Al-Munafiqun
سورہ منافقون
یہ سورہ مدینہ میں نازل ہوئی اس میں ۱۱ آیات ہیں۔
سورہ منافقون کے مطالب
سورۂ منافقون ایسے مطالب و مضامین سے بھرے ہوئے سوروں میں سے ہے جن کے مباحث کا اصلی محور منافقین سے مربوط حساس مسائل ہیں، لیکن اِس سورہ کے ذیل میں کچھ آیات مختلف سلسلوں میں مسلمانوں کے پند و نصائح کے عنوان سے بھی آئی ہیں۔ مجموعی طور پر اس کے مضامین کو چار حصّوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: ١۔ منافقین کی نشانیاں، جو خود کئی حساس عنوانوں پر مشتمل ہیں۔ ٢۔ مومنین کو منافقین سے ہوشیار رہنے کی تلقین اور اس سلسلے میں ہمیشہ نگرانی کی ضرورت۔ ٣۔ مومنین کو تنبیہ کہ دنیا کی مادی نعمتیں انہیں ذکر خدا سے غافل نہ کر دیں۔ ٤۔ خدا کی راہ میں خرچ کرنے، موت کے آنے اور انسان کی جان میں حسرت کی آگ بھڑکنے سے پہلے اموال سے فائدہ اُٹھانے کی وصیت و نصیحت۔ اس کا نام "سورۂ منافقون" رکھنے کی وجہ بھی خودبخود واضح ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ہم نے جو کچھ سورۂ جمعہ کی تفسیر میں بیان کیا ہے، اس کے مطابق نمازِ جمعہ کے آداب میں سے ایک یہ ہے کہ پہلی رکعت میں سورۂ جمعہ اور دوسری رکعت میں سورۂ منافقون پڑھی جائے، تاکہ مسلمان ہر ہفتہ ان عظیم عبادی و سیاسی مراسم میں منافقین کی سازشوں کو تازہ بہ تازہ معلوم کرتے رہیں اور ہمیشہ ان کی منحوس تحریکوں، تخریب کاریوں اور منصوبوں پر نظر رکھیں۔
سورۂ منافقون کی تلاوت کی فضیلت
ایک حدیث میں پیغمبر گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے: "من قرأ سورة المنافقون برئ من النفاق۔" "جو شخص سورۂ منافقون کو پڑھے وہ ہر قسم کے نفاق سے پاک ہو جاتا ہے۔" [بحوالہ: "مجمع البیان" آغاز سورۂ منافقون]۔ ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے آیا ہے: "ہمارے شیعوں میں سے ہر مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ شب جمعہ میں سورۂ جمعہ اور سورۂ اعلیٰ پڑھے اور جمعہ کے دن نمازِ ظہر میں سورۂ جمعہ اور سورۂ منافقون پڑھے۔" اس کے بعد آپ نے مزید فرمایا: "فإذا فعل ذلك فكانما يعمل بعمل رسول الله (ص) وكان جزاؤه و ثوابه علی الله الجنة۔" "جب وہ ایسا کرے گا تو گویا اس نے حضرت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عمل کو انجام دیا اور اس کی جزا و ثواب اللہ کے ہاں جنت ہے۔" [بحوالہ: "ثواب الأعمال" مطابق نقل "نور الثقلین"، جلد ۵، صفحہ ٣٣١]۔ ہم نے ہر سورہ کے فضائل کے ذکر کے بعد بارہا یہ کہا ہے کہ یہ اہم فضائل و آثار، فکر و عمل سے خالی صرف تلاوت کا نتیجہ نہیں ہو سکتے۔ مذکورہ بالا روایات بھی اس بات کی گواہ ہیں کہ زندگی کا طریقہ اس کے مطابق بنائے بغیر اس سورہ کا پڑھنا انسان میں سے روحِ نفاق کو ہرگز خارج نہیں کرتا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 4 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 4 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: سرچشمۂ نفاق اور منافقین کی نشانیاں
Tafsīr Nemūna · Vol. 9ان آیات کی تفسیر بیان کرنے سے پہلے ایک مقدمہ کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ مسلہ نفاق اور منافقین، اسلام میں پہلی مرتبہ اُس وقت سامنے آیا جب پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی اور اسلام کی بنیادیں قوی اور کامیابی آشکار ہو گئی، ورنہ مکہ میں تقریباً کوئی منافق موجود نہیں تھا، کیونکہ دشمن اسلام کے برخلاف جو چاہتے، کھلّم کھلّا کہتے اور کرتے اور کسی کو خاطر میں نہ لاتے، انہیں منافقانہ طرزِ عمل کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ لیکن جب مدینہ میں اسلام کے نفوذ اور پھیلاؤ نے دشمنوں کو ضعیف و ناتواں بنا دیا تو اب مخالفت کا اظہار کھلے عام کرنا مشکل اور بعض اوقات ناممکن تھا، لہٰذا شکست خوردہ دشمنوں نے اپنی تخریبی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے اپنے چہرے بدل لیے، وہ ظاہراً مسلمانوں کی صفوں میں شامل ہو گئے، لیکن مخفیانہ طور پر اپنے بُرے مقاصد کے حصول کے لیے کوشاں رہے۔ اصولی طور پر ہر انقلاب کی طبیعت و مزاج یہی ہے کہ نمایاں کامیابی کے بعد اُسے منافقین کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کل کے سخت ترین دشمن آج کے بااثر افراد کی صورت میں ظاہری دوستوں کے لباس میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جس سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ منافقین سے مربوط تمام آیات مدینہ میں کیوں نازل ہوئیں اور مکہ میں کیوں نازل نہ ہوئیں۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ نفاق اور منافقین کا مسئلہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے زمانے کے ساتھ ہی مخصوص نہیں تھا، بلکہ ہر معاشرہ اور خصوصاً انقلابی معاشرے، اس سے دوچار ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس مسئلہ کے بارے میں قرآن کی تحلیلوں، تجزیوں اور موشگافیوں کو ایک تاریخی مسئلہ کے عنوان سے نہیں ایک بالفعل نیاز و احتیاج کے عنوان سے موردِ تحقیق و تدقیق قرار دیا جانا چاہیے۔ اس سے موجودہ وقت کے اسلامی معاشروں میں روحِ نفاق اور منافقین کے طریقوں سے مبارزہ کرنے کے لیے ہدایت حاصل کرنی چاہیے۔ نفاق کی نشانیاں جنہیں قرآن نے شرح و بسط سے بیان کیا ہے، وقت کے ساتھ ان کو بھی پہچاننا چاہیے اور ان نشانیوں کے ذریعے منافقوں کے طور طریقوں اور منصوبوں کی تہ تک پہنچ جانا چاہیے۔ ایک دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ منافقین کا خطرہ ہر معاشرے کے لیے ہر دشمن کے خطرے سے زیادہ ہے۔ کیونکہ ایک طرف تو ان کی شناخت عام طور پر آسان نہیں ہوتی اور دوسری طرف وہ داخلی دشمن ہوتے ہیں۔ بعض اوقات وہ معاشرے کے تانے بانے میں اس طرح سے نفوذ کرتے ہیں کہ انہیں الگ کرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ تیسری طرف سے ان کے باقی ارکان کے معاشرے سے مختلف روابط ان سے مبارزہ کے کام کو دشوار بنا دیتے ہیں۔ چنانچہ اسی وجہ سے اسلام نے اپنی طویل تاریخ میں زیادہ تر چوٹ منافقین ہی کے ہاتھوں کھائی ہے۔ اسی وجہ سے قرآن نے اپنے سخت ترین حملے منافقین ہی پر کیے ہیں، اور جس قدر ان کی سرکوبی کی ہے، اپنے کسی بھی دشمن کے لیے روا نہیں رکھی۔ اس مقدمہ پر توجہ کے ساتھ اب ہم آیات کی تفسیر کی طرف لوٹتے ہیں۔ **** پہلی بات جو قرآن یہاں منافقین کے بارے میں پیش کرتا ہے، ان کا وہی جھوٹا ایمان کا اظہار ہے جو نفاق کی اصل بنیاد ہے۔ فرماتا ہے: "جس وقت منافقین تیرے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو یقینا اللہ کا رسول ہے۔" (اِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللّٰہِ)۔ [تشریحی نوٹ: یہاں "ان" مسکور صورت میں ذکر ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خبر کے اوپر لام تاکید آیا ہے اور اس صورت میں تقدیر میں مقدم ہے (البیان فی غریب اعراب القرآن)]۔ اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے: "خدا جانتا ہے کہ تُو اُس کا بھیجا ہوا ہے، لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافقین جھوٹے ہیں۔" (وَاللّٰہُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَاللّٰہُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ)۔ اس سے نفاق کی پہلی نشانی واضح ہو جاتی ہے، اور وہ ہے ظاہر و باطن کا مختلف ہونا — یعنی وہ تاکید کے ساتھ زبان سے تو اظہارِ ایمان کرتے ہیں، لیکن ان کے دل میں ایمان کی کوئی رمق نہیں ہوتی۔ یہ دروغ گوئی اور یہ اندر اور باہر کی دو رنگی ہی نفاق کے اصلی محور ہیں۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ صدق و کذب (سچ اور جھوٹ) دو قسم کے ہوتے ہیں: 1. صدق و کذبِ خبری 2. صدق و کذبِ مخبری پہلی قسم میں تو واقعہ کے موافق یا مخالف ہونا معیار ہوتا ہے، جبکہ دوسری قسم میں اعتقاد کی موافقت و مخالفت مدنظر ہوتی ہے۔ اس معنی میں اگر انسان کوئی ایسی خبر دیتا ہے جو واقعہ کے مطابق ہے، لیکن اس کے عقیدہ کے خلاف ہے، تو اسے ہم کذبِ مخبری کہتے ہیں اور اگر وہ اس کے عقیدہ کے مطابق ہے تو صدق ہے۔ اِس طرح سے منافقوں کا پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی رسالت کی گواہی دینا خبر دینے کے لحاظ سے بالکل جھوٹ نہیں تھا بلکہ یہ ایک واقعیت تھی، لیکن کہنے والے اور مُخبر کے لحاظ سے چونکہ یہ ان کے عقیدہ کے برخلاف تھا، لہٰذا جھوٹ شمار ہوتا تھا۔ اسی لیے قرآن کہتا ہے کہ تو خدا کا پیغمبر تو ہے، لیکن یہ منافق جھوٹ بولتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں منافقین یہ نہیں چاہتے تھے کہ پیغمبر کی رسالت کی خبر دیں بلکہ وہ یہ چاہتے تھے کہ آنحضرت کی نبوت کے بارے میں اپنے اعتقاد کی خبر دیں اور یقینا اس خبر میں وہ جھوٹے تھے۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ انہوں نے اپنی گواہی میں انواع و اقسام کی تاکیدیں استعمال کی ہیں۔ [تشریحی نوٹ: منافقین نے "جملہ اسمیہ" سے استفادہ کیا اور اسی طرح "ان" اور "لامِ تاکید" سے اپنے قول کو صداقت پر مبنی ظاہر کیا]۔ اور خدا تعالیٰ بھی قطعیّت کے ساتھ، اسی لب و لہجہ میں، ان کی تکذیب کرتا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایسی قطعیّت کے مقابلہ میں اسی قسم کی قطعیّت ضروری ہے۔ یہاں اس نکتہ کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ منافق اصل میں نفق (بروزن نفخ) کے مادّہ سے نفوذ و پیش روی کے معنی میں ہے، لیکن نفق (بروزن شفق) کھال اور اس نقب کے معنی میں ہے جو زیرِ زمیں لگاتے اور اس سے چھپنے یا بھاگنے کے لیے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ بہت سے جانور جیسے صحرائی چوہے، لومڑی اور سوسمار اپنے رہنے کے لیے بلوں میں دو سوراخ بناتے ہیں، ایک ظاہری جس سے داخل اور خارج ہوتے ہیں اور دوسرا پوشیدہ۔ جب وہ کوئی خطرہ محسوس کرتے ہیں تو مخفی راستے سے بھاگ جاتے ہیں اور اس پوشیدہ سوراخ کو "نافقاء" کہتے ہیں۔ [بحوالہ: "روح البیان" جلد ٩، صفحہ ۵۲۹]۔ اِس طرح سے منافق شخص وہ ہے جس نے ایک پوشیدہ اور مخفی راستہ اپنے لیے رکھا ہوا ہوتا ہے تاکہ پوشیدہ اور مخفی طریقہ سے کام کرتے ہوئے معاشرے میں نفوذ کرے اور خطرے کے وقت دوسری راہ سے فرار ہو جائے۔ بعد والی آیت میں ان کی دوسری نشانی بیان کرتے ہوئے اس طرح کہتا ہے: "انہوں نے قسموں کو ڈھال بنایا ہوا ہے تاکہ وہ لوگوں کو خدا کی راہ سے باز رکھیں": اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ۔ "وہ بہت ہی بُرے کام انجام دیتے ہیں": إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ۔ کیونکہ ظاہر میں تو وہ ایمان کا اظہار کرتے ہیں اور باطن میں کفر کرتے ہیں۔ یوں دینِ حق کی طرف لوگوں کی ہدایت کی راہ میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ ہاں تو اس سے بدتر اور قبیح تر عمل اور کیا ہو گا۔ جنّة "جن" (بروزن فن) کے مادّہ سے، اصل میں کسی چیز کو حس سے پنہاں کرنے کے معنی میں ہے۔ نیز جنّ (بروزن سن) ایک نظر نہ آنے والا موجود ہے، لہٰذا اس لفظ کا اس پر اطلاق ہوتا ہے۔ چونکہ "ڈھال" ان کو دشمن کے اسلحہ کی ضربوں سے چھپا کر رکھتی ہے، اس لیے عربی زبان میں اُسے "جنة" کہا جاتا ہے۔ چنانچہ درختوں سے بھرے پُرے باغ کو ان کی زمین کے مستور ہونے کی بنا پر "جنّت" کہتے ہیں۔ بہرحال یہ نفاق کی نشانیوں میں سے ایک ہے کہ وہ اپنے آپ کو خدا کے مقدس نام اور شدید قسموں کی آڑ میں چھپا لیتے ہیں تاکہ ان کا اصلی چہرہ دکھائی نہ دے۔ اس طرح وہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر کے انہیں غفلت میں ڈال دیتے ہیں اور صَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ (لوگوں کو خدا کی راہ سے باز رکھتے ہیں)۔ ضمنی طور پر یہ تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ منافق ہمیشہ مومنین کے ساتھ جنگ و جدال کی حالت میں ہیں، لہٰذا ان کی ظاہرداری اور چرب زبانی سے ہرگز دھوکا نہیں کھانا چاہیے، کیونکہ ڈھال کا انتخاب جنگ کے میدانوں کے ساتھ مخصوص ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ بعض مواقع پر انسان کے لیے قسم کے سوا اور کوئی چارۂ کار نہیں ہوتا یا کم از کم قسم موردِ نظر موضوع کی اہمیت میں اضافہ کرتی ہے، لیکن وہ جھوٹی قسم نہیں ہے اور نہ ہی ہر چیز اور ہر کام کے لیے قسم، کہ یہ منافقین کا شیوہ اور طریقہ ہے۔ سورۂ توبہ کی آیت ۷۴ میں آیا ہے: يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ مَا قَالُوا وَلَقَدْ قَالُوا كَلِمَةَ الْكُفْرِ۔ "وہ خدا کی قسم کھاتے ہیں کہ انہوں نے (پیغمبر کی پیٹھ پیچھے چھنے والی باتیں) نہیں کیں حالانکہ یقینا انہوں نے کفر آمیز باتیں کی ہیں۔" مفسرین نے صَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ کے جملے کے دو معانی بیان کیے ہیں: پہلا: راہِ خدا سے اعراض کرنا، دوسرا: اوروں کو اس راہ سے باز رکھنا۔ اگرچہ زیر بحث آیت میں دونوں معانی کو جمع کرنا ممکن ہے، لیکن ان کے جھوٹی قسمیں کھانے کی طرف توجہ کرتے ہوئے دوسرا معنی زیادہ مناسب نظر آتا ہے، کیونکہ ان قسموں کا ہدف اور مقصد دوسروں کو غفلت میں رکھنا ہوتا ہے۔ وہ ایک جگہ "مسجد ضرار" بناتے ہیں، جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ اس سے تمہارا مقصد کیا ہے تو قسم کھا کر کہتے ہیں کہ خیر کے سوا ہمارا اور کوئی مقصد نہیں ہے (توبہ: ۱۰۷)۔ دوسرے مواقع پر ان جنگوں میں شریک ہوتے ہیں جن میں فاصلہ تھوڑا اور غنیمتوں کا احتمال زیادہ ہے۔ لیکن معرکۂ تبوک جو مشکلات سے پُر ہے، اس میں شرکت نہ کرنے کے لیے ہزارہا بہانے اور عذر کرتے ہیں بلکہ قسم کھاتے ہیں کہ اگر ہم میں طاقت ہوتی تو تمہارے ساتھ ضرور چل پڑتے (توبہ : ۴۲)۔ وہ نہ صرف لوگوں کے سامنے جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں بلکہ جیسا کہ سورۂ مجادلہ کی آیت ۱۸ میں آیا ہے، وہ عرصۂ محشر میں بارگاہِ خداوندی میں بھی جھوٹی قسم سے متوسل ہوں گے۔ یہ چیز اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ عمل ان کے وجود میں رچ بس چکا ہے، یہاں تک کہ وہ عرصۂ محشر میں خدا کی بارگاہ میں بھی اس سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ **** بعد والی آیت میں اس قسم کے ناروا اعمال کی علتِ اصلی کو پیش کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے تو وہ ایمان لائے اور اس کے بعد کافر ہو گئے ہیں، اس لیے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی اور وہ حقیقت کا ادراک نہیں کر سکتے۔" (ذٰلِکَ بِأَنَّهُمْ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُوْنَ)۔ بہت سے مفسرین کا نظریہ ہے کہ اس ایمان سے مراد یہاں ایمانِ ظاہری ہے جبکہ وہ باطن میں کافر ہی تھے۔ لیکن آیت کا ظاہر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ابتداء میں وہ حقیقتاً ایمان لے آئے تھے، لیکن ایمان کا ذائقہ چکھنے اور اسلام و قرآن کی حقانیت کی نشانیاں دیکھ لینے کے بعد انہوں نے کفر کی راہ اختیار کر لی، مگر ایسا کفر جو نفاق سے تو آمیختہ تھا، نہ کہ آشکار اور صراحت کے ساتھ۔ اور یہی بات اس چیز کا سبب بن گئی کہ خدا ان سے حسِ تشخیص سلب کرے اور وہ حقائق کے ادراک سے محروم رہ جائیں، کیونکہ اگر انہوں نے ابتداء سے ہی حق کی تشخیص نہ کی ہوتی تو پھر وہ کچھ عذر رکھتے تھے۔ لیکن حق کو پہچان لینے اور ایمان لانے کے بعد اگر وہ اسے ٹھکرا دیں تو خدا ان سے اپنی توفیق سلب کر لیتا ہے۔ حقیقت میں منافقین کے دو گروہ ہیں: ایک گروہ تو وہ ہے جن کا ایمان پہلے سے ہی نمائشی اور ظاہری تھا، دوسرا گروہ وہ ہے جو ابتدا میں تو حقیقتاً ایمان لے آیا، لیکن بعد میں اس نے ارتداد و نفاق کی راہ اختیار کر لی۔ زیرِ بحث آیت کا ظاہر دوسرے گروہ کی بات کرتا ہے۔ حقیقت میں یہ آیت سورۂ توبہ کی آیت ۷۴ کے مشابہ ہے، جو کہتی ہے: "وَ كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ"، "وہ اسلام لانے کے بعد کافر ہو گئے۔" بہرحال یہ ان کی تیسری نشانی ہے کہ وہ واضح حقائق کے ادراک سے عام طور پر محروم ہیں۔ یہ بات کہے بغیر واضح ہے کہ یہ چیز ہرگز جبر و اکراہ نہیں ہے، کیونکہ اس کے مقدمات کو انہوں نے خود فراہم کیا ہے۔ بعد والی آیت ان کی مزید نشانیاں بتاتے ہوئے کہتی ہے: "جب تم انہیں دیکھو گے تو ان کا جسم اور صورت تمہیں تعجب میں ڈال دے گا" (وَ إِذَا رَأَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ أَجْسَامُهُمْ)۔ ان کا ظاہر آراستہ اور ان کی شکل و صورت بڑی عمدہ نظر آتی ہے۔ علاوہ ازیں وہ ایسی شیریں اور پُرکشش باتیں کرتے ہیں کہ "جب وہ گفتگو شروع کرتے ہیں تو تم بھی ان کی باتوں کو کان دھر کے سنتے ہو" (وَ إِنْ يَقُولُوا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ)۔ جہاں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظاہراً ان کی باتوں کی کشش سے متاثر ہو جائے، وہاں دوسروں کا معاملہ تو اور بھی آگے جاتا ہے۔ یہ تو ظاہری لحاظ سے ہے، لیکن باطنی طور پر "وہ ایسی خشک لکڑیوں کے مانند ہیں جنہیں دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا کر دیا گیا ہو" (كَأَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ)۔ وہ ایسے جسم ہیں جن میں روح نہیں ہے۔ بےمعنی شکلیں اور اندر سے خالی ہیکلیں ہیں۔ نہ خود سے کوئی استقلال رکھتے ہیں، نہ باطن میں کوئی نور و صفائی، نہ کوئی محکم ارادہ ہے اور نہ ہی اس میں کچھ ایمان ہے۔ وہ ٹھیک خشک لکڑیوں کی طرح ہیں جنہیں دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا ہو۔ بعض مفسرین نے روایت کی ہے کہ منافقین کا سرغنہ "عبداللہ بن ابی" ایک موٹا تازہ، خوبصورت، فصیح و بلیغ اور چکنی چپڑی باتیں بنانے والا آدمی تھا۔ جب وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ حضرت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں داخل ہوتا تو اصحاب اس کے ظاہر سے تعجب کرتے اور اس کی باتیں کان دھر کے سنتے، لیکن وہ (اپنے غرور و نخوت کی بناء پر) دیوار کے پاس جا کر اس کا تکیہ بناتے اور مجلس کو اپنی ظاہری صورت اور باتوں سے متاثر کرتے [بحوالہ: کشاف، جلد ۴، صفحہ ۵۴۰]۔ یہ آیت ان کی اس حالت کو بیان کر رہی ہے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "وہ اس طرح اندر سے کھوکھلے، خدا پر توکل اور اپنے نفس پر اعتماد سے محروم ہیں کہ وہ ہر آواز کو، چاہے وہ جہاں سے بھی بلند ہو، اپنے برخلاف سمجھتے ہیں" (يَحْسَبُونَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ)۔ ایک عجیب قسم کا خوف اور وحشت ہمیشہ اُن کے دل و جان پر چھائی رہتی ہے۔ ایک بدظنی اور جانکاہ بدبینی کی حالت نے ان کی روح کو سرتاسر گھیرے میں لیا ہوا ہے اور الخائن خائف کے مطابق ہر چیز سے، یہاں تک کہ اپنے سائے سے بھی ڈرتے ہیں۔ اور یہ ان کی نشانیوں میں سے ایک اور نشانی ہے۔ آیت کے آخر میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبردار کرتا ہے کہ یہ لوگ واقعی تمہارے دشمن ہیں، لہٰذا ان سے بچتے رہو (هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ)۔ اس کے بعد کہتا ہے: "خدا انہیں ہلاک کرے، وہ حق سے کس طرح منحرف ہوتے ہیں"! (قَاتَلَهُمُ اللّهُ أَنّى يُؤْفَكُونَ)۔ یہ بات واضح ہے کہ یہ تعبیر خبر کے طور پر نہیں ہے بلکہ نفرین کی صورت میں ہے اور اُس گروہ کی مذمت، سرزنش اور تحقیر کے طور پر ذکر ہوئی ہے، ان روزمرّہ کی تعبیرات کی مانند جو افرادِ انسانی ایک دوسرے کے بارے میں کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح قرآن خود لوگوں کی زبان میں اُن سے بات چیت کرتا ہے۔ اسی طرح سے زیرِ بحث آیت میں منافقین کی مزید نشانیاں بیان کی گئی ہیں، منجملہ ان کے: ظاہری فریب دینے والی وضع و کیفیت، اندر سے کھوکھلے پن کے ساتھ، اسی طرح ہر چیز اور ہر حادثہ و واقعہ کے بارے میں خوف، دہشت اور بدگمانی وغیرہ ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تاریخ، حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں اوپر والی آیت کے لیے ایک مفصّل شانِ نزول بیان کی گئی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے: عزوۂ بنی المصطلق کے بعد (یہ جنگ ہجرت کے چھٹے سال سرزمین قدید میں واقع ہوئی) مسلمانوں میں سے دو افراد کے درمیان، جن میں سے ایک انصار میں سے اور دوسرا مہاجرین میں سے تھا، کنوئیں سے پانی لینے کے وقت اختلاف ہو گیا۔ ایک نے انصار کو اور دوسرے نے مہاجرین کو اپنی مدد کے لیے پکارا۔ مہاجرین میں سے ایک شخص اپنے ساتھی کی مدد کے لیے آیا اور عبد اللہ بن اُبی، جو منافقین کے مشہور سرغنوں میں سے تھا، وہ انصاری کی مدد کے لیے آگے بڑھا اور تب اُن دونوں کے درمیان شدید توتکار ہوئی۔ (عبد اللہ بن اُبی نے کہا) ہم نے اس گروہِ مہاجرین کو پناہ دی اور ان کی مدد کی، لیکن ہمارا معاملہ اس ضرب المثل کی مانند ہے جو کہتی ہے: سَمِّن كلبك يَأكُلك (اپنے کتے کو موٹا کر دے تاکہ وہ تجھے کاٹ کھائے)۔ وَاللّٰہِ لَئِنْ رَجَعْنَا اِلَی الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ۔ "خدا کی قسم! اگر ہم مدینہ پلٹ گئے تو عزّت دار ذلیلوں کو باہر نکال دیں گے۔" یہاں عزّت داروں سے اس کی مراد وہ خود اور اس کے پیروکار تھے اور ذلیلوں سے مراد مہاجرین تھے۔ اس کے بعد اس نے اپنے ساتھ والوں سے کہا: "یہ اس کام کا نتیجہ ہے جو خود تم نے اپنے سروں پر تھوپ لیا ہے۔ تم نے انہیں اپنے شہر میں جگہ دی اور اپنے مال ان میں تقسیم کیے۔ اگر تم اپنی بچی ہوئی غذا اس جیسے لوگوں کو (اس امداد یافتہ مہاجر کی طرف اشارہ ہے) نہ دیتے تو یہ تمہاری گردن پر سوار نہ ہوتے، تمہاری سرزمین سے چلے جاتے اور اپنے قبائل سے جا ملتے۔ اس موقع پر "زید بن ارقم"، جو اس وقت ایک نوخیز جوان تھا، "عبد اللہ بن اُبی" کی طرف منہ کر کے کہا: "خدا کی قسم! ذلیل اور کمینہ تو ہی ہے۔ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) خدا کی عزّت اور مسلمانوں کی محبت میں ہیں۔ خدا کی قسم! میں آج سے تجھے دوست نہیں رکھوں گا۔" عبد اللہ نے چیخ کر کہا: "اے لڑکے! خاموش رہ، تو اپنے کھیل کود سے کام رکھ!" زید بن ارقم حضرت رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔ پیغمبر نے کسی کو عبد اللہ کے پاس بھیج کر اُسے بلایا اور فرمایا: "یہ کیا بات ہے جو مجھ سے بیان کی گئی ہے"؟ عبد اللہ نے کہا: "اس خدا کی قسم ہے جس نے آپ پر آسمانی کتاب نازل کی ہے، میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی اور زید جھوٹ بولتا ہے۔" انصار کے کچھ لوگ وہاں موجود تھے، انہوں نے عرض کیا: "یا رسول اللّٰہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)! عبد اللہ ہمارا بزرگ ہے، لہٰذا انصار کے بچوں میں سے ایک بچے کی بات اس کے برخلاف قبول نہ کیجیے۔" لہٰذا پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ان کا عذر قبول کر لیا۔ تو اس موقع پر گروہِ انصار نے زید بن ارقم کو ملامت کی۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے کوچ کرنے کا حکم دے دیا۔ بزرگانِ انصار میں سے ایک شخص اُسَید نامی آپ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: "یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)! آپ نے ایک نامناسب وقت میں کوچ کر دیا ہے۔" آپ نے فرمایا: "ہاں! کیا تُو نے سنا نہیں ہے کہ تیرے ساتھی عبد اللہ نے کیا کہا ہے؟ اُس نے یہ کہا ہے کہ جب وہ مدینہ پلٹ جائے گا تو عزّت والے ذلیلوں کو وہاں سے نکال دیں گے۔" اُسَید نے کہا: "یا رسول اللہ! اگر آپ چاہیں تو آج ہی اُسے مدینہ سے باہر نکال سکتے ہیں۔ خدا کی قسم! آپ عزّت دار ہیں اور وہ ذلیل ہے۔" پھر اس نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! اس کے ساتھ نرمی کیجیے۔" عبد اللہ کی باتیں اس کے بیٹے کے کانوں تک پہنچیں تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: "میں نے سنا ہے کہ آپ یہ چاہتے ہیں کہ میرے باپ کو قتل کر دیں۔ اگر ایسا معاملہ ہے تو خود مجھے حکم دیجیے کہ میں اس کا سر قلم کر کے آپ کی خدمت میں لے آؤں، کیونکہ سب لوگ جانتے ہیں کہ کوئی بھی شخص اپنے ماں باپ کی نسبت مجھ سے زیادہ نیک رفتار نہیں ہے۔ میں اس سے ڈرتا ہوں کہ کوئی اُسے قتل کرے اور میں اس کے بعد اپنے باپ کے قاتل کو نہ دیکھ سکوں گا اور خدا نخواستہ میں اُسے قتل کر دوں اور اس قتلِ مومن کی پاداش میں جنّت کے بجائے جہنم میں چلا جاؤں۔" پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: "تیرے باپ کے قتل کا مسئلہ درپیش نہیں ہے۔ جب تک وہ ہمارے ساتھ ہے، تو اس کے ساتھ مدارا اور نیکی کرتا رہ۔" اس کے بعد پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے حکم دیا کہ سارا دن اور ساری رات لشکر چلتا رہے۔ دوسرے دن جب سورج نکل آیا تو آپ نے ٹھہرنے کا حکم دیا۔ لشکر اس قدر تھک گیا تھا کہ زمین پر سر رکھتے ہی سب گہری نیند سو گئے (اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا مقصد بھی یہی تھا کہ لوگ کل کا ماجرا اور عبد اللہ بن اُبی کی بات کو بھول جائیں)۔ آخرکار پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) مدینہ میں وارد ہوئے۔ زید بن ارقم کہتے ہیں کہ میں شدتِ غم اور شرم کے مارے گھر کے اندر ہی رہا اور باہر نہ نکلا۔ اس موقع پر سورۃ المنافقون نازل ہوئی، جس نے زید کی تصدیق اور عبد اللہ کی تکذیب کی۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے زید کا کان پکڑ کر فرمایا: "اے جوان! خدا نے تیری بات کی تصدیق کر دی! بالکل اسی طرح سے جیسا کہ تُو نے اپنے کانوں سے سنا اور دل میں محفوظ رکھا تھا، خدا نے اس چیز کے بارے میں جو تُو نے کہی، قرآن کی آیات نازل کی ہیں۔" اس موقع پر عبد اللہ بن اُبی مدینہ کے قریب پہنچ چکا تھا۔ جب اس نے چاہا کہ مدینہ میں داخل ہو جائے، تو اس کے بیٹے نے آ کر اس کا راستہ روک لیا۔ عبد اللہ نے کہا: "وائے ہو تجھ پر! یہ کیا کر رہا ہے"؟ اس کے بیٹے نے کہا: "خدا کی قسم! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی اجازت کے بغیر تو مدینہ میں داخل نہیں ہو سکتا اور آج تُو سمجھ لے گا کہ عزّیز کون ہے اور ذلیل کون۔" عبد اللہ نے اپنے بیٹے کی شکایت رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچائی، تو پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اس کے بیٹے کو پیغام بھیجا کہ اپنے باپ کو مدینہ میں داخل ہونے دو۔ تب اس کے بیٹے نے کہا: "اب رسولِ خدا کی اجازت ہو گئی ہے، لہٰذا اب تمہارے داخلِ شہر ہونے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔" عبد اللہ شہر میں داخل ہوا، لیکن کچھ زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ وہ بیمار پڑ گیا اور پھر دنیا سے چل بسا (اور شاید اُسے جان لیوا تپِ دق ہو گیا تھا)۔ جس وقت یہ آیات نازل ہوئیں اور عبد اللہ کا جھوٹ ظاہر ہو گیا، تو بعض لوگوں نے اُس سے کہا: "تیرے بارے میں شدیدتر آیات نازل ہوئی ہیں، تو پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی خدمت میں جاتا کہ وہ تیرے لیے استغفار کریں۔" اس پر عبد اللہ نے اپنے سر کو ہلاتے ہوئے کہا: "تم نے مجھ سے کہا ایمان لے آ تو میں ایمان لے آیا۔ تم نے کہا زکوٰۃ دے تو میں نے زکوٰۃ دی۔ اب اس کے سوا کچھ باقی نہیں رہا کہ کہو، محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے لیے سجدہ کر!" اس موقع پر آیت وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ... نازل ہوئی۔ [بحوالہ: مجمع البیان، زیر بحث آیات کے ذیل میں، کامل ابن اثیر، جلد ۲، صفحہ ۱۹۲، سیرت ابن ہشام، جلد ۳، صفحہ ۳۰۲ (تھوڑے فرق کے ساتھ)]۔
منافقین کی دیگر نشانیاں
ان آیات میں منافقین کے اعمال اور ان کی گوناگوں نشانیوں کا بیان اسی طرح سے جاری ہے۔ فرماتا ہے: "جب ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ آؤ تاکہ رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تمہارے لیے استغفار کریں، تو وہ اپنے سروں کو استہزاء اور کبر و نخوت کے ساتھ ہلاتے ہیں۔ اور تُو دیکھے گا کہ وہ تیری باتوں سے اعراض کرتے ہوئے تکبر کر رہے ہیں۔" (وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ لَوَّوْا رُؤُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُمْ مُسْتَكْبِرُونَ)۔ ہاں! ان لغزشوں کے مقابلہ میں جو ان سے سرزد ہوتی ہیں اور ان کے پاس توبہ اور تلافی کی فرصت بھی ہوتی ہے، ان کا کبر و غرور انہیں تلافی کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس کا واضح نمونہ "عبد اللہ بن اُبی" تھا، جس کا عجیب و غریب ماجرا شانِ نزول میں بیان ہوا ہے۔ جس وقت اُس نے وہ قبیح اور ناروا باتیں پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور مومن مہاجرین کے بارے میں کہیں: "جب ہم مدینہ کی طرف پلٹ کر جائیں گے تو عزت والے ذلیلوں کو باہر نکال دیں گے — اس پر قرآنی آیات نازل ہوئیں اور اس کی شدید مذمت ہوئی۔ لوگوں نے اُس سے کہا کہ وہ رسولِ خدا کے پاس آئے تاکہ حضور (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اس کے لیے بارگاہِ خداوندی سے بخشش طلب کریں، مگر اُس نے ایک اور ناروا بات کہی، جس کا ماحصل یہ تھا: "تم نے کہا ایمان لے آؤ، میں ایمان لے آیا۔ تم نے کہا زکوٰۃ دو، میں نے زکوٰۃ دی۔ اب بجز اس کے کوئی چیز باقی نہیں رہی کہ کہو محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے لیے سجدہ کر!" یہ بات واضح ہے کہ روحِ اسلام حق کے سامنے سرِتسلیم خم کرنا ہے اور کبر و غرور ہمیشہ اس تسلیم میں رکاوٹ ہے۔ اسی بناء پر منافقین کی ایک نشانی، بلکہ اسی غرور، خودخواہی اور خود کو برتر سمجھنے ہی کو نفاق کا ایک سبب شمار کیا جا سکتا ہے۔ "لَوَّوْا"، "لی" کے مادہ سے اصل میں "رسی کو بل دینے" کے معنی میں ہے۔ اور اسی مناسبت سے منہ پھیرنے یا سر کو حرکت دینے اور ہلانے کے معنی میں بھی آیا ہے۔ "یَصُدُّونَ" جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں، دو معانی میں استعمال ہوتا ہے: (١) منع کرنا۔ (٢) اعراض کرنا۔ زیرِ بحث آیت میں دوسرا معنی اور گزشتہ آیت میں پہلا معنی مناسب ہے۔ **** بعد والی آیت میں ہر قسم کے ابہام کو دور کرنے کے لیے مزید کہتا ہے: "بالفرض اگر وہ تیرے پاس آئیں اور تُو ان کے لیے استغفار بھی کر لے، تو ان میں بخشش کے اسباب موجود ہی نہیں ہیں۔ اس بناء پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تُو ان کے لیے استغفار کرے یا نہ کرے، خدا انہیں ہرگز نہیں بخشے گا۔" (سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ لَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ)۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ "خدا فاسق قوم کو ہدایت نہیں کرتا"۔ (إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ)۔ دوسرے لفظوں میں، پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی استغفار بخشش کے لیے علتِ تامہ نہیں، بلکہ مقتضیٰ ہے۔ یہ صرف اسی صورت میں اثر کرتی ہے جبکہ موافق اسباب اور ضروری قابلیت فراہم ہو۔ اگر وہ واقعاً توبہ کر لیں، اپنی راہ کو بدلیں، کبر و غرور کی سواری سے اتر آئیں اور حق کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں، تو پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی استغفار یقیناً مؤثر ہے۔ اس صورت کے علاوہ کچھ بھی اثر نہ ہو گا۔ اسی معنی کے مشابہ سورۃ توبہ کی آیت ۸۰ میں بھی آیا ہے، جو منافقین کے ایک اور گروہ کے بارے میں کہتی ہے: "هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنْفِقُوا عَلَىٰ مَنْ عِندَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّىٰ يَنْفَضُّوا وَلِلَّهِ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ۔" "چاہے تم ان کے لیے استغفار کرو یا نہ کرو، اس کا کوئی اثر نہیں ہو گا۔ اگر تم ستر مرتبہ بھی ان کے لیے استغفار کرو گے تب بھی خدا ان کو نہیں بخشے گا۔ کیونکہ وہ خدا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے منکر ہو گئے ہیں اور خدا فاسق قوم کو ہدایت نہیں کرتا۔" یہ بات واضح ہے کہ ستر کا عدد تکثیر کے لیے ہے — یعنی چاہے جتنی مرتبہ بھی ان کے لیے استغفار کرو، کوئی فائدہ نہیں ہے یہ نکتہ بھی معلوم ہے کہ فاسق سے مراد ہر قسم کا گناہگار نہیں ہے، کیونکہ پیغمبر گناہگاروں کی نجات کے لیے ہی آئے ہیں، بلکہ اس سے مراد وہ گنہ گار ہیں جو گناہوں پر اصرار کرتے ہیں، ہٹ دھرم ہیں اور حق کے مقابلے میں سرکش ہیں۔ **** اس کے بعد ان کی ایک بہت ہی بری بات کی طرف، جو ان کے نفاق کی واضح ترین نشانی شمار ہوتی ہے، اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: "یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں ان افراد پر جو رسولِ خدا کے پاس ہیں کچھ خرچ نہ کرو اور اپنے مال و امکانات کو ان کے اختیار میں نہ دو تاکہ وہ پراگندہ ہو جائیں۔" (هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنْفِقُوا عَلَىٰ مَنْ عِندَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّىٰ يَنْفَضُّوا)۔ "وہ اس بات سے غافل ہیں کہ آسمانوں اور زمین کے تمام خزانے خدا ہی کے لیے ہیں، لیکن منافقین سمجھتے نہیں ہیں۔" (وَلِلَّهِ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ)۔ **** یہ بدبخت نہیں جانتے کہ ہر شخص کے پاس جو کچھ ہے وہ خدا ہی کا دیا ہوا ہے اور تمام بندے اسی کے خوان سے روزی کھاتے ہیں۔ اگر انصار مہاجرین کو پناہ دے سکتے ہیں اور انہیں اپنے مال میں حصہ دار اور شریک بنا سکتے ہیں تو یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے جو انہیں نصیب ہے۔ لہٰذا انہیں نہ صرف یہ کہ احسان نہیں جتانا چاہیے بلکہ خدا کا اس عظیم توفیق پر شکر ادا کرنا چاہیے۔ لیکن جیسا کہ شانِ نزول میں بیان ہوا ہے، منافقین کی منطق کچھ اور ہی تھی۔ اس کے بعد ان کی ایک اور نفرت انگیز بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "يَقُولُونَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ۔" یہ وہی گفتگو ہے جو عبد اللہ بن اُبی کے آلودہ دہن سے نکلی اور اس کی مراد یہ تھی کہ ہم مدینہ کے رہنے والے رسولِ اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور مؤمن مہاجرین کو مدینہ سے باہر نکال دیں گے۔ مدینہ کی طرف لوٹنے سے مُراد غزوۂ "بنی المصطلق" سے لوٹنا تھا اور اس کی طرف شانِ نزول میں تفصیل کے ساتھ اشارہ ہو چکا ہے۔ اگرچہ یہ بات صرف ایک ہی شخص نے کہی تھی، لیکن چونکہ سب منافقین کا طرزِ عمل اور طریقۂ کار یہی تھا، لہٰذا قرآن جمع کی صورت میں تعبیر کرتے ہوئے فرماتا ہے: "یقولون..." (وہ کہتے ہیں)۔ اس کے بعد قرآن انہیں دانت شکن جواب دیتے ہوئے کہتا ہے: "عزّت تو خدا، رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور مؤمنین کے لیے مخصوص ہے لیکن منافقین نہیں جانتے۔" (وَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَلٰکِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ)۔ یہ صرف مدینہ کے منافقین ہی نہیں تھے جنہوں نے مؤمن مہاجرین کے مقابلہ میں یہ بات کہی، بلکہ اس سے پہلے سردارانِ قریش بھی مکہ میں یہی بات کہا کرتے تھے: اگر ہم مسلمانوں کے اس چھوٹے سے فقیر گروہ کا اقتصادی محاصرہ کر لیں یا انہیں مکہ سے باہر نکال دیں تو معاملہ ختم ہو جائے گا۔ موجودہ زمانہ میں بھی استعماری اور سامراجی حکومتیں اس خیال سے کہ آسمان و زمین کے خزانے ان کے پاس ہیں، یہ کہتی ہیں کہ وہ قومیں جو ہمارے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرتیں، ان کا اقتصادی محاصرہ کرنا چاہیے تاکہ ان کی عقل ٹھکانے آ جائے اور وہ سرتسلیم خم کر دیں۔ ان تاریخ کے اندھوں کو — جن کا شیوہ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے — اس بات کی خبر نہیں کہ خدا کے ایک ہی اشارہ پر ان کی تمام ثروت اور امکانات تباہ ہو جائیں گے اور ان کی عارضی اور ظاہری عزّت قانونِ فنا کے ہاتھوں برباد ہو گی۔ بہرحال، یہ طرزِ فکر (کہ اپنے آپ کو عزّت دار سمجھنا اور دوسروں کو ذلیل، اپنے آپ کو ولیِ نعمت شمار کرنا اور دوسروں کو محتاج) ایک منافقانہ طرزِ فکر ہے۔ یہ ایک طرف تو غرور و تکبر سے اور دوسری طرف خدا کے مقابلے میں استقلال کے گمان سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر وہ عبودیت کی حقیقت سے آشنا ہوتے اور خدا کی مالکیت کو ہر چیز پر مسلم سمجھتے، تو ہرگز ان خطرناک غلطیوں کا شکار نہ ہوتے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ گزشتہ آیت میں منافقین کے بارے میں"لَا یَفْقَہُوْنَ" (نہیں سمجھتے) کی تعبیر آئی ہے اور یہاں"لَا یَعْلَمُوْنَ" (نہیں جانتے) کی تعبیر آئی ہے۔ تعبیر کا یہ فرق ممکن ہے تکرار سے پرہیز کے لیے ہو، جو فصاحت کے خلاف ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس بنا پر ہو کہ خدا کا تمام آسمانوں اور زمین کے خزائن کا مالک ہونا ایک بہت ہی پیچیدہ مسئلہ ہے، جو بہت زیادہ وقت اور فہم و فراست کا محتاج ہے، جبکہ عزت کا خدا، پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور مومنین کے ساتھ مخصوص ہونا کسی پر مخفی نہیں ہے۔ ****
چند اهم نکات: ١۔ منافق کی دس نشانیاں
اوپر والی تمام آیات سے منافق کی متعدد نشانیوں کا پتہ چلتا ہے۔ ان کا یکجا طور پر دس نشانیوں میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے: ١۔ صریح و آشکار جھوٹ (وَاللّٰہُ یَشْہَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ لَکَاذِبُوْنَ)۔ ٢۔ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے جھوٹی قسمیں کھانا (اتَّخَذُوْا أَیْمَانَھُمْ جُنَّۃً)۔ ٣۔ دین کی شناخت کے بعد اُسے چھوڑ دینے کی بناء پر حقیقت اور واقعیت کو نہ سمجھ سکنا (لَا یَفْقَہُوْنَ)۔ ٤۔ باطن کے خالی ہونے کے باوجود ظاہر میں آراستہ اور چکنی چپڑی باتیں کرنا (وَإِذَا رَأَیْتَھُمْ تُعْجِبُکَ أَجْسَامُھُمْ)۔ ٥۔ معاشرے میں بےہودگی اور حق سے عدم توجہ کی بناء پر لکڑی کے ایک خشک ٹکڑے کی مانند ہونا (کَأَنَّھُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَۃٌ)۔ ٦۔ خائن ہونے کی بناء پر ہر حادثہ اور ہر چیز سے بدگمانی اور خوف و دہشت (یَحْسَبُوْنَ کُلَّ صَیْحَۃٍ عَلَیْہِمْ)۔ ٧۔ حق کا مذاق اُڑانا اور تمسخر کرنا (لَوْ نَشَاءُ لَأَخْرَجْنَاکُمْ)۔ ٨۔ فسق و گناہ (إِنَّ اللّٰہَ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ)۔ ٩۔ اپنے آپ کو ہر چیز کا مالک جاننا اور دوسروں کو اپنا محتاج سمجھنا (ھُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰی مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ حَتّٰی یَنْفَضُّوْا)۔ ١٠۔ اپنے آپ کو عزت دار اور دوسروں کو ذلیل سمجھنا (لَیُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْہَا الْأَذَلَّ)۔ اس میں شک نہیں کہ منافق کی نشانیاں انہیں چیزوں میں نہیں بلکہ قرآنی آیات، اسلامی روایات اور نہج البلاغہ سے ان کی اور بھی بہت سی نشانیوں کا پتہ چلتا ہے، یہاں تک کہ روزمرہ کی معاشرت سے بھی ان کے دوسرے اوصاف اور خصوصیات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ لیکن اس سورت کی آیات میں جو کچھ آیا ہے، وہ ان اوصاف کا ایک اہم اور قابلِ توجہ حصہ ہے۔ نہج البلاغہ میں ایک خطبہ منافقین کی کیفیت کے لیے مخصوص ہے۔ اس خطبہ کے ایک حصہ میں اس طرح آیا ہے: "اے خدا کے بندو! میں تمہیں تقویٰ اور پرہیزگاری کی وصیت کرتا ہوں اور منافقین سے ڈراتا ہوں، کیونکہ وہ خود گمراہ اور گمراہ کرنے والے، خطاکار اور غلط انداز ہیں۔" "وہ ہر روز ایک نئے رنگ میں آتے ہیں اور مختلف قیافوں اور زبانوں کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں۔" "وہ ہر طریقہ سے تمہیں فریب دینے اور درہم برہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہر کمین گاہ میں تمہاری گھات میں بیٹھے ہوتے ہیں۔" "وہ بدباطن اور خوش ظاہر ہیں اور ہمیشہ پوشیدہ طور پر لوگوں کو فریب دیتے اور غلط راہ پر چلاتے ہیں۔" "ان کی گفتگو بظاہر شفا بخش ہے لیکن ان کا کردار ایک علاج ناپذیر بیماری ہے۔ وہ لوگوں کی خوش حالی پر حسد کرتے ہیں اور اگر کوئی شخص کسی مصیبت میں گرفتار ہو جائے تو خوش ہوتے ہیں۔" "ہمیشہ امید والوں کو مایوس کرتے ہیں اور ہر جگہ ناامیدی کی آیت پڑھتے ہیں۔" "ہر راستے میں ان کا کوئی نہ کوئی کشتہ (مارا ہوا) ہوتا۔ ہر دل میں نفوذ کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی راہ رکھتے ہیں اور ہر مصیبت کے لیے بناؤٹی آنسو بہاتے ہیں۔" "ایک دوسرے کی مدح و ثنا کا فریضہ انجام دیتے ہیں اور ایک دوسرے سے اجر و پاداش کی توقع رکھتے ہیں۔" "اپنے تقاضوں میں اصرار کرتے ہیں اور ملامت میں پردہ دری کرتے ہیں۔ جب کوئی حکم لگاتے ہیں تو حد سے تجاوز کر جاتے ہیں۔" "انہوں نے ہر حق کے مقابلے میں ایک باطل گھڑ لیا ہے اور ہر دلیل کے مقابلے میں ایک شبہ کھڑا کر دیا ہے۔ انہوں نے ہر زندہ کے لیے موت کا عامل، ہر دروازے کے لیے کلید اور ہر رات کے لیے ایک چراغ مہیا کیا ہے۔" "وہ اپنی طمع کاری اور گرمی بازار کے لیے اور اپنے مال و اسباب کو گراں ترین قیمت پر بیچنے کے لیے دلوں میں یاس و ناامیدی کا بیج بوتے ہیں۔" "اپنے باطل کو حق پر ظاہر کر کے دکھاتے ہیں اور تعریف و توصیف میں فریب کی راہ اختیار کرتے ہیں۔" اپنی خواہشات تک پہنچنے کی راہ کو آسان اور اپنے جان چھڑانے کی راہ کو پرپیچ و خم بنا کر دکھاتے ہیں، وہ شیطان کا لشکر اور جہنم کی آگ کے شرارے ہیں، جیسا کہ خدا فرماتا ہے: (أُوْلٰئِکَ حِزْبُ الشَّیْطَانِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ الشَّیْطَانِ ھُمُ الْخَاسِرُوْنَ) "یہ شیطان کا گروہ ہے، جان لو کہ شیطان کا گروہ خسارے میں ہے"۔ [بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ۱۹۴ (اختصار کی وجہ سے مکمل خطبہ کا متن نقل نہیں کیا گیا)]۔ اس روشن خطبہ میں ان کے بہت سے اوصاف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، جو گزشتہ مباحث کی تکمیل کرتے ہیں۔ ان آیات میں منافقین کے اعمال اور ان کی گوناگوں نشانیوں کا بیان اسی طرح سے جاری ہے۔ فرماتا ہے: "جب ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ آؤ تاکہ رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تمہارے لیے استغفار کریں، تو وہ اپنے سروں کو استہزاء اور کبر و نخوت کے ساتھ ہلاتے ہیں۔ اور تُو دیکھے گا کہ وہ تیری باتوں سے اعراض کرتے ہوئے تکبر کر رہے ہیں۔" (وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ لَوَّوْا رُؤُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُمْ مُسْتَكْبِرُونَ)۔ ہاں! ان لغزشوں کے مقابلہ میں جو ان سے سرزد ہوتی ہیں اور ان کے پاس توبہ اور تلافی کی فرصت بھی ہوتی ہے، ان کا کبر و غرور انہیں تلافی کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس کا واضح نمونہ "عبد اللہ بن اُبی" تھا، جس کا عجیب و غریب ماجرا شانِ نزول میں بیان ہوا ہے۔ جس وقت اُس نے وہ قبیح اور ناروا باتیں پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور مومن مہاجرین کے بارے میں کہیں: "جب ہم مدینہ کی طرف پلٹ کر جائیں گے تو عزت والے ذلیلوں کو باہر نکال دیں گے — اس پر قرآنی آیات نازل ہوئیں اور اس کی شدید مذمت ہوئی۔ لوگوں نے اُس سے کہا کہ وہ رسولِ خدا کے پاس آئے تاکہ حضور (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اس کے لیے بارگاہِ خداوندی سے بخشش طلب کریں، مگر اُس نے ایک اور ناروا بات کہی، جس کا ماحصل یہ تھا: "تم نے کہا ایمان لے آؤ، میں ایمان لے آیا۔ تم نے کہا زکوٰۃ دو، میں نے زکوٰۃ دی۔ اب بجز اس کے کوئی چیز باقی نہیں رہی کہ کہو محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے لیے سجدہ کر!" یہ بات واضح ہے کہ روحِ اسلام حق کے سامنے سرِتسلیم خم کرنا ہے اور کبر و غرور ہمیشہ اس تسلیم میں رکاوٹ ہے۔ اسی بناء پر منافقین کی ایک نشانی، بلکہ اسی غرور، خودخواہی اور خود کو برتر سمجھنے ہی کو نفاق کا ایک سبب شمار کیا جا سکتا ہے۔ "لَوَّوْا"، "لی" کے مادہ سے اصل میں "رسی کو بل دینے" کے معنی میں ہے۔ اور اسی مناسبت سے منہ پھیرنے یا سر کو حرکت دینے اور ہلانے کے معنی میں بھی آیا ہے۔ "یَصُدُّونَ" جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں، دو معانی میں استعمال ہوتا ہے: (١) منع کرنا۔ (٢) اعراض کرنا۔ زیرِ بحث آیت میں دوسرا معنی اور گزشتہ آیت میں پہلا معنی مناسب ہے۔ **** بعد والی آیت میں ہر قسم کے ابہام کو دور کرنے کے لیے مزید کہتا ہے: "بالفرض اگر وہ تیرے پاس آئیں اور تُو ان کے لیے استغفار بھی کر لے، تو ان میں بخشش کے اسباب موجود ہی نہیں ہیں۔ اس بناء پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تُو ان کے لیے استغفار کرے یا نہ کرے، خدا انہیں ہرگز نہیں بخشے گا۔" (سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ لَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ)۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ "خدا فاسق قوم کو ہدایت نہیں کرتا"۔ (إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ)۔ دوسرے لفظوں میں، پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی استغفار بخشش کے لیے علتِ تامہ نہیں، بلکہ مقتضیٰ ہے۔ یہ صرف اسی صورت میں اثر کرتی ہے جبکہ موافق اسباب اور ضروری قابلیت فراہم ہو۔ اگر وہ واقعاً توبہ کر لیں، اپنی راہ کو بدلیں، کبر و غرور کی سواری سے اتر آئیں اور حق کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں، تو پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی استغفار یقیناً مؤثر ہے۔ اس صورت کے علاوہ کچھ بھی اثر نہ ہو گا۔ اسی معنی کے مشابہ سورۃ توبہ کی آیت ۸۰ میں بھی آیا ہے، جو منافقین کے ایک اور گروہ کے بارے میں کہتی ہے: "هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنْفِقُوا عَلَىٰ مَنْ عِندَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّىٰ يَنْفَضُّوا وَلِلَّهِ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ۔" "چاہے تم ان کے لیے استغفار کرو یا نہ کرو، اس کا کوئی اثر نہیں ہو گا۔ اگر تم ستر مرتبہ بھی ان کے لیے استغفار کرو گے تب بھی خدا ان کو نہیں بخشے گا۔ کیونکہ وہ خدا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے منکر ہو گئے ہیں اور خدا فاسق قوم کو ہدایت نہیں کرتا۔" یہ بات واضح ہے کہ ستر کا عدد تکثیر کے لیے ہے — یعنی چاہے جتنی مرتبہ بھی ان کے لیے استغفار کرو، کوئی فائدہ نہیں ہے یہ نکتہ بھی معلوم ہے کہ فاسق سے مراد ہر قسم کا گناہگار نہیں ہے، کیونکہ پیغمبر گناہگاروں کی نجات کے لیے ہی آئے ہیں، بلکہ اس سے مراد وہ گنہ گار ہیں جو گناہوں پر اصرار کرتے ہیں، ہٹ دھرم ہیں اور حق کے مقابلے میں سرکش ہیں۔ **** اس کے بعد ان کی ایک بہت ہی بری بات کی طرف، جو ان کے نفاق کی واضح ترین نشانی شمار ہوتی ہے، اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: "یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں ان افراد پر جو رسولِ خدا کے پاس ہیں کچھ خرچ نہ کرو اور اپنے مال و امکانات کو ان کے اختیار میں نہ دو تاکہ وہ پراگندہ ہو جائیں۔" (هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنْفِقُوا عَلَىٰ مَنْ عِندَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّىٰ يَنْفَضُّوا)۔ "وہ اس بات سے غافل ہیں کہ آسمانوں اور زمین کے تمام خزانے خدا ہی کے لیے ہیں، لیکن منافقین سمجھتے نہیں ہیں۔" (وَلِلَّهِ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ)۔ **** یہ بدبخت نہیں جانتے کہ ہر شخص کے پاس جو کچھ ہے وہ خدا ہی کا دیا ہوا ہے اور تمام بندے اسی کے خوان سے روزی کھاتے ہیں۔ اگر انصار مہاجرین کو پناہ دے سکتے ہیں اور انہیں اپنے مال میں حصہ دار اور شریک بنا سکتے ہیں تو یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے جو انہیں نصیب ہے۔ لہٰذا انہیں نہ صرف یہ کہ احسان نہیں جتانا چاہیے بلکہ خدا کا اس عظیم توفیق پر شکر ادا کرنا چاہیے۔ لیکن جیسا کہ شانِ نزول میں بیان ہوا ہے، منافقین کی منطق کچھ اور ہی تھی۔ اس کے بعد ان کی ایک اور نفرت انگیز بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "يَقُولُونَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ۔" یہ وہی گفتگو ہے جو عبد اللہ بن اُبی کے آلودہ دہن سے نکلی اور اس کی مراد یہ تھی کہ ہم مدینہ کے رہنے والے رسولِ اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور مؤمن مہاجرین کو مدینہ سے باہر نکال دیں گے۔ مدینہ کی طرف لوٹنے سے مُراد غزوۂ "بنی المصطلق" سے لوٹنا تھا اور اس کی طرف شانِ نزول میں تفصیل کے ساتھ اشارہ ہو چکا ہے۔ اگرچہ یہ بات صرف ایک ہی شخص نے کہی تھی، لیکن چونکہ سب منافقین کا طرزِ عمل اور طریقۂ کار یہی تھا، لہٰذا قرآن جمع کی صورت میں تعبیر کرتے ہوئے فرماتا ہے: "یقولون..." (وہ کہتے ہیں)۔ اس کے بعد قرآن انہیں دانت شکن جواب دیتے ہوئے کہتا ہے: "عزّت تو خدا، رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور مؤمنین کے لیے مخصوص ہے لیکن منافقین نہیں جانتے۔" (وَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَلٰکِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ)۔ یہ صرف مدینہ کے منافقین ہی نہیں تھے جنہوں نے مؤمن مہاجرین کے مقابلہ میں یہ بات کہی، بلکہ اس سے پہلے سردارانِ قریش بھی مکہ میں یہی بات کہا کرتے تھے: اگر ہم مسلمانوں کے اس چھوٹے سے فقیر گروہ کا اقتصادی محاصرہ کر لیں یا انہیں مکہ سے باہر نکال دیں تو معاملہ ختم ہو جائے گا۔ موجودہ زمانہ میں بھی استعماری اور سامراجی حکومتیں اس خیال سے کہ آسمان و زمین کے خزانے ان کے پاس ہیں، یہ کہتی ہیں کہ وہ قومیں جو ہمارے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرتیں، ان کا اقتصادی محاصرہ کرنا چاہیے تاکہ ان کی عقل ٹھکانے آ جائے اور وہ سرتسلیم خم کر دیں۔ ان تاریخ کے اندھوں کو — جن کا شیوہ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے — اس بات کی خبر نہیں کہ خدا کے ایک ہی اشارہ پر ان کی تمام ثروت اور امکانات تباہ ہو جائیں گے اور ان کی عارضی اور ظاہری عزّت قانونِ فنا کے ہاتھوں برباد ہو گی۔ بہرحال، یہ طرزِ فکر (کہ اپنے آپ کو عزّت دار سمجھنا اور دوسروں کو ذلیل، اپنے آپ کو ولیِ نعمت شمار کرنا اور دوسروں کو محتاج) ایک منافقانہ طرزِ فکر ہے۔ یہ ایک طرف تو غرور و تکبر سے اور دوسری طرف خدا کے مقابلے میں استقلال کے گمان سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر وہ عبودیت کی حقیقت سے آشنا ہوتے اور خدا کی مالکیت کو ہر چیز پر مسلم سمجھتے، تو ہرگز ان خطرناک غلطیوں کا شکار نہ ہوتے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ گزشتہ آیت میں منافقین کے بارے میں"لَا یَفْقَہُوْنَ" (نہیں سمجھتے) کی تعبیر آئی ہے اور یہاں"لَا یَعْلَمُوْنَ" (نہیں جانتے) کی تعبیر آئی ہے۔ تعبیر کا یہ فرق ممکن ہے تکرار سے پرہیز کے لیے ہو، جو فصاحت کے خلاف ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس بنا پر ہو کہ خدا کا تمام آسمانوں اور زمین کے خزائن کا مالک ہونا ایک بہت ہی پیچیدہ مسئلہ ہے، جو بہت زیادہ وقت اور فہم و فراست کا محتاج ہے، جبکہ عزت کا خدا، پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور مومنین کے ساتھ مخصوص ہونا کسی پر مخفی نہیں ہے۔ ****
٢۔ منافقین کا خطرہ
جیسا کہ ہم نے اس بحث کے مقدمہ میں بیان کیا ہے، منافقین ہر معاشرے کے خطرناک ترین افراد ہوتے ہیں کیونکہ: اوّلاً: وہ معاشرے کے اندر رہتے ہوئے تمام بھیدوں سے واقف ہوتے ہیں۔ ثانیاً: انہیں پہچاننا کوئی آسان کام نہیں ہوتا، کیونکہ وہ اکثر اپنے آپ کو اس طرح دوست کے لباس میں پیش کرتے ہیں کہ انسان کو یقین ہی نہیں آتا کہ وہ منافق ہیں۔ ثالثاً: چونکہ ان کا اصلی چہرہ بہت سے لوگوں کے لیے پہچانا ہوا نہیں ہوتا، اس لیے ان سے براہِ راست اُلجھنا اور صریح مبارزہ کرنا مشکل کام ہوتا ہے۔ رابعاً: مومنین کے ساتھ ان کے مختلف قسم کے تعلقات ہوتے ہیں (نسبی، سببی رشتے اور دوسرے تعلقات) اور انہی رشتوں کی وجہ سے ان کے ساتھ مبارزہ پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ خامساً: وہ معاشرے کی پیٹھ میں خنجر گھونپتے ہیں اور ان کی ضربیں غفلت کی حالت میں پڑتی ہیں۔ اسی قسم کی دوسری جہتوں سے بھی معاشروں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتے ہیں اور اسی بناء پر ان کے شر کو دفع کرنے کے لیے دقیق و وسیع پروگرام مرتب کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "اِنِّی لَا أَخَافُ عَلٰی أُمَّتِی مُؤْمِنًا وَلَا مُشْرِکًا، أَمَّا الْمُؤْمِنُ فَیَمْنَعُہٗ إِیْمَانُہٗ، وَأَمَّا الْمُشْرِکُ فَیُخْزِیْہِ اللّٰہُ بِشِرْکِہٖ، وَلٰکِنِّی أَخَافُ عَلَیْکُمْ کُلَّ مُنَافِقٍ عَالِمِ اللِّسَانِ، یَقُوْلُ مَا تَعْرِفُوْنَ وَیَفْعَلُ مَا تُنْکِرُوْنَ۔" "میں اپنی امت کے لیے نہ مومنین سے نہیں ڈرتا اور نہ ہی مشرک سے۔ مومن کو اس کا ایمان ضرر پہنچانے سے روکتا ہے اور مشرک کو اللہ اس کے شرک کی وجہ سے رسوا اور ذلیل کر دیتا ہے۔ لیکن میں تم میں سے اُس منافق سے ڈرتا ہوں جس کی زبان سے علم ٹپکتا ہے (اور اس کے دل میں کفر و جہالت ہے)، وہ ایسی باتیں کرتا ہے جو تمہارے دلوں کو بھلی لگتی ہیں، لیکن (چھپ کر) ایسے اعمال انجام دیتا ہے جو قبیح اور برے ہیں۔" [بحوالہ: "سفینة البحار"، جلد ٢، صفحہ ٦٠٦، مادہ "نفق"، اسی کے مشابہ نہج البلاغہ، خطبہ ٢٧ میں بھی آیا ہے]۔ منافقین کے بارے میں ہم نے: جلد اول (سورہ بقرہ، آیات ٨ تا ١٦ کے ذیل میں)، جلد ۴ (سورہ توبہ، آیات ٤٣ تا ٤٥ کے ذیل میں)، جلد ۴ (سورہ توبہ، آیات ٦٠ تا ٨٥ کے ذیل میں) اور جلد ۹ (سورہ احزاب، آیات ١٢ تا ١٧ کے ذیل میں) تفصیلی بحث کی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ بہت کم گروہ ایسے ہیں جن کے بارے میں قرآن نے اتنی تفصیل سے بات کی ہو اور ان کی نشانیاں، اعمال اور خطرات بیان کیے ہوں۔ قرآن کا اس سلسلے میں اتنا وسیع بیان منافقین کے حد سے زیادہ خطرے کی دلیل ہے۔ ان آیات میں منافقین کے اعمال اور ان کی گوناگوں نشانیوں کا بیان اسی طرح سے جاری ہے۔ فرماتا ہے: "جب ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ آؤ تاکہ رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تمہارے لیے استغفار کریں، تو وہ اپنے سروں کو استہزاء اور کبر و نخوت کے ساتھ ہلاتے ہیں۔ اور تُو دیکھے گا کہ وہ تیری باتوں سے اعراض کرتے ہوئے تکبر کر رہے ہیں۔" (وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ لَوَّوْا رُؤُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُمْ مُسْتَكْبِرُونَ)۔ ہاں! ان لغزشوں کے مقابلہ میں جو ان سے سرزد ہوتی ہیں اور ان کے پاس توبہ اور تلافی کی فرصت بھی ہوتی ہے، ان کا کبر و غرور انہیں تلافی کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس کا واضح نمونہ "عبد اللہ بن اُبی" تھا، جس کا عجیب و غریب ماجرا شانِ نزول میں بیان ہوا ہے۔ جس وقت اُس نے وہ قبیح اور ناروا باتیں پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور مومن مہاجرین کے بارے میں کہیں: "جب ہم مدینہ کی طرف پلٹ کر جائیں گے تو عزت والے ذلیلوں کو باہر نکال دیں گے — اس پر قرآنی آیات نازل ہوئیں اور اس کی شدید مذمت ہوئی۔ لوگوں نے اُس سے کہا کہ وہ رسولِ خدا کے پاس آئے تاکہ حضور (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اس کے لیے بارگاہِ خداوندی سے بخشش طلب کریں، مگر اُس نے ایک اور ناروا بات کہی، جس کا ماحصل یہ تھا: "تم نے کہا ایمان لے آؤ، میں ایمان لے آیا۔ تم نے کہا زکوٰۃ دو، میں نے زکوٰۃ دی۔ اب بجز اس کے کوئی چیز باقی نہیں رہی کہ کہو محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے لیے سجدہ کر!" یہ بات واضح ہے کہ روحِ اسلام حق کے سامنے سرِتسلیم خم کرنا ہے اور کبر و غرور ہمیشہ اس تسلیم میں رکاوٹ ہے۔ اسی بناء پر منافقین کی ایک نشانی، بلکہ اسی غرور، خودخواہی اور خود کو برتر سمجھنے ہی کو نفاق کا ایک سبب شمار کیا جا سکتا ہے۔ "لَوَّوْا"، "لی" کے مادہ سے اصل میں "رسی کو بل دینے" کے معنی میں ہے۔ اور اسی مناسبت سے منہ پھیرنے یا سر کو حرکت دینے اور ہلانے کے معنی میں بھی آیا ہے۔ "یَصُدُّونَ" جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں، دو معانی میں استعمال ہوتا ہے: (١) منع کرنا۔ (٢) اعراض کرنا۔ زیرِ بحث آیت میں دوسرا معنی اور گزشتہ آیت میں پہلا معنی مناسب ہے۔ **** بعد والی آیت میں ہر قسم کے ابہام کو دور کرنے کے لیے مزید کہتا ہے: "بالفرض اگر وہ تیرے پاس آئیں اور تُو ان کے لیے استغفار بھی کر لے، تو ان میں بخشش کے اسباب موجود ہی نہیں ہیں۔ اس بناء پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تُو ان کے لیے استغفار کرے یا نہ کرے، خدا انہیں ہرگز نہیں بخشے گا۔" (سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ لَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ)۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ "خدا فاسق قوم کو ہدایت نہیں کرتا"۔ (إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ)۔ دوسرے لفظوں میں، پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی استغفار بخشش کے لیے علتِ تامہ نہیں، بلکہ مقتضیٰ ہے۔ یہ صرف اسی صورت میں اثر کرتی ہے جبکہ موافق اسباب اور ضروری قابلیت فراہم ہو۔ اگر وہ واقعاً توبہ کر لیں، اپنی راہ کو بدلیں، کبر و غرور کی سواری سے اتر آئیں اور حق کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں، تو پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی استغفار یقیناً مؤثر ہے۔ اس صورت کے علاوہ کچھ بھی اثر نہ ہو گا۔ اسی معنی کے مشابہ سورۃ توبہ کی آیت ۸۰ میں بھی آیا ہے، جو منافقین کے ایک اور گروہ کے بارے میں کہتی ہے: "هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنْفِقُوا عَلَىٰ مَنْ عِندَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّىٰ يَنْفَضُّوا وَلِلَّهِ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ۔" "چاہے تم ان کے لیے استغفار کرو یا نہ کرو، اس کا کوئی اثر نہیں ہو گا۔ اگر تم ستر مرتبہ بھی ان کے لیے استغفار کرو گے تب بھی خدا ان کو نہیں بخشے گا۔ کیونکہ وہ خدا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے منکر ہو گئے ہیں اور خدا فاسق قوم کو ہدایت نہیں کرتا۔" یہ بات واضح ہے کہ ستر کا عدد تکثیر کے لیے ہے — یعنی چاہے جتنی مرتبہ بھی ان کے لیے استغفار کرو، کوئی فائدہ نہیں ہے یہ نکتہ بھی معلوم ہے کہ فاسق سے مراد ہر قسم کا گناہگار نہیں ہے، کیونکہ پیغمبر گناہگاروں کی نجات کے لیے ہی آئے ہیں، بلکہ اس سے مراد وہ گنہ گار ہیں جو گناہوں پر اصرار کرتے ہیں، ہٹ دھرم ہیں اور حق کے مقابلے میں سرکش ہیں۔ **** اس کے بعد ان کی ایک بہت ہی بری بات کی طرف، جو ان کے نفاق کی واضح ترین نشانی شمار ہوتی ہے، اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: "یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں ان افراد پر جو رسولِ خدا کے پاس ہیں کچھ خرچ نہ کرو اور اپنے مال و امکانات کو ان کے اختیار میں نہ دو تاکہ وہ پراگندہ ہو جائیں۔" (هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنْفِقُوا عَلَىٰ مَنْ عِندَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّىٰ يَنْفَضُّوا)۔ "وہ اس بات سے غافل ہیں کہ آسمانوں اور زمین کے تمام خزانے خدا ہی کے لیے ہیں، لیکن منافقین سمجھتے نہیں ہیں۔" (وَلِلَّهِ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ)۔ **** یہ بدبخت نہیں جانتے کہ ہر شخص کے پاس جو کچھ ہے وہ خدا ہی کا دیا ہوا ہے اور تمام بندے اسی کے خوان سے روزی کھاتے ہیں۔ اگر انصار مہاجرین کو پناہ دے سکتے ہیں اور انہیں اپنے مال میں حصہ دار اور شریک بنا سکتے ہیں تو یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے جو انہیں نصیب ہے۔ لہٰذا انہیں نہ صرف یہ کہ احسان نہیں جتانا چاہیے بلکہ خدا کا اس عظیم توفیق پر شکر ادا کرنا چاہیے۔ لیکن جیسا کہ شانِ نزول میں بیان ہوا ہے، منافقین کی منطق کچھ اور ہی تھی۔ اس کے بعد ان کی ایک اور نفرت انگیز بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "يَقُولُونَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ۔" یہ وہی گفتگو ہے جو عبد اللہ بن اُبی کے آلودہ دہن سے نکلی اور اس کی مراد یہ تھی کہ ہم مدینہ کے رہنے والے رسولِ اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور مؤمن مہاجرین کو مدینہ سے باہر نکال دیں گے۔ مدینہ کی طرف لوٹنے سے مُراد غزوۂ "بنی المصطلق" سے لوٹنا تھا اور اس کی طرف شانِ نزول میں تفصیل کے ساتھ اشارہ ہو چکا ہے۔ اگرچہ یہ بات صرف ایک ہی شخص نے کہی تھی، لیکن چونکہ سب منافقین کا طرزِ عمل اور طریقۂ کار یہی تھا، لہٰذا قرآن جمع کی صورت میں تعبیر کرتے ہوئے فرماتا ہے: "یقولون..." (وہ کہتے ہیں)۔ اس کے بعد قرآن انہیں دانت شکن جواب دیتے ہوئے کہتا ہے: "عزّت تو خدا، رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور مؤمنین کے لیے مخصوص ہے لیکن منافقین نہیں جانتے۔" (وَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَلٰکِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ)۔ یہ صرف مدینہ کے منافقین ہی نہیں تھے جنہوں نے مؤمن مہاجرین کے مقابلہ میں یہ بات کہی، بلکہ اس سے پہلے سردارانِ قریش بھی مکہ میں یہی بات کہا کرتے تھے: اگر ہم مسلمانوں کے اس چھوٹے سے فقیر گروہ کا اقتصادی محاصرہ کر لیں یا انہیں مکہ سے باہر نکال دیں تو معاملہ ختم ہو جائے گا۔ موجودہ زمانہ میں بھی استعماری اور سامراجی حکومتیں اس خیال سے کہ آسمان و زمین کے خزانے ان کے پاس ہیں، یہ کہتی ہیں کہ وہ قومیں جو ہمارے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرتیں، ان کا اقتصادی محاصرہ کرنا چاہیے تاکہ ان کی عقل ٹھکانے آ جائے اور وہ سرتسلیم خم کر دیں۔ ان تاریخ کے اندھوں کو — جن کا شیوہ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے — اس بات کی خبر نہیں کہ خدا کے ایک ہی اشارہ پر ان کی تمام ثروت اور امکانات تباہ ہو جائیں گے اور ان کی عارضی اور ظاہری عزّت قانونِ فنا کے ہاتھوں برباد ہو گی۔ بہرحال، یہ طرزِ فکر (کہ اپنے آپ کو عزّت دار سمجھنا اور دوسروں کو ذلیل، اپنے آپ کو ولیِ نعمت شمار کرنا اور دوسروں کو محتاج) ایک منافقانہ طرزِ فکر ہے۔ یہ ایک طرف تو غرور و تکبر سے اور دوسری طرف خدا کے مقابلے میں استقلال کے گمان سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر وہ عبودیت کی حقیقت سے آشنا ہوتے اور خدا کی مالکیت کو ہر چیز پر مسلم سمجھتے، تو ہرگز ان خطرناک غلطیوں کا شکار نہ ہوتے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ گزشتہ آیت میں منافقین کے بارے میں"لَا یَفْقَہُوْنَ" (نہیں سمجھتے) کی تعبیر آئی ہے اور یہاں"لَا یَعْلَمُوْنَ" (نہیں جانتے) کی تعبیر آئی ہے۔ تعبیر کا یہ فرق ممکن ہے تکرار سے پرہیز کے لیے ہو، جو فصاحت کے خلاف ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس بنا پر ہو کہ خدا کا تمام آسمانوں اور زمین کے خزائن کا مالک ہونا ایک بہت ہی پیچیدہ مسئلہ ہے، جو بہت زیادہ وقت اور فہم و فراست کا محتاج ہے، جبکہ عزت کا خدا، پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور مومنین کے ساتھ مخصوص ہونا کسی پر مخفی نہیں ہے۔ ****
٣۔ منافق بےاخلاص اور ٹوٹنے والا ہے
زندگی میں بہت سے طوفان اُٹھتے ہیں اور تُند و تیز لہریں اُبھرتی ہیں۔ مومنین ایمان و توکّل کی قوّت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے صحیح منصوبوں کے ذریعہ کبھی جنگ و گریز اور کبھی پے در پے حملے کر کے انہیں سر سے گزار کر کامیاب ہو جاتے ہیں، لیکن منافق ہٹ دھرمی کرتے ہوئے اکڑ کر کھڑا ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ ٹوٹ کر بےبس ہو جاتا ہے۔ ایک حدیث میں پیغمبر گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آیا ہے: "مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الزَّرْعِ، لَا تَزَالُ الرِّيحُ تُمِيلُهُ، وَلَا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصِيبُهُ الْبَلَاءُ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ شَجَرَةِ الْأَرْزِ، لَا تَهْتَزُّ حَتَّى تَسْتَحْصِدَ۔" "مومن زراعت کی شاخوں کی طرح ہے، جنہیں ہوائیں گرا دیتی ہیں، لیکن وہ پھر کھڑی ہو جاتی ہیں، اور ہمیشہ سخت حادثات اور بلاؤں کو برداشت کرتی اور سر سے گزار دیتی ہیں۔ لیکن منافق صنوبر کے درخت کی مانند ہوتا ہے جو نرمی دکھائے بغیر کھڑا رہتا ہے، یہاں تک کہ اُسے جڑ سے اُکھاڑ کر پھینک دیا جائے۔" [بحوالہ: "صحیح مسلم" جلد ٤، صفحہ ٢١٦٣ (باب مثل المؤمن کالزرع)، اسی مضمون کے مشابہ تھوڑے سے فرق کے ساتھ تفسیر روح البیان، جلد ٩، صفحہ ٥٣٢ میں بھی آیا ہے]۔
٤۔ عزت خدا اور اس کے دوستوں کے لیے مخصوص ہے
اگرچہ روزمرّہ کی فارسی (اور اردو زبان میں) عزّت، آبرو، احترام اور گرانقدر ہونے کے معنی میں ہے، لیکن عربی زبان میں ایسا نہیں ہے، بلکہ "عزّت" شکست ناپذیر قوّت کے معنی میں ہے۔ قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ اوپر والی آیات اور سورۂ فاطر کی آیت ١٠ میں "عزّت" کی صفت خدا میں منحصر شمار کی گئی ہے اور وہ زیرِ بحث آیات میں یہ اضافہ کرتا ہے: "اور اس کے رسول اور مومنین کے لیے ہے"، کیونکہ خدا کے اولیاء اور دوست اسی عزّت کا پرتو رکھتے اور اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے اسلامی روایات میں اس مسئلہ پر تاکید ہوئی ہے کہ مومن کو اپنی ذات کے وسائل فراہم نہیں کرنے چاہئیں۔ خدا چاہتا ہے کہ مومن عزیز رہے، تو پھر اُسے بھی اس عزّت کی حفاظت کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے اسی آیت ﴿وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ﴾ کی تفسیر میں آیا ہے: فَالْمُؤْمِنُ يَكُونُ عَزِيزًا وَلَا يَكُونُ ذَلِيلًا... الْمُؤْمِنُ أَعَزُّ مِنَ الْجَبَلِ، إِنَّ الْجَبَلَ يُسْتَقَلُّ مِنْهُ بِالْمَعَاوِلِ، وَالْمُؤْمِنُ لَا يُسْتَقَلُّ مِنْ دِينِهِ شَيْءٌ۔ "مؤمن عزیز ہے اور وہ ذلیل نہیں ہوتا۔ مؤمن پہاڑ سے بھی زیادہ سخت اور مستحکم ہوتا ہے، کیونکہ پہاڑ میں تو کدال سے سوراخ کرنا ممکن ہے، لیکن مؤمن کے ایمان میں سے ہرگز کسی چیز کو ہلایا نہیں جا سکتا۔" [بحوالہ: "کافی"، مطابق نقل نور الثقلین، جلد ٥، صفحہ ٣٣٦]۔ ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام ہی سے آیا ہے: لَا يَنْبَغِي لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يُذِلَّ نَفْسَهُ۔ قِيلَ لَهُ: وَكَيْفَ يُذِلُّ نَفْسَهُ؟ قَالَ: يَتَعَرَّضُ لِمَا لَا يُطِيقُ۔ "مناسب نہیں ہے کہ مؤمن اپنے آپ کو ذلیل کرے۔ سوال کیا گیا: وہ اپنے آپ کو کس طرح ذلیل کرتا ہے؟ فرمایا: ایسے کام کے پیچھے جائے جو اس سے نہیں ہو سکتا۔" [بحوالہ: "کافی"، مطابق نقل نور الثقلین، جلد ٥، صفحہ ٣٣٦]۔ ایک اور حدیث میں بھی اُنہی سے آیا ہے: إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَوَّضَ إِلَى الْمُؤْمِنِ أُمُورَهُ كُلَّهَا، وَلَمْ يُفَوِّضْ إِلَيْهِ أَنْ يُذِلَّ نَفْسَهُ۔ أَلَا تَرَى قَوْلَ اللَّهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى هَاهُنَا: ﴿وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ﴾؟ فَالْمُؤْمِنُ يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ عَزِيزًا، وَلَا يَكُونَ ذَلِيلًا۔ "خدا نے مؤمن کے تمام کام خود اس کے سپرد کر دیے ہیں، لیکن خدا نے اس کو اس بات کی اجازت نہیں دی کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل و خوار کرے۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ خدا نے اس سلسلہ میں یہ فرمایا ہے: عزّت خدا، اس کے رسول اور مؤمنین کے لیے ہی مخصوص ہے۔ لہٰذا مؤمن کے لیے یہی بات مناسب اور لائق ہے کہ وہ ہمیشہ عزیز رہے اور ذلیل و خوار نہ ہو۔" [بحوالہ: "کافی"، مطابق نقل نور الثقلین، جلد ٥، صفحہ ٣٣٦]۔ اس سلسلہ میں ہم نے جلد ۱۰، سورہ فاطر آیت ١٠ کے ذیل میں بھی بحث کی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: مال اور اولاد تمہیں خدا کی راہ سے غافل نہ کر دیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 9چونکہ نفاق کا ایک اہم عامل حُبِّ دنیا اور مال و اولاد سے بہت زیادہ لگاؤ ہے، لہٰذا سورۂ منافقون کی ان آخری آیات میں مومنین کو اس قسم کے اندھے لگاؤ سے باز رکھتے ہوئے کہتا ہے: "اے ایمان لانے والو! تمہارے مال اور اولاد تمہیں ذکرِ خدا سے غافل نہ کر دیں۔" (یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ)۔ "اور جو ایسا کریں گے وہی خسارے میں رہنے والے ہیں۔" (وَمَنْ يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ یہ ٹھیک ہے کہ اموال اور اولاد عطیاتِ خداوندی میں سے ہیں، لیکن اس حد تک کہ خدا کی راہ اور سعادت کے حصول کے لیے اُن سے مدد لی جائے۔ لیکن اگر ان کے ساتھ اتنا زیادہ لگاؤ ہو جائے کہ وہ انسان اور خدا کے درمیان رکاوٹ بن جائیں، تو پھر وہ سب سے بڑی بلا شمار ہوں گے۔ اور جیسا کہ منافقین کی داستان سے متعلق گزشتہ آیات میں ہم نے دیکھ لیا ہے کہ ان کے انحراف کا ایک عامل یہی حبِّ دنیا تھا۔ ایک حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے اس مطلب کو انتہائی واضح صورت میں پیش کیا گیا ہے، جس میں آپ فرماتے ہیں: "مَا ذِئْبَانِ ضَارِيَانِ فِي غَنَمٍ لَيْسَ لَهَا رَاعٍ، أَحَدُهُمَا فِي أَوَّلِهَا وَالآخَرُ فِي آخِرِهَا، بِأَسْرَعَ فِيهَا مِنْ حُبِّ الْمَالِ وَالشَّرَفِ فِي دِينِ الْمُؤْمِنِ" "دو درندہ بھیڑیے بغیر چرواہے کے بھیڑوں کے گلہ میں ہوں، جن میں سے ایک اُس کے آگے اور دوسرا پیچھے ہو، وہ اس قدر ضرر نہیں پہنچاتے جتنا مال پرستی اور جاہ طلبی مومن کے دین کو ضرر پہنچاتی ہے"۔ [بحوالہ: "اصولِ کافی"، جلد ۲، باب "حب الدنیا"، حدیث ۳]۔ یہاں ذکرِ خدا سے کیا مراد ہے؟ اس بارے میں مفسرین نے کئی احتمال ذکر کیے ہیں۔ بعض نے پانچ وقت کی نمازوں سے، بعض نے شکرِ نعمت، مصیبتوں پر صبر اور قضا پر راضی رہنے سے اور بعض نے حج، زکوٰۃ اور تلاوتِ قرآن سے اور بعض نے تمام فرائض سے تعبیر کی ہے۔ لیکن واضح ہے کہ ذکرِ خدا ایک وسیع معنی رکھتا ہے جو ان سب کو اور ان کے علاوہ دوسرے امور کو بھی شامل ہے۔ اس بناء پر اوپر والے امور سے تفسیر کرنا واضح مصادیق کے ذکر کی قسم سے ہے۔ "خاسرون" (زیان کاروں) کی تعبیر اس بناء پر ہے کہ دنیا کی محبت انسان کو اس طرح سرگرم کر دیتی ہے کہ وہ اپنے وجود کے سرمایوں کو ناپائیدار لذتوں کی راہ میں اور بعض اوقات اوہام و خیالات کی راہ میں صرف کر دیتا ہے۔ وہ اس دنیا سے خالی ہاتھ جاتا ہے، حالانکہ اس کے پاس عظیم سرمایہ موجود تھا، لیکن اس نے اپنی جاودانی زندگی کے لیے کچھ نہیں کیا۔ **** اس کے بعد مومنین کو اس شدید خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے راہِ خدا میں انفاق کرنے کا حکم صادر کرتے ہوئے فرماتا ہے:" اور جو روزی ہم نے تمہیں دی ہے اس میں سے خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کی موت آ پہنچے اور وہ کہے: "پروردگارا! تو نے میری موت میں تھوڑی سی مہلت کیوں نہ دی تاکہ میں صدقہ دوں اور صالحین میں شامل ہو جاؤں۔" (وَأَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوْلَا أَخَّرْتَنِي إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُن مِّنَ الصَّالِحِينَ) [تشریحی نوٹ: قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اوپر والی آیت میں "أَصَّدَّقَ" منصوب ہے اور "أَكُنْ" مجزوم ہے، حالانکہ ان کا ایک دوسرے پر عطف ہے۔ یہ اس بناء پر ہے کہ "أَكُنْ" کا عطف "أَصَّدَّقَ" کی جگہ پر ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے:"إِنْ أَخَّرْتَنِي أَصَّدَّقَ وَأَكُنْ مِنَ الصَّالِحِينَ]۔ اگرچہ بعض نے یہاں انفاق کی تفسیر ادائے زکوٰۃ میں تعجیل کے وجوب کے معنی میں کی ہے، لیکن یہ بات واضح ہے کہ آیت کا مقصد ہر قسم کے واجب و مستحب انفاق کو شامل ہے جو آخرت میں انسان کی نجات کا ذریعہ ہے۔ یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ آیت کے ذیل میں کہتا ہے: "میں انفاق کروں اور صالحین میں سے ہو جاوں۔" یہ تعبیر انسان کے صالح ہونے میں انفاق کی گہری اور عمیق تاثیر کو بیان کرتی ہے۔ اگرچہ بعض نے یہاں صالح ہونے کی تفسیر "مراسمِ حج" انجام دینے سے کی ہے اور بعض روایات میں بھی یہ صراحت کے ساتھ آیا ہے، لیکن یہ بھی واضح مصداق کی قسم سے ہے۔ "مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ" کا جُملہ انسان کے آستانۂ موت پر پہنچنے اور اس کی علامات کے ظاہر ہونے کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ یہ بات موت کے بعد نہیں کہے گا، بلکہ موت کی چوکھٹ پر کہے گا۔ "مِمَّا رَزَقْنَاكُمْ۔" (ہم نے جو روزی تمہیں دے رکھی ہے اس میں سے) کی تعبیر، اس بات کے علاوہ کہ یہ صرف مال میں منحصر نہیں بلکہ تمام موہبتوں اور نعمتوں کو اپنے دامن میں لیے ہوئے ہے، اس حقیقت کو بھی بیان کرتی ہے کہ یہ سب کچھ کسی دوسری جانب سے ملا ہے اور یہ امانت چند دن کے لیے ہمارے پاس ہے۔ اس بنا پر بخل کرنے کے کیا معنی؟ بہرحال، بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اُس وقت جبکہ وہ برزخی آنکھ سے دیکھنے لگتے ہیں اور خود کو زندگی کے آخری لمحات میں قیامت کی چوکھٹ پر دیکھتے ہیں، غفلت کے پردے اور بےخبری کے حجاب ان کی آنکھوں کے سامنے سے ہٹ جاتے ہیں۔ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ انہیں اموال اور سرمایوں کو چھوڑ کر جانا پڑے گا اور اب وہ اس میں سے طویل سفر کے لیے کوئی زادِ راہ بھی نہیں لے سکتے، تو وہ پشیمان ہوتے ہیں اور حسرت کی آگ ان کی جان میں لگ جاتی ہے۔ پھر وہ زندگی کی طرف لوٹنے کا تقاضا کرتے ہیں، چاہے وہ لوٹنا کتنا ہی مختصر اور جلدی سے گزر جانے والا ہی کیوں نہ ہو، تاکہ وہ تلافی کر سکیں۔ لیکن ان کی اس التجا کو ٹھکرا دیا جائے گا کیونکہ سنتِ الٰہی یہ ہے کہ موت کے راستے میں بازگشت نہیں ہوتی۔ **** اسی لیے آخری آیت میں پوری قاطعیت کے ساتھ فرماتا ہے: "جب کسی کی اجل آ پہنچتی ہے تو خدا ہرگز کسی کی موت کو تاخیر میں نہیں ڈالتا۔" (وَلَنْ يُؤَخِّرَ اللَّهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا)۔ یہاں تک کہ ایک لمحہ کے لیے بھی آگے یا پیچھے نہیں ہو گی، جیسا کہ قرآن کی کئی دوسری آیات میں بھی اس امر کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ سورۂ اعراف کی آیت ۳۴ میں آیا ہے: "فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ۔" (جب ان کی اجل آ جائے گی تو وہ نہ تو ایک ساعت کے لیے تاخیر کر سکیں گے اور نہ ہی پیش قدمی ہو سکے گی)۔ انجامِ کار آیت کو اس جُملے کے ساتھ ختم کرتا ہے: "جو عمل بھی تم انجام دیتے ہو، خدا اس سے آگاہ ہے۔" (وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ)۔ ان سب اعمال کو جزا و سزا کے لیے ثبت کر لیا گیا ہے اور تمہیں ان سب کا بدلہ ملے گا۔ ****
چند نکات: ١۔ پریشانیوں پر غلبہ کی راہ
عالمِ بزرگ شیخ عبد اللہ شوشتری، جو مرحوم علامہ مجلسی کے معاصرین میں سے تھے، ان کے حالات میں آیا ہے کہ ان کا ایک بیٹا تھا جس سے وہ بہت ہی محبت کرتے تھے۔ یہ بیٹا سخت بیمار ہو گیا۔ اس کے والد مرحوم شیخ عبد اللہ جب نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد میں آئے تو پریشان تھے۔ جب اسلامی دستور کے مطابق دوسری رکعت میں سورۂ منافقون پڑھی اور اس آیت پر پہنچے: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ۔" (اے ایمان لانے والو! تمہارے مال اور اولاد تمہیں یادِ خدا سے غافل نہ کر دیں)۔ تو اس آیت کی کئی بار تکرار کی (نماز میں آیاتِ قرآن کی تکرار جائز ہے)۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو بعض دوستوں نے اس تکرار کا سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا: "جب میں اس آیت پر پہنچا تو مجھے اپنا بیٹا یاد آ گیا، لہٰذا میں اس آیت کی تکرار کے ذریعے اپنے نفس سے مبارزہ کرنے کے لیے کھڑا ہو گیا۔ میں نے اِس طرح سے مبارزہ کیا کہ میں نے فرض کر لیا کہ میرا بیٹا مر گیا ہے اور اس کا جنازہ میرے سامنے ہے اور میں خدا سے غافل نہیں ہوں، چنانچہ اس کے بعد پھر میں نے آیت کی تکرار نہیں کی۔" [بحوالہ: "سفینة البحار" جلد ۲، صفحہ ۱۳۱ (مادہ عبد) اس عالمِ بزرگوار نے، جو مختلف علوم میں صاحبِ نظر اور صاحبِ اثر تھے، ماہِ محرم کی چھبیسویں رات ۱۰۲۱ھ، صبح کے وقت نمازِ تہجد کے وقت وفات پائی۔ مرحوم سید داماد نے علماء کی ایک جماعت کے ساتھ ان کی نمازِ جنازہ پڑھی]۔
٢۔ نِفاق "اِعتقادِی" و "عملی"
نفاق ایک وسیع معنی رکھتا ہے جو ہر قسم کی ظاہر و باطن کی دوگانگی کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ اس کا ظاہری مصداق تو اعتقادی نفاق ہے اور عام طور پر منافقین کے متعلق آیات اسی بارے میں ہیں۔ وہ ایسے لوگوں سے مربوط ہیں جو ظاہر میں تو ایمان کا اظہار کرتے ہیں لیکن دل میں شرک و کفر کو چھپائے رکھتے ہیں۔ لیکن نفاقِ عملی ان لوگوں کے ساتھ تعلق رکھتا ہے جن کا باطنی اعتقاد تو اسلام ہے لیکن وہ اس تعہدِ باطنی کے برخلاف اعمال انجام دیتے ہیں جو اندر اور باہر کے چہرے کی دوگانگی کا پتہ دیتے ہیں۔ مثلاً عہد شکنی، جھوٹ اور امانت میں خیانت کرنا۔ اسی لیے پیغمبر گرامی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے ایک حدیث میں آیا ہے: "ثَلاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقاً وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ: مَنْ إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ۔" "تین چیزیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں بھی ہوں وہ منافق ہے، چاہے وہ روزے رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو اور خود کو مسلمان سمجھتا ہو: جو امانت میں خیانت کرتا ہو، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو اس سے تخلّف کرے" [بحوالہ: "سفینة البحار" جلد ۲، صفحہ ۶۰۵]۔ ایک اور حدیث میں رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے آیا ہے: "ما زاد خشوع الجسد على ما في القلب فهو عندنا نفاق۔" "جو کچھ دل میں ہے اس سے بڑھ کر خضوع و خشوع کرنا ہمارے نزدیک نفاق ہے" [بحوالہ: اصول کافی، جلد ۲ (باب صفة النفاق، حدیث ۶)]۔ ایک دوسری جگہ امام علی بن الحسین علیہما السلام سے آیا ہے: "إنّ المنافق ينهى ولا ينتهي، ويأمر بما لا يأتي۔" "منافق نہی عن المنکر تو کرتا ہے، لیکن خود اسے ترک نہیں کرتا، وہ امر بالمعروف تو کرتا ہے لیکن خود اسے انجام نہیں دیتا۔" [بحوالہ: اصول کافی، جلد ۲ (باب صفة النفاق، حدیث ۶)]۔ عملی نفاق کے شعبوں میں سے شرک و ریاکاری کا مسئلہ بھی ہے جس کی طرف اسلامی روایات میں اشارہ ہوا ہے۔ خداوندا! نفاق کا دامن بہت ہی وسیع و کشادہ ہے اور تیرے لطف و کرم کے بغیر اس سے نجات کی کوئی راہ نہیں ہے۔ تو اس پر پیچ و خم راہ میں ہماری مدد فرما! پروردگارا! ہمیں ایسے لوگوں میں سے قرار دے جو دنیا سے رخصت ہوتے وقت حسرت کی آگ میں نہیں جلتے اور واپس لوٹنے کا تقاضا نہیں کرتے۔ بارِالٰہا! آسمانوں اور زمین کے خزانے تیری ہی ملکیت ہیں اور عزت تجھ سے اور تیرے اولیاء کے ساتھ مخصوص ہے، ہمیں ایمان کی برکت سے عزت والا بنا دے اور اپنے بےپایاں خزانوں میں سے ایک حصہ مرحمت فرما۔ آمین یا رب العالمین!