At-Tin
سُورہ التّین
یہ سُورہ مکّہ میں نازل ہوا اِس میں ۸ آیات ہیں۔
سُورہ "التین" مطالب اور فضیلت
یہ سُورہ حقیقت میں انسان کی خلقتِ زیبا، اور اس کے تکامل و ارتقاء اور انحطاط و پستی کے گرد گھومتا ہے اور یہ مطلب سُورہ کے شروع میں پُر معنی قسموں کے ساتھ شروع ہوا ہے، اور انسان کی نجات اور کامیابی کے عوامل کو شمار کرنے کے بعد آخر میں مسئلہ معاد اور خدا کی حاکمیتِ مطلقہ کی تاکید پر ختم ہوتا ہے۔ ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے آیا ہے: "من قرأھا اعطاہ اللہ خصلتین: العافیة و الیقین مادام فی دار الدنیا، فاذا مات اعطاہ اللہ من الاجر بعدد من قراٴ ھٰذہ السورة صیام یومً!": "جو شخص اس سُورہ کو پڑھے گا جب تک وہ دنیا میں رہے گا خدا اس کو دو نعمتیں عطا کرے گا: سلامتی اور یقین، اور جب دُنیا سے رُخصت ہو جائے گا، تو ان تمام لوگوں کی تعداد کے برابر جنہوں نے اُس سورہ کو پڑھا ہے، اُن سب کے ایک دن کے روزہ کا ثواب اَجر کے طور پر اُسے عطا کرے گا۔" (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ۱۰، ص۵۱۰)۔ یہ سُورہ مکّہ میں نازل ہوا ہے اور آیہ وھٰذ البلد الامین، جس میں اسم اشارہ قریب کے ساتھ مکّہ کے شہر کی قسم کھائی گئی ہے، اس کی دلیل ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 14تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 14تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 14تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 14تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 14تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 14تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر ہم نے انسان کو بہترین صُورت میں پیدا کیا ہے۔
Tafsīr Nemūna · Vol. 14اِس سُورہ کے آغاذ میں بھی چار پُرمعنی قسمیں بیان کی گئی ہیں جو بہت ہی اہم معنی کے بیان کا مقدمہ ہیں۔ فرماتا ہے: "انجیر اور زیتون کی قسم" (وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ)۔ "اور طُور سنسین کی قسم" (وَطُورِ سِينِينَ)۔ (تشریحی نوٹ: بعض نے "سینین" کو "سینہ" کی جمع سمجھا ہے جو درخت کے معنی میں ہے، اور اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ "طور"، "پہاڑ" کے معنی میں ہے، تو اس کا معنی درختوں سے پُر پہاڑ ہو گا، بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ "سینین" ایک زمین کا نام ہے کہ جس پر وہ پہاڑ واقع ہے، بعض نے یہ کہا ہے کہ "سینین" پُربرکت اور خوبصورت کے معنی میں ہے، اور یہ اہلِ حبشہ کی زبان کا لفظ ہے۔ (رُوح المانی، جلد ۳۰، ص ۱۷۳))۔ اور اس امن و امان والے شہر کی قسم (وَهَذَا الْبَلَدِ الْأَمِينِ)۔ "تین" لُغت میں انجیر کے معنی میں ہے اور "زیتون" وہی معروف زیتون ہے جس سے ایک مفید روغنی مادّہ حاصل کیا جاتا ہے۔ اِس بارے میں کہ کیا اس سے انہیں دو مشہور پھلوں کی قسم مُراد ہے یا کسی اور چیز کی، مفسّرین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اگرچہ بعض اس سے انہیں دو مشہور پھلوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں، جو حَد سے زیادہ غذائی اور دوائی خواص کے حامل ہیں، لیکن بعض کا نظریہ یہ ہے کہ اس سے مُراد وہ دو پہاڑ ہیں جن پر شہر دمشق اور بیت المقدس واقع ہیں۔ کیونکہ یہ دونوں مقامات بہت سے انبیاء اور خدا کے بزرگ پیغمبروں کے قیام کی سرزمین ہیں، اور یہ دونوں قسمیں، تیسری اور چوتھی قسموں کے ساتھ، جو مقدس سرزمینوں کی قسمیں ہیں، ہم آہنگ ہیں۔ اور بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ ان دونوں پہاڑوں کو تین اور زیتون اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ ان میں سے ایک پر انجیر کے درخت اُگتے ہیں اور دُوسرے پر زیتون کے درخت۔ اور بعض نے تین کو آدم علیہ السلام کے زمانہ کی طرف اشارہ سمجھا ہے، کیونکہ وہ لباس جو آدم علیہ السلام اور حوّا نے جنّت میں پہنا تھا وہ انجیر کے درختوں کے پتوں کا تھا، اور زیتون کو نوحؑ کے زمانہ کی طرف اشارہ سمجھا ہے، کیونکہ طوفان کے آخری مرحلوں میں نوحؑ نے ایک کبوتر اس مقصد سے چھوڑا تھا، تاکہ پانی کے نیچے سے خشکی کے ظاہر ہونے کو معلوم کرے وہ (کبوتر) زیتون کی ایک شاخ لے کر واپس آیا تو نوحؑ سمجھ گئے کہ طوفان تھم گیا ہے، اور خشکی پانی کے نیچے سے ظاہر ہو گئی ہے۔ (اس لیے زیتون صلح و امنیت کی رمز ہے)۔ بعض "تین" کو اس مسجد نوحؑ کی طرف بھی اشارہ سمجھتے ہیں جو کوہ جودی پر تعمیر کی گئی تھی۔ اور زیتون کو بَیت المقدس کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں۔ ابتدائی نظر میں تو آیت کا ظاہر وہی دو مشہور پھل ہیں، لیکن بعد والی قسموں کی طرف توجہ کرتے ہوئے دو پہاڑ یا موردِ احترام دو مقدّس مراکز ہی مناسب معلوم ہوتے ہیں۔ اسی لیے ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم سے آیا ہے کہ خدا نے شہروں میں سے چار شہروں کو منتخب کیا ہے اور ان کے بارے میں فرمایا ہے: وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِo وَطُورِ سِينِينَo وَهَذَا الْبَلَدِ الْأَمِينِo: "تِین" مدینہ ہے، اور "زیتون" بیت المقدس، "طور سینین" کوفہ ہے اور " وَهَذَا الْبَلَدِ الْأَمِينِ" مکّہ۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر نور الثقلین جلد ۵، ص ۶۰۶، حدیث ۴۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس زمانہ میں کوفہ ایک بڑا شہر نہیں تھا، لیکن اس سرزمین سے دریائے فرات کے گزرنے کی وجہ سے یقینی طور پر بہت سی آبادیاں اس زمانہ میں بھی وہاں بھی موجود تھیں۔ (تواریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام سے پہلے بھی وہاں پر ایک شہر آباد تھا)۔ (دائرۃ المعارف مصاھب، جلد ۲، مادہ کوفہ)۔ "طور سینین" سے مراد ظاہراً وہی "طور سینا" ہے جسے مفسّرین نے اسی مشہور کوہِ "طور" کی طرف اشارہ سمجھا ہے، جو صحرائے سینا میں ہے، اور وہاں زیتون کے پُربار درخت موجود ہیں۔ "سِینا" کو برکتوں والا یا درختوں سے پُر یا خوبصورت پہاڑ سمجھتے ہیں، اور یہ وہی پہاڑ ہے جہاں موسیٰ علیہ السلام مناجات کے وقت گئے تھے۔ بعض نے اسے کوفہ کے نزدیک سرزمین نجف کا ایک پہاڑ بھی سمجھا ہے۔ اور بعض نے تصریح کی ہے کہ "سینین" اور "سینا" ایک ہی چیز ہے، اور اس کا معنی پُر برکت ہے۔ باقی رہا "وَهَذَا الْبَلَدِ الْأَمِينِ" تو یہ یقیناً سرزمینِ مکّہ کی طرف اشارہ ہے، وہ سرزمین جو زمانہ جاہلیّت میں بھی منطقہ امن اور حرم خدا سمجھی جاتی تھی، اور کوئی شخص وہاں دوسرے پر تعرض کا حق نہیں رکھتا تھا، یہاں تک کہ مُجرم اور قاتل بھی جب اس سرزمین میں پہنچ جاتے تھے تو وہ بھی امن میں ہوتے تھے۔ یہ سرزمین اسلام میں حَد سے زیادہ اہمیّت رکھتی ہے، اور انسان تو رہے ایک طرف اس کے جانور، درخت اور پرندے بھی خصوصیّت کے ساتھ امن سے رہنے چاہئیں۔ (تشریحی نوٹ: لفظ "امین" ممکن ہے کہ یہاں "فعیل" بمعنی "فاعل" ہو اور اس کا معنی "ذوالامانۃ" ہو اور یا "فعیل" بمعنی "مفعول" ہو، یعنی وہ سرزمین جس میں لوگ امن میں ہیں)۔ یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ قرآن مجید میں لفظ "تِین" صرف اسی جگہ استعمال ہوا ہے۔ جب کہ لفظ زیتون قرآن مجید میں چھ مرتبہ صراحت کے ساتھ آیا ہے، اور ایک دفعہ اشارہ کی صُورت میں جہاں فرماتا ہے: وَشَجَرَةً تَخْرُجُ مِن طُورِ سَيْنَاءَ تَنبُتُ بِالدُّهْنِ وَصِبْغٍ لِّلْآكِلِينَ، اور وہ درخت جو طور سینا میں اُگتا ہے، اس سے کھانے والوں کے لئے روغن اور سالن فراہم ہوتا ہے۔ (مومنون۔ ۲۰)۔ اَب اگر اِن دونون قسمون (تِین و زیتون) کو ان کے ابتدائی معنی پر محمول کریں، یعنی معروف انجیر و زیتون پر، تو پھر بھی یہ ایک پُرمعنی قسم ہے، کیونکہ: "انجیر" بہت زیادہ غذائی قدر و قیمت کا حامل ہے، اور ہر سن و سال کے لئے ایک مقوی اور غذا سے بھر پور نوالہ ہے، جس میں چھلکا، گٹھلی اور کوئی زائد چیز نہیں ہوتی۔ غذا کے ماہرین کہتے ہیں کہ: انجیر کو بچوں کے لئے طبیعی شکر کے طور پر استعمال کرایا جا سکتا ہے اور ورزش یا محنت مشقّت کرنے والے اور بڑھاپے اور کمزوری میں مبتلا لوگ اپنی غذا کے لئے انجیر سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ "افلاطون" انجیر کو اس قدر دوست رکھتا تھا کہ بعض نے اس کا نام ہی فلسفیوں کا دوست رکھ دیا ہے۔ اور "سقراط" اِس پھل کو فائدہ مند اجزاء کو جذب کرنے والا اور نقصان دہ مادّوں کو دفع کرنے والا سمجھتا تھا۔ "جالنیوس" نے انجیر سے پہلوانوں کے لئے ایک خاص قسم کی غذا تیار کی تھی، روم اور قدیم یونان کے پہلوانوں کو بھی انجیر دیئے جاتے تھے۔ غذا شناس ماہرین کہتے ہیں کہ انجیر میں مختلف قسم کے بہت سے وٹامن اور شکر موجود ہے۔ اور بہت سی بیماریوں میں اس سے ایک دوا کے طور پر فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر جب انجیر اور شہد کو مساوی طور سے مخلوط کر دین تو زخمِ معدہ کے لئے بہت ہی مفید ہے۔ خشک انجیر کا کھانا دماغ کو تقویت دیتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ انجیر میں معدنی عناصر کے وجود کی بنائ پر جو توائے بدن اور خُون میں اعتدال کا سبب بنتے ہیں انجیر ہر سن و سال اور ہر قسم کے حالات میں غذا کے طور پر بہترین پھل ہے۔ ایک حدیث میں امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے آیا ہے: "التین یذھب بالبخر و یشد الفم والعظم، وینبت الشعرو یذھب بالداء ولا یحتاج معہ الی دواء و قال علیہ السلام: التین اشبہ شیء بنبات الجنّۃ: "انجیر منہ کی بدبُو کو دُور کرتا ہے، مُسوڑھوں اور ہڈیوں کو مضبُوط بناتا ہے، بالوں کو اُگاتا ہے درد اور تکلیف کو برطرف کرتا ہے۔ اور اس کے ہوتے ہوئے کسی دوا کی ضرورت نہیں ہے۔ اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ انجیر جنّت کے پھلوں سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ (بحوالہ: 1۔ "کافی" جلد ۶، ص۳۵۸۔ مرحوم علامہ مجلسی نے بحار الانوار، جلد ۶۶، ص ۱۸۴ میں انجیر کے خواص کے بارے میں متعدد روایات نقل کی ہیں)۔ (بحوالہ: 2۔ "اوّلین دانش گاہ و آخرین پیخمبر" جلد ۹، ص ۹۰ سے آگے)۔ باقی رہا "زیتون" تو اس کے بارے میں غذا شناس اور بڑے بڑے ماہرین جنہوں نے سالہا سال تک پھلوں کے مختلف خواص کا مطالعہ کرنے میں اپنی عمریں صرف کی تھیں، زیتون اور اس کے تیل کی حَد سے زیادہ اہمیّت کے قائل ہیں، اور وہ یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ جو لوگ ہمیشہ صحیح و سالم رہنا چاہیں انہیں اس حیاتی اکسیر سے فائدہ اُٹھانا چاہئے۔ روغن زیتون انسان کے جگر کا پکّا اور مخلص دوست ہے۔ اور گُردوں کی بیماریوں، صفرادی پتھریوں اور درد گُردہ اور دردِ جگر کو دُور کرنے اور خشکی کو رفع کرنے کے لئے بہت ہی مؤثر ہے۔ اِسی بناء پر زیتون کے درخت کو قرآن مجید میں شجرہ مبارکہ کہا گیا ہے۔ روغنِ زیتون بھی انواع واقسام کے وٹامن سے سرشار ہے اور اس میں فاسفورس، سلفر، کیلشیم، فیرم، پوٹاشیم اور منگنیز بھی پائی جاتی ہے۔ وُہ مرہم جو روغن زیتون اور لہسن کے ساتھ بنائی جاتی ہے گٹھیا کے دردوں کے لئے مفید بتائی جاتی ہے، پِتّہ کی پتھری روغنِ زیتون کے کھانے سے ختم ہو جاتی ہے۔ (بحوالہ: "اوّلین دانش گاہ و آخرین پیغمبر" جلد ۹، ص ۱۳۰کے بعد)۔ ایک روایت میں امیر المومنین علی علیہ السلام سے آیا ہے: "ما افقربیت یأتدمون بالخل و الزیت و ذالک ادام الانبیاء" "وہ گھر جس میں سِرکہ اور زیتون سالن کے طور پر استعمال ہوتا ہے، وہ کبھی کھانے سے خالی نہ ہو گا اور یہ پیغمبروں کی غذا ہے۔" اور ایک حدیث میں امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے آیا ہے: (بحوالہ: "بحار الانوار" جلد ۶۶، ص ۱۸۰، حدیث۶)۔ "نعم الطعام الزیت: یطیب النکھۃ، ویذھب بالبلغم، ویصفی اللون، ویشدالعصب ویذھب الوصب، ویطفیء الغضب": "روغن زیتون ایک اچھی غذا ہے، منہ کو خوشبودار کرتا ہے، بلغم کو دُور کرتا ہے، چہرے کے رنگ کو صاف کرتا ہے۔ اور تر و تازہ بناتا ہے، اعصاب کو تقویت دیتا ہے، بیماری، درد اور ضعف کو دُور کرتا ہے، اور غصّہ کی آگ کو بُجھاتا ہے۔" (بحوالہ: "بحار الانوار" جلد ۶۶، ص ۱۸۳، حدیث ۲۲)۔ ہم اس بحث کو پیگمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی ایک حدیث کے ساتھ ختم کرتے ہیں، آپؐ نے فرمایا: "کلوا الزیت و ادمنوا بہ فانہ من شجرۃ مبارکۃ": "روغن زیتون کھاؤ اور بدن پر اس کی مالش کرو کیونکہ یہ ایک مبارک درخت سے ہے۔" (بحوالہ: دہی مآخذ، ص ۱۸۲، حدیث ۱۶)۔ اِن چاروں پُرمعنی قسموں کو ذکر کرنے کے بعد جواب قسم پیش کرتے ہوئے اس طرح فرماتا ہے: "یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صُورت اور نظام میں پیدا کیا ہے۔" (لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ)۔ "تقویم" کا معنی کسی چیز کو مناسب صُورت، معتدل نظام اور شائستہ کیفّیت میں لانا ہے۔ اور اس کے مفہوم کی وسعت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا نے انسان کو ہر لحاظ سے موزوں اور شائستہ پیدا کیا ہے، جسم کے لحاظ سے بھی، اور رُوحانی و عقلی لحاظ سے بھی، کیونکہ اس کے وجود میں ہر قسم کی استعداد رکھی گئی ہے اور اُسے ایک بہت ہی عظیم قوس صعودی کو طے کرنے کے لئے آمادہ کیا گیا ہے، اور اس کے باوجود کہ انسان ایک "جرمِ صغیر" ہے، "عالم کبیر" کو اس میں جگہ دی گئی ہے، اور اُسے اس قدر استعدادیں اور شائستگیاں بخشی ہیں کہ وہ وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ "ہم نے بنی آدم کو کرامت و عظمت بکشی ہے۔" (سُورہ اسراء آیہ ۷۰) کی خلقت کے لائق ہو گیا ہے۔ وہی انسان جس کی خلقت کی تکمیل پر فرماتا ہے: فتبارک اللہ احسن الخالقین "پس وہ خدا بہت ہی بزرگ و برتر اور برکتوں والا ہے جو بہترین خلق کرنے والا ہے۔" لیکن یہی انسان ان تمام امتیازات و اعزازات کے ہوتے ہوئے اگر حق کے راستے سے منحرف ہو جائے تو اس طرح سقوط کرتا ہے کہ "أَسْفَلَ سَافِلِينَ" میں جا پہنچتا ہے، اس لئے بعد والی آیت میں فرماتا ہے: "پھر ہم اُسے پست ترین مراحل میں لوٹا دیتے ہیں۔" (ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ)۔ کہتے ہیں کہ ہمیشہ بلند پہاڑوں کے ساتھ بہت ہی گہری گھاٹیاں ہوتی ہیں اور انسان کی اس تکامل و ارتقاء کی قوس صعودی کے ساتھ ہی ایک وحشت ناک قوس نزدلی بھی نظر آتی ہے۔ ایسا کیوں نہ ہو کیونکہ وہ ایک ایسا موجود ہے جو ہر قسم کی استعدادیں رکھتا ہے۔ اگر وہ ان سے صلاح و درستی کے لئے فائدہ اُٹھائے تو افتخار کی بلند ترین چوٹی پر پہنچ جاتا ہے اور اگر ان تمام استعدادوں کو فساد اور خرابی کی راہ پر ڈال دے تو اس سے عظیم ترین مفسدہ پیدا کر دیتا ہے، اور طبیعی طور پر وہ "اسفل السافلین" کی طرف کھینچتا چلا جاتا ہے۔ لیکن بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے: "مگر وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے اعمالِ صالح انجام دیے ہیں وہ اس سے مستثنیٰ ہیں، کیونکہ ان کے لئے ایسا اجر و ثواب ہے جو ختم ہونے والا نہیں ہے۔" (إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ)۔ "ممنون"، "من" کے مادّہ سے یہاں ختم ہونے یا کم ہونے کے معنی میں ہے۔ اسی بناء پر "غیر ممنون" دائمی اور ہر قسم کے نقص سے خالی اجر و ثواب کے معنی میں ہے۔ اور بعض نے یہ کہا ہے کہ منت و احسان سے خالی مراد ہے، لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب نظر آتا ہے۔ "ممنون"، "من" کے مادّہ سے یہاں ختم ہونے یا کم ہونے کے معنی میں ہے۔ اسی بناء پر "غیر ممنون" دائمی اور ہر قسم کے نقص سے خالی اَجر و ثواب کے معنی میں ہے۔ اور بعض نے یہ کہا ہے کہ منت و احسان سے خالی مراد ہے، لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب نظر آتا ہے۔ بعض نے ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ کے جملہ کی بڑھاپے کے دَور کے صعف و ناتوانی اور حد سے زیادہ ہوش کی کمی کے معنی میں تفسیر کی ہے، لیکن اس صورت میں یہ بعد والی آیت کے استثناء کے ساتھ سازگار نہیں ہے۔ اس بناء پر قبل و بعد کی آیات کے مجموعہ کی طرف توجہ کرتے ہوئے وہی پہلی تفسیر ہی درست نظر آتی ہے۔ بعد والی آیت میں ناشکرے اور معاد کے دلائل اور نشانیوں سے بےاعتناء انسان کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے: کیا سبب ہے کہ تو ان تمام دلائل کے باوجود روزِ جزا کی تکذیب کرتا ہے؟! (فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّينِ)۔ ایک طرف تو خُود تیرے وجود کی ساخت اور دوسری طرف اس وسیع و عریض عالم کی عمارت اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ دنیا کی چند روزہ زندگی تیری خلقت اور اس عظیم جہان کی خلقت کا اصل ہدف نہیں ہو سکتی۔ یہ سب کچھ وسیع تر اور کامل تر جہان کے لئے ایک مقدمہ ہے اور قرآن کی تعبیر میں "نشأۃ اُولیٰ" خود "نشأۃ اخری" کی خبر دیتی ہے۔ تو پھر انسان متذکر کیوں نہیں ہوتا۔ وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولَى فَلَوْلَا تَذَكَّرُونَ۔ (واقعہ ۶۲)۔ (بحوالہ: جلد ۱۳ ص ۳۰۶ سے آگے سُورہ واقعہ کی آیات سے استفادہ کرتے ہوئے سات دلیلیں بیان کی گئی ہیں)۔ عالمِ نباتات ہمیشہ اور ہر سال نئے سرے سے موت و حیات کے منظر کو انسان کی آنکھ کے سامنے مجسم کرتا ہے اور جنینی دَور کی پے دَر پے خلقتیں ہر ایک معاد اور ایک نئی زندگی شمار ہوتی ہے۔ ان تمام چیزوں کے باوجود یہ انسان روزِ جزا کا کس طرح انکار کرتا ہے۔ جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس آیت میں مخاطب نوعِ انسان ہے، اور یہ احتمال کہ یہاں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی ذات مخاطب ہے اور مُراد یہ ہے کہ معاد کے دلائل کے باوجود کون شخص یا کون سی چیز تیری تکذیب کر سکتی ہے، بعید نظر آتا ہے۔ اور یہ بھی واضح ہو گیا کہ "دین" سے مراد یہاں آئین و شریعت نہیں ہے، بلکہ وہی جزا اور روزِ جزا ہے۔ اِس کے بعد والی آیت بھی اسی معنی کی گواہ ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے: "کیا خدا بہترین حکم کرنے والا اور فیصلہ کرنے والا نہیں ہے۔" (أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ)۔ اور اگر ہم دین کو کل شریعت اور آئین کے معنی میں لیں تو پھر آیت کا مفہوم و معنی اس طرح ہو گا، "کیا خدا کے احکام و فرامین سب سے زیادہ حکیمانہ اور قابلِ یقین نہیں ہیں"؟ یا یہ کہ انسان کے لئے خدا کی خلقت ہر لحاظ سے حکمت، علم اور تدبیر کے ساتھ آمیختہ ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے پہلا معنی زیادہ مناسب نظر آتا ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سُورہ "والتین" کی تلاوت فرماتے تھے تو جیسے ہی آیہ "أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ" پر پہنچتے تھے تو فرماتے تھے: "بلی وانا علیٰ ذالک من الشاھدین" "ہاں۔ خدا أَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ ہے، اور میں اس بات کا گواہ ہوں۔" (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ۱۰، ص ۵۱۲۔ یہی مضمون تفسیر "رُوح البیان" و "قرطبی" اور "فی ظلال" میں بھی زیر بحث آیت کے ذیل میں آیا ہے)۔ خداوندا! ہم بھی گواہی دیتے ہیں کہ تُو أَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ ہے۔ پروردگارا! تُو نے ہماری خلقت کو بہترین صُورت میں قرار دیا ہے۔ ہمیں توفیق عطا فرما کہ ہمارا عمل اور ہمارے اخلاق بھی بہترین صورت میں ہوں۔ بارِالہٰا! ایمان و عملِ صالح کی راہ کو طے کرنا تیرے لُطف و کرم کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ہم پر اس راہ میں اپنا لُطف و کرم فرما۔ آمین یا ربّ العالمین