آیات سورہ کی تفسیر سے پہلے چند نکات پر توجہ ضروری ہے۔
۱۔ سورہ ٴ نساء کا محل نزول
بعض مفسرین کے مطابق اس سورہ کی تمام آیتیں (سوائے آیت ۵۸ کے) مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہیں۔ ترتیب و نزول کے اعتبار سے یہ سورہ سورہ ٴ ممتحنہ کے بعد ہے۔ قرآن مجید پر ایک سرسری نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآنی سورتوں کی موجودہ ترتیب ان کے نزول کے مطابق نہیں ہے۔ چنانچہ بہت سی سورتیں جو مکہ معظمہ میں نازل ہوئی ہیں وہ قرآن مجید کے شروع میں ہیں۔ وہ قرآن کے آخر میں ہیں اور بہت سی ایسی سورتیں جو مدینہ میں نازل ہوئی ہیں وہ قرآن مجید کے شروع میں ہیں البتہ جس طرح ہم جلد اول کے شروع میں لکھ چکے ہیں کہ ایسے مدارک اور اسناد ہمارے پاس موجود ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ قرآن کی سورتوں کی جمع اور موجودہ ترتیب خود حضرت رسولؐ کے زمانہ میں ہو چکی تھی۔ اس بنا پر قرآن کو جمع کرتے وقت خود حضرت ختمی مرتبتؐ نے مختلف وجوہات کی وجہ سے جن میں سے ایک مطالب کی اہمیت اور ان کی ترتیب طبعی ہے، موجودہ ترتیب میں جمع کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ اس ترتیب کے مطابق پہلی سورت ”الحمد“ اور آخری سورت ”الناس“ ہے۔ اس میں کوئی لفظ بلکہ حرف تک کسی آیت یا سورت میں کم و بیش نہیں ہوا۔ یہ سورہ آیات، الفاظ اور حروف کی تعداد کے لحاظ سے سورہ بقرہ کے بعد طویل ترین سورت ہے اور ۷۷ ۱ آیات پر مشتمل ہے۔ اس امر کے پیش نظر کہ اس میں بہت سے مباحث عورتوں کے احکام اور حقوق کے بارے میں ہیں اس کا نام ”سورہٴ نساء“ رکھا گیا ہے۔
۲۔ اس سورہ کے اہم موضوعات
ہم یہ تحریر کر چکے ہیں کہ یہ سورت مدنہ منورہ میں نازل ہوئی۔ یعنی عین اسی وقت جب رسالت مآبؐ حکومت اسلامی کی تاسیس اور ایک صحیح انسانی معاشرے کی تشکیل میں مصروف تھے۔ اسی بنا پر بہت سے قوانین جو معاشرے کو راہ راست پر لانے کے لئے موثر تھے، اس سورت مین نازل ہوئے ہیں۔ چونکہ وہ افراد جو اس معاشرے کی تار و پود کی تشکیل میں لگے ہوئے تھے کل ایسے بت پرست تھے جو زمانہ جاہلیت کی تمام آلودگیوں میں ملوث رہ چکے تھے، اس لئے سب سے پہلے یہ ضروری تھا کہ پہلی رسومات بد کو ان کی روح اور دماغ سے نکالا جائے اور ان کی بجائے ایسا قانون اور منصوبے جو ایک فرسودہ نظام کی بجائے ضروری ہیں، بنائے جائیں۔
اس سورہ کی مباحث کو تین عمومی حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
۱۔ ایمان و عدالت کی دعوت اور بدترین دشمنو ں کا بائیکاٹ۔
۲۔ برے معاشرے کا نتیجہ اور انجام سمجھانے کے لئے گذرے ہوئے لوگوں کی حالات زندگی سے روشناس کرانا۔
۳۔ امداد کے مستحق افراد کی حمایت مثلاً یتیم اور ان کے حقوق کے متعلق ضروری احکامات۔
۴۔ میراث کا قانون طبعی، فطری اور عادلانہ طریقہ کی بنیاد پر اس صورت کے خلاف جو اس زمانہ میں رائج تھی، جس کے ذریعے نہایت تکلیف دہ حیلے بہانوں سے کمزور لوگوں کو ان کے جائز حق سے محروم کر دیا جاتا تھا۔
۵۔ شادی بیاہ کے متعلق قانون اور عام پاک دامنی کی حفاظت کے لئے لائحہ عمل۔
۶۔ اموال کی حفاظت کے لئے کلی اور عمومی قوانین۔
۷۔ معاشرہ کی بنیادی اکائی یعنی خاندان کی حفاظت اور بہبودی کا پروگرام۔
۸۔ لوگوں کے ایک دوسرے کے مقابلہ میں متقابل حقوق اور ذمہ داریاں۔
۹۔ اسلامی معاشرے کے دشمنوں کا تعارف اور ان کے مقابلہ کے لئے مسلمانوں کو بیدار رہنے کی تلقین۔
۱۰۔ حکومت اسلامی اور حکومت اسلامی کے رہبر کی اطاعت اور فرمانبرداری کا لزوم۔
۱۱۔ مسلمانوں کو واضح دشمنوں سے مقابلے اور ان سے جنگ کے لئے ابھارنا۔
۱۲۔ ایسے دشمنوں کی پہچان جو ڈھکے چھپے سازشیں کرتے رہتے ہیں۔
۱۳۔ ہجرت کی اہمیت اور اس کا ضروری ہونا جبکہ فاسد اور برے معاشرہ کا سامنا کرنا پڑے۔
۱۴۔ میراث کے متعلق مباحث اور جمع شدہ دولت کی وارثوں میں تقسیم۔
اس سورت کی تلاوت کی فضیلت
ایک روایت کے مطابق حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
جو شخص سورہٴ نساء کی تلاوت کرے گویا اس نے اس قدر مال و زر راہ خدا میں دیا ہے جتنا کہ سورہٴ نساء کے لحاظ سے بطور وارث ہر ایک مسلمان کا حصہ ہے اور اسی طرح اسے اس شخص کے برابر ثواب دیا جائے گا جس نے ایک غلام آزاد کیا ہو۔
واضح ہے کہ اس روایت میں اور اس قسم کی تمام دوسری روایتوں میں صرف آیتوں کا پڑھنا مقصد نہیں ہے۔ بلکہ پڑھنا تو سمجھنے کے لئے مقدمہ اور تمہید ہے اور وہ بھی اپنے مقام پر۔
یہ ایک قدم ہے اسے اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اپنانے کے لئے یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان اس سورہ کی آیات سے اپنی زندگی میں عملی نصیحت حاصل کرے تو وہ یہ تمام اجر و ثواب دنیاوی نتائج کے علاوہ حاصل کرے گا۔
اے لوگو ! اپنے پالنے والے سے ڈرو جس نے تم سب کو ایک ہی انسان سے پیدا کیا اور اس کی بیوی کو بھی اس کی جنس سے خلق فرمایا اور ان دونوں سے ان گنت مرد اور عورتیں (روئے زمین پر) پھیلا دیں۔ اس خدا سے ڈرو جس کے واسطے سے تم سوال کرتے ہو اور اپنے رشتہ داروں کے بارے میں (قطع تعلق کرنے سے) پرہیز کرو کیونکہ خداوند عالم تمہارا نگہبان ہے۔
تفسیر
طبقاتی تقسیم اور گروہ بندی کے خلاف جہاد
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
یا اَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمُ الَّذی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ واحِدَة
اس سورہ کی پہلی آیت میں تمام انسانی افراد سے خطاب ہے کیونکہ یہ سورہ ایسے مسائل پر مشتمل ہے جن کے تمام لوگ اپنی زندگی میں محتاج ہیں۔
اس کے بعد تقویٰ اور پرہیزگاری کی دعوت ہے جو کسی معاشرے کو صحیح و سالم اور صحت مند بنانے کے پروگراموں کی بنیاد ہے۔ ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی، میراث کی عادلانہ تقسیم، یتیموں کی حمایت، گھریلو حقوق کی حفاظت اور اسی طرح کے منصوبے ایسے ہیں جو تقویٰ اور پرہیزگاری کی بلندی کو نہیں چھو سکتے۔
اسی لئے اس سورت کو جو ایسے تمام مسائل پر محیط ہے تقویٰ کی دعوت سے شروع کیا گیا ہے۔
وہ خداوند تعالی جو انسان کے تمام اعمال کو دیکھنے والا اور ان کی دیکھ بھال کرنے والا ہے اس سورہ کو تقویٰ کی دعوت کے ساتھ شروع کرتا ہے۔
وہ خدا جو انسان کے تمام اعمال کا ناظر ہے تعارف کے طور پر انسان کی ایک ایسی صفت کی طرف اشارہ کرتا ہے جو انسانی معاشرے کی وحدت و یگانگی کی جڑ ہے۔
الَّذی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ واحِدَة
وہ خدا جس نے تمام انسانوں کو ایک انسان سے پیدا کیا۔ اس بنا پر وہ خیالی اور وہمی امتیاز و افتخار جو ہر ایک جماعت نے اپنے لئے گھڑ رکھے ہیں مثلاً امتیازات نسلی، لسانی، علاقائی، قبائلی اور اس قسم کے دوسرے امتیاز جو آج کل دنیا کی سوسائٹی میں ہزاروں خرابیوں کا سبب بنے ہوئے ہیں، ایک اسلامی معاشرے میں نہیں پائے جانے چاہیئں کیونکہ ان سب کا سرچشمہ ایک ہی ہے۔ یہ سب ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں اور ایک ہی گوہر سے پیدا ہوئے ہیں۔ اس امر کو پیش نظر رکھا جائے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے زمانہ کا معاشرہ چونکہ سب کا سب قبائلی تھا تو اس بات کی اہمیت خوب ظاہر ہو جاتی ہے۔ اس قسم کی تعبیرات قرآن حکیم کے دوسرے مقامات میں بھی ہیں جن کی طرف اپنے اپنے مقام پر اشارہ کیا جائے گا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ”نفس وحدہ“ سے کون مراد ہے؟ اس سے مراد ایک فرد شخص ہے یا ایک فرد نوعی یعنی (مذکر کی جنس)۔ اس میں شک نہیں کہ اس تعبیر کا ظاہری مفہوم تو واحد فرد کے بارے میں ہے اور یہ اس پہلے انسان کی طرف اشارہ ہے جسے قرآن آدم کے نام سے آج کے انسانوں کے باپ کے طور پر متعارف کراتا ہے۔ بنی آدم کی تعبیر جو متعدد آیات قرآنی میں کی گئی ہے وہ بھی اسی طرف اشارہ ہے اور یہ احتمال کہ اس سے مراد وحدت نوعی ہے بعید معلوم ہوتا ہے۔
و خلق منھا زوجھا
یہ جملہ بظاہر یہ بتاتا ہے کہ حضرت آدمؑ کی زوجہ محترمہ انہی سے پیدا ہوئی ہیں بعض مفسرین اس سے یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت آدم (ع) کی بیوی حوّا حضرت آدمؑ کے بدن سے پیدا ہوئی ہیں۔ کچھ معتبر روایتیں یہ بھی کہتی ہیں کہ حضرت حوّا آدم (ع) کی پسلیوں سے پیدا ہوئی ہیں اور اس پر آیت کو گواہ ٹھرایا گیا ہے۔ (تورات کے سفر تکوین کی دوسری فصل بھی ان ہی معنوں کی وضاحت کرتی ہے) لیکن قرآن کی دوسری آیات کی طرف توجہ کرنے سے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں شک و شبہ دور ہو جاتا ہے اور معلوم ہو جاتا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ خداوند عالم نے حضرت آدم (ع) کی بیوی کو انہی کی جنس (جنس بشر) سے پیدا کیا۔
چنانچہ سورہٴ روم کی آیت ۲۱ میں ہے:
ومن آیاتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیھا
قدرت خدا کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے تمہاری بیویاں تمہاری ہی جنس میں سے پیدا کی ہیں تاکہ تمہیں ان کی وجہ سے سکون حاصل ہو۔
سورہٴ نحل کی آیت ۷۲ میں فرماتا ہے:
واللّہ جعل لکم من انفسکم ازواجا
خدا نے تمہاری بیویاں تمہاری جنس میں سے بنائی ہیں۔
واضح ہو کہ ان دونوں آیتوں میں تمہاری بیویوں کو تم میں سے قرار دیا کے یہ معنی ہیں کہ انہیں جنس سے قرار دیا نہ کہ تمہارے اعضائے بدن میں سے۔
اور اس روایت کے مطابق جو تفسیر عیاشی میں حضرت امام محمدباقر(ع) سے منقول ہے کہ حضرت حوّا کو حضرت آدم (ع) کی پسلیوں خلقت کو غلط قرار دیا گیا ہے۔ نیز یہ وضاحت کی گئی ہے کہ حضرت حوا حضرت آدم(ع) کی بچی ہوئی مٹی سے پیدا ہوئی ہیں۔
حضرت آدم (ع) کے بچوں کی شادیاں کس طرح ہوئیں
و بث منھما رجالا کثیرا ونساء
یہ جملہ بتاتا ہے کہ حضرت آدم(ع) اور ان کی بیوی سے بہت سے مرد اور عورتیں پیدا ہوئیں۔ اس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم(ع) کے بیٹوں کی نسل کی بہتات حضرت آدم(ع) اور ان کی بیوی کے طریقہ سے ہی ظاہر ہوئی تھی اور اس مٰیں کسی تیسرے وجود کا عمل دخل نہ تھا۔ اس گفتگو کا نتیجہ یہ ہوا کہ آدم(ع) کی اولاد (بھائی، بہن) نے ایک دوسرے سے شادی کی۔ کیونکہ اگر انہوں نے کسی اور نسل کی بیویوں سے شادی کی ہو تو لفظ ”منھما“ ان دونوں پر صادق نہیں آتا۔
یہ موضوع بہت سی حدیثوں میں بھی آیا ہے اور کوئی زیادہ تعجب خیز بھی نہیں ہے۔
کیونکہ اس استدلال کے مطابق جو بعض حدیثوں میں ائمہ اہل بیت(ع) سے مروی ہے یہ شادی بیاہ اس وقت مباح تھا۔ کیونکہ اس زمانہ میں بھائی بہن کی شادی کی حرمت کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ واضح ہے کہ کسی کام کی ممانعت کا دار و مدار اسی بات پر ہے کہ خدا کی طرف سے اس کا حکم آئے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مصلحت اور ضرورت کی وجہ سے ایک کام ایک زمانہ میں جائز ہو اور اس کے بعد حرام۔
مگر یہ بھی ہے کہ بعض دوسری حدیثوں میں اس مسئلہ کی وضاحت کی گئی ہے کہ حضرت آدم(ع) کے بیٹے بیٹیوں کی ایک دوسرے سے شادیاں نہیں ہوئیں اور جو لوگ ایسے شادی بیاہ کا اعتقاد رکھتے ہیں ان پر سخت تنقید کی گئی ہے۔
اگر یہ بنا ہو کہ حدیثیں آپس میں ٹکراتی ہیں۔ اس لئے جو حدیث قرآن کے مطابق ہو اسے درست سمجھا جائے تو پھر پہلی ہی بات کو ماننا پڑے گا۔ کیونکہ ان حدیثوں کا مفہوم مندرجہ بالا آیت کے عین مطابق ہے۔ یہاں ایک احتمال اور بھی ہے کہ یہ سوچا جائے کہ حضرت آدم(ع) کے بیٹوں نے اپنے سے پہلے بچے کھچے انسانوں میں شادیاں کی تھیں۔
کیونکہ بعض روایات کے لحاظ سے حضرت آدم(ع) روئے زمین کے پہلے انسان نہیں تھے۔ آج کا عملی مطالعہ بھی بتاتا ہے کہ نوع انسانی تقریباً چند ملین سال پہلے کرہٴ زمین پر بسر کرتی تھی جبکہ حضرت آدم(ع) کی تاریخ پیدائش سے لے کر اب تک کوئی زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ بنا بریں ہمیں یہ مان لینا چااہئے کہ حضرت آدم(ع) سے پہلے بھی دوسرے انسان زمین پر رہتے تھے جو ان کی پیدائش کے وقت ختم ہو رہے تھے تو اس امر میں کیا رکاوٹ ہے کہ حضرت آدم(ع) کے بیٹوں نے اپنے سے پہلے باقی رہنے والے لوگوں میں سے کسی ایک کے خاندان میں شادیاں کی ہوں۔ (تشریحی نوٹ: اجمالی طور پر دوسرے یا تیسرے نطریہ کو ترجیح دینا چاہیے خصوصاً جبکہ روایات بھی موجود ہیں۔ مزید برآں بہن بھائی کی شادی کسی معاشرے میں اچھی نہیں سمجھی جاتی۔ یہاں تک کہ وہ معاشرے جو کسی دین کے پیرو بھی نہیں ہیں۔ آیت بھی نص نہیں ظاہر ہی ہے۔ ادھر موافقت اور مخالفت عامہ کا اصول بھی ہے۔ (مترجم)
لیکن ہم تحریر کر چکے ہیں کہ یہ احتمال بھی آیہٴ مندرجہ بالا کی ظاہری صورت کے ساتھ کوئی خاص مناسبت نہیں رکھتا۔ یہ بہت بحث طلب معاملہ ہے۔ جو تفسیری بحث کی گنجائش سے خارج ہے۔
وَ اتَّقُوا اللَّہَ الَّذی تَسائَلُونَ بِہِ وَ الْاَرْحامَ
وہ اہمیت جو تقویٰ کو کسی صحیح معاشرے کی بنیاد رکھنے کے لئے حاصل ہے۔ وہ اس بات کا سبب بنی ہے کہ لوگوں کو دوبارہ پرہیزگاری اور تقویٰ کی طرف بلایا جائے۔ البتہ یہاں پر ایک جملہ بڑھایا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: خدا سے ڈرو، جو تمہاری نگاہ میں عظمت اور بزرگی کا مالک ہے اور جب تم کسی سے کوئی چیز مانگتے ہو تو اس کا نام لیتے ہو۔ (تشریحی نوٹ: تسائلون تسائل کے مادہ سے ہے۔ جس میں معنی ایک دوسرے سے سوال کرنے کے ہیں۔ تسائل باللہ۔ کے معنی یہ ہیں کہ لوگ جب ایک دوسرے سے کوئی چیز مانگیں تو ”اسئلک باللہ“ تجھے خدا کا واسطہ دیتا ہوں کہتے ہیں اور یہ ان کی نطروں میں خداوند عالم کی عظمت کی نشانی ہے)
پھر کہتا ہے: والارحام
یہ لفظ اللہ پر عطف ہے۔ اسی لئے مشہور قرات میں مفتوع و منصوب پڑھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اس کے معنی یہ ہوں گے: واتقوا الارحام یعنی رشتہ داروں کی قطع رحمی سے ڈرو اور یہاں موضوع کا ذکر پہلے تو صلہ رحمی کی انتہائی اہمیت کا پتہ دیتا ہے کہ قرآن اس کا اس قدر قائل ہے کہ اس نے ارحام کا نام خداوند عالم کے نام نامی اور اسم گرامی کے ساتھ ساتھ لیا ہے۔
دوسرے یہ کہ اس مطلب کی طرف اشارہ ہے جس کا آیت کے شروع میں ذکر ہوا ہے۔ وہ یہ کہ تم سب کا باپ اور ماں ایک ہی ہیں۔ درحقیقت سب آدمؑ کی اولاد آپس میں ایک دوسرے کی رشتہ دار ہے۔ یہ رشتہ اور ربط ضبط اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ تم سب انسانوں کے ساتھ چاہے وہ کسی نسل اور قبیلے سےتعلق رکھتے ہوں اپنے کنبہ کے افراد کی طرح محبت کرو۔
ان اللہ کان علیکم رقیبا۔
رقیب اصل میں اس شخص کو کہتے ہیں جو بلند جگہ سے حالات کا جائزہ لے۔ اس کے بعد کسی چیز کے محافظ و نگہبان کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ کیونکہ نگہبانی کے لئے دیکھنا اور دیکھ بھال کرنا ضروری ہے۔ ہو سکتا ہے کہ رقیب کی جگہ کی بلندی نگاہ کے لحاظ سے ہو کہ وہ ایک بلند مقام پر بیٹھا ہوا نگرانی کر رہا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ معنوی لحاظ سے ہو۔ مندرجہ بالا جملہ میں فرماتا ہے: خدا تمہارا رقیب ہے اور وہ تمہارے تمام اعمال اور نیتوں کو دیکھتا اور جانتا ہے۔ اور ضمناً یہ مفہوم بھی ہے کہ حوادث میں وہی تمہارا نگہبان بھی ہے۔
"کان" مندرجہ بالا جملے میں یہ لفظ جو کہ فعل ماضی ہے تاکید کے لئے ہے۔
یتیموں کے مال (جب وہ بالغ ہو جائیں ) انہیں دے دو اور (اپنے) برے مال (یتیموں کے) اچھے مال سے تبدیل نہ کرو اور ان کے مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر یا تبدیل کرکے نہ کھاؤ کیونکہ یہ بہت بڑا گناہ ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
بنی غطفان قبیلہ کے ایک شخص کا بھائی بہت دولت مند تھا۔ وہ دنیا سے چل بسا تو اس کے بھائی نے اپنے یتیم بھتیجوں کی سرپرستی کے نام اس کے مال میں تصرف کیا۔ جس وقت اس کا بھتیجا بالغ ہو گیا تو اس نے اس یتیم کا حق دینے سے انکار کر دیا۔
جب یہ مقدمہ حضرت رسول کریمؐ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی اور اس غاصب نے آیت سننے کے بعد توبہ کر لی اور مال اس کے مالک کو واپس کرتے ہوئے کہا:
اعوذ باللہ من الحوب الکبیر۔
میں خدا سے پناہ مانگتا ہوں کہ کہیں بڑے گناہ میں آلودہ نہ ہو جاوٴں۔
تفسیر
یتیموں کے مال میں خیانت حرام ہے۔ ہر معاشرے میں نئے نئے حوادچ کی وجہ سے باپ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں اور ان کے چھوٹے چھوٹے بچے رہ جاتے ہیں۔
البتہ برے معاشرے جو داخلی جنگ میں پھنسے رہتے ہیں۔ جیسے زمانہ جاہلیت کا عرب معاشرہ تھا ان میں یتیم بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے، جنہیں حکومت اسلامی اور ہر ایک مسلمان کی حمایت اور سرپرستی میں رہنا چاہیے۔
آیت مذکورہ بالا میں یتیموں کے مال کے بارے میں تین اہم حکم دئے گئے ہیں۔
۱۔ و اتواالیتامیٰ اموالھم۔ اس جملہ میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب یتیم بالغ ہو جائیں تو ان کے مال ان کے سپرد کر دئے جائیں۔ یعنی ان کے اموال میں تمہارا تصرف صرف امین، ناظر اور وکیل کی حیثیت سے ہے نہ کہ مالک کے طور پر۔
۲۔ ولا تتبدلوا الخبیث بالطیب۔ اور کبھی ان کے اعلیٰ اور پاکیزہ مال کو اپنے گھٹیا اور ناپاک مال سے تبدیل نہ کرو۔ یہ حکم تو اصل میں ظلم و ستم سے بچنے کے لئے ہے کیونکہ بعض اوقات یتیم کے سرپرست اس بہانے سے کہ مال کی تبدیلی یتیم کے فائدہ میں ہے یا اس میں کوئی فرق نہیں پڑ رہا ہے تو صحیح ہو جائے گا یہ کہہ کر یتیموں کے اچھے اور خالص مال لے لیتے اور اپنے برے اور ناپسندیدہ مال کی جگہ رکھ دیتے تھے۔
۳۔ ولا تاکلوا اموالھم الیٰ اموالکم۔ اور ان کے مال اپنے مالوں کے ساتھ نہ کھاوٴ۔ یعنی یتیموں کے مال کو اپنے مال کے ساتھ خلط ملط نہ کرو کہیں اس طریقہ سے مقصد سب کو اپنی ملک بنانا ہو یا یہ کہ اپنے برے مال کو ان کے اچھے مال میں نہ ملاوٴ کہ جس کا نتیجہ یتیموں کے حق کی پائمالی ہو۔
جملہ بالا میں لفظ ”الیٰ“ در اصل ”مع“ (ساتھ) کے معنی میں ہے۔
انہ کان حوبا کبیرا۔
آیت کے آخر میں اس امر کی اہمیت ثابت کرنے کے لئے تاکیداً فرماتا ہے کہ یتیموں کے مال میں اس قسم کی ہیرا پھیری بہت بڑا گناہ ہے۔ راغب کتاب مفردات میں کہتا ہے: دراصل ”الحوبة“ ایسی ضرورت کے معنی میں ہے جو انسان کو گناہ کی طرف کھینچتی ہے۔
چونکہ سرپرستوں کے ظلم و ستم یتیموں کے مال پر زیادہ تر ضرورت و احتیاج کی وجہ سے یا اس بہانے سے ہوتے ہیں، اس لئے آیت مذکورہ میں لفظ ” اثم“ (گناہ) کی بجائے لفظ ”حوب“ استعمال کیا گیا ہے تاکہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو جائے۔
قرآن کریم کی مختلف روایات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اسلام اس امر کی بہت زیادہ اہمیت کا قائل ہے۔ چنانچہ وہ یتیموں کے مال میں خیانت کرنے والو کو بڑی شدت کے ساتھ سزا کی دھمکیاں دیتا ہے۔ وہ قطعی، واضح اور محکم عبارتوں کے ساتھ سرپرستوں کو یتیموں کے اموال کی کڑی دیکھ بھال کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ جس کی تفصیل چند آیتوں کے بعد اسی سورت میں اور سورہٴ انعام کی آیت ۱۵۲/ اور سورہٴ اسراء کی آیت ۳۴/ کے ذیل میں آئے گی۔
ان آیتوں کے سخت لب و لہجہ نے مسلمانوں کے دلوں پر اتنا اثر کیا کہ وہ اس سے بھی ڈرنے لگے کہ اپنے اور یتیموں کے لئے مشترکہ کھانا پکائیں۔اس وجہ سے ان کا کھانا اپنے اور اپنے بچوں سے الگ پکواتے تھے اور یہ امر دونوں کی تکلیف کا سبب بنتا تھا۔ اس لئے سورہ بقرہ کی آیت ۲۲۰ میں انہیں یہ اجازت دی گئی ہے کہ اگر ان کا مقصد اپنے مال یا کھانے کے ساتھ یتیموں کے مال اور کھانے کو مخلوط کرنے سے خیر خواہی اور اصلاح ہو تو اس صورت میں کوئی ہرج نہیں ہے۔ مزید توضیح کے لئے سورہٴ بقرہ کی اسی آیت کے ذیل میں تفسیر نمونہ کی دوسری جلد ملاحظہ فرمائیے۔
اور اگر تم کو اس بات کا ڈر ہو (کہ یتیم لڑکیوں سے شادی کی صورت میں ) ان سے انصاف نہ کر سکو گے تو (ان سے شادی کرنے سے صرف نظر کر لو) اور دوسری پاک عورتوں سے نکاح کرو دو یا تین یا چار بیویاں ا ور اگر تم کو ڈر ہو (کہ متعدد بیویوں کے بارے میں ) عدل ملحوظ نہ رکھ سکو گے تو پھر ایک ہی بیوی پر قناعت کرو اور یا جن عورتوں کے تم مالک ہو ان سے استفادہ کرو یہ طریقہ بہتر طور پر ظلم و ستم سے محفوظ رکھتا ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
اس آیت کے بارے میں ایک خاص شان نزول منقول ہے اور وہ یہ کہ قبل از اسلام اہل حجاز کفالت و سرپرستی کے لئے یتیم بچیوں کو اپنے گھر لے جاتے تھے اور پھر ان سے شادی کر کے ان کے مال کو اپنی ملکیت بنا لیتے تھے کیونکہ سب کچھ انہی کے ہاتھ میں ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ ان کا حق مہر بھی معمول سے کم مقرر کرتے تھے۔ اور اگر ان سے معمولی سی تکلیف بھی پیدا ہوتی تو آسانی انہیں چھوڑ دیتے اور وہ اس بات پر تیار نہ ہوتے کہ ایک عام بیوی کی حیثیت سے ہی ان سے تعلق باقی رکھیں۔
ان حالات میں مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی جس میں یتیموں کی سرپرستی کرنے والوں کو حکم دیا گیا کہ اگر وہ یتیم لڑکیوں سے شادی کریں تو ان کے بارے میں عدل و انصاف کو ملحوظ رکھیں اور اگر ایسا نہ کر سکیں تو پھر ان سے شادی نہ کریں اور دوسری عورتوں میں سے شادی کے لئے کسی کو منتخب کریں۔
وَ إِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تُقْسِطُوا فِی الْیَتامی فَانْکِحُوا ۔۔۔۔۔۔
گذشتہ آیت میں یتیموں کے مال کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔ اب اس آیت میں ان کے ایک اور حق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ: اگر تمہیں خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں سے شادی کے وقت تم حقوق زوجیت اور ان کے مال کے بارے میں عدل و انصاف نہ کر سکو گے تو ان سے شادی نہ کرو اور دوسری عورتوں میں سے انتخاب کرو۔
جو کچھ کہا جا چکا ہے اس پر نظر رکھتے ہوئے آیت کی تفسیر مکمل طور پر واضح ہو جاتی ہے۔ اس سے اس اعتراض کا جواب بھی مل جاتا ہے کہ آیت کے شروع میں یتیموں کا ذکر ہے اور اس کے آخری حصہ میں ازواج کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے اور یہ دونوں ظاہراً ایک دوسرے سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آیت کے ذیل میں شادی بیاہ کا تذکرہ ہے البتہ آیت کی ابتداء میں کہا گیا ہے کہ اگر یتیموں سے شادی کے سلسلہ میں عدل و انصاف سے کام نہیں لے سکتے تو پھر کیا ہی اچھا ہے اس سے صرف نظر کر لو اورشادی کے لئے ان یتیم لڑکیوں کی بجائے دوسری عورتوں میں سے کسی کو منتخب کرو۔
مفسرین نے اگرچہ اس سلسلہ میں بہت سی مختلف باتیں کی ہیں لیکن جو کچھ خود آیت سے سمجھ میں آتا ہے وہ وہی ہے جس کی طرف ہم اشارہ کر چکے ہیں یعنی آیت یتیموں کے سرپرستوں سے مخاطب ہے جنہیں گذشتہ آیت میں یتیموں کے مال کی حفاظت کے بارے میں مختلف احکام دئے جا چکے ہیں اور اس آیت میں ان سے یتیموں سے شادی کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے کہ جیسے انہیں یتیموں کے اموال میں عدل و انصاف سے کام لینا چاہیے اسی طرح یتیم لڑکیوں سے شادی کی صورت میں انتہائی توجہ سے ان کے حقوق کو ملحوظ نظر رکھنا چاہیے ورنہ ان سے شادی نہیں کرنا چاہیے اور دوسری عورتوں کو منتخب کرنا چاہیے۔ اس آیت کی تفسیر کے بارے میں دیگر شواہد کے علاوہ اس سورہ کی آیت ۱۲۷ بھی ہے جس میں صراحت سے یتیم لڑکیوں سے شادی کرنے کے لئے عدل کو ملحوظ خاطر رکھنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کی وضاحت اسی کے ضمن میں آئے گی۔ اس سلسلہ میں مذکورہ روایات بھی اسی تفسیر کی تائید کرتی ہے۔ (بحوالہ ۱ نور الثقلین، جلد اول صفحہ ۴۳۸ اور تفسیر المنار زیر نظر آیت کے ذیل میں)۔
رہی وہ روایت جو امیر المومنین حضرت علی (ع) کے حوالہ سے بیان کی گئی ہے کہ اس آیت کے اول و آخر کے درمیان قرآن کافی مقدار میں تھا جو حذف ہو گیا ہے۔ تو اس سلسلہ میں واضح رہے کہ یہ روایت سند کے لحاظ سے کسی بھی طرح معتبر نہیں ہے۔
ایسی احادیث جو قرآن کی تحریف یا اس کے بعض حصوں کے خرد برد ہو جانے کے بارے میں ہیں دراصل قرآن کا اعتبار گنوانے کے لئے اسلام دشمنوں اور منافقوں کی طرف سے گھڑی گئی ہیں یا بعض افراد جو آیت کے آغاز و انجام کو نہیں سمجھ سکے انہوں نے فرض کر لیا ہے کہ بیچ میں سے کچھ حذف یا ضایع ہو گیا اور آہستہ آہستہ ان کی یہ مفروضہ روایت کی شکل اختیار کر گیا ہے جبکہ ہم جان چکے ہیں کہ آیت کے جملے ایک دوسرے سے مکمل ربط رکھتے ہیں۔
مثنیٰ و ثلاث و رباع
لغت میں مثنی کا معنی ہے دو دو، ثلاث کا تین تین اور رباع کا چار چار۔ آیت میں روئے سخن چونکہ تمام مسلمانوں کی طرف ہے اس لئے اس کا معنی یوں ہو گا: یتیم لڑکیوں پر ظلم و ستم سے بچنے کے لئے تم ان سے شادی کرنے سے اجتناب کرو اور ان کی بجائے ایسی عورتوں سے شادی کرو جن کی معاشرتی اور خاندانی حیثیت ایسی ہو جو تمہیں ان پر ظلم کرنے کی اجازت نہ دے اور تم ان میں سے دو، تین یا چار عورتوں سے شادی کر سکتے ہو۔ البتہ مخاطب چونکہ تمام مسلمان ہیں اس لئے دو دو تین تین یا چار چار کہا گیا ہے ورنہ اس میں شک نہیں کہ زیادہ سے زیادہ بیویوں کی تعداد (وہ بھی خاص شرائط کی موجودگی میں) چار ہے۔
اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ مندرجہ بالا جملہ میں واؤ دراصل ”او“ (یا) کے معنی میں ہے اور اس کا مقصد یہ نہیں کہ دو کے بعد مزید تین اور تین کے بعد مزید چار کیونکہ اس طرح تو نو بن جاتی ہیں اور اگر مقصود یہی ہوتا تو صراحت سے نو کہا جاتا نہ کہ اس طرح سے الگ الگ اور پیچیدہ طریقہ پر ہوتا۔ علاوہ ازیں فقہ اسلامی میں یہ مسئلہ ضروریات دین میں سے ہے کہ چار سے زیادہ بیویاں کرنا مطلقاً ممنوع ہے۔
بہرحال مندرجہ بالا آیت تعداد ازدواج کے لئے صریح دلیل ہے البتہ ان شرائط کے ساتھ جن کی طرف جلد اشارہ کیا جائے گا۔
فَإِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تَعْدِلُوا فَواحِدَةً
اس کے بعد فورا کہا گیا ہے کہ یہ اجازت مکمل عدالت کو ملحوظ رکھنے سے مشروط ہے اور اگر عدالت نہیں کر سکتے اسی ایک بیوی پر اکتفاء کرو تاکہ دوسروں پر ظلم و ستم کرنے سے بچ سکو۔
اَوْ ما مَلَکَتْ اَیْمانُکُمْ۔ یا کسی اور بیوی کے انتخاب کی بجائے جو کنیز تمہاری مملکت ہے اس سے استفادہ کرو کیونکہ ان کی شرائط آسان سی ہیں (اگرچہ انہیں بھی ان کے حقوق ادا کئے جانا چاہیئں)۔
ذلِکَ اَدْنی اَلاَّ تَعُولُوا۔ یہ (بیوی یا کنیز کے چناوٴ کا) کام ظلم و ستم اور عدالت سے انحراف سے بہتر بچاوٴ کرتا ہے غلامی کے مسئلہ کے بارے میں اور اس سلسلہ میں اسلام کے نظریے کے متعلق متعلقہ آیات میں تفصیلی بحث کی جائے گی۔
بیویوں سے عدالت کا مفہوم
اس سے قبل کہ ہم اسلام میں بیویوں کی تعداد کے فلسفہ پر بات کریں ضروری ہے کہ اس امر پر بحث کی جائے کہ بیویوں سے عدالت کا کیا مفہوم ہے؟ کیونکہ اسے بیویوں کی تعداد کے سلسلے میں ایک شرط کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
کیا یہ عدالت امور زندگی سے مربوط ہے؟ مثلاً ہم بستری، وسائل زندگی کی فراہمی، سہولت اور آسائش و آرام مہیا کرنا یا اس سے مراد حریم دل اور جذبات انسانی کی عدالت بھی ہے۔
اس میں شک نہیں کہ محبت و الفت کے معاملہ میں عدالت کرنا قدرت انسانی سے خارج معاملہ ہے۔ کون ایسا شخص ہے جو جذبہ محبت پر ہر لحاظ سے دسترس رکھے جب کہ اس کے عوامل اس کی اپنی ذات سے باہر ہیں۔ اس بناء پر خداوند تعالی نے اس بارے میں عدالت کو واجب قرار نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ اسی سورہ نساء کی آیہ۱۲۹ میں فرماتا ہے:
و لن تستطیعوا ان تعدلوا بین النساء ولو حرصتم
تم جس قدر بھی کوشش کرو اپنی بیویوں کے درمیان (قلبی میلانات کے لحاظ سے) عدالت و مساوات بر قرار نہیں رکھ سکتے۔
لہذا اندرونی محبت جب تک عملی پہلووٴں کی بناء پر بعض بیویوں کی ترجیح کا سبب نہ بنے ممنوع نہیں ہے۔ مرد پر جو ذمہ داری ہے وہ عملی اور خارجی پہلووٴں کے بارے میں عدالت سے متعلق ہے۔
اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ زیر بحث آیت۔ و ان خفتم الاتعدلوا فواحدة اور آیت و لن تستطیعوا ان تعدلوا بین النساء ولو حرصتم کو آپس میں ملا کر اور منسلک قرار دے کر یہ نتیجہ نکالیں کہ تعداد ازدواج اسلام میں مطلقاً ممنوع ہے۔ وہ بہت ہی بڑے اشتباہ کا شکار ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ایک آیت میں عدالت کو اس سلسلہ میں شرط قرار دیا گیا ہے اور دوسری میں اس سلسلہ میں مردوں کے لئے عدالت کرنا محال قرار دیا گیا ہے اس لئے ایک سے زیادہ شادی ممنوع ہے اور یہی ان کا اشتباہ ہے۔ کیونکہ جیسا کہ اشارہ ہو چکا ہے کہ وہ عدالت جو انسان کے بس میں نہیں ہے وہ قلبی میلانات سے متعلق ہے اور یہ تعداد ازواج کی شرائط میں شامل نہیں اور جو عدالت شرائط میں سے ہے وہ عملی پہلووٴں سے متعلق ہے۔ اس کی شاہد سورہ نساء کی آیت ۱۲۹ ہے جس میں اشارہ ہوتا ہے:
فلا تمیلوا کل المیل فتذروھا کالمعلقة
اب جب کہ تم محبت کے سلسلہ میں اپنی بیویوں سے مکمل مساوات نہیں کر سکتے تو کم از کم سب میلان ایک ہی طرف نہ رکھو کہ کہیں دوسری کو معلق بنا کر ہی رکھ دو۔
خلاصہ یہ کہ ان لوگوں نے آیت کے کچھ حصہ کو تو سامنے رکھا ہے اور کچھ کو فراموش کر دیا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ تعداد ازدواج کے ضمن میں ایسے اشتباہ کا شکار ہو گئے ہیں جو ہر محقق کے لئے باعث تعجب ہے۔
علاوہ ازیں، فقہ اسلامی اور اس کے مختلف منابع و مصادر کے لحاظ سے اہل تشیع اور اہل سنت تعدد ازواج اور اس کی شرائط کے بارے میں کوئی اختلاف و نزاع نہیں ہے۔ بلکہ اس کا شمار فقہ اسلامی کی ضروریات اور بدیہات میں ہوتا ہے۔ اب ہم اس اسلامی حکم کی حکمت و فلسفے کی طرف لوٹتے ہیں۔
تعدد ازواج، ایک اجتماعی ضرورت
مندرجہ بالا آیت میں تعدد ازواج کو (سخت شرائط اور معین حدود کے ساتھ) جائز قرار دیا ہے۔ اب ہم ان سوالات اور جملوں کا سامنا کریں گے جو مخالفین نے سطحی مطالعہ اور بےشعور احساسات کے باعث کئے ہیں۔ اہل مغرب بالخصوص اس سلسلہ میں بہت اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام نے مردوں کو حرم سرا بنانے اور لاتعداد بیویاں رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔ حالانکہ اسلام نے اس طرح سے حرم سرا کی تشکیل کی اجازت نہیں دی ہے۔
اس کی وضاحت یہ ہے کہ قبل از اسلام کے مختلف معاشروں کی کیفیت کا مطالعہ کرنے سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ غیر محدود طور پر تعداد ازواج ان میں ایک عام سی چیز تھی۔ یہاں تک کہ بعض بت پرست جب مسلمان ہوئے تو ان کی دس سے بھی زیادہ بیویاں تھیں لہذا تعداد ازواج کی بنیاد اسلام نے نہیں رکھی اور نہ یہ کوئی نئی ایجاد ہے۔ بلکہ اسلام نے تو اسے انسانی زندگی کے تقاضوں کی روشنی میں محدود کر دیا ہے اور مزید یہ کہ اس کے لئے سخت قسم کی شرائط اور قیود مقرر کر دی ہیں۔
اسلامی قوانین انسان کی حقیقی ضروریات کے گرد گھومتے ہیں۔ یہ قوانین پراپیکنڈا اور جذبات کی رو میں بہہ کر نہیں بنائے گئے۔ تعداد ازواج کا معاملہ بھی اسلام نے اپنے اسی مزاج کے مطابق پیش کیا گیا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ زندگی کے گوناگوں حوادث میں مرد عورتوں کی نسبت موت کے خطرات سے زیادہ دوچار ہوتے ہیں۔ جنگوں اور دیگر حوادث میں زیادہ تر مرد ہی موت کا شکار ہوتے ہیں۔ نیز اس کا بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عورت کی نسبت مرد کی جنسی زندگی کہیں زیادہ طولانی ہوتی ہے۔ کیونکہ عورتیں ایک معین عرصہ کے بعد اپنی جنسی آمادگی کھو بیٹھتی ہیں جبکہ مردوں کا معاملہ مختلف ہے نیز ایام ماہواری اور وضع حمل کے کچھ دنوں میں عملی طور پر عورتوں کے لئے جنسی ملاپ ممنوع ہے جبکہ مردوں کے بارے میں ایسی کوئی بات نہیں۔
ان تمام باتوں سے صرف نظر کرتے ہوئے بعض پہلو اور بھی قابل توجہ ہیں۔ بعض عورتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو مختلف وجوہ کی بناء پر اپنے شوہروں سے محروم ہو جاتی ہیں۔ اس صورت میں وہ مردوں کے لئے اس پہلو سے قابل متوجہ نہیں ہوتیں کہ وہ ان کے پہلے شوہر ہوں۔ اب اگر تعدد ازواج کی سہولت نہ ہو تو وہ ساری عمر بغیر شوہر کے بیٹھی رہیں۔ اکثر اخبارات و جرائد میں ایسی خبریں چھپتی ہیں کہ بعض ایسی بیوہ عورتیں ہیں جو تعدد ازواج کے محدود ہونے کے باعث اپنی زندگی کی بے سرو سامانی پر شکوہ کناں ہیں اور مردوں کی طرف سے ایک سے زیادہ شادیاں نہ کرنے کو اپنے ساتھ ایک ظالمانہ سلوک تصور کرتی ہیں۔
ان حقائق کو ایسے مواقع پر سامنے رکھیں کہ جہاں مرد اور عورت کے درمیان توازن ختم ہو جاتا ہے تو ہم مجبور ہیں کہ ذیل می تین صورتوں میں سے کسی ایک کو اختیار کیا جائے۔
۱۔ ہر صورت میں مرد ایک ہی بیوی پر قناعت کریں اور جو عورتیں بچ جائیں وہ تمام عمر بغیر شوہر کے گزار دیں اور تمام فطری تقاضوں اور اندرونی خواہشات کو دبائے رکھیں۔
۲۔ مرد قانونی طور پر ایک ہی بیوی رکھیں لیکن آزاد اور غیر شرعی جنسی روابط بےشوہر عورتوں سے رکھیں اور انہیں داشتہ بنا کر رکھیں۔
۳۔ جو لوگ ایک سے زیادہ بیویاں رکھ سکتے ہیں اور جسمانی، مالی اور اخلاقی لحاظ سے انہیں کوئی اور مشکل درپیش نہ ہو نیز وہ اپنی بیویوں اور بچوں کے درمیان کامل عدالت قائم رکھ سکیں انہیں اجازت دی جائے کہ وہ اپنے لئے ایک سے زیادہ بیویوں کا انتخاب کر لیں۔
یہ مسلم ہیں کہ ان تین راستوں کے علاوہ کوئی اور راستہ موجود نہیں۔
پہلے راستے کے انتخاب کا مطلب یہ ہے کہ ہم انسان کی فطرت، سرشت اور روحانی و جسمانی ضروریات کے خلاف جنگ کریں اور ایسی عورتوں کے جذبات و احساسات کی پرواہ نہ کریں اور یہ وہ جنگ ہے جس میں کامیابی کی کوئی امید نہیں اور اگر فرض کریں کہ ایسا ہو جائے تو اس طرز عمل کے غیر انسانی پہلو کسی سے مخفی نہیں ہیں۔
دوسرے لفظوں میں تعدد ازواج کا مسئلہ ضرورت کے مواقع پر صرف پہلی بیوی کی آنکھ کے دریچہ سے نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اس کا مطالعہ دوسری بیوی کی آنکھ کے دریچہ سے کیا جانا چاہیے جو لوگ پہلی بیوی کی مشکلات کو دوسری بیوی کے معاملہ میں مثال بناتے ہیں وہ دراصل تین زادیوں والے مسئلے صرف ایک زاویہ سے دیکھتے ہیں کیونکہ تعدد ازواج کا مسئلہ مرد کی نگاہ کے زاویے سے، پہلی بیوی کی نگاہ کے زاویے سے اور دوسری بیوی کی نگاہ کے زاویے سے دیکھا جانا چاہیے اور ان تینوں کے مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس بارے میں فیصلہ کیا جانا چاہیے۔
دوسری راہ کے انتخاب کا مطلب یہ ہے کہ فحش اور قبیح کاموں کو قانونی حیثیت دے دی جائے اور عورتوں کو داشتہ کی حیثیت سے جنسی لذتوں کے لئے استعمال کیا جائے، ان کے لئے نہ اطمینان و سکون ہو اور نہ ان کو کوئی مستقبل اور دراصل ان کی شخصیت کو روند ڈالا جائے۔ یہ کوئی ایسا طریقہ نہیں جسے کوئی عقلمند انسان تجویز کرے۔
لہذا صرف تیسرا طریقہ باقی رہ جاتا ہے جو عورتوں کی فطری خواہشات اور طبوی ضروریات کا حل بھی ہے اور فحش اور قبیح امور کے برے نتائج اورتباہ کن زندگی سے عورتوں کی نجات کا راستہ بھی ہے۔ اس طرح سے عورت معاشرے کو بھی گرداب گناہ سے نکال لے گی۔
البتہ توجہ رہے کہ تعدد ازواج کا جواز اگرچہ معاشرے کی ایک ضرورت ہے اور اسلام کے مسلم احکام میں سے ہے لیکن موجوہ زمانے میں اس کی شرائط کی تکمیل گذشتہ زمانے سے بہت مختلف ہے۔ کیونکہ گذشتہ زمانہ میں زندگی سادہ اور بسیط سی تھی لہذا عورتوں میں کامل مساوات کا لحاظ رکھنا آسان تھا اور زیادہ تر لوگ اس سے عہدہ برآ ہو لیتے تھے لیکن ہمارے زمانے میں جو شخص اس قانون سے استفادہ کرنا چاہے اسے چاہیے کہ ہر لحاظ سے عدالت کو ملحوظ خاطر رکھے۔ اگر وہ ایسا کر سکے تو یہ اقدام کرے اور بنیادی طور پر یہ قدم ہوا و ہوس کی بناء پر نہیں ہونا چاہیے۔
تعجب کی بات ہے کہ اہل مغرب کی طرح جو لوگ تعدد ازواج کے مخالف ہیں اپنی تاریخ میں ایسے حوادث کا شکار رہے ہیں جن سے ان کی یہ ضرورت مکمل طور پر واضح ہو گئی ہے مثلاً دوسری عالمی جنگ کے بعد جنگ زدہ ممالک میں خصوصاً جرمنی میں اس کی سخت ضرورت کا احساس ہوا۔ یہاں تک کہ ان کے بعض مفسرین تعدد ازواج کے ممنوع ہونے پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہوئے تاکہ مشکل کا کوئی حل نکل سکے۔ بات یہاں تک پہنچی کہ انہوں نے ”الازہر“ سے رجوع کیا اور ان سے تعدد ازواج کے بارے میں اسلامی حکمت کی تفصلات منگوائیں اور اس پر تحقیق و مطالعہ شروع کیا لیکن کلیسا نے ان پر سخت حملے اور تنقیدیں کیں۔ جن سے مجبور ہو کر انہیں یہ پروگرام چھوڑنا پڑا اور پھر اس کا نتیجہ وحشتناک فحاشی اور وسیع بے راہ روی کی صورت میں نکلا جس نے تمام جنگ زدہ ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
ان تمام باتوں کو چھوڑتے ہوئے، اس حقیقت کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بعض مرد ایک سے زیادہ بیویوں کی طرف میلان و رغبت رکھتے ہیں۔ اگر یہ میلان صرف ہوا و ہوس کی بناء پر ہو تو ٹھیک ہے اعتناء نہیں کرنا چاہیے لیکن بعض اوقات بیوی بانجھ ہوتی ہے اور مرد کو اولاد کی شدید خواہش ہوتی ہے اس صورت میں مرد کی خواہش منطقی ہوتی ہے یا بعض اوقات مرد کی خواہشات جنسی شدید ہوتی ہے جبکہ اس کی پہلی بیوی مرد کی اس فطری خواہش کی تکمیل کی طاقت نہیں رکھتی۔ لہذا مرد دوسری شادی کے لئے اپنے آپ کو مجبور سمجھتا ہے یہاں تک کہ جائز طریقہ سے تکمیل خواہش نہ ہونے کی صورت میں وہ غیر شرعی قدم اٹھاتا ہے۔ ان مواقع پر بھی دوسری شادی کے لئے مرد کی خواہش کے منطقی ہونے کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس بناء پر جن ممالک میں قانوناً ایک سے زیادہ شادیاں ممنوع ہیں عملاً مختلف عورتوں سے ناجائز تعلقات استوار کئے ہوتا ہے۔
مشہور فرانسیسی مورخ گوستاولوبون تعدد ازواج کے بارے میں اسلامی قانون، جو کہ محدود مشروط ہے کو دین اسلام کی خوبیوں میں سے شمار کرتا ہے۔ وہ یورپ کے مردوں کے متعدد عورتوں سے آزادانہ ناجائز روابط کا موازنہ کرتے ہوئے لکھتا ہے:
مغرب میں بھی جہاں کی آب و ہوا اور وضع طبیعت اگرچہ اس رسم (تعدد ازواج ) کو قبول نہیں کرتی پھر بھی ایک بیوی کا ہونا ایک ایسی چیز ہے جو صرف قانون کی کتاب میں دکھائی دیتی ہے ورنہ مجھے یہ گمان نہیں کہ اس بات کا انکار کیا جائے کہ ہمارے معاشرے میں اس رسم کے آثار نہیں ہیں۔ واقعاً میں حیران ہوں اور میں نہیں جان سکا کہ مشرق کے جائز اور محدود تعدد ازواج کے نظریے میں مغرب کے مکارانہ اور فریب دہندہ تعدد ازواج کے حوالے سے کیا کمی ہے بلکہ میں کہتا ہوں کہ پہلا طریقہ دوسرے کی نسبت ہر لحاظ سے بہتر اور زیادہ شائستہ ہے۔
البتہ اس بات کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بعض مسلمان نما لوگ اس اسلامی قانون کی روح کے منافی اس سے سوء استفادہ کرتے ہیں اور شرمناک طریقہ سے اپنے لئے بیویاں مہیا کرتے ہیں اور اپنی بیویوں کے حقوق میں تجاوز کرتے ہیں لیکن یہ قانون کی قانون کی خرابی نہیں اور ان لوگوں کے کردار کو اسلامی قوانین کے کھاتے میں نہیں ڈالنا چاہیے کون سا ایسا قانون ہے جس سے ناجائز فائدہ نہ اٹھایا جاتا ہو۔
ایک سوال اور اس کا جواب
یہاں بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ مذکورہ بالا حالات و کوائف بعض عورتوں کے لئے پیدا ہو جائیں تو کیا اس صورت میں عورت کو بھی دو شوہر کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
اس سوال کا جواب کوئی زیادہ مشکل نہیں ہے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ (عوام میں مشہور بات کے برعکس) مردوں میں عورتوں کی نسبت جنسی میلان کہیں زیادہ ہوتا ہے۔
علمی کتابوں میں جنسی مسائل سے مربوط بیماریاں زیادہ تر عورتوں کے بارے میں بیان کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک عورتوں سرد مزاجی بھی ہے جبکہ مردوں میں معاملہ اس کے برعکس ہے یہاں تک کہ دوسرے جانداروں میں سے دیکھا گیا ہے کہ جنسی خواہش کا اظہار عموماً پہلے نر کی طرف سے ہوتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ تعدد ازواج مرد کے بارے میں کوئی اجتماعی اور حقوق سے متعلق مشکل پیدا نہیں کرتا جبکہ عورتوں کے لئے اگر بالفرض دو شوہر ہوں تو بہت سی مشکلات پیدا ہو جائیں گی ان میں سے ایک سادہ سا مسئلہ یہ ہے کہ بچے کا نسب مجہول ہو جاتا ہے اور اس کے بارے میں علم نہیں ہوتا کہ وہ کس شوہر کا ہے اور یہ مسلم ہے کہ ایسا بچہ ان میں سے کسی مرد کی شفقت کا مرکز نہیں بن سکے گا۔ یہاں تک کہ بعض علماء کا نظریہ ہے کہ جس بچہ کا باپ مجہول ہو اسے ماں کی محبت بھی بہت کم میسر آئے گی۔
شاید وضاحت کی ضرورت نہ ہو کہ انعقاد نطفہ سے بچنے کے لئے برتھ کنٹرول کے طریقوں سے استفادہ مثلاً گولیاں وغیرہ استعمال کرنا کبھی بھی اطمینان بخش نہیں ہے اور یہ طریقے بچہ نہ ہونے کی دلیل نہیں بن سکتے کیونکہ بہت سی ایسی عورتیں ہیں جنہوں نے ان طریقوں کو استعمال کیا ہے یا طریقہٴ استعمال میں اشتباہ کیا ہے اور اس کے باوجود بچہ پیدا ہو گیا ہے۔ لہذا کوئی عورت بھی اعتماد سے تعدد ازواج کے لئے تیار نہیں ہو سکتی۔
ان وجوہات کی بناء پر عورتوں کے لئے مختلف شوہروں کا ہونا منطقی نہیں ہو سکتا جبکہ مردوں کے لئے ان حالات کو سامنے رکھتے ہوئے منطقی بھی ہے اور عملی بھی۔
اور عورتوں کا حق مہر ایک قرض سمجھتے ہوئے انہیں ادا کر دو اور اگر وہ راضی خوشی اس میں سے کوئی چیز تمہیں بخش دیں تو اسے حلال اور مناسب سمجھتے ہوئے استعمال کر لو۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
”نحلة“ لغت میں قرض کے معنی میں بھی آیا ہے اور بخشش و عطیہ کے معنی میں بھی۔
راغب اپنی کتاب مفردات میں کہتا ہے کے:
میرے نظریے کے مطابق یہ لفظ ”نحل“ (جس کا معنی شہد کی مکھی ہے) کے مادہ سے ہے کیونکہ بخشش و عطیہ شہد کی مکھیوں کے کام یعنی شہد دینے سے شباہت رکھتا ہے۔
”صدقاتھن“، ”صداق“ کی جمع ہے جس کا معنی ہے ”مہر“۔
گذشتہ آیت میں بیوی کے انتخاب کے بارے میں گفتگو تھی اب اس آیت میں عورتوں کے ایک مسئلہ حق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ آیت تاکید کرتی ہے کہ عورتوں کا حق مہر بالکل ایک قرض کی طرح ادا کرو یعنی جیسے دوسرے قرضوں کی ادائیگی کا خیال رکھتے ہو کہ ان میں سے کوئی چیز کم نہ ہو، حق مہر ادا کرتے وقت بھی تمہاری یہی حالت ہونا چاہیے۔ (یہ اس صورت میں ہے اگر نحلہ کا معنی قرض لیا جائے) اور اگر اس کا معنی عطیہ اور بخشش کیا جائے تو پھر آیت کی تفسیر اس طرح ہو گی: حق مہر جو کہ عطیہ الہی ہے اور خدا نے اس لئے مقرر کیا ہے کہ معاشرے میں عورت کے حقوق زیادہ ہوں اور اس کی جسمانی کمزوری کی اس طرح سے تلافی ہو جائے، اسے مکمل طور پر ادا کرو۔
فان طبن لکم عن شیء منہ نفسا فکلوہ ھنیئا مریئا
آیت کے ابتداء میں حقوق نسواں کی حفاظت کے لئے صراحت سے حکم دیا گیا ہے کہ تمام حق مہر انہیں ادا کرو لیکن آیت کے ذیل میں طرفین کے احساسات کا احرام کرتے ہوئے، قلبی رشتوں کے استحکام اور باہمی محبت کے فروغ کے لئے ارشاد فرمایا گیا ہے: اگر عورتیں پوری رضا و رغبت سے اپنے مہر میں سے کچھ مقدار بخش دیں تو وہ تمہارے لئے حلال اور شائستہ ہے۔ یہ اس لئے ہے تاکہ باہمی زندگی میں صرف خشک قانون اور کلیے ہی نہ چلتے رہیں بلکہ متوازی طور پر محبت و الفت کے جذبے حکم فرما ہوں۔
حق مہر عورت کے لئے ایک معاشرتی سہارا ہے
زمانہ جاہلیت میں چونکہ لوگ عورتوں کی قدر و قیمت کے قائل نہیں تھے اس لئے اکثر اوقات حق مہر جو کہ عورت کا مسلم حق ہے وہ اس کے والیوں کو دے دیتے تھے اور اسے ان کا مسلم حق سمجھتے تھے۔ بعض اوقات ایک عورت کا حق مہر دوسری عورت کی شادی کو قرار دیتے تھے مثلاً ایک بھائی اپنی بہن کی شادی کسی سے کرتا تو اسے بھی مقابلے میں اپنی بہن اسے دینا پڑتی اور ان دونوں عورتوں کا یہی حق مہر ہوتا۔
اسلام نے ان تمام ظالمانہ رسوم پر خط بطلان کھینچ دیا اور حق مہر کو مخصوص طور پر عورت کا مسلم حق قرار دیا اور آیات قرآنی میں بارہا مردوں کو اس حق کی مکمل ادائیگی کی نصیحت کی۔
اسلام میں مہر کے لئے کوئی مقدار معین نہیں کی گئی اور اس کا انحصار میاں بیوی کی باہمی رضا مندی پر ہے اگرچہ بہت سی روایات میں تاکید کی گئی ہے کہ حق مہر زیادہ نہیں ہونا چاہیے لیکن یہ کوئی لازم و واجب حکم نہیں ہے بلکہ مستحب حکم ہے۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرد اور عورت شادی اور مباشرت سے یکساں طور پر بہرہ مند ہوتے ہیں اور میاں بیوی کا رشتہ طرفین کے باہمی فائدہ میں قائم ہوتا ہے تو ہھر اس کی کیا وجہ ہے کہ مرد کم یا زیادہ مال عورت کو حق مہر کے طور پر دے۔ کیا اس طرح اس حکم سے عورت کے مقام پر زد نہیں پڑتی اور شادی بیاہ میں خرید و فروخت کی صورت نہیں بن جاتی؟ اسی وجہ سے بعض لوگ حق مہر کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔ مغرب میں چونکہ اس کا معمول نہیں ہے اس لئے مغرب زدہ لوگ خاص طور پر یہ مخالفت کرتے ہیں حالانکہ حق مہر کے نہ ہونے سے عورت کے مقام میں کوئی اتنا ضافہ نہیں ہوتا لیکن اس طرح وہ خطرے سے ضرور دوچار ہو جاتی ہے۔
اس کی وضاحت یہ ہے کہ یہ درست ہے کہ عورت اور مرد یکساں طور پر ازدواجی زندگی سے فائدے اٹھاتے ہیں لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ علیحدگی کی صورت میں عورت کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اس کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ مخصوص جسمانی استعداد کی بناء پر مرد عموماً معاشرے میں زیادہ نفوذ اور تسلط کا حامل ہوتا ہے اگرچہ بعض لوگ بات کرتے وقت اس واضح حقیقت کا انکار کر دیتے ہیں لیکن انسان کی اجتماعی زندگی کی کیفیت جو آنکھوں کو نظر آتی ہے یہ ہے کہ زیادہ آمدنی والے کام زیادہ تر مردوں کے ہاتھوں انجام پاتے ہیں۔ خود یورپ کی بھی یہی حالت ہے جہاں اصطلاحی طور پر عورتیں مکمل آزادی سے ہمکنار ہیں۔
علاوہ ازیں مردوں کے لئے نئی بیوی کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں لیکن بیوہ عورتیں خصوصاً جب ان کی عمر کا کچھ حصہ گزر جائے اور وہ جوانی اور زیبائی کا سرمایہ ختم کر بیٹھیں تو نئے شوہر کے لئے ان کے امکانات بہت کم ہو جاتے ہیں حقیقت میں حق مہر ایک ایسی چیز ہے جو عورت کے لئے اس کے خسارے کی تلافی کا ذریعہ ہے اور آئندہ زندگی کے لئے محفوظ رکھنے کا وسیلہ ہے۔
علاوہ ایں حق مہر عموماً مرد کو علیحدگی اختیار کرنے اور اسے طلاق دینے کے میلانات سے روکنے کے لئے ایک بریک (Breake) کا کام دیتا ہے۔
یہ درست ہے کہ قوانین اسلام کی رو سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوتے ہی حق مہر مرد کے ذمہ ہو جاتا ہے اور عورت فوراً ہی اس کے مطالبے کا حق رکھتی ہے لیکن چونکہ عموماً وہ قرض کی صورت میں مرد کے ذمہ رہ جاتا ہے لہذا یہ عورت کے لئے ایک پس انداز بچت کی حیثیت رکھتا ہے اور رشتہ تزویج نہ ٹوٹنے کے لئے ایک سہارے کا کام دیتا ہے۔
اس مسئلے کے کچھ استثنائی پہلو بھی ہیں لیکن ہم نے جو کچھ کہا ہے وہ زیادہ تر مقامات پر صادق آتا ہے۔
اب اگر بعض لوگوں نے حق مہر کی غلط تفسیر کی ہے اور اسے عورت کی ایک طرح سے قیمت خیال کیا ہے۔ اس کا قوانین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ اسلام میں کسی طرح بھی حق مہر تجارت کی قیمت کا پہلو نہیں رکھتا اور اس کی بہترین دلیل نکاح کے صیغہ ہیں جن میں قانونی طور پر مرد اور عورت ہی اس پیمان کے دو بنیادی رکن شمار ہوتے ہیں اور حق مہر کا تذکرہ نہ کیا جائے تو عقد باطل نہیں ہے۔ البتہ اس صورت میں شوہر کی ذمہ داری ہے کہ مباشرت سے قبل اس جیسی عورتوں کا سا حق مہر ادا کرے۔
جو کچھ کہا گیا ہے اس سے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ حق مہر نقصان کی تلافی اور عورت کے حقوق کے احترام کے پیش نطر ہے نہ کہ اس کی قیمت ہے اور شاید نحلة (بمعنی عطیہ) اسی مفہوم کی طرف اشارہ ہے۔
اور اپنے اموال کہ جنہیں خدا نے تمہاری زندگی کا وسیلہ قرار دیا ہے انہیں بے وقوفوں کے ہاتھ میں نہ دے دو اور انہیں اس میں سے روزی دے دو اور انہیں لباس پہناؤ اور ان سے شائستہ طریقے سے گفتگو کرو۔
اور یتیموں کو آزما کر دیکھو یہاں تک کہ جب (تم دیکھو کہ) وہ بلوغ کو پہنچ گئے ہیں تو اگر ان میں (کافی) رشد و شعور پاؤ تو ان کے اموال ان کے سپرد کرو اور ان کے بڑے ہونے سے پہلے ان کے اموال اسراف اور فضول خرچی کے طور پر نہ کھاؤ اور( سر پرستوں میں سے) جو شخص بے نیاز ہے وہ حق زحمت لینے سے اجتناب کرے اور جو شخص ضرورت مند ہے وہ شائستہ طریقے سے اور جو زحمت اس نے اٹھائی ہے اس کے مطابق اس میں سے کھائے اور جب ان کا مال انہیں دے دو تو اس ادائیگی پر گواہ بنا لو اگرچہ خدا محاسبہ کے لئے کافی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
مندرجہ بالا آیات یتیموں سے مربوط ہے مباحث کی تکمیل کرتی ہیں۔ کچھ بحث گذشتہ آیات میں ہو چکی ہے۔
وَ لا تُؤْتُوا السُّفَہاءَ اَمْوالَکُمُ
اپنا مال و دولت بےوقوفوں کے سپرد نہ کرو اور انہیں رہنے دو یہاں تک کہ وہ اقتصادی معاملات میں شعور حاصل کر لیں تاکہ تمہاری دولت خطرے اور نقصان کی زد سے بچ جائے۔
سفیہ کسے کہتے ہیں
راغب نے مفردات میں کہا ہے کہ سفہ (بر وزن تہہ) اصل میں ایک طرح کی کم وزنی اور بدن کا ہلکا ہونا ہے جس میں یہ حالت ہو کہ چلتے وقت اعتدال کو برقرار نہ رکھا جا سکے اسی لئے اس افسار (تشریحی نوٹ: افسار اس رسی کو کہتے ہیں جو گھوڑے یا گدھے کے سر اور گردن پر باندھی جائے (مترجم) کو سفیہ کہتے ہیں جو ناموزوں ہوا اور ہمیشہ ہلتی جلتی رہتی رہے۔ بعد ازاں یہ لفظ اسی مناسبت سے ان افراد کے لئے استعمال ہونے لگا جو سوجھ بوجھ نہ رکھتے ہوں چاہے ان کا ہلکا پن امور مادی میں ہو یا امور معنوی میں۔
لیکن واضح ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں سفاہت کا تعلق خصوصیت سے مالی امور میں کافی سوجھ بوجھ نہ ہونے سے ہے۔ اور یہاں سفیہ سے مراد وہ شخص ہے جو اموال کی سرپرستی اپنے ذمہ نہ لے سکے اور مال و دولت کے لین دین میں اپنے فائدے کو نہ سمجھ سکے۔ اصطلاح میں کہتے ہیں کلاہ سرش برود (یعنی لوگ اس کا سر مونڈ لیں) اس مفہوم کی شاہد اکلی آیت ہے جس میں ارشاد ہوتا ہے:
فان انستم منھم رشدا فادفعوا الیھم اموالھم۔
اگر انہیں سمجھدار پاوٴ تو ان کے اموال ان کے حوالے کر دو۔
اس بناء پر اگرچہ زیر نظر آیت یتیموں کے بارے میں بحث کرتی ہے لیکن اس کا ایک عمومی مفہوم تمام لوگوں کے لئے ہے اور وہ یہ کہ انسان کو کسی حالت میں اور کسی صورت میں وہ مال جو اس کی سرپرستی میں ہو یا کسی سے اس سے وابستہ ہونا فہم اور ناسمجھ افراد کے سپرد نہیں کرنا چاہیے اور اس سلسلے میں امول عمومی (اموال حکومت اسلامی) میں بھی کوئی امتیاز نہیں۔ اس مفہوم کا شاہد لفظ ”سفیہ“ کا وسیع مفہوم بھی ہے اور اس کے علاوہ وہ روایات بھی ہیں جو ہادیان اسلام سے اس سلسلے میں منقول ہیں۔
مثلاً امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں ہے۔
ایک شخص ابراہیم ابن عبدالحمید کہتا ہے کہ میں نے امام سے ایک آیت ”ولا توٴتو السفھاء اموالکم“ کی تفسر پوچھی تو آپؑ نے فرمایا:
شراب خور سفیہ ہیں اپنے اموال ان کے سپرد نہ کرو ۔(بحوالہ: تفسیر برہان جلد اول زیر بحث آیت کے ذیل میں)
ایک اور روایت میں بھی شرابی کو مال امور میں امین بنانے کی ممانعت کی گئی ہے۔
خلاصہ یہ کہ بارہا روایت میں شرابی کو سفیہ قرار دیا گیا گیا ہے اور یہ تعبیر شاید اس بناء پر ہے کہ شرابی اپنا مادی سرمایہ بھی ہاتھ سے دے بیٹھتا ہے اور معنوی بھی۔ اس سے بڑھ کر بے وقوفی اور کیا ہو گی کہ انسان پیسے بھی دے اور اس کے ساتھ اپنی ہوش بھی دے دے اور دیوانگی خرید لے، اپنے بدن کے مختلف قویٰ بھی اس کام میں لگا دے اور بہت سے اجتماعی نقصانات بھی کرے۔
ایک اور روایت میں ان سب لوگوں کو جو کسی لحاظ سے بھی بھروسے کے قابل نہ ہوں سفیہ کہا گیا ہے اور (شخصی اور عمومی) اموال ان کے سپرد کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
یونس بن یعقوب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیة ”ولا توٴتوا السفھاء اموالکم“ کی تفسیر پوچھی تو آپ نے ارشاد فرمایا:
من لا تثق بہ۔
سفیہ وہ شخص ہے جو قابل اعتماد نہ ہو۔ (بحوالہ : تفسیر برہان جلد اول زیر بحث آیت کے ذیل میں، تفسیر نور الثقلین بھی دیکھ سکتے ہیں)۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ اگر آیت یتیموں کے بارے میں ہے تو ”اموالکم“ (تمہارے اموال) کیوں فرمایا ہے۔ ”اموالھم“ (ان کے مال) کیوں نہیں فرمایا۔
ممکن ہے اس تعبیر کا مقصد اس اجتماعی اور اقتصادی مسئلے کو بیان کرنا ہو کہ اسلام انسانی معاشرے کے تمام افراد کو ایک سمجھتا ہے۔ اس بناء پر کہ ایک شخص کی بہتری اور بھلائی دوسروں کے نفع سے جدا نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح ایک شخص کا نقصان پورے معاشرے کا نقصان ہے۔
اسی وجہ اس خیال کو پیش نظر رکھتے ہوئے ضمیر غائب کی بجائے ”ضمیر مخاطب“ استعمال کی گئی ہے یعنی حقیقت میں ان اموال کا تعلق صرف یتیموں سے نہیں بلکہ تمہارے ساتھ بھی ہے۔ اگر انہیں کوئی نقصان پہنچے گا تو وہ کسی نہ کسی صورت میں تمہاری طرف لوٹے گا۔ اس لئے اس کے مال کی پوری طرح نگرانی کرنی چاہیے۔
اس سے بخوبی معلوم ہو جاتا ہے کہ جو کوتاہ نظر لوگ کمزور اور بزدل افراد کو مذہبی اور تبلیغی عہدوں کے لئے ان کی مدد کے بہانے از راہ ہمدردی چنتے ہیں، ان کا یہ ایک سرا سر غلط اور مجنونانہ فعل ہے۔
التی جعل اللہ لکم قیاماً
اس جملے میں قرآن نے مال و ثروت کے لئے ایک عجیب و غریب تعبیر بیان فرمائی ہے، تمہاری زندگی اور سوسائٹی کا قیام سرمایہ پر منحصر ہے اس کے بغیر تم آزادی سے اپنے پاوٴں پر کھڑے نہیں ہو سکتے۔ اسے سفیہ اور فضول خرچ لوگوں کے سپرد نہ کرو۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام اقتصادی اور مالی اہمیت کا قائل نہیں ہے۔
اس کے برعکس موجودہ انجیل (بحوالہ انجیل متی باب ۱۹ آیة ۲۳) میں ہے کہ مالدار آدمی جنت میں نہیں جا سکے گا۔ اسلام کہتا ہے کہ جو قوم فقیر و نادار ہو وہ کبھی اپنی کمر سیدھی نہیں کر سکتی۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ عیسائی اپنی غلط تعلیمات کے باوجود دنیا میں اوج کمال پر پہنچے ہوئے ہیں اور ہم ان اعلیٰ اسلامی تعلیمات کے باوجود ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔
اصل میں انہوں نے خرافات چھوڑ دی ہیں۔ اس لئے وہ کہیں سے کہیں پہنچ گئے ہیں اور کیوں کہ ہم نے ان اعلیٰ و ارفع تعلیمات سے دوری اختیار کر لی ہے اس لئے مارے مارے پھرتے ہیں۔
وَ ارْزُقُوہُمْ فیہا وَ اکْسُوہُمْ وَ قُولُوا لَہُمْ قَوْلاً مَعْرُوفاً۔
آیت کے آخر میں یتیموں کے بارے میں دو اہم حکم دئے گئے ہیں:
۱۔ ان کی خوراک اور پوشاک انہی کے مال سے مہیا کرو تاکہ وہ عزت و آبرو کے ساتھ پروان چڑھیں اور بالغ ہوں۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ اس آیت میں لفظ ”فیھا“ (ان کے مال میں) آیا ہے ”منھا“ (ان کے مال سے) نہیں آیا۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ یتیموں کی گزر اوقات ان کے مال اور سرمائے کے نفع سے پوری کرو کیونکہ اگر یہ کہا جاتا کہ ان کے اخراجات ان کے سرمائے سے پورے کرو تو اس کا مفہوم یہ ہوتا کہ اصل سرمائے سے آہستہ آہستہ اخراجات پورے کئے جائیں اور یہ فطری امر ہے کہ جب وہ سن بلوغ کو پہنچیں تو ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے سرمائے کا زیادہ تر حصہ ہاتھوں سے کھو بیٹھے ہوں۔ لیکن قرآن الفاط کی تبدیلی سے سرپرستوں کو یہ نصیحت کرتا ہے کہ وہ یتیموں کے مال کے نفع اور آمدنی سے ان کی ضروریات زندگی پورا کرنے کی کوشش کریں تاکہ ان کا اصل سرمایا محفوظ رہے۔
۲۔ دوسرے یہ کہ آیت کہتی ہے کہ یتیموں کے ساتھ شائستگی سے گفتگو کرو۔ یعنی دل کو خوش کرنے والی اچھی اچھی باتوں سے ان کی نفسیاتی کمی کو دور کرو اور ان کو نصیحت کرتے رہو تاکہ وہ سن بلوغ تک پہنچتے پہنچتے اچھے خاصے سمجھدار ہو جائیں اسی طرح یتیموں کی تشکیل سیرت اور تعمیر کردار بھی سرپرستوں کی ذمہ داری ہے۔
وَ ابْتَلُوا الْیَتامی حَتَّی إِذا بَلَغُوا النِّکاحَ۔
یہاں یتیموں اور ان کے مال کے بارے میں ایک اور حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے: یتیموں کی آزمائش کرو، انہیں تجربے میں ڈالو یہاں تک کہ جب وہ بلوغت کو پہنچ جائیں تو اس وقت اگر ان میں معاملہ فہمی اور مال کی حفاظت کی سوجھ بوجھ پاوٴ تو ان کا مال انہیں واپس کر دو۔
چند اہم نکات
۱۔ لفظ حتیٰ سے معلوم ہوتا ہے کہ سن رشد تک پہنچنے سے پہلے یتیموں کی لگاتار آزمائش ہونی چاہیے یہاں تک کہ وہ بلوغت کی منزل میں داخل ہو جائیں اور عقلی طور پر مکمل طریقے سے اپنے مال کی دیکھ بھال کر سکیں۔ ضمنی طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آزمائش سے مراد یتیموں کی تدریجی تربیت ہے۔ یعنی انہیں آزاد نہ چھوڑ دیں یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائیں اور اس کے بعد مال ان کے حوالے کر دیں۔ بلکہ بلوغت سے پہلے پہلے انہیں مستقل زندگی گزارنے کے لئے عملی تربیت دیں۔
باقی رہا یہ کہ یتیموں کی آزمائش کس طرح کی جائے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ کچھ مال ان کو دے دیا جائے تاکہ وہ اس سے تجارت کریں۔ لیکن ان کے اعمال کی نگرانی اس خوبی سے کی جائے کہ ان کے کام میں کوئی خلل واقع نہ ہو۔
جب یہ معلوم ہو جائے کہ وہ یہ کام بخیر و خوبی انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور لین دین میں دھوکا نہیں کھاتے تو ان کے اموال انہیں دے دئے جائیں یا لگاتار تعلیم و تربیت کے ذریعے ان کی اس طرح پرورش کی جائے کہ وہ آئندہ زندگی کی باگ دوڑ سنبھال لیں۔
۲۔ ”اذا بلغوا النکاح“ میں اس طرف اشارہ ہے کہ جب وہ زندگی کی اس حد میں قدم رکھیں کہ ازدواج کی قدرت رکھتے ہوں اور ظاہر ہے کہ جو بیاہ کی اہلیت رکھتا ہے، گھریلو ذمہ داریوں کو بہتر طور پر انجام دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے اور ایسا شخص سرمائے کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ بنا بریں ازدواجی زندگی مستقل اقتصادی زندگی کے ساتھ ساتھ شروع ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یتیموں کی ثروت و دولت انہیں واپس کر دی جائے تاکہ جب وہ جسمانی طور پر بالغ ہو جائیں اور انہیں مال کی بہت زیادہ ضرورت ہو تو اس کے ساتھ ان کی سوچ میں بھی پختگی آ جائے جس سے وہ اپنے مال کی بخوبی حفاظت کر سکیں۔
۳۔ ”انستم منھم رشداً“ یہ اس طرف اشارہ ہے۔کہ ان کا رشد (سوجھ بوجھ) پوری طرح واضح ہو۔ کیونکہ ”انستم“ مادہ ”ایناس“ سے ہے۔ جس کے معنی مشاہدہ کرنے اور دکھنے کے ہیں اور یہ مادہ مادہٴ انسان سے ہے جس کے ایک معنی آنکھ کی پتلی کے بھی ہیں۔ حقیقت میں مشاہدہ اور دیکھنے کے وقت انسان یعنی آنکھ کی پتلی سے مدد لی جاتی ہے۔ اسی لئے مشاہدہ کرنے کو ایناس سے تعبیر کیا گیا ہے۔
وَ لا تَاْکُلُوہا إِسْرافاً وَ بِداراً اَنْ یَکْبَرُوا
اس کے بعد پھر سرپرستوں کو تاکید کر رہا ہے کہ کسی طرح سے بھی یتیموں کے مال میں خیانت اور بےایمانی نہ کریں اور ان کے ہوش سنبھلنے سے پہلے ان کا سرمایہ ضائع نہ کریں۔
وَ مَنْ کانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ وَ مَنْ کانَ فَقیراً فَلْیَاْکُلْ بِالْمَعْرُوفِ
یعنی اگر یتیموں کے سرپرست صاحب حیثیت اور مال دار ہیں تو پھر کسی طریقہ سے بھی ان کے مال سے فائدہ نہ اٹھائیں اور اگر فقیر و نادار ہیں تو صرف ان ذمہ داریوں کے بدلے جو انہوں نے یتیم کے مال کی حفاظت کے لئے اٹھائے ہیں عدل و انصاف کرتے ہوئے ان کے مال میں سے اپنی کارکردگی کے مطابق لے سکتے ہیں۔
اس سلسلے میں کئی روایتیں بھی ہیں جنہوں نے اس آیت کے مفہوم کی وضاحت کی ہے۔ جیسا کہ ہم تحریر کر چکے ہیں۔ ان میں سے ایک روایت حضرت امام جعفر صادق (ع) سے مروی ہے:
فذٰلک رجل یحبس نفسہ عن المعیشة فلا باٴس ان یاٴکل بالمعروف اذا کان یصلح لھم فان کان المال قلیلا فلا یاٴکل منہ شیئاً۔
اس سے تو وہ شخص مراد ہے جس کو یتیم کے مال کی حفاظت اپنا مستقبل سنوارنے سے روک دے تو وہ اس صورت میں یتیم کے مال سے مناسب اندازے کے مطابق لے سکتا ہے اور یہ اسی صورت میں ہے جبکہ یتیم کے لئے اس میں فائدہ ہو اور اگر یتیم کا مال کم ہو (اور اس کی سرپرستی میں زیادہ وقت بھی صرف نہ ہوتا ہو) تو اس حالت میں یتیم کے مال سے ذرہ بھر بھی نہ لے۔
فاذا دفعتم الیھم اموالھم فاشہدوا علیھم۔
آخری حکم جو یتیموں کے سرپرستوں کے متعلق اس آیت میں بیان کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جب تم ان کے مال ان کے سپرد کرنا چاہو تو گواہ بنا لو تاکہ اتہام، نزع اور کسی قسم کے اعتراض کی گنجائش باقی نہ رہے۔
و کفیٰ باللہ حسیبا۔
البتہ یہ جان لو کہ حقیقی حساب کرنے والا تو خداوند عالم ہی ہے اور ہر چیز سے زیادہ اہم یہ بات ہے کہ تمہارا حساب کتاب اس (خدا) کے ہاں واضح ہو کیونکہ خدا وہ ہے کہ اگر تم سے کوئی ایسی بےایمانی ہوئی ہو گی جو گواہوں کی نظروں سے بھی اوجھل ہو تو وہ اس کا حساب کر لے گا۔
مردوں کے لئے اس میں سے جو کچھ ان کے والدین اور رشتہ دار چھوڑ جائیں حصہ ہے اور عورتوں کے لئے بھی جو ان کے والدین اور رشتہ دار چھوڑ جائیں حصہ ہے چاہے وہ مال کم ہو کہ زیادہ۔ یہ حصہ مقرر اور لازمی ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
زمانہ جاہلیت میں یہ رسم تھی کہ وہ (مشرک) صرف مردوں کو وارث سمجھتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ جو شخص مسلح ہو کر لڑنے اور اپنی زندگی کو برقرار رکھنے کے لئے کبھی بھی ڈاکہ ڈالنے کی طاقت نہیں رکھتا اسے ترکہ نہیں مل سکتا۔ اسی وجہ سے وہ عورتوں اور بچوں کو میراث سے محروم کر دیتے تھے اور میت کا مال بہت دور کے مردوں میں بانٹ دیتے تھے۔ یہاں تک کہ ایک انصاری جس کا نام اوس بن ثابت تھا فوت ہو گیا اور اپنے بعد چھوٹی چھوٹی بچیاں اور بچے چھوڑ گیا۔ اس کے چچا زاد بھائی جن کے نام خالد اور ارفطہ تھے وہ آئے۔ انہوں نے اس کا مال آپس میں بانٹ لیا اور اس کی بیوی اور چھوٹے چھوٹے یتیم بچوں کو کچھ نہ دیا تو اس کی بیوی نے حضرت رسول اکرمﷺ کی خدمت اقدس میں شکایت کی۔ اس وقت تک اس سلسلے میں اسلام میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ اس موقع پر مذکورہ بالا آیت کا نزول ہوا۔ چنانچہ حضرت رسول اکرمﷺ نے ان دونوں کو بلایا کہ وہ اس مال میں بالکل چھینا جھپٹی نہ کریں اور اسے پہلے طبقے کے پس ماندگان یعنی اولاد اور اس کی بیوی کے سپرد کر دیں۔ یہاں تک کہ ان کے درمیان اس کی تقسیم کا طریقہ آیات آئندہ میں واضح ہوا۔
تفسیر
عورت کی حفاظت کے لئے ایک اور قدم
حقیقت میں یہ آیت غلط عادتوں اور رسموں کے خلاف ایک اقدام ہے کیونکہ وہ عورتوں اور بچوں کو ان کے جائز حق سے محروم کر دیتے تھے۔ اس لئے یہ آیت ان بحثوں کو تکمیل کرتی ہے جو آیات گذشتہ میں ہوئی ہیں۔ کیونکہ عرب اپنی غلط اور ظالمانہ رسموں کی وجہ سے عورتوں اور چھوٹے بچوں کو میراث کے حق سے محروم کر دیتے تھے۔ آیت نے اس باطل قانون کو غلط قرار دیا اور فرمایا کہ مرد اس مال سے جو ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ جاتے ہیں حصہ رکھتے ہیں اور عورتیں بھی۔ چاہے وہ کم ہو یا زیادہ۔ اس وجہ سے کوئی شخص حق نہیں رکھتا کہ وہ دوسرے کا حصہ ہڑپ کر جائے۔
(لِلرِّجالِ نَصیبٌ مِمَّا تَرَکَ الْوالِدانِ وَ الْاَقْرَبُونَ وَ لِلنِّساءِ نَصیبٌ مِمَّا تَرَکَ الْوالِدانِ وَ الْاَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْہُ اَوْ کَثُرَ)
اس کے بعد آیت کے آخر میں اس مقصد کی تاکید کرتے ہوئے فرماتا ہے: یہ یقین شدہ حصہ ہے اور اس کا ادا کرنا واجب ہے تاکہ اس بحث میں کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہ رہ جائے۔ (نصیبا مفروضا)
ضمنا جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ آیت مندرجہ تمام صورتوں کے لئے عام حکم کا ذکر کر رہی ہے۔ لہذا اس وجہ سے جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر انبیاء و مرسلین کوئی مال و دولت وغیرہ چھوڑ جائیں تو وہ میراث کے طور پر ان کے وارثوں کو نہیں ملتی، یہ آیت مذکورہ کے خلاف ہے۔ ہاں اس سے پیغمبر کا ذاتی مال مراد ہے۔ ورنہ بیت المال جو تمام مسلمانوں سے تعلق رکھتا ہے وہ بیت المال کے قانون کے مطابق اپنے مصارف میں خرچ کیا جائے گا۔ اسی طرح اس آیت کے عمومی پہلو اور دوسری آیتوں سے جو بعد میں میراث کے بارے میں آئیں گی واضح ہوتا ہے کہ ”تعصب“ کا قائل نہ ہونا یعنی بعض حالات میں مال کا پدری رشتہ داروں کے ساتھ مخصوص ہونا جیسا کہ علماء اہل سنت قائل ہیں، وہ بھی تعلیمات قرآن کے خلاف ہے کیونکہ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بعض موقعوں پر عورتیں میراث سے محروم رہ جاتی ہیں۔ جس کی اسلام آیت مندرجہ بالا اور اسی طرح کی دوسری آیات کی روشنی میں نفی کرتا ہے۔ (غور فرمائیے گا)۔
اگر میراث کی تقسیم کے وقت رشتہ دار اور یتیم اور مسکین موجود ہوں تو اس مال میں سے کچھ تھوڑا بہت انہیں بھی دے دو اور ان سے اچھے طریقے سے بات کرو۔
تفسیر
ایک اخلاقی حکم
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
وَ إِذا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبی وَ الْیَتامی وَ الْمَساکینُ فَارْزُقُوہُمْ مِنْہُ
یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ یہ آیت قانون وراثت کے بعد نازل ہوئی ہے کیونکہ یہ بتاتی ہے کہ جب تقسیم میراث کی مجلس میں رشتہ دار، یتیم اور مسکین موجود ہوں تو اس میں سے کچھ نہ کچھ انہیں بھی دے دو۔ بنا بریں اس آیت کا مفہوم ایک مستحب اور اخلاقی حکم ہے ان طبقات کے بارے میں جو زیادہ نزدیکی ہوتے ہوئے بھی میراث سے محروم ہیں۔ آیت کہتی ہے: اگر تقسیم میراث کی مجلس میں کچھ دوسرے یا تیسرے درجے کے رشتہ دار اور اسی طرح بعض یتیم اور مسکین ہوں تو کچھ نہ کچھ مال انہیں بھی دے دو۔
اس طریقے سے حسد اور کینہ کا احساس جو میراث سے محرومی کی وجہ سے ممکن ہے ان کے دل میں موجزن ہو اور کر دو۔ اور اس ذریعے سے انسانی رشتے کے پیوند کو مستحکم کردو۔
اگر چہ لفظ ”یتامیٰ“ اور ”،مسکین“ مطلق کے طور پر استعمال کیا گیا ہے لیکن ظاہراً اس سے مراد کنبہ اور خاندان کے یتیم و مسکین ہیں کیونکہ قانون میراث کے مطابق قریب ترین طبقات (رشتہ داروں) کے ہوتے ہوئے دور ترطبقات میراث لینے سے محروم رہتے ہیں۔ اس لئے اگر وہ اس طرح کے اجتماع میں موجود ہوں تو مناسب ہے کہ عمدہ ہدیہ (جس کی مقدار کا مقرر کرنا صرف وارثوں کے ارادے سے وابستہ ہے جو بڑے وارثوں کے مال میں سے ہو گی) انہیں دیا جائے۔
بعض مفسرین کا خیال ہے کہ آیت میں یتیموں اور مسکینوں سے مراد ہر قسم کے یتیم اور ضرورتمند ہیں، چاہے وہ میت کے رشتہ دار ہوں یا ان کے علاوہ غیر۔ لیکن یہ احتمال بعید دکھائی دیتا ہے کیونکہ بیگانے اور غیر اس قسم کے خاندانی اجتماع میں نہیں آ سکتے۔
بعض مفسرین یہ اعتقاد بھی رکھتے ہیں کہ یہ آیت ایک واجب حکم بیان کر رہی ہے نہ کہ مستحب لیکن یہ بھی بعید ہے کیونکہ اگر واجب حق ہوتا تو ضروری تھا کہ اس کی مقدار اور حدود کا تعین کیا جاتا، حالا نکہ یہاں یہ اختیار حقیقی وارثوں کو دیا گیا ہے۔
و قولوا لھم قولاً معروفاً
آیت کے آخر میں یہ حکم ہے کہ میراث سے محروم رہنے والوں سے میٹھی زبان اور شائستہ طریقہ سے گفتگو کرو۔ یعنی مادی امداد کے علاوہ اپنے اخلاقی سرمائے سے بھی ان کی محبت حاصل کرو تاکہ ان کے دل میں کسی قسم کی تکلیف نہ رہنے پائے اور یہ حکم مندرجہ بالا حکم مستحب ہونے کی دوسری دلیل ہے۔
جو کچھ ہم نے لکھا ہے اس سے یہ مطلب بھی واضح ہو جاتا ہے کہ کوئی ایسی دلیل نہیں ہے کہ آیت مندرجہ بالا سرمائے اور میراث کو متعین کرنے والی آیات کی وجہ سے منسوخ ہو گئی ہے کیونکہ ان آیتوں اور اس آیت کے درمیان کسی قسم کا بالکل تضاد نہیں ہے۔
جو لوگ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اگر وہ اپنے بعد نا بالغ اولاد چھوڑ جائیں گے تو اس کا آنے والے دور میں کیا حشر ہو گا انہیں چاہئے کہ وہ یتیموں پر ظلم کرنے سے ڈریں اور خدا کی مخالفت سے بچیں اور یتیموں سے محبت اور نرمی سے گفتگو کریں۔
تفسیر
یتیموں پر لطف و کرم کی بارش
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
وَ لْیَخْشَ الَّذینَ لَوْ تَرَکُوا۔۔۔
قرآن یتیموں کی حالت زار کے بارے میں لوگوں کے جذبات کرم ابھارنے کے لیے ایک ایسی حقیقت کی ظرف اشارہ کرتا ہے جس سے کبھی کبھی لوگ غافل ہو جاتے ہیں اور وہ یہ کہ تم عام یتیموں کے ساتھ وہی سلو ک کرو جو تم چاہتے ہو کہ کل لوگ تمہارے یتیموں کے ساتھ کریں۔
اپنے بے یار و مددگار اور لاوارث بچوں کی بری حالت پیش نظر رکھو جبکہ وہ ایک ظالم اور بےایمان شخص کی سرپرستی میں، جو نہ ان کے جذبات و احساس پر نظر کرے اور نہ ان کے مال میں عدالت کا خیال رکھے۔ تو یہ دردناک منظر تمہارے لئے کتنا تکلیف دہ ہو گا اور تم اپنی اولاد کے لئے کتنے فکر مند ہو گے۔ اسی طرح دوسرے کی اولاد اور یتیموں کے لئے فکر کرو۔ ان کی تکلیف کا احساس کرو۔ اس بناء پر آیت کا مطلب کچھ یوں ہو گا: وہ لوگ جو اپنی اولاد کی آئندہ زندگی کے متعلق حیران و پریشان ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ یتیموں سے خیانت کرنے اور انہیں ستانے سے پرہیز کریں۔
اجتماعی مسئلے اصولی طور پر ہمیشہ ایک سنت کی شکل میں آج سے کل اور کل سے آئندہ زمانے تک اثر کرتے اورپھیلتے ہیں۔ جو لوگ معاشرے میں کسی ظلم کی بنیاد ڈالتے ہیں۔ مثلاً یتیموں کے ستانے کی رسم ڈالتے ہیں، دراصل وہ خود اس بات کی دعوت اور عملی نمونہ ہوتے ہیں کہ کل ان کی اولاد کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے۔ اس لئے وہ نہ صرف دوسروں کی اولاد پر مشق ستم کرتے ہیں بلکہ اپنی اولاد کے لئے بھی ظلم و ستم کی راہ ہموار کرتے ہیں۔
فَلْیَتَّقُوا اللَّہَ وَ لْیَقُولُوا قَوْلاً سَدیداً۔
اب جبکہ یہ حال ہے تو یتیموں کے سرپرستوں کو چاہیے کہ وہ خداوند عالم کے احکام کی مخالفت نہ کریں اور یتیموں کے ساتھ میٹھے لہجے میں بات کریں اور ان سے شفقت آمیز سلوک کریں تاکہ ان کے باطنی دکھ دور ہو جائیں اور دل کے زخم بھر جائیں۔
اسلام کا یہ بلند پایہ حکم جو مندرجہ بالا جملے میں موجود ہے ایتام کی پرورش کے سلسلے میں ایک نفیساتی نکتے کی طرف اشارہ کرتا ہے جو نہایت قابل غور ہے اور وہ یہ کہ ایک ننھے منے یتیم کی ضرورت صرف خوراک اور پوشاک تک محدود نہیں بلکہ ہمدردی اور مہربانی سے اس کے احساست قلبی کی تسکین بھی ضروری ہے جو اس کی آئندہ تعمیر و تربیت میں اثر انداز ہو گی۔ کیونکہ یتیم بھی دوسروں کی طرح انسان ہے اور چاہیے کہ اسے اس مہربانی کے برتاوٴ سے ایک روحانی غذا ملے اور اس محبت اور پیار سے اسے وہ راحت ملے جو ایک بچے کو ماں باپ کی گود میں ملتی ہے۔ وہ ایک بھیڑ کے بچہ کی مانند نہیں ہے کہ سبح کے وقت ریوڑ کےساتھ چراگاہ میں چلا جائے اور شام کے وقت واپس آ جائے۔ جسمانی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ یہ بھی نہایت ضروری ہے کہ اس کے نفیساتی میلانات کی بھی خاطر خواہ تعلیم و تربیت کا خیال رکھا جائے ورنہ وہ ایک ظالم، معاشرے کا باغی، برا اور خطرناک شخص بنے گا۔
ایک ضروری وضاحت
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے ایک صحابی سے منقول ہے کہ ایک دن چھٹے امامؑ نے فرمایا: جو شخص کسی پر ظلم کرے خداوند عالم کسی شخص کو اس پر مسلط کر دے گا تاکہ وہ اس پر اسی طرح کا ظلم و ستم کرے۔
صحابی کہتا ہے: میں نے دل ہی دل میں سوچا، یہ تو بڑے تعجب کی بات ہے کہ ظلم تو باپ کرے اور اس کے کئے کی سزا اولاد بھگتے۔ اس سے پہلے کہ میں اپنی (اس بات کو) بیان کروں، امام عالی مقامؑ نے فرمایا:
قرآن فرماتا ہے:
وَ لْیَخْشَ الَّذینَ لَوْ تَرَکُوا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّةً ضِعافاً خافُوا عَلَیْہِمْ (بحوالہ تفسیر برہان، جلد اول، صفحہ ۳۴۶)
جو سوال حدیث کے راوی کے دل میں پیدا ہوا تھا بہت سے لوگ وہی سوال کرتے ہیں کہ خداوند عالم کا ایک شخص کے جرم کا بدلہ دوسرے سے لینا کس طرح جائز ہے؟ اصولی طور پر یہ ظالم کی اولاد نے کونسا گناہ کیا ہے کہ وہ اس ظلم و ستم کا شکار ہو! اس سوال کا جواب مندرجہ بالا تحریر سے بخوبی معلوم ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ معاشرے کے افراد جو کام بھی کرتے ہیں وہ آہستہ آہستہ ایک رسم و رواج کی صورت اختیار کر لیتے ہیں اور آنے والی نسلوں کی طرف منتقل ہوتے رہتے ہیں آخر ایک دن یہ بدعت ان کی اولاد پر بھی اثر انداز ہو گی۔ اصل میں یہ بات ان کے اعمال کے وضعی اور کتوینی آثار میں سے ہے۔ اگر اسے خدا کی طرف نسبت دی جائے تو ہو صرف اس بنا پر ہے کہ سب کے سب تکوینی اثرات اور علت و معلول کے خواص اسی سے منسوب ہیں۔ غرض کسی طرح بھی خداوند عالم کی طرف سے کسی پر ظلم نہیں ہوتا۔
خلاصہ یہ ہے کہ جب بھی کسی معاشرے میں ظلم و ستم کی بنیاد رکھی گئی وہ ظالم اور اس کی اولاد کے لئے زنجیر پا بن گئی۔
جو لوگ یتیموں کا مال ظلم و ستم سے کھاتے ہیں وہ صرف آگ کھا رہے ہیں اور بہت جلد جلانے والی آگ میں جلیں گے۔
تفسیر
ہمارے اعمال کا باطنی چہرہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
إِنَّ الَّذینَ یَاْکُلُونَ اَمْوالَ الْیَتامی ظُلْماً إِنَّما یَاْکُلُونَ فی بُطُونِہِمْ ناراً۔
ہم اس سورہ کے شروع میں تحریر کر چکے ہیں کہ اس سورے کی آیتیں ایک صحیح و سالم معاشرے کی بنیاد قائم کرنے کے لئے نازل ہوئی ہیں۔ اس لئے پہلے پہل جہالت کے زمانے کی رسموں اور مجرمانہ غلط کاریوں کو جو بعض نو مسلموں کے دلوں میں تھیں دور کر کے شروع میں یتیموں کے مال میں بےجا تصرف کرنے کے خلاف سخت قسم کے احکام دکھائی دیتے ہیں، جن میں آیت مذکورہ بالا سب سے زیادہ واضح ہے۔
یہ آیت بتاتی ہے کہ جو لوگ یتیموں کا مال ہیرا پھیری کر کے کھتے ہیں وہ درحقیقت آگ کھاتے ہیں۔ سارے قرآن میں اس قسم کی تعبیر صرف ایک مقام پر نظر آتی ہے اور وہ ایسے لوگوں کے متعلق ہے جو حقائق چھپا کر آیات الہی میں رد و بدل کر کے نفع کماتے ہیں۔ ان کے بارے میں خداوند عالم فرماتا ہے:
إِنَّ الَّذینَ یَکتمون ما انزل اللہ من الکتاب و یبشرون بہ ثمناً قلیلاً اولئکَ ما یَاْکُلُونَ فی بُطُونِہِم الاْالنار۔¬¬
جو لوگ خداوند عالم کی آیتوں کو چھپاتے ہیں اور ان کے ذریعہ معمولی سا فائدہ اٹھاتے ہیں وہ آگ کے سوا کچھ نہیں کھاتے۔ (سورہ بقرہ، ۱۷۴)۔
وَ سَیَصْلَوْنَ سَعیراً۔
”وَسَیَصْلَی“ اصل میں صلی (بر وزن درد) کے مادے سے آگ میں داخل ہونے اور جلنے کے معنی میں ہے اور سعیر کے معنی ہیں بھڑکتی ہوئی آگ۔
قرآن اس آیت میں بتاتا ہے کہ اس دنیا میں آگ کھانے کے علاوہ وہ بہت جلد آخرت میں میں بھی بھڑکتی ہوئی آگ میں جائیں گے جو انہیں بری طرح جلا دئے گی۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اعمال کا ظاہری چہرے کے علاوہ ایک حقیقی چہرہ بھی ہے، جو اس دنیا میں ہماری آنکھوں سے اوجھل ہے لیکن یہ باطنی چہرے آیت میں طاہر ہو جائیں گے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمل مجسم حالت میں پیش ہوں گے۔
قرآن فرماتا ہے: جو لوگ یتیم کا مال کھاتے ہیں اگرچہ ان کے عمل کا ظاہری چہرہ رنگین و لذیذ غذاوٴں سے فائدہ اٹھاتے دکھائی دیتا ہے لیکن ان غذاوٴں کا اصلی چہرہ جلانے والی آگ ہے اور یہی وہ چہرہ ہے جو قیامت کے دن ظاہر ہو گا۔ حقیقی چہرہ ہمیشہ اس عمل کا ظاہری حالت کے ساتھ خاص مناسبت رکھتا ہے۔ جس طرح یتیم کا مال کھانا اور اس کے حقوق چھیننا، اس کے دل کو جلاتا اور اس کی روح کو تڑپاتا ہے (اسی طرح) اس کا عمل حقیقی چہرہ جلانے والی آگ ہے۔ اس امر کی طرف (اعمال کے حقیقی چہرے) ان لوگوں کے لئے جو ان حقائق پر ایمان رکھتے ہیں، توجہ دینا غلط کام کرنے سے روکنے کے لئے بہت ہی کارگر ہے۔ کیا کوئی ایسا شخص ہے جو اپنے ہاتھ سے آگ کے انگارے اٹھا کر اپنے منہ میں رکھے اور نگل جائے؟ اسی طرح ایمان دار لوگوں کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ خواہ مخواہ یتیم کا مال کھائیں۔ اگر ہم یہ دیکھتے کہ خدا والے گناہ کا تصور تک نہیں کرتے تھے تو اس کی ایک وجہ یہی ہے کہ وہ علم و ایمان کی طاقت اور اخلاقی تعلیم و تربیت کے اچر سے اعمال کے اصلی چہروں کو دیکھتے تھے، اس لئے کبھی برا کام کرنے کا خیال تک نہ کرتے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک نادان اور بے خبر بھولا بھالا بچہ جلانے والی آگ کے انگارے کی دل خوش کرنے والی روشنی دیکھ کر اس پر ایسا لٹو ہو جاتا ہے کہ اسے اچانک ہاتھ میں لے لے لیکن ایک سمجھ دار انسان جو آگ کے جلانے کی صفت کو بارہا آزما چکا ہے وہ یہ حماقت نہیں کرتا۔ وہ کبھی اس کا تصور بھی نہ کرے گا۔ یتیموں کے مال میں دست درازی کرنے کے بارے میں بہت زیادہ دل ہلا دینے والی احادیث و رویات ہیں۔ یہاں تک کہ یتیموں کے مال میں تھوڑی سے تھڑی زیادتی بھی ان احکام کی روشنی میں قابل گرفت ہے۔
ایک حدیث میں حضرت امام محمد باقر حضرت امام جعفر صادق (ع) سے منقول ہے کہ کسی نے سوال کیا کہ یہ آیت کی سزا یتیم کا کتنا مال غصب کرنے پر ہے، تو آپ(ع) نے فرمایا:
دو درہم کے برابر۔ (بحوالہ: تفسیر برہان زیر بحث آیت کے ذیل میں)
خدا تم کو تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے کہ (میراث میں سے) ایک بیٹے کا دو بیٹیوں کے برابر حصہ ہے اگر تمہاری (دویا) دو سے زیادہ بیٹیاں ہوں تو میراث کی دو تہائی ان کے لئے ہے اور اگر ایک ہو تو اس کے لئے آدھی میراث ہے اور (مرنے والے کے) باپ اور ماں میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہے اگر اس کی اولاد ہواور اگر اس کی اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ اس کی میراث لیں تو اس کی ماں کے لئے تیسرا حصہ ہے اور اگر اس کے بھائی موجود ہوں تو اس کی ماں چھٹا حصہ لے گی(اور باقی چھ میں سے پانچ حصے اس کے باپ کے لئے ہیں ) یہ سب کچھ اس وصیت پر عمل کر چکنے کے بعد ہے جو مرنے والا کر گیا ہے قرض ادا کرنے کے بعد تم نہیں جانتے کہ باپ اور ماؤں اور تمہاری اولاد میں سے کون تمہارے لئے زیادہ اچھا ہے یہ خدائی حکم ہے اور وہ دانا اور حکیم ہے
اور تمہارے لیے تمہاری بیویوں کی میراث میں سے اولاً آدھا ہے اگر ان کے ہاں اولاد نہ ہو اور اگر ان کی اولاد ہو تو ان کی وصیت اور قرض کی ادائیگی کے بعد چوتھا حصہ ہے اور تمہاری بیویوں کے لئے تمہاری میراث کا چوتھا حصہ ہے اگر تمہاری کوئی اولاد نہ ہو اور اگر تمہاری اولاد ہو تو ان کا تمہاری وصیت کی تکمیل اور قرض کی ادائیگی کے بعد آٹھواں حصہ ہے اور اگر کوئی ایسا شخص ہو کہ کلالہ (ایک بہن یا ایک بھائی) اس کی لے یا کوئی عورت ہے کہ جس کا ایک بھائی ایک بہن ہے تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے (اگر بھائی اور بہنیں مادری ہوں )ا ور ایک سے زیادہ ہوں تو پھر وہ وصیت کو پورا کرنے اور قرض ادا کرنے کے بعد تیسرے حصہ میں برابر برابر شریک ہیں بشرطیکہ (وصیت کے طریقے اور قرض کا اقرار) انہیں نقصان نہ پہنچائے یہ خدا کی سفارش ہے اور وہ جاننے والا اور حکیم ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
صدر اسلام کے مشہور شاعر حسان بن ثابت کا بھائی عبد الرحمن بن ثابت انصاری فوت ہو گیا۔ اس کی ایک بیوی اور پانچ بھائی تھے عبدالرحمن کے بھائیوں نے میراث اپنے درمیان تقسیم کر لی اور اس کی بیوی کو کچھ نہ دیا۔
یہ واقعہ حضرت رسول اکرمﷺ کی خدمت اقدس میں پیش کیا گیا اور میراث لینے والوں کی شکایت کی گئی۔ اس پر آیات مندرجہ بالا نازل ہوئیں۔ ان میں شوہر اور بیوی کی میراث کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ نیز حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری سے منقول ہے وہ کہتے ہیں:
میں بیمار ہو گیا تھا۔ جب حضورؐ میری عیادت کے لئے تشریف لائے تو میں بےہوش ہو چکا تھا۔ آنحضرتؐ نے پانی منگوایا کچھ پانی سے وضو فرمایا، باقی مجھ پر چھڑک دیا تو میں ہوش میں آ گیا۔ آپ خاموش رہے۔ کچھ دیر بعد یہ آیت نازل ہوئیں اور میں وارثوں کے حصے معین ہو گئے۔
میراث ایک فطری حق ہے
اس سے پہلے کہ ہم ان آیات کی تفسیر قلم بند کریں چند ایک نکات کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔
پہلا نکتہ یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ بہت سے لوگ یہ خیال کریں کہ بہتر ہے کہ کسی کی وفات کے بعد اس کے مال کو عام مال کا حصہ قرار دے کر اسے بیت المال میں جمع کرا دیا جائے۔ لیکن غور و فکر کرنے کے بعد یہ امر کھل کر سامنے آ جاتا ہے کہ یہ کام عدالت کے خلاف ہے۔ کیونکہ میراث کا مسئلہ سو فی صد ایک فطری اور منطقی مسئلہ ہے۔ جب ماں باپ اپنی بعض جسمانی اور روحانی صفات قانونِ وراثت کے مطابق اپنی اولاد میں منتقل کرتے ہیں تو پھر ان کے مال کو اس قانون سے کس طرح مستثنیٰ کیا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ جائز مال ہر شخص کی محنت و مشقت اور سعی و کوشش کا نتیجہ ہوتا ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر وہ جو کوشش کرتا ہے اور طاقت صرف کرتا ہے وہ اہل سے ظاہر ہو جاتی ہے۔
اسی بناء پر ہم ہر شخص کو اس کے ہاتھ کی محنت کا فطری طور پر مالک سمجھتے ہیں اس لیے جب موت کے وقت انسان کا ہاتھ اپنے مال تک نہیں پہنچ سکتا تو عدل کا یہی تقاضا ہے کہ یہ مال ان افراد کے پاس چلا جائے جو مرنے والے کے نزدیک ترین رشتہ داروں ہوں حقیقت میں ان اشخاص کا وجود اس کے اپنے وجود کی بقا شمار ہو گا۔
اسی لیے بہت سے لوگ اتنا سرمایہ رکھنے کے باوجود ان کی زندگی کے لئے بخوبی کافی ہو سکتا ہے پھر بھی اپنے کاروبار کو بڑھانے کی لگاتار کوشش کرتے رہتے ہیں ان کا مقصد اپنی اولاد کے مستقبل کی حفاظت کرنا اور اسے روشن کرتا ہے یعنی قانونِ وارثت ملک کی اقتصادی گاڑی کو زیادہ متحرک اور فعال بنا سکتا ہے۔ اگر ہر شخص کا مال اس کی موت کے بعد اس سے بالکل الگ کر دیا جائے اور اسے عام اہل قرار دے دیا جائے تو ممکن ہے کہ اقتصادی سرگرمیاں اور چہل پہل ختم ہو کر رہ جائے۔ اس گفتگو کا شاہد وہ واقعہ ہے جو فرانس میں پیش آیتا ہے۔ کہتے ہیں، اب سے کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ فرانس کی پارلیمینٹ کے نمائندوں نے میراث کے قانون کو لغو قرار دیا۔ اس کی بجائے انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ جو کوئی چھوڑ جائے، سے پبلک کا مال سمجھ کر ضبط کر لیا جائے اور اسے عوام الناس کی ضروریات میں اس طرح خرچ کیا جائے کہ اس شخص سے تعلق رکھنے والوں میں سے کسی کو کچھ بھی نہ دیا جائے لیکن کچھ مدت گذرنے کے بعد اس قانون کے بُرے اقتصادی اثرات ظاہر ہو گئے اور یہ بات کھل کر سامنے آ گئی کہ اس قانون نے ملک کی درآمد اور برآمد پر گہرا اثر ڈالا ہے اور اس سے اقتصادی سرگرمیوں میں بہت کمی واقع ہو گئی ہے۔ چنانچہ ان حالات نے اقتصادیات کے ماہرن کو پریشان کر دیا۔
انہوں نے اس کا بنیادی سبب قانونِ میراث پر غلط عمل قرار دیا۔ اس لیے اس پر نظر ثانی کرنا پڑی۔ بنا بریں اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ قانون میراث حکم شرعی کے علاوہ ایک فطری اور طبعی امر بھی ہے۔ یہ اقتصادی سرگرمیوں کی فعالیت میں ایک گہرا اثر رکھتا ہے۔
میراث گذشتہ اقوام عالم میں
وراثت کا قانون فطری بنیادوں پر قائم ہے وہ گذری ہوئی قوموں میں بھی مختلف شکلوں میں دکھائی دیتا ہے اگرچہ بعض لوگ یہودیوں کے متعلق یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان میں قانون وراثت کا وجود نہیں تھا لیکن موجودہ تورات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قانون بڑی تفصیل کے ساتھ سفر ”اعداد“ میں موجود ہے۔ اس میں ہے:
اور بنی اسرائیل سے کہہ دو کہ اگر کویہ شخص مر جائے اور اس کے بیٹا نہ ہو تو اس کی میراث بیٹی کو دے دو اگر بیٹی بھی نہ ہو تو اس کا ورثہ اس کے بھائیوں کو دے دو اگر بھائی بھی نہ ہو تو اس کی میراث اس کے باپ کے بھائیوں کو دے دو اگر اس کے باپ کا کوئی بھائی نہیں تو اس کے پس ماندگان میں سے جو بھی اس کا زیادہ نزدیکی رشتہ دار ہے اسے ترکہ دے دو۔ تاکہ وہ اس کا وارث بن جائے اور یہ امر بنی اسرائیل کے لئے واجب ہے۔ اس لئے کہ خداوند عالم نے موسیٰؑ کو یہ حکم دیا ہے۔ (بحوالہ سفر اعداد آیات ۸۔۱۱)
مندرجہ بالا فقروں سے پتہ چلتا ہے کہ بنی اسرائیل میں میراث کا تعلق صرف اہل نسب سے ہی تھا کیونکہ اس میں شروع وے آخر تک بیوی اور شوہر کا نام نہیں ہے۔
دین مسیحی میں اس قانون کو معتبر سمجھا جائے گا کیونکہ مسجودہ انجیل میں منقول ہے کہ حضرت مسیح (ع) نے فرمایا: ۔
میں اس لئے نہیں آیا کہ تورات کے احکامات میں کوئی ردوبدل کروں۔
اسی لئے ان کی موجودہ کتب و رسائل مذہبی میں میراث کی کوئی بحث نہیں پائی جاتی۔ صرف چند مقامات پر لفظ ارث کے مشتقات پر گفتگو کی گئی ہے جو سب کی سب معنوی یا اخروی میراث کے بارے میں صحیح ہے۔
اسلام سے پہلے عربوں میں تین طریقوں سے میراث بٹتی تھی:
۱۔ ” نسب“ اس سے مراد ان کے ہاں صرف بیٹے اور مرد تھے۔ بچے اور عورتیں ترکہ سے قطعی طور پر محروم تھیں۔ ۲۔ ”متبنیٰ“۔ یعنی ایسا بیٹا جسے ایک خاندان نے دھتکار دیا ہو اور دوسرے نے اسے اپنی طرف منسوب کر لیا ہو یہ دراصل منہ بولا بیٹا ہوتا تھا۔ اس صورت میں اس منہ بولے بیٹے اور اس کے منہ بولے باپ کے درمیان قانون وراثت جاری ہو جاتا تھا۔
۳ ۔عہد و پیمان۔ دو آدمی آپس میں معاہدہ کر لیتے تھے کہ وہ زندگی بھر ایک دوسرے کا دفاع کریں گے اور مرنے کے بعد ایک دوسرے رازدار اور وراثت رہیں گے۔
اسلام نے میراث کے فطری اور طبعی قانوں کو ان خس و خاشاک سے پاک کر دیا اور ظالمانہ تفریقات جو ایک طرف عورت مرد اور دوسری طرف چھٹے بڑے کے درمیان تھیں۔ انہیں دور کر دیا۔
اسلام نے تین چیزوں کو میراث کا سرچمہ قرار دیا۔ اسلام سے پہلے یوں نہ تھا۔ وہ تین چیزیں یہ ہیں:
۱۔ ”نسب“ اپنے وسیع مفہوم کے ساتھ یعنی ہر قسم کا تعلق جو تولد کے ذریعے دو اشخاص کے درمیان مختلف سطحوں میں ظاہر۔ چاہے وہ مرد عورت ہوں چاہے چھوٹے بڑے۔
۲ ۔ ”سبب‘‘ یعنی ایسے روابط جو شادی کے ذریعے مختلف افراد کے درمیان پیدا ہو جائیں۔
۳۔ ”ولاء“ اس سے مراد ایسے روبط ہیں جو نسبی یا سببی رشتہ داری کے علاوہ دو اشخاص میں پیدا ہوں مثلاً عتق یعنی اگر کوئی شخص اپنے غلام کو آزاد کر دیتا ہے اور موت کے غلام اپنا کوئی نسبی یا سببی رشتہ دار نہیں چھوڑتا تو اس کا مال آزاد کرنے والے کو مل جائے گا اور یہ خود غلام آزاد کرنے کی ایک جزا اور ترغیب ہے۔
اسی طرح ولاء ضمان جریرہ ہے یہ ایک خاص معاہدہ تھا جو افراد کے درمیان ان کی خواہش اور ارادے سے قائم ہو جاتا تھا اور طرفین یہ امر اپنے ذمہ لے لیتے تھے کہ وہ مختلف مواقع پر ایک دوسرے کا دفاع کریں گے اور مرنے کے بعد (جبکہ ان کے درمیان کسی قسم کی نسبی یا سببی رشتہ داری بھی نہ ہو) ایک دوسرے کی میراث لیں گے۔
اسی لئے طرح ولاء امامت ہے یعنی اگر کوئی شخص دنیا سے چل بسے اور اپنے بعد کسی قسم کا نسبی اور سببی رشتہ دار نہ چھوڑے تو اس کی میراث امام کو یا دوسرے لفظوں میں مسلمانوں کے بیت المال کو ملے گی۔ البتہ مندرجہ بالا طبقات کے لئے شرطیں اور احکام ہیں جو کتب فقہ میں تفصیل کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں۔
تفسیر
یُوصیکُمُ اللَّہُ فی اَوْلادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ
اس آیت میں وارثوں کے پہلے طبقے (اولاد اور ماں باپ) کے بارے میں حکم بیان کیا گیا ہے۔ واضح ہے کہ ربط و تعلق کی رو سے کوئی رشتہ اولاد۔ ماں اور باپ سے زیادہ قریبی نہیں ہے۔ اسی لئے قرآن نے انہیں میراث کے دیگر طبقات پر مقدم رکھا ہے۔ پہلی آیت میں فرماتا ہے: خدا تم سے تمہاری اولاد کے بارے میں سفارش اور وصیت کرتا ہے کہ بیٹوں کو بیٹیوں کی نسبت دو گنا حصہ دو۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ ترغیب آیت اور طرز بیان کے لحاظ سے بیٹوں کی میراث دینے کے لئے ایک طرح کی تاکید ہے اور زمانہ جاہلیت کی بدعتوں کا مقابلہ ہے کیونکہ وہ بیٹی کو بالکل محروم کر دیتے تھے۔ باقی رہا ان دونوں کی میراث کے تفاوت و فرق کا فلسفہ تو وہ عنقریب بیان کیا جائے گا۔
فَإِنْ کُنَّ نِساءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَہُنَّ ثُلُثا ما تَرَکَ
اگر مرنے والے کی اولاد صرف دو لڑکیاں یا ان سے زیادہ ہوں تو انہیں مال کا دو تہائی ملے گا۔
وَ إِنْ کانَتْ واحِدَةً فَلَہَا النِّصْفُ۔۔۔
لیکن اگر بیٹی ہو تو اسے مال کا نصف ملے گا۔
ایک سوال اور اس کا جواب
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت میں قرآن فرماتا ہے ”فوق اثنین“ یعنی اگر دو بیٹیوں سے زیادہ ہوں تو دو تہائی مال ان کا ہے اس بناء ہر آیت دو لڑکیوں کے حکم سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے کیونکہ اس نے صرف ایک یا چند بیٹیوں کا حکم بیان کیا ہے۔
اس سوال کا جواب آیت کے پہلے حصہ پر غور کرنے سے واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے:
لذکر مثل حظ الانثین
یعنی۔ لڑکا لڑکی سے دوگنا حصہ لے گا۔
اگر کسی مرنے والے کے پس مندگان میں فقط ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہو تو بیٹی کا حصہ ایک تہائی اور بیٹے کا دو تہائی ہوتا ہے۔ بنا بریں اس کے مطابق دو بیٹیوں کا حصہ دو تہائی ہو گا۔ شاید اسی وجہ سے بعد میں آنے والے جملے میں دو بیٹیوں کے حصہ کا ذکر نہیں کیا گیا ہے بلکہ چند بیٹیوں کے حصہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جو دو تہائی سے نہیں بڑھتا (غور فرمایئے گا)۔
نیز سورہ نساء کی آخری آیت پر غور و فکر کرنے سے بھی یہ مسئلہ حل ہو جاتا ہے کیونکہ اس آیت میں ایک بہن کا حصہ (ایک بیٹی کی طرح) آدھا قرار دیا گیا ہے۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ اگر دو بہنیں ہوں تو انہیں دو تہائی مال ملے گا۔ اس حکم سے ہم بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ دو بیٹیوں کا حصہ بھی دو تہائی ہے۔
اس کے علاوہ یہ تعبیر عربی ادب میں دکھائی دیتی ہے، وہ کبھی لکھتے ہیں ”فوق اثنین“ جس سے مراد ہوتا ہے (اثنتان و ما فوق) یعنی دو یا دو سے زیادہ۔
ان تمام امور کو چھوڑتے ہوئے حکم مذکور فقہ اسلامی اور منابع حدیث کے لحاظ سے تسلیم شدہ ہے فرض کی جئے کہ مندرجہ بالا جملے میں شک و شبہ کی گنجائش ہے تو وہ مصادر حدیث پر ایک نگاہ ڈالنے سے دور ہو جاتا ہے۔
مرد کی میراث عورت سے دوگنی کیوں ہے؟
بظاہر تو مرد کا ورثہ عورت سے دو چند ہے لیکن غور کرنے سے یہ بات روشن ہو جاتی ہے کہ ایک لحاظ سے عورت کی میراث مرد سے دوگنی ہے اور یہ اس حمایت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہے جو اسلام نے عورت کے حقوق کی فرمائی ہے۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر مردوں کی ذمہ داریوں کی ملحوظ رکھا جائے تو مرد کی آدھی آمدنی عملی طور پر عورتوں پر خرچ ہوتی ہے۔ جبکہ عورت کے ذمہ ایسی کوئی چیز نہیں۔ مرد کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کی زندگی کے لوازمات اس کی ضرورت کے مطابق مکان، لباس، خوراک اور دیگر ضروریات زندگی مہیا کرے۔ چھوٹے بچوں کی ضروریات بھی مرد کے ذمہ ہیں۔ جبکہ عورتوں کے ذمہ یہ لوازم نہیں ہیں۔ یہاں تک کہ اپنی ضروریات زندگی بھی ان کے ذمہ نہیں ہیں۔ اس وجہ سے ایک عورت یہ کر سکتی ہے کہ وہ اپنی تمام میراث کو اپنی بچت کے طور پر رکھے جبکہ مرد اپنے اور اپنے بیوی بچوں پر خرچ کرنے کے لئے مجبور ہے اس کا عملی نتیجہ یہی نکلے گا کہ مرد کی آدھی آمدنی عورت پر اور آدھی اپنے پر خرچ ہو گی جبکہ عورت کا حصہ جوں کا توں باقی رہ جاتا ہے۔
مزید وضاحت کے لئے مندرجہ ذیل مثال کی طرف توجہ فرمایئے:
فرض کیجئے کہ دنیا کی کل دولت ۳۰ ارب روپے ہے۔ جو میراث کی رو سے عورتوں، مردوں۔ بیٹیوں اور بیٹوں میں بانٹی جانا ہے اب دنیا کے تمام مردوں کی آمدنی کا عورتوں کی آمدنی کے ساتھ بلحاظ میراث حساب کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس رقم میں سے۲۰ / ارب مردوں کے ہیں اور دس ارب عورتوں کے۔ جب معمول کے مطابق عورتوں کی شادی ہو جاتی ہے تو ظاہر ہے کہ ان کے لوازمات زندگی کا تمام تر بوجھ مردوں پر ہو گا۔ اس طرح عورتیں اہنے حصہ کا دس ارب روپیہ بچا سکتی ہیں کیونکہ وہ عملی طور پر مردوں کے ۲۰ / ارب روپے میں شریک ہیں وہ ان پر اور ان کی اولاد پر خرچ ہو گا۔
اس طرح مردوں کا آدھا حصہ (دس ارب روپے) عورتوں پر خرچ ہو گا۔ اب اگر اس کے ساتھ اس دس ارب روپے کو جمع کیا جائے جو انہوں نے بچایا ہے تو یوں یہ رقم مجموعی طور پر ۲۰ /ارب روپے بنتی ہے۔ جو پوری دنیا کے سرمایہ کا دو تہائی ہے جبکہ مرد عملی طور پر دس ارب روپے سے زیادہ اپنے پر خرچ نہیں کر سکتے۔
اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ خرچ اور فائدہ اٹھانے کے لحاظ سے عورتوں کا اصلی حصہ مردوں کے حقیقی حصہ سے دوگنا ہے۔ یہ فرق اس لئے ہے کہ عموماً عورتوں میں روپئے کمانے کی صلاحیت کم ہے۔ یہ اسلام کی طرف سے عورتوں کی منطقی اور عادلانہ حمایت ہے۔ اگرچہ ظاہری طور پر عورتوں کا حصہ آدھا ہے۔ مگر ان کا حقیقی حصہ مردوں سے زیادہ مقرر کیا گیا ہے۔
اتفاق کی بات ہے کہ آثار اسلام کی طرف رجوع کرنے سے ہمیں اس نکتے کا سراغ ملتا ہے کہ مندرجہ بالا سوال اسلام کے شروع میں ہی لوگوں کے ذہن میں تھا اور وہ کبھی کبھار اس سلسلے میں رہبران اسلام سے سوالات بھی کر لیتے تھے۔ جو جوابات ان بزرگان اسلام (ائمہ اہل بیت (ع)) نے اس سوال کے دئے ہیں۔ غالباً وہ سب ایک ہی مضمون کے ہیں اور وہ یہ کہ:
خداوند عالم نے زندگی کے اخراجات اور حق مہر مردوں کے ذمہ لگایا ہے۔ اس بنا پر ان کا حصہ بھی زیادہ مقرر کیا گیا ہے۔
کتاب ”معافی الاخبار“ میں حضرت علی بن موسیٰ (ع) رضا سے منقول ہے کہ آپ (ع) نے اس سوال کے جواب میں فرمایا:
یہ میراث میں عورتوں کا حصہ مردوں کی نسبت آدھا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب عورت کی شادی ہوتی ہے تو وہ کچھ نہ کچھ لیتی ہے اور مرد مجبور ہوتا ہے کہ کچھ نہ کچھ دے۔ اس کے علاوہ عورتوں کے اخراجات مردوں کے کندھے پر ہیں۔ جبکہ عورت مرد کے اخراجات اور اپنے اخراجات سے بے فکر ہے۔
ماں باپ کی میراث
باقی رہا ماں باپ کا ورثہ جو پہلے طبقہ کا حصہ ہیں اور ورثہ کے لحاظ سے اولاد کے برابر ہیں (یعنی طبقہ اول سے تعلق رکھتے ہیں)۔ ان کی میراث وہی ہے جو مندرجہ بالا آیت میں آ چکی ہے۔ اس کی تین حالتیں ہیں:
پہلی یہ کہ مرنے والے کے ایک یا کئی بیٹے اور بیٹیاں ہوں تو اس صورت میں ماں باپ میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا۔ (وَ لِاَبَوَیْہِ لِکُلِّ واحِدٍ مِنْہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ إِنْ کانَ لَہُ وَلَدٌ)
دوسری یہ کہ مرنے والے کی کوئی اولاد نہ ہو اور ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں۔ اس صورت میں ماں کا حصہ کل مال کا ایک تہائی ہے (فَإِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ وَلَدٌ وَ وَرِثَہُ اَبَواہُ فَلِاُمِّہِ الثُّلُثُ)۔ یہاں باپ کا حصہ ذکر نہیں کیا گیا ہے تو اس اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا حصہ واضح ہے یعنی دو تہائی البتہ اگر مرنے والے کی بیوی ہو یا مرنے والی کا شوہر موجود ہو تو اس صورت میں بیوی یا شوہر کا حصہ باپ کے حصہ میں سے منہا ہو جائے گا ۔ یعنی اس صورت حال میں باپ کا حصہ دوسری شق میں تبدیل ہو جائے گا۔
تیسری یہ ہے کہ صرف ماں باپ وارث ہوں۔ اولاد نہ ہو۔ لیکن مرنے والے کی پدری مادری (سگے بھائی) یا صرف پدری (سوتیلے) بھائی موجود ہوں تو اس صورت میں ماں کا حصہ ایک تہائی کے بجائے چھٹا ہو جائے گا حقیقت میں اگرچہ بھائی میراث نہیں لیں گے لیکن اس صورت میں اضافہ مقدار نہ لے سکے گی۔ اسی بنا ر انہیں ”حاجب“ کہتے ہیں۔ (فَإِنْ کانَ لَہُ إِخْوَةٌ فَلِاُمِّہِ السُّدُسُ)۔
اس حکم کا فلسفہ واضح ہے کہ کئی بھائیوں کا ہونا باپ کی زندگی کے بوجھ کو بڑھاتا ہے کیونکہ باپ ان کے اخراجات کا کفیل ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ جوان ہو جائیں بلکہ جوان ہونے کے بعد بھی ان کے کئی اخراجات باپ کو اٹھانا پڑتے ہیں۔ اسی لئے وہ بھائی، ماں کے حصہ کی کمی کا سبب بنتے ہیں۔ اگر وہ ماں باپ یا صرف باپ کی طرف سے بھائی ہوں تو وہ بھائی جو صرف ماں کی طرف سے ہیں ان کی کسی قسم کی ذمہ داری باپ پر نہیں، وہ ”حاجب“ نہیں بنتے۔
ایک سوال اور اس کا جواب
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن نے اس میں بھائیوں کا ذکر کرتے ہوئے جمع کا صیغہ استعمال کیا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے: فاٴن کان لہ اخوة
اگر اس شخص (متوفیٰ)کے بھائی ہوں۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ عربی میں جمع کم از کم تین کے لئے ہے۔ جبکہ تمام فقہائے اسلام کا یہ طے شدہ نظریہ ہے کہ دو بھائی بھی حاجب ہیں اور ان کی وجہ سے ماں کا حصہ ۱/۲، کے بجائے ۱ /۶ ہو جاتا ہے۔
اس سوال کا جواب قرآن کی دوسری آیات کی طرف متوجہ ہونے سے واضح ہو جاتا ہے اور یہ ضروری نہیں ہے کہ تمام مقامات پر جمع کا لفط تین یا تین سے زیادہ افراد کے لئے بولا جائے بلکہ کئی مقامات پر یہ لفظ دو افراد کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے مثلاً سورہ انبیاء کی آیت ۷۸ میں:
و کنا لحکمھم شاھدین
یہ آیت حضرت داوٴد (ع) اور حضرت سلیمان (ع) کے فیصلوں سے تعلق رکھتی ہے اور قرآن نے ان دونوں بزرگوں کے لئے ضمیر جمع (ھم) استعمال کی ہے یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ بعض اوقات جمع کا لفظ دو افراد کے لئے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ یہ بات شاہد اور قرینہ کی محتاج ہے۔ زیر بحث آیت کے اسی مفہوم پر مسلمانوں کا اتفاق اور اجماع ہے اور رہبران اسلام کی طرف سے بھی اس پر دلیل موجود ہے۔ اس مسئلہ میں (ابن عباس کے سوا) سب علمائے اسلام چاہے وہ شیعہ ہوں یا سنی کا اتفاق ہے کہ دو بھائی اس آیت کے حکم میں شامل ہیں۔
میراث، وصیت اور قرض کے بعد ہے
من بعد وصییة یوصی بھا او دین
اس کے بعد قرآن فرماتا ہے کہ وارث مال کو اپنے درمیان اس وقت تقسیم کر سکتے ہیں جبکہ مرنے والے نے وصیت نہ کی ہو اور نہ کسی کا قرض اس کے ذمہ ہو۔ اگر وہ وصیت کر گیا ہے یا وہ کسی کا مقروض ہے تو پہلے وصیت کی تکمیل اور قرض کی ادئیگی ضروری ہے (البتہ جیسا کہ باب وصیت میں تحریر کیا جا چکا ہے کہ وصیت کرنے والا اپنے مال کے تہائی حصہ تک کی وصیت کر سکتا ہے اگر وہ اس سے زیادہ مال کی وصیت کرے تو درست نہیں ہے ہاں البتہ وارث اجازت دے دیں تو صحیح ہے)۔
آباؤُکُمْ وَ اَبْناؤُکُمْ لا تَدْرُونَ اَیُّہُمْ اَقْرَبُ لَکُمْ نَفْعاً۔۔۔
خداوند عالم اس آیت میں فرماتا ہے: تمہیں نہیں معلوم کہ تمہارے باپ دادا اور اولاد میں سے تمہارے لئے کون زیادہ مفید ہے یعنی قانون میراث نوع بشر کے حقیقی اور اصلی مصالح اور مفادات کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے اور ان مصلحتوں کی تشخیص خدا ہی کے ہاتھ میں ہے کیونکہ انسان ہر مقام پر اپنی بہتری کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بعض لوگ یہ گمان کریں کہ ماں باپ انسان کی بہت سی ضروریات کے ذمہ دار ہوتے ہیں اس لئے انہیں میراث میں اولاد پر مقدم ہونا چاہیے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بعض لوگ اس کے برعکس سوچیں۔ ان حالات میں اگر میراث کا قانون ہاتھ میں ہوتا تو اس میں طرح طرح کے اختلافات اور جھگڑے پیدا ہوتے لیکن خداوند عالم جو حقائق کو جس طرح کہ وہ ہیں بخوبی جانتا ہے۔ اس نے قانون میراث کے مثبت نظام کو جس میں نوع بشر کی بھلائی ہے مقرر فرمایا ہے۔
فَریضَةً مِنَ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ کانَ عَلیماً حَکیماً۔
یہ ایک ایسا قانون ہے جو خداوند تعالی کی طرف سے واجب ہے اور وہ دانا و حکیم ہے۔
یہ جملہ گذشتہ مطالب کی تاکید کے لئے آیا ہے تاکہ لوگ میراث سے مربوط قوانین کے بارے میں کوئی اعتراض نہ کر سکیں۔
میراث میں میاں بیوی کا ایک دوسرے سے حصہ
وَ لَکُمْ نِصْفُ ما تَرَکَ اَزْواجُکُمْ إِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُنَّ وَلَدٌ
گذشتہ آیت میں اولاد اور ماں باپ کے حصہ کی طرف اشارہ ہوا تھا۔ یہاں میاں بیوی کے ایک دوسرے سے میراث لینے کی کیفیت کی وضاحت کی گئی ہے۔ آیت کہتی ہے۔ مرد صاحب اولاد نہ ہو تو اپنی بیوی کے مال میں سے آدھی میراث لے گا لیکن اگر اس کے ایک یا کئی بچے ہوں (چاہے وہ کسی اور شوہر کے کیوں نہ ہوں) تو پھر شوہر مال کا ایک چوتھائی حصہ لے گا۔
فَإِنْ کانَ لَہُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْنَ
البتہ یہ تقسیم بھی بیوی کا قرض ادا کرنے اور اس کی مالی وصیتوں کو پورا کرنے کے بعد ہے۔ جیسا کہ ارشاد قدرت ہے:
من بعد وصییة یوصی بھا او دین۔
رہی بیویوں اپنے شوہر کے مال سے جبکہ شوہر کی کوئی اولاد نہ ہو تو وہ مال کا چوتھائی حصہ ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: وَ لَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ إِنْ لَمْ یَکُنْ لَکُمْ وَلَدٌ ۔۔ لیکن اگر شوہر کی اولاد نہ ہو (چاہے یہ اولاد کسی اور بیوی سے ہو)تو پھر عورتوں کا آٹھواں حصہ ہو گا۔ ( فَإِنْ کانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ)
یہ تقسیم میراث بھی پہلی تقسیم کی طرح شوہر کے قرضوں کی ادائیگی اور مالی وصیت پوری کرنے کے بعد ہو گی (من بعد وصییة یوصی بھا او دین)۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ شوہر اور بیوی کا حصہ اولاد کی موجودگی میں آدھا ہے ۔ یہ اولاد کے حقوق کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہے۔
اس بات کا سبب کہ شوہر کا حصہ عورت سے دوگنا قرار دیا گیا ہے، وہی ہے جو گذشتہ بحث میں تفصیل کے ساتھ بیٹے اور بیٹی کی میراث کے بارے میں تحریر کیا جا چکا ہے۔
اس نکتہ کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ جو حصہ عورتوں کے لئے مقرر ہوا ہے (چاہے وہ چوتھا ہو یا آٹھواں) وہ ایک بیوی سے مخصوص نہیں ہے بلکہ اگر مرد کئی بیویاں ہوں تو بھی مذکورہ حصہ ان سب کے درمیان مساوی تقسیم ہو گا۔ آیہ مذکورہ بالا کا ظہور یہی ہے۔
بھائیوں اور بہنوں کی میراث
وَ إِنْ کانَ رَجُلٌ یُورَثُ کَلالَة۔۔۔
اس آیت میں ہمیں ایک نیا لفظ ملا ہے جو قرآن میں صرف دو مقام پر آیا ہے۔ ایک زیر بحث آیت میں اور دوسرے سورہٴ نساء ہی کی آخری آیت میں اور وہ ہے لفظ ”کلالہ“ لغات کی کتابیں دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ ”کلالہ“ اصل میں مصدری معنی رکھتا ہے اور ”کلال“ کے معنی میں ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے ”قوت و توانائی کا ختم ہونا“۔ (تشریحی نوٹ: صحا ح الغة میں ہے۔ ”الکلالة فی الاصل مصدر بمعنی الکلال و ھو ذھاب القوة)۔
لیکن یہ لفظ بعد میں ان بہن بھائیوں کے لئے استعمال ہوا ہے جو متوفی کی میراث لیتے ہیں۔ شاید اس کی وجہ اور مناسبت یہ ہے کہ بھائی اور بہنیں میراث کے دوسرے طبقہ کا جزء ہیں اور صرف ماں باپ اور اولاد نہ ہونے کی صورت میں وارث ہوتے ہیں اور ایسا شخص جس کے ماں باپ، اور اولاد نہ ہو یقینا رنج و مصیبت میں ہوتا ہے اور اپنی بیوی طاقت اور توانائی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ اس لئے انہیں ”کلالہ“ کہا جاتا ہے۔ راغب مفردات میں لکھتا ہے کہ ”کلالہ“ ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو متوفی کی میراث اس صورت میں لے جبکہ اس کے ماں باپ، اولاد اور اولاد در اولاد نہ ہو۔ لیکن ایک اور روایت جو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہے، سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ”کلالہ“ عنوان اور نشان ہے ایسے شخص کے لئے جو دنیا سے اس حال میں چل بسا ہو کہ اس کے نہ ماں باپ ہوں نہ اولاد ہو۔
نیز اس میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ کلالہ کا لفظ متوفی کے لئے بولا جائے اور اس قسم کے رشتہ داروں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہو۔ جیسا کہ اس نے اپنی کتاب میں اس موضوع کی وضاحت کی ہے۔
باقی رہا یہ کہ قرآن مجید نے بہن بھائیوں کے الفاظ کے بجائے لفظ کلالہ کیوں چنا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ایسے اشخاص جن کے ماں باپ ہوں نہ اولاد، وہ یہ بات مدنظر رکھیں کہ ان کا مال ایسے لوگوں کے ہاتھ آئے گا جو اس کی کمزوری اور ناتوانی کی نشانی ہیں۔ اس لئے قبل از ایں کہ غیر لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں وہ خود اس مال کو کمزور مواقع (ضرورت مند لوگوں کی مدد اور اجتماعی فلاح و بہبود) میں خرچ کرے۔
اب ہم آیت کی تفسیر کی طرف لوٹتے ہیں:
وَ إِنْ کانَ رَجُلٌ یُورَثُ کَلالَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَ لَہُ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِکُلِّ واحِدٍ مِنْہُمَا السُّدُسُ۔۔۔
یہ آیت بتاتی ہے کہ اگر کوئی شخص دنیا سے اٹھ جائے اور بہن بھائی اس کی میراث لے لیں یا کوئی عورت دنیا سے چل بسے اور اس کا ایک بھائی اور ایک بہن زندہ ہو تو ان میں سے ہر ایک اس کے مال کا چھٹا حصہ لے گا۔
یہ اس صورت میں ہے جبکہ متوفی کا ایک بھائی یا بہن باقی رہ گئے ہوں اور اگر وہ ایک سے زیادہ ہوں تو پھر وہ کل مال کی ایک تہائی۱/۳ لیں گے۔ یعنی ان کو چاہیے کہ ایک تہائی مال آپس میں بانٹ لیں۔ (فَإِنْ کانُوا اَکْثَرَ مِنْ ذلِکَ فَہُمْ شُرَکاءُ فِی الثُّلُثِ)۔
اس کے بعد مزید فرماتا ہے: مِنْ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُوصی بِہا اَوْ دَیْنٍ
یہ اس صورت میں ہے کہ جبکہ وصیت پہلے پوری ہو چکی ہو اور قرض ادا کیا جا چکا ہو (غیر مضار) یعنی اس حالت میں جبکہ وصیت اور قرض میں وارثوں کو نقصان پہنچنے کا کوئی پہلو نہ ہو۔ مقصد یہ ہے کہ ایک تہائی سے زیادہ مال کی وصیت نہ کرے کیونکہ ان روایتوں کے مطابق جو حضرت رسول اکرمؐ اور ائمہ اہل بیت (ع) سے مروی ہیں ایک تہائی سے زیادہ مال کی وصیت کرنا گویا وارثوں کو نقصان پہنچانا ہے۔ ایسی وصیت کی تعمیل وارثوں کی اجازت سے ہو گی یا یہ کہ وارثوں کو محروم کرنے اور انہیں نقصان پہنچانے کے لئے مقروض نہ ہوتے ہوئے خواہ مخواہ قرض کی ادائیگی کا ذکر کر دیا گیا جائے۔
آخر میں تاکید کے طور پر فرماتا ہے:
وَصِیَّةً مِنَ اللَّہِ وَ اللَّہُ عَلیمٌ حَلیم۔
یعنی۔ یہ خدا کی وصیت اور نصیحت ہے اس کا احترام کرنا چاہے کیونکہ وہ تمہاری بہتری کو خوب جانتا ہے۔ جس نے یہ حکم مقرر کئے ہیں وہ وصیت کرنے والوں کی نیت سے بھی واقف ہے لیکن اس کے باوجود وہ بردبار بھی ہے۔ چنانچہ ان لوگوں کو جو اس کے حکم کو نہیں مانتے فوراً سزا نہیں دیتا۔
چند اہم نکات
۱۔ جو کچھ مندرجہ بالا آیت میں بہن بھائیوں کی میراث کے بارے میں ہے اگرچہ وہ بظاہر مطلق ہے اور پدری مادری بہن بھائیوں اور صرف پدری یا صرف مادری بھائیوں کے بارے میں ہے۔ لیکن سورہٴ نساء ہی کی آخری آیت کی طرف توجہ کرنے سے جس کی تفسیر عنقریب لکھی جائے گی معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت سے مراد متوفی کے صرف مادری بہن بھائی ہیں (جو ماں کی طرف سے بھائی بہن ہوں)۔
جبکہ سورہٴ نساء کی آخری آیت پدری مادری یا صرف پدری بہن بھائیوں کے بارے میں ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ ہم اس آیت کے ذیل میں اس سلسلے میں شواہد پیش کریں گے۔
اگرچہ اس بنا پر کہ یہ دونوں آیتیں ”کلالہ“ بہن بھائیوں کی میراث سے بحث کر رہی ہیں اور بظاہر ایک دوسرے کے خلاف ہیں لیکن دونوں آیات کے مضامین میں غور و فکر کرنے سے یہ بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ ان میں سے ہر ایک بہن بھائیوں کی ایک خاص صورت کے متعلق وضاحت کر رہی ہے۔ بنا بریں ان دونوں آیتوں میں کسی قسم کا تضاد نہیں ہے۔
۲۔ ظاہر ہے کہ اس طبقے کی وراثت اس صورت میں ہے جب پہلے طبقے یعنی ماں باپ اور اولاد میں سے کوئی باقی نہ ہو۔ اس امر کی شاہد یہ آیت ہے:
”و اولو الارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب اللہ“
رشتہ داروں میں سے بعض کے تقرر اور تعین میں دوسروں پر ترجیح رکھتے ہیں یعنی جو مرنے والے کے زیادہ قریب ہیں وہ مقدم ہیں۔ (انفال۔ ۷۵)
اسی طرح وہ بہت سی روایتیں جو اس سلسلے میں منقول ہیں وہ میراث کے طبقات کے تعین اور بعض کی بعض پر ترجیح پر مزید گواہ ہیں۔
۳۔ ھم شرکاء فی الثلث، اگر ایک سے زیادہ (مادری بھائی اور بہنیں) ہوں تو وہ مال کے ایک تہائی میں برابر برابر کے شریک ہیں اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک تہائی مال آپس میں مساوی طور پر تقسیم کریں گے اور اس صورت میں مرد اور عورت کا کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ شراکت مطلقہ کا مفہوم حصوں کا برابر برابر ہونا ہے۔
۴۔ مندرجہ بالا آیت سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آتی ہے کہ انسان یہ حق نہیں رکھتا کہ وصیت کے ذریعے یا ایسا قرضہ بیان کر کے جو دراصل اس کے ذمہ نہیں ہے وارثوں کے خلاف سازش کرے اور ان کا حق ضایع کرے۔ ہاں اس کی صرف یہ ذمہ داری ہے کہ جو قرضہ سچ مچ اس کے ذمہ ہے آخری موقع پر انہیں بتا دے اور وہ عادلانہ وصیت کا حق رکھتا ہے جس کی حد روایات کی رو سے مال کا ایک تہائی حصہ ہے۔
اس سلسلے میں رہبران اسلام کے ارشادات میں سخت ہدایات دکھائی دیتی ہیں ان میں سے ایک حدیث میں ہے:
ان الضرار فی الوصیة من الکبائر۔
وارثوں کو نقصان پہنچانا اور انہیں بےجا وصیت کے ذریعے حق شرعی سے محروم کرنا گناہ کبیرہ ہے۔ (بحوالہ مجمع البیان)
اسلام حقیقت میں اس حکم کے ذریعے ایک طرف تو اس شخص کو اس کے مال کے ایک حصے سے اس کی وفات کے بعد بھی فائدہ و ثواب پہنچانا چاہتا ہے دوسری طرف وارثوں کو بھی فائدہ پہنچانا چاہتا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ کینہ اور دشمنی کی وجہ سے محبت کا رشتہ جسے مرنے کے بعد بھی زندہ رہنا چاہیے کمزور اور سست پڑ جائے۔
یہ خدا کی( مقرر کی ہوئی) سرحدیں ہیں جو شخص اللہ اور اسکے پیغمبر کی اطاعت کرے۔ وہ اسے ایسی جنت کے باغوں میں بھیجے گا جس کے درختوں کے نیچے پانی کی نہریں جاری رہتی ہیں اور یہ لوگ ہمیشہ کیلئے اس میں رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے۔
اور جو کوئی خدا اور اس کے رسول کی نا فرمانی کرے گا اور اس کی سرحدوں سے تجاوز کرے گا تو وہ اسے ایسی آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے ذلت آمیز سزا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
”حدود“ حد کی جمع ہے۔ اصل میں اس کا معنی ہے منع کرنا اور روکنا۔ بعد ازاں ہر اس چیز کو جو دو چیزوں کے درمیان حد فاصل ہو اور انہیں ایک دوسرے سے ممتاز اور جدا کرے حد کہا جانے لگا۔ مثلاً گھر کی حد، باغ کی حد، شہر کی حد اور ملک کی حد۔ گویا ایسے نقاط کو حد کہا جاتا ہے جو انہیں دوسرے نقاط سے جدا کریں۔
خداوند عالم مندرجہ بالا آیت میں لفظ تلک کے ذریعے میراث کے قوانین کی طرف جو گذشتہ آیت میں آ چکے ہیں اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: یہ خدا کی سرحدیں ہیں جنہیں پھاندنا اور عبور کرنا منع ہے۔ جو ان سے آگے بڑھیں گے وہ گناہ گار سمجھے جائیں گے۔
تلک حدود اللہ کا یہ مفہوم کلام مجید کی متعدد آیات میں آیا ہے اور یہ ہر جگہ اجتماعی احکامات اور مقرارت بیان کرنے کے بعد آیا ہے مثلا سورہٴ بقرہ کی آیت ۱۸۷ میں اعتکاف میں جنسی ملاپ کی ممانعت اور روزہ کے احکام کے بعد ہے سورہٴ بقرہ کی آیت ۲۲۹ اور ۲۳۰، سورہ طلاق کی آیت ۱۰ میں طلاق کے چھ احکام کے بعد اور سورہ مبادلہ آیت ۴ میں کفارہ کے بیان کے بعد ہے۔ ان سب موقعوں پر احکام و قوانین بیان ہوئے ہیں جن سے آگے بڑھنا ممنوع ہے اور وہ خدائی سرحدوں کے عنوان سے پہچانے جاتے ہیں۔ (بحوالہ حدود اللہ کی تفسیر کے سلسلے میں اس تفسیر کی جلد ۲ میں مزید بحث ہو چکی ہے۔ اردو ترجمہ ص ۱۰۱ ملاحظہ کیجئے)۔
من یطع اللہ و رسولہ یدخلہ جنات۔۔۔
خداوند عالم ان چند خدائی حدود اور سرحدوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: وہ لوگ جو خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں اور ان سرحدوں کا احترام کرتے ہیں، ہمیشہ ہمیشہ جنت کے باغوں میں رہیں گے جن کے درختوں کے نیچے سدا پانی بہتا رہتا ہے۔ آیت کے آخر میں فرماتا ہے: یہ بہت بڑی کامیابی و کامرانی ہے (و ذٰلک الفوز العظیم)۔
وَ مَنْ یَعْصِ اللَّہَ وَ رَسُولَہُ وَ یَتَعَدَّ حُدُودَہُ یُدْخِلْہُ ناراً خالِداً فیہا
آیت کا یہ حصہ ان لوگوں کے مخالف نقطہ نظر کو بیان کرتا ہے جن کی طرف گذشتہ آیتوں میں اشارہ کیا جا چکا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ لوگ جو خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتے ہیں اور ان کے احکامات کی سرحدیں پھاند جاتے ہیں وہ ہمیشہ آگ میں رہیں گے۔
البتہ ہم جانتے ہیں کہ صرف خدا کی حکم عدولی (چاہے وہ گناہ کبیرہ ہی کیوں نہ ہو) ہمیشہ کے عذاب کا سبب نہیں ہے۔ اس وجہ سے آیت مذکورہ بالا میں وہ لوگ مراد لئے گئے ہیں جو دشمنی، سرکشی، بغاوت اور آیات الہی کے انکار کی بنا پر خداوند عالم کے احکامات کو اپنے پاوٴں کے نیچے روند ڈالتے ہیں۔ یہ حقیقت میں وہ خدا اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے۔ اس بات کی طرف غور فکر کرتے ہوئے کہ لفظ حدود جمع ہے اور تمام قوانین الہی پر محیط ہے، یہ معنی بعید دکھائی نہیں دیتا کیونکہ جو شخص خداوند عالم کے سب قانون توڑ دے وہ ہرگز خدا پر ایمان نہیں رکھتا۔ ورنہ ان میں سے کسی کا احترام تو کرتا۔
قابل توجہ امر یہ ہے کہ گذشتہ آیتوں میں اہل بہشت کے بارے میں ”خالدین فیھا“ (ہمیشہ جنت میں رہیں گے) جمع کی صورت میں آیا ہے اورا س آیت میں جو دوزخیوں کے متعلق ہے ”خالداً فیھا“ جو واحد کی شکل میں آیا ہے۔ ایسی دو آیات میں جو جنت کی نعمتوں سے ایک نعمت شمار ہوتی ہے جبکہ اہل دوزخ عذاب الہی میں اس طرح پھنسے ہوئے اور ڈوبے ہوئے ہوں گے کہ انہیں دوسروں کی کوئی سدھ بدھ نہ ہو گی۔ غرض وہ عملی طور پر اکیلے ہوں گے یہاں تک کہ یہ بات اس دنیا میں اپنی رائے پر چلنے والوں اور الگ تھلگ رہنے والے لوگوں کے بارے میں مل جل کر اور اجتماعی زندگی بسر کرنے والوں کے مقابلہ میں صادق آتی ہے کہ یہ لوگ اس دنیا میں جنتی اور وہ دوزخی ہیں۔
و لہ عذاب مھین
ان کے لئے ذلیل اور رسوا کرنے والا عذاب ہے۔
اصل میں گذشتہ جملے میں عذاب خداوندی کی جسمانی سزاوٴں کا پہلو جھلکتا ہے اور کیونکہ اس جملہ میں ذلت و رسوائی کا تذکرہ بھی ہے اس لئے یہاں روحانی پہلو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
اسلامی قانون میراث کی خصوصیات
عام طور پر میراث کے قانون میں اور خاص طور پر اسلام کے میراث کے قانون میں کئی ایک خوبیاں ہیں۔ ذیل میں بعض کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:
۱۔ اسلامی نظام میراث میں یہ خوبی ہے کہ اس میں متوفی سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص بھی سلسلہ مراتب کو پیش نظر رکھتے ہوئے میراث سے محروم نہیں رہتا اور یہ جو رواج زمانہ ٴ جاہلیت کے عربوں اوربعض دوسرے ملکوں میں تھا کہ وہ عورتوں اور بچوں کو ہتھیار نہ اٹھا سکنے اور جنگ کی طاقت نہ رکھنے کی وجہ سے میراث سے محروم کر دتے تھے اور متوفی کی دولت دور کے رشتہ داروں کو دے دیتے تھے، اسلام میں سرے سے اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ بلکہ اسلامی قانون میراث ان سب افراد پر محیط ہے جو مرنے والے کے ساتھ کوئی نسبت یا ربط رکھتے ہیں۔
۲۔ یہ قوانین جائز اور فطری ضروریات انسانی کے لئے مثبت پہلو رکھتے ہیں کیونکہ انسان ہمیشہ یہ چاہتاہے کہ اپنے خون پسینے سے کمائی ہوئی دولت ایسے افراد کے ہاتھوں میں دیکھے جو اس کے جگر کا ٹکڑا ہیں اور ان کی زندگی حقیقت میں ان کی زندگی کی بقا و دوام ہے۔ اس لئے قانون میراث میں اولاد کا حصہ سب سے زیادہ ہے جبکہ ماں باپ اور باقی رشتہ د ار وغیرہ اپنے مقام پر مناسب حصہ کے حامل ہیں۔
۳۔ یہ قانون انسان کو زیادہ دولت کمانے اور اقتصادی گاڑی کے پہیوں کو حرکت دینے کے سلسلے میں شوق دلاتا اور ابھارتا ہے ۔ کیونکہ جب انسان اپنی زندگی کی محنت کے نتیجے کو اپنے مرکز محبت و تعلق کے حصہ میں دیکھتا ہے تو پھر وہ چاہے کسی سن اور حالت میں ہو کام کرنے کے لئے اس کا شوق بڑھتا چلا جاتا ہے اور اس کی مصروفیا ت میں ٹھہراوٴ اور وقفہ نہیں آتا ۔ جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں کہ جب بعض ممالک میں قانون میراث کو لغو قرار دیا گیا اور مرنے والوں کا مال اور جائیداد حکومت کو دے دئے گئے تو جلد ہی اس ملک کے اقتصادی ماحول میں اس قانون کے منفی اثرات جمود کی شکل میں ظاہر ہوئے۔ اس لئے انہیں مجبوراً یہ قانون ختم کرنا پڑا۔
۴۔ اسلام کا قانون میراث دولت کو ایک جگہ جمع کرنے سے روکتا ہے کیونکہ اس نظام میں ہر انتقال کے بعد دولت و ثروت عادلانہ طور پر بہت سے افراد میں بانٹی جاتی ہے اس لئے یہ نظام دولت کی عادلانہ تقسیم کے لئے معاون مددگار ہے۔ یہ بات قبل توجہ ہے کہ آج کی دنیا میں تقسیم دولت کی جو مختلف شکلیں ہیں ان سے اکثر معاشرے کو نقصان اور تکلیف پہنچی ہے۔ اسلام کا قانون میراث اس طرح کا نہیں ہے بلکہ اس میں مال کی تقسیم اس طرح ہوتی ہے کہ اسے سب ہنسی خوشی قبول کرتے ہیں۔
۵۔ اسلامی قانون میراث متوفی سے صرف میل جول رکھنے کی بنا پر نہیں ہوتا بلکہ وارثوں کی حقیقی ضروریات کو بھی سامنے رکھا جاتاہے۔ مثلا ً ہم دیکھتے ہیں کہ بیٹوں کا حصہ بیٹیوں کی نسبت دوگنا ہے۔ یا بعض حالات میں بعض حالات میں باپ کا حصہ ماں سے زیادہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قانون اسلامی کے مطابق مرد کی زیادہ ذمہ داریاں ہیں عورتوں کا زندگی کا خرچ مردوں کے کندھے پر ہے۔ اسی لئے ان کو عورتوں کی نسبت زیادہ ضرورت ہے۔
عول اور تعصیب کسے کہتے ہیں
ہم اس مقام پر دو اہم علمی مسئلوں کا جائزہ لیتے ہیں اور وہ ہیں عول اور تعصیب۔
یہ بحث اس وجہ سے شروع ہوتی ہے کہ میراث کے حصہ جس طرح گذشتہ آیات میں بیان کئے گئے ہیں بعض اوقات مجموعی مال سے کم اور زیادہ ہو جاتے ہیں مثلاً اگر دو پدری مادری بہنیں اور شوہر وارث ہوں تو ان (دو بہنوں) کی میراث دو تہائی ہے اور شوہر کا ورثہ آدھا ترکہ ہے اور ان کا مجموعہ ۷ /۶ ہو گا یعنی کل سے ۱/۶ زیادہ ہو جائے گا۔ یہاں یہ بحث واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ آیا عادلانہ طور پر کل ۱/۶ حصوں کی نسبت سے سب وارثوں کو کم دیا جائے یا کہ مقررہ افراد سے کم کیا جائے۔
علماء اہل سنت کے درمیان تو یہی مشہور ہے کہ سب کے حصوں سے کم کیا جائے۔ فقہی اصطلاح میں اس کو ”عول“ کہا جاتا ہے (لغت میں عول کے معنی زیادتی اور بلندی کے ہیں)۔
بہرحال وہ کہتے ہیں کہ اضافی ۱/۶ دونوں گروہوں سے ان کے حصوں کے مطابق کم دیا جائے۔ (تشریحی نوٹ: حساب کا طریقہ یہ ہے کہ عدد کسری ۴/۶ ہے جو کہ دو بہنوں کا حصہ ہے اور ۳/۶ شوہر کا حصہ ہے۔ ۱/۶ اضافی مقدار اسے ۳ اور ۴ کی نسبت سے ان دونوں گروہوں کے درمیان تقسیم کر دیں۔ ریاضی میں نسبت کی تقسیم کا قاعدہ موجود ہے اس کے مطابق عمل کرتے ہوئے دونوں بہنوں کے حصہ میں ۴/۴ اور شوہر کے حصہ میں سے ۳/۴ منہا کریں گے)۔ اسی طرغ دیگر مواقع پر بھی وہ ایسا کرتے ہیں۔
ہم حقیقت میں اس موقع پر میراث کے حصہ داروں کو طلبگاروں کی طرح فرض کرتے ہیں اور مقروض تمام کے مطالبات پورا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اصطلاح کے مطابق وہ دیوالیہ ہو گیا ہے اور کون نہیں جانتا کہ ایسے مواقع پر طلبگاروں کے حصوں کی مناسبت سے کمی کی جاتی ہے۔
لیکن شیعہ فقہا کا نظریہ یہ ہے کہ ہمیشہ نقص خاص افراد کے مال میں ہونا چاہیے ان کے مطابق مندرجہ بالا مثال میں نقص اور کمی دونوں بہنوں کے حصہ میں کی جائے گی وہ کہتے ہیں کہ جس طرح حدیث میں آیا ہے، ممکن نہیں کہ وہ خدا جو سب چیزوں کے حساب کو یہاں تک کہ بیابان کے ریت کے ذروں کو بھی جانتا ہے میراث کے حصوں کو ایسے کیونکر قرار دے سکتا ہے کہ ان میں کمی واقع ہو۔ یقیناً ایسے مواقع پر خدا نے کوئی قانون وضع کیا ہے۔ اگر اس قانون کی طرف توجہ کر لی جائے تو کمی کا تصور نہیں ہو سکتا اور وہ قانون یہ ہے کہ وارثوں میں سے بعض ایسے ہیں جن کے لئے قرآن میں ”حد اقل“ اور ”حد اکثر“ مقرر نہیں ہوئی یعنی ان کا حصہ قبک تغیر ہے اور اپنی جگہ سے ہٹ سکتا ہے۔ اس لئے مندرجہ بالا مثال میں نقص شوہر کی طرف نہیں جائے گا۔ ۱/۶ اضافی حصہ دو بہنوں کے حصے سے کم کرنا پڑے گا (غور فرمایئے گا)۔
کبھی کبھی اس کے برعکس معاملہ ہوتا ہے اور حصوں کا مجموعہ کل مال سے کم ہوتا ہے اور کچھ مال بچ جاتا ہے مثلاً ایک شخص مر جاتا ہے اور ایک بیٹی اور ماں باقی رہ جاتی ہے۔ ہم خوب جانتے ہیں کہ اس صورت میں ماں کا حصہ ۱/۶ ہے اور بیٹی کا ۳/۶ ہے۔ جن کا مجموعہ ۴/۶ ہوتا ہے یعنی ۲/۶ بچ جاتا ہے۔ علماء اہل سنت کہتے ہیں کہ یہ بچت عصبہ (بروزن کسبہ) یعنی بعد والے طبقے (تشریحی نوٹ: جو مرد بلا واسطہ یا بالواسطہ متوفی سے ربط رکھتے ہیں)۔ کو دی جائے گی (مثلاً اس مثال میں متوفی کے بھائی کو دی جائے)۔ اسی کو اصطلاح میں تعصیب کہتے ہیں۔
لیکن شیعہ فقہا کا نظریہ یہ ہے کہ وہ سب مال انہی دو کے درمیان ایک اور تین کی نسبت سے بانٹ دیا جائے کیونکہ پہلے طبقہ کے ہوتے ہوئے دوسرے طبقہ کی باری نہیں آتی۔ اس کے علاوہ بعد کے طبقہ کے مردوں کو اضافی مقدار دینا زمانہ ٴ جاہلیت کے دور سے ملتا جلتا ہے جو عورتوں کو بلاوجہ میراث سے محروم کر دیتے تھے۔
مندرجہ بالا ایک پیچیدہ علمی بحث ہے جس کا خلاصہ ہم نے تحریر کر دیا ہے۔ اس کی مزید تفصیل کے لئے کتب فقہ ملاحظہ فرمائیے۔
اور تمہاری عورتوں میں سے جوزانی ہوں ان پر چار مسلمان مردوں کو گواہ کے طور پر طلب کرو اگر وہ گواہی دیں تو ان (عورتوں ) کو (اپنے) گھروں میں بند کر دو یہاں تک کہ وہ مر جائیں یا خدا ان کیلئے کوئی راستہ کھول دے۔
اور وہ مرد اور عورتیں (جو شادی شدہ نہ ہوں ) اور یہ برا کام کر بیٹھیں انہیں تکلیف پہنچاؤ (ان پر حد جاری کرو) اور اگر سچ مچ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کر لیں تو انہیں معاف کر دو کیونکہ خداوند عالم توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
وَ اللاَّتی یَاْتینَ الْفاحِشَةَ۔۔۔
لفظ فاحشہ جیسا کہ پہلے بھی اشارہ کیا جا چکا ہے اصل میں بہت برے کام یا بری گفتگو کے معنی میں ہے اگر یہ لفظ زنا اور عفت و پاک دامنی کے خلاف کاموں کے بارے میں استعمال ہو تو وہ بھی اسی مناسبت سے ہے۔ یہ لفظ قرآن مجید میں تیرہ مقامت پر آیا ہے۔ بعض مواقع پر زنا، بعض جگہوں پر ”لواطت“ کے لئے اور بعض جگہوں پر نہایت برے اور سنگین کاموں کے لئے استعمال ہوا ہے۔ جیسا کہ اکثر مفسرین نے اس آیہ شریفہ کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ یہ آیت ان شوہر دار عورتوں کی سزا کی طرف اشارہ کرتی ہے جو زنا کار ہوں۔ آیت مزید بتاتی ہے کہ اگر تمہاری بیویاں زنا کی تہمت سے آلودہ ہوں تو چار مسلمان مرد اس کام کے گواہوں کے طور پر بلاوٴ۔ اگر وہ اس بات کی گواہی دی دیں تو پھر ان عورتوں کو گھر میں بند کر دو یہاں تک کہ ان کو موت آ جائے۔
اس امر کی دلیل کہ مندرجہ بالا آیت زنائے محصنہ (تشریحی نوٹ: محصنہ سہاگن یا شوہر دار عورت کو کہتے ہیں۔(مترجم)) کی طرف اشارہ کرتی ہے، اس قرینہ کے علاوہ جو آنے والی آیت میں ہے لفظ من نسائکم (تمہاری بیویاں) بھی ہے۔ کیونکہ یہ تعبیر قرآن مجید میں بار بار آئی ہے۔ اسی وجہ سے شوہر دار عورتوں کے عفت و عصمت کے منافی عمل کی سزا اس آیت میں --”عمر قید“ مقرر ہوئی ہے۔ لیکن اس کے بعد آیت فوراً بلافاصلہ کہتی ہے: (او یجعل اللہ لھن سبیلا) یا یہ کہ خدا ان کے لئے کوئی راستہ نکال دے۔ یعنی ان کے لئے قید کی سزا جاری ہے یہاں تک کہ انہیں موت آ جائے یا یہ کہ کوئی نیا قانوں خدا کی طرف سے ان کے لئے معین ہو۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ ایک وقتی حکم تھا جو شروع شروع میں نازل ہوا تاکہ آئیندہ جب حالات اور افکار سازگار ہو جائیں تو ان کے بارے میں ایک نیا حکم نازل کیا جائے۔ اس موقع پر جو عورتیں اس قانون کی زد میں آتی ہیں اور ابھی تک زندہ ہیں وہ فطرتاً قید سے آزاد ہو جائیں گی اور دوسری سزا بھی انہیں نہ دی جائے گی۔ ان کی قید خانہ سے آزادی پہلا حکم منسوخ ہو جانے کی وجہ سے ہو گی۔ باقی رہا سزا کا نہ ملنا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ سزا کا قانون ان کے کاموں کے لئے ہوتا ہے جو اس کے آنے کے بعد انجام پائیں اس طرح آئندہ کے لئے جو بھی قانون ہو وہ ان قیدیوں کی رہائی کا راستہ ہے۔ البتہ نیا قانون ان تمام افراد کے لئے ہے جو آئندہ جرم کریں گے (غور فرمایئے گا)
باقی رہا وہ احتمال جو بعض نے پیش کیا ہے کہ ”او یجعل اللہ لھن سبیلا“ سے مراد یہ ہے کہ خداوند عالم نے سنگساری کے متعلق اپنے آئندہ حکم کے ذریعے ایسے افراد کے لئے آزادی کی راہ کھول دی ہے، تو یہ نظریہ درست نہیں ہے کیونکہ یہ کبھی بھی ”لھن سبیلا “ (ان کے لئے نفع کی راہ) کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتا کیونکہ کسی کو قتل کر دینا نجات کا راستہ نہیں ہے ہم جانتے ہیں کہ وہ قانون جو اسلام نے زنائے محصنہ کا ارتکاب کرنے والوں کے لئے بعد میں مقرر کیا ہے، ”رجم“ (سنگسار کرنا) ہے جو احادیث رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں بطور مسلم موجود ہے اگرچہ قرآن میں اس کا کوئی اشارہ نہیں ملتا۔
جو کچھ ہم رقم کر چکے ہیں اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ مندرجہ بالا آیت ہرگز منسوخ نہیں ہوئی کیونکہ نسخ ان احکامات کے بارے میں صادق آتا ہے جو شروع میں بصورت مطلق ہوں نہ کہ وقتی اور محدود طور پر، جبکہ مندرجہ بالا آیت نے عمرقید کا حکم محدود اور وقتی حیثیت سے ذکر کیا ہے اور اگر کچھ روایتوں میں ہے کہ آیات مندرجہ بالا ان کے احکام کے ذریعہ جو عفت و عصمت کے منافی اعمال کی سزا کے بارے میں آئے ہیں، منسوخ ہو گئی ہے تو اس سے مراد اصطلاحی نسخ نہیں ہے کیونکہ نسخ کا لفظ روایات کی زبان میں حکم کے ہر طرح سے خاتمے کے لئے بولا جاتا ہے (غور کیجئے گا)۔
ضمناً اس طرف بھی توجہ دینا چاہیے کہ اس قسم کی عورتوں کو گھر میں قید رکھنے کا حکم ایک طرف سے تو ان کے فائدہ میں ہے کیونکہ یہ ان کو عام قید خانوں میں قید کرنے سے کہیں بہتر ہے۔ دوسری طرف تجربہ بتاتا ہے کہ عام قید خانے معاشرے کو بگاڑنے اور تباہ و برباد کرنے میں گہرا اثر رکھتے ہیں کیونکہ یہ عام طور پر برائیوں کی بہت بڑی درسگاہ ہوتے ہیں۔ مجرم لوگ وہاں اپنے تجربے ایک دوسرے کو منتقل کرتے ہیں کیونکہ وہ اکھٹے رہتے ہیں اور ان کے پاس وسیع فارغ وقت بھی ہوتا ہے۔
وَ الَّذانِ یَاْتِیانِہا مِنْکُمْ۔۔۔
اس کے بعد خداوند عالم اس آیت میں غیر محصنہ (غیر شادی شدہ) سے سرزد ہونے والے زنا اور عفت کے منافی عمل کا ذکر کتے ہوئے فرماتا ہے: اگر کنوارے مرد، عورت یہ برا کام کریں تو نہیں سزا دو۔ اگرچہ اس آیت میں زنائے غیر محصنہ کی صراحت نہیں ہے۔ لیکن اس لحاظ سے کہ یہ آیت گذشتہ آیت کے بعد آئی ہے اور زنا کی جس سزا کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے وہ اس سزا سے جدا اور الگ ہے جو گذشتہ آیت میں تھی اور اس سے ہلکی ہے۔ بنا بریں اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حکم زنا کرنے والوں میں سے ایسے گروہ کے بارے میں ہے جو پہلی آیت میں داخل نہ تھا اور چونکہ گذشتہ آیت اس قرینہ سے جس کی طرف اشارہ کر چکے ہیں محصنہ کے زنا کے ساتھ مخصوص ہے، تو اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ آیت غیر محصنہ کے زنا کے بارے میں حکم بیان کر رہی ہے۔
یہ نکتہ بھی واضح ہے کہ اس آیت میں ذکر ہوئی سزا ایک کلی سزا ہے اور سورہٴ نور کی آیت ۲ میں جو حد زنا طرفین میں سے ہر ایک کے لئے سو کوڑے بیان کی گئی ہے، بہت ممکن ہے کہ وہ اس آیت کی تفسیر و توضیح ہو اسی دلیل کی بنا پر یہ حکم منسوخ نہیں ہوا۔
تفسیر عیاشی میں امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس آیت کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے:
البکر اذا اتت الفاحشة التی اتتھا ھذہ الثیب فازوھما۔
یعنی اس آیت سے مراد غیر شادی شدہ مرد عورت ہیں اگر وہ برا کام کریں تو انہیں سزا دی جائے۔
لفظ ”اللذان“ اگرچہ تثنیہ مذکر کا صیغہ ہے، تاہم اس سے مراد مرد اور عورت دونوں ہی ہیں اور یہ اصطلاح کے مطابق باب تغلیب سے ہے۔
بعض مفسرین نے یہ احتمال تحریر کیا ہے کہ یہ آیت لواطت جیسے بدترین کام کے بارے میں ہے اور گذشتہ آیت کا ربط مساحقہ (عورت سے عورت کا مباشرت کرنا) کے ساتھ ہے۔ لیکن ”یاٴتیانھا“ کی ضمیر ”فاحشہ کی طرف پھیرنے سے جو گذشتہ آیت میں ہے، یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ منافی عفت عمل جس کا اس آیت میں ذکر ہے، اسی نوعیت کا ہے جس نوعیت کا آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔ بنا بریں ایک کو لواطت کے بارے میں اور دوسرے کو مساحقت کے بارے میں سمجھنا ظاہر کے خلاف ہے۔ اگرچہ یہ دونوں انواع ہم جنس سے ملاپ کرنے میں شریک ہیں۔
اس بنا پر دونوں آیت کا زنا سے تعلق ہے۔ ان سب کو چھوڑتے ہوئے بھی ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں لواطت کی سزا قتل ہے نہ کہ آزار اور تکلیف پہنچانا اور کوڑے مارنا۔ غرض اس امر کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے کہ زیر بحث آیت منسوخ ہو گئی ہے۔
فَإِنْ تابا وَ اَصْلَحا فَاَعْرِضُوا عَنْہُما إِنَّ اللَّہَ کانَ تَوَّاباً رَحیماً۔
خداوند عالم آیت کے آخر میں اس قسم کے گناہوں کے لئے توبہ اور بخشش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:
اگر وہ واقعاً توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کر کے گذشتہ گناہوں کی تلافی کر لیں تو ان کی سزا سے صرف نظر اور چشم پوشی کر لو کیونکہ خداوند عالم توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے۔ یہ حکم حقیقت میں اس قسم کی خطا کاروں کے لئے واپس آنے کی راہ کھولتا ہے کہ توبہ اور اصلاح کی صورت میں اسلامی معاشرہ فراخ دلی کے ساتھ دامن پھیلائے ہوئے انہیں قبول کر لیتا ہے اور اب وہ معاشرے کے دھتکارے ہوئے افراد بن کر نہیں رہتے۔
البتہ جیسا کہ فقہی کتب میں ہے توبہ اس صورت میں درست ہے کہ وہ اسلامی عدالت میں ثبوت جرم، شہادت گواہان اور عدالت اسلامی کا حکم صادر ہونے سے پہلے کی جائے لیکن وہ توبہ جو حکم صادر ہونے کے بعد ہو، کوئی وزن نہیں رکھتی ہاں اس حکم سے ضمناً یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ توبہ کر چکے ہیں انہیں گذشتہ گناہوں کا ذمہ دار ٹھہرا کر برا بھلا نہ کہا جائے۔
تو جہاں سزا کا حکم اور حد شرعی ساقط ہو جائے وہاں پر بدرجہ اولیٰ لوگ اس کے کئے ہوئے گناہ سے چشم پوشی کریں۔ اسی طرح وہ لوگ جن کے بارے میں یہ حد جاری ہو گئی ہو اور اس کے بعد وہ توبہ کر لیں وہ بھی مسلمانوں کی طرف سے چشم پوشی کے مستحق ہیں۔
اسلام کے تعزیری قوانین کا سہل اور ممتنع طریقہ
کبھی کبھی بعض لوگ کئی ایک مناسبتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ سوال کرتے ہیں کہ اسلام نے تعزیری قوانین کی اتنی سخت اور باقابل برداشت سزائیں کیوں مقرر کی ہیں۔ مثلاً ایک مرتبہ شادی شدہ عورت سے زنا کرنے کی سزا پہلے عمر قید مقرر ہوئی اس کے بعد قتل۔ کیا بہتر نہیں ہے کہ اس قسم کے گناہوں کی سزا زیادہ نرم اور ہلکی دی جائے تاکہ جرم اور سزا میں اعتدال قائم رہے۔
لیکن ذرا سوچئے اگرچہ اسلام کے تعزیری قوانین اور سزائیں بظاہر سخت اور شدید دکھائی دیتی ہیں لیکن اس کے مقابلے میں جرم کے ثابت ہونے کا طریقہ اتنا آسان نہیں ہے بلکہ اس کے لئے ایسی شرطیں لگائی گئی ہیں کہ غالباً جب تک ڈنکے کی چوٹ اور برسر عام نہ کیا جائے وہ شرائط پوری نہ ہوں گی۔ مثلاً گوہوں کی تعداد چار ہے۔ جس کی طرف ہم گذشتہ آیت میں اشارہ کر چکے ہیں کہ صرف نڈر اور لاپرواہ افراد ہی مجرم ثابت ہو سکتے ہیں۔ واضح ہے کہ اس قسم کے اوباش لوگوں کو سخت سزا دینا چاہیے۔ تاکہ وہ معاشرے کے لئے عبرت بن سکیں اور وہ گناہ کی آلودگی سے پاک ہو جائے۔ اسی طرح گواہوں کی شہادت کے لئے کچھ شرطیں ہیں مثلا آنکھوں سے دیکھنا اور قنائن پر قناعت نہ کرنا اور شہادت میں یکسانیت وغیرہ جو کہ جرم کو ثابت اور گھناوٴنا کر دیتی ہے۔
اس طرح اس قسم کی سخت ترین سزا کا امکان گناہ گاروں کے سامنے رکھا ہے اور یہ احتمال چاہے کتنا ہی ضعیف کیوں نہ ہو بہرحال بہت سے لوگوں کی نفسیات پر اثر انداز ہو سکتا ہے لیکن اسلام نے اس کے اثبات کو مشکل کر دیا ہے تاکہ اگر ایسے مواقع آئیں تو عملی طور پر یہ سزا وسیع پیمانے پر نہ دی جا سکے۔ درحقیقت اسلام چاہتا ہے کہ اس قانون تعزیر کا اثر تہدید بھی قائم رہے اور زیادہ افراد قتل بھی نہ ہوں۔ غرض نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سزا کے تعین اور اثبات جرم کی راہ میں اسلام کا یہ طریقہ ایسی روش ہے جو معاشرے کو گناہ کی آلودگی سے بچانے کے لئے بہت موثر ہے جبکہ جن افراد کو یہ سزا دی جاتی ہے وہ زیادہ تعداد میں بھی نہیں ہیں۔ اسی بنا پر ہم نے اس روش اور طریقہ کا عنوان سہل اور ممتنع رکھا ہے۔
توبہ صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو جہالت کی وجہ سے برا کام کرتے ہیں اور اس کے بعد جلدی سے توبہ کر لیتے ہیں خدا ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرلیتا ہے اور وہ دانا و حکیم ہے۔
اور برے کام کرنے والے لوگوں میں سے جب کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں یہ توبہ نہیں ہے اور نہ ان کے لئے جو حالت کفر میں دنیا سے اٹھ جاتے ہیں یہ ایسے لوگ ہیں جن کے لئے ہم نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
تفسیر
قبولیت توبہ کے لئے شرطیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَی اللَّہِ لِلَّذینَ یَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَہالَةٍ
گذشتہ آیت میں عفت اور پاک دامنی کے خلاف عمل کرنے والوں کو توبہ کے سبب سزا نہ ملنے کا مسئلہ تفصیل سے بیا ہو چکا ہے۔ اور اسی سلسلے میں اس جملے کے ذریعے پر وردگار کی طرف سے ان کی توبہ قبول ہونے کی طرف اشارہ بھی ہوا ہے :
ان اللہ کان توّابا رّحیماً
خدا اپنے بندوں کی توبہ بہت قبول کرتا ہے اور ان پر رحم کرنے والا ہے۔
خداوند عالم اس آیت میں وضاحت کے ساتھ مسئلہ توبہ اور اس کی کچھ شرطیں بیان کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ: توبہ تو صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو جہالت کی وجہ سے گناہ کرتے ہیں۔
آئیے اب دیکھیں کہ جہالت کیا چیز ہے کیا یہ جہل و نادانی اور گناہ سے بے خبری یا اس کے منحوس اثرات اور دردناک نتائج سے نا واقفیت کا نام ہے۔ لفظ جہل اور اس کے مشتقات اگرچہ مختلف معافی کے لئے آئے ہیں لیکن قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ زیر بحث آیت میں خواہشات نفسانی کا تلاطم۔ سرکش ہوا و ہوس کا غلبہ اور عقل و ایمان کی قوتوں پر ان کا تسلط مراد ہے اگرچہ اس حالت میں گناہ کی وجہ سے علم رخصت نہیں ہو جاتا لیکن وہ اغراض نفسانی سے دب کر عمل طور پر بےاثر ہو جاتا ہے اور جب علم اپنا عمل کھو بیٹھے تو وہ از روئے عمل جہل و نادانی کے برابر ہے۔ اگر گناہ اس قسم کی جہالت کی وجہ سے نہ ہو بلکہ حکم پروردگار کے انکار اور دشمنی کی بنا پر ہو تو اس قسم کا گناہ کفر ہے۔ اسی وجہ سے اس کی توبہ قبول نہیں ہوتی مگر یہ کہ وہ اس روش کو چھوڑ دے اور عناد و انکار سے باز آ جائے۔
دراصل یہ آیت اسی حقیقت کو بیان کر رہی ہے جسے حضرت امام زین العابدین (ع) نے دعائے ابو حمزہ میں زیادہ وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے، آپؑ بارگاہ خداوندی میں عرض کرتے ہیں:
الھی لم اعصک حین عصیتک و انا بربوبیتک جاحد و لا بامرک مستحف ولا لعقوبتک متعرض و لا لوعیدک متھاون و لکن خطیئة عرضت وسولت لی نفسی و غلبنی ھوای۔۔۔
اے خدا جب میں نے تیری نافرمانی کی اس وقت گناہ کی طرف پیش قدمی تیری خدائی سے انکار کی وجہ سے نہ تھی اور نہ ہی تیرے حکم کو معمولی سمجھنے کے سبب تھی اور نہ ہی تیری سزا کو خفیف سمھتے ہوئے نہ تیری سزا کے وعدے غیر اہم جانتے ہوئے تھی بلکہ ایک غلطی اور خطا تھی، جو مجھ سے ہو گئی۔ نفس عمارہ نے مجھ پر حق کو مشکوک کر دیا اور مجھ پر ہوا و ہوس نے غلبہ کر لیا۔
اس جملے میں توبہ کی ایک اور شرط کی طرف اشارہ ہے، فرماتا ہے:
ثم یتوبون من قریب
یعنی ۔ وہ جلدی سے توبہ کر لیں۔
اس بارے میں کہ ”قریب“ سے کیا مراد ہے مفسرین میں اختلاف ہے۔ ان میں بعض اس سے مراد آثار موت ظاہر ہونے سے پہلے لیتے ہیں اور بعد والی آیت جو یہ بتلاتی ہے کہ موت کی علامتیں ظاہر ہونے کے بعد توبہ قبول نہیں ہوتی، اس پر بطور گواہ پیش کرتے ہیں۔ اس بنا پر لفظ قریب شاید اس وجہ سے ہے کہ اصولی طور پر دنیا کی زندگی چاہے کتنی ہی کیوں نہ ہو مختصر ہے اور اس کا خاتمہ نزدیک ہے۔
لیکن بعض نے گناہ کے قریب کا وقت مراد لیا ہے۔ یعنی اپنے گناہ سے جلد از جلد پشیمان ہو اور خدا کی طرف لوٹ آئے کیونکہ مکمل توبہ وہ ہے جو گناہ کے آثار و نشانات کو روح و جسم سے بالکل دھو ڈالے۔ یہاں تک کہ گناہ کا کوئی اثر دل میں باقی نہ رہے اور یہ اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ انسان جلد از جلد اس سے پہلے کہ گناہ اس کے جسم میں جڑ پکڑے اور اس کی طبیعت ثانیہ بنے، اس سے پچھتائے۔ ورنہ بصورت دیگر زیادہ تر گناہوں کے اثرات انسان کے قلب و جان کے گوشوں میں باقی رہ جاتے ہیں۔ پس مکمل توبہ وہ ہے جو گناہ کے فوراً بعد کی جائے۔ قریب کا لفظ لغت اور عرف عام کی رو سے ان ہی معنی سے مناسبت رکھتا ہے۔
یہ درست ہے کہ ایک عرصہ گذرنے کے بعد بھی توبہ قبول ہو جاتی ہے۔ لیکن وہ پوری توبہ نہیں ہے اور شاید علیٰ اللہ (یعنی ۔ وہ توبہ جس کا قبول کرنا اللہ پر لازم ہے) بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ کیونکہ یہ تعبیر قرآن کی طرف صرف اسی آیت میں آئی ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس قسم کی توبہ قبوک کرنا بندوں کے حقوق میں سے ہے جبکہ عرصہ دراز کی توبہ قبول کرنا تفضل الہی ہے نہ کہ حق۔
فَاُولئِکَ یَتُوبُ اللَّہُ عَلَیْہِمْ وَ کانَ اللَّہُ عَلیماً حَکیماً۔
خداوند عالم توبہ کی شرطوں کا ذکر کرنے کے بعد فرماتا ہے کہ خدا ایسے لوگوں کی توبہ کو قبول کرتا ہے اور وہ دانا و حکیم ہے۔
وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذینَ یَعْمَلُونَ السَّیِّئاتِ۔۔۔
اس آیت میں ان فراد کی طرف اشارہ ہے جن کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ فرماتا ہے: وہ لوگ جو موت کی چوکھٹ پر پہنچ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب ہم گناہ سے توبہ کرتے ہیں، ان کی توبہ قبول نہیں ہو گی۔ اس کی وجہ بھی واضح ہے کہ جاں کنی کے عالم میں جبکہ موت بالکل سامنے دکھائی دے رہی ہو انسانی آنکھ سے پردے اٹھ جاتے ہیں اور اس میں ایک خاص بینائی پیدا ہو جاتی ہے اور کچھ حقائق جن کا تعلق دوسری دنیا کے ساتھ ہے اور اپنے اعمال جو اس دنیا میں کئے تھے، اپنی آنکھ سے دیکھتا ہے کیونکہ اب مسائل حسی پہلو اختیار کر لیتے ہیں۔ لہذا ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں ہر گناہ گار اپنے برے کاموں پر پچھتاتا ہے اور اس شخص کی طرح ہوتا ہے جو اپنے قریب آگ کا شعلہ دیکھ کر اس سے بھاگنا چاہتا ہے۔ یہ مسلم ہے کہ شرعی ذمہ داری اور آزمائش پروردگار کی بنیاد اس طرح کے مشاہدات پر نہیں ہے بلکہ اس کا دار و مدار غیب کے ایمان اور عقل و خرد کی آنکھ کے مشاہدہ پر ہے۔
اسی بنا پر کلام مجید میں ہے کہ جس وقت دنیا کے عذاب کی پہلی نشانی گزرے ہوئے زمانے کی بعض قوموں پر ظاہر ہو جاتی تھی تو ان پر توبہ کا دروازہ بند ہو جاتا تھا۔ چنانچہ ہم فرعون کی سرگذشت میں پڑھتے ہیں:
حتی اذا ادرکہ الغرق قال اٰمنت انہ لا الہ الا الذی اٰمنت بہ نبو اسرائیل و انا من المسلمین الان و قد عصیت قبل و کنت من المفسدین ۔ ( یونس ۹۰،۹۱)
یہاں تک کہ جب وہ ڈوبنے لگا تو اس نے پکار کر کہا: اب میں ایمان لاتا ہوں کہ کہ بنی اسرائیل کے معبود کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں سر تسلیم خم کرتا ہوں لیکن اس سے کہہ دیا گیا کہ تو اب یہ بات کہتا ہے جبکہ اس سے پہلے نافرمانی کرتا رہا ہے اور تو فساد کرنے والوں میں سے تھا۔ اس وجہ سے تیری توبہ قبول نہیں ہو گی۔
بعض قرآنی آیتوں (مثلاً سورہ ٴ سجدہ کی آیت ۱۲) سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ گنہگار قیامت میں عذاب الہی کو دیکھتے ہیں اور اپنے کئے پر پچھتاتے ہیں۔ لیکن ان کی پشیمانی انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی۔ ایسے لوگ بالکل ان مجرموں کی طرح ہیں جن کی نگاہ جب سولی کی لکڑی پر پڑتی ہے اور اس کا پھندا اپنی گردن میں محسوس کرتے ہیں تو اپنے کئے پر پچھتاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ پچھتاوٴ نہ باعث فضیلت ہے نہ سبب عزت و افتخار اور نہ ہی ترقیٴ درجات کا ذریعہ اسی لئے یہ تو بے اثر ہے۔
یقیناً یہ آیت ان روایتوں کے خلاف نہیں ہے جو یہ کہتی ہیں کہ توبہ آخری سانس تک قبول ہو سکتی ہے کیونکہ روایات میں آخری سانس سے مراد وہ لمحے ہیں جن میں ابھی موت کی نشانیاں نہ دیکھی ہوں اور اصطلاح کے مطابق ابھی بر زخی نگاہ پیدا نہ ہوئی ہو۔
دوسرا گروہ ان افراد کا ہے جن کی توبہ قبول نہ ہو گی۔ یہ وہ ہیں جو کفر کی حالت میں مر جائیں۔ خداوند عالم آیت بالا میں ان کے بارے میں فرماتا ہے:
ولا الذین یموتون وھم کفار۔۔ یعنی ”جو حالت کفر میں مر جاتے ہیں ان کے لئے توبہ کا دروازہ بند ہے“ یہ حقیقت قرآن کی دوسری آیتوں میں بھی واضح کی گئی ہے۔ (بحوالہ آل عمران ۹۱، بقرہ ۱۶۱، بقرہ ۲۱۷، اور محمد ۳۴)۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے لوگ جو کفر کی حالت میں دنیا سے چلے جاتے ہیں وہ کس وقت توبہ کریں گے کہ ان کی توبہ قبول نہیں ہو گی۔ بعض کہتے ہیں کہ ان کی توبہ عالم آخرت میں قبول نہیں ہو گی اور بعض مفسرین کہتے ہیں کہ توبہ سے مراد بندوں کی توبہ نہیں بلکہ خدا کی طرف سے توبہ۔ یعنی خدا ان کے لئے عفو رحمت کی طرف نہیں آئے گا۔ لیکن ظاہر ہے کہ آیت کی نظر ایک اور مقصد پر ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ وہ افراد جنہوں نے صحت و سلامتی اور ایمان کی حالت میں اپنے گناہوں سے توبہ کی ہے لیکن موت کے وقت دنیا سے بحالت ایمان نہیں گئے۔ ان کی گذشتہ توبہ بےمعنی ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ انسان کے نیک اعمال کی ایک شرط قبولیت ”موافات بر ایمان“ یعنی ایمان کے ساتھ دنیا سے جانا ہے۔ اس لئے جو لوگ زندگی کے آخری لمحات میں کافر ہوں ان کے پہلے اعمال (یہاں تک کہ وہ نیک عمل جو ایمان کی حالت میں کئے تھے) قرآنی آیتوں (بحوالہ بقرہ ۲۱۷) کی توضیح کے مطابق رائیگان ہو جائیں گے۔ اگرچہ انہوں نے ایمان کی حالت میں گناہوں سے توبہ کر لی ہو لیکن اس صورت میں وہ بھی بیکار ہو جائے گی۔ گویا توبہ کے قبول ہونے کی دو شرطیں ہیں۔
۱۔ موت کی نشانیاں ظاہر ہونے سے پہلے ہو۔
۲۔ انسان ایمان کے ساتھ دنیا سے اٹھے۔
اس آیت سے ضمنی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ توبہ میں دیر نہ کرے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اچانک موت آ جائے اور اس کے لئے توبہ کے دروازے بند ہو جائیں۔ یہ بات توجہ کے قابل ہے کہ زیر بحث آیت میں توبہ کی تاخیر جس کو ”تسویف“ کہتے ہیں اور”حالت کفر کی موت“ کو ہم پلہ قرار دیا گیا ہے اور یہ اس اہمیت کی علامت ہے جو اس موضوع کو قرآن دے رہا ہے۔
آیت کے آخر میں فرماتا ہے-: اولئک اعتدنا لھم عذابا الیما ۔یعنی ہم نے ان دونوں گروہوں کے لئے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
یاددہانی کی ضرورت نہیں کہ توبہ کے لئے مذکورہ بالا شرطوں کے علاوہ اور بھی شرطیں ہیں جن کی طرف متعلقہ آیتوں میں اشارہ ہو گا۔
اے ایمان والو ! تمہارے لیے حلال نہیں ہے کہ عورتوں سے سختی سے( اور انہیں تکلیف پہنچا کر) میراث لو اور جو کچھ (بطور حق مہر) انہیں دیا ہے اسے اپنی ملکیت بنانے کے لئے ان پر سختی نہ کرو مگر یہ کہ وہ کھلے بندوں برائی کریں۔ اور ان سے اچھا سلوک کرو اگرچہ تم ان سے کئی وجوہات کی وجہ سے نفرت و حقارت کرتے ہو (تو فورا علیحدگی کا پختہ ارادہ نہ کرو) کیونکہ اکثر اوقات تم کسی چیز کو نا پسند کرتے ہو اور خدا اس میں بہت زیادہ نیکی قرار دیتا ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
تفسیر مجمع البیان میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ یہ آیت ایسے افراد کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو اپنی بیوی کو اپنے پاس تو رکھتے تھے مگر ان سے بیویوں کا سلوک نہیں کرتے تھے اور اس انتظار میں رہتے تھے کہ کب یہ مریں اور ان کے مال پر قبضہ کریں۔
جیسا کہ ابن عباس کہتے ہیں:
یہ آیت ایسے افراد کے بارے میں نازل ہوئی جن کی بیویوں کا حق مہر بہت زیادہ تھا اس کے باوجود کہ وہ ان سے ازدواجی تعلق رکھنا نہیں چاہتے تھے لیکن ان کا حق مہر زیادہ ہونے کی وجہ سے ان کو طلاق بھی نہ دے سکتے تھے۔ اس لئے وہ ان پر سختی کرتے تھے تاکہ وہ حق مہر بخش کر طلاق لے لیں۔
مفسرین کے ایک گروہ نے اس آیت کی ایک اور شان نزول بھی نقل کی ہے جو اس آیت کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں رکھتی بلکہ آیت ۲۲ کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے۔ جسے انشاء اللہ ہم اسی آیت کی ذیل میں بیان کریں گے۔
تفسیر
حقوق نسواں کا دوبارہ دفاع
یا اَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا لا یَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّساءَ کَرْہاً
ہم اس سورت کے شروع میں لکھ چکے ہیں کہ اس سورت کی آیتیں زمانہ جاہیت کے بہت سے برے کاموں کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ چنانچہ زیر بحث آیت میں اس زمانے کی چند بری عادتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور مسلمانوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ان سے دور رہیں:
۱۔ عورتوں کو ان کے مال کی لالچ میں قیدی نہ بناوٴ۔ جیسا کہ شان نزول میں ہے کہ زمانہ جاہلیت میں مردوں کی ایک ظالمانہ روش یہ تھی کہ وہ ان دولت مند عورتوں سے جو بدصورت ہوتی تھیں شادی کر لیتے۔ پھر انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دیتے تھے نہ انہیں طلاق دیتے اور نہ ہی ان سے بیوی کا سا برتاوٴ کرتے، اس امید پر کہ انہیں موت آ جائے تو ان کے مال پر قبضہ کر لیں۔ آیہ ٴ مذکورہ بالا ۲۱۵ اعلان کرتی ہے کہ اے ایمان والو! تمہارے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ عورتوں کی میراث انہیں تکلیف پہنچا کر زبر دستی لے لو۔ اس طرح سے قرآن نے مذکورہ کام کے خلاف فیصلہ دیا ہے۔
۲۔ عورتوں سے مہر کا حق بخشوانے کے لئے سختیاں نہ کرو۔ ان کی ایک بری عادت یہ تھی کہ وہ عورتوں کو طرح طرح سے ستاتے تھے تاکہ وہ حق مہر بخش دیں اور طلاق لے لیں۔ خاص طور پر یہ معاملہ ایسے موقع پر ہوتا تھا جبکہ کسی عورت کا حق مہر زیادہ ہو۔ اس آیت نے اس کا مفہوم منع فرمایا ہے۔ وَ لا تَعْضُلُوہُنَّ لِتَذْہَبُوا بِبَعْضِ ما آتَیْتُمُوہُن۔ یعنی ان پر اس لئے سختی نہ کرو کہ اس طریقہ سے جو حصہ تم نے انہیں دیا ہے اسے اپنی ملک بنا سکو۔ لیکن اس کا ایک استثنائی حکم بھی ہے جس کی طرف ”إِلاَّ اَنْ یَاْتینَ بِفاحِشَةٍ مُبَیِّنَةٍ“ کے ذریعے اشارہ کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ اگر وہ برے اور شرمناک کام کریں تو پھر شوہروں کو کہ حق حاصل ہے کہ ان پر سختی کریں تاکہ وہ اپنا حق مہر تمہارے لئے حلال کر کے طلاق لے لیں۔ درحقیقت یہ ایک قسم کی سزا ہے جو بری عورتوں سے ان کے کرتوت کے بدلے تاوان لینے کی طرح ہے۔ کیا آیت مذکورہ میں ”فاحشة مبینة“ (واضح برائی) سے مراد برے کام ہیں جو عفت و پاکدامنی کے منافی ہیں یا اور کسی قسم کے سخت ناگوار اعمال ہیں۔ مفسرین کے درمیان اس سلسلے میں ایک طولانی بحث ہے لیکن اس حدیث میں جو حضرت امام محمد باقر علیہ اسلام سے منقول ہے اس کی تشریح ہو چکی ہے کہ یہ عورت کی ہر طرح کی سخت مخالفت، نافرمانی اور برے سلوک پر مشتمل ہے۔ (بحوالہ تفسیر نور الثقلین جلد ا صفحہ ۲۵۷)۔ البتہ یہاں پر ہر چھوٹی بڑی مخالفت مراد نہیں ہے کیونکہ لفظ فاحشہ میں اہمیت اور اس کا خلاف معمول ہونا مخفی ہے۔ لفظ ”مبینہ“ بھی اس کی تاکید کرتا ہے۔
۳۔ ان کے ساتھ شائستہ اور مناسب طریقہ کے ساتھ زندگی بسر کرو ”و عاشروھن بالمعروف“ فرما کر عورتوں کے بارے میں شائستہ معاشرت اور مناسب انسانی سلوک کا حکم دیا گیا ہے اور اس کے بعد مزید کہا گیا ہے:
فَإِنْ کَرِہْتُمُوہُنَّ فَعَسی اَنْ تَکْرَہُوا شَیْئاً وَ یَجْعَلَ اللَّہُ فیہِ خَیْراً کَثیراً۔
یعنی۔ یہاں تک کہ اگر تم بعض وجوہات کی بنا پر اپنی بیویوں سے مکمل طور پر خوش نہیں ہو اور انہیں پسند نہیں کرتے ہو اور وہ تمہاری نظر میں کئی باتوں میں اچھی نہیں ہیں تو فوراً ان سے علیحدگی کا پختہ ارادہ یا ان سے برا سلوک نہ کرو۔ بلکہ جہاں تک ہو سکے ان سے اچھا سلوک کرو۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ تمہاری رائے کا دار و مدار شک و شبہ پر ہو اور جسے تن پسند نہیں کرتے خدا نے اسی میں بہت زیادہ خیر و برکت اور نفع رکھا ہو۔ اس بناء پر جب تک پانی سر سے اونچا نہ ہو جائے یہی مناسب ہے کہ حسن معاشرت اور خوش گفتاری کو ہاتھ سے نہ جانے دو۔ کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے سے بلاوجہ اور بلا دلیل خواہ مخواہ کے بغض و حسد میں مبتلاء ہو جاتے ہیں اور ان حالات میں ان کے فیصلے ٹھیک نہیں ہوتے۔ یہاں تک کہ اچھائیاں ان کی نظر میں برائیاں اور برائیاں ان کی نگاہ میں اچھائیاں بن جاتی ہیں لیکن وقت گزرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ سلوک کرنے سے آہستہ آہستہ حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ اس لئے ضمناً اس امر کا خیال رکھنا چایئے کہ اس آیت میں ”خبیرا کثیراً“ کی تعبیر سے ان میاں بیوی کو جو ایک دوسرے کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آتے ہیں ایک خوش خبری دی گئی ہے جو وسیع مفہوم رکھتی ہے۔ جس کے کئی ایک مصداق ہیں جن میں سے ایک واضح مصداق نیک، صالحِ لائق اور عزت دار اولاد بھی ہے۔
اگر تمہارا یہ ارادہ ہو کہ اپنی بیوی کی جگہ دوسری بیوی کا انتخاب کرو اور تم اسے( حق مہر کے طور پر) بہت زیادہ مال دے چکے ہو تو اس میں سے کوئی چیز بھی واپس نہ لو کیا تم عورتوں سے مہر واپس لینے کے لئے تہمت اور کھلے گناہ کا سہارا لیتے ہو۔
اور تم کس طرح اسے واپس لے سکتے ہو جبکہ ایک دوسرے کے ساتھ تعلق اور پورا پورا میل ملاپ رکھتے ہو( چھوڑنے کے باوجود) وہ تم سے شادی کے وقت مضبوط وعدہ لے چکی ہیں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
اسلام سے پہلے یہ رسم تھی کہ اگر مرد چاہے کہ پہلی بیوی کو طلاق دیں اور نئی شادی کریں تو حق مہر سے بچنے کے لئے اپنی بیوی پر عفت کے منافی تہمت لگاتے اور اس پر سختی کرتے تھے تاکہ وہ اس بات پر تیار ہو جائے کہ اپنا مہر عام طور پر جو پہلے ہی وصول ہو جاتا تھا واپس کر دے اور طلاق لے لے۔ پھر وہی دوسری بیوی کا حق مہر مقرر کر دیتے تھے۔ مندرجہ بالا آیت اس برے فعل سے بچنے کا حکم دیتے ہوئے اسے قابل مذمت قرار دیتی ہے۔ (بحوالہ تفسیر صافی آیہ زیر بحث)۔
تفسیر
یہ آیت بھی عورتوں کے بعض حقوق کی حمایت میں نازل ہوئی ہے اور عام مسلمانوں کو حکم دیتی ہے کہ جب وہ پہلی بیوی سے علیحدگی اور نئی بیوی لانے کا ارادہ کریں تو انہیں یہ حق نہیں کہ پہلی بیوی کے حق مہر میں کمی کریں یا اگر اسے ادا کر چکے ہیں تو اس سے واپس لے لیں۔ قنطار کا معنی ہے بہت زیادہ مال و دولت، چنانچہ راغب مفردات میں لکھتا ہے کہ قنطار کی اصل قنطرہ ہے جس کا معنی ”پل“ ہے اور چونکہ زیادہ مال بھی پل کے مانند ہے جس سے انسان زندگی بھر فائدہ اٹھاتا ہے۔ اسی بنا پر اسے قنطار کہا گیا ہے۔ (بحوالہ مزید توضیح کے لئے تفسیر نمونہ کی جلد ۲ میں سورہ آل عمران کی آیت ۱۴ کی تفسیر میں ملاحظہ فرمایئے ( اردو ترجمہ ص ۲۶۷))۔
اَ تَاْخُذُونَہُ بُہْتاناً وَ إِثْماً مُبیناً۔
اس کے بعد زمانہ جاہلیت کے اس طرز عمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ وہ لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لگاتے تھے، مزید فرماتا ہے: کیا تم حق مہر واپس لینے سے تہمت اور واضح گناہ کا ارتکاب کرنا چاہتے ہو۔ یعنی ایک تو یہ ظلم ہے اور ایک بزدلانہ اور غلط کام ہے دوسرے کھلم کھلا گناہ ہے۔
وَ کَیْفَ تَاْخُذُونَہُ وَ قَدْ اَفْضی بَعْضُکُمْ إِلی بَعْضٍ (تشریحی نوٹ: افضاء اصل میں مادہ فضا سے ہے۔ جس کا معنی ہےوسعت و گشادگی۔ جب ایک شخص دوسرے سے مکمل میل جول قائم کر لیتا ہے تو دراصل وہ اپنے محدود جسم کو ایک وسیع تر جسم اور وجود میں تبدیل کر لیتا ہے۔ اس لئے افضا کا معنی ہے ربط ضبط (میل جول) پیدا کرنا)۔
اس آیت میں مردوں کے جذبہ محبت کو متحرک کرنے کے لئے نئے سرے سے استفہام انکاری سے کام لیتے ہوئے مزید ارشاد فرمایا گیا ہے: تم اور تمہاری بیویاں مدتوں خلوت میں ایک دوسرے کے ساتھ رہے اورایک روح دو قالب کی طرح آپس میں بھرپور میل ملاپ رکھتے رہے۔ پھر کس طرح اس نزدیکی کے باوجود بیگانوں اور دشمنوں کی طرح ایک دوسرے سے برتاوٴ کرتے ہو اور ان کے مانے ہوئے حقوق کو پامال کرتے رہے ہو۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے آج کل کی فارسی زبان میں اگر دو جگری دوست ایک دوسرے سے لڑیں جھگڑیں تو انہیں کہا جاتا ہے کہ تم نے مدتوں ایک دوسرے کے ساتھ نان و نمک کھایا اب کیوں جھگڑتے ہو۔ دراصل ایسے موقع پر شریک حیات پر ظلم اپنے آپ پر ظلم کے مترادف ہے۔ اس کے بعد فرماتا ہے: اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ تمہاری بیویوں نے شادی کے وقت تم سے پختہ عہد و پیمان لیا ہوا ہے، تم اب کس طرح اس مقدس اور مضبوط عہد کو ٹھکرا سکتے ہو اور واضح عہد شکنی کی طرف قدم بڑھا سکتے ہو۔
وَ اَخَذْنَ مِنْکُمْ میثاقاً غَلیظاً۔
ضمناً غور کرنا چاہیے کہ یہ آیت اگرچہ پہلی بیوی کو طلاق دینے اور نئی شادی کرنے کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے لیکن پھر بھی صرف اسی صورت کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ مقصد یہ ہے کہ جہاں کہیں بھی علیحدگی اور طلاق مرد کے ارادے سے ہو اور عورت جدائی نہ چاہے وہاں تمام مہر ادا کیا جائے اور اگر پہلے دیا جا چکا ہے تو اس میں سے کوئی چیز واپس نہ لی جائے چاہے دوسری شادی کا ارادہ ہو نہ ہو۔ اس بنا پر: ان اردتم استبدل زوج۔ اگر تم دوسری بیوی انتخاب کرنا چاہتے ہو۔
۔۔۔۔یہ جملہ حقیقت میں زمانہ جاہلیت کے بارے میں ہے۔ تاہم اس سے اصلی حکم متاثر نہیں ہوتا۔ یہاں اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ”استبدال“ کا معنی ہے ”تبدیلی چاہنا“ اسی لئے اس میں طلب اور ارادہ پایا جاتا ہے۔ اب اگر ہم دیکھتے ہیں--”اردتم“ (تم چاہو) اس کے ساتھ متصل ہے، تو یہ اس بنا پر ہے کہ کہ آیت چاہتی ہے کہ یہ نکتہ گوش گذار کرے کہ نئی بیوی سے شادی کرنے کے لئے ناجائز اور بزدلانہ جھگڑے اور مقدمے شروع نہ کرو۔
اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہیں مگر وہ ہو چکا ہے (اس حکم کے نازل ہونے سے پہلے) کیونکہ یہ کام برا باعث نفرت اور غلط ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
زمانہ جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ جب کوئی شخص فوت ہو جاتا اور اپنے پیچھے بیوی بچے چھوڑ جاتا تو اگر وہ بیوی اس کے بیٹوں کی سگی ماں نہ ہوتی تو وہ بیٹے اسے مال کی طرح اپنی میراث بنا لیتے اور اس طرح وہ یہ حق سمجھتے کہ اپنی ساتیلی ماں سے خود شادی کر لیں یا اس کی کسی اور سے شادی کر دیں۔ ظہور اسلام کے بعد ایک مسلمان کے بارے میں ایک حادثہ پیش آیا، وہ یہ کہ ابو قیس نامی ایک انصاری فوت ہو گیا۔ اس کے بیٹے نے اپنی سوتیلی ماں سے شادی کرنا چاہی تو اس عورت نے کہا میں تجھے اپنا بیٹا سمجھتی ہوں اس لئے یہ کام مناسب نہیں سمجھتی اس کے باوجود حضرت رسل اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی شرعی ذمہ داری معلوم کر لیتی ہوں۔ اس کے بعد اس عورت نے یہ بات حضور کی خدمت میں عرض کی۔ اس پر آیت مذکورہ بالا نازل ہوئی اور اس کام سے سختی سے منع کیا گیا۔
تفسیر
جیسا کہ ہم شان نزول میں اشارہ کر چکے ہیں کہ اس آیت نے زمانہ جاہلیت کے ایک نہایت مکروہ اور ناپسندیدہ فعل پر خط بطلان کھیچ دیا اور فرمایا: ”وَ لا تَنْکِحُوا ما نَکَحَ آباؤُکُمْ مِنَ النِّساء“ یعنی ان عورتوں کے ساتھ جن سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہیں نکاح نہ کرو۔ لیکن کیونکہ عام طور پر کوئی قانون گذشتہ امور پر حاوی نہیں ہوتا۔ اس لئے مزید فرمایا: الا ما قد سلف۔ یعنی مگر وہ شادیاں جو اس سے پہلے ہو چکی ہیں۔
اس کے بعد تین سخت برائیاں اس قسم کی شادی کے بارے میں بیان فرمائیں۔ پہلی یہ کہ ارشاد ہوتا ہے: برا کام ہے (انہ کان فاحشة)۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: یہ عمل ایسا ہے جو لوگوں کی نظروں میں نفرت کا سبب ہے۔ یعنی انسان کی فطرت اسے پسند نہیں کرتی (و مقتا) اور آخر میں فرماتا ہے: یہ طریقہ غلط ہے (و ساء سبلیلا) یہاں تک کہ تاریخ میں ہے کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ بھی اس قسم کی شادی کو نفرت کی نظر سے دیکھتے تھے اور جو بچے اس سے پیدا ہوتے تھے انہیں ”مقیت“ (قابل نفرت اولاد) کے نام سے پکارتے تھے۔
واضح ہے کہ حکم کئی ایک مصلحتوں کے پیش نظر اور اصلاح معاشرے کے لئے مقرر ہوا کیونکہ سوتیلی ماں سے نکاح ایک طرف تو سگی ماں سے نکاح کی طرح ہے کیونکہ سوتیلی ماں کے احکام بھی سگی ماں کے سے ہیں۔ دوسری طرف باپ کے حریم میں تصرف اس کے احترام کی ہتک ہے۔ ان سب سے قطع نظر کرتے ہوئے یہ عمل اس شخص کی اولاد میں نفاق کا بیج بوتا ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ سوتیلی ماں سے نکاح کرنے کے معاملے میں اولاد کے درمیان اختلاف پیدا ہو جائے، بلکہ باپ اور بیٹے کے درمیاں بھی رقابت پیدا ہو سکتی ہے کیونکہ عام طور پر پہلے اور دوسرے شوہر میں رقابت اور دشمنی ہوتی ہے۔
اگر یہ کام (سوتیلی ماں سے شادی) باپ کی زندگی میں (باپ کے طلاق دینے کے بعد) انجام پائے پھر تو حسد اور دشمنی کی واضح دلیل ہے۔ اگر اس کے مرنے کے بعد ہو پھر بھی ہو سکتا ہے کہ بیٹے کو مرے ہوئے باپ سے دل میں ایک قسم کا حسد پیدا ہو۔ تین قسم کی تعبیریں جو اس کام کی برائی اور مذمت میں زیر نظر آیت میں آئی ہیں بعید نہیں کہ ان کا اشارہ انہی تین فلسفوں کی طرف ہو۔
تم پر حرام کی گئی ہیں تمہاری مائیں ‘ تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں، تمہاری خالائیں، تمہاری بھتیجیاں، تمہاری بھانجیاں اور وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے، تمہاری رضاعی بہنیں، تمہاری بیویوں کی مائیں اور تمہاری بیویوں کی وہ بیٹیاں جنہوں نے تمہاری گود میں پرورش پائی ہو اور جو ان بیویوں سے ہیں جن کے ساتھ تمہاری جنسی آمیزش رہی ہے اور اگر ان سے جنسی آمیزش نہیں رہی تو ان کی بیٹیاں تمہارے لیے ممنوع نہیں ہیں (اسی طرح) تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری نسل سے ہیں ( نہ کہ منہ بولے بیٹے) نیز( تم پر حرام ہے) یہ کہ دو بہنوں کو جمع کرو مگر وہ جو گذشتہ زمانے میں ہو چکا ہے خدا بخشنے والا اور مہربان ہے۔
تفسیر
محارم سے نکاح کی حرمت
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
اس آیت میں محارم (وہ عورتیں جن سے رشتہ زوجیت منع ہے) کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور ممکن ہے کہ اس آیت کی بنیاد پر تین طریقوں سے محرمیت پیدا ہو۔
۱۔ ولادت، جسے نسبی تعلق سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
۲۔ طریق ازدواج سے، جسے سببی ارتباط کہتے ہیں۔
۳۔ رضاعت (دودھ پلانے) سے، جسے ارتباط رضاعی بولتے ہیں۔ سب سے پہلے نسبی محارم کی طرف جو سات طرح کے ہیں، اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:
حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اُمَّہاتُکُمْ وَ بَناتُکُمْ وَ اَخَواتُکُمْ وَ عَمَّاتُکُمْ وَ خالاتُکُمْ وَ بَناتُ الْاَخِ وَ بَناتُ الْاُخْتِ۔۔۔
تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں، تمہاری خالائیں، تمہاری بھتیجیاں اور تمہاری بھانجیاں تم پر حرام کر دی گئی ہیں۔
یاد رکھئے کہ ماں سے مراد وہ عورت نہیں ہے جس سے انسان بلاواسطہ پیدا ہوا ہو بلکہ دادی پڑ دادی اور باپ کی ماں اور اس قسم کی دوسری عورتیں مراد ہیں۔ جس طرح بیٹی سے مراد صرف بلاواسطہ بیٹی نہیں ہے بلکہ بیٹی، پوتی، نواسی، اور ان کی اولاد بھی ہے اسی طرح دوسرے پانچ مواقع پر بھی ایسا ہی ہے۔ امر واضح ہے کہ تمام لوگ فطری طور پر اس قسم کی شادیوں سے نفرت کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے سب قومیں (چند افراد کو چھوڑ کر) محارم سے نکاح حرام سمجھتے ہیں۔ یہاں تک کہ مجوسی جو اپنے منابع اور کتب کی بنا پر اس قسم کی شادیوں کو جائز سمجھتے تھے آج اس کا انکار کرتے ہیں۔ اگرچہ بعض لوگ اس بات کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ اس امر کو ایک پرانی عادت اور رسم قرار دیں۔ لیکن یہ مسلمہ امر ہے کہ ایک قانون کی عمومیت تمام لوگوں، زمانوں، سالوں اور شہروں میں عملی طور پر اس کے فطری ہونے کی ترجمانی کرتی ہے۔ کیونکہ ایک عام رسم و عادات میں دائمی اور عالمگیر بننے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ اس سے قطع نظر بھی آج یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ہم خون افراد کی ایک دوسرے سے شادیاں بےشمار خطرات کی حامل ہوتی ہیں یعنی چھپی ہوئی اور وراثتی بیماریاں شدت اختیار کر لیتی ہے اور آشکار ہو جاتی ہیں (اس سے یہ مراد نہیں کہ اس طرح بیماری پیدا ہوتی ہے)۔ یہاں تک کہ بعض لوگ تو محارم سے گزر کر قوم و قبیلے میں بھی جو نسبتاً نزدیکی ہیں۔ مثلاً چچا زاد کا ایک دوسرے شادی کرنا بھی اچھا نہیں سمجھتے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ بھی وراثتی بیماریوں کے خطرات میں شدت پیدا ہوتی ہے۔ لیکن یہ مسئلہ اگر دور کے رشتہ داروں میں کوئی مشکل پیدا نہ بھی کرے (جیسا کہ عام طور پر نہیں کرتا) تب بھی نزدیک کے رشتہ داروں میں جو کہ زیادہ ہم خون ہیں یقینا خرابی اور بیماری میں شدت پیدا کر دیتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: البتہ اسلام میں چچا زاد کا ایک دوسرے سے شادی کرنا اور اس قسم کے دوسرے رشتہ دار حرام نہیں ہوئے کیونکہ یہ محارم کی طرح نہیں ہیں اور اس قسم کے رشتوں میں کسی حادثہ کا احتمال بہت کم ہے۔ ہم خود بہت سے مواقع کے عینی شاہد ہیں کہ اس قسم کی شادیاں ہوئیں اور ان کے نتیجے میں جو بچے پیدا ہوئے وہ صحت مند اور ذہنی طور پر لائق ہیں)۔
علاوہ ازیں عام طور پر محارم میں جنسی جذب و کشش کا سرے سے کوئی وجود نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ زیادہ تر ایک دوسرے کے ساتھ (پلتے بڑھتے، پھلتے پھولتے اور) پروان چڑھتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے لئے ایک عام اور دائمی وجود ہوتے ہیں۔ اس لئے وہ استثنائی اور غیر معمولی قوانین کی عمومی اور کلی حالت کے لئے میزان نہیں بن سکتے۔ نیز ہمیں معلوم ہے کہ جنسی کشش ہی ازدواجی زندگی کے رشتے کے استحکام کے لئے شرط اول ہے۔ اس بنا پر اگر محارم کے درمیان ازدواج ہو تو وہ نا پائیدار اور گرم جوشی سے عاری ثابت ہو گا۔
اس کے بعد رضاعی محارم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: وَ اُمَّہاتُکُمُ اللاَّتی اَرْضَعْنَکُمْ وَ اَخَواتُکُمْ مِنَ الرَّضاعَةِ۔ یعنی اور تمہاری وہ مائیں جو تمہیں دودھ پلاتی ہیں اور تمہاری رضاعی بہنیں تم پر حرام ہیں۔
اگرچہ قرآن نے آیت کے اس میں صرف دو گروہوں یعنی رضاعی بہنوں اور ماوٴں کی طرف اشارہ کیا ہے لیکن بے شمار موجود روایات کی بنا پر رضاعی محارم انہیں تک محدود نہیں ہیں بلکہ مشہور حدیث کے مطابق جو حضرت پیغمبر سے منقول ہے: یحرم من الرضاع ما یحرم من النسب۔ یعنی تمام افراد جو نسبی رشتہ کے لحاظ سے حرام ہیں وہ رضاعت (دودھ پلائی) کی رو سے بھی حرام ہیں البتہ دودھ پلانے کی مقدار جو محرمیت پر اثر ڈالتی ہے، یہ اور اس طرح کی دیگر شرائط کی تفصیل فقہی کتب میں موجود ہے۔
محارم رضاعی کی حرمت کا فلسفہ
اس کا فلسفہ یہ ہے کہ کسی خاص فرد کے دودھ سے کسی کے گوشت اور ہڈیوں کی پرورش اس کی اولاد سے اس کی شباہت پیدا کر دیتی ہے۔ مثلاً جو عورت کسی بچہ کو ایک مقدار تک دودھ پلاتی ہے تو اس کا جسم اس کے دودھ سے ایک خاص نشوونما پاتا ہے۔ اس سے ایک خاص قسم کی شباہت اس بچے اور عورت کے اپنے بچوں میں پیدا ہو جاتی ہے۔ حقیقت میں ان میں سے ہر ایک اس ماں کے بدن کا ایک جزو شمار ہوتا ہے اور وہ دو نسبی بھائیوں کے مانند ہوتے ہیں۔
آخر میں محارم کے تیسرے گروہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہیں چند عنوانات کے تحت بیان کیا گیا ہے۔
۱۔ و انھا نسائکم۔ اور تماری بیویوں کی مائیں۔ یعنی صرف اتنی سی بات کہ ایک عورت کسی شخص کے نکاح میں آ جائے اور صیغہ نکاح جاری ہو جائے تو اس عورت کی ماں اور اس کی ماں کی ماں اور اس طرح کے سب رشتے اس پر حرام ابدی ہو جائیں گے۔
۲۔ وَ رَبائِبُکُمُ اللاَّتی فی حُجُورِکُمْ مِنْ نِسائِکُمُ اللاَّتی دَخَلْتُمْ بِہِنَّ۔ اور تمہاری بیویوں کی وہ بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں بشرطیکہ اس بیوی کے ساتھ ہم بستری کر چکے ہو یعنی ایک عورت سے صرف عقد شرعی کرنے سے اس کی وہ لڑکیاں جو دوسرے شوہر سے ہیں اس شخص پر حرام نہیں ہوتیں بلکہ ان حرمت کے لئے یہ شرط ہے کہ عقد شرعی کے علاوہ اس عورت سے مباشرت بھی کرے۔ اس مقام پر یہ قید بتاتی اور تاکید کرتی ہے کہ بیوی کی ماں کا حکم جو کہ ابھی ابھی لکھا گیا ہے وہ اس قسم کی شرط کے ساتھ مشروط نہیں ہے اور اصطلاح کے مطابق حکم کے اطلاق کو تقویت دیتا ہے اگرچہ ”فی حجورکم“ (جو تمہاری گود میں ہیں) کی قید کا ظہور یہ ہے کہ اگر بیوی کی دوسرے شوہر سے بیٹی انسان کی گود میں پرورش نہ پائے تو وہ اس پر حرام نہیں ہے لیکن روایات کے قرینہ اور حکم کے مسلم ہونے کی بنا پر یہ قید اصطلاح کے مطابق احترازی نہیں ہے بلکہ واقعی تحریم کے نکتہ کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ایسی لڑکیاں جن کی مائیں دوسری شادی کر لیتی ہیں عموماً کم عمر ہوتی ہیں اور اکثر نئے شوہر کی گود میں اس کی اپنی بیٹیوں کی طرح پرورش پاتی ہیں۔ آیت کہتی ہے کہ یہ واقعی تمہاری بٹیوں کی مانند ہیں تو کیا کوئی شخص اپنی بیٹی سے شادی کر سکتا ہے۔ ربائب بھی جو کہ ربیبہ کی جمع ہے اسی بنا پر ہے۔
آیت کے اس حصہ کے بعد مطلب کی تاکید کے طور پر مزید فرماتا ہے کہ اگر ان سے جنسی آمیزش نہیں رکھتے تو پھر ان کی بیٹیاں تم پر حرام نہیں ہیں (فَإِنْ لَمْ تَکُونُوا دَخَلْتُمْ بِہِنَّ فَلا جُناحَ عَلَیْکُمْ۔
۳۔ وَ حَلائِلُ (تشریحی نوٹ: ”حلائل“ حلیلہ کی جمع ہے۔ جو مادہ ”حل“ سے اس عورت کے معنی میں ہے جو انسان پر حلال ہو یا مادہ حلول سے ہے جس کے معنی اس عورت کے ہیں جو ایک جگہ کسی مرد کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارے)۔ اَبْنائِکُمُ الَّذینَ مِنْ اَصْلابِکُمْ۔ یعنی۔ اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری صلب و نسل سے ہیں۔ حقیقت میں ”من اصلابکم“ یعنی وہ بیٹے جو تمہاری نسل سے ہیں، اس وجہ سے ہے کہ زمانہ جاہلیت کی ایک غلط رسم پر ایک خط بطلان کھینچا جائے کیونکہ اس زمانے میں کہ کچھ افراد کو اپنا بیٹا بنا لیتے تھے اور اسی وجہ سے منہ بولے بیٹے پر حقیقی بیٹے کے تمام احکام و قانون لاگو ہوتے تھے اور اسی وجہ سے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سے شادی نہیں کرتے تھے۔ اسلام میں منہ بولا بیٹا اور اس کے سب احکام کلی طور پر کوئی بنیاد نہیں رکھتے۔
۴۔ وان تجمعوا بین الاختین۔ اور تم پر دو بہنوں کا جمع کرنا منع ہے۔ یعنی تم ایک ہی وقت میں دو بہنوں کے ساتھ شادی نہیں کر سکتے۔ ہاں اگر دو بہنوں یا زیادہ کے ساتھ مختلف زمانوں میں یا پہلی بہن سے علیحدگی کے بعد دوسری شادی کی جائے تو کوئی حرج نہیں۔ چونکہ زمانہ جاہلیت میں دو بہنوں کو اکٹھا رکھنے کا رواج تھا اور کئی لوگ ایسی شادیاں کر چکے تھے۔ اس لئے قرآن مندرجہ بالا کے لئے کہتا ہے: الا ما قد سلف‘۔ یعنی اس حکم کا (دوسرے احکام کی طرح) گذشتہ شادیوں پر نہیں پڑے گا۔ یعنی جو لوگ اس قانون سے پہلے اس قسم کی شادیاں کر چکے ہیں ان کے لئے کوئی عذاب اور سزا نہیں ہے۔ اگرچہ اس وقت ان میں سے صرف ایک کو چننا اور دوسری کو چھوڑنا پڑے گا۔
اسلام نے اس قسم کی شادی سے کیوں روکا ہے۔ شاید اس کی رمز یہ ہو کہ دو بہنیں طبعی، اور فطری رشتے کی وجہ سے ایک دوسرے سے بہت زیادہ محبت کرتی ہیں۔ لیکن جب وہ ایک دوسرے کی رقیب بن جائیں گی تو وہ پہلی فطری محبت باقی نہ رہے گی بلکہ ایک قسم کا تضاد ان میں جنم لے گا جو ان کی زندگی کے لئے انتہائی مضر ہے کیونکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جذبہ محبت اور جذبہ رقابت ان کے دلوں میں باہم بر سرپیکار رہیں گے۔
بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ جملہ ”الا ما قد سلف“ ان تمام محارم کے بارے میں ہے کہ جن کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے یعنی اگر اس آیت کے نزول سے پہلے ذکر کئے ہوئے محارم میں سے اس زمانے کے مروج قوانین کے مطابق کوئی شخص شادی کر چکا ہے تو یہ تحریم کا حکم اس پر لاگو نہیں ہو گا اور ان کی اولاد جائز اولاد ہو گی لیکن اس آیت کے نزول کے بعد ضروری ہے کہ وہ ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں۔ آیت کا آخری جملہ یعنی ”ان اللہ کان غفوراً رحیماً“ بھی اسی مفہوم سے مطابقت اور مناسبت رکھتا ہے۔
اور شوہر دار عورتیں (تم پر حرام ہیں ) مگر وہ کہ جن کے تم مالک بن گئے ہو یہ ایسے احکام ہیں جو خدا نے تم پر مقرر کیے ہیں ان (مذکورہ) عورتوں کے علاوہ باقی عورتیں تم پر حلال ہیں اور جنہیں اپنے مال کے ذریعے اپناؤبشرطیکہ تم پاک دامن رہو اور زنا سے بچو اور جن عورتوں سے متعہ کرو تو ان کا حق مہر جو تم پر واجب ہے ادا کرو اور تم پر اس کی نسبت کو ئی گناہ نہیں جس پر ایک دوسرے کے ساتھ مہر مقرر کرکے موافقت کر لویقیناً خدادانا و حکیم ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
وَ الْمُحْصَناتُ مِنَ النِّساء۔۔۔
یہ آیت گذشتہ آیت کی بحث کا ضمیمہ ہے جو ان عورتوں کے متعلق ہے جن سے شادی کرنا حرام ہے، یہ آیت مزید خبردار کرتی ہے کہ سہاگنوں کے ساتھ شادی اور مباشرت حرام ہے۔
”محصنات“، ”محصنہ“ کی جمع ہے اور ”حصن“ کے مادے سے ہے جس کا معنی ہے ”قلعہ“ اسی مناسبت سے یہ لفظ شوہردار عضیف و پاکدامن عورتوں کے لئے جو غیر مردوں سے جنسی تعلق سے اپنے آپ کو محفوظ رکھتی ہیں یا کسی مرد کی سرپرستی میں ہوں کے لئے بولا جاتا ہے بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ آزاد عورتوں کو کنیزوں کے مقابلے میں (محصنات) کہا جاتا ہے۔ کیونکہ ان کی آزادی حقیقت میں ایک چار دیواری کے مانند ہے جو ان کے گرد موجود ہے اور کوئی دوسرا ان کی اجازت کے بغیر اس میں داخل ہونے کا حق نہیں رکھتا۔ لیکن واضح ہے کہ آیت مذکورہ بالا میں شوہردار عورتیں ہی مراد ہیں۔ یہ حکم صرف مسلمان عورتوں کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہر مذہب و ملت کی عورتوں کے بارے میں ہے یعنی ان سے شادی نہیں کر سکتے۔
اس حکم میں جو استثنا ہے وہ صرف ان غیر مسلم عورتوں کے بارے میں ہے جو جنگ میں مسلمان کی قیدی ہو جائیں۔ اسلام کی نظرمیں قید ہوتے ہی ان کا اپنے شوہروں سے کوئی تعلق نہیں رہتا اور وہ ایک طرح سے طلاق یافتہ ہو جاتی ہیں، اسلام اجازت دیتا ہے کہ مدت عدت (تشریحی نوٹ: ان کی مدت کی مقدار ایک بار ماہواری دیکھنا ہے اور اگر وہ حاملہ ہوں تو وضع حمل ہے) ختم ہو جانے کے بعد ان سے شادی کرلی جائے یا ان سے ایک کنیز کا سا سلوک کیا جائے (إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ) لیکن یہ وہ استثناء ہے جسے اصطلاح میں استثنائے منقطع کہتے ہیں یعنی ایسی شوہردار عورتیں جو مسلمانوں کی قید میں آ جائیں، قید ہوتے ہی ان کا رابطہ ان کے شوہروں سے منقطع ہو جاتا ہے۔ بالکل اس غیر مسلم عورت کی طرح جس کا اسلام لانے کے بعد اپنے پہلے شوہر سے (اگر وہ اسلام نہ لائے تو) کوئی تعلق باقی نہیں رہتا اور وہ بےشوہر عورتوں کی صف میں آ جاتی ہے۔
اس سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ اسلام کسی مسلمان کو شوہردار عورت سے چاہے وہ کسی مذہب وطت سے ہو ازدواج کی اجازت نہیں دیتا۔ اسی لیے ان کے لئے مدت مقرر کی گئی ہے اور عدت کے دوران میاں بیوی والے تعلق سے منع کیا گیا ہے۔ اس حکم کا فلسفہ جاننے کے لئے ان تین صورتوں کو سامنے رکھنا ہو گا۔ پہلی یہ کہ اس قسم کی عورتیں کافروں کے علاقے میں واپس کر دی جائیں۔ دوسری یہ کہ شوہر کے بغیر ہی مسلمانوں میں رہ جائیں تیسری یہ کہ ان کا تعلق پہلے شوہروں سے منقطع ہو جائے اور وہ نئے سرے سے دوسری شادی کر لیں۔ پہلی صورت تو اسلامی اصول تربیت کے خلاف ہے اور دوسری صورت ظالمانہ ہے۔ اس لیے صرف تیسری صورت ہی باقی رہ جاتی ہے۔ بعض روایات سے کہ جن کی سند ابو سعید خدری مشہور صحابی رسولؐ تک پہنچتی ہے معلوم ہوتا ہے کہ مندرجہ بالا آیت غزوہ اوطاس (تشریحی نوٹ: اوطاس ایک جگہ ہے جہاں ایک اسلامی جنگ ہوئی تھی) کے قیدیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ پیغمبر اکرمؐ نے یہ اطمینان کر لینے کے بعد کہ وہ قیدی عورتیں حاملہ نہیں ہیں، انہیں اجازت دی کہ وہ مسلمانوں سے شادیاں کر لیں یاکنیزوں کی طرح ان کے قبضہ میں رہیں۔ یہ حدیث مندرجہ بالا تفسیر کی تائید بھی کرتی ہے۔
کتاب اللہ علیکم۔ خداوند تعالی اس جملے میں ان گذشتہ احکامات کی تاکید کے طور پر جو ممارم اور ان کی سی عورتوں کے بارے میں آئے ہیں، فرماتا ہے یہ ایسے امور ہیں جنہیں خدا نے تمہارے لیے لکھا ہے اور مقرر کر دیا ہے۔ اس لیے کسی صورت میں بھی ان میں کوئی تبدیلی اور کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔
واحل لکم ماوراء ذلکم ان تبتغوا باموالکم معصنین غیر مسافحین
اس کے بعد فرماتا ہے کہ ان چند قسموں کی عورتوں کے علاوہ جو اس آیت اور گذشتہ آیتوں میں بیان کی گئی ہیں باقی عورتوں سے شرط پر شادی بیاہ کر سکتے ہو کہ وہ ازدواج اسلامی قانون کے مطابق عفت و پاکدامنی سے وابستہ ہو اور بدچلنی اور بےحیائی سے دور ہو۔ اسی بناء پر مندرجہ بالا آیت میں محصنین کا لفظ مردوں کی حالت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جس کے معنی ہیں عفت و پاکدامن "غیر مسافین" اس کی تاکید ہے۔ کیونکہ مادہ سفاع (بزوزن کتاب) کا معنی ہے "زنا" اور اصل میں یہ لفظ سفح سے (جس کے معنی پانی انڈلینا یا بےہودہ اور بغیر سوچے سمجھے کام کرنا ہیں) لیا گیا ہے۔ قرآن ایسے امور میں ہمیشہ کنایہ کے الفاظ استعمال کرتا ہے۔ گویا یہ لفظ اس موقع پر ناجائز جنسی تعلقات کے لئے بطور کنایہ استعمال ہوا ہے۔
ان تبتفوا یامو الکم یہ اس طرف اشارہ ہے کہ میاں بیوی کے تعلقات یا تو حق مہر ادا کر کے ازدواجی شکل میں ہوں یا کنیز مالک ہونے کی صورت میں اس کی قیمت ادا کرنے کے بعد۔ (تشریحی نوٹ: غلاموں کی آزادی کے سلسلے میں اسلام نے جو زبردست لائحہ عمل اختیار کیا اس کے بارے میں متعلقہ آیات کے ذیل میں تفصیلی بحث کی جائے گی)۔ شاید ضمنی طور پر غیر مسافحین کی تعبیر اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہو کہ مسئلہ ازدواج میں تمہارا نصب العین اور مقصد صرف جنسی پیاس کی تسکین نہ ہو بلکہ شادی بیاہ اس بلند ترین مقصد کو زندہ کرنے کے یے ہو جس کے لئے جنسی پیاس انسان میں رکھی گئی ہے اور وہ ہے بقائے نسل انسانی اور برائیوں سے اس کی حفاظت۔
اسلام میں وقتی شادی
فمااستمطعتم بہ منھن فاتوھن اجورھن فریضة
آیت کے اس حصے میں وقتی شادی کی طرف اشارہ ہے جسے اصطلاح میں ”متعہ“ کہتے ہیں۔ ارشادِ رب العزت ہے: تم جن عورتوں کے ساتھ متعہ کرتے ہو ا ن کا حق مہر ایک حق واجب کے طور پر ادا کرو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ازدواج موقت کی اصل تشریح اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے ہی مسلمانوں میں تسلیم شدہ تھی۔ اس لئے تو خداوند عالم اس آیت میں حق مہر ادا کرنے کی وصیت فرما رہا ہے اور کیونکہ یہ ایک اہم تفسری، فقہی اور اجتماعی بحث ہے اس لئے ضروری ہے کہ کئی گوشوں اور پہلووٴں سے اس کا مطالعہ کیا جائے۔
۱۔ جو قرائن آیت مندرجہ بالا میں موجود ہیں وہ اس آیت کے وقتی شادی پر دلالت کرنے کی تاکید کرتے ہیں۔
۲۔ اس قسم کی شادیاں حضرت رسول اکرمؐ کے عہد میں ہوتی تھیں اور رسول اللہؐ کے دور میں اسے منسوخ نہیں کیا گیا۔
۳۔ اس قسم کی ازدواج معاشرتی اور اجتماعی ضرورت بھی ہے۔
۴۔ متعہ بہت سے مسائل کا حل بھی ہے۔
اب پہلی جہت کو لیتے ہیں اس سلسلے میں پہلی تو بات تو یہ ہے کہ لفظ متعہ جس سے استمتعتم لیا گیا ہے۔ اسلام میں وقتی نکاح کے لئے ہے اور اصطلاح کے مطابق اس بارے میں حقیقت شرعیہ موجود ہے۔ اس امر کا گواہ یہ ہے کہ متعہ کا لفظ اس معنی میں احادیث پیغمبر اور کلمات صحابہ میں بارہا استعمال ہوا ہے۔ (بحوالہ کنز العرفان، مجمع البیان، نور الثقلین، برہان اور الغدیر کی جلد ۶ ملاحظہ فرمائیے)۔
دوسرے یہ کہ اگر اس لفظ کے مذکورہ معنی نہ لئے جائیں تو پھر اس کے لغوی معنی (نفع اٹھانا) مراد لئے جائیں گے تو اس صورت میں آیت کے معنی کا خلاصہ یہ ہو گا کہ اگر عقد دائمی والی عورتوں سے فائدہ اٹھاوٴ تو ان کا حق مہر انہیں ادا کرو۔ جبکہ ہمیں معلوم ہے کہ حق مہر کی ادائیگی کی شرطوں سے تمتع اور نفع حاصل کرنا نہیں ہے۔ بلکہ تمام مہر بنا بر مشہور(تشریحی نوٹ: مشہور یا زیادہ مشہور یہ ہے کہ دائمی عقد کے بعد پورا مہر مرد پر واجب ہو جاتا ہے، اگرچہ دخول سے پہلے طلا ق سے حق مہر آدھا واجب رہ جاتا ہے)۔ یا کم از نصف حق مہر نکاح ہوتے ہی واجب ہو جاتا ہے۔
نیز یہ کہ بزرگ اصحاب اور تابعین (یعنی وہ لوگ جو پیغمبر اکرم ص کے زمانے کے بعد آئے اور آنحضرت ص کے زمانے کو نہ پا سکے) مثلاً عبداللہ ابن عباس اسلام کے مشہور عالم و مفسر، ابی بن کعب، جابر بن عبد اللہ، عمران حصین سعید بن جبیر، مجاہد قتادہ، سدی اور دیگر بہت سے مفسرین اہل بیت (ع) مندرجہ بالا آیت سے نکاح موقت کے معنی سمجھے ہیں۔ یہاں تک امام فخر رازی جن کی شہرت یہ ہے کہ وہ شیعوں کے مسائل میں اشکال تراشی کرتے ہیں، اس آیت کے بارے میں تفصیلی بحث کے بعد کہتے ہیں کہ حکم مذکور ایک مدت کے بعد منسوخ ہو گیا تھا۔ چوتھے یہ کہ ائمہ اہل بیت (ع) نے جو اسرار وحی کو تمام لوگوں سے زیادہ جانتے تھے بالا تفاق آیت کے یہی معنی لئے ہیں ان سے اس سلسلے میں بہت سی رویتیں منقول ہیں۔ ان میں سے ایک روایت حضرت امام جعفر صادق (ع) سے مروی ہے، آپ(ع) نے فرمایا:
المتعة نزل بہ القراٰن وجرت بھا السنة من رسول اللہ
متعہ کا حکم قرآن میں نازل ہوا ہے۔ اور سنت رسول اس کے مطابق جاری ہوئی ہے۔(بحوالہ: نور الثقلین جلد اول صفحہ ۴۶۷، تفسیر برہان جلد اول صفحہ، ۳۶۰)۔
علاوہ ازیں حضرت امام باقر (ع) سے منقول ہے کہ آپ(ع) نے ابو بصیر سے متعہ کے بارے میں سوال کے جواب میں فرمایا:
نزلت فی القراٰن فما استمتعتم بہ منھن فاٰتوھم اجورھن فریضة۔
قرآن مجید نے اس سلسلے میں گفتگو کی ہے چنانچہ فرماتا ہے: فما استمتعتم۔ (بحوالہ: نور الثقلین جلد اول صفحہ ۴۶۷، تفسیر برہان جلد اول صفحہ، ۳۶۰)۔
نیز امام محمد باقر (ع) سے منقول ہے کہ آپ (ع) نے متعہ کے بارے میں عبداللہ بن عمیریشی کے جواب میں فرمایا:
احلھا اللہ فی کتابہ و علیٰ لسان نبیہ فھی حلال الیٰ یوم القیٰمة۔
خداوندعالم نے اسے قرآن میں اپنے پیغمبر کی زبان پر حلال کیا اور وہ قیامت تک حلال ہے۔ (بحوالہ: تفسیر برہان، زیر بحث آیت کے ذیل میں (توجہ رہے کہ یہ حدیث اور گذشتہ دونوں احادیث کافی ہیں)۔
کیا یہ حکم منسوخ ہو چکا ہے
تمام علمائے اسلام کا اتفاق ہے بلکہ ضرورت دین اس پر دلالت کرتی ہے کہ نکاح موقت آغاز اسلام میں جائز تھا۔ مندرجہ بالا آیت کی متعہ کے جواز پر دلالت اصل حکم کے مسلم ہونے پر کسی قسم کی نفی نہیں کرتی۔ کیونکہ مخالفین کا خیال ہے کہ اس حکم کا شرعی ہونا سنت سے ثابت ہے۔ یہاں تک کہ مسلمان آغاز اسلام میں اس پر عمل کرتے تھے اور وہ مشہور جملہ جو حضرت عمر سے منقول ہے:
متعتان کانتا علی عھد رسول اللہ و انا محومھما و معاقب علیھا متعة النساء و متعة الحج۔ (بحوالہ کنز العرفان جلد۲ صفحہ ۱۵۸ تفسیر قرطبی و طبری، سنن کبریٰ، بیہقی کتاب نکاح)۔
دو متعہ پیغمبرؐ کے عہد مبارک میں تھے۔ جنہیں میں (عمر) حرام کرتا ہوں اور ان پر سزا بھی دوں گا عورتوں سے متعہ اور حج تمتع (جو ایک خاص قسم کا حج ہے)۔
یہ جملہ عہد رسالت میں اس حکم کے موجود ہونے کی واضح دلیل ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ اس حکم کے مخالفین کہتے ہیں کہ یہ حکم بعد میں منسوخ اور حرام کر دیا گیا ہے۔ لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ جن روایات سے حکم متعہ منسوخ ہونے کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے۔ وہ بہت اختلافی ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ حضورؐ نے بہ نفس نفیس اس حکم کو منسوخ فرمایا تھا لہذا اس کی ناسخ سنت و حدیث پیغمبرؐ ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ ناسخ آیت طلاق ہے:
اذا طلقتم النساء فطلتوھن لعد نھن
جب تم عورتوں کو طلاق دو تو طلاق مدت کے مناسب زمانہ میں ہو۔
جبکہ یہ آیت زیر بحث مسئلے سے کوئی ربط نہیں رکھتی۔ کیونکہ یہ آیت طلاق کے بارے میں بحث کرتی ہے اور نکاح موقت (متعہ) میں سرے سے طلاق ہوتی ہی نہیں۔ بلکہ اس میں مدت مسئلہ ختم ہونے کے بعد خود بخود علیحدگی ہو جاتی ہے۔ قدر مشترک و مسلم یہ ہے کہ اس قسم کے نکاح کا مشروع اور جائز ہونا عہد پیغمبرؐ میں قطعی ہے اور کسی قسم کی قابل اعتماد دلیل اس کے منسوخ ہونے پر نہیں ملتی۔
بناء بریں علم اصول کے مسلم قانون کے مطابق جو حد شہوت تک پہنچا ہوا ہے، قانون متعہ کی بقا ثابت ہوتی ہے۔ خود حضرت عمر کا مشہور جملہ جو نقل کیا جا چکا ہے، وہ بھی اس حقیقت پر واضح گواہ ہے کہ یہ حکم عہد پیغمبرؐ میں بالکل منسوخ نہیں ہوا۔ یہ بدیہی ہے کہ پیغمبر اکرمؐ کے علاوہ کوئی شخص بھی احکام مننسوخ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ صرف آپؐ ہی کی ذات قدسی صفات خدا کے حکم سے کچھ احکام کو منسوخ کر سکتی ہے اور پیغمبرؐ کی رحلت کے بعد فسخ کا دروازہ کلی طور پر بند ہو جاتا ہے ورنہ ہر شخص اپنے اجتہاد سے احکام کو منسوخ کر سکتا ہے اور پھر کوئی چیز بھی شریعت ابدی اورجادوانی کے نام سے باقی نہیں رہ سکتی۔ اور اصولی طور پر پیغمبر اکرمؐ کے ارشادات کے مقابلے میں اجتہاد و دراصل نص کے مقابلے میں اجتہاد ہے جو قابلِ اعتبار نہیں۔
بڑی عجیب بات ہے کہ صحیح ترمذی میں جو اہل سنت کی مشہور صحاح میں سے ہے اسی طرح دارقطنی (بحوالہ: تفسیر قرطبی جلد٢، صفحہ۷۶۲، سورہ بقرہ ذیل آیت ۱۹٥) میں ہے کہ:
اہل شام میں سے ایک شخص نے عبداللہ بن عمر سے حج تمتع کے بارے میں سوال کیا تو اس نے وضاحت کے ساتھ جواب دیا کہ یہ کام حلال اور اچھا ہے۔ شامی نے کہا: تیرے باپ نے تو اس عمل سے منع کیا ہے۔ عبداللہ ابن عمر غصے میں آ کر کہنے لگے: اگر میرا باپ اس قسم کے کام سے منع کرے اور حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی اجازت دیں تو کیا میں سنت مقدس پیغمبرؐ کو چھوڑ دوں اور اپنے باپ کی پیروی کر لوں۔ اٹھ جا اور مجھ سے دور ہو جا۔(بحوالہ حج تمتع جس سے حضرت عمر نے روک دیا سے مراد یہ ہے کہ پہلے احرام باندھا جائے اور عمرہ کے مراسم کے بعد احرام سے نکل آئے اور محل ہو جائے اور یوں تمام چیزیں عورتوں سے ہم بستری تک حلال ہو جائیں گی پھر دوبارہ احرام باندھا جائے اور ٩ ذی الحجہ سے مراسم حج انجام دی جائیں زمانہ جہالت میں اسے درست نہیں سمجھا جاتا تھا اور لوگ اس پر تعجب کرتے تھے کہ ایک شخص ایام حج میں مکہ معظمہ میں داخل ہو اور اس نے ابھی حج نہ کیا ہو اور وہ عمرہ بجا لائے اور احرام باندھنا چھوڑ دے۔ لیکن اسلام نے صراحت کے ساتھ اس کی اجازت دی اور سورہ بقرہ کی آیت ۱۸۶ میں اس کی توضیح کر دی گئی ہے) نکاح موقت کے بارے میں اس روایت کی نظیر عبداللہ بن عمر سے صحیح ترمذی میں اسی طرح منقول ہے۔ (بحوالہ شرح لمعہ، جلد٢، کتاب النکاح)
نیز کتاب مباشرت راغب سے منقول ہے کہ ایک مسلمان نے چاہا کہ متعہ کرے تو لوگوں نے اس سے پوچھا کہ تو نے یہ کام کیسے حلال سمجھا ہے تو اس نے کہا: عمر سے۔ انہوں نے تعجب سے کہا: یہ کیسے ممکن ہے جبکہ انہوں نے اس سے منع کیا ہے اور اس پر سزا کی دھمکی بھی دی ہے۔ وہ شخص کہنے لگا بہت اچھا میں بھی اسی بناء پر کہتا ہوں۔ کیونکہ حضرت عمر کہتے تھے کہ پیغمبر اکرمؐ نے اسے حلال کیا ہے اور میں اسے حرام کرتا ہوں۔ میں پیغمبر اکرمؐ سے اس کی مشروعیت اور جواز کو قبول کرتا ہوں۔ لیکن اسے کوئی اور حرام کر دے تو اسے قبول نہیں کروں گا۔ (بحوالہ: کنز عرفان، جلد۲، صفحہ۱۵۹ (پادرتی))
میرا مقصد جس کی یاددہانی اس موقع پر ضروری ہے یہ ہے کہ جو اس حکم کے منسوخ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ بڑی مشکلات سے دوچار ہیں۔
پہلی یہ کہ اہل سنت کی متعدد روایتوں میں یہ وضاحت موجود ہے کہ یہ حکم حضرت رسالت مآبؐ کے زمانے میں بالکل منسوخ نہیں ہوا بلکہ حضرت عمر کے زمانہ خلافت میں اسے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اس بناء پر منسوخی کے طرفدار ان سب روایتوں کا جواب دیں۔ یہ روایات چوبیس ٢٤ ہیں جنہیں علامہ امینی نے الغدیر کی جلد ششم میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ذیل میں صرف دو نمونوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:
۱۔ صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ انصاری سے منقول ہے: وہ کہتے ہیں:
ہم پیغمبرؐ کے زمانے میں بڑی آسانی سے نکاح موقت کر لیتے تھے اور یہ کیفیت جاری رہی یہاں تک کہ حضرت عمر نے عمرو بن حریث کے واقعے میں اس کام سے بالکل منع کر دیا۔ (بحوالہ: الغدیر، جلد۶، صفحہ٢۰۶)
دوسری حدیث کتاب مؤطامالک ادبیہقی کی سنن کبریٰ میں عروہ بن زبیر سے منقول ہے:
ایک عورت خولہ بنت حکیم حضرت عمر کے زمانے میں ان کے پاس گئی اس نے بتایا کہ ایک مسلمان ربیعہ بن اسیہ نے متعہ کیا ہے۔ حضرت عمر نے کہا: اگر میں نے اس کام سے پہلے ممانعت کردی ہوتی تو اسے سنگسار کرتا۔ لیکن اب فوراً اس سے منع کرتا ہوں۔(بحوالہ: الغدیر، جلد۶، صفحہ٢۱٠)
کتاب ہدایۃ الجتہد تالیف ابن رسد اندیسی میں ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری کہتے تھے:
نکاح موقت ہم زمانہ پیغمبرؐ خلافت ابوبکر اور خلافت عمر کے نصف تک کرتے تھے اس کے بعد عمر نے منع کر دیا۔ (بحوالہ: ہدایۃ المجتہد کتاب النکاح)
ان کےلئے دوسری کٹھن شکل یہ ہے کہ وہ روایات جو زمانہ پیغمبرؐ میں اس حکم کے منسوخ ہونے پر دلالت کرتی ہیں وہ بہت ہی مختلف بلکہ متضاد اور نقیض ہیں۔ بعض کے مطابق یہ حکم جنگ خیبر میں منسوخ ہوا۔ بعض ثابت کرتی ہیں کہ یہ حکم روز فتح مکہ منسوخ ہوا بعض جنگ تبوک میں اور بعض جنگ اوطاس کے موقع پر اس کے منسوخ ہونے کی خبر دیتی ہیں۔ غرض اس حالت کو دیکھ کر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ نسخ کی سب روایتیں جعلی ہیں اسی لیے وہ ایک دوسرے کے خلاف اور متضاد ہیں۔
تفسیر المنار کا مؤلف کہتا ہے:
ہم نے پہلے مجلہ المنار کی تیسری اور چوتھی جلد میں تصریح کی تھی کہ حضرت عمر نے متعہ کی مخالفت کی تھی لیکن بعد میں کچھ اخبار و روایات ہمارے ہاتھ لگی ہیں جو ظاہر کرتی ہیں کہ یہ حکم حضورؐ کے زمانے میں منسوخ ہو چکا تھا نہ کہ عمر کے زمانہ میں لہذا ہم اپنی پہلی گفتگو کی اصلاح کرتے ہیں اور اس سے توبہ کرتے ہیں۔
صاحب المنار کی یہ تمام گفتگو تعصب آمیز ہے کیونکہ اس سلسلے میں رسول اللہؐ سے مروی روایات متضاد ہیں جن میں اس حکم کے منسوخ ہونے کا ذکر ہے۔ جبکہ دوسری طرف ہمارے پاس ایسی روایتیں ہیں جو زمانہ حضرت عمر تک اس حکم کے جاری رہنے کی تصریح کرتی ہیں۔ اس لیے نہ یہ معذرت کا موقع ہے اور نہ استغفار کا۔
جن شواہد کا ہم پہلے ذکر چکے ہیں وہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس کی پہلی گفتگو حقیقت اور صداقت پر مبنی تھی نہ کہ دوسری۔ یہ امر واضح ہے کہ حضرت عمر یا کوئی اور شخص یہاں تک کہ ائمہ اہل بیتؑ بھی جو حضرت پیغمبر اکرمؐ کے حقیقی نائب ہیں ان احکام کو جو حضورؐ کے زمانے میں تھے منسوخ نہیں کر سکتے۔ اصولی طور پر رحلت پیغمبرؐ سے باب وحی بند ہونے کے بعد منسوخی کا کوئی مفہوم نہیں ہے۔ بعض لوگوں کا حضرت عمر کے کلام کو اجتہاد پر محمول کرنا بھی باعث تعجب ہے۔ کیونکہ نص کے مقابلے میں اجتہاد ممکن ہی نہیں۔ زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ اہل سنت کے بعض فقہاء نے ان آیات کو جو احکام نکاح سے متعلق ہیں (مثلاً سورہ مومنوں کی آیت ۶اور آیت مندرجہ بالا جو متعہ کے بارے میں ہے) کو منسوخ سمجھا ہے۔ گویا ان کے خیال میں نکاح موقت نکاح ہی نہیں ہے۔ حالانکہ یہ مسلم ہے کہ یہ نکاح کی ایک قسم ہے۔
نکاح موقت ایک اجتماعی ضرورت ہے
یہ ایک کلی اور عمومی قانون ہے کہ اگر انسان کی نفسانی خواہشات کی تسکین کا صحیح طور پر خیال نہ رکھا جائے تو وہ اپنی پیاس بجھانے کے لئے غلط راستے اختیار کرے گا کیونکہ یہ حقیقت مسلم ہے کہ خواہشات نفسانی کو کسی صورت میں ختم نہیں کیا جا سکتا اور بالغرض اگر ختم بھی کر دیا جائے تو یہ اقدام نامناسب ہو گا۔ کیونکہ یہ کاروائی قانون فطرت کے خلاف جنگ ہے۔ اس بناء پر صحیح راستہ یہی ہے کہ اس کی تشنگی دور کرنے کا معقول انتظام کیا جائے اور اس کے لئے اصلاحی طریقہ اختیار کیا جائے۔ اس بات کا بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جنسی خواہش انسان کی زبردست خواہشات اور طبائع میں سے ہے۔ یہاں تک کہ بعض ماہرین نفسیات اسی کو فطرت و سرشت انسانی سمجھتے ہیں اور باقی تمام خواہشات کو اس کے ماتحت قرار دیتے ہیں۔
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بہت سے مقامات اور معاشروں میں ایسے لوگ بےشمار ہیں جو نکاح دائمی کی استطاعت و قدرت نہیں رکھتے یا کبھی شادی شدہ افراد طویل سفر یا ایسے فرائض پر مامور ہوتے ہیں جہاں وہ اپنی جنسی خواہشات کی تسکین کا کوئی بندوبست نہیں کر سکتے۔ خصوصاً اس زمانے میں جبکہ شادی حصول علم اور معاشرے کے پیچیدہ مسائل کی وجہ سے بہت دیر میں ہوتی ہے اور بہت کم نوجوان ایسے ہوتے ہیں جو سن بلوغت کو پہنچتے ہی جو جنسی خواہشات کے شباب کا زمانہ ہے، شادی کر سکتے ہوں۔ یہ امر ان دنوں خطرناک ترین صورت اختیار کر چکا ہے۔ تو ایسے حالات میں کیا کرنا چاہئے۔
کیا اس صورت میں لوگوں کو (راہبوں اور راہباؤں کی طرح) کی طرح خواہشات نفسانی کچلنے کی طرف مائل کیا جائے یا انہیں جنسی بے راہروی کے لئے آزاد چھوڑ دیا جائے اور موجودہ تباہ کن اور بے شرمی، بےحیائی کی عام اجازت دے دی جائے یا یہ کہ تیسرا راستہ اختیار کیا جائے جس میں نہ نکاح دائمی کا سا بوجھ ہو اور نہ وہ جنسی بے راہروی ہو۔ خلاصہ یہ ہے کہ نکاح دائمی گذشتہ زمانے میں موجودہ زمانے میں بھی تمام طبقات کی جنسی ضروریات کا کفیل اور متحمل نہیں ہو سکتا۔ اب ہم دوراہے پر کھڑے ہیں۔ یا تو فحشا و منکر کو جائز قرار دیں (جیسا کہ آج کی مادی دنیا عملی طور اسے درست سمجھتی ہے اور اسے قانونی طور قبول کرتی ہے) اور یا یہ کہ نکاح موقت کو قبول کر لیں۔
معلوم نہین کہ جو لوگ متعہ کے بھی فشا و منکر کی طرح مخالف ہیں۔ انہوں نے اس سوال کیا جواب سوچا ہے۔ نکاح موقت کے نصب العین میں نہ تو نکاح دائمی کی سی سخت شرطیں ہیں اور نہ ہی یہ خطرناک جنسی برائیوں اور نقصانات کا حامل ہے۔ اسی لیے یہ معقول مالی استطاعت نہ رکھنے والوں تعلیمی اور دیگر مشاغل میں مصروف افراد کے لئے مناسب ہو سکتا ہے۔
نکاح موقت پر کیے گئے اعتراضات کا جواب
اس موقع پر چند اشکالات ہیں جن کا مکمل جواب دینا چاہئے۔
بعض کہتے ہیں کہ نکاح موقت اور زناکاری وبدکاری میں کیا فرق ہے۔ دونوں میں کچھ رقم کے بدلے میں تن فروشی و خود فروشی کی جاتی ہے۔ ان کے خیال میں اس قسم کا نکاح دراصل ایک پردہ ہے جو بدکاری اور جنسی بے راہروی کے چہرے پر ڈالا جاتا ہے۔ فرق بس یہ ہے کہ متعہ میں دو آسان سے جملے (صیغے) پڑھ لیے جاتے ہیں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں وہ بالکل نکاح موقت کے مفہوم سے ناواقف ہیں کیونکہ نکاح موقت صرف دو جملے کہنے سے مکمل نہیں ہو جاتا بلکہ اس کے لئے بھی نکاح دائمی کی طرح قاعدے، دستوار اور احکامات ہیں یعنی ایسی عورت نکاح موقت کے زمانے میں صرف اسی مرد کے اختیار میں رہے گی اور جب مدت ختم ہو گی تو عدت میں بیٹھے گی۔ یعنی کم از کم پنتالیس٤٥ دن تک کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرے گی۔ تاکہ اگر وہ پہلے مرد سے عاملہ ہے تو واضح ہو جائے۔ یہاں تک کہ اگر اس نے کسی طریقے سے حمل سے بچنے کی تدبیر کی ہے تب بھی اسے ایام عدت پورا کرنے پڑیں گے اور اگر اس سے کوئی بچہ پیدا ہو جائے تو نکاح دائمی سے پیدا ہونے والے بچے کی طرح مرد اس کا وارث و سرپرست قرار پائے گا اور اس پر تمام احکام اولاد جاری ہوں گے۔ جبکہ بدفکاری اور زنا میں اس قسم کی کوئی شرط نہیں ہوتی۔ تو کیا اب بھی ان دونوں کا ایک دوسرے پر قیاس کیا جا سکتا ہے۔ البتہ نکاح موقت مسئلہ میراث (جو میاں بیوی کے درمیان ہے (تشریحی نوٹ: البتہ نکاح دائمی اور نکاح موقت کی اولاد میں کوئی فرق نہیں ہے)، نان و نفقہ اور بعض دیگر احکام میں نکاح دائمی سے مختلف ہے۔ پھر بھی اس اختلاف اور فرق کو بدکاری اور زنا کاری کے برابر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بہرحال وہ نکاح کے اصول و قواعد کی رو سے نکاح کی ایک شکل ہے۔
اعتراض کی دوسری بات یہ ہے کہ متعہ اس امر کا سبب ہے کہ بعض ہوس پرست افراد اس قانون سے غلط فائدہ اٹھاتے ہیں اور اس کی آڑ میں طرح طرح کی برائیاں کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ نیک اور عزت والے افراد کبھی اس کے لئے تیار نہیں ہوتے اور صاحب حیثیت اور عزت دار عورتیں کبھی اس کے قریب نہیں آتیں۔
وہ کونسا قانون ہے جس سے لوگ غلط فائدہ حاصل نہیں کرتے تو پھر کیا ضروری ہے کہ کسی فطری قانون اور اجتماعی ضرورت کو اس لیے روک دیا جائے کہ اس سے غلط فائدہ اٹھایا جاتا ہے یا غلط فائدہ اٹھانے والوں کی روک تھام کی جائے۔
فرض کیجئے کہ ایک جماعت حج بیت اللہ سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے اس مقدس سفر میں منیشات کا کاروبار کرتی ہے تو کیا اس صورت میں لوگوں کو اس عظیم اسلامی کانفرنس میں شرکت سے منع کر دیا جائے گا یا غلط کاروبار کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔
اگر آپ یہ دیکھتے ہیں کہ آج کے محترم افراد اس قانون اسلامی سے نفرت کرتے ہیں تو دراصل اس میں قانون کا عیب نہیں بلکہ قانون پر غلط عمل کرنے والوں کا قصور ہے یا اس سے بھی زیادہ صحیح یہ ہے کہ اس میں غلط فائدہ اٹھانے والوں کا قصور ہے۔ اگر آج کل کے معاشرے میں نکاح موقت پر صحیح خطوط اور درست صورت میں عمل کیا جائے اور اسلامی حکومت مخصوص قوانین و ضوابط کے تحت اسے درست طور پر عمل میں لائے تو غلط فائدہ اٹھانے والوں کی بھی روک تھام ہو سکے گی یوں محترم افراد بھی (ضرورت اجتماعی کے اجرا میں) نفرت و حقارت نہیں کریں گے۔
کہتے ہیں کہ متعہ کی وجہ سے لاوارث بچے ناجائز اولاد کی طرح معاشرے میں رہتے ہیں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ ہم جو کچھ اس سے پہلے تحریر کر چکے ہیں اس سے اس سوال کا جواب بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ کیونکہ ناجائز اولاد قانون کی نظر میں ماں باپ مں سے کسی سے بھی وابستہ نہیں ہے۔ جبکہ متعہ کی اولاد اور عقد دائمی کی اولاد میں میراث اور دیگر حقوق اجتماعی کی رو سے ذرہ برابر بھی فرق نہں ہے۔ گویا حقیقت عامل سے بے خبری اشکال اور شک و شبہ کا سرچشمہ ہے۔
رسل اور نکاح موقت
اس گفتگو کے آخر ایک مفید بات کی یاد دہانی ضروری معلوم ہوتی ہے جسے مشہور انگریز دانشور بر ٹرنڈ رسل نے اپنی کتاب ”زنا شوئی اور اخلاق“ (بحوالہ: یہ برٹربڈ رسل کی کتاب کے فارسی ترجمے کا نام ہے۔ (مترجم)) میں آزمائشی شادی کے عنوان کے تحت لکھا ہے۔ وہ نوجوان کا محاکمہ کرنے والے جج ”بن بی لیند سی“ کی تجویز دوستانہ شادی یا آزمائشی شادی کا ذکر کرنے کے بعد لکھتا ہے:
جج صاحب موصوف کی تجویز کے مطابق نوجوانوں کو یہ اختیار ملنا چاہیئے کہ وہ ایک نئی قسم کی شادی کر سکیں۔ جو عام شادی (نکاح دائمی) سے تین امور میں مختلف ہو۔
۱۔ طرفین کا مصد صاحب اولاد ہونا نہ ہو اس سلسلے میں ضروری ہے کہ انہیں حمل روکنے کے طریقے سکھائے جائیں۔
۲۔ ان کی علیحدگی بآسانی ہو سکے۔
۳۔ طلاق کے بعد عورت کسی قسم کے نان و نفقہ کا حق نہیں رکھتی ہو۔
رسل جج لیند سی کا مقصد بیان کرنے بعد کہتا ہے:
میرا خیال ہے کہ اگر اس قسم کی شادی کو قانونی طور پر درست مان لیا جائے تو بہت نوجوان خصوصاً کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طالب علم وقتی نکاح پر تیار ہو جائیں گے اور ایک وقتی مشترک زندگی میں قدم رکھیں گے۔ ایسی زندگی جو اپنی جلومیں آزادی لئے ہوئے ہے اس طرح بہت سی معاشرے کے خرابیوں، لڑائی جھگڑوں، خصوصاً جنسی بے راہ روی سے نجات مل جائے گی۔ (بحوالہ: کتاب زنا شوئی و اخلاق صفحة ۱۸۹ و ۱۹۰)۔
جیسا کہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ نکاح موقت کے بارے میں مندرجہ بالا تجویز کئی لحاظ سے اسلامی حکم کی طرح ہے لیکن جو شرطیں اور خصوصیتیں اسلام نے نکاح موقت کے لئے تجویز کی ہیں وہ کئی لحاظ سے زیادہ واضح اور مکمل ہیں۔ اسلامی نکاح موقت میں اولاد نہ ہونے دینا ممنوع نہیں ہے اور فریقین کا ایک دوسرے سے جدا ہونا بھی آسان ہے۔ جدائی کے بعد نان و نفقہ بھی واجب نہیں ہے۔
ولاجناح علیکم فیما تراضیتم بہ من بعد الفریضة
آیت کے آخر میں یہ ذکر کرنے کے بعد کہ حق مہر کی ادائیگی ضروری ہے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اگر طرفین عقد ایک دوسرے کی رضا مندی کے ساتھ حق مہر کی مقدار میں کمی بیشی کریں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ اس لئے کہ مہر ایک ایسا قرض ہے جو طرفین کی مرضی سے تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں عقد موقت و دائمی میں کوئی فرق نہیں ہے اگرچہ ہم تفصیل سے لکھ چکے ہیں کہ یہ آیت نکاح موقت کے بارے میں ہے۔
مندرجہ بالا آیت کی تفسیر میں ایک اور بھی احتمال ہے اور وہ یہ کہ اس میں کوئی مانع نہیں کہ نکاح موقت کے ختم ہونے پر طرفین مدتِ نکاح اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ طے کر لیتے ہیں کہ معین شدہ مدت نکاح اور مقررہ حق مہر دونوں میں بقدر ضرورت اضافہ کر دیا جائے۔ روایات اہل بیت (ع) میں بھی اس تفسیر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
انَّ اللّہ کان علیماً حکیماً
جن احکام کی طرف اس آیت میں اشارہ ہوا ہے وہ ایسے ہیں جو نوعِ بشر کے لئے خیر و سعادت کے حامل ہیں کیونکہ پروردگار عالم بندوں کے مصالح سے آگاہ اور اجرائے قانون میں حکیم ہے۔
اور جو لوگ (آزاد) پاک دامن عورتوں سے نکاہ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے وہ کنیزوں میں سے پاک دامن ایماندار عورتوں سے جو ان کی ملکیت میں ہیں نکاح کریں خدا تمہارے ایمان سے آگاہ ہے اور تم سب ایک ہی پیکر کے مختلف اجزا ہو اور ان (کنیزوں ) سے ان کے مالکوں کی اجازت سے نکاح کرو لیکن ان کا حق مہران ہی کو اس شرط کے ساتھ دو کہ وہ پاک دامن رہیں نہ یہ کہ وہ کھلے بندوں زنا کرتی پھریں اور نہ ڈھکے چھپے یار بنائیں ا ور جب وہ سہاگن ہوں اور پھر عفت کے منافی کام کریں تو ان کے لئے آزاد عورتوں سے آدھی سزا ہو گی (کنیزوں سے نکاح کرنے کی) یہ اجازت صرف ان لوگوں کے لئے ہے (جو جنسی تقاضوں کے حوالے سے) سخت تنگ ہوں اگر صبر و تحمل سے کام لو تو تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔
تفسیر
کنیزوں سے نکاح
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
و من لم یستطیع منکم طولا ان ینکح.....
گذشتہ آیات میں نکاح کے متعلق مباحث کے بعد آیت کنیزوں سے نکاح کرنے کی شرطیں بیان کرتی ہے۔ سب سے پہلے کہتی ہے: جو لوگ آزاد عورتوں سے نکاح کرنے کے لئے مالی قدرت نہیں رکھتے وہ کنیزوں سے نکاح کر سکتے ہیں۔ جن کا حق مہر اور عام طور پر باقی مصارف ان کی نسبت زیادہ سہل اور آسان ہوتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: لفظ طول (بروزن نوع) سے ہے اور یہ توانائی، رسائی، مالی وسائل وغیرہ کے معنی میں آیا ہے)۔ البتہ کنیزوں سے نکاح سے مراد یہ نہیں ہے کہ کنیز کا مالک اپنی کنیز سے نکاح کرے کیونکہ وہ تو ان شرطوں کے مطابق جو فقہ کی کتابوں میں ہیں اپنی کنیز کو ایک بیوی کی طرح رکھ سکتا ہے۔ بنا بریں اس سے مراد مالک کے علاوہ دیگر افراد کا کسی کنیز سے نکاح کرنا ہے۔
ضمنی طور پر لفظ ”مومنات“ سے معلوم ہوتا ہے کہ کنیز کا یقینی طور پر مسلمان ہونا ضروری ہے تاکہ اس سے نکاح کر سکے۔ اس بنا پر اہل کتاب کنیزوں سے نکاح نہیں کر سکتا۔
`قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن ان کنیزوں کے لئے ”فتیات“ کا لفظ استعمال کرتا ہے فتیات جمع ہے اور عام طور پر یہ لفظ قابل احترام عورتوں اور زیادہ تر نوجوانوں لڑکیوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔
و اللہ اعلم بایمانکم
یہ جملہ بتایا جاتا ہے کہ تم ان کے ایمان کی تشخیص کے لئے ان کی ظاہری حالات اور اعتقاد کے پابند ہو باقی رہا ان کا باطن اور ان کے دل بھید تو خدا تمہارے ایمان و عقیدہ سے زیادہ آگاہ ہے۔
بعضکم من بعض
چونکہ بعض لوگ کنیزوں سے نکاح کرنا پسند نہیں کرتے تھے اس لئے قرآن فرماتا ہے کہ تم سب ایک ہی ماں باپ سے پیدا ہوئے ہو اور تم ایک دوسرے سے ہو۔ اس بنا پر تمہیں کنیزوں سے نکاح کرنے میں کراہت نہیں کرنا چاہئیے جو انسانی نقطہٴ نظر سے مختلف نہیں ہیں اور معنوی قدر و قیمت کی رو سے بھی دوسروں کی طرح ان کی قدر و منزلت تقویٰ و پرہیزگاری سے وابستہ ہے اور تم ایک ہی جسم کے مختلف اعضاء ہو۔
فانکحوھن باذن اھلھن
لیکن یہ ضروری ہے کہ یہ نکاح مالک کی اجازت سے ہو۔ کیونکہ یہ اس بات کی اجازت کے بغیر باطل ہے اور مالک کو اہل تعبیر سے کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مالکوں کو چاہیئے کہ وہ کنیزوں کے ساتھ جنسی تجارت اور مال و دولت کا سا سلوک نہ کریں بلکہ ایک خاندان کے سرپرست کی طرح ان کے ساتھ اولاد اور اہل عیال جیسا مکمل انسانی برتاوٴ کریں۔
و اٰتوھن اجورھن بالمعروف
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے لئے مناسب حق مہر مقرر کیا جائے اور وہ خود ان ہی کو دیا جائے یعنی مہر کی مالک خود لونڈیاں ہوں گی۔ اگرچہ مفسریں کی ایک جماعت کا یہ نظریہ ہے کہ اس آیت میں ایک لفظ محذوف ہے۔ ان کے خیال میں اصل میں یوں ہے: اٰتو مالکھن اجور ھن (ان کا مہر ان کے آقاوٴں کو دو) لیکن یہ تفسیر ظاہر آیت کے مطابق نہیں ہے۔ اگرچہ بعض روایات اس کی تائید کرتی ہیں۔ ضمناً آیت سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ غلام بھی ان اموال کے مالک ہو سکتے ہیں جو جائز طریقوں ان کے ہاتھ آئے۔ اور ”بالمعروف“ ”یعنی اچھائی کے ساتھ“ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ حق مہر مقرر کرنے میں ان پر کوئی ظلم و ستم نہ کیا جائے بلکہ ان کا واقعی حق یا معمول کے مطابق ادا کیا جائے۔
محصنات غیر مصافحات ولا متخذات اخدان
اس نکاح کی ایک اور شرط یہ ہے کہ ایسی کنیزوں کا انتخاب کیا جائے جو منافیٴ عفت و پاک دامنی کوئی حرکت ظاہر بظاہر یا ڈھکے چھپے یار بنا کر نہ کریں (ولا متخذات اخزان) (تشریحی نوٹ: اخدان خدن کی جمع ہے۔ یہ اصل میں دوست اور ساتھی کے معنی میں ہے۔ لیکن عام طور پر ایسے افراد کے لئے بولا جاتا ہے جو مخالف جنس کے ساتھ پوشیدہ اور ناجائز تعلق رکھتے ہوں۔ یاد رکھیے کہ لفظ خدن قرآن میں مرد اور عورت دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے)۔
ممکن ہے اس موقع پر یہ سوال پید اہو کہ ”غیر مسافحات“ کی تعبیر کے ذریعے زنا سے منع کرنے کے بعد پوشیدہ دوست بنانے (اخدان) سے منع کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ لیکن اس امر کے پیش نظر کہ زمانہ جاہلیت میں بعض لوگوں کا یہ عقیدہ تھا کہ صرف کھلے بندوں زنا برا فعل ہے لیکن ڈھکے چھپے یاری لگا کر یہ کارروائی بری نہیں ہے۔ اس سے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن نے ہر دو قسم کی وضاحت کیوں فرمائی ہے۔
فاذا احصن فان اتین بفاحشة فعلیھن نصف ما علی للمحصنات من العذاب
اس جملے میں ان احکام کی مناسبت سے جو کنیزوں کے ساتھ شادی کرنے اور ان کے حقوق کی حمایت کے بارے میں ہیں درمیان میں ان کی سزا کے بارے میں بھی بحث آ گئی ہے اور وہ یہ کہ جب وہ پاکدامنی اور عفت کی راہ سے ہٹیں اور بدکاری کریں تو آزاد عورتوں کی نسبت انہیں آدھی سزا دی جائے یعنی انہیں پچاس کوڑے مارے جائیں۔
دوسرا نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ کرنا چاہئیے یہ ہے کہ قرآن فرماتا ہے: ”اذا احصن“ یعنی اگر وہ محصنہ ہوں تو ان کے لئے یہ سزا ہو گی۔
”محصنہ“ سے یہاں کیا مراد ہے
مفسرین نے اس بارے میں کئی احتمال لکھے ہیں۔ بعض نے مشہور فقہی اصطلاح اور سابقہ آیت کے مطابق شوہردار عورت کے معنی میں اور بعض نے اسے مسلمان کے معنی میں لیا ہے۔ لیکن اس بات کی طرف سہاگنوں کی سزا سنگساری ہے نہ کہ تازیانے۔ غرض اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ پہلی تفسیر جس میں محصنہ کے معنی شوہر والی عورت بیان کیا گیا ہے قابل قبول نہیں ہے۔ اسی طرح دوسری تفسیر یعنی مسلمان ہونا اس پر بھی کوئی شاہد نہیں ہے۔ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ لفظ محصنات چونکہ قرآن مجید میں زیادہ تر پاک دامن عورتوں کے معنی میں آیا ہے یہی معلوم ہوتا ہے کہ حق یہ ہے کہ زیر نظر آیت اسی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ یعنی وہ لونڈیاں جو مالکوں کی سختی کے ڈر سے جسم فروشی کرتی تھیں انہیں تو سزا معاف ہے لیکن وہ کنیزیں جو اس جان لیوا سختی سے دوچار نہیں ہیں اور پاکدامنی کی زندگی بسر کر سکتی ہیں اگر وہ منافی عفت کام کریں تو انہیں آزاد عورتوں کی طرح سزا دی جائے گی۔ لیکن ان کی سزا آزاد عورتو ں کی نسبت آدھی ہو گی۔
ذٰلک لمن خشی العنت منکم
عنت (بروزن سند) اصل میں ہڈی کے دوبارہ ٹوٹنے کو کہتے ہیں یعنی ہڈی کا درد ہو کر زخم ملنے کے بعد نئے سرے سے کسی حادثے کی وجہ سے ٹوٹ جانا۔ واضح ہے کہ اس قسم کا ٹوٹنا انتہائی دردناک اور تکلیف دہ ہوتا ہے اسی لئے ”عنت“ کا لفظ روح فرسا، مشکلوں اور دکھ تکلف پہچانے والے کاموں کے لئے استعمال ہوتا ہے قرآن مجید مندرجہ بالا جملے میں فرماتا ہے: کنیزوں کے ساتھ شادی ان لوگوں کے لئے ہے جو جنسی خواہش کی وجہ سے بہت تنگ ہوں اور آزاد عورتوں سے شادی کرنے کی استطاعت بھی نہ رکھتے ہوں۔ اس بنا پر اس قسم کی شادی دوسرے افراد کے لئے جائز نہیں ہے ممکن ہے کہ اس حکم کا فلسفہ یہ ہو کہ اس زمانے میں خصوصاً لونڈیوں کی تربیت برے اور گئے گزرے حالات میں ایسی ہوتی تھی کہ وہ طبعا اخلاقی، روحانی اور معاشرتی نقائص میں مبتلا تھیں اور مسلم ہے کہ جو بچے اس شادی سے پیدا ہوتے، ان پر ماں کا کچھ نہ کچھ اثر پڑتا۔ اسی بنا پر اسلام نے غلاموں کی آزادی کے لئے ایک زبردست، تدریجی، اور عمدہ پروگرام پیش کیا تاکہ ہمیشہ کے لئے غلام بن کر نہ رہ جائیں نیز ضمنی طور پر غلاموں اور کنیزوں کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ شادی کر سکیں ۔ یقینا یہ بات اس امر کے منافی نہیں ہے کہ بعض کنیزیں اخلاقی اور تربیتی لحاظ سے مخلوط سے مخصوص استثنائی کیفیت رکھتی تھیں۔ جو کچھ اوپر لکھا گیا ہے وہ کنیزوں کی اکثریت کے بارے میں تھا۔ اب اگر ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں کہ بعض بزرگانِ دین کی مائیں کنیزیں تھیں۔ البتہ یہ بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ جو کچھ کنیزوں کے بارے میں ہے، ضرورت کے بغیر ممنوع ہے وہ ان سے شادی اور نکاح ہے نہ کہ ملکیت کے اعتبار سے جنسی میل ملاپ۔
و ان تصبروا خیر لکم
جہاں تک تمہاری طاقت میں ہو کہ تمہارا دامن گناہ سے آلودہ نہ ہو، اپنے آپ کو کنیزوں کے ساتھ بیاہ سے بچانا فائدہ مند ہے۔
و اللہ غفور رحیم
اور خدا ان برے کاموں کو جو تم گزرے ہوئے زمانے میں جہالت اور بےخبری کی وجہ سے کرتے رہے ہو بخشنے والا اور مہربان ہے۔
خدا چاہتا ہے کہ(نیکی اور خوش قسمتی کی راہیں ) تمہارے لیے واضح کرے اور گزرے ہوئے لوگوں کے صحیح طریقوں اور سنتوں کی طرف تمہاری ہدایت و رہبری کرے اور تمہیں گناہوں سے پاک کرے اور خدا دانا و حکیم ہے۔
خدا چاہتا ہے کنیزوں سے نکاح اور اسی قسم کے دوسرے احکامات کے ذریعے تمہارے لیے کام کو آسان کر دے اور انسان کمزور پیدا ہوا ہے۔
تفسیر
یہ پابندیاں کس بنا پر ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
یُریدُ اللَّہُ لِیُبَیِّنَ لَکُمْ وَ یَہْدِیَکُمْ سُنَنَ الَّذینَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَ یَتُوبَ عَلَیْکُمْ۔
ان شروط و قیود اور مختلف احکام کے بعد جو گذشتہ آیتوں میں نکاح کے متعلق اشارةً بیان ہوئے ہیں ہو سکتا ہے کہ بعض لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا ہو کہ ان تمام قانونی قیود و بند اور حدود کا کیا مقصد ہے۔ کیا یہ بہتر نہ تھا کہ ان امور میں انسان کو کھلی آزادی دے دی جاتی تاکہ جس طرح بعض دنیا پرست ہر ذریعے اور ہر طریقے سے لذت اور فائدہ اٹھاتے ہیں دوسرے لوگ بھی اس سے بہرہ ور ہوتے۔ مندرجہ بالا آیت حقیقت میں ان سوالات کا جواب دیتے ہوئے بتاتی ہے کہ خدا چاہتا ہے کہ ان مقررات اور احکام کے ذریعے تمہارے لئے حقائق واضح کرے اور تمہاری رہبری ایسے راستوں کی طرف کرے جن میں تمہارے لئے فائدہ ہی فائدہ ہے اور دیکھو تمہارے لئے ہی یہ پروگرام نہیں ہے بلکہ گذشتہ پاکیزہ قومیں بھی اس قسم کی سنتیں (قواعد و ضوابط) رکھتی تھیں۔ علاوہ ازیں خدا چاہتا ہے کہ تمہیں بخش دے اور اس کی وہ نعمتیں جو تمہاری غلطیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے تم پر بند ہو گئی ہیں دوبارہ تمہیں عنایت فرمائے اور یہ اس صورت میں ہے کہ قبل از اسلام زمانہٴ جاہلیت میں نافرمانی کے جو راستے تم نے اختیار کر رکھے تھے ان سے پلٹ آوٴ۔
و اللہ علیم حکیم
خدا اپنے احکام کے اسرار و رموز کو جانتا ہے اس نے اپنی حکمت سے تمہارے لئے احکام کو نافذ کیا ہے۔
وَ اللَّہُ یُریدُ اَنْ یَتُوبَ عَلَیْکُمْ وَ یُریدُ الَّذینَ یَتَّبِعُونَ الشَّہَواتِ اَنْ تَمیلُوا مَیْلاً عَظیماً
ازسرنو تاکید کرتا ہے کہ خداوند عالم ان احکام کے ذریعے یہ چاہتا ہے کہ وہ نعمتیں اور برکتیں جو تمہارے شہوتوں میں آلودہ ہونے کی وجہ سے تم سے چھن گئی تھیں، ان سے دوبارہ تمہیں نوازے لیکن وہ شہوت پرست جو گناہوں کی موجوں میں غرق ہیں یہ چاہتے ہیں کہ تم نیکی کے راستے سےبالکل منہ موڑ لو اور ان کی طرح سر سے لے کر ماوٴں تک گناہوں میں ڈوب جاوٴ۔ اب تم خود فیصلہ کرو لو کہ وہ پابندیاں جو تمہاری نیکی اور بلندی ٴ درجات کے لئے تمہارے لئے بہتر ہیں یا یہ آزادی اور شترِ بےمہار ہونا جس میں شکست، تنزل اور بدبختی ہے۔
یہ آیات حقیقت میں ان افراد کو جو ہمارے زمانے میں بھی دینی قوانین خصوصاً جنسی مسائل کے سلسلے میں اعتراضات کرتے ہیں جواب دیتی ہیں کہ ان بے قیدد و بند آزادیوں کی حقیقی سراب کی سی ہے اور ان کا نتیجہ انسانیت کی تکمیل و ترقی، کامیابی اور خوش بختی کی راہ سے روگردانی، بےراہروی میں گرفتاری اور ہلاکت کے گڑہوں میں گرنے کے مترادف ہے۔ جن کے بہت سے نمونے ہم اپنی آنکھوں سے خاندانوں کی تباہی، مختلف قسم کے جنسی جرائم، ناجائز اولاد، جنسی بیماریوں اور نفسیاتی پرشانیوں کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ یُریدُ اللَّہُ اَنْ یُخَفِّفَ عَنْکُمْ وَ خُلِقَ الْإِنْسانُ ضَعیفاً۔
یہ آیت اس نکتے کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ پہلا حکم مقررہ شرطوں کے ماتحت کنیزوں سے نکاح کی آزادی کے بارے میں ایک قسم کی آسانی اور کشادگی کے لئے تھا کیونکہ انسان اصولی طور پر ایک کمزور مخلوق ہے جس پر خواہشات نفسانی و شہوانی کے طوفان ہر طرف سے حملہ کرتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ وہ انسان کو ان کے مقابلے کے لئے ایسے ناجائز شرعی طریقے بتائے جن سے انسان ان خواہشات کی تسکین کا سامان فراہم کر سکے اور اپنے آپ کو غلط راستوں پر چلنے سے محفوظ رکھ سکے۔
اے ایمان والو! ایک دوسرے کے مال باطل اور ناجائز طریقے سے نہ کھاؤ مگر یہ کہ ایسی تجارت ہو جو تمہاری رضا مندی سے کی جائے اور خود کشی نہ کرو۔ خدا تم پر مہربان ہے ۔
اور جو شخص اس کام کو ازروئے ظلم کرے تو اسے ہم بہت جلد آگ میں ڈالیں گے اور یہ کام خداوند عالم کے لئے آسان ہے۔
تفسیر
معاشرے کی سلامتی کا دارومدار اقتصادی سلامتی پر ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
یا اَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا لا تَاْکُلُوا اَمْوالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْباطِلِ
درحقیقت یہ آیت قوانین ِ اسلام کی بنیاد کو مالی معاملات اور مبادلات سے تعلق رکھنے والے مسائل سے مربوط کرتی ہے۔ اسی وجہ سے فقہائے اسلام لین دین اور معاملات کے تمام ابواب میں اسی سے استدلال کرتے ہیں۔ آیت ایماندار لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتی ہے: ایک دوسرے کے اموال غلط اور باطل طریقوں سے نہ کھاوٴ ۔ یعنی دوسروں کے مال میں ہر قسم کا تصرف جو منطقی اور عقلی جواز کے بغیر ممنوع قرار دیا گیا ہے اور ان سب کو ایک لفظ ”باطل“ کے تحت بیان کر دیا گیا ہے۔ جو ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے، ہم جانتے ہیں کہ باطل حق کے مقابلے میں ہے اور وہ ہر اس چیز کو جو بری، بےمقصد اور بےبنیاد ہو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ قرآن کی دوسری آیتوں میں بھی مندرجہ بالاعبارت کے مشابہ عبارتوں کے ذریعے اس امر کی تاکید کی گئی ہے مثلاً قوم یہود کی مذمت اور ان کی بدکرداری کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:
و اکلھم اموال الناس بالباطل (نساء۱۶۱)
وہ لوگوں کے مال میں جواز کے بغیر غلط تصرف کرتے تھے۔
اور سورہٴ بقرہ کی آیت ۱۸۸ میں ہے:
لا تاٴکلوا اموالکم بینکم بالباطل
اس میں بھی لوگوں کی بلاوجہ اور بےبنیاد دعوؤں کے ذریعے مال ہڑپ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
اس بنا پر ہر قسم کی زیادتی، دھوکا ، فریب، سود لین دین ، اور ایسے معاملے جن کی حدیں مکمل طور سے معین و مقرر نہیں ہیں، ایسی اجناس کی خرید و فروخت جن میں منطقی اور عقلی طور پر فائدہ نہیں ہے اور فساد و گناہ کے وسائل کی خرید و فروخت سے کے سب اسی کلی قانون کے تحت ہیں۔ اگر چہ بہت سی روایتوں میں لفظ باطل کی تفسیر قمار بازی اور سود وغیرہ کی گئی ہے لیکن یہ دراصل ان چیزوں کا تعارف کرایا گیا ہے جو واضح طور پر اس لفظ میں شامل ہیں نہ یہ کہ باطل انہی تک محدود ہے۔ شاید یاد دہانی کی ضرورت نہ ہو کہ (اکل ّ) (کھانا) سے تعبیر کرنا ہر قسم کے تصرف کی طرف اشارہ ہے۔ چاہے وہ معمول کے مطابق کھانے سے ہو یا پہننے اور رہائش وغیرہ سے اور یہی معنی عربی زبان کے علاوہ آج کل کی فارسی میں بھی مکمل طور پر رائج ہے۔ (بحوالہ اردو میں بھی ’کھانا ‘ اس وسیع معنی میں مستعمل ہے۔( مترجم ) استثناء منقطع اکثر و بیشتر حکم کی عمومیت کی تاکید کے لئے آتا ہے اور یہی معنی آیت مندرجہ بالا پر صادق آتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس حقیقت کا بھی پتہ دیتا ہے کہ تصرفاتِ باطل کی حرمت کے باوجود زندگی کی راہیں تمہارے لئے بند نہیں ہیں اور تم جائز تجارت کے ذریعے اپنا مقصد حاصل کر سکتے ہو)۔
الا ان اکون تجارۃ عن تراض۔
یہ جملہ گذشتہ قانونِ کلی کی استثنائی صورت بیان کر رہا ہے لیکن اصطلاحی طور پر استثنائے منقطع ہے۔ یعنی جو کچھ اس جملے میں آیا ہے وہ پہلے قانون میں شروع ہی سے داخل نہ تھا اور صرف ایک تاکید اور یاد دہانی کے طور پر ذکر ہوا ہے اور یہ اپنے مقام پر خود ایک کلی قانون ہے کیونکہ خدا تعالےٰ فرماتا ہے:فرماتا ہے: مگر یہ کہ تمہارا دوسروں کے مالوں میں تصرف عدل و انصاف کے مطابق ہو جو طرفین کی باہمی رضا و رغبت سے ہو۔ اس لئے اس بیان کے مطابق تمام مالی مبادلات اور لوگوں میں مروج مختلف طرح کی تجارت اگر طرفین کی رضامندی سے ہو اور عقل و منطق کے مطابق ہوتو اسلام میں جائز ہے۔ مگر وہ امور اس میں داخل نہیں ہیں جن سے بر بنائے مصلحت صریحاً ممانعت کی گئی ہو ۔ وَ لا تَقْتُلُوا اَنْفُسَکُمْ إِنَّ اللَّہَ کانَ بِکُمْ رَحیماً
اس کے بعد اس آیت کے ذیل میں لوگوں کو قتل نفس سے منع کیا گیا ہے۔ اگر قرآن کا یہ جملہ سامنے رکھا جائے: ان اللہ بکم رحیماً یعنی خد اوندعالم تمہاری نسبت زیادہ مہربان ہے تو اس سے معلوم ہوتا ہے مندرجہ بالاجملہ خود کشی سے نہی کے بارے میں ہے۔ یعنی مہربان خدا نہ صرف اس پر راضی نہیں کہ کو ئی دوسرا تمہیں قتل کرے بلکہ تمہیں یہ بھی اجازت نہیں دیتا کہ تم خود سے اپنے آپ کو موت کے گھاٹ اتار دو۔ روایات اہل بیت (ع) میں بھی زیر نظر آیت کا مفہوم خودکشی سے امتناع ہی بیان کیا گیا ہے۔(بحوالہ تفسیر مجمع البیان آیہٴ مذکور کے ذیل میں ، نور الثقلین جلد اول صفحہ ۴۷۲ پرملاحظہ فرمائیے)۔ ۱ب یہ سوال ابھر کر سامنے آتا ہے کہ قتل نفس اور لوگوں کے مال میں باطل و ناحق تصرف میں کیا تعلق ہے؟ اس سوال کا جواب واضح ہے اور حقیقت میں قرآن نے ان دونوں احکام کا ایک دوسرے کے ساتھ ذکر کرکے ایک اہم اجتماعی نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر لوگوں کے مالی مسائل صحیح بنیادوں پر استوار نہ ہوں اور معاشرے کے اقتصادی معاملات خوشگوار طریقہ سے آگے نہ بڑھیں۔ وہ ایک دوسرے کے اموال میں ناحق تصرف کریں تو سماج ایک قسم کی خودکشی میں گرفتار ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ کہ شخصی خودکشی میں اضافہ ہو گا اجتماعی اور معاشرتی خودکشی بھی اس کے ضمنی اثرات میں سے ہو گی۔ اس سے دور حاضر کے مختلف معاشروں میں آنے والے حوادث و انقلاب اس حقیقت کے شاہد عادل ہیں۔ چونکہ خداوند عالم اپنے بندوں پر مہربان ہے لہٰذا انہیں خطر ے خبر دار کرتا ہے تاکہ وہ ہوشیار اور چوکنے رہیں۔ کہیں غلط قسم کے مبادلاتِ مال اور غیر صحیح اقتصادی نظام ان کے معاشرے کو نیست و نابود کرکے نہ رکھ دے۔
وَ مَنْ یَفْعَلْ ذلِکَ عُدْواناً وَ ظُلْماً فَسَوْفَ نُصْلیہِ ناراً ۔
اور جو شخص اس حکم کو نہ مانے اور لوگوں کو ناحق مال کھا کر گناہگار ہو یا خودکشی کی طرف بڑھے تو نہ صرف یہ کہ وہ اس جہان کی آگ میں جلے گا بلکہ وہ قہر و غضب پروردگار کی آگ میں بھی جلے گا اور یہ کام خدا کے لئے آسان ہے (وَ کانَ ذلِکَ عَلَی اللَّہِ یَسیراً ) (بحوالہ صلی ( بروزن سرو) اصلی آگ کے قریب جانے کے معنی میں ہے ۔ تاہم آگ سے گرم ہونے ، جھلسنے اور جلنے کو بھی صلی کہتے ہیں زیر بحث آیت میں یہ لفظ آگ میں داخل ہونے اور جلنے کے معنی میں ہے)۔
اگر تم ان گناہان کبیرہ سے جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے بچوگے تو ہم تمہارے چھوٹے موٹے گناہوں کی پردہ پوشی کریں گے اور تمہیں نہایت عمدہ اور اچھی جگہ عنایت فرمائیں گے۔
تفسیر
گناہان کبیرہ و صغیرہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
إِنْ تَجْتَنِبُوا کَبائِرَ ما تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّئاتِکُمْ۔
یہ آیت صراحت کے ساتھ اعلان کرتی ہے کہ اگر تم گناہان کبیرہ کو جن کی ممانعت کی جا چکی ہے چھوڑ دو، تو ہم تمہارے ”سیئات“ کی پردہ پوشی کریں گے اور تمہیں بخش دیں گے اور تمہیں جنت عطا کریں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گناہ دو قسم کے ہیں۔ ان میں سے ایک کا نام قرآن نے کبیرہ اور دوسری قسم کا ”سیئة“ اور سورہٴ نجم کی آیت ۳۲ میں سیئة کی بجائے ”لمم“ (بحوالہ لمم (بر وزن قسم) چھوٹے اور کم اہمیت والے کام کو کہتے ہیں)۔ فرمایا ہے اور سورہٴ کہف کی آیت ۴۹ میں کبیرہ کے مقابلے میں صغیرہ کا ذکر کیا ہے۔ جہاں ارشاد ہوتا ہے:
لا یغادر صغیرة ولا کبیرة الا احصاھا
یہ اعمال نامہ کسی چھوٹے بڑے گناہ کو نہ بھولے گا اور اسے ضرور شمار کرے گا۔
اس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ گناہ کی جانی پہچانی دو قسمیں ہیں کہ جن کو کبھی کبیرہ اور صغیرہ سے اور کبھی کبیرہ اور سیئة سے اور کبھی کبیرہ اور لمم سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
اب دیکھنا ہے کہ گناہ صغیرہ و کبیرہ کے تعین کے لئے کیا ضابطہ اور میزان ہے۔
بعض کہتے ہیں کہ یہ دونوں نسبتی امور ہیں یعنی جب دو گناہوں کا ایک دوسرے مقابلہ کیا جائے تو جس کی اہمیت زیادہ ہے وہ کبیرہ ہے اور جس کی کم حیثیت ہے وہ صغیرہ ہے، اس لئے ہر گناہ اپنے سے زیادہ بڑے گناہ کی نسبت سے گناہِ صغیرہ ہو گا اور اپنے سے چھوٹے گناہ کی بسنت کبیرہ ہو گا۔(تشریحی نوٹ: طبرسی مرحوم نے مجمع البیان میںاس عقیدے کی نسبت شیعہ علماء کی طرف دی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ ہمارے بہت سے علماء دوسرا نظریہ رکھتے ہیں جس کی ہم تشریح کریں گے)۔
لیکن ظاہر ہے کہ یہ معنی کسی طرح بھی زیر نظر آیت کے مطابق نہیں کیونکہ آیت نے دو گروہوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا ہے اور انہیں ایک دوسرے کے مدمقابل قرار دیا ہے اور ایک سے پرہیز کو دوسرے کی بخشش کا ذریعہ قرار دیا ہے (غور فرمائیے گا)۔
لیکن اگر کبیرہ کے لغوی معنی کو دیکھیں تو ہر وہ گناہ کبیرہ ہو گا جو اسلام کی نظر میں بڑا اور زیادہ اہم ہے اور ا س کی اہمیت کی نشانی یہ ہو سکتی ہے کہ قرآن مجید نے صرف اس کی ممانعت پر قناعت نہ کی ہو بلکہ اس کے ساتھ ساتھ عذاب جہنم کی دھمکی بھی ہو سکتی ہو مثلاً قتل زنا، سود خوری وغیرہ ۔ا سی لئے روایاتِ اہل بیت(ع) میں ہے:
الکبائر التی اوجب اللہ عزو جل علیھا النار
گناہان کبیرہ وہ ہیں جن پر خداوند عالم نے آگ کی سزا مقرر فرمائی ہے۔ (بحوالہ نور الثقلین، جلد ۱، صفحہ ۴۷۳)۔
اس حدیث کا مضمون حضرت امام باقر (ع) حضرت امام جعفر صادق (ع) اور امام علی بن موسیٰ رضا (ع) سے منقول ہے گناہان کبیرہ کو سمجھنے اور مذکورہ ضابطے کی روشنی میں انہیں پہنچاننے کے بعد کام آسان ہو جاتا ہے۔
اب ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ روایات میں کبائر کی تعداد سات اور بعض میں بیس اور بعض میں ستر ہے جو کچھ ہم کہہ چکے ہیں وہ اس کے منافی نہیں ہے۔ کیونکہ اصل میں ان روایات میں سے بعض پہلے درجہ کے گناہان کبیرہ کی طرف بعض دوسرے درجہ کے کبائر کی طرف اور بعض سب گناہانِ کبیرہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
ایک اشکال اور اس کی وضاحت
یہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ آیت تو گناہان صغیرہ کی تشویق دلاتی ہے کیونکہ وہ کہتی ہے: گناہان کبیرہ کو ترک کرنے کے بعد گناہان صغیرہ کونے میں کوئی حرج نہیں۔
اس آیت میں جس تعبیر کا ذکر کیا گیا ہے اس سے اعتراض کا جواب بخوبی واضح ہو جاتا ہے کیونکہ قرآن فرماتا ہے: فکفر عنکم سیئاتکم (ہم تمہارے چھوٹے گناہوں کو چھپا دیں گے) یعنی گناہان کبیرہ سے پرہیز کرنا، خصوصاً بنیادیں مضبوط ہونے کی صورت میں انسان میں تقویٰ ایک ایسی حالت پیدا کر دیتا ہے جو ممکن ہے چھوٹے گناہوں کے اثرات کو اس کے وجود سے دھو ڈالے۔ اصل میں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے:
ان الحسنات یذھبن السیئات (ھود،۱۴)
حسنات سیئات کو ختم کر دیتے ہیں۔
زیر نظر آیت میں حقیقی نیک اعمال کے حقیقی آثار کی طرف اشارہ ہے اور یہ بالکل اس طرح سے ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ اگر انسان خطرناک زہریلے مواد سے پرہیز کرے اور اس کی صحت بھی صحیح و سالم ہو تو صحت کی سلامتی کی وجہ سے بعض غیر مناسب غذاوٴں کے ناپسندیدہ اثرات ختم ہو سکتے ہیں۔
گناہ صغیرہ کس طرح کبیرہ میں تبدیل ہو جاتا ہے
اس موقع پر ہمیں ایک اہم نکتے کی طرف توجہ دینے چاہئیے اور وہ یہ ہے کہ گناہ صغیرہ اس صورت میں صغیرہ رہتا ہے جب اس میں تکرار نہ ہو علاوہ ازیں اسے معمولی سمجھتے ہوئے، غرور اور سرکشی کے طور پر نہ کیا جائے کیونکہ قرآن اور اسلامی روایات کے مطابق یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اکثر مواقع پر گناہان صغیرہ، گناہان کبیرہ میں بدل جاتے ہیں مثلاً
۱۔ جب انہیں بار بار کیا جائے۔جیسا کہ حضرت امام جعفر صادق (ع) سے منقول ہے کہ آپؐ نے فرمایا:
لا صغیرة مع الاصرار۔
کوئی گناہ بار بار کرنے سے گناہ صغیرہ نہیں رہتا۔ (بحوالہ اصولِ کافی، جلد 2، صفحہ288)
۲۔ جب کسی گناہ کو چھوٹا معمولی سمجھا جائے۔ چنانچہ نہج البلاغہ میں ہے:
اشدّ الذنوب ما استھان بہ صاحبہ۔
سخت ترین گناہ وہ ہے جس کا کرنے والا اسے چھوٹا سمجھے۔ (بحوالہ نہج البلاغہ کلمات قصار)۔
٣۔ جب گناہ طغیان، تکبر اور حکم پروردگار کے سامنے سرکشی کے ارادے سے کیا جائے۔ یہ بات مختلف آیتوں سے اجمالی طور پر معلوم ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سورہٴ النازعات کی آیت ۳۷ میں ہے:
رہے وہ لوگ جو سرکشی اور طغیان کریں، بنیادی زندگی کو آخرت پر مقدم سمجھیں تو ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔
۴۔ وہ گناہ جو ایسے افراد سے سرزد ہوں جو معاشرے میں ایک خاص مقام رکھتے ہوں اور ان کی لغزش دوسروں کے برابر نہ سمجھی جاتی ہو۔ جیسے قرآن سورہٴ احزاب میں ازدواج پیغمبرؐ کے بارے میں فرماتا ہے:
اگر تم کوئی برُا کام کر دو گی تو اس کی سزا پاوٴ گی۔
اور حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
من سنّ سنة سیئة فعلیہ وزرھا و وزر من عمل بھا لاینقص من اوزارھم شیئاً۔
اگر کوئی شخص بری سنت اور طریقے کی بنیاد رکھے تو اس کا گناہ اس پر ہو گا۔ اسی طرح تمام لوگوں کا گناہ بھی جو اس پر عمل کریں گے اس کے بغیر کہ ان کے گناہ میں کچھ کمی ہو۔ (بحوالہ محجة البیضای جلد ۷ صفحہ ۶۱)
۵۔ جب اس گناہ کے کرنے پر خوش ہو اور اس پر فخر کرے۔ جیسا کہ حضرت پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا ہے:
من اذنب ذنبا وھو ضاحک دخل النار وھو باک
جو شخص گناہ کرے اور پھر اس پر ہنسے تو وہ روتے ہوئے جہنم کی آگ میں داخل ہو گا۔
۶۔ گناہ کے بعد فوراً سزا ملنے کو رضائے الہٰی کی دلیل سمجھے اور اپنے آپ کو سزا سے محفوظ اور بارگاہ الہٰی میں محبوب قرار دے جیسا کہ قرآن مجید کی سورہٴ مجادلہ آیت ۸ میں ہے:
(مغرور گناہگار) اپنی طرف سے کہیں گے کہ خدا ہمیں کیوں سزا نہیں دیتا۔
اس کے بعد قرآن مزید فرماتا ہے:
ان کے لئے دوزخ کی آگ کافی ہے۔
جو فضیلت خدا نے تم میں سے بعض کو بعض پر دی ہے اس کی تمنا اور آرزو نہ کرو ۔ مرد اس سے جو کسب و کوشش کرتے ہیں حصہ پا لیتے ہیں اور عورتیں جو کسب اور کوشش کرتی ہیں اس میں سے حصہ حاصل کرتی ہیں۔ اور خدا سے اس کے فضل کا سوال کرتے رہو اور وہ خدا ہر چیز کو جانتا ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
مشہور مفسر ”طبرسی“ مجمع البیان میں نقل کرتے ہیں کہ حضرت ام سلمیٰ (زوجہ پیغمبرؐ) نے پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں عرض کیا: جب مرد جہاد کے لئے جاتے ہیں تو عورتیں کیوں نہیں کر سکتیں اور ہمارے لئے آدھی میراث کیوں ہے؟ کاش ہم بھی مرد ہوتیں اور ان کی طرح جہاد پر جاتیں اور معاشرے میں ان کی سی حیثیت رکھتیں۔
اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی جس کے ذریعے اس سوال اور ایسے ہی دوسرے سوالات کا جواب دیا گیا ہے۔ تفسیر المنار میں ہے کہ جب میراث کی آیت نازل ہو اور اس نے مردوں کا حصہ عورتوں سے دوگنا بتایا بعض مسلمان مرد کہنے لگے: کاش ہمارا معنوی اجر و ثواب ان کی طرح ہوتا اور بعض عورتوں نے کہا کہ کاش ہماری سزا اور عذاب بھی مردوں کی سزا سے آدھی ہوتی جس طرح ہماری میراث ان کی نسبت آدھی ہے۔
اس پر آیتِ مندرجہ بالا نازل ہوئی اور انہیں جواب دیا گیا۔ یہی شانِ نزول تفسیر فی ظلال اور روح المعانی میں معمولی سے فرق کے ساتھ تحریر ہے۔
تفسیر
وَلاَ تَتَمَنَّوْاْ مَا فَضَّلَ اللّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ
جیسا کہ ہم شان نزول میں کہہ چکے ہیں مردوں اور عورتوں کی میراث کا فرق کچھ مسلمانوں کے لئے ایک مشکل سوال بن گیا تھا گویا وہ اس بات کی طرف توجہ نہیں دیتے تھے کہ یہ فرق اس بناء پر ہے کہ امور زندگی کا بوجھ زیادہ تر مردوں کے کندھوں پر ہوتا ہے اور عورتوں کو اس سے مستثنیٰ سمجھا جاتا ہے۔ مزید برآں عورتوں کے اخراجات بھی مردوں کو اٹھانے پڑتے ہیں۔ جیسا کہ ہم پہلے اشارہ کر چکے ہیں کہ عملی طور پر عورتوں کا حصہ مردوں سے دوگنا ہو جاتا ہے۔ اسی لیے آیت مندرجہ بالا کہتی ہے کہ خداوند عالم نے جو فرق تم میں سے بعض کے لئے دوسروں کی نسبت مقرر کر دیا ہے اس کی آرزو نہ کرو۔ کیونکہ اس فرق میں بہت سے اسرار و رموز چھپے ہوئے ہیں۔ جو تمہاری مسجد سے بالا ہیں خلقت، آفرنیش، خبیت اور ضغیت کے اعتبار سے اور جسمانی اور روحانی صفات کے حوالے سے تم آپس میں اختلافات رکھتے ہو اور یہی تمہارے نظام کی بنیاد ہے۔ تم میں حقوق اور مختلف حیثیتوں کی وجہ سے احکام کا فرق (مثلاً میراث میں) رکھا گیا ہے۔ یہ سب اختلافات اور فرق عدالت و قانون الہٰی کے مطابق ہیں۔ اگر اس کے علاوہ کسی اور بات میں مصلحت ہوتی تو خدا ویسا ہی کرتا۔ بنا بریں ان کی تبدیلی کی خواہش و آرزو سے مشیت ایزدی کی ممانعت ہے جو سراسر حق و عدالت ہے۔ البتہ یہ شک نہیں کرنا چاہئے کہ آیت حقیقی اور طبعی فرق کی طرف اشارہ کرتی ہے نہ کر اس خود ساختہ تفاوت کی جانب جو طبقاتی استعمار اور استشمار کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے کیونکہ وہ نہ خدا کی مشی کے مطابق ہے اور نہ کوئی ایسی چیز ہے جس کے بدلنے کے آرزو درست نہ ہو بلکہ وہ ظالمانہ اور غیر منطقی فرق ہے جسے دور کرنے کی کوشش کرنا چاہئے۔ مثلاً عورتیں یہ تمنا اور آرزو نہیں کر سکتیں کہ کاش وہ مرد ہوتیں اور مردوں کو بھی یہ تمنا نہیں کرنا چاہیئے کہ کاش وہ عورتیں ہوتے کیونکہ یہ دونوں جنسیں انسانی سوسائٹی کی بنیاد ہیں۔ اس کے باوجود یہ جنسی تفاوت اس بات کا سبب نہیں ہونا چاہئے کہ ان میں سے ایک دوسرے کے حقوق کو پامال کرے۔ وہ لوگ جو اس آیت کو اجتماعی دھڑے بندیوں اور تفرقہ بندی کو جاری رکھنے کے لئے دستاویز سمجھتے ہیں وہ سخت استباہ میں ہیں۔
لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُواْ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ
اس لیے بلا فاصلہ فرماتا ہے، مرد اور عورتوں میں سے ہر ایک اپنی اپنی سعی و کوشش اور حیثیت کے لحاظ سے بہرور ہوتے ہیں چاہے طبعی حیثیت سے جو (مثلاً مرد اور عورت کی جنس کا ایک دوسرے سے فرق) یا جستجو اور اختیاری کوشش سے ہو۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ لفظ الکتساب جس کے معنی حاصل کرنا ہیں اس کا مفہوم وسیع ہے اور اختیاری کوششوں اور ان چیزوں پر بھی حاوی ہے جنہیں انسان طبعی ساخت کی بنا پر حاصل کرتا ہے۔
وَاسْأَلُواْ اللّهَ مِن فَضْلِهِ
اس کے بعد ارشاد فرماتا ہے کہ اس قسم کے فرق کی تمنا کرنے کی بجائے خداوند عالم کے لطف و کرم کی آرزو کرو۔ تاکہ وہ تمہیں طرح طرح کی نعمتوں بلند توفیقات اور نیک جزاؤں سے نوازے اور ان کے نتیجہ میں تم خوش قسمت اور سعادت مند بن جاؤ۔
تم مرد ہو یا عورت اس خاندان سے ہو یا اس خاندان سے بہرحال وہ چاہو جس میں تمہاری حقیقی بھلائی اور نیک بختی ہو وہ نہ چاہو جس کا تم تصور کرتے ہو۔ شاید مِن فَضْلِهِ کی تعبیر کا اسی طرف اشارہ ہو۔ البتہ واضح ہے کہ خداوند عالم کے فضل و کرم کی خواہش کا یہ مفہوم نہیں کہ انسان ہر چیز کے اسباب و عوامل کے پیچھے پڑ جائے بلکہ اسے چاہے کہ وہ خدا تعالےٰ کی رحمت کو ان اسباب کے اندر تلاش کرے جنہیں اس نے مقرر فرمایا ہے۔
إِنَّ اللّهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا۔
چونکہ پروردگار ہر چیز کو جانتا ہے کہ اجتماعی نظام کے لئے اختلاف طبعی اور حقوق کے پیش نظر کونسا فرق ضروری ہے اور اسی بنا پر اس کے کاموں میں کسی قسم کی بے انصافی، فرقہ بندی اور نامناسب فرق نہیں ہے۔ نیز وہ لوگوں کے باطنی بھیدوں کو بھی جانتا ہے کہ کون سے لوگ اپنے دلوں میں غلط امیدوں کو پروان چڑھاتے رہتے یہں اور کونسے افراد مشیت اور اصلاحی چیزوں کے بارے میں سوچتے ہیں۔
یہ تفاوت واختلاف کیوں ہے؟
بہت سے لوگ دل ہی دل میں سوچتے ہیں کہ بعض افراد کی استعداد زیادہ اور بعض کی کم ہے بعض خوبصورت ہیں اور بعض بدصورت بعض جسمانی طور پر قوی ہیں اور بعض کمزور، تو کیا یہ طبعی فرق و اختلاف پروردگار عالم کی عدالت سے موافقت رکھتے ہیں۔
ہمیں جو اب کے سلسلے میں چند نکات کی طرف توجہ دینا چاہیئے:
۱۔ بعض فرق جو جسمانی و روحانی طور پر لوگوں کے درمیان ہیں وہ طبقاقی مظالم، اور اجتماعی یا انفرادی آرام طلبی کی وجہ سے ہیں جن کا کارخانہ قدرت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مثلاً بہت سے اہل ثروت کی اولاد غریب لوگوں کی اولاد سے جسمانی طور پر قوی اور خوبصورت ہوتی ہے اور وہ استعداد کے لحاظ سے بھی ان سے آگے ہوتی ہے کیونکہ وہ بہتر غذا اور صحت مندانہ ماحول سے بہرہ مند ہوتی ہے۔ جب کہ دوسرے ان سے محروم ہیں یا بعض لوگ ایسے ہیں جو سستی اور آرام طلبی کی وجہ سے جسمانی اور روحانی قویٰ ضائع کر دیتے ہیں۔ غرض اس قسم کے خود ساختہ اختلافات کو بے دلیل اور بے سبب سمجھنا چاہیئے جو طبقاقی نظام کے خاتمے اور اجتماعی عدالت کے عام ہونے پر ختم ہو جائیں گے اور کبھی بھی اسلام اور قرآن نے ایسے تفاوت کو صحیح قرار نہیں دیا۔
۲۔ لیکن بعض طبعی اور پیدائشی فرق انسان کے لئے ضروری ہیں۔ یعنی اگر ایک معاشرہ مکمل طور پر عدالت اجتماعی سے فائدہ اٹھائے اس صورت میں بھی معاشرے کے تمام افراد ایک کارخانہ کی مصنوعات کی طرح ہم شکل، ہم وزن اور ہم کیفیات نہ ہوں گے اور فطری طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہوں گے لیکن یہ جاننا چاہئے کہ عام طور خداوند عالم کی طرف سے جسمانی اور روحانی نعمتیں اور انسانی صلاحیتں اس طرح تقسیم ہوئی ہیں کہ ہر شخص کو ان میں سے کچھ حصہ دیا گیا ہے یعنی ایسے اشخاص بہت کم ملتے ہیں کہ جن میں سب کی سب خوبیاں جمع ہوں۔ ایک شخص جسمانی طاقت رکھتا تو دوسرا علم ریاضی میں ماہر ہے ایک ذوق شاعری رکھتا ہے تو دوسرا تجارت میں مہارت۔ ایک زراعت کی دھن میں ہے تو دوسرا کوئی اور استعداد رکھتا ہے۔ اہم یہ ہے کہ معاشرہ یا لوگ خود اپنی مختلف قابلیتوں کا ادراک کریں اور انہیں ایک صحت مندانہ ماحول میں پروان چڑھائیں تاکہ ہر شخص اپنی قوت و استعداد کو آشکار کر سکے اور اس سے فائدہ اٹھا سکے۔
۳۔ اس امر کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ معاشرہ بھی انسان کے جسم کی طرح مختلف بناوٹوں اعضاء اور مختلف طرح کے خلیوں کا محتاج ہے اگر ایک جسم سارے کا سارا نازک اور باریک رگوں مثلاً آنکھ اور دماغ کی رگوں سے بنا ہوا ہو تو اس کے لئے بقا نہیں ہے اور اگر بدن کی تمام رگیں سخت اور مڑنے کے قابل نہ ہوں بلکہ ہڈیوں کی طرح ہوں تو وہ مختلف فرائض اور ذمہ داریوں کو انجام نہ دے سکیں گی بلکہ طرح طرح کی رگوں کا ہونا ضروری ہے۔ تاکہ کوئی سوہنے کی کوئی دیکھنے کی کوئی سننے کی اور کوئی بات کرنے کی ذمہ داری بجا لا سکے۔ اسی طرح ایک مکمل معاشرے کے لئے مختلف قابلیتوں اور مختلف بدنی و فکری صلاحیتوں کی ضرورت ہے لیکن اس طرح نہیں کہ معاشرے کے جسم کے بعض حصے محرومی کی زندگی گزاریں یا ان کی کارکردگی کو معمولی سمجھا جائے اور ان کی تحقیر کی جائے۔ جس طرح بدن کی سب رگیں طرح طرح کے اختلافات کے باوجود غذا ہوا غرضیکہ تمام ضروریات زندگی سے پورا پورا فائدہ اٹھاتی ہیں۔ اسی طرح سب انسانوں کو یکساں ہونا چاہئے۔ دوسرے لفظوں میں جہاں کہیں ان میں جسمانی اور باطنی ساخت کا فطری فرق ہے (نہ کہ ظالمانہ و جابرانہ) وہ خداوند عالم کی حکمت کا تقاض ہے اور عدالت کبھی حکمت سے جدا نہیں ہوتی۔ مثلاً اگر انسانی جسم کے تمام خلیے (CELLS) ایک ہی قسم کے پیدا کیے جاتے تو یہ حکمت و مصلحت کے خلاف ہوتا اور عدالت بھی اس میں موجود نہ ہوتی کیونکہ عدالت کا مطلب ہے ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھنا ہی طرح مگر معاشرے کے تمام لوگ کسی دن ایک ہی قسم کی سوچ رکھتے ہوں اور سب کی قابلیت و استعداد بھی برابر کی ہو تو اسی ایک دن میں معاشرہ کی طور پر درہم برہیم ہو جائے گا۔ اس لیے مندرجہ بالا آیت میں جو کچھ عورت مرد کی ساخت کے اختلاف اور فرق کے بارے میں آیا ہے وہ حقیقت میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ واضح ہے کہ اگر تمام افراد بشر مرد یا عورت ہوتے تو نسل انسانی جلد ہی ختم ہو جاتی۔ علاوہ ازیں نوع بشر کی جائز لذیتوں کا اہم حصہ بھی نیست و نابود ہو جاتا اب اگر کچھ لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ بعض کو مرد اور بعض کو عورت کیوں پیدا کیا گیا ہے اور یہ پروردگار عالم کی کونسی عدالت ہے تو ظاہر ہے کہ یہ اعتراض منطقی اور عقلی نہ ہو گا۔ کیونکہ اعتراض کرنے والوں نے اس کی حکمت و مصلحت کے بارے میں غفور و فکر نہیں کیا۔
ہم نے ہر شخص کے لئے وارث قرار دیئے ہیں جو ماں باپ اور نزدیکیوں سے ورثہ پاتے ہیں نیز جن لوگوں نے تم سے عہد و پیمان باندھا ہے ان کا حصہ بھی انہیں دے دو خدا ہر چیز پر شاہد و ناظر ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
ولكل جعلنا موالی (بحوالہ: موالی مولٰی کی جمع ہے جو اصل میں ولایت کے مادہ سے ارتباط و اتصال کے معنی میں ہے اور تمام ان افراد پر جو ایک دوسرے کسی قسم کا ربط رکھتے ہیں بولا جاتا ہے۔ اور بعض مقامات پر رات کے پیروکاروں سے رابطے میں استعمال ہوتا ہے کی اس آیت میں بارشوں کے معنی میں ہے)۔ مماترك الوالدان والاقربون
یہاں قرآن مسائل میراث کی طرف لوٹتا ہے اور فرماتا ہے: ہم نے مرد اور عورت میں سے ہرایک کے لیے وارث بنائے ہیں جو کچھ ماں باپ اور نزدیکی رشته دار چھوڑ جائیں تو وہ خاص طریقے کے مطابق ان میں تقسیم ہو گا۔ حقیقت میں یہ جملہ ان احکام میراث کا خلاصہ ہے جو گذشتہ آیات میں رشتہ داروں اور نزدیکیوں کے بارے میں بیان ہوئے ہیں اور یہ مقدمہ اور تمہید ہے اس حکم کے لیے ہیں کہ بعد میں بیان ہو گا۔
والذين عقدت ایمانكرفاتوهم نصیهم۔
اس کے بعد مزید ارشاد فرماتا ہے اور جن لوگوں سے تم نے عہد و پیمان باندھا ہے میراث میں سے ان کا حصہ دے دو۔ یہ جو آیت میں پیمان کو "عقدیمین" (دائیں ہاتھ سے گره باندھنا) کہا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان عام طور پر کام دائیں ہاتھ سے کرتا ہے اور پیمان بھی ایک قسم کی گرہ لگانا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ ہم عہد و پیمان لوگ جنہیں میراث میں سے حصہ دینا ہے کون ہیں۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس سے مراد میاں بیوی ہیں کیونکہ انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ ازدواجی تعلقات کا عہد باندھ رکھا ہے لیکن یہ بات صحیح معلوم نہیں ہوتی۔ کیونکہ شادی کو عقد یمین یا اس طرح کے الفاظ سے قرآن میں بہت کم یاد کیا گیا ہے علاوہ ازیں اس طرح گذشته مطالب کا تکرار بھی ہو گا جو مفہوم آیت سے زیادہ قریب ہے وہ یہ ہے کہ اس سے مراد ضمان جریرہ کا پیمان ہے جو السلام سے پہلے مروج تھا اور اسلام نے آ کر اس کی اصلاح کی ہے چونکہ اس میں اصلاحی پہلو تھا، اس لیے اسے صحیح قرار دیا گیا اور وہ یہ تھا کہ دو شخص ایک دوسرے سے وعدہ کرتے تھے کہ وہ ایک دوسرے کی بردرانہ طور پر مدد کریں گے، مشکلات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے اور جب ان میں سے کوئی دنیا سے اٹھ گیا وہ شخص باقی رہ جائے گا وہ اس کی میراث لےگا اسلام نے اس دوستی کے عہد و پیمان کی رسم کو قبول کر لیا لیکن یہ تاکید کہ اس قسم عهد و پیمان کی میراث اس حالت میں ملے گی جب کہ مرنے والے کے نزدیکی رشتہ داروں کے طبقات میں سے کوئی بھی زندہ نہ ہو۔ اس بات کی مزید تفصیل فہقی کتب کی کتاب میراث میں موجود ہے۔ (بحوالہ ضمان جریرہ یہ ہے: عاقدت عليان قصرقى والشرك وتقنعني وعقر عنك وترنتی وارتك فيقول الاخر قبلات میں تجھ سے عہد و پیمان باندھتا ہوں کہ تم میری مدد کرنا میں تمہاری مدد کروں گا تاوان اور دیت ادا کرنے میں تمہاری مدد کروں گا تو میری امداد کرنا اور تم میری میراث لینا اور میں تنہاری میراث لوں گا اس کے بعد دوسرے کہے میں نے قبول کیا)۔
ان الله كان على كل شيء شهیدا
اگر تم صاحبان میراث کا حصہ دینے میں کوتاہی کرو گے یا ان کا حق انہیں پورا دے دو گے تو خدا ہر حالت سے آگاہ ہے کیونکہ وہ ہر کام اور ہر چیز کا شاہد و ناظر ہے۔
مرد عورتوں کے سر پرست اور خدمت گزار ہیں ان برتر یوں کی وجہ سے (جو نظام اجتماعی کے لحاظ سے) خدا تعالیٰ نے ایک کو دوسرے پر دی ہیں اور ان اخراجات کی بنا پر جو وہ اپنے مال سے (عورتوں کے لئے) کرتے ہیں اور نیک اور صالح عورتیں وہ ہیں جو متواضع اور منکسرالمزاج ہیں اور جو( اپنے شوہر کی) عدم موجودگی میں اس کے اسرار اور حقوق کی حفاظت کرتی ہیں ان حقوق کی وجہ سے جو خدا نے ان کو دیئے ہیں اور باقی رہیں وہ عورتیں جن کی مخالفت اور سر کشی کا تمہیں خوف ہے انہیں وعظ و نصیحت کرو اگر یہ اثر نہ کرے تو ان کے بستر سے دور رہو اور اگر یہ بھی کارگر نہ ہو اور انہیں کوئی راستہ اور طریقہ سختی کے سوا اپنی ذمہ داریوں پر آمادہ نہ کرے تو پھر انہیں خبر دار کرو اب اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو ان پر سختی اور زیادتی نہ کرو (اور جان لو) کہ خدا بلند مرتبہ اور بزرگ ہے۔
تفسیر
گھریلو نظام میں سرپرستی
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
الرجال قوّامون علٰى النساء۔"
مرد عورتوں کی سرپرست اور خدمت گزارہیں"۔
اس جملے کی وضاحت کے لیے توجہ رہے کہ گھر ایک چھوٹا سا معاشرہ ہے اور بڑے معاشرے کی طرح اس کا بھی کوئی رہبر اور سرپرست ہونا چاہیے۔ کیونکہ اگر مرد اور عورت دونوں مل کر سرپرستی اور رہبری کریں تو یہ بےمعنی ہے۔ اس لیے مرد یا عورت میں سے کوئی ایک گھر کا رئیس اور سردار ہونا چاہیے اور دوسرا اس کا مددگار اس کی نگرانی میں ہو۔ قرآن یہاں وضاحت کرتا ہے کہ سرپرستی کا مقام مرد کو دیا جائے۔ اس کا مقصد ظلم و ستم نہیں ہے بلکہ ایک نظم رہبری ہے جس میں ذمہ داریوں اور مشوروں کی طرف متوجہ ہونا ضروری ہے آج کی دنیا میں یہ مسئلہ ہر زمانے سے واضح تر ہے اگر ایک جماعت چاہے وہ دو افراد کی ہو کسی کام پر لگا دی جائے تو ضروری ہے کہ ان میں سے ایک شخص سربراه ہو اور دوسرا مددگار ورنہ وه کام مکمل نہ ہو گا۔
گھر میں مرد کی سرپرستی بھی اسی قسم کی ہے۔ یہ حیثیت ان خصوصیات کی وجہ سے ہے جو مرد میں پائی جاتی ہیں۔ مثلًا اس قوت فکر کو جذبات و احساسات پر ترجیح دینا (بخلاف عورت کے جو زیادہ تر محبت اور خواہش کی قوت سے سرشار اور بہرہ مند ہوتی ہے)۔ دوسرے مرد جسمانی طور پر زیادہ قوی اور مضبوط ہوتا ہے اس لیے وہ قوت فکر سے زیادہ کام لیتا ہے اور منصوبہ بندی کرتا ہے اور قوت جسمانی کے ذریعے اپنے گھر کا دفاع کر سکتا ہے۔
علاوہ ازیں اپنی بیوی اور اولاد کے لیے اسباب زندگی کی ذمہ داری حق مہر کی ادائیگی، بیوی اور اولاد کی ناموس کی حفاظت اسے یہ حق دیتی ہیں کی سرپرستی کا مرتبہ بھی اسی کو ملے۔ البتہ یہ ممکن ہے کی عورتیں مندرجہ بالا صفات میں اپنے شوہروں سے بڑھ پڑھ کر ہوں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ قانون کی نظر ایک با چند افراد پر نہیں ہوتی بلکہ وہ نوع اور عمومیت کو دیکھتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کلی طور پر مرد عورتوں کی نسبت ان کاموں کے لیے زیادہ اہل ہیں۔ اگر عورتیں بھی کچھ زمہ داریاں سنبھال لیں تواس سے مرد کی اہمیت کی نفی نہیں ہو سکتی۔
بما فضّل الله بعضهم على بعض وبما انفقوا من أموالهم
یہ جملہ بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کیونکہ پہلے حصہ میں فرماتا ہے، یہ سرپرستی اس تفاوت اور اختلاف کی وجہ ہے جو خداوند عالم نے مقصد تخلیق اور نوع بشر کی مصلحت کے لحاظ سے ان میں رکھا ہے اور آخری حصہ میں فرماتا ہے: نیز یہ سرپرستی ان فرائض کی وجہ سے ہے جو افراد خانہ کی مالی ضرورت کی انجام دہی کے لیے مرد کے ذمہ ہیں لیکن یہ بات واضح ہے کہ ان ذمہ داریوں کا مردوں کے سپرد ہونا نہ ان کی شخصیت کی بلندی کی دلیل ہے اور نہ ہی آخرت کے امتیاز کی کیونکہ وہ تقوی اور پیرہیزگاری پر منحصر ہے۔ جیسے ممکن ہے کہ کسی معاون کی شخصیت مختلف پہلوؤں سے اپنے سربراہ کی نسبت زیادہ ہو لیکن سربراہ اس کام کی سرپرستی کے لیے زیادہ موزوں ہو۔
فالصالحات قانتات حافظات للغيب
یہاں مزید فرماتا ہے کہ عورتیں ان ذمہ داریوں کے لحاظ سے جو ایک خاندان کی ان کے سپرد ہیں دو قسم کی ہیں پہلی قسم صالح اور نیک عورتوں کی ہے اور وہ ایسی ہیں جو گھریلو نظام میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے والی ہیں۔ وہ نہ صرف شوہر کے ہوتے ہوئے بلکہ اس کی عدم موجودگی میں ہی عزت و ناموس کے حوالے سے اور مالی لحاظ سے خیانت نہیں کرتیں اور شوہر کی غیر حاضری میں بھی اس کی شخصیت اور خاندانی اسرار و رموز کی حفاظت کرتی ہیں اور ان حقوق کے بدلے میں جو خدا نے ان کے لیے مقرر کیے ہیں وہ اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دیتی ہیں۔ خداوند عالم نے "بماحفظ الله" فرما کر اسی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ واضح ہے کہ مردوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس قسم کی عورتوں کے ساتھ انتہائی احترام اور حق شناسی سے پیش آئیں۔
نافرمان عورتیں
دوسری قسم کی عورتیں وہ ہیں جو اپنے فرائض سے روگردانی کرتی ہیں اور ان میں ناموافقت کا مظاہرہ کرتی ہیں ایسی عورتوں کے بارے میں مردوں کے کچھ فرض اور ذمہ داریاں ہیں کہ جنہیں مرحلہ بمرحلہ یکے بعد دیگرے انجام دینا چاہیے۔ وہ ہر صورت میں یہ توجہ رکھیں کہ وہ کسی صورت میں عدالت کی حدود سے باہر نہ نکلنے پائیں۔ یہ ذمہ داریاں مندرجہ ذیل آیت میں ترتیب سے بیان کی گئی ہیں۔
واللاتي تخافون نشوزهن فعظوهن (تشریحی نوٹ: "نشوز"، "نشز" (بروزن نذر) اونچی زمین کے معنی میں ہے۔ یہاں سرکشی اور طغیان کی طرف اشارہ ہے)۔
پہلا مرحلہ ان عورتوں کے بارے میں ہے کہ جو سرکشی اور دشمنی کا مظاہرہ کریں، قرآن مندرجہ بالا آیت میں ارشاد فرماتا ہے، وہ عورتیں جن کی بغاوت اور سرکشی کا تمہیں خوف ہے، انہیں وعظ و نصیحت کرو۔ جو گھریلو نظام کی چار دیواری سے پاؤں باہر نکالتی ہیں پہلے انہیں مشفقانہ نصیحتیں کی جانا چاہئیں اور ایسے کاموں کے برُے نتائج بیان کر کے راہ راست پر لانے کی کوشش کی جانا چاہیے اور انہیں ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی جانا چاہیے۔
واهجروهن في المضاجع
اگر تمہاری نصیحتیں اور باتیں ان پر کوئی اثر نہ کریں تو ان کے بستر سے دور رہو۔ اسی بےتوجہی اور لاپرواہی سے جسے اصطلاح میں بائیکاٹ کے لیے ان کے برتاؤ کے خلاف اپنی ناراضگی ظاہر کرو۔ شاید یہی ہلکی سی تنبیہ ان پر اثر کرے۔
واضربوهن
اب اگر ان کی سرکشی اور فرائض سے ہےتوجہی حد سے بڑھ جائے اوراسی طرح قانون شکنی پر ڈٹی رہیں اورسختی سے قدم آگے بڑھاتی ہیں، نہ ان پر پندو نصائح اثر کریں اور نہ بستر سے دوری اور بےتوجھی۔ سوائے عملی سختی کے کوئی راستہ باقی نہ رہے اور انہیں ذمہ داریوں کی ادائیگی پر آمادہ کرنے کے لیے عملی شدت کے سوا کوئی چارہ نہ رہے، تو یہاں اجازت دی گئی ہے کہ بدنی سرزنش کے ذریعے انہیں ان کے فرائض انجام دینے پر آمادہ کیا جائے۔
ایک اشکال اور اس کا جواب
ممکن ہے اس موقع پر یہ اعتراض کیا جائے کہ اسلام نے مردوں کو کسے اجازت دی کہ وہ عورتوں کو بدنی سزا دیں۔ اس اعتراض کا جواب آیت کے معنی اور ان روایات کہ جو اس سلسلے میں ہیں اور وہ وضاحت جو كتب فقہ میں آئی ہے نیز اسی طرح ان توضیحات کہ جو آج کل کے ماہرین نفسیات بیان کرتے ہیں، مدنظر رکھتے ہوئے کچھ مشکل نہیں ہے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ آیت نے بدنی سزا کا مسئلہ ان کے بارے میں جائز قرار دیا ہے جو اپنی ذمہ داری کو محسوس نہیں کرتے لیکن یہ اس وقت ہے جب کوئی اور ذریعہ کارگر نہ ہو۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ یہ کوئی ایسی نئی بات نہیں جو صرف اسلام ہی میں ہو۔ دنیا کے تمام قوانین میں جب صلح کے ذریعے افراد کو ان کی ذمہ داری محسوس نہ کرائی جا سکے تو سختی اور شدت اختیار کرنا پڑتی ہے نہ صرف مار پیٹ کے ذریعے بلکہ بعض موقعوں پر تو اس سے بھی زیادہ سخت سزا دی جاتی ہے جو قتل کی حد تک پہنچ جاتی ہے۔
دوسرے یہ کہ بدنی سزا جیسا کتب فقہ میں ہے خفیف ہونا چاہیے۔ جس سے ہڈی ٹوٹنے، بدن کے زخمی ہونے اور ورم آنے کا اندیشہ نہ ہو۔
تیسرے یہ کہ آجکل کے ماہرین نفسیات کا نظریہ ہے کہ کچھ عورتیں آزار طلب ہوتی ہیں جب کبھی ان کی یہ حالت شدت اختیار کرے تو انہیں سکون و آرام پہنچانے کا واحد علاج مختصری بدنی سزا ہے۔ اس لیے ہو سکتا ہے کہ ایسے افراد کو پیش نظر رکھا گیا ہو جن کے لیے خفیف سی بدنی سزا باعث تسکین ہے، یہ ایک نفسیاتی علاج ہے۔
یہ مسلم ہے کہ اگر گذشتہ مراحل میں سے کوئی اثر کرے اور عورت اپنی ذمہ داری انجام دینے لگے تو مرد کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ بہانہ بازی کر کے کو عورت کو تکلیف پہنچائے۔ اس لیے اس جملہ کے بعد فرماتا ہے۔
فان اطعنكم فلاتبغوا عليهن سبيلا
یعنی اگر وہ اطاعت کر لیں تو پھر ان پر ظلم و ستم نہ کرو۔ اب اگر یہ کہا جائے کہ اس قسم کی سرکشی طغیان اور زیادتی مرد بھی تو کر سکتے ہیں تو یاک مردوں کو بھی اسی قسم کی سزا دی جائے گی تو ہم کہیں گے کہ جی ہاں مرد بھی بالکل عورتوں کی طرح اپنے فرائض ادا نہ کرنے کی صورت میں اسی قسم کی سزا مستحق ہوں گے یہاں تک کہ انہیں بدنی سزا بھی دی جائے گی۔ البتہ کیونکہ یہ کام عورتوں کی ذمہ خارج ہے اس لیے حاکم شرع پر فرض ہے کہ وہ خلاف ورزی کرنے والے مردوں کو مختلف طریقوں سے یہاں تک کہ بدنی سزا کے ذریعے انہیں ان کی ذمہ داری بتائے۔
اس شخص کی داستان مشہور ہے جس نے اپنی بےقصور بیوی پر زیادتی کی تھی اورکسی طرح اپنی غلطی ماننے کے لیے تیار نہ ہوتا تھا۔ حضرت علیؑ نے اسے عمالًا تنبیہ کی بلکہ تلوار سے ڈرا دھمکا کر اسے اپنی زیادتی ماننے پر آمادہ کر لیا۔
ان الله كان علیًا کبیرا
آیت کے آخر میں مردوں کو دوبارہ خبردار کیا گیا ہے کہ وہ خاندان کے سرپرست ہونے کی حیثیت سے غلط فائده نہ اٹھائیں اور خدا کی قدرت کو جو تمام قدرتوں سے بالاتر ہے اپنے تصور میں رکھیں (کیونکہ خدا بلند مرتبہ اور بہت ہی بڑا ہے)۔
اور اگر تمہیں ان کے درمیان علیحدگی کا خوف ہو تو ایک نمائندہ شوہر کے خاندان سے اور ایک نمائندہ بیوی کے خاندان سے چن لو( تاکہ وہ یہ معاملہ حل کریں ) اب اگر یہ دونوں فیصلہ کرنے والے اصلاح کا ارادہ رکھتے ہوں تو خداوند عالم ان کی توفیق میں اضافہ فرمائے گا کیونکہ وہ دانا اور خبر دار ہے اور سب کی نیتوں سے بخوبی جانتا ہے۔
تفسیر
خاندان کی مصالحتی عدالت
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
وان خفتم شقاق بينهما........
خداوند عالم اس آیت میں میاں بیوی کے درمیان اختلاف و نزع ہونے کے مسئلہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ اگر میاں بیوی میں ناچاقی اور جدائی کی نشانیاں پیدا ہو جائیں تو ناچاقی کی وجوہات کو سمجھنے اور صلح و آتشی کے لیے ایک فیصلہ کرنے والا مرد کے خاندان سے اور دوسرا عورت کے خاندان سے چنو۔ اس کے بعد فرماتا ہے: ان یریدا اصلاحا یوفق الله بينهما۔ اب اگر یہ دونوں فیصلہ کرنے والے نیک نیتی اور ہمدردی کے ساتھ یہ معاملہ طے کریں گے اور ان کا مقصد دونوں میاں بیوی میں صلح کرانا ہو گا تو خدا بهی مدد کرے گا، ان کے ذریعے میاں بیوی کے درمیان الفت پیدا کر دے گا اور حکمین کو تنبیہ کرنے کے لیے تاکہ وہ نیک نیتی سے کام کریں اس آیت کے آخر میں فرماتا ہے: خدا ان کی نیت سے خوب آگاہ ہے (ان الله كان عليما خبيرا)۔
خاندان کی مصالحتی عدالت جس کی طرف آیت میں اشارہ ہوا ہے اسلام کا ایک شاہکار ہے۔ اس عدالت کی کچھ ایسی خصوصیات ہیں جن سے باقی محکمے عاری ہیں۔ ان میں سے کچھ یہ ہیں:
۱- خاندان کا ماحول احساس و محبت کا مرکز ہوتا ہے۔ فطری طور پر جو طریق کار اس ماحول میں اختیار کیا جائے وہ دوسری فضاؤں سے مختلف ہونا چاہیے یعنی جس طرح عام جرائم کی عدالتوں میں خشک، ہمدردی اور مہربانی کے ساتھ کام نہیں چل سکتا، اسی طرح خاندانی ماحول میں خشک قانون بےروح رواج اور دستور سے گزارہ نہیں ہوتا۔ یہاں جہاں تک ہو سکے اختلافات کو محبت اور مہربانی کے طریقے سے حل کرنا چاہیے۔ اس لیے خداوند عالم حکم دیتا ہے کہ اس محکمہ کے جج ایسے لوگ ہوں جو دونوں میاں بیوی کے رشتہ دار ہوں تاکہ وہ میاں بیوی کے احساسات محبت و مہربانی کو متحرک کر سکیں۔ واضح ہے کہ یہ خصوصیت صرف ایسی عدالت میں ہی ہو سکتی ہے باقی عدالتیں اس سے عاری ہیں۔
٢- عام عدالتوں میں طرفین دعویٰ مجبور ہوتے ہیں کہ اپنے دفاع کے لیے ہر قسم کے اسرار و رموز جو وہ جانتے ہیں خاش کريں۔ یہ بات مانی ہوئی ہے کہ اگر میاں بیوی بیگانوں کے سامنے اپنے ازدواجی راز فاش کریں تو ایک دوسرے کے جذبات ایسے مجروح کریں گے کہ اگر عدالت کے مجبور کرنے اپنے گھر واپس آ جائیں پھر بھی پہلا سا خلوص و محبت ان میں باقی نہ رہے گا اور ایک طرح کی ایسی بیگانگت پیدا ہو جائے گی جس میں مجبورًا اپنے فرائض اور ذمہ داریاں نبھانی پڑیں۔ اصولی طور پر تجربہ یہ بتاتا ہے کہ جو میاں بیوی ایک مرتبہ اس قسم کی عدالتوں میں چلے جاتے ہیں وہ پھر پہلے جیسے میاں بیوی نہیں رہتے۔ لیکن خاندان کی مصالحتی عدالت میں اول تو اس قسم کی شرمناک باتیں شرما حضوری نہیں کہی جاتیں۔ ان کا ذکر آبھی جائے تو کیونکہ رشتہ دار اور محرم افراد سامنے ہوتے ہیں اس لیے اتنے برُے اثرات کا اندیشہ نہیں ہوتا۔
۳- عام عدالتوں کے جج اختلافات کے بڑھنے کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ معاملہ چاہے کوئی صورت کیوں نہ اختیار کرے ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ان کی بلا سے میاں بیوی گھر لوٹ جائیں یا ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں لیکن و خاندانی مساعی عدالت میں معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے کیونکہ اس عدالت کے کے میاں بیوی کے نزدیکی بیشتر دار ہوتے ہیں۔ اسی لیے ان میاں بیوی کی مصالحت اور جدائی کا ان بچوں کی زندگی پر دلی رجحانات اور ان سے پیدا ہونے والے سوالات کی جواب دہی کے لحاظ سے گہرا اثر پڑتا ہے۔ اسی لیے وہ پوری پوری کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح ان دونوں میں مصلحت اور خلوص و محبت برقرار ہے اور وہ شیروشکر ہو جائیں۔
۴- ان سب سے قطع نظر یہ مصالحتی عدالت کسی قسم کی مشکلات، کمر توڑ اور کثیر اخراجات اور عام عدالتوں کی سی پریشانیوں اور الجھنوں میں نہیں ڈالتی اور فریقین کو چکر پر چکر لگوائے بغیر تھوڑی سی مدت میں مقصد تک پہنچانے کی کوشش کرتی ہے۔ واضح ہے کہ دونوں خاندانوں میں حکمین تجربہ کار مدبراور باخبر چننے چاہیں۔ جو خصوصیات ہم نے گنوائی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی عدالت میں میاں بیوی کی مصالحت کا موقع دوسری عدالتوں کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ اور فقہ اسلامی میں مسئلہ حکمین کی شرطیں ان کے حکم اور فیصلہ اجرا اور دائرہ کار وغیرہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ ان میں سے یہ بھی ہے کہ دونوں فصل کرنے والے بالغ، عاقلي، عادل اور اپنے کام میں دانا و بینا ہوں۔ باقی رہا ان کے فیصلہ کا میاں بیوی کے حق میں اجرا، تو بعض فقہاء ان کا حکم جو بھی ہو اس کی تعمیل لازمی قرار دیتے ہیں اور اس آیت میں "حکم" کا ظاہری مفہوم بھی اسی کی تصدیق کرتا ہے کیونکہ حکمیت اور داوری کا مفہوم حکم کا اجرا ہے۔ لیکن بہت سے فقہا نے حکمین کے نظریہ کو صرف میاں بیوی میں صلح صفائی اور رفع اختلافات کی صورت میں قابل قبول قرار دیا ہے۔ بلکہ ان کا نظریہ یہ ہے کہ اگر میری بیوی یا شوہر پر کچھ شرطیں لگا دیں تو ان کی پابندی بھی ضروری ہے۔ البتہ جدائی اورعلیحدگی کی صورت میں ان کا حکم نافذ نہ ہو گا اور آیت کا ظاہری مفہوم جو اصلاح کے مسئلے کی طرف اشارہ کرتا ہے وہ اسی نظریہ کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتا اس سلسلے میں مزید وضاحت کے لیے کتب فقہ ملاحظہ فرمایئے۔
اور خدا کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ اور ماں باپ سے نیکی کرو (اسی طرح) رشتہ داروں یتیموں، مسکینوں، نزدیکی اور دور کے پڑوسیوں، ساتھیوں اور خرچ نہ رکھنے والے مسافروں کے ساتھ اور ان غلاموں سے جن کے تم مالک ہو نیکی کرو کیونکہ خداوند عالم اس شخص کو جو تکبر اور گھمنڈ کرنے والا ہو (اور دوسروں کا حق ادا نہ کرے) دوست نہیں رکھتا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
خداوند عالم مندرجہ بالا آیت میں حقوق اسلامی کے ایک اور سلسلے کو بیان کرتا ہے ان میں خدا کے حقوق، بندوں کے حقوق یا لوگوں سے معاشرت کے آداب شامل ہیں۔ مجموعی طور پر اس آیت سے دس احکامات اور قاعدوں کا پتہ چلتا ہے۔
۱۔ وَ اعْبُدُوا اللَّہَ وَ لا تُشْرِکُوا بِہِ شَیْئاً۔
قرآن سب سے پہلے لوگوں کو خدا کی عبادت کرنے اور شرک و بت پرستی ترک کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ جو تمام اسلامی احکامات کی جڑ ہے۔ توحید باری کی دعوت روح کو پاک نیت کو خالص، ارادہ کو قوی اور ہر مفید منصوبہ انجام دینے کا ارادہ مضبوط کرتی ہے۔ چونکہ یہ آیت اسلامی حقوق کا ایک سلسلہ بیان کر رہی ہے تو سب سے پہلے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ اس طرف اشارہ کرتے ہوئے تاکید کرتی ہے کہ خدا کی عبادت کرو اور کسی کو ا س کا شریک نہ بناوٴ۔
۲۔ وَ بِالْوالِدَیْنِ إِحْساناً۔
اس کے بعد ماں باپ کے حق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نصیحت کرتی ہے کہ ان کے ساتھ نیکی کرو۔ ماں باپ کا حق ایسے مسائل میں سے ہے جن کا قرآن میں اکثر ذکر کیا گیا ہے۔ شاید ہی کو ئی امر ایسا ہو جس کی اس قدر تاکید کی گئی ہو۔ یہ بات قرآن میں چار مقامات پر توحید کے ذکر کے فوراً بعد آئی ہے۔ (بحوالہ بقرہ ۸۳، انعام ۱۵۱، اسرا۲۳ اور زیر نظر آیت)۔
اس بار بار کے تذکرہ سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ان دونوں کے درمیان کوئی رابطہ اور واسطہ ہے درحقیقت ایساہی ہے،۔ کیونکہ سب سے بری نعمت تو زندگی کی نعمت ہے جو اللہ کی طرف سے پہلے درجہ میں ہے اور بعد کی منازل میں ماں باپ سے تعلق رکھتی ہے کیونکہ اولاد ماں باپ کے وجود کا ایک حصہ ہے۔ اسی لئے ماں باپ کے حقوق کو چھوڑ دینا خداوند عالم کے شرک کے برابر ہے۔ ماں باپ کے حقوق کے بارے میں مفصل بحث ہے جو انشاء اللہ تعالیٰ سورہٴ اسراء اور سورہٴ نقمان کی متعلقہ آیات کے ذیل میں آئے گی۔
۳۔ وَ بِذِی الْقُرْبی۔
اس کے بعد تمام رشتہ داروں سے نیکی کرنے کا حکم دیا گیا ہے یہ بھی ایسے مسائل میں سے جن کے متعلق بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ کبھی صلہ ٴ رحم کے عنوان سے اور کبھی ان سے نیکی اور احسان کے ذیل میں۔ حقیقت میں اسلام یہ چاہتا ہے کہ نوع انسانی کے وسیع رشتہ میں کچھ زیادہ مضبوط رشتے استوار کرے یہ رشتے چھوٹی چھوٹی اکائیوں اور زیادہ تر ہم شکل اکائیوں میں موجود ہیں جنہیں عرف عام میں کنبہ اور خاندان کہتے ہیں۔ یہ اس لئے تاکہ مشکلات اور حادثات میں وہ ایک دوسرے کی مدد کریں اور اپنے حقوق کی حفاظت کریں۔
۴۔ وَ الْیَتامی۔
اس کے بعد اہل ایمان کو یتیموں کے حقوق کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ان کے حق میں نیکی کرنے کی وصیت کی گئی ہے کیونکہ ہر معاشرے میں طرح طرح کے حادثات کے نتیجے میں ہمیشہ بچے یتیم ہوتے رہتے ہیں۔ جنہیں نظر انداز کر دینا صرف انہیں خطرے میں ڈالنا نہیں ہے بلکہ معاشرے کو بھی خطرے سے دوچار کرنا ہے۔ کیونکہ اگر یتیم بچوں کی سرپرستی نہ کی جائے اور ان سے خاطر خواہ ہمدردی اورمحبت کا سلوک نہ کیا جائے تو وہ بےہودہ، خطرناک اور چور ڈاکو بن سکتے ہیں۔ بنا بریں یتیموں کے ساتھ نیکی معاشرے کے اپنے حق میں ہے۔
۵۔ وَ الْمَساکینِ۔
اس کے بعد ضرورت مندوں کے حقوق کی یاد دہانی کروائی گئی ہے۔ کیونکہ ایک صحت مند عادلانہ معاشرہ میں بھی لاچار اور محتاج لوگ ہو سکتے جنہیں نظر انداز کر دینا انسانی اصولوں کے خلاف ہے اور اگر اجتماعی اصولِ عدالت سے انحراف کی وجہ سے صحیح سالم لوگ فقر و فاقہ اور محرومیت میں مبتلا ہو جائیں، پھر بھی ایسے معاشرے کی اصلاح کے لئے اٹھ کھڑا ہونا چاہئیے۔
۶۔ وَ الْجارِ ذِی الْقُرْبی۔
اس کے بعد نزدیک کے ہمسایوں کے ساتھ نیکی کرنے کی وصیت کی گئی ہے۔ اس کے متعلق کہ نزدیک کے ہمسائے کون ہیں۔ مفسرین نے مختلف احتمالات پیش کئے ہیں۔ بعض نے اس کے یہ معنی لئے ہیں کہ جو ہمسایہ رشتہ دار بھی ہوں، لیکن یہ تفسیر اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ آیت میں رشتہ داروں کے حقوق کی طرف اشارہ ہو چکا ہے، بعید دکھائی دیتی ہے۔ بلکہ مراد وہی مکان کی نزدیکی ہے۔ کیونکہ جو ہمسائے زیادہ قریب ہیں ان کے حقوق اور احترام زیادہ ہے یا وہ ہمسائے مراد ہیں جو دین و مذہب کے لحاظ سے زیادہ قریب ہوں۔
۷۔ وَ الْجارِ الْجُنُبِ۔
اس کے بعد دور کے پڑوسیوں کی سفارش کی گئی ہے۔ جیسا کہ ہم تحریر کر چکے ہیں اس سے مکان کی دوری مراد ہے کیونکہ کئی ایک روایتوں کے مطابق چاروں طرف کے چالیس گھر پڑوسی گنے جاتے ہیں۔ (بحوالہ: نور الثقلین، جلد اول صفحہ ۴۸۰)۔ اس طرح تمام شہر چھوٹے چھوٹے شہروں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اگر ایک شخص کے گھر کو دائرے کا ایسا مرکز فرض کر لیں جو کا نصف قطر ہر طرف سے چالیس گھروں پر محیط ہو تو ایسے دائرے کی پیمائش ایک معمولی سے حساب سے واضح ہو جاتی ہے تقریباً پانچ ہزار مکانات اس حصے میں آئیں گے، یہ ظاہر ہے اور تسلیم شدہ ہے کہ ایک چھوٹے شہر میں اس سے زیادہ گھر نہیں ہوتے۔
قابل توجہ امر یہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت قرآنی میں نزدیک کے ہمسایوں کے ذکر کے علاوہ دور کے ہمسایوں کے حق کی بھی تشریح اور وضاحت کی گئی ہے کیونکہ لفظ ہمسایہ کا ایک تو محدود مفہوم ہے جو صرف نزدیک کے پڑوسیوں کے لئے بولا جاتا ہے۔ اب اسلامی نظریہ کے مطابق اس مفہوم کو پھیلانے کے لئے اس کے سوا چارہ نہ تھا کہ دور کے ہمسایوں کا نام بھی صراحت کے ساتھ لیا جائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ دور کے ہمسایوں سے مراد غیر مسلم ہوں۔ کیونکہ ہمسائیگی اسلام میں مسلمان پڑوسیوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس مفہوم میں غیر مسلم بھی شامل ہیں مگر وہ جو مسلمانوں سے برسرپیکار نہ ہوں وہی اس میں آتے ہیں۔
اسلام میں حق ہمسائیگی اتنی اہمیت رکھتا ہے کہ حضرت امیر المومنین علی (ع) کی مشہور وصیتوں میں ہے:
مازال (رسول اللہ) یوصی بھم حتی ظننا انہ سیور ثھم:
پیغمبر اکرم (ص) نے ان کے بارے میں اس قدر سفارش فرمائی کہ ہمیں یہ گمان ہونے لگا کہ شاید آپؐ یہ حکم فرمائیں کہ ہمسائے ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔
یہ حدیث اہل سنت کی مشہور کتاب میں بھی ہے چنانچہ تفسیر المنار اور تفسیر قرطبی میں بخاری سے یہی مضمون نقل کیا گیا ہے۔ ایک دوسری حدیث میں حضرت رسول اکرم (ص) سے منقول ہے کہ آپؐ نے ایک دن تین مرتبہ فرمایا:
و اللہ لایوٴ من......
ایسا شخص ایماندار نہیں ہے۔
کسی نے پوچھا کونسا شخص تو حضورؐ نے فرمایا:
الذین لا یوٴمن جارہ بوائقہ
جس کا ہمسایہ اس سے تکلیف میں ہو۔ (بحوالہ تفسیر قرطبی جلد سوم صفحہ ۱۷۵۴)۔
ایک اور حدیث میں حضرت رسول اکرم (ص) سے منقول ہے کہ آپؐ نے فرمایا:
من کان یوٴمن باللہ و الیوم الآخر فلیحسن الیٰ جارہ۔
جو شخص خدا اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئیے کہ اپنے پڑوسی کے ساتھ نیکی کرے۔ (بحوالہ المنار جلد پنجم صفحہ ۹۲ طبع بیروت)۔
اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے، آپؑ نے فرمایا:
حسن الجوار یعمر الدیار و یزید فی الاعمار۔
ہمسایوں کا ایک دوسرے سے نیکی کرنا گھروں کو آباد کرتا ہے اور عمریں بڑھاتا ہے۔ (بحوالہ تفسیر صافی صفحہ ۱۲۰)۔
اس سائنسی مشینی دور میں پڑوسی ایک دوسرے کے عام حالات بھی نہیں جانتے بعض اوقات تو ایسا ہوتا ہے کہ دو ہمسائے ایک دوسرے کے ساتھ بیس بیس سال رہنے کے باوجود ایک دوسرے کا نام بھی نہیں جانتے یہ عظیم اسلامی حکم ایک خاص روشنی کا حامل ہے اسلام انسانی معاشرے میں بہت زیادہ تعاون اور ہمدردی کا قائل ہے جب کہ مادی ترقی کے اس دور میں ہمدردی اور تعاون کم سے کم تر ہوتا جا رہا ہے اور بےاعتنائی و بےحرمتی بڑھتی جارہی ہے۔
۸۔ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ۔
اس کے بعد ان لوگوں کو جو انصاف کر دم بھرتے ہیں، وصیت کرتا ہے۔ لیکن غور کرنا چاہئیے کہ صاحب بالجنب کے معنی دوست اور رفیق سے زیادہ وسیع ہیں اور حقیقت میں یہ ہر اس شخص کے لئے استعمال ہوتا ہے جو کسی طرح ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہو چاہے پرانا دوست ہو یا تھوڑی دیر کا رفیق مثلاً وہ شخص جو سفر کرتے ہوئے انسان کا دوست بن جائے۔ بعض روایات میں ہے کہ ”صاحب بالجنب“ سے مراد رفیق سفر (رفیقک فی السفر) ہے یا وہ شخص ہے جو نفع کی امید میں کسی کے ساتھ ہو (المنقطع الیک یرجونقمک) اس سے مراد ان کی تخصیص نہیں ہے بلکہ یہ ایک وسیع معنی رکھتا ہے اور ایسے تمام لوگوں کے لئے بولا جاتا ہے۔ بنا بریں یہ آیت ایک جامع اور کلی حکم کی حامل ہے اور یہ ایسے سب اافراد سے حسن سلوک کرنے کے لئے ہے جن سے انسان کا سابقہ پڑتا ہے۔ چاہے وہ سچ مچ دوست ہوں رفیق کار ہوں، اس کے پاس آنے والے ہوں، شاگرد ہوں، مشورہ لینے والے ہوں یا خدمت گزار ہوں۔ کچھ روایات میں صاحب بالجنب کی تفسیر بیوی سے کی گئی ہے چنانچہ المنار، روح المعانی اور قرطبی کے موٴلفین آیت کے ذیل میں حضرت علی(ع) سے یہی معنی نقل کرتے ہیں لیکن کچھ بعید نہیں کہ اس کا مقصد آیت کے ایک مصداق کا تذکرہ ہو۔
۹۔ وَ ابْنِ السَّبیلِ۔
یہاں ایک اور گروہ کے بارے میں سفارش کی گئی ہے یہ وہ لوگ ہیں جو باجودیکہ اپنے وطن اور شہر میں صاحبِ حیثیت اور کھاتے پیتے ہوں لیکن عالم سفر میں، اجنبی شہر میں کسی وجہ سے محتاج ہو جائیں اور ”ابن سبیل“ کی عمدہ تفسیر (راستے کا بیٹا) بھی اسی وجہ سے ہے کہ ہم ان سے کسی قسم کی جان پہچان نہیں رکھتے کہ انہیں کسی قبیلے، کنبے یا شخص سے نسبت دے سکیں صرف اس حکم کی بنا پر کہ وہ حاجت مند مسافر ہیں انہیں مدد کا مستحق قرار دیں۔
۱۰۔ وَ ما مَلَکَتْ اَیْمانُکُمْ۔
آخری مرحلہ میں غلاموں سے نیکی کرنے کی وصیت کی گئی ہے اور حقیقت میں آیت خدا کے حق سے شروع ہوتی ہے اور غلاموں کے حقوق پر ختم ہوتی ہے کیونکہ یہ حقوق ایک دوسرے سے جد انہیں ہیں۔ صرف یہی آیت نہیں کہ جس میں غلاموں کے متعلق وصیت کی گئی ہے بلکہ دوسری آیتوں میں بھی اس سلسلے میں بحث کی گئی ہے۔ اسلام نے ضمنی طور پر غلاموں کی تدریجی آزادی کے لئے ایک اچھا پروگرام مرتب کیا ہے جو ان کی مطلق آزادی پر جا کر ختم ہوتا ہے۔ انشاء اللہ ہم اس سلسلے میں متعلقہ آیتوں کے ذیل میں تفصیل کے ساتھ گفتگو کریں گے۔
إِنَّ اللَّہَ لا یُحِبُّ مَنْ کانَ مُخْتالاً فَخُوراً۔
خداوند عالم آیت کے آخر میں اس جملہ کے ساتھ ”خدا تکبر کرنے والے اور گھمنڈ کرنے والے کو دوست نہیں رکھتا“ خبردار کر رہا ہے کہ جو شخص خدا کے حکم سے روگردانی کرے اور تکبر کی وجہ سے رشتہ داروں، ماں باپ، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور دوستوں کے حقوق کا خیال نہ رکھے۔ وہ محبوب خدا اور بندہٴ خد انہیں ہو سکتا اور جو لطف و کرم الہٰی کا مستحق نہ ہو وہ ہر خیر و برکت خوش قسمتی اور نیکی سے محروم ہے۔ اس معنی کی گواہی وہ روایت دیتی ہے جو اس آیت کے ذیل میں بیان کی گئی ہے جو یہ ہے:
ایک صحابی رسول کہتے ہیں میں نے حضرت رسول اکرم (ص) کے سامنے اسی آیت کو تلاوت کی تو حضورؐ نے تکبر کی برائیاں اور اس کے نتائج اتنے بیان فرمائے کہ میں رونے لگا۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: کیوں رو رہے ہو؟ میں نے عرض کیا: میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرا لباس عمدہ اور خوبصورت ہو تو اب مجھے ڈر ہے کہ اس عمل کی وجہ سے میں تکبر کرنے والوں کی صف میں نہ ہو جاوٴں۔ فرمایا: نہیں تو اہل جنت میں سے ہے اور یہ اہل تکبر کی علامت نہیں ہے۔ تکبر یہ ہے کہ انسان حق کے مقابلے میں عاجزی اور انکساری سے کام نہ لے، اپنے آپ کو دوسرے لوگوں سے بلند تر سمجھے اور ان کی تحقیر کرے (اور ان کے حقوق کی ادائیگی سے روگردانی کرے۔
خلاصہ یہ ہے کہ آیت کے آخری جملے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ شرک اور لوگوں کے حقوق کی پامالی غرور و تکبر کا سرچشمہ ہیں۔ مندرجہ بالاحقوق اور خصوصاً غلاموں، یتیموں اور محتاجوں کے حقوق کی ادائیگی کے لئے انتہائی تواضع اور عاجزی کی ضرورت ہے۔ (بحوالہ: یاد رہے کہ مختال مادہ خیال سے اس معنی میں ہے کہ کوئی شخص بعض خیالات کی وجہ سے اپنے آپ کو بڑا سمجھے۔ گھوڑے کو اس وجہ سے ”خیل“ کہا جاتا ہے کہ وہ دوڑتے ہوئے متکبروں کی طرح قدم اٹھاتا ہے اور ”فخور“ ”فخر“ کے مادے سے اس شخص کے معنی ہے جو فخر اور گھمنڈ کرتا ہو۔ اسی بنا پر یہاں ان دونوں لفظوں میں یہ فرق ہے کہ ایک معنی ایسے تکبر کے ہیں جن میں ذہن گھمنڈ سے بھرا ہوا ہو اور دوسرے کے معنی خارجی تکبر کے ہیں، یعنی اعمال و کردار سے تکبر ٹپکتا ہو)۔
وہ ایسے لوگ ہیں جو بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کرنے کی دعوت دیتے ہیں اور جو کچھ خداوند عالم نے اپنے فضل و کرم سے انہیں دیا ہے اسے چھپاتے ہیں اور ہم نے کافروں کے لئے ذلیل و خوار کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
وہ ایسے لوگ ہیں جو اپنا مال لوگوں کو دکھانے کے لئے خرچ کرتے ہیں اور خدا اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے (کیونکہ شیطان ان کا دوست اور ساتھی ہے) اور جس کا ساتھی شیطان ہو اس نے برا ساتھی چنا ہوا ہے۔
کیا ہی اچھا ہوتا اگر وہ خدا اور قیامت کے دن پر ایمان لے آتے اور خداوند عالم نے جو روزی انہیں عطا فرمائی ہے (اس میں سے) خرچ کرتے اور خدا تعالیٰ ان سے آگاہ ہے۔
تفسیر
دکھلاوا اور رضائے الٰہی
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
یہ آیت حقیقت میں گذشتہ آیتوں کا ضمیمہ ہے جو متکبر اور بندہٴ ہوا و ہوس افراد کی طرف اشارہ کر رہی ہے وہ ایسے گئے گزرے لوگ ہیں جو نہ صرف لوگوں سے نیکی میں بخل کرتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی بخل پر ابھارتے ہیں (الذین یبخلون و یاٴمرون الناس بالبخل)۔ علاوہ ازیں وہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ خداوند عالم نے جو کچھ انہیں مرحمت فرمایا ہے اسے چھپا کر رکھیں ”و یکتمون ما اٰتاھم اللہ من فضلہ“ اس کے بعد ان کے انجام اور نتیجہ کو اس طرح بیان فرماتا ہے کہ ہم نے کافروں کے لئے ذلیل و خوار کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے (واعتدنا للکافرین عذابا مھیناً)
شاید اس تعبیر کا راز یہ ہو کہ بخل کا سرچشمہ زیادہ تر کفر ہی ہوتا ہے کیونکہ بخیل لوگ حقیقت میں خداوند عالم کی لامحدود نعمتوں اور اس کے نیک لوگوں سے کئے ہوئے وعدوں پر ایمان کامل رکھتے اور وہ یہ سوچتے ہیں کہ وہ دوسروں کی مدد کریں گے تو فقیر بن جائیں گے اور یہ جو فرمایا ہے کہ ان کے لئے ذلیل و خوار کرنے والا عذاب ہے، تو یہ اس لئے ہے تاکہ وہ تکبر اور گھمنڈ کی سزا کو اپنے کئے کا سبب سمجھیں۔
ضمنی طور پر سوچنا چاہئیے کہ بخل صرف مالی امور تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ یہ خداوند عالم کی ہر قسم کی نعمت کو روکنے کے معنی بھی اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو مالی لحاظ سے بخل نہیں کرتے لیکن علم و دانش اور اسی قسم کے دوسرے مسائل میں بخیل ہیں۔ دوسری آیت میں من مانی کرنے والے متکبروں کی ایک اور صفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:
و الذین ینفقون اموالھم رئاء الناس ولا یوٴمنون باللہ ولا بالیوم الآخر...
وہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر خرچ کرتے بھی ہیں تو لوگوں کو دکھانے اور شہرت کے لئے اور ان کا مقصد خدمت خلق اور رضائے خالق نہیں ہے۔ اسی لئے تو خرچ کے وقت لینے والے مستحق ہونے کی پابندی نہیں ہے۔ بلکہ ہمیشہ اس فکر میں رہتے ہیں کہ کس طرح خرچ کریں جس سے خود انہیں زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچنے اور وہ اپنی حیثیت کو ثابت کر سکیں۔ کیونکہ وہ خداوند تعالی اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتے اس لئے ان کی سخاوت میں روحانی جذبہ نہیں ہے بلکہ ان کا جذبہ نام و نمود اور جھوٹا وقار ہے کہ تکبر اور خود غرضی کی نشانیوں میں سے ہے۔
و من یکن الشیطان لہ قریناً فساء قریناً۔
انہوں نے شیطان کو اپنا ساتھ بنا لیا ہے اور جو ایسا کرے اس نے اپنے لئے بہت برُا ساتھی چنا ہے اور اس کی تقدیر اس سے بہتر نہیں ہو گی کیونکہ ان کی منطق اور پروگرام شیطان کی منطق اور پروگرام ہی ہے۔ وہی ہے جو ان سے کہتا ہے کہ خلوص کے ساتھ خرچ کرنا فقر و فاقہ کا سبب ہے۔ جیسا کہ قرآن میں ہے:
الشیطان یعدکم الفقر (بقرہ۔ ۲۶۸)
اب اس وجہ سے یا تو وہ خرچ ہی نہیں کرتے اور بخل سے کام لیتے ہیں (جیسا کہ گذشتہ آیت میں ارشاد کیا گیا ہے اور یا اگر وہ خرچ کریں تو ایسی جگہوں پہ کرتے ہیں جہاں سے انہیں ذاتی فائدہ پہنچے (جیسا کہ اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے)۔ اس آیت سے ضمنی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ایک برا ساتھی انسان کی تقدیر کو تباہ و برباد کر سکتا ہے یہاں تک کہ وہ اسے پستی کے آخری درجہ تک پہنچا دیتا ہے۔ نیز اس سے یہ بھی نتیجہ نکلتا ہے کہ تکبر کرنے والوں کا شیطان سے مستقل تعلق ہے نہ کہ وقتی۔ کیونکہ انہوں نے شیطان کو دوست اور ساتھی بنا رکھا ہے۔
وما ذا علیھم لو اٰمنوا باللّہ و الیوم الآخر و انفقوا مما رزقھم اللہ.......
یہاں اس گروہ کی حالت پر اظہار افسوس کے طور پر فرماتا ہے: کیا ہی اچھا ہوتا اگر وہ اس بےراہروی سے باز آ جاتے اور خدا اور روز جزا پر ایمان لے آتے اور ان نعتموں میں سے جو خداوند تعالی نے ان کے اختیار میں دی ہیں نیک نیتی کے ساتھ اس کے بندوں کو دیتے اور اس طر ح اپنے لئے دنیا اور آخرت کی سعادت حاصل کرتے۔ اب وہ کیوں اپنے طریق کار پر نظر ثانی نہیں کرتے باوجود اس کے کہ یہ راستہ زیادہ صاف، روشن تر اور مفید ترین ہے اور جو راستہ انہوں نے اختیار کر رکھا ہے وہ سوائے نقصان اور بدبختی کے کسی نتیجہ پر نہیں پہنچاتا۔
و کان اللہ بھم علیماً
ہر حالت میں خداوند عالم ان کی نیتوں اور اعمال سے باخبر ہے اور اس کے مطابق انہیں جزا یا سزا دیتا ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ گذشتہ آیت جس میں ریاکارانہ مصارف کے متعلق گفتگو تھی وہاں مال کی نسبت خرچ کرنے والوں کی طرف دی گئی تھی اس آیت میں مما رزقھم اللہ کی نسبت ہے ممکن ہے کہ یہ تعبیر کا فرق تین نکات کی طرف اشارہ رہا ہو:
پہلا یہ کہ دکھاوے کے اخراجات میں مال کے حلال و حرام ہونے کی طرف توجہ نہیں دی جاتی۔ حالانکہ جو مال خداوند تعالی کی راہ میں خرچ کیا جاتا ہے۔ اس کا حلال ہونا اور ”مما رزقھم اللہ“ کا مصداق ہونا ضروری ہے۔
دوسرا یہ کہ جو کچھ دکھلاوے کے لئے خرچ ہوتا ہے وہاں خرچ کرنے والے افراد چونکہ مال کا تعلق اپنی ذات سے سمجھتے ہیں تو وہ تکبر کرنے اور احسان جتانے سے گریز نہیں کرتے حالانکہ جو مال خدا کے لئے خرچ ہو وہاں چونکہ توجہ اس بات کی طرف ہوتی ہے کہ یہ مال خدا نے انہیں دیا ہے۔ اب اگر اس کا حصہ اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں تو احسان جتانے کا مقام نہیں۔ اس لئے ہر قسم کے تکبر اور احسان سے پرہیز کرتے ہیں۔
تیسرا یہ ہے کہ دکھاوے کے خرچ کا تعلق زیادہ تر مال سے ہوتا ہے۔ کیونکہ ایسے لوگ روحانی اور معنوی سرمایہ سے بے بہرہ ہوتے ہیں پھر اس میں سے خرچ کیسے کریں۔ لیکن جو خداوند تعالی کے لئے خرچ کیا جاتا ہے اس کا دامن وسیع ہے۔ وہ تمام مادی، روحانی اور باطنی نعمات کو چاہے ان کا تعلق مال، علم، اجتماعی وجاہت اور حیثیت ہی سے کیوں نہ ہو محیط ہے۔
خداوند عالم کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا اور اگر نیک کام ہو تو اسے کئی گنا کر دیتا ہے (اور اس کے بدلے) اجر عظیم دیتا ہے۔
تفسیر
”ذرّة“ کیا چیز ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
"ذرّة"، اصل میں بہت ہی چھوٹی چیونٹی کو کہتے ہیں جو بڑی مشکل سے دکھائی دیتی ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں غبار کے بہت چھوٹے چھوٹے اجزاء (کے معنی میں ہے) جو فضا میں معلق ہیں اور تاریک جگہوں کے اندر سورج کی روشنی میں چھوٹے چھوٹے سوراخوں اور روشن دانوں سے ظاہر ہوتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر انسان اپنا ہاتھ مٹی یا سی قسم کی چیز پر رکھ دے اور پھر اپنے ہاتھ پر پھونک مارے تو جو مٹی کے اجزا فضا میں بکھر جائیں گے ان میں سے ہر ایک کو ذرہ کہتے ہیں۔ لیکن آہستہ آہستہ ہر چھوٹی چیز کو ذرہ کہنے لگے اور آجکل ایٹم کو بھی جو جسم کا کم سے کم جزو ہے ذرہ کہا جاتا ہے۔ کیونکہ اگر گذشتہ زمانے میں انہیں غبار کے ذرے کہتے تھے تو اس کو بھی یہی وجہ تھی وہ جسم کے بہت ہی چھوٹے چھوٹے اجزا سمجھے جاتے تھے۔ لیکن آج کی دنیا میں ثابت ہو چکا ہے کہ ایک ”جسم مرکب“ کے چھوٹے سے چھوٹے اجزا سالمے ((MOLECULESاور جسم لبیط کے سب سے چھوٹے اجزا ایٹم (ATOME) ہیں۔ جو سالموں سے بہت ہی چھوٹے ہیں علمی اصطلاح میں ایٹم اسے کہتے ہیں جو نہ صرف آنکھوں سے نہ دیکھا جا سکتا ہو بلکہ قوی ترین برقی مائیکروسکوپ سے بھی قابل دین نہیں ہے یہ صرف علمی فارملوں اور مخصوص فوٹو گرافیوں کے ذریعے دیکھے جاتے ہیں جو بہت ہی چوٹی چیزوں کو دیکھنے کے لئے بنائے گئے ہیں۔
مثقال کے معنی وزن اور بھاری پن کے ہیں۔ تو ”مثقال ذرہ“ سے مراد جسم کا ایک چھوٹے سے چھوٹا مسلم اور محسوس ذرہ ہے اور بوجھ کے معنی میں ہے۔ آیت مندرجہ بالا کہتی ہے کہ خدا ذرہ بھر وزن کے برابر بھی ظلم نہیں کرتا اور نہ صرف یہ کہ ظلم نہیں کرتا بلکہ اگر نیک کام انجام پائے تو اسے کئی گنا کر دیتا ہے۔ اور اپنی طرف سے اس کے بدلے میں اجر عظیم دیتا ہے۔ یہ آیت حقیقت میں بےایمان اور بخیل افراد سے جن کی حالت گذشتہ آیات میں بیان ہو چکی ہے کہتے ہے کہ یہ سزائیں جو تمہیں مل رہی ہیں یہ تو تمہارے اعمال کا نتیجہ ہیں لیکن خدا کی طرف سے تم پر کسی قسم کا ظلم نہیں ہو گا اور اس کے برعکس اگر تم بخل و کفر کی بجائے خدا کی راہ اختیار کر لیتے تو کئی اجر عظیم کے مستحق قرار پاتے۔
ضمناً توجہ رہے کہ ”ضعف“ یا مضاعف“ کے معنی لغتِ عرب میں اس چیز کے ہیں جس کے برابر یا اس سے چند گنا بڑھایا جائے۔ اس لئے زیر نظر آیت اور دوسری آیتوں میں جو یہ ہے کہ خدا کے راستے میں خرچ کرنے والوں کی جزا کبھی دس گنا ہوتی ہے کبھی سات سو گنی یا اس سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے اس میں کسی قسم کا اختلاف نہیں بلکہ ہر صورت میں بندوں پر خدا کا لطف و کرم ظاہر ہوتا ہے۔ وہ ان کے گناہوں کی سزا گناہوں کی مقدار سے زیادہ نہیں دیتا ان کی نیکیوں کی مقدار سے کئی گنا زیادہ دیتا ہے۔
باقی رہی اس بات کی دلیل کہ خدا ظلم کیوں نہیں کرتا تو وہ واضح ہے کیونکہ ظلم و ستم یا تو جہالت کی وجہ سے ہوتا ہے یا ضرورت نفسانی کمزوریوں اور نقائص کے سبب سے اب جو ذات تمام چیزوں اور سب لوگوں کے متعلق علم رکھتی ہے اور سب سے بےنیاز ہے اور کسی قسم کی کمی اور نقص اس کی ذات اقدس میں نہیں ہے، اس کے لئے ظلم کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ بلکہ وہ باوجود قدرت کے، علیم و حکیم ہونے کی بنا پر ظلم نہیں کرتا، ہر وہ چیز کو اس وسیع و عریض دنیا میں اپنی جگہ برقرار رکھتا ہے اور ہر وہ شخص کے ساتھ اس کی لیاقت اور اس کے اعمال و کردار کے مطابق سلوک کرتا ہے۔
اس دن وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے اور پیغمبر کی مخالفت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے یہ تمنا کریں گے کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ( وہ مٹی ہوتے اور) ان کی خاک زمین کی سطح سے ملی ہوتی اور وہ بالکل محو اور خاموش ہو جاتے اور اس دن خدا سے کوئی بات نہ چھپا سکیں گے ۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
فکیف اذا جئنا من کلّ امة بشہید
گذشتہ آیتوں کے بعد جو برُوں اور نیکوں کو سزا و جزا کے بارے میں تھیں یہ آیات روز قیامت کے گواہوں کی طرف اشارہ کرتی ہیں پہلی آیت میں ہے: اس دن ان لوگوں کی کیا حالت ہو گی جب ہم ہر امت کے لئے ان کے اعمال کا گواہ لے آئیں گے اور تمہیں ان کا گواہ مقرر کریں گے۔ اسی طرح جس انسانی کے اعضاء کی گواہی اس زمین کی گوا ہی جس پر وہ رہتے تھے اور اس کے اعمال پر خدا کے فرشتوں کی گواہی کے علاوہ ہر پیغمبر بھی اپنی امت کے اعمال پر گواہ ہو گا۔ حضرت رسول اکرم (ص) جو سب سے آخری اور سب سے عظیم پیغمبر خدا ہیں اپنی امت کے اعمال پر گواہ ہوں گے۔ برُے لوگ ان سب گواہوں کے ہوتے ہوئے کس طرح حقیقت کا انکار کر سکیں گے اور کیسے اپنے تئیں اپنے اعمال کی سزا سے بچا سکیں گے۔ اسی قسم کا مضمون کلام مجید کی چند دوسری آیتوں میں بھی ہے مثلاً بقرہ ۱۴۳، نحل ۸۹ اور حج ۷۸۔
اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اپنی امت کے اعمال کے متعلق پیغمبروں کی گواہی کس قسم کی ہو گی۔ اگر لفظ ھئو لاء کا اشارہ مسلمانوں کی طرف ہو جیسا کہ تفسیر مجمع البیان میں تحریر ہے تو اس سوال کا جواب واضح ہو جائے گا۔ چونکہ ہر نبی جب تک اپنی امت کے درمیان رہے تو ان کے اعمال دیکھتا ہے اور اس کے بعد اس کے معصوم جانشین ان کے اعمال پر گواہ و ناظر ہوتے ہیں۔ اسی لئے حضرت عیسی علیہ السلام کے حالات میں لکھا ہے کہ وہ قیامت کے دن خداوند عالم کے سوال کے جواب میں عرض کریں گے:
ما قلت لھم الّا ما امرتنی بہ ان اعبدوا اللہ ربی و ربکم و کنت علیھم شھیداًما دمت فیھم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم و انت علی کل شیء شھید۔ (المائدہ، ۷)
اے پالنے والے!تو نے مجھے حکم دیا ہے میں نے انہیں اس کے سوا کچھ نہیں کہا۔ میں نے ان سے کہا کہ اس خدا کی جو میرا اور تمہارا پروردگار ہے عبادت کرو اور جب تک میں ان کے درمیان تھا ان کے اعمال کو گواہ تھا لیکن جب سے تو نے مجھے ان کے درمیان سے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگران تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔
لیکن مفسرین کی ایک جماعت نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ لفظ ”ھئو لاء“ گذشتہ امتوں کے گواہوں کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی اے رسول (ص) ہم تجھے تمام گواہوں اور گذشتہ انبیاء پر گواہ قرار دیں گے اور کئی ایک روایات میں بھی اس تفسیر کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔ (بحوالہ تفسیر نورالثقلین، تفسیر برہان آیہٴ مذکورہ کے ذیل میں)۔
اس بناء پر آیت کا مفہوم اس طرح ہو گا کہ ہر پیغمبر حیاتِ و وفات ہر صورت میں باطنی اور روحانی مشاہدے کے ذریعے اپنی تمام امت کے حالات کا شاہد ہو گا اور حضور کی روح اقدس بھی اسی طریقہ سے تمام گذشتہ امتوں اور اپنی امت کے حالات کو دیکھنے والی اور ان کے اعمال پر گواہ ہے۔ یہاں تک کہ ممکن ہے امت کے صلحاء اور پرہیزگاری میں اعلیٰ مقام کے حامل افراد بھی اس قسم کی استعداد رکھتے ہوں۔ اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ حضرت پیغمبر اسلامؐ کی روح اقدس خلقتِ آدم (ع) سے پہلے موجود تھی کیونکہ شہود کے معنی آگاہی اور موجود ہونے کے ہیں لیکن یہ تفسیر اس آیت کے ساتھ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نقل کی گئی ہے کوئی زیادہ مناسبت نہیں رکھتی کیونکہ وہ اپنی امت پر تاحیات گواہ تھے (غور فرمائیے گا) (تشریحی نوٹ: اس آیت سے حضرت عیسیٰ (ع) کا کوئی تعلق معلوم نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک الگ مفہوم رکھتی ہے۔ (مترجم )) اگر شہادت کو عملی شہادت کے معنی میں لیں یعنی نمونہ کے ایک فرد کے اعمال جو باقی لوگوں کے اعمال جانچنے کی میزان اور پیمانہ ہیں تو اس صورت میں مندرجہ بالا تفسیر میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔ یعنی ہر پیغمبر اپنی مخصوص صفتوں کی بنا پر اپنی امت کے اعمال کی جانچ کے لئے میزان و مقیاس ہے اور امت کے اچھے برُے لوگوں کو ان کے ساتھ مشابہت رکھنے یا نہ رکھنے سے پہچانا جا سکتا ہے اور چونکہ حضرت رسولِ اکرم (ص) خدا کے نبیوں میں سے بزرگ تریں ہستی ہیں اس لئے حضور کے اعمال و صفات تمام نبیوں کے درجات جانچنے کے لئے معیار ہوں گے۔ اب صرف یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ کیا شہادت اسی معنی میں آئی ہے کہ نہیں لیکن اس طرف توجہ کرنے سے کہ نمونے کے انسانوں کے افکار و اعمال بھی عملہ طور پر گواہی دیتے ہیں کہ ایک انسان کے لئے ممکن ہے کہ وہ اس حد تک روحانی اور باطنی درجات حاصل کرے تو یہ معنی بعید دکھائی نہیں دیتے۔ (غور فرمائیے گا)۔
یومئذ یود الذین کفروا و عصوا الرسول.......
جس وقت کافر خداوند عالم کے بھیجے ہوئے نبیوں کے مقابلے میں کھڑے ہونے والے لوگ اس عدالت الہٰی میں ناقابل انکار شہود اور گواہ دیکھیں گے تو وہ اپنے کئے پر اتنا پشیمان ہوں گے کہ وہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ خاک ہوتے اور زمین کی مٹی کے برابر ہو جاتے۔ قرآن مجید فرماتا ہے: لو تسوی بھم الارض۔ سورہ نباء کے آخر میں اس طرح ہے:
و یقول الکافر یا لیتنی کنت تراباً۔
اس وقت کافر کہے گا اے کاش میں خاک ہوتا۔
لیکن ”تسوی“ کی تعبیر ایک اور مطلب کی طرف اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ کہ اس کے علاوہ کہ کافر یہ آرزو کریں گے کہ وہ خاک ہو جائیں، یہ بھی چاہیں گے کہ ان کی خاک اور قبریں بھی زمین میں دب جائیں اور آس پاس کی زمینوں کے برابر ہو جائیں تاکہ وہ بالکل محو ہو جائیں۔ (بحوالہ سورہٴ انعام کی آیت ۲۲ اور ۲۳ اور سورہ مجادلہ کی آیت ۱۸)۔ مگر وہ اس موقع پر کسی حقیقت کو نہ چھپا سکیں گے (ولا یکتمون اللہ حدیثا)۔ کیونکہ اس شہود اور گواہوں کی موجود گی میں وہ انکار نہ کر سکیں گے۔ البتہ ان دوسری آیات کے منافی نہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ بعض کافر قیامت کے دن بھی حقائق چھپائیں گے اور جھوٹ بولیں گے۔ کیونکہ ان کا جھوٹ شہود اور گواہوں سے پہلے ہو گا لیکن اس کے بعد جب انکار کی کوئی گنجائش نہ رہے گی تو وہ تما م حقائق کا اقرار کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
حضرت امیر المومنین (ع) نے ایک خطبہ میں فرمایا:
خدا قیامت کے دن کچھ لوگوں کے لبوں پر مہر خاموشی ثبت کر دے گا تاکہ وہ بات نہ کر سکیں۔ تو ایسے میں ان کے ہاتھ بولیں گے اور ان کے پاوٴں گواہی دیں گے اور جسم کی کھال اپنے اعمال بیان کرے گی۔ غرض اس وقت کوئی شخص حقیقت کا انکار نہ کر سکے گا۔ (بحوالہ نور الثقلین، جلد اوّل صفحہ ۴۸۲ منقول از تفسیر عیاشی)۔
بعض مفسرین نے اس کے یہ معنی بھی لکھے ہیں کہ لایکتمون اللہ حدیثا سے مراد یہ ہے کہ وہ تمنا کریں گے کہ اے کاش جب وہ دنیا میں تھے تو پیغمبر اسلامؐ کے بارے میں حقائق کو نہ چھپاتے۔ اس بنا پر یہ مذکورہ جملہ ”لو تسوّی بھم الارض“ پر عطف ہو گا۔ لیکن یہ تفسیر لایکتمون کے ظہور کے ساتھ جو فعل مضارع ہے کوئی مناسبت نہیں رکھتی۔ اگر یہ معنی مراد ہوتے تو پھر یوں کہا جاتا: ”ولم یکتموا“
اے ایمان والو جب تم نشے میں ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ جب تک تم یہ نہ سمجھ سکو کہ تم کیا کہہ رہے ہو اور اسی طرح جب تم جنابت کی حالت میں ہو جب تک غسل نہ کر لو مگر یہ کہ عالم مسافرت میں ہو اب اگر تم بیمار یا مسافر ہو یا قضائے حاجت کی ہے اور یا عورتوں سے مباشرت کی ہے اور اس حالت میں تمہیں (وضو یا غسل کے لئے )پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرو اس طرح سے کہ اپنے چہروں اور ہاتھوں کا اس سے مسح کرو خدا بخشنے والا اور مغفرت کرنے والا ہے۔
تفسیر
چند فقہی احکام
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
مذکورہ بالا آیت سے چند اسلامی احکام معلوم ہوتے ہیں:
۱۔ نشے کی حالت میں نماز کی حرمت یعنی جو لوگ مست ہوں وہ نماز ادا نہیں کر سکتے اور ان کی نماز اس حالت میں باطل ہے۔ اس کا فلسفہ بھی واضح ہے کیونکہ نماز بندے کی خدا کے ساتھ گفتگو اور راز و نیاز ہے۔ اسے انتہائی توجہ اور ہوش مندی کے ساتھ انجام پانا چاہئیے اور مست لوگ اس منزل سے دور اور بےخبر ہوتے ہیں (یا ایھاالذین اٰمنوا لا تقربوا الصلوٰة و انتم سکارٰی حتی تعلموا ما تقولون)۔
ممکن ہے اس موقع پر کچھ لوگ یہ سوال کریں کہ کیا آیت کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ مشروبات الکحل کا پینا صرف اس صورت میں منع ہے جب کہ اس کی مستی نماز کی حالت تک باقی رہے اور یہ اس امر کی دلیل ہے کہ باقی حالات میں ان کا پینا جائز ہے۔ اس سوال کا مفصل جواب تو انشاء اللہ سورہٴ مائدہ کی اایت ۹۰ کی تفسیر میں آئے گا۔ البتہ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ اسلام اپنے بہت سے احکامات کو عملی صورت دینے میں تدریجی طریقہ اختیار کرتا ہے مثلاً یہی مشروبات الکحل کا مسئلہ چند مرحلوں میں آیات ہے۔ پہلے اس کا پینا ناپسند یدہ اور ”رزقاً حسناً“ (نحل ۶۷) کے برعکس قرار دیا گیا بعد ازیں نشہ کی حالت میں نماز سے منع فرمایا۔ اس کے نفع اور نقصان کا ایک دوسرے سے مقابلہ کیا ہے اور یہ ثابت کیا کہ اس کے نقصانات فائدوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ پھر آخری مرحلے میں اس سے قطعی اور صریحی اور ممانعت کی گئی ہے (مائدہ ۹۰)۔
اصولی طور پر ایک اجتماعی اور اخلاقی فساد کی جڑ کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے جس سے ماحول بری طرح سے متاثر ہو رہا ہو، اس سے بہتر اور روشن تر اور کوئی راستہ نہیں ہے کہ افراد کو آہستہ آہستہ اسے چھوڑنے پر آمادہ کیا جائے اور پھر آخری حکم دیا جائے۔
ضمنی طور پر توجہ رہے کہ یہ آیت کسی طرح بھی شراب نوشی کے جواز پر دلالت نہیں کرتی بلکہ وہ صرف حالت نماز میں مستی کے بارے میں گفتگو کر رہی ہے۔ نماز کی حالت کے علاوہ کے لئے خاموش ہے، یہاں تک کہ آخری حکم آ جائے۔ اس بات کا خیال رکھتے ہوئے کہ نماز پنجگانہ کے اوقات خصوصاً اس زمانے میں جب عام طور پر پانچ وقتوں میں پڑھی جاتی تھی کے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں ہوتا تھا۔ اب نماز بحالت ہوش و حواس پڑھنے کے لئے ضروری ہے کہ ان اوقات کے درمیانی فاصلے میں ایسی مشروبات سے جو نشہ آور ہیں کلی طور پر پرہیز کیا جائے۔ کیونکہ اکثر اوقات شراب کا نشہ نماز کے وقت تک باقی رہتا ہے اور ہوش و حواس بر قرار نہیں رہتے۔ اس بنا پر زیر بحث آیت ایک طرح سے دائمی اور مسلسل تحریم کے ساتھ مشابہت رکھتی ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ بہت سی رویتیں جو شیعہ سنی کتب میں آئی ہیں ان میں مندرجہ بالا آیت کے معنی نیند کی مستی کے لئے گئے ہیں۔ یعنی جبت تک اچی طرح نہ جاگ جاؤ نماز شروع نہ کرو جب تک تمہیں معلوم نہ ہو سکے کہ کیا کہہ رہے ہو۔ (بحوالہ تفسیر نور الثقلین جلد اول صفحہ ۴۸۳ و تفسیر قرطبی جلد سول صفحہ ۱۷۷۱)۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس تفسیر کے لئے ”حتی تعلموا ما تقولون“ کے مفہوم سے فائدہ اٹھایا گیا ہے ”سکاریٰ“ سے نہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہاں تک کہ تمہیں یہ معلوم ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر اس حالت میں نماز پڑھنا جس میں انسان کے ہوش و حواس پورے طور پر بجا نہ ہوں ممنوع ہے، چاہے وہ مستی کی حالت ہو یا اونگھ اور نیند کے خمار کے عالم میں۔ اس جملہ سے ضمنی طور پر یہ استفادہ کیا جا سکتا ہے کہ بہتر ہے کہ انسان سستی اور کم توجہ کی حالت میں بھی نماز نہ پڑھے کیونکہ اس حالت میں کمزوری سی پائی جاتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ حضرت امام محمد باقر (ع) سے منقول ہے:
جب تم کسالت اور سستی میں ہو یا اونگھ رہے ہو یا طبیعت بوجھل ہو تو ایسی حالت میں نماز نہ پڑھو کیونکہ خداوند عالم نے مومنین کو مستی کی حالت میں نماز پڑھنے سے منع کیا ہے۔ (بحوالہ تفسیر نورالثقلین جلد اول صفحہ ۴۸۳ اس مضمون کے مشابہ صحیح بخاری میں بھی ایک روایت ہے)۔
۲۔ حالتِ جنابت میں نماز کا باطل ہونا۔ جس کی طرف ”ولا جنباً“ سے اشارہ کیا گیا ہے۔ اس کے بعد اس حکم سے استثنا کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: الا عابری سبیل (مگر یہ کہ مسافرت میں ہوں) اگر مسافرت میں پانی نہ ملے تو تیمم سے نماز پڑھو (اس کی تفصیل آگے آئے گی) لیکن اخبار و روایات میں اس آیت کی ایک دوسری تفسیر بھی درج ہے (بحوالہ وسائل جلد اول صفحہ ۴۸۶)۔ اور وہ یہ ہے کہ آیت میں لفظ صلوٰة سے مراد نماز پڑھنے کی جگہ اور مسجد ہے۔ یعنی حالت جنابت میں مساجد میں داخل نہ ہوں اس کے بعد ان لوگوں کو مستثنیٰ قرار دیا ہے جو حالت جنابت میں مسجد سے گزریں۔
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں اور اصحاب نبی کی ایک جماعت نے مسجد نبوی کے اطراف میں ایسے گھر بنائے ہوئے تھے جن کے دروازے مسجد نبوی میں کھلتے تھے اور انہیں اجازت دی گئی تھی کہ وہ حالت جنابت میں مسجد سے بلا توقف گزر جائیں۔
لیکن یہ بات قابل توجہ ہے کہ اس تفسیر کا نتیجہ یہ ہو گا کہ آیت میں لفظ صلوٰة دو معنی میں استعمال ہوا ہے کہ ایک نماز اور دوسرا ”محل نماز“ کیونکہ زیر نظر آیت میں دو حکم بیان ہوئے ہیں۔ ایک یہ کہ حالت نشہ میں نماز نہ پڑھی جائے اور دوسرا حالت جنابت میں مساجد میں داخل نہ ہوں۔
جیسا کہ اصول میں ہم کہہ چکے ہیں ایک لفظ کا دو معنی میں استعمال شک و شبہ سے بالاتر ہے لیکن خلافِ ظاہر ضرور ہے اور قرینہ کے بغیر جائز بھی نہیں ہے۔ البتہ روایات مندرجہ بالا اس کا قرینہ قرار دی جا سکتی ہیں۔
۳۔ غسل کر چکنے کے بعد نماز پڑھنے یا مسجد سے گزرنے کے جواز کو ”حتی تغتسلوا“ سے بیان کیا گیا ہے۔
۴۔ اس کے بعد جو پا نی نہ ملنے یا کسی اور وجہ سے معذور ہوں ان کے تیمم کا حکم بیان کیا گیا ہے: و ان کنتم مرضی او علیٰ سفر یعنی اگر بیمار ہو جاوٴ یا سفر میں ہو۔ درحقیقت اس مختصر سی عبارت میں تشریعِ تیمم کے تمام مواقع جمع ہیں۔ پہلا مقام وہ ہے کہاں پانی جسم کے لئے ضرررساں ہو اور دوسرا مقام وہ ہے جہاں انسان کو پانی نہ ملے یا اس کے استعمال کی طاقت نہ ہو۔
پھر فرمایا: اوجاء احدمنکم من الغائط اولا مستم النساء۔ اس جملے سے تیمم کی ضرورت کے اسباب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جب قضائے حاجت سے فارغ ہو یا عورتوں سے ہم بستری کرو۔ فلم تجدوا ماء۔ اور تمہیں پانی نہ ملے۔ فتیمموا صعیداً طیباً تو اس موقع پر پاکیزہ مٹی پر تیمم کر لو۔ اس بعد تیمم کا طریقہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: فَامْسَحُوا بِوُجُوہِکُمْ وَ اَیْدیکُمْ۔ اس کے بعد اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کرو۔ آیت کے آخر میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ مذکورہ حکم تمہارے لئے ایک قسم کی سہولت اور آسانی ہے۔ چونکہ خدا معاف کرنے اور بخشنے والا ہے۔
چند اہم نکات
۱۔ فلم تجدوا ماءً کا جملہ جو اصطلاح کے مطابق فاء تفریع سے شروع ہوتا ہے اور ”علیٰ سفر“ سے مربوط ہے یعنی جس وقت تم سفر میں ہو تو ممکن ہے کہ پانی نہ مل سکے اور تمہیں تیمم کی ضرورت پڑے کیونکہ انسان جب بستی میں ہو پھر ایسا بہت کم اتفاق ہوتا ہے۔ یہاں سے یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ جو بات صاحب المنار جیسے مفسرین نے لکھی ہے کہ ”فقط مسافرت ہی وضو کی بجائے تیمم کرنے کے لئے کافی ہے۔” بالکل بےبنیاد ہے۔ کیونکہ فاء تفریعی ”فلم تجدوا“ میں اس بات کو باطل کر دیتا ہے۔ اس لئے کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ سفر میں کبھی پانی نہیں ملتا تو ایسے موقع پر تیمم کر لینا چاہئیے نہ یہ کہ حالت سفر ہی میں تیمم جائز ہے۔ تعجب ہے کہ مولف مذکور اس سلسلے میں فقہا پر تنقید کرتا ہے جبکہ مذکورہ تنقید کا یہاں کوئی مقام نہیں ہے۔
۲۔ لفظ ”او“ اوجاء احد منکم من الغائط“ کے جملہ میں ”واوٴ“ کے معنی میں ہے کیونکہ بیماری یا مسافرت تیمم کا سبب نہیں ہیں بلکہ ایسی حالت میں اگر اسباب وضو یا غسل حاصل نہ ہوں تو اس وقت تیمم واجب ہے۔
۳۔ اس آیت میں قرآن کے بیان کی نفاست و پاکیزگی دوسری بہت سی آیتوں کی طرح مکمل طور پر دکھائی دیتی ہے۔ کیونکہ جب چاہتا ہے کہ قضائے حاجت کے متعلق گفتگو کرے تو ایسی تعبیر کو چنتا ہے جو مطلب سمجھا دے اور نامناسب لفظ بھی استعمال نہ ہونے پائے اس لئے فرماتا ہے:
اوجاء احد منکم من الغائط اس کی وضاحت یوں ہے کہ ”غائط“ بخلاف اس مفہوم کے جو آج کل اس سے سمجھا جاتا ہے۔ (بحوالہ: غائط کا لفظ آج کل عموماً انسانی فضلہ کے لئے بولا جاتا ہے)۔ اصل میں ایسی نشیبی زمین کے لئے بولا جاتا ہے جو انسان کو لوگوں کی نگاہوں سے چھپالے اور اس زمانے میں بیابانوں میں پھرنے والے اور مسافر لوگ قضائے حاجت کے لئے ایسی جگہوں پر جاتے تھے تاکہ وہ لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل رہیں۔ بنا بریں اس جملے کے معنی یہ ہوں گے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص نشیبی جگہ سے آیا ہو جو عام طور پر قضائے حاجت کی طرف کنایہ ہے اور قابل توجہ یہ بات ہے کہ تم کی بجائے تم میں سے کوئی لفظ استعمال ہوا ہے تاکہ بیان کی نفاست بڑھ جائے (غور فرمائیے گا)۔
اسی طرح مباشرت کے بارے میں گفتگو کرتا ہے تو ”اولامستم النساء“ یا عورتوں سے لمس کیا ہو کی تعبیر سے سمجھایا گیا ہے اور لفظ ”لمس“ ہم بستری کے لئے عمدہ کنایہ ہے۔
۴۔ تیمم کی باقی خصوصات کے بارے میں منجملہ ”صعیداً طیباً“ انشاء اللہ سورہ ٴ مائدہ کی آیت ۶ کے ذیل میں تفصیل سے بحث کی جائے گی۔
تیمم کا فلسفہ
بہت سے لوگ پوچھتے ہیں کہ زمین پر ہاتھ مارنے اور پھر انہیں پیشانی اور ہاتھوں کی پشت پر پھیر نے میں کیا فائدہ ہے خصوصاً جبکہ ہمیں معلوم ہے کہ بہت سے مٹی گندی بھی ہوتی ہے اور اس سے جراثیم بھی منتقل ہوتے ہیں۔
اس اعتراض کے جواب کے لئے دو نکتوں کی طرف توجہ کرنا چاہئیے۔
الف: اخلاقی فائدہ۔ تیمم ایک عبادت ہے۔ اور عبادت کی روح اس میں اپنے حقیقی معنی میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ کیونکہ انسان اپنی پیشانی کو جو بدن کا محترم ترین عضو ہے اس ہاتھ سے جو مٹی پر مارا گیا ہے مس کرتا ہے۔ تاکہ اس کی بارگاہ میں اپنی عاجزی و انکساری ظاہر کرے۔ یعنی میری پیشانی اور ہاتھ تیرے سامنے انتہائی خشوع و خضوع کے لئے حاضر ہیں۔ اس کے بعد انسان نماز یا دو سری عبادتوں کو انتہائی خلوص اور عاجزی سے ادا کرنے کے لئے آمادہ ہوتا ہے جن میں وضو یا غسل کی شرط ہے۔ اس طرح انکساری، عبودیت اور شکر گزراری کے جذبے کو پروان چڑھانے کے لئے یہ عمل بہت موٴثر اور کارگر ہے۔
ب: حفظانِ صحت کافائدہ: آج کی دنیا میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ مٹی اپنے بہت سے جرثوموں Bactarias کی وجہ سے گندگیوں کو دور کر سکتی ہے۔ یہ جرثومے جن کا کام آلودہ کرنے والے مواد کا تجزیہ اور طرح طرح کی بدبو کو دور کرنا ہے زیادہ تر زمین کی سطح پر معمولی سی گہرائی میں جہاں سے ہوا اور سورج کی روشنی سے بخوبی فائدہ اٹھا سکیں بکثرت پائے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے جب مردہ جانور یا لاشیں زمین میں دفن کر دی جائیں اور اسی طرح سے دوسری چیزیں جو گندگی سے بھری ہوئی زمین پر پڑی ہوں، تھوڑے ہی عرصے میں ان کے اجزا بکھرے جاتے ہیں اور جرثوموں کی وجہ سے وہ بدبو کا مرکز نیست و نابود ہو کر رہ جاتا ہے۔
یہ مسلم ہے کہ اگر زمین میں یہ خاصیت نہ ہوتی تو کرہٴ زمین مدت قلیل میں بدبو کے ڈھیروں میں بدل جاتا۔ اصولی طور پر مٹی اینٹی بائیوٹک (ANTIBIOTIC) اثر رکھتی ہے جو بہترین جراثیم کش ہے۔ اس بنا پر نہ صرف یہ کہ پاکیزہ مٹی گندی چیز نہیں بلکہ وہ گندگی کو دور کرنے والی ہے اور اس لحاظ سے ہو سکتا ہے کہ وہ کسی حد تک پانی کی جانشینی کرے۔ لیکن اس فرق کے ساتھ کہ پانی حلّال ہے یعنی وہ جراثیم کو حل کر کے بہالے جاتا ہے۔ لیکن مٹی انہیں موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے۔
البتہ توجہ رہے کہ تیمم کی مٹی مکمل طور پر پاک و پاکیزہ ہو۔ جیسا کہ قرآن اس کی عجیب و غریب تعبیر لفظ”طیباً“ سے کرتا ہے۔
یہ بھی قابل توجہ ہے کہ اس ”سے وہ ”صعید“ مراد ہے جو مادہٴ ”صعود“ لیا گیا ہے۔ یعنی بہتر ہے کہ اس کام کے لئے وہ مٹی چنی جائے جو سطح زمین پر سورج کی تپش اور اس کی روشنی کی زد میں ہو اور جراثیم مارنے والے جرثوموں سے بھری ہوئی ہو۔ اگر اس قسم کی مٹی پاک و پاکیزہ بھی ہو تو اس سے تیمم مندرجہ بالا اثرات رکھتا ہے (سوہ ٴمائدہ کی آیت ۶ کی ذیل میں اسی سلسلہ میں مزید بحث کی جائے گی)۔
کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں (خدا کی) کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا تھا اس سے اپنے لیے گمراہی خریدتے ہیں اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی گمراہ ہو جاؤ۔
خدا تمہارے دشمنوں سے آگاہ ہے کافی ہے کہ خدا تمہارا ولی ہو اور کافی ہے کہ وہ تمہارا ناصر و مددگار ہو۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
الم ترا الیٰ الذین اوتوا نصیباً من الکتاب یشترون الضلالة و یریدون ان تضلوا السبیل۔
خداوند عالم اس آیت میں تعجب آمیز عبارت سے اپنے پیغمبر (ص) سے خطاب فرماتا ہے۔ فرماتا ہے: اس گروہ کی حالت حیران کن ہے کہ جو کتاب آسمانی کا کچھ حصہ اپنے پاس رکھتے تھے۔ لیکن بجائے اس کے کہ وہ اس کے ذریعے اپنے اور دوسروں کے لئے ہدایت و سعادت حاصل کرتے، گمراہی کا راستہ اپناتے ہیں اور تمہارے لئے بھی چاہتے ہیں کہ گمراہ ہو جاوٴ۔ اس طریقے سے وہ اپنی چیز جو خود ان کے لئے اور دوسروں کے لئے ہدایت کا ذریعہ تھی، ان کی بری نیتوں کی وجہ سے گمراہی اور وسیلہٴ گمراہی میں بدل گئی ہے کیونکہ وہ بھی حقیقت کی تلاش میں کوشاں نہیں تھے۔ بلکہ ہر چیز کو نفاق، حسد اور مادیت کی سیاہ عینک سے دیکھتے ہیں۔ اس کے بعد فرماتا ہے: یہ لوگ اگرچہ دوستی کے لباس میں جلوہ گر ہوتے ہیں لیکن یہ دراصل تمہارے جانی دشمن ہیں اور خدا ان سے آگاہ ہے (و اللہ اعلم باعدائکم)۔ اس سے بڑھ کر اور کیا دشمنی ہو گی کہ وہ کبھی خیر خواہی کے لہجے میں اور کبھی بدگوئی کی زبان میں تمہاری ہدایت اور سعادت کی مخالفت کرتے ہیں اور ہر وقت اپنے برے مقاصد کی تکمیل کے درپے ہیں لیکن تم ان کی دشمنی سے نہ گھبراوٴ۔ تم اکیلے نہیں ہو۔ یہی کافی ہے کہ تمہارا خدا تمہارا رہبر، ولی اور مددگار ہے (لو کفیٰ باللہ ولیاو کفیٰ باللہ نصیراً)۔ کیونکہ وہ کچھ نہ کر سکیں گے۔ اگر تم ان کی باتوں کو پاوٴں کے نیچے روند ڈالوں تو کسی کا ڈر نہیں ہے۔
ضمناً ”اوتوا نصیباً من الکتاب“ (کتاب کا کچھ حصہ انہیں دیا گیا ہے) سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پاس جو کچھ تھا وہ مکمل آسمانی کتاب ”تورات“ نہ تھی بلکہ اس کا کچھ حصہ تھا اور یہ بات تسلیم شدہ تاریخی حقائق کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے کیونکہ تورات کے بہت سے اصلی حصے یا تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بدلتے گئے یا وہ بالکل نیست و نابود کر دئے گئے تھے۔
بعض یہودی تورات کے کچھ فقروں کو ان کے مقام سے بدل دیتے تھے اور یہ کہتے کہ ہم نے سنا اور مخالفت کی اور نیز کہتے کہ سنو کہ ہر گز نہ سنو اور(بطور طنز کہتے ’’راعنا‘‘ یعنی ) ہمیں بے وقوف بناؤ یہ اس لیے ہے تاکہ وہ اپنی زبان سے حقائق کو بدل ڈالیں اور دین خدا پر لعن و تشنیع کریں لیکن اگر وہ (اس ہٹ دھرمی اور اصرار کی بجائے) یہ کہتے کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی اور ہماری بات کو سنو اور ہمیں مہلت دو (تاکہ ہم حقائق کی تہ کو پہنچ سکیں ) تو یہ بات ان کے نفع میں تھی اور حقیقت کے ساتھ ساز گار تھی لیکن خدا نے انہیں ان کے کفر کی وجہ سے اپنی رحمت سے محروم کر دیا اس لیے ان میں سے تھوڑے لوگوں کے سوا ایمان نہیں لائیں گے۔
تفسیر
یہودیوں کے کردار کا ایک اور رخ
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
یہ آیت گذشتہ آیتوں کے بعد دشمنانِ اسلام کی کچھ اور صفتوں کی تشریح کرتی ہے اور ان کے بعض اعمال کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ پہلے یہ بتاتی ہے کہ ان کا کام حقائق کی تحریف اور احکام خدا کے چہرے کو مسخ کرنا تھا (مِنَ الَّذینَ ہادُوا یُحَرِّفُونَ الْکَلِمَ عَنْ مَواضِعِہِ) یہودیوں کا ایک گروہ کلماتِ خدا کو ان کی جگہ سے تبدیل کر دیتا تھا۔ یہ تحریف نہ معلوم لفظی تھی کہ معنوی لیکن بعد کے جملے بتاتے ہیں کہ یہاں تحریف سے مراد تحریف لفظی اور تغیر عبارت ہے کیونکہ اس جملہ کے بعد فرماتا ہے (وَ یَقُولُونَ سَمِعْنا وَ عَصَیْنا) ہم نے سنا اور نافرمانی کی یعنی بجائے اس کے کہ سمعنا و اطعنا یعنی ہم نے سنا اور اطاعت کی کہیں کہتے ہیں ہم نے سن کر مخالفت کی اور یہ بالکل ان لوگوں کی طرح ہے جو بعض اوقات بطور استہزا کہتے ہیں: ”آپ کا کہنا اور ہمارا بات پر کان نہ دھرنا” آیت کے دوسرے جملے بھی اسی مطلب کی گواہی دیتے ہیں۔
اس کے بعد ان کی عداوت آمیز جسارت اور بےادبی کی گفتگو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ کہتے ہیں: وَ اسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ۔ ”سنو کہ کبھی نہ سنو“ اور اس طرح وہ ایک نادان او رجاہل گروہ بن کر حقائق کو بدلنے اور کتب آسمانی میں خیانت کرنے میں مصروف ہیں۔ حالانکہ یہ کتابِ آسمانی فرعون جیسے ظالم و جابر کے چنگل سے ان کی نجات کا ماحصل ہے۔ انہوں نے استہزاء اور مسخرہ پن جیسے نامردانہ حربے اختیار کر رکھے ہیں یہ حربہ ہٹ دھرم اور غرور کرنے والوں کا ہتھیار ہیں۔ وہ کبھی ان طاتوں کے علاوہ وہ پاک دل مسلمانوں کے بعض جملوں سے جو وہ حضرت رسالت مآبؐ کی خدمت اقدس میں عرض کرتے تھے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے ان جملوں کو دوسرے مطالب و معانی کا لباس پہنا کر استہزاء اور تمسخر کے طور پر استعمال کرتے تھے. مثلاً ”راعنا“ جس کے معنی ہیں "ہم سب سے رعایت کیجئے“۔ سچے مسلمان دعوتِ اسلام کی ابتداء میں اس بناء پر کہ زیادہ اچھے اور بہتر طریقے سے آپ کی باتوں کو سنیں اور دل میں جگہ دیں حضرت رسولِ اکرمؐ کے سامنے ایسے جملے عرض کرتے لیکن یہودیوں کا یہ گروہ اسے بگاڑ کر حضور کے سامنے اسے دھراتا تھا۔ اس لفظ سے اس کی مراد اس کا عبرانی معنی تھا اور وہ یہ کہ “سنو کہ کبھی نہ سنو“ یا پھر دوسرے عربی معنی یعنی ہمیں بےوقوف بناوٴ (تشریحی نوٹ: ”راعنا“ اگر ”رعی“ کے مادہ سے ہو تو اس کا معنی ہے ”ہم سے مراعات کیجئے اور ہمیں مہلت دیجئے“ اور اگر ”رعونت“ کے مادہ سے ہو تو اس کا معنی ہے ”ہم بےوقوف بنائے“ یاد رہے کہ پہلی صورت میں ”راعنا“ میں نون شد کے ساتھ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودی خاص طور پر نون پر شد دیتے تھے اور آخر پر اسے کھینچ کر پڑھتے تھے)۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ یہ ظاہر کریں کہ خاکم بدہن پیغمبر (ص) کا کام لوگوں کو الو بنانا اور بےخبر رکھنا ہے۔ وہ یہ سب کچھ اس لئے کرتے تھے تاکہ اپنی زبان سے حقائق کو اصلی محور سے ہٹا دیں اور دین حق پر زبان اعتراض دراز کریں۔ (وَ راعِنا لَیًّا بِاَلْسِنَتِہِمْ وَ طَعْناً فِی الدِّینِ)۔ لیّ (بروزن حیّ) کے معنی طناب وغیرہ کو لپیٹنا ہیں اور یہاں ادل بدل کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
وَ لَوْ اَنَّہُمْ قالُوا سَمِعْنا وَ اَطَعْنا وَ اسْمَعْ وَ انْظُرْنا لَکانَ خَیْراً لَہُمْ وَ اَقْوَمَ۔
لیکن اگر وہ اس ہٹ دھرمی، اصرار، حق دشمنی اور بےادبی کی بجائے سیدھی راہ اپناتے اور یہ کہتے کہ ہم نے خدا کا کلام سنا اور ہم نے اطاعت کی آپ ہماری گزارشات سنئیے اور ہم سے رعایت کیجئے اور ہمیں مہلت دیجئے کہ ہم حقائق کو سمجھ سکیں تو یہ ان کے فائدے میں ہوتا اور عدل، منطق اور ادب کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتا۔
وَ لکِنْ لَعَنَہُمُ اللَّہُ بِکُفْرِہِمْ فَلا یُؤْمِنُونَ إِلاَّ قَلیلاً۔
لیکن وہ کفر، سرکشی اور بغاوت کی وجہ سے رحمتِ خدا سے دور ہو گئے ہیں اور ان کے دل اس قدر مردہ ہو چکے ہیں کہ وہ جلدی زندہ اور بیدار نہیں ہو سکتے۔ ان میں صرف تھوڑے سے لوگ پاک دل ہیں جو حقائق قبول کرنے کے لئے تیار ہیں اور حق کی باتوں کو سنتے ہیں اور ان پر ایمان لاتے ہیں۔
بعض لوگ اس جملے کو قرآن کی غیبی خبروں میں سے قرار دیتے ہیں کیونکہ جس طرح قرآن اس جملے میں خبر دیتا ہے اسلام کی طویل تاریخ میں یہودیوں میں سے بہت کم لوگ ایمان لائے اور اسلام سے وابستہ ہوئے باقی اس دن سے آج تک اسلام سے برسرِپیکار ہیں۔
اے وہ لوگو!کہ جنہیں اللہ کی کتاب دی گئی ہے جو کچھ ہم نے(اپنے رسول پر) نازل کیا ہے اور جو ان نشانیوں سے ہم آہنگ بھی ہے جو تمہارے پاس ہیں ایمان لے آؤ اس سے پہلے کہ چہروں کو مسخ کر دیں اور پھر انہیں پشت کی طرف پھیر دیں یا انہیں اپنی رحمت سے دور کر دیں جیسا کہ ہم نے اصحاب سبت کو دور کر دیا تھا اور خدا کا فرمان ہر حالت میں روبہ عمل ہو کے رہتا ہے۔
تفسیر
ہٹ دھرم افراد کی سرنوشت
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
یا اَیُّہَا الَّذینَ اُوتُوا الْکِتابَ آمِنُوا بِما نَزَّلْنا مُصَدِّقاً لِما مَعَکُمْ
اس بحث بعد جو گذشتہ آیات میں اہل کتاب کے بارے میں تھی یہاں انہی کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے فرماتا ہے: اے وہ لوگو جنہیں آسمانی کتاب دی جا چکی ہے، قرآن کی آیتوں پر ایمان لے آوٴ جو ان کی نشانیوں سے ہم آہنگ ہیں جو اس کے بارے میں تمہاری کتابوں میں موجود ہیں اور مسلم ہے کہ ان نشانیوں کی موجودگی میں تم دوسرے لوگوں کی نسبت اس بات کا زیادہ حق رکھتے ہو کہ اس پاک دین کے ماننے والے بن جاوٴ۔
اس کے بعد انہیں دھمکی دیتا ہے کہ اس سے پہلے کہ تم دو سزاوٴں میں سے کسی ایک میں گرفتار ہو جاوٴ حق کے سامنے سر تسلیم خم کر دو۔ پہلی سزا یہ کہ تمہارے چہروں کو کلی طور پر نیست و نابود کر دیا جائے اور ان تمام اعضاء کو جن کے ذریعے تم حقائق کو دیکھتے، سنتے اور سمجھتے ہو مٹا دیں اور اس کے بعد تمہارے چہروں کو پیٹھ کی طرف پھیر دیں (من قبل ان نطمس وجوھاً فنردھا علی ادبارھا)۔ (بحوالہ ”طمس“ کے اصل معنی ہیں کسی چیز کے آثار کو مٹا دیں مثلاً اگر کسی عمارت کو ویران کر دیں اور اس کی جگہ بالکل صاف کر دیں اور سابقہ عمارت کے آثار کو ختم کر دیں ۔ لیکن کنایہ کے طور پر اس چیز کو بھی کہا جاتا ہے جس کا اثر اور خاصیت ختم ہو جائے)۔
شاید یاد دلانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس جملہ سے مراد عقل و ہوش، آنکھ اور کان کا حقائق و واقعاتِ زندگی کو نہ سمجھے اور صراط مستقیم سے روگردانی کے لحاظ سے بیکار ہو جانا ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں حضرت امام محمد باقر (ع) سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:
اس سے مرادان کے چہروں کا راہ راست و ہدایت سے محو کرنا ہے اور ان کو پشت کی طرف پھیرنے سے مراد گمراہی ہے۔ (بحوالہ مجمع البیان جلد ۳ صفحہ ۵۵ آیہٴ مذکورہ کے ذیل میں)۔
اس کی وضاحت یوں ہے کہ اہل کتاب خصوصاً یہودیوں نے ان تمام واضح نشانیوں کے باوجود حق کے سامنے سر نہ جھکایا اور جان بوجھ کر ضد اور دشمنی کے لئے آمادہ ہو گئے اور مختلف مقامات پر دانستہ طور پر خلاف بیانی اور مخالفت کی تکرار کی اور آہستہ آہستہ یہ ان کی طبیعت ثانیہ بن گئی، گویا ان کے افکار کلی طور پر مسخ اور ان کی آنکھیں اور کان اندھے بہرے ہو گئے۔ اس قسم کے لوگ زندگی کی راہ میں ترقی کرنے کی بجائے پچھلے پاوٴں پلٹ جاتے ہیں اور جو جان بوجھ کر حق کا انکار کرتے ہیں ان سزا یہی ہے۔
حقیقت میں یہ سورہ بقرہ کی آیت ۶ کے مشابہ ہے۔ اس بناء پر ”طمس“ اور پشت کی طرف لوٹنے سے مراد فکری، روحانی اور معنوی طور پر پشت کی طرف پلٹنا ہے۔
باقی رہا دوسری سزا جس کی انہیں دھمکی دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ انہیں اصحابِ سبت۔ (تشریحی نوٹ: اصحاب سبت۔ کے بارے میں تفصیل سورہٴ اعراف آیت ۱۶۲ تا ۱۶۶ کے ذیل میں آئے گی۔ یہ یہودیوں کا ایک گروہ تھا کہ ہفتہ کے روز کام کاج نہ کرے لیکن ان لوگوں نے اپنے پیغمبرؐ کے فرمان کی مخالفت کی اور ماہی گیری کرتے رہے اور طغیان و سرکشی میں آخری حد تک جا پہنچے اور آخرکار دردناک انجام سے دوچار ہوئے)۔ کی طرح اپنی رحمت سے دور کر دے گا (اونلعنھم کما لعنا اصحاب السبت)۔
یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے کہ ان دونوں دھمکیوں میں کیا فرق ہے لفظ ”او“ کے ساتھ جس کے معنی ”یا“ ہیں یعنی ان میں سے ہر ایک یا پھر یہ دوسرے پر عطف ہے۔
بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ پہلی دھمکی معنوی پہلو رکھتی ہے اور دوسری دھمکی ظاہری اور مسخ جسمانی کا پہلو رکھتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا اس آیت میں فرماتا ہے: جس طرح ہم نے اصحاب سبت کو اپنی رحمت سے دور کیا تھا ان کو اپنی رحمت دور کر دیں گے۔ ہم جانتے ہیں (جیسا کہ انشاء اللہ تعالیٰ سورہٴ اعراف میں آئے گا) کہ اصحاب سبت ظاہری طور پر مسخ ہوئے تھے۔
بعض دوسرے لوگوں کا نظریہ ہے کہ یہ لغت اور خدا کی رحمت سے دوری بھی اس فرق کے ساتھ معنوی رکھتی ہے کہ پہلی دھمکی انحراف، گمراہی اور پشت کی طرف پلٹنے کی طرف اشارہ ہے جب کہ دوسری دھمکی کے معنی ہلاکت اور نیست و نابود ہونا ہیں کیونکہ لعنت کے ایک معنی ہلاکت بھی ہیں۔
خلاصہ یہ کہ اہل کتاب اصرار اور مخالفتِ حق پر ڈٹے رہنے کی وجہ سے شکست کھائیں گے یا نیست و نابود ہو جائیں گے۔
ایک سوال بھی سامنے آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ کیا ان کے بارے میں یہ دھمکی عمل میں لائی گئی کہ نہیں اس میں کوئی شک نہیں پہلی دھمکی ان میں سے بہت سوں کے بارے میں اور دوسری بعض کے بارے میں عمل میں آ چکی ہے، اسلامی جنگوں میں ان کی بہت بڑی جماعت تباہ و برباد ہو گئی اور ان کی طاقت ختم ہو گئی۔ دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ اس کے بعد بھی مختلف ملکوں میں بہت سخت تنگی اور مشکلات سے دوچار ہوئے اور ان کے بہت سے لوگ مارے گئے اور وہ اس وقت بھی بہت ہی برُے اور خطرناک حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔
آیت کے آخر میں ان دھمکیوں کی تاکید کے طور پر فرماتا ہے: فرمانِ خدا ہر حال میں روبہ عمل ہو گا اور اسے کوئی طاقت بھی نہ روک سکے گی۔ (وکان امر اللہ مفعولا)۔
خدا کبھی مشرک کو نہیں بخشے گا اور اس سے نیچے جو کچھ ہے وہ جسے چاہے( بشرطیکہ وہ اہلیت رکھتا ہو) بخش دے گا اور جو کسی کو اللہ کا شریک بنائے وہ عظیم گناہ کا مرتکب ہوا ہے۔
تفسیر
اُمید سے معمور آیت
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
مندرجہ بالا آیت صراحت سے بتاتی ہے کہ سب گناہ بخشے جا سکتے ہیں لیکن شرک کسی صورت میں نہ بخشا جائے گا مگر یہ کہ اسے چھوڑ دیں توبہ کر لیں اور موحد بن جائیں۔ دوسرے لفظوں میں کوئی گناہ بھی ایمان کو ختم نہیں کر سکتا جس طرح کہ کوئی نیک عمل بھی شرک کی موجودگی میں انسان کو نجات نہیں دلوا سکتا) إِنَّ اللَّہَ لا یَغْفِرُ اَنْ یُشْرَکَ بِہِ وَ یَغْفِرُ ما دُونَ ذلِکَ لِمَنْ یَشاءُ۔
اس آیت کا ربط گذشتہ آیات کے ساتھ اس لحاظ سے ہے کہ یہود و نصاریٰ میں سے ہر ایک، ایک طرح سے مشرک تھے قرآن اس آیت کے ذریعے خطرے سے خبردار کرتا ہے کہ وہ اس عقیدے کو ترک کر دیں کیونکہ یہ ایک ایسا گناہ ہے جو بخشا نہیں جا سکتا۔ اس کے بعد آیت کے آخر میں اس کی دلیل بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: جو شخص خداوند عالم کے لئے شریک قرار دے اس نے بہت بڑا گناہ کیا ہے (وَ مَنْ یُشْرِکْ بِاللَّہِ فَقَدِ افْتَری إِثْماً عَظیماً) (تشریحی نوٹ: افترا مادہ فری سے ہے (بروزن فرد) قطع کرنے کے معنی میں ہے۔ ان اگر کسی سالم چیز کا کچھ حصہ کاٹ دیں تو وہ خراب ہو جاتی ہے۔ اس لئے برے کام مثلاً شرک اور جھوٹ کو بھی افتراء کہتے ہیں)۔
یہ آیت ان آیتوں میں سے ہے جو مورحدین کو پروردگار عالم کے لطف و کرم سے اطمینان اور امید دلاتی ہیں کیونکہ اس آیت میں خدا نے شرک کے علاوہ باقی گناہوں کی بخشش کا امکان بیان کیا ہے ان روایت کے مطابق جو طبرسی مرحوم نے مجمع البیان میں حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام سے نقل کی ہے یہ آیت آیات قرآن میں سب سے زیادہ امید افزا ہے:
مافی القراٰن آیۃ ارحی عند حی من ھذا والاٰ یُۃ
اور ابن عباس کے بقول یہ آیت ان آیات میں سے ہے جو اہل ایمان کے لئے ہر اس چیز سے مزید تر ہے جس میں سورج کی روشنی پڑتی ہیں۔ کیونکہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو بڑے بڑے گناہ کر بیٹھتے ہیں اور پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خداوند تعالی کی رحمت سے مایوس ہو جاتے ہیں اور وہ اسی بنا پر اپنی بقایا زندگی میں بخشش سے نامید ہو کر گناہوں کی دلدل میں پھنس جاتے ہیںؐ۔ حالانکہ خدا کی بخشش اور عفو و دگزر کی امید ہی وہ موثر ذریعہ ہے جو انہیں گناہ اور سرکشی سے باز رکھا سکتا اس لیے یہ آیت حقیقت مں ہماری رہنمائی ایک تربیتی مسئلے کی طرف کرتی ہے۔
جب ہم دیکھتے ہیں کہ (بعض مفسرین اور متعدد و روایات کے مطابق جو اس آیت کی ذیل میں نقل کی گئی ہیں) جرائم پیشہ اور حوشی افراد کے رشید سپہ سالار حضرت حمزہ بن حضرت عبدالمطلب، حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا کا قاتل اس آیت کے نازل ہونے پر ایمان لے آتا ہے اور جرائم سے ہاتھ کھینچ لیتا ہے تو دوسرے گناہگاروں کے لئے بھی یہ امید پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہو اور جو گناہ وہ کر چکے ہیں اپنے آپ کو اس سے زیادہ آلودہ گناہ نہ کریں۔
اس موقع پر شاید یہ اعتراض کیا جائے کہ یہ آیت گناہوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کیونکہ اس میں شرک کے علاوہ باقی سب گناہوں کا بخشش کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ اس میں شک نہیں کہ اسں بخشش کے وعدے کا مقصد ایسا وعدہ نہیں ہے جس میں کوئی شرط اور پابندی نہ ہو بلکہ یہ ان افراد کے لئے ہے جو بخشش کی قابلیت اور اہلیت ظاہر کریں جیسا کہ اشارہ کیا جا چکا ہے مشیت اور خدا کی منشا جس کا ذکر اس آیت میں اور دوسری آیتوں میں ہوا ہے حکمت الہٰی کے معنی میں ہے۔ کیونکہ خدا کی مشیت اور منشا کبھی حکمت سے جدا نہیں ہوتی اور یہ مسلم ہے کہ اس کی حکمت کا ہرگز یہ تقاضا نہیں ہے کہ وہ لیاقت اور استعداد کے بغیر کسی کو غفور و بخشش کا مستحق قرار دے۔ اس بنا پر اس آیت کا تربیتی اور اصلاحی پہلو اس سے غلط فائدہ اٹھانے کی نسبت کئی گنا ہے۔
گناہوں کی بخشش کے اسباب
یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت مسئلہ توبہ سے ربط نہیں رکھتی۔ کیونکہ توبہ اور ترک گناہ تو شرک سمیت تمام گناہوں کو دھو ڈالتا ہے، بلکہ اس سے مراد ایسے لوگوں کے لئے امکانِ عفو الٰہی ہے جنہیں توبہ کی توفیق نہیں ہوئی۔ یعنی اس سے پہلے کہ وہ اپنے کئے ہوئے گناہوں پر پشیمان ہوں یا پشیمانی کے بعد برے اعمال کی تلافی سے پہلے دنیا سے اٹھ جائیں۔
اس کی وضاحت اس طرح کی جا سکتی ہے کہ قرآن کی بہت سی آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ گناہ کی بخشش کے کئی ایک ذریعے ہیں جن کا خلاصہ پانچ موضوعات میں کیا جا سکتا ہے۔
۱۔ توبہ: گذشتہ گناہوں پر پشیمانی اور آئندہ گناہوں سے اجتناب کے پختہ ارادے کے ساتھ صراط مستقیم پر گامزن ہونا اور برُے اعما ل کی نیک اعمال کے ذریعے عملی طور پر تلافی کرنا۔ جو آیات اس معنی پر دلالت کرتی ہیں بہت زیادہ ہیں۔ ان میں سے ایک آیت یہ ہے:
ھوالذی یقبل التوبة عن عبادہ و یعفوا عن السیئات
وہ خدا ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ (شوریٰ۔۲۵)
۲۔ بہت زیادہ نیک کام کرنا۔ یہ بھی برُے اعمال کی بخشش کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے:
ان الحسنات یذھبن السیئات
نیک کام کچھ گناہوں کو ختم کر دیتے ہیں۔ (ہود۔۱۱۴)
۳۔ شفاعت: اس کی تفصیل تفسیر نمونہ کی جلد اول میں آ چکی ہے۔
۴۔ گناہان کبیرہ سے پرہیز کرنا: یہ بھی گناہان صغیرہ کی بخشش کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کی تشریح اسی سورہ کی آیت ۳۱ اور ۳۲ کے ذیل میں گزر چکی ہے۔
۵۔ عفو خداوندی: یہ بھی بعض صاحب استعداد افراد کو میسر آتی ہے جیسا کہ ہم اسی آیت کے ذیل میں بیان کر چکے ہیں۔
اب ہم دوبارہ یاد دلاتے ہیں کہ عفو الٰہی اس کی مشیت کے ساتھ مشروط ہے۔ یہ کوئی عمومی اور بلاقید و شرط مسئلہ نہیں ہے۔ اس کی مشیت اور ارادہ صرف ایسے افراد کے بارے میں ہے جو عملی طور پر کسی نہ کسی طریقے سے اپنی قابلیت اور اہلیت ظاہر کرتے ہیں۔
یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ شرک کیونکہ قابل عفوو بخشش نہیں ہے۔ کیونکہ مشرک اپنا رابطہ خداوند عالم سے بالکل توڑ لیتا ہے اور ایسے برے فعل کا مرتکب ہوتا ہے جو تمام ادیان اور فطرت کے قوانین کی بنیاد کے خلاف ہے۔
دیکھئے وہ کس طرح خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں یہی واضح گناہ( اس کی سزا کے لئے) کافی ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
بہت سی اسلامی تفاسیر میں اس آیت کے بارے میں لکھا ہے کہ یہود و نصاریٰ اپنے لئے کچھ خصوصیات اور امتیازات کے قائل تھے۔ چنانچہ آیات قرآنی میں ہے کہ کبھی وہ کہتے ہم خدا کے بیٹے ہیں، کبھی کہتے: ہمارے لئے بہشت مخصوص ہے اور ہمارے سوا کوئی وہاں نہیں جا سکتا (مائدہ ۱۸، بقرہ ۱۱۱) یہ آیتیں نازل ہوئیں اور ان کے باطل خیالات کا جواب دیا گیا۔
تفسیر
خودستائی
اَ لَمْ تَرَ إِلَی الَّذینَ یُزَکُّونَ اَنْفُسَہُمْ
(تشریحی نوٹ: یزّکون، مادہ تزکیہ سے ہے۔ جس کے معنی ہیں پاک سمجھنا اور پاکیزگی سے پہچنوانا بعض اوقات پاک کرنے، تربیت دینے اور رشد و ہدایت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اصل میں یہ پاک کرنے کے معنی میں ہے۔ اگر یہ کام عملی پہلو رکھتا ہو تو پسندیدہ ہے اور اگر صرف زبانی جمع خرچ ہو تو مذموم ہے)۔
اس آیت میں ایک مذموم صفت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس میں بہت سے لوگ اور قومیں مبتلا ہیں اور وہ ہے خودستائی، اپنے آپ کو نیک پاک ظاہر کرنا اور اپنے لئے فضیلتیں گھڑنا۔ آیت میں ہے: کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنی تعریفیں کرتے ہیں۔ اس کے بعد فرماتا ہے: خدا جس کی چاہتا ہے تعریف کرتا ہے (بَلِ اللَّہُ یُزَکِّی مَنْ یَشاء)۔ صرف وہی ذات اقدس ہے جو حکمت و مشیت بالغہ کی رو سے کسی کمی اور زیادتی کے بغیر افراد کی ان کی قابلیت، لیاقت اور استعداد کے مطابق مدح کرتی ہے اور کبھی کسی شخص پر سوئی کی نوک کے برابر بھی ظلم نہیں کرتی( و لا یُظْلَمُونَ فَتیلاً)۔
(تشریحی نوٹ: فتیل لغت میں اس بہت ہی باریک دھاگے کو کہتے ہیں جو کھجور کی گھٹلی کے شگاف میں دکھائی دیتا ہے۔ یہ بہت ہی چھوٹی چیزوں کے لئے کنایہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور دراصل یہ مادہٴ ”فتل“ سے ہے جس کے معنی ہیں ”بٹا ہوا“)۔
حقیقت میں فضیلت وہی ہے جسے خداوند عالم فضیلت قرار دے نہ کہ وہ جسے خودستائی کرنے والے خود غرضی کی وجہ سے اپنے ساتھ چسپاں کر لیں اور یوں اپنے پر اور دوسروں پر ظلم کریں۔
اگرچہ روئے سخن قوم یہود و نصاریٰ کی طرف ہے جو بغیر کسی دلیل کے غلط طور پر اپنے حق میں بعض امتیازات و خصوصیات کے قائل تھے اور اپنے تعارف معزز قوم و ملت کی حیثیت سے کراتے تھے کبھی کہتے:
لن تمسنا النار الا ایاماً معدودة
یعنی چند دنوں کے سوا جہنم کی آگ ہمیں ہرگز نہیں چھو سکتی۔ (بقرہ۔ ۸۰)
کبھی کہتے:
نحن ابناء اللہ و احبائہ
ہم خدا کے بیٹے اور محبوب ہیں (مائدہ۔ ۱۸)
لیکن یہ بات کسی قوم اور گروہ سے مخصوص نہیں ہے بلکہ وہ تمام افراد اور قومیں اس میں شامل ہیں جن میں یہ برُی عادت پائی جاتی ہے۔
قرآن مجید سورہٴ نجم آیہ ۳۲ میں صراحت کے ساتھ سب مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے:
فلا تزّکوا انفسکم ھو اعلم بمن اتقی
خودستائی نہ کرو، خدا پرہیزگاروں کو خوب پہچانتا ہے۔
اس کا سرچشمہ وہی خودبینی، غرور اور گھمنڈ ہے جو آہستہ آہستہ خود ستائی کا روپ دھار لیتا ہے۔
افسوس ہے کہ یہ بری عادت بہت سی قوموں، طبقوں اور افراد میں پائی جاتی ہے اور بہت سی معاشرتی بدحالیوں لڑائی جھگڑوں اور تفوق طلبیوں کا سرچشمہ یہی بیماری ہے۔ گذشتہ تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا کی بعض قومیں اسی جھوٹے احساس برتری کی وجہ سے اپنے آپ کو دوسری قوموں سے بالاتر سمجھتی تھیں اور اسی سبب سے خود کو اس امر کو حقدار جانتی تھیں کہ انہیں اپنا غلام بنا لیں۔ زمانہ جاہلیت کے عرب ہر قسم کی پسماندگی اور فقر و فاقہ کے باوجود اپنے کو اعلیٰ نسل شمار کرتے تھے اور ان کے قبیلوں میں سے ہر ایک قبیلہ اپنے کو سب سے بڑھ چڑھ کر سمجھتا تھا موجودہ دور میں جرمن قوم یا نسل کی تفوق طلبی اور اپنی بڑائی کا احساس علاقائی اور عالمگیر جنگوں کا سرچشمہ بنی ہے۔ یہود و نصاریٰ صدر اسلام میں بھی دوسروں کی نسبت اسی قسم کے وہم میں گرفتار تھے۔ اسی لئے وہ حقائق اسلام کے سامنے بڑی مشکل سے سر جھکا نے کے لئے تیار ہوتے تھے۔ اسی بنا پر زیر نظر آیت میں قرآن شدت سے اس قسم کے توھمات اور برتری کی خواہشات کی سرکوبی کرتا ہے اور اسے افتراء، خدا پر جھوٹ باندھنا اور بڑا گناہ شمار کرتا ہے اور فرماتاہے (اُنْظُرْ کَیْفَ یَفْتَرُونَ عَلَی اللَّہِ الْکَذِبَ وَ کَفی بِہِ إِثْماً مُبیناً)۔ یعنی دیکھئے یہ گروہ کس طرح جھوٹے فضائل بنانے اور ان کو خدا کی طرف منسوب کرنے کے ذریعے خد اپر جھوٹ باندھتا ہے۔ اگر انہوں نے اس گناہ کے علاوہ اور کوئی گناہ نہ بھی کیا ہو تو یہی ان کی سزا کے لئے کافی ہے۔
حضرت امیر المومنین علی (ع) اپنے مشہور خطبہٴ ھمام میں پرہیزگاروں کی ممتاز اور مخصوص صفتوں کے بارے میں فرماتے ہیں:
لایرضون من اعمالھم القلیل ولا یستکثرون الکثیر فھم لانفسھم مستھمون و من اعمالھم مشفقون اذا زکی احد منھم خاف مما یقال لہ فیقول انا اعلم بنفسی من غیری و ربی اعلم بی من نفسی اللھم لا توٴخذنی بما یقولون و اجعلنی افضل مما یظنون و اغفرلی ما لایعلمون۔
وہ کبھی اپنے تھوڑے سے عمل پر راضی نہیں ہوتے اور کبھی اپنے زیادہ عمل کو بڑا نہیں سمجھتے۔ وہ اپنے آپ کو ہر حالت میں فرائض کے انجام دہی میں کوتاہ گردانتے ہیں اور اپنے اعمال سے خوف زدہ رہتے ہیں جب کوئی ان کی تعریف کرتا ہے تو جو کچھ وہ ان کے بارے میں کہتا ہے اسے سن کر انہیں دقت ہونے لگتی ہے کہ میں اپنی حالت کو دوسروں کی نسبت بہتر جانتا ہوں اور خدا مجھے مجھ سے بہتر جانتا ہے۔ پالنے والے اس تعریف کے بدلے میں جو تعریف کرنے والے میرے بارے میں کرتے ہیں میری جواب طلبی نہ کرنا اور مجھے اس سے بھی زیادہ جو یہ گمان کرتے ہیں بلند و بالا اور برتر قرار دے اور میری وہ خطائیں جو ان کے علم میں نہیں ہیں بخش دے۔
کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں خدا کی کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا ہے کہ وہ (اس کے باوجود) جبت و طاغوت (بت اور بت پرستوں ) پر ایمان رکھتے ہیں ا ور مشرکین سے کہتے ہیں کہ ہم ان لوگوں سے جو ایمان لا چکے ہیں زیادہ ہدایت یافتہ ہیں۔
وہ ایسے لوگ ہیں خدا وند عالم نے جنہیں اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے اور جسے خدا اپنی رحمت سے دور کر دے اس کا تجھے کوئی بھی مدد گار نہیں ملے گا۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
اکثر مفسرین مندرجہ بالا آیتوں کی شانِ نزول کے بارے میں لکھتے ہیں کہ جنگ اُحد کے واقعہ کے بعد یہودیوں کے بزرگوں میں سے ایک شخص جس کا نام کعب بن اشرف تھا ستر آدمیوں کے ہمراہ مکہ مکرمہ آیا تاکہ رسول اکرمؐ کے خلاف اہل مکہ سے عہد و پیمان کرے اور جو معاہدہ حضور کے ساتھ تھا اسے توڑ دے۔ کعب ابوسفیان کے گھر گیا۔ ابوسفیان نے اس کا بڑا احترام کیا۔ باقی یہودی قریش کے مختلف گھروں میں الگ الگ مہمان رہے اہل مکہ میں سے کسی نے کعب سے کہا کہ تم بھی اہل کتاب ہو اور محمدؐ بھی صاحب کتاب ہیں حقیقت یہ ہے کہ ہمیں یہ شک ہے کہ یہ ایک سازش ہے جو ہمیں ختم کرنے کے لئے کی جارہی ہے، اگر تم یہ چاہتے ہو کہ ہم آپس میں عہد و پیمان کریں تو پہلی شرط یہ ہے کہ ان دو بتوں (دو بڑے بتوں کی طرف اشارہ کیا) کو سجدہ کرو اور ان پر ایمان لے آوٴ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ اس کے کعب نے اہل مکہ سے یہ پیش کش کی کہ تیس افراد تم میں سے اور تیس افراد ہم میں سے خانہ کعبہ کے پاس جائیں اور اپنے شکم خانہ کعبہ کی دیوار سے لگا کر کعبہ کے پروردگار سے عہد کریں کہ ہم محمدؐ سے جنگ کرنے میں کوتاہی نہیں کریں گے۔ غرض یہ پروگرام طے پا گیا۔ آخر میں ابوسفیان نے کعب کی طرف رخ کر کے کہا: تو ایک پڑھا لکھا آدمی ہے اور ہم جاہل اور ان پڑھ ہیں، تیرے خیال میں ”ہم“ اور ”محمد“ میں سے کون حق سے زیادہ نزدیک ہے۔
کعب نے کہا: اپنا دین میرے سامنے تفصیل سے بیان کرو۔
ابوسفیان نے کہا: ہم حاجیوں کے لئے بڑے بڑے اونٹوں کی قربانی کرتے ہیں انہیں پانی پلاتے ہیں۔ مہمان نوازی کرتے ہیں، قیدیوں کو آزاد کرتے ہیں۔ صلہٴ رحمی کرتے ہیں۔ اپنے پروردگار کے گھر کو آباد کرتے ہیں۔ ا س کے گرد طواف کرتے ہیں اور ہم سرزمینِ مکہ میں اللہ کے اہل ہیں۔ لیکن محمدؐ اپنے بزرگوں کے دین سے دست بردار ہو گیا ہے۔ اس نے اپنے رشتہ داروں سے قطع رحمی کی ہے۔ ہم سے جدا اور قدیمی دین سے نکل گیا ہے اور محمدؐ کا دین نیا اور نوخیز ہے۔
اس پر کعب نے کہا: خدا کی قسم تمہارا دین محمدؐ کے دین سے بہتر ہے۔
اس وقت مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں اور ان باتوں کا جواب دیا گیا۔
تفسیر
سازشی لوگ
پہلی آیت اس شان نزول کو پیش نظر رکھتے ہوئے جس کا ذکر ابھی ابھی کیا گیا ہے۔ یہودیوں کی ایک ناپسندیدہ صفت کی تصویرکشی کرتی ہے کہ وہ اپنا مقصد حاصل کرنے کے لئے ہر گروہ کے ساتھ سازشیں کرتے تھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے بت پرستوں کو خوش کرنے کے لئے بتوں کے سامنے سجدہ بھی کر لیا اور جو کچھ انہوں نے عظمت اسلام اور صفات پیغمبر دیکھی اور پڑھی تھیں انہیں نظر انداز کر دیا۔ یہاں تک کہ بت پرستوں کو خوش کرنے کے لئے ان کے بےہودہ اور برائیوں سے معمور مذہب کو اسلام سے بہتر قرار دیا باوجودیکہ وہ اہل کتاب تھے اور بت پرستوں کی نسبت اسلام سے ان کے مشترک مسائل کہیں زیادہ تھے۔ اسی لئے آیت بطور تعجب بیان کرتی ہے: کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو کتابِ خدا کا کچھ حصہ رکھنے کے باوجود بتوں کے سامنے سجدہ کرتے ہیں اور باغیوں اور سرکشوں کے ساتھ اظہار ایمان کرتے ہیں۔ (الم ترا الیٰ الذین اوتوا نصیباًمن الکتاب یوٴمنون بالجبت و الطاغوت)۔
اس پر بھی قناعت نہیں کی بلکہ انہوں نے کافروں سے کہا کہ تمہارا راستہ مسلمانوں کی نسبت ہدایت سے زیادہ قریب ہے (ویقولون للذین کفروا ھوٴلاء اھدیٰ من الذین اٰمنوا سبیلاً)
جبت و طاغوت
لفظ ”جبت“ قرآن مجید میں صرف اسی آیت میں استعمال ہوا ہے۔ یہ اسم جامد ہے اس کے مشتقات نہیں ہیں۔ کہتے ہیں کہ دراصل یہ حبشی زبان کو ایک لفظ ہے جو ”جادوگر“ یا شیطان کے معنی میں ہے۔ پھر عربی زبان میں آکر اس معنی میں یا ”بت“ نیز ”خدا“ کے علاوہ ہر وہ معبود کے لئے استعمال ہونے لگا کہا جاتا ہے کہ یہ اصل میں ”جبس“ تھا اس کے بعد اس کی ”س“ ”ت“ سے بدل گئی۔ لفظ ”طاغوت“ قرآن میں آٹھ مقامات پر استعمال ہوا ہے۔ جیسا کہ اس کی تفسیر پہلی جلد میں سورہٴ بقرہ کی آیت ۲۵۶ کی ذیل میں آ چکی ہے کہ یہ طغیان کے مادہ سے مبالغہ (بحوالہ تفسیر المنار جلد سوم، صفحہ ۳۵ اور بعض کے نزدیک یہ مصدر ہے، لیکن صفت اور صیغہ مبالغہ کے طور پر ہوا ہے)۔ کا صیغہ حد اور سرحد سے تجاوز کرنے کے معنی میں آتا ہے اور اس کے مفہوم میں ہر ایسی چیز شامل ہے جو حد سے تجاوز کرنے کا سبب بنے جن میں سے بت بھی ہیں۔ اس لئے بتوں کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔
اس بنا پر شیطان، بت، جابر و متکبر حاکم، خدا کے علاوہ ہر معبود اور ہر وہ مادہ راستہ جو غیر حق تک پہنچانے طاغوت کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
باقی رہا یہ کہ زیر بحث، آیت میں ان دونوں لفظوں سے کیا مراد ہے تو اس بارے میں مفسرین نے مختلف تفسیریں کی ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ دو بتوں کے نام ہیں جن کے سامنے مذکورہ داستان میں یہودیوں کے ایک گروہ نے سجدہ کیا تھا اور بعض کہتے ہیں کہ جبت کے معنی بت کے ہیں اور طاغوت کے معنی ہیں بت پرست یا بت کا مددگار جو بتوں سے باتیں کرنے کے نام پر کچھ چیزیں اور باتیں بتوں کی طرف نقل کرتے اور جھوٹ موٹ ان کی طرف نسبت دیتے تھے تاکہ لوگوں کو دھوکا دے سکیں۔ (بحوالہ: تفسیر تبیان اور تفسیر روح المعانی)۔ جو کچھ شان نزول اور تفسیر میں لکھا گیا ہے یہی مفہوم اس سے مناسبت رکھتا ہے۔ کیونکہ یہودیوں نے بتوں کے سامنے سجدہ کیا اور بت پرستوں کے آگے بھی سرتسلیم خم کیا۔
اس کے بعد کی آیت میں اس قسم کی سازشیں کرنے والوں کا انجام بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: وہ ایسے لوگ ہیں جنہیں خداوند عالم نے اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے اور جسے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے دور کر دے اس کا تمہیں یار و مددگار کہیں نہیں ملے گا (اولائک الذین لعنھم اللہ و من یلعن اللہ فلن تجد لہ نصیراً)۔ آیت کے اعلان کے مطابق یہودی اپنی سنگین سازشوں سے کوئی فائدہ اٹھا سکے، آخرکار ناکام ہو کر شکست کھائی اور ان کے بارے میں قرآن کی پیشین گوئی درست ثابت ہوئی۔
مندرجہ بالا آیتیں اگرچہ ایک خاص گروہ کے بارے میں نازل ہوئی تھیں۔ لیکن یہ مسلم ہے کہ وہ انہی کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ وہ ایسے تمام لوگوں کے لئے ہیں جو اپنے گھٹیا مقاصد حاصل کرنے کے لئے اپنی حیثیت و شخصیت بلکہ ایمان و اعتقاد کی بازی لگا دیتے ہیں۔ اس قسم کی سازشیں کرنے والے دنیا اور آخرت میں رحمتِ خدا سے دور ہیں اور اکثر و بیشتر انہیں شکست سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔
یہ امر قابل توجہ ہے کہ مذکورہ بالا ناپسندیدہ جذبہ اس قوم میں ابھی تک شدت کے ساتھ پایا جاتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے جس حالت میں بھی ہوں مکاری، فریب کاری اور دھوکا بازی سے منہ نہیں موڑتے۔ اسی وجہ سے وہ گذشتہ طویل تاریخ میں اور آج بھی شکست پر شکت کھا رہے ہیں۔
یا یہ کہ وہ لوگوں کے ساتھ (پیغمبر اور ان کے اہل بیت سے) اس کے بدلے میں جو خداوند عالم نے اپنے فضل و کرم سے انہیں مرحمت فرمایا ہے حسد کرتے ہیں (وہ کیوں حسد کرتے ہیں ) حالانکہ ہم نے آل ابراہیم کو (کہ یہودی بھی اسی خاندان سے ہیں ) کتاب و حکمت عطا کی اور انہیں ایک عظیم حکومت عطا کی۔
ان میں سے ایک جماعت تو اس پر ایمان لے آئی لیکن ایک گروہ نے اس کے راستے میں رکاوٹ پیدا کر دی اور جہنم کی آگ کا بھڑکتا شعلہ ان کے لئے کافی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ دو آیتوں کی تفسیر میں لکھا جا چکا ہے کہ یہودیوں نے مکہ کے بت پرستوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے یہ گواہی دی کہ قریش کی بت پرستی مسلمانوں کی خدا پرستی سے بہتر ہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے خود بتوں کے آگے ماتھا رگڑ کر اس آیت میں اس نکتہ کی یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ دو دلیلوں کی وجہ سے ان کا فیصلہ کوئی حیثیت اور قیمت نہیں رکھتا۔
۱۔ وہ معاشرے میں ایسی حیثیت، مرتبہ اور قدر و قیمت نہیں رکھتے کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر سکیں۔ اس نے کبھی حکومت یا انصاف کی خدمت انہیں نہیں سونپی کہ وہ اس کام کی طرف قدم بڑھا سکیں (ام لھم نصیب من الملک)۔ اس کے علاوہ کوئی مادی، روحانی، معنوی اور باطنی طور پر لوگوں پر حکومت کرنے کی لیاقت و قابلیت نہیں رکھتے۔ کیونکہ ان میں دوسروں پر بھروسہ کرنے کی روح ہی نہیں۔ اگر انہیں یہ حیثیت مل بھی جائے تو وہ کسی شخص کو کوئی حق دینے کے لئے تیار نہ ہوں گے بلکہ تمام اختیارات اور خصائص اپنے ساتھ مخصوص کر لیں گے۔ (فاذاً لایوٴتون الناس نقیراً) (تشریحی نوٹ: نقیر مادہ نقر (بروزن فقر) سے ہے اس کا مطلب ہے کسی چیزکو اس قدر کوٹنا کہ آخرکار اس میں گڑھا اور سوراخ ہو جائے اور منقار (چونچ) کو بھی اسی لئے منقار کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ نقیر بہت چھوٹا سا گودا ہوتا ہے جو کھجور کی پشت پر دکھائی دیتا ہے اور زیادہ تر بہت ہی چھوٹی چیزوں کے لئے کنایہ ہے)۔ اس بات کو مدنظر کو رکھتے ہوئے کہ یہودیوں کا جذبہ انصاف ایسا ہے کہ وہ ہمیشہ یا تو اپنے حق میں فیصلہ دیتے ہیں یا پھر ان کے حق میں جو ان کی راہ پر گامزن ہوں، اس لئے مسلمان کبھی اس قسم کی باتوں سے پریشان نہ ہوں۔
۲۔ اس قسم کے غلط فیصلے پیغمبر اکرم (ص) کے خاندان سے حسد کی بنا پر ہیں۔ اس وجہ سے ان کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ وہ کفران نعمت اور ظلم و ستم کی وجہ سے مقام نبوت و حکومت اپنے ہاتھ سے کھو بیٹھے ہیں۔ اس لئے وہ نہیں چاہتے کہ یہ الہٰی منصب کسی کے سپرد کیا جائے۔ اس لئے وہ پیغمبر اسلامؐ اور ان کے خاندان سے جنہیں اس نعمت الہٰی سے نوازا گیا ہے حسد کرتے ہیں اور اس قسم کے بےبنیاد فیصلوں سے اپنی حسد کی آگ پر پانی چھڑکتے ہیں (ام یحسدون الناس علی مااٰتٰھم اللہ من فضلہ)۔ اس کے بعد فرماتا ہے کہ پیغمبر اسلامؐ اور خاندان بنی ہاشم کو یہ منصب ملنے پر کیوں تعجب کرتے ہیں، پریشان ہوتے ہیں اور حسد کرتے ہیں جبکہ خداوند عالم نے آلِ ابراہیم کو آسمانی کتاب، حکمت و دانش اور وسیع حکومت (حضرت موسیٰ (ع)، سلیمان(ع) اور داوٴد (ع) کو) دی۔ لیکن افسوس کہ تم ناخلف لوگوں نے وہ قیمتی معنوی اور مادی سرمائے شرارت اور قساوت و بےرحمی کے ہاتھوں ضائع کر دئیے (فَقَدْ آتَیْنا آلَ إِبْراہیمَ الْکِتابَ وَ الْحِکْمَةَ وَ آتَیْناہُمْ مُلْکاً عَظیماً)۔
جو کچھ ہم تحریر کر چکے ہیں اس سے واضح ہو گیا ہے کہ ”ام یحسدون الناس“ میں ”ناس“ سے مراد پیغمبر اکرم (ص) اور ان کا خاندان ہے۔ کیونکہ ناس کے معنی ہیں ”لوگوں کی ایک جماعت“ اور اس کا اطلاق صرف ایک شخص (پیغمبر اسلامؐ) پر جب تک کوئی قرینہ موجود نہ ہو جائز نہیں ہے۔ کیونکہ لفظ ”ناس“ اسم جمع ہے اور جمع کی ضمیر جو اس آیت میں اس لفظ کی طرف پلٹ رہی ہے وہ بھی اس معنی کی تائید کرتی ہے۔ علاوہ ازیں لفظ آلِ ابراہیم (ابراہیم (ع) کا خاندان) دوسرا قرینہ ہے کہ ”ناس“ سے مراد حضرت رسول اکرمؐ اور آپؐ کے اہل بیت (ع) ہیں۔ کیونکہ قرینہ مقابلہ سے ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر ہم نے خاندان بنی ہاشم کو اس قسم کی عظمت و برتری دی ہے تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ ہم حضرت ابراہیم (ع) کئے خاندان کو اس کی لیاقت کی بنا پر معنوی اور مادی مرتبہ اور حیثیت بخش چکے ہیں۔ بہت سی روایتیں جو اہل سنت اور شیعہ کتب میں آئی ہیں ان میں یہ وضاحت موجود ہے کہ ”ناس“ سے مراد خاندانِ پیغمبرؐ ہے۔
حضرت محمد باقر علیہ السلام سے اس آیت کے ذیل میں منقول ہے کہ آپؑ نے فرمایا:
خدا نے حضرت ابراہیمؑ کے خاندان میں رسول، انبیاء اور پیشوا بنائے ہیں (اس کے بعد خداوند عالم یہودیوں کو خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے) تم اس کا تو اعتراف کرتے ہو لیکن آلِ محمدؑ کے بارے میں انکار کرتے ہو۔(بحوالہ: تفسیر برہان جلد اول صفحہ ۳۷۶ اور تفسیر روح المعانی میں بھی اسی مضمون کی ایک حدیث منقول ہے، (روح المعانی جلد پنجم صفحہ ۵۲))
دوسری حدیث میں ہے کہ اس آیت کے بارے میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا گیا تو آپؑ نے فرمایا:
نحن المحسودون
ہم ہیں کہ جن پر دشمنوں نے حسد کیا۔ (بحوالہ: تفسیر برہان جلد اول صفحہ ۳۷۶ اور تفسیر روح المعانی میں بھی اسی مضمون کی ایک حدیث منقول ہے، (روح المعانی جلد پنجم صفحہ ۵۲))۔
تفسیر درمنثور نے ابن منذر سے اور طبرانی نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ وہ اس آیت کے بارے میں کہتے تھے: اس آیت میں ”ناس“ سے مراد ہم ہیں نہ کہ اور لوگ۔
اس کے بعد قرآن اگلی آیت میں فرماتا ہے کہ اس زمانے کے لوگوں کا ایک گروہ اس آسمانی کتاب پر ایمان لایا جو حضرت ابراہیم (ع) پر نازل ہوئی تھی اور کچھ لوگ صرف یہ کہ وہ ایمان نہیں لائے بلکہ وہ اس کی تبلیغ اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔ ان کے لئے جہنم کی آگ کا بھڑکتا ہوا شعلہ کافی ہے (۔فَمِنْہُمْ مَنْ آمَنَ بِہِ وَ مِنْہُمْ مَنْ صَدَّ عَنْہُ وَ کَفی بِجَہَنَّمَ سَعیراً)۔ اسی طرح اس کتاب آسمانی سے جو پیغمبر اسلامؐ پر نازل ہوئی جو لوگ کفر کرتے ہیں وہ بھی اسی عذاب میں گرفتار ہوں گے۔
حاسدانہ جرائم
حسد جسے فارسی زبان میں رشک کہتے ہیں اس کے معنی دوسروں کی نعمت کا زوال ہے، چاہے وہ نعمت حسد کرنے والے کو ملے نہ ملے۔ اس بنا پر حاسد کی آرزو اور خواہش کا مرکز ویران ہونا ہی ہے نہ یہ کہ وہ سرمایہ یا نعمت اسے مل جائے۔
۱۔ حاسد اپنی تمام یا زیادہ تر بدنی و فکری طاقتوں کو جنہیں اجتماعی اور معاشرتی مقاصد اور اغراض میں صرف ہونا چاہے جو کچھ موجود ہے اسے نابود اور ویران کرنے کے لئے خرچ کر دیتا ہے۔ اس طرح اپنے وجود اور معاشرے کو تباہ و برباد کرتا ہے۔
۲۔ حسد دنیا کے بہت سے فسادات کی جڑ ہے۔ اگر قتل چوری، ظلم و ستم اور زیادتیوں اصلی اسباب و وجوہات کا مطالعہ اور تحقیق کی جائے تو معلوم ہو گا کہ ان کے ایک بڑے حصے کی علت اور بنیاد حسد ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اسے آگ کی چنگاری سے تشبیہ دی گئی ہے جو حسد کرنے والے کے وجود یا اس معاشرے کو جس میں وہ زندگی گزار رہا ہے خطرے میں ڈال دے۔ ایک عالم کا قول ہے کہ حسد اور بدخواہی سب سے زیادہ خطرناک چیز ہے اسے سعادت اور نیک بختی کا بدترین دشمن سمجھنا چاہئیے اور اسے دور کرنے کی کوشش کرنا چاہئیے۔ ایسے درس اور ادارے کی بنیاد حاسد اور متعصب لوگ رکھتے ہیں وہ پس ماندہ ہیں۔ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ حاسد کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کو پیچھے دھکیل دے اور یہ چیز روح ترقی و کمال کے خلاف ہے۔
۳۔ ان سب باتوں کے علاوہ حسد جسم انسانی پر مضر اثرات ڈالتا ہے۔ عام طور پر حسد کرنے والے رنجیدہ دل اور اعصاب اور دوسرے مختلف اعضائے رئیسہ کے لحاظ سے زیادہ تر دکھ درد اور بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ کیونکہ آج یہ حقیقت تسلیم شدہ ہے کہ جسمانی بیماریوں کے اکثر نفسیاتی اسباب و عوامل ہوتے ہیں اور دور حاضر کی ڈاکٹری میں تفصیلی مباحث روحِ جسمانی کی بیماریوں کے عنوان سے نظر آتی ہیں جو اس قسم کی بیماریوں کے ساتھ مخصوص ہیں۔
یہ امر قابل توجہ ہے کہ رہبران اسلام سے مروی روایات میں یہی بات بیان کی گئی ہے۔ ایک روایت میں حضرت علی(ع) فرماتے ہیں:
صحة الجسد من قلة الحسد
تندرستی حسد کی کمی کی وجہ سے ہے۔ ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:
العجب لغفلة الحساد عن سلامة الاجساد۔
تعجب ہے کہ حسد کرنے والے اپنے جسم کی سلامتی سے بالکل غافل ہیں۔
یہاں تک کہ بعض احادیث میں ہے کہ حسد محسود کو نقصان پہنچانے سے پہلے حاسد کو نقصان پہنچاتا ہے اور آہستہ آہستہ اسے مار ڈالتا ہے۔
۴۔ حسد باطنی اور روحانی طور پر وسعت قلب و نظر کی کمی، نادانی، ایمان کی کمزوری، کوتاہ فکری اور نقص کی نشانی ہے۔ کیونکہ حاسد دراصل اپنے آپ کو محسود کے مرتبہ تک پہنچنے سے عاجز پاتا ہے۔ اس لئے وہ محسود کو پیچھے دھکیلنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ عملی طور پر خداوند عالم کی حکمت پر جو ان نعمتوں کا اصل سرچشمہ ہے، اعتراض کرتا ہے اور خداوند عالم کی طرف سے نعمتیں پانے والوں پر انگلیاں اٹھاتا ہے۔ اسی لئے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
الحسد اصلہ من عمی القلب و الجحود لفضل اللہ تعالیٰ وھما جناحان للکفر و بالحسد وقع ابن اٰدم فی حسرة الابد و ھلک مھلکا لاینجو منہ ابداً۔
حسد اور بدخواہی دل کی تاریکی اوراندھاپن ہے اور اس کا سرچشمہ خدا کی نعمتوں کا انکار ہے اور یہ دونوں (دل کا اندھاپن اور خدا کی بخشش پر اعتراض) کفر کے دو پر ہیں۔ حسد کے سبب سے آدمؑ ہمیشہ کی حسرت میں ڈوب گیا اور ایسی ہلاکت میں گرا ہے جس سے ہرگز رہائی حاصل نہیں کر سکتا۔ (بحوالہ: مستدرک الوسائل جلد ۲ صفحہ ۳۲۷)۔
خداوند عالم قرآن مجید میں فرماتا ہے:
سب سے پہلا قتل جو روئے زمین پر ہوا اس کا سبب حسد تھا۔ (بحوالہ مائدہ۔ ۲۷)۔
حضرت امیر المومومنین علی (ع) سے نہج البلاغہ میں منقول ہے:
ان الحسد یاٴکل الایمان کما تاٴکل النار الحطب
حسد ایمان کو آہستہ آہستہ اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ دھیرے دھیرے لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ خطبہ ۸۶)۔
کیونکہ حسد کرنے والے کی خدا کی حکمت اور عدالت سے بدگمانی آہستہ آہستہ بڑھتی چلی جاتی ہے اور یہی بدگمانی ہے جو اسے ایمان کی وادی سے نکال کر جہنم کے گڑھے میں ڈال دیتی ہے۔ حسد کے بہت سے روحانی، مادی، انفرادی اور اجتماعی نقصانات ہیں۔ ہم نے جو کچھ لکھا ہے یہ دراصل ان کی ایک فہرست ہے۔
وہ لوگ جو ہماری آیتوں کا انکار کرتے ہیں عنقریب ہم انہیں آگ میں ڈال دیں گے جب ان کی جلد جل جائے گی ہم انہیں دوسری جلد دیں گے تاکہ وہ سزا کا مزہ چکھتے رہیں خدا تو انا، قادر اور حکیم ہے۔
اور وہ لوگ جو ایمان لے آئے اور انہوں نے نیک عمل کیے وہ عنقریب باغات بہشت میں داخل ہوں گے جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ان کے لئے پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور انہیں ایسے گھنے سایوں میں لے جائیں گے جو منقطع نہ ہوں گے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ آیتوں کے بعد ان دو آیتوں میں ایماندار اور بےایمان کے انجام کی وضاحت کی گئی ہے۔ پہلی آیت اعلان کرتی ہے کہ ہم کافروں کو آگ میں ڈالیں گے اور جس وقت ان کے بدن کی کھال جل جائے گی تو دوسری کھال اُگا دیں گے تاکہ وہ خداوند عالم کی سزا کا دیر تک مزا چکھیں (إِنَّ الَّذینَ کَفَرُوا بِآیاتِنا سَوْفَ نُصْلیہِمْ ناراً کُلَّما نَضِجَتْ جُلُودُہُمْ بَدَّلْناہُمْ جُلُوداً غَیْرَہا لِیَذُوقُوا الْعَذاب) (تشریحی نوٹ: نصلیھم ”صلی“ کے مادہ سے آگ میں ڈالنے اور آگ میں جلنے سے گرم ہونے کے معنی میں ہے ”نضجت“نضج“ کے مادہ سے بھن جانے کے معنی میں ہے)۔
کھال کے تبدیل ہونے کا سبب بظاہر یہ ہے کہ ممکن ہے جلد کے جل جانے کے بعد درد کم محسوس ہو۔ مگر اس وجہ سے تاکہ سزا میں تخفیف نہ ہو بلکہ وہ پورے زورر پر رہے اس کے جسم پر نئی جلد چڑھا دی جائے گی۔ یہ حق و عدالت کو پاوٴں تلے روندنے اور خدا کے حکم نہ منہ موڑنے پر اصرار کا نتیجہ ہے۔ آیت کے آخر میں فرماتا ہے: خدا اس قسم کی سزا دینے ہر قادر و توانا ہے اور صاحبِ حکمت بھی ہے وہ حساب کے مطابق سزا دیتا ہے (إِنَّ اللَّہَ کانَ عَزیزاً حَکیماً)۔
اس کے بعد آنے والی آیت میں ان افراد کو جو ایمان اور عمل صالح رکھنے والے ہیں وعدہ کرتا ہے کہ وہ انہیں بہت جلد جنت کے باغوں میں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں داخل کرے گا۔ جہاں ایک ابدی اور جاودانی زندگی ہو گی۔ اس کے علاوہ انہیں پاک بیویاں دی جائیں گی جو ان کی روح اور جسم کی تسکین اور آرام کا سبب ہوں گی اور وہ ایسے درختوں کے سائے میں زندگی بسر کریں گے جو اس دنیا کی ڈھلتی چھاوٴں کے خلاف ہمیشہ رہنے والے سائے ہوں گے۔ وہاں کبھی گرمی کی لو اور سردی کی ہوا کا گزر نہ ہو گا (وَ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ سَنُدْخِلُہُمْ جَنَّاتٍ تَجْری مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہارُ خالِدینَ فیہا اَبَداً لَہُمْ فیہا اَزْواجٌ مُطَہَّرَةٌ وَ نُدْخِلُہُمْ ظِلاًّ ظَلیلاً )۔ (تشریحی نوٹ: ظلیل مادہ ”ظل“ سے سایہ کے معنی میں ہے اور یہاں تاکید کے لئے استعمال ہوا ہے کیونکہ ظل ظلیل گھنے سائے کے معنی دیتا ہے اور یہ کنایہ ہے ہمیشہ رہنے والے خوشگوار گھنے سائے کے لئے)۔
یہ نکتہ لائق توجہ ہے کہ ان دونوں آیتوں کا ایک دوسرے سے مقابلہ اور موازنہ کرنے سے رحمتِ الہٰی کی وسعت اور اس کی رحمت کا اس کے غضب سے بڑھ چڑھ کر ہونا معلوم ہوتا ہے کیونکہ پہلی آیت میں کفار کو سزا دینے کا وعدہ کرنے لئے لفظ ”سوف“ کا ذکر فرمایا ہے جبکہ دوسری آیت میں ایماندار افراد کے لئے ”س“ کے لفظ سے (سندخلھم) جزا کا وعدہ کیا ہے۔ عربی ادب میں ہے کہ ”سوف“ عام طور پر مستقبل بعید کے لئے اور ”س“ مستقبل قریب کے لئے استعمال ہوتا ہے حالانکہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ دونوں آیتیں قیامت کے دن سے متعلق ہیں اور اس دنیا میں بدکاروں کی سزا اور نیکوں کی جزا ہماری نسبت فاصلہٴ زمانی کے لحاظ سے یکساں ہے۔ یہ فرق اس لئے ہے تاکہ خدا کی رحمت کی سرعت و وسعت اور غضب کی دوری اور اس کی حد بندی کی طرف اشارہ ہو جائے اور یہ اس کی مانند ہے جیسے ہم دعاوٴں میں پڑھتے ہیں:
یا من سبقت رحمتہ غضبہ اے وہ ذات اقدس جس کی رحمت اس کے غضب سے بڑھی ہوئی ہے۔
ایک سوال اور اس کا جواب
ممکن ہے کہ کچھ لوگ یہ اعتراض کریں کہ آیاتِ مندرجہ بالا کہتی ہیں کہ جس وقت بدکاروں کی جلد جلے گی تو ہم اس کی جگہ دوسری جلد دے دیں گے تاکہ وہ سزائے الہٰی میں گرفتار ہیں۔ گناہگار جلد کی بجائے بےگناہ نئی جلد کو سزا دینا عدالت خداوندی کے مطابق نہیں ہے۔
مشہور و معروف مادہ پرست ابن ابی العوجاء نے جو حضرت امام جعفر صادق (ع) کا ہم عصر تھا بالکل یہی سوال آپ(ع) سے کیا تھا اور آیت مندرجہ بالا پڑھ کر کہتا تھا:
ما ذنب الغیر
نئی جلد اور کھال کا کیا قصور ہے۔
حضرت امام صادق (ع) نے اسے مختصر لیکن پر معانی جواب دیا فرمایا:
ھی ھی وھی غیرھا
یعنی نئی جلد وہی پرانی جلد ہے باوجود اس کے کہ اس کی بجائے ہے۔
ابن ابی العوجاء جانتا تھا کہ اس مختصر سی عبارت میں کوئی راز پوشیدہ ہے۔ اس لئے کہنے لگا۔
مثلی فی ذٰلک شیئاً من امر الدنیا
اس سلسلے میں میرے لئے کوئی مثال دیجئے امام (ع) نے فرمایا:
ارء یت لو ان رجلاً اخذ لبنة فکسرھا ثم ردوھا فی ملبنا فھی ھی وھی غیرھا
یہ اس طرح ہے کہ ایک شخص اینٹ کو توڑتا ہے اور ریزہ ریزہ کر کے دوبارہ سانچے میں ڈال دیتا ہے اور نئی اینٹ بناتا ہے۔ تو یہ دوسری اینٹ وہی پہلی اینٹ ہے باوجود اس کے کہ نئی اینٹ بھی ہے (اس کا اصلی مادہ محفوظ ہے صرف اس کی شکل بدل گئی ہے) (بحوالہ: مجالسِ شیخ و احتجاج طبرسی) اس روایت سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ نئی جلد اسی پرانی جلد سے تیار ہو گی۔ ضمناً یاد رکھئیے کہ حقیقت میں سزا و جزا انسان کی روح اور قوتِ ادراک سے تعلق رکھتی ہے۔ جسم تو صرف سزا و جزا کو روح کی طرف منتقل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔
خداوند عالم تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کو پہنچا دو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے لگو تو عدل کے مطابق فیصلہ کرو خدا تمہیں اچھی نصیحت اور وعظ کرتا ہے خدا سننے والاا ور جاننے والا ہے۔
تفسیر
دو اہم اسلامی قانون
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
زیر نظر آیت اگرچہ بہت سی دوسری آیتوں کی طرح خاص موقع اور محل پر نازل ہوئی ہے لیکن واضح ہے کہ اس سے ایک عام حکم کا پتہ چلتا ہے آیت تفصیل سے بتاتی ہے کہ خدا تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حقداروں کے دے دو۔ واضح ہے کہ یہاں امانت کا لفظ ایک وسیع معنی میں ہے اور وہ ہر قسم کی مادی اور روحانی چیزوں اور امور پر محیط ہے ہر مسلمان اس آیت کے مطابق ذمہ دار ہے کہ کسی کی امانت میں (کسی استثناء کے بغیر) خیانت نہ کرے۔ صاحب امانت مسلمان ہو کہ غیر مسلم اور یہ حقیقت میں اسلام میں حقوق انسانی کا اعلان ہے جس میں تمام انسان برابر ہیں۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ مندرجہ بالا شانَ نزول میں امانت صرف ایک مادی امانت نہیں تھی اور دوسرا فریق مشرک تھا۔
آیت کے دوسرے حصے میں ایک اور اہم قانون کی طرف اشارہ ہے اور وہ ہے حکومت اور قضاوت میں عدالت آیت خبردار کرتی ہے کہ خدا نے تمہیں یہ بھی حکم دیا ہے کہ جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدالت کے مطابق حکم دو (وَ إِذا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوا بِالْعَدْل)۔ اس کے بعد ان دونوں احکام کی تاکید کے طور پر فرماتا ہے: خدا تمہیں بہترین وعظ و نصیحت کرتا ہے (ِ إِنَّ اللَّہَ نِعِمَّا یَعِظُکُمْ بِہِ) پھر تاکید کرتے ہوئے فرماتا ہے: ہر حالت میں خدا تمہارے اعمال کا دیکھنے والا ہے۔ وہ تمہاری باتوں کو بھی سنتا ہے اور تمہارے کاموں کو بھی دیکھتا ہے (إِنَّ اللَّہَ کانَ سَمیعاً بَصیراً)۔ یہ قانون بھی کلی اور عمومی ہے اور ہر قسم کی قضاوت اور فیصلہ کرانے کے لئے حضرت امام حسن (ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت علی (ع)نے جو اس معاملے کو دیکھ رہے تھے اپنے فرزند ارجمند سے فرمایا:
یا بنی انظر کیف تحکم فان ھٰذا حکم و اللہ ساٴلک عنہ یوم القیامة
میرے نور نظر خوب خوب غور کر لو کہ کیا فیصلہ ہونا چاہئیے کیونکہ یہ بھی ایک قسم کی قضاوت ہے اور خدا قیامت کے دن تجھ سے اس کے بارے میں سوال کرے گا۔ (بحوالہ: مجمع البیان جلد سوم صفحہ ۶۴)۔
یہ دونوں اہم اسلامی قانون یعنی حفظ امانت اور قضاوت میں عدالت ایک پاکیزہ انسانی معاشرے کا سنگ میل ہیں۔ کوئی معاشرہ چاہے وہ مادی ہو کہ راحانی ان ہر دو اصولوں پر عمل پیرا ہوئے بغیر منظم نہیں ہو سکتا۔ پہلا اصول یہ ہے کہ اموال، ثروت، دفاتر کی ذمہ داریاں، انسانی سرمائے، ثقافتی اور تاریخی دستاویزات، میراث اور ترکہ سب خدائی امانتیں ہیں۔ جو معاشرے کے مختلف افراد کے سپرد ہوتی ہیں اور سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنی اپنی امانتوں کی حفاظت کریں۔ انہیں ان کے اصلی مالکوں کو دینے کی کوشش کریں اور ان میں کسی طرح خیانت نہ کریں۔
دوسرا یہ کہ ہمیشہ معاشروں میں اختلاف، تضاد اور خواہشات کا ٹکڑا پایا جاتا ہے عادلانہ قضاوت کے ذریعے اس کا حل اور فیصلہ کرنا چاہے تاکہ سوسائٹی اور سماج سے گروہ بندی، بےجا امتیازات اور ظلم و ستم ختم ہو جائے۔
جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں امانت صرف ان اموال تک محدود نہیں جن کو لوگ ایک دوسرے کے سپرد کرتے ہیں۔ بلکہ علماء اور دانش مند بھی معاشرے کے امانتدار ہیں جن کایہ فریضہ ہے کہ وہ حقائق کو نہ چھائیں۔ یہاں تک کہ اولاد بھی انسان کے پاس خدا کی امانت ہے۔ اگر ان کی تعلیم و تربیت میں کوتاہی کی جائے تو یہ بھی امانت میں خیانت ہے اس سے بڑھ کر یہ کہ انسان کا اپنا وجود اور ہستی اور وہ صلاحیتیں اور قابلیتیں جو خدا نے اسے مرحمت فرمائی ہیں سب خداوند عالم کی امانتیں ہیں، جن کے بارے میں انسان ذمہ دارہے کہ ان کی حفاظت کی کوشش کرے۔ جسم و روح کی استعداد، جوانی کی طاقت اور فکری صلاحیت کی حفاظت میں بھی کوتاہی نہیں کرنا چاہئیے اسی لئے تو انسان خودکشی تو کیا اپنے آپ کو کسی قسم کا ضرر بھی نہیں پہنچا سکتا۔ یہاں تک کہ بعض اسلامی احادیث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اسرار و علوم اور امامت کی امانتیں جنہیں ہر امام آنے والے امام کے سپرد کرتا ہے، وہ بھی اس آیت کے مفہوم میں داخل ہیں۔ (بحوالہ: نور الثقلین جلد اول صفحہ ۴۹۶)۔
یہ بات لائق توجہ بات یہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں امانت کی ادائیگی کو عدالت پر مقدم رکھا گیا ہے۔ شاید اس کی یہ وجہ ہو کہ مسئلہ عدالت ہمیشہ فیصلہ میں خیانت کے موقع پر ضروری ہوتا ہے کیونکہ اصل اور بنیاد یہ ہے کہ سب لوگ امین ہوں لیکن اگر ایک فرد کئی افراد اس سے روگردانی کریں تو عدالت کی نوبت آتی ہے کہ انہیں ان کے فریضہ سے آشنا کیا جائے۔
اسلام میں امانت اور عدالت کی اہمیت
اسلامی کتب اور مصادر میں امانت اور عدالت کے بارے میں اتنی تاکید کی گئی ہے جو باقی احکام میں بہت کم نظر آتی ہے۔ ذیل کی چند حدیثیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں۔
۱۔ حضرت امام جعفر صادق (ع) نے فرمایا:
لاتنظروا الیٰ طول رکوع الرجل و سجودہ فان ذٰلک شیء اعتادہ فلو ترکہ استوحش ولکن انظرو ا الیٰ صدق حدیثہ و اداء امانتہ
کسی شخص کے صرف طویل رکوع و سجود کو نہ دیکھو۔ کیونکہ ہو سکتا ہے وہ اس کا عادی ہو چکا ہو اور اب اسے چھوڑنے سے اسے وحشت ہوتی ہو البتہ بات میں اس کی سچانی اور اس کی امانت کی ادائیگی کی طرف دیکھو۔ (بحوالہ نور الثقلین جلد اول صفحہ ۴۹۶)۔
۲۔ ایک اور حدیث میں حضرت امام جعفر صادق (ع) ہی سے منقول ہے کہ آپؑ نے فرمایا:
حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام نے جو مرتبہ اور مقام پیغمبر اسلامؐ کے ہاں پایا وہ بات میں سچائی اور امانت کی ادائیگی کی وجہ سے تھا۔ (بحوالہ نور الثقلین جلد اول صفحہ ۴۹۶)۔
۳۔ ایک اور حدیث میں حضرت امام جعفر صادق (ع) نے اپنے ماننے والے سے فرمایا:
ان ضارب علی بالسیف و قاتلوا ائمتی و استنصحنی و استثارنی ثم قبلت ذٰلک منہ لادیت الیہ الامانة۔ (بحوالہ: نور الثقلین جلد اول صفحہ ۴۹۶)۔
اگر حضرت امیر المومنین علی (ع) کا قاتل میرے پاس کوئی امانت رکھتا یا مجھ سے نصیحت طلب کرتا یا مجھ سے مشورہ لیتا اور میں ان امور کے لئے تیار ہو جاتا، تو میں یقیناً حقِ امانت ادا کرتا۔
۴۔ جو روایات شیعہ سنی کتب میں پیغمبر اسلامؐ منقول ہیں ان میں آپؐ کا یہ روشن اور عظیم فرمان بھی ہے:
اٰیة المنافق ثلاث اذا حدث کذبب واذا وعد خلف واذا ائتمن خان منافق کی تین نشانیاں ہیں ۱۔ جب بات کرے تو جھوٹ بولے ۲۔ جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے اور ۳۔ جب امانت اس کے سپرد کی جائے تو اس میں خیانت کرے۔ (بحوالہ: مجمع البیان جلد سوم صفحہ ۶۴)۔
۵۔ پیغمبر اسلامؐ نے حضرت علی (ع) سے فرمایا:
جب لڑائی جھگڑے کے طرفین تمہارے پاس آئیں تو ان کی طرف دیکھنے اور ان سے گفتگو کی مقداراور کیفیت میں مساوات اور عدالت کو پیش نظر رکھو۔
حدیث کی عربی عبارت یوں ہے: سوبین الخصمین فی لحظک ولفظک (بحوالہ مجمع البیان جلد سوم صفحہ ۶۴)۔
اے ایمان والو ! خدا کی اطاعت کرو اور رسول اور صاحبان امر کی اطاعت کرو اور جب کسی چیز میں جھگڑو تو اگر خدا اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اسے خدا اور پیغمبر کی طرف لوٹا دو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اور اس کا انجام و اختتام بہت اچھا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
یہ آیت اور بعد کی چند آیتیں ایک اہم ترین اسلامی مسئلے یعنی رہبری کے بارے میں بحث کر رہی ہیں اور مسلمانوں کے مختلف دین اجتماعی مسائل میں حقیقی مراجع (جن کی طرف رجوع کیا جائے) کو مشخص اور متعین کرتی ہیں سب سے پہلے ایمانداروں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ خداوند عالم کی اطاعت کریں اور یہ بات روشن ہے کہ ایک ایماندار شخص پر واجب ہے کہ اس کی تمام اطاعتوں کی انتہا خداوند عالم کی اطاعت پر ہو اور اس کے حکم کے مطابق ہر قسم کی رہبری کا سرچشمہ اس کی ذات گرامی ہو۔ کیونکہ جہانِ ہستی کا مالکِ تکوینی اور حاکم اعلیٰ وہی ہے اس لئے ہر قسم کی حاکمیت، مالکیت اسی کے فرمان کے مطابق ہونا چاہئیے۔ (یا ایھا الذین امنواا اطیعوا اللہ)۔
دوسرے مرحلے میں پیغمبر اکرمؐ کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے۔ وہ رسولؐ جو معصوم ہے اور کبھی ہوا و ہوس سے بات نہیں کرتا۔ پیغمبرؐ جو لوگوں میں خدائی نمائندہ ہے جس کی بات خدا کی بات ہے، اسے یہ مرتبہ بلند مقام خداوند عالم نے مرحمت فرمایا ہے اس وجہ سے خدا اطاعت تو اس کی ذات کی خالقیت و حاکمیت کی بناء ہے لیکن حضورؐ کی اطاعت فرمانِ پروردگار کی وجہ سے ہے۔ دوسرے لفظوں میں خدا بالذات واجب الاطاعت ہے اور پیغمبر بالغیر واجب الاطاعت ہیں۔ شاید آیت میں اطیعوا کا تکرار اسی بات کی طرف اشارہ ہے، یعنی دونوں اطاعتوں میں یہ فرق ہے (اطیعوا الرسول)۔
تیسرے مرحلے میں اولوالامر کی طاعت کا حکم ہے جو اسلامی معاشرے میں سے ہو اور لوگوں کے دین و دنیا کی حفاظت کرے۔
اولوالامر کون ہیں؟
اس بارے میں مفسرین اسلام میں بہت اختلاف ہے جس کا مختصر خلاصہ یہ ہے:
۱۔ اہل سنت کے کچھ مفسرین کا نظریہ ہے کہ اولوالامر سے مراد ہر زمانے اور ہر ماحول سے تعلق رکھنے والے بادشاہ اور صاحبان اقتدار ہیں۔ وہ اس میں کسی استثنا کے قائل نہیں ہیں۔ اس نظریے کا نتیجہ نکلتا ہے کہ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ ہر حکومت کی چاہے وہ کسی شکل میں کیوں نہ ہو پیروی کریں۔ چاہے وہ تاتاریوں کی حکومت کیوں نہ ہو۔
۲۔ بعض دوسرے مفسرین مثلاً صاحب تفسیر المنار و صاحب تفسیر ظلال القرآن وغیرہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اولو الامر سے مراد عام طبقات کے نمائندے، سربراہ، حکام، علماء اور کوائف زندگی کے تمام عہدہ دار ہیں لیکن مطلق طور پر نہیں اور کسی شرط، قید اور پابندی کے بغیر نہیں بلکہ ان کی اطاعت کے لئے یہ پابندی اور شرط ہے کہ ان کے احکام اسلام کے مقرر کردہ احکام کے خلاف نہ ہوں۔
۳۔ بعض دوسرے مفسرین کا اعتقاد ہے کہ اولوالامر سے مراد وہ معنوی اور فکری رہنمائی یعنی علماء ہیں جو عادل ہوں اور کتاب و سنت سے مکمل آگاہی رکھتے ہوں۔
۴۔ بعض اہل سنت کے مفسرین کا یہ نظریہ ہے کہ اس لفظ سے مراد پہلے چار خلفاء ہیں اور یہ لفظ انہی تک محدود ہے اس وجہ سے دوسرے زمانوں میں اولوالامر نہ ہو گا۔
۵۔ بعض مفسرین اولوالامر سے مراد اصحاب پیغمبر لیتے ہیں۔
۶۔ اولوالامر کی تفسیر میں ایک اور احتمال یہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ اس سے مراد اسلامی لشکروں کے سپہ سالار ہیں۔
۷۔ تمام شیعہ مفسرین اس سلسلے میں ایک متفق نظریہ رکھتے ہیں کہ اولوالامر سے مراد ائمہ معصومین(ع) ہیں۔ جن کو تمام امورِ زندگی میں اسلامی معاشرے کی مادی اور روحانی رہنمائی خدا اور پیغمبرؐ کی طرف سے سپرد کی گئی ہے۔ ان کے علاوہ یہ لفظ کسی پر صادق نہیں آتا۔ البتہ ایسے لوگ جو ان کی طرف سے کسی مرتبے یا عہدے کے لئے مقرر کئے جائیں اور اسلامی معاشرے کے کسی عہدہ پر فائز ہوں تو معینہ شرائط کے ساتھ ان کی اطاعت بھی ضروری ہے۔ لیکن یہ اس لحاظ سے نہیں کہ وہ اولوالامر ہیں بلکہ اس کی وجہ سے وہ اولوالامر کے نمائندے ہیں۔ اب مندرجہ بالا تفاسیر کی تحقیق اور مطالعہ کے لئے پوری تن وہی سے توجہ دیتے ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ پہلی تفسیر کسی طرح بھی مفہوم آیت اور تعلیمات اسلام کی روح سے مطابقت نہیں رکھتی ممکن نہیں ہے ہر حکومت کی اطاعت و پیروی کسی قید و شرط کے بغیر خدا و رسول کی اطاعت کے ساتھ ملا دی جائے۔ اسی بناء پر شیعہ مفسرین کے علاوہ اہل سنت کے بڑے بڑے مفسرین نے بھی اس کی نفی کی ہے۔
دوسری تفسیر بھی آیت کے معانی و مفہوم کے ساتھ سازگار نہیں کیونکہ آیت اولاالامر کی رائے کے بغیر کسی قید و شرط کے لازم اور واجب قرار دیتی ہے۔
تیسری تفسیر یعنی اولوالامر کی تفسیر کتاب و سنت سے آگاہ علماءِ اہل عادل کے ساتھ کرنا بھی آیت کے مطابق نہیں ہے کیونکہ علماء کی اطاعت بھی کچھ شرائط سے مشروط ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ ان کی کتاب و سنت کے خلاف نہ ہو۔ اس وجہ سے اگر اشتباہ میں پڑ جائیں (چونکہ وہ معصوم نہیں ہیں اس لئے انہیں اشتباہ ہو سکتا ہے) یا اور کسی وجہ سے حق سے منہ موڑ لیں تو اس صورت میں ان کی اطاعت ضروری نہیں ہو گی جبکہ آیت اولوالامر کی اطاعتِ مطلق پیغمبرؐ کی طرح لازم قراردے رہی ہے علاوہ ازیں علماء کی طاعت تو ان احکام میں ہے جن کا وہ کتاب و سنت سے استفادہ کرتے ہیں۔ بنا پر ان کی اطاعت خداوند تعالی اور پیغمبر کی اطاعت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے اس کا ذکر کرنے کی ضرورت نہ تھی۔
چوتھی تفسیر اولوالامر (کو پہلے چار خلفاء تک محدود کر دینا) تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ آج دنیائے اسلام میں لفظ اولوالامر کا کوئی مصداق نہیں ہے علاوہ ازیں اس تخصیص کے بارے میں کوئی دلیل نہیں ہے۔
پانچویں اور چھٹی تفسیر میں اس کو صحابہ یا افسرانِ لشکر کے ساتھ مخصوص کرنا، اس پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔
اہل سنت کے بعض مفسرین جیسے مصر کے مشہور عالم محمد عبدہ اور معروف مفسر فخر الدین کی بعض باتوں کے مطابق اولوالامر کے معنی دو ہیں جنہیں دوسرے نمبر پر بیان کیا گیا ہے، ان کی نظر میں اس کے مجموعی مفہوم میں اسلامی معاشرے کے مختلف طبقوں کے نمائندے ول عالم ہوں یا حاکم اور دوسرے طبقوں کے نمائندے وہ عالم ہو یا حاکم اور دوسرے طبقوں کے نمائندے شامل ہیں۔ وہ انہیں کچھ شرطوں اور پابندیوں کے ساتھ اولوالامر مانتے ہیں اور ان شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ وہ مسلمان ہوں۔ جیسا کہ "منکم" سے معلوم ہوتا ہے، ان کا حکم کتاب و سنت کے خلاف نہ ہو، وہ اپنے اختیار سے حکم دیں نہ کہ مجبوری سے، وہ مسلمانوں کے مصالح کے مطابق حکم دیں اور صرف انہی مسائل کا حکم دے سکتے ہیں جن میں دخالت کا انہیں حق نہیں ہے نہ کہ عبادات اور ان چیزوں کا جو اسلام نے مقرر اور معین کر دی ہیں۔ وہ اس مسئلہ کا حکم دینے کا حق رکھتے ہیں جس کے بارے میں نص شرعی نہ ہو ان سب چیزوں کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ سب متفقہ طور پر اپنا نظریہ پیش کریں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ تمام امت یا ان کے سب نمائندے مل کر غلطی نہیں کر سکتے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ امت اجتماعی طور پر معصوم ہے۔ ان شرطوں کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اس قسم کے حکم کی اطاعت مطلق طور پر ہر قسم کی پابندی کے بغیر رسول اکرمؐ کی اطاعت کی طرح واجب ہو گی (اس گفتگو کا نچوڑ یہ ہے کہ اجماعِ امت حجت ہے) لیکن غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ اس تفسیر میں بھی کئی اشکالات موجود ہیں۔ کیونکہ اول تو اجتماعی مسائل میں فکر و نظر کا اتفاق بہت ہی کم مواقع پر ہوتا ہے۔ اس لئے مسلمانوں کے زیادہ تر حالات واقعات میں ہمیشہ بےچینی اور بےاطمینانی رہے گی۔ اگر اکثریت کے نظریہ کو قبول بھی کرنا چاہیں تو پھر یہ اشکال سامنے آئے گا کہ اکثریت کبھی معصوم نہیں ہوتی۔ اس لئے ان کی اطاعت مطلق ہونے کی حیثیت سے لازمی نہ ہو گی۔ دوسری بات یہ ہے کہ علم اصول میں یہ امر ثابت ہو چکا ہے کہ امام معصوم کا نکال کر تمام امت کے معصوم ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔
ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ اس تفسیر کے طرفداروں نے ایک شرط کا ذکر کیا ہے جو یہ ہے کہ ان کا حکم کتاب و سنت کے خلاف نہ ہو تو اب دیکھنا یہ ہے کہ اس بات کی تشخیص کہ یہ حکم کتاب و سنت کے مطابق ہے کہ مخالف، کون کرے گا یقیناً مجتہدین اور کتاب و سنت سے آگاہ علماء ہی ا س کے ذمہ دار ہیں۔ تو اس تحریر کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ مجتہدین اور علماء کی اجازت کے بغیر اولوالامر کی اطاعت جائز نہیں کیونکہ اہل علم کی اطاعت تو اولوالامر کی اطاعت سے کہیں زیادہ بڑھ چڑھ کر ہے اور یہ مفہوم ظاہر بظاہر آیت شریفہ کے مطابق نہیں ہے۔
یہ صحیح ہے کہ انہوں نے علماء کو بھی اولوالامر کا جزو قرار دیا ہے لیکن حقیقت میں اس تفسیر کے مطابق اہل علم باقی طبقاتی نمائندوں کی نسبت مرجع عالی تر اور ناظر کی حیثیت رکھتے ہیں نہ کہ دوسرے کیونکہ علماء اور دانشمند دوسروں کی نسبت یہ بہتر جانتے ہیں کہ کوئی چیز کتاب و سنت کی نظر سے درست ہے یا نہیں۔ اس بنا پر وہ مرجع اعلیٰ ہوں گے۔ اور یہ مندرجہ بالا تفسیر کے ساتھ موافق نہیں ہے۔ اس بنا پر مذکورہ تفسیر کئی پہلووٴں سے اشکالات کا سامنا ہے واحد تفسیر مذکورہ اعتراضات کی ضد میں نہیں آ سکتی وہ ساتویں تفسیر ہی ہے (یعنی اولوالامر سے مراد معصوم رہبر اور آئمہ ہیں) کیونکہ یہ تفسیر اس وجوبِ اطاعت کے اطلاق کے ساتھ ہے جس کا مندرجہ بالا آیت سے پتہ چلتا ہے۔ اور یہ اس کے ساتھ سو فی صد موافقت رکھتی ہے کیونکہ مقام "عصمت" ایسے امام کے ہر خطا، گناہ اور اشتباہ سے محفوظ ہونے کی گواہی دیتا ہے۔ اس لئے اس کا ہر حکم فرمانِ پیغمبرؐ کی طرح کسی قید و شرط کے بغیر واجب الاطاعت ہے اور یہ اس امر کی استعداد رکھتا ہے کہ رسولؐ کی اطاعت کا ہم ردیف اور ہم پلہ قرار پائے۔ یہاں تک کہ "اطیعوا" کی تکرار کے بغیر اس کا عطف رسول پر ہو۔
ایک قابل توجہ بات
بعض مشہور علمائے اہل سنت نے بھی جن میں سے مشہور و معروف مفسر فخرالدین رازی بھی ہیں اس آیت کے بارے میں اپنی تحریر کے شروع میں اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں خداوند عالم جس شخص کی اطاعت قطعی طور پر بےچون و چرا لازم قرار دے یقیناً اسے معصوم ہونا چاہئیے کیونکہ اگر وہ معصوم عن الخطا نہ ہو گا تو وہ خطا کرے گا اور خداوند تعالی نے اس کی طاعت لازم قرار دی ہے اور ا س کی پیروی خطا کے باوجود ضروری سبھی ہے تو اس سے خود حکم خداوند عالم میں تضاد پیدا ہوتا ہے کیونکہ ایک طرف تو اس کا عمل کرنا حرام ہے اور دوسری طرف اولوالامر کی اطاعت واجب ہے۔ اس طرح یہ حکم خدا امر و نہی کے اجتماع کا سبب بن جاتا ہے اس لئے کہ ایک طرف تو خداوند عالم نے اولوالامر کے حکم کی اطاعت کسی شرط اور پابندی کے بغیر واجب قرار دی ہے۔ دوسری طرف اگر اولوالامر معصوم نہ ہو تو اس قسم کا حکم ازروئے عقل سلیم صحیح نہیں ہے۔ اس مقدمہ اور تمہید سے ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ مندرجہ بالا آیت میں جن اولوالامر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے انہیں یقینا معصوم ہونا چاہئیے۔ (بحوالہ تفسیرکبیر از فخرالدین رازی، جلد۱۰ صفحہ ۱۴۴، طبع مصر ۱۳۵۷ھ)۔
فخر الدین رازی اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ معصوم یا تو تمام امت ہے یا اس میں سے چند لوگ۔ یہ دوسرے معنی بھی قابل قبول نہیں ہیں کیونکہ ضروری ہے کہ ہم ان چند لوگوں کو پہچانیں اوران تک پہنچ سکتے ہوں جب کہ ایسا نہیں ہے۔ جب یہ احتمال یا شک دور ہو جاتا ہے تو پہلا احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ تمام امت معصوم ہے اور یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ اجماع و اتفاقِ امت حجت اور قابل؛ قبول ہے اور یہ معتبر اور قابلَ اعتماد دلائل میں شمار کیا جاتا ہے۔ (بحوالہ تفسیر از فخرالدین رازی، جلد۱۰ صفحہ ۱۴۴، طبع مصر ۱۳۵۷ھ) ۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ باوجود اس کے کہ فخر رازی علمی مسائل میں اشکال تراشی کے لئے مشہور ہیں لیکن انہوں نے اس آیت کی اس دلالت کو امام معصوم ہونا چاہئیے، بسر و چشم قبول کیا ہے، اسی موقع پر زیادہ سے زیادہ یہی کہا جا سکتا ہے کہ چونکہ وہ مکتب اہل بیت (ع) اور اس کے معصوم اماموں اور رہبروں سے ناواقف تھے اس لئے انہوں نے اس بات کو قبول نہیں کیا کہ اولوالامر خدا کے مقرر کئے ہوئے افراد ہونے چاہئیں بلکہ وہ مجبور ہو گئے کہ اولوالامر تمام امت یا مسلمانوں کے تمام طبقات کے نمائندوں کو قرار دیں حالانکہ یہ معنی کسی طرح بھی قابلِ قبول نہیں۔ جیسا کہ ہم تحریر کر چکے ہیں کہ اولوالامر تو وہ ہو گا جس اسلامی معاشرے کا رہبر ہو تاکہ اسلامی حکومت اور مسلمانوں کی گوناگوں مشکلات اس کے ناخن تدبیر سے حل ہوتی رہیں۔ کیونکہ ہم جاتے ہیں کہ تمام آراء کا حکومت یہاں تک کہ اس کے نمائندوں کا بھی عملی طور پر اتفاق نہیں ہو سکتا کیونکہ مختلف اجتماعی، سیاسی، ثقافتی، اخلاقی اور اقتصادی مسائل جن سے مسلمانوں کو سابقہ پڑتا ہے ان میں اکثر اوقات تمام امت کا یا ان کے نمائندوں کے اتفاق رائے کا حصول ممکن نہیں ہے اور کثریت کی پیروی اولوالامر کی پیروی نہیں سمجھی جا سکتی۔ اس بنا پر فخر رازی اور ہمارے معاصر علماء جو اس کے عقیدہ کے پیرو ہیں ان کی گفتگو کا عملی مقصد یہ ہے کہ اولوالامر کی اطاعت عملاً رہے یا ایک استثنائی حیثیت سے باقی رہے۔ ہم مندرجہ بالا تمام بیانات سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ یہ آیت شریفہ صرف اور صرف معصوم پیشواوٴں کی رہبری ثابت کرتی ہے جو امت کی چند خاص ہستیوں پر مشتمل ہیں (غور فرمائیے گا)۔
چند سوالات کا جواب
اس موقع پر مندرجہ بالا تفسیر پر کچھ اعتراض ہوئے ہیں۔ بحث میں غیر جانبداری کا خیال رکھتے ہوئے انہیں قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔
۱۔ اگر اولوالامر سے مراد معصوم امام ہیں تو یہ مفہوم لفظ "اولیٰ" کے ساتھ جو جمع ہے، کوئی مناسبت نہیں رکھتا کیونکہ اس مفہوم کی صورت میں ہر زمانے میں ایک سے زیادہ معصوم امام نہ ہو گا۔
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ ہر زمانے میں ایک سے زیادہ معصوم امام نہیں ہوتا لیکن وہ تمام زمانوں میں بہت سے افراد کی تشکیل سیرت اور تعمیر کردار کرتے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ یہ آیت ایک زمانے کی ذمہ داری کی تعین نہیں کر رہی ہے۔
۲۔ اولوالامر اس معنی کے مطابق تو پیغمبر کے زمانے میں موجود نہیں تھا تو اس صورت میں اس کی اطاعت کا حکم کس طرح دیا گیا ہے۔ اس کا جواب بھی گذشتہ جواب سے واضح ہو جاتا ہے کیونکہ آیت کسی معین زمانے کے لئے محدود نہیں ہے بلکہ وہ تمام مسلمانوں کے لئے فرائض کو ہر زمانے کے لئے واضح کر رہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ عہد رسالت میں حضورٴ خود اولوالامر تھے کیونکہ حضرت رسولِ اکرمؐ دو منصب رکھتے تھے ایک منصب رسالت اور تبلیغِ احکام جو آیت میں اطیعوا الرسول کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے اور دوسرا منصب امت اسلامی کی رہبری اور سربراہی جس کا ذکر قرآن نے اولوالامر کے نام سے کیا ہے۔ اس لئے پیغمبرؐ کے زمانے میں خود پیغمبرؐ معصوم رہبر و پیشوا تھے اور شاید لفظ "اطیعوا" کا عدم تکرار رسول اور اولامر کے درمیان اسی معنی کی طرف اشارے خالی نہ ہو۔
دوسرے لفظوں میں منصب رسالت اور منصب اولوالامر مختلف منصب ہیں۔ جو رسول اکرمؐ کے وجود میں ایک جگہ جمع ہیں لیکن یہ امام میں جا کر الگ الگ ہو جاتے ہیں۔ اور صرف دوسرا (اولوالامر کا ) منصب رکھتے ہیں۔ کہتا ہے:
فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فی شَیْءٍ فَرُدُّوہُ إِلَی اللَّہِ وَ الرَّسُولِ إِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ ذلِکَ خَیْرٌ وَ اَحْسَنُ تَاْویلاً۔
اگر کسی چیز میں اختلاف پڑ جائے تو اسے خدا اور رسول کی طرف پلٹا دو۔ اگر تم خدا اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور اس کا انجام بھی بہت ہی اچھا ہے۔
ظاہر ہے کہ یہاں اولوالامر کا ذکر نہیں ہے اور اختلاف کو دور کرنے کا جو طریقہ بتایا گیا ہے وہ خدا کی کتاب اور حضرت رسول اکرمؐ کی سنت ہے۔
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ اعتراض صرف شیعہ علماء کی تفسیر پر نہیں ہے بلکہ ادنےٰ تامل کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ دوسری تفاسیر پر بھی اس کی زد پڑتی ہے یعنی یہ اعتراض اہلِ سنت کی تفاسیر پر بھی ہے۔ دوسرے یہ کہ اس میں شک نہیں کہ مندرجہ بالا جملے میں اختلاف و تنازع سے مراد احکام میں اختلاف ہے نہ کہ ان مسائل سے جن کا تعلق حکومت و رہبری کی جزئیات سے ہے کیونکہ ان مسائل میں تو لازماً اولوالامر کی اطاعت کرنا ہو گی جیسا کہ آیت کے پہلے جملے میں وضاحت ہو چکی ہے۔ اس بنا پر اس اختلاف سے مراد اسلام کے احکام اور قوانین کلی کا اختلاف ہے جن کی تشریع خدا اور پیغمبر سے متعلق ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ امام تو احکام جاری کرنے والے ہیں نہ کہ قانون وضع کرنے اور منسوخ کرنے والے۔ امام تو ہمیشہ خدا کے احکام اور سنتِ رسول کے اجرا کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں۔ اسی لئے احادیثِ اہل بیت (ع) میں ہے کہ اگر ہم میں سے کوئی شخص کوئی بات کتاب خدا اور حدیث پیغمبرؐ کے خلاف نقل کرے تو اسے ہرگز قبول نہ کرو کیونکہ ناممکن اور محال ہے کہ ہم کتابِ خدا اور سنتِ پیغمبرؐ کے خلاف کچھ کہیں۔ اسی لئے احکام و قوانینِ اسلامی میں لوگوں کے اختلاف دور کرنے کا پہلا مرجع خدا اور حضرت رسولِ اکرم (ص) ہیں جن پر وحی خدا نازل ہوتی ہے۔ اب اگر ائمہ معصومین احکام بیان کرتے ہیں تو وہ خود ان کی طرف سے نہیں ہیں بلکہ وہ کتاب خدا یا اس علم سے ہیں جو حضرت رسالت مآبؐ کی طرف سے ان تک پہنچا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اولوالامر کا لفظ اختلافی احکام و مسائل کے حل کرنے والوں میں شامل نہیں ہے۔
(تشریحی نوٹ: اگر اس سورہ کی آیت ۸۳ میں بعض مشکلات کو حل کرنے کے لئے اولوالامر کو مرجع قرار دیا گیا ہے تو اس سے مراد شریعت کے کلی احکام و قوانین کا اختلاف نہیں ہے بلکہ جیسا کہ آیت مذکورہ کی تفسیر میں آئے گا یہ ان مسائل کے بارے میں ہے جو احکام جاری کرنے کے طریقہ سے تعلق رکھتے ہیں)۔
احادیث کی گواہی
اسلامی کتب اور مصادر میں کچھ احادیث موجود ہیں جو اس تفسیر کی تائید کرتی ہے کہ لفظ اولوالامر سے مراد ائمہ اہلِ بیت ہی ہیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں:
۱۔ مشہور اسلامی مفسر ابوحیان اندلسی مغربی (متوفی ۷۵۶ھ) تفسیر بحر المحیط میں لکھتا ہے کہ یہ آیت حضرت علی (ع) اور ائمہ اہلبیت(ع) کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ (بحوالہ: بحر المحیط جلد سوم مصر صفحہ ۲۷۸)۔
۲۔ عالم اہل سنت ابوبکر بن مومن شیرازی رسالہٴ اعتقاد میں (مناسب کاشی کے مطابق) ابن عباس سے نقل کرتا ہے کہ آیت مندرجہ بالا حضرت علی (ع) کی شان میں نازل ہوئی جب پیغمبر اسلامؐ نے انہیں جنگ موتہ جنگِ تبوک کے موقع پر اپنی جگہ مدینہ منورہ میں چھوڑا تھا اور حضرت علی(ع) نے عرض کیا تھا کہ آپؐ مجھے عورتوں بچوں کی طرح شہرمیں چھوڑ جاتے ہیں تو پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا تھا:
"اما ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ھارون من موسیٰ حین قال اخلفنی فی قومی و اصلح فقال عزوجل و اولی الامر منکم"
کیا تم پسند نہیں کرتے کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہو جو ہارون(ع) ( برادر موسیٰ (ع)) کو موسیٰ (ع) سے تھی جبکہ موسی (علیہ السلام) نے ان سے کہا تھا کہ تم بنی اسرائیل میں میرے جانشین بن جاوٴ اور ان کی اصلاح کرو۔ اس کے بعد خداوند عالم نے فرمایا: و اولوا الامر منکم۔ (بحوالہ: حقائق الحق جلد سوم صفحہ ۴۷۸)۔
شیخ سلمان حنفی قندوزی جو اہل سنت کے مشہور عالم ہیں ینابیع المودة میں کتاب مناقب میں سلیم بن قیس ہلالی سے نقل کرتے ہیں:
ایک دن ایک شخص حضرت علی (ع) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے پوچھا: کم از کم وہ کونسی چیز ہے جس کے ذریعے انسان مومنین کی صف میں شامل ہو سکتا ہے اور کم از کم کونسی چیز ہے جس سے انسان کافروں یا گمراہ لوگوں میں شمار ہو جاتا ہے۔ حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا: کم از کم وہ چیز جس کی وجہ سے انسان گمراہوں میں شامل ہو جاتا ہے یہ ہے کہ وہ خدا کی حجت اور نمائندے اور اس کے شاہد و گواہ کو جس کی اطاعت و ولایت ضروری ہے نہ پہنچانے۔ اس شخص نے کہا: اے امیر المومنین (ع) مجھے ان کا تعارف کرائیے۔ حضرت علی (ع) نے فرمایا : وہ وہی ہیں جنہیں خد انے اپنے پیغمبرؐ نے برابر قرار دیا ہے۔ اور فرمایا ہے:
یا اَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا اَطیعُوا اللَّہَ وَ اَطیعُوا الرَّسُولَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ
اس شخص نے عرض کیا: میں آپؑ کے قربان جاوٴں مزید وضاحت فرمائیے۔ امیر المومنین (ع) نے ارشاد فرمایا : جن کا رسول اللہؐ نے مختلف موقعوں پر اور اپنی زندگی کے آخری دن کے خطبہ میں تذکرہ کیا اور فرمایا:
انی ترکت فیکم امرین لن تضلوا بعدی ان تمسکتم بھما کتاب اللہ و عترتی اھل بیتی میں تمہارے درمیان دو چیزیں بطور یادگار چھوڑ رہا ہوں اگر تم ان سے تمسک کرو گے تو میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہو گے خدا کی کتاب اور میری عترت جو میرے اہل بیت ہیں۔ (بحوالہ: ینابیع المودت طبع استنبول صفحة ۱۱۶)۔
۴۔ نیز یہی عالم کتاب "ینابیع المودة" میں لکھتے ہیں کہ صاحب کتاب مناقب نے تفسیر مجاہد سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت حضرت علی (ع) کے بارے میں نازل ہوئی۔ (بحوالہ ینابیع المودت طبع استنبول صفحة ۱۱۴)۔
۵۔ شیعہ کتب کی متعدد روایات جو کافی، تفسیر عیاشی کتب صدوق وغیرہ میں منقول ہیں، سب کی سب یہ گواہی دیتی ہیں کہ اولوالامر سے مراد معصومین (ع) ہیں۔ یہاں تک کہ بعض میں تو ہر ایک امام کا نام صراحت کے ساتھ مذکورہ ہے۔ (بحوالہ: تفسیر بر ہان جلد اول آیہ مذکورہ کے ذیل میں ملاحظہ فرمائیے)۔
کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ ان (کتب آسمانی) پر جو تم پر اور تم سے پہلے نازل ہوئی ہیں ایمان لے آئے ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ طاغوت اور حکام باطل سے فیصلہ کرائیں جبکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ وہ طاغوت کا انکار کریں اور شیطان چاہتا ہے کہ انہیں بری طرح گمراہ کر دے ۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
مدینہ منورہ کے ایک یہودی کو ایک منافق سے کسی چیز میں اختلاف تھا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ ایک شخص کو قاضی کے طور پر چن لیں۔ یہودی چونکہ پیغمبر اسلامؐ کی عدالت اور غیرجانبداری پر مطمئن تھا اس لئے اس نے کہا کہ میں تمہارے پیغمبرؐ کے فیصلہ پر رضامند ہوں لیکن منافق نے یہودیوں کے ایک بڑے آدمی کعب بن اشرف کو چنا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ رشوت دے کر اس کی رائے کو اپنی طرف پھیر لے گا۔ غرض اس نے اس طرح رسول اکرم (ص) کے فیصلہ کرنے کی مخالفت کی اس پر یہ آیہٴ شریفہ نازل ہوئی جس میں ایسے افراد کی شدید مذمت کی گئی۔ (بحوالہ تفسیر مجمع البیان اور اکثر مفسرین نے بھی یہی شانِ نزول نقل کی ہے)۔
بعض مفسرین نے اس آیت کی دوسری شان نزول بھی نقل کی ہے اور وہ یہ کہ بعض نو مسلم زمانہٴ جاہلیت کی عادت کے مطابق اسلام کی ابتداء میں اپنے مقدمے یہودی علماء یا کاہنوں کے پاس لے جاتے تھے۔ اس بنا پر یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں سختی سے منع کیا۔ (بحوالہ المنار جلد ۵ صفحہ ۲۲۲)۔
تفسیر
طاغوت کا فیصلہ
زیر نظر آیت درحقیقت گذشتہ آیت کی تکمیل کرتی ہے۔ کیونکہ گذشتہ آیت مومنین کو خدا تعالیٰ، پیغمبر اور اولوالامر کی اطاعت اور کتاب و سنت سے فیصلہ کرانے کی دعوت دیتی ہے اور یہ طاغوت کی اطاعت، پیروی اور اس سے فیصلہ کروانے سے منع کرتی ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ طاغوت "طغیان" کے مادہ سے ہے اور یہ لفظ اپنے تمام مشتقات کے ساتھ سرکشی حدود و قیود توڑ نے یا ہر اس چیز کے معنی میں جو بغاوت اور سرکشی کا سبب بنے استعمال ہوتا ہے۔ اس وجہ سے جو باطل کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں وہ طاغوت ہیں کیونکہ انہوں نے حق و عدالت کی خدائی حدود کو توڑ ڈالا ہے۔
ایک حدیث میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپؑ نے فرمایا:
الطاغوت کل من یتحاکم الیہ ممن یحکم بغیر الحق
یعنی جو شخص حق کے خلات فیصلہ کرے اور لوگ اس کے پاس فیصلہ کروانے کے لئے جائیں وہ طاغوت ہے۔
مندرجہ بالا آیت ان مسلمانوں کو جو اپنے فیصلے کروانے کے لئے ایسے حکام کے پاس جاتے تھے ملامت کرتے ہوئے کہتی ہے: اے رسول: کیا آپ ان لوگوں کو نہیں دیکھتے جو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تمام کتابوں پر جو آپؐ پر اور آپؐ سے پہلے بنیوں پر نازل ہوئی ہیں ایمان لے آئے ہیں لیکن اس کے باجود اپنے جھگڑوں کا فیصلہ طاغوت سے کرواتے ہیں جب کہ انہیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ ہرگز طاغوت کا حکم نہ مانیں۔ (اَ لَمْ تَرَ إِلَی الَّذینَ یَزْعُمُونَ اَنَّہُمْ آمَنُوا بِما اُنْزِلَ إِلَیْکَ وَ ما اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ یُریدُونَ اَنْ یَتَحاکَمُوا إِلَی الطَّاغُوتِ وَ قَدْ اُمِرُوا اَنْ یَکْفُرُوا بِہِ) اس کے بعد قرآن مجید اعلان کرتا ہے کہ طاغوت کی طرف توجہ ایک ایسا شیطانی جال ہے جو چاہتا ہے کہ لوگوں کو سیدھی راہ سے ہٹا کر دور دراز کے گمراہی کے راستوں میں پھینک دے (یرید الشیطان ان یضلھم ضلٰلا بعیداً)
واضح ہے کہ مندرجہ بالا آیت دوسری قرآنی آیتوں کی طرح تمام مسلمانوں کو سب زمانوں کے لئے خبردار کرتی ہے کہ حکام باطل کی طرف نہ جاوٴ اور طاغوت سے فیصلہ کروانا اور کتب آسمانی پر ایمان لانے کے خلاف ہے۔ اس کے علاوہ یہ کام سیدھی راہ سے ہٹا کر ٹیڑھے راستوں پر ڈال دیتا ہے جو حق کے راستے سے بہت دور ہیں۔ ایسے فیصلوں کی برائیاں اور خرابیاں انسانوں کے اجتماعی معاملات کو تباہ و برباد کرنے کے لحاظ سے کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہیں۔ معاشروں کی پسماندگی کے اسبا ب میں سے ایک یہ بھی ہے۔
جب وہ اپنے اعمالوں کی وجہ سے کسی مصیبت میں پھنس جاتے ہیں تو پھر کیوں تمہارے پاس آ کر قسم کھاتے ہیں کہ( ہمارا مقصد دوسروں کے پاس فیصلہ لے جانے سے) نیکی کرنے (اور طرفین نزاع میں ) موافقت کروانے کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔
وہ ایسے لوگ ہیں کہ جو کچھ ان کے دل میں ہے خدا اسے جانتا ہے انہیں (سزا دینے سے) نظر انداز کرو اور انہیں وعظ و نصیحت کرو اور عمدہ بیان کے ساتھ ان کے اعمال ان کے گوش گزار کرو۔
تفسیر
طاغوت کے فیصلے کا نتیجہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
طاغوت اور ظالم و جابر فیصلہ کرنے والوں کی طرف جانے سے منع کرنے کے بعد جس کا ذکر گذشتہ آیت میں آ چکا ہے اب ان تین آیتوں میں اسی طرح کے فیصلوں کے نتیجے اور وہ حیلے جن سے منافق سہارا لیتے تھے، ان پر تحقیق اور بحث کی گئی ہے چنانچہ خداوند عالم پہلی آیت میں فرماتا ہے: اس قسم کے مسلمان نما لوگ نہ صرف یہ کہ اپنا فیصلہ قبول کروانے کے لیے طاغوت کے پاس جاتے ہیں کہ بلکہ جب انہیں یاد دہانی کروائی جاتی ہے کہ خدا کی طرف پلٹ آؤ اور پیغمبر کا فیصلہ قبول کر لو تو وہ پیغمبر کی دعوت سے ڈٹ کر روگردانی کرتے ہیں اور اس کام کو کرنے کے لیے اصرار کرتے ہیں۔
قرآن کہتا ہے حقیقت میں ان کا طاغوت کی طرف لوٹنا وقتی اور ہنگامی نہیں تھا کہ اس کی یاد دہانی سے اصلاح ہو جاتی بلکہ ان کا مخالفت کرتا اور اس کام میں ڈٹ جانا ان میں روح نفاق کی کار فرمائی اور ایمان کی کمزوری پر روشنی ڈالتا ہے ورنہ وہ پیغمبر کی دعوت سے بیدار ہو جاتے اور اپنی غلطی مان لیتے (واذا قيل لهم تعالوا الي ما انزل اللہ والی الرسول رأيت المنافقين يصدون عنك صدودا)-
اس کے بعد کی آیت میں انسانیت کو بیان کرتا ہے کہ یہی منافق افراد جب اپنے اعمال کے نتیجے میں کسی مصیبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں اور بچاؤ کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا تو پھر بادل ناخواستہ آپ کے پاس آتے ہیں (فكيف اذا اصابتهم مصيبة بما قدمت ایدیھم ثم جاؤك)۔
پھر اس موقع پرقسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا دوسروں کے پاس مقدمہ لے جانے سے مقصد نیکی کے سوا اور دعوی کرنے والوں کے درمیان موافقت اور صلح کروانے کے کچھ نہیں تھا (یحلفون بالله ان اردنا الا احسانًا و توفيقًا)۔
یہاں دو نکتوں کی طرف توجہ رکھنا چاہیے۔
پہلا یہ کہ اس مصیبت سے کیا مراد ہے جو انہیں دامن گیر تھی۔ کچھ بعید نہیں کہ اس سے مراد پریشانیاں، بدبختیاں اور عام مصیبتیں ہوں جو طاغوت سے فیصلہ کروانے کے نتیجے میں انہیں پیش آتی تھیں کیونکہ اس میں شک نہیں کہ اگر برُے اور ظالم لوگوں کے فیصلہ سے کوئی فوری فائدہ طرفین میں سے کسی کو ہو جائے تو زیادہ دیر نہیں گزرتی کہ اس قسم کے فیصلوں کی بقا ظلم اور فساد پھیلنے کا سبب بن جاتی ہے اور اسی وجہ سے معاشرے کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ غرض اس سے لوگ بہت جلد اپنے کاموں کے نتیجوں کو دیکھ لیتے ہیں اور اپنے کیے پر پچھتاتے ہیں۔
بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ مصیبت سے مراد لوگوں میں منافقوں کی رسوائی اور ذلت ہے یا وہ مصائب ہیں جو خدا کے حکم سے آتے ہیں (مثلًا رنج و غم اور غیر متوقع نقصانات)۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ کیا احسان اور نیکی کرنے سے منافقین کا مقصد طرفین دعویٰ کے ساتھ نیکی اور احسان ہے یا پیغمبراکرمؐ کے ساتھ حسن سلوک ممکن ہے کہ ان کی مراد یہ دونوں باتیں ہوں۔
انہوں نے غیروں کے پاس مقدمہ لے جانے کے مضحکہ خیز بہانے بنا رکھے تھے۔ وہ یہ بھی کہتے تھے کہ پیغمبرؐ کے پاس مقدمہ لے جانا آنحضرتؐ کی شان کے خلاف ہے کیونکہ اکثر طرفین دعویٰ شور و غل مچاتے ہیں اور یہ چیز مقام پیغمبرؐ کے سراسر خلاف ہے۔ علاوہ ازیں فیصلہ ہمیشہ ایک طرف کے نقصان پر ہوتا ہے اور یہ فطری طور پر لوگوں کو دشمن بنانے کے مترادف ہے گویا وہ یہ حیلے بہانے کر کے اپنی پوزیشن صاف کرنا چاہتے تھے کہ ہمارا مقصد تو صرف اور صرف پیغمبر اکرمؐ کرنے کی اور طرفین دعوٰی کی خدمت تھی یا یہ کہ اصولی طورپر ہمارا نظریہ قضاوت نہ تھا بلکہ ہماری نظر تو طرفين نزاع میں صلح و صفائی پر تھی۔
لیکن خدا تیسری آیت میں ان کے چہروں سے نقاب اٹھا دیتا ہے اور اس قسم کے جھوٹے بہانوں کو باطل قرار دیتے ہو فرماتا ہے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جن کے دل کے بھیدوں کو خدا خوب جانتا ہے (اولئك الذين یعلم الله مافي قلوبهم) خداوند عالم اس کے باوجود پیغمبر اکرمؐ کو حکم دیا ہے کہ انہیں سزا دینے سے چشم پوشی فرمایا (فاعرض عنھم)۔ اسی لیے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منافقین کے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے پر جہاں تک ممکن تھا نرمی فرماتے تھے کیونکہ آپؐ ظاہر پر مامور تھے اور انہیں غیر معمولی جرم کے سوا سزا نہیں دیتے تھے کیونکہ وہ ظاہری طور پرمسلمانوں کی صفوں میں دکھائی دیتے تھے اور ممکن تھا۔ کہ ان کو سزا ایک قسم کا انتقام سمجھی جائے۔ اس کے بعد حکم دیتا ہے کہ انہیں وعظ نصحیت کیجئے اور عمدہ بیان سے ان کے دلوں پر اثر ڈالیے اور ان کے اچھے اعمال کے خوشگوار نتائج ان کو بتائیے (وعظهم و قل لهم في انفسهم قولا بليغا)۔
ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اس لیے کہ حکم خدا سے اس کی اطاعت کی جائے اگر یہ مخالفت کرنے والے جو اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں آپ کے پاس آتے اور خدا سے مغفرت مانگتے اور پیغمبر بھی ان کے لئے استغفار کرتے تو وہ خداوند عالم کو توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پاتے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
قرآن نے گذشتہ آیات میں ظالم حکام اور قاضیوں کی طرف جانے کی مذمت کی ہے۔ اس آیت میں تاکید کے طور یہ فرمایا ہے کہ جن پیغمبروں کو سمجھتے ہیں وہ سب کے سب اس لیے ہیں تاکہ حکم خدا سے ان کی اطاعت کی جائے اور ان کی قسم کی مخالفت نہ ہونے پائے (وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن الله) کیونکہ وہ خدا کے بھیجے ہوئے تھے اور حکومت الٰہیہ کے رئیس بھی تھے اس لیے لوگوں کا فرض تھا کہ وہ خدا کے احکام کے بیان اور ان کا تعمیل میں ان کی پیروی کریں اور صرف ایمان کا دعوٰی کرنے پر قناعت نہ کریں۔ اس سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبروں کو بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ سب لوگ ان کی اطاعت اور فرمانبرداری کریں۔ اگر بعض لوگوں نے اپنی آزادی سے اور فائدہ اٹھاتے ہوئے اطاعت نہیں کی تو یہ ان کی اپنی کوتائی ہے۔
بنا بریں، مندرجہ بالا آیت جبریوں کے اس عقیدے کی نفی کرتی ہے کہ کچھ لوگ شروع سے ہی اطاعت پر اور بعض عصیان و نافرمانی پر مامور تھے۔
ضمنی طور پر باذن اللہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جو کچھ خدا کے پیغمبروں کے پاس تھا وہ خداوند عالم کی طرف سے تھا یعنی ان کی اطاعت کا وجوب بالذات نہیں ہے کہ وہ خداوند عالم کے فرمان سے اور اسی کی طرف سے ہے۔ اس کے بعد آیت کے آخر میں گناہگاروں اور ان لوگوں کے لیے جو طاغوت کی طرف آتے جاتے ہیں یا اور کسی صورت میں گناہ کر چکے ہیں، واپسی کی راہ کھولتے ہوئے فرماتا ہے:- جنہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تھا اگر وہ آپ کے پاس آ جاتے اور خدا سے بخشش طلب کرتے اور پیغمبر بھی ان کے لیے طلب مغفرت کرتے تو خداوند عالم کو توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پاتے ولو انهم اذ ظلموا انفسهم جاءوك فاستغفروا الله واستغفرلهم الرسول لوجدوا الله توابا رحيما۔
یہ امر توجہ طلب ہے کہ بجائے اس کے کہ قرآن کہتا کہ انہوں نے خدا کی نافرمانی کی ہے اور ظالم حاکموں کی طرف گئے ہیں فرماتا ہے: اذ ظلموا أنفسهمــ یعنی جب انہوں نے اپنے پر ظلم کیا۔ مقصد یہ ہے کہ خداوند تعالٰی کے حکم اور پیغمبرؐ کی اطاعت میں تمہارا اپنا ہی فائدہ ہے اور ان کی مخالفت اپنے آپ پر ہی ظلم ہے کیونکہ یہ تمہاری مادی زندگی کو تباہ کر دیتا ہے اور حقیقت میں معنوی طور پر تمھاری پس ماندگی کا سبب ہے۔
یہ آیت ان لوگوں کے لیے بھی واضح جواب ہے جو پیغمبرؐ اور امامؐ کے وسیلے کو ایک قسم کا شرک جانتے ہیں کیونکہ یہ آیت صراحت کے ساتھ اعلان کرتی ہے کہ بارگاہ پیغمبر میں آنا اور انہیں بارگاہ رب العزت میں شفیع قرار دینا اور ان کے وسیلہ اور ان کی جانب دعائے مغفرت توبہ کی قبولیت اور رحمت الٰہی کا ذریعہ ہیں۔ اگر پیغمبر کا واسطہ، دعا، استغفار اور شفاعت شرک ہوتے تو یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ خدا گناہگاروں کو اس طرح کا حکم دیتا۔ البتہ گناہگاروں کو چاہیے کہ وہ پہلے توبہ کریں اور گناہوں کو ترک کر دیں اس کے بعد اپنی توبہ کی قبولیت کے لیے رسول اکرمؐ سے فیض حاصل کریں۔
واضح ہے کہ پیغمبر خود گناہ معاف نہیں کرتے بلکہ وہ صرف خدا سے مغفرت طلب فرماتے ہیں اور یہ آیت ان لوگوں کے اعتراض کا دندان شکن جواب ہے جو اس قسم کی وساطت اور وسیلے کا انکار کرتے ہیں (غور فرمائیے گا)۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ قرآن یہ نہیں فرماتا کہ تم ان کے لیے طلب مغفرت کرو بلکہ کہتا ہے کہ رسولؐ ان کے لیے استغفار کریں۔ گویا یہ اس طرف اشارہ ہے کہ رسول اکرمؐ اپنے مقام اور مرتبہ سے انہیں فائدہ پہنچائیں اور توبہ کرنے والے گناہگاروں کے لیے طلب مغفرت فرمائیں۔ یہ معنی (یعنی پیغمبرکی طلب مغفرت کا مومنین کے لیے کارگر ہونا) قرآن مجید کی دوسری آیتوں میں بھی آیا ہے مثلًا سورہ محمدؐ کی آیت ۱٩، سورہ منافقون کی آیت ٥، اور سورۂ توبہ کی آیت ۱۱۴-
حضرت ابراہیمؑ کے اپنے چچا کے لیے استغفار کرنے کے متعلق اور دیگر آیات جو مشرکوں کے لیے استغفار سے منع کرتی ہیں ان کا مطلب یہ ہے کہ مومنین کے لیے استغفار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
نیز بعض آیتوں سے یہ نکلتا ہے کہ بعض گناہگار مومنین کے لیے فرشتے بھی بارگاہ اور رب العزت میں طلب مغفرت کرتے ہیں مثلا سورة غافر آیت ۷ اور سوره شوریٰ آیت٥۔
غرضیکہ قرآن مجید کی بہت سی آیتیں اسی مفہوم و معانی کا تذکرہ کرتی ہیں کہ پیغمبر، فرشتے یا پاک دل مومن بعض گناہگاروں کے لیے استغفار کرتے ہیں اوران کی دعا بارگاہ خدا میں اثر رکھتی ہے۔ یہ بات پیغمبر، ملائکہ اور پاک دل مومنین کی طرف سے گناہگاروں کی شفاعت کا معنی بھی دیتی ہے۔ لیکن جیسا ہم کہہ چکے ہیں ایسی شفاعت کے لیے خطا کاروں میں خود بھی قابلیت اور استعداد ہونا چاہیے۔
تعجب کی بات یہ ہے کچھ مفسرین کے بعض اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ آیت مندرجہ بالا میں پیغمبر اکرمؐ کے استغفار کو آپؐ کی ذات تک محدود رکھیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چونکہ انہوں نے خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظلم و ستم کیا تھا اس لیے ضروری تھا کہ ان کی رضامندی حاصل کریں۔ تاکہ خداوند تعالٰی ان کے گناہ معاف کر دے۔ لیکن واضح ہے کہ پیغمبرؐ کے غیر سے فیصلہ کروانا صرف پیغمبر پر ظلم نہیں ہے بلکہ اس کے خاص منصب کی مخالفت بھی ہے یا دوسرے لفظوں میں خدا کے فرمان کی مخالفت ہے۔ اگر یہ فرض کر لیں کہ یہ ذات پیغمبر پر ظلم تھا تب بھی قرآن نے اس کا سہارا نہیں لیا بلکہ قرآن نے تو یہ کہا ہے کہ ان کا طرز عمل فرمان خدا کے خلاف تھا۔
علاوہ ازیں، اگر ہم کسی پر ظالم کریں تو اس کی رضامند ہو جانا کافی ہے اور بارگاہ خداوندی میں استغفار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ان سب باتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے بالفرض اگر آیت کی یہ تفسیر کریں تو باقی ان سب آیتوں کے بارے میں جو پیغمبروں، فرشتوں اور مومنین کے استغفار کو گناہگاروں کے ان میں موثر قرار دیتی ہیں کیا کہیں گے۔ کیا وہاں بھی شخصی حقوق تھے۔
تیرے پروردگار کی قسم وہ مومن نہیں ہو سکتے مگر یہ کہ وہ اپنے اختلافات میں آپ کو حکم اور فیصلہ کرنے والا مانیں اور پھر آپ کے فیصلہ پر اپنے دل میں کوئی ناراضگی محسوس نہ کریں بلکہ اسے مکمل طور پر تسلیم کر لیں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
زبیر بن عوام جو مہاجرین میں سے تھے ان کا ایک انصاری کے ساتھ (جو مدینہ کے مسلمانوں میں سے تھا) ان باغوں کے سیراب کرنے کے متعلق جو ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے تھے اختلاف ہو گیا۔ دونوں حضرات اپنے جھگڑے کا فیصلہ کروانے کے لیے پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے کیونکہ زبیر کا باغ نہر کے بلند حصہ کی طرف تھا اور انصاری کا باغ نشیب میں تھا۔ اس لیے حضرت رسول اکرمؐ نے زبیر کو حکم دیا کہ پہلے تم اپنے باغ کو پانی دے لو اور اس کے بعد یہ انصاری مسلمان پانی دے (یہ اس رواج کے مطابق تھا۔ جو ایک دوسرے کے قریب باغوں کے بارے میں تھا) لیکن وہ انصاری جو بظاہر مسلمان تھا پیغمبر اکرمؐ کے عادلانہ فیصلے سے ناراض ہو کر کہنے لگا: کیا آپ نے یہ فیصلہ اس لیے کیا ہے کہ زبیر آپؐ کی پھوپھی کا بیٹا ہے؟ حضورؐ کو اس کی اس گفتگو سے تکلیف پہنچي یہاں تک کہ آپؐ کے چہرے کا رنگ دگرگوں ہو گیا۔ اس موقع پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور اس میں ایسے مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی۔
بعض دوسری اسلامی تفسیروں میں اس کے علاوہ اور شان نزول کا بھی ذکر ہے۔ جو بیان کی گئی شان نزول سے تھوڑے بہت ملتے جلتےہیں۔ (بحوالہ تفسیر تبیان، طبرسی اور المنار)۔
تفسیر
حق کے سامنے سرتسلیم خم کرنا
اگرچہ آیت مندرجہ بالا کے ابتدائی حصے کے بارے میں شان نزول بیان کی جا چکی ہے تاہم جیسا کہ ہم بار ہا لکھ چکے ہیں کہ آیت کی مخصوص شانِ نزول کبھی اس کے عام مفہوم کے خلاف نہیں ہوتی۔ اس بنا پر ہو سکتا ہے کہ یہ آیت گذشتہ آیت کی بحث کی تکمیل کرتی ہو۔ غرض خداوند عالم اس آیت میں قسم کھا کر فرماتا ہے کہ انسانوں کا ایمان حقیقی اور واقعی اس وقت ہو گا جب وہ اپنے اختلافات میں پیغمبر کو فیصل اور حاکم مانیں اور دوسروں کی طرف رجوع نہ کریں۔ (فلا وربک لایومنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم)۔ (تشریحی نوٹ: شجر اصل میں مادہ "شجر" (بروزن قمر) سے درخت کے معنی میں ہے۔ کیونکہ مشاخرہ اور نزاع میں ایک قسم کی پریشانی اور پیچیدگی ہوتی ہے جیسے کہ درخت کی شاخیں ایک دوسرے سے پیوست ہوتی ہیں اس لئے نزاع اور کمشکش کے معنی میں بھی آتا ہے زیر نظر آیت میں یہ لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے)۔ اس کے بعد فرماتا ہے کہ نہ صرف فیصلہ آپ کے پاس لے کر آئیں بلکہ جب آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں چاہے وہ ان کے نفع میں ہو یا نقصان میں، نہ صرف یہ کہ وہ زبانِ اعتراض نہ کھولیں بلکہ ان کا دل مطمئن ہونا چاہیئے (ثم لایجدوا فی انفسھم حرجا مما قضیت و یسلموا تسلیما)۔
اگرچہ فیصلوں کے سلسلے میں جو نقصان انسان کے اٹھانا پڑتا ہے اس سے ایسی پریشانی اور بےچینی ہوتی ہے جو اکثر انسان کے اختیار میں نہیں ہوتی لیکن اخلاقی تربیت اور حق عدالت کے سامنے روح تسلیم کی پرورش اور پیغمبر اکرمؐ کے حقیقی مقام کا تصور کرنے سے انسان کے دل میں ایک خاص کیفیت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ پھر کبھی نہ صرف حضور کے فیصلے سے بلکہ وہ علماء جو ان کے جانشین ہیں ان کے فیصلے سے بھی کسی قسم کی معمولی سی تکلیف بھی محسوس نہیں کرتا۔ بہرحال سچے مسلمان کا فرض ہے کہ وہ حق کے سامنے تسلیم کا خوگر بنے۔
مندرجہ بالا آیت میں راسخ اور حقیقی ایمان کی نشانیاں تین مرحلوں میں بیان کی گئی ہیں۔
۱۔ تمام اختلافات میں چاہے وہ بڑے ہوں یا چھوٹے قضاوت و فیصلہ کے لئے پیغمبر اکرمؐ کی طرف رجوع کریں جس کا سرچشمہ حکم الہٰی ہے اور طاغوت اور باطل فیصلہ کرنے والوں کی طرف رجوع نہ کیا جائے۔
۲۔ پیغمبر اکرمؐ کے فیصلوں اور احکام کو جو یقینا حکم الہٰی ہیں برا نہ سمجھیں اور دل میں بھی ان پر رنج محسوس نہ کریں۔
۳۔ حکم رسول پر سختی سے عمل کریں اور کامل طور پر حق کے سامنے سرتسلیم خم کریں۔
واضح ہے کہ ایک مکتب کے احکامات کو ان مواقع میں تسلیم کرنا جو انسان کے فائدے میں ہوں اس مکتب پر ایمان کی دلیل نہیں ہے بلکہ ایسے مواقع پر احکامات کی تعمیل ایمان کی مظہر ہے جہاں بظاہر وہ حکم انسان کے نقصان میں دکھائی دیتے ہوں لیکن حقیقت میں حق و صداقت پر مبنی ہوں۔
اس آیت کی تفسیر میں جو حدیث حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے وہ یہ ہے:
اگر ایک گروہ خدا کی عبادت کرے، نماز پڑھے زکوٰة ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے اور حج کرے لیکن ان کاموں کی جو رسول اللہ (ص) نے کئے ہیں برُا سمجھے یا یوں کہے کہ فلاں کام نہ کیا ہوتا تو بہتر تھا، وہ دراصل حقیقی مومن نہیں ہے۔
اس کے بعد آپؐ نے فرمایا:
تم پر لازم ہے کہ خدا اور حق کے سامنے سرتسلیم خم کرو۔
آیت مندرجہ بالا سے ضمنی طور پر دو اہم مطلب معلوم ہوتے ہیں:
۱۔ یہ آیت رسول اللہ (ص) کے معصوم ہونے کی دلیل ہے۔ کیونکہ پیغمبر (ص) کے تمام احکامات کی گفتار و کردار میں مطلق اور کامل طور پر پذیرائی یہاں تک کہ دلی طور پر ان کے آگے جھکنا اس امر کی واضح دلیل ہے کہ آپؐ کو احکام خداوندی اور اپنے فیصلوں میں نہ کوئی اشتباہ ہوتا ہے اور نہ آپؐ جان بوجھ کر خلاف حق کہتے یا کرتے ہیں۔ لہٰذا آپؐ خطا سے بھی معصوم ہیں اور گناہ سے بھی۔
۲۔ آیت مندرجہ بالا نصِ پیغمبرؐ کے مقابلہ میں اجتہاد اور ایسے مسائل میں جن کے بارے میں خدا و رسولؐ کی طرف سے حکم صریح موجود ہو اظہار رائے اور اظہار عقیدہ کی نفی کرتی ہے۔ لہٰذا اگر تاریخ اسلام ہمیں یہ بتائے کہ بعض لوگ خدا و پیغمبر کے حکم کے مقابلے میں اجتہاد، اظہار رائے اور اظہار عقیدہ کیا کرتے تھے مثلاً یہ کہتے تھے کہ پیغمبر نے اس طرح کہا ہے اور میں یہ کہتا ہوں تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ ان کا عمل مندرجہ بالا آیت کی صراحت کے بالکل خلاف ہے۔
اگر انہیں بھی ہم حکم دیتے کہ ایک دوسرے کو قتل کریں یا اپنے وطن سے نکل جائیں تو بہت تھوڑے لوگ اس پر عمل کرتے اور اگر وہ ان نصیحتوں پر چلتے تو ان کے فائدہ میں تھا کیونکہ ایسا کرنا ان کے ایمان کی تقویت کا سبب بنتا۔
اور اس صورت میں ہم انہیں اپنی طرف سے بہت بڑی جزا اور ثواب عطا فرماتے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
یہاں گذشتہ بحث کی تکمیل کی گئی ہے جو ان لوگوں کے متعلق تھی جو حضرت رسول اکرم (ص) کے عادلانہ فیصلوں پر چیں بہ جبیں ہوتے تھے۔ گذشتہ امتوں کے تکلیف دہ اور سخت احکام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: ہم نے کوئی مشکل فرض ان کے کندھوں پر نہیں رکھا۔ اگر ہم گذشتہ امتوں کی طرح (مثلاً یہودی کہ جنہیں ان کی بت پرستی اور گوسالہ پرستی کے بعد حکم دیا گیا تھا کہ وہ اس عظیم گناہ کے کفارہ میں ایک دوسرے کو قتل کریں یا اپنے عزیز وطن کو چھوڑ کر کہیں باہر جائیں) انہیں بھی اس قسم کا سخت حکم دیتے تو اس کو کس طرح بجا لاتے یہ تو ایک باغ کی آبیاری کے بارے میں بھی پیغمبرؐ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتے تو پھر یہ دوسری آزمائشوں پر کس طرح پورا اتر سکتے ہیں مسلم ہے کہ انہیں اس قسم کا حکم دیتے کہ وہ ایک دوسرے کو قتل کریں یا وطن چھوڑ دیں تو بہت کم لوگ اس پر عمل کرے (وَ لَوْ اَنَّا کَتَبْنا عَلَیْہِمْ اَنِ اقْتُلُوا اَنْفُسَکُمْ اَوِ اخْرُجُوا مِنْ دِیارِکُمْ ما فَعَلُوہُ إِلاَّ قَلیلٌ مِنْہُمْ)۔ بعض مفسرین لکھتے ہیں کہ قتل کے لئے آمادگی اور وطن سے نکلنے کی تیاری کئی لحاظ سے ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں کیونکہ بدن انسانی روح کا وطن ہے اور ایک اہمیت کا حامل ہے۔ اس طرح وہ ملک جس میں ہم رہتے ہیں جسم انسانی کے لئے ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس لئے جسم کے وطن کو چھوڑنا انسان کے لئے بہت مشکل ہے کیونکہ وہ انسان کی پیدائش اور رہنے کی جگہ ہے۔
اس کے بعد فرماتا ہے: اگر وہ خدا و رسول کے پند و نصائح قبول کر لیں تو اس میں خود کا بھی فائدہ ہے اور ان کے ایمان کی تقویت کا سبب بھی ہے (وَ لَوْ اَنَّہُمْ فَعَلُوا ما یُوعَظُونَ بِہِ لَکانَ خَیْراً لَہُمْ وَ اَشَدَّ تَثْبیتاً)۔
یہ بات قابل غور ہے کہ یہاں خداوند عالم کے احکام کو وعظ و نصیحت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ احکام ایسے نہیں ہیں جن سے حکم دینے والے (خداوند عالم) کو ذرہ بھر فائدہ پہنچے۔ بلکہ حقیقت میں وہ ایسی نصیحتیں ہیں جو خود تمہارے نفع میں ہیں۔ اس لئے بلافاصلہ فرماتا ہے: ان کی اطاعت بھی تمہارے لئے منفعت بخش ہے اور تمہارے ایمان کی تقویت کا موجب بھی ہے۔
اس نکتے کی طرف توجہ رہے کہ آیت کا آخری حصہ بتاتا ہے کہ جس قدر انسان خدا کے حکم کی اطاعت کی راہ میں قدم بڑھائے اس قدر اس میں اثبات اور استقامت پیدا ہوتی ہے۔ حقیقت میں خدا کے فرمان کی اطاعت ایک روحانی ورزش ہے جس کا لگاتار عمل جسمانی ورزش کی طرح روز بروز قوت، قدرت، ثبات اور استحکام میں اضافہ کرتا رہتا ہے اس طرح آہستہ آہستہ انسان ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ کوئی طاقت اس کے ایمان کی قوت پر غلبہ حاصل نہیں کر سکتی اور نہ اسے دھوکا دے سکتی ہے۔
اس کے بعد والی آیت میں خدا کے سامنے تسلیم و اطاعت کا تیسرا فائدہ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: اس وقت (علاوہ اس کے جو کچھ بیان کیا جاچکا ہے) انہیں عظیم اجر و ثواب بھی دیں گے۔ (وَ إِذاً لَآتَیْناہُمْ مِنْ لَدُنَّا اَجْراً عَظیماً)۔
زیر نظر آیات میں سے آخری آیت میں چوتھے فائدے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ ہم انہیں سیدھی راہ کی ہدایت وَ لَہَدَیْناہُمْ صِراطاً مُسْتَقیماً۔
واضح ہے کہ اس ہدایت سے مراد اصل دین و آئین کی ہدایت نہیں ہے بلکہ یہ نئے الطاف الہٰی ہیں جو خداوند عالم کی طرف سے ہدایت ثآنوی کی صورت میں اور اجر و ثواب کے طور پر ایسے اہل افراد کو دیئے جائیں گے یہ اس طرح ہے جیسے سورہ الحمد کی آیت ۱۷ میں اشارہ کیا گیا ہے:
"والذین اھتدوا زادھم ھدی"
جو ہدایت کی راہ میں قدم بڑھاتے ہیں خداوند عالم ان کی زیادہ ہدایت کرتا ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ جب آیت وَلَوْ أَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ أَنِ اقْتُلُواْ أَنفُسَكُمْ نازل ہوئی تو ایک مومن نے کہا: خدا کی قسم اگر اس قسم کے سخت حکم ہمیں دیئے جاتے تو ہم یقیناً ان کی تعمل کرتے لیکن خدا کا شکر ہے کہ اس قسم کے احکام سے اس نے معاف رکھا۔ جب یہ گفتگو پیغمبر اکرمؐ تک ہنچی تو حضورؐ نے فرمایا:
"انّ من امتی لرجالا الایمان اثبت فی قلوبھم من الجبال الرواسی"
میری امت کے بعض لوگ ایسے ہیں کہ جن کے دلوں میں ایمان مستحکم و مضبوط پہاڑوں سے زیادہ راسخ ہے۔ (بحوالہ: تفسیر فی محلال، جلد۲، صفحہ ۴۲۸)
جو شخص خدا اور رسول کی اطاعت کرے تو وہ (قیامت کے دن) ایسے لوگوں کا ساتھی ہو گا جن پر خدا نے اپنی نعمت تمام کر دی ہے اور وہ انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین میں سے ہیں اور وہ بہترین رفیق ہیں۔
یہ خداوند عالم کا فضل و کرم ہے اور یہ بات کافی ہے کہ وہ(بندوں کے نیتوں اور اعمال سے) آگاہ ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
ثوبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا ایک صحابی تھا وہ حضورؐ سے بہت الفت و محبت رکھتا تھا۔ ایک دن نہایت پریشانی کے عالم میں آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اس سے پریشانی کا سبب دریافت فرمایا تو اس نے عرض کیا کہ جب میں آپؐ سے جدا ہوتا ہوں اور آپؐ کو نہیں دیکھتا تو پریشان ہو جاتا ہوں۔ آج میں اس فکر میں غوطہ زن تھا کہ کل قیامت کے دن اگر میں اہل بہشت میں سے ہوا تو یہ مسلم ہے کہ میں آپؐ کے درجے میں تو نہیں ہوں گا اس وجہ سے آپؐ کو تو کبھی نہ دیکھ سکوں گا اور اگر اہل جنت میں سے نہ ہوا تو پھر بھی زیارت سے محروم رہوں گا بنا بریں ہر دو صورت میں آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی حضوری کے شرف سے مشرف نہ ہو سکوں گا۔ پھر ان حالات میں میں کیسے پریشان نہ ہوں۔ اس وقت مندرجہ بالا آیت نازیل ہوئی اور ایسے لوگوں کو بشارت دی گئی کہ مطیع اور فرمانبردار افراد جنت میں بھی انبیاء اور بزرگان دین کے ساتھی ہوں گے۔ اس کے بعد حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا کہ خدا کی قسم کسی مسلمان کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوتا جب تک وہ مجھے اپنی ذات، ماں باپ اور تمام رشتہ داروں سے زیادہ دوست نہ رکھے اور میری بات کے سامنے سرتسلیم خم نہ کرے۔
تفسیر
جنت کے ساتھی
اس آیت میں ان لوگوں کا ایک اور افتخار و اعزاز بیان کیا گیا ہے جو خداوند عالم اور اس کے رسول کے مطیع و فرمانبردار ہیں اور حقیقت میں ان خصوصیات و امتیازات کی تکمیل کرتا ہے جن کا ذکر گزشتہ آیتوں میں ہو چکا ہے۔
(وَمَنْ يُّطِعِ اللّـٰهَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّـذِيْنَ اَنْعَمَ اللّـٰهُ عَلَيْـهِـمْ۔۔۔۔۔)۔
جیسا کہ سورہ الحمد کی تفسیر میں بیان ہو چکا ہے کہ جو لوگ اس نعمت کے حامل ہیں وہ ہمیشہ صراط مستقیم پر گامزن رہتے ہیں اور کم سے کم گمراہی اور روگردانی بھی نہیں کرتے۔ اس کے بعد خداوند عالم نے اس جملہ کی وضاحت اور ان لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے جن پر اس نے اپنی نعمت کی تکمیل فرمائی ہے چار قسم کے لوگوں کی طرف اشارہ کیا ہے جو حقیقتا اس موضوع کے چار رکن ہیں۔
۱- خدا کے مخصوص بھیجے ہوئے انبیاء جو لوگوں کی ہدایت اور رoبری کے لیے صراط مستقیم کی طرف سب سے پہلے اپنا قدم بڑھاتے ہیں (من النبیین)۔
۲- "سچ بولنے والے" وہ لوگ جو بات کے سچے ہوتے ہیں اور اپنے عمل اور کردار سے اپنی بات کی سچائی کو ثابت بھی کرتے ہیں اور اس امر کا ثبوت دیتے ہیں کہ وہ ایمان کے دعویٰ دار ہی نہیں ہیں بلکہ واقعی خدا کے احکام پر ایمان بھی رکھتے ہیں (الصدیقین)۔
اس تعبیر سے واضح ہوتا ہے کہ مقام نبوت کے بعد صدق و راست گوئی سے بڑھ کر کوئی مقام نہیں ہے صرف گفتار کی سچائی نہیں بلکہ عمل و کردار کی پاکبازی بھی جس میں امانت و اخلاص بھی شامل ہیں کیونکہ امانت دراصل عمل میں صداقت کا دوسرا نام ہے جیسا کہ راست گوئی گفتار میں امانت ہے اسی طرح کوئی برائی کفر کے بعد جھوٹ، نفاق اور سخن و عمل میں خیانت سے بدتر نہیں ہے (یاد رکھیے کہ صدیق مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے معنی ہیں سراپا راستی اور درستی)۔ بعض روایتوں میں صدیق سے حضرت امیر المومنین اور ائمہ اہل بیت علیہ السام مراد لیے گئے ہیں جیسا کہ ہم بارہا لکھ چکے ہیں کہ اس قسم کی تفسیر آیات کے روشن اور عالی مصادیق بیان کرتی ہے نہ کہ آیت کا مفہوم اس میں منحصر ہے
۳- "شہدا" پاکیزہ الٰہی عقیدہ اور مقصد کی راہ میں قتل ہونے والے یا منتخب نیک لوگ جو قیامت کے دن انسانوں کے اعمال پر گواہ ہوں گے (الشہداء)۔
(تشریحی نوٹ: شہید اصل میں گواہ کے معنی میں ہے۔ البتہ کبھی انسان صرف زبان سے حق کی گواہی دیتا ہے اور کبھی عملی طور پر بلند اور پاکیزہ مقاصد کی راہ میں جان دے کر گواہی دیتا ہے)۔
٤- "صالحین" علم و عمل کے لحاظ سے لائق اور شائستہ افراد جو مثبت اصلاحی اور مفید کام کرنے کی وجہ سے اور انبیاء کے احکام کی پیروی کر کے بلند مرتبہ حاصل کر لیتے ہیں (والصالحین)۔
اسی بنا پر شیعہ روایات میں لفظ صالحین کی تفسیر ائمہ معصومین کے برگزیدہ اصحاب کے ساتھ کی گئی ہے اور یہ بھی جیسا کہ "صدیقین" کے بارے میں گزر چکا ہے نیک اور لائق افراد کی ایک مثال ہیں۔ جس نکتے کو اس مقام پر یاد دلانا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ان چاروں مرحلوں کا ذکر اس معنی کی طرف اشارہ ہو کہ ایک صحیح و سالم اور شائستہ انسانی معاشرے کی تشکیل کے لیے سب سے پہلے رہبران حق اور انبیاء میدان عمل میں آئیں اور ان کے چھپے سچے مبلغجن کا قول و عمل ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو اور اپنے مقاصد کی ہر جگہ نشر و اشاعت کریں۔ اس فکری اصلاح کے دور کے بعد ایک گروہ پر سے لوگوں خصوصا ان لوگوں کے مقابلے کے لیے نکلے جو خدا کی راہ میں رکاوٹ ڈالتے رہتے ہیں۔ یہ گروہ راہ حق میں قربانی دے اور شہادت پیش کرے۔ انہی کی کوششوں اور جدوجہد کے نتیجہ میں صالحین اور پاک و شائستہ افراد پر مشتمل معاشرہ پیدا ہوتا ہے۔ واضح ہے کہ صالحین بھی آئندہ نسلوں کے لیے مشعل حق روشن رکھنے کے لیے یہ تینوں فرائض انجام دیں گے رہبری اور تبلیغ کریں گے نیز قربانی دیں گے۔
ان آیتوں سے ضمنی طور پر یہ حقیقت بھی خوب واضح ہوتی ہے کہ اچھی معاشرت رکھنے والے بےمثل ساتھی اس قدر اہم ہیں کہ عالم آخرت میں بھی جنت کی نعمتوں کی تکمیل کے لیے اطاعت گزاروں کو اس عظیم نعمت سے نوازا جائے گا دوسرے افتخارات اور اعزازات کے علاوہ وہ انبیاء، صدیقین، شہدا اور صالحین کی رفاقت بھی حاصل کریں گے۔
اطاعت گزاروں کے ان چاروں گروہوں سے میل و جول کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ مقام و مرتبہ میں ان کے برابر ہوں گے بلکہ ایک دوسرے سے معاشرت رکھنے کے باوجود ان میں سے ہر ایک اپنے مرتبہ کے مطابق خداوند عالم کے فضل و کرم کا مستحق ہو گا جیسے درخت، پھول اور سبزہ اگرچہ ایک دوسرے کے آس پاس ہوتے ہیں اور سورج کی روشنی اور پارش سے فیض یاب ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کا مستفید ہونا ان کی قدر و قیمت اور استعداد کے لحاظ سے یکساں نہیں ہوتا۔
آیت میں اس امتیاز عظیم (منتخب افراد کی ہم نشینی) کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: یہ خداوند عالم کا خاص فضل و کرم ہے اور وہ بندوں کی حالتوں، نیتوں، لیاقتوں اور قابلیتوں سے خوب آگاہ ہے (ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّـٰهِ وَكَفٰى بِاللّـٰهِ عَلِيْمًا) البتہ "ذٰلک" جو بعید کا اسم اشارہ ہے اس قسم کے مقامات پر اہمیت اور مرتبہ کی بلندی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
ہم آیت مندرجہ بالا سے نیک فال سمجھتے ہوئے کہتے ہیں کہ سپاس بےقیاس اس پروردگار کے لیے ہے کہ باوجود ان تمام رکاوٹوں کے جو نیک کام کرنے والوں کے راستہ میں حائل ہوا کرتی ہیں، خاص لطف الٰہی سے تفسیر نمومہ کی تیسری جلد بائین احسن اس مقام اختتام کو پہنچ گئی ہے۔
ذلک الفضل من اللہ وکفیٰ باللہ علیما۔
اے ایمان والو! اپنی پوری طرح احتیاط کرو اور دستے دستے (ہو کر) نکلو یا سب اکٹھے نکلو
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
"حذر" بروزن "خضر" بیداری تیار رہنے اور خطرے کے مقابلے میں چوکس اور مستعد رہنے کے معنی میں ہے "بعض اوقات یہ لفظ اس وسیلہ اور ذریعہ کے معنی میں بھی آتا ہے جس کی مدد سے خطرے کا مقابلہ کیا جا سکے۔" "ثبات" ثبہ (بروزن گنہ) کی جمع ہے۔ غیر منظم اور منتشر دستوں کے میں لیا گیا ہے۔ قرآن مجید مندرجہ بالا آیت میں تمام مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے انھیں اجتماع اور وجود کے تحفظ کے لئے دو احکام اور ہدایات دیتا ہے پہلے کہتا ہے اے وہ لوگو! جو ایمان لا چکے ہو، بڑی باریک بینی سے دشمنوں اور ان کے جاسوسوں پر نظر رکھے رہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم ان کی طرف سے غافل ہو کر کسی خطرے سے دوچار ہو جاوٴ (یا ایھا الذین امنوا خذو اخذرکم) اس کے بعد حکم دیتا ہے کہ دشمن سے مقابلہ کرنے کے لئے مختلف طریقوں اور تکنیکوں (TECHNIQUES) سے استفادہ کرو اور متعدد دستوں کی صورت میں یا اکھٹے ہو کر دشمن کو زیر کر کے نکل پڑو (ْ فَانفِرُوا ثُبَاتٍ اَوْ انفِرُوا جَمِیعًا) جہاں مختلف دستوں اور بکھری ہوئی ٹولیوں کی صورت میں حرکت کرنا ضروری ہو وہاں اس طریقے سے آگے بڑھو اور جہاں یہ امر لازمی ہو کہ سب ایک متحد لشکر کی صورت میں دشمن کے مقابلے پر نکلیں، وہاں اجتماعیت سے غفلت نہ ہو تو۔۔۔ بعض مفسرین نے مندرجہ بالا آیت میں "حذر" کی تفسیر صرف اسلحہ کی معنی میں کی ہے حالانکہ حذر کے وسیع معنی ہیں اور اس کا مفہوم اسلحہ تک محدود نہیں ہے۔ علاوہ ازیں خود اسی سورہ کی آیہٴ ۱۰۲ میں واضح دلیل موجود ہے جہاں حذر اسلحہ سے مختلف معنی میں استعمال ہوا ہے جہاں خدا فرماتا ہے:
ان تضعوا اسلحتکم و خذو حذرکم
کوئی حرج نہیں کہ ضرورت کے وقت نماز کے موقع پر میدان جنگ میں اپنے ہتھیار زمین پر رکھ دو۔ لیکن حذر یعنی نگرانی اور آمادگی پر مستعد رہو۔
یہ آیت جامع ہے اور اپنے اندر تمام پہلو لئے ہوئے ہے۔ تمام مسلمانوں کے لئے اس میں ہر عہد اور ہر دور کے مطابق حکم موجود ہے۔ کہ اپنی امنیت کی حفاظت اور اپنی سرحدوں کے دفاع کے لئے ہمیشہ مستعد رہو۔ اور ایک قسم کی مادی و معنوی آمادگی ہمیشہ تمہاری جمعیت پر غالب و حاکم رہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ"حذر" کا معنی اس قدر وسیع ہے کہ جو ہر قسم کے مادی روحانی اور معنوی وسیلہ اور ذریعہ کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ ان باتوں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ وقت اور ہر زمانے میں دشمن کی حیثیت، اس کے ہتھیاروں اور جنگی طور طریقوں سے باخبر ہوں اور اپنی تیاری کے معیار کے ساتھ دشمن کے اسلحہ کی تعداد اور کارکردگی کو جانتے ہوں۔ کیونکہ یہ تمام مذکورہ باتیں دشمن کی طرف سے خطرہ کی پیش بندی اور "حذر" کے مفہوم کو سمجھنے میں موٴثر ہیں۔
دوسری طرف اپنے دفاع کے لئے ہر طرح کی مادی اور روحانی تیاری ناگزیر ہے، یہ تیاری تعلیمی، اقتصادی اور افرادی و قوت کو فراہمی کے حوالے سے بھی مکمل ہونا چاہئیے۔ اسی طرح جدید اسلحہ کی فراہمی اور اس کے استعمال کے طور طریقوں سے آگاہی بھی ضروری ہے۔
یہ امر مسلم ہے کہ مسلمانوں نے اگر صرف اسی ایک آیت کو اپنی زندگی پر منطبق کر لیا ہوتا تو اپنی تمام تاریخ میں کبھی شکست اور ناکامی کا منہ نہ دیکھتے۔ جیسا کہ اوپر والی آیت میں اشارہ ہے کہ جنگ کے مختلف طور طریقوں سے استفادہ کرتے ہوئے کبھی جمود اور دقیانوسیت کا شکار نہ ہونا، بلکہ وقت اور مقام کے تقاضوں اور دشمن کی حیثیت دیکھتے ہوئے قدم اٹھانا چاہئیے۔ جہاں دشمن کی حالت اس قسم کی ہے کہ وہاں مختلف دستوں کی صورت میں اس کی طرف پیش قدمی کرنا چاہئیے تو اس طریقے سے استفادہ کرو اور دشمن کے مقابلہ میں ہر دستہ کی مخصوص حکمت عملی ہو اور جہاں ضرورت ہو کہ سب منظم ہو کر ایک حکمت عملی کے مطابق حملہ کریں تو وہاں ایک ہی صف میں کھڑے ہو جائیں۔ یہاں واضح ہو جاتا ہے کہ بعض افراد جو اصرار کرتے ہیں کہ اپنی اجتماعی جنگوں میں سب مسلمان ایک ہی طریقہ کو اپنائیں اور ان کی تکنیکوں میں کسی قسم کا فرق نہیں ہونا چاہئیے، ان کا موٴلف درست نہیں۔ ویسے بھی یہ بات منطبق اور تجربے کے خلاف ہے اور اسلامی تعلیمات کی روح کے منافی ہے اور شاید اوپر والی آیت اس پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہو۔ حقیقی مقاصد و اہداف کے حصول کے لئے یہ ایک اہم کلیہ ہے۔
ضمنی طور پر "جمیعاً" کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ دشمن کے مقابلہ کے لئے تمام مسلمان بغیر کسی استثناء کے شرکت کریں اور یہ حکم کسی معین دستہ سے مخصوص نہیں ہے۔
تمہارے درمیان کچھ (منافق) لوگ ہیں کہ وہ خود بھی کاہل ہیں اور دوسروں کو بھی سست بناتے ہیں اگر کوئی مصیبت آ پہنچے تو ہ کہتے ہیں کہ خدا نے ہم پر احسان کیا کہ ہم مجاہدین کے ساتھ نہیں تھے کہ ہم اس (مصیبت) کو دیکھتے۔
اگر کوئی مال غنیمت تمہیں مل جائے تو ٹھیک حالانکہ تم میں اور ان میں کوئی مودت و دوستی نہیں پھر بھی وہ بالکل اس طرح سے کہتے ہیں کاش ہم بھی ان کے ساتھ ہوتے اور نجات اور عظیم کامیابی سے ہمکنار ہوتے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
دشمن کے مقابلہ میں جہاد اور تیاری کے عمومی حکم کے بعد کہ جو گذشتہ آیت میں بیان ہوا ہے، اس آیت میں منافقین کی ایک جماعت کی حالت بتاتے ہوئے اللہ فرماتا ہے: یہ دو چہروں والے افراد جو تمہارے درمیان ہیں پوری کوشش کرتے ہیں کہ حق کی راہ میں لڑنے والوں کی صفوں میں شریک ہونے سے بچ جائیں۔
(وَإِنَّ مِنْکُمْ لَمَنْ لَیُبَطِّئَن
(تشریحی نوٹ: یہ بات توجہ طلب ہے کہ اوپر والی آیت میں خطاب مومنین سے ہے لیکن بات منافقین سے کہی جا رہی ہے، باوجود اس کے کہ "منکم" کی تعبیر کےساتھ انھیں مومنین کا جزو شمار کیا ہے۔ یہ اس بنا پر ہے کہ منافقین ہمیشہ مومنین کے درمیان ہی رہتے تھے اور ظاہراً انہی میں شمار ہوتے تھے۔ لیبطئن مادہ بطئو (بروزن قطب) چلنے میں کاہلی اور سستی کے معنی میں ہے اور اہل لغت اور مفسرین کی ایک جماعت کے بقول لازم اور متعدی دونوں معنی رکھتا ہے یعنی چلنے میں بھی کاہل اور سست ہیں اور دوسروں کو بھی اس کام میں شریک کرتے ہیں شاید اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ باب تفصیل میں ہے لہٰذا صرف متعدی و الا معنی رکھتا ہے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ کبھی اپنے آپ کو اور کبھی دوسرو ں کو کاہلی اور سستی پر ابھارتا ہے؟)
لیکن جب مجاہدین میدان جنگ سے واپس آتے ہیں یا میدان جنگ کی خبریں انھیں ملتی ہیں اگر مسلمانوں کو شکست یا شہادت نصیب ہوئی ہو تو مسرت و انبساط سے کہتے ہیں کہ خدانے ہمیں کتنی بڑی نعمت دی ہے۔ ہم یہ دلخراش منظر دیکھنے کے لئے ان کے ساتھ نہیں تھے۔
فَإِنْ اَصَابَتْکُمْ مُصِیبَةٌ قَالَ قَدْ اَنْعَمَ اللهُ عَلَیَّ إِذْ لَمْ اَکُنْ مَعَہُمْ شَہِیدًا۔
لیکن اگر انھیں یہ خبر ملے کہ حقیقی مومنین کامیاب ہو گئے ہیں اور نتیجے میں مال غنیمت ان کے ہاتھ لگا ہے تو یہ منچلے بیگانوں کی طرح حسرت و یاس سے کہتے ہیں کہ کاش ہم بھی مجاہدین کے ساتھ ہوتے اور ہمیں بھی بڑا حصہ (مال غنیمت کا) ملتا۔ جیسے مومنین سے تو ان کا کوئی ربط ہی نہ ہو۔
وَلَئِنْ اَصَابَکُمْ فَضْلٌ مِنَ اللهِ لَیَقُولَنَّ کَاَنْ لَمْ تَکُنْ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُ مَوَدَّةٌ یَالَیْتَنِی کُنتُ مَعَہُمْ فَاَفُوزَ فَوْزًا عَظِیمًا۔
اگرچہ اوپر والی آیت میں مال غنیمت کا ذکر نہیں ہوا۔ لیکن واضح ہے کہ جو راہ خدا میں شہادت کو ایک بلا اور مصیبت تصور کرتا ہے اور شہادت کا شعور نہ رکھنے کو خدا کی نعمت تصور کرتا ہے، اس کے نزدیک صرف مادی اور جنگی غنائم کا حصول عظیم کامیابی اور فتح ہے۔ یہ دو رُخے افراد جن کے متعلق افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہر معاشرے میں تھے اور ہیں، وہ حقیقی مومنین کی کامیابیوں اور شکستوں سے اپنے قیافے فوراً بدل لیتے ہیں۔ غم و آلام میں کبھی ان کا ساتھ نہیں دیتے، مصیبت اور مشکل میں ان کے ہم قدم نہیں ہوتے لیکن اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کامیابیوں اور کامرانیوں کی صورت میں انھیں (مال غنیمت) ملے اور حقیقی مومنین جیسے امتیازات انھیں حاصل ہوں۔
وہ لوگ جنہوں نے دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے بیچی ہے انہیں چاہئے کہ خدا کی راہ میں جنگ کریں اور جو شخص راہ خدا میں جنگ کرے اور قتل ہو جائے یا غالب آ جائے تو ہم اسے اجر عظیم دیں گے۔
تفسیر
مومنین کو جہاد کے لئے آمادہ کرنا
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ آیات میں منافقین کو مومنین کی صفوں سے جدا کر کے دکھایا گیا ہے اس آیت میں اور اس کے بعد آنے والی چند آیات میں صاحب ایمان افراد کو اثر انگیز دلائل کے ساتھ راہ خدا میں جہاد کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اس طرف بھی توجہ کرنی چاہئیے کہ یہ آیات ایک ایسے زمانے میں نازل ہوئی ہیں جب طرح طرح کے اندرونی اور بیرونی دشمن اہلِ اسلام کو ڈرا دھمکا رہے تھے ایسے میں ان آیات کی اہمیت زیادہ واضح ہو جاتی ہے جن میں مسلمانوں کی روحِ جہاد کو ابھارا گیا ہے۔ آیت کی ابتدا میں خدا فرماتا ہے: راہ خدا میں وہ افراد جنگ کریں جو دنیا کی پست مادی زندگی کا دوسرے جہان کی ابدی اور جاوداں زندگی سے تبادلہ کرنے کو تیار ہیں۔
(فَلْیُقَاتِلْ فِی سَبِیلِ اللهِ الَّذِینَ یَشْرُونَ الْحَیَاةَ الدُّنْیَا بِالْآخِرَةِ)
یعنی صرف وہ لوگ حقیقی مجاہدین کہلا سکتے ہیں جو اس بات کے لئے آمادہ ہوں اور انھوں نے بجا طور پر یہ جان لیا ہو کہ مادی دنیا کی زندگی جیسا کہ لفظ دنیا (بمعنی پست تر) سے ظاہر ہوتا ہے ہمیشہ رہنے والی زندگی کے لئے باعزت موت کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی لیکن جو لوگ مادی زندگی کو گراں بہا و انسانی مقدس اہداف و مقاصد سے بالاتر سمجھتے ہیں وہ کبھی اچھے مجاہد نہیں ہو سکتے۔ اس کے بعد آیت کے ذیل میں فرماتا ہے: "ایسے مجاہدین کا انجام واضح ہے کیونکہ وہ شہید ہو جائیں گے یا دشمن کو تباہ کر دیں گے اور ان پر غالب آ جائیں گے اور دونوں صورتوں میں ہم انھیں اجر عظیم دیں گے"
( وَمَنْ یُقَاتِلْ فِی سَبِیلِ اللهِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیہِ اَجْرًا عَظِیمًا)۔
یہ مسلم ہے کہ ایسے جانبازوں کی لغت میں شکست کا وجود نہیں ہے وہ دونوں صورتوں میں اپنے آپ کو کامیاب سمجھتے ہیں یہی ایک جذبہ اس امر کے لئے کافی ہے کہ دشمن ان کے لئے کامیابی کے وسائل فراہم کرے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مسلمانوں کو ایسے دشمنوں پر تیزی سے غلبہ حاصل ہوا جو تعدا، ساز و سامان اور جنگی تیاریوں کے لحاظ سے ان کے مقابلے میں کئی گنا بالادستی رکھتے تھے۔ اس کا محرک یہی ناقابلِ شکست جذبہ تھا۔ یہاں تک کہ غیر مسلم علماء جنھوں نے رسول اللہؐ کے زمانے اور آپؐ کے بعد اسلام اور مسلمانوں تیز رفتار کامیابیوں پر بحث کی ہے انھوں نے بھی اس جذبے کو ان کی پیش رفت کا محرک قرار دیا ہے۔
مغرب کا ایک مشہور موٴرخ رقمطراز ہے:
"نئے مذہب کی برکت اور جن انعامات کا آخرت میں وعدہ کیا گیا تھا، ان کی وجہ سے وہ موت سے بالکل نہیں ڈرتے تھے اور دوسرے جہان کو چھوڑ کر اس زندگی کی نظر میں کوئی حقیقت نہ تھی، لہٰذا وہ اس زندگی سے محبت کرنے سے اجتناب کرتے تھے۔" (بحوالہ: تاریخ تمدن اسلام و عرب گوستان و لبون صفحہ ۱۵۵)۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ اوپر والی آیت میں قرآن کی دوسری بہت سی آیات کی طرح اس جہاد کو مقدس قرار دیا گیا ہے جو”فی سبیل اللہ“ یعنی خدا کی راہ میں ہو، بندگان خدا کی نجات کا ذریعہ ہو، اصول حق و انصاف کی خاطر ہو اور پاکیزگی و تقویٰ کے لئے ہو، نہ کہ وہ جنگیں جو توسیع پسندی متعصب اور استعمار و سامراجی مقاصد کے لئے لڑی جائیں۔
کیوں تم خدا کی راہ میں ان مردوں، عورتوں اور بچوں کے لئے کہ( جو ستمگروں کے ہاتھوں ) کمزور کر دیئے گئے ہیں جنگ نہیں کرتے وہ (ستم زدہ) افراد جو کہتے ہیں کہ خدایا ہمیں اس شہر (مکہ) سے نکال لے جہاں کے رہنے والے ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنی طرف سے ایک سر پرست بھیج اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی یارو مددگار بھیج۔
تفسیر
انسانی جذبوں کو مظلوموں کی مدد کے لئے ابھارا گیا ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ آیت میں مومنین کو جہاد کی دعوت دی گئی ہے لیکن خدا و قیامت پر ایمان اور سود و زیاں کے استدلال کا سہارا لیا گیا ہے۔ اس آیت میں انسانی جذبات و احساسات کی بنیاد پر جہاد کی طرف دعوت دیتے ہوئے کہتا ہے: کیوں تم راہ خدا میں اور مظلوم و بیکس مردوں، عورتوں اور بچوں کے لئے جو ستم گروں کے چنگل میں گرفتار ہیں جنگ نہیں کرتے کیا تمہارے انسانی جذبات اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ خاموش بیٹھے رہو اور ان رقت انگیز مناظر کو دیکھتے رہو
(وَمَا لَکُمْ لاَتُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللهِ وَالْمُسْتَضْعَفِینَ (تشریحی نوٹ: مستضعف اور ضعیف میں واضح فرق ہے ضعیف وہ ہے جو ناتمام ہو اور مستضعف وہ ہے جو دوسروں کے ظلم و ستم کے باعث کمزور ہو گیا ہو چاہے یہ کمزوری فکری اور ثقافتی اعتبار سے ہو یا اخلاقی نقطہٴ نظر سے یا اقتصادی حوالے سے یا سیاسی اور اجتماعی نقطہٴ نظر سے اس طرح یہ ایک جامع تعبیر ہے کہ جو ہر طرح کے استعمار زدہ اور ستم رسیدہ کے لئے استعمال ہوا ہے) مِنْ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَان)
اس کے بعد مومنین کے احساسات کو ولولہ انگیز بنانے کے لئے کہتا ہے: یہ مستضعفین وہی لوگ ہیں جو گھٹے ہوئے ماحول میں گرفتار ہو چکے ہیں اور ہر جگہ سے ناامید ہو چکے ہیں لہٰذا دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتے ہوئے خدا سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس ظلم و ستم کے ماحول سے انھیں نجات دے۔
(الَّذِینَ یَقُولُونَ رَبَّنَا اَخْرِجْنَا مِنْ ہَذِہِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَہْلُہَا)
نیز اپنے خدا سے یہ تقاضا بھی کرتے ہیں کہ وہ ایک ولی و سرپرست ان کی حمایت کے لئے بھیج دے۔ (وَاجْعَل لَنَا مِنْ لَدُنْکَ وَلِیًّا) اور کہتے ہیں: ہمارے لئے کوئی یاور و مددگار بھیج (وَاجْعَل لَنَا مِنْ لَدُنْکَ نَصِیرًا)
حقیقت میں اوپر والی آیت اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ خدا نے ان کی دعا کو قبول لیا ہے اور اس عظیم انسانی پیغامِ رسالت کو تمہارے ذمہ قرار دیا ہے اور تم خدا کی طرف سے "ولی و نصیر" موجود ان کی حمایت اور نجات کے لئے معین کئے گئے ہو۔ لہٰذا ایسا نہیں ہونا چاہئیے کہ تم اس موقع اور اعلیٰ حیثیت کو اپنے ہاتھ سے گنوا بیٹھو۔
چند اہم نکات
١۔ اسلامی جہاد کے دو ہدف
جہاد اسلامی جیسا کہ پہلے بھی اشارہ ہوا ہے، مال و متال، مقام و مرتبہ وسائل اور دوسرے ممالک کے خام مال پر قبضہ کے لئے نہیں ہے اور نہ ہی منڈیاں تلاش کرنے یا عقیدہ اور سیاست ٹھونسنے کے لئے ہے بلکہ صرف اصولِ فضیلت و ایمان کی نشر و اشاعت اور محکوم، ستم رسیدہ مردوں، عورتوں اور محروم و مظلوم بچوں کے دفاع کے لئے ہے۔ اس طرح جہاد کے دو جامع ہدف اور مقاصد ہیں جن کی طرف مندرجہ بالا آیت میں اشارہ ہوا ہے ایک "خدا کی ہدف" اور دوسرا "انسانی ہدف" یہ دونوں حقیقت میں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں اور ان کی بازگشت ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
۲۔ معاشرے میں آزادیٴِ فکر و نظر
اسلام کی نگاہ میں وہ معاشرہ اور ماحول زندگی بسر کرنے کے قابل ہے جس میں آزادانہ اپنے صحیح عقیدے کے مطابق عمل کیا جا سکے، باقی رہا وہ ماحول یا معاشرہ جس میں گلا گھونٹ دیا جائے اور یہاں تک کہ انسان اتنا آزاد بھی نہ ہو کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہہ سکے، اس میں زندگی نہیں گذاری جا سکتی، جہاں صاحبِ ایمان افراد یہ آرزو کرتے ہوں کہ وہ ایسے ماحول سے باہر چلے جائیں کیونکہ ایسے ماحول میں صرف ستمگر کی بالادستی ہوتی ہے۔
قابل توجہ امر یہ ہے کہ "مکہ" نہایت مقدس شہر اور مہاجرین کا اصل وطن تھا اس کے باوجود اس کی پرآشوب اور گھٹن زدہ کیفیت اس بات کا سبب بنی کہ وہ خدا سے درخواست کریں کہ وہ وہاں سے باہر نکل جائیں۔
۳۔ یاور سے پہلے رہبر
مندرجہ بالا آیت میں ہے کہ وہ مسلمان جو دشمن کے چنگل میں گرفتار تھے انھوں نے پہلے تو اپنی نجات کے لئے خدا کی طرف سے ولی بھیجے جانے کا تقاضا کیا اور پھر ظالموں کے چنگل سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے نصیر اور مددگار کی آرزو کی۔ کیونکہ ہر چیز سے پہلے قابل اور درد مند "رہبر" اور سرپرست کا وجود ضروری ہے اور اس کے بعد یار و مددگار کی اور کافی تعداد میں افراد کی ضرورت ہے لہٰذا یہ یاور و مددگار جتنے بھی ہوں ایک صحیح رہبر کے بغیر بےسود ہیں۔
۴۔ بار گاہ الہٰی میں دستِ نیاز
صاحبِ ایمان افراد ہر چیز خدا سے چاہتے ہیں اور وہ دستِ نیاز اس کے علاوہ کسی کے آگے نہیں دراز کرتے، یہاں تک کہ اگر وہ ولی و مددگار کا تقاضا کریں تب بھی اسی سے (مدد) چاہتے ہیں۔
جو صاحب ایمان ہیں وہ راہ خدا میں جنگ کرتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ طاغوت( اور فسادی لوگوں ) کی راہ میں لڑتے ہیں لہٰذا تم ان شیطان کے دوستوں سے جنگ کرو (اور ان سے ڈرو نہیں ) کیونکہ شیطان کا مکرو فریب (اس کی طاقت کی طرح) ضعیف و کمزور ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
پھر اس آیت میں مجاہدین کو شجاعت پر ابھارا گیا ہے اور انھیں دشمن کے ساتھ مبارزہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مجاہدین کی صفوں اور اہداف و مقاصد کو مشخص و ممتاز کرنے کے لئے اس طرح فرماتا ہے:
"صاحبِ ایمان افراد خدا کی راہ میں اس کے لئے جو خدا کے بندوں کے لئے سود مند ہے جنگ کرتے ہیں، لیکن بےایمان افراد طاغوت یعنی تباہ کرنے والی طاقتوں کی راہ میں (جنگ کرتے ہیں)"
(الَّذِینَ آمَنُوا یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللهِ وَالَّذِینَ کَفَرُوا یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ الطَّاغُوتِ)
یعنی بہرحال ان کی زندگی کے دن مبارزہ اور مقابلہ سے خالی نہیں ہیں۔ زیادہ سے زیادہ ایک گروہ حق کی راہ میں اور دوسرا باطل اور شیطان کی راہ میں برسرپیکار ہے۔ اس کے بعد کہتا ہے: شیطان کے ساتھیوں سے جنگ کرو اور ان سے ڈرو نہیں (فَقَاتِلُوا اَوْلِیَاءَ الشَّیْطَان)۔
طاغوت، فسادی قووتیں اور ظالم طاقتیں ظاہراً جتنی بھی بڑی اور قوی نظر آئیں لیکن باطن میں زبوں حال اور ناتواں ہیں۔ ان کے ظاہری ساز و سامان، تیاری اور آراستہ و پیراستہ ہونے سے نہ ڈرو۔ کیونکہ ان کا باطن کھوکھلا ہے اور ان کے منصوبے اور سازشیں ان کی طاقت اور توانائی کی طرح ناقص و کمزور ہیں۔ کیونکہ خدائے لایزل کی قدرت پر ان کا تکیہ نہیں ہے بلکہ وہ شیطانی طاقتوں پر بھروسہ کئے ہوئے ہیں (إِنَّ کَیْدَ الشَّیْطَانِ کَانَ ضَعِیفًا)۔ اس کمزوری اور ناتوانی کی دلیل واضح ہے کیونکہ ایک طرف سے صاحبِ ایمان افراد اہداف اور حقائق کی راہ میں قدم آگے بڑھاتے ہیں کہ قانونِ آفرینش سے ہم آہنگ اور ہم صدا ہیں اور ابدی و جاودانی رنگ میں رنگے ہوئے ہیں وہ انسانوں کو آزاد کرنے اور ظلم و ستم کے مظاہر کو ختم کرنے کے لئے برسرپیکار ہیں جبکہ طاغوت کے طرفدار استعماری اور لوٹ مار کری والی قوتیں ناپائیدار شہوت کی راہ میں چلنے والے جن کا اثر معاشرے کی تباہی اور قانونِ آفرینش کے برخلاف ہے، سعی و کوشش کرتے ہیں۔ دوسری طرف سے صاحبِ ایمان افراد روحانی قوتوں پر بھروسہ کرکے مطمئن ہیں کہ وہ ان کی کامیابی کے ضامن ہیں اور وہ انھیں قوت بخشیں گے۔ جبکہ بےایمان لوگوں کو کوئی مستحکم سہارا نہیں ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس آیت میں طاغوت کا شیطان سے مکمل ربط بیان ہوا ہے کہ کس طرح طاغوت شیطان صفت مختلف طاقتوں سے مدد حاصل کرتا ہے یہاں تک کہ خدا کہتا ہے کہ طاغوت کے ساتھی وہی شیطان کے دوست ہیں۔ سورہٴ اعراف آیہ۲۷ میں یہی مضمون آیا ہے:
انا جعلنا الشیاطین اولیاء للذین لایومنون
ہم نے شیاطین کو بےایمان افراد کا سرپرست بنا دیا ہے۔
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں (مکہ میں ) کہا گیا کہ (وقتی طور پر) جہاد سے دستبردار ہو جاؤ اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو (مگر وہ اس حکم سے رنجیدہ اور غیر مطمئن تھے) لیکن جس وقت (مدینہ میں ) انہیں جہاد کا حکم دیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ لوگوں سے ایسے ڈرتا تھا جس طرح خدا سے ڈرتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ وہ کہنے لگے پروردگار ! تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کیا ہے کیوں یہ حکم دینے میں تاخیر نہیں کی ان سے کہہ دو زندگانی دنیا کا سر مایہ نا چیز اور کم تر ہے اور جو پرہیز گار ہو اس کی آخرت بہتر ہے اور تم پر چھوٹے سے چھوٹا ظلم بھی نہیں ہو گا۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
مفسرین کی ایک جماعت مثلاً عظیم مفسر طوسی موٴلف "تبیان" اور ،وٴلفین "تفسیر قرطبی" اور "المنار" ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی ایک جماعت جب مکہ میں مقیم تھی اور مشرکین کی طرف سے اس پر ظلم و ستم توڑے جارہے تھے اس جماعت کے افراد پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم قبولِ اسلام سے پہلے محترم اور معزز تھے لیکن قبول اسلام کے بعد ہماری حالت دگر گوں ہو گئی اور ہم وہ عزت اور احترام کھو بیٹھے ہیں ہمیں دشمن نے اذیت اور مصیبت میں مبتلا کر دیا ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو ہم دشمنوں سے جنگ کریں تاکہ اپنا وقار اور مرتبہ دوبارہ بحال کر سکیں۔ اس روز پیغمبر نے فرمایا ابھی مجھے جنگ کرنے کا حکم نہیں ہے لیکن جب مسلمان مدینہ میں جابسے اور مقابلے کے لئے زمین ہموار ہو گئی، جہاد کا حکم نازل ہوا تو ان میں سے بعض جو پہلے لڑنے کے لئے تلے بیٹھے تھے اب میدان جہاد میں کانے سے کترانے لگے اور اس دن کا جوش و ولولہ ٹھنڈا پڑگیا تھا۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں میں جذبہٴ شجاعت بیدار کرنے کے لئے اور جہاد سے گریز کرنے والے افراد کو ملامت کرتے ہوئے حقائق بیان کیے۔
تفسیر
وہ جو صرف باتیں کرنا جانتے ہیں
قرآن یہاں کہتا ہے، اس گروہ کی حالت واقعاً تعجب خیز ہے جو ایک نامناسب موقع پر بڑی گرم جوشی اور شور و غوغا سے تقاضا کرتا تھا کہ انھیں جہاد کی اجازت دی جائے انھیں حکم دیا گیا کہ ابھی اپنی حفاظت اور تعمیر کا کام کریں، نماز پڑھیں، اپنی تعداد بڑھائیں اور زکوٰة دیتے رہیں لیکن جب ہر لحاظ سے فضا ہموار ہو گئی اور جہاد کا حکم نازل ہوا تو ان پر خوف طاری ہو گیا اور وہ اس حکم کے سامنے زبانِ اعتراض دراز کرنے لگے۔
(اَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِینَ قِیلَ لَہُمْ کُفُّوا اَیْدِیَکُمْ وَاَقِیمُوا الصَّلاَةَ وَآتُوا الزَّکَاةَ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْہِمْ الْقِتَالُ إِذَا فَرِیقٌ مِنْہُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ کَخَشْیَةِ اللهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَةً)
وہ اعتراض میں صراحت کے ساتھ کہتے تھے خدایا تو نے اتنا جلدی جہاد کا حکم نازل کر دیا کیا اچھا ہوتا اگر اس حکم کو تاخیر میں ڈال دیتا یا یہ پیغامِ رسالت آئندہ کی نسلوں کے ذمہ ڈال دیا جا تا۔ (تشریحی نوٹ: بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے حضرت مہدی (علیه السلام) کے قیام کے بارے میں کچھ باتیں سن رکھی تھیں۔ لہٰذا ان میں سے بعض اس انتظار میں تھے کہ جہاد کا معاملہ قیامِ مہدی (علیه السلام) کے زمانے سے مخصوص ہو جائے۔ ( نور الثقلین جلد اول ص۵۱۸)
(وَقَالُوا رَبَّنَا لِمَ کَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَ لَوْلاَاَخَّرْتَنَا إِلَی اَجَلٍ قَرِیبٍ)
قرآن اس قسم کے افراد کو دو طرح کے جواب دیتا ہے، پہلا جواب یہ ہے کہ جو (یَخْشَوْنَ النَّاسَ کَخَشْیَةِ اللهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَةً) کی عبارت کے دوران دیا جا چکا ہے۔ یعنی وہ لوگ بجائے اس کے کہ خدائے قاہر سے ڈریں کمزور اور ناتواں انسانوں سے خوف زدہ ہیں بلکہ وہ ان نحیف و ناتواں لوگوں سے خدا کی نسبت زیادہ ڈرتے ہیں دوسرا یہ کہ ایسے افراد کہا جائے کہ فرض کروں چند دن جہاد نہ کرنے کی وجہ سے آرام و سکون حاصل کر لو گے، پھر بھی یہ زندگی فانی اور بےقیمت ہے لیکن ابدی اور دائمی جہاں تو پرہیزگار لوگوں کے لئے زیادہ قدر و قیمت رکھتا ہے، خصوصاً جب انھیں مکمل طور پر عوض اور اجر مل جائے گا معمولی سے معمولی ظلم بھی ان پر نہیں ہو گا..
قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیلٌ وَالْآخِرَةُ خَیْرٌ لِمَنْ اتَّقَی وَلاَتُظْلَمُونَ فَتِیلًا۔ (تشریحی نوٹ: -فتیل ایک باریک دھاگہ ہے جو کھجور کے دانے کے درمیان شگاف میں ہوتا ہے جس طرح کہ اس کی تفصیل تیسری جلد میں گزر چکی ہے)۔
چند اہم نکات
۱۔ صرف نماز اور زکوٰة کا تذکرہ کیوں؟
سب سے پہلے یہ سوال ہوتا ہے کہ تمام احکامِ اسلام میں صرف نماز اور زکوٰة کا کیوں ذکر ہوا ہے حالانکہ احکام اسلامی انہی دو میں منحصر نہیں ہیں۔
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ نماز خدا سے وابستہ ہونے اور زکوٰة مخلوق خدا سے رشتہ استوار کرنے کی رمز ہے۔ لہٰذا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو حکم دیا جائے کہ خدا سے محکم و ابستگی اور بندگانِ خدا سے مضبوط رشتہ استوار کر کے اپنے جسم و جان اور اجتماع و معاشرے کو جہاد کے لئے آمادہ کریں۔ اصطلاح کے مطابق اپنی تربیت کریں۔ یہ بات مسلم ہے کہ کسی قسم کا جہاد افراد کی روحانی اور جسمانی آمادگی مستحکم رشتوں کے بغیر شکست سے ہمکنار ہو جائے گا۔ مسلمان نماز اور عبادت خدا کے سایے میں اپنے ایمان کو محکم اور اپنے روحانی جذبہ کی پرورش کرتا ہے اور ہر قسم کے ایثار اور قربانی کے لئے آمادہ ہوتا ہے اور زکوٰة کے ذریعے اجتماعی فاصلوں کو مٹاتا ہے۔ زکوٰة ہی کے ذریعے آزمودہ کار افراد اور جنگی ساز و سامان مہیا کرنے کے لئے ایک اقتصادی معاونت کرتا ہے اور حکم جہاد کے صادر ہونے پر دشمن سے مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہو جاتا ہے۔
۲۔ مکہ میں حکم زکوٰة
ہم جانتے ہیں کہ زکوٰة کا قانون مدینہ میں نازل ہوا اور مکہ میں مسلمانوں پر زکوٰة واجب نہیں ہوئی تھی اس کے باوجود یہ کیسے ممکن ہے کہ مندروجہ بالا آیت میں مکہ کے مسلمانوں کی حالت و کیفیت بیان کی جارہی ہو۔ شیخ طوسی مرحوم نے اس سوال کا جواب تفسیر"تبیان" میں دیا ہے وہ کہتے ہیں کہ مندرجہ بالاآیت میں زکوٰة سے مراد مستحب زکوٰة تھی۔ جو کہ مکہ میں نافذ تھی۔ یعنی قرآن مسلمانوں کو (حتی مکہ میں بھی) حاجت مندوں کی مالی امداد نو مسلم افرادکے لئے ضرورات مہیا کرنے کی طرف راغب کرتا ہے۔
۳۔ مکہ اور مدینہ میں مختلف لائحہ عمل
مندرجہ بالا آیت میں ضمنی طور پر ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ مکہ میں مسلمانوں کا ایک لائحہ عمل تھا اور مدینہ میں دوسرا۔ مکہ کا تیرہ سالہ قیام مسلمانوں کے انسان سازی کا تھا۔ پیغمبر اکرمؐ نے شب و روز مسلسل کوشش کی کہ انھیں بت پرستی اور زمانہ جاہلیت کے بیہودہ عناصر سے نجات دلا کر اس قسم کے انسان بنائیں جو زندگی کے بڑے حادثات کا مقابلہ کرتے ہوئے استقامت، پامردی اور ایثار کا مظاہرہ کریں اگر مکہ کے قیام کے زمانے میں یہ چیز موجود نہ ہوتی تو مدینہ کے مسلمانوں کو اتنی حیران کن اور پے در پے کامیابیاں نصیب نہ ہوتیں۔ مکہ کے قیام کا دور مسلمانوں کی تعلیم و تربیت اور تجربہ حاصل کرنے کا دور ہے۔ اس بنیاد پر قرآن کی ایک سو چودہ سورتوں میں سے تقریباً نوّے سورتیں مکہ میں نازل ہوئیں۔ ان میں سے زیادہ تر سورتیں عقیدہ، مکتب اور نظریات کا منبع تھیں لیکن مدینہ کا زمانہ تشکیل حکومت اور ایک مکمل معاشرے کی بنیادیں استوار کرنے کا دور تھا۔ اس لئے نہ تو مکہ میں جہاد واجب تھا اور نہ ہی زکوٰة۔ کیونکہ جہاد اسلامی حکومت کے فرائض میں سے ہے جیساکہ بیت المال کی تشکیل بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
تم جہاں کہیں بھی رہو موت تمہیں پا لے گی اگرچہ محکم برجوں میں جا رہو اور اگر انہیں (منافقین کو) حسنہ (اور کامیابی) حاصل ہو تو کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور سیئہ (اور شکست) سے دو چار ہوں تو کہتے ہیں یہ تمہاری طرف سے ہے کہہ دو کہ سب اللہ کی طرف سے ہیں پس یہ گروہ کیوں تیار نہیں ہوتا کہ حقائق کا ادراک کرے۔
جو نیکیاں تجھ پر پہنچتی ہیں وہ خدا کی طرف سے ہیں اور جو برائی تجھے پہنچتی ہے وہ خود تیری طرف سے ہے اور ہم نے تجھے لوگوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اس بارے میں خدا کی گواہی کافی ہے ۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ اور بعد کی آیات پر غور کریں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں آیات بھی منافقین سے متعلق ہیں جو مسلمانوں کی صفوں میں رہتے تھے جیسا کہ آیات میں ہے کہ وہ میدانِ جہاد میں شر کت کرنے سے ڈرتے تھے اور جب جہاد کا حکم صادر ہوا تو انھیں تکلیف ہوئی۔ قرآن ان کے اس طرزِ فکر کا دو طرح سے جواب دے رہا ہے پہلا جواب تو وہی تھا جو گذشتہ آیت کے آخر میں گزر چکا ہے۔
قل متاع الدنیا قلیل و الاخرة خیر لمن اتقی
"کہہ دو کہ دنیاوی زندگی بہت کم ہے لیکن پرہیزگاروں کے لئے دوسرے جہان میں اس کا صلہ موجود ہے"۔
دوسرا جواب جو زیر بحث ہے کہ موت سے فرار اختیار کرنا تمہارے لئے مفید نہیں "حالانکہ تم جہاں کہیں بھی ہو موت سے تم کو مفر نہیں آخر ایک تمھیں اس کا نوالہ بننا ہے یہاں تک کہ تم مضبوط گنبدوں میں کیوں نہ چھپ جاوٴ" پس وہ موت جسے ضرور آنا ہے اور جس سے چھٹکارا ممکن نہیں ہے کیون نہ اسے اصلاح اور سچائی کے لئے قبول کیا جائے جیسے جہاد کی صورت میں بجائے اس کے کہ بےکار اور لا حاصل موت قبول کی جائے۔
(اَیْنَمَا تَکُونُوا یُدْرِکُّمْ الْمَوْتُ وَلَوْ کُنتُمْ فِی بُرُوجٍ مُشَیَّدَةٍ)۔
یہ امر قابل توجہ ہے کہ قرآن کی متعدد آیات مثلاً حجر کی آیة ۹۹۔ اور مدثر کی آیت۴۸۔ میں موت کو "یقین" سے تعبیر کیا گیا ہے یہ اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہر قوم اور گروہ جو بھی عقیدہ رکھتا ہو وہ ہر چیز کا انکار کر سکتا ہے مگر اس حقیقت کا انکار نہیں کر سکتا کہ زندگی ایک دن ختم ہونے والی ہے وہ افرد جو زندگی سے عشق کرتے ہیں اور وہ جو سمجھتے ہیں کہ موت ہمیشہ کے لئے نیست و نابود ہونے کا نام ہے اور اس کا نام لیتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں یہ آیات انھیں تنبیہ کرتی ہیں اور زیر بحث آیت میں۔ یدرککم۔ کے مفہوم سے انھیں متوجہ کیا گیا ہے کہ عالم ہستی کی اس حقیقت سے فرار اختیار کرنا ایک نامناسب فعل ہے کیونکہ ۔یدرککم۔ کے مادہ کا معنی یہ ہے کہ کوئی کسی چیز سے فرار حاصل کرے اور وہ اس کے پیچھے دوڑے۔ سورہ جمعہ کی آیت ۸ میں بھی یہ حقیقت زیادہ کھل کر بیان کی گئی ہے:
قل انّ الموت الذی تفرون منہ ملاقیکم کہیے کہ موت جس سے تم بھاگتے ہو وہ ضرور تمہارے سامنے آئے گی۔
جب یہ حقیقت مدنظر ہو تو کیا یہ عقل مندی ہے کہ انسان میدان جہاد میں جانے اور قابل فخر مرتبے پر فائز ہونے کی بجائے اس سے کنارہ کش ہو کر گھر میں آرام کرتا رہے فرض کر لیں کہ جہاد سے کنارہ کش ہو کر وہ زندگی کے چند روز اور گذار لے اور وہی کام دہراتا رہے جو پہلے کرتا رہا ہے۔
راہ خدا میں جہاد کرنے والوں کے اجر و ثواب سے بےبہرہ ہو جائے تو کیا یہ عقل اور منطق کے مطابق صحیح ہے اصولی طور پر موت ایک عظیم حقیقت ہے اور موت کے استقبال کے لئے افتخار کے ساتھ آمادہ ہونا چاہئیے۔
دوسرا نکتہ جس پر توجہ کرنا چاہئیے یہ ہے کہ درج بالا آیت میں کہا گیا ہے کہ کوئی چیز یہاں تک کہ محکم برج (بروج مشیدہ) (تشریحی نوٹ: مشیدہ۔ دراصل مادہ شید (بر وزن شیر) سے ہے اور گچ اور دوسرے محکم مواد کے معنی میں ہے جنھیں کسی بنیاد کے استحکام کے لئے استعمال کرتے ہیں چونکہ اس زمانہ میں عام طور پر مضبوط بنیاد کے لئے محکم ترین مادہ گچ اور چونا تھا لہٰذا زیادہ تر اس مفہوم میں بولا جاتا تھا۔ لہٰذا بروج مشیدہ محکم قلعوں کے معنی میں ہے اور دیکھنے میں مشیدہ مرتفع اور بلند کے معنی میں آتا ہے تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ چونا سے استفادہ کئے بغیر کسی طرح بھی بلند و بالا عمارت کی بنیادیں استوار نہیں ہو سکتیں)۔ بھی موت سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتا اور اس کی وجہ واضح ہے اور وہ یہ کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ موت وجود انسانی سے باہر نفوذ کرتی ہے۔ عملی طور پر موت کا سرچشمہ انسان کے اندر ہے، کیونکہ بدن کے مختلف کل پرزوں (اعضاء) کی استعداد یقینا محدود ہے ایک دن وہ ختم ہو جاتے ہیں۔ البتہ غیر طبیعی موت انسان کی تلاش میں باہر سے آتی ہے لیکن طبعی موت اس کے اندر سے آتی ہے۔ مضبوط گنبد اور بھاری قلعے بھی اس کا راستہ نہیں روک سکتے۔
یہ بجا ہے کہ مضبوط قلعے بعض اوقات غیر طبعی موت سے بچا لیتے ہیں۔ مگر پھر بھی موت سے مکمل نجات نہیں دلا سکتے اور چند دنوں بعد طبعی موت انسان کو آ لیتی ہے۔
کامرانیوں اور شکستوں کا سرچشمہ
قرآن اس آیت کے ذیل میں منافقین کی کچھ اور بےبنیاد باتوں اور باطل خیالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: وہ جب بھی کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں اور نیکیاں اور حسنات ان کے ہاتھ آتی ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے یعنی ہم اس قابل تھے کہ خدا نے ہمیں یہ شفقتیں اور نعمتیں عطا کی ہیں۔
(وَإِنْ تُصِبْہُمْ حَسَنَةٌ یَقُولُوا ہَذِہِ مِنْ عِنْدِ اللهِ)
لیکن جب انھیں شکست کا سامنا ہو یا میدان جنگ میں کوئی مشکل لاحق ہو تو کہتے ہیں کہ یہ پیغمبر کی غلط تدبیر اور ان کی جنگی حکمت عملی کے خام ہونے کی وجہ سے تھا اس ضمن میں وہ جنگ احد کی شکست کا حوالہ دیتے ہیں۔
(وَإِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّئَةٌ یَقُولُوا ہَذِہِ مِنْ عِنْدِکَ)
بعض مفسرین کا احتمال ہے کہ درج بالا آیت یہودیوں کے بارے میں ہے اور "حسنہ" اور "سیئة" سے مراد سارے اچھے اور برے حوادث و واقعات ہیں کیونکہ یہودی پیغمبر کے ظہور کے وقت اپنی زندگی کے اچھے حوادث کی نسبت خدا کی طرف دیتے تھے اور برے حوادث کو پیغمبر سے منسوب کر دیتے تھے لیکن اس آیت کا ربط پہلے اور بعد کی ان آیات سے ہے جو منافقین کے بارے میں نشاندہی کرتی ہیں یہ آیت بھی زیادہ تر انہی سے مربوط ہے بہرحال قرآن انھیں جواب دیتا ہے کہ ایک موٴحد اور بالغ نظر خدا پرست کی نگاہ میں یہ تمام حوادث کامیابیاں اور شکستیں خدا کی طرف سے ہیں جو لوگوں کی قابلیت اور اہلیت کے مطابق دی جاتی ہے۔
(قُلْ کُلٌّ مِنْ عِنْدِ اللهِ)
اور آیت کے آخر میں اعتراض کے طور پر ان منافقین کی زندگی کے مختلف پہلووٴں کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ لوگ فکر اور غور نہیں کرتے ”پس کیوں یہ لوگ حقائق کا ادراک کرنے کو تیار نہیں ہوتے“
(فَمَالِ ہَؤُلاَءِ الْقَوْمِ لاَیَکَادُونَ یَفْقَہُونَ حَدِیثًا)۔
اس کے بعد اگلی آیت میں اس طرح ارشاد ہوتا ہے کہ تمام نیکیاں، کامیابیاں اور حسنات جو تمہیں ملتی ہیں وہ خدا کی طرف سے ہیں اور جو برائیاں اور شکستیں تمھیں درپیش ہوتی ہیں اور وہ خود تمہاری طرف سے ہیں۔
(مَا اَصَابَکَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنْ اللهِ وَمَا اَصَابَکَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَفْسِکَ)
اور آیت کے آخر میں ان لوگوں کو جو اپنی شکستوں اور ناکامیوں کی نسبت پیغمبر سے دیتے ہیں اور اصطلاحاً پیغمبر کی وجہ سے سمجھتے تھے انھیں جواب دیا گیا۔ پیغمبر سے ارشاد ہوتا ہے: "اور ہم نے تجھے لوگوں کے لئے اپنا پیامبر قرار دیاہے اور خدا اس پر گواہ ہے اور اس کی گواہی کافی ہے"۔ تو کا یہ ممکن ہے کہ خدا کا بھیجا ہوا لوگوں شکست، ناکامی اور برائی کا سبب ہو؟
(وَاَرْسَلْنَاکَ لِلنَّاسِ رَسُولًا وَکَفَی بِاللهِ شَہِیدًا)۔
ایک اہم سوال کا جواب
ان دو آیات کا مطالعہ جو قرآن میں آگے پیچھے مربوط ہیں ذہن میں ایک سوال پیدا کرتا ہے کہ کیوں پہلی آیت میں تمام نیکیوں اور برائیوں (حسنات و سیئات) کی نسبت خدا کی طرف دی گئی ہے جب کہ دوسری آیت میں صرف نیکیوں کو خدا کی طرف اور برائیوں اور سیئات کو لوگوں کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ یقینا یہاں کوئی نکتہ پوشیدہ ہے ورنہ کیسے ممکن ہے کہ دو آیات جو کہ یکے بعد دیگرے آئی ہیں ان میں ایسا واضح اختلاف ہے ان دونوں آیات پر غور و فکر کرنے سے چند نکات واضح ہوتے ہیں جن میں سے ہر ایک سوال کا علیحدہ جواب بن سکتا ہے۔
۱۔ اگر سیئات اور برائیوں کا تجزیہ کیا جائے تو یہ دو پہلو رکھتی ہیں۔ ایک مثبت پہلو اور ایک منفی پہلو۔ یہی منفی پہلو ہے جو انھیں برائی کی شکل و صورت دیتا ہے اور انھیں نسبتی زبان یا مقابلتاً نقصان کی صورت میں پیش کرتا ہے۔
اس سلسلے میں ایک مثال پیش کی جاتی ہے۔
جو شخص گرم سر و ہتھیار کے ذریعہ کسی مسلمان کو قتل کر دے، مسلم ہے کہ وہ ایک برائی کا مرتکب ہوا ہے اب ہم اس برے کام کے عوامل پر غور و فکر کرتے ہیں۔ ان عوامل میں انسان کی طاقت، اس کی فکر، سرد یا گرم ہتھیار کی طاقت، صحیح نشانہ، مناسب وقت سے استفادہ کرنا اور گولی کی تاثیر اور طاقت وغیرہ نظر آتے ہیں جو تمام واقعہ کے مثبت پہلو ہیں۔ کیونکہ یہ سب مفید اور سود مندہ سکتے ہیں اور اگر انھیں برمخل استعمال کیا جائے تو بڑی بڑی مشکلات کے موقع پر کام آتے ہیں صرف ایک منفی پہلو اس واقعہ کا یہ ہے کہ یہ تمام صلاحتیں اور توانائیاں بےمحل استعمال ہوئی ہیں مثلاً بجائے اس کے کہ ان کے ذریعے ایک خطرناک درندے کو مارا جاتا یا ایک جفاکار ظالم کو قتل پر انھیں استعمال کیا جاتا، ایک بےگناہ انسان کو نشانہ بنایا گیا بس یہی پہلو، منفی ہے کہ ان صلاحیتوں کو برائی کے طور پر کام لایا گیا، ورنہ نہ تو اچھے نشانے کی صلاحیت انسان کے لئے بری چیز ہے اور نہ ہی گولی اور بارود کا استعمال برا ہے، یہ سب صلاحیت کو استعمال کرنے کے ذرائع ہیں اور اپنی جگہ بہت فوائد کے حامل ہیں۔
لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ پہلی آیت میں تمام حسنات اور سیئات کی نسبت خدا کی طرف دی گئی ہے اس کا سبب یہ ہے کہ قدرت کے تمام ذرائع، یہاں تک کہ وہ صلاحتیں کہ جن سے غلط فوائد حاصل کئے گئے، خدا کی طرف سے ہیں اور اصلاحی اور مثبت اجراء کا سرچشمہ وہی ہیں اور اگر دوسری آیت میں سیئات کی نسبت لوگوں کی طرف دی گئی ہے تو واقعہ کے انھی منفی پہلووٴں اور خدا کی عنایات اور صلاحیتوں سے غلط فائدہ اٹھانے والوں کی طرف اشارہ ہے یہ بالکل اسی مثال کی طرح ہے کہ ایک شخص اپنے بیٹے کو ایک اچھا گھر بنانے کے لئے سرمایہ دے لیکن وہ اسے منشیات، فساد، تباہ کاری میں صرف کر دے اس میں شک نہیں ہے کہ سرمایہ کے لئے وہ اپنے باپ کا مقروض ہے لیکن سرمایے کے غلط استعمال کے لئے وہ خود ذمہ دار ہے۔
۲۔ ممکن ہے کہ آیہ مبارکہ "الامر بین الامرین" کے مسئلہ کی طرف اشارہ کرتی ہو جس کی طرف خبر اور تفویض کی بحث میں اشارہ ہوا ہے کہ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ تمام حوادث دنیا، یہاں تک ہمارے اعمال و افعال چاہے اچھے ہوں یا برے، نیک ہوں یا بد ایک طرح سے خدا سے مربوط ہیں کیونکہ وہی جس نے ہمیں طاقت دی ہے اور اختیار و ارادہ کی آزادی ہمیں بخشی ہے لہٰذا ہم جو کچھ اختیار کرتے ہیں اور ارادے کی آزادی کے ساتھ انتخاب کرتے ہیں وہ مشیت الہٰی کے برخلاف نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے اعمال ہم سے نسبت رکھتے ہیں اور ان کا سرچشمہ ہمارا وجود ہے کیونکہ عمل کے تعین کرنے کا عامل و سبب ہمارا ارادہ و اختیار ہے اور اسی بنا پر ہم اپنے اعمال کے بارے میں جوابدہ ہیں اور خدا کی طرف ہمارے اعمال کی اسناد و نسبت، جیسا کہ اشارہ ہوا ہے ہماری ذمہ داری اور جوابدہی کو سلب نہیں کرتی اور عقیدہ جبر کا موجب اور سبب نہیں بنتی۔ لہٰذا خدا جہاں فرماتا ہے کہ "حسنات و سیئات" میری طرف سے ہیں تو وہاں اشارہ کرتا ہے کہ تمام چیزوں کی نسبت خدا کی اس فاعلیت (اختیار) کی طرف ہے اور جہاں فرماتا ہے سیئات تمہاری طرف سے ہیں تو وہاں ہماری فاعلیت اور ہمارے ارادہ و اختیار کی طرف اشارہ ہے، اور حقیق میں دو آیات کا مجموعہ "الامر بین الامرین" کے مسئلہ کو ثابت کرتا ہے (یہ نکتہ غور طلب ہے)
۳۔ ایک اور تفسیر جو ان آیات کے لئے موجود ہے اور اہل بیت (علیه السلام) کی روایات میں بھی اس کی طرف اشارہ ہوا ہے وہ یہ ہے کہ "سیئات" سے مراد اعمال کی سزا و مجازات اور گناہوں کے عقوبات و نتائج ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ یہ سزائیں خدا کی طرف سے ہیں لیکن چونکہ یہ بندوں کے اعمال و افعال کا نتیجہ ہیں۔ اس بنا پر بعض اوقات ان کی نسبت بندوں کی طرف دی جاتی ہے اور بعض اوقات خدا کی طرف، اور دونوں صحیح ہیں۔ مثلا یہ دونوں طرح سے صحیح و درست ہے کہ کہا جائے کہ قاضی چور کا ہاتھ کاٹتا ہے یا یہ کہ چور خود اپنے ہاتھ کو کاٹتا ہے۔
وہ تیرے سامنے کہتے ہیں کہ ہم فرمانبردار ہیں لیکن جب وہ تمہاری بزم سے باہر جاتے ہیں تو ان میں ایک گروہ تمہاری گفتگو کے بر خلاف رات کو خفیہ میٹنگیں تشکیل دیتا ہے جو کچھ وہ ان میٹنگوں میں کہتے ہیں خدا اسے لکھتا ہے ان کی پرواہ نہ کرو ۔اور خدا پر توکل کرو اور کافی ہے کہ وہ تمہارا مددگار اور حفاظت کرنے والا ہو۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
اس آیت میں لوگوں اور ان کے "حسنات" اور "سیئات" کے مقابلہ میں رسول کی حیثیت بیان گئی ہے۔ خدا پہلے فرماتا ہے کہ جو شخص پیغمبر کی اطاعت کرے اس نے خدا کی اطاعت کی۔
(مَنْ یُطِعْ الرَّسُولَ فَقَدْ اَطَاعَ اللهَ)
لہٰذا خدا کی اطاعت پیغمبر کی اطاعت ہے جدا نہیں ہو سکتی کیونکہ پیغمبر کوئی قدم خدا کی مشیت کے خلاف نہیں اٹھاتا اس کی گفتار، کردار، اعمال سب خدا کے فرمان کے مطابق ہیں۔
اس کے بعد فرماتا ہے: اگر کچھ لوگ اعراض اور روگردانی کرتے ہیں اور وہ تمہارے احکام کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں تو تم ان کے اعمال کے جواب دہ نہیں ہو اور یہ تمہارا کام نہیں کہ ان سے تکرار کرو یا نافرمانی کر نے سے انھیں جبراً روکو۔ تمہارا فرض تبلیغ رسالت امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور گمراہ و بےخبر لوگوں کی رہنمائی کرنا (وَمَنْ تَوَلَّی فَمَا اَرْسَلْنَاکَ عَلَیْہِمْ حَفِیظًا)۔ غور کرنا چاہئیے کہ لفظ "حفیظ" اس لحاظ سے کہ وہ شخص ہے کہ جو ہمیشہ کسی چیز کی نگرانی پر مامور ہو۔ لہٰذا آیت کا معنی و مفہوم یہ ہو گا کہ پیغمبر کی ذمہ داری رہبری کرنا، دعوت حق دینا، فتنہ اور مفاسد کا مقابلہ کرنا ہے لیکن اگر کچھ لوگ مخالفت پر کمربستہ ہوں تو پیغمبر ان کی کجروی کے لئے جوابدہ نہیں ہیں کہ ہر جگہ موجود ہوں اور ہر گناہ و معصیت کا طاقت اور جبر سے مقابلہ کریں اور مروّج طریقوں سے بھی وہ اس طرح کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس بنا پر احد جیسی جنگ کے حوادث بھی شاید آیت کے پیش نظر ہوں کہ پیغمبر کا فرض تھا کہ فنونِ حرب کے لحاظ سے زیادہ گہرائی اور غور و خوض سے جنگی حکمتِ عملی تیار کرتا اور دشمن کے شر سے مسلمانوں کو محفوظ رکھتا، اور یہ بات مسلم ہے کہ ان احکام و ضوابط میں پیغمبر کی اطاعت خدا کی اطاعت ہے۔ لیکن اگر کچھ لوگوں نے پیغمبر کے احکام کی حکم عدولی کی اور اس سبب سے وہ شکست سے دوچار ہوئے تو اس کی جواب دہی ان سے منسوب ہو گی نہ کہ پیغمبر سے۔ غور کرنا چاہئیے کہ یہ آیت قرآن کی واضح ترین آیات میں سے ہے جو سنتِ پیغمبر کے حجت ہونے اور آپ کی احادیث کو قبول کرنے کے لئے دلیل ہے، لہٰذا کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں قرآن کو قبول کرتا ہوں لیکن پیغمبر کی حدیث اور سنت کو قبول نہیں کرتا۔ کیونکہ درج بالا آیت میں صراحت کے ساتھ آیا ہے کہ پیغمبر کی حدیث اور سنت کی اطاعت فرمانِ خدا کی اطاعت ہے۔
جب ہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبر نے حدیث ثقلین کے مطابق جو کہ مشہور مآخذ اور کتب اسلامی میں مذکور ہے چاہے وہ کتب شیعہ ہوں یا کتب اہل سنت، صراحت کے ساتھ اہلبیت علیہم السلام کو سند اور حجت قرار دیا ہے اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اہل بیت (علیه السلام) کے فرمان کی اطاعت بھی فرمانِ خدا کی اطاعت سے الگ نہیں ہے اور کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں قرآن کو تو قبول کرتا ہوں لیکن اہل بیت(علیه السلام) کے فرامین کو نہیں مانتا کیونکہ یہ بات درج بالا آیت اور اس کے مشابہ آیات کے برخلاف ہے۔
اسی لئے بہت سی روایات جو تفسیر برہان میں اس آیت کے ضمن میں آئی ہیں میں ہم پڑھتے ہیں کہ خدا نے درج بالا آیت کے مطابق امر و نہی کا حق اپنے پیغمبر کو دیا ہے اور پیغمبر نے یہ حق حضرت علی علیہ السلام اور ائمہ اہل بیت (علیه السلام) کو دیا ہے لہٰذا لوگوں کا فرض ہے کہ وہ ان کے امر و نہی سے روگردانی نہ کریں کیونکہ ان کا امر و نہی ہمیشہ خدا کی طرف سے ہے نہ کہ خود ان کی طرف سے (بحوالہ: تفسیر برہان جلد اول صفحہ ۳۹۶) اس کے ساتھ دوسری آیت میں منافقین کے ایک گروہ یا کمزور ایمان والے کچھ لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے "وہ لوگ جس وقت مسلمانوں کی صفوں میں پیغمبر کے پاس کھڑے ہوتے ہیں تو اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے یا کسی ضرر سے اپنے آپ کو محفوظ کرنے کے لئے دوسروں کے ہم آواز ہوتے اور فرمانِ پیغمبر کی اطاعت کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم جان و دل سے پیغمبر کی پیروی کرنے کو تیار ہیں (وَیَقُولُونَ طَاعَة)
لیکن جب لوگ بزم رسالت سے نکلتے ہیں تو وہ منافقین اور کمزور ایمان والے افراد اپنے عہد و پیمان کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں اور خفیہ اجتماعات میں پیغمبر کے ارشادات کے خلاف پروگرام بناتے ہیں (فَإِذَا بَرَزُوا مِنْ عِنْدِکَ بَیَّتَ طَائِفَةٌ مِنْہُمْ غَیْرَ الَّذِی تَقُولُ) اس جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ منافقین پیغمبر کے زمانہ میں نچلے نہیں بیٹھے تھے، بلکہ وہ رات کو خفیہ اجتماعات میں ایک دوسرے سے مشورہ کرتے تھے اور پیغمبر اکرمؐ کے لائحہ عمل میں رخنہ اندازیاں کرتے تھے، لیکن خدا اپنے رسول کو حکم دیتا ہے کہ وہ ان سے منہ پھیر لیں اور ان کی سازشوں سے گھبرائیں نہیں اور اپنے لائحہ عمل کے لئے ان پر انحصار نہ کریں۔ بلکہ فقط خدا پر بھروسہ رکھیں خدا جو سب سے زیادہ مدد اور حفاظت کرنے والا ہے۔ (فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ وَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ وَکَفَی بِاللهِ وَکِیلًا)۔
کیا قرآن میں غورو فکر نہیں کرتے کہ اگر وہ غیر خدا کی طرف سے ہوتا تو اس میں وہ بہت سے اختلافات پاتے۔
تفسیر
اعجاز قرآن کی زندہ مثال
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
ان سرزنشوں کے بعد جو گزشتہ آیات میں منافقین کو کی گئی تھیں یہاں انھیں اور دوسرے تمام ان لوگوں کی طرف جو قرآن کی حقانیت میں شک و تردد کرتے ہیں اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کیا یہ لوگ قرآن کی مخصوص وضع و کیفیت پر غور و فکر نہیں کرتے اور اس کے نتائج کو نہیں دیکھتے، قرآن اگر خدا کے علاوہ کسی اور کی طرف سے نازل ہوتا تو یقینا اس میں انھیں بہت سے تفاوت و اختلافات ملتے اب جب کہ اس میں کسی قسم کا کوئی اختلاف اور تناقض نہیں ہے تو جان لینا چاہئیے کہ وہ خدا ہی کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ (اَفَلاَیَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللهِ لَوَجَدُوا فِیہِ اخْتِلاَفًا کَثِیرًا)۔
"تدبر" اصل میں مادہ دبر (بروزن ابر) پشت سر اور کسی چیز کی عاقبت و انجام کے معنی میں ہے اس بنا پر تدبیر سے مراد نتائج، عواقت اور کسی چیز کے آگے پیچھے دیکھنا ہے۔ تفکر سے اس کا فرق یہ ہے کہ تفکر کا ربط کسی موجود کے علل اور خصوصیات کے مطالعہ سے ہے لیکن "تدبیر" اس کے عواقب و نتائج کے مطالعے اور جائز سے مربوط ہے۔
چند اہم نکات
١۔ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اصولِ دین اور ایسے مسائل مثلاً پیغمبر کے دعوے کی سچائی اور قرآن کی حقانیت کے بارے میں تحقیق و مطالعہ کریں اور اندھی تقلید اور بغیر سوچے سمجھے فیصلوں سے اجتناب کریں۔
۲۔ بعض لوگوں کے خیال کے برعکس قرآن سب لوگوں کے لئے قابل فہم و ادراک ہے کیونکہ اگر وہ قابل فہم و ادراک نہ ہوتا تو اس میں تدبر و فکر کرنے کا حکم نہ دیا جاتا۔
۳۔ قرآن کی حقانیت کی ایک اور دلیل اور یہ کہ وہ خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے یہ ہے کہ سارے قرآن میں تضاد اور اختلاف نہیں ہے۔ اس حقیقت کے ادراک کے لیے حسبِ ذیل وضاحت کی طرف توجہ کریں۔
"ہر شخص کی کیفیات اور نظریات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں بعض استثنائی حالتیں چھوڑ کر عام حالات میں قانون تکامل و ارتقاء انسان اور اس کے افکار و نظریات پر بھی موٴثر حاوی ہے ہمیشہ دن مہینے اور سال بدلنے سے لوگوں کی زبان، فکر اور گفتار بھی بدلتی رہتی ہے اگر غور سے دیکھیں تو ایک لکھنے والے شخص کی تحریریں کبھی بھی ایک جیسی نہیں ہوتیں بلکہ ایک ہی کتاب کی ابتدا اور انتہا میں فرق ہوتا ہے خصوصاً اگر کوئی شخص عظیم حوادثسے گزرے اور حوادث بھی ایسے جو ایک فکری، اجتماعی، نظر یاتی عقائدی انقلاب کی بنیاد بن جائیں تو وہ جتنا بھی کوشش کرے کہ اپنی گفتار کو ایک جیسا اور ایک طرز پر رکھے اور اسے اپنی گزشتہ باتوں سے مربوط کرلے وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ خصوصاً اگر وہ ان پڑھ اور پس ماندہ ماحول میں پروان چڑھا ہو"۔
"لیکن قرآن جو ۲۲ سال کی مدت میں لوگوں کے تربیتی تقاضوں اور ضروریات کے مطابق بالکل مختلف حالات اور مواقع پر نازل ہوا، ایسی کتاب ہے جو مکمل طور پر مختلف موضوعات کو چھیڑتی ہے اور عام کتب کی طرح اس میں صرف ایک اجتماعی، سیاسی، فلسفیانہ، حقوقِ انسانی یا تاریخی موضوع سے بحث نہیں ہے بلکہ قرآن کبھی توحید اور اسرار آفرینش کے بارے میں اور کبھی احکام قوانین اور آداب و سنن کے متعلق اور کسی وقت گذشتہ عبادت اور بندوں کے خدا سے رابطے کے بارے میں گفتگو کرتا ہے۔ ڈاکٹر گوستان دلبون کے بقول قرآن جو کہ مسلمانوں کی آسمانی کتاب ہے صرف تعلیمات اور احکام مذہبی پر منحصر نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے لئے سیاسی، اجتماعی اور معاشرتی احکام کو بھی بیان کرتی ہے ایسی خصوصیات کی حامل کتاب کے لئے عام طور پر یہ ممکن نہیں کہ وہ تضاد، تناقض اور تضاد بیانی سے مبرا ہو۔ لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ ان تمام جہات کے باوجود اس کی تمام آیات ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں اور ہر قسم کے تضاد، اختلافات، ناموز و نیت سے خالی ہے تو ہم بہت بہتر اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ کتاب افکار انسانی کی تخلیق نہیں ہو سکتی۔ بلکہ خدا کی طرف سے ہے۔ جیسا کہ قرآن خود اس حقیقت کو درج بالا آیت میں بیان کرتا ہے۔" (بحوالہ: کتاب قرآن و آخرین پیغمبر ص ۳۰۹ تالیف ناصر مکارم)
اور جب کامیابی یا شکست کی خبر انہیں ملے تو وہ(تحقیق کیے بغیر) اسے مشہور کر دیتے ہیں لیکن اگر وہ پیغمبر اور صاحبان امر کی طرف (جو تشخیص کی کافی اہلیت و قدرت رکھتے ہیں ) پلٹا دیں تو وہ مسائل کی تہہ سے آگاہ ہو جائیں ا ور خدا کا فضل اور رحمت شامل حال نہ ہوتی تو سوائے قلیل گروہ کے سب کے سب شیطان کی پیروی کرنے لگتے۔
تفسیر
افواہیں پھیلانا
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
اس آیت میں منافقین اور ضعیف الایمان لوگوں کے ایک اور منفی عمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وہ ایسے لوگ ہیں کہ جب انھیں مسلمانوں کی فتح یا شکست کے متعلق خبریں پہنچتی ہیں تو وہ تحقیق کے بغیر انھیں لوگوں میں پھیلاتے ہیں جب کہ بیشتر یہ خبریں بےبنیاد ہوتی ہیں اور دشمنوں کی جانب سے خاص مقاصد کے لئے گھڑی جاتی ہیں، ان کا شہرت پانا مسلمانوں کے لئے ضرر رساں ہوتا ہے (وَإِذَا جَائَہُمْ اَمْرٌ مِنَ الْاَمْنِ اَوْ الْخَوْفِ اَذَاعُوا بِہِ) حالانکہ ان کی ذمہ داری ہے کہ اس قسم کی خبریں سب سے پہلے اپنے رہبروں اور پیشواوٴں کے سامنے رکھیں اور ان کی وسیع اطلاعات اور گہری فکر سے استفارہ کریں اور بلاوجہ نہ تو مسلمانوں کو اچھے نتائج کے غرور میں مبتلا کریں جو خیالی کامیابیوں سے پیدا ہوتے ہیں اور نہ شکست کی جھوٹی خبروں سے ان کی ہمتوں کو پست کریں۔ (وَلَوْ رَدُّوہُ إِلَی الرَّسُولِ وَإِلَی اُوْلِی الْاَمْرِ مِنْہُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِینَ یَسْتَنْبِطُونَہُ مِنْہُمْ)
"یستنبطونہ" اصل میں نبط (بروزن فقط) کے مادے سے ہے اس سے مراد وہ پہلا پانی ہے جو کنویں سے نکالتے اور زمین کی تہہ سے حاصل کرتے ہیں اسی بنا پر ہر حقیقت کے مختلف دلائل و شواہد سے استفادہ کرنے اور موجود مدارک سے استخراج کرنے کو "استنباط" کہا جاتا ہے چاہے یہ کام فقہی مسائل میں ہو یا فلسفانہ، سیاسی اور علمی مسائل میں جو تشخیص کی قدرت رکھتے ہوں، اور مختلف مسائل پر کافی دسترس رکھتے ہوں اور جو حقائق کو بےبنیاد افواہوں سے اور صحٰح مطالب کو غلط امر سے الگ کر کے لوگوں تک پہچائیں، اس طرح کے لوگوں میں پہلا درجہ پیغمبر اکرمؐ اور آپ کے جانشین ائمہ اہل بیت(علیه السلام) کا ہے اور دوسرے درجہ میں ایسے علماء ہیں جو ان مسائل میں صاحبِ نظر ہیں۔ جیسا کہ تفسیر نور الثقلین میں اس آیت کے ضمن میں امام باقر علیہ السلام سے منقول ہے آپ(علیه السلام) نے فرمایا:
"ھم الائمہ" یعنی اس آیت سے مراد آئمہ اہلِ بیتؑ ہیں۔
اور اس مضمون کی دوسری روایات بھی نقل ہوئی ہیں ممکن ہے اس طرح کی روایات پر لوگ اعتراض کریں کہ رسول اللہؐ تو آیت کے نزول کے وقت موجود تھے لیکن آئمہ اہل بیت (علیه السلام) کو منصبِ امامت نہیں ملا تھا اس اعتراض کا جواب واضح ہے کیونکہ یہ آیت پیغمبر اکرمؐ کے زمانے کے ساتھ تو مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ آیت تو ایک مکمل قانون، تمام ادوار اور زمانوں کے لئے ہے جو دشمنوں اور نادان مسلمانوں کی طرف سے مسلمانوں کے درمیان غلط خبروں کی اشاعت کے لئے بیان کیا گیا ہے۔
غلط خبریں اور افواہیں پھیلانے کے نقصانات
مختلف معاشروں کو جو بڑے مسائل درپیش ہوتے ہیں اور جو معاشروں سے اجتماعی فکر، افہام و تفہیم اور ہم آہنگی کو ختم کر دیتے ہیں ان کا سبب جھوٹی خبریں گھڑنا اور ان کی نشر و اشاعت ہے اس طرح سے کہ بعض اوقات ایک منافق ایک غلط خبر گھڑ لیتا ہے وہ چند افراد تک پہنچاتا ہے اور وہ بلاتحقیق اس کی نشر و اشاعت کرنے لگتے ہیں اور شاید کچھ اس میں اپنی طرف سے اضافے بھی کرتے ہیں اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ کافی حد تک لوگوں کی فکری توانائی ضائع کر دیتے ہیں اور لوگوں کو اس طرف مشغول کر کے انھیں اضطراب اور پریشانی میں مبتلا کر دیتے ہیں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس طرح کی خبریں لوگوں کے اعتماد کو متزلزل کر دیتی ہیں اور معاشرے کو اہم فرائض کی انجام دہی سے سست روا اور متردد کر دیتی ہیں۔ اگرچہ وہ گروہ اور معاشرے جن میں جبر ہے اور ان کے گلے گھونٹ دیئے گئے ہیں ان میں بی جھوٹی خبریں گھڑنا اور ان کی نشر و اشاعت کرنا ایک قسم کے مقابلے یا انتقام جوئی کے زمرے میں آتا ہے لیکن صحیح معاشروں میں غلط خبروں کی نشر و اشاعت بہت زیادہ نقصان دہ ہے۔ اگر اس قسم کی خبریں قابل، مشیت اور مفید افراد کے متعلق ہوں تو وہ انھیں خدمات اور کارنامے انجام دینے کے معاملے میں دلِ سرد اور سست کر دیتی ہیں اور بعض اوقات ان کی برس ہا برس کی حیثیت کو برباد کر دیتی ہیں۔ لوگوں کو ان کے وجود کے فوائد سے محروم کر دیتی ہیں۔ اسی بنا پر اسلام صراحت کے ساتھ جھوٹی خبریں گھڑنے کے عمل سے جنگ کرتا ہے اور جعل سازی، جھوٹ اور تہمت گوئی اور اس کی نشر و اشاعت بھی ممنوع قرار دیتا ہے۔ درج بالا آیت اس کا ایک نمونہ ہے۔
اس کے بعد آیت کے آخر میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اگر فضل و رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی اور پروردگار کے مقرر شدہ رہنماوٴں کے ذریعے تم اس قسم کی جھوٹی خبروں اور ان کے برے نتائج سے چھٹکارہ حاصل نہ کرتے تو تم میں سے بہت سے لوگ شیطانی راستوں پر چل پڑتے اور قلیل افراد ایسے رہ جاتے جو شیطان کی پیروی سے اجتناب کرتے (وَلَوْلاَ فَضْلُ اللهِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہُ لاَتَّبَعْتُمْ الشَّیْطَانَ)۔ یعنی پیغمبرؐ اور صاحب نظر و اہل بصیرت علماء ہی جو غلط مشتہر ہونے والی خبروں کے وسوسو ں سے بچ سکتے ہیں لیکن معاشرے کی اکثریت اگر صحیح رہبری سے محروم رہ جائے تو من گھڑت خبروں اور ان کے ضرر رساں اثرات سے نہیں بچ سکتی۔
(تشریحی نوٹ: جو کچھ ہم نے کہا اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ "الا قلیلا" "اتبعھم" کی ضمیر سے "مستثنیٰ ہے اور آیت میں کسی قسم کی تقدیم و تاخیر نہیں ہے۔غور کیجئے گا)۔
راہ خدا میں جنگ کرو تم صرف اپنی ذمہ داری کے جواب دہ ہو اور مومنین کو( اس کام کا) شو ق دلاؤ امید ہے کہ خدا کافروں کی قوت کو روک دے (چاہے تم اکیلے ہی میدان میں چلے جاؤ) خدا کی قدرت بہت زیادہ ہے اور اس کی سزا درد ناک ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
تفسیر مجمع البیان، قرطبی اور روح المعانی میں اس آیت کی شانِ نزول کے بارے میں اس طرح منقول ہے:
جس وقت ابوسفیان اور قریش کا لشکر فتح و کامیابی کے ساتھ میدانِ احد سے پلٹا تو ابوسفیان نے پیغمبر سے معاہدہ کیا کہ بدر صغریٰ کے موقع پر (یعنی ماہِ ذی القعدہ میں جو بازار بدر کی زمین پر لگتا تھا) دوبارہ ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے۔ جب مقررہ وقت آیا تو پیغمبر اکرمؐ نے مسلمانوں کو مذکورہ مقام کی طرف جانے کی دعوت دی لیکن مسلمانوں کی ایک جماعت جو جنگ احد کی شکست کی تلخی کو ابھی تک نہیں بھولی تھی اس نے شدت کے ساتھ جانے کی مخالفت کی اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور رسول اللہؐ نے مسلمانوں کو دوبارہ چلنے کی دعوت دی تو اس موقع پر صرف ستر آدمی پیغمبر کے ہم رکاب ہو کر اس مقام پر پہنچے۔ لیکن ابوسفیان (جو مسلمانوں کا سامنا کرنے سے خوف زدہ تھا) مقابلہ کرنے نہ آیا اور پیغمبر اکرمؐ اپنے اصحاب کے ساتھ صحیح و سلامت مدینہ لوٹ آئے۔
تفسیر
ہر شخص اپنے فرائض کا جوابدہ ہے
جہاد سے متعلق آیات کے بعد اس آیت میں ایک بہت بڑا حکم یغمبر کو دیا گیا ہے اور وہ یہ کہ ان کی ذمہ داری ہے کہ اکیلے دشمن کے مقابلہ میں کھڑے ہو جائیں۔ چاہے ایک شخص بھی میدان میں ان کا ہم قدم نہ ہو۔ کیونکہ وہ صرف اپنی ذمہ داری کے لئے جوابدہ ہیں اور وہ دوسرے لوگوں کے بارے میں شوق دلانے اور دعوتِ جہاد دینے کے علاوہ ان کی کوئی مسئولیت نہیں ہے۔ (فَقَاتِلْ فِی سَبِیلِ اللهِ لاَتُکَلَّفُ إِلاَّ نَفْسَکَ وَحَرِّضْ الْمُؤْمِنِینَ) حقیقت میں یہ آیت ایک اہم اجتماعی حکم خصوصاً رہبروں کے متعلق اپنے اندر سموئے ہوئے ہے وہ یہ ہے کہ انھیں اپنے کام میں اس قدر پختہ عزم، ثابت قدم اور اٹل ہونا چاہئیے کہ اگر کوئی شخص بھی ان کی دعوت پر "لبیک" نہ کہے تب بھی وہ اپنے مقدس مقصد اور منزل کے حصول کی جدوجہد سے دستبردار نہ ہوں۔ دوسروں کو اپنے فرائض کی انجام دہی کی دعوت دینے کے باوجود اپنے لائحہ عمل کو دوسروں کی مرضی پر نہ چھوڑیں۔ کوئی رہبر بھی جب تک ایسے عزمِ صمیم کا حامل نہ ہو وہ رہبری کے اہل نہیں اور نہ ہی وہ اپنے مقاصد کے حصول کی صلاحیت رکھتا ہے خصوصاً خدا کے مقرر شدہ رہبر و رہنما بلند عزم و حوصلہ اور کردار کے مالک ہوتے ہیں کیونکہ انھیں خدا کی ذات پر تکیہ ہوتا ہے وہ خدا کہ جو تمام توانائیوں اور طاقتوں کا سرچشمہ ہے۔
لہٰذا اس حکم کے بعد خدا فرماتا ہے: امید ہے کہ خدا تیری سعی و کوشش کے ذریعے دشمنوں کی قدرت و طاقت کو ختم کر دے گا چاہے ان کے مدمقابل تو اکیلا ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ اس کی قدرت تمام قدرتوں سے مافوق اور اس کی سزا تمام عذابوں سے بڑھ کر ہے۔ (عَسَی اللهُ اَنْ یَکُفَّ بَاْسَ الَّذِینَ کَفَرُوا وَاللهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَاَشَدُّ تَنکِیلًا)۔
(تشریحی نوٹ: باٴس کے معنی لغت میں قوت، استحکام اور شجاعت ہے اور تنکیل مادہ نکول سے خوف کے مارے رک جانے کے معنی میں ہے اور اصل نکل (بروزن اکل) کو جانور کی لگام کے معنی میں لیا گیا ہے اسی بنا پر تنکیل جو کہ بات کا مصدر ہے ایسے کام کی انجام دہی کے مقصد میں آتا ہے کہ مقابل کی طرف جسے مشاہدہ کرنے کے ساتھ خلاف ورزی سے لوٹ آئے اور یہ وہی عذاب ہے کہ جو تم ستم گروں سے دوسرے لوگوں کی عبرت کا باعث بنتا ہے)۔
کلام خدا میں "عسٰی" اور "لعل" کے معنی
لفظ "عسیٰ" عربی لغت میں شائد کے معنی میں تردد کا مفہوم بھی دیتا ہے اور "لعل" پر امید ہونے، انتظار اور ایسے امر کی توقع کے معنی میں آتا ہے آئندہ جن کے وجود کا یقین نہ ہو بلکہ احتمال ہو۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس قسم کے الفاظ انسانوں کی گفتگو میں آنا تو فطری اور عین طبعی ہے کیونکہ انسان تمام مسائل سے آگاہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اس کی صلاحیت و قدرت بھی محدود ہے اور وہ جو کچھ کرے اس کے انجام کو اپنی مرضی کے تابع نہیں کر سکتا۔ لیکن وہ خدا جو ماضی، حال اور مستقبل سے مکمل طور پر باخبر ہے اور جو کرنا چاہے اس کا اختیار رکھتا ہے اس کے لئے "جہالت" یا "بےاختیار" ہونے کے الفاظ استعمال کرنے کا تصور بھی نہیں ہو سکتا اس لئے بہت سے علماء یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس قسم کے الفاظ جو اس کے کلام میں استعمال ہوں وہ اپنے اصل معنی میں استعمال نہیں ہوتے بلکہ ان کے کچھ اور معنی نکلتے ہیں مثلاً "عسی" وعدہ کے معنی اور "لعل" طلب کے معنی میں ہے۔
لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہ الفاظ کلام خدا میں بھی اپنے وہی اصلی معانی رکھتے ہیں اور ان کا لازمہ جہالت اور عدم اختیار نہیں ہے بلکہ یہ الفاظ ایسے مواقع پر استعمال ہوتے ہیں کہ جہاں مقصد تک پہنچنے کے لئے کئی ایک مقامات کی ضرورت ہوتی ہے تو جس وقت ان میں سے ایک یا کئی مقدمات حاصل ہو جائیں تو پھر بھی اس مقصد کے موجود ہونے کا قطعی اور یقینی حکم نہیں لگا یا جا سکتا بلکہ چاہیئے کہ اسے احتمالی حکم کے طور پر بیان کیا جائے۔
مثلاً قرآن کہتا ہے:۔
واذا قرء القراٰن فاستمعو ا لہ و انصتوا لعلکم ترحمون
جب قرآن پڑھا جائے تو کان دھرکے سنو اور خاموش رہو، امید ہے کہ خدا کی رحمت تمہارے شامل حال ہو۔ (اعراف،۲۰۴)
واضح ہے کہ صرف قرآن کی آیات کو کان دھرنے کے سننے سے خدا کی رحمت انسان کے شامل حال نہیں ہوتی بلکہ یہ تو ایک مقدمہ ہے اس کے علاوہ بھی دیگر لوازم ہیں جن میں ان آیات کا فہم و ادراک اور اس کے بعد ان احکام پر عمل درآمد جو ان آیات میں موجود ہیں بھی شامل ہیں۔ لہٰذا اس قسم کے مواقع پر ایک مقدمہ کے موجود ہونے سے نتیجہ کے حصول کا قطعی اور یقینی حکم نہیں لگایا جا سکتا بلکہ اسے ایک احتمالی حکم کے طور پر بیان کرنا ہو گا دوسرے لفظوں میں کلامِ خدا میں اس قسم کی تعبیرات تو بیدار کرنے اور سننے والے کو اس طرف متوجہ کرنے کے لئے ہیں اس کا م کے علاوہ کچھ اور شرائط و مقدمات بھی مقصد تک پہنچنے کے لئے ضروری ہیں مثلاً اسی مثال میں خدا کی رحمت کا شعور حاصل کرنے کے لئے قرآن کو غور سے سننے کے ساتھ اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔
زیر بحث آیت پر بھی یہ گفتگو مکمل طور پر صادق آتی ہے کیونکہ کفار کی طاقت صرف مومنین کو دعوت جہاد دینے اور انھیں شوق جہاد دینے سے ختم نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے ساتھ جہاد کے باقی لائحہ عمل پر عملدرآمد بھی ضروری ہے تاکہ اصل مقصد حاصل ہو سکے اس بنا پر ضروری نہیں ہے کہ الفاظ جب خدا کے کلام میں آئیں تو ان کے حقیقی معنی سے صرف نظر کر لیا جائے۔ (تشریحی نوٹ: راغب نے کتاب مفردات میں اس قسم کے الفاظ (عسیٰ وغیرہ) کی تفسیر میں ایک دوسرا احتمال بھی بیان کیا ہے اور وہ یہ کہ ان سے مخاطب اور سننے والے کو امید دلانا مقصود ہے۔ نہ کہ کہنے والے کی امید بیان کرنا اور واضح تر الفاظ میں جب خدا کہتا ہے "عسی و لعل" تو اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ میں امید رکھتا ہوں بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ تم امید رکھو)۔
جو شخص نیک کام کی تحریک دے اس میں سے اس کا حصہ ہو گا اور جو برے کام کے لئے ابھارے گا تو اس میں سے (بھی) اسے حصہ ملے گا۔ اور خدا ہر چیز کا حساب کرتا اور اسے محفوظ رکھتا ہے۔
تفسیر
اچھے یا برُے کام کی تحریک دلانے کا نتیجہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
جیسا کہ گذشتہ آیت کی تفسیر میں اشارہ ہو چکا ہے قرآن کہتا ہے کہ ہر شخص پہلے مرحلہ میں اپنے کام کا جوابدہ ہے نہ کہ دوسروں کا۔ لیکن اس بنا پر کہ اس سے غلط فائدہ اٹھایا جائے اس آیت میں کہتا ہے: یہ درست ہے کہ ہر شخص اپنے فعل کا جوابدہ ہے لیکن جو شخص دوسرے کو نیک کام پر ابھارے تو اس کا حصہ ملے گا اور جو شخص دوسرے کو کسی برے کام پر اکسائے تو اس کا حصہ (بھی) اس میں ہو گا (مَنْ یَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَکُنْ لَہُ نَصِیبٌ مِنْہَا وَمَنْ یَشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَکُنْ لَہُ کِفْلٌ مِنْہَا)
اس بنا پر ہر شخص کا اپنے اعمال کا جوابدہ ہونے کے معنی یہ نہیں کہ وہ دوسروں کو دعوتِ حق دینے اور فساد کا مقابلہ کرنے سے آنکھیں بند کر لے اور اسلام کی روحِ اجتماعیت کو مجرح کرتے ہوئے تجرد و انفرادیت کے ذریعے معاشرے سے بیگانگی کا راستہ اختیار کرے۔ شفاعت اصل میں مادہ شفع (بروزن نفع) سے جفت کے معنی میں ہے اس بنا پر ایک چیز کا دوسری میں منضم و مدغم ہو جانا شفاعت کہلاتا ہے۔ البتہ کبھی کبھار یہ راہنمائی اور ارشاد و ہدایت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے (جس طرح درج بالا آیت میں ہے) تو اس وقت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا معنی دیتا ہے (شفاعت سیئہ اس کے برعکس یعنی امر بالمنکر و نہی عن المعروف ہے) لیکن اگر گنہ گاروں کو ان کے انجام سے نجات دینے کا موقع ہو تو یہ ایسے گنہ گار افراد کی مدد کرنے کے معنی میں آتا ہے جو شفاعت کے لئے اہلیت اور لیاقت رکھتے ہوں۔
دوسرے الفاظ میں شفاعت کبھی تو عمل کی انجام دہی سے پہلے ہوتی ہے جو رہنمائی کے معنی میں ہے اور کبھی عمل کی انجام دہی کے بعد ہوتی ہے۔ جہاں عمل کے نتائج سے نجات دینے کے معنی میں ہے بہرحال دونوں طرح سے ایک چیز دوسری کے لئے ضمیمہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ضمناً توجہ رہے کہ آیت اگرچہ ایک کلی مفہوم کی حامل ہے، نیک اور بد ہر طرح کی دعوت کا مفہوم اس میں شامل ہے لیکن چونکہ یہ جہاد کی آیات کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہے لہٰذا شفاعت حسنہ سے پیغمبر اکرمؐ کی طرف سے تشویق جہاد مراد ہے اور شفاعتِ سیئہ سے منافقین کی طرف شوق جہاد دلانا مراد ہے اور ان میں سے ہر ایک اپنے کام کا نتیجہ بھگتے گا یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ لفظ شفاعت کی تعبیر اس موقع پر جہاں (نیکیوں اور برائیوں کی طرف) رہبری کے بارے میں گفتگو ہو رہی ہے۔ ممکن ہے اس نکتہ کی طرف اشارہ ہو کہ رہبر کی گفتگو (چاہے خیر کا راستہ بتانے والا رہبر ہو یا شر کا سبق دینے والا) دوسروں پر اسی صورت میں اثر کرے گی جب وہ اپنے لئے دوسروں کی طرح امتیاز نہ برتے بلکہ اپنے آپ کو دوسروں کا ہم دوش اور ساتھی قرار دے۔ یہ ایسا طریقہ ہے، جو اجتماعی اور معاشرتی مقاصد میں بڑا موٴثر ہوتا ہے۔ اگر قرآن میں بعض مواقع پر مثلا سورہٴ شعراء، اعراف، ہود، نمل، عنکبوت میں ہم دیکھتے ہیں کہ خدا نے انبیاء و مرسلین کو جو امتوں کی ہدایت اور رہبری کے لئے بھیجے گئے ہیں "اخو ھم" یا "اخاھم" یعنی ان کا بھائی کہا ہے، تو وہ بھی اس نکتہ کی طرف اشارہ ہے۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ قرآن شفاعت حسنہ یعنی اچھے کام کی طرف راغب کرنے والوں کے بارے میں کہتا ہے کہ ترغیب دینے والوں کو "نصیب" ملے گا۔ جب کہ "شفاعت سیئہ" کے ضمن میں کہتا ہے کہ اسے "کفل" میسر آئے گا۔ یہ تعبیر کا اختلاف اس وجہ سے ہے کہ "نصیب" کے معنی ہیں مفید اور زیادہ سود مند اور "کفل" کے معنی ہیں پست اور بری چیز۔ (تشریحی نوٹ: کفل (بر وزن طفل) اصل میں جانور کی پشت کا عقبی اور آخری حصہ ہے جس پر سوار ہونا تکلیف اور سختی کا باعث ہے اس لئے ہر قسم کے گناہ اور برے حصہ کو کفل کہتے ہیں اور ایسے کام کو بھی جس میں بوجھ اور زحمت ہو، کفالت کہتے ہیں)۔
یہ آیت اسلام کے بنیادی اجتماعی مسائل کی ایک منطق کو واضح کرتی ہے۔ آیت صراحت سے کہتی ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے اعمال کے معاملے میں ترغیب دینے اور رہنمائی کے عمل میں شریک ہیں اس بنا پر جب بھی کوئی بات یا عمل بلکہ انسان کی خاموشی بھی اگر کسی گروہ کے نیک یا برُے عمل کی ترغیب کا باعث بنے تو ترغیب دینے والا اس کام کے نتائج کے قابل ذکر حصہ کا ذمہ دار ہو گا۔ لیکن اس سے اصل کام کرنے والے کا حصہ کم نہیں ہو جائے گا۔
ایک حدیث میں پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے:
من امر بمعروف او نھی عن المنکر او دل علی خیر او اشار بہ فھو شریک و من امر بسوء او دل علیہ او اشار بہ فھو شریک۔
جو شخص کسی اچھے کام کا حکم دے یا برے کام سے روکے یا لوگوں کے لئے عمل خیر کی رہنمائی کرے یا ترغیب دلانے کے لئے کوئی ایسے اسباب فراہم کرے وہ اس عمل میں شریک اور حصہ دار ہے اور اسی طرح جو شخص کسی برے کام کی دعوت دے یا اس کی رہنمائی کرے اور ترغیب وہ بھی اس کام میں شریک ہو گا اس حدیث میں تین مرحلوں میں لوگوں کو نیک یا بدکام کی دعوت دینے کا ذکر ہوا ہے۔
۱۔ مرحلہ حکم
۲۔ مرحلہ دلالت
۳۔ مرحلہ اشارہ
یہ تینوں ترتیب دار قوی، متوسط اور کمزور مرحلے ہیں اس طرح ہر قسم کی دخل اندازی کسی نیک یا برُے کام پر ابھارنے کا سبب بنتی ہے اور دخل اندازی کرنے والا اسی نسبت سے اس کے نتائج اور فوائد میں شریک ہو گا۔
اس اسلامی منطق کے مطابق صرف گناہ کرنے والے ہی گنہگار نہیں ہیں بلکہ وہ اشخاص جو کسی کام کی تبلیغ کے مختلف ذرائع استعمال کر کے حالات پیدا کریں۔ یہاں تک کہ ذرا سی ترغیب دلانے والے کا ایک لفظ بھی اسے گناہ کرنے والوں میں شامل کر لیتا ہے اسی طرح وہ لوگ جو خیرات اور نیکی اور نیکیوں کے راستے میں اس قسم کا کام کرتے ہیں وہ بھی اس کا اجر حاصل کرتے ہیں۔
چند نیک روایات جو اس آیت کی تفسیر میں آئی ہیں سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ شفاعت حسنہ یا سیئہ کے معنی میں سے ایک کسی کے حق میں اچھی یا بری دعا کرنا بھی ہے جو کہ بارگاہِ خداوندی میں ایک قسم کی شفاعت ہے۔ امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا:
من دعا لاخیہ المسلم بظھر الغیب استجیب لہ و قال لہ الملک فلک مثلاہ فذلک النصیب۔
جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے لئے اس کے پس پشت دعا کرے تو وہ قبول ہو گی اور خدا کا فرشتہ اس سے کہے گا اس سے دوگناہ تمہارے لئے بھی ہے اور آیت میں نصیب سے مراد یہی ہے۔ (بحوالہ تفسیر صافی آیہ مذکور کے ذیل میں)
یہ تفسیر گذشتہ تفسیر سے اختلاف نہیں رکھتی بلکہ شفاعت کے معنی میں وسعت ہے یعنی جو مسلمان کسی دوسرے کی کسی طرح کی مدد کرے وہ چاہے نیکی کی ترغیب کی صورت میں ہو یا بارگاہ خداوندی میں دعا کی شکل میں ہو یا کسی اور طرح سے اس کے نتیجہ میں شریک ہو گا۔ یہ بات اسلامی پروگراموں کی روحِ اجتماعیت کو اجاگر کرتی ہے اور مسلمانوں کو شخصی اور فقط ذاتی حیثیت سے زندگی گزارنے سے منع کرتی ہے۔
یہ امر اس حقیقت کو ثابت کرتا ہے کہ انسان دوسروں کی طرف توجہ اور ان کی بہتری کی کوششوں سے لاتعلق نہیں رہ سکتا اور اس سے اس کا ذاتی مفاد خطرے میں نہیں پڑتا۔ بلکہ وہ اس کے نتائج میں شریک ہوتا ہے آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: خدا توانا اور صاحبِ قدرت ہے اور تمہارے اعمال کی حفاظت کرتا اور حساب رکھتا ہے اور حسنات و سیئات کے نتیجے میں مناسب جزا و سزا دے گا (وکان اللہ علیٰ کل شیء مقیتاً) خیال رہے کہ "مقیت" اصل میں قوت کے مادہ سے ہے جس کے معنی اس غذا کے ہیں جو انسان کی جان کی حفاظت کرتی ہے اس بنا پر "مقیت" جو باب افعال کا اسم فاعل ہے اس شخص کے معنی میں ہے جو دوسروں کو روزی دیتا ہے، چونکہ ایسا شخص اس کی زندگی کا محافظ ہوتا ہے اس لئے لفظ "مقیت" محافظ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ نیز وہ شخص جو روزی دیتا ہو یقینا اس پر قدرت اور طاقت بھی رکھتا ہے اسی بنا پر یہ لفظ مقتدر کے معنی میں بھی آتا ہے، ایسا شخص یقینا اپنے زیر کفالت لوگوں کا حساب بھی رکھتا ہے اسی وجہ سے یہ لفظ حسیب کے معنی میں بھی آیا ہے۔ اوپر والی آیت میں ممکن ہے کہ لفظ "مقیت" سے یہ تمام مفاہیم مراد لئے گئے ہوں۔
جس وقت کوئی شخص تمہیں تحیہ (اور سلام) کہے تو اس کا جواب بہتر انداز سے دو یا (کم از کم) اسی طرح کا جواب دو خدا ہر چیز کا حساب رکھتا ہے۔
تفسیر
احترامِ محبت
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
اگرچہ بعض مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ اس آیت کا تعلق گذشتہ آیات کے ساتھ اس لحاظ سے ہے کہ گذشتہ آیات کی مباحث جہاد سے متعلق تھیں اور اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ اگر دشمن دوستی اور مصالحت چاہیں تو تم بھی مناسب جواب دو لیکن واضح ہے کہ یہ تعلق اس سے مانع نہیں کہ ایک کلی اور عمومی حکم تمام تحیات اور نوازشات کے اظہار سے متعلق ہو جو مختلف افراد کی طرف سے ہو۔ آیت کی ابتدا میں آیا ہے کہ جب کوئی شخص تمہیں تحیہ کہے تو اس کا جواب بہتر طریقہ سے دو یا کم از کم اس کے مساوی جواب دو۔ (وَإِذَا حُیِّیتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوا بِاَحْسَنَ مِنْہَا اَوْ رُدُّوہَا) تحیت لغت میں حیات کے مادہ سے دوسرے کے لئے حیات و زندگی کی دعا کرنے کے معنی میں ہے چاہے یہ دعا "سلام علیک" کی صورت میں ہو (خدا تجھے سلامت رکھے) یا حیاک اللہ (خدا تجھے زندہ رکھے) یا اس قسم کے اور الفاظ سے ہو لیکن عام طور پر یہ ہر قسم کے اظہار محبت کے لئے ہے جو لوگ الفاظ کے ذریعہ ایک دوسرے سے کرتے ہیں جس کا واضح ترین اظہار سلام کرنا ہے لیکن کچھ روایات اور تفاسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ عملی اظہار محبت بھی مفہومِ تحیت میں شامل ہے تفسیر علی بن ابراہیم میں امام محمد باقر اور امام صادق (علیه السلام) سے منقول ہے:
المراد بالتحیة فی الایة السلام و غیرہ من البر
آیت میں محبت سے مراد سلام اور ہر قسم کی نیکی کرنا ہے۔
کتاب مناقب کی ایک روایت میں ہے:
ایک کنیز نے پھول کی ایک شاخ امام حسن علیہ السلام کی خدمت میں پیش کی تو اس کے جواب میں امام (علیه السلام) نے اسے آزاد کر دیا۔ جب آپ (علیه السلام) سے اس کا سبب پوچھا گیا تو فرمایا کہ خدا نے ہمیں یہی حسن سلوک سکھاتے ہوئے فرمایا: (وَإِذَا حُیِّیتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوا بِاَحْسَنَ مِنْہَا)
اس کے بعد مزید فرمایا: بہتر تحیہ وہی اس کا آزاد کرنا تھا۔
اس سے معلوم ہوا کہ آیت ایک کلی حکم اور ہر قسم کے اظہار محبت کا جواب دینے کے سلسلہ میں ہے چاہے وہ زبانی ہو یا عملی۔ آیت کے آخر میں اس لئے کہ لوگ جان لیں کہ تحیات ان کے جوابات اور ان کی برتری و مساوات، جس قدر اور جیسے ہوں، خدا سے پوشیدہ پنہاں نہیں ہیں۔ فرماتا ہے: خدا تمام چیزوں کے حساب سے آگاہ ہے (إِنَّ اللهَ کَانَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ حَسِیبًا)۔
سلام عظیم اسلامی تحیہ ہے
جہان تک ہمیں معلوم ہے دنیا کی تمام ملل و اقوام کے افراد جب ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں تو ایک دوسرے سے اظہار محبت کے لئے کچھ تحیہ پیش کرتے ہیں جو بعض اوقات لفظی ہوتا ہے اور کبھی عملی بھی۔ عمل عموماً تحیت کی علامت ہوتا ہے۔ اسلام میں بھی "سلام" ایک واضح ترین تحیت ہے اور اوپر والی آیت میں جیسا کہ اشارہ ہو چک ہے تحیہ اگرچہ ایک وسیع معنی رکھتا ہے تاہم اس کا ایک واضح اظہار سلام کرنا ہے۔ لہٰذا اس آیت کے مطابق تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ سلام کا عالی تر یا کم از کم مساوی جواب دیں۔
آیاتِ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ سلام تحیت کی ایک قسم ہے سورہٴ نو کی آیة ۶۱ میں ہے:
فاذا دخلتم بیوتاً فسلموا علی انفسکم تحیة من عند اللہ مبارکة طبیة
جب تم کہیں داخل ہو تو ایک دوسرے پر تحیت الہٰی بھیجو، وہ تحیہ جو مبارک اور پاکیزہ ہے۔
اس آیت میں سلام کو مبارک اور پاکیزہ خدائی تحیہ کہہ کر پکارا گیا ہے اور ضمنی طور پر اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ سلام "علیکم کا معنی اصل میں سلام اللہ علیکم ہے" یعنی پروردگار کا تم پر سلام ہو" یا خدا تمہیں سلامت رکھے۔ اسی سبب سلام کرنا ایک قسم کا دوستی، صلح اور جنگ نہ کرنے کا اعلان ہے۔ قرآن کی کچھ آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اہل بہشت کا تحیہ بھی سلام ہے۔
اولئک یجزون الغرفة بما صبروا و یلقون فیھا تحیة و سلاماً
"اہل بہشت اپنی استقامت اور صبر کی وجہ سے بہشت کے انعامات اور بلند مقامات سے بہرہ یاب ہوں گے اور انھیں تحیہ و سلام سے نوازا جائے گا“۔ (فرقان۔ ۷۵)
سورہ ابراہیم کی آیہ ۲۳ اور سورہٴ یونس کی آیہ ۱۰ میں بھی اہل بہشت کے بارے میں ہے:
تحیتھم فیھا سلام
"ان کا تحیہ بہشت میں سلام ہے۔"
آیاتِ قرآں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ تحیت بمعنی سلام (یا اس کے مفہوم کا کچھ متبادل) گذشتہ اقوام میں بھی مروج تھا جیسا کہ سورہٴ ذاریات کی آیہ۲۵ میں حضرت ابراہیم (علیه السلام) کے واقعہ میں آیا ہے کہ جب قومِ لوط (علیه السلام) کو سزا دینے والے فرشتے بھیس بدل کر حضرت ابراہیم (علیه السلام) کے پاس آئے تو آپ (علیه السلام) پر سلام کہا اور آپ(علیه السلام) نے بھی ان کے سلام کا جواب دیا۔
اذ دخلوا علیہ فقالوا سلاماً قال سلام قوم منکرون
زمانہ جاہلیت کے عربی اشعار سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ تحیت سلام کے ذریعہ اس زمانہ میں بھی تھی۔
(تشریحی نوٹ: ولو ان لیلی الاخیلیة سلمت، علی ودونی جندل و صفایح: لسلمت تسلیم البشاشة او زقا الیما صدی من جانب الزبر صالح یہ شعر زمانہ جاہلیت کے توبہ نامی شاعر کے ہیں)۔
جب ہم غیر جانبدارانہ طور پر اس اسلامی تحیت کا مختلف اقوام کی تحیت کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں تو اس کی قدر و قیمت ہم پر زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔ اسلامی تحیت خدا کی طرف توجہ بھی ہے مخاطب کے لئے سلامتی کی دعا بھی اور صلح و امن کا اعلام بھی ہے۔ اسلامی روایات میں سلام کے متعلق بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے یہاں تک کہ پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے:
من بدء بالکلام قبل السلام فلاتجیبوہ
جو شخص سلام سے پہلے گفتگو شروع کر دے اس کا جواب نہ دو۔ (بحوالہ: اصول کافی جلد ۲ باب تسلیم)۔
امام صادق علیہ السلام سے بھی منقول ہے کہ خدا فرماتا ہے:
البخیل من بخیل بالسلام
بخیل وہ ہے جو سلام کرنے میں بخل سے کام لے۔ (بحوالہ: اصول کافی جلد ۲ باب تسلیم)۔
دوسری حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے:
ان اللہ عزو جل یحب افشاء السلام
افشاء سلام سلام عام کرنے والے کو خدا دوست رکھتا ہے۔ (بحوالہ: اصول کافی جلد ۲ باب تسلیم) ۔
افشاء سلام سے مراد مختلف افراد کو سلام کرنا ہے۔ احادیث میں سلام کے بارے میں بہت سے آداب بیان ہوئے ہیں ان میں سے یہ بھی ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلام کے بارے میں بہت سے آداب بیان ہوئے ہیں ان میں سے یہ بھی ہے کہ سلام صرف ان افراد سے مخصوص نہیں ہے جن سے انسان خصوصی شناسائی رکھتا ہو جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ پیغمبر اکرمؐ سے سوال ہوا:
کونسا عمل بہتر ہے تو آپ (علیه السلام) نے فرمایا:
"تطعم الطعام و تفشوء السلام علی من عرفت و من لم تعرف"
کھانا کھلاوٴ اور سلام کرو اس شخص کو جسے تم جانتے ہو یا نہیں جاتے۔ (بحوالہ: تفسیر فی ظلال ذیل آیہ مذکورہ)۔
احادیث میں بھی آیا ہے کہ سوار پیادہ کو اور پیش قیمت سواری والا کم قیمت سواری والوں کو سلام کریں گویا یہ حکم ایسے تکبر کا مقابلہ کرنے کے لئے ہے جو دولت، ثروت اور مخصوص مادی حیثیت سے پیدا ہوتا ہے۔
یہ بات آج کل دیکھنے میں آتی ہے کہ لوگ آداب و سلام کو نچے طبقہ کی ذمہ داری سمجھتے ہیں اور انھوں نے اسے استعمار، استعباد اور بت پرستی کی شکل دے رکھی ہے اگر ہم پیغمبر اکرمؐ کی سیرت کا مطالعہ کریں تو معلوم ہو گا کہ آپؐ تمام لوگوں کو یہاں تک کہ بچوں کو بھی سلام کرتے تھے۔ البتہ یہ بحث اس حکم سے اختلاف نہیں رکھتی جو بعض روایات میں آیا ہے کہ بچے جو عمر کے لحاظ سے چھوٹے ہوتے ہیں وہ اپنے بڑوں کو سلام کریں کیونکہ ادب کا تقاضا یہی ہے اس بات کا طبقاتی تفاوت اور مادی حیثیت کے اختلاف سے کوئی تعلق نہیں۔
چند روایات میں حکم ہے کہ سودخور، فاسق، کجرو اور منحرف وغیرہ پر سلام نہ کرو۔ یہ بھی فساد اور برائی کے خلاف ایک طرح کا اقدام ہے ہاں البتہ ایسے لوگوں سے واقفیت پیدا کرنے کے لئے یا رابطے کے لئے تاکہ انھیں خدائی نافرمانی سے بچنے کی دعوت دی جا سکے، سلام کرنے کی اجازت ہے "تحیت باحسن" سے مراد یہ ہے کہ سلام کی دوسری عبارات مثلاً ورحمة اللہ یا ورحمة اللہ وبرکاتہ کو ساتھ ملانا۔
تفسیر درالمنثور میں ہے:
ایک شخص نے پیغمبر اکرمؐ سے عرض کیا: السلام علیک۔ تو آپؐ نے فرمایا ”و علیک السلام و رحمة اللہ" دوسرے نے عرض کیا "السلام علیک ورحمة اللہ" تو آپؐ نے فرمایا "وعلیک السلام و رحمة اللہ و برکاتہ" تیسرے شخص نے کہا "السلام علیک و رحمة اللہ و برکاتہ" تو پیغمبرؐ نے فرمایا "و علیک" جب اس نے سوال کیا کہ آپؐ نے مجھے مختصر جواب کیوں دیا ہے تو فرمایا۔ "قرآن کہتا ہے تحیہ کا جواب زیادہ بہتر طریقہ سے دو لیکن تو نے کوئی چیز باقی نہیں رکھی۔"
حقیقت میں پیغمبرؐ نے پہلے اور دوسرے شخص کے جواب میں احسن طریقہ پر تحیہ کیا ہے لیکن تیسرے شخص کے بارے میں مساوی طریقہ اختیار کیا ہے کیونکہ "وعلیک" کا مفہوم ہے کہ جو کچھ تو نے کہا وہ تیرے لئے بھی ہو۔ (بحوالہ: در المنثور جلد ۲ صفحہ ۸)
وہ خدا جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں تم سب کو یقینی طور پر قیامت کے دن کہ جس میں کوئی شک نہیں جمع کرے گا اور کون ہے جو خدا سے زیادہ سچا ہو۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
درج بالا آیت گذشتہ آیات کی تکمیل اور بعد میں آنے والی آیات کا مقدمہ ہے کیونکہ گذشتہ آیت میں "تحیت" کے حکم کے بعد فرمایا ہے کہ خدا تمہارے اعمال کا حساب رکھتا ہے اس آیت میں مسئلہ قیامت اور روز قیامت ہونے والی عام عدالت کا ذکر ہے اور اسے مسئلہ توحید اور خدا کی یکتائی کے مسئلہ کے ساتھ یکجا کر دیا گیا ہے جو کہ ایمان کا ایک اور رکن ہے۔ فرماتا ہے کوئی معبود اس کے علاوہ نہیں ہے اور لازمی طور پر تمہیں قیامت کے دن اکٹھا مبعوث کرے گا وہی قیامت کا دن کہ جس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے (اللهُ لاَإِلَہَ إِلاَّ ہُوَ لَیَجْمَعَنَّکُمْ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَةِ لاَرَیْبَ فِیہِ) ”یجمعنکم" کا لفظ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ تمام افراد کے لئے روز محشر ایک ہی ہو گا۔ جیسا کہ سورہٴ مریم کے آخر میں آیة ۹۳ سے لے لیکر ۹۵ تک اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ خدا کے تمام بندے چاہے وہ اہل زمیں ہوں یا دوسرے کراٴت کے رہنے والے، سب ایک ہی دن مبعوث ہوں گے۔
"لاریب فیہ" (اس میں کوئی شک و شبہ نہیں) قیامت کے آنے کے بارے میں اس آیت میں اور قرآن کی دوسری آیات میں یہ تعبیر ان قطعی اور مسلم دلائل کی طرف اشارہ ہے جو اس دن قیامت کی خبر دیتے ہیں مثلا قانون تکامل، تخلیق کا حکمت و فلسفہ اور قانون عدالت پروردگار معاد کی بحث میں ان کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے آخر میں اس مطلب کی تاکید کے لئے فرماتا ہے کون ہے جو خدا سے زیادہ سچا ہے (وَمَنْ اَصْدَقُ مِنْ اللهِ حَدِیثًا)۔
لہٰذا وہ جس کا وعدہ روز قیامت یا اس کے علاوہ کسی چیز کے بارے میں کرتا ہے اس پر شک نہیں کرنا چاہئیے۔ کیونکہ جھوٹ کا سرچشمہ جہالت ہے یا کمزوری اور ضرورت مندی ہے لیکن وہ خدا جو سب سے زیادہ جانتے والا ہے اور سب سے بے نیاز ہے، وہ سب سے زیادہ سچا ہے اور اصولی طور پر جھوٹ اس کے لئے کوئی مفہوم نہیں رکھتا۔
منافقین کے بارے میں تم دو گروہ کیوں ہو گئے ہو کچھ ان سے جنگ کرنے کو ممنوع اور کچھ جائز سمجھتے ہو حالانکہ خدا نے ان کے اعمال کی بنا پر ان کے افکار پلٹ کر رکھ دیئے ہیں کیا تم چاہتے ہو ایسے اشخاص کو جنہیں خدا نے (ان کے برے اعمال کی وجہ سے) گمراہ رکھا ہے ۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
بعض مفسرین نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ مکہ کے کچھ لوگ بظاہر مسلمان تھے لیکن حقیقت میں منافقین کی صفت میں سے تھے اسی لئے وہ مدینہ کی طرف ہجرت کرنا نہیں چاہتے تھے اور عملی طور پر بت پرستوں کی خیر خواہ اور مدد گار تھے، لیکن آخرکار مکہ کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے (تاکہ وہ مدینہ کے قریب آ جائیں اور شاید اپنی خصوصی حیثیت کی وجہ سے جاسوسی کے مقصد کے لئے انھوں نے ہجرت کی ہو) اور وہ خوش تھے کہ انھیں مسلمان اپنے میں سے سمجھتے ہیں لہٰذا ان کا خیال تھا کہ مدینہ میں داخل ہونا ان کے لئے قدرتی طور پر کوئی مشکل پیدا نہیں کرے گا، مسلمانوں کو اس بات کا پتہ چل گیا لیکن بہت جلد منافقین سے سلوک کے بارے میں مسلمانوں میں اختلاف رائے پیدا ہو گیا ایک گروہ کا نظریہ تھا کہ ان کو دھتکار دیا جائے کیونکہ حقیقت میں یہ دشمنان اسلام کے مددگار ہیں لیکن کچھ مسلمان ظاہر بین اور سادہ لوح تھے وہ اس کے مخالف تھے اور کہتے تھے کہ ہم کس طرح ایسے لوگوں سے محاذ آرائی کریں جو توحید اور رسالت کی گواہی دیتے ہیں اور صرف ہجرت نہ کرنے کے جرم میں ان کے خون کو مباح اور حلال قرار دیں۔ اس پر درج بالا آیت نازل ہوئی جس میں دوسرے گروہ کو اس غلط فہمی پر علامت کی گئی اور پھر ان کی رہنمائی بھی کی گئی۔ (تشریحی نوٹ: اس آیت میں اور بعد والی آیات کی اور بھی شان نزول بیان کی گئی ہے انہی میں سے بعض میں اس کو جنگ احد کے واقعہ سے مربوط سمجھا گیا ہے حالانکہ بعد والی آیات، جو ہجرت کی طرف اشارہ کرتی ہیں اس سے مربوط نہیں بلکہ اسی شانِ نزول کے ساتھ مناسبت رکھتی ہیں جس ذکر اوپر ہوا ہے)۔
تفسیر
مندرجہ بالا شانِ نزول کی طرف توجہ کرنے سے اس آیت اور بعد والی آیت کا منافقین سے متعلق گذشتہ آیات سے ربط مکمل طور پر واضح ہوتا ہے آیت کی ابتدا میں میں خداوند تعالی فرماتا ہے: منافقین کے بارے میں کیوں بٹ گئے ہو اور تم میں سے ہر ایک جدا فیصلہ کرتا ہے۔ (فما لکم فی المنافقین فئتین)۔ (تشریحی نوٹ: اوپر والے جملے میں حقیقتاً اور لفظ مخفی ہے جو بقیہ جملہ پر توجہ کرنے سے واضح ہوتا ہے اور اصل جملہ یوں بنتا ہے فما لکم تفرقتم فی المنافقین فئتین)۔
یعنی یہ افراد جو ہجرت نہ کرنے اور مشرکین کے شریک کار رہنے اور مجاہدینِ اسلام کی صف میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے اپنے نفاق کو ظاہر کر چکے ہیں ان کے اعمال اور انجام کے بارے میں کسی کو شک و شبہ نہیں ہونا چاہئیے۔ یہ بات مسلم ہے کہ یہ لوگ اول درجہ کے منافقین ہیں تو پھر بعض لوگ کیوں ان کے اظہار توحید اور خدا پر ایمان لانے کے دعویٰ سے دھوکا کھاتے ہیں اور ان کی شفاعت و سفارش کرتے ہیں جبکہ گذشتہ آیات میں بتایا جا چکا ہے کہ (من یشفع شفاعة سیئة یکن لہ کفل منھا) اور اس طرح وہ اپنے آپ کو ان کے برے انجام میں کیوں شریک کرتے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے۔ منافقین کے اس گروہ سے ان کے برے اور شرمناک اعمال کی وجہ سے خدا نے اپنی حمایت اور توفیق منقطع کر لی ہے اور منصوبے مکمل طور پر ناکام کر دیئے ہیں اور ان کی حالت ایسی ہے جسے کوئی شخص پاوٴں پر کھڑا ہونے کی بجائے سر کے بل کھڑا ہو (واللہ ارکسھم بما کسبوا)
( تشریحی نوٹ: ارکسھم رکس (بر وزن مکث) کے مادہ سے کسی چیز کو اوندھا کرنے کے معنی میں ہے اور بعض پھیرنے کے بھی معنی لیتے ہیں)۔
ضمنی طور پر "بما کسبوا" معلوم ہوتا ہے کہ ہدایت، سعادت، اور نجات کے راستے سے ہٹ جانا انسان کے خود اس کے اعمال کا نتیجہ ہے اور اگر اس عمل کو خدا سے نسبت دی جائے تو وہ اس وجہ سے ہے کہ خدا حکیم ہے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کے مطابق سزا دیتا ہے اور لیاقت و اہلیت کی مناسبت سے اسے جزا بھی دے گا۔ آیت کے آخر میں سادہ لوح افراد کو، جو منافقین کے اس گروہ کی حمایت کرتے ہیں خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے: کیا تم چاہتے ہو کہ ان لوگوں کو جنھیں خدا نے ان کے برے اعمال کی وجہ سے ہدایت سے محروم کر دیا ہے ہدایت کرو حالانکہ یہ لوگ ہدایت کے قابل نہیں ہیں (اَتُریدُونَ اَنْ تَہْدُوا مَنْ اَضَلَّ اللَّہُ وَ مَنْ یُضْلِلِ اللَّہُ فَلَنْ تَجِدَ لَہُ سَبیلاً)۔ کیونکہ یہ تو خدا کی انمٹ سنت ہے کہ کسی شخص کے اعمال کے اثرات اس سے جبر نہیں ہوں گے تو تم یہ توقع کیوں رکھتے ہو کہ وہ افراد جن کی نیت صحیح نہیں اور جن کے دلوں میں نفاق بھرا ہوا ہے اور جو عملاً خدا کے دشمنوں کی حمایت کرتے ہیں انھیں ہدایت نصیب ہو گی یہ تو بےجا اور غیر منطقی توقع ہے۔
(تشریحی نوٹ: اس تفسیر کی پہلی جلد میں ہدایت و ضلالت کے بارے میں مفصل بحث آ چکی ہے)۔
یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی ان کی طرح کا فر ہو جاؤ اور پھر وہ اور تم ایک دوسرے کے برابر ہو جاؤ ۔پس ان میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ ۔مگر یہ کہ( وہ توبہ کریں اور) خدا کی راہ میں ہجرت کریں لیکن وہ لوگ جو کام سے منہ موڑ لیں (اور تمہارے خلاف اقدامات جاری رکھیں ) انہیں جہاں پاؤ قید کر لو اور (اگر ضروری ہو تو) انہیں قتل کر دو اور ان میں سے کسی کو دوست اور مدد گار نہ بناؤ۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ آیت ان منافقین کے بارے میں تھی جن کی حمایت میں کچھ سادہ لوح مسلمان اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور ان کی سفارش کرتے تھے جبکہ قرآن نے انہیں اسلام سے بیگانہ قرار دے دیا اور اب اس آیت میں فرماتا ہے: ان کے اندر اس قدر جہالت اور تاریکی کہ نہ صرف وہ خود کافرہیں بلکہ چاہتے ہیں کہ تم بھی ان کی طرح کافر ہو جاوٴ تاکہ ایک دوسرے کے مساوی ہو جاوٴ۔ (وَدُّوا لَوْ تَکْفُرُونَ کَما کَفَرُوا فَتَکُونُونَ سَواءً) اس وجہ سے وہ تو عام کفار سے بھی بدتر ہیں۔ کیونکہ عام کافر دوسروں کے عقائد باطل کرنے کے درپے رہتے ہیں کیونکہ وہ ایسے ہیں۔ اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ ان میں سے کسی کو دوست نہ بنائیں (فَلا تَتَّخِذُوا مِنْہُمْ اَوْلِیاءَ) مگر یہ کہ وہ اپنے اعمال سے با ز آ جائیں اور نفاق اور تخریب کاری سے دستبردار ہو جائیں اور اس کا ثبوت اور نشانی یہ ہے کہ وہ کفر اور نفاق کے مرکز سے اسلام کے مرکز (مکہ سے مدینہ) کی طرف ہجرت کریں (حَتَّی یُہاجِرُوا فی سَبیلِ اللَّہِ)۔
لیکن اگر وہ ہجرت کے لئے تیار نہ ہوں تو پھر سمجھ لو کہ وہ کفر و نفاق سے دستبردار نہیں ہوئے اور ان کا مسلمان کہلانا صرف جاسوسی اور تخریب کاری کی غرض سے ہے اور اس صورت میں وہ تمہیں جہاں بھی مل جائیں انہیں قید کر لو یا اگر ضروری ہو تو انھیں قتل کر دو (فَإِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوہُمْ وَ اقْتُلُوہُمْ حَیْثُ وَجَدْتُمُوہُمْ)۔
آیت کے آخر میں دوبارہ تاکید کی گئی ہے کہ کبھی ان میں سے کسی کو دوست و مددگار نہ بناؤ (وَ لا تَتَّخِذُوا مِنْہُمْ وَلِیًّا وَ لا نَصیراً)۔
درج بالا آیت میں منافقین کے اس گروہ کے بارے میں جو سخت احکام آئے ہیں اس وجہ سے ہیں کہ ایک زندہ معاشرے کی تشکیل کے لئے جو اصلاح کے راستے پر چلتا ہے ایسے دوست نما خطرناک دشمن سے چھٹکارا حاصل کرنے کا اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ اسلام غیر مسلم افراد (مثلاً یہود و نصاریٰ) چند شرائط کے ساتھ صلح کی اجازت دے دیتا ہے اور ان سے کوئی تعرض نہ کرنے کے لئے تیار ہے مگر منافقین کے اس گروہ کے بارے میں اس قدر شدت سے کام لیتا ہے۔ بظاہر وہ مسلمان ہیں پھر انہیں قید کرنے بلکہ بوقت ضرورت ان کے قتل کا حکم دیتا ہے۔ اس امرکی اس کے علاوہ کوئی وجہ نہیں ہے کہ ایسے افراد اسلام کے پردے میں اسلام کو ایسی گزند پہنچا سکتے ہیں جیسی کوئی دشمن نہیں پہنچا سکتا۔
ایک سوال اور اس کا جواب
ممکن ہے کہا جائے کہ پیغمبر اکرمؐ کا منافقین کے بارے میں یہ رویہ تھا کہ آپؐ کبھی ان کے قتل کاحکم نہیں دیتے تھے کہ دشمن کہیں آپؐ کو اپنے اصحاب کے قتل میں ملوث نہ کریں یا کچھ لوگ اس سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ذاتی دشمنوں کو منافق کہہ کر ان سے نہ الجھیں اور انھیں قتل نہ کر دیں۔
توجہ رہے کہ پیغمبر اکرمؐ کا یہ رویہ صرف مدینہ کے منافقین اور ان جیسے لوگوں کے بارے میں تھا جو بظاہر مسلمان تھے، لیکن وہ لوگ جو مکہ کے منافقین کی طرح واضح طور پر اسلام دشمنوں سے ملے ہوئے تھے وہ اس حکم میں شامل نہیں تھے۔
مگر وہ لوگ جنہوں نے تمہارے ہم پیمان لوگوں سے عہد و پیمان باندھا ہے یا وہ جو تمہاری طرف آتے ہیں اور تم سے جنگ کرنے یا اپنی قوم سے جنگ کرنے سے عاجز ہیں (نہ تم سے جنگ کرنا چاہتے ہیں ا ور نہ اپنی قوم سے لڑنے کی طاقت رکھتے ہیں ) اور اگر خدا چاہے تو انہیں تم پر مسلط کر دے تاکہ وہ تم سے جنگ کریں (اب جبکہ) انہوں نے صلح کی پیشکش کی ہے تو خدا تمہیں اجازت نہیں دیتا کہ ان سے تعرض کرو۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
مختلف روایات سے جو آیت کی شانِ نزول کے بارے میں آئی ہیں اور مفسرین نے ہر قسم کی تفاسیر میں انھیں نقل کیا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قبائل عرب میں دو قبیلے "بنی حمزہ" اور "اشجع" نام کے تھے ان میں سے پہلے قبیلے نے مسلمانوں کے ساتھ جنگ نہ کرنے کا عہد کیا تھا اور قبیلہ اشجع نے بھی بنی حمزہ سے ایسا معاہدہ کر رکھا تھا۔ بعض مسلمان بنی حمزہ کی طاقت اور عہد شکنی سے خوفزدہ تھے لہٰذا انھوں نے پیغمبر اکرمؐ کو تجویز پیش کی کہ اس سے پہلے کہ وہ حملہ آور ہوں مسلمان ان پر حملہ کر دیں۔ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا:
"کلا فانھم ابر العرب بالوالدین ولو صلھم للرحم اوفاھم بالعھد"
نہیں کبھی یہ کام نہ کریں کیونکہ وہ تمام قبائل عرب میں اپنے ماں باپ کے ساتھ بہتر سلوک کرنے والے ہیں اپنے عزیز و اقارب پر سب سے زیادہ مہربان ہیں اور بہتر ایفائے عہد کرنے والے ہیں۔
کچھ عرصہ بعد مسلمانوں کو اطلاع ملی کی اشجع قبیلہ کے سات سو افردا مسعود بن وجیلہ کی سرکردگی میں مدینہ کے قریب پہنچ چکے ہیں پیغمبر اکرمؐ نے اپنے نمائندے ان کے پاس بھیجے کہ وہ کس مقصد کے لئے آئے ہیں انھوں نے جواب دیا کہ ہم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کرنے کے لئے آئے ہیں جب پیغمبر اکرمؐ کو یہ معلوم ہوا تو حکم دیا کہ بہت سی مقدار میں کھجوریں تحفہ کے طور ان کے پاس لے جاوٴ اس کے بعد حضورؐ نے ان سے ملاقات کی تو انھوں نے کہا کہ ایک طرف ہم آپؐ کے دشمنوں سے مقابلے کی سکت نہیں رکھتے کیونکہ ہماری تعداد کم ہے اور دوسری طرف نہ آپؐ سے مقابلے کی ہم طاقت رکھتے ہیں نہ آپؐ سے ہم لڑنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ ہماری سکونت آپؐ کے قریب نہیں ہے لہٰذا ہم اس لئے آئے ہیں کہ آپؐ سے جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کریں۔ اس موقع پر درج بالا آیات نازل ہوئیں جن میں اس ضمن میں مسلمانوں کو ضروری احکام جاری کئے گئے۔ چند ایک روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کا ایک حصہ قبیلہ "بنی مدلج" کے بارے میں نازل ہوا ہے وہ لوگ پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھوں نے کہا کہ ہم نہ تو آپؐ کے ہم نوا ہیں اور نہ ہی آپؐ کے مخالف کوئی قدم اٹھائیں گے۔
پیغمبر اکرمؐ نے ان سے جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کر لیا۔
تفسیر
صلح کی پیش کش کا استقبال
ان منافقین کے لئے جو دشمنان اسلام کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اس سخت حکم کے بعد زیر نظر آیت میں حکم دیتا ہے کہ اس قانون سے دو گروہ مستثنیٰ ہیں:
۱۔ جو تمہارے کسی ہم پیمان کے ساتھ مربوط ہیں اور انھوں نے اس سے معاہدہ کر رکھا ہے (إِلاَّ الَّذینَ یَصِلُونَ إِلی قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَہُمْ میثاقٌ)۔
۲۔ وہ اپنی مخصوص حالت کی وجہ سے ایسے حالات سے دوچار ہیں کہ نہ تو وہ تمہارے ساتھ مقابلے کی طاقت رکھتے ہیں نہ تمہارا ساتھ دے سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے قبیلہ سے ٹکرانے کی حوصلہ رکھتے ہیں (اَوْ جاؤُکُمْ حَصِرَتْ صُدُورُہُمْ اَنْ یُقاتِلُوکُمْ اَوْ یُقاتِلُوا قَوْمَہُمْ)۔
ظاہر ہے کہ پہلے گروہ کو معاہدہ کے احترام کی وجہ سے اس قانون سے مستثنیٰ ہونا چاہئیے اور دوسرا گروہ بھی اگرچہ مقدور نہیں ہے اسے چاہئیے کہ حق کی تلاش کے بعد اپنا رشتہ جوڑ لے۔ لیکن چونکہ وہ غیر جانبدار رہنے کا اعلان کرتا ہے لہٰذا اس پر اعتراض کرنا عدل اور مردانگی کے اصولوں کے خلاف ہے اس کے بعد اس بنا پر کہ مسلمان اپنی شاندار کامیابیوں پر مغرور نہ ہو جائیں اور انھیں اپنی لشکری قوت اور مہارت کا مرہونِ منت سمجھیں اس غیر جانبدار گروہ کے مقابلہ میں ان کے انسانی جذبات کو تحریک دیتے ہوئے فرماتا ہے: اگر خدا چاہے تو ان (کمزور) لوگوں کو تم پر مسلط کر سکتا ہے تاکہ وہ تم سے برسرپیکار ہوں۔ وَ لَوْ شاءَ اللَّہُ لَسَلَّطَہُمْ عَلَیْکُمْ فَلَقاتَلُوکُمْ)۔ لہٰذا ہمیشہ کامیابیوں پر اپنے خدا کو نہ بھولو اور کسی جہت بھی اپنی طاقت پر غور نہ کرو۔ نیز کمزور لوگوں کو معاف کرنے کو اپنے نقصان میں نہ سمجھو۔ آیت کے آخر میں دوبارہ آخری گروہ کے لئے تاکید زیادہ واضح انداز میں کرتے ہوئے کہتا ہے: اگر وہ تم سے جنگ نہ کریں اور صلح و مصالحت کی پیش کش کریں تو خدا تمہیں ان سے جنگ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ تمہارا فرض ہے کہ جو ہاتھ صلح کے لئے تمہاری طرف بڑھے اسے مضبوطی سے تھام لو (فَإِنِ اعْتَزَلُوکُمْ فَلَمْ یُقاتِلُوکُمْ وَ اَلْقَوْا إِلَیْکُمُ السَّلَمَ فَما جَعَلَ اللَّہُ لَکُمْ عَلَیْہِمْ سَبیلاً)۔
قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ قرآن اس آیت میں اور چند دوسری آیات میں صلح کی پیش کش کو "القاء سلام" "صلح پھینکا" قرار دیتا ہے۔ ممکن ہے یہ اس معنی کی طرف اشارہ ہو کہ طرفین نزاع، صلح سے پہلے عموماً ایک دوسرے سے علیحدہ ہوتے جاتے ہیں یہاں تک صلح کی پیش کش کو بھی بڑے محتاط ہو کر دیکھتے ہیں گویا ایک دوسرے سے فاصلہ پر رہتے ہوئے اس پیش کش کو ایک دوسرے کی طرف پھینکتے ہیں۔
بہت جلد تم کچھ ایسے لوگوں سے ملو گے جو چاہتے ہیں کہ تمہاری طرف سے بھی امان میں ہوں اور اپنی قوم کی طرف سے بھی مامون ہوں (یہ مشرک ہیں لہٰذاجو تمہارے سامنے ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں ) لیکن جس وقت وہ فتنہ اور بت پرستی کی طرف پلٹ جاتے ہیں تو وہ سر کے بل اس میں ڈوب جاتے ہیں اگر وہ تم سے الجھنے سے کنارہ کش نہ ہوئے اور انہوں نے صلح کی پیش کش نہ کی اور تم سے دستبردار نہ ہوئے تو انہیں جہاں کہیں پاؤ قید کر لو (یا) انہیں قتل کر دو اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جن پر ہم نے تمہارا واضح تسلط قرار دیا ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
درج بالا آیت کے لئے مختلف شانِ نزول منقول ہوئے ہیں زیادہ مشہور ان میں سے یہ ہے کہ اہل مکہ میں سے کچھ لوگ پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دھوکے بازی اور چالبازی کے طور پر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا۔ لیکن جب بھی وہ قریش اور ان کے بتوں کے سامنے جاتے تو ان کے بتوں کی عبادت اور پرستش شروع کر دیتے۔ اس طرح وہ چاہتے تھے کہ وہ اسلام اور قریش دونوں سے محفوظ رہیں، دونوں طرف سے فائدہ اٹھائیں اور کسی سے انھیں نقصان نہ پہنچے اصطلاح کے مطابق دونوں گروہوں سے دو طرفہ تعلقات استوار رکھیں۔ اس پر زیر نظر آیت نازل ہوئی جس میں اس گروہ کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا گیا۔
تفسیر
طرفین سے ساز باز رکھنے والوں کی سزا
یہاں ایک اور گروہ سے تعارف ہوتا ہے جو سراسر اس گروہ کے مخالف ہے جس کے بارے میں گذشتہ آیات میں صلح کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو اپنے مفاد کے تحفظ کے لئے مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان آزادی سے کام کرنا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لئے انھوں نے دھوکے اور خیانت کی راہ اختیار کر رکھی ہے وہ دونوں گروہوں سے ہم قدم اور ہم فکر ہونے کا اظہار کرتے ہیں (سَتَجِدُونَ آخَرینَ یُریدُونَ اَنْ یَاْمَنُوکُمْ وَ یَاْمَنُوا قَوْمَہُمْ) اسی وجہ سے جب فتنہ سازی اور بت پرستی کا موقع ان کے ہاتھ آتا ہے تو ان کے سارے پروگرام الٹے ہو جاتے ہیں اور سر کے بل بت پرستی میں ڈوب جاتے ہیں (کُلَّما رُدُّوا إِلَی الْفِتْنَةِ اُرْکِسُوا فیہا)۔ یہ پہلے گروہ کے بالکل برعکس ہیں کیونکہ ان کی کوشش یہ تھی کہ یہ مسلمانوں سے برسرپیکار نہ ہوں جب کہ ان کی کوشش یہ تھی کہ مسلمانوں سے الجھتے رہیں وہ صلح کی پیش کش کرتے تھے جبکہ یہ مسلمانوں سے برسرپیکار تھے وہ مسلمانوں کو تکلیف نہیں پہنچاتے تھے لیکن یہ ظلم و جور سے اجتناب نہیں کرتے تھے۔ یہ تینوں فرق جن کی طرف (فَإِنْ لَمْ یَعْتَزِلُوکُمْ وَ یُلْقُوا إِلَیْکُمُ السَّلَمَ وَ یَکُفُّوا اَیْدِیَہُمْ)۔ میں اشارہ ہوا ہے اس امر کا سبب ہیں کہ ان کے بارے میں حکم پچھلے گروہ سے مکمل طور پر مختلف حکم ہو۔ مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ انھیں جہاں کہیں پائیں اسیر کر لیں اور مقابلہ کرنے کی صورت میں قتل کر دیں (فَخُذُوہُمْ وَ اقْتُلُوہُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوہُمْ) لہٰذا ان کے لئے کافی اتمام حجت کیا گیا ہے وہاں آیت کے آخر میں یہ بھی فرمایا گیا ہے: وہ ایسے لوگ ہیں کہ ہم نے واضح طور پر ان پر تمہارا تسلط قائم کیا ہے۔ (وَ اُولئِکُمْ جَعَلْنا لَکُمْ عَلَیْہِمْ سُلْطاناً مُبینا)۔
زیر بحث آیت میں جس تسلط کی طرف اشارہ ہے ہو سکتا ہے یہ تسلط منطقی لحاظ سے ہو۔ کیونکہ مسلمانوں کی منطق مشرکین کی منطق پر غالب تھی یا یہ بھی ہو سکتا ہے ظاہری اور خارجی لحاظ سے ہو کیونکہ جس وقت یہ آیات نازل ہوئیں اس وقت مسلمان بہت حد تک طاقت ور ہو چکے تھے۔
درج بالا آیت میں "ثقفتموھم" کی تعبیر ممکن ہے ایک دقیق نکتے کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ یہ لفظ ثقافت کے مادہ سے ہے اور اس کا معنی ہے کسی چیز کا مشکل سے اور مہارت سے ہا تھ آنا اور "وجدتموھم" وجدان کے مادہ سے صرف ہاتھ آنے کے معنی میں ہے ان دونوں کا مفہوم مختلف ہے گویا منافقین کا یہ گروہ (جودوغلہ ہے) دونوں سے تعلقات رکھتا ہے یہ منافقین کا خطرناک ترین گروہ ہے ممکن نہیں کہ انھیں آسانی سے پہچان لیا جائے اور وہ کسی جال میں پھنس جائے لہٰذا فرماتا ہے: مہارت اور مشکل سے ان پر قبضہ کر لو تو انھیں خد اکا حکم سناوٴ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ انھیں گرفتار کرنا کٹھن اور مشکل کام ہے۔
کسی صاحب ایمان فرد کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی صاحب ایمان کو قتل کرے مگر یہ کہ یہ کام غلطی اور اشتباہ میں اس سے سر زد ہو جائے اور پھر جس نے کسی مومن کو غلطی سے قتل کیا ہے اسے چاہئے کہ وہ ایک غلام آزاد کرے اور خون بہا مقتول کے گھر والوں کو دے مگر یہ کہ وہ خون بہا بخش دیں اور اگر مقتول ایسے گروہ سے ہے جو تمہارے دشمن ہیں (اور کافر ہیں ) لیکن قاتل خود مومن تھا تو چاہئے (کہ صرف) ایک غلام آزاد کرے (اور خون بہا ادا کرنا ضروری نہیں ہے) اور اگر ایسے گروہ میں سے ہے جن کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہو چکا ہے تو چاہئے کہ اس کا خون بہا اس کے اہل خانہ کو دے اور ایک غلام (بھی) آزاد کرے اور جو شخص (غلام کے آزاد کرنے پر)دسترس نہیں رکھتا،وہ دو ماہ مسلسل روزے رکھے۔ یہ(ایک قسم کی تخفیف اور) اللہ کے حضور توبہ ہے اور خدادانا و حکیم ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
مکہ کے ایک بت پرست حارث بن یزید نے "ابو جہل" کی مدد سے ایک مسلمان "عیاس بن ابی ربیعہ" کو اسلام کی طرف مائل ہونے کی پاداش میں ایک عرصہ تک شکنجہٴ ظلم میں جکڑے رکھا۔ مسلمانوں کی مدینہ کی طرف ہجرت کے بعد "عیاش" نے بھی مدینہ کی طرف ہجرت کی اور مسلمانوں میں شامل ہو گیا۔ اتفاقاً ایک دن مدینہ کے قریب ایک محلہ میں اس کا سامنا اسے آزار دینے والے حارث بن یزید سے ہو گیا عیاش نے موقع غنیمت جان کر حارث کو قتل کر دیا اس کا خیال تھا کہ اس نے ایک دشمن کو قتل کیا ہے حالانکہ اس کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ حارث توبہ کر کے مسلمان ہو چکا تھا اور پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہونے جا رہا تھا یہ واقعہ آنحضرتؐ سے عرض کیا گیا تو یہ آیت نازل ہوئی اور اس قتل کے بارے میں جو خطا سے اور اشتباہ میں ہو گیا حکم بیان کیا گیا۔
تفسیر
قتل اشتباہ کے احکام
چونکہ گذشتہ آیات میں مسلمانوں کو عملی طور پر اپنے اندرونی خطرناک دشمنوں (منافقین) کی سرکوبی کی اجازت دی گئی ہے تو اب اس بنا پر کہ کہیں کچھ لوگ اس قانون سے غلط فائدہ نہ اٹھائیں اور اپنے ذاتی دشمنوں کو منافقین کہہ کر قتل نہ کر دیں یا لاپرواہی سے کسی بےگناہ کا خون نہ بہا دیں۔ اس آیت میں اور بعد والی آیت میں قتل اشتباہ اور قتل عمد کے احکام بیان ہوئے تاکہ قتل جو اسلام کے نذدیک نہایت سنگین معاملہ ہے اس کے بارے میں تمام لازمی پہلووٴں کو ملحوظ نظر رکھا جائے۔
اس آیت کی ابتدا میں کہ جس میں قتل اشتباہ کا ذکر ہے فرماتا ہے: کسی مومن کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ کسی صاحب ایمان شخص کو قتل کرے مگر یہ کہ اشتباہ میں ایسا ہو جائے (وَ ما کانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَقْتُلَ مُؤْمِناً إِلاَّ خَطَاٴ)۔ حقیقت میں یہ تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اصولی طور پر کوئی مومن یہ نہیں چاہتا کہ اپنے ہاتھ کسی بےگناہ کے خون سے رنگین کرے، کیونکہ حریم ایمان میں تمام افراد ایک جسم کے اعضاء کی طرح ہیں کیا یہ ہو سکتا ہے کہ بدن انسانی کا ایک عضو دوسرے عضو کو سوائے اشتباہ کے کاٹ دے یا اسے کوئی آزار دی جائے۔ اس سبب سے جو اس قسم کے کام میں مشغول ہیں ان کا ایمان صحیح نہیں ہے اور حقیقت میں وہ ایمان سے بےبہرہ ہیں۔ الاّ خطاٴ (مگر غلطی سے) کے الفاظ اس معنی میں نہیں کہ انھیں اجازت ہے کہ شک کی بنا پر قتل جیسا عمل کریں کیونکہ شک و شبہ میں انسان دور تک نہیں دیکھ نہیں دیکھ سکتا اور کوئی شخص شک کی حالت میں اپنے اشتباہ کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔ مقصد یہ ہے کہ مومنین شک و شبہ کی حالت کے علاوہ ایسا گناہ کبیرہ نہیں کر سکتے۔
اس کے بعد قتل اشتباہ کا جرمانہ اور کفارہ تین مراحل میں بیان کیا گیا ہے:۔
پہلی صورت یہ ہے کہ "بے گناہ شخص جو شک اور شبہ میں قتل ہو گیا ہو، اگر وہ مسلمان خاندان سے تعلق رکھتا ہو تو اس صورت میں قاتل کے لئے دو حکم ہیں۔ ایک غلام آزاد کرے اور دوسرا یہ کہ مقتول کا خون بہا مقتول کے وارثوں کو ادا کرے۔ (وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِناً خَطَاٴً فَتَحْریرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَ دِیَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلی اَہْلِہ)۔
مگر یہ کہ مقتول کے وارث دیت کو اپنی رضا اور رغبت سے چھوڑ دیں (إِلاَّ اَنْ یَصَّدَّقُوا)۔
دوسری صورت یہ ہے کہ مقتول ایسے خاندان سے وابستہ ہو جو مسلمانوں سے دشمنی رکھتا ہو، تو اس صورت میں قتل اشتباہ کا کفارہ صرف غلام آزاد کرنا ہے اور ایسے گروہ کو دیت دینا ضروری نہیں کہ جو مالی طور پر مسلمانوں کے خلاف مضبوط ہو جائے۔ اس کے علاوہ اسلام ایسے شخص کو اپنے خاندان سے ربط رکھنے سے منع کرتا ہے جس کے خاندان میں سب کے سب اسلام کے دشمن ہوں اس بنا پر یہ نقصان کی تلافی کا مقام نہیں ہے (فَإِنْ کانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَکُمْ وَ ہُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْریرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ)
تیسری صورت یہ ہے کہ مقتول کا خاندان ایسے کفار میں سے ہو جنھوں نے مسلمانوں سے معاہدہ کر رکھا ہو۔ اس صورت میں معاہدہ کے احترام میں ایک غلام آزاد کرنے کے علاوہ مسلمان اس کا خون بہا اس کے پس ماندگان کو دیں (وَ إِنْ کانَ مِنْ قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَہُمْ میثاقٌ فَدِیَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلی اَہْلِہِ وَ تَحْریرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ)۔
اس بارے میں مفسرین میں اختلاف ہے کہ کیا مقتول اس صورت میں پہلی دونوں صورتوں کی طرح مرد مومن ہو گا یا یہ حکم کافر اور ذمی کے لئے بھی ہے لیکن بظاہر آیات اور روایات جو اس آیت کی تفسیر میں آئی ہیں ان کے مطابق اس سے مراد بھی "مقتول مومن" ہی ہے اور کیا اس قسم کے مسلمان مقتول کی دیت کافر وارث کو دی جا سکتی ہے جبکہ کافر مسلمان کا وارث نہیں ہو سکتا۔ آیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ دیت اس کے ورثہ کو دی جائے گی چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہوں یہ مسلمان کے ساتھ ان کے معاہدے کی بنیاد پر ہے۔ لیکن چونکہ کافر مسلمان کا وارث نہیں ہو سکتا لہٰذا بعض مفسرین کا یہ نظریہ ہے کہ اوپر والے جملے سے مراد یہ ہے کہ اس کی دیت و خون بہا صرف اس کے مسلمانوں کو دیا جائے نہ کہ کفار وارثوں کو بعض روایات میں بھی اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے لیکن من قوم بینکم و بینھم میثاق (ایسے گروہ سے جو تمہارے ساتھ معاہدہ رکتھے ہیں) کے جملہ کا مطلب یہ ہے کہ مقتول کے وارث مسلمان نہ ہوں، کیونکہ مسلمان ایک دوسرے سے معاہدہ نہیں کرتے (غور کیجئے گا)۔
آیت کے آخر میں ان لوگوں کے بارے میں میں جو غلام آزاد کرنے کے بارے میں دسترس نہیں رکھتے (یعنی مالی طور پر استطاعت نہیں رکھتے یا آزاد کرنے کے لئے غلام ملتا ہی نہ ہو موجودہ زمانے کی طرح۔ فرماتا ہے ایسے افراد کو چاہئیے کہ وہ مسلسل دو ماہ روزے رکھے (فَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَصِیامُ شَہْرَیْنِ مُتَتابِعَیْن) آخر میں کہتا ہے: یہ غلام آزاد کرنے کی بجائے دو ماہ روزے رکھنے کا حکم ایک قسم کی تخفیف اور خدا کے حضور توبہ ہے یا یہ کہ جو کچھ قتل اشتباہ کے کفارہ کے طور پر کہا گیا ہے اس سب کو خدا سے توبہ قرار دیا گیا ہے اور خدا ہمیشہ ہر چیز سے باخبر ہے اور اس کے تمام احکام حکمت کے مطابق ہیں (تَوْبَةً مِنَ اللَّہِ وَ کانَ اللَّہُ عَلیماً حَکیما)۔
چند اہم نکات:
۱۔ خسارے کی تلافی کے لئے احکام
۱۔ یہاں قتل اشتباہ کی تلافی کے لئے تین موضوع بیان کئے گئے ہیں جن میں سے ہر ایک، ایک طرح سے خسارے اور نقصان کی تلافی ہے جو اس عمل کی وجہ سے ہوتی ہے۔ پہلا غلام آزاد کرنا ہے اصل میں ایک اجتماعی خسارے (ایک اہل ایمان کا قتل) کی تلافی ہے دوسرا دیت کا ادا کرنا ہے جو اصل میں ایک طرح سے اقتصادی خسارے کی تلافی ہے جو کہ ایک شخص کے قتل ہونے سے ایک خاندان کو ہوتا ہے ورنہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ دیت (خون بہا) کبھی بھی ایک انسان کے خون کی حقیقی قیمت نہیں ہو سکتی کیونکہ ایک بےگناہ انسان کو خون ہر طرح سے زیادہ قیمتی ہے بلکہ خاندان کے اقتصادی خسارے کی ایک طرح سے تلافی ہے۔ اور تیسرا ماہ مسلسل روزے رکھنے کا مسئلہ ہے جو کہ اخلاقی اور روحانی خسارے کی تلافی ہے، جو غلطی سے قتل کرنے والے کو کرنا ہوتی ہے۔ البتہ خیال رکھنا چاہئیے کہ مسلسل دو ماہ روزے رکھنا ان لوگوں کی ذمہ داری ہے جو کہ ایک باایمان غلام کو آزاد نہیں کر سکتے تو روزے رکھنا ہوں گے لیکن غور کرنا چاہئیے کہ غلام آزاد کرنا ایک طرح کی عبارت شمار ہوتا ہے لہٰذا اس عبادت کا اثر آزاد کرنے والے کی روح پر ضرور ہو گا۔
۲۔ مسلمانوں میں دیت سے صرف نظر
جس مقام پر مقتول کے پس ماندگان مسلمان ہو ں وہاں ”الا ان یصدقوا“ مگر یہ کہ وہ دیت سے صرف نظر کر لیں) کا ذکر آیا ہے لیکن جس مقام پر وہ مسلمان نہ ہوں وہاں یہ بات نہیں۔ اس کی وجہ بھی واضح ہے کیونکہ پہلے موقع پر اس کام کی کوئی بنیاد ہے لیکن دوسری جگہ اس قسم کی بنیاد نہیں ہے اس کے علاوہ جہاں تک ہو سکے مسلمانوں کو ایسے موقع پر غیر مسلموں کے احسان کا زیر بار نہیں ہونا چاہئیے۔
۳۔ غیر مسلموں کے لئے دیت کا پہلے تذکرہ
قابل توجہ امر یہ ہے کہ پہلی صورت میں جبکہ پس ماندگان مسلمان ہوں پہلے ”ایک غلام آزاد کرے" اور پھر ”دیت“ کا ذکر ہے۔ جبکہ تیسری صورت میں جبکہ وہ مسلمان نہیں ہیں پہلے دیت کا تذکرہ ہے شاید تعبیر کا یہ اختلاف اس طرف اشارہ کرتا ہو کہ مسلمانوں کے معاملے میں دیت کی تاخیر کا زیادہ تر منفی ردّ عمل نہیں ہوتا جبکہ غیر مسلموں کے معاملے میں ہر چیز سے پہلے دیت ادا ہونا چاہئیے تاکہ نزاع اور جھگڑے کی آگ ٹھنڈی ہو سکے اور دشمن اسے معاہدے کی خلاف ورزی پر محمول نہ کریں۔
۴۔ اسلامی پیمانوں کی طبعی بنیاد
یہ آیت دیت کی مقدار نہیں بتائی گئی اور اس کی تفصیل سنت کے مطابق مقرر ہوتی ہے۔ جس کی رو سے پوری دیت ہزار مثقال سونا یا ایک سو اونٹ، یا دو سو گائیں، اور اگر وارث راضی ہوں تو ان جانوروں کی قیمت ہے (البتہ سونے یا بعض جانوروں کی دیت کے طور پر تعین اسلامی اصول کے مطابق ہے اور اسلام نے اپنے پیمانے اور میزان طبعی امور میں سے مقرر کئے ہیں نہ کہ بناوٹی مصنوئی اور وقتی طریقوں سے جو کہ زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ تبدیل ہو جاتے ہیں۔
۵۔ غلطی کی سزا؟
ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ یہ اعتراض کریں کہ ”غلطی“ کی سزا نہیں ہوتی، تو اسلام اس کو اتنی اہمیت کیوں دیتا ہے، حالانکہ اس غلطی کا مرتکب کسی گناہ کا مرتکب نہیں ہوا۔ اس کا جواب واضح ہے کیونکہ خون کا مسئلہ کوئی معمولی نہیں ہوتا۔ لہٰذا اسلام اس سخت حکم کے ذریعے چاہتا ہے کہ لوگ نہایت محتاط رہیں تاکہ کسی قسم کا قتل یہاں تک کہ اشتباہ اور غلطی سے بھی ان سے سرزد نہ ہو۔ کیونکہ بہت سی غلطیاں بھی قابل گرفت ہیں علاوہ ازیں اس لئے بھی کہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ قتل اشتباہ کے دعویٰ سے اپنے آپ کو بری الذمہ نہیں سمجھا جا سکتا آیت کا آخری جملہ (توبة من اللہ) ممکن ہے اسی امر کی طرف اشارہ ہو کہ عام طور پر اشتباہات کا مرکز پوری کو شش اور غور کرنا ہوتا ہے لہٰذا اہم معاملات میں (مثلاً قتل نفس) کے سلسلے میں اس طرح تلافی ہونا چاہئیے کہ خدا سے توبہ ان کے مرتکب ہونے والوں کے شامل حال ہو جائے۔
اور جو شخص کسی صاحب ایمان کو جان بوجھ کر قتل کر دے تو اس کی سزا جہنم ہے کہ جس میں وہ ہمیشہ کے لیے رہے گا اور خدا اس پر غضب نازل کرتا ہے اور اسے اپنی رحمت سے محروم کر دیتا ہے اور اس کے لئے اس نے عذاب عظیم مہیا کر رکھا ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
مقیس بن صبا بہ کنانی ایک مسلمان تھا اس نے اپنے مقتول بھائی کی لاش محلہ "بنی نجار" میں دیکھی۔ اس نے پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں آ کر یہ واقعہ بیان کیا رسول اکرمؐ نے اسے قیس بن ہلال مہزی کے ساتھ نبی نجار کے سرداروں کے پاس بھیجا اور حکم دیا کہ اگر وہ ہشام کے قاتل کو پہچانتے ہیں تو اسے اس کے بھائی مقیس کے حوالے کر دیں اور اگر نہیں پہچانتے تو اس کا خون بہا اور دیت ادا کریں وہ چونکہ ہشام کے قاتل کو نہیں پہچانتے تھے لہٰذا انھوں نے مقتول کی دیت ادا کر دی اور اس نے بھی قبول کر لی اور قبیس بن ہلال کی معیت میں مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔
اثنائے راہ میں زمانہٴ جاہلیت کے باقی رہنے والے افکار نے قبیس کے جذبات کو ابھارا اور وہ اپنے آپ سے کہنے لگا کہ دیت قبول کرنا شکست اور ذلت کا باعث ہے لہٰذا اپنے ہم سفر کو جو قبیلہ بنی نجار میں سے اپنے بھائی کے خون کے بدلے قتل کر دیا اور مکہ کی طرف بھاگ گیا اور اسلام سے بھی کنارہ کش ہو گیا۔ پیغمبر اکرمؐ نے بھی اس خیانت کے بدلے اس کا خون مباح قرار دیا اور اوپر والی آیت اسی مناسبت سے نازل ہوئی جس میں قتل عمد (جان بوجھ کر قتل) کی سزا بیان ہوئی ہے۔
تفسیر
قتل عمد کی سزا
قتل اشتباہ کی سزا بیان کرنے کے بعد اس آیت میں اس شخص کی سزا بیان ہوئی ہے جو جان بوجھ کر کسی باایمان شخص کو قتل کر دے۔ چونکہ انسان کشی ایک بہت بڑا جرم ہے اور گناہ کبیرہ ہے اور اگر اسے روکا نہ جائے اور اس کا مقابلہ نہ کیا جائے تو امن و امان جو ایک صحیح معاشرے کی اہم ترین شرائط میں سے ہے بالکل ختم ہو جائے گا۔ قرآن نے مختلف آیات میں اسے اہمیت دی ہے یہاں تک کہ ایک انسان کا قتل روئے زمین کے تمام لوگوں کے قتل کے مترادف قرار دیا ہے:
من قتل نفساً بغیر نفس اوفساد فی الارض فکانما قتل الناس جمیعاً
جو شخص کسی نفس کو (اگر وہ قاتل نہ ہو یا زمین پر فساد نہ پھیلائے) قتل کر دے گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کر دیا ہے۔
اسی لئے زیربحث آیت میں ان لوگوں کے لئے جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر دیں۔ چار سزائیں اور آخرت کے شدید عذاب کا (علاوہ قصاص کے جو دنیا وی سزا ہے) ذکر ہوا ہے۔
۱۔ خلود یعنی ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہنا (وَ مَنْ یقْتُلْ مُؤْمِناً مُتَعَمِّداً فَجَزاؤُہُ جَہَنَّمُ خالِداً فیہا)۔
۲۔ خشم و غضب الہٰی (و غضب اللہ علیہ)۔
۳۔ رحمتِ خداوندی سے محرومی (لعنہ)۔
۴۔ عذاب عظیم میں مبتلا کیا جانا (وَ لَعَنَہُ وَ اَعَدَّ لَہُ عَذاباً عَظیماً)۔
اس طرح قتل عمد کے لئے اس قدر سخت ترین سزا کا ذکر ہوا ہے جس قدر سخت سزا قرآن میں کسی اور چیز کے متعلق بیان نہیں ہوئی اس کے علاوہ قتل عمد کی دنیاوی سزا وہی قصاص ہے جس کی تفصیل جلد اول میں سورہ ٴ بقرہ آیت ۱۷۹ کے ذیل میں بیان ہو چکی ہے۔
کیا انسانی قتل ابدی سزا کا موجب ہے
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ "خلود" یعنی ہمیشہ کے لئے سزا تو ان لوگوں کو ملے گی جو ایمان لائے بغیر دنیا سے رخصت ہو جائیں جبکہ قتل عمد کرنے والوں کے لئے ممکن ہے کہ وہ ایمان رکھتے ہوں اور یہاں تک امکان ہے کہ وہ پشمان ہو کر اس گناہ عظیم سے (جو ان سے سرزد ہو چکا ہے) حقیقی توبہ کر لیں اور گذشتہ گناہ کی جس قدر ممکن ہو تلافی کر لیں۔
۱۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ آیت میں مومن کے قتل سے مراد یہ ہے کہ کسی شخص کو ایمان لانے کی وجہ سے قتل کرے یا اس کے قتل کو جائز اور مباح قرار دے۔ جان لینا چاہئیے کہ اس طرح کا قتل، قاتل کے کفر کا ثبوت ہے اور اس کا لازمہ ابدی اور ہمیشہ کا عذاب ہے۔
اسی مفہوم کی ایک حدیث حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے۔ (بحوالہ: کافی تفسیر عیاشی میں اس آیت کے ذیل میں امام صادق علیہ السلام سے اس طرح منقول ہے کہ آپؑ نے فرمایا من قتل مومناً علی دینہ فذٰلک المتعمد الذی قال اللہ تعالیٰ عز و جل فی کتابہ وَ اَعَدَّ لَہُ عَذاباً عَظیماً)۔
۲۔ یہ احتمال بھی ہے کہ صاحب ایمان اور بےگناہ افراد کو قتل کرنے کی وجہ سے انسان بےایمان ہو کر دنیا سے رخصت ہو اور اسے توبہ کی بھی توفیق نصیب نہ ہو اور اسی وجہ سے وہ ابدی اور ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا ہو جائے۔
۳۔ یہ بھی ممکن ہے کہ خلود سے مراد اس آیت میں بہت طویل عذاب ہو نہ کہ ہمیشہ کا عذاب۔
یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہو سکتا ہے کہ اصولی طور پر کیا قتل عمد قابلِ توبہ ہے؟ بعض مفسرین اس سوال کا جواب نفی میں دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قتل عمد درج بالا آیت کے مطابق بنیادی طور پر قابلِ توجہ نہیں ہے اور چند ایک روایات میں بھی جو آیت کے ذیل میں آئی ہے اس معنی کی طرف اشارہ موجود ہے کہ "لا توبة لہ" (اس کی کوئی توبہ نہیں) لیکن تعلیمات اسلام کی روح اور عظیم ہادیانِ حق کی روایات اور توبہ کے فلسفہ (جو تربیت کی بنیاد اور آیندہ کی زندگی میں گناہ سے محفوظ رہنا ہے) سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی گناہ ایسا نہیں جو قابلِ توبہ نہ ہو۔ اگرچہ گناہوں سے توبہ کی بہت سخت اور سنگین شرائط ہیں۔ قرآن مجید کہتا ہے:
ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ و یغفر ما دون ذٰلک لمن یشاء (نساء: ۴۸)
خدا صرف شرک کے گناہ کو نہیں بخشتا لیکن اس کے علاوہ جس کے لئے چاہتا اور مصلحت سمجھتا ہے، اسے بخش دیتا ہے۔
یہاں تک کہ اس آیت کے ذیل میں پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ یہ آیت شفاعت اور گناہوں سے بخشش کے متعلق ہے ورنہ تو شرک کا گناہ بھی توبہ کرنے اور توحید و اسلام کی طرف پلٹ آنے سے قابلِ بخشش ہے جیسا کہ صدر اسلام کے اکثر مسلمان ابتدا میں مشرک تھے اور پھر انھوں نے توبہ کی اور خدا نے ان کے گناہوں کو بخش دیا۔ اس وجہ سے صرف شرک ایسا گناہ ہے کہ جو توبہ کئے بغیر بخشا نہیں جا سکتا۔ لیکن توبہ کرنے سے تمام گناہ یہاں تک کہ شرک بھی قابلِ بخشش ہے جیسا کہ سورہ زمر کی آیہ ۵۳ اور ۵۴ میں ہے:
ان اللّہ یغفر الذنوب جمیعاً انہ ھو الغفور الرحیم و انیبوا الیٰ ربکم و اسلموا لہ۔
خدا تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے کیونکہ وہ بخشنے والا اور مہربان ہے خدا کی طرف پلٹ آوٴ اور توبہ کر لو اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر لو۔
بعض مفسرین نے جو یہ کہا ہے کہ توبہ کے سایہ میں تمام گناہوں کی بخشش سے متعلق آیات، اصطلاح کے مطابق جو آیات عام تخصیص کے زمرے میں آئی ہیں، صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ ان آیات کی زبان جو کہ گناہ گاروں کو جہاں مناعی کرتی ہیں اور مختلف تاکیدات کے ساتھ ہیں۔ قابل تخصیص نہیں ہے اور اصطلاح کے مطابق تخصیص سے انکار نہیں کرتی ہیں۔ علاوہ ازیں اگر واقعاً وہ شخص جس سے قتل عمد سر زد ہوا ہے مکمل طور پر ہمیشہ کے لئے خدا کی بخشش سے مایوس ہو جائے (یہاں تک کہ اپنے برے عمل کی بار بار معافی مانگے اور بہت سے نیک اعمال سے برائی کی تلافی بھی کرے) پھر بھی ہمیشہ کی لعنت اور عذاب میں مبتلا رہے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ وہ اپنی باقی ماندہ عمر میں خدا کی عبادت زیادہ کرے، برے اعمال سے توبہ کرے اور یہاں تک کہ انسانوں کے بار بار قتل سے توبہ کرے۔ یہ امر جو تعلیمات انبیاء کی روح کے منافی ہے کیونکہ وہ تو نوع بشر کی ہر مرحلہ میں تربیت کے لئے آئے ہیں تاریخ اسلام میں ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نے خطرناک قسم کے گناہ گاروں مثلاً حمزہ بن عبدالمطلب کے وحشی قاتل تک کو معاف کر دیا اور اور اس کی توبہ قبول کر لی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ شرک اور ایمان کی مختلف حالتوں میں قتل اتنا مختلف سمجھا جائے کہ ایک حالت میں تو بخشا جائے اور دوسری حالت میں قابل بخشش نہ ہو۔ اصولی طور پر جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ ہم کسی گناہ کو شرک سے بڑھ کر نہیں سمجھتے اور ہم جاتنے ہیں کہ یہ گناہ بھی توبہ اور قبول اسلام سے بخشا جا سکتا ہے۔ اب کس طرح باور کر سکتے ہیں کہ قتل گناہ حقیقی توبہ کے ذریعے بھی قابل بخشش نہ ہو۔
ہم نے جو اوپر کہا ہے اس سے کوئی اشتباہ نہ ہو اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ قتل عمد معمولی اور کم اہمیت کا حامل ہے یا اس سے توبہ بہت آسان ہے بلکہ اس کے برعکس اس گناہ سے حقیقی توبہ بہت ہی مشکل ہے اور یہ اس عمل کی تلافی کی محتاج ہے اور یہ تلافی کوئی آسان کام نہیں ہے۔ (تشریحی نوٹ: روایات میں بےگناہ صاحب ایمان افراد کے قتل کی اہمیت کے بارے میں ایسی تعبیرات بیان ہوئی ہیں جو انسان کو جھنجوڑ دیتی ہیں ایک حدیث میں پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہوا ہے کہ آپؐ نے فرمایا:
"لزوال الدنیا اھون علی اللہ من قتل امرء مسلم"
"دنیا کا زوال اور ختم ہو جانا خدا کے ہاں ایک مرد مسلمان کے قتل ہونے سے کمتر ہے" نیز فرماتے ہیں :
"لو ان رجلا قتل بالمشرق و آخر رضی بالمغرب لشرک فی دمہ"
اگر ایک شخص مشرق میں قتل ہو جائے اور دوسرا مغرب میں ہو اور اس راضی ہو تو وہ اس کے خون میں شریک ہے" (المنارج ۵ ص ۲۶۱)
قتل کی اقسام
فقہی کتب میں فقہانے قصاص و دیت کے باب میں اسلامی روایات سے استفادہ کرتے ہوئے قتل کو تین قسموں میں تقسیم کیا ہے:۔ "قتل عمد" "قتل شبیہ عمد" "اور قتل اشتباہ"۔
قتل عمد
یہ قتل وہ ہوتا ہے جس میں پہلے سے پختہ ارادہ اور ذرائع قتل کو بروئے کار لایا جاتا ہے (مثلاً کوئی شخص کسی کو قتل کرنے کے ارادے سے کسی ہتھیار، لکڑی، پتھریا ہاتھ سے کام لے)۔
قتل شبیہ عمد
یہ وہ قتل ہے جس میں قتل کا ارادہ نہ ہو لیکن مقتول کے خلاف ایسے اقدام کے لئے جائیں کہ بےخبری میں نوبت اس کے قتل تک پہنچ جائے۔ مثلاً کسی کو قتل کے ارادے سے مار پیٹا جائے مگر یہ مارپیٹ اتفاقاً اس کے قتل کا سبب بن جائے۔
قتل اشتباہ
یہ وہ قتل ہے جس میں قتل کا ارادہ شامل نہ ہو مقتول کے خلاف کوئی اقدام کرنے کا ارادہ ہو بلکہ یہ ایسا قتل ہے جیسے ارادہ کسی جانور کو شکار کرنے کا ہو مگر غلطی سے تیر انسان کو جالگے اور وہ قتل ہو جائے۔ ان میں سے ہر قسم کے تفصیلی احکام ہیں جو مکتبِ فقہ میں موجود ہیں۔
اے ایمان لانے والو! جس وقت تم راہ خدا میں قدم اٹھاتے ہو (اور جہاد کے لیے آمادہ سفر ہوتے ہو) تو تحقیق کرو اور اس شخص کو جو صلح اور اسلام کا اظہار کرتا ہے اسے (فقط اس بنا پر) یہ نہ کہو کہ تو مسلمان (مومن) نہیں کہ دنیائے نا پائیدار کا سرمایہ (اور مال غنیمت) حاصل کر سکو۔ کیونکہ خدا کے ہاں (تمہارے لیے) بڑی بڑی غنیمتیں موجود ہیں تم پہلے ایسے ہی تھے اور خد انے تم پر احسان کیا( اور تمہاری ہدایت کی) اس بنا پر (اس عظیم شکرانے کے طور پر) تحقیق کرو ،جو کچھ تم عمل کرتے ہو خدا اس سے آ گاہ ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
درج بالا آیت کے بارے میں کئی ایک شانِ نزول اسلامی روایات اور تفاسیر میں آئی ہیں جو کم و بیش ایک دوسرے سے مماثلت رکھتی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نے جنگِ خیبر سے واپسی کے بعد اسامہ بن زید کو مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ ان یہودیوں کی طرف بھیجا جو فدک کی ایک بستی میں رہتے تھے تاکہ انھیں اسلام یا شرائط ذمہ قبول کرنے کی دعوت دی جائے۔ ایک یہودی مرد جسے لشکر اسلام کے آنے کی خبر ہوئی تو اس نے اپنے مال اور اولاد کے ساتھ ایک پہاڑ کے دامن میں پناہ لی۔ پھر خود مسلمانوں کے استقبال کے لئے دوڑ آیا۔ اسامہ بن زید نے سوچا کہ یہ یہودی جان اور مال کے خوف سے قبول اسلام کر رہا ہے اور دلی طور پر مسلمان نہیں اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا اور اس کا مال اسباب (بھیڑ بکریوں) پر بطور غنیمت قبضہ کر لیا۔ جب یہ خبر پیغمبر کو ملی تو آپ اس واقعہ پر نہایت برہم اور رنجیدہ ہوئے اور فرمایا تو نے ایک مسلمان کو قتل کر دیا اسامہ پریشان ہو کر کہنے لگا اس شخص نے جان و مال کی حفاظت کے لئے قبول اسلام کیا تھا پیغمبر نے کہا تم اس کے باطن سے آگاہ نہیں تھے تمہیں کیا معلوم شاید وہ حقیقی طور پر مسلمان ہوا ہو تو اس موقع پر اوپر والی آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو تنبیہ کی کہ جنگی غنائم کی وجہ سے کبھی ایسے لوگوں کو مت جھٹلاوٴ جو قبولِ اسلام کرتے ہیں بلکہ جو شخص بھی قبولِ اسلام کرے اس کی بات کو مان لینا چاہئیے۔
تفسیر
گذشتہ آیات میں بےگناہ افراد کی جان کی حفاظت کے سلسلہ میں ضروری تاکیدات ہو چکیں اب اس آیت میں ان بے گناہ افراد کی جان کی حفاظت کے لئے ایک احتیاطی حکم جو ممکن ہے تہمت کی زد میں آ جائیں بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: اے ایمان لانے والو! جس وقت جہاد کی راہ میں قدم اٹھاوٴ تو تحقیق اور جستجو کر لو اور ایسے لوگوں کو جو قبول اسلام کریں نہ کہو کہ تم مسلمان نہیں ہو (یا اَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا إِذا ضَرَبْتُمْ فی سَبیلِ اللَّہِ فَتَبَیَّنُوا وَ لا تَقُولُوا لِمَنْ اَلْقی إِلَیْکُمُ السَّلامَ لَسْتَ مُؤْمِناً)۔
اور حکم دیتا ہے کہ جو لوگ ایمان کا اقرار کرتے ہیں انھیں خندہ پیشانی سے قبول کر لو اور ان کے قبول اسلام کے بارے میں ہر قسم کی بدگمانی اور سوءِ ظن سے صرف نظر کر لو اس کے بعد مزید کہتا ہے: کہیں ایسا نہ ہو کہ جہانِ ناپائیدار کی ان نعمتوں کے لئے قبول اسلام کرنے والوں کو تہمت دو اور انھیں ایک دشمن سمجھ کر قتل کر دو اور ان کا مال و اسباب بطور غنیمت لے لو (تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَیاةِ الدُّنْیا)
(تشریحی نوٹ: "عرض" (بر وزن مرض) کا معنی ہے ایسی چیز جو ثبات اور پائیداری نہ رکھتی ہو۔ اس بنا پر عوض الحیوة الدنیا کا معنی ہے دنیاوی زندگی کا سرمایہ جو بغیر استثناء کے سب ناپائیدار ہے)۔
جبکہ ہمیشہ رہنے والی گراں بہا غنیمتیں تو خداکے پاس ہیں (فَعِنْدَ اللَّہِ مَغانِمُ کَثیرَةٌ) اگر پہلے تم ایسے ہی تھے اور زمانہٴ جاہلیت میں تمہاری جنگیں غارت گری کی بنا پر ہوتی تھیں (کَذلِکَ کُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ)۔ (تشریحی نوٹ: اس جملہ کی تفسیر میں ایک اور احتمال بھی بتایا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ تم خود بھی اسلام لانے کی ابتدا میں یہی کیفیت رکھتے تھے یعنی زبان سے اسلام کی حقانیت کی گواہی دیتے تھے اور وہ تم سے قبول کرلی گئی جبکہ تمہارے دل میں چھپی ہوئی بات کسی پر واضح نہیں تھی)۔ لیکن اب اسلام کے سائے میں اور اس احسان کی وجہ سے جو خدا نے تم پر کیا ہے، اس کیفیت سے نجات پا چکے ہو اس بنا پر اس عظیم نعمت کے شکرانے کے طور پر تمہارے لئے لازم ہے کہ تمام امور میں تحقیق کرو(فَمَنَّ اللَّہُ عَلَیْکُمْ فَتَبَیَّنُوا) اور یہ بات جان لو کہ خدا تمہارے اعمال اور نیتوں سے آگاہ ہے (إِنَّ اللَّہَ کانَ بِما تَعْمَلُونَ خَبیراً)۔
اسلامی جہاد مادی پہلو نہیں رکھتا
درج بالا آیت میں بڑے واضح طور پر یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ کسی مسلمان کو نہیں چاہئیے کہ وہ مادی مفاد حاصل کرنے کے لئے میدانِ جہاد میں قدم رکھے اس لئے اسے کہا گیا ہے کہ دشمن کی طرف سے پہلی مرتبہ ہی اظہار ایمان کو مان لے اور اس کی صلح کی پیش رفت کا جواب دے، چاہے کتنی ہی مادی نعمتوں سے محروم ہونا پڑے۔ کیونکہ اسلامی جہاد کا مقصد توسع پسندی اور مالِ غنیمت جمع کرنا نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد اور ہدف نوعِ انسانی کو انسانوں کی غلامی اور زور و زر کے خداوٴں کی بندگی سے نجات دلانا ہے۔ اور جس وقت امید کی یہ راہ نظر آئے تو فوراً اپنا لینی چاہیئے مندر جہ بالا آیت میں آیا ہے: تم بھی ایک دن اسی طرح پست افکار رکھتے تھے اور مادی فوائد کے لئے لوگوں کا خون بہاتے تھے لیکن آج وہ صورتِ حال بالکل بدل چکی ہے۔
علاوہ ازیں تم خود دائرہ اسلام میں داخل ہوتے وقت سوائے اظہار ایمان کے کیا کرتے تھے اس قانون سے دوسروں کے بارے میں کیوں اجتناب کرتے ہوجس سے تم خود مستفید ہوتے رہے ہو۔
ایک سوال اور اس کا جواب
اس آیت کے مضمون پر توجہ کرتے ہوئے ہو سکتا ہے یہ اعتراض پیدا ہو گیا ہو کہ اسلام لوگوں کو اس دین سے وابستہ ہونے کے ظاہری دعووٴں کو قبول کر کے اسلامی ماحول میں "منافقین" کے داخل ہونے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ اس لائحہ عمل سے ممکن ہے بہت سے لوگ غلط فائدہ اٹھائیں اور اسلام کی آڑ میں جاسوسی اور غیر اسلامی اعمال و افعال کے مرتکب ہوں۔
شاید دنیا میں کوئی ایسا قانون نہ ہو جس میں غلط فائدہ اٹھانے والوں کے لئے گنجائش نہ ہو۔ اہم بات یہ ہے کہ قانون کو واضح مصلحتوں کا حامل ہونا چاہئیے اب اگر اس بنا پر کہا جائیے کہ قبولِ اسلام کرنے والے کی جب تک دلی کیفیت کا پتہ نہ لگایا جائے اس کے دعوے کو قبول نہ کیا جائے تو اس سے بہت سے مفاسد پیدا ہو جائیں گے جن کا نقصان کہیں زیادہ ہے اور انسانی فطرت و عواطف کے اصول نیست و نابود ہو جائیں گے کیونکہ جو شخص کسی دوسرے سے کوئی گلہ اور شکایت، کینہ اور حسد رکھتا ہو، وہ اسے تہمت لگا سکتا ہے کہ اس کا اسلام دکھاوے کا ہے اور اس کے دل کی گہرائیوں سے ہم آہنگ نہیں اس طرح بہت سے بےگناہ قتل کردئے جائیں گے اس کے علاوہ ہر دین اور مذہب کی طرف مائل اور راغب ہونے کی ابتدا میں ایسے افراد بھی موجود ہوتے ہیں جو بھول پن میں، رکھ رکھاوٴ کے لئے اور ظاہرہی طو ر پر مائل ہوتے ہیں لیکن وقت کے گذرنے کے ساتھ ساتھ اور اس دین سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ان کے ایمان محکم اور مضبوط ہو جاتے ہیں اور ایمان کی جڑیں ان کے دلوں میں راسخ ہو جاتی ہیں اس وجہ سے ایسے لوگوں کو دھتکارا نہیں جا سکتا۔
وہ صاحب ایمان جو بغیر بیماری اور تکلیف کے جہاد سے دستبردار ہو گئے اور وہ مجاہد جنہوں نے اپنے مال اور جان کے ذریعے جہاد میں حصہ لیا برابر نہیں ہیں۔ خدا نے ان مجاہدین کو جنہوں نے اپنی جان اور مال سے جہاد کیا ہے بیٹھ رہنے والوں پر فضیلت اور برتری دی ہے ان دونوں گروہوں میں سے ایک کو (ان کے نیک اعمال پر) خدا نیک جزا کا وعدہ کرتا ہے اور مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر فضیلت اور اجر عظیم بخشتا ہے۔
خدا کی طرف سے (اہم) درجات اور بخشش و رحمت (انہیں نصیب ہو گی) اور (اگر ان سے کچھ لغزشیں ہوئی ہیں ) تو خدا بخشنے والاا ور مہربان ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ آیات میں جہاد کے متعلق گفتگو ہوئی تھی یہ دو آیات مجاہدین اور غیر مجاہدین کا تقابل اور موازنہ کرتی ہیں۔ خدا کہتا ہے: وہ ایمان کہ جو میدان جہاد میں شرکت کرنے سے اجتناب کرتے ہیں جبکہ انہیں اسی خاص بیماری بھی لاحق نہیں کہ جو انہیں میدان جہاد میں شرکت کرنے سے مانع ہو کبھی ان مجاہدین کے ہم پلہ اور برابر نہیں ہو سکتے جو راہ خدا میں اور اعلائے کلمہ حق کے لئے اپنی جان و مال سے جہاد کرتے ہیں (لا یَسْتَوِی الْقاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنینَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجاہِدُونَ فی سَبیلِ اللَّہِ بِاَمْوالِہِمْ وَ اَنْفُسِہِمْ)۔
واضح ہے کہ ”قاعدون“ سے مراد یہاں وہ افراد ہیں جنھوں نے اصولِ ایمان پر ایمان رکھنے کے باوجود ہمت اور جوانمردی نہ دکھانے کی وجہ سے جہاد میں شرکت نہیں کی۔ اگرچہ ان کے لئے یہ جہاد واجب عینی نہیں تھا کیونکہ اگر ان کے لئے واجب ہوتا تو قرآن ان کے بارے میں ایسے نرم اور ملائم لہجے میں بات نہ کرتا اور آیت کے آخر میں ان سے بدلے اور جزا کا وعدہ نہ کرتا اس وجہ سے جب یہ صورتحال ہو کہ جہاد واجب عینی نہ ہو ”مجاہدین“ "قاعدین“ کے مقابلے میں واضح طور پر برتر ہیں بہرحال اس آیت میں وہ لوگ شامل نہیں ہیں جو نفاق یا دشمنی کی وجہ سے جہاد میں شریک نہیں ہوئے۔
ضمنی طور پر یہ خیال رکھنا چاہیئے کہ ”غیر اولی الضرر“ کی تعبیر ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے، جو ان تمام افراد کو (جہاد سے) مستثنیٰ قرار دیتی ہے جوکسی عضو کے نقص، بیماری یا بہت زیادہ کمزوروی اور ضعف وغیرہ کے سبب جہاد میں شرکت کی سکت نہیں رکھتے اس کے بعد پھر مجاہدین کی برتری اور فضیلت کو صراحت اور فصاحت کے ساتھ بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
خدا ان مجاہدین کو جو جان و مال سے اس کی راہ میں جنگ کرتے ہیں، ان لوگوں پر عظیم فضیلت بخشتا ہے جو میدان جہاد میں شرکت سے اجتناب اور کنارہ کشی کرتے ہیں (فَضَّلَ اللَّہُ الْمُجاہِدینَ بِاَمْوالِہِمْ وَ اَنْفُسِہِمْ عَلَی الْقاعِدینَ دَرَجَةً)۔ (تشریحی نوٹ: درجہ کا لفظ بطور نکرہ آیا ہے جیسا کہ کتب ادب میں ہے کہ ایسے موقع پر نکرہ وظمت و اہمیت ظاہر کرنے کے لئے ہوتا ہے گویا اس قدر انکا درجہ بلند ہے جو مکمل طور پر پہچانا نہیں جاتا اور یہ اس طرح ہے کہ جب کسی چیز کی بہت زیادہ قدر و قیمت بیان کرنی ہو تو کہا جاتا ہے کہ اس کی قیمت کوئی نہیں جانتا)۔
لیکن باوجود اس کے جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ مجاہدین کے گروہ کے مدمقابل وہ افراد ہیں جن پر جہاد ”واجب عینی“ نہیں تھا۔ یا وہ بیماری، ناتوانی یا دیگر علل کی وجوہ سے میدان جہاد میں شرکت کی سکت نہیں رکھتے تھے۔ لہٰذا اس وجہ سے کہ ان کی صالح نیت ایمان اور نیک اعمال نظرانداز نہ ہوں انہیں بھی خوشخبری دیتے ہوئے فرماتا ہے: دونوں گروہوں (مجاہدین و غیر مجاہدین) سے اچھائی کا وعدہ کیا گیا ہے (وَ کُلاًّ وَعَدَ اللَّہُ الْحُسْنی) لیکن واضح ہے کہ وہ اچھائی کا وعدہ دونوں سے کیا گیا ہے اس میں بہت زیادہ فرق ہے حقیقت میں قرآن اس بیان کے ذریعے نشاندہی کرتا ہے کہ ہر نیک کام کا حصہ اپنی جگہ پر محفوظ ہے اور بھولنے والا نہیں۔ خصوصاً جبکہ بحث جہاد سے کنارہ کش ہونے والے ایسے افراد کے متعلق ہے جو جہاد میں شرکت کرنا چاہتے ہیں اور اسے ایک بہت بڑی سعادت اور مقصد سمجھتے تھے لیکن چونکہ یہ واجب عینی نہ تھا اس بنا پر وہ ایک بڑی سعادت سے محروم رہ گئے اس کے باوجود وہ جتنا لگاوٴ اس کام (جہاد) سے رکھتے ہیں اس قدر جزا پائیں گے اس طرح (اولی الضرر) افراد بھی جو (بیماری یا کسی عضو کے ناقص ہونے کی وجہ سے میدانِ جہاد میں شریک نہیں ہوئے) مکمل طور پر اس سے لگاوٴ رکھتے تھے وہ بھی مجاہدین کی جزا اور بدلے میں سے قابلِ ذکر حصہ پائیں گے۔ جیسا کہ پیغمبر اکرمؐ سے ایک حدیث میں منقول ہے کہ آپؐ نے لشکر اسلام سے فرمایا:
لقد خلفتم فی المدینة اقواماً ماسرتم سیراً ولاقطعتم وادیاً الاکانوا معکم و ھم الذین صحت نیانھم و نصحت جیوھم وھوت افئدتھم الیٰ الجہادو قد منعھم عن المسیر ضرر اوغیرہ
مدینہ میں تم کچھ لوگوں کو اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہو کہ جو اس راہ میں قدم قدم پر تمہارے ساتھ تھے (اور خدائی اجر اور صلے میں شریک تھے) وہ ایسے لوگ ہیں جن کی نیت پاک ہے اور وہ بہت زیادہ خیر خواہی کرنے والے ہیں اور ان کے دل جہاد کے مشتاق تھے مگر کچھ مجبوریوں مثلاً بیماری اور نقص وغیرہ نے انھیں اس کام سے روک دیا ہے۔ (بحوالہ تفسیر صافی، زیر نظر آیت کے ذیل میں)۔
لیکن چونکہ اسلام میں جہاد کی اہمیت اس سے بھی کہیں زیادہ ہے لہٰذا دوبارہ مجاہدین کا ذکر کرتے ہوئے تاکید کرتا ہے:
خدا نے مجاہدین کو قاعدین پر اجر عظیم بخشا ہے (وَ فَضَّلَ اللَّہُ الْمُجاہِدینَ عَلَی الْقاعِدینَ اَجْراً عَظیماً)۔ بعد ازاں آیت میں ”اجر عظیم“ کی وضاحت کی گئی ہے کہ جو خدا کی طرف سے اہم درجات اور اس کی بخشش و رحمت ہے (دَرَجاتٍ مِنْہُ وَ مَغْفِرَةً وَ رَحْمَةً) اور اگر اس دوران میں کچھ افراد فرائض کی انجام دہی کرتے ہوئے کچھ لغزشوں کے مرتکب ہوتے ہیں اور اپنے کئے پرپشمان ہیں تو خدا نے ان سے بھی بخشش و نجات کا وعدہ کیا ہے۔ لہٰذا آیت کے آخر میں فرماتا ہے (وَ کانَ اللَّہُ غَفُوراً رَحیماً)۔
چند اہم نکات
بلاغت کا ایک پہلو
۱۔ اوپر والی آیت میں تین مرتبہ مجاہدین کا نام آیا ہے پہلی دفعہ مجاہدین کا ذکر ہدف و مقصد اور وسیلہ و ذریعہ کے ساتھ ہوا ہے (المجاہدین فی سبیل اللہ باموالھم) اور دوسری دفعہ صرف وسیلہ جہاد کا ذکر ہوا ہے لیکن ہدف و مقصد کا تذکرہ نہیں ہے (المجاہدین ماموالھم و انفسھم) اور تیسرے مرحلے میں صرف مجاہدین کا نام آیتا ہے (المجاہدین) اور یہ بلاغت کلام کا ایک واضح نکتہ ہے کہ جب سننے والا مرحلہ بہ مرحلہ موضوع سے زیادہ آشنا ہوتا چلا جاتا ہے تو اس کی قیود او رمشخصات کو کم کرتے چلے جاتے ہیں اور آشنائی و شناسائی کا معاملہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ صرف ایک اشارے ہی سے تمام چیزیں معلوم ہو جاتی ہیں۔
"درجة" اور "درجات"
۲۔ آیت میں پہلے تو مجاہدین کی قاعدین پر فضیلت و برتری کے لئے لفظ ”درجة“ اور استعمال کیا گیا ہے جبکہ دوسری آیت میں جمع کی صورت میں لفظ ”درجات“ استعمال ہوا ہے ظاہراً ان دو تعبیروں میں کوئی اختلاف نہیں ہے کیونکہ پہلی تعبیر میں مجاہدین کے مقصد کی اپنے غیر پر اصل فضیلت کا تذکرہ ہے لیکن دوسری طرف تعبیر میں اس برتری کی تفصیل بیان کی گئی ہے اس لئے رحمت و مغفرت کا ذکر بھی ساتھ ہے۔ دوسرے الفاظ میں ان دونوں میں اجمال اور تفصیل والا فرق ہے ضمنی طور پر ”درجات“ کی تعبیر سے یہ معنی بھی لیا جا سکتا ہے کہ سب مجاہدین ایک درجہ اور پایہ کے نہیں ہیں اور ان کے خلوص، جانثاری اور تکالیف برداشت کرنے کے لحاظ سے ان کے معنوی اور دنیاوی مقامات بھی مختلف ہیں کیونکہ یہ بات تو طے ہے کہ تمام مجاہدین جو ایک ہی صف میں دشمن کے مقابل کھڑے ہوتے ہیں نہ وہ ایک جتنا جہاد کرتے ہیں اور نہ ہی ایک جیسا خلوص رکھتے ہیں۔ اسی بنا پر ہر ایک اپنے عمل اور نیت کی مناسبت سے جزا اور صلہ پائے گا۔
جہاد کی انتہائی تاکید
جہاد عالم آب و گل کا ایک عمومی قانون ہے اور دنیا میں جو بھی چیز ہے چاہے وہ نباتات میں سے ہو یا حیوانات میں سے۔ جہاد کے ذریعہ اپنا راستہ صاف کرتی ہے تاکہ اپنے مطلوبہ کمالات تک پہنچ جائے مثلاً ہم درخت کی جڑیں دیکھیں تو وہ قوت اور غذا حاصل کرنے کے لئے ہر قوت فعال اور متحرک رہتی ہیں اگر وہ یہ فعالیت اور سعی چھوڑ دیں تو ان کے لئے زندہ رہنا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زمین میں اگر انہیں رکاوٹیں درپیش ہوں تو اگر ان میں اتنی طاقت ہو تو وہ ان میں سوراخ کر کے آگے بڑھ جاتی ہیں تعجب اس بات پر ہے کہ یہ لطیف اور نازک جڑین بعض اوقات فولادی اوزاروں کی طرح اپنے راستے میں آنے والی رکاوٹوں سے ٹکرا جاتی ہیں اور اگر یہ جڑیں کمزور ہوں تو بھی راستہ بدل کر رکاوٹ عبور کر لیتی ہیں۔
اگر ہم اپنے جسم کو دیکھیں تو اس کے اندر بھی رات دن بلکہ سوتے جاگتے ایک عجیب و غریب قسم کی جنگ جاری رہتی ہے یہ جنگ ہمارے خون کے سفید جرثوموں اور حملہ آور دشمن کے درمیان جاری رہتی ہے اگر ایک لمحے کے لئے بھی یہ جنگ رک جائے اور جسم کی حفاظت کرنے والے یہ محافظ جنگ سے دستبردار ہو جائیں تو طرح طرح کے موذی امراض ہمارے جسم کو گھیر لیں اور ہماری سلامتی کو خطرہ لاحق ہو جائے۔
بالکل یہی صورت انسانی معاشروں، قوموں اور ملتوں کی ہے وہ لوگ جو ہمیشہ جہاد اور نگہبانی کی حالت میں رہتے ہیں ہمیشہ زندہ اور کامران رہتے ہیں اور وہ لوگ جو سوچتے ہیں کہ عیش و عشرت میں وقت گذارا جائے اور جو انفراد سطح پر زندہ رہنا چاہتے ہیں وہ جلد یا بدیر مٹ جاتے ہیں اور ان کی جگہ زندہ اور مجاہد قوم لے لیتی ہے یہی وجہ ہے کہ رسول خداؐ فرماتے ہیں:
فمن ترک الجہاد البسہ ذلا و فقرا فی معیشة و محقاً فی دینہ انّ اللہ اعزّ اُمّتی بسنابک خیلھا و مراکز رماحھا۔ (بحوالہ: وسائل کتاب جہاد ابواب جہاد العددویناسبہ باب یکم حدیث۲، ۱۶)
”جو شخص جہاد کو ترک کر دیتا ہے خدا اسے ذلت کا لباس پہنا دیتا ہے اور فقر و فاقہ اس کی زندگی پر اور تاریکی و سیاہی اس کے دین پر منحوس سائے کی طرف چھا جاتی ہے۔ خداوند عالم میری امت کو گھوڑوں کے سموں کے ذریعے جو جہاد میں آگے جاتے ہیں اور نیزوں کی انیوں کے وسیلے سے عزت بخشتا ہے۔“
رسول خداؐ ایک اور موقع پر فرما تے ہیں:
اغزوا تورثوا ابنآء کم مجداً۔ (بحوالہ وسائل کتاب جہاد ابواب جہاد العددویناسبہ باب یکم حدیث ۲، ۱۶)
”جہاد کرو تاکہ عظمت اپنی اولاد کو ورثے میں دے جاوٴ“۔
حضرت علی امیر المومنین (علیه السلام) خطبہ جہاد میں اس طرح فرماتے ہیں:
فان الجھاد باب من ابواب الجنة فتحہ اللہ لخاصة اولیائہ وھو لباس التقوی و درع اللّہ الحصینة و جنة الوثیقہ فمن ترکہ رغبة عنہ البسہ اللہ ثوب الذل و شملۃ البلاء و دیث الصغار و القماءة (بحوالہ: نہج البلاغة خطبہ ۲۷)۔)
”جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جسے خدا نے اپنے مخصوص دوستوں کے لئے کھول رکھا ہے، جہاد تقویٰ کا پر فضیلت لباس ہے، جہاد خدا کی ناقابل شکست زرہ ہے، جہاد پروردگار عالم کی سپر اور ڈھال ہے، جو شخص جہاد کو ترک کر دیتا ہے خدا اس کے جسم پر ذلت اور مصیبت کا لباس پہنا دیتا ہے اور اسے لوگوں کی نگاہ میں ذلیل و خوار کر دیتا ہے“۔
اس کے علاوہ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جہاد صرف مسلح جنگ و جدال کا نام نہیں بلکہ جہاد میں ہر وہ کوشش اور شامل ہے جو خدائی مقدس اہداف و مقاصد کے حصول میں مددگار ثابت ہو۔ جہاد کا مفہوم دفاعی اور مسلح جنگوں کے علاوہ علمی، منطقی، اقتصادی اور سیاسی مقابلوں پر بھی محیط ہے۔
وہ لوگ کہ جن کی روح (قابض ارواح) فرشتوں نے قبض کی جب کہ وہ اپنے اوپر ظلم کر چکے تھے اور ان سے کہا کہ تم کس حالت میں تھے (اور مسلمان ہونے کے باوجود کفار کی صف میں کیوں جا کھڑے ہوئے) تو انہوں نے کہا کہ ہم اپنی سر زمین پر انتشار اور دباؤ میں تھے تو ان (فرشتوں ) نے کہا تو کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم ہجرت کر جاتے پس ان (کے پاس کوئی عذرومعذرت نہیں تھی اور ان) کے رہنے کی جگہ جہنم ہے اور ان کا انجام برا ہے۔
ممکن ہے خدا انہیں عفو کے قابل قرار دے اور خدا معاف کرنیو الا اور بخشنے والا ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
جنگ بدر کی ابتدا سے قبل سرداران قریش نے یہ خطرناک اعلان کیا تھا کہ مکہ کے تمام رہنے والے جو میدان جنگ میں شرکت کرنا چاہتے ہیں، مسلمانوں سے جنگ کرنے لئے نکل کھڑے ہوں اور جو اس کام کی مخالفت کرے گا اس کا گھر ویران کر دیا جائے گا اور اس کا مال ضبط کر لیا جائے گا اس دھمکی کے بعد کچھ افراد جو بظاہر ایمان لا چکے تھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ انھیں گھر اور مال و متاع انتہائی عزیز تھا وہ ہجرت کے لئے تیار نہ ہوئے اور بت پرستوں کے ساتھ میدان جنگ کی طرف چل پڑے میدان جنگ میں انھوں نے مشرکین کا ساتھ دیا وہ مسلمانوں کی کم تعداد کو دیکھ کر شک و شبے میں مبتلا ہو گئے اور آخر کار میدانِ جنگ میں قتل ہو گئے درج بالا آیت اسی ضمن میں نازل ہوئی جس میں ان کا عبرت ناک انجام بیان کیا گیا ہے۔
تفسیر
جہاد سے متعلق مباحث کے بعد ان آیات میں ایسے لوگوں کے عبرت ناک انجام کی طرف اشارہ کیا گیا جو اسلام کا دم بھر تے تھے لیکن انھوں نے اسلام کے اہم لائحہ عمل یعنی ”ہجرت“ کو حملاً نظر انداز کئے رکھا جس کے نتیجے میں وہ خطرناک وادیوں میں پہنچ گئے اور مشرکین کی صفوں میں شامل ہو کر انھوں نے جانیں گنوا دیں قرآن کہتا ہے: وہ لوگ کہ (قبض روح کرنے والے) فرشتوں نے جن کی روح اس حالت میں قبض کی کہ جب انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کر رکھا تھا انھوں نے ان سے پوچھا کہ اگر تم لوگ مسلمان تھے تو پھر کفار کی صفوں میں شامل ہو کر تم نے مسلمانوں سے کیوں جنگ کی (إِنَّ الَّذینَ تَوَفَّاہُمُ الْمَلائِکَةُ ظالِمی اَنْفُسِہِمْ قالُوا فیمَ کُنْتُمْ)۔
وہ جواب میں معذرت خواہی سے کہتے ہیں: ہم اپنے ماحول میں جبر اور دباوٴ میں تھے اس لئے ہم فرمان الہٰی پر عمل کی طاقت نہیں رکھتے تھے (قالُوا کُنَّا مُسْتَضْعَفینَ فِی الْاَرْضِ)۔ لیکن ان کی یہ معذرت قابلِ قبول نہ ہو گی اور فوراً وہ خدا کے فرشتوں سے یہ جواب سنیں گے کہ کیا پروردگار کی زمین وسیع و عریض نہ تھی کہ تم ہجرت کرتے اور اپنے آپ کو اس آلودہ اور گھٹے ہوئے ماحول سے نکال کر لے جاتے(قالُوا اَ لَمْ تَکُنْ اَرْضُ اللَّہِ واسِعَةً فَتُہاجِرُوا فیہا)
آخر میں اس کے انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: اس قسم کے لوگ جنھوں نے بیکار عذر داری اور ذاتی مصلحت اندیشوں کے سبب ہجرت نیہں کی اور انھوں نے اس گھٹے ہوئے ماحول میں زندگی گذارنے کو ترجیح دی ہے ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت برا انجام ہے (فَاُولئِکَ مَاْواہُمْ جَہَنَّمُ وَ سائَتْ مَصیراً)۔
بعد والی آیت میں مستضعفین، حقیقی کمزور اور عاجز افراد (نہ کہ جھوٹے مستضعفین) کے استثناء کے ساتھ فرماتا ہے: وہ مرد عورتیں اور بچے جو اس گھٹن زدہ ماحول سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں پاتے وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں کیونکہ یہ لوگ حقیقتاً معذور ہیں اور یہ ممکن نہیں کہ خدا ناقابل حمل ذمہ داری لاگو کر دے (إِلاَّ الْمُسْتَضْعَفینَ مِنَ الرِّجالِ وَ النِّساءِ وَ الْوِلْدانِ لا یَسْتَطیعُونَ حیلَةً وَ لا یَہْتَدُونَ سَبیلاً)۔
آخری آیت میں فرماتا ہے: ہو سکتا ہے عفو خداوندی ان کے شامل حال ہو اور خدا ہمیشہ سے معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے (فَاُولئِکَ عَسَی اللَّہُ اَنْ یَعْفُوَ عَنْہُمْ وَ کانَ اللَّہُ عَفُوًّا غَفُوراً)۔
یہ بھی سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اگر یہ افراد حقیقتاً معذور ہیں تو پھر کیوں نہیں فرماتا کہ خدا حتماً اور یقینا انھیں بخش دے گا وہ تو کہتا ہے ”عسیٰ“ (شاید) اس سوال کا جواب وہی ہے جو اس سورہ کی آیت۸۴ کے ذیل میں بیان ہو چکا ہے کہ اس طرح کی تعبیروں سے مراد کیا ہے۔ اس آیت میں مذکور حکم چند شرائط کے ساتھ آیا ہے جن پر غور کرنے ضرورت ہے۔
خدا اس قسم کے افراد سے عفو کرتا ہے جنھوں نے موقع ملنے پر ہجرت کے عمل سے تھوڑی سی کوتاہی بھی نہ کی ہو۔ اصطلاح کے مطابق اس کام کے ضمن میں کوئی کسر نہ چھوڑی ہو اور اب بھی موقع ملتے ہی ہجرت کرنے پر آمادہ اور تیار ہوں۔
چند اہم نکات
۱۔ روح کی استقامت
اس آیت میں موت کی بجائے ”توفیّٰ“ کا لفظ حقیقت میں اس نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ موت کا معنی نابود اور فنا ہونا نہیں ہے بلکہ ایک قسم کی ”فرشتوں کی ایک جماعت اور روح انسانی کو پالینا“ ہے یعنی وہ اس کی روح کو جو کہ اس کے وجود کا سب سے بنیادی حصہ ہے نکال کر ایک دوسرے جہان میں لے جاتے ہیں ایسی تعبیر جو قرآن میں بار ہا آئی ہے دراصل قرآن مجید کا اس امر کی طرف ایک واضح ترین اشارہ ہے کہ موت کے بعد باقی رہتی ہے اس کی تفصیل مختلف آیات میں مناسب موقع پر آتی رہے گی یہ جواب ان لوگوں کے لئے ہے جو کہتے ہیں کہ قرآن نے روح کا کہیں ذکر نہیں کیا۔
۲۔ روح قبض کرنے والے، ایک یا ایک سے زائد فرشتے
قرآن میں کئی ایک مقامات (۱۲ مقامات) ہیں جن میں ”توفیّٰ“ (بحوالہ ”توفیّ“ کے معنی کے سلسلہ میں تفسیر نمونہ جلد دوم صفحہ ۳۴۱ کی طرف مراجعہ فرمائیں اردو ترجمہ) اور موت کا تذکرہ ہے اس کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ روح قبض کرنے کے لئے ایک ہی فرشتہ متعین نہیں کیا گیا بلکہ بہت سے فرشتوں کے ذمہ یہ کام ہے جو لوگوں کی ارواح کو اس جہاں سے دوسرے جہان میں لیجانے پر مامور ہیں۔ درج بالا آیت میں فرشتوں کا ذکر جمع کے صیغے (الملائکہ) کے ساتھ آیا ہے۔ یہ بھی اس امر کا گواہ ہے سورہ انعام کی آیت ۶۱ میں ہے:
حتی اذا جاء احدکم الموت توفتہ رسلنا
”جب تم میں سے کسی ایک کی موت کا وقت آتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اس کی روح قبض کرتے ہیں“۔
اب اگر ہم دیکھیں کہ بعض آیات میں یہ امر ملک الموت (موت کا فرشتہ) سے منسوب کیا گیا ہے (بحوالہ: سورہ سجدہ آیت۱۱) تو وہ اس مفہوم میں ہے کہ وہ ان تمام فرشتوں کو سردار ہے جو ارواح قبض روح کرنے پر مامور ہیں اور اسی فرشتے کو احادیث میں ”عزرائیل“ کے نام سے یاد کیا گیا ہے اس بنا پر جب لوگ سوال کرتے ہیں کہ ایک فرشتہ کس طرح ایک ہی وقت میں تمام مقامات پر حاضر ہو کر انسانوں کی روح قبض کرتا ہے تو اس کا جواب اس بیان سے واضح ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ اگر فرض کریں کہ اور فرشتے نہیں ہیں اور صرف ایک فرشتہ ہے پھر بھی کوئی مشکل پیدا نہیں ہوتی کیونکہ اس کا اکیلا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا دائرہ کار بہت وسیع ہے کیونکہ ایک ایسا وجود جو مادے سے نہ بنا ہو اس کا میں مادی اشیاء کی نسبت وسیع احاطہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے جیسا کہ ایک حدیث میں ملک الموت کے بارے میں امام صادق (علیه السلام) سے منقول ہے کہ جب پیغمبر اکرمؐ نے ملک الموت سے اس جہان پر احاطہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کہا:
مالدنیا کلھا عندی فیما سخرھا اللہ لی ومکنتی علیھا الاکلدرھم فی کف الرجل یقبلہ کیف یشاء
یہ جہاں اور جو کچھ اس میں ہے اس تسلط اور احاطہ کے لحاظ سے جو خدا نے مجھے بخشا ہے میرے نزدیک اس درہم (روپیہ) کی مانند ہے جو کسی شخص کے ہاتھ میں ہو کہ جس طرح چاہے الٹ پھیر کر دے۔ (بحوالہ: تفسیر برہان جلد ۲ صفحہ ۲۹۱ آیت ۱ سورہ اسرا کے ذیل میں)۔
بعض آیات میں روح قبض کرنے کا تعلق خدا سے وابستہ کیا گیا ہے۔ مثلاً
”اللہ یتوفی الانفس حین موتھا“
”خدا موت کے وقت جانوں کو قبض کرتا ہے“ (سورہٴ زمر ۴۲)
یہ گذشتہ آیات سے متضاد نہیں کیونکہ جن معاملات میں کام واسطوں کے ذریعے ہوتے ہیں وہاں بعض اوقات کام کی نسبت وسیلوں کی طرف دی جاتی ہے اور کبھی اس طرف کہ جو اسباب اور وسیلے پیدا کرتا ہے دونوں نسبتیں صحیح ہیں بہتر نظریہ یہ ہے کہ دنیا کے بہت سے حوادث کی نسبت قرآن مجید میں فرشتوں کی طرف دی گئی ہے جو خدا کی جانب سے عالم ہستی میں مامور ہیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ فرشتہ ایک وسیع معنی رکھتا ہے اور اس مفہوم میں عاقل مجرد موجودات سے لے کر طبعی توانائیاں تک شامل ہیں۔
۳۔ مستضعف کون ہے؟
آیات قرآن اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جو افراد فکری، جسمانی یا اقتصادی طور پر اتنے ضعیف اور کمزور ہوں کہ حق و باطل میں تمیز نہ کر سکیں یا جو باوجود صحیح عقیدہ کھنے کے جسمانی یا مالی طور پر کمزوری کے باعث یا معاشرے کی ناروا پابندیوں کے سبب اپنے فرائض ادا نہ کر سکتے ہوں اور نہ ہی ہجرت کے قابل ہوں انھیں مستضعف کہتے ہیں۔ حضرت علی (علیه السلام) سے منقول ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا:
ولا یقع اسم الاستضعاف علی من بلغة الحجة فسمعتھا اذنہ و وعاھا قلبہ۔
”وہ شخص مستضعف نہیں ہے جس پر حجت تمام ہو چکی ہو اس نے حق کو سنا ہو اور اس کے ذہن نے اس کا ادراک کیا ہو“۔ (بحوالہ: نور الثقلین جلد اول صفحہ ۵۳۶)۔
امام موسیٰ بن جعفر (علیه السلام) سے پوچھا گیا: مستضعف کون ہے؟ امام نے اس سوال کے جواب میں تحریر فرمایا:
الضعیف من لم ترفع لہ حجة ولم یعرف الاختلاف فاذا عرف الاختلاف فلیس بضعیف۔
مستضعف وہ شخص ہے جس تک حجت اور دلیل نہ پہنچی ہو او روہ (مذاہب اور عقائد کے بارے میں) موجود اختلاف کو نہ سمجھ سکا ہو (جو کہ محرک تحریک ہے) اور اس چیز کو سمجھ چکا ہو وہ مستضعف نہیں ہے“۔ (بحوالہ: نور الثقلین جلد اول صفحہ ۵۳۹)
واضح ہے کہ اوپر والی دونوں احادیث میں مستضعف فکری اور عقیدہ کے لحاظ سے ہے لیکن زیر بحث آیت میں اور اسی سورہ کی آیہ ۷۵ میں جو بیان ہو چکی ہے مستضعف سے مراد عملی مستضعف ہے یعنی وہ شخص جس نے حق کی تشخیص کر لی ہو لیکن ماحول کا جبر اور گھٹن اسے عمل کی اجازت نہ دیتا ہو۔
اور جو شخص راہ خدا میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں بہت سے اور وسیع امن کے خطے پا لے گا اور جو شخص اپنے شہر سے خدا اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرے پھر اسے موت آ جائے تو اس کا اجر و ثواب خدا پر ہے اور خدا بخشنے والا اور مہربان ہے۔
تفسیر
ہجرت. اسلام کا ایک اصلاحی حکم
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
جو لوگ ہجرت کے فریضہ سے کوتاہی کر کے طرح طرح کی ذلتوں اور بدبختیوں کا شکار ہو جاتے ہیں ان کے تذکرے کے بعد اس آیت میں قطعی طور پر ہجرت کی اہمیت کے سلسلہ میں دو حصوں میں بحث ہوئی ہے۔
سب سے پہلے دنیاوی زندگی میں ہجرت کے ثمرات اور برکات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: (جو لوگ خدا کی راہ میں اور خدا کے لئے ہجرت کرتے ہیں انھیں خدا کے اس وسیع جہاں میں امن کی بہت سی اور وسیع جگہیں میسر آئیں گی جن میں رہ کر وہ حق کو فروغ دیں گے اور مخالفین کو زیر کر سکیں گے (وَ مَنْ یُہاجِرْ فی سَبیلِ اللَّہِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُراغَماً کَثیراً وَ سَعَةً)۔ غورکرنا چاہئیے کہ ”مراغم“ رغام (بر وزن کلام) کے مادہ سے بمعنی ”خاک اور مٹی“ لیا گیا ہے۔ ارغام کا معنی ہے کسی کو مٹی میں رگیدنا اور ذلیل کرنا اور مرا غم اسم مفعول بھی ہے اور اسم مکان بھی۔ لیکن زیر نظر آیت میں اسم مکان کے معنی میں آیا ہے یعنی وہ مکان جہاں حق کا اجرا کر سکتے ہیں اور اگر کوئی شخص عناد کی وجہ سے حق کی مخالفت کرے تو اسے مغلوب کر کے اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد ہجرت کے معنوی اور آخروی پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: اگر کچھ لوگ ہجرت کے ارادہ سے اپنے گھر اور وطن سے خدا اور پیغمبر کی طرف ہجرت کریں اور ہجرت کے مقام تک پہنچنے سے پہلے انھیں موت آ جائے تو ان کا اجر اور ثواب خدا کے ذمہ ہے اور خدا ان کے گناہوں کو بخش دے گا (وَ مَنْ یَخْرُجْ مِنْ بَیْتِہِ مُہاجِراً إِلَی اللَّہِ وَ رَسُولِہِ ثُمَّ یُدْرِکْہُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُہُ عَلَی اللَّہِ وَ کانَ اللَّہُ غَفُوراً رَحیماً)۔ اس وجہ سے ہجرت کرنے والے ہر صورت میں ایک عظیم کامیابی حاصل کریں گے چاہے وہ اپنی منزل پر پہنچ جائیں اور حریت و آزادی کے ساتھ اپنے فرائض کی ادائیگی سے بہرہ ور ہوں اور منزل مقصود تک پہنچ جائیں اور چاہے وہ ایسا نہ کر سکیں اور اپنی جان اس راہ میں قربان کر دیں۔ اس کے باوجود ہر قسم کا اجر و ثواب خدا ہی کے ذمہ ہے، لیکن یہاں خصوصیت کے ساتھ اس بات کا تذکرہ ہے ”فقد وقع اجرہ علی اللہ“ یعنی اس کا اجر خدا پر لازم ہو چکا ہے، یہ امر ہجرت کرنے والوں کے اجر و ثواب کی انتہائی عظمت و اہمیت کا مظہر ہے۔
اسلام اور ہجرت
اس آیت اور قرآن کی بہت سی دوسری آیات کے مطابق اسلام صراحت کے ساتھ حکم دیتا ہے کہ انسان اگر کسی ماحول میں کچھ عوامل و اسباب کی بنا پر ذمہ داری نبھا نہ سکے تو دوسرے ماحول اور مقام امن کی طرف ہجرت کرے کیونکہ جہاں ہستی کے باوجود
نتواں مرد بہ ذلت کہ درینجا زادم
(یعنی اس وجہ سے ذلت کے ساتھ کسی جگہ نہیں مرنا چاہیئے کہ یہ میری جائے پیدائش ہے)
اور اس حکم کی علت اور سبب واضح ہے کیونکہ انسان کسی خاص مقام کا پابند نہیں ہے وہ کسی معین مقام اور ماحول سے وابستہ اور اس میں محدود نہیں ہے اس طرح انسان کا اپنی جائے پیدائش اور اس کے ماحول اور علاقے سے انتہائی لگاوٴ اسلام کے نقطہٴ نظر سے مسلمانوں کی ہجرت سے مانع نہیں ہو سکتے یہی وجہ ہے کہ صدر اسلام میں یہ تمام وابستگیاں اسلام کی حفاظت اور ترقی کے لئے منقطع کر ہی گئیں ایک مغربی موٴرخ کے بقول
قبیلہ اور خاندان وہ اکیلا درخت سے جو صحرا میں اگتا ہے اور کوئی شخص اس کی پناہ اور سائے کے بغیر زندگی بسر نہیں کر سکتا لیکن محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی ہجرت کے ذریعے اس درخت کو جس نے ان کے خاندان کے لئے گوشت اور لہو سے پرورش پائی تھی اپنے پروردگار کے لئے کاٹ دیا (اور قریش سے اپنا رابطہ ختم کر دیا)۔ (بحوالہ: محمد خاتم پیامبران جلد اوّل)۔
علاوہ ازیں تمام زندہ موجودات میں یہ بات مشترک ہے کہ جب وہ اپنے وجود کو خطرے میں دیکھتے ہیں تو ہجرت کا راستہ اختیار کرتے ہیں اس سے پہلے سے لوگوں نے کسی علاقے کے جغرافیائی حالات کے متغیر ہونے کے بعد اپنی زندگی کی بقا کے لیے اپنے وطن اور جائے پیدائش سے دوسرے علاقوں کی طرف کوچ کیا ہے نہ صرف انسان بلکہ جانداروں میں بہت سی ایسی انواع ہیں جو مہاجر کے طور پر پہچانی گئی ہیں۔ مثلاً بعض ہجرت کرنے والے پرندے ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی زندگی کی بقا کے لئے بعض اوقات پورے کرہٴ ارض کی سیر کرتے ہیں اور ان میں سے بعض تو قطب شمالی سے قطب جنوبی تک کا سفر طے کرتے ہیں اور اس طرح اپنی زندگی کی بقا کے لئے تقریباً ۱۸ہزار کلو میٹر تک پرواز کرتے ہیں اور یہ چیز اس بات کا ثبوت ہے کہ ہجرت حیات و زیست کو رواں دواں رکھنے کے قوانین میں سے ہے تو کیا ممکن ہے کہ انسان ایک پرندے سے بھی کم تر ہے؟ یا یہ ہو سکتا ہے کہ جب مقدس مقاصد و اہداف اور حیات معنوی جن کی قدر و قیمت مادی زندگی سے کہیں زیادہ ہے، خطرے میں پڑ جائیں تو انسان اس عذر کی بنا پر کہ یہ میری جائے پیدائش ہے اپنے اہداف و مقاصد کو چھوڑ دے اپنے آپ کو طرح طرح کی ذلت و خواری، محرومی اور غلامی کے سپرد کر دے، یا یہ کہ وہ اس عمومی قانون حیات کے مطابق اس علاقے سے ہجرت کر جانے اور کسی ایسی جگہ منتقل ہو جائے جو اس کی مادی و روحانی نشوونما اور رُشد کے لئے مناسب ہو۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ وہ ہجرت جو اپنی حفاظت کی بجائے دین اسلام کے تحفظ کے لئے ہوئی مسلمانوں کی تاریخ کی ابتدا ہے اور یہ ہجرت ہمارے تمام سیاسی، تبلیغی اور معاشرتی معاملات کے لئے بنیاد فراہم کرتی ہے باقی رہا یہ سوال کہ ہجرتِ پیغمبر اکرمؐ کا سال اسلام کی تاریخ کے ابتدا کے طور پر کیوں منتخب ہوا ہے۔
تو یہ بات بھی قابل توجہ ہے ہم جانتے ہیں کہ ہر قوم و ملت کی اپنی ایک تاریخی ابتدا ہوتی ہے، عیسائیوں نے اپنی تاریخ کی ابتدا حضرت مسیح (علیه السلام) کے سال پیدائش سے شمار کی ہے اسلام میں باوجودیکہ بہت سے اہم واقعات تھے۔ مثلاً ولادت پیغمبر اسلامؐ، آپؐ کی بعثت، فتح مکہ اور رحلت پیغمبراکرمؐ، پھر بھی ان میں سے کوئی واقعہ منتخب نہیں ہوا اور صرف ہجرتِ رسولِ خداؐ تاریخ کی ابتدا کا عنوان ٹھہری۔ تاریخ بتاتی ہے کہ خلیفہ دوم کے وقت جب اسلام طبعی طور پر وسعت حاصل کر چکا تھا مسلمانوں کو ایسی ابتدا ئے تاریخ کے تعین کی فکر لاحق ہوئی جو عمومی لحاظ سے سب کے لئے یکساں ہو۔ بہت ردد قد کے بعد حضرت علی (علیه السلام) کے نظریہ کو قبول کر لیا گیا، حضرت علی (علیه السلام) نے ابتدائے تاریخ کے لئے ہجرت کا انتخاب کیا۔ (بحوالہ: تاریخ طبری جلد دوم ص۱۱۲)۔
حقیقت میں بھی ایسا ہی ہونا چاہئیے تھا کیونکہ ہجرت وہ روشن قدم تھا جسے اسلام میں عملی جامہ پہنایا گیا اور جو تاریخ اسلام کی فصلِ نو کا آغاز بنا مسلمان جب تک مکہ میں تھے اپنی تعلیم و تربیت کے ابتدائی دور سے گذرہے تھے ظاہراً وہاں وہ کسی قسم کی اجتماعی اور سیا سی طاقت نہ تھے لیکن ہجرت کے فوراً بعد اسلامی حکومت کی تشکیل ہوئی اور بڑی تیزی کے ساتھ ہر شعبہ زندگی میں ترقی ہوئی اور اگر مسلمان فرمان رسالت کے مطابق اس طرح ہجرت نہ کرتے تو نہ صرف یہ کہ اسلام مکہ کے دائرے سے باہر نہ نکلنا بلکہ ممکن تھا کہ وہیں خاموش اور دفن ہو جاتا۔
واضح ہے کہ ہجرت کوئی ایسا حکم نہیں کہ جو زمانِ پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ مخصوص ہو بلکہ ہر عہد اور زمانہ میں کسی جگہ بھی ایسے حالات ہوں تو مسلمانوں کی ذمہ داری فریضہ ہے کہ وہ ہجرت کریں۔
بنیادی طور پر قرآن ہجرت کو آزادی اور سکون کے حصول کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ جیسا کہ زیر بحث آیت میں صراحت کے ساتھ آیا ہے۔ سورہ نحل آیة ۴۱ میں بھی یہ حقیقت ایک اور طریقے سے بیان ہوئی ہے:
و الذین ھاجروا فی اللہ من بعد ما ظلموا لنبوئنھم فی الدنیا حسنة
اور وہ لوگ جن پر ظلم کئے گئے اور اس کے بعد انھوں نے راہِ خدا میں ہجرت اختیار کی وہ دنیا میں پاکیزہ مقام حاصل کریں گے۔
اس نکتہ کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ ہجرت اسلام کی نگاہ میں صرف مکانی اور خارجی ہجرت نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ اس ہجرت سے پہلے اندر اور باطن سے ہجرت کا آغاز ہو اور اس ہجرت سے مراد ہجرت اور دوری ہے ان چیزوں سے کہ جو انسان کی اصالت، اس کے مرتبے اور اعزاز سے ٹکراتی ہوں یہ ہجرت اس لئے ہے کہ تاکہ اس کے زیر اثر انسان خارجی اور مکانی ہجرت کے لئے آمادہ ہو سکے اور یہ ہجرت ضروری ہے تاکہ اگر ہجرت مکانی کی ضرورت پڑے تو اس باطنی ہجرت کے زیر اثر انسان راہِ خدا میں ہجرت کرنے والوں کے ساتھ شامل ہو سکے اصولی طور پر روحِ ہجرت وہی ظلمت سے نور، کفر سے ایمان اور گناہ و نافرمانی سے اطاعتِ خداوندی کے لئے دیوانہ وار نکل پڑنا ہے اسی لئے ہم احادیث میں پڑھتے ہیں کہ وہ مہاجرین جنھوں نے جسمانی طور پر ہجرت کی مگر روحانی ہجرت نہیں کی وہ مہاجرین کی صفوں میں شمار نہیں ہوتے اس کے مقابلے میں وہ لو گ جنھیں مکانی ہجرت کی ضرورت نہیں تھیں لیکن وہ باطنی طور پر ہجرت میں شامل تھے وہ مہاجرین کے زمرے میں داخل ہو گئے۔ امیر المومنین حضرت علی (علیه السلام) فرماتے ہیں:۔
ویقول الرجل ھاجرت، لم یھاجر، انما المھاجرون الذین یھجرون السیئات و لم یاٴتوا بھا
بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے ہجرت کی ہے حالانکہ حقیقت میں انھوں نے ہجرت نہیں کی؛ حقیقی ہجرت کرنے والے وہ ہیں جو گناہوں سے ہجرت اختیار کرتے ہیں اور ان کے مرتکب نہیں ہوتے۔ (بحوالہ: سفینة البحار (ہجر)
پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا:
من فرّ بدینہ من ارض الیٰ ارض و ان کان شبراً من الارض استوجب الجنة و کان رفیق محمد و ابراھیم علیھم السلام
جو شخص اپنے دین کی حفاظت کے لئے ایک سرزمین سے دوسری سرزمین کی طرف ایک بالشت برابر ہجرت کرے تو وہ جنت کا مستحق ہو جاتا ہے اور محمد و ابراہیم علیہہم السلام کی رفاقت اور جانشینی اسے نصیب ہو گی (کیونکہ یہ دونوں عظیم پیغمبر عالمِ ہستی میں ہجرت کرنے والوں کے پیشوا اور رہنما تھے) (بحوالہ: نورالثقلین، جلد اول صفحہ ۵۴۱)۔
اور جس وقت سفر کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ نماز میں قصر کرو ‘ اگر تمہیں کافروں کے فتنے کا ڈر ہو، کیونکہ کافر تمہارے واضح دشمن ہیں۔
تفسیر
نمازِ مُسافر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
"گذشتہ آیات ”جہاد“ اور ”ہجرت“ کے بارے میں بحث کر رہی تھیں۔ اب اس میں ”نماز مسافر“ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جب سفر کرو تو کوئی حرج نہیں کہ نماز کو کم اور قصر کر لو، اگر کفارہ کی طرف سے تمہیں خدشہ ہو کیونکہ کافر تمہارے واضح دشمن ہیں (وَ إِذا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُناحٌ اَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ إِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَفْتِنَکُمُ الَّذینَ کَفَرُوا إِنَّ الْکافِرینَ کانُوا لَکُمْ عَدُوًّا مُبیناً)۔ اس آیت میں سفر کو ”ضرب فی الارض“ سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ مسافر سفر کرتے وقت زمین کو اپنے پاوٴں تلے روندتا ہے۔ (بحوالہ: مفردات راغب مادہ ”ضرب“)
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں نماز قصر کا مسئلہ دشمن کے خطرے کے ساتھ مشروط ہے جبکہ ہم فقہی مباحث میں پڑھتے ہیں کہ نماز قصر ایک عمومی حکم ہے اور اس میں پُرخطر اور پُرامن سفروں میں کوئی فرق نہیں ہے شیعہ اور اہل سنت کی طرف سے کئی ایک روایات جو نماز قصر کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہیں وہ بھی اس عمومیت کی تائید کرتی ہیں۔ (مزید اطلاع کے لئے وسائل الشیعہ جلد پنجم اور سنن بیہقی جلد ۳ ص ۱۳۴ وغیرہ کی طرف رجوع کریں)۔
اس کا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے قصر والے حکم کو خوف سے مربوط کرنا مندرجہ ذیل چند وجوہ میں سے کسی ایک کی بنا پر ہو۔
الف: یہ پابندی اور شرط اسلام کے ابتدائی دنوں کی صورتِ حال سے متعلق ہے اور اصطلاح کے مطابق قید غالبی ہے یعنی غالباً ان کے سفر خوف و خطر سے بھرپور ہوتے تھے اور جیسا کہ علم اصول میں کہا جا چکا ہے کہ قیود غالبی کا مفہوم نہیں ہوتا جیسا کہ:۔
”و ربائبکم اللاتی فی حجورکم“
تمہاری بیوی کی وہ لڑکیاں جو تمہاری گود میں پلی بڑھی ہیں تم پر حرام ہیں۔ (نساء۔ ۳۲)
اس آیت میں بھی یہی مسئلہ درپیش ہے کیونکہ بیوی کی بیٹیاں محارم میں داخل ہیں چاہے وہ اس کی گود میں رہی ہوں یا نہ رہی ہوں غالباً جو طلاق یافتہ عورتیں دوسرا شوہر کرتی ہیں وہ جوان ہوتی ہیں اور چھوٹے بچے ان کے ساتھ ہوتے ہیں جو دوسرے شوہر کی گود میں پلتے ہیں اس لئے فی حجورکم (تمہاری گود میں) کی قید اس آیت میں آئی ہے۔
ب:۔ بعض مفسرین کا یہ نظریہ ہے کہ نماز قصر کا مسئلہ پہلے تو خوف کے وقت سے متعلق تھا (اوپر والی آیت کے مطابق) پھر اس حکم نے وسعت پیدا کی اور یہ تمام مواقع کے لئے عمومیت اختیار کر گیا۔
ج:۔ ممکن ہے یہ پابندی تاکید پہلو رکھتی ہو یعنی نماز قصر مسافر کے لئے ہر جگہ لازم اور واجب ہے لیکن جب دشمن کا خدشہ ہو تو پھر اس کی زیادہ تاکید ہے۔ بہرحال اس میں شک و شبہ نہیں کہ آیت کی تفسیر میں آنے والی بہت سی اسلامی روایات کی طرف دھیان دیں تو معلوم ہوتا ہے کہ نماز مسافر حالتِ خوف سے مخصوص نہیں ہے اسی لئے تو پیغمبر اکرمؐ بھی سفر کی حالت میں یہاں تک کہ مراسمِ حج میں (منیٰ کی سرزمین میں) نماز قصر پڑھتے تھے۔
ایک دوسرا سوال جو پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت میں بیان ہوا ہے ”لاجناح علیکم“ (تم پر کوئی گناہ نہیں ہے) اور قطعیت کے ساتھ یہ نہیں کہا گیا کہ بس نماز قصر ہی پڑھو تو ایسے میں کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ نماز قصر واجب عینی ہے، واجبِ تخییری نہیں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ بالکل یہی سوال رہبران اسلام سے ہوا اور انھوں نے دو نکات کی طرف اشارہ کیا:
پہلا یہ کہ ”لاجناح“ (تم پر کوئی گناہ نہیں) کی تعبیر خود قرآن مجید میں بعض مواقع پر وجوب کے معنی میں استعمال ہوئی ہے، مثلاً....:
ان الصفا و المروة من شعائر اللہ فمن حج البیت او اعتمر فلاجناح علیہ ان یطّوّف بھما (البقرہ: ۱۵۸)
صفا اور مروہ خدا کی شعائر اور نشانیوں میں سے ہیں لہٰذا جو شخص حج و عمرہ ادا کرے اس کے لئے کوئی حرج نہیں کہ ان دونوں کا طواف کرے (صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا حج و عمرہ دونوں میں واجب ہے اسی لئے تو پیغمبر اکرمؐ اور تمام مسلمان یہ عمل کرتے تھے۔ بالکل یہی مضمون ایک روایت میں امام باقر علیہ السلام سے نقل ہو اہے۔ (بحوالہ: نورالثقلین جلد اول ص۵۴۲)۔ دوسرے الفاظ میں ”لاجناح“ کی تعبیر زیر بحث آیت میں اور نیز آیت حج میں حرمت کے وہم کی نفی کے لئے ہے، کیونکہ اسلام کی ابتداء میں صفا مروہ (پہاڑیوں) کے اوپر بت رکھے ہوئے تھے بعض مسلمانوں کا خیال تھا صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا بت پرستوں کے آداب میں سے ہے حالانکہ ایسا نہیں تھا لہٰذا خدا اس غلط فہمی کی نفی کے لئے فرماتا ہے ” کہ کوئی حرج نہیں کہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرو“ اسی طرح مسافر کے ذکر میں احتمال ہے کہ بعض لوگ یہ خیال کریں کہ سفر میں نماز کو قصر کرنا ایک گناہ ہے لہٰذا لاجناح کی تعبیر کے ساتھ اس غلط فہمی کو دور کیا گیا ہے۔
دوسرا نکتہ کہ جس کی طرف بعض روایات میں بھی اشارہ ہوا ہے یہ ہے کہ سفر میں نماز کو قصر کرنا ایک قسم کی خدا کی طرف سے رعایت ہے لہٰذا ادب اور احترام کا تقاضا ہے کہ انسان اس تخفیف کو رد نہ کرے اور اس کی طرف سے بےاعتنائی نہ برتے، اہل سنت کی روایات میں پیغمبر اسلامؐ سے منقول ہوا ہے کہ آپؑ نے نماز قصر کے بارے میں فرمایا:
صدقۃ تصدق اللہ بھا علیکم فاقبلوا صدقتہ۔ (بحوالہ: یہ حدیث سنن بہیقی، جلد۳، صفحہ۱۳٤ پر صحیح مسلم سے نقل ہوئی ہے اور تفاسیر و کتب فقہ میں بھی آئی ہیں)
یہ ہدیہ ہے جو خدا نے تمہیں دیا ہے اسے قبول کرو۔
اس حدیث کی مثالیں کتب شیعہ میں بھی ملتی ہیں۔ امام صادق علیہ السلام پیغمبر اکرمؐ سے نقل کرتے ہیں، آپؑ نے فرمایا:
""سفر میں افطار اور نماز کا قصر ہونا خدا کا ہدیہ ہے جو شخص اس عمل سے صرف نظر کرے اس نے گویا خدائی ہدیہ کو رد کیا ہے۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، جلد٥، صفحہ٥٤۰)
ایک اور نکتہ جس کی طرف توجہ کرنی چاہئے یہ ہے کہ بعض لوگوں کا گمان ہے کہ زیر بحث آیت نمازِ خوف (میدان جنگ میں ادا کی جانے والی نماز) کو بیان کرتی ہے اور ""ان خفتم"" (اگر تمہیں ڈر ہے) کو اس کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں لیکن اذا ضربتم فی الارض (جب تم سفر کرو) کا جملہ ایک عام مفہوم رکھتا ہے جس میں ہر طرح کا سفر شامل ہے چاہے عامر سفر ہو یا جہاد کے لئے سفر ہو۔ علاوہ ازیں خوف کا حکم بعد والی آیت میں علیحدہ اور مستقل طور پر آیا ہے اور ان خفتم کی تعبیر جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں ایک غالبی قید ہے جو اس زمانہ میں مسلمانوں کے سفروں کے لئے زیادہ پائی جاتی تھی۔ لہذا یہ نماز خوف پر دلالت نہیں کرتی۔
اس کے علاوہ میدان جنگ میں ہمیشہ دشمن کے حملہ کا خوف رہتا ہے لہذا وہ ایسی جگہ نہیں کہ یہ کہا جائے "اگر تمہیں خوف ہو کر دشمن حملہ کرے گا" یہ خود ایک ثبوت ہے کہ آیت تمام قسم کے سفروں کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جن میں ممکن ہے خطرات موجود ہوں۔
ضمناً غور کرنا چاہئے کہ نماز قصر کی شرائط باقی تمام احکام اسلامی کی شرئط اور خصوصیات کی مانند قرآن میں نہیں آئیں بلکہ سنت میں ان کی طرف اشارہ ہوا ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ ہے کہ نماز قصر آٹھ فرسخ (تقریباً ۲۸میل) سے کم فاصلے کے سفر کے لئے نہیں ہے کیونکہ اس زمانہ میں مسافر عام طور پر ایک دن میں آٹھ فرسخ کی راہ طے کر لیتا تھا۔
نیز وہ لوگ جو ہمیشہ سفر میں رہتے ہیں یا سفر ان کی زندگی کا جزو ہے وہ اس حکم سے مستثنی ہیں کیونکہ سفر ایسے لوگوں کے لئے معمول کا درجہ رکھتا ہے نہ کہ غیر معمولی (اور زیادہ مشقت آور) اس طرح وہ لوگ کہ جن کا سفر معصیت کا سفر ہے، یہ قانون انہیں شامل نہیں کرتا کیونکہ یہ حکم ایک طرح سے خدا کی طرف سے رعایت ہے لہذا وہ افراد جو گناہ کی راہ میں سفر کرتے ہیں یہ تخفیف ان کے لیے نہیں ہے اس طرح مسافر جب تک عدم خص تک نہ پہنچے (وہ مقام جہاں شہر کی اذان کی آواز نہ سن سکے یا شہر کی دیواریں اسے نظر نہ آئیں) وہ نماز قصر نہیں کر سکتا کیونکہ وہ ابھی تک اپنے شہر کی حدود سے خارج ہی نہیں ہوا اس لیے مسافر کے زمرے میں وہ نہیں آتا۔ کتب فقہ میں تفصیل سے بیان ہونے والے احکام اسی طرح ہیں اور ان سے مربوط احادیث کو محدثین نے کتب حدیث میں ذکر کیا ہے۔"
اور جس وقت تم ان کے درمیان ہو (اور میدان جنگ میں ) ان کے لئے نماز قائم کرو ان میں سے ایک دستہ تمہارے ساتھ (نماز کے لیے) کھڑا ہو جائے گا۔ ایسے لوگ اپنے ہتھیار اپنے پاس رکھیں اور جب سجدہ کریں (اور نماز کو ختم کریں ) تو تمہارے پیچھے سے ہٹ کر (میدان جنگ) کی طرف پلٹ جائیں ا ور دوسرا گروہ جس نے نماز نہیں پڑھی (اور وہ جنگ میں مشغول تھا) آ کر تمہارے ساتھ نماز پڑھے اور یہ لوگ (بھی) وسائل دفاع اور اپنے ہتھیار اپنے ساتھ (حالت نماز میں ) اٹھائے رکھیں (کیونکہ) کفار یہی چاہتے ہیں کہ تم اپنے ہتھیاروں اور مال و متاع سے غافل ہو جاؤ اور وہ اچانک تم پر حملہ کر دیں اور اگر بارش کی وجہ سے تم تکلیف میں ہو یا بیمار (اور مجروح) ہو تو کوئی حرج نہیں کہ تم اپنے ہتھیار زمین پر رکھ دو لیکن دفاعی وسائل (مثلاً زرہ اور خود) پہنے رکھو خدا نے کافروں کے لئے ذلیل و خوار کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
جب پیغمبر اکرمؐ کچھ مسلمانوں کے ساتھ مکہ جانے کے ارادہ سے سرزمین حدیبیہ میں پہنچے تو اس بات کا قریش کو پتہ چلا۔ خالد بن ولید کی سرکردگی میں دو سو افراد مکہ کی طرف مسلمانوں کی پیش رفت روکنے کے لئے مکہ کے قریبی پہاڑوں میں مورچہ زن ہو گئے ظہر کے وقت حضرت بلال نے اذان دی اور پیغمبر اکرمؐ نے مسلمانوں کے ساتھ نماز ظہر باجماعت ادا کی۔ خالد بن ولید یہ منظر دیکھ کر سوچ میں پڑ گیا اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ مسلمانوں کے نزدیک نماز عصر بڑی قدرومنزلت رکھتی ہے یہاں تک کہ وہ اسے اپنی آنکھوں کی بینائی سے زیادہ محترم سمجھتے ہیں جب مسلمان حالت نماز میں ہوں ان کی غفلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بجلی کی سی تیزی سے ان کا کام تمام کر دو۔ اس موقع پر درج بالا آیت اتری اور مسلمانوں کو نماز خوف کا حکم دیا گیا یہ آیت ہر قسم کی غفلت کے دوران ہونے والے اچانک حملے سے متعلق ہے۔ اعجاز قرآن کا یہ ایک نکتہ ہے کہ دشمن کے کسی قدم اٹھانے سے پہلے اس کے منصوبوں کو نقش برآب کر دیا جائے اسی لیے کہا جاتا ہے کہ خالد بن ولید یہ منظر دیکھ کر ایمان لے آیا اور مسلمان ہو گیا۔ (بحوالہ: تفسیر تبیان، جلد ۲، ص۲۱۱ اور دیگر تفاسیر)
تفسیر
جہاد سے متعلق آیات کے بعد یہ آیت مسلمانوں کو نماز خوف کی تعلیم دے رہی ہے جسے دوران جنگ پڑھا جاتا ہے۔ آیت پیغمبر اکرمؐ کو خطاب کرتے ہوئے کہتی ہے: جب آپ ان کے درمیان ہوں انہیں نماز پڑھائیں تو چاہیے کہ مسلمان دو گروہوں میں تقسیم ہو جائیں پہلا حصہ مسلح ہو کر آپ کے ساتھ نماز کے لئے کھڑا ہو جائے (وَإِذَا كُنتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلاَةَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَةٌ مِّنْهُم مَّعَكَ وَلْيَأْخُذُواْ أَسْلِحَتَهُمْ) پھر جب یہ گروہ سجدہ کرے (اور ان کی نماز کی پہلی رکعت مکمل ہو جائے تو آپ اپنی جگہ توقف کریں) اور وہ تیزی کے ساتھ دوسری رکعت مکمل کرے میدان جہاد کی طرف پلٹ جائیں اور دشمن کا مقابلہ کریں) اور دوسرا گرہ جس نے نماز نہیں پڑھی وہ پہلے گروہ کی جگہ لے اور آپ کے ساتھ نماز پڑھے (فَإِذَا سَجَدُواْ فَلْيَكُونُواْ مِن وَرَآئِكُمْ وَلْتَأْتِ طَآئِفَةٌ أُخْرَى لَمْ يُصَلُّواْ فَلْيُصَلُّواْ مَعَكَ) دوسرے گروہ کو بھی چاہیے کہ وہ دفاعی مسائل اور ہتھیار سنبھالے رکھے اور انہیں زمین پر نہ رکھ دے (وَلْيَأْخُذُواْ حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ) اس طرح نماز اس لیے پڑھی جاتی ہے تاکہ دشمن تمہیں غفلت میں زیر نہ کر سکے کیونکہ دشمن تو ہمیشہ اسی انتظار میں رہتا ہے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھائے اور وہ (دشمن) چاہتا ہے کہ تم اپنے ہتھیاروں اور سامان جنگ سے غافل ہو جاؤ اور وہ تم پر اچانک حملہ کر دے (وَدَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ لَوْ تَغْفُلُونَ عَنْ أَسْلِحَتِكُمْ وَأَمْتِعَتِكُمْ فَيَمِيلُونَ عَلَيْكُم مَّيْلَةً وَاحِدَةً) لیکن چونکہ ہو سکتا ہے کہ کچھ ایسی ضرورت پیش آپڑے کہ تھیار اور دفاعی وسائل کا اٹھائے رکھنا حالت نماز میں مشکل ہو یا کمزوری بیماری اور زخموں کی وجہ سے (جو کہ جنگ میں لڑنے والوں کو آتے ہیں) ہھتیاروں اور دفاعی سازوسامان کا اٹھائے رکھنا زحمت اور تکلیف کا باعث ہو لہذا آیت کے آخر میں یہ حکم دیتا ہے اور تمہارے لیے کوئی گناہ اور حرج نہیں کہ اگر بارش سے تمہیں تکلیف ہو یا بیمار ہو جاؤ تو اس حالت میں اپنے ہتھیار زمین پر رکھ دو (وَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِن كَانَ بِكُمْ أَذًى مِّن مَّطَرٍ أَوْ كُنتُم مَّرْضَى أَن تَضَعُواْ أَسْلِحَتَكُمْ) مگر پھر بھی ہر سؤرت میں تحفظ اور احتیاط کے وسائل زندہ اور خود وغیرہ) اپنے پاس رکھنے سے غفلت نہ ہو تو یہاں تک کہ مجمبور کی حالت میں بھی انہیں اپنے پاس ضرور رکھو۔ اگر کبھی دشمن حملہ کرے تو تم مدد پہنچنے تک اپنی حفاظت کر سکو (وَخُذُواْ حِذْرَكُمْ) تم ان احکامات اور قوانین کو پلے باندھ لو اور مطمئن رہو کہ کامیابی تمہارے لیے ہے کیونکہ خدا نے کافروں کے لئے ذلیل و خوار کرنے والا عذاب مہیا کر رکھا ہے (ان اللہ اعد للکافرین عذاباً مھیناً)
چند اہم نکات
۱۔ نماز خوف ہر دور میں ہو سکتی ہے
واضح ہے کہ یہاں پیغمبر اکرمؐ کے مسلمانوں کے درمیان نماز خوف کے موقع پر موجود ہونے سے یہ مراد نہیں کہ یہ نماز ذاتِ پیغمبر اکرمؐ کے وجود سے مشروط ہے بلکہ مراد سرفروشوں اور مجاہدین کے درمیان نماز باجماعت ادا کرنے کے لئے امام، پیشوا اور رہنما کا وجود ہے۔ اسی لئے تو حضرت علی (علیه السلام) اور حضرت امام حسین (علیه السلام) نے بھی نمازِ خوف ادا کی تھی یہاں تک بعض اسلامی لشکروں کے کمانڈروں (مثلاً حضرت حذیفہ یمانی) نے اسی اسلامی عمل کو ضرورت کے وقت انجام دیا۔ (بحوالہ: کنزالعرفان جلد اول صفحہ۱۹۱)
۲۔ دوران نمازِ خوف مسلح رہنے کے حکم میں فرق
آیت میں پہلے گروہ کو حکم ہوتا ہے کہ نماز خوف کے وقت ان کے پاس ہتھیار ہونے چاہئیں۔ لیکن دوسرے گروہ سے کہتا ہے کہ دفاعی ساز و سامان(مثلا زرہ) اور ہتھیاروں کو زمین پر بالکل نہ رکھیں ممکن ہے کہ ان دونوں دستوں کا فرق اس وجہ سے ہو کہ پہلے گروہ کے نماز کو ادا کرتے وقت دشمن ابھی تک اس لائحہ عمل سے بےخبر ہو لہٰذا اس میں حملے کا احتمال بہت کم ہے لیکن دوسرے دستہ کے وقت جبکہ دشمن ادائیگی نماز پر متوجہ ہو جاتا ہے تو حملے کا احتمال بہت زیادہ ہے۔
۳۔ مال و متاع کی حفاظت
مال و متاع کی حفاظت سے مراد یہ ہے کہ اپنی حفاظت کے علاوہ دوسرے جنگی وسائل اور سفر کے ساز و سامان، غذائی ذخیرے اور جو حیوانات تمہارے ساتھ ہیں ان کی نگرانی بھی تمہیں کرنا ہے۔
۴۔ نماز باجماعت کی اہمیت
ہم جانتے ہیں کہ نماز باجماعت اسلام میں واجب نہیں ہے لیکن بہت زیادہ تاکیدی مستحبات میں ہے اور اوپر والی آیت اس کی ایک زندہ نشانی ہے اس اسلامی لائحہ عمل کی تاکید یہاں تک ہے کہ میدانِ جنگ میں بھی اس طریقے کی انجام دہی کے لئے نماز خوف سے استفادہ کیا جا سکتا ہے یہ امر اصل نماز اور جماعت دونوں کی اہمیت ظاہر کرتا ہے نیز اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حقیقی مجاہدین اپنے ہدف اور مقصد سے کس قدر وابستہ ہوتے ہیں نیز اس کام سے دشمنوں پر بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان میدانِ جنگ میں بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا کس قدر اہتمام کرتے ہیں یہ عمل دشمنوں پر ایک خاص نفسیاتی اثر بھی مرتب کرتا ہے۔
نماز خوف کی کیفیت
اس آیت میں نماز خوف کے بارے میں کوئی زیادہ وضاحت موجود نہیں ہے اور یہی قرآن کا طریقہ ہے کہ وہ کلیات کو بیان کر کے ان کی تفصیل و تشریح سنت پر چھوڑ دیتا ہے نماز خوف کا جو طریقہ سنت سے معلوم ہوتا ہے یہ ہے کہ چار رکعتی نماز دو رکعیت نماز میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ پہلا گروہ وہ پیش نماز کے ساتھ ایک رکعت پڑھ لیتا ہے اور پیش نماز ایک رکعت کے بعد توقف کرتا ہے اور وہ گروہ دوسری رکعت کے علیحدگی میں انجام دیتا ہے اور محاذ جنگ کی طرف پلٹ جاتا ہے پھر دوسرا گروہ اس کی جگہ لے لیتا ہے اور وہ اپنی ایک رکعت پیش نماز کے ساتھ اور دوسری رکعت فرادیٰ انجام دیتا ہے (نماز خوف کی کیفیت کے بارے میں اور نظریے بھی ہیں لیکن ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے یہ مشہور ترین نطریہ ہے۔
اور جب نماز ختم کر لو تو خدا کو کھڑے ہوئے، بیٹھے ہوئے اور پہلو پر لیٹے ہوئے یاد کرو اور جس وقت تمہیں اطمینان ہو جائے (اور خوف کی کیفیت ختم ہو جائے) تو نماز کو (معمول کے مطابق) انجام دو کیونکہ نماز مومنین کے لیے ثابت اور معین فریضہ ہے۔
تفسیر
فریضہ نماز کی اہمیت
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ آیت میں نماز خوف کا حکم دیا گیا اور یہ بتایا گیا ہے کی حالت جنگ میں بھی نماز (تشریحی نوٹ: قیام (یعنی کھڑا ہونا) یہاں مصدری معنی رکھتا ہے اور قائم کی جمع بھی ہے (یعنی کھڑے ہونے والے) اور "تعوذ بھی اسی طرح مصدر اور جمع دونوں معانی کے لیے ہے اوپر والی آیت میں دونوں معانی کا احتمال ہے) قائم کرنا لازم ہے اس کے بعد اب اس آیت میں فرماتا ہے نماز کی ادائیگی کے بعد خدا کو بھول نہ جاؤ بلکہ کھڑے ہوئے بیٹھے ہوئے اور پہلو پر لیٹے ہوئے (بھی) یاد خدا میں رہو اوراس سے اور مدد طلب کرو (فاذا قضيتم الصلاة فاذكروا الله فیاما و قعودًا وعلى بنوبکم) حالت قیام و قعود اور پہلو پر لیٹنے کے وقت یاد خدا سے مراد ممکن ہے کہ و استراحت کے اوقات ہوں جو میدان میں وقفوں میں ہوتے ہیں۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جنگ کے مختلف حالات کے معنی میں ہو۔ جبکہ مجاہدین کبھی کھڑے ہو کر، کبھی بیٹھ کر اور کبھی پہلو کے بل لیٹ کر مختلف جنگی ہتھیاروں کے ساتھ تیراندازی کرتے ہیں۔
حقیقت میں اوپر والی آیت ایک اہم اسلامی حکم کی طرف اشارہ ہے کہ اوقات معینہ میں نماز پڑھنے کا یہ معنی نہیں ہے کہ باقی حالات میں انسان خدا سے غافل رہے نماز ایک انضباطی حکم ہے جو پروردگار کی طرف متوجہ ہونے کی روح انسان ہیں زندہ کرتا ہے اور ہو سکتا ہے اس سے نمازوں کے درمیانی فاصلوں میں دل میں یاد خدا باقی رہنے کی طرف اشارہ ہو چاہے میدان جنگ میں ہو اور چاہے میدان جنگ کے علاوہ کہیں ہو۔ متعدد روایات میں اس آیت کو بیماروں کے نماز پڑھنے کی کیفیت کے بارے میں قرار دیا گیا ہے۔ اگر ان میں توانائی ہو تو کھڑے ہو کر ورنہ بیٹھ کر اور اگر ایسا بھی نہیں کر سکتے تو پہلو کے بل لیٹ کر نماز ادا کریں۔ یہ تفسیر حقیقت میں آیت کے معنی کے ایک مفہوم کی نشاندہی اور وسعت معنی کی مظہر ہے اور آیت اس موقع کے لیے مخصوص نہیں ہے۔ (تشریحی نوٹ: ان روایات پر مطلع ہونے کے لیے نورالثقلین جلد اول صفحہ ٥٤٥ کی طرف رجوع کریں)۔
اس کے بعد قرآن کہتا ہے کہ نماز خوف کا حکم ایک استثنائی حکم ہے اور جب حالت خوف ختم ہو جائے تو پھر نماز عمومی صورت میں ادا کی جائے (فاذا اطمأننتم فاقیموا الصلوة ) اور آخر میں نماز کے بارے میں تاکید وقت کی گئی ہے اور وہ اس طرح ہے، کیونکہ تمام مومنین کے لیے ایک ثابت رہنے والا اور متغیر ہونے والا فریضہ ہے۔ (ان الصلوة كانت علي المؤمنين كتابا موقوتًا) لفظ "موقوت" "وقت" کے مادہ سے ہے اس بنا پر آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر تم دیکھتے ہو کہ میدان جنگ جیسی جگہ پر بھی مسلمانوں کو چاہیے کہ اس فریضہ (نماز) کو انجام دیں تواس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کے اوقات معین ہیں کہ جن سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ (بحوالہ: کنزالعرفان جلد اول ص ٥٩ میں اس معنی کی تائید کی گئی ہے اور تبیان اور مجمع البیان میں ایک قول کے عنوان سے اس کا ذکر کیا گیا ہے)۔
لیکن متعدد روایات میں جواس آیت کے ذیل میں وارد ہوئی ہیں موقوت کی ثابت اور واجب کے معنی میں تفسیر ہوئی ہے جو کہ آیت کے مفہوم کے ساتھ بھی مطابقت رکھتی ہے اور اس کا نتیجہ تقریبًا پہلے معنی جیسا ہی ہے۔
ایک سوال اور اس کا جواب
بعض مفسرین کہتے ہیں ہم نمازکے فلسفہ، اہمیت اور اس کے تربیتی اثرات کے منکر نہیں ہیں لیکن کیا ضروری ہے کہ معین اوقات ہی میں اسے ادا کیا جائے کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ لوگوں کو آزاد چھوڑ دیا جائے۔ ہر شخص فرصت اور روحانی آمادگی کیوقت یہ ذمہ داری ادا کرے۔
تجربہ شاہد ہے کہ تربیتی مسائل اگر انضباط اور معين شرائط کے ماتحت نہ رکھے جائیں تو کچھ لوگ انھیں فراموش کر دیتے ہیں اور ان کی بنیاد اور اساس منتزلزل ہو جاتی ہے لہذا اس قسم کے مسائل میں یقینًا معین اوقات اورسخت انضباط رکھا جانا چاہیے تاکہ کوئی شخص بھی انھیں ترک کرنے میں کوئی عذر اور بہانہ کر سکے خصوصی طور پر ان عبادات کا معتین اوقات میں سرانجام پانا اور خاص طور پر اجتماعی شکل میں ایک شکوه اور عظمت کا حامل ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا اور حقیقت میں یہ چیز انسان سازی کے لیے ایک اہم درس اور تکنیک ہے۔
اور دشمن کا تعاقب کرنے میں سستی نہ کرو (کیونکہ) اگر تمہیں دردو رنج پہنچتا ہے تو انہیں بھی تمہاری طرح رنج و تکلیف کا سامنا کرنا پڑتاہے لیکن تم (پھر بھی) خدا سے امید رکھتے ہو اور وہ نہیں رکھتے اور خدا دانا اور حکیم ہے ۔
شان نزول
ہر ہتھیار کے مقابلے میں اس جیسا ہتھیار
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
ابن عباس اور کچھ دوسرے مفسرین نے نقل کیا ہے کہ جنگ اُحد کے دردناک حوادث کے بعد پیغمبر اکرمؐ کوہ احد کی چوٹی پر تشریف لے گئے اور ابوسفیان بھی پہاڑ پر چڑھ گیا اور فاتحانہ لہجے میں پکار کر کہنے لگا "اے محمد! ایک دن ہم کامیاب ہوئے اور دوسرے دن تم۔ یعنی ہماری یہ کامیابی اسی شکست کے مقابلہ میں ہے جو ہمیں جنگ بدر میں ہوئی تھی۔ پیغمبر اکرمؐ نے مسلمانوں سے فرمایا: فوراً سے جواب دو (گویا ابوسفیان پر آپ ثابت کر رہے تھے کہ میرے مکتب میں تربیت پانے والے بہت باخبر و آگاه ہیں) مسلمانوں نے کہا ہماری اور تمھاری کیفیت ہرگز ایک جیسی نہیں ہے ہمارے شہید بہشت میں ہیں جبکہ تمھارے مقتول جہنم میں ہیں۔ ابوسفیان نے پکار کر یہ جملہ فخریہ نعرے کے طور پر کہا۔
"لنا العزی و لاعزی لکم"
"ہم بہت بڑا "عزیٰ" بت رکھتے ہیں اور تمھارے پاس وہ بھی نہیں"۔
پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا تم بھی اس کے جواب میں کہو۔
"الله مولٰنا ولا مولٰى لكم"
ہمارا ولی اور سرپرست خدا ہے اور ہمارا تکیہ خدا پر ہے اور تمھاری کوئی سرپرست نہیں، تمہاری کوئی تکیہ گاہ نہیں۔
ابوسفیان نے جب اپنے آپ کو اس زنده اسلامی شعار کے مقابلے میں بےبس اور کمزور پایا تو بت "عزیٰ" کو چھوڑ کر بت "ہبل" کے دامن کو جا پڑا اور پکارا۔
"اعل هبل"
"ہبل سر بلند ہو"
پیغمبرؐ نے حکم دیا کہ اس جاہلانہ شعار کو مضبوط اور پختہ شعار کے ساتھ شکست دو اور کہو۔
"الله اعلي و اجل"
"خدا برتر و بالاتر ہے"
ابوسفیان کو جب اپنے ان مختلف شعار سے کوئی فائدہ نہ ہوا تو اس نے پکار کر کہا ہماری وعدہ گاہ "بدرخضریٰ" ہے۔
مسلمان میدان جنگ سے بہت سے زخم لے کر پلٹے وہ احد کے دردناک حوادث پر بہت دکھی تھے اسی وقت اوپر والی آیت نازل ہوئی جس میں انھیں بیدار کیا گیا کہ وہ مشرکین کا تعاقب کرنےمیں کوتاہی نہ کریں اور اس دردناک واقعہ سے پریشان نہ ہوں۔ مسلمان اسی حالت میں دشمن کو پیچھا کرنے اٹھ کھڑے ہوئے اور جب اس کی اطلاع مشرکین کو پہنچی تو وہ بڑی تیزی کے ساتھ مدینہ سے دور نکل گئے اور مکہ کی طرف پلٹ گئے۔ (بحوالہ: تبیان جلد سوم صفحہ ٣۱٤، مجمع البیان جلد سوم صفحہ ۱٠٥)
یہ شان نزول ہمیں تعلیم دیتی ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دشمن کی کسی تکنیک سے بےخبر نہ ہوں اور ان کی جنگ کے ہر ذریعہ کے مقابل چاہے وہ جسمانی جنگ ہو یا نفسیاتی اس سے زیادہ مضبوط اور غلبہ پانے والا ذریعہ اپنائیں۔ دشمنوں کی منطق کے مقابلے میں زیاده ٹھوس منطق اور ان کے ہتھیار کے مقابل میں بہتر ہتھیار استعمال کریں۔ یہاں تک کہ ان کے نعرے کے مقابلے زیاده زوردار نعرہ اپنائیں ورنہ واقعات دشمن کے فائدہ میں چلے جائیں گے۔
لہذا ہمارے زمانے میں مسلمانوں کو دردناک حوادث اور وحشت ناک مفاسد نے گھیر رکھا ہے بجائے اس کے کہ افسوس کرتے رہیں فعالیت سے کام لیں غلط کتابوں اور مطبوعات کے مقابلے میں صحیح کتب اور معلومات فراہم کریں۔ دشمنوں کے پراپیگنڈه کے جدید ذرائع کے مقابلے میں آج کے جدید ترین تبلیغاتی وسائل کو کام میں لائیں اور غلط مراکز کے مقابلے میں تفریع کے صحیح ذرائع اپنے نوجوانوں کے لیے فراہم کریں اور ان کے منصوبوں، سازشوں اور حیلوں کے مقابلے میں موجودہ زمانے کی مناسبت سے جامع اسلامی منصوبے پیش کریں جو مختلف سیاسی، اقتصادی اور اجتماعی نظریات رکھنے والوں کا مقابلہ کر سکیں۔ صرف انھی طریقوں سے ہم اپنے وجود کا تحفظ کر سکتے ہیں اور ہمیں چاہیے کہ ہم قیادت کرنے والے طبقہ کی حیثیت سے آج کی دنیا میں آگے بڑھیں۔
تفسیر
جہاد اور ہجرت سے متعلق آیات کے بعد زیر نظر آیت میں مسلمانوں میں وفاداری کی روح بیدار کرنے کے لیے کہا گیا ہے: دشمن کا تعاقب کرنے میں سستی نہ کرو (ولا تهنوا في ابتغاء القوم)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ کبھی بھی سخت ترین دشمن کے مقابلے میں دفاعی حالات کو نہ اپناؤ بلکہ ہمیشہ اس قسم کے افراد کے مقابلے میں یورش کر کے اور بڑھ کر حملہ کر کے اپنی حفاظت کرو کیونکہ نفسیاتی طور پر یہ حربہ دشمن کے حوصلے پست کرنے کے لیے بہت موثر ہے جس طرح کے واقعہ میں شدید شکست کے بعد اس روش پرچل کر فائدہ اٹھایا گیا وہ دشمنان اسلام جنھوں نے جنگ میں فتح حاصل کرنے کے بعد میدان جنگ چھوڑ دیا اور راستے میں میدان جنگ کی طرف پلٹنے کی جو فکر ان میں پیدا ہوئی وہ ان کے دماغ سے نکل گئی اور وہ بڑی تیزی کے ساتھ مدنیہ سے دور کا ہٹ گئے۔
اس کے بعد اللہ تعالی نے ایک زندہ اور واضح استدلال اس حکم کے لیے بیان کرتے ہوئے فرمایا: تم کیوں کاہل بنتے ہو حالانکہ اگر تم میدان جهاد میں درد و رنج میں گرفتار ہوئے ہو تو تمہارے دشمن بھی پریشانیوں میں مبتلا تھے لیکن اس میں فرق یہ ہے کہ تمھیں تو پھر بھی پروردگار عالم کی زیادہ سے زیاده مدد و رحمت کی امید تھی لیکن وہ تو اس امید سے بھی محروم تھے (ان تكونوا تألمون فانهم يالمون كما تألمون وترجون من الله ما لايرجون ) اور آخر میں زیادہ تاکید کے لیے فرماتا ہے:
یہ بات نہ بھولنا کی تمھاری یہ تمام پریشانیاں، تکلیفیں، زحمتیں اور بعض اوقات کاہلی اور چشم پوشیاں خدا کی نظر سے مخفی نہیں (وكان الله علیم!احکیم!ا) لہذا ان سب کا نتیجہ تم دیکھ لو گے۔
اور خدا سے مغفرت طلب کرو کہ خدا بخشنے والا اور مہربان ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
زیر نظر آیات کی شانِ نزول کے بارے میں ایک طویل واقعہ نقل ہوا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے:
قبلیہ بنی ابیرق نسبتاً ایک مشہور قبیلہ تھا اس قبیلہ کے تین بھائی بشر، بشیر، مبشر نامی تھے۔ بشیر ایک مسلمان رفاعہ کے گھر میں داخل ہوا اور تلوار، زرہ اور کچھ خوراک چوری کر لیں۔ اس کے بھتیجے "قتادہ" نے جو مجاہدین بدر میں سے تھا یہ واقعہ پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں بیان کیا لیکن ان تین بھائیوں نے اپنے ایک پڑوسی صاحب ایمان مسلمان لبید پر اس معاملے میں تہمت لگائی۔ لبید اس ناروا تہمت سے بہت زیادہ برہیم ہوا اور تلوار نکال کر اس کے پاس آیا اور چیخ کر کہا: تم مجھ پر چوری کی تہمت لگاتے ہو، حالانکہ اس الزام کے زیادہ اہل تم ہو اور تم وہی منافق ہو جو پیغمبر خداؐ کی ہجو کہتے تھے اور پھر ہجو کے اشعار کو قریش سے منسوب کر دیتے تھے یا تو اس تہمت کو جو تم نے مجھ پر لگائی ہے ثابت کرو ورنہ میں اپنی تلوار تمہیں گھونپ دوں گا چور کے بھائیوں نے جب یہ صورت حال دیکھی تو لبید سے نرمی کا سلوک کیا لیکن جب انہیں یہ خبر ملی کہ واقعہ قتادہ کے ذریعے پیغمبر اکرمؐ کے گوش گزار ہو چکا ہے تو وہ اپنے قبیلے کے ایک خطیب کے پاس گئے کہ وہ چند افراد کے ساتھ پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں جائے اور قیافہ سے حقیقی چوروں کو بری الذمہ قرار دے اور کہے کہ قتادہ نے جھوٹا الزام لگایا ہے۔ پیغمبر اکرمؐ نے (ظاہر پر عمل کرنے کے فریضہ) کے مطابق اس گروہ کی شہادت کو قبول کر لیا اور قتادہ کو سزا کا مستحق قرار دیا، قتادہ جو بےگناہ تھا اس سے بہت پریشان ہوا اور اپنے چچا کے پاس لوٹ کر گیا اور بہت زیادہ افسوس کے ساتھ واقعہ بیان کیا تو اس کے چچا نے اس کی دلجویئ کی اور کہا کہ پریشان نہ ہو خدا ہمارا نگہبان ہے اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور اس سے بےگناہ شخص کو بری الذمہ قرار دیا اور حقیقی خیانت کرنے والوں کی شدید سرزنش کی۔
اس آیت کی ایک اور شان نزول (بھی) نقل ہوئی ہے کہ ایک انصآری کی زرہ کسی جنگ میں چوری ہو گئی۔ شک بنی ابیرق قبیلہ کے ایک شخص پر تھا۔ چور کو جب خطرہ نظر آیا تو اس نے وہ زرہ ایک یہودی کے گھر میں پھینک دی اور اپنے قبیلہ والوں سے کہا کہ پیغمبر اکرمؐ کے سامنے اس کی صفائی دیں اور کہیں کہ زرہ تو یہودی کے گھر میں ہے اس لیے وہ بری الذمہ ہے۔ پیغمبر اکرمؐ نے جب یہ صورت دیکھی تو ظاہری طور پر اسے بری الذمہ قرار دیا اور یہودی کے خلاف فیصلہ دیا اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں اور حقیقت کو واضح کیا۔
تفسیر
خیانت کرنے والوں کی حمایت نہ کرو
خدا ان آیات میں پہلے تو پیغمبر اکرمؐ کو وصیت کرتا ہے کہ اس آسمانی کتاب کو بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے اصول جاری ہوں: ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تم پر نازل کی ہے تاکہ اس کے ذریعے خدا نے تجھے جو علم دیا ہے لوگوں کے درمیان فیصلے کرو ۔ (إِنَّا اَنْزَلْنا إِلَیْکَ الْکِتابَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِما اَراکَ اللَّہُ) اس کے بعد کہتا ہے کہ کبھی بھی خیانت کر نے والوں کی حمایت نہ کرو(وَ لا تَکُنْ لِلْخائِنینَ خَصیماً)۔ اگرچہ بظاہر روئے شخن پیغمبر اکرمؐ کی طرف ہے لیکن اس میں شک و شبہ نہیں کہ یہ ایک عمومی حکم ہے جو تمام قاضیوں اور فیصلہ کرنے والوں کے لئے ہے اس بنا پر اس قسم کے خطاب کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ ممکن ہے کہ اس قسم کا معاملہ پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ پیش آیا ہے کیونکہ اس مذکورہ حکم کا تعلق تمام افراد سے ہے۔
بعد والی آیت میں پیغمبر اکرمؐ کو بار گاہِ خداوندی سے طلب مغفرت کے لئے کہا گیا ہے (وَ اسْتَغْفِرِ اللَّہَ) کیونکہ خدا بخشنے والا اور مہربان ہے (إِنَّ اللَّہَ کانَ غَفُوراً رَحیماً)۔
یہ کہ یہاں استغفار کس لئے ہے اس میں کئی احتمال ہیں:
پہلا یہ کہ استغفار اس ترک اولیٰ کی بنا پر ہے جو فیصلہ میں جلدی کرنے کی وجہ سے آیات کی شانِ نزول کے بارے میں آیا ہے یعنی اگرچہ وہی اعتراف کی نوعیت اور طرفین کی گواہی تمہارے فیصلہ کرنے کے لئے کافی تھی لیکن بہتر یہ تھا کہ پھر بھی اس معاملے میں مزید تحقیق کی جاتی۔
دوسرا یہ کہ پیغمبر اکرمؐ نے اسی شانِ نزول کے متعلق اسلام کے قضائی قوانین میں مطابق فیصلہ کیا اور چونکہ خیانت کرنے والوں کی سند اور ثبوت ظاہری طور پر زیادہ مستحکم تھے لہٰذا انھیں حق بجانب قرار دیا گیا پھر حق کے سامنے آ جانے اور حق داروں کو حق مل جانے کے بعد حکم دیتا ہے کہ خدا سے مغفرت طلب کرو نہ کہ اس بنا پر کہ کوئی گناہ سر زد ہوا ہے بلکہ اس وجہ سے کہ بعض لوگوں کی سازش کی وجہ سے ایک مسلمان کا حق سلب ہو رہا تھا (یعنی استغفارحکم واقعی ہے نہ کہ حکم ظاہری)
یہ احتمال بھی بیان ہوا ہے کہ یہاں استغفار کا حکم طرفین دعویٰ کو دیا گیا ہے جنہوں نے دعویٰ پیش کیا اور پھر اس سلسلے میں کئی غلط گواہیاں دیں۔ پیغمبر اکرمؐ سے ایک حدیث میں منقول ہوا ہے آپؐ نے فرمایا:
انما انا بشر و انکم تختصمون الیٰ و لعل بعضکم یکون الحن بحجتہ من بعض فاقضی بنحو ما اسمع فمن قضیت لہ من حق اخیہ شیئا فلا یاخذہ فانما اقطع لہ و قطعة من النار۔
میں تمہاری طرح ایک بشر ہوں (ظاہری امور میں فیصلے کرنے پر مامور ہوں) شاید تم میں سے بعض وہی دلیل بیان کرتے وقت بعض دوسروں سے زیادہ قوی ہوں اور میں بھی اسی دلیل کی بنا پر فیصلہ کروں گا باوجود اس کے جان لو کہ میرا فیصلہ جو طرفین کے دلائل کے سامنے آنے پر صادر ہوتا ہے وہ واقعی حق کو نہیں بدل سکتا لہٰذا اگر میں کسی کے حق میں (ظاہر کے مطابق) فیصلہ کر دوں اور دوسرے کا حق اسے دے دوں تو میں جہنم کی آگ کا ایک ٹکڑا اسے دے رہا ہوں اسے چاہئیے کہ وہ اس سے بچے او رنہ لے۔ (بحوالہ: المنار ،ج۵ ص۳۹۴ منقول از صحیح بخاری و صحیح مسلم)
(تشریحی نوٹ: پہلا احتمال اور شان نزول والی روایات اور اس روایات کا ظہور قواعد مذہب کے خلاف ہے کیونکہ آنحضرت منصوص قرآن ترک اولیٰ سے بھی معصوم تھے۔ مترجم)۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ کا فریضہ یہ ہے کہ وہ ظاہر کے مطابق اور دعویٰ کرنے والے طرفین کے دلائل کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کریں۔ البتہ اس قسم کے فیصلوں سے عام طور پر حق دار کو حق مل جاتا ہے لیکن پھر بھی ممکن ہے کہ بعض اوقات ظاہراً دلیل اور گواہوں کی گواہی واقع کے مطابق نہ ہوتو یہاں خیال کرنا چاہئیے کہ فیصلہ کرنے والے کا حکم واقع کو نہیں بدل سکتا اور اس سے حق، باطل اور باطل حق نہیں ہو سکتا۔
وہ اپنے برے کاموں کو لوگوں سے چھپاتے ہیں لیکن خدا سے نہیں چھپاتے اور رات کی مجالس میں ایسی باتیں کرتے تھے جن سے خدا راضی نہ تھا خدا ان کیساتھ تھا اور وہ جو عمل کرتے ہیں خدا اس پر محیط ہے۔
جی ہاں ! تم تو وہی ہو جنہوں نے اس جہان کی زندگی میں ان کو بچایا(اور ان کا دفاع کیا) لیکن کون ہے جو خدا کے سامنے قیامت کے دن ان کا دفاع کرے گا یا کون ہے جو ان کا وکیل اور حامی ہو گا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
خیانت کرنے والوں کی حمایت نہ کرنے کے احکامات کے بعد ان آیا ت میں اس سلسلہ کو یوں جاری رکھا گیا ہے: کسی وقت بھی خیانت کرنے والوں کی اور ان کی جو اپنے آپ سے خیانت کرتے ہیں حمایت نہ کرو۔ (وَ لا تُجادِلْ عَنِ الَّذینَ یَخْتانُونَ اَنْفُسَہُمْ) ۔کیونکہ خدا خیانت کرنے والے گنہ گاروں کو پسند نہیں کرتا (إِنَّ اللَّہَ لا یُحِبُّ مَنْ کانَ خَوَّاناً اَثیماً)۔
قابل توجہ امر یہ ہے کہ خدا اس آیت میں فرماتا ہے: وہ لوگ جو اپنے آپ سے خیانت کرتے ہیں۔ حالانکہ ہم آیت کی شانِ نزول کے مطابق جانتے ہیں کہ انھوں نے دوسروں سے خیانت کی تھی یہ اسی لطیف معنی کی طرف اشارہ ہے کہ جس کی قرآن نے بارہا یا دہانی کرائی ہے کہ انسان سے جو بھی عمل سرزد ہو اس کے اچھے یا برے آثار معنوی ہوں یا مادی ہرایک سے پہلے خود اس پر اثر انداز ہوں جیسا کہ دوسرے مقام پر فرماتا ہے:
ان احسنتم احسنتم لانفسکم و ان اساٴتم فلھا
اگر نیک کام کرتے ہو تو اپنے نفسوس کے لئے کرتے ہو اور اگر برائی کرو تو بھی اپنے نفس کے لئے ہے۔ (بحوالہ: بنی اسرائیل۔۷)
یا یہ ایک اور نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ جس کی قرآن تائید کرتا ہے اور وہ یہ کہ تمام افراد ایک جسم کے مختلف اعضاء کی طرح ہیں اگر ایک کسی دوسرے کو کوئی تکلیف پہچانا ہے تو اس طرح خود اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ بعینہ اس شخص کی طرح جو اپنے ہاتھ سے اپنے منہ پر تھپیڑے مارے۔ ایک اور نکتہ یہ ہے کہ آیت ان افراد کے بارے میں نہیں کہ جو مثلاً ایک ہی دفعہ خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں اور پھر اس پر پشمان ہو گئے ہوں کیونکہ ایسے اشخاص کے بارے میں سختی نہیں بلکہ نرمی برتنی چاہئیے۔ آیت تو ان افراد کے بارے میں ہے جن کی زندگی کا لائحہ عمل ہی خیانت ہے ”یختاتون“ کے قرینہ سے جو کہ فعل مضارع ہے اور ہمیشگی پر دلالت کرتا ہے اور ”خوّان“ کے قرینہ سے بھی جو کہ مبالغہ کا صیغہ ہے اور اس کا معنی ہے ”بہت خیانت کرنے والا“ ۔”اَثیمٌ“ کا معنی ”گنہ گار“ ہے یہ ”خوّان“ کی تاکید کے طور پر ذکر ہوا ہے۔ گذشتہ آیت میں بھی اسے خائن قرار دیا گیا ہے اور خائن اسم فاعل ہے اور وصفی معنی رکھتا ہے نیز تکرار عمل کی علامت ہے۔ پھر ایسے خیانت کاروں کی سرزنش کرتے ہوئے کہتا ہے انھیں شرم آتی ہے کہ ان کے اعمال کا باطن لوگوں کے سامنے ظاہر ہو لیکن وہ خدا سے تو شرم نہیں کرتے (یَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَ لا یَسْتَخْفُونَ مِنَ اللَّہِ)۔ وہ خدا جو پر جگہ ان کے ساتھ ہے اور جس وقت رات کی تاریکی میں وہ خیانت کار سازشیں اور منصوبے بناتے تھے اور وہ باتیں کرتے ہیں جن سے خدا راضی نہیں وہ (خدا) ان کے ساتھ تھا اور وہ ان کے تمام اعمال پر محیط ہے (وَ ہُوَ مَعَہُمْ إِذْ یُبَیِّتُونَ ما لا یَرْضی مِنَ الْقَوْلِ وَ کانَ اللَّہُ بِما یَعْمَلُونَ مُحیطاً)۔
اس کے بعد روئے سخن چور کے قبیلے کے ان افراد کی طرف ہے جنہوں نے اس کا دفاع کیا تھا۔ خدا انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے تعجب ہے کہ تم اس جہان کی زندگی میں تو ان کا دفاع کرتے ہو، لیکن کون ہے جو قیامت کے دن ان کا دفاع کرے یا وکیل بن کر ان کے کام آئے اور ان کی مصیبتوں اور ابتلاوٴں کو ختم کرے (ہا اَنْتُمْ ہؤُلاءِ جادَلْتُمْ عَنْہُمْ فِی الْحَیاةِ الدُّنْیا فَمَنْ یُجادِلُ اللَّہَ عَنْہُمْ یَوْمَ الْقِیامَةِ اَمْ مَنْ یَکُونُ عَلَیْہِمْ وَکیلاً)۔ اس وجہ سے تمہاری طرف سے ان کا دفاع معمولی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ دائمی زندگی میں خدا کے سامنے ان کا کوئی دفاع کرنے والا نہیں ہے۔
حقیقت میں اوپر والی تین آیات میں پہلے تو پیغمبر اسلامؐ اور سب قاضیوں کو حق کی وصیت کی گئی ہے کہ وہ مکمل طور پر نگرانی اور دھیان رکھیں کہ کچھ لوگ حیلہ سازی اور جھوٹے گواہوں کے ذریعے دوسروں کے حقوق پائمال نہ کریں پھر خیانت کرنے والوں اور بعد میں ان کا دفاع کرنے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ اس جہان اور دوسرے جہان میں اپنے اعمال کے برُے نتائج پر نظر رکھیں۔
اور یہ بلاغت قرآن کا ایک راز ہے کہ ہر واقعہ میں چاہے وہ ظاہراً جتنا معمولی اور چھوٹا ہو وہ ایک ذرہ بھر یا تھوڑے سے اناج کے گرد گھومتا ہو۔ یا اس میں ایک یہودی اور دشمن اسلام کا ہاتھ ہو اس کے تمام پہلووٴں پر کھوج اور تحقیق کرتے ہوئے پوری توجہ دلاتا ہے اور ہر موقع پر خطرہ سے آگاہ کرتا ہے، خدا کے عظیم پیغمبر سے لے کر کہ جس کا دامن عصمت کی بنا پر ہر قسم کے گناہ سے پاک ہے، خیانت پیشہ گنہگار افراد اور ان لوگوں تک جو رشتہ داری کے تعصبات کی وجہ سسے اس قسم کے افراد کا دفاع کرتے ہیں ہر ایک پر اس کی مناسبت سے بحث کرتا ہے۔
جو شخص غلطی یا گناہ کا مرتکب ہو پھر بے گناہ پر الزام دھرے اس نے بہتان اور واضح گناہ کا بوجھ اپنے کندھوں پر لاد لیا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
ان تین آیات میں خیانت اور تہمت سے متعلق بحث کے بعد جو گذشتہ آیات میں ہو چکی ہے تین مجموعی احکامات بیان ہوئے ہیں۔
۱۔ پہلے تو اس حقیقت کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ توبہ کی راہ بدکار لوگوں کے لئے بہرحال کھلی ہے اور جو شخص اپنے اوپر یا کسی دوسرے پر ظلم کرے اور بعد میں حقیقتاً پشیمان ہو اور خدا سے مغفرت طلب کرے اور وہ اس کی تلافی کی کوشش بھی کرے تو خدا کو بخشنے والا اور مہربان پائے گا۔ (وَ مَنْ یَعْمَلْ سُوءاً اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہُ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِاللَّہَ یَجِدِ اللَّہَ غَفُوراً رَحیماً)۔ غور کرنا چاہئیے کہ آیت میں دو چیزیں بیان ہوئی ہیں ایک ”سوء“ اور دوسری کسی پرظلم۔ قرینہ مقابلہ کی طرف توجہ کرتے ہوئے اور ”سوء“ کے اصل معنی” دوسرے کو نقصان پہچانا) سے اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ ہر قسم کا گناہ جس سے انسان دوسرے کو نقصان پہنچائے یا اپنے کو) وہ حقیقی توبہ اور تلافی کی صورت میں قابلِ بخشش ہے۔
ضمنی طور پر “یجد اللہ غفوراً رحیماً“ (خدا کو بخشنے والا، مہربان پائے گا) سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی توبہ یہ اثر رکھتی ہے کہ انسان اپنے نفس کے اندر ہی اس کا نتیجہ پا لیتا ہے ایک طرف خدا کے غفور ہونے کے تصور سے گناہ کا پریشان کن اثر زائل ہو جاتا ہے اور دوسری طرف وہ محسوس کرتا ہے کہ معصیت کے سبب وہ رحمت و الطاف الہٰی سے دور ہو گیا تھا اور اب اس کی اہمیت کی وجہ سے دوریاں ختم ہو گئی ہیں اور وہ خدا کے نزدیک ہو گیا ہے۔
۲۔ دوسری آیت اس حقیقت کی وضاحت ہے کہ جس کا اجمال گذشتہ آیات میں ہو چکا ہے اور وہ یہ ہے کہ ” انسان جس گناہ کا مرتکب ہوتا ہے نتیجة اس سے اپنے آپ کو ضرور نقصان میں مبتلا کر لیتا ہے (وَ مَنْ یَکْسِبْ إِثْماً فَإِنَّما یَکْسِبُہُ عَلی نَفْسِہِ)۔ اور آیت کے آخر میں فرماتا ہے کہ خدا عالم ہے اور بندوں کے اعمال سے باخبر ہے اور وہ حکیم و دانا بھی ہے اور ہر شخص کو اس کے استحقاق کے مطابق سزا و جزا دیتا ہے (وَ کانَ اللَّہُ عَلیماً حَکیماً)۔
اس طرح گناہ اگرچہ ظاہر میں مختلف ہیں کبھی بھی کسی گناہ کا نقصان دوسروں کو پہنچتا ہے اور کبھی اس کا نقصان اپنے آپ کو ہوتا ہے۔ لیکن اس کا حقیقی اور آخری نتیجہ بہرحال خود انسان کے اپنی طرف لوٹتا اور گناہ کے برے اثرات سب سے پہلے خود انسان کی روح اور نفس میں ظاہر ہوتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: شعلہٴ اول نصیبِ دامن ”آتش زنہ“ است۔ این سزائے آں کہ بوسد آستانِ ظلم را۔ آگ کا پہلا شعلہ جلانے والے کے دامن کو جلاتا ہے۔ آستانہ ظلم پر بوسہ دینے کی یہی سزا ہے)۔
۳۔ آخری آیت میں بےگناہ افراد پر تہمت لگانے کے گناہ کی شدت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ”جو شخص خطا یا گناہ کا مرتکب ہوتا ہے اور اسے کسی بےگناہ کے سر تھوپتا ہے اس نے بہتان باندھا ہے اور واضح گناہ کا ارتکاب کیا ہے (وَ مَنْ یَکْسِبْ خَطیئَةً اَوْ إِثْماً ثُمَّ یَرْمِ بِہِ بَریئاً فَقَدِ احْتَمَلَ بُہْتاناً وَ إِثْماً مُبیناً)۔ اس آیت میں وہ گناہ کہ جن کا انسان مرتکب ہوا ہو اور پھر انھیں دوسرے کے سر تھوپ دے ان کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک خطیئة اور دوسرا ”اثم“ ان دونوں کے درمیان فرق کے سلسلہ میں مفسرین اور اہل لغت ،میں بہت اختلاف ہے جو معنی زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ”خطیئة“خطا“ سے ہے جو دراصل ان گناہوں اور لغزشوں کے معنی میں ہے جو انسان سے قصد ارادہ کے بغیر سرزد ہو جائیں اور بعض اوقات ان کا کفارہ اور تاوان ادا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن بتدریج خطیئة کے معنی میں وسعت پیدا ہو گئی اور وہ ہر گناہ کے بارے میں استعما ل ہونے لگا چاہے وہ عمداً ہو یا بھول کر۔ کیونکہ کسی قسم کا گناہ (چاہے وہ عمداً ہو یا بھول کر) انسان کی روحِ سلیم کے لئے مناسب نہیں ہے اور اگر اس سے سرزد ہو جائے تو حقیقت میں ایک قسم کی لغزش اور خطا ہے جو اس کے مقام و مرتبے کے منافی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ خطیئہ کا ایک وسیع مفہوم ہے جس میں عمدی اور غیر عمدی گناہ دونوں شامل ہیں۔ لیکن اثم عموماً عمدی اور اختیاری گناہوں کے لئے بولا جاتا ہے۔ دراصل اثم ایسی چیز کے معنی میں ہے جو انسان کو کسی کام سے باز رکھے اور چونکہ گناہ انسان کو بھلائی کے اور اچھے کاموں سے دور رکھتے ہیں لہٰذا انھیں ”اثم“ کہا جاتا ہے۔
ضمناً توجہ کرنی چاہئیے کہ آیت میں تہمت کے بارے میں ایک لطیف تعبیر استعمال کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ گناہ کو تیر کی طرح قرار دیا گیا ہے اور دوسرے کی طرف اس کی نسبت دینے کو تیر ہدف کی طرف چھوڑنے کی طرح قرار دے کر اس طرف اشارہ کیا گیا ہے جس طرح کسی کی طرف تیر پھینکنا ممکن ہے اسے ختم کر دے، اسی طرح گناہ کے تیر کو بھی ایسے شخص کی طرف چھوڑنا جو گناہ کا مرتکب نہیں ہوا ممکن ہے کہ اس کی عزت اور آبرو کو برباد کر دے جو دراصل اس کے قتل کی طرح ہے۔ واضح ہے اس عمل کا بوجھ ہمیشہ کے لئے ایسے شخص کے کندھے پر باقی رہے گا جس نے تہمت لگائی ہے اور ”احتمل“ (اپنے کندھے پر اٹھاتا ہے) یہ لفظ بھی اس ذمہ داری کی اہمیت اور اس کے ہمیشہ قائم رہنے کی طرف اشارہ ہے۔
جرم تہمت
کسی بےگناہ پر تہمت باندھنا بدترین افعال میں سے ہے کہ جس کی اسلام نے شدت سے مذمت کی ہے، زیر نظر آیت اور متعدد اسلامی روایات جو اس ضمن میں ملتی ہیں اس کے لئے اسلام کا نظریہ واضح کرتی ہیں۔ امام صادق (علیه السلام) ایک حکیم و دانا سے نقل کرتے ہیں:
البھتان علی البریٴ اثقل من جبال راسیات
بےگناہ پر بہتان باندھنا عظیم پہاڑوں سے بھی زیاہ سنگین ہے۔ (بحوالہ سفینة البحار، جلد اول مادہ ”بھت“)
بےگناہ افراد پر بہتان باندھنا روح ایمان کے منافی ہے جیسا کہ امام صادق (علیه السلام) سے منقول ہے:۔
اذا اتھم المومن اخاہ انماث الایمان فی قلبہ کم ینماث الملح فی الماء
جو شخص اپنے مومن بھائی پر تہمت، لگاتا ہے تو ایمان اس کے دل میں اس طرح گھل جاتا ہے جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔ (بحوالہ: اصول کافی جلد ۲ ص ۲۶۹ باب التھمة و سوء الظن)
حقیقت میں بہتان اور تہمت، جھوٹ کی بدترین اقسام میں سے ہے کہ کیونکہ اس میں جھوٹ کے عظیم مفاسد اور غیبت کے نقصانات بھی شامل ہیں اور یہ ظلم و ستم کی بدترین قسم بھی ہے اس لئے پیغمبر اسلامؐ سے منقول ہے، آپؐ نے فرمایا:
من بھت مومنا او موٴمنة او قال فیھما مالیس فیہ اقامہ اللہ تعالیٰ یوم القیامة علی قل من نار حتی یخرج مما قالہ
جو شخص کسی مومن مرد یا عورت پر بہتان باندھے یا ان کے بارے میں کوئی ایسی بات کہے جو ان میں نہ ہو تو خداوند عالم اسے قیامت کے دن آپ کے ایک ٹیلے پر کھڑا کر دے گا۔ یہاں تک کہ وہ اس بات سے بری الذمہ ہو جائے جو اس نے کہی ہے۔ (بحوالہ: سفینة البحار جلد اوّل صفحہ ۱۱۱)۔
حقیقت میں اس گھٹیا اور بزدلانہ کام کے رائج ہونے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ معاشرے کا نظم و نسق اور اجتماعی اور انصاف برباد ہو جاتا ہے حق اور باطل آپس میں غلط ملط ہو جاتے ہیں بےگناہ افراد گرفتارِ بلا ہو جاتے ہیں گنہ گار افراد بچے رہتے ہیں اور باہمی اعتماد ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔
اگرخدا کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو ان میں سے ایک گروہ پختہ ارادہ کر چکا تھا کہ وہ تمہیں گمراہ کر دے لیکن وہ اپنے سوا کسی کو گمراہ نہیں کر سکتے اور وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور خدا نے کتاب و حکمت تم پر نازل کی اور تمہیں اس چیز کی تعلیم دی جو تم نہیں جانتے تھے اور تم پر خدا کا عظیم فضل تھا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
یہ آیت بنی ابیرق کے حادثہ کے ایک پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ قبل کی چند آیات کی شان نزول میں اس کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔
آیت کہتی ہے: اگر خدا کا فضل و رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتا تو (منافقین یا ان جیسے) بعض لوگ مصمم ارادہ کر چکے تھے کہ تمہیں راہِ حق و عدالت سے منحرف کر دیں لیکن لطفِ الہٰی تمہارے شامل حال رہا اور اس نے تمہاری حفاظت کی (ولولا فضل اللہ علیک و رحمتہ لھمت طائفة منھم ای یضلوک)۔
وہ چاہتے تھے کہ ایک بےگناہ شخص پر تہمت لگائیں اور پھر پیغمبرؐ کو اس واقعے میں ملوث کریں تاکہ اس طرح ایک پیغمبر اکرمؐ کی اجتماعی اور معنوی حیثیت کو نقصان پہنچے اور دوسرا ایک بےگناہ مسلمان کے ذریعے اپنی بڑی اغراض پوری کر سکیں۔ لیکن وہ خدا جو اپنے پیغمبرؐ کا محافظ ہے اس نے ان کے منصوبوں کو نقش برآب کر دیا۔
بعض نے اس آیت کی ایک اور شانِ نزول بھی ذکر کی ہے، وہ یہ ہے کہ:
قبیلہ بنی ثقیف کا یک وفد پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: ہم دو شرطوں کے ساتھ آپ کی بیعت کے لئے تیار ہیں پہلی یہ کہ ہم اپنے بت اپنے ہاتھ سے نہیں توڑیں گے اور دوسری یہ کہ ہمیں اجازت دیں کہ ہم مزید ایک سال تک عزیٰ بت کی پرستش کرتے رہیں۔
خد اتعالیٰ نے اپنے پیغمبرؐ کو حکم دیا کہ ان تجاویز کے لئے کوئی میلان ظاہر نہ کریں۔
اسی ضمن میں مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی جس میں پیغمبر اکرمؐ سے کہا گیا کہ لطفِ خدا آپؐ کو ان وسوسوں سے محفوظ کھے گا۔
اس کے بعد قرآن کہتا ہے: یہ لوگ صرف اپنے آپ کو گمراہ کرتے ہیں اور آپ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے (وما یضلون الا انفسھم و ما یضرونک من شی)۔
آخر میں گمراہی، خطا اور گناہ سے پیغمبرؐ کے محفوظ رہنے اور پیغمبرؐ کی معنویت کی علت بیان کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: آپ پر خدا نے کتاب و حکمت نازل کی اور جو آپ نہیں جانتے تھے آپ کو اس کی تعلیم دی (وانزل اللہ علیک الکتاب و الحکمة و علمک مالم تکن تعلم)۔
بعد ازاں فرماتا ہے: آپ پر اللہ کا بہت ہی زیادہ فضل و کرم تھا (وکان فضل اللہ علیک عظیماً)
انبیاء کا سرچشمہٴ عصمت
مندرجہ بالا آیت ان آیات میں سے ہے جو نبی کے خطا، اشتباہ اور گناہ سے محفوظ ہونے کی نشاندہی کرتی ہیں ارشاد ہوتا ہے: اگر خدا کی امداد تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو وہ تمہیں گمراہ کر دیتے لیکن امداد الہٰی کی وجہ سے وہ تمہیں گمراہ کرنے کی قدرت نہیں رکھتے اور اس سلسلے میں تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔
اس طرح سے دراصل خداوند تعالی نے اپنے پیغمبرؐ کو خطا اور گناہ سے محفوظ رکھا ہے تاکہ:
____پیغمبر امت کے لئے نمونہ عمل بن سکے اور نیکیوں اور بھلائیوں کے لئے امت کے واسطے ایک معیار قرار پا سکے۔
____ایک عظیم رہبر کی حیثیت سے لغزشوں کے المناک انجام اور نتیجے سے محفوظ رہ سکے۔ یوں امت بھی اطاعتِ پیغمبر میں سرگردانی سے مامون رہے اور اطاعت و عدم اطاعت کے تضاد کا شکار نہ ہو جائے۔
____لوگوں کو پیغمبرؐ پر کامل اعتماد ہو سکے کیونکہ کامل اعتماد خدائی رہبری کی پہلی شرط ہے۔
آیت میں مسئلہ عصمت کی ایک بنیادی دلیل اجمالی طور پر بیان کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا نے پیغمبر کو علوم تعلیم فرمائے جن کی وجہ سے وہ گناہ اور خطا سے بالکل مامون و محفوظ ہو گئے ہیں کیونکہ علم و دانش (جب اپنے آخری مرحلے کو پہنچ جائے تو) موجب عصمت ہوتا ہے، مثلاً ایک ڈاکٹر ایسے پانی کو ہرگز نہیں پی سکتا جس میں ملیریا اور دیگر بیسیوں بیماریوں کے جراثیم موجود ہوں اور جنہیں وہ خود لیبارٹری میں دیکھ چکا ہو اور ان کے ہولناک اثرات سے بھی آگاہ ہو یعنی اس کا علم اسے ایسا عمل کرنے سے روکتا ہے جبکہ جہالت میں ممکن ہے وہ ایسا کام کر جاتا۔ اس بنا پر جو شخص وحی الہٰی اور پروردگار کی تعلیم کے ذریعے مختلف مسائل کے بارے میں مکمل آگاہی رکھتا ہو وہ لغزش و اشتباہ کا شکار ہوتا ہے نہ گمراہی و گناہ میں پڑتا ہے..... یہاں یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئیے کہ پیغمبر گناہ نہ کرنے پر مجبور ہے بلکہ پیغمبر کو خدا کی طرف سے علم تو ہوتا ہے لیکن وہ اس سے مجبور نہیں ہو جاتا۔ یعنی پیغمبر کبھی اپنے علم پر عمل کرنے پر مجبور نہیں ہوتا بلکہ اپنے اختیار سے اس علم پر عمل کرتا ہے جیسے مذکورہ مثال میں ڈاکٹر اس آلودہ پانی کی کیفیت سے آگاہی کے باوجود اسے نہ پینے پر مجبور نہیں ہے بلکہ وہ اپنے ارادے اور اختیار سے اسے نہیں پیتا۔
اور اگر کہا جائے کہ پیغمبر کے لئے یہ فضل الہٰی کیوں ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا رہبری کی اہم اور بھاری ذمہ داری کی بنا پر ہے جو ان کے کندھے پر رکھی گئی ہے اور دوسروں کے دوش پر نہیں ہے کیونکہ خدا جتنی کسی پر مسولیت اور ذمہ داری ڈالتا ہے اتنی ہی اسے توانائی اور قدرت عطا کرتا ہے (غور کیجئے گا)۔
ان کی بہت سی سر گوشیوں (اور خفیہ میٹنگوں ) میں خیر و سود مندی نہیں ہے مگر یہ کہ کوئی شخص (اس طریقے سے) دوسروں کی مدد، کوئی نیک کام یا لوگوں کے درمیان اصلاح کی کوشش کرے اور جو شخص رضائے الٰہی کے لئے یہ سب کچھ کرے تو اسے ہم عظیم اجر دیں گے۔
تفسیر
سرگوشیاں
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ آیات میں بعض منافقین یا ان جیسے لوگوں کے راتوں کے مخفی اور شیطانی جلسوں اور میٹنگوں کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔ اب اس آیت میں ”نجوی“ کے زیر عنوان ذرا تفصیل سے بات کہی گئی ہے۔
”نجویٰ“ کا معنی صرف کان میں باتیں کرنا یا سرگوشی ہی نہیں بلکہ ہر قسم کی مخفی اور پوشیدہ میٹنگوں کو بھی ”نجویٰ“ کہتے ہیں کیونکہ اصل میں ”نجویٰ“ ”نجوة“ (بر وزن دفعہ) کے مادہ سے ہے اور اس کا معنی ہے اونچی زمین، بلند زمینیں چونکہ اپنے اطراف سے جدا ہوتی ہیں اور خفیہ میٹنگیں اور سرگوشیاں بھی اطراف والوں سے جدا ہوتی ہیں لہٰذا انھیں ”نجویٰ“ کہتے ہیں۔
بعض کا نظریہ یہ ہے کہ یہ سب الفاظ ”نجات“ کے مادہ سے ہیں جس کا معنی ہے ”رہائی“ اور کیونکہ ایک بلند جگہ سیلاب کے حملے سے نجات ہوتی ہے اور خفیہ میٹنگ اور سرگوشی بھی دوسروں کی اطلاع سے دور ہوتی ہے اس لئے اس کے لئے یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔
بہرحال آیت کہتی ہے: ان کی زیادہ تر خفیہ میٹنگیں جو شیطانی سازشوں اور منصوبوں کے تحت منعقد ہوتی ہیں ان میں سے کوئی بھلائی اور فائدہ نہیں ہے (لا خَیْرَ فی کَثیرٍ مِنْ نَجْواہُمْ )۔
اس کے بعد اس لئے کہ کہیں یہ گمان نہ ہو کہ ہر طرح کی سرگوشی اور مضفی میٹنگ مذموم و ممنوع ہے ایک کلی قانون میں استثنائی صورت کے مواقع بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: مگر یہ کہ کوئی شخص اس کے ذریعے صدقہ کی وصیت کرتا ہو، دوسروں کی مدد کا اقدام کرتا ہو، نیک کام انجام دیتا ہو، یا لوگوں کے درمیان صلح کرواتا ہو، (إِلاَّ مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوفٍ اَوْ إِصْلاحٍ بَیْنَ النَّاسِ)۔
ایسی سرگوشیاں اور میٹنگیں اگر ریا کاری اور تظاہر کے لئے نہ ہوں بلکہ ان کا مقصد رضائے پروردگار ہو تو خدا ان کے لئے اجر عظیم مقرر فرمائے گا (وَ مَنْ یَفْعَلْ ذلِکَ ابْتِغاءَ مَرْضاتِ اللَّہِ فَسَوْفَ نُؤْتیہِ اَجْراً عَظیماً)۔
اصولی طور پر سرگوشیوں، کانا پھوسیوں اور خفیہ میٹنگوں کو قرآن نے ایک شیطانی عمل قرار دیا ہے:
”انما النجویٰ من الشیطان“
یعنی ۔”نجویٰ، شیطان کی طرف سے ہے۔ (مجادلہ۔۱۰)
اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسا عمل عموماً غلط کاموں کے لئے ہوتا ہے چونکہ نیک مفید اور مثبت کاموں کی انجام دہی کے لئے عموماً کوئی خفیہ اور پوشیدہ چیز نہیں ہوتی ہاں التبہ بعض اوقات خلاف معمول حالات کی وجہ سے انسان مجبور ہو جاتا ہے کہ نیک کاموں کو مثبت طور پر مخفیانہ بجائے یہ استثنائی صورت بار ہا قرآن میں بیان کی گئی ہے مثلاً:
یا ایھا الذین اٰمنوا اذا تناجیتم فلا تتناجوا بالاثم والعدوان و معصیة الرسول و تناجوا بالبر و التقویٰ
اے ایمان والو! جب تم سرگوشی یا اخفاء کرو تو گناہ، ظلم اور پیغمبر کی نافرمانی کے لئے نہ ہو اور صرف نیک کاموں اور پرہیزگاری کے لئے، نجویٰ کرو۔ (مجادلہ۔۹)
بنیادی طور پر اگر سرگوشی اور نجویٰ بعض لوگ دوسرے لوگوں کی موجودگی میں کریں تو یہ دوسروں میں سوئے ظن پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے اور بعض اوقات دوستوں میں بدگمانی پیدا کر دیتی ہے۔ اس لئے بہتر ہے کہ ضرورت کے بغیر یہ طریقہ اختیار نہ کیا جائے اور قرآن اور مذکورہ حکم کا فلسفہ بھی یہی ہے۔ البتہ کبھی آبروئے انسانی کی حفاظت کے لئے ایسا کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ مثلاً کسی کی چھپ کر مالی امداد کرنا، جیسے زیر نظر آیت نے صدقہ کے حوالے سے ذکر کیا ہے۔
اسی طرح کبھی امربالمعروف اگر کھلے بندوں کیا جائے تو دوسرے کی شرمندگی کا باعث ہوتا ہے اور ممکن ہے اس طرح سے وہ نصیحت قبول نہ کرے اور اپنے طریقہ کار پر ہٹ دھرمی دکھائے۔ آیت میں اس کا ذکر ”معروف“ کے حوالے سے کیا گیا ہے۔
اس کی ایک اور مثال لوگوں کے درمیان صلح و مصالحت کا موقع ہے۔ بعض اوقات مسائل کو علی الاعلان بیان کیا جائے تو اس سے مصالحت میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں طرفین سے محرمانہ اور رازدارنہ طریقے سے گفتگو کرنا چاہئیے تاکہ مصالحت کا مقصد پایہ تکمیل کو پہنچ سکے۔ مذکورہ تین مواقع پر اور ایسے ہی دیگر مواقع پر ضرورت اس بات کی ہے کہ مثبت کام ”نجویٰ“ کے زیر سایہ انجام دیے جائیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ مذکورہ تینوں کام ”صدقہ“ کے مفہوم میں آ جاتے ہیں کیونکہ جو شخص امر بالمعروف کرتا ہے وہ علم کی زکوٰة ادا کرتا ہے اور جو صلح و مصالحت کرواتا ہے وہ لوگوں میں موجود اپنے اثر و رسوخ کی زکوٰة دیتا ہے۔ چنانچہ حضرت علی (علیه السلام) سے منقول ہے:
ان اللہ فرض علیکم زکوٰة جاھکم کما فرض علیکم زکوٰة ما ملکت ایدیکم۔
یعنی۔ خدا نے تم پر فرض اور واجب قرار دیا ہے کہ اپنے اثر و رسوخ اور معاشرت حیثیت کی زکوۃ ادا کرو۔ جیسا کہ اس نے واجب کیا ہے کہ مال زکوة ادا کرو۔ (بحوالہ: نور الثقلین، ج۱، صفحہ۔۵۵۰ اور دیگر تفاسیر)
نیز پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے:
الا ادلک علی صدقة یحبھا اللہ و رسولہ تصلح بین الناس اذا تفاسدوا و تقرّب بینھم اذا تباعدوا
یعنی کیا تجھے ایسے صدقہ سے آگاہ کروں جسے خدا اور اس کا رسول پسند کرتے ہیں (اور وہ یہ ہے کہ) جب لوگ ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں تو ان میں صلح کرو اور وہ ایک دوسرے سے دور ہو جائیں تو انھیں نزدیک لاوٴ۔ (بحوالہ: تفسیر قرطبی، جلد ۳ صفحہ ۱۹۵۵، زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔
جو شخص حق واضح ہو جانے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور راہ مومنین کے علاوہ کسی راستے کی پیروی کرے تو ہم اسے اسی راہ پر لیے جاتے ہیں جس پر وہ جا رہا ہے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ آیا ت کی شانِ نزول میں ہم کہہ چکے ہیں کہ بشیر بن ابیرق نے ایک مسلمان چوری کرنے کے بعد اس کا الزام ایک بےگناہ شخص پر دھر دیا اور حیلہ سازی سے پیغمبر اکرمؐ کے سامنے اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دے دیا۔ لیکن مذکورہ آیات کے نزول سے وہ رسوا ہو گیا۔ اس رسوائی کے بعد بجائے اس کے کہ توبہ کرتا اور راہِ حق پر لوٹ آتا، اس نے کفر کا راستہ اختیار کر لیا اور واضح طور پر مسلمانوں سے الگ ہو گیا اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور اس سلسلے میں اسلام کا ایک عمومی حکم بیان کیا۔
تفسیر
جب انسان کسی غلطی کر مرتکب ہوتا ہے تو آگاہی کے بعد اس کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں۔ ایک ہے بازگشت اور توبہ کا راستہ، جس کے ذریعے گناہ کے اثرات دھل جاتے ہیں اور اس تذکرہ گذشتہ چند آیات میں ہو چکا ہے۔ دوسرا ہے ہٹ دھرمی اور عناد کا راستہ، جس کے منحوس نتیجے کے بارے میں زیر بحث آیت میں اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جو شخص حق آشکار ہونے کے بعد رسول کے سامنے مخالفت اور عناد کا مظاہرہ کرے اور راہ مومنین کو چھوڑ کر دوسری راہ اختیار کرے تو ہم اسے اسی راستے کی طرف کھینچے لئے جائیں گے جس پر وہ جا رہا ہے اور روز قیامت ہم اسے جہنم میں ڈالیں گے اور کیسی بری جگہ اس کے انتظار میں ہے (وَ مَنْ یُشاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ ما تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدی وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبیلِ الْمُؤْمِنینَ نُوَلِّہِ ما تَوَلَّی وَ نُصْلِہِ جَہَنَّمَ وَ ساءَتْ مَصیراً)۔
توجہ رہے کہ ”یشاقق“، ”شقاق“ کے مادہ سے ہے، اس کا معنی ہے ایسی سوچی سمجھی مخالفت جس میں عداوت و دشمنی ملی ہوئی ہو،
”وَ مَنْ یُشاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ ما تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدی“ (یعنی ..... ہدایت اور راہ راست واضح ہو جانے کے بعد)...... یہ جملہ بھی اسی معنی کی تاکید کرتا ہے۔ درحقیقت اس سے بہتر انجام ایسے لوگوں کے بس میں ہی نہیں۔ ان کا انجام اس دنیا میں بھی منحوس اور افسوس ناک ہے اور اس جہان میں بھی دردناک ہے، اس جہان میں اس طرح جیسے قرآن کہتا ہے کہ وہ دن بدن اپنی غلط راہ میں زیادہ راسخ ہو جاتے ہیں وہ بےراہ روی میں جتنا آگے بڑھتے ہیں جادہٴ حق سے ان کا زاویہ انحراف اتنا ہی بڑھتا جاتا ہے۔ اور یہ وہ انجام ہے جو انھوں نے اپنے لئے خود اختیار کیا ہے یہ ایسی تعمیر ہے جس کا سنگ بنیاد انھوں نے خود اپنے ہاتھوں سے رکھا ہے لہٰذا اس انجام کے سلسلے میں ان پر کوئی ظلم نہیں کیا گیا۔ یہ جو ارشاد الہٰی ہے کہ ”نولہ ماتولّی“ کے بارے میں ایک اور بےراہ روی میں پیش رفت کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ (نوٹ: اس سلسلے میں تفسیر نمونہ جلد۱ ( اردو ترجمہ ص۱۴۰) میں ”خدا کی طرف سے ہدایت و گمراہی“ کے زیر عنوان تفصیلی گفتگو کی جا چکی ہے)۔ نولہ ماتولّی ۔کے بارے میں ایک اور تفسیر بھی ہے اور وہ یہ کہ ”ہم ایسے لوگوں کو انہی جعلی معبودوں کی سرپرستی میں رہنے دیں گے جو انھوں نے اپنے لئے خود منتخب کر رکھے ہیں ”نیز“ نصلہ جھنم“ قیامت میں ان کے انجام کی طرف اشارہ ہے۔
اجماع کی حجیت
فقہ کی چار دلیلوں میں سے ایک اجماع ہے اس کا معنی ہے کہ کسی ایک مسئلے پر اسلامی علماء کا اتفاق رائے۔ اصول فقہ میں اجماع کی جحیت ثابت کرنے کے لئے مختلف دلیلیں بیان کی گئی ہیں۔ بعض کے نزدیک ان میں سے ایک زیر بحث آیت بھی ہے۔ کیونکہ آیت کہتی ہے کہ جو دشمن مومنین کے طریق کے علاوہ کوئی راستہ انتخاب کرے تو وہ دنیا اور آخرت میں بدبخت انجام ہو گا۔ اس لئے جب مومنین کسی مسئلے میں ایک راہ انتخاب کر لیں تو سب کو چاہئیے کہ اس کی پیروی کریں۔
لیکن حق یہ ہے کہ زیر نظر آیت کا اجماع کی حجیت سے کوئی تعلق نہیں (اگرچہ ہم اجماع کی حجیت کے قائل ہیں البتہ اس شرط کے ساتھ کہ زیر اثر بحث مسئلے میں قول معصوم بھی موجود ہے یا معصوم ذاتی طور پر اصحاب اجماع میں موجود ہو، اگرچہ ناشناس طور پر ہی موجود ہو، لیکن ایسے اجماع کی حجیت دراصل سنت اور قولِ معصوم ہی کی حجیت ہے۔ نہ کہ درج بالا آیت حجیتِاجماع پر دلیل ہے)
آیت کے حجیت اجماع پر دلیل نہ ہونے کے بارے میں عرض ہے کہ:
۱۔ جو سزائیں آیت میں معین ہوئی ہیں وہ ان لوگوں کے لئے ہیں جو جانتے بوجھتے پیغمبر کی مخالفت کریں اور راہِ مومنین کے علاوہ کوئی راستہ منتخب کریں یعنی یہ دونوں امور جمع ہوں تو اس کا نتیجہ وہ ہے جو قرآن نے بیان کیا ہے اور یہ وہ مخالفت ہے جو علم و آگاہی سے کی جائے اس صورتِ حال کا تو حجیت اجماع کے مسئلے سے کوئی ربط نہیں۔ اور یہ امر انتہا اجماع کو حجت قرار ددیتا۔
۲۔ دوسر ی بات یہ ہے کہ سبیل المومنین سے مراد راہِ توحید، خدا پرستی اور اصل اسلام ہے نہ کہ فقہی فتاویٰ اور فروعی احکام جیسا کہ شانِ نزول کے علاوہ آیت کا ظاہر بھی اس حقیقت پر گواہ ہے اور حقیقت میں راہِ مومنین سے ہٹ کر کوئی راہ اپنے کا مطلب مخالفتِ پیغمبر کے علاوہ اور کچھ نہیں دونوں باتوں کی بازگشت ایک ہی مفہوم کی طرف ہے یہی وجہ ہے کہ امام باقر علیہ السلام سے منقول ایک حدیث میں ہے:
جس وقت حضرت امیر المومنین علی (علیه السلام) کوفہ میں تھے کچھ لوگ آپ (علیه السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے انھوں نے درخواست کی: آپ (علیه السلام) ہمارے لئے کسی پیش نماز کا انتخاب کریں (تاکہ ماہِ رمضان کی مستحب نمازیں جو تراویح کے نام سے مشہور ہیں اور حضرت عمر کے زمانے میں جماعت سے پڑھا کرتے تھے اس پیش نماز کے ساتھ پڑھ سکیں) امام علیہ السلام نے اس کام سے منع کیا اور ایسی جماعت سے روکا (کیونکہ نفلی نماز کے لئے جماعت صحیح نہیں ہے) اپنے امام و پیشوا کا قطعی حکم سننے کے باوجود یہ لوگ ڈھٹائی کا مظاہرہ کرنے لگے انھوں نے دادو فریاد بلند کی: لوگو! آوٴ اس ماہِ رمضان میں آنسو بہاوٴ۔
دوستانِ علی میں سے کچھ لوگ آپؑ کے پاس آئے اور عرض کرنے لگے: کچھ لوگ آپؑ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرتے۔
آپؑ نے فرمایا: انھیں ان کے حال پر چھوڑ دو جسے چاہیں منتخب کر لیں اور اس (غیر مشروع) جماعت کو بجا لائیں۔ اس کے بعد آپؑ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: (بحوالہ: نور الثقلین جلد۱ صفحہ۵۵۱)۔ وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًاO ہم نے جو کچھ آیت کی تفسیر کے بارے میں کہا ہے یہ حدیث بھی اس کی تائید کرتی ہے۔
خدا اپنے ساتھ کیے جانے والے شرک کو نہیں بخشتا (لیکن) اس سے کم تر کو جسے چاہے( اور مناسب سمجھے) بخش دیتا ہے اور جو شخص خدا کے لئے شریک کا قائل ہو، وہ دور کی گمراہی میں جا پڑا ہے۔
تفسیر
شِرک.... ناقابلِ معافی گناہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
منافقین اور مرتدین یعنی اسلام قبول کر لینے کے بعد کفر پر پلٹ جانے والوں سے مربوط مباحث کے بعد، یہاں دوبارہ گناہ شرک کی شدت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ ایسا گناہ ہے جو عفو و بخشش کے قابل نہیں ہے اور اس سے بڑھ کر کسی گناہ کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ کچھ فرق کے ساتھ یہی مضمون اسی سورہ کی آیت ۴۸ میں گذر چکا ہے۔
ایسی تکرار تربیتی مسائل میں لازمہٴِ بلاغت ہے کیونکہ بنیادی اور اہم مسائل کی فاصلے سے تکرار ہونا چاہئیے تاکہ وہ نفوس و افکار میں راسخ ہو جائیں۔
درحقیقت گناہ بھی مختلف بیماریوں کی طرح ہیں جب تک بیماری بدن کے اصلی مراکز پر حملہ آور ہو کر انھیں بیکار نہیں کر دیتی بدن کی دفاعی قوت صحت و بہبود کے لئے کارآمد رہتی ہے لیکن اگر مثال کے طور پر بیماری بدن کے اصلی مرکز یعنی دفاع پر حملہ کر دے اور اسے مفلوج کر دے تو امید کے دروازے بند ہو جائیں گے اور موت یقین کی صورت میں آ کھڑی ہو گی۔ شرک ایک ایسی ہی بیماری ہے جو روح انسانی کا حساس مرکز بیکار کر دیتی ہے اور انسانی جان پر تاریکی و ظلمت کا چھڑکاوٴ کرتی ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے نجات کی کوئی امید نہیں ہے۔ لیکن اگر حقیقت توحید اور یکتا پرستی جو ہر طرح کی فضیلت، جنبش اور تحریک کا سرچشمہ ہے زندہ ہو تو پھر دیگر گناہوں سے بخشش کی امید کی جا سکتی ہے (إِنَّ اللَّہَ لا یَغْفِرُ اَنْ یُشْرَکَ بِہِ وَ یَغْفِرُ ما دُونَ ذلِکَ لِمَنْ یَشاءُ)۔
جیسا کہ ہم کہ چکے ہیں یہ آیت اس سورہ میں کچھ فرق کے ساتھ دو مرتبہ آئی ہے تاکہ شرک و بت پرستی کے وہ آثار جو سال ہا سال سے لوگوں کے نفوس کی گہرائیوں میں گھر بنا چکے تھے۔ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائیں اور توحید کے معنوی و مادی آثار ان کے شجرِ وجود پر آشکار ہو جائیں البتہ دونوں آیات میں تھوڑا سا فرق ہے یہاں فرمایا گیا ہے (وَ مَنْ یُشْرِکْ بِاللَّہِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالاً بَعیداً) ۔.....یعنی .جو شخص خدا کے لئے شریک کا قائل ہو وہ دور کی گمراہی میں گرفتار ہے لیکن گذشتہ آیت میں ارشاد ہوا ہے: و من یشرک باللہ فقد افتری اثماً عظیم.......... یعنی ..... جو شخص کسی کو خدا کا شریک بنا دے اس نے بہت بڑا جھوٹ اور افتراء باندھا ہے۔
درحقیقت وہاں جنبہ الہٰی اور خدا شناسی کے لحاظ سے شریک کے عظیم نقصان کی طرف اشارہ ہوا ہے اور یہاں لوگوں کے لئے اس کے ناقابل تلافی نقصانات بیان ہوئے ہیں وہاں مسئلے کا عملی پہلو مدنظر رکھا گیا ہے اور یہاں اس کے عملی پہلو اور خارجی نتائج کا ذکر ہے واضح ہے کہ اصطلاح کے مطابق یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ (بحوالہ: اس آیت کے سلسلے میں دیگر وضاحتیں تفسیر نمونہ جلد۲ میں پیش کی جا چکی ہیں ( دیکھئے اردو ترجمہ ص۲۹۴))
اور میں انہیں گمراہ کروں گا اور آرزوؤں اور تمناؤں کے حصول میں سر گرم رکھوں گا اور انہیں حکم دوں گا کہ وہ (بے ہودہ اور فضول کام انجام دیں ا ور) چوپایوں کے کان چیر دیں اور خدا کی (پاک) خلقت کو خراب کر دیں (فطرت توحید کو شرک آلود کر دیں )ا ور وہ لوگ جنہوں نے خدا کی بجائے شیطان کو اپنا ولی چنا ہے انہوں نے واضح نقصان کیا ہے۔
(شیطان کے) ان (پیروکاروں ) کے رہنے کی جگہ جہنم ہے اور ان کے لئے کوئی راہ فرار نہیں ہے۔
تفسیر
شیطانی سازشیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
پہلی آیت ان مشرکین کی حالت بیان کر رہی ہے جن کے منحوس انجام کا تذکرہ گذشتہ آیت میں کیا گیا ہے۔ اس میں درحقیقت ان کی سخت گمراہی کا سبب بیان کیا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے: وہ اس قدر کوتاہ فکر ہیں کہ انھوں نے وسیع عالم ہستی کے خالق کو چھوڑ کر ایسے موجودات کے در پر رجوع کرتے ہیں کہ جن کا کچھ مثبت اثر نہیں بلکہ بعض اوقات تو شیطان کی طرح تباہ کار اور گمراہ کن بھی ہوتے ہیں (إِنْ یَدْعُونَ مِنْ دُونِہِ إِلاَّ إِناثاً وَ إِنْ یَدْعُونَ إِلاَّ شَیْطاناً مَریداً)۔
یہ امر قابل توجہ ہے کہ اس آیت میں مشرکین کے معبود دو چیزوں میں منحصر قرار دئے گئے ہیں اول ”اناث“ اور دوم ......” شیطان مرید“
”اناث“ جمع ہے ”انثیٰ“ کی جو کہ ”انث“ (بر وزن ”ادب“) مادہ سے ہے ”انثیٰ“ نرم اور قابل انعطاف موجود کے معنی میں استعمال ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ لوہا جب آگ میں نرم ہو جائے تو عرب ”انث الحدید“ کہتے ہیں عورت کو بھی ”اناث“ یا ”مونث“ اسی لئے کہ جاتا ہے کہ وہ زیادہ نرم دل، لطیف اور انعطاف پذیرصنف ہے۔
بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ یہاں قرآن کا اشارہ قبائل عرب کے مشہور بتوں کی طرف ہے ہر عرب قبیلے نے اپنا ایک بت بنا رکھا تھا سجے نام دیا گیا تھا ” مثلاً اللات جس معنی ہے ”الھہ“ اور یہ ”اللہ“ کا مونث ہے ”عزی“ بھی مونث ہے “اعز“ کا اسی طرح ”منات“ ”اساف“ اور ”نائلہ“ بھی مونث نام ہیں۔
بعض دوسرے بزرگ مفسرین کا نظریہ ہے کہ یہاں اناث سے مراد مونث کا مشہور معنی نہیں ہے بلکہ یہ لفظ یہاں اصل لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی وہ ایسے معبودوں کی پرستش کرتے تھے جن کی حیثیت ایک کمزور مخلوق سے زیادہ نہ تھی اور جو آسانی سے انسان کے ہاتھوں ہر شکل میں دُھل جاتے تھے ان کا پورا وجود دوسروں کے رحم و کرم پر جدھر چاہو ادھر مڑ جانے والا اور حوادث کے سامنے جھک جانے والا تھا، زیادہ کھلے لفظوں میں وہ نے ارادہ اور بےاختیار معبود تھے جن سے کوئی نفع و نقصان نہ پہنچ سکتا تھا۔
باقی رہا لفظ ”مرید“ ...... تو اس کی تشریح کچھ یوں ہے: یہ لفظ لغت کے لحاظ سے ”مرد“ (بر وزن ”زرد“) کے مادہ سے ہے، جس کا معنی ہے درختوں کی شاخیں اور پتے جھڑ جانا۔ اسی لئے جس نوجوان کے چہرے پر ابھی بال نہ اگے ہوں اسے ”امَرد“ کہا جاتاہے۔ لہٰذا ”شیطان مرید“ سے مراد شیطان ہے جس کے شجر وجود کی تمام صفات فضیلت گر چکی ہوں اور بھلائی اور طاقت کی کوئی چیز باقی نہ رہی ہو یا پھر لفظ مادہ ”مرود“) سے ہے جس کا معنی ہے طغیان اور سرکشی.... یعنی ان کا وجود تباہ اور ویران لانے والا شیطان ہے۔
درحقیقت قرآن نے ان کے معبودوں کو دو گروپوں میں بیان کیا ہے ایک گروپ وہ ہے جو بےاثر اور بےخاصیت ہے اور دوسرا تباہ کار اور ویران گر ہے اور جو شخص ایسے معبودوں کے سامنے سر جھکائے وہ کھلی گمراہی میں مبتلا ہے۔
اس کے بعد کی آیات میں شیطان کی صفات، اس کے مقاصد و اہداف اور بنی آدم سے اس کی مخصوص دشمنی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے نیز اس کے لائحہ عمل کے مختلف حصوں کی تشریح کی گئی ہے ارشاد ہوتا ہے: خدا نے اسے اپنے رحمت سے دور کر دیا ہے (لعنہ اللہ) اس کی تمام تباہ کاریوں اور بدبختیوں کی بنیاد دراصل یہی ہے کہ وہ رحمت الہٰی سے دور ہو چکا ہے، اور یہ دوری اس کے غرور و تکبر کا نتیجہ ہے، یہ بات واضح ہے کہ ایسا وجود رحمت خدا سے دور ہو کر ہر طرح کی خیر و خوبی سے محروم ہو چکا ہو، وہ دوسروں کی زندگی کے لئے مفید نہیں ہو سکتا بلکہ نقصان دہ بھی ہو گا۔
اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ شیطان نے قسم کھا رکھی ہے کہ وہ یہ کام سرانجام دے گا:
۱۔ تیرے بندوں سے ایک معین حصہ لوگوں گا (وقال لاتخذن من عبادک نصیباً مفروضاً)۔
وہ جانتا ہے کہ وہ خدا کے سب بندوں کو گمراہ نہیں کر سکتا اور صرف ہوس پرست، ضعیف ایمان والے اور کمزور ارادے کے مالک ہی اس کے سامنے جھکیں گے۔
۲۔ انھیں گمراہ کروں گا (ولاضلنھم)۔
۳۔ انھیں لمبی چوڑی امیدوں اور آرزووٴں کے سہارے مصروف رکھوں گا (ولامنینھم) (تشریحی نوٹ: اس لفظ کا مادہ ”منی“ (بر وزن” منع“) ہے جو تقدیر اور حساب لگانے کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے بعض اوقات خیالی اندازوں اور موہوم آوازوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے، نطفہ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ زندہ موجودات کی ابتدا کا حساب اسی سے لگایا جاتا ہے)۔
۴۔ انھیں فضول اور بیہودہ کاموں کی دعوت دوں گا ان میں سے یہ بھی ہے کہ انھیں حکم دوں گا وہ چوپایوں کے کانوں میں سوراخ کریں یا انھیں کاٹ ڈالیں (ولامرنھم فلیبتکن اذان الانعام)۔
یہ زمانہ جاہلیت کے ایک بدترین عمل کی طرف اشارہ ہے۔ بت پرستوں میں یہ کام مروج تھا کہ وہ بعض چوپایوں کے کان چیر دیتے یا انھیں قطع کر دیتے پھر ان پر سواری کو ممنوع سمجھ لیتے اور ان سے کسی قسم کا کوئی فائدہ نہ اٹھاتے۔
۵۔ انھیں اس کام پر ابھاروں گا کہ خدا کی پاک خلقت کو بگاڑ دیں (ولامرنھم فلیغرن خلق اللہ)۔
یہ جملہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ خدا نے انسان کی فطرت اولیٰ میں توحید، یگانہ پرستی اور ہر طرح کی پسندیدہ صفت رکھی ہے لیکن شیطانی وسوسے اور ہوا و ہوس اسے اس صحیح راستے سے منحرف کر دیتے ہیں اور بےراہ روی کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں اس بات کی شاہد سورہٴ روم کی آہ۳۰ ہے۔
فا قم وجھک للذین حنیفا فطرة اللہ التی فطر الناس علیھا لا تبدیل لخلق اللہ ذلک الدین القیم۔
اپنا چہرہ خالص توحیدی آئین کی طرف کو لو یہ وہی فطرت ہے کہ جس پر خدا نے شروع سے لوگوں کو رکھا ہے یہ آفرینش کبھی تبدیل نہیں ہو سکتی .... یہی حقیقی اور مستقیم دین ہے۔
امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے بھی منقول ہے کہ یہاں تغیر سے مراد فطرت توحید اور فرمانِ خدا میں تغیر ہے (بحوالہ: تفسیر بتیان ج۳، ص۳۳۴) اور یہ ایسا ضرر ہے جو قابل تلافی نہیں شیطان یہ نقصان انسان کی سعادت کی بنیاد کو پہچانتا ہے کیونکہ وہ حقائق کو اوہام میں تبدیل کر کے رکھ دیتا ہے اور اس کے بعد سعدات شقاوت میں بدل جاتی ہے۔
آخر میں ایک حکم عمومی بیان کیا گیا ہے: جو شخص خدا کی بجائے شیطان کو اپنا سرپرست بناتا ہے وہ کھلے نقصان کا مرتکب ہوا ہے (وَ مَنْ یَتَّخِذِ الشَّیْطانَ وَلِیًّا مِنْ دُونِ اللَّہِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْراناً مُبیناً)۔
اگلی آیت میں گذشتہ گفتگو کی دلیل کے طور پر چند نکات بیان کئے ہیں:
شیطان ہمیشہ ان سے جھوٹے وعدے کرتا رہتا ہے اور انھیں لمبی چوڑی آرزووٴں میں محو رکھتا ہے لیکن مکر و فریب کے علاوہ کرتا ان کے لئے کچھ بھی نہیں ہے (یَعِدُہُمْ وَ یُمَنِّیہِمْ وَ ما یَعِدُہُمُ الشَّیْطانُ إِلاَّ غُرُوراً)۔(تشریحی نوٹ: ”غرور“ دراصل کسی چیز کے واضح اور آشکار اثر کو کہتے ہیں لیکن یہ لفظ زیادہ تر آثار کے لئے استعمال ہوتا ہے جن کا ظاہر پُرفریب اور باطن ناپسند ہو اور ہر ایسی چیز کو غرور کہتے ہیں جو انسان کو فریب دے اور راہ حق سے منحرف کر دے چاہے وہ مال و ثروت ہو یا مقام و اقتدار)۔
محل بحث آیت میں سے آخری آیت میں شیطان کے پیرو کاروں کے آخری انجام کا تذکرہ ہے۔ فرمایا گیا ہے ان کا ٹھکانا جہنم میں ہے اور ان کے لئے بھاگ نکلنے کی کوئی راہ نہیں ہے (اُولئِکَ مَاْواہُمْ جَہَنَّمُ وَ لا یَجِدُونَ عَنْہا مَحیصاً)۔ (تشریحی نوٹ:”محیص“، ”حیص“ کے مادہ سے ہے جس کا مطلب ہے عدول کرنا اور نگاہ پھیر لینا۔ لہٰذا محیص کا منعی ہو گا عدول کا ذریعہ اور فرار کا وسیلہ)۔
اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک کام سر انجام دیئے ہم انہیں عنقریب ان باغات بہشت میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں وہ ہمیشہ کے لئے ان میں رہیں گے اللہ تم سے سچا وعدہ کرتا ہے اور کون ہے جو قول اور اپنے وعدوں میں اللہ سے زیادہ سچا ہو۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ جو لوگ شیطان کو اپنا ولی بناتے ہیں وہ واضح طور پر خسارے اور نقصان میں ہیں۔ شیطان ان سے جھوٹے وعدے کرتا ہے انھیں آرزوؤں میں محو رکھتا ہے اوراس کا وعدہ مکر و فریب کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ ان کے مقابلے میں اس آیت میں اہل ایمان کا انجام بیان کیا گیا ہے کہ وہ: لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انھوں نے نیک اعمال انجام دیئے ہیں وہ بہت جلد فردوس بریں کے باغات میں جائیں گے، یہ وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں (والذین امنوا و عملوا لصلحت سند خلھم جبت تجري من تحتها الأنهر) یہ نعمت دنیاوی نعمتوں کی طرح ناپائیدار نہیں ہے بلکہ ہمیشہ مومنین کو میسر رہے گی (خالدين فيها أبدا)۔
یہ وعدہ شیطان کے چھوٹے وعدوں کی طرح نہیں ہے بلکہ سچا ہے اور خدا کا وعده ہے (وعد الله حقًا) اور یہ واضح ہے کہ خدا سے بڑھ کر اپنے قول و قرار کا سچا کوئی نہیں ہو سکتا (ومن اصدق من الله قيلا) کیونکہ وعدہ خلافی یا تو عجز و ناتوانی کی وجہ سے ہوتی ہے اور یا جہالت و احتیاج کی بنا پر جو کہ اللہ کی ساحت قدس سے بعید ہے۔
تمہاری اور اہل کتاب کی آزروؤں سے (فضیلت و برتری) نہیں ہوتی، جو شخص برا عمل کرے گا اسے سزا دی جائے گی اور وہ خدا کے علاوہ کسی کو اپنا ولی و یاور نہیں پائے گا۔
اور جو شخص اعمال صالح میں سے کچھ انجام دے چاہے مرد ہو یا عورت اگر وہ ایمان رکھتا ہے تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان پر تھوڑا سا ظلم بھی نہیں ہو گا۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
تفسیر مجمع البیان اور دیگر تفاسیر میں ہے کہ مسلمان اور اہل کتاب ایک دوسرے پرفخر کرتے تھے اہل کتاب کہتے کہ ہمارا پیغمبر تمہارے پیغمبر سے پہلے آیا ہے اور ہماری کتاب تمہاری کتاب سے مقدم ہے اور مسلمان کہتے کہ ہمارا پیغمبر تمام پیغمبروں کا خاتم ہے اور اس کی کتاب آخری کتاب ہے اور دیگر آسمانی کتب سے زیادہ کامل و اکمل ہے لہٰذا ہم تم سے زیادہ افضل ہیں۔
ایک اور روایت میں ہے کہ یہودی کہتے تھے کہ ہم برگزیدہ قوم ہیں اور جنہم کی آگ چند دنوں کے سوا ہم تک نہیں پہنچے گی (و قالوا لن تمسنا النار الا ایا ماً معدوداة)۔ (بحوالہ: بقرہ۔۸۰)
اور مسلمان کہتے کہ بہترین ہم امت ہیں کیونکہ خدا نے ہمارے بارے میں فرمایا ہے:
(کنتم خیر امت اخرجت للناس) (بحوالہ: آل عمران۔ ۱۱۰)۔
اسی ضمن میں مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور ان دعووں پر خط بطلان کھینچ دیا گیا اور یہ واضح کیا گیا کہ ہر انسان کی قدر و قیمت ان کے اعمال کے مطابق ہو گی۔
تفسیر
سچے اور جھوٹے امتیازات
ان دو آیت میں اسلام کی ایک بہت ہی اہم اساس کو بیان کیا گیا ہے او ر وہ یہ کہ افراد کی وجودی قدر و قیمت اور جزا و سزا ان کے دعووں اور آرزوٴں سے مربوط نہیں ہے بلکہ صرف ایمان اور عمل سے وابستہ ہے اسلام کی یہ بنیاد ثابت اور سنت ہے اور غیر متبدل ہے۔ یہ وہ قانون ہے جس کی نظر میں تمام امتیں یکساں ہیں لہٰذا پہلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے: فضیلت و برتری کا انحصار تمہاری اور اہل کتاب کی آرزووٴں پر نہیں ہے (لَیْسَ بِاَمانِیِّکُمْ وَ لا اَمانِیِّ اَہْلِ الْکِتابِ)۔
اس کے بعد فرمایا گیا ہے: جو شخص کوئی عمل بجا لائے گا وہ اس کے بدلے اپنی سزا پائے گا اور خدا کے علاوہ کسی کو اپنا ولی و یا ور نہ پائے گا (مَنْ یَعْمَلْ سُوءاً یُجْزَ بِہِ وَ لا یَجِدْ لَہُ مِنْ دُونِ اللَّہِ وَلِیًّا وَ لا نَصیراً)۔ اور اسی طرح کے لوگ نیک عمل بجا لائیں گے اور صاحبِ ایمان ہوں گے وہ مرد ہوں یا عورت جنت میں داخل ہوں گے اور ان پرکوئی ظلم نہیں ہو گا (وَ مَنْ یَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحاتِ مِنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثی وَ ہُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولئِکَ یَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَ لا یُظْلَمُونَ نَقیراً)۔ (بحوالہ: نقیر کے مفہوم پر اسی سورہ کی آیت ۵۳ میں بحث کی جا چکی ہے)۔
اس طرح قرآن نے نہایت سادگی سے بقولے سب کے ہاتھ پر پاک پانی ڈالا ہے اورک سی مذہب سے دعوے کی حد تک خیالی، اجتماعی یا نسلی وابستگی کو بے فائدہ قرار دیا ہے اور نجات کی بنیاد اس مکتب کے اصولوں پر ایمان لانے اور اس کے پروگراموں پر عمل کرنے ٹھہرایا ہے۔
پہلی آیت کے ذیل میں بنیادی شیعہ کتب میں ایک حدیث منقول ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد بعض مسلمان ایسی وحشت و پریشانی میں مبتلا ہو گئے کہ وہ ڈر کے مارے رونے لگے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ انسان خطار ہے اور آخر اس سے گناہ سرزد ہونا ممکن ہی ہے اور اگر کسی قسم کی کوئی معافی اور بخشش نہیں اور تمام برے اعمال کی سزا ملے گی پھر یہ تو بڑا مشکل مرحلہ ہے۔ لہٰذا انھوں نے پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں عرض کیا کہ اس آیت نے ہمارے لئے تو کوئی صورت نہیں چھوڑی، اس پر پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا:
اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے بات وہی ہے جو اس آیت میں نازل ہوئی ہے تاہم تمہیں ایسی بشارت دیتا ہوں جو تمہارے لئے قربِ خدا اور نیک اعمال بجا لانے کی تشویق کا سبب بنے گی اور وہ یہ کہ تمہیں جو مصیبتیں پہنچیں گی، تمہارے گناہوں کا کفارہ بنیں گی یہاں تک تمہارے پاوٴں میں چھبنے والا ایک کانٹا بھی۔ (بحوالہ: نورالثقلین, جلد اول۔ ص۵۵۳)۔
ایک سوال کا جواب
ارشاد الہٰی ہے: وَ لا یَجِدْ لَہُ مِنْ دُونِ اللَّہِ وَلِیًّا وَ لا نَصیراً)۔ یعنی وہ اپنے گناہوں کے مقابلہ میں کسی کو اپنا سرپرست و یاور نہیں پائے گا) ممکن ہے بعض لوگ اس سے استدلال کرتے ہوئے کہیں کہ اس جملے سے مسئلہ شفاعت وغیرہ کی بالکل نفی ہو جاتی ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ پہلے بھی ارشاد کیا جا چکا ہے کہ شفاعت کا معنی یہ نہیں ہے کہ شفاعت کرنے والے مثلاً انبیاء آئمہ اور صلحا خدا کے مقابلہ میں کوئی مستقل طاقت رکھتے ہیں بلکہ ان کی شفاعت بھی حکم خدا کے ماتحت ہے اور اس کی اجازت اور جس کی شفاعت کی جانا ہے اس کی اہلیت کے بغیر کبھی شفاعت نہیں کریں گے۔ لہٰذا ایسی شفاعت کی برگشت بالآخر خدا کی طرف ہے اور خدا کی سرپرستی، نصرت اور مدد کا ایک شعبہ شمار ہوتی ہے۔
جو اپنے آپ کو خد اکے سپرد کر دے اس سے بہتر کس کا دین ہے اور پھر جو نیکو کار بھی ہو اور ابراہیم کے خالص اور پاک دین کا پیرو ہو اور خدا نے ابراہیم کو اپنی د وستی کے لئے منتخب کر لیا ہے۔
جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب خدا کا ہے اور خدا ہر چیز پر محیط ہے
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ آیات میں ایمان و عمل کی تاثیر کے بارے میں گفتگو تھی۔ ان میں بتایا گیا تھا کہ کسی دین و آئین سے منسوب ہو جانا ہی کافی نہیں لیکن زیر نظر آیت میں اس بنا پر کہ کہیں گذشتہ بحث سے کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔ دین اسلام کی تمام ادیان پر برتری کا اظہار یوں کیا گیا ہے: کون سا دین اس شخص کے دین سے بہتر ہے جو بارگاہ الہٰی میں سرپا تسلیم ہو اور نیک عمل سے دستبردار نہ ہو اور ابراہیم کے پاک اور خالص دین کا پیروکار ہو (وَ مَنْ اَحْسَنُ دیناً مِمَّنْ اَسْلَمَ وَجْہَہُ لِلَّہِ وَ ہُوَ مُحْسِنٌ وَ اتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْراہیمَ حَنیفاً)۔
البتہ آیت یہاں استفہامیہ صورت میں ہے لیکن اس کا مقصد یہ ہے کہ سننے والے سے اس حقیقت کا اقرار لیا جائے۔
اس آیت میں تین چیزوں کو بہترین دین کے مقیاس کے طور پر شمار کیا گیا ہے:۔ پہلی: پورے طور پر خدا کے حضور سپرد گی ”اسلم وجھہ للہ“
(تشریحی نوٹ: ”وجہ“ لغت میں چہرے کو کہتے ہیں اور انسان کا چہرہ چونکہ اس کے قلب و روح کا آئینہ ہوتا ہے اور انسان کو خارجی دنیا سے مربوط کرنے والے حواس تقریباً سب چہرے میں واقع ہیں اس لئے یہ لفظ کبھی کبھی ذات کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ چنانچہ سورہٴ قصص آیت ۸۸ میں ہے: ”کل شیء ھالک الا وجھہ“ یعنی: "ذات خدا کے علاوہ سب چیزیں ہلاک ہو جائیں گی")۔
دوسری: نیکوکاری (وھو محسن) یہاں نیکوکاری سے مراد دل، زبان اور عمل سے ہر طرح کی نیکی ہے، تفسیر نورالثقلین میں اس آیت کے ذیل میں پیغمبر اسلامؐ سے ایک حدیث نقل کی گئی ہے جو اس سوال کے جواب میں ہے کہ احسان سے کیا مراد ہے حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
ان تعبد اللہ کانّک تراہ فان لم تراہ فانّہ یراک
(اس آیت میں) احسان سے مراد یہ ہے کہ جو کام بھی عبادتِ خدا کے لئے انجام دو وہ اس طرح ہو گویا تم خدا کو دیکھ رہے ہو اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے اور وہ تم پر شاہد و ناظر ہے۔
تیسری: ابراہیم کے پاک دین و آئین کی پیروی کرنا (وابتع ملة ابراہیم حنیفاً)۔ (تشریحی نوٹ: ”ملت“ کا معنی ”دین“ ہے لیکن فرق یہ ہے کہ ملت کی اضافت خدا کی طرف نہیں ہوتی مثلا! ”ملة اللہ“ نہیں کہتے بلکہ پیغمبر کی طرف اس کی اضافت ہوتی ہے جبکہ لفظ دین کی اضافت اللہ کی طرف بھی، پیغمبر کی طرف بھی اور دیگر افراد کی طرف بھی ہوتی ہے۔
حنیف اس شخص کو کہتے ہیں جو ادیان باطل چھوڑ کر حق کی طرف مائل ہو اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کرے۔ اس کی تشریح جلد دوم میں کی جا چکی ہے (۳۶۹ اردو ترجمہ)
آیت کے آخر میں دین ابراہیم پر اعتماد کی یہ دلیل بیان کی گئی ہے کہ خدا نے ابراہیم کو اپنے خلیل کی حیثیت سے منتخب کر لیا ہے (واتخذ اللہ ابراھیم خلیلا)۔
خلیل کِسے کہتے ہیں؟
ہو سکتا ہے ”خلیل“ ”خُلَّت“ (بروزن ”حجت“) کے مادہ سے ہو جس کا معنی ہے دوستی۔ یا پھر ”خلّت“ (بر وزن”ضربت“) کے مادہ سے ہو جس کا مطلب ہے نیاز و احتیاج۔
مفسرین میں اس سلسلے میں اختلاف ہے کہ زیر نظر آیت میں کون سا معنی آیت کے مفہوم کے زیادہ قریب ہے۔ بعض کے خیال میں دوسرا معنی حقیقت آیت کے قریب تر کیونکہ ابراہیم اچھی طرح سے محسوس کرتے تھے کہ وہ بلااستثنا تمام چیزوں میں خدا کے محتاج ہیں لیکن اوپر والی آیت کہتی ہے کہ خدا نے خود ابراہیم (علیه السلام) کو یہ مقام دیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد دوستی ہے کیونکہ اگر یہ کہیں کہ خدا نے دوست کی حیثیت سے ابراہیم کو منتخب فرمایا تو یہ زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ دوسری صورت میں مفہوم ہو سکتا ہے کہ خدا نے ابراہیم (علیه السلام) کا انتخاب اپنے محتاج کی حیثیت سے کیا ہے جبکہ باقی تمام مخلوق بھی خداوند تعالی کی محتاج اور نیاز مند ہے لہٰذا یہ بات ابراہیمؑ سے مخصوص نہیں ہے۔ ارشاد الٰہی ہے:
یا ایھا الناس انتم الفقراء الیٰ اللہ
یعنی .... اے لوگو! تم سب اللہ کے محتاج ہو۔ (فاطر.....۱۵)
امام جعفر صادق (علیه السلام) سے منقول ایک روایت میں ہے:
خدا نے ابراہیمؑ کو اپنا خلیل (اور دوست) بنایا ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ ان کی دوستی کا محتاج تھا بلکہ یہ اس بنا پر تھا کہ خداوند تعالی کے مفید اور اس کی راہ میں کوشش کرنے والے بندے تھے۔ (نوٹ: یہ حدیث مجمع البیان میں زیر بحث آیت کے ذیل میں بیان کی گئی ہے)۔
یہ روایت بھی اس بات کی شاہد ہے کہ زیربحث آیت میں خلیل کا مطلب دوست ہی ہے۔
رہا یہ سوال کی خداوند تعالی نے ابراہیمؑ کو یہ مقام کن خصوصیات کی بنا پر عطا فرمایا ہے تو اس سلسلے میں روایات میں کئی ایک وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ جو سب ابراہیمؑ کے انتخاب کی دلیل بن سکتی ہیں۔ ایک وجہ امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک حدیث میں یوں بیان کی گئی ہے:
انما اتخذ اللہ ابراہیم خلیلا لانہ لم یرد احداً ولم یسئل احداً قطّ غیر اللہ۔
یعنی خداوند تعالی نے ابراہیمؑ کو اپنا خلیل اس لئے بنایا کیونکہ انھوں نے کبھی کسی سوال اور تقاضا کرنے والے کو محروم نہیں کیا اور کبھی کسی سے سوال اور تقاضا نہیں کیا۔ (بحوالہ: تفسیر صافی اور تفسیر برہان ج۱، ص۴۱۷، بحوالہ عیونالرضا)۔
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) کو یہ مقام زیادہ سجدہ کرنے، بھوکوں کو کھانا کھلانے اور رات کی تاریکی میں نماز پڑھنے یا پروردگار کی اطاعت کے لئے کوشاں رہنے کی وجہ سے حاصل ہوا۔
اگلی آیت میں پروردگار کی مالکیت مطلقہ اور تمام اشیاء پر اس کے احاطے کا تذکرہ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ خدا کی ملکیت ہے کیونکہ خدا تمام چیزوں پر محیط ہے (وَ لِلَّہِ ما فِی السَّماواتِ وَ ما فِی الْاَرْضِ وَ کانَ اللَّہُ بِکُلِّ شَیْءٍ مُحیطاً)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ خدا نے ابراہیم (علیه السلام) کو اپنا دوست اس وجہ سے نہیں بنایا کہ خدا کسی چیز کی ضرورت اور احتیاج تھی بلکہ خدا تو سب سے بےنیاز ہے۔ یہ انتخاب تو ابراہیم (علیه السلام) کی خوبیوں اور بہترین صفات کی وجہ سے ہے۔
تجھ سے عورتوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا اس بارے میں تمہیں جواب دیتا ہے اور جو کچھ قرآن میں یتیم عورتوں کے متعلق جن کے حقوق تم ادا نہیں کرتے اور ان سے شادی کر لینا چاہتے ہیں اور اسی طرح چھوٹے بچوں اور ناتوانوں کے متعلق تمہارے لیے بیان ہوا ہے (اس سلسلے میں خدا کی کچھ وصیتیں ہیں اور خدا یہ بھی سفارش کرتا ہے) کہ یتیموں کے ساتھ عادلانہ برتاؤ کرو اور جو نیکیاں تم انجام دیتے ہو خدا ان سے آگاہ ہے( اور وہ تمہیں ان کا مناسب بدلہ دے گا)۔
تفسیر
حقوق نسواں کے بارے میں مزید گفتگو
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
زیر نظر آیت میں کچھ لوگوں کے اعتراضات اور سوالات کا جواب دیا گیا ہے جو انھوں نے عورتوں (خصوصاً یتیم لڑکیوں) کے متعلق کئے تھے ارشاد ہوتا ہے: اے پیغمبر! تم سے عورتوں سے متعلق احکام پوچھتے ہیں۔ کہو کہ خدا اس سلسلے میں تمہیں جواب دیتا ہے (وَ یَسْتَفْتُونَکَ فِی النِّساءِ قُلِ اللَّہُ یُفْتیکُمْ فیہِن)۔
مزید ارشاد ہوتا ہے وہ یتیم لڑکیاں جن کے مال پر تم قبضہ کر لیتے تھے نہ ان سے شادی کرتے تھے اور نہ ان کا مال ان کے سپرد کرتے تھے تاکہ وہ کسی اور سے شادی کر لیں۔ قرآن مجید ان کے بارے میں کچھ اور سوالوں کا جواب دیتا ہے اور اس ظالمانہ روش کی برائی کو واضح کرتا ہے (وَ ما یُتْلی عَلَیْکُمْ فِی الْکِتابِ فی یَتامَی النِّساءِ اللاَّتی لا تُؤْتُونَہُنَّ ما کُتِبَ لَہُنَّ وَ تَرْغَبُونَ اَنْ تَنْکِحُوہُنَّ)۔
(تشریحی نوٹ: اس جملے کی مذکورہ تفسیر سے واضح ہوتا ہے کہ ”مایتلیٰ“ مبتداء ہے اور ”یفتیکم فیھن“ اس کی خبر ہے جو آیت کے سابق حصے کے قرینہ سے محذوف ہے اور لفظ "ترغبون“ بھی یہاں مقابلہ نہ ہونے کے معنی میں ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ”رغب“ کا مادہ اگر ”عن“ کے ساتھ متعدی ہو تو ہی عدم تمائل اور اعراض کے معنی دیتا ہے اور اگر ”فی“ کے ساتھ متعدی ہو تو مائل اور و راغب ہونے کے معنی دیتا ہے قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ”عن“ مقدر ہے)۔
اس کے چھوٹے بچوں کے بارے میں وصیت کی گئی ہے جو کہ زمانہ جاہلیت کی رسم کے مطابق میراث سے محروم رہتے تھے فرمایا گیا ہے: خد اتمہیں وصیت کرتا ہے کہ تم کمزور بچوں کے حقوق کا لحاظ رکھو (وَ الْمُسْتَضْعَفینَ مِنَ الْوِلْدانِ)۔ ایک مربتہ پھر یتیموں کے حقوق کے بارے میں ایک مجموعی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: خدا تمہیں وصیت کرتا ہے کہ یتیموں سے عدل کرو (وَ اَنْ تَقُومُوا لِلْیَتامی بِالْقِسْطِ)۔
آخر میں اس مسئلے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جیسا عمل خصوصاً یتیموں اور کمزوروں سے متعلق تم سے سراز ہو وہ علم خدا کی نظر سے مخفی نہیں رہتا اور اس کی مناسبت جزا ملے گی (وَ ما تَفْعَلُوا مِنْ خَیْرٍ فَإِنَّ اللَّہَ کانَ بِہِ عَلیماً)۔
ضمناً اس طرف بھی توجہ رہے کہ ”تستفتونک“ دراصل ”فتویٰ“ اور ”فتیا“ کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے مشکل مسائل کا جواب دینا لغت میں اس کی بنیاد چونکہ ”فتیٰ“ ہے جس معنی ہے ”نوجوان“ لہٰذا ممکن ہے پہلے پہل یہ لفظ ان مسائل کے لئے استعمال ہوتا ہو کہ جن کے جوابات جاذب اور تازہ ہوتے ہوں اور بعد ازں ہر طرح کے مسائل کے جواب کے لئے استعمال ہونے لگا ہے۔
اور اگر کوئی عورت اپنے شوہر کے بارے میں اس بات سے خوفزدہ ہو کہ وہ سر کشی یا اعراض کا مرتکب ہو گا تو کوئی حرج نہیں کہ وہ آپس میں صلح کریں اور صلح بہتر ہے اگرچہ یہ لوگ (حب ذات کی فطرت کے مطابق ایسے مواقع پر) بخل سے کام لیتے ہیں ا ور اگر نیکی کرو اور پرہیزگاری اختیار کرو (اور صلح کی وجہ سے در گذر کر دو) تو خدا اس سے آ گاہ ہے جو کچھ تم انجام دیتے ہو (اور وہ تمہیں مناسب جزا دے گا)
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
بہت سی اسلامی تفاسیر اور کتب احادیث میں اس آیت کی شانِ نزول یوں بیان ہوئی ہے:
رافع بن خدیج کی دو بیویاں تھیں، ایک سن رسیدہ تھی اور دوسری جوان۔ (بعض اختلافات کی بنیاد پر) اس نے اپنی سن رسیدہ بیوی کو طلاق دے دی ابھی عدت کی مدت ختم نہ ہوئی تھی کہ رافع نے اس سے کہا: اگر تم چاہو تو میں تم سے مصالحت کر لیتا ہوں البتہ اگر میں نے دوسری بیوی کو تجھ پر ترجیح دی تو تمہیں صبر کرنا ہو گا اور اگر ایسا نہ چاہو تو پھر عدت کی مدت ختم ہونے تک صبر کرو تاکہ ہم ایک دوسر ے جد اہو جائیں۔
اس عورت نے پہلی تجویز قبول کر لی، یوں ان کی آپس میں صلح ہو گئی۔
اس پر یہ آیت نازل ہوئی، جس میں اس معاملے کے بارے میں حکم شریعت بیان کیا گیا ہے۔
تفسیر
صلح بہتر ہے
جیسا کہ اس سورت کی چونتیسویں اور پینتیسویں آیات کی تفسیر میں ہم کہہ چکے ہیں (بحوالہ: تفسیر نمونہ جلد ۲) کہ ”نشوز“ اصل میں ”نشز“ کے مادہ سے ہے اور اس کا مطلب ہے ”بلند زمین“ یہ لفظ جب عورت اور مرد کے بارے میں استعمال ہوتا ہے تو کسی سرکشی اور طغیان کا مفہوم دیتا ہے۔
گذشتہ آیات میں عورت کے ”نشوز“ سے مربوط احکام بیان ہوئے تھے اور زیر نظر آیت میں مرد کے ”نشوز“ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جب عورت یہ محسوس کرے کہ اس کا شوہر سرکشی اور اعراض کا ارتکاب کر رہا ہے تو کوئی حرج نہں کہ حریم زوجیت کی حفاظت کے لئے اپنے کچھ حقوق سے صرف نظر کرتے ہوئے صلح کرلے (وَ إِنِ امْرَاَةٌ خافَتْ مِنْ بَعْلِہا نُشُوزاً اَوْ إِعْراضاً فَلا جُناحَ عَلَیْہِما اَنْ یُصْلِحا بَیْنَہُما صُلْحا)۔
عورت نے چونکہ اپنے حقوق سے اپنی رضا و رغبت سے اعراض کر لیا ہے او جبر و اکراہ والی کوئی بات نہیں۔ لہٰذا اس کا کوئی گناہ نہیں۔ اس کے لئے ”لاجناح“ (کوئی حرج اور گناہ نہیں) کا استعمال بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔
اس آیت کی شان نزول کی طرف توجہ کرنے سے ضمنی طور پر دو فقہی مسئلے معلوم ہوتے ہیں:
۱۔ دو بیویوں کے لئے ہفتہ بھر کے اوقات کی تقسیم جیسے احکام، حقوق کے پہلو ہیں نہ کہ حکم کے حوالے سے۔ اسی لئے عورت یہ حق رکھتی ہے کہ اپنے اراددہ و اختیار سے اپنے اس حق سے جزوی یا کلی طور پر صرفِ نظر کر لے۔
۲۔ ضروری نہیں کہ صلح کا معاوضہ مال ہی ہو بلکہ صلح کا معاوضہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اپنا حق چھوڑ دیا جائے۔
بعد ازاں صلح پر تاکید کے لئے فرمایا گیا ہے: بہرحال صلح بہتر ہے (و الصلح خیر) یہ ایک چھوٹا سا پر معنی اور مغز جملہ ہے۔ اس آیت میں جملہ اگرچہ خانگی اختلافات سے متعلق آیا ہے لیکن واضح ہے کہ یہ ایک کلی اور عمومی قانون ہے۔ جو ہر ایک کے لئے ہر مقام پر ہے صلح و صفائی، دوستی اور محبت کو ہر مقام پر پیش نظر رکھنا چاہئیے۔ نزاع و کشمکش اور ایک دوسرے سے دوری انسان کی طبع سلیم اور پرسکون زندگی کے برخلاف ہے اس لئے استثنائی صورت میں جہاں ناگزیر ہو اس کے سوا نزوع اور دوری کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہئیے۔ اسلام کے حکم کے برعکس بعض مادہ پرستوں کا خیال ہے کہ انسانی زندگی کی پہلی بنیاد دیگر جانوروں کی طرح بقا کی کشمکش اور تنازع ہے اور اسی طرح سے تکامل اور ارتقاء صورت پذیر ہوتا ہے۔ شاید یہی طرز فکر گذشتہ صدیوں کی بہت سی جنگوں اور خوں ریزوں کا سرچشمہ ہے۔ حالانکہ انسان اپنی عقل و ہوش کے سبب دیگر جانوروں سے مختلف ہے اور اس کی ارتقاء اور تکمیل کا ذریعہ تنازع نہیں تعاون ہے۔ (بحوالہ: اس سلسلے میں تفسیر نمونہ جلد اول میں تنازع کے بقاء کے زیر عنوان تفصیلی گفتگو کی جا چکی ہے (دیکھئے ص٥۸۲ اردو ترجمہ) اصولی طور پر تنازع بقاء کا نظریہ تو جانوروں کے تکامل کے لئے بھی کوئی قابل قبول بنیاد نہیں رکھتا۔
اس کے بعد بہت سے لڑائی جھگڑوں اور درگذر نہ کرنے کی بنیاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: لوگ ذاتی طور پر اور حب ذات کی فطرت کے باعث بخل کی موجوں میں پھنس کر رہ جاتے ہیں اور ہر شخص کوشش کرتا ہے کہ اپنے حقوق بت کم و کاست وصول کرے اور یہی تمام لڑائی جھگڑوں کی بنیاد ہے (و احضرت الانفس الشح)۔
لہٰذا اگر عورت اور مرد اس حقیقت کی طرف توجہ کریں کہ بہت سے اختلافات کا سرچشمہ بخل ہے اور بخل ایک مذموم صفت ہے پھر وہ اپنی اصلاح کی کوشش کریں اور درگذر کی راہ اختیار کریں تو نہ صرف یہ کہ خانگی اختلافات ختم ہو جائیں گے۔ بلکہ بہت سے اجتماعی جھگڑے بھی جاتے رہیں گے۔ اس کے باوجود، اس بناء پر کہ مرد کہیں اس حکم سے غلط فائدہ نہ اٹھائیں آیت کے آخر میں روئے سخن ان کی طرف کرتے ہوئے انھیں نیکی اور پرہیزگاری کی وصیت کی گئی ہے اور انھیں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اعمال و کردار پر نگاہ رکھیں اور راہ حق و عدالت سے منحرف نہ ہوں، کیونکہ خدا ان کے تمام اعمال سے آگاہ ہے۔ (وَ إِنْ تُحْسِنُوا وَ تَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّہَ کانَ بِما تَعْمَلُونَ خَبیراً)۔
اور تم ہر گز یہ استطاعت نہیں رکھتے کہ (دلی محبت کے اعتبار سے) عورتوں کے درمیان عدالت کر سکو چاہے جتنی بھی کوشش کرو لیکن اپنا میلان بالکل ایک طرف نہ رکھو اور دوسری کو معلق نہ چھوڑ دو اور اگر اصلاح اور پرہیزگاری کی راہ اختیار کرو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے۔
اور اگر (صلح صفائی کی کوئی صورت نہ ہو اور) ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں تو خدا وند عالم ان میں سے ہر ایک کو اپنے فضل و کرم سے مطمئن کر دے گا اور خدا صاحب فضل و کرم اور حکیم ہے۔
تفسیر
ایک سے زیادہ شادیوں کے لئے عدالت شرط ہے۔
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ آیت کے آخر میں جس جملے میں احسان، تقویٰ اور پرہیزگاری کا حکم دیا گیا ہے، وہ شوہروں کے بارے میں ایک طرح کی دھمکی بھی ہے کہ انھیں اپنے بیویوں کے بارے میں راہِ عدالت سے تھوڑا سا انحراف بھی نہیں کرنا چاہئیے اس مقام پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ عدالت تو دلی لگاؤ کے سلسلے میں بھی ممکن نہیں ہے لہٰذا متعدد بیویاں ہونے کی صورت میں کیا جائے۔
زیر بحث آیت اس سوال کے جواب میں کہتی ہے: محبت کے حوالے سے تو بیویوں کے درمیان عدالت ممکن نہیں چاہے اس کے لئے کتنی بھی کوشش کیوں نہ جائے۔ (وَ لَنْ تَسْتَطیعُوا اَنْ تَعْدِلُوا بَیْنَ النِّساءِ وَ لَوْ حَرَصْتُمْ)۔
”ولو حرصتم“ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں کچھ افراد ایسے بھی تھے جو اس سلسلے میں بہت کوشش کرتے تھے۔ شاید اس کی وجہ اسی سورہ کی آیت تھی جس میں فرمایا گیا ہے:
فان خفتم الا تعدلوا فواحدة
یعنی ______ اگر تم اس بات سے ڈرو کہ تم عدل قائم نہیں کر سکو گے تو ایک ہی پر اکتفاء کرو۔
یہ واضح ہے کہ ایک آسمانی قانون خلاف فطرت نہیں ہو سکتا اور ممکن نہیں کہ وہ ”تکلیف مالا یطاق“ یعنی ___ ایسی ذمہ داری جس کی انسان میں طاقت نہ ہو، کا حامل ہو۔ دل کی محبت کے مختلف عوامل ہوتے ہیں جس میں سے بعض انسانی اختیار سے ماوراء ہیں لہٰذا ان کے بارے میں عدالت کا حکم نہیں دیا گیا ہے لیکن بیویوں سے برتاوٴ اور ان کے حقوق کا لحاظ رکھنے کے بارے میں انسان پر عدالت کے لئے زور دیا گیا ہے جو کہ انسان کے بس میں ہے۔
اس بناء پر کہ مرد اس سے غلط فائدہ اٹھائیں اس جملے کے بعد فرمایا گیا ہے: جب کہ تم محبت کے حوالے سے بیویوں کے درمیان مساوات قائم نہیں کر سکتے تو پھر سارا رجحان اور قلبی لگاوٴ تو ایک طرف نہ رکھو کہ جس سے دوسری بالکل معلق ہو کر ہی رہ جائے اور اس کے حقوق عملی طور پر ضائع ہو جائیں (فَلا تَمیلُوا کُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوہا کَالْمُعَلَّقَةِ)۔
اس آیت کے آخر میں ان لوگوں کو تنبیہ کی گئی ہے جو اس حکم کے نزول سے قبل اپنی بیویوں کے درمیان عدل میں کوتاہی کرتے تھے: اگر وہ اصلاح اور تقویٰ کی راہ اپنائیں اور گذشتہ رویّے کی تلافی کریں تو خدا اپنی رحمت و بخشش ان کے شامل حال کر دے گا (وَ إِنْ تُصْلِحُوا وَ تَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّہَ کانَ غَفُوراً رَحیماً)۔
اسلامی روایات میں بیویوں کے درمیان عدالت ملحوظ رکھنے سے متعلق بہت سے مطالب مذکور ہیں جن سے قانون کی اہمیت اور عظمت ظاہر ہوتی ہے ایک حدیث میں ہے کہ حضرت علی (علیه السلام) جو دن کسی ایک بیوی سے تعلق رکھتے تھے، اس دن وضو بھی دوسری کے گھر نہیں کرتے تھے۔ (بحوالہ: تفسیر تبیان، ج۳، صفحہ۳۵۰)۔
پیغمبر اکرمؐ کے بارے میں بھی ہے کہ آپؐ بیماری کے عالم میں بھی کسی ایک بیوی کے گھر قیام نہیں کرتے تھے۔ (بحوالہ تفسیر تبیان ج۳ صفحہ ۳۵۰)۔ معاذ بن جبل کے بارے میں منقول ہے کہ اس کی دو بیوبیاں تھیں وہ دونوں طاعون کی بیماری کے باعث اکٹھی مر گئیں، تو معاذ نے ایک کو دوسرے پہلے دفن کرنے کے لئے قرعہ نکالا تاکہ اس سے کوئی خلاف عدالت کام نہ ہو جائے۔ (بحوالہ: تفسیر تبیان، ج۳ صفحہ۳۵۰)۔
ایک اہم سوال کا جواب
جیسا کہ اس سورہ کی آیت ۳ کے ذیل میں ہم نے یاد دہانی کروائی ہے کہ بعض ناسمجھ لوگ اس آیت کو زیر بحث آیت سے ملا کر یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ایک سے زیادہ شادیاں عدالت سے مشروط ہیں اور عدالت ممکن نہیں ہے کہ ایک سے زیادہ بیویاں کرنا اسلام میں ممنوع ہے۔
اتفاق کی بات ہے کہ روایاتِ اسلامی سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلا شخص جس نے یہ اعتراض اٹھایا تھا کہ امام جعفر صادق (علیه السلام) کا ہم عصر تھا اور مادہ پرستوں میں سے تھا۔ اس کا نام ابن ابی العوجاء تھا۔ اس نے یہ سوال اسلام کے ایک مجاہد عالم ہشام بن حکم سے کیا۔ انھیں اس کا جواب معلوم نہ تھا لہٰذا وہ اپنے وطن جو ظاہراً کوفہ تھا مدینہ سے روانہ ہوئے تاکہ اس سوال کا جواب معلوم کر سکیں وہ امام صادق (علیه السلام) کی خدمت میں پہنچے۔ حضرت (علیه السلام) کو تعجب ہوا کہ وہ حج و عمرہ کے دنوں کے بغیر مدینہ کیوں چلے آئے تھے۔ ہشام نے بیان کیا کہ اس قسم کا سوال پیش آیا ہے۔
امام (علیه السلام) نے جواب میں فرمایا:
سورہٴ نساء کی تیسری آیت میں عدالت سے مراد نان نفقہ (اور حقوقِ زوجیت کا لحاظ رکھنا اور برتاوٴ) ہے لیکن آیت ۱۲۹ میں عدالت جسے امر محال شمار کیا گیا ہے ولی لگاوٴ اور میلان میں عدالت ہے (اس لئے تعدد ازدواج شرائط اسلامی کے احترام کی صورت میں ممنوع ہے نہ محال)۔
ہشام سفر سے لوٹ کر آئے اور یہ جواب ابن ابی العوجاء کو پیش کیا تو اس نے قسم کھا کر کہا:
یہ جواب خود تمہاری طرف سے نہیں ہے۔ (بحوالہ: تفسیر برہان جلد اول صفحہ۴۲۰)۔
واضح ہے کہ اگر اہم دو آیات میں ”عدالت“ کا الگ الگ مفہوم بیان کرتے ہیں تو یہ آیات میں موجود واضح قرینہ کی بناء پر ہے۔ محل بحث آیت میں صریحاً فرمایا گیا ہے کہ تمام قلبی لگاوٴ ایک بیوی کی طرف نہ رکھو۔ لہٰذا دو بیویاں ہونا جائز شمار کیا گیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ اس شرط کے ساتھ عملی طور پر ان میں سے کسی پر ظلم ہو اگرچہ دلی لگاوٴ میں فرق ہو۔ نیز اسی صورت کی آیت ۳ میں صراحت کے ساتھ ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت دی گئی ہے۔
پھر بعد کی آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اگر ازدواجی زندگی کو باقی رکھنا طرفین کے لئے مشکل ہو گیا ہے اور ایسی وجوہ پیدا ہو گئی ہیں کہ جن سے افقِ حیات ان کے لئے تاریک ہو گیا ہے اور کسی طرح مصالحت نہیں ہو سکتی تو وہ مجبور نہیں ہیں کہ ایسی ازدواجی زندگی کو باقی رکھیں اور آخر دم تک خانگی زندان کے ماحول میں تلخ کامی سے رہیں بلکہ وہ ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کر سکتے ہیں۔ ایسے عالم میں انھیں چاہئیے کہ جراٴت سے اقدام کریں اور آنے والے حالات سے خوف زدہ نہ ہوں کیونکہ اگر وہ ان حالات میں ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں تو خداوند بزرگ و برتر دونوں کو اپنے فضل و کرم سے مطمئن کر دے گا اور امید ہے کہ وہ ان حالات میں ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں تو خداوند بزرگ و برتر دونوں کو اپنے فضل و کرم سے مطمئن کر دے گا اور امید ہے کہ بہتر جیون ساتھی اور روشن تر زندگی ان کے انتظار میں ہو (وَ إِنْ یَتَفَرَّقا یُغْنِ اللَّہُ کُلاًّ مِنْ سَعَتِہِ)۔ کیونکہ خدا کی حکمت آمیز رحمت بہت وسیع ہے (وَ کانَ اللَّہُ واسِعاً حَکیماً)۔
جوکچھ آسمانوں اور زمین میں ہے‘ اللہ کاہے اورجنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور تمہیں ہم نے وصیت کی کہ خدا (کی نافرمانی) سے ڈرو اور پرہیز کرو اور اگر کافر ہو جاؤ تو (خدا کا کوئی نقصان نہیں کیونکہ) جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ کا مال ہے اور خدا بے نیا ز ہے اور لائق تعریف ہے۔
جو لوگ دنیا کی جزا اور سزا چاہتے ہیں (اور معنوی اور اخروی نتائج کے طلبگار نہیں وہ غلط فہمی میں مبتلا ہیں کیونکہ) خدا کے پاس تو دنیا و آخرت دونوں کی جزا و ثواب ہے اور وہ سننے اور دیکھنے والا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو چکا ہے کہ اگر حالات مجبور کریں کہ میاں بیوی ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں اور اس کے علاوہ کوئی اور چارہ کار نہ ہو تو اس اقدام میں کوئی حرج نہیں اور آئندہ کے حالات سے نہیں ڈرنا چاہئے کیونکہ خدا انہیں اپنے فضل و کرم سے مطمئن اور بےنیاز کر دے گا۔
زیر نظر آیات میں سلسلہ کلام جاری ہے پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ ہم انہیں بےنیاز اور مستغنی کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ کیونکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اللہ کی ملکیت ہے (وللہ ما فی السّمٰوٰت وما فی الارض)۔
جو ذلت ایسی لامتناہی ملکیت اور بےپایاں قدرت رکھتی ہے وہ اپنے بندوں کو بےنیاز کرنے سے عاجز نیں ہو سکتی۔ اس کے بعد اس موقع پر اور دیگر مواقع پر پرہیزگاری اختیار کرنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: یہود و نصاریٰ کو اور ان لوگوں کو جو تم سے پہلے صاحب کتاب ہیں اور اسی طرح تمہیں بھی ہم نے وصیت کی ہے کہ پرہیزگاری اختیار کرو (وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُواْ اللّهَ)۔
اس کے بعد روئے سخن مسلمانوں کی طرف کرتے ہوئے فرمایا: تقویٰ اختیار کرنے کا یہ حکم تمہارے فائدے میں ہے اور خدا کو اس کی ضرورت نہیں ہے اور اگر تم روگردانی کرو، نافرمانی کی راہ اپناؤ تو خدا کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا کیونکہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کی ملیت ہے اور وہ بےنیاز ہے اور لائق ستائش ہے (وَإِن تَكْفُرُواْ فَإِنَّ لِلّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَكَانَ اللّهُ غَنِيًّا حَمِيدًا) دراصل حقیقی معنی میں فنی اور بےنیاز تو خدا ہی ہے کیونکہ وہ غنی بالذات ہے اور کسی اور کی بے نیازی اسی کی مدد سے ہے۔ ورنہ ذاتی طور پر تو سب کے سب محتاج اور نیاز مند ہیں اسی طرح وہی بالذلت لائق ستائش ہے کیونکہ جن کمالات کی وجہ سے وہ تعریف و ستائش کے لائق ہے وہ اس کی ذات میں ہیں نہ کہ دوسروں کے کمالات کی طرح کہ جو ولدیتاً انہیں دیئے جاتے ہیں اور کسی دوسرے کی طرف سے ہیں۔
بعد والی آیت میں یہ جملہ تیسری مرتبہ آیا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے خدا کی ملکیت ہے اور خدا ان کی حفاظت و نگہبانی اور انتظام و انصرانم کرتا ہے (وَلِلّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَكَفَى بِاللّهِ وَكِيلاً)۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنے مختصر سے فاصلے میں آپ مطلب کاتین مرتبہ تکرار کیوں کیا گیا ہے۔ کیا یہ تکرار صرف تاکید کے لئے ہے یا کچھ اور اشارے بھی اس میں مضمر ہیں۔ آیات میں غور و فکر کیا جائے اور وقت نظر سے کام لیا جائے تو ہر رتبہ اس بات کے ذکر میں ایک نکتہ دکھائی دیتا ہے۔
پہلی مرتبہ دونوں میاں بیوی سے وعدہ کرتا ہے کہ ایک دوسرے سے الگ ہو جانے کے بعد خدا انہیں بےنیاز کر دے گا۔ اس موقع پر یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرنے پر قدرت رکھتا ہے اس نے اپنی زمین و آسمان کی وسعتوں کی ملکیت کا تذکرہ کیا ہے۔
دوسسری مرتبہ تقویٰ و پرہیزگار کی وصیت کے بعد یہ ذکر ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ واضح کیا جائے کہ اس فرمان کی اطاعت کا خدا کو کوئی فائدہ نہیں ہے یا اس کی مخالفت اس کے لئے ضرر رساں نہیں ہے۔ درحقیقت یہ بات اس کے مثابہ ہے جو حضرت امیر المومنین علیؑ نے نہج البلاغہ میں خطبہ ہمام کی ابتداء میں فرمایا ہے:
ان اللہ سبحانہ و تعالیٰ خلق الخلق حین خلقھم غنیاعن طاعتھم اٰمنا من معصیتھم لانہ لاتضرہ معصیۃ من عصاہ ولا تتفعہ طاعۃ من اطاعہ
یعنی۔۔۔۔۔ خدائے متعال نے انسانوں کو پیدا کی جب کہ وہ ان کی اطاعت سے بےنیاز تھا اور ان کی نافرمانی سے امان میں تھا کیونکہ نہ تو گنہ گاروں کی نافرمنانی اسے نقصان پہنچاتی ہے اور نہ اطاعت کرنے والوں کی اطاعت اسے فائدہ پہنچاتی ہے۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطہب ۱۶٢)
تیسری مرتبہ آیۃ ۱۲٣ میں موجود بحث کے عنوان کے طور پر اس کا تذکرہ ہے اس کے بعد فرمایا ہے: خدا کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں کہ تمہیں ختم کر دے اور تمہاری مگر زیادہ آمادہ پختہ ارادے والا گروہ پیدا کر دے جو اس کی اطاعت میں زیادہ کوشاں ہو اور خدا ایسا کرنے پر قادر ہے۔ (إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ وَيَأْتِ بِآخَرِينَ وَكَانَ اللّهُ عَلَى ذَلِكَ قَدِيرًا) ۔
تفسیر بتیان اور جمع البیان میں پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو پیغبر اکرمؐ نے اپنا ہاتھ سلمان کی پشت پر مارا اور فرمایا:
وہ گروہ عجم اور فارس کے یہ لوگ ہیں۔
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمانا درحققت ان عظیم خدمات کی پیش گوئی ہے جو ایرانی مسلمانوں نے اسلام کے لیے کی ہیں۔
آخری آیت میں ان لوگوں کے بارے میں بیچ میں گفتگو آ گئی ہے جو خدا پر ایمان لانے کا دم بھرنے ہیں۔ میدان جہاد میں شرکت کرنے میں اور احکام اسلام کی پابندی کرتے ہیں مگر ان کا مقصد رضائے الہٰی کا حصول نہیں ہوتا، بلکہ مادی نتائج مثلاً مال غنیمت کا حصول ہوتا ہے ارشاد فرمایا گیا ہے۔ جو لوگ صرف دنیا کی جزا چاہتے ہیں وہ غلط فہمی میں مبتلا ہیں کیونکہ خدا کے پاس تو دنیا و آخرت دونوں کی جزا و ثواب ہے (مَّن كَانَ يُرِيدُ ثَوَابَ الدُّنْيَا فَعِندَ اللّهِ ثَوَابُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَكَانَ اللّهُ سَمِيعًا بَصِيرًا) لہذا وہ دنوں کی جستجو کیوں نہیں کرتے اور خدا سب کی نیتوں سے آگاہ اور ہر محل و مقام پر اس کی نظر ہے اور منافق صفت لوگوں کے اعمال سے باخبر ہے۔ (وکان اللہ سمیعاً بصیراً)
یہ آیت ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت بیان کرتی ہے کہ اسلام کی نگاہ صرف معنوی اور اخروی پہلوؤں پر نہیں بلکہ وہ اپنے پیروکاروں کے لئے مادی اور روحانی دونوں طرح کی سعادتیں چاہتا ہے۔
اے ایمان والو ! مکمل طور پر عدالت کے ساتھ قیام کرو خدا کے لئے گواہی دو اگرچہ یہ خود تمہارے لیے یا تمہارے والدین کے لئے یا تمہارے اقربا کے لیے نقصان دہ ہی کیوں نہ ہو کیونکہ اگر وہ غنی یا فقیر ہوں تو خدا حق رکھتا ہے کہ ان کی حمایت کرے اس لیے ہوا و ہوس کی پیروی نہ کرو، اس طرح تو حق سے منحرف ہو جاؤ گے اور اگر حق میں تحریف کرو گے یا اس کے اظہار سے اعراض کرو گے تو جو کچھ تم انجام دیتے ہو خدا اس سے آگاہ ہے۔
تفسیر
عدالتِ اجتماعی
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ آیات میں خصوصیت سے یتیموں اور بیویوں سے عدالت کے بارے میں احکام تھے اب زیر نظر آیت میں بلا استثناء ایک بنیادی اور کلی قانون کے ذریعے سب اہل ایمان کو اجرائے عدالت کا حکم دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ عدالت قائم کریں اور عدالت سے کام لیں (یا اَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا کُونُوا قَوَّامینَ بِالْقِسْطِ)۔
توجہ رہے کہ ”قوامین “ ”قوام“ کی جمع ہے یہ مبالغے کا صیغہ ہے جس کا معنی ہے ”بہت قیام کرنے والا“ یعنی ہر حالت میں، ہر کام میں، ہر مقام پر اور ہر دور میں عدالت کے ساتھ قیام کرو تاکہ عمل تمہارے اخلاق اور عدالت کا حصہ بن جائے اور اس سے انحراف تمہاری طبیعت، مزاج اور روح کے خلاف ہو جائے۔
”قیام“ شاہد یہاں اس بنا پر استعمال کیا گیا ہے کہ انسان کو چاہئیے کہ عام طور پر کام کرنے کے لئے اٹھ کھڑا ہو اور کام کے پیچھے لگ جائے اس لئے کسی کام کے قیام کا مطلب یہ ہے کہ اس کام کے لئے عزم راسخ اور مضبوط ارادے سے اقدام کیا جائے۔ اگرچہ وہ کام حکم قاضی کی مثل قیام و تحرک کا محتاج بھی نہ ہو۔ نیز ممکن لفظ ”قیام“ کا استعمال اس لحاظ سے ہو کہ عام طور پر قائم اس چیز کو کہتے ہیں کہ جو زمین پر عمودی شکل میں ہو اور کسی طرف بھی تھوڑا سا جھکاوٴ بھی نہ رکھتی ہو یعنی تمہیں عدالت کا جراء اس طرح کرنا چاہئیے کہ تھوڑا سا انحراف بھی نہ ہو۔
اس کے بعد تاکید کے لئے مسئلہ شہادت کے حوالے سے ارشاد ہوتا ہے: خاص طور پر شہادت اور گواہی کے معاملے میں تمام مفادات اور تعلقات کو ایک طرف کر کے فقط خدا کے لئے گواہی دو اگرچہ وہ خود تمہاری ذات، تمہارے ماں باپ اور اعزا و اقرباء کے نقصان میں ہو ( شُہَداءَ لِلَّہِ وَ لَوْ عَلی اَنْفُسِکُمْ اَوِ الْوالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبینَ)۔
یہ بات تمام معاشروں میں موجود ہے اور خصوصاً زمانہ جاہلیت کا معاشرہ اس کا شکار تھا کہ عام طور پر گواہی دینے والے اپنی محبت و نفرت کے جذبات کے زیر اثر گواہی دیتے اور حق و عدالت کی ان کے ہاں کوئی اہمیت نہ ہوتی۔ ابن عباس سے منقول ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نو مسلم افراد مدینہ میں آ جانے کے بعد بھی رشتہ داری کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے عزیزوں کے نقصان میں گواہی دینے سے احتراز کرتے تھے۔ مندرجہ بالا آیت اسی ضمن میں نازل ہوئی اور اس کے ذریعے ایسے لوگوں کو تنبیہ کی گئی۔ (بحوالہ: المنار جلد ۵ صفحہ ۴۵۵)۔
جیسا کہ آیت اشارہ کر رہی ہے یہ کام روحِ ایمان سے مطابقت نہیں رکھتا۔ حقیقی مومن وہی ہے جو حق اور عدالت کے سامنے کسی کا لحاظ نہ کرے یہاں تک کہ اپنے رشتہ داروں کے مفادات کی پرواہ نہ کرے۔
اس جملے سے ضمنی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ عدالت کو پیش نظر رکھتے ہوئے رشتہ دار ایک دوسرے کے نفع یا نقصان میں گواہی دے سکتے ہیں (ہاں اس میں اس تہمت کا اندیشہ نہ ہو کہ طرفداری یا تعصب سے کام لیا جارہا ہے)۔
اس کے بعد اصولِ عدالت سے انحراف کے کچھ اور عوامل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: نہ دولت مندوں کی دولت شہادتِ حق سے مانع ہو اور نہ فقیر، خدا اس کے حالات سے زیادہ آگاہ ہے۔ پروردگار کی حمایت کے مقابلے میں اہل ثروت و اہل اقتدار سچی گواہی دینے والے کو نقصان نہیں پہنچا سکتے اور نہ عدالت کے اجراء سے فقیر ہی بھوکا رہ سکتا ہے ( إِنْ یَکُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقیراً فَاللَّہُ اَوْلی بِہِما)۔
دوبارہ تاکید کے طور پر حکم دیا گیا ہے: ہوا و ہوس کی پیروی نہ کرو، مبادا اجرائے عدالت میں رکاوٹ پیدا ہو جائے (فَلا تَتَّبِعُوا الْہَوی اَنْ تَعْدِلُوا)۔ (تشریحی نوٹ: لفظ. تعداد ممکن ہے ”عدالت“ کے مادہ سے ہو یا ”عدول“ کے مادہ سے ہو اگر ”عدالت“ کے مادہ سے ہو تو اس کا معنی یہ ہو گا ”فلا تتبعوا الھوی لان تعدلوا“ (ہوس پرستی کی راہ نہ اپناوٴ تاکہ تم عدالت کا جرا کر سکو) اور اگر ”عدول“ کے مادہ سے ہو تو اس کا معنی یوں ہو گا فلا تتبعوا الھوی فی ان تعدلوا (انحراف حق کی راہ میں ہوا و ہوس کی پیروی نہ کرو))۔
اس جملے سے اچھی طرح معلوم ہوتا جا تاہے کہ ظلم و ستم کا سرچشمہ ہوا پرستی ہے اور اگر کوئی معاشرہ ہوا پرست نہ ہو تو ظلم و ستم وہاں قدم نہیں رکھ سکتا۔
دوبارہ قیام عدالت کی اہمیت کے پیش نظر فرماتا ہے : اگر تم حق دار تک اس کا حق پہنچنے میں حائل ہوئے تو یاحق میں تحریف کی یا حق آشکار ہو جانے کے بعد اس سے اعراض کیا تو خدا تمہارے اعمال سے آگاہ ہے (وَ إِنْ تَلْوُوا اَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّہَ کانَ بِما تَعْمَلُونَ خَبیراً)
(تشریحی نوٹ: ”تلووا“ مادہ ”لی“ (بروزن ”طی“) سے ہے اس کا معنی ہے ”روکنا“ یا تاخیر، یہاں دراصل پیچ و تاب دینے کی معنی میں آیا ہے)۔
”تلووا“ دراصل تحریف حق اور حق میں تغیر و تبدل کی طرف اشارہ ہے۔ ”تعرضوا“ حق کی مطابق حکم کرنے کے اعراض اور منہ موڑنے کے معنی میں ہے۔ یہی بات امام باقرؑ سے منقول ایک حدیث میں بیان کی گئی ہے۔ (بحوالہ: تفسیر تبیان جلد ۵ صفحہ ۳۵۶) یہ امر قابل توجہ ہے کہ آیت میں ”خبیر“ کا لفظ آیا ہے ”علیم“ کا نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ”خبیر“ عموماً اسے کہتے ہیں جو کسی چیز کی جزئیات اور ذرہ ذرہ سے واقف ہو۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ خداوند تعالی حق سے تمہارے ذرا سے انحراف سے بھی واقف ہے چاہے تم اسے کسی نہانے سے کرو اور چاہے اسے حق بجانب قرار دے لو اور وہ اس کی سزا بھی دے گا۔
زیر نظر آیت اجتماعی عدالت کے بارے میں اسلام کی گہری دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے اور اس کی ہر شکل و صورت کو مکمل طور پر واضح کرتی ہے اس سلسلے میں عدالت اجتماعی کے بارے میں ان چند جملوں میں موجود طرح طرح کی تاکیدیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اسلام اس اہم انسانی مسئلے میں کس قدر حساس ہے البتہ یہ امر انتہائی افسوس ناک ہے کہ مسلمانوں کا عمل اور اسلام کے اس بلند پایہ حکم کے درمیان زمین و آسمان کا فاصلہ ہے اور مسلمانوں کی پسماندگی کا ایک عامل ان کا یہ طرز عمل بھی ہے۔
اے ایمان لانے والو !(واقعی) ایمان لے آؤ خدا پر اس کے پیغمبر پر، اس کی کتاب پر جو اس پر نازل ہوئی اور ان( آسمانی) کتب پر جو اس سے پہلے بھیجی گئی ہیں اور جو شخص خدا، اس کے ملائکہ، اس کی کتب، اس کے رسولوں اور روز آخرت کا انکار کرے وہ بہت دور کی گمراہی میں مبتلا ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
ابن عباس سے منقول ہے کہ یہ آیت اہل کتاب کے بعض سربرآوردہ لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس میں عبد اللہ بن سلام، اسد بن کعب اور اس کا بھائی اسید بن کعب اور بعض دوسرے لوگ شامل تھے وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ ابتداء میں خد متِ پیغمبرِؐ میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم آپؐ پر، آپؐ کی کتاب پر، حضرت موسیٰؑ پر تورات پر اور عزیر پر ایمان لائے ہیں لیکن ہم باقی آسمانی کتب اور اسی طرح دیگر انبیاء پر ایمان نہیں لائے۔
مندرجہ بالا آیت اسی سلسلے میں نازل ہوئی جس میں انھیں تعلیم دی گئی کہ انھیں سب پر ایمان لانا چاہئیے (فسیر مجمع البیان و المنار)
تفسیر
شانِ نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت کا روئے سخن اہل کتاب کے بعض مومنین کی طرف ہے جو مخصوص تعصبات کی وجہ سے اسلام قبول کر لینے کے بعد صرف اپنے سابق مذہب اور دین اسلام پر اظہار ایمان کرتے تھے اور باقی انبیاء اور آسمانی کتب کو قبول نہیں کرتے تھے لیکن قرآن انھیں نصیحت کرتا ہے کہ وہ تمام انبیاء اور آسمانی کتب کو باقاعدہ تسلیم کریں کیونکہ سب ایک ہی حقیقت کا تسلسل ہیں، سب کا ہدف ایک ہی ہے اور سب ایک ہی مبداء کی طرف سے مبعوث ہوئے ہیں (اگرچہ تعلیم کے درجوں کی مختلف کلاسوں کی طرح مراتب کا فرق موجود ہے اور ہر کوئی گذشتہ دین سے کامل تردین کے ساتھ آیا ہے) اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ ان میں سے بعض کو تو قبول کر لیا جائے اور بعض کو نہ کیا جائے کیا ایک ہی حقیقت کو کئی حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے اور کیا تعصبات حقائق پر پردہ ڈال سکتے ہیں .... لہٰذا آیت کہتی ہے:
اے ایمان لانے والو! خدا پر، اس کے پیغمبر (رسولؐ اسلام) پر اور جو کتاب اس پر نازل ہوئی ہے اس پر نیز گذشتہ آسمانی کتب ایمان لے آوٴ (یا اَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّہِ وَ رَسُولِہِ وَ الْکِتابِ الَّذی نَزَّلَ عَلی رَسُولِہِ وَ الْکِتابِ الَّذی اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ)۔
مذکورہ شانِ نزول سے قطع نظر آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ روئے سخن ان تمام مومنین کی طرف ہو جو ظاہراً اسلام قبول کر چکے ہیں لیکن ابھی تک ایمان کی روح کی گہرائیوں میں نہیں اترا۔ یہاں انھیں دعوت دی جارہی ہے کہ وہ صمیم قلب سے مومن بن جائیں۔
یہ احتمال بھی ہے کہ روئے سخن ان تمام مومنین کی طرف ہو جو اجمالی طور پر خدا اور پیغمبر پر ایمان لا چکے ہیں لیکن اسلام کی جزئیات اور عقائد کی تفصیلات سے آشنا نہیں ہیں۔ یہاں قرآن انھیں حکم دیتا ہے کہ حقیقی مومنین کو چاہئیے کہ وہ تمام انبیاء، گذشتہ کتب اور خدا کے فرشتوں پر ایمان لے آئیں، کیونکہ ان پر ایمان نہ لانے والے کا مطلب حکمتِ خداوندی کا انکار ہے کیا یہ ممکن ہے کہ وہ اللہ جو حکیم ہے اس نے گذشتہ انسانوں کو بغیر رہبروں و رہنما کے چھوڑ دیا ہو کہ وہ میدانِ حیات میں سرگرداں رہیں۔
یہا ں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جن فرشتوں پر ایمان لانے کے لئے کہا گیا ہے ان سے مراد وحی لانے والے فرشتے ہیں کہ جن پر ایمان لانا انبیاء اور کتب آسمانی پر ایمان کے ساتھ لازم و ملزوم ہے یا پھر یہاں تمام فرشتے مراد وحی ہیں کیونکہ جیسے ان میں سے بعض وحی و تشریع کے معاملے میں دخیل ہیں بعض عالم تکوین کی تدبیر پر بھی مامور ہیں اور ان پر ایمان لانا حکمتِ الہٰی پر ایمان لانے کا حصہ ہے۔
آیت کے آخر میں ان لوگوں کا انجام بیان کیا گیا ہے جو ان حقائق سے غافل ہیں ارشاد ہوتا ہے: جو شخص خدا، ملائکہ، کتب الہٰی، خدا کے فرستادہ انبیاء اور یومِ آخرت کا انکار کرے تو وہ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا ہے (وَ مَنْ یَکْفُرْ بِاللَّہِ وَ مَلائِکَتِہِ وَ کُتُبِہِ وَ رُسُلِہِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالاً بَعیداً)۔ درحقیقت اس آیت میں پانچ اصولوں پر ایمان لانا ضروری قرار دیا گیا ہے اور وہ ہیں مبداء، معاد، آسمانی کتب، انبیاء اور ملائکہ۔
ضلال بعید (دور کی گمراہی) یہ ایک لطیف تعبیر ہے یعنی ایسے لوگ اس طرح سے دور پھینک دئے گئے ہیں کہ حقیقی شاہراہ کی طرف ان کی واپسی آسانی سے ممکن نہیں ہے۔
وہ لوگ جو ایمان لا کر کافر ہو گئے پھر ایمان لائے اور دوبارہ کافر ہو گئے پھر اپنے کفر میں بڑھ گئے خدا انہیں ہرگز نہیں بخشے گا اور نہ ہی انہیں راہ راست کی ہدایت کرے گا۔
جو لوگ اہل ایمان کی بجائے کفار کو اپنا دوست چن لیتے ہیں کیا وہ چاہتے ہیں کہ ان سے عزت و آبرو حاصل کریں حالانکہ تمام عزتیں تو خدا کے ساتھ مخصوص ہیں۔
تفسیر
ہٹ دھرم منافقین کا انجام
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ آیت میں بتایا گیا ہے کہ کفارہ درد کی گمراہی میں ہیں اب اسی مناسبت سے زیر نظر آیت میں سلسلہ کلام آگے بڑھتا ہے پہلی آیت میں ایک ایسے گروہ کی طرف اشارہ ہے جو اپنے آپ کو ایک نئی شکل و صورت میں پیش کرتا ہے یہ لوگ ایک دن مومنین کی صف میں ہوتے ہیں، دوسرے دن کفار کے ساتھ، اگلے روز پھر اہل ایمان کے ساتھ ہوتے ہیں پھر خطرناک اور متعصب کافروں کی صفوں میں موجود ہوتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ وہ بت عیار کی طرح ہر لمحہ ایک نیا روپ اختیار کرتے ہیں ہر روز ایک نئے رنگ میں ظاہر ہوتے ہیں اور آخرکار کفر اور بےایمانی کی حالت میں جان دے دیتے ہیں۔
مندرجہ بالا آیات میں سے پہلی آیت ایسے شخص کے انجام کے بارے میں کہتی ہے: وہ لوگ جو ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے، پھر ایمان لائے اور پھر کافر ہو گئے اور اپنے کفر میں بڑھ گئے خدا انھیں ہرگز نہیں بخشے گا اور راہِ راست کی ہدایت نہیں کرے گا (إِنَّ الَّذینَ آمَنُوا ثُمَّ کَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ کَفَرُوا ثُمَّ ازْدادُوا کُفْراً لَمْ یَکُنِ اللَّہُ لِیَغْفِرَ لَہُمْ وَ لا لِیَہْدِیَہُمْ سَبیلاً)۔
طرز روش کا یہ تغیّر، ہر روز رنگ و روپ کی یہ تبدیلی اور تلون مزاجی کا یہ عالم دراصل اسلامی اصولوں کی صحیح طور پر تحقیق نہ کرنے کا نتیجہ ہے اور یا منافقین اور اہل کتاب میں سے متعصب کفار کی سازش ہے تاکہ حقیقی مومنین کو متزلزل کیا جا سکے کیونکہ ان کے زعم میں ان کی یہ آمد و رفت حقیقی مومنین کے ایمان کو ڈانواں ڈول کر دے گی۔ جیسا کہ سورہٴ آلِ عمران آیة ۷۲ میں گذر چکا ہے۔
زیر بحث آیت میں ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہ ہونے کے بارے میں کوئی دلیل نہیں ہے آیت کا موضوعِ سخن صرف وہ لوگ ہیں جو شدت کفر کی حالت میں بالآخر اس دنیا سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں ایسے لوگ اپنے ایمان اور عمل کے پیشِ نظر نہ بخشش کے لائق ہیں نہ ہدایت کے مگر یہ کہ وہ اپنے معاملے میں تجدید نظر کر لیں۔
بعد ازاں اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے: ان منافقین کو بشارت دیجئے کہ دردناک عذاب ان کے لئے تیار ہے (بَشِّرِ الْمُنافِقینَ بِاَنَّ لَہُمْ عَذاباً اَلیماً)۔
”عذاب الیم“ کے لئے ”بشارت“ یا تو ان کے لغو اور بےہودہ افکار نظر یات کا استہزا ہے یا پھر ”بشر“ چہرہ کے معنی سے ہے جو ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے اور ہر اس خبر کو بشارت کہتے ہیں جو انسان کے چہرے پر اثر انداز ہو اور اسے مسرور یا مغموم کر دے۔
آخری آیت میں ان منافقین کی یوں توصیف کی گئی ہے: وہ مومنین کی بجائے کافروں کو اپنی دوست بناتے ہیں (الَّذینَ یَتَّخِذُونَ الْکافِرینَ اَوْلِیاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنین)۔ پھر بتایا گیا ہے کہ اس میں ان کا ہدف اور مقصد کیا ہے: کیا وہ اس دوستی کے ذریعہ واقعی کوئی عزت و آبرو حاصل کرنا چاہتے ہیں (َاَیَبْتَغُونَ عِنْدَہُمُ الْعِزَّةَ)۔ جبکہ تمام عزتیں خدا کے لئے مخصوص ہیں (فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّہِ جَمیعاً)۔ کیونکہ علم کا سرچشمہ ہمیشہ علم و قدرت ہوتا ہے اور جن کی قدرت کی کوئی حیثیت نہ ہو اور ان کا علم بھی ان کی قدرت جیسا ہو وہ کسی کو کیا صاحب عزت کر سکتے ہیں۔
یہ آیت تمام مسلمانوں کو تنبیہ کرتی ہے کہ وہ اپنی عزت و آبرو کے لئے چاہے وہ اقتصادی یا ثقافتی پہلو سے ہو یا سیاسی حوالے سے دشمنانِ اسلام کی دوستی تلاش نہ کریں بلکہ ذاتِ الہٰی پر بھروسہ کریں جو تمام عزتوں کا سرچشمہ ہے۔ دشمنان اسلام کی اپنی بھی کوئی عزت نہیں وہ دوسروں کو کیا دیں گے اور اگر ان کی بظاہر کچھ عزت ہو بھی تو وہ قابل اعتماد نہیں ہیں کیونکہ جب بھی ان کے مفاد کا تقاضا ہوا وہ فوراً اپنے مخلص ترین اتحادیوں کو بھی چھوڑ کر اپنی راہ لیں گے اور ان کی یہ حالت ہو گی جیسے کبھی شناسائی نہ تھی۔ دورِ حاضر کی تاریخ بھی ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔
اللہ نے قرآن میں تم پر (یہ حکم) نازل کیا ہے کہ جب تم سنو کہ کچھ لوگ آیات الٰہی کا انکار اور استہزا کر رہے ہیں تو ان کے ساتھ نہ بیٹھو جب تک وہ کوئی اور گفتگو نہ کرنے لگیں ورنہ اس صورت میں تم بھی ان جیسے ہو جاؤ گے خدا منافقوں اور کافروں سب کو جہنم میں جمع کر دے گا۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
ابن عباس سے اس آیت کی شانِ نزول کے بارے میں منقول ہے کہ بعض منافقین یہودی علماء کی بیٹھکوں میں جا بیٹھتے تھے۔ ان میٹنگوں میں آیاتِ قرآنی کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ اسی سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی جس میں ان کام کا برا انجام بتایا گیا۔
تفسیر
برُی مجلس میں نہ بیٹھو
سورہٴ انعام قرآن حکیم کی مکی سورتوں میں سے ہے کہ اس کی آیت ۶۸ میں صراحت میں سے پیغمبر اکرمؐ کو حکم دیا گیا ہے کہ:
اگر آپ دیکھیں کہ کچھ لوگ قرآنی آیات کا مذاق اڑاتے ہیں اور ناپسندیدہ باتیں کہتے ہیں تو ان سے اعراض کیجئے۔
یہ بات مسلم ہے کہ یہ حکم نبی کریمؐ سے مخصوص نہیں بلکہ ایک عمومی حکم ہے البتہ اس میں خطاب پیغمبرؐ سے کیا گیا ہے اس کا فلسفہ بھی بالکل واضح ہے کیونکہ یہ ایسے کاموں سے مقابلے کی ایک منفی صورت ہے زیر بحث آیت میں اس اسلامی حکم کی تاکید کی گئی ہے اور مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ: قرآن میں تمہیں پہلے حکم دیا گیا ہے کہ جب سنو کہ کچھ لوگ آیات قرآنی سے کفر کرتے ہیں اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں تو اس وقت تک ان کے ساتھ نہ بیٹھو جب تک وہ اس کام سے صرفِ نظر کر کے دوسرا کام شروع نہ کریں (وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْکُمْ فِی الْکِتابِ اَنْ إِذا سَمِعْتُمْ آیاتِ اللَّہِ یُکْفَرُ بِہا وَ یُسْتَہْزَاُ بِہا فَلا تَقْعُدُوا مَعَہُمْ حَتَّی یَخُوضُوا فی حَدیثٍ غَیْرِہِ)۔
اس کے بعد اس کام کا نتیجہ بیان کیا گیا ہے: اگر تم ایسی مجلس میں شرکت کرو گے تو ان جیسے ہو جاوٴ گے اور تمہارا انجام بھی ان جیسا ہو گا (إِنَّکُمْ إِذاً مِثْلُہُمْ)۔
تاکید مزید کے لئے فرمایا گیا ہے: ایسی میٹنگوں میں شرکت روحِ نفاق کی علامت ہے اور خدا منافقین اور کفار کو جہنم میں جمع کر دے گا (إِنَّ اللَّہَ جامِعُ الْمُنافِقینَ وَ الْکافِرینَ فی جَہَنَّمَ جَمیعاً)۔
چند اہم نکات
۱۔ مجلس گناہ میں شرکت ارتکابِ گناہ کی مانند ہے اگرچہ شریک ہونے والا خاموش ہی بیٹھا رہے کیونکہ ایسی خاموشی ایک طرح کی رضا مندی اور عملی تائید ہے۔
۲۔ نہی عن المنکر ”مثبت“ صورت میں ممکن نہ ہو تو کم از کم ”منفی“ صورت میں ہی انجام دینا چاہیئے اس طرح سے کہ انسان گناہ کے ماحول اور گناہ کی مجلس سے ہی دور ہے۔
۳۔ جو لوگ سکوت اور ایسی مجالس میں شریک ہو کر عملی طور پر گناہگاروں کی تشویق کا باعث بنتے ہیں ان کی سزا بھی ارتکاب گناہ کرنے والوں کی طرح ہے۔
۴۔ کفار کے ساتھ اس صورت میں نشست و برخاست جبکہ وہ آیاتِ خداوندی کی توہیں نہ کریں اور ان سے کوئی خطرہ بھی نہ ہو ممنوع نہیں ہے کیونکہ ”حتیٰ یخوضوا فی حدیث غیرہ“ کے جملہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کام مباح ہے۔
۵۔ ایسے گنہ گاروں سے اچھا برتاوٴ نفاق کی علامت ہے کیونکہ حقیقی مسلمان کسی ایسی مجلس میں ہرگز شرکت نہیں کر سکتا کہ ایک حقیقی مسلمان ایسی مجلس میں ہو اور نہ اعتراض کرے اور نہ اظہار ناپسندیدگی کے لئے محفل کو چھوڑے۔
منافقین وہ ہیں جو ہمیشہ منتظر رہتے ہیں ا ور تمہارے نگران رہتے ہیں اگر تو تمہیں فتح و کامیابی نصیب ہو تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے (لہٰذا ہم بھی افتخار، اعزاز اور مال غنیمت میں تمہارے شریک ہیں ) اور اگر کفار کامیاب ہو جائیں تو انہیں کہتے ہیں کیا ہم نے تمہیں جنگ اور مومنین کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنے کی ترغیب نہیں دی تھی (لہٰذا ہم تمہارے ساتھ اس کامیابی میں شریک ہیں ) خدا تمہارے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا اور اس نے ہر گز مومنین پر کافروں کے غلبے کی راہ نہیں بنائی۔
تفسیر
مُنافقین کی صفات
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
زیر نظر آیت اور اس کے بعد کی کچھ آیت میں منافقین کی صفات اور ان کے افکار پریشان کا تذکرہ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: منافق وہ ہیں جو ہمیشہ یہ چاہتے ہیں کہ ہر پیش آنے والے واقعہ سے مفاد اٹھائیں اگر تو تمہیں کامیابی حاصل ہو جائے تو فوراً اہل ایمان کی صفوں میں آ کھڑا ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے کیا بھاری امداد اس کامیابی میں تمہارے کام نہیں آئی لہٰذا ہم بھی ان تمام فوائد میں اور مادی و معنوی منافع میں تمہارے شریک اور حصہ دار ہیں (الَّذینَ یَتَرَبَّصُونَ بِکُمْ فَإِنْ کانَ لَکُمْ فَتْحٌ مِنَ اللَّہِ قالُوا اَ لَمْ نَکُنْ مَعَکُمْ)۔
لیکن اگر کامیابی اسلام کے دشمنوں کو ہوئی تو فوراً اپنے کو ان کے قریب کر لیتے ہیں اور اس پر اپنی خوشی کا اظہار کرے ہیں اور کہتے ہیں: یہ ہم ہی تھے جو تمہیں مسلمانوں سے جنگ کرنے اور ان کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنے کی ترغیب دیتے تھے اس لئے ہم بھی تمہارے ان کامیابیوں میں حصہ دار ہیں (وَ إِنْ کانَ لِلْکافِرینَ نَصیبٌ قالُوا اَ لَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْکُمْ وَ نَمْنَعْکُمْ مِنَ الْمُؤْمِنینَ)۔
(تشریحی نوٹ: ”استحوذ“ کا مادہ ”حوذ“ ہے یہ رانوں کے پچھلے حصے کو کہتے ہیں۔ ساربان جب اونٹ کو نیز چلانا چاہتا ہے تو اس کے پیچھے ہو کر اس کی رانوں اور پشت پر مارتا ہے لہٰذا ”استحوذ“ چالانے اور متحرک کرنے کے حوالے سے تسلط و غلبہ کا مفہوم دیتا ہے۔ مندرجہ بالا آیت بھی اسی معنی میں ہے)۔
اس طرح یہ لوگ اپنے موقع پرستی کے ذریعے چاہتے ہیں کہ مومنین کی کامیابی کی صورت میں افتخار و اعزاز پائیں یہاں تک کہ مالِ غنیمت میں بھی حصہ دار بنیں اور ان پر احسان جتلائیں اور دوسری طرف کفار کی کامیابی پر بھی خوش ہوتے ہیں انھیں کفر میں پختہ تر کرتے ہیں مسلمانوں کے خلاف ان کے حق میں جاسوسی کرتے ہیں اور ان کی کامیابی کی راہ ہموار کرتے ہیں گویا وہ ”رفیق قافلہ“ بھی ہیں اور شریک راہزن “بھی“ وہ اپنی زندگی اسی دوسرے کھیل میں گزار دیتے ہیں۔
قرآن ایک مختصر سے جملے میں ایسے لوگوں کا انجام بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: آخرکار ایک دن آ ہی جائے گا جب پردے اٹھ جائیں گے اور ان کے برُے چہروں سے نقاب پلٹ دئیے جائیں گے ہاں "قیامت کے دن تمہارے درمیان خدا فیصلہ کرے گا " فَاللَّہُ یَحْکُمُ بَیْنَکُمْ یَوْمَ الْقِیامَةِ)۔ لہٰذا حقیقی مومنین کو چاہئیے کہ ان سے مرعوب نہ ہوں۔
آیت کے آخر میں مزید کہتا ہے: کبھی خدا مومنین پر کافروں کے تسلط کی راہ نہیں بناتا (وَ لَنْ یَجْعَلَ اللَّہُ لِلْکافِرینَ عَلَی الْمُؤْمِنینَ سَبیلاً)۔ کیا اس جملے سے مراد یہ ہے کہ منطق و استدلال کے لحاظ سے کفار کبھی مومنین پر غلبہ نہیں پائیں گے یا اس سے فوجی کامیابی یا ایسی کوئی اور کامیابی مراد ہے اس سلسلے میں ہم بعض پہلووٴں کا جائزہ لیتے ہیں۔
لفظ ”سبیل“ اصطلاح کے مطابق ”نکرہ سیاق نفی میں“ کے قبیل سے ہے جو کہ عمومیت کے معنی دیتا ہے لہٰذا آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف منطق و استدلال سے بلکہ سیاسی، فوجی ثقافتی، اقتصادی غرض کسی لحاظ سے بھی کفار اہل ایمان پر غالب نہیں آئیں گے آج مختلف میدانوں میں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ کفار مسلمانوں پر غالب ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے بیشتر مسلمان حقیقی مومن نہیں ہیں۔ آج مسلمان ایمان کے تقاضے، اپنی ذمہ داریاں، اپنا حقیقی طرز عمل اور اسلامی افکار سب کچھ فراموش کر چکے ہیں نہ ان میں اتحاد اور اخوت اسلامی کی کوئی خبر ہے نہ حقیقی معنی میں جہاد کرتے ہیں اور نہ وہ علم و آگہی کے حامل ہیں، حالانکہ اسلام نے ان سب پر حصولِ علم لمحہ دلادت سے لے کر لحظہ موت تک لازم قرار دے رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج وہ ایسی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
بعض فقہا نے حقوق اور حکم کے حوالے سے مختلف مسائل میں مومنین پر کفار کے عدم تسلط کے لئے اس آیت سے استدلال کیا ہے۔ آیت کی عمومیت کے پیش نظر یہ بات زیادہ بعید نظر آتی (غور کیجئے گا)۔
یہ امر قابل غور ہے کہ اس آیت میں مسلمانوں کی کامیابی کے لئے ”فتح“ کا لفظ استعمال ہوا ہے جبکہ کفار کی کامیابی کے لئے ”نصیب “ استعمال ہوا ہے یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اگر کفار کو کچھ کامیابیاں نصیب ہوں تو وہ محدود، وقتی اور ناپائیدار ہوں گی آخری فتح تو اہل ایمان ہی کو حاصل ہو گی۔
منافقین اللہ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں حالانکہ وہ انہیں دھوکا دیتا ہے (یعنی ان کا فریب باطل کر دیتا ہے) اور جب وہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو وہ سستی اور کسالت کے ساتھ، لوگوں کے سامنے ریاکاری کرتے ہیں اور خدا کو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑا سا۔
وہ بے ہدف افراد ہیں نہ ان کی طرف مائل ہیں نہ ان کی طرف (نہ اہل ایمان کی صف میں ہیں نہ کافروں کی قطار میں ) اور جسے خدا گمراہ کر دے اس کے لئے تمہیں کوئی راہ نہ ملے گی۔
تفسیر
منافقین کی پانچ صفات
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
۱۔ وہ اپنے منحوس مقاصد کی تکمیل کے لئے دھوکا اور فریب دہی کی راہ اختیار کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ چاہتے ہیں کہ خدا کو بھی دھوکا دے دیں۔ حالانکہ جب وہ ایسا کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں خود فریب میں مبتلا ہوتے ہیں کیو نکہ وہ ناچیز اور حقیر سرمایے کے حصول کے لالچ میں اپنا وجود اور انسانیت کا عظیم سرمایہ اپنے ہاتھ سے دے بیٹھے ہیں (ِٕنَّ الْمُنافِقینَ یُخادِعُونَ اللَّہَ وَ ہُوَ خادِعُہُمْ)۔
مندرجہ بالا تفسیر”وھو خادعھم“ کی واوٴ سے معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہاں واوٴ حالیہ ہے۔
بعض بزرگوں سے ایک قصّہ منقول ہے، ایک بزرگ پیشہ وروں سے کہتے تھے:
”ڈرو، کہیں غریب مسافر تمہیں دھوکا نہ دے دیں“
کسی نے کہا: وہ انجان اور سادہ لوح ہوتے ہیں او ر ہم انھیں دھوکا دے سکتے ہیں ۔
بزرگ نے کہا: میرا مقصد بھی یہی ہے کہ اس طرح دھوکا دے کر تم ناچیز سرمایہ تو حاصل کر بیٹھے ہو اور ایمان کا عظم سرمایہ گنوا بیٹھے ہو۔
۲۔ وہ خدا سے دور ہیں، اس سے راز و نیاز کی لذت سے محروم ہیں لہٰذا” جب وہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو سرتاپا کسالت، سستی او ربےحالی میں غرق ہوتے ہیں (وَ إِذا قامُوا إِلَی الصَّلاةِ قامُوا کُسالی)۔
۳۔ وہ چونکہ خدا اور اس کے عظیم وعدوں پر ایمان نہیں رکھتے لہٰذا اگر کوئی عبادت یا کوئی نیک کام انجام بھی دیتے ہیں تو وہ بھی ریا کاری کے لئے نہ کہ خدا کے لئے (یُراؤُنَ النَّاسَ)۔
۴۔وہ اگر کوئی ذکر بھی کرتے ہیں یا خدا کو یاد کرتے ہیں تو صمیم قلب سے نہیں او رنہ آگاہی و بیداری سے اور اگر ہو بھی تو بہت کم ( وَ لا یَذْکُرُونَ اللَّہَ إِلاَّ قَلیلاً)
۵۔ یہ لوگ سرگرداں اور بےہدف جیتے ہیں ان کے پاس نہ زندگی کا کوئی پروگرام ہے نہ کوئی واضح راستہ ، نہ وہ مومنین میں سے ہیں او رنہ کفار میں سے (مُذَبْذَبینَ بَیْنَ ذلِکَ لا إِلی ہؤُلاء ِ وَ لا إِلی ہؤُلاء ِ)۔
توجہ رہے کہ "مذبذب" اسم مفعول ہے اس کا مادہ "ذبذب" ہے یہ ایک مخصوص صدا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ جب کوئی چیز آویزاں ہوں ہوا کی موجیں اسے حرکت دیں تو جو آواز اس ٹکراوٴ سے پیدا ہوتی ہے اسے "ذبذب" کہتے ہیں، بعد ازاں یہ لفظ متحرک اشیاء سرگرداں اور بےہدف لوگوں کے لئے بھی استعمال ہونے والی یہ لطیف ترین تعبیر ہے۔ ضمناً یہ تعبیر اس مطلب کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے او روہ یہ ہے کہ ایسانہیں کہ منافقین کو پہچانا نہ جا سکے بلکہ ان یہ تذبذب ایک خاص آہنگ سے ہم رنگ ہوتا ہے جس کی طرف توجہ کرنے سے وہ پہچانے جاتے ہیں۔ اس تعبیر سے یہ حقیقت بھی معلوم ہوتی ہے کہ منافقین ایک معلق اور آویزاں جسم کی طرح ہیں اور ذاتی طور پر ان کے بس میں کچھ نہیں یہ تو مختلف ہوائیں چلتی ہیں جو انھیں ادھر آدھر کو ہوا کا رخ ہو ان کی حرکت بھی ادر کو ہوتی ہے۔ آیت کے آخرمیں ان کا انجام اس طرح بیان کیا گیا ہے: وہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال کے باعث اللہ نے اپنا دستِ حمایت ان سے اٹھا لیا او رانھیں بے راہ رویوں میں گمراہ چھوڑ دیا ہے اور "جسے خدا گمراہ کردے اس کے لئے تمہیں کبھی راہ ِ نجات نہیں ملے گی "(وَ مَنْ یُضْلِلِ اللَّہُ فَلَنْ تَجِدَ لَہُ سَبیلاً )۔
خدا کے گمراہ کرنے سے متعلق او ریہ کہ اس سے اختیار اور ارادے کی نفی نہیں ہوتی...... تفسیر نمونہ جلد اول سورہٴ بقرہ آیت ۲۶ کے ذیل میں بحث کی جاچکی ہے۔
اے ایمان والو ! مومنین کو چھوڑ کر کفار کو اپنا ولی اور سہارا نہ بناؤ کیا تم چاہتے ہو کہ ایسا کرکے اپنے خلاف بار گاہ الٰہی میں ایک واضح دلیل قائم کر لو۔
کیونکہ منافقین تو دوزخ کے سب سے نچلے درجے میں ہیں اور تمہیں ان کا ہر گز کوئی مدد گار نہیں ملے گا (لہٰذا دشمنان خدا کی دوستی سے پرہیز کرو کیونکہ یہ نفاق کی علامت ہے)
مگر وہ جو توبہ کر لیں اور اصلاح و تلافی کر لیں اور خدا (کے لطف کے دامن) سے وابستہ ہو جائیں اور اپنے آپ کو خدا کے لیے خالص کر لیں وہ مومنین کے ساتھ ہوں گے اور خدا اہل ایمان کو اجر عظیم عطا کرے گا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ آیات میں منافقوں اور کافروں کی کچھ صفات کی نشاندہی کی گئی تھی۔ ان آیات میں پہلے تو مومنین کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ مومنین کی بجائے کافروں (اور منافقوں) کو اپنا سہارا اور ولی نہ سمجھیں (یا اَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا الْکافِرینَ اَوْلِیاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنینَ)۔ کیونکہ یہ قانون شکنی اور خدا سے شرک کے مترادف ہے اور عدالتِ الہٰی کے قانون کے مطابق اس کی بہت سخت سزا ہے اسی لئے فرماتا ہے: کیا تم چاہتے ہو کہ بارگاہ الہٰی میں اپنے خلاف ایک دلیل قائم کر لو (اَ تُریدُونَ اَنْ تَجْعَلُوا لِلَّہِ عَلَیْکُمْ سُلْطاناً مُبیناً)
(تشریحی نوٹ: "سلطان" کا مادہ "سلاطہ" (بر وزن "مقالہ") ہے جس کا معنی ہے دوسرے کو مقہور و مغلوب کرنے کی قدرت خود لفظ "سلطان" اسم مصدر کا معنی رکھتا ہے اور ہر قسم کے تسلط کے لئے استعمال ہوتا ہے اسی بنا پر "دلیل" کو بھی "سلطان" کہا جاتا ہے جو کہ ایک انسان کے دوسرے پر غلبہ کا باعث بنتی ہے بعض اوقات صاحبانِ قدرت کو بھی "سلطان" دلیل و حجت" کے معنی میں استعمال ہوا ہے)۔
بعد والی آیت میں ان منافقین کی حالت واضح کی گئی ہے جن کی دوستی کا طوق غافل مسلمانوں نے اپنے گردن میں ڈال رکھا ہے۔ یا پھر انھی کی حالت بیان کی گئی ہے جو اظہار اسلام کے باوجود انفاق کی راہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: منافقین دوزخ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے اور تمہیں ان کا کوئی مددگار دکھائی نہ دے گا (إِنَّ الْمُنافِقینَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَ لَنْ تَجِدَ لَہُمْ نَصیراً)۔ (تشریحی نوٹ: "درک" (بر وزن "مرگ") دریا کی گہرائی کے گہرے ترین مقام کو کہتے ہیں نیز رسیوں کو گرہ دے کر دریا میں ڈالا جائے تو آخری رسی جو گہرائی تک پہنچے اسے درک (بر وزن "فلک") کہتے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب الفاظ کسی چیز کو پہچاننے اور اس تک پہنچ جانے کا مفہوم دیتے ہیں بعض اوقات تہہ خانے کی سیڑھیوں کو بھی "درک" کہتے ہیں جب کہ چھت کی طرف جانے والی سیڑہیوں کو "درجہ" کہتے ہیں)۔
اس آیت سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ اسلام کی نظر میں نفاق کفر کی بدترین اقسام میں سے ہے اور منافق خدا سے سب سے زیادہ دور ہیں اس لئے ان کا ٹھکانا جہنم کا بدترین اور پست ترین طبقہ ہے اور ایسا ہونا بھی چاہئیے کیونکہ انسانی معاشرے کو منافقین سے جو خطرات لاحق ہوتے ہیں ان کا کسی اور خطرے سے موازنہ نہیں کیا جا سکے گا۔ اظہار ایمان کی وجہ سے جو مقام اور تحفظ انھیں حاصل ہوتا ہے وہ اسے بے دفاع افراد کے خلاف بزدالانہ طریقے سے استعمال کرتے ہیں اور پشت کی جانب سے خنجر گھونپتے ہیں یہ بات مسلم ہے کہ جو بزدل اور خطرناک دشمن دوستی کے روپ میں حملہ آور ہو وہ اس سے کہیں بدتر ہے جو کھلے بندوں دشمنی کا اعلان کرے اور اپنے آپ کو واضح طور پر پیش کرے۔ دراصل نفاق کا راستہ گھٹیا، پست، بزدل، بے وقعت اور ہر لحاظ سے آلودہ افراد ہی اختیار کرتے ہیں۔
یہ بات واضح کرنے کے لئے کہ ایسے افراد بھی جو اس قدر آلودہ ٴ گناہ ہیں چاہیں تو خدا کی طرف لوٹ آئیں اور اپنی اصلاح کر لیں، مزید فرمایا: مگر یہ کہ ایسے لوگ توبہ کریں، اپنے اعمال کی اصلاح کریں (گذشتہ اعمال کی تلافی کریں)، لطف الہٰی سے متمسک ہوں اور اپنا دین و ایمان اللہ کے لئے خالص کریں إِلاَّ الَّذینَ تابُوا وَ اَصْلَحُوا وَ اعْتَصَمُوا بِاللَّہِ وَ اَخْلَصُوا دینَہُمْ لِلَّہِ)۔ ایسے لوگ آخرکار نجات یافتہ ہو سکتے ہیں اور مومنین کے ساتھی بن سکتے ہیں (فَاُولئِکَ مَعَ الْمُؤْمِنینَ) اور خدا تمام صاحبانِ ایمان کو اجر عظیم اور جزائے جزیل سے نوازے گا (وَ سَوْفَ یُؤْتِ اللَّہُ الْمُؤْمِنینَ اَجْراً عَظیماً)۔
یہ امر قابل توجہ ہے کہ آیت میں فرمایا گیا ہے کہ یہ مومنین کے ہمراہ ہوں گے یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ثابت قدم مومنین کا مقام ان سے برتر ہو گا وہ اصل ہیں اور یہ فرع یہ تو سچے مومنین کے پر تو سے نور حاصل کریں گے۔
دوسری بات جو قابل غور ہے یہ ہے کہ منافقین کا انجام بیان کرنے کے لئے انھیں دوزخ کا پست ترین طبقہ قرار دیا گیا ہے جب کہ مومنین کے بارے میں "اجر عظیم" کی بشارت دی گئی ہے جس کی کوئی حد اور انتہا نہیں ہے اور اس اجر کی عظمت لطفِ الہٰی سے وابستہ ہے۔
خدا تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر ادا کرو (اور نعمتوں کو مناسب طریقے سے استعمال کرو) اور ایمان لے آؤ خدا شکر گزار( قدر دان) اور آگاہ ہے۔
تفسیر
خدا کی سزا انتقامی نہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ آیات میں کافروں اور منافقوں کے لئے سخت سزاوٴں کا ذکر تھا۔ اب اس آیت میں ایک اہم حقیقت کی نشاندہی کی گئی ہے اور وہ یہ کہ خدا کی طرف سے دردناک سزائیں اس بنا پر نہیں ہیں کہ وہ چاہتا ہے کہ گنہ گار بندوں سے انتقام لے یا اپنی قدرت کا مظاہرہ کرے یا ان کی نافرمانی اور عصیان سے اسے کوئی نقصان پہنچا ہے جس کی تلافی کرنا چاہتا ہے کیونکہ یہ سب چیزیں تو کسی نقص اور کمی کا مظہر ہیں جبکہ خدا کی ذات ہر نقص اور کمی سے مبرا ہے بلکہ یہ سب سزائیں خود انسانوں کے برے افکار و اعمال کا ردعمل اور نتیجہ ہیں، اسی لئے فرماتا ہے: اگر تم شکر گذاری کرو اور ایمان لے آوٴ تو خدا کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ تمہیں سزا دے (ما یفعل اللہ بعذابکم ان شکر تم و امنتم)۔
شکر کا مفہوم یہ ہے کہ ہر نعمت کو اس طریقے سے استعمال کیا جائے جس کے لئے وہ بنائی گئی ہے اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مندرجہ بالا جملے سے مراد یہ ہے کہ اگر تم ایمان لے آوٴ اور عملِ صالح کرو، نعماتِ الہٰی کو مناسب طور پر استعمال کرو اور ان سے غلط فائدہ نہ ا ٹھاوٴ تو بلاشبہ تھوڑی سی سزا بھی تمہارے دامن کو نہ چھوئے گی۔
تاکید مزید کے لئے کہتا ہے: خدا تمہارے اعمال اور نیتوں سے آگاہ ہے اور تمہارے نیک اعمال کے بدلے میں وہ بھی شاکر اور جزا دینے والا ہے (وکان اللہ شاکراً علیماً)۔
زیر نظر آیت میں "شکر" کو "ایمان" پر مقدم رکھا گیا ہے یہ اس بناء پر ہے کہ انسان جب تک اس کی نعمتوں کو پہچان نہ لے اور شکر گذاری کے مقام تک نہ پہنچ جائے اس وقت تک خود اسے نہیں پہچان سکتا۔ کیونکہ اس کی نعمتیں اس کی معرفت کا ذریعہ ہیں۔ اسلامی عقائد کی کتب میں بھی "وجوب معفرت الہٰی" کے لئے بعض لوگ "وجوب شکر منعم" کی دلیل پیش کرتے ہیں، اور وہ کہتے ہیں کہ شکر گذاری انسانی فطرت ہے اور نعمتیں بخشنے والے کا شکر ادا کرنے واجب ہے لہٰذا اس نعتمیں عطا کرنے والے کی معرفت بھی واجب ہے (غور کیجئے گا)۔
(لیکن) اگر نیکیوں کو آشکار کرو یا مخفی رکھو یا برائیوں سے صرف نظر رکھو (تو تمہیں اس کی جزا دی جائے گی) خدا بخشنے والا اور قادر و توانا ہے۔
تفسیر
اسلام کے چند اخلاقی احکام
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
ان دو آیتوں میں اسلام کے کچھ اخلاقی احکام بیان ہوئے ہیں پہلے فرمایا گیا ہے: خدا پسند نہیں کرتا کہ بدگوئی کی جائے یا بعض لوگوں کے عیب اور برے کام برملا بیان کئے جائیں (لا یُحِبُّ اللَّہُ الْجَہْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْل)۔ کیونکہ خدا خود ستار العیوب ہے وہ پسند نہیں کرتا کہ لوگوں کی پردہ دری کی جائے اور لوگوں کے عیب فاش کئے جائیں اور ان کی عزت و آبروبرباد کی جائے۔ علاوہ ازیں ہم جانتے ہیں کہ ہر انسان کے عام طور پر کچھ نہ کچھ کمزور اور مخفی پہلو ہوتے ہیں اگر یہ عیب ظاہر ہو جائیں تو پورے معاشرے میں بداعتمادی کی ایک ایسی فضا پیدا ہو جائے کہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا مشکل ہو جائے لہٰذا اجتماعی رشتوں کا استحکام اور بشری تقاجوں کو ملحوظ نظر رکھنا بھی ضروری ہے تاکہ کسی صحیح مقصد کے بغیر کسی کے مخفی اور کمزور پہلووٴں کا اظہار نہ ہو۔
ضمناً توجہ رہے کہ "سوء" سے مراد ہر طرح کی برائی اور قباحت ہے اور "جہر" ، "من القول" سے مراد ہر قسم کا لفظی اظہار ہے، چاہے وہ شکایت کی صورت میں ہو یا چغلی کی۔ یہی وجہ ہے کہ جن آیات سے غیبت کی حرمت کے بارے میں استدلال کیا گیا ہے ان میں زیر نظر آیت بھی شامل ہے لیکن آیت کا مفہوم غیبت میں منحصر نہیں بلکہ اس میں ہر طرح کی بدگوئی کی ممانعت کی گئی ہے۔
اس کے بعد بدگوئی کی استثنائی صورت بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: مگر وہ شخص جو ظلم و ستم کے ہاتھو مجبور ہو(إِلاَّ مَنْ ظُلِمَ)۔ ایسے لوگ حق رکھتے ہیں کہ اپنے دفاع کے لئے ظالم کے ظلم کی شکایت کریں یا واضح طور پر ظلم و ستم کی مذمت کریں اور ان پر تنقید کریں اور جب تک اپنا حق نہ لے لیں ظلم و ستم کا ازالہ نہ کریں اس وقت تک چین سے نہ بیٹھی۔
درحقیقت یہ استثناء اس لئے ہے کہ کہیں مندرجہ بالا حکم سے ظالم اور ستمگر غلط فائدہ اٹھائیں یا یہ کہ حکم ظلم و ستم کے سامنے ہتھیار ڈال دینے کا بہانہ نہ بن جائے۔
واضح ہے کہ ایسے مواقع پر صف ظالم کے ظلم اور مظلوم کے دفاع سے مربوط باتوں پر ہی اکتفاء کیا جانا چاہئیے۔
آیت کے آخر میں قرآن اپنی روش کے مطابق کہ کہیں کوئی مظلوم بن کر اس استثناء سے سوءِ استفادہ نہ کرے اور بلاوجہ لوگوں کے عیب بیان کرتا پھرے، فرماتا ہے: باتوں کو سنتا اور نیتوں سے واقف ہے وَ کانَ اللَّہُ سَمیعاً عَلیماً)۔
بعد والی آیت میں اس حکم کے نقطہ کے مقابل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، فرمایا: اگر لوگوں کی نیکیوں کو ظاہر کرو یا پوشیدہ رکھو تو اس میں کوئی حرج نہیں (جبکہ برائیاں استثنائی مواقع کے علاوہ مطلقاً چھپائی جانا چاہئیں) نیز اگر برائیوں کے مقابلے میں لوگوں سے عفو و بخشش کی راہ اپنا وٴ تو بہتر ہے کیونکہ درحقیقت یہ الہٰی طرز عمل ہے کہ جو بہر قسم کے انتقام کی قدرت رکھنے کے باوجود اپنے اہل بندوں کے بارے عفو و بخشش سے کام لیتا ہے (إِنْ تُبْدُوا خَیْراً اَوْ تُخْفُوہُ اَوْ تَعْفُوا عَنْ سُوءٍ فَإِنَّ اللَّہَ کانَ عَفُوًّا قَدیراً)
دوسری آیت دراصل دو پہلوؤٴں سے پہلی آیت کا نقطہ مقابل قرار دی جا سکتی ہے پہلا یہ کہ برائیوں کے اظہار کے مقابلے نیکیوں کا اظہار اور دوسرا جن پر ظلم و ستم ہوا ان کی طرف سے عفو و بخشش۔
ظالم سے درگذر اس کی تقویت کا سبب نہیں؟
یہاں یہ ایک سوال سامنے آتا ہے کہ کیا ستم گر سے درگذر حقیقت میں اس کے ظلم کی تائید نہیں اور کیا یہ کام ایسے ظلم کے جاری رہنے کے لئے تشویق و ترغیب کا باعث نہیں ہو گا اور کیا یہ عمل مظلوموں کے ذہنوں کو سلا دینے والا نہیں ہے اور کیا منفی ردعمل پیدا نہیں کرے گا؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ عفو و درگذر کا اپنا محل و مقام ہے اور اظہار حق اور ظلم کے مقابلے کا موقع جدا ہے۔ اسی لئے احکامِ اسلامی میں ایک طرف ہے:
"لاتظلمون ولاتظلمون"
"نہ ظلم کرو اور نہ ظلم گوارا کرو" ..... (بقرہ....۲۷۹)
اور یہ بھی کہ:۔
"کونا للظالم خصما وللمظلوم عونا"
یعنی۔۔۔ ظالم کے دشمن بنو، اور مظلوم کے ساتھی۔ (بحوالہ نہج البلاغہ، وصیت نامہ نمبر۴۸)۔
نیز یہ بھی کہ:۔
فقاتلوا التی تبعی حتی تفیء الیٰ امر اللہ
یعنی .... ظالموں سے جنگ کرو یہاں تک کہ وہ حکم خدا کے سامنے سرنگوں ہو جائیں۔ (حجرات۹)
دوسری طرف عفو و درگذر اور بخشش کا حکم دیا گیا:
و ان تعفوا اقرب للتقوی
اور..... اگر معاف کر دو تو یہ تقویٰ کے زیادہ قریب تر ہے۔ (بقرہ ....۲۳۷)
یہ بھی فرمایا کہ:
ولیعفوا ولیصفحوا الا تحبون ان یغفر اللہ لکم
یعنی۔۔۔۔ معاف کر دو اور درگذر سے کام لو، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ خدا تمہیں بخش دے (نور۔۔۔۲۲)
ہو سکتا ہے کہ بعض کوتاہ نظر لوگوں کو ابتداء میں ان احکام میں تفاوت اور تضاد نظر آئے لیکن اسلامی مصادر اور کتب میں موجودہ احادیث کی طرف توجہ کی جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عفو و درگذر کا اپنا مقام ہے اور ظلم کی سرکوبی کے لئے مقابلے کا ایک الگ موقع و محل ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ عفو و درگذر اس موقع کے لئے ہے جہاں قدرت اور دشمن پر کامیابی حاصل ہو اور دشمن آخری شکست سے دوچار ہو جائے یعنی جہاں دشمن کی طرف سے کوئی نیا خطرہ محسوس نہ ہوتا ہو۔ اس موقع پر عفو و درگذر ایک طرح سے اصلاحی اور تربیتی اقدام ہے اور یہ طرز عمل دشمن کو اپنے عمل پر نظر ثانی پر آمادہ کرے گا، تاریخ اسلام میں ایسے بہت سے مواقع کا تذکرہ موجود ہے حضرت امیر المومنین (علیه السلام) یہ فرمان اس نقطہ نظر پر شاہد ہے، آپؐ نے فرمایا:
"اذا قدرت علی عدوّک فاجعل العفو عنہ شکراً للقدرة علیہ"
جب دشمن پر کامیابی حاصل کر لو تو عفو و بخشش کو اس کامیابی کی زکوٰة اور شکر کا ذریعہ قرار دو۔ (بحوالہ نہج البلاغة کلمات قصار، کلمہ ۱۰)۔
دوسری طرف ایسے مواقع جہاں دشمن کا خطرہ ابھی باقی ہو اور احتمال ہو کہ درگذر کرنا اسے جراٴت دے گا اور اس کی حوصلہ افزائی کرے گا یا یہ کہ عفو و بخشش یہاں ظلم کی تائید شمار ہو گی تو اسلام ایسی بخشش اور معافی کی کبھی اجازت نہیں دیتا اور ایسے مواقع پر رہبرانِ اسلام نے کبھی عفو و بخشش کی راہ نہیں اپنائی۔
جو لوگ خدا اور پیغمبروں کا انکار کرتے ہیں ا وران میں تبعیض اور فرق روا رکھنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض پر ایمان رکھتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان دو کے درمیان کوئی راہ منتخب کریں۔
(لیکن) وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں اور ان میں سے کسی کے درمیان فرق روا نہیں رکھتے انہیں عنقریب جزا دیں گے خدا بخشنے والا اور مہربان ہے۔
تفسیر
انبیاء میں فرق نہیں ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
ان آیات میں کفار اور مومنین کی حالت بیان کی گئی ہے اور ان کے انجام کا تذکرہ ہے یہ آیات گذشتہ کی تکمیل کرتی ہیں جن میں منافقین کا ذکر تھا۔
پہلے تو ان لوگوں کا تذکرہ ہے جو انبیاء الٰہی میں فرق روا رکھتے ہیں۔ بعض کو حق پر سمجھتے ہیں اور بعض کو باطل پر۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ لوگ جو خدا اور اس کے پیغمبروں کے کافر اور منکر ہیں اور چاہتے ہیں کہ خدا اور اس کے پیغمبروں میں فرق روا رکھیں اور کہتے ہیں کہ ان میں سے بعض پر تو ایمان رکھتے ہیں اگرچہ بعض کو قبو ل نہیں کرتے۔ اپنے گمان میں وہ چاہتے ہیں کہ اس کے درمیان کی کوئی راہ نکالیں یہی حقیقی کا فرہیں (إِنَّ الَّذِینَ یَکْفُرُونَ بِاللهِ وَرُسُلِہِ وَیُرِیدُونَ اَنْ یُفَرِّقُوا بَیْنَ اللهِ وَرُسُلِہِ وَیَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَکْفُرُ بِبَعْضٍ وَیُرِیدُونَ اَن یَتَّخِذُوا بَیْنَ ذَلِکَ سَبِیلًا اُوْلَئِکَ ہُمْ الْکَافِرُونَ حَقاًّ)
یہ جملہ دراصل یہودیوں اور عیسائیوں کی حالت بیان کر رہا ہے یہودی حضرت عیسیٰؑ کو نہیں مانتے اور یہودی اور عیسائی دونوں حضرت پیغمبر اسلامؐ کو نہیں مانتے حالانکہ ان کی اپنی کتابوں کے مطابق ان پیغمبروں کی نبوت ثابت شدہ ہے۔ حقائق کو قبول کرنے میں اس تبیض کا سرچشمہ ہوا ہوس اور جاہلانہ تعصبات ہیں اور بعض اوقات بےوجہ کا حسد اور تنگ نظری سدراہ ہوتی ہے یہ طرز عمل دراصل خدا پر اور انبیاء پر ایمان نہ لانے کی نشاندہی ہے کیونکہ ایمان یہ نہیں ہے کہ جو کچھ اپنی طبیعت اور میلان کے مطابق ہو اسے تسلیم کر لیا جائے اور جو مزاج اور ہوس کے خلاف ہو اسے رد کر دیا جائے یہ تو ایک طرح کی نفس پرستی ہے نہ کہ خدا پرستی۔ حقیقی ایمان تو یہ ہے کہ انسان حقیقت کو قبول کر لے چاہے اس کے میلان طبع کے خلاف ہی کیوں نہ ہو لہذا قرآن ایسے افراد کو مندرجہ بالا آیت میں کافر قرار دیتا ہے اگرچہ وہ خدا پر اور بعض انبیاء پر ایمان رکھتے ہیں (إِنَّ الَّذِینَ یَکْفُرُونَ بِاللهِ وَرُسُلِہ-)
اس لیے جن چیزوں پر وہ اظہار ایمان کرتے ہیں اسے بھی بےوقعت قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس ایمان کا سرچشمہ جستجوئے حق نہیں ہے۔
آخر میں انھیں سرزنش کرتے ہوئے کہتا ہے: ہم نے کفار کے لیے ذلت آمیز اور رسواکن عذاب تیار کر رکھا ہے (وَاَعْتَدْنَا لِلْکَافِرِینَ عَذَابًا مُہِینًا) اس میں عذاب کو ---مہین (ذلت آمیز) قرار دیا گیا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ انھوں نے انبیاء میں تبعیض اور فرق روا رکھ کے دراصل ان میں سے بعض کی توہین کی ہے لہٰذا ان کی سزا ان کے عمل کی مناسبت سے ہونا چاہیے۔
گناہ اور سزا میں تناسب
سزا بعض اوقات، عذاب الیم، کی شکل میں ہوتی ہے مثلاً کوڑے لگانا اور بدنی تکلیف پہنچانا، بعض اوقات رسواکن ہوتی ہے، مثلاً کسی کے لباس پر کیچڑ ڈالنا وغیرہ۔ کبھی شور و شین سے مملو عذاب عظیم کی صورت میں، مثلاً کچھ لوگوں کی موجودگی میں سزا دینا اور بعض اوقات سزا کا اثر کا وجود انسانی پر گہرا ہوتا ہے اور ایک مدت تک باقی رہتا ہے جسے عذاب شدید کہتے ہیں۔ مثلاً طویل المد ت قید بامشقت اور دیگر سزائیں۔
واضح ہے کہ عذاب کی ان میں سے کوئی بھی نوعیت گناہ کی نوعیت کی مناسبت سے ہے اسی لیے بہت سی آیات قرآنی میں ظالموں کی سزا، عذاب الیم، قرار دی گئی ہے کیونکہ بندگان خدا پر درناک ظلم کرنے سے یہی سزا مناسبت رکھتی ہے جن کا گناہ توہین آمیز ہے ان کی سزا بھی ذلت آمیز ہے۔ اس طرح جو لوگ بڑے اور شدید گناہ کرتے ہیں اس کی سزا بھی اسی قسم کی ہوتی ہے۔
مندرجہ بالا مثالوں کا مقصد مطلب کو ذہن نشین کرانا ہے ورنہ اس جہان کی سزاؤں کا قیاس اس جہان کی سزاؤں پر نہیں کیا جا سکتا۔
اس کے بعد مومنین کی کیفیت اور انجام کا ذکر ہے، فرمایا: وہ لوگ جو خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور اس طرح کے سامنے اپنے جذبئہ تسلیم اور خلوص کا اظہار کرتے ہیں اور وہ ہر طرح کے ناروا تعصب کے مقابلے میں اپنے قیام کا ثبوت دیتے ہیں خدا بہت جلد انھیں جزا دے گا (وَالَّذِینَ آمَنُوا بِاللهِ وَرُسُلِہِ وَلَمْ یُفَرِّقُوا بَیْنَ اَحَدٍ مِنْہُمْ اُوْلَئِکَ سَوْفَ یُؤْتِیہِمْ اُجُورَہُمْ وَ)
البتہ پیغمبروں پر ایمان لانا اور عملاً انھیں تسلیم کر لینا اس بات کے منافی نہیں کہ ان میں سے بعض سے افضل مانا جائے کیونکہ ان کی ماموریت اور ذمہ داریوں کے فرق کے لحاظ سے ان کے مراتب میں فرق یقینی ہے۔ مقصد یہاں یہ ہے کہ انبیاء پر ایمان لانے اور انھیں تسلیم کرنے میں ہم کوئی فرق نہ کریں۔
آیت کے آخر میں اس مطلب کی طرف اشارہ ہے کہ اگر یہ مومنین پہلے ایسے تعصبات اور تفریق کے قائل رہے ہیں، یا دوسرے گناہوں کے مرتکب رہے ہیں تو اب اگر وہ اپنے ایمان کو خالص کر کے خدا کی طرف لوٹ آئیں تو خدا انھیں بخش دے گا اور خدا ہمیشہ بخشنے والا اور مہربان ہے (وَکَانَ اللهُ غَفُورًا رَحِیمًا)۔
یہ بات قابل غور ہے کہ زیر نظر آیات میں انبیاء میں تبعیض و تفریق کے قائل لوگوں کو حقیقی کفار قرار دیا گیا ہے لیکن جو سب پر ایمان لائے ہیں انھیں حقیقی مومن نہیں کہا گیا بلکہ صرف مومن کہا گیا ہے شاید فرق اس بنا پر ہو کہ حقیقی مومن وہ ہیں جو ایمان کے علاوہ عمل کے لحاظ سے بھی بالکل پاک اور صالح ہوں اس بات کی شاہد وہ آیات ہیں جو سورہ انفال کی ابتداء میں آئی ہیں جن میں خدا پر ایمان لانے کے بعد مومنین کی صفات میں ایک مثبت اور زندہ سلسلہ اعمال بیان کیا گیا ہے اس میں اخلاقی اجتماعی اور ایمانی رشد کے علاوہ نماز زکاة اور توکل برخدا کی صفات بھی شامل ہیں اور اس کے بعد فرماتا ہے:
اُوْلَئِکَ ہُمْ الْمُؤْمِنُونَ حَقّاً
یہ ہیں پکے اور حقیقی مومن۔ (انفال۔۔۔۔۔۴)
اہل کتاب تم سے تقاضا کرتے ہیں کہ ایک ہی مرتبہ آسمان سے ایک کتاب ان پر نازل کردو (حالانکہ یہ تو ایک بہانہ ہی ہے) انہوں نے موسیٰ سے اس سے بھی بہت بڑا سوال کیا تھا اور کہا تھا کہ ہمیں ظاہر بظاہر خدا دکھادے۔ اسی ظلم کی وجہ سے بجلی نے انہیں آ لیا تھا۔پھر انہوں نے ان واضح دلائل کے باوجود جو ان کے لئے آئے تھے( سامری کے) گو سالہ کو (خدا کے طور پر) منتخب کر لیا پھر بھی ہم نے انہیں معاف کر دیا اور موسیٰ کو ہم نے واضح برتری عطا کی۔
اور ہم نے کوہ طوران کے اوپر بلند کیا اور اسی حالت میں ان سے عہدو پیمان لیا اور ان سے کہا کہ (توبہ کے طور پر بیت المقدس کے) دروازے سے خضوع کے ساتھ آؤ (نیز) ہم نے ان سے کہا کہ ہفتہ کے روز تجاوز نہ کرو (اور کاروبار سے ہاتھ کھینچ لو) اور ان تمام باتوں کے بارے میں ہم نے ان سے محکم عہدو پیمان لیا۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
تفسیر تبیان، مجمع البیان اور روح المعانی میں ان آیات کی شان نزول میں لکھا ہے کہ کچھ یہودی پیغمبر اسلامؐ کی خدمت آئے اور کہنے لگے کہ اگر تم آللہ کہ پیغمبر ہو تو اپنی آسمانی کتاب ایک ہی دفعہ ہمارے سامنے پیش کرو جیسا کہ موسیٰؑ تورات کو اکٹھا لے کر آئے تھے۔
تفسیر
یہودیوں کی بہانہ سازی
آیات میں پہلے اہل کتاب (یہودیوں) کے تقاضہ کا تذکرہ ہے۔ فرمایا اہل کتاب تم سے تقاضا کرتے ہیں کہ (یکجا) ایک کتاب آسمان سے ان پر نازل کرو ( یَسْاَلُکَ اَہْلُ الْکِتَابِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْہِمْ کِتَابًا مِنْ السَّمَاء)۔
اس میں شک نہیں کہ ان کی اس فرمائش میں حسن نیت شامل نہ تھی کیونکہ کتب آسمانی کہ نزول کا مقصد ارشاد ہدایت اور تربیت ہے بعض اوقات یہ ہدف آسمانی کتب کے یکجا نازل ہونے سے حاصل ہوتا ہے اور بعض اوقات اس کی تدریجی تنزیل اس مقصد کے لیے زیادہ مدگار ہوتی ہے لہذا انھیں چاہیے کہ وہ پیغمبرؐ سے دلیل کا مطالبہ کریں اور اعلی و ارفع تعلیم کی فرمائش کریں نہ یہ کہ آسمانی کتب کے نزول کی کیفیت معین کریں لہٰذا اس کے بعد خدا نے ان کے عدم حسن نیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اور اپنے پیغمبرؐ کی تسلی کے لیے یہودیوں کی سابقہ ہٹ دھرمی، عناد اور بہانہ جوئی کا تذکرہ کیا ہے جو وہ اپنے عظیم پیغمبر حضرت موسیٰؑ بن عمران سے کرتے رہے تھے فرمایا: انھوں نے موسیٰؑ سے اس بڑی اور زیادہ عجیب چیزوں کی خواہش کی تھی اور کہا تھا کہ ہمیں ظاہر بظاہر خدا دکھا دے(فقد سالوا موسی اکبر من ذٰلک فقالوا ارنا اللہ جھرة)۔
یہ عجیب و غریب اور غیرمنطقی فرمائش تھی جس سے بت پرستوں کا عقیدہ ظاہر ہوتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خدا کو جسم میں اور محدود دیکھنے کا تقاضا کر رہے تھے اور بلاشبہ اس کی وجہ ہٹ دھرمی اور عناد تھی ان کے اسی ظلم کے باعث صاعقئہ آسمانی نے انھیں آلیا (فاخذتھم الصّٰعقة بظلمھم)۔
اس کے بعد ان کے ایک اور برے عمل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ ہے– "گوسالہ پرستی"۔ فرمایا: انھوں نے ان معجزات اور واضح دلائل کو دیکھنے اور جاننے کے باوجود بچھڑے کو اپنا معبود قرار دے دیا (ثم اتخذو االعجل من بعد ما جاء تھم البینٰت)۔
ان تمام چیزوں کے باوجود اس لیے کہ صحیح راستے کی طرف لوٹ آئیں اور ہٹ دھرمی اور عناد کی سواری سے اتر پڑیں ارشاد فرمایا :پھر بھی ہم نے انھیں بخش دیا اور موسی کو برتری عطا کی اور واضح حکومت بخشی۔ نیز سامری اور بچھڑا پرستو ں کی بساط الٹ دی (فعفونا عن ذٰلک واتینا موسی سلطانا مبینا)۔ وہ پھر بھی خواب غفلت سے بیدار نہ ہوئے اور مرکب غرور سے نیچے نہ اترے اسی لیے ہم نے کوہ طور کو ان کے سروں پر متحرک کر دیا اور اسی حالت میں ان سے پیمان لیا اور ان سے کہا کہ اپنے گناہوں کی توبہ کے طور پر بیت المقدس کے دروازے سے خضوع خشوع کے ساتھ داخل ہو جاؤ نیز انھیں تاکید کی کہ ہفتے کے روز کسب کار سے دست کش ہو جاؤ اور تجاوز کی راہ نہ لو نیز اس دن دریائی مچھلیوں کا شکار نہ کرو کہ جو اس دن حرام ہے اور ان تمام چیزوں کے بارے میں ہم نے ان سے سخت عہدوپیمان لیا " لیکن انھوں نے ان میں سے کسی بھی تاکیدی عہد کو پورا نہیں کیا-
(تشریحی نوٹ: کوہ طور کے یہودیوں کے سروں پر مسلط ہونے کے بارے میں اور یہ کہ ایسا زلزلے کے زیر اثر تھا یا کسی اور عامل کی وجہ سے اور اسی طرح یہودیوں کے سابقہ برے اعمال کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد اول میں بحث کی جا چکی ہے۔ صفحہ ۲۳۴ اردو ترجمہ دیکھیے)
(ورفعنا فوقھم الطور بمیثاقھم وقلنا لھم ادخلو االبا ب سجّدا وقلنا لھم لاتعدوا فی السبت واخذا نا منھم میثاقا غلیظا)۔ تو کیا یہ لوگ اس تاریک ماضی کے ہوتے ہوئے تم سے اپنے اس تقاضے میں سچے ہو سکتے ہیں؟ اگر یہ سچ کہتے ہیں تو پھر اپنی آسمانی کتب میں آخری پیغمبر کی صریح نشانیوں کے بارے میں عمل کیوں نہیں کرتے اور انھوں نے تمھارے بارے میں ان کھلی نشانیوں سے چشم پوشی کیوں اختیار کر رکھی ہے۔
دو اہم نکات
۱۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہ اعمال تو پہلے یہودیوں سے مربوط تھے پیغمبر اسلامؐ کے معاصر یہودیوں سے کیا واسط ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ بھی اپنے بڑوں کے اعمال پر معترض نہیں تھے بلکہ موافق نظریئے کا اظہار کرتے تھے اس لیے سب ایک ہی صفت میں قرار پاتے ہیں۔
۲۔ مندر جہ بالا آیات میں جو یہ آیا ہے یہودی مدعی تھے کہ تورات یکبارگی نازل ہوئی ہے تو یہ کوئی مسلم بات نہیں ہے شاید اس توہم کا سبب وہ دس فرامین جنھیں دس وصیتیں کہا جاتا ہے جو کہ اکٹھی تختیوں کی صورت میں حضرت موسیٰؑ پر نازل ہوئے تھے جبکہ تورات کے دیگر احکام کے یکجا نازل ہونے کے بارے میں کوئی دلیل ہمارے پاس نہیں ہے۔
وہ اس بنا پر کہ انہوں نے اپنا عہد توڑ دیا آیات الٰہی کا انکار کیا اورانبیاء کو نا حق قتل کیا اور وہ (بطور تمسخر) کہتے تھے کہ ہمارے دلوں پر پردہ ڈال دیا گیا ہے( اور ہم انبیاء کی باتوں کو سمجھ نہیں پاتے)،(لہٰذا وہ بارگا ہ الٰہی سے دھتکارے گئے) جی ہاں ! خدا نے ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے لہٰذا تھوڑے سے لوگوں کے علاوہ باقی ایمان نہیں لائیں گے۔
اور ان کا یہ کہنا کہ ہم نے عیسیٰ بن مریم پیغمبر خدا کو قتل کر دیا حالانکہ نہ انہوں نے اسے قتل کیا ہے اور نہ سولی پر لٹکایا ہے مگر یہ کہ معاملہ ان پر مشتبہ ہو گیا اور جنہوں نے اس کے قتل کے بارے میں اختلاف کیا ہے وہ اس کے متعلق شک میں ہیں اور اس کا علم نہیں رکھتے اور صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں اور انہوں نے یقیناً اسے قتل نہیں کیا۔
بلکہ خدا اسے اپنی طرف لے گیا اور خدا توانا و حکیم ہے۔
تفسیر
یہودیوں کی کچھ اور کارستانیاں
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
ان آیات میں بنی اسرائیل کی کچھ اور کارستانیوں، قانون شکنیوں، عداوتوں اور انبیاءِ الہٰی سے دشمنیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
پہلی آیت میں ان میں سے ایک گروہ کی پیمان شکنی، کفر اور قتل انبیاء کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ہم نے انھیں پیمان شکنی کی وجہ سے اپنی رحمت سے دور کر دیا یا اپنی بعض پاکیزہ نعمتوں کو ان پر حرام قرار دے دیا (فَبِمَا نَقْضِہِمْ مِیثَاقَہُم)
(تشریحی نوٹ: "فبما نقضھم" قواعد ادب کے اعتبار سے جار مجرور ہے لہٰذا ضروری ہے کہ اس کا کوئی عامل ہو ممکن ہے اس کا عامل "لعناھم" (ہم نے ان پر نعمت کی) محذوف مقدر ہے یا "حرمنا علیھم"( ہم نے ان پر حرام کر دیا) ہو جوآیة ۱۶۰میں ہے اس بنا پر جو کچھ درمیانی کلام میں آیا ہے وہ جملئہ معترضہ کی حیثیت رکھتا ہے جو ایسے مواقع پر کلام کی خوبی اور زیبائی کا باعث ہوتا ہے)
اس عہد شکنی کے بعد انھوں نے آیات الہی کا انکار کیا اور مخالفت کا راستہ اختیار کیا (وکفرھم بایات اللہ) اور انھوں نے اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ ایک اور بڑے جرم کی طرف ہاتھ بڑھایا اور وہ یہ کہ راہ حق کے ہادیوں یعنی انبیاء کو بلاجواز قتل کیا (و قتلھم الانبیاء بغیر حق)۔
وہ خلاف حق اعمال میں اس قدر جسارت مند اور بےباک تھے کہ انبیاء کی گفتگو کا مذاق اڑاتے تھے اور انھیں صراحت سے کہتے تھے: ہمارے دلوں پر تو پردہ ڈال دیا گیا ہے جو تمہاری دعوت کو سننے اور اسے قبول کرنے میں حائل ہے (و قولھم قلو بنا غلف)۔ یہاں قرآن مجید مزید کہتا ہے: جی ہاں! ان کے دلوں پر واقعی مہر لگا دی گئی ہے، اب کوئی حق بات ان میں جاگزیں نہیں ہو سکتی لیکن اس کا عامل ان کا اپنا کفر اور بےایمانی ہے اس لیے تھوڑے سے افراد جو ایسی ہٹ دھرمیوں میں نہیں پڑے وہی ایمان لائیں گے باقی نہیں (بل طبع اللہ علیھا بکفرھم فلا یومنون الا قلیلا)۔
ان کی قانون شکیناں صرف یہیں تک محدود نہیں ہیں وہ کفر کی راہ میں اتنے تیز دوڑتے ہیں کہ انھوں نے مریمؑ جیسی پاک دامن خاتون اور خدا کے ایک عظیم پیغمبر کی والدہ جو حکم خدا سے بغیر شوہر کے حاملہ ہو گئی تھی، پر بہت بڑی تہمت لگائی (وبکفرھم و قولھم علی مریم بھتانا عظیما)۔ یہاں تک وہ قتل انبیاء پر فخر کرتے تھے اور کہتے تھے ہم نے مریم عیسی بن مریم اللہ کے رسول کو قتل کر دیا (وقولھم انا قتلنا المسیح عیسی بن مریم رسو ل اللہ)۔ شاید مسیح کو رسول اللہ تمسخر اور استہزاء کے طور پر کہتے تھے۔ وہ قتل عیسیٰؑ کے بارے میں اپنے دعوے میں جھوٹے تھے انھوں نے ہرگز مسیح کو قتل نہیں کیا اور نہ سولی پر لٹکایا، بلکہ ایک اور شخص کو جو ان سے مشابہت رکھتا تھا اشتباہ میں سولی پر لٹکا دیا (وماقتلوہ وما صلبوہ و لکن شبّہ لھم)۔
اس کے بعد قرآن کہتا ہے: مسیح کے بارے میں اختلاف کرنے والے خود شک میں تھے اور اپنی کہی بات پر ایمان نہیں رکھتے تھے وہ صرف تخمینے اور اندازے کی پیروی کرتے (وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ ما لھم بہ من علم الا اتباع الظن)۔ اس بارے میں انھوں نے کس بات میں اختلاف کیا مفسرین میں اختلاف ہے بعض نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ انھوں نے اختلاف حضرت مسیح کی اصل حیثیت اور مقام کے بارے میں کیا تھا ایک گروہ جناب مسیح کو خدا کا بیٹا کہتا تھا اور بعض یہودیوں کی طرح انھیں پیغمبر ہی نہیں سمجھتے تھے اور یہ سب کے سب اشتباہ میں تھے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے قتل کی کیفیت کے بارے میں اختلاف ہو بعض کہتے ہیں کہ وہ قتل ہو گئے ہیں اور بعض کہتے کہ وہ قتل نہیں ہوئے اور ان میں سے کوئی بھی اپنی بات پر مطمئن نہیں تھا۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کے قتل کے مدعی انھیں نہ پہچاننے کی وجہ سے شک میں ہوں اور وہ یہ ہے کہ جسے انھوں نے قتل کیا تھا وہ مسیح ہی تھے یا ان کی جگہ کوئی اور شخص تھا۔
اس پر قرآن تاکیداً کہتا ہے انھوں نے قطعا اسے قتل نہیں کیا بلکہ خدا اسے اپنی طرف اٹھا لے گیا اور خدا قادر و حکیم ہے (وما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ وکان اللہ عزیزا حکیما)۔
مسیحؑ قتل نہیں ہوئے
زیر نظر آیت میں قرآن کہتا ہے: مسیح قتل نہیں ہے اور نہ سولی پر چڑھے بلکہ معاملہ ان پر مشتبہ ہو گیا اور انھوں نے خیال کیا کہ انھیں سولی پر لٹکا دیا ہے حالانکہ یقینا انھوں نے انھیں قتل نہیں کیا۔
موجودہ چاروں اناجیل (متی، لوقا، مرقس اور یوحنا) میں حضرت مسیحؑ کو سولی پر لٹکائے جانے اور ان کے قتل کا ذکر ہے۔ یہ بات چاروں انجیلوں کے آخری حصوں میں تشریح و تفصیل سے بیان کی گئی ہے۔ آج کے عام مسیحیوں کا بھی یہی عقیدہ ہے بلکہ ایک لحاظ سے تو قتل مسیح اور انھیں مصلوب کیا جانا موجودہ مسیحیت کے اہم ترین بنیادی مسائل میں سے ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ موجودہ عیسائی حضرت مسیحؑ کو ایسا پیغمبر نہیں مانتے جو مخلوق کی ہدایت، تربیت اور ارشاد کے لیے آیا ہو بلکہ وہ انھیں خدا کا بیٹا اور تین خداؤں میں سے ایک کہتے ہیں جس کا اس دنیا میں آنے کا اصلی ہدف ہی خدا ہونا ہے اور اپنی قربانی کے عوض نوع بشر کے گناہوں کا سودا کرنا ہے۔ عیسائی کہتے ہیں کہ وہ اس لیے آئے تاکہ ہمارے گناہوں کا فدیہ بن جائیں وہ سولی چڑھے اور قتل ہوئے تاکہ نوع بشر کے گناہوں کو دھو ڈالیں اور عالمین کو سزا سے نجات دلائیں۔ اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ راہ نجات مسیح سے رشتہ جوڑنے اور ان کے مصلوب ہونے کا عقیدہ رکھنے میں منحصر ہے یہی وجہ ہے کہ وہ مسیحیت کو "مذہبِ نجات" یا "مذہب خدا" کہتے ہیں اور مسیح کو "ناجی" یا "فادی" کہتے ہیں یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ عیسائی صلیب کا نشان بہت ذیادہ استعمال کرتے ہیں، اور صلیب ان کا شعار ہے اسی کی وجہ ان کا یہی عقیدہ ہے۔
یہ تھا حضرت مسیحؑ کی سرنوشت کے بارے میں عیسائیوں کے عقیدے کا خلاصہ، لیکن کوئی مسلمان بھی اس میں شک نہیں رکھتا کہ یہ عقیدہ باطل ہے اس کی وجوہات یہ ہیں۔
۱۔ حضرت مسیحؑ دیگر انبیا کی طرح ایک پیغمبر تھے نہ وہ خدا تھے نہ خدا کے بیٹے۔ خدا یکتا و یگانہ ہے اس کا کوئی شبیہ و نظیر مثل و مانند اور بیوی بیٹا نہیں ہے۔
۲۔ گناہوں کا فدیہ بننا بالکل غیر منطقی بات ہے ہر شخص اپنے اعمال کا جوابدہ اور راہ نجات خود انسان کا اپنا ایمان اور عمل صالح ہے۔
۳۔ گناہ گار کے فدیہ کا عقیدہ فساد تباہی اور آلودگی کی ترغیب و تشویق کرتا ہے یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن خصوصیت سے مسیحؑ کے مصلوب نہ ہونے کا ذکر کرتا ہے حالانکہ ظاہراً ایک معمولی سی بات نظر آتی ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ فدیے اور امت کے گناہ خریدنے کے بےہودہ اور فضول عقیدے کی سختی سے سرکوبی کی جائے اور عیسائیو ں کو اس خرافاتی عقیدے سے نکالا جائے تاکہ وہ نجات کے لیے اپنے اعمال کو درست کریں نہ کہ عقیدئہ صلیب کا سہارا لیں۔
۴۔ بہت سے قرآئن ایسے موجود ہیں جو حضرت عیسیٰؑ کو صلیب دئیے جانے کے عقیدے کی کمزوری پر دلالت کرتے ہیں، مثلاً:۔
ا۔ ہم جانتے ہیں کہ موجودہ چاروں انجیل جو حضرت عیسیٰؑ کے مصلوب ہونے کا ذکر کرتی ہیں سب کی سب حضرت عیسیٰؑ کے بعد ان کے شاگردوں یا شاگردوں کے شاگردوں کے ذریعے لکھی گئی ہیں اور اس بات کا مسیحی مورخ بھی اعتراف کرتے ہیں۔
نیز ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جناب مسیح کے شاگرد دشمنوں کے حملے کے وقت بھاگ گئے تھے اور اناجیل بھی اس بات کی گواہ ہیں (تشریحی نوٹ: اس وقت تمام شاگرد انہن چھوڑ کر بھاگ گئے تھے" (انجیل متی باب٢۶ جملہ ۸۷) لہٰذا انھوں نے مسیحؑ کے مصلوب ہونے کے بارے میں عوام میں گردش کرتی ہوئی افواہ یا شہرت سنی اور وہیں سے یہ بات حاصل کی اور جیسا کہ بعد میں بیان کیا جائے گا کہ حالات ایسے پیش آئے کہ مسیح کی جگہ دوسرا شخص اشتباہ میں پکڑ لیا گیا۔
ب۔ دوسرا عامل جو یہ امکان ظاہر کرتا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی بجائے اشتباہ میں دوسرا شخص پکڑا گیا ہو یہ ہے کہ شہر کے باہر جستیمانی باغ میں جو لوگ جناب عیسیٰؑ کو گرفتار کرنے کے لیے گئے وہ رومی لشکر کا ایک دستہ تھا یہ لوگ چھاؤنی میں اپنی فوجی ذمہ دایوں میں مشغول تھے یہ لوگ نہ یہودیوں کو پہچانتے تھے نہ وہاں کی زبان اور آداب و رسوم جانتے تھے اور نہ ہی یہ لوگ حضرت عیسیٰؑ کو ان کے شاگردوں میں سے پہچان سکتے تھے۔
ج۔ اناجیل کے مطابق حملہ رات کے وقت حضرت عیسیٰؑ کی رہائش گاہ پر ہوا اس صورت میں تو اور بھی آسان ہے کہ تاریکی میں اصل انسان نکل جائے اور کوئی دوسرا اس کی بجائے گرفتار ہو جائے۔
د۔ تمام انجیلوں کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ گرفتار شدہ شخص نے دی حاکم پیلاطس کے سامنے خاموشی اختیار کی اور اس کی گفتگو کے جواب میں اپنے دفاع کے لیے بہت کم ہی کچھ کہا۔ یہ بات بہت بعید ہے کہ حضرت عیسیٰؑ اپنے آپ کو خطرے میں دیکھیں اور اپنے بیانِ رسا، قوت گویائی اور شجاعت و شہامت کے باوجود اپنا دفاع نہ کریں۔
تو کیا اس سے یہ احتمال پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی شخص ان کی جگہ پکڑا گیا ہو اور وحشت و اضطراب کا ایسا شکار ہوا ہو کہ اپنے دفاع میں کچھ کہہ بھی نہ سکا ہو۔ قوی احتمال یہ ہے کہ وہ اسخر یوطی یہودی اس واقعے کے بعد دیکھا نہیں گیا اور اناجیل ہی کے مطابق اس نے خودکشی کر لی تھی (بحوالہ: انجیل متی باب ۲۷جملہ ۶)۔
ر۔ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ حضرت مسیحؑ کے شاگرد انا جیل کی شہادت کے مطابق خطرہ محسوس کرتے ہی بھاگ کھڑے ہوئے۔ ظاہر ہے کہ دوسرے دوست احباب بھی اس دن چھپ گئے ہوں گے اور دور سے حالات پر نظر رکھے ہوں گے۔ لہٰذا گرفتار شدہ شخص رومی فوجیوں کے محاصرے میں تھا اور اس کے دوستوں میں سے کوئی اس کے گرد موجود نہیں تھا۔ اس لیے کون سے تعجب کی بات ہے کہ اشتباہ ہو گیا ہو۔
س۔ اناجیل میں ہے کہ جس شخص کو تختہ دار پر لٹکانے کا حکم دیا گیا اس نے تختہ دار پر خدا سے شکایت کی۔ تو نے مجھے کیوں تنہا چھوڑ دیا اور کیوں مجھے قتل ہونے کے لیے دشمن کے ہاتھ میں دے دیا (تشریحی نوٹ: عیسیٰؑ نے بلند آواز سے پکار کر کہا- ایلی؛ ایلی؛ لما سبقتنی
یعنی -- الہی؛ الہی؛ تو نے کیوں مجھے چھوڑ دیا (متی باب ۲۷، جملہ ۴۶۔ ۴۷))
لہٰذا اگر حضرت مسیحؐ دنیا میں اس لیے آئے تھے کہ وہ سولی پر لٹکائے جائیں اور نوعِ انسانی کے گناہوں کا فدیہ ہو جائیں تو پھر ایسی ناروا باتیں انھیں نہیں کرانا چاہیے تھیں۔ یہ جملہ واضح طور پر نشاندہی کرتا ہے کہ وہ شخص نہایت کمزور، ڈرپوک اور عاجز و ناتواں تھا اسی لیے ایسی باتیں کرہا تھا اور نہ مسیح ہوتے ایسی باتیں ہرگز نہ کرتے۔ (نوٹ: مندرجہ بالا چند قرآئن کے لیے کتاب "قہرمان صلیب" سے استفادہ کیا گیا ہے)۔
س۔ مسیحوں کے نزدیک قابلِ قبول چار انجیلوں کے علاوہ موجودہ بعض اناجیل مثلاً انجیل بر نا با میں واضح طور پر حضرت عیسیٰؑ کے مصلوب ہونے کی نفی کی گئی ہے (بحوالہ تفسیر المنار ج ۶ صفحہ ۳۴)۔ یہاں تک کہ بعض محققین کا یہ نظریہ ہے کہ عیسیٰ نام کے دو شخص تھے ایک عیسیٰ کو سولی دی گئی تھی اور دوسرے کو نہیں دی گئی تھی اور دونوں میں پانچ سو سال کا فاصلہ تھا۔ (بحوالہ المیزان ج ۳صفحہ ۲۴۵)۔
جو کچھ بیان کیا گیا ہے، یہ قرائن مجوعی طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کے قتل اور صلیب دیئے جانے کے بارے میں قرآن کے دعویٰ اشتباہ کو واضح کرتے ہیں۔
کوئی اہل کتاب ایسا نہیں جوا س کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لے آئے گا اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہو گا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
مندرجہ بالا آیت کی تفسیر کے بارے میں دو احتمال ہیں۔ ان میں سے ہر ایک قابلِ ملاحظہ ہے:۔
۱۔ آیت کہتی: کوئی اہل کتاب نہیں مگر یہ کہ وہ مسیح پر "اپنی موت" سے ایمان لے آئے گا (وَإِنْ مِنْ اَہْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہِ)۔
اور یہ وقت وہ ہو گا جب انسان موت کے دہانے پر کھڑا ہوتا ہے۔ اس وقت اس کا رابطہ اس جہان سے کمزور پڑ جاتا ہے اور بعد والے جہان سے قوی ہو جاتا ہے، پردے اس کی آنکھوں کے سامنے سے اٹھ جاتے ہیں، بہت سے حقائق اسے نظر آنے لگتے ہیں اور وہ ان کے بارے میں آگاہی حاصل کر لیتا ہے۔ اس موقع پر اس کی حقیقت میں آنکھیں مقامِ مسیح کو دیکھتی ہیں اس کے سامنے سر تسلیم خم کر لیتی ہیں۔ جو اس کے منکر تھے اب مومن ہو جاتے ہیں اور اسے خدا سمجھتے تھے اب اپنے اشتباہ کو جان لیتے ہیں۔
یہ ایما ن فرعون اور دیگر ایسے لوگوں کا سا ایمان ہے جو عذاب میں گرفتار ہو جاتے ہیں اور اپنی بربادی کا سامان اپنی آنکھوں سے د یکھ لیتے ہیں۔ پھر اظہار ایمان کرتے ہیں ایسا ایمان انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتا لہذا کس قدر اچھا ہے کہ بجائے اس کے کہ وہ ایسے حساس لمحے پر ایمان انھیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتا ابھی ایمان لے آئیں اور مومن بن جائیں جب ایمان ان کے لیے فائدہ مند بھی ہے۔
اس تفسیر کے مطابق "قبل موتہ" کی ضمیر اہلِ کتاب کے بارے میں ہے۔
۲۔ دوسری تفسیر کے مطابق تمام اہل کتاب حضرت مسیح پر "ان کی موت" سے پہلے ایمان لے آئیں گے۔ یہودی ان کی نبوت قبول کر لیں گے اور عیسائی ان کی الوہیت کے عقیدے سے دست کش ہو جائیں گے یہ اس وقت ہو گا جب اسلامی روایات کے مطابق حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے موقع پر حضرت عیسیٰؑ آسمان سے اتریں گے اور ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے یہود و نصاریٰ بھی انھیں دیکھیں گے اور ان پر اور حضرت مہدی علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے۔
واضح رہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا دین گذشتہ زمانے سے تعلق رکھتا ہے اور اب ان کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ دینِ اسلام کی پیروی کریں جس کے جاری اور نافذ کرنے والے حضرت مہدی علیہ اسلام ہوں گے۔
اس تفسیر کے مطابق "قبل موتہ" کی ضمیر کا تعلق حضرت مسیح علیہ السلام سے ہے نہ کہ اہل کتاب سے بہت سی اسلامی کتب میں یہ حدیث پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے منقول ہے کہ آپؐ نے فرمایا:
کیف انتم اذا نزل فیکم ابن مریم وامامکم منکم۔
اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب فرزندِ مریمؑ تم میں نازل ہو گا اور تمہارا امام و پیشوا خود تم میں سے ہو گا۔ (بحوالہ تفسیر المیزان کے مطابق یہ حدیث مسند احمد، صحیح بخاری، صحیح مسلم اور سنن بہقی میں موجود ہے)۔
علی بن ابراہیم کی تفسیر میں شہربن حو شب سے منقول ہے:۔
ایک دن حجاج نے کہا: قرآن میں ایک آیت ہے جس نے مجھے تھکا دیا ہے اور میں اس کے معنی میں ڈوبا رہتا ہوں۔
شہر نے کہا: کون سی آیت ہے، اے امیر!؟
حجاج نے کہا: وان من اھل الکتاب--کیونکہ میں یہودیوں اور عیسائیوں کو قتل کرتا ہوں لیکن ایسے ایمان کی کوئی نشانی ان میں نہیں دیکھتا۔
شہر نے کہا: "تم آیت کی یہ تفسیر صحیح نہیں کرتے ہو"
حجاج بولا: کیسے؟ آیت کی صحیح تفسیر کیا ہے؟
شہر نے جواب دیا: مراد یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس دنیا کے ختم ہونے سے پہلے اتریں گے اور کوئی یہودی یا غیر یہودی ایسا باقی نہیں رہے گا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لے آئے عیسیٰ علیہ السلام، حضرت مہدیؑ کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔
حجاج نے یہ بات سنی تو کہنے لگا: "وائے ہو تم پر، یہ تفسیر کہاں سے لائے ہو؟"
شہر نے کہا: محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب علیہم السلام سے میں نے یہ تفسیر سنی ہے۔
حجاج کہنے لگا:۔ واللہ جئت بھا من عین صافیہ (یعنی ۔۔۔ بخدا صاف و شفاف سرچشمہ سے لایا ہے)۔ (بحوالہ تفسیر برہان جلد ۱ صفحہ ۴۲۶)۔
آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: قیامت کے دن حضرت مسیح علیہ السلام ان پر گواہ ہوں گے (وَیَوْمَ الْقِیَامَةِ یَکُونُ عَلَیْہِمْ شَہِیدًا)۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی ان کے خلاف گواہی سے مراد یہ ہے کہ وہ گواہی دیں گے کہ میں نے تبلیغ رسالت کی اور انھیں کبھی اپنی الوہیت کی دعوت نہیں دی بلکہ پروردگار کی ربوبیت کی دعوت دی۔
ایک سوال اور اس کا جواب
یہاں پر سوال سامنے آتا ہے کہ سورةِ مائدہ کی آیت ۱۱۷ کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام قیامت کے دن اپنی گواہی اپنی اس زندگی کے دوران کے بارے میں دیں گے جب وہ اپنی امت میں موجود تھے لیکن اس کے بعد کی ذمہ داری قبول نہیں کریں گے (بحوالہ تفسیر برہان جلد ۱ صفحہ ۴۲۶)، جیسا کہ ارشاد الہی ہے:۔
وکنت علیھم شھیدا ما دمت فیھم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم وانت علی کل شئی شھید۔
یعنی۔۔۔۔۔۔ (حضرت عیسیٰ کہیں گے) جب تک میں ان کے درمیان تھا تو ان پر شاہد اور ناظر تھا لیکن جب تو نے ان میں سے مجھے اٹھا لیا تو تو ان پر نگران ہے اور تو ہر چیز پر شاہد گواہ ہے۔
لیکن زیربحث آیت میں ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام قیامت کے دن ان سب کے بارے میں گواہی دیں گے چاہے وہ ان کے زمانے میں تھے یا نہیں تھے۔
دونوں آیات پر غور و خوض کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ زیر بحث آیت حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف سے تبلیغ رسالت اور الوہیت کی نفی کے بارے میں گواہی سے متعلق ہے جبکہ سورہِ مائدہ کی آیت ۱۱۷ اُن کے عمل کے بارے میں گواہی سے مربوط ہے۔
اس کی وضاحت یہ ہے کہ زیر بحث آیت کہتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان تمام لوگوں کے خلاف گواہی دیں گے جنھوں نے ان کی الوہیت کا عیقدہ رکھا، چاہے وہ آپؑ کے زمانے میں تھے یا اس کے بعد اور کہیں گے کہ میں نے ہرگز ایسی کسی چیز کی دعوت نہیں دی تھی۔ لیکن سورہ مائدہ کی آیت ۱۱۷ کہتی ہے کہ وہ کہیں گے کہ میں نے انھیں صحیح اور کافی ووافی تبلیغِ رسالت کی جب تک میں ان کے درمیان موجود تھا تو عملاً ان کے انحراف کو روکتا رہا لیکن میرے بعد یہ ہوا کہ وہ میری الوہیت کے قائل ہو گئے اور انھوں نے انحراف کا راستہ اختیار کیا ان دونوں میں ان کے درمیان نہ تھا کہ ان کے اعمال کا گواہ بنوں اور یہ کہ انھیں اس روکتا۔
اور (اسی طرح) ان کی سودخوری (بھی) جبکہ انہیں اس سے منع کر دیا گیا تھا اور باطل طریقے سے لوگوں کا مال کھانے کی وجہ سے اور ان میں سے کافروں کے لئے ہم نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
لیکن ان میں وہ لوگ جو علم میں راسخ ہیں اور وہ جو ایمان لائے ہیں ان تمام چیزوں پر جو تم پر نازل ہوئی ہیں اور ان پر جو تم سے پہلے نازل ہو چکی ہیں ایمان لا چکے ہیں اور وہ جو نماز قائم کرتے اور زکوۃ ادا کرتے ہیں اور وہ جو خدا اور روز قیامت پر ایمان لائے ہیں ہم جلد ہی ان سب کو اجر عظیم دیں گے۔
تفسیر
یہودیوں میں سے صالح اور غیر صالح افراد کا انجام
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ آیت میں یہودیوں کی قانون شکنی کے چند نمونوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ مندرجہ بالا آیات میں ان کے کچھ اور ناشائتہ اعمال کا ذکر کرنے کے بعد ان سزاؤں کا تذکرہ ہے جو ان کے اعمال کی وجہ سے دنیا اور آخرت میں ان کے دامن گیر ہوئیں اور ہوں گی۔
پہلے ارشاد فرمایا: اس ظلم و ستم کی وجہ سے جو یہودیوں نے کیا اور لوگوں کو راہِ خدا سے باز رکھنے کی وجہ سے کچھ پاک و پاکیزہ چیزیں ہم نے ان پر حرام کر دیں اور انھیں ان سے استفادہ سے محروم کر دیا (فَبِظُلْمٍ مِنْ الَّذِینَ ہَادُوا حَرَّمْنَا عَلَیْہِمْ طَیِّبَاتٍ اُحِلَّتْ لَہُمْ وَبِصَدِّہِمْ عَنْ سَبِیلِ اللهِ کَثِیرًا)
نیز اس بنا پر کہ وہ سود کھاتے تھے حالانکہ انھیں اس سے منع کیا گیا تھا اور اسی طرح لوگوں کا مال ناحق کھاتے تھے ان کے یہی کام ان کی اس محرومیت کا سبب بنے (واخذھم الربوا و قد نھوا عنہ واکلھم اموال الناس بالباطل)۔
اس دنیاوی سزا کے علاوہ ہم انھیں اخروی سزاؤں میں مبتلا کریں گے اور ان میں سے جو کافر ہیں ان کے لیے دردناک عذاب تیار ہے (وَاَعْتَدْنَا لِلْکَافِرِینَ مِنْہُمْ عَذَابًا اَلِیمًا)۔
چند اہم نکات
۱۔ یہودیوں کے لیے طیّبات کی حرمت: طیبات کی حرمت سے مراد وہی ہے جس کی طرف سورہ انعام آیة ۱۴۶ میں اشارہ ہوا ہے، جہاں فرمایا گیا ہے:
ہم نے یہودیو ں کے ظلم و ستم کی وجہ سے ہر جانور جس کا سم پھٹا ہوا نہ ہو ان پر حرام قرار دے دیا۔ نیز گائے اور بھیڑ بکری کی چربی بھی کہ جس سے انھیں لگاؤ تھا ان پر حرام کر دی مگر اس کا وہ حصّہ جو جانور کی پشت یا آنتوں کے اطراف میں ہو یا ہڈی کے ساتھ ملا ہوا ہو۔
لہٰذا مذکورہ حرمت تحریم تشریعی و قانونی تھی، تحریم تکوینی نہ تھی۔ یعنی یہ نعمتیں طبعی اور فطری طور پر تو ان کے پاس تھیں، لیکن شرعاً انھیں ان کے کھانے سے روک دیا گیا تھا۔
موجودہ تورات کے سفر لادیان کی گیارہویں فصل میں ان میں سے کچھ چیزوں کی حرمت کا ذکر موجود ہے لیکن یہ بات اس میں نہیں کہ حرمت سزا کے طور پر تھی۔ (بحوالہ تفسیر نمونہ جلد سوم کی طرف رجوع کیجیے (دیکھیے۲۹ اردو ترجمہ))
۲۔ کیا یہ حرمت عمومی تھی؟ یہ حرمت ظالم لوگوں کے لیے ہی تھی سب کے لیے۔۔۔۔۔ اس سلسلے میں مندرجہ بالا آیت اور سورہ انعام کی آیت ۱۴۶ کے ظاہری مفہوم ظالموں کے لیے تو یہ حرمت سزا کے طور پر تھی جبکہ نیک لوگ جو کم تعداد میں تھے ان کے لیے آزمائش اور انضباط کے پہلوسے تھی۔
بعض مفسیرین کا خیال ہے کہ یہ تحریم فقط ستمگروں کے لیے تھی اور بعض روایات میں بھی اس طرف اشارہ کیا گیا ہے تفسیر برہان میں سورہِ انعام کی آیت۱۴۶ کے ذیل میں امام صادقؑ سے منقول ہے، آپؑ نے فرمایا:
بنی اسرائیل کے حکام اور رؤسا فقیر اور نادار لوگوں کو پرندوں کے گوشت اور جانور کی چربی کھانے سے روکتے تھے۔ خدا نے ان کے اس ظلم و ستم کی وجہ سے ان چیزوں کو خود ان پر حرام قرار دے دیا۔ (بحوالہ تفسیر برہان ج۱ ص۵۵۹)۔
۳۔ سود کی حرمت قبل از اسلام سے ہے: اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سود کی حرمت اسلام ہی سے مخصوص نہیں ہے۔ بلکہ یہ گذشتہ قوموں میں بھی حرام تھا اگرچہ موجودہ تحریف شدہ تورات میں اس کی حرمت برادان دینی میں حرام شمار کی گئی ہے۔ (بحوالہ تورات، سفر تثنیہ فصل۲۳ جملہ۲۰۰۱۹ برادارانِ دینی سے ظاہراً اولاد حضرت اسماعیل مراد ہے (مترجم))
یہودیوں میں سے اہل ایمان
زیر نظر آیات میں سے آخری آیت میں ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ ہوا ہے جس کا قرآن نے بارہا اظہار کیا ہے اور وہ یہ کہ قرآن اگر یہودیوں کی مذمت کرتا ہے تو نسلی اور گروہی جھگڑے کے حوالے سے نہیں ہے۔ اسلام کسی قوم و قبیلے کی مذمت قوم اور قبیلے کی وجہ سے نہیں کرتا بلکہ اس مذمت کا ہدف صرف آلودہ گناہ اور منحرف لوگ ہوتے ہیں اسی لیے اس آیت میں یہودیوں میں سے صاحبِ ایمان اور پاک دامن افراد کو مستثنی قرار دیا گیا ہے اور ان کی تعریف کی گئی ہے اور انھیں اجر عظیم کی بشارت دی گئی ہے قرآن کہتا ہے لیکن یہودیوں میں سے وہ لگ جو علم و دانش میں راسخ ہیں خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ تم پر نازل ہوا ہے اور جو کچھ تم سے پہلے نازل کیا گیا ہے اس پر ایمان لے ائیں ہیں ہم بہت جلد انھیں اجر عظیم سے نوازیں گے (لَکِنْ الرَّاسِخُونَ فِی الْعِلْمِ مِنْہُمْ وَالْمُؤْمِنُونَ یُؤْمِنُونَ بِمَا اُنزِلَ إِلَیْکَ وَمَا اُنزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَالْمُقِیمِینَ الصَّلاَةَ وَالْمُؤْتُونَ الزَّکَاةَ وَالْمُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ اُوْلَئِکَ سَنُؤْتِیہِمْ اَجْرًا عَظِیمًا)۔ (نوٹ: "راسخون فی علم" کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد دوم ص۲۵۵ (اردو ترجمہ) میں تفصیلی وضاحت کی جا چکی ہے)۔
یہی وجہ ہے کہ یہودیوں کے بڑے لوگوں میں ایک جماعت اسلام کے ظہور اور اس کی حقانیت کو دیکھتے ہوئے دائرہ اسلام میں داخل ہو گئی اور دل و جان سے اس کی حمایت کی یہ لوگ پیغمبر اسلامؐ اور باقی مسلمانوں کے لیے قابل احترام قرار پائے۔
ہم نے تم پر وحی کی جس طرح کہ نوح اور اس کے بعد والے انبیاء پر وحی کی تھی نیز ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، (بنی اسرائیل میں سے) اسباط ،عیسیٰ، ایوب، یونس، ہارون اور سلیمان پر وحی کی اور (جیسے) داؤد کو ہم نے زبور دی۔
وہ پیغمبر کہ جو خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے تھے تاکہ لوگوں کے لئے ان پیغمبروں کے بعد خدا پر کوئی حجت باقی نہ رہے (اور سب پر اتمام حجت ہو جائے) اور خدا تو انا و حکیم ہے۔
لیکن خدا گواہی دیتا ہے کہ جو کچھ تجھ پر نازل ہوا ہے وہ اس نے اپنے علم کی رو سے نازل کیا ہے اور فرشتے (بھی) گواہی دیتے ہیں اگرچہ خدا کی گواہی کافی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ یہودی انبیاء میں فرق کرتے تھے بعض کی تصدیق کرتے تھے اور بعض کی تردید کرتے تھے۔ زیر نظر آیات میں دوبارہ انھیں جواب دیا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے: ہم نے تجھ پر وحی نازل کی جس طرح نوح اور اس کے بعد والے انبیاء پر وحی بھیجی اور جیسے ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، وہ پیغمبر جو اولاد یعقوبؑ میں سے تھے، عیسی، ایوب، یونس، ہارون اور سلیمان پر وحی نازل کی تھی اور داؤد کو زبور دی تھی (إِنَّا اَوْحَیْنَا إِلَیْکَ کَمَا اَوْحَیْنَا إِلَی نُوحٍ وَالنَّبِیِّینَ مِنْ بَعْدِہِ وَاَوْحَیْنَا إِلَی إِبْرَاہِیمَ وَإِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ وَالْاَسْبَاطِ وَعِیسَی وَاَیُّوبَ وَیُونُسَ وَہَارُونَ وَسُلَیْمَانَ وَآتَیْنَا دَاوُودَ زَبُورًا) لہٰذا ان بزرگ انبیاء میں کیوں تفریق کرتے ہو جب کہ سب کے سب ایک ہی راستے کے مسافر ہیں۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اس آیت کے مخاطب عرب کے مشرکین اور بت پرست ہوں جو پیغمبر اسلامؐ پر نزولِ وحی پر تعجب کرتے تھے، آیت کہتی ہے کہ اس میں کون سی تعجب کی بات ہے، کیا پہلے پیغمبروں پر وحی نازل نہیں ہوئی۔
اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: وہ انبیاء جن پر وحی نازل ہوئی وہ یہی نہیں تھے بلکہ دوسرے پیغمبر کہ جن کا ذکر تم سے پہلے کیا جا چکا ہے اور وہ پیغمبر کہ جن کا قصہ ابھی تک بیان نہیں ہوا۔ سب کی یہی ماموریت تھی اور ان پر بھی وحی نازل ہوتی رہی (ورسلا قد قصصنا ھم علیک من قبل و رسلا لم نقصصھم علیک)۔ اور اس سے بالاتر یہ کہ خدا نے موسیٰ سے کلام کیا (وکلمّ اللہ موسیٰ تکلیماً)۔
لہٰذا رشتہ وحی تو ہمیشہ سے نوعِ بشر میں تھا اور کیسے ممکن ہے کہ ہم نوعِ انسانی کو بغیر راہبر و راہنما کے چھوڑ دیں، اور پھر ان کے لیے جوابدہی اور ذمہ داری کے قائل ہوں؟ لہٰذا ہم نے "ان پیغمبروں کو بشارت دینے والا اور ڈرانے والا قرار دیا تاکہ خدا کی رحمت اور ثواب کا لوگوں کو امیدوار بنائیں اور اس کی سزاؤں سے ڈرائیں تاکہ اس طرح ان پر اتمام حجت ہو جائے اور ان کے پاس کوئی بہانہ نہ رہے" (رُسُلًا مُبَشِّرِینَ وَمُنذِرِینَ لِاَلاَّ یَکُونَ لِلنَّاسِ عَلَی اللهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ)
خدا نے ان رہبروں کو بھیجنے کا پروگرام نہایت باریک بینی سے منظم اور جاری کیا ہے ایسا کیوں نہ ہو جبکہ "وہ تمام چیزوں پر توانائی رکھتا ہے اور حکیم (بھی ) ہے " (وکان اللہ عزیزاً حکیما) اس کی حکمت سبب بنتی ہے کہ یہ کام عملی صورت اختیار کرے اور اس کی قدرت راہ ہموار کرتی ہے کیونکہ ایک صحیح پروگرام اگر انجام پذیر نہ ہو تو اس کی وجہ یا عدم حکمت ہو گی یا عدم قدرت۔۔۔۔ حالانکہ ان میں سے کوئی بھی نقص خدا کی ذات پاک میں نہیں ہے۔
آیت کے آخر میں پیغمبر اکرمؐ کی دلجوئی اور تسلی کے لیے کہتا ہے (لکن اللہ بشھد بما انزل الیک) البتہ اس مقصد کے لیے تمہارا انتخاب بلاوجہ نہیں تھا بلکہ تمہاری اصلیت کو جانتے ہوئے اس نے یہ آیات تم پر نازل کی ہیں (انزلہ بعلمہ)۔
ممکن ہے یہ جملہ ایک اور مفہوم کا بھی حامل ہوا ور وہ یہ کہ جو کچھ تم پر نازل ہوا ہے اس کا سرچشمہ علم الہی کا دریائے بےکنار ہے اور اس کے مضامین شاہد ہیں کہ ان کا سرچشمہ علم الہی ہے اس لیے تمھارے دعویٰ کی صداقت کی گواہی خود متنِ آیات میں ثبت ہے اور کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں ہے کیسے ممکن ہے جس شخص نے کسی کے سامنے زانوئے تلمذ طے نہیں کیا وہ علم الہٰی کے بغیر ایک ایسی کتاب لے کر آئے جو اعلیٰ ترین تعلیمات، فلسفوف، قوانین، اخلاقی احکام اور اجتماعی پروگرام پر مشتمل ہو۔
آخر میں مزید فرماتا ہے: نہ صرف خدا تمھاری حقانیت کی گواہی دیتا ہے بلکہ فرشتگان الہی بھی گواہی دیتے ہیں، اگرچہ خدا کی گواہی کافی ہے (والملٰئکة یشھدون وکفٰی باللہ شھیداً)
چند اہم نکات
۱۔ اسلام تمام ادیان کی خوبیوں کا امتزاج ہے: بعض مفسّرین "انا اوحینا الیک کما اوحینا –الخ" کے جملے سے استفادہ کرتے ہیں کہ قرآن چاہتا ہے کہ پیغمبر سے یہ نکتہ کہے کہ تمھارے دین میں تمام خصوصیات اور امتیازات جمع ہیں جو گذشتہ ادیان میں تھے۔۔۔۔۔۔۔ گویا
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
یعنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو خوبیاں ان سب میں الگ الگ ہیں وہ تجھ اکیلے میں ہیں۔
بعض روایات اہل بیتؑ میں بھی اس طرف اشارہ کیا گیا ہے اور مفسیرین نے بھی دراصل انھیں روایات سے یہ نکتہ اخذ کیا ہے۔ (بحوالہ تفسیر صافی ص ۱۳۹، تفسیر برہان ج ۱ ص، ۴۲ اور تفسیر نورالثقیلن ج ۱ص۵۷۳ کی طرف رجوع فرمائیں)۔
٢۔ آسمانی کتب کی اقسام: مندرجہ بالا آیت میں ہے کہ زبور آسمانی کتب میں ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤدؑ کو دی تھی۔ یہ بات اس امر کے منافی نہیں جو مسلم اور مشہور ہے کہ نئی شریعت کے حامل اور صاحب کتاب الوالعزم پیغمبر پانچ سے زیادہ نہیں ہیں۔ کیونکہ جیسا کہ آیات قرآنی اور روایاتِ اسلام سے معلوم ہوتا ہے۔ پیغمبر انِ الہی پر نازل ہونے والی آسمانی کتب دو طرح کی ہیں۔
پہلی قسم۔ ان کتب کی ہے جن میں احکامِ تشریعی تھے اور جو نئی شریعت کا اعلان کرتی تھیں اور وہ پانچ سے زیادہ نہیں ہیں جو کہ پانچ اولوالعزم پیغمبروں پر نازل ہوئیں۔
دوسری قسم ۔ان کتب کی ہے جن میں کوئی نئے احکام نہیں ہوتے تھے بلکہ ان میں پندو نصائح، رہنمائی، و صّیتیں اور دعائیں ہوتی تھیں۔ زبور بھی اسی طرح کی کتاب ہے۔ "مزا میر داؤد" یا "زبور داؤد" جو کہ عہد قدیم کی کتب میں شمار ہوتی ہے اس حقیقت پر شاہد ہے اگرچہ یہ کتاب بھی عہد قدیم و جدید کی دیگر کتب کی طرح تحریف و تغّیر سے محفوظ نہیں رہی لیکن پھر بھی کہا جا سکتا ہے کہ کسی حد تک وہ اپنی شکل و صورت میں باقی ہے یہ کتاب ایک سو پچاس فصلوں پر مشتمل ہے جن میں ہر ایک کو مزمور کہتے ہیں اس کی تمام فصلیں پند و نصائح اور دعا و مناجات پر مشتمل ہیں۔
حضرت ابوذر سے ایک روایت میں منقول ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے پوچھا کہ انبیاء کی تعداد کتنی ہے؟ تو آپؑ نے فرمایا:
ایک لاکھ چوبیس ہزار۔
میں نے عرض کیا: ان میں سے رسول کتنے تھے؟
آپؐ نے فرمایا: تین سو تیرہ، اور باقی صرف نبی تھے۔
ابوذر کہتے ہیں میں نے پوچھا: آسمانی کتابیں جو ان پر نازل ہوئیں وہ کتنی تھیں؟
آپؐ نے فرمایا: وہ ایک سو چار کتابیں ہیں جن میں سے دس کتابیں آدم پر، پچاس کتابیں شیث پر، تیس کتابیں ادریس پر اور دس کتابیں ابرا ہیم پر (جو کل ۱۰۰سو ہوئیں) اور تورات، انجیل، زبور اور قرآن مجید۔ (بحوالہ مجمع البیان ج ۱۰ صفحہ ۴۷۶)
۳۔ اسباط سے کیا مرا د ہے: اسباط جمع ہے سبط (بروزن سَبَد) کی جس کا مطلب ہے، بنی اسرائیل کے قبائل، لیکن یہاں مقصود وہ پیغمبر ہیں جو ان قبائل میں مبعوث ہوئے تھے۔ (بحوالہ "اسباط" کے بارے میں تفصیلی وضاحت، تفسیر نمونہ جلد اوّل میں کی جا چکی ہے۔ (دیکھیے اردو ترجمہ۲۴۴)
۴۔ انبیاء پر نزول وحی کی کیفیّت:۔ انبیاء پر نزولِ وحی کی کیفیّت مختلف تھی۔ کبھی نزول وحی کے فرشتے کے ذریعے وحی آتی، کبھی دل میں الہام کے ذریعے سے اور کبھی آواز سنائی دیتی۔ اس طرح کہ خداوند تعالی فضا میں یا اجسام میں صوتی لہریں پیدا کر دیتا اور اس طرح سے اپنے پیغمبر سے گفتگو کرتا، ان میں سے کہ جنھیں واضح طور پر یہ امتیاز حاصل ہوا ایک حضرت موسیٰ بن عمران تھے جو کبھی شجرہ وادیٴِ ایمن سے صوتی لہریں سنتے اور کبھی کوہ طور سے انھیں آواز سنائی دیتی۔ اس لیے حضرت موسیٰ کو کلیم اللہ کا لقب دیا گیا ہے۔ مندرجہ بالا آیات میں حضرت موسیٰ کا جداگانہ تذکرہ شاید ان کے اسی امتیاز کی وجہ سے ہو۔
مگر جہنم کے راستے کی کہ جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ کام خدا کے لئے آسا ن ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ آیات میں بےایمان افراد اور اہل ایمان کے بارے میں متعد مباحث گزر چکے ہیں۔ ان آیات میں ایک اور گروہ کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے بدترین قسم کا کفر انتخاب کر رکھا ہے۔ انھوں نے اپنی گمراہی پر ہی اکتفا کیا بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے اوپر ظلم و ستم روا سمجھتے ہیں اور دوسروں پر بھی کیونکر نہ وہ خود راہِ ہدایت پر چلتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دوسرے بھی راہِ ہدایت پر نہ چلیں۔
لہذا پہلی آیت میں فرمایا گیا: جو لوگ کافر ہو گئے ہیں اور لوگوں کے راہِ خدا میں قدم اٹھانے میں حائل ہوتے ہیں وہ بہت دور کی گمراہی کا شکار ہیں (إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا وَصَدُّوا عَنْ سَبِیلِ اللهِ قَدْ ضَلُّوا ضَلاَلًا بَعِیدًا) یہ لوگ جادئہِ حق سے اس لیے دورترین ہیں، کیونکہ یہ ضلالت و گمراہی کے مبلّغ ہیں اور بہت بعید نظر آتا ہے کہ ایسے لوگ اس راہ سے دست بردار ہو جائیں کہ جس کی طرف وہ خود دعوت دیتے ہیں۔ انھوں نے اپنے کفر کے ساتھ ہٹ دھرمی اور عناد کو بھی ملا لیا ہے اور بےراہ روی کی طرف قدم اٹھایا ہے کہ جو راہِ حق سے بہت دور ہے۔
اگلی آیت میں مزید کہتا ہے: جو لوگ کافر ہو گئے ہیں اور انھوں نے ظلم کیا ہے (انھوں نے حق پر ظلم کیا ہے کہ جو چیز اس کے شایانِ شان تھی اسے انجام نہیں دیا اور اپنے اوپر بھی ظلم کیا ہے کہ خود کو سعادت سے محروم کر دیا ہے اور گمراہی میں جا پڑے ہیں۔ نیز دوسروں پر بھی ظلم کیا ہے انھیں راہِ حق سے روکا ہے) ایسے افراد کو پروردگار کی مغفرت میسّر نہیں آئے گی اور خدا انھیں راہِ جہنم کے علاوہ کسی اور راستے کی راہنمائی نہیں کرے گا ( إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا وَظَلَمُوا لَمْ یَکُنْ اللهُ لِیَغْفِرَ لَہُمْ وَلاَلِیَہْدِیَہُمْ طَرِیقًا إِلاَّ طَرِیقَ جَہَنَّمَ ) اور ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہیں گے (خا لدین فیھا ابداً) انھیں جاننا چاہیے کہ خدا تہدید اور دھمکی عمل پذیر ہو کے رہے گی کیونکہ خدا کے لیے یہ کام آسان ہے اور وہ اس پر قدرت رکھتا ہے (وکان ذلک علی اللہ یسیراً)
جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ مندرجہ بالا آیات ایسے کفار اور ان کی سزا کے بارے میں خاص تاکید کرتی ہیں ایک طرف ان کی گمراہی کو ضلال بعید کہا گیا ہے اور دوسری طرف "لم یکن اللہ" سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں بخش دینا مقامِ خداوندی کے لائق نہیں ہے اور تیسری طرف خلود اور "ابد ا" سے اس پر مزید تاکید کی گئی ہے یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ وہ خود گمراہ ہونے کے علاوہ دوسروں کو گمراہ کرنے میں کوشاں رہتے تھے اور اس پر ان کی جوابدہی بہت عظیم ہو گئی تھی۔
اے لوگو ! (جس) پیغمبر (کے انتظار میں تم تھے وہ) پروردگار کی طر ف سے حق کے (پروگرام کے) ساتھ تمہارے پاس آ گیا ہے اس پر ایمان لے آؤ کہ اس میں تمہارا فائدہ ہے اور اگر کافر ہو جاؤ (تو خدا کا کوئی نقصان نہیں کیونکہ) جو کچھ آسمانوں اورزمین میں ہے وہ خدا کے لئے ہے اور اللہ دانا و حکیم ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ آیات میں غیر مومن افراد کا انجام بیان کیا گیا ہے۔ اب اس آیت میں ایمان کی طرف دعوت دی گئی اور اس کے نتیجے کا ذکر کیا گیا ہے اور مختلف تعبیرات جو انسان میں اشتیاق پیدا کریں اس میں سب موجود ہیں تمام لوگوں کو اس بلند مقصد کی ترغیب دی گئی ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: اے لوگو! وہی پیغمبر کہ جس کے تم منتظر تھے اورجس کے بارے میں گذشتہ آسمانی کتب میں نشاندہی کی جا چکی ہے وہ دین حق لے کر تمھاری طرف آ چکا ہے (یَااَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَائَکُمْ الرَّسُولُ بِالْحَقِّ
(تشریحی نوٹ: ظاہراً "الرسول" کی الف لام عہد کی اور اس پیغمبر کی طرف اشارہ ہے جس کے وہ انتظار میں تھے نہ صرف یہود و نصاریٰ بلکہ مشرکین بھی کیونکہ وہ اہل کتاب سے اس ضمن میں کچھ مطالب سن چکے تھے اور وہ بھی منتظر تھے۔ "بِالْحَقِّ": طرق اہل بیتؑ سے منقول بعض روایات میں حق کی تفسیر "ولایت حضرت علیؑ" سے کی گئی ہے اور جیسا کہ بارہا کہا جا چکا ہے ایسی تفسیر میں واضح مصداق کو بیان کیا جاتا ہے، ورنہ آیت اس معنی میں منحصر نہیں ہوتی)۔
اس کے بعد فرمایا: اگر پیغمبر اس ذات کی طرف سے آیا ہے جس نے تمھاری پرورش و تربیت اپنے ذمہ لے رکھی ہے (من ربکمہ)۔ پھر مزید فرمایا : اگر ایمان لے آؤ تو تمہارے فائدے میں ہے اس سے تم دوسرے کی خدمت نہیں کرو گے بلکہ یہ خود تمھاری اپنی خدمت ہو گی (فا منوا خیراً لکم) اور آخر میں فرمایا: یہ خیال نہ کرو کہ اگر تم نے راہِ کفر اختیار کی تو اس سے خدا کو کوئی نقصان ہو گا، ایسا نہیں ہے کیونکہ خدا ان تمام چیزوں کا مالک ہے جو آسمانوں اور زمینوں میں ہیں ( وَإِنْ تَکْفُرُوا فَإِنَّ لِلَّہِ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ) علاوہ ازیں چونکہ خدا عالم اور حکیم ہے اس نے جو احکام تمھیں دیئے ہیں، اور جو پروگرام ترتیب دیئے ہیں سب میں حکمت اور مصلحتیں پوشدہ ہیں اور تمھارے فائدے میں ہیں (وکان اللہ علیماً حکیماً) لہٰذا اگر اس نے انبیاء اور پروگرام بھیجے ہیں تو یہ اس لیے نہیں کہ اسے ضرورت تھی بلکہ اس کے علم و حکمت کا تقاضا ہے۔ اس لیے ان تمام پہلوؤں کی طرف توجہ رکھتے ہوئے کیا یہ مناسب ہے کہ تم راہِ ایمان کو چھوڑ کر راہِ کفر پر گامزن ہو جاؤ–
اے اہل کتاب اپنے دین میں غلو (اور زیادہ روی) نہ کرو اور حق کے سوا خدا کے بارے میں کچھ نہ کہو مسیح عیسیٰ بن مریم صرف خدا کے فرستادہ اور اس کا کلمہ (اور مخلوق) ہیں کہ جنہیں اس نے مریم کی طرف القا کیا اور وہ اس کی طرف سے (شائستہ) روح تھے اس لیے خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لے آؤ اور نہ یہ کہو کہ (خدا) تین ہیں۔ اس بات سے رک جاؤ کہ یہ (بات) تمہارے فائدے میں نہیں ہے خدا تنہا معبود یگانہ ہے وہ منزہ ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو (بلکہ) جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اس کا ہے اور ان کی تدبیر و سر پرستی کے لئے خدا کافی ہے۔
تفسیر
خیالی تثلیث
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
اس آیت میں اور اس کے بعد والی آیت میں کفار اور اہل کتاب کے بارے میں جاری مباحث کے حوالے سے مسیحی معاشرے کے اہم ترین انحراف کا ذکر کیا گیا ہے اور وہ ہے تثلیث یا تین خداؤں کا مسئلہ۔ مختصر سے استدلالی جملوں کے ساتھ انھیں اس عظیم انحراف کے انجام بد سے ڈرایا گیا ہے۔
پہلے انھیں خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے کہتا ہے: اپنے دین میں غلو کی راہ نہ چلو اور حق کے علاوہ خدا کے بارے میں کچھ نہ کہو (یا اھل الکتاب لا تغلوا فی دینکم ولا تقولوا علی اللہ الا الحق)۔
آسمانی ادیان سے انحراف میں ایک ہم ترین بات یہ ہے کہ لوگوں نے پیشواؤں اور راہنماؤں کے بارے میں غلو سے کام لیا۔ انسان چو نکہ اپنے آپ سے لگاؤ رکھتا ہے لہذا وہ چاہتا ہے کہ اپنے رہبروں کو بھی ان کے اصل مقام سے بلند تر بنا کر پیش کرے تاکہ اس طرح اس کی اپنی عظمت میں اضافہ ہو۔ بعض اوقات لوگ اس ہولناک بھنور میں اس لیے پھنس جاتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پیشواؤں کے بارے میں غلوان سے عشق اور لگاؤ کی نشانی ہے غلو کا سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ وہ مذہب کی اصلی بنیاد یعنی خدا پرستی اور توحید کو خراب کر دیتا ہے اسی لیے غالیوں کے بارے میں اسلام کا روّیہ نہایت شدید اور سخت ہے اور عقائد و فقہ کی کتب میں غالیوں کو کفار کی بدترین قسم قرار دیا گیا ہے۔
تثلیث اور الوہیّتِ مسیح کا ابطال
اس سلسلے میں چند نکات پیش خدمت ہیں:۔
۱۔ عیسٰیؑ مریم کے بیٹے ہیں: قرآن حکیم میں عیسٰی کا نام ان کی والدہ کے نام کے ساتھ سولہ مرتبہ آیا ہے (انما المسیح عیسی ابن مریمہ) یعنی عیسی صرف مریم کے بیٹے ہیں یہ بات کی نشاندہی ہے کہ مسیح بھی دیگر انسانوں کی طرح رحم مادر میں رہے اور ان پر بھی جنین کا دور گذرا وہ دیگر انسانوں کی طرح پیدا ہوئے، دودھ پیا اور آغوشِ مادر میں پرورش پائی یعنی تمام بشری صفات ان میں موجود تھیں۔ لہذا کیسے ممکن ہے کہ ایسا شخص جو قوانین طبیعت اور عالم مادہ کا متمول و محکوم ہوا وہ خدائے ازلی و ابدی بن جائے۔
خصوصاً لفظ "انما" جو زیر بحث آیت میں آیا ہے وہ اس وہم کا جواب ہے اگر عیسیؑ کا باپ نہیں تو اس کا یہ معنی نہیں کہ وہ خدا کا بیٹا ہے بلکہ وہ صرف مریمؑ کا بیٹا ہے۔
۲۔ عیسیؑ خدا کے رسول ہیں: عیسیؑ خدا کے فرستادہ اور رسول ہیں (رسول اللہ) عیسیؑ کا یہ مقام اور حیثیت بھی ان کی الوہیت سے مناسبت نہیں رکھتا
یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ حضرت عیسیؑ کی مختلف باتیں جن میں سے کچھ اناجیل موجودہ میں بھی ہیں، سب انسانی ہداہت کے لیے ان کی نبوّت و رسالت کی حکایت کرتی ہیں نہ کہ ان کی الوہیّت اور خدائی کی۔
۳۔ عیسیؑ خدا کا کلمہ ہیں: عیسیؑ خدا کا کلمہ ہیں جو مریمؑ کی طرف القاء ہوا (وکلمة القاھا الی مریم) قرآن کی چند آیات میں عیسیؑ کو کلمہ کہا گیا ہے یہ تعبیر مسیحؑ کے مخلوق ہونے کی طرف اشارے کے لیے ہے جیسے ہمارے کلمات، ہماری مخلوق اور ایجاد ہیں، اسی طرح عالم آفرنیش کے موجودات بھی خدا کی مخلوق ہیں۔ نیز جیسے ہمارے کلمات ہمارے اندرونی اسرار کا مظہر ہوتے ہیں اور ہمارے جذبات و صفات کے ترجمان ہوتے ہیں اسی طرح مخلوقاتِ عالم بھی خدا کی صفات جمال و جلال کو واضح کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آیات قرآنی میں متعدد مقامات پر تمام مخلوقات کے لیے لفظ "کلمة" استعمال کیا گیا ہے (مثلاً کہف ۱۰۹ اور لقمان ۲۹) البتہ یہ کلمات آپس میں مختلف ہیں۔ بعض بہت اہم اور بلند ہیں اور بعض نسبتاً معمولی اور کم تر ہیں۔ حضرت عیسیؑ آفرنیش کے لحاظ سے خصوصیت کے ساتھ مقامِ رسالت کے علاوہ یہ امتیاز بھی رکھتے تھے کہ وہ بغیر باپ کے پیدا کئے گیئے۔
۴۔ عیسیؑ روح ہیں: حضرت عیسیؑ روح ہیں، جنھیں خدا نے پیدا کیا ہے (و روح منہ) یہ تعبیر قرآن حکیم میں حضرت آدمؑ کے بارے میں بھی آئی ہے۔ ایک معنی کے لحاظ سے تمام نوعِ انسانی کے بارے میں ہے یہ اس روح کی عظمت کی طرف اشارہ ہے جیسے خدا نے دیگر انسانوں میں عموماً اور حضرت مسیح اور باقی انبیاء میں خصوصیت سے پیدا کیا۔
بعض لوگوں نے حضرت مسیحؑ کے بارے میں اس تعبیر سے غلط فائدہ اٹھانے کوشش کی ہے انھوں نے کہا ہے کہ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ عیسی خدا کا جزو ہیں "منہ" اس کیلیے دلیل ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایسے مواقع پر "من" تبعیض کے لیے نہیں ہوتا بلکہ اصطلاح کے مطابق یہ "من" نشو یہ ہے جو کسی چیز کی پیدائش کا سرچشمہ اور منشاء بیان کرنے کے لیے ہوتا ہے۔
یہ امر لائق توجہ ہے کہ تواریخ میں ہے کہ ہارون رشید کا ایک عیسائی طبیب تھا اس نے ایک روز علی بن حسین واقدی سے مناظرہ کیا، واقدی علماء اسلام میں سے تھا۔
طبیب نے کہا: تمھاری آسمانی کتاب میں ایک آیت ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح خدا کا جزو ہیں پھر اس نے زیر بحث آیت کی تلاوت کی۔
واقدی نے فوراً قرآن کی یہ آیت تلاوت کی:
وسخر لکم ما فی السموات وما فی الارض جمیعاً منہ
یعنی۔۔۔ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب تمھارے لیے مسخر کیا گیا ہے اور یہ سب اس کی طرف سے ہے۔ (جاثیہ: ۱۳ (القرآن))
اور مزید کہا:
اگر "من" جزو بتانے کے لیے ہے تو پھر اس آیت کے مطابق آسمانوں و زمین کے تمام موجودات خدا کا جزو ہیں۔
یہ بات سن کر عیسائی طبیب فوراً مسلمان ہو گیا۔ ہارون رشید اس واقعے سے بہت خوش ہوا اور اس نے واقدی کو انعام دیا۔ (بحوالہ تفسیر المنار جلد ۶ صفحہ ۸۴)
علاوہ ازیں یہ امر تعجب خیز ہے کہ عیسائی حضرت والد کے بغیر حضرت عیسیؑ کی ولادت کو ان کی الوہیت کی دلیل قرار دیتے ہیں حالانکہ وہ بھول جاتے ہیں کہ حضرت آدمؑ ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا ہوئے اس مخصوص خلقت کو کوئی بھی ان کی الوہیت کی دلیل نہیں سمجھتا۔
اس بیان کے بعد قرآن کہتا ہے: اب جبکہ ایسا ہے تو خدائے یگانہ اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لے آؤ اور یہ نہ کہو کہ تین خدا ہیں اور اگر اس بات سے اجتناب کرو تو اس میں تمھارا ہی فائدہ ہے (فامنوا بااللہ ورسلہ ولا تقولوا ثلاثة انتھوا خیراً لکم)۔
دوبارہ تاکید کی گئی ہے کہ خدا ہی معبود یکتا ہے (انما اللہ الہ واحد) یعنی تم اس بات کو مانتے ہو کہ تثلیث کے ہوتے ہوئے بھی خدا اکیلا اور یگانہ ہے۔ حالانکہ اگر اس کا بیٹا ہو تو وہ اس کا شبیہ ہو گا، تو پھر یکتائی کا کوئی معنی نہیں رہے گا۔ کیسے ممکن ہے کہ خدا کا کوئی بیٹا ہو جبکہ وہ بیوی اور بیٹے کی احتیاج کے نقص: اور جسم اور عوارض جسم کے نقص سے مبّرا و منّزہ ہے (سبحانہ ان یکون لہ ولد)
علاوہ ازیں وہ ان تمام چیزوں کا مالک ہے جو آسمان و زمین میں ہیں اس کی مخلوق ہیں اور وہ ان کا خالق ہے اور مسیح بھی ان کی مخلوق میں سے ایک ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ ان کے لیے ایک استشنائی حالت کا قائل ہوا جائے۔ کیا ممکن ہے کہ مملوک و مخلوق اپنے خالق و مالک کا بیٹا بن جائے (لہ مافی السمٰوٰات ومافی لارض) خدا صرف ان کا خالق و مالک ہے بلکہ ان کا مدبر، محافظ، رزّاق اور سرپرست بھی ہے (وکفیٰ بااللہ وکیلا)
اصولی طور پر وہ خدا جو ازلی و ابدی ہے اور ازل تا ابد تمام مخلوقات کی سرپرستی اپنے ذمّہ لیے ہوئے ہے اسے بیٹے کی کیا ضرورت ہے، کیا وہ ہماری طرح ہے کہ اپنی موت کے بعد جانشینی کے لیے بیٹے کی خواہش رکھتا ہو۔
تثلیث۔۔۔۔۔ عیسائیّت کی سب سے بڑی کجروی
عیسائیت جن انحرافات اور کجرویوں کا شکار ہے ان میں سے تثلیث سے بدتر کوئی نہیں۔ وہ تصریح سے کہتے ہیں کہ خدا تین ہیں اور یہ بھی کہ اس کے باوجود وہ ایک اور یکتا ہے یعنی وہ وحدت کو بھی سمجھے ہیں اور تثلیث کو بھی۔ اس بات نے عیسائیت کے محققّین کے لیے ایک بہت بڑی مشکل پیدا کر دی ہے اگر خدا کی یکتائی کو مجازی اور تثلیث کو حقیقی سمجھتے تو بھی ایک بات تھی اور اگر توحید کو حقیقی مان لیتے اور تثلیث کو مجازی، پھر بھی معاملہ آسان تھا لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ دونوں کو حقیقی اور واقعی سمجھتے ہیں۔
اس آخری دور میں عیسائیوں کی طرف سے بےخبر لوگوں کو بعض تبلیغی تصانیف دی گئی جن میں انھوں نے تثلیث مجازی کا ذکر کیا ہے یہ اصل میں ریاکاری ہے جو مسیحیت کے اصلی منابع و کتب اور ان کے علماء کے حقیقی عقائد سے مطابقت نہیں رکھتی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں مسیحی ایک غیر معقول مطلب سے دوچار ہیں۔ کیونکہ ۱۔ ۲ کو ابجد پڑھنے والا بچہ بھی قبول نہیں کر سکتا۔ اسی لیے تو وہ عموماً کہتے رہتے ہیں کہ اس مسئلے کا تعلق میزانِ عقل سے نہیں بلکہ جذئبہ عبادت اور دل سے ہے۔
یہیں سے منطق و عقل سے مذہب کی لاتعلقی کا معاملہ شروع ہوتا اور مسیحیت کو اس خطرناک وادی میں کھنیچ لے جاتا ہے جہاں کہا جاتا ہے کہ مذہب عقلی پہلو نہیں رکھتا بلکہ وہ صرف قلبی و تعبدی پہلو رکھتا ہے یہاں سے علم اور مذہب کی بےگانگی سامنے آتی ہے اور موجودہ مسیحیت کی منطق سے دونوں کا تضاد واضح ہوتا ہے۔ کیونکہ علم کہتا ہے کہ تین کا عدد ہرگز ایک کے عدد کے مساوی نہیں ہے لیکن موجودہ مسیحیت کہتی ہے کہ مساوی ہے۔
تثلیث کے بارے میں چند اہم نکات
۱۔ اناجیل میں عقیدہ تثلیث نہیں ہے: موجودہ کسی انجیل میں بھی مسئلہ تثلیث کی طرف کوئی اشارہ نہیں ہے اسی لیے عیسائی محققین کا نظریہ ہے کہ تثلیث کا سرچشمہ اناجیل میں مخفی اور غیر واضح ہے۔
ایک امریکی مصنف مسڑ باکس کہتا ہے:
لیکن مسئلہ تثلیث عہد عتیق اور عہد جدید میں مخفی اور غیر واضح ہے۔ (بحوالہ قاموس مقدس ص ۳۴۵ طبع بیروت)
جیسا کہ بعض مؤرخین نے لکھا ہے مسئلہ تثلیث تقریباً تیسری صدی کے بعد عیسائیوں میں پیدا ہوا، یہ ایک بدعت ہے جو ایک طرف سے غلو کی بنا پر اور دوسری طرف سے عیسائیوں کے دیگر اقوام سے میل جول کی بنا پر حقیقی مسیحیت میں داخل ہو گئی۔
بعض نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ عیسائیوں کی تثلیث اصولی طور پر ہندؤوں کی سہ گانہ پرستی جیسے "ثالوث ہندی" کہتے ہیں سے لی گئی ہے۔ ( بیسویں صدی کے دائرة المعارف (فرید وجدی) مادہ ثالوث کی طرف رجوع کریں، ہندؤوں کے تین خدا برہما، قیشنو اور سیفا تھے)۔
۲۔ عقیدہِ تثلیث خلاف عقل ہے: تثلیث خصوصاً تثلیث در وحدت (یعنی۔ ایک ہوتے ہوئے تین) ایک ایسا مطلب ہے جو بالکل نامعقول اور ہدایت عقلی کے خلاف ہے اور ہم جانتے ہیں کہ دین کبھی عقل و علم سے جدا نہیں ہو سکتا۔ حقیقی علم حقیقی مذہب سے ہمیشہ ہم آہنگ ہوتا اور یہ دونوں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہوتے ہیں یہ بات کہ مذہب کو عبد ہونے کے ناقے قبول کر لیا جائے بہت ہی غلط ہے کیونکہ اگر کسی مذہب کے اصول قبول کرنے میں عقل کو ایک طرف رکھ دیا جائے اور عبد ہونے کے حوالے سے ہی اسے قبول کر لیا جائے تو پھر اس مذہب اور دیگر مذاہب میں کوئی فرق باقی نہیں رہے گا۔ اس موقع پر پھر کون سی دلیل ہے کہ کہا جائے کہ انسان کو خدا پرست ہونا چاہیے نہ کہ بت پرست اور یونہی پھر کیوں آخر مسیحی اپنے مذہب کی تبلیغ کریں، لیکن دوسرے مذاہب نہ کریں اور وہ کون سی خصوصیات ہیں جو وہ مسیحیت کے لیے سمجھتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں کہ لوگ اس کی طرف آئیں یہ سب سوالات اس بات کی دلیل ہیں کہ مذہب کو منطق کے ذریعے پہچانا جائے اور یہ بات اس دعویٰ کے بالکل خلاف ہے کہ جس کے مطابق وہ مسئلہ تثلیث میں مذہب کو عقل سے جدا کرتے ہیں۔
بہرحال، مذہب کی بنیادوں کو توڑنے کے لیے اس سے بدتر کوئی بات نہیں کہ ہم کہیں کہ مذہب عقلی و منطقی پہلو نہیں رکھتا بلکہ عہد ہونے کے حولے سے اختیار کیا جاتا ہے۔
۳۔ خدا ہر لحاظ سے یکتا ہے: توحید کی بحث میں بہت سی دلیلیں پیش کی گئی ہیں جو ذاتِ خدا کی یکتائی اور یگانگی کو ثابت کرتی ہیں اور ہر طرح کی دوگانگی، سہ گانگی یا تعدد کی نفی کرتی ہیں۔ خدا ایک ہی ہے جو لامتناہی وجود ہے، جوعلم، قدرت اور توانائی کے لحاظ سے ازلی و ابدی اور غیرمحدود ہے ہم جانتے ہیں کہ لامتناہی وجود میں تعدد اور دوگانگی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ اگر دو کو لامتناہی فرض کریں تو دونوں ہی محدود ہوں گے کیونکہ پہلا وجود دوسرے کی قدرت و توانائی اور ہستی کا فاقد ہے اور دوسرا وجود اسی طرح پہلے وجود اور اس کے امتیازات و خصوصیات کا فاقد ہے یعنی پہلے وجود کا اپنا وجود اور امتیازات ہیں اور دوسرے کا اپنا وجود اور امتیازات اس بنا پر پہلا وجود بھی محدود ہو گا اور دوسرا بھی۔ واضح تر الفاظ میں اگر دو وجود تمام جہات سے لامتناہی فرض کریے جائیں تو یقینا پہلا "لامتناہی" وجود جب دوسرے "لامتناہی" وجود کی حد تک پہنچے گا تو وہ تمام ہو جائے گا اور دوسرا "لامتناہی" وجود جب پہلے "لامتناہی" وجود کی حد تک پہنچے گا تو وہ بھی تمام ہو جائے گا۔ لہذا دونوں محدود اور متناہی ہوں گے۔
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ ذاتِ خدا جو ایک لامتناہی وجود ہے اس میں ہرگز تعدد نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے اگر ہم یہ اعتقاد رکھیں کہ ذاتِ خدا تین اقنوم یاتین ذاتوں سے مرکب ہے تو اس کا لازمہ یہ ہے کہ تینوں محدود ہوں نہ کہ غیر محدود اور لامتناہی۔
علاوہ ازیں ہر مرکب اپنے اجزاء کا محتاج ہے اور اس کا وجود ان کے وجود کا معلول ہے ذاتِ خدا بھی ترکیب ماننے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ محتاج اور معلول ہو حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ بےنیاز ہے اور عالمِ ہستی کی پہلی عّلت ہے۔
۴۔ خدا انسانی لباس میں کیونکر ممکن ہے: ان سب باتوں سے قطع نظر یہ کیونکر ممکن ہے کہ ذات خدا انسانی روپ میں ظاہر ہوا اور اسے جسم، مکان،غذا اور لباس وغیرہ کی احیتاج پیدا ہو جائے، خدائے ازلی و ابدی کو ایک انسان کے جسم میں محدود کرنا ااور اسے مادرِ رحم میں جنین کی حالت میں سمجھنا بدترین تہمتوں میں سے ہیں جو ذاتِ مقدسِ الہیٰ سے وابستہ کی جائیں۔ اسی طرح خدا کی طرف بیٹے کی نسبت دینا ایک غیر منطقی اور بالکل نامعقول بات ہے کیونکہ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ خدا کے لیے مختلف عوارض جسمانی کا قائل ہوا جائے یہی وجہ ہے کہ جس شخص نے مسیحیت کے ماحول میں پرورش پائی اور بچپن سے اسے ان موہوم اور غلط تعلیمات کی عادت نہیں ہے وہ فطرت و عقل کے خلاف یہ باتیں سن کر کڑھنے لگتا ہے خود عیسائی "باپ خدا" اور "بیٹا خدا" جیسی باتیں سن کر اس لیے پریشان نہیں ہوتا کیونکہ وہ بچپن سے ان غلط مفاہیم سے مانوس ہو چکا ہوتا ہے۔
۵۔ پر فریب تشبیہیں: اس دور میں دیکھا جاتا ہے کہ بعض مسحیی مبلّغین بےخبر لوگوں کو غافل رکھنے کے لئے پُرفریب مثالوں کا سہارا لیتے ہیں۔ مثلاً وحدت ادر تثلیث (یعنی تین ہوتے ہوئے ایک) کو کرّہ آفتاب، اس کا نور اور اس کی حرارت سے تشبیہ دیتے ہیں یعنی یہ تین چیزیں ہیں اس کے باوجود ایک حقیقت ہیں۔ اسی طرح وہ اسے ایسے وجود سے تشبیہ دیتے ہیں جس کا عکس تین آیئنوں میں پڑ رہا ہو باوجودیکہ وہ ایک ہی وجود ہے پھر بھی تین وجود نظر آتے ہیں۔ اسی طرح وہ مثلث کی مثال دیتے ہیں جس کے تین زاویے ہوتے ہیں لیکن اگر ان زاویوں کو اندر کو بڑھائیں تو ایک ہی نقطے تک جا پہچنتے ہیں۔
تھوڑے سے غور و فکر سے واضح ہو جاتا ہے کہ ان مثالوں کا زیر بحث مسئلے سے کوئی ربط نہیں۔ مسلّم ہے کہ کرہ آفتاب اور اس کا نور دو چیزیں ہیں نور قرمزی رنگ سے مافوق لہروں کو کہتے ہیں وہ سائنسی نقطہ نظر سے حرارت سے مختلف ہے جو کہ امواجِ مادونِ قرمز ہیں اگر انھیں ایک کہا جائے تو یہ غلط فہمی اور مجاز سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا۔
اس زیادہ واضح جسم اور آئینوں کی مثال ہے کیونکہ جو عکس آئینوں میں پڑتا ہے وہ انعکاسِ نور کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں اور مسلّم ہے کہ روشنی کا انعکاس خود جسم کے علاوہ چیز ہے اس لیے انھیں ایک چیز نہیں کہا جا سکتا اور جس نے بھی کسی سکول میں طبیعات (PHYSISCS) کی پہلی کتاب پڑھی ہو وہ یہ بات جانتا ہے۔
مثلث والی مثال بھی ایسی ہے، مثلث کے زاویے یقینا متعدد ہوتے ہیں اور مثلث کے اندرونی طرف بڑھتے جانے سے زاویے جب ایک نقطے میں بدل جاتے ہیں تو اس کا مثلث سے کوئی تعلق نہیں۔
باعث تعجب ہے کہ بعض مشرقی عیسائی توحید در تثلیث کے نظرئیے کو صوفیا (تشریحی نوٹ: صوفیوں کے نظریہ وحدت الوجود سے مراد وحدت موجود ہے وہ کہتے ہیں کہ ہستی بس ایک ہے جو مختلف چہروں میں ظاہر ہوتی ہے اور وہ ہستی ایک غلط ہے)۔ کی وحدتِ وجود کی منطق پر منطبق کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ کہے بغیر واضح ہے کہ اگر کوئی شخص وحدتِ وجود کے غلط اور انحرافی عقیدے کو قبول بھی کرے تو بھی اسے چاہیے کہ اس عالم کے تمام موجودات کو ذاتِ خدا کا جزو سمجھے بلکہ اس کا عین تصّور کرے اس لیے اس میں سے تثلیث کا تو کوئی مطلب نہیں نکلتا بلکہ چھوٹے سے لے کر بڑے تک تمام موجودات اس کا جزو یا مظہر قرار پائیں گی۔ لہٰذا مسیحیت کی تثلیث کا وحدتِ وجود سے کوئی ربط نہیں اگر اپنے مقام پر صوفیوں کے وحدت الوجود کا نظریہ بھی باطل ہو چکا ہے۔
۶۔ ایک اور اشتباہ:۔ بعض اوقات کچھ عیسائی کہتے ہیں کہ ہم جو عیسی کو ابن اللہ کہتے ہیں تو اسی طرح ہے، جیسے تم امام حسینؑ کو ثاراللہ و ابن ثارہ (خون خدا اور فرزند خون خدا) کہتے ہو یا بعض روایات میں حضرت علیؑ کو "ید اللہ" (اللہ کا ہاتھ کہا گیا ہے)۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اوّل تو یہ ایک بہت بڑا اشتباہ ہے کہ بعض نے "ثار" کا معنی خون کیا ہے کیونکہ لفظ "ثار" عربی میں کھبی بھی "خون" کے معنی میں نہیں آیا بلکہ اس کا معنی ہے "خون بہا" عربی میں خون کے لیے "دم" کا لفظ استعمال ہوتا ہے اس لیے "ثاراللہ" کا مطلب ہے "اے وہ شخص جس کا خون بہا اللہ سے تعلق رکھتا ہے اور وہی تیرا خون بہا لے گا" یعنی تو کسی ایک خاندان سے تعلق نہیں رکھتا کہ تیرا خون بہا اس خاندان کا سربراہ لے اور نہ ہی تو کسی ایک قبیلے سے تعلق رکھتا ہے کہ سربراہِ قبیلہ تیرا خون بہا لے، تو عالمِ انسانیت سے تعلق رکھتا ہے کہ اور تیرا تعلق تو عالم، ہستی اور خدا کی ذات پاک سے ہے۔ لہٰذا تیرا خون بہا اسے لینا چاہیے، اسی طرح تو علیؑ ابنِ ابی طالب کا بیٹا ہے جو شہید راہِ خدا تھے اور ان کا خون بہا بھی خدا ہی کو لینا چاہیے۔
دوسرا یہ کہ اگر کسی عبادت میں مردانِ خدا کے لیے "ید اللہ " یا اسی طرح کا کوئی لفظ آیا ہے تو یہ تشبیہ کنایہ اور مجاز کے طور پر ہے۔ کیا کوئی حقیقی عیسائی اس بات پر تیار ہے کہ مسیح کے لیے ابن اللہ کہنے کو ایک طرح کا مجاز اور کنایہ قرار دے۔ مسلماً اایسا نہیں ہے کیونکہ مسیحیت کی اصلی کتب اور مصادر میں انھیں خدا کا حقیقی بیٹا قرار دیا گیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ یہ صفت مسیح کے ساتھ مخصوص ہے کسی اور کے لیے ایسا نہیں ہے۔
یہ جو عیسائیوں کی بعض سطحی تبلیغاتی تحریروں میں نظر آتا ہے کہ وہ "ابن اللہ" کو کنایہ اور تشبیہ قرار دیتے ہیں یہ زیادہ تر عوام کو فریب دینے کے لیے ہے اس کی وضاحت کے لیے مندرجہ ذیل عبارت کی طرف توجہ کریں۔ یہ عبارت قاموس کتاب مقدس کے مولف نے لفظ "خدا" کے ضمن میں تحریر کی ہے:
اور "ابن اللہ" ہمارے نجات دہندہ اور فدیہ بننے والے کا ایک لقب ہے جو اس کے علاوہ کسی اور کے لیے نہیں بولا جا سکتا، مگر ایسے مقام پر کہ جہاں قرائن سے معلوم ہو کہ مقصد خدا کا حقیقی بیٹا ہے (بحوالہ قاموس مقدس ص ۲۴۵، طبع بیروت)
مسیح اس سے ہر گز پہلو تہی اور انکار نہیں کرتا کہ وہ اللہ کا بندہ ہواور نہ اس کے مقرب فرشتے (اس کا انکار کرتے ہیں ) اور جو اس کی عبودیت اور بندگی سے پہلو تہی کرے اور تکبر کرے بہت جلد وہ ان سب کو اپنی طرف محشور کرے گا (اور انہیں قیامت میں اٹھائے گا)
باقی رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال انجام دیئے ان کی پوری جزا انہیں دے گا اور اپنے فضل و بخشش سے انہیں مزید دے گا لیکن جنہوں نے پہلو تہی کی اور تکبر کیا انہیں درد ناک سزا دے گا اور وہ خدا کے علاوہ اپنے لیے کوئی سر پرست اور یاور و مدد گار نہیں پائیں گے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
بعض مفسرین نے ان آیات کے سلسلے میں ایک شانِ نزول روایت یہ ہے:
نجران کے کچھ عیسائی پیغمبر اسلامؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انھوں نے عرض کیا:۔
آپ ہمارے پیشوا پر کیوں تنقید کرتے ہیں؟
پیغمبر اسلا مؐ نے فرمایا: میں نے ان پر کون سا عیب لگایا ہے؟
وہ کہنے لگے:۔ آپ کہتے ہیں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور انھیں جواب دیا گیا۔
تفسیر
عیسیٰؑ خدا کے بندے ہیں
اگرچہ زیر نظر آیات کی مخصوص شانِ نزول ہے اس کے باوجود وہ گذشتہ آیات سے مربوط ہیں جن میں الوہیت مسیح کی نفی اور مسئلہ تثلیث کا ابطال کیا گیا ہے۔
پہلے تو ایک اور پہلو سے الوہیت مسیح کی نفی کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: تم عیسیؑ کی الوہیت کا کیسے عقیدہ رکھتے ہو جبکہ نہ عیسیؑ پروردگار سے پہلوتہی کرتے ہیں نہ خدا کے مقّرب فرشتے اس سے پہلوتہی کرتے ہیں (لن یستنکف المسیح ان یکون عبداً للہ ولا الملئکة المقربون) مسلّم ہے کہ جو شخص خود عبادت کرنے والا ہو اس کے معبود ہونے کا کوئی معنی نہیں ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی اپنی ہی عبادت کرے یا یہ کہ عابد و معبود اور بندہ و خدا ایک ہی ہوں۔
یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ امام علی بن موسیٰ رضاؑ سے ایک احدیث مروی ہے آپؑ نے کجرو عیسائیوں کو جو حضرت عیسیؑ کی الوہیت کے مدعی تھے مغلوب کرنے کے لیے ان کے ایک بزرگ جاثلیق سے فرمایا: عیسیؑ کی باقی باتیں تو اچھی ہیں ان میں صرف ایک عیب تھا اور وہ یہ کہ وہ زیادہ عبادت نہیں کرتے تھے۔
وہ عیسائی جنھجلا اٹھا اور امام سے کہنے لگا: آپ کتنی غلط بات کہہ رہے ہیں۔ اس بات پر تو اتفاق ہے کہ وہ سب سے زیادہ عبادت گذار تھے۔
امام نے فوراً فرمایا: وہ کس کی عبادت کرتے تھے؟ کیا خدا کے علاوہ کسی کی عبادت کرتے تھے؟ لہذا خود تیرے اعتراف کے مطابق وہ خدا کے بندے، مخلوق اور اس کی عبادت کرنے والے تھے، نہ کہ معبود اور خدا تھے۔
وہ عیسائی خاموش ہو گیا اور کوئی جوا ب نہ دے سکا۔ (بحوالہ: مناقب ابن شہر آشوب، ج ۴، ص ۳۵۲)
اس کے بعد قرآن مزید یہ کہتا ہے: جو لوگ پروردگار کی عبادت اور بندگی سے پہلوتہی کریں اور اس کی وجہ تکّبر ہو تو خدا ان سب کو قیامت کے دن حاضر کرے گا اور ہر ایک کو مناسب سزا دے گا (وَمَنْ یَسْتَنکِفْ عَنْ عِبَادَتِہِ وَیَسْتَکْبِرْ فَسَیَحْشُرُہُمْ إِلَیْہِ جَمِیعًا)
اس دن اہل ایمان اور نیک عمل کرنے والوں کو ان کی مکمل جزا دے گا اور اپنے فضل و رحمت سے اس پر اضافہ کرے گا اور جنھوں نے بندگی سے انکار کیا اور راہِ تکبّر اختیار کی وہ دردناک عذاب میں گرفتار ہوں گے اور خدا کے سوا انھیں کوئی سرپرست، حامی اور مدگار نہیں ملے گا ( فَاَمَّا الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَیُوَفِّیہِمْ اُجُورَہُمْ وَیَزِیدُہُمْ مِنْ فَضْلِہِ وَاَمَّا الَّذِینَ اسْتَنکَفُوا وَاسْتَکْبَرُوا فَیُعَذِّبُہُمْ عَذَابًا اَلِیمًا وَلاَیَجِدُونَ لَہُمْ مِنْ دُونِ اللهِ وَلِیًّا وَلاَنَصِیر)۔
دو اہم نکات
۱۔ استنکفو ا اور استکبروا: استنکاف کا معنی ہے کسی چیز سے امتناع اور کسی سے پرے ہٹ جانا۔ اس لیے یہ لفظ ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے لیکن اِستکبروا کہہ کر اسے محدود کر دیا گیا ہے کیونکہ خدا کی بندگی سے پہلوتہی اور امتناع کبھی جہل و نادانی کی وجہ سے ہوتا ہے اور کبھی تکبّر، خود بینی اور سرکشی کی بنا پر، اگرچہ یہ دونوں برُے ہیں لیکن دوسرا کئی گنا بدتر ہے۔
۲۔ ملائکہ انکارِ عبادت نہیں کرتے: ملائکہ کے انکار عبادت نہ کرنے کا تذکرہ یا تو اس لیے ہے کہ عیسائی تین معبودوں کے قائل تھے (باپ، بیٹا اور روح القدس، یا دوسرے لفظوں میں باپ خدا،بیٹا خدا اور دونوں کے درمیان واسطہ) اس لیے اس آیت میں قرآن چاہتا ہے کہ دوسرے معبودوں یعنی مسیح اور روح القدس فرشتہ ہر دو کی نفی کی جائے تاکہ ذات پروردگار کی توحید ثابت ہو جائے یا پھر یہ اس بناء پر ہے کہ آیت میں عیسائیوں کے شرک کا جواب دیتے ہوئے عرب بت پرستوں کے شرک کی طرف بھی اشارہ کیا ہے جو فرشتوں کو خدا کی اولاد اور پروردگار کا جزو سمجھتے تھے یہ انھیں بھی ایک جواب ہے۔
ملائکہ کے بارے میں ان دونوں بیانات کی طرف توجہ کرنے سے اس بحث کی گنجائش نہیں رہتی کہ کیا زیر نظر آیت انبیاء پر ملائکہ کی فضلیت پر دلالت کرتی ہے یا نہیں، کیونکہ آیت تو تثلیث کے تیسرے اقنوم یا مشرکین عرب کے معبودوں کی نفی کے لیے ہے نہ کہ ملائکہ کی مسیح پر فضیلت بیان کرنے کے لیے ہے۔
رہے وہ لوگ جو خدا پر ایمان لے آئے اور اس (آسمانی کتاب) سے وابستہ ہوئے بہت جلد ان سب کو اپنی رحمت اور فضل میں داخل کر دے گا اور اپنی طرف سیدھے راستے کی ہدایت کرے گا۔
تفسیر
نورِ مبین
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
سابقہ آیات میں توحید اور تعلیماتِ انبیاء سے اہل کتاب کے انحراف کی بحث تھی۔ اب ان دو آیتوں میں آخری بات کہی گئی ہے اور راہِ نجات کو مشخص و معیّن کر دیا گیا ہے۔ پہلے تو اس عالم کے تمام لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے: اے لوگو! تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے پاس ایک پیغمبر آیا ہے کہ جس کے پاس واضح دلائل و براہین موجود ہے اور اسی طرح اس کے ساتھ ایک نورِ آشکار بھیجا گیا ہے جس کا نام قرآن ہے جو تمھاری راہِ سعادت کو روشن کرتا ہے (یَااَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَائَکُمْ بُرْہَانٌ مِنْ رَبِّکُمْ وَاَنزَلْنَا إِلَیْکُمْ نُورًا مُبِینًا)۔
بعض علماء کے نظریے کے مطابق "برہان" ۔"برہ" (بروزن "فرح") کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے سفید ہونا اور چونکہ واضح استدلال سننے والے کے لیے حق کے چہرے کو آشکار، نورانی اور سفید کر دیتا ہے لہذا اسے برہان کہا جاتا ہے۔
جیسا کہ بعض مفسّرین کہتے ہیں اور قرائن بھی گواہی دیتے ہیں کہ زیر نظر آیت میں برہان سے مراد پیغمبر اسلامؐ کی ذاتِ بابرکت ہے اور نور سے مراد قرآن مجید ہے جبکہ دوسری آیات میں اسے نور سے تعبیر کیا گیا ہے۔
تفسیر نور الثقلین، علی بن ابراہیم اور مجمع البیان میں طرق اہل بیتؑ سے کئی ایک احادیث نقل کی گئی جن میں کہا گیا ہے کہ لفظ برہان پیغمبر اکرمؐ کے لیے ہے اور نور سے مراد حضرت علیؑ ہیں۔ یہ تفسیر کے منافی نہیں ہے کیونکہ ممکن ہے کہ نور کا یہاں وسیع مفہوم ہو، جس میں قرآن بھی شامل ہو اور امیر المومنین علیؑ بھی جو کہ قرآن کے محافظ، مفسّر اور مدافع ہیں۔
بعد والی آیت میں اس برہان اور نور کی پیروی کے نتیجے کا ذکر ہے: باقی رہے وہ جو خدا پر ایمان لائے اور انھوں نے اس آسمانی کتاب سے تمسک کیا، بہت جلد وہ انھیں اپنی وسیع رحمت میں داخل کرے گا اور پنے فضل و رحمت سے ان کی جزا میں اضافہ کرے گا اور انھیں صراطِ مستقیم اور راہِ راست کی طرف ہدایت کرے گا (فَاَمَّا الَّذِینَ آمَنُوا بِاللهِ وَاعْتَصَمُوا بِہِ فَسَیُدْخِلُہُمْ فِی رَحْمَةٍ مِنْہُ وَفَضْلٍ وَیَہْدِیہِمْ إِلَیْہِ صِرَاطًا مُسْتَقِیمًا)۔ (تشریحی نوٹ: صراط مستقیم کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد اوّل میں سورہ حمد کی تفسیر کے ضمن میں تفصیل سے گفتگو کی جا چکی ہے (اردو ترجمہ ص ۶۹)
تجھ سے (بہن بھائیوں کی میراث کے بارے میں ) سوال کرتے ہیں ان سے کہہ دو کہ خدا تمہارے لیے کلالہ (بہن بھائی) کا حکم بیان کرتا ہے اگر ایک مرد مر جائے جس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو تو وہ اس کے چھوڑے ہوئے مال سے آدھا (بطور میراث) لے گی (اور اگر بہن مر جائے اور اس کا وارث صرف ایک بھائی ہو تو) وہ اس بہن کا سارا مال میراث میں لے گا اس صورت میں کہ (متوفی کی) کوئی اولاد نہ ہوا ور اگر (متوفی کی) دو بہنیں باقی ہوں تو وہ مال کا دو تہائی لیں گی اور اگر بہن بھائی اکٹھے ہوں تو( تمام مال اس طرح سے تقسیم کریں گے کہ) ہر مذکر کے لئے مؤنث کے حصے سے دو گنا ہو گا خدا تمہارے لیے (اپنے احکام) بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہو جاؤ اور خدا تمام چیزوں کو جانتا ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
بہت سے مفسرین جابر بن عبداللہ انصاری سے اس آیت کی شانِ نزول اس طرح نقل کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں: میں بہت سخت بیمار ہو گیا تھا تو پیغمبرؐ میری عبادت کے لیے تشریف لائے اور وہیں وضو کیا اور اپنے وضو کا پانی مجھ پر چھڑکا۔ میں چونکہ موت کی فکر میں تھا، پیغمبرؐ سے عرض کیا: میری وارث فقط میری بہنیں ہیں، ان کی میراث کس طرح ہو گی؟
اس پر یہ آیت نازل ہوئی، جسے آیت فرائض کہتے ہیں۔
بعض کے نظریے کے مطابق احکامِ اسلام کے بارے میں پیغمبر اکرمؐ پر نازل ہونے والی یہ آخری آیت ہے۔ (بحوالہ: : تفسیر صافی، مذکورہ آیت کے ذیل میں۔)
تفسیر
زیر نظر آیت میں بھائی بہنوں کی میراث کی مقدار بیان کی گئی ہے۔ جیسا کہ اس سورہ کے اوائل میں آیت ۱۲ کی تفسیر میں ہم کہہ چکے ہیں کہ بہنوں اور بھایئوں کی میراث کے بارے میں قرآن حکیم میں دو آییتں ہیں۔ ایک وہی آیت ۱۲۔ دوسری یہ آیت جو سورہ نساء کی آخری آیت ہے۔ اگرچہ دونوں آیات میراث کی مقدار کے بارے میں مختلف ہیں لیکن جیسا کہ سورہ کی ابتداء میں بھی بیان کیا جا چکا ہے کہ ان میں ہر ایک بہنوں اور بھایئوں کی الگ الگ قسم کے بارے میں ہے۔ آیت ۱۲ مادری بہن بھایئوں کے بارے میں ہے لیکن زیر بحث آیت پدری مادری یا صرف پدری بہن بھایئوں کے بارے میں ہے۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ عام طور پر کبھی تو کچھ لوگ متوفی سے بالواسطہ ربط رکھتے ہیں۔ ان کی میراث کی مقدار اسی واسطے سے ہوتی ہے یعنی مادری بہن بھائی ماں کے حصّے کے حساب سے لیتے ہیں جو کہ ایک تہائی ہے اور پدری یا مادری پدری بہن بھائی باپ کی میراث والا حصہ لیتے ہیں جو کہ دو تہائی ہے۔ آیت ۱۲ چونکہ بہن بھایئوں کی میراث کے متعلق ایک تہائی حصے کے بارے میں ہے اس لیے یہ ان کے بارے میں ہے جو صرف ماں کی طرف سے متوفی کے ساتھ مربوط ہیں جبکہ زیر بحث آیت دو تہائی حصے کے بارے میں ہے لیکن یہ ان بہن بھایئوں سے متعلق ہے جو ماں باپ دونوں سے مربوط ہیں۔ علاوہ ازیں آئمہ اہل بیت سے مروی روایات جو اس سلسلے میں وارد ہوئی ہیں وہ بھی اس حقیقت کو ثابت کرتی ہیں۔ بہرحال، اب اگر ایک تہائی یا دو تہائی میراث بھائی یا بہن سے متعلق ہے باقی ماندہ مال قانونِ اسلام کے مطابق دیگر ورثہ میں تقسیم ہو گا اب جبکہ یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ان دونوں آیات میں کوئی اختلاف نہیں ہم ان احکام کی تفسیر شروع کرتے ہیں جو اس آیت میں آئے ہیں۔
توجہ رہے کہ یہ آیت کلالہ (بہن بھائی) کے بارے میں سوال کے جواب کے طور پر نازل ہوئی ہے۔ (تشریحی نوٹ: کلالة کے لغوی معنی کیا ہیں اور یہ کہ بہن بھایئوں کو کلالة کیوں کہتے ہیں-اس کے بارے میں سورہ نساء آیت ۱۲ کے ذیل میں تفصیلی بحث کی جا چکی ہے ( ۲۸۸ اردو ترجمہ جلد ۳) اسی لیے فرمایا گیا ہے: تم سے اس بارے میں سوال کرتے ہیں تو کہہ دو کہ خدا کلالہ (بھائی بہن) کے بارے میں تمھارے لیے حکم بیان کرتا ہے (یستفتونک قل اللہ یفتیکم فی الکلالة) اس کے بعد چند احکام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
بہن بھائی کی میراث کے چند احکام
۱۔ جب کوئی مرد دنیا سے چلا جائے، اس کی کوئی اولاد نہ ہو فقط ایک بہن ہو تو اس کی آدھی میراث اس ایک بہن کو ملے گی (ان امرؤا ھلک لیس لہ ولد ولہ اخت فلھا نصف ماترک)۔
۲۔ اگر کوئی عورت مر جائے، اس کی اولاد نہ ہو اس کا بس ایک بھائی ہو (جو پدری ہو یا مادری پدری ہو) تو اس کی ساری میراث اس کے اس اکیلے بھائی کو ملے گی (وھو یرثھا ان لم یکن لھا ولد)۔
۳۔ اگر کوئی شخص دنیا سے چلا جائے اور دو بہنیں پیچھے چھوڑ جائے تو وہ اس کی دو تہائی میراث لیں گی (فان کانتا اثنیتن فلھا الثلثان مما ترک)۔
۴۔ اگر مرنے والے شخص کی چند بہنیں اور چند بھائی ہوں (جو دو سے زیادہ ہوں) تو وہ اس کی تمام میراث آپس میں تقسیم کریں گے اس طرح سے کہ ہر بھائی کا حصہ ایک بہن سے دوگنا ہو گا (وان کانوا اخوة رجالا ونساء فللذکر مثل حظ الانثیین)۔ آیت کے آخر میں فرماتا ہے: خدا یہ حقائق تم سے بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہو جاؤ اور سعادت کی راہ پا لو اور (یقینا) جس راستے کی خدا نشاندہی کرتا ہے وہی صیحح اور حقیقی راستہ ہے (کیونکہ) وہ ہر چیز سے دانا ہے (یبین اللہ لکم ان تضلوا واللہ بکل شئی علیم)۔ (تشریحی نوٹ: "ان تضلوا" یہا ں "ان لا تضلوا" کے معنی میں ہے یعنی لفظ "لا" مقدّر ہے۔ ایسی تعبیرات قرآن میں اور عربی زبان میں بہت ملتی ہیں)۔
یہ بات بنا کہے نہ رہ جائے کہ زیر نظر آیت میں بہن بھایئوں کی میراث اس صورت میں بیان کی گئی ہے جبکہ اولاد نہ ہو اور ماں باپ کے ہونے یا نہ ہونے کے متعلق اس میں کوئی بات نہیں آئی۔ لیکن اس سورہ کی ابتدائی آیات کے مطابق ماںباپ ہمیشہ اولاد کے یعنی میراث کے پہلے طبقے کے ہم پلہ قرار پاتے ہیں. اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ آیت اس مقام کے لیے ہے جب نہ اولاد ہو اور نہ ماں باپ۔