اور کام کاج پر اثر سب پر واضح ہے۔ ۵۔ تقویم اور تاریخ کا مسئلہ: مندرجہ بالا آیت میں تقویم اور تاریخ کے حساب کے جس مسئلے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ انسانی زندگی کے اہم ترین مسائل میں سے ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ کسی نعمت کی اہمیت اس وقت واضح ہوتی ہے جب زندگی کو اس کے بغیر دیکھیں اگر ہم اس حوالے سے غور کریں کہ اگر تاریخ (DATE) (جو کہ دنوں، مہینوں اور سالوں کا امتیاز کرتی ہے) انسانی زندگی سے ہٹا دی جائے مثلا ہفتے کے دن واضح نہ ہوں، نہ مہینے کا حساب ہو اور نہ سال کا حساب ہو تو تمام تجارتی و اقتصادی معاملات، تمام معاہدہ اور مدت کے تعین کا نظام درہم برہم ہو جائے اور کسی کام میں نظم و ضبط نہ رہے یہاں تک کہ کھیتی باڑی، سرمایہ کاری اور کارخانوں کی حالت بھی حرج مرج کا شکار ہو جائے لیکن خدا نے چونکہ انسان کو ایک سعادت بخش زندگی کے لیے پیدا کیا ہے جس کا ایک نظم و ضبط ہے اسلیے اس نظام کے وسائل بھی اسے مہیا کیے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ انسان کسی ایک نظام تاریخ کے مطابق کسی حد تک اپنے کاموں کو منظم کر سکتا ہے لیکن اگر یہ حساب کسی فطری میزان کے مطابق نہ ہو تو نہ اس میں عمومیت ہو سکتی ہے اور نہ ہی یہ قابل اعتماد ہو سکتا ہے۔ گردش مہر و ماہ (یا زیادہ صحیح لفظوں میں زمین کی سورج کے گرد گردش) اور اس کی منزلیں ایک فطری تقویم کی بنیاد قائم کرتی ہیں، جو ہر جگہ اور تمام لوگوں کے لیے واضح اور قابل اعتماد ہے۔ جیسا کہ رات دن کی مقدر جو کہ ایک چھوٹا سا ارصہ ہے ایک طبیعی عامل کے ما تحت یعنی زمین کے اپنے محور کے گرد حرکت کرنے سے وجود میں آتی ہے اسی طرح مہینہ اور سال کا حساب بھی کسی طبیعی گردش کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ اس کے لیے کرہٴ ارض کے گرد چاند کی حرکت ایک بڑی اکائی ہے (اسی کی بنیاد پر بنتا ہے جو تقریبا تیس دن کے مساوی ہے) اور زمین کی سورج کے گرد حرکت عظیم تر اکائی ہے جس سے سال معرض وجود میں آتا ہے۔ ہم نے کہا ہے کہ اسلامی تقویم چاند کی گردش کی بنیاد پر ہے۔ یہ درست ہے کہ بارہ برجوں میں سورج کی گردش بھی تقویم کے حساب کے لیے ایک اچھا ذریعہ ہے اور اس سے شمسی مہینوں کا تعین ہوتا ہے۔ تا ہم یہ سب کے لیے فائدہ مند نہیں ہے اور اس کی تشخیص صرف علم فلکیات کے ماہرین رصد گاہوں کے ذریعے کر سکتے ہیں لہذا دوسرے لوگ مجبور ہیں کہ ان تقویموں کی طرف رجوع کریں جو علم فلکیات کے ماہرین نے مرتب کی ہیں۔لیکن زمین کے گرد چاند کی منظم گردش ایسی واضح تقویم پیش کرتی ہے کہ ان پڑھ اور بیابانوں میں رہنے والے بھی اس کے نقوش اور خطوط پڑھ سکتے ہیں اسکی وضاحت یہ ہے کہ آسمان پر ہر رات چاند کی ایک خاص کیفیت ہوتی ہے جو پہلے اور بعد کی رات سے مختلف ہوتی ہے اس طرح سے کہ پورے مہینوں کی دو راتوں میں آسمان پر چاند کی کیفیت اور شکل و صورت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ ہر رات کے چاند کی کیفیت پر اگر ہم تھوڑا سا غور کریں تو آہستہ آہستہ ہمیں عادت ہو جائے گی اور ہم پورے طور پر معین کر سکیں گے کہ یہ مہینے کی کون سی رات ہے۔ ہو سکتا ہے بعض لوگ یہ تصویر کریں کہ مہینے کے دوسرے نصف میں بعینہ پہلے نصف کے منظر کا طریقہ ہوتا ہے مثلا اکیسویں شب چاند کا چہرہ ٹھیک ساتویں رات کے چہرے کی طرح ہوتا ہے لیکن یہ ایک بڑا اشتباہ ہے کیونکہ چاند کا ناقص حصہ پہلے نصف مہینے میں اوپر کی طرف ہوتا ہے جبکہ دوسرے نصف حصہ میں ناقص حصہ نیچے کی طرف ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں آغاز ماہ میں ھلال کے کونے مشرق کی سمت ہوتے ہیں جبکہ مہینے کے دوسرے حصے میں چاند کی نوکیں مغرب کی طرف ہوتی ہیں۔ علاوہ ازیں مہینے کے اوائل میں چاند مغرب کی طرف نظر آتا ہے لیکن نصف ماہ کے بعد زیادہ تر مشرق کی طرف ہوتا ہے اور بہت دیر کے بعد طلوع کرتا ہے۔ اس طرح چاند کی بدلتی صورت سے ایک دن کا حساب کیا جا سکتا ہے اور شکل ہی پر غورو خوض کرنے سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مہینے کی کون سی تاریخ ہے بحر حال یہ نظام تقویم ایک بڑی نعمت ہے جس پر ہم آفرینش خدا وندی کے ممنون احسان ہیں اور اگر چاند، سورج اور زمین کی حرکات نہ ہوتیں تو ہماری زندگی میں ایسا حرج مرج ہوتا اور ہم ایسی پریشانی سے دوچار ہوتے کہ جس کا اس وقت ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ وہ قیدی جو کسی تاریک کوٹھڑی میں قید تنہائی میں ہوتے ہیں اور انھیں وقت کا پتہ نہیں چلتا وہ اس مصیبت کا پورے طور پر احساس کرتے ہیں۔ ہمارے زمانے میں ایک قیدی تقریبا ایک ماہ کے لیے استبداد کے ایجنٹوں کے ہاٹھوں گرفتار رہا، اسے ایک تاریک کوٹھڑی میں قید تنہائی میں رکھا گیا تھا وہ بیان کرتا ہے: "میرے پاس وقت نماز کی تشخیص کا اس کے سوا کوئی ذریعہ نہ تھا کہ جب وہ دوپہر کا کھانا لاتے تو میں ظہر اور عصر کی نمازیں پڑھ لیتا اور جس وقت وہ رات کا کھانا لاتے تو میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کر لیتا اور نماز صبح بھی عموما جب وہ ناشتہ لاتے پڑھ لیتا۔اگر دنوں کو شمار کرنا چہتا تو کھانوں کی تعداد اور حساب کو نظر میں رکھتا۔ کھانے کے تین اوقات کو ایک دن شمار کرتا تھا۔ لیکن نہ معلوم کیا ہوا کہ جب میں زندان سے باہر نکلا تو میرا حساب باہر کے لوگوں کے حساب سے مختلف ہو چکا تھا۔"

7
10:7
إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يَرۡجُونَ لِقَآءَنَا وَرَضُواْ بِٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَٱطۡمَأَنُّواْ بِهَا وَٱلَّذِينَ هُمۡ عَنۡ ءَايَٰتِنَا غَٰفِلُونَ
وہ جو ہماری ملاقات (قیامت) کی امید نہیں رکھتے اور دنیاوی زندگی پر خوش ہیں اور اس پر تکیہ کئے ہوئے ہیں اور وہ جو ہماری آیات سے غافل ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
10:8
أُوْلَـٰٓئِكَ مَأۡوَىٰهُمُ ٱلنَّارُ بِمَا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ
ان (سب) کے رہنے کی جگہ آگ ہے، ان کاموں کی وجہ سے جو وہ انجام دیتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
10:9
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ يَهۡدِيهِمۡ رَبُّهُم بِإِيمَٰنِهِمۡۖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهِمُ ٱلۡأَنۡهَٰرُ فِي جَنَّـٰتِ ٱلنَّعِيمِ
(لیکن) وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے خدا انہیں ان کے ایمان کے سبب ہدایت کرتاہے، ان کے (قصر اورمحلات کے) نیچے سے جنت کے باغوں میں نہریں جاری ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
10:10
دَعۡوَىٰهُمۡ فِيهَا سُبۡحَٰنَكَ ٱللَّهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمۡ فِيهَا سَلَٰمٞۚ وَءَاخِرُ دَعۡوَىٰهُمۡ أَنِ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
جنت میں ان کی گفتگو(اور دعا) یہ ہے کہ خدایا: تو منزہ ہے اور ان کا تحیہ سلام ہے اور ان کی آخری بات یہ ہے کہ حمد اور تعریف مخصوص ہے عالمین کے پروردگار اﷲ کے لئے۔

جنتی اور دوزخی

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

جیسا کہ اشارہ ہو چکا ہے اس سورہ کی ابتدامیں قرآن نے پہلے مبدا اور معاد کے مسلہ کے بارے میں ایک اجمالی بحث کی ہے اور بعد میں اس کی تفصیل شروع کی ہے۔ گذشتہ آیات میں مسئلہ مبداء کے بارے میں تشریح تھی اور زیر نظر آیات میں معاد اور دوسرے جہان میں لوگوں کی سرنوشت کے بارے میں تشریح نظر آتی ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: وہ لوگ جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے اور قیامت پر عقیدہ نہیں رکھتے اور اس بناء پر صرف دنیا وی زندگی پر خوش ہیں اور اسی پر تکیہ کیےہوئے ہیں (إِنَّ الَّذینَ لا یَرْجُونَ لِقاءَنا وَ رَضُوا بِالْحَیاةِ الدُّنْیا وَ اطْمَاَنُّوا بِھا)۔ اور اسی طرح طرح وہ لوگ جو ہماری آیات سے غافل ہیں اور ان میں غور و فکر نہیں کرتے کہ ان کے دل بیدار ہوں اور ان میں احساس مسئولیت پیدا ہو (وَ الَّذینَ ہُمْ عَنْ آیاتِنا غافِلُونَ)۔ ” ان دونوں گروہوں کے رہنے کی جگہ آگ ہے، ان اعمال کے سبب جو وہ انجام دیتے تھے (اُولئِکَ مَاٴْواہُمُ النَّارُ بِما کانُوا یَکْسِبُونَ)۔ فی الحقیقت معاد اور قیامت پر ایمان نہ لانے کا سیدھا نتیجہ یہ ہے کہ انسان اس محدود زندگی اور عارضی مادی مقام و منصب سے دل بستگی پیدا کرتا ہے اور انھی پر بھروسہ کر لیتا ہے۔ زندگی کے کاموں میں اس کا نتیجہ آلودگی کی صورت میں نکلتا ہے اور اس کا انجام آخر آتش جہنم کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ اسی طرح آیات الہی سے غفلت خدا سے بیگانگی کا سرچشمہ ہے اور خدا سے بیگانگی عدم احساس مسئولیت کا سرچشمہ ہے اور اس کے نتیجے میں انسان ظلم، فساد اور گناہ سے آلودہ ہوتا ہے اور اس کا انجام آتش جہنم کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ لہذا مذکورہ دونوں گروہ۔۔۔۔ یعنی وہ جو مبداء یا معاد پر یقین نہیں رکھتے یقیناً عمل کے لحاظ سے آلودہ ہوں گے اور دونوں گروہوں کا مستقبل تاریک ہے۔ یہ دو آیات دوبارہ اس حقیقت کی تاکید کرتی ہیں کہ ایک معاشرے کی اصلاح اور اور ظلم و گناہ کی آگ سے نجات کے لیے خدا اور معاد ایمان کی بنیادوں کو قوی کرنا ناگزیر ہے کیونکہ خدا پر ایمان لائے بغیر وجود انسانی میں احساس مسئولیت پیدا نہیں ہو سکتا اور معاد قیامت کی طرف توجہ کیےبغیر سزا اور خوف پیدا نہیں ہو سکتا۔ لہذا یہ دونوں اعتقادی ستون تمام اجتماعی اصلاحات کی بنیاد ہیں۔ اس کے بعد دونوں گروہوں کے مقابل ایک اور گروہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے:جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے اچھے عمل کیے، ان کے ایمان کی تقویت کے لیے خدا انھیں ہدایت کرتا ہے (إِنَّ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ یَہْدیھِمْ رَبُّھُمْ بِإیمانِھِمْ)۔ ہدایت الہی کا یہ نور جس کا سرچشمہ ان کا نور ایمان ہے، ان کی زندگی کے تمام افق راشن کر دیتا ہے اس نور کے ذریعے ان میں ایسی روشن بینی پیدا ہو جاتی ہے کہ مادی مکاتب و نظریات، شیطانی وسوسے، گناہوں کی چمک دہک، زور دولت اور اقتدار ان کی فکر و نظر میں نہیں جچتے اور وہ صحیح راستے کو چھوڑ کر بے راہ روی میں قدم نہیں رکھتے۔ یہ تو ان کی دنیا کی حالت ہے ”اور دوسرے جہان میں خدا بہشت کے پر نعمت باغوں میں انھیں محلات عطا کرے گا کہ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی (تَجْری مِنْ تَحْتِھمُ الْاَنْھارُ فی جَنَّاتِ النَّعیمِ)۔ وہ ایک ایسے ماحول میں زندگی بسر کریں گے جو صلح و آشتی، پاکیزگی اور عشق پروردگار سے معمور ہو گااور جہاں طرح طرح کی نعمتیں ہوں گی جس وقت خدا کی ذات و صفات سے عشق ان کے وجود کو روشن کر دیگا تو وہ ”کہیں گے پروردگار ! تو ہر قسم کے عیب اورنقص سے منزہ اور پاک ہے“ (دَعْواھُمْ فیھا سُبْحانَکَ اللَّھُمّ)۔جب وہ ایک دوسرے سے ملیں گے تو صلح و صفائی کی باتیں کریں گے اور ان کا تحیہ سلام ہو گا (َ وَ تَحِیَّتُھُمْ فیھا سَلامٌ)۔ اور آخر کار وہ وہاں خدا کی گونا گوں نعمتوں سے بہرہ ور ہوں گے تو اس کا شکرانہ ادا کریں گے اور کہیں گے کہ ”حمد و ثنا اس خدا کے لیے مخصوص ہے جو عالمین کا پروردگار ہے“۔(وَ آخِرُ دَعْواھُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعالَمین)۔

چند اہم نکات

۱۔ پروردگار سے ملاقات: سوال پیدا ہوتا ہے کہ لقاء الہی سے کیا مراد ہے جس کا ذکر زیر نظر پہلی آیت میں ہے مسلم ہے کہ ملاقات حسی تو نہیں ہے بلکہ مراد پروردگار کی جزا وسزا سے ملاقات ہے اور اس کے علاوہ ایک قسم شہود باطنی بھی ہے جو قیامت میں انسان کے اندر ذات مقدس الہی کے بارے میں پیدا ہو گاکیونکہ اس موقع پر وہ اس کی آیات اور نشا نیوں کو ہر مقام سے بڑھ کر واضح اور آشکاردیکھ پائے گا اور وہاں انسان معرفت کی نئی نظر اور قدرت حاصل کر لے گا۔ (تشریحی نوٹ: مزید وضاحت کے لیے تفسیر نمونہ جلد اول ص ۱٧٩ (اردوترجمہ) اور سورہ بقرہ کی ایة کی ۴۶ کے ذیل کی طرف رجوع کریں)۔ ۲۔ یھدیھم ربھم بیمانھم کے بارے میں کچھ گفتگو: اس جملے میں ایمان کے سائے میں ہدایت انسانی کے مطلق گفتگو ہے۔ یہ ہدایت دوسرے جہان کی زندگی سے مخصوص نہیں ہے بلکہ اس جہان میں بھی ایک مومن ایمان کی وجہ سے بہت سے اشتباہات، فریب کاریوں اور لغزشوں سے نجات حاصل کر لیتا ہے کیونکہ یہ بیماریاں،حرص، خود خواہی اور ہوا وہوس سے پیدا ہوتی ہیں اور اسی ایمان کے ذریعہ مومن دوسرے جہان میں اپنے لیے جنت کی طرف راستہ بنا لیتا ہے۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے: یوم تری المومنین و المومنات یسعی نورھم بین ایدیھم و بایمانھم اس دن تو صاحب ایمان مردوں اور عورتوں کو دیکھے گا کہ ان کے نور کی شعاع ان کے سامنے اور دائیں طرف چل رہی ہو گی۔ (حدید۔۔۔۱۲) نیز ایک حدیث میں رسول اللہ سے مروی ہے: انّ الموٴمن اذا خرج من قبرہ صور لہ عملہ فی صورة حسنة فیقول لہ انا عملک فیکون لہ نوراً و قائداً الیٰ الجنة (بحوالہ تفسیرفخر الدین رازی جلد ۱۷ ص ۴۰)۔ جب مومن اپنی قبر سے نکلے گا تو اس کے اعمال ایک پیاری صورت میں نمایاں ہوں گے اوراس سے کہیں گے کہ میں تیرا عمل ہوں اور ایک نور سا آئے گا جو اسے جنت کی طرف ہدایت کرے گا۔ ۳۔ تجری من تحتھم الانھار کا مفہوم: زیر نظر آیات میں ”تجری من تحتھم الانھار“ آیا ہے جبکہ قرآن کی دیر آیات میں ”تجری من تحتھا الانھار“نظر آتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں دیگر مواقع پر ہے کہ ”جنت کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہوں گی“جبکہ زیر نظر آیت میں ہے کہ ”جنت والوں کے پیر کے نیچے نہریں جاری ہوں گی“ ممکن ہے یہ تعبیر اس طرف اشارہ ہوکہ اہل بہشت کے محلات بھی نہروں کے اوپر ہوں گے اور یوں یہ منظر نہایت حسین دکھائی دے گا۔ یا پھر یہ اس طرف اشارہ ہے کہ جنت کی نہریں ان کے تابع فرمان ہوں گی اور ان کے قبضہٴ قدرت میں ہوں گی۔ جیسا کہ فرعون کے واقعہ میں ہے، وہ کہتا ہے اٴ لیس لی ملک مصرو ھذہ الانھار تجری من تحتی۔ کیا مصر کی حکومت میرے قبضہ میں نہیں اور یہ نہریں میرے حکم سے نہیں چلتیں۔ (زخرف .۵۲) یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ یہ لفظ ”تحت“ ”بین ایدی“ کے معنی میں ہو یعنی ان کے سامنے نہریں جاری ہوں گی۔ ۴۔ اہل جنت کے لیے تین عظیم نعمتیں: یہ امر جاذب توجہ ہے کہ زیر بحث آخری آیت میں اہل بہشت کی تین حالتوں یا ان کے لیے تین نعمتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ پہلیـــــــــــ ذات پروردگار کی طرف توجہــــــــــــــ اس توجہ سے جو لزت انھیں حاصل ہو گی اس کا موازنہ کسی اور لذت سے نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری ـــــــــــ وہ لذت جو مومنین کے ایک دوسرے سے صلح و تفاہم سے معمور اس ماحول میں ملاقات اور میل جول سے حاصل ہو گی اور یہ لذت خدا کی طرف متوجہ ہونے کی لزت کے بعد ہر چیز سے بہتر اور بر تر ہو گی۔ تیسری ــــــــــــ وہ لذت کہ جو انھیں طرح طرح کی نعمات بہشت سے بہرہ ور ہونے سے حاصل ہو گی اور پھر وہ انھیں خدا کی طرف متوجہ کرے گی اور وہ اس کی حمد، سپاس اور شکر بجا لائیں گے۔ (غور کیجئے)

11
10:11
۞وَلَوۡ يُعَجِّلُ ٱللَّهُ لِلنَّاسِ ٱلشَّرَّ ٱسۡتِعۡجَالَهُم بِٱلۡخَيۡرِ لَقُضِيَ إِلَيۡهِمۡ أَجَلُهُمۡۖ فَنَذَرُ ٱلَّذِينَ لَا يَرۡجُونَ لِقَآءَنَا فِي طُغۡيَٰنِهِمۡ يَعۡمَهُونَ
جس طرح لوگ اچھائیوں کو اپنے قبضے میں لینے کے لئے جلدی کرتے ہیں اگراللہ بھی ان کی سزا میں تعجیل کرے تو ان کی زندگی اختتام کو پہنچ جائے(اور سب کے سب ختم ہو جائیں ) لیکن وہ جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے انہیں ہم ان کی حالت پر چھوڑ دیں گے تاکہ وہ اپنے طغیان میں سرگرداں پھریں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
10:12
وَإِذَا مَسَّ ٱلۡإِنسَٰنَ ٱلضُّرُّ دَعَانَا لِجَنۢبِهِۦٓ أَوۡ قَاعِدًا أَوۡ قَآئِمٗا فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُ ضُرَّهُۥ مَرَّ كَأَن لَّمۡ يَدۡعُنَآ إِلَىٰ ضُرّٖ مَّسَّهُۥۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلۡمُسۡرِفِينَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
اور جس وقت کسی انسان کو کوئی نقصان (اور پریشانی) چھو جائے تو جب وہ پہلوکے بل سویا ہویا بیٹھا ہو یا کھڑا ہو (ہر حالت میں ہمیں ) پکارتا ہے لیکن جب ہم اس کی پریشانی دور کر دیتے ہیں تو ایسے گزرتا ہے گویا اس نے کسی مشکل کے حل کے لئے کبھی ہمیں پکارا ہی نہ ہو۔ اسی طرح سے اسراف کرنے والوں کے لئے ان کے اعمال زینت دیئے جاتے ہیں۔

خود غرض انسان

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ان آیات میں بھی بد کاروں کی پاداش کے بارے میں گفتگو جاری ہے۔ پہلی آیت میں قرآن کہتا ہے: اگر خدا بد کار لوگوں کو جلدی اور اسی جہان میں سزا دےدے اور جیسے وہ نعمت اور خیر کے بارے کے حصول میں جلدی کرتے ہیں خدا بھی ان کی سزا میں تعجیل کرے تو سب کی عمر ختم ہو جائے اور ان کا نام و نشان تک بھی باقی نہ رہے (وَ لَوۡ یُعَجِّلُ اللّٰہُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسۡتِعۡجَالَہُمۡ بِالۡخَیۡرِ لَقُضِیَ اِلَیۡہِمۡ اَجَلُہُم)۔ لیکن خدا لطف چونکہ تمام بندوں کے شامل حال ہے یہاں تک کہ بد کاروں، کافروں اور مشرکوں کے لیے بھی ہے اس لیے وہ ان کی سزا میں جلدی نہیں کرتا کہ شاید وہ بیدار ہوں جائیں، توبہ کر لیں اور بے راہ روی سے پلٹ آئیں۔ علاوہ ازیں اگرسزا اتنی جلد مل جاتی تو اختیاری حالت جو کہ مسوٴلیت کی بنیاد ہے، تقریباً ختم ہو جاتی اور اطاعت گزاروں کی اطاعت بھی، پھر اضطراری کیفیت میں ہوتی کیونکہ خلاف ورزی کی صورت میں فوراً وہ درد ناک سزا کا سامنا کرتے۔ اس جملے میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ کچھ ہٹ دھرم کفار ایسے تھے جو انبیاء سے کہتے تھے کہ اگر تم سچ کہتے ہو تو جتنا جلدی ہوسکے خدا سے کہو، ہمیں نابود کر دے یا سزا دے اس بات کو قرآن نے ذکر کیا ہے اب اگر خدا ان کے اس تقاضے کو قبول کر لیتا تو ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہتا لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔ آیت کے آخر مین قرآن فرماتا ہے: ان کے لیے یہی سزا کافی ہے کہ جو لوگ قیامت اور ہماری ملاقات پر ایمان نہیں لائے انھیں ہم ان کی حالت پر چھوڑ دیتے ہیں تا کہ وہ اپنے طغیان میں حیران و سرگردان رہیں، نہ حق کو باطل سے جدا کر سکیں اور نہ راہ کو چاہ سے۔ (فَنَذَرُ الَّذینَ لا یَرْجُونَ لِقاءَنا فی طُغْیانِھمْ یَعْمَھُونَ)۔ اس موقع پر آدمی کی فطرت اور روح کی گہرائی میں نور توحید کے وجد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: جب انسان کو کوئی نقصان اور ضرر پہنچتا ہے اور ہر جگہ اس کا ہاتھ کوتاہ ہو جاتا ہے تو ہماری طرف ہاتھ بلند کرتا ہے اور جب وہ پہلو کے بل سوتا ہے یا بیٹھاتا ہے یا کھڑا ہوتا ہے، ہر حالت میں ہمیں پکارتا ہے۔ (وَ إِذا مَسَّ الْإِنْسانَ الضُّرُّ دَعانا لِجَنْبِہِ اَوْ قاعِداً اَوْ قائِماً)۔ جی ہاں ! مشکلات اور دردناک حواث کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انسان کی پاک فطرت سے پردوں اور حجابوں کو بر طرف کر دیتے ہیں۔ حوادث کی بھٹی میں تمام سیا ہ پردے جنہوں نے اس فطرت کو چھپا رکھا ہوتا ہے، جل جاتے ہیں اور ختم ہو جاتے ہیں اور ایک عرصہ کے لیے چاہے وہ کتنا ہی کم ہو اس نور توحیدی کی چمک آشکار ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ باقی رہے یہ لوگ، تو یہ اس قدر کم ظرف اور بے عقل ہیں کہ -- ”اتنی دیر میں کہ ہم بلا و پریشانی ان سے بر طرف کر دیں، اس طرح غفلت میں ڈوب جاتے ہیں گویا انھوں نے ہم سے کوئی بالکل تقاضا ہی نہ کیا تھا، اور ہم نے بھی جیسے ان کی کوئی مدد نہیں کی (فَلَمَّا کَشَفْنا عَنْہُ ضُرَّہُ مَرَّ کَاَنْ لَمْ یَدْعُنا إِلی ضُرٍّ مَسَّہُ)۔ جی ہاں ! اس طرح سے مسرفین کے اعمال کو ان نظر میں مزین کیا گیا ہے۔ (کَذلِکَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفینَ ما کانُوا یَعْمَلُونَ)۔ ایسے افراد کے اعمال کو ان کی نظر میں کون مزین کرکے پیش کرتا ہے ؟ اس بارے میں ہم تفسیر نمونہ جلد پنجم سورہ انعام کی آیہ ۱۲۲ کے ذیل میں صفحہ ۳۴۳ (اردو ترجمہ) پر بحث کر چکے ہیں اس بحث کا اجمالی خاکہ یہ ہے کہ زینت دینے والا خدا ہے لیکن اس طرح سے کہ اس نے برے اور قبیح اعمال میں یہ خاصیت پیدا کی ہے کہ جس قدر انسان ان سے آلودہ ہو جاتا ہے اس قدر ان کا زیادہ عادی ہو جاتا ہے اور نہ صرف ان کی برا ئی اور قباحت اس کی نظر میں ختم ہو جاتی ہے بلکہ وہ اسے آہستہ آہستہ اچھے معلوم ہونے لگتے ہیں۔ یہ کہ ایسے افراد کو زیر نظر آیت میں ”مسرفین“ (اسراف کرنے والے) کیوں کہا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے زیادہ اسراف کیا ہو گا کہ اپنے وجود کا اہم ترین سرمایہ یعنی عمر، سلامتی، جوانی اور اپنی مختلف صلاحیتوںکو فضول کاموں میں اور گناہ، عصیان اور نا فرمانی میں برباد کر دے یا اس دنیا کے لیے بے وقعت اور نا پائیدار مال و متاع کے حصول میں ضائع کر دے اور اس سرمایہ کے بدلے میں اسے کوئی فائدہ حاصل نہ ہو کیا یہ کام اسراف نہیں ہے اور کیا ایسے لوگ مسرف شمار نہیں ہوتے؟

انسان قرآن کریم کی نظر میں

انسان کے بارے میں قرآن مجید میں مختلف تعبیرات آئی ہیں: بہت سی آیات میں انسان کے لیے لفظ ”بشر“ استعمال ہوا ہے۔ بہت سی دیگر آیات میں لفظ ”انسان“ آیا ہے۔ کچھ آیات میں ”بنی آدم“ کی تعبیر آئی ہے ہاں البتہ بہت سے مواقع پر اس کے لیے مذموم صفات ذکر ہوئی ہیں۔مثلاً زیر بحث آیات میں انسان کا تعارف ایک زود فراموش اور حق شناس موجود کے طور پر کروایا گیا ہے۔ ایک اور مقام پر اسے ایک ضعیف اور کمزور موجود موجود کہا گیا ہے: خلق الانساان ضعیفاً۔ (نساء۲۸) ایک اور جگہ اسے ستم گراور کفر کرنے والا قرار دیا گیا ہے: ان الانسان لظلوم کفار۔ (ابراھیم۔ ۳۴)۔ ایک اور مقام پر انسان کو بخیل کہا گیا ہے: و کان الانسان قتوراً۔ (بنی اسرائیل۔ ۱۰۰)۔ ایک اور جگہ جلد باز کہا گیا ہے: و کان الانسان عجولاً۔ (بنی اسرائیل۔ ۱۱) دوسری جگہ کفران کرنے والے قرار دیا گیا ہے: و کان الانسان کفوراً۔ (بنی اسرائیل۔ ۶۷) ایک اور مقام پر اسے جھگڑالو کہا گیا: کان الانسان اکثر شیء جدلاً۔ (کھف۔ ۵۴)۔ ایک اور جگہ انسان کو ظلوم اور جہول کہا گیا ہے: انہ کان ظلوما جھولاً۔ (احزاب۔ ۷۲)۔ ایک اور جگہ اسے واضح کفر کرنے والا کہا گیا ہے: ان الانسان لکفور مبین۔ (زخرف۔۱۵)۔ ایک اور جگہ اسے کم ظرف اور متلون مزاج کہا گیا ہے کہ جو دم بہ دم بدلتا رہتا ہے، نعمت ملے تو بخیل ہو جاتا ہے اور مصیبت کے وقت رونا پیٹنا شروع کر دیتا ہے: ان الانسان خلق ھلوعاً اذا مسہ الشر جزوعاً و اذا مسہ الخیر منوعاً۔ (معارج ۱۹، ۲۰، ۲۱،)۔ ایک اور جگہ اسے مغرور یہاں تک کہ خدا کے سامنے بھی مغرور بتایا گیا ہے: یا ایھا الانسان ما غرک بربک الکریم۔ (انفطار۔ ۶)۔ ایک اور مقام پر اسے ایک ایسا موجود بتایا گیا ہے کہ جو نعمت کے وقت طغیان و سرکشی کرتا ہے: ان الانسان لیطغی ان راٰہ استغنیٰ۔ (علق ۶،۷)۔ اس طرح سے ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید میں انسان کو ایک ایسا موجود کہا گیا ہے جو بہت زیادہ منفی پہلو رکھتا ہے اور جس میں کمزوری کے بہت سے نقطے موجود ہیں۔ کیا یہ وہی انسان ہے جسے انسان ہے جسے خدا نے ”احسن تقویم“ اور بہترین ساخت میں پیدا کیا ہے: لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم (التین۔ ۴) کیا یہ وہی انسا ن ہے جس کا معلم اور استاد خدا تھا اور جس چیز کو وہ نہیں جانتا تھا اللہ نے اسے اس کی تعلیم دی: علم الانسان مالم یعلم (علق۔ ۵)۔ کیا یہی وہ انسان ہے جسے خدا نے بیان سکھایا ہے -: خلق الانسان علمہ البیان (رحمن۔ ۳،۴)۔ کیا یہ وہی انسان ہے جسے خدا نے اپنی راہ میں کاوش کے لیے ابھارا ہے: یا ایھا الانسان انک کادح الیٰ ربک کدحاً۔ (انشقاق۔۶) یہ بات قابل غور ہے کہ خدا کی طرف سے ایسے شرف اور ایسی محبت کے حامل انسانوں میں کمزوری کے یہ پہلو کیسے آ گئے۔ ظاہراً یہ ہے کہ تمام مباحث ایسے انسانوں کے بارے میں ہیں جو خدائی رہبروں کے زیر تربیت نہیں رہے بلکہ انھوں نے خود رو پودوں کی طرح پرورش پائی ہے ان کا نہ کوئی معلم تھا نہ رہبر و راہنما اور نہ انھیں کوئی بیدار کرنے والا تھا۔ ان کی خواہشات آزاد تھیں اور وہ ہوا و ہوس میں غوطہ زن تھے۔ واضح ہے کہ ایسے انسان نہ صرف یہ کہ فراواں وسائل اور اپنے وجود کے سرمایہ عظیم سے فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ انھیں انحرافی راستوں اور غلط کاموں میں استعمال کرتے ہیں۔ یوں وہ ایک خطرناک موجود کی صورت اختیار کر لیتے ہیں اور آخر کار ناتواں و بے نوا وجود بن جاتے ہیں۔ ورنہ وہ انسان جو ہادیان بر حق کے وجود سے استفادہ کرتے ہیں، اپنی فکر و نظر سے استفادہ کرتے ہیں اور تکامل و ارتقاء اور حق و عدالت کا راستہ اختیار کرتے ہیں، وہ مرحلہ آدمیت میں قدم رکھ کر بنی آدم ہونے کی اہلیت کا اظہار کرتے ہیں اور اس طرح وہ اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں کہ خدا کے علاوہ انھیں کچھ نہیں سوجھتا۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے: و لقد کرمنا بنی آدم و حملناھم فی البر و البحر و رزقناھم من الطیبات و فضلناھم علی کثیر ممن خلقنا تفضیلاً۔ ہم نے بنی آدم کو تکریم و عزت بخشی اور خشکی اور دریا کو ان کی جولان گاہ قرار دیا اور انھیں پاکیزہ رزق دیا اور انھیں اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی۔(بنی اسرائیل۔۷۰)۔

13
10:13
وَلَقَدۡ أَهۡلَكۡنَا ٱلۡقُرُونَ مِن قَبۡلِكُمۡ لَمَّا ظَلَمُواْ وَجَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ وَمَا كَانُواْ لِيُؤۡمِنُواْۚ كَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡمُجۡرِمِينَ
تم سے پہلے کی امتوں نے جب ظلم کیا تو ہم نے انہیں ہلاک کر دیا حالانکہ ان کے پیغمبر واضح دلائل لے کر ان کے پاس آئے تھے اور وہ(ان پر) ایمان نہ لائے اور مجرم گروہ کو ہم اس طرح سے سزا دیتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
10:14
ثُمَّ جَعَلۡنَٰكُمۡ خَلَـٰٓئِفَ فِي ٱلۡأَرۡضِ مِنۢ بَعۡدِهِمۡ لِنَنظُرَ كَيۡفَ تَعۡمَلُونَ
ان کے بعد پھر ہم نے تمہیں روئے زمین پر ان کا جانشین بنایا تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کس طرح عمل کرتے ہو۔

پہلے ظالم اور تم

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ان آیات میں بھی ظالموں اور مجرموں کی اس جہان میں سزاوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے مسلمانوں کو گذشتہ زمانے کی طرف متوجہ کرتے ہوئے ان کے گوش گزار کیا گیا ہے کہ اگر ان کی راہ پر چلیں تو ان جیسی سرنوشت میں گرفتار ہو گے۔ پہلی آیت میں کہا گیا ہے: ہم نے تم سے پہلے کی امتوں کو ہلاک اور نابود کر دیا جبکہ انہوں نے ظلم کیا اور وہ ان انبیاء پر ہرگز ایمان نہ لائے جو ان کے پاس واضح دلائل اور معجزات کے ساتھ ان کی ہدایت کے لیے آئے تھے (وَ لَقَدْ اَھْلَکْنَا الْقُرُونَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَمَّا ظَلَمُوا وَ جاءَتْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّناتِ وَ ما کانُوا لِیُؤْمِنُوا) آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے: ایسا انجام کسی خاص جماعت سے مخصوص نہیں ہے۔ ہم مجرموں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں (کَذلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمینَ)۔ بعد والی آیت میں اس بات کو زیادہ صراحت سے بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اس کے بعد ہم نے تمہیں زمین پر ان کا جانشین قرار دیا تا کہ دیکھیں کہ تم کس طرح عمل کرتے ہو (ثُمَّ جَعَلْناکُمْ خَلائِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْ بَعْدِھِمْ لِنَنْظُرَ کَیْفَ تَعْمَلُون)۔

چند قابل توجہ نکات

۱۔ ”قرون“ کا مطلب: ”قرون“ ”قرن“ کی جمع ہے۔ ”قرن“ عام طور پر ایک طویل زمانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ لیکن جیسا کہ علماء لغت نے کہا ہے ایسی قوم اور جمیعت کے معنی میں بھی لفظ استعمال ہوتا ہے جو ایک ہی زمانے میں زندگی بسر کرتے ہوں کیونکہ اس کا اصلی مادہ ”اقتران“ سے ہے جس کا مطلب ہے ”نزدیک ہونا۔“ زیر بحث آیت میں بھی ”قروان“ اس معنی میں یعنی ہم عصر گروہوں اور قوموں کے لیے استعمال ہوا ہے۔ ۲۔ قوموں کی بربادی کی وجہ؟ مندرجہ بالا آیات میں قوموں کی بربادی اور نابودی کی علت ظلم قرار دی گئی ہے یہ اس بنا پر ہے کہ لفظ --”ظلم“ ایسا وسیع مفہوم رکھتا ہے کہ جس میں ہر قسم کی برائی اور گناہ شامل ہے۔ ۳۔”وما کانو ا لیومنوا“ کا مفہوم: اس کا معنی ہے ”ایسا نہ تھا کہ وہ ایمان لاتے“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا صرف اس گروہ کو ہلاک کرنے کی سزا دیتا ہے جس کےت آیندہ ایمان لانے کی امید نہ ہو۔ اس طرح سے وہ قومیں کہ جن کے لیے ممکن ہو کہ آیندہ ایمان لے آئیں گی انھیں ایسی سزائیں نہیں دی جاتیں کیونکہ ان دونوں میں بہت فرق ہے کہ ”وہ ایمان نہیں لائے“ اور ”ایسا نہ تھا کہ وہ ایمان لائیں“ (غور کیجئے گا) ۴۔ ”لننظر کیف تعلمون“ کا مطلب: اس کا لفظی معنی یہ ہے: تا کہ ہم دیکھیں کہ تم کس طرح عمل کرتے ہو“۔ مسلم ہے کہ نہ اس کا مقصود آنکھ سے دیکھنا ہے نہ دل کی نگاہ سے دیکھنا ہے کیونکہ خدا میں دونوں چیزیں نہیں ہیں بلکہ اس مفہوم ہے ایک حالت جو انتظار سے مشابہت رکھتی ہے یعنی تمہیں تمہارے حال پر چھوڑ دیا ہے اور ہمیں انتظار ہے کہ تم کیا کرتے ہو۔

15
10:15
وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَاتُنَا بَيِّنَٰتٖ قَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَرۡجُونَ لِقَآءَنَا ٱئۡتِ بِقُرۡءَانٍ غَيۡرِ هَٰذَآ أَوۡ بَدِّلۡهُۚ قُلۡ مَا يَكُونُ لِيٓ أَنۡ أُبَدِّلَهُۥ مِن تِلۡقَآيِٕ نَفۡسِيٓۖ إِنۡ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَيَّۖ إِنِّيٓ أَخَافُ إِنۡ عَصَيۡتُ رَبِّي عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيمٖ
اور جس وقت ہماری واضح آیات انہیں سنائی جاتی ہیں تو جو لوگ ہماری ملاقات(قیامت) کی امید نہیں رکھتے، کہتے ہیں :’’کوئی قرآن لے آؤ اس کے علاوہ یا اسے تبدیل کر دو‘‘ کہہ دو: مجھے حق نہیں کہ میں اسے اپنی طرف سے تبدیل کر دوں میں تو صرف اسکی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی ہوتی ہے اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو (قیامت کے) عظیم دن کی سزا سے ڈرتا ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
10:16
قُل لَّوۡ شَآءَ ٱللَّهُ مَا تَلَوۡتُهُۥ عَلَيۡكُمۡ وَلَآ أَدۡرَىٰكُم بِهِۦۖ فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِيكُمۡ عُمُرٗا مِّن قَبۡلِهِۦٓۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ
کہہ دو: اگر خدا چاہتا تو میں تم پر آیات تلاوت نہ کرتا اور تمہیں ان سے آگاہ نہ کرتا کیونکہ میں نے مدتوں اس سے پہلے تم میں زندگی گزاری ہے، کیا سمجھتے نہیں ہو؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔

17
10:17
فَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوۡ كَذَّبَ بِـَٔايَٰتِهِۦٓۚ إِنَّهُۥ لَا يُفۡلِحُ ٱلۡمُجۡرِمُونَ
اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو خدا پر چھوٹ باندھتا ہے اور اس کی آیات کو جھٹلاتا ہے۔ مسلم ہے کہ مجرم فلاح نہیں پائیں گے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیات چند بت پرستوں کے بارے میں نازل ہوئیں ہیں۔ وہ خدمت پیغمبر میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے جو کچھ قرآن میں ہمارے بڑے بتوں لات، عزٰی، منات اورھبل کی عبادت کرنے اور ان کی مذمت میں نازل ہوا ہے، ہمارے لیے قابل برداشت نہیں ہے اگر تم چاہتے ہو کہ ہم تمہاری پیروی کریں تو دوسرا قرآن لے آوٴ جس میں ایسی کوئی بات نہ ہو یا پھر کم از کم موجودہ قرآن میں سے ایسی باتیں نکال دو۔ اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں ہیں اور انھیں جواب دیا گیا ہے۔

تفسیر

گذشتہ آیات کی طرح ان آیات میں بھی مبداء اور معاد سے مربوط مسائل سے متعلق بحث جاری ہے۔ پہلے بت پرستوں کے ایک بہت بڑے اشتباہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے: جب ان کے سامنے ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں جو لوگ قیامت اور ہماری ملاقات پر ایمان نہیں رکھتے، کہتے ہیں: اس کی بجائے کوئی دوسرا قرآن لے آوٴ یا پھر کم از کم اس قرآن میں تبدیل کر دو (وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ ۙ قَالَ الَّذِیۡنَ لَا یَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا ائۡتِ بِقُرۡاٰنٍ غَیۡرِ ہٰذَاۤ اَوۡ بَدِّلۡہُ) یہ بے خبر بے نوا پیغمبرؐ کی رہبری کو قبول نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے خرافات اور باطل افکار کی پیروی کی دعت دیتے تھے۔ آنحضرت سے ایسے قرآن کی خواہش کرتے تھے جو ان کے انحراف کے تابع ہو نہ کہ ان کے معاشرے کا اصلاح کنندہ ہو۔ وہ نہ صرف یہ کہ قیامت پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور اپنے کاموں میں احساس مسوٴلیت نہیں رکھتے تھے بلکہ ان کی یہ گفتگو نشاندہی کرتی تھی کہ انھوں نے نبوت کے مفہوم کو بالکل سمجھا ہی نہ تھا یا وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ قرآن صراحت کے ساتھ انھیں اس عظیم اشتباہ سے باہر نکالتا ہے اور پیغمبر اکرمؐ کو حکم دیتا ہے کہ ان سے کہہ دو: میرے لیے ممکن نہیں ہے کہ میں خود اس میں تبدیلی کر دوں (قُلْ ما یَکُونُ لی اَنْ اُبَدِّلَہُ مِنْ تِلْقاء ِ نَفْسی) (تشریحی نوٹ: لفظ ”تلقاء“ مصدر ہے یا اسم مصدر ہے یہ مقابلے اور آمنے سامنے کے معنیٰ میں آیا ہے اس آیت میں اور ایسے مقامات پر یہ نزدیک اور ماحیہ کے معنی میں ہے یعنی میں اپنی طرف سے اور خود سے تبدیلی نہیں کر سکتا)۔اس کے بعد تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے: میں فقط اس کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی ہوتی ہے (إِنْ اَتَّبِعُ إِلاَّ ما یُوحی إِلَیَّ) نہ صرف یہ کہ میں اس آسمانی وحی میں تبدیلی نہیں کر سکتا بلکہ میں اگر اپنے پروردگار کے حکم سے تھوڑا سا بھی تخلف کروں تو (قیامت کے) اس عظیم دن کی سزا سے ڈرتا ہوں (إِنِّی اَخافُ إِنْ عَصَیْتُ رَبِّی عَذابَ یَوْمٍ عَظیمٍ) اگلی آیت میں اس بات کی دلیل پیش کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے، ان سے کہہ دو: ”اس کتاب میں میرے ارادے کا ذرہ بھر بھی دخل نہیں ہے اور اگر خدا چاہتا تو ان کی آیات کی میں تمہارے سامنے تلاوت نہ کرتا اور تمھیں اس سے آگاہ نہ کرتا“۔(قُلْ لَوْ شاءَ اللَّہُ ما تَلَوْتُہُ عَلَیْکُمْ وَ لا اَدْراکُمْ) اس لیے کہ میں نے قبل ازیں بہت عرصہ تم میں زندگی گزاری ہے اور تم نے کبھی بھی مجھ سے ایسی باتیں نہیں سنیں اگر یہ آیات میری طرف سے ہوتیں تو لازماً اس چالیس سال کی مدت میں میری فکر سے میری زبان پر جاری ہوتیں۔ کم از کم ان کا کچھ حصہ تو بعض لوگ ہم سے سنتے (بِہِ فَقَدْ لَبِثْتُ فیکُمْ عُمُراً مِنْ قَبْلِہ) کیا یہ واضح بات نہیں سمجھ سکتے (اَفَلا تَعْقِلُونَ) پھر مزید تاکید کے لیے فرمایا گیا ہے: میں اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ ظلم کی بد ترین قسم یہ ہے کہ کوئی شخص خدا پر افتراء باندھے۔ ”اس سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے کہ جو خدا کی طرف جھوٹی نسبت دے“ (فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَری عَلَی اللَّہِ کَذِباً)۔ لہذا کیونکر ممکن ہے کہ میں ایسے بڑے گناہ کا مرتکب ہوں اسی طرح جو شخص آیات الہی کی تکذیب کرے .. تو یہ بھی بہت بڑا ظلم ہے (اَوْ کَذَّبَ بِآیاتِہ)۔ اگر تم آیات حق کی تکذیب اور انکار کے گناہ کی عظمت سے بے خبر ہو تو میں بے خبر نہیں ہو سکتا۔ بحر حال تمہارا یہ کام بہت بڑا ظلم ہے ”اور مجرم کبھی فلاح اور کامیابی حاصل نہیں کرستے“ (اِنَّہٗ لَا یُفۡلِحُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ)۔

چند اہم نکات

۱۔ مشرکین کی دو متبادل خواہشوں میں فرق: مشرکین پیغمبر خدا سے یہ خواہش کرتے تھے کہ یا تو قرآن کو کسی اور کتاب سے بدل دیں یا قرآن میں تبدیلی کر دیں ان دونوں کے درمیان فرق واضح ہے۔ ان کے پہلے تقاضے میں ان کا مقصد یہ تھا کہ یہ کتاب بالکل ختم ہو جائے اور اس کی جگہ پیغمبر کی طرف سے دوسری کتاب آجائے لیکن دوسرے تقاضے میں وہ چاہتے تھے کہ کم از کم وہ آیات جو بتوں کے خلاف ہیں وہ تبدیل ہو جائیں تا کہ انھیں اس طرف سے کسی قسم کی پریشانی لا حق نہ ہو۔ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کیسے قطعی لہجہ میں انھیں جواب دیتا ہے کہ نہ کتاب کا تبادلہ پیغمبر کے اختیار میں ہے نہ رد و بدل اور نہ وحی تاخیر یا جلدی۔ واقعاً ان کے افکار و نظریات کسیے پست اور ناقص تھے وہ ایسے پیغمبر کی اطاعت کرنا چاہتے تھے کہ جو ان کے خرافات اور ہوا و ہوس کا پیرو ہو نا کہ جو خود پیشوا، رہبر، مربی اور رہنماء ہو۔ ۲۔ پیغمبر اکرمؐ کے جواب پر ایک نظر:یہ بات قابل توجہ ہے کہ پیغمبر خدا ان کے دو تقاضوں کے جواب میں صرف ان کی دوسری خواہش کے انجام دینے کی توانائی نہ رکھنے کا ذکر کرتے ہیں کہ میں اپنی طرف سے اس میں کویہ ردّ و بدل نہیں کر سکتا۔ اس بیان سے دراصل ان کی پہلی خواہش کی بطریق اولیٰ نفی ہو جاتی ہے کیونکہ جب بعض آیات میں تغیر و تبدل پیغمبرؐ کے اختیار میں نہیں تو کیا اس ساری آسمانی کتاب کو بدل دینا اس کے لیے ممکن ہے اس تعبیر میں ایک خاص وضاحت پائی جاتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ قرآن ایک بھی اضافی جملہ یا لفظ کہے بغیر انتہائی جچے تلے اور مختصر الفاظ میں تمام مسائل بیان کرتا ہے۔ ۳۔ ایک اشکال اور اس کی وضاحت: ہو سکتا ہے کہا جائے۔ جو دلیل قرآن کے پیغمبرؐ کی طرف سے ہونے کی نفی کے لیے اور اس کے حتماً خدا کی طرف سے ہونے کے بارے میں زیر نظر آیات میں پیش کی گئی ہے وہ مطمئن کرنے والی نہیں ہے۔ یہ ضروری ہے کہ اگر یہ کتاب پیغمبرؐ کی طرف سے ہو تو حتماً اس جیسا کلام انہوں نے اس سے قبل آپ سے سنا ہو۔ لیکن تھوڑا سا غور کرنے سے اس سوال کا جواب مل جاتا ہے کیونکہ جو کچھ ماہرین نفسیات کہتے ہیں اس کے مطابق نبوغ، ایجاد اور تخلیق کی صلاحیتوں کااظہار عموماً انسان میں بیس سال کی عمر میں شروع ہو جاتا ہے اور زیادہ سے زیادہ پینتیس سے چالیس سال تک رہتا ہے یعنی اگر انسان اس عمر تک اپنی ان صلاحیتوں سے کام نہ لے تو اس کے بعد عام طور پر ممکن نہیں رہتا۔ یہ امر جو آج کل علم نفسیات کے حوالے سے معلوم ہوا ہے مثلاً اس سے پہلے اس حد تک واضح نہیں تھا مگر اکثر لوگ فطرت کی ہدایت سے اس امر کی طرح توجہ رکھتے ہیں کہ معمول کے مطابق ممکن نہیں ہے کہ ایک انسان ایک روش، مکتب اور نظریہ رکھتا ہو اور چالیس سال ایک قوم میں زندگی گزار لے اور بالکل اسے ظاہر نہ کرے قرآن بھی اسی نبیاد کا سہارا لیتا ہے کہ اس سن و سال میں کس طرح ممکن تھا کہ پیغمبر ایسے افکار و نظریات رکھتا ہو اور انہیں بالکل چھپا ئے رکھے۔ ۴۔ سب سے زیادہ ظالم کون ہے ؟: جیسا کہ ہم سورہ انعام کی آیہ ۲۱۔ کے ذیل میں اشارہ کر چکے ہیں کہ قرآن میں بہت سے موقع پر کسی ایک گروہ کو سب سے بڑھ کر ظالم (اظلم) قرار دیا گیا ہے۔ ابتداء میں شاید یہ نظر آئے کہ ان میں ایک دوسرے سے تضادپایا جاتا ہے کیونکہ جب ایک گروة کو سب سے زیادہ ظاکم قرار دیا جائے تو ہھر دوسرے کو کیسے یہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔ اس سوال کے جواب میں ہم کہہ چکے ہیں کہ یہ تمام عناوین دراصل ایک یہی عنوان کی طرف لوٹتے ہیں اور وہ ہے شرک، کفر، عناد آیات خدا وندی کی تکذیب اور خدا پر افتراء۔ زیر بحث آیت میں بھی یہی صورت ہے۔ مزید وضاحت کے لیے جلد۳ ص ۳۰۵ (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع کریں۔

18
10:18
وَيَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنفَعُهُمۡ وَيَقُولُونَ هَـٰٓؤُلَآءِ شُفَعَـٰٓؤُنَا عِندَ ٱللَّهِۚ قُلۡ أَتُنَبِّـُٔونَ ٱللَّهَ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ سُبۡحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ
اور وہ خدا کی بجائے کچھ چیزوں کی پرستش کرتے ہیں کہ جو نہ انہیں نقصان پہنچاتی ہیں اور نہ فائدہ دیتی ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا کے پاس یہ ہمارے شفیع ہیں،کہہ دو: کیا تم خدا کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جسے وہ آسمانوں اور زمین میں نہیں جانتا؟ وہ ان شریکوں سے منزہ اور بلند وبرتر ہے جو تم قراردیتے ہو۔

بے اثر معبود

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

اس آیت میں بھی بحث توحید جاری ہے یہاں بتوں کی الوہیت کی نفی کی گئی ہے اور ایک واضح دلیل کے ذریعہ بتوںکا بے وقعت اور بے قیمت ہونا ثابت کیا گیا ہے۔ فرمایا گیا ہے: وہ خدا کی بجائے کچھ معبودوں کی پرستش کرتے ہیں کہ جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں کہ ان کی طرف سے نقصان کے خوف سے ان کی پرستش کریں اور نہ ہی انہیں کوئی نفع پہنچاسکتے ہیں کہ ان کی جانب سے فائدے کی وجہ سے ان کی عبادت کریں (وَ یَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَضُرُّہُمۡ وَ لَا یَنۡفَعُہُمۡ)۔ واضح ہے کہ اگر فرض کریں بت سود و زیاں پہنچا سکتے ہیں پھر بھی عبادت کے لائق نہ تھے لیکن قرآن اس تعبیر کے ذریعہ یہ نکتہ سمجھاتا ہے کہ بت پرستوں کے پاس اس بات کا چھوٹے سے چھوٹا بہانا بھی نہیں ہے اور وہ ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں کہ جن میں بالکل کوئی خاصیت نہیں ہے اور یہ بد ترین اور قبیح ترین پرستش ہے۔ اس کے بعد قرآن بت پرستوں کا ایک بے ہودہ دعوی پیش کرتے ہوئے کہتا ہے: وہ کہتے ہیں کہ بت بارگاہ الہی میں ہمارے شفیع اور سفارشی ہیں۔یعنی خود ان سے کچھ نہیں ہو سکتا تو شفاعت کے ذریعہ سود و زیاں کر سکتے ہیں (ْ وَ یَقُولُونَ ہؤُلاء ِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّہِ)۔ بت پرستی کا اک سبب بتوں کی شفاعت کا اعتقاد تھا اور جیسا کہ تاریخ میں آیا ہے جس وقت عربوں کا ایک بزرگ عمر وبن لحی شام کے معدنی پانیوں سے استفادہ کرنے اور اپنا علاج کرنے اس علاقہ میں گیا تواسے بت پرستوں کا طریقہ بہت اچھا لگا جب اس نے ان سے اس پرستش کی دلیل پوچھی تو انہوں نے اس سے کہا کہ یہ بت بارش برسنے، مشکلات حل ہونے اور بارگاہ خدا میں شفاعت کا ذریعہ ہیں وہ چونکہ ایک فضول سا آدمی تھا اس سے متاثر ہو گیا اور خواہش کی کہ کچھ بت ایسے دئے جائےں تا کہ وہ انہیں حجاز میں لے جائے۔ اس طریقہ سے بت پرستی اہل حجاز میں رائج ہو گئی۔ تو اس خیال کے جواب میں قرآن کہتا ہے: کیا تم خدا کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جسے آسمانوں اور زمین مکیں وہ نہیں جانتا (قُلْ اَتُنَبِّئُونَ اللَّہَ بِما لا یَعْلَمُ فِی السَّماواتِ وَ لا فِی الْاَرْضِ)۔ یہ امر اس کے لیے کنایہ ہے کہ اگر خدا کے پاس ایسے شفیع ہوتے تو وہ زمین و آسمان کے جس نقطے میں ہوتے ان کے وجود سے آگاہ ہوتا کیونکہ علم خدا کی وصیت اس طرح سے ہے کہ آسمان اور زمین میں چھوٹے سے چھوٹا ذرا بھی ایسا نہیں جس سے آگاہ نہ ہو۔ دوسرے لفظوں میں یہ بالکل اس طرح ہے کہ کسی سے کہا جائے کہ کیا تمہارا کوئی اس طرح کا نمائندہ ہے ؟ اور وہ جواب دے کہ میں ایسے نمائندے کے وجود کی خبر نہیں رکھتا، تو یہ اس کے وجود کی نفی کے لیے بہترین ہے کیونکہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی شخص اپنے نمائندے کے وجود سے بے خبر ہو۔ آیت کے آخر میں تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے: خدا ان کے شریکوں سے منزہ اور بر تر ہے جو وہ بتا تے ہیں (سُبْحانَہُ وَ تَعالی عَمَّا یُشْرِکُونَ)۔ شفاعت کے بارے میں جلد اول ص ۱۸۳ (اردو ترجمہ) اور جلد اوّل ص۵٩۵(اردو ترجمہ) پر تفصیلی بحث ہو چکی ہے۔

19
10:19
وَمَا كَانَ ٱلنَّاسُ إِلَّآ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ فَٱخۡتَلَفُواْۚ وَلَوۡلَا كَلِمَةٞ سَبَقَتۡ مِن رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ فِيمَا فِيهِ يَخۡتَلِفُونَ
اور(ابتداء میں ) سب لوگ ایک ہی امت تھے پھر وہ اختلاف کرنے لگے اور اگر تیرے پروردگار کی طرف سے (انہیں فوری سزا نہ دینے کے بارے میں ) حکم نہ ہوتا تو جس چیز کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں اس کا فیصلہ ہو جاتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

یہ آیت اس بحث کی مناسبت سے جو گذشتہ آیت میں شرک اور بت پرستی کی نفی کے سلسلے میں گذر چکی ہے تمام انسانوں کی توحیدی فطرت کی طرف اشارہ کرتی ہے اور کہتی ہے: ابتداء میں تمام انسان امت و احد تھے اور توحید کے علاوہ کسی کا کوئی دین نہ تھا (وَ ما کانَ النَّاسُ إِلاَّ اُمَّةً واحِدَةً)۔ ابتداء میں تو اس طرح توحیدی فطرت کو کسی کا ہاتھ نہیں لگاتھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پست افکار اور شیطانی رجحانات کے زیر اثر یہ دگر گوں ہونگی کچھ لوگ جادہٴ توحید سے منحرف ہوں گے اور انھوں نے شرک کا رخ کر لیا یوں فطرتاً انسانی معاشرہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ایک گروہ موٴحد اور دوسرا مشرک (فَاخْتَلَفُوا) اس بنا ء پر شرک درحقیقت ایک قسم کی بدعت اور فطرت سے انحراف ہے جس کا سرچشمہ کچھ اوہام اور بے بنیاد خیالات ہیں۔ ممکن تھا اس موقع پر یہ سوال کیا جاتا کہ خدا تعالیٰ مشرکین کو فوری طور پر سزا دے کر یہ اختلاف کیوں نہیں ختم کر دیتا تا کہ تمام انسانی معاشرہ سے پھر موٴحد بن جائے اس سوال کے جواب کے لیے قرآن بلا فاصلہ کہتا ہے: اگر پہلے سے ہدایت کے بارے میں انسانی آزادی کے متعلق خدا کا فرمان نہ ہوتا جو کہ انسانی تکامل اور ترقی کی بنیاد ہے تو خدا بہت جلدی ان کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کر دیتا جس میں وہ اختلاف رکھتے تھے اور مشرکین و منحرفین کو کیفر کردار تک پہنچا دیتا۔ (وَ لَوْلا کَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّکَ لَقُضِیَ بَیْنَھمْ فیما فیہِ یَخْتَلِفُونَ)۔ اس بناء پر مندرجہ بالا آیت میں لفظ ”کلمہ“ انسانوں کی آزادی کے بارے میں سنت اور حکم فطرت کی طرف اشارہ ہے جو ابتداء سے اسی طرح ہے اگر منحرفین اور مشرکین کو فوراً سزا دے دی جائے تو موحدین کا ایمان تقریباً اضطراری اور جبری ہو جائے گا اور حتماً خوف اور وحشت کی بناء پر ہو گا ایسا ایمان نہ سرمایہ ایمان ہے نہ تکامل اور ارتقاء کی دلیل ہے یہ فیصلہ اور یہ سزا خدا نے زیادہ تر دوسرے جہان کے لیے چھوڑ دی ہے تاکہ نیک اور پاک لوگ آزادی سے اپنی راہ منتخب کریں۔

20
10:20
وَيَقُولُونَ لَوۡلَآ أُنزِلَ عَلَيۡهِ ءَايَةٞ مِّن رَّبِّهِۦۖ فَقُلۡ إِنَّمَا ٱلۡغَيۡبُ لِلَّهِ فَٱنتَظِرُوٓاْ إِنِّي مَعَكُم مِّنَ ٱلۡمُنتَظِرِينَ
اور کہتے ہیں کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے کیوں کوئی معجزہ نہیں نازل ہوتا۔ کہہ دو: غیب (اور معجزات) اللہ کے لئے (اور اس کے حکم سے) ہیں۔ تم انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار میں ہوں۔

من پسند معجزات

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ایمان اور اسلام سے رو گردانی کرتے ہوئے مشرکین جو بہانے بناتے تھے قرآن دوبارہ ان کا ذکر کرہا ہے کہتا ہے: مشرکین کہتے ہیں کہ خدا کی طرف سے پیغمبر پر کوئی معجزا کیوں نازل نہیں ہوتا (وَ یَقُولُونَ لَوْلا اُنْزِلَ عَلَیْہِ آیَةٌ مِنْ رَبِّہِ)۔ البتہ قرآن سے جن کی طرف ہم بعد میں اشارہ کریں گے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی مراد ہر قسم کا معجزا نہیں تھا۔ کیونکہ مسلم ہے کہ پیغمبر اؐسلام کے قرآن کے علاوہ اور بھی معجزات تھے۔ تو اریخ اسلام اور بعض آیات قرآن اس حقیقت پر گواہ ہے بلکہ ان کی مراد یہ تھی کہ جب بھی وہ کسی من پسند معجزے کی خواہش کریں فوراً اسے پورا کیا جائے۔ وہ خیال کرتے تھے کہ اعجاز ایک ایسی چیز ہے جو پیغمبرؐ کے اختیار میں ہے اور آپ خود جس وقت جس قسم کے معجزے کا ارادہ کریں انجام دے سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں شاید وہ سمجھتے تھے کہ اپنی اس قوت سے ہر ہٹ دھرمی اور بہانہ جو مدعی کے سامنے کام لیں اور اس کی خواہش کے مطابق عمل کرے۔ لہذا بال فاصلہ پیغمبر اکرمؐ کو حکم دیا گیا ہے! ان سے کہہ دو کہ معجزہ خدا کے ساتھ مخصوص ہے اور عالم غیب اور ما وراء الطبیعت سے مربوط ہے (فَقُلْ إِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّہ) اس بناء پر معجزا کوئی ایسی چیز نہیں جو میرے اختیار میں ہو اور میں تمہاری خواہش کے مطابق ہر روز ایک نیا معجزا دکھاوں اور پھر بھی تم حیلے بہانے کرکے ایمان نہ لاوٴ۔ آیت کے آخر میں انہیں دھمکی کے انداز میں کہا گیا ہے: اب جبکہ تم ہٹ دھرمی سے دست بردار نہیں ہوتے تو انتظار میں رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار میں ہوں (فَانْتَظِرُوا إِنِّی مَعَکُمْ مِنَ الْمُنْتَظِرینَ)۔ تم خدائی سزا کے انتظار میں رہو اور میں بھی کامیابی کا منتظر ہوں یا یہ کہ تم اس قسم کے معجزہ کے انتظار میں رہو اورمیں بھی تم ہٹ دھرم لوگوں کی سزا کے انتظار میں ہوں۔

دو اہم نکات

۱۔ آیت میں معجزے سے مراد کیا ہے : جیسا کہ ہم سطور بالا میں اشارہ کر چکے ہیں لفظ ”آیہ“ (معجزہ) اگرچہ مطلق ہے اور اس کے مفہوم میں ہر قسم کا معجزا شامل ہے لیکن ہامرے پاس ایسے قرائن موجود ہیں جو نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ معرفت پیغمبرؐ کے لیے معجزہ طلب نہیں کرتے تھے بلکہ دل پسند معجزات کے خواہاں تھے یعنی وہ ہر روز ایک نئے معجزے کے طلب گار ہوتے تھے اوراس کے لیے روزانہ رسول اللہ سے ایک نیا مطالبہ کرتے تھے اور توقع رکھتے تھے کہ آپ ان کا مطالبہ قبول کر لیں گویا ان کی نظر میں پیغمبر ایک بیکار انسان تھے کہ جنہوں نے تمام معجزات کی کلید اپنے ہاتھ میں لے رکھی تھی اور منتظر رہتے تھے کہ کوئی کسی طرف سے آجائے اوران سے معجزے کی فرمائش کرے وہ اس بات سے غافل تھے کہ اول تو معجزہ فعل خدا ہے اور اسی کے فرمان سے انجام پاتا ہے اور دوم یہ کہ معجزہ پیغمبرؐ کی شناخت کے لیے لوگوں کی ہدایت کے لیے ہے اور اس کا ایک ہی موقع اس مقصد کے لیے کافی ہے۔ علاوہ ازیں پیغمبر اسلام نے کافی معجزات ان کے سامنے پیش بھی کیےتھے۔ مزید برآں ان لوگوں کا مقصد اپنی ذاتی کاہش کی تسکین کے اور کچھ نہ تھا۔ مندرجہ بالا جملے میں ”آیة“ سے مراد من پسن کے معجزات ہیں۔ اس بات کے لیے مندرجہ ذیل امور کو بطور شاہد پیش کیا جا سکتا ہے۔ ۱۔ آیت کے ذیل میں انھیں دھمکی دی گئی ہے اور اگر واقعاً وہ حقیقت شناسی کے لیے معجزا طلب کرتے تو انھیں ہرگز تحدید نہ کی جاتی۔ ۲۔ پہلے کی چند آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ وہ اس قدر ہٹ دھرم تھے کہ رسول اللہ سے کہتے تھے کہ اپنی آسمانی کتاب کو تبدیل کرکے کوئی دوسری کتاب لے آئیں یا کم از کم وہ آیات جو بت پرستی کی نفی کرتی ہیں۔ ان میں رد و بدل کر دیں۔ ۳۔ قرآن حکیم میں آیات کی تفسیر کے لیے ایک تسلیم شدہ طریقہ بتایا گیا ہے کہ القرآن یفسرہ بعضہ بعضاً۔ یعنی ......قرآنی آیات ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں۔ اس حوالے سے اگر قرآن کی آیات مثلاً سورہ بنی اسرائیل ۹۰ اور ۹۴ . کو دکھایا جائے تو اچھی طرح سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ ہٹ دھرم بت پرست ہدایت کے لیے معجزہ طلب نہیں کرتے تھے اسی لیے کبھی کہتے تھے کہ ہم اس وقت تک آپ ایمان نہیں لائیں گے جب تک اس خشک زمین سے چشمے نہ نکال کر دکھاوٴ۔ کوئی کہتا یہ بھی کافی نہیں ہے بلکہ تمہارے پاس سونے کا محل ہونا چاہیے۔ کوئی اور کہتا کہ اس سے بھی ہماری تسلی نہیں ہو گی بلکہ ہماری آنکھوں کے سامنے آسمان کی طرف پرواز کرو کوئی کہتا کہ آسمان کی طرف پرواز کرنا بھی کافی نہیں ہے بلکہ خدا کی طرف سے ہمارے نام خط لے کر آوٴ۔ اسی طرح کی یادہ گوئیاں اور فضول باتیں کرتے تھے۔ جو کچھ ہم نے اس ضمن میں کہا ہے اس سے واضح ہو گیا ہے کہ جو لوگ چاہتے ہیں کہ زیر بحث آیت کو ہر قسم کے معجزے یا قرآن کے علاوہ معجزات کی نفی کی دلیل قرار دیں وہ اشتباہ میں ہیں۔ اس مسئلے کے بارے میں مزید وضاحت انشاء اللہ سورہ بنی اسرائیل کی آیہ ۵۹ کے ذیل میں آئے گی۔ ۲۔ انما الغیب للہ ”میں غیب“ کا مفہوم: ہو سکتا ہے یہ اس طرف اشارہ ہو کہ معجزہ ایک ایسی چیز ہے جس کا تعلق عالم غیب سے ہے اور وہ میرے اختیار میں نہیں ہے اور خدا کے ساتھ مخصوص ہے یا اس طرف اشارہ ہو کہ مصالح امور اور یہ کہ کسی موقع پر حکمت مصلحت کا تقاضا ہے کہ معجزا پیش کیا جائے۔ دوسرا یہ غیب میں سے ہے اور خدا کے ساتھ مخصوص ہے۔ وہ جس موقع پر مصلحت دیکھتا ہے اور معجزہ طلب کرنے والے کو حقیقت کا متلاشی سمجھتا ہے۔ معجزہ نازل کرتا ہے۔ کیونکہ غیب اور اسرار نہاں اس کی ذات پاک سے مخصوص ہیں۔ ان میں سے پہلی تفسیر زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔

21
10:21
وَإِذَآ أَذَقۡنَا ٱلنَّاسَ رَحۡمَةٗ مِّنۢ بَعۡدِ ضَرَّآءَ مَسَّتۡهُمۡ إِذَا لَهُم مَّكۡرٞ فِيٓ ءَايَاتِنَاۚ قُلِ ٱللَّهُ أَسۡرَعُ مَكۡرًاۚ إِنَّ رُسُلَنَا يَكۡتُبُونَ مَا تَمۡكُرُونَ
جب لوگوں کو پہنچنے والے نقصان کے بعد ہم انہیں رحمت کا مزہ چکھائیں تو وہ ہماری آیات کے بارے میں مکر کرتے ہیں (اور اس نعمت ورحمت کے لئے غلط سلط توجیہات کرتے ہیں ) کہہ دو کہ خدا تم سے زیادہ جلدی چارہ جوئی کرتا ہے اور جو کچھ مکر (اور سازش) تم کرتے ہو ہمارے رسول اسے لکھتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔

22
10:22
هُوَ ٱلَّذِي يُسَيِّرُكُمۡ فِي ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِۖ حَتَّىٰٓ إِذَا كُنتُمۡ فِي ٱلۡفُلۡكِ وَجَرَيۡنَ بِهِم بِرِيحٖ طَيِّبَةٖ وَفَرِحُواْ بِهَا جَآءَتۡهَا رِيحٌ عَاصِفٞ وَجَآءَهُمُ ٱلۡمَوۡجُ مِن كُلِّ مَكَانٖ وَظَنُّوٓاْ أَنَّهُمۡ أُحِيطَ بِهِمۡ دَعَوُاْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ لَئِنۡ أَنجَيۡتَنَا مِنۡ هَٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّـٰكِرِينَ
وہ وہ ہے جو تمہیں خشکی اور دریا میں سیر کراتا ہے یہاں تک کہ تم کشتی میں ہوتے ہو اور موافق ہوائیں انہیں (منزل مراد کی طرف) لے جاتی ہیں اور وہ خوش ہو جاتے ہیں۔ اچانک سخت آندھیاں چلنے لگتی ہیں اور ہر طرف سے موجیں انہیں گھیر لیتی ہیں اور وہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ وہ ہلاک ہو جائیں گے تو اس وقت اپنے عقیدے کو نرا کھرا اسی کے واسطے کر کے خدا کو پکارتے ہیں کہ اگر توہمیں نجات دے دے تو ہم یقیناً شکر ادا کریں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔

23
10:23
فَلَمَّآ أَنجَىٰهُمۡ إِذَا هُمۡ يَبۡغُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّۗ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّمَا بَغۡيُكُمۡ عَلَىٰٓ أَنفُسِكُمۖ مَّتَٰعَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ ثُمَّ إِلَيۡنَا مَرۡجِعُكُمۡ فَنُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
لیکن جب وہ انہیں نجات بخشتا ہے تو وہ (دوبارہ) زمین میں ناحق ظلم کرتے ہیں۔ اے لوگو! تمہارے ظلم و ستم تمہارے ہی لئے نقصان دہ ہیں۔ دنیاوی زندگی سے فائدہ (اٹھاتے ہو) پھر جلد ہی تمہاری بازگشت ہماری طرف ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو(خدا) تمہیں اس کی خبر دے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ان آیات میں دوبارہ گفتگو عقائد کے بارے میں اور مشرکین کے کرتو توں کے بارے میں ہے۔ نیز انھیں توحید کی طرف اور شرک کی نفی کی جانب دعوت دی گئی ہے۔ زیر نظر پہلی آیت میں مشرکین کی ایک جاہلانہ سازش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: جب لوگوں کو بیداری اور آگاہی کے لیے ہم مشکلات اور نقصانات میں گرفتار کرتے ہیں پھر انھیں دور کرکے ہم انھیں سکون اور اپنی رحمت کا ذائقہ چکھاتے ہیں تو بجائے اس کے کہ وہ ہماری طرف متوجہ ہوں، ان آیات اور نشانیوں کا مزاق اڑاتے ہیں یا غلط توجیہات کرکے ان کا انکار کرنے لگتے ہیں۔ مثلاً مصائب و مشکلات کو بتوں کے غیض و غضب کا نتیجہ قرار دیتے ہیں اور راحت و نعمت کو ان کی شفقت و محبت کی دلیل کہتے ہیں یا پھر سب کو اتفاقات شمار کرتے ہیں۔ (وَ إِذا اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِنْ بَعْدِ ضَرَّاءَ مَسَّتھمْ إِذا لَھُمْ مَکْرٌ فی آیاتِنا)۔ لفظ”مکر“ جو مندرجہ بالا آیت میں آیا ہے، ہر قسم کی چارہ جوئی کے معنی میں ہے یہ ان غلط توجیہات اور فرار کی راہوں کی طرف اشارہ ہے جو مشرکین آیات الہی کے نزول، بلاوں کی آمد اور نعمتوں کے ظہور کے وقت سوچتے تھے۔ لیکن اللہ انھیں اپنے پیغمبرؐ کے ذریعہ خبر دار کرتا ہے کہ ان سے کہہ دو: کہ خدا ہر کسی سے بڑھ کر سرکوبی کرنے والی چارہ جوئی اور منصوبہ بندی پر قادر ہیں اور زیادہ تیز ہے (قُلِ اللَّہُ اَسْرَعُ مَکْراً)۔ جیسا کہ ہم نے بارہا اشارہ کیا ہے ”مکر“ ہم قسم کی ایسی چارہ جوئی کو کہتے ہیں جیسے خفیہ طور پر بجا لایا جائے اور اس کا وہ معنی نہیں جو آج کل فارسی میں مروّج ہے۔ فارسی میں آج کل ”مکر“ میں شیطانی کاموں کا مفہوم بھی شامل ہے لہذا اس لفظ کے حقیقی معنی کو سامنے رکھا جائے تو یہ خدا کے بارے میں بھی صادق آتا ہے اور بندوں کے بارے میں بھی۔ (تشریحی نوٹ: مزید وضاحت کے لیے جلد١ ص ١۳١، جلد٤ ص ١٨٩ اور جلد٤ ص ٤۳۰ (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع فرمائیں) باقی رہا یہ کہ زیر بحث آیت میں اس ”مکر“ کا مصداق کیا ہے تو ظاہراً پروردگار کی انھیں سزاوں کی طرف اشارہ ہے کہ جن میں سے بعض انتہائی مخفی طور پر اور بغیر کسی تمہید کے بڑی تیز رفتاری سے آ پہنچتی ہیں یہاں تک کہ بعض اوقات تو مجرمین کو خود انھیں کے ہاتھ سے سزا دی جاتی ہے۔ واضح ہے کہ وہ ذات جو سب سے زیادہ قادر ہے، موانع دور کرنے اور اسباب نہاں کرنے کی سب سے زیادہ طاقت رکھتی ہے۔ اس کے منصوبے اور تدبیریں بھی سب سے زیادہ تیز ہو گئیں دوسرے لفظوں میں وہ جس وقت کسی کوسزا دینے اور تنبیہ کرنے کا ارادہ کر ے تو وہ فوراً عملی صورت اختیار کر لیتی ہے جبکہ دوسرے اس طرح سے نہیں ہیں۔ اس کے بعد انھیں تحدید کی گئی ہے کہ یہ گمان نہ کرو کہ یہ سازشیں اور منصوبے فراموش ہو جائیں گے بلکہ ہمارے بھیجے ہوئے یعنی اعمال ثبت کرنے والے فرشتے ان تمام منصوبوں اور سازشوں کو لکھ لیتے ہیں جنہیں تم نور حق کو خاموش کرنے کے لیے تیار کرتے ہو (إِنَّ رُسُلَنا یَکْتُبُونَ ما تَمْکُرُون) لہذا تم اپنے آپ کو جو ابدہی اور دوسرے جہان میں سزا پانے کے لیے تیار کر لو۔ ثبت اعمال اور اس کام پر معمور فرشتوں کے بارے میں ہم متعلقہ آیات کے ذیل میں بحث کریں گے۔ اگلی آیت میں انسانی فطرت کی گہرایوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے سامنے توحید فطری کا ایک نمونہ پیش کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ عظیم مشکلات اور خطرے کے وقت کسی طرح انسان خدا کے علاوہ تمام چیزوں کو بھول جاتا ہے لیکن جو نہی مصیبت ٹلتی ہے اور مشکلات کی آگ ٹھنڈی پڑتی ہے تووہ دو بارہ ظلم و ستم کی راہ اختیار کر لیتا ہے اور خدا سے بیگانہ ہو جاتا ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: وہ خدا وہ ہے جو تمہیں سہرا اور دریا میں سیر کراتا ہے (ھُوَ الَّذی یُسَیِّرُکُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْر)۔”یہاں تک کہ جب تم کشتی میں سوار ہوتے ہو اور کشتی میں سوار لوگوں کو موافق ہوا ئیں آہستہ آہستہ مقصد کی طرف لے جا رہی ہوتی ہیں اور سب کے سب شادمان اور خوش ہوتے ہیں“ (حَتَّی إِذا کُنْتُمْ فِی الْفُلْکِ وَ جَرَیْنَ بِھِمْ بِریحٍ طَیِّبَةٍ وَ فَرِحُوا بِھا)۔ ”اچانک شدید طوفان اور تباہ کن آندھیاں چلنے لگتی ہیں اور ہر طرف سے موجیں اٹھتی ہیں اس طرح سے کہ انھیں اپنی موت نظر آنے لگتی ہے اور وہ زندگی سے گویا ہاتھ دوھو بیٹھتے ہیں (جاءَتْھا ریحٌ عاصِفٌ وَ جاءَہھمُ الْمَوْجُ مِنْ کُلِّ مَکانٍ وَ ظَنُّوا اَنّھُمْ اُحیطَ بِھمْ)۔ ٹھیک اس وقت وہ خدا کو یاد کرنے لگتے ہیں اور اسے خلوص کے ساتھ پکارتے ہیں اور اپنے دین کو ہر قسم کے شرک اور بت پرستی سے اپک کر لیتے ہیں (دَعَوُا اللَّہَ مُخْلِصینَ لَہُ الدِّینَ)۔ اس وقت وہ دست دعابلند کرتے ہیں:۔خدا یا اگر تو نے اس ہلاکت انگیزی سے نجات بخش دی تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے، ظلم کریں گے نہ تیرے غیر کی طرف رخ موڑیں گے (۬ۚ لَئِنۡ اَنۡجَیۡتَنَا مِنۡ ہٰذِہٖ لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیۡنَ)۔ لیکن جب خدا انھیں نجات دے دیتا ہے اور وہ ساحل مراد تک جا پہنچتے ہیں تو زمین میں ظلم و ستم شروع کر دیتے ہیں (فَلَمَّا اَنْجاھُمْ إِذا ھُمْ یَبْغُونَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ) مگر اے لوگو جان لوکہ جیسے ظلم کے مرتکب ہو گے اور حق سے جس قدر انحراف کروگے اس کا نقصان خود تمہیں ہی ہو گا ”(یا اَیّھا النَّاسُ إِنَّما بَغْیُکُمْ عَلی اَنْفُسِکُمْ)۔ آخری کام جو تم انجام دے سکتے ہو یہ ہے کہ”چند روز حیات دنیا کی متاع سے فائدہ اٹھالو“(مَتاعَ الْحَیاةِ الدُّنْیا))تشریحی نوٹ: لفظ ”متاع“ ایک فعل مقدر سے منصوب ہے اصل میں یوں تھا”تتمتعون متاع الحیاة الدنیا“)۔ اس کے بعد تمہاری بازگشت ہماری طرف ہے (ثُمَّ إِلَیْنا مَرْجِعُکُمْ) ”اس وقت ہم تمہیں اس سے آگاہ کریں گے جو تم انجام دیتے تھے (فَنُنَبِّئُکُمْ بِما کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ)۔

چند اہم نکات

۱۔ لوگ عموماً ایسا کرتے ہیں: مندرجہ بالا آیت میں جو کچھ ہم نے پڑھا ہے وہ بت پرستوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ عموماً ایسا ہوتا ہے تمام آلودہ، دنیا پرست، کم ظرف اور فراموش کار افراد ایسا کرتے ہیں جب انھیں بلا وصیت کی موجیں گھیر لیتی ہیں وہ ہاتھ پاوں مارتے ہیں لیکن کچھ نہیں بنتا گویا تلوار ان کی شہ رگ تک آ پہنچتی ہے اور انہیں کوئی یار و مددگار نظر نہیں آتا تو بارگاہ خدا میں ہاتھ اٹھاتے ہیں اس سے ہزاروں عہد و پیمان باندھتے ہیں اور نذر و نیاز مانتے ہیں کہ اگر بلاوں اور مصائب سے نجات ملی توبہ کریں گے اور وہ یہ کریں گے لیکن یہ بیداری اور آگاہی جو توحید فطری کا انعکاس ہے ایسے افراد میں زیادہ دیر نہیں رہتی ـــــــــ جونہی طوفان بلاختم ہو جاتا ہے اور مشکل حل ہو جاتی ہے،غفلت کے پردے ان کے دل پر پڑ جاتے ہیں ــــــــــ ایسے بھاری پردے کہ جنہیں طوفان بلا کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہٹا سکتی۔ یہ وقتی بیداری اگرچہ زیادہ آلودہ افراد پر کوئی اثر نہیں کرتی تا ہم ان پر حجت تمام کر دیتی ہے اور یہی ان کے مذموم ومحکوم ہونے کی دلیل بن جائے گی۔ دوسری طرف کم آلودہ افراد یسے حوادث میں عموماً بیدار ہو جاتے ہیں اور اپنے طریقہ کار کی اصلاح کر لیتے ہیں۔ باقی رہے بندگان خدا تو ان کا حساب و کتاب واضح ہے۔ وہ عالم سکون میں بھی خدا کی طرف اتنا ہی متوجہ رہتے ہیں، جتنا سختی اور تنگی کے عالم میں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہر خیر و برکت جو ظاہراً طبیعی اور فطری عوامل کے ذریعہ انہیں پہنچتی ہے درحقیقت خدا کی طرف سے ہے۔ بحرحال یہ یاد آوری اور تذکر قرآن مجید کی بہت سی آیات میں ہے۔ ۲۔ ”ضراء“ کے مقابلے میں ”رحمت“ مندرجہ بال اآیات میں ”ضراء“ (یعنی پریشانی اور نقصان) کے مقابلے میں ”رحمت“ کا ذکر ہے نہ کہ ”سراء“ (خوشی اور مسرت) کا۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ جیسی بھی اچھائی اور بھلائی انسان کو پہنچے وہ خدا کی طرف سے ہے اور اس کی رحمت بے پایاں ہے جبکہ مشکلات اگر درس عبرت کے طور پر نہ ہوں تو خود انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ ۳۔ ضمیروں کا فرق کیوں ہے ؟ زیر بحث دوسری آیت کی ابتداء میں مخاطب ضمیریں ہیں لیکن بعد میں غایب کی ضمیریں ہیں۔ یقینا اس میں کوئی نکتہ ہے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ آیت کے لب و لہجہ میں یہ تبدیلی اس بناء پر ہے کہ مشرکین کی حالت جبکہ وہ گرفتار بلا ہوں تو دوسروں کے لیے درس عبرت کے طور پر ان کا ذکر کیا جائے اس لیے انہیں غایب ذکر کیا گیا ہے اور باقی کو حاضر۔ بعض دیگر مفسرین نے کہا ہے کہ اس میں یہ نکتہ ہے ان سے بے اعتنائی اور ان کی تحقیر کا اظہار ہو گویا پہلے خدا تعالی انھیں حاضر کے طور پر قبول کرکے مخاطب قرار دیتا ہے اس کے بعد انہیں اپنے سے دور کرکے چھوڑ دیتا ہے۔ یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ آیت لوگوں کی ایک فطری تصویر کر رہی ہے جب تک وہ کشتی میں بیٹھے ہیں اور ساحل سے دور نہیں ہوئے تو دیگر لوگوں کے درمیان ہیں لہٰذا مخاطب قرار پاسکتے ہیں لیکن جب کشتی انھیں ساحل سے دور کر دیتی ہے۔ اور وہ آہستہ آہستہ آنکھوں سے اوجھل ہ وجاتے ہیں تو غائب شمار ہوتے ہیں اور یہ دو مختلف حالتوں میں ان کی فطری تصویر کشی ہے۔ ۴۔”احیط بھم“کا مفہوم: اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ ہر طرف سے امواج بلا میں گھرے ہوئے ہیں لیکن یہ یہاں ہلاکت اور نابودی کے لیے کنایہ ہے جو اس حالت کا لازمی نتیجہ ہے۔

24
10:24
إِنَّمَا مَثَلُ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا كَمَآءٍ أَنزَلۡنَٰهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَٱخۡتَلَطَ بِهِۦ نَبَاتُ ٱلۡأَرۡضِ مِمَّا يَأۡكُلُ ٱلنَّاسُ وَٱلۡأَنۡعَٰمُ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَخَذَتِ ٱلۡأَرۡضُ زُخۡرُفَهَا وَٱزَّيَّنَتۡ وَظَنَّ أَهۡلُهَآ أَنَّهُمۡ قَٰدِرُونَ عَلَيۡهَآ أَتَىٰهَآ أَمۡرُنَا لَيۡلًا أَوۡ نَهَارٗا فَجَعَلۡنَٰهَا حَصِيدٗا كَأَن لَّمۡ تَغۡنَ بِٱلۡأَمۡسِۚ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ
دنیاوی زندگی اس پانی کی طرح ہے جسے ہم نے آسمان کی طرف سے نازل کیا ہے کہ جس کے اثر سے طرح طرح کی نباتات اگتی ہیں جنہیں انسان اور چوپائے کھاتے ہیں، یہاں تک کہ زمین (ان سے) اپنی زیبائی حاصل کرتی ہے اور مزین ہو جاتی ہے اور اس کے رہنے والے مطمئن ہو جاتے ہیں کہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے کہ (اچانک ان کی نابودی کے لئے) ہمارا حکم آپہنچتا ہے (اردی یا بجلی کو ان پر مسلط کر دیتے ہیں ) اور اس طرح کاٹ ڈالتے ہیں کہ گویا بالکل کچھ تھا ہی نہیں۔ یوں ہم اپنی آیات اس گروہ کے لئے تفصیل سے بیان کرتے ہیں جو غوروفکر کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

25
10:25
وَٱللَّهُ يَدۡعُوٓاْ إِلَىٰ دَارِ ٱلسَّلَٰمِ وَيَهۡدِي مَن يَشَآءُ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ
اور خدا صلح وسلامتی کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور جسے چاہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے۔

دنیاوی زندگی کی دور نمائی

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ آیات میں دنیاوی زندگی کی ناپائیداری کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ زیر نظر آیت میں اس حقیقت کو ایک عمدہ مثال کے ذریعے بیان کیا گیا ہے تاکہ غرور اور غفلت کے پردے غافل اور طغیان گروں کی نظروں کے سامنے سے ہٹا دئیے جائیں۔ ارشاد ہوتا ہے: دنیاوی زندگی کی مثال اس پانی کی طرح ہے جسے ہم نے آسمانوں سے نازل کیا ہے (إِنَّمَا مَثَلُ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا کَمَاءٍ اَنْزَلْنَاہُ مِنْ السَّمَاءِ)۔ بارش کےیہ حیات بخش قطرہ آمادہ زمینوں پر گرتے ہیں اور ان کے ذریعے طرح طرح کے نباتات اگتے ہیں ان میں سے بعض انسانوں کے لیے مفید ہیں اور بعض جانوروں کے لیے (فَاخْتَلَطَ بِہِ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْکُلُ النَّاسُ وَالْاَنْعَامُ)۔ یہ نباتات زندہ موجودات کے لیے غذا بھی فراہم کرتے ہیں اور علاوہ ازین سطح زمین کو بھی ڈھانپ دیتے ہیں اور اسے زینت بخشتے ہیں یہاں تک کہ زمین بہترین زیبائی حاصل کرتی ہے اور مزین ہو جاتی ہے (حَتَّی إِذَا اَخَذَتْ الْاَرْضُ زُخْرُفَھَا وَازَّیَّنَت)۔ اس طرح شکوفہ شاخساروں کو زینت بخشتے ہیں، پھول کھلتے ہیں، سبزہ زار نور آفتاب سے چمکنے لگتے ہیں، تنے اور شاخیں ہواوں کے چلنے سے رقص کرنے لگتے ہیں۔اناج کے دانے اور پھل آہستہ آہستہ نکلنے لگتے ہیں اور صحنِ دنیا میں بھرپور زندگی مجسم ہو کر سامنے آجاتی ہے، دل امید سے اور آنکھیں سرور سے معمور ہو جاتی ہے،پھولوں سے بھی استفادہ کریں گے اور حیات بخش دانوں سے بھی (وَظَنَّ اَھْلُھَا اَنَّہُمْ قَادِرُونَ عَلَیْھَا)۔ لیکن اچانک ہمارا حکم آپہنچتا ہے (سخت سردی، شدید ژالہ باری یا تباہ کن طوفان ان پر مسلط ہو جاتا ہے) اور ہمیں انہیں اس طرح سے کاٹ دیتے ہیں گویا وہ اصلاً تھے ہیں نہیں (اَتَاھَا اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَھَارًا فَجَعَلْنَاھَا حَصِیدًا کَاَنْ لَمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ)۔ ”تغن“ مادہ ”غنا“ سے، کسی جگہ قیام کرنے کے معنی میں ہے، اسی بناء پر ”لم تغن بالامس“ کا معنی ہے ”کل وہ اس مکان میں نہ تھا“ اور یہ کنایہ کے طور پر اس چیز کے لیے استعمال ہوتا ہے جو اس طرح سے بالکل ختم ہو جائے کہ گویا اس کا ہرگز وجود ہی نہ تھا۔ آیت کے آخر میں زیادہ تاکید کے لیے فرمایا گیا ہے: یوہم تفکر کرنے والوں کے لیے تفصیل سے آیات بیان کرتے ہیں (کَذَلِکَ نُفَصِّلُ الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ)۔ جوکچھ کہا جا چکا ہے وہ نائیدار، پر فریب اور زرق و برق مادی دنیا کی واضح اور بدلتی تصویر ہے۔اس زندگی کا مقام پائدار ہے، نہ ثروت اور نہ ہی یہ امن و سلامتی کی جگہ ہے لہٰذا بعد والی آیت میں ایک مختصر سے جملے کے ذریعے اس کے مد مقابل دوسری زندگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: خدا دار السلام، صلح و سلامتی اور امن و آشتی کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے (وَ اللهُ یَدْعُو إِلَی دَارِ السَّلَامِ)۔وہ جگہ کہ جہاں مادی زندگی کے ان غارت گروں کی کشمش کی کوئی خبر ہے اور نہ ہی خدا سے بے خبر ذخیرہ اندوزوں کی احمقانہ مزاحمت کا کوئی پتہ اور نہ ہی وہاں جنگ، خونریزی، استعمار اور استمشار ہے اور یہ تمام مفاہیم لفظ”دار السلام“ (یعنی امن و سلامتی کا گھر) جمع ہیں۔ اگر دنیا کی زندگی بھی توحیدی اور آخرت والی شکل اختیار کرلے تو یہ بھی دار السلام میں تبدیل ہو جائے اور اس کی صورت ”مزرعہ بلا دیدہ و طوفان زدہ“ والی نہیں رہے گی۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیاہے: خدا جسے چاہے (اور اہل پائے) راہ ِ مستقیم کی طرف دعوت دیتا ہے کہ جو راہ ِ دار السلام ہے اور جو امن و آشتی کے مرکز تک جا پہنچتی ہے (وَیَھْدِی مَنْ یَشَاءُ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیم)۔

دو قابل توجہ نکات

۱۔دنیا کی ناپائیداری کے لیے مثال: قرآن ایک انسان ساز اور تربیت کرنے والی کتاب ہے لہٰذا بہت سے مواقع پر حقائقِ عقلی کو واضح کرنے کے لیے اس میں پیش کیا گئی ہے۔بعض اوقات ایسے امور جو کوئی سال طویل ہوتے ہیں انھیں بھی ایک زود گذر اور قابل ِ غور منظر کے طور پر مجسم کرکے لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ ایک انسان یا ایک نسل کی بھرپور زندگی کی تاریخ کہ جو کبھی ایک سو سال پر مشتمل ہوتی ہے کا مطالعہ عام افراد کے لیے کوئی آسان کام نہیں لیکن جب بہت سے نباتات کی زندگی کہ جو چند ماہ میں ختم ہو جاتی ہے (پیدائش، نشوونما، خوبصورتی اور پھر نابودی)کا منظر اس کے سامنے پیش کر دیا جائے تو وہ بہت بڑی سہولت سے اپنی زندگی کی کیفیت اس صاف و شفاف آئینہ میں دیکھ سکتا ہے۔ اس منظر کو ٹھیک طرح سے اپنی آنکھوں کے سامنے لائیے کہ ایک باغ ہے جو درختوں، سبزہ زاروں سے بھر اپڑا ہے۔ سب کے سب درخت پھل دار ہیں۔ باغ میں ہر طرف زندگی مچل رہی ہے مگر کسی تاریک رات میں یا روز روشن میں اچانک سیاہ بادل آسمان پر امنڈ آتے ہیں۔باد ل گرجتے ہیں اور بجلی چمکتی ہے طوفان موسلادھار بارش اور زبر دست ژالہ باری شروع ہو جاتی ہے۔باغ تباہ و بر باد ہو جاتا ہے۔ دوسرے روز جب باغ میں آتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ درخت ٹوٹے پڑے ہیں۔سبزہ زار ویران اور پژمردہ ہو چکے ہیں اور ہر چیز برباد ہو کر زمین پر پڑی ہے،ہمیں یقین نہیں آتا کہ یہ وہی سر سبز اور آباد باغ ہے جو کل ہر ابھرا اور کھلا ہواتھا۔ جی ہاں انسان کی زندگی کا بھی یہی ماجرا ہے خصوصاً ہمارے زمانے میں کہ کبھی ایک زلزلہ یا چند گھنٹوں کی ایک جنگ یا ایک آباد اور خوش و خرم شہر کو اس طرح سے بر باد اور ویران کر دیتی ہے کہ اس میں ایک ویرانے کے اور کچھ ٹکڑے جسموں کے کچھ باقی نہیں رہتا۔ وہ لوگ کس قدر غافل ہیں جنہوں نے ایسی ناپائیدار زندگی سے دل لگایا ہے۔ ۲۔”اختلط بہ نبات الارض“ کامفہوم:اس جملے میں توجہ کرنی چاہئیے کہ اختلاط اصل میں،جیسا کہ راغب نے کہا ہے دو یا دو سے زیادہ چیزوں کو جمع کرنا،چاہے وہ مانع ہوں یا ٹھوس۔ ”امتزاج“ کی نسبت ”اختلاط“ عام ہے (کیونکہ امتزاج عموماً مایعات میں ہوتا ہے) لہٰذا جملہ کا معنی یہ ہو گاکہ بارش کے ذریعے ہر طرح کے نباتات ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں وہ نباتات جو انسان کے کام آتے ہیں۔(تشریحی نوٹ: جو کچھ سطور بالامیں کہا گیا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ”بہ“ میں ”باء“ سببیت کے معنی میں ہے لیکن بعض نے یہ احتمال ذکرکیا ہے کہ یہ ”مع“ کے معنی میں ہے یعنی پانی آسمان سے نازل ہوتا ہے اور نباتات سے مل جاتا ہے اور انھیں رشدو نمو دیتا ہے لیکن یہ احتمال آیت کے اس حصے سے مناسبت نہیں رکھتا جس میں کہا گیا ہے ”مما یاکل الناس و الانعام“ کیونکہ اس جملے کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اختلاط مختلف قسم کے نباتات کے درمیان مراد ہے نہ کہ پانی اور نباتات کا اختلاط)۔ (غور کیجئے گا) یہ جملہ ضمنی طور پر اس حقیقت پر کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ خدا بارش کے پانی سے جو ایک ہی طرح کا ہوتا ہے، انواع و قسام کے نباتات اگاتا ہے کہ جو انسانوں اور جانوروں کی مختلف ضروریات کے لیے مختلف قسم کے غذائی مواد مہیا کرتے ہیں۔

26
10:26
۞لِّلَّذِينَ أَحۡسَنُواْ ٱلۡحُسۡنَىٰ وَزِيَادَةٞۖ وَلَا يَرۡهَقُ وُجُوهَهُمۡ قَتَرٞ وَلَا ذِلَّةٌۚ أُوْلَـٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَنَّةِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ
جو لوگ نیکی کرتے ہیں وہ اس کے لئے اچھی اور زیادہ جزا رکھتے ہیں اور تاریکی وذلت ان کے چہروں کو نہیں ڈھانپتی۔ وہ بہشت کے ساتھی ہیں اور ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 27 کے تحت ملاحظہ کریں۔

27
10:27
وَٱلَّذِينَ كَسَبُواْ ٱلسَّيِّـَٔاتِ جَزَآءُ سَيِّئَةِۭ بِمِثۡلِهَا وَتَرۡهَقُهُمۡ ذِلَّةٞۖ مَّا لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِنۡ عَاصِمٖۖ كَأَنَّمَآ أُغۡشِيَتۡ وُجُوهُهُمۡ قِطَعٗا مِّنَ ٱلَّيۡلِ مُظۡلِمًاۚ أُوْلَـٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ
باقی رہے وہ لوگ جو گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں وہ اس کے برابربری جزا رکھتے ہیں اور ذلت وخواری ان کے چہروں کو ڈھانپ لیتی ہے اور کوئی چیز انہیں خدا (کی سزا) سے نہیں بچا سکتی (ان کے چہرے اس قدر سیاہ ہیں کہ) گویا تاریک رات کے ٹکڑوں نے ان کے چہروں کو ڈھانپ رکھا ہے۔ وہ آگ کے ساتھی ہیں اور ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

سفیداور سیاہ چہروں والے

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ آیات میں دارِ آخرت اور روز قیامت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اسی مناسبت سے زیر بحث آیات دار آخرت میں نیکوکاروں اور گناہ گاروں کا انجام بیان کر رہی ہیں۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: جولوگ اچھے کام کرتے ہیں ان کے لیے اچھی اور زیادہ جزا ہے۔ (لِلَّذِینَ اَحْسَنُوا الْحُسْنَی وَزِیَادَةٌ)۔ (تشریحی نوٹ: توجہ رہے کہ اس جملے میں”حسنی“ مبتدائے موٴخر ہے اور آیت کا معنی اس طرح ہے: الحسنیٰ للذین احسنوا لہٰذا لفظ ”زیادہ“جس کا اس طر عطف ہے، مرفوع آیا ہے نیز”الحسنی“ ”المثوبة“ کی صفت ہے کہ جو مقدر ہے اور یہ موصوف کی جگہ ہے)۔ یہ کہ اس جملے میں ”زیادة“ سے کیا مراد ہے، اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ آیات قرآنی ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ کئی گناجزا اور ثواب کی طرف اشارہ ہے یہ جزا کبھی دس گناہ ہوتی ہے اور کبھی ہزار گنا(خلوص، پاکیزگی، تقویٰ اور عمل کی قدر و منزلت کے اعتبار سے)۔ سورہ انعام آیہ ۱۶۰ میں ہے: من جاء بالحسنة فلہ عشر امثالھا۔ جو شخص کوئی اچھا کام انجام دے گا اسے اس کے دس گناہ جزا ملے گی۔ ایک اور مقام پر ہے: فاما الذین اٰمنوا وعملو ا الصالحات فیوافیھم اجورھم ویزیدھم من فضلہ، رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیےتو خدا انھیں پوری جزا دے گا اور اپنے فضل و کرم سے بھی اس پر زیادہ کرے گا۔ (نساء۱۷۳) سوہ بقرہ میں انفاق سے مربوط آیات میں بھی نیکوکار لوگوں کی جزا سات صد یا کئی گنا بیان کی گئی ہے۔(بقرہ ۲۶۱) ایک اور نکتہ کی طرف یہاں توجہ کرنا چاہئیے یہ کہ یہ بات عین ممکن ہے یہ زیادہ دوسرے جہان میں متواتر اور ہمیشہ بڑھتی رہے یعنی ہرروزخداکی طرف سے انھیں نئی نعمت اور لطف و کرم عطا ہوتا رہے۔ درحقیقت، یہ امرنشاندہی کرتا ہے کہ دوسرے جہان کی زندگی ایک ہی طرز کی نہیں ہے اور غیر محدود طور پر تکامل و ارتقا کی طرف بڑھتی رہے گی۔ اس آیت کی تفسیر میں پیغمبر اکرم سے جو روایات نقل ہوئی ہیں ان کے مطابق ”زیادة“ سے مراد پروردگار کی ذات ِ پاک کے جلوہ کی طرف توجہ اور اس عظیم معنوی نعمت سے استفادہ کرنا ہے، ممکن ہے یہ اسی مذکورہ نکتے کی طرف اشارہ ہو۔ چند ایک روایات جو ائمہ اہلبیت ؑ سے منقول ہیں میں لفظ ”زیادة“ تمام نعمات کی طرف اشارہ ہو۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے کہ روز نیک لوگوں کے چہرے درخشاں اور چمکتے ہوئے ہوں گے اور تاریکی و ذلت ان کے چہروں کو نہیں چھپائے گی (وَلاَیَرْھَقُ وُجُوھھُمْ قَتَرٌ وَلاَذِلَّة)۔ ”یرھق“ مادہ ”رھق“ ”سے جبری طور پر چھپانے کے معنی میں ہے اور ”قتر“ کا معنی ہے غبار یا دھواں۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے:یہ لوگ اہل بہشت ہیں اور ہمیشہ اس میں رہیں گے۔(اُوْلَئِکَ اَصْحَابُ الْجَنَّہِ ھُمْ فِیھَا خَالِدُونَ)۔ ”اصحاب“ کی تعبیر اس مناسبت کی طرف اشارہ ہے جو اس گروہ کی روحانیت اور جنت کے ماحول کے درمیان ہے۔ دوسری آیت میں دوزخیوں کے بارے میں گفتگو ہے جو پہلے گروہ کے مد مقابل ہیں فرمایا گیا ہے: جولوگ گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں انھیں ان کے عمل کے مطابق بر ی جزا ملے گی (وَالَّذِینَ کَسَبُوا السَّیِّئَاتِ جَزَاءُ سَیِّئَةٍ بِمِثْلِھا)۔ یہاں”زیادة“ کا ذکر نہیں ہے کیونکہ جزا میں زیادتی فضل و رحمت ہے لیکن سزا میں عدالت میں کا تقاضا ہے کہ وہ ذرہ برابر بھی گناہ سے زیادہ نہ ہو۔ لیکن یہ لوگ پہلے لوگوں کے برعکس سیاہ چہرے والے ہوں گے اور ان کے چہروں کو ذلت و رسوائی نے ڈھانپ رکھا ہو گا (وَتَرْھَقُھمْ ذِلَّةٌ)۔(تشریحی نوٹ: ہو سکتا ہے گذشتہ آیت کے قرینہ سے ”ترھقھم ذلة“ تقدیراً ”’ترھقھم قترو ذلة“ ہو اور مقابلہ کے قرینہ سے اختصار کے لیے ”قتر" وہاں سے حذف ہوا ہو)۔ ممکن ہے سوال کیا جائے کہ عدالت کا تقاضا ہے کہ انھیں گناسے زیادہ سزا دی جائے جب کہ ان کے چہرہ کی سیاہی، ذلت کی گردان کے لیے ایک زیادتی ہے لیکن توجہ رہے کہ یہ عمل کی خاصیت اور اثر ہے جو انسان کی روح کے اندر سے باہر منعکس ہوتا ہے یہ بالکل اسی طرح ہے کہ ہم کہیں کہ شرابیوں کو کوڑے لگانے چاہئیں جب کہ شراب معدہ، دل جگر اور اعصاب میں طرح طرح کی بیماریاں بھی پیدا کر دیتی ہے۔ بہرحال، ممکن ہے بدکار یہ گمان کریں کہ انھیں کوئی راہِ فرار مل جائے گی یا بت وغیرہ ان کی شفاعت کر سکیں گے لیکن اگلا جملہ صراحت سے کہتا ہے: کوئی شخص اور کوئی چیز انھیں خدائی سزا سے نہ بچاس کے گی(مَا لَھمْ مِنْ اللهِ مِنْ عَاصِمٍ)۔ ان کے چہروں کی تاریکی اور سیاہی اتنی زیادہ ہو گی”گویا تاریک رات کے ٹکڑے یکے بعد دیگرے ان چہرے پر پڑے ہوئے ہیں“ (کَاَنَّمَا اُغْشِیَتْ وُجُو ھھم قِطَعًا مِنْ اللَّیْلِ مُظْلِمًا)۔ ”وہ اہل نار ہیں اور ہمیشہ اس (جہنم) میں رہیں گے“ (اُوْلَئِکَ اَصْحَابُ النَّارِ ھُمْ فِیھَا خَالِدُونَ)۔

28
10:28
وَيَوۡمَ نَحۡشُرُهُمۡ جَمِيعٗا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشۡرَكُواْ مَكَانَكُمۡ أَنتُمۡ وَشُرَكَآؤُكُمۡۚ فَزَيَّلۡنَا بَيۡنَهُمۡۖ وَقَالَ شُرَكَآؤُهُم مَّا كُنتُمۡ إِيَّانَا تَعۡبُدُونَ
اس دن کو یاد کرو جب ہم ان سب کو جمع کریں گے، اس کے بعد مشرکین سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے معبود اپنی جگہ پر رہو(تاکہ تمہارا حساب کتاب لیا جائے)پھر انہیں ہم ایک دوسرے سے جدا کر دیں گے (اور ہر ایک سے الگ الگ سوال کریں گے) اور ان کے معبود (ان سے) کہیں گے کہ تم (ہرگز) ہماری عبادت نہیں کرتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔

29
10:29
فَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدَۢا بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمۡ إِن كُنَّا عَنۡ عِبَادَتِكُمۡ لَغَٰفِلِينَ
ہمارے اور تمہارے درمیان گواہی کے لئے خدا کافی ہے کہ ہم کسی طرح بھی تمہاری عبادت سے آگاہ نہ تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔

30
10:30
هُنَالِكَ تَبۡلُواْ كُلُّ نَفۡسٖ مَّآ أَسۡلَفَتۡۚ وَرُدُّوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ مَوۡلَىٰهُمُ ٱلۡحَقِّۖ وَضَلَّ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ
اس وقت (اور وہاں ) ہر شخص نے جو پہلے سے عمل کیا ہو گا اسے آزمائے گا اور سب کے سب اﷲ اور اپنے مولا و حقیقی سرپرست کی طرف پلٹ جائیں گے اور جنہیں وہ جھوٹ موٹ اللہ کا شریک قرار دیتے تھے ان سے کھو جائیں گے (اور نابود ہو جائیں گے)۔

قیامت میں بت پرستوں کا ایک منظر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ان آیات میں بھی گذشتہ مباحث جاری ہیں جو کہ مبداء ومعاد اور مشرکین کی کیفیت کے بارے میں تھیں۔ ان آیات میں ان کی اس حالتِ بے چار گی کی تصویر کشی کی گئی ہے جب کہ وہ عدلِ الہٰی کے حضور اور اس کی بار گاہِ حساب و کتاب میں حاضر ہوں گے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: اس دن کو یاد کرو جس میں ہم تمام بندوں کو جمع اور محشور کریں گے (وَیَوْمَ نَحْشُرھُمْ جَمِیعًا)۔ اس کے بعد ہم مشرکین سے کہیں گے کہ تم تمہارے معبود اپنی جگہ پر ٹھہرو تاکہ حساب کتاب دیکھا جائے“ (ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِینَ اَشْرَکُوا مَکَانَکُمْ اَنْتُمْ وَشُرَکَاؤُکُمْ)۔(تشریحی نوٹ: ”مکانکم“ اصل میں فعل مقدر کا مفعول ہے اور حقیقت میں یوں تھا: ”الزموا مکانکم انتم وشرکائکم حتیٰ تسئلوا۔ یہ جملہ فی الحقیقت سورہ الصاصفات کی آیہ ۲۴ کے مشابہ ہے جہاں فرمایا گیا ہے) (وقفواھم انھم مسئولون)۔ (انھیں ٹھہراوٴ ان سے سوال ہوتا ہے)۔ یہ بات توجہ طلب ہے کہ زیر نظر آیت میں بتوں کو ”شراکاوکم“ کہا گیا ہے یعنی ”شریک“ جب کہ مشرکین بتوں کو خدا کا شریک قرار دیتے تھے نہ کہ اپنا۔ یہ تعبیر درحقیقت، اس نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ بت دراصل خدا کے شریک نہیں ہوتے اور یہ بت برستوں کے موہوم خیالات تھے کہ جن کی بنا انھوں نے انھیں یہ حیثیت دے رکھی تھی یعنی وہ تمہارے انتخاب شدہ شریک تھے۔ یہ بات بالکل اسی طرح ہے کہ کہیں کہ آوٴ دیکھو تمہارے اس استاد اور سربراہ نے کیا کچھ نہیں کیا (حالانکہ وہ اس کا استاد اور سربراہ نہیں ہے بلکہ مدرسہ کامعلم اورسر براہ ہے لیکن اس نے اسے اپنا لیا ہے)۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: ان دو گروہوں (معبوداور عابد) کو ہم ایک دوسرے سے الگ کر دیں گے“ اور ہر ایک سے الگ الگ سوال کریں گے (جیسا کہ تمام عدالتوں میں یہ معمول ہے کہ ہر ایک سے علیحدہ علیحدہ سوال کیا جاتا ہے)۔ بت پرستوں سے سوال کریں گے کہ کس دلیل کی بناء پر تم نے ان بتوں کو خدا کا شریک قرار دیا تھا اور ان کی عبادت کرتے تھے اور معبودوں سے بھی پوچھیں گے کہ تم کس بناء پر معبود بنے تھے یا اس کام کے لیے تیار ہوئے تھے(فَزَیَّلْنَا بَیْنَھُمْ)۔ (تشریحی نوٹ: ”زیلنا“ ”تزییل“ کے مادہ سے ہے اور جدا کرنے کے معنی میں ہے نیز جیسا کہ بعض اہل لغت نے کہا ہے کہ اس کا مادہ ثلاثی زال یزیل ہے جو جدا ہونے کے معنی میں ہے۔ نہ کہ زال یزول کے مادہ سے زوال قبول کرنے کے معنی میں ہے)۔ جنہیں انھوں نے شریک بنایا تھا اس وقت وہ بول اٹھیں گے“ اورکہیں گے تم ہرگز ہماری پرستش نہیں کرتے تھے“ (وَقَالَ شُرَکَاؤُھُمْ مَا کُنْتُمْ إِیَّانَا تَعْبُدُونَ)۔تم درحقیقت و ہواوہوس اور اپنے اوہام وخیالات کی پرستش کرتے تھے نہ کہ ہماری۔ علاوہ ازیں تمہاری عبادت کرنا ہمارے فرمان سے نہ تھا اور نہ ہی ہماری رضا سے تھا اور ایسی عبادت دراصل عبادت ہی نہیں ہے۔ اس کے بعد مزید تاکید کے لیے کہیں گے: ہمارے اور تمہارے درمیان گواہی کے لیے خدا کافی ہے کہ ہم کس طرح بھی تمہاری عبادت سے آگاہ نہ تھے (فَکَفَی بِاللهِ شَہِیدًا بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ إِنْ کُنَّا عَنْ عِبَادَتِکُمْ لَغَافِلِینَ)۔(تشریحی نوٹ: مندر جہ بالا جملے میں لفظ ”ان“ اصطلاح کے مطابق ثقیلہ سے خفیفہ ہے اور تاکید کے لیے ہے اور جملے کا معنی یہ ہے:۔ اننا عن عبادتکم لغافلین۔ یعنی ہم یقینا تمہاری عبادت سے غافل تھے)۔ یہ کہ زیر نظر آیت میں بتوں اور شرکاء سے کون سے معبود مراد ہیں اور یہ کہ وہ کس طرح ایسی گفتگو کریں گے، اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ مراد انسانی اور شیطانی معبود ہیں یا پھر یہ فرشتوں میں سے ہیں کہ جو عقل و شعور رکھتے ہیں لیکن اس کے باجود انھیں یہ خبر نہیں ہے کہ کوئی گروہ ان کی عبادت کرتا ہے کیونکہ یاتووہ ان کی غیبت میں ایسی عبادت کرتے تھے اور یا ان کی موت کے بعد ان کی عبادت کی گئی ہے (جیسے بعض انسانوں کی موت کے بعد ان کی عبادت کی گئی ہے)۔ لہٰذا ان کی یہ گفتگو بالکل فطری اور طبعی ہو گی اس احتمال کی بناء پر یہ آیت سورہٴ سبا کی آیہ ۴۰ کی طرح ہو گی، جس میں ارشاد فرمایا گیا ہے: ویوم یحشرھم جمیعاً ثم یقول للملائکة اَھولاء ایاکم کانوا یعبدون وہ دن کہ جس میں خدا سب کو محشور کرے گا۔ اس کے بعد فرشتوں سے کہے گا ! کیا یہ لوگ تمہاری ہی عبادت کرتے تھے۔ دوسرا احتمال ہے کہ جسے بہت سے مفسرین نے ذکر کیا ہے یہ ہے کہ اس روز خدا تعالیٰ بتوں کو زندگی اور شعور عطا کرے گا اس طرح سے کہ وہ حقائق بیان کر سکیں گے مندرجہ بالا جملہ کہ جو بتوں کی زبانی نقل ہوا ہے کہ وہ خدا گواہ بنائیں گے وہ عبادت کرنے والوں کی عبادت سے غافل تھے اس سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے کیونکہ پتھر اور لکڑی کے بت بالکل کسی چیز کو نہیں سمجھتے۔ آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ یہ تمام معبودوں کے لیے ہے البتہ جو معبود عقل و شعور رکھتے ہیں وہ اپنی زبان سے حقیقت بیان کریں گے لیکن جو معبود عقل و شعور نہیں رکھتے وہ زبان حال اور آثارِ عمل کے ذریعے بات کریں گے بلکہ اسی طرح جیسے ہم کہتے ہیں کہ تیرے چہرے کی رنگت تیرے اندر کی بات کر رہی ہے۔ قرآن بھی سورہٴ فصلت آیہ ۲۱ میں کہتا ہے: انسانی جلد اور چمڑے عالمِ قیامت میں گفتگو کریں گے۔ اسی طرح سورہٴ زلزال میں کہتا ہے: وہ زمینیں جن پر انسان زندگی بسر کرتا ہے، حقائق بیان کریں گی۔ یہ معاملہ دور حاضر میں کوئی پیچیدہ مسئلہ نہیں ہے جب کہ ایک بے زبان ٹیپ ہماری تمام باتوں کو ریکارڈ کرتی ہے اور ضرورت کے وقت بیان کرتی ہے لہٰذا تعجب کا مقام نہیں کہ بت بھی اپنی عبادت کرنے والوں کی حقیقت کو ظاہر کریں۔ بہرحال، اس دن، اس جگہ یا اس حالت میں جیسا کہ قرآن زیر نظر آخری آیت میں کہتا ہے: ہر شخص اپنے انجام دئے گئے اعمال کا نتیجہ دیکھے گا بلکہ خود انہیں دیکھے گا چاہے وہ عبادت کرنے والا ہو یا گمراہ معبود کہ جو لوگوں کو اپنی عبادت کی دعوت دیتا تھا، چاہے مشرک ہو یا مومن اور چاہے کسی گروہ یا کسی قبیلے سے ہو (ھُنَالِکَ تَبْلُو کُلُّ نَفْسٍ مَا اَسْلَفَتْ)۔ ”اور اس دن سب کے سب اللہ کی طرف پلٹ جائیں گے جو ان کا حقیقی مولا اور سرپرست ہے اور قیامت کی عدالت میں ظاہر ہو جائے گا کہ حکومت صرف اس کے زیر فرمان ہے“ (وَرُدُّوا إِلَی اللهِ مَوْلَاھُمْ الْحَقِّ)۔”آخر کا ر تمام بت اور جعلی معبود کہ جنہیں وہ غلط طور پر خدا کا شریک قرار دے چکے تھے گم اور نابود ہو جائیں گے“ (وَضَلَّ عَنْھُمْ مَا کَانُوا یَفْتَرُونَ)۔ کیونکہ وہ بندوں کے اسرار نہاں کے ظہور کا میدان ہے اور کوئی حقیقت ایسی نہیں رہے گی کہ جو اپنے آپ کو شکار نہ کر دے۔ وہاں اصولی طور پر ایسی صورتحال ہے کہ نہ سوال کی ضرورت ہے نہ گفتگو کی بلکہ کیفیت حالات ہر چیز کی ترجمانی کرے گی اور بات چیت کی ضرورت نہیں ہو گی۔

31
10:31
قُلۡ مَن يَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ أَمَّن يَمۡلِكُ ٱلسَّمۡعَ وَٱلۡأَبۡصَٰرَ وَمَن يُخۡرِجُ ٱلۡحَيَّ مِنَ ٱلۡمَيِّتِ وَيُخۡرِجُ ٱلۡمَيِّتَ مِنَ ٱلۡحَيِّ وَمَن يُدَبِّرُ ٱلۡأَمۡرَۚ فَسَيَقُولُونَ ٱللَّهُۚ فَقُلۡ أَفَلَا تَتَّقُونَ
کہہ دو: کون تمہیں آسمان وزمین سے روزی دیتا ہے یا کون کان اور آنکھوں کا مالک (اورخالق) ہے اور کون زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور کون (دنیا کے) امور کی تدبیر کرتا ہے، جلد ہی وہ (جواب میں ) کہیں گے: اﷲ تو کہو کہ پھر کیوں تقویٰ اختیار نہیں کرتے ہو؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔

32
10:32
فَذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمُ ٱلۡحَقُّۖ فَمَاذَا بَعۡدَ ٱلۡحَقِّ إِلَّا ٱلضَّلَٰلُۖ فَأَنَّىٰ تُصۡرَفُونَ
اور یہ ہے تمہارااﷲ، تمہارا حقیقی پروردگار، تو اس صورت میں حق کے بعد گمراہی کے علاوہ کچھ ہے؟پس (کیوں اس کی عبادت سے) رخ پھیرتے ہو؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔

33
10:33
كَذَٰلِكَ حَقَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى ٱلَّذِينَ فَسَقُوٓاْ أَنَّهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ
اس طرح سے تیرے پروردگار کا حکم فاسقوں پر مسلم ہوا ہے کہ وہ (اس سرکشی اور گناہ کے بعد) ایمان نہیں لائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ان آیات میں وجودہ پروردگار کی نشانیوں اور اس کے لائق عبودیت ہونے کے بارے میں گفتگو ہے اور اس سلسلے میں گذشتہ مباحث جاری ہیں۔ پہلے فرمایا گیا ہے: مشرکین اور بت پرست کہ جو راہ روہی میں سر گر داں ہیں ان سے کہہ دو: کون تمہیں آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہے“(قُلْ مَنْ یَرْزُقُکُمْ مِنْ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ)۔ ”رزق“ لگاتار اور دائمی عطا اور بخشش کے معنی میں ہے اور چونکہ تمام نعمتیں بخشنے والا درحقیقت خدا ہے۔ لہٰذا ”رزق“ اور "رازق“ کے الفاط حقیقی معنی کے لحاظ سے صرف اسی کے لیے بولے جاتے ہیں اور اگر اس کے علاوہ کسی اور کے لیے استعمال ہوں تو بلا شبہ مجاز کے حوالے سے ہوں گے جیسا کہ سورہٴ بقرہ کی آیت ۲۳۳ میں دودھ پلانے والی عورتوں کے بارے میں ہے: و علی مولودلہ رزقھن و کسوتھن بالمعروف۔ باپ پر فرض ہے کہ جو عورتیں اس کی اولاد کو دودھ پلائیں انھیں مناسب رزق دے اور لباس پہنائے۔ یہ نکتہ بھی یاد رکھنا چاہئیے کہ انسا ن کی زیادہ تر روزی آسمان سے مربوط ہے۔ حیات بخش بارش آسمان سے برستی ہے۔ ہوا جو کہ تمام زندہ موجودات کی ضرورت ہے وہ بھی زمین کے اوپر ہے اور سب سے زیادہ اہم سورج کی روشنی ہے کہ جس کے بغیر زمین پر کوئی موجود زندہ نہیں رہ سکتا اور جس کے بغیر ساری زمین پر کوئی حرکت و جنبش نہیں ہو سکتی، اس روشنی کا تعلق بھی آسمان سے ہے۔ یہاں تک کہ جو جانور دریاوں کی گہرائی میں ہیں وہ بھی نور آفتاب ہی کی بدلت زندہ ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے بہت سوں کی غذا بہت ہی چھوٹ نباتات ہیں کہ جو سمندر کی سطح پر موجوں کے درمیان سورج کی روشنی پڑنے سے ہی نشوونما حاصل کرتے ہیں۔ لیکن زمین صرف اپنے نباتات کو غذا دیتی ہے شاید اسی بنا پر مندرجہ با لاآیت میں پہلے آسمان سے روزی مہیا کیے جانے کا تذکرہ ہے اور بعد میں زمین سے (درجہ اہمیت کے فرق کے ساتھ)۔ اس کے بعد حواسِ انسانی میں سے دو اہم ترین کا ذکر کیا گیا ہے جن کے بغیر انسان علم حاصل نہیں کر سکتا۔ ارشاد ہوتا ہے: اور کہہ دو کہ کان اور آنکھوں کا خالق، مالک اور انسان کے ان دو حواس کو قدرت دینے والا کون ہے (اَمَّنْ یَمْلِکُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ)۔ درحقیقت، اس آیت میں پہلے تو مادی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے اور اس کے بعد معنوی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے جن کے بغیر مادہ نعمتیں اپنا مقصد کھو دیتی ہیں۔ لفظ ”سمع“ مفرد (اور کان کے معنی میں ہے) اور ”ابصار“، ”بصر“ کی جمع ہے، بینائی اور آنکھ کے معنی میں ہے یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ”سمع“ قرآن میں تمام جگہوں پر مفرد آیا ہے جب کہ ”بصر“ کبھی جمع کی صورت میں آیا ہے کبھی مفرد، آخر اس کی کیا وجہ ہے؟؟ اس سوال کا جواب جلد اول ص ۱۰۱(اردو ترجمہ) پر پیش کیا جا چکا ہے۔ اس کے بعد دو ظاہر ہونے والی چیزیں یعنی موت و حیات کا ذکر ہے جو کہ عالم خلقت کی عجیب و غریب چیزیں ہیں، ارشاد ہوتا ہے: اور کون ہے جو زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے (وَمَنْ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنْ الْمَیِّتِ وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنْ الْحَیِّ)۔ یہ وہی موضوع ہے کہ جس میں ابھی تک طبیعی علوم کے ماہرین اور حیات شناس لوگوں کی عقل حیران و پریشان ہے کہ ایک بے جان چیز سے ایک زندہ موجودہ کس طرح وجود میں آتا ہے۔ کیا ایسی چیز جس کے بارے میں علماء اور سائنس دانوں کی مسلسل کوشش ابھی تک کسی مقام تک نہیں پہنچی۔ ایک معمولی، اتفاقیہ، بغیر ہدایت کے رونما ہونے والی حادثاتی اور بلا مقصد طبیعی ہو سکتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ظاہر ہونے والی پیچیدہ، ظریف اور آثار آمیز زندگی حد سے زیادہ علم و قدرت اور عقلِ کلی کی محتاج ہے۔ اس نے نہ صرف ابتداء میں زندہ کو زمین کی بے جان موجودات سے پیدا کیا ہے بلکہ اس کی سنت یہ رہی ہے کہ زندگی بھی جاودانی نہ ہو۔ اس بنا پر اس نے موت کو زندگی کے دل میں پیدا کیا ہے تاکہ اس طریقے سے تغیر و تکامل کے لیے مید ان کھلا رکھے۔ مندرجہ بالا آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ آیت مادی موت و حیات کے علاوہ معنوی موت و حیات کے بارے میں بھی ہے کیونک ہم دیکھتے ہیں کہ کبھی گمراہ اور بےایمان ماں باپ سے ایک ہوش مند، پاک دامن اور با ایمان انسان پیدا ہو جاتا ہے اور اس کے برعکس، بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ قانونِ وراثت کے بر خلاف نہایت لائق اور با وقار انسان سے بے وقعت اور مردہ انسان وجود میں آتے ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر برہان ج،۱ ص ۵۴۳، سورہ انعام کی آیت ۹۵کے ذیل میں متعدد روایات کے حوالے سے یہ مضمون ذکر کیا گیا ہے)۔ البتہ اس میں کوئی مانع نہیں کہ زیر نظر آیت دونوں قسموں کی موت و حیات کی طرف اشارہ ہو کیونکہ دونوں ہی عجائبِ آفرینش اور عالم کے تعجب انگیز مظاہرہ میں سے ہیں اور اس سے یہ حقیقت واضح ہو تی ہے کہ طبیعی عوامل و حکیم خالق کا دستِ قدرت کا ر فرما ہے۔ اس کے بارے میں جلد ۳۔ص٤۳٢ (اردو ترجمہ) سورہ انعام کی آیہ ۹۵ کے ذیل میں ہم کچھ دیگر توضیحات بھی ذکر کر چکے ہیں۔ اس کے بعد قرآن کہتا ہے: کون ہے جو اس جہان کے امور کی تدبیر کرتا ہے (وَمَنْ یُدَبِّرُ الْاٴمْرَ)۔ درحقیقت پہلے تو نعمات کی خلقت و آفرینش کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے اور اس کے بعد ان کے محافظ، نگہبان اور مدبر کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ ان تین سوالات کو پیش کرنے کے بعد قرآن بلا فاصلہ کہتا ہے: وہ فوراً ہی جواب میں کہیں گے ”اللہ“ اس جملے سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ جاہلیت کے مشرکین اور بت پرست بھی عالم ہستی کا خالق، رازق، حیات بخش اور مدبر امور اللہ ہی کو جانتے ہیں اور وہ اس حقیقت کو طریق عقل اور راہ فطرت سے جان چکے تھے کہ یہ نظام اور حساب شدہ جہان بے نظمی کی پید اوار یابتوں کی مخلوق نہیں ہو سکتا۔ آیت کے آخر میں پیغمبر اکرمؐ کو حکم دیا گیا ہے: ان سے کہہ دو کہ کیا اس حالت میں تم تقویٰ اختیار نہیں کرتے ہو(فَقُلْ اَفَلاَتَتَّقُونَ)۔ صرف وہ ذات پرستش کے لائق ہے جس کے ہاتھ میں دنیا کی خلقت و تدبیر ہے۔ اگر عبادت معبود کی اہلیت اور عظمت کی بنا پر کی جائے تو پھر یہ اہلیت، لیاقت اور عظمت صرف خدا میں پائی جاتی ہے اور اگر اس بناء پر کی جائے کہ معبود سود زیاں کا سرچشمہ ہے تو یہ بھی خدا کے ساتھ مخصوص ہے۔ آسمان و زمین میں خداکی عظمت و تدبیر کے کچھ آثار ذکر کرنے کے بعد اور مخالفین کے وجدان و عقل کو دعوت دینے کے بعد جب وہ اعتراف کر چکے تو اگلی آیت میں قطعی لب و لہجہ کے اختیار کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: یہ ہے خدا تمہارا برحق پروردگار (فَذَلِکُمْ اللهُ رَبُّکُمْ الْحَقُّ)۔ نہ کہ بت اور دوسرے موجودات کہ جنہیں تم خدا کی عبودیت میں شریک قرار دیتے ہو اور ان کے سامنے سجدہ کرتے ہو اور ان کی تعظیم کرتے ہو۔ وہ کس طرح عبودیت کے لائق ہو سکتے ہیں حالانکہ یہی نہیں کہ وہ تخلیق و تدبیر جہان میں شریک نہیں ہو سکتے بلکہ خود بھی سر تا پا محتاج ہیں۔ اس کے بعد نتیجتاً فرمایا گیا ہے: اب جب کہ حق کو واضح طور پر پہچان چکے ہو۔ تو کیا حق کے بعد گمراہی کے علاوہ کچھ رہ جاتا ہے (فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلاَّ الضَّلَالُ)۔ اس کے باوجود کیوں تم خدا کی عبادت اور پرستش سے منہ پھیرتے ہو حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ معبود برحق اس کے علاوہ کوئی نہیں (اَنَّی تُصْرَفُونَ)۔ یہ آیت درحقیقت باطل کی شناخت اور اسے ترک کرنے کے لیے ایک واضح منطقی راستہ بتاتی ہے اور وہ یہ کہ پہلے تو حق کی پہچان کے لیے عقل سے کام لینا چاہئیے اور جب حق کو پہچان لیا جائے تو جو کچھ اس کے مخالف ہے وہ باطل اور گمراہی ہے اور اس سے کنارہ کشی کرنا چاہئیے۔ آخری آیت میں یہ نکتہ بیان کرنے کے لیے کہ وہ لوگ مطلب واضح اور حق آشکار ہو جانے کے باوجود کیوں اس کے پیچھے نہیں جاتے، قرآن کہتا ہے: اسی طرح خدا کا فرمان ان افراد کے بارے میں کہ جو جان بوجھ کر اور عقل کے خلاف چلتے ہوئے اطاعت سے رخ پھیرتے ہیں، صادر ہوا ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے (کَذَلِکَ حَقَّتْ کَلِمَةُ رَبِّکَ عَلَی الَّذِینَ فَسَقُوا اَنّھُمْ لاَیُؤْمِنُونَ)۔(تشریحی نوٹ: کاف تشبیہ یہاں ایک مطلب کی طرف اشارہ ہے کہ جو گذشتہ آیت کے آخری جملے میں ذکر ہوا ہے اور آیت کا معنی اس طرح ہے (انہ لیس بعد الحق الا الضلال کذٰلک حقت کلمة ربک)یعنی پہلے حق کے بعد گمراہی کے سوا کچھ نہیں ہے اسی طرح خدا کا حکم صادر ہو چکا ہے)۔ حقیقت میں یہ ان کے مسلسل غلط اعمال کی خاصیت ہے کہ جو ان کے دل کو اس طرح سے تاریک اور ان کی روح کو اس طرح سے آلودہ کر دیتی ہے کہ حق کے واضح اور روشن ہونے کے باوجود اسے نہیں دیکھتے اور بے راہ روی اختیار کرتے ہیں۔ اس بناء پر مندرجہ بالا آیت کسی طرح سے بھی مسئلہ جبر پر دلالت نہیں کرتی بلکہ انسان کے خود اپنے اعمال کی طرف اشارہ ہے لیکن اس میں شک نہیں کہ ان اعمال میں یہ خصوصیت فرمان الہٰی سے ہے۔ یہ بالکل اس طرح ہے جیسے ہم کسی سے کہیں کہ ہم نے تجھے سو مرتبہ کہا ہے کہ نشہ آور چیزوں اور شراب کے پیچھے نہ جاوٴ، اب جب کہ تونے کان میں نہیں دھرے اور ان کا سخت عادی ہو چکا ہے تو اب تیرے لیے یہی حکم ہے کہ مدتوں بدبختی میں رہے۔

34
10:34
قُلۡ هَلۡ مِن شُرَكَآئِكُم مَّن يَبۡدَؤُاْ ٱلۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥۚ قُلِ ٱللَّهُ يَبۡدَؤُاْ ٱلۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥۖ فَأَنَّىٰ تُؤۡفَكُونَ
کہہ دو ! کیا تمہارے معبودوں میں سے کوئی مخلوق کو ایجاد کر سکتا ہے اور پھر اسے پلٹا سکتا ہے؟ کہہ دو! صرف خدا نے مخلوق کو پیدا کیا ہے اور پھر واپس پلٹائے گا، اس کے باوجود حق سے کیوں روگرداں ہوتے ہو؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

35
10:35
قُلۡ هَلۡ مِن شُرَكَآئِكُم مَّن يَهۡدِيٓ إِلَى ٱلۡحَقِّۚ قُلِ ٱللَّهُ يَهۡدِي لِلۡحَقِّۗ أَفَمَن يَهۡدِيٓ إِلَى ٱلۡحَقِّ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لَّا يَهِدِّيٓ إِلَّآ أَن يُهۡدَىٰۖ فَمَا لَكُمۡ كَيۡفَ تَحۡكُمُونَ
کہہ دو! کیا تمہارے معبودوں میں سے کوئی حق کی طرف ہدایت کرتا ہے؟ کہہ دو صرف خدا حق کی ہدایت کرتا ہے۔ کیا وہ جو حق کی ہدایت کرتا ہے پیروی کے زیادہ لائق نہیں ہے یا وہ کہ جسے ہدایت نہ کی جائے تو وہ خودہدایت حاصل نہیں کرسکتا؟ تمہیں کیا ہو گیا ہے تم کس طرح فیصلہ کرتے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

36
10:36
وَمَا يَتَّبِعُ أَكۡثَرُهُمۡ إِلَّا ظَنًّاۚ إِنَّ ٱلظَّنَّ لَا يُغۡنِي مِنَ ٱلۡحَقِّ شَيۡـًٔاۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمُۢ بِمَا يَفۡعَلُونَ
اور ان میں سے اکثر سوائے گمان (اور بے بنیاد خیالات) کے کسی چیز کی پیروی نہیں کرتے (حالانکہ) گمان کبھی انسان کو حق سے بے نیاز نہیں کرتااور جو کچھ تم انجام دیتے ہو اللہ اس سے باخبر اور آگاہ ہے۔

حق و باطل کی ایک پہچان

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ان آیات میں بھی مبداء اور معاد سے مربوط استدلالات کا سلسلہ جاری ہے۔ پہلی آیت میں پیغمبر اکرمؐ کو حکم دیا گیا ہے: ان سے کہہ دو کہ تمہارے معبودوں کہ جنہیں تم خدا کا شریک قرار دیتے ہو میں سے کوئی ہے جو عالم آفرینش کو ایجاد کرکے پھر لوٹا سکتا ہے (قُلۡ ہَلۡ مِنۡ شُرَکَآئِکُمۡ مَّنۡ یَّبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ)۔ اس کے بعد مزیدکہتا ہے: کہہ دو کہ خدانے عالم ِ آفرینش کو پیدا کیا ہے اور پھر اسے لوٹا ئے گا (قُلْ اللهُ یَبْدَاُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُہ)۔”اس کے باوجود حق سے کیوں رو گردانی کرتے ہو اور بے راہ روی میں سرگرداں ہو“ (ُفَاَنَّی تُؤْفَکُون)۔ یہاں دو سوال سامنے آتے ہیں: پہلا یہ کہ مشرکین عرب عام طور پر معاد اور قیامت کا عقیدہ خصوصاً جیسے قرآن کہتا ہے، نہیں رکھتے تھے اس کے باوجود قرآن ان سے کیونکہ اعتراف چاہتا ہے۔ دوسرا یہ کہ گذشتہ آیت میں مشرکین کے اعتراف کا ذکر تھا لیکن یہاں پیغمبرؐ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ اس حقیقت کا اعتراف کرو تعبیر کا یہ فرق کیوں ہے؟ لیکن ایک نکتہ کی طرف توجہ کرنے سے دونوں سوالوں کا جواب واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ مشرکین معاد (معاد جسمانی) کا عقیدہ نہیں رکھتے تھے ان کا بس یہ اعتقاد تھا کہ خلقت کی ابتداء خدا کی طرف سے ہے اور یہی بات معاد کو تسلیم کرنے کے لیے کافی ہے کیونکہ جس نے ابتداء کی ہے وہ اعادہ بھی کر سکتا ہے لہٰذا مبداء کے عقیدہ پرتھو ڑا سا بھی غور و فکر کیا جائے تو اس سے معاد کا عقیدہ ثابت ہو جاتا ہے۔ یہاں سے واضح ہو جا تا ہے کہ کس بناء پر مشرکین کی بجائے پیغمبرؐ اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کیونکہ اگرچہ معاد پر ایمان مبداء کے لیے ایمان کے لوازمات میں سے ہے لیکن چونکہ وہ اس لزوم کی طرف متوجہ نہیں تھے لہٰذا طرزِ تعبیر بدل گئی اور پیغمبرؐ نے ان کی جگہ اعتراف کیا۔ دوبارہ پیغمبر اکرمؐ کو حکم دیا گیا ہے: ان سے کہہ دو کہ کیا کوئی تمہارے جعلی معبودوں میں سے حق کی طرف ہدایت کر سکتا ہے (قُلْ ھَلْ مِنْ شُرَکَائِکُمْ مَنْ یَھْدِی إِلَی الْحَقِّ)۔کیونکہ معبود کو اپنی عبادت کرنے والوں کا رہبر ہو نا چاہئیے اور رہبری بھی حق کی طرف کرنا چاہیئے۔ حالانکہ مشرکین کے معبود چاہے وہ بے جان بت ہوں یا جاندار، کوئی بھی یہ طاقت نہیں رکھتا کہ ہدایت الہٰی کے بغیر حق کی طرف رہبری کر سکے کیونکہ حق کی طرف ہدا یت کرنا مقامِ عصمت اور خطاہ و اشتباہ سے محفوظ ہونے کا مقام ہے اور یہ خدا کی ہدایت اور حمایت کے بغیر ممکن نہیں ہے، لہٰذا بلافاصلہ مزید فرمایا گیا ہے: کہہ دو کہ صرف خدا ہی حق کی طرف ہدایت کرتا ہے (قُلْ اللهُ یَھْدِی لِلْحَقِّ)۔تو ایسے میں ”کیا وہ جو حق کی طرف ہدایت کرتا ہے پیروی کے زیادہ لائق ہے یا وہ کہ جس کی ہدایت اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک کہ اسے ہدایت کی نہ جائے (اَفَمَنْ یَھْدِی إِلَی الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُتَّبَعَ اَمَّنْ لاَیَھِدِّی إِلاَّ اَنْ یُھْدَی)۔ (تشریحی نوٹ: "یَھْدِی"اصل میں"یھتدی" تھا اور "تا" اس میں " دال " سے بدل کر "دال" میں مدغم ہو گئی ہے۔) آیت کے آخر میں سرزنش کے انداز میں اور جھنجوڑتے ہوئے فرمایا گیا ہے: تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ کس طرح کا فیصلہ کرتے ہو (فَمَا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُونَ)۔ زیر نظر آخری آیت میں ان کے انحراف کی بنیا داور سرچشمہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ان میں سے اکثر خیال اور گمان کے سوا کسی چیز کی پیروی نہیں کرتے جبکہ خیال اور گمان کبھی بھی انسان کو نہ حق سے بے نیاز کر سکتا ہے اور نہ حق تک پہنچا سکتا ہے (وَمَا یَتَّبِعُ اَکْثَرُھُمْ إِلاَّ ظَنًّا إِنَّ الظَّنَّ لاَیُغْنِی مِنْ الْحَقِّ شَیْئًا)۔ جو لوگ کسی منطق اور حساب کتاب کے تابع نہیں، آیت کے آخر میں انھیں تہدید آمیز لہجے میں کہا گیا ہے: جو کچھ وہ انجام دیتے ہیں، خدا اس کا عالم اور جاننے والا ہے (إِنَّ اللهَ عَلِیمٌ بِمَا یَفْعَلُونَ)۔

چند اہم نکات

۱۔ ”خدا ہی حق کی طرف ہدایت کرتا ہے“۔ مندرجہ بالا آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ صرف خدا حق کی ہدایت کرتا ہے یہ انحصار یا تو اس بناء پر ہے کہ ہدایت کے مراد راستہ دکھا نا نہیں ہے بلکہ مقصد تک پہنچا نا بھی ہے اور یہ کام صرف خدا کے ہاتھ میں ہے اور یا اس بناء پر ہے کہ راستہ دکھا نا اور اس کی نشاندہی کرنا بھی پہلے درجے میں خدا ہی کا کام ہے اور اس کے غیر یعنی انبیاء الہٰی اور ہادیان بر حق صرف اس کے طریق ہدایت سے ہدایت کے راستوں سے آگاہ ہوتے ہیں اور اس کی تعلیم سے عالم ہوتے ہیں۔ ۲۔ مشرکین کے معبود خود ہدایت کے محتاج ہیں: یہ جو زیر بحث آیات میں آیا ہے کہ مشر کین معبود نہ صر ف کسی کو ہدایت نہیں کر سکتے بلکہ خود بھی ہدا یت الٰہی کے محتاج ہیں اگر پتھر اور لکڑی کے بتوں کے بارے میں صادق نہیں آتا کیونکہ وہ تو بالکل شعور نہیں رکھتے تھے لیکن صاحب شعور معبودوں کے بارے میں مثلاً جن فرشتوں اور انسانوں کو معبود قرار دیا گیا ہے پرمکمل طور پر صادق آتا ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ مذکورہ جملہ ایک قضیہ شرطیہ کے معنی میں ہو یعنی فرض کریں کہ بت عقل و شعور رکھتے ہوتے تو خدائی راہنمائی کے بغیر خودراہ تلاش نہ کر سکتے چہ جائیکہ دوسروں کی راہنمائی کرتے۔ بہرحال، مندرجہ بالا آیات اچھی طرح سے نشاندہی کرتی ہیں کہ بندوں کے لیے خدا کا ایک طرف سے ہدایت کا ایک بنیادی پروگرام ہے جس کے تحت انھیں حق کی طرف ہدایت کی جاتی ہے اور یہ کام عقل و خرد بخشنے، طریق ِ فطرت سے انھیں مختلف درس دینے، جہانِ خلقت میں اپنی آیات دکھانے اور اسی طرح انبیاء اور آسمانی کتب بھیجنے کے ذریعے عمل پذیر ہوتا ہے۔ ۳۔ بت پرست گمان کی پیروی کرتے ہیں: زیر بحث آخری آیت میں ہم نے پڑھا ہے کہ اکثربت پرست اور مشرک اپنے ظن و گمان کے پیچھے لگے رہتے ہیں۔ یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ یہ کیوں نہیں فرمایا کہ وہ سب کے سب ایسے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ تمام بت پرست اس گمان باطل میں شریک ہیں کہ وہ بتوں کو حقیقی معبود، نفع و نقصان کا مالک اور بار گاہ ِ خدا میں شفیع خیال کرتا ہوں۔ اسی بناء پر بعض مجبور ہوئے ہیں کہ لفظ ”اکثر“ سے تمام کے معنی مراد لیں اور ان کا نظر یہ ہے کہ یہ بعض اوقات تمام اور کل کے معنی میں آتا ہے۔ لیکن یہ جواب کوئی زیادہ قابل ِلحاظ نہیں ہے۔بہتر یہ ہے کہ ہم کہیں کہ بت پرست دو طرح کے ہیں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو بیہودہ، نادان اور جاہل ہیں اور غلط سلط خیالات اور گمانوں کے زیر اثر رہتے ہیں اور انھوں نے بتوں کو پرستش کے لیے منتخب کر رکھا ہے جب کہ اقلیت میں وہ بت پرست ہیں جو سیاہ دل اور آگاہ ہیں اور اکثریت کے رہبر و راہنما ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بت پرستی کے لیے بے بنیاد ہونے کو جاننے کے باوجود اپنے مفادات کے لیے لوگوں کو بتوں کی طرف دعوت دیتے ہیں لہٰذ اخدا صرف پہلے گروہ کو جواب دیتا ہے کیونکہ وہ قابل ہدایت ہیں۔ لیکن دوسرا اگر وہ جو جان بوجھ کر غلط راستے چل رہے اسے بالکل قابلِ اعتناء قرار نہیں دیتا۔ ۴۔ علماء اصول کی ایک بحث: کچھ علماء اصول زیر نظر آیت اور اس قسم کی آیا ت کو اس امر کی دلیل سمجھتے ہیں کہ ظن اور گمان کسی طرح حجت اور سند نہیں بن سکتے اور صرف قطعی دلائل پر ہی اعتماد کیا جا سکتا ہے لیکن بعض دیگر علماء کہتے ہیں کہ فہقی دلائل میں ہمارے پاس بہت سے ظنی دلائل ہیں (مثلاً الفاظ کے ظواہر کا حجت ہونا، دو عادل گواہوں کی گواہی ی اخبر واحد ثقہ اور اس قسم کے دیگر دلائل) وہ کہتے ہیں کہ زیر نظر آیت اس امر کی دلیل ہے کہ اصلی قاعدہ کے مطابق ظن حجت نہیں ہے مگر یہ کہ کسی ظن کا حجت ہو نا قطعی دلیل سے ثابت ہو جائے، جیسے مذکورہ چند مثالوں کے بارے میں ہے۔ مگر ــــــــــــــ انصاف یہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت صرف بے اساس خیالات اور بے ہودہ گمانوں کے بارے میں بات کر رہی ہے جیسے بت پرستوں کے گمان۔ اس آیت کا تعلق اس ظن سے نہیں جو عقلاء کے نزدیک قابل ِ اعتماد ہے لہٰذا مندرجہ بالا آیت اور اس طرح کی دیگر آیات سے ظن کے حجت نہ ہونے کے بارے میں سند پیش نہیں کی جا سکتی۔ (غور کیجئے گا)

37
10:37
وَمَا كَانَ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانُ أَن يُفۡتَرَىٰ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَٰكِن تَصۡدِيقَ ٱلَّذِي بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَتَفۡصِيلَ ٱلۡكِتَٰبِ لَا رَيۡبَ فِيهِ مِن رَّبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
مناسب نہیں (اور ممکن نہ تھا) کہ بغیر وحی الٰہی کے اس قرآن کی نسبت خدا کی طرف دی جائے۔ لیکن (آسمانی کتب میں سے) جو کچھ موجود ہے یہ اس کی تصدیق ہے اور اس کی تفصیل ہے اور اس میں شک نہیں کہ عالمین کے پروردگار کی طرف سے ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

38
10:38
أَمۡ يَقُولُونَ ٱفۡتَرَىٰهُۖ قُلۡ فَأۡتُواْ بِسُورَةٖ مِّثۡلِهِۦ وَٱدۡعُواْ مَنِ ٱسۡتَطَعۡتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
وہ کہتے ہیں کہ اس نے قرآن کو خدا کی طرف جھوٹی نسبت دی ہے کہہ دو کہ اگر سچ کہتے ہو تو اس جیسی ایک سورت ہی لے آؤ اور خدا کے علاوہ جسے چاہتے ہو(اپنی مدد کے لئے) بلالو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

39
10:39
بَلۡ كَذَّبُواْ بِمَا لَمۡ يُحِيطُواْ بِعِلۡمِهِۦ وَلَمَّا يَأۡتِهِمۡ تَأۡوِيلُهُۥۚ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۖ فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلظَّـٰلِمِينَ
(وہ علم ودانش کی بناء پر قرآن کا انکار نہیں کرتے) بلکہ وہ ایسی چیز کی تکذیب کرتے ہیں جس سے آگاہی نہیں رکھتے اور ابھی تک اس کی حقیقت ان کے لئے واضح نہیں ہوئی اسی طرح سے ان سے پہلے لوگوں نے بھی تکذیب کی تھی۔ پس دیکھو کہ ظالموں کا انجام کیا ہوا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

40
10:40
وَمِنۡهُم مَّن يُؤۡمِنُ بِهِۦ وَمِنۡهُم مَّن لَّا يُؤۡمِنُ بِهِۦۚ وَرَبُّكَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُفۡسِدِينَ
اور ان میں سے بعض اس پر ایمان لے آتے ہیں اور بعض ایمان نہیں لاتے اور تیرا پروردگار فساد کرنے والوں سے زیادہ باخبر اور آگاہ ہے۔

دعوتِ قرآن کی عظمت اور حقانیت

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

یہ آیات مشرکین کی کچھ ناروا باتوں کا جواب دے رہی ہیں۔ کیونکہ وہ صرف مبداء کی پہچان کے بارے میں انحراف اور کجروی کا شکار نہ تھے بلکہ پیغمبر اسلامؐ پر بھی افتراء باندھتے تھے کہ انھوں نے قرآن خود اپنی فکر و نظر سے بنا کر خدا کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ اسی لیے ہم نے گذشتہ آیات میں پڑھا ہے کہ وہ رسول اللہ سے تقاضا کرتے تھے کہ اس کے علاوہ کوئی اور قرآن لے ا آئیں یا پھر کم از کم اس میں رد و بدل کر دیں۔ان کا یہ تقاضا خو د اس امر کی دلیل ہے کہ وہ قرآن کو فکر پیغمبر کی تخلیق خیال کرتے تھے۔ زیر بحث پہلی آیت میں فر ما یا گیا ہے: مناسب نہیں کہ وحی الہٰی کے بغیر اس قرآن کی خدا کی طرف نسبتدی جائے (وَمَا کَانَ ھَذَا الْقُرْآنُ اَنْ یُفْتَرَی مِنْ دُونِ اللهِ)۔ یہ بات جاذب نظر ہے کہ سادہ نفی کی بجائے مناسبت کی نفی کی گئی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ سادہ نفی کی بجائے ایسی تعبیر زیادہ رسا اور عمدہ ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص اپنا دفاع کرتے ہوئے کہے کہ یہ میری شان کے خلاف ہے کہ میں جھوٹ بولوں۔ ظاہر ہے کہ اس طرح سے کہنا یہ کہنے سے زیادہ پر معنی اور گہرائی کا حامل ہے کہ میں جھوٹ نہیں بولتا۔ اس کے بعد قرآن کی اصالت اور اس کے وحیٴ آسمانی ہونے کی دلیل کے طور پر کہتا ہے: لیکن یہ قرآن اپنے سے پہلے کی کتبِ آسمانی کی تصدیق کرتا ہے (وَلَکِنْ تَصْدِیقَ الَّذِی بَیْنَ یَدَیْہِ)۔یعنی وہ تمام بشارتیں اور حقانیت کی نشانیاں جو گذشتہ آسمانی کتب میں آئی ہیں وہ مکمل طور پر قرآن اور قرآن لانے والے پر منطبق ہوتی ہیں اور یہ امر خود اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ خدا پر تہمت نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے۔ اصولی طور پر قرآن خود ”آفتاب آمد دلیل آفتاب“ کے مصداق اپنے مشمولات کی سچائی پر شاہد ہے۔ یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ کہ وہ لوگ جو اس قسم کی آیات ِ قرآن کے زمانے میں تھیں، تصدیق نہیں کرتابلکہ صرف پیغمبر اکرمؐ اور قرآن کے بارے میں ان کتب میں جو نشانیاں تھیں ان کی تائید کرتا ہے (غور کیجئے گا)۔ اس سلسلے میں مزید توضیحات تفسیر نمونہ جلد اول سورہ بقرہ کی آیت ۴۱۔ کے ذیل میں پیش کی جا چکی ہیں۔ اس کے بعد اس آسمانی و حی کی صداقت کے بارے میں ایک اور دلیل پیش کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اس قرآن میں گذشتہ انبیاء کی اصل کتب کی تشریح، بنیادی احکام اور اصولی عقائد بیان کیے ہیں اور اسی وجہ سے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ پروردگار عالمین کی طرف سے ہے (وَتَفْصِیلَ الْکِتَابِ لاَرَیْبَ فِیہِ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِینَ)۔ دوسرے لفظو ںمیں گذشتہ انبیاء کے پیش کردہ پر گرام سے اس کا کوئی اختلاف نہیں ہے بلکہ اس میں ان تعلیمات اور پروگراموں کی تکمیل کی گئی ہے اور اگر یہ قرآن جعلی ہوتا تو یقینا ان کے مخالف اور متضاد ہوتا۔ یہیں سے معلوم ہوتا ہے، کہ اصولی مسائل میں چاہے وہ دینی عقائد ہوں، یا اجتماعی پروگرام، چاہے حفظ حقوق کے معاملات ہوں یا چاہے جہالت کے خلاف جہاد، حق و عدالت ہو یا اخلاقی اقدار کا احیاء یا اس قسم کے دیگر مسائل، ان کے بارے میں کتب آسمانی میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ سوائے اس کے کہ بعد میں نازل ہونے والی کتاب پہلی کتاب سے بالا تر اور کامل تر سطح کی تھی۔ جیسا کہ تعلیم کی مختلف کلاسیں ہوتی ہیں۔ پرائمری، میٹرک، کالج اور یونیورسٹی میں ایک ہی علم کی کتاب مختلف سطح کی ہوتی ہے۔ اسی طرح آخری آسمانی کتاب امتوں کی دینی تعلیم کے آخری دور کے لیے مخصوص تھی جو کہ قرآن ہے۔ اس میں شک نہیں کہ احکام کی جزئیات اور فروع میں آسمانی مذاہب میں فرق ہے لیکن یہاں ہم ان کے بنیادی اصولی کی بارت کررہے ہیں جو کہ ہر جگہ ہم آہنگ ہیں۔ __________________________ اگلی آیت میں قرآن کی اصالت کے لیے تیسری دلیل پیش کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ کہتے ہیں کہ پیغمبرؐ نے اس قرآن کی خدا کی طرف غلط نسبت دی ہے، ان سے کہہ دو کہ اگر سچ کہتے ہو تو تم بھی اس جیسی ایک سورت لے آوٴ اور خدا کے علاوہ جس سے چاہو مدد طلب کرلو(لیکن تم یہ کام ہرگز نہیں کر سکو گے اور اس سے ثابت ہو جائے گا کہ یہ وحی آسمانی ہے) (اَمْ یَقُولُونَ افْتَرَاہُ قُلْ فَاْتُوا بِسُورَةٍ مِثْلِہِ وَادْعُوا مَنْ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللهِ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِینَ)۔ یہ آیت ان آیات میں سے ہے کہ جو صراحت سے اعجاز قرآن کا ذکر کرتی ہیں اس آیت میں نہ صرف سارے قرآن کے اعجاز کا ذکر ہے بلکہ یہاں تک کہ ایک سورت کے اعجاز کو بیان کیا گیا ہے اور بلا استثناء تمام عالمین کو دعوت دی گئی ہے۔ کہ اگر تم یہ نظریہ رکھتے ہو کہ یہ آیات خدا کی طرف سے نہیں ہیں تو اس قرآن کی مانند یا کم از کم اس کی ایک سورہ کی مثل تم بھی آیات لے آوٴ۔ جیساکہ ہم پہلی جلد میں سورہ بقرہ کی آیہ ۲۳ کے ذیل میں بیان کرآئے ہیں۔ آیاتِ قرآن میں کبھی سارے قرآن کے مقابلے کے لیے چیلنج کیا گیا ہے کبھی دس سورتوں کی دعوت دی گئی اور کبھی ایسی ایک سورت بنا کر لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قرآن کا جز و اور کل سب معجزہ ہے۔ نیز چونکہ کسی معین سورہ کا ذکر نہیں ہوا لہٰذا قرآن کی ہر سورت کے مقابلے کی دعوت اس میں شامل ہے۔ البتہ اس میں شک نہیں کہ قرآن کا اعجاز فصاحت و بلاغت، شیرینیٴ بیان اور عمدورسا تعبیرات میں منحصر نہیں ہے۔ جیسا کہ بعض پہلے مفسرین کا نظریہ ہے کہ بلکہ اس کے علاوہ اس کے دینی معارف، اس وقت تک کشف نہ ہونے والے علوم کا اس میں ذکر، اس کے احکام و قوانین، ہر غلطی اور خرافات سے پاک گذشتہ لوگوں کی تاریخ اور اس میں تضادف و اختلاف کا نہ ہو نا بھی معجزاتی پہلو رکھتے ہیں۔

اعجاز قرآن کا ایک نیا جلوہ

یہ امر جاذبِ توجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اعجاز ِ قرآن کے نئے جلوے آشکار ہوتے ہیں جن کی طرف گذشتہ زمانے مین توجہ نہیں ہو سکتی۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ کمپیوٹر کے ذریعہ الفاظِ قرآن، قرآنی جملوں کی بندش اور ہر سورت کے زمانہ ِ نزول سے ان کے ربط کی نئی نئی خصوصیات سامنے آئی ہیں۔ اس کا ایک نمونہ ہم ذیل میں پیش کرتے ہیں۔ آج کے محققین اور دانشوروں نے تحقیق و جستجو اور جہان بین آیات ِ قرآن کے نہایت پچیدہ باہمی روابط معلوم کیے ہیں۔ اور اس سلسلے مین حیرت انگیز حتمی فارمولے معلوم کیے ہیں۔ اس امر کے یقین کے ساتھ کہ ایسا علمی نظم و نسق قرآن کی عمارت میں موجود ہے کہ اعداد وشمار کی تحقیق و مطالعہ سے اور ریاضی سے دقیق قواعد کے ذریعہ آیاتِ قرآن میں ریاضی کے فارمولوں کے مطابق حسابات اور کامل منحنی خطوط (COMPLETE CUR VES) اور پچیدہ اصول معلوم ہوئے ہیں اور یہ دریافت اتنی اہم ہے کہ زمین کی کشش کے بارے میں نیوٹن کے قانون کی دریافت کی یاد تازہ ہو گئی ہے۔ ایک عظیم قرآن شناش نے اپنے کام کا آغاز اس معمولی مسئلے سے کیا کہ مکہ میں نازل ہونے والی آیات چھوٹی چھوٹی ہیں جب کہ مدینہ میں نازل ہونے والی آیات طویل ہیں۔ یہ ایک فطری سی بات ہے کہ ہر لکھنے اور بولنے والا اپنے جملوں کی طوالت اور الفاظ کا آہنگ موضوع ِ سخن کے اعتبار سے بدلتا ہے۔ توصیفی اور تعریفی مسائل چھوٹے چھوٹے جملوں میں بیان ہوتے ہیں اور تحلیلی و استدالی مسائل طویل جملوں میں بیان کیے جاتے ہیں۔جہاں گفتگو تحریک کے لیے ہو یا انتقادی اور تنقیدی حوالے سے عمومی اصول سے متعلق ہو یا اعتقاد کے حوالے سے کلی اصول بیان کرنا مقصود ہو تو لب و لہجہ شعار اور نعرے کا اختیار کیا جا تا ہے ۔ اور عبارتیں چھوٹی چھوٹی ہوتی ہیں لیکن جہاں کوئی داستان بیان کرنا ہو، کوئی ذکر کرنا ہویا اخلاقی حوالے سے کوئی نتیجہ نکالنا ہو تو لب ولہجہ میں ٹھراؤ ہوتا ہے اور عبارتیں لمبی ہوتی ہیں۔ اور آہنگ میں نرمی ہوتی ہے۔ مکہ میں جو مسائل در پیش تھے وہ پہلی قسم کے تھے اور مدینہ میں پیش آنکے والے معاملات دوسری قسم کے تھے۔ کیونکہ مکہ م ایک تحریک اور انقلاب کی ابتداء تھی۔ وہاں بات اعتقادی اور استقامی حوالے سے کلی اصول کے مطاطق کرنا تھی۔ لیکن مدینہ میں ایک معاشرہ کی بنیاد پڑ گئی تھی۔ یہاں حقوق و اخلاق کے متعلق بات کرنا تھی۔ تاریخی واقعات بیان کرنا تھے اور ان سے فکری و علمی نتائج اخذ کرنا تھے۔ قرآن ایک فطری کلا م ہے لہذا یہ امر نا گزیر ہے کہ یہ بات آسان خوبصورت اور بلیغ طریقے کے مطابق ہواور اس کے نتیجے میں آیات کےاختصار اور طوالت میں بھی مفاہیم کی مناسبت کو ملحوظ رکھے۔ اگر ہم قبول کر لیں کہ قرآن ایک ایسی کتا ب ہے جو فطرت کے بھی مطابق ہے تو پھر اس کا یہ اختصار اور طوات بغیر کسی حساب کتاب کے نہیں ہو سکتھا ایک دقیق علمی قاعدہ کے مطابق اس کی ابتداء مختصر آیات سے ہوئی ہے اور آہستہ آہستہ آیا طویل ہوتی گئی ہیں۔لہذا ہر آیت اگلے برس نازل ہونے والی آیت سے چھوٹی ہے اور کسی ایک برس میں نازل ہونے والی آیت گذشتہ برس نازل ہونے والی آیت سے طویل تر ہے۔ اس طرح سے 23 سال کی مدت میں جو وحی نازل ہوئی ہے آیات کی اوسط طوالت کے لحاظ سے اسے تیئس حصوں میں تقسیم کیاجا سکتا ہے۔ اس قاعدہ کے مطابق تئیس کا لم ہونے چاہئیں کہ جن میں ان آیات کو ان کی طوالت کے لحاظ سے تقسیم کیا جاس کے۔ اب ہیں کیسے معلوم ہو سکتا ہے کہ تقسیم بندی صحیح ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ بعض آیاتِ قرآن کی شانِ نزول معلوم ہے۔ بعض کے سال ِ نزول کو تاریخی روایات نے معین کیا ہے اور صراحت کے ساتھ بتایا ہے کہ وہ کس سال میں نازل ہوئی ہیں۔ اور بعض کو ان کے مفاہیم کے ذریعہ معین کیا جا سکتا ہے۔ مثلا قبلہ کی تبدیلی، حرمت ِشراب، وضع حجاب اور احکام خمس و زکوۃ کے بارےک میں جو آیات ہیں اور اسی طرح کی وہ آیات کہ جن میں ہجرت کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ ہم انتہائی تعجب سے دیکھتے ہیں کہ یہ آیات کہ جن کا سال ِنزول معلوم ہے ٹھیک انہی کالموں میں آتی ہیں جو آیات کی اوسط طوالت کے جدول میں ہر سال کے لحاظ سے خاض طور پر معین کیے گئے ہیں (غور کیجیے گا)۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ اس سلسلے میں دو تین استثنائی مواقع پیدا ہوئے ہیں۔مثلا سورہ مائدہ میں نازل ہونے والی آخری بڑی سورت ہے جبکہ اس کی چند آیات کو فارمولے کے مطابق پہلے سالوں میں نازل ہونا چاہیےتھا۔ تفاسیر اور اسلامی روایات کی تحقیق کے بعدہمیں معتبر مفسرین کے اقوال ملتے ہیں کہ جنہوں نے کہا ہے کہ یہ چند آیات ابتداء میں نازل ہوئی تھیں لیکن تدوین کے لحاظ سے پیغمبرؐ کے حکم کے سے سورہ مائدہ میں موجود ہیں۔ لہذا اس طریقے سے ہر آیت کے سال ِ نزول کیوریاضی کے قاعدے سے متین کیا جا سکتا ہے۔ اور قرآن کی تدوین سالِ نزول کے حساب سے بھی کی جاسکتی ہے۔ دنیا میں کون ایسا خطیب ہے جس کی عبارت کو طوالت سے اسکے ہر جملے کی ادائیگی کے سال کو معین کیا جاس کے خصوصا جب کہ وہ کسی مؤلف کی علمی ادبی کتاب کا متن نہ ہو کہ جسے اس نے ایک معین مدت میں تسلسل کے ساتھ تحریر کیا ہو اور پ؛ھر اسکی زبان پر جاری ہوئی ہو۔ خصوصا جبکہ وہ ایک ایسی کتاب نہ ہو جسے لکھنے والے نے کسی ایک موضوع یا حتی کہ معین شدہ مضامین میں تالیف کیا ہو۔ بلکہ اس میں گوناگوں مسائل ہوں کہ جو تدریجا معاشرے کی ضرورت کے مطابق اور پیش آبے والے سوالات کے جواب میں بیان کیے گئے ہوں۔ایسے مسال جو ایک طویل جدوجہد اور مقابلے کے دوران پیدا ہوئے ہوں اور ایک رہبر کے ذریعے بیان ہوئے ہوں اور پھر انہیں جمع کرکے منظم کیا گیا ہو اور کتابی شکل دی گئی ہو۔(تشریحی نوٹ: نشریہ خلق (یونیورسٹی طلبہ کا نشرہ) بلکہ بعض مفسرین کے بقول قرآن کے مخصوص لغات و الفاظ کی طرز بھی اپنی نوع میں ایک معجزہ ہے۔ انہوں نے اس کے لیے مختلف اورجاذب نظر شواہد پیش کیے ہیں۔ ان میں سے ایک وہ واقعہ ہے جو مشہور مفسر سید قطب کو پیش آیا۔ زیر بحث آیت کے ذیل میں وہ کہتے ہیں کہ میں ان حوادث و واقعات کے بارے میں بات نہیں کرتا جو دوسروں کے پیش آئے صرف وہ واقعہ بیا ن کرتا ہوں جو خود مجھے پیش آیا اور میرے علاوہ اسے دیکھنے والے پانچ افراد اور تھے ہم چھ مسلمان ایک مصری بحری جہاز میں سوار تھے۔ بحری جہاز نیو یارک جانے کےلیے اوقیانوس اطلس کو عبور کررہاتھا جہاز میں کل 120 مسافر تھے جن میں عورتیں بھی تھیں اور مرد بھی تھے اور ہمارےسو امسافروں میں سے کوئی مسلمان نہ تھا۔ جمعہ کے روز ہم نے سوچا کہ نماز جمعہ وسط سمندر میں جہاز کے اوپر ادا کی جائے ہم چاہتے تھے کہ مذہبی فریضہ کی ادائیگی کے علاوہ ایک عیسائی مبلغ کے سامنے اسلامی جراٰت کا مظاہرہ کیا جائے جس نے کشتی میں بھی اپنا تبلیغی پروگرام ترک نہیں کیا تھا اور پھر خصوصا جبکہ ہمیں بھی مسیحیت کی تبلیغ کرنا چاہتا تھا۔ جہاز کا کپتان ایک انگریز تھا اس نے جہاز کے اوپر نماز با جماعت کی ہمیں اجازت دے دی۔ نیز جہاز پر کام کرنے والوں کو بھی ہمارے ساتھ نماز پڑھنے کی اجازت دے دی جو سب افریقی تھے۔ وہ بھی اس واقعہ سے بڑے خو ش ہوئے کیونکہ یہ پہلا موقع تھا کہ جہاز پر نماز جمعہ انجام پارہی تھی۔ میں نماز جمعہ کا خطبہ پڑھنے لگا اور امامت کے لیے تیار ہوا۔ یہ بات جاذب نظر ہے کہ تمام تر غیر مسلم مسافر ہمارے گرد حلقہ باندھ کر کھڑے ہو گئے اور بڑے غور سے اس اسلامی فریضے کی انجام دہی دیکھتے رہے۔ نماز کے اختتام پر ان میں سے بہت سے لوگ ہمارے پاس آئے اور ہمارے اس کام کی تعریف کی۔ ان میں سے ایک خاتون تھی کہ جس کے بارے میں مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ وہ یوگو سلاویہ کی ایک عیسا ئی عورت تھی جو ٹیٹو اور اس کے کمیونزم کے جہنم سے فرار کیے ہوئے تھی۔ وہ ہماری نماز سے بے حد متاثر ہوئے اس حد تک کہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔اور وہ اپنے اوپر کنٹرول نہیں کر پا رہی تھی۔ وہ اپنی عام انگریزی زبا ن میں جو شدید تاثیر اور ایک خاص خضوع و خشوع میں ملی ہوئی تھی، گفتگو کر رہی تھی، اس کی گفتگو کے کچھ الفاظ یہ تھے۔ " بتاو کہ میں دیکھوں کہ تمہار ا کشیش کس زبان میں باتیں کرتا ہے۔ (اس کا خیال تھا کہ یقینا ایسی نماز فقط کشیش یا کوئی عالم ہی قائم کر سکتا ہے۔۔ جیساکہ ہم عیسائیوں کے ہاں نماز ہوتی ہے لیکن ہم نے اسے جلد ہی سمجھا دیا کہ اس اسلام اسلامی پروگرام کو ہر صاحب ایمان مسلمان انجام دے سکتا ہے"۔ آخر میں ہم نے اس سے کہا: ہم تو عربی زبان میں بول رہے تھے۔ وہ کہنے لگی: میں اگرچہ تمہارے مطالب میں سے ایک لفظ بھی نہیں سمجھ پائی تھی تاہم میں نے صراحت سے دیکھا کہ تمہارے الفاظ عجیب و غریب طرز کے تھے۔ اس نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: اور اس کے وہ بات جو زیادہ اہم ہے اور جس نے مجھے بہت زیادہ متوجہ کیا یہ تھی، کہ تمہارے پیش نماز کے خطبے کے دوران کچھ جملے ایسے تھے جو باقی جملوں سے ممتاز تھے۔ وہ بہت متاثار تھے اور گہرے معلوم ہوتے تھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے مجھے لرزہ ہ براندام کر دیا۔یقینا ان جملوں میں کچھ اور مطالب تھے۔ مجھے یوں لگتا تھا کہ تمہارا پیش نماز جب ان جملوں کو ادا کرتا ہے تو روح القدس سے ملا ہوتا ہے۔ ہم تھوڑا سا غور و فکر کیا تو متوجہ ہوئے کہ یہ جملے آیات ِ قرآن ہی تھیں جو میں نے خطبے کے دوران اور نماز میں پڑھی تھیں۔ اس بات نے ہمیں ہلا کے رکھ دیا اور اس نکتے کی طرف متوجہ کیا کہ قرآن کی مخصوص طرز اس قدر مؤثر ہے کہ حتی کہ ایک ایسی خاتون جو کہ اس کے ایک لفظ کا مفہوم نہیں سمجھتی ہو وہ بھی اس سے شدید طور پر متاثر ہو جاتی ہے۔ (بحوالہ تفسر فی ظلال جلد ٤ صفحہ ٤٢٢) بعد والی آیت میں مشرکین کی مخالفتوں کی ایک بنیادی علت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کیا ہے کہ وہ قرآن کا انکار اشکالات اور اعتراضات کی بنا پر نہیں کرتے تھے بلکہ ان کی تکذیب اس وجہ سے تھی کہ وہ اس کے مضامیں سے آگاہ نہیں تھے۔ (complete curves)؎ رہا یہ سوال کہ اس سے مراد کن امور کے بارے میں ان کی جہالت مخفی اس سلسلے میں مفسرین نے کئی احتمالات ذکر کیے ہیں کہ جو سب کےسب آیت میں مراد ہو سکتے ہیں۔ من جملہ ان کے: معارف دینی اور مبداء و معاد سے جہالت ـــــــــــــــــــــــــ جیسا کہ قرآن معبود حقیقی ـــــــــــــــــــــــ اللہ ـــــــــــــــــــــ کے بارے میں مشرکین کا قول نقل کرتا ہے، وہ کہتے ہیں۔ أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ کیا اس نے ہمارے خداؤں کو ایک معبود میں بدل دیا ہے، یہ عجیب و غریب چیز ہے (ص- ۵) یا پھر معاوہ کے بارے میں کہتے ہیں: وَقَالَ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ يُّنَبِّئُكُمْ اِذَا مُزِّقْتُـمْ كُلَّ مُمَزَّقٍۙ اِنَّكُمْ لَفِىْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ (سبا ٧) اَفْتَـرٰى عَلَى اللّـٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ --- (سبا – ٨) کیا ہم تمہیں ایسے شخص کے بارے میں بتائیں جو تم سے بیان کرے گا کہ جب تم (مر کر گل سٹ جاؤ گے اور ) ریزہ زیزہ ہوجاؤ گے تو تم ایک نیا جنم لو گے کیا اس شخص(محمدؐ) نے خدا پر جھوٹ باندھا ہے یا اسے جنون (ہو گیا ) ہے۔ درحقیقت ان لوگوں کے پاس مبداء اور معاد کی نفی کے لیے کوئی دلیل نہیں تھی صرف جہالت اور بے خبر خرافات اور بڑے بوڑھوں کے مذہب کے عادی ہو جانے کے، ان کے لیے سد راہ تھی۔ یا پھر وہ احکام کے اسرار سے جاہل تھے۔ اسی طرح بعض آیات متشابہ کے مفہوم سے جاہل تھے یا حروف مقطعات کے مفہوم سے نابلد تھے۔ یہ سب جہالتیں انہیں تکذیب اور انکار پر ابھارتی تھیں جب کہ ابھی تک مسائلِ مجہولہ کی تاویل، تفسیر اور حقیقت ان پر واضح نہیں ہوئی تھی (ولما یاتھم تاویلۃ) "تاویل" اول لغت میں کسی چیز کے لوٹانے کے معنی میں ہے لہذا کوئی کام اور بات اپنے اصلی مقصد تک پہنچ جائے تو ہم کہتے ہیں کہ اس کی تاویل آگئی ہے۔ اس بناء پر کسی اقدام کے اصلی ہدف کا بیان، کسی بات کی حقیقی تشریح یا کسی خواب کی تعبیر اور نتیجہ یا کسی بات کا عملی صورت اختیار کرجاتا، سب کو تاویل کہا جا تا ہے۔(اس سلسلے میں تفسیر نمونہ جلد2 ص46 اردو ترجمہ پر ہم تفصیل سے گفتگو کر آئے ہیں)۔ اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے کہ یہ غلط روش ہے صرف زمانہ جاہلیت کے مشرکین میں یہ منحصر نہیں ہے بلکہ گذشتہ گمراہ قومیں بھی اسی ابتلاء میں مبتلا تھیں، وہ بھی حقائق کی پہچان اور تحقیق کے بغیر اور ان کے تحقق کی انتظار کے بغیر ان کا انکار اوار تکذیب کرتے تھے (کَذَّبَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ) سورہ بقرہ کی آیہ 113 اور 118 میں بھی گذشتہ امتوں کی کیفیت کی طرف اس حوالے سے اشارہ کیا گیا ہے۔ درحقیقت ان سب کا عذران کی جہالت ہی تھی اور حقائق کے بارے میں تحقیق نہ کرنا ان کی بد بختی کاباعث تھا جبکہ عقل و منطق کاتقاضا ہے کہ انسان جس چیز کو نہیں جانتا اس کا ہرگز انکار نہ کرے بلکہ اس کی جستجو اور تحقیق کرے۔ آخر مین روئے سخن پیغبرؐ کی طرف کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: دیکھو ان ستم گروں کا انجام کیا ہوا(فَانۡظُرۡ کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الظّٰلِمِیۡنَ)۔ یعنی وہ بھی اسی انجام سے دوچار ہوں گے۔ زیر بحث آخری آیت میں مشرکین کے دو بڑے گروہوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : یہ سب کے سب اسی حالت میں باقی نہیں رہیں گے بلکہ " ان میں سے ایک گروہ جس میں حق طلبی کی روح مردہ نہیں ہوئی، آکر کار اس قرآن پر ایمان لے آ ئیگا جبکہ دوسرا گروہ اسی طرح اپنی جہالت اور ہٹ دھرمی پر قائم رہے گا اور ایمان نہیں لائے گا۔ (وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یُّؤۡمِنُ بِہٖ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ لَّا یُؤۡمِنُ بِہٖ)۔ واضح رہے کہ یہ دوسرا گروہ فاسد اور مفسد ہے اسی وجہ سے آیت کے آخر میں فرمایا گیا: تیرا پروردگار مفسدین کو بہتر جانتا ہے (وَ رَبُّکَ اَعۡلَمُ بِالۡمُفۡسِدِیۡنَ)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ جو افراد حق کو قبول نہیں کرنے وہ لوگ ہیں جنہوں نے معاشرے کا شیرازہ بکھیر دیا ہے اور معاشرے کے نظام کو خراب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

جہالت اور انکار

جیسا کہ مندر جہ بالا آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اصولی طور پر زیادہ تر حق کی مخالفتوں، دشمنیوں اور حق کے خلاف جنگ کا سرچشمہ جہا لت اور نادانی ہے۔ اس لیے کہتے ہیں کہ جہالت کا انجام کفر ہے۔ پہلا فریضہ جو ہر حق طلب انسان کے ذمہ ہے یہ ہے کہ جسے وہ جانتا اس کے بارے میں سکوت اور خاموشی اختیار کرے، انتظار کرے اور تحقیق و جستجوکے لیے اٹھ کھڑا ہو، جس مطلب کو نہیں جانتا اس کے تمام پہلووں کا مطالعہ کرے تحقیق کرے۔ جب تک اس کی نفی پر کوئی قطعی دلیل نہ مل جائے اس کی نفی نہ کرے جیسا کہ بغیر قطعی دلیل کے اثبات بھی نہ کرے۔ مرحوم طبری نے مجمع البیان میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس سلسلے میں ایک نہایت عمدہ حدیث نقل کی ہے۔ آپؑ نے فرمایا: اللہ نے قرآن کی دو آیات میں اس امت کو دو اہم درس دئیے ہیں۔ پہلا یہ کہ جسے جانتے ہو اس کے سوا کوئی بات نہ کہو اور دوسرا یہ کہ جسے جانتے نہیں ہو اس کا انکار نہ کرو۔ اس کے بعد آپ (ع) نے یہ دو آیات تلاوت کیں: الم یوٴخذ علیھم میثاق الکتاب ان لا یقولوا علی اللہ الا الحق۔ کیا خدا نے ان سے آسمانی کتاب کا عہد وپیمان نہیں لیا کہ خدا کے بارے میں حق کے سواکچھ نہ کہیں۔ بل کذبوا بما لم یحیطوا بعلمہ۔ مشرکین نے ایسی چیزوں کا انکار کیا کہ جن آگاہی نہیں رکھتے تھے جب کہ جہالت کسی چیز کے انکار کے لیے دلیل نہیں ہے۔

41
10:41
وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمۡ عَمَلُكُمۡۖ أَنتُم بَرِيٓـُٔونَ مِمَّآ أَعۡمَلُ وَأَنَا۠ بَرِيٓءٞ مِّمَّا تَعۡمَلُونَ
اگر انہوں نے تیری تکذیب کی ہے تو کہہ دے کہ میرا عمل میرے لئے اور تمہارا عمل تمہارے لئے۔ جو کچھ میں انجام دیتا ہوں تم اس سے بیزار رہو اور میں اس سے بیزار ہوں جو تم کرتے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔

42
10:42
وَمِنۡهُم مَّن يَسۡتَمِعُونَ إِلَيۡكَۚ أَفَأَنتَ تُسۡمِعُ ٱلصُّمَّ وَلَوۡ كَانُواْ لَا يَعۡقِلُونَ
اور ان میں سے ایک گروہ تیری طرف کان دھرتا ہے(لیکن گویا وہ بالکل نہیں سنتا اور بہرہ ہے) کیا تو اپنی بات بہروں (کے کانوں ) تک پہنچا سکتا ہے، اگر وہ نہ سمجھیں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔

43
10:43
وَمِنۡهُم مَّن يَنظُرُ إِلَيۡكَۚ أَفَأَنتَ تَهۡدِي ٱلۡعُمۡيَ وَلَوۡ كَانُواْ لَا يُبۡصِرُونَ
اور ان میں سے ایک گروہ تیری طرف دیکھتا ہے (لیکن گویاوہ بالکل نہیں دیکھتا) کیا تو نابینوں کو ہدایت کر سکتا ہے۔ اگرچہ ان کے پاس کوئی بصیرت نہ ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔

44
10:44
إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَظۡلِمُ ٱلنَّاسَ شَيۡـٔٗا وَلَٰكِنَّ ٱلنَّاسَ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ
خدا انسانوں پر بالکل ظلم نہیں کرتا لیکن انسان ہیں کہ جو اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔

اندھے اوربہرے

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ آیات میں ہٹ دھرمی پر مبنی مشرکین کے انکار کے بارے میں بحث آئی ہے۔ یہاں بھی اسی بحث کو آگے بڑھایا گیا ہے۔ پہلی آیت میں ایک نئے طریقے سے پیغمبرؐ کو مقابلے کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اگر وہ تیری تکذیب کریں تو ان سے کہہ دو کہ میرایعمل میرے لیے اور تمہارا عمل تمہارے لیے (وَإِنْ کَذَّبُوکَ فَقُلْ لِی عَمَلِی وَلَکُمْ عَمَلُکُم)۔ جو میں انجام دیتا ہوں اس سے تم بیزار ہو اور جو کچھ تم انجام دیتے ہو میں اس سے بیزار ہوں (اَنْتُمْ بَرِیئُونَ مِمَّا اَعْمَلُ وَاَنَا بَرِیءٌ مِمَّا تَعْمَلُونَ)۔ بیزاری اور بے اعتنائی کا یہ اعلان جس سے اپنے مکتب پر قطعی اعتماد اور ایمان جھلکتا ہے خاص طور پر ہٹ دھرم منکرین پر ایک مخصوص نفسیاتی اثر رکھتا ہے یہ اعلان ان پر واضح کرتا ہے کہ اس مکتب کو قبول کرنے میں کوئی اصرار اور جبر نہیں ہے وہ حق کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنے کی وجہ سے اپنے آپ کو محرومیت کی طرف لے گئے ہیں اور اس طرح صرف اپنے ہی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ایسی تعبیریں قرآن کی دیگر آیات میں بھی ہیں۔ جیسا کہ سورہٴ کافرون میں ہے:۔ لکم دینکم ولی دین۔ تمہارا دین تمہارے لیے اور میرا دین میرے لیے۔ اس بیان سے واضح ہو جا تا ہے کہ ایسی آیات کا مفہوم مشرکین کے مقابلے میں تبلیغ اور جہاد کے حکم کے منافی نہیں کہ ہم انھیں منسوخ سمجھنے لگیں بلکہ جیسا کہ کہا جا چکا ہے کہ یہ بے اعتنائی اور بے نیازی کے انداز میں ہٹ دھر م اور کینہ پر ور افراد سے ایک منطقی مقابلہ ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بعد والی آیات میں حق سے ان کے احراف اور عدم تعلیم کی دلیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: ایک انسان کی ہدایت کے لیے صرف صحیح، ہلادینے والی اور پر اعجاز آیات اور واضح دلائل کافی نہیں ہیں بلکہ قبول کرنے کے لیے آمادہ گی اور قبولیت حق کی لیاقت بھی ضروری ہے جیسا کہ سبزہ پھول اگانے کے لیے صرف تیارشدہ بیج کافی نہیں ہے۔ آمادہ زمین بھی ضروری ہے۔ اسی لیے پہلے فرمایا گیا: ان میں سے ایک گروہ تیری طرف کان تو دھر تاہے لیکن گویا یہ لوگ بہرے ہیں (ومنھم یستمعون الیک) (تشریحی نوٹ: اس آیت میں درحقیقت ”کانھم صم لایسمعون“ کا جملہ مقدر ہے)۔ باوجودیکہ وہ سننے والا کان نہیں رکھتے، کیا تم ان بہروں کے کانوں تک اپنی آواز پہنچا سکتے ہو، چاہے وہ عقل و ادراک نہ رکھتے ہوں (افانت تسمع الصم ولوکانوا لایعقلون)۔ ”اور ایک گروہ تیرے طرف آنکھ لگائے ہوئے ہے اور تیرے اعمال دیکھتا رہتا ہے کہ جن میں سے ہر ایک تیری حقانیت اور راست گوئی کی نشانیوں کو دیکھ سکتاہے لیکن گویا یہ لوگ اندھے ہیں“ (وَمِنْھُمْ مَنْ یَنْظُرُ إِلَیْک)۔ کیا اس کے باوجود تو ان نابینوں کو ہدایت کر سکتا ہے اگرچہ ان کے پاس کوئی بصیرت نہ ہو (اَفَاَنْتَ تَھْدِی الْعُمْیَ وَلَوْ کَانُوا لاَیُبْصِرُونَ)۔(تشریحی نوٹ: یہاں ”کانھم عمی لایبصرون“ کا جملہ مقدر ہے)۔ لیکن جان لو اور وہ بھی جالیں کہ یہ فکری نارسائی، عدم بصیرت، حق کا چہرہ دیکھنے کے بارے میں اندھا پن اور کلام الہٰی کے لیے ناشنوائی کو ئی ایسی چیز نہیں ہے کہ جسے وہ شکم مادر سے اپنے ساتھ لائے ہیں اورخدا نے ان پر کوئی ظلم کیا ہو خود انہیں نے اپنے غلط اعمال، حق دشمنی اور گناہوں سے اپنی روح کو تاریک کرکے اپنی دیکھنے والی آنکھے اور اپنے سننے والے کان کو بیکار کر دیا ہے، کیونکہ ”خداکسی شخص پر ظلم کرتا لیکن یہ لوگ ہیں جو خود اپنے اوپر ظلم روا رکھتے ہیں“ (إِنَّ اللهَ لاَیَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَلَکِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُونَ)۔

دو قابل توجہ نکات

۱۔”من یستمعون“ اور ”من ینتظر“ سے کیا مراد ہے: یہ جو دوسری آیت میں ہے کہ ”ان میں سے کچھ لوگ تیری بات سنتے ہیں“ اورتیسری آیت میں ہے کہ ”ان میں سے کچھ نہیں جو تیری طرف دیکھتے ہیں“اور یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ان میں سے کچھ لوگ تیری اعجاز نما باتوں کو سنتے ہیں اور کچھ دوسرے ہیں جو تیرے معجز نشان اعمال دیکھتے ہیں کہ جو سب کے سب تیری صدق ِ گفتار اور تیری دعوت کی حقانیت کی دلیل ہیں لیکن کان دھرنے اور دیکھنے والے ان دونوں گروہوں میں سے کوئی بھی فائدہ نہیں اٹھا تا، کیونکہ ان کی نگاہ فہم و ادراک کی نگاہ نہیں ہے، بلکہ تنقید، عیب جوئی، اور مخالفت کی نظر ہے۔ وہ کان دھر کے سننے سے بھی فائدہ نہیں اٹھاتے کیونکہ کہ ان کا مقصد مفہوم سخن نہیں ہوتا بلکہ وہ تو تکذیب اور انکار کے لیے بہانے تلاش کرتے پھر تے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ انسان کے اعمال کی بنیاد اس کا رادہ اور نیت ہی ہے۔ نیت اور ارادہ ہی انسانی اعمالک ے اثرات کو دگر گون کر دیتا ہے۔ ۲۔ ”وَ لَوۡ کَانُوۡا لَا یَعۡقِلُوۡنَ“ اور ”وَ لَوۡ کَانُوۡا لَا یُبۡصِرُوۡنَ“ کا مفہوم: زیر نظرا لفاظ سننا کافی نہیں بلکہ دوسری آیت کے آخر میں ”وَ لَوۡ کَانُوۡا لَا یَعۡقِلُوۡنَ“ آیا ہے۔ اور تیسری آیت کے اختتام وَ لَوۡ کَانُوۡا لَا یُبۡصِرُوۡنَ “ آیا ہے یہ اس طرف اشارہ ہے کہ فقط کانوں سے تفکرو تدبر بھی ضروی ہے تاکہ انسان الفاظ کے مفاہیم سے فائدہ اٹھائے اسی طرح کسی چیز کو آنکھوں سے صرف دیکھنے کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ بصیرت اور جن چیزوں کو انسان دیکھتا ہے انھیں سمجھنا بھی ضروری ہے تاکہ ان کی گہرائی تک پہنچے اور ہدایت حاصل کرے۔

45
10:45
وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ كَأَن لَّمۡ يَلۡبَثُوٓاْ إِلَّا سَاعَةٗ مِّنَ ٱلنَّهَارِ يَتَعَارَفُونَ بَيۡنَهُمۡۚ قَدۡ خَسِرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِلِقَآءِ ٱللَّهِ وَمَا كَانُواْ مُهۡتَدِينَ
اس دن کو یاد کرو جب انہیں جمع(اور محشور) کرے گا اور انہیں ایسا محسوس ہو گا جیسے (دنیا میں ) انہوں نے دن کی ایک گھڑی سے زیادہ توقف نہیں کیا۔ بس اتنی مقدار کہ ایک دوسرے کو (دیکھیں اور)پہچان لیں۔ وہ کہ جنہوں نے لقائے الٰہی (اورقیامت) کا انکار کیا وہ خسارے میں رہے اور انہوں نے ہدایت حاصل نہ کی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 47 کے تحت ملاحظہ کریں۔

46
10:46
وَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعۡضَ ٱلَّذِي نَعِدُهُمۡ أَوۡ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيۡنَا مَرۡجِعُهُمۡ ثُمَّ ٱللَّهُ شَهِيدٌ عَلَىٰ مَا يَفۡعَلُونَ
اور اگر ہم کچھ سزائیں جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے(تیری زندگی میں ) تجھے دکھائیں یا(قبل اس کے کہ وہ عذاب میں گرفتار ہوں ) تجھے دنیا سے لے جائیں، بہرحال ان کی بازگشت ہماری طرف ہے۔ اس کے بعد خدا اس پر گواہ ہے جو کچھ وہ انجام دیتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 47 کے تحت ملاحظہ کریں۔

47
10:47
وَلِكُلِّ أُمَّةٖ رَّسُولٞۖ فَإِذَا جَآءَ رَسُولُهُمۡ قُضِيَ بَيۡنَهُم بِٱلۡقِسۡطِ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ
اور ہر امت کے لئے ایک رسول ہے۔ جب ان کا رسول ان کی طرف آئے تو خدا ان کے درمیان عدل سے فیصلہ کرتا ہے اور ان پر ظلم نہیں ہوگا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ آیات میں مشرکین کی بعض صفات بیان کرنے کے بعد اب ان آیات میں قیامت میں ان کی دردناک کیفیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اس دن کو یاد کرو جب خدا ان سب کو محشور کرے گا اور اس حالت میں کہ وہ محسوس کریں گے کہ دنیا میں ان کی ساری عمر دن کی ایک گھڑی سے زیادہ بس اتنی مقدار کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھ لیں، اور پہچان لیں (وَ یَوۡمَ یَحۡشُرُہُمۡ کَاَنۡ لَّمۡ یَلۡبَثُوۡۤا اِلَّا سَاعَۃً مِّنَ النَّہَارِ یَتَعَارَفُوۡنَ بَیۡنَہُمۡ )۔ دنیا میں تھوڑی سی دیر کا یہ احساس اس بناء پر ہے کہ آخرت کی دائمی زندگی کے مقابلے میں یہ ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ہے۔ یا اس بناء پر کہ یہ ناپائیدار اور دنیا ان پر یوں تیزی سے گزری ہے کہ ایک ساعت سے زیادہ نہ تھی۔ یا پھر اپنی زندگی سے صحیح فائدہ نہ اٹھانے کی وجہ سے یوں خیال کریں گے کہ ان کی ساری عمر ایک گھڑی سے زیاد ہ قدر و قیمت نہیں رکھتی تھی۔ جو کچھ ہم نے سطور بالا میں کہا ہے اس کے پیشِ نظر" یَتَعَارَفُوۡنَ بَیۡنَہُمۡ (ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں) کاجملہ دنیا میں ان کے قیام کی مقدار کی طرف اشارہ ہے یعنی اس طرح وہ اپنی عمر کو مختصر اور کم محسوس کرین گے گویا صرف اتنی مقدار تھی کہ جس میں دو آدمی ایک دوسرے کو دیکھ کر آپس میں متعارف ہوں اور پھر ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں۔ آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کہ مراد یہاں زمانہ برزخ کی کمی کا احساس ہے یعنی وہ لوگ دورانِ برزخ کی نیند کی سی کیفیت میں ڈوب جائیں گے جس میں سالہا سال اور صدیوں اور زمانوں کے گزرنے کا احساس نہیں کریں گے اور قیامت کے دن ہزار ہا سال پر مشتمل زمانہ برزخ انھیں ایک ساعت سے زیادہ محسوس نہیں ہو گا۔ اس تفسیر کے لیے شاہد سورہٴ روم کی آیت(۵۵۔۔ ۵۶) ہے جس میں ارشاد فرمایا گیا ہے:۔ وَ یَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَۃُ یُقۡسِمُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ۬ۙ مَا لَبِثُوۡا غَیۡرَ سَاعَۃٍ ؕ کَذٰلِکَ کَانُوۡا یُؤۡفَکُوۡنَ وَ قَالَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ وَ الۡاِیۡمَانَ لَقَدۡ لَبِثۡتُمۡ فِیۡ کِتٰبِ اللّٰہِ اِلٰی یَوۡمِ الۡبَعۡثِ ۫ فَہٰذَا یَوۡمُ الۡبَعۡثِ وَ لٰکِنَّکُمۡ کُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ان دو آیا ت سے معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت قیامت بر پا ہو گی، مجرمین کا ایک گروہ قسم کھائے گا کہ ان کے برزخ کادور ایک ساعت سے زیادہ نہیں تھا لیکن مومنین ان سے کہیں گہ وہ طولانی دور تھا اور اب قیامت بر پا ہوئی ہے اور تمہیں معلوم نہیں ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ برزخ تمام لوگوں کے لیے ایک جیسی نہیں ہے اور اس کی تفصیل ہم متعلقہ آیات کے ذیل میں بیان کریں گے۔ اس تفسیر کے مطابق یَتَعَارَفُوۡنَ بَیۡنَہُمۡ کا معنی یہ ہو گاکہ وہ لوگ زمانہٴ برزخ کی مقدار اتنی کم محسوس کریں گے کہ انھیں دنیا کی کوئی بات بھولی نہیں ہو گی اور وہ ایک دوسرے کو اچھی طرح سے پہچان لیں گے۔ اور یہ کہ وہاں ایک دوسرے کے برے اعمال کو دیکھیں گے اور ایک دوسرے کے باطن کو پہچان لیں گے اور یہ خود ان کے لیے ایک بہت بڑی رسوائی ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے کہ اس دن ان سب پر ثابت ہو جائے گا کہ وہ افرادن جنہوں نے روز قیامت اور لقائے الہٰی کی تکذیب کی، انھوں نے نقصان اٹھایا“۔ اور وہ اپنے وجود کا سارا سرمایہ ہاتھ سے گنوابیٹھے اور ا سے کوئی نتیجہ بھی حاصل نہ کیا(قَدْ خَسِرَ الَّذِینَ کَذَّبُوا بِلِقَاءِ اللهِ)۔ اور یہ لوگ اس تکذیب، انکار،گناہ پر اصرار ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہدایت کی اہلیت نہیں رکھتے تھے (وَمَا کَانُوا مُھْتَدِینَ)۔ کیونکہ ان کا دل سیاہ اور ان کی روح تاریک تھی۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اگلی آیت میں کفار کی تہدید کے لیے پیغمبرؐ کو تسلی دینے کی خاطر فرمایا گیا ہے: جن سزاوں کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے اگر ان کا کچھ حصہ ہم تجھے دکھائیں اور اپنی زندگی کے دوران اگر تو ان کے عذاب اور سزا کو دیکھ لے اور یا پھر اس سے قبل کہ وہ ایسے کام سے دو چار ہوں ہم تجھے دنیا سے لے جائیں، بہرحال ان کی باز گشت ہماری طرف ہے اور خدا ان کے انجام دیئے ہو ئے اعمال پر شاہد ہے (وَ اِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِلَیۡنَا مَرۡجِعُہُمۡ ثُمَّ اللّٰہُ شَہِیۡدٌ عَلٰی مَا یَفۡعَلُوۡنَ)۔ زیر نظر آیت میں بشمول پیغمبر اسلامؐ تمام انبیاء کے بارے میں اور تمام امتوں کے بارے میں کہ جن میں رسول اللہ کے زمانے کی امت بھی شامل ہے، ایک کلی قانون بیان کیا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے: ہدایت کے لیے خدا کی طرف سے ایک رسول اور فرستادہٴ الٰہی ہوتاہے (وَلِکُلِّ اُمَّةٍ رَسُولٌ)۔ " جب ان کی طرف رسول آیا اور اس نے ابلاغ رسول کیا اور کچھ لوگوں نے حق کو قبول کر لیا اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کر لیا اور ایک گروہ مخالفت اور تکذیب کے لیے اٹھ کھڑا ہوا تو خدا ان کے درمیان اپنے عدل سے فیصلہ کرتا ہے اور کسی پر ظلم نہیں ہو گا" مومن اور نیک لوگ باقی رہ جاتے ہیں اور برے اور مخالفت یا تو نابود ہو جاتے ہیں اور یا پھر شکست سے دو چار ہو تے ہیں (فَإِذَا جَاءَ رَسُولُھُمْ قُضِیَ بَیْنَھُمْ بِالْقِسْطِ وَھُمْ لاَیُظْلَمُونَ)۔ اسی طرح پیغمبر اسلام ؐاور ان کے معاصر امت کے ساتھ ہوا کہ ان کی دعوت کے مخالف یا تو جنگوں میں ختم ہو گئے اور یا آخر کار شکست کھا کر معاشر ے سے مسترد ہو گئے اور مومنین نے امور کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لی۔ لہٰذا جس فیصلے کی طرف آیت میں اشارہ ہوا ہے یہ وہی تکوینی قضاوت اور فیصلہ ہے جو اسی دنیا میں جاری ہوا ہے۔ باقی رہا یہ جو بعض نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ یہ روز قیامت خدا کے فیصلے کی طرف اشارہ ہے، خلافِ ظاہر ہے۔ ۴۸۔ وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ۔ ۴۹۔ قُلۡ لَّاۤ اَمۡلِکُ لِنَفۡسِیۡ ضَرًّا وَّ لَا نَفۡعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰہُ ؕ لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُہُمۡ فَلَا یَسۡتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّ لَا یَسۡتَقۡدِمُوۡنَ۔ ۵۰۔ قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ اَتٰىکُمۡ عَذَابُہٗ بَیَاتًا اَوۡ نَہَارًا مَّاذَا یَسۡتَعۡجِلُ مِنۡہُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ۔ ۵۱۔ اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنۡتُمۡ بِہٖ ؕ آٰلۡـٰٔنَ وَ قَدۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۔ ۵۲۔ ثُمَّ قِیۡلَ لِلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡخُلۡدِ ۚ ہَلۡ تُجۡزَوۡنَ اِلَّا بِمَا کُنۡتُمۡ تَکۡسِبُوۡنَ۔ ترجمہ ۴۸۔ وہ کہتے ہیں یہ جو (سزا کا) وعدہ ہے، اگر سچ کہتے ہو تو کب اس پر عمل ہو گا۔ ۴۹۔ کہہ دو میں اپنے لیے نقصان اور نفع کا مالک نہیں ہوں (چہ جائیکہ تمہارے لیے) مگروہ جو خدا چاہے۔ ہر قوم و ملت کےلیے ایک اجل اور انجام ہے جب ان کی اجل آجاتی ہے (اور ان کی سزا یا موت کا حکم صادر ہو جائے) تو نہ ایک گھڑی تاخیر کرتے ہیں اور نہ ہی ایک گھڑی آگے ہوتے ہیں۔ ۵۰۔ کہہ دو کہ اگر اس کی سزا رات کے وقت یا دن کو تمہیں آپہنچے (تو کیا تم اسے دور کر سکتے ہو) پس مجرمین کس بناء پر جلدی کرتے ہیں۔ ۵۱۔ یا یہ کہ جب واقع ہو گی تو ایمان لے آوٴ گے (لیکن جان لو کہ تمہیں کہا جائے گا کہ)اب جب کہ پہلے اس کے لیے جلدی کرتے تھے (اس وقت کیا فائدہ)۔ ۵۲۔ پھر جنہوں نے ظلم کیا ہے ان سے کہاجائے گا: ابدی عذاب چکھو، جو کچھ تم انجام دیتے تھے کیا تمہیں اس کے علاوہ کی سزا دی جائے گی۔

48
10:48
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلۡوَعۡدُ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
وہ کہتے ہیں یہ جو (سزا کا) وعدہ ہے، اگر سچ کہتے ہو تو کب اس پر عمل ہو گا؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 52 کے تحت ملاحظہ کریں۔

49
10:49
قُل لَّآ أَمۡلِكُ لِنَفۡسِي ضَرّٗا وَلَا نَفۡعًا إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُۗ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌۚ إِذَا جَآءَ أَجَلُهُمۡ فَلَا يَسۡتَـٔۡخِرُونَ سَاعَةٗ وَلَا يَسۡتَقۡدِمُونَ
کہہ دو میں اپنے لئے نقصان اور نفع کا مالک نہیں ہوں (چہ جائیکہ تمہارے لئے) مگر وہ خدا چاہے۔ ہر قوم و ملت کے لئے ایک اجل اور انجام ہے جب ان کی اجل آجاتی ہے (اور ان کی سزا یا موت کا حکم صادر ہو جاتا ہے) تو نہ ایک گھڑی تاخیر کرتے ہیں اور نہ ہی ایک گھڑی آگے ہوتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 52 کے تحت ملاحظہ کریں۔

50
10:50
قُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ إِنۡ أَتَىٰكُمۡ عَذَابُهُۥ بَيَٰتًا أَوۡ نَهَارٗا مَّاذَا يَسۡتَعۡجِلُ مِنۡهُ ٱلۡمُجۡرِمُونَ
کہہ دو کہ کیا تم سمجھتے ہو کہ اگر اس کی سزا رات کے وقت یا دن کو تمہیں آ پہنچے (تو کیا تم اسے دور کر سکتے ہو) پس مجرمین کس بناء پر جلدی کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 52 کے تحت ملاحظہ کریں۔

51
10:51
أَثُمَّ إِذَا مَا وَقَعَ ءَامَنتُم بِهِۦٓۚ ءَآلۡـَٰٔنَ وَقَدۡ كُنتُم بِهِۦ تَسۡتَعۡجِلُونَ
یا یہ کہ جب واقع ہو گی تو ایمان لے آؤ گے (اس وقت تمہیں کہا جائے گا کہ) اب ایمان لا رہے ہو جبکہ پہلے اس کے لئے جلدی کرتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 52 کے تحت ملاحظہ کریں۔

52
10:52
ثُمَّ قِيلَ لِلَّذِينَ ظَلَمُواْ ذُوقُواْ عَذَابَ ٱلۡخُلۡدِ هَلۡ تُجۡزَوۡنَ إِلَّا بِمَا كُنتُمۡ تَكۡسِبُونَ
پھر جنہوں نے ظلم کیا ہے ان سے کہا جائے گا: ابدی عذاب چکھو، جو کچھ تم انجام دیتے تھے کیا تمہیں اس کے علاوہ کی سزا دی جائے گی۔

خدائی سزا میرے ہاتھ میں نہیں ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

منکرین حق کو عذاب اور سزا کی تہدیدوں کے بعد اب ان آیات میں پہلے تو ان کی تکذیب اور تمسخر بھری بات بیان کی گئی ہے: وہ کہتے ہیں کہ عذاب کے بارے میں تم جو وعدہ کرتے ہو اگر سچ کہتے ہو تو وہ کب ہے؟ (وَیَقُولُونَ مَتَی ھَذَا الْوَعْدُ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِینَ)۔ یقینا یہ باتیں پیغمبر اسلامؐ کے زمانے کے مشرکین کرتے تھے۔ کیونکہ بعد والی آیات جس میں پیغمبر اکرمؐ کا جواب موجود ہے اس امر پر شاہد ہے۔ بہرحال اس طرح سے وہ پیغمبرؐ کی تہدید وں کے بارے میں اپنی اعتنائی کا مظاہرہ کرنا چاہتے تھے اور جو افراد ان تہدیدوں کی وجہ سے متزلزل ہو گئے تھے ان کے قوت قلب اور سکون ِ فکر کا سامان کرنا چاہتے تھے۔ اس کے جواب میں خدا تعالیٰ پیغمبر اکرمؐ کو حکم دیتا ہے کہ انھیں چند طریقوں سے جواب دیں۔ پہلا یہ کہ فرماتا ہے:ان سے کہہ دو کہ اس کام کا وقت اور وعدہ گاہ میرے اختیار میں نہیں ہے۔ میں اپنے لیے نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں، چہ جائیکہ تمہارے لیے، مگر جو کچھ خدا چاہے۔ اور جو وہ ارادہ کرے (قُلْ لاَاَمْلِکُ لِنَفْسِی ضَرًّا وَلاَنَفْعًا إِلاَّ مَا شَاءَ اللهُ)۔میں تو صرف اس کا بھیجا ہوا اور پیغمبر ہوں نزول عذاب کے لیے وعدہ گاہ کا وقت کا تعین اسی کے ہاتھ میں ہے۔ جب میں اپنے بارے میں نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں تو تمہارے بارے میں بدرجہ اولیٰ نہیں ہوں گا۔ یہاں درحقیقت توحید افعالی کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی اس عالم میں تمام چیزوں کی باز گشت خدا کی طرف ہے۔ ہر کام اسی کی طرف سے ہے کہ جو اپنی حکمت سے مومنین کو کامیابی عطا کرتا ہے اور وہی ہے جو منحرفین کو اپنے عدل سے سزا دیتا ہے ْ واضح ہے کہ یہ اس بات کے منافی نہیں کہ اللہ نے ہمیں قدرت و طاقت دی ہے کہ جس کے ذریعے ہم اپنے بعض منافع اور نقصا نات کے مالک ہیں اور اپنی سرنوشت کے بارے میں ہم ارادہ کر سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ آیت مالکیت بالذات کی نفی کرتی ہے نہ کہ مالکیت بالغیر کی اور ”الا ماشاء اللہ“ اس کے لیے واضح قرینہ ہے۔ یہاں سے معلوم ہو جاتا ہے کہ اس آیت سے جو بعض متعصب افراد مثلاً مولف المنار نے پیغمبرؐ سے توسل کے جواز کی نفی کا مطلب لیا ہے وہ بالکل بے بنیاد ہے کیونکہ اگر توسل سے مراد یہ ہو کہ ہم پیغمبر اکرمؐ کو بالذات صاحبِ قدرت اور مالک ِ سود و زیاں سمجھیں تو مسلم ہے کہ یہ شرک ہے اور کوئی مسلمان یہ عقیدہ نہیں رکھ سکتا اور اگر یہ مالکیت خداکی طرف سے ہو اور ”الاّ ماشاء اللہ“ کے مفہوم کے مطابق ہو تو اس میں کوئی مانع نہیں ہے اور یہ عین ایمان و توحید ہے۔ مذکورہ موٴلف نے اس نکتے سے غفلت کی وجہ سے طویل بحثوں سے اپنا اور اپنے قارئیں کا وقت جائع کیا ہے۔ افسوس سے کہنا پڑ تا ہے کہ اس کی تفسیر تمام تر خصوصیات کے باوجود اس میں اشتباہات بہت زیادہ ہیں۔ جن کا سرچشمہ تعصب کو سمجھا جا سکتا ہے۔ دوسرا یہ کہ فرماتا ہے: ہر قوم اور جمیعت کے لیے ایک معین زمانہ اور اجل ہے جب ان کی اجل آجاتی ہے تو وہ اس میں نہ ایک گھڑی تاخیر کر سکتے ہیں نہ گھڑی بھر کے لیے آگے بڑھ سکتے ہیں (ؕ لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُہُمۡ فَلَا یَسۡتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّ لَا یَسۡتَقۡدِمُوۡنَ)۔ دوسرے لفظوں میں کوئی قو م وم ملت جب راہ حق سے منحرف ہو تو اپنے اعمال کے نتیجے میں خدا کی سزا سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔ جب لوگ ایسے راستوں پر چل پڑیں اور آفرینش کے قطعی قوانین سے انحراف کریں تو اپنے مسائل کھو بیٹھتے ہیں اور آخر کار قعر مذلت میں جا گر تے ہیں تاریخ ِ عالم ایسے لوگوں کی مثالوں میں بھری پڑی ہے۔ مشرکین جو عذاب الہٰی کے آنے میں تعجیل کا تقاضا کرتے تھے، درحقیقت انھیں خبر داری کرتا ہے کہ وہ بلا وجہ جلدی نہ کریں، جب وقت آئے گا تو اس عذاب میں لمحہ بھر کی تاخیر و تقدیم نہیں ہو گی۔ ضمنی طور پر متوجہ رہنا چاہئیے کہ لفظ ”ساعت“ کبھی لحظہ اور لمحہ کے لیے آتا ہے اور کبھی زمانے کی تھوڑی سی مدت کے لیے آتا ہے اگرچہ آج کل رات دن کے چوبیسویں حصہ (ایک گھنٹہ) کو ”ساعت“ کہتے ہیں۔ تیسرا جواب اگلی آیت میں پیش کرتے ہوئے کہتا ہے: ان سے کہہ دور کہ اگر رات یا دن کے وقت پروردگار کا عذاب تم پر آجائے تو یہ کوئی غیر ممکن بات نہیں ہے، کیا تم اس ناگہانی عذاب کو دو کر سکتے ہو۔(قُلْ اَرَاَیْتُمْ إِنْ اَتَاکُمْ عَذَابُہُ بَیَاتًا اَوْ نھَارًا)۔ ان حالات میں مجرم اور گنہ گار آخر کیوں جلدی کرتے ہیں (مَاذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْہُ الْمُجْرِمُونَ)۔)تشریحی نوٹ: جو کچھ ہم نے سطور بالا میں کہا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ زیر نظر قضیہ شرطیہ پر مشتمل ہے جس کی شرط ذکر ہوئی ہے اور جزا مقدر ہے، اور ”ماذا یستعجل منہ المجرمون“ ایک مستقل جملہ ہے۔ آیت کی تقدیر اسی طرح ہے: (اَرَاَیْتُمْ إِنْ اَتَاکُمْ عَذَابُہُ بَیَاتًا اَوْ نھَارًا کنتم تقدرون علی دفعہ او تعدونہ امرا محالا فاذا کان الامر کذٰلک ماذا یستعجل منہ المجرمون)۔ یعنی کیا تم سمجھتے ہو کہ اگر تم رات یا دن کے وقت عذاب آجائے تو تم اسے روکنے کی قدرت رکھتے ہو یا اسے امر محال سمجھتے ہو۔ جب معاملہ ایسا ہے تو پھر مجرمین آخر کس طرح اس کی تعجیل چاہتے ہیں بعض نے یہ احتمال پیش کیا ہے کہ ”ماذا یستعجل“ جزائے شرط ہے، بہت بعید ہے)۔ (غور کیجئے گا)۔ دوسرے لفظوں میں ان جسور مجرموں کو اگر نزولِ عذاب کا یقین ہے تو کم از کم اس کا احتمال تو انھیں ہے ہی کہ اچانک عذاب ان کے پیچھے آجائے۔ ان کے پاس اس کے لیے کیا بندو سبت، ضمانت اور دلیل ہے کہ پیغمبرؐ کی تہدید یں بالکل وقوع پذیر نہیں ہوں گی۔ عقل مند انسان کو ایسے احتمال ِ ضرر کی صورت میں بھی کچھ نہ کچھ احتیاط کرنا چاہیئے اور اس سے ڈرنا چاہئیے۔ ایسا ہی مفہوم دیگر تعبیرات کی صورت میں قرآن کی دوسری آیات میں میں موجودہے: مثلاً: افامنتم ان یخسف بکم جانب البر او یرسل علیکم حاصباً ثم لاتجدوا لکم وکیلاً۔ کیاتم اس سے مامون ہو کہ خدا تمہیں زمین کے کسی حصہ میں اندر سمادے (یعنی تم زمین میں دھنس جاوٴ) یا تم پر آسمان سے سنگریزے برسائے اور پھر تم اپنے لیے کوئی نگہبان نہ پاوٴ۔ (بنی اسرائیل ۶۸)۔ یہ وہی چیز ہے جسے علم کلام اور علم اصول میں ”لزوم دفع ضرر محتمل“ کہاجاتا ہے۔ چوتھا جواب اس سے بعد والی آیت میں دیا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے: اگر تم گمان کرتے ہو کہ نزول عذاب کے وقت ایمان لاوٴگے تمہارا ایمان قبول کر لیا جائے گا تو یہ خیال باطل ہے (اَثُمَّ إِذَا مَا وَقَعَ آمَنْتُمْ بِہِ)۔ کیونکہ نزول عذاب کے بعد توبہ کے در وازے تم پر بند ہو جائےں گے اور پھر ایمان لانے کا ذرہ بھر اثر بھی نہ ہو گا۔ بلکہ ”تم سے کہا جائے گا کہ اب ایمان لارہے ہو جب کہ پہلے تم تمسخر اور تکذیب کرتے ہوئے عذاب کے لیے تعجیل کرتے تھے (اَلْآنَ وَقَدْ کُنْتُمْ بِہِ تَسْتَعْجِلُونَ)۔ یہ ان کی دنیاوی سزا ہے ”پھر روز قیامت جن لوگوں نے ظلم کیا ہے، ان سے کہا جائے گا ابدی اور ہمیشہ کا عذاب چکھو“(ثُمَّ قِیلَ لِلَّذِینَ ظَلَمُوا ذُوقُوا عَذَابَ الْخُلْدِ)۔ کیا جو کچھ تم نے انجام دیا ہے تمہیں اس کے سوا سزا دی جائے گی (ھَلْ تُجْزَوْنَ إِلاَّ بِمَا کُنْتُمْ تَکْسِبُونَ)۔ یہ درحقیقت تمہارے ہی اعمال ہیں جو تمہیں دامن گیر ہوئے ہیں، وہی تمہارے سامنے مجسم ہو ئے ہیں اور وہی تمہیں ہمیشہ تکلیف و آزار پہنچاتے ہیں۔

چند اہم نکات

۱۔ قرآنی آیت سے غلط استدلال: جیساکہ سورہ اعراف کی آیہ ۳۴ کے ذیل میں ہم نے کہا ہے کہ ہمارے زمانے کے بعض دین ساز لوگوں نے ”لکل امة اجل“ جیسی آیات سے جو قرآن میں دو مرتبہ آئی ہے، پیغمبر اسلام ؐکی خاتمیت کی نفی کے لیے استدلال کیا ہے اور یہ نتیجہ نکلا ہے کہ ہر دین و مذہب آخر کار ختم ہو جاتا ہے اور اپنی جگہ دوسرے کو دے دیتا ہے حالانکہ لفظ ”امت“ گروہ اور جماعت کے معنی میں ہے نہ کہ مذہب کے معنی میں خصوصاً ایک مذہب کے پیرو کار۔ ان آیات کا مقصد یہ ہے کہ قانون ِ موت و حیات افراد سے مخصوص نہیں ہے بلکہ ملتوں اور گروہوں پر بھی یہ قانون حاوی ہے، اور جب وہ ظلم و گناہ اختیار کریں گے تو ختم ہو جائیں گے، خصوصاً زیر بحث آیت سے پہلے اور بعد کی آیات کی طرف توجہ سے یہ حقیقت واضح پر ثابت ہ وجاتی ہے کہ یہاں کسی مذہب کے منسوخ ہونے سے متعلق گفتگو نہیں ہے بلکہ نزول عذاب اور ایک گروہ و ملت کے نابود اور ختم ہو جانے کے بارے میں ہے کیونکہ قبل و بعد کی دونوں آیات دنیاوی عذاب اور سزا کے بارے میں بات کر رہی ہیں۔ ۲۔ دنیا میں مسلمانوں کے لیے سزا: مندرجہ بالا آیات کی طرف توجہ کرنے سے یہ سوال پید اہوتا ہے کہ کیا مسلمانوں کے معاشرے بھی اس دنیا میں سزا و عذاب میں گرفتار ہوں گے ؟ اس سوال کا جواب ہاں میں ہے کیونکہ ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے کہ یہ امت دنیا وی عذاب سے مستثنیٰ ہے بلکہ یہ قانون تمام امتوں اور ملتوں کے بارے میں ہے اور جو ہم نے بعض آیا ِ قرآن (مثلاً انفال ۳۳) میں پڑھا ہے کہ خدا اس امت کو سز انہیں دے گا وہ دو میں سے ایک شرط کے ساتھ مشروط ہے پہلی پیغمبر اؐکرم کا امت میں موجود ہونا اور دوسری استغفار اور گناہ سے توبہ کرنا۔ لہٰذا یہ فرمان غیر مشروط ہے۔ ۳۔ نزول اعذاب کے وقت توبہ قبول نہیں ہوتی: مندرجہ بالا آیات دو بارہ اس حقیقت کو تاکید کرتی ہیں کہ نزول ِ عذاب کے وقت توبہ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں اور عذاب کے وقت کی پشیمانی بے فائدہ ہے۔ اس کی دلیل بھی واضح ہے اور وہ یہ کہ اس حالت میں توبہ اجباری اور اضطراری صورت میں ہو گی اور ایسی توبہ کی کوئی قدر وقیمت نہیں ہوتی۔

53
10:53
۞وَيَسۡتَنۢبِـُٔونَكَ أَحَقٌّ هُوَۖ قُلۡ إِي وَرَبِّيٓ إِنَّهُۥ لَحَقّٞۖ وَمَآ أَنتُم بِمُعۡجِزِينَ
تجھ سے پوچھتے ہیں کیا وہ (خدائی سزاوالا وعدہ) حق ہے؟ کہہ دو خدا کی قسم یقیناً حق ہے اور تم اس سے بچ نہیں سکتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 56 کے تحت ملاحظہ کریں۔

54
10:54
وَلَوۡ أَنَّ لِكُلِّ نَفۡسٖ ظَلَمَتۡ مَا فِي ٱلۡأَرۡضِ لَٱفۡتَدَتۡ بِهِۦۗ وَأَسَرُّواْ ٱلنَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُاْ ٱلۡعَذَابَۖ وَقُضِيَ بَيۡنَهُم بِٱلۡقِسۡطِ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ
اور جس نے ظلم کیا اگر وہ تمام کچھ، جو روئے زمین پر ہے اس کے اختیار میں ہوتو وہ (سب کچھ عذاب کے خوف سے) اپنی نجات کے لئے دے دے گااور جب عذاب کو دیکھے گا تو(پشیمان ہو گا لیکن)اپنی پشیمانی کو چھپائے گا (کہ کہیں زیادہ رسوا نہ ہو) اور ان کے درمیان عدل سے فیصلہ ہو گا اور ان پر ظلم نہیں ہو گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 56 کے تحت ملاحظہ کریں۔

55
10:55
أَلَآ إِنَّ لِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۗ أَلَآ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ
آگاہ رہو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اللہ کا ہے۔ آگاہ رہو کہ اللہ کا وعدہ حق ہے۔ اگرچہ بہت سے لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 56 کے تحت ملاحظہ کریں۔

56
10:56
هُوَ يُحۡيِۦ وَيُمِيتُ وَإِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ
وہی ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔

خدائی سزا میں شک نہ کرو

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ آیا ت میں مجرمین کے لیے اس جہان میں اور آرت میں سزا اور عذاب کے بارے میں گفتگو تھی۔ زیر نظر آیات میں یہی بحث جاری ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: مجرمین اور مشر کین تجھ سے تعجب سے سوال کرتے ہیں کہ کیا اس جہان میں اور دوسرے جہان میں خدائی سزا والا وعدہ حق ہے (وَیَسْتَنْبِئُونَکَ اَحَقّ ھُوَ)۔ یاد رہے کہ یہاں ”حق“ ”باطل“ کے مقابلے میں نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ کیا یہ سزا اور کیفر کردار واقعیت رکھتا ہے اور متحقق ہو گا؟ کیونکہ ”حق“ اور تحقیق“دونوں ایک ہی مادہ سے ہیں البتہ اگر یہاں وہ ”حق“مراد لیا جائے جو ”باطل“ کے مقابلے میں ہے تو پھر اس کا ایک وسیع معنی ہو گا اور یہ ہر موجود کی حقیقت پر محیط ہو گا اور اس نقطہ مقابل معدوم اور باطل ہو گا۔ خدا تعالیٰ اپنے پیغمبرؐ کو حکم دیتا ہے کہ اس سوال کا جواب میں بڑی تاکید سے کہہ دو: مجھے اپنے پروردگار کی قسم ! یہ حقیقت ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے (قُلْ إِی وَرَبِّی إِنَّہُ لَحَقٌّ)۔ اور اگر تمہارا خیال یہ ہے کہ تم خدائی سزا کی گرفت سے بھاگ سکتے ہوئے تو تم نے بہت بڑا اشتباہ کیا ہے کیونکہ ”تم ہرگز اس سے نہیں بچ سکتے اور نہ ہی اپنی طاقت سے تم اسے عاجز سکتے ہو۔ (وَمَا اَنْتُمْ بِمُعْجِزِینَ)۔ درحقیقت یہ جملہ مندرجہ بالا جملے کے ساتھ مقتضی اور مانع کے بیان کے قبیل میں سے ہے۔ پہلے جملے میں فرمایا گیا ہے، کہ مجرمین کی سزا ایک حقیقت ہے اور دوسرے جملے میں مزید کہا گیا ہے کہ کوئی طاقت اس سے بچا نہیں سکتی۔ سورہ طور کی آیت ۷۔ ۸،میں بالکل اسی طرح ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ان عذاب ربک لواقع مالہ من دافع۔ یقیناس تیرے رب ک اعذاب واقع ہو کر رہے گا اور کوئی اس سے بچا نے والا نہیں ہے۔ زیر بحث آیت میں جو تاکید یں دکھائی دیتی ہیں وہ قابل توجہ ہیں۔ ایک طرف قسم کھا کر بات کی گئی ہے دوسری ”انّ“ اور لام تاکید ہے اور تیسری طرف ”وما انتم بمعجزین“کا جملہ یہ سب اس امر پر تاکید ہیں کہ سنگین جرائم کے ارتکاب پر خدائی سزا حتمی ہے۔ بعد والی آیت میں اس سزا کے عظیم ہونے خصوصاً قیامت میں اس کے بڑے ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: عذابِ الٰہی اس طرح سے وحشت ناک اور ہول انگیز ہے کہ ظالموں میں سے ہر ایک زمین کی تمام تر ثروت کا مالک ہو تو وہ تیار ہو گا کہ سب کچھ دے تاکہ اس عذاب اور سزا سے رہائی پالے (وَلَوْ اَنَّ لِکُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِہِ)۔(تشریحی نوٹ: درحقیقت مندر جہ بالا جملے میں یہ عبارت مقدر ہے: من حول القیامة و العذاب)۔ درحقیقت وہ عذاب الٰہی سے بچنے کے لیے بڑی بڑی رشوت دینے کو تیار ہیں لیکن ان سے کچھ بھی قبول نہیں کیا جائے گا اور سوئی کی نوک کے برابر بھی ان کی سزا میں کمی نہیں کی جائے گی۔ خصوصاً ان میں سے بعض سزائیں تو معنوی پہلو رکھتی ہیں اور وہ یہ کہ وہ عذاب الہٰی کے مشاہدے پر پشیمان ہوتے ہیں لیکن دوسرے مجرموں یا اپنے پیروکاروں کے سامنے زیادہ رسوائی سے بچنے کے لیے اظہار ندامت نہیں کرتے(وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوْا الْعَذَابَ)۔ اس کے بعد تاکیداً کہا گیا ہے کہ ان تمام چیزوں کے باوجود ان کے درمیان عمل سے فیصلہ ہو گا اور ان کے بارے میں ظلم نہیں ہو گا (وَقُضِیَ بَیْنَھُمْ بِالْقِسْطِ وَھُمْ لاَیُظْلَمُونَ)۔ یہ جملہ قرآنی روش کے مطابق تمام مقامات پر سزا میں عدالت کے سلسلے میں تاکید ہے کیونکہ گذشتہ آیت میں سزا کے بارے میں موجود تاکیدوں سے غافل لوگ یہ وہم کرتے کہ یہاں انتقام جوئی کا جذبہ کار فرما ہے۔لہٰذا قرآن پہلے کہتا ہے کہ ان کے درمیان عدل سے فیصلہ ہو گا اور پھر تاکید کے طور پر کہتا ہے کہ ان پر ظلم نہیں ہو گا۔ اس کے بعد اس بناء پر کہ کہیں لوگ اللہ کے اس وعدہ اور و عید کو مذاق نہ سمجھیں اور یہ خیال نہ کریں کہ خدا اسے انجام دینے سے قاصر ہے، قرآن مزید کہتا ہے: آگاہ رہوجو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ خدا کا مال ہے اور اس کی مالکیت و حکومت تمام جہانِ ہستی پر محیط ہے اور کوئی اس کی سلطنت سر باہر نہیں جا سکتا (اَلاَإِنَّ لِلَّہِ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ)۔ نیز آ گاہ رہو کہ مجرمین کی سزاکے بارے میں خداکا وعدہ حق ہے اگرچہ بہت سے لوگ جن کے نفس پر جہالت نے اپنا منحوس سایہ ڈال دیا ہے اس حقیقت کو نہیں جانتے(اَلاَإِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ وَلَکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لاَیَعْلَمُونَ)۔ زیر نظر آخری آیت بھی اسی مسئلہ حیات کے بارے میں مزید تاکید ہے، ارشاد ہوتا ہے: خدا ہے کہ جو زندہ کرتا ہے اور وہی ہے جو مارتا ہے (ھُوَ یُحْیِ وَیُمِیتُ)۔لہٰذا وہ بدنوں کو مارنے اور انھیں قیامت کے عدالت کے لیے زندہ کرنے کی بھی قدرت رکھتا ہے۔ اور آخرکا ر تم سب کے سب اس کی طرف پلٹ جاوٴ گے (وَإِلَیْہِ تُرْجَعُونَ)۔اور وہاں پھر اپنے اعمال کی جزا اور سزا پاوٴگے۔

دو اہم نکات

١۔ایک سوال اور اس کا جواب: زیربحث آیا ت کے بارے میں ایک سوال کیا جاتا ہے کہ خدائی سزا کے واقعی ہونے کے بارے میں مشرکین کا سوال تمسخر تھا یا حقیقی سوال تھا۔بعض کہتے ہیں کہ حقیقی سوال شک کی نشانی ہے اور یہ مشرکین کی کیفیت نہ تھی۔ لیکن بہت سے مشرکین شک اور تردد کی حالت میں تھے اور ان میں ایک گروہ پیغمبر اکرؐم کی حقانیت کا علم رکھنے کے باوجود ہٹ دھرمی تعصب اور عناد وغیرہ کی وجہ سے مخالفت پر اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ اس صورت ِ حال کی طرف توجہ کرتے ہوئے واضح ہو جاتا ہے کہ ان کی طرف سے حقیقی سوال کیا جانا کوئی بعید نہیں ہے۔ ٢۔ ”ندامت“ کا مفہوم: ”ندامت“ کا مطلب ہے ایسے کام پر پشیمانی جس کے غیر مطلوب آثار واضح ہو چکے ہوں، چاہے انسان اس کا مداوا کر سکے یا نہ کر سکے۔ مجرمین کی قیامت میں پشمانی دوسری طرح کی ہے اور اسے پوشیدہ رکھنا اس بناء پر ہے کہ اسے واضح کرنا زیادہ رسوائی کو موجب ہے۔

57
10:57
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدۡ جَآءَتۡكُم مَّوۡعِظَةٞ مِّن رَّبِّكُمۡ وَشِفَآءٞ لِّمَا فِي ٱلصُّدُورِ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٞ لِّلۡمُؤۡمِنِينَ
اے لوگو! تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے لئے نصیحت اور موعظہ آیا ہے اورجو کچھ سینوں میں ہے اس کے لئے شفا ہے اور مومنین کے لئے واضح ہدایت اور رحمت ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 58 کے تحت ملاحظہ کریں۔

58
10:58
قُلۡ بِفَضۡلِ ٱللَّهِ وَبِرَحۡمَتِهِۦ فَبِذَٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُواْ هُوَ خَيۡرٞ مِّمَّا يَجۡمَعُونَ
کہہ دو کہ خدا کے فضل و کرم سے خوش رہو کیونکہ جو کچھ انہوں نے جمع کر رکھا ہے وہ اس سے بہتر ہے۔

قرآن خدا کی عظیم رحمت ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

بعض گذشتہ آیات میں قرآ ن کے بارے میں کچھ مباحث آئی ہیں اور ان میں مشرکین کی مخالفت کا کچھ ذکر آیا ہے۔ زیر بحث آیات میں بھی اسی مناسبت سے قرآن کے بارے میں گفتگو آئی ہے۔ پہلے ایک ہمہ گیر عالمی پیغام کے حوالے سے تمام انسانوں کو مخاطب کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: اے لوگوں تمہارے لیے تمہارے پروردگار کی طرف سے وعظ و نصیحت آئی ہے (یَااَیّھَا النَّاسُ قَدْ جَائَتْکُمْ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّکُم)۔اور ایسا کلام کہ جو تمہارے دلوں کی شفاء کا سبب ہے ( وَشِفَاءٌ لِمَا فِی الصُّدُور)۔ ایسی چیز کہ جو ہدایت اور راہنمائی کا باعث ہے (وَھُدًی) اور مومنین کے لیے رحمت ہے (وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِینَ)۔ اس آیت میں قرآن کی چار صفات بیان ہوئی ہیں۔انھیں سمجھنے کے لیے پہلے ان کے لغوی معانی کی طرف رجوع کرنا پڑے گا ”وعظ“ (اور ”موعظہ“) جیسا کہ مفردات میں آیا ہے۔ ایسی نہی کو کہتے ہیں جس میں تہدید کی آمیزش ہو لیکن ظاہراً ”موعظہ“ کا معنی اس سے وسیع تر ہے جیسا کہ مشہور عرب دانشور خلیل کا قول مفردات ہی میں لکھا ہے کہ ”موعظہ“ نیکیوں کا تذکراور یادہانی ہے جس میں رقت ِ قلب بھی موجود ہو۔ درحقیقت ہرقسم کی پند و نصیحت جو مخالطب پراثر کرے، اسے برائیوں سے ڈرائے یا اس کے دل کو نیکیوں کی طرف متوجہ کرے اسے ”وعظ“ اور ”موعظہ“کہتے ہیں البتہ اس بات کا یہ مطلب نہیں کہ ہرموعظہ کا اثر ہو نا چاہئیے بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ آمادہ دلوں پر اس طرح سے اثر کرے۔ دلوں کی بیماری سے شفاء کا باعث یا قرآن کی تعبیر میں اس سے شفاء کا سبب جو سینوں میں ہے اس سے مراد معنوی اور روحانی آلودگیوں سے شفاء ہے۔ مثلاً بخل، کینہ، حسد، بزدلی، شرک اورنفاق وغیرہ سے شفاءکہ جو سب کی سب روحانی بیماریاں ہیں۔ ”ہدایت“ سے مرادہے مقصود کی طرف راستہ مل جانا۔ یعنی انسان کا کاتکل، ارتقاء اور پیش رفت تمام مثبت پہلووں کے سلسلے میں۔ نیز”رحمت“ سے مراد خدا کی بخشی ہوئی وہ مادی اور معنوی نعمتیں ہیں جو اہل انسانوں کو میسر آتی ہیں جیساکہ مفردات میں ہے کہ ”رحمت“ کی جب خدا کی طرف نسبت دی جائے تو اس کا معنی نعمت بخشنا ہے اور جب انسانوں کی طرف اس کی نسبت ہو تو اس کا مطلب ہے رقت طلبی اور مہربانی۔ قرآن کے سائے میں انسان کی تربیت اور اس کے تکامل و ارتقاء کو مندرجہ بالا آیات میں درحقیقت چار مراحل میں بیان کیا گیا ہے۔ پہلا مرحلہ ـــــــــــــ موعظہ اور پندو نصیحت ہے۔ دوسرا مرحلہ ــــــــــطرح طرح کے اخلاقی رذائل سے روح ِ پاک انسانی کو پاک کرنا ہے۔ تیسرا مرحلہ ـــــــــــــ ہدایت کا ہے جو پاکسازی کے بعد انجام پاتا ہے۔ اور چوتھا مرحلہ ـــــــــــوہ ہے کہ انسان اس لائق ہو جاتا ہے کہ پروردگار کی رحمت و نعمت اس کے شامل حال ہو۔ ان میں سے مرحلہ دوسرے کے بعد آتا ہے اور جاذبِ نظر یہ ہے کہ یہ سب مراحل قرآن کے زیرسایہ انجام پاتے ہیں۔ قرآن ہے کہ جو انسانوں کو پند و نصیحت کرتا ہے، قرآن ہے کہ جو گناہ کے زنگ اور بری صفت کو اس کے دل سے دھوتا ہے۔ قرآن ہے کہ جو انسانوں کے دلوں میں نور ہدایت کی روشنی کرتا ہے، اور قرآن ہی ہے جو فر د اور معاشرے پر خدائی نعمتوں کے نزول کا باعث ہے۔ نہج البلاغہ میں حضرت علی علیہ السلام نے اپنی جامع گفتگو میں نہایت خوبصورت انداز میں اس حقیقت کی وضاحت فرمائی ہے، آپ (ع) فرماتے ہیں: فاستشفعوہ من ادوائکم و استعینوا بہ علی لاوائکم فان فیہ شفاء من اکبر الداء وھو الکفر و النفاق و الغی و ضلال۔ قرآن سے اپنی بیماریوں کی شفاء طلب کرو اور اپنی مشکلات کے حل کے لیے اس سے مدد طلب کرو کیونکہ قرآن میں سب بڑی بیماری یعنی کفر، نفاق گمراہی کی شفاء ہے۔ (نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۶)۔ یہ چیز بتاتی ہے کہ قرآن ایک ایسا نسخہ ہے جو فرد اور معاشرے کی مختلف اخلاقی اور اجتماعی بیماریوں کے علاج کے لیے کار گر ہے اور یہ وہ حقیقت ہے، جسےمسلمان بھلا چکے ہیں اور بجائے اس کے کہ وہ اس شفاء بخش دواسے فائدہ اٹھائیں، اپنا علاج دوسرے مکاتب میں تلاش کرتے پھرتے ہیں اور انھوں نے اس عظیم آسمانی کتاب کو فقط پڑھنے کے لیے رکھ چھوڑا ہے۔اور یہ نہیں کہ وہ اس میں غور و فکر کریں اور اس پر عمل کریں۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اگلی آیت میں بحث کی تکمیل کے لیے اور اس عظیم خدائی نعمت یعنی قرآن مجید کہ جو ہر نعمت سے برتر ہے کے بارے میں تاکید کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اے پیامبر ؐ! کہہ دو کہ لوگ پروردگار کے فضل اور اس کی بے پایاں رحمت پر اور اس عظیم آسمانی کتاب کے نزول پر خوش ہو جائیں کہ جو تمام نعمتوں کی جامع ہے۔ نہ کہ دولت کے انباروں پر، بڑے مقام و منصب پر اور قوم و قبیلہ کی کثرت پر (قُلْ بِفَضْلِ اللهِ وَبِرَحْمَتِہِ فَبِذَلِکَ فَلْیَفْرَحُوا)۔ کیونکہ یہ سرمایہ ان تمام چیزوں سے بہتر اور بالا ترہے کہ جو انھوں نے جمع کر رکھی ہے۔ ان میں سے کوئی بھی اس سے موازنہ کے قابل نہیں ہے (ھُوَ خَیْرٌ مِمَّا یَجْمَعُونَ)۔

پہلا مرحلہ موعظہ اور پندو نصیحت ہے۔

دوسرا مرحلہ طرح طرح کے اخلاقی رذائل سے روح ِ پاک انسانی کو پاک کرنا ہے۔ تیسرامرحلہ ہدایت کا ہے جو پاکسازی کے بعد انجام پاتا ہے اور چوتھامرحلہ وہ ہے کہ انسان اس لائق ہو جاتا ہے کہ پروردگار کی رحمت و نعمت اس کے شامل حال ہو۔ ان میں سے مرحلہ دوسرے کے بعد آتا ہے اور جاذبِ نظر یہ ہے کہ یہ سب مراحل قرآن کے زیرسایہ انجام پاتے ہیں۔ قرآن ہے کہ جو انسانوں کو پند و نصیحت کرتا ہے، قرآن ہے کہ جو گناہ کے زنگ اور بری صفت کو اس کے دل سے دھوتا ہے۔ قرآن ہے کہ جو انسانوں کے دلوں میں نور ہدایت کی روشنی کرتا ہے، اور قرآن ہی ہے جو فر اور معاشرے پر خدائی نعمتوں کے نزول کا باعث ہے۔ نہج البلاغہ میں حضرت علی علیہ السلام نے اپنی جامع گفتگو میںنہایت خوبصورت انداز میں اس حقیقت کی وضاحت فرمائی ہے، آپ (ع) فرماتے ہیں: فاستشفعوہ من ادوائکم و استعینوا بہ علی لاوائکم فان فیہ شفاء من اکبر الداء وھو الکفر و النفاق و الغی و ضلال۔ قرآن سے اپنی بیماریوں کی شفاء طلب کرو اور اپنی مشکلات کے حل کے لئے اس سے مدد طلب کرو کیونکہ قرآن میں سب بڑی بیماری یعنی کفر، نفاق گمراہی کی شفاء ہے۔ (نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۶)۔ یہ چیز بتاتی ہے کہ قرآن ایک ایسا نسخہ ہے جو فرد اور معاشرے کی مختلف اخلاقی اور اجتماعی بیماریوں کے علاج کے لئے کار گر ہے اور یہ وہ حقیقت ہے، جس مسلمان بھلا چکے ہیں اور بجائے اس کے کہ وہ اس شفاء بخش دواسے فائدہ اٹھائیں، اپنا علاج دوسرے مکاتب میں تلاش کرتے پھرتے ہیں اور انھوں نے اس عظیم آسمانی کتاب کو فقط پڑھنے کے لئے رکھ چھوڑا ہے اور یہ نہیں کہ وہ اس میں غور و فکر کریں اور اس پر عمل کریں۔ اگلی آیت میں بحث کی تکمیل کے لئے اور اس عظیم خدائی نعمت یعنی قرآن مجید کہ جو ہر نعمت سے برتر ہے کے بارے میں تاکید کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اے پیغ،بر! کہہ دو کہ لوگ پروردگار کے فضل اور اس کی بے پایاں رحمت پر اور اس عظیم آسمانی کتاب کے نزول پر خوش ہ وجائیں کہ جو تمام نعمتوں کی جامع ہے۔ نہ کہ دولت کے انباروں پر، بڑے مقام و منصب پر اور قوم و قبیلہ کی کثرت پر (قُلْ بِفَضْلِ اللهِ وَبِرَحْمَتِہِ فَبِذَلِکَ فَلْیَفْرَحُوا)۔ کیونکہ یہ سرمایہ ان تمام چیزوں سے بہتر اور بالا ترہے کہ جو انھوں نے جمع کر رکھی ہے۔ ان میں سے کوئی بھی اس سے موازنہ کے قابل نہیں ہے (ھُوَ خَیْرٌ مِمَّا یَجْمَعُونَ)۔

دو قابل توجہ نکات

۱۔ کیا دل احساسات کا مر کز ہے؟ زیر بحث پہلی آیت اور اس قسم کی بعض دیگر قرآنی آیات کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اخلاقی بیماریوں کا مرکز دل ہے۔ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ ابتداء میں یہ اعتراض پیدا ہوتا کہ ہم جانتے ہیں کہ تمام اخلاقی اوصاف اور فکری و جذباتی مسائل کا تعلق روح ِ انسانی سے ہے اور دل تو صرف ایک خود کا رپمپ کے طور پر خو ن کی نقل و انتقال اور بدن کے سالموں کی آبیاری اور انھیں غذا پہنچانے کا کام کرتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حق یہی ہے کہ دل صرف جسم انسانی کو منظم رکھنے پر مامور ہے اور نفسیاتی مسائل کا تعلق روح سے ہے لیکن ایک دقیق نکتہ موجود ہے کہ جس کی طرف توجہ کرنے سے قرآن کی اس تعبیر کا مقصد واضح ہو جائے گا اور وہ یہ کہ جسم انسانی میں مرکز موجود ہیں کہ جن میں سے ہر ایک انسان کے نفسانی اعمال کا مظہر ہے یعنی ان دومراکز میں سے ہر ایک نفسانی فعل اور انفعال پر فوراً ردّ عمل کا مظاہرہ کرتا ہے۔ ان میں سے ایک دماغ پر ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں دماغ روح کو فکری مسائل میں مدد دینے کے لیے ایک آلہ ہے۔ اسی لیے غور و فکر کرتے وقت خون دماغ میں تیزی سے حرکت کرتا ہے۔ دماغ کے لیے سالمے (Molecules)زیادہ فعل و انفعال کرتے ہیں، زیادہ غذا جذب کرتے ہیں اور زیادہ لہریں بھیجتے ہیں۔ مگر جب معاملہ جذبات سے متعلق ہو، مثلاً عشق و محبت، عزم غصہ، کینہ، حسد اور درگذر وغیرہ تو انسان کے دل میں عجیب طرح کی فعالیت پیدا ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات دل کی دھڑکن بڑی تیزی ہو جاتی ہے اور کبھی حرکت قلب اتینی کمزور پڑجاتی ہے کہ گویا اب دل کام کرنا چھوڑ دے گا۔ گاہے ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہمارا دل پھٹنے لگا ہے۔ یہ سب کچھ اس نزدیکی تعلق کی بناء پر ہے جو دل اور ان نفسیاتی معاملات کے مابین ہے۔ اسی بناء پر قرآن مجید ایمان کی نسبت دل کی طرف دیتا ہے۔ ولما یدخل الایمان فی قلوبکم اور تمہارے دلوں میں ایمان ہرگز داخل نہ ہو گا۔ (حجرات ۱۴) اسی طرح جہالت، ہٹ دھرمی اور حق کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنے کو دل کے اندھے پن سے تعبیر کیا گیا ہے: ولٰکن تعمی القلوب التی فی الصدور اور لیکن وہ دل جو سینوں میں ہیں، اندھے ہیں۔ (حج ۴۶) یہ بات کہے بغیر نہیں نہ رہ جائے کہ انسان ہمیشہ، کینہ یا حسد وغیرہ کے وقت ایک خاص اثر اپنے دل میں محسوس کرتا ہے یعنی ان نفسیاتی مسائل کے شعلے تپشِ جسم انسانی میں سب سے پہلے دل میں محسوس ہوتی ہے۔ البتہ ان تمام باتوں کے علاوہ پہلے بھی اشارہ کیا جا چکا ہے کہ ”قلب“ کے معانی میں سے ایک معنی انسانی عقل اور روح کے بھی ہے۔ لہٰذا اس کا معنی اسی عضو کے ساتھ مخصوص نہیں جو سینے کے اندر ہے اور یہ امر آیات قلب کے لیے خود ایک تفسیر ہے۔ لیکن تمام آیاتِ قلب کے لیے نہیں بلکہ بعض آیات میں تصریح کی گئی ہے کہ وہ دل جو سینوں میں ہیں۔ (غور کیجئے گا) ۲۔ ”فضل“ اور ”رحمت“ میں کیا فرق ہے ؟: زیر بحث دوسری آیت میں ”فضل“ اور ”رحمت“ کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان دونوں میں کیا فرق ہے ؟ اس سلسلے میں مفسرین میں بہت اختلاف ہے۔ الف: بعض نے فضل الہٰی کو ظاہری نعمتوں کی طر ف اور رحمت کو باطنی نعمتوں کی طرف اشارہ سمجھا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایک نعمت ِ مادی کی طرف اشارہ ہے اور دوسرا لفظ نعمت ِ معنوی کی طرف (اور بار ہا قرآنی آیات میں ”و ابتغوا من فضلہ“ یا ”لتبتغوا من فضلہ“ تحصیل روزی اور مادی نعمتوں کے لیے آیا ہے)۔ ب: کچھ مفسرین نے کہا ہے کہ فضل الہٰی نعمت کا آغاز ہے اور اس کی رحمت اور نعمت کا دوام ہے (البتہ اس طرف توجہ کرتے ہوئے فضل نعمت بخشنے کے معنی میں ہے اور اس کے بعد رحمت کے ذکر میں کسی چیز کا اضافہ ہو نا چاہئیے یہ تفسیر قابل فہم ہے)۔ یہ جو متعدد روایات میں ہے کہ کہ فضل الہٰی سے مراد جو پیغمبرؐ اور نعمت نبوت ہے اور رحمت پروردگار سے مراد وجدِ علی اور نعمت ولایت ہے، شاید اسی تفسیر کی طرف اشارہ ہو کیونکہ رسول اللہ سر آغاز اسلام ہیں، علی (ع) کی بقاء اور حیات ِ دوام کا سبب ہیں (ایک علت محدثہ اور ایجاد کنندہ ہیں اور دوسرے علت مبقیہ اور بقائے دینے والے ہیں)۔ (تشریحی نوٹ: ان روایات سے آگاہی کے لیے تفسیر نور الثقلین ج۲ ص ۳۰۷ اور ص ۳۰۸ کی طرف رجوع کریں)۔ ج: یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ”فضل“ پروردگار کی اس نعمت کی طرف اشارہ ہے جو دوست و دشمن کے لیے عام ہے اور گذشتہ آیت میں ”للموٴمنین ‘ ‘ کی طرف توجہ کرتے ہوئے ”رحمت“ اس کی مخصوص رحمت کی طرف اشارہ ہے جو باایمان افراد سے مختص ہے۔ د: ایک اور تفسیر جو ان دونوں الفاظ کے لیے ذکر ہوئی ہے یہ ہے کہ پروردگار کا فضل ایمان کی طرف اشارہ ہے اور رحمت قرآن کی طرف کہ جس کے بارے میں اس سے پہلے کی آیت میں گفتگو ہوئی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر معانی آپس میں تضاد نہیں رکھتے اور ہو سکتا ہے یہ سب مفاہیم فضل اور رحمت کے ایک جامع معنی میں جمع ہوں۔

59
10:59
قُلۡ أَرَءَيۡتُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ لَكُم مِّن رِّزۡقٖ فَجَعَلۡتُم مِّنۡهُ حَرَامٗا وَحَلَٰلٗا قُلۡ ءَآللَّهُ أَذِنَ لَكُمۡۖ أَمۡ عَلَى ٱللَّهِ تَفۡتَرُونَ
کہہ دو: کیا وہ رزق جو اللہ نے تم پر نازل کیا ہے تم نے اسے دیکھا ہے کہ اس میں سے کچھ کو تم نے حلال قر ار دے دیا ہے اور کچھ کو حرام۔ کہہ دو: کیا تمہیں اللہ نے اجازت دی ہے یا اللہ پر افترا باندھتے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 61 کے تحت ملاحظہ کریں۔

60
10:60
وَمَا ظَنُّ ٱلَّذِينَ يَفۡتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَذُو فَضۡلٍ عَلَى ٱلنَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَشۡكُرُونَ
جو اللہ پر افتراء باندھتے ہیں وہ روز قیامت (کی سزا) کے بارے میں کیا سوچتے ہیں ؟ اللہ سب لوگوں کے لئے فضل (اوربخشش) کرنے والا ہے لیکن ان میں سے اکثر شکر گزاری نہیں کرتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 61 کے تحت ملاحظہ کریں۔

61
10:61
وَمَا تَكُونُ فِي شَأۡنٖ وَمَا تَتۡلُواْ مِنۡهُ مِن قُرۡءَانٖ وَلَا تَعۡمَلُونَ مِنۡ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيۡكُمۡ شُهُودًا إِذۡ تُفِيضُونَ فِيهِۚ وَمَا يَعۡزُبُ عَن رَّبِّكَ مِن مِّثۡقَالِ ذَرَّةٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا فِي ٱلسَّمَآءِ وَلَآ أَصۡغَرَ مِن ذَٰلِكَ وَلَآ أَكۡبَرَ إِلَّا فِي كِتَٰبٖ مُّبِينٍ
تم کسی حالت(اورفکر)میں نہیں ہوتے، نہ قرآن کے کسی حصے کی تلاوت کرتے ہو اور نہ ہی تم کوئی عمل انجام دیتے ہو مگر یہ کہ جب تم ان میں وارد ہوتے ہو ہم تم پر نگران ہوتے ہیں اور زمین وآسمان میں کوئی چیز تیرے پروردگار سے مخفی نہیں رہتی نہ ذرہ برابر اور نہ اس سے کم وبیش۔ مگر یہ کہ وہ سب کچھ واضح کتاب(اور علم خدا کی لوح محفوظ) میں ثبت ہے۔

خداہر جگہ ناظر ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ آیات میں اور قرآن میں خدا کے وعظ و نصیحت اور ہدایت و رحمت کے بارے میں گفتگو تھی۔ زیر بحث آیات میں اسی مناسبت سے مشرکین کے گھڑے ہوئے قوانین اور جھوٹے احکام کے بارے میں بات کی گئی ہے کیونکہ جو شخص خدا پر ایمان رکھتا ہے اور جانتا ہے کہ تمام نعمات اور رزق اس کی طرف سے ہے اسے چاہئیے کہ وہ یہ حقیقت بھی قبول کرے کہ ان نعمات کے بارے میں حکم دینا اور ان کے بارے میں حلال و حرام کا تعین خدا کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے اذن اور حکم کے بغیر اس کام میں دخل اندازی صحیح نہیں ہے۔ زیر نظر پہلی آیت میں روئے سخن پیغمبر اکرمؐ کی طرف ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ان سے کہہ دو کہ خدانے جو رزق تمہارے لیے نازل کیا ہے اس میں سے کیوں کچھ کو حرام قرار دیتے ہو اور کچھ کو حلال (قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ لَکُمۡ مِّنۡ رِّزۡقٍ فَجَعَلۡتُمۡ مِّنۡہُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا)۔اپنی بے ہودہ رسوم کے مطابق کچھ چوپایوں کو سائبہ، کچھ کو بحیرہ اور کچھ کو وصیلہ (تشریحی نوٹ: "بحیرہ" اس جانور کو کہتے ہیں جس نے کئی مرتبہ بچہ جنا ہو۔”سائبہ“ اس اونٹنی کو کہتے ہیں جس نے دس یا بارہ بچے دئیے ہوں اور ”وصیلہ“ اس گوسفند کو کہتے ہیں جس نے سات بچے دئیے ہوں) (مزید وضاحت کے لیے جلد پنجم ص۹۷ کی طرف رجوع کریں)۔ کہتے ہو اسی طرح تم نے اپنی کھیتی باڑی کے بعض محصولات کو حرام قرار دے رکھا ہے اور ان کو ان پا ک نعمتوں سے محروم رکھا ہے علاوہ ازیں یہ امر تم سے مربوط نہیں ہے کہ کس چیز کو حلال ہونا چاہئیے اور کس چیز کو حرام۔ یہ امر تو صرف ان کے پروردگار اور خالق کے اختیار میں ہے۔ کہہ دو: کیا خدا نے تمہیں اجازر دی ہے کہ ایسے قوانین وضع کرو یاخدا پرافتراء باندھتے ہو(قُلْ اَاللهُ اَذِنَ لَکُمْ اَمْ عَلَی اللهِ تَفْتَرُونَ)۔یعنی اس کام کی دوہی صورتیں ہو سکتی ہیں کوئی تیسری نہیں یا تو ایسا پروردگارکی اجازت سے ہو اور یا پھر یہ تہمت اور افتراء ہے اور چونکہ پہلی بات نہیں ہے لہٰذا تہمت اور افتراء کے سوا کوئی اور چیز نہیں ہو سکتی۔ اب جبکہ یہ مسلم ہو گیا ہے کہ وہ اپنے ان خود ساختہ اور بے ہودہ احاکم کے ذریعے نعمات الہٰی سے محروم ہو ئے ہیں اور پروردگار کی ذات ِ مقدس پر افتراء باندھا ہے لہٰذا مزید فرمایا گیا ہے جو خدا پر جھوٹ ناھتے ہیں وہ روز قیامت کی سزا کے بارے میں کیا سوچتے ہیں کیا انھوں اس دردناک سزا سے نجات کا کوئی بند و بست کیا ہے (وَمَا ظَنُّ الَّذِینَ یَفْتَرُونَ عَلَی اللهِ الْکَذِبَ یَوْمَ الْقِیَامَة)۔ لیکن ”لوگوں پر خدا کا فضل اور رحمت وسیع ہے“ لہٰذا وہ انھیں ایسے برے اعمال پر سزا نہیں دیتا(إِنَّ اللهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ)۔مگر وہ لوگ بجائے اس کے کہ اس خدائی مہلت سے فائدہ اٹھائیں، عبرت حاصل کریں اس کا شکر بجالائیں اور خدا کی طرف پلٹ آئیں۔ ” ان میں سے اکثر غافل ہیں“ اور وہ اس عظیم نعمت کا شکر بجا لاتے (وَلَکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لاَیَشْکُرُونَ)۔ اس آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ ان تمام نعمات اور رزق کا حلال ہو نا (سوائے چند نقصان دہ اور ناپاک مستثنیٰ چیزوں کے) خو د خدا کی ایک عظیم نعمت ہے اور بہت سے لو گ اس عظیمِ نعمت کی شکر گزاری کی بجائے نا شکری کرتے ہیں اور بے ہودہ احکام اور چیزوں کو بلا دلیل ممنوع قرار دے کر اپنے آپ کو ان سے محروم رکھتے ہیں۔ اس بناء پر کہیں یہ خیال پیدا نہ ہو کہ خداکی یہ مہلت اس لیے کہ وہ ان کے کرتوتوں کو نہیں جانتا، زیر بحث آخری آیت میں یہ حقیقت نہایت عمدہ عبارت سے بیان کی گئی ہے کہ وہ آسمان و زمین کی وسعت میں تمام ذرات موجودات اور بندوں کے اعمال کی جزئیات سے باخبر ہے۔ارشاد ہوتا ہے: تو کسی حالت اورکسی اہم کام میں نہیں ہوتا اور تو کسی آیت کی تلاوت نہیں کرتا، اور وہ کوئی عمل انجام نہیں دیتے مگر یہ کہ ہم اس پر شاہد اور ناظر ہوتے ہیں جب بھی وہ کام کرنے لگتے ہو(وَمَا تَکُونُ فِی شَاٴنٍ وَمَا تَتْلُوا مِنْہُ مِنْ قُرْآنٍ وَلاَتَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلاَّ کُنَّا عَلَیْکُمْ شُہُودًا إِذْ تُفِیضُونَ فِیہِ)۔(بعض مفسرین ضمیر ”منہ“ کو خدا کی طرف پلٹا تے ہیں یعنی جو آیات تو خدا کی طرف سے پڑھتا ہے۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ ضمیر لفظ شان یا قرآن کی طرف لوٹتی ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین نے کہا ہے یعنی وہ آیات جن کی کسی اہم کام کے بارے میں تو تلاوت کرتا ہے یا قرآن کی جو آیات تو تلاوت کرتا ہے)۔ ”شہود“ ”شاہد“ کی جمع ہے یہ اصل میں حضور اور موجودگی کے معنی میں ہے۔ جس میں آنکھ یا قلب و فکر کا مشاہدہ شامل ہو۔ جمع کی تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ نہ صرف خدا بلکہ فرشتے جو اس کے فرمانبردار ہیں اور انسانوں کے اعمال کے نگران ہیں ان کے سب کاموں سے باخبر ہیں اور ان کے شاہد و ناظر ہیں۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے کہ خدا کے بارے میں جمع کا صیغہ جب کہ اس کی ذاتپاک ہر لحاظ سے یکتا و بیگانہ ہے، اس کے مقام کی عظمت کی طرف اشارہ ہے اور ہمیشہ اس کے مامور اس کے فر مان کے تابع ہیں اور اس کے امر کی طاعت کے لیے تیار ہیں۔ اور درحقیقت گفتگو صرف اس کے بارے میں نہیں بلکہ اس کے تمام مطیع مامورین کے بارے میں بھی ہے۔ اس کے بعدخداکی تمام چیزوں سے آگاہی کے مسئلے پر زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: زمین اور آسمان میں چھوٹی سے چھوٹی چیز یہاں تک کہ کوئی ذرّہ بے مقدار بھی تیرے پروردگار کے علم کی نظر سے مخفی نہیں رہتا نہ اس سے کوئی چھوٹی چیز ہے اور نہ اس سے بڑی۔مگر یہ کہ سب کی سب لوحِ محفوظ اور علم خدا کی واضح کتاب میں ثبت ہے (وَمَا یَعْزُبُ عَنْ رَبِّکَ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَلاَفِی السَّمَاءِ وَلاَاَصْغَرَ مِنْ ذَلِکَ وَلاَاَکْبَرَ إِلاَّ فِی کِتَابٍ مُبِینٍ)۔ ”یعذب“ اور ”عذوب“ کے مادہ سے دراصل گھر اور گھر والوں سے چوپایوں کے لیے چراگاہ تلاش کرنے کے لیے جدائی کے معنی میں ہے بعد ازاں یہ لفظ مطلقاً غیبت اور جدائی کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ ”ذرة“ نہایت چھوٹے سے جسم کے معنی میں ہے۔ اسی لیے چھوٹی چھوٹی چونٹیوں کو بھی ”ذرہ“ کہا جاتا ہے۔ مزید وضاحت کے لیے جلد سوم ص ۲۸۹ کی طرف مراجعت کیجئے۔ ”کتاب مبین“ پروردگارکے وسیع علم کی طرف اشارہ ہے کہ جسے بعض اوقات ”لوح محفوظ“ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ (اس بارے میں جلد پنجم ص۱۸۵، اردو ترجمہ پر بھی بات کی گئی ہے)۔

چند اہم نکات

۱۔ قانون بنانے کا حق صرف خدا کو ہے: مندرجہ بالا آیات کی مختصر سی عبارتوں کے ذریعہ یہ حقیقت ثابت ہوتی ہے کہ قانون بنانے کا حق خدا کے ساتھ مخصوص ہے اور جو شخص اس کے فرمان اور اجازت کے بغیر ایسا کرے تو وہ خدا پر تہمت اور افتراء کا ارتکاب کرتا ہے کیونکہ رزق اور تمام عالم ہستی کی نعمات اس کی جانب سے نازل ہوتی ہیں اور درحقیقت ان سب کا حقیقی مالک وہی ہے۔ اسی لیے اسی کو حق پہنچتا ہے کہ کسی کو جائز یا ناجائز قرار دے۔ البتہ اس سلسلے میں اس کے احکام خود بندوں کے مفاد میں ہیں اور انہی کے تکامل و ارتقاء کے لیے ہیں اور اسے ان کی ذرہ بھر بھی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن بہرحال صاحبِ اختیار اور قانون گزار وہی ہے مگر یہ کہ جتنا مناسب سمجھے کسی پیغمبر کو یا کسی حد تک کوئی اجازت دے دے۔ جیسا کہ بہت سی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلامؐ بعض امور کو واجب یا حرام قرار دیتے تھے کہ جنہیں روایات کی زبان میں ”فرض النبی“ کہا جاتا ہے البتہ یہ سب کے سب خدا کے حکم کے تابع ہیں اور ایسے اختیارات ہیں جو پیغمبر اکرمؐ کو ودیعت کیے گئے ہیں۔ ”اللہ اذن لکم“ اس پر دلیل ہے کہ ہو سکتا ہے کہ خدا اس قسم کی اجازت کسی کو دے۔ یہ مسئلہ ”ولایت تشریعی“ کی بحث سے مربوط ہے جو انشاء اللہ تعالیٰ کسی دوسرے مقام پر ہم تشریح کے ساتھ بیان کریں گے۔ ۲۔ رزق کا نزول: مندرجہ بالا آیات میں ارزاق کے لیے نزول کی تعبیر استعمال ہوئی ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ صرف بارش کا پانی آسمانی سے اترتا ہے۔ یہ یا تو اس بناء پر ہے کہ بارش کے یہ حیات بخش قطرے تمام تر رزق کی اصل بنیاد ہیں اور یا اس بناء پر ہے کہ مرادنزول مقامی ہے کہ جس کی طرف پہلے بھی اشارہ کیا جا چکا ہے۔ یہ تعبیر روز مرہ کی گفتگو میں نظر آتی ہے کہ اگر ایک بزرگ شخص کی طرف سے کوئی حکم یا احسان کسی چھوٹے شخص کے لیے ہو تو کہا جا سکتا ہے کہ یہ ”اوپر“ سے معین کیا گیا ہے یا اوپر سے ہمیں ملا ہے۔ ۳۔ علماء علم اصول کا ایک استدلال: علما ء علم اصول نے ”اٴ للہ اذن لکم ام علی اللہ تفترون“سے ”اصل عدم حجیت ظن“ کو ثابت کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ احکام الہٰی میں سے کوئی یقین کے بغیر ثابت نہیں کیا جا سکتا ورنہ خدا پر افتراء ہو گا کہ جو حرام ہے۔ البتہ اس استدلال پر ہمارے کچھ اعتراجات ہیں کہ جو ہم نے علم اصول کے مباحث میں ذکر کیے ہیں۔ ۴۔ ایک درس: مندرجہ بالاآیات میں سے ہمیں ایک اور درس بھی ملتا ہے اور وہ یہ ہے کہ قانون ِخدا کے مقابلے میں قانون بنا نا جاہلیت کا طریقہ ہے۔ ایسے لوگ اپنے آپ کو حق دار سمجھتے تھے کہ اپنے نارسا اور ناپختہ افکار سے احکام تراش لیں۔ ایک حقیقی خدا پرست ہرگز ایسا نہیں ہو سکتا۔ یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے زمانے میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو ایمان باخدا کا دم بھر تے ہیں اس کے باوجود دوسروں کے غیر اسلامی قوانین کی طرف دست سوال دراز کرتے ہیں یا جو قوانینِ اسلام کو ناقابل عمل قرار دے کر خود قانون وضع کرتے ہیں وہ بھی جاہلیت کے طریقوں کے پیروکار ہیں۔ حقیقی اسلام قابل تقسیم اور تجزیہ پذیر نہیں ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں تو اس کے قوانین کو قبول کرنا چاہئیے اور یہ جو بعض کہتے ہیں کہ اس کے سب قوانین قابل اجراء ہیں، ان کی سوچ بے بنیاد اور یہ خیال ایک قسم کی مغر ب زدگی اور خود نمائی پر مبنی ہے۔ البتہ اسلام اپنی جامعیت کے لحاظ سے بعض مسائل میں اصول بیان کرکے ہمارے ہاتھ کھلے رکھتا ہے تاکہ ہر زمانے کے تقاضوں کے مطابق شوریٰ کے اصولوں کی روشنی میں ہم تنظیم کریں اور انھیں جاری کریں۔ ۵۔ علم الہٰی کے تین پہلو: محل ِ بحث آخری آیت میں علم پروردگار کی وسعت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین نکتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ فرمایا گیا ہے کہ تو کسی کام اور حالت میں نہیں ہے اور کوئی آیت تلاوت نہیں کرتا اور تم لوگ کوئی عمل انجام نہیں دیتے ہو مگر یہ کہ ہم تم پر شاہد اور ناظر ہیں۔ یہ تین تعبیریں اصل میں انسانوں کے افکار، گفتار اور کردار کی طرف اشارہ ہیں،یعنی جس طرح خدا ہمارے اعمال دیکھتا ہے،۔ ہماری باتوں کو بھی سنتا ہے اور ہمارے افکار اور نیتوں سے بھی آ گاہ ہے اور ان میں سے کوئی چیز بھی علم پروردگار کے دائرے سے خارج نہیں ہے۔ اس میں شک نہیں کہ نیت اور روح کی کیفیت کا مرحلہ پہلے آتا ہے، گفتگو اس کے بعد ہوتی ہے اور کردار کا مرحلہ آخر میں آتا ہے۔ اسی لیے آیت میں بی اسی ترتیب کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ پہلے اور دوسرے مرحلے کا ذکر مفرد کی شکل میں پیغمبرؐ سے خطاب کی صورت میں ہے اور تیسرے مرحلے کاذکر جمع کی صورت میں ہے اور تمام مسلمانوں سے خطاب ہے، جیسا کہ خدا کی طرف سے آیات ِ قرآن لے کر انھیں لوگوں کے سامنے تلاوت کرنا بھی آنحضرت سے مربوط ہے۔ لیکن ان پروگراموں پر عمل کرنا ساری ملت سے مربوط ہے اور کوئی شخص اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ ۶۔ ہماری ہر کیفیت کی نگرانی ہورہی ہے: زیر نظر آخری آیت میں تمام مسلمانوں کے لیے ایک عظیم درس موجود ہے کہ جو انھیں راہ حق پر ڈال سکتا ہے اور انحرافات سے روک سکتا ہے یہ ایک ایسا درس ہے کہ جس کی طرف توجہ کرنے سے صالح اور پاکیزہ معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہمیں یہ حقیقت نظر میں رکھنا چاہئیے کہ ہم جو بھی قدم اٹھاتے ہیں، جو بھی بات کرتے ہیں، جو کچھ بھی سوچتے ہیں، جس طرف بھی دیکھتے ہیں اور ہم جس حالت اور کیفیت میں بھی ہوتے ہیں نہ صرف خدا کی پا ک ذات بلکہ اس کے فرشتے بھی ہمارے نگران ہوتے ہیں اور پوری توجہ سے ہمیں دیکھتے ہیں۔ زمین و آسمان کے طول و عرض میں چھوٹی سے چھوٹی حرکت بھی خدا کی نگاہ سے پنہاں نہیں ہو سکتی، نہ صرف پنہاں نہیں ہوتی بلکہ لوحِ محفوظ میں بھی ثبت ہوتی ہے اور اس میں تبدیلی، اشتباہ یا غلطی نہیں ہو سکتی۔ نہ خدا کے علم بے پایاں کے صفحہ میں نہ مقرب فرشتوں اور بندوں کے اعمال لکھنے والوں کی سوچ میں اور نہ ہماری ڈائری اور ہمارے نامہ اعمال میں کہیں بھی تبدیلی، اشتباہ یا غلطی نہیں ہو سکتی۔ بلاوجہ نہیں ہے کہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: کان رسول اللہ اذا قرء ھٰذہ الاٰیة بکی بکاء شدیداً۔ جب رسول اللہ اس آیت کی تلاوت کرتے تھے تو شدت سے گریہ کرتے تھے۔ (مجمع البیان جلد ۵ ص ۱۱۶، مذکورہ آیت کے ذیل میں) جب رسول اللہ اپنے خلوص و بندگی، خدمت خلق اور عبادت ِ خالق کے باوجود علم خدا کے سامنے ترساں ہو توہماری اور دوسروں کی حالت واضح ہے۔

62
10:62
أَلَآ إِنَّ أَوۡلِيَآءَ ٱللَّهِ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ
آگاہ رہو کہ خدا کے اولیا(اور دوست) نہ ڈرتے ہیں اور نہ غمگین ہوتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 65 کے تحت ملاحظہ کریں۔

63
10:63
ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُونَ
وہی کہ جو ایمان لائے اور جنہوں نے (حکم خد اکی مخالفت سے) پرہیز کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 65 کے تحت ملاحظہ کریں۔

64
10:64
لَهُمُ ٱلۡبُشۡرَىٰ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَفِي ٱلۡأٓخِرَةِۚ لَا تَبۡدِيلَ لِكَلِمَٰتِ ٱللَّهِۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ
ان کے لئے دنیاوی زندگی میں اور آخرت میں خوشی (اور مسرت) ہے۔اللہ کے وعدوں کی خلاف ورزی نہیں ہو سکتی اور یہ عظیم کامیابی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 65 کے تحت ملاحظہ کریں۔

65
10:65
وَلَا يَحۡزُنكَ قَوۡلُهُمۡۘ إِنَّ ٱلۡعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًاۚ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ
ان کی گفتگو تجھے غمگین نہ کرے۔بے شک تمام عزت وقدرت خدا کے لئے ہے اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

روحانی سکون ایمان کے زیر سایہ ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ آیات میں مشرکین اور بے ایمان افراد کے حالات کا کچھ حصہ پیش کیا گیا تھا۔ ان آیات میں ان کے مد مقابل مخلص، مجاہد اور پرہیز گار مومنین کی کیفیت بیان ہوئی ہے تاکہ موازنہ ہو سکے۔ جیسا کہ قرآن کی روش ہے کہ وہ نور کو ظلمت سے اور سعادت کو بد بختی سے ممیّز کر تا ہے۔پہلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے: آگاہ رہو کہ اولیاءِ خدا پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ انھیں کوئی حزن و غم ہے (اَلاَإِنَّ اَوْلِیَاءَ اللهِ لاَخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَھُمْ یَحْزَنُونَ)۔ اس بات کو پوری طرح سمجھنے کے لیے اولیاء کا معنی خوب معلوم ہونا چاہئیے ”اولیاء“ ”ولی“ کی جمع ہے یہ اصل میں ”ولی یلی“ کے مادہ سے لیا گیا ہے جو دو چیزوں کے نزدیک واسطہ نہ ہونے اور ان کے ایک دوسرے کے نزدیک پے در پے ہونے کے معنی میں ہیں لہٰذا ہر اس چیز کو جو دوسری سے مکان، زمان، نسب یا مقام کے لحاظ سے قرابت رکھتی ہے ”کہا جا تا ہے۔ اس لفظ کا ”سرپرست“ اور ”دوست“ وغیرہ کے لیے استعمال بھی اسی بناء پر ہے اس لیے اولیاء وہ ہیں جن کے اور خدا کے درمیان کوئی فاصلہ نہ ہو۔ اولیاء ِ خدا معرفت اور ایمان کے نور سے اور اپنے پاک عمل کی بناء پر خداکو دل کی آنکھ سے اس طرح دیکھتے ہیں کہ ان کے دل میں کسی قسم کا کوئی شک اور ترد پیدا نہیں ہوتا اور خدا کہ جو بے انتہا ہے جس کی قدرت بے پایاں ہے اور جو کما ل ِ مطلق ہے، سے اسی آشنائی کے سبب جو کچھ خدا کے علاوہ ہے، ان کی نگاہ میں حقیر، بے وقعت، ناپائیدار اوربے مقدار ہے۔ جو شخص سمندر سے آشنا ہے قطرہ اس کی نگاہ میں کوئی قیمت نہیں رکھتی اور جوآفتاب کو دیکھتا ہے وہ ایک سمع بے فروغ سے بے اعتناء ہے۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ انھیں کیوں خوف و اندوہ نہیں ہے کیونکہ خوف عام طور پر میسر نعمتوں کے فقدان کے احتمال پر ہوتا ہے یا ان خطرات سے ہو سکتا ہے جبکہ خدا کے اولیاء اور سچے دوست مادی دنیا کی ہر قسم کی وابستگی اور عقد سے آزاد ہیں اور ”زہد“ اپنے حقیقی مفہوم میں ان کے وجود پر حکومت کرتا ہے وہ نہ مادی وسائل کے چھن جانے پر واویلا کرتے ہیں اور نہ آئندہ کے لیے ایسے مسائل کا احتمال ان کے اذہان کو اپنی طرف مشغول رکھتا ہے: ان کے وجود میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ کسی چھوٹے سے برتن کا پانی انسان کی ایک پھونک ہی سے متلاطم ہو جاتا ہے لیکن ایک وسیع سمندر کے لیے طوفان بھی کم اثر ہوتے ہیں۔ اسی لیے سمندر کو سکون کہا جاتا ہے۔ لکی لا تاٴسوا علی مافاتکم ولا تفرحوا بما اٰتاکم۔ تاکہ نہ افسوس کرو تم اس چیز کا جو تم سے چھن جائے اور نہ خوش ہو تم اس چیز سے جو تم کو دی جائے۔ (حدید۔۲۳) نہ وہ دن کہ جب دنیا ان کے پاس تھی انھوں نے اس سے دل لگایا اور نہ آج جبکہ اس سے جدا ہورہے ہیں انھیں اس کا غم ہے۔ ان کی روح بزرگ تر ہے اور ان کی روح سے بالا تر ہے کہ ایسے حوادث ان کے گذشتہ اور آئندہ پر اثر انداز ہوں گے۔ اس طرح سے حقیقی امن و سکون ان کے وجود پر حکم فرما ہے۔ قرآن کے مطابق: اولٰئک لھم الامن انہیں لوگوں کے لیے امن اور سلامتی ہے۔(انعام۔ ۸۲)۔ یا دوسرے لفظوں میں: الا بذکراللہ تطمئن القلوب۔ خدا کی یاد ان کے دلوں کے سکون کاباعث ہے۔ (رعد۔ ۲۸) خلاصہ یہ کہ عموماً غم اور خوف انسانوں میں دنیا پرستی کی روح کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ جو لوگ اسی روح سے تہی داماں ہیں اگر انھیں کوئی غم اور خوف نہ ہو تو یہ بہت فطری اور طبعی بات ہے یہ اس مسئلہ کا استدلالی بیان ہے۔ کبھی اس مسئلے کو عرفانی صورت میں یوں بیان کیا جاتا ہے: اولیاء اللہ اس طرح صفات جلال و جمال میں مستغرق ہیں اور کی ذات پاک کے مشاہدہ میں محو ہوتے ہیں اور اس کے غیر کو بھول جاتے ہیں کہ کسی چیز کے لیے کھو جانے کے غم میں اور کسی خطرناک دشمن کے خوف کی ان کے دل میں کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ جس کے دل میں خدا کے سوا کسی کے لیے کوئی گنجائش نہ ہو اور جو اس کے غیر کی فکر نہ کرے اور اس کی روح اس کے علاوہ کسی کو قبول نہ کرے تو کیسے ممکن ہے کہ وہ کسی غم و اندوہ یا خوف و وحشت سے دوچار ہو۔ جو کچھ ہم نے کہ ہے اس سے یہ حقیقت آشکار ہو جاتی ہے کہ اس سے مراد مادی نج و غم اور دنیاوی خوف و ہراس ہے۔ ورنہ اللہ کے دوستوں کا وجود اس کے خوف سے مالا مال ہوتا ہے۔ فرائض اور ذمہ دار یوں کے انجام نہ دینے کا خوف اور ان مواقع کا دکھ کہ جو ان سے ضائع ہو گئے۔ یہ حزن و ملال روحانی پہلو اور وجود انسان کے تکامل اور ترقی کا باعث ہے جبکہ اس کے برعکس، مادی خوف اور غم انحطاط اور تنزل کا سبب ہیں۔ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام اپنے مشہور خطبہ ہمام میں اولیا ء اللہ کے حالات کی نہایت خوبصورت تصویر کشی کرتے ہوئے فرماتے ہیں: قلوبھم مخزونة و شرورھم مامونة۔ ان کے دل مخزونو غمزہ ہیں اور لوگ ان کے شر سے امان میں ہیں۔ آپ(ع) مزید فرماتے ہیں: ولو لا الاجل الذی کتب اللہ علیھم لم تستقرارواحھم فی اجسادھم طرفة عین شوقاً الیٰ الثواب وخوفاً من العقاب۔ اگر وہ اجل جو خدا نے ان کے لیے مقرر کی ہے نہ ہوتی تو ثوابِ الہٰی کے شوق میں اور عذاب الہٰی کے خوف سے ان کے جسموں میں ان کی روح چشم زدن کی دیر بھی نہ ٹھہرتی۔ (بحوالہ نہج البلاغہ، خطبہ ۱۹۳(صبحی صالح)۔ قرآن مجید بھی مو منین کے بارے میں کہتا ہے: الذین یخشون ربھم بالغیب وھم من الساعة مشفقون۔ وہ لوگ جو پروردگار سے اس کے غضب کو نہ دیکھنے کے باجود ڈرتے ہیں۔(انبیاء۔ ۴۹) اس بناء پر ان کا خوف و ہراس دوسری قسم کا ہے۔ (تشریحی نوٹ: اس وقت جب کہ ہم یہ آیات لکھ رہے ہیں اللہ کے ایک سچے ولی کی شہادت کی خبر پہنچی ہے یعنی فلسفی، عالم، مجاہد ِ عظیم آقائے مرتضی مطہری کی خبر شہادت۔ اس شہادت نے ہمارے لیے یہ حقیقت ایک مرتبہ ثابت کر دی ہے کہ عظیم اسلامی انقلاب کی حفاظت کے لیے جسے ہم نے دورِ حاضر میں اس ملک میں شروع کررکھا ہے اور جس میں قوم کے تمام طبقے شریک ہیں، ابھی ہمیں بہت سا خون اور بہت سی قربانیاں دینی ہوں گی۔ لیکن اب کے دشمنوں نے ہم سے ایک ایسے جواں مرد کو چھینا ہے جس کی ساری عمر علم و دانش کی خدمت میں صرف ہوئی تھی اور اس کے گراں بہا آثار علمی اس دعویٰ پر شاہد ناطق ہیں۔ وہ مخلص مجاہد اور آزاد مومن تھے۔ وہ بھی انہی افراد میں سے تھے کہ جن کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ:۔ ”نہ انھیں خوف ہے اور نہ غم و حزن“ کیونکہ اس شہید نے اپنے پیغام اور ذمہ داری کو عمدہ طریقے سے انجام دیا اور اپنے پیغام اور ذمہ داری کی راہ میں شہید ہو گیا۔ (۱۲ اردی بہشت ۱۳۵۸ ہجری شمسی) یہ کہ اولیاء خدا سے مراد کون سے افراد ہیں، اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے لیکن دوسری آیت اس مطلب کو واضح کرتی ہے اور بحث کر دیتی ہے ار شاد ہوتا ہے: وہ ایسے لوگ ہیں جو ایمان لائے اور ہمیشہ تقویٰ اور پر ہیز گاری کو اختیا ر کیےرکھا (الَّذِینَ آمَنُوا وَکَانُوا یَتَّقُونَ)۔ یہ امر جاذب توجہ ہے کہ ایمان کا ذکر ما ضی مطلق کی صورت میں ہے اور تقویٰ کا ذکر ماضی استمراری کی شکل میں ہے۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ان کا ایمان حد کامل کو پہنچ گیا ہے لیکن تقویٰ جوکہ روزمرہ کے عمل میں منعکس ہوتا ہے، ہر گھڑی نئے کام کا مطالبہ کرتا ہے اور تدریجی پہلو رکھتا ہے یہ ان کے لیے ایک دائمی ذمہ دای کی صورت میں ہے۔ جی ہاں یہ وہ لوگ ہیں جو دین اور شخصیت کے ان دو بنیادی ار کان کے حامل ہیں اور اس کی وجہ سے اپنے اندر ایک ایسا سکو ن محسوس کرتے ہیں کہ جسے زندگی کا کوئی طوفان مضطرب نہیں کر سکتا بلکہ: الموٴمن الحبل الراسخ لاتحرکہ العواصف۔ مومن مضبوط پہاڑ کی طرح ہے جسے تیز آندھیاں ہلا نہیں سکتیں۔ یعنی وہ پہاڑ کی طرح حوادث کی تند ہوا کے سامنے استقامت اور پا مردی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ تیسری آیت میں اولیاء ِ حق کے وجود میں خوف و غم اور وحشت و اضطراب کے نہ ہونے کی تاکید یوں کی گئی ہے: ان کے لیے دنیاوی زندگی میں اور آخرت میں بشارت، خوشحالی اور سرور نصیب ہو گا (توجہ رہے کہ البشریٰ میں الف لام جنس کے حوالے سے مطلق ذکر ہوا ہے اور اس میں طرح طرح کی بشارتوں کا مفہوم موجود ہے)۔ دوبارہ تاکید کے لیے فرمایا گیا ہے: پروردگار کی باتوں اور خدائی وعدوں میں تغیر نہیں ہوتا اور خدا اپنے دوستوں کے بار ے میں اپنا وعدہ پورا کرے گا (لا تبدیل کلمات اللہ)، اور یہ جسے نصیب ہوا اس کے لیے عظیم کامیابی اور سعادت ہے (ذَلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ)۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ آخری آیت میں روئے سخن پیغمبر اکرمؐ کی طرف ہے جو اولیاء اللہ اور دوستان خدا کے سردار ہیں۔ ان کی دلجوئی کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: غافل اور جاہل مخالفین اور مشرکین کی غیر موزوں باتیں تجھے غمگین نہ کریں (وَلاَیَحْزُنْکَ قَوْلھُم جمیعاً)۔کیونکہ تمام عزت و قدرت خدا کے لیے ہے اورخدا کے ارادہٴ حق کے سامنے دشمن کچھ نہیں کر سکتے (إِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّہِ)۔ خدا ان کی سب سازشوں سے باخبر ہے۔ ان کی باتوں کو سنتا ہے اور ان کے اندر ونی اسرار و رموز سے آگاہ ہے (ھُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ)۔

دو اہم نکات

۱۔ ”بشارت سے کیا مراد ہے ؟ مندرجہ بالا آیات میں خدانے اپنے دوستوں کے لیے دنیا و آخرت میں جس بشارت کا تذکرہ ہے اس سے کیا مراد ہے، اس سلسلے میں تمام مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض نے اس آیت کو اس بشارت کے ساتھ مخصوص سمجھا ہے جو فرشتے مومنین کو موت اور اس جہان سے انتقال کے وقت دیتے ہیں اور کہتے ہیں: و ابشروا بالجنة التی کنتم توعدون۔ خوشخبری ہو تمہیں اس جنت کی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ (حٰم ٓ سجدہ۔ ۳۰) بعض دوسرے اسے ان کے مومن اور صالح ہونے تک کے لیے دشمنوں پر غلبہ اور روئے زمین پر حکومت کرنے کے وعدہ کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ ہم نے کہا ہے یہ لفظ مطلق ہے اور ”البشریٰ“ پر الف لام جنس کے حوالے سے ہے اس طرف توجہ کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ایک وسیع مفہوم پنہاں ہے، جس میں ہر قسم کی بشارت، کامیابی اور موفقیت شامل ہے اور جن امور کا اوپر ذکر ہوا ہے وہ سب اس میں شامل ہیں اور درحقیقت ان میں سے ہر ایک خدا کی اس وسیع بشارت کے ایک گوشے کی طرف اشارہ ہے اور شاید یہ جو بعض روایات میں عمدہ خوابوں اور رویائے صالحہ سے اس کی تفسیر کی گئی ہے، اس طرف اشارہ ہے کہ ہر قسم کی بشارت یہاں تک کہ چھوٹی بشارتیں بھی ”البشریٰ“ کے مفہوم میں موجود ہیں اور یہ نہیں کہ اس کا مفہوم ان میں منحصر ہے۔ درحقیقت جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ایمان اور تقویٰ کا یہ تکوینی اور طبیعی اثر ہے کہ جو انسان کی روح اور جسم کو ہر قسم کے خوف و دہشت سے دورکر دیتا ہے کہ جو شک اور تردد سے اور اسی طرح گناہ اور مختلف آلودگیوں سے پیدا ہوتا ہے کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص اپنے اندر ایمان اور معنویت نہ رکھتا ہو پھر بھی سکون محسوس کرے۔ ایک شخص ایک بے لنگر کشتی کی طرح ہے جو طوفان میں پھنس گئی ہو کہ جسے کوہ پیکر موجیں ہر لمحہ الٹ دینا چاہتی ہوں اور گرداب اسے نگلنے کے لیے منہ کھولے ہوئے ہوں۔ کسی طرح سے ممکن ہے کہ وہ شخص جس نے لوگوں پر ظلم و ستم کیاہو، انسانوں کا خون بہا یا ہو اور دوسروں کے اموال و حقوق غصب کیےہوں، چین سے بیٹھا ہو۔مومنین کے برعکس، اسے سکون کی نیند نہیں آسکتی۔ وہ زیادہ تر ڈراوٴ نے خواب دیکھتا رہے گا کہ جن میں وہ اپنے آپ کو دشمنوں میں گھرا ہوا پائے گا اور یہ خود ان کی بے آرامی اور روح میں موجود تلاطم پرایک دلیل ہے۔ یہ ایک فطری بات ہے کہ ایک مجرم اور ظالم، خصوصاً جب اس کا تعاقب ہو رہا ہو عالم خواب میں اپنے آپ کو ہو لناکیوں کے سامنے دیکھتا ہے کہ جو اس کا پیچھا کرنے اور اسے پکڑ نے کے درپے ہیں یا یہ کہ مقتول و مظلوم کی روح اس کے نا آگاہ ضمیر کے اندر سے فریاد کرتی ہے اور اسے سخت مضطرب کرتی ہے۔ اسی لیے جب وہ بیدار ہوتا ہے تو یزید کی طرح کہتا ہے: مالی وللحسین ؟ میرا حسین سے کیا تعلق ہے؟ یا حجاج کہتا ہے: مالی و لسعید بن جبیر مجھے سعید بن جبیر سے کیا واسطہ؟ ۲۔ آئمہ ہدیٰ کی چند روایات: زیر بحث آیات کے ذیل میں آئمہ اہل بیت علیم السلام سے بڑی عمدہ روایات منقول ہیں ان میں سے بعض کی طرف ہم یہاں اشارہ کرتے ہیں۔ امیر المومنین علی علیہ السلام نے آیت الاان اولیاء اللہ کی تلاوت فرمائی اور پھر اپنے اصحاب سے سوال کیا: جانتے ہو کہ اولیاء خدا کون لوگ ہیں ؟ انھوں نے عرض کیا: یا امیر المومنین ! آ پ ہی فرمائیے کہ وہ کون ہیں ؟ امام (ع) نے فرما یا: ھم نحن و اتباعنا فمن تبعنا من بعدنا طوبی لنا، طوبی لھم افضل من طوبیٰ لنا، قالوا: یا امیر المومین ماشاٴن طوبی لھم افضل من طوبی لنا ؛ السنا نحن وھم علی امر؛ قال: لا، انھم حملوا مالم تحملوا علیہ، وطاقوا مالم تطیقوا۔ خدا کے دوست ہم اور ہمارے پیر وکار ہیں جو ہمارے بعد آئیں گے۔ کیا کہنا ہمارا اور اس سے بڑھ کر کیا کہنا ان کا۔ بعض نے پوچھا: ان کے لیے آپ نے بڑھ کر کیوں کہا: کیا ہم اور و ہ ایک ہی مکتب کے پیرو نہیں ہیں کیا ہمارا معاملہ ایک جیسا نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: نہیں کیونکہ ان کی اس قسم کی ذمہ داریاں ہیں جیسی تمہاری نہیں ہے اور وہ ایسی مشکلات سے دوچار ہوں گے کہ تم دوچار نہیں ہو۔(بحوالہ تفسیر نور الثقلین جلد ۲ ص ۳۰۹) کتاب کمال الدین میں ابو بصیر کے واسطے سے امام صادق (ع) سے منقول ہے۔ آپ (ع) نے فرمایا:۔ طو بیٰ لشیعة قائمنا المنتظرین لظھور ہ فی غیبتہ، و المطعین لہ فی ظھورہ، اولٰئک اولیاء اللہ الذین لاخوف علیھم ولا ھم یحزنون۔ خوشا حال امام قائم (ع) کے پیروکاروں کا کہ جو ان کی غیبت میں (اپنی خود سازی کے ساتھ) ان کے ظہور کا انتظار کریں گے اور ان کے ظہور کے وقت ان کے فرماں بردار ہوں گے، وہ اولیاء ِ خدا ہیں کہ جنہیں نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ مخزون و مغموم ہوتے ہیں۔ (بحوالہ تفسیر نور الثقلین جلد ۲ ص ۳۰۹)۔ حضرت صادق علیہ السلام کا ایک موالی نقل کرتا ہے کہ امام (ع) نے فرمایا: اس مکتب کے پیروکار زندگی کے آخری لمحات میں ایسی چیزیں دیکھتے ہیں کہ جن سے ان کی آنکھیں روشن ہو جاتی ہیں۔ راوی کہتا ہے: میں نے اصرار کیا کہ وہ کیا دیکھتے ہیں ؟ اس سوال کا میں نے دس سے زیادہ مرتبہ تکرار کیا۔ لیکن امام ہر مرتبہ صرف اتنا کہتے۔ وہ دیکھیں گے مجلس کے اختتام پر آپ (ع) نے میری طرف رخ کیا اور مجھے پکارکر فرمایا: گویا تو اصرار کرتا ہے کہ یہ جانے کہ وہ کیا دیکھتے ہیں ؟ میں نے عرض کیا: یقیناــــــــ پھر میں رونے لگا۔ امام کو میری حالت پر رحم آیا اور کہا: ان دونوں کودیکھیں گے۔ میں نے اصرار کیا: کن دونوں کو ؟ فرمایا:۔ پیغمبر اکرم ؐاور حضرت علی (ع) کو ـــــــــــ کوئی صاحبِ ایمان دنیا سے آنکھ بند نہیں کرے گا مگر یہ کہ ان دو بزرگوں کو دیکھے گا کہ وہ اسے بشارت دے رہے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا: اسے خدا نے قرآن میں بیان کیا ہے۔ سوال: کہاں اور کس سورہ میں ؟ فرمایا: سورہ یونس میں جہاں فرمایا گیا ہے: الذین اٰمنوا وکانوں یتقون لھم البشریٰ فی الحیاة الدنیا و فی الاٰخرة۔ اسی مضمون کی اور روایات بھی موجود ہیں۔ واضح ہے کہ یہ روایات اشارہ ہیں کہ صاحب ایمان تقویٰ افراد کے لیے کچھ یوں بشارتوں کی طرف، نہ کہ ان سب بشارتوں کی طرف نیز واضح ہے کہ یہ مشاہدہ مادی جسم کانہیں ہے بلکہ برزخی نگاہ سے جسم کے مشاہدے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ عالم برزخ جوکہ اس جہاں اور عالم آخرت میں حد فاصل ہے، میں انسانی روح برزخی جسم میں باقی رہ جائے گی۔

66
10:66
أَلَآ إِنَّ لِلَّهِ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَن فِي ٱلۡأَرۡضِۗ وَمَا يَتَّبِعُ ٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ شُرَكَآءَۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنۡ هُمۡ إِلَّا يَخۡرُصُونَ
آگاہ رہو کہ تمام لوگ جو آسمانوں میں اور زمین میں ہیں، اللہ کے لئے ہیں اور جوغیر کو اس کا شریک بناتے ہیں وہ دلیل ومنطق کی پیروی نہیں کرتے وہ صرف ظن اور گمان کی پیروی کرتے ہیں اور وہ صرف جھوٹ بولتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 67 کے تحت ملاحظہ کریں۔

67
10:67
هُوَ ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلَّيۡلَ لِتَسۡكُنُواْ فِيهِ وَٱلنَّهَارَ مُبۡصِرًاۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَسۡمَعُونَ
وہ (خدا)وہ ہے جس نے تمہارے لئے رات کو پیدا کیا تاکہ اس میں سکون حاصل کرو اور اس نے دن کو روشنی بخش قرار دیا۔ بے شک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو سننے والے کان رکھتے ہیں۔

عظمت الہٰی کی کچھ نشانیاں

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

زیر نظر آیات دوبارہ مسئلہ توحید و شرک کی طرف لوٹتی ہیں یہ مسئلہ اسلام اور اس سورہ کے اہم ترین مباحث میں سے ہے۔ ان آیات میں مشرکین کی خبر لی گئی ہے اور انکی عاجزی و ناتوانی کو ثابت کیا گیا ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: آگاہ ہو کہ وہ تمام لوگ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کے لیے ہیں (اور اس کی ملکیت ہیں) (اَلاَإِنَّ لِلَّہِ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ)۔ جہاں اشخاص اس کی ملکیت ہوں اور اس کے لیے ہوں وہاں اشیاء اس جہاں میں بدرجہ اولیٰ اس کی ہیں اور اس کے لیے ہیں اس بناء پر وہ تمام عالم ہستی کا مالک ہے اس حالت میں کیونکہ ممکن ہے کہ اس کے مملوک اس کے شریک ہوں۔ مزید ارشاد ہوتا ہے: جو لوگ غیر خدا کو اس کا شریک قرار دیتے ہیں وہ دلیل و منطق کی پیروی نہیں کرتے اور ان کے پاس اپنے قول کے لیے کوئی سند اور شاہد نہیں ہے (وَمَا یَتَّبِعُ الَّذِینَ یَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ شُرَکَاءَ)۔ وہ صرف بے بنیاد تصورات اور گمانوں کی پیروی کرتے ہیں (إِنْ یَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّن)۔ بلکہ وہ تو صرف تخمینے سے بات کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں (وَإِنْ ھمْ إِلاَّ یَخْرُصُونَ)۔ ”خرص“ لغت میں ”جھوٹ“ کے معنی میں بھی آیا ہے اور تخمین اور وہم و خیال کے معنی میں بھی آیا ہے۔ دراصل جیسا کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے کہ یہ پھلوں کی جمع آوری کے معنی میں ہے اور بعد ازاں حساب کے لیے جمع کرنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ نیز درختوں پر پھلوں کا تخمینہ اور اندازہ لگانے کو کہتے ہیں اور چونکہ کبھی کبھی تخمینہ غلط نکل آتا ہے لہٰذا یہ مادہ ”جھوٹ“ کے معنی میں بھی آیاہے۔ اصولی طور پر بے بنیاد گمان کی پیروی کی یہ خاصیت ہے کہ آخر کار انسان جھوٹ کی وادی میں جاپہنچتا ہے۔ جنہوں نے بتوں کو خدا کا شریک قرار دیا تھا ان کی بنیاد اوہام سے بڑھ کر نہ تھی۔ وہ اوہام کہ جن کا تصور کرنا ہمارے لیے مشکل ہے کہ کیونکہ ممکن ہے کہ انسان بے روح شکلیں اور مجسمے بنائے اور پھر اپنی بنائی ہوئی چیز کو اپنا رب اور صاحب ِ اختیار سمجھنے لگے، اپنی تقدیر اس کے سپرد کر دے اور اپنی مشکلات کا حل اس سے طلب کرے۔ کیا یہ چیز جھوٹ اور جھوٹ قبول کرلینے کے سوا کچھ اور کہلاسکتی ہے۔ اس آیت میں تھوڑا سے غور کرکے اس سے ایک عمومی قانون اخذ کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ جو شخص بے بنیاد گمان کی پیروی کرتا ہے آخر کار جھوٹ تک جا پہنچتا ہے۔ صداقت اور سچائی یقین کی بنیاد پر استوار ہے اور جھوٹ کی عمارت بے بنیاد وہم و گمان کے سہارے قائم ہے۔ اس کے بعد بحث کی تکمیل، راہ خدا شناسی کی نشاندہی اور شرک و بت پرستی سے دوری کے لیے خدائی نعمات کے ایک پہلو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، یہ پہلو نظام خلقت اور اللہ کی عظمت، قدرت اور حکمت کی نشاندہی کرتا ہے، ارشاد ہوتا ہے کہ: وہ، وہ ہے جس نے رات کو تمہارے لیے باعثِ سکون قرار دیا ہے (ھُوَ الَّذِی جَعَلَ لَکُمْ اللَّیْلَ لِتَسْکُنُوا فِیہِ)۔اور دن کو روشنی بخش بنا یا ہے (وَالنّھَارَ مُبْصِرًا)۔ نور و ظلمت کا یہ نظام جس کا ذکر قرآن میں بار ہا آیا ہے، حیرت انگیز اور پر بار نظام ہے جس میں کچھ عرصہ میں تابش ِ نور سے انسانوں کے صحن حیات کو روشن کیا گیا ہے۔ یہ عرصہ حرکت آفرین ہے اور انسا ن کو جستجو اور عمل پر آمادہ کرتا ہے۔ دوسرا عرصہ سیاہ پردوں میں لپٹی ہوئی آرام بخش رات کا ہے۔ اس رات کے ذریعے تھکی ہوئی روح اور جسم کا کام اور حرکت کے لیے پھر سے تیار ہوتا ہے۔ جی ہاں اس حساب شدہ نظام میں پروردگار کی قدرت کی آیات اور نشانیاں ہیں لیکن ان کے لیے جو سننے والے کان رکھتے ہیں اور حقائق کو سنتے ہیں (إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَسْمَعُونَ)۔وہ جو سنتے اور ادراک کرتے ہیں اور جو ادراکِ حقیقت کے بعد اسے استعمال میں لاتے ہیں اور کام کرتے ہیں۔

چند قابل توجہ نکات

۱۔ رات آرام و سکون کے لیے ہے: رات کے بنانے کا مقصد آیت میں آرام و سکون قرار دیا گیا ہے یہ ایک مسلم علمی حقیقت ہے جسے آج کے علم سے درجہ ٴ ثبوت تک پہنچا یا ہے کہ تاریکی کے پر دے نہ صرف دن بھر کے کام کاج کے لیے جبری تعطیل ہیں بلکہ انسان اور دوسرے جانداروں کے اعصاب پر ان کا مستقیم اثر ہے اور انھیں استراحت، نیند اور سکون بخشتے ہیں کس قدر ناداں ہیں وہ لوگ کہ جو رات کو ہوس رانی میں بسر کر دیتے ہیں اور دن کو ِخصوصاً نشاط انگیز صبح کو نیند میں گزار دیتے ہیں۔ اسی بناء پر ایسے لوگوں کے اعضاء ہمیشہ غیر معتدل اور بے آرام رہتے ہیں۔ ۲۔ ”و النھار مبصراً“ کا مفہوم: مادہ ”ابصار“ بینائی کے معنی میں ہے۔ اس طرح ”و النھار مبصراً“ کا مفہوم یہ ہو گاکہ خدانے ”دن کو بینا قرار دیا ہے“حالانکہ دن بینا کرنے والا ہے نہ کہ خود بینا ہے یہ ایک خوبصورت تشبیہ اور مجاز ہے جو ”توصیف سبب با اوصاف مسبب“ کے قبیل سے ہے۔ جیسا کہ رات کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ ”لیل نائم“ یعنی سوئی ہوئی رات“ حالانکہ رات تو نہیں سوتی بلکہ رات سبب ہے لوگوں کے لیے سونے کا۔ ۳۔کیا آیت ہر طرح کے ظن کی نفی کرتی ہے: زیر نظر آیات میں ظن اور گمان کی ایک مرتبہ مذمت کی گئی ہے اور ا سے مردود قر ار دیا گیا ہے لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ گفتگو بت پرستوں کے بے ہودہ اور بے بنیاد خیالات کے بارے میں ہے، یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہاں ”ظن“ عقلی اعتبار سے سوچے سمجھے گمان کے معنی میں نہیں ہے کہ جو بعض مواقع پر مثلاً شہادت و شہود، ظاہر ِ الفاظ، اقرار اور تحریروں میں حجت ہے لہٰذا یہ آیات ”ظن“ کے حجت نہ ہونے پر دلیل نہیں ہو سکتیں۔

68
10:68
قَالُواْ ٱتَّخَذَ ٱللَّهُ وَلَدٗاۗ سُبۡحَٰنَهُۥۖ هُوَ ٱلۡغَنِيُّۖ لَهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ إِنۡ عِندَكُم مِّن سُلۡطَٰنِۭ بِهَٰذَآۚ أَتَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ
انہوں نے کہا ہے کہ اللہ نے اپنے لئے بیٹا چنا ہے(وہ ہر عیب، نقص اور احتیاج سے) منزہ ہے، وہ بے نیاز ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اس کے لئے ہے۔ تمہارے پاس اس دعویٰ کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ کیا اللہ کی طرف ایسی نسبت دیتے ہو جسے جانتے نہیں ہو؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔

69
10:69
قُلۡ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَفۡتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ لَا يُفۡلِحُونَ
کہہ دو کہ جو خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں (وہ کبھی بھی)فلاح نہیں پائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔

70
10:70
مَتَٰعٞ فِي ٱلدُّنۡيَا ثُمَّ إِلَيۡنَا مَرۡجِعُهُمۡ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ ٱلۡعَذَابَ ٱلشَّدِيدَ بِمَا كَانُواْ يَكۡفُرُونَ
(زیادہ سے زیادہ) انہیں دنیا کا فائدہ ہوگا پھر ان کی بازگشت ہماری طرف ہے۔ اس کے بعد ان کے کفر کی وجہ سے انہیں عذاب شدید کا مزہ چکھائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ان آیات میں بھی اسی طرح مشرکین کے بارے میں بحث جاری ہے یہاں خدا کی ذات ِ مقدس کے بارے میں انکی ایک تہمت بیان کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: انھوں نے کہا کہ خدا نے اپنے لیے ایک بیٹا چنا ہے (قَالُوا اتَّخَذَ اللهُ وَلَدًا)۔ یہ بات سب سے پہلے عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ کے بارے میں کی۔ پھر زمانہ جاہلیت کے بت پرستوں نے فرشتوں کے بارے میں کی، وہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں خیال کرتے ہیں اور اسی طرح یہود یوں نے حضرت عزیر کے بارے میں یہ بات کی۔ قرآن ان لوگوں کا جواب دو طریقوں سے دیتا ہے۔ پہلا یہ کہ خداہر قسم کے عیب اور نقص سے منزہ ہے اور تمام چیزوں سے بے نیاز ہے (سُبْحَانَہ ُھُوَ الْغَنِیُّ)۔ یہ اس طرف اشارہ کہ اولاد کی ضرورت یا تو جسمانی قوت کی احتیاج اور مدد کے طور پر ہوتی ہے اور یا روحانی اور جذباتی ضرورت کے تحت اور چونکہ خدا ہر عیب و نقص اور ہر وضعی کمی سے منزہ ہے اور اس کی ذات پا ک غنی اور بے نیاز ہے لہٰذا ممکن نہیں کہ وہ اپنے لیے بیٹے کا انتخاب کرے ”وہ آسمانوں اور زمین میں موجود تمام تر موجودات کا مالک ہے“ (لَہُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ)۔ اس صورت میں اس کے لیے بیٹے کا کیا مفہوم وہ رہ جاتا ہے کہ جو اسے سکون بخشے یا اس کی مدد کرے۔ امر جاذب نظر ہے کہ یہاں”اتخذ“ (انتخاب کیا اور اختیار کیا) استعمال ہو ا۔ یہ تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ ان کا نظر یہ تھا کہ خدا سے بیٹا پیدا نہیں ہو بلکہ وہ کہتے تھے کہ خدا نے ایک موجود کو اپنے فرزند کے طو ر چن لیا ہے جیسے بعض لوگوں کے ہاں اولاد نہیں ہوتی تو وہ کسی بچہ کسی پرورش گاہ وغیرہ سے گود لے لیتے ہیں بہرحال یہ کوتاہ نظر جاہل خالق و مخلوق کے موازنہ میں اشتباہ میں پڑ گئے تھے اور انھوں نے خدا کی بے نیاز ذات کو اپنے ضرورت مند اور نیاز مند وجود کی طرح سمجھ لیا تھا۔ دوسرا جواب جو قرآن انھیں دیتا ہے یہ کہ جو شخص بھی کوئی دعویٰ کرتا ہے اسے اپنے دعویٰ پرکوئی دلیل پیش کرنا چاہتا ہئیے۔ ”کیا تمہارے پاس اس بات کی کوئی دلیل ہے“۔ نہیں تمہارے پاس اس دعویٰ کی کوئی دلیل نہیں ہے (إِنْ عِنْدَکُمْ مِنْ سُلْطَانٍ بِھَذَا اَتَقُولُونَ عَلَی اللهِ مَا لاَتَعْلَمُونَ)۔ یعنی بالفرض اگر تم پہلی دلیل کو قبول نہیں کرتے تو پھر بھی تم اس حقیقت کا انکار نہیں کر سکتے کہ تمہاری با ت ایک تہمت ہے اورایسا قول ہے جس کی بنیاد میں کوئی علم نہیں ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اگلی آیت میں خداپر تہمت باندھنے کے منحوس انجام کا تذکرہ ہے۔ خدا تعالیٰ روئے سخن اپنے پیغمبرؐ کی طرف کرتے ہوئے کہتا ہے ان کہہ دو: وہ لوگ جو خدا پر افتراء باند ھتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں ہرگز فلاح کا منہ نہیں دیکھیں گے (قُلْ إِنَّ الَّذِینَ یَفْتَرُونَ عَلَی اللهِ الْکَذِبَ لاَیُفْلِحُون)۔ فرض کریں کہ وہ اپنے جھوٹ اور تہمتوں سے چند دن کے لیے دنیا کے مال و منال تک پہنچ بھی جائیں تو یہ صرف اس جہان کا ایک زود گزر مال و متاع ہی ہے۔ اس کے بعد یہ ہماری طرف پلٹ کر آئیں گے اور ہم ان کے کفر کی وجہ سے انھیں عذابِ شدیدکا مزہ چکھائیں گے (مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ إِلَیْنَا مَرْجِعُھُمْ ثُمَّ نُذِیقُھُمْ الْعَذَابَ الشَّدِیدَ بِمَا کَانُوا یَکْفُرُونَ)۔ درحقیقت اس آیت میں اور اس سے پہلے کی آیت میں خدا کی طرف بیٹے کے انتخاب کی نسبست دینے والے جھوٹوں کے لیے دو قسم کی سزائیں بیان کی گئی ہیں ایک یہ کہ جھوٹ اور افتراء کبھی ان کی فلاح کا سبب نہیں بنے گا اور کبھی انھیں ان کے مقصد تک نہیں پہنچائے گا بلکہ وہ بے راہ ویوں میں سر گرداں رہیں گے اور بد بختی اور شکست انھیں دامن گیر ہو گی۔ دوسرا یہ کہ فرض کریں کہ وہ ان باتوں سے چند لوگوں کو غفلت میں رکھ لیں اور بت پرستی کے مذہب سے کوئی مقصد حاصل کر لیں تاہم اس مفاد میں دوام و بقاء نہیں ہے اور خدا کا دائمی عذاب ان کے انتظار میں ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

چند الفاظ کا مفہوم

۱۔ ”سلطان“: یہ لفظ یہاں ”دلیل“ کے معنی میں ہے یہ لفظ ”دلیل“ سے بھی زیادہ پرمعنی اور رسا تر ہے کیونکہ ”راہنما“ کے معنی میں ہے۔ لیکن ”سلطان“ کا مطلب ہے وہ چیز جو انسان کو اپنے مد مقابل پر مسلط کر دے۔ یہ لفظ بحث، مجادلہ اور گفتگو کے مواقع سے منا سبت رکھتا ہے اور سر کوبی کرنے والی دلیل کی طرف اشارہ ہے۔ ۲۔ ”متاع“۔ اس کامعنی ہے ”وہ چیز جس سے انسان فائدہ اٹھائے“ اس کا مفہوم بہت وسیع ہے اور اس میں زندگی کے تمام وسائل اور مادی نعمات شامل ہیں۔ مفردات میں راغب کہاتا ہے: ”کلما ینتفع بہ علی وجہ ما،فھو متاع و متعة“ ہر وہ چیز جس سے انسان فائدہ اٹھائے اسے ”متاع“ یا ”متعہ“ کہتے ہیں۔ ۳۔ ”نذیقھم“ اس کا معنی ہے ”ہم انھیں چکھائیں گے“۔ یہ تعبیر جو عذاب الہٰی کے بارے میں استعمال ہوئی ہے اس طرف اشارہ ہے کہ یہ سزا ان تک اس طرح پہنچتی ہے کہ گویا وہ اسے اپنی زبان سے چکھتے ہیں۔ یہ تعبیر مشاہدہ سے حتی ٰ کہ عذاب کو مس کرنے سے بھی کہیں زیادہ مطلب دیتی ہے۔

71
10:71
۞وَٱتۡلُ عَلَيۡهِمۡ نَبَأَ نُوحٍ إِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهِۦ يَٰقَوۡمِ إِن كَانَ كَبُرَ عَلَيۡكُم مَّقَامِي وَتَذۡكِيرِي بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ فَعَلَى ٱللَّهِ تَوَكَّلۡتُ فَأَجۡمِعُوٓاْ أَمۡرَكُمۡ وَشُرَكَآءَكُمۡ ثُمَّ لَا يَكُنۡ أَمۡرُكُمۡ عَلَيۡكُمۡ غُمَّةٗ ثُمَّ ٱقۡضُوٓاْ إِلَيَّ وَلَا تُنظِرُونِ
ان کے سامنے نوح کا قصہ پڑھوکہ جب اس نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم ! اگرمیری حیثیت اور میرا آیات الٰہی کا یاددلانا تم پر گراں (اور ناقابل برداشت) ہے تو (جو کچھ تم سے ہو سکے کر لو) میں نے خدا پر توکل کیا ہے۔ اپنی فکر اور اپنے معبودوں کی قوت کو مجتمع کر لو اور کوئی چیز تم پر مخفی نہ ہوپھر میری زندگی کا خاتمہ کر دو (اور لمحہ بھر کے لئے) مجھے مہلت نہ دو (لیکن تم اس کی قدرت نہیں رکھتے)۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 73 کے تحت ملاحظہ کریں۔

72
10:72
فَإِن تَوَلَّيۡتُمۡ فَمَا سَأَلۡتُكُم مِّنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِۖ وَأُمِرۡتُ أَنۡ أَكُونَ مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ
اور اگر تم میری دعوت قبول کرنے سے منہ موڑتے ہو تو (تم غلط کرتے ہو کیونکہ) میں تم سے کوئی مزدوری نہیں چاہتا۔ میرا اجر صرف خدا پر ہے اور میرے ذمہ ہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں (جو خدا کے سامنے سرتسلیم خم کئے ہوئے ہیں )۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 73 کے تحت ملاحظہ کریں۔

73
10:73
فَكَذَّبُوهُ فَنَجَّيۡنَٰهُ وَمَن مَّعَهُۥ فِي ٱلۡفُلۡكِ وَجَعَلۡنَٰهُمۡ خَلَـٰٓئِفَ وَأَغۡرَقۡنَا ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَاۖ فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُنذَرِينَ
لیکن انہوں نے اس کی تکذیب کی اور ہم نے اسے اور اس کے ساتھ جو کشتی میں تھے انہیں نجات دی اور انہیں (کافروں کا)جا نشین قر ار دیا اور جن لوگوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی تھی انہیں غرق کر دیا۔ پس دیکھو کہ جو ڈرائے گئے تھے۔ ان کا کیا انجام ہوا؟

حضرت نوح (ع) کے جہاد کا ایک پہلو

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

زیر نظر آیات سے تاریخ انبیاء اور گذشتہ اقوام کی سرگذشت کے ایک حصے کا آغاز ہوتا ہے۔ مشرکوں اور مخالف گروہوں کی بیداری کے لیے خدا اپنے پیغمبرؐ کو حکم دیتا ہے کہ مشرکین کے بارے میں جاری گفتگو کی تکمیل گذشتہ لوگوں کی عبرت انگیز تاریخ کے حوالے سے کریں۔ پہلے حضرت نوح (ع) کی سرگذشت بیان کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ان کے سامنے نوح کی سرگذشت پڑھو، جبکہ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم ! تمہارے درمیان میرا توقف اور آیات ِ الٰہی کا یاد دلانا اگر تمہارے لیے گراں ہے اور ناقابلِ برداشت ہے تو پھر جو کچھ تم سے ہو سکے کر گزر و اور اس میں کوتا ہی نہ کرو (وَ اتۡلُ عَلَیۡہِمۡ نَبَاَ نُوۡحٍ ۘ اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِہٖ یٰقَوۡمِ اِنۡ کَانَ کَبُرَ عَلَیۡکُمۡ مَّقَامِیۡ وَ تَذۡکِیۡرِیۡ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ)۔کیونکہ میں نے اللہ پر توکل کیا ہے“ لہٰذا اس کے غیر سے نہیں ڈرتا اور نہ میں کسی سے ہراساں ہوں (فَعَلَی اللهِ تَوَکَّلْت)۔ اس کے بعد تاکیداً فرمایا گیا ہے: اب جب کہ ایسا ہے تو اپنی فکر مجتمع کرلو اور اپنے بتوں کو بھی دعوتِ عمل دو تاکہ وہ تمہارے ارادے میں تمہاری مدد کریں (فَاَجْمِعُوا اَمْرَکُمْ وَشُرَکَائَکُم)۔”اس طرح سے کہ کوئی چیز تم پر مخفی نہ رہے اور نہ تمہارے دل میں کوئی غم رہے“ بلکہ پوری وضاحت سے میرے بارے میں پختہ ارادہ کرلو(ثُمَّ لاَیَکُنْ اَمْرُکُمْ عَلَیْکُمْ غُمَّةً)۔ ”غمة“ ”غم“ کے مادہ سے کسی چیز کے چھپانے کے معنی میں ہے۔ یہ جو رنج و اندوہ اور حزن و ملال کو غم کہتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ انسان کے دل کو چھپالیتا ہے۔ اس کے بعد کہاگیا ہے: اگرتم سے ہو سکے تو ”اٹھ کھڑے ہو اور میری زندگی کا خاتمہ کر دو اور مجھے لمحہ بھر کی مہلت نہ دو“ (ثُمَّ اقْضُوا إِلَیَّ وَلاَتُنْظِرُونِی)۔ (تشریحی نوٹ: ”کان ان کبر علیکم“ کی جزاء شرط کیا ہے ا ؟ اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے اس کے لیے جس قدر احتمالات ذخر ہوئے ہیں ان میں سے دو زیادہ قرین عقل ہیں۔ایک یہ کہ ”فاجمعوا امرکم“ جزائے شرط ہے اور ”فعلی اللہ توکلت“ شرط اور جزا کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔ دوسرا یہ کہ جزا محذوف ہے اور بعد والے جملے اس پر دلالت کرتے ہیں اور تقدیر اس طرح ہے: فافعلوا ما ترید ون فانی متوکل علی اللہ۔ درحقیقت جملہ ”فعلی اللہ توکلت“ علت کے قبیل سے ہے جو معلول کی جانشین ہے اور بعد والے جملے میں ”شرکائکم“ بتوں کی طرف اشارہ ہے اور اس سے پہلے واوٴ ہے وہ ”مع“ کے معنی میں ہے)۔ (غور کیجئے گا)۔ حضرت نوح (ع) خدا کے عظیم رسول ہیں ان کے بہت تھوڑے سے ساتھی تھے اور دشمن نہایت سخت اور طاقت ور لیکن وہ اپنے یقین کے ساتھ کہ جو اولو العزم پیغمبروں کا خاصہ ہے بڑی شجاعت اور پامردی سے دشمنوں کے مقابلے میں ڈٹ جاتے ہیں۔ ان کی قوت و طاقت کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کے سازشوں، افکار اور بتوں کے بارے میں اپنی بے اعتنائی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس طرح ان کے افکار و نظر یات پر ایک شدید نفسیاتی ضرب لگاتے ہیں۔ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ آیات مکہ میں نازل ہوئیں اس زمانے میں کہ جب رسول اللہؐ بھی حضرت نوح (ع) جیسے حالات سے دو چار تھے اور مومنین اقلیت میں تھے، قرآن چاہتا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ کو بھی یہی حکم دے کہ وہ دشمن کی طاقت کو اہمیت نہ دیں، بلکہ یقین اور شجاعت و شہامت کا مظاہرہ کریں کیونکہ ان کی پناہ گاہ خدا ہے اور اس کی قدرت کے سامنے کوئی طاقت نہیں ٹھہر سکتی۔ بعض مفسرین حضرت نوح (ع) کے اس قیام کو یا تاریخ انبیاء میں ایسے واقعات کو اعجاز کی ایک قسم قرار دیتے ہیں کیونکہ انھوں نے ظاہری وسائل نہ ہونے کے باوجود دشمنوں کو شکست کی دھمکی دی اور انجام کا ر اپنی فتح کی خبر دی اور یہ چیز معجزے کے سوا ممکن نہیں۔ بہرحال یہ تمام اسلامی رہبروں کے لیے ایک درس ہے کہ وہ دشمنوں کی کثرت سے ہرگز ہراساں نہ ہوں بلکہ پروردگار پر بھروسہ اور توکل کرتے ہوئے، حتمی و قطعی فیصلے کے ساتھ جتنا زیادہ ہو سکے انھیں مقابلہ کی دعوت دیں اور ان کی طاقت کی تحقیر و تذلیل کریں کیونکہ یہ اسلام کی پیروکاروں کی روحانی تقویت اور دشمنوں کی روحانی شکست کے لیے ایک اہم عامل ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اگلی آیت میں حضرت نوح (ع) کی طرف سے اپنی حقانیت کے لیے اثبات کے لیے ایک اور بیان نقل ہوا ہے ارشاد ہوتا ہے:اگر تم میری دعوت سے رو گردانی کرو گے تو مجھے کوئی نقصان نہیں ہو گا کیونکہ میں نے تم سے کسی اجر یا مزدوری کا تو تقاضا نہیں کیا (فَإِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُکُمْ مِنْ اَجْرٍ)(تشریحی نوٹ: اس شرط کا جواب بھی محذوف ہے۔فان تولیتم فلا تضرونی۔ یا اس طرح ہے: فان تولیتم فانتم و شاٴنکم)۔ کیونکہ میرا اجر اور جزا صرف خدا پر ہے“ (إِنْ اَجْرِی إِلاَّ عَلَی اللهِ)۔ میں اس کام کے لیے کرتا ہوں اور اسی سے اجر و جزا چاہتا ہوں اور ”میں مامور ہوں کہ فقط فرمانِ خدا کے سامنے سر تسلیم خم کروں“ (وَاُمِرْتُ اَنْ اَکُونَ مِنْ الْمُسْلِمِینَ)۔ یہ جو حضرت نوح(ع) کہتے ہیں کہ میں تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا خدائی رہبروں کے لیے یہ ایک اور درس ہے کہ وہ اپنی دعوت اور تبلیغ میں لوگوں سے کسی قسم کی کوئی مادی اور معنوی جز کی توقع نہ رکھیں کیونکہ ایسی توقعات ایک قسم کی وابستگی پیدا کر دیتی ہیں اور ان کی صریح تبلیغات اور آزادانہ کار کر دگی کی راہ میں دیوار بن جاتی ہیں لہٰذا فطرتاً ان کی تبلیغات اور دعوت کا اثر کم ہو جائے گا۔ اس بناء پر اسلام اور اس کی تبلیغ اور دعوت کے لیے صحیح راستہ بھی یہی ہے کہ مبلغین اسلام اپنی گزر بسر کرنے اور معاش کے لیے بیت المال کا سہارا لیں نہ کہ وہ لوگوں کے محتاج ہوں۔ زیر بحث آخری آیت میں حضرت نوح کے دشمنوں کے انجام اور آپ پیش گوئی کی صداقت کی یوں بیان کیا گیا ہے: انھوں نے نوح کی تکذیب کی لیکن ہم نے اسے اور ان تمام افراد کو جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے نجات دی(فَکَذَّبُوہُ فَنَجَّیْنَاہُ وَمَنْ مَعَہُ فِی الْفُلْکِ)۔(تشریحی نوٹ: اس شرط کا جواب بھی محذوف ہے۔فان تولیتم فلا تضرونی۔ یا اس طرح ہے: فان تولیتم فانتم و شاٴنکم۔ ”فلک“ کشتی کے معنی میں یہ لفظ ”سفینہ“ سے مختلف ہے۔ یہ فرق کہ ”سفینہ“ مفرد ہے اور اس کی جمع ”سفائن“ ہے، جبکہ ”فلک“ مفرد اور جمع دونوں کے لیے بولا جاتا ہے)۔ "ہم نے یہ صرف انھیں نجات دی بلکہ ستم گر قوم کی جگہ جانشین بنایا“(وَجَعَلْنَاھُمْ خَلَائِف)۔اور جن لوگوں نے ہماری آیات کا انکار کیا تھا انھیں ہم نے غرق کر دیا“ (وَاَغْرَقْنَا الَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا)۔ آخر میں روئے سخں پیغمبر اکرمؐ کی طرف کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اب ان لوگوں کا انجام دیکھو جھنیں ڈرایا گیا تھا لیکن انھوں نے خدائی تنبیہوں کو نہ سمجھا اس طرح ہم تجاوز کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں (تاکہ وہ کچھ نہ سمجھ سکیں)۔ (فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِینَ)۔

74
10:74
ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢ بَعۡدِهِۦ رُسُلًا إِلَىٰ قَوۡمِهِمۡ فَجَآءُوهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ فَمَا كَانُواْ لِيُؤۡمِنُواْ بِمَا كَذَّبُواْ بِهِۦ مِن قَبۡلُۚ كَذَٰلِكَ نَطۡبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِ ٱلۡمُعۡتَدِينَ
پھر ہم نے نوح کے بعد کچھ رسول ان کی قوم کی طرف بھیجے وہ واضح دلائل لے کران کے پاس گئے لیکن وہ اس چیز پر ایمان نہ لائے جس کی پہلے تکذیب کر چکے تھے۔ اس طرح ہم تجاوز کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں۔

حضرت نوح (ع) کے بعد آنے والے انبیاء

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

حضرت نوح کی سر گزشت کے بارے میں اجمالی گفتگو کے بعد ان کے بعد لوگوں کی ہدایت کے لیے آنے والے انبیاء کی طرف اشارہ کیا گیا ہے یہ ان انبیاء کا تذکرہ ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے آئے مثلاً ابراہیمؑ، ہودؑ، صالحؑ، لوطؑ اور یو سفؑ۔ ارشاد ہوتا ہے: پھر نوح کے بعد ہم نے کچھ رسول ان کی قوم اور جمیعت کی طرف بھیجے (ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِہِ رُسُلًا إِلَی قَوْمِھِمْ)۔ ”وہ واضح، روشن اور آشکار دلائل لے کر اپنی اپنی قوم کی طرف ائے“ اور نوح کی طرف ح ان کے پاس بھی منطق و اعجاز کے تربیت کنندہ ہتھیار اور پروگرام تھے (فَجَائُوھُمْ بِالْبَیِّنَات)۔ ”لیکن وہ لوگ جو عناد اور ہٹ دھرمی کی راہ چل رہے تھے اور گذشتہ انبیاء کی تکذیب کے لیے بھی اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ انھوں نے ان انبیاء کی بھی تکذیب کی اور ان پر ایمان نہ لائے (فَمَا کَانُوا لِیُؤْمِنُوا بِمَا کَذَّبُوا بِہِ مِنْ قَبْلُ)۔ اور یہ اس بناء پر تھا کہ گناہ اور حق دشمنی کی وجہ سے ان کے دلوں پر پردہ پڑا ہو اہے ”جی ہاں ہم اس طرح تجاوز کرنےوالوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں“(کَذَلِکَ نَطْبَعُ عَلَی قُلُوبِ الْمُعْتَدِینَ)۔

دو قابل توجہ نکات

۱۔ ہٹ دھرم گروہ: "فما کانوا لیوٴمنوا بما کذبوا بہ من قبل " یہ جملہ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ امتوں میں کچھ ایسے گروہ بھی تھے جو کسی پیغمبر اور مصلح کی دعوت پر سر تسلیم خم نہیں کرتے تھے اور اسی طرح اپنی بات پر اڑے رہتے تھے انبیاء کی بار بار کی دعوت سے ان پر ذرہ بھی بھی اثر نہیں ہوتا تھا لہٰذا مذکورہ جملہ ایک ایسے گروہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جس نے دو مختلف اوقات میں مختلف انبیاء کی دعوت سنی (کیونکہ جملے کا ظہور یہ ہے کہ تمام ضمیریں ایک ہی مرجع کی طرف لوٹتی ہیں)۔ آیت کے معنی میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ یہ دو گروہوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ایک گروہ حضرت نوح (ع) کے زمانے میں تھا اور ان کی دعوت کی تکذیب کرتا تھا جب کہ دوسرا گروہ اس کے بعد آیا جو انبیاء کی تکذیب میں پہلے گروہ کا پیرو کار تھا۔ اس بناء پر جملے کا معنی اس طرح ہو گا: دوسری قوموں کے تجاوز کرنے والوں نے اس چیز پر ایمان لانے سے منہ پھیر لیا کہ جس سے پہلی قوموں نے روگر دانی کی تھی۔ البتہ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کی مخالفت کرنے والے طوفان کے دوران ختم ہو گئے تھے دوسرا احتمال زیادہ قوی معلوم ہوتا ہے۔ بہرحال، اس کا لازمہ یہ ہے کہ ہم جملے کی ضمیروں کے مرجع (کانوا لِیوٴمنوا اور کذبوا، میں جمع کی واوٴ) میں تفکیک اور الگ الگ ہونے کے قائل ہوں۔ ۲۔" کذٰلک نطبع علیٰ قلوب المعتدین " جبر کی دلیل نہیں: واضح ہے کہ یہ جملہ جبر کی دلیل نہیں ہے اور اس کی تفسیر خود اسی میں موجود ہے کیونکہ فرمایا گیا ہے کہ ہم تجاوز کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگادیتے ہیں تاکہ وہ کسی چیز کا ادراک نہ کرسکیں۔ یعنی پہلے وہ احکام الہٰی اور حق و حقیقت کے بارے میں پے در پے تجاوز اور زیادتیوں کا ارتکاب کرتے ہیں۔ ان کی یہ زیادتیاں تدریجاً ان کے دلوں پر اثر انداز ہوتی ہیں اور ان سے حق کی تشخیص کی قدرت چھین لیتی ہیں ان کا معاملہ یہاں تک پہنچ جاتا ہے کہ سر کشی، نافرمانی اور گانہ ان کی عادت اور طبیعتِ ثانیہ بن جاتا ہے چنانچہ اب وہ کسی حقیقت کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتے۔ (اس مطلب کی تفصیل ہم جلد اول میں سورہٴ بقرہ کی آیت ۸ کے ذیل میں پیش کر چکے ہیں)۔

75
10:75
ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢ بَعۡدِهِم مُّوسَىٰ وَهَٰرُونَ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَإِيْهِۦ بِـَٔايَٰتِنَا فَٱسۡتَكۡبَرُواْ وَكَانُواْ قَوۡمٗا مُّجۡرِمِينَ
ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو اپنی آیات دے کر فرعون اور اس کے آس پاس والوں کی طرف بھیجا لیکن انہوں نے تکبر کیا (اور حق قبول نہ کیا کیونکہ) وہ مجرم گروہ تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 78 کے تحت ملاحظہ کریں۔

76
10:76
فَلَمَّا جَآءَهُمُ ٱلۡحَقُّ مِنۡ عِندِنَا قَالُوٓاْ إِنَّ هَٰذَا لَسِحۡرٞ مُّبِينٞ
اور جب ہماری طرف سے ان کے پاس حق آیا تو کہنے لگے یہ واضح جادو ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 78 کے تحت ملاحظہ کریں۔

77
10:77
قَالَ مُوسَىٰٓ أَتَقُولُونَ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمۡۖ أَسِحۡرٌ هَٰذَا وَلَا يُفۡلِحُ ٱلسَّـٰحِرُونَ
(لیکن) موسیٰ نے کہا کیا اس حق کو تم جادوشمار کرتے ہو جو تمہاری طرف آیا ہے؟ کیا یہ جادو ہے؟ حالانکہ جادوگر تورست گار (اور کامیاب) نہیں ہوں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 78 کے تحت ملاحظہ کریں۔

78
10:78
قَالُوٓاْ أَجِئۡتَنَا لِتَلۡفِتَنَا عَمَّا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ ءَابَآءَنَا وَتَكُونَ لَكُمَا ٱلۡكِبۡرِيَآءُ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَا نَحۡنُ لَكُمَا بِمُؤۡمِنِينَ
وہ کہنے لگے کیا تو اس لئے آیا ہے کہ ہمیں اس سے پھیر دے جس پر ہمارے آباؤاجداد تھے اور تم دونوں روئے زمین کی بزرگی (اور حکومت) حاصل کر لو۔ ہم تم دونوں پر ایمان نہیں لائیں گے۔

موسیٰ (ع)اور ہارون (ع)کے جہاد کا ایک پہلو

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ انبیاء اور ان کی امتوں کے واقعات کو زندہ نمونہ کے طور پر ذکر کیا گیا ہے، اس سلسلے میں سب سے پہلے حضرت نوح (ع) کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے پھر حضرت نوح (ع) کے بعد کے پیغمبروں کا ذکر ہوا ہے۔ اب زیر نظر آیات میں حضرت موسیٰ (ع) اور حضرت ہارون (ع) کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ یہاں فرعون اور اس کے ساتھیوں سے ان کے مسلسل مبارزات اور جہاد کا کچھ ذکر کیا گیا ہے۔ پہلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے: گذشتہ انبیاء کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کی جماعت کی طرف آیات و معجزات کے ساتھ بھیجا (ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِھِمْ مُوسَی وَھَارُونَ إِلَی فِرْعَوْنَ وَمَلَئِہِ بِآیَاتِنَا) (تشریحی نوٹ: ”آیات“ سے مراد وہی حضرت موسیٰ (ع) کے متعدد معجزات ہیں جو ابتداء میں اپنے ساتھ لائے تھے۔) جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے ان زرق و برق اشراف کو ملاء کہا جاتا ہے کہ جن کا ظاہر آنکھ کو پر کر دے اور اجماع میں ہوں تو نمایاں ہوں۔ زیر بحث آیت میں ایسی دیگر آیات میں یہ لفظ حواریوں، اطرافیوں اور مشیروں کے معنی میں آیا ہے۔ یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ گفتگو صرف فرعونیوں کی طرف حضرت موسیٰ (ع) کے مبعوث ہو نے کے بارے میں ہے جب کہ حضرت موسیٰ تمام فرعونیوں اور بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ معاشرے کی بض بر سر اقتدار پارٹی اور ان کے خاندان کے ہاتھ میں ہوتی ہے اس لئے ضروی ہے کہ ہر اصطلاحی اور انقلابی پروگرام میں پہلے انھیں ہدف بنا یا جائے۔ جیسا کہ سورہٴ توبہ کی آیہ ۱۲ میں بھی ہے: فقاتلوا ائمة الکفر پس کفر کے حکمرانوں اورودالیوں سے جنگ کرو۔ لیکن فرعون اور فرعونیوں نے حضرت موسیٰ (ع) کی دعوت سے رو گر دانی کی اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی بجائے اس سے تکبر کیا (فَاسْتَکْبَرُوا)۔ انھوں نے تکبر کی وجہ سے اور انکساری کی روح نہ ہونے کے باعث حضرت موسیٰ کی دعوت کے واضح حقائق کی پر واہ نہ کی۔ اس طرح اس مجرم اور گنہ گار قوم نے اپنا جرم و گناہ جاری رکھا۔ (وَ کَانُوا قَوْمًا مُجْرِمِینَ)۔ اگلی آیت میں حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی سے فرعونیوں کے بعض مبارزات کے بارے میں گفتگو ہے پہلا مرحلہ یہ تھا کہ انھوں نے انکار، تکذیب اور افتراء کا راستہ اختیار کیا ان کی نیت کو بڑا قرار دیا۔ بڑوں کے طریقے کو درہم بر ہم کرنے کا الزام دیا اور اجتماعی نظام میں خلل ڈالنے کی تہمت لگائی۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے: جس وقت ہماری طرف سے حق ان کے پاس آیا (تو باوجودیکہ انھوں نے اس کے چہرے سے اسے پہچان لیا) کہنے لگے کہ یہ واضح جادو ہے (فَلَمَّا جَائَھُمْ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا إِنَّ ھَذَا لَسِحْرٌ مُبِینٌ)۔ حضرت موسیٰ کی دعوت کی قوت ِ جاذبہ ایک طرف، آنکھوں میں سما جانے والے معجزات دوسری طرف روز افزون اور حیران کن اثر نفوذ تیسری طرف بنے کہ فرعونی فکر میں پڑ گئے۔ انھیں اس سے بہتر کوئی بات نہ سوجھی کہ انھیں جادو گر کہیں اور ان کے کام کو جا دو قرار دیں اور یہ ایسی تہمت ہے جو پوری تاریخ انبیاء میں اور خصوصاً پیغمبر اسلام کے بارے میں نظر آتی ہے لیکن حضرت موسیٰ (ع) نے اپنے دفاع میں دو لیلوں سے نقاب الٹ دئیے اور ان کے جھوٹ اور تہمت کو آشکار کر دیا۔ آپ (ع) نے پہلے ان سے کہا کہ کیا تم حق کی طرف جادو کی نسبت دیتے ہو کیا یہ جادو ہے اور اس کی جادو سے کوئی مشابہت ہے ؟ (قَالَ مُوسَی اَتَقُولُونَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَائَکُمْ اَسِحْرٌ ھَذَا) (تشریحی نوٹ: مندرجہ بالا جملے میں محذوف مقدر ہے کہ جو پورر کلام سے سمجھا جاتا ہے، جو اصل میں اس طرح ہے: ”اتقولون للحق لما جاء کم سحر، اسحر ھٰذا“) یعنی یہ درست ہے کہ سحر اور معجزہ دونوں ہی اثر رکھتے ہیں۔ یہ حق اور باطل ممکن ہے دونوں لوگوں کو متاثر کریں لیکن جادو ک اچہرہ کہ جو ایک باطل چیز ہے، معجزے سے کہ جو حق ہے بالکل جدا ہے۔ انبیاء کے اثر کو جادو گروں کے اثر پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ جادو گروں کے کام بے ہدف، محدود اور بے وقعت ہوتے ہیں۔ جب کہ انبیاء کے معجزات کے مقاصد روشن، اصلاحی، انقلابی اور تربیتی ہوتے ہیں علاوہ ازیں جادو گر بھی کامیاب نہیں ہوتے(وَلاَیُفْلِحُ السَّاحِرُونَ)۔ یہ تعبیر دراصل انبیاء کے کام کے جادو سے ممتاز اور جدا ہونے پر ایک دلیل ہے پہلی دلیل میں جادو اور معجزے کا فرق بیان کیا گیا ہے ان دونوں کے مختلف رخ کی طرف اشارہ ہے اور ان کے ہدف اور مقصد ک ااختلاف ثابت کیا گیا ہے لیکن یہاں جادو گر اور معجزہ لانے والے کے حالات و صفات کے اختلاف کے حوالے سے مطلب کے اثبات میں مدد لی گئی ہے۔ جادو گر کا کام اور فن انحراف پیدا کرنے اور غافل کرنے کا پہلو رکھتا ہے۔ جادو سے فائدہ اٹھانے والے افراد منحرف، لوگوں کو غافل کرنے والے اور دھوکا باز ہوتے ہیں۔ جبکہ پیغمبر حق طلب، دلسوز، پاک دل، باہدف، نیک، پارسا اور مادی امور کی پرواہ نہ کرنے والے جواں مرد ہوتے ہیں۔ جادو گر بھی رست گاری اور فلاح کا چہرہ نہیں دیکھتے وہ دولت و ثروت، مقام اور منصب ذاتی مفادات کے سوا کسی چیز کے لئے کام نہیں کرتے۔ جبکہ انبیاء کا ہدف و مقصد ہدایت، خلق خدا کا مفاد اور انسانی معاشرے کے تمام معنوی اور مادی پہلووں کی اصلاح ہوتا ہے۔ پھر انھوں نے اپنی تہمتوں کی سیلاب کا رخ موسیٰ کی طرف کئے رکھا اور ان سے کھل کر کہنے لگے: کیا تو ہمارے آباوٴواجداد اوربزرگوں کے طور طریقے سے پھیر دینا چاہتا ہے (قَالُوا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْہِ آبَائَنَا)۔ درحقیقت انھو ں نے بڑوں کے طور طریقے، رسومات، خیالی عظمت اور ان کے افسانوی بتوں کا سہارا لیا تاکہ عوام کو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (ع) سے متنفر کر سکیں اور انھیں یقین دلائیں کہ یہ تمہارے معاشرےاور ملک کے مقدسات اور عظمتوں کو پامال کرنا اور ان سے کھیلنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد انھو ں نے اپنی پہلی بات کو جاری رکھا اور کہا کہ خدا کے دین کے بارے میں تمہاری دعوت جھوٹ سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ تو سب اس سر زمین پر حکومت کرنے کے لئے جال اور خائنانہ سازشیں ہیں (وَتَکُونَ لَکُمَا الْکِبْرِیَاءُ فِی الْاَرْضِ)۔ درحقیقت چونکہ ان کی ہر کوشش لوگوں پر ظالمانہ حکومت کے لئے تھی لہٰذا دوسروں کو بھی ایسا ہی خیال کرتے تھے۔ وہ انبیاء کی مصلحانہ کو ششوں کو بھی یہی معنی پہناتے تھے اور کہتے تھے کہ ”تم جان لو کہ ہم تم دو افراد پرکبھی ایمان نہیں لائیں گے۔“ کیونکہ ہم تمہارے مقاصد سمجھ لیتے ہیں اور تمہارے تخریبی پروگرام سے ہم آگاہ ہیں (وَمَا نَحْنُ لَکُمَا بِمُؤْمِنِینَ)۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلاف ان کی جنگ کا یہ پہلا مرحلہ ہے۔

79
10:79
وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ٱئۡتُونِي بِكُلِّ سَٰحِرٍ عَلِيمٖ
فرعون نے کہا: ہر آگاہ جادوگر (اورساحر) کو میرے پاس لے آؤ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔

80
10:80
فَلَمَّا جَآءَ ٱلسَّحَرَةُ قَالَ لَهُم مُّوسَىٰٓ أَلۡقُواْ مَآ أَنتُم مُّلۡقُونَ
جس وقت جادوگر آئے تو موسیٰ نے ان سے کہا: تم (جادو کے اسباب میں سے) جو کچھ ڈال سکتے ہو ڈال دو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔

81
10:81
فَلَمَّآ أَلۡقَوۡاْ قَالَ مُوسَىٰ مَا جِئۡتُم بِهِ ٱلسِّحۡرُۖ إِنَّ ٱللَّهَ سَيُبۡطِلُهُۥٓ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُصۡلِحُ عَمَلَ ٱلۡمُفۡسِدِينَ
جب انہوں نے(جادو کے اسباب) ڈالے تو موسیٰ نے کہا کہ جو کچھ تم لائے ہو وہ جادو ہے جسے خدا جلدی باطل کر دے گا۔ کیونکہ خدا فساد کرنے والوں کے عمل کی اصلاح نہیں کرتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔

82
10:82
وَيُحِقُّ ٱللَّهُ ٱلۡحَقَّ بِكَلِمَٰتِهِۦ وَلَوۡ كَرِهَ ٱلۡمُجۡرِمُونَ
اور حق کو وہ اپنے وعدے سے ثابت کر دکھاتا ہے اگرچہ مجرم ناپسند کرتے ہوں۔

حضرت موسیٰ (ع) کے خلاف جنگ کا دوسرا مرحلہ

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ان آیات میں مقابلے کا اگلا مرحلہ بیان کیا گیا ہے۔ ان میں حضرت موسیٰؑ اور ان کے بھائی کے خلاف فرعون کے عملی اقدام کی بات کی گئی ہے۔ جب فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کے کچھ معجزات مثلاًید بیضا اور بہت بڑا اژدہا کو حملہ کرتے دکھا اور اسے نظر آیا کہ موسیٰ (ع) کا دعویٰ بلا دلیل نہیں اور یہ دلیل کم از کم اس کے اطرافیوں یا دوسروں میں سے بعض پر اثر انداز ہو گی تو اس نے عملی طور پر جواب دینے کا فیصلہ کیا۔ قرآن کہتا ہے: فرعون نے پکارا کے کہا کہ تم آگاہ جادو گروں کو میرے پاس لے آوٴ تاکہ ان کے ذیعے میں موسیٰ ؑوالی مصیبت اپنے سے دور کر سکوں (وَقَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُونِی بِکُلِّ سَاحِرٍ عَلِیمٍ)۔ وہ جانتا تھا کہ ہر کام میں اس کے راستے سے داخل ہونا چاہئیے اور اس کے ماہروں سے مدد لینا چاہئے۔ کیا واقعاً حضرت موسیٰؑ کی دعوت کی حقانیت میں شک رکھتا تھا اور اس طریقے سے انھیں آزمانا چاہتا تھا یا وہ جانتا تھا کہ موسیٰؑ خدا کی طرف سے ہیں لیکن اس کا خیال تھا کہ جادو گروں کے شور وغل سے لوگوں کا مطمئن کیا جا سکتا ہے اور وقتی طور پر عامة الناس کے افکار کو موسیٰ کے اثر و نفوذ سے بچایا جا سکتا ہے کہ موسیٰ ؑخارق عادت کام کا انجام دیتا ہے تو ہم بھی اس جیسے کام کی انجام دہی سے عاجز نہیں ہیں اور اس خیال تھا کہ اگر اس کا ملوکا نہ ارادہ اس طرح سے پورا ہو جائے تو یہ چیز سہل اور آسان ہے۔ دوسرا احتمال زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے نیز حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں کھڑا ہوا تھا۔ بہرحال جب مقابلے کے معین تاریخی دن کہ جس دن کے لیے لوگوں کو شرکت کی عام دعوت دی گئی تھی، جادو گر اکھٹے ہو ئے تو حضرت موسیٰ (ع) نے ان کی طرف رخ کیا اور کہا: پہلے جو کچھ تم لاسکتے ہوں میدان میں لے آوٴ (فَلَمَّا جَاءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَھُمْ مُوسَی اَلْقُوا مَا اَنْتُمْ مُلْقُونَ)۔ ”القوا ما انتم ملقون“ کااصلی معنی یہ ہے کہ جوکچھ تم پھینک سکتے ہو پھینکو اور یہ اشارہ ہے ان مخصوص رسیوں اور لاٹھیوں کی طرف جو اندر سے خالی تھیں اور انھوں نے ان میں خاص کیمیائی مواد ڈال رکھا تھا کہ جسے سورج کی روشنی میں رکھا جائے تو اس میں حرکت اور جوش پیدا ہوتا ہے۔ اس بات کی شاہد وہ آیات ہیں جو سورہ اعراف اور شعراء میں آئی ہیں۔ سورہ شعراء کی آیت ۴۳ اور ۴۴ میں ہے۔ قال لھم موسیٰ القوا ماانتم ملقون فالقواحبالھم و عصیھم و قالو بعزة فرعون انا لنحن الغالبون۔ موسیٰ نے ان سے کہا جو پھینک سکتے ہو پھینکو، پھر انھوں نے میدان میں اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں اور کہنے لگے فرعون کی عزت کے صدقے ہم کامیاب ہیں۔ بہرحال انھوں نے اپنی تمام قدرت مجتمع کی اور جو کچھ وہ اپنے ساتھ لائے تھے انھوں نے میدان کے بیچ میں ڈال دئیے ”تو اس وقت موسیٰؑ نے ان سے کہا کہ جو کچھ تم لے کر آئے ہو یہ جادو ہے اور خدا جلدی ہی اسے باطل کر دے گا (فَلَمَّا اَلْقَوْا قَالَ مُوسَی مَا جِئْتُمْ بِہِ السِّحْرُ إِنَّ اللهَ سَیُبْطِلُہُ)۔ تم فاسد اور مفسد افراد ہو کیونکہ ایک جابر، ظالم اور سرکش کی خدمت انجام دے رہے ہو اور تم نے اپنے علم کو اس خود غرض حکومت کی بنیادوں ک ومضبوط کرنے کے لیے فروخت کر دیا ہے اور یہ خود تماہرے مفسد ہونے پر ایک بہترین دلیل ہے اور خدا مفسدین کے عمل کی اصلاح نہیں کرتا (إِنَّ اللهَ لاَیُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِینَ)۔ درحقیقت جو شخص بھی عقل ہوش اور دانش رکھتا تھا، حضرت موسیٰؑ کے جادو گروں پر غلبہ حاصل کرنے سے پہلے بھی اس حقیقت کو سمجھ سکتا تھا کہ ان کاعمل بے بنیاد ہے کیونکہ وہ ظلم کی بنیادوں کو مستحکم کرنے کے لیے کام کررہے تھے۔ کون نہیں جانتا تھا کہ فرعون غاصب، غارت گر، ظالم اور مفسد ہے توکیا ایسی طاقت کے خدمتگزار اس ظلم و فساد میں شریک نہ تھے کیا ممکن تھا کہ ان کا عمل ایک صحیح اور خدائی عمل قرار پاس کے۔ ہرگز نہیں۔ لہٰذا واضح ہے کہ خدا ایسی مفسدانہ کوششوں کو باطل کر دے گا۔ کیا ”سیبطلہ“ (خدا نے جلد باطل کر دے گا) اس بات کا دلیل ہے کہ جادو ایک حقیقت ہے لیکن خدا اسے باطل کر سکتا ہے یاس جملے سے مراد یہ ہے کہ خدا اس کے باطل ہونے کو واضح کر دے گا۔ سورہ اعراف کی آیہ ۱۱۶ میں ہے: فلما القوا سحروا اعین الناس و استرھبو ھم۔ یعنی۔ جادو گروں کے جادو نے لوگوں کی آنکھوں کو متاثر کیا اور انھیں وحشت میں ڈال دیا۔ لیکن یہ تعبیر اس بات کے منافی نہیں کہ ان کے پاس مرموز وسائل تھے جیسا کہ "سحر" کے لغوی معنی میں پوشیدہ ہے۔ انھوں نے معنوی طور پر مختلف اجسام کے طبیعی اور کیمیائی خواص سے استفادہ کیا اور اس سے ان رسیوں اور لاٹھیوں میں واقعاً حرکات پیدا کر دیں البتہ یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ جیسا کہ ظاہراً معلوم ہوتا تھا معاملہ اس کے برعکس، تھا یہ رسیاں اور لاٹھیاں زندہ موجودات نہیں بن گئی تھیں۔ جیسا کہ قرآن سورہ طٰہٰ کی آیت میں کہتا ہے: فاذا حبالھم و عصیھم یخیل الیہ من سحر ھم انھا تسعیٰ اس وقت رسیاں اور لاٹھیاں جادو گروں کے جادو کی وجہ سے یوں لگتی تھیں جیسے وہ زندہ موجودات ہیں جو دوڑرہی ہیں۔ لہٰذا جادو جا ایک حصہ تو حقیقت پر مبنی ہے اور دوسرا وہم و خیال ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــ زیرنظر آخری آیت میں فرمایا گیا ہے کہ موسیٰؑ نے اس سے کہا کہ اس مقابلے میں ہمیں اعتماد ہے کہ کامیابی ہماری ہے کیونکہ خدا کا وعدہ ہے کہ وہ حق کو آشکار کرے گا اور شکست دینے والی منطق اور غالب آنے والے معجزات کے ذریعے اپنے پیغمبروں کی مدد کرے گا اور یوں ایل فساد و باطل کو رسوا اور ذلیل کرے گا اگرچہ مفسد فرعون اور اس کے حواری اسے ناپسند کرت ے ہیں (وَیُحِقُّ اللهُ الْحَقَّ بِکَلِمَاتِہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُجْرِمُونَ)۔ ”بکلماتہ“ سے مراد یا تو انبیاء ِبر حق کی کامیابی کے لیے خدائی وعدہ ہے یا اس کے قاہر اور قوی معجزات ہیں۔ (تشریحی نوٹ: حضرت موسیٰ کے فرعون اور فرعونیوں سے مقابلے کے بارے میں تفصیلات اور اس سلسلے میں کئی اہم نکات پر ہم جلد شش میں سورہ اعراف کی آیہ ۱۱۳کے بعد سے تفصیل سے بحث کر چکے ہیں۔ نیز جاوٴ اور اس کی حقیقت کے بارے میں ہم پہلی جلد میں سورہٴ بقرہ کی آیہ ۱۰۲ کے ذیل میں بحث کر چکے ہیں۔ رجوع کیجئے)

83
10:83
فَمَآ ءَامَنَ لِمُوسَىٰٓ إِلَّا ذُرِّيَّةٞ مِّن قَوۡمِهِۦ عَلَىٰ خَوۡفٖ مِّن فِرۡعَوۡنَ وَمَلَإِيْهِمۡ أَن يَفۡتِنَهُمۡۚ وَإِنَّ فِرۡعَوۡنَ لَعَالٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَإِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلۡمُسۡرِفِينَ
(شروع میں ) کوئی شخص موسیٰ پر ایمان نہ لا یامگر صرف اس کی قوم کی اولاد میں سے ایک گروہ۔(انہیں بھی) یہ خوف رہتا تھا کہ فرعون اور اس کے حواری انہیں (موسیٰ کے) دین سے منحرف نہ کردیں۔ فرعون زمین میں بالادستی اور طغیان کے لئے کوشاں تھا اور وہ زیادتی کرنے والوں میں سے تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 86 کے تحت ملاحظہ کریں۔

84
10:84
وَقَالَ مُوسَىٰ يَٰقَوۡمِ إِن كُنتُمۡ ءَامَنتُم بِٱللَّهِ فَعَلَيۡهِ تَوَكَّلُوٓاْ إِن كُنتُم مُّسۡلِمِينَ
موسیٰ نے کہا: اے میری قوم! اگر تم خدا پر ایمان لائے ہو تو اس پر توکل کرو اگر اس کے فرمان کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 86 کے تحت ملاحظہ کریں۔

85
10:85
فَقَالُواْ عَلَى ٱللَّهِ تَوَكَّلۡنَا رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةٗ لِّلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ
انہوں نے کہا ہم صرف خدا پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ پروردگار! ہمیں ظالم گروہ کے زیراثر قرار نہ دے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 86 کے تحت ملاحظہ کریں۔

86
10:86
وَنَجِّنَا بِرَحۡمَتِكَ مِنَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡكَٰفِرِينَ
اور ہمیں اپنی رحمت سے کافر گروہ (کے ہاتھ) سے نجات دے۔

طاغوت ِ مصر سے حضرت موسیٰ (ع) کے جہاد کا تیسرا مرحلہ

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ان آیات میں فرعون سے حضرت موسیٰ (ع) کے انقلابی مقابلوں میں سے ایک اور واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ ابتداء میں حضرت موسیٰ (ع) پر ایمان لانے والے کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اس واقعہ کے بعد موسیٰ پر ایمان لانے والے صرف ان کی قوم کے فرزند تھے (فَمَا آمَنَ لِمُوسَی إِلاَّ ذُرِّیَّةٌ مِنْ قَوْمِہِ)۔ یہ چھوٹا اور مختصر سا گروہ تھا۔ لفظ ”ذریة“ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بھی زیادہ تر جوان اورنوجوان تھے۔ وہ فرعون اور اس کے حواریوں کی طرف سخت دباوٴ کا شکار تھے۔ انھیں ہر وقت یہی خوف رہتا تھا کہ فرعونی حکومت کہیں شدید دباوٴ کے ذریعے کہ جو اہل ایمان پر روا رکھتی ہے، انھیں موسیٰ کا دین ترک کرنے پر مجبور نہ کرے (عَلَی خَوْفٍ مِنْ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِھِمْ اَنْ یَفْتِنَھُمْ)۔کیونکہ فرعون ایک ایسا شخص تھا جو زمین پر بالادستی چاہتا تھا (وَإِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ)۔وہ اسراف کرنے والا تجاوز کرنے والا تھا اور کسی حد کو قانونی نہیں سمجھتا تھا (وَإِنَّہُ لَمِنْ الْمُسْرِفِینَ)۔ اس بارے میں مفسرین میں اختلاف ہے کہ موسیٰ پر ایمان لانے والی ”ذریہ“ کون سی تھی اور یہ کہ ”مِنْ قومہٖ“ کی ضمیر موسیٰ کی لوٹتی ہے یا فرعون کی طرف۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ فرعون کی قوم اور قبطیوں میں سے چند افراد تھے جیسے مومن آل فرعون، فرعون کی بیوی، اس کی مشاطہ (تشریحی نوٹ: مشاطہ پرانے زمانے میں اس عورت کو کہتے تھے جو امیر کبیر گھرانوں کی عورتوں کی آرائش و زیبائش کرتی تھی) (مترجم)۔ اور اس کی کنیز ظاہرا اس خیال کی وجہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے اکثر افراد ایمان لاچکے تھے لہٰذا یہ صورت ”ذریة من قومہ“ سے مناسبت نہیں رکھتی۔ کیونکہ یہ تو ایک چھوٹے سے گروہ کا ذکر ہے۔ بعض دوسرے مفسرین کا نظر یہ ہے کہ یہ گروہ بنی اسرائیل میں سے تھا اور ”بہ“ کی ضمیر موسیٰ کی طرف لوٹتی ہے کیونکہ اس سے پہلے موسیٰ کا نام آیا ہے لہٰذا ادبی قواعد کے مطابق اس ضمیر کا تعلق موسیٰؑ ہی سے ہے۔ اس میں شک نہیں کہ دوسرا معنی ظاہر آیت سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے نیز والی آیت میں اس کے لیے ایک اور شاہد ہے جس میں فرمایا گیا ہے۔ وَقَالَ مُوسَی یَاقَوْمِ موسیٰؑ نے مومنین سے کہا: اے میری قوم۔۔۔۔ یعنی مومنین کو اپنی قوم قرار دیا ہے۔ ایک ہی اعتراض ہے جو اس تفسیر پر باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ بنی اسرائیل تو تمام حضرت موسیٰ پر ایمان لائے تھے نہ کہ ان کا ایک چھوٹا سا گروہ ایمان لایا تھا۔ البتہ ایک نکتے کی طرف توجہ کرنے سے یہ اعتراض دور ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ ہم جانتے ہیں کہ ہر انقلاب کی طرف جذب ہونے والا پہلا گروہ نوجوان کا ہوتا ہے۔ نوجوان زیادہ پاکیزہ دل اور صاف و شفاف افکارکر کھتے ہیں۔ مزید بر آں ان میں انقلا بی جوش و خروش زیادہ ہوتا ہے۔ مادی وابستگیاں جو بڑے بوڑھوں کا احتیاط اور مصلحت کوشی کی طرف دعوت دیتی ہیں ان میں نہیں ہوتیں نہ ان کے پاس مال و دولت ہوتا ہے کہ جس کے ضائع ہونے کا انھیں ڈر ہو اور نہ ہی مقام و منصب کہ جس کے خطرے میں پڑجانے پر وہ مضطرب ہوں لہٰذا یہ بات فطری ہے کہ گروہ حضرت موسیٰ ؑکی طرف بہت جلد جذب ہو گیا، اور ”ذریة“کی تعبیر اس معنی سے بہت زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ بڑے بوڑھے بھی بعد میں اس گروہ سے ملحق ہو گئے تھے کیونکہ وہ اس وقت کے معاشرے میں کوئی مقام نہیں رکھتے تھے اور ضعیف و ناتواں تھے۔جیسا کہ ابن عباس سے منقول ہے یہ تعبیر ان کے لیے کوئی بعید نہیں ہے۔یہ بالکل اس طرح ہے جیسے اپنے تمام دوستوں کو دعوت دیتے ہوئے ہم کہتے ہیں ”آگے چلو جوانو! دعوت ہے“ اگرچہ بڑے بوڑھے ہوں اور اگر اس تعبیر کو ہم بعید سمجھیں تو پہلا احتمال پوری طرح سے باقی ہے۔ مزید بر آں ’ذریة“ اگرچہ عام طور پر اولاد کے لیے بولا جاتا ہے لیکن اصل لغت کے اعتبار سے جیسا کہ مفردات راغب میں راغب نے کہا ہے، چھوٹے اور بڑے دونوں کا مفہوم لیے ہوئے ہے۔ ایک اور نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ کرنا چاہئیے یہ ہے کہ لفظ”فتنة“ کہ جو ”ان یتنھم“ میں ہے سے مراد ڈرانے، دھمکانے اور تکلیف پہنچانے کے ذریعہ منحرف کرنا یا ہر طرح سے پریشانی اور دردِ سر پید اکرنا چاہے وہ دینی حوالے سے ہو یا غیر دینی حوالے سے۔ بہرحال حضرت موسیٰؑ نے ان کی فکر اور روح کی تسکین کے لیے محبت آمیز لہجے میں ان سے کہا: اے میری قوم ! اگر تم لوگ خدا پر ایمان لائے ہو اور اور اپنی گفتار میں اور ایمان و اسلام کے اظہار میں سچے ہو تو تمہیں اس پرتوکل اور بھروسہ کرنا چاہیئے۔ امواج و طوفانِ بلا سے نہ ڈرو۔ کیونکہ ایمان توکل سے جدانہیں ہے (وَقَالَ مُوسیٰ یَا قَوْم إِنْ کُنْتُمْ آمَنْتُمْ بِاللهِ فَعَلَیْہِ تَوَکَّلُوا إِنْ کُنْتُمْ مُسْلِمِین)۔ ”توکل“ کا مفہوم ہے کام کسی کے سپرد کرنا اور اسے وکالت کے لیے منتخب کرنا۔ ”توکل“ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان کو شش کرنا چھوڑ دے، گوشہٴ تنہائی میں جابیٹھے اور کہے کہ میرا سہارا خدا ہے بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب انسان کام کے لیے اپنی پوری کوشش کر چکے اور مشکل حل نہ ہو اور راہ سےرکا وٹیں نہ ہٹیں تو پھر اضطراب اور وحشت کو اپنی طرف نہ آنے دے بلکہ لطف الہٰی پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کی ذات پاک اور قدرت ِ بے پایاں سے مدد چاہتے ہوئے پامردی کا مظاہرہ کرے۔ مسلسل جہاد جاری رکھے یہاں تک کہ اگر اس میں طاقت بھی ہو تو اپنے آپ کو لطفِ خدا سے بے نیاز نہ سمجھے کیونکہ جو طاقت بھی ہے اس کی کی طرف سے ہے۔ یہ ہے توکل کا مفہوم کہ جو ایمان و اسلام سے جدا نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ایک مومن کہ جس کا سر فرمانِ پروردگار کے سامنے خم ہے وہ اسے ہر چیز پر قادر توانا سمجھتا ہے۔ ہر مشکل کو اس کے ارادے کے سامنے سہل اورآسان سمجھتا ہے اور اس کے کامیابی کے وعدوں پر اعتقاد رکھتا ہے۔ ان سچے مومنین نے موسیٰؑ کی دعوت کو توکل کے ساتھ قبول کیا اور کہا کہ ہم صرف خدا پر توکل کرتے ہیں (فَقَالُوا عَلَی اللهِ تَوَکَّلْنَا)۔ اس کے بعد انھوں نے بار گاہ ِقدس سے تقاضا کیا کہ وہ انھیں دشمنوں کے شر، وسوسوں اور دباوٴ سے امان میں رکھے اور عرض کیا: اے پروردگار ہمیں فتنہ کا ذریعہ اور ظالموں کے زیر اثر قرار نہ دے (رَبَّنَا لاَتَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلْقَوْمِ الظَّالِمِینَ)۔پروردگار ہمیں اپنی رحمت سے بے ایمان قوم سے نجات دے (وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِکَ مِنْ الْقَوْمِ الْکَافِرِینَ)۔ یہ امر جاذب توجہ ہے کہ پہلی آیت میں فرعون کو مسرفین میں سے قرار دیا گیا ہے۔ تیسری آیت میں فرعون اور اس کے حواریوں کو ظالم کہا گیا ہے اور آخری آیت میں انھیں کافر قرار دے دیا گیا ہے۔ تعبیروں کا یہ فرق شاید اس بناء پر ہو کہ انسان گناہ کے راستے میں پہلے اسراف کرتا ہے۔ یعنی حدود سے تجاوز کرتا ہے، پھر ظلم و ستم کی بنیاد رکھتا ہے اور آخر کار معاملہ کفر و انکار پر جا کر ختم ہو جاتا ہے۔

87
10:87
وَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰ وَأَخِيهِ أَن تَبَوَّءَا لِقَوۡمِكُمَا بِمِصۡرَ بُيُوتٗا وَٱجۡعَلُواْ بُيُوتَكُمۡ قِبۡلَةٗ وَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَۗ وَبَشِّرِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
اور موسیٰ اور اس کے بھائی کو ہم نے وحی کی کہ اپنی قوم کے لئے سرزمین مصر میں گھروں کا انتخاب کرو اور اپنے گھروں کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے (اور قریب) رکھو اور نماز قائم کرو اور مومنین کو بشارت دو (کہ آخر کار وہ کامیاب ہو جائیں گے)۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 89 کے تحت ملاحظہ کریں۔

88
10:88
وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَآ إِنَّكَ ءَاتَيۡتَ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَأَهُۥ زِينَةٗ وَأَمۡوَٰلٗا فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّواْ عَن سَبِيلِكَۖ رَبَّنَا ٱطۡمِسۡ عَلَىٰٓ أَمۡوَٰلِهِمۡ وَٱشۡدُدۡ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ فَلَا يُؤۡمِنُواْ حَتَّىٰ يَرَوُاْ ٱلۡعَذَابَ ٱلۡأَلِيمَ
موسیٰ نے کہا: اے پروردگار! تو نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو دنیا کی زندگی میں زنیت اور (بھرپور) اموال دیئے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ وہ (تیرے بندوں کو) تیری راہ سے گمراہ کرتے ہیں۔ پروردگار! ان کے اموال نابود کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے کیونکہ جب تک دردناک عذاب نہ دیکھیں گے ایمان نہ لائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 89 کے تحت ملاحظہ کریں۔

89
10:89
قَالَ قَدۡ أُجِيبَت دَّعۡوَتُكُمَا فَٱسۡتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَآنِّ سَبِيلَ ٱلَّذِينَ لَا يَعۡلَمُونَ
فرمایا: ہم دونوں کی دعا قبول ہو گئی ہے۔ تم استقامت دکھاؤ اور ان لوگوں کے طور طریقے کی پیروی نہ کرو جو جاہل ہیں۔

چوتھا مرحلہ: انقلاب کی تیاری

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ان آیات میں فرعون کے خلاف بنی اسرائیل کے قیام اور انقلاب کا ایک اور مرحلہ بیان کیا گیا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ خدا فرماتا ہے: ہم نے موسیٰؑ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی کہ سر زمین مصر میں اپنی قوم کے لیے گھروں کا انتخاب کرو(وَاَوْحَیْنَا إِلَی مُوسَی وَاَخِیہِ اَنْ تَبَوَّاَا لِقَوْمِکُمَا بِمِصْرَ بُیُوتًا)۔ اور خصوصیت کے ساتھ ”ان گھروں کو ایک دوسرے کے قریب اور آمنے سامنے بناوٴ۔(وَاجْعَلُوا بُیُوتَکُمْ قِبْلَةً)۔ پھر روحانی طور پر اپنی خود سازی اور اصلاح کرو”اور نماز قائم کرو“۔ اس طرح سے اپنے نفس کو پاک اور قوی کرو (وَاَقِیمُوا الصَّلَاةَ)۔ اس لیے کہ خوف اور وحشت کے آثار ان کے دل سے نکل جائیں اور وہ روحانی و انقلابی قوت پالیں ”مومنین کو بشارت دو“ کامیابی اور خدا کے لطف و رحمت کی بشارت (وَبَشِّرْ الْمُؤْمِنِین)۔ ان آیات کے مجموعی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانے میں بنی اسرائیل منتشر، شکست خوردہ، وابستہ، طفیلی، آلودہ اور خوف زدہ گروہ کی شکل میں تھے، نہ انکے پاس گھر تھے نہ کوئی مرکز تھا۔ نہ ان کے پاس معنوی اصلاح کا کوئی پر گرام تھا اور نہ ہی ان میں اس قدر شجاعت، عزم اور حوصلہ تھا جو شکست دینے والے انقلاب کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ لہٰذا حضر ت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو حکم ملا کہ وہ بنی اسرائیل کی مرکزیت کے لیے خصوصاً روحانی حوالے سے، چند امور پر مشتمل پروگرام شروع کریں۔ ۱۔ مکان کی تعمیر کریں اور اپنے مکانات فرعونیوں سے الگ بنائیں۔ اس میں متعدد فائدے تھے۔ ایک یہ کہ سر زمین مصر میں ان کے مکانات ہوں گے تووہ اس کا دفاع زیادہ لگاوٴ سے کریں گے۔ دوسرا یہ کہ قبطیوں کے گھروں میں طفیلی زندگی گزارنے کی بجاے وہ اپنی ایک مستقل زندگی شروع کرسکیں گے۔ تیسرا یہ کہ ان کے معاملات اور تدابیر کے راز دشمنوں کے ہاتھ نہیں لگیں گے۔ ۲۔ اپنے گھر دوسرے کے آمنے سامنے اور قریب قریب بنائیں کیونکہ دراصل ”قبلہ“ حالت ِ تقابل“کے معنی میں ہے۔ آج کل لفظ ”قبلہ“ کا جو معنی مشہور ہے وہ اس کا ثانوی معنی ہے۔ (البتہ بعض مفسرین نے مندرجہ بالا آیت میں”قبلہ“ کو آمنے سامنے کے معنی میں نہیں لیا بلکہ اسی قبلہٴ نماز کے معنی میں لیا ہے اور ”و اقیموا الصلوٰة“ کے جملہ کو اس کا قرینہ سمجھا ہے لیکن پہلا اس لفظ کے اصلی لغوی معنی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں دونوں معانی مراد لینے میں بھی کوئی اشکال نہیں اس کی بہت سی نظیریں موجود ہیں)۔بنی اسرائیل کی مرکزیت کے لیے یہ ایک موثر کام تھا اس طرح وہ اجتماعی مسائل پر مل کر غور و فکر کر سکتے تھے اور مراسم مذہبی کے حوالے سے جمع ہو کر اپنی آزادی کے لیے ضروری پروگرام بنا سکتے تھے۔ ۳۔ عبادت کی طرف متوجہ ہوں، خصوصاً نماز کی طرف کہ جو انسان کو بندوں کی بندگی سے جدا کرتی ہے اور اس کا تعلق تمام قدرتوں کے خالق سے قائم کر دیتی ہے۔ اس کے دل اور روح کو گناہ کی آلودگی سے پاک کرتی ہے اپنے آپ پر بھروسہ کرنے کا احساس زند ہ کرتی ہے اور قدرتِ پروردگار کا سہارا لے کر انسانی جس میں ایک تازہ روح پھونک دیتی ہے۔ ۴۔ ایک رہبر کے طور حضرت موسیٰ (ع) کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ بنی اسرائیل کی روحوں میں موجود طویل غلامی اور ذلت کے دور کا خوف و وحشت نکلا باہر پھینکیں اورحتمی فتح و نصرت و کامیابی اور پروردگار کے لطف و کرم کی بشارت دے کر مومنین کے ارادے کو مضبوط کریں اور ان میں شہامت و شجاعت کی پرورش کریں۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــ یہ امر جاذب ِ توجہ ہے کہ بنی اسرائیل حضرت یعقوب (ع) کی اولاد میں سے ہیں۔ فطرتاً ان میں سے ایک گروہ حضرت یو سف(ع) کی اولاد میں سے ہے اور وہ اور وہ ان کے بھائی سالہا سال تک مصر پرحکومت کرتے رہے ہیں۔ اس طرح اس سر زمین کی آبادی ا ور تعمیر میں کوشاں رہے ہیں لیکن خدا کی نا فر مانی،غفلت اور داخلی اختلاف کی وجہ سے انکی ز ند گی اس وقت بار کیفیت تک پہنچ گئی تھی ضروری تھا کہ اس مصیبت زدہ فر سود ہ معاشرے کی تعمیرنو ہو۔اس کے منفی پہلوؤں کی اصلاح ہو اور ان کی بجائے ان میں تعمیری اور اصلاحی،رو حانی خصائل پیدا ہوں تا کہ ان کی عظمتِ رفتہ پلٹ آئے۔ اس کے بعد فر عون اور فر عو نیوںکی سر کشی کے ایک سبب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت موسیٰ کی زبانی فرمایا گیا ہے: پروردگارا ! تونے فرعون اوراس کے حواریوں کو دنیا کی زندگی میں زینت اور مال بخشا ہے (وَقَالَ مُوسَی رَبَّنَا إِنَّکَ آتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَاَہُ زِینَةً وَاَمْوَالًا فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا)۔ لیکن اس ثروت و زینت کا انجام یہ ہوا کہ وہ تیرے بندوں کو تیری راہ سے منحرف اور گمراہ کرتے ہیں (رَبَّنَا لِیُضِلُّوا عَنْ سَبِیلِکَ)۔ ”لیضلوا“ میں لام اصطلاح کے مطابق لامِ عاقبت ہے یعنی اشراف کی دولت مند تحمل پرست قوم لوگوں کو راہِ خدا سے گمراہ کرنے کی خواہ مخواہ کوشش کرے گی۔ اور اس سے آخر کار اس کے علاوہ کچھ نہیں ہو گا۔ کیونکہ انبیاء کی دعوت اور خدائی پروگرام لوگوں کوبیدار، ہوشیار، متحد اور مجتمع کر دیں گے ان حالات میں غارتگروں اور لٹیروں کے لیے حلقہ تنگ ہو جائے گا اور ان کے لیے زندگی سیاہ ہو جائے گی، وہ ردّ عمل کا مظاہرہ کریں گے اور انبیاء کی مخالفت میں اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑدر گاہ الہٰی میں تقاضا کرتے ہوئے کہتے ہیں: پروردگار! ان کے اموال کو محو اور بے اثر کر دے تاکہ وہ اس سے بہرہ ور نہ ہو سکیں (رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَی اَمْوَالِھِمْ)۔ لغت میں ”طمس“ کسی چیز کو محو اور بے اثر کرنے کے معنی میں ہے۔ یہ بات جاذب نظرہے کہ بعض روایات میں آیا ہے کہ اس نفرین اور بد د عا کے بعد فرعونیوں کا مال پتھر اور راکھ میں تبدیل ہو گیا۔ شاید یہ اس امر اشارہ ہو کہ وہ اس طرح سے اقتصادی بحران کا شکار ہوئے کہ ان کی ثروت بے وقعت ہو گئی اور راکھ کی طرح بے قیمت ہو گئی۔ حضرت موسیٰؑ مزید عرض کرتے ہیں: پروردگار! اس کے علاوہ ان سے غور و فکرکی، سوچنے کی قدرت بھی لے لے (وَاشْدُدْ عَلَی قُلُوبِھِمْ)۔کیونکہ یہ وہ سرمائے گنواکر وہ زوال اور تباہی کے قریب پہنچ جائیں گے۔ اس طرح انقلاب کی طرف اور ان پر آخری ضرب لگانے کے لیے راستہ کھل جائے گا۔ خدا وندا ! یہ جو میں فرعونیوں کے بارے میں ایسی خواہش رکھتا ہوں تو یہ جذبہ انتقال اور کینے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس بناء پر ہے کہ اب ان میں ایمان کے لیے کسی قسم کی کوئی آمادگی نہیں ہے۔ جب تک تیرا دردناک عذاب نہ پہنچ جائے وہ ایمان نہیں لائیں گے (فَلاَیُؤْمِنُوا حَتَّی یَرَوْا الْعَذَابَ الْاَلِیمَ)۔ البتہ واضح ہے کہ عذاب کو دیکھ کر ایمان لانا ان کے لیے فائدہ مند نہیں ہو گاجیسا کہ عنقریب آئے گا۔ خدا نے حضرت موسیٰؑ اور ان کے بھائی سے کہا کہ اب جبکہ تم بنی اسرائیل کی تربیت اور اصلاح کے لیے تیار ہو گئے ہو ”تمہارے دشمنوں کے بارے میں تمہاری دعا قبول کوئی (قَالَ قَدْ اُجِیبَتْ دَعْوَتُکُمَا)۔ پس مضبوطی سے اپنی راہ پر کھڑے ہوجاوٴ اور استقامت و پا مردی دکھاوٴ، کثرت ِ مشکلات سے نہ ڈرو اور اپنے کام کے بارے میں حتمی فیصلہ کرو(فَاسْتَقِیمَا)۔اور نادان اور بے خبر افراد کی تجا ویز کے سامنے ہرگز سر تسلیم خم نہ کرو اور جالہوں کے راستے پر نا چلو بلکہ مکمل آگاہی کے ساتھ اپنے انقلابی پر گرام کو جاری رکھو (وَلاَتَتَّبِعَانِ سَبِیلَ الَّذِینَ لاَیَعْلَمُونَ)۔

90
10:90
۞وَجَٰوَزۡنَا بِبَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ ٱلۡبَحۡرَ فَأَتۡبَعَهُمۡ فِرۡعَوۡنُ وَجُنُودُهُۥ بَغۡيٗا وَعَدۡوًاۖ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَدۡرَكَهُ ٱلۡغَرَقُ قَالَ ءَامَنتُ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا ٱلَّذِيٓ ءَامَنَتۡ بِهِۦ بَنُوٓاْ إِسۡرَـٰٓءِيلَ وَأَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ
ہم نے بنی اسرائیل کو (نیل کے عظیم) دریا سے گزارا اور فرعون اور اس کا لشکر ظلم وتجاوز کرتے ہوئے ان کے پیچھے گیا۔ جب وہ غرقاب ہونے لگا تو اس نے کہا میں ایمان لایا کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں کہ جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں مسلمین میں سے ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 93 کے تحت ملاحظہ کریں۔

91
10:91
ءَآلۡـَٰٔنَ وَقَدۡ عَصَيۡتَ قَبۡلُ وَكُنتَ مِنَ ٱلۡمُفۡسِدِينَ
(لیکن اسے کہا گیا) اب ؟ حالانکہ پہلے تونے نافرمانی کی اور تو مفسدین میں سے تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 93 کے تحت ملاحظہ کریں۔

92
10:92
فَٱلۡيَوۡمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنۡ خَلۡفَكَ ءَايَةٗۚ وَإِنَّ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلنَّاسِ عَنۡ ءَايَٰتِنَا لَغَٰفِلُونَ
لیکن آج ہم تیرے بدن کو(پانی سے) بچا لیں گے تاکہ تو آنے والوں کے لئے عبرت بن جائے اور بہت سے لوگ ہماری آیات سے غافل ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 93 کے تحت ملاحظہ کریں۔

93
10:93
وَلَقَدۡ بَوَّأۡنَا بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ مُبَوَّأَ صِدۡقٖ وَرَزَقۡنَٰهُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ فَمَا ٱخۡتَلَفُواْ حَتَّىٰ جَآءَهُمُ ٱلۡعِلۡمُۚ إِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِي بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ فِيمَا كَانُواْ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَ
ہم نے بنی اسرائیل کو صدق(اور سچائی) کی منزل میں جگہ دی اورا نہیں پاکیزہ رزق میں سے عطا کیا (لیکن وہ نزاع واختلاف میں پڑ گئے) اور انہوں نے اختلاف نہ کیا مگر اس کے بعد کہ علم وآگہی حاصل کر چکے تھے۔ تیرا پروردگار قیامت کے روز اس چیز کافیصلہ کرے گا جس کے بارے میں وہ اختلاف کرتے تھے۔

ظالموں سے مقابلے کا آخری مرحلہ

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ان آیات میں فر عونیوں سے بنی اسرائیل کے مقابلے کے آخری مرحلے کی منظر کشی کی گئی ہے۔ فرعونیوں کے انجام کی مختصر لیکن دقیق اور واضح عبارتوں کے ذریعے تصویر پیش کی گئی ہے اور ان میں قرآن نے اپنی روش کے مطابق اضافی مطالب ترک کردئیے ہیں جنہیں پہلے اور بعد کے جملوں سے سمجھا جا سکتا ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: جب کہ بنی اسرائیل دباوٴ میں تھے اور فرعونی ان کا تعاقب کررہے تھے ہم نے انھیں دریا پا ر کروادیا (وَجَاوَزْنَا بِبَنِی إِسْرَائِیلَ الْبَحْر)۔دریائے نیل اتنا بڑا تھا کہ اس کے لیے لفظ”بحر“ استعمال کیا گیا ہے۔ جس کا معنی ”سمندر“ ہے۔ فرعون اور اس کا لشکر بنی اسرائیل کی سر کوبی کے لیے اور ان پر ظلم و تجاوز کرتے ہوئے ان کے تعاقب میں آیا لیکن جلد ہی وہ سب کے سب نیل کی موجوں میں غرق ہو گئے (َ فَاَتْبَعَھُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُہُ بَغْیًا وَعَدْوًا)۔ ”بغی“ کامعنی ہے ”ظلم و ستم“اور ”عدو“ کا مطلب ہے ”تجاوز“ یعنی انھوں نے ظلم اور تجاوز کرتے ہوئے بنی اسرائیل کا تعاقب کیا۔ ”لفظ“فاتبعھم“نشاندہی کرتا ہے کہ فرعون اور اس کے لشکر نے اپنے اختیار اور ارادے سے بنی اسرائیل کا تعاقب کیا۔ بعض روایات بھی اس معنی کی تاکید کرتی ہیں۔ بعض دوسری روایات اس سے زیادہ مناسبت رکھتیں بہرحال جوکچھ ظاہر آیت سے معلوم ہوتا ہے وہی ہمارے لیے مدرک ہے۔ باقی رہا یہ کہ بنی اسرائیل دریا سے کیسے گزرے اور اس موقع پ\ر کون سا معجزہ وقوع پذیر ہوا اس کی تفصیل انشاء اللہ سورہٴ شعراء کی آیہ ۶۳ کے ذیل میں آئے گی۔ بہرکیف یہ معاملہ چل رہا تھا ”یہاں تک کہ فرعون غرقاب ہو نے لگا اور وہ عظیم دریائے نیل کی موجوں میں تنکے کی طرح غوطے کھانے لگا تو اس وقت غرور و تکبر اور جہالت و بے خبری کے پردے اس کی آنکھوں سے ہٹ گئے اور فطری نورِ توحید چمکنے لگا۔ وہ پکار اٹھا:”میں ایمان لیے آیا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں“ (حَتَّی إِذَا اَدْرَکَہُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنْتُ اَنَّہُ لاَإِلَہَ إِلاَّ الَّذِی آمَنَتْ بِہِ بَنُواسْرَائِیْل)۔ کہنے لگا کہ نہ صرف میں اپنے دل سے ایمان لایا ہوں بلکہ عملی طور پر بھی ایسے توانا پروردگار کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہوں (وَاَنَا مِنْ الْمُسْلِمِینَ)۔ درحقیقت جب حضرت موسیٰ (ع) کی پیشین گوئیاں یکے بعد دیگرے وقوع پذیر ہوئیں اور فرعون اس عظیم پیغمبر کی گفتگو کی صداقت سے آگاہ ہوا اور اس کی قدرت نمائی کا مشاہدہ کیا تو اس نے مجبوراً اظہار ایمان کیا، اسے امید تھی کہ جیسے ”بنی اسرائیل کے خدا“ نے انھیں کوہ پیکر موجوں سے نجات بخشی ہے اسے بھی نجات دے گا۔ لہٰذا وہ کہنے لگا میں اسی بنی اسرائیل کے خدا پر ایمان لایا ہوں۔ لیکن ظاہر ہے کہ ایسا ایمان جو نزول بلا اور موت کے چنگل میں گرفتار ہونے کے وقت ظاہر کیا جائے درحقیقت ایک قسم کا اضطراری ایمان ہے جس کا اظہار سب مجرم اور گنہ گار کرتے ہیں۔ ایسے ایمان کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی اور نہ یہ حسنِ نیت اور صدق گفتار کی دلیل ہو سکتا ہے۔ اسی بناء پر خدا تعالیٰ نے اسے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے: اب ایمان لایا ہے ؟ حالانکہ اس سے پہلے تونا فرمانی اور طغیان کرنے والوں، مفسدین فی الارض اور تباہ کاروں کی صف میں موجود تھا (اَلْآنَ وَقَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَکُنْتَ مِنْ الْمُفْسِدِینَ)۔ پہلے بھی ہم نے سورہ نساء کی آیہ ۱۸ میں پڑھا ہے۔ و لیست التوبة للذین یعملون السیئات حتیٰ اذا حضر احدھم الموت قال انی تبت الاٰن۔ ان کی کوئی توبہ نہیں جو برے کام کرتے ہیں اور جب ان میں سے کسی کی موت کا وقت آپہنچے تو کہنے لگے کہ اب میری توبہ ہے۔ اسی بناء پر بہت مرتبہ دیکھا گیا ہے کہ اگر مصیبت کا وقت ٹل جائے اور وہ موت کے چنگل سے نجات پالیں تو دوبارہ پہلے سے کاموں کی طرف پلٹ جاتے ہیں۔ اس تعبیر کی نظیر کہ جو ہم نے سطور بالا میں پڑھی ہے عرب و عجم کے ادباء کے کلام اور گفتگو میں بھی آئی ہے، مثلا: اتت وحیاض الموت بینی و بینھا وجادت بوصل حین لاینفع الوصل وہ مری طرف آئی جب کہ میرے اور اس کے درمیان موت موجزن تھی وہ آمادہٴ وصال تھی جب کہ وصال کا کوئی فائدہ نہ تھا۔ لیکن آج ہم تیرے بدن کی موجوں سے بچا لیں گے تاکہ تونے آنے والوں کے لیے درس عبرت ہو، بر سر اقتدار مستکبرین کے لیے، تمام ظالموں اور مفسدوں کے لیے اور مستضعف گروہوں کےلیے بھی (فَالْیَوْمَ نُنَجِّیکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُونَ لِمَنْ خَلْفَکَ آیَةً)۔ یہ کہ ”بدن“ سے مراد یہاں کیا ہے اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے۔ ان میں سے اکثر کا نظریہ ہے کہ اس سے مراد فرعون کا بے جان جسم ہے کیونکہ اس ماحول کے لوگوں کے ذہن میں فرعون کی اس قدر عظمت تھی کہ اگر اس کے بدن کوپانی سے باہر نہ اچھالا جاتا تو بہت سے لوگ یقین ہی نہ کرتے کہ اس کا غرق ہونا بھی ممکن ہے اور ہو سکتا تھا کہ اس ماجرے کے بعد فرعون کی زندگی کے بارے میں افسانے تراش لیے جاتے۔ یہ امر جاذب توجہ ہے کہ لغت میں لفظ " بدن" جیسا کہ راغب نے مفردات ِ راغب میں کہا ہے " جسد عظیم " کے معنی میں ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے خوشحال لوگوں کی طرح کہ جن کی بڑی زرق برق افسانوی زندگی تھی وہ بڑا چاک و چوبند تھا۔ مگر بعض دوسرے افراد نے کہا ہے کہ " بدن " کا ایک معنی " زرہ " بھی ہے۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ خدا نے فروون کو اس زریں زرہ سمیت پانی سے باہر نکالا کہ کو اس کے بدن پر تھی جاکہ اس کے ذریعے پہچانا جائے اور کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہ رہے۔ یہ نکتہ توجہ طلب ہے کہ بعض نے ”ننجیک“ سے اس طرح استفادہ کیا ہے کہ خدا نے حکم دیا کہ موجیں اس کے بدن کو ساحل کی ایک اونچی جگہ پھینک دیں کیونکہ ”نجوہ“ کا مادہ مرتفع اور بلند جگہ کے معنی میں ہے۔ دوسرا نکتہ جو آیت میں نظر آتا ہے یہ ہے کہ ”فالیوم ننجیک“ کا آغاز فاء تفریع کے ساتھ ہوا ہے ممکن ہے یہ اس طرف اشارہ ہو کہ نامیدی کے عالم میں اور موت کے چنگل میں گرفتاری کے وقت فرعون کے بے روح ایمان نے جو جسم بے جان کی طرح تھا یہ اثر کیا کہ خدا نے فرعون کے بے جان جس کو پانی سے نجات دی تاکہ وہ در کی مچھلیوں کی غذا نہ بنے اور آنے والے لوگوں کے لیے عبرت کا باعث بھی ہو۔ اب بھی مصر اور بر طانیہ کے عجائب گھروں میں فرعون کے مومیا ئے ہوئے بدن موجود ہیں۔ کیا ان میں حضرت موسیٰ (ع) کے ہم عصر فرعون کا بدن بھی موجود ہے کہ جسے بعد میں حفاظت کے لیے مومیا لیا گیا ہو یا نہیں۔ اس سلسلے میں کوئی صحیح دلیل ہمارے پاس نہیں ہے لیکن ”لمن خلفک“ کی تعبیر ہو سکتا ہے اس احتمال کو تقویت دے کہ اس فرعون کا بدن بھی ان میں ہو تا کہ آنے والوں کےلیے باعث عبرت ہو کیونکہ آیت کی تعبیر مطلق ہے اور اس میں تمام آنے والے شامل ہیں۔(غور کیجیے گا)۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: لیکن خدا کی ان تمام آیات، نشانیوں اور عبرت انگیزدرسو ں کے ہوتے ہوئے کہ جن سے تاریخ انسانی بھری پڑی ہے بہت سے لوگ ہماری آیات اور نشانیوں سے غافل ہیں (وَإِنَّ کَثِیرًا مِنْ النَّاسِ عَنْ آیَاتِنَا لَغَافِلُونَ)۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ زیر بحث آخری آیت میں بنی اسرائیل کی آخری کامیابی اور فرعونیوں کے چنگل سے نجات پانے کے بعد ان کی مقدس سر زمینوں کی طرف واپسی کو بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ہم نے بنی اسرائیل کو صدق اور سچائی کے مقام پر جگہ دی (وَلَقَدْ بَوَّاٴْنَا بَنِی إِسْرَائِیلَ مُبَوَّاَصِدْق)۔ ”مبوء صدق“ (سچی منزل) ممکن ہے اس طرف اشارہ ہو کہ خدا نے بنی اسرائیل سے جو وعدہ کیا تھا اسے پورا کر دیا اور انھیں اس سر زمین میں پہنچادیا جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ یا پھر ہو سکتا ہے کہ ”صدق“ اس سر زمین کی پاکی اور نیکی کی طرف اشارہ ہو۔ اس طرح پھر یہ بات شام و فلسطین کی سر زمین سے مناسبت رکھتی ہے جو انبیاء خدا کی جائے سکونت ہے۔ ایک گروہ نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ اس سے مراد سر زمین ِ مر ہے کیونکہ قرآن جیسے سورہٴ دخان میں کہتا ہے: کم ترکوا من جنّات وعیون وزروع ومقام کریم و نعمة کانوا فیھا فاکھین کذٰلک و اورثنا ھا قوماً اٰخرین۔ فرعونیوں کی نابودی کے بعد باغ،چشمے، زمینیں، محلات اور ان کی جو نعمتیں رہ گئی تھیں ہم نے دوسرے گروہ (یعنی بنی اسرائیل کو دے دیں (دخان ۲۵۔ ۲۸) یہی مضمون سورہٴ شعراء کی آیہ ۵۷سے ۵۹ تک آیا ہے اور اس کے آخر میں ہے: و اورثنا ھا بنی اسرائیل۔ ہم نے یہ باغ،۔ چشمے، خزانے اور محل بنی اسرائیل کودے دئیے۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل سر زمین کی طرف ہجرت سے پہلے کچھ مدت مصرمیں بھی رہے اور اس زر خیز سر زمین کی بر کات سے بھی بہر مند ہوئے ہیں۔ البتہ کو ئی مانع نہیں کہ سر زمین مصر، شام اور فلسطین سب مراد ہوں۔ اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے: ہم نے انھیں پاکیزہ رزق سے بہرہ مندکیا (وَرَزَقْنَاھُمْ مِنْ الطَّیِّبَاتِ)۔ لیکن انھوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی اور ایک دوسرے سے اختلاف اور نزاع میں پڑ گئے۔ وہ بھی لاعلمی کی وجہ سے نہیں بلکہ جانتے بوجھتے ہوئے اور حضرت موسیٰؑ کے ان معجزات اور ان کی صداقت کے دلائل کا مشاہدہ کرنے باوجود (فَمَا اخْتَلَفُوا حَتَّی جَاءَ ھُم الْعِلْمُ)۔لیکن ”تیرا پروردگار آخر کار روز قیامت ان میں اس چیز کے بارے میں فیصلہ کرے گا“ اور اگر آج وہ اختلاف کی سزا نہ پائیں توکل اس کا مزہ چکھیں گے۔(اِنَّ رَبَّکَ یَقْضِی بَیْنَہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ فِیمَا کَانُوا فِیہِ یَخْتَلِفُونَ)۔ مندر جہ بالاآیت کے بارے میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اختلاف سے مراد پیغمبر اسلام ؐکے ہم عصر یہودیوں کا اختلاف ہے کہ جو آنحضرت کی دعوت قبول کرنے کے بارے میں ان میں موجود تھا یعنی اگرچہ انھوں نے اپنی آسمانی کتب کی نشانیوں کے مطابق آپ کی صداقت جان لی تھی پھر بھی اختلاف کیا تھوڑے سے لوگ ایمان لائے اور زیادہ تر نے آپ کی دعوت قبول کرنے سے رو گر دانی کی اور خدا قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ یہ تھا بنی اسرائیل کی عبرت انگیز سرگزشت کا ایک حصہ جو اس سورہ کی کئی آیات میں بیان ہوا ہے ان کی حالت آج مسلمانوں سے کس قدر مشابہت رکھتی ہے۔ خد اپنے فضل و کرم سے مسلمانوں کا کامیابیاں عطا کرتا ہے اور ان کے طاقتور دشمن کو معجزانہ طور پر شکست دیتا ہے اور اس مستضعف اور پس ماندہ قوم کو اپنے فضل و رحمت سے فتح دیتا ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس کامیابی کو دین اسلام کی عالمگیر فتح کے حصول کا ذریعہ بنالیتے ہیں اس طرح ان کی ساری کامیابیاں خطرے میں پڑجاتی ہیں۔ خدا تعالیٰ ہمیں اس کفرانِ نعمت سے نجات بخشے۔

94
10:94
فَإِن كُنتَ فِي شَكّٖ مِّمَّآ أَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ فَسۡـَٔلِ ٱلَّذِينَ يَقۡرَءُونَ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِكَۚ لَقَدۡ جَآءَكَ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡمُمۡتَرِينَ
جو کچھ ہم نے تجھ پر نازل کیا ہے اگر اس میں تجھے شک وشبہ ہے تو ان سے جو تجھ سے پہلے آسمانی کتب پڑھتے ہیں سوال کرو(جان لو) قطعی طور پر ’’حق‘‘ تیرے پروردگار کی طرف سے تجھ تک پہنچا ہے لہٰذا شک کرنے والوں میں سے ہرگز نہ ہو جا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 97 کے تحت ملاحظہ کریں۔

95
10:95
وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ فَتَكُونَ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ
اور ان میں سے نہ ہو جا جنہوں نے آیات خدا کی تکذیب کی ہے ورنہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 97 کے تحت ملاحظہ کریں۔

96
10:96
إِنَّ ٱلَّذِينَ حَقَّتۡ عَلَيۡهِمۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤۡمِنُونَ
(اور جان لو کہ) جن پر حکم ثابت ہو چکا ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 97 کے تحت ملاحظہ کریں۔

97
10:97
وَلَوۡ جَآءَتۡهُمۡ كُلُّ ءَايَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُاْ ٱلۡعَذَابَ ٱلۡأَلِيمَ
اگرچہ(اﷲ) کی تمام آیات (اور اس کی نشانیاں ) ان تک پہنچ جائیں، یہاں تک کہ وہ دردناک عذاب کو دیکھ لیں۔

شک کو اپنے قریب نہ آنے دو

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ آیات میں چونکہ انبیاء اور اقوام کی سر گذشت کے کچھ حصے بیان کیے گئے ہیں لہٰذا ممکن تھاکہ بعض مشرکین اور دعوتِ پیغمبرؐ کے منکر ان کی صداقت میں شک کرتے۔ قرآن ان سے چاہتا ہے کہ ان کہی ہوئی باتوں کی صداقت سمجھنے کے لیے اہل کتاب کی طرف رجوع کریں اور ان کے بارے میں ان سے معلوم کریں کیونکہ ان کی کتب میں اس قسم کے بہت سے مسائل آئے ہیں لیکن مخالفین کی طرف روئے سخن کرنے کی بجائے پیغمبرؐ کو مخاطب کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: جو کچھ تجھ پر نازل ہوا ہے اگر تجھے اس کے بارے میں شک وتردد ہے تو ان سے جو تجھ سے پہلے آسمانی کتب پڑھتے ہیں پوچھ لے (فَإِنْ کُنْتَ فِی شَکٍّ مِمَّا اَنْزَلْنَا إِلَیْکَ فَاسْاَلْ الَّذِینَ یَقْرَئُونَ الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکَ)۔ تاکہ اس طرح سے یہ ثابت ہو جائے کہ ”جوکچھ ہم نے تجھ پر نازل کیا ہے وہ تیرے پروردگار کی طرف سے حق ہے (لَقَدْ جَائَکَ الْحَقُّ مِنْ رَبِّکَ)۔لہٰذا کسی قسم کے شک و شبہ کو ہرگز اپنے قریب نہ آنے دے (فَلاَتَکُونَنَّ مِنْ المُمْتَرِینَ)۔ یہ احتمال بھی ہے کہ مندرجہ بالا دعوت پیغمبرؐ کی صداقت کے بارے میں ایک نئی اور مستقبل بحث شروع کر رہی ہو اور مخالفین سے کہتی ہو کہ اگر اس کی حقانیت کے بارے میں انھیں کوئی شک و تردد ہے تو اس کی نشانیاں جو گذشتہ کتب مثلاً تورات اور انجیل میں ہیں اہل کتاب سے پوچھ لیں۔ ایک شان نزول جو بعض کتب تفسیر (بحوالہ تفسیر الفتوح رازی،ج۶،ص ۲۲۷، مذکورہ آیت کے ذیل میں)۔ میں نقل ہوئی ہے وہ بھی اس معنی کی تائید کرتی ہے۔ اور وہ یہ ہے: کفار قریش کا ایک گروہ کہتا تھا کہ یہ قرآن خدا کی طرف سے نازل نہیں ہوا بلکہ (معاذاللہ) محمد پر شیطان القا ء کرتا ہے۔ ان کی اس گفتگو کی وجہ سے بعض لوگ شک و تردد کا شکار ہو گئے اس آیت کے ذریعے الہ نے انھیں جواب دیا۔

کیا رسولؐ اللہ کو شک تھا؟

ہو سکتا ہے کہ ابتدائی نظر میں یوں لگے کہ آیت کہہ رہی ہے کہ پیغمبر ِ خدان آیات کی حقانیت کے بارے میں شک رکھتے تھے کہ جو ان پر نازل ہوتی تھیں اور خدا نے اس طریقے سے ان کا شک و شبہ رد کر دیا۔ لیکن اس طرف توجہ رکھتے ہوئے کہ پیغمبر خدانے تو وحی کو شہود اور مشاہدہ سے پایا تھا۔ جیسا کہ آیات ِ قرآنی اس بات کی حکایت کرتی ہیں لہٰذا اس صورت میں شک اور ردکاکوئی مفہوم ہی نہیں۔ علاوہ ازیں یہ بات مروج ہے کہ دور کے لوگوں کو تنبیہ کرنے کے لیے نزدیک کے افراد کو مخاطب کیا جاتا ہے۔ جیسے عربوں میں مثل مشہور ہے: ایاک اعنی و اسمعی یا جارة تجھے کہہ رہا ہوں لیکن اے پڑوسن تو بھی سن لے۔ اس کی نظیر فارسی میں بھی ہے ایسی گفتگو بہت سے مواقع پر صریح خطاب سے زیادہ موٴثر ہوتی ہے۔ مزید بر آں جملہ شرطیہ ہمیشہ احتمال وجود شرط کی دلیل نہیں ہے۔ بلکہ بعض اوقات ایک بات کی تاکید کے لیے ایک عمومی قانون بیان کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ مثلاً سورہ بنی اسرائیل کی آیہ ۲۳ میں ہے: وقضی ربک الاّ تعبدوا الا ایّاہ و بالوالدین احساناً و اما یبلغن عندک الکبر احدھما او کلاھما فلا تقل لھما افٍ۔ تمہارے پروردگار نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ کسی کی پرستش نہ کرواور ماں باپ کی ساتھ نیکی کرو۔ جب ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے پاس بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے کبھی تھوڑی سی بھی دکھ دینے والی اور ناراحت کرنے والی بات نہ کہو۔ توجہ رہے کہ اس جملے میں ظاہراً مخاطب صرف رسول اللہؐ ہیں جبکہ ہم جانتے ہیں کہ رسول اللہؐ کے والد کی ولادت سے قبل ہی وفات پاچکے تھے ابھی آپؐ پچپن ہی میں تھے کہ والدہ بھی چل بسیں تو اس حالت میں ماں باپ کے احترام کا حکم ایک عمومی قانون کے طور پر بیان ہوا ہے اگرچہ ظاہراً مخاطب پیغمبرؐ خدا ہی ہوں۔ نیز سورہ طلاق میں ہے: یا ایھاالنبی اذا طلقتم النساء اے پیغمبر! جس وقت تم لوگ عورتوں کو طلاق دو۔ یہ تعبیر اس امر کی دلیل نہیں کہ پیغمبرؐ خدانے اپنی زندگی میں کسی بیوی کو طلاق دی ہے بلکہ یہاں ایک عمومی قانون بیان کیا گیا ہے۔ یہ بات جاذب نظر ہے کہ اس جملے کی ابتداء میں رسول اللہ مخاطب ہیں اور جملے کے آخر میں سب لوگ مخاطب ہیں۔ بہت سے قرائن جو تائید کرتے ہیں کہ آیت میں اصلی مقصود مشرکین اور کفار ہیں ان میں سے ایک اس آیت کے بعد کی آیات ہیں جو ان کے کفر اور بے ایمانی کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں اس کی نظیر حضرت عیسیٰ (ع) سے مربوط آیات میں دکھائی دیتی ہیں کہ جس وقت خدا اس سے قیامت کے دن پوچھے گا کہ کیا تونے لوگوں کو اپنی اور اپنی ماں کی عبادت کی دعوت دی تھی وہ صراحت سے اس کا انکار کرتے ہیں اور مزید کہتے ہیں: ان کنت قلتہ فقد علمتہ۔ اگر میں نے یہ بات کی ہوتی تو تیرے علم میں ہوتا۔ (مائدہ۔ ۱۱۶)۔ __________________________ بعد والی آیت میں مزید ارشاد ہوتا ہے: اب جبکہ آیات ِ پروردگار اور اس دعوت کی حقانیت تجھ پر واضح ہو چکی ہے تو ان لوگوں کی صف میں کھڑا نہ ہوجنہوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی ہے ورنہ زیاں کاروں میں سے ہو جائے گا (وَلاَتَکُونَنَّ مِنْ الَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِ اللهِ فَتَکُونَ مِنْ الْخَاسِرِینَ)۔ درحقیقت قرآن پہلی آیت میں کہتا ہے کہ اگر شک و تردد رکھتے ہو تو ان سے پوچھو جو آگاہی اور علم رکھتے ہیں اور اس آیت میں کہتا ہے کہ اب جبکہ تردد کے عوامل بر طرف ہو چکے ہیں تو ان آیات کے سامنے تجھے سر تسلیم خم کرنا چاہئیے ورنہ حق کی مخالفت کا نتیجہ خسارے اور نقصان کے علاوہ کچھ نہیں ہو گا۔ یہ آیت اس بات کا واضح قرینہ ہے کہ گذشتہ آیت میں میں حقیقی مقصود عام لوگ تھے اگرچہ روئے سخن پیغمبرؐ خدا کی طرف تھا کیونکہ واضح نقصان ہے کہ پیغمبرؐہرگز آیات الٰہی کی تکذیب نہیں کرتے بلکہ وہ تو سختی سے اپنے دین کی حمایت اور دفاع کرتے ہیں۔ اس کے بعد رسول اللہؐ کو بتا یا گیا کہ تیرے مخالفین میں تعصب اور ہٹ دھرم لوگ موجود ہیں جن کے ایمان لانے کی توقع عبث ہے۔ وہ فکری لحاظ سے اس قدر مسخ ہو چکے ہیں اور وہ باطل راستے اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ ان کا بیدار ِ انسانی وجدان کھو چکا ہے وہ ناقابل اثر وجودمیں تبدیل ہو چکے ہیں البتہ قرآن اس بات کو یوں بیان کرتا ہے: وہ لوگ کہ جن پر تیرے پروردگار کا فرمان ثابت ہو چکا ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے(إِنَّ الَّذِینَ حَقَّتْ عَلَیْھِمْ کَلِمَةُ رَبِّکَ لاَیُؤْمِنُونَ)۔ یہاں تک کہ اگرخدا کی تمام آیات اور نشانیاں ان کے پاس آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ خدا کے دردناک عذاب کو اپنی آنکھ سے نہ دیکھ لیں۔ جبکہ اس وقت کے ایمان کا انھیں کوئی فائدہ نہیں (وَلَوْ جَائَتْھُمْ کُلُّ آیَةٍ حَتَّی یَرَوْا الْعَذَابَ الْاَلِیمَ)۔ درحقیقت زیر بحث پہلی آیت تمام لوگوں کو مطالعہ، تحقیق اور باخبر لوگوں سے سوال کرنے کی دعوت دیتی ہے اور پھر تقاضا کرتی ہے کہ حق واضح ہو جانے پر اس کی حمایت اور دفاع کے لیے کھڑے ہو جائیں لیکن آخری آیات میں فرمایا گیا ہے کہ تمہیں سب کے ایمان لانے کی توقع نہیں رکھنا چاہئیے کیونکہ کچھ لوگ تو اس قدر فاسد ہو چکے ہیں کہ اب وہ اصلاح کے قابل نہیں رہے لہٰذا نہ تو ان کے ایمان نہ لانے پر دل سرد ہو اور نہ ہی ان کی ہدایت کے صرف ہونے والی توانائی کو رائیگان سمجھ بلکہ ان لوگوں کی طرف توجہ دے جو زیادہ تعداد میں ہیں اور قابل ہدایت ہیں۔ جیسا کہ ہم بارہا تکرار کر چکے ہیں کہ ایسی آیات ہرگز کسی ”جبر“ پر دلالت نہیں کرتیں بلکہ یہ تو عمل انسانی کے آثار بیان کیے گئے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ چونکہ ہر چیز کا اثر حکم خدا سے ہے اس لیے بعض اوقات ان امور کی نسبت خدا کی طرف دی جاتی ہے۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ قبل کی چند آیات میں ہم نے فرعون کے بارے میں پڑھا ہے کہ اس نے نزول ِ عذاب اور طوفان میں پھنسنے کے بعد اظہار ایمان کیا لیکن ایسا چونکہ اضطراری پہلو رکھتا ہے اس لیے اسے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ لیکن زیر بحث آیات میں فرمایا گیا ہے: یہ صرف فرعون کا طریقہ تھا بلکہ تمام ہٹ دھرم، خود دار، مستکبر اور سیاہ دل افراد کہ جو طغیان و سر کشی کی آخری منزل پر پہنچے ہوئے ہیں ان کی بھی یہ حالت ہے وہ بھی دردناک عذاب کو دیکھے بغیر ایمان نہیں لاتے۔ وہی ایمان جو ان کے لیے بالکل بے اثر ہے۔

98
10:98
فَلَوۡلَا كَانَتۡ قَرۡيَةٌ ءَامَنَتۡ فَنَفَعَهَآ إِيمَٰنُهَآ إِلَّا قَوۡمَ يُونُسَ لَمَّآ ءَامَنُواْ كَشَفۡنَا عَنۡهُمۡ عَذَابَ ٱلۡخِزۡيِ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَمَتَّعۡنَٰهُمۡ إِلَىٰ حِينٖ
تمام آبادیاں اور شہر کیوں ایمان نہیں لائے کہ (جن کا ایمان برمحل ہو اور) ان کی حالت کے لئے مفید ہو مگر یونس کی قوم کہ جب وہ ایمان لائی تو ان کی زندگی سے ہم نے رسوا کن دنیاوی عذاب برطرف کردیااور ہم نے مدت معین(زندگی کے اختتام اور ان کی اجل) تک انہیں بہرہ مند کیا۔

صرف ایک گروہ بر محل ایمان لایا

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ آیات میں فرعون اور فرعونیوں کے متعلق خصوصاً اور دوسری اقوال کے متعلق عموماً یہ نکتہ بیان ہوا ہے کہ انھوں نے اختیار اور سلامتی کے عالم میں خدا پر ایمان لانے سے اعراض کیا لیکن جب موت اور خداکی سزا نے انھیں آلیا تو انھوں نے اظہار ایمان کیا کہ جو ان کے لیے سود مند نہیں ہوا۔ زیر نظر آیت میں یہ بات ایک عمومی قانون کے طور پر بیان کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: گذشتہ قومیں برمحل اور بر موقع ایمان کیون نہیں لائیں کہ ان کا ایمان ان کے لیے فائدہ مند ہوتا (فَلَوْلاَکَانَتْ قَرْیَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَھَا إِیمَانُھَا)۔ اس کے بعد حضرت یونس (ع) کی قوم کو مستثنیٰ کرتے ہوئے کہا گیا ہے: سوائے یو نس کی قوم کے کہ جب وہ ایمان لائے تو ان کی زندگی سے ہم نے رسوا کن دنیاوی عذاب بر طرف کر دیا(إِلاَّ قَوْمَ یُونُسَ لَمَّا آمَنُوا کَشَفْنَا عَنْھُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا)۔ ”اور انھیں معین مدت (ان کی زندگی کے اختتام) تک ہم نے بہرہ مند کیا (وَمَتَّعْنَاھُمْ إِلَی حِینٍ)۔ لفظ ”لَولَا“بعض مفسرین کے مطابق یہاں نفی کے معنی میں ہے لہٰذا ”الا“ کے ذریعے اس سے استثناء ہوا ہے۔ اس بناء پر جملے کا معنی اس طرح ہو گا: کوئی قوم و ملت جو گذشتہ زمانے میں شہروں اور آبادیوں میں زندگی بسر کرتی تھی اکٹھے مل کر خدائی پیغمبر پر ایمان نہیں لائی سوائے قوم یو نس کے۔ بعض دوسرے مفسرین کانظریہ ہے کہ ”لولا“ نفی کے لیے نہیں آیا بلکہ ہمیشہ یہ ”تخضیض“ کے معنی میں ہوتا ہے۔(”تحضیض“، اس سوال کو کہتے ہیں جس میں تحریک اور سرزنش پائی جاتی ہے) لیکن ایسے مواقع پر اس کا مفہوم لازمی طور پر نفی ہی ہوتا ہے۔ اسی بناء پر ”الا“ کہہ کر کسی چیز کا ہم استثناء کرتے ہیں۔ بہرحال اس میں شک نہیں کہ دوسری قوموں میں بھی بہت سے لوگ ایمان لائے تھے لیکن جو بات قوم یونس کو دوسری اقوام سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ سب کے سب مل کر ایمان لائے اور وہ بھی عذاب الہٰی کے قطعی اور یقینی طور پر آجانے سے پہلے جبکہ دوسری قوموں میں سے بہت سے لوگ سختی سے مخالفت پر ڈٹے رہے۔ یہاں تک کہ پروردگار کا قطعی عذاب صادر ہوا۔ عام طور پر ایسے لوگوں نے عذاب الہٰی کو دیکھ کر اظہار ایمان کیا۔ ان کا ایمان اسی دلیل کی بناء پر جو ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں سود مند نہ ہوا۔

قومِ یونس کے ایمان لانے کا واقعہ

جیسا کہ تواریخ میں آیا ہے کہ ان کا ماجرا کچھ یوں ہے: حضرت یونس (ع) کی قوم نینوا(عراق) میں زندگی زندگی بسر کرتی تھی جب آپ (ع) اس سے مایوس ہو گئے تو ایک عابد کی درخواست پر کہ جو ان میں رہتا تھا ان کے لیے بد دعا کی جبکہ انہی میں ایک عالم بھی تھاجو حضرت یونس (ع) سے درخواست کرتا تھا کہ آپ قوم کے بارے میں دوبارہ دعائے خیر کریں، ان کے لیے پھر ارشاد و ہدایت شروع کریں اور مایوس نہ ہوں۔ لیکن حضرت یونسؑ اس واقعے کے بعد اپنی قوم سے باہر چلے گئے، ان کی قوم کہ جس نے آ پ کی سچائی کو بارہا آزمایا ہوا تھا، اس عالم کے گرد جمع ہو گئی جب کہ نزول عذاب کا فرمان صادر نہیں ہوا تھا لیکن اس کی نشانیاں کم و بیش نظر آتی تھیں۔ ان لوگوں نے موقع غنیمت جانا اور اس عالم کی راہنمائی میں شہرسے باہر نکل آئے۔ ان کی حالت یہ تھی کہ دعا وتضرع کررہے تھے ہاتھ اٹھا رکھے تھے، اظہار ایمان کر رہے تھے، توبہ کناں تھے، انھوں نے ماوں کو بچوں سے جدا کر دیا تھا تاکہ ان کی روح میں زیادہ انقلاب برپا ہو اور انھوں نے معمولی قسم کا لباس پہن رکھا تھا۔ وہ اپنے پیغمبر کی تلاش میں نکل پڑے مگر ان کا تو کہیں کوئی نشان نظر نہ آیا۔ لیکن ان کی یہ توبہ، ایما ن اور پروردگار کی طرف بازگشت چونکہ بر محل تھی اور علم، آگاہی اور خلوص کی بنیاد پر تھی لہٰذا وہ اپنا کام کر گئی۔ عذاب کی نشانیاں بر طرف ہو گئیں۔ آرام و سکون کی طرف پلٹ آیا۔ ایک طویل واقعے کے جب حضرت یونس (ع) اپنی قوم کی طرف پلٹ آئے تو دل و جان سے قوم نے ان کی پذیرائی کی۔ خود حضرت یونس علیہ السلام کی زندگی کی تفصیل انشاء اللہ سورہٴ صافات کی آیات ۳۴اتا ۱۴۸کے ذیل میں بیان کی جائے گی۔ اس نکتے کی یاد دہانی بھی ضروری ہے قوم یونس (ع) کو خدا کے عذاب کا ہرگز سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ورنہ ان کی قوم کی توبہ بھی قبول نہ ہوتی بلکہ خطرے کے الارم اور نشانیاں جو عام طور پر حقیقی عذاب سے پہلے نمایاں ہوتی ہیں ان کی بیداری کے لیے کافی ثابت ہو گئیں حالانکہ فرعونی خطرے کے ایسے الارم بار ہا سن چکا تھا۔خطرے کی نشانیاں ان کے لیے نمایاں ہو چکی تھیں۔ مثلاً طوفان، ٹڈی دل کا حملہ اور نیل کے پانی کا دگر گوں ہو جانا وغیرہ ایسے واقعات رونما ہو چکے تھے لیکن انھوں نے خطرے کی ان گھنٹیوں کو کبھی کوئی اہمیت نہ وی اور ہر مصیبت پر صرف حضرت موسیٰؑ سے خواہش کی کہ اس تکلیف اور مصیبت کو خدا ان سے بر طرف کر دے تو ایمان لے آئیں گے لیکن وہ کبھی ایمان نہیں لائے۔ مندرجہ بالاواقعہ ضمنی طور پر نشاندہی کرتا ہے کہ آگاہ اور دلسوز رہبر کا وجود ایک قوم کے درمیان کس قدر موٴثر اور حیات بخش ہے جب کہ وہ عابد جو کافی علم نہ رکھتا ہو وہ زیادہ سختی اور خشونت ہی کا سہارا لیتا ہے۔ عدم آگہی سے عبادت اور علم جو احساس ذمہ داری کے ساتھ ہو میں اسلام جس کا فرق قائل ہے، اس کی منطق بھی اس روایت سے سمجھ میں آتی ہےے۔

99
10:99
وَلَوۡ شَآءَ رَبُّكَ لَأٓمَنَ مَن فِي ٱلۡأَرۡضِ كُلُّهُمۡ جَمِيعًاۚ أَفَأَنتَ تُكۡرِهُ ٱلنَّاسَ حَتَّىٰ يَكُونُواْ مُؤۡمِنِينَ
اوراگر تیرا پروردگار چاہتا تو روئے زمین کے تمام رہنے والے (جبری طور پر) ایمان لے آتے۔ کیا تو مجبور کرنا چاہتا ہے کہ وہ ایمان لے آئیں (جبری ایمان کا کیا فائدہ ہے)۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 100 کے تحت ملاحظہ کریں۔

100
10:100
وَمَا كَانَ لِنَفۡسٍ أَن تُؤۡمِنَ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ وَيَجۡعَلُ ٱلرِّجۡسَ عَلَى ٱلَّذِينَ لَا يَعۡقِلُونَ
(لیکن) کوئی شخص خدا کے حکم (اس کی توفیق، مدد اور ہدایت) کے بغیر ایمان نہیں لا سکتا اور (کفروگناہ کی) ناپاکی وہ ان کے لئے قرار دیتا ہے جو عقل سے کام نہیں لیتے۔

جبری ایمان بے کار ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ اضطراری ایمان کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اسی بناء پر زیر بحث پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: اگر اضطراری اور اجباری ایمان کا کوئی فائدہ ہوتا اور تیرا پروردگار چاہتا تو روئے زمین کے تمام لوگ ایمان لے آتے (وَلَوْ شَاءَ رَبُّکَ لَآمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ کُلّھُمْ جَمِیعًا)۔ لہٰذا ان میں سے ایک گروہ کے ایمان نہ لانے سے دلگیر اور پریشان نہ ہو۔ ارادہ و اختیارکی بنیادی آزادی کا لازمہ ہے کہ کچھ لوگ مومن ہوں گے اور کچھ غیر مومن ”ان حالات میں تو چاہتا ہے کہ لوگوں کو ایمان لانے کے لیے مجبور کرے“(اَفَاَنْتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتَّی یَکُونُوا مُؤْمِنِینَ)۔ آیت اس تہمت کی دوبارہ نفی کرتی ہے جو اسلام کے دشمن بارہا لگاتے رہے ہیں اور لگاتے رہتے ہیں اور وہ یہ کہ اسلام تلوار کا دین ہے اور زبر دستی اور جبری طور پر دنیا کے لوگوں پر ٹھونسا جاتا ہے۔ زیر بحث آیت قرآن کی دیگر بہت سی آیات کی طرح کہتی ہے کہ جبری ایمان کی کوئی قدر و قیمت نہیں اور اصولی دین و ایمان ایسی چیز ہے جو روح کے اندر سے اٹھے نہ کہ باہر سے اور تلوار کے ذریعے سے ہو، خصوصاً خدا تعالیٰ پیغمبر اسلامؐ کو ایمان و اسلام کے لیے لوگوں پر جبر و اکراہ کرنے سے ڈررہا ہے اور منع کر رہا ہے اس کے باوجود بعد والی آیت میں اس حقیقت کی یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ یہ ٹھیک ہے کہ انسان مختار اور آزاد ہے پھر بھی جب تک لطفِ الہٰی اور حکم پروردگار شامل حال نہ ہو تو کوئی شخص ایمان نہیں لاتا“(وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ إِلاَّ بِإِذْنِ اللهِ)۔ لہٰذا وہ جہالت اور بے عقلی کی راہ میں قدم رکھتے ہیں اور اپنی عقل وخرد کے سرمائے سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار نہیں خدا ان کے لیے رجس اور ناپاکی قرار دیتا ہے اس طرح سے کہ انھیں ایمان کی توفیق نہیں ہوتی(وَیَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِینَ لاَیَعْقِلُونَ)۔

دو قابل توجہ نکات

۱۔ ایک وضاحت: ہو سکتا ہے کہ ابتدائی نظر سے یوں معلوم ہو کہ پہلی اور دوسری آیت آپس میں ایک دوسرے کی نفی کرتی ہیں۔ کیونکہ پہلی آیت کہتی ہے کہ خدا کسی کو ایمان لانے پر مجبور نہیں کرتا جبکہ دووسری آیت کہتی ہے کہ جب تک پروردگار کا فرمان اور ارادہ نہ ہو کوئی شخص ایمان نہیں لاتا۔ ایک نکتے کی طرف توجہ کرنے سے ظاہری اختلاف برطرف ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ ہم عقیدہ رکھتے ہیں کہ نہ ”جبر“ صحیح ہے اور نہ ہی ”تفویض" درست ہے یعنی نہ اس طرح ہے کہ لوگ اپنے افعال میں مجبور اور بے اختیار ہیں اور نہ اس طرح ہے کہ وہ تمام معنی میں اور ہر لحاظ سے اپنے حالت میں آزاد ہیں بلکہ ارادے کی آزادی ہوتے ہوئے بھی وہ خدائی امداد کے محتاج ہیں کیونکہ ارادے کی یہ آزادی خدا دیتا ہے عقل اوروجدان ِ پاک اس انعامات اور عنا یات میں سے ہے۔ انبیاء کی راہنمائی اور کتب ِ آسمانی کی ہدایت بھی اس جانب سے ہے۔ اس بناء پر ارادے کی آزادی کے باوجود اس نعمت وعنایت کا سرچشمہ اور اس کا ماحصل سبھی خدا کی طرف سے ہے (غور کیجئے گا)۔ ۲۔ ایک اشکال اور اس کی توضیح: آخری آیت آخری جملہ ”وَیَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِینَ لاَیَعْقِلُون“ہرگز جبر کی دلیل نہیں ہے۔ کیونکہ ”لایعقلون“ ان کے اختیار کی دلیل ہے یعنی پہلے افراد تعقل و تفکر اور غور و فکر سے منہ موڑ لیتے ہیں جس کے انجام کے طور پر اس عذاب میں مبتلا ہو تے ہیں کہ رجس، شک و تردد کی ناپاکی، دل کی تاریکی اور غلط نظر ان پر غالب آجاتی ہے۔یہاں تک کہ قوت ایمان ان سے سلب ہو جاتی ہے۔ لیکن توجہ رہے کہ اس کے مقدمات خو د انھوں نے فراہم کیے ہیں۔ درحقیقت ایسے مواقع پر ایمان کے لیے اللہ کا اذن اور فرمان نہیں ہوتا۔ دوسرے لفظوں میں یہ جملہ اس طرف اشارہ ہے کہ خدا کا اذن اور فرمان بلاوجہ اور بغیر کسی حساب کتاب کے نہیں ہے جو اس لائق ہیں ان کے لیے ہو گا اور جو اس کے لائق نہیں وہ اس سے محروم رہیں گے۔

101
10:101
قُلِ ٱنظُرُواْ مَاذَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَمَا تُغۡنِي ٱلۡأٓيَٰتُ وَٱلنُّذُرُ عَن قَوۡمٖ لَّا يُؤۡمِنُونَ
کہہ دو: دیکھو! ان (خدا کی آیات اور توحید کی نشانیوں ) کو جو آسمانوں میں ہیں اور زمین میں ہیں لیکن یہ نشانیاں اور تنبیہیں ان لوگوں کے لئے مفید نہیں ہوں گی جو ایمان نہیں لائے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 103 کے تحت ملاحظہ کریں۔

102
10:102
فَهَلۡ يَنتَظِرُونَ إِلَّا مِثۡلَ أَيَّامِ ٱلَّذِينَ خَلَوۡاْ مِن قَبۡلِهِمۡۚ قُلۡ فَٱنتَظِرُوٓاْ إِنِّي مَعَكُم مِّنَ ٱلۡمُنتَظِرِينَ
کیا یہ گذشتہ لوگوں کے سے دنوں (ویسی بلاؤں، مصیبتوں اور سزاؤں ) کا انتظار کرتے ہیں، کہہ دو: تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کروں گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 103 کے تحت ملاحظہ کریں۔

103
10:103
ثُمَّ نُنَجِّي رُسُلَنَا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْۚ كَذَٰلِكَ حَقًّا عَلَيۡنَا نُنجِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
پھر(نزول بلا اور سزا وعذاب کے وقت) ہم اپنے رسولوں کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو نجات دیتے تھے اور اس طرح ہم پر حق ہے کہ (تجھ پر) ایمان لانے والوں کو نجات بخشیں۔

تربیت اور وعظ و نصیحت

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ آیات میں اس بارے میں گفتگو تھی کہ ایمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اختیاری ہو نہ کہ اضطراری اور اجباری۔ اسی مناسبت سے زیر نظر پہلی آیت میں اختیاری ایمان کے حصول کا راستہ بتایا گیا ہے اور پیغمبر اکرؐم سے فرمایا گیا ہے: ان سے کہہ دو: صحیح طور پر غو ر و فکر کر لیں اور آسمان و زمین میں دیکھیں کہ کیسا عجیب و غریب اور حیرت انگیز نظام ہے کہ جس کا ہر گوشہ پیدا کرنے والے کی عظمت، قدرت، علم اور حکمت کی دین میں ہے (قُلْ انْظُرُوا مَاذَا فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ)۔ یہ سب درخشان ستارے اور مختلف آسمانی کرّات کہ جن میں سے ہر ایک اپنے محور اور مدار میں گر دش کر رہا ہے، یہ عظیم نظام ہائے شمسی اور یہ غول پیکر کہکشائیں اور ان پر کار فرما ایک دقیق، نظام، اسی طرح یہ کرّہ زمین اپنے تمام عجائب و اسرار کے ساتھ اور یہ سب طرح کے زندہ موجودات ان سب کی ساخت پر داخت میں غور کرو اور ان کے مطالعہ سے جہاں، ہستی کے مبداء و موجد سے زیادہ آشنائی پیدا کرو اور اس سے زیادہ قریب ہو جاوٴ۔ یہ جملہ وضاحت کےسا تھ جبر اور سلب ِ اختیار کی نفی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ایمان جہانِ آفرینش کے مطالعے کا نتیجہ ہے یعنی یہ کام خود تمہارے ہی ہاتھ میں ہے۔ اس کے بعد مزید ارشاد ہوتا ہے: لیکن ان سب آیات اور نشانیوں کے باوجود تعجب کا مقام نہیں کہ ایک گروہ ایمان نہ لائے کیونکہ آیات، نشانیاں، کے الارم، ڈرانے کے اسباب صرف ان لوگوں کے کام آتے ہیں جو حق کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن جنھوں نے پختہ ارادہ کر لیا ہے ہرگز ایمان نہیں لائیں گے ان پر ان امور کا کوئی اثر نہیں ہوتا(وَمَا تُغْنِی الْآیَاتُ وَالنُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لاَیُؤْمِنُونَ)۔(تشریحی نوٹ: لفظ ”ما“ کو ”ما تغنی الاٰیات“ میں بعض علما ء ماء نافیہ سمجھتے ہیں، بعض استفہام انکاری، نتیجہ کے لحاظ سے دونوں ایک ہی ہیں۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ ماء نافیہ ہو نا چاہئیے)۔ ”نذر“ نذیر“ کی جمع ہے۔ اس کا معنی ہے ڈرانے والا۔ یہ انبیاء اور خدائی راہنماوں کے لیے کنایہ ہے یا پھر یہ انذار کی جمع ہے۔ یعنی غافلین اور مجرمین کو ڈرانا دھمکانا جو ان ہادِ یان الہٰی کا پروگرام ہے۔ لفظ "ما" کو"ما تغنی الاٰیات" میں بعض علماء ما نافیہ سمجھتے ہیں، بعض استفہام انکاری۔ نتیجہ کے لحاظ سے دونوں ایک ہی ہیں لیکن ظاہر یہ ہے کہ ماء نافیہ ہونا چاہئے)۔ یہ جملہ ایک حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے جو بارہا قرآن میں آئی اور وہ یہ کہ دلائل، حق باتیں،و نصائح تنہا کا فی نہیں ہیں بلکہ مہیا اور آمادہ اسباب بھی نتیجہ حاصل کرنے کی شرط ہیں۔ اس کے بعد قرآن تہدید آمیز لہجے میں لیکن سوال کے انداز میں کہتا ہے کیا یہ ہٹ دھرم اور بے ایمان لوگ سوائے اس کے کوئی توقع رکھتے ہیں کہ جو انجام گذشتہ سرکش قوموں کا ہوا تھا اور جو دردناک خدائی عذاب میں گرفتار ہو ئے تھے، اس سے دوچار ہوں جیسا کہ انجام، فراعنہ نمرود، شداد اور ان کے اعوان و انصار کا ہوا (فَھَلْ یَنْتَظِرُونَ إِلاَّ مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِینَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِھِمْ۔ آیت کے آخر میں انھیں خطرے سے خبر دار کرتے ہوئے فرمای اگیا ہے: ”اے پیغمبر ! ان سے کہہ دو: اب جبکہ تم اس راستے پر چل رہے ہو اور تجدید نظر کے لیے تیار نہیں ہو تو تم انتظار میں رہو اور ہم تمہارے برے اور درد ناک انجام کے انتظار میں ہیں جیسا کہ انجام گذشتہ مستکبر قوموں کا ہوا (قُلْ فَانْتَظِرُوا إِنِّی مَعَکُمْ مِنْ الْمُنْتَظِرِینَ)۔ توجہ رہے کہ”فھل ینظرون“ میں استفہام ِ انکاری ہے یعنی ان کا طرز عمل ہی ایسا ہے کہ گویا وہ ایک برے انجام کے آپہنچنے کے علاوہ کسی کا انتظار نہیں کر رہے۔ لفظ”ایام“ اگرچہ لغت میں ”یوم“ کی جمع ہے جس کا معنی ہے دن لیکن دردناک حوادث کے معنی میں ہے، کہ جو گذشتہ اقوام کی زندگی میں واقع ہوئے۔ اس کے بعد اس بناء پر کہ یہ توہم نہ ہو کہ خدا سزا دیتے وقت خشک کے ساتھ تر کو بھی جلا دیتا ہے یہاں تک کہ ایک مومن جو کسی بڑے سر کش باغی گروہ میں ہو اسے نظر انداز کر دیتا ہے مزید فرمایا گیا ہے: گذشتہ اقوام کے عذاب کے اسباب فراہم ہونے کے بعد ہم اپنے رسولوں اور ان لوگوں پر ایمان لائے نجات دیتے رہے (ثُمَّ نُنَجِّی رُسُلَنَا وَالَّذِینَ آمَنُوا)۔ آخر میں فرمایا گیا ہے کہ یہ چیز گذشتہ اقوام، رسل اور مومنین کے ساتھ مخصوص نہیں تھی بلکہ ہم اس طرح تجھے اور تجھ پر ایمان لانے والوں کو نجات دیں گے اور یہ ہم پر حق ہے ایک مسلم اور تخلف ناپذیر حق (کَذَلِکَ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِینَ)۔ (تشریحی نوٹ:”کذٰلک حقاً علینا ننج المومنین“ کا جملہ معنوی لحاظ سے تھا:”کذٰلک ننج المومنین و کان حقاً علینا“ یعنی جملہ ”حقاً علینا“ ایک جملہ معترضہ ہے کہ جو ”کذٰلک“ اور ”ننج المومنین“ کے درمیان آیا ہے یہ احتمال بھی ہے کہ ”کذٰلک“ کا تعلق گذشتہ جملے سے ہو یعنی ”ننجی رسلنا والذین اٰمنوا“)۔

104
10:104
قُلۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِن كُنتُمۡ فِي شَكّٖ مِّن دِينِي فَلَآ أَعۡبُدُ ٱلَّذِينَ تَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَٰكِنۡ أَعۡبُدُ ٱللَّهَ ٱلَّذِي يَتَوَفَّىٰكُمۡۖ وَأُمِرۡتُ أَنۡ أَكُونَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
(اے رسول)کہہ دو ! اے لوگو! اگر میرے دین اور عقیدے کے بارے میں تمہیں شک ہے تو میں ان کی پرستش نہیں کرتا کہ خدا کے سوا جن کی تم پرستش کرتے ہو، میں صرف خدا کی عبادت کرتا ہوں کہ جو تمہیں موت دے گا اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مومنین میں سے ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 107 کے تحت ملاحظہ کریں۔

105
10:105
وَأَنۡ أَقِمۡ وَجۡهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفٗا وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ
اور (مجھے حکم دیا گیا ہے کہ)اپنا رخ اس دین کی طرف کر کروں جو ہر قسم کے شرک سے خالی ہے اور (مجھے حکم ہے کہ)مشرکین میں سے نہ ہونا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 107 کے تحت ملاحظہ کریں۔

106
10:106
وَلَا تَدۡعُ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَۖ فَإِن فَعَلۡتَ فَإِنَّكَ إِذٗا مِّنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
اور سوائے اللہ کے کسی چیز کو نہ پکار کہ جو نہ نفع دے سکتی ہے اور نہ نقصان۔ اگر ایسا کروگے تو ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 107 کے تحت ملاحظہ کریں۔

107
10:107
وَإِن يَمۡسَسۡكَ ٱللَّهُ بِضُرّٖ فَلَا كَاشِفَ لَهُۥٓ إِلَّا هُوَۖ وَإِن يُرِدۡكَ بِخَيۡرٖ فَلَا رَآدَّ لِفَضۡلِهِۦۚ يُصِيبُ بِهِۦ مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦۚ وَهُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ
اور اگر اللہ (امتحان کے لئے یا گناہ کی سزا کے طور پر) تجھے کوئی نقصان پہنچائے تو اس کے علاوہ کوئی اسے برطرف نہیں کر سکتا اور گروہ تیرے لئے بھلائی کا اردہ کرے تو کوئی بھی اس کے فضل کو نہیں روک سکتا اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اسے نوازتا ہے اور وہ بخشنے والا اوررحم کرنے والا ہے۔

مشرکین کے بارے میں حتمی فیصلہ

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

یہ آیات اور بعد کی چند آیات سب کی سب توحید سے مربوط شرک کے خلاف جنگ اور حق کی طرف دعوت دینے کے بارے میں ہیں۔ یہ آیات اس سورہ کی آخر ی آیات میں سے ہیں اور درحقیقت یہ اس سورہ کی توحیدی ابحاث کی فہر ست یا خلاصہ ہیں اور بت پرستی کے خلاف جنگ کے لیے تاکید ہیں جس کا ذکر اس سورہ میں بارہا آیا ہے۔ آیات کا لب و لہجہ نشاندہی کرتا ہے کہ مشرکین بعض اوقات اس وہم میں گرفتار ہو جاتے تھے کہ پیغمبرؐ اپنے عقائد میں سے بتوں کے بارے میں نرمی سے کا م لیں۔ کسی طرح انہیں قائل کرنے میں کامیاب ہو جائیں اور خدا کے عقیدے کے ساتھ ساتھ کس ی طرح سے انہیں بھی تسلیم کر لیں۔ قرآن اس قدر حتمی اور قطعی فیصلے کے ساتھ جتنا فرض کیا جا سکتا ہے اس بے بنیاد توہم کو ختم کرتا ہے۔ اور ان کی فکر کو ہمیشہ کے لیے راحت پہنچاتا ہے کہ بتوں کے بارے میں کسی قسم کی صلح اور نرمی کا کوئی معنی نہیں اور اللہ کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے۔ صرف اللہ نہ ایک لفظ کم نہ ایک لفظ زیادہ۔ پہلے پیغمبرؐ اکرم کو حکم دیا گیا کہ تمام لوگوں کو مخاطب کرکے ! کہہ دو: اے لوگو ! اگر تم میرے عقیدے کے بارے میں کوئی شک اور تردید رکھتے ہو تو آگاہ رہو کہ میں ان کی کبھی عبادت نہیں کروں گا جن کی خدا کے علاوہ تم عبادت کرتے ہو (قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ شَکٍّ مِّنۡ دِیۡنِیۡ فَلَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِیۡنَ تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ)۔ صرف ان معبودوں کی نفی پر قناعت نہیں کی گئی بلکہ مزید تاکید کے لیے ہر قسم کی عبادت خدا کے لیے ثابت کرتے ہوئے بات جاری ہے: لیکن میں ایسے خدا کی عبادت کرتا ہوں کہ جو تمہیں موت و حیات دیےگا (َلٰکِنۡ اَعۡبُدُ اللّٰہَ الَّذِیۡ یَتَوَفّٰىکُمۡ)۔ پھر مزید تاکید ہے: یہ صرف میری چاہت نہیں ہے بلکہ " یہ خدا کا فرمان ہے جو اس نے مجھے دیا ہے کہ میں اللہ پر ایمان لانے والوں میں سے ہوں۔"(وَ اُمِرۡتُ اَنۡ اَکُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ)۔ یہ جو خدا کی صفات میں سے صرف قبض ِ روح اور مارنے کا ذکر ہوا ہے تو یہ اس بنا پر ہے کہ انسان جس چیز پر چا ہے شک کر لے لیکن وہ موت پر شک نہیں کر سکتا اور یا اس وجہ سے کہ انہیں سزا اور ہلاکت خیز عذاب کی طرف متوجہ کیا جائے کہ جس کی طرف گذشتہ آیات میں ششارہ ہوا ہے اس طرح سے پھر یہ کنایۃ خدا کے غضب کی ایک دھمکی ہے۔ شرک و بت پرستی کی نفی کے بارے اپنا عقیدہ قطعی طور پر بیا ن کرنے کے بعد اب اس کے لیے دو دلیلیں پیش کی گئی ہیں ایک دلیل فطرت کے حوالے سے اور دوسری عقل و خرد کے حوالے سے۔ " کہہ دو ! مجھے حکم دیا گیا ہے کہ اپنا رح مستقیم اور سیدھے دین کی طرف رکھو کہ جو ہر لحاظ سے خالص اور ہلاک (وَ اَنۡ اَقِمۡ وَجۡہَکَ لِلدِّیۡنِ حَنِیۡفًا) یہاں بھی صرف اثباتی پہلو پر قناعت نہیں کی گئی بلکہ تاکید کےلیے نفی کا پہلو بھی بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے " اور ہرگز مشکرین میں نہ ہونا "(وَ لَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ)۔ جیسا کہ پہلے بھی کہا جا چکا ہے ”حنیف“ اس شخص کو کہتے ہیں جو انحراف اور ٹیڑھے پن سے راستی، استقامت اور سیدھے پن کی طرف جھکے یا دوسرے لفظوں میں انحراف اور ٹیڑھے دینوں اور طور طریقوں سے آنکھیں بند کرلے اور خدا کے سیدھے اور مستقیم دین کی طرف متوجہ ہو وہی دین جو فطرت کے مطابق ہے اور فطرت سے اسی مطابقت کی وجہ سے صاف ستھرا اور مستقیم ہے، اس بناء پر تو حید کے فطری ہونے کی طرف اشارہ اس میں پنہاں ہے کیونکہ انحراف وہ چیز ہے جو فطرت کے خلاف ہو (غور کیجئے گا)۔ فطرت کے راستے شرک کے بطلان کی طرف اشارہ کرنے کے بعد ایک واضح عقلی دلیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حکم دیا گیا ہے کہ ”خدا کو چھوڑ کر ان چیزوں کی عبادت نہ کرجو نہ فائدہ پہنچا سکتی ہیں اور نہ نقصان۔ کیونکہ اگر تونے ایسا کام کیا تو ظالموں میں سے ہو جائے گا“ اپنے اوپر ظلم کرے گا اور اس معاشرے پر بھی جس سے تیرا تعلق ہے۔ (وَلاَتَدْعُ مِنْ دُونِ اللهِ مَا لاَیَنْفَعُکَ وَلاَیَضُرُّکَ فَإِنْ فَعَلْتَ فَإِنَّکَ إِذًا مِنْ الظَّالِمِینَ)۔ کون سی عقل اجازت دیتی ہے کہ انسان ایسی چیزوں اور موجودات کی عبادت کرے کہ جو کسی قسم کا فائدہ اور نقصان نہیں پہنچا سکتیں اور انسانی تقدیر میں جن کا تھوڑا سا بھی اثر نہیں ہے۔ یہاں بھی صرف نفی کے پہلو پر بس نہیں کیا گئی بلکہ مثبت پہلو کے حوالے سے ارشاد ہوتا ہے: اگر تمہیں خدا کی طرف سے ناراحتی اور نقصان پہنچے (چاہے سزا کے طور پر)، اس کے علاوہ کوئی بھی اسے بر طرف نہیں کر سکتا(وَإِنْ یَمْسَسْکَ اللهُ بِضُرٍّ فَلاَکَاشِفَ لَہُ إِلاّھُوَ)۔اسی طرح ”اگر خدا چاہے کہ تمجے بھلائی پہنچے تو کوئی بھی اس کے فضل و رحمت کوروک نہیں سکتا“ (وَإِنْ یُرِدْکَ بِخَیْرٍ فَلاَرَادَّ لِفَضْلِہِ)۔ ”وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے (اور اہل سمجھے) خیر اور نیکی تک پہچاتا ہے (یُصِیبُ بِہِ مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِہِ)۔کیونکہ اس کی بخشش اور رحمت سب پر محیط ہے اور وہ بخشنے والا اور رحم کرنے والاہے (وَھُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ)۔

108
10:108
قُلۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدۡ جَآءَكُمُ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّكُمۡۖ فَمَنِ ٱهۡتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهۡتَدِي لِنَفۡسِهِۦۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيۡهَاۖ وَمَآ أَنَا۠ عَلَيۡكُم بِوَكِيلٖ
کہہ دو! اے لوگو! تمہارے پروردگار کی طرف سے حق تمہاری جانب آیا ہے(اس کے زیرسایہ) ہدایت یافتہ اپنے لئے ہدایت پاتا ہے اور جو شخص گمراہ ہو جائے تو وہ اپنے نقصان میں گمراہ ہوتا ہے اور میں تم پر (مجبور کرنے لئے) مامور نہیں ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 109 کے تحت ملاحظہ کریں۔

109
10:109
وَٱتَّبِعۡ مَا يُوحَىٰٓ إِلَيۡكَ وَٱصۡبِرۡ حَتَّىٰ يَحۡكُمَ ٱللَّهُۚ وَهُوَ خَيۡرُ ٱلۡحَٰكِمِينَ
اور جو کچھ تم پروحی ہوئی ہے اس کی پیروی کرو اور صبر کروتاکہ خدا (کامیابی کا)حکم صادر کرے اور وہ بہترین حکم کرنے والا ہے۔

آخری بات

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ان دو آیات میں سے ایک تو تمام لوگوں کے لیے پند و نصیحت ہے اور دوسری پیغمبر اکرمؐ کے لیے مخصوص ہے یہ آیات ان احکام کی تکمیل کرتی ہیں جو اس پوری سورت میں بیان ہوئے اور یہیں پر سورہٴ یونس اختتام کو پہنچتی ہے۔ پہلے ایک عمومی حکم کے طور پر فرمایا گیا ہے: تمام لوگوں سے کہہ دو کہ تمہارے پروردگار کی جانب سے حق تمہاری جانب آیا ہے۔ یہ تعلیمات، یہ آسمانی کتاب، یہ پروگرام اور یہ پیغمبر سب حق ہیں اور ان کے حق ہونے کی نشانیاں واضح ہیں (قُلْ یَااَیُّھَا النَّاسُ قَدْ جَائَکُمْ الْحَقُّ مِنْ رَبِّکُم)۔ اور اس حقیقت کی طرف توجہ کرتے ہوئے ”جو شخص اس حق کے زیر سایہ ہدایت حاصل کرے اس نے اپنے فائدے کی طرف ہدایت پائی ہے اور جو شخص اس کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرتے ہوئے منتخب کرے اس نے اپنے نقصان میں قدم اٹھایا ہے (فَمَنْ اھْتَدَی فَإِنَّمَا یَھْتَدِی لِنَفْسِہِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْھَاٍ)۔اور میں تمہارا مامور، وکیل اور نگہبان نہیں ہوں (وَمَا اَنَا عَلَیْکُمْ بِوَکِیل)۔ یعنی یہ میری ذمہ داری نہیں ہے کہ تمہیں حق قبول کرنے پر مجبور کروں کیونکہ حق قبول کرنے کے لیے مجبور کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا اور نہ ہی اگر تم نے حق قبول نہ کیا تو تمہیں خدائی عذاب سے محفوظ رکھ سکتا ہوں بلکہ میری ذمہ داری تو دعوت دینا، تبلیغ کرنا، رشد و ہدایت کرنااور رہبری کرنا ہے اور با قی امور خود تمہارے ذمہ ہیں کہ تم اپنے اختیار سے اپنی راہ منتخب کرو۔ یہ آیت دوبارہ مسئلہ اختیار اور ارادے کی آزادی کا ذکر کرنے کے علاوہ اس امر پر تاکید کرتی ہے کہ حق کو قبول کرنا پہلے مرحلے میں خود انسان کے لیے فائدے میں ہے جیسا کہ اس کی مخالفت کرنا بھی خود اسی کے کے نقصان میں ہے۔ درحقیقت خدائی ہبروں کی تعلیمات اور آسمانی کتب انسانوں کی تربیت، تکامل اور ارتقاء کی کلاسیں ہیں نہ ان کی موافقت کرنا عظمتِ الہٰی میں اضافے کا باعث ہے اور نہ ہی ان کی مخالفت سے اس کے جلال میں کوئی کمی آتی ہے۔ اس کے بعد پیغمبرکی ذمہ داری کا تعین دو جملوں میں کیا گیا ہے۔ پہلا یہ کہ جو کچھ تم پر وحی ہوتی ہے تجھے صرف اس کی پیروی کرنا چاہئیے (وَاتَّبِعْ مَا یُوحَی الیک)۔تیرا راستہ خدا نے وحی کے ذریعے معین کیا ہے اور تو نے اس سے معمولی سے انحراف کا بھی مجاز نہیں۔ دوسرا یہ کہ اس راستے میں تجھے طاقت فرسا مشکلات، بہت زیادہ ناراحتیں اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا لہٰذا انبوہ ِ مشکلات میں تجھے چاہئیے کہ خوف و ہراس کو اپنے قریب نہ آنے دے۔ صبر، استقامت اور مر دی اختیار کر۔ یہاں تک کہ خدا دشمنوں پر تیری فتح و کامرانی کا حکم صادر کرے (وَاصْبِرْ حَتَّی یَحْکُمَ اللهُ)۔کیونکہ وہ بہترین حکم کرنے والا ہے۔ اس کا فرمان حق ہے، اس کا حکم عدل ہے اور اس کے وعدے کی خلاف ورزی نہیں ہوتی(وَھُوَ خَیْرُ الْحَاکِمِینَ)۔ ـــــــــــ پروردگار ا! تیرے بندے جو تیری راہ میں جہاد کرتے ہیں ــــــــــ۔ وہ جہاد جس میں خلوص اور ایمان کارفرما ہے۔ ـــــــــــ تیرے بندے جو تیری راہ میں صبر، استقامت اور پا مردی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ــــــــــــتونے ان سے کامیابی اور فتح و نصرت کا وعدہ کیا ہے۔ خدا وندا ! ان لمحات میں اور حکومت اسلامی کی تشکیل کے مرحلے میں بہت زیادہ مشکلات نے ہمیں گھیر رکھا ہے اور ہم تیری تو فیق و عنا یت سے جہاد اور استقامت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ بار الٰہا ! تو بھی اپنے لطف و کرم سے مشکلات کے سیاہ بادل بر طرف کر دے اور ہمیں حق و عدالت کی حیات بخش شعاعوں سے نواز۔ آمین یا رب العالمین۔

end of chapter