Al-Jumu'ah
سُورہ جمعہ
یہ سورہ مدینہ میں نازل ہوئی اس میں ۱۱ آیات ہیں۔
سُورہ جمعہ کے مضامین
یہ سورہ حقیقت میں دو اصلی اور بنیادی محوروں پر گردش کرتی ہے: ١۔ توحید، صفاتِ خدا، پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کا ہدف اور مسئلہ معاد کی طرف توجہ۔ ٢۔ نمازِ جمعہ کا اصلاحی نقشہ اور اس عظیم عبادت کی بعض خصوصیات۔ لیکن دوسرے لحاظ سے اس سورہ کے مطالب کو چند حصّوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: ١۔ موجودات کی عمومی تسبیح۔ ٢۔ تعلیم و تربیت کے لحاظ سے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کا ہدف۔ ٣۔ مومنین کو تنبیہ کہ وہ دینِ حق کے اصولوں سے منحرف نہ ہوں، کہ جس طرح یہودی منحرف ہو گئے ہیں۔ ٤۔ موت کے عمومی قانون کی طرف اشارہ جو عالمِ بقاء کی طرف ایک دریچہ ہے۔ ٥۔ نمازِ جمعہ کا فریضہ انجام دینے کے لیے تاکیدی حکم اور اِس میں شرکت کے لیے کاروبار کی تعطیل۔
سورۂ جمعہ کی تلاوت کی فضیلت
اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت کے بارے میں بہت سی روایات وارد ہوئی ہیں، چاہے اسے مستقل طور پر پڑھا جائے یا یومیہ نمازوں کے ضمن میں پڑھا جائے۔ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے: "وَ مَن قَرَأَ سُورَةَ الْجُمُعَةِ أُعْطِيَ عَشْرَ حَسَنَاتٍ بِعَدَدِ مَنْ أَتَى الْجُمُعَةَ، وَبِعَدَدِ مَنْ لَمْ يَأْتِهَا فِي أَمْصَارِ الْمُسْلِمِينَ۔" "جو شخص سورۂ جمعہ کی تلاوت کرے، خدا اُسے بلادِ مسلمین میں سے ان لوگوں کی تعداد کے برابر، جو نمازِ جمعہ میں شرکت کرتے ہیں اور ان لوگوں کی تعداد کے برابر، جو اس میں شرکت نہیں کرتے، دس گناہ حسنہ بخشے گا۔" [بحوالہ: مجمع البیان، آغاز سورۂ جمعہ، نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ٣٢٠]۔ ایک اور حدیث میں امام صادق (علیہ السلام) سے مروی ہے: "ہمارے شیعوں میں سے ہر مومن پر لازم ہے کہ شبِ جمعہ میں سورۂ جمعہ اور سورۂ الاعلیٰ پڑھے، اور جمعہ کے ظہر میں، سورۂ جمعہ اور سورۂ منافقین پڑھے۔ جب وہ ایسا کرے گا تو گویا اُس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عمل انجام دیا اور خدا کے ہاں کا اجر و ثواب بہشت ہے۔" [بحوالہ: مجمع البیان، آغاز سورۂ جمعہ، نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ٣٢٠]۔ خصوصیت کے ساتھ اس بات کی بہت تاکید ہوئی ہے کہ نمازِ جمعہ میں سورۂ جمعہ اور سورۂ منافقین پڑھیں۔ ان روایات میں سے بعض میں یہ آیا ہے کہ حتی الامکان اس کو ترک نہ کریں۔ [بحوالہ: نور الثقلین، جلد ٥، صفحہ ٣٢١]۔ باوجود اس کے کہ قراءتِ نماز میں سورۂ "توحید" اور "کافرون" سے عدول جائز نہیں ہے، لیکن نمازِ جمعہ میں خصوصیت سے یہ استثناء ہوا ہے، یعنی ان دونوں سورتوں سے سورۂ "جمعہ" اور "منافقین" کی طرف عدول جائز بلکہ مستحب شمار کیا گیا ہے۔ یہ سب امور قرآن مجید کی اس سورہ کی حد سے زیادہ اہمیت کا نشان ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 4 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 4 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: پیغمبر کی بعثت کا مقصد
Tafsīr Nemūna · Vol. 9یہ سُورہ بھی خدا کی تسبیح و تقدیس سے شروع ہو رہا ہے اور اس کے صفاتِ جمال و جلال کے ایک حصہ اور اس کے اسماءِ حُسنیٰ کی طرف اشارہ کر رہا ہے، جو حقیقت میں آئندہ کے مباحث کے لیے ایک مقدمہ ہے۔ فرماتا ہے: "آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے، وہ ہمیشہ خُدا کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور زبانِ حال و قال کے ساتھ اس کو تمام نقائص اور عیوب سے پاک شمار کرتے ہیں۔" (یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْأَرْضِ)۔ "وہی خدا جو مالک و حاکم ہے اور ہر عیب و نقص سے مبّرا ہے۔" (الْمَلِکِ الْقُدُّوسِ)۔ "وہ خدا عزیز و حکیم ہے۔" (الْعَزِیزِ الْحَکِیمِ)۔ اور اس طرح سے پہلے اس کی "مالکیّت اور حاکمیّت" کی اور پھر ہر قسم کے ظلم و ستم اور نقص و عیب سے اس کے منزّہ ہونے کی تاکید کرتا ہے، کیونکہ ملوک اور بادشاہوں کے بےحساب مظالم کی طرف توجّہ کرتے ہوئے لفظ "ملک" سے غیر مقدس معانی کا گمان ہوتا ہے، جو لفظ "قدّوس" سے پاک و پاکیزہ ہو جاتا ہے۔ اور ایک طرف سے "قدرت اور علم" پر تکیہ کرتا ہے، جو حکومت کے دو اصلی رکن ہیں اور جیسا کہ آئندہ چل کر معلوم ہو جائے گا کہ یہ صفات اس سُورہ کے آنے والے مباحث کے ساتھ قریبی ربط رکھتی ہیں اور یہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مختلف آیاتِ قرآنی میں، حق تعالیٰ کے اوصاف کا انتخاب حساب و کتاب اور ایک خاص قسم کے نظم و ربط کے ماتحت ہوتا ہے۔ موجوداتِ عالم کی عمومی تسبیح کے بارے میں ہم پہلے ہی تفصیلی بحثیں کر چکے ہیں۔ [بحوالہ: تفسیر نمونہ جلد ۶: ذیل آیت ۴۴ سورہ اسراء اور جلد ۸ ذیل آیت ۴۱ سورہ نور]۔ **** اس مختصر اور پُرمعنی اشارے کے بعد، جو مسئلۂ توحید اور صفاتِ خدا کی طرف ہوا ہے، پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت اور اس عظیم رسالت کے ہدف کو، جو خدا کے عزیز، حکیم اور قدّوس ہونے کے ساتھ مربوط ہے، بیان کرتے ہوئے اس طرح کہتا ہے: "وہی ہے کہ جس نے اُمّیین میں، انہی میں سے ایک رسول کو مبعوث کیا، تاکہ وہ ان کے سامنے اس کی آیات کی تلاوت کرے۔" (ہُوَ الَّذِی بَعَثَ فِی الْأُمِّیِّینَ رَسُولًا مِّنْھُمْ یَتْلُو عَلَیْہِمْ آیَاتِہِ)۔ اور اس تلاوت کے ذریعہ "انہیں ہر قسم کے شرک، انحراف، فساد اور خرابی سے پاک و پاکیزہ کر دے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے۔" (وَیُزَکِّیہِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ)۔ "اگرچہ وہ اس سے پہلے ضلالِ مبین اور واضح گمراہی میں تھے۔" (وَإِنْ کَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِی ضَلَالٍ مُبِینٍ)۔ قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کو ان خصوصیات کے ساتھ، جن کی تعبیر طریقِ اعجاز کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو سکتی، عظمتِ خدا کی نشانی اور اس کے وجود کی دلیل قرار دیتے ہوئے کہتا ہے: "خدا وہی ہے کہ جس نے اس شان کے پیغمبر کو مبعوث کیا اور آفرینش میں اس طرح کا شاہکار عالمِ وجود میں لایا ہے۔" "اُمّیین" جمع ہے "اُمِّی" کی، جس کا مطلب ہے وہ جس نے کسی سے درس نہ پڑھا ہو (جو "اُمّ" یعنی ماں کے ساتھ منسوب ہے، یعنی ماں کی گود کے علاوہ اور کوئی مدرسہ نہ دیکھا ہو)۔ اور بعض نے اسے اہلِ مکّہ کے معنی میں سمجھا ہے، کیونکہ مکّہ کو "اُمّ القُریٰ" (آبادیوں کی ماں) کہتے تھے، لیکن یہ احتمال بعید نظر آتا ہے، کیونکہ نہ تو پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف اہلِ مکّہ کے لیے مبعوث ہوئے اور نہ ہی سورۂ جمعہ مکّہ میں نازل ہوئی ہے۔ بعض مفسّرین نے اس کی یہودیوں اور دوسرے لوگوں کے مقابلے میں اُمّتِ عرب کے معنی میں بھی تفسیر کی ہے اور وہ سورۂ آلِ عمران کی آیت ۷۵ کو اس معنی پر شاہد سمجھتے ہیں، جو یہ کہتی ہے: قَالُوا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْأُمِّیِّینَ سَبِیلٌ۔ "یہودیوں نے کہا کہ ہم امییّن (غیر یہود) کے مقابلے میں جوابدہ نہیں ہیں۔" اگر ہم اس تفسیر کو قبول بھی کر لیں، تو بھی اس کی وجہ یہ ہے کہ یہودی اپنے آپ کو اہلِ کتاب اور پڑھے لکھے افراد سمجھتے تھے اور اُمّت کو اَن پڑھ اور بےعلم کہتے تھے، اس بناء پر پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔ [تشریحی نوٹ: "امّی" کے معنی کے بارے میں سورہ اعراف کی آیت ۱۵۷ کے ذیل میں ہم نے بہت تفصیل سے بیان کیا ہے (تفسیر نمونہ جلد ۴ کی طرف رجوع کریں)]۔ قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ فرماتا ہے: پیغمبر اسی گروہ اور اَن پڑھ طبقے میں سے مبعوث ہوا ہے تاکہ اس کی رسالت کی عظمت کو واضح کرے اور یہ چیز اس کی حقّانیت کی دلیل ہے۔ کیونکہ قرآن جیسی کتاب، ایسے عمیق و عظیم مطالب اور اسلام جیسی ثقافت کے ساتھ، محال ہے کہ یہ کسی بشر کی فکر کا ثمرہ ہو، وہ بشر بھی ایسا بشر کہ جس نے نہ تو خود کسی کے سامنے تعلیم کے لیے زانوئے ادب تہ کیا ہو اور نہ ہی علم و دانش کے ماحول میں اُس نے پرورش پائی ہو۔ یہ ایک ایسا نُور ہے جو ظلمت کی سرزمین سے اُٹھا ہے اور ایک سرسبز باغ ہے جو شُورزار سے نکلا ہے اور یہ خود پیغمبر کی حقّانیت کا ایک واضح معجزہ اور ایک روشن سند ہے۔ اوپر والی آیت میں اِس بعثت کے مقصد کا تین چیزوں میں خلاصہ کیا ہے، جن میں سے ایک تمہیدی پہلو رکھتی ہے اور وہ آیاتِ الہٰی کی تلاوت ہے اور دوسرے دو حصّے، یعنی تہذیب و تزکیہ نفوس اور تعلیم کتاب و حکمت، دو اصلی اور اہم مقاصِد ہیں۔ ہاں! پیغمبر اسی لیے آئے ہیں کہ علم و دانش کے سلسلے میں اور اخلاق و عمل کے بارے میں بھی انسان کی تربیت کریں تاکہ وہ ان دونوں پہلوؤں کے ذریعے آسمانِ سعادت کی بلندی پر پرواز کریں اور خدائی راستہ اختیار کر کے اس کے مقامِ قرب کو حاصل کریں۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجّہ ہے کہ بعض آیاتِ قرآنی میں تو تزکیہ، تعلیم پر مقدم ہے اور بعض میں تعلیم، تزکیہ پر مقدم شمار ہوئی ہے، یعنی چار موارد میں سے تین میں تربیت، تعلیم پر مقدم ہے اور ایک مقدم پر تعلیم، تربیت پر مقدم ہے۔ یہ تعبیر جہاں ضمناً یہ بتاتی ہے کہ یہ دونوں اُمور ایک دوسرے میں تاثیر متقابل رکھتے ہیں (یعنی اخلاق، علم کی پیداوار ہے جیسے کہ علم، اخلاق ہے پیدا ہوتا ہے) وہاں تربیت کی اصالت کو بھی مشخص کرتی ہے، البتہ اس سے مراد حقیقی علوم ہیں نہ کہ اصطلاحی جو علم کے لباس میں موجود ہیں۔ ممکن ہے کہ کتاب و حکمت میں یہ فرق ہو کہ کتاب تو قرآن کی طرف اشارہ ہے اور حکمت پیغمبر کے ارشادات کی طرف اشارہ ہے کہ جس کا نام سنت ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ کتاب تو اسلام کے اصل احکام کی طرف اشارہ ہے اور حکمت ان کے فلسفہ اور اسرار کی طرف راجع ہو۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجّہ ہے کہ حکمتِ اصل میں بغرض اصلاح کسی کو منع کرنے اور روکنے کے معنی میں ہے اور گھوڑے کی لگام کو اس وجہ سے حکمت کہتے ہیں کہ اسے روک کر صحیح راستے پر ڈالتی ہے، اِس بناء پر حکمت سے مراد عقلی دلائل ہیں۔ یہیں سے واضح ہو جاتا ہے کہ کتاب و حکمت کا ایک دوسرے کے بعد ذکر ہو سکتا ہے کہ شاید یہ معرفت و شناخت کے دو سرے چشموں یعنی وحی و عقل کی طرف اشارہ ہو یا دوسرے لفظوں میں احکام آسمانی اور تعلیماتِ اسلام کہ ان کا سرچشمہ وحی الہٰی ہے اور وہ عقلی لحاظ سے بھی قابلِ فہم اور لائقِ ادراک ہیں (مراد کلیاتِ احکام میں)۔ باقی رہا "ضلال مبین" (واضح گمراہی) جو آیت کے ذیل میں قوم عرب کے سابقہ حالات کے عنوان سے بیان ہوا ہے، زمانۂ جاہلیت کی طرف ایک سربستہ اور پُرمعنی اشارہ ہے، جس میں گمراہی کے پورے معاشرے پر چھائی ہوئی تھی، اس سے بدتر گمراہی اور کیا ہو گی کہ وہ اُن بتوں کی پُوجا کرتے تھے، جنہیں وہ پتھر اور لکڑی سے اپنے ہاتھ سے تراش کر بناتے تھے اور اپنی مشکلات میں انہیں بےشعور موجودات کی پناہ لیتے تھے۔ اپنی بیٹیوں کو اپنے ہاتھ سے زندہ درگور کر دیتے تھے، یہ تو آسمان تھا، لیکن اس عمل پر فخر و مباہات بھی کیا کرتے تھے کہ ہم نے اپنے ناموس کو بیگانوں کے ہاتھ میں نہیں جانے دیا۔ ان کے مراسمِ نماز و عبادت، خانہ کعبہ کے پاس تالیاں پیٹنا اور سیٹیاں بجانا تھے، یہاں تک کہ عورتیں مادر زاد برہنہ صورت میں خانۂ خدا کے گرد طواف کرتیں اور اسے عبادت شمار کرتی تھیں۔ ہاں! دلائل اور انہیں تعلیم و تربیت دی اور واقعاً اِس قسم کے گمراہ معاشرے میں نفوذ پیدا کرنا عظمتِ اسلام کی دلیل اور ہمارے عظیم پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک آشکار معجزہ ہے۔ **** لیکن چونکہ پیغمبر اسلام صرف اسی اُمّی قوم کے لیے مبعوث نہیں ہوئے تھے بلکہ آپ کی دعوت پورے عالم کے لیے تھی، اِس لیے بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے: "اور وہ ان دوسرے مومنین کے لیے بھی رسول ہے، جو ابھی تک ان سے ملحق نہیں ہوئے۔" (وَآخَرِینَ مِنْهُمْ لَمَّا یَلْحَقُوا بِهِمْ)۔ [تشریحی نوٹ: "آخَرِین"، "امیّین" پر عطف ہے اور "مِنْهُمْ" کی ضمیر "مؤمنین" کی طرف لوٹتی ہے جو کلام کے اندر سے معلوم ہوتی ہے، بعض نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ "یُعَلِّمُهُمْ" کی ضمیر پر عطف ہو، لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب ہے]۔ وہ دوسری قومیں جنہوں نے اصحابِ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد عرصۂ وجود میں قدم رکھا، انہوں نے بھی پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیم و تربیت کے مکتبہ میں پرورش پائی ہے اور وہ بھی قرآن اور سنتِ محمّدی کے چشمۂ زلال سے سیراب ہوئے ہیں، ہاں! وہ بھی اِس عظیم دعوت میں شامل ہیں۔ اس طرح سے اوپر والی آیت، عرب و عجم میں ان تمام اقوام کو شامل ہے جو صحابۂ پیغمبر کے بعد وجود میں آئی ہیں۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تلاوت فرمائی تو لوگوں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ تو پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ سلمان کے کاندھے پر رکھ کر فرمایا: "لَوْ کَانَ الإِیمَانُ فِی الثُّرَیَّا لَنَالَهُ رِجَالٌ مِّن هَٰؤُلَاءِ۔" "اگر ایمان ثریا (ایک بہت دور ستارہ ہے جو اس سلسلے میں ضرب المثل ہے) میں بھی ہو تو اس گروہ (ایرانیوں) میں سے کچھ افراد اس کو وہاں سے بھی حاصل کر لیں گے۔" [بحوالہ: اس حدیث کو "طبرسی" نے "مجمع البیان" میں، علامہ طباطبائی نے "المیزان" میں، سیوطی نے "درّ المنثور" میں، زمخشری نے "کشاف" میں، قرطبی نے اپنی تفسیر میں، راغی نے اپنی تفسیر میں اور سیّد قطب نے "فی ظلال" میں زیر بحث آیت کے ذیل میں نقل کیا ہے، یہ حدیث اصل میں صحیح بخاری سے لی گئی ہے]۔ چونکہ ان تمام امور کا سرچشمہ خدا کی قدرت و حکمت ہے، لہٰذا آیت کے آخر میں مزید کہتا ہے: "وہ عزیز و حکیم ہے" (وَ هُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ)۔ اِس کے بعد اس عظیم نعمت، یعنی پیغمبر گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسلام کی بعثت اور ان کے ذریعے تعلیم و تربیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "یہ خدا کا فضل ہے، وہ جسے چاہے (اور لائق دیکھے اسے) عطا کر دے اور خدا فضلِ عظیم کا مالک ہے" (ذَٰلِکَ فَضْلُ اللَّہِ یُؤْتِیہِ مَنْ یَشَاءُ وَ اللَّہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیمِ)۔ حقیقت میں یہ آیت سورہ آل عمران کی آیت ۱۶۴ کے مانند ہے جو یہ کہتی ہے: لَقَدْ مَنَّ اللَّہُ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ إِذْ بَعَثَ فِیهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنفُسِهِمْ یَتْلُو عَلَیْهِمْ آیاتِهِ وَ یُزَکِّیِهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْکِتَابَ وَ الْحِکْمَةَ وَ إِنْ کَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِی ضَلالٍ مُّبِینٍ، اور اس آیت کی تمام باتیں تقریباً زیر بحث آیات سے مشابہ ہیں۔ بعض نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ ذَٰلِکَ فَضْلُ اللَّہِ (یہ اللہ کا فضل ہے) میں مقامِ نبوت کی طرف اشارہ ہے کہ خدا یہ مقام جسے اس لائق دیکھتا ہے، اُسے عطا فرماتا ہے۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے، اگرچہ دونوں تفاسیر کے درمیان جمع بھی ممکن ہے کہ پیغمبر کی رہبری بھی امت کے لیے اللہ کا فضل ہے اور مقامِ نبوت بھی پیغمبر کے لیے اللہ کا فضل ہے۔ یہ بات کہے بغیر ہی واضح ہے کہ مَنْ یَشَاءُ (جسے چاہے) کی تعبیر کا مفہوم یہ نہیں کہ خدا کسی حساب و کتاب کے بغیر ہی اپنے فضل و رحمت سے کسی کو دے دیتا ہے بلکہ یہاں مشیّت حکمت کے ساتھ توام ہے، جیسا کہ سورہ کی پہلی آیت میں خدا کی عزیز و حکیم سے توصیف بھی اسی مطلب کو واضح کرتی ہے۔ امیر المؤمنین علی علیہ السلام بھی اس فضلِ الہٰی کی تشریح میں نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں: فَانظُرُوا إِلَی مَوَاقِعِ نِعَمِ اللَّہِ عَلَیْهِمْ، حِینَ بَعَثَ إِلَیْهِمْ رَسُولًا، فَعَقَدَ بِمِلَّتِهِ طَاعَتَهُمْ، وَ جَمَعَ عَلَی دَعْوَتِهِ أُفَّتَهُمْ، کَیْفَ نَشَرَتِ النِّعْمَةُ عَلَیْهِمْ جَنَاحَ کرَامَتِهَا، وَ سَالتْ لَهُمْ جَجَاوِلُ نَعِیمِهَا، وَ التَفَتِ الْمِلَّةُ بِهِمْ فِی عَادَاتِ بَرَکَتِهَا، فَأَصْبَحُوا فِی نِعْمَتِهَا غَرْقَیْنِ، وَ فِی خُضْرَةِ عِیشِهَا فَکِهِنْ۔ "اس امت پر خدا کی نعمتوں کی طرف دیکھو! اس زمانے میں جب اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی طرف بھیجا تو اپنے دین کا انہیں مطیع بنا دیا اور اس کی دعوت کے ساتھ انہیں متحد کیا، دیکھو! اس عظیم نعمت نے اپنے کرامت کے پروں کو کس طرح ان پر پھیلا دیے اور اپنی نعمتوں کی نہریں ان کی طرف جاری کیں اور دینِ حق نے اپنی تمام برکتوں کے ساتھ انہیں گھیر لیا، وہ اس کی نعمتوں میں غرق ہیں، اور خوش وخرم زندگی میں شادمان ہیں۔" [بحوالہ: نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۲ (خطبہ قاصعہ)]۔
ایک نکتہ: فضلِ خدا حساب سے ہوتا ہے
ایک حدیث میں آیا ہے کہ امّت کے فقراء کی ایک جماعت رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: "اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! دولت مندوں کے پاس تو خرچ کرنے کے لیے مال ہے اور ہمارے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے، ان کے پاس حج کرنے کا ذریعہ ہے، ہمارے پاس نہیں ہے، ان کے پاس غلاموں کو آزاد کرنے کے وسائل ہیں، ہمارے پاس نہیں ہیں۔" پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "جو شخص سو مرتبہ تکبیر کہے وہ ایک غلام کے آزاد کرنے سے افضل ہے، اور جو شخص سو مرتبہ خدا کی تسبیح کرے وہ سو گھوڑے زین و لگام کے ساتھ جہاد کے لیے آمادہ کرنے سے افضل ہے، اور جو سو مرتبہ لا إلہ إلا اللّٰہ کہے، اس کا عمل تمام لوگوں کے اس دن کے عمل سے افضل ہے، مگر یہ کہ کوئی اس سے زیادہ کہے۔" یہ بات اغنیاء کے کانوں تک پہنچی تو وہ بھی یہ اذکار کرنے لگے۔ فقرائے امت پھر پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: "آپ کا ارشاد ان کے کانوں تک بھی پہنچ گیا ہے اور وہ بھی اس ذکر میں مشغول ہو گئے ہیں۔" پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: ذَٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیہِ مَنْ یَشَاءُ۔ "یہ اللہ کا فضل ہے، جسے وہ چاہتا ہے، دے دیتا ہے۔" (یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ تم جیسے لوگوں کے لیے ہے جو خرچ کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن اس کا کوئی ذریعہ اپنے پاس نہیں رکھتے، لیکن دولت مندوں کے لیے فضلِ الٰہی کے حصول کا طریقہ، ان کا اپنے مالوں سے خرچ کرنا ہی ہے)۔ [بحوالہ: نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۲]۔ یہ حدیث بھی اسی بات کی شاہد ہے جو ہم نے اوپر بیان کی ہے کہ فضلِ الٰہی حکیمانہ طریقے سے ہوتا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: ایسا چوپایہ جس پر کتابیں لدی ہوں
Tafsīr Nemūna · Vol. 9بعض روایات میں آیا ہے کہ یہودی یہ کہا کرتے تھے: اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث بر رسالت ہوا ہے تو اس کی رسالت ہمارے لیے نہیں ہے۔ اِس لیے پہلی زیرِ بحث آیت ان کے گوش گزار کر رہی ہے کہ اگر تم نے اپنی آسمانی کتاب کو غور سے پڑھا ہوتا اور اس پر عمل کیا ہوتا تو یہ بات نہ کرتے، کیونکہ اِس میں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ظہور کی بشارت آئی ہے۔ فرماتا ہے: "وہ لوگ جن پر تورات نازل ہوئی اور وہ اس کے مکلّف قرار دیئے گئے، لیکن انہوں نے اس کا حق ادا نہیں کیا اور اس کی آیات پر عمل نہیں کیا، وہ اس گدھے کی مانند ہیں جو اپنی پشت پر کتابیں اُٹھائے ہوئے ہو۔" (مَثَلُ الَّذِینَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوہَا کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ أَسْفَارًا)۔ وہ کتاب سے سوائے اس کے بوجھ کے اور کسی چیز کا احساس نہیں کرتا اور اس کے لیے کوئی فرق نہیں ہے، کہ وہ پشت پر پتھر اور لکڑی اُٹھائے ہوئے ہے، یا ایسی کتابیں جن میں آفرینش کے دقیق ترین اسرار اور زندگی کے مفید ترین ضابطے درج ہیں۔ یہ خود پسند قوم جس نے صرف تورات کے نام یا اس کی تلاوت پر قناعت کی ہوئی ہے اور اس کے مضامین پر غور و فکر کر کے اس پر عمل نہیں کرتے، وہ اسی جانور کے مانند ہیں جو حماقت اور نادانی میں ضرب المثل اور مشہورِ خاص و عام ہے۔ یہ بہترین مثال ہے جو عالمِ بےعمل کے لیے بیان کی جا سکتی ہے، جو علم کی مسئولیت کا بوجھ تو اپنے کاندھے پر اُٹھائے ہوئے ہے، لیکن اس کی برکات سے بہرہ مند نہیں ہوتا... اسی طرح سے وہ لوگ جو قرآن کے الفاظ سے تو سروکار رکھتے ہیں لیکن اس کے مطالب اور عملی تقاضوں سے بےخبر ہیں (اور مسلمانوں کی صفوں میں ایسے لوگ بہت ہی زیادہ ہیں)، وہ اسی آیت کے مصداق ہیں۔ یہ احتمال بھی ہے کہ یہودیوں نے اس سورہ کی پہلی آیات اور اس کے مانند دوسری آیات کو، جو بعثتِ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نعمت کی گفتگو کرتی ہیں، سننے کے بعد کہا ہو کہ ہم بھی اہلِ کتاب ہیں اور حضرت موسیٰ کلیم اللہ کی بعثت کے ساتھ مفتخر ہیں۔ قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے: اس کا کیا فائدہ ہے؟ تم نے تو تورات کے احکام کو پاؤں تلے روند ڈالا ہے اور ان پر اپنے مسائلِ زندگی میں ہرگز عمل نہیں کیا۔ لیکن بہرحال یہ تمام مسلمانوں کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ وہ اس بات کو نظر میں رکھیں کہ یہودیوں جیسی سرنوشت پیدا نہ ہو۔ یہ خدا کا عظیم فضل ہے، جو ان کے شاملِ حال ہوا ہے اور یہ قرآن جو ان پر نازل ہوا ہے، اِس لیے نہیں ہے کہ گھروں میں اس پر گرد پڑتی رہے، یا نظرِ بد اور آسیب کے لیے تعویذ کے طور پر حمائل کر لیں، یا سفر کرنے کے موقع پر حوادث سے محفوظ رہنے کے لیے اس کے نیچے سے گزریں، یا برکت اور نیک شگون کے لیے نئے گھر میں آئینہ اور جھاڑو کے ساتھ اُسے بھی بھیجیں اور اس کو اس حد تک نیچے لے آئیں، یا ان کی آخری ہمت یہ ہو کہ اس کی تجوید، خوبصورت قراءت و تلاوت، ترتیل اور حفظ کرنے کی سعی و کوشش کریں، لیکن ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اس کا معمولی سا انعکاس بھی نہ ہو اور عقیدہ و عمل میں اس کا کوئی اثر نظر نہ آئے۔ اس کے بعد اسی مثال کو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے: "وہ قوم جس نے آیاتِ الٰہی کی تکذیب کی، یقیناً وہ بری مثال رکھتی ہے۔" (بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِ اللّٰہِ)۔ وہ لوگ بوجھ اُٹھانے والے گدھے کے مشابہ کیوں نہ ہوں؟ حالانکہ انہوں نے نہ صرف عمل بلکہ زبان سے بھی آیاتِ الٰہی کا انکار کیا ہے، جیسا کہ سورۂ بقرہ کی آیت ۸۷ میں اسی قومِ یہود کے بارے میں آیا ہے: أَفَکُلَّمَا جَاءَکُمْ رَسُولٌ بِمَا لَا تَہْوَى أَنفُسُکُمُ اسْتَکْبَرْتُمْ فَفَرِیقًا کَذَّبْتُمْ وَفَرِیقًا تَقْتُلُونَ۔ "کیا جب بھی کوئی پیغمبر تمہاری خواہش کے برخلاف آیا تو تم نے اس کے سامنے تکبر نہیں کیا؟ پس ایک گروہ کو تم نے جھٹلایا اور ایک گروہ کو قتل کر ڈالا۔" آیت کے آخر میں ایک مختصر اور پُرمعنی جملے میں فرماتا ہے: "خدا ستمگر قوم کو ہدایت نہیں کرتا۔" (وَاللّٰہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ)۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہدایت کرنا خدا کا کام ہے، لیکن اس کے لیے ایک مقدمہ اور تمہید کی ضرورت ہے اور اس کا مقدمہ — جو حق طلبی اور حق جوئی کی روح ہے — اسے انسانوں کی طرف سے فراہم ہونا چاہیے اور ستمگر اس مرحلہ سے بہت دور ہیں۔ ہم بیان کر چکے ہیں کہ یہودی اپنے آپ کو برگزیدہ اور منتخب اُمت اور اصطلاح کے مطابق "تافتهٔ جدا بافته" (یعنی سب سے الگ مخلوق) سمجھتے تھے، یہاں تک کہ کبھی تو وہ یہ دعویٰ کرتے کہ وہ خدا کے بیٹے ہیں اور کبھی اپنے آپ کو خدا کے مخصوص دوست بتلاتے، جیسا کہ سورۂ مائدہ کی آیت ۱۸ میں آیا ہے: وَقَالَتِ الْیَہُودُ وَالنَّصَارَىٰ نَحْنُ أَبْنَاءُ اللّٰہِ وَأَحِبَّاؤُہُ۔ "یہود و نصاریٰ نے کہا کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے خاص دوست ہیں (خواہ ان کی مراد مجازی اولاد ہی ہو)۔" قرآن ان بےدلیل بلند پروازیوں کے مقابلے میں، وہ بھی ایسے گروہ کی طرف سے جو کتابِ الٰہی کے حامل ہونے کے باوجود اس پر عامل نہیں تھے، کہتا ہے: "ان سے کہہ دیجئے، اے یہودیو! اگر تمہارا گمان یہ ہے کہ تمام لوگوں کو چھوڑ کر تم ہی خدا کے دوست ہو، تو پھر موت کی تمنا کرو اگر تم سچ کہتے ہو۔" (قُلْ یَا أَیُّهَا الَّذِینَ هَادُوا إِنْ زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِیَاءُ لِلَّهِ مِنْ دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِینَ)۔ [تشریحی نوٹ: "من دون الناس" بعض مفسرین کے قول کے مطابق اسم "إن" کا حال ہے اور بعض کے نزدیک "أولياء" کی صفت ہے]۔ کیونکہ دوست تو ہمیشہ دوست کی ملاقات کا مشتاق ہوتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ قیامت میں پروردگار کی معنوی ملاقات ہو گی، جب عالمِ دنیا کے حجاب ہٹ جائیں گے اور شہوات و ہوس رانیوں کا غبار چھٹ جائے گا، تو پردے اُٹھ جائیں گے اور انسان چشمِ دل سے محبوب کا جمالِ دلاآرا دیکھے گا اور اس کے قرب کی بساط پر قدم رکھے گا اور (فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِندَ مَلِیكٍ مُّقْتَدِرٍ) کا مصداق بن کر حریمِ دوست میں راہ پائے گا۔ اگر تم سچ کہتے ہو اور اس کے دوستِ خاص ہو تو پھر دُنیا کی زندگی کے ساتھ اس قدر کیوں چمٹے ہوئے ہو؟ موت سے اتنا کیوں ڈرتے ہو؟ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تم اپنے اس دعوے میں سچے نہیں ہو۔ قرآن نے اسی بات کو ایک دوسری تعبیر کے ساتھ سورہ بقرہ کی آیت ۹۶ میں بھی بیان کیا ہے، جہاں کہتا ہے: (وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَىٰ حَيَاةٍ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا ۚ يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ ۖ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَنْ يُعَمَّرَ ۗ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ)۔ "تم انہیں اس دنیوی زندگی کے لیے سب سے زیادہ حریص پاؤ گے، یہاں تک کہ مشرکین سے بھی زیادہ۔ یہاں تک کہ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ ہزار برس تک زندہ رہے۔ حالانکہ یہ طولانی زندگی اُسے عذابِ الٰہی سے نہیں چھڑا سکے گی اور خدا ان کے اعمال کو دیکھتا ہے۔" **** اس کے بعد ان کے موت سے ڈرنے کی اصل وجہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "وہ اپنے ان اعمال کی وجہ سے جو انہوں نے آگے بھیجے ہوئے ہیں ہرگز موت کی تمنا نہیں کریں گے۔" (وَلَا يَتَمَنَّوْنَهُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ)۔ "لیکن خدا ظالموں کو اچھی طرح پہچانتا ہے۔" (وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ)۔ حقیقت میں انسان کا موت سے خوف دو عوامل میں سے کسی ایک کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یا تو وہ موت کے بعد کی زندگی پر ایمان نہیں رکھتا اور موت کو فنا و نیستی کا ایک ہیولا اور عدم کا ظلمت کدہ خیال کرتا ہے۔ یہ ایک طبعی اور فطری امر ہے کہ انسان نیستی اور عدم سے گریز کرے۔ یا وہ موت کے بعد والے عالم کا عقیدہ تو رکھتا ہے، لیکن وہ اپنے نامۂ اعمال کو ایسا تاریک و سیاہ دیکھتا ہے کہ اس عظیم دادگاہ اور عدالت میں حاضر ہونے سے ڈرتا ہے۔ اور چونکہ یہودی معاد اور موت کے بعد کے جہان کا عقیدہ رکھتے تھے، لہٰذا طبعی طور پر ان کے موت سے ڈرنے کا عامل دوسری چیز تھی۔ "ظالمین" کی تعبیر ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے جو یہودیوں کے تمام ناروا اعمال، خدا کے عظیم پیغمبروں کو قتل کرنے سے لے کر ان کی طرف ناروا نسبتوں، لوگوں کے حقوق غضب کرنے، ان کے اموال ہتھیانے، سرمائے غارت کرنے اور انواع و اقسام کے اخلاقی مفاسد سے آلودہ ہونے تک کو شامل ہے۔ لیکن مسلمہ طور پر یہ وحشت و اضطراب کسی مشکل کو حل نہیں کرتا، موت ایک ایسا اونٹ ہے جو تمام گھروں کے دروازے پر بیٹھا ہے، لہٰذا قرآن کہتا ہے: "اے پیغمبر (صلى الله عليه وآله وسلم)! ان سے کہہ دیجئے کہ یہ موت جس سے تم بھاگتے ہو، آخرکار تم سے ملاقات کرے گی۔" (قُلْ إِنَّ الْمَوْتَ الَّذِي تَفِرُّونَ مِنْهُ فَإِنَّهُ مُلَاقِيكُمْ)۔ "اس کے بعد تمہیں اس کے پاس لے جایا جائے گا جو پنہاں و آشکار سے باخبر ہے اور تم جو کچھ عمل کیا کرتے تھے وہ تمہیں اس کی خبر دے گا۔" (ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَىٰ عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ)۔ موت کا قانون اِس عالم کے قوانین میں سب سے زیادہ عام اور سب سے زیادہ وسیع ہے۔ خدا کے عظیم پیغمبر (صلى الله عليه وآله وسلم) اور مقرب فرشتے سب مر جائیں گے اور خدا کی پاک ذات کے سوا اس جہان میں کوئی باقی نہیں رہے گا": (كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ * وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ) [بحوالہ: الرحمن: ۲۶–۲۷]۔ موت اور دادگارِ عدلِ الٰہی میں حاضر ہو کر حساب دینا بھی اس عالم کے مسلمہ قوانین میں سے ہے، اور خدا بندوں کے تمام اعمال سے دقیقاً آگاہ بھی ہے۔ اس بناء پر، اس خوف و دہشت کے ختم ہونے کی طرف ایک ہی راہ ہے اور وہ اعمال کی پاکیزگی اور گناہ کی آلودگی سے دل کو پاک و صاف کرنا ہے، کیونکہ جس کا حساب پاک صاف ہو، اُسے محاسب سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہی ایک صورت ہے جس میں علی علیہ السلام کی طرح کہا جا سکتا ہے: هَيْهَاتَ بَعْدَ اللَّتَيَّا وَاللَّتِي، وَاللَّهِ لَابْنُ أَبِي طَالِبٍ آنَسُ بِالْمَوْتِ مِنَ الطِّفْلِ بِثَدْيِ أُمِّهِ۔ "ہیہات! ان تمام جنگوں اور حوادث کے بعد، خدا کی قسم! ابوطالب کا بیٹا موت سے اس سے بھی زیادہ انس اور لگاؤ رکھتا ہے جتنا انس بچے کو اپنی ماں کی چھاتی سے ہوتا ہے"۔ [بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ۵]۔ اور جب آپ کی پیشانی مبارک اشقى الآخرین (ابن ملجم) کی ضرب سے شگافتہ ہوئی تو بآواز بلند فرمایا: فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ۔ (کعبہ کے پروردگار کی قسم! میں کامیاب ہوا اور نجات پا گیا)۔
چند نکات: ۱۔ عالم بےعمل
اس میں شک نہیں کہ تحصیلِ علم میں بہت زیادہ مشکلات پیش آتی ہیں، لیکن یہ مشکلات چاہے جتنی بھی ہوں، علم سے حاصل ہونے والی برکات کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ انسان کی بیچارگی اس دن ہو گی جب وہ تحصیلِ علم کی زحمت کو تو برداشت کرے لیکن اُس کی برکتوں کا اُسے کوئی فائدہ حاصل نہ ہو۔ وہ ٹھیک اس چوپائے کی مانند ہوتا ہے، جو کتابوں کی ایک گانٹھ کا وزن تو اپنی پشت پر محسوس کرتا ہے لیکن اس کے مطالب سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھاتا۔ بعض تعبیرات میں عالمِ بےعمل کو "شجرٍ بلاثمر" (بغیر پھل کے درخت)، یا "سحابٍ بلامطر" (بغیر بارش کے بادل)، یا اس شمع سے جو جلتی ہے اور اپنے اطراف کو روشن کرتی ہے لیکن خود ختم ہو جاتی ہے، یا اس چوپائے سے جسے خراس کے ساتھ جوت دیتے ہیں، وہ مسلسل زحمت اٹھاتا اور راستہ طے کرتا رہتا ہے، لیکن چونکہ وہ اپنے ہی چکّروں میں گھومتا ہے لہٰذا وہ کوئی راستہ طے نہیں کرتا اور کہیں بھی نہیں پہنچتا، اسی قسم کی دوسری تشبیہیں دی جاتی ہیں جن میں سے ہر ایک، عالمِ بےعمل کو منحوس سرنوشت کے کسی ایک گوشے کو بیان کرتی ہے۔ اسلامی روایات میں بھی اس قسم کے علماء کی مذمت میں دل ہلا دینے والی تعبیریں آئی ہیں۔ منجملہ ان کے، حضرت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: من ازداد علماً ولم یزدد ہدیً لم یزدد من اللّٰہ إلا بُعداً۔ "جس شخص کا علم زیادہ ہو لیکن اس کی ہدایت میں اضافہ نہ ہو تو یہ علم اُسے خدا سے دوری کے سوا کچھ نہیں دیتا۔" [بحوالہ: مجمع البیضاء، جلد ١، صفحہ ۱۲۵، ۱۲۶]۔ دوسری جگہ امیر المومنین علی علیہ السلام سے منقول ہے: العلم مقرون بالعمل، فمن علم عمل، والعلم یہتف بالعمل، فإن أجابہ وإلا ارتحل عنہ۔ "علم عمل کے ساتھ توام ہے۔ جو شخص جس چیز کو جانتا ہے اُسے اس پر عمل کرنا چاہیئے۔ علم فریاد کرتا ہے اور عمل کی دعوت دیتا ہے، اگر وہ اُسے مثبت جواب نہ دے تو علم اس کے ہاں سے کوچ کر جاتا ہے۔" [بحوالہ: نہج البلاغہ، کلماتِ قصار، جملہ ٣۶۶]۔ اصولی طور پر بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عالمِ بےعمل، عالم کہلانے کے لائق نہیں ہے۔ حضرت رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں: لا یکون المرء عالماً حتیٰ یکون بعلمہ عاملاً۔ "کوئی شخص عالم نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنے علم پر عمل نہ کرے۔" [بحوالہ: مجمع البیضاء، جلد ١، صفحہ ١٢٥، ١٢٦]۔ اس سے بڑھ کر یہ بات ہے کہ وہ عالم کی تمام ذمہ داریوں کے بوجھ کو اپنے دوش پر اٹھائے ہوئے ہوتا ہے، جبکہ علم کی خصوصیات سے بہرہ مند نہیں ہوتا۔ جیسا کہ امیر المومنین علی علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے ایک خطبہ کے ضمن میں فرمایا: ایہا الناس! إذا علمتم فاعملوا بما علمتم لعلکم تہتدون، إن العالم العامل بغیرہ کالجاهل الحائر الذی لا یستیقظ عن جہلہ، بل قد رأیت أن الحجة علیہ أعظم، والحسرة أدوم۔ "اے لوگو! جب تم کسی چیز کو جان لو تو اس پر عمل کرو تاکہ ہدایت پاؤ، کیونکہ وہ عالم جو اپنے علم کے برخلاف عمل کرتا ہے اُس سرگرداں جاہل کی طرح ہے جو اپنی جہالت سے کبھی ہوش میں نہیں آتا، بلکہ میں تو یہ دیکھ رہا ہوں کہ اس قسم کے عالم پر حجت بہت بھاری اور اُس کے لیے حسرت دائمی ہے۔" [بحوالہ: اصولِ کافی، جلد ١، باب استعمال العلم، حدیث ۶]۔ بلاشک و شبہ اس قسم کے علماء اور دانشوروں کا وجود ایک معاشرے کے لیے بہت بڑی مصیبت ہے۔ جن لوگوں کا عالم و دانشور اس قسم کا ہو، ان کی سرنوشت خطرناک ہے۔ بقولِ شاعر: و راعی الشاة یحمی الذئب عنہا فکیف إذا الرعاة لہا ذئاب۔ چرواہا بکریوں کو بھیڑیے سے بچاتا ہے، لیکن ان بکریوں کی حالت پر افسوس ہے کہ جن کے چرواہے ہی بھیڑیے بن جائیں۔
٢۔ میں موت سے کیوں ڈروں؟
عام طور پر اکثر لوگ موت سے ڈرتے ہیں، صرف ایک چھوٹا سا گروہ ہے جو موت کا چہرہ دیکھ کر مسکرا دیتا ہے، اُسے پورے زور سے اپنی آغوش میں لے لیتا ہے اور رنگ برنگی گودڑی دے کر جاودانی زندگی حاصل کر لیتا ہے۔ لیکن آئیے دیکھتے ہیں کہ موت اور اس کی علامات، یہاں تک کہ اس کا نام بھی ایک گروہ کے لیے کیوں تکلیف دہ ہے؟ اس کی سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ وہ موت کے بعد کی زندگی پر ایمان نہیں رکھتے اور اگر ایمان رکھتے بھی ہیں تو یہ ایمان ایک گہرے یقین کی صورت میں نہیں اور وہ ان کے افکار و حالات پر اچھی طرح سے مؤثر نہیں ہوا ہے۔ فنا و نیستی سے انسان کی وحشت طبیعی اور فطری ہے، انسان رات کی تاریکی تک سے ڈرتا ہے، کیونکہ ظلمت، نور کی نیستی ہے۔ انسان اوقاتِ مُردہ سے بھی ڈرتا ہے کیونکہ وہ بھی فنا کے راستے پر گامزن ہے۔ لیکن اگر انسان اپنے تمام وجود کے ساتھ یہ باور کر لے: الدنیا سجن المؤمن و جنۃ الکافر۔ [بحوالہ: سفینة البحار، جلد ١، صفحہ ۶۰٣]۔ "دنیا مؤمن کا زندان اور کافر کے لیے بہشت ہے۔" اگر انسان باور کر لے کہ یہ جسمِ خاکی اس کے طائرِ روح کے لیے ایک قفس ہے، جب یہ قفس ٹوٹ جائے گا تو وہ آزاد ہو جائے گا اور کوئے دوست کی فضا میں پرواز کرے گا۔ اگر وہ یہ باور کر لے کہ: حجاب چہرۂ جان می شود غبار تنش۔ اُس کے بدن کا غبار، جان کے چہرے کا حجاب ہے — تو یقیناً وہ اس وقت کے انتظار میں ہو گا کہ جب اس چہرے سے پردہ ہٹ جائے گا۔ اگر انسان یہ باور کر لے کہ طائرِ روح عالمِ خاک سے نہیں، باغِ ملکوت سے ہے اور صرف وہ تین دن کے لیے اس کے بدن کو اُس کا قفس بنایا گیا ہے... ہاں! اگر موت کے بارے میں انسان کا نظریہ اس طرح کا ہو تو وہ ہرگز موت سے نہیں ڈرے گا، جبکہ وہ ارتقاء کی راہ طے کرنے کے لیے زندگی چاہتا ہے۔ اسی لیے حدیثِ عاشورا میں آیا ہے: امام حسین اور ان کے انصار پر دشمن کے محاصرہ کا گھیراؤ جتنا تنگ ہوتا اور دشمن کا دباؤ بڑھتا جاتا تھا، اُتنے ہی اُن کے چہرے زیادہ چمکتے اور کھلتے جاتے تھے، یہاں تک کہ آپ کے اصحاب میں سے بوڑھے مسکرا رہے تھے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کیوں مسکرا رہے ہیں تو ان کا جواب تھا: ہم چند لمحے کے بعد شربتِ شہادت نوش کر لیں گے اور پھر حور العین سے ہم آغوش ہوں گے۔ [بحوالہ: مقتل الحسین مقرم، صفحہ ٢٦٣]۔ موت کے خوف کا ایک اور سبب، دنیا کے ساتھ حد سے زیادہ دل لگانا ہے، کیونکہ موت اس کے اور اس کی محبوب دنیا کے درمیان جدائی ڈال دے گی، جبکہ وہ تمام امکانات و وسائل جو اُس عیش و نوش کی زندگی کے لیے فراہم کیے تھے ان سے دل کو ہٹانا اس کے لیے طاقت فرسا ہے۔ خوف کا تیسرا عامل، نامۂ اعمال کا نیکیوں سے خالی اور برائیوں اور سیّئات سے پُر ہونا ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ کوئی شخص پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میں موت کو کیوں پسند نہیں کرتا؟ آپ نے فرمایا: کیا تیرے پاس کچھ دولت ہے؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: کیا تُو نے اس میں سے کوئی چیز آگے بھی بھیجی ہے؟ اس نے عرض کیا: نہیں! آپ نے فرمایا: یہی وجہ ہے کہ تُو موت کو دوست نہیں رکھتا، کیونکہ تیرا نامۂ اعمال حسنات سے خالی ہے۔ [بحوالہ: مجمع البیضاء، جلد ٨، صفحہ ٢٥٨]۔ ایک دوسرا شخص ابوذر کے پاس آیا اور یہی سوال کیا کہ ہم موت سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: لأنکم عمرتم الدنیا، و خربتم الآخرة، فَتکرهون أن تنتقلوا من عمران إلى خراب۔ "یہ اس بنا پر ہے کہ تم نے دنیا کو تو آباد کر رکھا ہے اور آخرت کو ویران بنایا ہوا ہے، لہٰذا یہ بات طبعی اور فطری ہے کہ تم آباد جگہ کو چھوڑ کر ویران و برباد جگہ کی طرف جانا پسند نہیں کرتے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 9ان آیات کے شانِ نزول میں، خصوصاً: "وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً..." کے بارے میں مختلف روایات نقل ہوئی ہیں جو سب کی سب ایک ہی مطلب کی خبر دیتی ہیں کہ: ایک سال مدینہ کے لوگ خشک سالی، قحط اور اجناس کے نرخ کی زیادتی میں گرفتار تھے تو دِحیہ ایک قافلے کے ساتھ شام سے یہاں آن پہنچا۔ وہ اپنے ساتھ غذائی اشیاء لے کر آیا تھا۔ اُس روز جمعہ کا دن تھا اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نمازِ جمعہ کے خطبہ میں مشغول تھے کہ انہوں نے معمول کے مطابق قافلے کے ورود کے اعلان کے لیے طبل بجایا اور دوسرے آلاتِ موسیقی بھی بجائے، تو لوگ تیزی کے ساتھ بازار میں پہنچ گئے۔ اس موقع پر جو مسلمان مسجد میں نماز کے لیے جمع ہوئے ہوئے تھے، انہوں نے خطبہ سننا چھوڑ دیا اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے بازار کی طرف چل پڑے۔ صرف بارہ مرد اور ایک عورت مسجد میں باقی رہ گئے۔ (تو اوپر والی آیت نازل ہوئی اور جانے والوں کی سخت مذمت کی گئی)۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "اگر یہ چھوٹا سا گروہ بھی چلا جاتا تو ان سب پر آسمان سے پتھروں کی بارش ہوتی۔" [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ٩، صفحہ ٢٨٧ اور دیگر تفاسیر]۔
تفسیر: ھفتہ کا عظیم ترین عبادی سیاسی اجتماع
گزشتہ آیات میں توحید، نبوّت، معاد اور دنیا پرست یہودیوں کی مذمت کے بارے میں مختصر مباحث آئے تھے، زیرِ بحث آیات ایک اہم ترین اسلامی فریضہ کے بارے میں ہیں جو ایمان کی بنیادوں کی تقویت کے لیے حد سے زیادہ تاثیر رکھتا ہے اور ایک لحاظ سے سورہ کا ہدف اصلی یہی ہے، یعنی نمازِ جمعہ اور یہ آیات اس کے احکام کو بیان کرتی ہیں۔ سب سے پہلے تمام مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اے ایمان لانے والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان کہی جائے تو ذکرِ خدا (خطبہ و نماز) کی طرف جلدی سے آؤ اور خرید و فروخت چھوڑ دو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔" (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ، ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ)۔ "نُودِي"، "نداء" کے مادہ سے ہے، یعنی پکارنے کے معنی میں ہے اور یہاں اس سے مراد اذان ہے، کیونکہ اسلام میں نماز کے لیے اذان کے علاوہ اور کوئی ندا نہیں ہے، جیسا کہ سورۂ مائدہ کی آیت ۵۸ میں آیا ہے: "وَإِذَا نَادَيْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ اتَّخَذُوهَا هُزُوًا وَلَعِبًا ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَعْقِلُونَ۔" "جب تم لوگوں کو نماز کے لیے پکارتے ہو (اور اذان کہتے ہو) تو وہ اس کا مذاق اُڑاتے اور اسے کھیل تماشا سمجھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک بےعقل قوم ہیں۔" اس طرح سے، جس وقت نمازِ جمعہ کی اذان کی آواز بلند ہوتی ہے، تو لوگوں کا فرض ہے کہ وہ کاروبار کو چھوڑ کر نماز کی طرف دوڑ کر آئیں، جو اہم ترین ذکرِ خدا ہے۔ "ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ" کا جملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس موقع پر کاروبار کو چھوڑ کر نمازِ جمعہ کو قائم کرنا مسلمانوں کے لیے بہت ہی نفع کی بات ہے، بشرطیکہ وہ اس بارے میں ٹھیک طور پر غور و فکر کریں، ورنہ خدا تو سب سے بےنیاز اور سب پر مہربان ہے۔ یہ جملہ نمازِ جمعہ کے فلسفہ اور فوائد کی طرف ایک اجمالی اشارہ ہے، اس کے بارے میں ہم ان شاء اللہ نکات کی بحث میں گفتگو کریں گے۔ البتہ خرید و فروخت کو ترک کرنا ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے جو ہر مزاحم کام کو شامل ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ جمعہ کے دن کو "جمعہ" کا نام کیوں دیا گیا ہے؟ تو اس کی وجہ اس دن لوگوں کا نمازِ جمعہ کے لیے جمع اور اکٹھا ہونا ہے۔ اس مسئلہ کی ایک مختصر سی تاریخ ہے، جو نکات کی بحث میں آئے گی۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ بعض اسلامی روایات میں روزانہ کی نماز کے بارے میں یہ آیا ہے: "إذا أُقيمت الصلاة فلا تأتوها وأنتم تسعون، وأتوها وأنتم تمشون وعليكم السكينة۔" "جب نماز (یومیہ) کھڑی ہو جائے تو نماز میں شرکت کے لیے دوڑو نہیں اور آرام کے ساتھ قدم اٹھاؤ۔" [بحوالہ: روح المعانی، جلد ۲۸، صفحہ ۹۰]۔ لیکن نمازِ جمعہ کے بارے میں اوپر والی آیت یہ کہتی ہے: "فَاسْعَوْا" (دوڑ کر آؤ) یہ نمازِ جمعہ کی حد سے زیادہ اہمیت کی دلیل ہے۔ ذِكْرِ اللَّهِ سے مراد پہلے تو نماز ہی ہے، لیکن ہم جانتے ہیں کہ نماز کے خطبات بھی، جن میں خدا ہی کا ذکر ہوتا ہے، حقیقت میں نمازِ جمعہ کا ایک حصہ ہیں، اس بنا پر ان خطبوں میں شرکت کے لیے بھی دوڑ کر آنا چاہیے۔ **** بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے: "جب نماز ختم ہو جائے تو پھر تم آزاد ہو، زمین میں چلو پھرو اور خدا کا فضل تلاش کرو اور خدا کو بہت بہت یاد کرو تاکہ تم نجات پاؤ۔" (فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ)۔ اگرچہ "ابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ" (اللہ کا فضل طلب کرو) کا جملہ یا قرآن مجید میں اس سے مشابہ تعبیرات غالباً روزی طلب کرنے اور کسب و تجارت کے معنی میں آئی ہیں، لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس جملے کا مفہوم وسیع ہے اور کسب و کار اس کے مصادیق میں سے ایک ہے۔ اسی لیے بعض نے اسے عیادتِ مریض، زیارتِ مومن، یا تحصیلِ علم و دانش کے معنی میں بھی تفسیر کیا ہے، اگرچہ یہ ان میں منحصر نہیں۔ یہ بات کہے بغیر واضح ہے کہ "زمین میں پھیل جانے" اور "روزی طلب کرنے کا امر"، امرِ وجوبی نہیں، بلکہ اصطلاح کے مطابق "امر بعد از حظر" و نہی ہے اور جواز کی دلیل ہے۔ لیکن بعض نے اس تعبیر سے یہ مطلب لیا ہے کہ نمازِ جمعہ کے بعد روزی کی تحصیل و طلب ایک مطلوبیت اور برکت رکھتی ہے۔ اور ایک حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نمازِ جمعہ کے بعد بازار میں تشریف لے جاتے تھے۔ "وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا" کا جملہ ان تمام نعمتوں کے لیے، جو خدا نے انسان کو دی ہیں، خدا کو یاد کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ اور بعض نے یہاں "ذکر" کو "فکر" کے معنی میں لیا ہے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: "تفكر ساعة خير من عبادة سنة۔" "ایک ساعت غور و فکر کرنا، ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے۔" [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱۰، صفحہ ۲۸۹]۔ اور بعض نے اس کو بازاروں میں معاملات کے وقت، خدا کی طرف توجہ اور اصولِ حق و عدالت سے انحراف نہ کرنے سے بھی تعبیر کیا ہے۔ لیکن واضح ہے کہ آیت ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے جو ان تمام مطالب کو اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہے۔ یہ بھی مسلم ہے کہ ذکر کی روح فکر ہے اور وہ ذکر جو فکر کے بغیر ہو، لقلقۂ زبانی سے زیادہ نہیں۔ اور جو بات فلاح و نجات کا سبب ہے، وہ وہی ذکر ہے جو تمام حالات میں غور و فکر کے ساتھ ہو۔ اصولی طور پر بار بار ذکر کرنے سے خدا کی یاد انسان کی جان کی گہرائیوں میں راسخ ہو جاتی ہے اور غفلت و بےخبری کی جڑیں جل جاتی ہیں، جو ہر قسم کے گناہ کا اصلی عامل ہوتی ہیں۔ پس یوں انسان فلاح و نجات کے راستے پر چلنے لگتا ہے اور لعلکم تفلحون کی حقیقت حاصل ہو جاتی ہے۔ **** زیرِ بحث آخری آیت میں ان لوگوں کو جنہوں نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز جمعہ کے وقت چھوڑ دیا اور آنے والے قافلے سے مال خریدنے کے لیے بازار کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے تھے، شدت کے ساتھ ملامت کرتے ہوئے کہتا ہے: "جب وہ کوئی تجارت یا کھیل تماشے کی بات دیکھتے ہیں تو پراگندہ ہو جاتے ہیں اور آپ کو (نماز جمعہ کا خطبہ پڑھنے کے دوران) کھڑا ہوا چھوڑ کر چل دیتے ہیں۔" (وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا ٱنْفَضُّوٓا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا)۔ لیکن ان سے کہہ دیجئے کہ جو کچھ خدا کے پاس ہے، وہ لہو و لعب اور تجارت سے بہتر ہے اور خدا بہترین روزی دینے والا ہے۔ (قُلْ مَا عِندَ ٱللَّهِ خَيْرٌۭ مِّنَ ٱللَّهْوِ وَمِنَ ٱلتِّجَـٰرَةِ ۚ وَٱللَّهُ خَيْرُ ٱلرَّٰزِقِينَ)۔ نماز جمعہ میں حاضر ہونے اور پیغمبر کے مواعظ و نصائح سننے سے جو خدائی اجر و ثواب، برکتیں اور معنوی و روحانی تربیت تمہیں حاصل ہوتی ہے، ان سب برکات کا کسی دوسری چیز کے ساتھ مقابلہ نہیں ہو سکتا۔ اگر تم اس بات سے ڈرتے ہو کہ تمہاری روزی منقطع ہو جائے گی تو تم غلطی پر ہو، خدا بہترین روزی دینے والا ہے۔ "لہو" کی تعبیر، طبل اور ان تمام دوسرے آلاتِ لہو کی طرف اشارہ ہے جو وہ لوگ مدینہ میں کسی نئے قافلے کے وارد ہونے کے وقت بجایا کرتے تھے۔ یہ ایک طرح سے ان کے آنے کی خبر اور اعلان بھی ہوتا تھا اور مال و متاع کو بیچنے کے لیے تشہیر بھی، جیسا کہ وہ منڈیاں اور بازار، جو مغربی طرز کے ہیں، ان میں بھی اس کے نمونے دکھائی دیتے ہیں۔ "انفضوا" کی تعبیر، پراگندہ ہونے، نماز جمعہ سے منصرف ہونے اور قافلے کا رُخ کرنے کے معنی میں ہے، جیسا کہ شانِ نزول میں بیان کیا گیا ہے کہ جس وقت وحیہ کا قافلہ مدینہ میں وارد ہوا (اس نے ابھی تک اسلام قبول نہیں کیا تھا)، تو اس نے طبل اور دوسرے آلاتِ لہو کے ساتھ لوگوں کو بازار کی طرف بلایا۔ مدینہ کے لوگ، یہاں تک کہ وہ مسلمان بھی جو مسجد میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خطبہ جمعہ سن رہے تھے، اس کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے اور مسجد میں صرف تیرہ مرد اور ایک روایت کے مطابق اس سے بھی کم افراد باقی رہ گئے۔ "إلیها" کی ضمیر "تجارت" کی طرف لوٹتی ہے، یعنی وہ مالِ تجارت کی طرف دوڑ گئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لہو و لعب ان کا اصلی ہدف نہیں تھا بلکہ وہ تو قافلے کے وارد ہونے کے اعلان کی ایک تمہید تھی، یا مالِ تجارت کے پروپیگنڈہ میں روز پیدا کرنے کے لیے تھا۔ "قائما" کی تعبیر بتاتی ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہو کر نماز جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے، جیسا کہ جابر بن سمرہ کی حدیث میں نقل ہوا کہ وہ کہتا ہے: "میں نے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطبہ کی حالت میں کبھی بھی بیٹھے ہوئے نہیں دیکھا اور جو شخص یہ کہے کہ آپ بیٹھ کر خطبہ پڑھتے تھے تو اسے جھوٹا سمجھو۔" [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱۰، صفحہ ۲۸۶]۔ یہ روایت بھی آئی ہے: لوگوں نے عبداللہ بن مسعود سے پوچھا: کیا پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے؟ عبداللہ نے کہا: کیا تم نے نہیں سنا کہ خدا فرماتا ہے: وَتَرَكُوكَ قَائِمًا اور وہ تجھے کھڑا ہوا ہی چھوڑ کر چل دیئے۔ [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱۰، صفحہ ۲۸۶]۔ تفسیر درّ المنثور میں آیا ہے کہ سب سے پہلا شخص جس نے نماز جمعہ کا خطبہ بیٹھ کر دیا، وہ معاویہ تھا۔ [بحوالہ: تفسیر درّ المنثور، جلد ۶، صفحہ ۲۲۲۔ اس روایت کو دوسرے مفسرین مثلاً "آلوسی" نے "روح المعانی" میں اور "قرطبی" نے بھی اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے]۔
چند اهم نکات: ۱۔ اسلام میں پہلی نماز جمعہ
بعض اسلامی روایات میں آیا ہے کہ مدینہ کے مسلمانوں نے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجرت سے پہلے باہم مل کر بات کی اور کہا کہ یہودی ہفتہ میں ایک دن (بروز ہفتہ) اجتماع کرتے ہیں اور عیسائی بھی اجتماعی کے لیے (اتوار کا) ایک دن رکھتے ہیں۔ لہٰذا ہم بھی ایک دن مقرر کر لیتے ہیں تاکہ اس میں جمع ہو کر ذکر خدا کریں اور اس کا شکر بجا لائیں۔ انہوں نے ہفتہ سے پہلے کا دن، جسے اُس زمانے میں "یوم العروبہ" کہتے تھے، اس مقصد کے لیے منتخب کیا اور (بزرگانِ مدینہ میں سے ایک شخص) اسعد بن زرارہ کے پاس گئے۔ اس نے ان کے ساتھ مل کر جماعت کی صورت میں نماز ادا کی اور انہیں وعظ و نصیحت کی۔ پس وہی دن روزِ جمعہ کے نام سے موسوم ہو گیا کیونکہ وہ مسلمانوں کے اجتماع کا دن تھا۔ "اسعد" کے حکم پر ایک گوسفند ذبح کیا گیا اور سب نے دوپہر اور شام کا کھانا اسی گوسفند سے کھایا، کیونکہ اس وقت مسلمانوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی۔ یہ پہلا جُمعہ تھا جو اسلام میں پڑھا گیا، لیکن وہ پہلا جمعہ جو حضرت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب کے ساتھ پڑھا، وہ اس وقت پڑھا گیا جب آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ جب آپ مدینہ میں وارد ہوئے تو اس دن پیر کا دن، بارہ ربیع الاوّل اور ظہر کا وقت تھا۔ حضرت چار دن تک قباء میں رہے اور مسجد قباء کی بنیاد رکھی، پھر جمعہ کے دن مدینہ کی طرف روانہ ہوئے (قباء اور مدینہ کے درمیان فاصلہ بہت ہی کم ہے اور موجودہ وقت میں قباء مدینہ کا ایک داخلی محلّہ ہے) اور نمازِ جمعہ کے وقت آپ محلّہ بنی سالم میں پہنچے۔ وہاں نمازِ جمعہ ادا فرمائی اور یہ اسلام میں پہلا جمعہ تھا جو حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ادا کیا۔ جمعہ کی اس نماز میں آپ نے خطبہ بھی پڑھا، جو مدینہ میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پہلا خطبہ تھا۔ [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱۰، صفحہ ۲۸۶]۔ ایک محدث نے "عبد الرحمن بن کعب" سے نقل کیا ہے کہ میرا باپ جب جمعہ کی اذان کی آواز سنتا، تو اسعد بن زرارہ کے لیے رحمت کی دعا کیا کرتا تھا۔ جب میں نے اس کی وجہ پوچھی تو اُس نے کہا: اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پہلا شخص تھا جس نے ہمارے ساتھ نمازِ جمعہ ادا کی۔ میں نے کہا: اُس وقت کتنے افراد حاضر تھے؟ اس نے کہا: صرف چالیس نفر۔ [بحوالہ: وسائل الشیعہ، جلد ۵، صفحہ ۷، باب وجوب صلوٰة الجمعة، حدیث ۲۸]۔
٢۔ نمازِ جُمعہ کی اہمیّت
سب سے پہلے تو اس عظیم اسلامی فریضہ کی اہمیت کی بہترین دلیل اسی سورہ کی آیات ہیں جو تمام مسلمانوں اور اہلِ ایمان کو یہ حکم دیتی ہیں کہ جمعہ کی اذان سنتے ہی اس کی طرف دوڑ پڑیں، ہر قسم کے کاروبار اور رکاوٹ ڈالنے والے کام چھوڑ دیں۔ یہاں تک کہ اگر کسی سال لوگ غذائی اشیاء کی کمی میں گرفتار ہوں اور کوئی ایسا قافلہ آ جائے جو ان کی ضرورت کی چیزیں ساتھ لے کر آیا ہو تو وہ اس کی طرف نہ جائیں اور نمازِ جمعہ کے اعمال کو جاری رکھیں۔ اسلامی روایات میں بھی اس سلسلہ میں بہت سی تاکیدیں وارد ہوئی ہیں، ان میں سے ایک خطبہ ہے کہ جسے موافق و مخالف سب نے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گرامی سے نقل کیا ہے۔ اس میں آیا ہے: ان اللہ تعالیٰ فرض علیکم الجمعة، فمن ترکھا فی حیاتی او بعد موتی استخفافاً بھا او جحوداً لھا، فلا جمع اللہ شملہ، ولا بارک لہ فی امرہ، الا ولا صلوٰة لہ، الا ولا زکوٰة لہ، الا ولا حج لہ، الا ولا صوم لہ، الا ولا برلہ حتی یتوب۔ "خدا نے نمازِ جمعہ تم پر واجب کی ہے۔ اگر کوئی شخص اسے میری زندگی میں یا میری وفات کے بعد استخفاف یا انکار کے طور پر ترک کرے تو خدا اُسے پریشان حال کر دے گا اور اس کے کسی کام میں برکت نہیں دے گا۔ جان لو کہ اُس کی نماز قبول نہیں ہے، اس کی زکوٰة قبول نہیں ہے اور جان لو کہ اُس کے نیک اعمال قبول نہیں ہیں جب تک کہ اپنے اس عمل سے توبہ نہ کرے۔" [بحوالہ: وسائل الشیعہ، جلد ۵، صفحہ ۷، باب وجوب صلوٰۃ الحجۃ حدیث ۲۸]۔ ایک اور حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے مروی ہے: صلوٰة الجمعة فریضة، والاجتماع الیھا فریضة مع الامام، فان ترک رجل من غیر علّة ثلاث جمع فقد ترک ثلاث فرائض، ولا یدع ثلاث فرائض من غیر علّة الا منافق۔ "نمازِ جمعہ ایک فریضہ ہے اور اس کا اجتماع امام (معصوم) کے ساتھ واجب ہے۔ جب کوئی شخص تین جمعے بغیر کسی عذر کے ترک کر دے تو اس نے تین فرائض ترک کیے ہیں۔ اور تین فرائض بغیر کسی علت کے ترک نہیں کرتا مگر منافق۔ [بحوالہ: وسائل الشیعہ، جلد ۵، ص ۲، حدیث ۸]۔ ایک اور حدیث میں حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے: من اتی الجمعة ایماناً واحتساباً استأنف العمل۔ "جو شخص از روئے ایمان خدا کے لیے نمازِ جمعہ میں شرکت کرے تو اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے اور وہ اپنے عمل کا سلسلہ نئے سرے سے شروع کرے گا۔" [بحوالہ: وسائل الشیعہ، جلد ۵، صفحہ ۱۰]۔ اس سلسلے میں روایات بہت زیادہ ہیں اور ان سب کا بیان کرنا باعثِ طوالت ہو گا۔ ہم یہاں ایک اور حدیث نقل کر کے اس بحث کو ختم کرتے ہیں۔ ایک شخص حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: "یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! میں کئی مرتبہ حج کے لیے تیار ہوا ہوں لیکن مجھے توفیق حاصل نہ ہوئی۔" اس پر آپ نے فرمایا: علیک بالجمعة فانھا حج المساکین۔ "تو نماز جمعہ پڑھا کر، کیونکہ مساکین کا حج یہی ہے۔" یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حج کے عظیم اسلامی اجتماع کے بہت سے برکات نمازِ جمعہ کے اجتماع میں موجود ہوتے ہیں۔ [بحوالہ: وسائل الشیعہ، جلد ۵، صفحہ ۱۷]۔ البتہ یہ بات مدنظر رہے کہ شدید مذمتیں نمازِ جمعہ کے ترک کرنے کے بارے میں آئی ہیں، جن میں جمعہ کے ترک کرنے والوں کو منافقین کے زمرہ میں شمار کیا گیا ہے۔ یہ اس صورت میں ہے کہ جب نماز جمعہ واجب عینی ہو، یعنی امام معصوم کے حضور اور ان کے مبسوط الید ہونے کا زمانہ ہو۔ لیکن چونکہ زمانۂ غیبت میں یہ واجب تخییری ہے (نمازِ جمعہ اور نمازِ ظہر کے درمیان اختیار ہے) اور بطور استخفاف و انکار بھی ترک نہ ہو تو پھر وہ ان مذمتوں کا مشمول نہیں ہو گا۔ اگرچہ نمازِ جمعہ کی عظمت اور اس کی حد سے زیادہ اہمیت اس حالت میں بھی محفوظ ہے (اس مسئلہ کی مزید وضاحت کے لیے فقہ کی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے)۔
٣۔ نماز عبادی سیاسی جمعہ کا فلسفہ
نمازِ جمعہ ہر چیز سے پہلے ایک عظیم اجتماعی عبادت ہے اور عبادت کی عمومی تاثیر کہ جو رُوح و جان کو لطیف بنانا، دل کو گناہ کی آلودگیوں سے پاک کرنا اور دل سے معصیت کے رنگ کو اتارنا ہے، وہ اس میں موجود ہے۔ خاص طور پر یہ بات کہ اس میں دو خطبے ہوتے ہیں، جو انواع و اقسام کے مواعظ، پند و نصائح اور تقویٰ و پرہیزگاری کا حکم دینے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ لیکن اجتماعی اور سیاسی لحاظ سے یہ ایک عظیم ہفتہ وار کانفرنس ہے، جو حج کی سالانہ کانفرنس کے بعد بزرگ ترین اسلامی کانفرنس ہے۔ اسی وجہ سے اس روایت میں جو پہلے ہم پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کر چکے ہیں، یوں آیا ہے کہ جمعہ ان لوگوں کا حج ہے جو مراسمِ حج میں شرکت کی قدرت نہیں رکھتے۔ حقیقت میں اسلام تین عظیم اجتماعوں کو اہمیت دیتا ہے: ١: روزانہ کے اجتماعات جو نماز جماعت میں حاصل ہوتے ہیں۔ ٢: ہفتہ وار اجتماع جو نماز جمعہ کے اعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ٣: حج کا اجتماع جو خانۂ خدا کے پاس ہر سال ایک مرتبہ انجام پاتا ہے۔ ان سب میں سے نمازِ جمعہ کا اثر بہت ہی اہم ہے، خاص طور پر یہ بات کہ نمازِ جمعہ کے خطبہ میں خطیب کا ایک موضوع اہم سیاسی، اجتماعی اور اقتصادی مسائل کے بارے میں ہوتا ہے۔ اس طرح سے اس عظیم اور پُرشکوہ اجتماعی سے ذیل کے برکات حاصل ہو سکتے ہیں: ا: لوگوں کو معارفِ اسلامی اور اہم اجتماعی و سیاسی حالات و واقعات سے آگاہ کرنا۔ ب: مسلمانوں کی صفوں میں ایسی ہم آہنگی اور زیادہ سے زیادہ نظم و اتحاد پیدا کرنا جو دشمنوں کو وحشت میں ڈال دے اور انہیں لرزہ براندام کر دے۔ ج: مسلم عوام میں دینی روح اور نشاطِ معنوی کی تجدید۔ د: عام مشکلات کے حل کے لیے باہمی تعاون حاصل کرنا۔ اسی وجہ سے دشمنانِ اسلام ہمیشہ ایک ایسی جامع الشرائط نمازِ جمعہ سے خود فز دہ رہتے تھے، جس میں خصوصیّت کے ساتھ احکامِ اسلامی کی رعایت کی جاتی ہو۔ اسی بناء پر نمازِ جمعہ حکومتوں کے ہاتھ میں ہمیشہ ایک طاقتور ہتھیار رہی ہے۔ البتہ عادلانہ حکومتیں جیسے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حکومت، اس سے اسلام کے نفع کے لیے بہترین استفادہ کیا کرتی تھیں اور حکومت ہائے جور، جیسے بنی اُمیہ کی حکومت، اس سے اپنی طاقت اور قدرت کی بنیادوں کو مضبوط و محکم کرنے کے لیے سوءِ استفادہ کیا کرتی تھیں۔ ہم طول تاریخ میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ جو شخص یہ چاہتا کہ وہ کسی حکومت کے خلاف قیام کرے تو سب سے پہلے وہ اس کی نمازِ جمعہ میں شرکت سے رک جایا کرتا تھا، جیسا کہ واقعہ کربلا میں بیان ہوا ہے کہ شیعوں کا ایک گروہ سلیمان بن صرد خزاعی کے گھر میں جمع ہوا اور انہوں نے کوفہ سے امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں ایک خط لکھا جس کا مضمون یہ تھا: کوفہ میں بنی اُمیہ کا گورنر نعمان بن بشیر گوشہ نشین ہو گیا ہے اور ہم اس کی نمازِ جمعہ میں شرکت نہیں کرتے۔ اگر ہمیں یہ معلوم ہو جائے کہ آپ ہماری طرف آ رہے ہیں تو ہم اُسے کوفہ سے نکال دیں گے۔ [بحوالہ: بحار الانوار، جلد ٤٤، صفحہ ٣٣٣]۔ صحیفۂ سجادیہ میں امام علی بن الحسین علیہما السلام سے وارد ہوا ہے: اللھم ان ھذا المقام لخلفائک واصفیائک ومواضع امنائک فی الدرجة الرفیعة التی اختصصتھم بھا قد ابتزوھا۔ "خداوندا! یہ مقام (نمازِ جمعہ اور عید قربان) تیرے خلفاء، برگزیدہ ہستیوں اور بلند پایہ امینوں کے لیے مخصوص ہے اور تو نے اس کے لیے انہیں کو مخصوص کیا تھا، لیکن (بنی اُمیہ کے خلفائے جور) نے زبردستی اسے اولیائے حق سے لے لیا اور غصب کر لیا ہے۔" [بحوالہ: صحیفۂ سجادیہ، دعا ٤٨]۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ دشمنانِ اسلام ہفتہ بھر رات دن زہریلے پروپیگنڈے میں مصروف رہتے ہیں لیکن وہ سب کے سب نمازِ جمعہ کے ایک ہی خطبہ اور اُس کے پُرشکوہ اور حیات بخش اعمال سے بےاثر ہو کر رہ جاتے ہیں، جبکہ مسلمانوں کے جسموں میں ایک نئی روح پھونک دی جاتی ہے اور ان کی رگوں میں ایک تازہ خون دوڑنے لگتا ہے۔ اس نکتہ کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ شیعہ فقہ کے مطابق ہر طرف سے ایک فرسخ کے علاقہ میں ایک سے زیادہ نمازِ جمعہ جائز نہیں ہے تاکہ وہ لوگ جو نمازِ جمعہ کے انعقاد کی جگہ سے دو فرسخ (تقریباً گیارہ کلومیٹر) کے اندر رہتے ہیں، وہ اس نماز میں شرکت کریں، اس حکم سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ عملی طور پر چھوٹے اور بڑے شہر اور اس کے اطراف میں ایک سے زیادہ نمازِ جمعہ منعقد نہیں ہو گی۔ اس بناء پر یہی نمازِ جمعہ اس علاقے کا ایک عظیم ترین اجتماع ہو گا۔ لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ عبادی، سیاسی مراسم جو اسلامی معاشروں میں ایک عظیم تحرک کا باعث بن سکتے تھے، ان میں فاسد حکومتوں کے نفوذ کی وجہ سے بعض اسلامی ممالک میں یہ ایسے بےروح اور بےجان ہو گئے ہیں کہ عملی طور پر ان سے کوئی مثبت اثر حاصل نہیں ہوتا اور ان اجتماعات نے ایک رسمی سے عمل کی شکل اختیار کر لی ہے، مگر واقعاً یہ ان عظیم سرمایوں میں سے ہے کہ جن کے ضائع ہونے پر رونا چاہیے۔ سال بھر کی اہم ترین نمازِ جمعہ وہ ہے جو عرفات کی طرف جانے سے پہلے مکّہ میں انجام پاتی ہے، اس میں ساری دنیا سے آئے ہوئے خانۂ خدا کے تمام حجاج شرکت کرتے ہیں جو کرۂ ارض کے مسلمانوں کے تمام طبقات کے واقعی نمائندے ہوتے ہیں۔ ایسی اہم اور حساس نماز کا خطبہ تیار کرنے کے لیے مناسب ہے کہ بہت سے علماء کئی کئی ہفتوں اور مہینوں تک مطالعہ اور تیاری کریں، پھر اس کا ماحصل اس حساس دن کے تاریخی خطبے میں تمام مسلمانوں کے سامنے پیش کریں۔ یوں وہ یقینی طور پر اس کی برکت سے اسلامی معاشرے کو زیادہ سے زیادہ آگاہی دیتے ہوئے اس کی بڑی بڑی مشکلات کو حل کر سکتے ہیں۔ لیکن ان دنوں یہ ایک انتہائی افسوس کی بات دکھائی دیتی ہے کہ حرمِ پاک میں اس جمعہ پر بہت ہی معمولی اور عام مسائل و مطالب پیش کیے جاتے ہیں جن سے تقریباً سبھی لوگ واقف ہوتے ہیں، لیکن وہاں اصولی مسائل کی بالکل کوئی خبر ہی نہیں ہوتی۔ کیا اس قسم کی عظیم فرصت اور عظیم سرمایوں کے ہاتھ سے نکل جانے کے لیے گریہ نہیں کرنا چاہیے؟ اور اس کو بدلنے کے لیے قیام نہیں کرنا چاہیے؟
۴۔ نمازِ جمعہ کے آداب اور خطبوں کے مطالب و مضامین
نمازِ جمعہ (ضروری شرائط کی موجودگی میں) بالغ اور صحیح و سالم شخص پر واجب ہے جو نماز میں شرکت کی طاقت رکھتا ہو۔ مسافروں اور بوڑھے لوگوں پر واجب نہیں ہے، اگرچہ مسافر کے لیے نمازِ جمعہ میں حاضر ہونا جائز ہے۔ اسی طرح سے عورتیں بھی نمازِ جمعہ میں شرکت کر سکتی ہیں، اگرچہ ان پر واجب نہیں ہے۔ وہ کم سے کم تعداد پانچ مرد ہے جس سے نمازِ جمعہ منعقد ہو سکتی ہے۔ نمازِ جمعہ دو رکعت ہے اور وہ نمازِ ظہر کی جگہ لے لیتی ہے۔ نیز دو خطبے جو نمازِ جمعہ سے پہلے پڑھے جاتے ہیں، وہ حقیقت میں دو رکعتوں کی جگہ محسوب ہوتے ہیں۔ نمازِ جمعہ صبح کی نماز کی طرح ہے اور مستحب ہے کہ اس میں حمد و سورہ کو بلند آواز میں پڑھا جائے۔ اس کے علاوہ مستحب ہے کہ پہلی رکعت میں سورۂ جمعہ اور دوسری رکعت میں سورۂ منافقین کی قراءت کی جائے۔ نمازِ جمعہ میں دو قنوت مستحب ہیں؛ ایک رکعت اوّل میں رکوع سے پہلے اور دوسرا دوسری رکعت میں رکوع کے بعد ہے۔ دو خطبوں کا پڑھنا نمازِ جمعہ سے پہلے واجب ہے، جیسا کہ خطیب کا کھڑے ہو کر خطبہ دینا بھی واجب ہے۔ جو شخص خطبہ دیتا ہے، حتمی طور پر نمازِ جمعہ کا امام وہی ہونا چاہیے۔ خطیب کو اپنی آواز اتنی بلند کرنا چاہیے کہ لوگ اس کی آواز کو سن لیں تاکہ خطبے کا مضمون سب کے کانوں تک پہنچ جائے۔ خطبہ کے دوران میں سامعین کو خاموش رہنا اور خطیب کی باتوں پر کان دھرنا چاہیے، نیز خطیب کے روبرو بیٹھنا چاہیے۔ خطیب کو مردِ فصیح و بلیغ، اوضاع و احوالِ مسلمین سے آگاہ، اسلامی معاشرے کے مصالح سے باخبر، شجاع، صریح اللفظ اور اظہارِ حق میں قاطع ہونا چاہیے۔ اس کے اعمال و رفتار، اس کے کلام کی تاثیر و نفوذ کا سبب ہونے چاہئیں اور اس کی زندگی لوگوں کو خدا کی یاد دلانے والی ہونی چاہیے۔ مناسب ہے کہ وہ پاکیزہ ترین لباس پہنے ہوئے ہو، اپنے بدن کو خوشبو لگائے، وقار اور سکون کے ساتھ قدم اٹھائے اور جب منبر پر جائے، لوگوں کو سلام کرے، پھر اُن کے سامنے کھڑا ہو جائے اور شمشیر یا کمان یا عصا پر ٹیک لگائے۔ پہلے وہ منبر پر بیٹھ جائے، یہاں تک کہ اذان مکمل ہو جائے۔ اذان ختم ہونے کے بعد اٹھے اور خطبہ شروع کرے۔ خطبے کا مضمون پہلے خدا کی حمد اور پیغمبر پر درود ہے (احتیاط اس میں ہے کہ یہ حصہ عربی زبان میں ہو لیکن باقی حصہ سننے والوں کی زبان میں پڑھا جائے)، پھر لوگوں کو خوفِ خدا اور تقویٰ کی وصیت و نصیحت کرے، قرآنِ مجید کی کوئی مختصر سی سورہ پڑھے اور اس امر کی دونوں خطبوں میں رعایت کرے۔ دوسرے خطبے میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود کے بعد ائمۂ مسلمین کے لیے دعا کرے اور مومنین و مومنات کے لیے استغفار کرے۔ مناسب ہے کہ خطبے کے ضمن میں ایسے اہم مسائل پیش کرے جو مسلمانوں کے دین اور دنیا کے ساتھ مربوط ہیں۔ اسلامی ممالک کے اندر اور باہر اور اس علاقے کے داخل و خارج میں جن باتوں کی مسلمانوں کو ضرورت و احتیاج ہے، ان پر بحث کرے۔ وہ سیاسی، اجتماعی، اقتصادی اور دینی مسائل کو ترجیح کا لحاظ رکھتے ہوئے پیش کرے۔ لوگوں کو آگاہی بخشے اور دشمنوں کی سازشوں سے باخبر کرے۔ بعد ازاں اسلامی معاشرے کی حفاظت اور مخالفین کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے مختصر اور طویل مدّت منصوبے ان کے سامنے بیان کرے۔ خلاصہ یہ کہ خطیب کو بہت ہی ہوشیار، بیدار اور اسلامی مسائل کے بارے میں اہلِ فکر اور صاحبِ مطالعہ ہونا چاہیے۔ اسے جمعہ کے ان عظیم مراسم کو موقعیت و حیثیت سے اسلام اور مسلمانوں کے اہداف و مقاصد کی کامیابی کے لیے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنا چاہیے۔ [بحوالہ: نماز جمعہ کے احکام کی خصوصیات اور جزئیات اور اس کے خطبوں میں فقہاء کے فتاویٰ میں جزئی اختلاف ہے۔ جو کچھ اوپر بیان ہوا ہے وہ مختلف فتاویٰ کا خلاصہ ہے]۔ ایک حدیث میں امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام سے آیا ہے: «إِنَّمَا جُعِلَتِ الْخُطْبَةُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِأَنَّ الْجُمُعَةَ مَشْهَدٌ عَامٌّ، فَأَرَادَ أَنْ يَكُونَ لِلْأَمِيرِ سَبَبٌ إِلَى مَوْعِظَتِهِمْ وَتَرْغِيبِهِمْ فِي الطَّاعَةِ، وَتَرْهِيبِهِمْ مِنَ الْمَعْصِيَةِ، وَتَوْقِيفِهِمْ عَلَى مَا أَرَادَ مِنْ مَصْلَحَةِ دِينِهِمْ وَدُنْيَاهُمْ، وَيُخْبِرَهُمْ بِمَا وَرَدَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْآفَاقِ مِنَ الْأَهْوَالِ الَّتِي لَهُمْ فِيهَا الْمَضَرَّةُ وَالْمَنْفَعَةُ... وَإِنَّمَا جُعِلَتْ خُطْبَتَيْنِ لِيَكُونَ وَاحِدَةٌ لِلثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ وَالْتَّمْجِيدِ وَالتَّقْدِيسِ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَالْأُخْرَى لِلْحَوَائِجِ وَالْأَعْذَارِ وَالْإِنْذَارِ وَالدُّعَاءِ، وَلِمَا يُرِيدُ أَنْ يُعْلِمَهُمْ مِنْ أَمْرِهِ وَنَهْيِهِ، مَا فِيهِ الصَّلَاحُ وَالْفَسَادُ.» جمعہ کے دن خطبہ اس لیے شروع کیا گیا ہے کہ نمازِ جمعہ ایک عمومی اجتماع ہے۔ خدا چاہتا ہے کہ مسلمانوں کے امیر کو یہ موقع فراہم کرے کہ وہ لوگوں کو وعظ و نصیحت کرے، اطاعت کی ترغیب دے، معصیتِ الٰہی سے ڈرائے اور انہیں اس چیز سے آگاہ کرے جس میں ان کے دین و دنیا کی مصلحت اور بہتری ہے۔ نیز وہ اخبار و واقعات جو مختلف علاقوں سے اس تک پہنچے ہیں، جو لوگوں کے لیے ان کے سود و زیاں میں مؤثر ہیں، انہیں ان کی اطلاع دے۔ اور دو خطبے اس لیے قرار دیے گئے ہیں تاکہ ایک میں خدا کی حمد و ثنا اور تمجید و تقدیس کرے اور دوسرے میں احتیاجات، ضرورتیں، تنبیہیں اور دعائیں قرار دے اور ان کے سامنے اوامر و نواہی اور ایسے احکام کا اعلان کرے جو اسلامی معاشرے کی اصلاح اور فساد کے ساتھ مربوط ہیں۔ [بحوالہ: وسائل الشیعہ، جلد ۵، صفحہ ۳۹]۔
٥۔ نمازِ جمعہ کے وجوب کی شرائط
اس بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ ہر دوسرے امام جماعت کی طرح امامِ جمعہ کو بھی عادل ہونا چاہیے، لیکن بحث اس بات میں ہے کہ اس کے علاوہ بھی اس میں کچھ شرائط ہونی ضروری ہیں یا نہیں۔ ایک گروہ کا نظریہ ہے کہ یہ نماز امام معصوم یا ان کے نمائندۂ خاص کے فرائض میں سے ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ امامِ معصوم کے زمانۂ حضور کے ساتھ مربوط ہے۔ مگر بہت سے محققین کا نظریہ ہے کہ یہ شرط نمازِ جمعہ کے وجوبِ عینی کی ہے، لیکن وجوبِ تخییری کے لیے یہ شرط ضروری نہیں ہے، لہٰذا زمانۂ غیبت میں بھی نمازِ جمعہ کو قائم کیا جا سکتا ہے اور وہ نمازِ ظہر کی جانشین بن سکتی ہے۔ ہاں، حق بھی یہی ہے بلکہ جب اسلامی حکومت اپنی شرائط کے ساتھ امام علیہ السلام کے نائبِ عام کی طرف سے تشکیل پائے تو احتیاط یہ ہے کہ امام جمعہ اس کی طرف سے منسوب ہو اور مسلمان نمازِ جمعہ میں شرکت کریں۔ اس سلسلے میں اور نمازِ جمعہ سے مربوط دوسرے مسائل کے بارے میں بہت زیادہ اختلاف ہے۔ یہاں ان سب امور کا بیان کرنا ایک تفسیری بحث کے احاطہ سے خارج ہے، لہٰذا انہیں فقہ اور حدیث کی کتابوں میں تلاش کرنا چاہیے۔ [بحوالہ: مرحوم علامہ مجلسی نے بحار الانوار کی جلد ۸۹، ۹۰ میں اس اہم مسئلہ اور جمعہ کی باقی خصوصیات کو بیان کیا ہے]۔ خداوند ہمیں توفیق مرحمت فرما کہ ہم ان عظیم شعائر سے نفوس کی تربیت اور مسلمانوں کو دشمن کے چنگل سے نجات دلانے کے لیے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔ پروردگارا! ہمیں ایسے لوگوں میں سے قرار دے کہ ہم تیری ملاقات کے مشتاق ہوں اور موت سے ہرگز نہ ڈریں۔ بارِالٰہا! نعمتِ ایمان اور انبیاء کی تعلیم و تربیت کو ہم سے ہرگز سلب نہ کرنا۔ آمین یا ربّ العالمین۔