Az-Zukhruf
سوره زخرف
یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۸۹ آیات ہیں
سُورۃ زخرف کے مضامین اور فضیلت
سُورت زخرف کے مضامین : سورت زخرف مکی سورتوں میں سے ہے۔ اس کی صرف آیت ۴۵ کے بارے میں بعض مفسرین نے کچھ اختلاف کیا ہے۔ اور اسے مدنی سورت سمجھا ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ اس کے بیشتر مطالب کا تعلق اہل کتاب سے ہے۔ یا پھر معراج کے واقعے کو بیان کر رہی ہے۔ چونکہ ان دونوں واقعات کا مدینہ سے ربط ہے۔ لہٰذا انہوں نے اسے مدنی شمار کیا ہے۔ ہم انشاء اللہ اسی آیت کی تفسیر کے موقع پر اس کی بھی وضاحت کریں گے۔ بہرحال، مکی سورتیں اکثر و بیشتر اسلام کے بنیادی عقائد کے محور کے گرد گھومتی ہیں اور مبداء و معاد، نبوت و قرآن اور انذار و تبشیر کے متعلق گفتگو کرتی ہیں اور یہی مزاج اس سورت کا ہے۔ اس سورت کے مضامین کو خلاصے کے طور پر سات حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا حصّہ: یہ سورت کا سر آغاز ہے۔ اس میں قرآن مجید، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کی اہمیّت اور اس آسمانی کتاب یعنی قرآن پاک کے ساتھ جہلا کی ناپسندیدہ روش کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ دوسرا حصّہ: ” آفاق “ میں توحید کے کچھ دلائل اور انسان پر خدا کی گونا گوں نعمتوں کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ تیسرا حصّہ: اسی حقیقت کی تکمیل کرتا ہے۔ یعنی اس حصّے میں شرک کے خلاف جدو جہد، خدا کی ذات کی طرف ناروا نسبتوں کی نفی، اندھی تقلید اور لڑکیوں سے نفرت اور فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں سمجھنے جیسی خرافات کے خلاف بات کی گئی ہے۔ چوتھا حصّہ: حقائق کو مجسم کرنے کے لیے کچھ سابق انبیاء اور ان کی اقوام کی سرگزشت بیان کی گئی ہے۔ اور خصوصی طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کی داستانوں پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ پانچواں حصّہ: اس میں معاد کے مسئلے کے ضمن میں موٴمنین کی جزا اور کفار کے درد ناک انجام کو بیان کیا گیا ہے۔ اور مجرمین کو زور دار الفاظ میں تنبیہ کی گئی ہے۔ چھٹا حصّہ: یہ اس سورت کا اہم ترین حصّہ ہے۔ اور اس میں ان جھوٹی اقدار کا ذکر ہے۔ جو بے ایمان لوگوں کے افکار پر حکم فرما چلی آرہی ہیں۔ اور انہی جھوٹی اور بے بنیاد اقدار کی وجہ سے وہ زندگی کے اہم مسائل کو بھی سمجھنے میں گوناگوں غلطیوں کے مرتکب ہوتے چلے آ رہے ہیں حتی کہ وہ اس بات کی توقع رکھتے ہیں کہ قرآن مجید کو بھی ایک متمول اور ثروتمند شخص پر نازل ہونا چاہئے تھا۔ کیونکہ وہ انسانی شخصیت اور عظمت کو دولت ہی میں منحصر سمجھتے تھے۔ قرآن مجید نے اس سورت کی متعدد آیات میں اس احمقانہ سوچ کی خوب سرکوبی کرتے ہوئے صحیح اسلامی اور انسانی اقدار کو اجاگر کیا ہے۔ ساتواں حصّہ: دوسری سورتوں کی طرح اس میں بھی موثر اور مفید پند و نصیحت پائی جاتی ہے۔ یوں یہ حصّہ دوسرے حصوں کی تکمیل کرتا ہے۔ تا کہ سورت کی مجموعی آیات کو معجون شفا کی صورت عطا کرے اور سننے والے کے دل پر گہرا اثر ڈالے۔ اس سورت کا نام اس کی ۳۵ ویں آیت کے لفظ سے لیا گیا ہے۔ جس میں مادی اقدار اور ” زخرف “ (سونا اور اس جیسی چیزوں ) کے بارے میں بات چیت کی گئی ہے۔
اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت
تفسیر اور حدیث کی مختلف کتابوں میں اس سورت کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک حدیث بھی ہے۔ من قراٴ سورة الزخرف، کان ممن یقال لہ یوم القیامة یا عباد لاخوف علیکم الیوم و لا انتم تحزنون ادخلوا الجنة بغیر حساب جو شخص سورہ زخرف کی تلاوت کرے گا وہ ان لوگوں میں قرار پائے گا جنہیں روز قیامت اس طرح مخاطب کیا جائے گا: (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان سورۃ زخرف کا آغاز) اے میرے بندو! آج نہ تو تم پر کسی قسم کا خوف ہے۔ اور نہ ہی غم تم بہشت میں حساب و کتاب کے بغیر چلے جاؤ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان سورۃ زخرف کا آغاز)۔ البتہ یا عباد لاخوف علیکم الیوم ولا انتم تحزنون کا خطاب اسی سورت کی ۶۸ ویں آیت میں موجود ہے۔ ادخلوا الجنة کا جملہ اس کی ۷۰ ویں آیت سے لیا گیا ہے۔ اور ” بغیر حساب “ کا جملہ کلام کے لوازمات میں سے اور قرآن مجید کی دوسری آیات سے لیا گیا ہے۔ صورت حال خواہ کچھ بھی ہو، یہ عظیم بشارت اور بے حد و حساب فضیلت، غور و فکر اور ایمان و عمل کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ تلاوت تو سمجھنے کے لیے مقدمہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور ایمان و عمل اس کے ثمر ہوتے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: گناہ رحمت کو نہیں روک سکتے
Tafsīr Nemūna · Vol. 7سُورت کے آغاز میں ہم ایک بار پھر حروف مقطعات (حٰم) کو پاتے ہیں۔ یہ چوتھی سُورت ہے۔ جس کا آغاز ” حٰم “ سے ہو رہا ہے۔ تین اور سُورتوں کا آغاز بھی انہی دو حروف سے ہوا ہے۔ مجموعی طور پر یہ ساتوں سُورتیں ” حٰم کا خاندان “ تشکیل دیتی ہیں۔ سُورتیں بالترتیب یہ ہیں۔ ۱۔ موٴمن ۲۔ حم سجدہ۔ ۳۔ شوریٰ۔ ۴۔ زخرف۔ ۵۔ دخان۔ ۶۔ جاثیہ۔ ۷۔ احقاف۔ حروف مقطعات کے بارے میں ہم پہلے ہی تفصیل کے ساتھ بحث کر چکے ہیں ( ملاحظہ ہو تفسیر نمونہ کی جلد اوّل سورہٴ بقرہ کا آغاز جلد دوم سُورہ آلِ عمران کی ابتداء جلد ششم سورہ اعراف کا آغاز اور جلد ۲۰ سُورہ حٰم سجدہ کی ابتداء )۔ اسی سلسلے کی دوسری آیت میں قرآن مجید کی قسم کھاتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے۔ قسم ہے۔ اس آشکار کتاب کی (وَ الْکِتابِ الْمُبینِ)۔ اس کتاب کی قسم جس کے حقائق آشکار مفہوم واضح، اس کی سچائی کے دلائل نمایاں اور اس کی ہدایت کی راہیں واضح اور روشن ہیں۔ ہم نے اسے ایک عربی قرآن قرار دیا ہے۔ تا کہ تم اسے سمجھ سکو۔ (إِنَّا جَعَلْناہُ قُرْآناً عَرَبِیًّا لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ) (تشریحی نوٹ: وَ الْکِتابِ الْمُبینِ“ میں ” واؤ “ کے لیے ہے۔ اور ” اإِنَّا جَعَلْناہُ قُرْآناً عَرَبِیًّا ) کا جُملہ جواب قسم ہے۔ قرآن کا عربی ہونا یا تو اس لحاظ سے ہے کہ وہ عربی زبان میں نازل ہوا ہے۔ جو حقائق بیان کرنے کے لیے دُنیا کی وسیع اور جامع ترین زبانوں میں سے ہے۔ اور باریک سے باریک مطالب نہایت ہی ظرافت اور لطافت کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ یا ”عربی“ بمعنی ” فصاحت “ کے ہے۔ ( کیونکہ لفظ ”عربی“ کا ایک معنی ”فصیح“ بھی ہے۔ اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہم نے اس قرآن کو نہایت ہی فصاحت کے انداز میں نازل کیا ہے۔ تا کہ جملات اور کلمات کے ذریعے اچھے سے اچھے حقائق کو ظاہر کر لے اور سب لوگ اسے بخوبی سمجھ سکیں۔ یہاں پر ایک دلچسپ بات اور بھی ہے۔ اور وہ یہ کہ قسم اور جواب قسم دونوں ایک چیز ہیں، قرآن کی قسم اُٹھائی جا رہی ہے کہ یہ کتاب عربی قرار دی جا چکی ہے۔ تا کہ سب لوگ اس کے مطالب سمجھ سکیں، اور یہ بات شاید اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن سے بڑھ کر اور کوئی ایسی چیز نہیں ہے۔ جس کی قسم اٹھائی جا سکے۔ اگر قرآن سے بڑھ کر کوئی اور چیز ہو سکتی ہے۔ تو وہ صرف قرآن پاک ہی ہے۔ کیونکہ یہ خدا کا کلام ہے۔ اور یہ کلام الہٰی اسی کی ذات اقدس کا مظہر ہے۔ ” لعل“ ( شاید ہو سکتا ہے۔ وغیرہ ) کی تعبیر اس لیے نہیں ہے کہ خداوندِ عالم کو قرآن مجید کی تاثیر میں کسی قسم کا شک ہے۔ یا امید و آزادی کی آرزو کی کوئی صُورت ہے کہ جس تک پہنچنے کے لیے کسی قسم کی مشکل کا سامنا ہوتا ہے۔ ایسی بات نہیں ہے۔ بلکہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آیاتِ قرآنی سُننے والوں کی فکری اور اخلاقی سطح مختلف ہوتی ہے۔ لہذا قرآن کی تاثیر بھی ان کی اسی سطح کے مطابق ہوتی ہے کہ جس طرف ”لعل“ کے ساتھ اجمالی اشارہ کیا گیا ہے۔ (اس بات کی مزید تفصیل کے لیے تفسیر نمونہ جلد سوم سُورہٴ آلِ عمران کی آیت نمبر ۲۰۰ کی تفسیر کی طرف رجوع فرمائیں )۔ پھر اس آسمانی کتاب کی تین اور صفات کو بیان فرماتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ اور وہ اصل کتاب لوح محفوظ میں ہمارے پاس ہے۔ جو بلند مرتبہ اور حکمت آموز ہے۔ (وَ إِنَّہُ فی اُمِّ الْکِتابِ لَدَیْنا لَعَلِیٌّ حَکیمٌ )۔ پہلی صفت میں تو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن مجید ” ام الکتاب “ میں پروردگار عالم کے پاس ثبت اور محفوظ ہے۔ جیسا کہ سُورہ ” بروج “ کی آیات ۲۱ ، ۲۲ ،میں بھی ہے۔ ” بل ھو قراٰن مجید فی لوح ٍ محفوظ “ وہ قرآن مجید ہے۔ جولوحِ محفوظ میں ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ” اُم الکتاب “ یا” لوح محفوظ “ سے کیا مراد ہے۔ لغت عرب میں ” اُم “ کا لفظ ہر چیز کی اصل، بنیاد اور اساس کے معنی میں آتا ہے۔ اگر اہل عرب ماں کو ” اُم “ کہتے ہیں تو اس لیے کہ وہ خاندان کی بُنیاد اور اولاد کے لیے جائے پناہ ہوتی ہے۔ اسی لیے ” اُم الکتاب “ کا معنی ایسی کتاب ہے۔ جو تمام آسمانی کتابوں کی اصل و اساس ہے۔ اور وہ وہی لوح ہے۔ جو خدا کے نزدیک ہر قسم کے تغیّر، تبدل اور تحریف سے محفوظ ہے۔ اور ایسی کتاب ” پروردگارِ عالم کا علم “ ہے۔ جو خود اُسی کے پاس ہے۔ اور تمام کائنات کے حقائق، کائنات میں ماضی اور حال و مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والے حالات اور تمام آسمانی کتابیں اس میں درج ہیں اور اس حد تک خدا کے علاوہ کسی کو رسائی حاصل نہیں ہے۔ مگر جنہیں خدا خود آگاہ کرے۔ یہ قرآن مجید کی بہت بڑی عظمت ہے۔ جس کا سرچشمہ حق تعالیٰ کا بے پایاں علم ہے۔ جس کی اصل و اساس خود خدا کے پاس ہے۔ اسی دلیل کی بناء پر قرآن مجید کی دوسری صفت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ یہ بلند مرتبہ کتاب ہے۔ (لعلی)۔ تیسری صفت کے بارے میں فرمایا گیا ہے۔ حکمت آموز، مستحکم، پختہ اور حساب شدہ ہے۔ (حکیم)۔ اور جس چیز کا براہ راست تعلق خدا کے لا متناہی علم سے ہو، اسے ایسی اوصاف کا حامل ہونا ہی چاہیئے۔ بعض مفسرین قرآن مجید کو اس بنا پر بلند مرتبہ کتاب سمجھتے ہیں کہ وہ دوسری تمام آسمانی کتابوں پر فوقیّت رکھتی ہے۔ اور ان پر سبقت حاصل کر گئی ہے۔ اور ان سب کو منسُوخ کر کے اعجاز کے بلند ترین مقام پر فائز ہو چکی ہے۔ کچھ اور مفسرین کے نزدیک یہ ہے کہ یہ اس لیے بلند مقام کی حامل کتاب ہے کہ اس کے مندرجات ایسے حقائق پر مشتمل ہیں جو انسانی افکار کی رسائی سے بالا ہیں (ان حقائق کے علاوہ جن کا ظاہری مفہوم ہر شخص سمجھ لیتا ہے۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ لفظ ” حکیم “ عام طور پر انسان کی یا شخص کی صفت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ کتاب کے لیے نہیں، لیکن چونکہ یہ آسمانی کتاب بذات خود ایک عظیم معلم اور حکمت آموز کی حیثیت رکھتی ہے۔ لہٰذا اس کے لیے یہ تعبیر نہایت ہی موزوں اور بجا ہے۔ البتہ ”حکیم “ کا معنی ” مستحکم “ اور ہر قسم کے خلل سے محفوظ بھی ذکر ہوا ہے۔ اور یہ تمام مفہوم اور مطالب مذکورہ لفظ میں موجُود ہیں اور قرآن پر صحیح معنوں میں صادق آتے ہیں، کیونکہ قرآن ان معانی کے لحاظ سے حکیم ہے۔ بعد کی آیت میں قرآن سے مُنہ موڑنے اور اس کا انکار کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے۔ آیا ہم قرآن کو جو کہ تمہاری بیداری اور توجہ کا سبب ہے۔ تم سے اس لیے واپس لے لیں کہ تم اسراف اور تجاوز کرنے والے لوگ ہو (اَفَنَضْرِبُ عَنْکُمُ الذِّکْرَ صَفْحاً اَنْ کُنْتُمْ قَوْماً مُسْرِفینَ)۔ یہ ٹھیک ہے کہ تم نے حق کی مخالفت اور دشمنی میں کوئی دقیقہ فرد گذاشت نہیں کیا اور مخالفت کو افراط و اسراف کی حد تک پہنچا چکے ہو، لیکن خدا کا لطف و کرم اور رحمت و مہربانی بھی اس قدر وسیع ہے کہ وہ تمہاری ایسی باتوں کو اپنی رحمت کے آگے سد راہ نہیں سمجھتا اور اس بیدار کرنے والی آسمانی کتاب کو مسلسل تمہارے لیے بھیجتا رہتا ہے۔ تاکہ جن دلوں میں تھوڑی سی آمادگی پائی جاتی ہے۔ ان میں حرکت پیدا ہو اور وہ سیدھی راہ پر آجائیں اور پروردگار عالم کی عمومی رحمت اور رحمانیت کا یہی معنی ہے۔ جو دوست اور دشمن دونوں کے لیے ہے۔ ” اَ فَنَضْرِبُ عَنْکُم“ کا معنی ” اَ فَنَضْرِبُ عَنْکُم“ (آیا ہم تم سے منصرف کر دیں یا پھر دیں) کیا گیا ہے۔ کیونکہ جب کوئی سوار اپنی سواری کو ایک راستے سے دوسرے راستے کی طرف پھیرنا چاہتا ہے۔ تو اسے چابک مارتا ہے۔ لہذا اس جیسے مقام پر” ضرب “ کا لفظ ” صرف “ (پھیرنے) کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان النبی آیات کے ذیل میں)۔ ” صفح “ در اصل ” جانب “ اور کسی طرف ( side) کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اور” عرض “ یعنی چوڑائی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ لیکن اس آیت میں پہلے پہلے معنی استعمال ہوا ہے۔ کیا ہم اس قرآن کو جو تذکر کا موجب ہے۔ تمہاری طرف سے دوسری جانب پھیر دیں؟ ”مسرف“، ”اسراف“ کے مادہ سے ہے، جس کا معنی حد سے بڑھ جانا ہے۔ اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مشرکین اور رسُول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دشمن اپنی عداوت اور مخالفت میں اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ وہ مخالفت اور عناد کی کسی حد کو نہیں پہچانتے۔ پھر مذکورہ فرمان کے لیے شاہد کے طور پر بھی اور رسُول پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تسلی اور تشفی کے لیے بھی اور ساتھ ہی ہٹ دھرم منکرین کو تنبیہ اور تہدید کے طور پر بھی مختصر لیکن محکم انداز میں فرمایا گیا ہے۔ ہم نے گزشتہ قوموں میں ہدایت کی خاطر بہت سارے انبیاء کو بھیجا ہے۔ ( وَ کَمْ اَرْسَلْنا مِنْ نَبِیٍّ فِی الْاَوَّلینَ )۔ لیکن ان کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا تھا مگر یہ کہ اس کا مذاق اڑاتے تھے (وَ ما یَاْتیھِمْ مِنْ نَبِیٍّ إِلاَّ کانُوا بِہِ یَسْتَہْزِؤُنَ )۔ اس قسم کے مخالفین، مذاق اور تمسخر لطفِ الہٰی سے ہرگز مانع نہ ہوئے یہ وہ فیض الہٰی ہے۔ جو ازل سے ابد تک جاری و ساری ہے۔ اور ایسی سخاوت ہے۔ جو تمام بندگانِ خدا کے لیے یکساں ، بلکہ اصولی طور پر خدا نے انہیں خلق ہی رحمت کے لیے فرمایا ہے۔ (ولذالک خلقھم) ۔ (ہود ۔ ۱۱۹) اسی لیے تمہاری رو گردانی اور ہٹ دھرمی کبھی اس کے لطف و کرم کی سدِّ راہ نہیں بن سکتی اور رسُول پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور موٴمنین کو بھی مایوس و پریشان نہیں ہونا چاہیئے ، کیونکہ حق سے رو گردانی اور خواہشات نفسانی کی پیروی آج کی پیداوار نہیں، بلکہ زمانہٴ قدیم سے چلی آ رہی ہے۔ البتہ یہ بات بھی ان ( کفار ) کو نہیں بھولنی چاہیئے کہ خداوندِ کریم کا بے حد و حساب لطف و کرم اس کی سزا سے مانع بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ مجرم کو سزا بھی اس کی حکمت کا تقاضا ہوتی ہے۔ اسی لیے بعد کی آیت میں فرمایا گیا: ہم نے تو ان لوگوں کو بھی ہلاک اور نیست و نابُود کر دیا ہے۔ جو ان سے زیادہ طاقتور تھے (فَاَہْلَکْنا اَشَدَّ مِنْھُمْ بَطْشاً)۔ اور گزشتہ لوگوں کی داستان بھی گزر چکی ہے۔ (وَ مَضی مَثَلُ الْاَوَّلینَ)۔ جو آیات ہم نے اس سے پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمائی ہیں ان میں ایسی ہی سرکش قوموں کی سرکشی اور نافرمانی کے بہت سے نمونے پیش کیے گئے ہیں اور وحی کے ذریعے ان کے تفصیلی حالات آپ تک بے کم و کاست پہنچ چکے ہیں۔ ان اقوام میں کچھ ایسی قومیں بھی تھیں جو مشرکین عرب سے کئی گنا زیادہ طاقتور تھیں۔ ان کے پاس ذرائع اور وسائل کی فراوانی تھی۔ افرادی قوّت کی کوئی کمی نہیں تھی فوج کے لحاظ سے بھی وہ بہت قوی تھیں، استعداد بھی ان کی زیادہ تھی۔ جیسے فرعون اور اس کی قوم اور طاقت کے لحاظ سے عاد و ثمود کی قومیں، لیکن اب تم جاؤ اور ان کے شہروں کو کھنڈرات کی صُورت میں جا کر دیکھو، ان کی سرگزشت تاریخ کی کتابوں میں پڑھو اور ان سب سے واضح کیفیّت قرآن میں موجود ہے۔ اس کا مطالعہ کرو اور اس میں غور و خوض سے کام لو۔ پھر تمہیں معلوم ہو گا کہ ہٹ دھرم اور سرکش افراد اللہ کے دردناک عذاب سے ہرگز نہیں بچ سکتے۔ ”بطش“ (بروزن ” فرش“) کا معنی جیسا کہ راغب نے ”مفردات“ میں تحریر کیا ہے۔ ”کسی چیز کو طاقت کے ساتھ پکڑنا ہے۔ “ اور یہاں پر ”اشد“ کا کلمہ بھی ساتھ استعمال ہوا ہے۔ جس سے طاقت میں شدت بتانا مقصُود ہے۔ ” منھم “ میں موجُود ضمیر مشرکینِ عرب کی طرف لوٹ رہی ہے۔ جو اس سے پہلے آیات میں مخاطب تھے۔ لیکن یہاں پر ضمیر کو غائب اس لیے لایا گیا ہے کہ وہ خدا کے مسلسل خطاب کے اہل نہیں ہیں۔ بعض بزرگ مفسرین ” مَضی مَثَلُ الْاَوَّلین“ (گزشتہ اقوام کا انجام پہلے گزر چکا ہے۔ کے جُملے کو اس سے پہلی سُورت شوری کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جو اس سے پہلے گزر چکی ہے۔ اور اس میں اس قسم کے لوگوں کا کچھ ذکر موجود ہے۔ لیکن اس قسم کی محدودیت پر کوئی دلیل موجُود نہیں ہے۔ خاص کر جب کہ سُورہ شوریٰ میں گزشتہ اقوام کی سرگزشت کی جانب بہت ہی کم اشارہ ہوا ہے۔ اور دوسری قرآنی سُورتوں میں ان کے تفصیلی حالات درج ہیں۔ بہرحال یہ آیت سُورہ ٴ قصص کی ۷۸ ویں آیت سے ملتی جُلتی ہے۔ جس میں فرمایا گیا ہے۔ اَ وَ لَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللَّہَ قَدْ اَہْلَکَ مِنْ قَبْلِہِ مِنَ الْقُرُونِ مَنْ ہُوَ اَشَدُّ مِنْہُ قُوَّةً وَ اَکْثَرُ جَمْعاً۔ ” آ یا قارُون نہیں جانتا تھا کہ خدا نے اس سے پہلے کی کئی قوموں کو نیست و نابود کردیا، جو اس سے طاقت میں بھی زیادہ تھیں اور مال و دولت میں بھی“؟ یا پھر سُورہ ٴ موٴمن کی آیت ۲۱ سے ملتی جُلتی ہے۔ جس میں مشرکین عرب کو خبردار کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ اَ وَ لَمْ یَسیرُوا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوا کَیْفَ کانَ عاقِبَةُ الَّذینَ کانُوا مِنْ قَبْلِھِمْ کانُوا ھُمْ اَشَدَّ مِنْھُمْ قُوَّةً وَ آثاراً فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَہُمُ اللَّہُ بِذُنُوبِھِمْ وَ ما کانَ لَھُمْ مِنَ اللَّہِ مِنْ واقٍ۔ ” آیا انہوں نے زمین کی سیر نہیں کی تاکہ وہ دیکھتے کہ ان سے پہلے لوگوں کا انجام کیا ہوا ہے۔ وہ اِن سے طاقت میں بھی زیادہ تھے اور زمین پر اپنے آثار میں بھی۔ لیکن خدا نے انہیں ان کے گناہوں کی وجہ سے اپنی گرفت میں لے لیا اور انہیں عذاب ِ الہٰی سے بچانے والا کوئی نہ تھا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: توحید کے کچھ دلائل
Tafsīr Nemūna · Vol. 7یہاں سے توحید اور شرک کی گفتگو شروع ہوتی ہے۔ اور سب سے پہلے انسانی فطرت اور سرشت کو پیش نظر رکھ کر توحید پر اثبات کیا جاتا ہے۔ اور کائنات پر حکم فرما نظام کے دلائل کو ذکر کرنے اور پروردگار عالم کی پانچ نعمتوں کو بیان کرنے کے بعد انسانوں کی شُکر گزاری کی حس کو بیدار کیا گیا ہے۔ اور پھر بُت پرستی اور دوسری مُشرکانہ عقائد اور خرافانی نظریات کو باطل کیا گیا ہے۔ آیت کے پہلے حِصّے میں فرمایا گیا ہے۔ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو یقینا وہ جواب میں یہی کہیں گے کہ انہیں عزیز و حکیم خدا نے پیدا کیا ہے۔ (وَ لَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَنْ خَلَقَ السَّماواتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُولُنَّ خَلَقَھُنَّ الْعَزیزُ الْعَلیمُ )۔ اس قسم کی تعبیر کہ جو قرآن مجید کی چار آیات میں مختصر سے فرق کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ ( سورہٴ عنکبوت آیت ۶۱ ، سُورہ ٴ لقمان آیت ۲۵ ، سُورہ ٴ زمر آیت ۳۸ اور سُورہ ٴ زخرف کی اسی آیت میں ) (تشریحی نوٹ: قرآن مجید کے دو اور مقاما ت پر بھی ان کا” خدا کی خالقیت “ کا اعتراف نقل ہوا ہے۔ البتہ ایک مقام پر آ ٓسمان سے بارش کے نُزول کے بارے میں (عنکبوت / ۶۳) اور دوسرے مقام پر ان کی اپنی ذات کے بارے میں خدا کی خالقیت کے بارے میں ( زخرف / ۸۷)۔ جہاں خدا شناسی کی فطری دلیل اور انسانی فطرت میں نورِ الہٰی کی تجلّی کی غماز ہے۔ وہاں پر اس بات کی دلیل بھی ہے کہ مشرکین اس بات کے معترف بھی تھے کہ آسمانوں اور زمین کا خالق خدا ہے۔ اور سوائے شاذ و نادر مواقع کے اپنے معبُودوں کے لیے خالقیّت کے قائل نہیں تھے۔ تیسری طرف ان کا یہ اعتراف بتوں کی عبودیت کے باطل ہونے کی بنیاد ہے۔ کیونکہ عبادت کے لائق وہی ہے۔ جو کائنات کا خالق اور مدّبر ہے۔ نہ کہ وہ چیزیں جن کا اس سِلسلے میں کوئی حِصّہ ہی نہیں، بنا بریں، ان کا اللہ تعالیٰ کی خالقیت کا اعتراف خُود اُن کے فاسد اور غلط مذہب کے خلاف دندان شکن دلیل ہے۔ ” عزیز و حکیم “ کی تعبیر جو کہ پروردگارِ عالم کی مطلق قدرت، علم اور حکمت کو ظاہر کرتی ہے۔ اگر چہ ایک قرآنی تعبیر ہے۔ لیکن یہ کوئی ایسا مطلب نہیں ہے کہ مشرکین جس کا انکار کر سکتے ہوں۔ کیونکہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی خدا کی طرف نسبت کے اعتراف کا لازمہ ہی اس کے عزیز و حکیم ہونے کا اعتراف کرنا ہے۔ وہ تو بُتوں کے علم و قدرت کے قائل تھے، چہ جائیکہ خدا کے کہ جس تک رسائی کے لیے بتوں کو اپنا وسیلہ سمجھتے تھے۔ پھر خدا کی ان پانچ عظیم نعمتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جن میں سے ہر ایک نظام آفرینش کا ایک نمومہ اور خدائی آیات میں سے ایک آیت ہے۔ سب سے پہلے زمین کا ذکر ہے۔ فرمایا گیا ہے: وہی خدا تو ہے۔ جس نے تمہار ے لیے زمین کو گہوارہ اور سکون کامقام بنایا ہے۔ (الَّذی جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ مَہْداً) ۔ ” مھد“ اور ” مھاد “ دو ایسے کلمے ہیں جو اس جگہ کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں جو بیٹھنے، سونے اور آرام کرنے کے لیے بنائی جائے۔ اصل میں یہ ایسی جگہ کو کہا جاتا ہے۔ جہاں پر بچّے کو سلایا جاتا ہے۔ خواہ گہوارہ ہو یا کوئی اور چیز۔ یقینا خداوندِ عالم نے زمین کو انسان کے لیے گہوارہ قرار دیا ہے۔ حالانکہ اس کی کئی قسم کی حر کتیں ہیں۔ کشش ثقل کے قانون اور ہوا کے ہر طرف دباؤ اور دوسرے کئی مختلف عوامل کے باوجود اس قدر ساکن و ساکت ہے کہ اس پر رہنے والے ذرہ بھر بھی اضطراب کا احساس نہیں کرتے اور واضح سی بات ہے کہ آرام و سکُون اور امن و امان ہی دوسری نعمتوں سے استفادہ کی اصل بنیاد ہے۔ یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ اگر یہ مختلف عوامل ایک دوسرے کے ساتھ نہ ملتے تو یہ سکون بھی کبھی وجُود میں نہ آ تا۔ دوسری نعمت کو بیان کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے۔ اس نے زمین میں تمہارے لیے راہیں مقرر کی ہیں تا کہ تم ہدایت پا جاؤ اور منزل مقصُود تک پہنچ جاؤ (وَ جَعَلَ لَکُمْ فیہا سُبُلاً لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُون)۔ یہ نعمت کہ جسے قرآن مجید میں بارہا بیان کیا گیا ہے۔ ( ملاحظہ ہو سورہ طہ ۵۳ ، انبیاء ،۱۳۱ اور نحل ، ۱۵ ) ان نعمتوں میں سے ہے۔ جس سے بہت سے لوگ غافل ہیں۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ تقریباً تمام خشکی کو بہت سے نشیب و فراز نے اپنے گھیرے میں لے رکھّا ہے، اور چھوٹے بڑے پہاڑوں اور مختلف ٹیلوں نے اسے ڈھانپ رکھّا ہے، پھر دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ دُنیا کے بڑے بڑے پہاڑی سلسلوں کے درمیان عام طور پر کٹاؤ موجود ہیں جن کے درمیان میں سے انسان اپنی راہیں بنا سکتا ہے۔ اور بہت کم اتفاق ہو گا کہ یہ پہاڑ مکمل طور پر زمین کے مختلف حصّوں کے درمیان جدائی کا سبب بنے ہُوئے ہوں۔ یہ نظام آفرینش کے اسرار میں سے ایک راز اور بندوں پر خدا کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ اس کے علاوہ زمین کے بہت سے حصّے دریائی راستوں کے ذریعے ایک دوسرے سے مربُوط ہیں اور یہ بات بھی آیت کے عمومی مفہوم میں شامل ہے۔ (تشریحی نوٹ: لفظ ”سبل“، ”سبیل“ کی جمع ہے۔ جس کا خشکی کے راستوں پر بھی اطلاق ہوتا ہے۔ اور تری کے راستوں پر بھی جیسا کہ دُعائے جوشن کبیر میں ہے۔ یامن فی البرو البحر سبیلہ)۔ اس تمام گفتگو سے یہ نتیجہ نکلا کہ ” لعلکم تھتدون “ سے مراد منزلِ مقصُود تک ہدایت اور زمین کے مختلف علاقوں کو تلاش کرنا ہے۔ ہر چند کہ مفسرین نے اس سے امر توحید اور خدا شناسی کے سلسلے میں ہدایت مراد لی ہے۔ (البتہ دونوں معانی کو جمع کرنے میں کوئی مانع موجود نہیں )۔ تیسری نعمت بارش کا نزول ہے کہ جو مُردہ زمینوں کو زندہ کرتی ہے۔ بعد کی آیت میں اس بات کو یوں بیان کیا جا رہا ہے۔ وہی خدا تو ہے۔ جس نے مقررہ مقدار میں آسمان سے پانی نازل کیا ہے۔ (وَ الَّذی نَزَّلَ مِنَ السَّماءِ ماءً بِقَدَرٍ )۔ ” اور اس کے ذریعے ہم نے مُردہ زمین کو زندگی عطا کی “ ( فَاَنْشَرْنا بِہِ بَلْدَةً مَیْتاً )۔ جس طرح مردہ زمینیں بارش کے پانی کی وجہ سے زندہ ہو جاتی ہیں تم بھی مرنے کے بعد اسی طرح زندہ ہو کر قبروں سے باہر آ جاؤ گے (کَذلِکَ تُخْرَجُونَ)۔ ” قدر “ کا لفظ اس خاص نظام کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے۔ جو نزول باران پر حکم فرما ہے۔ بارش اسی حد تک ہوتی ہے۔ جو مفید اور ثمر بخش ہو نہ کہ مضر اور نقصان دہ۔ یہ ٹھیک ہے کہ بعض اوقات سیلاب بھی آتے ہیں اور زمینوں کو ویران کر دیتے ہیں۔ لیکن یہ استثنائی صُورت ِ حال ہوتی ہے۔ جو ایک قسم کی سرزنش کی حیثیت رکھتی ہے۔ جہاں تک کہ اکثر و بیشتر بارشوں کا تعلق ہے۔ وہ سُود مند اور مفید ہوا کرتی ہیں۔ اصُولی طور پر تمام درختوں، سبزہ زاروں پھولوں، پُر ثمر باغوں کی رونق بارش کے مقدار کے مطابق نازل ہونے کی برکت سے ہی ہے۔ اگر بارش کا کوئی نظم و نظام نہ ہوتا تو یہ تمام برکتیں بھی حاصل نہ ہو پاتیں۔ آیت کے دوسرے حِصّے میں لفظ ” انشرنا“ آ یا ہے۔ جو ” نشور “ کے مادہ سے لیا گیا ہے۔ جس کا معنی پھیلنا اور وسعت اختیار کرنا ہے۔ اس سے نباتات کی دُنیا کا روزِ محشر نگاہوں کے سامنے مجسم ہو جاتا ہے، خشک زمینیں نباتات کے بیجوں کو اپنے دِل میں ویسے ہی جگہ دیئے ہوئے ہوتی ہے۔ جس طرح مُردوں کو قبروں نے چھپایا ہوتا ہے۔ اور جونہی ” نزُول باران “ کا” صور “ پھونکا جاتا ہے۔ تو وہ حرکت میں آ جاتے ہیں اور مردوں کی طرح نباتات اور سبزہ زمین کے اندر سے اپنا سر باہر نکالتے ہیں اور شادابی اور تر و تازگی کا ایک محشر برپا ہو جاتا ہے۔ جو بذاتِ خود انسانوں کے محشر کا ایک نمونہ ہے۔ جس کی طرف اسی آیت کے آخر میں اور متعدد دوسری آیات میں اشارہ ہوا ہے۔ بارش کے نازل ہونے اور نباتات کی زندگی کے تذکرے کے بعد چوتھے مرحلے میں مختلف حیوانات کی تخلیق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ وہی خدا ہے۔ جس نے سب کو جوڑوں کی صُورت میں پیدا کیا ہے۔ (وَ الَّذی خَلَقَ الْاَزْواجَ کُلَّہا)۔ ” ازواج “ کے معنی ” جوڑے “ ہیں اور یہ لفظ مختلف قسم کے جانوروں کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے کی آیات میں نباتات کا ذکر آ چکا ہے۔ اگرچہ بعض مفسرین نے اسے موجودات کی تمام قسموں کی طرف اشارہ سمجھا ہے۔ خواہ وہ جمادات ہوں یا نباتات، حیوانات ہوں یا انسان۔ کیونکہ قانونِ زوجیّت ان سب میں حکم فرما ہے۔ اور ہر ایک کی مخالف جنس موجُود ہے۔ آسمان اور زمین، رات اور دن، نور اور ظلمت، تلخ اور شیریں، خشک اور تر، سُورج اور چاند، بہشت اور دوزخ، غرض سوائے خدا کی ذات پاک کے کوئی بھی یگانہ اور یکتا نہیں ہے۔ یہ صرف خدا ہی ہے۔ جس میں دوئی نہیں پائی جاتی۔ لیکن جیسا کہ ہم ابھی بتا چکے ہیں، قرینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں پر” حیوانات کے جوڑے “ مراد ہیں اور ہر ایک جانتا ہے کہ زوجیّت کا قانون تمام جانداروں میں حکم فرما ہے۔ اور اگر کچھ شاذو نادر قسم کے افراد اس سے مستثنٰی ہوں تو یہ بات قانون کے کلی ہونے سے مانع نہیں ہے۔ بعض مفسرین نے ” ازواج “ سے مراد حیوانات کی مختلف قسمیں مراد لی ہیں، جیسے پرندے، چو پائے، آ بی جانور اور حشرات الارض وغیرہ۔ پانچویں مرحلے پر اس سلسلے کی آخری نعمت کا تذکرہ کرتے ہُوئے ان سواریوں کے بارے میں گفتگو فرمائی گئی ہے۔ جنہیں خداوندِ عالم نے برّی اور بحری راہیں طے کرنے کے لیے انسان کے اختیار میں دے دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: اس نے تمہارے لیے کشتیوں اور چوپایوں میں سے سواریاں بنائی ہیں کہ جن پر تم سوار ہوتے ہو (وَ جَعَلَ لَکُمْ مِنَ الْفُلْکِ وَ الْاَنْعامِ ما تَرْکَبُون)۔ یہ بنی نوع انسان پر خداوندِ عالم کا ایک بہت بڑا احسان اور اس کی کرم نوازی ہے کہ جو کسی دوسری زندہ مخلوق میں دیکھنے میں نہیں آ تی، کیونکہ خداوند عالم نے بنی نوع انسان کو ایسی سواریاں عطا کی ہیں۔ جو برّی اور بحری راستوں کو طے کرنے میں اس کی معاون و مددگار ہیں۔ جیسا کہ سُورہ ٴ بنی اسرائیل کی آیت ۷۰ میں ارشاد ہو رہا ہے۔ ” وَ لَقَدْ کَرَّمْنا بَنی آدَمَ وَ حَمَلْناھُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْناھُمْ مِنَ الطَّیِّباتِ وَ فَضَّلْناھُمْ عَلی کَثیرٍ مِمَّنْ خَلَقْنا تَفْضیلاً “ ہم نے بنی آدم کو بزرگی عطا کی اور انہیں برّ و بحر میں ( سواریوں پر )سوار کیا اور انہیں پاک و پاکیزہ رزق عطا کیا اور اپنی دوسری مخلوق پر برتری عطا کی۔ حقیقت یہ ہے کہ ان سواریوں کی وجہ سے انسانی سرگرمیوں اور اس کی زندگی کی تگ و دو میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ حتی کہ موجودہ دُور کی تیز رفتار سواریاں جو مختلف چیزوں کے خواص سے استفادہ کر کے تیار کی گئی ہیں اور انسان ان سے بہرہ برداری کر رہا ہے۔ یہ بھی خداوند عالم کی ایک بہت بڑی کرم نوازی ہے۔ یہ ایسے ذرائع آمد و رفت ہیں جنہوں نے زندگی کے چہرے کو مکمل طور پر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ اور ہر چیز کو تیز رفتاری عطا کردی ہے۔ اور بنی نوع انسان کے لیے طرح طرح کی آسائش مہیا کر دی ہے۔ بعد کی آیت میں اس قسم کی سواریوں کے آخری تخلیقی مقصد کو بیان کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے۔ تاکہ تم ان سواریوں کی پشت پر بخوبی سوار ہو جاو، پھر اپنے پروردگار کی نعمت کو یاد کرو اور کہو:پاک و پاکیزہ ہے۔ وہ ذات کہ جس نے ان کو ہمارے لیے مسخر کر دیا ورنہ یہ ہمارے بس میں تو نہ تھیں (لِتَسْتَوُوا عَلی ظُہُورِہِ ثُمَّ تَذْکُرُوا نِعْمَةَ رَبِّکُمْ إِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْہِ وَ تَقُولُوا سُبْحانَ الَّذی سَخَّرَ لَنا ہذا وَ ما کُنَّا لَہُ مُقْرِنینَ )۔ ”لِتَسْتَوُوا عَلی ظُہُورِہِ “ کا جُملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا نے ان سواریوں کو اس طرح سے پیدا کیا ہے کہ تم ان پر سوار ہو کر آرام اور سکون کے ساتھ منزل مقصُود تک پہنچ جاؤ۔ (تشریحی نوٹ: ” عَلی ظُہُورِہِ “ میں موجود ضمیر ” ما “ موصو لہ کی طرف لوٹ رہی ہے۔ جو ” ما ترکبون “ میں ہے۔ اور کشتیوں اور چو پایوں دونوں قسموں کے لیے ہے۔ اور ضمیر ظاہر ی لفظ کی وجہ سے مفرد ہے۔ ۔ اس آیت میں بری اور بحری سواریوں کی تخلیق کے دو بنیادی مقاصد بیان ہوئے ہیں ایک تو سوار ہوتے وقت خدا کی نعمتوں کی یاد آوری اور دوسرے اس خدا کی ستائش جس نے ان کو انسان کے تابع فرمان بنایا ہے۔ کشتیوں اور بحری جہازوں کو اس طرح سے بنایا گیا ہے کہ وہ سمندر کے سینوں کو چیر کر منزلِ مقصُود تک پہنچاتے ہیں اور چوپایوں کو انسان کے تابع فرمان بنا دیا ہے۔ ”مقرنین“، ”اقران“ کے مادہ سے ہے۔ جس کا معنی ہے۔ ” کسی چیز پر قابُو پانا “ اور ” قدرت حاصل کرنا “۔ بعض صاحبانِ لُغت نے یہ بھی کہا ہے کہ ” اقران “ کا معنی کسی چیز کو ”ضبط “ کرنا اور اس کی حفاظت کرنا ہے۔ جو در اصل کسی چیز کے ” قرین “ (ساتھی )ہونے کے معنی میں پنہاں ہے۔ جس کا لازمہ اس چیز کی حفاظت اور اپنے قابُو میں رکھنا ہوتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: کتاب ” لسان العرب “ میں آیا ہے کہ ” اقرن لہ “ اور ” قر ن علیہ “ کا معنی ہے: اطاق و قوی علیہ و اعتلا “ یعنی اس پر قابو پایا اور سوار ہوا۔ قرآن پاک میں ہے۔ ” وَ ما کُنَّا لَہُ مُقْرِنینَ “ یعنی ” مطیقین “)۔ بنا بریں، ” وَ ما کُنَّا لَہُ مُقْرِنینَ “ کا مفہوم یہ ہو گا، کہ اگر خدا کا لطف و کرم نہ ہوتا تو ہم میں ان سواریوں کو قابو میں رکھنے کی طاقت نہیں تھی۔ مخالف ہوائیں ہمیشہ کشتیوں اور بحری جہازوں کو اُلٹ کر رکھ دیتیں اور ہم ہرگز ساحل نجات تک نہ پہنچ سکتے۔ یہ طاقت ور سرکش جانور کہ جن کی طاقت انسان سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔ اگر ان میں فرمانبرداری کی رُوح حکم فرما نہ ہوتی تو انسان ان کے نزدیک بھی نہ پھٹک سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ جب کبھی کوئی جانور طیش میں آجاتا ہے۔ اور فرمانبرداری کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔ تو وہ ایک ایسے خطرناک جانور میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ جس کا مقابلہ کئی انسان مل کر بھی نہیں کر سکتے، جب کہ عام طور پر ممکن ہے۔ بیسیوں بلکہ سیکڑوں جانوروں کو ایک رسی میں باندھ کر ان کی مُہار اگر ایک بچے کے ہاتھ میں بھی دے دی جائے تو وہ انہیں خاطر خواہ مقامات پر لے جائے۔ گویا خدا تعالیٰ چوپایوں کے ان استثنائی حالات کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے معمُول کے حالات کو بھی واضح کرنا چاہتا ہے۔ اسی آیت کے آخری حِصّے میں سوار ہوتے وقت سچّے موٴمنین کی گفتگو کا ذکر ہے۔ اور اسی پر یہ آیت مکمل ہو جاتی ہے۔ وہ سواری پر سوار ہوتے وقت کہتے ہیں: اور ہم ہر صُورت میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹ جانے والے ہیں (وَ إِنَّا إِلی رَبِّنا لَمُنْقَلِبُونَ)۔ یہ جُملہ گذشتہ آیات میں توحید کے بارے میں گفتگو کے بعد مسئلہ معاد کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ ہمیشہ خالق اور مبداء کی طرف توجہ انسان کو معاد کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ نیز اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ مبادا تم ان سواریوں پر سوار ہوتے وقت اور ان پر قابُو پانے کے بعد مغرور اور دنیاوی چکا چوند میں مگن ہو جاؤ، بلکہ تمہیں ہر حالت میں آخرت کی فکر کرنی چاہیئے،کیونکہ ایسے مواقع پر خاص طور پر انسان مغرور اور متکبر ہو جاتا ہے۔ اور اپنی سواریوں کی فوقیت اور تکبر کا ذریعہ قرار دینے والے افراد دُنیا میں کم نہیں ہیں۔ پھر تیسری بات یہ ہے کہ سواریوں پر سوار ہو کر ایک جگہ سے دوسری جگہ کی طرف منتقلی ہمیں اس دُنیا سے دوسرے جہان کی طرف عظیم انتقال کی جانب متوجہ کرتی ہے۔ اور انجام کار ہمیں خدا کی جانب منتقل ہو کر جانا ہی ہے۔
نعمتوں کے موقع پر خدا کی یاد
قرآنی آیات میں قابلِ توجہ نکات میں سے ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ موٴمنین کو کُچھ دُعائیں بتائی گئی ہیں کہ جب وہ خدا کی نعمتوں سے استفادہ کریں تو ان دُعاؤں کو پڑھا کریں۔ یہ ایسی دُعائیں ہیں جو اپنے تعمیری مطالب کی وجہ سے انسانی قلب کی رُوح کی بالیدگی کا سبب بنتی ہیں اور غرور و غفلت کے آثار مٹا دیتی ہیں۔ جیسا کہ حضرت نوح علیہ السلام کو حکم ہوتا ہے۔ فَإِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَعَکَ عَلَی الْفُلْکِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذی نَجَّانا مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمینَ ” جب تم اور تمہارے ساتھی کشتی پر سوار ہو جاؤ تو کہو کہ اس خدا کی حمد ہے۔ جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات بخشی۔" (مومنون - 28) نیز حضرت نوح علیہ السلام ہی کو یہ حکم مِلتا ہے کہ کسی با برکت منزل پر اترنے کے لیے یہ کہیں: رَبِّ اَنْزِلْنی مُنْزَلاً مُبارَکاً وَ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلینَ ” پروردگارا ! مجھے با برکت منزل پر اُتار اور تو بہترین اتارنے والا ہے۔ “َ۔ ( مومنون ۔ ۲۹) زیر تفسیر آیات میں سواری پر بیٹھ جانے کے وقت ہم کو پروردگار کی نعمتوں کی طرف توجہ اور اس کی تسبیح کا حکم دیا گیا ہے۔ جب انسان کی یہ عادت ہو جائے کہ کسِی بھی نعمت سے بہرہ مندی کے وقت منعم حقیقی اور نعمت کے مبداء کو یاد کرے تو نہ وہ غفلت کی تاریکی میں ڈوبے گا اور نہ ہی غرور کی لغزش سے دوچار ہو گا۔ بلکہ مادی نعمتیں اس کے لیے پروردگار عالم کی طرف پل کی حیثیت اختیار کر لیں گے۔ حضرت پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے حالات میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)جب اپنا پاؤں رکاب میں رکھتے تھے تو ” بسم اللہ “ کہتے تھے اور جب سواری پر اچھی طرح بیٹھ جاتے تو فرماتے: ” الحمد اللہ علیٰ کل حال، سبحان الذی سخرلنا ھٰذا و ما کنّا لہ مقرنین وانّا الیٰ ربّنا لمنقلبون (بحوالہ: تفسیر فخر الرازی ، جلد۲۷،ص ۱۹۹)۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے سامنے ایک شخص نے سواری پر سوار ہوتے وقت کہا:” سبحا ن الذ ی سخر لنا ھٰذا “ تو امام علیہ السلام نے فرمایا : تمہیں ایسا کہنے کا حکم نہیں مِلا بلکہ یوں کہا کرو: ” الحمد اللہ الّذی ھداناللا سلام، الحمد اللہ الّذی من علینا بمُحمّد والحمد اللہ الّذی جعلنا من خیر امة اخرجت لنّاس ۔" پھر کہو: سبحان الّذی سخر لنا ھٰذا۔..(بحوالہ: تفسیر فخر الرازی ، جلد۲۷،ص ۱۹۹)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہمیں صرف ” سبحان الّذی سخرلنا ھٰذا....“ کہنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ بلکہ اس سے پہلے خداوند عالم کی عظیم نعمتوں کو یاد کرنے کا یہ حکم ہے۔ جو اسلام کی طرف ہدایت کی نعمت، رسُول اللہ کی رسالت کی نعمت ہیں۔ پھر اس سواری کو قابو میں لانے پر خدا کی تسبیح کا حکم ہے۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص سواری پر بیٹھتے وقت ” سبحان الّذی سخرلنا ھٰذا..۔ الیٰ ربّنا لمنقلبون “ کہے۔ تو وہ ہر قسم کی مصیبتوں سے محفوظ رہے گا۔ یہ بات اصُول کافی کی ایک روایت میں آئمہ معصومین علیہم السلام سے بھی منقول ہے۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ۴، ص ۵۹۳)۔ اسلامی تعلیمات اور مغرور ہوس پرست لوگوں کے رویے کے درمیان کتنا فرق ہے۔ جو اپنی سواریوں کو خود نمائی اور فخر و غرور کا ذریعہ سمجھتے ہیں بلکہ کبھی انھیں اپنے مختلف گناہوں کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ جیسا کہ ” زمخشری “ نے اپنی تفسیر ” کشاف “ میں ایک بادشاہ کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ اپنی مخصوص سواری پر بیٹھ کر ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف جا رہا تھا۔ شہروں کا درمیانی فاصلہ ایک ماہ کا سفر تھا، اس نے اس سفر میں اس قدر شراب پی کہ اسے سفر کا پتہ ہی نہیں چلا، اور تب ہوش آئی، جب وہ منزل مقصود تک پہنچ چکا تھا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کیوں سمجھتے ہو؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 7گزشتہ آیات میں کائنات میں خداوندِ عالم کی نشانیوں اور اس کی نعمتوں اور کرم نوازیوں کو شمار کیا گیا ہے۔ اور عقیدہ ٴ توحید کی بنیادوں کو مستحکم کیا گیا ہے۔ اس کے بعد زیر نظر آیات میں اس کے نُقطہٴ مقابل یعنی شرک اور غیر اللہ کی پرستش کے خلاف نبرد آزمائی کاآغاز فرمایا گیا ہے۔ اور سب سے پہلے شرک کی ایک قسم یعنی فرشتوں کی پوجا پاٹ کا ذکر کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے۔ انہوں نے خدا کے لیے اس کے بندوں میں سے ایک جُزء قرار دیا ہے۔ (وَ جَعَلُوا لَہُ مِنْ عِبادِہِ جُزْءً )۔ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں اور اپنا معبُود سمجھنا ایک ایسی خرافات تھی جو بہت سے بُت پرستوں میں رائج تھی۔ ” جزء “ کے ذریعہ یہ بتانا مقصُود ہے کہ وہ فرشتوں کو خدا کی اولاد سمجھتے تھے، کیونکہ ہمیشہ اولاد اپنے ماں باپ کے وجُود کا جزو ہوا کرتی ہے۔ جو نُطفے کی صُورت میں ان سے جُدا ہوتی ہے۔ اور آپس میں مرکب ہو جاتی ہے۔ اسی سے اس کے وجُود کا آغاز ہوتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بتانا بھی مقصود ہے کہ وہ فرشتوں کی عبادت بھی کیا کرتے تھے کیونکہ وہ ان کو خدا کے مقابل معبُودوں میں شمار کیا کرتے تھے۔ یہ تعبیر ضمنی طور پر مشرکین کے خرافاتی عقیدے کے باطل ہونے کی ایک واضح دلیل بھی ہے۔ کیونکہ اگر فرشتے خدا کی اولاد ہوں تو اس سے یہ بات لازم آئے گی کہ خداوندِ عالم کا بھی جُزء ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ خدا کی پاک ذات مرکب ہے۔ جبکہ عقلی اور نقلی دلائل خدا کے بسیط اور احد ہونے پر کثرت سے موجُود ہیں، اور جُزء تو صرف امکانی موجودات کے ساتھ مخصوص ہے۔ پھر ارشاد فرمایا گیا ہے۔ انسان واضح طور پر کُفر کرنے والا ہے۔ (إِنَّ الْإِنْسانَ لَکَفُورٌ مُبینٌ )۔ اس قدر خدائی نعمتوں نے اس کے تمام وجود کو اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے کہ جن میں سے پانچ قسمیں گزشتہ آیات میں بھی بیان ہو چکی ہیں، ایسی حالت میں اسے تو یہ چاہیئے تھا کہ اپنی پیشانی اپنے خالق اور ولی ٍنعمت کے آستان پر جھکا دیتا۔ لیکن اس نے کفر و انکار کی راہ اختیار کرتے ہوئے اس کی مخلوق کے دامن کو جا پکڑا۔ بعد کی آیات میں قرآن ان کے اس خرافاتی نظریئے اور بودے فکر کی مذمت کرنے کے لیے خود ان کے ذہنی اور مسلمہ امور سے استدلال فرماتا ہے۔ کیونکہ وہ مرد کی جنس کو عورت کی جنس پر ترجیح دیتے تھے، بلکہ اصولی طور پر وہ لڑکیوں کو اپنے لیے باعث ننگ و عار سمجھتے تھے۔ چنانچہ فرماتا ہے۔ آ یا خدانے اپنی تمام مخلوقات میں سے بیٹیوں کو اپنے لیے اور بیٹیوں کو تمہارے لیے منتخب کیا ہے۔ (اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَناتٍ وَ اَصْفاکُمْ بِالْبَنینَ )۔ تمہارے خیال میں بیٹی کا مرتبہ پست ہے۔ تو پھر کیونکر تم اپنے آپ کو خدا پر ترجیح دیتے ہو؟اس کے حِصّے میں بیٹیاں اور اپنے حِصّے میں بیٹے کس لیے قرار دیتے ہو؟ یہ ٹھیک ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں انسانی اقدار کے لحاظ سے مرد اور عورت یکساں ہیں، لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مخاطب کے ذہنی افکار کے ذریعے استدلال اس کی فکر و نظر میں کافی حد تک موثر ہوتا ہے۔ اور اسے نظر ثانی پر آمادہ کرتا ہے۔ ایک بار پھر اسی موضوع کو دوسرے انداز میں بیان کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے: جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی خوشخبری دی جاتی ہے۔ جس چیز کو انہوں نے خداوندِ رحمان کے لیے شبیہ قرار دیا ہے۔ تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے۔ اور وہ غُصّے سے بھر جاتا ہے۔ (وَ إِذا بُشِّرَ اَحَدُھُمْ بِما ضَرَبَ لِلرَّحْمنِ مَثَلاً ظَلَّ وَجْہُہُ مُسْوَدًّا وَ ھُوَ کَظیمٌ )۔ ”بِما ضَرَبَ لِلرَّحْمنِ مَثَلاً “ سے مراد وہی فرشتے ہیں جنہیں وہ لوگ خدا کی بیٹیاں سمجھتے اور اپنے معبُود قرار دیتے تھے، بالکل خدا کی طرح اور خدا جیسے معبُود۔ ” کظیم “ کا لفظ ” کظم “ ( بروزن ” نظم “ )سے لیا گیا ہے۔ جس کا معنی ہے۔ ” گلا ۔" یہ لفظ مشک پانی سے بھر جانے کے بعد اس کے گلے کو تسمے سے بند کرنے کے لیے بھی آیا ہے۔ لہذا یہ کلمہ ان لوگوں کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ جن کا دل غم و غصّہ اور رنج سے بھر چکا ہو۔ یہ تعبیر لڑکیوں کی پیدائش کے بارے میں زمانہ جاہلیّت کے احمق مشرکین کے خرافاتی افکار کو بخوبی بیان کر رہی ہے کہ وہ خود اپنے گھر میں بیٹی کی ولادت کی خبر سُن کر کس قدر پریشان اور غمگین ہو جاتے تھے لیکن اس کے باوجُود فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں سمجھتے تھے۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہُوئے ارشاد فرمایا گیا ہے۔ ” آیا جو بناؤ سنگار میں پرورش پائے اور بحث و مباحثہ، نزاعی گفتگو اور جدل مجادلہ کے موقع پر اپنا مدعا اور مقصود بھی بخوبی بیان نہ کر سکے، اسے خدا کی اولاد سمجھتے ہو اور بیٹوں کو اپنی اولاد سمجھتے ہو؟ “ (اَ َ مَنْ یُنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ ھُوَ فِی الْخِصامِ غَیْرُ مُبینٍ) (تشریحی نوٹ: ” ینشوء “ مادہ ” نشاء “ کسی چیز کی ایجاد کے معنی میں ہے۔ لیکن یہاں پر پرورش پانے کے معنی میں ہے۔ اور” حلیة “ کے معنی زینت ہے۔ اور "خصام“ کا معنی کِسی چیز پر بحث و مباحثہ اور کش مکش ہے۔ )۔ یہاں پر قرآن مجید نے عورتوں کی دو ایسی صفات بیان کی ہیں جو اُن میں عام طور پر دیکھنے میں آتی ہیں اور یہ ان کے احساساتی پہلو سے پیدا ہوتی ہیں، ایک تو ان کا زیورات اور بناؤ سنگار کی چیزوں سے قلبی لگاؤ، اور دوسرے شرم و حیا کی وجہ سے لڑائی جھگڑے اور بحث و مباحثہ کے وقت اپنے مقصُود کے بیان کرنے پر ناکافی قدرت۔ اس میں شک نہیں کہ کچھ عورتیں ایسی ہیں جنہیں زیب و زینت کی زیادہ خواہش نہیں ہوتی اور اس بات میں بھی کسی کو شک نہیں کہ " اعتدال کی حد تک " زینت سے لگاؤ عورت کے لیے کوئی عیب بھی نہیں ہے۔ بلکہ اسلام میں عورت کو بناؤ سنگار کرنے کے لیے تاکید بھی کی گئی ہے۔ البتہ یہاں پر مُراد عورتوں کی وہ اکثریت ہے۔ جو عام طور پر انسانی معاشروں میں زیب و زینت کے ساتھ حد سے زیادہ لگاؤ رکھتی ہیں گویا وہ زینت و آرائش کی دُنیا میں قدم رکھ چکی ہوتی ہیں اور اسی بناؤ سنگار میں پرورش پاتی ہیں۔ اس بات میں بھی شک نہیں ہے کہ کچھ ایسی عورتیں بھی ہیں جو گفتگو میں مکمل طور پر ماہر ہیں، لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اکثریت ایسی عورتوں کی ہے۔ جو شرم و حیا کی وجہ سے بحث و مباحثہ اور لڑائی جھگڑوں کے موقع پر مردوں کے مقابلے میں آنے کی قدرت نہیں رکھتیں۔ اصل مقصد اس حقیقت کو بیان کرنا ہے کہ آخر کس بناء پر تم خدا کے لیے تو بیٹیاں اور اپنے لیے بیٹے قرار دیتے ہو ؟ اسی سلسلے کی آخری آیت میں بات کو زیادہ صراحت کے ساتھ بیان کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے۔ انہوں نے فرشتوں کو جو کہ خدا کے بندے ہیں، موٴنث (اور خدا کی بیٹیاں ) سمجھ رکھتا ہے۔ (وَ جَعَلُوا الْمَلائِکَةَ الَّذینَ ھُمْ عِبادُ الرَّحْمنِ إِناثاً)۔ جی ہاں ! وہ خدا کے بندے ہیں ، اسی کے حکم کے پابند ہیں اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کیے ہُوئے ہیں ، جیسا کہ سُورہ انبیاء کی آیت ۲۶ و ۲۷ میں بھی فرمایا گیا ہے: ”بَلْ عِبادٌ مُکْرَمُون لا یَسْبِقُونَہُ بِالْقَوْلِ وَ ھُمْ بِاَمْرِہِ یَعْمَلُونَ “ بلکہ وہ تو خدا کے معزز بندے ہیں،کسی بھی بات میں اس سے آگے نہیں بڑھتے اور ہمیشہ اس کے فرمان پر عمل کرتے ہیں ۔" یہاں پر لفظ ” عباد “ ذکر کرنے کی وجہ در حقیقت ان کی ایک غلط سوچ کا جواب ہے، کیونکہ اگر فرشتے موٴنث ہوتے تو اس لفظ کے بجائے ” عبادات “ کہا جاتا۔ البتہ یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ لفظ ” ( عباد ) “ جہاں جمع مذکر کا صیغہ ہے، وہاں پر ان تمام موجودات کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ جو مذکر یا موٴنث کے دائرہ سے خارج ہوتی ہیں جیسے فرشتے وغیرہ، جیسا کہ خداوندِ عالم کے بارے میں مفرد مذکر کی ضمیروں سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ جبکہ وہ ایسی تمام چیزوں سے بلند و بالا ہے۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اس جملے میں ” عباد “ کو ” الر حمن “ کی طرف مضاف کیا گیا ہے، اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ اکثر و پیشتر فرشتے خدا کی رحمت کا اجر اکرتے اور کائنات کے نظام کو چلاتے ہیں کہ جو سراسر رحمت ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ خرافات زمانہ جاہلیّت کے عربوں میں کیونکر پیدا ہوئی اورآج تک کئی لوگوں کے اذہان میں اس کے اثرات کیوں موجُود ہیں؟ یہاں تک کہ وہ جب بھی کسی فرشتے کی تصویر کشی کریں تو اسے عورت یا لڑکی کے رُوپ میں پیش کرتے ہیں ، بلکہ جب کِسی نام نہاد ” فرشتہ ٴ آزادی “ کا مجسمہ بناتے ہیں تو عورت کے چہرے اور لمبے چوڑے زنانہ بالوں کے ساتھ اسے منصہ شہود پر لاتے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ فکر اس لیے پیدا ہوئی ہو ، کیونکہ فرشتے آ نکھوں سے اوجھل ہوتے ہیں اور عورتیں بھی عام طور پر پردے میں ہوا کرتی ہیں۔ حتی کہ لغت عرب میں بعض مقامات پر مجازی موٴنث کے بارے میں بھی یہی سوچ کار فرما نظر آ تی ہے۔ مثلاً وہ سُورج “ کو مجازی موٴنث اور چاند کو مذکر سمجھتے ہیں کیونکہ سُورج کی ٹکیہ عام طور پر اپنے نُور کی شعاعوں پر ڈھکی رہتی ہے۔ اور اسے آنکھوں سے آسانی کے ساتھ نہیں دیکھا جاسکتا ہے۔ جب کہ چاند کی ٹکیہ ایسے نہیں ہے۔ یا پھر اس لیے کہ فرشتوں کے وجُود کی لطافت اس بات کا باعث بنی ہے کہ انہیں بھی عورتوں کی جنس سے شمار کیا جائے جومردوں کی نسبت لطیف وجود ہیں ۔تعجب تو اس بات پر ہوتا ہے کہ اسلام نے اس قسم کی خرافات کے خلاف جو اقدام کیا ہے۔ اس کے باوجُود جب کبھی کوئی کسی عورت کی خوبی بیان کرتا ہے۔ تو کہتا ہے کہ ” وہ تو ایک فرشتہ ہے۔ “، جبکہ مردوں کے بارے میں اس قسم کے الفاظ بہت کم سُنے جاتے ہیں۔ اور ” فرشتہ “ کے لفظ کو عورت کے نام کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔ مرد کے نام کے لیے نہیں۔ پھر انکاری استفہام کے طور پر ان کے جواب میں فرمایا گیا ہے۔ آیا وہ فرشتوں کی تخلیق کے وقت موجود تھے اور انہوں نے اپنی موجودگی کی وجہ سے اس قسم کا نتیجہ نکالا ہے۔ (اَ شَہِدُوا خَلْقَھُمْ )۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے۔ اس بے بنیاد عقیدے کے بارے میں ان کی گواہی ان کے نامہٴ اعمال میں لکھّی جاتی ہے۔ اور قیامت کے دن ان سے اس بارے میں پوچھا جائے گا (سَتُکْتَبُ شَہادَتُھُمْ وَ یُسْئَلُونَ )۔ جو کچھ ہم مندرجہ بالا آیات میں پڑھ چکے ہیں اسی چیز کو دوسرے انداز میں سُورہ نحل کی آیت ۵۷ تا ۵۹ میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ ہم نے وہاں پر زمانہٴ جاہلیّت کے عربوں کے عقیدہ کو مسئلہ ”وئاد“ ( بچیوں کو زندہ در گور کرنے ) کے سلسلے میں تفصیل سے بیان کیا ہے، بلکہ اصولی طور پر صنف نازک کے بارے میں ان کے عقیدے اور اسلامی نقطہٴ نظر سے عورت کی شخصیت اور اس کے مقام کو بڑی تشریح اور تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ( ملاحظہ ہو تفسیر نمونہ جلد ، ۱۱ صفحہ ۲۲۱ تا ۸ ۲۲)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: تقلید آباء کی دلیل
Tafsīr Nemūna · Vol. 7گزشتہ آیات میں بُت پرستوں کے اس خرافاتی عقیدے کا منطقی جواب دیا گیا ہے۔ جو وہ فرشتوں کے بارے میں رکھتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ خدا کی بیٹیاں ہیں اور وہ یہ کہ کسی دعوے کے ثبوت کے لیے سب سے پہلے موقع پر موجود ہونا، کسی چیز کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا اور اس کا مشاہدہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ جبکہ کوئی بھی بت پرست ہرگز اس بات کا دعویٰ نہیں کر سکتا کہ فرشتوں کی تخلیق کے وقت وہ اس بات کے شاہد اور ناظر تھے۔ زیرِ تفسیر آیات بھی اسی چیز کو آگے بڑھاتے ہوئے اس بارے میں مزید تحقیقات کا دروازہ کھولتی ہیں اور اس بےہودہ خرافات کو دوسرے طریقوں سے باطل کرتی ہیں۔ چنانچہ سب سے پہلے ان کے پورے دلائل میں سے ایک دلیل کو خلاصہ کے طور پر بیان کرتے ہُوئے اس کا جواب بھی دیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: انہوں نے کہا: ” اگر خدا چاہتا تو ہم ان کی ہرگز عبادت نہ کرتے “ یہ تو اُن کی مرضی ہے کہ ہم اُن کی عبادت کرتے ہیں (وَ قالُوا لَوْ شاءَ الرَّحْمنُ ما عَبَدْناھُم)۔ ممکن ہے۔ یہ تعبیر اس لیے بھی ہو کہ وہ عقیدہٴ جبر کے قائل تھے اور کہتے تھے کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں سب خدا کی مرضی اور اس کی منشاء سے انجام دیتے ہیں۔ یا پھر اس لیے کہ اگر ہمارے عقائد اور اعمال خدا کی مرضی کے مطابق نہ ہُوتے تو خدا فوراً ہمیں ان سے روک دیتا اور چونکہ اس نے ہمیں اس بات سے روکا نہیں ہے۔ لہذا اسی میں اس کی خوشنودی ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے غلط اور خرافاتی عقائد کو صحیح ثابت کرنے اور ان کی توجیہہ کرنے کے لیے کئی اور خرافات کے مرتکب ہوتے تھے اور اپنے جُھوٹے افکار کو سچا ثابت کرنے کے لیے کئی اور جھوٹ بولا کرتے تھے۔ مذکورہ دونوں احتمالات میں سے جو بھی ان کا مقصود اور ان کی مراد ہو غلط اور بے اساس ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ کائنات میں کوئی بھی چیز خدا کے ارادہ کے بغیر واقع پذیر نہیں ہو سکتی لیکن اس کے یہ معنی بھی نہیں کہ کائنات میں جبر حکم فرما ہے۔ کیونکہ یہ بات فراموش کرنے کے قابل نہیں ہے کہ خدا کی مرضی اور منشاء اسی بات میں ہے کہ ہم صاحب اختیار ارادہ اور صاحب آزادی ہوں تا کہ وہ ہمیں آزمائے اور ہماری پرورش کرے۔ یہ بات درست ہے کہ خدا کو اپنے بندوں کے اعمال پر نظر رکھنا چاہیئے اور اس بات سے بھی انکار ناممکن ہے کہ تمام انبیاء نے شرک اور دوئی پرستی کی نفی کی ہے۔ اس بات سے قطع نظر انسانی عقل سلیم بھی اس بات کا انکار کرتی ہے۔ تو کیا انسان کے باطنی وجود میں ” عقل “ خدا کا پیغمبر نہیں ہے۔ اسی آیت کے آخر میں بُت پرستوں کے اس بے ہودہ عقیدے کا ایک مختصر سے جُملے کے ذریعے یوں جواب دیا گیا ہے۔ وہ اپنے اس دعوے پر یقین نہیں رکھتے اور جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں کہتے (ما لَھُمْ بِذلِکَ مِنْ عِلْمٍ إِنْ ھُمْ إِلاَّ یَخْرُصُون)۔ انہیں تو مسئلہ جبر اور اپنے اعمال پر خدا کی رضامندی کا علم اور یقین بھی نہیں ہے۔ بلکہ بہت سے دوسرے نفس پرستوں اور مجرمین کے مانند اپنے سر سے گناہ کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے جبر کے موضوع کا سہارا لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تقدیر کے ہاتھ نے ہمیں اس راہ پر لا کھڑا کیا ہے۔ حالانکہ وہ خود بھی جانتے ہیں کہ جُھوٹ بول رہے ہیں اور یہ ان کا صرف ایک بہانہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص ان کے حقوق پامال کرتا ہے۔ تو وہ ہرگز اس بات کے پیشِ نظر چشم پوشی کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ وہ اپنے اس کام میں مجبُور تھا۔ ”یخرصُون“، ”خرص“ (بر وزن ”غرس“ ) کے مادہ سے ہے۔ جس کا اصلی معنی اندازہ لگانا ہے۔ پہلے تو اس کا اطلاق پھل میووں کے بارے میں تخمینہ لگانے پر ہوتا تھا پھر ہر قسم کے اندازے کے بارے میں یہ لفظ استعمال ہونے لگا۔ چونکہ بعض اوقات اندازے اور تخمینے غلط ثابت ہوتے ہیں اسی لیے یہ لفظ جُھوٹ کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے۔ اور زیر نظر آیت میں بھی اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ بہرحال، قرآن مجید کی متعدد آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بُت پرست لوگ اپنے خرافاتی اور غلط عقائد کی توجیہہ کے لیے کئی بار مشیّت الہٰی کے عقیدے کا سہارا لیتے تھے اور اس سے اپنے لیے استدلال کیا کرتے تھے، حتی کہ جہاں انہوں نے اپنے لیے کئی چیزوں کو حلال اور کئی چیزوں کو حرام کر دیا تھا تو اس کی نسبت بھی انہوں نے خدا کی طرف دے دی تھی جیسا کہ سُورہ ٴ انعام کی آیت نمبر ۱۴۸ میں ہے۔ “ سَیَقُولُ الَّذینَ اَشْرَکُوا لَوْ شاءَ اللَّہُ ما اَشْرَکْنا وَ لا آباؤُنا وَ لا حَرَّمْنا مِنْ شَیْءٍ” ” مشرک لوگ بہت جلد یہ کہیں گے کہ اگر خدا چاہتا تو نہ ہم مشرک ہوتے اور نہ ہی ہمارے آباؤ اجداد اور کسی چیز کو حرام بھی نہ کرتے۔“ سورہٴ نحل کی آیت ۳۵ میں بھی اس چیز کو دہرایا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: “وَ قالَ الَّذینَ اَشْرَکُوا لَوْ شاءَ اللَّہُ ما عَبَدْنا مِنْ دُونِہِ مِنْ شَیْءٍ نَحْنُ وَ لا آباؤُنا وَ لا حَرَّمْنا مِنْ دُونِہِ مِنْ شَیْء ” قرآن مجید سورہ انعام کی آیت کے ذیل میں ان کی تکذیب کرتے ہُوئے فرماتا ہے۔ “ کَذلِکَ کَذَّبَ الَّذینَ مِنْ قَبْلِھِمْ حَتَّی ذاقُوا بَاْسَنا ” اس قسم کا جُھوٹ اس سے پہلے لوگ بھی بولا کرتے تھے لیکن انہوں نے ہماری سزا کا مزہ چکھ لیا۔ سورہ نحل کی آیت کے ذیل میں تصریح کرتے ہُوئے فرماتا ہے۔ “ فَھَلْ عَلَی الرُّسُلِ إِلاَّ الْبَلاغُ الْمُبینُ ” تو کیا خدا کے رسولوں پر تبلیغ رسالت کے علاوہ کچھ اور فرض ہے۔ زیر تفسیر آیت کے سلسلے میں بھی جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں قرآن ان کی طرف جُھوٹے تخمینوں کی نسبت دے رہا ہے۔ یہ درحقیقت سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ بعد کی آیت میں ایک اور دلیل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ممکن ہے۔ وہ اِس کے ذریعے استدلال کریں چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: یا یہ کہ ہم نے اس کتاب سے پہلے انہیں کتاب دی ہے۔ اور وہ اس سے وابستہ ہوتے ہیں۔ (اَمْ آتَیْناھُمْ کِتاباً مِنْ قَبْلِہِ فَھُمْ بِہِ مُسْتَمْسِکُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: یہاں پر ”ام“ متصلہ ہے۔ اور ”اشھدوا خلقھم“ پر اس کا عطف ہے۔ اور ”من قبلہ“ کی ضمیر ”قرآن“ کی طرف لوٹ رہی ہے۔ بعض مفسرین نے جو یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ ” ام “ منقطعہ ہے۔ یا ضمیر ”رسول کی طرف لوٹ رہی ہے۔ قرینے کے لحاظ سے قطعاً مناسب نہیں ہے۔) یعنی انہیں اپنے دعویٰ کے ثبوت کے لیے یا تو عقلی دلائل سے کام لینا چاہیئے یا پھر نقلی دلائل سے۔ حالانکہ نہ تو ان کے پاس کوئی عقلی دلیل موجود ہے۔ اور نہ ہی نقلی۔ تمام عقلی دلائل توحید کی دعوت دیتے ہیں اور تمام انبیاء اور آسمانی کتابوں نے بھی توحید کی طرف دی ہے۔ اس سلسلے کی آخری آیت میں ان کے اصل بہانے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اور یہ بہانہ بھی محض ایک خرافات اور ایک اور خرافات کی بنیاد ہے۔ چنانچہ فرمایا کیا گیا ہے۔ بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے آباؤ و اجداد کو ایک مذہب پر پایا ہے۔ اور ہم بھی ان کے آثار کی طرف ہدایت کئے گئے ہیں۔ (بَلْ قالُوا إِنَّا وَجَدْنا آباءَنا عَلی اُمَّةٍ وَ إِنَّا عَلی آثارِھِمْ مُہْتَدُون)۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس صرف اپنے آبا و اجداد کی اندھی تقلید کے سوا اور کوئی دلیل نہیں تھی اور پھر تعجب اس پر ہوتا ہے کہ اس تقلید کے ذریعے وہ خود کو کیونکہ واضح سی بات ہے کہ ان کے آباء و اجداد کے پاس نہ تو علم تھا اور نہ ہی دانش ،بلکہ ان کے دماغ خرافات اور توہمات سے بھرے ہُوئے تھے۔ ان کے معاشرے اور افکار پر بھی جہالت ہی حکم فرما تھی جیسا کہ قرآن کی سُورہ ٴ بقرہ کی آیت ۱۷۰ میں ہے۔ “ وَ لَوْ کانَ آباؤُھُمْ لا یَعْقِلُونَ شَیْئاً وَ لا یَہْتَدُون ” ” کیا ایسا نہیں ہے کہ ان کے آباء اجداد نہ تو کچھ سمجھتے تھے اور نہ ہی ہدایت یافتہ تھے۔“ تقلید تو صرف فروعی اور غیر اقتصادی مسائل میں ہوتی ہے۔ اور وہ بھی صحیح بنیادوں پر اور پھر یہ کہ عالم کی تقلید کی جاتی ہے۔ یعنی جاہل کو عالم کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔ جیسے بیمار ڈاکٹر کی طرف رجوع کرتا ہے۔ یا غیر ماہر افراد ماہرین کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اسی لیے مشرکین کی یہ اندھی تقلید دو طرح سے باطل اور قابل مذمت ہے۔ ” امہ “ کا لفظ جیسا کہ راغب، مفرادت میں کہتے ہیں، اس جماعت پر بولا جاتا ہے۔ جس کے افراد ایک دوسرے کے ساتھ ایک قسم کا رابطہ رکھتے ہیں۔ یا وہ رابطہ دینی بنیادوں پر ہوتا ہے۔ یا مکان کے لحاظ سے یا زمانے کے اعتبار سے، اگر چہ ان کا باہمی اتصال اختیار یا مجبوری کی صُورت میں ہو (اسی لیے بسا اوقات اس کو ” مذہب “ کے معنی میں بھی لیا جاتا ہے۔ جیسا کہ اسی آیت میں ہے۔ لیکن اس کا اصل معنی وہی جماعت اور گروہ ہے۔ اور اس کلمہ کا مذہب پر اطلاق قرینے کا محتاج ہوتا ہے۔) (تشریحی نوٹ: ” إِنَّا عَلی آثارِھِمْ مُہْتَدُون“ میں لفظ ”مھتدون“، ”ان“ کی خبر ہے۔ اور ” علیٰ اٰثارھم “ اس سے متعلق ہے۔ یہ جو بعض مفسرین نے احتمال ذکر کیا ہے کہ ” عَلی آثارِھِم“ ” ان “ کی پہلی خبر اور ” مھتدون “ اس کی دوسری خبر ہے، بعید معلوم ہوتا ہے۔ )
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: ان اندھے اور بہرے مقلدین کا انجام
Tafsīr Nemūna · Vol. 7یہ آیات بُت پرستی کے بارے میں مشرکین کے اصلی بہانے کے سلسلے میں جو کہ باپ داد کی اندھی تقلید پر مبنی ہے۔ گزشتہ آیات کا تتمہ ہیں۔ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے۔ یہ صرف عرب مشرکوں کا ہی دعویٰ نہیں بلکہ ” اسی طرح ہم نے کسی شہر و دیار میں تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے والا پیغمبر نہیں بھیجا مگر بد مست اور مغرور دولت مندوں نے کہا کہ ہم نے تو اپنے باپ دادا کو کسِی مذہب پر پایا ہے۔ اور ہم ان کے آثار کی اقتداء کرتے ہیں۔ (وَ کَذلِکَ ما اَرْسَلْنا مِنْ قَبْلِکَ فی قَرْیَةٍ مِنْ نَذیرٍ إِلاَّ قالَ مُتْرَفُوھا إِنَّا وَجَدْنا آباءَنا عَلی اُمَّةٍ وَ إِنَّا عَلی آثارِھِمْ مُقْتَدُونَ)۔ اس آیت سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کے ساتھ محاذ آرائی کے سرغنے اور باپ دادا کی تقلید کا مسئلہ پیش کرنے والے اور اس مسئلے پر ڈٹے رہنے والے لوگ ” مترفین “ ہی تھے، بد مست ، مغرور اور خوشحال گھرانوں کے افراد ، کیونکہ ” مترف“، ” ترفہ “ ( بروزن لقمہ)کے مادہ سے ہے، جس کا معنی ہے۔ نعمت کی فراوانی اور چونکہ بہت سے خوشحال گھرانوں کے لوگ اور ثروت مند افراد شہوات حیوانی اور خواہشات نفسانی میں مگن ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا ”مترف“ کا لفظ ان لوگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جو نعمتوں میں بد مست اور مغرور ہو کر سرکشی پر اتر آتے ہیں۔ (بحوالہ: لسان العرب میں ہے: ” اترفتہ النعمہ ای اطغتہ “)۔ اس کا مصداق اکثر بادشاہ، ظالم و جابر حکمران ، متکبر ، دولت مند، اور خود پرست لوگ ہوتے ہیں۔ جی ہاں ! انبیاء کے قیام کی وجہ سے ایسے ہی لوگوں کی خود سری اور من مانی کاروائیوں کا خاتمہ ہوتا تھا اور ان کے ناجائز مفادات کو خطرہ درپیش ہوتا تھا اور محروم و مستضعف افراد ان کے چنگل سے نجات پاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مختلف حیلوں بہانوں سے لوگوں کے ذہن کو مسمُوم کرتے تھے اور انہیں احمق بنایا کرتے تھے۔ آج کے دور میں بھی دُنیا بھر میں رونما ہونے والی برائیاں اور فسادات انہی ” مترفین “ کے مرہوں منّت ہیں۔ جہاں بھی ظلم و گناہ اور تجاوز و تعدّی ہے۔ وہاں انہی لوگوں کا ہاتھ ہوتا ہے۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ ہم نے پہلی آیت میں ان کا یہ قول پڑھا ہے کہ ” إِنَّا عَلی آثارِھِمْ مُقْتَدُون “ یعنی ہم ان کے آثار پر ہدایت کیے گئے ہیں اور یہاں پر ان کا یہ قول پڑھتے ہیں کہ ” إِنَّا عَلی آثارِھِمْ مُقْتَدُون“ یعنی ہم ان کے آثار اقتداء اور پیروی کرتے ہیں۔ اگرچہ دونوں تعبیریں ایک ہی معنی کی طرف لوٹ رہی ہیں لیکن پہلی تعبیر ان کے بزرگوں کے مذاہب کی حقانیت کے دعویٰ کی طرف اشارہ ہے۔ اور دوسری ان لوگوں کے اس مذہب پر ڈٹے رہنے اور باپ دادا کی پیروی کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ بہرحال، صورت خواہ کچھ بھی ہو ، یہ آیت پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مو منین کے لیے ایک قسم کی تسلّی اور تسکین ہے کہ انہیں معلوم ہو جائے کہ مشرکین کے حیلے بہانے کوئی نئی چیز نہیں ہیں ، بلکہ یہ ان کا وہی راستہ ہے، جس پر تاریخی طور پر تمام گمراہ لوگ گامزن چلے آ رہے ہیں۔ بعد کی آیت اس جواب کو بیان کر رہی ہے۔ جو انبیائے ماسلف انہیں دو ٹوک الفاظ میں دیاکرتے تھے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: ان کے پیغمبروں نے انہیں کہا: آیا اگر میں کوئی ایسا دین لا چکا ہوں جو تمہارے آباء و اجداد کے طریقہٴ کار سے زیادہ واضح اور زیادہ ہدایت کرنے والا ہو ، پھر بھی تم اس کا انکار کرو گے (قالَ اَ وَ لَوْ جِئْتُکُمْ بِاَہْدی مِمَّا وَجَدْتُمْ عَلَیْہِ آباءَکُمْ) (تشریحی نوٹ: اس جُملے کا ایک لفظ محذوف ہے، جس کی تقدیر یُوں ہے: ”اتتبعون اٰ بائکم ولو جئتکم بدین اھدی من دین ا بائکم “ (ملاحظہ تفسیر کشاف، مراغی، قرطبی اور رُوح المعانی )۔ یہ سب سے زیادہ موٴدب تعبیر ہے۔ جو ہٹ دھرم اور مغرور قوم کے سامنے پیش کی جا سکتی ہے کہ جس سے ان کے جذبات کو کسی طرح ٹھیس نہ پہنچے۔ پیغمبر یہ نہیں کہتے، کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے۔ وہ سب جُھوٹ ، خرافات اور حماقت ہے، بلکہ یہ کہتے ہیں جو کچھ میں لایا ہوں وہ تمہارے باپ دادا کے دین سے زیادہ ہدایت کرنے والا ہے، آ ؤ، دیکھو اور اس کا مطالعہ کرو۔ اس قسم کی قرآنی تعبیرات، مباحثہ و مناظرہ کے موقع پر خاص کر جاہل اور مغرور افراد کے ساتھ بحث و مباحثہ کے وقت ہمیں گفتگو کرنے کاسلیقہ بتاتی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ جہالت، تعصب اور ہٹ دھرمی میں اس قدر غرق ہو چکے تھے کہ یہ جچی تلی اور موٴدبانہ گفتگو بھی موٴثر ثابت نہ ہو سکی ، انہوں نے اپنے انبیاء کے جواب میں صرف اتنا کہا ” کہ ہم ہر اس چیز کا انکار کرتے ہیں جس کو تم لے کر آئے ہو “ (قالُوا إِنَّا بِما اُرْسِلْتُمْ بِہِ کافِرُونَ )۔ انہوں نے اپنی مخالفت کی کوئی دلیل پیش کیے بغیر اور انبیاء الہٰی کی پیش کش کے بارے میں ذرہ بھر غور و خوض کیے بغیر فوراً ہی یہ کہہ دیا۔ ظاہر ہے کہ ایسی سرکش، ہٹ دھرم اور بے منطق قوم کو جینے اور زندہ رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں اور جلد یا بدیر ان پر عذاب الہٰی نازل ہونا ہی چاہیئے تاکہ اس قسم کے گھانس پھونس اور خس و خاشاک کا خاتمہ کردے اور اسے راستے سے ہٹادے۔ لہٰذا اسی سلسلے کی آخری آیت میں فرمایا گیا ہے۔ لہٰذا ہم نے ان سے انتقام لیا اور انھیں سخت سزادی ( فَانْتَقَمْنا مِنْھُمْ )۔ کسی قوم کو طوفان کے ذریعے ، کِسی کو تباہ کُن زلزلے کے ذریعے، کسی کو تیز و تند جھکڑ اور کسی کو بجلی کی چنگھاڑ کے ذریعے غرض ہم نے ان میں سے ہر ایک کو تباہ کُن حکم کے ذریعے نیست و نابود کر دیا اور ہلاک و فنا کر دیا۔ مشرکین مکّہ کی عبرت آموزی کے لیے آخر میں روئے سخن پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی طرف ہے۔ اور فرمایا گیا ہے۔ دیکھ تو جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا (فَانْظُرْ کَیْفَ کانَ عاقِبَةُ الْمُکَذِّبینَ)۔ مکّہ کے ہٹ دھرم مشرکین کو بھی ایسے ہی انجام کا انتظار کرنا چاہیئے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: توحید۔ انبیاء کا دائمی پیغام
Tafsīr Nemūna · Vol. 7ان آیات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سرگزشت اور بابل کی بُت پرست قوم کے واقع کی طرف اشارہ ہے۔ تا کہ اس طرح سے گزشتہ آیات میں مذکور تقلید کی خدمت کو مکمل کیا جا سکے۔ کیونکہ: ایک تو حضرت ابراہیم علیہ السلام ملّت عرب کے سب سے بڑے بزرگ اور جدّ امجد تھے۔ سب لوگ ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے اور انکی تاریخ پر فخر کیا کرتے تھے۔ جب وہ تقلید کے پردوں کو چاک کرتے ہیں تو اگر یہ لوگ اپنے اس دعوے میں سچے ہیں تو انہیں ان کی اقتداء کرنی چاہیئے۔ اگر یہ بات طے ہے کہ آباء و اجداد کی تقلید کی جانے چاہیئے تو پھر بُت پرستوں ہی کی تقلید کیوں کریں، ابراہیم علیہ السلام کی پیروی کیوں نہ کریں؟ دوسرے؛ جو بُت پرست حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مقابلے میں آگے تھے وہ بھی اسی بے مقصد اور کھوکھلی دلیل (باپ دادا کی تقلید) کا سہارا لیتے تھے۔ لیکن جناب ابراہیم علیہ السلام نے ان کی اس دلیل کو یکسر مسترد کر دیا، جیسا کہ سُورہ ٴ انبیاء کی ۵۳ ویں اور ۵۴ویں آیت میں ہے۔ ”قالُوا وَجَدْنا آباءَنا لَہا عابِدینَ قالَ لَقَدْ کُنْتُمْ اَنْتُمْ وَ آباؤُکُمْ فی ضَلالٍ مُبین“ ” بُت پرستوں نے کہا:ہم نے اپنے باپ دادا کو دیکھا ہے کہ وہ ان ( بُتوں) کی پرستش کرتے ہیں تو اس (ابراہیم علیہ السلام نے)کہا:یقینا تم اور تمہارے باپ دادا آشکار اور واضح گمراہی میں ہو ۔" تیسرے یہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابتدائے اسلام کے مسلمانوں کے لیے ایک قسم کی تسلّی اور دِل جوئی کی صُورت ہے کہ انہیں معلوم ہو کہ اس قسم کی مخالفین اور حیلے بہانے ہمیشہ رہے ہیں اُنھیں دل تنگ اور مایوس نہیں ہونا چاہیئے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: اس وقت کو یاد کیجیےٴ، جب ابراہیم نے اپنے (مُنہ بولے) باپ (آذر )اور اپنی بُت پرست قوم سے کہا:میں اس چیز سے بیزار ہوں، جس کی تم عبادت کرتے ہو (و اذ قال إِبْراہیمُ لِاَبیہِ وَ قَوْمِہِ إِنَّنی بَراءٌ مِمَّا تَعْبُدُونَ )( تشریحی نوٹ: ” براء “ ( بروزن ” سواری “ )مصدر ہے۔ اور ” تبریٰ “ کے معنی میں ہے۔ اور ایسے مقامات پر وصفی معنی میں تاکید اور مبالغہ پایا جاتا ہے۔ جیسے ” زید عدل “ اور چونکہ مصدر ہے۔ لہذا اس میں مفرد اور جمع مذکر اور موٴنث یکساں ہیں)۔ چونکہ بہت سے بُت پرست خدا کی پرستش بھی کیا کرتے تھے لہذا اُنہوں نے فوراً ان کو مُستثنٰے کرتے ہُوئے فرمایا: سوائے اس خدا کے کہ جس نے مُجھے پیدا کیاہے۔ اور وہی میری راہنمائی کرے گا (إِلاَّ الَّذی فَطَرَنی فَإِنَّہُ سَیَہْدینِ)۔ انہوں نے اس مختصر سی عبارت میں ایک تو عبودیت کو پروردگار عالم میں منحصر کر دیا کیونکہ معبُود وہی ہو سکتاہے۔ جو خالق کائنات اور مدبر عالم ہو اور یہ بات سب مانتے تھے کہ خالق ، خدا ہے۔ اور ساتھ ہی خدا کی تکوینی اور تشریعی ہدایت کی طرف اشارہ بھی ہے، کیونکہ لُطف کا قائدہ اسی بات کا متقاضی ہے۔ (تشریحی نوٹ: اس تفسیر کے مطابق ” الاّ الّذی قطرنی “ میں استثناءِ متصل ہے۔ کیونکہ بہت سے بُت پرست اللہ کے منکر نہ تھے۔ بلکہ اس کے غیر کو اس کا شریک سمجھتے تھے۔ البتہ یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ یہ استثنائے منقطع ہے۔ اور” اِلا “ ” لٰکن “ کے معنی میں ہے۔ کیونکہ ” ما تعبدون “ تعبیر بتوں کی طرف اشارہ ہے۔ اس لیے کہ خدا کے بارے میں عموماً یہ تعبیر نہیں ہوتی ( غور کیجئے گا)۔ اس قسم کی باتیں سُورہ شعراء کی آیات ۷۷ تا ۸۲ میں بھی ذکر ہو چکی ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام فقط اپنی زندگی میں اصول توحید کے طرف دار اور ہر قسم کی بُت پرستی کے دشمن نہیں تھے۔ بلکہ انہوں نے سر توڑ کوشش کی کہ کلمئہ توحید دُنیا میں ہمیشہ کے لیے باقی اور بر قرار رہے جیساکہ بعد کی آیت میں ارشاد ہوتا ہے: انہوں نے کلمئہ توحید کو باقی رہنے والے کلمہ کی صُورت میں اپنی اولاد میں مقرر کر دیا تا کہ وہ خدا کی طرف رجوع کریں (وَ جَعَلَہا کَلِمَةً باقِیَةً فی عَقِبِہِ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُونَ ) (تشریحی نوٹ: ” عقب “ بنیاد ی طور پر پاؤں کی ایڑھی کے معنی میں ہے۔ البتہ بعد ازاں اس کے مفہوم میں وسعت پیدا ہو گئی اور یہ لفظ اولاد اور پھر اولاد کی اولاد کے معنی میں استعمال ہونے لگا )۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ آج روئے زمین پر جو دین بھی توحید کا دم بھرتا ہے۔ وہ ابراہیم کی توحید پر مبنی تعلیمات سے ہدایت لیتا ہے۔ اور خدا کے تینوں عظیم پیغمبروں یعنی جناب موسٰی علیہ السلام ، جناب عیسیٰ علیہ السلام ، اورحضرت محمد مصطفٰے علیہم السلام انہی کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اوراس بارے میں قرآن مجید کی یہ ایک سچی پیش گوئی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ابراہیم علیہ السلام سے پہلے کے انبیاء مثلاً نوح علیہ السلام نے بھی شرک اور بُت پرستی کے خلاف نبرو آزمائی کی اور دُنیا والوں کو توحید کی دعوت دی لیکن جس پیغمبر نے کلمئہ توحید کو استحکام بخشا اور اس کے پرچم کو ہر جگہ بلند کیا وہ ابراہیم علیہ السلام بُت شکن ہی تھے۔ انہوں نے نہ صرف اپنے زمانے میں راہ ِ توحید کو دوام بخشنے کی جدّ و جہد کی بلکہ اپنی دعاؤں میں بھی پروردگار عالم سے اسی بات کی درخواست کرتے رہے کہ: ”وَ اجْنُبْنی وَ بَنِیَّ اَنْ نَعْبُدَ الْاَصْنامَ۔" ” مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے دور رکھ کہ ہم بتوں کی عبادت کریں ۔" (ابراہیم ۔ ۳۵) یہاں پر ایک اور تفسیر بھی مِلتی ہے۔ اور وہ یہ کہ ” جعل “ میں جو ضمیر ہے۔ وہ خدا کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اس لحاظ سے اس جُملے کا معنی یوں ہوگا: خدا نے کلمئہ توحید کو ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں بر قرار رکھا۔ لیکن پہلی تفسیر یعنی ضمیر کا ابراہیم علیہ السلام کی طرف لوٹنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ پہلے جُملے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کارناموں کا ایک جزو قرار پائے۔ خصوصاً قرآن مجید کی دوسری بہت سی آیات میں اس بات کو زیادہ زور دے کر بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اس بات پر اصرار رہا ہے کہ ان کی اولاد اور نسلیں خدائی دین پر باقی رہیں۔ جیسا کہ سورہٴ بقرہ کی آیات ۱۳۱ اور ۱۳۲ میں ہے۔ “ إِذْ قالَ لَہُ رَبُّہُ اَسْلِمْ قالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعالَمینَ وَ وَصَّی بِہا إِبْراہیمُ بَنیہِ وَ یَعْقُوبُ یا بَنِیَّ إِنَّ اللَّہَ اصْطَفی لَکُمُ الدِّینَ فَلا تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَ اَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ۔ ” اس وقت کو یاد کرو جب ابراہیم کے ربّ نے ان سے کہا کہ اسلام لے آؤ اور حق کے آگے جھک جاؤ تو انہوں نے کہا کہ میں عالمین کے پروردگار کے سامنے سرتسلیم خم کر چکا ہوں اور ابراہیم نے اپنے اولاد سے بھی اسی توحیدی دین کی وصیّت کی اور یعقوب نے بھی اور کہا اے میرے بیٹو ! خدا نے اسی دین کوتمہارے لیے منتخب کیاہے۔ لہذا تم ہرگز نہ مرنا مگر مسلمان ہی۔ اگر یہ تصور ہو کہ ” جعل “ کی تعبیر ، تخلیق اورآفرینش کے معنی میں ہے۔ اور خداوندِ عالم ہی کے ساتھ مخصوص ہے۔ تو یہ تصوّر غلط ہو گا۔ کیونکہ ” جعل “ کا اطلاق انسانوں اور غیر انسانوں دونوں پر ہوتا ہے۔ اور قرآن مجید میں اس قسم کے بہت سے نمونے ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر یوسف علیہ السلام کی داستان میں ملتا ہے کہ جب انہیں بھائیوں نے کنویں میں ڈالنے کی ٹھان لی تو قرآن مجید نے وہاں بھی لفظ ” جعل “ ( قرار دینا) استعمال کیا ہے، جیسے: ” فَلَمَّا ذَہَبُوا بِہِ وَ اَجْمَعُوا اَنْ یَجْعَلُوہُ فی غَیابَتِ الْجُب“( یوسف ۔ ۱۵) ہماری اس گفتگو سے یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ ” جعلھا “ میں مفعول کی ضمیر کلمئہ توحید اور” لاالہٰ الا اللہ“ کی گواہی کی طرف لوٹ رہی ہے۔ کیونکہ ” اننی براء مِمّا تعبدون “ ( میں اس چیز سے بیزار ہوں جس کی تم پرستش کرتے ہو ) سے یہ بات سمجھی جاتی ہے۔ اور ابراہیم علیہ السلام کی آئندہ نسلوں میں توحیدی نظریئے کے قائم و دائم رہنے کی مخلصانہ کوششوں کی خبر بھی ملتی ہے۔ متعدد روایات جو آئمہ اہل بیت علیہم السلام سے ہم تک پہنچی ہیں ان میں بھی ضمیر کا مرجع مسئلہ امامت کو بتایا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی تعبیر میں فاعل کی ضمیر خدا کی طرف لوٹے گی۔ یعنی خداوند ِعالم نے مسئلہ امامت کو ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں دائم و برقرار کر دیا۔ جیسا کہ سُورہ ٴ بقرہ کی آ یت ۱۲۴ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام سے خداوندِ عالم نے ارشاد فرمایا: میں نے تمہیں امام بنا دیا ہے۔ تو انہوں نے عرض کی کہ ان کی اولا د میں بھی امام ہونے چاہئیں، چنانچہ خداوند تعالیٰ نے ان کی دُعا کو قبول فرما لیا۔البتہ ظالم اور ستم گار لوگوں کو اس سے مستثنٰی قرار دے دیا۔ ملاحظہ ہو: ”قالَ إِنِّی جاعِلُکَ لِلنَّاسِ إِماماً قالَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتی قالَ لا یَنالُ عَہْدِی الظَّالِمینَ ۔" لیکن بادی النظر میں جو مشکل معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ زیر تفسیر آیت میں امامت کی بات نہیں ہو رہی،مگر یہ کہ یہ کہا جائے کہ ” سیھدین“ (خدا مجھے ہدایت کرے گا )کے جُملہ کو اس معنی کی طرف ایک اشارہ سمجھیں کیونکہ انبیاء اورآ ئمہ علیہم السلام کی ہدایت بھی خدا کی ہدایت مُطلقہ کی ایک شعاع ہے۔ اور امامت اور ہدایت کی حقیقت ایک ہے۔ اس سے بھی بہتر یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ کہا جائے کہ امامت کا مسئلہ کلمئہ توحید ہی میں مندرج ہے۔ کیونکہ توحید کی کئی فروعات ہیں جن میں سے ایک فرع حاکمیت، ولایت اور راہبری میں توحید و وحدت ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ حضرات آئمہ علیہم السلام اپنی ولایت اور رہبری خدا کی طرف سے حاصل کرتے ہیں، نہ کہ از خود امام اور رہبر بن جاتے ہیں۔ اسی لیے یہ روایات ” جعلھا کلمة باقیة “ کا ایک مصداق اور اس کے کلی مفہوم کی ایک فرع سمجھی جائیں گی۔ بنا بریں یہ تفسیر پہلی تفسیر سے متضاد نہیں ہو گی جو ہم ادائل میں بیان کر چکے ہیں ( غور کیجئے گا ) (بحوالہ: صاحب تفسیر نور الثقلین نے ان احادیث کوجلد چہارم ،ص ۵۹۶ میں ذکر کیاہے۔ اور یہ تفسیر برہان جلد ۴ ،ص ۱۳۸ و ۱۳۹ میں بھی مذ کور ہیں)۔ یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ مفسرین نے ” فی عقبد “ کی تفسیر میں کئی احتمالات کا ذکر کیا ہے۔ ” بعض نے رہتی دنیا تک ابراہیم علیہ السلام کی تمام ذریّت اور نسل سے اس کی تفسیر کی ہے۔ بعض نے کہاہے کہ یہ صرف ابراہیم علیہ السلام کی قوم اور ان کی اُمّت سے مخصوص ہے۔ بعض نے آل محمد علیہم السلام سے تفسیر کی ہے۔ لیکن جو بات بظاہر نظر آتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اس کا مفہوم وسیع اور عمومی ہے۔ جو تا قیام قیامت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد پر محیط ہے۔ اور آل محمد کی تفسیر اس کا ایک واضح اور روشن مصداق ہے۔ بعد کی آیت در حقیقت کئی سوالوں کا ایک جواب ہے۔ اور وہ یہ کہ ان حالات کے باوجود آخر کیا وجہ ہے کہ خداوند عالم مشرکین مکہ کو عذاب میں مبتلا نہیں کرتا؟ کیا ہم ابھی گزشتہ آیات میں نہیں پڑھ چکے کہ خداوند عالم مشرکین مکہ کو عذاب کیوں نہیں دیتا؟ کیا ہم اس سے پہلے کی آیات میں یہ نہیں پڑھ چکے "فانتقمنا منھم “ (گزشتہ اقوام میں سے جنہوں نے انبیاء کی تکذیب کی اور اپنے اس کام پر مصر رہے ہم نے ان سے انتقام لے لیا)۔ اس سوال کے جواب میں فرمایا گیا ہے۔ بلکہ ہم نے ( مشرکین مکّہ کے)اس گروہ اور ان کے باپ دادا کو دنیاوی نعمتوں سے بہرہ مند کیا حتی حق اور خدا کا واضح رسُول ان کے پاس آگیا۔ (بَلْ مَتَّعْتُ ہؤُلاءِ وَ آباءَھُمْ حَتَّی جاءَھُمُ الْحَقُّ وَ رَسُولٌ مُبین)۔ ہم نے شرک و بُت پرستی کے باطل ہونے میں صرف عقلی حکم پر اکتفا نہیں کیا اور نہ ہی توحید کے بارے میں صرف ضمیر کے حکم کو کافی سمجھا بلکہ اتمام حجت کے لیئے اُنہیں مہلت دی حتی کہ یہ آسمانی کتاب جو سر تا پا حق ہے۔ اور یہ عظیم الشان پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یعنی حضرت مصطفٰے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی ہدایت کے لیے آگئے۔ دوسرے لفظوں میں گزشتہ آیت میں” لعلھم یرجعون “ اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تمام کوششوں کا مقصد یہی تھا کہ ان کی تمام نسلیں راہ توحید کی طرف رجوع کریں۔ حالانکہ عرب اس بات کے مدعی تھے کہ وہ ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہوں نے اس طرف رجوع نہیں کیا۔ مگر پھر بھی خدا نے انہیں مہلت دی، یہاں تک عظیم رسُول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اور نئی کتاب ان کے پاس پہنچ گئی تا کہ وہ اس گراں خوابی سے بیدار ہوں ، چنانچہ بہت سے لوگ بیدار ہو بھی گئے۔ لیکن تعجب کی بات ہے کہ ” جب (قرآن مجید) ان کے پاس پہنچ گیا ، تو بجائے اس کے کہ وہ اپنی اصلاح کرتے اور گزشتہ غلطیوں اور گناہوں کا ازلہ کرتے، اُلٹا بہت سے لوگوں نے مخالفت پر کمر باندھ لی اور کہا یہ تو جادُو ہے۔ اور ہم اس کا انکار کرتے ہیں“ (وَ لَمَّا جاءَہُمُ الْحَقُّ قالُوا ہذا سِحْرٌ وَ إِنَّا بِہِ کافِرُون)۔ جی ہاں ! انہوں نے قرآن کو جادؤ کہا اور خدا کے عظیم الشان پیغمبر کو جادؤگر۔اگر وہ اپنی اس روش سے باز آتے تو عذاب الہٰی ان کے دامن گیر ہو جاتا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: قرآن کسی دولت مند پر نازل کیوں نہیں ہوا؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 7گزشتہ آیات میں انبیاء کی دعوت کے ردّ عمل میں مشرکین کی حیلہ سازیوں اور بہانہ جوئیوں کا تذکرہ تھا۔ کبھی تو وہ اس دعوت کو جادُو کہتے اور کبھی اپنے آباؤ اجداد کی تقلید کا بہانہ پیش کرتے ہُوئے فرامین الہٰی سے پیٹھ پھیر لیتے۔ لیکن زیر تفسیرآیات میں خداوند عالم ان کے ایک اور بے بنیاد اور کھوکھلے بہانے کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے فرماتا ہے: انہوں نے کہا یہ قرآن ان دو شہروں ( مکّہ اور طائف )کے کسی بڑے ( مالدار اور مشہور )آدمی پر نازل کیوں نہیں ہوا (وَ قالُوا لَوْلا نُزِّلَ ہذَا الْقُرْآنُ عَلی رَجُلٍ مِنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظیمٍ )۔ ایک لحاظ سے انہیں حق پہنچتا تھا کہ اس قسم کے حیلوں بہانوں سے کام لیں کیونکہ ان کے نکتہ نظر سے انسانی اقدار کا معیار مال و دولت، ظاہری آن بان شہرت اور شان و شوکت تھی۔ یہ سر پھرے یہ سمجھتے تھے کہ ان کے دولت مند اور ظالم قبائلی سردار ہی کو خدا کی بارگاہ میں سب لوگوں سے زیادہ تقرب حاصل ہے۔ لہذا وہ تعجب کرتے تھے کہ نبوّت اور رحمت جیسی یہ عظیم نعمت اس قسم کے لوگوں پر نازل کیوں نہیں ہوئی؟ بلکہ اس کے بر عکس ایک یتیم، غریب اور نادار انسان یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بن عبداللہ پر نازل ہو گئی!یہ تو باور کرنے کی بات ہی نہیں ہے۔ جی ہاں ایسے غلط اقدار پر مبنی نظام سے ایسا ہی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے۔ عظیم انسانی معاشروں کی سب سے بڑی مصیبت اور ان کے افکار کی کجی کا اصل سبب یہی غلط اقدار پر مبنی نظام ہیں جو بسا اوقات حقائق کو مکمل طور پر الٹ کر رکھ دیتے ہیں۔ جب کہ اس دعوتِ الہٰی کا حامل ایسا شخص ہونا چاہیئے جس کے تمام وجود کو تقویٰ کی رُوح نے معمُور کر رکھا ہو، با خبر اور با بصیرت ہو ، عزمِ صمیم کا حامل ہو،شجاع اور عادل ہو اور محروم و مظلوم لوگوں کے درد سے آشنا ہو۔ یہ ہیں وہ شرائط اور اقدار جو اس آسمانی رسالت کے حامل شخص میں پائی جانا ضروری ہیں، نہ کہ خوبصُورت لباس، گراں قیمت اور انچے محلات اور ظاہری آن بان۔ خدا کے انبیاء تو خاص طور پر ایسی چیزوں سے محروم تھے تا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اصل اقتدار جھوٹی قدرتوں کے ساتھ گڈ بڈ نہ ہو جائیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مکّہ اور طائف کے وہ کون لوگ تھے جو اِن بہانہ سازوں کے پیشِ نظر تھے؟ اس بارے میں مفسرین کی مختلف آراء ہیں۔ البتہ اکثر مفسرین طائف سے عروہ بن مسعود ثقفی اور مکّہ سے ولید بن مغیرہ مراد لیتے ہیں۔ لیکن بعض مفسرین نے مکّہ سے عتبہ بن ربیعہ کا اور طائف سے حبیب بن عمر ثقفی کا نام لیا ہے۔ لیکن بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی گفتگو کسی خاص شخص کے بارے میں نہیں تھی، بلکہ ان کا مقصود کوئی بھی مالدار، مشہور اور قوم و قبیلہ کا سردار شخص تھا۔ قرآن مجید ایسی غلط اور خرافاتی طرزِ فکر کو سر کوب کرنے کے لیے داندن شکن جواب دیتا ہے۔ اور اسلامی و خدائی نکتئہ نظر کو مکمل طور پر مجسم کرتے ہُوئے پہلے تو فرماتا ہے۔ آیا یہ لوگ تمہارے رب کی رحمت کو تقسیم کرتے ہیں (اَ ھُمْ یَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّکَ )۔ تا کہ جسے چاہیں نبوّت عطا کردیں، جس پر چاہیں آسمانی کتاب نازل کردیں اور جس کے متعلق نہ چاہیں اس کے ساتھ ایسا نہ کریں وہ غلط سمجھتے ہیں۔ تمہارے رب کی رحمت کو خود وہی تقسیم کرتا ہے۔ اور سب سے بہتر جانتا ہے کہ کون شخص اس عظیم مرتبے کے لائق ہے۔ جیسا کہ سُورہ ٴ انعام کی ۱۲۴ ویں آیت میں بھی ذکر ہوا ہے۔ ” اللَّہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسالَتَہُ “ ” خدا بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کہاں قرار دے ۔" اس سے بھی قطع نظر اگر لوگوں کی زندگی میں کوئی فرق اور اختلاف پایا جاتا ہے۔ تو یہ ان کے معنوی اور روحانی مقامات و مراتب میں فرق کی دلیل ہرگز نہیں بن سکتی۔ بلکہ ” ہم نے ان کے درمیان ان کی معیشت کو دنیاوی زندگی میں تقسیم کر دیا ہے۔ اور بعض لوگوں کو دوسرے بعض لوگوں پر فوقیت دی ہے۔ تا کہ وہ ایک دوسرے کی خدمت کریں اور آپس میں تعاون کریں (نَحْنُ قَسَمْنا بَیْنَھُمْ مَعیشَتَھُمْ فِی الْحَیاةِ الدُّنْیا وَ رَفَعْنا بَعْضَھُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجاتٍ لِیَتَّخِذَ بَعْضُھُمْ بَعْضاً سُخْرِیًّا وَ رَحْمَتُ رَبِّکَ خَیْرٌ مِمَّا یَجْمَعُونَ )۔ انہوں نے اس بات کو فراموش کر دیا ہے کہ انسانی زندگی ایک اجتماعی زندگی ہے۔ اور اس کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور آپس کی خدمت کے بغیر نہیں چلا جا سکتا۔اگر تمام لوگ زندگی اور استعداد کے لحاظ سے ایک ہی سطح پر ہوں اور معاشرے میں ان سب کا ایک جیسا مقام ہو تو تعاون اور ایک دوسرے کی خدمت اور ایک دوسرے سے بہرہ مندی کا اصول متزلزل ہو جائے گا۔ اسی لیے انہیں اس قسم کی تفریق دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ ہی وہ اسے انسانی اقدار کا معیار سمجھ بیٹھیں۔ بلکہ تمہارے پروردگار کی رحمت اس سے کہیں بہتر ہے۔ جو کُچھ یہ لوگ اکٹھا کرتے ہیں خواہ وہ جاہ و مقام ہو یا مال و دولت (وَ رَحْمَتُ رَبِّکَ خَیْرٌ مِمَّا یَجْمَعُون)۔ بلکہ یہ تمام دنیاوی عہدے ، منصب ، مال اور دولت پروردگار کی رحمت اور اس کے قربت کے مقابلے میں مکھی کے پَر کے برابر بھی قدر و قیمت نہیں رکھتے۔ اس آیت میں ” ربّک “ دو مرتبہ آیا ہے۔ جو پروردگار عالم کے خاص لطف و کرم کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے۔ جو اس نے اپنے پیغمبر خاتم ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر فرمایا ہے کہ ان کی قامت رسا کو نبوّت و خاتمیت کی خلقت زیبا سے مزین فرمایا ہے۔
دو اہم سوالوں کا جواب
اس موقع پر کئی سوال مندرجہ بالا آیات کے مطالعہ کرتے وقت پیش آتے ہیں اور دشمنانِ السلام کی طرف سے بھی انہیں دستاویزی ثبوت کے طور پر اسلام کے آفاقی نظریئے پر حملہ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ قرآن مجید نے کیونکر انسان کے ذریعے انسان کی خدمت اور تسخیر کو جائز قرار دیا ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام نے اقتصادی اعتبار سے ایسے طبقاتی نظام کی تائید کی ہے۔ جس میں ایک طبقہ خدمت لینے والا ہو اور دوسرا خدمت کرنے والا؟ پھر یہ کہ اگر روزی اور معیشت خدا کی طرف سے تقسیم ہو چکی ہے۔ اور یہ اقتصادی اورنچ نیچ اسی کی جانب سے ہے۔ تو پھر رزق کی تلاش ہمارے لیے کس حد تک مفید اور ثمر آور ثابت ہو سکتی ہے۔ آیا اس طرح سے زندگی کے لیے کوشش اور جدّ وجہد کی نفی نہیں کی گئی؟ اگر آیت مجیدہ کے متن میں غور کیا جائے تو ان سوالوں کا جواب بخوبی واضح ہو جاتا ہے۔ جو لوگ اس طرح کے اعتراضات کرتے ہیں ان کا تصور یہ ہوتا ہے کہ آیت کا مفہوم اس طرح ہے کہ انسانوں کا ایک خاص طبقہ دوسرے لوگوں کو مسخر اور تابع فرمان بنالے اور تسخیر بھی انسان سے ظالمانہ استحصال کے معنی میں۔ حالانکہ ایسی بات نہیں ہے۔ بلکہ اس سے مراد لوگوں کی عمومی طور پر ایک دوسرے سے خدمت طلبی ہے۔ یعنی ہر طبقہ کے اپنے مخصوص وسائل اور استعداد ہوتے ہیں جس کے پیش نظر وہ زندگی کے کچھ مسائل میں سرگرمی دکھاتا ہے۔ اور طبعی طور پر ان مسائل کے بارے میں اسی کی خدمات دوسروں کے کام آتی ہیں۔ اسی طرح دوسرے طبقوں کی دوسرے مسائل ہیں۔ تو گویا ان کی خدمت طلبی برابر کی سطح پر ہوتی ہے۔ اور طرفین کے درمیان پائی جاتی ہے۔ بالفاظ دیگر اصل مقصد اور ہدف زندگی میں ایک دوسرے سے تعاون ہوتا ہے۔ نہ کہ کوئی دوسری بات۔ از خود واضح ہے کہ اگر تمام لوگ ہوش و حواس اور روحانی و جسمانی لیاقتوں کے لحاظ سے برابر ہوتے تو اجتماعی لحاظ سے کبھی نظم وجود میں نہ آسکتا۔ جس طرح کہ اگر انسانی بدن کے تمام خلیے ساخت، دفاعی قوت کے لحاظ سے ایک جیسے ہوتے تو انسانی جسم کا نظام بگڑ جاتا پاؤں کی ایڑی کی ہڈی کے مضبُوط اور طاقت ور خلیے کجا اور آنکھ کی جھلی کے لطیف و نازک خلیے کجا؟ان دونوں میں سے ہر ایک اپنی طرز ساخت کے مطابق اپنا اپنا کام انجام دینے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ اس کے لیے زندہ مثال انسانی جسم کے مختلف اعضا کی ایک دوسرے کی خدمت کے حوالے سے دی جاسکتی ہے۔ جو سانس لینے، خُون کی گردش کرنے، غذا کھانے اور دوسری جسمانی فعالیت کی صُورت میں موجود ہے۔ اور یہ ” لِیَتَّخِذَ بَعْضُھُمْ بَعْضاً سُخْرِیًّا“ کا روشن مصداق ہے۔ (البتہ جسم کی اندرونی فعالیّت کی حد تک ) تو کیا اس قسم کی تسخیر پر کسی قسم کا اعتراض وارد ہو سکتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ” رفعنا بعضہم فوق بعض درجات “ کا جُملہ عدالت اجتماعی کے خلاف نظریہ پیش کرتا ہے۔ تو ہم کہیں گے کہ یہ اس صُورت میں ہو سکتا ہے۔ جب ” عدالت “ کا معنی ” مسادات “ کیا جائے، جبکہ حقیقی عدالت یہ ہے کہ جو چیز جس کام کے لیے ہے۔ وہیں پر قرار پائے۔ تو کیا کسِی فوجی ادارے یا مُلکی امور کو چلانے کے لئے مراتب یا مناصب کا وجُود اس کے ظالم ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ ممکن ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہوں، جو نعرہ کی صُورت میں ” مسادات “ کے کلمہ کو اس کے حقیقی مفہوم سے بے توجہ ہو کر اسے ہر جگہ استعمال کریں، لیکن یہ صرف نعرے کی صُورت میں ہوگا۔ عملی زندگی میں باہمی فرق کے بغیر نظم وجُود میں آسکتا ہی نہیں۔ لیکن یہ باہمی فرق ایک انسان کے ہاتھوں دوسرے انسان کے استحصال کا ذریعہ بھی نہیں بننا چاہیئے۔ سب لوگوں کوآزاد ہونا چاہیئے تا کہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں،اپنی استعداد کو جلا بخشیں اور اپنی سرگرمیوں کے نتائج سے کما حقّہ، فائدہ اُٹھائیں اور جہاں ان کی دسترس نہیں ہے۔ ان لوگوں کو جو طاقت رکھتے ہیں، اُن کا ہاتھ بٹانا چاہیئے۔ اب رہا دوسرا سوال کہ یہ بات کیونکہ ممکن ہے کہ جب ہر شخص کا رزق مقرر ہو چکا ہے۔ پھر کوشش اور جدّو جہد کو جاری رکھّا جائے؟ لیکن انہیں یہ غلط فہمی اس لیے ہوئی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ خداوند عالم نے انسان کی سعی و کوشش کو اہمیّت نہیں دی اور نہ ہی اسے سعی و کوشش کا حکم دیا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ خداوندِ عالم نے مختلف سرگرمیوں کے لیے انسان کے اندر صلاحیتیں بھی مختلف ودیعت فرمائی ہیں اور یہ بات بھی صحیح ہے کہ انسان زندگی میں اس کے اپنے ارادے سے ہٹ کر کُچھ بیرونی عوامل بھی بڑی حد تک اثر انداز ہیں لیکن اس کے باوجُود ان عوامل میں سے ایک اہم اور بنیادی عامل سعی و کوشش کو بھی قرار دیا گیا ہے۔ اور ” ان لیس للا نسان الّا ما سعیٰ “(نجم۔ ۳۰) کے اصُول کے پیشِ نظر اس نکتے کی بھی وضاحت کر دی ہے کہ انسان کی زندگی میں اس کا بڑا حصہ اس کی جد و جہد اور سعی و کوشش کا مرہون منت بھی ہے۔ بہرحال، ایک نہایت ہی باریک اور دقیق نکتہ یہ بھی ہے۔ بنی نوع ِ انسان ایک طرح کا برتن نہیں ہیں جو ایک کارخانے میں ایک ہی مشکل و صورت،ایک ہی قالب اور پیمانے سے اور ایک ہی طرح کا فائدہ پہنچانے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ اگر یہی کیفیت ہوتی تو وہ ایک دن بھی باہر مِل جُل کر زندگی بسر نہ کر سکتے۔ اور نہ ہی انسان کسی مشنری کے نٹ بولٹ کی طرح تخلیق کیے گئے ہیں کہ جس کے بنانے والے اور انجنیئر نے اسے کَس دیا ہے۔ اور وہ مجبوراً اپنے کام کو جاری رکھے ہُوئے ہے۔ بلکہ اس کے بالکل برعکس تمام بنی نوع انسان ارادی طور پر آزاد بھی ہیں اور ساتھ ہی ذمہ داری اور فرائض کی ادائیگی کے لیے پابند بھی ہیں۔ اس کے باوجود ان کی صلاحیتیں اور لیاقتیں بھی مختلف ہیں اور ایسے خالص مرکب اور مجموعے کا نام انسان ہے۔ چنانچہ اگر اس بارے میں کوئی اعتراض کیا جاتا ہے۔ تو اس کی وجہ یہی ہے کہ اعتراض کرنے والے انسان کی معرفت سے بے بہرہ ہوتے ہیں۔ قِصّہ مختصر، خداوند عالم نے تمام پہلوؤں کے لحاظ سے کسِی انسان کی دوسرے انسان پر فوقیّت اور برتری عطا نہیں کی۔ بلکہ جُملہ ”رَفَعْ بَعْضَھُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجات “ کے پیشِ نظر تمام لوگوں میں مختلف امتیازات پائے جاتے ہیں جن کی وجہ سے انہیں ایک دوسرے پر فوقیّت حاصل ہے۔ اور ہر طبقے کی دوسرے طبقے سے حصُولِ خدمت اور تسخیر بھی انہیں امتیازات کے پیشِ نظر ہوتی ہے۔ اور اسی چیز کا نام عدالت، تدبر اور حکمت ہے۔ (تشریحی نوٹ: اس سلسلے میں مز ید تفصیل تفسیر نمونہ جلد سوم، سُورہ ٴ نساء کی ۳۲ ویں آیت اور جلد ششم میں سورہٴ انعام کی ۱۶۵ ویں آیت کے ذیل میں بیان ہو چکی ہے۔)
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: چاندی کے محل۔ جُھوٹی قدریں
Tafsīr Nemūna · Vol. 7یہ آیات بھی اسلامی نظام کی اقدار کا ذکر کر رہی ہیں اور بتا رہی ہیں کہ مال و دولت اور مادی جاہ و منصب کوئی معیار نہیں ہے۔ چنانچہ اس سلسلے کی سب سے پہلی آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اگر کفار کا مادی وسائل سے استفادہ اس بات کا سبب نہ ہوتا کہ تمام لوگ کفر کی طرف مائل ہو کر گمراہی میں ایک ہی طریقے کے ہو جائیں گے، تو ہم ان لوگوں کے جو خداوند رحمان کا انکار کرتے ہیں، گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے (وَ لَوْلا اَنْ یَکُونَ النَّاسُ اُمَّةً واحِدَةً لَجَعَلْنا لِمَنْ یَکْفُرُ بِالرَّحْمنِ لِبُیُوتِھِمْ سُقُفاً مِنْ فِضَّةٍ) (تشریحی نوٹ: ”لِبُیُوتِھِمْ“، ”لِمَنْ یَکْفُرُ بِالرَّحْمن“ کا بدل الاشتمال ہے۔ اور لام کو بھی دوبارہ اسی لیے لایا گیا ہے۔ یا پھر” ِ لِبُیُوتِھِمْ “ کی ” لام“، ”علیٰ“ کے معنٰی میں ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہو گا ”علی بیوتھم“ لیکن پہلا احتمال زیادہ صحیح ہے۔ )۔ اور جن گھروں کی کئی منزلیں ہوتی ہیں ان کی ” سیڑھیاں بھی کہ جن پر وہ چڑھتے ہیں (وَ مَعارِجَ عَلَیْہا یَظْہَرُون) (تشریحی نوٹ: ”معارج“ کا معراج کی جمع ہے۔ ایسا ذریعہ جس کی وجہ سے انسان بالائی منزلوں پر جاتا ہے۔) بہت سے مفسرین کہتے ہیں کہ یہاں پر مراد چاندی کی سیڑھیاں ہیں اور لفظ ” فضہ “ (چاندی ) کو دوبارہ اس لیے نہیں لایا گیا کیونکہ وہ واضح طور پر موجود ہے۔ اس طرح سے گویا انہوں نے صرف سیڑھیوں کے وجُود کو گھروں کی اہمیّت کی دلیل نہیں سمجھا، حالانکہ ایسی بات نہیں ہے۔ کیونکہ بہت سی سیڑھیوں کا وجود ہی مکانات کی عظمت اور کئی منزلہ ہونے کی دلیل ہے۔ ”سُقف“ (بر وزن ”شتُر“) ”سَقف“ کی جمع ہے۔ البتہ کچھ مفسرین اسے ”سقیفہ“ (چھپی ہوئی جگہ ) کی جمع سمجھتے ہیں۔ لیکن پہلا قول زیادہ مشہور ہے۔ پھر فرمایا گیا ہے کہ اس کے علاوہ ہم ” ان کے گھروں کے دروازے اور وہ تخت قرار دیتے جن پروہ تکیہ لگاتے ہیں“ (وَ لِبُیُوتِھِمْ اَبْواباً وَ سُرُراً عَلَیْہا یَتَّکِؤُنَ)۔ ممکن ہے کہ یہ جُملہ نقرئی دروازوں اور تختوں کی طرف اشارہ ہو کیونکہ سابقہ آیت میں چھتوں کے نقرئی ہونے کا ذکر ہے۔ اور یہاں پر نقرئی ہونے کو دوبارہ ذکر نہ کیا گیا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کئی دروازوں اور کئی تختوں کی طرف اشارہ ہو (ابوابًا ) اور” سرراً “ چونکہ نکرہ ہیں اور یہاں پر اہمیّت بیان کرنے کے لیے آئے ہیں جو بذات خود ان محلّات کی عظمت کی ایک دلیل ہے۔ کیونکہ کسِی معمولی اور حقیر سے گھر میں متعدد دروازے نہیں ہوا کرتے۔ بلکہ بات بڑے بڑے محلات اور اونچی عمارتوں ہی سے مخصوص ہوا کرتی ہے۔ اسی طرح تخت بھی ایسی ہی عمارتوں میں پائے جاتے ہیں۔ پھر بھی اسی پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ آگے چل کر فرمایا گیا ہے کہ اس کے علاوہ زیب و زینت کے دوسرے وسائل بھی (وَ زُخْرُفاً )۔ (تشریحی نوٹ: بعض مفسرین ”زُخْرُفاً“ کو ” سقفاً “ پر عطف اور زینت کے مستقل وسائل کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جو اس قسم کے لوگوں کے پاس ہوتے ہیں اور بعض ” من فضة “ پر عطف جانتے ہیں جو اصل میں ” من زخرف “ ہے۔ پھر اسے ” نزع خافض “ کی وجہ سے منصُوب کیا گیا ہے۔ تو ایسی صورت میں جُملے کا مفہوم بس ہو گا ” ان کے گھروں کی چھتوں، دروازوں اور تختوں میں سے کچھ کو تو ہم نے سونے کے اور کچھ کو چاندی کے بنایا ہے۔ “ غور کیجئے گا ” )۔ تاکہ ان کی پر تعیش زندگی ہر لحاظ سے مکمل ہو جائے۔ یعنی نقرئی چھتوں کی باشکوہ اور کئی منزلہ محلات اور عمارتیں، متعدد دروازے اور تخت، زیب و زینت کے مختلف وسائل اور ہر قسم کے نقش و نگار جو عام طور پر دُنیا پرستوں کے مطلُوب ، مقصُود اورمعدُود ہوا کرتے ہیں۔ پھر فرمایا گیا ہے: لیکن یہ سب کُچھ دنیاوی مادی زندگی کے وسائل ہیں اور تیرے پروردگار کے نزدیک آخرت توصرف پرہیزگاروں کے لیے ہے۔ ( وَ إِنْ کُلُّ ذلِکَ لَمَّا مَتاعُ الْحَیاةِ الدُّنْیا وَ الْآخِرَةُ عِنْدَ رَبِّکَ لِلْمُتَّقینَ )۔ ” زخرف “ دراصل ہر اس زینت اور آرائش کو کہتے ہیں جس میں طرح طرح کے نقش و نگار ہوں اور چونکہ زینت کا ایک اہم ترین ذریعہ ” سونا “ ہے۔ لہٰذا اسے بھی ” زخرف “ کہتے ہیں اور فضُول باتوں کو اس لیے ” زخرف “ کہا جاتا ہے۔ کیونکہ ان پر ملمع سازی کر کے پیش کیا جاتا ہے۔ المختصر مادی سرمایہ اور دنیاوی زینت کے یہ وسائل اللہ کی بارگاہ میں اس قدر بے قدر و قیمت ہیں کہ صرف کفّار و منکرین حق جیسے بے قدر و قیمت افراد ہی کے شانِ شایان ہو سکتے ہیں۔ اگر کم ظرف اور دُنیا کے دل دادہ بے ایمانی اور کُفر کی جانب جھکاؤ پیدا نہ کر لیتے تو خدا وندِ عالم اس سرمائے کو صرف اپنی درگاہ سے دھتکارے ہُوئے لوگوں کے ہی نصیب کرتا تاکہ سب لوگوں کو معلوم ہو جاتا کہ ایسے امور انسانی قدر و قیمت اور شخصیت کا معیار نہیں ہوا کرتے۔
چند اہم نکات: ۱۔ اسلام غلط اقدار کی نفی کرتا ہے
حقیقت یہ ہے کہ جھوٹی اور غلط اقدار کی نفی اور ان پر خط تنسیخ کھینچنے کے لیے مندرجہ بالا آیات میں موجُود تعبیر سے بڑھ کر کوئی اور تعبیر نہیں ہو سکتی۔ اسے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسے معاشرے کو منقلب کرنے اور اس میں تبدیلی لانے کے لیے بھیجا گیا جس میں افراد کی شخصیت کا معیار اونٹوں کی تعداد، درہم و دینار کی مقدار، غلاموں اور کنیزوں کی تعداد اور زینت وآرائش کے وسائل اور گھر تھے۔ حتی کہ وہ اس بات پر بھی تعجب کرتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بن عبداللہ جو یتیم اور مادی لحاظ سے غریب انسان ہے۔ اسے نبوّت کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔ سب سے پہلا اور بنیادی کام ایسے معاشرے میں تبدیلی کے لیے یہ ہوتا ہے کہ اس کے ایسے غلط معیاروں کو مسمار کر کے اس پر صحیح انسانی اقدار کی بنیاد رکھی جائے جس میں تقویٰ اور پرہیزگاری علم اور دانش ،ایثار و فداکاری اور شجاعت و بہادری جیسی صفات پائی جائیں وگرنہ ہر اصلاح ظاہری، سطحی اور ناپائیداری ہو گی۔ یہ وہی کام ہے۔ جسے اسلام، قرآن اور خود رسُول اللہ نے اعلیٰ ترین صورت میں انجام دیا ہے۔ جس کی وجہ سے خرافات پر مبنی ایک پسماندہ ترین انسانی معاشرہ مختصر سے عرصے میں اس قدر ترقی کر گیا کہ اس کا شمار دُنیا کے صف اوّل کے معاشروں میں ہونے لگا۔ یہ بات لائق توجہ ہے کہ اسی پروگرام کی تکمیل کے لیے ، پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی ایک حدیث ہے: ” لو وزنت الدنیا عند اللہ جناح بعو ضة ما سقی الکافر منھا شربة ماء ۔" اگر خدا کے نزیک دُنیا کا وزن مچّھر کے بَرابر بھی ہوتا تو اس سے کافر کو پانی کے ایک کھونٹ تک نہ پلاتا (بحوالہ: تفسیر کشاف ، جلد ۴،ص ۳۵۰)۔ حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام نے اس بارے میں بات کو نہایت کمال سے بیان فرمایا ہے: ” مُو سٰی (علیہ السلام) اپنے بھائی ہارون ( علیہ السلام)کو ساتھ لے کر اس حالت میں فرعون کے پاس آئے کہ ان کے جسم پر اُونی کرتے اور ہاتھوں میں لاٹھیاں تھیں اور اس سے قول و قرار کیا کہ اگر وہ اسلام قبول کرے تو اس کا ملک بھی باقی رہے گا اور اس کی عزت بھی برقرار رہے گی۔ تو اس نے (اپنے حاشیہ نشینوں سے)کہا کہ تمہیں اس پر تعجب نہیں ہوتا کہ یہ دونوں مُجھ سے یہ معاملہ ٹھہرا رہے ہیں کہ میری عزت بھی برقرار رہے گی اور میرا ملک بھی باقی رہے گا اور جس طرح کے خستہ حال اور ذلیل صُورت میں یہ ہیں تم دیکھ ہی رہے ہو (اگر ان میں اتنا دم خم تھا تو پھر )ان کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن کیوں نہیں پڑے ہوئے؟یہ اس لیے کہ وہ سُونے کو اور اس کی جمع آوری کو بڑی چیز سمجھتا تھا اور اونی کپڑوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا۔" ” اگر خدا یہ چاہتا کہ جس وقت اس نے نبیوں کو مبعوث کیا ان کے لیے سُونے کے خزانوں اور خالص طلاٴ کی کانوں کے مُنہ کُھول دیتا اور ان کے لیے مہیّا کر دیتا اور فضا کے پرندوں اور زمین کے صحرائی جانوروں کو ان کے ہمراہ کر دیتا تو کر سکتا تھا اور اگر ایسا کرتا تو پھرآزمائش ختم اور جزا ؤ سزا بےکار ہو جاتی اسی خُطبے کے دوسرے حِصّے میں فرماتے ہیں۔ ” تم دیکھتے نہیں کہ اللہ نے آدم سے لے کر اس جہاں کے آخر تک کے اگلوں پچھلوں کو ایسے پتھروں سے آزمایا ہے کہ جو نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ فائدہ، نہ سن سکتے ہیں۔ اس نے ان پتھروں ہی کو اپنا محترم گھر قرار دیا کہ جسے لوگوں کے لیے(امن کے) قیام کا ذریعہ ٹھہرایا ہے۔ پھر یہ کہ اس نے اِسے زمین کے رقبوں میں ایک سنگلاخ رقبہ اور دُنیا میں بلندی پر واقع ہونے والی آبادیوں میں سے ایک کم مٹی والے مقام اور گھاٹیوں میں سے تنگ اطراف کی گھاٹی میں قرار دیا کُھرے اور کُھردے پہاڑوں،نرم ریتلے میدانوں ،کم آب چشموں اور بکھرے ہُوئے دیہاتوں کے درمیان کہ جہاں اونٹ،گھوڑا، گائے بکری نہیں پل سکتے ،پھر بھی اُس نے آدم اور ان کی اولاد کو حکم دیا کہ اپنا رُخ اس کی طرف موڑیں۔چنانچہ وہ ان کے سفر سے فائدہ اُٹھانے کا مرکز اور پالانوں کے اترنے کی منزل بن گیا۔... ۔" اسی خُطبے کے ایک اور حِصّے میں حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں : ” اگر خدوند عالم یہ چاہتا کہ وہ اپنا محترم گھر اور بلند پایہ عبادت گاہیں ایسی جگہ پر بنائے کہ جس کے گرد باغ و چمن کی قطاریں اور بہتی ہوئی نہریں ہوں، زمین نرم و ہموار ہو کہ (جس میں) درختوں اور (ان میں) جُھکے ہُوئے پھلوں کے خوشے ہوں جہاں عمارتوں کا جال بچھا ہوا اور آبادیوں کا سلسلہ ملا ہو، جہاں سُرخی مائل گیہوں کے پودے ، سرسبز مرغزار ، چمن در کنار سبزہ زار ، پانی میں شرابور میدان ، لہلہاتے ہُوئے کھیت اور آباد گزرگاہیں ہوں، تو البتہ وہ جزاٴ و ثواب کو اسی اعتبار سے کم کر دیتا ہے کہ جس قدر ابتلاء وآ زمائش میں کمی واقع ہوئی ہے۔ (اور لوگ دلفریب ظاہری اقدار کے ساتھ مانوس ہو جاتے ہیں اور حقیقی اور خدائی اقدار سے غافل ہو جاتے ہیں۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ خُطبہ نمبر ۱۹؛ خطبہ قاصعہ؛ اردو ترجمہ از مرحوم علامہ مفتی جعفرحسین )) بہرحال، اسلامی انقلاب، اقدار کا انقلاب ہے۔ اور اگر مسلمان آج سخت اور ناخوشگوار حالات سے دوچار ہیں اور بے رحم اور خونخوار دشمن کے پنچوں میں پھنسے ہوئے ہیں تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ انہوں نے اصل اقدار کو چھوڑ کر ایک بار پھر زمانہ جاہلیّت کی قدروں کو اپنا لیا ہے۔ اور یہ قدریں ان میں خوب پروان چڑھ رہی ہیں۔ انسانی شخصیت کا معیار دنیاوی مال و مقام قرار پا چکا ہے۔ علم، تقوے اور فضیلت کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ لوگ مادی چکا چوند میں کھو چکے ہیں۔ اسلام سے یکسر بے گانہ ہو چکے ہیں اور جب تک ان کی یہی حالت رہے گی اس عظیم غلطی کا انہیں خمیازہ بھی بھگتنا پڑے گا۔ جب تک اپنے وجُود پر خدائی اقدار کی حکمرانی کاآغاز نہیں کریں گے اس وقت تک خدا کا لطف و کرم ان کے شاملِ حال نہیں ہو گا۔ کیونکہ ” إِنَّ اللَّہَ لا یُغَیِّرُ ما بِقَوْمٍ حَتَّی یُغَیِّرُوا ما بِاَنْفُسِھِمْ “ اللہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو اپنے آپ میں تبدیلی نہ لائے۔ (رعد ۔ ۱۱)
۲۔ ایک سوال کا جواب
مندرجہ بالا آیات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن نے ظاہری ٹھاٹھ باٹھ اور دنیاوی زینب اور شان و شوکت کی نفی کی ہے۔ جبکہ سورہٴ اعراف کی آیت ۳۲ میں فرمایا گیا ہے۔ "قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالْطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُواْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ"۔ "کہہ دیجئیے کہ اللہ نے جو زینت اپنے بندوں کے لیے خلق فرمائی ہے۔ نیز طیّبات کو کِس نے حرام کیا ہے کہہ دیجئیے کہ یہ دُنیاوی زندگی میں ان لوگوں کے لیے ہے۔ جو ایمان لے آئے ہیں (اگرچہ دوسرے لوگ بھی اس میں شریک ہیں لیکن) قیامت میں خاص طور پر ان ہی کے لیے ہو گی۔ ہم اپنی آیات کو سمجھدار لوگوں کے لیے اسی طرح تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔” ایک اور جگہ پر فرمایا گیا ہے۔ "يَا بَنِي آدَمَ خُذُواْ زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ" "اے اولاد آدم! مسجد جاتے وقت خود کو مزین کر لیا کرو "۔ (اعراف۔ ۳۱)۔ تو یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ دو قسم کی آیات آپس میں کس طرح ہم آہنگ ہو سکتی ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ زیر تفسیر آیات کا اصل مقصد جھوٹی اقدار کی نفی اور ان کا خاتمہ کرنا ہے۔ اور یہ مقصد ملحوظِ خاطر ہے کہ مال و دولت اور ظاہری ٹھاٹھ باٹھ کو انسانی شخصیّت کا معیار نہ سمجھ لیا جائے، نہ یہ کہ مادی وسائل بُری چیز ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ مادی وسائل کو صرف وسائل کی حد تک ہی محدود رکھیں، اُنھیں منتہائے مقصُود نہ سمجھ لیں۔ ساتھ ہی یہ بات بھی ہے کہ ان وسائل کی اس وقت کوئی قدر و قیمت ہے۔ جب وہ کسی معقُول اور شائستہ حد تک ہوں اور اسراف و فضول خرچی سے پاک ہوں، نہ کہ سونے چاندی کے محل بنانے اور سیم و زر کو اکٹھا کرنے کے لیے۔ یہاں سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ ان مادی نعمتوں سے کفّار و ظالمین کی بہرہ مندی نہ تو ان کی شخصیّت کی دلیل بن سکتی ہے۔ اور نہ ہی مومنین کا ان سے محروم ہونا ان کی شخصیت کے منافی ہے۔ اور نہ ہی معقول حد تک ان اُمور سے استفادہ انسان کے ایمان اور تقویٰ کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اور یہی صحیح اسلامی اور قرآنی نظریہ ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر شیاطین کا ساتھی
Tafsīr Nemūna · Vol. 7گزشتہ آیات میں ان دُنیا پرستوں کی بات ہو رہی تھی جو تمام چیزوں کو مادی پیمانے سے ناپتے ہیں اور زیرِ نظر آیات میں ان کے مہلک آثار میں سے ایک اثر کے بارے میں گفتگو ہو رہی ہے۔ جو دُنیا کے ساتھ قلبی لگاؤ اور خدا سے یکسر اجنبیت ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اور جو شخص یاد رحمن سے روگردانی کرتا ہے۔ہم اس کے لیے ایک شیطان مقرر کر دیتے ہیں جو ہر دم اُن کے ساتھ ہوتا ہے۔ (وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ)۔ (تشریحی نوٹ: "یعش"، "عشو" (بروزن نشر) کے مادہ سے مشتق ہے۔ جب "الیٰ" کے ساتھ متعدی ہو جیسے "عشوت الیہ" تو اس کا معنی ہے۔ کمزور آنکھ کے ساتھ کسی چیز کے ذریعے ہدایت پانا اور جب "عن" کے ساتھ متعدی ہو جیسے "عشو عنہ" تو اس کا معنی ہو گا کسی چیز سے روگردانی کرنا، زیر تفسیر آیت بھی اسی معنی میں ہے۔ (دیکھیئے: کتاب لسان العرب مادہ "عشو"۔ "نقیض"، "قیض" (بروزن "فیض")کے مادہ سے ہے۔ جس کا معنیٰ ہے۔ انڈے کا چھلکا۔ بعد ازاں اس کا استعمال کسِی دوسری چیز پر چھائے رہنے کے لیے ہونے لگا ہے۔ جی ہاں! ذکرِ خدا سے غفلت اور دنیاوی لذات میں کھو جانے اور دُنیاوی چکا چوند سے دِل بستگی اس بات کا سبب بن جاتی ہے کہ ایک شیطان انسان پر مسلط ہو جاتا ہے۔ اور وہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہتا ہے۔ وہ اس کے گلے میں ایک ایسا پٹہ ڈال دیتا ہے۔ جس کے ذریعے اس ہر جگہ کھینچے پھرتا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس آیت سے جبر کا تصوّر نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ ان کے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جو وہ انجام دیتے ہیں۔ ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ انسان کے اپنے اعمال خاص کہ دُنیاوی لذتوں میں کھو جانے اور مختلف گناہوں سے آلودہ ہونے کی سب سے پہلی تاثیر یہ ہوتی ہے کہ اس کے دل، آنکھ اور کان پر پردے پڑ جاتے ہیں، جس سے وہ خدا سے بےگانہ ہو جاتا ہے۔ اور اس پر شیاطین مسلط ہو جاتے ہیں اور شیطانی افکار اسے ہر طرف سے گھیر لیتے ہیں اور یہ انسان کے اپنے ہی اعمال کی نتیجہ ہوتا ہے۔ اگرچہ اس کی خدا کی طرف نسبت "مسبب الاسباب" کے اعتبار سے صحیح ہے۔ یہی وہ چیز ہے۔ جِسے قرآن مجید کے دوسر ے مقاما ت پر "تز یئن شیطان" کے عنوان سے ذکر کیا گیا ہے۔ جیسے سورہٴ نحل کی ۶۳ ویں آیت میں ہے: "فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ" یا شیطان کی سرپرستی کا نام دیا گیا ہے۔ جیسے سُورہٴ نحل ہی کی اسی آیت میں ہے: "فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ"۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ "نقیض" اپنے لغوی مفہوم کے لحاظ سے ایک تو انسان پر شیطان کے تسلط پر دلالت کرتا ہے۔ اور دوسرے اس کے ساتھی ہونے پر اس کے باوجُود "فھولہ قرین" کا جُملہ جو اس کے بعد آیا ہے۔ اس بات کی تاکید کے لیے ہے کہ اس قسم کے لوگوں سے شیطان کبھی جُدا نہیں ہو سکتا۔ اور لفظ "رحمان" اس بات کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ وہ اس خدا سے کیوں روگردانی کرتے ہیں اور اس خدا کی یاد سے کیوں غافل رہتے ہیں، جس کی رحمت سب پر چھائی ہوئی ہے۔ آیا ایسے لوگوں کا انجام اس کے سوا کچھ اور ہونا چاہیئے کہ وہ شیطان کے ساتھی اور اس کے حکم کے غلام ہوں۔ بعض مفسرین نے اس احتمال کا اظہار کیا ہے کہ یہاں پر"شیاطین" کے و وسیع معانی مراد ہیں یہاں تک کہ اس کا مفہوم انسانی شیطان پر بھی محیط ہے۔ اور اس سے وہ "گمراہی کے سرداروں اور سرغنوں" کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جو یادِ خدا سے غافل افراد پر غالب، مسلّط اور ان کے ہمراہی ہوتے ہیں اور وسیع مفہوم پر مبنی یہ احتمال بھی بعید نہیں ہے۔ پھر ایسے دو اہم امور کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جو ان غافلوں کے بارے میں یہ شیطان انجام دیتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ (شیاطین) ان لوگوں کو خدا کی راہ سے روکتے ہیں (وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ السَّبِيلِ)۔ (تشریحی نوٹ: "انھم" اور بعد کے جُملے میں جمع کی ضمیر "شیاطین" کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اگرچہ اس سے پہلے یہ ضمیر مُفرد کی صُورت میں آ چکی ہے۔ کیونکہ درحقیقت اس میں جمع کا معنی پایا جاتا ہے۔ جب وہ خدا کی طرف رجوع کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو شیاطین ان کی راہوں میں روڑے اٹکاتے اور رکاوٹیں کھڑ ی کر دیتے ہیں تاکہ وہ کسی بھی صورت میں صراطِ مستقیم کی طرف نہ لوٹ آئیں۔ وہ گمراہی کے راستوں کو ان کی آنکھوں میں اس قدر عمدہ کر کے پیش کرتے ہیں کہ "وہ گمان کرتے ہیں کہ صرف وہی لوگ راہِ ہدایت پر ہیں (وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ)۔ جبکہ سورہٴ عنکبوت آیت ۳۸ میں قومِ عاد و ثمود کے بارے میں ہے: "وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَكَانُوا مُسْتَبْصِرِينَ" "شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نگاہوں میں مزین کر دیا ہے۔ اور انہیں سیدھی راہ سے روک دیا ہے۔ حالانکہ وہ راہ تلاش کر چکے تھے۔" خلاصہ کلام یہ کیفیت اسی صُورت میں برقرار رہے گی، غافل اور بےخبر انسان اپنی گمراہی میں اور شیاطین اسے گمراہ کرنے میں لگے رہیں گے، یہاں تک کہ تمام پردے ہٹ جائیں گے اور انسان کی حقیقت بین نگاہیں کھلیں گی اور "جب وہ ہمارے پاس آئے گا اور اس کا ساتھی بھی اسی طرح اس کے ہمرا ہو گا، وہی ساتھی جو اس کی تمام تر تباہیوں کا باعث تھا، تو وہ پکار پکار کر کہے۔ گا کہ اے کاش! مجھ میں اور تجھ میں مشرق اور مغرب کا فاصلہ ہوتا اور تو کیا ہی بُرا ساتھی (حَتَّى إِذَا جَاءَنَا قَالَ يَا لَيْتَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَيْنِ فَبِئْسَ الْقَرِينُ)۔ تمام عذاب ایک طرف اور اس بُرے ساتھی کی صحبت ایک طرف، ایسے شیطان کی صحبت جو اسے ہر وقت نفرت کی نگاہوں سے دیکھتا رہتا ہے۔ گمراہی اور بدبختی کی تمام یادیں اس کی نگاہ کے سامنے مجسم ہو کر آ جائیں گی۔ وہی شیطان جو تمام برائیوں کو اس کے سامنے اچھائیاں بنا کر اور غلط راہ کو صحیح کی صُورت میں اور گمراہی کو ہدایت کی صُورت میں پیش کرتا تھا ہائے افسوس! وہی اس کا ہمیشہ کا ساتھی اور ہم رکاب ہے۔ جی ہاں اس دنیا میں رونما ہونے والے واقعات کو قیامت کے میدان میں وسیع تر صُورت میں مجسم کر کے پیش کیا جائے گا اور جو ساتھی، دولت اور راہنما یہاں پر ہو گا وہاں پر گا۔حتٰی کہ بعض مفسرین کے بقول وہاں پر دونوں دوست ایک ہی زنجیر میں جکڑے ہوں گے۔ ظاہر سی بات کہ "مشر قین" (دو مشرق)سے مراد مشرق اور مغرب ہیں کیونکہ عربوں کی عادت ہے کہ جب وہ دو مختلف ہم جنس چیزوں کو تثنیہ بنانا چاہتے ہیں تو ان میں سے ایک لفظ کو لے کر تثنیہ بنا دیتے ہیں۔ جیسے "شمسین" (سُورج اور چاند کی طرف اشارہ ہے۔ "ظہرین" (نماز ظہر و عصر کی طرف اشارہ ہے۔ اور "عشائین" (نماز مغرب و عشاء کی طرف اشارہ ہے۔ مفسرین نے اس بارے میں اور بھی تفاسیر ذکر کی ہیں لیکن زیرِ تفسیر آیت میں کوئی بھی تفسیر مناسب معلوم نہیں ہوتی۔ مثلاً سردیوں کے آغاز کی مشرق یا گرمیوں کی ابتدا کی مشرق، اگرچہ دوسرے مقامات پر مناسب ہے۔ صُورت حال خواہ کُچھ ہو یہ تعبیر دور ترین قابل تصور فاصلے کو بیان کر رہی ہے۔ کیونکہ "مشرق و مغرب کی دوری" اس بارے میں ایک مشہور محاورہ ہے۔ لیکن یہ آرزو کبھی پوری نہیں ہو گی اور ان لوگوں کے اور شیطانوں کے درمیان کبھی جدائی واقع نہیں ہو گی۔ اسی لیے بعد کی آیت میں فرمایا گیا ہے۔ آج اس قسم کی گفتگو اور پشیمانی ہرگز تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی کیونکہ تم ظلم کر چکے ہو اور نتیجے کے طور پر تم عذاب میں شریک ہو (وَلَن يَنفَعَكُمُ الْيَوْمَ إِذ ظَّلَمْتُمْ أَنَّكُمْ فِي الْعَذَابِ مُشْتَرِكُونَ)۔ تمہیں چاہیئے کہ تم اس بُرے ساتھی کے عذاب کے ساتھ اور عذاب کا مزہ بھی ہمیشہ کے لیے چکھتے رہو۔ (تشریحی نوٹ: اس طرح "ینفع" کا فاعل وہی سابقہ گفتگو ہے۔ جس میں انہوں نے اپنے اور شیطان کے درمیان مشرق و مغرب کے فاصلے کی آرزو کی ہے۔ اور "اذ ظلمتم" کا نفع نہ پہنچانے کا سبب بیان کر رہا ہے۔ اور "أَنَّكُمْ فِي الْعَذَابِ مُشْتَرِكُونَ" کا جُملہ اسی ظلم کا نتیجہ ہے۔ اس طرح سے ان کی شیاطین سے جدائی کی آرزو ہمیشہ کے لیے نااُمیدی میں بدل جائے گی اور اس ساتھی کی صحبت کِس قدر رُوح فرسا ہو گی۔ اس آیت کی تفسیر میں اور بھی کئی احتمال ذکر کیے گئے ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب انسان اپنے ہمد ردوں کو دیکھتا ہے۔ تو اس کا دُکھ درد بھی کسی حد تک کم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ مثل مشہور ہے کہ۔ "البلیة اذا عمت طابت"۔ "جب مصیبت عمومی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ تو قابلِ قبول بن جاتی ہے۔ لیکن اس موقع پر بھی ان سے کہا جائے گا "یہاں پر اس قسم کی تسلّی بھی تمہارے لیے نہیں ہے۔ بلکہ تم عذاب میں اس حد تک غرق ہو چکے ہو کہ تمہارے ہم رکاب شیطان کا عذاب بھی تمہیں قلبی سکون فراہم نہیں کر سکتا۔ (تشریحی نوٹ: اس تفسیر کی بناء پر: "أَنَّكُمْ فِي الْعَذَابِ مُشْتَرِكُونَ" کا جملہ "يَنفَعَ" کا فائل بنے گا نہ کہ اس کا نتیجہ:)۔ ایک احتمال یہ بھی ہے کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب کوئی مصیبت نازل ہوتی ہے۔ تو انسان اس کے نتائج کو اپنے دوستوں میں بانٹ دیتا ہے۔ جس سے کسی حد تک مصیبت کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ بات بھی وہاں نہیں ہو گی کیونکہ ہر ایک کے لیے عذاب الہٰی کا اپنا حِصّہ اس حد تک زیادہ ہو گا کہ دوسرے کا بوجھ نہیں اُٹھا سکے گا۔ لیکن چونکہ یہ آیت اپنے سے ماقبل آیت کے لیے تتمہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ لہٰذا وہی پہلی تفسیر کہ جِسے ہم نے منتخب کیا ہے۔ زیادہ مناسب ہے۔ یہاں پر قرآن مجید نے ان لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑتے ہُوئے روئے سخن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف کر لیا ہے۔ اور اِن دل کے اندھے غافل افراد کے بارے میں گفتگو شروع کر دی ہے۔ جو ہمیشہ آپ کو جھٹلاتے تھے اور گزشتہ آیات میں مذکور لوگوں کی قسم سے تھے۔ چنانچہ فرماتا ہے۔ "آ یا آپؐ بہروں کو سنا سکتے ہیں؟ یا اندھوں کو ہدایت کر سکتے ہیں یا ان لوگوں کو راہ راست کی دعوت دے سکتے ہیں جو کھلم کُھلا گمراہی میں ہیں اور اس گمراہی کا احساس بھی نہیں کرتے؟" (أَفَأَنتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ أَوْ تَهْدِي الْعُمْيَ وَمَن كَانَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ)۔ اس طرح کا ایک اور تذکرہ بھی قرآن مجید کی دوسری آیات میں آ چکا ہے۔ جن میں ہٹ دھرم، ناقابل ہدایت، بےبصیرت اور گناہوں میں مستغرق ہوس پرستوں کو اندھوں، گونگوں، بلکہ مُردوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ چنانچہ سورہٴ یونس کی آیت ۴۲ میں ہم پڑھتے ہیں: "أَفَأَنتَ تَهْدِي الْعُمْيَ وَلَوْ كَانُواْ لاَ يُبْصِرُونَ" "تو کیا آپ اپنی آواز کو بہروں تک بھی پہنچا سکتے ہیں، اگرچہ وہ عقل سے کام نہ بھی لیں؟ سورہٴ نمل کی آیت ۸۰ میں ہے کہ: إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ" "آپؐ نہ تو مُردوں کے کانوں تک اپنی آواز پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی بہروں کو اپنی طرف متوجہ کر سکتے ہیں کہ جب وہ مُنہ پھیر کر پیٹھ کر لیتے ہیں"۔ اسی طرح کی اور بھی کئی آیات ہیں۔ اس قسم کی تصریحات اس لیے ہیں کیونکہ قرآن مجید کے نزدیک انسان کے لیے "دو قسم کے کان، دو قسم کی آنکھیں اور دو قسم کی زندگیاں ہوتی ہیں۔ ایک ظاہری اور دوسری باطنی۔ ان میں سے دوسری قسم زیادہ اہم ہے۔ کیونکہ اگر انسان کے باطنی ادراک اور حیات بےکار ہو جائیں تو نہ تو اس میں کوئی وعظ و نصیحت مؤثر ہو سکتی ہے۔ اور نہ ہی تنبیہ اور دھمکی!! یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ گزشتہ آیات میں ایسے لوگوں کو اِن افراد سے تشبیہ دی گئی تھی جن کی آنکھوں کمزور اور نگاہ مُحدود ہوتی ہے۔ لیکن اس آخری آیت میں انہیں بہروں اور اندھوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب انسان دُنیا کے ساتھ مشغول ہو جاتا ہے۔ تو اس وقت اس شخص کی مانند ہوتا ہے کہ جس کی آنکھیں تھوڑی بہت حد تک دیکھتی ہیں۔ لیکن جُوں جُوں دنیا کے ساتھ اس کی مشغولیّت بڑھتی جاتی ہے۔ مادیات کی طرف اس کے رجحان میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اور روحانیت سے بےاعتنائی زیادہ ہو جاتی ہے۔ تو نگاہ میں کمی کے مراحل بھی بڑھتے جاتے ہیں، مختصر دور سے پہلے تو نگاہ میں کمی کا مرحلہ آتا ہے۔ اور پھر نوبت نابینائی تک جا پہنچتی ہے۔ یہ وہی چیز ہے۔ جس نے ان قطعی دلائل کو پایہٴ تکمیل تک پہنچا دیا ہے کہ انسان کا کسِی عمل پر اصرار تکرار اس کے وجُود میں مثبت یا منفی اثرات کی شدّت اور ملکہ کے راسخ ہونے کا سبب بنتا ہے۔ اور قرآن پاک نے بھی اسی ترتیب کو ملحوظ رکھا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر کبیر از فخر رازی، جلد۲۷، ص۲۱۴ و ص۲۱۵)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر دامن وحی مضبُوطی سے پکڑے رہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 7گزشتہ آیات میں ہٹ دھرم اور ناقابلِ ہدایت کفار اور ظالمین کے ذکر کے بعد زیر تفسیر آیات میں رُوئے سخن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف کر کے ایسے لوگوں کو شدید تنبیہ اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تسلّی اور دلجوئی کی خاطر ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اگر ہم تجھے ان کے درمیان سے لے جائیں تو ہم ان سے ضرور انتقام لیں گے اور انہیں ضرور سزا دیں گے"۔ (فَإِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَإِنَّا مِنْهُم مُّنتَقِمُونَ)۔ اس قوم کے درمیان سے پیغمبر کے لیے جانے سے مراد خواہ رسُول پاکؐ کی وفات ہو یا مکّہ سے مدینہ کی طرف ہجرت دونوں صورتوں میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر آپؐ شاہد اور ناظر نہ بھی ہوں اور وہ لوگ اپنی اسی روش پر باقی رہیں پھر بھی ہم ان کو سخت سزا دیں گے۔ کیونکہ دراصل "انتقام" کا معنی سزا دینا ہے۔ ہر چند کہ متعدد دوسری قرآنی آیات سے جو اِس بارے میں نازل ہوئی ہیں یہ بات سمجھ آتی ہے کہ پیغمبرؐ کو "لے جانے" سے مراد آپ کی وفات ہے۔ جیسا کہ سورہٴ یونس کی ۴۲ ویں آیت میں ہے۔ "وَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللّهُ شَهِيدٌ عَلَى مَا يَفْعَلُونَ" اگر ہم آپ کی زندگی میں ان کو کُچھ وہ سزائیں دیں جن کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ یا آپ کو یہاں سے اُٹھا لیں اور آپ انہیں نہ دیکھ پائیں، ہر حالت میں اس کی بازگشت ہماری طرف ہے۔ اور خدا ان اعمال کا گواہ ہے۔ جو وہ انجام دیتے رہتے ہیں"۔ یہی چیز سُورہ رعد کی چالیسویں اور سُورہٴ مؤمن کی ۷۷ ویں آیت میں بھی آ چکی ہے۔ لہذا زیر نظر آیت سے ہجرت مراد لینا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے۔ اگر تو زندہ بھی رہے اور ہم نے ان سے جس عذاب کا وعدہ کیا ہے۔ وہ دکھا بھی دیں پھر بھی ہم ان پر ہر طرح سے قابو رکھتے ہیں (أَوْ نُرِيَنَّكَ الَّذِي وَعَدْنَاهُمْ فَإِنَّا عَلَيْهِم مُّقْتَدِرُونَ)۔ وہ ہر حالت میں ہمارے قابُو میں ہیں، خواہ آپ ان لوگوں کے درمیان موجود ہوں یا نہ ہوں اور ان کی اسی روش پر قائم رہنے کی صُورت میں یہ لوگ ہمارے انتقام اور ہماری سزا سے نہیں بچ سکتے، خواہ ان کا یہ انجام آپؐ کی زندگی میں ہو خواہ آپ کی وفات کے بعد جلدی یا دیر تو ہو سکتی ہے۔ لیکن بچ ہرگز نہیں سکتے۔ قرآن کی یہ تاکید ممکن ہے۔ ایک طرف تو کفّار کی اس بےتابی کی طرف اشارہ ہو جو وہ کہتے تھے: اگر تو سچ کہتا ہے۔ تو پھر ہم پر وہ مصیبت نازل کیوں نہیں ہوتی۔ دوسری جانب ممکن ہے۔ ان کی طرف سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موت کے انتظار کی طرف اشارہ ہو کیونکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ جونہی آپ اس دُنیا سے تشریف لے جائیں گے ساری بات ختم ہو جائے گی۔ اس تنبیہ کے بعد رسولِ پاکؐ کو خدا کی طرف سے حکم ملتا ہے۔ تیری طرف جو وحی کی گئی ہے۔ تو اسے مضبوطی سے تھامے رہ کیونکہ تو یقیناً سیدھی راہ پر ہے۔ (فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِي أُوحِيَ إِلَيْكَ إِنَّكَ عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ)۔ تیری کتاب اور طرزِ عمل میں ذرہ بھر کجی اور ٹیڑھا پن نہیں ہے۔ اور کفار و مشرکین کے ایک ٹولے کا انہیں قبول نہ کرنا تیری حقانیت کی نفی کی دلیل نہیں بن سکتا۔ تو اپنے اس سِلسلے کو پوری طرح سے جاری رکھ باقی سب ہمارے ذمہ ہے۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے۔ یہ قرآن کی جس کی تجھ پر وحی کی گئی ہے۔ تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے یاد آوری کا ایک ذریعہ ہے۔ (وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ)۔ اس کے نزول کا مقصد ہی لوگوں کو بیدار کرنا اور ان کے فرائض سے انہیں آگاہ کرنا ہے۔ "اور تم لوگوں سے عنقریب ہی باز پرس کی جائے گی" کہ تم اس خدائی پروگرام اور اس آسمانی وحی کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے۔ (وَسَوْفَ تُسْأَلُونَ)۔ اس تفسیر کے مطابق مندرجہ بالا آیت میں "ذکر" سے مراد "ذکر اللہ" اور دینی فرائض سے آشنائی اور آگاہی ہے۔ جیسا کہ اسی سُورت کی پانچویں اور چھتیسویں آیات میں یہ بات آئی ہے۔ قرآن کی بہت سی دوسری آیات کے مانند۔ اصولی طور پر قرآن مجید کا ایک نام "ذِکر" بھی ہے۔ ذکر بھی وہ کہ جو یاد آوری اور ذکر اللہ ہے۔ اور سُورہٴ قمر میں تو یہ جُملہ متعدد بار آیا ہے۔ "وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ" "یعنی ہم نے قرآن مجید کو یاد آوری کے لیے آسان اور سہل بنا دیا ہے۔ آیا کوئی ہے۔ جو یاد سے کام لے"۔ ملاحظہ ہوں اسی سُورت کی آیا ت نمبر ۱۷، ۲۲، ۳۲، اور ۴۰۔ اس کے علاوہ "و لسوف تُسْأَلُونَ" کا جُملہ اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ یہاں پر سوال سے مراد اس خدائی پروگرام پر عمل کے بارے میں پُوچھ گچھ ہے۔ ان تمام باتوں کے باوجود اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ اس آیت کے لیے بہت سے مفسرین نے ایک اور تفسیر کا انتخاب کیا ہے۔ جو مذکورہ تفسیر سے مناسبت نہیں رکھتی۔ منجملہ انہوں نے یہ کہا ہے کہ آیت کا معنی یہ ہے۔ "یہ قرآن تیرے اور تیری قوم کے لیے سرمایہ شرف و آبرو یا ذکر خیر ہے۔ اور عرب و قریشی یا تیری اُمت کو شرف عطا کرتا ہے۔ کیونکہ انہی کی زبان میں نازل ہوا ہے۔ اور اس نعمت الہٰی کے بارے میں عنقریب ان سے باز پُرس ہو گی۔ (تشریحی نوٹ: ملاحظہ ہو تفسیر مجمع البیان، تفسیر کبیر فخر رازی، تفسیر قرطبی، تفسیر مراغی اور تفسیر ابو الفتوح، انہی آیات کے ذیل میں)۔ یہ ٹھیک ہے کہ قرآن مجید نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور عربوں بلکہ تمام مسلمانوں کو ساری کائنات میں شہرت دی ہے۔ اور چودہ سو سال سے زیادہ عرصے سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام ہر صبح و شام گلدستہٴ اذان پر عظمت و احترام کے ساتھ لیا جا رہا ہے۔ زمانہٴ جاہلیّت کے بےنام و نشان عربوں کو نام مِلا ہے۔ اور اسی کے پر تو میں اُمّتِ اسلامیہ کو شرف اور سربلندی نصیب ہوئی ہے۔ اور یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ قرآن میں کہیں کہیں پر "ذکر" کا لفظ اس معنی میں بھی آیا ہے۔ لیکن اس میں بھی شک نہیں ہے کہ پہلا معنی قرآنی آیات میں زیادہ وسعت رکھتا ہے۔ اور نزُولِ قرآن اور زیرِ بحث آیات کے مقاصد سے زیادہ ہم آہنگ ہے۔ بعض مفسرین نے سورہٴ انبیاء کی دسویں آیت کو دوسری تفسیر پر شاہد قرار دیا ہے۔ آیت یہ ہے۔ "لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ" "ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے کہ جس میں تمہاری یاد کا ذریعہ ہے۔ آیا تم عقل سے کام نہیں لیتے"؟ (تشریحی نوٹ: تفسیر قرطبی انہی آیات کے ذیل میں)۔ حالانکہ یہ آیت بھی پہلی تفسیر کے لیے زیادہ موزون ہے۔ جیسا کہ ہم تفسیر نمونہ کی تیرھویں جلد میں تفصیل سے بیان کر چکے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: ایک اور بات جو مشہور تفسیر کے لیے دلیل بن سکتی ہیں وہ لفظ "قوم" کے بارے میں ہے۔ جو مندرجہ بالا آیات میں مذکور ہے۔ وہ یہ کہ قرآن مجید ساری دُنیا کے لوگوں کے لیے یاد آوری کا ایک ذریعہ ہے۔ نہ صرف پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قوم یا مِلّت اسلامیہ کے لیے لیکن یہ بات بھی جواب طلب ہے۔ کیونکہ مذکورہ گروہ دوسروں سے پہلے قرآن سے بہرہ مند ہوئے ہیں۔ اسی لیے ان کے ذکر پر زور دیا گیا ہے۔ اس آیت کے ذیل میں حدیث کی کتابوں میں کچھ روایات ذکر ہوئی ہیں، جو بعد میں بیان کی جائیں گی۔ پھر بُت پرستی کی نفی اور مشرکین کے عقاید باطل کرنے کے لیے ایک اور دلیل پیش کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے۔ اور ہم نے تجھ سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے ہیں ان سب سے دریافت کر دیکھ۔ آیا ہم نے رحمان خدا کے علاوہ اور معبُود قرار دیئے تھے کہ ان کی عبادت کی جائے (وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِن دُونِ الرَّحْمَنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تمام ابنیاء نے توحید کی طرف بلایا ہے۔ اور سب نے دو ٹوک الفاظ میں بُت پرستی کی مذمت کی ہے۔ بنا بریں پیغمبرِ اسلامؐ نے بُتوں سے اپنی مخالفت کے سلسلے میں کوئی نیا کام انجام نہیں دیا۔ بلکہ انبیاء علیہم السلام کی دائمی سُنّت کا احیاء فرمایا ہے۔ اور یہ بُت پرست اور مشرکین ہی ہیں جنہوں نے تمام انبیاء کے مکتب کے خلاف قدم اٹھایا ہے۔ اس تفسیر میں اگرچہ مخاطب حضرت رسُول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی ہیں لیکن مراد تمام اُمّت ہے۔ حتی کہ آپؐ کے مخالفین بھی۔ اور جن سے سوال کیا جاتا ہے۔ وہ انبیائے ماسلف کے پیرو کار ہیں۔ البتہ سچّے اور قابلِ اعتماد پیروکار بھی اور عام پیروکار بھی کیونکہ ان کے مجموعی اقوال سے "خبر متواتر" دستیاب ہو گی جو انبیاء علیہم السلام کے توحیدی مکتب کی مظہر ہے۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اصول توحید سے روگردانی کرنے والے (موجودہ دور کے عیسائی جو تثلیث کے پیروکار ہیں) تک توحید کا دم بھرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمار ی تثلیث، توحید کے منافی نہیں ہے۔ جو تمام انبیاء کا دین ہے۔ اسی لیے ان امتوں کی طرف رجوع بھی مشرکین کے دعویٰ کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیئے کافی ہے۔ لیکن کچھ مفسرین نے بعض روایات کی روشنی میں ایک اور تفسیر کا احتمال ذکر کیا ہے۔ (تشریحی نوٹ: یہ روایات تفسیر قرطبی، تفسیر فخر رازی اور تفسیر مجمع البیان میں ابن عباس سے منقول ہیں۔ اور تفسیر نور الثقلین میں اس بارے میں دو مفصل روایتیں "احتجاج طبرسی" اور تفسیر علی بن ابراہیم سے منقول ہیں (دیکھیئے تفسیر نمونہ جلد نمبر ۴ ))۔ وہ یہ کہ سوال کرنے والے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں اور سوال کیے جانے والے خود انبیائے ماسلف۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ واقعہ شبِ معراج پیش آیا کیونکہ آنحضرتؐ وہاں انبیائے ماسلف کی ارواح سے رابطے کے لیے زمانی اور مکانی روکاٹ نہیں بن سکتے تھے اور پیغمبرؐ گرامی قدر ہر لمحہ اور ہر جگہ ان سے رابط قائم کر سکتے تھے۔ البتہ ان تفسیروں میں کوئی عقلی مشکل موجود نہیں ہے۔ لیکن آیت کا مقصد مشرکین کے مذہب کی نفی کرنا ہے۔ نہ کہ رسُولِؐ پاک کو تسلی دینا، کیونکہ رسُولِؐ پاک مسئلہ توحید میں اس مستغرق اور شرک سے اس قدر بیزار تھے کہ سوال کرنے کی ضرورت ہی محسُوس نہیں فرماتے تھے اور مشرکین کے مقابلے کے لیے دلیل قائم کرنے کے لیے رسُولؐ اللہ کا انبیائے ماسبق کی ارواح سے روحانی رابطہ قائم کرنا انہیں مانع نہیں کر سکتا تھا۔ لہذا پہلی تفسیر زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔ اور ممکن ہے کہ دوسری تفسیر آیت کے باطنی معنی کی طرف اشارہ ہو، کیونکہ قرآنی آیات کا ظاہر بھی ہوتا ہے۔ اور باطن بھی۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں خدا کے ناموں سے ایک نام "رحمان" کو ذکر کیا گیا ہے۔ جو اس سوال کی طرف اشارہ ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ ایسے خدا کو چھوڑ دیں جس کی رحمت عام اور سب پر محیط ہے۔ اور بتُوں کے پیچھے لگ جائیں جن سے کسی قسم کی اچھائی یا بُرائی کی کوئی توقع نہیں ہے۔
پیغمبر کی قوم کون لوگ ہیں؟
"وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ" والی آیت کے بارے میں یہ سوال ہوتا ہے کہ اس میں مذکور "قوم" سے کون لوگ مراد ہیں؟ چنانچہ اس بارے میں تین احتمال ہیں۔ ایک تو تمام اُمّت مسلمہ، دوسرے عرب قوم اور تیسرے قبیلہ قریش۔ چونکہ قرآنی نظر سے بہت سی آیات میں "قوم" کا لفظ انبیاء کی اُمتوں یا ان کی معاصر اقوام کے لیے استعمال ہؤا ہے۔ لہذا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں پر بھی یہی معنی پیشِ نظر ہیں۔ اس صُورت میں قرآن مجید تمام اسلامی اُمتوں کے لیے ذکر و آگاہی کا سبب ہو گا (پہلی تفسیر کے مطابق اور ان سب کے لیے سرمایہ شرف و افتخار ہو گا (دوسری تفسیر کے مطابق)۔ لیکن اہلبیت علیہم السلام کے ذرائع سے ہم تک پہنچنے والی متعدد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آئمہ معصومین علیہم السلام فرماتے ہیں کہ اس آیت میں "قوم" سے مراد ہم لوگ یعنی اہل بیت پیغمبر ہیں۔ (تشریحی نوٹ: ان احادیث کو تفسیر نور الثقلین کے مؤلف نے جلد چہارم، ص ۶۴ تا ۶۵ میں جمع کر دیا)۔ لیکن کوئی بعید نہیں ہے کہ وہ آیت کا ایک روشن مصداق ہوں۔ قوم کا مفہوم خواہ تمام اسلامی امتیں ہوں یا عرب اقوام یا پھر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا قبیلہ، ہر صُورت میں ائمہ اہل بیت علیہم السلام اس کا واضح ترین مصداق ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر مغرور اور عہد شکن فرعونی
Tafsīr Nemūna · Vol. 7ان آیات میں خدا کے رسول حضرت "موسٰی بن عمران" کے کچھ حالات اور ان کی فرعون کے ساتھ ملاقات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ تاکہ مشرکین کی ان بےبنیاد باتوں کا جواب دیا جائے کہ جو وہ کہتے تھے "اگرچہ، خدا نے کوئی پیغمبر ہی بھیجنا تھا تو مکہ یا طائف کے کسی دولت مند شخص کو اس عظیم منصب پر فائز کیوں نہیں کیا؟"۔ فرعون نے بھی موسیٰ علیہ السلام پر یہی اعتراض کیا تھا اور اس کی بھی بالکل یہی منطق تھی۔ فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کی بھی اُونی لباس اور سونے چاندی کے زیورات نہ رکھنے کی بنا پر طعن و تشنیع کی تھی۔ چنانچہ زیر نظر پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے۔ اور ہم ہی نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا"۔ (وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَى بِآيَاتِنَا إِلَى فِرْعَوْنَ وَمَلَائِهِ)۔ (تو مُوسیٰ نے ان سے) کہا: میں سارے جہانوں کے پالنے والے خدا کا رسُول ہوں"۔ (فَقَالَ إِنِّي رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ)۔ "آیات" سے مراد وہ معجزے ہیں جو مُوسیٰ کے پاس تھے اور وہ اپنی حقانیّت کو انہی معجزات کے ذریعے ثابت کیا کرتے تھے۔ ان میں سے دو اہم معجزات تھے: ایک "عصا" اور دوسرا "ید بیضاء"۔ اور جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں "ملاء" (بروزن "خلاء") "ملا" (بروزن "خلع") کے مادہ سے ہے۔ جس کا معنی ہے۔ ایسا گروہ جس کے تمام افراد کا ایک ہی مشترک ہدف ہو اور دیکھنے میں بہت بڑی تعداد نظر آئے، قرآن مجید میں عموماً اشراف، دولت مندوں یا درباریوں کے لیے یہ لفظ بولا گیا ہے۔ "رب العالمین" کا تذکرہ درحقیقت دعویٰ کے ساتھ دلیل کے لحاظ سے ہے۔ کیونکہ صرف وہی عبودیت کے لائق ہے۔ جو تمام جہانوں کا پروردگار اور ان کا مالک اور مربی ہے۔ نہ کہ فرعون اور بتوں جیسی محتاج اور نیاز مند مخلوق۔ اب ہم یہ دیکھیں گے کہ موسٰی علیہ السلام کے منطقی دلائل اور واضح معجزات کے مقابلے میں فرعون اور فرعونیوں کا پہلا ردّعمل کیا تھا۔ اس بارے میں قرآن بعد کی آیتوں میں فرماتا ہے۔ لیکن جب موسیٰ علیہ السلام ان کے پاس ہمارے معجزے لے کر آئے تو وہ سب اس پر ہنستے تهے (فَلَمَّا جَاءَهُم بِآيَاتِنَا إِذَا هُم مِّنْهَا يَضْحَكُونَ)۔ سچّے راہنماؤں کے خلاف تمام طاغوتوں اور مستکبروں کا یہی پہلا ردّعمل ہے۔ ان کے دعوت اور دلائل کو سنجیدہ اور سب کا ہنسی مذاق اُڑا کر ان کی دعوت کا جواب دینا ان کا شیوہ ہوتا ہے۔ تاکہ اس طرح سے وہ دوسرے لوگوں کو سمجھا سکیں کہ سرے سے اور رہبروں کی دعوت نہ تو کسی قسم کے غور کے قابل ہے۔ اور نہ ہی اس کے لیے کسی جواب کی ضرورت ہے۔ اور نہ ہی اس کا سنجیدگی سے نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ لیکن ہم اتمامِ حجت کے طور پر اپنی آیات اور نشانیاں یکے بعد دیگرے بھیجتے رہے ہیں "اور ہم جو آیت (اور معجزاہ) ان کو دکھاتے تھے وہ دوسرے سے بڑھ کر (اور اہم تر) ہوتا تھا"۔ (وَمَا نُرِيهِم مِّنْ آيَةٍ إِلَّا هِيَ أَكْبَرُ مِنْ أُخْتِهَا)۔ (تشریحی نوٹ: "اخت" (بہن) لغت عرب میں ہم قدم اور ہم جنس چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جس طرح دو بہنوں کی آپس میں نسبت ہوتی ہے۔ غرض ہم نے اپنی نشانیاں انہیں دکھائیں جن میں سے ہر ایک دوسرے سے زیادہ اہم، زیادہ واضح اور زیادہ دندان شکن تھی، تاکہ ان کی طرف سے کوئی بہانہ باقی نہ رہ جائے اور وہ غرور، نحوت اور خود خواہی کو ترک کر دیں۔ اس طرح سے ہم نے "عصا" اور "یدِبیضا" جیسے معجزوں کے بعد طوفان، ٹڈی دل، جوؤں اور مینڈکوں وغیرہ جیسے معجزے انہیں دکھائے۔ (تشریحی نوٹ: حضرت موسیٰ علیہ السلام بن عمران کے نو معجزات کی تفصیل تفسیر نمونہ، جلد ۱۲ میں سورہٴ بنی اسرائیل کی آیت نمبر ۱۰۱ کے ذیل میں بیان ہو چکی ہے۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے۔ ہم نے انہیں متنبہ کرنے والے عذابوں اور سزاؤں میں مبتلا کر دیا شاید کہ وہ بیدار ہو جائیں اور راہ حق کی طرف لوٹ آئیں (وَأَخَذْنَاهُم بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ)۔ خشک سالی، قحط اور پھلوں کی کمی نے انہیں آلیا۔ جیسا کہ سورہٴ اعراف کی آیت ۱۳۰ میں ہے۔ "وَلَقَدْ أَخَذْنَا آلَ فِرْعَونَ بِالسِّنِينَ وَنَقْصٍ مِّن الثَّمَرَاتِ" کبھی دریائے نیل کا پانی خون کا رنگ اختیار کر لیتا جو نہ تو پینے کے قابل ہوتا اور نہ ہی آب پاشی کے اور کبھی زرعی آفات ان کے اناج کو نیست و نابُود کر دیتیں۔ یہ تلخ اور درد ناک حوادث اگرچہ وقتی طور پر ان کو بیدار کر دیتے تھے اور وہ حضرت مُوسیٰ علیہ السلام کا دامن پکڑتے تھے لیکن جب مصیبت ٹل جاتی تو وہ سب کچھ بھلا دیتے تھے اور موسٰی علیہ السلام پر تہمتوں کے تیر چلاتے تھے۔ جیسا کہ بعد کی آیت میں ہے۔ انہوں نے کہا اے جادوگر! اس عہد کے مطابق جو تیرے پروردگار نے تجھ سے کیا ہے۔ ہمارے واسطے دُعا کر تاکہ وہ ہمیں اس درد و رنج اور بلا و مصیبت سے نجات دے اور مطمئن رہ کر ہم ہدایت کی راہ کو ضرور اختیار کریں گے۔ (وَقَالُوا يَا أَيُّهَا السَّاحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِندَكَ إِنَّنَا لَمُهْتَدُونَ)۔ یہ عجیب بات ہے۔ ایک طرف حضرت موسیٰؑ کو ساحر کہتے ہیں اور دوسری طرف بلاؤں اور مصیبتوں کے دُور کرنے لیے ان کے دست بداماں ہوتے ہیں اور تیسری طرف ان سے ہدایت اپنانے کا وعدہ کرتے ہیں۔ ان تینوں امور کا ظاہری باہمی عدمِ تناسب مختلف تفسیروں کا سبب بن گیا ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہاں پر "ساحر" بمعنی "عام" کے ہے۔ کیونکہ اس زمانے میں خاص کر مصرِ کے علاقے ہیں ساحروں کو محترم سمجھا جاتا ہے۔ اور انہیں دانشور کی حیثیت سے دیکھا جاتا تھا۔ بعض کا خیال ہے کہ یہاں پر "سحر" کا معنی ایک اہم کام بجا لانا ہے۔ جیسے ہم اپنی روز مرّہ کی گفتگو میں کہتے ہیں کہ "فلاں شخص اپنے کام میں اس حد تک ماہر ہے۔ گویا جادُو کرتا ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے عام لوگوں کے ذہن میں جادوگر مراد ہے۔ اس طرح کی کئی دوسری تفسیریں بھی ہیں۔ لیکن خود پسند باتیں ملتی ہیں اور کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ پہلے انہوں نے حضرت مُوسیٰ علیہ السلام کو جادوگر کہا ہو، پھر ان کے دامن سے متمسک ہوئے ہوں اور آخر میں ہدایت قبول کرنے کا وعدہ کیا ہو۔ اس طرح آیت کی تعبیرات باقی رہتی ہیں اور دوسری توجیہوں اور تفسیروں کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بہرحال، ان کے اندازِ گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حضرت مُوسیٰ علیہ السلام کی ضرورت کے احساس کے باوجود ان سے جھوٹے وعدے کیا کرتے تھے، حتی کہ بےچارگی اور سخت ضرورت کو بیان کرتے وقت بھی وہ غرور کو نہیں چھوڑتے تھے۔ اس لیے انہوں نے "ربّک" (تیرا رب) اور "بما عھد عندک" (اس نے جو وعدہ تجھ سے کیا ہے۔ کے الفاظ استعمال کیے اور کبھی نہیں کہا "ہمارا پروردگار" یا "جو وعدہ اس نے ہم سے فرمایا ہے۔ حالانکہ موسیٰ علیہ السلام نے انہیں واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ "میں سارے جہانوں کے پروردگار کا رسُول ہوں" نہ کہ "اپنے پروردگار" کا۔ جی ہاں! جب سر پھرے مغرور، تخت اقتدار پر متمکن ہو جاتے ہیں تو ان کی منطقی ایسی ہی ہوتی ہے۔ لیکن موسیٰ علیہ السلام نے اس قسم کی چھبتی اور توہین آمیز گفتگو کی وجہ سے کبھی ان کی ہدایت سے دست کشی نہیں کی اور ان کی خیرہ سری پر مایوس نہیں ہُوئے اور نہ ہی تھکنے کا نام لیا بلکہ اپنا کام برابر جاری رکھّا۔ بار ہا دُعا کی کہ طوفانِ بلا تھم جائے اور وہ تھم جاتا، لیکن جیسا کہ بعد کی آیت میں فرمایا گیا ہے۔ جب بھی ہم ان سے عذاب ہٹا دیتے ہیں وہ اپنا عہد توڑ ڈالتے۔ اور اپنی ہٹ دھرمی اور للکار پر قائم رہتے۔ (فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِذَا هُمْ يَنكُثُونَ)۔ یہ سب مسلمانوں کے لیے زندہ اور گویا درس ہیں اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دِل جوئی اور تسلی کا باعث ہیں کہ وہ مخالفوں کی ہٹ دھرمی اور مخالفت سے ہرگز گھبرائیں بلکہ اپنی انتھک کوششوں کو جاری رکھیں۔ خدا چاہتا ہے۔ اُن کے قلب و رُوح پر مایُوسی اور نااُمیدی کی گرد نہ پڑے اور انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ؏ رگ رگ است ایں آب شیریں وآب شور لہذا انہیں استقامت اور پامردی کے ساتھ پہلے سے زیادہ پیش قدمی کرنی چاہیئے۔ جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل نے کہا اور انجام کار وہ فرعون اور فرعونیوں پر غالب آئے۔ نیز یہ سخت اور ہٹ دھرم اور دشمنوں کے لیے ایک سخت تنبیہ ہے کہ وہ فرعون اور اس کے ساتھیوں سے نہ تو زیادہ طاقت ور ہیں اور نہ ہی ان جیسے صاحبِ اقتدار، لہذا ان کے کاموں کا انجام بھی دیکھ لیں اور اپنے کاموں کی عاقبت کے بارے میں بھی سوچ لیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 56 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 56 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 56 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 56 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 56 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر موسیٰؑ کے پاس سونے کے گنگن کیوں نہیں؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 7حضرت موسٰی علیہ السلام کی منطق ایک طرف، ان کے مختلف معجزات دوسری طرف اور مِصر کے لوگوں پر نازل ہونے والی بلائیں جو مُو سیٰ علیہ السلام کی دُعاء کی برکت سے ٹل جاتی تھیں تیسری طرف، ان سب اسباب نے مجموعی طور پر اسی ماحول پر گہرے اثرات ڈالے اور فرعون کے بارے میں لوگوں کے افکار کو ڈانواں ڈول کر دیا اور انہیں پُورے مذہبی اور معاشرتی نظام کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا۔ اس موقع پر فرعون نے اپنے دھوکہ دہی کے ذریعے موسیٰ علیہ السلام کا اثر مِصری لوگوں کے ذہن سے ختم کرنے کی کوشش کی اور پست اقدار کا سہارا لیا جو اس ماحول پر حکم فرما تھیں۔ اُنھیں اقدار کے ذریعے اپنا اور موسٰی علیہ السلام کا موازنہ شروع کر دیا تاکہ اس طرح لوگوں پر اپنی برتری کو پایئہ ثبوت تک پہنچائے۔ جیسا کہ قرآن پاک انہی آیات میں فرماتا ہے۔ اور فرعون نے اپنے لوگوں کو پکار کر کہا: اے میری قوم! آیا مِصر کی وسیع و عریض سرزمین پر میری حکومت نہیں ہے۔ اور کیا یہ عظیم دریا میرے حکم سے نہیں بہ رہے اور میرے محلوں،کھیتوں اور باغوں سے نہیں گزر رہے ہیں؟ کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟ (وَنَادَى فِرْعَوْنُ فِي قَوْمِهِ قَالَ يَا قَوْمِ أَلَيْسَ لِي مُلْكُ مِصْرَ وَهَذِهِ الْأَنْهَارُ تَجْرِي مِن تَحْتِي أَفَلَا تُبْصِرُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: "وَهَذِهِ الْأَنْهَارُ تَجْرِي مِن تَحْتِي" میں موجود "واؤ" ممکن ہے کہ "عاطفہ" اور اس کا عطف "ملک مصر" پر اور ممکن ہے کہ "حالیہ" پر ہو (تفسیر کشاف) لیکن احتمال زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ لیکن مُوسٰی کے پاس کیا ہے۔ کچھ بھی نہیں۔ ایک لاٹھی اور ایک اونی لباس اور بس تو کیا اس کی شخصیّت بڑی ہو گی یا میری؟ آیا وہ سچ بات کہتا ہے۔ یا میں؟ اپنی آنکھیں کھو لو اور بات اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کرو"۔ اس طرح فرعون نے مصنوعی اقدار کو لوگوں کے سامنے پیش کیا، بالکل ویسے ہی جیسے عصر جاہلیّت کے بُت پرستوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مقابلہ میں مال و مقام کو صحیح انسانی اقدار سمجھ رکھّا تھا۔ لفظ "نادٰی" (پکار کر کہا) سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون نے اپنی مملکت کے مشاہیر کی ایک عظیم محفل جمائی اور بلند آواز کے ساتھ ان سب کو مخاطب کرتے ہُوئے یہ جُملے ادا کیے، یا حکم دیا کہ اس کی اس آواز کو ایک سرکاری حکم نامے کے ذریعے پورے ملک میں بیان کیا جائے۔ یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دریائے نیل کو "انہار" (نہر کی جمع) سے کیوں تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عظیم دریا ایک وسیع سمندر کے مانند ہے۔ جو نہروں میں تقسیم ہو کر مِصر کے تمام آباد علاقوں کو سیراب کرتا ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ دریائے نیل سے تین سو ساٹھ (۳۶۰) نہریں نکلیں تھیں جن میں سے زیادہ اہم "نھر الملک" "نھر طولون" "نھر دمیاط" اور"نھر تنیس" تھیں۔ آخر فرعون نے نیل کی نہروں پر زیادہ زور کیوں دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مِصر کی تمام آبادی، دولت، طاقت اور تمدن اس دریا کے مرہونِ منت تھے۔ لہذا فرعون نے اس پر ناز کیا اور موسیٰ علیہ السلام پر اپنی برتری جتائی۔ "تجری من تحتی"کا مقصد یہ نہیں کہ دریائے نیل اس کے محل کے نیچے سے گزر رہا تھا، جیسا کہ مفسرین نے مراد لیا ہے۔ کیونکہ دریائے نیل اس سے بہت بڑا تھا کہ وہ اس کے محل کے نیچے سے گزرے اور اگر اس سے مراد یہ ہے کہ اس کے محل کے پاس سے گزرتا تھا تو مصر کے بہت سے محلات ایسے تھے، جن کے پاس سے یہ دریا گزرتا تھا اور مُلک کی بہت بڑی آبادی اس کے دونوں کناروں پر آباد تھی، بلکہ مراد یہ ہے کہ یہ دریا میرے زیرِ فرمان چل رہا ہے۔ اور اس کی تقسیم کا نظام بھی میرے حسب منشاء مقرر کردہ قوانین کے تحت چل رہا ہے۔ قرآن آگے چل کر فرماتا ہے کہ فرعون نے کہا: میں اس شخص سے برتر ہوں جو ایک پست خاندان اور طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔ اور صاف طور پر بات بھی نہیں کر سکتا۔ (أَمْ أَنَا خَيْرٌ مِّنْ هَذَا الَّذِي هُوَ مَهِينٌ وَلَا يَكَادُ يُبِينُ)۔ (تشریحی نوٹ: مندرجہ بالا جُملہ میں کُچھ مفسرین نے "ام" کو"منقطعہ" اور"بل" کے معنی میں لیا ہے۔ اور بعض نے اسے "متصلہ" اور"افلا تبصرون" سے متعلق سمجھا ہے۔ جو تقدیری طور پر یوں ہو گا:"افلا تبصرون ام تبصرون انا خیر من ھٰذا۔..")۔ اس طرح سے اس نے اپنے لیے دو بڑے اعزازات (حکومت مصر اور نیل کی ملکیّت) اور موسٰی کے دو کمزور پہلو(فقر اور لکنت زبان) بیان کر دیئے۔ حالانکہ اس وقت مُوسٰی کی زبان میں لکنت نہ تھی۔کیونکہ خدا نے ان کی دعا کو قبول فرما لیا تھا، اور زبان کی لکنت کو دُور کر دیا تھا کیونکہ مُوسٰی علیہ السلام نے مبعوث ہوتے ہی خدا سے یہ دُعا مانگی تھی کہ "وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي" (خداوندا میری زبان کی گرہیں کھول دے) (ملاحظہ ہو سُورہٴطٰہٰ آیت ۲۷) اور یقیناً ان کی دعا قبول ہوئی اور قرآن بھی اس بات پر گواہ ہے۔ بےپناہ دولت، فاخرہ لباس اور چکا چوند کرتے محلات مظلوم طبقے پر ظلم و ستم کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں۔ ان کا مالک نہ ہونا صرف عیب کی بات ہی نہیں بلکہ باعث صد افتخار شرافت اور عزت کا سبب بھی ہے۔ "مھین" (پست) کی تعبیر سے ممکن ہے۔ اس دور کے اجتماعی طبقات کی طرف اشارہ ہو، کیونکہ اس دور میں بڑے بڑے سرمایہ داروں کا معاشرہ کے بلند طبقوں میں شمار ہوتا تھا اور محنت کشوں اور کم آمدنی والے لوگوں کا پست طبقے میں۔ یا پھر ممکن ہے۔ موسیٰ کی قوم کی طرف اشارہ ہو کیونکہ ان کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا اور فرعون کی قبطی قوم اپنے آپ کو سردار اور آقا سمجھتی تھی۔ پھر فرعون دو اور بہانوں کا سہارا لیتے ہوئے کہتا ہے۔ اسے سونے کے کنگن کیوں نہیں دیئے گئے یا اس کے ساتھ فرشتے کیوں نہیں آئے کہ جو اس کی باتوں کی تصدیق کرتے: (َلَوْلَا أُلْقِيَ عَلَيْهِ أَسْوِرَةٌ مِّن ذَهَبٍ أَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلَائِكَةُ مُقْتَرِنِينَ)۔ (تشریحی نوٹ: "مقترنین" کا معنی "مقتابعین" یا "متعاضدین" بیان کیا گیا ہے۔ اور بعض مفسرین کہتے ہیں یہاں پر "اقتران" بمعنی "تقارتن" ہے۔ اگر خدا نے اسے رسُول بنایا ہے۔ تو دوسرے رسُولوں کے مانند اسے طلائی کنگن کیوں دیئے اور اس کے لیے مددگار کیوں نہیں مقرر کیے؟ کہتے ہیں کہ فرعونی قوم کا عقیدہ تھا کہ روساء اور سربراہوں کو ہمیشہ طلائی کنگنوں اور سونے کے ہاروں سے مزین ہونا چاہیئے اور چونکہ مُوسٰی علیہ السلام کے پاس اس قسم کے زیورات نہیں تھے بلکہ ان زیورات کے بجائے وہ چرواہوں والا موٹا سا اُونی کُرتہ زیبِ تن کیے ہُوئے تھے، لہذا ان لوگوں نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا اور یہی حال ان لوگوں کا ہوتا ہے۔ جو انسان شخصیّت کے پرکھنے کا معیار سونا، چاندی اور دوسرے زیورات کو سمجھتے ہیں۔ لیکن انبیاء کرام علیہم السلام ایسی چیزوں سے ہٹ کر رہتے ہیں۔ خاص کر وہ اپنے کردار سے ایسی جھوٹی اقدار خاتمہ کر کے ان کی جگہ صحیح انسانی اقدار یعنی علمِ، تقوٰے اور طہارت کی حکرامنی دیکھنا چاہتے ہیں، کیونکہ جب تک کسی معاشرے کی قدروں کا نظام درست نہیں ہو گا وہ معاشرہ کبھی بھی سعادت اور سربلندیوں پر فائز نہیں ہو سکتا۔ بہرحال، فرعون کا یہ بہانہ بھی مشرکین مکّہ کے اس بہانے کے مانند تھا، جس کے متعلق ہم چند آیات پہلے پڑھ چکے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن مکّہ یا طائف کے کسی دولت مند شخص پر کیوں نازل نہیں ہوا؟ دوسرا بہانہ وہی مشہور بہانہ ہے۔ جو بہت سی گمراہی اور سرکش امتیں انبیاء کرام علیہم السلام کے سامنے پیش کیا کرتی تھیں،کبھی تو کہتی تھیں کہ "وہ انسان کیوں ہے۔ اور فرشتہ کیوں نہیں؟ اور کبھی کہتی تھیں کہ "اگر وہ انسان ہے۔ تو پھر کم از کم اس کے ہمراہ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا؟" حالانکہ انسانوں کی طرف بھیجے ہوئے رسُولوں کو نوعِ انسانی کا حاصل ہونا چاہیئے تاکہ وہ ان کی ضرورتوں، مشکلوں اور مسائل کو محسوس کر سکیں اور انہیں ان کا جواب دے سکیں اور عملی لحاظ سے ان کے لیے نمونہ اور اُسوہ قرار پا سکیں۔ (تشریحی نوٹ: اس بارے میں تفسیر نمونہ کی پانچویں جلد میں سُورہ انعام کی آیت۹ کے ذیل میں تفصیل سے گفتگو ہو چکی ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ "اسورة" "سوار" (بروزن "ہزار") کی جمع ہے۔ جس کا معنی "کنگن"ہے۔ خواہ وہ طلائی ہوں یا نقرئی اور اس کی بنیاد ایک فارسی لفظ "دستوارہ" ہے۔ وہ اور "اسار" جمع الجموع ہے۔ بعد کی آیت میں قرآن مجید ایک لطیف نکتے کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ اور وہ یہ کہ فرعون حقیقت الامر سے قطعًا غافل نہیں تھا اور اِن اقدار کے بےوقعت ہونے کی طرف بھی کم و بیش متوجہ تھا۔ لیکن "اس نے ان باتوں کے ذریعے اپنی قوم کو احمق بنایا اور ان کی عقلوں کو ہلکا سمجھا اور انہوں نے اس کی اطاعت کی (فَاسْتَخَفَّ قَوْمَہُ فَاَطاعُوہُ)۔ اصولی طور پر تمام جابر اور فاسد حکومتوں کا طریقِ کار یہی ہوتا ہے۔ اپنی خود سری اور ظالمانہ روش کو جاری رکھنے کے لیے لوگوں کی سطح فکر کو پست کر دیتی ہیں، مختلف حیلوں اور بہانوں سے انہیں احمق اور بےوقوف بنائے راہتی ہیں۔ انہیں حقائق کے ادراک سے دُور رکھتی ہیں اور سچی اقدار کی جگہ جھوٹی اقدار کو رواج دیتی ہیں۔ اور ہمیشہ حائق سے دُور رکھنے کے لیے ان کی برین واشنگ (Brain Washing)کرتی رہتی ہیں کیونکہ ملتوں اور اقوام کی بیداری اور ان کی فکری آگاہی خود و غرض اور شیطانی حکومتوں کی بہت بڑی دشمن ہوتی ہے۔ جسے یہ حکومتیں اپنی پوری طاقت سے ختم کرنے کے درپے ہوتی ہیں۔ فرعون کا یہ طریقہ کار یعنی لوگوں کو احمق بنایا اور ان کی عقلوں کو ہلکا سمجھنا، ہمارے دور کے بھی تمام فاسد معاشروں میں بڑی شدّد ومدّ کے ساتھ حکم فرما ہے۔ اس مقصد تک پہنچنے کے لیے فرعون کے پاس تو محُدُور وسائل تھے مگر آج کے طاغوتوں کے پاس اس سے زیادہ وسائل موجود ہیں۔ ذرائع ابلاغ عامہ، اخبارات و رسائل، ریڈیو، ٹیلیویژن اور طرح طرح سے پوری طرح سے حقائق سے بےخبر رہیں اور ان طاغوتوں کی اطاعت کرتے رہیں۔ اسی لیے دین دوست دانشوروں اور رہنماؤں پر ایک عظیم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو بےوقوف بنانے کے پروگرام کا ڈٹ کر مقابلہ کریں اور یہی ان کا اہم ترین فریضہ ہے۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ مندرجہ بالا آیات کو اس جُملے کے ساتھ مکمل کیا گیا ہے۔ "بےشک وہ لوگ بدکار تھے" (إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر یہ لوگ فاسق نہ ہوتے اور خدا کی اطاعت اور عقل کے فیصلوں سے خارج نہ ہوتے ہیں تو اس قسم کے پروپیگنڈا کو قطعاً صحیح نہ سمجھتے اور اپنی ہی گمراہی کے اسباب خود فراہم نہ کرتے۔ اسی لیے وہ ہرگز معذور اور مجبور نہ تھے۔ یہ ٹھیک ہے کہ فرعون نے ان کی عقلوں پر ڈاکہ ڈال کر اپنی اطاعت پر مائل کر لیا تھا، لیکن اندھا دھند طریقے سے اس کے آگے سرتسلیم خم کر کے انہوں نے اس ڈاکے کے اسباب از خود فراہم کیے تھے۔یقیناً وہ خود بھی فاسق تھے اور ایک فاسق کے تابع فرمان بن گئے تھے۔ یہ تھی خدا کے رسُول حضرت موسٰی علیہ السلام کے مقابلے میں فرعون اور اہل فرعون کی فریب کاری۔ اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ان تمام وعظ و نصیحت اور مختلف طریقوں سے اتمامِ حجّت کے بعد اور ان کے حق کے سامنے سرتسلیم خم نہ کرنے کی وجہ سے ان کا انجام کیا ہوا؟۔ اس بارے میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ جب ان لوگوں نے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے ہمیں غضب ناک کر دیا تو ہم نے بھی ان سے بدلہ اور ان سب کو غرق کر دیا (فَلَمَّا آسَفُونَا انتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَاهُمْ أَجْمَعِينَ)۔ خداوندِ عالم نے ان کے لیے اپنے تمام عذابوں میں سے غرقابی کے عذاب کو خاص طور پر منتخب کیا، کیونکہ ان کی تمام عزت و عظمت اور شان و شوکت دریائے نیل اور اس کی عظیم و وسیع نہروں کی وجہ سے تھی کہ اپنے تمام قدرتی وسائل میں سے فرعون نے صرف اسی کا ذکر کیا اور کہا: "أَلَيْسَ لِي مُلْكُ مِصْرَ وَهَذِهِ الْأَنْهَارُ تَجْرِي مِن تَحْتِي" "آیا مصر پر میری حکومت نہیں ہے۔ اور کیا یہ نہریں میرے حکم کے مطابق نہیں چل رہیں؟"۔ تو جو چیزیں ان کی زندگی اور طاقت کا سبب تھیں، انہیں کو ان کی فنا و بربادی کا موجب اور گورستان بننا چاہیئے تھا تاکہ سب لوگ اس سے عبرت حاصل کریں۔ (تشریحی نوٹ: جیساکہ شاعر کہتا ہے۔ در سرداری کہ باشدّت سر داری ہم در سر آن روی کہ سر داری ترجمہ: جس سرداری میں تم زور شور سے سر کھپا رہے ہو۔ اسی چیز کے سر میں تمہیں جانا چاہیئے، کہ جس کا خیال تم اپنے سر میں رکھے ہُوئے)۔ "اٰسفونا"کے مادہ سے ہے۔ جن کا معنی "غم" بھی ہے۔ اور "غصّہ" بھی۔ بلکہ "مفردات" میں "راغب" کے بقول کبھی "غم و غصّہ" یعنی دونوں معانی کے لیے بھی آتا ہے۔ اور کبھی علیٰحدہ علیٰحدہ معانی کے لیے بھی آتا ہے۔ کیونکہ درحقیقت ایک اندرونی ہیجان ہوتا ہے۔ جو انسان کو انتقام پر آمادہ کرتا ہے۔ اور جب اس کی نسبت اپنے ماتحتوں کی طرف ہو تو غصّے کی صُورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اور جب افراد بالا کی طرف ہو تو "غم" کی صورت میں آشکار ہوتا ہے۔ لہٰذا جب ابنِ عباس سے پوچھا گیا کہ "حزن" اور غضب میں کیا فرق ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا: ان کی بنیاد اور اصل تو ایک ہے۔ لیکن الفاظ مختلف ہیں۔ (تشریحی نوٹ: مفردات راغب مادہ "اسف")۔ بعض مفسرین نے "اٰسفونا" کا مفہوم "اٰسفو رسلنا" لیا ہے۔ (یعنی ہمارے رسولوں کو مخرون مغموم کر دیا) لیکن یہ تفسیر بعید معلوم ہوتی ہے۔ اور اس قسم کے ظاہری اختلاف کو اپنانے کی ضرورت بھی معلوم نہیں ہوتی۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ خدا کے بارے میں نہ تو "رنج و غم" کا کوئی مفہوم ہوتا ہے۔ اور نہ ہی "غصّے" کا جیساکہ ہمارے درمیان مشہور ہے۔ بلکہ خدا کا "غیظ و غضب" "سزا کا ارادہ" ہوتا ہے۔ اور اس کی رضا مندی "ثواب کا ارادہ" ہوتا ہے۔ زیر تفسیر آیات میں سے آخری آیت کو اس مجموعی گفتگو کے نتیجے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے۔ اور ہم نے انہیں عذاب میں پیش قدم اور دوسروں کے لیے عبرت بنا دیا (فَجَعَلْنَاهُمْ سَلَفًا وَمَثَلًا لِلْآخِرِينَ)۔ لغت میں "سلف" آگے جانے والی چیز کو کہتے ہیں۔ لہذا آگے چلی جانے والی نسلوں کو "سلف" اور ان کے بعد آنے والوں کو "خلف" کہا جاتا ہے۔ اور جو سودے پیشگی طے پا جاتے ہیں انہیں بھی"سلف"کہا جاتا ہے۔ کیونکہ ان کی قیمت پیشگی ادا کر دی جاتی ہے۔ نیز "مثل" کا معنی وہ گفتگو ہے۔ جو لوگوں کے درمیان عبرت کی صُورت میں رائج ہوتی ہے۔ چونکہ فرعون اور فرعونیوں کا ماجرا اور ان کا درد ناک انجام ایک عظیم عبرت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی لیے اسے دوسری قوموں کے لیے "مثل"کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 62 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 62 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 62 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 62 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 62 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 7سیرت ابنِ ہشام میں ہے۔ ایک دن رسُولِ خدا ولید بن مغیرہ کے ساتھ مسجد میں تشریف فرما تھے کہ نصر بن حارث بھی ان کے ساتھ آ کر بیٹھ گی۔ قریشی سرداروں کے کئی اور لوگ بھی اس محفل میں بیٹھے ہُوئے تھے۔ رسُول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ان سے بات کی تو نصر بن حارث آپؐ کے مقابلے میں کھڑا ہو گیا۔ رسُو ل اللہؐ نے بُت پرستی کے غلط ہونے کو ثابت کرتے ہُوئے منطقی دلائل کے ذریعے اس خاموش کر دیا اور پھر ان کے سامنے اس آیت کی تلاوت کی۔ "إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمْ لَهَا وَارِدُونَo لَوْ كَانَ هَؤُلَاءِ آلِهَةً مَّا وَرَدُوهَا وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ" “تم لوگ اور خدا کے علاوہ وہ معبُود کہ جن کی تم پرستش کرتے ہو جہنم کا ایندھن بنو گے، اور تم سب اس میں داخل ہو گے۔ اگر یہ خدا ہوتے تو کبھی جہنم میں نہ جاتے اور تم سب اس میں ہمیشہ رہو گے"۔ اس واقعے کے بعد آنحضرتؐ اپنی جگہ اُٹھ کر چلے گئے۔ اسی اثناء میں عبداللہ بن زبعری آ گیا اور ان لوگوں سے مِل گیا۔ ولید نے عبداللہ سے کہا: نصر بن حارث تو محمد(ص)کے مقابلے میں عاجز آ گیا ہے۔ اور کوئی جواب نہیں دے سکا۔ محمد (ص) کا گمان ہے کہ ہم اور ہمارے سارے معبُود جہنم کا ایندھن ہیں، عبداللہ نے کہا: خدا کی قسم! اگر میں اسے دیکھتا تو ضرور اس کو جواب دیتا۔ تم اس سے پوچھو کہ اگر ایسی ہی صورتِ حال ہے۔ تو کیا سب عابد اور معبُود جہنم میں جائیں گے؟ پھر ہم تو فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں، یہودی عزیز کی اور نصاریٰ عیسٰی بن مریم کی (پھر کیا حرج ہے کہ ہم فرشتوں اور عزیز و عیسٰی جیسے انبیاء کے ساتھ ایک ہی جگہ پر ہوں)۔ یہ جواب ولید اور دوسرے حاضرین کو بہت پسند آیا۔ ان کے نزدیک یہ ایک دندان شکن جواب تھا۔ چنانچہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں جا کر یہی کچھ کہا، تو آنحضرت نے ارشاد فرمایا: جی ہاں! جیسے بھی معبُود بننا پسند ہے۔ وہ اپنے عابدوں کے ساتھ جہنم میں جائے گا اور یہ بُت پرست تو درحقیقت شیطانوں کی عبادت کرتے تھے اور جن چیزوں کی عبادت کا شیطان انہیں حکم دیتا تھا۔ اس موقع پر سُورہ انبیاء کی آیت ۱۰۱ نازل ہوئی کہ: "إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَى أُوْلَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ" جن لوگوں سے ہم نے اس سے قبل نیکی کا وعدہ کیا تھا (وہ باایمان لوگ جو معبُود بننے پر ہرگز راضی نہیں تھے) وہ اس سے دُور رکھے جائیں گے۔ اس سلسلے میں زیر تفسیر آیت"وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلاً إِذا قَوْمُکَ مِنْہُ یَصِدُّونَ" بھی نازل ہوئی۔ (بحوالہ: سیرت ابن ہشام، جلد اوّل، ص ۳۸۵، تھوڑے سے اختصار کے ساتھ)۔
تفسیر کون سے معبُود جہنّمی ہیں؟
ان آیات میں کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے خدا ہونے کے بارے میں اورا ن کی اور بتُّوں کی خدائی کے بارے میں مشرکین کے عقیدے کی نفی کی بات کی گئی ہے۔ اور گزشتہ آیات میں حضرت مُوسٰی علیہ السلام کی دعوت اور ان کی فرعونی بُت پرستوں کے ساتھ محاذ آرائی کا جو تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس کے تتمہ کی صُورت میں بیان ہو رہی ہیں اور زمانہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مشرکوں بلکہ تمام کائنات کے مشرکوں کے لیے زبردست تنبیہ بھی ہے۔ اگرچہ یہ آیات مجمل صُورت میں گفتگو کر رہی ہیں، لیکن خود ان آیات میں اور قرآن کی دوسری آیات میں قرینہ پایا جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف مفسرین کی طرح طرح کی تفسیروں کے برعکس ان کا مضمون کسی طرح بھی پیچیدہ نہیں ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے۔ اور جب مریم کے بیٹے کی مثال بیان کی گئی تو اس سے تیری قوم کے افراد ہنسنے اور روگردان ہو گئے (وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ)۔ (تشریحی نوٹ: "یصدون" "صد" کے مادہ سے ہے۔ (اگر اس کا فعل مضارع صاد کے کسرہ کے ساتھ ہو، تو اس کا معنی کھلکھلا کر ہنسنا، ٹھٹھے مارنا اور شور مچانا (جیسا کہ عام طور پر کسی کا استہزار کرنے کے وقت کیا جاتا ہے۔ (ملاحظہ ہو لسان العرب مادہ "صدر"))۔ یہ مثال کیا تھی اور کس نے عیسٰی بن مریم علیہ السلام کے بارے میں پیش کی تھی؟ یہ وہ سوال ہے کہ جس کے جواب میں مفسرین میں اختلاف ہے۔ آیت کی تفسیر کے سمجھنے کا راز بھی خود اسی میں مضمر ہے۔ لیکن بعد کی آیات میں غور کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ "مثل" مشرکین کی طرف سے تھی اور ان کی بُتوں ہی سے متعلق تھی، کیونکہ بعد کی آیات میں ہے۔ "ما ضربوہ لک الّا جدلاً ۔" انہوں نے یہ مثال صرف بیان ہی جھگڑے کے لیے کی تھی۔ اس حقیقت کو اور شانِ نزول میں بیان ہونے والے حقائق کے پیش نظر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مثال سے مراد وہی چیز ہے۔ جب مشرکین نے یہ آیت: "إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ” "تم اور خدا کے علاوہ تمام وہ معبُود جن کی تم عبادت کرتے ہو، جہنم کا ایندھن ہیں"۔ (سورہٴ انبیاء، ۹۸)۔ سننے کے بعد استہزار اور مذاق کے طور پر کہی تھی اور وہ یہ تھی کہ عیسٰی بن مریم علیہ السلام بھی تو معبُود تھے اور اس آیت کی رُو سے انہیں بھی جہنم میں جانا چاہیئے، اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے کہ ہم اور ہمارے بُت حضرت عیسٰی علیہ السلام کے ہمسائے ہوں۔ انہوں نے یہ کہا اور کھِل کھِلا کر ہنسنے لگے اور خوب مذاق اڑانے لگے۔ پھر انہوں نے کہا: آیا ہمارے خدا بہتر ہیں یا عیسٰی مسیح علیہ السلام (وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ)۔ اگر وہ جہنم میں جائیں گے تو ہمارے معبُود تو ان سے بڑھ کر نہیں ہیں۔ لیکن تجھے معلوم ہونا چاہیئے کہ وہ تمام حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں۔ "اور ان لوگوں نے جو مثال تجھ سے بیان کی ہے۔ تو وہ صرف جھگڑنے کے لیے ہے۔ (مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا)۔ "بلکہ یہ لوگ تو ہیں ہی کینہ پرور اور جھگڑالو" اور حق کے خلاف باطل کا سہارا لیتے ہیں (بَلْ ھُمْ قَوْمٌ خَصِمُون)۔ (تشریحی نوٹ: "خصمون"، "خصم"(بروزن "فطن") کی جمع ہے۔ جس کا معنی ہے۔ بہت ہی لڑنے جھگڑنے والا")۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ صرف وہی معبُود جہنم میں جائیں گے جو اپنے لیے عبادت کرنے والوں کی عبادت پر راضی تھے، جیسے فرعون کہ جس نے لوگوں کو اپنی عبادت کی دعوت دی تھی نہ کہ مسیح جیسے، جو لوگوں کے اس قسم کے عمل سے بیزار تھے، اور بیزار ہیں۔ "بلکہ وہ تو صرف ایک بندہ تھا جسے ہم نے اپنی نعمتوں سے نوازا" ہم نے اسے منصب عطا کر کے لوگوں کی ہدایت کے لیے مبعوث کیا تھا (إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ)۔ اور اسے ہم نے بنی اسرائیل کے لیے ایک نمونہ بنایا (وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ)۔ اس کا بغیر باپ کے شکم مادر سے پیدا ہونا خدا کی آیات میں سے ایک آیت تھا۔ گہوارے میں باتیں کرنا ایک اور آیت اور پھر اس کا ہر ایک معجزہ عظمتِ الہٰی اور اس کی اپنی نبوّت کی واضح نشانی تھی۔ عیسٰی ساری زندگی خدا کی بندگی میں رہا اور تمام لوگوں کو اسی کی بندگی کی دعوت دیتا رہا۔ جیساکہ خدا تعالیٰ خود کہتا ہے۔ جب تک وہ اس دُنیا میں تھا، اُس نے توحید کی راہ سے کسی کو بھٹکنے کی اجازت نہ دی جبکہ عیسٰی علیہ السلام کی الوہیّت یا تثلیث کے خرافاتی عقیدے کی بنیاد ان کے بعد لوگوں نے ڈالی۔ (تشریحی نوٹ: مفسرین نے مندرجہ بالا آیات کی تفسیر میں اور بھی کئی احتمال ذکر کیے ہیں اور ان میں سے مجموعی طور پر کوئی بھی آیات کے مضامین میں سے مطابقت نہیں رکھتا: ۱۔کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ مشرکین نے جو"مثال" بیان کی ہے۔ وہ یہ ہے کہ انہوں نے قرآنی آیات میں حضرت عیسٰی علیہ السلام اور ان کی سرگزشت کا ذکر کرنے کے بعد کہا کہ "محمدؐ" اس بات کے لیے راہ ہموار کر رہا ہے کہ وہ ہمیں اپنی خدائی کی دعوت دے"۔ لیکن قرآن مجید آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دفاع کرتے ہُوئے کہتا ہے۔ نہ تو عیسٰی الوہیّت کے مدعی تھے اور نہ ہی وہ ہوں گے۔ ۲۔بعد نے کہا ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں "مثل" سے مراد وہ تشبیہ ہے۔ جو خدا وندتعالیٰ نے سورہٴ آلِ عمران کی آیت۵۹ میں حضرت عیسٰی علیہ السلام اورحضرت آدم علیہ السلام کے بارے میںذکر فر مائی کہ : ” إِنَّ مَثَلَ عیسی عِنْدَ اللَّہِ کَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَہُ مِنْ تُرابٍ ثُمَّ قالَ لَہُ کُنْ فَیَکُون“ "اللہ کے نزدیک عیسٰی علیہ السلام آدم کے مانند ہے کہ جسے خدا نے مٹی سے بنایا، پھر فرمایا کہ ہو جا، پس وہ ہو گیا"۔ (اگر عیسٰی باپ کے بغیر پیدا ہوا ہے۔ تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ کیونکہ آدم تو ماں اور باپ (دونوں)کے بغیر مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔ ۳۔ بعض نے کہا ہے کہ "مثل" سے مراد مشرکین کی وہ باتیں ہیں جو وہ کہتے تھے کہ "اگر عیسٰی علیہ السلام کی عبادت کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہ اپنے معبودوں کی عبادت کریں، جو اُن سے افضل ہیں"۔ لیکن مندرجہ بالا آیات میں جو خصوصیات بیان کی گئی ہیں اگر ان کی طرف دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ مذکورہ تینوں تفسیروں میں سے کوئی بھی ٹھیک نہیں ہے۔ کیونکہ آیات سے بخوبی معلوم ہوتا ہے۔ ۱۔یہ مثل خود مشرکین کی طرف سے تھی۔ ۲۔ ایسی بات تھی جو ان کی نگاہوں میں عجیب و غریب اور مضحکہ خیز تھی۔ ۳۔ ایسی چیز تھی جو عیسٰی کی الوہیت کے خلاف تھی۔ ۴۔ان کے اس مقصد کو پورا کر رہی تھی جس کی وجہ سے ایک جھُوٹی بات پر جھگڑا کھڑا ہو گیا تھا۔ اور یہ تمام خصوصیات صرف اس تفسیر سے مطابقت رکھتی ہیں جو ہم نے سطور بالا میں متن میں بیان کی ہیں)۔ یہ بات بھی لائق توجہ اور قابلِ ذکر ہے کہ شیعہ اور سُنی طریقوں سے منقول ہونے والی متعدد روایات میں موجود ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: "ان فیک مثلامن عیسٰی احبہ قوم فھلکوا فیہ وابغضہ قوم فھلکوا فیہ فقال المنافقون اما رضی لہ مثلا الاعیسٰی، فنزلت قو لہ تعالیٰ: "وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلاً إِذا قَوْمُکَ مِنْہُ یَصِدُّونَ"۔ "تمہارے اندر عیسٰی کی علامتیں موجُود ہیں، کچھ لوگوں نے تو ان سے محبت کی اور اس قدر غلو کیا کہ انہیں خدا کہنے لگے، اور اسی وجہ سے وہ ہلاک ہو گئے اور کچھ لوگوں نے ان سے دشمنی کا اظہار کیا (جیسا کہ یہودیوں نے کیا کہ وہ ان کے قتل پر کمربستہ ہو گئے" وہ بھی ہلاک ہو گئے۔ (اسی طرح کچھ لوگ تمہیں خدا سمجھیں گے اور کچھ لوگ دشمنی پر کمر باندھ لیں گے) تو منافقین نے جب یہ با ت سُنی تو اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ عیسٰی کے علاوہ انہیں کوئی مثال نہیں ملی؟ تو اس موقع پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی "وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ..." مندرجہ بالا گفتگو اس روایت کا متن ہے۔ جسے اہل سنت کے مشہور عالم حافظ "ابوبکر بن مردو یہ"نے اپنی کتاب "مناقب" میں ذکر کیا ہے۔ (منقول از کشف الغمہ، ص ۹۵)۔ بعینہ اسی چیز کو میر محمد صالح کشفی ترمذی نے تھوڑے سے فرق کے ساتھ اپنی کتاب مناقبِ مرتضوی میں قلمبند کیا ہے۔ اس بات کو بہت سے اہل سنّت علماء اور عظیم شیعہ علما اپنی متعدد کتابوں میں نقل کیا ہے کہیں پر تو انہوں نے اس کے ساتھ مندرجہ بالا آیت کو ذکر کیا ہے۔ اور کہیں پر ذکر نہیں کیا۔ (بحوالہ: مزید معلومات کے لیے کتاب "احقاق الحق" جلد ۳، ص ۳۹۸، تفسیر نور الثقلین، جلد ۴، ص ۶۰۹ اور تفسیر "مجمع البیان" کی طرف انہی آیات کے ذیل میں رجوع فرمائیں)۔ آیات میں موجُود قرینوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مشہور حدیث ایک قسم کی مطابقت کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی شانِ نزول نہیں ہے۔ باالفاظ دیگر آیت کی شانِ نزول تو وہی عیسٰی علیہ السلام کی داستان، مشرکین عرب کی گفتگو اور ان کے بُت تھے، لیکن چونکہ اس سے مِلتا جُلتا ایک اور تاریخی واقعہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مذکورہ تاریخی گفتگو کے بعد رونما ہوا لہذا پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس مقام پر بھی یہ آیت فرمائی، کیونکہ یہ ماجرا بھی مختلف جہات سے اس کے ایک مصداق کی حیثیت رکھتا ہے۔ بعد کی آیت میں اس لیے کہ انہیں یہ وہم نہ ہو کہ خدا کو ان کی بندگی کی ضرورت ہے۔ وضاحت کرتے ہُوئے بیان فرمایا گیا ہے۔ اگر ہم چاہیں تو زمین پر تمہاری جگہ فرشتے لے آئیں کہ جو تمہارے جانشین ہوں۔ (وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنكُم مَّلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ)۔ وہ فرشتے کہ جو فرمان حق کے تابع ہیں اور اس کی اطاعت و بندگی کے سوا اور کچھ نہیں جانتے۔ کچھ مفسرین نے یہاں پر ایک اور تفسیر ذکر کی ہے۔ جس کی وجہ سے آیت کا مفہوم یوں ہو گا "اگر ہم چاہیں تو تمہاری اولاد کو فرشتے بنادیں جو زمین میں تمہارے جانشین ہوں"۔ لہذا تم اس بات پر تعجب نہ کرو کہ عیسیٰ بغیر باپ کے پیدا ہُوئے ہیں۔ خدا تو اس بات پر بھی قادر ہے کہ فرشتے جو ایک علیٰحدہ نوع ہیں انسانوں سے پیدا کرے۔ (تشریحی نوٹ: پہلی تفسیر کو طبرسی نے مجمع البیان میں شیخ طوسی نے تبیان میں اور بعض مفسرین نے انتخاب کیا ہے۔ جبکہ دوسری تفسیر کو قرطبیؒ، فخر رازی آلُوسی نے اپنی کتاب روح المعانی میں، زمخشری نے کشاف میں اور مراغی نے دوسرا معنی دو معانی میں سے ایک کے طور پر نقل کیا ہے۔ اور چونکہ انسان سے فرشتوں کا پیدا ہونا کسی طرح مناسب معلوم نہیں ہوتا لہذا بعض عظیم مفسرین نے اس سے فرشتہ صفت لوگ مراد لیے ہیں۔ ان مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تم تعجب نہ کرو کہ مسیح جیسا خدا کا ایک بندہ حُکمِ خدا سے مردوں کو زندہ کرنے اور بیماروں کو شفا بخشنے کی طاقت رکھتا ہے۔ جبکہ وہم مخلص اور فرمانِ الہٰی کا تابع بھی ہو، اگر خدا چاہے۔ تو تمہاری اولاد میں سے ایسے لوگوں کو پیدا کر دے جن کی تمام صفات اور عادات فرشتوں کی سی ہوں۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر المیزان اسی آیت کے ذیل میں)۔ بعد کی آیت میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کی اور خصوصیت کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے۔ وہ تو یقیناً قیامت کی آگاہی کا ایک سبب ہے۔ (وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ)۔ یا اس لحاظ سے کہ متعدد اسلامی روایات کے مطابق عیسٰی علیہ السلام کا آسمان سے نزُول آخری زمانے میں ہو گا اور یہ قیامت کے قیام کی دلیل ہے۔ جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے پیغمبر اکرمؐ کو یہ فرماتے سُنا ہے۔ "ینزل عیسی بن مریم فیقول امیرھم تعال صلی بنا، فیقول لا ان بعضکم علی بعض امراء، تکرمة من اللہ لھذہ الامة"۔ عیسٰی اتریں گے اور مسلمانوں کا امیر (یہاں پر امیر سے مراد حضرت مہدی علیہ السلام جیسا کہ دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔ ان سے کہے۔ گا، آیئے اور ہمیں نماز پڑھایئے! اور وہ کہیں گے نہ، امیر تمہیں میں سے ہو گا یہ عزت اللہ نے اس امت کو عطا فرمائی ہے۔ (پھر حضرت عیسیٰ جناب امام مہدی علیہ السلام کی اقتداء کریں گے)۔ (تشریحی نوٹ: اس حدیث کو صاحب تفسیر "مجمع البیان" نے "صحیح مسلم" سے اسی آیت کے ذیل میں نقل کیا ہے۔ ایک اور حدیث میں جناب رسالت مآبؐ فرماتے ہیں۔ "کیف انتم اذا نزل فیکم ابن مریم و امامکم منکم"۔ تمہارا اس وقت کیا حال ہو گا جب مریم کے فرزند تمہارے درمیان نازل ہوں گے جب کہ تمہارا امام تمہیں میں سے ہو گا۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان اسی آیت کے ذیل میں اور تفسیر روح المعانی، جلد۵، ص۸۰)۔ بہرحال حضرت مسیح علیہ السلام پر لفظ "علم" کا اطلاق ایک قسم کی تاکید اور مبالغہ کی صورت میں ہے۔ جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کا نزُول یقیناً قیامت کی ایک نشانی ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ "انّہ" میں موجود ضمیر "قرآن" کی طرف لوٹ رہی ہو، جس کے مطابق آیت کا معنی یوں ہو گا: قرآن جو کہ آخری کتاب ہے۔ اس کا نزُول قیامت کے قریب ہونے کی دلیل ہے۔ اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر دیتا ہے۔ لیکن آیات کا سیاق و سباق جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق ہے۔ پہلی تفسیر کی تقویت کرتا ہے۔ بہرحال اس کے فوراً بعد فرمایا گیا ہے۔ قیامت کا قیام یقینی ہے۔ اور اس کا واقع ہونا نزدیک ہے۔ "اور تم لوگ ہرگز اس میں شک نہ کرو" (فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا)۔ نہ تو عقیدے کے لحاظ سے اور نہ ہی عمل کے لحاظ سے، جیسا کہ غافل لوگ کر رہے۔ ہیں، اور میری پیروی کرو کہ یہی سیدھا راستہ ہے۔ (وَاتَّبِعُونِ هَذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ)۔ اس سے بڑھ کر اور کونسا راست سیدھا ہو سکتا ہے۔ جو تمہیں آیندہ درپیش آنے والے خوفناک حالات سے آگاہ کرتا ہے۔ اور بروز قیامت ان خطرات سے نجات کا راستہ تمہیں بتاتا ہے۔ لیکن شیطان تو چاہتا ہے کہ ہمیشہ تمہیں غافل اور بےعلم رکھے، لیکن تمہیں خود ہوش سے کام لینا چاہیئے کہ "کہیں شیطان تمہیں راہ خدا اور بروز قیامت اپنی تقدیر سنوارنے سے تمہیں روک نہ دے، کیونکہ وہ تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے۔ " (وَلَا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطَانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ)۔ اس نے اپنی عداوت اور دشمنی کا اظہار تو روز اوّل ہی سے کر دیا تھا، جب اس نے تمہارے ماں باپ (آدم و حوا) کے دل میں وسوسہ ڈال کر بہشت سے نکلوا دیا تھا اور دوسری مرتبہ اس نے قسم کھائی کہ "مخلصین" کے سوا باقی تمام بنی آدم کو گمراہ کر کے چھوڑے گا۔ لہٰذا تم ایسے قسم کھانے والے دشمن کے مقابلے میں کیونکہ خاموش بیٹھ سکتے ہو اور اسے اس بات کی اجازت کیسے دے سکتے ہو کہ وہ تمہاری روح اور جسم پر غلبہ پالے اور اپنے مسلسل وسوسوں سے تمہیں سیدھی راہ سے روک دے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 65 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 65 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر جن لوگوں نے عیسیٰ کے بارے میں غلو کیا
Tafsīr Nemūna · Vol. 7گزشتہ آیات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے کچھ خصوصی پہلو ذکر کیے گئے تھے۔ زیر تفسیر آیات اس سلسلے کو آگے بڑھاتی ہیں، اور خالص دین کی طرف ان کی دعوت اور ہر طرح کے شرک کی نفی کا ذکر کرتی ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: جب عیسیٰ واضح دلائل (معجزات اور خدائی آیات)لے کر آئے تو کہا: میں تمہارے پاس دانائی لے کر آیا ہوں تاکہ بعض باتیں جن میں تم اختلاف کرتے ہو صاف صاف بتا دُوں۔ (وَلَمَّا جَاءَ عِيسَى بِالْبَيِّنَاتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُم بِالْحِكْمَةِ وَلِأُبَيِّنَ لَكُم بَعْضَ الَّذِي تَخْتَلِفُونَ فِيهِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ)۔ اس طرح سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا سرمایہ "بینات" یعنی خدا کی آیتیں اور معجزات تھے، جو ایک طرف تو ان کی حقانیت کو بیان کر رہے تھے اور دوسری طرف ان حقائق کو جو مبداء اور معاد اور انسانی زندگی کی ضروریات سے متعلق ہیں۔ اس عبارت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام حکمت کو اپنی دعوت کا محور بتا رہے ہیں اور ہم سب جانتے ہیں کہ "حکمت" کا اصلی معنی "اصلاح کی غرض سے کسی چیز سے روکنا" ہے۔ اس کے بعد تمام عقاید حقہ اور اس صحیح نظام زندگی کا اعلان فرما رہے ہیں جو انسانوں کو ہر قسم کی بےراہ روی ایمان اور عمل میں ہر قسم کی بےراہ روی سے روکتا ہے۔ اور جس میں تہذیب، نفس اور اخلاق بھی شامل ہیں، تو اس طرح سے یہاں پر حکمت کا وسیع معنی مراد ہے۔ جو "حکمت عملی" اور"حکمت علمی" دونوں پر محیط ہے۔ یہ حکمت علاوہ ازیں ایک اور ہدف کو بھی پیشِ نظر رکھے ہوئے ہے۔ اور وہ ہے۔ ان اختلافات کا دُور کرنا کہ جن کی وجہ سے تمام معاشرتی نظام درہم برہم ہو جاتے ہیں، اور لوگ سرگرداں ہو جاتے ہیں اسی لیے جناب عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی گفتگو میں اسی چیز پر زیادہ زور دیا ہے۔ یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ اور اکثر مفسرین نے بھی اس طرح توجہ کی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام نے یہ کیوں کہا ہے کہ میں تمہارے درمیان موجود بعض اختلافات کو دُور کرنے کے لیے آیا ہوں۔ انہوں نے تمام اختلافات کو دور کرنے کو کیوں نہیں کہا؟ اس سوال کیا کے ویسے تو کئی جواب دیئے گئے ہیں، لیکن سب سے مناسب جواب یہ ہے کہ: لوگوں کے درمیان دو قسم کے اختلافات ہوتے ہیں۔ ایک قسم تو ان اختلافات کی ہے۔ جو اعتقادی اور عملی نکتہ نظر سے انسان سازی میں اور انفرادی و اجتماعی لحاظ سے مؤثر ہوتے ہیں اور دوسری قسم کے وہ اختلافات ہوتے ہیں، جو انسان کے لیے کسی طرح بھی مناسب نہیں ہوتے، جیسے منظومہ شمسی کی پیدائشی کیفیت، افلاک اور ستاروں کی حقیقت، انسانی رُوح کی ماہیّت اور زندگی کی حقیقت وغیرہ کے بارے میں اختلافات۔ پس صاف ظاہر ہے کہ انبیاء کا فریضہ یہ ہے کہ پہلی قسم کے اختلافات کو حقائق کے ذریعے ختم کریں اور ان کی یہ ذمہ داری نہیں ہوتی کہ ہر قسم کے اختلافات کا خاتمہ کریں، اگرچہ انسان کی تقدیر کے ساتھ ان کا کسی قسم کا تعلق بھی ہو۔ یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ بعض اختلافات کے بیان کرنے کا مقصد خود انبیاء کی دعوت کا نتیجہ اور اس کی غرض و غایت ہے۔ یعنی انجام کار وہ موفق ہو جائیں گی اور ان کے بعض اختلافات کو حل کریں گے، لیکن تمام اختلافات کا دُنیا میں حل کرنا ممکن نہیں ہے۔ اسی لیے قرآن مجید کی متعدد آیات میں قیامت کی ایک خصوصیت یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس دن تمام اختلافات ختم ہو جائیں گے، جیساکہ سورہٴ نحل کی ۹۲ویں آیت میں ہے کہ: "وَلَيُبَيِّنَنَّ لَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ" "جن چیزوں میں تم اختلاف کرتے ہو انہیں یقیناً قیامت کے دن تمہارے لیے بیان کرے گا"۔ (اور یہی بات سورہٴ آلِ عمران کی آیت ۵۵، سورہٴ مائدہ کی آیت ۴۸، سورہٴ انعام کی آیت ۶۴ اور سورہٴ حج کی آیت ۶۹ وغیرہ میں بیان ہوئی ہے۔ (تشریحی نوٹ: کچھ اور مفسرین نے کہا ہے کہ یہاں پر لفظ "بعض" "کل"کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یا "بعض الّذی تختلفون فیہ" کی تعبیر موصوف کی صفت کی طرف اضافت ہے۔ جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ میں تمہارے لیے دینی امور بیان کرتا ہوں نہ کہ تمہارے دنیاوی امور لیکن ان میں سے کوئی تفسیر بھی قابلِ توجیہ نہیں ہے۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے۔ اب جب کہ صورت حال یہ ہے۔ اور میری دعوت کا لباب یہی ہے۔ "تو تم لوگ خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو"۔ (فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ)۔ پھر اپنی الوہیت کے بارے میں ہر قسم کے شک و شبہ کو دُور کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "بےشک میرا پروردگار اور تمہارا پروردگار اللہ ہی ہے۔ " (إِنَّ اللَّهَ هُوَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ)۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ انہوں نے اس آیت میں کلمہ "رب" دو مرتبہ بیان کیا ہے۔ ایک مرتبہ اپنے لیے اور دوسری مرتبہ عام لوگوں کے لیے تاکہ واضح کر دیں کہ میں اور تم، سب برابر ہیں اور تمہارا اور میرا پروردگار ایک ہی ہے۔ میں بھی اپنے وجُود اور ہستی کے لیے تمہاری طرح ایک مدبرّ اور خالق کا محتاج ہوں، وہی میرا مالک اور رہنما ہے۔ مزید تاکید کے طور پر فرماتے ہیں: جب یہ عام ہے۔ تو پھر تم اسی کی عبادت کرو (فَاعْبُدُوهُ)۔ کیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی بھی لائقِ عبادت نہیں تمام چیزیں مربوب ہیں اور وہ رب ہے۔ تمام اس کے مملُوک ہیں اور وہ سب کا مالک ہے۔ ایک بار پھر اپنی اس گفتگو پر تاکید کرتے ہیں تاکہ کسی قسم کے بہانے کی گنجائش باقی نہ رہ جائے، فرماتے ہیں: یہی سیدھا راستہ ہے۔ (هَذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ)۔ (تشریحی نوٹ: اس طرح کی باتیں مختصر سے فرق کے ساتھ سورہٴ مریم کی آیت ۳۶ اور سورہٴ انعام کی آیت ۵۱ میں بھی بیان ہوئی ہیں اور اس معنی کا تکرار اس حقیقت کی تاکید ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی بندگی کے بارے میں ان سب پر اتمام حجت کر دیا)۔ جی ہاں! راہ راست وہی خدا کی عبودت اور بندگی کا راستہ ہے۔ جس میں کسی قسم کی کجی اور ٹیڑھاپن نہیں ہے۔ جیساکہ سورہٴ یٰسین کی ۶۱ ویں آیت میں آیا ہے۔ "وَأَنِ اعْبُدُونِي هَذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ" آیا میں نے تم سے یہ عہد نہیں کیا تھا کہ میری عبادت کرو کیونکہ سیدھا راستہ یہی ہے۔ لیکن تعجب اس بات پر ہوتا ہے کہ اس قدر تاکید کے باوجُود عیسٰی کی وفات کے بعد ان میں کئی فرقے بن گئے جنہوں نے(عیسٰی کے بارے میں) اختلاف کیا" (فَاخْتَلَفَ الْأَحْزَابُ مِن بَيْنِهِمْ)۔ (تشریحی نوٹ: "بینھم" میں "ھم" کی ضمیر ان لوگوں کی طرف لوٹ رہی ہے۔ جنہیں اس سے پہلے آیت میں حضرت عیسیٰ نے مخاطب کیا، اور خدا کی عبادت کی دعوت دی)۔ کچھ لوگوں نے تو انہیں خدا سمجھا کہ جو زمین پر اُتر آیا تھا جبکہ کچھ لوگوں نے انہیں خدا کا بیٹا جانا اور کچھ لوگوں نے انہیں "اقانیم ثلثہ" ( باپ، بیٹا اور رُوح القدس) میں سے ایک سمجھا۔ صرف چند لوگوں نے انہیں خدا بندہ اور رسُول سمجھا، لیکن ایسے افراد اقلیّت میں ہیں۔ آخرکار اکثریت کا عقیدہ غالب آ گیا اور تثلیث اور متین خداؤں کے عقیدے نے تمامسیحی دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس بارے میں ہم نے سُورہٴمریم کی آیت ۳۶ کے ذیل میں تفسیر نمونہ کی تیرھویں جلد میں ایک دلچسپ اور تاریخی حدیث بیان کی ہے۔ آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ صرف عیسائیوں کے درمیان ہی اختلاف موجُود نہیں تھا، بلکہ حضرت عیسیٰ کے بارے میں یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان بھی اختلاف کھڑے ہو گئے تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں نے ان کے بارے میں غلو سے کام لیا اور انہیں خدا سمجھنے لگے، جبکہ عیسیٰؑ کے دشمنوں نے انہیں اور ان کی پاک دامن ماں، جناب مریم علیہ السلام پر مختلف تہمتیں لگائیں اور جاہلوں کا طریقہ کار ایسے ہی ہوا کرتا ہے۔ کچھ لوگ افراط کا شکار ہوتے ہیں اور کچھ تفریط کا۔ یا بقول امیر المومنین علی علیہ السلام کچھ لوگ "محب غال"ہوتے ہیں اور کچھ "مبغض قال" ہوتے ہیں۔ جیساکہ آپ فرماتے ہیں: "ھلک فیّ رجلان محب غال و مبغض قال"۔ "میرے بارے میں دو قسم کے لوگ ہلاک ہُوئے، ایک تو وہ دوست جنہوں نے مجھے خدا جانا اور دوسرے وہ تہمت لگانے والے دشمن جنہوں نے مُجھ پر طرح طرح کے الزامات لگائے"۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، کلمات قصار جملہ ۱۱۷)۔ ان دونوں بزرگواروں کے حالات کس قدر مِلتے جُلتے ہیں۔ آیت کے آخر میں ان لوگوں کو روز قیامت کے دردناک عذاب کی دھمکی دیتے ہُوئے فرمایا گیا ہے۔ جن لوگوں نے ظُلم کیا اور صراطِ مستقیم سے منحرف ہو گئے، ان کے لیے درد ناک دن کے عذاب کا افسوس ہے۔ (فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْ عَذَابِ يَوْمٍ أَلِيمٍ)۔ (تشریحی نوٹ: توجہ رہے کہ "الیم" "یوم" کی صفت ہے۔ نہ کہ "عذاب" کی)۔ جی ہاں! قیامت کا دن درد ناک ہو گا، اس کے حساب کا طُول درد ناک، اس کا عذاب اور سزا درد ناک، اس کی حسرت و اندوہ درد ناک رسوائی اور ذلّت درد ناک۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 69 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 69 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 69 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر کِس انتظار میں ھو؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 7گزشتہ آیات میں رسُولِ اسلام کے زمانے کے ہٹ دھرم بُت پرستوں نیز اس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اُمت میں سے گمراہ اور مُشرک لوگوں کے بارے میں گفتگو تھی۔ زیرِ نظر آیات میں ان کے انجام کو مجسم کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔ فرمایا گیا ہے۔ وہ لوگ کِس انتظام میں ہیں سوائے اس کے کہ اچانک ہی ان پر قیامت آ جائے اور ان کو خبر تک نہ ہو (هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَايَشْعُرُونَ)۔ یہ سوال جو استفہام انکاری کی صُورت میں پیش کیا گیا ہے۔ درحقیقت اس قسم کے افراد کی حقیقتِ حال واضح کرنے کے لیے ہے۔ جیسے کِسی ایسے شخص کی ندمت میں جو کسی بھی خیر خواہ کی نصیحت کو نہیں سنتا اور اپنی تباہی کے اسباب خُود فراہم کرتا ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ وہ تو صرف اپنی موت کا منتظر ہے۔ اس آیت میں بھی بہت سی دوسری قرآنی آیات کے مانند "ساعتہ" سے مراد قیامت کا دن ہے۔ کیونکہ اس کے حوادث بہت جلد عملی جامہ پہن لیں گے گویا ایک ہی گھڑی میں سب کچھ ہو جائے گا۔ البتہ یہ کلمہ کہیں پر دُنیا کے خاتمے کے آخر لمحے کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ اور چونکہ ان دونوں کا آپس میں زیادہ فاصلہ نہیں ہے۔ لہذا ممکن ہے۔ اس قسم کی تعبیر ان دونوں مراحل کے بارے میں ہو۔ بہرحال، قیامت کا قیام جو دُنیا کے ناگہانی طور پر خاتمے کے ساتھ شروع ہو جائے گا، کے بارے میں مندرجہ بالا آیت میں دو صفات بیان کی گئی ہیں ایک یہی "بغتة" (اچانک طور پر) اور دوسرے اس کے وقوع پذیر ہونے سے لوگوں کی لاعلمی۔ مُمکن ہے۔ کوئی ایسی چیز اچانک اور ناگہانی صُورت میں واقع ہو کہ جس کا ہمیں پہلے سے انتظار تھا اور اس کا سامنا کرنے کے لیے ہم پہلے سے تیار ہوں، لیکن مصیبت یہ ہے کہ قیامت کا عظیم ترین، تباہ کن اور طاقت فرسا حادثہ اچانک اور ناگہانی صُورت میں واقع ہو گا اور ہم بالکل اس سے غافل ہوں گے۔ ان مجرموں کا حال بھی بالکل ایسا ہی ہے۔ وہ اس حد تک غفلت میں پڑے ہوں گے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مروی ایک حدیث کے مطابق: "تقوم الساعة والرّجلان یحلبان النعجة، و الرّجلان یطویان الثوب ثُمّ قراٴ صلّی اللہ علیہ و آلہ وسلم "ھل ینظرون الاّالسّاعةان تاٴتیھم بغتة و ھم لا بیشعرون"۔ "قیامت اچانک واقع ہو گی، جب کہ (ہر شخص اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہو گا) کچھ لوگ گوسفند کا دودھ دوہ رہے ہوں گے اور کچھ (خرید و فروخت کے لیے) کپڑا پھیلا رہے ہوں گے)۔ پھر آنحضرتؐ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ "هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا..."۔ (بحوالہ: تفسیر "رُوح البیان" جلد ۲۵، ص ۸۹)۔ کس قدر دردناک بات ہو گی کہ ایسے حالات میں انسان واپسی کی راہیں کھو بیٹھے گا۔ اس قدر غفلت کا شکار ہو جائے گا کہ کسی قسم کی تیاری کے بغیر اس کی موجوں میں غرق ہو جائے گا۔ بعد کی آیت میں ان دوستوں کی صُورت حال بیان کی جا رہی ہے۔ جو جرم و گناہ اور دُنیا کی چکا چوند زندگی کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ دوستی کی پینگیں پڑھائے ہُوئے ہیں، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: اس دن دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے، مگر پرہیزگار (کہ وہ دوست ہی رہیں گے) (الْأَخِلَّاءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِينَ)۔ (تشریحی نوٹ: "اخلاء" "خلیل" کی جمع ہے۔ اور "خلة" کے مادہ سے ہے۔ جس کا معنی "موّدت" اور "دوستی" ہے۔ اور اس کی بنیاد "خلل" (بروزن "شرف") ہے۔ جس کا معنی "دو جسمُوں کا درمیانی فاصلہ ہے۔ اور چونکہ محبت اور دوستی گویا انسانی دل میں راسخ ہو جاتی ہے۔ لہذا یہ لفظ اس کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ یہ آیت چونکہ عرصہ محشر کی تصوریر کشی کر رہی ہے۔ لہذا اس سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ آیت میں بھی "ساعة" سے مُراد قیامت کا دن ہے کہ جس دن دوستی کے سب رشتے ٹوٹ جائیں گے، لیکن جو رشتے خدا کے لیے اور خدا کے نام پر استوار کئے گئے ہوں وہ برقرار رہیں گے۔ اس دن اس قسم کی دوستیوں کا دشمنی میں تبدیل ہو جانا فطری بات ہے۔ کیونکہ اس دن ہر دوست اپنے دوست کو اپنی تباہی اور بربادی کا سبب سمجھے گا گویا اس سے کہے۔ گا کہ تو نے ہی مجھے یہ راستہ دکھایا تھا اور مجھے اس کی دعوت دی تھی، تو نے ہی دُنیا کو میری آنکھوں میں بنا سجا کر پیش کیا ہے۔ اور مجھے اس کی ترغیب دلائی تھی تو ہی تو تھا جس نے مجھے غفلت اور غرور کے سمندر میں غرق کر دیا تھا اور مجھے میرے انجام سے بےخبر رکھّا تھا، ہر ایک اپنے دوست سے یہی کہے۔ گا۔ صرف پرہیزگاروں کی دوستی پائیدار اور جاودانی ہو گی، کیونکہ ان کی دوستی کے معیار اور اقرار پائیدار ہوتے ہیں جس کے نتائج بروز قیامت آشکار ہوں گے اور دوستی کو مزید استحکام ملے گا۔ یہ ایک فطری بات ہے کہ دوست اُمور زندگانی میں ایک دوسرے کے معاون مددگار ہوتے ہیں۔ اگر دوستی شر و فساد کی بنیاد پر استوار ہو تو ایک دوسرے کے جرم میں شریک ہوتے ہیں اور اگر خیر و صلاح کی بنیادوں پر قائم پر تو ثواب میں شریک ہوتے ہیں۔ بنابریں اگر پہلی قسم کی دوستی بروز قیامت دشمنی میں بدل جائے تو اس پر تعجب نہیں کرنا چاہیئے اور اگر دوسری قسم کی دوستی مستحکم تر ہو تو بھی باعث تعجب نہیں۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "الا کُل خلة کانت فی الدّنیا فی غیر اللہ عزّوجلّ فانّھا تصیر عداوة یوم القیامة"۔ "تمہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ دُنیا میں جو بھی دوستی خدا کے لیے نہ ہو گی وہ قیامت میں عداوت اور دشمنی میں بدل جائے گی۔ (بحوالہ: تفسیر "علی بن ابراہیم" (جیسا کہ تفسیر نورالثقلین، جلد ۴، ص ۶۱۳ پر درج کیا گیا ہے۔ اس دن خداوند عالم انہیں فرمائے گا: اے میرے بندو! آج نہ تو تمہارے لیے کوئی خوف ہے۔ اور نہ ہی تم غمگین ہو گے (يَا عِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ وَلَا أَنتُمْ تَحْزَنُونَ)۔ کس قدر دلکش پیغام ہے۔ خدا کی جانب سے براہِ راست پیغام، ایسا پیغام جو بہترین اوصاف کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ یعنی اسے میرے بندو! ایسا پیغام جو پریشان کُن دن میں ہر قسم کی پریشانی دوُر کر دے گا۔ ایسا پیغام جس سے تمام گزشتہ رنج و غم کا فور ہو جائیں گے جی ہاں اس پیغام میں مذکورہ چاروں خوبیاں موجود ہیں۔ زیر تفسیر آیات کے سلسلے کی آخری آیت میں ان پرہیزگاروں اور خدا کے مکرم و محترم بندوں کو دو اور صفات کے ساتھ نمایاں فرما رہا ہے کہ "یہ وہ لوگ ہوں گے جو ہماری آیات پر ایمان لے آئے اور ہمارے فرمانبردار تھے۔" (الَّذِينَ آمَنُوا بِآيَاتِنَا وَكَانُوا مُسْلِمِينَ)۔ جی ہاں! ایسے مؤمن لوگ ہی خدا کے قابل افتخار خطاب کے مخاطب اور اس قسم کی نعمتوں کے حقدار ہوں گے۔ درحقیقت مندرجہ بالا دونوں جُملے ان کے اعتقاد و عمل کی مُنہ بولتی تصویر ہیں، "ایمان" ان کی اعتقادی بنیادوں پر استوار عمارت کو واضح کر رہا ہے۔ اور "اسلام" ان کے فرمان الہٰی کو عملی جامہ پہنانے کی نشاندہی کر رہا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 73 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 73 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 73 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر جو جی چاہے۔ اور جس سے آنکھ لذّت اُٹھائے
Tafsīr Nemūna · Vol. 7یہ آیات خدا کے ان خالص بندوں اور صالح مؤمنین کی جزاء بیان کر رہی ہیں جن کا تذکرہ پہلے ہو چکا ہے۔ اور بہشت بریں کی سات قیمتی نعمتوں کو خوشخبری دے رہی ہیں۔ پہلے فرمایا گیا ہے۔ خداوند عظیم و منّان کی طرف سے انہیں خطاب ہو گا: بہشت میں داخل ہو جاؤ (ادْخُلُوا الْجَنَّةَ)۔ اس طرح ان کا حقیقی میزبان خود خدا ہی ہو گا جو اپنے مہمانوں کو دعوت دے کر فرمائے گا کہ تشریف لائیے اور جنت میں داخل ہو جایئے۔ پھر پہلی نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے۔ تم بھی اور تمہاری بیویاں بھی (أَنتُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ)۔ ظاہر سی بات ہے۔ مؤمن اور مہربان بیویوں کا اپنے شوہروں کے ساتھ ہونا مردوں کے لیے بھی خوشی کی بات ہو گی اور عورتوں کے لیے بھی، کیونکہ اگر وہ دُنیا میں ایک دوسرے کے دُکھ درد کے شریک تھے تو آخرت کو خوشیوں میں بھی ایک دوسرے کے ہمرکاب ہوں گے۔ بعض مفسرین نے یہاں پر "ازواج" کا معنی ہم رکاب، دوست اور نزدیکی لوگ کیا ہے۔ اور اگر ایسا بھی ہو تو یہ بات بجائے خود ایک عظیم نعمت ہے۔ لیکن آیت کا ظاہری معنی وہی پہلا ہے۔ پھر فرمایا گیا ہے۔ تم سب خوشی اور شادمانی میں مستغرق رہو، اور اس طرح کہ اس خوشی کے آثار تمہارے چہروں سے ظاہر ہوں (تُحْبَرُونَ)۔ "تحبرون" "حبر (بروزن ابر) کے مادہ سے ہے۔ جس کا معنی ہے۔ "حسب دل خواہ اثر" اور کبھی اس کا اطلاق سنگھار اور خوشی کے ان آثار پر بھی ہوتا ہے۔ جو چہرے پر نمایاں ہوتے ہیں اور اگر "عطا" کو "احبار" (حَبر بروزن اَبر کی جمع) کہا جاتا ہے۔ تو ان آثار کی وجہ سے جو انسانی معاشروں میں باقی رہ جاتے ہیں، جیسا کہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں: "العلماء باقون مابقی الدھر اعیانھم مفقودة وامثالھم فی القلوب موجودة" "جب تک دُنیا باقی ہے۔ علماء زندہ ہیں۔ وہ بذاتِ خود تو ہمارے درمیان موجود نہیں ہوتے لیکن ان کے آثار دلوں میں موجُود ہوتے ہیں۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ،کلمات قصار جُملہ نمبر ۱۴۷)۔ تیسری نعمت کے بارے میں فرمایا گیا ہے۔ خاص خدمت گاروں کے ذریعے بہترین غذا اور بہشتی مشروبات سے بھرے کھانوں کے طلائی برتن اور شراب طہور کے زرین جام ان کے گردا گرد گھمائے جائیں گے (يُطَافُ عَلَيْهِم بِصِحَافٍ مِّن ذَهَبٍ وَأَكْوَابٍ)۔ بہترین ظروف اور بہترین کھانوں سے نہایت ہی آرام، اطمینان اور صدق و صفا کے ساتھ اور کسِی قسم کی پریشانی کے بغیر ان کی تواضع کی جائے گی۔ "صحاف"، "صحفة" (بروزن "صفحہ") کی جمع ہے۔ جو دراصل "صحف"کے مادہ سے لیا گیا ہے۔ جس کا معنی "وسعت دینا" ہے۔ اور یہاں پر بڑے بڑے اور وسیع ظروف کے معنی میں ہے۔ "اکواب" "کوب" کی جمع ہے۔ جس کا معنی ہے۔ "پانی کے ایسے برتن جن کا دستہ نہیں ہوتا"۔ اور آج کی اصطلاح میں انہیں "جام" یا "پیالہ" کہا جاتا ہے۔ اگرچہ مذکورہ بالا آیت میں صرف طلائی برتنوں کی بات گئی ہے۔ اور خوراک و مشروبات کی بحث نہیں کی گئی لیکن ظاہر ہے کہ مہمانوں کی خاطر تواضع کے لیے خالی برتنوں کا دور کبھی نہیں چلتا۔ چوتھے اور پانچویں مرحلے پر دو اور نعمتوں کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ جن تمام مادی اور معنوی نعمتں جمع ہیں، ارشاد ہوتا ہے: اور بہشت میں جس چیز کو جی چاہے۔ اور جس سے آنکھیں لذّت اٹھائیں، سب کچھ موجود ہو گا (وَفِيهَا مَا تَشْتَهِيهِ الْأَنفُسُ وَتَلَذُّ الْأَعْيُنُ)۔ تفسیر مجمع البیان میں مرحوم طبرسی کے بقول اگر کائنات کی تمام مخلوق جمع ہو کر ہر طرح کی بہشتی نعمتوں کی تعریف و توصیف کرنے لگے پھر بھی اس حد کو نہیں پہنچ سکے گی جو اس جُملے میں موجود ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا زیبا اور جامع تعبیر ہو سکتی ہے۔ ایسی تعبیر جو کائنات کی وسعتوں اور ان تمام تصورات کی وسعتوں کو اپنے دامن میں سمیٹے ہُوئے ہے۔ جو ہمارے ذہن میں آ سکتے ہیں اور جو نہیں آ سکتے۔ایسی تعبیر جس سے بڑھ کر اور کوئی تعبیر نہیں ہو سکتی۔ پھر یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ دل پسند چیزوں کو آنکھ کی لذتوں سے علیٰحدہ بیان کیا گیا ہے۔ اور یہ علیٰحدگی بھی بڑی معنٰی خیز ہے۔ یہاں پر پہلے ایک عمومی اور ہمہ گیر چیز بیان کرنے کے بعد اس میں سے کچھ خاص چیزوں کو جدا کر کے بیان کیا گیا ہے۔ بایں معنٰی کہ "آنکھ کی لذّت" کی اہمیّت سب سے زیادہ اور دوسری تمام لذتوں سے برتر اور بالاتر ہوتی ہے۔ یا اس لحاظ سے کہ "مَا تَشْتَهِيهِ الْأَنفُسُ" کا جُملہ ذائقہ (چکھنے کی)، شامہ (سُو نگھنے کی) سَامِعہ (سُننے کی) اور لامسہ (مَس کرنے اور چُھونے کی) لذتوں کو بیان کر رہا ہے۔ لیکن "تَلَذُّ الْأَعْيُنُ" کا جملہ آنکھ کی لذّت کو بیان کر رہا ہے۔ بعض مفسرین یہ سمجھتے ہیں کہ "مَا تَشْتَهِيهِ الْأَنفُسُ" تمام جسمانی لذتوں کی طرف اشارہ ہے۔ جبکہ "تَلَذُّ الْأَعْيُنُ" روحانی لذات کا بیان کر رہا ہے۔ اور بہشت میں اس سے بڑھ کر اور کیا لذّت ہو سکتی ہے کہ انسان اپنے دل کی آنکھوں سے پروردگار کے جمال بےمثال کا مشاہدہ کر لے کہ جس کا ایک لمحہ بہشت کی تمام مادی نعمتوں سے افضل اور برتر ہے۔ ظاہر ہے کہ شوقِ وصال جس قدر زیادہ ہو گا دیدار کی لذّت بھی اتنی ہی زیادہ ہو گی۔
ایک سوال اور اس کا جواب
یہاں پر مفسرین کو ایک سوال درپیش ہے۔ اور وہ یہ کہ آیا اس آیت کا عمومی مفہوم اس بات کی دلیل ہے کہ جن چیزوں کو اس دُنیا میں خدا نے حرام کیا ہے۔ اگر ان چیزوں کا وہ بہشت میں تقاضا کریں گے تو وہ بھی انہیں ملیں گی؟ اس طرح کا سوال درحقیقت ایک نکتے کی طرف توجہ نہ کرنے کی وجہ سے ذہن میں اٹھتا ہے۔ اور وہ یہ کہ حرام کردہ اور بُری چیزیں درحقیقت اس خوراک کے مانند ہیں جو انسانی رُوح کے لیے قطعاً مناسب نہیں ہوتیں اور یقیناً صحیح و سالم رُوح اس قسم کی غذا کی خواہش نہیں کرتی۔ یہ تو بیمار رُوحیں ہوتی ہیں جو زہریلی اور نامناسب غذاؤں کی خواہش کا اظہار کرتی ہیں۔ ہم ایسے بیماروں کو بھی یکھتے ہیں جو بیماری کی حالت میں مٹی یا اس قسم کی دوسری چیزوں تک کھانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں لیکن جونہی یہ بیماری بر طرف ہو جاتی ہے۔ اس قسم کی غلط خواہشیں از خود ختم ہو جاتی ہیں۔ یقیناً لوگ ہرگز اس قسم کے اعمال کی خواہش نہیں کریں گے، کیونکہ ایسے اعمال کی خواہش بیمار جہنمی کی خصوصیات میں شامل ہے۔ یہ سوال بالکل اس طرح ہے۔ جیسے روایت میں آیا ہے۔ "ایک اعرابی پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا: آیا بہشت میں اونٹ بھی ہوں گے، کیوں کہ میں اونٹو ں سے بہت محبت کرتا ہوں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تو جانتے تھے کہ وہاں پر ایسی ایسی نعمتیں ہوں گے کہ جنہیں دیکھ کر یہ اعرابی اپنے اونٹوں کو بُھول جائے گا، لہذا آپؐ نے مختصر مگر جامع الفاظ میں اسے یوں جواب دیا: "یا اعرابی ان ادخلک اللہ الجنّة اصبت فیھا ما اشتھت نفسک ولذة عینک"۔ "اے اعرابی! اگر خدا نے تجھے بہشت میں بھیج دیا تو تجھے وہاں پر کُچھ ملے گا جو تمہارا جی چاہے۔ گا اور تمہاری آنکھیں جس سے لذّت اُٹھائیں گی۔ (بحوالہ: تفسیر روح البیان، جلد ۸ ، ص۲۹۱)۔ دوسرے لفظوں میں وہاں پر ایسا عالم ہو گا کہ انسان اپنے آپ کو حقائق سے پورے طرح ہم آہنگ کرے گا اور بقول شاعر: آنچہ بینی دلت ھمان خواھد و آنچہ خواہد دلت ھمان بینی "جو کچھ تمہاری آنکھیں دیکھیں گی تمہارا جی بھی وہی چاہے۔ گا اور جو کچھ تمہارا جی چاہے۔ گا، تمہاری آنکھیں بھی وہی کُچھ دیکھیں گی۔ بہرحال، نعمت کی صحیح قیمت تب ہوتی ہے۔ جب وہ پائیدار اور دائمی ہو۔ اس لیے چھٹی صفت میں اہل بہشت کو اس لحاظ سے بھی اطمینان خاطر دلاتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ تم وہاں پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہو گے۔ (وَأَنتُمْ فِيهَا خَالِدُونَ)۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ نعمتوں کے زوال کی فکر انھیں آئندہ کے لیے پریشان کر دے۔ یہاں پر اس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے کہ بہشت کی یہ سب نعتیں "قیمت" کے بدلے میں دی جاتی ہیں نہ کہ کسی بہانے کے ذریعے ارشاد فرمایا گیا ہے۔ یہ وہی بہشت ہے کہ جس کے تم اپنے انجام دیئے گئے کی وجہ سے وارث کر دیئے گئے ہو (وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ)۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف تو اعمال کے بدلے کی بات کی گئی ہے۔ اور دوسری طرف "وراثت" کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو عام طور پر ایسے مواقع پر استعمال ہوتا ہے۔ جہاں پر محنت اور بھاگ دوڑ اور تکلیف اُٹھائے بغیر کوئی نعمت کو حاصل ہوتی ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تمہاری نجات کا اصل سبب تو تمہارے اعمال ہی ہیں لیکن جو کچھ تمہیں مل رہا ہے۔ وہ تمہارے اعمال کے مقابلے میں اس قدر زیادہ ہے۔ گویا وہ تمہیں بالکل مفت مل رہا ہے۔ بعض مفسرین اس تعبیر کو اس بات کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جِسے ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ ہر انسان کا ایک مقام بہشت میں ہوتا ہے۔ اور دوسرا جہنم میں چنانچہ بہشتی لوگ جہنمیوں کے وارث ہوں گے اور جہنمی اہل بہشت کے۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔ ساتویں اور آخری نعمت بہشتی پھلوں کی ہے۔ جو اللہ کی سب سے اہم اور بہترین نعمت ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: بہشت میں تمہارے لیے بہت سے پھل ہیں جنہیں تم کھاؤ گے (لَكُمْ فِيهَا فَاكِهَةٌ كَثِيرَةٌ مِّنْهَا تَأْكُلُونَ)۔ درحقیقت ظروف اور جام مختلف کھانوں اور مشروبات کے وجود کو بیان کر رہے تھے۔ لیکن پھلوں کی بات اپنی جگہ ہے۔ لہذا زیر تفسیر آیات کی آخری آیت میں اسی چیز کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ دِل چسپ بات یہ ہے کہ "منھا" کے لفظ سے یہ حقیقت بیان کی جا رہی ہے کہ بہشت کے پھل اس قدر زیادہ ہوں گے کہ تم ان میں صرف کُچھ ہی کھاؤ گے اور اس طرح وہاں پر فنا و خاتمہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے درخت ہمیشہ پھل دار اور لدے ہوں گے۔ ایک حدیث میں ہے۔ "لا ینزع رجل فی الجنة ثمرة من ثمرھا الا نبت مثلھا"۔ "کوئی بھی شخص بہشتی درختوں سے کوئی بھی پھل نہیں توڑے گا مگر یہ کہ اس کی جگہ دو پھل اور پیدا ہو جائیں گے"۔ یہ تھی جنت کی رُوح پر دو نعمتوں کی ایک جھلک جو ان لوگوں کے انتظار میں ہے۔ جن کا ایمان روشن اور اعمال صالح ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 80 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 80 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 80 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 80 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 80 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 80 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر مرنے اور عذاب سے جان چھڑانے کی آرزُو
Tafsīr Nemūna · Vol. 7ان آیات میں بروزِ قیامت مجرمین اور کفار کا انجام بتایا گیا ہے۔ تاکہ پروردگار کے فرمانبردار مؤمنین کی تشویق آور انجام سے ان کا تقابل کیا جائے اور دونوں پہلو واضح ہو جائیں۔ پہلے فرمایا گیا ہے۔ مجرم جہنم کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔ (إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِي عَذَابِ جَهَنَّمَ خَالِدُونَ)۔ "مجرم"، "جرم" کے مادہ سے ہے۔ اور دراصل "کاٹنے" کے معنی میں آتا ہے۔ جو بنیادی طور پر درخت سے پھل توڑنے اور خود درخت کاٹنے کے لیے استعمال ہوا لیکن بعد میں ہر قسم کے بُرے اعمال کے لیے استعمال ہونے لگا۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ یہ بُرے اعمال انسان کو خدا اور انسان اقدار سے جُدا کر دیتے ہیں۔ لیکن ایک بات مسلّم ہے کہ یہاں پر تمام مجرمین نہیں بلکہ ایسے مجرمین مراد ہیں جنہوں نے کُفر اختیار کیا ہے۔ اِس کی وجہ ایک تو خلود یعنی عذاب میں ہمیشہ رہنے کا قرینہ ہے۔ اور دوسرا ان مؤمنین کے ساتھ مقابلے کا قرینہ ہے۔ جن کا ذکر گزشتہ آیات میں ہو چکا ہے۔ یہ جو مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد تمام مجرم ہیں، بہت بعید معلوم ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی سوچے کہ شاید زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ "دائمی عذاب" کی شدّت میں کمی واقع ہو جائے اور یہ عذاب آہستہ آہستہ گھٹتا جائے، لہذا بعد کی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ ان کے عذاب میں ہرگز کمی نہیں کی جائے گی اور ان کے لیے کسی قسم کی نجات کا راستہ نہیں ہو گا اور وہ وہاں پر ہر چیز سے مایوس ہوں گے (لَا يُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَهُمْ فِيهِ مُبْلِسُونَ)۔ اس طرح سے ان کا عذاب ایک تو زمانے کے لحاظ سے دائمی ہو گا اور دوسرے شدت کے اعتبار سے، کیونکہ "مفردات" میں "راغب" کے بقول "فتور" کا معنی تیزی کے بعد سکون، سختی کے بعد نرمی اور طاقت کمزوری ہے۔ "مبلس"، "ابلاس"کے مادہ سے ہے۔ جو دراصل اس غم کے معنی میں ہے۔ جو سخت پریشانی کی وجہ سے انسان کو لاحق ہوتا ہے۔ اور چونکہ اس قسم کا غم انسان کو خاموشی اور سکوت کی دعوت دیتا ہے۔ لہذا "ابلاس" کا مادہ سکوت و خاموشی اور جواب نہ دے سکنے کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے۔ اور چونکہ سخت مصائب میں انسان اپنی نجات سے مایوس ہو جاتا ہے۔ لہذا یہ مادہ مایوس ہُونے کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ اور "ابلیس" کو بھی اس وجہ سے ابلیس کہتے ہیں کہ وہ خدا کی رحمت سے مایوس ہے۔ بہرحال، ان دو آیات میں تین نکات پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ ایک تو عذاب کا دوام، دوسرے عذاب میں کمی کا نہ ہونا اور تیسرے غم اور مطلقاً مایوسی۔کس قدر درد ناک ہے۔ ایسا عذاب جس میں یہ تینوں چیزیں جمع ہوں۔ بعد کی آیت میں یہ نکتہ ذہن نشین کرایا جا رہا ہے کہ خدا کا یہ دردناک عذاب ایک ایسی چیز ہے۔ جسے ان لوگوں نے اپنے لیے خود ہی فراہم کیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا وہ لوگ خود ظالم تھے۔ (وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَكِن كَانُوا هُمُ الظَّالِمِينَ)۔ درحقیقت جس طرح سابقہ آیات میں ان بےانہتا نعمتوں کا سرچشمہ پرہیزگاری مومنین کے اعمال کو بتایا گیا ہے۔ یہاں پر بھی جاودانی عذاب کا سرچشمہ ان ظالموں کے اعمال کو بتایا گیا ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہو سکتا ہے کہ انسان خدا کی آیات کا انکار کر کے اپنی سعادت کی جڑوں پر کلہاڑا چلا دے۔ سورہٴ صف آیت نمبر ۷ میں ارشاد ہوتا ہے: "وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ" اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو سکتے ہیں جو اللہ پر جھوٹ باندھیں"۔ جی ہاں! قرآن مجید نے انسان کی سعادت اور شقاوت کا اصلی منبع خود انسان اور اس کے اعمال کو ہی بتایا ہے۔ نہ کہ وہ خیال مسائل جو بعض لوگوں نے اپنی طرف سے گھڑ لیے ہیں۔ پھر ان مجرمین کی ایک اور ناتوانی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ وہ پکاریں گے اے مالکِ جہنّم! ہماری آرزو ہے کہ تمہارا پروردگار ہمیں موت ہی دے دے (تاکہ ہم آ سودہ خاطر ہو جائیں): (وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ)۔ حالانکہ ہر شخص موت سے بھاگتا اور زندگی کے دوام کا خواہش مند ہوتا ہے۔ لیکن بعض اوقات انسان پر مصائب کے اس قدر پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں کہ وہ خدا سے موت کی آرزو کرنے لگتا ہے۔ ایسا اتفاق دُنیا میں خال خال لوگوں کے لیے پیش آتا ہے۔ لیکن وہاں پر مجرمین کے لیے یہ آرزو عمومی حیثیت کی حامل ہو گی اور تمام مجرم موت کی تمنّا کریں گے۔ لیکن یہ آرزو بےفائدہ ہو گی، کیونکہ داروغہٴ جہنم انھیں جواب دے گا: "تمہیں اسی حال میں رہنا ہو گا اور موت کے ذریعے تمہیں نجات نہیں مل سکتی" (قَالَ إِنَّكُم مَّاكِثُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: "ماکثون"، "مکث" کے مادہ سے ہے۔ جس کا معنی کسِی چیز کے انتظار میں ٹھہرنا ہوتا ہے۔ شاید مالکِ دوزخ کی طرف سے یہ تعبیر ان کا ایک قسم کا مذاق اڑانا ہو۔ جیسے اگر کوئی غیر مستحق شخص کسی چیز کا تقاضا کرتا ہے۔ تو اسے کہا جاتا ہے۔ انتظار کرو)۔ پھر عجیب بات یہ ہے کہ بعض مورخین کے بقول داروغہٴ جہنم انھیں بڑی بےپرواہی کے ساتھ ایک ہزار سال بعد یہ جواب دے گا اور یہ بےاعتنائی کس قدر دردناک ہو گی۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر مجمع البیان "اپنی آیات کے ذیل میں" البتہ بعض مفسرین نے سالوں کے اس فاصلے کا عدد ۱۰۰ بتایا ہے۔ اور بعض نے ۴۰، لیکن سالوں کی تعداد خواہ کچھ ہو، بےاعتنائی کی دلیل ضرور ہے۔ ممکن ہے۔ یہ کہا جائے کہ وہ اچھی طرح جانتے ہوں گے اور انہیں پورا یقین ہو گا کہ وہاں پر موت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، پھر ان کی یہ کیسی درخواست ہو گی؟ لیکن اس بات کی طرف بھی وجہ کرنی چاہیئے کہ جب ایک ناتواں شخص ہر جگہ سے مایوس ہوجاتا ہے۔ تو اس کی طرف سے اس قسم کی درخواستیں فطری بات ہوتی ہیں۔ جی ہاں! جب وہ نجات کی تمام راہیں اپنے لیے مسدُود دیکھیں گے تو دل سے اس قسم کی چیخ و پکار کریں گے۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ خواہ براہِ راست خدا سے یہ درخواست کیوں نہیں کریں گے، بلکہ دارو غہٴ جہنم سے التماس کریں گے کہ وہ اپنے خدا سے ان کی موت مانگے؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ اس دن خدا سے محُبوب (چھپے ہوئے) ہوں گے۔ جیسا کہ سورہٴ مطففین کی پندرہویں آیت میں ہے۔ "كَلَّا إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوبُونَ"۔ لہٰذا وہ فرشتہٴ عذاب کے ذریعے درخواست کریں گے، یا پھر اس لیے کہ داروغہٴ جہنّم فرشتہ ہو گا اور فرشتے خدا کے مقرب ہوتے ہیں۔ بعد کی آیت میں جو درحقیقت ان کے آتش جہنم میں دائمی عذاب کی وجہ بیان کر رہی ہے۔ فرمایا گیا ہے۔ ہم تو تمہارے پاس حق لے کر آئے ہیں لیکن تم میں سے بہت سے لوگ حق کو ناپسند کرتے ہیں اور اسے نہیں مانتے۔ (لَقَدْ جِئْنَاكُم بِالْحَقِّ وَلَكِنَّ أَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كَارِهُونَ)۔ یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ بات داروغہٴ جہنّم کی ہے۔ اور "ما" سے مراد فرشتوں کی جماعت ہے۔ اور مالکِ دوزخ بھی اس جماعت میں ہے۔ یا خدا کی طرف سے ہے۔ اس بارے میں مفسرین کے دو نظریئے ہیں۔ البتہ کلام کا سیاق اس بات تقاضا کرتا ہے کہ یہ مالک دوزخ کی بات ہو۔ لیکن آیت کا مضمون یہ بتاتا ہے کہ کلامِ خدا ہے۔ کیونکہ اسی سے مناسبت رکھتا ہے۔ جیسا کہ سُورہٴ زمر کی آیت ۷۱ اسی بات کی شاہد ہے۔ "وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ يَتْلُونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِ رَبِّكُمْ" "جہنّم کے خازنین انہیں کہیں گے: کیا تمہارے پاس تم میں سے رسُول نہیں آئے جو تمہارے سامنے تمہارے ربّ کی آیات کی تلاوت کرتے تھے؟" یہاں پر خازنین جہنم نے رسُولوں کو حق لانے والا بتایا ہے۔ نہ کہ خود کو۔ "حق" کا وسیع معنی ہے۔ جو تمام تقدیر ساز حقائق پر محیط ہے۔ اگرچہ توحید، معاد اور قرآن کا مسئلہ ان میں سرفہرست ہے۔ یہ تعبیر درحقیقت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تم صرف انبیاء کرام علیہ السلام ہی کے مخالف نہیں تھے، بلکہ سرے سے حق کے مخالف تھے اور یہی مخالفت تمہارے لیے دائمی عذاب کا تحفہ لے کر آئی ہے۔ بعد کی آیت میں ان کی حق سے بیزاری اور باطل کی طرفداری کے ایک گوشے کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ بلکہ انہوں نے سازشوں پر کمر باندھ لی ہے۔ ہم نے بھی ان کے بارے میں کُچھ ٹھان لیا ہے۔ (أَمْ أَبْرَمُوا أَمْرًا فَإِنَّا مُبْرِمُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: مذکورہ بالا آیت میں "امّ" منقطعہ ہے۔ اور "بل" کے معنی میں ہے۔ اور "ابرام" کا معنی بَل دینا اور پختہ کرنا ہے۔ انہوں نے نور اسلام کو بجھانے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قتل اور ہر مُمکنہ کوشش سے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی سازش تیار کی ہے۔ اور ہم نے بھی یہ ٹھان لیا ہے کہ انہیں اس جہاں اور اُس جہاں، دونوں میں سخت سزا دیں گے۔ بعض مفسرین نے اس آیت کی شانِ نزول، ہجرت سے قبل آنحضرت صلّی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قتل کی سازش سے متعلق بتائی ہے کہ جس کی طرف سُورہ ٴ انفال کی آیت ۳۰ میں اِن الفاظ کے ساتھ اشارہ کیا گیا ہے۔ "وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُواْ..."۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر فخررازی اسی آیت کے ذیل میں)۔ لیکن ظاہری مفہوم یہ ہے کہ یہ امر ایک طرح کی مطابقت ہے۔ نہ کہ اس کی شانِ نزُول۔ بعد کی آیت درحقیقت ان کی سازشوں کے اسباب میں سے ایک سبب بیان کر رہی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: بلکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان کے بھید اور سرگوشیوں کو نہیں سنتے۔ (أَمْ يَحْسَبُونَ أَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُم)۔ لیکن ایسی بات نہیں ہے۔ ہم خود بھی ان کی باتوں کو سنتے ہیں اور "ہمارے رسُول اور فرشتے ان کے پاس موجُود ہیں اور ہمیشہ ان کی ظاہر اور پوشیدہ باتوں کو لکھتے جاتے ہیں"۔ (بَلَى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُونَ)۔ "سر" وہ بات ہوتی ہے۔ جسے انسان اپنے دل میں چھپائے رہتا ہے۔ یا پھر اپنے راز دار دوستوں سے کہتا ہے۔ اور "بخویٰ" سرگوشی کو کہتے ہیں۔ جی ہاں! خدا صرف ان کی پوشیدہ باتوں ہی کو نہیں جانتا جو چھپ چھپا کر اور سرگوشی کی صُورت میں کرتے ہیں بلکہ حدیث نفس اور ان کے دل کے ساتھ ہونے والی باتوں سے بھی آگاہ ہے۔ کیونکہ اس کے نزدیک مخفی اور آشکار میں کوئی فرق نہیں۔ جو فرشتے انسان کے اعمال اور گفتار لکھنے کے لیے مقرر کیئے گئے ہیں وہ بھی ہمیشہ ان باتوں کو ان کے نامہٴ اعمال میں لکھتے ہیں رہتے ہیں۔ اگرچہ اس کے بغیر بھی حقائق روشن ہیں، لیکن یہ اس لیے ہے۔ تاکہ وہ دُنیا و آخرت میں اپنے اعمال، گفتار اور سازشوں کا نتیجہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 85 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 85 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 85 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 85 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر انہیں باطل میں غوطے کھانے دو
Tafsīr Nemūna · Vol. 7گزشتہ آیات، خصوصاً سُورت کی ابتداء میں خدا کے لیے اولاد کے بارے میں مشرکین کی گفتگو اور ان کے عقائد کا تذکرہ تھا وہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں سمجھتے تھے۔ نیز چند آیات قبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی خالص توحید اور پروردگار کی عبادت کا طرف دعوت کا تذکرہ بھی تھا، لہذا ان آیات میں باطل عقائد کی نفی کے لیے ایک اور طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ اور وہ یہ کہ خدا فرماتا ہے۔ جو لوگ خداکے لیے اولاد ہونے کا دم بھرتے ہیں، ان سے کہہ کہ اگر رحمن کی کوئی اولاد ہوتی تو میں اس کا سب سے پہلا احترام کرنے والا اور اطاعت گزار ہوتا۔ (قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ)۔ کیونکہ خدا پر ایمان اور اعتقاد بھی مجھے تم سے زیاد ہے۔ اور اس کی آگاہی اور معرفت بھی زیادہ ہے۔ اور اس کی اولاد کا احترام بھی میں تم سے پہلے کرتا اور اس کی اطاعت بھی۔ اگرچہ اس آیت کا مضمون کچھ مفسرین کی نظر میں پیچیدہ ہے۔ اور انہوں نے اس کی مختلف توجیہیں کی ہے کہ جن میں سے بعض توجیہات تو عجیب معلوم ہوتی ہیں۔ (تشریحی نوٹ: مثلاً بعض مفسرین نے "اِن" کو نفی کے معنی میں اور "انااوّل العابدین" کو خدا کا سب سے پہلا عبادت کرنے والا، کے معنی میں لیا ہے۔ اس تفسیر کے مطابق آیت کا معنی یوں ہو گا: "خدا کی کوئی اولاد نہیں اور میں سب سے پہلا عبادت کرنے والا ہوں" جب کہ کئی اور مفسرین نے "عابدین" کو "عبادت سے انکار کرنے والا" کے معنی میں لیا ہے۔ تو اس صُورت میں آیت کا معنی یہ ہو گا: اگر خدا کی کوئی اولاد ہوتی تو میں ایسے خدا کی ہرگز عبادت نہ کرتا،کیونکہ صاحب اولاد کبھی خدا نہیں ہو سکتا، ظاہر ہے کہ اس قسم کی تفسیریں کسی بھی صُورت میں آیت کے ظاہر سے مطابقت نہیں رکھتیں)۔ لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو اس مضمون میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایسا دل کش اندازِ گفتگو ہے۔ جو ہٹ دھرم اور جھگڑالو لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص غلط فہمی کی بناء پر ایسے شخص کے بارے میں یہ کہے کہ وہ "اعلم" ہے۔ جو "اعلم" نہ ہو تو ہم اسے کہیں گے: اگر وہ اعلم ہوتا تو سب سے پہلے ہم اس کی اقتداٴ کرتے۔ یہ اس لیے ہوتا ہے۔ تاکہ وہ اپنے دعویٰ کے استدلال کے بارے میں غور و فکر سے کام لے اور جب اسے سمجھ آ جائے تو خواب غفلت سے بیدار ہو جائے۔ غرض، یہاں پر دو نکتوں کی طرف توجہ ضروری ہے۔ پہلا یہ کہ لفظ عبادت ہر جگہ پرستش کے معنی میں نہیں ہوتا، بلکہ کبھی اطاعت، تعظیم اور احترام کے معنی میں بھی آتا ہے۔ اور یہاں پر بھی اسی معنی میں ہے۔ کیونکہ بفرض محال اگر خدا کی اولاد ہوتی تو بھی اس کی عبادت کے لیے کوئی دلیل موجود نہ تھی اور چونکہ اسی فرض محال کی بنا پر خدا کی اولا د ہے۔ لہذا اس کی اطاعت اور احترام کا ذکر کیا گیا ہے۔ دوسرا یہ کہ عربی ادب کی رُو سے عام طور پر "لو"، "ان" کے معنی میں آتا ہے۔ جو محال ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ اور اگر اس آیت میں ایسا نہیں کہا گیا تو اس کی وجہ صرف فریقِ مخالف سے اندازِ گفتگو میں ہم آہنگی اور رواداری کا مظاہرہ کرنا ہے۔ اس طرح سے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں مطمئن کرنے کے لیے کہا کہ خدا کے لیے اولاد کا تصوّر نہیں کیا جا سکتا۔ اگر اس کی کوئی اولاد ہوتی تو میں سب سے پہلے اس کا احترام کرتا۔ اس گفتگو کے بعد ان بےبنیاد دعووں کی نفی کے لیے ایک اور روشن دلیل پیش کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے۔ یہ لوگ جو کچھ بیان کرتے ہیں تمام آسمانوں اور زمین کا مالک، عرش کا مالک اس سے پاک و پاکیزہ ہے۔ (سُبْحَانَ رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ)۔ جو ذات آسمانوں اور زمین کی مالک و مدبر ہے۔ اور عرش عظیم کی پروردگار ہے۔ اسے اولاد کی کیا ضرورت ہے۔ وہ غیرمتناہی اور تمام کائنات پر حاوی ہے۔ اور تمام مخلوقات کی مربّی ہے۔ اولاد کی تو اسے ضرورت ہوتی ہے۔ جِسے مر جانا ہو لہذا اولاد کے ذریعے وہ اپنی نسل کو باقی رکھنا چاہے۔ اولاد کی تو اسے ضرورت ہوتی ہے۔ جسے کمزوری اور تنہائی کے موقع پر تعاون اور محبت کی ضرورت ہو۔ غرض اولاد کا وجود جسم ہونے اور زمان و مکان میں محدود ہو جانے کی دلیل ہوتا ہے۔ عرش، آسمان اور زمین کے پروردگار کو جو ان سب سے بےنیاز ہے۔ اولاد کی ضرورت نہیں ہے۔ "رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ"کے بعد "رَبِّ الْعَرْشِ" کا ذکر درحقیقت "عام کے بعد خاص کا ذکر ہے۔ کیونکہ جس طرح ہم پہلے بتا چکے ہیں "عرش" کا اطلاق تمام کائنات پر ہوتا ہے۔ جو کہ خالق اکبر کا تختِ حکومت ہے۔ ایک یہ احتمال بھی ہے کہ "عرش" کے لفظ سے مابعد الطبیعة کائنات کی طرف اشارہ ہو جو کہ "سَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ" کے مقابل میں ہے۔ جس سے مادی کائنات کی طرف اشارہ ہے۔ (عرش کے معنی کی مزید تفصیل کے لیے تفسیر نمونہ، جلد۲، سورہٴ بقرہ آیت ۲۵۵ نیز تفسیر نمونہ، جلد اوّل، سورہٴ بقرہ آیت نمبر۷ کی تفسیر کا مطالعہ فرمائیں)۔ پھر ان ہٹ دھرم لوگوں سے بےنیازی "بےاعتنائی اور تہدید کا انداز اختیار کیا گیا ہے۔ اور یہ بذاتِ خود اس قماش کے لوگوں کے ساتھ بحث کا ایک طریقہ ہے۔ ان کے بارے میں رسُول اکرمؐ سے فرمایا گیا ہے۔ اب جب صورتِ حال یہی ہے کہ تو انھیں تو اُن کے حال پر چھوڑ دے تاکہ وہ باطل میں غوطے کھاتے ہیں اور کھیل کُود میں لگے رہیں یہاں تک کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔ ان کے سامنے آموجود ہو اور وہ اپنے تلخ اعمال اور بُرے اور شرمناک افکار کا ثمرہ چکھ لیں۔ (فَذَرْهُمْ يَخُوضُوا وَيَلْعَبُوا حَتَّى يُلَاقُوا يَوْمَهُمُ الَّذِي يُوعَدُونَ)۔ ظاہر ہے کہ اس روز سے مُراد وہی قیامت کا موعود دِن ہے۔ بعض مفسرین نے جو یہ احتمال پیش کیا ہے کہ اس سے مُراد موت کا لمحہ ہے۔ بہت بعید معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ اعمال کی سزا و جزا قیامت کے دن ملے گی نہ کی موت کے وقت۔ یہ وہی یوم موعود ہے۔ جس کے متعلق سُورہٴ برُوج کی آیت ۲ میں قسم کھائی گئی ہے کہ "والیوم الموعود" روز موجود (قیامت کے دن) کی قسم۔ بعد کی آیت میں مسئلہ توحید کے بارے میں سِلسلہ گفتگو جاری رکھا گیا ہے۔ جو ایک لحاظ سے تو ماقبل کی آیات کا نتیجہ ہے۔ اور دوسرے لحاظ سے ان کی تکمیل اور استحکام کی دلیل ہے۔ اور اس میں خداوند کریم کی سات صفات کو بیان کیا گیا ہے۔ جو سب کی سب نظریہ توحید کی بنیادوں کے اسحکام کے لیے مؤثر ہیں۔ پہلے تو ان مشرکین کے عقائد کی نفی کی جاتی ہے۔ جو بزعم خود آسمان اور زمین کے لیے علیٰحدہ علیٰحدہ خداؤں کے قائل تھے، بلکہ دریا صحرا، جنگ، صُلح حتی کہ مختلف انواع کے لیے علیٰحدہ اور جداگانہ خداؤں کے قائل تھے۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ تو وہی ہے۔ جو آسمانوں میں بھی معبُود ہے۔ اور زمین میں بھی۔ (وَهُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ إِلَهٌ وَفِي الْأَرْضِ إِلَهٌ)۔ کیونکہ گزشتہ آیات میں مذکور اس کی آسمانوں اور زمین میں ربوبیّت کو قبول کر لینے سے الوہیّت کا مسئلہ بھی ثابت ہو جائے گا کیونکہ صحیح معنوں میں معبُود وہی ہے۔ جو کائنات کا ربّ، مدیر اور مدبر ہے۔ نہ تو ارباب انوع اور فرشتے عبادت کے لائق ہیں اور نہ ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور بُت! کیونکہ ان میں سے کوئی بھی مقام ربوبیّت کا حامل نہیں ہے۔ بلکہ اپنے اپنے مقام پر مخلوق، مربوب اور اس کے خوان نعمت کے نمک خوار ہیں اور اسی کی عبادت کرتے ہیں۔ پھر دوسری اور تیسری صفت کو بیان کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے۔ اور وہی حکیم و علیم ہے۔ (وَهُوَ الْحَكِيمُ الْعَلِيمُ)۔ اس کے تمام کام حساب و کتاب اور حکمت پر مبنی ہیں اور وہ ہر چیز سے آگاہ اور باخبر ہے۔ اس طرح سے بندوں کے اعمال سے بخوبی واقف ہے۔ اور اپنی حکمت کے مطابق انہیں جزا یا سزا دیتا ہے۔ چوتھی اور پانچویں صفت میں اس کے وجُود کی بےپناہ اور دائمی برکات اور آسمان و زمین میں اس کی مالکیّت کے بارے میں گفتگو کرتے ہُوئے قرآن کہتا ہے۔ بہت ہی بابرکت اور ناقابل زوال ہے۔ وہ جو آسمانوں، زمین اور ان دونوں کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ہے۔ (وَتَبَارَكَ الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا)۔ "تبارک"، "برکت" کے مادہ سے ہے۔ جس کا معنی ہے۔ "عظیم اور بہت بڑی اچھائی کا مالک ہونا" یا "ثبات و بقا کا مالک ہونا"۔ یا "اچھائی اور ثبات و بقا ہر دو کا مالک ہونا"۔ اور خداوندِ عالم کے بارے میں دونوں باتیں صادق آتی ہیں کیونکہ ایک تو اس کا وجود جاودانی اور برقرار ہے۔ اور دوسرے عظیم اور بہت بڑی اچھائی کا منبع ہے۔ بلکہ اصولی طور پر عظیم خیر و خوبی کا تصور بغیر ثبات و برقراری کے ناممکن ہوتا ہے۔ کیونکہ اچھائیاں اور خوبیاں خواہ کتنی ہی زیادہ ہوں لیکن عارضی ہیں، لہذا ناپائیدار کے لیے فراوانی اور عظمت بےمعنی ہے۔ آخر میں چھٹی اور ساتویں صفت کے بارے میں فرمایا گیا ہے۔ اور قیام قیامت کی خبر بھی صرف اسی کو ہے۔ اور تم سب لوگ اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے"۔ (وَعِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ)۔ اِسی لیے اگر تمہیں خیر و برکت کی ضرورت ہے۔ تو اسی سے طلب کرو نہ کہ بُتوں سے اور قیامت کے دن تمہارا مقدر اسی سے وابستہ ہے۔ اور اس دن تمہاری بازگشت اسی کی طرف ہے۔ اور بُت ہوں یا دوسرے معبُود ان کا اس بارے میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔
چند اہم نکات: ۱۔ سماوات و ارض کا تین مرتبہ ذکر:
یہ الفاظ ایک بار تو پروردگار کی ربوبیّت اور اس کے تمام امور میں تصرف اور تدبر کے عنوان سے، ایک مرتبہ پروردگار کی الوہیّت کے بیان کے طور پر اور ایک مرتبہ اس کی حاکمیّت اور مالکیّت کو بیان کرنے کے لیے زیر بحث آیات میں آئے ہیں اور یہ تینوں آپس میں مربُوط ہیں اور درحقیقت ایک دوسرے کی حلّت و معلُول ہیں۔ وہ "مالک"ہے۔ اور اسی وجہ سے "رب" ہے۔ اور نتیجہ کے طور پر "الٰہ"ہے۔ اور "حکیم" "وعلیم" کے ساتھ اسی کی توصیف بھی ان معانی کا تتمہّ ہے۔
۲۔ زندیقین کا غلط استنباط:
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہےکہ بعض زندیق اور مشرکین نے مندرجہ بالا آیت " وَهُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ إِلَهٌ وَفِي الْأَرْضِ إِلَهٌ" کو اپنے عقیدہ کے ثبوت کے لیے ایک دستاویز بنا لیا اور اپنے غلط وہم کی وجہ سے اس کی تفسیر کی کہ آسمان میں ایک معبُود ہے۔ اور زمین میں کوئی دوسرا معبُود ہے۔ حالانکہ خود آیت اس کے برعکس کہتی ہے۔ اورو ہ یہ کہ وہ آسمانوں میں بھی معبُود ہے۔ اور زمین میں بھی یعنی ہر جگہ معبُود صرف وہ ہے۔ چنانچہ جب اس بات کو سوال کے طور پر ائمہ معصومین علیہم السلام کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے اس کا "نقضی جواب" بھی دیا اور "حلّی جواب" بھی۔ جب کہ کتاب کافی میں "ہشام بن حکم" سے منقول ہے کہ "ابو شا کر دیصانی" (تشریحی نوٹ: "ابو شاکر دیصانی "فرقہ" "ویصانیہ"کے علماء میں سے ایک تھا جو "تنویث" (دوگانہ پرستی) کا عقیدہ رکھتے تھے اور نُور ظلمت کے خداؤں کے قائل تھے۔(ملاحظہ ہو لغت نامہ "دھخدا" مادہ "دیصان")۔ نے مجھے کہا کہ قرآن میں ایک ایسی آیت ہے۔ جو ہماری بات کہتی ہے۔ میں نے کہا: وہ کیا؟ تو اس نے یہ آیت پڑھی"۔ "وَهُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ إِلَهٌ وَفِي الْأَرْضِ إِلَهٌ"۔ مجھ سے اس کا جواب نہ بن پڑا میں اس سال خانہٴ خدا کی زیارت سے مشرف ہوا اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے پاس جا کر حاضری اور تمام ماجرا ان کی خدمت میں عرض کیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا :یہ کسی خبیث ملحد کی بات ہے۔ جب تم واپس جاؤ تو اس سے پوچھو کہ کوفہ میں تمہارا کیا نام ہے۔ تو وہ کہے۔ گا کہ فُلاں، پھر پوچھوں کہ بصرہ میں تمہیں کس نام سے پکارتے ہیں تو وہ کہے۔ گا کہ فلاں سے، تو تم کہنا کہ ہمارا پروردگار بھی اسی طرح ہے۔ آسمانوں میں "الٰہ" اور معبُود وہی ہے۔ اور زمین بھی الہٰ اور معبُود وہی ہے۔ اسی طرح دریاؤں اور صحراؤں غرض ہر جگہ وہی الہٰ اور معبُود ہے۔ ہشام کہتے ہیں کہ جب میں واپس آیا تو "ابو شاکر"کے پاس جا کر اس کا جواب دیا، ابو شاکر نے کہا "یہ تمہارا جواب نہیں ہو سکتا بلکہ اسے تم حجاز سے لائے ہو"۔ (بحوالہ: اصول کافی جلد اوّل کتاب التوحید ”باب الحرکۃ و الانتقال" حدیث ۱۰)۔ عظیم مفسّر "طبرسی" نے زیر تفسیر آیت میں لفظ "الہ" کے تکرار کی دو علّتیں بیان کی ہیں ایک تو ہر جگہ پروردگار کی الوہیّت کی تاکید اور دوسری یہ کہ آسمان کے فرشتے بھی اس کی عبادت کرتے ہیں اور زمین کے انسان بھی اس کی پرستش کرتے ہیں۔ بنا بریں وہ فرشتوں، انسانوں اور زمین و آسمان میں موجود تمام موجودات کا معبُود ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 89 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 89 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 89 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر شفاعت کون کر سکتا ہے۔
Tafsīr Nemūna · Vol. 7ان آیات جو میں سُورہٴ زخرف کی آخری آیتیں ہیں، حسب سابق مشرکین کے تلخ انجام اور کئی دلائل کے ذریعے ان کے عقیدے کے باطل ہونے کو واضح کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے۔ اگر وہ شفاعت کے گمان میں ایسے معبودوں کی عبادت کرتے ہیں تو انہیں معلوم ہونا چاہیئے"۔ خدا کے سوا جن لوگوں کی یہ عبادت کرتے ہیں وہ شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے"۔ (وَلَا يَمْلِكُ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِ الشَّفَاعَةَ)۔ خدا کی بارگاہ میں "شفاعت" کا حق اسی کے اذن و فرمان کے مطابق ہو گا اور حکمت والے خدا نے ان بےقدر و قیمت اور عقل و شعور ے عاری پتھروں اور لکڑیوں کو ہرگز یہ اذن و فرمان نہیں دیا۔ لیکن چونکہ ان کے معبُودوں میں فرشتے اور ان جیسی دوسری مخلوق بھی ہے۔ لہٰذا اسی آیت کے ضمن ہی میں ان کو مستثنیٰ کرتے ہوئے فرمایا "مگر وہ کہ جنہوں نے حق کی شہادت دی"۔ (إِلَّا مَن شَهِدَ بِالْحَقِّ)۔ وہی جنہوں نے تمام مراحل میں خدا کی توحید اور یگانگت کو دل و جان سے قبول کیا اور حق کے آگے پوری طرح جُھک گئے، یقیناً ایسے لوگ بحکم پروردگار شفاعت کے مالک ہوں گے۔ لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ وہ ہر شخص کے لیے شفاعت کریں گے خواہ وہ بُت پرست، مُشرک اور آ مینِ توحید سے منحرف ہی کیوں نہ ہوں! بلکہ "وہ اچھی طرح جانتے ہیں" کہ کن لوگوں کے حق میں شفاعت کر سکتے ہیں۔ (وَهُمْ يَعْلَمُونَ)۔ تو اس طرح سے ان (مشرکین) کی فرشتوں سے شفاعت کی امید کو دو دلیلوں کے ساتھ قطع کرتا ہے۔ ایک تو یہ کہ خود فرشتے توحید کی شہادت دیتے ہیں اسی لیے انہیں شفاعت کی اجازت ہے۔ اور دوسرے یہ کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کن لوگوں کے حق میں شفاعت کرنی ہے۔ (تشریحی نوٹ: اس تفسیر کے مطابق "إِلَّا مَن شَهِدَ بِالْحَقِّ" "استثنائے متصل" ہے۔ لیکن اگر "الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِ الشَّفَاعَةَ" سے مراد خاص کر بُت ہوں تو پھر "استنثنائے منقطع" ہو گا لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ خاص کرکہ "الّذین" کو پیش نظر رکھتے ہُوئے، کیونکہ وہ عقلمندوں کے لیے یا عاقل اور غیر عاقل دونوں کے لیے غلبہ کی صُورت میں استعمال ہوتا ہے۔ بعض مفسرین نے "وَهُمْ يَعْلَمُونَ" کے جملہ کو "إِلَّا مَن شَهِدَ بِالْحَقِّ" کا تتمہ سمجھا ہے۔ جس کے مطابق جملے کا مفہوم یُوں ہو گا کہ: صرف وہی لوگ شفاعت کا حق رکھتے ہیں جو توحید کی شہادت دیتے ہیں اور اس کی حقیقت سے آگاہ ہیں۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔ بہرحال، یہ آیت اللہ کی بارگاہ میں شفاعت کرنے والوں کی اہم شرط کو بیان کر رہی ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو حق کی گواہی دیتے ہیں، تمام مرحلوں پر حق کو پہنچاتے ہیں، توحید کی رُوح سے اچھی طرح واقف ہیں اور ان شرائط سے بھی باخبر ہیں جو شفاعت کیئے جانے والے لوگوں میں پائی جانی چاہئیں۔ پھر خود مشرکین کے اپنے عقائد کو سامنے رکھتے ہوئے انہیں دندانِ شِکن جواب دیتا ہے۔ ارشاد فرماتا ہے۔ "اگر تم ان سے پوچھو گے کہ ان کو کس نے پیدا کیا ہے۔ تو یقیناً وہ کہیں گے کہ خدا نے۔" (وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ)۔ ہم کئی مرتبہ بتا چکے ہیں کہ عرب اور غیر عرب مشرکین میں بہت کم ایسے لوگ ملیں گے جو بتُوں کو خالق اور پیدا کرنے والا مانتے ہوں بلکہ وہ یا تو انہیں خدا کی بارگاہ میں شفاعت کا ایک ذریعہ جانتے تھے اور یا اولیاء اللہ کے مقدس وجود کی علامت اور نمونہ سمجھتے تھے لیکن ساتھ ہی ان کا یہ بہانہ بھی تھا کہ ہمارے معبُود کو ایک محسُوس چیز ہونا چاہیئے تاکہ ہم اس سے مانُوس ہو سکیں۔ اسی لیے وہ ان کی عبادت کیا کرتے تھے۔ لہذا جب ان سے خالق کے بارے میں پوچھا جاتا تھا تو فوراً کہہ دیتے تھے کہ "اللہ"۔ قرآن نے بارہا اس حقیقت کی یاد دھانی کرائی ہے کہ عبادت صرف کائنات کے خالق اور مدبّر کے شایانِ شان ہے۔ لہٰذا اگر تم اسی کو خالق اور مدبّر سمجھتے ہو تو پھر اس کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہ جاتا کہ اسے "عبودیت" اور الوہیّت سے مخصوص بھی سمجھو۔ اسی لیے آیت کے اختتام پر انہیں سرزنش کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے کہ اگر صورتِ حال یہی تو "پھر وہ خدا کی عبادت سے مُنہ مُوڑ کر اس کے غیر کی طرف کیوں رُخ کرتے ہیں"۔ (فَأَنَّى يُؤْفَكُونَ)۔ بعد کی آیت میں رسُولِ پاکؐ کی بارگاہ ایزدی میں اسی ہٹ دھرم اور بےمنطق قوم کی شکایت کے بارے میں فرمایا گیا ہے۔ وہ لوگ پیغمبر کی اس شکایت سے کیونکر غافل ہیں کہ وہ کہیں گے : پروردگارا! وہ لوگ ہیں جو ایمان نہیں لاتے۔ (وَقِيلِهِ يَارَبِّ إِنَّ هَؤُلَاءِ قَوْمٌ لَّا يُؤْمِنُونَ)۔ پیغمبرؐ کہیں گے کہ میں نے انہیں شب و روز تبلیغ کی، انہیں بہشت کی خوش خبری دی اور جہنم کی عذاب سے ڈرایا، گزشتہ اقوام کے انجام سے انہیں مطلع کیا، تیرے عذاب سے انہیں ڈرایا اور گمراہی سے بچنے کی صُورت میں انہیں تیری رحمت کی ترغیب دلائی، غرض اپنی بساط کے مطابق انہیں سب کچھ بتایا اور جو کہنے کی باتیں تھیں، ان سے کہیں، لیکن پھر بھی میری ان گرم باتوں نے اِن کے سرد دلوں پر کوئی اثر نہ کیا اور و ہ ایمان نہیں لائے، اس حقیقت سے تو بھی واقف ہے۔ اور وہ بھی۔ (تشریحی نوٹ: "وقیلہ" کا عطف کِس پر ہے۔ اس بارے میں مفسرین کی مختلف آ راء ہیں۔ کچھ اسے تین آیات قبل موجُود لفظ "السّاعة" پر عطف سمجھتے ہیں اس صورت میں اس جُملے کا مفہوم یُوں ہو گا:خدا قیامت سے بھی باخبر ہے۔ اور کفّار کے بارے میں پیغمبر کی شکایت سے بھی۔ کچھ اسے "علم الساعة پر معطوف سمجھتے ہیں۔ (البتہ اس شرط کے ساتھ کہ "قبلہ" سے پہلے "علم" محذوف ہے۔ تو ایسی صُورت میں معنی کے لحاظ سے اس کا پہلی تفسیر کے ساتھ زیادہ فرق نہیں ہے۔ جبکہ بعض مفسرین نے واؤ کو قسم کے معنی میں سمجھا ہے۔ اس قسم کے اور بھی کئی احتمالات ہیں جن کو بیان کرنے سے بات لمبی ہو جائے گی۔ البتہ ایک اور قابلِ ذکر احتمال بھی ملتا ہے۔ جو شاید سب سے بہتر ہے۔ اور وہ یہ کہ اس کا عطف "فَأَنَّى يُؤْفَكُونَ" پر ہے۔ اور تقدیری طور پر یوں ہو گا۔ "ا نَّی یُؤْفَکُون عن عبادة و عن قیلِہ یا رَبِّ إِنَّ ھٰؤُلاءِ قَوْمٌ لا یُؤْمِنُونَ"۔ "خدا کی عبادت سے کیوں انحراف کرتے ہیں اور ان بےایمان قوم سے پیغمبرؐ کی شکایت کو کیونکر انداز کر سکتے ہیں"۔ اسی سِلسلے کی آخری آیت میں خداوندِ عالم اپنے پیغمبرؐ کو حکم دے رہا ہے۔ اب جبکہ صورتِ حال یہ ہے۔ تو تُو ان سے مُنہ پھیر لے (فَاصْفَحْ عَنْهُمْ)۔ لیکن یہ رُوٹھنے اور جُدا ہونے کی صُورت میں نہ ہو کہ جس میں سختی اور ترشی پائی جاتی ہو۔ بلکہ اُن سے کہہ دے: "تم پر سلام" (وَقُلْ سَلَامٌ)۔ دوستی اور تحیّہ کے عنوان سے نہیں بلکہ جدائی علیٰحدگی کے طور پر سلام ہو۔ اور یہ سلام درحقیقت اس سلام کے مشابہ ہے۔ جو سُورہٴ فرقان کی آیت ۶۳ میں بیان ہوا ہے۔ "وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا"۔ جب جاہل لوگ ان کو بُرے لفظوں کے ساتھ مخاطب کرتے ہیں تو وہ جواب میں "سلام" کہہ دیتے ہیں۔ ایسا سلام جو بےاعتنائی اور بزرگواری کی علامت ہوتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود انہیں ایک معنی خیز جُملے کے ساتھ دھمکی بھی دی جاتی ہے۔ تاکہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ یہ جدائی اور علیٰحدگی اس بات کی دلیل ہے کہ اب خدا کا ان سے کوئی سروکار ہی نہیں رہا، ارشاد ہوتا ہے: لیکن وہ بہت جلد جان لیں گے۔ (فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ)۔ جی ہاں انہیں معلوم ہو جائے گا کہ انہوں نے اپنی ہٹ دھرمیوں اور ضد کی وجہ سے کیسی آگ اور کس قدر دردناک عذاب فراہم کر لیا ہے۔ بعض مفسرین نے "وَلَا يَمْلِكُ الَّذِينَ يَدْعُونَ ۔۔۔" کی شانِ نزُول ذکر کی ہے۔ اور وہ یہ کہ "نصر بن حارث" اور قریش کے چند دیگر لوگوں نے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) جو کچھ کہتا ہے۔ اگر وہ حق ہے۔ تو ہمیں اس کی شفاعت کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ ہماری فرشتوں سے دوستی ہے۔ اور اہم انہیں اپنا ولی سمجھتے ہیں اور وہی شفاعت کرنے کے بھی زیادہ سزاوار ہیں۔ اس موقع پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی (جس میں انہیں خبردار کیا گیا ہے کہ بروز قیامت ملائکہ کسی کی شفاعت نہیں کریں گے۔ اگر کریں گے بھی تو ان لوگوں کی جو حق کی گواہی دیتے ہیں۔ یعنی مؤمنین کی)۔ (تشریحی نوٹ: اس تفسیر کے مطابق"إِلَّا مَن شَهِدَ بِالْحَقِّ" کا جُملہ شفاعت کئے جانے والوں کی صفت ہے۔ نہ کہ شفاعت کرنے والوں کی)۔ (بحوالہ: تفسیر قرطبی، جلد ۹، ص ۵۹۴۴)۔ یہاں پر سُورہٴ زخرف ختم ہو جاتی ہے۔ پروردگار ا! ہمارا رابط اپنے ساتھ اور اپنے اولیاء کے ساتھ روز بروز زیادہ سے زیادہ مستحکم فرما، تاکہ ان کی شفاعت ہمارے شاملِ حال ہو سکے۔ خداوندا! ہمیں ہر قسم کے جلی اور خفی شرک سے محفوظ فرما اور اُس سے دُور رکھ۔ بارِالہٰا! قیامت کے دن کے جو اوصاف تو نے اپنی آسمانی کتابوں میں بیان فرمائے ہیں، اُن کے مطابق وہ دن بہت سخت اور طاقت فرسا ہو گا۔ اُس دن تو ہمارے ساتھ اپنے فضل و کرم کا مظاہرہ فرما نہ کہ اپنے عدل کا۔ آمین! آمین یا رب العالمین!