Sūra 52 · 49v
Chapter 5249 verses

At-Tur

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
الطور
الطور

سورہ طور

یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۴۹ آیات ہیں۔

سُورہ طُور کے مطالب

یہ سُورہ بھی انہی سورتوں میں سے ہے جس کے مباحث کا زیادہ، ایک طرف تو معاد اور نیک اور پاک لوگوں کی تقدیر کے مسئلہ پر ہے، اور دوسری طرف اس عظیم دن مجرموں اور بدی کرنے والوں سے متعلق ہے، اگرچہ کچھ دوسرے مطالب بھی اس میں مختلف اعتقادی سلسلوں میں نظر آتے ہیں۔ مجموعی طور پر اس سورہ کے مضامین کو چھ حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ١۔اس سورہ کی پہلی آیات، جو پےدرپے قسموں سے شروع ہوتی ہے۔ عذاب الہٰی، قیامت کی نشانیوں، جہنم کی آگ اور کفار کی سزاؤں کے بارے میں بحث کرتی ہیں،آیت ا تا آیت١٦)۔ ٢۔ اس سورہ کا ایک دوسرا حصہ بہشت کی نعمتوں اور قیامت میں مواہب الہٰی جو پرہیزگاروں کے انتظار میں ہیں انہیں تفصیل سے بیان کرتا ہے، اور یکے بعد دیگر ے ان کی طرف توجہ دلاتا ہے، اور حقیقت میں بہشت کی اکثر نعمتوں کا سورہ کے اسی حصہ میں اشارہ ہوا ہے،(آیت ٧١ تا ٢٨)۔ ٣۔ اس سورہ کا تیسرا حصہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت کے بارے میں گفتگو کرتا ہے، اور ان اتہامات کو جو دشمنوں نے ان پر لگائے تھے بیان کرتا ہے، اور مختصر طور پر ان کا جواب دیتا ہے۔ (آیت ٢٩ تا ٣٤)۔ ٤۔چوتھے حصہ میں توحید کے سلسلہ میں گفتگو ہے اور اس مسئلہ کو واضح استدلال کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ (آیت ٣٥ تا ٤٣)۔ ٥۔ سورہ کے اس حصہ میں پھر مسئلہ معاد، اور روز قیامت کی کچھ مخصوص باتوں کی طرف لوٹتا ہے (آیت ٤٤ تا٤٧)۔ ٦۔ آخر میں، سُورہ کے آخری حصہ میں، جو دو سے زیادہ آیات نہیں ہیں، پیغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو، صبر و استقامت، اور پروردگار کی تسبیح و حمد کے احکام اور خدا کی طرف سے حمایت کے وعدے کے ساتھ، گزشتہ مباحث کو ختم کرتا ہے، اور اس طرح سے ایک منظم، جاذب، منطقی اور عاطفی مجموعہ کو تیار کرتا ہے جو سننے والوں کے دلوں کو اپنا مسخر کرتا ہے۔ ضمنی طور پر اس سورہ کا نام "طور" کے ساتھ، اس کی پہلی آیت کی مناسبت سے ہے۔

اس سورت کی تلاوت کی فضیلت

ایک حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "من قرأ سورة الطور کان حقّاً علی اللہ ان یؤمنہ من عذابہ وان ینعمہ فی جنتہ۔ "جوشخص سورئہ طور کی تلاوت کرے تو خدا پر لازم ہے کہ اسے اپنے عذاب سے مامون قرار دے، اوراسے اپنی بہشت کی نعمتوں سے بہرہ ور کرے۔" (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ٩، صفحہ ١٦٢، تفسیر برہان، جلد ٤، صفحہ ٢٤٠)۔ ایک اور حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے منقول ہے: من قرأ سورة الطور جمع اللہ لہ خیر الدنیا و الاخرة "جو شخص سُورہ طور پر کی تلاوت کرے خدا دنیا و آخرت کی بھلائی اس کے لیے جمع کر دے گا۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ٩، صفحہ ١٦٢، تفسیر برہان، جلد ٤، صفحہ ٢٤٠)۔ واضح ہے کہ یہ سب اجر اور عظیم پاداش دنیا و آخرت میں ان لوگوں کے لیے ہے، جو اس تلاوت کو غور و فکر کا وسیلہ اور اس (غور و فکر) کو راہ عمل کے لیے آمادگی کا وسیلہ قرار دے۔

1
52:1
وَٱلطُّورِ
قسم ہے (کوہ) طور کی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
52:2
وَكِتَٰبٖ مَّسۡطُورٖ
اور اس کتاب کی جو لکھی گئی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
52:3
فِي رَقّٖ مَّنشُورٖ
وسیع اورکشادہ صفحہ پر۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
52:4
وَٱلۡبَيۡتِ ٱلۡمَعۡمُورِ
اور بیت المعمور کی قسم۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
52:5
وَٱلسَّقۡفِ ٱلۡمَرۡفُوعِ
اور بلند کی ہوئی چھت کی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
52:6
وَٱلۡبَحۡرِ ٱلۡمَسۡجُورِ
اور طوفانی سمندر کی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
52:7
إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَٰقِعٞ
کہ تیرے پروردگار کا عذاب واقع ہوکر رہے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
52:8
مَّا لَهُۥ مِن دَافِعٖ
اور کوئی چیز اس سے مانع نہیں ہوگی۔

تفسیر بھڑکتے ہوئے سمندر کی قسم

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

یہ سورہ اُن سوروں میں سے ایک اور سورہ ہے جو قسم سے شروع ہوتے ہیں، ایسی قسمیں جو ایک اہم واقعیت کو بیان کرتی ہیں یعنی مسئلہ معاد و قیامت، قبروں سے اُٹھنا اور انسانوں کے اعمال کا محاسبہ۔ اس مسئلہ کی اہمیت اس قدر ہے کہ خدا نے قرآن کی مختلف آیات میں بہت سے مقدسات کے حصوں کی قسم کھائی ہے تاکہ اس دن کی عظمت اور اس کے حتمی طور پر واقع ہونے کو واضح کرے۔ وہ پانچ قسمیں، جو اس سورہ کے آغاز میں نظر آتی ہیں، ایسے سربستہ اور فکرانگیز معانی رکھتی ہیں کہ مفسرین نے ان کی تفسیر میں اِدھر اُدھر ہاتھ پاؤں مارے ہیں۔ فرماتا ہے: "کوہِ طور کی قسم" (وَالطُّورِ)۔ "اور قسم ہے اس کتاب کی جو لکھی گئی ہے" (وَكِتَابٍ مَّسْطُورٍ)۔ "وسیع اور کشادہ صفحہ پر "( فِي رَقٍّ مَّنشُورٍ)۔ "اور بیت المعمور کی قسم" (وَالْبَيْتِ الْمَعْمُورِ)۔ "اور بلند چھت کی قسم" (وَ السَّقْفِ الْمَرْفُوعِ)۔ "اور بھڑکتے ہوئے لبریز سمندر کی قسم" (وَالْبَحْرِ الْمَسْجُورِ)۔ " کہ تیرے پروردگار کا عذاب حتمی طور پر واقع ہو کر رہے گا" (إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ)۔ "اور کوئی چیز اس سے مانع نہیں ہو گی" (مَّا لَهُ مِن دَافِعٍ)۔ "طور" لغت میں "پہاڑ " کے معنی میں ہے، لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ لفظ قرآن مجید کی ۱۰ آیات میں بیان ہوا ہے، جن میں سے ٩ مواقع پر "طورِ سینا" — وہی پہاڑ جہاں موسیٰ پر وحی نازل ہوئی تھی — سے متعلق گفتگو ہے معلوم ہوتا ہے کہ زیر بحث آیت میں (خصوصاً الف و لامِ عہد کی طرف توجہ کرتے ہوئے) یہاں بھی اسی معنی میں ہے۔ اس بنا پر خدا نے پہلے مرحلہ میں روئے زمین کے مقدس مقامات میں سے ایک مقدس مقام کی __ جس میں وحیِ الٰہی نازل ہوئی تھی __ قسم کھائی ہے۔ "کتابِ مسطور" کی تفسیر میں بھی طرح طرح کے احتمال دیئے گئے ہیں۔ بعض نے اسے "لوحِ محفوظ" کی طرف اشارہ سمجھا ہے، اور بعض نے قرآنِ مجید کی طرف، اور بعض نے نامۂ اعمال کی طرف، اور بعض نے اس تورات کی طرف جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی۔ لیکن اس قسم کی مناسبت سے جو اس سے پہلے آئی ہے، یہ تعبیر یا تو تورات کی طرف اشارہ ہے یا سب کتبِ آسمانی کی طرف۔ "رَق" کا لفظ "رقت" کے مادہ سے اصل میں نازک اور لطیف ہونے کے معنی میں ہے۔ اور کاغذ یا اس باریک چمڑے کو بھی کہا جاتا ہے، جس پر کوئی مطلب لکھا جائے۔ اور "منشور" پھیلے ہوئے کے معنی میں ہے (بعض کا نظریہ ہے کہ یہ لفظ درخشندگی اور لَمعان کو بھی اپنے دامن میں لیے ہوئے ہے)۔ اس بناء پر یہ قسم ایسی کتاب کی کھائی گئی ہے جو بہترین صفحات میں سے ایک بہترین صفحہ پر لکھی گئی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ کھلی ہوئی اور کشادہ ہے نہ کہ لپٹی ہوئی۔ "بیت المعمور" کے بارے میں بھی گوناگوں تفاسیر ہوئی ہیں، بعض نے تو اسے ایسے گھر کی طرف اشارہ سمجھا ہے جو آسمانوں میں خانۂ کعبہ کے عین اوپر ہے۔ اور فرشتوں کی عبادت کے ساتھ معمور و آباد ہے۔ یہ معنی ان متعدد روایات میں۔ جو مختلف اسلامی منابع میں آئی ہیں __ نظر آتا ہے۔(بحوالہ: بحار الانوار میں دس سے زیادہ روایات اس سلسلہ میں نقل ہوئی ہیں (جلد ٥٨ ص ٥٥ کے بعد))۔ ایک روایت کے مطابق ہر روز ستر ہزار فرشتے اس کی زیارت کے لیے آتے ہیں، اور دوبارہ کبھی بھی اس کی طرف پلٹ کر نہیں آتے۔ بعض نے اس کی کعبہ اور زمین میں خانۂ خدا سے تفسیر کی ہے جو زوار اور حاجیوں کے ساتھ ہمیشہ معمور اور آباد رہتا ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ یہ پہلا گھر ہے جو روئے زمیں پر عبادت کے لیے بنایا گیا ہے اور آباد ہوا ہے۔ لیکن آیت کا ظاہر پہلے دو معانی میں سے کوئی ہے اور مختلف تعبیروں کی طرف توجہ کرتے ہوئے، جو قرآن میں "کعبہ" کے سلسلہ میں "بیت" کے عنوان سے آئی ہیں، دوسرا معنی زیادہ مناسب نظر آتا ہے۔ باقی رہا "سقف مرفوع" تو اس سے مراد آسمان ہے۔ کیونکہ سورۂ انبیاء کی آیت ۳۲ میں آیا ہے :وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَحْفُوظًا۔ اور ہم نے آسمان کو محفوظ چھت قرار دیا ہے، اور سورۂ نازعات کی آیت ۲۷ اور ۲۸ میں آیا ہے: ءَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاءُ بَنَاهَا: کیا تمہاری نئے سرے سے خلقت زیادہ اہم ہے یا آسمان کی خلقت کہ جسے خدا نے برپا کیا ہے۔ اس کی چھت کو بلند کیا ہے اور اسے منظم و مرتب بنایا ہے۔ "سقف" کی تعبیر ممکن ہے اس لحاظ سے ہو، کہ ستاروں اور آسمانی کرّات نے اس طرح سے سارے آسمان کو ڈھانپ رکھا ہے، کہ وہ چھت کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اطرافِ زمین کی فضا کی طرف اشارہ ہو، کہ ہَوا کے پھیلے ہوئے قشر نے ایک مضبوط چھت کی طرح اس کے اطراف کو گھیر رکھا ہے۔ اور یہ آسمانی پتھروں کے حملوں اور نقصان دہ کیہانی شعاعوں سے اچھی طرح حفاظت کرتی ہے۔ "مسجور" کے لیے لغت میں دو معانی ذکر ہوئے ہیں، ایک "بھڑکنے والا" اور دوسرا "پُر" راغب مفردات میں کہتا ہے کہ "سَجَرَ" (بروزنِ فَجَرَ) آگ کے شعلہ ور ہونے کے معنی میں ہے، اور اوپر والی آیت کو بھی اسی معنی میں سمجھتا ہے، وہ دوسرے معنی کی بات درمیان میں نہیں لایا۔ لیکن مرحوم "طبرسی" نے "مجمع البیان" میں پہلا معنی یہی ذکر کیا ہے، اور بعض کتبِ لغت میں بھی اس کی طرف اشارہ ہوا ہے، قرآن کی دوسری آیات بھی پہلے معنی کی تائید کرتی ہیں، جیسا کہ سورۂ مؤمن کی آیت ۷۱ و ۷۲ میں آیا ہے: يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ: انہیں جلانے والے پانی میں کھینچیں گے، پھر وہ شعلہ اور آگ میں ہوں گے۔" امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے ارشادات میں "حدیدۃ محماۃ" کی داستان میں جو ان کے بھائی عقیل کے ساتھ تھی، یہ بیان ہوا ہے کہ آپؑ نے فرمایا: "أَتَأَنُّ مِنْ حَدِيدَةٍ أَحْمَاهَا إِنْسَانُهَا لِلَعِبِهِ وَتَجُرُّنِي إِلَى نَارٍ سَجَّرَهَا جَبَّارُهَا لِغَضَبِهِ: "کیا اس لوہے سے جسے ایک انسان نے مذاق کے طور پر گرم کیا ہے، تم نالہ و فریاد کر رہے ہو۔ اور مجھے اُس آگ کی طرف کھینچتے ہو، جسے پرورگار نے اپنے غضب سے بھڑکایا ہے؟" (بحوالہ: "نہج البلاغہ"، خطبہ ٢٢٤)۔ لیکن یہ "بحرِ مسجور" اور بھڑکتا ہوا سمندر کہاں ہے؟ بعض نے تو یہ کہا ہے کہ اس سے مراد ہمارے کرۂ زمین کے سمندر بھی مراد ہیں، جو قیامت کے قریب بھڑک اٹھیں گے اور پھر پھٹ جائیں گے، جیسا کہ سورۂ تکویر کی آیت ۶ میں آیا ہے: وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ: "جب دریا بھڑک اٹھیں گے۔" اور سورۂ انفطار آیت ۳ میں پڑھتے ہیں: وَإِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ: جب دریا پھٹ جائیں گے۔ لیکن بعض نے اس کی تفسیر ان معدنی مادّوں کے ساتھ تفسیر کی ہے جو کرۂ زمین کے اندر ہیں۔ ایک حدیث بھی جو تفسیرِ عیاشی میں امام باقر علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے اس معنی پر شاہد ہے، اس حدیث میں آیا ہے کہ "قارون" کو "بحرِ مسجور" میں عذاب ہو رہا ہے، (بحوالہ: نورالثقلین، جلد ۵، صفحہ ۱۳۸)، حالانکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ قرآنِ مجید یہ کہتا ہے: "قارون اور اس کا گھر اور خزانہ زمین کی گہرائیوں میں دھنس گیا۔" ، "فَخَسَفْنَا بِهِ وَبِدَارِهِ الْأَرْضَ" (قصص: ۸۱)۔ یہ دونوں تفسیریں ایک دوسرے کے ساتھ منافات نہیں رکھتیں اور ممکن ہے کہ اُوپر والی آیت میں دونوں کی قسم کھائی گئی ہو کیونکہ دونوں خدا کی آیات اور اس جہان کے عظیم عجائبات میں سے ہیں۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ مفسرین نے ان پانچوں قسموں کے مفہوم کی، ایک دوسرے کے ساتھ ربط کی کیفیت میں کوئی خاص بحث نہیں کی ہے، لیکن نظر یہ آیا ہے کہ پہلی تین قسمیں تو ایک دوسرے کے ساتھ قریبی ربط رکھتی ہیں، کیونکہ وہ سب وحی اور اس کی خصوصیات کی بات کرتی ہیں "کوہِ طور" محلِ نزولِ وحی تھا، اور "کتابِ مسطور" بھی آسمانی کتاب کی طرف اشارہ ہے چاہے وہ تورات ہو یا قرآن، اور "بیت المعمور" فرشتوں اور خدا کے پیکِ وحی کے آنے جانے کا محل ہے۔ لیکن دوسری دو قسمیں آیاتِ "تکوینی" کی بات کرتی ہیں، (پہلی تین قسموں کے مقابلہ میں جو "تشریعی آیات" کی باتیں کرتی ہیں) اور دو قسموں میں سے ایک توحید کی اہم ترین نشانی یعنی باعظمت آسمان کی طرف اشارہ ہے۔ اور دوسرے معاد و قیامت کی ایک اہم نشانی ہے جو قربِ قیامت میں قبروں سے زندہ ہو کر اٹھنے کے وقت رونما ہو گی۔ اس بناء پر ان پانچوں قسموں میں "توحید"، "نبوت اور "معاد" جمع ہے۔ بعض مفسرین جو ان تمام آیات کو "موسیٰ علیہ السلام" اور ان کی سرگذشت کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں، ان آیات کا ایک دوسرے کے ساتھ تعلق اس طرح بیان کرتے ہیں: طور تو وہی پہاڑ ہے جس میں موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل ہوتی تھی، اور "کتابِ مسطور" تورات ہے۔ بیت المعمور فرشتۂ وحی کی آمد و رفت کا مرکز ہے (اور احتمال ہے کہ مراد بیت المقدس ہو) اور سقف مرفوع وہی ہے جو بنی اسرائیل کی داستان میں آیا ہے: وَإِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَأَنَّهُ ظُلَّةٌ: "اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے پہاڑ کو سائبان کی طرح بنی اسرائیل کے سَر پر بلند کیا۔" (اعراف۔ ۱۷۱)۔ اور "بحرِ مسجور" آگ کا وہ سمندر ہے جس میں قارون کو دینِ موسیٰ علیہ السلام کی مخالفت کی بناء پر عذاب ہو رہا ہے۔ لیکن یہ تفسیر بعید نظر آتی ہے، اور ان روایات کے ساتھ بھی جو منابعِ اسلامی میں آئی ہیں سازگار نہیں ہے۔ اور جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے، سقف مرفوع قرآن کی دوسری آیات اور ان روایات کی گواہی سے جو آیت کی تفسیر میں نقل ہوئی ہیں، آسمان کی طرف اشارہ ہے۔ جو نکتہ یہاں باقی رہ جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ان قسموں کا اُس موضوع کے ساتھ جس کے لیے یہ قسمیں کھائی گئی ہیں کیا ربط ہے؟ اس سوال کا جواب ان مطالب کی طرف توجہ کرنے سے جو اوپر بیان ہوئے ہیں واضح ہو جاتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اوپر والی قسمیں، جو عالمِ "تکوین و تشریع" میں خدا کی قدرت کے محور پر گردش کر رہی ہیں، اس حقیقت کو بیان کر رہی ہیں کہ ایسی ذات اس بات پر بخوبی قادر ہے کہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے، اور قیامت برپا کرے، یہ وہی چیز ہے جس کے لیے یہ قسمیں کھائی گئی ہیں، جیسا کہ ان آیات کے آخر میں بیان ہوا ہے: "إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ، مَا لَهُ مِنْ دَافِعٍ۔"

9
52:9
يَوۡمَ تَمُورُ ٱلسَّمَآءُ مَوۡرٗا
(یہ عذاب الٰہی) اس دن آئے گا جب آسمان شدت کے ساتھ ہل رہا ہوگا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
52:10
وَتَسِيرُ ٱلۡجِبَالُ سَيۡرٗا
اور پہاڑ اپنی جگہ سے اکھڑ کر حرکت کررہے ہوں گے

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
52:11
فَوَيۡلٞ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُكَذِّبِينَ
پس وائے ہے اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
52:12
ٱلَّذِينَ هُمۡ فِي خَوۡضٖ يَلۡعَبُونَ
وہی لوگ جو باطل باتوں میں لہو ولعب میں مشغول ہوں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
52:13
يَوۡمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا
وہ دن جب انہیں زبردستی جہنم کی آگ کی طرف دھکیلا جائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
52:14
هَٰذِهِ ٱلنَّارُ ٱلَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ
(اور ان سے کہا جائے گا) یہی ہے وہ آگ جس کا تم انکار کرتے تھے

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

15
52:15
أَفَسِحۡرٌ هَٰذَآ أَمۡ أَنتُمۡ لَا تُبۡصِرُونَ
کیا یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں ہو؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
52:16
ٱصۡلَوۡهَا فَٱصۡبِرُوٓاْ أَوۡ لَا تَصۡبِرُواْ سَوَآءٌ عَلَيۡكُمۡۖ إِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
اس میں داخل ہوجاؤ،اور جلتے رہو، چاہے صبر کرو یا نہ کرو تمہارے لئے کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ تمہیں صرف تمہارے اعمال کی ہی جزا ملے گی۔

تفسیر: تمہاری جزا صرف تمہارے اعمال ہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

گزشتہ آیات میں قیامت میں عذابِ الٰہی کی طرف ایک اجمالی اشارہ ہوا تھا، زیربحث آیات اس معنی کی توضیح و تفسیر ہیں۔ پہلے تو قیامت کی بعض خصوصیات کو بیان کرتا ہے، پھر تکذیب کرنے اور جھٹلانے والوں کے عذاب کی کیفیت کو بیان کرتا ہے۔ فرماتا ہے: "یہ عذابِ الٰہی اس دن آئے گا جب آسمان (آسمانی کرّات) شدت کے ساتھ حرکت کر رہے ہوں گے اور ہر طرف آ جا رہے ہوں گے (يَوْمَ تَمُورُ السَّمَاءُ مَوْرًا)۔ "مور" (بروزنِ قول) لغت میں مختلف معانی میں آیا ہے۔ "راغب"، "مفردات" میں کہتا ہے "مور" تیزی کے ساتھ رواں دواں ہونے کے معنی میں ہے، وہ یہ بھی کہتا ہے کہ اس گرد و غبار کو بھی جسے ہوا ہر طرف لے جاتی ہے "مور" کہتے ہیں۔ "لسان العرب" میں بھی یہ بیان کیا گیا ہے کہ "مور" حرکت اور آنے جانے کے معنی میں ہے، لہروں اور تیزی کے معنی میں بھی آیا ہے اور بعض نے "مور" کی دورانی حرکت سے بھی تفسیر کی ہے۔ ان تفاسیر کے مجموعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ "مور" اسی حرکتِ سریع اور دورانی کو کہتے ہیں جو آمد و رفت اور اضطراب و تموج کے ساتھ ہوتی ہے۔ اس طرح سے کرّاتِ آسمانی پر حکمران نظام، قیامت کے قریب درہم برہم ہو جائے گا، وہ اپنے مداروں سے منحرف ہو جائیں گے اور ہر طرف آمد و رفت کریں گے، پھر انہیں لپیٹ کر تہ کر دیا جائے گا اور ان کی جگہ خدا کے حکم سے ایک نیا آسمان برپا ہو گا، جیسا کہ سورہ انبیاء کی آیت ۱۰۴ میں کہتا ہے: يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ "وہ دن جس میں آسمان کو طومار کی طرح لپیٹ دیں گے۔" اور سورۂ ابراہیم کی آیت ۴۸ میں یہ آیا ہے: يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ "وہ دن جس میں یہ زمین دوسری زمین سے اور یہ آسمان دوسرے آسمانوں سے بدل جائیں گے۔" [تشریحی نوٹ: "یوم"منصوب ہے ظرفیت کے عنون سے اور"واقع"سے متعلق ہے جو گزشتہ آیات میں آیا ہے]۔ قرآن کی دوسری آیات میں بھی ایسی تعبیریں نظر آتی ہیں، جو کرّاتِ آسمانی کے شگافتہ ہونے کی خبر دیتی ہیں۔ (الانفطار-۱) اور ان کے اپنی جگہ سے اکھڑ جانے (تکویر-۱۱) اور ان کے درمیان فاصلہ پڑنے کی (مرسلات-۹) حکایت کرتی ہیں۔ ہم ان شاء اللہ ان آیات کے ذیل میں بھی اس سلسلے میں بحث کریں گے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: " اور وہ دن کہ جس میں پہاڑ حرکت میں آ جائیں گے۔" (وَتَسِيرُ الْجِبَالُ سَيْرًا)۔ ہاں! پہاڑ اپنی جگہ سے اکھڑ جائیں گے اور حرکت کرنے لگیں گے اور اس کے بعد قرآن کی دوسری آیات کی شہادت کی بنا پر بکھر جائیں گے اور "عِهْنٍ المَّنفُوشٍ" (دھنکی ہوئی روئی) کی طرح ہو جائیں گے (القارعة-۵) اور اس کی جگہ ایک صاف اور ہموار بے آب و گیاہ زمین ظاہر ہو گی، فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا (طہ: ۱۰۶)۔ [تشریحی نوٹ: مزید وضاحت کے لیے تفسیر نمونہ جلد ۷ ص ۴۲۳ سورہ طہ کی آیت ۱۰۵ کے ذیل میں رجوع کریں]۔ یہ سب اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ دنیا اور اس کی تمام پناہ گاہیں درہم برہم ہو جائیں گی اور ایک نیا جہان نئے نظاموں کے ساتھ اس کی جگہ لے لے گا اور انسان اپنے اعمال کے نتائج کے روبرو ہو گا۔ لہٰذا اس کے بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے: "جب ایسا ہے تو پھر اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے وائے ہے!" (فَوَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ)۔ [تشریحی نوٹ: "فویل" میں "فا" تفریع کا ہے، یعنی چونکہ اس دن کوئی پناہ گاہ نہیں ہے لہٰذا ان تکذیب کرنے والوں پر وائے ہے]۔ ہاں! جب عالم کی دگرگونی سے پیدا ہونے والے اضطراب اور وحشت نے سب کو گھیر رکھا ہو گا، اس وقت ایک عظیم وحشت مکذبین کو لاحق ہو گی، جو کہ عذابِ الٰہی ہے، کیونکہ "ویل" ایک نامطلوب حادثے کے وقوع پر تاسف و اندوہ کا اظہار ہے۔ اس کے بعد ان مکذبین کا تعارف کراتے ہوئے فرماتا ہے: "وہی لوگ جو باطل باتوں کے ساتھ کھیل کود میں مشغول ہیں" (الَّذِينَ هُمْ فِي خَوْضٍ يَلْعَبُونَ)۔ یہ آیات قرآن کو "جھوٹ" اور پیغمبرﷺ کے معجزات کو جادو کہتے ہیں اور ان کے لانے والے کو "مجنون" شمار کرتے ہیں۔ تمام حقائق کو کھیل تماشا قرار دیتے ہوئے ان کا مذاق اڑاتے اور ٹھٹھا کرتے ہیں۔ باطل اور بےدلیل باتوں کے ساتھ حق سے جنگ کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اپنے مقصد تک پہنچنے کے لیے کسی تہمت اور جھوٹ سے انکار نہیں کرتے۔ "خوض" (بروزنِ حوض) باطل اور غلط باتوں میں وارد ہونے کے معنی میں ہے اور اصل میں پانی میں وارد ہونے اور اس سے عبور کرنے کے معنی میں ہے۔ دوبارہ اس دن کا تعارف اور ان مکذبین کی سرگزشت کے بیان کے لیے ایک دوسری وضاحت کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "وہ دن جس میں وہ خشونت اور سختی کے ساتھ جہنم کی آگ کی طرف ہانکے جائیں گے۔" (يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا)۔ [تشریحی نو"دع" (بروزنِ جد) شدت کے ساتھ دھکیلنے اور خشونت و سختی کے ساتھ ہانکنے کے معنی میں ہے "یوم" ظرفیت کی وجہ سے منصوب ہے یا قبل کی آ یت کے لفظ "یومئذٍ" کا بدل ہے]۔ ان سے کہا جائے گا: "یہ وہی آگ ہے جس کا تم انکار کرتے تھے۔" (هَٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ) اور ان سے یہ بھی کہا جائے گا: "کیا یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے نہیں ہو؟" (أَفَسِحْرٌ هَٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ) تم ہمیشہ دنیا میں یہ کہا کرتے تھے: محمدﷺ جو کچھ لایا ہے وہ جادو ہے، اس نے جادوگری کے ذریعے ہماری آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے تاکہ ہم حقائق کو نہ دیکھیں، ہماری عقل کو ختم کر دیا ہے اور کچھ امور کو معجزہ کے نام سے تعارف کراتا ہے اور کچھ باتیں وحیِ الٰہی کے عنوان سے ہمارے سامنے پڑھتا ہے، لیکن یہ سب چیزیں بےبنیاد ہیں اور جادو کے سوا کچھ نہیں ہیں۔ لہٰذا قیامت کے دن، سرزنش اور توبیخ کے طور پر جب وہ جہنم کی آگ کو دیکھیں گے اور اس کی حرارت کو محسوس کریں گے، ان سے کہا جائے گا، "کیا یہ جادو ہے؟ کیا تمہاری آنکھوں پر پردہ ڈالا گیا ہے؟" اسی طرح ان سے کہا جائے گا: "اس آگ میں داخل ہو جاؤ اور اس میں جلتے رہو، چاہے صبر و شکیبائی کرو یا بیتابی اور گڑگڑاو تمہارے لیے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔" (اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ) کیونکہ تمہارے اعمال کا بدلہ صرف تمہارے اپنے ہی اعمال ہیں: (إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ)۔ ہاں! یہ تمہارے اعمال ہی ہیں جو تمہاری طرف پلٹے ہیں اور تمہارے پاؤں کی زنجیر بن گئے ہیں۔ اس بنا پر گڑگڑانا، آہ و نالہ اور اضطراب و بےتابی کا کوئی اثر نہیں ہو گا۔ یہ آیت "تجسمِ اعمال" کے مسئلے اور ان کے انسان کی طرف بازگشت پر ایک نئی تاکید ہے اور یہ پروردگار کی عدالت کے مسئلے پر بھی ایک تاکیدِ مجدد ہے، کیونکہ جہنم کی آگ چاہے جتنی بھی جلانے والی ہو اور اس کا عذاب چاہے جتنا دردناک ہو وہ خود انسانوں کے اعمال کے نتیجے اور ان کی تبدیل شدہ شکلوں کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے۔

چند اهم نکات: ١۔مجرموں کو دوزخ میں کس طرح لے جائیں گے

اس میں تو شک نہیں کہ انہیں جہنم کی طرف حقارت کے ساتھ، ذلیل کرتے ہوئے جھڑکتے ہوئے اور عذاب کرتے ہوئے لے جایا جائے گا لیکن قرآن کی مختلف آیات میں اس سلسلے میں گوناگوں تعبیریں نظر آتی ہیں۔ سورۂ "حاقہ" کی آیات ۳۰، ۳۱ میں آیا ہے کہ: خُذُوهُ فَغُلُّوهُ ثُمَّ الْجَحِيمَ صَلُّوهُ (اس کو پکڑ لو اور طوق و زنجیر میں جکڑ لو پھر جہنم کی آگ میں ڈال دو)۔ اور سورۂ "دخان" کی آیت ۴۷ میں اس طرح آیا ہے کہ: خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَى سَوَاءِ الْجَحِيمِ (اس کو پکڑ لو اور سختی کے ساتھ اسے جہنم میں دھکیل دو)۔ متعدد آیات میں "سوق" اور ہانکنے کی تعبیر آئی ہے، مثلاً سورۂ مریم کی آیت ۸۶: وَنَسُوقُ الْمُجْرِمِينَ إِلَىٰ جَهَنَّمَ وِرْدًا (ہم مجرموں کو (ان پیاسے اونٹوں کی طرح جنہیں پانی کی جگہ کی طرف لے جایا جاتا ہے) جہنم کی طرف ہانکیں گے)۔ اس کے برعکس، پرہیزگاروں اور متقیوں کو انتہائی احترام و اکرام کے ساتھ بہشت کی طرف لے جایا جائے گا۔ خدا کے فرشتے ان کے استقبال کے لیے آگے بڑھیں گے، بہشت کے دروازے ان کے لیے کھول دیے جائیں گے اور خازنانِ جنت انہیں سلام اور خوش آمدید کہیں گے اور انہیں بہشت میں ہمیشہ ہمیشہ کی سکونت کی بشارت دیں گے (زمر: ۷۳)۔ اس طرح سے بہشت اور دوزخ نہ صرف خدا کی مہر اور قہر کا مرکز ہیں بلکہ اُن میں سے ہر ایک میں داخلہ کے لیے پذیرائی بھی اسی مفہوم کو بیان کرنے والی ہے۔

٢۔ وہ لوگ جو باطل باتوں میں غوطہ زن ہیں

اگرچہ اوپر والی آیات میں، قرآن کا ہدفِ کلام زمانۂ پیغمبر کے مشرکین ہیں لیکن بِلاشک یہ آیات عمومیت رکھتی ہیں اور تمام مکذبین ان میں شامل ہیں، یہاں تک کہ مادی فلاسفہ (سائنسدان) جو مٹھی بھر ناقص خیالات و افکار میں غوطہ زن ہیں، عالمِ ہستی کے حقائق کو کھیل بنائے ہوئے ہیں اور سوائے اس چیز کے جسے وہ اپنی قاصر عقل سے دریافت کرتے ہیں، کسی چیز کو قبول نہیں کرتے۔ وہ اسی بات کی توقع رکھتے ہیں کہ تمام چیزوں کو اپنی آزمائشگاہ میں، دوربین کے ذریعے دیکھیں، یہاں تک کہ خدا کی پاک ذات کو بھی، ورنہ اس کے وجود کو رسمی طور پر قبول نہیں کرتے۔ یہ بھی "فی خوض یلعبون" کے مصداق ہیں اور باطل خیالات و نظریات کے ایک انبوہ میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ انسانی عقل، اپنے تمام تر فروغ کے باوجود، نورِ وحی کے مقابلے میں ایک شمع کے مانند ہے جو آفتابِ عالم تاب کے سامنے روشن ہو۔ یہ شمع اسے اجازت دیتی ہے کہ وہ مادہ کے تاریک ماحول سے نکل کر، ماوراءِ طبیعت عالم کی طرف دروازہ کھولے، پھر آفتابِ وحی کے نور میں ہر طرف پرواز کرے اور بےکراں جہان کو دیکھے اور پہچانے۔

17
52:17
إِنَّ ٱلۡمُتَّقِينَ فِي جَنَّـٰتٖ وَنَعِيمٖ
لیکن پرہیز گار جنت کے باغوں اور فراواں نعمتوں میں ہوں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 21 کے تحت ملاحظہ کریں۔

18
52:18
فَٰكِهِينَ بِمَآ ءَاتَىٰهُمۡ رَبُّهُمۡ وَوَقَىٰهُمۡ رَبُّهُمۡ عَذَابَ ٱلۡجَحِيمِ
اور جو کچھ ان کے پروردگار نے انہیں دیا ہے اس پر شادومسرور ہوں گے اور ان کا پروردگار انہیں دوزخ کے عذاب سے بچالے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 21 کے تحت ملاحظہ کریں۔

19
52:19
كُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ هَنِيٓـَٔۢا بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
(انہیں کہا جائے گا) کھاؤ اور پیو اور خوش رہو یہ سب کچھ ان اعمال کی وجہ سے ہے جنہیں تم انجام دیا کرتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 21 کے تحت ملاحظہ کریں۔

20
52:20
مُتَّكِـِٔينَ عَلَىٰ سُرُرٖ مَّصۡفُوفَةٖۖ وَزَوَّجۡنَٰهُم بِحُورٍ عِينٖ
ان کی حالت یہ ہوگی کہ وہ قطاروں میں بچھائے گئے تختوں کے اوھر پہلو بہ پہلو تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے اور ہم ان کی حورالعین کے ساتھ تزویج کریں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 21 کے تحت ملاحظہ کریں۔

21
52:21
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَٱتَّبَعَتۡهُمۡ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَٰنٍ أَلۡحَقۡنَا بِهِمۡ ذُرِّيَّتَهُمۡ وَمَآ أَلَتۡنَٰهُم مِّنۡ عَمَلِهِم مِّن شَيۡءٖۚ كُلُّ ٱمۡرِيِٕۭ بِمَا كَسَبَ رَهِينٞ
اور جو لو گ ایما ن لائے اور ان کی اولاد نے ان کی پیروی میں ایمان قبول کیا تو ہم ان کی اولاد کو بھی جنت میں ان کے ساتھ ملحق کردیں گے اور ان کے عمل میں سے کسی چیز کی کمی نہیں کریں گے اور ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے۔

تفسیر: ہر شخص اپنے اعمال کے بدلہ میں گروی ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

ان مباحث کے بعد، جو گزشتہ آیات میں مجرموں کی سزاؤں اور ان کے دردناک عذاب کے بارے میں گزرے ہیں، زیرِ بحث آیات میں ان کے نقطۂ مقابل یعنی فراواں نعمتوں اور بیکراں صِلوں کے لیے جو مومنین اور پروردگاروں کو عطا کئے جائیں گے اشارہ کرتا ہے، تاکہ ایک واضح موازنہ میں ہر ایک کی حیثیت واضح ہو جائے۔ پہلے کہتا ہے: "بےشک پرہیزگار جنت کے باغات میں اور فراواں نعمتوں میں مقیم ہوں گے" (إِنَّ الْمُتَّقِینَ فِی جَنَّاتٍ وَنَعِیمٍ)۔ مؤمنین کے بجائے "متقین" کی تعبیر اس لیے ہے کہ یہ لفظ ایمان کو بھی اپنے اندر لیے ہوئے ہے اور عملِ صالح کے پہلوؤں کو بھی، جیسا کہ قرآن سورۂ بقرہ کی آیت ٢ میں کہتا ہے"ذٰلِکَ الْکِتَابُ لَا رَیْبَ فِیہِ ہُدًی لِلْمُتَّقِینَ" (یہ آسمانی کتاب ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں اور یہ پرہیزگاروں کے لیے سبب ہدایت ہے)۔ کیونکہ اگر انسان ذمہ داری قبول کرنے، احساسِ مسئولیت اور روحِ حق جوئی و حق طلبی کا حامل نہ ہو، جو تقویٰ کا ایک مرحلہ ہے، تو وہ کبھی بھی دینِ حق کی تحقیق کی کوشش نہیں کرتا اور قرآنی ہدایت کو قبول نہیں کرتا۔ "جنات" اور "نعیم" صیغۂ جمع (باغات اور نعمتیں) کی صورت میں اور وہ بھی نکرہ کی صورت میں، ان باغات اور نعمتوں کے تنوع اور عظمت کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے بعد، بہشتوں کی روح پر ان عظیم نعمتوں کے اثرانداز ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: "وہ اس چیز سے، جو ان کے پروردگار نے انہیں دی ہے، شاد و مسرور ہوں گے" (فَاکِہِینَ بِمَا آتَاھُمْ رَبُّھُمْ)۔ [تشریحی نوٹ: فَاكِهينَ"، "فَكَهَ" (بروزن نظر) کے مادہ سے ہے اور "فَكاهَة" (بروزن شَباهَة) مسرور اور ہنسی خوشی رہنے اور دوسروں کو شیریں باتوں اور مزاح سے محظوظ کرنے کے معنی میں ہے۔ راغب "مفردات" میں کہتا ہے:: "فَاكِهَة" ہر قسم کے پھل کے معنی میں ہے اور "فَكاهَة" صاحبانِ انس کی باتوں کے معنی میں ہے۔ بعض نے اوپر والی آیت میں یہ احتمال دیا ہے کہ "فَاكِهينَ بِمَا آتَاهُمْ رَبُّهُمْ" کا جملہ انواع و اقسام کے پھل کھانے کی طرف اشارہ ہے، لیکن یہ معنی بعید نظر آتا ہے]۔ ہاں! وہ خوشی سے اپنے جامہ میں پھولے نہ سمائیں گے، ہمیشہ آپس میں ایک دوسرے سے مزاح کرتے رہیں گے اور ان کے دل ہر قسم کے غم و اندوہ سے خالی ہوں گے اور وہ حد سے زیادہ آرام و سکون محسوس کریں گے۔ خاص طور پر یہ بات کہ: "خدا نے انہیں عذاب و سزا سے محفوظ کر دیا ہے اور ان کے پروردگار نے انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لیا ہے" (وَوَقَاھُمْ رَبُّھُمْ عَذَابَ الْجَحِیمِ)۔ اس جملے کے دو معانی ہو سکتے ہیں: ١۔ پروردگار کی دوسری نعمتوں کے مقابلے میں کسی مستقل نعمت کا بیان۔ ٢۔ یہ سابقہ کلام کا پچھلا حصہ ہو، یعنی جنتی دو چیزوں سے مسرور ہوں گے: ایک ان نعمتوں کی وجہ سے جو خدا نے انہیں دی ہیں اور دوسرے ان عذابوں کی بناء پر جنہیں ان سے دور کر دیا گیا ہے۔ ضمنی طور پر "رَبُّھُمْ" (ان کا پروردگار) کی تعبیر دونوں جملوں میں، خدا کے انتہائی لطف و کرم کی طرف اور عالم میں اس کی ربوبیت کے جاری و ساری ہونے کی طرف ایک اشارہ ہے۔ اس اجمالی اور سربستہ اشارے کے بعد، جنت میں پرہیزگاروں کی نعمتوں اور سرور و شادمانی کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: "انہیں کہا جائے گا: مزے کے ساتھ کھاؤ اور پیو" (کُلُوا وَاشْرَبُوا ھَنِیئًا)۔ یہ سب چیزیں ان اعمال کی وجہ سے ہیں جو تم انجام دیا کرتے تھے (بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ)۔ "ھَنِیئًا" کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بہشت کے کھانے اور پینے کی چیزوں سے کسی قسم کے نامطلوب عوارض پیدا نہیں ہوتے اور وہ اس جہان کی نعمتوں کے مانند نہیں ہیں، جو بعض اوقات مختصر طور پر کم یا زیادہ بیماری اور تکلیف پیدا کر دیتی ہیں۔ علاوہ ازیں، ان کے حاصل کرنے کے لیے نہ تو کوئی مشقت کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی ان کے ختم ہونے اور تمام ہو جانے کا کوئی خوف ہے اور اسی بنا پر یہ نعمتیں کامل طور پر گوارا اور مزہ دینے والی ہیں۔ [تشریحی نوٹ: راغب "مفردات" میں کہتا ہے: "الهَنِيءُ كُلُّ مَا لَا يُلْحِقُ فِيهِ الْمَشَقَّةَ وَلَا يُعْقِبُهُ وَخَامَةٌ"، "ہنیء وہ چیز ہے جس کے پیچھے مشقت اور دشواری نہ ہو"]۔ مسلّمہ طور پر بہشت کی نعمتیں اپنے طور پر گوارا، پرلطف اور مزیدار ہوں گی، لیکن یہ بات کہ فرشتے جنتیوں سے یہ کہیں گے: "مزے لو اور لطف اٹھاؤ" یہ خود ایک دوسرا لطف اور مزیدار بات ہے۔ دوسری نعمت یہ ہے کہ وہ قطاروں میں بِچھے ہوئے تختوں کے اوپر ایک دوسرے کے ساتھ تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے (مُتَّکِئِینَ عَلَی سُرُرٍ مَصْفُوفَةٍ)۔ اور وہ دوسرے دوستوں اور مؤمنوں کے انس کی لذت سے بہت زیادہ بہرہ ور ہوں گے، کیونکہ یہ ایک معنوی لذت ہے جو بہت سی لذتوں سے ما فوق ہے۔ "سُرُر"، جمع ہے "سَرِیر" کی، جو "سرور" کے مادہ سے ہے۔ اصل میں ان تختوں کو کہا جاتا ہے جنہیں انس و سرور کی محافل کے لیے ترتیب دیتے ہیں اور ان پر تکیہ لگا کر بیٹھتے ہیں۔ "مصفوفة"، "صف" کے مادہ سے اس معنی میں ہے کہ یہ تخت ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے بچھائے گئے ہیں اور ایک عظیم محفلِ انس برپا کرتے ہیں۔ قرآن کی متعدد آیات میں یہ آیا ہے کہ بہشتی تختوں کے اوپر ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھیں گے "عَلَی سُرُرٍ مُّتَقَابِلِینَ" (حجر ٤٧، صافات ٤٤)۔ یہ تعبیر اس چیز کے برعکس نہیں جو زیرِ بحث آیت میں آئی ہے، کیونکہ مجالسِ انس و سرور، جن میں کوئی فرق و امتیاز نہیں ہوتا، وہاں کرسیاں ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ بھی رکھی جاتی ہیں اور مجلس کے گرداگرد بھی، جو ایک دوسرے سے پیوستہ صفوں میں بھی ہوتی ہیں اور ایک دوسرے کے آمنے سامنے بھی۔ "متکین" کی تعبیر ان کے انتہائی سکون و آرام کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ انسان عام طور پر آرام و سکون کی حالت میں تکیہ کی ٹیک لگاتا ہے اور وہ لوگ جو پریشان اور بےآرام ہوں وہ عام طور پر اس طرح نہیں ہوتے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "گوری گوری، سفید رخ، خوبصورت اور موٹی موٹی آنکھوں والی عورتوں سے ہم ان کی تزویج کریں گے" (وَزَوَّجْنَاھُمْ بِحُورٍ عِینٍ)۔ [تشریحی نوٹ: "حُور" جمع "حوراء" و "اھور" سے کہا جاتا ہے، جس کی آنکھ کی سیاہی کامل طور پر مشکی اور اس کی سفیدی پورے طور پر شفاف ہو۔ یا یہ کلی طور سے کامل جمال اور خوبصورتی سے کنایہ ہے، کیونکہ خوبصورتی ہر چیز سے زیادہ آنکھوں میں تجلی کرتی ہے اور "عِين" جمع "أَعْيُن" اور "عَيْناء" کی موٹی آنکھ کے معنی میں ہے اور اس طرح سے "حُور" اور "عِين" کا مذکر و مؤنث دونوں پر اطلاق ہوتا ہے اور اس کا ایک وسیع مفہوم ہے، جو جنت کی تمام بیویوں کو شامل ہے، باایمان مردوں کی ازواج اور بیویاں اور مؤمن عورتوں کے ازواج اور شوہر۔ (غور کیجئے!)]۔ یہ سب کچھ بہشتیوں کی "مادی" اور "معنوی" نعمتوں کا ایک حصہ ہے، لیکن خدا صرف انہیں پر اکتفا نہیں کرے گا، بلکہ معنوی اور مادی نعمتوں کے ایک اور دوسرے حصہ کا بھی اس پر اضافہ کرے گا: "جو لوگ ایمان لائے ہیں اور ان کی اولاد نے ان کی پیروی میں ایمان اختیار کیا ہے، ہم ان کی اولاد کو بھی جنت میں ان کے ساتھ ملحق کر دیں گے اور ہم ان کے عمل میں بھی کسی چیز کی کمی نہیں کریں گے" (وَالَّذِینَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْھُمْ ذُرِّیَّتُہُم بِإِیمَانٍ أَلْحَقْنَا بِہِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ وَمَا أَلَتْنَاہُم مِّنْ عَمَلِہِم مِّن شَیْءٍ)۔ یہ بھی ایک بہت بڑی نعمت ہے کہ انسان اپنی صاحبِ ایمان اولاد اور اپنے متعلقین کو جنت میں اپنے پاس دیکھے اور انس کی بنا پر ان سے لذت حاصل کرے اور ان کے اعمال میں سے بھی کسی چیز کی کمی نہ کی جائے۔ آیت کی تعبیروں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد وہ بالغ اولاد ہے جو ماں باپ کے راستے میں قدم اٹھاتی ہے اور ایمان میں ان کی پیروی کرتی ہے اور دین و مذہب کے لحاظ سے ان سے ملحق ہوتی ہے۔ ایسے افراد اگر عمل کے لحاظ سے کچھ کوتاہی اور تقصیرات بھی رکھتے ہوں تو خدا ان کے صالح آباء و اجداد کے احترام میں انہیں اور ان کے مقام کو بلند کرے گا اور انہیں بھی ان کے درجہ تک پہنچا دے گا اور یہ والدین اور اولاد کے لیے ایک عظیم نعمت ہے۔ [تشریحی نوٹ: ظاہر یہ ہے کہ "والذین اٰمنوا..." کا جملہ ایک مستقل جملہ ہے اور "واؤ" استیناف کے لیے ہے۔ مفسرین کی ایک جماعت (مثلاً: علامہ طباطبائی، مراغی اور مؤلف فی ظلال) نے یہی معنی اختیار کیا ہے۔ لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ زمخشری نے "کشاف" میں "حورالعین" پر اس کا عطف سمجھا ہے، حالانکہ یہ کوئی ایسا مناسب معنی نہیں رکھتا جو قرآن کی فصاحت و بلاغت کے ساتھ مطابقت رکھتا ہو]۔ لیکن مفسرین کی ایک جماعت نے یہاں "ذُرِّیَّتُہ" کو ایک عام معنی میں تفسیر کیا ہے، اس طرح سے کہ یہ خوردسال بچوں کو بھی شامل ہے، حالانکہ یہ تفسیر ظاہر آیت کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی، کیونکہ ایمان میں پیروی بلوغ کے مرحلے تک یا اس کے نزدیک پہنچنے کی دلیل ہے۔ مگر اس صورت میں کہ یہ کہا جائے کہ خوردسال بچے قیامت میں مرحلۂ بلوغ کو پہنچ جائیں گے اور ان کی آزمائش ہو گی، جب وہ اس آزمائش میں کامیاب ہو جائیں گے تو وہ اپنے والدین سے ملحق ہو جائیں گے، جیسا کہ کتاب "کافی" میں یہ معنی ایک حدیث میں منقول ہوا ہے کہ لوگوں نے امام علیہ السلام سے مؤمنین کے اطفال کے بارے میں سوال کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: "جب قیامت کا دن ہو گا تو خدا ان سب کو جمع کرے گا، ایک آگ روشن کرے گا اور انہیں حکم دے گا کہ وہ اپنے آپ کو آگ میں گِرا دیں۔ جو اس حکم پر عمل کریں گے، آگ ان کے لیے سرد اور سالم ہو جائے گی اور وہ سعادت مند ہوں گے اور جو روگردانی کریں گے تو وہ لطفِ خدا سے محروم ہو جائیں گے۔" [بحوالہ: نور الثقلین، جلد ٥، صفحہ ١٣٩ (تلخیص کے ساتھ)]۔ لیکن یہ حدیث، علاوہ اس کے کہ سند کے لحاظ سے ضعیف ہے، دوسرے اعتراضات بھی اس کے متن پر وارد ہوتے ہیں جن کی تشریح کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔ البتہ اس میں کوئی بات مانع نہیں ہے کہ چھوٹے بچے بھی والدین کے احترام میں جنت میں جائیں اور ان کے پاس قرار پائیں، گفتگو اس پر ہے کہ آیا اوپر والی آیت اس مطلب کی طرف ناظر ہے یا نہیں؟ ہم بیان کر چکے ہیں کہ ایمان میں والدین کی پیروی کی تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس سے مراد بالغ اولاد ہے۔ بہرحال، چونکہ اس اولاد کا ارتقاء والدین کے درجہ تک ممکن ہے، تو اس سے یہ خیال ہوتا تھا کہ ماں باپ کے اعمال اولاد کو دے دیے جائیں گے، لہٰذا اس کے بعد یہ بیان ہوا ہے: "وَما أَلَتْناهُمْ مِنْ عَمَلِهِمْ مِنْ شَيْءٍ"، "ہم ان کے عمل میں سے کسی چیز کی کوئی کمی نہیں کریں گے۔" ابن عباس، پیغمبرِ گرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کرتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ الْجَنَّةَ سَأَلَ عَنْ أَبَوَيْهِ وَزَوْجَتِهِ وَوَلَدِهِ، فَيُقَالُ لَهُ: إِنَّهُمْ لَمْ يَبْلُغُوا دَرَجَتَكَ وَعَمَلَكَ، فَيَقُولُ: رَبِّ قَدْ عَمِلْتُ لِي وَلَهُمْ، فَيُؤْمَرُ بِإِلْحَاقِهِمْ بِهِ۔" "جس وقت انسان جنت میں داخل ہو گا تو وہ اپنے ماں، باپ، بیوی اور اولاد کے بارے میں پوچھ گچھ کرے گا، تو اسے کہیں گے کہ: وہ تیرے درجہ و مقام اور عمل تک نہیں پہنچے ہیں۔ تو وہ عرض کرے گا: "پروردگارا! میں نے اپنے لیے بھی اور ان کے لیے بھی عمل کیا تھا۔" تو اس وقت حکم دیا جائے گا کہ انہیں بھی اس کے ساتھ ملحق کر دو۔" [بحوالہ: تفسیر مراغی، جلد ٢٧، صفحہ ٢٦]، [تشریحی نوٹ: "التناھم"، "الت" (بروزن شرط) کے مادہ سے کم کرنے کے معنی میں ہے]۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ آیت کے آخر میں مزید کہتا ہے: "ہر شخص اپنے اعمال میں گروی اور ان کے ہمراہ ہے۔" (كُلُّ امْرِئٍ بِما كَسَبَ رَهينٌ) اس بناء پر کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ پرہیزگاروں کے اعمال اور ان کے صلوں میں سے کسی چیز کی کمی نہ کی جائے، کیونکہ یہ اعمال ہر جگہ انسان کے ساتھ ہوں گے اور اگر خدا متقین کی اولاد کے بارے میں کوئی لطف اور مہر کرے گا اور انہیں جنت میں پرہیزگاروں کے ساتھ ملحق کرے گا، تو اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ ان کے اعمال کے بدلے سے کسی چیز کی کمی کر لی جائے گی۔ بعض مفسرین نے یہاں "رَهينٌ" کو مطلق طور پر گروی رکھے ہوئے افراد کے معنی میں لیا ہے اور ان کا نظریہ یہ ہے کہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ہر انسان اپنے اعمال کے بدلے گروی رکھا ہوا ہے، چاہے اچھے ہوں یا بُرے اور ان کے مطابق ہی جزا و سزا پائے گا۔ لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ تعبیر نیک اعمال کے بارے میں چنداں مناسبت نہیں رکھتی، بعض مفسرین نے یہاں "كُلُّ نفس" کو صرف بدکاروں کی طرف اشارہ سمجھا ہے۔ اور وہ یہ کہتے ہیں کہ: ہر انسان اپنے غلط اور شرک آلود اعمال کے بدلے میں گروی ہے اور حقیقت میں ان کا اسیر اور محبوس ہے۔ اور بعض اوقات سورۂ مدثر کی آیت ۳۸-۳۹ سے بھی استدلال کیا ہے: (كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ ﴿٣٨﴾ إِلَّا أَصْحَابَ الْيَمِينِ ﴿٣٩﴾) "ہر شخص ان اعمال کے بدلے گروی ہے جو اس نے انجام دیے تھے، سوائے اصحابِ یمین کے۔" (وہ لوگ جن کا نامۂ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور وہ اہلِ نجات ہیں۔) لیکن یہ تفسیر بھی اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ قبل و بعد کی سب آیتیں متقین اور پرہیزگاروں کے بارے میں ہیں اور ان میں شرک، مشرکین اور مجرموں کے بارے میں گفتگو موجود ہی نہیں ہے، مناسب نظر نہیں آتی۔ ان دونوں تفاسیر کے مقابلہ میں، جن میں سے ہر ایک کسی نہ کسی جہت سے نامناسب ہے، ایک تیسری تفسیر بھی ہے، جو صدرِ آیت کے ساتھ بھی اور ماقبل و مابعد کی آیات سے بھی مکمل طور پر مطابقت رکھتی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ "رَهْن" کے معانی میں سے ایک معنی لغت میں کسی چیز کی ملازمت اور اس کے ہمراہ ہونا بھی ہے۔ اگرچہ "رَهْن" کا مشہور معنی "وثیقہ" ہی ہے جو قرض کے مقابلہ میں ہوتا ہے، لیکن اصل لغت کے کلمات سے اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ اس کے معانی میں سے ایک "ہمیشگی اور خدمت گزاری" بھی ہے۔ [بحوالہ: "لسان العرب"، مادہ "رھن"]۔ بلکہ ان میں سے بعض تو اس کا اصلی معنی صراحت کے ساتھ وہی "دوام و ثبوت" سمجھتے ہیں اور انہوں نے "رَهْن" بمعنی "وثیقہ" کو فقہاء کی اصطلاحات میں سے شمار کیا ہے۔ لہٰذا جب یہ کہا جاتا ہے کہ "نعمة راهنة" تو اس کا معنی "پائیدار اور برقرار نعمت" ہے۔ [بحوالہ: "مجمع البحرین"، مادہ "رھن"]۔ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام گزشتہ اقوام کے بارے میں فرماتے ہیں: "هَا هُمْ رَهَائِنُ الْقُبُورِ وَمَضَامِينُ اللُّحُودِ" "وہ قبروں کے رہین اور لحدوں میں سونے والے ہیں۔" [بحوالہ: "نہج البلاغہ"، خط ۴۵]۔ اس طرح سے "كُلُّ امْرِئٍ بِمَا كَسَبَ رَهِينٌ" کے جملے کا مفہوم یہ ہے کہ ہر شخص کے اعمال اس کے ساتھ اور ہمراہ ہوں گے اور کبھی بھی اس سے جدا نہیں ہوں گے، چاہے نیک عمل ہوں یا بد؟ اور اسی بنا پر متقین جنت میں اپنے اعمال کے ساتھ ہیں اور اگر ان کی اولاد ان کے پاس قرار پائے گی تو اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ ان کے اعمال میں سے کچھ کمی کر لی جائے گی۔ سورۂ مدثر کی آیت کے بارے میں جس نے "اصحاب الیمین" کو اس معنی سے استثناء کیا ہے، ممکن ہے اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ وہ ایسے الطاف کے مشمول ہیں جو بےحساب ہیں، اس طرح سے ان کے اعمال ان الطافِ الٰہی کے مقابلہ میں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتے۔ [بحوالہ: سورۂ مدثر میں "اصحاب الیمین" کے استثناء کے بارے میں دوسری تفاسیر بھی موجود ہیں، جو ان شاء اللہ اسی آیت کے ذیل میں آئے گی]۔ بہرحال، یہ جملہ اس حقیقت کی تاکید ہے کہ انسان کے اعمال کبھی بھی اس سے جدا نہیں ہوں گے، اور ہمیشہ تمام مراحل اور مواقف میں اس کے ہمراہ ہوں گے۔

22
52:22
وَأَمۡدَدۡنَٰهُم بِفَٰكِهَةٖ وَلَحۡمٖ مِّمَّا يَشۡتَهُونَ
ہمیشہ انواع واقسام کے پھل اور گوشت جن کی وہ خواہش کریں گے ہم ان کے اختیار میں دے دیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔

23
52:23
يَتَنَٰزَعُونَ فِيهَا كَأۡسٗا لَّا لَغۡوٞ فِيهَا وَلَا تَأۡثِيمٞ
وہ جنت میں شراب طہور سے پر جام، جن میں نہ بیہودگی ہے اور نہ گناہ، ایک دوسرے سے لیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔

24
52:24
۞وَيَطُوفُ عَلَيۡهِمۡ غِلۡمَانٞ لَّهُمۡ كَأَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٞ مَّكۡنُونٞ
اور ہمیشہ ان کے گرد اگرد نوجوان لڑکے ان کی خدمت کے لئے گردش کریں گے جو ایسے دکھائی دیتے ہیں جیسے صدف میں موتی ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔

25
52:25
وَأَقۡبَلَ بَعۡضُهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖ يَتَسَآءَلُونَ
اس وقت ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے (ماضی کے بارے میں ) سوال کریں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔

26
52:26
قَالُوٓاْ إِنَّا كُنَّا قَبۡلُ فِيٓ أَهۡلِنَا مُشۡفِقِينَ
کہیں گے کہ ہم اپنے گھر والوں کے درمیان خو ف وہراس میں تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔

27
52:27
فَمَنَّ ٱللَّهُ عَلَيۡنَا وَوَقَىٰنَا عَذَابَ ٱلسَّمُومِ
لیکن اللہ نے ہم پر احسان کیا اور ہلاک کرنے والے عذاب سے ہمیں محفوظ رکھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔

28
52:28
إِنَّا كُنَّا مِن قَبۡلُ نَدۡعُوهُۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡبَرُّ ٱلرَّحِيمُ
ہم پہلے سے اللہ کو نیکو کار اور رحیم کے القاب سے پکارتے تھے اور پہچانتے تھے۔

تفسیر: ہم اس دن خوف زدہ تھے اور آج انتہائی امن میں ہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

گزشتہ آیات میں جنت کی نعمتوں میں سے نو حصوں کی طرف اشارہ کیا گیا تھا اور زیرِ بحث آیات میں ان کو جاری رکھتے ہوئے دوسرے پانچ حصوں کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے۔ اس طرح ان سب کے مجموعے سے بخوبی معلوم ہو جاتا ہے کہ آرام و آسائش، لذت، سرور اور خوشی کے لیے جو کچھ لازم و ضروری ہے، وہ سب کچھ اہلِ جنت کے لیے فراہم ہو گا۔ پہلے بہشتیوں کی غذاؤں میں سے دو حصوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: "ہمیشہ انواع و اقسام کے پھلوں اور گوشت میں سے جس چیز کی وہ خواہش کریں گے، ہم اسے ان کے اختیار میں دے دیں گے" (وَ أَمْدَدْنَاهُم بِفَاكِهَةٍ وَلَحْمٍ مِّمَّا يَشْتَهُونَ)۔ "أمددناهم"، "امداد" کے مادہ سے ادامہ، افزائش اور عطا کرنے کے معنی میں ہے۔ یعنی جنت کے پھل اور کھانے اس قسم کے نہیں ہیں کہ وہ کھانے سے کم ہو جائیں، یا وہ دنیا کے پھلوں کے مانند نہیں ہیں۔ جو سال کی فصلوں میں بہت سی تبدیلیاں رکھتے ہیں۔ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، بلکہ ان میں ہمیشگی، جاودانی اور استمرار اور تسلسل ہے۔ "مِمَّا يَشْتَهُونَ" (وہ جس میں سے چاہیں گے) کی تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بہشتی ان پھلوں اور غذاؤں کی نوع، مقدار اور کیفیت کے انتخاب میں مکمل طور پر آزاد ہوں گے۔ وہ جو بھی چاہیں، ان کے اختیار میں ہے۔ اس کے بعد بہشتیوں کے خوشگوار اور مزیدار مشروبات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: وہ بہشت میں شراب طہور سے پر جام، جن میں نہ تو مستی ہو گی اور نہ ہی بیہودہ گوئی اور نہ کوئی گناہ، ایک دوسرے سے لیں گے (يَتَنَازَعُونَ فِيهَا كَأْسًا لَا لَغْوٌ فِيهَا وَلَا تَأْثِيمٌ)۔ بلکہ وہ ایسی شراب ہے جو خوشگوار و لذت بخش ہے، نشاط آفرین اور روح پرور ہے اور اس میں کسی قسم کا نشہ اور عقل کا فساد اور خرابی نہیں ہے اور اس کے پینے سے کسی قسم کی بیہودہ گوئی اور گناہ نہیں ہو گا، بلکہ اس میں سراسر ہوش اور جسمانی و روحانی لذت ہے۔ "يتنازعون"، "تنازع" کے مادہ سے ایک دوسرے سے لینے کے معنی میں ہے اور بعض اوقات کھینچا تانی اور لڑائی جھگڑے کے معنی میں بھی آتا ہے، لہٰذا بعض مفسرین نے کہا ہے: یہ جملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بہشتی شوخی و مزاح اور سرور و انبساط کی فراوانی کے باعث شرابِ طہور کے جام ایک دوسرے کے ہاتھ سے چھین چھین کر پئیں گے۔ لیکن جیسا کہ بعض اربابِ لغت نے کہا ہے کہ: "تنازع" جب کسی موقع پر "کأس" (جام) کے لیے استعمال ہوتا ہے تو ایک دوسرے سے لینے کے معنی میں ہوتا ہے، کشمکش اور کھینچا تانی کے معنی میں نہیں۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ "کأس" اس جام کو کہتے ہیں جو شراب سے پر ہو اور خالی برتن کو "کأس" نہیں کہتے۔ [تشریحی نوٹ: "راغب"، "مفردات" میں کہتا ہے: "الکأس الإناء بما فیہ من الشراب۔" "مجمع البحرین" میں بھی یہی تفسیر "کأس" کے بارے میں آئی ہے اور اگر شراب سے خالی ہو تو اسے "قدح" کہا جاتا ہے]۔ بہرحال، چونکہ "کأس" کی تعبیر بعض اوقات دنیا کی نشہ دینے والی شرابوں کے معنی کی یاد دلاتی ہے، لہٰذا مزید کہتا ہے: اس شراب میں نہ تو لغو اور بےہودہ گوئی ہے اور نہ ہی گناہ، کیونکہ وہ ہرگز انسان کی عقل و ہوش کو زائل نہیں کرے گی۔ اس بنا پر وہ غیرموزوں باتیں اور قبیح اعمال جو مستوں سے سرزد ہوتے ہیں، ہرگز ان سے سرزد نہیں ہوں گے۔ بلکہ اس بنا پر کہ وہ شراب طہور ہے، انہیں زیادہ خالص، زیادہ پاک اور زیادہ ہوشیار کر دے گا۔ اس کے بعد چوتھی نعمت کو، جو بہشت میں خدمت گزاروں کے ہونے کی نعمت ہے، پیش کرتے ہوئے کہتا ہے: "ہمیشہ ان کے گردا گرد نوجوان لڑکے ان کی خدمت کے لیے گردش کریں گے، جو ان موتیوں کی طرح ہوں گے جو صدف میں ہوتے ہیں" (وَيَطُوفُ عَلَيْهِمْ غِلْمَانٌ لَهُمْ كَأَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَكْنُونٌ)۔ "مروارید صدف کے اندر" اس قدر تازہ، صاف، شفاف اور خوبصورت ہوتے ہیں جس کی کوئی حد نہیں ہے، اگرچہ صدف کے باہر بھی ان کی خوبصورتی جوں کی توں باقی رہتی ہے، لیکن ہوا کا گرد و غبار اور ہاتھوں کی آلودگی کچھ نہ کچھ اس کی صفائی میں کمی کر دیتی ہے۔ جنت کے خدمت گزار اس قدر خوبصورت، سفید چہرہ اور باصفا ہوں گے جیسا کہ صدف کے اندر مروارید ہوتے ہیں۔ "يطوف عليهم" (ان کے گرد طواف) کی تعبیر خدمت کے لیے ان کی دائمی آمادگی کی طرف اشارہ ہے، اگرچہ بہشت میں خدمت گار کی کوئی ضرورت نہیں ہو گی اور وہ جو کچھ چاہیں گے ان کے اختیار میں ہو گا، لیکن یہ خود بہشتیوں کے زیادہ سے زیادہ احترام کے لیے ہو گا۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لوگوں نے سوال کیا کہ اگر خدمت گزار صدف میں موجود مروارید کی طرح ہوں گے تو پھر مخدوم یعنی جنت کے مؤمنین کس طرح کے ہوں گے؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "والذي نفسي بيده فضل المخدوم على الخادم كفضل القمر ليلة البدر على سائر الكواكب" مخدوم کی وہاں پر خادم پر برتری ایسی ہو گی جیسی کہ چودہویں کے چاند کو باقی ستاروں پر برتری ہے۔ [بحوالہ: "مجمع البیان"، "کشاف"، "قرطبی"، "روح البیان" و "ابوالفتوح رازی"]۔ "لھم" کی تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مؤمنین میں سے ہر ایک کے لیے کچھ مخصوص خدمت گزار ہوں گے اور چونکہ جنت غم و اندوہ کی جگہ نہیں ہے، اس لیے وہ خدمت گزار بھی مؤمنین کی خدمت سے لذت حاصل کریں گے۔ اور اس سلسلے کی آخری نعمت وہی مکمل سکون و آرام اور ہر قسم کے عذاب و سزا سے دلی اطمینان ہے۔ جیسا کہ بعد والی آیت میں فرماتا ہے: "اس حالت میں جب کہ وہ ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو بیٹھے ہوئے ہوں گے، تو گزرے ہوئے دنوں کے حالات کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کریں گے اور اس کا جنت کے حالات سے موازنہ کرتے ہوئے لذت حاصل کریں گے" (وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ)۔ "وہ کہیں گے: ہم تو اس سے پہلے اپنے گھر والوں میں خائف و ترساں رہتے تھے" (قَالُوا إِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِي أَهْلِنَا مُشْفِقِينَ)۔ باوجود اس کے کہ ہم اپنے گھروالوں کے درمیان رہتے تھے، لہٰذا ہمیں تو امن و امان کا احساس کرنا چاہیے تھا، مگر پھر بھی ہم خائف ہی تھے۔ ہمیں اس بات کا ڈر لگا رہتا تھا کہ ناگوار حوادث اور عذابِ الٰہی کسی بھی لمحے آن پہنچے گا اور ہمیں پکڑ لے گا۔ ہم اس بات سے ڈرتے تھے کہ ہماری اولاد اور گھر والے غلط راستے پر چل پڑیں گے اور وادیِ ضلالت میں گمراہ و سرگرداں پھریں گے۔ اور ہمیں اس بات کا بھی خوف تھا کہ سنگدل دشمن ہمیں غفلت میں رکھ کر ہم پر عرصۂ حیات تنگ کر دیں گے۔ "لیکن خدا نے ہم پر احسان کیا اور اس کی رحمت واسعہ ہمارے شاملِ حال ہوئی، اور ہمیں ہلاک کرنے والے عذاب سے محفوظ رکھا۔" (وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ) وہ کہیں گے: ہم تو اس سے پہلے اپنے گھر والوں میں خائف و ترساں رہتے تھے (قَالُوا إِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِي أَهْلِنَا مُشْفِقِينَ)۔ باوجود اس کے کہ ہم اپنے گھروالوں کے درمیان رہتے تھے، لہٰذا ہمیں تو امن و امان کا احساس کرنا چاہیے تھا، مگر پھر بھی ہم خائف ہی تھے۔ ہمیں اس بات کا ڈر لگا رہتا تھا کہ ناگوار حوادث اور عذابِ الٰہی کسی بھی لمحے آن پہنچے گا، اور ہمیں پکڑے گا۔ ہم اس بات سے ڈرتے تھے کہ ہماری اولاد اور گھر والے غلط راستے پر چل پڑیں گے، اور وادیِ ضلالت میں گمراہ و سرگرداں پھریں گے۔ اور ہمیں اس بات کا بھی خوف تھا کہ سنگدل دشمن ہمیں غفلت میں رکھ کر ہم پر عرصۂ حیات تنگ کر دیں گے۔ لیکن خدا نے ہم پر احسان کیا، اور اس کی رحمتِ واسعہ ہمارے شاملِ حال ہوئی، اور ہمیں ہلاک کرنے والے عذاب سے محفوظ رکھا (فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْنَا وَوَقَانَا عَذَابَ السَّمُومِ)۔ ہاں! مہربان پروردگار نے ہمیں دنیا کے زندان سے اس کی تمام وحشتوں کے ساتھ نجات بخشی اور اپنی نعمتوں کے مرکز یعنی جنت میں ہمیں جگہ دی۔ وہ جب اپنے ماضی کو یاد کرتے ہیں اور اس کے جزئیات اپنے حافظے میں لاتے ہیں اور موجود حالات کے ساتھ ان کا موازنہ کرتے ہیں تو خدا کی عظیم نعمتوں اور اس کے مواہب کی قدر و قیمت کو زیادہ سے زیادہ پاتے ہیں اور یہ بات ان کے لیے اور بھی زیادہ لذت بخش اور دلچسپ ہو جاتی ہے، کیونکہ اس موازنے کے ذریعے ان کی قدر و قیمت کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ اہلِ جنت اس آخری گفتگو میں، جو ان کی طرف سے یہاں نقل ہوئی ہے، اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ خدا کے رحیم ہونے کو وہاں ہر زمانے سے زیادہ محسوس کرتے ہیں۔ وہ کہیں گے: ہم پہلے سے خدا کو پکارتے تھے اور اُس کو نیک، مطلوب اور رحیم کہہ کر تعریف کرتے تھے (إِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوهُ إِنَّهُ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِيمُ)۔ لیکن ہم یہاں ان صفات کی حقیقت کی تہ تک پہنچ جائیں گے، کہ اس نے ہمارے حقیر اعمال کے مقابلے میں کتنی نیکیاں کی ہیں اور ہماری اس قدر لغزشوں کے باوجود ہمیں اپنی رحمت کا مشمول کیا ہے۔ ہاں! قیامت کا منظر اور جنت کی نعمتیں خدا کے اسماء و صفات کی تجلی گاہ ہیں اور مومنین ان مناظر کا مشاہدہ کرکے ہر زمانے سے زیادہ ان اسماء و صفات کی حقیقت سے آشنا ہوں گے، یہاں تک کہ دوزخ بھی اس کے صفات کو ہی بیان کرتی ہے اور اس کی حکمت، عدالت اور قدرت کی نشاندہی کرتی ہے۔

چند اهم نکات: 1۔ "یتساءلون"

١۔ "یتساءلون"، "سؤال" کے مادہ سے، ایک دوسرے سے سوال کرنے کے معنی میں ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اہلِ جنت میں سے تمام اپنے دوستوں سے سوال کریں گے اور ان کے ماضی کے حالات ان سے دریافت کریں گے، کیونکہ ان مسائل کو یاد کرنا، اور ان تمام مصائب و آلام سے نجات پانا اور ان تمام نعمتوں کا حصول، خود بھی ایک لذت ہے، ٹھیک اسی طرح جیسے جب انسان کسی خطرناک سفر سے لوٹتا ہے اور امن و امان کے ماحول میں بیٹھتا ہے، تو اپنے ساتھیوں سے ان کے گزرے ہوئے حالات کے بارے میں گفتگو کرتا ہے اور ان کے نجات پانے سے اظہارِ خوشی کرتا ہے۔

2۔ "مشفقین"

"مشفقین"، "اشفاق" کے مادہ سے ہے، جیسا کہ راغب "مفردات" میں کہتا ہے، "خوف سے ملی ہوئی توجہ" کے معنی میں ہے اور جب یہ "مِن" کے لفظ سے متعدی ہو جائے تو خوف کا مفہوم زیادہ ظاہر ہوتا ہے اور جب "فِی" کے لفظ سے متعدی ہو تو، توجہ اور عنایت کا مفہوم اس میں زیادہ ظاہر ہو گا۔ یہ لفظ اصل میں "شفق" کے مادہ سے لیا گیا ہے، یہ وہی روشنی ہے جو تاریکی کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہے۔ اب یہ دیکھنا پڑے گا کہ وہ دنیا میں کس چیز کا خوف رکھتے تھے اور کس چیز کی طرف توجہ اور عنایت رکھتے تھے۔ یہاں تین احتمال ہیں، جن کو ہم نے آیت کی تفسیر میں جمع کر دیا ہے، کیونکہ ان کے درمیان اختلاف نہیں ہے: • خدا کا خوف اور اپنی نجات کی طرف توجہ۔ • گھر والوں کے انحراف کا خوف اور ان کی تربیت کے معاملہ پر توجہ۔ • دشمنوں کا خوف اور ان کے مقابلے میں اپنی حفاظت کی طرف توجہ۔ اگرچہ بعد والی آیات کی طرف توجہ، خصوصاً جملہ (فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْنَا وَوَقَانَا عَذَابَ السَّمُومِ) "خدا نے ہم پر احسان کیا اور مار ڈالنے والے عذاب سے ہمیں بچا لیا", سے پہلا معنی زیادہ مناسب نظر آتا ہے۔

3۔ "فی اھلنا"

"فِي أَهْلِنَا" کی تعبیر یہاں ایک وسیع معنی رکھتی ہے اور سب اولاد، ازواج اور احباب کو شامل ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان اصولی طور پر اس قسم کی جمعیت کے درمیان ہر جگہ سے زیادہ امنیت کا احساس کرتا ہے، جب انہی کے درمیان خوف زدہ اور بیمناک ہو، تو دوسرے حالات میں تو اس کی حالت معلوم ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ یہ تعبیر ایسے لوگوں کی طرف اشارہ ہے، جو غیرمومن گھرانوں میں گرفتار تھے، یہاں تک کہ وہ خود ان سے ڈرتے تھے، لیکن اس کے باوجود ڈٹے رہے اور لطفِ الٰہی پر بھروسا کرتے ہوئے استقلال دکھایا اور ان جیسے نہ بنے۔

4۔ "سموم"

"سموم" اس حرارت کے معنی میں ہے جو "مسامِ بدن" (وہ چھوٹے چھوٹے سوراخ جو جلد کی سطح پر ہوتے ہیں) میں داخل ہو جاتی ہے اور انسان کو تکلیف پہنچاتی ہے یا اسے ہلاک کر دیتی ہے، اور "بادِ سموم" بھی ایسی ہی ہوا کو کہتے ہیں، اور "عذابِ سموم" بھی اسی قسم کا عذاب ہے۔ "سَمّ" کے لفظ کا ہلاک کرنے والے مواد پر اطلاق بھی، تمام بدن میں ان کے نفوذ کی بنا پر ہے۔

5۔ "بر"

"بَرّ"، جیسا کہ راغب "مفردات" میں کہتا ہے کہ اصل میں خشکی کے معنی میں ہے (سمندر اور دریا کے مقابلے میں)، اس کے بعد ان افراد پر جن کے نیک اعمال بہت زیادہ اور وسیع ہوں، اس کا اطلاق ہوا ہے اور اس پاک نام کے لیے زیادہ شائستہ اور لائق خدا کی پاک ذات ہے، جس کی نیکی اور احسان نے تمام جہان والوں کو گھیر رکھا ہے۔

6۔ آیات کی جمعبندی

ہم بیان کر چکے ہیں کہ ان آیات میں اور گزشتہ آیات میں حقیقت میں جنت کی نعمتوں کے چودہ حصّے بیان کیے گئے ہیں: • جنت کے باغات (جنات) • اس کی گوناگوں نعمتیں (نعیم) • سرور و شادمانی • عذابِ جہنم سے امن و امان • بہشت کے ماکولات و مشروبات میں سے گوارا طور پر کھانا پینا • ایک دوسرے سے ملے ہوئے تختوں پر تکیہ لگا کر بیٹھنا • حورالعین میں سے بیویاں • مومن اولاد کا ان کے ساتھ ملحق ہونا • انواع و اقسام کے لذت بخش پھل • انواع و اقسام کے گوشت • جو کچھ وہ چاہیں گے • شرابِ طہور سے بھرے جام • مروارید جیسے خدمت گُذار • آخر میں مجلسِ انس برپا کرکے ماضی کو یاد کرنا اور موجودہ حالت سے لذت حاصل کرنا ان نعمتوں کا ایک حصہ تو مادی پہلو رکھتا ہے اور دوسرے حصہ میں معنوی پہلو غالب ہے، ان سب چیزوں کے باوجود بھی جنت کی مادی اور معنوی نعمتیں انہی میں منحصر نہیں ہیں، بلکہ جو کچھ بیان ہوا ہے وہ صرف ان کا ایک گوشہ ہے۔

29
52:29
فَذَكِّرۡ فَمَآ أَنتَ بِنِعۡمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٖ وَلَا مَجۡنُونٍ
اب جبکہ ایسا ہے تو تم نصیحت کرتے رہو، کیونکہ تم اپنے پروردگار کے لطف سے کاہن ومجنون نہیں ہو

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 34 کے تحت ملاحظہ کریں۔

30
52:30
أَمۡ يَقُولُونَ شَاعِرٞ نَّتَرَبَّصُ بِهِۦ رَيۡبَ ٱلۡمَنُونِ
بلکہ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ وہ ایک شاعر ہے جس کی موت کا ہم انتظار کررہے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 34 کے تحت ملاحظہ کریں۔

31
52:31
قُلۡ تَرَبَّصُواْ فَإِنِّي مَعَكُم مِّنَ ٱلۡمُتَرَبِّصِينَ
کہدو! کہ تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کررہاہوں (تم میری موت کا انتظار کرواور میں اپنی کامیابی اور تمہاری نابودی کا انتظارکرتا ہوں )۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 34 کے تحت ملاحظہ کریں۔

32
52:32
أَمۡ تَأۡمُرُهُمۡ أَحۡلَٰمُهُم بِهَٰذَآۚ أَمۡ هُمۡ قَوۡمٞ طَاغُونَ
کیا ان کی عقلیں انہیں ان کاموں کا حکم دیتی ہیں ؟ یا وہ سرکش قوم ہیں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 34 کے تحت ملاحظہ کریں۔

33
52:33
أَمۡ يَقُولُونَ تَقَوَّلَهُۥۚ بَل لَّا يُؤۡمِنُونَ
وہ یہ کہتے ہیں کہ قرآن کا تو اس نے اللہ پر افتراء باندھا ہے لیکن وہی خود ایمان نہیں رکھتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 34 کے تحت ملاحظہ کریں۔

34
52:34
فَلۡيَأۡتُواْ بِحَدِيثٖ مِّثۡلِهِۦٓ إِن كَانُواْ صَٰدِقِينَ
اگر وہ سچ کہتے ہیں تو وہ بھی اسی قسم کا کلام لے آئیں۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

ایک روایت میں آیا ہے کہ قریش "دارالندوہ" میں جمع ہوئے، تاکہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کو روکنے کے لیے جو ان کے نامشروع منافع کے لیے ایک عظیم خطرہ سمجھی جاتی تھی غور و فکر کریں۔ [تشریحی نوٹ: "دارالندوہ"، "قصی بن کلاب" عربوں کے مشہور جدِّ اعلیٰ کا گھر تھا، جس میں اہم امور کے بارے میں مشورہ کرنے کے لیے جمع ہوتے تھے اور مشورے کرتے تھے۔ یہ گھر خانۂ خدا کے قریب تھا اور اس کا دروازہ کعبہ کی جانب کھلتا تھا اور اس کی مرکزیت مجالسِ مشورت کے لیے خود قصی بن کلاب کے زمانے سے تھی۔ (سیرة ابن ہشام، جلد ٢، صفحہ ۱۲۴ و جلد اوّل، صفحہ ١٣٢)] "بنی عبدالدار" کے قبیلہ کے ایک شخص نے کہا: ہمیں اس کے مرنے کا انتظار کرنا چاہیے، کیونکہ بہرحال وہ ایک شاعر ہے اور عنقریب دنیا سے چل بسے گا، جیسا کہ "زہیر"، "نابغہ" اور "اعشی" (زمانۂ جاہلیت کے تین شاعر) دنیا سے چلے گئے (جن کی بساط لپٹ گئی، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بساط بھی اس کی موت کے ساتھ ہی لپٹ جائے گی) یہ کہہ کر وہ پراگندہ ہو گئے، تو اوپر والی آیات نازل ہوئیں اور انہیں جواب دیا۔ [بحوالہ: تفسیر مراغی، جلد ٢٧، صفحہ ٣١]۔

تفسیر: اگر سچ کہتے ہیں تو اس کے مانند کلام لے آئیں

گزشتہ آیات میں جنت کی نعمتوں اور پرہیزگاروں کی پاداشوں کے ایک قابلِ توجہ حصے کو بیان کیا گیا تھا اور ان سے پہلے کی آیات میں بھی دوزخیوں کے دردناک عذاب کا ایک حصہ آیا تھا۔ پہلی زیرِ بحث آیت میں گزشتہ آیات سے نتیجہ نکالتے ہوئے فرماتا ہے: "اب جبکہ معاملہ اس طرح ہے تو تم نصیحت کرتے رہو اور یاد دلاتے رہو" (فَذَکِّرْ)۔ کیونکہ حق طلب لوگوں کے دل ان باتوں کے سننے سے زیادہ آمادہ ہوں گے اور اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ تم ان کے لیے حق باتیں بیان کرے۔ یہ تعبیر اس بات کی اچھی طرح سے نشاندہی کرتی ہے کہ ان دونوں گروہوں کی سزاؤں اور نعمتوں کے ذکر کرنے کا اصل مقصد نئے حقائق کو قبول کرنے کے لیے روحانی طور پر آمادہ کرنا ہے اور حقیقت میں ہر بات کرنے والے کو اپنے کلام کے نفوذ اور بات کی تاثیر کے لیے اس روش سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اس کے بعد ان اتہامات اور ناروا نسبتوں کا ذکر کرتے ہوئے جو ہٹ دھرم اور عناد رکھنے والے افراد پیغمبر کو دیا کرتے تھے، فرماتا ہے: "اپنے پروردگار کے لطف و کرم اور اس کی نعمتوں کی برکت سے تو کاہن و مجنون نہیں ہے۔" (فَذَکِّرْ فَما أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّکَ بِکاھِنٍ وَ لا مَجْنُونٍ)۔ "کاہن" اس کو کہا جاتا تھا جو اسرارِ غیبی کی خبر دیتا تھا اور غالباً اس کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ جنات کے ساتھ ارتباط رکھتا ہے اور ان سے غیب کی خبریں حاصل کرتا ہے، خصوصاً زمانۂ جاہلیت میں کاہن بہت تھے۔ منجملہ ان کے دو مشہور کاہن "شِق" اور "سَطیح" تھے۔ حقیقت میں وہ ایسے ہوشیار لوگ تھے جو اپنی ہوش و خرد سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے ان دعووں کے ذریعے لوگوں کو سرمست رکھتے تھے۔ کہانت اسلام میں حرام و ممنوع ہے اور کاہنوں کے قول کا کوئی اعتبار نہیں ہے، کیونکہ اسرارِ غیب خدا کے ساتھ مخصوص ہیں اور اس کے بعد انبیاء اور ائمہ میں سے جس کے متعلق مصلحت سمجھتا ہے، وہ انہیں ان کی تعلیم دیتا ہے۔ بہرحال قریش لوگوں کو پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے ہٹانے کے لیے یہ تہمتیں ان پر لگاتے تھے، کبھی تو انہیں کاہن اور کبھی مجنون کہتے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ ان دونوں صفات کے تضاد سے بھی واقف نہیں تھے، کیونکہ کاہن تو ہوشیار لوگ تھے، جو مجنون ہونے کے برعکس بات ہے۔ اور اوپر والی آیت میں ان دونوں افتراؤں کو جمع کرنا شاید ان کی اسی پراگندہ گوئی کی طرف اشارہ ہو۔ اس کے بعد تیسرے اتہام کو پیش کرتا ہےکہ وہ گزشتہ صفات سے تضاد رکھتا ہے، فرماتا ہے: "بلکہ وہ کہتے ہیں کہ وہ ایک شاعر ہے جس کی موت کا ہم انتظار کر رہے ہیں۔" (أَمْ یَقُولُونَ شاعِر نَتَرَبَّصُ بِہِ رَیْبَ الْمَنُونِ)۔ جب تک وہ زندہ ہے، اس وقت تک اس کے اشعار کی رونق رہے گی اور وہ لوگوں کو اپنی طرف جذب کرتا رہے گا۔ تھوڑی سی دیر کے لیے صبر کرو، یہاں تک کہ اس کی موت آ جائے اور اس کے اشعار کا دفتر اس کی عمر کے طومار کی طرح لپیٹ دیا جائے اور طاقِ نِسیاں کے سپرد ہو جائے، اس دن ہمیں راحت و آرام نصیب ہو جائے گا۔ جیسا کہ کتبِ لغت و تفسیر سے معلوم ہوتا ہے، "مَنُون"، "مَن" کے مادہ سے اصل میں دو معنی کے لیے آیا ہے: نقصان اور قطع و برید کرنا اور یہ دونوں بھی ایک دوسرے سے قریبی مفہوم رکھتے ہیں۔ اس کے بعد لفظ "مَنُون" موت کے بارے میں بھی اطلاق ہونے لگا، کیونکہ وہ "یَنقُصُ العَدَدَ وَ یَقطَعُ المَدَدَ" (افراد کو کم اور امداد کو منقطع کر دیتی ہے)۔ بعض اوقات "مَنُون" زمانہ کے گزر جانے کو بھی کہا جاتا ہے، اس مناسبت سے کہ وہ بھی موت اور مرنے کا سبب، تعلقات کے ٹوٹنے اور افراد کی کمی کا باعث ہوتا ہے اور بعض اوقات رات اور دن کو بھی "مَنُون" کہتے ہیں اور وہ بھی ظاہراً اسی مناسبت کی وجہ سے ہے۔ [تشریحی نوٹ: "لسان العرب"، "مفردات راغب"، "المنجد" اور "تفسیر قرطبی" کی طرف رجوع کیا جائے]۔ باقی رہا لفظ "ریب" اصل میں شک و تردد اور اس چیز کے توہّم کے معنی میں ہے کہ جس کے اوپر سے بعد میں پردہ اٹھایا جائے گا اور حقیقت واضح و آشکار ہو جائے گی۔ یہ تعبیر جب موت کے بارے میں استعمال ہو اور "ریبُ المَنُون" کہا جائے، تو وہ اس لحاظ سے ہے کہ اس کے آنے کا وقت معلوم نہیں ہے، نہ کہ اس کا حقیقت میں واقع ہونا۔ [بحوالہ: "راغب" در مفردات]۔ لیکن مفسرین کی ایک جماعت نے "ریبُ المنون" کی زیرِ بحث آیت میں "حوادثِ روزگار" کے معنی میں تفسیر کی ہے، یہاں تک کہ ابنِ عباس سے نقل ہوا ہے کہ لفظ "ریب" قرآن میں ہر جگہ "شک و تردد" کے معنی میں ہے، سوائے سورہ طور کی اس آیت کے کہ جہاں اسے "حوادث" کے معنی میں لیا گیا ہے۔ [بحوالہ: قرطبی" جلد ٩، صفحہ ۶۲۴۲]۔ بعض مفسرین نے اس کی اضطراب اور پریشانی کی حالت کے معنی میں بھی تفسیر کی ہے۔ اس بنا پر "ریبُ المنون" وہ اضطرابی حالت ہے جو موت سے پہلے اکثر افراد کو عارض ہوتی ہے۔ ممکن ہے یہ تفسیر اوپر والے معنی کی طرف ہی لوٹے، کیونکہ عام طور پر شک و تردد کی حالت اضطراب و پریشانی کا سرچشمہ بنتی ہے، اسی طرح ایسے حوادث بھی، جن کی پیش بینی نہ ہو، ایک قسم کا اضطراب اور شک و تردد اپنے ہمراہ لاتے ہیں، اس طرح سے یہ سب کے سب مفاہیم شک و تردد کی جڑ کی طرف ہی، جو اصل میں اس لفظ کا معنی ہے، منتہی ہوتے ہیں۔ اور دوسرے لفظوں میں "ریب" کے لیے تین معنی بیان ہوئے ہیں: شک، اضطراب، حوادث اور یہ سب ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ بہرحال وہ اس چیز سے اپنے دل کو خوش کرتے تھے کہ کوئی حادثہ پیش آئے اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمر کا دفتر لپٹ جائے اور ان کے گمان کے مطابق، اس عظیم مشکل سے، جو آنحضرت کی دعوت نے ان کے سارے معاشرے میں پیدا کر دی تھی، انہیں رہائی مل جائے۔ قرآن ایک پرمعنی اور تہدید آمیز جملے سے ان دل کے اندھے اور عناد رکھنے والے افراد کو جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے: "قُلْ تَرَبَّصُوا فَإِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُتَرَبِّصِينَ" کہہ دو: تم بھی انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔ تم اپنی خام خیالی کے پورا ہونے کے انتظار میں رہو اور میں تمہارے لیے عذابِ الٰہی کے انتظار میں ہوں۔ تم اس انتظار میں رہو کہ میری موت کی وجہ سے اسلام کی بساط لپیٹ دی جائے اور میں بھی پروردگار کی مدد سے اس انتظار میں ہوں کہ میری زندگی ہی میں دینِ اسلام عالمگیر ہو جائے اور میرے بعد بھی اپنے راستے کو جاری و ساری رکھے اور آفاقی و جاودانی ہو جائے۔ ہاں! تم تو اپنے خیالات و تصورات پر تکیہ کیے ہو اور میں پروردگار کے لطفِ خاص پر متکی ہوں۔ اس کے بعد انہیں شدید ترین طریقے سے سرزنش و ملامت کرتے ہوئے کہتا ہے: "أَمْ تَأْمُرُهُمْ أَحْلَامُهُمْ بِهَذَا أَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ" کیا ان کی عقلوں نے انہیں ان اعمال کا حکم دیا ہے؟ یا وہ ایک سرکش قوم ہیں؟ [تشریحی نوٹ: اس بارے میں کہ یہاں "أم"، "استفہامیہ" ہے یا "منقطعہ" اور "بل" کے معنی میں، مفسرین میں سے ہر ایک نے ایک جدا احتمال دیا ہے، اگرچہ اکثر نے دوسرے کو ترجیح دی ہے، لیکن آیات کا سیاق پہلے معنی میں مناسبت رکھتا ہے۔ لیکن توجہ رکھنا چاہیے کہ "أم" اس قسم کے مواقع پر حتمی طور سے ہمزۂ استفہام کے بعد ہونا چاہیے، اسی لیے فخر رازی نے اس کے لیے ایک تقدیر بیان کی ہے، اور وہ یہ ہے کہ: "ءأُنزِلَ عَلَيْهِمْ ذِكْرٌ أَمْ تَأْمُرُهُمْ أَحْلَامُهُم بِهَذَا" (کیا ان پر خدا کی طرف سے کوئی بات نازل ہوئی ہے، یا ان کی عقلیں اس قسم کا حکم کرتی ہیں؟) جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کو یا تو دلیلِ منقول کا تابع ہونا چاہیے یا دلیلِ عقل کا]۔ سردارانِ قریش اپنی قوم میں "ذوی الاحلام" (صاحبانِ عقل) کے لقب سے پہچانے جاتے تھے! قرآن کہتا ہے: یہ کون سی عقل ہے جو اس وحیِ آسمانی کو، جس کے تمام مضامین و مطالب سے حقانیت کی نشانیاں واضح ہیں، شعر و کہانت کا نام دیتی ہے؟ اور اس کے لانے والے کو، جو ایک زمانۂ دراز سے امانت و عقل میں شہرت کا مالک ہے، کاہن، مجنون اور شاعر کہتی ہے؟ اس بنا پر، اس قسم کی تہمتوں اور الزامات کا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ ان کی عقل کا فرمان نہیں ہے، بلکہ ان سب کا سرچشمہ روحِ عصیان و سرکشی ہے، جو ان افراد پر غالب ہے۔ جونہی وہ اپنے نامشروع منافع کو خطرے میں دیکھتے ہیں، تو عقل کو الوداع کہہ دیتے ہیں اور حق تعالیٰ کے فرمان کے مقابلے میں طغیان و سرکشی پر اُتر آتے ہیں۔ "أَحْلَامُهُمْ" جمع ہے "حلم" (بروزن نَهم) "عقل" کے معنی میں ہے، لیکن "راغب" کے قول کے مطابق، "حلم" حقیقت میں ہیجان و غضب کے وقت اپنے اوپر کنٹرول کرنے کے معنی میں ہے، جو عقل و درایت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی شمار ہوتا ہے اور "حلم" (بروزن علم) کے ساتھ ایک مشترک تعلق رکھتا ہے۔ یہ لفظ "حلم" بعض اوقات خواب و رؤیا کے معنی میں بھی آیا ہے اور زیربحث آیت میں بھی اس قسم کی تفسیر بعید نہیں ہے، یعنی ان کی باتیں پریشان خوابوں کا نتیجہ معلوم ہوتی ہیں۔ پھر ایک اور دوسری تہمت کی طرف، جو درحقیقت ان اتہامات کے سلسلہ کی چوتھی تہمت شمار ہوتی ہے، اشارہ کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "أَمْ يَقُولُونَ تَقَوَّلَهُ بَلْ لَا يُؤْمِنُونَ" "وہ کہتے ہیں: اس نے اس قرآن کو خدا پر افترا باندھا ہے، لیکن وہ ایمان نہیں رکھتے۔" "تَقَوَّلہ"، "تَقَوُّل" (بروزن تَکَلُّف) کے مادہ سے ہے، اس گفتگو کے معنی میں جو انسان اپنی طرف سے گھڑ لیتا ہے، درحالی کہ اس میں کوئی حقیقت و واقعیت نہیں ہوتی۔ [تشریحی نوٹ: "مجمع البیان" میں آیا ہے: "التَقَوُّلُ: تَكَلُّفُ القَولِ وَلا يُقالُ ذلِكَ إِلّا فِي الكَذِبِ"]۔ مشرکین اور ہٹ دھرم کافروں کا قرآن مجید اور پیغمبر کی دعوت کو تسلیم نہ کرنے کا یہ ایک اور بہانہ تھا، جس کی طرف قرآن کی آیات میں بارہا اشارہ ہوا ہے۔ لیکن قرآن مجید انہیں ایک دندان شکن جواب دیتا ہے اور فرماتا ہے: "فَلْيَأْتُوا بِحَدِيثٍ مِثْلِهِ إِنْ كَانُوا صَادِقِينَ" اگر وہ سچ کہتے ہیں کہ یہ بشر کا کلام ہے اور فکرِ انسانی کا ساختہ و پرداختہ ہے، تو پھر وہ بھی اس قسم کی بات بنا کر لے آئیں۔ تم بھی انسان ہو اور خود اپنے قول کے مطابق تم مکمل ہوش، بیان کی استطاعت اور انواع و اقسام کی گفتگو سے آگاہی اور اس پر قدرت رکھتے ہو، تو تمہارے خطیب اور مفکرین اس جیسی بات بنا کر لانے کی طاقت کیوں نہیں رکھتے؟ "فَلْيَأْتُوا" (پس لے آؤ) کا جملہ اصطلاح کے مطابق "امر تعجیزی" ہے اور اس کا ہدف اور مقصد یہ ہے کہ قرآن کے مقابلے میں ان کے عجز و ناتوانی کو مقابلہ بالمثل سے ثابت کرے اور یہ وہی چیز ہے جسے علمِ کلام میں "تحدی" اور چیلنج سے تعبیر کیا جاتا ہے، یعنی مخالفین کو معجزات کے مقابلے میں معارضہ اور مقابلہ بالمثل کی دعوت۔ بہرحال، یہ آیت ان آیات میں سے ایک ہے جو وضاحت کے ساتھ قرآن کے اعجاز کو روشن و آشکار کرتی ہیں اور اس کا مفہوم پیغمبر کے زمانے کے لوگوں کے ساتھ ہی مخصوص نہیں ہے، بلکہ تمام ایسے لوگ جو کسی بھی قرن اور زمانے میں یہ کہتے ہوں کہ قرآن انسان کا کلام ہے اور خدا پر افتراء باندھا گیا ہے، وہ بھی اس خطاب کے مخاطب ہیں، کہ اگر وہ سچ کہتے ہیں تو اس جیسا کلام لے آئیں۔ اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں، قرآن کی یہ ندا، اس آیت میں بھی اور اس کے مشابہ دوسری آیات میں بھی، ہمیشہ سے بلند ہے اور چودہ صدیوں کے اندر، جو بعثتِ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد سے گزر چکی ہیں، کوئی بھی اس کا مشت جواب نہیں دے سکا، حالانکہ مسلمہ طور پر دشمنانِ اسلام، خصوصاً اربابِ کلیسا (عیسائی) اور یہودی، اربوں ڈالر سالانہ اسلام کے برخلاف پروپیگنڈے پر صرف کر رہے ہیں۔ ان کے لیے کوئی بات مانع نہیں تھی کہ ان کا ایک حصہ مخالف دانشمندوں، ادیبوں اور سخن وروں کے کسی گروہ کو دے دیتے تاکہ وہ قرآن کے مقابلے میں معارضہ و مقابلہ کے لیے اٹھ کھڑے ہوں اور "فَلْيَأْتُوا بِحَدِيثٍ مِثْلِهِ" کا مصداق بنیں اور یہ عمومی عجز، اس وحیِ آسمانی کی اصالت کا ایک زندہ گواہ ہے۔ ایک مفسر نے یہاں ایک نکتہ پیش کیا ہے جو قابلِ توجہ ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ قرآن میں ایک مخصوص راز ہے اور جو شخص بھی اس کی آیات کے مقابلے میں آتا ہے، وہ اسے محسوس کر لیتا ہے، اس سے پہلے کہ اسرارِ اعجاز کے بارے میں گفتگو کی جائے۔ وہ اس قرآن کی عبارتوں میں ایک خاص نفوذ و غلبہ کو محسوس کرتا ہے اور ان معانی کے ماوراء ایک اور چیز عقلِ انسانی میں منعکس ہوتی ہے۔ اس کی عبارتوں کے اندر ایک ایسا عنصر پوشیدہ ہے، جو سننے کے ساتھ ہی انسان کے وجود میں سما جاتا ہے، بعض اس کا آشکارا طور پر اور بعض پنہاں طور پر ادراک کرتے ہیں، لیکن بہرحال یہ غلبہ اور نفوذ موجود ہے، ایسا اسرار آمیز نفوذ جس کے ظہور کو اچھی طرح مشخص نہیں کیا جا سکتا۔ کیا یہ قرآن کے کلمات اور عبارتیں ہیں جو اس قسم کا انداز رکھتی ہیں؟ یا اس کے معانی کے عمق اور گہرائی میں کوئی راز چھپا ہوا ہے؟ یا وہ عکس ہیں جو اس کے انوار سے چمکتے ہیں؟ یا یہ سب ملے جلے امور ہیں؟ غرض، وہ جو کچھ بھی ہے، ان سب کلمات و مفاہیم سے، جو لغات کے قالب میں ڈھالے جاتے ہیں، مختلف ہے۔ یہ وہ راز ہے جو قرآن کی آیات میں چھپا ہوا ہے اور ہر شخص پہلی ہی مرتبہ جب اس کے سامنے ہوتا ہے تو اسے محسوس کر لیتا ہے اور اس کے بعد دوسرے اسرار کی تلاش میں لگ جاتا ہے، جو غور و فکر کے ذریعے سارے قرآن سے حاصل ہوتے ہیں۔ [بحوالہ: "فی ظلال القرآن" جلد ٧، صفحہ ۶۰۵]۔ اعجازِ قرآن کے سلسلے میں مختلف طریقوں سے مزید وضاحت کے لیے تفسیرِ نمونہ کی پہلی جلد (سورۂ بقرہ کی آیت ٢٣ کے ذیل میں) کی طرف رجوع کریں، وہاں ایک تفصیلی بحث اس سلسلے میں پیش کی گئی ہے، اسی طرح جلد ۶ (سورۂ اسراء کی آیت ٨٨ کے ذیل میں)۔

35
52:35
أَمۡ خُلِقُواْ مِنۡ غَيۡرِ شَيۡءٍ أَمۡ هُمُ ٱلۡخَٰلِقُونَ
کیا وہ کسی سبب کے بغیر پیدا کئے گئے ہیں یا وہ خود ہی اپنے خالق ہیں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 43 کے تحت ملاحظہ کریں۔

36
52:36
أَمۡ خَلَقُواْ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَۚ بَل لَّا يُوقِنُونَ
کیا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ بلکہ وہ یقین کے طلبگار ہی نہیں ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 43 کے تحت ملاحظہ کریں۔

37
52:37
أَمۡ عِندَهُمۡ خَزَآئِنُ رَبِّكَ أَمۡ هُمُ ٱلۡمُصَۜيۡطِرُونَ
کیا ان کے پاس پروردگار کے خزانے ہیں ؟ یا وہ عالم کی تمام چیزوں پر غلبہ وتسلط رکھتے ہیں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 43 کے تحت ملاحظہ کریں۔

38
52:38
أَمۡ لَهُمۡ سُلَّمٞ يَسۡتَمِعُونَ فِيهِۖ فَلۡيَأۡتِ مُسۡتَمِعُهُم بِسُلۡطَٰنٖ مُّبِينٍ
کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے (جس کے ذریعہ و ہ آسمان کے اوپر چڑھ جاتے ہیں ) اور اس کے ذریعہ اسرار وحی کو سنتے ہیں ؟ان میں سے جو بھی کوئی یہ دعویٰ رکھتا ہو تو وہ کوئی واضح دلیل پیش کرے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 43 کے تحت ملاحظہ کریں۔

39
52:39
أَمۡ لَهُ ٱلۡبَنَٰتُ وَلَكُمُ ٱلۡبَنُونَ
کیا اللہ کے حصہ میں تو لڑکیاں ہیں اور تمہارے حصہ میں لڑکے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 43 کے تحت ملاحظہ کریں۔

40
52:40
أَمۡ تَسۡـَٔلُهُمۡ أَجۡرٗا فَهُم مِّن مَّغۡرَمٖ مُّثۡقَلُونَ
کیا تو ان سے اجر اور مزدوری کا مطالبہ کرتا ہے جس کے بھاری بوجھ کے نیچے وہ دب گئے ہیں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 43 کے تحت ملاحظہ کریں۔

41
52:41
أَمۡ عِندَهُمُ ٱلۡغَيۡبُ فَهُمۡ يَكۡتُبُونَ
کیا ان کے پاس غیب کے اسرار ہیں جسے وہ لکھ لیتے ہیں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 43 کے تحت ملاحظہ کریں۔

42
52:42
أَمۡ يُرِيدُونَ كَيۡدٗاۖ فَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ هُمُ ٱلۡمَكِيدُونَ
کیا وہ تیرے لئے کوئی شیطانی منصوبہ بنانا چاہتے ہیں ؟ لیکن وہ جان لیں کہ ان شیطانی منصوبوں کے جال میں خود کافر ہی گرفتار ہوں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 43 کے تحت ملاحظہ کریں۔

43
52:43
أَمۡ لَهُمۡ إِلَٰهٌ غَيۡرُ ٱللَّهِۚ سُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ عَمَّا يُشۡرِكُونَ
یا وہ اللہ کے علاوہ کوئی اور معبود رکھتے ہیں (جس نے ان کی مدد کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے) جسے وہ اللہ کا شریک بناتے ہیں اللہ کی ذات اس سے پاک اور منزہ ہے۔

تفسیر: سچ سچ بتاؤ تمہاری صحیح بات کون سی ہے؟!

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

یہ آیات، قرآن، نبوت اور پروردگار کی قدرت کے منکرین کے مقابلے میں اسی طرح سے گزشتہ استدلالی بحث کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ ایسی آیات ہیں، جو سب کی سب "أم"کے ساتھ، جو یہاں استفہام کے لیے ہے، شروع ہوئی ہیں اور "گیارہ پے درپے سوالوں کی" ایک عمدہ لڑی کو (استفہام انکاری کی صورت میں) ایک استدلال کے طور پر بیان کرتی ہیں اور زیادہ واضح تعبیر میں مخالفین کے سامنے فرار کے تمام راستوں کو بند کر رہی ہیں۔ اور ان مختصر اور پرنفوذ عبارتوں میں گھیر کر انہیں اس طرح سے ایک تنگ جگہ میں لے آئی ہیں کہ انسان اس کی عظمت اور انتظار کے سامنے بےاختیار سرِ تعظیم جھکاتے ہوئے اقرار و اعتراف کرتا ہے۔ پہلے مسئلۂ خلقت و آفرینش سے شروع کرتے ہوئے کہتا ہے: "کیا بغیر کسی سبب کے پیدا ہوئے ہیں، یا خود ہی اپنے خالق ہیں"؟ (أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ) ۔ [تشریحی نوٹ: اس آیت کی تفسیر میں دوسرے احتمالات بھی دیے گئے ہیں۔ منجملہ ان کے، ایک یہ ہے کہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ: "کیا وہ بِلامقصد اور ہدف کے پیدا کیے گئے ہیں، اور وہ کوئی پروگرام اور مسؤولیت نہیں رکھتے"؟ اگرچہ اس معنی کو مفسرین کی ایک جماعت نے اختیار کیا ہے، لیکن دوسرے جملے کی طرف توجہ کرتے ہوئے (أَمْ ھُمُ الْخالِقُونَ) سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس سے مراد وہی ہے جو اوپر بیان ہو چکا ہے، یعنی "کیا وہ بغیر کسی علت اور سبب کے پیدا کیے گئے یا وہ خود اپنی علت آپ ہیں"]۔ یہ کوتاہ اور مختصر عبارت حقیقت میں "علیت کی معروف دلیل" کی طرف اشارہ ہے، جو فلسفہ و کلام میں خدا کے وجود کے اثبات کے لیے بیان کی جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ عالم جس میں ہم رہتے ہیں بلا شک و شبہ حادث ہے (کیونکہ وہ ہمیشہ تغیر و تبدیلی کی حالت میں ہے اور جو چیز تغیر اور دگرگونی کی حالت میں ہو وہ حادث ہوتی ہے اور جو چیز حادث ہو اس کے لیے محال ہے کہ وہ قدیم و ازلی ہو)۔ اب یہ سوال سامنے آتا ہے کہ اگر عالم حادث ہے تو وہ پانچ حالتوں سے خالی نہیں ہے: 1۔ وہ بغیر کسی علت و سبب کے وجود میں آیا ہے۔ 2۔ وہ خود اپنے وجود کی علت ہے۔ 3۔ عالم کے معلولات اس کے وجود کی علت ہیں۔ 4۔ یہ جہان ایک ایسی علت کا معلول ہے کہ وہ بھی اپنی نوبت میں ایک دوسری علت کا معلول ہے اور غیرمتناہی سلسلہ تک معاملہ آگے جاتا ہے۔ 5۔ یہ جہان خداوندِ واجب الوجود کی مخلوق ہے جس کی ہستی خود اسی کی ذات پاک سے ہے۔ پہلے چار احتمالوں کا باطل ہونا معلوم ہے، کیونکہ: • معلول کا وجود علت کے بغیر محال ہے، ورنہ ہر چیز ہر طرح کے حالات میں وجود میں آ سکتی ہے، جبکہ ایسا نہیں ہے۔ • دوسرا احتمال کہ کوئی چیز خود اپنے آپ کو وجود میں لے آئے، یہ بھی محال ہے، کیونکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ اپنے وجود سے پہلے موجود ہو اور یہ اجتماعِ نقیضین ہے (غور کیجیے)۔ • اسی طرح تیسرا احتمال بھی، کہ انسان کی مخلوقات و معلول اس کی خالق و علت ہو، واضح طور پر باطل ہے (کیونکہ اس سے دور لازم آتا ہے)۔ • اور چوتھا احتمال بھی، یعنی علل و اسباب کا تسلسل اور اس کا سلسلہ غیرمتناہی حد تک کھنچ جانا بھی ناقابلِ قبول ہے، کیونکہ غیرمتناہی معلول و مخلوق آخر مخلوق ہے اور وہ ایک خالق کی محتاج ہے، جس نے اس کو ایجاد کیا ہے۔ کیا غیرمتناہی صفر کوئی عدد بن سکتا ہے؟ یا غیرمتناہی ظلمت سے نور پھوٹ سکتا ہے؟ یا غیرمتناہی فقر و نیاز سے بےنیازی وجود میں آ سکتی ہے؟ اس بنا پر پانچویں احتمال یعنی واجب الوجود کے خالق ہونے کو قبول کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ باقی نہیں رہتا (پھر بھی غور کیجیے)۔ اور چونکہ اس برہان کا اصلی رکن، پہلے اور دوسرے احتمال کی نفی ہی ہے، لہٰذا قرآن نے اسی پر قناعت کی ہے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ ایک مختصر سی عبارت میں کیا استدلال چھپا ہوا ہے۔ بعد والی آیت، ایک اور سوال کو بیان کرتے ہوئے، جو نچلے مرحلے کے دعوے کے بارے میں ہے، کہتی ہے: کیا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ (أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ)۔ اگر وہ کسی علت کے بغیر وجود میں نہیں آئے اور وہ خود اپنے وجود کی علت بھی نہیں ہیں، تو کیا وہ واجب الوجود اور آسمانوں اور زمین کے خالق ہیں؟ اور اگر عالمِ ہستی کا مبدء نہیں ہیں، تو کیا خدا نے آسمان و زمین کی خلقت کا معاملہ ان کے سپرد کر رکھا ہے؟ اور اس طرح سے وہ ایک ایسی مخلوق ہیں جو خود فرمانِ خلقت رکھتی ہو؟ مسلّمہ طور سے وہ ہرگز اس قسم کا باطل دعویٰ نہیں کر سکتے، لہٰذا اس بات کے آخر میں مزید کہتا ہے: "بلکہ وہ ہٹ دھرم ہیں اور یقین و ایمان لانا ہی نہیں چاہتے۔" (بَلْ لَا یُوقِنُونَ)۔ ہاں! وہ ایمان سے فرار کرنے کے لیے کسی بہانے کی تلاش میں ہیں۔ اور اگر وہ ان امور کے مدعی نہیں ہیں اور امرِ خلقت میں وہ کوئی حصہ نہیں رکھتے تو: "کیا تیرے پروردگار کے خزانے ان کے پاس ہیں"؟ (أَمْ عِنْدَھُمْ خَزَائِنُ رَبِّکَ) ۔ [تشریحی نوٹ: "خَزَائِن" جمع ہے "خَزِینَہ" کی، جو کسی چیز کے منبع اور مرکز کے معنی میں ہے، جس کی حفاظت اور دوسروں کی رسائی سے بچانے کے لیے اُسے وہاں جمع اور ذخیرہ کیا گیا ہو۔ قرآن مجید کہتا ہے: (وَ إِنْ مِنْ شَیْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُہُ وَ مَا نُنَزِّلُہُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَعْلُومٍ) "ہر چیز کے خزانے ہمارے پاس ہیں اور ہم ایک معلوم اندازے کے مطابق ہی اُسے نازل کرتے ہیں۔" (سورۂ حجر، آیت ٢١)]۔ تاکہ وہ جسے چاہیں نبوت، علم و دانش کی نعمت یا دوسرے رزق بخشیں اور جس سے چاہیں روک لیں۔ یا پھر یہ بات ہے کہ عالم کی تدبیر کا کام ان کے سپرد کر دیا گیا ہے اور وہ ہر چیز پر تسلط و اقتدار رکھتے ہیں؟ (أَمْ ھُمُ الْمُصَیْطِرُونَ)۔ وہ ہرگز بھی اس بات کا دعویٰ نہیں کر سکتے کہ وہ پروردگار کے خزانہ دار ہیں اور نہ ہی وہ اس جہاں کی تدبیر کے معاملے میں کوئی تسلط رکھتے ہیں، کیونکہ ایک حادثہ، ایک بیماری، یا کسی حقیر سے موذی جانور کے مقابلے میں ان کا ضعف و ناتوانی، اور اسی طرح زندگی کے بالکل ابتدائی وسائل کے لیے ان کی ضرورت و احتیاج، ان قدرتوں کی ان سے نفی کی بہترین دلیل ہے۔ صرف ہوائے نفس، جاہ طلبی، خودخواہی، تعصب اور ہٹ دھرمی ہے جس نے انہیں حقائق سے انکار پر آمادہ کیا ہے۔ "مُصَیْطِرُونَ"، "اربابِ انواع" کی طرف اشارہ ہے، جو گزشتہ لوگوں کی خرافات اور بےہودہ باتوں کا ایک حصہ ہے۔ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ عالم کی انواع میں سے ہر نوع کا، چاہے وہ انسان ہوں، حیوانات ہوں یا نباتات وغیرہ، ایک خاص مدبر و مربی ہوتا ہے، جسے وہ اس نوع کا "رب النوع" کہتے تھے اور خدا کو "رب الارباب" کا خطاب دیتے تھے۔ یہ شرک آمیز عقیدہ اسلام کی نظر میں مردود ہے۔ اور قرآن کی آیات میں تمام جہان کی تدبیر خدا ہی کے ساتھ مخصوص کی گئی ہے اور اسی کو ہم "رب العالمین" کہہ کر پکارتے ہیں۔ یہ لفظ اصل میں "سطر" سے لیا گیا ہے، جو لکھنے کے وقت کلمات کی صفوں کے معنی میں ہے اور "مُسَیْطِر" اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی کام پر تسلط رکھتا ہو اور اسے خط اور لائن دے، جیسا کہ لکھنے والا اپنے کلام کی سطور پر تسلط رکھتا ہے۔ (یہ بات دھیان میں رہے کہ یہ لفظ "صاد" کے ساتھ بھی لکھا جاتا ہے اور "سین" کے ساتھ بھی اور دونوں کا ایک ہی معنی ہے، اگرچہ قرآن کا مشہور رسم الخط "صاد" کے ساتھ ہے)۔ یہ بات مسلّم ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے منکر، زمانۂ جاہلیت کے مشرکین اور ان کے علاوہ دوسرے لوگوں میں سے کوئی بھی اوپر والے پانچ امور کا مدعی نہیں تھا، اس لیے بعد والی آیت میں ایک دوسرے مرحلے کو پیش کرتے ہوئے کہتا ہے: "کیا وہ اس بات کے مدعی ہیں کہ ان پر وحی نازل ہوتی ہے، یا ان کے پاس کوئی ایسی سیڑھی ہے جس سے وہ آسمان کے اوپر چڑھ جائیں اور وحی کے اسرار اس ذریعے سے سن لیں"؟ (أَمْ لَھُمْ سُلَّمٌ یَسْتَمِعُونَ فِیہِ)۔ اور چونکہ یہ ممکن تھا کہ وہ اسرارِ آسمانی سے آگاہی کا دعویٰ کر دیں، لہٰذا قرآن بِلافاصلہ ان سے دلیل کا مطالبہ کرتے ہوئے کہتا ہے: "جو شخص ان میں سے اس قسم کا دعویٰ رکھے اور یہ کہے کہ: میں آسمان پر چڑھ کر اسرارِ الہٰی کو سنتا ہوں، تو وہ اپنے اس دعوے کے لیے کوئی واضح دلیل پیش کرے۔" (فَلْیَأْتِ مُسْتَمِعُھُمْ بِسُلْطَانٍ مُبِینٍ)۔ یقیناً اگر وہ اس قسم کا دعویٰ کرتے تو ایک بھی بات نہ کر سکتے اور اس مطلب پر ہرگز کوئی دلیل پیش نہ کرتے۔ [تشریحی نوٹ: "سُلَّم" (بروزن خُرَم) سیڑھی کے معنی میں ہے اور بعض اوقات ہر قسم کے وسیلے اور ذریعے کے معنی میں آیا ہے۔ اس بارے میں کہ وہ کس چیز کے سننے کے مدعی تھے؟ مفسرین کے درمیان اختلاف ہے: • بعض نے اس کی وحی کے ساتھ تفسیر کی ہے۔ • بعض نے ان نسبتوں کے ساتھ جو وہ پیغمبر کو دیتے تھے، جیسے شاعر و مجنون، یا وہ شریک جنہیں وہ خدا کے لیے خیال کرتے تھے۔ • اور بعض نے پیغمبر سے نبوت کی نفی کے معنی میں تفسیر کی ہے۔ (ان معانی میں جمع کرنا بھی بعید نہیں ہے، اگرچہ پہلا معنی سب سے زیادہ واضح ہے۔)]۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: کیا یہ ناروا نسبت جو وہ فرشتوں کی طرف دیتے ہیں، کہ وہ خدا کی بیٹیاں ہیں، قابلِ قبول ہے؟ کیا خدا کے حصے میں بیٹیاں اور تمہارے حصے میں بیٹے ہیں؟ (أَمْ لَہُ الْبَنَاتُ وَلَکُمُ الْبَنُونَ)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے باطل عقائد و افکار میں سے ایک یہ تھا کہ وہ بیٹیوں سے شدید نفرت کرتے تھے اور اگر انہیں خبر ملتی تھی کہ ان کی بیوی نے بیٹی جنی ہے، تو ان کا چہرہ غم و اندوہ اور شرم و حیا کی شدت سے سیاہ ہو جاتا تھا، لیکن اس کے باوجود وہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔ اگر ان کا عالمِ بالا کے ساتھ کوئی تعلق ہے اور وہ اسرارِ روحی سے آشنا ہیں، تو کیا ان کی وحی کا نمونہ یہی مضحکہ خیز خرافات اور ننگین و شرم آگیں عقائد ہیں؟ یہ بات واضح ہے کہ لڑکی اور لڑکا انسانی قدر و قیمت کے لحاظ سے آپس میں کوئی فرق نہیں رکھتے، اور اوپر والی آیت کی تعبیر حقیقت میں طرفِ مقابل کے باطل عقیدے کے برخلاف استدلال کے قبیل سے ہے۔ قرآن نے متعدد آیات میں اس بیہودہ عقیدے کی نفی پر تکیہ کیا ہے اور انہیں اس سلسلے میں محاکمے میں لے جا کر رسوا کرتا ہے۔ [تشریحی نوٹ: اس بارے میں کہ زمانۂ جاہلیت کے لوگ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کیوں سمجھتے تھے، جب کہ بیٹی سے متنفر اور بیزار تھے؟ اور قرآن نے جو عمدہ دلائل ان کے برخلاف قائم کیے ہیں، وہ زیادہ تر جلد ١١ سے آگے (آیہ ۵۷، سورۂ نحل کے ذیل میں) اور جلد ١٩ سے آگے (سورۂ صافات، آیت ۱۴۹ کے ذیل میں) بیان کیے جا چکے ہیں]۔ پھر اس مرحلے سے ایک منزل اور نیچے اُترتا ہے اور ایک دوسری بات کی طرف، جو ان کی بہانہ جوئی کا وسیلہ ہو سکتی ہے، اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "کیا تو تبلیغِ رسالت کے مقابلے میں ان سے کسی اجر و صلہ کا مطالبہ کرتا ہے، جو ایک بھاری بوجھ کی طرح ان کے دوش پر رکھا ہے"؟ (أَمْ تَسْئَلُھُمْ أَجْراً فَھُمْ مِنْ مَغْرَمٍ مُثْقَلُونَ)۔ "مَغْرَم" بروزنِ مکتب "غُرْم" کے مادہ سے ہے، اس نقصان کے معنی میں جو بِلاسبب انسان کے دامن گیر ہو جاتا ہے اور "غَرِیم" طلبگار اور مقروض دونوں پر بولا جاتا ہے۔ "مُثْقَل"، "أَثْقَال" کے مادہ سے ہے، جو تحمیل، مشقت اور بھاری بوجھ کے معنی میں ہے، اس بنا پر جملہ کا معنی اس طرح ہو گا: "کیا تو تبلیغِ رسالت کے لیے ان سے تاوان کا مطالبہ کرتا ہے جس کو ادا کرنے سے وہ ناتواں ہیں اور اس لیے وہ ایمان نہیں لاتے"؟ یہ معنی قرآن مجید میں نہ صرف پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں بلکہ بہت سے پیغمبروں کے بارے میں بارہا تکرار سے آیا ہے کہ انبیاء کی سب سے پہلی باتوں میں سے یہ ہوتی تھی کہ وہ یہ کہتے تھے: "ہم تم سے دعوتِ الٰہی کی تبلیغ کے مقابلے میں کسی قسم کے اجر و صلہ کا مطالبہ نہیں کرتے" تاکہ ان کی بےمثالی بھی ثابت ہو اور کسی طمع و لالچ کا نہ ہونا بھی اور بہانہ تلاش کرنے والوں کے لیے کوئی بہانہ بھی باقی نہ رہے۔ ان سے دوبارہ سوال کرتے ہوئے کہتا ہے: "کیا غیب کے اسرار ان کے پاس ہیں اور وہ اس سے لکھ لیتے ہیں"؟ (أَمْ عِنْدَھُمُ الْغَیْبُ فَھُمْ یَکْتُبُونَ)۔ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پیغمبر ایک شاعر ہے اور ہم اس کی موت اور شیرازۂ زندگی کے بکھر جانے کے انتظار میں ہیں اور اس کی موت سے تمام چیزیں ختم ہو جائیں گی اور اس کی دعوت نسیان کے سپرد ہو جائے گی، (جیسا کہ گزشتہ چند آیات میں مشرکین کا یہ قول بیان ہوا ہے: "تَتَرَبَّصُ بِہِ رَیْبُ الْمَنُونِ")۔ انہیں یہ کہاں سے پتہ چل گیا کہ وہ پیغمبر کی وفات کے بعد زندہ رہیں گے؟ یہ غیب انہیں کس نے بتایا ہے؟ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ قرآن یہ کہتا ہے کہ: "اگر تم اس بات کے مدعی ہو کہ تمہیں غیب کا علم ہے اور تم احکامِ خداوندی کا علم رکھتے ہو اور تم قرآن اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دین سے بےنیاز ہو، تو یہ ایک عظیم جھوٹ ہے۔" [تشریحی نوٹ: مفسرین کی ایک جماعت نے یہاں "غیب" کی "لوحِ محفوظ" کے معنی میں تفسیر کی ہے اور بعض نے یہ کہا ہے کہ یہ ان دعووں کی طرف اشارہ ہے جو بعض مشرکین رکھتے تھے اور کہتے تھے: "اگر کوئی قیامت ہونی ہو گی تو ہمارے لیے خدا کے ہاں بلند مرتبہ ہو گا۔" لیکن یہ تفاسیر اوپر والی آیات کے مفہوم اور ان کے ایک دوسرے کے ساتھ ارتباط سے کوئی زیادہ مناسبت نہیں رکھتیں]۔ اس کے بعد ایک دوسرے احتمال کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: اگر ان امور میں سے کوئی بھی بات نہیں ہے، تو پھر انہوں نے شیطانی منصوبے بنائے ہیں، تاکہ پیغمبر کو درمیان سے ہٹا دیں یا اس کے دین سے مقابلے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں۔ انہیں جان لینا چاہیے کہ کفار خدائی منصوبوں کے مقابلے میں مغلوب ہوں گے اور خدا کا منصوبہ ان کے منصوبے سے کہیں بلند ہے: "(أَمْ یُرِیدُونَ کَیْداً فَالَّذِینَ کَفَرُوا ھُمُ الْمَکِیدُونَ)" ۔ [تشریحی نوٹ: "کید" (بروزن صَید) ایک قسم کی چارہ جوئی کو کہتے ہیں، جو بعض اوقات اچھی چارہ جوئیوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، لیکن زیادہ تر بُرے مقام پر استعمال ہوتا ہے۔یہ لفظ مکر و فریب، سعی و کوشش اور جنگ کے معنی میں بھی آیا ہے]۔ اوپر والی آیت اس تفسیر کے مطابق سورۂ آلِ عمران کی آیت ۵۴ کی مانند ہے، جو کہتی ہے: (وَ مَکَرُوا وَ مَکَرَ اللَّہُ وَ اللَّہُ خَیْرُ الْماکِرِینَ)۔ مفسرین کی ایک جماعت نے یہ احتمال بھی قبول کیا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ ان کی سازشیں انجامِ کار انہی کے برخلاف تمام ہوں گی، جیسا کہ سورۂ فاطر کی آیت ۴۳ میں آیا ہے: (وَ لا یَحِیقُ الْمَکْرُ السَّیِّئُ إِلَّا بِأَہْلِہِ) "بُرے منصوبے صرف اپنے بنانے والوں ہی کے دامن گیر ہوتے ہیں۔" دونوں تفسیروں کو جمع کرنے میں بھی کوئی مانع نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ آیت گذشتہ آیت کے ساتھ ایک دوسرا تعلق رکھتی ہو اور وہ یہ ہے کہ دشمنانِ اسلام کہتے تھے کہ: "ہم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موت کے انتظار میں ہیں۔" قرآن کہتا ہے کہ معاملہ دو حال سے خارج نہیں ہے: 1. یا تو تمہارا دعویٰ یہ ہے کہ وہ تم سے پہلے طبعی موت سے مر جائے گا، تو اس بات کا لازمہ یہ ہے کہ تم اسرارِ غیب سے آگاہ ہو۔ 2. اور اگر تمہاری مراد یہ ہے کہ وہ تمہاری سازشوں کے ذریعے ختم ہو جائے گا، تو یہ جان لو کہ خدا کے منصوبے کہیں بالا ہیں اور تمہاری سازشیں خود تمہیں دامنگیر ہو جائیں گی۔ اور اگر تم یہ خیال کرتے ہو کہ دارُالندوہ میں جمع ہو کر اور پیغمبر پر کہانت، جنون، شاعری جیسی تہمتیں لگانے سے، اس پر کامیاب ہونے میں قادر ہو جاؤ گے، تو یہ تمہارا خیالِ خام ہے، کیونکہ خدا کی قدرت تمام قدرتوں سے برتر ہے۔ اور اس نے اس عالمی دعوت کی تبلیغ کے لیے، اپنے پیغمبر کی سلامتی، نجات اور کامیابی کی ضمانت کر لی ہے۔ آخر میں، آخری سوال میں ان سے پوچھتا ہے: "کیا اُن کا خیال یہ ہے کہ وہ کوئی حامی اور مددگار رکھتے ہیں؟ خدا کے علاوہ ان کا کوئی اور معبود ہے"؟ (أَمْ لَھُمْ إِلٰہٌ غَیْرُ اللَّہِ)۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "وہ پاک اور منزہ ہے اس سے جسے وہ اس کا شریک قرار دیتے ہیں۔" (سُبْحانَ اللَّہِ عَمَّا یُشْرِکُونَ)۔ اس بنا پر کوئی شخص ان کی حمایت پر قادر نہیں ہے۔ اس طرح سے وہ ان سے گیارہ عجیب و غریب، مسلسل اور پے در پے سوالات کے ذریعے بازپرس کرتا ہے، اور انہیں مرحلہ بہ مرحلہ ان کے دعووں سے پیچھے ہٹاتا اور نیچے اتارتا چلا جاتا ہے اور اس کے بعد فرار کے تمام راستے ان کے سامنے بند کر دیتا ہے اور انہیں مکمل طور پر محصور کر دیتا ہے۔ قرآن کے استدلالات کتنے دلنشین ہیں اور اس کے سوالات اور طرزِ بازپرس کتنی عمدہ ہے کہ اگر کسی میں حق جوئی اور حق طلبی کی روح موجود ہو، تو وہ اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کر لے گا۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ آخری آیت میں دوسرے معبودوں کی نفی کے لیے کوئی دلیل بیان نہیں کی گئی اور صرف "سُبْحانَ اللَّہِ عَمَّا یُشْرِکُونَ" کے جملے پر اکتفا کر لیا ہے۔ یہ اس بنا پر ہے کہ ان بتوں کی الوہیت کے دعوے کا بطلان، جو پتھر اور لکڑی سے بنائے گئے ہیں، یا کوئی بھی دوسری مخلوق، ان حاجات و ضروریات اور کمزوریوں کے ساتھ جو اُن میں پائی جاتی ہیں، اس سے کہیں زیادہ واضح و روشن ہے کہ اس کی تشریح کی جائے اور اس پر گفتگو کی جائے۔ علاوہ ازیں، دوسری آیات میں بارہا اس موضوع کے ابطال کے لیے استدلال ہوا ہے۔

44
52:44
وَإِن يَرَوۡاْ كِسۡفٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ سَاقِطٗا يَقُولُواْ سَحَابٞ مَّرۡكُومٞ
(ایسے ہٹ دھرم ہیں کہ) اگر وہ یہ دیکھ لیں کہ پتھر کا کوئی ٹکڑا آسمان سے (ان کے عذاب کے لیے) گررہا ہے تو وہ کہیں گے یہ تو ایک تہ بہ تہ بادل ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔

45
52:45
فَذَرۡهُمۡ حَتَّىٰ يُلَٰقُواْ يَوۡمَهُمُ ٱلَّذِي فِيهِ يُصۡعَقُونَ
(جب ایسا ہے تو اے پیغمبر!) تو انہیں چھوڑ دے یہاں تک کہ ان کی اپنی موت کے دن سے ملاقات ہوجائے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔

46
52:46
يَوۡمَ لَا يُغۡنِي عَنۡهُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡـٔٗا وَلَا هُمۡ يُنصَرُونَ
وہ دن جس میں ان کے منصوبے ان کی حالت کے لئے کچھ بھی مفید نہیں ہوں گے اور کوئی بھی ان کی مدد نہیں کرے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔

47
52:47
وَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُواْ عَذَابٗا دُونَ ذَٰلِكَ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ
اور ظالموں کے لئے اس سے پہلے بھی ایک عذاب ہے (جو اسی جہان میں ہوگا) لیکن ان میں سے اکثر جانتے نہیں ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔

48
52:48
وَٱصۡبِرۡ لِحُكۡمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعۡيُنِنَاۖ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ حِينَ تَقُومُ
اپنے پروردگار کے حکم کی تبلیغ کے راستہ میں صبر واستقامت سے کام لے کیونکہ تو مکمل طور سے ہماری حفاظت میں ہے اور جب تو کھڑا ہو تو اپنے پروردگار کی تسبیح اور حمد وثنا بیان کر

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔

49
52:49
وَمِنَ ٱلَّيۡلِ فَسَبِّحۡهُ وَإِدۡبَٰرَ ٱلنُّجُومِ
(اسی طرح) رات میں اس کی تسبیح کر اور ستاروں کے پشت پھیرنے اور طلوع صبح کے وقت بھی۔

تفسیر: تو ہماری مکمل حفاظت ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

اس بحث کے بعد، جو گزشتہ آیات میں مشرکین اور ہٹ دھرم منکرین کے بارے میں آئی ہے، جو ایک ایسی بحث تھی کہ ہر حق طلب انسان کے لیے حقیقت کو واضح کرتی تھی، ان آیات میں ان کے تعصب اور ہٹ دھرمی سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے: وہ ایسے ہٹ دھرم ہیں کہ اگر وہ اپنی آنکھ سے دیکھ لیں کہ ایک ٹکڑا آسمانی پتھروں کا عذابِ الہٰی کے طور پر نیچے گر رہا ہے، تو وہ یہ کہیں گے: "تمہیں مغالطہ ہوا ہے، یہ پتھر نہیں ہے، یہ تو تہ بہ تہ بادل ہے، جو زمین پر برسنے والا ہے۔" (وَإِنْ يَرَوْا كِسْفًا مِنَ السَّمَاءِ سَاقِطًا يَقُولُوا سَحَابٌ مَرْكُومٌ)۔ [تشریحی نوٹ: کَسَفَ" (بروزن فسق) کسی بھی چیز کے ٹکڑے کے معنی میں ہے اور "مِنَ السَّمَاءِ" کی تعبیر کی طرف توجہ کرتے ہوئے، یہاں آسمانی پتھر کا ٹکڑا مراد ہے۔ بعض کتبِ لغت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ "کِسَفَہُ" کی جمع ہے (جیسا کہ "کِسَفٌ" بروزن "پدر" بھی جمع ہے) لیکن اکثر مفسرین نے اسے مفرد کے معنی میں لیا ہے۔ زیر بحث آیت سے ظاہر یہ ہے کہ یہ لفظ مفرد ہے کیونکہ اس کی صفت کو مفرد کی صورت میں لایا گیا ہے]۔ جو لوگ اس قدر ہٹ دھرم ہوں کہ محسوس حقائق کا بھی انکار کر دیں اور آسمانی پتھروں کو تہ بہ تہ بادل کہنے لگیں، حالانکہ تمام لوگوں نے بادل کو، جب وہ زمین کے قریب ہوتا ہے، دیکھا ہے کہ وہ نجات کے مجموعہ کے سوا اور کچھ نہیں ہے، یہ لطیف بخارات تہ بہ تہ ہو کر پتھر میں کیسے تبدیل ہو سکتے ہیں؟ ان افراد کی حقائقِ معنوی کے مقابلے میں تکلیف و ذمہ داری واضح ہے۔ ہاں! گناہ، ہوا پرستی، عناد اور ہٹ دھرمی کی تاریکی انسان کی نگاہ کے افق کو اس طرح سے تیرہ و تاریک کر دیتی ہے کہ آخرکار وہ محسوسات کا بھی انکار کرنے لگ جاتے ہیں۔ "مَرْكُومٌ"، "متراکم" کے معنی میں ہے اور وہ ایک ایسی چیز ہوتی ہے جس کا بعض حصہ دوسرے بعض حصہ پر قرار پایا ہو۔ لہٰذا بعد والی آیت میں مزید کہا گیا ہے: "اب جب کہ ایسا ہے تو انہیں چھوڑ دے اور اس ہٹ دھرم گروہ کی ہدایت کے لیے زور نہ دے، تاکہ وہ اپنے موت کے دن کی ملاقات کرتے ہوئے خدا کے عذابوں کو، جو ان کے انتظار میں ہیں، اپنی آنکھ سے دیکھ لیں۔" (فَذَرْهُمْ حَتَّىٰ يُلَاقُوا يَوْمَهُمُ الَّذِي فِيهِ يُصْعَقُونَ)۔ "يُصْعَقُونَ"، "صَعْقَ" اور "إِصْعَاق" کے مادہ سے مار ڈالنے کے معنی میں ہے اور اصل میں "صاعقہ" سے لیا گیا ہے اور چونکہ صاعقہ لوگوں کو ہلاک کر دیتی ہے، لہٰذا جہاں پر انسانوں کی عمومی موت سے، جو قیامت کا مقدمہ ہے، تفسیر کی گئی ہے، لیکن یہ تفسیر بعید نظر آتی ہے، کیونکہ وہ اس زمانے تک باقی نہیں رہیں گے، بلکہ وہی پہلا معنی ہے، یعنی انہیں موت کے دن کے لیے، جو اخروی سزاؤں اور عذابوں کا سرآغاز ہے، چھوڑ دے۔ ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے، اس سے معلوم ہو گیا ہے کہ "فَذَرْهُمْ" (انہیں چھوڑ دے) کا جملہ ایک تہدید آمیز امر ہے اور اس سے مراد ایسے ناقابلِ ہدایت افراد کی تبلیغ پر اصرار کو ترک کر دینا ہے۔ اس بنا پر نہ تو پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے عمومی سطح پر تبلیغ کو جاری رکھنے کے ساتھ منافات رکھتا ہے اور نہ ہی فرمانِ جہاد کے ساتھ۔ اس بنا پر بعض کا یہ کہنا کہ "یہ آیت آیاتِ جہاد کے ساتھ منسوخ ہو گئی ہے"، کسی طرح سے بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔ اس کے بعد اس دن کا تعارف کراتے ہوئے کہا گیا ہے: "وہی دن، جس میں ان کی چارہ جوئی اور منصوبے انہیں کوئی فائدہ نہیں دیں گے اور فرار کے تمام راستے ان کے سامنے بند ہو جائیں گے اور کسی طرف سے ان کی مدد نہ کی جائے گی۔" (يَوْمَ لَا يُغْنِي عَنْهُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا وَلَا هُمْ يُنْصَرُونَ)۔ ہاں! جو شخص مر جاتا ہے، اس کی قیامتِ صغریٰ برپا ہو جاتی ہے: "مَنْ مَاتَ قَامَتْ قِيَامَتُهُ" اور وہ جزاؤں اور سزاؤں کے لیے ابتداء ہوتی ہے، جن میں سے بعض تو برزخی پہلو رکھتی ہیں اور بعض دیگر قیامتِ کبریٰ میں، یعنی انسانوں کی عمومی قیامت میں انہیں دامن گیر ہوں گی اور ان دونوں مراحل میں نہ تو چارہ جوئیاں مؤثر ہوں گی اور نہ ہی ارادۂ الہٰی کے مقابلے میں کوئی ناصر و مددگار ہو گا۔ اس کے بعد مزید کہا گیا ہے: "وہ یہ تصور نہ کر بیٹھیں کہ صرف برزخ اور قیامت کا عذاب ہی ہو گا، ان لوگوں کے لیے جنہوں نے ظلم و ستم کیا ہے اور کفر و شرک اختیار کیا ہے، اس سے پہلے بھی اس دنیا میں ان کے لیے سزا و عذاب ہے، اگرچہ ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔" (وَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا عَذَابًا دُونَ ذَٰلِكَ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ)۔ ہاں! انہیں اس دنیا میں بھی ان عذابوں کے انتظار میں رہنا چاہیے، جیسا کہ گزشتہ اقوام پر ہوئے، مثلاً صاعقے، زلزلے، آسمانی پتھر، خشک سالی، قحط یا سپاہِ توحید کے مجاہدین کے توانا ہاتھوں سے قتل ہونا، جیسا کہ جنگِ بدر میں سردارانِ شرک کے ایک گروہ کے لیے اتفاق ہوا، مگر یہ کہ وہ بیدار ہو جائیں، توبہ کر لیں اور خدا کی طرف پلٹ آئیں۔ یقیناً ان میں سے ایک گروہ تو قحط اور خشک سالی میں گرفتار ہوا اور ایک گروہ، جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے، جنگِ بدر میں قتل کر دیا گیا، لیکن ایک عظیم گروہ نے توبہ بھی کر لی اور ایمان لے آیا اور سچے مسلمانوں کی صف میں شامل ہو گیا اور خدا نے انہیں اپنی عفو و بخشش میں شامل قرار دیا۔ [تشریحی نوٹ: وہ لوگ جو "فِيهِ يُصْعَقُونَ" کو روزِ قیامت اور ابتدائے قیامت کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں، انہوں نے زیر بحث آیت میں عذابِ قبر اور عذابِ برزخ کے معنی میں لیا ہے، لیکن چونکہ وہ تفسیر ضعیف ہے لہٰذا یہ احتمال بھی ضعیف ہے]۔ (وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ) "لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے" کا جملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ عام طور پر اس عذاب سے، جو دنیا و آخرت میں ان پر آنے والا ہے، بےخبر ہیں اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ ان کی اقلیت اس معنی سے آگاہ ہے، لیکن اس کے باوجود ہٹ دھرمی اور عناد کی وجہ سے اپنی مخالفت پر اصرار کرتے ہیں۔ بعد والی آیت میں پیغمبر کو ان تمام کارشکنیوں، تہمتوں اور نازیبا باتوں کے مقابلے میں صبر و استقامت کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: "اپنے پروردگار کے حکم کی تبلیغ کی راہ میں صبر و استقامت اور شکیبائی اختیار کر۔" (وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ) [تشریحی نوٹ: "حُکْمَ رَبِّكَ" سے مراد ممکن ہے وہی احکامِ الہٰی کی تبلیغ ہو کہ پیغمبر اس کی راہ میں صبر و شکیبائی کرنے پر مامور ہے، یا خدا کا عذاب ہے جس کا دشمنوں کو وعدہ دیا گیا ہے، یعنی انتظار کر یہاں تک کہ عذابِ الہٰی انہیں پکڑ لے، یا اوامرِ الہٰی اور فرمانِ خدا کے معنی میں ہے، یعنی چونکہ خدا نے حکم دیا ہے کہ صبر و استقامت کر، اگرچہ تینوں تفاسیر کا جمع کرنا بھی ممکن ہے، لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے، خصوصاً "إِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا" کے جملے کی طرف توجہ کرتے ہوئے]۔ اگر وہ تجھے کاہن، مجنون اور شاعر کہتے ہیں تو تُو صبر کر، اسی طرح اگر وہ آیاتِ قرآنی کو افتراء خیال کرتے ہیں، جو خدا پر باندھے گئے ہیں، تو تُو صبر و شکیبائی اختیار کر اور اگر وہ ان تمام منطقی دلیلوں کے مقابلے میں پھر بھی ہٹ دھرمی اور عناد کو جاری رکھتے ہیں، تو تُو استقامت اختیار کر، کہیں ایسا نہ ہو کہ تُو مایوس اور ضعیف و ناتواں ہو جائے۔ کیونکہ تُو ہمارے علم کی نگاہوں کے سامنے ہے اور ہم تیری مکمل حفاظت کر رہے ہیں: (فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا) ہم ہر چیز کو دیکھ رہے ہیں اور ہر چیز سے باخبر ہیں اور ہم تجھے تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ (فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا) کا جملہ بہت لطیف تعبیر ہے، جو پروردگار کے علم و آگاہی کو بھی بتاتا ہے اور اس کی کامل حمایت اور لطف کو بھی بیان کرتا ہے۔ ہاں! انسان جب یہ احساس کر لے کہ کوئی بزرگ ہستی حاضر و ناظر ہے اور وہ اس کی تمام کوششوں اور جدوجہد کو دیکھ رہی ہے اور وہ دشمنوں کے مقابلے میں اس کی حمایت کر رہی ہے، تو اس موضوع کا ادراک اسے طاقت و توانائی بخشتا ہے اور زیادہ سے زیادہ مسئولیت کا احساس بھی۔ اور چونکہ خدا کے راز و نیاز، اس کی عبادت و بندگی اور اس کی ذاتِ پاک کی تسبیح و تقدیس انسان کو آرام و سکون اور قوت و طاقت بخشتی ہے، لہٰذا صبر کا حکم دینے کے بعد فرمایا گیا ہے: "جس وقت تُو کھڑا ہو، تو اپنے پروردگار کی تسبیح و حمد بجا لا۔" (وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِينَ تَقُومُ) جس وقت تُو سحر کے وقت عبادت اور نمازِ شب کے لیے اٹھے۔ جس وقت تُو نیند سے واجب نماز کے لیے اٹھے۔ اور جب بھی تُو کسی مجلس و محفل سے کھڑا ہو، تو اس کی حمد و تسبیح کر۔ مفسرین نے اس آیت کی گوناں گوں تفسیریں کی ہیں، لیکن ان سب کے درمیان جمع کرنا بھی ممکن ہے، چاہے وہ سحر کے وقت نمازِ تہجد کے لیے ہو، چاہے نیند کے بعد نمازِ فریضہ کی ادائیگی کے لیے ہو، اور چاہے وہ ہر مجلس سے قیام کے بعد ہو۔ ہاں! اپنی روح اور جان کو خدا کی حمد و تسبیح کے ساتھ نور و صفا بخش اور اپنی زبان کو اس کے ذکر سے معطر بنا، اس کی یاد سے مدد لے اور دشمن کی کارشکنیوں سے مقابلہ کرنے کے لیے آمادہ ہو جا! متعدد روایات میں آیا ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی مجلس سے اٹھتے تھے تو خدا کی تسبیح اور حمد بجا لاتے تھے اور فرماتے تھے: "إِنَّهُ كَفَّارَةُ الْمَجْلِسِ", "یہ حمد و تسبیح مجلس کا کفارہ ہے۔" [بحوالہ: "تفسیر المیزان"، جلد ۱۹، صفحہ ۲۴]۔ منجملہ ان کے، ایک حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی مجلس سے اٹھتے تو فرماتے: "سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ" بعض لوگوں نے عرض کیا: "اے رسولِ خدا! یہ کیا کلمات ہیں جو آپ نے کہے ہیں"؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "هُنَّ كَلِمَاتٌ عَلَّمَنِيهِنَّ جِبْرَئِيلُ، كَفَّارَاتٌ لِمَا يَكُونُ فِي الْمَجْلِسِ"، "یہ وہ کلمات ہیں جن کی جبرئیل نے (خدا کی طرف سے) مجھے تعلیم دی ہے اور یہ اس چیز کا کفارہ ہیں جو مجلس میں واقع ہوتی ہے۔" [بحوالہ: "درالمنثور"، جلد ۱۲۰]۔ اس کے بعد آخری آیت میں مزید کہتا ہے: "اسی طرح رات میں اس کی تسبیح کر اور ستاروں کے پشت پھیرنے کے وقت اور طلوعِ صبح کے وقت۔" (وَمِنَ اللَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَإِدْبَارَ النُّجُومِ) بہت سے مفسرین نے "وَمِنَ اللَّيْلِ فَسَبِّحْهُ" کے جملے کی تفسیر نمازِ شب کے ساتھ کی ہے اور "وَإِدْبَارَ النُّجُومِ" کی تفسیر صبح کی دو رکعت نافلہ کے ساتھ، جو طلوعِ فجر کے آغاز اور نورِ صبح میں ستاروں کے پنہاں ہونے کے وقت پڑھی جاتی ہے۔ ایک حدیث میں حضرت علی (علیہ السلام) سے بھی آیا ہے کہ "إِدْبَارَ النُّجُومِ" صبح کی دو رکعت نفل ہے جو نمازِ صبح سے پہلے اور ستاروں کے غروب کے وقت بجا لاتے ہیں۔ باقی رہا "أَدْبَارَ السجود" (جو سورۂ ق کی آیت ۴۰ میں آیا ہے) تو اس سے مراد وہ دو رکعت نفل ہیں، جو نمازِ مغرب کے بعد پڑھی جاتی ہیں (لیکن مغرب کے نوافل چار رکعتیں ہیں، جن میں سے اس حدیث میں صرف دو رکعت کی طرف اشارہ ہوا ہے)۔ [بحوالہ: "مجمع البیان"، سورۂ ق کی آیت ۴۰ کے ذیل میں (جلد ٩، صفحہ ۱۵۰)]۔ بہرحال، عبادت اور تسبیح و حمدِ خدا رات کے اندر اور طلوعِ فجر کے آغاز میں ایک اور ہی دوسرا لطف و صفا رکھتی ہیں اور دکھاوے اور ریاکاری سے بہت دور ہوتی ہے اور اس کے لیے روح کی آمادگی زیادہ ہو جاتی ہے، کیونکہ دن کی زندگی میں مشغول رکھنے والے کاموں سے فراغت ہوتی ہے اور رات کی استراحت نے انسان کو آرام و سکون بخشا ہوا ہوتا ہے اور قیل و قال اور شور و غوغا نہیں ہوتا۔ حقیقت میں یہ وقت وہی وقت ہے جس میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معراج پر گئے تھے، اور مقامِ "قاب قوسین" پر راز و نیاز کی خلوت گاہ میں پہنچے تھے اور اپنے خدا کے ساتھ راز و نیاز کی باتیں کی تھیں۔ اسی بنا پر زیر بحث آیات میں ان دو اوقات پر تکیہ ہوا ہے۔ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہوا ہے: "رَكْعَتَا الْفَجْرِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا" "تیرے لیے صبح کی نفل دو رکعت دنیا و مافیہا سے بہتر ہیں۔" [بحوالہ: "تفسیر قرطبی"، جلد ٩، صفحہ ۶۲۵۱ زیر بحث آیات کے ذیل میں]۔ خداوندا! مجھے عمر بھر سحر خیزی اور اپنی ذات سے راز و نیاز کی توفیق مرحمت فرما۔ پروردگار! ہمارے قلوب کو اپنے عشق سے مطمئن، اپنی محبت سے نورانی اور اپنے لطف و کرم کا امیدوار بنا دے۔ بارِ الہٰا! ہمیں شیطانی قوتوں اور اپنے دشمنوں کی کارشکنیوں کے مقابلے میں صبر و شکیبائی اور استقامت و پامردی مرحمت فرما، تاکہ ہم تیرے پیغمبر کی پیروی کریں، ان کی سنت کے مطابق زندگی گزاریں اور ان کی سنت پر ہی داعیِ اجل کو لبیک کہیں۔ آمین، یا رب العالمین!

end of chapter