Al-Bayyinah
سورہٴ البینة
یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اِس میں ۸ آیات ہیں۔
سُورہٴ بینہ کے مطالب اور اس کی فضیلت
مشہور یہ ہے کہ یہ سُورہٴ بینہ مدینہ میں نازل ہوا ہے اور اس کے مطالب بھی اسی معنی کی گواہی دیتے ہیں، کیونکہ اس میں بار بار اہلِ کتاب کے بارے میں بحث ہوئی ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ اہلِ کتاب سے مسلمانوں کا زیادہ تر سروکار مدینہ میں ہی ہوا۔ اس سے قطع نظر نماز اور زکوٰة دونوں کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے، یہ ٹھیک ہے کہ زکوٰة کا شرعی حکم تو مکہ میں ہی ہو گیا تھا، لیکن اس کو قانونی صورت اور وسعت مدینہ میں دی گئی۔ بہرحال، یہ سُورہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کے ہمہ گیر ہونے، اور اس کے روشن و واضح دلائل اور نشانیوں سے آمیختہ ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ایسی رسالت جس کے لئے پہلے سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ لیکن جب ان کے پاس یہ رسالت پہنچی تو ایک گروہ نے اس بناء پر کہ ان کے مادّی منافع خطرے میں پڑ رہے تھے، اس کی طرف سے پشت پھیر لی۔ ضمنی طور پر یہ اس حقیقت کو بھی اپنے اندر لیے ہوئے ہے کہ انبیاء کی دعوت کا اصول، مثلاً ایمان و توحید و نماز و روزہ، ایک ایسا اصول ہے جو ثابت اور جاودانی ہے اور یہ تمام آسمانی ادیان میں موجود رہا ہے۔ اس سورہ کے ایک دوسرے حصہ میں اہل کتاب اور مشرکین کے اسلام کے مقابلہ میں اعترضات کو مشخص کرتا ہے کہ وہ گروہ جو ایمان لے آیا ہے اور اعمال صالح انجام دیتا ہے وہ تو بہترین مخلوق ہے۔ اور وہ گروہ جس نے کفر، شرک اور گناہ کی راہ اختیار کر لی ہے، وہ بدترین مخلوق شمار ہوتی ہے۔ اِس سورہ کے مختلف نام ہیں، جو اس کے الفاظ کی مناسبت سے انتخاب ہوئے ہیں، لیکن ان میں سب سے زیادہ مشہور سورہ "بینة و "لم یکن" و "قیّمة" ہیں۔ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت میں اس طرح نقل ہوا ہے:۔ "اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اس سورہ میں کون کون سی بر کتیں ہیں تو وہ اپنے گھر والوں اور مال و منال کو چھوڑ کر اس کی طرف بڑھتے۔" قبیلہ "خزاعہ" کے ایک شخص نے عرض کیا: اے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم! اس کی تلاوت کا اجر و ثواب کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "کوئی منافق اور وہ لوگ جن کے دل میں شک و شبہ ہے، اس کی تلاوت نہیں کریں گے۔ خدا کی قسم مقرب فرشتے اس دن سے جب سے سارے آسمان اور زمین پیدا ہوئے ہیں، اسے پڑھتے ہیں، اور اس کی تلاوت میں ایک لمحہ کے لیے بھی سستی نہیں کرتے جو شخص اسے رات کے وقت پڑھے گا، خدا ایسے فرشتوں کو مامور کرے گا، جو اس کے دین و دنیا کی حفاظت کریں گے، اور اس کے لئے بخشش اور رحمت طلب کریں گے، اور دن کے وقت پڑھے گا تو اُن چیزوں کی مقدار میں جنہیں دن روشن کرتا ہے، اور رات انہیں تاریک بنا دیتی ہے، اُسے ثواب دیں گے۔ (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ،۱۰ ص ۵۲۱)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 14تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 14تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 14تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر یہ جاودانی دین ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 14سُورہ کے شروع میں ظہور اسلام سے پہلے اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) اور مشرکین عرب کی حالت کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے': "وہ اس بات کا دعویٰ کیا کرتے تھے کہ جب تک کوئی واضح دلیل اور مسلّمہ پیغمبر ان کے پاس نہ آ جائے، وہ اپنے دین سے دستبردار نہیں ہوں گے۔" (لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنفَكِّينَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ)۔ "ایسا پیغمبر جو خدا کی طرف سے ہو اور پاک و پاکیزہ صحیفوں کو ہمارے سامنے تلاوت کرے۔" (رَسُولٌ مِّنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُّطَهَّرَةً)۔ ایسے صحیفے جن میں موزوں، ثابت اور قابلِ قدر تحریریں ہوں۔" (فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ)۔ ہاں! وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ظہور سے پہلے اسی قسم کے دعوے کیا کرتے تھے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ظہور اور آپؐ کی کتابِ آسمانی کے نزول کے بعد میدان بدل گیا اور وہ خدا کے دین میں اختلاف کرنے لگ گئے۔" اور اہل کتاب نے اختلاف نہیں کیا، مگر واضح دلیل اور سچّا اور آشکار پیغمبر ان کے پاس آ جانے کے بعد (وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ)۔ اسی طرح سے اُوپر والی آیات اہلِ کتاب اور مشرکین کے دعووں کو بیان کر رہی ہیں کہ ابتداء میں تو انہیں یہ اصرار تھا کہ اگر کوئی پیغمبر واضح دلائل کے ساتھ ہمیں دعوت دینے کے لئے آئے گا تو ہم قبول کر لیں گے۔ لیکن اس کے آ جانے کے بعد اپنے قول سے پھر گئے اور اس کے مقابلہ میں جنگ و جدال کے لئے کھڑے ہو گئے، سوائے اس گروہ کے جنہوں نے ایمان کی راہ اختیار کر لی۔ اس بناء پر اُوپر والی آیت اسی چیز کے مشابہ ہے جو سورہ بقرہ کی آیہ ۸۹: وَلَمَّا جَاءَهُمْ كِتَابٌ مِّنْ عِندِ اللّهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ وَكَانُواْ مِن قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُواْ فَلَمَّا جَاءَهُمْ مَّا عَرَفُواْ كَفَرُواْ بِهِ فَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَافِرِينَ: میں آئی ہے۔ یعنی جب خدا کی طرف سے ان کے پاس کتاب آئی جو ان نشانیوں کے موافق تھی جو ان کے پاس تھیں، اور اس سے پہلے وہ خُود کو فتح کی خوش خبری دیا کرتے تھے۔ لیکن جب یہ کتاب اور پیغمبر جسے انہوں نے پہلے سے پہچانا ہوا تھا، ان کے پاس آیا تو وہ کافر ہو گئے، پس کافروں پر خدا کی لعنت ہو۔ ہم جانتے ہیں کہ اہل کتاب اس قسم کے ظہور کا انتظار کر رہے تھے، اور اصولی طور پر، مشرکین عرب بھی، جو اہل کتاب کو اپنے سے زیادہ عالم اور زیادہ آگاہ سمجھتے تھے، اس پروگرام میں ان کے ساتھ ہم آواز تھے۔ لیکن جب ان کی آرزوئیں پوری ہو گئیں تو انہوں نے اپنے راستہ کو بدل لیا اور مخالفین کی صفوں میں جا ملے۔ مفسّرین کی ایک جماعت کا ان آیات کی تفسیر کے بارے میں ایک دوسرا نظریہ ہے، اور وہ یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ واقعاً وہ اپنے ادعا کے مطابق اپنے دین سے دستبردار نہیں ہوئے، اور اُسے نہیں چھوڑا جب تک کہ واضح دلیل ان کے پاس نہ آ گئی۔ لیکن اس بات کا مفہوم یہ ہو گا کہ اس قسم کی واضح دلیل آ جانے کے بعد وہ ایمان لے آئیں گے۔ حالانکہ بعد والی آیات اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ یہ مطلب اس طرح نہیں تھا، مگر اس صُورت میں کہ یہ کہا جائے کہ اس سے مُراد ان میں سے ایک گروہ کا ایمان لانا ہے، چاہے وہ بالکل قلیل تعداد میں ہی ہوں، اور اصطلاح کے مطابق یہ "موجبہٴ جزئیہ" کی قبیل ہے۔ لیکن بہرحال، یہ تفسیر بعید نظر آتی ہے، اور شاید اسی بناء پر "فخر رازی" اپنی تفسیر میں پہلی آیت کو قرآنی آیات میں سب سے زیادہ پیچیدہ آیت شمار کرتا ہے، جو (اس کی نظر میں) بعد والی آیات سے تضاد رکھتی ہے۔ اس کے بعد وہ اس مشکل کو حل کرنے کے لئے چند طریقے بیان کرتا ہے جن میں سے بہترین وہی ہے جو ہم نے اُوپر نقل کیا ہے۔ یہاں ایک تیسری تفسیر بھی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ خدا مشرکین اور اہلِ کتاب کو ان کی حالت پر نہیں چھوڑے گا، جب تک کہ ان پر اتمام حُجّت نہ کر دے اور کوئی دلیل "بینہ" نہ بھیجے، اور انہیں راستہ نہ بتا دے۔ اسی لیے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو ان کی ہدایت کے لئے بھیجا ہے۔ حقیقت میں یہ آیت قاعدہِ لُطف کی طرف اشارہ ہے جو علمِ کلام میں بیان کیا جاتا ہے کہ خدا اتمامِ حجت کے لئے ہر قوم و ملّت کے لیے واضح دلائل بھیجے گا۔ (تشریحی نوٹ: اس بات پر توجہ کرنا چاہئیے کہ "منفکین" جو "منفک" کی جمع ہے، ممکن ہے کہ اسم فاعل ہو، یا اسم مفعول ہو، پہلی اور دوسری تفسیر کی بناء پر اسم فاعل کے معنی دیتا ہے اور تیسری تفسیر کی بناء پر اسم مفعول کا (غور کیجئے)۔ بہرحال، "بینہ" سے مُراد یہاں واضح و روشن دلیل ہے جس کا مصداق دوسری آیت کے مطابق "رسول اللہ" صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات ہے جب کہ آپ کی زبان پر قرآن مجید تھا۔ "صحف"، "صحیفہ" کی جمع ہے، ایسے جو ایسے اوراق کے معنی میں ہے جن پر کوئی چیز لکھتے ہیں، اور یہاں اس سے مُراد ان اوراق کے مطالب ہیں، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہرگز کوئی چیز اوراق سے نہیں پڑھتے تھے۔ اور "مطہرہ" سے مُراد، اس کا ہر قسم کے شرک، کذب، دروغ اور باطل سے پاک ہونا ہے اور شیاطینِ جن و اِنس کے اس میں دخل دینے سے پاک ہے۔ جیسا کہ سُورہ حٰم سجدہ کی آیہ ۴۲ میں آیا ہے: لاَّ يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ: "اس کے پاس کسی قسم کا باطل نہ اس کے سامنے سے آیا ہے اور نہ ہی اس کے پیچھے سے۔ "فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ" کا جملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان صحف آسمانی میں ایسے مطالب لکھے ہوئے ہیں جن میں کسی قسم کا انحراف اور کجی نہیں۔ اس بناء پر تو "کتب"، "مکتوبات کے معنی میں ہے، یا یہ ان احکام و مقررات کے معنی میں ہے جو خدا کی طرف سے مقرر کیے گئے ہیں کیونکہ کتابت تعین حکم کے معنی میں بھی آئی ہے جیسا کہ فرماتا ہے: كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ۔ "روزہ تمہارے اوپر اسی طرح مقرر کیا گیا ہے جیسا کہ تم سے پہلے والے لوگوں پر مقرر کیا گیا تھا" (بقرہ۔ ۱۸۳)۔ اور اس طرح "قیمة" صاف و مستقیم، یا محکم و پائیدار، یا قدر و قیمت والا کے معنی میں ہے، یا یہ سب مفاہیم اس میں جمع ہیں۔ یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ چونکہ قرآن میں تمام گزشتہ کے مضامین و مطالب بہت سے اضافات کے ساتھ ہیں، لہٰذا یہ کہا گیا ہے کہ اس میں گزشتہ کتب قیمة ہیں۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ پہلی آیت میں اہلِ کتاب کا "مشرکین" سے پہلے ذکر کیا گیا ہے۔ اور چوتھی آیت میں صرف اہلِ کتاب کا بیان ہے اور مشرکین کے سلسلہ میں کوئی بات نہیں کی گئی، حالانکہ آیت دونوں کی طرف ناظر ہے۔ یہ تعبیرات ظاہراً اس وجہ سے ہیں کہ ان پروگراموں میں اہلِ کتاب اصل اور بنیادی حیثیت رکھتے تھے اور مشرکین ان کے تابع تھے۔ یا اس بناء پر کہ اہلِ کتاب زیادہ لائق مذمت تھے کیونکہ ان میں بہت سے علماء اور دانش مند موجود تھے اور وہ اس لحاظ سے مشرکین کی نسبت بلند سطح پر تھے۔ اس بناء پر ان کی مخالفت زیادہ قبیح اور زیادہ ناپسندیدہ تھی، لہٰذا وہ زیادہ سرزنش کے لائق تھے۔ اس کے بعد "اہلِ کتاب" کو اور ان کے تابع "مشرکین" کو ملامت کرتے ہوئے فرماتا ہے: "انہوں نے اس جدید دین میں اختلاف کیوں کیا کہ بعض تو ایمان لے آئے اور بعض کافر ہو گئے حالانکہ اس دین میں انہیں اس کے سوا کوئی اور حکم نہیں دیا گیا کہ خدا کی عبادت کریں، اور اس کی عبادت کو اس کے غیر کی عبادت سے خالص رکھیں، اور ہر قسم کے شرک سے باز رکھیں اور توحید کی طرف مائل رہیں، نماز کو قائم کریں، اور زکوٰة ادا کریں۔" (وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ)۔ (تشریحی نوٹ: "و ما امروا" کا جملہ ممکن ہے کہ "جملہٴ حالیہ" ہو یا "استینافیہ" ہو اور "لیعبدوا" میں "لام"، "لام غرض" ہو، اور یہاں اس سے مُراد وہ مقصد اور نتیجہ ہو جو بندوں کی طرف لوٹتا ہے، نہ کہ وہ ہدف و نتیجہ جو خدا کی طرف لوٹے، جیسا کہ بعض مفسرین نے خیال کیا ہے۔ اور اسی وجہ سے انہوں نے "لام غرض" کا انکار کیا ہے۔ اصولی طور پر خدا کے تمام افعال کی کوئی نہ کوئی غرض اور علت ہوتی ہے، لیکن وہ اغراض ایسے ہوتے ہیں جو بندوں کی طرف لوٹتے ہیں، اور بعض نے یہاں "لام" کو "ان" کے معنی میں سمجھا ہے جیسا کہ "يُرِيدُ اللّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ" (نساء:۲۶) میں ہے)۔ اس کے بعد فرماتا ہے: "اور یہ ایک مستقیم و پائیدار دین ہے" (وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ)۔ اس کے بارے میں کہ یہاں "وما امروا" سے کیا مراد ہے؟ ایک جماعت نے یہ کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اہلِ کتاب کے اپنے دین میں مسئلہ توحید اور نماز و زکوٰة موجود تھا، اور یہ ایسے مسائل ہیں جو ثابت ہیں، لیکن وہ ان احکام کے بھی وفادار نہیں رہے تھے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ دینِ اسلام میں سوائے خالص توحید، اور نماز و زکوٰة وغیرہ کے اور کوئی حکم نہیں آیا۔ اور یہ ایسے امور ہیں جنہیں وہ سب جانتے تھے۔ تو پھر وہ ان کو قبول کرنے سے رُوگردانی کیوں کرتے ہیں؟ اور ان کو ماننے سے انکار کر رہے ہیں۔ دوسرا معنی زیادہ نزدیک دکھائی دیتا ہے، کیونکہ گزشتہ آیت کے بعد، جو دین جدید کے قبول کرنے میں ان کے اختلاف کرنے کی بات کر رہی تھی، مناسب یہی ہے کہ "امروا" جدید دین کی طرف ناظر ہو۔ اس سے قطع نظر پہلا معنی صرف اہل کتاب کے بارے میں صادق آتا ہے، اور مشرکین پر صادق نہیں آتا، جب کہ دوسرا معنی سب کو شامل ہے۔ بعض مفسرین کے نظریہ کے مطابق "دین" سے مُراد جسے خدا کے لئے خالص کرنا چاہئیے وہی "عبادت" ہے، اور "الا لیعبدوا اللہ" کا جملہ بھی، جو اس سے پہلے ذکر ہوا ہے، اسی معنی کی تائید کرتا ہے۔ لیکن احتمال بھی ہے کہ اس سے دین و شریعت کا مجموعہ مُراد ہو، یعنی اس بات پر مامور ہوئے تھے کہ خدا کی پرستش کریں اور ہر جہت سے اپنے دین و آئین کو خالص رکھیں۔ یہ معنی "دین" کے وسیع مفہوم کے ساتھ زیادہ سازگار ہے۔ اور بعد والا جملہ "و ذٰلک دین القیمة" جو دین وسیع معنی میں پیش کرتا ہے اسی معنی کی تائید کرتا ہے۔ "حنفاء"، "حنیف" جمع ہے، جو "حنف" (بروزن کنف) کے مادّہ سے ہے، اور "مفردات" میں "راغب" کے قول کے مطابق، گمراہی سے راہ مستقیم کی طرف مائل ہونے کے معنی میں ہے اور عرب ان تمام لوگوں کو جو "حج" بجا لاتے تھے یا "ختنہ" کیا کرتے تھے، "حنیف" کہا کرتے تھے (اور احنف) اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کا پاؤں ٹیڑھا ہو۔ مجموعی طور سے لعنت کی مختلف کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ اصل میں انحراف اور ٹیڑھے پن کے معنی میں تھا، البتہ قرآن، اور اسلامی روایات میں شِرک سے توحید و ہدایت کی طرف انحراف کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اس تعبیر کا انتخاب ممکن ہے اصل میں اس بناء پر ہو کہ بت پرست معاشرے ہر اس شخص کو جو ان کے دین کو چھوڑ کر توحید کی طرف قدم بڑھاتا تھا، اُسے "حنیف" (منحرف) شمار کرتے تھے، اور پھر آہستہ آہستہ یہ تعبیر راہ توحید کو طے کرنے والوں کے لئے ایک رائج تعبیر کے عنوان سے پہچانی گئی، اور حقیقت میں اس کا مفہوم "ضلالت" سے ہدایت کی طرف انحراف تھا۔ اور اس کا لازمہ، وہی توحید خالص اور اعتدالِ کامل اور ہر قسم کے افراط و تفریط سے اجتناب ہے، لیکن اس بات کو نہیں بھولنا چاہیئے کہ یہ سب اس نقط کے ثانوی معنوی ہیں۔ "وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ" (تشریحی نوٹ: اِس بات پر توجہ رکھنا چاہیئے کہ "دین القیمة" اضافت کی صورت میں ہے، وصف کی صورت میں نہیں ہے۔ اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ ایک ایسا دین ہے جو گزشتہ (مستقیم اور قابل قدر) کتب قیمہ میں آیا ہے، یا یہ ایک ایسا دین ہے جس میں اسلام کے مستقیم اور قابل قدر احکام بیان ہوئے ہیں، اس بناء پر قیمة کا مؤنث ہونا اس وجہ سے ہے کہ وہ "کتب" یا ملت و شریعت کا وصف ہے (غور کیجئے))۔ کا جملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ اصول یعنی توحیدِ خالص اور نماز (خالق کی طرف توجہ) اور زکوٰة (مخلوق کی طرف توجہ) تمام ادیان کے ثابت ہونے اور پائیدار اصول ہیں، بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ انسان فطرت میں داخل ہیں۔ کیونکہ ایک طرف تو انسان کی سرنوشت مسئلہ توحید پر اور دوسری طرف سے اس کی فطرت منعم کا شکر ادا کرنے اور اس کی معرفت و شناخت کی دعوت دیتی ہے، اور تیسری طرف سے رُوح اجتماعی اور انسان کی مدنیت اُسے محروم افراد کی مدد کے لئے پکارتی ہے۔ اِس بناء پر ان احکام و دستورات کی جڑ بنیاد کلی طور پر فطرت کی جُملہ گہرائیوں میں موجود ہے۔ اِسی لیے یہ تمام گزشتہ انبیاء اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیمات میں پائی جاتی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 14تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 14تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر بہترین اور بدترین مخلوق
Tafsīr Nemūna · Vol. 14گزشتہ آیات میں آیا تھا کہ کفار اہلِ کتاب اور مشرکین اس انتظار میں تھے کہ خدا کی طرف سے کوئی واضح و روشن و دلیل ان کے پاس آئے، لیکن واضح و روشن دلیل "بینہ" کے آ جانے کے بعد وہ متفرق اور پراگندہ ہو گئے اور ہر ایک نے الگ الگ راہ اختیار کر لی۔ زیر بحث آیات میں اس دعوتِ الہٰی کے مقابلہ میں "کفر کرنے والے" اور ایمان لانے والے "دونوں گروہوں اور ان سے ہر ایک کے انجام کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پہلے فرماتا ہے: "اہلِ کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ اس جدید دین سے کافر ہوئے ہیں وہ دوزخ کی آگ میں ہوں گے اور ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔ وہ بدترین مخلوق ہیں۔" (إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أُوْلَئِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ)۔ "کفروا" کی تعبیر دینِ اسلام کے مقابلہ میں ان کے کفر کی طرف اشارہ ہے، ورنہ ان کا پہلے کا کفر و شِرک کوئی نئی بات نہیں ہے۔ "أُوْلَئِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ" (وہ بدترین مخلوق ہیں) کی تعبیر ایک لرزہ خیز تعبیر ہے، جو اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ تمام چلنے پھرنے والی مخلوق، اور نہ چلنے پھرنے والی مخلوق میں سے، ان لوگوں سے بڑھ کر مردُود اور دھتکاری ہوئی مخلوق اور کوئی نہیں ہے، جنہوں نے حق کے واضح ہوتے ہوئے اور اتمام حُجّت کے بعد سیدھی راہ کو چھوڑ دیا اور ضلالت و گمراہی کی راہ اختیار کر لی۔ اور یہ بات حقیقت میں۔ اسی چیز کے مشابہ ہے جو سورہ انفال کی آیہ ۲۲ میں بیان ہوئی ہے: إِنَّ شَرَّ الدَّوَابَّ عِندَ اللّهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لاَ يَعْقِلُونَ: "خدا کے نزدیک بدترین جاندار وہ لوگ ہیں جو نہ سُننے والے کان رکھتے ہیں، نہ گویا زبان اور نہ ہی بیدار فکر و اندیشہ۔" یا جو کچھ سُورة اعراف کی آیہ ۱۷۹میں بیان ہوا ہے، جہاں دوزخیوں کے گروہ کو ان ہی اوصاف کے ساتھ ذکر کرنے کے بعد فرماتا ہے: أُوْلَـئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُوْلَـئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ: وہ چوپاؤں کی طرح ہیں۔ بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ اور غافل ہیں۔ زیر بحث آیت کا مطلب ان سے بھی کچھ آگے ہے کیونکہ یہ ان کا بدترین مخلوق ہونے کے ساتھ ان کا تعارف کراتی ہے اور یہ حقیقت میں ان کے جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے کی ایک دلیل کے طور پر ہے۔ وہ بدترین مخلوق کیوں نہ ہوں گے جب کہ سعادت کے تمام دروازے ان کے سامنے کھلے ہوئے تھے لیکن وہ کبر و غرور اور عناد و ہٹ دھرمی کی وجہ سے جان بُوجھ کر مخالفت کے لئے کھڑے ہو گئے۔ اس آیت میں بھی "اہلِ کتاب" کو مشرکین پر مقدم رکھنے کی وجہ بھی ممکن ہے یہ ہو کہ وہ کتابِ آسمانی کے حامل اور دانشمند تھے۔ اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نشانیاں ان کی کتابوں میں صراحت کے ساتھ آئی تھیں۔ اس بناء پر ان کا مخالفت کرنا زیادہ قبیح و بدتر تھا۔ بعد والی آیت میں دوسرے گروہ کی طرف، جو اُن کے مخالف نقطہٴ مقابل اور قوس صعودی میں واقع ہوئے ہیں اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے اعمالِ صالح انجام دیئے ہیں، وہ خدا کی بہترین مخلوق ہیں": (إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُوْلَئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ)۔ اس کے بعد ان کی جزا اور پاداش کو چند مختصر سے جملوں میں اس طرح بیان کرتا ہے،: ان کی جزا ان کے پرورگار کے پاس بہشت کے جاودانی باغات میں، جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں، اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے" (جَزَاؤُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا)۔ "خدا بھی ان سے خوش اور راضی ہے، اور وہ بھی خدا سے خوش اور راضی ہیں۔" (َضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ)۔ "یہ بلند و والا مقام اور اہم و بےنظیر جزائیں اس شخص کے لئے ہیں جو اپنے پروردگار سے ڈرے۔" (ذَلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهُ)۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ مومنین کے بارے میں اعمال صالح کی گفتگو بھی درمیان آئی ہے، جو حقیقت میں ایمان کے درخت کا پھل ہے۔ اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایمان کا دعویٰ کرنا اکیلا کافی نہیں ہے، بلکہ انسان کے اعمال بھی اس کے ایمان پر گواہ ہونا چاہئیں، لیکن کفر اکیلا ہی، چاہے اس کے ساتھ غیر صالح اعمال نہ بھی ہوں، سقوط و بدبختی کا سبب ہے۔ اس سے قطع نظر کفر عام طور پر انواع و اقسام کے گناہوں، جرائم اور غلط اعمال کا مبداء بھی ہوتا ہے۔ "أُوْلَئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ" کی تعبیر اچھی طرح اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ مومن اور اعمال صالح بجا لانے والے انسان، فرشتوں تک سے بھی بالاتر ہیں، کیونکہ آیت مطلق ہے، اور اس میں کسی قسم کا استثناء نہیں ہے۔ قرآن کی دوسری آیات بھی اسی معنی کی گواہ ہیں مثلاً: فرشتوں کے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کی آیات، اور آیہ وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ (اسراء ۷۰)۔ بہرحال، اس آیت میں پہلے تو ان کے مادی و جسمانی صلہ، جو جنّت کے پر نعمت باغات ہیں، کا ذکر کرتا ہے، اور اس کے بعد ان کی معنوی و رُوحانی جزاء کو بیان کرتا ہے کہ خدا بھی اُن سے راضی ہے اور وہ بھی خدا سے راضی اور خوش ہیں۔ وُہ خدا سے راضی اور خوش ہیں کیونکہ جو کچھ وہ چاہتے تھے وہ اس نے انہیں دیا ہے، اور خدا اُن سے راضی اور خوش ہے چونکہ وہ جو کچھ چاہتا تھا وہ انہوں نے انجام دیا، اور اگر ان سے کوئی لغزش ہو بھی گئی تو اس نے اپنے لطف و کرم سے اس سے صرف نظر کی، اس سے بڑھ کر اور کون سی لذّت ہو سکتی ہے کہ اُسے اس بات کا احساس ہو جائے کہ اس کے کاموں کو معبود نے قبول کر لیا ہے اور اس کا محبوب اس سے راضی اور خوش ہے۔ اور اُسے اس کی لقاء حاصل ہو گئی ہے۔ دارند ہر کس از تو مرادے و مطلبے مقصُود ما ز دُنیا عُقبیٰ لقای تو است "ہر شخص تجھ سے کوئی نہ کوئی خواہش اور مطلب رکھتا ہے لیکن ہمارا مقصد دُنیا میں تیری لقاء ہے۔" ہاں! انسان کے جسم کی جنت تو اُس جہاں کے جاودانی باغات ہیں، لیکن اس کی رُوح کی بہشت خدا کی رضا اور لقائے محبوب ہے "ذٰلک لمن خشی ربہ" کا جملہ اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ ان تمام برکات کا سرچشمہ خدا کا خوف، خشیت اور ڈر ہے، کیونکہ یہی خوف ہی ہر قسم کی اطاعت، تقویٰ اور اعمالِ صالح کی طرف حرکت کرنے کا سبب بنتا ہے۔ بعض مفسرین نے اس آیت کو سورہٴ فاطر کی آیہ ۲۸۔ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ "صرف علماء ہی خدا سے ڈرتے ہیں " کے ساتھ ملا کر یہ نتیجہ نکالا ہے کہ بہشت پر حقیقتاً علماء اور آگاہ دانش مند لوگوں کا مسلّمہ حق ہے۔ البتہ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ خشیت اور خوفِ خدا کے کئی درجے اور مرتبے ہوتے ہیں اور علم و دانش و آگاہی میں بھی کئی درجے اور مرتبے ہوتے ہیں اس بات کا مفہوم واضح اور روشن ہو جاتا ہے۔ ضمنی طور پر بعض کا نظریہ یہ ہے کہ "مقام خشیت" مقامِ خوف سے بالاتر ہوتا ہے، کیونکہ خوف تو ہر قسم کے ڈر پر بولا جاتا ہے، لیکن خشیت اس خوف کو کہتے ہیں جو تعظیم و احترام کے ساتھ ہو۔
چند نکات ۱۔ علی علیہ السلام اور ان کے شیعہ خیر البریہ ہیں
بکثرت روایات میں، جو اہلِ سنّت کے طریقوں سے ان کی مشہور کتابوں میں اور اسی طرح شیعوں کی مشہور کتابوں میں نقل ہوئی ہیں آیہ "أُوْلَئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ" (وہ خدا کی بہترین مخلوق ہیں) کی علی علیہ السلام اور ان کے پیروکاروں کے ساتھ تفسیر ہوئی ہے۔ "حاکم حسکانی" نیشا پوری نے، جو پانچویں صدی ہجری کے مشہور علماء اہلِ سنّت میں سے ہیں، ان رویات کو اپنی مشہور کتاب "شواہد التنزیل" میں مختلف اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے، اور ان کی تعداد بیس ہزار روایات سے زیادہ ہیں جن میں سے ہم چند روایات کو نمونہ کے طور پر آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ ۱۔ "ابن العباس" کہتے ہیں جس وقت آیہ "الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُوْلَئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ" نازل ہوئی تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے علی علیہ السلام سے فرمایا: "ھو انت و شیعتک تاٴتی انت و شیعتک یوم القیامة راضیین مرضیین و یاٴتی عدوّک غضباناً مقمحین۔" "اس آیت سے مُراد تو اور تیرے شیعہ ہیں جو روزِ قیامت عرصہٴ محشر میں اس حال میں وارد ہوں گے کہ تم بھی خدا سے راضی ہو گے اور خدا بھی تم سے راضی ہو گا، اور تیرا دشمن غصہ کی حالت میں عرصہٴ محشرمیں وارد ہو گا اور زبردستی اس کو جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔" (حدیث کے بعض نسخوں میں مقمحین آیا ہے، جس کا معنی طوق و زنجیر کے ذریعہ سر کو اُونچا رکھنا ہے)۔ (بحوالہ: "شواہد التنزیل" جلد ۲، ص ۳۵۷، حدیث ۱۱۲۶)۔ ۲۔ ایک دوسری حدیث میں "ابو برزہ" سے آیا ہے کہ جس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی تو فرمایا: "ھم انت و شیعتک یا علی و میعاد ما بینی و بینک الحوض" "اے علیؑ! وہ تو اور تیرے شیعہ ہیں، اور تیری اور میری وعدہ گاہ حوض کوثر ہے۔ (بحوالہ: وہی مدرک ص ۳۵۹، حدیث ۱۱۳۰)۔ ۳۔ ایک اور حدیث میں "جابر بن عبد اللہ انصاری" سے آیا ہے کہ ہم خانہٴ خدا کے پاس پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ علی علیہ السلام ہماری طرف آے، جس وقت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی نگاہ ان پر پڑی تو فرمایا: "قد اتاکم اخی" "میرا بھائی تمہاری طرف آ رہا ہے۔" پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خانہ خدا کی طرف رُخ کیا اور فرمایا: "فقال و ربّ ھٰذہ البنیة ان ھٰذا و شیعتہ ھم الفائزون یوم القیامة۔" "اس کعبہ کے خدا کی قسم یہ شخص اور اس کے شیعہ قیامت کے دن رست گار اور کامیاب ہوں گے۔" اس کے بعد ہماری طرف رُخ کیا اور فرمایا: "اما و اللہ انّہ اٴوّلکم ایماناً باللہ، و اقومکم بامر اللہ و اوفاکم بعہد اللہ، و اقضا کم بحکم اللہ و اقسمکم بالسویة، و اعدلکم فی الرعیة، و اعظمکم عند اللہ مزیة۔" قال "جابر": فانزل اللہ: "إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُوْلَئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ" فکان اذا اقبل قال اصحاب محمّد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) قد اتاکم خیر البریة بعد الرسول: "خدا کی قسم یہ تم سب میں سے پہلے خدا پر ایمان لایا ہے اور اس نے خدا کے حکم سے تم سب میں پہلے قیام کیا ہے، خدا کے عہد کو تم سب سے زیادہ وفا کرنے والا ہے، اور وہ تم سب سے زیادہ اللہ کے حکم کے مطابق فیصلے کرنے والا ہے اور وہ (بیت المال) کی تقسیم میں سب سے زیادہ مساوات کرنے والا ہے، اور رعیت میں سب سے زیادہ عدل کرنے والا ہے، اور اس کا مقام و مرتبہ خدا کے نزدیک تم سب سے زیادہ ہے۔" جابر کہتے ہیں کہ اس موقع پر خدا نے آیہ "إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُوْلَئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ " نازل فرمائی۔ اس کے بعد جب بھی کبھی علی علیہ السلام آتے تو اصحاب محمّد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) انہیں آتا ہوا دیکھ کر کہتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے بعد خدا کی مخلوق میں جو سب سے زیادہ بہتر وہ آ رہا ہے۔ (بحوالہ: وہی مدرک ص ۳۶۲، حدیث ۱۱۳۹)۔ اس آیت کا خانہٴ کعبہ کے پاس نزول اس سورہ کے مدنی ہونے کے ساتھ منافات نہیں رکھتا، کیونکہ ممکن ہے کہ یہ نزول مجدد کے قبیل سے ہو، یا تطبیق کے عنوان سے ہو، علاوہ ازیں بعید نہیں ہے کہ ان آیات کا نزول ان سفروں میں ہوا ہو جن میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم مدینہ سے مکہ کی طرف آئے تھے۔ خصوصاً جب کہ اس روایت کا راوی "جابر بن عبد اللہ انصاری" ہے جو مدینہ میں آپ کے ساتھ ملحق ہوئے تھے، اور اس قسم کی آیات پر مدنی ہونے کا اطلاق بعید نہیں ہے۔ اِن احادیث میں سے بعض کو "ابن حجر" نے کتاب "صواعق محرقہ" میں نقل کیا ہے۔ اور بعض کو شبلنجی نے " نور الابصار" میں ذکر کیا ہے۔ (بحوالہ: "صواعق محرقہ" ص ۹۶، "نور الابصار" ص ۷۰، ۱۰۱)۔ "جلال الدین سیوطی" نے "در المنثور" میں بھی آخری روایت کا عمدہ حصہ "ابن عساکر" سے جابر بن عبد اللہ انصاری" سے نقل کیا ہے۔ (بحوالہ: "در المنثور" جلد۶، ص ۳۷۹)۔ ۴۔ "در المنثور" میں آیا ہے کہ جس وقت آیہٴ "إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُوْلَئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ" نازل ہوئی، تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے علی علیہ السلام سے فرمایا: "ھو انت و شیعتک یوم القیامة راضین مرضین" "وہ تو اور تیرے شیعہ ہیں، قیامت کے دن تم خدا سے راضی ہو گے اور خدا تم سے راضی ہو گا۔" (بحوالہ: "در المنثور" جلد۶، ص ۳۷۹))۔ ۵۔ مذکورہ مؤلف نے ایک دوسری حدیث میں "ابن مردویہ" کے واسطے سے علی علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نے مجھ سے فرمایا: "الم تسمع قول اللہ: إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُوْلَئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ؟ انت و شیعتک و موعدی و موعدکم الحوض، اذاجئت الامر للحساب تدعون غرا محجلین: (بحوالہ: "در المنثور" جلد۶، ص ۳۷۹))۔ "کیا تم نے خدا کا یہ ارشاد نہیں سُنا کہ فرماتا ہے: لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اعمالِ صالح انجام دیے وہ بہترین مخلوق ہیں؟ یہ تم اور تمہارے شیعہ ہیں۔ اور میری اور تمہاری وعدہ گاہ حوضِ کوثر کا کنارہ ہے۔ جب میں اُمّتوں کے حساب کے لیے آؤں گا تو تمہیں "غر محجلین" (سفید پیشانی والے) کہہ کر پکارا جائے گا۔ اہلِ سُنّت کے اور بھی بہت سے دوسرے علماء نے اسی مضمون کو اپنی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے، منجملہ "خطیب خوارزمی" نے "مناقب" میں "ابو نعیم اصفہانی" نے "کفایت الخصام" میں "علامہ طبری" نے "اپنی مشہور تفسیر" میں "ابن صباغ مالکی" نے" فصول المھمة" میں "علامہ شوکانی" نے "فتح القدیر" میں "شیخ سلیمان قندوزی" نے"ینابیع والمودة" اور "آلوسی" نے "رُوح المعانی" میں زیر بحث آیات کے ذیل میں، اور بہت سے دوسرے علماء نے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اُوپر والی حدیث میں بہت ہی مشہور و معروف احادیث میں سے ہے کہ جسے اکثر دانش مندوں اور علماء اسلام نے قبول کیا ہے، اور یہ علی علیہ السلام اور ان کے شیعوں کی ایک بہت بڑی فضیلت ہے۔ ضمنی طور پر ان روایات سے یہ حقیقت اچھی طرح آشکار ہو جاتی ہے کہ لفظ "شیعہ" رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ سے ہی آنحضرتؐ کے ذریعے مسلمانوں کے درمیان نشر ہوا، اور یہ امیر المومنین علی علیہ السلام کے خاص پیروکاروں کی طرف اشارہ ہے۔ لہٰذا وہ لوگ جو یہ گمان کرتے ہیں "شیعہ" کی تعبیر صدیوں بعد وجود میں آئی ہے، بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔
۲۔ عبادت میں خلوص نیت لازم ہے
اصولِ فقہ کے بعض علماء نے آیہ "وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ" سے عبادات میں قصدِ قربت کے لازم ہونے پر استدلال کیا ہے اور یہ کہ اوامر میں اصل ان کا تعبدی ہونا ہے نہ کہ توصلی ہونا۔ اور یہ اس سے وابستہ ہے کہ یہاں "دین" کا معنی عبادت ہو۔ تاکہ یہ عبادات میں خلوص کے لازم ہونے کی دلیل بنے، اور "امر" کو ہم اس آیت میں مطلق قرار دیں، تاکہ اس کا مفہوم تمام اوامر میں قصدِ قربت کا لازم ہونا ہے۔ (سوائے ان موارد کے جو دلیل کی وجہ سے خارج ہوں) حالانکہ آیت کا مفہوم، ظاہر کے اعتبار سے، ان میں سے کوئی بھی نہیں ہے، بلکہ اس سے مقصود شِرک کے مقابلہ میں توحید کا اثبات ہے۔ یعنی انہیں توحید کے سوا اور کسی چیز کی دعوت نہیں دی گئی ہے اور اس حال میں اس کا احکام فرعی کے ساتھ کوئی ربط نہیں ہے۔
۳۔ انسان کی عجیب قوسِ صعودی و نزولی
اِس سورہ کی آیات سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ عالم میں کسی بھی مخلوق کے قوسِ صعودی و نزولی کا فاصلہ انسان کے قوسِ صعودی و نزولی کے برابر نہیں ہے۔ اگر انسان ایمان لے آئے اور اعمالِ صالح بجا لائے (اس بات پر توجہ رہے کہ "عملوا الصالحات" تمام اعمالِ صالح کو شامل ہے، نہ کہ بعض کو) تو وہ خدا کی مخلوق میں سے زیادہ افضل اور برتر ہو جاتا ہے، لیکن اگر وہ کفر و ضلالت اور ہٹ دھرمی اور عناد کا راستہ اختیار کر لے، تو اتنا گر جاتا ہے کہ خدا کی مخلوق میں سب سے زیادہ بدتربن جاتا ہے! انسان کے "قوسِ صعودی" و "نزولی" کا یہ عظیم، فاصلہ اگرچہ ایک حسّاس اور خطرناک مسئلہ ہے لیکن یہ نوع بشر کے مقام عظمت اور اس کے تکامل و ارتقاء کی قابلیّت پر دلالت کرتا ہے، اور یہ ایک طبیعی و فطری چیز ہے کہ اس قسم کی حَد سے زیادہ قابلیت و استعداد کے ہوتے ہوئے، تنزل و سقوط کا امکان بھی حَد سے زیادہ ہو۔ خداوندا! ہم "خیر البریہ" کے بلند مقام تک پہنچنے کے لئے تیرے لطف و کرم سے مدد طلب کرتے ہیں۔ پروردگارا! ہمیں اس عظیم اور بزرگ ہستی کے شیعوں اور پیروکاروں میں سے قرار دے جو اس کے لئے سب سے زیادہ لائق اور شائستہ ہے۔ بارالٰہا! ہمیں اس قسم کا خلوص مرحمت فرما کہ ہم تیرے سوا کسی کی پرستش نہ کریں اور تیرے غیر سے محبت نہ رکھیں۔ آمین یا ربّ العالمین