Al-Mu'minun
سورہ موٴمنون
یہ سوره مدینہ میں نازل ہوئی اس میں ۱۱۸ آیات ہیں۔
سورہ مومنون کی فضیلت
پیغمبر اکرم اور ائمہ ہدی ع کی طرف سے ہم تک پہنچنے والی روایات کے مطابق یہ سورت بڑی فضیلت کی حامل ہے۔ رسول اکرم سے روایت ہے: من قراء سورة المومنین بشّرتہ الملائکة یوم القیامة بالروح والریحان و ما تقرّ بہ عینہ عند نزول ملک الموت اس سورت کی قرات کرنے والے ہر شخص کو روزِ قیامت فرشتہ روح وریحان کی بشارت دیں گے اور جس وقت ملک الموت اس کی روح قبض کرنے کے لیے آئے گا اور اسے ایسی خوش خبری سنائے گا کہ اس کی آنکھیں روشن اور ٹھندی ہوجا ئیں گی۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان ج ۷ ص ۹۸)۔ ایک اور روایت میں امام صادق علیہ اسلام سے مروی ہے: من قراء سورة الموُمنین ختم اللہ لہ بالسعادة اذا کان یدمن قراءتھا فی کل جمعۃ وکان منزلہ فی الفردوس الاعلی مع النبییں والمرسلین۔ جو شخص سورہ مومنین کو پڑھے اور ہر جمعہ پڑہتا رہے اس کا خاتمہ سعادت پر ہو گا اور وہ انبیاء ومرسلین کے ساتھ فردوس میں رہے گا۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان ج ۷ ص ۹۸)۔ ہم اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ مذکورہ بالا فضائل اور قراءت کی برکتیں، مفاہیم ومطالب سورت پر غور و فکر اور ان پر عمل کے ارادے کے بغیر حاصل نہیں ہوں گے؛ کیونکہ یہ آسمانی کتاب، انسان سازی اور تعمیر کردار کے تربیتی کورس کے عملی پروگراموں کا مجموعہ ہے اور واقعی اگر کوئی شخص اس سورہ میں بیان شدہ مطالب کا عملی نمونہ بن جائے۔ اگر چہ مومنین صفات کے بیان پر پہلی چند آیتوں پر ہی عمل پیرا ہوجاے تو تمام اعزازات نصیب ہوں گے اسی لیے بعض روایت میں ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی تو پیغمبر اکرم نے فر مایا: لقد انزل الی عشر آیات من اقامھن دخل الجنۃ مجھ پر دس آیتں ایسی نازل ہوئی ہیں کہ اگر کوئی ان پر عمل کا نمونہ بن جائے تو جنّت میں جائے گا۔ (بحوالہ: تفسیر روح المعانی ج ۱۸ ص ۲)۔ "قراء" (پڑھے) کے بجائے، "اقام" (عمل کرئے) کا لفظ ہمارے مذکورہ بالامفہوم کی تائید کرتا ہے کہ آیتوں میں ذکر شدہ مفاہیم عملی شکل میں ان کو اپنانا ہے نہ یہ کہ صرف زبان سے پڑھ لینا۔
سورہ موُمنون کے مندرجات
اس سورہ کے نام سے ہی ظاہر ہو رہا ہے کہ اس کا اہم حصہ مومنین کی برگزیدہ صفات کے بیان پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد عقیدے اور عمل کے سلسلے میں کچھ بحثیں ہیں جو دراصل مذکورہ صفات ہی کی تکمیل کا بیان ہے۔ اس سورہ کے جُملہ مطالب کو چند حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا حصہ پہلی آیت ( قد افلح المئو منون۔۔۔) سے شروع ہو کر بعد کی چند آیتوں تک مومنین کی فلاح و کامیابی کے سبب چند صفات پر مشتمل ہیں۔ ہم دیکھیں گے کہ یہ صفات کتنی جچی تلی، جامع اور زندگی کے انفرادی اور اجتماعی، کئی پہلوؤں کو دامن میں لیے ہوئے ہیں۔ دوسرا حصہ چونکہ پہلے حصّے میں بیان شدہ تمام اوصاف کی بنیاد توحید اور ایمان باللہ پر ہے۔لہذا اس حصہ میں معرفت ذات ہی کی مختلف علامتوں اور عالم کائنات میں اللہ کی بہت سی آفاقی اور ذاتی نشانیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ کائنات کی آفرینش وابتداء کے حیرت انگیز نظام میں سے آسمان، زمین، انسان اور جانور وں کی پیدا ئش اور نباتات کواللہ کی عجیب لا ریب قدرت کے کرشمے شمار کیا گیا ہے۔ تیسرا حصہ: اس حصّے میں عملی جہت کی تکمیل کے لیے چند عظیم پیغمبروں مثلاًحضرت نوح(ع)، ہود(ع)، موُسی (ع) اور عیسی (ع) کی کچھ سبق آموز سوانح بیان کی گئی ہے اور ان کی زندگی کے بعض نشیب وفراز بیان کئے گئے ہیں۔ چوتھا حصہ: اس حِصّے میں متکبر اور مغرور طاقتوں سے خطاب کیا گیا ہے۔ منطقی دلائل بلکہ تند و تیز تنبیہوں کے ذریعے انہیں اللہ کی طرف متوجہ کیا گیا ہے تاکہ رجوع الی للہ پیدا ہو سکے۔ پانچواں حصہ اس حِصّے میں ا ختصار کے ساتھ معاد اور قیامت کا ذکرہے۔ چھٹا حصہ اس حِصّے میں کائنات پر اللہ کی حاکمیت اعلیٰ اور ہر جگہ پر اس کے حکم کے اثر و نفوذ کا ذکر کیا گیا ہے۔ ساتواں اور آخری حصہ اس حِصّے میں قیامت، حساب کتاب، نیک لوگوں کی جزاء اور بد اعمالیوں کی سزا کا ذکر کرتے ہوئے انسان کی غرض خلقت کے بیان کے ساتھ سورہ کا اختتام ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے کہ اعتقاد عملی اور پیدائش و آفرینش سے متعلق مسائل اور مومنین کے سیر و سلوک کو شروع سے آخر تک بیان کرنے والی یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی۔ مگر بعض مفسرین کے بقول اس سورت کی چند آیتں مدینہ میں نازل ہوئیں۔ چونکہ اس سورة میں زکوة سے متعلق آیت موجود ہے اور سب کو معلوم ہے کہ زکوة کا حکم مدینہ میں آیا۔ لہذا یہ خیال پیدا ہوا کہ یہ سورت ساری کی ساری مکہ میں نازل نہیں ہوئی۔ سورہ توبہ کی آیت نمبر 103: خذمن اموالھم صدقۃ۔۔۔۔ جب نازل ہوئی تو پیغمبر اکرمﷺ نے بعض اشخاص کو حکم دیا کہ مختلف علاقے کے لوگوں سے وصولی کر یں۔ البتہ ذہن میں رہے کہ زکوٰة کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ اس سے مراد زکوة واجب ہی نہیں بلکہ زکوة مستحبی بھی اس میں شامل ہے۔ چناچہ اکثر روایات میں ہے کہ نماز و زکواة ساتھ ساتھ رہی ہیں۔ بعض علماء کے خیال میں مکّہ میں بھی زکوٰة واجب تھی مگر اجمالی طور پر یعنی ہر مسلمان پر واجب تھا کہ اپنے مال میں سے ایک معین مقدار غریبوں اور محتاجوں کو دے۔ جب مدینہ میں اسلامی حکومت قائم ہو گئی تو باقاعدہ ایک نظام زکواة تشکیل دیا گیا۔ نصاب مقرر کیے گئے۔ عمّال کا تقرر ہوا اور اسلامی مملکت کے مختلف حِصوں سے زکواة کی وصولی حکومتی سطح پر کی گئی۔ (تشریحی نوٹ: اس سلسلے میں امام محمد باقرؑ اور امام صادق علیہ السلام سے ایک روایت ہے: فرض اللہ الزکواة مع الصلوٰة یعنی: اللہ نے زکوٰة کو نماز کے ساتھ واجب فرمایا۔)
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔
مومنین کے نمایا ں اوصاف
Tafsīr Nemūna · Vol. 4پہلے بھی بیان کیا جا چکا ہے کہ اس سورہ کا نام اس کی ابتدائی آیتوں کی وجہ سے ہے جو مومنین کی خصوصیات پر مغزاور با معنی چھوٹے چھوٹے جملوں میں بیان کرتی ہیں۔ توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ مومنین کے اوصاف کے بیان سے پہلے ان کی پُر کیف اور مایہ ناز زندگی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔تاکہ دلوں میں اس بلند و بالا مرتبے کو حاصل کرنے کا ذوق وشوق پیدا ہو۔ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے۔مومنین کامیاب ہو گئے اور ہر لحاظ سے اپنے مقصد کو پا گئے۔ (قد افلح المومنون) "افلح"، "فلح " اور "فلاح" سے ہے۔اس کے اصلی معنی چیرنا اور پھا ڑ نا ہیں اس کے علاوہ ہمہ جہت کامیابی حاصل کرنا، مقصد کو پا لینا اور خوش نصیب ہونا بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے دراصل جتنے افراد کامیاب نجات یافتہ اور خوش بخت ہوتے ہیں وہ ہر قسم کی رکاوٹوں کو چیر کر ہی اپنی منزل کامیابی کی طرف راستہ بناتے ہیں۔ البتہ فلاح اور کامیابی مادی اور معنوی دونوں پہلوں پر محیط ہے اور مومنین کے لیے دونوں جہات مراد ہیں۔ دنیاوی کامرانی و کامیابی یہ ہے کہ انسان آزاد، سر بلند، مستحکم اور بے نیاز رہے اور ایمان کے بغیر یہ مقام حاصل نہیں ہوا کرتا۔ اُخروی کامیابی یہ ہے کہ اللہ کے جوارِ رحمت میں اچھے ساتھیوں اور ابدی نعمتوں میں باوقار اور سر بلند رہے۔ راغب اپنی کتاب مفردات میں کہتے ہیں۔ دنیاوی فلاح تین چیزوں میں مضمر ہے۔۱۔ بقاء ۲۔ بے نیازی ۳۔ عزت و وقار، اور فلاح اخروی بھی چار چیزوں میں ہے۔ ۱۔ بقاء غیر فانی ۲۔ ہر قسم کی احتیاج سے بے نیازی ۳۔ ہمہ جہت وقار اور عزت ۴۔ ہر قسم کی جہالت سے نجات دینے والا علم۔ اس کے بعدمومنین کے اوصاف میں سب سے پہلے نماز کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے۔وہ ایسے لوگ ہیں جو عالم نماز میں سراپا عجز وانکسار بنے ہوئے ہیں ( الذین ھم فی صلاتھم خاشعون) خاشعون، خشوع سے ہے اس کا معنی جسمانی اور ذہنی عجز وانکساری ہے۔یہ لفظ اس حالت کو بیان کرتاہے جوایک بزرگ وبرتر ذات کی موجودگی میں کسی شخص میں پیدا ہوتی ہے۔اس کے اعضاء وجوارح سے ظاہر ہوتی ہے۔ غور طلب نکتہ یہ ہے کہ قرآن مجید مومنین کے نماز پڑھنے کو اس کی علامت شمار نہیں کرتا بلکہ نماز میں عجز وانکساری کو ان کی خصوصیت قرار دیتا ہے یعنی واضح کرتا ہے کہ مومنین کی نماز بے معنی اور بے روح حرکات وسکنات نہیں، بلکہ عالم نما ز میں وہ پوری طرح اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور غیر اللہ سے مکمل طور پر منقطع ہوتے ہیں اور صرف ذات پرور دگار عالم سے رشتہ جوڑ ے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایسے میں وہ ذہنی اور جسمی طور پر اپنے پالنے والے سے راز ونیاز کرتے ہوئے عالم استغراق میں کچھ اس طرح کھوجاتے ہیں کہ ان کے بدن کے ہر ایک عضو پر اس کا اثر ہوتا ہے۔ وہ ذاتِ لامتناہی کے مقابلے میں اپنے نفس کو ایک ذرہ اور بحر نا پیدا کنار کے مقابلے میں ایک قطرہ سمجھنے لگتے ہیں۔نماز کے لمحات ان کے لیے تہذیبِ نفس اور تربیت روح کا بہترین ذریعہ ہوتے ہیں۔ پیغمبر اکرمﷺ سے روایت ہے کہ آپ نے ایک شخص کو حالت نماز میں اپنی داڑھی سے کھیلتے ہوئے دیکھا، تو آپ نے فرمایا: (اما انہ لو خشع قلبہ لخشعت جوارحہ) اگر اس کا دل حالتِ عجزمیں ہوتا تو اس کے اعضاء بھی عجز میں ہوتے۔ یہ روایت اس حقیقت پر روشنی ڈال رہی ہے کہ نماز میں خشوع، ایک باطنی کیفیت ہے جو ظاہر پر اثر انداز ہوتی ہے۔عظیم ہادیانِ اسلام عالمِ نماز میں اس درجہ خضوع وخشوع میں ہوتے تھے کہ غیر اللہ سے بالکل بے گانہ ہوجاتے تھے۔ ایک حدیث میں ہے کہ اس آیت کے نزول سے پہلے کبھی پیغمبر اسلامﷺ حالتِ نماز میں آسمان کی طرف دیکھ لیا کرتے تھے مگر اس آیت کے نزول کے بعد آپ ہمیشہ اپنی نظریں زمین کی طرف رکھتے تھے۔[بحوالہ: تفسیر صافی اور مجمع البیان، زیر بحث آیت کی تفسیر کے ذیل میں] تفسیر صافی اور مجمع البیان، زیر بحث آیت کی تفسیر کے ذیل میں، عالم نماز میں عجز وانکساری کے بعد مومنین کی دوسری صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوتاہے۔ نیز وہ ہر قسم کی بے ہودگی سے منہ موڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ (والذین ھم عن اللغو معرضون) دراصل مومنین کی زندگی کی تمام حرکات وجہات، مقصد اور نصب العین کے حصول کے لیے ہیں۔اور مقصد بھی تعمیر ی اور مفید، کیونکہ لغو کا مطلب بے مقصد یاوہ مقصد جس کا مفید نتیجہ برآمد نہ ہو،ہے۔ بقول عظیم مفسر وں کے لغو کے مندرجہ ذیل معانی ہیں۔ i۔ بے مقصد، بے ہودہ اور مفید نتیجہ نہ دینے والا فعل ii۔ ہر وہ گفتگو یاعمل جو خاطر خواہ نتیجہ نہ رکھتا ہو، iii۔ باطل iv۔ گناہ v۔ جھوٹ vi۔گالی یا جوابی گالی vii۔ موسیقی اور گانا بجانا۔ viii۔ شرک مندرجہ بالا سب کی سب معانی مجموعی اور کلی معنی کا حِصہ ہیں۔لغو، میں صرف بے ہودہ باتوں اور افعال کا مفہوم ہی نہیں پایا جاتا، بلکہ وہ بے ہودہ یا فضول قسم کے افعال جو انسان کو اللہ کی یاد سے غافل کر دیں، نیز معقول اور مفید امور پر غور و فکر کرنے کا موقع نہ دیں،سب لغوکے مفہوم میں شامل ہیں۔ درحقیقت مومنین ایسے تر بیت یا فتہ لوگ ہیں جو نہ صرف باطل افکار، بے ہودہ گفتگو اور فضول کاموں میں مشغول نہیں ہوتے بلکہ ان سے منہ موڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد مومنین کی تیسری صفت بیان کی گئی ہے جو معاشرتی اور مالی پہلو رکھتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وہ ایسے لوگ ہیں جو زکواة دیتے ہیں۔ ( والذین ھم للزکوٰة فاعلون) ہم سطور بالا میں بیان کر آئے ہیں کہ چونکہ یہ سورت مکّی ہے اور مکّہ میں عام زکوٰة کا حکم نہیں آیا تھا۔ لہذا مفسرین نے اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں مختلف خیالات کا اظہار کیا ہے۔ [تشریحی نوٹ: یہاں زکواة، مصدری معنی رکھتی ہے اسی لیے بعد میں فاعلون آیا ہے مگر بعض مفسرین نے زکواة کے مشہور معنی ہی سمجھے ہیں،یعنی اپنے مال سے ایک مقدار، راہ خدا میں خرچ کرنا، اس صورت میں، فاعلون یعنی موٴدون، (اداکرنے والا) ہو گا۔) ہماری نظر میں صحیح بات یہ ہے کہ اس آیت میں زکواة کا حکم واجب زکواة کے لیے مخصو ص نہیں ہے بلکہ مستحبی زکاتیں شریعت اسلام میں بکثرت تھیں جس زکات کا حکم مدینہ میں آیا، وہ واجب تھی لیکن مستحبی زکواة کا حکم مدینہ سے پہلے بھی آچکا تھا۔ بعض مفسرین کے بقول مکّہ میں بھی واجب زکٰوة کا حکم تھا مگر نصاب مقرر نہ تھا۔ مسلما ن پابند تھے کہ اپنے مال میں سے کچھ مقدار محتاجوں اور ضرورت مندوں کو دیں۔ جب مدینہ میں اسلامی حکومت کی داغ بیل ڈالی گئی، بیت المال تشکیل دیا گیا اور ایک مالی نظام کے طور پر زکواة کا سلسلہ شروع ہو گیا، تب نصاب مقرر ہوا اور پیغمبر اکرم (ص) کی طرف سے ملک کے مختلف حِصوں میں عمال بھیجے گئے تاکہ حکومتی سطح پر زکواة جمع کر سکیں۔ البتہ فخر الدین رازی اور آلوسی جیسے مفسرین نے اور راغب نے اپنی کتاب ’’مفردات ‘‘ میں لکھا ہے کہ اس آیت میں زکواة سے مراد ہر قسم کا کارِ خیر، تزکیہ اور تہذیب نفس ہے مگر ہماری نظر میں یہ بعید بات ہے کیونکہ قرآن مجید کے اسلوب کے تحت جہاں بھی نماز اور زکواة اکٹھے ذکر ہوئے ہیں، وہاں زکواة سے مراد مالی خرچ ہے۔ لہذ ا یہاں بھی زکواة راہ خدا میں خرچ کرنے کے معنی میں ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور معنیٰ کرنے کے لیے قرینہ کی ضرورت ہے جو یہاں مفقود ہے۔ مومنین کی چوتھی صفت پاکدامنی،عفت اور ہر قسم کے غیر قانونی جنسی اختلاط سے پرہیز ہے۔ ارشاد ہورہا ہے وہ ایسے لوگ ہیں جو اپنی شرم گاہ کو بے حیائی سے محفوظ رکھتے ہیں،( والذین ھم لفروجھم حافظون) (تشریحی نوٹ: فروج، فرج، کی جمع ہے اور یہ افزائش نسل کی طرف اشارہ ہے۔) البتہ اپنی بیویوں اور کنیز وں سے جنسی تلذذ حاصل کرتے ہیں اور ایسا کرنے میں وہ کسی طرح بھی قابل ملامت نہیں ہیں۔ ( إِلاَّ عَلی اَزْواجِہِمْ اَوْ ما مَلَکَتْ اَیْمانُھُمْ فَإِنَّھُمْ غَیْرُ مَلُومین) نفسانی خواہشات میں جنسی خواہش، بڑی طاقت اور سر کش ہے۔ لہذا اس پر قابو پانے کے لیے قوی ایمان اوربلند درجے کے تقویٰکی ضرورت ہے۔ اس نکتے پر روشنی ڈالتے ہوئے بعد کی آیت میں ارشاد ہو رہا ہے جو شخص (قانونی تلذذ جنسی) کے علاوہ کوئی اور طریقہ اختیار کرے اور حد سے تجاوز کرنے والا ہے۔ (فَمَنِ ابْتَغی وَراءَ ذلِکَ فَاُولئِکَ ہُمُ العادُونَ) شرم گاہ کی حفاظت، کی اصطلاح اس حقیقت کو آشکار کر رہی ہے۔ اگر جنسی خواہش کو دبا نے کے لیے نفس کی مسلسل اور برابر نگرانی نہ کی جائے تو جنسی بے راہ روی کا زبر دست اندیشہ ہے۔ ’’بیویوں ‘‘ سے مراد دائمی اور وقتی دونوں ازدواج ہیں۔البتہ بعض اہل سنت مفسرین اس مسئلے میں ایک بڑی غلط فہمی کا شکار ہوئے ہیں جس کا ذکر آگے آئے گا۔ ”غیر ملومین “ (وہ قابل ملامت نہیں ہیں) کی اصطلاح شاید گمراہ عیسائیوں کے باطل افکار کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ بعض عیسائی جو اصل مذہب عیسایت سے منحرف ہو چکے ہیں، یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ ہر قسم کا جنسی اختلاط حرام ہے اور انسانی شرف کے منافی ہے اور اسے ترک کرنا انسان کی شان تصور کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان میں رومن کیتھولک فرقے کی عورتیں اور مرد تارک الدنیا ہوتے ہیں اور کنوار پن میں ہی زندگی بسر کرلیتے ہیں اور شادی کو روحانی منصب کے خلاف تصور کرتے ہیں (اگرچہ در پردہ وہ جنسی اختلاط کے کئی راستے اپنا لیتے ہیں) عیسائی مصنفین نے خود اس عنوان سے جو کتابیں لکھی ہیں، وہ پادریوں اور راہباوں کے جنسی اختلاط کے واقعات سے بھری پڑی ہیں۔(تشریحی نوٹ: ویل ڈیورانٹ کی مشہور تاریخ ملاحظہ ہو۔) بہرحال، یہ نا ممکنات میں سے ہے کہ جو فطری میلان اور خواہش ایک بہترین نظام کے اہم جزو کے طور پر پیدا کیا جائے اور پھر اس کی تسکین کو حرام سمجھا جائے یا اسے انسانی شرف کے منافی سمجھا جائے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ بیوی کی حلّت کے سلسلے میں بعض استثنائی مواقع پر قربت سے ممانعت مثلاً ان کے ماہانہ مخصوص ایام میں، اصل مسئلہ سے کوئی تضاد نہیں رکھتا۔کنیزوں کے حلال ہونے کے مسئلے میں بھی بعض شرائط عائد کی گئی ہیں جن کا ذکر فقہی کتابوں میں موجود ہے۔یوں نہیں کہ ہر کنیزہر مالک پر ہر حالت میں حلال ہو۔ بہت سے پہلووٴں اور حالات کے اعتبار سے کنیزوں کی شرائط بیویوں کی شرائط سے ملتی جلتی ہیں۔ ز یر بحث آٹھویں آیت میں مومنین کی پانچویں اور چھٹی نمایاں صفت کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوتاہے۔وہ ایسے لوگ ہیں جوامانتیں لوٹا تے ہیں اور وعدہ وفا کرتے ہیں (وَالَّذینَ ھُمْ لِاَماناتِہِمْ وَ عَہْدِہِمْ راعُونَ) امانتوں کی حفاطت اور ان کا صحیح وسالم مالک کو لوٹانا اپنے وسیع تر مفہوم میں مومنین کی نمایاں صفت ہے اور اسی طرح خالق ومخلوق سے کیے گئے وعدوں کو نبھانا بھی امانت کے وسیع تر مفہوم میں اللہ اور انبیاء کی امانتوں میں شامل ہے۔ اسی طرح لوگوں کی امانتیں بھی اس میں آتی ہیں۔ اللہ کی ان گنت نعمتوں میں سے ہر ایک اس کی امانت ہے۔ دین، قانون الہی، آسمانی کتابوں دینی راہنماوٴں کی ہدایات سب کی سب امانتیں ہیں۔اور اسی طرح اولاد، مال منصب اور مقام بھی۔ مومنین ساری زندگی ان امانتوں کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کی ادایئگی کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔اور دنیا سے جاتے ہوئے اپنی شریف النفس نسل جِسے انہوں نے ان کی حفاظت کے لیے تربیت کیا ہوتا ہے۔ کے سپرد کردیتے ہیں۔ لفظ امانت، کی عمومیت کی دلیل لفظ کی وسعت اور اطلاق کے علاوہ، امانت کے مفہوم کے بارے میں متعدد روایات بھی ہیں۔جو امانت کی تفسیر میں بیان ہوئی ہیں،کبھی امانت سے مراد آئمہ معصومینؑ کی امانت ہے جسے ایک امام دُنیا سے جاتے ہوئے اپنے بعد کے امام کے سپرد کرتا ہے (بحوالہ: ۲ ۳ تفسیر برہان ج ۱ ص ۳۸۰)۔ اور کبھی مطلقاً ولایت و حکومت۔ امام محمد باقرؑ اور امام صادقؑ کے معتمد علیہ شاگرد جناب زرار ہ سورہ نساء آیت نمبر ۵۸ (ان توٴدو الامانات الیٰ اٴھلھا) کی تفسیر کے ذیل میں فرماتے ہیں: یہاں امانت سے مراد حکومت وولایت ہے جس کو اہل کے سپرد کرنے کا حکم دیا ہے۔(بحوالہ: ۲ ۳ تفسیر برہان ج ۱ ص ۳۸۰)۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت وولایت اہم ترین امانت ہے جسے اس کے اہل کے سپرد کرنا چاہیے .اسی طرح عہد وپیمان نبھانے کے لیے عمومی دلیل بھی قرآن مجید کی دیگر آیات میں بیان کی گئی ہے منجملہ فرمایاگیا ہے۔ (وَ اَوْفُوا بِعَہْدِ اللَّہِ إِذا عاہَدْتُمْ)( سورہ نحل ۹۱) جب تم اللہ سے کوئی وعدہ کرو تو وفا کرو، ( نحل ۹۱) توجہ طلب بات یہ ہے کہ بعض آیتوں میں امانت کی ادایئگی یا امانت میں خیانت نہ کرنے کاحکم دیا گیا ہے جب کہ زیر بحث آیت میں صرف امانت کا خیال رکھنے کاحکم دیا گیا ہے جو امانت کی مکمل حفاظت نگرانی اور صحیح ادائیگی، دونوں پر محیط ہے اس بنا پر اگرکبھی کسی امانت کے ضمن میں اس چیز کی اصلاح میں کوتاہی کی وجہ سے نقصان کاڈر ہو تو امانت دارکی یہ ذمہ داری ہو گی کہ مطلوبہ اصلاح بھی کرے تو یوں امانت کے ذیل میں تین کام سُپرد کیے جاتے ہیں۔ ۱۔ا دائیگی ۲۔ حفاظت ۳۔ اصلاح۔ بہرحال، یہ مسلمہ امر ہے کہ انسان کے اجتماعی نظام کی بنیاد وعدوں کی وفاامانتوں کی حفاظت اور ان کی ادایئگی پر ہے۔ ورنہ معاشرے کا توازن بگڑ جائے اور ہر چیز درہم برہم ہوجائے .یہی وجہ ہے کہ لادین افراد اور معاشرے بھی اپنے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے وعدہ خلافی اور امانت میں خیانت سے بچتے ہیں۔اور کم ازکم اپنے مجموعی واجتماعی مسائل میں ان دو امور کی حفاطت اپنی ذمہ داری جانتے ہیں۔ امانت کی اہمیت کے عنوان سے ہم اسی تفسیر کی جلد نمبر ۳ میں، سورہٴ نساء کی آیت ۱۸۵، اور جلد نمبر ۷ میں سورہٴ انفال آیت نمبر۲۷ کی تفسیر کے ذیل میں تفصیلاً بحث کرچکے ہیں، نیز وعدہ وفائی کے عنوان سے جلد ۴ میں سورہٴ مائدہ آیت ۱۱، اور جلد۱۱ میں سورہٴ نحل کی آیت۱۱ کی تفسیر کے ذیل میں مفصل لکھ چکے ہیں۔ نویں آیت میں مومنین کی آخری نمایاں صفت کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے۔وہ ایسے لوگ ہیں جو اپنی نمازوں کی حفاظت کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ (وَ الَّذینَ ھُمْ عَلی صَلَواتِہِمْ یُحافِظُونَ) توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ مومنین کی پہلی بیان شدہ خصوصیت وصفت، نماز میں خشوع وخضوع، ہے اور آخری نماز کی حفاظت، مختصر یہ کہ مومنین کے اوصاف کی ابتداء بھی نماز ہے اور انتہابھی نماز، کیونکہ نماز خالق ومخلوق کے درمیان بہترین رابطہ ہے۔نماز اعلی تربیت کا اعلی سطح کا مدرسہ ہے۔نماز روح کی بیداری اور گناہوں سے بچاوٴ کا ذریعہ ہے۔مختصر یہ کہ نماز تمام آداب وشرائط کے ساتھ اداکی جائے تو تمام تر نیکیوں اور خوبیوں کے لیے قابل اطمینان وسیلہ بن جاتی ہے۔ یہ بتانا ضروری ہے کہ اس سلسلے کی پہلی اور آخری آیت دو مختلف مفاہیم پیش کر رہی ہیں۔ پہلی آیت میں، صلواة، مفرد استعمال ہوا ہے جبکہ آخری میں، صلوات، جمع کی صورت میں آیا ہے۔ پہلی آیت روح نماز، یعنی خضوع وخشوع اور ایک باطنی کیفیت کی اہمیت بیان کر رہی ہے اور یہ وہ کیفیت ہے جو انسان کے تمام اعضاء وجوارح پر اثرانداز ہوتی ہے؛ جبکہ آخری آیت نماز کے اوقات، آدابِ شرائط اور مقام نماز، تعدد وغیرہ کی اہمیت کو اُجاگر کر رہی ہے گویا کہ سچّے مومن نمازیوں کو ہدایت دے رہے ہیں۔کہ ہر ایک نماز کی ادائیگی کے عالم میں تمام مذکورہ آداب وشرائط کا لحاظ رکھنا از بس ضروری ہے۔نما ز کی اہمیت کے بارے میں ہم اسی تفسیر کی جلد ۵ میں سورہ ہود آیت ۱۱۴ اور جلد ۲ میں سورہ نساء آیت نمبر ۱۰۳ اور جلد نمبر ۷ میں سورہ طٰہ آیت ۱۴ تفسیر کے ذیل میں مفصل بیان کر چکے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں۔ مومنین کے نمایاں اوصاف کے بیان کے بعد نتیجہً بیان کیا جاتا ہے۔وہی وارث ہیں۔ اوٴلئک ھم الوارثون، وہی ہیں جو فردوس بریں کے بھی وارث ومالک ہیں اور اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گے۔ ( الّذین یرثون الفردوس ھم فیھا خالدون) فردوس، لغوی طور پر اس لفظ پر کافی اختلاف پایاجاتا ہے کہ دراصل یہ کس زبان کا لفظ ہے۔بعض اسے رومی زبان کا لفظ سمجھتے ہیں۔بعض کے نزدیک یہ عربی زبان کا لفظ ہے اور بعض کا خیال میں یہ فارسی سے آیا ہے۔بہرحال، اس کا معنی باغ یا ایسا باغ ہے جس میں زندگی کی تمام نعمات خداوندی موجود ہوں۔بہرحال، یہ ایسی بہشت بریں ہے۔جو جنّت کے بہترین باغوں میں سے ہے۔ وارث ہونے سے شاید یہ مراد ہو کہ مومنین بغیر زحمت کے اس مقام تک پہنچ جا ئیں گے۔ جس طرح انسان بغیر کسی زحمت وکوشش کے وراثت پا لیتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ مومنین کو جنتّ تک پہنچنے کے لیے دنیا میں تزکیہ نفس کے عمل کو پورا کرتے ہوئے بڑی جانسو ز مشقت اٹھا نا پڑی۔ مگر فردوس بریں کی شکل میں جتنی عظیم، کثیر اور اعلی جزاء انہیں دی جا ئے گی، اس کے مقابلے میں ان کے اعمالِ دنیا گویا کچھ بھی نہیں اور یوں معلوم ہو گا جیسے بغیر کچھ کیے ہی اتنا کچھ مل گیا ہو۔ اس سلسلے میں پیغمبر اسلام کی ایک حدیث پیش نظر رہنی چاہئے۔فرماتے ہیں: (ما منکم من احد الا ولہ منزلان، منزل فی الجنہ، ومنزل فی النار فان مات ودخل الناّر ورث اھل الجنّة منزلہ) تم میں سے ہر ایک شخص کے دو گھر وں کا مالک ہے۔ایک جنتّ میں دوسرا جہنم میں۔ اگر ایک شخص مرجائے اور دوزخ میں جائے تو اس کا جنتّ والا گھر، اہل جنتّ کو ورثے میں مل جائے گا۔ ’’ورثہ ‘‘ کی اصطلاح کے ذیل میں مفسرین نے اس احتمال کو بھی بعید از قیا س نہیں جانا کہ یہ لفظ مومنین کے انجام کے طور پر استعمال کیا گیا ہے چونکہ ورثہ آخر کار ورثاء تک پہنچتا ہے۔ بہرحال، مندرجہ بالا آیتوں کے مطابق جنتّ کا یہ عالی شان درجہ ان مومنین کے لیے مخصوص ہے جو مذکور ہ اوصاف کے حامل ہوں۔رہ گئے دوسرے جنتی لوگ تووہ نچلے درجے میں ہوں گے۔
چند اہم نکات: ۱۔ افلح کا مفہوم
فعل ماضی کا صیغہ ہے مومنین کی حتمی کامیابی کے سلسلے میں فعل ماضی کا استعمال تاکید کے مفہوم میں ہے۔ یعنی ان کی کامیابی اور فلاح اس قدر مسلمہ امر ہے گویا کہ پہلے ہی طے ہے مزید برآں جمُلے کے آغاز میں،قد، کا استعمال تاکید مزید کے لیے ہے۔ خاشعون، معرضون، راعون، اور یحافظون اسم فاعل، یا فعل مضارع، کے صیغے ہیں۔ اس حقیقت کو ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ اعلیٰ اوصاف وقتی اور عارضی نہیں ہیں بلکہ مستقل و دائمی ہیں۔
۲۔ دائمی اور کم مدتی شریکِ حیات:
مذکورہ بالا آیتوں سے معلوم ہوتاہے کہ عورتیں مردوں پر دو طرح سے حلال ہیں۔ ۱۔ بیوی کی صورت میں ۲۔ کنیز اور لونڈی کی صورت میں۔(خاص شرائط کے ساتھ) اس لیے یہ آیت فقہی کتابوں میں باب نِکاح میں کئی مباحث کے لیے مستند قرار پائی ہے۔ بعض اہل سنت مفسرین نے کوشش کی ہے کہ اس آیت کو نِکاح موقت کی نفی اور اسے زنا ہی کے زیل میں ثابت کرنے کے لیے سند کے طور پر پیش کریں۔ یہ حقیقت ہے کہ نِکاح موقت متعہ مسلمہ طور پر پیغمبر اکرمﷺ کے زمانے میں رائج تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ آغازِ اسلام میں بہت سے صحابہ نے اس پر عمل کیا تھا اور کوئی مسلمان اس کی صحت سے انکار نہیں کرتا، اور کوئی مسلمان اس کی صحت سے انکار نہیں کرتا، زیادہ سے زیادہ ا س میں یہ اختلاف پایا جاتا ہے کہ ابتدائے اسلام میں رائج تھا۔مگر بعد میں منسوخ کردیا گیا۔بعض کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے اسے حرام قرار دیا۔ اس مسلمہ حقیقت کے پیش نظر مذکورہ اہل سنّت علماء کے نظریئے کا یہ مفہوم سمجھا جائے گا ( العیاذ بااللہ) پیغمبر اکرم نے زنا کو جائز جانا (چاہے تھوڑی سی مدت کے لیے یہی سہی) مگر یہ نا ممکنات میں سے ہے۔بہرحال، اس بحث سے قطع نظر، غور کیجئے کہ حقیقت یہ ہے کہ، متعہ، بھی نکاح کا ایک طریقہ ہے اور اس کی اکثر شرائط وہی ہیں۔جو دائمی شادی کی ہیں۔اس لیے یہ بھی ( الاّ علٰی ازواجھم) کے جُملے میں شامل ہے۔یہی وجہ ہے کہ کچھ مدتی شادی کا صیغہ نکاح پڑھتے ہوئے وہی الفاظ اور صیغے، انکحت، زوجت، مدت کی قید کے ساتھ استعمال کیے جاتے ہیں اور یہی اس کی حِلیت اور جواز کی بہترین دلیل بھی ہے۔ اسی تفسیر کی جلد ۲ میں سورہ نساء آیت نمبر ۲۴ کی تفسیر کے ذیل میں ہم نکاح موقت اسلا م میں اس کا شرعی جواز اس کا منسوخ نہ ہونا اور اس کا اجتماعی فلسفہ وغیرہ جیسے مسائل پر سیرحاصل بحث کر چکے ہیں۔
۳۔ خضوع وخشوع رُوحِ نماز ہے
اگر قرائت رکوع، سجود اور ازکار کو ایک جسم سے تشبیہ دیں تو حقیقت نماز کی طرف اور اُس کی طرف جس کی نماز پڑھتے ہیں، قلبی توجہ اور باطنی یکسوئی روحِ نماز ہے۔ ’’خشوع‘‘، عجزوانکساری اور ادب کے ساتھ دلی توجہ کا دوسرا نام ہے۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ مومنین نماز کو ایک بے روح ڈھانچہ نہیں سمجھتے۔ بلکہ ان کی پوری توجہ نماز کی باطنی کیفیت اور حقیقت پر ہوتی ہے۔ اکثر لوگ ایسے ہیں جو نمازاز حد کوشش کرتے ہیں کہ عالم نماز میں خضوع وخشوع اور اللہ کی طرف دلی توجہ کریں۔ مگر وہ ایسا کر نہیں پاتے۔ نماز اور دیگر عبادات کے دوران خضوع وخشوع اور حضور قلب کے لیے مندرجہ ذیل امور پر توجہ مرکوز رکھنی چا ہیے۔ ۱۔ معلومات کو ا س حد تک پہنچا ئے کہ انسان کی نگاہ میں دنیا کی ذِلت وپستی اور اللہ کی رفعت وبلندی اور عظمت وبزرگی واضح ہو جائے تاکہ کوئی بھی دنیا وی امر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ی کے وقت اپنی طرف متوجہ نہ کر سکے۔ ۲۔ پر یشان خیالی اور ذہنی انتشارجو اس کو ایک طرف مرکوز رکھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے لہذا انسان جتنا ان کو کم کرے دلی توجہ اور یکسوئی میں ممدومعاون ثابت ہو گا۔ ۳۔ اس سلسلے میں نماز اور دیگر عبادات کے لیے مقام کا محل وقوع بھی خاصا موٴثر ہے۔اسی بنا پر ایسی جگہوں پر نماز ادا کرنا مکروہ ہے جو انسان کی توجہ ہٹانے کا سبب ہو ں مثلاً آیئنے کے سامنے نماز پڑھنا، کھلے دروازوں کے سامنے جہاں سے لوگ کی آمدو رفت ہوتی ہو، نماز پڑھنا اور کسی تصویر یا پرکشش منظر کے سامنے نماز ادا کرنا وغیرہ۔ اسی وجہ سے مساجد زیب وزینت اور آرائش سے خالی ہونی چاہیں تاکہ انسان کی توجہ مکمل طور پر اللہ کی طرف ہی رہے۔ ۴۔ گناہ سے پرہیز کرنا، کیونکہ گناہ کے ارتکاب سے انسان اللہ سے دُور ہوجاتا ہے۔اور نماز میں حضور قلبی سے محروم رہتا ہے۔ ۵۔ نماز میں جو کچھ پڑھا جاتا ہے۔اس کے معنی اور اس کے افعال واذکار سے واقفیت حاصل کرنا۔ ۶۔ نماز کے مخصوص آداب اور مستحبات کو اداکرنا چاہیے۔ان کا تعلق مقدماتِ نماز سے ہو یا خود اصل نماز سے۔ ۷۔ مذکورہ بالا تمام امور سے قطع نظر خضوع وخشوع کے حصول کے لیے مسلسل اور پیہم مشق اور پوری توجہ کی ضرورت ہے۔کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان شروع شروع میں تھوڑی دیر کے لیے یکسوئی پیدا کر لیتا ہے اور اگر وہ اس کی مسلسل مشق کرے اور ہر نماز میں برابر اس کے اضافے کی کوشش کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ ایسا ملکہ پیدا نہ کرلے کہ ہمیشہ حالت، نماز میں وہ غیر اللہ سے بالکل بے نیاز ہو جائے۔(قابل غور ہے)
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
رحم مادر میں، جنین کے ارتقائی مراحل
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیتوں میں سچّے مومنین کے اوصاف اور ان کی بہترین اُخروی جزاء کا ذکر اور ان کی صفوں میں شامل ہونے کے شوق کو اُجاگر کیا گیا ہے۔لیکن کیونکر اور کس طریقے سے؟ زیر بحث اور اس کے بعد آنے والی آیتوں کاایک حصِہ ایمان اور معرفت کے حصول کے بنیادی طریقوں کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ پہلے انسان کے باطنی اور اندرونی اسرار ورموز کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ اس مقام پر قرآن درحقیقت انسان کو عالم النفس کی سیر کرواتا ہے۔ اور اس کے بعد میں آنے والی آیتوں میں انسان کی توجہ خارجی کائنات کے حیرت انگیز وجود کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ اور یہ دراصل سیر آفاق ہے۔ سب سے پہلے ارشاد ہوتا ہے: ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا (وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسانَ مِنْ سُلالَةٍ مِنْ طین) [تشریحی نوٹ: سلالة (بروزن، عصارہ) اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز سے لی جائے اور درحقیقت اس کانچوڑ اور جوہر ہو، (تفسیر مجمع البیان)] بے شک یہ انسان کی خلقت کی پہلی منزل ہے۔وہ انسان جو بے پناہ قابلیتوں اور صلاحیتوں کا مالک ہے اتنی رفعت کا حامل ہے کہ افضل مخلوقات اور افضل موجودات اس کا طُرّہ ہے۔اس بے قیمت مٹی سے بنا ہے وہ مٹی جوبے اہمیت ہونے میں ضرب المثل ہے یہی تو اللہ کی قدرت کا کمال ہے کہ اس نے حقیر سے مادے سے رفیع شاہکار بانیا، اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے: پھر ہم نے اسے پُرامن جگہ پر بطور نطفہ ٹھرایا (ثُمَّ جَعَلْناہُ نُطْفَةً فی قَرارٍ مَکینٍ) دراصل، پہلی آیت عمومی طور پر تمام انسانوں کی خلقت کی ابتداء کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔اس میں بھی آدم شامل ہیں اور اس کی اولاد بھی اور یہ بتا رہی ہے کہ سب مٹی اور گارے سے پیدا کیے گئے ہیں۔دوسری آیت میں دوام اور افزائش نسل آدم کی طرف توجہ دلائی جارہی ہےکہ رحم مادر میں نر، مادہ کا نطفہ کس طرح ترکیب پاتا ہے۔ درحقیقت، یہ بحث سورہ سجدہ آیت ۷ اور میں بیان شدہ مطلب کے مشابہ ہے اور وہ یہ ہے: وبدء خلق الانسان من طین ثُم جعل نسلہ من سلالة من ماء مھین انسان کی ابتداء گارے سے ہوئی۔ پھر اس کی نسل ایک ٹپکنے والے حقیر پانی کے ذریعہ باقی رکھی گئی۔ رحم مادر کو قرار مکین پرُامن قیام گاہ کہہ کر انسانی جسم میں اس کی خاص حیثیت اور مقام کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ رحم، انسانی جسم میں ایک محفوظ ترین مقام پر واقع ہے۔ایک طرف ریڑھ کی ہڈی کا مضبوط ستون ہے۔ دوسری طرف ہنبیدے کی مانند کمر کی مضبوط ہڈیاں۔ تیسری طرف سے پیٹ کے تہ بہ تہ پردے اور چوتھے طرف بازووٴں کی حفاظت۔ یہ سب اس پرامن قیام گاہ کے واضح مظاہر ہیں۔ اس کے بعد رحم مادر میں نطفے کے تعجب انگیز اور ہوش رُبا مختلف مراحل اور خلقت کی مختلف صورتیں کو انسان کی دسترس سے باہر یکے بعد دیگر ے اس پرُامن قیام گاہ میں وقوع پذیر ہوتے ہیں۔کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: پھر ہم نطفے کو جمے خون کی شکل میں لیے آئے۔پھر جمے ہوئے خون کو چبائے ہوئے گوشت کی صورت میں تبدیل کر دیا گیا، پھر اس کو ہڈی کی شکل دی اور پھر ہڈیوں پر گوشت کی تہ چڑھا دی۔ (ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظاماً فَکَسَوْنَا الْعِظامَ لَحْماً ثُمَّ اَنْشَاْناہُ خَلْقاً آخَرَ فَتَبارَکَ اللَّہُ اَحْسَنُ الْخالِقینَ) نطفے کے مرحلے سمیت مذکورہ بالا پانچ مختلف مراحل تشکیل پاتے ہیں جن میں سے ہر ایک بجائے خود ایک حیرت انگیز عالم ہے۔ جو عجائبات کا مجموعہ ہے اور آج کے ترقی یافتہ دور میں جنین شناس جس پر گہری تحقیق کر رہے ہیں۔ بڑی بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ لیکن جس زمانے میں قرآن مجید نے، انسانی جنین، کی خلقت کے عجوبے کا انکشاف کیا تھا اس وقت اس سائنسی ترقی کا نام ونشان تک نہ تھا۔ آیت کے آخری حصِےّ میں واقعی اہم ترین مرحلے کی طرف اشارہ کیا جارہاہے۔یہ مرحلہ بلاشبہ سر بستہ اور معنی خیز ہے۔پھر ہم نے اس میں ایک نئی خلقت پیدا کر دی ( ثُمَّ اَنْشَاْناہُ خَلْقاً آخَر) وہ خدا جو خلق کرنے والوں میں سب سے بہترین ہے وہ بہت عظیم ہے۔( فَتَبارَکَ اللَّہُ اَحْسَنُ الْخالِقینَ) بےشک، رحم مادر میں تاریکی کے پردوں کے اندر حقیر پانی کے قطرے سے اتنی عمدہ خوبصورت اورعجیب و غریب کمالات کی حامل تصویر بنانے کا بے مثال کمال لائق مد تحسین و آفرین ہے اس حقیر سے موجود میں اتنی قابلیت اور صلاحیتیں بھر دینے والا علم وحکمت کا حامل لائق ستائش و تحسین ہے۔آفرین اس پر اس کی اس بے نظیر خلقت پر۔ ضمنی طور پر یہ بھی بیان ہو جائے کہ، خالق، مادہ خلق، سے ہے اور اس کا مطلب ماپنا اور پیمائش کرنا ہے عرب جب چمڑے کو کاٹنے کے لیے مانپتے ہیں تو اس کے لیے، خلق، کا استعمال کرتے ہیں خلقت میں چونکہ پیمائش اور نا پ تول کا سب سے زیادہ دخل ہے۔ لہذا اس پر بھی "خلق" کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ احسن الخالقین، اضافت کی یہ ترکیب ذہنوں میں ایک سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا خالق بھی ہے۔ بعض مفسرین نے اس آیت کی طرح طرح سے توضیح کی ہے حالانکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں اور لفظ، خلق، غیر اللہ کی ایجاد، اختراع اور صنعت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے البتہ اللہ کا کسی چیز کوخلق اور مخلوق کا خلق کرنا ان میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اللہ کسی چیز کو خلق کرتے ہوئے اس کے اصل مادہ اور شکل وصورت دونوں کو خلق کرتا ہے۔جبکہ انسان کسی چیز کو ایجاد کرتا ہے تو پہلے سے موجود مواد کو استعمال کرکے کوئی نئی شکل دیتا ہے مثلاً تعمیر اتی مواد ( ریت،مٹی۔ پتھر) سے عمارت اور لوہے اور دیگر دھاتوں سے کاریں بسیں یا مشینں بنا لیتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اللہ کی خلقت اور پیدا کرنا، لامتناہی وغیر محددود ہے اور وہ ہر چیزپر قدرت کا ملہ رکھتا ہے اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔(اللہ خالقُ کل شیُ) (سورہ رعد، ۱۶) جب کہ انسان بہت ہی محدود پیمانہ پر ایجادات کر سکتا ہے اس پر مستزاد یہ کہ انسان کی ایجاد ات میں کئمی نقائص پائے جاتے ہیں اور چاہیے کہ مسلسل عمل کرتے ہوئے اسے پائے تکمیل تک پہنچائے مگر اللہ کی مخلوق ہر قسم کے عیوب و نقائص سے مبّرا ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ اگر انسان یہ قا بلیت اور تخلیقی صلاحیت رکھتا ہے تو یہ بھی اللہ کی مرضی سے ہی ہے کیونکہ اس کی اجازت کے بغیر تو درخت بھی حرکت نہیں کر سکتا جیساکہ سورہ مائدہ آیت ۱۱۰ میں حضرت عسٰی علیہ اسلام کے بارے میں ارشادہو رہا ہے: وَ إِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّینِ کَہَیْئَةِ الطَّیْرِ بِإِذْنی جب تم میری اجازت سے گیلی مٹی سے پرندے کی طرح ایک شکل بناتے تھے۔ بعد کی آیت توحید اور مبداء کے بارے میں بات کرتے ہوئے بڑی خوبصورت لطافت اور سلیقے سے مسئلے کا رُخ معاد اور قیامت کی طرف موڑ دیتی ہے اور کہتی ہے کہ ان تمام عجیب وغریب خوبیوں اور صلاحیتوں کے باوصف انسان ہمیشہ زندہ نہیں رہے گا، بلکہ ایک وقت آئے گا یہ عجیب عمارت زمین بوس ہو جائے گی اور پھر تم اس زندگی کے بعد سب کے سب مرجاوٴگے۔(ثُمَّ إِنَّکُمْ بَعْدَ ذلِکَ لَمَیِّتُونَ) لیکن اس تصور کی نفی کے لیے انسان کے مرنے سے تمام چیزیں ختم ہو جایئں گی۔ چند روز ہ عظمت وشوکت کس کام کی۔ بس یہ ایک فضول کیھل ہے) فوراً یہ کہا جاتا ہے۔ پھر تم روزِ قیامت، اُٹھائے جاوٴگے۔ دوبارہ تمھیں زندگی دی جائے گی البتہ وہ زندگی وعلٰی درجے کی اور وسیع تر جہان میں ہو گی۔ (ثُمَّ إِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیامَةِ تُبْعَثُونَ
چند اہم نکات: ۱۔ مبتداء اور معاد کا اثبات ایک دلیل ہے۔
توجہ طلب بات یہ ہے کہ، عالم جنین میں خلقت انسان کے مختلف مراحل کو زیرِ بحث آیت میں اللہ کی قدرت کاملہ اور بے مثال کمال کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے جب کہ اس سے پہلے سورہ حج میں اسی مسئلے کو انسا ن کی بازگشت کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ اس پر مستزاد یہ کہ زیر بحث آیت میں اس مسئلے کی بنیاد پر معاد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ [سورہ حج کی ابتداء میں آیت ۵ تا ۷ کے ذیل میں ہم نے جنین شناسی کے حوالے سے معاد پر گفتگو کی ہے (اسی ساتویں جلد کے آغاز کی طرف رجوع کیجئے)] جی ہاں ! پنہاں رحم مادر میں انسانی خلقت کے عجائبات ہر روز نیا رُخ اختیار کرتے ہیں۔اس عظمت الہیٰ کو پہچاننا چاہیے۔گویا ماہر مصّورں،کا ریگروں اور تخلیق کاروں کا ایک گروہ ہے جو پانی کے ایک قطرے کے پاس بیٹھا اور شب وروز اس پر کام کر رہا ہے اور اس قطرہ نا چیز کو بڑی باریکی سے اور انتہائی لطیف انداز سے زندگی کے مختلف مراحل سے گذار رہا ہے۔ جنین کے رشد اور نشوونما کے مختلف مراحل اگر ایک مکمل اور صحیح فلم بن سکتی اور اسے دیکھ سکتے تو ہم سمجھتے کہ کیسے عجائب وغرائب اور کیسی عمدہ کا ری گری اس میں پنہاں ہے۔ تاہم عصر حاضر میں جنین شناسی کے بارے میں بہت پیش رفت ہوئی ہے۔ماہرین کی روزافزوں تحقیقات اور تجربات نے اس سلسلے میں بہت سے مسائل واضح کر دیے ہیں۔ انسان کی نگاہ جب ان تحقیقات کے نتائج پر پڑتی ہے تو بے اختیار (فتبارک اللہ احسن الخالقین) کا نغمہ اس کی زبان پر جاری ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف ہر روز نیاء روپ اختیار کر لینے والی پے در پے تحقیقات اور پھر خصوصاً پانی کے ایک چھوٹے سے ایک قطرے سے ایک مکمل انسان کی پیدائش اس امر کی غماز ہے کہ اللہ معاد اور انسان کو حیاتِ نو عطا کرنے پر قادر ہے۔ اس طرح سے ایک دلیل سے دو مقصد پورے ہوتے ہیں اور ایک کر شمے سے دو کام انجام پا جاتے ہیں۔ [تشریحی نوٹ: مراحل جنین اور شاہکار تخلیق کے بارے میں تفسیر نمونہ کی دوسری جلد میں ہم نے سورہ آل عمران کی چھٹی آیت کے ذیل میں بھی بحث کی ہے۔]
۲۔ رحم مادر میں انسان کے ارتقاء کا آخری مرحلہ
توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ زیر بحث آیت میں رحم میں انسان کی خلقت کے پانچ مراحل کا ذکر لفظ، خلق، کے ساتھ کیا گیا ہے۔مگر آخری مرحلے کو، انشاء، کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ماہرین لغت کے بقول کسی چیز کو ایجاد کرنے کے ساتھ ساتھ اُسے پالنے کو انشاء کہتے ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آخری منزل پہلے تمام مراحل ( نطفہ علقہ مضغہ ہڈی اور گوشت کے غلاف) سے مکمل طور پر مختلف ہے۔یہ ایک اہم مر حلہ ہے کہ جس کے بارے میں قرآن مجید اجمالی طور پر صرف یہ کہہ رہا ہے کہ پھر ہم نے اسے ایک نئی خلقت دی اور اس کے بعد فوراً پکار اُٹھتا ہے ( فتبارک اللہ احسن الخالقین) یہ کیسی منزل ہے کہ جواس قدر اہمیت کی حامل ہے۔ یہ وہی مرحلہ ہے جب بے جان، جنین، زندگی سے ہم کنار ہوتا ہے۔ اس میں حرکت اور احساس پیدا ہوتا ہے جنبش کرتا ہے۔ اسلامی روایات میں اس مرحلے کو، نفخ روح، (روح پھونکے جا نے کا مرحلہ) کہتے ہیں۔یہ وہ منزل ہے جہاں انسان ایک جست کے ساتھ جماداتی اور نباتاتی زندگی سے حیواناتی اور اس سے بھی کہیں آگے انسانی زندگی میں قدم رکھتا ہے اور اس کا فاصلہ پہلے مراحل سے اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ، ثم خلقنا،کے الفاظ اس کا مفہوم اداکرنے سے کوتاہ دامنی کی شکایت کرنے لگتے ہیں۔ لہذا، ثُم انشاءنا، فرما کر اس منزل کی رفعت کو واضح کیا گیا ہے۔ یہ وہ منزل ہے جہاں انسان ایک مخصوص ساخت اور پر داخت کا حامل ہو کر عالم میں ممتاز حیثیت حاصل کر لیتا ہے۔ جس بنا ء پر یہ اللہ کی خلافت کا اہل بنتا ہے اور جو امانت آسمان اور پہاڑ نہ اُٹھا سکے تھے اس کا قرعہ اس کے نام نکلتا ہے۔ واقعی یہ وہ مقام ہے جہاں، عالم کبیر، اپنی تمام تر وسعتوں اور رفعتوں کے ساتھ اس، عالم صغیر، میں سمو دیا جاتا ہے اور حقیقی معنی میں ( تبارک اللہ احسن الخالقین) کا شاہکار قرار پاتا ہے۔
۳۔ ہڈیوں پر گوشت کا غلاف
زیر بحث آیت کی تفسیر کے ذیل میں تفسیر، فی ظلال القرآن، کا موٴلف ایک عجیب جُملہ لکِھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ، جنین جب علقہ اور مضغہ کے مراحل سے گذر جاتا ہے تو اس کے تمام سیل ہڈیوں کے خلیوں میں تبدیل ہوتے ہیں۔ اور اس کے بعد تدریجاً ہڈیوں پر عضلات اور گوشت کا غلاف چڑھتا ہے۔ اس بنا ء پر ( کسونا العظام لحماً) کا جملہ ایک سائنسی معجزہ ہے جو ایسے سائنسی مسئلہ کی نقاب کشائی کر رہا ہے جو اس زمانے میں کسی کو معلوم ہی نہیں تھا۔ کیونکہ قرآن مجید یہ نہیں کہتا کہ ہم نے مضغہ، کو ہڈی اور گوشت میں بدلا، بلکہ یہ کہتا ہے کہ، مضغہ، کو ہڈی بنایا، پھر اس پر گوشت کا غلاف چڑھایا، گویا واضح کر رہا ہے کہ مضغہ، پہلے ہڈی میں تبدیل ہوتا ہے اور اس کے بعد اس پر گوشت کی تہ چڑھتی ہے۔
۴۔ ہڈیوں کا پائدار اور محافظ غلاف
دراصل عضلات اور گوشت پوست کو ہڈیوں کے لباس سے تعبیر کرنا یہ واضح کرتا ہے کہ اگر ہڈیوں کے اوُپر یہ لباس نہ ہوتا تو انسان کا جسم نہایت کریہہ المنظر اور بدصورت دکھائی دیتا ( بالکل ان انسانی سانچوں کی طرح کو اگرچہ ہم نے دیکھے نہیں، البتہ ان کی تصاویر ضرور دیکھی ہیں) قطع نظر اس سے کہ لباس انسان کے جسم کی حفاظت کرتا ہے۔گوشت پوست اور عضلات بھی ہڈیوں کی حفاظت کرتے ہیں۔اگر ہڈیوں پر یہ موٹا غلاف نہ ہوتا تو جسم پر لگنے والی ہر چوٹ ہڈیوں کو براہِ راست نقصان پہنچاتی اور اُنھیں توڑ دیتی۔ جس طرح لباس انسان کے جسم کی سردی یا گرمی سے حفاظت کرتا ہے اسی طرح گوشت ہڈیوں کی حفاظت کرتا ہے جو انسانی جسم کا اصل ڈھانچہ ہیں۔ان تمام امور کا واضح بیان قرآن مجید کے علوم کی گہرائی کی روشن علامت ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: توحید کی نشانیوں کا ایک بار پھر تذکرہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 4ہم نے اوپر بیان کیا کہ مومنین کے اوصاف بیان کرنے کے بعد قرآن مجید ایمان کے حصول کے طریقے بیان کرتا ہے. گزشتہ آیتوں میں الله کی قدرت وعظمت کی وہ نشانیاں جو خود ہمارے جسموں میں موجود ہیں کا تذکرہ کیا گیا۔ زیرِ بحث آیتوں میں انسان سے باہر کی کائنات میں الله کی نشانیوں میں سے زمین وآسمان میں اس کی عظمتِ قدرت کے مظاہر تذکرہ ہے۔ سب سے پہلے ارشاد ہوتا ہے: ہم نے تمھارے اوپر سات راستے بنائے ہیں (وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعَ طَرَائِقَ)۔ ”طرائق“، "طریقہ" کی جمع ہے اور اس کا مطلب راستہ یا عمارت کی منزل ہے اوّل الذکر معنیٰ کی بنیاد پر آیت کا مفہوم یہ ہو گا کہ ہم نے تمھارے اُوپر سات راستے بنائے۔ شاید یہ فرشتوں کی آمد ورفت کا ذکر ہو یا ستاروں اور سیاروں کے مداروں کا ذکر ہو۔ موٴخر الذکر معنیٰ کی بنیاد پر آیت کا مفہوم یہ ہو گا کہ ہم نے تمھارے اوپر سات منزلیں (سات آسمان) بنائے۔ سات آسمان کے بارے میں ہم بہت کچھ بیان کر چکے ہیں۔ یہاں صرف اشارہ عرض ہے کہ اگر سات کے عدد کو تکثیر کے معنیٰ میں لیں تو اس کا مفہوم ہو گا کہ تمھارے اوپر بہت سے کرّات سماوی، اجرامِ فلکی، عوالم، ستارے اور سیّارے ہیں۔ منزلوں کا مفہوم کسی بھی طرح بطلیموسی نظریئے پر منطبق نہیں ہوتا کہ جس کے مطابق سات آسمان پیاز کے چھلکوں کی طرح ایک دوسرے کے اوپر موجود ہیں اور نہ ہی یہ تصوّر ہو سکتا ہے کہ قرآن مجید ایک باطل مفروضے کو اپنی گفتگو کی بنیاد بنائے، بلکہ طرائق اور طبقات اس حقیقت کی طرف اشارہ ہیں کہ ہم سے مختلف فاصلوں پر مختلف عوالم اور جہان آباد ہیں اور ہمارے لحاظ سے ان میں سے ہر ایک دوسرے اُوپر ہے۔ بعض بہت دور ہیں اور بعض بہت نزدیک۔ اور ”سبع“ کے معنیٰ صرف سات لیں تو مفہوم یہ ہو گا کہ جس کائنات کو ہم دیکھتے ہیں (جو ہماری کہکشاوٴں، سیاروں اور ستاروں کا مجموعہ ہے) اس کے علاوہ اور عالم ہیں جو ہمارے اوپر بنائے گئے ہیں اور جن تک ابھی انسان کو دسترس حاصل نہیں ہوئی ہے۔ اگر نظام شمسی کا بغور جائزہ لیں، سورج کے گرد مختلف سیاروں کی ترتیب کا گہرا مطالعہ کریں تو ایک اور تفسیر بھی کی جا سکتی ہے وہ یہ کہ سورج کے گرد گھومنے والے سیاروں کی کل تعداد ۹ہے۔ عطارد اور زہرہ نامی دو سیاروں کا مدار زمین کے نیچے ہے اور باقی چھ سیاروں کا مدار زمین کے اُوپر عین اس طرح ہے جس طرح چند منزلہ عمارت کی منزلیں ہوتی ہیں۔ مزید برآں چاند کا مدار بھی زمین کے اوپر ہی ہے۔ اس طرح زمین کے اوپر منزل بہ منزل کل سات مدار ہوئے گویا زمین کے اوپر سات منزلیں قرار پاتی ہیں (غور کیجئے گا) [سات آسمانوں کی مزید وضاحت کے لئے اسی تفسیر کی پہلی جلد میں سورہٴ بقرہ کی آیت ۲۹ کی تفسیر ملاحظہ ہو۔] مختلف کہکشاوٴں اور عوالم کی کثرتِ وسعت سے شاید کسی کے ذہن میں یہ سوال اُبھرے کہ ان کا پیدا کرنے والا کہیں ان سے غافل نہ ہو جائے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے آیت کے آخری حصّے میں ارشاد ہوتا ہے: ہم اپنی پیدا کردہ خلقت سے غافل نہ تھے اور نہ ہیں (وَمَا کُنَّا عَنْ الْخَلْقِ غَافِلِینَ)۔ یہاں لفظ ”خلق“ استعمال کرکے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ”خلقت“ کا وجود بجائے خود دلیل ہے کہ پیدا کرنے والے کے علم میں سب کچھ ہے اور اس کی پوری توجہ اس کی طرف مبذول ہے اور کبھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ پیدا کرنے والا اپنی مخلوق سے غافل ہو۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس آیت کی تفسیر یہ ہو کہ ہم نے فرشتوں کی آمد ورفت کے لئے تمھارے اوپر بہت سے راستے بنا رکھے ہیں، ہم تمھارے حالات سے بے خبر نہیں اور ہمارے فرشتے بھی تمھاری حرکات وسکنات کے گواہ ہیں۔ بعد کی آیت زمین وآسمان کی ان گنت برکتوں اور نعمتوں اور الله کی قدرت کاملہ کے لاتعداد مظاہر میں سے ایک مظہر بارش کے بارے میں کہہ رہی ہے: ہم نے آسمان سے ایک معین مقدار میں پانی اتارا (وَاَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً بِقَدَرٍ)۔ نہ اتین زیادہ بارش کہ بہا لے جانے والا سیلاب بن جائے اور نہ اتنی کم کہ نباتات وحیوانات کی پیاس بھی نہ بجھے۔ اس میں شک نہیں کہ آسمانوں کے بعد جب زمین پر نظریں کریں تو عطیات پروردگار میں سے اہم ترین عطیہ پانی ہے جو تمام زندہ موجودات کی زندگی کا ضامن ہے۔ اس کے بعد اس سلسلے کا ایک اور زیادہ اہم مسئلہ یعنی زیرِ زمین پانی کے ذخائر کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: ہم نے اس پانی کو زیرِ زمین پانی کے ذخائر میں محفوظ کیا ہے۔ حالانکہ اگر ہم چاہتے کہ اسے ختم کر دیں تو ہمیں ایسا کرنے کی پوری طاقت ہے (فَاَسْکَنَّاہُ فِی الْاَرْضِ وَإِنَّا عَلیٰ ذَھَابٍ بِہِ لَقَادِرُونَ)۔ ہم جانتے ہیں کہ زمین کی دو بالکل مختلف طبقوں سے تشکیل پائی ہے ایک پانی کو اپنے اندر جذب کرنے اور دوسرا جذب نہ کرنے والا۔ اگر زمین کا کرلسیٹ (THECROST) ہر جگہ جاذب ہوتا تو چاہے کتنا ہی مینہ برستا زمین زمین کے اندر ہی جذب ہو کر اس کی گہرائیوں تک پہنچ جاتا۔ وسیع وعریض زمین کی تمام سطح خشک رہتی اور پانی کا ایک قطرہ تک نہ ملتا۔ اس کے برعکس اگر ہر جگہ زمین کی سطح غیر جاذب اور سنگلاخ ہوتی تو بارش کا سارے کا سارا پانی سطح زمین کے اوپر ہی رہتا اور رطوبت تعفّن کا یہ عالم ہوتا کہ عرصہٴ زمین انسان کے تنگ ہوجاتا اور زندگی کا ضامن پانی انسان کی ہلاکت کا ذریعہ بن جاتا لیکن احسان کرنے والے عظیم الله نے زمین کی سطح کے اوپر کے حصّے کو جاذب آب اور نچلے حصّے کو غیر جاذب بنایا تاکہ سطح زمین سے پانی نیچے چلا جائے، مگر اتھاہ گہرایئوں میں کم ہونے کی بجائے ایک خاص گہرائی تک جا کر غیر جاذب سطح پر رُک کر اکھٹا ہو جائے تاکہ بعد میں کنووٴں اور چشموں اور ٹیوپ ویلوں کی صورت میں فضا کو مکدر کئے بغیر انسان کے لئے قابلِ استفادہ بن سکے۔ یہ خوشگوار اور مزیدار پانی جو آج ہم گہرے کنووٴں سے نکال کر اپنے اندر نئی توانائی پیدا کرتے ہیں شاید ہزاروں برس پہلے برسنے والی گھٹاوٴں کا ہو جو متعفن ہوئے بغیر آج کے لئے جمع کیا گیا ہو، بہرحال، وہ ذات بابرکات جس نے انسان کو زندگی کے لئے پیدا کیا ہے اور پانی کو زندگی کا اہم ذریعہ قرار دیا ہے۔ اس نے انسان سے بہت پہلے اس مادہٴ جیات کو جمع کرنے کے لئے اہم ذخائر پیدا کئے اور ان میں پانی جمع کیا۔ البتہ ”برف“ کی صورت میں اس مادہٴ حیات کا ایک حصّہ پہاڑوں کی چوتیوں پر بھی ہے جو یا تو سال بھر برابر پگھل پگھل کر دریاوٴں کا منبع قرار پاتا ہے یا صدیوں بلکہ ہزاروں سال ”گلیشیر“ کی صورت میں وہیں رُکا رہتا ہے۔ حتّیٰ کہ موسمی تغیر وتبدل کے ذریعے اسے نیچے پھیلنے کا حکم دیا جاتا ہے تاکہ پیاسے اور خشک بیابانوں کو سیراب کرے۔ لیکن ”فی الارض“ میں ”ارض“ ”فی“ پر غور کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ آیت زیرِ زمین پانی کے ذخائر کی طرف اشارہ کر رہی ہے نہ کہ اوپر کے ذخائر کی طرف۔ [یاد رہے کہ گندے پانی کا زمین میں جذب ہونا اس کی تطہیر کا سبب بنتا ہے۔] اس کے بعد بارش کے بابرکت اثرات اور اسے خونے والی پیداور کی طرف اارہ ہو رہا ہے: اور اس کے ذریعے ہم نے تمھارے لئے کھجور اور انگور کے باغ اُگا دیئے جن میں تمھارے کھانے کے لئے ڈھیر سارے پھل موجود ہیں (فَاَنشَاْنَا لَکُمْ بِہِ جَنَّاتٍ مِنْ نَخِیلٍ وَاَعْنَابٍ لَکُمْ فِیھَا فَوَاکِہُ کَثِیرَةٌ وَمِنْھَا تَاْکُلُونَ)۔ بارش سے پیدا ہونے والے پھل صرف کھجور اور انگور ہی تو نہیں ہیں بلکہ طرح طرح کے ان گنت پھل ہیں اور دیگر پیداوار بھی ہے۔ آیت میں صرف ان دو مجموعی پیداوار میں سے عمدہ اور اعلیٰ ہونے کی بناء پر کیا گیا ہے اور ”مِنْھَا تَاْکُلُونَ“ یعنی ”ان میں سے تم کھاتے ہو“ شاید اس طرف اشارہ ہو نعمتوں سے مالا مالان باغوں میں صرف پھل فروٹ ہی تو نہیں بلکہ یہ کھانے پینے کی چیزیں ان گنت پیداوار کا ایک حصّہ ہیں۔ نخلستانوں سمیت تمام باغات انسان کی غذائی ضروریات کے علاوہ اور بہت سے فوائد کے حامل ہیں۔ مثلاً ان کے پتوں سے چتائیاں اور بعض اوقات کپڑے بھی بنتے ہیں، ان کی لکڑی سے گھر، فرینچر اور سواریاں بنتی ہیں۔ بعض درختوں کی جڑی بوٹیوں سے دوائیاں تیار کی جاتی ہیں، انسان کے کام کرنے والے جانور پتّوں سے پیٹ پالتے ہیں اور لکڑیاں بطور ایندھن استعمال ہوتی ہیں۔ فخر الدین رازی نے اپنی تفسیر میں ”مِنْھَا تَاْکُلُونَ“ سے ایک اور احتمال کا اظہار کیا ہے۔ بقول ان کے اس سے یہ مراد ہے کہ یہ باغات تمھارا ذریعہٴ معاش ہیں طرح ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص کام سے روتی کھاتا ہے۔ یعنی اس کی زندگی گزر بسر اس کام پر ہے۔ [پہلی تفسیر کی بناء پر ”من“ تبعیضیہ“ ہے اور دوسری کے مطابق ”نشویہ“ ہے۔] یہ نکتہ توجہ طلب ہے کہ زیرِ بحث آیت میں زندگی کا نقطہٴ آغاز ”نطفے کے پانی“ اور نباتاتی زندگی کا نقطہٴ ”بارش کا پانی“ بیان کیا گیا ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے۔ زندگی کے ان دو نمونوں کا سرچشمہ پانی ہے۔ بےشک ہر جگہ الله کا ایک ہی قانون حکم فرما ہے۔ اس کے بعد بارش کے پانی سے نمو پانے والے ایک اور بابرکت درخت کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے کہ کھجور انگور اور دیگر پھلوں کے درختوں کے علاوہ ”طور سینا سے اُگنے والا ایک اور درخت بھی ہے جس سے تیل اور سالن کھانے والوں کو حاصل ہوتا ہے“ (وَشَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُورِ سَیْنَاءَ تَنْبُتُ بِالدُّھْنِ وَصِبْغٍ لِلْآکِلِینَ)۔ طور سینا کے متعل مفسرین نے دو عمدہ احتمالات کا اظہار کیا ہے۔ ۱۔ صحرائے سینا میں موجود مشہور ”کوہ طور“ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ قرآن مجید کے کوہِ طور سے اگنے والے درخت کو ”زیتون کا درخت“ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ حجاز کے عرب جب بے آب وگیاہ صحراوٴں سے گزرتے ہوئے شمال کی طرف بڑھتے تھے۔ تو زیتون کے درختوں سے بھرا ہوا پہلا زرخیز علاقہ صحرائے سینا کے جنوب میں یہی طور طریقہ تھا (نقشہ دیکھنے سے بات اچھی طرح سمجھ سکتی ہے)۔ ۲۔ طور سینا بطور صفت استعمال ہوا ہے یہ اصطلاح بابرکت اور مقدس پہاڑ یا درختوں سے بھرا ہوا پہاڑ دریا خوبصورت وحسین پہاڑ کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ کیونکہ ”طور“ بمعنیٰ پہاڑ ہے اور ”سینا“ بابرکت، خوبصورت اور سرسبز وشاداب کے معنیٰ میں ہے۔ ”صبغ“ کا مطلب دراصل ”رنگ“ ہے عام طور پر کھانا کھاتے ہوئے انسان جب چپاتی سالن کے ساتھ کھاتا ہے تو وہ رنگین ہو جاتی ہے لہٰذا تمام قسم کے روٹی سالن کو ”صبغ“ کہا گیا ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ لفظ ”صبغ“ زیتون کے تیل کی طرف اشارہ کر رہا ہو، جسے کھانے کے ساتھ کھایا جاتا ہے یا مختلف قسم کے کھانوں کی طرف اشارہ ہو جو مختلف درختوں سے تیار کئے جاتے ہیں۔ اس مقام پر ایک سوال ذہن میں آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ طرح طرح کے بے شمار پھلوں میں سے صرف کھجور، انگور اور زیتون تین پھلوں کا ذکر کیوں کیا گیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ماہرین خوراک کی جدید تحقیق کے مطابق بہت کم پھل ایسے ہیں جو انسانی صحت کے لئے ان تین پھلوں کے برابر مفید اور موٴثر ہوں۔ زیتون کا تیل انسانی بدن کی ساخت اور مفید رطوبتوں کے لحاظ سے بڑی قابل قدر شئے ہے۔ اس میں حرارتی عنصر بہت زیادہ ہے۔ جگر کے لئے مفید ہے اور گردوں کے کئی عارضوں کو ختم کرنے والا ہے۔ گردے کے درد اور پتھری کا بہترین نسخہ ہے۔ اعصاب کے لئے مقوی ہے۔ مختصر یہ کہ انسانی صحت کے لئے اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ ”کھجور“ کی اتنی تعریف کی گئی ہے کہ اس کتاب کی گنجائش سے باہر ہے۔ کھجور سے حاصل کی ہوئی چینی اعلیٰ اور مکمل چینی ہے ماہرینِ خوراک کی اکثریت کے مطابق کھجور ”مانع سرطان“ ہے۔ ماہرین نے اس میں تیرہ قسم کی حیاتیں اور پانچ قسم کے وٹامن کا انکشاف کیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ کھجور کی قیمتی غذا کے سرچشمہ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اور ”انگور “ بعض ماہرین کے مطابق ایک فطری ”میڈیکل سٹور“ ہے۔ انسانی بدن کے لئے شیر مادر کی سی خاصیتیں رکھتا ہے۔ جسم میں گوشت سے دگنی حرارت پیدا کرتا ہے۔ مصفیٰ خون ہے۔ بدن کے زیریلے مادے خارج کر دیتا ہے اور اس میں موجود طرح طرح کے وٹامن انسان کو قوت وطاقت دیتے ہیں۔ [تشریحی نوٹ: ان تین حیات بخش پھلوں کی مزید تفصیلات کے لئے اس تفسیر کی جلد ۱۱ صفحہ۱۷۲ پر سورہٴ نحل کی آیت ۱۱ کی تفسیر ملاحظہ ہو۔] نباتاتی نعمتوں کے بعد بارش کے پانی سے پلنے والی حیواناتی نعمتوں کے ایک اہم حصّہ کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے۔ چوپایوں میں تمھارے لئے لمحہ فکریہ ہے (وَإِنَّ لَکُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً )[یہاں ”عبرہ“ کا بطور نکرہ استعمال اس عظمت کے اظہار کے لئے ہے۔] پھر اس کی تشریح کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: جو کچھ ان کے پیٹ میں ہے اس سے ہم تمھیں سیرا ب کرتے ہیں(نُسقِیکُمْ مِمَّا فِی بُطُونِھَا)۔ بےشک خون اور اسی طرح کے کئی ایک غلاظتوں میں سے ”دودھ“ جیسی چیز مزیدار اور خوشگوار مقوی اور مکمل غذا نکالی جاتی ہے۔ تاکہ انسان سمجھ سکے کہ الله آلودہ چیزوں میں سے پاک اور مزیدار چیز کا نکالنے کی پوری قدرت رکھتا ہے۔ اس کے بعد مزید کہا جارہا ہے کہ جانوروں سے متعلق سبق آموز امور کی برکتیں اور نعمتیں صرف دودھ تک ہی محدود بلکہ ان میں تمھارے لئے اور بھی فائدے ہیں اور تم ان کا گوشت کھاتے ہو (وَلَکُمْ فِیھَا مَنَافِعُ کَثِیرَةٌ وَمِنْھَا تَاْکُلُونَ)۔ حدّ اعتدال میں رہتے ہوئے گوشت کا استعمال جسم کی غذائی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی کھالیں کئی قسم کے لباس اور شامیانے وغیرہ بنانے کے کام آتی ہیں، ان کے بالوں سے چٹائیاں، لباس، اون اور کئی طرح کے اوچھاڑ وغیرہ بنائے جاتے ہیں، ان کے بدن کے بعض اعضاء سے دوائیاں بنتی ہیں، حتّیٰ کہ ان کے گوبر سے ایندھن کے علاوہ درختوں اور فصلوں کے لئے بری مفید کھاد تیار کی جاتی ہے۔ ان سب سے قطع نظر سواری کے لئے خشکی میں چوپایوں کو اور دریاوٴں میں کشتی کو استعمال کرتے ہو اور اپنی منزلوں تک پہنچتے ہو۔ وَعَلَیْھَا وَعَلَی الْفُلْکِ تُحْمَلُونَ [اس کی تفسیر جلد ۶ میں سورہ نحل آیت ۸۰ کی تفسیر کے ذیل میں جانوروں سے استفادہ کے بارے میں مفصل بحث موجود ہے۔] جانوروں کی انواع، خواص اور فوائد واقعی سرمایہٴ غور وفکر ہیں، ایک طرف یہ انسان کو ان نعمتوں کے پیدا کرنے والے کی معرفت دلاتے ہیں اور دوسری طرف اس کو شکرگزاری کی طرف بھی متوجہ کرتے ہیں۔ [اسی تفسیر کی جلد ۶ میں سورہ نحل آیت نمبر ۳ اور اسی جلد سورہ حج آیت ۶۵ کی تفسیر کے ذیل میں کشتیوں کی اہمیت اور ان سے استفادہ کے مختلف پہلووں سے متعلق سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔] یہاں صرف ایک سوال باقی رہتا ہے۔ وہ یہ کہ چوپائے اور کشتیاں ایک ہی صف میں کیسے کھڑی کر دی گئی ہیں؟ ایک نقطے کو سمجھنے سے اس سوال کا جواب واضح ہوجاتا ہے اور وہ یہ کہ انسان کو ساری زمین میں سواری کی ضرورت ہے۔ اس لئے بَرّی سواری کے ساتھ ساتھ بحری سواری کا بھی ذکر کر دیا گیا ہے۔ دراصل سورہٴ بنی اسرائیل کی آیت ۷۰ میں بھی انسان کو عطا کی جانے والی نعمتوں کے ذیل میں اسی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: وَحَمَلْنَاھُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ”ہم انھیں خشکیوں اور پانیوں میں اِدھر اُدھر لے جاتے ہیں“۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: کور دل مغروروں کی منطق
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیتوں میں توحید، معرفت پروردگار عالم خلقت میں اس کی عظمت کے دلائل کے بارے میں گفتگو تھی اسی مطلب کو عظیم انبیاءعلیہ السلام کی زبانی اور ان کی تاریخ کے حوالے زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ آئندہ کی آیات میں بھی سلسلہ کلا م جاری ہے۔ سب سے پہلے اولوالعزم پیغمبر حضرت نوح علیہ السلام جو توحید کے داعی اور اس کی تبلیغ وترویج کرنے والے ہیں سے ابتداء کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا، انھوں نے کہا: میری قوم! خدائے واحد کی عبادت کرو کہ جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں (وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَی قَوْمِہِ فَقَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ مَا لَکُمْ مِنْ إِلَہٍ غَیْرُہُ)۔ کیا اس واضح بیان کے باوجود تم بتوں کی پرستش سے پرہیز نہیں کرتے (اَفَلَاتَتَّقُونَ)۔ اس پر ان کی قوم کے دولت مند، مالدار اور مغرور افراد جو صرف ظاہر بین اور کور باطن تھے، کہنے لگے: یہ تمھاری طرح کا عام آدمی ہے جو تم پر برتری حاصل کرنا چاہتا ہے اور اسی جذبے کے تحت یہ تم پر مسلط ہونا چاہتا ہے (فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ قَوْمِہِ مَا ھٰذَا إِلاَّ بَشَرٌ مِثْلُکُمْ یُرِیدُ اَنْ یَتَفَضَّلَ عَلَیْکُمْ)۔ اور یوں ان کا انسان ہونا انھیں حضرت نوح علیہ السلام کا پہلا ”عیب“ نظر آیا، اس پر مستزاد یہ کہ انھوں نے ان پر الزام لگایا کہ یہ ”ہوسِ اقتدار“ میں مبتلا ہے اور اس مقصد کو پانے کے لئے اُس نے توحید، دین اور تبلیغ کرنے کا ڈھونگ رچایا ہے۔ انھوں نے یہ کہا: اگر تم الله کوئی رسول بھیجتا بھی یقیناً اس مقصد کے لئے فرشتے بھیجتا (وَلَوْ شَاءَ اللهُ لَاَنزَلَ مَلَائِکَةً)۔ اس مہمل اور فضول منطق کی دلیل انھوں نے یہ پیش کی کہ ”ہم نے اپنے آاء واجداد سے کبھی یہ نہیں سنا کہ ایک انسان نبوّت کا دعویٰ کرے یا اپنے آپ کو الله کا نمائندہ سمجھے (مَا سَمِعْنَا بِھٰذَا فِی آبَائِنَا الْاَوَّلِینَ)۔ لیکن ان بے بنیاد باتوں نے عظیم پیغمبر کے سائے استقلال میں کوئی تزلزل پیدا نہ کیا اور انھوں نے پورے زور و شور سے اپنی دعوت جاری رکھی اور ان کے کسی کام میں بڑا بننے اور خواہش اقتدار کی کوئی علامت نہ تھی۔ چنانچہ انھوں نے ان پر پاگل پن اور دیوانگی کا ایک اور الزام لگایا، یہ وہ الزام ہے جو تاریخ انبیاء میں اکثر پیغمبروں پر لگایا جاتا رہا ہے۔ وہ کہنے لگے: وہ تو ایک پاگل اور دیوانہ آدمی ہے۔ لہٰذا اس وقت تک تمھیں صبرکرنا چاہیے کہ اسے موت آجائے، یا اس مرض سے شفا پالے (إِنْ ھُوَ إِلاَّ رَجُلٌ بِہِ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوا بِہِ حَتَّی حِینٍ)۔ لائق توجہ بات ہے کہ انھوں نے اس اولوالعزم پیغمبر پر ”پاگل پن“ اور ”دیوانگی“ کی تہمت اس لئے لگائی تاکہ وہ اس حقیقت کو پوری طرح چھپاسکیں کہ اس کی ساری باتیں عقل ومنطق کی بہترین مثال ہیں، دراصل وہ کہنا چاہتے تھے کہ چونکہ دیوانگی کی کئی قسمیں ہیں اور بیشتر پاگل پن کا مظاہرہ نہیں کرتے بلکہ ان پر دوروں کی سی کیفیت ہوتی ہے۔ کبھی صحیح العقل نظر آتے ہیں اور کبھی پاگل۔ ”فَتَرَبَّصُوا بِہِ حَتَّی حِینٍ“ کا جملہ شاید حضرت نوح علیہ السلام کی موت تک کے انتظار کی طرف اشارہ ہو، جس کا مخالفین بڑی بے چینی سے انتظار کر رہے تھے، یہ بھی ممکن ہے کہ اس جملے سے ”دیوانگی“ کی بیماری پر وہ تاکید مزید کر رہے ہوں، یعنی ان کی صحت یابی تک انتظار کرو۔ [بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ اس جملے سے مراد یہ ہے کہ ”اس کو کچھ مدّت کے لئے قید کر دو“ اور بعض نے یہ مراد لی ہے: ”فی الحال، اسے اس کے حال پر چھوڑ دو دیکھا جائے گا“ لیکن یہ دونوں تفسیریں ہرگز صحیح معلوم نہیں ہوتی۔] بہرحال، حضرت نوح علیہ السلام پر انھوں نے اپنی باتوں میں تین بیہودہ اور متضاد الزامات لگائے اور ہر ایک الزام کو ان کی رسالت کی نفی کی دلیل قرار دیا، اُن کی طرف سے یہ الزامات تھے: ۱۔ اصول طور پر انسان کی طرف سے نبوّت کا دعویٰ سراسر جھوٹ ہے اور پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا اور اگر الله نبی ہی بھیجنا چاہتا تو لازمی طور پر فرشتوں سے یہ کام لیتا۔ ۲۔ نوح علیہ السلام ایک اقتدار پسند شخص ہے اور اپنے مقصد کو پانے کے لئے اس نے نبوّت کے دعوے کو ذریعہ بنایا ہے۔ ۳۔ نوح علیہ السلام صحیح الدماغ آدمی نہیں ہے اور اس کا دعوائے نبوّت اسی بیماری کا نتیجہ ہے۔ چونکہ ان بے بنیاد اور بے ربط الزامات کے جوابات بالکل واضح ہیں اور کئی جگہ پر دیے جا چکے ہیں، لہٰذا اس مقام پر قرآن مجید نے ان کا کوئی جواب نہیں دیا۔ البتّہ یہ مسلّم ہے کہ انسان کا رہبر خود اسی کی نوعت سے ہونا چاہیئے تاکہ وہ انسانی ضروریات، تکالیف اور مسائل سے واقفیت رکھتا ہو۔ مزید برآں ہمیشہ سے ہی پیغمبر خود بنی نوع انسان سے ہی ہوا کرتے تھے، دوسرے انبیاءعلیہ السلام سے یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ ان کی نمایاں تین صفات تواضع انکساری اور ہر قسم کی بالا دستی اور اقتدار پسندی کی نفی رہی ہے اور انبیاء کی عقل اور سوجھ بوجھ ان کے دشمنوں پر بھی بالکل آشکار تھی اور وہ اس کا اعتراف بھی کرتے تھے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
ایک باغی قوم کا انجام
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیتوں میں دشمنوں کی طرف سے لگائے جانے والے چند بے بنیاد الزامات کا تذکرہ کیا گیا، قرآن مجید کی دیگر آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سرکش قوم کی طرف سے دی جانے والی اذیتیں یہی نہیں تھیں، بلکہ وہ جس طرح سے بھی آپ علیہ السلام کو تنگ کرسکتے تھے۔ انھوں نے کہا۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی تمام تر کوششوں کے ساتھ انھیں شرک، کفر اور گمراہی سے نکالنا چاہا، لیکن جب سوائے معدود چندافراد کے ان پر کوئی ایمان نہ لایا تو آپ علیہ السلام مایوس ہو گئے اور سے مدد چاہی، اس مرحلے کا ذکر زیرِ بحث آیت میں کیا جارہا ہے۔ اس نے عرض کیا: پالنے والے! مجھے جھٹلانے والوں کے خلاف میری مدد فرما (قَالَ رَبِّ انصُرْنِی بِمَا کَذَّبُونْ) [”بِمَا کَذَّبُونْ“ کی ”باء،“ شاید سببی ہو یا بائے تسبیب، اور اس میں ”ما“ شاید ”مصدریہ“ ہو، یا ”موصولہ“، ہر ایک صورت میں معنی جدا ہوں گے، مگر مفہوم میں زیادہ فرق نہیں ہو گا (قابل غور ہے)۔] الله کا حکم پہنچا حضرت نوح علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے چند ساتھیوں کو نجات ملی اور ہٹ دھرم کافروں اور مشرکوں کو سزا کے لئے حالات پیدا ہو گئے ”ہم نے نوح علیہ السلام کو وحی کی کہ ہماری ہدایات کے مطابق اور ہماری نگرانی میں کشتی بنا“ (فَاَوْحَیْنَا إِلَیْہِ اَنْ اصْنَعْ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا)۔ ”بِاَعْیُنِنَا“ (یعنی ہماری نظوں کے سامنے) اس کا یہ مفہوم ہے کہ تمھاری تمام تر کارکردگی ہمارے سامنے ہے اور تمھیں ہماری پوری تائید حاصل ہے۔ لہٰذا مطمئن ہو کر اپنے مشن کو جاری رکھو اور کسی خوف وخطر کو خاطر نہ لاوٴ۔ ”وَحْیِنَا“سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی سازی کی تفصیلات وحی سے سیکھیں، کیونکہ تاریخ کے مطابق اس زمانے تک کشتی کی کوئی مثال موجود نہیں تھی۔ چنانچہ آپ علیہ السلام نے اپنے مقصد کی ضروریات کے مطابق ہر عیب ونقص کے بغیر بنا لیا، اس کے بعد ارشاد ہوا: اور جب ہمارا فرمان پہنچے اور اس کی نشانی یہ ہے کہ تنور سے پانی ابلنے لگے گا، سمجھ لینا کہ طوفان کا وقت آ گیا ہے تو فوراً ہر قسم کے جانوروں کا ایک جوڑا کشتی میں بٹھا لینا (فَإِذَا جَاءَ اَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ فَاسْلُکْ فِیھَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ)۔ اپنے اہل خانہ اور دوستوں سے صاحبان ایمان کوبھی بٹھا لینا، مگر ان کونہ بٹھانا جن کی ہلاکت کا پہلے سے فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ (حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی اور ایک بیٹے کی طرف اشارہ ہے) (وَاَھْلَکَ إِلاَّ مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ مِنْھُمْ)۔ اس کے بعد یہ کہا جارہا ہے: اور ان ظالموں (کہ جنھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور دوسروں پر بھی ظلم کیا) کے بارے میں کوئی سفارش نہ کرنا، کیونکہ وہ سب کے سب غرق ہوکے رہیں گے اور اس میں کہنے سننے کی گنجائش نہیں ہے (وَلَاتُخَاطِبْنِی فِی الَّذِینَ ظَلَمُوا إِنَّھُمْ مُغْرَقُونَ)۔ یہ تنبیہ اس لئے کر دی گئی تھی کہ شاید حضرت نوح انسانی فطری جذبے، سفقت پدری سے متاثر ہو جائیں اور ان کی سفارش کر بیٹھیں، جبکہ وہ کسی قسم کی سفارش کے مستحق نہیں تھے۔ بعدوالی آیت میں ارشادہوتا ہے: جس وقت اور تمھارے ساتھی کشتی میں ٹھیک سے بیٹھ جاوٴ تو اس نعمت عظمیٰ پر الله کی حمد وثنا کرو اور کہو تعریف ہے اس خدا کی جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی (فَإِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَمَنْ مَعَکَ عَلَی الْفُلْکِ فَقُلْ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی نَجَّانَا مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِینَ)۔ الله کی حمد ظالموں سے نجات ”جیسی عظیم نعمت پانے کے بعد یوں دعا کرو: اور کہو: پالنے والے! مجھے بابرکت جگہ پر پار لگانا کہ تو بہترین پار لگانے والا ہے (وَقُلْ رَبِّ اَنزِلْنِی مُنْزَلًا مُبَارَکًا وَاَنْتَ خَیْرُ الْمُنزِلِینَ)۔ لفظ ”منزل“ شاید اسم مکان ہو، یعنی طوفان تھم جانے کے بعد ہماری کشتی ایسی سرزمین پر پہنچانا جو کثیر برکتوں کا حامل ہو تاکہ ہم اطمینان سے اپنی نئی زندگی کا آغاز کر سکیں۔ یہ مصدر میمی بھی ہو سکتا ہے۔ یعنی ہمارا زمین پر اترنا نہایت موزوں اور مناسب ہو، کیونکہ طوفان کے بعد جب کشتی زمین پر رکے گی تو کشتی میں سوار لوگوں کو کئی خطرات کا سامنا ہو گا مثلاً رہنے سہنے کے لئے سازگار جگہ نہ ہونا، خوراک اور غذا کی کمی اور وباء پھوٹنے کا ڈر وغیرہ وغیرہ۔ اس لئے حضرت نوح علیہ السلام دُعا کر رہے ہیں کہ یا الله انھیں صحیح وسالم اور موزوں کیفیت میں زمین پر اُتار دے۔ زیرِ نظر آخری آیت میں مجموعی طور پر پورے واقعے کی سخت سزاء کے اس سارے واقعے میں صاحبانِ عقل وفکر کے لئے عبرت وسبق کی نشانیاں موجود ہیں (إِنَّ فِی ذٰلِکَ لَآیَاتٍ)۔ اور یقیناً ہم سب کی آزمائش کریں گے (وَإِنْ کُنَّا لَمُبْتَلِینَ)۔ شاید یہ جملہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو کہ ہم نے قوم نوح کو ہر طرح سے آزمایا اور جب وہ لوگ ہر امتحان میں ناکام رہے۔ تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا، یہ بھی ہو سکتا کہ اس جملے سے مفہوم یہ ہو کہ ہم ہر زمانے میں ہر جگہ کے لوگوں کو ازماتے اور پرکھتے رہیں گے اور مذکورہ بالا واقعات صرف نوح علیہ السلام ہی سے خصوصیت نہیں رکھتے، ہر دور میں مختلف طریقوں سے آزمائش جاری رہی گی اور جو لوگ انسان کی تری وتکامل کی راہ میں رکاوٹ بنیں گے انھیں ہٹادیا جائے گا تاکہ انسان اپنی راہ تکامل پر گامزن رہے۔ توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ زیرِ بحث آیتوں میں صرف حضرت نوح علیہ السلام کے کشتی بنانے اور ان کے ساتھیوں کے سوار ہونے اور نجات پانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ مگر گناہگاروں کا انجام کیا ہوا، کچھ وضاحت نہیں کی گئی۔ البتہ ”إِنَّھُمْ مُغْرَقُونَ“ (وہ یقیناً غرق ہوں گے) کے جملے سے ان کا انجام بھی واضح ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اس کا وعدہ ہمیشہ سچّا ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ قومِ نوح علیہ السلام عظیم پیغمبر علیہ السلام کے خلاف ان کی کاروائیوں اور پھر ان کا عبرتناک انجام، کشتی سازی کا واقعہ، تنور سے پانی کا ابلنا، طوفان کا سب کو گھیر لینا، حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کا غرق ہونا وغیرہ بہت سے اہم نکات ہیں جن کا ہم نے جلد۹ میں سورہٴ ہود کی تفسیر کے ذیل میں مفصل جائزہ لیا ہے۔ انشاء الله باقی تفصیلات سورہٴ نوح کی تفسیر میں آئیں گے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر قوم ثمود کا عبرتناک انجام
Tafsīr Nemūna · Vol. 4زیر بحث آیتیں، حضرت نوحؑ کے بعد آنے والی دیگر اقوام اور ان کے نظریات جو سابق کفاّر سے ہم آہنگ تھے۔ کا تذکرہ کر رہی ہیں۔ اس طرح ان کے نزدیک انجام کا ذکر کرتے ہیں۔ گزشتہ آیتوں میں کی گئی بحث کی تکمیل کر رہی ہیں۔ سب سے پہلے ارشاد ہوتا ہے: ان کے بعد ہم نے ایک اور گروہ کو پیدا کیا اور ایک دوسری قوم معرض وجود میں آ گئی۔ (ثُمَّ أَنشَأْنَا مِن بَعْدِهِمْ قَرْنًا آخَرِينَ) "قرن" کا مادہ "اقتران" ہے۔ اور اس کا معنیٰ قریب اور نزدیک ہے۔ چنانچہ وہ قومیں جو ایک ہی زمانے میں ہوں ان کو "قرن" کہا جاتا ہے۔ بعض اوقات ان کے دور کو بھی قرن کہا جاتا ہے۔ مختلف قوموں کے نزدیک قرن کی مقدار مختلف ہے۔ یہ تیس سال کا بھی ہوتا ہے اور سو سال کا بھی۔ چونکہ انسان کسی منصوص من اللہ رہبر و قائد کے بغیر زندگی بسر نہیں کر سکتا۔ لہذا اللہ نے توحید کی دعوت دینے اور آئین حق کی تبلیغ کے لیے ایک پیغمبر کو ان کی طرف بھیجا تاکہ ان کو کہے کہ اللہ کی عبادت کرو کیونکہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا لائق عبادت نہیں (فَأَرْسَلْنَا فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ) یہ وہی دعوت ہے جو انبیاء کے مشن کا سنگ بنیاد ہے۔ یہ توحید کی آواز تھی جو انفرادی اور اجتماعی تمام بھلائیوں کی اساس ہے۔ اس کے بعد اللہ کا نمائندہ تاکید مزید کے طور پر کہتا ہے۔ کیا اس واضح دعوتِ توحید کے بعد بھی شرک و بت پرستی سے پرہیز نہیں گرو گے (أَفَلَا تَتَّقُونَ)۔ یہ کونسی قوم تھی اور ان کے پیغمبر کا کیا نام تھا۔ اس سلسلے میں مفسرین نے قرآن مجید کی دیگر آیات کے مطالعہ سے دو احتمالات کا اظہار کیا ہے۔ (i) یہ قوم ثمود ہے جو حجاز کے شمال میں آباد تھی۔ اللہ کے عظیم نبی حضرت صائحؑ ان کی طرف مبعوث برسالت ہوئے۔ مگر قوم نے انکار کیا نافرمانی اور سرکشی کی۔ آخر کار دل دھلا دینے والی ایک صیحہ آسمانی (ہولناک بجلی) گری اور وہ سب نیست و نابود ہو گئے اس دعوے کا ثبوت ان کو دی جانے والی سزا " صیحہ" ہے کو زیر بحث آیت کے آخر میں بیان کی گئی ہے اور سورہ ہوُد کی آیت ۶۷ میں بھی قوم صالح کے بارے میں اسی سزا کا ذکر ہے۔ (ii) دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ قوم عاد ہے۔ ان کے پیغمبر حضرت ہُودؑ تھے۔ قرآن مجید کی بعض آیتوں میں ان کی ردداد قومِ نوح کے واقعات کے فورا بعد بیان کی گئی ہے۔ یہی اس دعوے کی دلیل ہے۔ (بحوالہ: سورہ ہود آیت٥۰، سورہ اعراف آیت ۶٥ اور سورہ شعراء کی آیت نمبر۱۲٣ ملاحظہ ہوں)۔ لیکن سورہ الحاقہ" کی آیت ۷۰۶۰ کے مطابق قوم عاد کی سزا شدید قسم کی تیز آندھی تھی جو برابر سات راتیں اور آٹھ دن ان کے درپے رہی۔ اس لحاظ سے پہلی تفسیر زیادہ صیح معلوم ہوتی ہے۔ بہرحال، ہم اس بات کا جائزہ لیں کہ اس عظیم پیغمبر کی دعوت توحید کے جواب میں سرکش قوم کا ردّ عمل کیا تھا، قرآن مجید کے بقول وڈیروں کے اس خود پسند طبقے نے اللہ کی وحدانیت کا انکار کیا کہ آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا۔ حالانکہ ہم نے انہیں دُنیا کی بہت سی نعمتوں سے مالا مال کر رکھا تھا۔ وہ کہنے لگے کہ یہ تمھاری ہی طرح کا انسان ہے۔ جو تم کھاتے ہو، یہ بھی کھاتا ہے۔ اور جو تم پیتے ہو یہ بھی پیتا ہے۔ (وَقَالَ الْمَلَأُ مِن قَوْمِهِ الَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِلِقَاءِ الْآخِرَةِ وَأَتْرَفْنَاهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا مَا هَذَا إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يَأْكُلُ مِمَّا تَأْكُلُونَ مِنْهُ وَيَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُونَ) بےشک وہ اشراف کا خوشحال طبقہ جو قرآن مجید کی اصصلاح میں "ملا" ہے۔ (یہ طبقہ صرف ظاہربین تھا اور کور باطن تھا) وہ اس عظیم پیغمبر کے مشن کو اپنے مفاد کا مخالف، ناجائز منافع خوری، استحصال اور بےجا بالادستی سے متصادم دیکھ رہا تھا۔ یہ طبقہ اپنی پرُتعیش زندگی کی وجہ سے اللہ سے کوسوں دور چلا گیا تھا۔ اور آخرت کا منکر تھا۔ یہ طبقہ اس عظیم پیغمبر کے مقابلے میں آ گیا۔ اس کے خیالات اور نظریات بالکل وہی تھے جو قوم نوحؑ کے متکبر وڈیروں کے تھے۔ انہوں نے اللہ کے نمائندوں کے انسان ہونے اور دیگر انسانوں کی طرح کھانے پینے کو ان کی رسالت کی نفی کی دلیل قرار دیا۔ حالانکہ یہ بات ان مایہ ناز شخصیتوں کی نبوت و رسالت کی پُرزور تائید تھی۔ کہ وہ عام لوگوں میں سے ہوں تاکہ انسان کی ضروریات اور مسائل سے اچھی طرح آگاہ ہوں۔ مزید برآں وہ ایک دوسرے سے کہتے، اگر تم اپنے ہی جیسے آدمی کے مطیع بنو گے تو یہ بڑی نقصان دہ بات ہو گی۔ (وَلَئِنْ أَطَعْتُم بَشَرًا مِثْلَكُمْ إِنَّكُمْ إِذًا لَّخَاسِرُونَ) یہ کور باطن اتنا نہیں سمجھتے تھے کہ خود تو یہ توقع کر رہے ہیں کہ لوگ ان شیطانی عزائم کی تکمیل اور پیغمبر سے مقابلے کے لیے ان کی پیروی کریں، مگر اس شخصیت کی اطاعت و پیروی کو جو منبع وحی سے وابستہ ہے اور جس کا دل نورِ علم پروردگار عالمین سے منور ہے۔ انسان کے لیے ذلت، تنگ و عار اور "حریت" کے منافی بتا رہے تھے۔ اس کے بعد انھوں نے معاد اور قیامت کا انکار کیا، جس کو ماننا ہمیشہ سے خود سر اور ہوا و ہوس کے رہبر لوگوں کے لیے مشکل رہا ہے۔ اور کہا، کیا یہ شخص تم سے یہ وعدہ کرتا ہے کہ مرنے کے بعد مٹی اور بوسیدہ ہڈی ہو جانے کے بعد تم ایک بار پھر قبروں سے نکلو گے اور ایک نئی زندگی پاؤ گے۔ (أَيَعِدُكُمْ أَنَّكُمْ إِذَا مِتُّمْ وَكُنتُمْ تُرَابًا وَعِظَامًا أَنَّكُم مُّخْرَجُونَ) بہت دور اور بہت دُور کی بات ہیں وہ وعدے جو تم سے کیے گئے، بالکل بےبنیاد اور کھوکھلے ہیں۔ (هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ لِمَا تُوعَدُونَ) مجموعی طور پر کیا یہ ممکن ہے کہ ایک آدمی جو مر گیا ہو۔ مٹی کے ساتھ مٹی ہو گیا ہو، اس کے اجزاء ادھر اُدھر بکھر گئے ہوں، وہ دوبارہ زندہ ہو سکتا ہے؟ نہیں یہ محال ہے۔ یہ محال بات ہے۔ مزید برآں، معاد کے انکار پر تاکید مزید کے طور پر انہوں نے یہ بھی کہا: زندگی صرف یہی دیناوی زندگی ہی تو ہے۔ ہمیشہ سے یہ ہوتا چلا آیا ہے۔ کہ ایک گروہ مر جاتا ہے اور دوسرا اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ لہذا موت کے بعد کچھ بھی نہیں ہے اور ہم ہرگز قبروں سے نہیں اٹھیں گے۔ (إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ) آخر میں اپنے نبی پر ایک مجموعی الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا۔ یہ ایک جھوٹا شخص ہے۔ جس نے اللہ پر بہتان باندھا ہے اور ہم اس پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے (إِنْ هُوَ إِلَّا رَجُلٌ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا وَمَا نَحْنُ لَهُ بِمُؤْمِنِينَ) نہ اس کی رسالت اللہ کی طرف سے ہے نہ قیامت سے متعلق اس کے وعدے سچے ہیں اور نہ ہی دوسرے احکام ایسے ہیں۔ کوئی عقلمند آدمی اس پر کیسے ایمان لا سکتا ہے۔ یوں ان کی سرکشی اور ہٹ دھرمی حد سے بڑھ گئی، شرم و حیاء کی تمام حدود پھلانگ گئے اور اپنے نبی کے معجزات، پیغام اور انسان ساز دعوت کے انکار میں آخری حد تک چلے گئے۔ بالفاظ دیگر ان سب پر جب حجت تمام ہو گئی تو اس عظیم پیغمبر نے اللہ سے فریاد کی، پالنے والے ان کی طرف سے جھٹلائے جانے کے خلاف میری مدد فرما۔ (قَالَ رَبِّ انصُرْنِي بِمَا كَذَّبُونِ) انہوں نے مجھ پر الزام لگایا اور میرے خلاف جو بھی کر سکتے تھے کر گزرے۔ میری مدد تو فرما۔ اللہ کی طرف سے جواب دیا گیا۔ بہت جلد یہ اپنے کئے پر پچھتائیں گے۔ اور جو انہوں نے بویا ہے ضرور کاٹیں گے۔ (قَالَ عَمَّا قَلِيلٍ لَيُصْبِحُنَّ نَادِمِينَ) مگر وہ اس وقت پشیمان ہوں گے جب وقت گذر چکا ہو گا اور وہ ایسی جگہ پہنچ چکے ہوں گے جہاں سے واپسی ممکن ہی نہیں۔ اور نہ ہی ان کا پچھتاوا ان کو کوئی فائدہ دے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اچانک بجا طور پر ایک اندوہناک صیحہ آسمانی نے انہیں آ لیا۔ (فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ بِالْحَقِّ) دل دھلانے دینے والی مہیب آواز کے ساتھ دہشت ناک بجلی کوندی اور زبردست دھماکہ ہوا۔ ہر جگہ تہ و بالا ہو گئی۔ سب کچھ درہم برہم ہو گیا اور ان کے مردہ لاشوں کے ڈھیر لگ گئے۔ ان کی بربادی کچھ ایسی صورت کے ساتھ ہوئی کہ ان کو اپنے گھروں سے بھاگ نکلنے کا موقع بھی نہ ملا اور وہ گھروں میں ہی دب کے رہ گئے اور آیت کے آخری حصے میں اس کا خوب نقشہ کھینچا گیا ہے۔ "ہم نے ان کو اس طرح کچل کے رکھ دیا۔ جس طرح سیل و تندرو کے سامنے بھوسے کے ایک تنکے کی حالت ہوتی ہے۔ (فَجَعَلْنَاهُمْ غُثَاءً) اور اے ظالم قوم، رحمتِ خدا سے دور ہو۔ (فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ)
چند اہم نکات ۱۔ پرتعیش زندگی اور اس کے منحوس نتائج
مذکورہ بالا آیتوں میں اشراف کی پُرتعیش زندگی اور قیامت و معاد سے انکار میں ایک خاص ربط نظر آتا ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے۔ پُرتعیش زندگی بسر کرنے والے عام طور پر ماوٴ پدر آزادی چاہتے ہیں۔ حیوانی لذّات اور مادی جذبات کی تسکین کے لئے ہر ہتھکنڈے کو جائز سمجھتے ہیں۔ واضح ہے کہ الله کی نگرانی اور قیامت کی عدالت پر ایمان ان کے اس طرزِ عمل میں زبردست رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ ان کے دل غیر مطمئن رہتے ہیں۔ اور عوام الناس کو ان کے خلاف زبان کھولنے کی جرات ہوتی ہے۔ اسی سبب سے ایسے مبداء اور الله کی طرف بازگشت کا انکار کر دیتے ہیں۔ اور اس کی بندگی کا جواز یکسر اپنے گلے سے اتار پھینکتے ہیں۔ اور مذکورہ بالا آیت کے بقول وہ یہ کہتے رہتے ہیں۔ کہ زندگی اسی دُنیا کی زندگی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں اور جو شخص بھی اس کے علاوہ کچھ کہتا ہے۔ وہ جھوٹا ہے۔ اس دنیا میں جتنا وقت بھی ملے اس کو غنیمت جانو۔ چار دن کی زندگی ہنسی خوشی گزار دو۔ ہر درخت کا پھل چکھو۔ لذّت کا ذریعہ استعمال کرو اور ہر لذّت کا لُطف اٹھاوٴ.... وغیرہ وغیرہ۔ یوں وہ اپنی سیاہ کاریوں اور بد اعمالیوں کی توجیہہ کرتے رہتے ہیں۔ علاوہ بریں ٹھاٹھ باٹھ کی زندگی کے وسائل دوسروں کے حقوق نصب کر کے ہی مہیّا کئے جا سکتے ہیں۔ اور ان پر ہر طرح کا ظلم روا رکھا جاتا ہے۔ انبیاء کی نبوت اور قیامت کا انکار کئے بغیر طمطراق سے زندگی بسر ہی نہیں ہو سکتی اور وہ یہ مقام ہے جہاں تک پہنچنے والوں کی اکثریت عام مشاہدہ کے مطابق ہر حقیقت سے صرف نظر کرتی نظر آتی ہے اور قابلِ احترام حقائق کو نہایت تحقیر کے ساتھ روندتی چلی جاتی ہے۔ یہ دل کے اندھے اور بہرے، ہوس نفسانی کے چنگل میں پوری طرح جکڑے ہوتے ہیں۔ الله کی اطاعت اور لطف و کرم سے محروم ہو جاتے ہیں۔ مگر شہوات حیوانی کی غلامی کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیتے ہیں۔ دوسروں کے غلاموں کی بندگی کرتے ہیں۔ یہ لوگ کوتاہ فکر، پست خیال، کورہ ذہن، غلیظ رُوح اور تاریک دل ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی کا دور منتظر اور ظاہر شاید بعض لوگوں کے لئے خوش نما اور جاذبِ نظر ہو۔ مگر قریب کا منظر اور حقیقی حال بڑا وحشت ناک اور گھناوٴنا ہوتا ہے۔ کیونکہ ارتکاب گناہ اور جرائم کی وجہ سے برابر مضطرب اور بےچین رہتے ہیں۔ اور تعیش و عیش پرستی کے وسائل چھن جانے اور موت آنے کا خوف ہمہ گیر ان کو مسلسل بےقرار کئے رکھتا ہے۔
۲۔ "تراب" اور "عظام" کا مفہوم
"تراب" کا مطلب مٹی اور "عظام" کا معنیٰ ہڈیاں ہے۔ مرنے کے بعد عام طور پر جسدِ خاکی پہلے بوسیدہ ہڈیوں میں تبدیل ہوتا ہے اور اس کے بعد مٹی بن جاتا ہے لیکن مذکورہ آیت میں "تراب" کو "عظام" پر مقدم کیا گیا ہے۔ سوال کیا جا سکتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہو سکتا ہے کہ شاید آیت میں جسد خاکی کو دو حصّے مانا گیا ہو، یعنی گوشت اور ہڈیاں، گوشت پہلے ہڈیوں سے الگ ہو کر گر جاتا ہے اور مٹی میں فنا ہو جاتا ہے۔ ہڈیاں سالوں بعد فنا ہوتی ہیں۔ دوسرا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ "تراب" سے مراد زمانہٴ قدیم کے لوگ ہوں، جو بالکل مٹی ہو چکے ہیں اور "عظام" سے ماضی قریب کے اسلاف ہوں، جن کی بوسیدہ ہڈیاں ابھی باقی ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر روح المعانی، زیر بحث آیت کی تفسیر کے ذیل میں)۔
۳۔ "غثاء" سے کیا مراد ہے
مذکورہ بالا آیت کے مطابق "صیحہ آسمانی" کی وجہ سے قومِ ثمود "غثاء" کی طرح ہو گئی۔ "غثاء" کے لغوی معنیے "بھوسے" کے ہیں، جو سیلاب کے پانی کے اوپر انتہائی پراگندہ صورت میں نظر آتا ہے۔ اس جھاگ کو بھی "غثاء" کہتے ہیں۔ جو پکّے ہوئے کھانے کی دیگ میں جوش کی صورت میں اوپر آ جاتی ہے۔ قوم ثمود کے بےجان لاشوں کو "غثاء" سے تشبیہ دینا اور دراصل ان کی نہایت کمزور شکستہ، منتشر اور ذلیل و پست کیفیت کو بیان کرنے کے لئے ہے۔ کیونکہ سیل تندرو کی طاقت و عظمت کے سامنے حقیر بھوسے کے تنکے کی حیثیت ہی کیا ہوتی ہے۔ سیلاب کے وقت بھوسہ اپنے ارادے اور مرضی سے کوئی حرکت کر سکتا ہے اور نہ سیلاب کے بعد اس کا کوئی نام و نشان باقی رہتا ہے۔ "صیحہٴ آسمانی" کے بارے میں اس تفسیر کی جلد ٥ میں سورہٴ ہُود آیت نمبر۶۷ کی تفسیر کے ذیل میں ہم مفصّل بیان کر چکے ہیں۔ البتہ یہ عذاب صرف قومِ ثمود پر ہی نازل نہیں ہوا، بلکہ بعض دوسری نافرمان قوموں پر بھی آیا ہے۔ جن کی تفصیل اپنے مقام پر بیان کر دی گئی ہے۔
۴۔ ایک عمومی انجام
دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ آیت کے آخری حصّے میں مسئلے کو خصوصی کیفیت سے نکال کر ایک عمومی شکل دے دی گئی ہے۔ یعنی ایک قاعدہ کلیّہ بتایا گیا ہے کہ "ظالم لوگ رحمتِ پروردگار سے دور ہیں۔" دراصل یہ ان آیات میں بیان شدہ کفر، تکذیب اور معاد و قیامت سے انکار اور نافرمان قوم کے عبرتناک انجام سارے واقعے کا آخری اور حتمی نتیجہ ہے۔ جو کسی خاص اُمّت اور گروہ سے خصوصیت نہیں رکھتا بلکہ تمام نافرمان لوگ اس میں شامل ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر سرکش اقوام کی یکے بعد دیگرے ہلاکت
Tafsīr Nemūna · Vol. 4زیر بحث آیتوں میں قرآن مجید قومِ ثمود کے بعد اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے آنے والی اقوام کا ذکر کر رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ان کے بعد پھر ہم نے دوسری قومیں پیدا کر دیں۔ (ثُمَّ اَنشَاْنَا مِنْ بَعْدِھِمْ قُرُونًا آخَرِینَ)۔ کیونکہ الله کا طریقہ کار یہ ہے کہ اپنے فیوض و برکات کو منقطع نہیں کرتا۔ بلکہ اگر ایک قوم انسان کا ارتقاء و تکامل کی راہ میں حائل ہو تو اسے ہٹا کر اس کی جگہ دوسری قوم کو لے آتا ہے اور یونہی انسانیت کا قافلہ سُوئے منزل بڑھتا رہتا ہے۔ البتہ یہ مختلف قومیں اپنے اپنے دور اور معین مدّت کے لئے برسرِ عمل رہیں اور کسی قوم کا اختتام اپنے معیّنہ وقت سے نہ پہلے ہوتا ہے اور نہ اس میں تاخیر کی جاتی ہے (مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَھَا وَمَا یَسْتَاْخِرُونَ)۔ جب کسی قوم کے اختتام کا پروانہ صادر کر دیا جاتا ہے تو اس خاص معیّنہ وقت پر وہ قوم ہلاک ہو جاتی۔ نہ ایک لمحہ پہلے نہ بعد میں۔ "اجل" سے مراد کسی چیز کی عمر اور مدّتِ وجود ہے۔ کبھی یہ لفظ اختتام کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ادھار کی اجل اتنی مدت ہے (یعنی اتنی مدت کے بعد ادھار کا وقت ختم ہو جائے گا) البتہ جیسا کہ ہم پہلے بھی ہم بیان کر چکے ہیں۔ کہ "اجل" کی دو قسمیں ہیں۔ (۱)۔ اٹل (۲)۔ مشروط یا معلّق۔ کسی چیز، شخص یا قوم کے اختتام کا حتمی اور فیصلہ شدہ وقت جس میں کسی قسم کی تبدیلی کی گنجائش نہ ہو۔ اسے اٹل اجل کہتے ہیں۔ "اجل مشروط یا معلق" کسی چیز، شخص یا قوم کے اختتام کے لئے جو شرائط ہوں۔ وہ پوری نہ ہوں یا کوئی مانع پیش آ جائے جس کی وجہ سے اس میں کمی و بیشی ممکن ہو جائے اسے اجل مشروط کہتے ہیں، بہرحال، اس سلسلے میں ہم اسی تفسیر کی جلد نمبر ٣ میں سورہٴ انعام کی آیت ۲ کی تفسیر کے ذیل میں سیر حاصل بحث کر چکے ہیں۔ البتہ زیرِ بحث آیتوں میں حتمی اجل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ بعد کی آیت اس حقیقت سے پردہ اُٹھا رہی ہے کہ انسانی تاریخ میں انبیاء کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوا، ارشاد ہوتا ہے "ہم نے یکے بعد دیگرے لگاتار انبیاء بھیجے۔ (ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرا)۔ "تَتْرا" کا مادہ "وتر" ہے۔ جس کے معنیٰ لگاتار کے ہیں۔ اور اس سے وہ روایت جو لگاتار راویوں سے ہم تک پہنچیں، ان کو "متواتر روایات" (اخبار متواتر) کہا جاتا ہے۔ جس سے کسی خبر کے صحیح ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔ "وتر" کا اصل مطلب کمان کی وہ رسی یا وہ چمڑا ہے جو کمان کے دونوں سروں سے بندھا ہوتا ہے۔ اور تیر لگاتے وقت دونوں سروں کو قریب لے آتا ہے۔ ساخت کے لحاظ سے لفظ "تَتْرا" دراصل "وَتْرا" تھا "واوٴ"، "ت" میں تبدیل ہو گئی ہے۔ بہرحال، آسمانی راہبر ہدایت کے لئے آتے تھے۔ مگر نافرمان اور خود سر اقوام جُوں کی توں کُفر اورالحاد پر ڈٹی رہتی تھیں۔ اس طرح سے کہ "جب کوئی رسول کسی اُمّت کے پاس آتا تو اُمّت اسے جھٹلاتی۔ (کُلَّ مَا جَاءَ اُمَّةً رَسُولُھَا کَذَّبُوہُ)۔ اور جب ان کی سرکشی اور جھٹلانا حد سے بڑھ جاتا اور ہمارے رسول کی طرف ہر طرح سے اتمامِ حجّت ہو جاتی۔ تو ہم اس امّت کو نابود کر دیتے۔ اس طرح ہم نے کئی قومیں یکے بعد دیگرے صفحہٴ ہستی سے مٹا دیں (فَاَتْبَعْنَا بَعْضَھُمْ بَعْضًا)۔ قومیں تو مٹ گئیں، البتہ قصّے اور کہانیاں رہ گئیں۔ "بےشک ہم نے ان کو قصّہ پارینہ بنا دیا۔ (وَجَعَلْنَاھُمْ اَحَادِیثَ)۔ یہ اس طرح اشارہ ہے کہ بعض اوقات بطور مجموعی قوم تو تباہ کر دی جاتی۔ مگر اس کے بعض افراد یا جگہوں کے آثار عبرتناک سبق آموز اور نمایاں کیفیت میں ادھر اُدھر باقی رہ جاتے یا کبھی اس طرح ہو تاکہ قوم مکمل تباہ ہو جاتی اور صرف تاریخ کے صفحوں یا لوگوں کی باتوں میں ان کا نام رہ جاتا، ہماری نظر میں یہ سرکش قومیں دوسری کیفیت کی مصداق ہیں (تشریحی نوٹ: احادیث، حدیث' کی جمع ہے اور ہماری نظر اس کی مذکورہ بالا تفسیر ہے۔ مگر بعض دوسرے مفسرین کے خیال میں یہ "احدوثہ" کی جمع ہے اور اس کا معنیٰ "عجیب قصّے" جن کے بارے میں لوگ اکثر باتیں کرتے ہیں۔ فخر الدین رازی نے اسی آیت کی تفسیر کے ذیل میں یہ بات لکھی ہے)۔ آیت کے آخری حصّے میں گزشتہ آیت کی طرح ارشاد ہوتا ہے: دور ہو بےایمان قوم! رحمتِ خدا سے۔ (فَبُعْدًا لِقَوْمٍ لَایُؤْمِنُونَ)۔ بےشک یہ دردناک انجام ان کی بےایمانی کا نتیجہ تھا، اس بناء پر یہ انجام صرف انہی کے لئے مخصوص نہیں ہے بلکہ ہر بےایمان، باغی اور ظالم کا یہی مقدر ہو گا اور وہ بھی اس طرح ناپید ہو گا کہ صرف اس کا بُرا نام تاریخ میں یا لوگوں کی زبانوں میں باقی رہ جائے گا۔ یہی نہیں کہ اس قسم کے لوگ صرف دُنیا ہی میں رحمت پروردگار سے محروم ہیں۔ بلکہ آخرت میں بھی الله کے لطف و کرم اور مہربانیوں سے محروم رہیں گے۔ کیونکہ آیت کے مفہوم کے مطابق اس محرومی میں دنیا و آخرت دونوں شامل ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قیام اور فرعونیوں کی تباہی
Tafsīr Nemūna · Vol. 4اب تک حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے اولوالعزم پیغمبر سے پہلے کی امتوں کے بارے میں بیان کیا جا رہا تھا۔ زیرِ بحث آیتوں میں نہایت اختصار کے ساتھ فرعونیوں کے مقابلے میں حضرت مُوسٰی (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے قیام اور مغرور قوم کے انجام کے بارے میں ارشاد ہو رہا ہے: پھر ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی واضح نشانیوں اور روشن دلیل کے ساتھ بھیج۔ (ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوسیٰ وَاَخَاہُ ھَارُونَ بِآیَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُبِینٍ)۔ "آیات" اور "سلطان مبین" سے کیا مراد ہے اور ان دونوں کا آپس میں کیا فرق ہے؟ اس بارے میں مختلف خیال پائے جاتے ہیں۔ (i) بعض نے کہا "آیات" سے مراد وہ نو معجزات ہیں جو الله نے مُوسٰی بن عمران کو دیئے، جبکہ "سلطان مبین" سے مراد فرعنیوں کے مقابلے میں حضرت موسیٰ کے دندان شکن منطقی دلائل ہیں۔ (ii) بعض دیگر افراد کے خیال میں آیات سے مراد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عام معجزات ہیں اور "سلطان مبین" سے مراد بڑے معجزے یعنی "عصا" کا اژدھا بننا اور "یدِبیضا" ہے۔ کیونکہ یہ دو بڑے اہم معجزے تھے جو فرعونیوں پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی واضح کامیابی کا سبب بنے۔ (iii) ایک دوسرے گروہ کے خیال میں "آیات" سے مراد، تورات کی عبادت اور احکام کا بیان اور "سُطلان مبین" سے حضرت مُوسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات مراد ہیں۔ لیکن قرآن مجید میں "سلطان مبین" کی اصطلاح کے دیگر استعمال کے پیش نظر، اوّل الذکر تفسیر زیادہ صحیح ہے۔ کیونکہ اکثر مقام پر لفظ "سُلطان" یا "سلطان مبین" واضح دلیل کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ (تشریحی نوٹ: سورہٴ نمل آیت ۲۱۔ لَاُعَذِّبَنَّہُ عَذَابًا شَدِیدًا اَوْ لَاَذْبَحَنَّہُ اَوْ لَیَاْتِیَنِی بِسُلْطَانٍ مُبِینٍ، اور سورہٴ نجم آیت۲۳ إِنْ ھِیَ إِلاَّ اَسْمَاءٌ سَمَّیْتُمُوھَا اَنْتُمْ وَآبَاؤُکُمْ مَا اَنزَلَ اللهُ بِھَا مِنْ سُلْطَانٍ۔ دونوں آیتوں میں مثال موجود ہے)۔ بےشک ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو فرعون اور اس کے مغرور وڈیرے حامیوں کی طرف اپنی نشانیوں اور ”سلطان مبین“ کے ساتھ بھیجا (إِلَی فِرْعَوْنَ وَمَلاَئِہِ)۔ توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ اس آیت میں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ ہم نے موسیٰ و ہارون اور اس کے مصاحب سرداروں کی طرف بھیجا، یعنی خوشحال اور مراعات یافتہ طبقے کا ذکر ہے۔ یہ نہیں کہا گیا کہ مصر کے تمام لوگوں کی طرف بھیجا، اس کی وجہ یہ ہے کہ آیت یہ بتانا چاہتی ہے کہ اس وقت کی تمام بےقاعدگیوں اور بدعنوانیوں کی جڑ یہی مراعات یافتہ طبقہ تھا پس سرگروہ ٹھیک ہو جاتے تو باقی لوگوں کا مسئلہ آسان تھا، قطع نظر اس سے کہ وہ وقت کے حاکم اور سیاہ و سفید کے مالک تھے دراصل آیت یہ بتانا چاہتی ہے کہ جب تک کسی مُلک کے سرمایہ دار اور جاگیردار اور طبقہ کی اصطلاح نہ ہو، کچھ نہیں ہو سکتا۔ لیکن فرعون اور اس کے مصاحبوں نے تکبّر و غرور کا مظاہرہ کرتے ہوئے الله کی قوّت کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا (فَاسْتَکْبَرُوا)۔ اور بنیادی طور پر وہ بڑائی کے خواہاں تھے (وَکَانُوا قَوْمًا عَالِینَ)۔ "اسْتَکْبَرُوا" اور "کَانُوا قَوْمًا عَالِینَ" کے الفاظ میں فرق ہے۔ اس طرح کہ "اسْتَکْبَرُوا" سے مراد حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کے مقابلے میں ان کا فوری اظہار تکبّر ہے۔ جبکہ "وَکَانُوا قَوْمًا عَالِین" کا جملہ اس حقیقت کا عکّاس ہے کہ تکبر ان کی فکر و ذہنیت کا جزو تھا، یہ بھی ممکن ہے کہ پہلا لفظ ان کے تکبر کا مظہر ہو اور دوسرا ان کے عام پر تعیش اور ٹھاٹھ کے رہن سہن کی طرف اشارہ ہو، جو دراصل ان کے تکبر کی اصل وجہ تھی۔ ان کے تکبر اور غرور کی روشن نشانی ان کا کہا ہوا اگلا جُملہ ہے "وہ بولے کیا ہم اپنے جیسے دو انسانوں پر ایمان لے آئیں حالانکہ ان کی قوم ہماری غلام ہے۔ (فَقَالُوا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُھُمَا لَنَا عَابِدُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: انسان کو "بشر" اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس کا "بشرہ" یعنی چمڑی" برہنہ حالت میں نظر آتی ہے۔ برخلاف حیوانات کے جن پر قدرتی طور پر بال وغیرہ ہوتے ہیں اور عام طور پر کھال دکھائی دیتی۔ دراصل وہ بےعقل ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو موسمی تبدیلیوں سے بچانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس لئے انھیں طبیعی لباس دیا گیا، مگر انسان کو صاحب عقل ہونے کی وجہ سے یوں رکھا گیا ہے)۔ یعنی نہ صرف یہ کہ ہم ان کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کریں، گے بلکہ انھیں ہماری غلامی کرنی چاہیے، وہ انبیاء کرام علیہ السلام پر الزام لگاتے تھے کہ وہ اور تسلط طلب اور بڑا بننے کے خواہاں ہیں، جبکہ خود بدترین اقتدار پرست اور تسلط طلب تھے۔ یہی بات ان کی گفتگو سے واضح ہو رہی ہے۔ بہرحال، ان مہمل اور بےہودہ دلائل کا سہارا لے کر انھوں نے حق مخالفت کی اور انھوں نے مُوسیٰ علیہ السلام و ہارون علیہ السلام کو جھٹلایا اور ہلاک ہونے والوں میں سے قرار پائے۔ (فَکَذَّبُوھُمَا فَکَانُوا مِنَ الْمُھْلَکِینَ)۔ اور یوں آخرکار بنی اسرائیل کے اصلی دشمن جو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی دعوت میں سدراہ تھے، تباہ ہو گئے اور بنی اسرائیل کی ہدایت اور تعلیم و تربیت کا زمانہ آ گیا۔ اس موقع پر الله نے حضرت مُوسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی اور بنی اسرائیل ہدایت پائیں۔ (وَلَقَدْ آتَیْنَا مُوسَی الْکِتَابَ لَعَلَّھُمْ یَھْتَدُونَ)۔ توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ گزشتہ آیتوں میں جبکہ حضرت مُوسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کے فرعونیوں کے ساتھ مقابلے کی بات چلی رہی تھی تو جُملوں کی تمام ضمیریں تثنیہ کی صورت میں آئی ہیں۔ لیکن نزول تورات کا ذکر آیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام لیا گیا۔ اور حضرت ہاورن علیہ السلام کو شامل نہیں کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں شخصیتوں میں سے حضرت مُوسیٰ (علیہ السلام) ہی صاحب کتاب و شریعت اور اولواالعزم تھے۔ مزید برآں نزولِ تورات کے موقع پر صرف حضرت مُوسیٰ علیہ السلام ہی کوہ طور پر موجود تھے اور ان کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام بنی اسرائیل تھے (تشریحی نوٹ: حضرت مُوسیٰ علیہ السلام کی بعثت، فرعون اور اس کے حواریوں سے آپ کا مقابلہ اور دیگر واقعات کی تفصیل ہم جلد ۶ سورہء اعراف آیت۱۰۳ تا ۱۲۶، اور جلد۷ سورہٴ طٰہٰ کی آیت ۸ تا ۹۷ کی تفسیر کے ذیل میں بیان کر چکے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں)۔
تفسیر الله کی ایک اور نشانی
Tafsīr Nemūna · Vol. 4انبیاء کے حالات کی تفصیل کے آخری حصّے میں مختصر سا اشارہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ حضرت مریم علیہ السلام کی طرف کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: "ہم نے عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ حضرت مریم علیہ السلام کو اپنی عظمت و قدرت کی نشانی قرار دیا (وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّہُ آیَةً)۔ لفظ "عیسیٰ" کی بجائے "ابن مریم" کہہ کر اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے کہ آپ علیہ السلام بغیر باپ کے الله کے خاص حُکم سے پیدا ہوئے ہیں۔ اور یوں پیدا ہونا بجائے خود الله کی قدرت کاملہ کی ایک بڑی نشانی تھی۔ مزید برآں، چونکہ اس محیر العقول پیدائش کا تعلق ایک طرف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے ہے اور دوسری طرف جناب مریم (علیہ السلام) سے، لہٰذا دونوں کو الگ الگ نشانی اور آیت شمار کیا گیا ہے۔ البتہ دو مختلف زاویوں سے یہ ایک ہی حقیقت ہے (یعنی بچے کا بغیر باپ کے پیدا ہو جانا اور ایک عورت کا بغیر کسی مرد سے ملاپ کے حاملہ ہو جانا) اس کے بعد ان کو عطاء کی گئی چند عظیم نعمتوں اور آسائشوں کا تذکرہ کیا گیا ہے: ہم نے ان دونوں کو ایک بلند پُرسکون اور جاری پانی والی جگہ دی۔ (وَآوَیْنَاھُمَا إِلَی رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِینٍ)۔ "ربوہ"، "ربا" کے مادہ سے ہے اور اس کا معنیٰ زیادہ ہونا اور افزائش ہے اور یہاں بلند اور اونچی جگہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ "معین"، "معن" (بروزن "شان") سے ہے اور اس کا مطلب جاری پانی ہے۔ اس لئے جاری پانی کو "مَآء معین" کہتے ہیں۔ بعض نے اس لفظ کو "عین" سے ماخوذ مانا ہے یعنی وہ پانی جو ظاہر ہو اور آنکھوں سے دیکھا جا سکے۔ (تشریحی نوٹ: پہلی صورت میں "معین" کا میم جزوِ لفظ ہے اور "فعیل" کے وزن پر ہے۔ دوسری صورت میں "میم" زائدہ ہو گی اور مفعول کے وزن پر "مبیع" کی طرح ہو گی)۔ بہرحال، یہ اس پُرسکون اور پُرآزمائش مقام کی طرف ایک مجمل سا اشارہ ہے جو الله نے ان دونوں ماں بیٹے کو عطا کیا تھا تاکہ دشمن کی آنکھوں سے اوجھل اطمینان سے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ البتہ یہ مقام جغرافیائی لحاظ سے کہاں واقع ہے اس بارے میں خاصا اختلاف پایا جاتا ہے۔ (۱) بعض مفسرین کے خیال کے مطابق شامات کا ایک شہر "ناصرہ" حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے ولادت ہے۔ ان کے بقول جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تو بعض دشمنوں کو ان کی ولادت اور آئندہ پروگرام کے متعلق اجمالی سی معلومات ملیں اور وہ انھیں نقصان پہنچانے کے درپے ہوئے۔ مگر الله نے انھیں ایک محفوظ اور پُرآسائش مقام پر پہنچا دیا اور انھیں محفوظ رکھا۔ (۲) دوسروں کے خیال میں یہ مصر کا کوئی علاقہ ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ نے دشمنوں سے محفوظ رہنے کے لئے ایک مدّت تک مصر میں قیام کیا تھا۔ (٣) بعض کے خیال میں یہ دمشق کا علاقہ ہے۔ (۴) بعض کے خیال میں یہ "رملہ" (بیت المقدس کے شمال میں ایک شہر ہے) کا علاقہ ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ نے ان دونوں علاقوں میں کچھ عرصہ قیام کیا تھا۔ ۵۔ یہ خیال بھی ہے کہ مذکورہ جُملے سے مراد بیت المقدس کے گرد و نواح میں وہ جنگل ہو، جہاں آپ علیہ السلام کی ولادت ہوئی، جہاں ماں بیٹے کے لئے خوشگوار پانی جاری کیا گیا اور تازہ کھجوروں سے ان کی ضیافت کا اہتمام کیا گیا اور اس جگہ کو ان کے لئے ہر طرح سے محفوظ بھی بنایا گیا۔ بہرحال، یہ آیت اس امر کی واضح دلیل ہے کہ الله اپنے پیغمبروں اور ان کے اصحاب و انصار کا ہمیشہ حامی و ناصر رہا ہے اور آیت ببانگ دہل کہہ رہی ہے کہ اگر ساری دُنیا کا اسلحہ کسی کو تباہ کرنے کے لئے جمع کر لیا جائے۔ لیکن الله نہ چاہے تو اس کا بال بھی بیکا نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس کی تنہائی اور یار و انصار کی کمی اس کی شکست کا سبب بن سکتی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 54 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 54 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 54 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر سب ایک امّت ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیتوں میں انبیاء اور ان کی اُمتوں کی بات چل رہی تھی۔ زیرِ بحث پہلی آیت میں ان سب سے اس طرح خطاب ہوتا ہے: اے پیغمبر! پاک و پاکیزہ غذا کھاوٴ اور اچھے اچھے کام کرو، کیونکہ تم جو کچھ بھی کرتے ہو۔ میں پوری طرح سے باخبر ہوں (یَااَیُّھَا الرُّسُلُ کُلُوا مِنَ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّی بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِیمٌ)۔ تمھارے اور دوسرے انسانوں میں امتیاز اس لحاظ سے نہیں ہے کہ تم اوصاف بشری نہیں رکھتے یعنی کھاتے پیتے نہیں، بلکہ تمھارا امتیاز یہ ہے کہ تم اپنی خوراک اور غذا کو بھی اپنی ترقی و تکامل کا ایک ذریعہ سمجھے ہو۔ چنانچہ کھانا کھاتے ہوئے بھی جانچ پڑتال سے کام لیتے ہو اور صرف طیب و طاہر غذا ہی کھاتے ہو۔ جب کہ دوسروں نے صرف کھانے ہی کو اپنا مقصودِ زندگی بنا رکھا ہے۔ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ان کی حیوانی تشنگی کس غذا سے دور ہو گی اور وہ کبھی بھی خبیث و طیّب اور پلید و پاک کی پرواہ نہیں کرتے۔ اگر اس نقطے پر غور کریں کہ خوراک انسانی افکار اور کردار پر اثر رکھتی ہے اور مختلف غذاؤں کے مختلف اخلاقی اثرات ہوتے ہیں تو ان دو جُملوں کا آپس میں تعلق محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: پاک و پاکیزہ خوراک کھاوٴ اور نیک اعمال بجا لاوٴ اکثر روایات میں بھی ہے کہ حرام غذا قبولیت عبادت اور قبولیت دُعا کی راہ میں سنگِ گراں ہے۔ مندرجہ ذیل حدیث اس کی شاہد ہے۔ ایک شخص رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، اُس نے عرض کیا: میں چاہتا ہوں کہ میری دعا قبول ہو تو آپ نے فرمایا: "طھّر ماکلتک ولاتدخل بطنک الحرام"۔ "اپنی روزی کو پاک بناوٴ اور حرام غذا سے پرہیز کرو"۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۴، ابواب الدعاء، باب ۶۷، حدیث۴)۔ (بحوالہ: تفسیر نمونہ جلد۱ میں سورہء بقرہ کی آیت ۱۸۶ کی تفسیر کے ذیل میں اس موضوع پر کافی بحث ہو چکی ہے)۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ "إِنِّی بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِیمٌ" (جو کچھ تم کرتے ہو۔ میں اس سے آگاہ ہوں) کا جُملہ انسان کے عمل صالح کا پابند رہنے کا زبردست ضامن ہے۔ کیونکہ جب انسان کو اس بات کا یقین ہو کہ اس کے ہر فعل کی ہمہ وقت نگران ایسی ذات ہے۔ جس سے کوئی چیز بھی چھپائی نہیں جا سکتی اور جو افعال کی جزئیات پر پوری نگاہ رکھتی ہے۔ تو اس کے اعمال و کردار کی درستی پر بلاشبہ اثر پڑے گا۔ اس کے علاوہ مذکورہ آیات میں بیان شدہ مفہوم پاک و پاکیزہ رزق کی نعمت جو اسے نصیب ہوئی ہے۔ انسان میں شکر گزاری کے احساس کو ابھارتی ہے۔ اس سے بھی انسان کے افعال و کردار پر بڑا اچھا اثر پڑتا ہے۔ اس طرح اس آیہٴ مجیدہ میں اعمال صالح کے لئے تین موٴثر عوامل کا ذکر کیا گیا ہے۔ ۱۔ پاکیزہ غذا کا دل کے صدق و صفا پر اثر کے لحاظ سے۔ ۲۔ اس نعمت کے ذریعے انسان میں احساس شکر گزاری کی بیداری کے لحاظ سے۔ ۳۔ الله کے ہمارے اعمال و کردار، پر شاہد و ناظر ہونے کے لحاظ سے۔ "طیّب" جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے۔ ہر پاک و پاکیزہ چیز کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور "خبیث" ہر ناپاک کے لئے، راغب اپنی کتاب "مفردات" رقم طراز ہیں کہ "طیّب" کا لغوی معنیٰ لذّت بخش چیز ہے۔ چاہے اس کا تعلق انسان کے جسم سے ہو یا رُوح سے۔ البتہ شرعی اصطلاح میں حلال اور پاکیزہ چیز کو طیّب کہتے ہیں۔ بہرحال، قرآن مجید کی بہت سی بحثیں "طیّب" اور "طیّبات" کے محور پر گھومتی ہیں، جن میں سے بعض ذیل میں پیش کی جاتی ہیں:۔ ا) انبیاء کو حکم دیا گیا ہے کہ صرف پاکیزہ غذا استعمال کریں۔ ب) مومنین سے بھی یہی کہا گیا ہے۔ "یَااَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا کُلُوا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاکُمْ" "اے صاحبانِ ایمان! طیّبات میں سے جو روزی ہم نے تمھیں دی ہے کھاوٴ"۔ (بقرہ/۱۷۲) ج) الله کی بارگاہ میں صرف وہ افکار اور اعمال باریابی حاصل کر سکتے ہیں۔ جو طیّب و طاہر ہوں۔ "إِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہُ" اچھی اچھی باتیں اس کی بارگاہ تک پہنچتی ہیں اور اعمال صالح کو وہ اوپر لے جاتا ہے"۔ (فاطر/۱۰) د) مزید برآں الله نے انسان کو جس اعزاز سے نوازا ہے اور جو خوبی اسے دوسرے موجودات سے ممتاز کرتی ہے۔ وہ اس کا طیّبات سے استفادہ کرنا ہے۔ وَ لَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِی آدَمَ وَحَمَلْنَاھُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاھُمْ مِنَ الطَّیِّبَاتِ وَ فَضَّلْنَاھُمْ عَلیٰ کَثِیرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیلًا" ہم نے بنی نوع انسان کو عزت دی، خشکی اور پانیوں میں اس کے لئے سواریوں کا انتظام کیا اور پاک و پاکیزہ روزی اسے عطا کی اور اپنی مخلوق پر اسے فضیلت دی۔ (بنی اسرائیل/۷۰) رسول اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم سے بھی ایک چھوٹی سی پُرمغز حدیث روایت کی گئی ہے۔ آپ نے فرمایا: "یا ایّھا النّاس انّ الله طیّب لایقبل الّا طیّبا"۔ "الله خود پاک اور منزّہ ہے اور وہ پاکیزہ عمل کے علاوہ کسی چیز کو شرف قبولیت نہیں بخشتا"۔ (بحوالہ: تفسیر قرطبی، ج۷، ص۴۵۱۹، زیرِ بحث آیت کی تفسیر کے ذیل میں)۔ اگلی آیت انبیاء اور ان کے پیروکاروں کو توحید و تقویٰ کی دعوت دیتے ہوئے کہتی ہے۔ تم سب ایک ہی امّت ہو (اور تمھارے درمیان اور تمھارے انبیاء کے درمیان موجود فرق ہرگز علٰحیدگی اور عدمِ یگانگی کی دلیل نہیں) (وَإِنَّ ھٰذِہِ اُمَّتُکُمْ اُمَّةً وَاحِدَةً)۔ اور میں تمھارا رب ہوں، پس میری مخالفت سے پرہیز کرو۔ (وَاَنَا رَبُّکُمْ فَاتَّقُونِ)۔ اس طرح گویا یہ آیت انسانی معاشرے کو وحدت کی اور ہر قسم کے انتشار و پراگندگی کے خاتمے کی دعوت دیتی ہے جیسے وہ ایک اکیلا پروردگار ہے۔ انسان بھی ایک ہی امّت ہیں۔ لہٰذا انھیں ایک پروگرام اور نظام کے تحت یکجا ہو جانا چاہیئے۔ اسی طرح جیسے ان کے انبیاء ایک ہی دین و آئین کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ وہ دین جس کے اصول ہر دور میں ایک جیسے رہے ہیں۔ اور وہ ہیں توحید و حق شانسی، معاد و قیامت پر ایمان، نوع انسانی کے ارتقاء و کمال کی طرف توجہ دیتا، طیّبات اور پاک چیزوں سے استفادہ کرنا، عمل صالح انجام دینا اور عدالت و اقدارِ انسانی کی حمایت کرنا۔ بعض مفسرین کے نزدیک یہاں لفظ "امة" کا معنیٰ گروہ و جمعیّت نہیں، بلکہ دین و آئین ہے۔ حالانکہ "انا ربّکم" میں ضمیر جمع اس پر شاہد ہے کہ اُمّت سے مراد انسانوں کی جماعت ہی ہے۔ اسی لئے قرآن مجید میں جہاں بھی لفظ "امة" استعمال ہوا ہے۔ وہاں اس سے مراد انسانوں کی جمعیّت اور گروہ ہے۔ البتّہ بعض استثنائی مواقع ہیں جہاں قرینہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ "امّت" کو مجازاً مذہب کے معنے میں استعمال کیا گیا ہے۔ مثلاً: "إِنَّا وَجَدْنَا آبَائَنَا عَلیٰ اُمَّةٍ وَإِنَّا عَلیٰ آثَارِھِمْ مُقْتَدُونَ" ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایک مذہب پر پایا اور ہم ان کی پیروی کریں گے"۔ (زخرف/۲۳) یہ بات قابل توجہ ہے کہ تھوڑے فرق کے ساتھ اسی آیت کا مفہوم سورہٴ انبیاء کی آیت ۹۲ میں میں بھی موجود ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: "إِنَّ ھٰذِہِ اُمَّتُکُمْ اُمَّةً وَاحِدَةً وَاَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُونِ" "یقیناً تمھاری امّت امّتِ واحدہ ہے اور میں تمھارا رب ہوں، پس میری ہی بندگی کرو"۔ حالانکہ اس سے پہلے بہت سے انبیاء کے حالات بیان کئے گئے ہیں اور درحقیقت، "ھٰذہ" گزشتہ انبیاء کی امتوں کی طرف اشارہ ہے کہ جو سب الله کے نزدک اُمّت واحدہ تھے اور سب کے سب ایک ہی ہدف کے لئے مصروفِ عمل رہے۔ اگلی آیت انسانوں کو انتشار و پراگندگی سے ان الفاظ میں ڈراتی ہے: لیکن لوگوں نے اپنے کاموں میں انتشار و اختلاف پیدا کر دیا اور ہر گروہ اپنی الگ ڈگر پر چل نکلا (فَتَقَطَّعُوا اَمْرَھُمْ بَیْنَھُمْ زُبُرًا)۔ اور تعجب کی بات یہ ہے "کہ ان میں سے ہر گروہ اپنی اپنی حالت پر خوش ہے"۔ اور دوسروں سے بیزار ہے۔ (کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْھِمْ فَرِحُونَ)۔ "زبر"، "زبرة" (بروزن "لقمہ") کی جمع ہے۔ یہ جانور کی پشت کے بالوں کے ایک حصّہ کے معنیٰ میں ہے کہ جسے جمع کر کے بقیہ سے الگ کر لیا جائے۔ بعد ازاں یہ لفظ ہر اس چیز کے لئے بولا جانے لگا۔ کہ جو دوسری سے الگ کی گئی ہو۔ لہٰذا "فَتَقَطَّعُوا اَمْرَھُمْ بَیْنَھُمْ زُبُرًا" تمام امتوں کے مختلف گروہوں میں منقسم ہو جانے کی طرف اشارہ ہے۔ بعض نے یہ احتمال بھی پیش کیا ہے کہ "زبر"، "زبور" کی جمع ہے۔ جس کا معنیٰ "کتاب" یعنی ہر گروہ نے کسی ایک آسمانی کتاب کو پکڑ لیا اور باقی خدائی کتب کا انکار کر دیا، حالانکہ ان سب کا سرچشمہ ایک ہی ہے۔ لیکن ”کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْھِمْ فَرِحُونَ" کا جُملہ پہلی تفسیر کو تقویت دیتا ہے۔ بہرحال، یہ آیت ایک اہم نفسیاتی اور اجتماعی حقیقت کو بیان کرتی ہے اور وہ ہے مختلف گروہوں اور جماعتوں کا جاہلانہ تعصّب، ہر گروہ نے اپنی ہی ایک ڈگر اپنا رکھی ہے اور اپنا ہی ایک دین بنا رکھا ہے۔ اور ہر دوسری بات کے لئے اپنی فکر کے دریچے بند کر لئے ہیں۔ وہ تیار ہیں کہ کوئی تازہ روشنی اُن کی فکر کو روشن کرے اور تازہ ہوا ان کے سامنے کسی حقیقت کا دروازہ کھولے۔ یہ حالت کہ جس کا سرچشمہ بہت زیادہ خود خواہی، خود پرستی اور خود پسندی ہے۔ حقائق کے واضح ہونے اور امتوں کے درمیان وحدت قائم ہونے کی سب سے بڑی دُشمن ہے۔ اپنے طور طریقے پر خوش رہنا اور اس کے علاوہ ہر کسی سے نفرت و بےگانگی بعض اوقات انسان کو اس مقام تک پہنچا دیتی ہے کہ وہ دوسرے کی بات تک سننے کے لئے تیار نہیں ہوتا کہ کہیں اُس کی عادت کے برخلاف کوئی حقیقت اس پر آشکار نہ ہو جائے، جیسا کہ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے کے مشرکین کے بارے میں قرآن کہتا ہے۔ وَإِنِّی کُلَّمَا دَعَوْتُھُمْ لِتَغْفِرَ لَھُمْ جَعَلُوا اَصَابِعَھُمْ فِی آذَانِھِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِیَابَھُمْ وَاَصَرُّوا وَاسْتَکْبَرُوا اسْتِکْبَارًا بارالٰہا! جب میں نے انھیں تیری طرف آنے کی دعوت دی تاکہ تُو اس کے گناہ بخش دئے، تو انھوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے اوپر کپڑا ڈال لیا۔ اور اپنی غلط ڈگر پر ڈٹ گئے اور حق کے مقابلے انھوں نے سخت تکبر سے کام لیا"۔ (نوح/۷) جب تک یہ حالت ختم نہ ہو جائے انسان حق تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا اور ہر شخص اپنے طریقہٴ عمل پر ہٹ دھرمی سے قائم ہے۔ اسی لئے تو زیرِ بحث آخری آیت میں فرمایا گیا ہے: جب یہ صورتحال ہے۔ تو انھیں ان کی جہالت و گمراہی میں ڈوبا رہنے دو، یہاں تک کہ انھیں موت آ جائے۔ یا پھر وہ عذاب الٰہی میں گرفتار ہو جائیں (فَذَرْھُمْ فِی غَمْرَتِھِمْ حَتَّی حِینٍ)۔ ہو سکتا ہے لفظ "حین" وقتِ موت کی طرف یا نزول عذاب کے وقت کی طرف اور یا پھر دونوں کی طرف اشارہ ہو۔ لفظ "غمرة" (بروزن "ضربة") دراصل "غمر" سے کسی چیز کا اثر ختم کرنے کے معنی میں ہے۔ بعد ازاں زیادہ پانی کو "غمر" یا "غامر" کہا جانے لگا جو اپنا راستہ بناتے ہوئے آگے نکل جاتا ہے۔ پھر اس لفظ کا اطلاق جہالت و تعصّب پر بھی ہونے لگا کہ جو انسان کو گھیر لیتی ہے۔ اور زیربحث آیت میں یہ اسی مفہوم میں ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 61 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 61 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 61 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 61 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 61 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 61 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر بھلائیوں میں سبقت کرنے والے
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیات میں ان مختلف ہٹ دھرم متعصّب اور خود پسند گروہوں کے بارے میں گفتگو کی گئی تھی کہ جو صرف اپنے عقائد سے چمٹے رہتے ہیں، انہی میں مگن اور خوش رہتے ہیں اور جنھوں نے تحقیق و جستجو کا ہر راستہ اپنی عقل کے لئے بند رکھا ہے۔ زیرِ نظر آیات میں ان کے بعض متکبرانہ خیالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: کیا اُن کا گمان ہے کہ ہم نے جو انھیں مال و اولاد دی ہے۔ (اَیَحْسَبُونَ اَنَّمَا نُمِدُّھُمْ بِہِ مِنْ مَالٍ وَبَنِینَ)۔ یہ اس لئے ہے کہ ہم نے بڑی تیزی کے ساتھ ان کے لئے بھلائیوں کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ (نُسَارِعُ لَھُمْ فِی الْخَیْرَاتِ)۔ کیا وہ زیادہ مال و اولاد کو اپنی حقانیت کی دلیل خیال کرتے ہیں اور اسے بارگاہِ الٰہی ہیں قرب و عظمت کی برہان سمجھتے ہیں؟ نہیں، ایسا ہرگز نہیں ہے "بلکہ وہ نہیں سمجھتے" (بَل لَایَشْعُرُونَ)۔ وہ نہیں سمجھتے کہ یہ مال و اولاد کی فراوانی درحقیقت، ان کے لئے ایک طرح سے عذاب و سزا کی تمہید ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ خدا چاہتا ہے کہ انھیں ناز و نعمت میں غرق کر دے تاکہ جب عذاب الٰہی میں گرفتار ہوں تو یہ عذاب برداشت کرنا ان کے لئے اور بھی سخت ہو جائے۔ کیونکہ اگر انسان پر نعمت کے دروازے بند ہوں اور اس میں مشکلات گورا کرنے کی صلاحیّت پیدا ہو جائے تو پھر سزا اس کے لئے زیادہ سخت نہیں ہوتی۔ یعنیٰ اگر کوئی ناز و نعمت کی زندگی گزار رہا ہو اور پھر اُسے کسی تاریک وحشت ناک زندان میں ڈال دیا جائے تو یہ اُس کے لئے انتہائی سخت مرحلہ ہو گا۔ علاوہ ازیں نعمت کی یہ فراوانی ایسے انسان کی آنکھوں پر غفلت و غرور کے پردوں کو زیادہ ضخیم کر دیتی ہے۔ یہاں تک کہ اُسے واپسی کی راہ سجھائی نہیں دیتی۔ اس چیز کو قرآن میں "استدراج در نعمت" قرار دیا گیا ہے۔ (تشریحی نوٹ: اس سلسلے میں مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ جلد ۷ میں سورہٴ اعراف کی ایہٴ ۱۸۲ کے ذیل میں رجوع فرمائیں)۔ ضمناً لفظ "نمد"، "امداد" اور "مد" کے مادہ سے کسی چیز کے نقصان اور کمی کو پورا کرنے اور اس کے خاتمے کو روکنے کے معنیٰ میں ہے۔ غفلت میں پڑے ہوئے ان خود پسند لوگوں کے خیالات کی نفی کے بعد مومنین اور اچھائیوں میں تیزی کرنے والوں کے بارے میں چند آیات میں ان کے بنیادی اوصاف بیان کئے گئے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ لوگ جو اپنے پروردگار کے خوف سے لرزاں ہیں (إِنَّ الَّذِینَ ھُمْ مِنْ خَشْیَةِ رَبِّھِمْ مُشْفِقُونَ)۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ "خشیہ" ہر قسم کے خوف کو نہیں کہتے، بلکہ یہ وہ خوف ہے جن میں تعظیم و احترام شامل ہو۔ "مشفق"، "اشفاق"، "شفق" کے مادہ سے ہے۔ یہ ایسی روشنی کے معنیٰ میں ہے۔ جس میں تاریکی ملی ہوئی ہو، اور اس سے مراد ایسا خوف ہے کہ جس میں محبّت و احترام کی آمیزش ہو۔ "خشیہ" زیادہ تر قلبی اور داخل پہلو رکھتی ہے جبکہ "اشفاق" عملی پہلو کے لئے ہے۔ آیت میں ان دونوں کا ذکر علت و معلول کے حوالے سے ہے۔ درحقیقت، قرآن فرماتا ہے کہ وہ ایسے لوگ کہ جن کے دلوں میں عظمتِ خدا کی آمیزش رکھنے والا خوف جاگزیں ہے اور اس کے آثار ان کے اعمال میں دکھائی دیتے ہیں۔ اور وہ احکام الہٰی کی پاسداری کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں "اشفاق"، "خشیۃ" کا مرحلہ کمال ہے کہ جو عمل پر اپنا اثر مرتب کرتا ہے۔ اور گناہ سے پرہیز کرنے اور ذمہ داریاں انجام دینے پر اُبھارتا ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا: وہ لوگ جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان لاتے ہیں (وَالَّذِینَ ھُمْ بِآیَاتِ رَبِّھِمْ یُؤْمِنُونَ)۔ آیات پروردگار پر ایمان کے بعد اُسے ہر قسم کی شبیہ و شریک سے پاک سمجھنے کا مرحلہ آتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ لوگ کہ جو اپنے رب کے بارے میں شرک نہیں کرتے۔ (وَالَّذِینَ ھُمْ بِرَبِّھِمْ لَایُشْرِکُونَ)۔ درحقیقت، شرک کی نفی آیاتِ الٰہی پر ایمان لانے کا نتیجہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں آیاتِ الٰہی پر ایمان اس کی "صفاتِ ثبوتی" کی طرف اشارہ کرتا ہے اور شرک کی نفی "صفات سلبی" کی طرف اشارہ ہے۔ بہرحال، اس جُملے میں ہر قسم کے شرک کی نفی موجود ہے۔ چاہے وہ جلی ہو چاہے خفی۔ اس کے بعد قیامت پر ایمان کا ذکر ہے۔ قیامت کے بارے میں سچّے مومنین خاص توجہ رکھتے ہیں، ایسی توجہ کہ جو عمل میں انھیں پوری طرح کنٹرول کرتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ لوگ کہ جو لوگوں اور الله کے حقوق کی ادائیگی کرتے ہیں۔ اطاعت بجا لانے میں اپنی پوری کوشش کرتے ہیں اور ان کے دل اس خیال سے ڈرتے رہتے ہیں آخر کار انھیں اپنے رب کی طرف لوٹ جانا ہے (وَالَّذِینَ یُؤْتُونَ مَا آتَوا وَقُلُوبُھُمْ وَجِلَةٌ اَنَّھُمْ إِلَی رَبِّھِمْ رَاجِعُونَ)۔ یہ لوگ کوتاہ فکر لوگوں کی طرح نہیں ہیں کہ جو ایک چھوٹا سا عمل انجام دے کہ اپنے آپ کو مقرب پروردگار سمجھنے لگتے ہیں اور اپنے مقابلے میں سب لوگوں کو پست اور بےوقعت سمجھنے لگتے ہیں۔ جبکہ یہ اہل ایمان ایسے ہیں کہ اگر ایسا عظیم نیک عمل انجام دیں کہ جو تمام جن و انس کی عبادت کے برابر ہو تو بھی حضرت علی علیہ السلام کی طرح کہتے ہیں۔ آہ من قلة الزاد وبعد السفر آہ! زادِ راہ کی کمی اور سفر کی طوالت! یہ چار صفات بیان کرنے کے بعد فرمایا گیا ہے: یہ ایسے لوگ ہیں کہ جو نیکیوں میں جلدی کرتے ہیں اور دوسروں پر سبقت حاصل کرتے ہیں۔ (اُوْلٰئِکَ یُسَارِعُونَ فِی الْخَیْرَاتِ وَھُمْ لَھَا سَابِقُونَ)۔ درحقیقت، حقیقی بھلائی اور سعادت وہ نہیں کہ جو عیش و عشرت میں غرق غافل و مغرور لوگ خیال کرتے ہیں۔ حقیقی خیر و سعادت اور برکت ان مومنین کے لئے ہے جو مندرجہ بالا اعتقادی اور اخلاقی اوصاف کے مالک ہیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اعمال صالح انجام دینے کے لئے پیش قدمی کرتے ہیں۔ زیرِ بحث آیات میں ان پیش قدم مومنین کی بہت عمدہ، جاذب نظر، منطقی، مکمل اور منظم تصویر پیش کی گئی ہے۔ یہ مومنین خدا سے ایسا خوف رکھتے ہیں۔ کہ جس میں احترام و تعظیم کی آمیزش ہے۔ یہ خوف آیات الٰہی پر ایمان لانے کا سبب بنتا ہے اور ہر قسم کے شرک کی نفی کا ذریعہ قرار پایا ہے۔ یہ مومنین قیامت و عدالتِ الٰہی پر ایمان رکھتے ہیں کہ جو احساس ذمہ داری اور نیک کام کی بنیاد بن جاتا ہے۔ اس لحاظ سے اہلِ ایمان کی مجموعی طور پر چار صفات بیان کی گئی ہیں۔ اور ایک نتیجہ پیش کیا گیا ہے۔ ضمناً "یُسَارِعُونَ" کہ جو بابِ مفاعلہ سے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں تیزی کرنے کے معنیٰ ہے بہت عمدہ اور جاذب نظر تعبیر ہے۔ یہ تعبیر مومنین کے مثبت مقابلے کی کیفیت کو ظاہر کرتی ہے کہ جو عظیم اور قیمتی مقصد کے لئے انجام پاتا ہے۔ یہ تعبیر ظاہر کرتی ہے کہ اہلِ ایمان کس طرح سے اعمال صالح میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں اور بغیر توقف کے جدّ وجہد جاری رکھتے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 67 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 67 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 67 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 67 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 67 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر جہالت میں ڈوبے ہوئے دل
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیات میں مومنین کی نمایاں صفات کی گئی ہیں، یہی وہ صفات ہیں جو ہر نیکی کا سرچشمہ ہیں، لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر شخص کے لئے ممکن ہے کہ وہ ایسی صفات کا حامل ہو اور ایسے اعمال انجام دے سکے۔ اس سلسلے میں زیرِ نظر پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: "ہم کسی شخص کو اس کی توانائی سے زیادہ ذمہ داری نہیں سونپتے"۔ اور ہر شخص سے اس کی طاقت اور عقل کے مطابق تقاضا کرتے ہیں۔ (وَلَانُکَلِّفُ نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَھَا)۔ یہ تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ الله تعالیٰ نے انسانوں پر جو فرائض عائد کئے ہیں اور جو احکام دیئے ہیں۔ وہ ان کی توانائی کی حدود میں ہیں اور جن مواقع پر کسی حکم پر عمل کرنا انسان کے بس میں نہ ہو، وہاں وہ حکم ساقط ہو جاتا ہے۔ علماء اصول کے مطابق یہ کلیہ تمام احکام اسلام پر لاگو ہوتا ہے اور ان پر مقدم ہے۔ ممکن ہے پھر یہ سوال پیدا ہو کہ کیسے ممکن ہے کہ انسانوں کے تمام چھوٹے بڑے اعمال کا حساب اور جانچ پڑتال ہو سکے اس ضمن میں مزید فرمایا گیا ہے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے کہ حق بات کہتی ہے (اور تمام بندوں کے اعمال اس میں ثبت ہیں) لہٰذا کسی پر کوئی زیادتی نہیں ہو گی۔ (وَلَدَیْنَا کِتَابٌ یَنطِقُ بِالْحَقِّ وَھُمْ لَایُظْلَمُونَ)۔ یہ ان اعمال ناموں کی طرف اشارہ ہے کہ جن میں انسانوں کے تمام اعمال ریکارڈ کئے گئے ہیں اور وہ خدا کے پاس محفوظ ہیں یہ انسانی اعمال کی ایسی ڈائریاں ہیں کہ جو گویا زبان رکھتی ہیں اور حق بات بیان کرتی ہے۔ اس طرح سے کہ انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس کتاب سے مراد کہ جو الله کے پاس ہے "لوح محفوظ" ہے اور "لدینا" (ہمارے پاس) کی تعبیر اس تفسیر کی تائید کرتی ہے۔ بہرحال، زیرِ بحث آیت اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ انسان اعمال کا ایک ذرّہ بھی نظر انداز نہیں کیا جائے گا اور تمام اعمال کا بڑی توجہ سے ریکارڈ مرتب ہو گا۔ اس حقیقت پر ایمان نیک لوگوں کو کارِخیر کا شوق دلاتا ہے۔ اور بُرے کام سے بچاتا ہے۔ "ینطق بالحق" (حق کی بات بیان کرتی ہے) یہ جُملہ انسانی اعمال کی توصیف ہے۔ فارسی میں بھی ہم کہتے ہیں۔ فلاں نامہ بقدر کافی گویا است فلاں خط مُنہ بولتا ہے۔ یعنی اس کی تشریح و توضیح کی ضرورت نہیں، گویا خود بولتا ہے۔ اس کے لئے سر کھپانے کی ضرورت نہیں یہ تو خود حقائق واضح کر رہا ہے۔ "وھم لایظلمون" بھی اس طرف اشارہ ہے کہ اعمال کا ریکارڈ اگر باریک بینی سے مکمل تیار کیا گیا ہے تو پھر ظلم و زیادتی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ لیکن یہ حقائق بیان کرنے کا اثر صرف ان لوگوں پر ہوتا ہے۔ جو کچھ بیداری و آگاہی رکھتے ہوں۔ لہٰذا ساتھ ہی مزید فرمایا گیا: لیکن یہ ہٹ دھرم کافر لوگ یوں جہالت میں ڈوبے ہوئے ہیں کہ روزِ حساب پیش ہونے والے اپنے نامہٴ اعمال سے اور قرآن کے وعدہ و وعید سے بالکل غافل ہیں۔ (بَلْ قُلُوبُھُمْ فِی غَمْرَةٍ مِنْ ھٰذَا) (تشریحی نوٹ:ممکن ہے۔ "ھٰذا" نامہ اعمال، روزِ جزا، قرآن مجید یا صالیحن کے طرز عمل کی طرف اشارہ ہو کہ جن کی طرف گزشتہ آیات میں اشارہ ہو چکا ہے)۔ جہالت کا یہ عالم انھیں اجازت نہیں دیتا کہ وہ ان واضح حقائق کا مشاہدہ کریں، اپنے اندر جھانکیں اور الله کی جانب پلٹ آئیں۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: اس کے علاوہ بھی وہ ایسے اعمال انجام دیتے رہتے ہیں (وَلَھُمْ اَعْمَالٌ مِنْ دُونِ ذٰلِکَ ھُمْ لَھَا عَامِلُونَ) مفسرین نے "وَلَھُمْ اَعْمَالٌ مِنْ دُونِ ذٰلِکَ" کے بارے میں مختلف تفسیریں ذکر کیں ہیں۔ بعض نے اسے غلط اور قبیح اعمال کی طرف اشارہ سمجھا ہے کہ جو جہالت و نادانی کی وجہ سے ان سے سرزد ہوتے ہیں (اس بناء پر "ذلک" ان کی جہالت کی طرف اشارہ ہے) اور "اعمال" ایسے گناہوں کی طرف اشارہ ہے کہ جو اس راستے میں ان سے سرزد ہوتے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ مراد یہ ہے کہ وہ کافرانہ عقیدے کے حامل ہونے کے علاوہ اعمال بھی بہت قبیح انجام دیتے ہیں۔ بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ ان کافروں کا طرزِ عمل مومنوں سے بالکل جُدا ہے۔ اور دونوں کے راستے الگ ہیں۔ نتیجے کے طور پر ان تفسیروں میں کوئی اختلاف نہیں اور انھیں ایک مجموعی تفسیر میں یکجا کیا جا سکتا ہے۔ البتہ اس امر کی طرف توجہ کرنا چاہیے کہ ان کے شرمناک اعمال کی بنیاد وہی ان کے دلوں کا جہالت میں ڈوب جانا ہے۔ لیکن___ وہ اس طرح عالمِ غفلت میں رہیں گے۔ "یہاں تک کہ وہ دن آ پہنچے گا جب ہم مالدار عیش پرستوں کو گرفتارِ عذاب کریں گے۔ اس وقت وہ تلمائیں گے اور بلبلائیں گے" اور الله کے شدید عذاب اور دردناک سزا پر فریاد کریں گے۔ (حَتَّی إِذَا اَخَذْنَا مُتْرَفِیھِمْ بِالْعَذَابِ إِذَا ھُمْ یَجْاَرُونَ) لیکن اُن سے کہا جائے گا: بند کرو یہ آہ وزاریاں کیونکہ آج کے دن ہم تمھاری کوئی مدد نہیں کریں گے (لَاتَجْاَرُوا الْیَوْمَ إِنَّکُمْ مِنَّا لَاتُنصَرُونَ)۔ یہاں پر خصوصیت "مترفین" (ناز و نعمت میں غرق افراد) کا ذکر کیا گیا ہے۔ جب کہ گناہگار صرف وہ نہیں ہوتے یہ اس لئے ہے کہ یہی لوگ گمراہی کے سردار ہیں۔ یا پھر اس لئے ہے کہ انھیں زیادہ دردناک سزا دی جائے گی۔ ضمناً "عذاب" سے یہاں مراد ہو سکتا ہے۔ عذاب دُنیا، یا عذاب آخرت ہو یا پھر دونوں ہیں۔ یعنی اس جہان میں اُس جہان میں جب عذاب الٰہی انھیں دامن گیر ہوتا ہے تو وہ بلبل اُٹھتے ہیں اور فریاد کرتے ہیں۔ لیکن واضح ہے کہ اُس دم معاملہ ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے اور واپسی ممکن نہیں ہوتی۔ اگلی آیت درحقیقت، اس منحوس انجام کی علت بیان کر رہی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ میری آیات مسلسل تمھارے سامنے پڑھی جایا کرتی تھیں، لیکن بجائے اس کے کہ تم اُن سے سبق لیتے اور بیدار ہوتے، تم مُنہ موڑ لیتے تھے اور الٹے پاوٴں بھاگ جاتے تھے (قَدْ کَانَتْ آیَاتِی تُتْلَی عَلَیْکُمْ فَکُنتُمْ عَلیٰ اَعْقَابِکُمْ تَنکِصُونَ) "تَنکِصُونَ"، "نکوص" کے مادہ سے پیچھے ہٹنے کے معنی میں ہے۔ "اعقاب"، "عقب" (بروزن "جھش") کی جمع ہے اور "عقب" پاوٴں ایڑی کے معنی میں ہے۔ مجموعی طور پر اس جُملے سے ایسے افراد مراد کہ جو نامرعوب باتیں سُن کر ایسے پریشان ہوتے ہیں۔ کہ ایڑیوں کے بل تیزی سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ آیاتِ الٰہی سُن کر وہ نہ صرف اُلٹے پاوٴں ہٹ جاتے ہیں۔ بلکہ "غرور کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔ (مُسْتَکْبِرِینَ بِہِ) [تشریحی نوٹ: اس سلسلے میں اختلاف ہے کہ "بہ" کی ضمیر کس کی طرف لوٹتی ہے۔ بعض سمجھتے ہیں کہ یہ مسجد الحرام اور حرم مکّہ کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ وہ لوگ اپنے تئیں خانہٴ کعبہ کا متولی سمجھتے ہوئے تکبر کرتے تھے۔ لیکن یہ احتمال ضعیف ہے۔ کیونکہ گزشتہ آیات میں کعبہ اور حرم کا کوئی ذکر نہیں۔ ظاہری مفہوم کے اعتبار سے یہ ضمیر رسول الله کی طرف لوٹتی ہے۔ یعنی تم رسول الله اور آیات قرآن کے مقابلے میں تکبر کرتے تھے۔ یا پھر اُلٹے پاوٴں جانے کی طرف اشارہ ہے کہ اس طرح تم تکبر اور بےاعتنائی کا مظاہرہ کرتے تھے]۔ اس کے علاوہ تم رات کو بیٹھکیں جماتے تھے اور رسول، قرآن اور مومنین کی بدگوئی کرتے تھے۔ (سَامِرًا تَھْجُرُونَ)۔ "سَامِرًا"، "سمر" (بروزن "ثمر") کے مادہ سے "رات کی باتوں" کے معنی میں ہے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس مادہ کا اصلی معنیٰ "رات میں چاند کا سایہ" ہے کہ جس میں تاریکی اور روشنی کی آمیزش ہوتی ہے اور رات کی باتیں کبھی کبھی چاند کی روشنی میں ہوتی ہیں۔ مشرکین عرب کے بارے میں منقول ہے کہ وہ چاند راتوں میں کعبہ کے گرد جمع ہو جاتے تھے اور رسول اللهؐ کے خلاف باتیں کرتے تھے۔ یہ لفظ اسی ضمن میں استعمال ہوا ہے۔ یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ گندمی رنگ افراد یا خود گندم کو "سمراء" کہتے ہیں تو اس کی وجہ یہ کہ اس کی سفیدی میں کچھ سیاہی بھی ملی ہوتی ہے۔ "تھجرون"، "ھجر" (بروزن "فجر") کے مادہ سے جدائی اختیار کرنے کے معنی میں ہے۔ بعد ازاں یہ لفظ بیمار شخص کے ہذیان اور یا وہ گوئی کے معنیٰ میں استعمال ہونے لگا، کیونکہ اس حالت میں وہ نامناسب اور دور کرنے والی باتیں کرتا ہے نیز "ھجر" (بروزن "کفر") گالیاں دینے کے معنیٰ میں آیا ہے اور یہ بھی دوری اور جدائی کا سبب ہے۔ زیرِ بحث آیت میں یہ آخری معنیٰ مراد ہے۔ یعنی راتوں کو دیر تک جاگتے رہتے ہو اور بیماروں کی طرح ہذیاں بکتے ہو اور گالیاں دیتے رہتے ہو۔ بےمنطق اور کمزور افراد کا یہی طریقہ ہے کہ وہ روزِ روشن میں دلیری کے ساتھ منطق اور دلیل کا سہارا لینے کی بجائے رات کی تاریکی میں جب لوگ سوئے ہوتے ہیں تو اپنے بُرے مقاصد کے پیش نظر اور داخلی شکست کی تسکین کے لئے گالیاں بکنا شروع کر دیتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ تمھارے بُرے انجام اور تم پر الله کے دردناک عذاب کا سبب یہ ہے کہ نہ تو تم جرات کر کے حق کو قبول کرتے تھے۔ اور نہ ہی انکساری سے آیات الٰہی کے سامنے زانوئے ادب طے کرتے تھے۔ اور نہ ہی پیغمبرؐ سے تمھارا طرزِ عمل اور درست تھا، کیونکہ اگر ایسا ہوتا ہو تم راہ حق پا لیتے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 74 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 74 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 74 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 74 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 74 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 74 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر منکرین کی بہانہ سازیاں
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیات میں بتایا گیا تھا کہ کافر لوگ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ و آلہ وسلّم سے مُنہ موڑ لیتے تھے اور تکبر کا مظاہرہ کرتے تھے۔ زیرِ نظر آیات میں اس سلسلے میں ان کے حیلے بہانوں کا دندان شکن جواب دیا گیا ہے۔ ضمناً ان کی اس روگردانی کے حقیقی اسباب پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: کیا انھوں نے اس کلام (آیاتِ الٰہی) پر غور نہیں کیا (اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ)۔ جی ہاں! اُن کی بدبختی کا پہلا سبب یہ ہے کہ وہ تیری دعوت پر غور و فکر نہیں کرتے، کیونکہ اگر وہ غور و فکر کرتے تو ان کی مشکلات حل ہو جاتیں۔ مزید فرمایا گیا ہے: یا کیا اُن کی طرف ایسی بات آئی ہے جو ان کے آباء و اجداد کی طرف نہ آئی تھی۔ (اَمْ جَائَھُمْ مَا لَمْ یَاْتِ آبَائَھُمَ الْاَوَّلِینَ)۔ یعنی اگر توحید و قیامت پر ایمان کی دعوت اور ان کی نیکی و پاکیزگی اپنانے کی دعوت تیری طرف سے ہوتی تو ممکن تھا۔ کہ وہ بہانہ نہ کرے کہ یہ تو نئی باتیں ہیں کہ جنھیں ہم قبول نہیں کر سکتے، کیونکہ یہ دعوت اگر حق تھی تو الله نے گزشتہ لوگوں کی طرف کیوں نہ بھیجی جبکہ ان کی نگاہِ لطف تو سب انسانوں پر ہے۔ لیکن تیری دعوت کے اصول اور بنیادیں بعینہ وہی ہیں۔ جو تمام انبیاء کی دعوت تھیں۔ لہٰذا یہ تمام بہانہ سازیاں بےمعنیٰ ہیں۔ مزید فرمایا گیا ہے: یا کیا انھوں نے رسول کو پہچانا نہیں، اس لئے انکار کرتے ہیں (اَمْ لَمْ یَعْرِفُوا رَسُولَھُمْ فَھُمْ لَہُ مُنکِرُونَ)۔ یعنی اگر یہ دعوت کسی مشکوک شخص کی طرف سے ہوتی تو ممکن تھا کہ وہ کہتے کہ باتیں تو اس کی حق ہیں۔ لیکن وہ خود اجنبی شخص ہے۔ لہٰذا اس کی ظاہری باتوں سے فریب نہیں کھایا جا سکتا، لیکن یہ تیرے ماضی کو خوب جانتے ہیں تجھے "امین" کہہ کر پکارتے ہیں۔ تیری عقل و دانش اور امانت داری کے معترف ہیں، تیرے والدین اور خاندان کو اچھی طرح پہچانتے ہیں۔ لہٰذا ایسے بہانوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: یا کیا وہ کہتے ہیں کہ یہ دیوانہ ہے (اَمْ یَقُولُونَ بِہِ جِنَّةٌ)۔ یعنی کیا ان کا کہنا ہے کہ اس کی ذات و شخصیت کو ہم اچھی طرح پہچانتے ہیں۔ وہ مشکوک شخصیت نہیں ہے۔ کیونکہ اس کے افکار ماحول سے ہم آہنگ نہیں اور خلاف معمول ہیں اور یہ اس کی دیوانگی کی دلیل ہے۔ قرآن فوراً اس بہانہ سازی کی نفی کے لئے کہتا ہے: "رسول اُن کے لئے حق لے کر آیا ہے" اور اس کی باتیں اس حقیقت پر شاہد ہیں (بَلْ جَائَھُمْ بِالْحَقِّ)۔ "حق انھیں ناگوار ہے" (وَاَکْثَرُھُمْ لِلْحَقِّ کَارِھُونَ)۔ جی ہاں! یہ کلام حکیمانہ ہے۔ البتہ ان لوگوں کو خواہشات ہوس آلود ہیں، اس لئے یہ کلام ان سے ہم آہنگ نہیں لہٰذا یہ اسے جھٹلاتے ہیں اور اسے دیوانگی کی باتیں قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ حق لوگوں کے میلانات کے تابع نہیں ہوا کرتا۔ کیونکہ "اگر حق ان کی ہوا و ہوس کی پیروی کرتا اور عالم ہستی ان کی خواہش کے مطابق گردش کرتا تو آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب درہم برہم ہو جاتا۔ (وَلَوْ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَھْوَائَھُمْ لَفَسَدَتْ السَّمَاوَاتُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِیھِنَّ)۔ کیونکہ لوگوں کی خواہشات معیار نہیں ہیں۔ بلکہ اس سے قطع نظر بہت سے مواقع پر وہ پستیوں اور برائیوں کی طرف مائل ہوتے ہیں اگر عالمِ ہستی کے قوانین ان کی خواہشات کے تابع ہو جاتے تو نظامِ عالم تباہی و بربادی کا شکار ہو جاتا۔ اس کے بعد مزید تاکید کے لئے فرمایا گیا ہے: بلکہ ہم نے انھیں قرآن دیا ہے کہ جو تذکر اور یاد دہانی ہے۔ الله کی طرف توجہ کا ذریعہ ہے اور ان کے لئے شرف و آبرو کا باعث ہے۔ لیکن انھوں نے اس سے روگردانی کر لی ہے (بَلْ اَتَیْنَاھُمْ بِذِکْرِھِمْ فَھُمْ عَنْ ذِکْرِھِمْ مُعْرِضُونَ) [تشریحی نوٹ: "ذکرھم" کا مفہوم ان کی بیداری اور یاد دہانی بھی ہو سکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ تعبیر معاشرے میں ان کی عزت و شرف اور یاد کے معنی میں ہو۔ البتہ ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ اور ہم نے آیت کی تفسیر میں دونوں معانی سے استفادہ کیا ہے]۔ اس سلسلہ کلام کے آخری مرحلے میں فرمایا گیا ہے: کیا حق سے فرار وہ اس بہانے سے کرتے ہیں کہ تو اُن سے کسی اُجرت کا تقاضا کرتا ہے۔ جبکہ تیرے رب کا دیا تیرے لئے بہتر ہے اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے (اَمْ تَسْاَلُھُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّکَ خَیْرٌ وَھُوَ خَیْرُ الرَّازِقِینَ) [تشریحی نوٹ: "خرج" اور "خراج"، "خروج" کے مادہ سے ہے اور اس کا معنیٰ ہے ایسی چیز جو انسان کے مال یا زرعی زمین سے خارج ہو۔ لیکن "خرج"، "خراج" کی نسبت وسیع تر معنیٰ کا حامل ہے۔ جیسا کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے۔ "اس کا اُلٹ"، "دخل" ہے لیکن عام طور پر "خراج" وہ مالیات یا کرائے کا مال ہے کہ جو زمین کے لئے معیّن ہوتا ہے]۔ اس میں شک نہیں کہ اگر ایک روحانی رہبر اپنی دعوت پر لوگوں سے مادی اُجرت کا تقاضا کرے تو اس سے بہانہ ساز لوگوں کے ہاتھ ایک بات آ جاتی ہے اور ہو سکتا ہے وہ کہیں کہ ہم اس کا معاوضہ ادا نہیں کر سکتے، اس بناء پر اُس سے دُور ہو جائیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ الزام عائد کریں کہ یہ مادی مفادات کے حصول کے لئے تبلیغ کرتا ہے۔ بہرحال، قرآن مجید ایک مُنہ بولتے بیان کے ذریعے واضح کرتا ہے کہ یہ دل کے اندھے حق کو قبول نہیں کرتے اور مخالفت کے لئے جو عذر و بہانے تراشتے ہیں۔ سب بےبنیاد ہیں۔ مذکورہ بیان سے ایک مجموعی نتیجہ نکالتے ہوئے اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے: یقیناً تو انھیں صراط مستقیم کی دعوت دیتا ہے (وَإِنَّکَ لَتَدْعُوھُمْ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ)۔ ایسی راہ مستقیم کہ جس کی نشانیاں نمایاں ہیں اور جو تھوڑے غور و فکر سے پہچانی جاتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ دو لفظوں کے درمیان خط مستقیم ایک ایسا فاصلہ ہے کہ جو مختصر ترین ہوتا ہے اور یہ ایک خط سے زیادہ نہیں۔ جبکہ ادھر اُدھر کے انحرافی راستے اور فاصلے بےشمار ہوتے ہیں۔ بعض روایات کے مطابق "صراط مستقیم" سے مراد ولایتِ علی بن ابی طالب علیہ السلام ہے (بحوالہ: تفسیر نورالثقلین، ج۳، ص۵۴۸)۔ البتہ ہم کہہ چکے ہیں کہ ایسی روایات میں آیات کے بعض واضح مصادیق کی نشاندہی کی گئی ہے اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس سے اس کے دیگر مصادیق و مفاہیم کی نفی ہو جاتی ہے۔ مثلاً قرآن، مبداء، معاد، ایمان، تقویٰ، جہاد اور عدل وغیرہ بھی صراط مستقیم کا مصداق ہیں۔ اگلی آیت میں اس کا فطری نتیجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے یقیناً وہ اس راستے سے منحرف ہیں (وَإِنَّ الَّذِینَ لَایُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ عَنْ الصِّرَاطِ لَنَاکِبُونَ)۔ "ناکب"، "نکب" اور "نکوب" کے مادہ سے راستے سے انحراف کے معنیٰ میں ہے۔ واضح ہے کہ اس آیت میں "صراط" سے وہی مراد ہے کہ جو گزشتہ آیت میں "صراط مستقیم" سے ہے۔ یہ بھی مسلّم ہے کہ جو شخص اس جہان میں صراط مستقیم سے منحرف ہو گا وہ دوسرے جہان میں بھی راہِ جنّت سے بھٹک کر دوزخ کے گڑھے میں جا پڑے گا۔ کیونکہ وہاں جو کچھ بھی پیش آئے گا وہ براہِ راست یہاں کے کاموں کا نتیجہ ہو گا۔ آخرت پر عدمِ ایمان راہِ حق سے انحراف کا باہمی تعلق یہ ہے کہ انسان جب تک قیامت پر ایمان نہ رکھتا ہو اس میں احساسِ ذمہ داری پیدا نہیں ہوتا۔ ایک حدیث حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: انّ الله جعلنا ابوابہ و صراطہ وسبیلہ والوجہ الذی یوٴتی منہ، فمن عدل عن ولایتنا او فضّل علینا غیرنا فانّھم عن الصراط لناکبون. الله نے ہم ہادیان دین کو اپنی معرفت تک رسائی کے لئے دروازے، راستہ، سبیل اور جہت قرار دیا ہے۔ لہٰذا جو لوگ ہماری ولایت سے مرحوم ہو جائیں یا کسی دوسرے کو ہم پرفضیلت دے کر چن لیں۔ تو وہ صراط حق سے بھٹکے ہوئے ہیں (بحوالہ: تفسیر نورالثقلین، ج۳، ص۵۴۹، بحوالہٴ اصولِ کافی)۔
چند اہم نکات ۱۔ حق پرستی اور خواہشات پرستی
زیرِ بحث آیات میں خدا پرستی اور خواہشات پرستی کے تضاد کی طرف ایک پُر معنیٰ اشارہ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ۔ اگر حق لوگوں کی خواہشات کے تابع ہو جائے تو نہ صرف زمین اور اہلِ زمین بلکہ آسمان بھی درہم برہم ہو جائیں۔ اس مسئلے کا تجزیہ کوئی زیادہ مشکل نہیں ہے۔ کیونکہ: ۱۔ اس میں شک نہیں، کہ لوگوں کی خواہشات ایک جیسی نہیں ہوتیں اور زیادہ تر ایک دوسرے سے تضاد رکھتی ہیں بلکہ یہاں تک کہ بسا ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی شخص کی مختلف خواہشات باہم متضاد ہوتی ہیں۔ ان حالات میں اکر حق ان خواہشات کی پیروی کرے تو نتیجہ پراگندگی و تباہی کے سوا کچھ نہ ہو گا۔ ۲۔ تضادات سے قطع نظر لوگوں کی بہت سی خواہشات فساد انگیز اور برائی پر مبنی ہوتی ہیں، اگر ان خواہشات کے مطابق نظامِ عالم چلانے کی کوشش کی جائے تو اس کا لازمی نتیجہ فتنہ و فساد اور تباہی اور بربادی ہو گا۔ ۳۔ انسان کی نفسانی خواہشات ہمیشہ ایک پہلو کی حامل ہوتی ہیں اور ان کی نگاہ صرف ایک زاویے پر ہوتی ہے۔ یہ خواہشات دیگر پہلووٴوں سے غافل ہوتی ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ فساد اور تباہی کے عوامل میں سے ایک اہم عامل یہ ہے کہ کسی چیز کے ایک ہی پہلو کو مدّنظر رکھا جائے۔ اور اس کے دیگر پہلووٴوں کو نظر انداز کر دیا جائے۔ زیرِ بحث آیت کے کئی حوالوں سے اس آیت سے مشابہت رکھتی ہے۔ لَوْ کَانَ فِیھِمَا آلِھَةٌ إِلاَّ اللهُ لَفَسَدَتَا اگر آسمان و زمین میں الله کے علاوہ اور معبود ہوں تو ان میں فساد برپا ہو جائے (انبیاء/۲۲)۔ واضح ہے۔ کہ حق "صراط مستقیم" کی طرح ایک ہی ہے۔ یہ تو نفسانی خواہشات ہیں۔ جو خیالی خداوٴں کی طرح بہت سی ہیں۔ اب دیکھنا چاہیے کہ حق اور نفسانی خواہشات کے تضاد و کشمکش میں کس کی پیروی کی جائے؟ خواہشات کی کہ جو زمین و آسمان اور موجودات کی تباہی کا باعث ہیں یا حق کی کہ جو وحدت و یکتائی اور نظم و ہم آہنگی کا سبب ہے۔ اس تجزیے کا نتیجہ اور اس سوال کا جواب خوب واضح ہے۔
۲۔ رہبر کی صفات:
زیرِ نظر آیات سے ہادیانِ حق کی کچھ صفات واضح ہوتی ہیں، مثلاً: ۱۔ وہ ایسے افراد ہیں کہ جو ہمیشہ نیکیوں کے حوالے پہچانے جاتے ہیں۔ کیونکہ اگر وہ غیر معروف اور اجنبی لوگ ہوتے تو اس آیت کے مصداق منافقوں کے ہاتھ بہانہ آ جاتا۔ اَمْ لَمْ یَعْرِفُوا رَسُولَھُمْ فَھُمْ لَہُ مُنکِرُونَ۔ یا کیا انھوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا کہ جو انکار کر رہے ہیں۔ اگر یوں ہوتا تو لوگ ان کی معروف دعوت کو اشخاص کی اجنبیت کی بنیاد پر نظر انداز کر دیتے۔ ۲۔ وہ اپنی جد و جہد کے راستے میں لوگوں کی خواہشات کے سامنے سر نہیں جھکاتے۔ جبکہ آج کی دنیا میں تو یہ ہوتا ہے کہ لیڈر عام لوگوں کی خواہشات کے خلاف آواز نہیں اُٹھاتے۔ اگرچہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہوں۔ ہادیانِ برحق ہمیشہ مکتبِ حق کی ترویج کے لئے کوشش کرتے ہیں۔ اگرچہ بہت سے لوگوں کو یہ ناپسند ہی کیوں نہ ہو۔ ۳۔ وہ اپنی دعوت کے لئے کوئی مادی اُجرت طلب نہیں کرتے۔ مشکلوں اور محروموں میں وقت گزار لیتے ہیں۔ لیکن کسی پر مادی لحاظ سے انحصار نہیں کرتے، کیونکہ یہ انحصار ان کے ہاتھ پاوٴں کے لئے زنجیر اور زبان و فکر کے لئے قفل بن سکتا ہے۔
۳۔ اکثریت حق کی طرف نہیں ہوتی:
وہ کونسی "اکثریت" ہے۔ قرآن نے بہت سی آیات میں اور زیرِ نظر آیات میں بھی جس کی مذمّت کی ہے۔ جبکہ ہم جانتے ہیں کہ آج کی دنیا میں اچھائی اور بُرائی کا فیصلہ معاشروں کی اکثریت کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ یہ مسئلہ بہت سے سوالات پیدا کرتا ہے۔ یہاں ہم ان آیات کے بارے میں بحث نہیں کرتے کہ جو زیادہ تر کفار و مشرکین اور اسی قسم کے لوگوں سے متعلق ہیں۔ ان میں "اکثر" کے ساتھ "ھم" کی ضمیر آئی ہے۔ ہم یہاں ان آیات کے بارے میں بات کرتے ہیں، جو لوگوں "اکثرالناس" کا عنوان رکھتی ہیں۔ مثلاً: وَلَکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَایَشْکُرُونَ لیکن اکثر لوگ شکر گزار نہیں ہیں۔ (بقرہ۔۲۴۳) وَلَکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَایَعْلَمُونَ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (اعراف۔۱۸۷) وَلَکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَایُؤْمِنُونَ لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔ (ہود۔۱۷) وَمَا اَکْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِینَ اگرچہ تو کوشش کرے اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ (یوسف۔۱۰۳) فَاَبیٰ اَکْثَرُ النَّاسِ إِلاَّ کُفُورًا اکثر لوگ کفران اور انکار حق کے علاوہ کوئی کام نہیں کرتے۔ (بنی اسرائیل۔۸۹) وَإِنْ تُطِعْ اَکْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوکَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ اگر تو روئے زمین کے اکثر لوگوں کی اطاعت کرے تو وہ تجھے راہ حق سے بھٹکا دیں۔ (انعام۔۱۱۶) دوسری طرف قرآن مجید میں ایسی آیات بھی ہیں کہ جو مومنین کی اکثریت کے طریقے کو ایک صحیح معیار قرار دیتی ہیں۔ سورہٴ نساء کی آیت ۱۱۵ میں ہے۔ وَمَنْ یُشَاقِقْ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْھُدیٰ وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیلِ الْمُؤْمِنِینَ نُوَلِّہِ مَا تَوَلَّی وَنُصْلِہِ جَھَنَّمَ وَسَائَتْ مَصِیرًا۔ جو شخص رسول کی مخالفت کرے اور مومنین کے راستے کے علاوہ کوئی راہ اپنائے، جس طرف وہ چل رہا ہے ہم اسے اسی طرف لے جائیں گے اور دوزخ میں جا پہنچائیں گے اور وہ بہت بڑا ٹھکانا ہے۔ روایات میں سے جو باہم متعارض ہوں، وہاں قانون یہ ہے کہ اس روایت کو ترجیح دی جاتی ہے کہ جو آئمہٴ ہدیٰ کے اصحاب و انصار اور پیروکاروں میں مشہور ہو، جیسا کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا۔ ینظر الیٰ ما کان من روایتھما عنّا فی ذٰلک الذی حکما بہ المجمع علیہ عند اصحابک فیوٴخد بہ من حکمنا ویترک الشاذ الذی لیس بمشہور عند اصحابک فانّ المجمع علیہ لاریب فیہ۔ جب دو قاضی اختلافِ روایت کی بنیاد پر اختلاف کریں تو دیکھنا چاہیے کہ ان دو روایات میں سے کونسی تیرے اصحاب کے ہاں قبول کی جاتی ہے۔ وہی روایت انتخاب کرنا چاہیے اور جو روایت اصحاب کے ہاں مشہور نہیں اسے چھوڑ دینا چاہیے۔ کیونکہ مشہور روایت میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۱۸، ص۷۶، (کتاب القضاء، باب۹، از ابواب صفاتِ قاضی))۔ نیز نہج البلاغہ میں ہے۔ والزموا السواد الاعظم، فانّ ید اللّٰہ مع الجماعة، و ایّاکم و الفرقة، فانّ الشاذ من الناس للشیطان، کما انّ الشاذ من الغنم للذئب۔ ہمیشہ بڑے گروہ کے ساتھ رہو۔ کیونکہ الله کا ہاتھ جماعت کے ساتھ ہے۔ اور انتشار سے بچو کیونکہ اکیلا انسان شیطان کا حصّہ ہے۔ جیسے اکیلی بھیڑ بھیڑیے کا لقمہ ہے۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ۱۲۷)۔ نہج البلاغہ میں ہے۔ والزموا ما عقد علیہ حبل الجماعة۔ جو جماعت کی رسی سے منسلک ہو اسے نہ چھوڑو۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ۱٥۱)۔ ہو سکتا ہے بعض لوگ یہ کہیں کہ ان دو طرح کی آیات اور روایات میں کوئی تضاد ہے۔ دوسری طرف یہ بھی خیال ہو سکتا ہے کہ اسلام جمہوری حکومت کے ساتھ نہیں چل سکتا، کیونکہ جمہوریت لوگوں کی کثرت آراء پر مبنی ہے۔ جبکہ قرآن اس کی شدید مذمت کرتا ہے۔ لیکن مذکورہ بالا آیات و روایات میں تھوڑا سا غور و خوض کرنے سے اور ان کا باہمی موازنہ کرنے سے حقیقی مفہوم واضح ہو جاتا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اکثریت اگر مومن، آگاہ اور راہِ حق پر گامزن ہو تو اُن کی آراء اور نظریات محترم ہیں اور اکثر اوقات حقیقت کے مطابق ہوتے ہیں۔ اور ان کی پیروی کی جانا چاہیے۔ لیکن اکثر جاہل ناآگاہ افراد پر مشتمل ہو۔ یا وہ لوگ آگاہ تو ہُوں۔ مگر خواہشات نفسانی کے اسیر ہوں تو پھر عموماً ان کے نظریات منحرف ہوں گے اور قرآن کے بقول ان کی پیروی انسان کو گمراہی کی طرف لے جاتی ہے۔ ایک حقیقی اور صحیح جمہوریت کے لئے پہلے کوشش کرنا چاہیے کہ عام لوگ باخبر اور مومن ہوں۔ اس کے بعد ہی اکثریت کی آراء اجتماعی مقاصد کی پیش رفت کا معیار بن سکتی ہیں۔ ورنہ جو جمہوریت گمراہ اکثریت کے نظریات پر مبنی ہو وہ معاشرے کو جہنم کی طرف لے جاتی ہے۔ اس امر کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ہمارے عقیدے کے مطابق باخبر، رشید اور باایمان اکثریت کے نظریات بھی اسی صورت میں محترم ہیں جب وہ حکم الٰہی اور کتاب و سنت کے برخلاف نہ ہوں۔ بات کہنے کی یہ ہے کہ آج معاشروں کے پاس قانون سازی اور معاشرتی امور کے لئے کثرت آراء کے کلیے کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں کہ وہ جس کی طرف پناہ لیں، انھوں نے آسمانی کتابوں اور انبیاء الٰہی کے طرزِ عمل کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ناآگاہی و جہالت کے ساتھ ساتھ مفاد پر ستی اور ذاتی اغراض بھی شامل ہوتی ہیں۔ لیڈر حضرات آسانی سے پراپیگنڈے کے ذریعے ایسے لوگوں کے اپنے پیچھے لگا لیتے ہیں۔ لہٰذا تعداد کی اکثریت کو معیار قرار دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی آواز اور شور و احتجاج کو اکثریت کے نام پر خاموش کیا جا سکے۔ اگر ہم دور حاضر میں مختلف ملکوں پر حاکم نظاموں اور قوانین پر غور و فکر کریں تو واضح ہو گا کہ ان کی بہت سی بدبختیاں جاہل و بےعلم اکثریت کی آراء کو اپنانے کی وجہ سے ہیں۔ اکثریت کی بنیاد پر ایسے ایسے گندے اور قبیح قوانین بنائے گئے ہیں کہ جن کے ذکر سے بھی شرم آتی ہے اور آگ کے کتنے شعلے اسی ناگاہ اکثریت کی وجہ سے بھڑکے ہیں۔ اور کیسے کیسے مظالم کی غیر مومن کی اکثریت نے تائید کی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 80 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 80 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 80 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 80 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 80 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر خدا مختلف طریقوں سے بیدار کرتا ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیات میں ان حیلے بہانوں کا ذکر تھا کہ جو منکرینِ حق دعوتِ انبیاء کی مخالفت کرتے ہوئے پیش کرتے تھے۔ زیرِ نظر آیات میں اتمام حجّت کے لئے اور ان کی بیداری کے لئے مختلف حوالوں سے گفتگو کی گئی ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: کبھی ہم ان پر اپنی رحمت نازل کرتے ہیں تاکہ وہ بیدار ہو جائیں۔ لیکن "اگر ان کی مشکلات کو دُور کر کے ہم ان پر لُطف کریں اور نعمتوں سے نوازیں تو ان کی خرابی اس حد تک جا پہنچی ہے کہ وہ پھر بھی سرکشی پر اڑے رہتے ہیں اور اسی وادی میں بھٹکتے رہتے ہیں (وَلَوْ رَحِمْنَاھُمْ وَکَشَفْنَا مَا بِھِمْ مِنْ ضُرٍّ لَلَجُّوا فِی طُغْیَانِھِمْ یَعْمَھُونَ)۔ اور کبھی سخت حوادث کے ذریعے انھیں ہلایا جاتا ہے۔ تاکہ اگر وہ رحمت و نعمت کے ذریعے بیدار نہیں ہوئے تو اس راستے سے بیدار ہو جائیں۔ لیکن اس کا ان پر اثر نہیں ہوتا، کیونکہ "ہم نے انھیں گرفتارِ عذاب کیا ہے۔ لیکن وہ نہ تو اپنے پروردگار کے سامنے جُھکے ہیں۔ اور نہ انھوں نے کسی انکساری کا اظہار کیا ہے (وَلَقَدْ اَخَذْنَاھُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَکَانُوا لِرَبِّھِمْ وَمَا یَتَضَرَّعُونَ) [تشریحی نوٹ: "استکانوا"، "سکون" کے مادے سے خشوع و خضوع کے عالم میں سکون ہونے کے معنے میں ہے اس صورت میں باب افتعال سے ہو گا۔ اصل میں یہ لفظ "استکنوا" تھا۔ کاف کی فتح کا اشباع ہوا اور وہ الف سے بدل گئی۔ جس کے نتیجے "استکانوا" ہو گیا ہے۔ بعض نے کہا ہے یہ لفظ "کون" مادے سے باب "استفعال" میں سے ہے جس کا معنی ہے "خشوع و خضوع کے ساتھ کسی مکان میں طلب استقرا۔" بہرحال، یہ پرورگار کے سامنے بندے کی حالت انکساری کو ظاہر کرتا ہے اور یہ جو بعض نے اسے "دُعا" کے معنی میں ذکر کیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ دُعا کرنا خشوع و خضوع کا ایک مصداق ہے۔ تیسرا احتمال یہ بھی ہے کہ یہ لفظ "کین" (بروزن "عین") کے مادے سے بابِ استفعال سے ہے کیونکہ یہ مادہ خضوع کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے اور یہ تمام معانی ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں۔] جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں "تضرع" بنیادی طور پر "ضرع" سے پستان کے معنیٰ میں ہے اور "تضرع" کا معنیٰ ہے "اُس نے دودھ دوہا"۔ بعد ازاں یہ لفظ خضوع و انکساری کے ساتھ سر تسلیم خم نہیں کرنے کے مفہوم میں استعمال ہونے لگا۔ یعنی ان دردناک حوادث پر بھی غرور و سرکشی اور خودکشی کو ترک نہیں کرتے اور حق کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتے۔ یہ جو چند ایک روایات میں "تضرع" کا معنیٰ دُعا اور نماز کے وقت ہاتھوں کو بلند کرنا یبان ہوا ہے۔ درحقیقت، یہ اس کے وسیع معنیٰ کا ایک مصداق ہے۔ بہرحال، ہم ان بیدار کُن رحمتوں، نعمتوں اور سزاوٴں کو جاری رکھیں گے اور وہ بھی اپنی سرکشی اور ہٹ دھرمی کو جاری رکھیں گے۔ "یہاں تک کہ ہم اپنے شدید عذاب کا دروازہ کھول دیں گے اور اس میں ایسے گرفتار ہوں گے کہ آخرکار بالکل مایوس ہو جائیں (حَتَّی إِذَا فَتَحْنَا عَلَیْھِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیدٍ إِذَا ھُمْ فِیہِ مُبْلِسُونَ) (تشریحی نوٹ: "مبلس"، "ابلاس" کے مادہ سے ہے۔ یہ ایسے غم و اندوہ کے معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے کہ جو کسی شدید واقعے کی بناء پر ہو اور عام طور پر انسان کو حیرت کا مجسمہ بنا دے یا ناامید و مایوس کر دے)۔ الله تعالیٰ دراصل دو طرح کی سزا دیتا ہے۔ "تربیتی سزا" معاشرے کو پاک کر دینے والی سزا۔" پہلی قسم کی سزا کا مقصد یہ ہے کہ گناہگاروں پر کچھ سختی کی جائے تاکہ انھیں اپنی ناتوانی کا احساس ہو جائے اور وہ غرور و تکبر کا راستہ ترک کر دیں۔ دوسری قسم کی سزا ناقابل اصلاح افراد کے لئے ہے۔ یہ سزا ایسے افراد کے لئے ہے جو اپنے طرزِ عمل سے ثابت کر چکے ہیں تاکہ انھیں اب اس نظام خلقت میں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں اور وہ انسانوں کے ارتقاء و کمال کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اس سزا کے ذریعے معاشرے کو ان کے وجود سے پاک کر دیا جاتا ہے۔ مفسرین کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہے کہ "بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِید" (دردناک عذاب کا دروازہ) سے کیا مراد ہے۔ ان میں بہت سوں نے اس سے موت اور اس کے بعد عذابِ قیامت مراد لی ہے۔ بعض دوسروں نے اسے شدید قحط کی طرف اشارہ سمجھا ہے کہ جو نبی اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کی طرف سے نفرین کے باعث چند سال تک مشرکین کو دامن گیر رہا۔ یہاں کہ ان کے ہاں سے اناج بالکل ختم ہو گیا اور وہ ایسی چیزیں کھانے پر مجبور ہوئے کہ جنھیں عام حالات میں کوئی شخص کھانے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ بعض نے اسے وہ شدید عذاب سمجھا ہے۔ کہ جو جنگ بدر میں مسلمانوں کی تلواروں کی ضربوں کی صورت میں مشرکین کو لاحق ہوا۔ یہ احتمال بھی ہے کہ یہ آیت کسی خاص گروہ کی طرف اشارہ نہ ہو بلکہ عذاب الٰہی کے بارے میں ایک عمومی قانون بیان کر رہی ہو___ جس کا آغاز رحمت ہو، پھر بھی تربیتی سزا اور آخرکار نابود کر دینے والا عذاب۔ (تشریحی نوٹ: ان آیات سے قبل آنے والی آیت____ "انّ الذین لایوٴمومنون بالاٰخرة" اس تفسیر کی تائید کرتی ہے)۔ اس بیان کے بعد قرآن ایک اور پہلو سے بات کرتا ہے۔ اب ان کے احساسِ تشکر کو ابھارنے کے لئے نعمات الٰہی کا ذکر کرتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ خدا وہ ہے کہ جس نے تمھیں کان، آنکھ اور دل (عقل) سے نوازا ہے۔ لیکن تم بہت کم ہی اس کا شکر بجا لاتے ہو۔ (وَھُوَ الَّذِی اَنشَاَ لَکُمْ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَةَ قَلِیلًا مَا تَشْکُرُونَ) کان، آنکھ اور عقل کا ذکر اس بناء پر ہے کہ پہچان اور معرفت کے لئے انسان کے پاس یہی تین ذرائع ہیں۔ حسّی امور انسان عام طور پر آنکھ اور کان کے ذریعے معلوم کرتا ہے۔ جبکہ غیر حسی امور قوتِ عقل کے ذریعے معلوم کرتا ہے۔ ان دو ظاہر حواسی یعنی بصارت اور سماعت کی اہمیت سمجھنے کے لئے یہی کافی ہے کہ ہم اس شخص کی حالت کو مدنظر رکھیں کہ جو ان سے محروم ہے۔ اس کی دُنیا کتنی محدود اور تاریک ہوتی ہے اور اس کا جہان بیداری اور آگاہی سے کس قدر تہی ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ انسان دونوں سے محروم ہونے کی وجہ سے عملی طور پر اپنے بہت سے حواس کھو بیٹھتا ہے۔ قوّت گویائی ہمیشہ قوّت سماعت کے ذریعے کام میں لائی جاتی ہے (ماورزاد بہرے ہمیشہ گونگے ہوتے ہیں۔ اگرچہ ان کی زبان میں کوئی نقص نہیں ہوتا ہے)۔ اس طرح یہ دو حواس عالمِ محسوسات کی کلید ہیں۔ پھر عقل کی نوبت آتی ہے کہ عالمِ محسوسات اور جہاں مارواءِ طبیعت کی کلید ہے۔ علاوہ ازیں وہ امور جو پہلے دونوں حواس کے دائرے میں آتے ہیں ان کے بارے میں تجزیہ کرنے نتیجہ اخذ کرلے، جائزہ لینے اور جمع و تفریق کرنے کا کام بھی عقل کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ جو لوگ شناخت و معرفت کے یہ تین ذرائع دستیاب ہونے پر شکر گزار نہیں کیا وہ قابل ملامت نہیں ہیں۔ ان تین ذرائع کی باریکیوں پر اگر غور و خوض کیا جائے تو کیا یہ امر کے لئے کافی نہیں کہ انسان اپنے خالق سے آشنا ہو جائے۔ آنکھ اور کان کی نعمت کا ذکر زیرِ بحث آیت میں عقل سے پہلے آیا ہے۔ ہو سکتا ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ ماہرین کے بقول سب سے پہلے نومولود کے کے کان کام شروع کرتے ہیں اور آنکھیں روشنی کی شعاعوں کا سامنا کرنے کے قابل نہیں ہوتیں، یہی وجہ ہے کہ ولادت کے بعد بچے کی آنکھیں ایک مدت تک بند رہتی ہیں اور پھر رفتہ رفتہ روشنی سے مانوس ہو جاتی ہیں۔ جبکہ کانوں کی یہ صورت نہیں ہے۔ یہاں تک کہ بعض ماہرین کے نظریئے کے مطابق بچّہ عالم جنین میں سننے کی قدرت رکھتا ہے اور ماں کے دل کی دھڑکن سنتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: شناخت کے ان تین آلات کے بارے میں چھٹی جلد میں سورہ نحل کی آیت ۷۸ کے ذیل میں ہم گفتگو کر چکے ہیں)۔ ان تین نعمتوں کا ذکر درحقیقت، ان نعمتوں کی معطی کی معرفت کے لئے ابھارتا ہے اور منعم حقیقی کی شناخت کے لئے انسان کو تحریک دیتا ہے (جیسا کہ علماءِ عقائد نے شکر منعم کی ضرورت کو معرفتِ خدا کے عقلی طور پر واجب ہونے کی بنیاد قرار دیا ہے)۔ اگلی آیت میں الله کی نہایت اہم نشانی__ یعنی اس خاکی زمین سے انسان کی خلقت کی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: وہ وہی ہے جس نے تمھیں زمین میں پیدا کیا۔ (وَھُوَ الَّذِی ذَرَاَکُمْ فِی الْاَرْضِ) [تشریحی نوٹ: "ذراکم"، "ذرء" (بروزن زرع) کے مادے سے تخلق، ایجاد اور اظہار کے معنی میں ہے۔ لیکن اگر مادہٴ "ذروة" (بروزن زرع) ہی ہو تو منشتر کرنے کے معنی میں ہے۔ ان دونوں مادّوں کو ایک دوسرے سے غلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔ ہماری زیرِ بحث آیت سے پہلے مادے سے ہے (تفسیر نمونہ کی چوتھی جلد صفحہ٣٣۱ پر اس سلسلے میں اشتباہ ہوا ہے۔ اس پر ہمیں افسوس ہے۔ قارئین کرام وہاں پر اصلاح فرمائیں]۔ اور چونکہ تم زمین سے پیدا ہوئے ہو۔ لہٰذا دوبارہ زمین کی طرف ہی پلٹ جاوٴ گے۔ اور پھر ایک مرتبہ "تم قبروں سے اُٹھا کر اُس کی طرف محشور کئے جاوٴگے (وَإِلَیْہِ تُحْشَرُونَ)۔ اگر تم سوچتے کہ بےوقعت مٹی سے تمھاری خلقت ہوئی ہے تو یہ اس امر کے لئے کافی تھا کہ تم حیات عطا کرنے والے کو پہچان لیتے اور پھر تمھیں معاد بھی ممکن دکھائی دیتا۔ خلقتِ انسان کا مسئلہ بیان کرنے کے بعد قرآن موت و حیات اور روز و شب کی آمد و شد کا ذکر کرتا ہے کہ جو عظیم آیات الٰہی میں سے ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ وہی ہے کہ جو زندہ کرتا اور مارتا ہے اور لیل و نہار کا آنا جانا اُسی کے ہاتھ میں ہے۔ کیا تم عقل و فکر سے کام نہیں لیتے ہو (وَھُوَ الَّذِی یُحْیِ وَیُمِیتُ وَلَہُ اخْتِلَافُ اللَّیْلِ وَالنَّھَارِ اَفَلَاتَعْقِلُونَ)۔ ان تین گزشتہ آیات میں معرفت پروردگار کے محرک سے بات شروع کی گئی ہے اور انفس و آفاق کی اہم ترین آیات کے ذکر پر بات ختم کی گئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ابتدائے خلقت سے لے کر موت تک کے انسانی سفر اور پھر اس کی پروردگار کی طرف بازگشت کو بیان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ سب کچھ اس کے فرمان اور ارادے سے صورت پذیر ہوتا ہے۔ یہ بات لائق توجہ ہے کہ موت و حیات کی خلقت کا ذکر لیل و نہار کے ساتھ ساتھ آیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحن عالم ہستی میں نور و ظلمت بالکل موت و حیات کی مانند ہے۔ روشنی کی لہریں جیسے عالم ہستی میں جنبش، خوشی اور حرکت پیدا کرتی ہیں۔ اور تاریکی کے سائے میں خاموشی چھا جاتی ہے۔ اسی طرح زندہ موجودات نور حیات میں اپنی حرکت شروع کرتے ہیں۔ ظلمت موت چھا جائے تو خاموش ہو جاتے ہیں۔ اور ہر دو تدریجی پہلو رکھتے ہیں۔ یہ نکتہ بیان کیا جا چکا ہے کہ لیل و نہار کے "اختلاف" سے مراد ہو سکتا ہے ان کا آنا جانا ہو۔ کیونکہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کا "خلف" اور جانشین ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے تدریجی اختلاف اور فرق کی طرف اشارہ ہو کہ جس کے باعث سال کے چار موسم وجود میں آتے ہیں اور یہ فرق عالمِ نباتات میں ایک نظام دقیق کے تحت گردش حیات کی رہنمائی کرتا ہے۔ بہرحال، یہ تمام مسائل معرفت الٰہی کے رہنما بن سکتے ہیں۔ اسی بناء پر آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: "اَفَلَاتَعْقِلُونَ" کیا تم غور و فکر نہیں کرتے اور عقل کو بروئے کار نہیں لاتے؟
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 90 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 90 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 90 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 90 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 90 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 90 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 90 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 90 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 90 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر فیصلہ تمھارا ضمیر کرے
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیات میں توحید پروردگار اور قیامت کے منکرین کو عالم ہستی اور آیات انفس و آفاق میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ زیرِ بحث آیات میں مزید فرمایا گیا ہے کہ وہ عقل و فکر کو چھوڑ کر اپنے بڑے بوڑھوں کی اندھی تقلید کرتے ہیں۔ "وہ بس وہی کہتے ہیں جو ان کے پیش رو کہتے تھے۔" (بَلْ قَالُوا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُونَ)۔ وہ حیرت کہتے سے تھے کہ "کیا جب ہم مر کر مٹی اور بوسیدہ ہڈیوں میں تبدیل ہو جائیں گے۔ پھر وہ دوبارہ اٹھیں گے۔" (قَالُوا اَئِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا اَئِنَّا لَمَبْعُوثُونَ) [تشریحی نوٹ: "تراب"، "مٹی کا مرکز"، "عظام" (ہڈیوں) سے پہلے اس بناء پر کہ مٹی کا پھر سے پہلی زندگی پانا ہڈیوں کی نسبت عجیب تر ہے یا پھر اس طرف اشارہ ہے کہ ہمارے بڑے بزرگ مٹی ہو گئے ہیں اور بوسیدہ ہڈیاں ہو چکے ہیں۔ یا یہ اس طرف اشارہ ہے کہ پہلے انسان کا گوشت مٹی ہوتا ہے اور پھر ہڈیاں مٹی میں تبدیل ہوتی ہیں۔] ہمیں تو اس بات پر یقین نہیں آتا۔ یہ تو جھوٹے وعدے ہیں۔ ایسے وعدے ہم سے بھی ہوتے ہیں اور ہمارے آباؤ اجداد سے بھی کئے جاتے رہے۔ (لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَآبَاؤُنَا ھٰذَا مِنْ قَبْلُ)۔ اور یہ تو پہلے لوگوں کے قصّے کہانیاں ہیں۔ (إِنْ ھٰذَا إِلاَّ اَسَاطِیرُ الْاَوَّلِینَ)۔ پھر سے خلقت ایک افسانہ ہے۔ حساب و کتاب بھی افسانہ ہے اور بہشت و دوزخ بھی افسانہ ہیں۔ کفار و مشرکین سب سے زیادہ قیامت کے خیال سے خوف کھاتے تھے۔ اس لیے طرح طرح کے بہانوں اور طعن و طنز سے اس سے پیچھا چھڑانا چاہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے بھی معاد و قیامت کے بارے میں تاکیداً اور تفصیلاً گفتگو کی ہے۔ اس ضمن میں زیر بحث آیات میں تین حوالوں سے منکرین قیامت کی فضول منطق کی سرکوبی کی گئی ہے۔ ایک تو وسیع عالم ہستی پر اللہ کی مالکیت کے حوالے سے، دوسرا اس کی ربوبیت کے حوالے سے اور تیسرا سارے عالم پر اُس کی حاکمیت کے حوالے سے، قرآن ان تمام مباحث سے یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ اللہ ہر لحاظ سے معاد پر قدرت رکھتا ہے اور اُس کی عدالت و حکمت کا تقاضا ہے کہ اس دنیا کے بعد ایک عالم آخرت بھی ہو۔ یہ بات لائق توجہ ہے کہ ہر موقع پر خود مشرکین سے اعتراف کروایا گیا ہے اور انہی کی بات ان کی طرف لوٹائی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ کہو: زمین اور جو کچھ اس میں ہے وہ کس کی ملکیت ہے بتاوٴ: اگر تم جانتے ہو۔ (قُلْ لِمَنْ الْاَرْضُ وَمَنْ فِیھَا إِنْ کُنتُمْ تَعْلَمُونَ)۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: فطرت کی پکار اور عالمِ ہستی کے خالق پر اپنے اعتقاد کی بناء پر وہ کہتے ہیں، زمین اور جو کچھ اس میں ہے اس کی ملکیت الله کے ہاتھ ہے (سَیَقُولُونَ لِلّٰہِ)۔ اب تم ان سے کہو: جب ایسا ہے اور تم خود بھی اعتراف کرتے ہو تو پھر کیوں متوجہ نہیں ہوتے ہو۔ (قُلْ اَفَلَاتَذَکَّرُونَ)۔ اس واضح اعتراف کے باوجوود موت کے بعد انسان کی زندگی کو کیوں بعید کہتے ہو اور اسے خدائے عظیم کی وسیع قدرت سے کیوں دُور جانتے ہیں؛ خدا پھر حکم دیتا ہے: ان سے پوچھو: سات آسمانوں اور عرش عظیم کا رب کون ہے (قُلْ مَنْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ)۔ اس سوال پر بھی وہ فطری پکار اور عالمِ ہستی کے خالق کے حوالے سے خدا پر اپنے اعتقاد کے باعث کہتے ہیں: یہ سب کچھ الله لئے ہے۔" (سَیَقُولُونَ لِلّٰہِ)۔ جب وہ یہ صریح اقرار کرتے ہیں تو کہو: تم خود اس حقیقت کے معترف ہو، تو پھر الله سے ڈرتے کیوں نہیں ہو اور حیاتِ نو کی طرف بازگشت کا انکار کیوں کرتے ہو (قُلْ اَفَلَاتَتَّقُونَ)۔ پھر ان کے آسمانوں اور زمین کی حاکیمت کے بارے میں "سوال کرو کہ کون ہے۔ جس کے ہاتھ میں تمام موجودات کی حکومت ہے" (قُلْ مَنْ بِیَدِہِ مَلَکُوتُ کُلِّ شَیْءٍ)۔ کون ہے جو بےسہاروں کو پناہ دیتا ہے اور جو کسی کو پناہ دینے کا محتاج بھی نہیں (وَھُوَ یُجِیرُ وَلَایُجَارُ عَلَیْہِ)۔ اگر تم واقعاً ان حقائق سے آگاہ ہو (إِنْ کُنتُمْ تَعْلَمُونَ)۔ وہ پھر اعتراف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ملکیت، حاکمیت اور پناہ دینا الله میں منحصر ہے (سَیَقُولُونَ لِلّٰہِ)۔ کہو: پھر تم کیونکر کہتے ہو کہ رسولؐ نے تم پر جادو کر دیا ہے اور تم مسحور ہو گئے ہو۔ (قُلْ فَاَنَّا تُسْحَرُونَ)۔ یہ وہ حقائق ہیں کہ جن کا تم ہر مرحلے پر خود اعتراف ہو۔ اسے مالک ہستی جانتے ہو اور اُسے خالق ہستی مانتے ہو اور اُسے مدیر و مدبّر اور حاکم و پناہ گاہ شمار کرتے ہو۔ جس کی ذات قدرت کا یہ عالم ہو اور جس کی حکومت کا دامن اتنا وسیع ہو۔ کیا وہ مٹی سے پیدا کئے ہوئے انسان کو دوبارہ متی بننے کے بعد لباس حیات پہنا کر محشور نہیں کر سکتا؟ تم حقائق سے کیوں مُنہ موڑتے ہو؟ تم رسول اسلامؐ کو جادوگر یا دیوانہ کیوں کہتے ہو، جب کہ دل کی گہرائیوں میں تم ان حقائق کے معترف ہو۔ آخر میں ایک مجموعی نتیجہ اخذ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ جادو ہے نہ دیوانگی "بلکہ ہم ان کے لئے حق لے کر آئے ہیں اور اسے واضح کیا ہے۔ جب کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں" (بَلْ اَتَیْنَاھُمْ بِالْحَقِّ وَإِنَّھُمْ لَکَاذِبُونَ)۔ حقائق بیان کرنے میں ہماری اور ہمارے انبیاء کی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں ہو گی۔ کوتاہی سراسر تمہاری ہے کہ آنکھیں بند کئے غلط راہ پر چل پڑے ہو اور پھر ہٹ دھرمی کے ساتھ اس راستے پر چلتے جا رہے ہو۔
چند اہم نکات ۱۔ کچھ الفاظ کے معانی
"اساطیر"، "اسطورة" کی جمع ہے۔ اہل لُغت کے بقول یہ دراصل "سطر" کے مادہ سے "صف" کے معنی میں ہے۔ اسی لئے جو الفاظ ایک ہی صف میں آ جائیں۔ انھیں "سطر" کہتے ہیں۔ "اسطورة" ایسی سطروں اور تحریروں کو کہتے ہیں کہ جو دوسرں یادگار کے طور پر رہ جائیں۔ گزشتہ لوگوں کی تحریروں میں چونکہ افسانے اور خرافات موجود ہیں اس لئے عام طور پر یہ لفظ جھوٹی اور افسانوی داستانوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ قرآن حکیم میں لفظ "اساطیر" نو مرتبہ آیا ہے۔ ہر مرتبہ بےایمان کافروں کے حوالے سے آیا ہے وہ انبیاءؑ کی مخالفت کرنے کی توجیہ کے لئے استعمال کرتے تھے۔ جیسا کہ پہلی جلد میں سورہٴ حمد کی تفسیر میں ہم نے کہا ہے "رب"، "مالک مصلح" کے معنی ہیں۔ لہٰذا یہ لفظ ہر چیز کے مالک کے لئے استعمال نہیں ہوتا، بلکہ اُس مالک کو رب کہتے ہیں کہ جو اپنی ملکیّت کی اصلاح، حفاظت اور تدبیر کے درپے ہو۔ اس بناء پر بعض اوقات یہ لفظ تربیت و پرورش کرنے والے کے معنیٰ میں بھی آیا ہے۔ "ملکوت"، "ملک" (بروزن"حکم") کے مادے سے حکومت و مالکیت کے معنیٰ میں ہے اور "و" اور "ت" کا اضافہ تاکید اور مبالغے کے لئے ہے۔ "عرش" اونچے پاوٴں والے کے تخت کے معنے میں ہے۔ علاوہ ازیں "چھت" انگور کی بیل والی دیوار اور جس پر بیٹھ کر معمار لوگ تعمیر کام کرتے ہیں۔ اُس پاڑ کو بھی عرش کہتے ہیں۔ جب یہ لفظ پروردگار کے حوالے سے استعمال ہو تو اس کا معنیٰ ہے "تمام عالم ہستی" اور "پوری کائنات" کہ جو درحقیقت، الله کا تختِ حکومت شمار ہوتا ہے۔ لیکن کبھی یہ لفظ ماورائے عالم طبیعات کے لئے بولا جاتا ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں عالمِ طبیعات کے لئے لفظ "کرسی" استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً "وسیع کرسیہ السموات و الارض" (بقرہ/۲۵۵)۔ (تشریحی نوٹ: "عرش" کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد۶ میں سورہٴ اعراف کی آیت۵۴ کے ذیل میں ہم نے تفصیلی گفتگو کی ہے۔
۲۔ معاد پر ایمان۔ قدرتِ خدا کے حوالے سے
آیات قرآن سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ منکرین معاد کو زیادہ اس امر پر حیرت تھی کہ خاک ہونے کے بعد انسان کس طرح جی اٹھیں گے۔ اسی لئے معاد و قیامت کے بارے میں زیادہ تر آیات قدرتِ خدا کا ذکر ہے اور اس سلسلے میں عالمِ ہستی سے مختلف مثالیں اور نمونے بیان کئے گئے ہیں تاکہ حیات بعد از ممات کے بارے میں ان کا تعجب ختم ہو۔ زیر بحث آیات میں تین حوالوں سے اس مسئلے پر گفتگو کی گئی ہے۔ پہلے زمین اور زمین پر رہنے والوں کے حوالے سے، پھر آسمان اور عرش عظیم کے حوالے سے، اور آخر میں عالمِ خلقت کی تدبیر اور کائنات کا نظام چلانے کے حوالے سے۔ اس لحاظ سے یہ تینوں ایک ہی مفہوم کا مصداق ہیں۔ یہ احتمال بھی ہے کہ یہ تینوں مطالب منکرین معاد کے ایک ہی لقطہٴ نظر کی طرف اشارہ ہوں، مطلب یہ ہے کہ اگر تمھارا انکار اس بناء پر ہے کہ خاک شدہ انسان مالکیت الٰہی کی قلمرو سے نکل جائیں گے تو یہ غلط ہے۔ کیونکہ تم خود الله کی زمین اور زمین سے ہر شے کا مالک سمجھتے ہو اور اگر تم کہتے ہو کہ مُردوں کو ایک قادر پروردگار ہی زندہ کر سکتا تو تم خود اللہ کو آسمانوں اور عرش کا پروردگار کہہ کر پکارتے ہو اور اگر یہ انکار اس بناء پر ہے کہ تمھیں مرُدوں کی حیاتِ نو کے بعد تدبیرِ عالم پر اعتراض ہے تو یہ بھی بےجا ہے۔ کیونکہ تم قبول کر چکے ہو۔ کہ تمام عالم ہستی پر وہ قادر ہے اور تمام موجودات اُس کی پناہ میں ہیں۔ اس لحاظ سے تمھارے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ تینوں مواقع پر کفّار نے "سیقولون لله" کہا اور جواب کی یہ ہم آہنگی پہلی تفسیر کو تقویت دیتی ہے۔
۳۔ آیات کے آخری حصّے کا فرق
یہ بات لائق توجہ ہے کہ پہلے سوال و جواب کے آخر میں فرمایا گیا ہے۔ اَفَلَاتَذَکَّرُونَ کیا تم توجہ نہیں کرتے ہو۔ جبکہ دوسرے سوال و جواب کے آخر میں ہے۔ اَفَلَاتَتَّقُونَ کیا الله سے ڈرتے نہیں ہو؟ اور تیسرے سوال و جواب کے آخر میں ہے۔ فَاَنَّا تُسْحَرُونَ پس تم کیونکر کہتے ہو کہ تم پر جادو کر دیا گیا ہے۔ درحقیقت، یہ تنبیہ اور سرزنش ہے کہ جو مرحلہ بمرحلہ شدید تر ہوتی جاتی جا رہی ہے۔ منطقی طرزِ تعلیم کا ایک انداز یہ ہے کہ تین دلائل کے ذریعے کسی کو مغلوب کرنا ہو تو پہلے سرزنش کچھ نرم ہوتی ہے پھر شدید ہو جاتی ہے اور آخر میں زیادہ شدید انداز میں ملامت کی جاتی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 92 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر شرک دنیا کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیات میں معاد اور الله کی مالکیت، حاکمیت اور ربوبیت کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے۔ زیرِ نظر آیات میں نفی شرک کے مسئلے پر بات ہوئی ہے۔ ان میں مشرکین کے کچھ انحرافات کا جواب دیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: الله نے ہرگز کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا اور اس کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہیں ہے۔ (مَا اتَّخَذَ اللهُ مِنْ وَلَدٍ وَمَا کَانَ مَعَہُ مِنْ إِلَہٍ)۔ صرف عیسائی الله کی اولاد کا عقیدہ نہیں رکھتے۔ بلکہ مشرکین کا بھی اس طرح کا عقیدہ تھا۔ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو الله کا حقیقی بیٹا کہتے ہیں۔ جبکہ مشرکین فرشتوں کو الله کی بیٹیاں کہہ کر پکارتے تھے۔ اور شاید عیسائیوں نے بھی یہ عقیدہ پرانے مشرکین ہی سے لیا تھا۔ بہرحال، بیٹا چونکہ ذات اور حقیقت کے لحاظ سے باپ کا ایک حصّہ ہے۔ اس لئے وہ لوگ فرشتوں یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ کے لئے الوہیّت کے ایک حصّہ کے بھی قائل تھے اور یہ واضح طور پر مظاہر شرک میں سے ہے۔ اس کے بعد نفی شرک کی دلیل بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اگر الله کا کوئی شریک ہوتا اور متعدد خدا عالم ہستی پر حکمران ہوتے تو ہر ایک اپنی خاص مخلوق کا نظام خود چلانے کے درپے ہوتا (اور یہ فطری بات ہے کہ پھر کائنات کے مختلف حصّوں کا نظام مختلف ہاتھوں میں ہوتا اور یہ بات موجودہ نظام وحدت سے ہم آہنگ نہیں ہے) (إِذًا لَذَھَبَ کُلُّ إِلَہٍ بِمَا خَلَقَ)۔ علاوہ ازیں ان خداوٴں میں سے "ہر ایک اپنی حکومت کو توسیع دینے کی کوشش کرتا اور دوسرے پر فوقیت حاصل کرنے کے درپے ہوتا۔" اور یہ بات نظام عالم کے درہم برہم ہو جانے کا باعث ہوتی (وَلَعَلَابَعْضُھُمْ عَلیٰ بَعْضٍ)۔ اور آیت کے آخر میں ایک مجموعی نتیجہ اخذ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: پاک ہے الله اس سے کہ جو اُس کی توصیف کرتے ہیں (سُبْحَانَ اللهِ عَمَّا یَصِفُونَ)۔ اس گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم اچھی طرح سے مشاہدہ کر رہے ہیں کہ عالمِ کائنات پر ایک وسیع نظام حکم فرما ہے۔ زمین و آسمان پر ایک جیسے قوانین کی حکمرانی ہے۔ جو قوانین انتہائی چھوٹے سے ذرّے "ایٹم" پر حکم فرما ہیں۔ وہی نظام شمسی اور دیگر نظاموں پر حکم فرما ہیں۔ ماہرین کے بقول اگر ایٹم کو بڑا کر لیا جائے تو وہ نظام شمسی کی شکل دھارلے اور اگر اس کے برعکس نظام شمسی کو چھوٹا کر لیا جائے تو وہ ایک ایٹم کی صُورت اختیار کر لے۔ مختلف علوم کے ماہرین اور سائنسدان نے جدید ترین آلات و وسائل کی مدد سے کائنات کی وسعتوں کا جو مطالعہ کیا ہے۔ اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے۔ یہ تمام کائنات وحدتِ نظام کا ترجمان ہے۔ دوسری طرف تعداد کا لازمہ ہمیشہ ایک قسم کا اختلاف اور تفاوت ہے۔ کیونکہ دو چیزیں اگر ہر لحاظ سے ایک ہوں تو وہ ایک چیز ہو جائیں گی۔ اور پھر دو کا کوئی مفہوم نہیں رہ جائے گا۔ لہٰذا اگر اس جہان کے لئے متعدد خدا فرض کئے جائیں تو یہ تعداد مخلوقاتِ عالم اور ان پر حاکم نظام پر اثر انداز ہو گا۔ اور اس کا نتیجہ نظامِ کائنات کی عدم وحدت ہو گا۔ اس سے قطع ہر موجودہ تکامل و ارتقاء کا خواہاں ہے۔ مگر جو موجود ہر لحاظ سے کامل ہو اس کے لئے تکامل کا کوئی مفہوم نہیں ہے۔ اگر ہم متعدد فرض کریں اور اُن کی مختلف حکومتیں فرض کریں تو ظاہری سی بات ہے کہ اُن میں سے کوئی بھی کمالِ مطلق کا مالک نہ ہو گا۔ لہٰذا فطری امر ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنے تکامل کے درپے ہو گا اور چاہے گا اگر تمام عالمِ ہستی کو اپنے احاطہٴ اقتدار میں شامل کر لے، اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ ہر ایک دوسرے پر برتری و فوقیت حاصل کرنے کی کوشش کرے گا اور اس کا نتیجہ کائنات کی تباہی ہو گا۔ اس طرح سے مذکورہ بالا آیت کے دونوں جملوں میں سے ہر ایک، ایک علیحدہ منطقی دلیل کی طرف اشارہ ہے۔ لہٰذا یہ دلائل منطقی پہلو رکھتے ہیں نہ کہ اقتناعی۔ [تشریحی نوٹ: "وَلَعَلَی بَعْضُھُمْ عَلیٰ بَعْضٍ" کی علامہ طباطبائی مرحوم نے تفسیر المیزان میں ایک اور تفسیر ذکر کی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ عالم پر حاکم نظام کبھی تو ایک دوسرے کے متوازی اور عرض میں ہوتے ہیں۔ مثلاً صحرا اور دریا پر حاکم نظام اور کبھی ایک دوسرے کے تسلسل اور طول می مثلاً نظامِ شمسی کُلی و مجموعی اعتبار سے اور وہ نظام کہ جو کرّہٴ زمین پر حاکم ہے۔ زمین پر حاکم نظام شمسی کا ایک حصّہ ہے دوسری صورت میں ایک نظام کے تحت دوسرا نظام ہے۔ اگر ان میں سے ہر ایک الگ خدا سے وابستہ ہو تو ہمیں قبول کرنا پڑے گا۔ کہ جو خدا کلی نظام پر حاکم ہے۔ وہ ہر موقع پر اس خدا سے برتر ہے جو ماتحت نظام پر حاکم ہے۔ اس لحاظ سے ہمیں خداوٴں کے لئے سلسلہٴ مراتب کا قائل ہونا پڑے گا۔ (جیسے کسی ایک ملک میں صدر، وزیر، گورنر اور افسر کا سلسلہ ہوتا ہے اور ان کے مختلف مراتب ہوتے ہیں) جبکہ خدا کے لئے ایسا سلسلہٴ مراتب قبول کرنا محال ہے)۔ (تفسیر المیزان، ج۱٥، ص۶۶)۔ اب یہاں ایک ہی سوال باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ یہ سب کچھ اس صورت میں ہے۔ اگر ہم فرض کریں کہ خدا ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ لیکن اگر وہ حکیم و آگاہ ہوں تو پھر کیا مانع ہے۔ مثلاً وہ شورائی نظام کے تحت بھی کائنات کو چلا سکتے ہیں۔ اس سوال کا جواب ہم ساتویں جلد میں سورہٴ انبیاء کی آیت ۲۲ کے ذیل میں تفصیل "برہان تمانع" کے موضوع کے تحت پیش کر چکے ہیں۔ یہاں تکرار کی ضرورت نہیں۔ اگلی آیت میں ان بیہودہ گو مشرکین کو ایک اور جواب دیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: "الله ہر پنہاں و آشکار سے آگاہ ہے۔" تمھیں جن کے خدا ہونے کے دعوٰے ہے۔ اگر کوئی خدا ہوتا تو الله ضرور اُن سے آگاہ ہوتا۔ جبکہ ایسا نہیں ہے (عَالِمِ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَةِ)۔ کیا یہ ممکن ہے کہ عالم میں کوئی اور خدا ہوتا کہ جس سے تم آگاہ ہو۔ لیکن وہ الله کہ جو تمھارا خالق ہے اور غیب و شہود کو جانتا ہے۔ اس سے بےخبر ہو؟ یہ بیان درحقیقت، سورہٴ یونس کی آیت ۱۸ سے ملتا جلتا ہے۔ جس میں فرمایا گیا ہے۔ قُلْ اَتُنَبِّئُونَ اللهَ بِمَا لَایَعْلَمُ فِی السَّمَاوَاتِ وَلَافِی الْاَرْضِ "کہو! کیا تم الله کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو، جس کے وجود کا اُسے آسمان و زمین میں پتہ نہیں ہے"۔ آخری جُملے میں یہ کہہ کر اُن خرافاتی خیالات پر خطّ بطلان کھینچا گیا ہے: الله اس سے بالاتر ہے کہ اس کے لئے شریک قرار دیں (فَتَعَالیٰ عَمَّا یُشْرِکُونَ)۔ آیت کا یہ حصّہ سورہٴ یونس کی آیت ۱۸ کے آخری حصّے سے بالکل مشابہ ہے۔ جس میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ سُبْحَانَہُ وَتَعَالیٰ عَمَّا یُشْرِکُونَ۔ یہ نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں آیات ایک ہی مطلب کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ ضمنی طور پر جُملہ مشرکین کے لئے ایک تنبیہ بھی ہے کہ الله اُن کے ظاہر و پنہاں سے آگاہ ہے اور وہ ان تمام باتوں کو جانتا ہے اور موقع آنے پر وہ اپنی عدالت میں ان کا فیصلہ کرے گا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 98 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 98 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 98 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 98 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 98 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر شیطانی وسوسوں سے پناہ بخدا
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیات میں ہٹ دھرم کافروں اور مشرکوں کو سرزنش کی گئی ہے۔ جبکہ زیرِ نظر آیات میں روئے سخن پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کی طرف ہے۔ لیکن سلسلہ کلام وہی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اے رسول کہہ دو: پروردگارا! وہ عذاب کہ جس کا تو نے ان سرکش لوگوں کے بارے میں وعدہ کیا ہے۔ اگر تو مجھے دکھائے۔ (قُلْ رَبِّ إِمَّا تُرِیَنِّی مَا یُوعَدُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: مندرجہ بالا آیات میں "انّما"، "ان" شرطیہ" اور "ما" زائدہ کا مرکب ہے۔ یہاں یہ لفظ تاکید کے لئے آیا ہے اور عام طور پر اس بناء پر کہ "ان" شرطیہ فعل پر داخل ہو سکے جو کہ "نون تاکید" کے ساتھ ہو لفظ "ما" کا فاصلہ ہونا چاہیے)۔ تو اے میرے رب! یہ عذاب نازل کرتے ہوئے مجھے اس ظالم قوم میں سے قرار نہ دینا (رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِی فِی الْقَوْمِ الظَّالِمِینَ)۔ میری دُعا ہے کہ جس وقت تیرا قطعی عذاب انھیں دامن گیر ہو تو مجھ پر احسان فرمانا اور مجھے اس کی ہلاکت انگیزیوں سے بچائے رکھنا اور میری دُعا ہے کہ اس وقت میں ان ظالموں میں نہ ہوں۔ اس میں شک نہیں کہ رسول اکرم صلی علیہ و آلہ وسلّم کے عمل میں کوئی ایسی چیز نہ تھی کہ وہ بھی عذاب الٰہی کی زد میں آ جاتے اور اس میں شک نہیں کہ عدالتِ الٰہی سے جاری ہونے والے فرمانِ سزا کی زد میں ہر خشک و تر نہیں آ جاتا۔ یہاں تک کہ اگر ایک عظیم مملکت میں صرف ایک شخص خدا پرست اور فرض شناس ہو تو دوسرے لوگوں کو سزا دیتے ہوئے الله تعالیٰ اس کو بچا لے گا۔ لیکن حکم خدا سے رسول الله صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کسی اس دعا کا ایک مقصد تو یہ ہے کہ کافروں اور مشرکوں کے لئے خطرے کا الارم ہو کہ سزا کا معاملہ اس قدر یقینی ہے کہ خود رسولِ عظیم اسلام کو چاہیے کہ وہ اپنے تئیں خدا کے سپرد کر دیں اور اس سے نجات کی درخواست کریں۔ دوسرا یہ کہ یہ بات اس رسول کے تمام پیروکاروں کے لئے بھی درس ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہرگز عذابِ الٰہی سے مامون نہ سمجھیں اور اپنے آپ کو ہر حالت میں اس کے سپرد کریں۔ رہا یہ سوال کہ اس عذاب سے کون سا عذاب مراد ہے؟ تو اس سلسلے میں بہت سے مفسرین کا نظریہ ہے کہ اس سے مشرکین پر آنے والا وہ دنیاوی عذاب مراد ہے کہ جو جنگ بدر میں ان کی رسوا کن شکست کی صورت میں سامنے آیا۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، المیزان، فی ظلال القرآن، روح المعانی اور تفسیر ابوالفتوح رازی____ زیرِ بحث آیات کے ذیل میں)۔ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ سورہٴ مومنون مکّی ہے اور ان دنوں مومنین سخت دباوٴ میں تھے۔ یہ آیات ان کے لئے ایک طرح سے دل حوئی اور تسلی خاطر ہیں۔ (اس کی نظیر سورہٴ یونس کی آیت ۴۶ بھی ہے)۔ لیکن بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس سے عذابِ دنیا اور عذاب آخرت دونوں مراد ہیں (بحوالہ: تفسیر کبیر از فخر الدین رازی، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں)۔ البتہ پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں مزید تاکید کے لئے، دشمنوں کے ہر قسم کے شک کو دُور کرنے کے لئے اور رسول اللهؐ اور مومنین کی دل جوئی کے لئے اگلی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے: ہم یقیناً قادر ہیں کہ جس عذاب کا ان کے لئے ہم نے وعدہ کیا ہے وہ تجھے دکھائیں۔ (وَإِنَّا عَلیٰ اَنْ نُرِیَکَ مَا نَعِدُھُمْ لَقَادِرُونَ)۔ چنانچہ ہم جانتے ہیں کہ اس تاریخ کے بعد جنگ بدر میں اور دیگر مواقع پر الله کی اس قدرت کے مظاہر دیکھنے میں آئے اور ظاہراً چھوٹا سا کمزور لشکر الله کے حکم اور قوتِ ایمان سے دشمنوں کی بڑی تعداد پر کامیاب و کامران ہوا۔ اس کے بعد رسول اللهؐ کو ان لوگوں کے ساتھ حسنِ کریمی سے پیش آنے کے لئے کہا گیا ہے: اور ان کی برائیوں کو عفو و درگزر اور اچھائی کے ساتھ دُور کرو اور ان کی غیر پسندیدہ باتوں کا بہترین منطق کے ساتھ جواب دو۔ (ادْفَعْ بِالَّتِی ھِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ)۔ اس سلسلے میں جلدی نہ کرو اور جان لو کہ جو کچھ باتیں وہ کرتے ہیں ہم اس سے زیادہ آگاہ ہیں۔ (نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُونَ)۔ ہم جانتے ہیں کہ ان ناشائستہ حرکات اور اذیت ناک باتیں تمھارے لئے پریشان کن اور تکلیف دہ ہیں۔ لیکن تمھیں نہیں چاہیے کہ ان سختیوں اور بدگوئیوں کا ویسا ہی جواب دو۔ تم ان کی برائی کا جواب اچھائی سے دو۔ کیونکہ یہ روش بذاتِ خود غافل اور فریب خوردہ افراد کی بیداری کے لئے نہایت موٴثر ہے۔ مگر اس کے باوجود اپنے تئیں الله کے سپرد کر دو اور "کہو: اے میرے رب! میں شیطانی وسوسوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔" (وَقُلْ رَبِّ اَعُوذُ بِکَ مِنْ ھَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ)۔ نہ صرف ان کے غافل کر دینے والے وسوسوں سے تیری پناہ کا طالب ہوں بلکہ اس سے بھی کہ وہ میرے پاس آئیں (وَاَعُوذُ بِکَ رَبِّ اَنْ یَحْضُرُون)۔ وہ میری محفل میں بھی نہ آئیں کیونکہ ان کی موجودگی گمراہ کن اور نقصان دہ ہے۔
چند اہم نکات ۱۔ ”ھَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ“ کیا ہے؟
"ھمزات"، "ھمزة" کی جمع ہے۔ جس کا معنی ہے شدّت کے ساتھ دفع اور تحریک۔ حرف ہمزہ کو اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ گلے کے آخری حصّے سے شدت کے ساتھ نکلتا ہے۔ بعض مفسرین کے نزدیک "ھمز"، "غمز" اور "رمز" کے ایک ہی معنی ہیں۔ البتہ "رمز" خفیف مرحلے کے لئے ہے۔ "غمز" شدید تر اور "ھمز" نہایت شدید مرحلے کے لئے ہے۔ (بحوالہ: تفسر ابوالفتوح رازی)۔ "شیاطین" جمع ہے اور اس کے مفہوم میں جنوں اور انسانوں میں موجود تمام پنہاں و آشکار شیطان شامل ہیں۔ تفسیر علی ابن ابراہیم میں ہے کہ امامؑ نے "قل رب اعوذ بک من ھمزات الشیاطین" کی تفسیر میں فرمایا۔ اس سے مراد وہ شیطانی وسوسے ہیں جو تیرے دل میں پڑتے ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر نورالثقلین، ج۳، ص۵۵۲)۔ جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی طرف سے مقامِ عصمت کے حامل ہونے کے باوجود اُس سے یہ دعا کرتے ہیں۔ تو دوسروں کی حالت واضح ہے۔ لہٰذا تمام مومنین کو چاہیے کہ وہ اپنے مالک و مدبر پروردگار سے دُعا کریں کہ وہ لمحہ بھر کے لئے بھی انھیں اپنے حال پر نہ چھوڑے۔ نہ صرف شیطانی وسوسوں سے بچائے بلکہ ان کی محفلوں کو بھی شیطانی وجود سے پاک رکھے۔ راہِ حق کے تمام راہیوں کو چاہیے کہ شیطانی وسوسوں سے ڈرتے رہیں۔ اور ہمیشہ اپنے تئیں پناہِ خدا میں دیئے رکھیں۔
۲۔ برائی کا جواب بھلائی سے
سخت اور ہٹ دھرم دشمنوں سے مقابلے کا ایک موٴثر ترین طریقہ یہ ہے کہ انھیں برائی کا جواب اچھائی کے ساتھ دیا ہے۔ یہ وہ مقام ہے کہ ان کے ضمیر کے اندر ایک ہیجان پیدا ہو گا اور اُن کا ضمیر ہی ان کی برائیوں پر انھیں سخت ملامت کرے گا۔ اور حق و باطل کے موازنے میں ان کا ضمیر حق کا ساتھ دے گا۔ بہت سے مواقع پر یہی امر دشمن کو مائل کر دیتا ہے کہ وہ اپنے طرزِ عمل پر نظر ثانی ہے۔ رسول الله صلی الله علیہ و آلہ وسلّم اور آئمہ ہدیٰ علیہم السلام کی سیرت اور عملی زندگی میں ہم نے بہت دیکھا ہے کہ انھوں نے ایسے افراد یا گروہوں کا جواب اچھائی کے ساتھ دیا ہے کہ جو جدید ترین جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ایسے لوگوں سے ان پیشواوٴں نے محبّت کا سلوک کیا ہے اور یہی امر ان کے روحانی انقلاب اور راہِ حق پر آ جانے باعث بنا ہے۔ قرآن نے مندرجہ بالا آیات میں اور دیگر کئی مقامات پر مسلمانوں سے تقاضا کیا ہے کہ وہ برائیوں کا اس طریقے سے مقابلہ کریں۔ یہاں تک کہ سورہٴ "حم السجدہ" کی آیت ۳۴ میں فرمایا گیا ہے۔ "فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَاَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ" اس کام کا نتیجہ یہ ہو گا کہ نہایت سخت دشمن تمھارے گرم جوش دوست بن جائیں گے"۔ لیکن___ یہ بات بنا کہے واضح ہے کہ یہ حکم خاص مواقع کے لئے۔ ایسے مواقع کہ جہاں دشمن اس سے غلط فائدہ نہ اُٹھائے اور اسے کمزوری پر محمول نہ کرے اور اس کی جرارت و جسارت میں اضافہ نہ ہو۔ نیز اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ سازشوں اور شیطانی، وسوسوں کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا جائے۔ شاید اسی بناء پر مندرجہ بالا حکم کے فوراً بعد قرآن، رسول اللهؐ کو حکم دیتا ہے کہ شیطانی وسوسوں اور شیطانوں کے اپنے ہاں آنے سے خدا کی پناہ مانگو۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 100 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر ناممکن تقاضا
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیات میں مشرکین کی اپنے راستے پر ہٹ دھرمی کا ذکر تھا۔ زیرِ بحث آیات میں آستانہ موت پر ان کی دردناک کیفیت کا تذکرہ ہے۔ وہ اپنی غلط روش پر یونہی گامزن رہیں گے، یہاں تک کہ موت ان میں سے کسی کو آئے۔ (حَتَّی إِذَا جَاءَ اَحَدَھُمَ الْمَوْتُ)۔ [تشریحی نوٹ: "حَتَّی" درحقیقت، ایک محذوف جُملے کی غایت ہے کہ جو گزشتہ عبارتوں سے واضح ہے اور وہ تقدیر میں یوں ہے۔ "انّھم سیتمرون علیٰ ھذا الحال حتیّٰ اذا جائھم الموت"۔ وہ اپنے طریقے پر چلتے رہیں گے یہاں تک ان میں کسی ایک کو موت آ جائے۔ اور یہ مفہوم "نحن اعلم بما یصفون" سے بھی سمجھا جا سکتا ہے اور یہ جُملہ گزشتہ آیات میں بھی وہ مرتبہ آیا ہے (غور کیجئے)] اس وقت کہ جب وہ دیکھے گا کہ اس جہان سے اس کا رابطہ کٹ گیا ہے۔ اور اب وہ دوسرے جہان میں ہے تو غرور غفلت کے پردے اس کی آنکھوں پر اٹھ جائیں گے۔ گویا اپنا دردناک انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا۔ اسے یاد آئے گا کہ اس سے عمر گنوادی اور اتنا سرمایہ ضائع کر دیا۔ اسے اپنی عمر رفتہ کوتاہیاں یاد آئیں گی۔ وہ گناہ جو اس نے انجام دیئے تھے۔ اُن کا خیال آئے گا اور اب ان سب کا منحوس انجام وہ اپنی آنکھ سے دیکھ رہا ہو گا۔ اس وقت وہ فریاد کرے گا اور پکارے گا: اے میرے رب مجھے واپس بھیج دے۔ (قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ)۔ مجھے پھر دُنیا میں لوٹا دے کہ میں اپنے کئے کی تلافی کر سکوں اور اپنی کوتاہیوں کو دُور کرنے کے لئے عمل صالح بجا لاوٴں۔ (لَعَلِّی اَعْمَلُ صَالِحًا فِیمَا تَرَکْتُ)۔ لیکن قانونِ آفرینش کسی نیک یا بد کو واپس آنے کی اجازت نہیں دیتا۔ لہٰذا اُسے جواب دیا جائے گا۔ کیا؟، واپسی؟ ہرگز نہیں (کَلاَّ)۔ یہ تو ایسی بات جو وہ صرف ربان سے کہتا ہے (إِنَّھَا کَلِمَةٌ ھُوَ قَائِلُھَا)۔ یہ بات اس کے دل کی گہرائیوں سے، ارادے اور آزادی کے ساتھ نہیں نکلی۔ یہ تو وہی بات ہے جو ہر گناہگار اس وقت کہتا ہے۔ جب وہ سزا کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے اور جب طوفانِ بلا تھم جاتا ہے۔ تو پھر وہ اپنے طرزِ عمل کو جاری رکھتا ہے۔ سورہٴ انعام کی آیت ۲۸ میں بھی ایسی ہی بات فرمائی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُھُوا عَنْہُ اگر وہ اپنی حیاتِ دنیا کی طرف لوٹ جائیں تو وہی پہلے کا سا طور طریقہ جاری رکھیں۔ آیت کے آخر میں برزخ کی اسرار آمیز زندگی کی طرف نہایت معنیٰ خیز اشارہ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: جس روز وہ اُٹھائے جائیں گے۔ اُس دن تک ان کے پیچھے برزخ ہے۔ (وَمِنْ وَرَائِھِمْ بَرْزَخٌ إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ)۔
چند اہم نکات ۱۔ ”رَبِّ ارْجِعُونِ“ میں مخاطب کون ہے؟
یہاں لفظ "ربّ"، "ربّی" کا مخفف ہے۔ جو کا معنیٰ ہے: میرے پروردگار۔ لہذا اس کا آغاز نشاندہی کرتا ہے کہ مخاطب خدا وند متعال ہے۔ لیکن "ارْجِعُونِ" (مجھے آپ واپس لوٹا دیں) چونکہ جمع کا صیغہ ہے۔ لہٰذا مخاطب خدا نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک لفظ مخاطب واحد کے لئے اور دوسرا مخاطب جمع کے لئے۔ ایسا کیوں ہے؟ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ مخاطب خدا ہی ہے اور جمع کا صیغہ یہاں احترام و تعظیم کے طور پر ہے۔ جیسا کہ ہماری فارسی زبان میں معمول ہے کہ ہم ایک مخاطب فرد کو احترام کے طور پر "شما" (آپ) کہتے ہیں۔ لیکن گزشتہ زمانوں میں عربی زبان میں اس طرح سے رائج نہیں تھا اور قرآن میں بھی اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس جُملے کی یہ تفسیر کمزور ہے۔ [تشریحی نوٹ: سورہٴ قصص کی آیت۹میں ہے: "قُرَّةُ عَیْنٍ لِی وَلَکَ لَاتَقْتُلُوہُ" یعنی: یہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہو گا تم لوگ اسے قتل نہ کرو۔" یہ بات فرعون کی بیوی نے اُس وقت کہی جب دریا سے بہتا ہوا، حضرت موسیٰؑ کا صندوق لایا گیا۔ اس میں پہلے فرعون مخاطب ہے۔ اور اس کے بعد اس کے وہ ساتھی کہ جو بنی اسرائیل کے بچوں کے قتل پر مامور تھے۔ (غور کیجئے)]۔ بعض دیگر مفسرین نے کہا ہے کہ مخاطب دراصل موت کے قدر فرشتے ہیں۔ کہ جن کے ذمے روحیں قبض کرنا ہے اور لفظ "رب" یہاں پر بارگاہ خدا کی ایک طرح کی فریاد ہے۔ ہمارے روز مرّہ کی گفتگو میں یوں بہت ہوتا ہے کہ جب انسان کسی بحرانی کیفیت سے دوچار ہو تو پہلے بارگاہِ خدا میں فریاد کرتا ہے اور بعد میں لوگوں سے مدد کرتا ہے۔ مثلاً۔ یاالله! یا الله مجھے بچاوٴمیری مدد کرو یہ تفسیر زیادہ صحیح نظر آتی ہے۔
۲۔ ”فِیمَا تَرَکْتُ“ کا مفہوم
مندرجہ بالا آیات میں ہے کہ کافر لوگ موت کی چوکھٹ پر پہنچ کر خواہش کرتے ہیں کہ انھیں واپس لوٹا دیا جائے تاکہ "انھوں نے جن چیزوں کو ترک کیا ہے" ان کے لئے عملِ بجا لائیں۔ بعض کا نظریہ ہے۔ کہ "فِیمَا تَرَکْتُ" ان اموال کی طرف اشارہ ہے کہ جو ان کی طرف باقی رہ گئے ہیں۔ کیونکہ عام طور پر بھی نہیں "ترکہٴ میّت" کہتے ہیں۔ امام صادق علیہ السلام سے ایک حدیث اسی مفہوم کی موٴیّد منقول ہے۔ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں۔ من منع قیراطاً من الزکوٰة فلیس بموٴمن ولا مسلم وھو قولہ تعالیٰ ارجعون اعمل صالحاً فیما ترکت۔ (بحوالہ: تفسیر نورالثقلین، ج۳، ص۵۵۲، بحوالہٴ کافی؛ ثواب الاعمال، اور من لایحضرہ الفیہ)۔ "جو شخص زکواٰة کا ایک قیراط (تشریحی نوٹ: قیراط کا وزن جَو کے چار دانوں کے برابر ہوتا ہے)۔ نہ دے وہ مومن ہے نہ مسلمان اور الله کا یہ فرمان اسی بارے میں ہے: (رَبِّ ارْجِعُونِ لعلی اعمل صالحاً فیما ترکت)۔ بعض دیگر مفسرین اس سے زیادہ وسیع معانی کے قائل ہیں۔ وہ "مَا تَرَکْتُ" کو ان تمام اعمالِ صالح کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں کہ جنھیں یہ شخص چھوڑ چُکا ہے۔ یعنی خدا وندا: مجھے واپس بھیج دے تاکہ جو صالح اعمال میں نے ترک کئے ہیں انھیں بجا لاوٴں اور پہلی کوتاہیوں کی تلافی کرو۔ دوسری تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ ضمناً۔ "لَعَلِّی اَعْمَلُ صَالِحًا" (شاید عمل صالح انجام دوں) میں "لعلّ" (شاید) ممکن ہے۔ اس طرف اشارہ ہو کہ یہ غلط کار اور منحرف افراد اپنی آئندہ کیفیت کے بارے میں مطمئن نہیں ہیں۔ اور کم و بیش جانتے ہیں کہ یہ ندامت خاص حالات کی وجہ سے ہے اور موت آ جانے کے باعث انھیں پیش آئی ہے۔ ورنہ اگر وہ واپس بھیج دیئے جائیں تو وہی روش باقی رکھیں گے اور حقیقت بھی یہی ہے۔
۳۔ ”کَلاَّ“ یہاں کس چیز کی نفی کرتا ہے؟
"کَلاَّ" عربی زبان میں روکنے اور دوسرے کی بات کو باطل کرنے کے لئے آتا ہے۔ اس کی ضد "ای" (جی ہاں) ہے کہ جو تصدیق کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ "کلا" دیناوی زندگی کی طرف واپسی کے کافروں کے تقاضے کی نفی ہے۔ یعنی واپسی کا راستہ بند ہے اور کسی طرف بھی اب تمھارا دنیاوی زندگی کی طرف لوٹ کے جانا مُمکن نہیں۔ بعض دیگر مفسرین نے کہا ہے کہ لفظ ان کے دعوے کی نفی ہے۔ کہ اگر ہم دنیا کی طرف پلٹ جائیں تو اپنی گزشتہ کوتاہیوں کی تلافی کریں گے۔ الله کہتا ہے کہ یہ ایک بےبنیاد اور کھوکھلا دعوٰے ہے اور اگر یہ پلٹ جائیں تو وہی پہلے کا سا طرزِ عمل جاری رکھیں گے۔ البتہ اس میں کوئی مانع نہیں کہ یہ لفظ دونوں کی نفی کے لئے ہے۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ زیرِ بحث آیت میں یہ تقاضا اگرچہ مشرکین کی طرف سے لایا گیا ہے اور انہی کو جواب دیا جا رہا ہے۔ تاہم یہ امر مسلم ہے کہ یہ امرانہی سے مخصوص نہیں۔ بلکہ تمام گناہگاروں، ظالموں اور غلط کاروں کی یہی خواہش ہو گی جب وہ موت کو اپنے آستانے پر دیکھیں گے تو انھیں دردناک انجام نظر آئے گا۔ وہ اپنے گزشتہ کردار پر پشیمان ہوں گے اور واپسی کا تقاضا کریں گے۔ لیکن ان کی یہ درخواست ٹھکرا دی جائے گی۔
۴۔ عالم برزخ کیا ہے؟
عالم برزخ کیا ہے؟ کہاں ہے اور دنیا و آخرت کے درمیان اس قسم کے جہاں کی کیا دلیل ہے؟ نیز کیا برزخ سب کے لئے ہے یا کچھ معیّن لوگوں کے لئے؟ اور اس عالم میں مومنین، صالحین، کفار اور گناہگار کی کیا کیفیت ہو گی؟ عالمِ برزرخ کے بارے میں اس قسم کے سوالات اُبھرتے ہیں اور آیات و روایات میں ان پہلووٴں کی طرف اشارہ ہوا ہے ضروری ہے کہ یہ تفسیر جس قدر اجازت دیتی ہے۔ ہم ان سوالات کا جواب دیں۔ "برزخ" کا بنیادی معنے ہے ایسی چیز کہ جو دو چیزوں کے درمیان حائل ہو۔ بعد ازاں ہر اس چیز کو "برزخ" کہا جانے لگا کہ جو دو چیزوں کے درمیان حائل ہو۔ اسی لئے دُنیا و آخرت کے درمیانی عالم کو "برزخ" کہا جاتا ہے۔ اسی جہان کو عالمِ قبر اور عالمِ ارواح بھی کہا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں متعدد ایسی قرآنی آیات موجود ہیں کہ جن میں سے کچھ ظاہری طور پر اس عالمِ کی موجودگی پر دلالت کرتی ہیں اور بعض صراحتاً یہ مفہوم دیتی ہیں۔ زیرِ بحث آیت: وَمِنْ وَرَائِھِمْ بَرْزَخٌ إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ۔ ان کے پھر بھی اُٹھنے کے دن تک ان کے پیچھے برزخ حائل ہے۔ یہ آیت عالم برزخ کے بارے میں بالکل ظاہری مفہوم رکھتی ہے۔ اگرچہ بعض نے یہاں پر برزخ کے معنیٰ "اس دنیا کی طرف واپسی میں رکاوٹ" کہا ہے۔ لیکن یہ معنیٰ بہت ہی بعید نظر آتا ہے کیونکہ "إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ" (مبعوث ہونے اور قبروں سے اُٹھنے کے دن تک) اس بات کی دلیل ہے کہ یہ برزح دنیا اور آخرت کے درمیان ہے نہ کہ انسان اور دُنیا کے درمیان۔ جو آیات صراحتاً اس قسم کے جہاں ثابت کرتی ہیں وہ ہیں کہ جو شہداء کی زندگی سے مربوط ہیں۔ وَلَاتَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللهِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ یُرْزَقُونَ ہرگز یہ گمان نہ کرنا کہ جو لوگ راہِ خدا میں مارے گئے ہیں۔ وہ مردہ ہیں، وہ تو زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے ہاں رزق پاتے ہیں۔ (آلِ عمران۔۱۶٩) یہاں تو روئے سخن پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کی طرف ہے۔ جبکہ سورہٴ بقرہ کی آیت ۱۵۴ میں تمام مومنین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ وَلَاتَقُولُوا لِمَنْ یُقْتَلُ فِی سَبِیلِ اللهِ اَمْوَاتٌ بَلْ اَحْیَاءٌ وَلَکِنْ لَاتَشْعُرُون الله کی راہ میں مارے جانے والوں کو مردہ نہ کہو۔ وہ تو زندہ ہیں۔ تمھیں ان کی زندگی کا شعور نہیں۔ نہ صرف شہداء جیسے بلند مقام مومنین کے لئے عالمِ برزخ موجود ہے۔ بلکہ فرعون اور اس کے حواریوں جیسے سرکشوں کے لئے عالمِ برزخ کا ہونا صراحت سے۔ سورہٴ مومن کی آیت ۴۶ میں آیا ہے۔ النَّارُ یُعْرَضُونَ عَلَیْھَا غُدُوًّا وَعَشِیًّا وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ اَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ (فرعون اور اس کے ساتھی) ہر صبح و شام آگ کے سامنے لائے جاتے ہیں اور جب قیامت کا دن ہو گا۔ تو حکم دیا جائے گا کہ آلِ فرعون کو شدید ترین عذاب میں داخل کر دو۔ البتہ اس سلسلے میں مفسرین نے اور بھی کئی ایک آیات ذکر کی ہیں کہ جو اتنی صراحت سے عالمِ برزخ کو ثابت نہیں کرتیں۔ جتنی کہ مذکورہ بالا۔ اس ضمن میں یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ صرف زیرِ بحث آیت ایسی ہے کہ جس میں عالمِ برزخ کا ذکر عمومی حوالے سے ہے۔ دیگر آیات میں خصوصی حوالے سے ذکر ہے۔ مثلاً شہداء کے بارے میں یا آل فرعون کے بارے میں۔ لیکن واضح ہے کہ مسئلہ صرف آل فرعون سے متعلق نہیں، کیونکہ ان جیسے اور بھی بہت سے لوگ دنیا میں ہیں۔ اور اسی طرح معاملہ صرف شہداء سے مخصوص نہیں کیونکہ قرآن مجید میں اور بھی لوگوں کو شہداء کے ہم پلّہ شمار کیا گیا ہے۔ مثلاً سورہٴ نساء کی آیت۶۹ میں انبیاء و صدیقین، شہدا اور صالحین کو ایک صف میں شمار کیا گیا ہے۔ فَاُوْلٰئِکَ مَعَ الَّذِینَ اَنْعَمَ اللهُ عَلَیْھِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّھَدَاءِ وَالصَّالِحِینَ۔ عالمِ برزخ سب کے لئے ہے یا نہیں۔ اس سلسلے میں ہم انشاء الله اس بحث کے آخر میں گفتگو کریں گے رہا روایات کا معاملہ تو اس بارے میں شیعہ اور سنی کتب میں بہت زیادہ روایات موجود ہیں۔ روایات میں اس دور کے لئے مختلف تعبیرات ہیں۔ کہیں اے عالمِ برزخ کہا گیا ہے۔ کہیں عالمِ قبر اور کہیں عالمِ ارواح۔ اس ضمن میں روایات میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔ ہم ذیل میں چند ایک روایات پیش کرتے ہیں: ۱۔ ایک مشہور حدیث نہج البلاغہ کے کلمات قصار میں موجود ہے۔ حضرت علی علیہ السلام جنگ صفین سے لوٹے تھے۔ واپسی پر کوفہ کے قبرستان سے گزرے۔ یہ قبرستان شہر کے دروازے سے باہر تھا۔ آپ علیہ السلام نے قبروں کی طرف رخ کیا اور فرمایا یا اھل الدیار الموحشة والمحال المقفرة والقبور المظلمة! یااھل التربة! یااھل الغربة! یااھل الوحدة! یااھل الوحشة! انتم لنا فرط سابق ونحن لکم تبع لاحق، امّا الدّور فقد سکنت، وامّا الازواج فقد نکحت و امّا الاموال فقد قسمت؛ ھٰذا خبر ما عندنا فما خبر ما عندکم؟ ثمّ التفت الیٰ اصحابہ فقال: امّا لو اذن لھم الکلام لاخبروکم انّ خیر الزاد التقویٰ۔ اے وحشت کے گھروں، خالی مکانوں اور تاریک قبروں میں رہنے والو! خاک نشینو! اے مسافرو! اے تنہائی میں رہنے والو! اے اہل وحشت! تم اس راستے پر ہم سے پہلے چلے گئے ہو۔ ہم بھی تم سے آ ملیں گے اگر تم دنیا کی خبر پوچھتے ہو تو وہ یہ ہے کہ تمھارے گھروں میں دوسرے آ بسے ہیں، تمھاری بیویاں اوروں سے بیاہی گئی ہیں۔ اور تمھارے مال تقسیم ہو گئے ہیں، یہ تو ہمارے ہاں کی خبر ہے۔ اب کہو تمھارے ہاں کی کیا خبر ہے؟ پھر آپؐ اپنے اصحاب کی طرف مخاطب ہوئے اور فرمایا: اگر انھیں بات کرنے کی اجازت ملے تو یقیناً تمھیں بتائیں کہ اس سفر کے لئے بہترین زادہ راہ تقویٰ ہے۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، کلمات قصار، نمبر۱۳۰)۔ واضح ہے ان سب باتوں کو مجاز اور کنائے پر محمول نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ یہ سب اس حقیقت کی خبر دیتی ہیں۔ کہ موت کے بعد ایک طرح کہ برزخی زندگی ہے اور اس دور میں انسان سمجھتا ہے اور ادراک رکھتا ہے اور اگر اسے بات کرنے اجازت دی جائے تو وہ بات بھی کرے۔ ۲۔ ایک اور حدیث اصبغ بن نباتہ نے حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی ہے۔ اصبغ کہتے ہیں۔ ایک روز حضرت علی علیہ السلام شہر کوفہ سے باہر نکلے اور "عزی" (نجف) کے مقام کے قریب آئے۔ ہم آپ تک پہنچے تو دیکھا کہ آپ زمین پر لیٹے ہوئے ہیں۔ قنبر نے کہا: یا امیرالمومنین علیہ السلام! کیا آپ علیہ السلام اجازت نہیں دیتے کہ میں اپنی عبا آپ علیہ السلام کے پاوٴں کے نیچے بچھا دوں؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: نہیں، یہ ایسی جگہ ہے کہ جس میں مومنین کی مٹی موجود ہے اور تیرا کام ان کے لئے باعثِ زحمت ہے۔ میں نے عر ض کیا: یا امیرالمومنین علیہ السلام! میں نے مومن کی مٹی والی بات تو سمجھ لی ہے کہ وہ کیا ہے لیکن ان کے لئے باعثِ زحمت ہونے کا کیا معنی ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ یابن نباتہ لو کشف لکم لرایتم ارواح الموٴمنین فی ھٰذہ الظھر حلقاً، یتزاورون ویتحدثون، ان فی ھذا الظھر روح کل موٴمن وبوادی برھوت نسمة کلّ کافر۔ اے ابن نباتہ! اگر تمھاری آنکھوں کے سامنے سے پردے ہٹا دیئے جائیں۔ تو تم لوگ مومنین کی روحوں کو دیکھو کہ حلقے بنائے بیٹھی ہیں، ایک دوسرے سے ملتی ہیں اور ایک دوسرے سے باتیں کرتی ہیں۔ یہ مومنین کی جگہ ہے اور وادیٴ برہوت میں کافروں کی روحیں ہیں۔ (بحوالہ: بحارالانوار، ج۶، ص۲۴۳)۔ ۳۔ ایک اور حدیث میں امام علی بن الحسین علیہماالسلام سے منقول ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ انّ القبر امّا روضة من ریاض الجنة، او حفرة من حفر النار۔ قبر جنّت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔ یا جہنم کے گڑھوں میں سے سے ایک گڑھا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر نورالثقلین، ج۲، ص۵۵۳)۔ ۴۔ ایک حدیث امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے آپ علیہ السلام نے فرمایا: البرزخ القبر، ھو الثواب و العقاب بین الدنیا والآخرة.... واللهِ مانخاف علیکم الّا البرزخ۔ برزخ وہی عالمِ قبر ہے کہ جو دنیا و آخرت کے درمیان ثواب اور عذاب کا دور ہے۔ خدا کی قسم ہمیں تمھارے بارے میں صرف عالمِ برزخ کا خوف ہے۔ (بحوالہ: تفسیر نورالثقلین، ج۲، ص۵۵۴)۔ ۵۔ ایک اور حدیث کہ جو کتاب کافی میں منقول ہے۔ اس میں اس جُملے کے بعد ہے کہ راوی نے امام علیہ السلام سے پوچھا۔ وما البرزخ؟ برزخ کیا ہے؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا۔ القبر منذ حین موتہ الیٰ یوم القیامة۔ یہ وہی عالمِ قبر ہے۔ وقت موت سے لے کر قیامت تک۔ (بحوالہ: تفسیر نورالثقلین، ج۲، ص۵۵۴۔)۔ ۶۔ ایک اور حدیث امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے۔ ایک شخص نے آپ علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: بعض لوگ کہتے ہیں کہ بعد از موت مومنین کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے سینے میں ہوتی ہیں اور یہ پرندے عرش الٰہی کے گرد محوِ پرواز رہتے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: لا، الموٴمن اکرم علی الله من ان یجعل روحہ فی حوصلة طیر ولٰکن فی ابدان کابدانھم۔ نہیں ایسا نہیں ہے۔ مومن بارگاہِ الٰہی میں اس سے زیادہ باوقار ہے کہ اس کی رُوح کسی پرندے کے سینے میں بند کر دی جائے۔ مومنین کی روحیں ان کے بدنوں میں ہوتی ہیں اور وہ ان کے انہی بدنوں کی طرح ہیں۔ (بحوالہ: بحارالانوار، ج۶، ص۲۶۸، بحوالہ کافی)۔ اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ برزخی بدن ایک خاص قسم ہے کہ جو کئی پہلووٴں سے اس مادی جسم کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے۔ لیکن ایک قسم کے تجر و برزخی کا حامل ہے۔ ۷۔ کافی میں ایک اور حدیث امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ علیہ السلام سے مومنین کی ارواح کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ فی حجرات فی الجنة یاکلون من طعامھا ویشربون من شرابھا ویقولون ربّنا اقم لنا الساعة وانجز لنا ماوعدتنا۔ وہ جنّت کے حجروں میں رہتے ہیں، بہشت کے کھانے کھاتے ہیں اور اسی کے مشروبات پیتے ہیں اور کہتے ہیں، پروردگارا! ہمارے لئے جلدی قیامت قائم فرما اور جو وعدے ہم سے کئے ہیں انھیں پورا فرما۔ (بحوالہ: بحارالانوار، ج۶، ص۲۶۹)۔ ۸۔ اسی کتاب میں امام بزرگوارؑ سے ایک اور حدیث بھی منقول ہے۔ فرمایا۔ جس وقت کوئی مومن دنیا سے جاتا ہے تو مومنین کی روحیں اسے گھیر لیتی ہیں۔ اور دُنیا میں زندہ یا مرجانے والوں کے بارے میں پوچھتی ہیں۔ اگر وہ کہے کہ فلاں شخص دُنیا سے چلا گیا ہے اور وہ انھیں اپنے پاس موجود نہ پائیں تو کہتی ہیں کہ یقیناً وہ سقوط کر گیا ہے (یعنی جہنم میں جا پہنچا ہے)۔ (بحوالہ: بحارالانوار، ج۶، ص۲۶۹)۔ واضح ہے کہ ان روایات میں جنت و دوزخ سے مراد عالمِ برزخ کی جنّت و دوزخ ہے نہ کہ عالمِ قیامت کی کیونکہ ان دونوں میں بہت فرق ہے۔ خلاصہ یہ کہ اس سلسلے میں زیادہ ہیں۔ ان روایات کو مختلف ابواب میں جمع کیا گیا ہے۔ ان میں سے بعض ابواب کی طرف ہم اشارہ کرتے ہیں۔ ،۔ بہت سی روایات ہیں کہ جن میں فشار قبر اور عذاب قبر کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ ،۔ ایسی روایات بھی ہیں کہ جو ارواح کے اپنے گھر والوں سے ملنے اور ان کی حالت دیکھنے سے متعلق گفتگو کرتی ہیں۔ ،۔ وہ روایات بھی ہیں کہ جن میں واقعہ معراج کے ضمن میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کی انبیاءؑ و رُسلؑ کی روحوں سے ملاقات کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ ،۔ ایسی روایات بھی ہیں کہ جن میں بتایا گیا ہے کہ انسان اس جہان میں جو اچھے بُرے کام کرتا ہے۔ موت کے بعد ان کا نتیجہ اس تک پہنچتا ہے۔ اسی قسم کی اور بھی بہت سی روایات ہیں۔ (تشریحی نوٹ: مرحوم سید عبدالله شبّر نے کتاب "تسلیة الفواد فی بیان الموت و المعاد" میں ایسی تمام روایات کو جمع کیا ہے)۔
برزخ اور عالمِ ارواح سے ارتباط
اگرچہ ایسے بہت سے لوگ ہیں کہ جو عالمِ ارواح سے ارتباط کا غلط دعویٰ کرتے ہیں۔ یا ایسے ہی تصورات میں گرفتار ہیں۔ لیکن تحقیقات کے مطابق یہ امر درجہٴ ثبوت کو پہنچ گیا ہے کہ عالمِ ارواح سے ارتباط ممکن ہے۔ اور بعض آگاہ اور اہل علم افراد نے واقعاً ارواح سے رابطہ پیدا کر کے کچھ حقائق معلوم کئے ہیں۔ یہ امر بذات خود عالمِ برزخ کی حقیقت اور اثبات کے لئے ایک واضح دلیل ہے اور نشاندہی کرتا ہے کہ عالمِ دنیا اور جسم کی موت کے بعد اور قیام آخرت سے پہلے ایک اور عالم وجود رکھتا ہے۔ [تشریحی نوٹ: ارتباط ارواح کے بارے میں مزید وضاحت کے لئے کتاب "عود ارواح وارتباط با ارواح" اور کتاب "جہان پس از مرگ" کی طرف رجوع فرمائیں)۔ اسی طرح وہ عقلی دلائل کہ جو فنائے جسم کے بعد بقائے رُوح اور تجرد رُوح کے بارے میں ہیں، عالمِ برزخ کے اثبات کے لئے ایک اور برہان ہیں۔ (غور کیجئے گا)۔
عالمِ برزخ کا ایک خاکہ
اگر تفصیلات سے قطع نظر کر لیں۔ تو علمائے اسلام کے درمیان عالمِ برزخ میں عذاب و نعمت کے مسئلے پر اتفاق نظر آتا ہے۔ چند ایک افراد کہ جن کی کوئی اہمیت نہیں۔ ان کے علاوہ تمام شیعہ سنی علماء اس پر متفق ہیں۔ اس اتفاق کی دلیل بھی واضح ہے۔ کیونکہ عالمِ برزخ اور اس میں نعمت و عذاب کے موجود ہونے کے بارے میں قرآن مجید کی آیات میں صراحت موجود ہے۔ شہداء کے بارے میں قرآن بالصراحت کہتا ہے۔ "یہ خیال ہرگز نہ کرو کہ الله کی راہ میں جان دینے والے مردہ ہیں۔ وہ تو زندہ ہیں۔ اپنے رب کے ہاں سے رزق پاتے ہیں اور جو کچھ الله نے انھیں دیا ہے۔ اس سے خوش ہیں اور اپنے پسماندگان کو بشارت دیتے ہیں کہ ہمیں یہاں کوئی غم نہیں۔ " (آل عمران۔۱۶۹) نہ صرف یہ نیک انسان نعمتوں سے مالا مال ہیں۔ بلکہ بدترین سرکش اور مجرم بھی عذاب میں مبتلا ہیں۔ جیسا کہ ہم بعد از موت قبلِ قیامت آلِ فرعون کے معذب ہونے کے بارے میں اشارہ کر چکے ہیں۔ (مومن۔۴۶) اور اس سلسلے میں روایات بھی حدّ تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں۔ لہٰذا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ عالمِ برزخ ہے یا نہیں۔ اہم معاملہ یہ ہہے کہ ہم معلوم کریں کہ حیاتِ برزخ کس قسم کی ہے۔ اس سلسلے میں روایات میں برزخ کے مختلف پہلو سامنے آتے ہیں۔ ان میں زیادہ واضح یہ ہے: اس زندگی کے ختم ہو جانے کے بعد انسانی روح ایک لطیف جسم میں چلی جاتی ہے۔ یہ جسم اس کثیف مادے کے بہت سے حوارضات سے محفوظ ہے۔ لیکن چونکہ ہر لحاظ سے اسی دنیاوی جسم سے مشابہت رکھتا ہے۔ اس لئے اسے "قالبِ مثالی" یا "جسم مثالی" کہتے ہیں۔ یہ جسم نہ تو پوری طرح مجرد ہے اور نہ ہی پوری طرح مادی بلکہ ایک قسم کے "تجردی برزخی" کا حامل ہے۔ بعض محققین نے اسے عالمِ خواب میں روح کی کیفیت سے تشبیہ دی ہے اور کہا ہے کہ ہو سکتا ہے۔ اس حالت میں نعمتیں پا کر سچ مُچ اسے لذّت محسوس ہو یا ہولناک مناظر دیکھ کر اسے تکلیف پہنچے۔ جیسا کہ ہمارے اس مادی جسم پر بھی ایسے خوابوں کا ردعمل ہوتا ہے کہ اگر کوئی ہولناک خواب دیکھے تو چیختا ہے۔ بیچ و تاب کھاتا ہے اور اس کا بدن پسینے سے شرابور ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بعض کا نظریہ ہے کہ عالمِ خواب میں واقعاً رُوح قالبِ مثالی کے ساتھ حرکت کرتی ہے۔ بعض کا نظریہ تو اس سے بھی بالاتر ہے اور وہ یہ کہ قوی ارواح حالتِ بیداری میں بھی تجردی و برزخی حاصل کر سکتی ہیں۔ یعنی جسم مادی سے جُدا ہو کر اپنی مرضی سے یا مقناطیسی خوابوں کے ذریعے اسی قالبِ مثالی میں دُنیا کی سیر کر سکتی ہیں۔ اور مسائل سے آگاہ ہو سکتی ہیں۔ [ تشریحی نوٹ: بحار الانوار میں اس مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ مجلسی مرحوم تصریح کرتے ہیں: "بہت سی روایات میں برزخی حالت کو عالمِ خواب کے مشابہ قرار دیا گیا ہے یہاں تک کہ ممکن ہے۔ قوی اور بلند مرتبہ نفوس متعدد اجسامِ مثالی کے حامل ہوں۔ اس طریقے سے وہ روایات توجیہ و تاویل کی محتاج نہیں رہتیں کہ جن میں ہے کہ ہر شخص کی جان کنی کے وقت آئمہ اُس کے پاس آتے ہیں۔" (بحارالانوار، ج۶، ص۲۷۱)]۔ بعض نے تو یہ بھی تصریح کی ہے کہ قالبِ مثالی ہر انسان کے باطن میں موجود ہے۔ البتہ موت کے وقت اور حیاتِ برزخ کے آغاز میں اس سے جُدا ہونا ممکن ہے۔ اب اگر ہم قالبِ مثالی کے لئے یہ تمام باتیں قبول نہ بھی کریں۔ تب بھی اصل مسئلے سے انکار نہیں جا سکتا۔ کیونکہ بہت سی روایات میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور عقلی اعتبار سے بھی اس میں کوئی مانع نہیں ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ جسمِ مثالی کے اعتقاد کا لازمی نتیجہ، تناسخ پر اعتقاد ہے۔ کیونکہ تناسخ اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ ایک ہی روح مختلف جسموں میں منتقل ہو جائے۔ لیکن جو کچھ ہم بالا سطور میں جسمِ مثالی کے بارے میں کہہ چکے ہیں۔ اس سے اس اعتراض کا جواب واضح ہو جاتا ہے۔ اس سلسلے میں شیخ بہائی مرحوم نے بہت واضح جواب دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: وہ تناسخ کہ جس کے باطل ہونے پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے۔ یہ ہے کہ اس بدن سے نکل کر روح اسی دُنیا میں کسی دوسرے بدن میں منتقل ہو جائے۔ جبکہ عالمِ ارواح میں قیامت تک کے لئے جسمِ مثالی سے رُوح کا تعلق اس سے بالکل مختلف چیز ہے۔ جسمِ مثالی سے رُوح پھر حکم خُدا سے پہلے والے جسم میں لوٹ آئے گی۔ اس کا نظریہٴ تناسخ سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم تناسخ کا شدّت سے اس لئے انکار کرتے ہیں اور اس کے معتقد کو کافر سمجھتے ہیں کہ وہ لوگ ارواح کے ازلی ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں اور اس بات کے قائل ہیں۔ کہ وہ ہمیشہ ایک بدن سے دوسرے بدن کی طرف منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ اور وہ لوگ دوسرے جہان میں معادِ جسمانی کے بالکل منکر ہیں۔ (بحوالہ: بحارالانوار، ج۶، ص٢۷۷)۔ جیسا کہ بعض نے کہا ہے کہ قالبِ مثالی اسی بدن مادی کے باطن میں ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر مسئلہ تناسخ کا جواب اور بھی واضح ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اس لحاظ سے روح اپنے قالب سے دوسرے قالب کی طرف منتقل نہیں ہوتی، بلکہ اپنے ایک قالب کو چھوڑ دیتی ہے اور اپنے دوسرے قالب کے ساتھ حیاتِ برزخی جاری و ساری رکھتی ہے۔ ایک سوال یہاں باقی رہ جاتا ہے۔ اور وہ یہ کہ قرآن مجید کی بعض آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کے لئے عالمِ برزخ نہیں ہے۔ جیسا کہ سورہٴ روم کی آیت ۵۵ اور ۵۶ میں ہے کہ کچھ مُجرمین قیامت برپا ہونے کے بعد قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم گھڑی بھر سے زیادہ عالمِ برزخ میں نہیں رہے لیکن آگاہ مومنین انھیں فوراً کہیں گے کہ تم بحکم خدا روزِ قیامت تک ایک طویل مدّت کے لئے ٹھہرے رہے ہو اور اب یوم قیامت آ گیا ہے۔ متعدد روایات میں اس اعتراض کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ لوگ تین قسم کے ہیں۔ ۱۔ خالص مومن ۲۔ خالص کافر ۳۔ درمیانے اور کمزور عقیدوں کے لوگ۔ ان روایات کے مطابق عالمِ برزخ پہلے اور دوسرے گروہ کے لئے مخصوص ہے جبکہ تیسرا گروہ برزخ کا زمانہ ایک طرح کی بےخبری کی کیفیت میں طے کرے گا۔ (ان روایات سے زیادہ آگاہی کے لئے بحارالانور جلد ۶ میں احوالِ برزخ و قبر کی بحث کی طرف رجوع کریں)
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 104 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 104 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 104 کے تحت ملاحظہ کریں۔
بدکرداروں کی سزا کا ایک گوشہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیات میں عالمِ برزخ کے بارے میں گفتگو تھی۔ اب زیرِ بحث آیات میں قیامت اور جہان میں مجرموں کی حالت کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: جب صور پھونکا جائے گا تو ان کے درمیان کسی قسم کا کوئی نسب باقی نہیں رہے گا اور نہ وہ ایک دوسرے سے سوال کریں گے۔ (فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّورِ فَلَا اَنسَابَ بَیْنَھُمْ یَوْمَئِذٍ وَلَا یَتَسَائَلُونَ۔ ہم جانتے ہیں، کہ آیاتِ قرآنی کے مطابق دو مرتبہ صور پھونکا جائے گا۔ ایک مرتبہ اس عالم کے ختم ہونے کے وقت، اس وقت آسمانوں اور زمین کے سب رہنے والے مر جائیں گے اور موت پُورے عالم پر چھا جائے گی۔ جب دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا تو مردے قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور انسان نئی زندگی پائیں گے۔ پھر ان کے حساب وکتاب اور جزا و سزا کا دور شروع ہو گا۔ ”نُفِخَ فِی الصُّور“ کے معنی ہے ”بگل بجانا“ لیکن اس کی ایک خاص تفسیر اور مفہوم ہے کہ جو ہم انشاء الله سورہٴ زمر کی آیت ۶۸ کے ذیل میں بیان کریں گے۔ بہرحال، زیرِ بحث آیت قیامت کی دو چیزوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ پہلی یہ ہے کہ اُس دن تمام نسب بے کار ہو جائیں گے۔ کیونکہ اس جہان میں موجود رشتہ داری کے نظام کے باعث بہت سے مجرم سزاوٴں سے بچ جاتے ہیں۔ اسی طرح لوگ اپنی مشکلات کے حل کے لئے رشتہ داروں سے مدد لیتے ہیں۔ لیکن روزِ قیامت انسان ہو گا اور اس کے اعمال۔ یہاں تک کہ سگا بھائی بیٹا اور باپ بھی اس کے کام نہ آ سکے گا اور اس کی سزا کوئی اپنے ذمہ نہ لے سکے گا۔ دوسری یہ کہ وحشت کا یہ عالم ہو گا کہ حساب اور عذابِ الٰہی کے خوف کی شدّت سے لوگ ایک دوسرے سے کسی قسم کا کوئی سوال نہیں کریں گے۔ اس روز ماں اپنے شیرخوار بچے کو بھول جائے گی۔ بھائی بھائی کو فراموش کر دے گا۔ سب مست دکھائیں دیں گے لیکن مست نہیں ہوں گے۔ عذابِ خدا بہت شدید ہے۔ جیسا کہ ہم نے سورہٴ حج کی ابتداء میں پڑھا ہے: یَوْمَ تَرَوْنَھَا تَذْھَلُ کُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا اَرْضَعَتْ وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَھَا وَتَرَی النَّاسَ سُکَاریٰ وَمَا ھُمْ بِسُکَاریٰ وَلَکِنَّ عَذَابَ اللهِ شَدِیدٌ۔ اس روز تم دیکھو گے کہ دودھ پلانے والی ہر عورت (وحشت کے مارے) اپنے شیر خوار کو بھول جائے گی۔ (خوف کے مارے) حاملہ عورتوں کے حمل ساقط ہو جائے گے اور (گھبراہٹ میں) لوگ مستی میں دکھائی دیں گے حالانکہ وہ مستی میں نہ ہوں گے بلکہ الله کا عذاب ہی شدید ہے (کہ جس کے باعث لوگ بدحواس ہو رہے ہوں گے)۔ ”وَلَایَتَسَائَلُونَ“ کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے مدد کا تقاضا نہیں کریں گے۔ کیونکہ انھیں معلوم ہو گا کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ نفی سوال سے مراد یہ ہے۔ کہ لوگ نسب کے بارے میں پوچھیں گے بھی نہیں اور یہ ”فَلَا اَنسَابَ بَیْنَھُمْ “ کی تاکید ہے۔ البتہ پہلی تفسیر زیادہ واضح معلوم ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ تفاسیر ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں اور ممکن ہے اس جملے میں یہ تمام مفاہیم جمع ہوں۔ یہاں مفسرین کا ایک مشہور سوال بھی سامنے آتا ہے کہ متعدد قرآنی آیات سے یہ بات صاف طور پر معلوم ہوتی ہے۔ کہ روزِ قیامت لوگ ایک دوسرے سے سوال کریں گے۔ جیسا کہ سورہٴ صافات کی آیت ۲۷ میں ہے کہ جب مجرمین دوزخ کی چوکھٹ پر ہوں گے تو: "وَاَقْبَلَ بَعْضُھُمْ عَلیٰ بَعْضٍ یَتَسَائَلُونَ " ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے (سرزنش آمیز) سوالات کریں گے۔ نیز اسی سورت کی آیت ۵۰ اہلِ بہشت کے متعلق کہتی ہے کہ وہ بہشت میں ٹھہرتے وقت اپنے اُن دنیا کے دوستوں کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کریں گے کہ جو جادہٴ حق سے انحراف کے باعث دوزخ میں چلے گئے ہوں گے۔ ارشاد ہوتا ہے: فَاَقْبَلَ بَعْضُھُمْ عَلیٰ بَعْضٍ یَتَسَائَلُونَ۔ اس کی نظیر سورہٴ فاطر کی آیت ۲۵ میں بھی ہے۔ تو اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ زیر بحث آیت تو کہتی ہے وہ ایک دوسرے سے سوال نہیں کریں گے جبکہ مذکورہ بالا آیات سوال کرنے کا ذکر کر رہی ہیں۔ لہٰذا یہ آیتیں آپس میں کیسے ہم آہنگ ہو سکتی ہیں۔ جواب یہ ہے کہ اگر ہم ان آیات کے معانی و مفاہیم پر کچھ غور وخوض کریں تو مسئلہ واضح ہوجاتا ہے کیونکہ ایک دوسرے سے سوال کرنے کا ذکر جن آیات میں آیا ہے۔ ان میں جنت میں جاپہنچنے یا جہنم کی دہلیز پر پہنچ جانے کے موقع کی بات کی گئی ہے۔ جبکہ سوال کی نفی قیامت کے ابتدائی مراحل سے مربوط ہے کہ جب وحشت و اضطراب کا یہ عالم ہو گا کہ ہر کسی کو اپنی پڑی ہو گی اور دوسرے کی کوئی خبر نہ ہو گی۔ بالفاظ دیگر قیامت کے کئی مرحلے ہیں اور ہر مرحلے کا اپنا الگ پروگرام ہے۔ بعض اوقات مختلف مراحل کی وجہ سے اس قسم کے سوالات پیش آتے ہیں۔ قیام قیامت کے بعد پہلا مرحلہ اعمال کے وزن کا ہے۔ اس روز کے لئے معیّن ایک خاص میزان کے ذریعے انسان کے اعمال کا وزن کیا جائے گا۔ کچھ لوگوں کے اعمال بہت وزنی ہوں گے کہ جو ترازو کا پلڑا جھکا دیں گے۔ انہی لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے: وہ لوگ کہ میزان میں جن کے اعمال کا وزن بھاری ہو گا وہ فلاح یافتہ اور کامیاب ہیں۔(فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِینُہُ فَاُوْلٰئِکَ ھُمَ الْمُفْلِحُون)۔ ”موازین“، ”میزان“ کی جمع ہے کہ جس کے ذریعے اعمال تولے جائیں گے۔ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں۔ کہ اس سے یہ مراد نہیں کہ وہاں کوئی دو پلڑوں والا ایسا ترازو نصب ہو گا کہ جس سے مادی چیزوں کو تولا جاتا ہے۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ کسی مناسب ذریعے سے انسانی اعمال کی قدر و قیمت لگائی جائے گی۔ دوسرے لفظوں میں ”میزان“ کا ایک وسیع مفہوم ہے کہ جس میں ناپ تول کے تمام ذرائع شامل ہیں۔ جیسا کہ متعدد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس روز انسانوں کے اعمال ناپ تول کی میزان بلکہ خود انسانوں کی میزان عظیم پیشوا اور وہ انسان ہوں گے کہ جو ماڈل اور نمونہ ہیں۔ ایک حدیث میں ہے: امیر الموٴمنین والائمة من ذریتہ ھم الموازین“ امیر المومنین علی علیہ السلام اور ان کی ذریت میں سے جو امام ہیں وہی ناپ تول کے لیے میزان ہیں۔ (بحوالہ: بحارالانوار، ج۷، ص۲۵۱)۔ لہٰذا انسانوں اور ان کے اعمال کا موازنہ اس روزِ عظیم انبیاءعلیہ السلام اور ان کے اوصیاء کے ساتھ کیا جائے گا اور اس موازنے سے واضح ہو جائے گا کہ لوگوں کے اعمال ان سے کس قدر مشابہت رکھتے ہیں۔ اسی سے صاحبِ وزن اور بے وزن، قیمتی اور بے قیمت افراد اور اعمال کا فرق واضح ہو گا۔ ضمناً ”موازین“ کو جمع کی صورت میں ذکر کرنے کا مقصد واضح ہوجاتا ہے۔ کیونکہ جو عظیم پیشوا میزان اور معیار ہیں وہ متعدد ہیں۔ یہ احتمال بھی ہے کہ عظیم انبیاء علیہ السلام، آئمہ اور الله کے خاص بندے اپنے زندگی کے حالات کے لحاظ سے ایک جہت سے یا کئی پہلووٴں سے نمونہ اور ماڈل تھے۔ اس طرح ان میں سے ہر ایک اسی حوالے سے میزان ہو گا۔ رہے وہ افراد کہ جن کا پلڑا ایمان اور عمل صالح سے خالی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنا سرمایہٴ وجود گنوا بیٹھے ہیں اور جنہوں نے نقصان اٹھایا ہے۔ وہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہیں گے (وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِینُہُ فَاُوْلٰئِکَ الَّذِینَ خَسِرُوا اَنفُسَھُمْ فِی جَھَنَّمَ خَالِدُونَ)۔ ”خَسِرُوا اَنفُسَھُمْ“ (انھوں نے خود اپنے وجود کا نقصان کیا ہے) یہ تعبیر اس حقیقت کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ وہ دُنیا کے اس بازارِ تجارت میں اپنی ہستی اور وجود کا عظیم سرمایہ گنوا بیٹھے ہیں اور اس کے بدلے وہ کوئی قیمتی چیز بھی حاصل نہیں کر پائے انھیں جو دردناک عذاب ہو گا، اگلی آیت میں اس کے ایک حصّے کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ آگ جلادینے والے شعلے کی تلوار کی مانند ان کے چہروں پر لگیں گے (تَلْفَحُ وُجُوہَھُمْ النَّارُ)۔ اور جہنم میں ان کی پریشانی اور عذاب کی شدّت کا یہ عالم ہو گا کہ ان کے چہرے سکڑے ہوئے ہوں گے (وَھُمْ فِیھَا کَالِحُونَ)۔ ”تلفح“، ”لفح“‘ (بروزن ”فتح“) کے مادہ سے دراصل ”تلوار کی ضرب“ کے معنی میں ہے اور چونکہ آگ کے شعلے، سورج کی شدید تیز روشنی اور بادِ سموم تلوار کی مانند انسان کے چہرے پر پڑتی ہیں۔ لہٰذا بطور کنایہ یہ لفظ اس معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ ”کالح“، ”کلوح“ (بروزن ”غروب“) کے مادے سے چہرے کے سکڑنے کے معنی میں ہے۔ بہت سے مفسرین نے اس کی یہ تفسیر کی ہے کہ آگ کے تیز شعلوں کے باعث ا ن کے منہ سکڑ جائیں گے اور منہ کھلے کے کھلے رہ جائیں گے۔ (بحوالہ: تفسیر قرطبی، تفسیر فخر رازی، تفسیر مجمع البیان، زیر بحث آیات کے ذیل میں)۔
چند اہم نکات
۱۔ جس روز سب رشتہ داریاں ختم ہو جائیں گی
انسانوں کی مادی زندگی کی حدود میں جو مفاہیم کارفرما ہیں، اُس جہان میں زیادہ تر ختم ہو جائیں گے۔ ان میں سے ایک خاندان اور قبیلے کا تعلق بھی ہے۔ اس دنیا میں یہ تعلق بہت سی مشکلات کے حل کا ذریعہ بنتا ہے اور بعض اوقات یہ تعلق خود ایک ایسا نظام بن جاتا ہے کہ معاشرے کے تمام نظاموں پر حاکم ہو جاتا ہے۔ لیکن آخرت میں زندگی کی قدریں ایمان اور عمل صالح سے ہم آہنگ ہو گی۔ وہاں فلاں قبیلہ اور فلاں گروہ کا مسئلہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ یہاں تو ایک خاندان کے افراد آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، ایک دوسرے کو مشکلات سے نجات دلاتے ہیں۔ مگر قیامت میں ایسا نہ ہو گا وہاں نہ کثرت مال کوئی فائدہ پہنچا سکے گی اور نہ اولاد کسی کے کام آ سکے گی جیسا کہ ارشادِ ربّ العزّت ہے: یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَلَابَنُونَ اِلاَّ مَنْ اَتَی اللهَ بِقَلْبٍ سَلِیمٍ۔ اس روز نہ مال فائدہ دے گا اور نہ اولاد۔ نجات تو صرف اسے حاصل ہو گی کہ جو بارگاہِ الٰہی میں قلب سلیم لے کر حاضر ہو گا۔(شعراء - ۸۸،۸۹) یہاں تک کہ اگر یہ نسب پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم تک جا پہنچے تب بھی یہی قانون نافذ ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اکرم اور آئمہ ہدیٰ کی تاریخ میں ایسے واقعات ملتے ہیں۔ بنی ہاشم کے بعض نہایت قریبی افراد کو ان کے عدمِ ایمان یا اسلام کے حقیقی راستے سے انحراف کی وجہ سے دھتکار دیا گیا اور ان سے نفرت و بیزاری کا اظہار کیا گیا۔ اگرچہ پیغمبر اکرم سے ایک حدیث مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”کل حسب و نسب منقطع یوم القیامة الّا حسبی ونسبی“ روز قیامت میرے حسب (تشریحی نوٹ: لغت کے لحاظ ”حسب“ اُس اعزاز وافتخار کے معنی میں ہے کہ جو کسی انسان کے بزرگوں اور آباء واجداد کو حاصل ہو، بعض نے اس کا معنی خو د انسان کی اپنی عادت اور اخلاق بھی بیان کیا ہے۔ لیکن پہلا معنی ہی مراد ہے۔ (کتاب ”لسان العرب“ میں مادہ ”حسب“ کی طرف رجوع کریں) و نسب کے سوا تمام حسب ونسب منقطع ہو جائیں گے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں) لیکن المیزان میں مرحوم علامہ سید محمد حسین طباطبائی رضوان الله علیہ کے بقول ایسا لگتا ہے کہ یہ وہی حدیث ہے جسے اہلِ سنت کے محدّثین نے اپنی کتب میں کبھی عبد الله بن عمر، کبھی عمر ابن خطاب اور کبھی دیگر اصحاب کے حوالے سے روایت کیا ہے۔ جبکہ زیرِ بحث آیت بالکل ظاہری اور عمومی مفہوم رکھتی ہے۔ اور روزِ قیامت تمام انساب کے منقطع ہو جانے کی بات کرتی ہے۔ نیز قرآن حکیم سے جو اصول معلوم ہوتا ہے اور بے ایمان منحرف لوگوں سے رسول الله کے برتاوٴ سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہی ہے کہ اس لحاظ سے تمام انسانوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث مناقب ابن شہر آشوب میں طاوٴس یمانی کی وساطت سے منقول ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا: ”خلق الله الجنّة لمن اطاع واحسن ولوکان عبداً حبشیاً، وخلق النّار لمن عصاہ ولوکان ولداً قرشیاً“۔ ”الله نے بہشت اُس کے لئے پیدا کی ہے کہ جو اس کے حکم کی اطاعت کرے۔ اگرچہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو اور جہنّم اُس نے اس کے لئے پیدا کی ہے کہ جو اس کی نافرمانی کرے، اگرچہ وہ قریشی ہی کیوں نہ ہو“۔(بحوالہ: مناقب ابن شہرآشوب (طبق نقل تفسیر نور الثقلین، ج۳، ص۱۵۶۴) البتہ جو کچھ کہا گیا ہے وہ سادات اور رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی با تقویٰ اولاد کے خاص احترام کے منافی نہیں ہے۔ کیونکہ یہ احترام خود ذاتِ پیغمبر اور اسلام کا احترام ہے اور جو روایات سادات کی فضیلت اور مقام و منزلت کے بارے میں وارد ہوئی ہیں وہ بھی ظاہراً اسی مفہوم کی حامل ہیں۔
۲۔ ”اصمعی“ کی ہلا دینے والی داستان
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اصمعی کی وہ داستان لکھی جائے جسے غزالی نے ”بحر المحبّہ“ میں نقل کیا ہے۔ یہ داستان گزشتہ باتوں کی شاہد بھی ہے۔ اور اس میں متعدد دیگر لطیف نکات بھی ہیں۔ "اصمعی" کہتا ہے: میں مکہ میں تھا۔ ایک چاند رات تھی۔ میں خانہٴ خدا کے گرد طواف کر رہا تھا۔ ایک بڑی دلنشیں اور غم انگیز آواز سن کر متوجہ ہوا۔ میں اس آواز والے کو تلاش کرنے لگا۔ اچانک میری نظر ایک خوبصورت اور خوش قامت جوان پر پڑی نیکی کے آثار اس سے نمایاں تھے۔ اور اس نے خانہٴ کعبہ کا غلاف تھام رکھا تھا اور اس طرح سے مناجات کر رہا تھا: ”یا سیّدی و مولای نامة العیون و غابت النجوم، وانت ملک حیّ قیّوم، لا تاخذک سنة ولانوم، غلقت الملوک اَبوابھا و اقامت علیھا حراسھا وحجابھا وقدخلی کل حبیب بحبیبہ، وبابک مفتوح للسائلین، فھا اَنا سائلک ببابک، مذنب فقیر، خاطیء مسکین، جئتک اَرجو رحمتک یا رحیم، واَن تنظر الیّ بلطفک یا کریم“۔ ”اے میرے سردار! اے میرے مولا! بندوں کی آنکھیں خوابِ غفلت میں ڈوبی ہوئی ہیں، آسمان کے تارے ایک ایک کر کے افقِ مغرب میں اترتے جاتے ہیں۔ اور آنکھوں سے اوجھل ہوتے جاتے ہیں۔ تو خدائے حیّ و قیّوم ہے۔ نہ تجھے نیند آتی ہے اور نہ اونگھ تیرے دامنِ کبریائی کو چھو پاتی ہے۔ شب کی اس تاریکی میں، جبکہ بادشاہوں نے اپنے محلّات کے دروازے بند کر لیے ہیں۔ اور دربان ان پر پہرہ دے رہے ہیں۔ اور سب دوست اپنے دوستوں سے محو خلوت ہیں۔ ایسے میں ایک ہی گھر ہے۔ جس کا دروازہ سائلوں کے لئے کھلا ہے۔ اور وہ تیرے گھر کا دروازہ ہے۔ اس وقت میں تیرے دروازے پر آیا ہوں۔ خطا کار اور حاجت مند ہوں۔ اے رحیم تجھ سے رحمت کی امید باندھے میں آگیا ہوں۔ اے کریم تیرے لطف و کرم کی نظر چاہتا ہوں۔ پھر وہ جوان یہ اشعار پڑھنے لگا: یا من یجیب دعاء المضطر فی الظلم یا کاشف الکرب والبلوی مع السقم قد نام وفدک حول البیت وانتبھوا وعین جودک یا قیوم لم تنم ان کان جودک لایرجو الا ذو شرف فمن یجود علی العاصین بالنعم ھب لی بجودک فضل العفو عن شرف یا من اشار الیہ الخلق فی الحرم اے وہ کہ جو شب کی تاریکوں میں مصیبت زدوں کی دعا قبول کرتا ہے۔ اے وہ کہ جو دکھ درد اور رنج و بلا کو دور کرتا ہے۔ تیرے گھر کے گرد تیرے مہمان سوتے بھی ہیں اور جاگتے بھی ہیں۔ لیکن، اے قیوم! تیرے جود و سخا کی آنکھ کبھی خواب آلود نہیں ہوتی۔ اگر تیرے جود و احسان کی امید صرف ان کے لئے ہوتی، جو تیری بارگاہ میں باشرف ہیں، تو گناہگار کس کے دروازے پر جاتے اور کس سے بخشش کی امید رکھتے۔ اپنے جود و کرم سے مجھے شرف یاب کر اے وہ ذات کہ مخلوق حرم میں جس کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس کے بعد اس جوان نے آسمان کی طرف سر بلند کیا اور اس طرح اپنی مناجات جاری رکھیں: ”الٰھی سیّدی ومولای! ان اطعتک بعلمی ومعرفتی فلک الحمد والمنة علی ان عصیتک بجھل فلک الحجة علیّ“۔ ”میرے معبود! میرے سردار! میرے مولا! اگر میں نے علم و معرفت کی بناء پر تیری اطاعت کی ہے تو حمد و ثنا تیرے لئے ہی زیبندہ ہے اور میں تیرا مرہون منّت ہوں۔ اور اگر نادانی کے باعث میں نے تیری نافرمانی کی ہے تو تیری حجّت میرے خلاف مکمل ہے“۔ پھر آسمان کی طرف سر بلند کیا اور بلند آواز میں کہا: ”یا الٰھی وسیّدی ومولای ما طابت الدنیا الّا بذکرک، وما طابت العقبی الّا بعفوک وما طابت الایّام الّا بطاعتک، وما طابت القلوب الّا بمحبتک، وما طابت النعیم الّا بمغفرتک“۔ ”اے میرے خدا! اے میرے آقا! اے میرے مولا! دنیا تیرے ذکر کے بغیر پاکیزہ نہیں ہے اور آخرت تیرے عفو کے بغیر شائستہ نہیں ہے۔ ایّام زندگی تیری اطاعت کے بغیر بے قیمت ہیں، دل تیری محبّت کے بغیر آلودہ ہیں اور نعمتیں تیری بخشش کے بغیر ناگوار ہیں“۔ اصمعی کہتا ہے: اس جوان نے مناجات کا سلسلہ یونہی جاری رکھا۔ کبھی اُس نے ہلا دینے والے اور دل گداز اشعار پڑھے اور کبھی اسی طرح الله کو پکارتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ بیہوش ہو کر زمین پر گر پڑا۔ میں اس کے قریب گیا۔ اس کے چہرے کے نور نے مجھے خیرہ کر دیا۔ چاند کی روشنی اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ میں نے جو غور سے دیکھا تو متوجہ ہوا کہ وہ تو زین العابدین علی بن الحسین امام سجاد علیہ السلام ہیں۔ میں نے ان کا سر اپنے دامن میں رکھا۔ میں ضبط نہ کر سکا، ان کی اس حالت پر میں خوب رویا۔ میری اشکوں کا ایک قطرہ ان کے چہرے پر جا گرا۔ انھیں ہوش آیا۔ تو آنکھ کھولی اور فرمایا: من الّذی اشغلنی عن ذکر مولای؟ کون ہے کہ جو میرے مولا کے ذکر میں حائل ہوا ہے؟ میں نے عرض کیا میں اصمعی ہوں۔ اے میرے سید وآقا! یہ کیسا گریہ اور کیسا اضطراب؟ آپ تو خاندان نبوت ہیں، معدنِ رسالت ہیں۔ کیا آیتِ تطہیر آپ کے حق میں نازل نہیں ہوئی؟ کیا خداوند عالم نے آپ کے بارے میں نہیں فرمایا؟ انمّا یرید الله لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھرکم تطھیراً۔ (بس الله کا یہ ارادہ ہے کہ اے اہل بیت! خدا تم سے رجس و ناپاکی کو دور رکھے اور تمھیں اس طرح سے پاک رکھے جیسے پاک رکھنے کا حق ہے)۔ امام علیہ السلام اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا: اے اصمعی! ”ھیھات! ھیھات! الله نے جنت اطاعت کرنے والوں کے لئے خلق فرمائی ہے۔ چاہے وہ غلام حبشی کیوں نہ ہوں۔ اور جہنم نافرمانوں کے لئے بنائی ہے چاہے وہ سردارِ قریش ہی کیوں نہ ہوں۔ کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا اور الله کی گفتگو نہیں سنی کہ: فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّورِ فَلَا اَنسَابَ بَیْنَھُمْ یَوْمَئِذٍ وَلَا یَتَسَائَلُونَ.... جب صور پھونکا جائے گا اور قیامت آپہنچے گی تو سارے نسب ختم ہو جائیں گے۔ کوئی کسی سے سوال نہ کرے گا۔ صرف اعمال ہی پر دارومدار ہو گا۔ اصمعی کہتا ہے: میں نے یہ دیکھا، تو وہاں سے اُٹھا۔ آپ علیہ السلام کو وہاں چھوڑا اور خود ایک طرف چل پڑا۔ ( بحوالہ: بحر المحبّة از غزالی، ص۴۱تا۴۴. (کچھ تلخیص کے ساتھ)۔
۳۔ سزا اور گناہ میں مناسبت
ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں۔ کہ قیامت میں بلکہ اس جہان میں بھی عذاب الٰہی انجام کردہ گناہوں کی مناسبت سے ہوتا ہے۔ ایسا نہیں کہ جرم کچھ ہو اور سزا اس کے حسب حال نہ ہو۔ زیر نظر آیات میں ہے کہ مجرموں کے چہرے جہنم کے شدید شعلوں سے اس طرح جلیں گے کہ سکڑ جائیں گے اور منہ کھلے کے کھلے رہ جائیں گے۔ یہ سزا سبک اور ہلکے وزن والے بے قیمت و بے ایمان لوگوں کے لئے ذکر ہوئی ہے۔ اگر توجہ کی جائے تو یہ وہی لوگ ہو ں گے کہ آیات الٰہی سن کر جن کے ماتھوں پر بل پڑ جاتے ہیں۔ گویا وہ اپنا منھ سکیڑ لیتے ہیں۔ اور کبھی وہ آیات الٰہی سن کر مذاق اڑاتے ہیں۔ اور استہزاء کرتے ہیں۔ اس بات سے ان کے اعمال کی اس سزا سے مناسبت واضح ہو جاتی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 111 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 111 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 111 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 111 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 111 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 111 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: مجھ سے بات نہ کرو
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیات میں اہل جہنم کی سخت سزا کے بارے میں بات کی گئی تھی۔ زیرِ بحث آیات میں ان سے پروردگار کی کچھ گفتگو بیان کی گئی ہے۔ الله تعالیٰ عتاب آمیز لہجے میں ان سے کہتا ہے: کیا میری آیات تمھارے سامنے پڑھی نہ جاتی تھیں؟ جبکہ تم ان کی تکذیب کرتے تھے (اَلَمْ تَکُنْ آیَاتِی تُتْلی عَلَیْکُمْ فَکُنتُمْ بِھَا تُکَذِّبُونَ)۔ (اس جملے میں درحقیقت کچھ الفاظ محذوف اور تقدیر ہیں، یہ جملہ یوں تھا: یقول الله تعالیٰ الم تکن.....)۔ کیا میں نے کافی واضح آیات اور دلائل اپنے پیغمبروں کے ذریعے تمھارے لئے نہ بھیجے تھے۔ کیا میں نے تم پر حجت تمام نہ کر دی تھی۔ لیکن تم نے ہمیشہ انکار اور تکذیب کی راہ اپنائی۔ ”تتلیٰ“ اور ”تکذبون“ دونوں فعل مضارع ہیں اور تسلسل پر دلالت کرتے ہیں، ان الفاظ سے خاص طور پر واضح ہوتا ہے کہ پیہم ان کے سامنے آیاتِ الٰہی کی تلاوت ہوتی اور وہ مسلسل ان کی تکذیب کرتے رہے۔ اس سوال کے جواب میں وہ اعتراف کرتے ہیں اور کہتے ہیں: جی ہاں! ایسا ہی ہے اے ہمارے پروردگار! لیکن ہماری بدبختی ہم پر غالب آئی اور ہم گمراہ لوگ تھے (قَالُوا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَکُنَّا قَوْمًا ضَالِّینَ)۔ ”شقوة“ اور ”شقاوة“، ”سعادة“ کی ضد ہے اور ابتلا، سزا اور مصیبت کے اسباب فراہم ہونے کے معنی میں ہے۔ دوسرے لفظوں میں انسان کو دامن گیر ہونے والی آفت اور مصیبت کو ”شقاوة“کہتے ہیں۔ جبکہ ”سعادت“ نعمت اور نیکی کے اسباب فراہم ہونے کے معنی میں ہے۔ بہرحال، شقاوت اور سعادت دونوں ہی اعمال، نیتوں اور گفتار کے نتیجے کے علاوہ کچھ نہیں اور یہ عقیدہ ایک تصور کے سوا کچھ نہیں کہ خوش بختی و بدبختی انسان کے ساتھ ہی پیدا ہوتی ہے۔ یہ عقیدہ تمام نبیوں، راہنماوٴں اور انسانیت کے معلّموں کی دعوت اور مساعی کے خلاف ہے۔ یہ عقیدہ ذمہ داریوں سے فرار کا دوسرا نام ہے۔ یہ تصور درحقیقت غلط کاموں اور تباہ کاریوں کی توجیہ کے لیے بنایا گیا ہے۔ یا جہالت کی توجیہ کے لئے گھڑا گیا ہے۔ اسی بنیاد پر دوزخی گناہ گار صراحت کے ساتھ اعتراف کرتے ہیں کہ خدا کی طرف سے اتمام حجت ہو گیا تھا۔ لیکن ہم نے اپنے ہاتھوں اپنی بدبختی کے وسائل فراہم کیے اور ہم اعتراف کرتے ہیں کہ ہم گمراہ لوگ تھے۔ شاید یہ اعتراف کر کے وہ الله کی رحمت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا ساتھ ہی کہتے ہیں: ”پروردگارا! ہمیں اس آگ سے باہر نکال“ اور پھر دنیا کی طرف بھیج دے تاکہ ہم نیک عمل انجام دے سکیں (رَبَّنَا اَخْرِجْنَا مِنْھَا)۔ اگر ہم وہی پہلے سے طرزِ عمل کا مظاہرہ کریں تو پھر ہم یقینا ظالم ہوں گے اور تیری بخشش کے لائق نہیں ہوں گے۔ (فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظَالِمُونَ)۔ وہ یہ گفتگو ایسے کریں گے۔ کہ گویا وہ اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ دارِ آخرت دارِ جزاء ہے نہ کہ دارِ عمل اور دنیا کی طرف لوٹ کر جانا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ الله تعالیٰ انہیں پوری قاطعیت سے جواب دیتا ہے: دور ہوجاوٴ، یونہی جہنم میں رہو، چپ رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو (قَالَ اخْسَئُوا فِیھَا وَلَاتُکَلِّمُونِی)۔ ”اخْسَئُوا“ فعل امر ہے۔ عام طور پر یہ لفظ کتّے کو دھتکارنے کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اگر انسان کے لیے استعمال ہو تو اس کی پستی اور سزا کے مستحق ہونے کا اظہار ہوتا ہے۔ اس کے بعد اس دھتکارنے کی دلیل بیان کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: کیا تم بھول گئے ہو کہ میرے کچھ خاص بندے کہتے تھے: پروردگارا! ہم ایمان لائے ہیں، ہمیں بخش دے، ہم پر رحم کر اور تو بہترین رحم کرنے والا ہے۔:(اِنَّہُ کَانَ فَرِیقٌ مِنْ عِبَادِی یَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَیْرُ الرَّاحِمِینَ)۔ لیکن تم نے ان کا مذاق اڑایا اور اس معاملے میں اتنی ہٹ دھرمی کی کہ اس تمسخر بازی نے تمہیں یادِ خدا سے بالکل غافل کر دیا (فَاتَّخَذْتُمُو ھُمْ سِخْرِیًّا حَتَّی اَنسَوْکُمْ ذِکْرِی)۔ تم مسلسل ان پر ہنستے رہے اور ان کی باتوں، ان کے عقائد اور ان کے طرزِ عمل پر مسکراتے رہے (وَکُنتُمْ مِنْھُمْ تَضْحَکُونَ)۔ لیکن آج، ان کے صبر و استقامت کے باعث، تمھارے تمسخر کے مقابلے میں پا مردی کی وجہ سے اور الٰہی پروگراموں پر بغیر ڈگمگائے قائم رہنے کے سبب ہم نے انہیں جزا دی ہے اور وہ کامیاب وکامران ہیں۔ (اِنِّی جَزَیْتُھُمَ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوا اَنَّھُمْ ھُمَ الْفَائِزُونَ)۔ لیکن تم تو آج بدترین انجام اور دردناک ترین عذاب میں گرفتار ہو اور کوئی تمھاری فریاد کو نہیں پہنچتا اور ایسا ہونا بھی چاہیے تھا۔ کیونکہ تم اسی سزا کے مستحق ہو۔ گویا ان آخری چار آیتوں میں اہلِ جہنم کی بدبختی کا اور اہلِ بہشت کی کامیابی کی اصل وجہ صراحت سے بیان کر دی گئی ہے۔ پہلا گروہ ان لوگوں کا ہے کہ جنہوں نے اپنی بدبختی اور گمراہی کے اسباب اپنے ہاتھوں فراہم کیے ہیں یہ لوگ حق کے طرف داروں کا مذاق اڑاتے تھے اور ان کے پاکیزہ عقائد کی تحقیر کرتے تھے۔ لہٰذا اس انجام کو پہنچے ہیں کہ وہ اس خطاب کے بھی لائق نہیں کہ جو ایک انسان کو کیا جاتا ہے۔ جی ہاں! انہوں نے مومنین کی تحقیر کی تھی۔ لہٰذا انہیں تحقیر و تذلیل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جبکہ دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے۔ جنہوں نے مغرور، خود پسند اور بے منطق دشمنوں کے مقابلے میں راہِ خدا میں مسلسل پامردی، صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا لہٰذا انھوں نے بارگاہِ الٰہی میں سب سے بڑی کامیابی حاصل کر لی۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 116 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 116 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 116 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 116 کے تحت ملاحظہ کریں۔
اس دنیا کی عمر تھوڑی ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیات میں اہل جہنم کی سزا کا کچھ ذکر تھا۔ زیر نظر آیات میں ایک اور قسم کی سزا کا ذکر ہے۔ یہ نفسیاتی سزا، خدا کی طرف سے سرزنش کی صورت میں ہے۔ فرمایا گیا ہے: اس روز الله انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہے گا۔ کہ تم زمین پر کتنے سال رہے ہو۔ (قَالَ کَمْ لَبِثْتُمْ فِی الاَرْضِ عَدَدَ سِنِینَ)۔ اس آیت میں لفظ ”الارض“ کی موجودگی اور دیگر قرائن ظاہر کرتے ہیں کہ ایّامِ آخرت کا موازنہ کرتے ہوئے دنیا میں ان کی عمر کے بارے میں سوال کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین نے یہاں عالمِ برزخ میں ان کی مدّت قیام کے بارے میں سوال مراد لیا ہے۔ یہ بہت بعید معلوم ہوتا ہے۔ اگرچہ بعض دوسری آیات میں اس سلسلے میں کچھ شواہد ملتے ہیں۔(سورہٴ روم کی آیت ۵۵ اور ۵۶ میں ہے)۔ وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَیْرَ سَاعَةٍ کَذٰلِکَ کَانُوا یُؤْفَکُون، وَقَالَ الَّذِینَ اُوتُوا الْعِلْمَ وَالْإِیمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِی کِتَابِ اللهِ اِلَی یَوْمِ الْبَعْثِ فَھٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَلَکِنَّکُمْ کُنتُمْ لَاتَعْلَمُونَ ” جب قیامت بر پا ہو گی تو مجرم قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم ایک ساعت سے زیادہ نہیں ٹھہرے۔ جی ہاں! وہ اس طرح دنیا میں بھی جھوٹ بولا کرتے تھے۔ لیکن جو اہلِ علم و ایمان ہیں وہ اُن سے کہیں گے: تمھارے وہاں ٹھہرنے کی مدّت کتابِ الٰہی میں ثبت ہے اور تم روز قیامت تک وہاں ٹھہرے ہو اور اب قیامت آن پہنچی ہے اور قبروں سے اٹھنے کا دن ہے۔ مگر تم جانتے نہ تھے۔ آیت نشاندہی کرتی ہے کہ اس میں بر زخ میں ٹھہرنے کے بارے میں سوال وجواب ہو رہا ہے اور اگر اسے زیرِ بحث آیات کے لئے قرینہ قرار دیں تو یہاں مفہوم بھی برزخ میں ٹھہرنا ہو گا، لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں، زیرِ بحث آیات میں ایسے زیادہ قوی قرائن موجود ہیں کہ جو نشاندہی کرتے ہیں کہ یہاں سوال وجواب دنیا میں ٹھہرنے سے مربوط ہے۔ لیکن اس موازنے میں انھیں دنیاوی زندگی اس قد رکم دکھائی دے گی کہ وہ جواب میں کہیں گے: ”ہم تو صرف ایک دن یا دن کا ایک حصّہ ہی دنیا میں ٹھہرے ہیں“ (قَالُوا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ)۔ درحقیقت، دنیا کی لمبی عمریں بھی حیات اخروی کے مقابلے میں ایک زود گزر لحظے کی مانند ہیں۔ کیونکہ وہاں کی نعمتیں بھی جاودانی ہیں اور سزائیں بھی لامحدود۔ اپنی بات پر زور دینے کے لیے یا زیادہ دقیق جواب کے طور پر وہ مزید کہیں گے: خداوندا! ان سے پوچھ لے کہ جو اچھی طرح حساب و کتاب کر سکتے ہیں اور اعداد و شمار کا ایک دوسرے سے موازنہ کر سکتے ہیں (فسئل العادین)۔ ہو سکتا ہے "عادین" (شمار کرنے والے)، سے مراد فرشتے ہوں کہ جو انسانی عمر اور اعمال کا بہت باریک بینی سے اور تفصیلی حساب رکھتےہیں۔ کیونکہ وہ اس حساب کو ہر شخص سے بہتر جانتے ہیں۔ اس مقام پر اللہ تعالی سرزنش کے طور پر فرمائے گا: جی ہاں! تم دنیا میں بہت کم مدت ہی ٹھہرےہو۔ اگر تم جان لیتے (قال ان لبثتم الا قلیلا لو انکم کنتم تعملون)۔ واقعا وہ اسی روز اس حقیقت کو سمجھ سکیں گے کہ دنیاوی زندگی حیات اخروی کے مقابلے میں ایک دن یا ایک گھڑی سے زیادہ نہیں لیکن جب وہ اس جہاں میں تھے تو ان کی فکر و نظر پر غفلت و غرور کے ایسے پردے پڑے تھے کہ وہ دنیا کو جاودانی اور آخرت کا خواب و خیال یا ادھار کا وعدہ خیال کرتے تھے۔ اسی لیے اللہ تعالی فرماتا ہے کہ جی ہاں! اگر تم اس حقیقت کو دنیا ہی میں پا لیتے کہ جسے آخرت میں پا لو گے تو اسی دنیا میں تم بامعرفت ہو جاتے۔ (تشریحی نوٹ: جو کچھ ہم نے سطور بالا میں کہا ہے اس کے مطابق اس آیت میں ”لو“ شرطیہ ہے اور ایک جملہ مقدر ہے اور مجموعی طور پر جملہ یوں بنتا ہے)۔ اگلی آیت میں ان لوگوں سے ایک اور بہت موثر سبق آموز اور بیدار کن حوالے سے بات کی گئ ہے۔ فرمایا گیا ہے: کیا تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں فضول پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آو گے (اَفحسبتم انما خلقناکم عبثا وانکم الینا لا ترجعون)۔ اس موثر اور پر معنی جملے میں قیامت، حساب و کتاب اور جزائے اعمال کے لیے ایک مضبوط دلیل پیش کی گئ ہے۔ اور وہ یہ کہ اگر سچ مچ قیامت نہیں ہے تو دنیاوی زندگی عبث اور فضول ہے۔ کیونکہ اس جہاں کی زندگی اپنی تمام تر مشکلات کے ساتھ اور اس لیے خدا کہ طرف سے بنائے گئے، تمام پروگراموں اور پورے نظام کے ساتھ اگر صرف چند دنوں کے لیے ہو تو بہت ہی فضول اور بے معنی ہے۔ اس سلسلے میں چند اہم نکات کے زیر عنوان ہم تفصیلی گفتگو کریں گے۔ نیز خلقت کا عبث نہ ہونا چونکہ اہم بات ہے اور اس کے لیے محکم دلیل کی ضرورت ہے۔ لہذا اگلی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے: وہ اللہ کہ جو فرمان روائے حق ہے۔ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور وہ عرش کریم کا پروردگار ہے اور وہ اس سے بالاتر ہے کہ اس عالم ہستی کو بے کار پیدا کرتا۔ (فتعالی اللہ الملک الحق لا الہ الا ھو رب العرش الکریم)۔ درحقیقت، فضول اور بے مقصد کام تو وہ کرتا ہے جو جاہل، ناتوان یا ذاتی طور پر باطل اور فضول ہو لیکن وہ خدا کہ جس میں کمال کی تمام تر صفات جمع ہوں ایسا نہیں کر سکتا۔ ” اللہ “ وہ خدا ہے کہ جو تمام عالم ہستی کا فرمان روا اور مالک ہے۔ (الملک) وہ خدا کہ جو حق ہے اور حق کے سوا جس سے کوئی چیز صادر نہیں ہوتی۔ (الحق) کیسے ممکن ہے کہ اس کی خلقت بے مقصد و عبث ہو۔ اور اگر کسی کو یہ خیال ہو کہ کوئی اسے مقصد تک پہنچنے سے باز رکھ سکتا ہے تو یہ بھی غلط ہے۔ کیونکہ “ لا الہ الا ھو ” اس خیال کی نفی ہے کہ کوئی اور اس کے سوا خدا ہے ہی نہیں کہ جو اس کی راہ میں حائل ہو سکے اور “ رب العرش الکریم ” کہہ کر ربوبیت خدا کے لیے ایک اور تاکید کی گئی ہے۔ اس کا مفہوم ہے ” مالک مصلح “ اور یہ جملہ عالم ہستی کے با مقصد ہونے کو مزید مشخص کرتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ لفظ اللہ کہ جو خود خدا کی تمام صفات کمال کی طرف اجمال اشارہ ہے۔ ذکر کرنے کے علاوہ اس آیت میں اس کی چار صفات کو صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ 1- خدا کی مالکیت و حاکمیت 2- اس کے وجود کی حقانیت 3- اس کا لا شریک ہونا اور 4- اس کا مقام ربوبیت۔ اور یہ تمام صفات اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ کوئی کام بے مقصد نہیں کرتا اور اس نے دنیا اور انسانوں کو فضول و عبث پیدا نہیں کیا۔ جیسا کہ ہم قبل ازیں کہہ چکے ہیں کہ ”عرش“ تمام جہاں ہستی کی طرف اشارہ ہے کہ جو درحقیقت حکومت الہی کے ما تحت ہے (کیونکہ با عتبار لغت ”عرش“ بلند پایوں والے تخت کو کہتے ہیں۔ یہ لفظ خصوصا صاحب اقتدار کے تخت حکومت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ گویا یہ تعبیر یہاں حکومت الہی کی قلم رو کی طرف اشارہ ہے) قرآن مجید میں لفظ ”عرش“ کا مفہوم کیا ہے؟ اس سلسلے میں مزید وضاحت کے لیے تفسیر نمونہ جلد 4 میں سورۃ اعراف کی آیت 54 کے ذیل میں رجوع کیجئے۔ اب سوال رہ گیا کہ ”عرش“ کی صفت ”کریم“ کیوں ذکر ہوئی ہے۔ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ دراصل لفظ ”کریم“ کا معنی ہے شریف، فائدہ مند، عمدہ اور اچھا اور عرش الٰہی چونکہ ان صفات کا حامل ہے۔ اس لئے اسے ”کریم“ کہا گیا ہے۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ لفظ ”کریم“ ہمیشہ کسی عاقل وجود مثلاً خدا اور انسانوں کے لئے ہی استعمال نہیں، بلکہ عربی زبان میں اس کے علاوہ بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ چنانچہ سورہٴ حج کی آیت۵۰ میں صالح مومنین کے بارے میں بولا گیا ہے۔ لھم مغفرة ورزق کریم ان کے لیے مغفرت اور رزقِ کریم (پربرکت روزی) ہے۔ جیسا کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے۔ یہ صفت، کم اہم نیکیوں اور خوبیوں کے لئے استعمال نہیں ہوتی، بلکہ نہایت اہم مواقع کے لئے استعمال ہوتی ہے۔
موت زندگی کا خاتمہ نہیں
ہم کہہ چکے ہیں کہ قیامت کی بحث میں ایک دوسرے عالم کے وجود کے لئے ایک دلیل خود اسی عالم کے نظام کا مطالعہ ہے۔ بالفاظ دیگر یہ ”نشاة اولیٰ“ گواہی دیتی ہے کہ اس کے بعد ”نشاة اخریٰ“ بھی ہے۔ یہاں ہم اس سلسلے میں کچھ مزید وضاحت ضروری سمجھتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں، جہان خلقت بہت عظیم بھی ہے اور منظّم بھی، ہر لحاظ سے یہ عالم پرشکوہ اور تعجب انگیز ہے۔ اس کائنات کے اسرار اس قدر ہیں کہ عظیم سائنسدان اور دانشور معترف ہیں کہ انسان کی تمام معلومات ایک ضخیم کتاب کے مقابلے میں ایک چھوٹے سے صفحے کی مانند ہیں۔ بلکہ اس کائنات کے بارے میں جو کچھ ہم جانتے ہیں وہ درحقیقت اس کتاب کی الف ب ہے۔ اس عالم کی ہر ایک عظیم گلیکسی کئی ارب ستاروں پر مشتمل ہے اور ان کہکشاوٴں کی تعداد ایک دوسرے سے فاصلہ اس قدر زیادہ ہے کہ روشنی کی بنیاد پر بھی اس کا حساب بہت مشکل ہے۔ جبکہ روشنی کی رفتار تین لاکھ کلو میٹر فی سیکنڈ ہے۔ اس جہان کی ایک چھوٹی سے چھوٹی اکائی کی ساخت میں جو نظم اور شعور استعمال ہوا ہے۔ وہی ہے کہ اس جہان کی کسی عظیم اکائی میں نظر آتا ہے۔ انسان کو ہم اس کائنات کے کامل ترین موجود کے طور پر پہنچانتے ہیں۔ جہاں تک ہمیں معلوم ہے۔ انسان اس جہاں کا شاہکار ہے۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں۔ جسے عالم ہستی کا شاہکار سمجھا گیا ہے۔ یعنی انسان اپنی اس مختصر عمر میں کسی قسم کی پریشانیوں اور مشکلات میں پڑا ہوتا ہے۔ ابھی بچپن گزر نہیں پاتا کہ جوانی کا طوفانی اور ہیجان انگیز دور آپہنچا ہے اور ابھی جوانی کی بہار قدم جما نہیں پاتی کہ بڑھاپے کا قابلِ رحم دور آپہنچا ہے۔ کیا یہ بات قابلِ یقین ہے کہ اتنی بڑی کائنات اور اس کا شاہکار یہ انسان، بس اسی دور کے لئے ہو۔ بس یہی مقصد ہو کہ یہ انسان اس عالم میں رنج و تکلیف کے یہ تین دور گزارے، کھائے، پیئے، لباس پہنے، سوئے جاگے اور پھر ختم ہو جائے اور سب کچھ اپنے انجام کو پہنچ جائے؟ اگر سچ مچ ایسا ہی ہو تو کیا یہ خلقت مہمل اور فضول نہیں ہے۔ کیا کوئی عاقل اس سارے نظام اور اتنی عظیم کائنات کو اس معمولی سے ہدف کے لئے قائم کر سکتا ہے۔ فرض کریں کئی ملین سال انسان اس دنیا میں باقی رہے اور کئی نسلیں یکے بعد دیگرے آئیں اور جائیں، سائنسی علوم اس قدر ترقی کریں کہ انسان کو بہترین غذا، لباس، مکان اور دیگر نہایت اعلیٰ سہولیات حاصل ہو جائیں۔ لیکن کیا یہ کھانا، پینا، پہننا، سونا اور جاگنا اتنی قدر و قیمت رکھتا ہے کہ اس کے لئے ایسی کائنات پیدا کی جائے؟ لہٰذا اگر اس عظیم کائنات ہی کا مطالعہ کیا جائے تو یہ اس بات کی دلیل ہے۔ یہ دنیا ایک زیادہ وسیع دنیا کے لئے ایک تمہید ہے۔ ایسی وسیع دنیا کہ جو جاودانی و دائمی ہے۔ ایسے عالم کا وجود ہی ہماری زندگی کو کوئی مفہوم عطا کر سکتا ہے اور اسے فضول ہونے سے بچا سکتا ہے۔ لہٰذا کوئی عجیب بات نہیں اگر مادہ پرست فلسفی کہ جو قیامت اور دوسرے جہان پر اعتقاد نہیں رکھتے، اس عالم کو بے مقصد سمجھیں اور واقعاً اگر ہم بھی ایسے عالم پر ایمان نہ رکھتے ہوتے تو ہم بھی ان کے ہم آواز ہوتے۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر موت ہی انسان کا انجام اور خاتمہ ہوتا تو خلقتِ عالم بے مقصد ہوتی۔ اسی لئے سورہٴ واقعہ کی آیت ۶۲ میں ہے: وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ النَّشْاَةَ الْاُولَی فَلَوْلَاتَذکَّرُونَ ” تم نے اس نشاة اولیٰ اور عالم کے اس دور اوّل کو دیکھا تو کیوں متوجہ نہیں ہوتے ہو اور اس کے بعد کے عالم پر ایمان نہیں لاتے ہو۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 118 کے تحت ملاحظہ کریں۔
کامیاب اور ناکام
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیتوں میں معاد اور صفات الٰہی کے بارے میں گفتگو تھی۔ اب زیرِ بحث پہلی آیت میں توحید اور ہر قسم کے شرک کی نفی کی گئی ہے اور مبدا ومعاد کا ذکر کر کے جاری بحث کو مکمل کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: جو شخص خدا کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود کے طور پر پکارتا ہے۔ یقیناً اس کے پاس اپنے اس دعوے پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ اس کا حساب اس کے پروردگار کے پاس ہے (وَمَنْ یَدْعُ مَعَ اللهِ اِلَھًا آخَرَ لَابُرْھَانَ لَہُ بِہِ فَانَّمَا حِسَابُہُ عِنْدَ رَبِّہِ) (تشریحی نوٹ: بعض مفسرین ”یدع مع اللّٰہ“ جو شرط ہے ”فانّما حسابہ عند ربّہ“ کو اس کی جزاء سمجھتے ہیں اور ”لابرھان لہ بہ“ کو شرط وجزاء کے درمیان جملہ معترضہ قرار دیتے ہیں، لیکن بعض دیگر مفسرین ”لابرھان لہ بہ“ کو جزائے شرط سمجھتے ہیں ”فانّما حسابہ‘ ‘کو تفریع قرار دیتے ہیں، لیکن یہ احتمال عربی قواعد سے ہم آہنگ نہیں ہے کیونکہ ایسے مواقع پر جزاء پر ”فاء“ ہونا چاہیے یعنی ”لابرھان لہ“ ہونا چاہیے۔ بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ یہ جملہ صفت یا حال ہے۔ لیکن پہلا احتمال زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے اگرچہ معنی کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے)۔ جی ہاں! مشرکین کا گذارہ صرف دعوے پر ہے۔ بڑوں کی اندھی تقلید یا ایسی ہی فضول و بے بنیاد باتیں اُن کا سہارا ہیں۔ ان واضح دلائل کے باوجود وہ معاد کا انکار کرتے ہیں۔ لیکن شرک کو باوجود کوئی دلیل نہ ہونے کے قبول کئے ہوئے ہیں۔ یقیناً خداوند عالم ایسے لوگوں سے حساب ضرور لے گا کہ جنھوں نے حکم خدا کو ٹھکرا دیا ہے اور جان بوجھ کر شرک کی بھول بھلیوں میں سرگرداں ہیں۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: کافر لوگ کامیاب نہیں ہوں گے اور ان کا انجام اس خدائی حساب پر ہی واضح ہو جائے گا (اِنَّہُ لَا یُفْلِحُ الْکَافِرُونَ)۔ کیا عمدہ ہے کہ اس سورۃ کا آغاز ”قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ“ سے ہوا ہے۔ اور اس کی بحث ”لَایُفْلِحُ الْکَافِرُونَ“ پر ختم ہو رہی ہے اور یہ ہے مومنین اور کافرین کی زندگی کی اول تا آخر منظر کشی۔ اس سورہٴ شریفہ کی آخری آیت میں روئے سخن پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ و سلّم کی طرف کرتے ہوئے ایک عمومی نتیجہ کے طور پر ارشاد ہوتا ہے۔ کہہ دے: پروردگارا! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم کر اور تو بہترین رحم کرنے والا ہے (وَقُلْ رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَیْرُ الرَّاحِمِینَ)۔ اب جبکہ ایک گروہ شرک کی بے راہ روی میں سرگرداں ہے اور ایک جماعت ظلم و ستم میں گرفتار ہے تو اپنے آپ کو الله کے سپرد کر دے، اپنے تئیں اس کے لطف و کرم کی پناہ میں دے دے اور اس سے بخشش طلب کر۔ یقینی بات ہے کہ خطاب اگرچہ پیغمبر اکرم سے ہے۔ مگر یہ حکم مومنین کے لئے ہیں۔ ایک روایت میں ہے: اس سورت کی ابتداء اور انتہا عرش الٰہی کے خزانوں میں سے ہے۔ جو شخص اس کی ابتدائی تین آیتوں پر عمل کرے گا اور آخری چار آیتوں سے نصیحت حاصل کرے گا وہ اہلِ نجات و فلاح میں سے ہو گا (بحوالہ: تفسیر فخر الدین رازی، زیرِ بحث آیات کے ذیل میں)۔ بعید نہیں کہ پہلی تینوں آیتوں سے مراد ”قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ“ کے بعد آنے والی آیات ہوں کہ جن میں سے ایک نماز میں خشوع کی دعوت دیتی ہے۔ دوسری ہر قسم کے بیہودہ کام سے پرہیز کی طرف بلاتی ہے۔ اور تیسری ادائے زکوة پر ابھارتی ہے۔ ان میں سے ایک انسان کا خدا سے رابطہ قائم کرتی ہے۔ دوسری اسے اپنی اصلاح کی طرف متوجہ کرتی ہے اور تیسری اس کا تعلق مخلوق سے استوار کرتی ہے۔ نیز ممکن ہے آخری چار آیتوں سے آیت ۱۱۵ کے بعد کی آیات مراد ہوں کہ جن میں کائنات کے فضول نہ ہونے کا ذکر ہے۔ معاد قیامت کا تذکرہ ہے۔ توحید کا ذکر ہے اور پھر انقطاع الی الله کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ بارالٰہا! ان مومنین کے صدقے کہ جن سے تو نے اس سورہ میں کامیابی کا وعدہ کیا ہے کہ جن کے سرادار رسول الله اور ان کے اہل بیت علیہ السلام ہیں۔ ہمیں ان کی صف میں قرار دے اور فلاح کا نام ہمارے نام بھی لکھ دے۔ خداوندا! ہم پر اپنی مغفرت و رحمت نازل فرما کہ تو ارحم الراحمین ہے۔ پروردگارا! ہم سب کی عاقبت بخیر فرما اور ہر قسم کی لغزش و انحراف سے محفوظ رکھ۔