یہ سورہ مدنی سورتوں میں سے ہے ۔ اس کی 120 آیتیں ہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ سورت سورہ فتح کے بعد نازل ہوئی ۔ ایک روایت کے مطابق یہ ساری سورت حجۃ الوداع میں اور مکہ کے درمیان نازل ہو ئی ۔( بحوالہ: المنار ج6 ص 116۔ توجہ رہے کہ کسی صورت کے مدنی ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ مکہ سے ہجرت ِ پیغمبر ؐ کے بعد نازل ہوئے ہو اگرچہ سورت کا نزول شہر مدینہ میں نہ ہوا ہو) یہ سورت معارف ، عقائد اسلامی اور احکلام دینی پر مشتمل ہے۔
پہلے حصے میں پیغمبر اکرم ؐ کے بعد کے لیے مسئلہ ولایت و رہبری، عیسائوں کے مسائل تثلیث، قیامت معاد کے کچھ مسائل اور انبیاء سے ان کی امتوں کے بارے میں پر سش کے معاملات ہیں۔
دوسرے حصے میں ایفائے عہد کا مسئلہ ، عدالت ِ اجتماعی کا معاملہ ، عادلانہ شہادت اور قتل نفس کی حرمت کا حکم ہے۔ اسی مناسبت سے آدم ؑکے بیٹوں کا واقعہ ہے جبکہ قابیل نے ہابیل کو قتل کر دیا تھا ) اسی طرح کچھ حلال و حرام غذاؤں کی وضاحت ہے کچھ وضو اور تیمم کےاحکام ہیں۔
اس کا نام مائدہ (مائدہ دراصل برتن یعنی ٹرے کو کہتے ہیں) اس لیے ہے کیونکہ حضرت عیسی ؑ کے انصار کے لیے مائدہ کے نزول کی داستان اسی سورت میں آیت 114 میں بیان کی گئی ہے۔
اپنے عہد و پیمان اور قول و قرار پورے کرو، چو پائے (اور چوپایوں کے جنین) تمہارے لیے حلال کر دیئے گئے ہیں مگر وہ جو تم سے بیان کئے جائیں گے (ان کے سوا جن کی استثناء کی جائے گی) اور احرام کے وقت شکار کو حلال نہ سمجھو اور خدا جو چاہتا ہے ( اور مصلحت دیکھتا ہے) حکم کرتا ہے۔
ایفائے عہدضروری ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
جیسا کہ اسلامی روایات اور بڑے مفسرین کی گفتگو سے معلوم ہوتا ہے ، یہ سورت، سورة پیغمبر اکرم ؐپر نازل ہونے والی آخری سورت ہے ( یا آخری سورتوں میں سے ہے )۔ تفسیرِ عیاشی میں امام محمد باقر (علیه السلام) سے منقول ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (علیه السلام) نے فرمایا: "سورہٴ مائدہ رحلت ِ پیغمبرؐ سے دو یا تین ماہ پہلے نازل ہوئی ۔ (بحوالہ تفسیر بر ہان جلد اول صفحہ ۴۳۰)
یہ جو بعض روایات میں آیا ہے کہ یہ سورہ ناسخ ہے منسوخ نہیں ، یہ بھی اسی امر کی طرف اشارہ ہے ۔ یہ بات اس بات کے منافی نہیں جو اس تفسیر کی دوسری جلد میں سورہ ٴ بقرہ کی آیت ۲۸۱ کے ذیل میں کی گئی ہے ۔ وہاں اس آیت کے بارے میں کہاگیا ہے کہ روایات کے مطابق مذکورہ آیت پیغمبر پر نازل ہونے والی آخری آیت ہے ۔ یہاں گفتگو سورہ کے بارے میں ہے اور وہاں بات ایک آیت کے متعلق تھی ۔ اس سورہ میں اس کے خاص موقع کے وجہ سے مفاہیم اسلامی بیان کیے گئے ہیں۔ دین سے متعلق آخری پروگراموں کا تذکرہ ہے ۔ اس میں امت کی رہبری اور پیغمبر اسلامؐ کی جانشینی کا ذکر ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ اس سورہ کا آغاز عہد و پیمان کے لازمی ایفاء کے حکم سے ہوتا ہے ۔
پہلے جملے میں فرمایا گیا ہے : اے ایمان والو: اپنے عہد و پیمان کے ساتھ ساتھ وفا کرو ۔(یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا اٴَوْفُوا بِالْعُقُودِ ) یہ اس لیے ہے تاکہ اہل ایمان کے لیے پیمانوں اور وعدوں کا ایفاء ضروری قرار دیا جائے جو وہ خدا سے پہلے باندھ چکے ہیں یا جن کے متعلق اس سورہ میں اشارہ ہوا ہے یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی مسافر اپنے رشتہ داروں اور پیروکاروں سے وداع ہوتے ہوئے آخری لمحوں میں تاکید کرتا ہے کہ میری وصیتوں اور نصیحتوں کو بھول نہ جانا اور جو قول و قرار تم نے میرے ساتھ باندھے ہیں ان کے وفا دار رہنا ۔
توجہ رہے کہ ” عقود “ ” عقد “ کی جمع ہے “عقد” در اصل ایک محکم چیز کے اطراف کو جمع کرنے کے معنی میں ہے اسی مناسبت سے رسی کے دوسروں کو یا دو رسیوں کو ایک دوسرے سے گرہ لگا نے کو ” عقد “ کہتے ہیں بعد ازں اس حِسی معنی سے معنوی مفہوم پیدا ہوگیا اور ہر قسم کے عہد و پیمان کو "” عقد“" کہا جانے لگا ۔ البتہ بعض فقہا نے تصریح کی ہے کہ عہد کی نسبت عقد کا مفہوم محدودہے کیونکہ عقدایسے پیمان کو کہتے ہیں جو بہت مستحکم ہو نہ کہ ہر عہد و پیمان کو ۔لہٰذا اگر بعض روایات میں اور مفسرین کی بعض تحروں میں عقد اور عہد ایک ہی مفہوم میں آئے تو یہ ہماری بیان کردہ بات کے منافی نہیں ہے کیونکہ مقصد ان دو الفاظ کی اجمالی تفسیروں کا بیان کرنا تھا نہ کہ اس کی جزئیات کا تذکرہ منظور تھا ۔ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ اصطلاح کے مطابق” العقود" ” جمع محلی بہ الف لام “ "ہے جو عمومیت کے لیے ہوتی ہے اور جملہ بھی بالکل مطلق ہے لہٰذا مندر جہ بالا آیت ہر طرح کے عہد و پیمان کے وفا کرنے کے واجب ہونے کی دلیل ہے ۔ چاہے یہ محکم عہد و پیمان انسان کا انسان کے ساتھ ہو یا انسان کا خدا کے ساتھ ہو۔ اس طرح یہ تمام خدا ئی اور انسانی اور سیاسی ، اقتصادی، اجتماعی ، تجارتی ، ازدواجی وغیرہ عہد و پیمان پر محیط ہے اور اس کا ایک مکمل وسیع مفہوم ہے ، اس کی نظر تمام انسانی پہلووٴں پر ہے ، چاہے ان کا تعلق عقیدے سے ہو یا عمل سے، وہ فطری عہد و پیمان ہو یا توحیدی، اور چاہے ان کا تعلق ان معاہدوں سے ہو جو لوگ زندگی کے مختلف مسائل میں ایک دوسرے سے کرتے ہیں ۔
تفسیر روح المعانی میں راغب کے حوالے سے منقول ہے کہ وضع و کیفیت کے لحاظ سے طرفین میں ہونے والے عقد کی تین قسمیں ہیں ۔ کبھی عقد خدا اور بندے کے درمیان ہوتا ہے کبھی انسان اور اس کے نفس کے مابین ہوتا ہے او رکبھی عقد انسان دوسرے انسانوں سے باندھتا ہے ۔ (بحوالہ تفسیر روح المعانی، زیر بحث آیت کے ذیل میں) ۔ (البتہ عقد کی یہ تینوں قسمیں طرفین کے مابین میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ جہاں انسان خود اپنے ساتھ عہد و پیمان باندھتا ہے وہاں وہ اپنے آپ کو دو اشخاص کی طرف فرض کرتا ہے)۔
بہرحال، آیت کا مفہوم اس قدر وسیع ہے کہ اس میں وہ عہد و پیمان بھی آجاتے ہیں جو مسلمان غیر مسلموں سے باندھتے ہیں۔
چنداہم نکات
۱۔ ایک فقہی قاعدہ
یہ آیت ان آیات میں سے ہے جو حقوقِ اسلام سے بحث کرتی ہیں ۔ فقہی مباحث میں اول سے آخر تک اس سے استدلال کیا جاتا ہے۔ اس سے ایک اہم فقہی قاعدہ معلوم ہوتا ہے جسے "” اصالة اللزوم والعقود“"کہتے ہیں یعنی ہر قسم کا عہد و پیمان جو کچھ چیزوں کے بارے میں ہو یا دو افراد کے درمیان کچھ کاموں کے متعلق ہو، اس کا اجزاء اور اس پر عمل کرنا ضروری اور لازمی ہے ۔
یہاں تک کہ جیسے محققین کہتے ہیں کہ مختلف قسم کے معاملات، شراکتیں ، کارو بار اور قرا ردادیں جو ہمارے زمانے میں موجود ہیں اور سابقہ دور میں نہیں تھیں یا آنے والے دور میں عقلاء میں معرض وجوہ میں آئیں گی اور صحیح اصولوں کی بنیاد پر ہوں گی، یہ قاعدہ سب پر محیط ہے اور یہ آیت سب کے بارے میں ہے (البتہ ان کلی ضوابط کو مد نظر رکھتے ہوئے جن کا اسلام معاہدوں کے بارے میں حکم دیتا ہے)۔
اس آیت میں ایک فقہی قاعدہ کے طور پر استدلال کرنا اس امر کی دلیل نہیں کہ وہ پیمان ِ الہی جو خدا اور بندوں کے درمیان باندھے گئے ہیں یا وہ مسائل جو رہبری اور امت کی قیادت سے مربوط ہیں کہ جن کا پیمان پیغمبر ؐکے ذریعے لوگوں سے لیا گیا ہے اس میں شامل نہیں بلکہ آیت ایک وسیع مفہوم کی حامل ہے جس میں یہ تمام امور شامل ہیں ۔
اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ دو طرفہ عہد و پیمان کی وفا اور تکمیل اس وقت تک ضروری ہے جب تک کوئی ایک طرف سے توڑ نہ دے لیکن اگر ایک طرف سے اسے توڑ دیاجائے تو پھر دوسری طرف یہ لازم نہیں ہوگا کہ وہ اسے وفا کرے، اور ایسا معاملہ عقد و پیمان کے مفہوم سے ساقط ہو جاتا ہے ۔
۲۔ ایفائے عہد کی اہمیت
عہد و پیمان کی وفا کا مسئلہ جو زیر بحث آیت میں بیان ہوا ہے ،اجتماعی زندگی کا سب سے بنیادی مسئلہ ہے اور اس کے بغیر کوئی اجتماعی ہم کاری اور تعلق ممکن نہیں ہے اور اگر انسان اسے ہاتھ سے دے بیٹھے تو اجتماعی زندگی اور اس کے ثمرات کو عملی طور پر کھو بیٹھتا ہے ۔ اسی بنا پر اسلامی مصادر او رکتب میں اس کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے ۔ شاید بہت کم کوئی اور چیز ہو جسے اس قدر وسعت سے بیان کیا گیا ہو کیونکہ اس کے بغیر تو معاشرہ ہر ج مرج اور عدم اطمینان کا شکار ہو جائے گا، جو نوعِ انسانی کے لیے سب سے بڑی اجتماعی مصیبت ہے ۔
نہج البلاغہ میں مالک اشتر کے نام اپنے فرمان میں حضرت امیر المومنین (علیه السلام) فرماتے ہیں :
فانہ لیس من فرائض اللہ شیء الناس اشد علیہ اجتماعا مع
تفرق اھوائھم و تشتت ارائھم من تعظیم الوفا بالعقود،
و قد لزم ذٰلک المشرکوں فیھا بینھم دون المسلمین لما استوبلوا
من عواقب الغدر "دنیا بھر کے لوگوں میں تمام تر اختلافات کے باوجود ایفائے عہد کی طرح کسی اور امر پر اتفاق نہیں ہے ۔ اسی لیے تو زمانہ جاہلیت کے بت پرست بھی اپنے عہد و پیمان کا احترام کرتے تھے ۔ کیونکہ وہ عہد شکنی کے درد ناک انجام کو جان چکے تھے ۔ (بحوالہ نہج البلاغہ ، حضرت علیؑ کے خطوط میں سے خط نمبر 53)-
امیر المومنین (علیه السلام) ہی سے منقول ہے ، آپ ؑ نے فرمایا:
ان اللہ لایقبل الا العمل الصالح ولا یقبل اللہ الا الوفاء بالشروط و العھود ۔
“ خدا اپنے بندوں سے عمل صالح کے علاوہ کسی چیز کو قبول نہیں کرتا اور ( اسی طرح ) خدا شرائط اور عہد و پیمان کے ( بارے میں بھی) ایفاء کے علاوہ کچھ قبول نہیں کرتا ۔ (بحوالہ اصول کافی جلد ۲ صفحہ ۱۶۲) پیغمبر اکرم ؐسے منقول ہے ، آپ نے فرمایا: لادین لمن لا عھد لہ
" جو شخص اپنے عہد و پیمان کا وفا دار نہیں اس کا کوئی دین نہیں "۔( بحوالہ سفینة البحار، ج۲ صفحہ ۲۹۴۔ ) لہٰذا ایفائے عہد ایک ایسی بات ہے جس میں افرادِ انسانی کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے چاہے طرف مقابل مسلمان ہو یا کوئی غیر مسلم۔ اصطالح کے مطابق یہ انسانی حقوق میں سے ہے نہ کہ برادرانِ دینی کے حقوق میں سے ۔ ایک حدیث میں حضرت امام صادق (علیه السلام) سے منقول ہے ، آپ نے فرمایا : ثلاث لم یجعل اللہ عز وجل لا حد فیھن رخصة ، اداء الامانة الیٰ البر و الفاجر، و الوفاء بالعھد للبر والفاجر، و بر الوالدین برین کانا او فاجرین ۔
تین چیزیں ایسی ہیں جن کی مخالفت کی خدا نے کسی شخص کو اجازت نہیں دی ۔ ۱۔ امانت کی ادائیگی، ہر شخص کو چاہے وہ نیک ہو یا بد ۔ ۲۔ ایفائے عہد ہر کسی سے چاہے وہ اچھا ہو یا برا اور ماں باپ سے حسن سلوک ، چاہے وہ اچھے ہو ں یا برے۔ یہاں تک کہ ایک رویت میں حضرت امیر المومنین علی ؑ سے منقول ہے : اگر کوئی شخص اشارے سے بھی کوئی عہد اپنے ذمے لے لے تو اسے وفا کرنا چاہئیے۔ اس روایت کا متن یہ ہے : اذا اومی احد من المسلمین اواشار الیٰ احد من المشرکین فنزل علی ٰ ذٰلک فھو فی امان ۔ ( بحوالہ مستدرک الوسائل ج2،ص25) عہد و پیمان کے بارے میں حکم پر گفتگو ہو چکی جو کہ تمام احکام اور خدائی پیمانوں پر محیط ہے۔ اس کے بعد احکام ِ اسلام کا ایک سلسلہ شروع ہوتا ہے ان میں سے پہلا حکم کچھ جانوروں کے گوشت کے حلال ہونے کے بارے میں ہے ، فرمایا گیا ہے : چو پائے( اور ان کے جنین ) تمہارے لیے حلال کیے گئے ہیں (أُحِلَّتۡ لَكُم بَهِيمَةُ ٱلۡأَنۡعَٰمِ) ۔ ”انعام “جمع ہے” نعم “کی جس کا معنی ہے اونٹ ، گائے اور گوسفند ۔ نعم " اگرد مفرد صورت میں استعمال ہو تو " اونٹ " کا معنی دیتا ہے لیکن جمع کی شکل میں ہو تو اونٹ ، گائے اور گوسفند بھی اس کے مفہوم میں آجاتے ہیں ( مفردات راغب ، مادہ " نعم ")
"بھیمة" کا مادہ ”بھمة“ بر وزن "” بھمة "“ہے ۔ اس کا معنی ہے "” محکم اور سخت پتھر"“ اور ہر چیز جس کا ادراک مشکل ہو اسے "” مبہم “" کہتے ہیں اور وہ تمام جانور جو بول چال نہیں سکتے انھیں بھیمة کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی آواز میں ابہام ہوتا ہے ۔ لیکن عام طور پر یہ لفظ چوپایوں کے بارے میں استعمال ہوتا ہے اور اس میں درندے اور پرندے شامل نہیں ہوتے چونکہ حیوانات کے جنین ( جو مادہ جانور کے پیٹ میں ہوتے ہیں ) بھی ایک قسم کا ابہام رکھتے ہیں اس لیے انھیں بھی" ” بھبیمة“ " کہا جاتا ہے ۔ اس بنابر”" بھیمة الانعام "“کا حلال ہونا یا تو تمام چو پایوں کے لیے ہے ( البتہ وہ جانور مستثنیٰ ہیں جن کا ذکر بعد کی آیت میں آئے گا) یا ان بچوں کے حلال ہونے کے معنی میں ہے جو حلال گوشت جانوروں کے شکم میں ہوں ( وہ بچے کہ جن کی خلقت پوری ہوگئی ہے اور کھال او ربال ان پر اگ آئے ہیں اگر " بہیمہ " کا معنی آیت میں " حیوانات " ہو تو انعام کے سساتھ اس کی اضآفت بیانیہ کہلائے گی اور اگر " جنین " کے معنی میں ہیں تو اس کی اضافت ، آضفاتِ لامیہ ہوگی ۔ کچھ جانوروں کے حلال ہونے کے بارے میں پہلے سے مشخص تھا مثلاً اونٹ، گائے اور گوسفند ، لہٰذا ممکن ہے کہ اس آیت میں ان کی جنین کی حلیت کی طرف اشارہ ہو لیکن جو بات آیت کے معنی سے زیادہ قریب نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے یعنی ایسے جانوروں کے حلال ہونے کے بارے میں بھی ہے اور ان کی جنین کے حلال ہونے سے متعلق بھی ہے اور اگر ایسے جانوروں کا حکم پہلے سے بھی معلوم تھا تب بھی یہاں مستثنیٰ قرار دیئے جانے والے جانوروں کے حکم سے پہلے مقدمے کے طور پر اس حکم کا تکرار کیا گیا ہے ۔ اس جملے کی تفسیر کے بارے میں جو کچھ ہم کہہ چکے ہیں اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس حکم کا ربط ایفائے عہد کے لازمی ہونے سے اس بنا پر تھا کہ ایفائے عہد ایک کلی بنیاد ہے ۔ یہ کلی بنیاد احکام الہٰی پراس لحاظ سے ایک تاکید ہے کہ احکام الہٰی بھی خدا کے بندوں سے عہد و پیمان کی ایک قسم ہے اس کے بعد پھر کچھ احکام بیان کیے گئے ہیں جن میں بعض جانوروں کے حلال ہونے کا ذکر ہے اور بعض جانوروں کے گوشت کے حرام ہونے کا ذکر ہے ۔ پھر آیت میں چوپایوں کے گوشت کی حرمت کے بارے میں دو استثنائی حکم ہیں : ان جانوروں کے گوشت کو استثناء کرنا حرام ہے جن کی تحریم عنقریب تمہارے لیے بیان کی جائے گی (إِلَّا مَا يُتۡلَىٰ عَلَيۡكُمۡ) ( یعنی حج کے مناسک یا عمرہ کے مناسک انجام دینے کے لیے باندھے گئے احرام کی حالت میں شکار کرنا حرام ہے ) ( إِلَّا مَا يُتۡلَىٰ عَلَيۡكُمۡ غَيۡرَ مُحِلِّي ٱلصَّيۡدِ وَأَنتُمۡ حُرُمٌۗ ) ۔ [البتہ :"الا ما یتلی علیکم" جملہ استثنائیہ ہے اور "غیر محلی الصید" لکم کی ضمیر سے حال ہے جو معنی کے لحاظ سے استثناء کا نتیجہ دیتا ہے]۔
آیت کے آخر میں فرماتا ہے : خدا جو حکم چاہتا ہے ، صادرکرتا ہے یعنی ۔ خدا چونکہ ہر چیز سے آگاہ ہے اور ہر چیز کا مالک ہے لہٰذا جو حکم بندوں کی مصلحت میں ہو اور حکمت اس کی متقاضی ہو اسے جاری کردیتا ہے (اِنَّ ٱللَّهَ يَحۡكُمُ مَا يُرِيدُ)
اے ایمان والو! شعائر خدا وندی (اور مراسم حج کو محترم سمجھو اور ان کی مخالفت) کو حلال قرار نہ دو اور نہ ہی حرام مہینہ کو اور نہ بغیر نشانی والی قربانیوں کو اور نہ نشانیوں والی کو اور نہ وہ کہ جنہیں خانہ خدا کے قصد سے پروردگار کے فضل اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے لاتے ہو اور جب تم حالت احرام سے نکل جاؤ تو پھر شکار کرنا تمہارے لیے کوئی منع نہیں ہے اور وہ گروہ جو مسجدالحرام کی طرف (حدیبیہ کے سال) تمہارے آنے میں حائل ہوا تھا۔ اس کی دشمنی تمہیں تجاوز پر نہ ابھارے اور (ہمیشہ) نیکی اور پرہیزگاری کی راہ میں ایک دوسرے سے تعاون کرو اور (ہر گز ) گناہ اور تجاوز کی راہ میں ساتھ نہ دو اور خدا سے ڈرو ، جس کی سزا سخت ہے۔
ایک آیت میں آٹھ احکام
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
اس آیت میں چند اہم اسلامی احکام بیان ہوئے ہیں۔ یہ پیغمبراکرم پر نازل ہونے والے آخری احکامات میں سے ہیں یہ سب کے سب یا ان میں سے زیادہ تر حج اور خانہ خدا کی زیارت سے مربوط ہیں احکام یہ ہیں : ۱۔ سب سے پہلے ایمان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ شعائر خدا وندی کو نہ تو ڑو او ران کی حرمت کا خیال رکھو (يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تُحِلُّواْ شَعَٰٓئِرَ ٱللَّهِ) ۔
اس سلسلے میں مفسرین میں بہت اختلاف ہے کہ شعائراللہ سے کیا مراد ہے لیکن آیت کے دوسرے حصوں سے اس کی مناسبت اور اس کے سالِ نزول ( دس ہجری ) جو پیغمبر اکرم کے حجة الوداع کا سال تھا ، کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شعائراللہ سے کیا مراد مناسک حج اور حج کا پر گرام ہے۔ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان سب کا احترام کریں اس تفسیر کا شاہد یہ ہے کہ قرآن میں لفظ شعائر عام طور پر مراسم حج کے بارے میں استعمال ہوا ہے ۔
۲۔ حرام مہینوں کا احترام کرو اور ان مہینوں میں جنگ و جدال سے احتراز کرو(وَلَا ٱلشَّهۡرَ ٱلۡحَرَامَ) ۔ ۳۔ وہ قربانیان جو حج کے لیے لاتے ہو چاہے وہ نشانی کے (ہَدْی۲) ہوں یا نشانی والی ( قلائد 3) جاتے ہیں اور ان ہ رکوئی علامت اور نشانی لگادی جاتی ہے ۔ ہوں ، انھیں حلال نہ سمجھو او رانھیں رہنے دو کہ وہ قربان گاہ تک پہنچ جائیں اوروہاںقربان ہوں(وَلَا ٱلۡهَدۡيَ وَلَا ٱلۡقَلَٰٓئِدَ) ۔ ۴۔ خانہٴ خدا کے تمام زائرین کو ان عظیم اسلامی مراسم کے لیے پوری آزادی ہونا چاہئیے اور اس سلسلے میں افراد، قبائل ،خاندانو ں اور زبانوں کا کوئی امتیاز نہیں ہونا چاہئیے اس لیے جو لوگ خدا کی خوشنودی اور رضا حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں ، حتی کہ جو تجارتی فائدے کے لیے زیارتِ بیت اللہ کے قصد سےآتے ہیں ان سے بھی کوئی مزاحمت نہ کی جائے چاہے وہ تمہارے دوست ہوں یا دشمن ، بس اتنا کافی ہے کہ وہ مسلمان ہیں خانہ خدا کے زائر ہیں ۔ یہی ان کے مامون و محفوظ ہونے کے کافی ہے (وَلَآ ءَآمِّينَ ٱلۡبَيۡتَ ٱلۡحَرَامَ يَبۡتَغُونَ فَضۡلٗا مِّن رَّبِّهِمۡ وَرِضۡوَٰنٗاۚ) ۔
بعض مفسرین اور فقہا کا نظریہ ہے کہ جملہ عام ہے یہاں تک غیر مسلموں پر بھی محیط ہے یعنی اگر مشرکین بھی خانہ خدا کی زیارت کے قصد سے آئیں تو ان کی بھی مزاحمت نہ کی جائے۔ لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ سورہ توبہ جس کے متعلق مشہورہے کہ نوہجری میں نازل ہو ئی اس کی آیة ۲۸ میں مشرکین کے مسجد الحرام کی طرف آنے سے منع کیا گیا ہے اور سورہ مائدہ پیغمبر اکرم ؐکی آخری عمر دس ہجری میں نازل ہوئی اور شیعہ سنی روایات کے مطابق ا س کا کوئی بھی حکم منسوخ نہیں ہوالہٰذا یہ تفسیر صحیح نہیں ہے اور حق یہی ہے کہ یہ حکم مسلمانوں سے مخصوص ہے ۵۔ شکار کی حرمت زمانہ احرام کے لیے ہے اس لیے فرمایاگیا ہے : جب حج یا عمرہ کے احرام سے نکل جاوٴ تو پھر شکار کرنا تمہارے لیے جائز ہے (وَإِذَا حَلَلۡتُمۡ فَٱصۡطَادُواْۚ)۔ ۶۔ زمانہ جاہلیت کے بت پرست ( حدیبیہ کے موقع پر ) خانہ خدا کی زیارت میں تم سے مزاحم ہو ئے اور انھوں نے تمہیں خانہ خدا کی زیارت کے مناسک انجام نہیں دینے دئیے۔ اس واقعہ کو اس بات کا سبب نہیں بننا چاہئیے کہ ان کے اسلام لے آنے کے بعد پرانی دشمنی کو زندہ کرو اور خانہ خدا کی زیارت میں ان کے لیے رکاوٹ بنو(وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَـَٔانُ قَوۡمٍ أَن صَدُّوكُمۡ عَنِ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ أَن تَعۡتَدُواْۘ) ۔(اہل لغت اور مفسرین کے کلمات سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے یہ کے کہ " جرم " بروزن گرم " اصل میں درخت سے غیر منباسب پھل توڑنے کے معنی میں ہے ۔ یہ لفط ہر اس کام کے لیے استعمال ہونے لگا جو ناخوش ہو نیز ناپسندیدہ کام کے لیے کسی کو اکسانے کے مفہوم میں بھی بولا جانے لگا۔ اس لیےیہاں " لایحلنکم" کے معنی میں ہے یعنی تمہیں غلط کام پر نااکسائے)۔یہ حکم اگر چہ خانہ ِخدا کی زیارت کے بارے میں نازل ہوا ہے لیکن حقیقت میں اس سے ایک عمومی قانون معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کو کینہ پرور نہیں ہونا چاہئیے اور جو حوادث گذشتہ دور میں گزر چکے ہوں انھیں اپنے ذہن پر سوار نہیں کرلینا چاہئیے اور ان کے انتقام کے در پے نہیں ہونا چاہیئے۔
دیکھا جائے تو ہرمعاشرے کے نفاق اور تفرقہ بازی کے علل و اسباب میں سے ایک یہی وجہ ہے کہ اسلامی حکم جو کہ اس وقت نازل ہوا جبکہ پیغمبر ؐاسلام کی حیات کا آفتاب آستانہ غروب پر تھا، مسلمانوں کے درمیان نفاق کی آگ بھڑکنے سے روکنے کے لیے نازل ہوا ۔ اس سے اس کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے ۔ ۷۔ اس کے بعد بحث کی تکمیل کے لیے فرمایا گیا ہے : بجائے اس کے کہ تم اپنے پرانے دشمن اور موجود ہ دوستوں سے انتقام کے لیے ایک ہو جاوٴ۔ تمہیں چاہئیے کہ نیکی اور تقویٰ کی راہ میں ایک دوسرے سے دستِ تعاون بڑھاوٴ۔ نہ یہ کہ گناہ اور تجاوز میں ایک دوسرے سے تعاون کرنے لگو (وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ) ۔ ۸۔ آیت کے آخر میں گذشتہ احکام کو محکم کرنے کے لیے اور ان کی تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے : پر ہیز گاری اختیار کرو اور حکم ِ خدا کی نافرمانی سے بچو ۔ کیونکہ خدا کا عذاب اور اس کی سزائیں بڑی سخت ہیں (وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ) ۔
نیکی میں ساتھ دینا ضروری ہے
زیر نظر آیت میں تعاون کے بارے میں جو کچھ فرمایا ہے وہ اسلامی احکام کی ایک عمومی بنیاد ہے جو تمام اجتماعی اور سیاسی مسائل کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ۔ اس کے مطابق تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نیک اور اچھے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کریں اور ایک دوسرے کا ساتھ دیں لیکن باطل مقاصد، غلط، اعمال اور ظلم و ستم میں میں تعاون اورہم کاری بالکل ممنوع ہے ، چاہے ان کا مرتکب قریبی دوست یا سگا بھائی کیوں نہ ہو۔
یہ اسلامی قانون بالکل اس قانون کے برعکس ہے جو زمانہ جاہلیت کے عرب میں بلکہ آج کے دور جاہلیت میں بھی رائج و حاکم ہےـــــــــــــــ جاہلیت کا قانون یہ ہے کہ ـــــــــ انصر اخاک ظالما او مظلوماًـــــــ یعنی اپنے بھائی ( یا دوست اور ہم پیمان ) کی حمایت او رمدد کرو، چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم ۔ اس زمانے میں اگر ایک قبیلے کے کچھ لوگ کسی دوسرے قبیلے کے بعض افراد پر حملہ کرتے تھے تو قبیلہ کے باقی افراد ان کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوتے اور اس تحقیق کی زحمت نہ کرتے کہ حملہ عادلانہ تھا یا ظالمانہ۔ یہ قانون بین الاقوامی سطح پر آج بھی حکم فرما ہے اور اکثر ایک معاہدے میں منسلک ممالک یا جن کے مفادات مشترک ہیں اہم عالمی معاملات میں ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں اور قانون عدالت کا بالکل پاس نہیں کرتے اور ظالم و مظلوم کو ایک دوسرے سے الگ کرکے نہیں دیکھتے۔ اسلام نے اس قانون ِ جاہلیت پر خطِ تنسیخ کھنیچ دیا ہے اسلام کا حکم ہے کہ مسلمانوں کو ایک دوسرے سے تعاون اور ہمکاری صرف نیک ، اچھے کاموں میں کرنا چاہئیے نہ کہ گناہ ، تعّد ی اور ظلم میں ۔
یہ بات جالبِ نظر ہے کہ "”بر “" اور" تقویٰ "“ دونوں الفاظ مندرجہ بالا آیت میں ایک ساتھ آئے ہیں ان میں سے ایک لفظ اثباتی پہلو رکھتا ہے جو کہ مفید افعال و اعمال کی طرف اشارہ ہے اور دوسرا لفظ نفی کا پہلو رکھتا ہے جو کہ غلط کاموں سے رک جانے کی طرف اشارہ ہے ۔ گویا تعاون و ہم کاری نیکیوں کی طرف دعوت دینے میں بھی ہونا چاہئے او ربرائیوں کا مقابلہ کرنے میں بھی ۔ فِقہ اسلامی میں اس قانون سے حقوق سے متعلق مسائل معلوم کیے جاتے ہیں ۔ اسی کی مدد سے چند ایک ایسے معاملات اور تجارتی معاہدوں کو حرام قرار دیا گیا ہے کہ جو گناہ کی کمک او رمدد کا پہلو رکھتے ہیں ۔ مثلاً شراب ساز ی کے کار خانے کے لیے انگور بیچنا یا حق و عدالت کے دشمنوں کے ہاتھوں ہتھیار بیچنا یا کام کی کسی جگہ کو غیر شر عی اور خلافِ شریعت معاملات او رکا رو بار کے کرائے پر دینا( البتہ ان احکام کے بارے میں کچھ شرائط ہیں جو فقہی کتب میں بیان کی گئی ہیں ) ۔(لیقہ " عربی میں زبان کپڑے کے اس ٹکڑے یا ریشم کی روئی کو کہتے ہیں ، جو دولت میں ڈالی جاتی ہے ، تاکہ وہ اپنے اندر سیاہی کو جذب کر لے اور اسے بہیہ جانے سے روکے۔)
اگر یہ اسلامی بنیاد تمام معاشروں میں فراہم ہو جائے اور لوگ شخصی ، نسلی اور قرابتی تعلق کو پیش نظر رکھے بغیر ان لوگوں کو ساتھ دیں جو مثبت اور اصلاحی کاموں کے لیے قدم بڑھاتے ہیں اور ظالم اور تجاوز کرنے والے لوگ چاہے کسی طبقے سے ہوں ان کا ساتھ نہ دیں تو بہت سی اجتماعی خرابیاں اور مشکلیں دور ہوجائیں ۔ اسی طرح اگر دنیا کی حکومتیں بین الاقوامی سطح پر ظالم اور تجاوز کرنے والے شخص یا حکومت سے تعاون نہ کریں تو تعدی، تجاوز، زیادتی ، استعمار اور استثمار دنیا سے ختم ہو جائیں ۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ان میں سے بعض حکومتیں تجاوز کرنے والوں اور ستم گروں کی حمایت کرنے لگتی ہیں اور ان سے مفادات رکھنے والے کھلے بندوں انھیں حمایت کا یقین دلاتے ہیں لہٰذا موجودہ حالات میں بہتری کی توقع نہیں کی جانی چاہئیے۔ اسلامی روایات میں اس سلسلے میں بہت تاکید کی گئی ہے ۔ نمونے کے طور پر ہم چند ایک روایات کا تذکرہ کرتے ہیں ۔ ۱۔ پیغمبر اکرم سے منقول ہے ، آپ نے فرمایا :
اذا کان یوم القیامة نادی مناد این الظلمة ؟ و اعوان الظلمة ؟ و اشباہ الظلمة ؟ حتیٰ من برء لھم قلما و لاقلھم دواتاً، قال ، فیجتمعون فی تابوت من حدید ثم یرمی بھم فی جھنم۔
جب قیامت بپا ہوگی تو منادی ندا کرے گا :
کہاں ہیں ظالم ؟ کہاں ہیں ظالموں کے مدد گار؟
کہاں ہیں وہ لوگ جنھوں نے اپنے آپ کو ظالموں سے مشابہ بنایا تھا؟ حتیٰ کہ ان لوگوں کو بھی پکارا جائے گا جنھوں نے ان ظالموں کے لیے قلم تراشایاں ان کی دوات میں صوف ڈالا ـــــ ان سب کولوہے کے ایک صندوق میں ڈا ل کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا ۔( بحوالہ وسائل الشیعہ ، جلد 12،صفحہ 131۔)۔
۲ ۔صفوان جمال ، امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے ۔ وہ کہتے ہیں : میں آپ ؑ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ؑ نے فرمایا: تمہارے تمام کام اچھے ہیں سوائے ایک کام کے ۔ میں نے عرض کیا : آپ پر قربان جاوٴں وہ کونساکام ہے ؟ امام (علیه السلام) نے فرمایا: تو اپنے اونٹ اس شخص ( یعنی ہارون )کو کرایہ پر دیتا ہے ۔
میں نے عرض کیا : بخدا عیاشی، ہوس بازی اور حرام شکار کے لیے تو کرایہ پر نہیں دیتا، صرف اس ( مکہ کے ) سفر کے لیے دیتا ہوں ۔ پھر میں خود بھی اونٹوں کے ساتھ نہیں جاتا اپنے کسی بیٹے یا کسی اور شخص کو ان کے ساتھ بھیجتا ہوں ۔
امام (علیه السلام) نے فرمایا: صفوان : کیا ان سے کرایہ لیتے ہو؟
میں نے عرض کیا: جی ہاں ۔ آپ ؑ نے فرمایا: کیا تم چاہتے ہوں کہ وہ اس وقت تک زندہ رہیں اور اپنے منصب پر باقی رہیں جب تک تمہارا کرایہ ادا نہ کریں ۔ میں نے کہا: جی ہاں ۔ آپؑ نے فرمایا: جو ان کی بقاء کی خواہش رکھے وہ انہی میں سے ہے اور جوان میں سے ہو وہ جہنم کی آگ میں جائے گا ۔ صفوان کہتے ہیں : میں فوراً گیا اوراپنے تمام اونٹ بیچ ڈالے ہیں ۔ یہ خبر ہاروں کو ہوئی تو اس نے مجھے بلوابھیجا اور مجھ سے کہنے لگا: صفوان! میں نے سنا ہے کہ تم نے اپنے اونٹ بیچ ڈالے ہیں ۔ میں نے کہا : میں بوڑھا ہو گیا ہوں ، میرے بیٹے اور دوسرے لوگ ان کی صحیح دیکھا بھال نہیں کرسکتے۔ ہاروں بولا: یہ بات نہیں ، میں جانتا ہوں تمہیں کسی شخص نے اس کاحکم دیا ہے ، ہاں موسیٰ بن جعفر (علیه السلام) نے تمہیں یہ حکم دیا ہے ۔ میں نے کہا: میرا موسیٰ (علیه السلام) بن جعفر (علیه السلام) سے کیا واسطہ؟ ہارون بولا : چھوڑو اس بات کو ، واللہ تمہاری گذشتہ نیکیاں نہ ہوتیں تو میں تمہاری گردن اڑانے کا حکم دیتا ۔(بحوالہ وسائل الشیعہ جلد12 صفحہ 131، صفحہ 132) 3 – ایک اور حدیث میں پیغمبر ِاسلام ؐ نے حضرت علی ؑ سے فرمایا :
یاعلی کفر باللہ علی العظیم من ھذٰہ الامة عشرة ــــــــــــــ وبایع السلاح من اھل الحرب۔
اے علی ! اس امت کے دس گروہ خدا کے منکر ہو گئے ہیں ــــــــ اور ایک وہ ہے جو اسلام کے دشمنوں کے ہاتھ ہتھیار بیچتا ہے جبکہ وہ مسلمانوں سے حالتِ جنگ میں ہوں( بحوالہ وسائل الشیعہ ،ج12،صفحہ 74 ) ۳۔ حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالْدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللّهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلاَّ مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَأَن تَسْتَقْسِمُواْ بِالْأَزْلاَمِ ذَلِكُمْ فِسْقٌ الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِن دِينِكُمْ فَلاَ تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلاَمَ دِينًا فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّإِثْمٍ فَإِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
ترجمہ ۳۔ مردار کا گوشت ، خون ، سؤرکا گوشت، وہ جانور جو غیر خدا کے نام پر ذبح ہوں ، وہ جانور جن کا گلا گھونٹ دیاجائے اور تشدد کر کے انھیں مار دیا جائے ۔ وہ جانور جو بلندی سے گر کر مر جائیں ، وہ جانور جو دوسرے جانور کے سنیگ مارنے سے مر جائیں اور درندہ جانور کے شکار کا باقی ماندہ مگر یہ کہ ( بر موقع اس جانور کے پاس جاپہنچیں اور ) اسے ذبح کرلیں او روہ جانور جو کسی بت کے اوپر ( یا اس کے سامنے ) ذبح کیے جائیں ( سب کے سب ) تم پر حرام ہیں اور (اسی طرح ) قسمت آزمائی کے لیے مخصوص تیر کی لکڑیوں سے جانور کا گوشت تقسیم کرنا ۔ یہ تمام اعمال فسق اورگناہ ہیں ۔ آج کے دن کفار تمہارے دین ( کے زوال ) سے مایوس ہو گئے ہیں لہٰذا ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ( میری مخالفت سے ) ڈرو۔ آج کے روز میں تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کردیا او راپنی نعمت تم پر تمام کردی اور اسلام کو تمہارے لیے ( ہمیشہ رہنے والے ) دین کی طور پر قبول کرلیا لیکن وہ لوگ کہ بھوک کی حالت میں جن کا ہاتھ کسی اور کھانے تک نہ پہنچے اور وہ گناہ کی طرف مائل بھی نہ ہوں ( تو ان کے لیے کوئی حرج نہیں کہ وہ ممنوع گوشت میں سے کھالیں ) خدا بخشنے والا اور مہربان ہے ۔
گیارہ چیزیں حرام
اس سورہ کی ابتداء میں چوپایوں کا گوشت حلال ہونے کا تذکرہ ہے اور ساتھ ہی یہ فرمایا گیا تھا کہ اس سلسلے میں جن کے بارے میں استثناء ہے، ان کا ذکر بعد میں آئے گا ۔ زیر بحث آیت میں در اصل وہی استثنائی حکم ہے جس کے بارے میں وعدہ کیا گیا تھا ۔ اس میں گیارہ چیزوں کے حرام ہونے کا ذکر ہے ان میں سے بعض کے حرام ہونے کا حکم قرآن کی بعض دیگر آیات میں بھی آیا ہے یہاں ان کا تکرار تاکید کے طور پر ہے ۔ ۱۔ پہلے فرماتا ہے : مردار تم پر حرام کیا گیا ہے (حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَةُ) ۔
۲ ۔ اسی طرح خون بھی حرام ہے (وَ الدَّمُ) ۔ ۳۔سور کا گوشت بھی حرام ہے (وَ لَحْمُ الْخِنْزیرِ) ۔ ۴۔ اور وہ جانور جو زمانہ جاہلیت کی رسم کے مطابق بتوں کے نام پر اور اصولی طور پر غیر خدا کے نام پر ذبح کیے جائیں، ان کا گوشت بھی حرام ہے (وَ ما اٴُہِلَّ لِغَیْرِ اللَّہِ بِہِ) ۔ ان چاروں چیزوں کی تحریم اور اس کے فلسفہ کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد اوّل میں ہم کافی بحث کرچکے ہیں( بحوالہ تفسیر نمونہ۔ جلد 1صفحہ 414(اردوتر جمہ) ۔ ۵۔ نیز جانور بھی کہ جن کا گلا گھونٹ دیا جائے ، حرام ہیں ، چاہے خود بخود ایسا ہو یا پھندے کے سبب ہو یا کوئی انسان ایسا کام انجام دے ( جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں رواج تھا کہ بعض اوقات کسی جانور کو دو لکڑیوں یا درخت کی دو شاخوں میں سختی سے دبا تے تھے یہاں تک کہ وہ مر جاتا تھا اورپھر اس کا گوشت استعمال کرتے تھے ) (وَ الْمُنْخَنِقَةُ) ۔ بعض روایات میں ہے کہ خاص طور پر مجوسی ایسا کرتے تھے کہ جانور کا گلا گھونٹ کر مارتے اس کے بعد اس کا گوشت کھاتے لہٰذا ممکن ہے کہ آیت کا ان کے اس طریقے کی طرف بھی اشارہ ہو۔ ( بحوالہ وسائل الشیعہ ۔ ج 16 صفحہ 273۔)
۶- اور وہ جانور بھی حرام ہیں جو تشدد اور مار پیٹ سے مر جائیں یا بیماری کی وجہ سے مر جائیں (وَ الْمَوْقُوذَةُ) ۔”( موقوذة “ کا مادہ ہے ” وقذ“ (بر وزن ” نقص“) یہ ایسی سخت مار پیٹ کے معنی میں ہے کہ جو موت تک پہنچادے یا سخت بیماری جو جانور کو موت کے کنارے لے جائے بعض اوقات ایسا تشدد اور ایسی بیماری کو بھی ” وقذ“ کہتے ہیں جو موت تک نہ پہچائے بہر حال اس آیت میں پہلا معنی ہی مراد ہے)۔ تفسیر قرطبی میں ہے کہ عربوں میں رواج تھا کہ وہ بعض جانوروں کو بتوں کی خاطر اس قدر مارتے کہ وہ مر جاتے ، اور وہ اسے ایک طرح کی عبادت سمجھتے تھے۔ (تفسیر قرطبی، زیر بحث آیت کے ذیل میں) ۷۔ اور وہ جانور بھی حرام ہیں جو بلندی سے گر مر جائیں (وَ الْمُتَرَدِّیَةُ) ۔ ۸۔ نیزوہ جانور جو سینگ مارنے سے مر جائیں ان کا گوشت بھی حرام ہے (وَ النَّطیحَةُ) ۔ ۹۔ اور وہ جانور بھی حرام ہیں جو درندوں کے حملے کی وجہ سے مرجائیں(وَ ما اٴَکَلَ السَّبُعُ) ۔ ان آخر والے پانچ قسم کے جانوروں کے گوشت کی حرمت کا ایک فلسفہ ممکن ہے یہ ہو کہ ان سے کافی مقدار میں خون نہیں نکلتا ۔ کیونکہ جب تک گردن کی اصلی رگیں نہ کاٹی جائیں اس وقت تک خون کی کافی مقدار نہیں نکلتی اورہم جانتے ہیں کہ خون طرح طرح کے جراثیم کا مرکز ہوتا ہے اور جانور کے مرتے ہی سب سے پہلے خون میں بد بو پیدا ہوتی ہے ۔ دوسرے لفظوں میں ایسے گوشت میں ایک طرح کا زہر یلا پن زیادہ ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں، ذبح کرنے میں خدا کا نام لیا جاتا ہے اور قبلہ رو ہو کر ذبح کیا جاتا ہے اس طرح سے جو معنوی پہلو پیدا ہوتا ہے وہ مذکورہ بالا صورتوں میں نہیں ہے ۔
لیکن جانور کے مرنے سے پہلے ان تک پہنچ جائیں اور آداب اسلامی کے مطابق اسے ذبح کرلیں اور اس کا خون کافی مقدار میں نکل آئے تو وہ حلال ہو جائے گا ۔ اسی لیے مندرجہ بالا مواقع کی حرمت کے بعد فرمایا گیا ہے : (إِلاَّ ما ذَکَّیْتُمْ) ۔
بعض مفسرین نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ استثناء صرف آخری قسم یعنی "وما اکل السبع "کے بارے میں ، لیکن اکثر مفسرین کا نظر یہ یہ ہے کہ تمام قسموں کے بارے میں ہے اور یہی بات زیادہ قرین ِ حقیقت ہے ۔
ممکن ہے سوال کیا جائے کہ جب تک آیت کی ابتداء میں " میتة"کہہ دیا گیا ہے تو پھر ان مواقع کا ذکر کیوں کیا گیا ہے اور کیا یہ سب " میتہ" کے مفہوم میں داخل نہیں ہیں ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ فقہی اور شرعی لحاظ سے " میتة " کا ایک وسیع مفہوم ہے اس لحاظ سے جوبھی حیوان شرعی طریقے سے ذبح نہ ہووہ اس کے مفہوم میں داخل ہے لیکن لغت میں عموماً " میتة " اس جانور کو کہتے ہیں جو خود بخود مر جائے اس لیے مندرجہ بالا مواقع " میتة " کے لغوی معنی میں داخل نہیں ہیں اور نہیں تو کم از کم اس کا احتمال ہے کہ واخل نہ ہوں ۔ لہٰذا ان کی صراحت کی ضرورت تھی ۔ ۱۰۔ زمانہ جاہلیت میں بت پرستوں نے کچھ پتھر خانہ کعبہ کے گرد نصب کررکھے تھے ان کی کوئی خاص شکل و صورت نہ تھی ۔ انھیں" نصب "کہتے تھے ۔ ان کے سامنے قربانی کرتے تھے اور قربانی کاخون ان پر مَل دیتے تھے ان کے اور دیگر بتوں کے درمیان فرق یہ تھا کہ دیگر بتوں کی کوئی مخصوص شکل ہوتی تھی لیکن ” نصب “ کو کوئی صورت نہ ہوتی تھی ۔ اسلام نے زیر نظر آیت میں ایسی قربانی کے گوشت کو بھی حرام قرار دیا گیا ہے (وَ ما ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ) ۔واضح ہے کہ ایسے گوشت کی حرمت اخلاقی اور معنوی پہلو رکھتی ہے نہ کہ مادی اور جسمانی ۔ در حقیت یہ "وما اھل لغیر اللہ بہ " کی اقسام میں سے ہے۔ ۱۱۔ جانوروں کی ایک اور طرح کی حرمت بھی زیر نظر آیت میں آئی ہے اور وہ ہے قسمت آزمائی کے طور پر ذبح ہونے والے جانور۔ ہوتا یہ تھا کہ دس آدمی آپس میں شرط لگاتے تھے اور ایک جانور خرید کر اسے ذبح کر دیتے تھے پھر تیر کی دس لکڑیاں جن میں سے سات پر ” کامیاب “ او رتین پر ” ناکام “ لکھا ہوتا تھا ایک مخصوص تھیلے میں رکھ دیتے تھے پھر قرعہ اندازی کی صورت میں ان دس آدمیوں میں سے ایک ایک کے نام پر تیر باہر نکالتے جن سات لکڑیوں پر ” کامیاب لکھا ہوتا وہ جس جس کے نام نکلتیں اسے دے دیتے اور وہ گوشت کا ایک حصہ اٹھا لیتا اور اسے اس کے بدلے کچھ نہ دینا پڑتا ۔ دوسری طرف وہ تین افراد جن کے نام ” ناکام “ والی لکڑیاں نکلتیں ان میں سے ہر ایک کے لیے لازمی ہوتا کہ وہ اس جانور کی ایک تہائی قیمت ادا کرے ، جبکہ گوشت کا بھی اسے کوئی حصہ نہ ملتا ۔ان لکڑیوں کو ” ازلام “ کہتے ہیں ۔ ” ازلام “ ” زلم “ ( بر وزن ” قلم “ ) کی جمع ہے اسلام نے ایسے گوشت کا کھانا حرام قرار دے دیا ہے ۔ یہ حرمت اس بناپر نہیں کہ اصل گوشت حرام ہے بلکہ اس لیے کہ قمار بازی اور قسمت آز مائی ( لاٹری وغیرہ ) کاپہلو لیے ہو ہے قرآن فرماتا ہے (وَ اٴنْ تَسْتَقْسِمُوا بِالْاٴَزْلامِ) ۔
واضح ہے کہ قمار بازی وغیرہ کی حرمت جانوروں کے گوشت سے ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ ہرجگہ اور ہر صورت میں قمار بازی ممنوع ہے اور اس کے مفہوم میں تمام نقصان دہ امور، بے مقصد کام او ربیہودہ پرگرام شامل ہیں آخر میں ان احکام ِ حرمت کی تاکید کے لیے فرمایاگیا ہے : یہ تمام احکام فسق ہیں اور طاعت پر وردگار کی حدود سے خارج ہیں (ذلِکُمْ فِسْقٌ)( ’ ذٰلکم “اگر چہ اسم اشارہ مفرد ہے کہ جس میں خطاب جمع کے صیغے سے کیا گیا ہے اور قاعدةً اسے مفرد کی طرف لوٹنا چاہئیے لیکن ہم جانتے ہیں کہ مفرد اشارہ اس مجموعے کے لیے جو مفرد فرض کیا گیا ہو، کوئی اشکال نہیں رکھتا ۔)
مردار کا گوشت، خون، سؤر کا گوشت، وہ جانور جو غیر خدا کے نام پر ذبح ہوں، وہ جانور جن کا گلا گھونٹ دیا جائے اور تشدد کر کے انہیں مار دیا جائے، وہ جانور جو بلندی سے گر کر مر جائیں، وہ جانور جو دوسرے جانور کے سینگ مارنے سے مرجائیں اور درندہ جانور کے شکار کا باقی ماندہ مگر یہ کہ (برموقع اس جانور کے پاس جا پہنچیں اور) اسے ذبح کر لیں اور وہ جانور جو کسی بت کے اوپر (یا اس کے سامنے ) ذبح کئے جائیں (سب کے سب) تم پر حرام ہیں اور (اسی طرح) قسمت آزمائی کے لیے مخصوص تیر کی لکڑیوں سے جانور کا گوشت تقسیم کرنا۔ یہ تمام اعمال فسق اور گناہ ہیں۔ آج کے دن کفار تمہارے دین (کے زوال ) سے مایوس ہو گئے ہیں لہٰذا ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے (میری مخالفت سے) ڈرو۔ آج (غدیر خم اور ولایت علیؑ) کے روز میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور اسلام کو تمہارے لیے (ہمیشہ رہنے والے) دین کے طور پر قبول کر لیا لیکن وہ لوگ کہ بھوک کی حالت میں جن کا ہاتھ کسی اور کھانے تک نہ پہنچے اور وہ گناہ کی طرف مائل بھی نہ ہوں (تو ان کے لئے کوئی حرج نہیں کہ وہ ممنوع گوشت میں سے کھا لیں ) خدا بخشنے والا اور مہربان ہے۔
گوشت کے استعمال میں اعتدال
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
مندرجہ بالا تمام بحث سے اور دیگر اسلامی مصادر سے معلوم ہوتا ہے کہ گوشت سے استفادہ کے بارے میں اسلام کی روش اس کے دیگر احکام کی طرح اعتدال پرمبنی ہے۔ نہ زمانہ جاہلیت کی طرح ہے کہ وہ تو گوہ، مردار، خون و غیرہ سب کھاجاتے تھے، نہ آج کے بہت سے مغربی ممالک کی طرح ہے جہاں کے لوگ کیکڑا اور کیڑے مکوڑے تک کھانے سے نہیں کتراتے اور نہ ہی اسلام کا طریقہ ہندوؤں کا ساہے جنھوں نے گوشت کھانا مطلقاً ممنوع قرار دے رکھاہے بلکہ ان جانوروں کا گوشت کھانا حلال قراردیاہے جن کی غذا پاک ہے اور جو باعث تنفر نہیں ہیں اور افراط و تفریط کے راستے پر خط بطلان کھینچ دیاہے اور مختلف قسم کا گوشت کھانے کے لیے شرائط معین کردی ہیں جو اس طرح ہیں: ۱۔ جن جانوروں کا گوشت استعمال کیاجاسکتاہے انھیں گھاس خور ہونا چاہیے کیونکہ گوشت خور جانوروں کا گوشت مردار اور گندگی سے آلودہ گوشت کھانے کے نتیجے میں عموماً صحیح سالم نہیں رہتا اور طرح طرح کی بیماریوں کا سبب بن جاتاہے۔ اس کے برعکس گھاس کھانے والے چوپائے عام طور پر صحیح اور پاک چیزوں سے استفادہ کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں جیسا کہ سورہ بقرہ آیہ ۷۲ کی تفسیر میں کہاجاچکاہے کہ ہر جانور کی صفات اس کے گوشت کے ذریعے اسے کھانے والے تک منتقل ہوجاتی ہیں۔
اس لیے درندوں کا گوشت کھانے سے انسان میں قساوت اور درندگی کی صفت کو تقویت پہنچے گی اسی لیے اسلام نے نجاست خور جانوروں کو بھی حرام قرار دیاہے۔
۲۔ وہ جانور جن کے گوشت سے استفادہ کیا جائے وہ قابل نفرت نہ ہوں۔
۳۔ ایسے جانور بھی نہ ہوں جو انسانی روح یا جسم کے لیے نقصان اور ضرر کا باعث ہوں۔ ۴۔ ایسے جانور جو شرک اور بت پرستی و غیرہ کی راہ میں قربان کیے جائیں چونکہ وہ روحانی اور معنوی لحاظ سے ناپاک ہیں اس لیے انھیں حرام قرار دیاگیاہے۔ ۵۔ اسلام میں کچھ احکام جانوروں کو ذبح کرنے کے طریقے کے بارے میں بھی ہیں۔ ان میں سے ہر حکم کے اپنے فوائد یا اخلاقی اثرات ہیں۔ مندرجہ بالا احکام کے بعد زیر بحث آیت میں دو معنی خیز جُملے نظر آتے ہیں پہلے فرمایاگیاہے: آج کے دن کافر تمہارے دین سے مایوس ہوگئے ہیں لہٰذا اب ان سے نہ ڈرو اور صرف میری مخالفت سے ڈرو (الْیَوْمَ یَئِسَ الَّذینَ کَفَرُوا مِنْ دینِکُمْ فَلا تَخْشَوْہُمْ وَ اخْشَوْنِ) ۔ اس کے بعد ارشاد ہوتاہے: آج کے دن میں نے تمھارے دین اور آئین کو کامل کردیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی اور اسلام کو تمھارے دین کے طور پر قبول کرلیا(اخْشَوْنِ الْیَوْمَ اٴَکْمَلْتُ لَکُمْ دینَکُمْ وَ اٴَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتی وَ رَضیتُ لَکُمُ الْإِسْلامَ دیناً) ۔
دین کس روز کمال کو پہنچا
یہاں ایک اہم بحث سامنے آتی ہے۔ وہ یہ کہ ”الیوم“ (یعنی آج کا دن) ،جس کا مندرجہ بالا آیت کے دو جملوں میں ذکر ہے، کو سا دن ہے؟ یعنی وہ کون سا دن ہے جس میں یہ چار پہلو جمع ہوگئے۔ ۱۔ کفار اس روز مایوس ہوگئے۔ ۲۔ دین اس دن مکمل ہوگیا ۔ ۳۔ نعمت الٰہی تمام ہوگئی اور ۴۔ خداوند عالم نے دین اسلام کو پورے عالم کے لوگوں کے لیے آخری دین کے طور پر قبول کرلیا ۔ مفسرین میں اس سلسلے میں بہت اختلاف ہے لیکن جس بات میں کوئی اختلاف نہیں وہ یہ ہے کہ ایسا دن پیغمبر اسلامؐ کی زندگی میں بہت اہم ہونا چاہیے اور یہ کہ یہ کوئی عام سا اور معمولی دن نہیں ہوسکتا کیونکہ اتنی اہمیت کسی عام دن کو حاصل نہیں ہوسکتی ۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ایک روایات میں آیاہے کہ بعض یہودیوں اور عیسائیوں نے یہ آیت سن کر کہا کہ ایسی آیت اگر ہماری آسمانی کتب میں ہوتی تو ہم اس دن کو عید کا دن قرار دیتے۔( بحوالہ تفسیر المنار،ج6۔ صفحہ 155)۔
ہمیں چاہیے کہ ہم قرائن، نشانیوں، آیت اور سورة کے نزول کی تاریخ ، پیغمبر اسلام ؐکی زندگی کی تاریخ اور مخالف اسلامی منابع کی روایات سے اس اہم دن کو تلاش کریں۔ کیا اس سے مراد وہ دن کو تلاش کریں۔ کیا اس سے مراد وہ دن ہے جس دن حلال و حرام گوشت کے بارے میں مندرجہ بالا احکام نازل ہوئے تھے۔ قطعاً ایسا نہیں ہے۔ ان احکام کا نزول اتنی اہمیت کا حامل نہیں ہے اور نہ ہی یہ تکمیل دین کا باعث ہے۔ یہ پیغمبر اسلام پرنازل ہونے والے آخری احکام بھی نہ تھے کیونکہ اس صورت کے آخر میں کچھ اور احکام بھی دکھائی دیتے ہیں اور پھر ان احکام کا نزول کفار کی ناامیدی کا سبب بھی نہیں ہوسکتا ۔ وہ بات جو کفّار کی مایوسی کا سبب بن سکتی ہے، وہ اسلام کے مستقبل کے لیے کوئی محکم بنیاد اور سہارا ہونا چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں ایسے احکام کا نزول کفّار کے جذبات پر اثر انداز نہیں ہوسکتا کہ ایک طرح کا گوشت حرام ہو اور دوسری طرح کا حلال۔اس سے ان میں کوئی خاص حسّاسیّت پیدا نہیں ہوسکتی ۔ کیا اس سے مراد پیغمبر اکرم ؐکے حجة الوداع کے عرفہ کا دن ہے(جیسا کہ مفسّرین کے ایک گروہ نے احتمال بھی ظاہر کیاہے)؟
اس سؤال کا جواب بھی نفی میں ہے کیونکہ مذکورہ بالا نشانیاں اس دن پر بھی منطبق نہیں ہوسکتیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دن کوئی واقعہ نمودار نہیں ہوا کہ جو کفار کی مایوسی کا باعث ہوسکے۔ اگر اس سے مراد مسلمانوں کا عظیم اجتماع ہے تو وہ روز عرفہ سے پہلے بھی مکّہ میں خدمت پیغمبرؐ میں تھا اور اگر اس دن مذکورہ بالا احکام کا نزول مراد ہے تو بھی جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں، کفّار کے لیے کوئی گھبرانے والی بات نہ تھی ۔ تو کیا اس سے فتح مکہ کا دن مراد ہے( جیسا کہ بعض کا خیال ہے)، جب کہ اس سورہ کے نزول کا زمانہ فتح مکّہ سے بہت ہی بعد کا ہے۔ یا کیا سورة بر اٴت کی آیات کے نزول کا دن ہے؟ تو وہ بھی اس سُورہ کے نزول سے کافی مُدّت پہلے تھا ۔ سب سے زیادہ عجیب احتمال یہ ہے جو بعض نے ظاہر کیا ہے کہ اس دن سے مراد ظہور اسلام یا بعثتِ پیغمبر کا دن ہے ، جبکہ ان دونوں کا اس آیہ کے نزول کے دن سے کوئی ربط نہیں ہے اور ان کے در میان ایک طویل مُدّت حائل ہے۔ لہٰذا مذکورہ بالا چھ احتمالات میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو آیت سے آہنگ اور مفہوم سے مناسبت رکھتاہو۔ (اس آیت کے سلسلے میں ایک اور احتمال بھی ہے جو تمام شیعہ مفسرّین نے اپنی کتب میں پیش کیاہے ، متعدد روایات بھی اس کی تاٴئید کرتی ہیں۔
نیز آیت کے مضامین اور آہنگ بھی اس سے مناسبت رکھتاہے اور وہ یہ کہ اس سے مراد غدیر خم کا دن ہے، جس روز پیغمبر اسلام نے امیر المؤمنین حضرت علی کو با قاعدہ اپنی جانشینی کے لیے مقرر کیاتھا ۔ یہی وہ روز تھا جب کفار مایوسیوں کے سمندر میں ڈوب گئے۔ کیونکہ انھیں توقع تھی کہ دین اسلام کا قیام بس ایک شخص سے مربوط ہے اور پیغمبر اسلام کے بعد صورتِ حال پھر پُرانی ڈگر پر لوٹ آئے گی لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ ایک ایسا شخص، پیغمبر کی جانشینی کے لیے منتخب ہواہے جو علم تقویٰ اور قدرت و عدالت کے لحاظ سے پیغمبر اسلام کے بعد بے نظیر ہے اور آنحضرت نے لوگوں سے اس کی بیعت لے لی ہے تو وہ اسلام کے بارے میں یاس و ناامیدی کا شکار ہوگئے وہ سمجھ گئے کہ اس دین کی جڑیں مضبوط اور پائیدار ہیں۔ یہ وہ دن تھا جب دین اپنی تکمیل کو پہنچ گیا ۔ کیونکہ جانشینِ پیغمبر کے تعیّن اور مسلمانوں کا مستقبل واضح ہوئے بغیر یہ آخری تکمیل کو نہیں پہنچ سکتاتھا۔
یہ وہ دن تھا جب نعمتِ الٰہی علی(علیه السلام) جیسے لائق رہبر کے تعیّن کے ذریعے لوگوں کے مستقبل کے لیے تمام ہوگئی ۔ اسی دن اسلام اپنے پروگرام کی تکمیل کے ذریعے آخری دین کے طور پرخدا کی طرف سے پسندیدہ قرار پایا ۔ لہٰذا اس میں چاروں مذکورہ پہلو موجود تھے۔ علاوہ ازیں ذیل کے قرائن بھی اس تفسیر کی تائید کرتے ہیں۔ ۱۔ تفسیر فخر الدین رازی، تفسیر روح المعانی اور تفسیر المنار میں اس آیت کے ذیل میں منقول ہے، کہ اس آیت کے نزول کے بعد پیغمبر اکرمؐ اکیاسی (81)دن سے زیادہ زندہ نہیں رہے۔ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ روایات اہلسنّت کے مطابق اور حتی کہ بعض شیعہ روایات کی بناء پر جیسا کہ کلینی نے اپنی مشہور کتاب کافی میں نقل کیاہے) رسول اکرمؐ کی وفات بارہ ربیع الاوّل کو ہوئی تھی ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ زیر نظر آیت کے نزول کا دن ٹھیک اٹھارہ ذی الحجہ ہے۔(البتہ یہ اس صُورت میں ہے جب خود روز وفات پیغمبر اور روز غدیر کو شمار نہ کیاجائے۔ نیز تین مہینوں میں یکے بعد دیگری ہر مہینہ ۲۹ دن کا ہو اور ایسا ہونا بالکل ممکن ہے نیز اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ روز غدیر سے پہلے اور بعد تاریخ اسلام میں کوئی ایسا اہم واقعہ رونما نہیں ہوا جس پر مندرجہ بالا تاریخ منطبق ہوسکے۔ اس لیے حتماً غدیر کے علاوہ اس سے کوئی اور دن مراد نہیں)
ب۔ بہت سی روایات جو مشہور شیعہ سنی طرق سے منقول ہیں صریحاً یہ مطلب بر آمد ہوتا ہے کہ زیر بحث آیہ شریفہ غدیر خم کے روز اور ولایت علی (علیه السلام) کے اعلان کے بعد نازل ہوئی ان میں سے چند ایک یہ ہیں ۔ ۱۔ مشہور سنی عالم ابن جریر طبری کتاب ولایت میں معروف صحابی زید بن ارقم کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ یہ آیت غدیر خم کے دن حضرت علی (علیه السلام) کے بارے میں نازل ہوئی ۔
۲۔ حافظ ابو نعیم اصفہانی اپنی کتاب ” مانزل من القرآن فی علی (علیه السلام) “ میں مشہور صحابی ابو سعید خدری سے نقل کرتے ہیں :
پیغمبر خدا نے غدیر خم کے دن لوگوں سے حضرت علی(علیه السلام) کا تعارف ان کی ولایت کے حوالے سے کروایااور لوگ ابھی منتشر نہیں ہوئے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی :
(الیوم اکملت لکم دینکم )اس موقع پر رسول اؐللہ فر مایا:
"اللہ اکبر علی اکمال الدین و اتمام النعمة و رضی الرب برسالتی وبالولایة لعلی ( ع ) من بعدی، ثم قال من کنت مولاہ فعلی مولاہ، اللھم وال من والاہ و عاد من عاداہ و انصر من نصرہ
و اخذل من خذلہ"۔
یعنیــــــــــ اللہ اکبر ــــــــــــ دین کی تکمیل اور نعمت تمام ہونے پر اور پروردگار کے میری رسالت اور میرے بعد علی ؑ کی ولایت پر راضی اور خوش ہنے پر ۔اس کے بعد آپ نے فرمایا: جس شخص کا میں مولا ہوں ، اس کا علی(علیه السلام) مولا ہے ، خدا یا : اسے دوست رکھ ، جو علیؑ کو دوست رکھے اور اسے دشمن رکھ جو علی (علیه السلام) سے دشمنی کرے۔ جو اس کی مدد کر اور جو اسے چھوڑ دے تو بھی اسے چھوڑ دے ۔ ۳۔ خطیب بغدادی اپنی تاریخ میں ابو ہریرہ سے نقل کرتے ہیں وہ پیغمبر اکرمؐ سے نقل کرتے ہیں : واقعہ غدیر خم ، ولایت ِ علی (علیه السلام) کے عہد و پیمان اور عمر کے ” بخٍ بخٍ یا بن ابی طالب اصبحت مولای و مولا کل مسلم “(حضرت عمر کی اس بات کا مطلب ہے : کیا کہنے اے فرزند ابو طالب ! آپ میرے اور ہر مسلماکے مولا ہوگئے۔)کہنے کے بعد آیة اکملت لکم دینکم نازل ہوئی( ان تین روایات کو علامہ امینی مرحوم نے تمام خصوصیات کے ساتھ”الغدیر“کی جلد اول میں ص۲۴۰تا ۲۳۲میں نقل کیاہے اور کتاب الحق ج۶ص۳۵۳ میں اس آیت کا واقعہ غدیر میں نازل ہونا ابوھریرہ سے دو طرق کے ساتھ اور ابو سعید خدری سے کئی طرق سے نقل کیاگیاہے۔)۔ کتاب نفیس الغدیر میں مذکورہ تین روایات کے علاوہ اس سلسلے میں مزید تیرہ روایات نقل کی گئی ہیں۔ کتاب احقاق الحق میں تفسیر ابن کثیر جلد ۲ صفحہ ۱۴ اور مقتل خوارزمی صفحہ ۴۷کے حوالے سے پیغمبر اکرم سے منقول ہے کہ یہ آیت واقعہ غدیر کے بارے میں نازل ہوئی ۔
تفسیر بُرہان اور تفسیر نور الثقلین میں بھی مختلف طرق سے اس سلسلے میں دس روایات نقل ہوئی ہیں جن سے یہ معلوم ہوتاہے کہ یہ آیت حضرت علی(علیه السلام) کے بارے میں یا غدیر خم کے دن کے بارے میں نازل ہوئی ۔ ان سب روایات کو نقل کرنے کے لیے ایک علیحدہ کتاب کی ضرورت ہے۔( بحوالہ تفسیر بُرہان جلد اوّل اور تفسیر نور الثقلین جلد اوّل میں زیر بحث آیت کے ذیل میں رجوع کریں۔
(بحوالہ المراجعات جلد چہارم صفحہ ۳۰)علامہ سیّد شرف الدین مرحوم کتاب المراجعات میں لکھتے ہیں:
امام صادق(علیه السلام) اور امام باقر سے منقول صحیح روایات میں مذکور ہے کہ یہ آیت غدیر کے دن نازل ہوئی اہل سنت نے بھی رسول اللہؐ سے اس سلسلے میں مختلف اسناد سے چھ روایات نقل کی ہیں جو اس بات کی صراحت کرتی ہیں کہ یہ آیت اس واقعہ کے ضمن میں نازل ہوئی۔(بحوالہ المراجعات جلد چہارم صفحہ نمبر 38)۔
جو کچھ ہم نے مندرجہ بالاسطور میں کہاہے اس سے واضح ہوجاتاہے کہ زیر نظر آیت کے واقعہ غدیر کے سلسلے میں نازل ہونے کے بارے میں موجود روایات ایسی نہیں ہیں کہ انھیں خبر واحد کہاجاسکے اور ان کی بعض اسناد کو ضعیف قرار دے کر ان سے آنکھیں بند کرلی جائیں۔ اگر یہ روایات متواتر نہ ہوں تو کم از کم مستفیض ہیں اور مشہور اسلامی منابع اور کتب میں منقول ہیں۔ اگرچہ بعض متعصب سنی حضرات چونکہ ان روایات کو اپنے ذوق کے خلاف پاتے ہیں لہٰذا انھیں مجہول اور غلط قرار دیتے ہیں۔ مثلاً آلوسی نے تفسیر روح المعانی میں صرف ایک سند کو ضعیف قرار دے کر کوشش کی ہے کہ باقی روایات کو بھی نظر انداز کردے یا مثلاً تفسیر المنار کے مؤلف آیت کی ایک عام تفسیر کرکے آگے بڑھ گئے ہیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے ان روایات کی طرف ذراسا اشارہ بھی نہیں کیا ۔ شاید وہ اس مخمصے میں تھے کہ اگر روایات کا ذکر کرکے انھیں ضعیف قرار دیں تو خلاف انصاف ہوگا اور اگر قبول کرلیں تو خلافِ ذوق ہوگا ۔ ایک جالبِ نظر نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ کرنا چاہیے یہ ہے کہ قرآن حکیم سُورةِ نور آیہ ۵۵ میں کہتاہے۔ وَعَدَ اللَّہُ الَّذینَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْاٴَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذینَ مِنْ قَبْلِہِمْ وَ لَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دینَہُمُ الَّذِی ارْتَضی لَہُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّہُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِہِمْ اٴَمْناً ۔
" تم میں سے وہ لوگ جو ایمان لے آئے ہیں اور انھوں نے اعمال صالح انجام دیئے ہیں خدانے ان سے وعدہ کیا ہے کہ انھیں روئے زمین پر خلیفہ بنادے گا ۔ جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو اس نے خلیفہ بنایا ہے (نیز یہ وعدہ بھی کیاہے کہ) جس دین کو ان کے لیے پسند کیاہے اسے محکم و مستقر کرے گااور خوف کے بعد انھیں امن دے گا ۔
اس آیت میں خدا تعالیٰ فرماتاہے کہ جو دین ان کے لیے "پسند" کیاہے اسے روئے زمین پر مستقر اور محکم کرے گا ۔ یہ بات پیش نظر رکھتے ہوئے کہ سُورہ نور، سورہ ٴ مائدہ سے پہلے نازل ہوئی ہے اور"رضیت“”لکم الاسلام دیناً“ کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ جو زیر بحث آیت میں ولایتِ علی کے بارے میں نازل ہواہے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اسلام اس صُورت میں روئے زمین پر مستحکم ہوسکتاہے جب”ولایت“ کے ساتھ منسلک اور توام ہو۔ کیونکہ یہ وہی اسلام ہے جسے خدا نے ”پسند “ کیا ہے اور اس کے استقرار و استحکام کا وعدہ کیاہے۔ واضح تر الفاظ میں اسلام اسی صورت میں عالمگیر ہوسکتا ہے جب وہ ولایت اہل بیت(علیه السلام) کے مسئلے سے جدا نہ ہو۔ سورہٴ نور کی مذکورہ آیت اور زیر بحث آیت کو منضم کرنے سے جو دوسرا مطلب سامنے آتاہے یہ ہے کہ سُورہٴِ نور کی آیت میں با ایمان افراد سے تین وعدے کیے گئے ہیں۔
پہلا ۔ روئے زمین پر خلافت ۔
دوسرا ۔ عبادت پروردگار کے لیے امن و امان اور
تیسرا ۔ اس دین کا استحکام کہ جو خدا کا پسندیدہ ہے۔ یہ تین وعدے غدیر خم کے روز آیہـــــــــ الیوم اکملت لکم دینکم ـــــــــــ کے نزول کے ساتھ پایہ تکمیل کو پہنچے، کیونکہ ایمان و عمل صالح کا کامل نمونہ یعنی… علی(علیه السلام)، رسول اللہ کی جانشینی کے لیے منصوب اور مقرّر ہوئے اور ” الیوم بئس الذین کفروا من دینکم“ کے ذریعہ مسلمانوں کو نسبتاً امن نصیب ہوا نیز ”و رضیت لکم الاسلام دیناً“ کے ذریعے پروردگار کا پسندیدہ دین مسلمانوں میں مستحکم ہوا ۔ البتہ یہ تفسیر ان روایات کے منافی نہیں جن میں کہا گیاہے کہ سُورہٴ نور کی یہ آیت حضرت مہدی ؑکی شان میں نازل ہوئی ہے کیونکہ”امنوا منکم“ کا ایک وسیع مفہوم ہے جس کا ایک نمونہ غدیر خم کے دن انجام پایا اور پھر ایک وسیع تر سطح پر حضرت مہدی(علیه السلام) کے قیام کے وقت انجام پائے گا ۔ اس بناپر ”الارض“ آیت میں تمام کرّہٴِ زمین کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کا بھی ایک عمومی مفہوم ہے۔ یعنی تمام زمین کے لیے بھے ہوسکتاہے اور اس کے ایک حصِّے کے لیے بھی ، جیسا کہ قرآن میں مختلف مواقع پر اس لفظ کے استعمال سے معلوم ہوتاہے کہ بعض اوقات یہ زمین کے ایک حصِّے کے لیے ہے اور بعض اوقات پورے کرّہٴِ ارض کے لیے (غور کیجیئے گا)
ایک اہم سوال اور اس کا جواب
آیت کے سلسلے میں صرف ایک سوال اب باقی رہ جاتاہے اور وہ یہ ہے کہ اوّل تو مذکورہ بالا اسناد اور آیہ “یا ایہا الرّسول بلغ ما انزل الیک “ کے ذیل میں پیش کی جانے والی اسناد کے مطابق دونوں آیات واقعہ غدیر سے مربوط ہیں تو پھر ان دونوں کے در میان فاصلہ کیوں رکھا گیاہے۔ ایک سُورہ مائدہ کی تیسری آیت ہے اور دوسری آیت کا نمبر ۶۷ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ آیت کا یہ حِصّہ جو واقعہ غدیر سے مربوط ہے، ایسے مطالب سے منسلک کیا گیا ہے جو حلال و حرام گوشت کے بارے میں ہیں اور ان دونوں کے در میان کوئی مناسبت نظر نہیں آتی ۔ (یہ سوال تفسیر المنار میں اس آیت سے مربوط مباحث میں اشارتاً مذکور ہے۔ (جلد ۶ ص۴۶۶)۔ اس کا جواب یہ ہے:
اوّلا ۔ ہم جانتے ہیں کہ قرآنی آیتیں اور اسی طرح سورتیں تاریخِ نزول کے مطابق جمع نہیں کی گئیں بلکہ مدینہ میں نازل ہونے والی بہت سی سورتیں میں مکّی آیات ہیں اور اس کے برعکس مکّی سُورتیں میں مدنی آیتیں موجود ہیں۔ اس حقیقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان دو آیات کا ایک دوسرے سے الگ ہوجانا کوئی تعجّب کی بات نہیں ہے (البتہ ہر سورت کی آیات کو فرمان پیغمبرؐ کے تحت رکھا گیاہے) ہاں البتہ آیات اگر تاریخِ نزول کے مطابق جمع کی گئی ہوتیں پھر یہ فاصلہ ہوتا تو اعتراض کیا جاسکتا تھا ۔ ثانیا ۔ ممکن ہے کہ غدیر سے مربوط آیت کو حلال و حرام غذاؤں سے متعلق آیت میں تحریف ، حذف اور تغیّر سے محفوظ رکھنے کے لیے ہو اکثر ایسا ہوتاہے کہ ایک نفیس چیز کو محفوظ رکھنے کیلیے عام سی چیزوں میں ملا دیا جاتاہے تا کہ اس کی طرف کم توجہ ہو (غور کیجیے گا) ۔
وہ حوادث جو رسول اللہؐ کی زندگی کے آخری لمحات میں رونما ہوئے اور بعض افراد نے آپ کی طرف سے وصیّت نامہ لکھے جانے کی صریح مخالفت کی ۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ (نعوذ باللہ) حتّٰی کہ رسولِ ؐخداکے بارے میں کہا گیا کہ انھیں ہذیان ہوگیاہے۔اور وہ یہ سب باتیں بیماری کے عالم میں کررہے ہیں۔ رسولؐ اللہ پرایسی ایسی ناموزوں تہمتیں لگائی گئیں۔ اس واقعے کی تفصیل اسلامی دنیا کی مشہور کتب میں موجود ہے اور سنی شیعہ دونوں کی اہم کتب میں یہ واقعہ مذکور ہے۔ یہ حدیث اہل سنت کی مشہور ترین کتاب صحیح بخاری میں کئی مقامات پر نازل ہوئی ہے ان میں سے کتاب المرضی جزء ۴ میں، کتاب العلم جزء اول صفحہ ۲۲ پر۔ کتاب الجہاد، باب جوائز و قدس صفحہ ۱۱۸ جز ۲ میں بہی موجود ہے)۔
یہ واقعہ اس سلسلے میں شاہد ناطق ہے کہ بعض لوگ مسئلہ خلافت اور رسول اللہ جانشینی کے معاملے میں بہت حسّاس تھے اور وہ اس کے انکار کے لیے ہر انتہائی قدم اٹھانے کو تیّار تھے۔
تو کیا ایسے حالات میں ضروری نہیں تھا کہ خلافت سے مربوط اسناد کی حفاظت کی جاتی اور انھیں آنے والے لوگوں تک بحفاظت پہنچانے کا احترام کیا جاتا اور اسے عام مطالب کے ساتھ ملاکر بیان کیا جاتا تا کہ زیادہ سخت مخالفین کی ان پر کم توجہ ہو۔ علاوہ ازیں جیسا کہ ہم جان چکے ہیں کہ اس بات سے متعلق کہ ”الیوم اکملت لکم دینکم“ کے غدیر اور پیغمبر اکرم ؐکی جانشینی کے متعلق نزول سے مربُوط اسناد صرف شیعہ کتب میں موجود نہیں ہیں کہ ان پر کوئی اعتراض ہو بلکہ اہل سنّت کی بہت سی کتب میں بھی یہ روایات موجود ہیں۔ ان میں یہ حدیث مختلف طرق سے تین مشہور صحابہ سے بھی منقول ہے۔
اضطراری کیفیت میں حرام گوشت کا حکم
آیت کے آخر میں پھر حرام گوشت سے مربوط مسائل کا ذکر ہے یہاں اضطراری صُورت کے لیے حکم بیان کیا گیا ہے: اور جو لوگ بھوک کی حالت میں حرام گوشت کھانے پر مجبور ہوجائیں جبکہ وہ گناہ کی طرف رغبت نہ رکھتے ہوں تو پھر یہ ان کے لیے حلال ہے کیونکہ خدا بخشنے والا اور مہربان ہے اور ضرورت کے وقت وہ اپنے بندوں کو مشقت میں نہیں ڈالتا اور نہ انھیں اس پر سزا دیتاہے (فمن اضطر فی مخمصة غیر متجائف لا ثم فان اللہ غفور رحیم) ۔ ”مخمصة“ کا مادہ ”خمص“ (بر وزن ”لمس“)ہے جس کا معنی ہے دھنں جانا ۔ یہ لفظ سخت بھوک کیلیے بھی استعمال ہوتاہے۔ جبکہ بھوک شکم کے دھنں جانے کا باعث ہوچاہے قحط کے زمانے میں ہویا کوئی انفرادی طور پر اس مشکل صورتِ حال سے دوچار ہوجائے۔
”غیر متجائف لا ثم“…کا معنی ہے" گناہ کی طرف میلان یا رغبت نہ رکھتا ہو" یہ اضطرار کے مفہوم کی تاکید کے طور پر آیاہے یا اس سے مراد یہ ہے کہ ضرورت کے وقت حرام گوشت کھانے میں تیزی نہ دکھائے اور اسے حلال نہ سمجھنے لگے یا یہ کہ اضطرار کی بنیاد اس نے خود فراہم نہ کی ہو اور یا یہ کہ کسی ایسے سفر میں اس مشکل سے دوچار نہ ہوا ہو، جو اس نے فعل حرام انجام دینے کے لیے اختیار کیا ہو یہ بھی ممکن ہے کہ اس عبادت سے یہ تمام معانی مراد ہوں۔
اس سلسلے میں مزید وضاحت کے لیے تفسیر نمونہ جلد اول صفحہ ۴۱۳ و صفحہ ۴۱۴ (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع فرمائیں۔
تم سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کون سی چیزیں حلال کی گئی ہیں، کہہ دو کہ پاکیزہ چیزیں تمہارے لیے حلال کی گئی ہیں۔ نیز ان شکاری جانوروں کا شکار (بھی تمہارے لیے حلال ہے) جنہیں تم نے وہ کچھ سکھایا جس کی خدا نے تمہیں تعلیم دی تھی۔ بس جو کچھ یہ جانور تمہارے لیے (شکار کرتے ہیں اور) روک رکھتے ہیں وہ کھالو اور (جب جانور کو شکار کے لیے چھوڑو (تو) اس پر خدا کا نام لیا کرو اور خدا سے ڈرو کیونکہ خدا جلد حساب لینے والا ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
اس آیت کے بارے میں کئی ایک شانِ نزول ذکر کی گئی ہیں ان میں سے زیادہ مناسب یہ ہے کہ زید الخیر اور عدی بن حاتم جو صحابی ٴ ِ رسول تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ ہم کچھ لوگ ہیں جو شکاری کُتّوں اور بازوں کی مدد سے شکار کرتے ہیں، اور ہمارے شکاری کُتے حلال جنگلی جانوروں کو پکڑ لیتے ہیں ان میں سے بعض تو زندہ ہمارے ہاتھ لگ جاتے ہیں اور ہم انھیں ذبح کر لیتے ہیں لیکن ان میں سے بعض کُتّوں کی وجہ سے مارے جاتے ہیں اور ہمیں انھیں ذبح کرنے کا موقع نہیں ملتاہم جانتے ہیں کہ خدا نے مردار کا گوشت حرام قرار دیا ہے اب ہماری کیا ذمہ داری ہے؟ اسی سلسلے میں زیر نظر آیت نازل ہوئی اور انھیں جواب دیا گیا ۔(بحوالہ تفسیر قرطبی ج۳، زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔
حلال شکار
گذشتہ دو آیات میں حرام و حلال گوشت کے بارے میں احکام بیان ہوچکے ہیں یہاں ان میں سے کچھ مزید احکام کا تذکرہ ہے اس سلسلے میں ایک سوال کے جواب میں فرمایا گیا ہے: تم سے کھانے والی چیزوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں (يَسۡـَٔلُونَكَ مَاذَآ أُحِلَّ لَهُمۡۖ)پھر پیغمبر اکرمؐ سے فرمایا گیاہے: پہلے تو ان سے کہو کہ ہر پاکیزہ چیز تمھارے لیے حلال ہے(قُلۡ أُحِلَّ لَكُمُ ٱلطَّيِّبَٰتُ) یعنی اسلام نے جو کچھ حرام قرار دیا ہے وہ ناپاک ہے اور خبائث کے زمرے میں آتاہے اور قوانین الٰہی کسی ایسی چیز کو کبھی حرام قرار نہیں دیتے جو پاکیزہ ہو اور فطری طور پر نوع بشر کے فائدے اور نفع کے لیے پیدا کی گئی ہو لہٰذا حقیقی شریعت قوانین تکوین سے ہمیشہ ہم آہنگ ہوتی ہے۔
پھر شکار کے بارے میں فرمایا گیاہے : تمہارے سدھا ئے ہوئے یعنی جنھیں تم نے وہ کچھ سکھا یا ہے جس کی خدا نے تعلیم دی ہے ان شکاری جانوروں کا شکار تمہارے لیے حلال ہے وَمَا عَلَّمۡتُم مِّنَ ٱلۡجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ ٱللَّهُۖ) ۔( اس جملے کے ابتداء میں حذف و تقدیر موجود ہے” ۖ فَكُلُواْ مِمَّآ أَمۡسَكۡنَ عَلَيۡكُمۡ “ سے معلوم ہوتاہے کہ اصل میں ”وصید ما علمتم“ہے (غور کیجیئے گا)”جوارح“ اصل میں ”جرح“ سے لیا گیا ہے جو کبھی ”کسب“ اور ”کام“ کے معنی میں آتاہے اور کبھی ”زخم“ کے معنی میں ۔ اسی لیے شکاری جانوروں کو چاہے وہ پرندے ہوں یا کوئی اور جانور”جارحہ“ کہتے ہیں ”جارحہ“ کی جمع”جوارح“ ہے۔ یعنی وہ جانور جو اپنے شکار کو زخم لگاتے ہیں یا وہ جانور جو اپنے مالک کے لیے کسب کرتے ہیں۔
بدن کے اعضا کو بھی جوارح اسی لیے کہاجاتاہے کہ انسان ان کے ذریعے کسی کام کو انجام دیتاہے اور اکتساب کرتاہے۔ اس لیے” وَمَا عَلَّمۡتُم مِّنَ ٱلۡجَوَارِحِ “ ان تمام جانوروں کے لیے ہے جنھیں شکار کرنے کی تربیّت دی جاتی ہے۔لیکن ساتھ ”مکلبین“ بھے ہے جو ”کلب“ کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے”کتّا“۔ ”مکلبین“ شکاری کتوں کی تربیّت کرنے والوں کو کہتے ہیں۔ اس طرح یہ تعبیر جملے کو شکاری کتّوں سے مخصوص کردیتی ہے۔ اس لیے یہ آیت شکاری کُتّوں کے علاوہ باز و غیرہ سے کیے گئے شکار کے بارے میں نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ شیعہ فقہ میں صرف شکاری کتوں کے علاوہ باز وغیرہ سے کیے گئے شکار کے بارے میں نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ شیعہ فقہ میں صرف شکاری کتوں سے کیا جانیوالا شکار جائز ہے، اگرچہ اہل سنت کے بعض مفسرین سب کو جائز سمجھتے ہیں اور ” مکلبین “ کا مفہوم وسیع قرار دیتے ہیں کہ جو کتوں سے شکار کرنے والوں کے لیے مخصوص نہیں ۔ لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں ، اس لفظ کا اصلی مادہ اسے شکاری کتوں کی تر بیت سے مخصوص کردیتا ہے ۔ البتہ اگر دوسرے شکاری جانور کو بے بس کردیں لیکن اسے مرنے سے پہلے آدابِ شرعی کے مطابق ذبح کرلیا جائے تو وہ حلال ہے ۔
تعلّمونہن مما علّمکم اللہ۔ میں چند نکات ۱۔ ایسے جانوروں کی تعلیم و تربیّت اور مسلسل ہو، اگر وہ اپنی تعلیم بُھول جائیں اور آوارہ کتوں کی طرح کسی جانور کو چیر پھاڑ دیں تو اس شکار کا گوشت حلال نہیں ہوگا کیونکہ”تعلمونھن“ فعل مضارع ہے اور مضارع استمرار پر دلالت کرتاہے۔ ۲۔ کتے کی تعلیم و تربیت صحیح اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے یہ بات ”مما علمکم اللہ“ کے مفہوم ہے مطابقت رکھتی ہے۔ ۳۔ تمام علوم کا سرچشمہ خدا ہے چاہے وہ عام اور چھوٹے چھوٹے امور کا علم ہو یا اہم اسکی تعلیم کے بغیر ہم کوئی علم نہیں رکھتے۔ ضمنی طور پر یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ شکاری کتوں کی تعلیم سے مراد یہ ہے کہ ان کی تربیّت اس طرح سے ہونی چاہیے کہ وہ مالکوں کے حکم سے چل پڑیں اور ان کے روکنے سے رُک جائیں۔
اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ جس جانور کو کُتے شکار کرتے ہیں اگر وہ زندہ ہاتھ آجائے تو اسے آداب اسلامی کے مطابق ذبح کیا جانا چاہیے، لیکن شکاری کے پہنچنے سے پہلے اس کی جان نکل جائے تو وہ حلال ہے اگرچہ اسے ذبح نہیں بھی کیا گیا ۔ اس کے بعد ایسے شکار کی حیلت کی شرائط میں سے دو کا ذکر کیا گیاہے: اس شکار کو جسے شکاری کُتے تمہارے لیے روکے رکھیں، کھالو (فَکُلُوا مِمَّا اٴمْسَکْنَ عَلَیْکُمْ)اس سے ظاہر ہوتاہے کہ اگر شکاری کُتے اس بات کے عادی ہوں کہ اپنے شکار کا کچھ حصّہ کھا لیتے ہیں اور کچھ چھوڑ دیتے ہوں تو ایسا شکار حلال نہیں ہے اور وہ ”و ما اکل السبع“ کے زُمرے میں داخل ہوجاتاہے جس کا گذشتہ آیت میں ذکر ہے۔ حقیقت میں ایسا کُتا نہ تو تعلیم یافتہ ہے اور نہ اس سے جو کچھ بچا رکھا ہے وہ ”علیکم“ (تمہارے لیے) کا مصداق ہے۔ بعض فقہا اس شرط کے قائل نہیں ہیں وہ اس سلسلے میں چند روایات سے استناد کرتے ہیں جو کُتب احادیث میں موجود ہیں بہر حال اس پر تفصیلی بحث فقہی کُتب میں موجود ہے۔ خلاصہ یہ کہ ان کی ایسے تربیّت ہونا چاہیے کہ وہ اپنا شکار کھائیں نہیں۔
دوسری شرط یہ ہے کہ جب شکاری کُتے کو چھوڑا جائے تو خدا کا نام لیا جائے ( وَ اذْکُرُوا اسْمَ اللَّہِ عَلَیْہِ ) آخر میں ان تمام احکام کا احترام کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے: خدا سے ڈرو کیونکہ وہ سریع الحساب ہے (وَ اتَّقُوا اللَّہَ إِنَّ اللَّہَ سَریعُ الْحِساب) ۔( سریع الحساب (جلدی حساب لینے والا) کی تشریح تفسیر نمونہ جلد دوم صفحہ ۴۵ (اُردو ترجمہ) پر گذر چکی ہے۔)
آج کے دن پاکیزہ چیزیں تمہارے لیے حلال ہو گئی ہیں (اور اسی طرح ) اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لیے حلال ہے نیز مسلمانوں میں پاک دامن عورتیں اور اہل کتاب میں سے پاک دامن عورتیں حلال ہیں جبکہ ان کا حق مہر ادا کر دو اور پاک دامن رہو نیز پوشیدہ طور پر اور غیر شرعی طریقے سے یاری نہ لگاؤ، اور جو شخص اس چیز سے کفر اختیار کرے کہ جس پر ایمان لانا چاہئے ، اس کے اعمال باطل اور بے اثر ہو جاتے ہیں اور آخرت میں وہ زیاں کاروں میں سے ہو گا۔
اہل کتاب کا کھانا کھانا اور ان میں شادی بیاہ کرنا
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
یہ آیت گذشتہ آیات کے مباحث کی تکمیل کرتی ہے، پہلے فرمایا: آج کے دن سے پاکیزہ چیزیں تمھارے لیے حلال ہوگئی ہیں اور اہل کتاب کے کھانے تمھارے لیے اور تمھارے کھانے ان کے لیے حلال ہیں (الْیَوْمَ اٴُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّباتُ وَ طَعامُ الَّذینَ اٴُوتُوا الْکِتابَ حِلٌّ لَکُمْ وَ طَعامُکُمْ حِلٌّ لَہُمْ) ۔ یہاں چند مطالب توجّہ طلب ہیں۔ ۱۔ ”الْیَوْمَ“ (آج کا دن) سے مراد بعض مفسّرین کے مطابق عرفہ کا دن ہے اور بعض اسے فتح خیبر کا دن کہتے ہیں لیکن بعید نہیں کہ یہ یوم غدیر ہو کہ جب اسلام کو کفار پر مکمل کامیابی حاصل ہوئی تھی( اس بات کی وضاحت ہم عنقریب کریں گے) ۔ ۲۔ طیبات تو اس دن سے پہلے بھی حلال تھے یہاں ان کی حلّت کا ذکر اہلِ کتاب کے کھانے کے بارے میں آنیوالے حکم کی تمہید کے طور پر ہے۔ ۳۔ اہل ِ کتاب کا طعام جسے آیت میں حلال قرار دیا گیا ہے اس سے کیا مراد ہے؟ اس سلسلے میں زیادہ تر مفسرین اور علماءِ اہلِ سنت کا نظریہ یہ ہے کہ اس میں ہر طرح کا کھانا شامل ہے، چاہے ان جانوروں کا گوشت ہو جو ان کے ہاتھ سے ذبح ہوئے ہوں۔ یا اس کے علاوہ کچھ ہو۔ لیکن شیعہ فقہاء اور مفسرین کی قطعی اکثریت کا یہ نظریہ ہے کہ اس سے مراد ان کے ہاتھوں ذبح شدہ جانوروں کے گوشت کے علاوہ ہے۔ چند شیعہ علماء پہلے نظریہ کے پیرو ہیں۔
آئمہ اہل بیت(علیهم السلام) سے منقول متعدد روایات بھی اس مطلب کی تائید کرتی ہیں کہ آیت میں طعام سے مراد اہلِ کتاب کے ذبیحہ کے علاوہ ہے۔ تفسیر علی بن ابراہیم میں امام صادق ؑ سے زیر نظر آیت کے بارے میں منقول ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا: ”عنی بطعامہم ہٰہنا الحبوب و الفاکہة غیر الذبائح التی یذبحون فانہم لا یذکرون اسم اللہ علیہا“
اہل کتاب کے طعام سے مراد دانے اور میوے ہیں نہ کہ ان کے ذبح کیے ہوئے جانور، کیونکہ وہ ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتے۔
( بحوالہ وسائل الشیعہ ، جلد ۱۶ صفحہ ۲۹۱۔)
دوسری متعدد روایات جو وسائل الشیعہ جلد ۱۶ ابواب اطعمہ و اشربہ کے باب ۵۱ صفحہ ۱،۲ پر مذکور ہیں نیز گذشتہ آیات میں وقت نظر سے معلوم ہوتاہے کہ اہلِ کتاب کے ذبح شدہ جانوروں کے علاوہ ان سے کھانا پینا حقیقت کے زیادہ نزدیک ہے، کیونکہ جیسا کہ امام صادق علیہ السلام نے مذکورہ روایت میں نشاندہی فرمائی ہے کہ اہل کتاب ذبح کرنے میں زیادہ تر اسلامی شرائط کو ملحوظ نہیں رکھتے نہ وہ خدا کا نام لیتے ہیں اور نہ جانور کو رو بقبلہ ذبح کرتے ہیں، اسی لیے باقی شرائط بھی پوری نہیں کرتے تو کیسے ممکن ہے کہ گذشتہ آیات میں تو ایسا جانور صریحاً حرام قرار دیا گیا ہو اور اس آیت میں اسے حلال شمار کرلیاگیاہو۔
یہاں چند سوالات سامنے آتے ہیں: پہلا سوال: اگر طعام سے مراد گوشت کے علاوہ دوسرے کھانے ہیں تو وہ تو پہلے بھی حلال تھے کیا اس آیت کے نزول سے قبل گندم اور ایسی دیگر اجناس اہلِ کتاب سے خرید نا ممنوع تھا، حالانکہ مسلمانوں اور ان کے در میان ہمیشہ کار و بار رہتا تھا ۔ آیت کی تفسیر میں ایک بنیادی نقطے کی طرف توجّہ کرنے سے اس سوال کا جواب مل جاتاہے اور وہ یہ کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب اسلام پورے جزیرہ ٴ عرب پر غالب آچکاتھا ۔ اور پورے جزیرةِ عرب میں اس کا وجود مسلّم ہوچکا تھا اب دشمنانِ اسلام مسلمانوں کو شکست دینے سے مایوس ہوچکے تھے اس موقع پر ان حد بندیوں کو برطرف کیا جانا چاہیے تھا جو پہلے کفار سے مسلمانوں کی معاشرت کے بارے میں تھیں، پہلے ان کے ہاں آنا جانا، انھیں مہمان بلانا، ان کے ہاں بطور مہمان جانا ممنوع تھا ۔ لہٰذا اس آیت نے بتایا کہ اب کے بعد جبکہ تم اپنی حیثیت اور مقام منوا چکے ہو اور ان سے تمھیں کوئی خطرہ نہیں رہا ان سے معاشرتی حد بندیوں میں کمی کر دی گئی ہے لہٰذا اب تم ان کے مہمان بن سکتے ہو اور انھیں بھے اپنے ہاں دعوت دے سکتے ہو اسی طرح ان میں شادی بھی کرسکتے ہو (لیکن ان سب امور کی اپنی اپنی شرائط ہیں جن کی طرف اشارہ کیا جائے گا) ۔
یہ بات بغیر کہے نہ رہ جائے کہ جو لوگ اہل کتاب کو پاک نہیں سمجھتے وہ کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ کھانا اس صورت میں کھایا جا سکتاہے جب غذا و غیرہ مرطوب نہ ہو یا مرطوب ہو تو ان کا ہاتھ اسے نہ لگاہو، لیکن ایسے محققین جو اہلِ کتاب کی طہارت کے قائل ہیں کہتے ہیں کہ اگر ان کا کھانا ان کے ذبیحہ سے تیار نہ کیا گیا ہو اور نجاست عرضی کا یقین بھی نہ ہو ( مثلاً شراب یا آب جو و غیرہ سے نجس نہ ہوا ہو) تو پھر ان کے ساتھ کھانا کھایا جاسکتاہے۔ خلاصہ یہ کہ زیر بحث آیت کا مقصد در اصل اہلِ کتاب سے معاشرت کے سلسلے میں گذشتہ حد بندیوں کو برطرف کرناہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ فرمایا گیا ہے کہ تمھارا کھانا بھی ان کے لیے حلال ہے یعنی انھیں اپنے ہاں مہمان بلانے میں بھی کوئی حرج نہیں نیز اس کے فوراً بعد اہل کتاب کی عورتوں سی شادی کرنے کے بارے میں بھی حکم بیان کیا گیاہے۔
یہ امر واضح ہے کہ ایک حکومت اپنے پیروکاروں کو ایسا حکم دے سکتی ہے جب وہ اپنے ماحول پر پوری طرح سے کنٹرول حاصل کرلے اور اسے دشمن کا کوئی خوف نہ رہے ایسی صُورتِ حال در اصل یوم غدیر پر پیدا ہوچکی تھی ۔ بعض کے نزدیک یہ حجة الوداع کا روزِ عرفہ تھا یا فتح خیبر کے بعد کا موقع تھا اگرچہ غدیر خم کا دن اس بات کیلیے ہر لحاظ سے زیادہ سازگار معلوم ہوتاہے۔
دوسرا سوال: جو تفسیر المنار میں زیر بحث آیت کی تفسیر کے ضمن میں آیاہے یہ ہے کہ صاحب تفسیر کے مطابق لفظ”طعام“ بہت سی قرآنی آیات میں ہر قسم کی غذا کے لیے آیاہے یہاں تک کہ گوشت بھی اس میں شامل ہے اب کیسے ممکن ہے کہ زیر بحث آیت میں اسے غلّات اور میوہ جات و غیرہ میں محدود کردیاجائے۔ موصوف اس کے بعد لکھتے ہیں کہ میں نے یہ اعتراض ایک ایسی مجلس میں پیش کیا جس میں کچھ شیعہ علماء بھی موجود تھے( اور کسی کے پاس اس کا جواب نہیں تھا) ۔
ہمارے نقطہ نظر کے مطابق اس اعتراض کا جواب بھی واضح ہے ہم اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ لفظ”طعام“ کا ایک وسیع مفہوم ہے لیکن گذشتہ آیات جن میں مختلف طرح کے گوشت کے بارے میں بحث ہے اور خصوصاً ان جانوروں کو حرام قراردیا گیا ہے جنھیں ذبح کرتے وقت خدا کا نام نہیں لیا گیا، وہ اسم وسیع مفہوم کی تخصیص کرتی ہیں اور اسے ایسے گوشت کے علاوہ میں محدود کردیتی ہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ ہر عام اور مطلق قابِل تخصیص ہے اور اسے بعض شرائط کا پابند کیا جاسکتاہے ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اہل کتاب ذبیحہ پر نامِ خدا لینے کے پابند نہیں ہیں اور اس کے علاوہ وہ دیگر شرائط کا بھی لحاظ نہیں رکھتے جو سنت سے ثابت ہیں۔ تیسرا سوال: کتاب کنز العرفان میں اس آیت کی تفسیر میں ایک اور اشکال کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ”طیبات“ کا ایک وسیع مفہوم ہے اور اصطلاح کے مطابق عام ہے لیکن ” طَعامُ الَّذینَ اٴُوتُوا الْکِتابَ “ خاص ہے اور عموماً عام کے بعد خاص کے ذکر میں کوئی نکتہ ہونا چاہیے مگر یہاں کوئی واضح نکتہ نہیں ہے اسکے بعد مصنّف اس اُمیّد کا اظہار کرتا ہے کہ خدا اس کی اس علمی مشکل کو حل کردے( بحوالہ کنز العرفان، جلد۲ صفحہ ۳۱۲)مندرجہ بالاسطور میں اس سلسلے میں جو کچھ بیان کیا جاچکاہے اسے پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس سوال کا جواب بھی معلوم ہوجاتا ہے اور وہ یہ کہ طیّبات کے حلال ہونے کا ذکر اہلِ کتاب سے میل جوں پر عائد پابندی ختم کرنے کے لیے مقدمہ و تمہید کے طور پر آیا ہے حقیقت میں آیت کہتی ہے کہ ہر پاکیزہ چیز تمھارے لیے حلال ہے اسی وجہ سے اہلِ کتاب کا (پاکیزہ) کھانا بھی تمھارے لیے حلال ہے اور ان سے معاشرت کے بارے میں جو پابندیاں پہلے عائد تھیں آج تمہیں میسر کا میابیوں کے باعث کم کردی گئی ہیں (غور کیجیے گا) ۔
غیر مسلم عورتوں سے شادی
اہل کتاب کے کھانے کی حلیت کا حکم دینے کے بعد آیت میں پاکدامن مسلمان اور پاکدامن اہلِ کتاب عورتوں سے شادی بیاہ کے بارے میں فرمایا گیاہے: تمھارے لیے مسلمان اور اہلِ کتاب پاکدامن عورتیں حلال ہیں اور تم ان سے شادی کرسکتے ہو بشرطیکہ ان کا حق مہر انھیں ادا کردو (وَ الْمُحْصَناتُ مِنَ الْمُؤْمِناتِ وَ الْمُحْصَناتُ مِنَ الَّذینَ اٴُوتُوا الْکِتابَ مِنْ قَبْلِکُمْ إِذا آتَیْتُمُوہُنَّ اٴُجُورَہُنَّ)اور یہ بھی شرط ہے کہ شادی مشروع اور جائز طریقے سے ہونہ کہ کُھلے بندوں زنا ہو یا مخفی طور پر یاری لگاتے پھرو(مُحْصِنینَ غَیْرَ مُسافِحینَ وَ لا مُتَّخِذی اٴَخْدانٍ ۔( جیسا کہ اس تفسیر کی جلد ۳ میں سورہ نساء کی آیت ۲۵ کے ذیل میں وضاحت کی جاچکی ہے کہ ”اخذان“، ”الخذن“ (بر وزن ”اذن“) سے دوست اور رفیق کے معنی میں ہے لیکن عام طور پر جنس مخالف سے غیر شرعی طور پر پوشیدہ دوستی کے لیے استعمال ہوتاہے)۔ در حقیقت آیت کا یہ حصّہ بھی غیر مسلم عورتوں سے مسلمانوں کی شادی بیاہ کے سلسلے میں پابندیوں میں کمی کے لیے ہے۔ اس میں اہلِ کتاب عورتوں سے مسلمان مردوں کی شادی کو مشروط طور پر جائز قرار دیا گیاہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ کیا اہلِ کتاب عورتوں سے ہر طرح کی دائمی و موقت شادی جائز ہے یا صرف ازدواج موقت یعنی متعہ جائز ہے فقہائے اسلام میں اس سلسلے میں اختلاف ہے علمائے اہل سنت ان دو طرح کی تزویج میں فرق کی قائل نہیں ان کا نظریہ ہے کہ مندرجہ بالا آتیں عمومیّت کی حامل ہے لیکن بعض شیعہ فقہاء کے نزدیک یہ آیت صرف موقت ازدواج کی اجازت دیتی ہے۔ آئمہ اہلِ بیت علیہم السلام سے منقول بعض روایات بھے اس نظرئیے کی تائید کرتی ہیں اور آیت میں بھی بعض ایسے قرائن موجود ہیں جنھیں اس نظریئے پر شاد ہد قرار دیا جاسکتاہے۔ پہلا قرینہ یہ ہے کہ فرمایا گیاہے: إِذا آتَیْتُمُوہُنَّ اٴُجُورَہُنّ… بشرطیکہ ان کی اُجرت انھیں ادا کرو… یہ درست ہے کہ ”اجر“ عقد دائمی اور عقد موقت دونوں کے حق مہرکے لیے استعمال ہوتاہے لیکن زیادہ تر ازدواج موقت کیلیے استعمال ہوتاہے یعنی زیادہ تر اسی سے مناسبت رکھتاہے۔ دوسرا قرینہ یہ ہے کہ فرمایا گیاہے :غَیْرَ مُسافِحینَ وَ لا مُتَّخِذی اٴَخْدان۔زنا اور پوشیدہ طور پر غیر شرعی یاری دوستی کے طور پر نہ ہو…-یہ تعبیر بھے موقت ازدواج سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے کیونکہ دائمی شادی زنا اور پوشیدہ دوستی سے کوئی مشابہت نہیں رکھتی کہ اس سے منع کیا جاتا لیکن بعض اوقات نادان اور بے خبر لوگ ازدواجِ موقت کو زنا یا پوشیدہ دوستی سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اس سب باتوں سے قطع نظریہ تعبیرات سورةِ نساء کی آیت ۲۵ میں دکھائی دیتی ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ وہ آیت ازدواجِ موقت کے بارے میں ہے۔
ان تمام امور کے با وجود بعض فقہا اہلِ کتب سے مطلق ازدواج کو جائز سمجھتے ہیں اور مذکورہ قرآئن کو آیت کی تخصیص کے لیے کافی نہیں سمجھتے اور اس سلسلے میں بعض روایات سے بھی استدلال کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں زیادہ تفصیل فقہی کتب میں دیکھی جاسکتی ہے۔
یہ بات بنا کہے نہ رہ جائے کہ آج جبکہ زمانہ جاہلیّت کی بہت سی رسمیں زندہ ہوچکی ہیں یہ نظریہ بھی وجود میں آچکاہے کہ غیر شادی شدہ افراد کیلیے عورت یا مرد سے دوستانہ تعلّقات میں نہ صرف مخفی صورت میں بلکہ کُھلے بندوں بھی کوئی حرج نہیں۔
در حقیقت آج کی دنیا نے گناہ اور جنسی بے راہ روی میں زمانہ جاہلیّت سے بھی قدم آگے بڑھالیا ہے کیونکہ اس دور میں تو مخفی تعلقات کو جائز سمجھا جاتا تھا لیکن آج علی الاعلان ایسی دوستی کو جائز قرار دیا جاتاہے یہاںتک کہ انتہائی بے شرمی سے اس پر فخر بھی کیاجاتاہے یہ رسوا کن رسم جو واضح اور شرمناک بدکاری ہے مغرب کی طرف سے مشرق کے لینے منحوس سوغات ہے۔ یہ بہت سی بدبختیوں اور جرائم کا سرچشمہ ہے۔
اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ اہل کتاب کے طعام کے بارے میں (مذکورہ شرائط کے ساتھ) اجازت دی گئی ہے کہ ان سے کھانا کھایا بھی جاسکتاہےاور انھیں کھلایا بھی جاسکتاہے، لیکن شادی بیاہ کے سلسلے میں صرف ان سے رشتہ لینا جائز ہے، مسلمان عورتوں کے لیے کسی طرح کوئی اجازت نہیں کہ وہ اہلِ کتاب کے مردوں سے شادی کریں۔ اس کا فلسفہ کہے بغیر واضح ہے کہ عورتیں نسبتاً نرم دل ہوتی ہیں اور ممکن ہے کہ برخلاف مرد کے عورت بہت جلد اپنے شوہر کا عقیدہ قبول کرلے۔ مندرجہ بالا سہولتیں جو کہ اہلِ کتاب سے معاشرت اور ان کی عورتوں سے ازدواج کرنے۔ کے بارے میں ہیں جن سے ممکن ہے کہ بعض لوگ غلط فائدہ اٹھائیں اور شعوری یا غیر شعوری طور پر ان کی طرف کھنچے چلے جائیں، لہٰذا آیت کے آخر میں مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ جو شخص ان چیزوں سے کفر اختیار کرے کہ جن پر ایمان لانا چاہیے اور مؤمنین کا راستہ چھوڑ کر کفّار کی راہ اختیار کرلے اس کے اعمال برباد ہوجائیں گے اور آخرت میں وہ زیاں کاروں میں سے ہوگا وَ مَنْ یَکْفُرْ بِالْإیمانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہُ وَ ہُوَ فِی الْآخِرَةِ مِنَ الْخاسِرینَ) ۔
یہ اس طرف اشارہ ہے کہ مذکورہ سہولتیں تمام تمھارے زندگی کی کشائش و آرام کے علاوہ اس چیز کا باعث بننا چاہیں کہ تم ان بے گانوں میں اثر و نفوذ پیدا کر و نہ یہ کہ تم ان کے زیر اثر ہوجاؤ اور اپنے دین سے دستبردار ہوجاؤ، کیونکہ اس صُورت میں تمھارے سزا بہت سخت ہوگی ۔( - حبط اور احباط کے لیے تفسیر نمونہ جلد دوم سورہٴ قرہ آیة ۲۱۷ کے ذیل میں ص ۶۶(اردو ترجمہ) کی طرف رجوع کریں) ۔ آیت کے اس حِصّے کی تفسیر کے سلسلے میں چند روایات اور مذکورہ شانِ نزول کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ احتمال بھی ہے کہ اس آیت کے نزول اور اہلِ کتاب کے ساتھ کھانے اور ان کی عورتوں کی حلیّت کے بعد بھی بعض مسلمان اسے ناپسند کرتے تھے لہٰذا قرآن نے انھیں تنبیہ کی کہ اگر انھیں خدا کے نازل کردہ احکام پر اعتراض ہے اور وہ اس کا انکار کرتے ہیں تو ان کے اعمال برباد ہوجائیں گے اور وہ خسارے میں رہیں گے۔
اے ایمان والو ! جب تم نماز کے لئے اٹھ کھڑے ہو تو اپنے چہرے ااور ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لو اور سر اور پاؤں کا مفصل ( یا ابھری ہوئی جگہ تک )مسح کرو اور اگر حالت جنب میں ہو تو غسل کرو اور اگر بیمار ہو یا مسافر ہو تم میں سے کوئی (قضائے حاجت )کی پست جگہ سے آیا ہے یاعورتوں سے مباشرت کے لئے لمس کیا ہو اور غسل یا وضو کے لئے پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرو اور اس مٹی سے چہرے کے اوپر پیشانی پر اور ہاتھوں پر مسح کرو خدا نہیں چاہتا کہ تمہارے لیے مشکل پیدا کرے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر تمام کرے شاید تم اس کا شکر ادا کرو۔
جسم اور رُوح کی پاکیزگی
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ آیات میں جسمانی پاکیزگی اور مادی نعمات کے بارے میں بحثیں تھیں۔ زیر نظر آیت میں روحانی پاکیزگی سے متعلق گفتگو ہے اس میں ان امور کا تذکرہ ہے جو روحانی طہارت کا باعث ہیں۔ اس میں وضو، غسل اور تیمم کے احکام ہیں اور روح کی صفائی کا باعث ہیں پہلے تو اہل ایمان سے خطاب کرتے ہوئے احکامِ وضو بیان کیے گئے ہیں: اے ایمان والو! جب نماز کے لیے کھڑے (آئمہ اہل بیت علیہم السلام سے منقول متعدد روایات میں ہے کہ قمتم (تم کھڑے ہو) سے مراد ہے نیند سے اٹھنا ۔ آیت کے مشتملات اور تمام حصوں پر غور کرنے سے بھی اس معنی کی تائید ہوتی ہے کیونکہ بعد میں تیمم کا حکم بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے؛ اوجاء احد منکم من الغائط (یا کوئی تم میں سے قضائے حاجت سے لوٹے) ۔اگر آیت کا خطاب اصطلاحاً بے وضو افراد سے ہوتا تو اس جُملے کا عطف اور وہ بھی ”او“ کے ذریعے آیت کے ظاہری مفہوم سے مناسبت نہیں رکھتا تھا کیونکہ وہ بھی بے وضو کے عنوان میں داخل ہے لیکن اگر آیت کے آغاز میں خطاب نیند سے اٹھنے والے لوگوں سے ہے اور اصطلاح کے مطابق صرف نیند کا حدث بیان کیاگیاہے تو پھر اس جملے کا مفہوم بھی مکمل ہوگا (غور کیجیے)ہوجاؤ، آئمہ ۔ تو اپنے چہرے اور ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوؤ اور سرکے ایک ایک حِصّے کا اور اسی طرح پاؤں کا مفصل (یا ابھری ہوئی جگہ تک) مسح کرو (يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا قُمۡتُمۡ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ فَٱغۡسِلُواْ وُجُوهَكُمۡ وَأَيۡدِيَكُمۡ إِلَى ٱلۡمَرَافِقِ وَٱمۡسَحُواْ بِرُءُوسِكُمۡ وَأَرۡجُلَكُمۡ إِلَى ٱلۡكَعۡبَيۡنِۚ ) ۔ آیت میں وضو میں دھونے کے لیے چہرے کی حُدود کا ذکر نہیں، لیکن روایات ِ اہلِ بیت(علیه السلام) میں رسول اللہ کے وضو کرنیکا طریقہ تفصیل سے بیان کیا گیاہے۔
1-لمبائی میں چہرے کی حدبالوں کے اگنے سے لیکر ٹھوڑی تک ہے اور چوڑائی میں وہ حصہ جو درمیانی انگلی اور انگوٹھے کے درمیان آ جائے ،
در اصل یہ ”وجہ“ (چہرے) کے اس معنی کی وضاحت ہے جو عرف عام میں اس سے سمجھا جاتا ہے کیونکہ وجہ (چہرہ) وہی حِصّہ ہے جس کا انسان سے ملتے ہی”مواجہ“ (سامنا) ہوتاہے۔ ۲۔ ہاتھ کی حد جو وضو میں دھوئی جانی چاہیے کہنی تک بیان ہوئی ہے کیونکہ ”مرفق“ کی جمع ہے جس کا معنی ہے ”کہنی“۔ جب کہا جائے کہ ہاتھ دھولو تو ممکن ہے ذہن میں یہ آئے کہ انھیں کلائی تک دھونا ہے کیونکہ عام طور پر یہی مقدار دھوئی جاتی ہے اس وہم کو دور کرنے کے لیے فرمایا گیاہے: کہنیوں تک دھوؤ (الی المرافق) اس سے واضح ہوجاتاہے کہ ”الٰی“ اس آیت میں فقط دھونے کی حد بیان کرنے کے لیے ہے نہ کہ کیفیت بیان کرنے کے لیے جیسا کہ بعض کو اس سے یہی گمان ہوا ہے ان کا خیال ہے کہ آیت کہتی ہے کہ ہاتھ کو انگلیوں کے سروں سے لے کر کہنی تک دھونا چاہیے (جیسا کہ اہل سنت کے ایک طبقے میں رائج ہے) ۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ یہ بالکل اس طرح ہے کہ انسان کسی کا دیگر سے کہے کہ کمرے کی دیوار کو نیچے سے لے کر ایک میڑ اوپر تک رنگ کردو تو واضح ہے کہ مقصد یہ نہیں کہ دیوار کو نیچے سے اوپر کی طرف رنگ کرو بلکہ مراد یہ ہے کہ اتنی مقدار کو رنگ کرو اس سے زیادہ یا کم نہ ہو، اس لیے یہاں آیت میں بھی صرف ہاتھ کی وہ مقدار مقصود ہے جسے دھوناچاہیے۔ رہی ایسی کیفیت تو وہ سنتِ پیغمبرؐ میں ہے جو ان کے اہل بیت(علیه السلام) کے وسیلے سے ہم تک پہنچی ہے اس کے مطابق کہنیوں سے لے کرانگلیوں کے سروں تک دھونا چاہیے۔ توجہ رہے کہ کہنی کو بھی وضو میں ساتھ دھونا چاہیے کیونکہ ایسے مواقع پر اصطلاح کے مطابق”غایت مغیا میں داخل ہے“ یعنی حد بھی حکم محدود میں شامل ہے
(سیبویہ عربی لغت کا مشہول ماہر اور علم نحو کا عالم تھا وہ کہتاہے کہ جہاں کہیں لفظ ”الی“ کا مابعد اور ماقبل ایک جنس سے ہوں تو ما بعد قبل کے حکم میں ہوتاہے اور اگر وہ جنسوں سے ہوں تو پھر خارج ہوتاہے( مثلاً اگر کہا جائے کہ دن کی آخری گھڑی تک روزہ رکھو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آخری گھڑی میں بھی روزہ رکھو اور اگر کہاجائے کہ ابتدائے رات تک روزہ رکھو تو اس کا معنی یہ ہے کہ ابتدائے رات حکم میں داخل نہیں ہے ۔( بحوالہ المنارج۶ ص۲۲۳)
3۔ کلمہٴ ”ب“ جو ”برء وسکم“میں ہے بعض روایات کے مطابق اور بعض اہلِ لغت کی تصریح کے مطابق تبعیض کے لیے ہے یعنی کچھ حِصّے کے مفہوم میں ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ سرکے کچھ حِصّے کا مسح کرو جسے ہماری اصطلاح میں سرکے اگلے حِصّے سے محدود کیا گیا ہے اور اس کے لیے سرکے چوتھائی یا کچھ کم حِصّے پر ہاتھ سے مسح کیاجاتاہے اس لیے جو اہل سنت کے بعض گروہوں میں مروّج ہے کہ وہ پورے سرکا یہاں تک کہ کانوں کا بھی مسح کرتے ہیں وہ آیت کے مفہوم سے مناسبت نہیں رکھتا ۔ ۴۔ ”ارجلکم“”برء وسکم“کے ہم پہلو آیاہے یہ اس بات پر شاہد ہے کہ پاؤں کا بھی مسح کیاجائے نہ کہ اسے دھو یا جائے۔ ”ارجلکم“کی لام پر زبر اس وجہ سے ہے کہ اس کا عطف ”برء وسکم“کے ساتھ ہے نہ کہ یہ ”وجوہکم “ پر عطف ہے۔ ( اس میں شک نہیں کہ ”وجوہکم “اور”ارجلکم“ میں بہت فاصلہ ہے لہٰذا اس پر عطف کرنا بہت بعید نظر آتاہے۔ علاوہ ازیں بہت سے قاریوں نے ’ارجلکم“ کو امام کی زیر کے ساتھ پڑھاہے) ۵۔ ”کعب“ نعت میں پاؤں کے اوپر کی ابھری ہوئی جگہ اور مفصل کے معنی میں آیاہے یعنی وہ مقام جہاں پاؤں کی بڈی سے پنڈلی کہ ہڈی مل جاتی ہے۔( قاموس میں ”کعب“ کے تین معنی مذکور ہیں۔ ۱۔ پشت پاکی ابھری ہوئی جگہ۔
۲۔ مفصل اور ۳۔ ٹخنے جو پاؤں کے دو طرف ہیں لیکن صفت میں جو وضاحت کی گئی ہے اس میں یہ بات مسلّم ہے کہ اس سے ٹخنے مراد نہیں، لیکن اس بات میں فقہا میں اتفاق نہیں کہ آیا یہ پاؤں پر کی ابھری ہوئی جگہ ہے یا پاؤں اور پنڈلی کا جوڑ (مفصل) بہرحال احتیاط یہی ہے کہ جوڑتک ہی مسح کیاجائے۔)
اس کے بعد غسل کے بارے میں حکم ہے ، فرمایا گیاہے: اگر مجنب ہو تو غسل کرو ( و ان کنتم جنباً فاطہروا)واضح ہے کہ ”فاطہروا“سے مراد پورے جسم کا دھونا ہے کیونکہ اگر کسی مخصوص حصِّے کا دھونا مطلوب ہوتا تو اس کا نام لیا جانا ضروری تھا اس لیے جب یہ فرماتاہے کہ اپنے آپ کو دھولو تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ سارے بدن کو دھولو۔ اس کی نظیر سُورةِ نساء آیة ۴۳ میں بھی موجود ہے، جہاں فرمایاگیاہے: حتی تغتسلوا
جیسا کہ تفسیر نمونہ جلد ۲ میں سُورةِ نسآء آیة ۴۳ کے ضمن میں نشاندہی کی جاچکی ہے کہ لفظ ”جنب“ مصدر ہے جو اسم فاعل کے معنی میں آیاہے در اصل اس کا مطلب ہے"دور ہونے والا" اس کی وجہ یہ ہے کہ مجنب کو اس حالت میں نماز کی ادائیگی، مسجد میں توقف اور اس طرح کے دیگر کاموں سے دوری اختیار کرنا چاہیے۔ اور لفظ ”جنب“ مفرد، جمع، مذکر اور مونث سب کے لیے بولاجاتاہے”جار جنب“ کا اطلاق دور کے ہمسایوں پر بھی اسی مناسبت سے ہے۔ قرآن مندرجہ بالا آیت میں کہتاہے: نماز کے وقت مجنب ہوجاؤ تو غسل کرو، ممکن ہے اس سے یہ بھی اخذ کیاجاسکے کہ غسلِ جنابت، وضو کا بھی جانشین ہے۔ اس کے بعد تیمم کا حکم بیان کیاگیاہے: اگر نیندسے اُٹھے ہو اور نماز کا ارادہ رکھتے ہو اور بیمار یا مسافر ہو یا قضائے حاجت سے لوٹے ہو یا عورتوں سے جنبی ملاپ کرچکے ہو اور پانی تک تمھارے رسائی نہیں ہے تو پاک مٹی سے تیمم کرلو (وَإِن كُنتُم مَّرۡضَىٰٓ أَوۡ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوۡ جَآءَ أَحَد مِّنكُم مِّنَ ٱلۡغَآئِطِ أَوۡ لَٰمَسۡتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَلَمۡ تَجِدُواْ مَآءٗ فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدٗا طَيِّبٗا) ۔ یہ نکتہ قابلِ توجہ ہے کہ ” أَوۡ جَآءَ أَحَد مِّنكُم مِّنَ ٱلۡغَآئِطِ “ اور ” أَوۡ لَٰمَسۡتُمُ ٱلنِّسَآءَ “کا عطف جیسا کہ اشارہ کیاجاچکا ہے آیت کی ابتداء یعنی ” إِذَا قُمۡتُمۡ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ “پر ہے ۔ حقیقت میں آیت کی ابتداء میں نیند کے مسئلے کی طرف اشارہ ہے اور آیت کے ذیل میں دو مزید چیزوں کی طرف اشارہ ہواہے کہ جو وضو یا غسل کا سبب بنتی ہیں اگر ان دونوں جملوں کا عطف ”علی سفر“پر کریں تو آیت میں کئی ایک اشکالات پیدا ہوں گے مثلاً قضائے حاجت سے لوٹنا ، بیماری اور مسافرت کے مقابل پر نہیں ہوسکتا لہٰذا ہم مجبور ہیں کہ ”اور“ کو ”واو“ کے معنی میں لیں (جیسا کہ بہت سے مفسرین نہ کہا ہے) اور یہ ظاہر کے بالکل خلاف ہے علاوہ ازیں یہ اشکال بھی ہے کہ وضو واجب کرنے والے امور میں سے صرف قضائے حاجت کا ذکر کرنا اس صورت میں بلا وجہ ہوگا، اگر اس طرح سے ہو جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں تو ان دونوں میں سے کوئی اعتراض لاحق نہ ہوگا(غور کیجیے گا) ۔ (بہت سے مفسرین کی طرح اگر چہ ہم بھی جلد ۳ میں نساء ۴۳ میں ”اور“ کو واو کے معنی میں ذکر کرچکے ہیں لیکن جو کچھ بیان کیاگیا ہے وہ زیادہ قرینِ نظر ہے) ۔
دوسری قابلِ توجہ یہ بات یہ ہے کہ اس آیت میں مسئلہ جنابت کا دو مرتبہ ذکر آیاہے ممکن ہے یہ تاکید کے لیے ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ ”جنب“ جنابت اور نیند میں احتلام کے معنی میں ہو اور ” أَوۡ لَٰمَسۡتُمُ ٱلنِّسَآءَ “ سے جنبی ملاپ والی جنابت سے کنایہ ہو نیز اگر ”قیام“ سے مراد ”نیند سے اٹھنا“ لیا جائے جیسا کہ روایات اہل بیت(علیه السلام) میں ہے اور محود آیت میں اس کا قرینہ موجود ہے تو یہ خود مسئلہ جنابت کے بارے میں کی گئی تفسیر پر شاہد ہوگا(غور کیجیے گا) ۔
اس کے بعد تیمم کا طریقہ بیان کیاگیاہے: اس کے ذریعے اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کرو (فَٱمۡسَحُواْ بِوُجُوهِكُمۡ وَأَيۡدِيكُم مِّنۡهُۚ) ۔ واضح ہے کہ یہاں یہ مراد نہیں کہ کچھ مٹی اٹھا لیں اور اسے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مل لیں بلکہ مراد یہ ہے کہ پاک مٹی پر ہاتھ مارنے کے بعد چہرے اور ہاتھوں کا مسح کریں، لیکن بعض فقہاء نے لفظ ”منہ“ کی وجہ سے کہاہے کہ چاہے تھوڑا سا ہی کیوں نہ ہو غبار ہاتھ پر لگا ہونا چاہیے۔
( احکام تیمم اور اس اسلامی حکم کا فلسفہ، اور یہ کہ ایسا کرنا نہ صرف صحت کے منافی نہیں بلکہ صحّت مندی کا پہلو رکھتا ہے، اسی طرح لفظ ”غائط“ کا مفہوم اور اس طرح کے دیگر مسائل کی تفصیل کے لیے تفسیر نمونہ جلد ۳ سورہٴ نسآء کی آیت ۴۳ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں)۔ اب ”صَعیداً طَیِّباً“ کی تفسیر باقی رہ گئی ہے بہت سے علما ء ِ لغت نے ”صَعید“کے دو معانی ذکر کیے ہیں ایک مٹی اور دوسرا وہ چیزیں جنھوں نے کرہ ارض کی سطح کو ڈھانپ رکھاہے چاہے وہ مٹی ہو، ریت ہو یا پتھر و غیرہ۔ یہی بات فقہاء میں اس اختلاف نظر کا باعث بن گئی ہے کہ تیمم کس چیز پر جائز ہے، کیا صرف مٹی پر تیمم جائز ہے یا پتھر اور سنگریزوں پر بھی ہوجاتاہے لیکن ”صَعید“کے اصل لغوی معنی کی طرف توجہ کرتے ہوئے یعنی "صعود اور اوپر ہونا" دوسرا مفہوم ہی زیادہ قرین ذہن ہے۔
"طیب" ایسی چیزوں کو کہا جاتاہے جو انسان کی طبیعت اور مزاج کے موافق ہوں، قرآن میں یہ لفظ بہت سی چیزوں کے ساتھ استعمال ہواہے، مثلاً: البلد الطیب، مساکن طیبة، ریح طیب، حیاة طیبة، و غیرہ۔ ہر پاکیزہ چیز کو بھی طیّب کہتے ہیں کیونکہ انسان کی طبیعت ذاتی طور پر ناپاک چیزوں سے نفرت کرتی ہے یہاں سے واضح ہوجاتا ہے کہ تیمم کی مٹی پاک پاکیزہ ہونا چاہیے۔ ہادیانِ اسلام سے منقول روایات میں خصوصاً اس بات کا تذکرہ ہے، ایک روایت میں ہے:
نہی امیر المؤمنین ان تیمم الرجل بتراب من اثر الطریق۔
یعنی ـــــــــــ حضرت امیر المؤمنین (علیه السلام) نے گندی مٹی سے جو سڑکوں پر پڑی ہوتی ہے، تیمم کرنے سے منع فرمایاہے۔
(بحوالہ وسائل الشیعہ ج۲ صفحہ ۹۶۹ ۔)
توجہ رہے کہ قرآن و حدیث میں توتیمم اسی مخصوص اسلامی ذمہ داری کے مفہوم میں آیاہے جس کی وضاحت کی جاچکی ہے لیکن لغت میں اس کا معنی ہے”قصد کرنا“ در حقیقت قرآن کہتاہے کہ جب تیمم کرنا چاہو تو زمین کے کسی پاک حِصّے کا قصد کرو یعنی تیمم کے لیے زمین میں سے مختلف حصوں میں سے ایسا حِصّہ منتخب کرو جو ”صعید“ کے مفہوم سے ہم آہنگ ہو جو ”صعود“ کے مادہ سے ہے زمین کے اوپر والا حصّہ جہاں بارش پڑتی ہو، سورج کی روشنی پڑتی ہو اور جس سے ہوائیں ٹکراتی ہوں ایسی مٹی جو ہاتھوں اور پاؤں سے روندی نہیں جاتی، ایسی مٹی سے استفادہ نہ صرف صحّت کے لیے مضر نہیں بلکہ جیسا کہ ہم تیسری جلد میں سورہٴ ِ نساء کی آیت ۴۳ کے ضمن میں بیان کرچکے ہیں، سائنس وانوں کی گواہی کے مطابق جراثیم کش اثرات کا بھی حامل ہے۔
وضو اور تیمم کا فلسفہ
تیمم کے فلسفے کے بارے میں تو تیسری جلد میں کافی بحث ہوچکی ہے۔ باقی رہا وضو کا فلسفہ تو اس میں شک نہیں کہ وضو میں دو واضح فائدے ہیں: ایک فائدہ صحت کے حوالے سے ہے اور دوسرا فائدہ اخلاقی اور روحانی اعتبار سے ہے۔ صحت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ایک دن میں پانچ مرتبہ یا کم از کم تین مرتبہ چہرے اور ہاتھوں کا دھونا، بدن کی نظافت اور پاکیزگی میں اہم کردار ادا کرتاہے۔ سراور پاؤں کے مسح کی شرط کہ جس میں ضروری ہے کہ پانی بالوں یا بدن کے چمڑے کو مَس کرے ،بھی اس چیز کا سبب بنتاہے کہ یہ اعضاء بھی پاک صاف رکھے جائیں اور جیسا کہ غسل کے فلسفہ میں ہم واضح کریں گے، پانی کا بدن کے چمڑے کو مس کرنا سمپاتھیٹک (sympathetic)اور پیرا سمپاتھیٹک(parasympathetic)اعصاب معتدل رکھنے میں بہت مؤثر ہے۔
اخلاقی و روحانی حوالے سے دیکھا جائے تو چونکہ یہ کام قصدِ قربت سے اور خدا کے لیے کیا جاتاہے لہٰذا تربیتی اثرات کا حامل ہے خصوصاً جب کہ کنایةً اس کا مفہوم یہ ہے کہ میں سر سے لے کر پاؤں تک تیری اطاعت کے لیے حاضر ہوں۔ اس اخلاقی اور معنوی پہلو کی مؤید وہ روایت ہے جو امام علی بن موسٰی رضا علیہما السلام سے منقول ہے، آپ (علیه السلام) نے فرمایا:
انما امر الوضوء و بدء بہ لان یکون العبد طاہراً اذا قام بین یدی الجبار، عند مناجاتہ ایاہ، مطیعاً لہ فیما امرہ، تقیًا من الادناس و النجاسة، مع ما فیہ من ذہاب الکسل، و طرد النعاس و تزکیة الفؤاد للقیام بین یدی الجبار۔ و ضو کا حکم اس لیے دیا گیا ہے اور عبادت کی ابتداء اس سے اس لیے کی گئی ہے تا کہ بندے جب بارگاہ الٰہی میں کھڑے ہوں اور مناجات کریں تو پاک و پاکیزہ ہوں، اس کے احکام پر کار بند رہیں اور آلودگیوں اور نجاستوں سے دور رہیں۔ اس کے علاوہ وضو کے سبب سے نیند اور سُستی کے اثرات انسان سے دور ہوجاتے ہیں نیز یہ اس لیے ہے تا کہ دل درگاہِ خداوندی میں کھڑے ہونے کے لیے روشنی اور پاکیزگی حاصل کرلے۔
( بحوالہ وسائل الشیعہ جلد ۱ صفحہ 257)۔
غُسل کا فلسفہ
بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ حالت جنب کے لیے اسلام غسل کا حکم کیوں دیتاہے جبکہ ایک خاص حصّہ آلودہ ہوتاہے۔ پیشاب کرنے اور مَنی خارج ہونے میں کیا فرق ہے؟ جب کہ ایک میں تو فقط اس جگہ کو دھونے کا حکم ہے اور دوسرے میں سارے بدن کو دھونے کا ۔ اس سوال کا ایک جواب اجمالی ہے اور دوسرا تفصیلی ۔ اجمالی جواب یہ ہے کہ اخراج منی پیشاب اور دیگر فضلات کی طرح کسی ایک حِصّے کا عمل نہیں ہے کیونکہ اس کا اثر سارے بدن پر ہوتاہے۔ بدن کے تمام خلیے اس کے اخراج کے بعد ایک خاص سُستی میں ڈوب جاتے ہیں جو کہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ کام سارے بدن کے اعضاء پر اثر انداز ہوتاہے اس کی وضاحت کچھ یوں ہے: سائنس دانوں اور ڈاکٹروں کی تحقیق کے مطابق انسانی جسم میں نباتی اعصاب کے دو سلسلے ہیں جو بدن کی تمام فعالیت کو کنٹرول کرتے ہیں ایک سمپاتھیٹک اور دوسرا پیرا سمپاتھیٹک
سارے انسانی بدن میں اور اس کی مشینریوں میں یہ سلسلے پھیلے ہوئے ہیں۔ سمپاتھیٹک (sympathetic) اعصاب کی ذمہ داری ہے ”تیز کرنا“ اور بدن مختلف مشینریوں کو فعالیت پرا بھار نا اور پیرا سمپاتھیٹک(parasympathetic)کا کام ہے ان کی فعالیت کو سست کرنا۔ در حقیقت ان میں ایک گاڑی کے لیے گیس یا پٹرول کی حیثیت رکھتاہے اور دوسرا بر یک کا کام کرتا ہے ان دو طرح کے نباتی اعصاب کی فعالیت کے اعتدال سے جسم کا کارخانہ معتدل طور پر کام کرتا رہتاہے۔ بعض اوقات انسانی بدن میں اس طرح کے حوادث نمودار ہوتے ہیں جو اس اعتدال کو درہم برہم کردیتے ہیں ۔ جنسی لذّت کا عروج پر پہنچنا(climax) بھی ایسے حوادث میں سے ہے جو عام طور پر منی کے اخراج کی صورت میں ظہور پذیر ہوتاہے اس موقع پر پیرا سمپاتھیٹک(parasympathetic) کا سلسلہ سمپاتھیٹک (sympathetic) اعصاب پر سبقت حاصل کرلیتاہے اور اعتدال منفی شکل میں بدل جاتاہے۔
یہ بات بھی ثابت شدہ ہے کہ سمپاتھیٹک(sympathetic) اعصاب کو کام پر ا بھار نے اور بدن کے اعتدال کو واپس لانے کے لیے بدن سے پانی کا مَس کرنا بھی مؤثر ہے اور چونکہ جنسی لذت کا عروج (climax)تمام اعضائے بدن پر حسی طور پر اثر انداز ہوتاہے اور اعصاب کے ان دونوں سلسلوں کا اعتدال سارے بدن میں ٹوٹ جاتاہے لہٰذا حکم دیا گیاہے کہ جنسی ملاپ یا اخراج منی کے بعد سارے بدن کو پانی سے دھویا جائے تا کہ اس کا حیات بخش اثر پورے جسم میں اعصاب کے اعتدال کے بحالی کی صورت میں ظاہر ہو۔ امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے منقول ہے، آپ(علیه السلام) نے فرمایا:
ان الجنابةخارجة من کل جسد فلذٰلک وجب علیہ تطہیر جسدہ کلہ
جنابت سارے بدن سے خارج ہوتی ہے لہٰذا پورے بدن کو دھویا جائے۔ (وسائل الشیعہ ج۱ ص۴۶۶یہ روایت بھی گویا اسی امر کی طرف اشارہ ہے۔) البتہ غسل کا بس یہی فائدہ نہیں بلکہ یہ غسل ایک طرح کی عبادت بھی ہے جس کے اخلاقی اثرات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا اسی لیے قصد قربت اور فرمانِ خدا کی اطاعت کی نیّت بغیر ایسا غسل صحیح نہیں ہے۔ در حقیقت جنسی ملاپ اور اخراج منی کے وقت روح بھی متاثر ہوتی ہے اور جسم بھی ۔ روح مادی شہوات کی طرف کھینچتی ہے اور جسم سستی کا شکار ہوتاہے۔ جسم کو چونکہ قصد قربت سے دھویا جاتاہے لہٰذا یہ ایک طرح سے غُسل روح بھی ہے۔ اس طرح سے روح خدا اور معنویت کی طرف مائل ہوتی ہے اور جسم پاکیزگی، نشاط اور فعالیت کی طرف۔
ان تمام باتوں سے قطع نظر، زندگی بھر غسلِ جنابت کا وجوب بدن کی نگہداشت اور صحت کی حفاظت کے لیے ایک لازمی اور ضروری اسلامی حکم ہے۔ کیونکہ بہت سے ایسے لوگ ہیں جو اپنی نظافت اور سُتھرائی سے غافل رہتے ہیں لیکن یہ اسلامی حکم مختلف وقتی فاصلوں پر انھیں نہانے اور بدن کو پاک رکھنے پر ابھارتاہے۔ یہ امر گذشتہ زمانے کے لوگوں سے ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ خود ہمارے زمانے میں بھی ایسے بہت سے لوگ ہیں جو جسم کی نظافت اور صفائی سے مختلف وجوہ کی بناپر غافل رہتے ہیں (البتہ یہ حکم کُلی اور عمومی ہے یہاں تک کہ اس شخص کے لیے بھی ہے جس نے ابھی تازہ غسل کیاہے)۔ مذکورہ بالا تینوں وجہ مجموعی طور پر واضح کرتی ہیں کہ نیند یا بیداری کی حالت میں اخراج منی اور جنسی ملاپ کی صورت میں اگرچہ منی خارج نہ ہو سارے بدن کو کیوں لازمی طور پر دھونا چاہیے۔
آیت کے آخر میں یہ بات واضح کرنے کے لیے کہ مذکورہ احکام میں کوئی سختی نہیں ہے بلکہ وہ سارے احکام مصلحتوں اور حکمتوں کی بناپر نافذ کیے گئے ہیں، فرمایا گیاہے: خدا نہیں چاہتا کہ تمھیں مشقت اور زحمت میں ڈال دے بلکہ وہ چاہتاہے کہ تمھیں پاک و پاکیزہ رکھے اور اپنی نعمت تم پر تمام کردے تا کہ تم اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو(ما یُریدُ اللَّہُ لِیَجْعَلَ عَلَیْکُمْ مِنْ حَرَجٍ وَ لکِنْ یُریدُ لِیُطَہِّرَکُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَہُ عَلَیْکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ)
در اصل اس جملے میں اس حقیقت کی تاکید کی گئی ہے کہ تمام خدائی احکام اور اسلامی پروگرام لوگوں کی خاطر اور انہی کے فائدے میں ہیں اور ان سے کچھ اور مقصود نہیں، خدا چاہتاہے کہ ان احکام کے ذریعے لوگوں کو روحانی اور جسمانی طور پر پاکیزہ رکھے۔
ضمناً اس طرف بھی توجہ رہے کہ خدا نہیں چاہتا کہ تمھارے دوش پر کوئی طاقت فرسا اور مشکل ذمہ داری ڈال دے یہ بات اگرچہ غسل، وضو اور تیمم سے مربوط احکام کے ضمن میں آئی ہے لیکن یہ ایک عمومی قانونی بھی بیان کررہی ہے کہ احکام الٰہی کسی موقع پر بھی طاقت فرسا اور قُوّت سے بڑھ کر نہیں ہیں۔ اس لیے جب کوئی حکم یا ذمہ داری کسی کے لیے سخت مشکل اور ناقابل برداشت ہوجائے تو اس کے پیشِ نظر وہ اس سے ساقط ہو جاتی ہے۔ مثلاً اگر کسی بوڑھے مرد یا بوڑھی عورت کے لیے روزہ رکھنا باعثِ مشقت ہوجائے تو اسی آیت کی بناپر ان پر واجب نہیں رہتا ۔ یہ بات فراموش نہیں کی جانی چاہیے کہ بعض احکام ذاتی طور پر مشکل ہیں اور اہم مقاصد اور مصلحتوں کے پیش نظر ایسی مشکلات کو برداشت کرنا چاہیے۔ مثلاً دشمنانِ حق کے خلاف جہاد ۔ اس آیت سے فِقہ اسلام میں ایک بنیادی اصول ”قاعدہ لاحرج--“ حاصل کیا گیاہے اور فقہاء بہت سے مواقع پر احکام کے استنباط میں اس سے استناد کرتے ہیں۔
اپنے اوپر خدا کی نعمت کو یاد کرو اور اس عہد و پیمان کو بھی یاد کرو جو اس نے تم سے لیا ہے اس وقت جب تم نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی اور خدا کی نا فرمانی سے ڈرو کیونکہ خدا سینوں کے اندر کے حالات سے آگاہ ہے۔
خدا سے باندھے گئے پیمان
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ آیت میں چند احکامِ اسلامی اور نعماتِ الٰہی کی تکمیل کا ذکر تھا ۔ اسی بحث کی مناسبت سے اس آیت میں مسلمانوں کو دوبارہ خدا کی لا متناہی نعمات کی اہمیّت کی طرف توجّہ دلائی گئی ہے ان نعمات میں سب سے اہم ایمان، اسلام اور ہدایت کی نعمت ہے، ارشاد فرمایا گیاہے: خدا کی نعمتوں کو یاد رکھو(وَٱذۡكُرُواْ نِعۡمَةَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ)یہاں لفظ ”نعمت“ مفرد صورت میں ہے لیکن یہ جنس کے معنی میں ہے اور جنس یہاں عمومیّت کا مفہوم رکھتی ہے لہٰذا اس سے مراد تمام تر نعمتیں ہیں۔
البتہ یہ احتمال بھی ہے کہ خصوصیّت سے یہاں نعمتِ اسلام مراد ہو جس کی طرف گذشتہ آیت میں اشارہ کیا گیا ہے، جہاں فرمایا گیاہے: وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَہُ عَلَیْکُمْ ـــــــــ اور اس سے بڑھ کر کون سی نعمت ہوسکتی ہے۔ اسلام ہی کے زیر سایہ مسلمانوں کو تمام تر نعمتیں، افتخارات اور وسائل نصیب ہوئے۔ وہ لوگ جو پہلے بالکل منتشر ، جاہل، گمراہ، خوں خوار، فاسد اور مفسد تھے۔ اسلام نے انھیں اتحاد اور دانائی عطا کی اور وہ مادی و روحانی نعمتوں سے ملامال ہوگئے۔
اس کے بعد وہ عہد و پیمان جوانھوں نے خدا سے باندھا ہے اس کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا گیاہے: اور میثاقِ الٰہی کو فراموش نہ کرو جبکہ اس وقت تم نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی( وَمِيثَٰقَهُ ٱلَّذِي وَاثَقَكُم بِهِۦٓ إِذۡ قُلۡتُمۡ سَمِعۡنَا وَأَطَعۡنَاۖ) ۔ اس بارے میں کہ اس پیمان سے کون سا پیمان مراد ہے دو احتمالات پیش کیے گئے ہیں۔ پہلا وہ پیمان کہ جو مسلمانوں نے آغازِ اسلام میں حدبیہ کے موقع پر باندھا تھا یا حجة الوداع یا عقبہ میں باندھا تھا یا پھر وہ پیمان جو ہر مسلمان نے اسلام قبول کرتے ہی بالواسطہ طور پر خدا سے باندھا تھا ۔ دوسرا: وہ پیمان جو فطری طور پر ہر شخص اپنے خدا سے باندھ چکا ہے اسی کو بعض اوقات ”عالم ذر“ کہتے ہیں۔
اس کی وضاحت یہ ہے کہ خدا نے انسان کو اس کی خِلقت کے وقت قابلِ نظر صلاحیتیں اور بے شمار نعمتیں عطاکیں ان میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے انسان کو اسرار آفرینش اور اس کے ذریعے پروردگار کی معرفت کی استعداد بخشتی ہے۔ اسی طرح اس نے عقل و شعور سے نوازا، جس کے ذریعے انسان پیغمبروں کو پہچانتاہے اور ان کے احکام پر عمل کرتاہے۔
یہ صلاحیتیں عطا فرما کر خدانے عملاً انسان سے یہ عہد لیا کہ وہ انھیں معطل اور باطل نہیں کر چھوڑے گا، بلکہ ان سے صحیح طور پر استفادہ کرے گا اور انسان بھی یہ صلاحیتیں حاصل کرکے بزبانِ حال پکار اٹھا کہ سمعنا و اطعناــــــــــ ہم نے سنا اور اطاعت کی ۔ یہ عہد و پیمان زیادہ وسیع ، زیادہ پائیدار اور زیادہ عمومی ہے جو خدا نے اپنے بندوں سے لیاہے۔ یہ وہی پیمان ہے جس کی طرف حضرت علی(علیه السلام) نے نہج البلاغہ کے پہلے خطبے میں اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
لیستادوہم میثاق فطرتہ
انبیاء اس لیے بھیجے گئے کہ وہ لوگوں کو پیمانِ فطرت پورا کرنے کی دعوت دیں۔
واضح ہے کہ یہ وسیع پیمان تمام دینی مسائل پر بھی محیط ہے۔(- اس بارے میں مزید تشریح اور یہ کہ اسے ”عالم ذر“ کیوں کہتے ہیں انشاء اللہ اعراف ۱۷۲کے ذیل میں ملاحظہ کیجیے گا ۔ )کوئی مانع نہیں کہ یہ آیت تمام تکوینی اور تشریعی عہد و پیمان (جو خدا نے بحکم فطرت لیے ہیں یا رسول اللہ نے مسلمانوں سے مختلف موقعوں پر لیے ہیں) کی طرف اشارہ ہو۔
یہاں سے واضح ہوگیا کہ وہ حدیث جس میں ہے کہ میثاق سے مراد وہ عہد و پیمان ہے جو رسول اللہ نے حجة الوداع میں ولایت علی(علیه السلام) کے سلسلے میں لیا تھا وہ ہمارے مذکورہ بیان سے پورسی مناسبت رکھتاہے کیونکہ ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ مختلف آیات کے ذیل میں آنیوالی احادیث کسی ایک روشن اور واضح مصداق کی طرف اشارہ کرتی ہیں نہ یہ کہ مفہوم آیات ان میں منحصر ہے۔
ضمناً توجہ رہے کہ ”میثاق“ اصل میں ”وثاقہ“ کے مادہ سے ہے جو طناب و غیرہ سے کسی چیز کو باندھنے کے معنی میں ہے بعد ازاں ہر اس کام کو کہاجانے لگا جو اطمینانِ خاطر کا سبب بنے۔ عہد و پیمان چونکہ ایک گرہ کی مانند ہے جو دو افراد یا دو گروہوں کے در میان بندھ جاتاہے اور ان کے اطمینان کا باعث بنتاہے اس لیے اسے میثاق کہتے ہیں۔
آیت کے آخر میں تاکید کے طور پر فرمایا گیاہے: پرہیزگاری اختیار کرو کہ خدا سینوں کے اندر کے اسرار سے آگاہ ہے (ۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ۔(بحوالہ:تفسیر برہان ج۱ صفحہ ۴۵۴)”ذات الصدور “ مرکّب ہے۔ ”ذات“ عین اور حقیقت کے معنی میں ہے اور ”صدور“ ، ”صدر“ کی جمع ہے جس کا معنی ہے سینہ، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ خدا ان باریک ترین اسرار سے باخبر ہے جو انسان کی روح کی گہرائیوں میں چھپے ہوتے ہیں اور انھیں اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ۔ عواطف، احساسات اور نیتوں کو دل اور اندرونِ سینہ سے کیوں نسبت دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں جلد اوّل صفحہ ۱۰۰ (اُردو ترجمہ ) میں تفصیل سے بحث کی جاچکی ہے۔
اے ایمان والو ! ہمیشہ خدا کے لیے قیام کرو اور عادلانہ گواہی دو اور کسی گروہ کی دشمنی تمھیں ترک عدالت کی طرف نہ لے جائے عدل کرو کہ وہ پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو کہ جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے آ گاہ ہے۔
اور جو لوگ کافر ہو گئے ہیں اور ہماری آیات کی تکذیب کرتے ہیں وہ اہل جہنم ہیں۔
قیامِ عدالت کا تاکیدی حکم
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
پہلی آیت قیامِ عدالت کی دعوت دیتی ہے۔ ایسی ہی دعوت کچھ فرق کے ساتھ سُورہٴِ نسآء آیة ۱۳۵ میں گذر چکی ہے۔ پہلے تو صاحب ایمان افراد کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیاہے : اے ایمان والو! ہمیشہ خدا کے لیے قیام کرو اور عادلانہ گواہی دو يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُونُواْ قَوَّٰمِينَ لِلَّهِ شُهَدَآءَ بِٱلۡقِسۡطِۖ) ۔ اس کے بعد عدالت سے انحراف کے ایک عمومی سبب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ قومی عداوتیں اور شخصی معاملات کہیں تمہیں اجرائے عدالت سے روک نہ دیں اور کہیں دوسروں کے حقوق پر تجاوز کا سب نہ بن جائیں کیونکہ عدالت ان تمام چیزوں سے بالاتر ہے (وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَـَٔانُ قَوۡمٍ عَلَىٰٓ أَلَّا تَعۡدِلُواْۚ) ۔ مسئلے کی اہمیت کے پیش نظر دوبارہ عدالت ہی کا حکم دیا گیا ہے : عدالت اختیار کرو کہ وہ پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے (ٱعۡدِلُواْ هُوَ أَقۡرَبُ لِلتَّقۡوَىٰۖ) ۔ عدالت چونکہ تقویٰ و پرہیزگاری کا بہترین رکن ہے لہٰذا تیسری مرتبہ بطور تاکید فرمایا گیاہے: خدا سے ڈرو کیونکہ خدا تمھارے تمام اعمال سے آگاہ ہے(وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ) ۔ اس آیت میں اور سُورہٴِ نساء کی آیت ۱۳۵ میں چند پہلوؤں میں فرق ہے ، جو یہ ہیں: ۱۔ سورہ نسآء میں عدالت کے قیام اور خدا کے لیے گواہی دینے کی دعوت دی گئی ہے لیکن یہاں خدا کے لیے قیام اور حق و عداوت کی گواہی دینے کی دعوت دی گئی ہے یہ فرق شاید اس لے ہو کہ سُورہٴِ نسآء میں ہدف یہ تھا کہ گواہیاں خدا کے لیے دی جائیں نہ کہ اقرباء ،اعزا اور وابستگان کے لیے، لیکن یہاں چونکہ گفتگو دشمن کے متعلق ہے ، لہذا عدل و قسط پر مبنی گواہی کی بات کی گئی ہے یعنی ظلم و ستم پر مبنی گواہی نہ ہو۔ ۲۔ سورہٴِ نسآء میں عدالت سے انحراف کا ایک سبب بیان کیا گیاہے اور یہاں دوسرا سبب مذکور ہے دہاں بلا وجہ محبت میں افراط د اور یہاں بلا وجہ بغض میں افراط کی طرف اشارہ ہے۔
لیکن سورہٴِ نسآء کی اس بات میں دونوں جمع ہیں کہ فلا تتبعوا الہویٰ ان تعدلوا……یعنی ترک عدالت سے ہوا و ہوس کی پیروی نہ کرو……بلکہ ہوا و ہوس کی پیروی ظلم و ستم کا وسیع منبع ہے کیونکہ ظلم و ستم بعض اوقات ہواپرستی کی وجہ سے اور شخصی مفادات کے تحفظ کے لیے ہوتاہے نہ کہ دوستی اور دشمنی کی بناپر، لہٰذا عدالت سے انحراف کی اصل بنیاد ہوا و ہوس کی پیروی ہے جس کے بارے میں پیغمبر اکرم اور حضرت امیر المؤمنین(علیه السلام) نے فرمایاہے: اما اتباع الہویٰ فیسد عن الحق ہوا پرستی تمہیں حق سے باز رکھے گی ۔ ( یہ حدیث کتاب سفینة البحار میں مادہ ”ہویٰ“کے ذیل میں پیغمبر اکرم ؐسے منقول ہے اور نہج البلاغہ کے خطبہ ۴۲ میں حضرت علی(علیه السلام) سے نقل ہوئی ہے)
عدالت ایک اہم اسلامی حکم
اسلام میں بہت کم مسائل عدالت جیسی اہمیّت کے حامل ہیں کیونکہ مسئلہ عدل، مسئلہ توحید کی طرح اسلام کے تمام اصول و فروع کی بنیاد ہے، جیسے اعتقادی، عملی، انفرادی، اجتماعی، اخلاقی اور حقوق کے بارے میں کوئی بھی مسئلہ حقیقت توحید سے جدا نہیں اس طرح ان میں کوئی بھی روحِ عدل سے خالی نہیں ملے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ تعجّب کا مقام نہیں کہ عدل اصول ِ دین میں سے ہوا ور مسلمانوں کی فکری عمارت کی ایک بنیاد کے طور پر پہچانا جائے۔ اگرچہ عدالت جو کہ اصول دین کا حِصّہ ہے صفات الہیہ میں سے ہے اور خدا شناسی جو کہ اصولِ دین میں سے ایک ہے ،میں عدالت بھی شامل ہے لیکن اسے ممتاز اور جدا رکھنا بہت معنی خیز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے اجتماعی مباحث میں عدالت سے بڑھ کر کسی اصل سے کام نہیں لیاگیا ۔ مندرجہ ذیل احادیث اس کی اہمیّت واضح کرنے کے لیے کافی ہیں۔ ۱۔ پیغمبر اسلامؐ فرماتے ہیں:
ایاکم و الظلم فان الظلم عند اللہ ہو الظلمات یوم القیٰمة
ظلم سے بچو کیونکہ ہر عمل روز قیامت اپنی مناسب شکل میں مجسم ہوگااور ظلم ظلمت و تاریکی کی صُورت
میں مجسم ہوگا اور تاریکی کا پردہ ظالموں کو گھیرے ہوئے ہوگا ۔( سفینة البحار……مادہ”ظلم“) اور ہم جانتے ہیں کہ ہر خیر و برکت نور میں ہے اور ظلمت ہر عدم اور فقدان کا سرچشمہ ہے۔ ۲۔رسول اللہ ؐسے منقول ہے کہ
بالعدل قامت السمٰوٰت و الارض
آسمان اور زمین عدل کی بنیاد پر قائم ہیں۔(بحوالہ تفسیر صافی سورہ رحمن آیة ۸ کے ذیل میں)۔ عدالت کے بارے یہ بات واضح ترین ممکن تعبیر ہے۔ یعنی نہ صرف یہ کہ نوعِ بشر کی یہ محدود زندگی اس کُرّہ خاکی میں عدالت کے بغیر برپا نہیں ہوسکتی بلکہ تمام جہانِ ہستی اور آسمان و زمین سب کا قیام عدالت کی وجہ سے ، توانائیوں کے اعتدال کے باعث اور ہر چیز کے اپنے مقام و محل پر ہونے کے سبب سے ہے اور اگر یہ لحظہ بھر کے لیے اور سوئی کی نوک کے برابر اس اصول سے منحرف ہوجائیں تو تباہ برباد ہوجائیں ۔ اس سے ملتی جُلتی ایک اور حدیث میں فرمایا گیاہے: الملک یبقی مع الکفر و لا یبقی مع الظلم
حکومتیں کُفر سے تو ممکن ہے باقی رہ جائیں ، لیکن ظالم ہوں تو انھیں دوام حاصل نہیں ہوسکتا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ظلم ایک ایسی چیز ہے جس کا اثر اس دنیا میں جلدی ظاہر ہوجاتاہے آج کی دنیا میں جنگیں، اضطراب، بے اطمینانی سیاسی افراتفری، نیز اجتماعی، اخلاقی اور اقتصادی بحران اس حقیقت کو اچھے طریقے سے ثابت کررہے ہیں۔ جس چیز کی طرف پوری توجّہ رہنا چاہیے وہ یہ ہے کہ اسلام عدالت کی فقط نصیحت نہیں کرتا بلکہ اس کی نظر میں زیادہ اہم عدالت کا رائج ہونا ہے ان آیات و روایات کا فقط بر سرِ منبر پڑھنا، کتابوں میں لکھنا یا تقاریر میں سنانا معاشرے میں موجود نا انصافیوں، برائیوں اور خرابیوں کا علاج نہیں بلکہ ان احکام کی عظمت اس دن واضح ہوگی جب یہ مسلمانوں کی زندگی میں جاری و ساری ہوجائیں گے۔
اگلی آیت میں خصوصی احکام کی تاکید اور تکمیل کے لیے سنت قرآن کے مطابق کلی قانون اور اصول کی نشاندہی کی گئی ہے ایمان لانے والوں سے خدا بخشش اور اجر عظیم کا وعدہ کرتاہے (وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَهُم مَّغۡفِرَة وَأَجۡرٌ عَظِيم)اور جو اللہ اور اس کی نشانیو ن کو جھٹلاتے ہیں وہ اہلِ دوزخ ہیں (وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَكَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَآ أُوْلَٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَحِيمِ) ۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ بخشش اور اجر عظیم کا ذکر اس آیت میں خدا تعالیٰ کے وعدہ کے طور پر آیا ہے اور فرمایاگیاہے: وعد اللہ یعنی اللہ کا وعدہ ہے لیکن دوزخ کی سزا کا ذکر عمل کے نتیجہ کی صورت میں ہے، فرمایا گیاہے: جن لوگوں کے ایسے اعمال ہوں گے ان کا انجام بھی ایسا ہی ہوگا یہ در حقیقت دارِ آخرت کی جزا میں خدا کے فضل و رحمت کی طرف اشارہ ہے جو کسی طرح بھے انسان کے ناچیز اعمال کے برابر نہیں ہے جیسا کہ وہاں کی سزا بھی انتقامی پہلو نہیں رکھتی ۔ بلکہ خود آدمی کے اعمال کا نتیجہ ہے۔
ضمناً یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ ”اٴَصْحابُ الْجَحیم“میں ”اصحاب“ کا معنی ہے یار و انصار جو ہمیشہ ساتھ دینے والے ہوتے ہیں۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے دوزخ کے ساتھی ہیں لیکن تنہا یہ آیت دوزخ میں ہمیشہ رہنے کی دلیل نہیں بن سکتی جیسا کہ تفسیر تبیان ، مجمع البیان اور تفسیر فخر الدین رازی میں آیاہے کیونکہ اس میں قیام ہوسکتاہے دائمی ہوا اور یہ بھی ممکن ہے کہ طویل مُدّت کے لیے ہو اور اس کے بعد نہ ہو جیسا کہ حضرت نوح(علیه السلام) کی کشتی میں سوار ہونے والوں کے لیے قرآن میں ”اٴَصْحابُ السفینہ“(کشتی کے ساتھی) کہا گیاہے اور اس میں قیام بھی دائمی نہ تھا ۔ البتہ اس میں شک نہیں کہ کفار دوزخ میں رہیں گے لیکن زیر نظر آیت میں اس کے بارے میں گفتگو نہیں ہے بلکہ یہ بات دیگر آیات سے معلوم ہوتی ہے۔( الْجَحیم“مادہ ”جحم“(بر وزن ”فہم“) سے ہے اس کا معنی ہے ”شدت سے آگ بھڑک“جہنم کو اسی وجہ سے ”جحیم“ کہا گیا ہے۔ دنیا کی جلانے والی وسیع آگ کو بھی کبھی ”جحیم“ کہتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم(علیه السلام) کے واقعہ میں ہے کہ نمرود نے یوں کہا: فالقوہ فی الجحیم پس اے بھڑکتی آگ میں ڈال دو (الصٰفٰت۔۹۷)
اے ایمان والو ! وہ نعمت یاد کرو جو خدا نے تمہیں بخشی جبکہ (دشمنوں کی) ایک جماعت نے ارادہ کر رکھا تھا کہ تم پر ہاتھ اٹھائے (اور تمہیں ختم کر دے) لیکن خدا نے ان کا ہاتھ تم سے روک دیا خدا سے ڈرو اور مومنین کو چاہئے کہ وہ صرف خدا پر ہی توکل (اور بھروسہ) کریں۔
اللہ تعالی کی نعمتوں کو یاد کرو
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ چند آیات میں نعمات الٰہی کے ذکر کے بعد اس آیت میں پھر روئے سخن مسلمانوں کی طرف ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کچھ اور نعمتیں مسلمانوں کو یاد دلائی ہیں تا کہ ان کے شکر انے کے طور پر فرمانِ خدا کی اطاعت کریں اور عدالت کے قیام کی کوشش کریں۔ فرمایا گیا ہے: اے ایمان لے آنے والو! خدا کی اس وقت کی نعمت کو یاد کرو جب ایک گروہ مصمم ارادہ کرچکا تھا کہ تمھاری طرف ہاتھ بڑھائے اور تمھیں ختم کردے لیکن خدا نے ان کا شر تم سے دُور کردیا (يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱذۡكُرُواْ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ إِذۡ هَمَّ قَوۡمٌ أَن يَبۡسُطُوٓاْ إِلَيۡكُمۡ أَيۡدِيَهُمۡ فَكَفَّ أَيۡدِيَهُمۡ عَنكُمۡۖ) ۔ خداوند عالم آیاتِ قرآنی میں مسلمانوں کو بار بار اپنی گوناگوں نعمات اور الطاف یاد دلاتاہے تا کہ ان میں روحِ ایمان کو محکم کرے، ان میں شکر گذاری کا احساس اجاگر کرے اور مشکلات کے مقابلے میں انھیں ثباتِ قدم پر ابھارے۔ ایسی آیات میں سے ایک زیر نظر آیت بھی ہے۔ رہا یہ سوال کہ یہ آیت کون سے واقعہ کی طرف اشارہ کررہی ہے، اسی سلسلے میں مفسرین میں ا ختلاف ہے بعض سمجھتے ہیں کہ یہ نبی نضیر کے یہودیوں کا خطرہ برطرف کرنے کی طرف اشارہ ہے، جنہوں نے مدینہ میں رسولؐ خدا اور مسلمانوں کو ختم کرنے کی سازش کی تھی ۔ بعض مفسرین اسے”بطن نخل“ کے واقعہ کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جو حدیبیہ کے موقع پر ہجرت کے چھٹے برس واقع ہوا ۔ ہوا یہ کہ خالد بن ولید کی سرکردگی میں مشرکین مکہ کی ایک جماعت نے پروگرام بنایا کہ نمازِ عصر کے دوران میں مسلمان پر حملہ کردیں۔ پیغمبر اکرم ؐاس سازش سے آگاہ ہوگئے۔ آپ نے نماز کو مختصر کر کے نمازِ خوف میں تبدیل کردیا ۔ اس طرح ان کی سازش نقش بر آب ہوگئی ۔
بعض اسے رسول ؐاللہ اور مسلمانوں کی حادثات سے معمور زندگی کے دیگر حوادث کی طرف اشارہ قرار دیتے ہیں۔
بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ آیت ان تمام حوادث کی طرف اشارہ کر رہی ہے جو پوری تاریخ اسلام میں وقوع پذیر ہوتے رہے۔ آیت میں لفظ ”قوم“ نکرہ ہے اور وحدت پر دلالت ہے، اگر اس سے صرف نظر کرلیں تویہ تفسیر دیگر تفاسیر سے بہتر ہے۔ بہر حال آیت مسلمانوں کی توجہ ان فطرات کی طرف دلارہی ہے جن میں ممکن تھا کہ ان کا نام ہمیشہ کے لیے صفحہ ہستی سے مٹ جاتاہے۔ آیت تنبیہ کررہی ہے کہ ان نعمتوں کی قدردانی کرتے ہوئے تقویٰ اختیار کرو،خدا پر بھروسہ رکھو اور جان لو کہ اگر تم پرہیزگار رہے تو زندگی میں اکیلے نہیں رہو گے اور وہ دستِ غیب جو ہمیشہ تمہارا محافظ رہاہے آئندہ بھی حمایت کرتارہے گا(ۡۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ)۔
واضح ہے کہ توکّل کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے کام خدا پر چھوڑنے کے بہانے ذ مہ داریوں سے صرف نظر کرلے یا حوادث کے سامنے سر جُھکالے بلکہ مقصد یہ ہے کہ اپنی پوری صلاحیّت اور توانائی کو بروئے کار لانے کے با وجود اس طرف متوجہ رہے کہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ خود اس کی اپنی طرف سے نہیں ہے بلکہ کسی دوسری ذات کی طرف سے ہے۔ اس طرح غرور اور خود پرستی کا احساس اپنے دل سے نکال دے نیز اس بات سے نہ ڈرے کہ مشکلات و حوادث بہت زیادہ اور شدید ہیں ، مایوس نہ ہو اور جان لے کہ اس کے پاس ایک ایسا سہارا ہے جس کی قدرت تمام قدرتوں سے بالاتر ہے۔ ضمناً یہ امر بھی لائقِ توجہ ہے کہ آیت میں پہلے تقویٰ کا حکم دیا گیا ہے پھر توکّل کی طرف اشارہ ہے اس سے معلوم ہوتاہے کہ خدا کی حمایت پرہیزگاروں کے شامل حال ہے۔ توجہ رہے کہ ”تقویٰ-“ ”وقایہ“کے مادہ سے ہے۔ اس کا مطلب ہے۔ اپنا بچاؤ اور فساد اور برائی سے اجتناب کرنا ۔
خدا نے بنی اسرائیل سے پیمان لیا اور ان میں سے بارہ رہبر اور سر پرست ہم نے مبعوث کیے اور خدا نے (انہیں ) کہا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم نماز قائم کرو زکوۃ ادا کرو میرے رسولوں پر ایمان لے آؤ اور ان کی مدد کرو اور خدا کو قرض حسنہ دو (اس کی راہ میں ضرورت مندوں کی مدد کرو) تو تمہارے گناہوں کو چھپا دوں گا (بخش دوں گا) اور تمہیں باغات جنت میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں داخل کروں گا لیکن جو شخص اس کے بعد بھی کافر ہو جائے تو وہ راہ راست سے منحرف ہو گیا ہے۔
پیمان شکنی کے باعث انھیں اپنی رحمت سے دور کردیا
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
اس سُورہ کی ابتداء میں ایفائے عہد کے مسئلہ کی طرف اشارہ ہوچکاہے۔ مختلف طریقوں سے اس کی تکرار بھی کی گئی ہے۔ مندرجہ بالا آیت بھی اسی مناسبت سے ہے شاید یہ پے در پے سب تاکیدیں جو ایفائے عہد کے بارے میں اور پیمان شکنی کی مذمّت کے لیے ہیں، پیمان ِ غدیر کی اہمیّت واضح کرنے کے لیے ہوں جن کا ذکر آیہ ۶۷ میں آئے گا ۔
زیر بحث آیت کی ابتداء میں ہے: ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ وہ ہمارے احکام پر عمل کریں اور اس پیمان کے بعد ہم نے ان کے لیے بارہ رہبر اور سرپرست بھیجے تا کہ ان میں سے ہر ایک بنی اسرائسل کے بارہ گروہوں میں سے ایک ایک کی سرپرستی کرے(وَلَقَدۡ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَٰقَ بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ وَبَعَثۡنَا مِنۡهُمُ ٱثۡنَيۡ عَشَرَ نَقِيبٗاۖ ) ۔
”نقیب“ کا مادہ ہے ”نقب“ (بر وزن ”نقد“)جو بڑے سوراخوں اور خصوصاً زیر زمین راستوں کا معنی دیتاہے۔ کسی گروہ کے سر براہ اور رہبر کو اس لیے نقیب کہتے ہیں کہ وہ اس گروہ کے اسرار سے آگاہ ہوتاہے گویا اس نے بیچ میں ایک نقب لگائی ہے جس کی وجہ سے وہ اس گروہ کی وضع اور حالات سے آگاہ ہوگیاہے بعض اوقات ”نقیب“ ایسے شخص کو کہا جاتاہے جو کسی گروہ کا سردار نہیں ہوتا اور صرف ان کی پہچان کا ذریعہ ہوتاہے ۔ فضائل کو بھی مناقب اسی لیے کہتے ہیں کہ ان سے آگاہی بھی جستجو اور تحقیق کرکے ہی حاصل کی جاتی ہے۔
بعض مفسرین نے زیر بحث آیت میں ”نقیب“ کا معنی آگاہ اور اسرار سے مطلع ہی کیا ہے لیکن یہ بہت بعید نظر آتاہے کیونکہ تاریخ و حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ نقبائے بنی اسرائیل میں سے ہر ایک اپنے گروہ اور قبیلے کا سرپرست تھا تفسیر روح المعانی میں ابن عباس سے منقول ہے: انہم کانوا وزراء و صاروا انبیاء بعد ذلک
یعنی……نقبائے بنی اسرائیل حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وزیر تھے جو بعد میں منصب نبوّت پر فائز ہوئے۔
(بحوالہ تفسیر روح المعانی جلد ۶ صفحہ 78)
پیغمبر اسلامؐ کے حالات میں مرقوم ہے کہ آپ نے شب عقبہ کو حکم دیا کہ نقبائے بنی اسرائیل کی تعداد کے مطابق اپنے میں سے بارہ نقیب منتخب کرو۔ مسلماً ان کی ذمہ داری بھی یہ تھی کہ اس گر وہ کی رہبری کریں۔(۱ سفینة البحار (نقب)
یہ امر جاذبِ نظر ہے کہ طُرق اہل سنت سے بہت سی روایات ایسی وارد ہوئی ہیں جن میں پیغمبر اسلام کے بارہ خلفاء اور جانشینوں کی طرف اشارہ کیا گیاہے اور ان کی تعداد کا تعارف نقبائے بنی اسرائیل کے تعداد کے حوالے سے کروایا گیاہے۔ ان میں سے بعض روایات ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔ ۱۔ اہل سنت کے مشہور امام احمد بن حنبل اپنی مسند میں مسروق سے نقل کرتے ہیں وہ کہتاہے: میں نے عبد اللہ بن مسعود سے سوال کیا کہ اس اُمّت پرکتنے افراد حکومت کریں گے تو ابن مسعود نے جواب دیا: لقد سئلنا رسول اللہ فقال اثنی عشر کعدة نقباء بنی اسرائیل
ہم نے پیغمبر خدا سے یہی مسئلہ پوچھا تھا، انھوں نے جواب میں فرمایا کہ بارہ افراد نقبائے بنی اسرائیل کی تعداد کے مطابق۔
( بحوالہ مسند احمد ج۱ ص۳۹۸ طبع مصر ۱۳۱۳۔) ۲۔ تاریخ ابن عساکر میں ابن مسعود سے منقول ہے وہ کہتے ہیں: میں نے پیغمبر اسلامؐ سے سوال کیا کہ اس اُمّت پر کتنے خلفاء حکومت کریں گے، تو آپ نے فرمایا:
ان عدة الخلفاء بعدی عدة نقباء موسیٰ
میرے بعد کے خلفاء کی تعداد نقبائے موسیٰ کی تعداد کے برابر ہے۔(بحوالہ فیض القدیر شرح جامع الصغیر ج۲ ص۴۵۹)
۳۔ منتخب کنز الاعمال میں جابر بن سمرہ سے منقول ہے: نقبائے بنی اسرائیل کی تعداد کے برابر بارہ خلفاء اس امت پر حکومت کریں گے۔(بحوالہ منتخب کنز العمال در حاشیہ مسند احمد ج۵ ص۳۱۲)
ایسی حدیث ینابیع المودة صفحہ ۴۴۵ اور البدایہ و النہایہ جلد ۶ صفحہ ۲۴۷ پر بھی منقول ہے۔ اس کے بعد بنی اسرائیل سے خدا کے وعدہ کی یوں وضاحت کرتاہے: خدا نے ان سے کہا کہ میں تمھارے ساتھ ہوں گا اور تمھاری حمایت کروں گا ۔
(وَقَالَ ٱللَّهُ إِنِّي مَعَكُمۡۖ) لیکن اس کے لیے چند شرائط ہیں: ۱۔ بشرطیکہ تم نماز قائم کرو (لَئِنۡ أَقَمۡتُمُ ٱلصَّلَوٰةَ)۔ ۲۔ اور اپنی زکٰوة ادا کرو (وَءَاتَيۡتُمُ ٱلزَّكَوٰةَ)۔ ۳۔ میرے پیغمبروں پر ایمان لے آؤ اور ان کی مدد کرو(وَءَامَنتُم بِرُسُلِي وَعَزَّرۡتُمُوهُمۡ)۔( ”عزرتموہم“کا مادہ”تعزیر“ ہے جو منع کرنے اور مدد دینے کے معنی میں ہے بعض اسلامی سزاؤں کو اسی لیے تعزیر کہتے ہیں کہ حقیقت میں وہ گناہ گار کی مدد ہے اور اسے گناہ سے باز رکھنے کی تدبیر ہے یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ اسلامی سزائیں انتقامی پہلو نہیں رکھتیں بلکہ تربیتی پہلو رکھتی ہیں اسی لیے ان کا نام تعزیر رکھا گیاہے۔) ۴۔ اور اس کے علاوہ مستحب مصارف اور انفاق جو خدا کو قرضِ حسنہ دینے کے مترادف ہیں، سے احتراز نہ کرو (وَأَقۡرَضۡتُمُ ٱللَّهَ قَرۡضًا حَسَنٗا)
اگر اس عہد و پیمان پر عمل کرو تو میں تمھارے گذشتہ گناہ بخش دوں گا(لَّأُكَفِّرَنَّ عَنكُمۡ سَيِّـَٔاتِكُمۡ) اور تمہیں ان باغاتِ بہشت میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں(وَلَأُدۡخِلَنَّكُمۡ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۚ)لیکن جو لوگ کفر، انکار اور عصیان کی راہ اپنائیں ، مسلم ہے کہ وہ صراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے ہیں(فَمَن كَفَرَ بَعۡدَ ذَٰلِكَ مِنكُمۡ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ) ۔
( اس بارے میں کہ قرآن مجید میں انفاق کے لیے خدا کو قرض دینے کی تعبیر کیوں استعمال کی گئی ہے، ضروری وضاحت تفسیر نمونہ ج۲ ص۱۲۹پر (اُردو ترجمہ میں) کی جاچکی ہے
۔ ایک سوال یہاں باقی رہ گیاہے اور وہ یہ کہ یہاں نماز اور زکٰوة کا ذکر حضرت موسٰی(علیه السلام) پر ایمان لانے کے ذکرسے کیوں مقدم کیا گیاہے جبکہ ان پر ایمان لانا عمل سے پہلے ضروری تھا ۔
بعض مفسرین نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ ”رسل“ سے مراد یہاں پر وہ انبیاء ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد آئے تھے نہ کہ خود حضرت موسٰی(علیه السلام) ۔ لہذا یہ حکم آئندہ سے متعلق تھا اس لیے نماز و زکٰوة کے بعد ہوسکتاہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ ”رسل“ سے مراد نقبائے بنی اسرائیل ہی ہوں جن کے متعلق بنی اسرائیل سے عہد وفا لیا جا چُکاتھا (تفسیر مجمع البیان میں ہے کہ بعض قدیم مفسرین نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ نقبائے بنی اسرائیل خدا کے رسول تھے اور یہ احتمال ہماری مندرجہ بالا آیت کی تائید کرتاہے) ۔ ۱۳۔فَبِمَا نَقۡضِهِم مِّيثَٰقَهُمۡ لَعَنَّٰهُمۡ وَجَعَلۡنَا قُلُوبَهُمۡ قَٰسِيَةٗۖ يُحَرِّفُونَ ٱلۡكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِۦ وَنَسُواْ حَظّٗا مِّمَّا ذُكِّرُواْ بِهِۦۚ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَىٰ خَآئِنَةٖ مِّنۡهُمۡ إِلَّا قَلِيلٗا مِّنۡهُمۡۖ فَٱعۡفُ عَنۡهُمۡ وَٱصۡفَحۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُحۡسِنِينَ- ترجمہ ۱۳۔ پس ہم نے ان کی پیمان شکنی کے باعث انھیں اپنی رحمت سے دور کردیا اور ان کے دلوں کو سخت کردیا (یہاں تک کہ) وہ (خدا کے) کلام میں تحریف کرتے تھے اور اس کے کچھ حِصّے کی جو ہم نے انھیں تعلیم دی تھی، اسے انھوں نے فراموش کردیا اور تمھیں ہر وقت ان کی کسی (نئی) خیانت کی خبر ملے گی مگر ان میں سے ایک چھوٹا سا گروہ (ایسا نہیں ہے) پھر بھی ان سے در گذر کرو اور صرف نظر کرو کیونکہ خدا نیک لوگوں کو پسند کرتاہے۔
”لعن “ لغت میں دھنکار نے اور دور کرنے کے معنی میں ہے
گذشتہ آیت میں بنی اسرائیل سے خدا تعالیٰ کے پیمان لینے کا ذکر ہے ۔ اب اس آیت میں ان کی پیمان شکنی اور اس کے انجام کا تذکرہ ہے، فرمایا گیا ہے: انھوں نے چونکہ اپنا عہد توڑ ڈالا لہٰذا ہم نے انھیں دھکیل کر اپنی رحمت سے دور کردیا اور ان کے دلوں کو سخت کردیا(فَبِمَا نَقۡضِهِم مِّيثَٰقَهُمۡ لَعَنَّٰهُمۡ )”لعن “ لغت میں دھنکار نے اور دور کرنے کے معنی میں ہے اور جب یہ لفظ خدا کے حوالے سے ہو تو اس کا معنی ہے”رحمت سے محروم کرنا)“ وَجَعَلۡنَا قُلُوبَهُمۡ قَٰسِيَةٗۖ) (لفظ ”قاسیة--“ ”قساوت“ کے مادہ سے ہے، اور سخت پتھروں کے لیے استعمال ہوتاہے اسی مناسبت سے جو لوگ حقائق سے رغبت اور میلان کا کوئی اظہار نہ کریں، ان کے لیے بھی استعمال ہوتاہے۔) در حقیقت انھیں یہ دو سزائیں عہد شکنی کے جرم میں دی گئی ہیں وہ رحمت الٰہی سے بھی دورہوگئے ہوں گے اور ان کے افکار و قلوب بھی پتھر ہو گئے ہیں اور میلان و انعطاف کے قابل نہیں رہے ۔
اس کے بعد آثار قساوت کی اس طرح تشریح کی گئی ہے : وہ کلمات کی تحریف کرتے ہیں اور انھیں ان کے اصلی مقام سے بدل دیتے ہیں (يُحَرِّفُونَ ٱلۡكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِۦ ) ۔ اور جو کچھ ان سے کہا گیا تھا اس کا ایک حصہ فراموش کر دیتے ہیں(ۦ وَنَسُواْ حَظّٗا مِّمَّا ذُكِّرُواْ بِهِۦۚ ) ۔ بعید نہیں کہ جو حصہ انھوں نے بھلا دیا وہ پیغمبر اسلام کی نشانیاں اور آثار ہوں جن کی طرف قرآن کی دیگر آیات میں اشارہ ہوا ہے ۔ ممکن ہے یہ اس طرف اشارہ ہو جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ایک طویل عرصے تک تورات مفقود رہی پھر چند یہودی علماء نے اسے لکھا ، فطری امر ہے کہ اس کا بہت ساحصہ تو نابود ہو گیا اور کچھ میں تحریف کردی گئی یا فراموش ہو گیا ۔ لہٰذا یہودیوں کے ہاتھ جو کچھ لگا وہ کتاب موسیٰ کا کچھ تھا جس میں بہت سے خرافات ملادئے گئے تھے اور انھوں نے یہ حصہ بھی بھلا ڈالا ۔ اس کے بعد مزید ارشاد ہوتا ہے : ہمیں ہر روز ان کی ایک نئی خیانت کا پتہ چلتا ہے ہاں البتہ ان میں سے ایک گروہ ایسا ہے جو ان جرائم سے کنارہ کش ہے لیکن وہ اقلیت میں ہے (ۚ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَىٰ خَآئِنَةٖ مِّنۡهُمۡ إِلَّا قَلِيلٗا مِّنۡهُمۡۖ) (” خائنة “ اگر چہ اسم فاعل ہے لیکن یہاں مصدری معنی میں استعمال ہوا ہے اور” خیانت“ کا معنی دیتا ہے ، عربی ادب میں اسم فاعل مصدری معنی میں آتا رہتا ہے ۔ مثلاً عافیة و خاطیة اور یہ احتمال بھی ہے کہ ” خائنة“ گروہ کی صفت ہو جو مقدر ہے ۔) آخر میں پیغمبر اکرمؐ کو حکم دیا گیا ہے کہ ان سے صرف نظر کرلیں اور چشم پوشی کریں کیونکہ خدا نیک لوگوں کو پسند کرتا ہے (فَٱعۡفُ عَنۡهُمۡ وَٱصۡفَحۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُحۡسِنِينَ) ۔ آیت کے اس حصے سے کیا مراد ہے کہ اس صالح اور نیک اقلیت کے گذشتہ گناہوں سے صرف نظر کریں یا غیر صالح اکثریت کے گناہوں سے ۔ آیت کا ظاہر دوسرے مفہوم کو تقویت دیتا ہے کیونکہ صالح اقلیت نے تو کوئی خیانت نہیں کی کہ جس سے عفو وبخشش کی جائے ۔ مسلم ہے کہ یہاں در گذر اور عفو ان تکالیف سے متعلق ہے جو انھوں نے ذات پیغمبرؐ کو پہنچا ئی تھیں اور یہ معافی اسلام کے ہدف اور اصول سے متعلق نہیں ہے کیونکہ ان میں تو معافی کوئی معنی نہیں ۔
پس ہم نے ان کی پیمان شکنی کے باعث انہیں اپنی رحمت سے دور کر دیا اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا (یہاں تک کہ) وہ خدا کے کلام میں تحریف کرتے(اور مقام سے بدل دیتے)تھے اور اس کے کچھ حصے کی جو ہم نے انہیں تعلیم دی تھی اسے انہوں نے فراموش کر دیا اور تمہیں ہر وقت ان کی کسی(نئی) خیانت کی خبر ملے گی مگر ان میں سے ایک چھوٹا سا گروہ (ایسا نہیں ہے) پھربھی ان سے در گذر کرو اور صرف نظر کرو کیونکہ خدا نیک لوگوں کو پسند کرتا ہے۔
یہودیوں کی تحریف
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
وہ تمام آیات جو قرآن مجید میں یہودیوں کی تحریفات کے بارے میں آئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنی آسمانی کتاب میں کیسا کیسا تغیر و تبدل کرتے تھے ۔ بعض اوقات وہ تحریف معنوی کا ارتکاب کرتے تھے یعنی اپنی آسمانی کتاب کی آیات کی حقیقی معافی کے خلاف تفسیر کرتے تھے الفاظ نہں بدلتے تھے معافی بدل دیتے تھے ۔ کبھی تحریف لفظی کا ارتکاب کرتے تھے ۔ استہزاء و مسخرہ پن کرتے ہوئے” سمعا و اطعنا“ ( ہم نے سنا اور اطاعت کی )کہنے کے بجائے ” سمعنَا و عصینا“ ( ہم نے سنا اور مخالفت کی ) کہتے تھے ۔ بعض اوقات وہ آیات کا کچھ حصہ چھپادیتے ۔ جو کچھ ان کے مزاح کے مطابق ہوتا اسے ظاہر کرتے اور جو مخالف ہوتا اسے مخفی رکھتے ۔ یہاں تک کہ بعض اوقات آسمانی کتاب سامنے ہوتے ہوئے بھی اس کے ایک حصے پر ہاتھ رکھ دیتے تھے تاکہ دوسری طرف والا غافل رہے اور اسے پڑھ نہ سکے۔ جیسا کہ سورہٴ مائدہ کی آیہ ۴۱ کے ذیل میں ابن صوریا کے ذکر میں آئے گا ۔
کیا خدا کسی کو سنگدل بناتا ہے
زیر بحث آیت میں ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ایک گروہ کی سندگدلی کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے ہم جانتے ہیں کہ سنگدلی اور عدم انعطاف حق سے انحراف اورگناہوں کا سر چشمہ بن جاتا ہے یہاں سوال ابھرتا ہے کہ جب اس کام کا فاعل خدا ہے تو ایسے اشخاص اپنے اعمال کے جواب وہ کیسے ہو سکتے ہیں اور کیا یہ ایک طرح سے جبر و اکراہ نہیں ؟ قرآن کی مختلف آیات، یہاں تک کہ زیر نظر آیت میں بھی غور و فکر کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بہت سے مواقع پر لوگ اپنے برے اعمال کے باعث خدا تعالیٰ کے لطف اور ہدایت سے محروم ہو جاتے ہیں در حقیقت ان کا عمل ہی ان کے فکری و اخلاقی انحراف کی بنیاد بنتا ہے اور وہ اپنے ان اعمال کے نتائج سے کسی طور بھی کنارہ کش نہیں ہوسکتے لیکن ہر سبب کا اثر چونکہ خدا کی طرف سے ہے لہٰذا قرآن میں ایسے آثار کی نسبت خدا کی طرف دی گئی ہے ، جیسے زیر نظر آیت میں ہے : انھوں نے چونکہ پیمان شکنی کی لہٰذا ہم نے ان کے دلوں کو سخت او رناقابلِ انعطاف بنادیا ۔ سورہٴ ابراہیم آیت ۲۷ میں ہے۔ ویُضل اللہ الظالمینَ۔
اور خدا ظالموں کو گمراہ کرتا ہے ۔ اسی طرح سورہٴ توبہ آیت ۷۷ میں بعض عہد شکنی کرنے والوں کے بارے میں ہے :
فاعقبتم نفاقا فی قلوبھم الیٰ یوم یلقونہ بما اختلفوا اللہ ما وعدوہ بما کانوں یکذبون۔
ان کی پیمان شکنی اور جھوٹ کی وجہ سے خدا نے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا ۔ اس طرح کی تعبیرات قرآن میں بہت ہیں ۔ واضح ہے کہ یہ برے آثار جن کا سرچشمہ خود انسان کا عمل ہے انسان کے اختیار اور ارادہ کی آزادی کے منافی ہر گز نہیں ہیں کیونکہ اس کی بنیادخود اس نے فراہم کی ہے اور اس نے جان بوجھ کر اس وادی میں قدم رکھا ہے اور یہ اس کے اعمال کا قہری نتیجہ ہے ۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص جان بوجھ کر شراب پئے اور جب وہ مست ہو جائے اورجرائم کرنے لگے تو یہ ٹھیک ہے کہ نشے کی حالت میں وہ خود اختیار نہیں رکھتا لیکن چونکہ اس نے اس کے اسباب خود پیدا کیے ہیں اور وہ جانتا ہے کہ نشے کی حالت میں اس سے ایسے افعال سر زد ہو سکتے ہیں کہ لہٰذا وہ اپنے افعال کا جواب دہ ہے۔ اس طرح ایسے مواقع پر اگر کہا جائے کہ چونکہ انھوں نے شراب پی ہے اور ہم نے ان کی عقل ختم کردی ہے اور ان کے اعمال کی وجہ سے ہم نے جرائم میں مبتلا کردیا ہے کیا اس بات میں کو ئی اشکال اور جبر کا پہلو ہے ؟ خلاصہ یہ ہے کہ تمام ہدایتیں اور گمراہیاں جنہیں قرآن میں خدا کی طرف منسوب کیا گیا ہے یقینا یہ خود انسان کے خود وہ افعال کی وجہ سے ہے اور انہی کے باعث وہ ہدایت کرے اور دوسرے کو گمراہ کردے ۔ (بحوالہ تفسیر نمونہ جلد اوّل ص ۱۴۰( اردو ترجمہ ) میں اس بارے میں مزید توضیح کی جاچکی ہے ۔)
اور جو لوگ (مسیح کی دوستی اور) نصرانیت کا دعویٰ کرتے ہیں ان سے بھی ہم نے عہد و پیمان لیا لیکن ان لوگوں نے بھی اس چیز کا ایک حصہ فراموش کر دیا جو انہیں دی گئی تھی لہٰذا ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لئے عداوت ڈال دی اور جو کچھ انہوں نے انجام دیا عنقریب خدا انہیں اس کے (نتائج کے) بارے میں آگاہ کرے گا۔
دائمی دشمن
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ آیت میں بنی اسرائیل کی عہد شکنی سے متعلق گفتگو تھی اب اس آیت میں نصاریٰ کی پیمان شکنی کا تذکرہ ہے ۔ ار شاد فرمایا گیا ہے : دعوائے نصرانیت کرنے والوں کی ایک جماعت جس سے ہم نے عہد و فا لیا تھا پیمان شکنی کی مرتکب ہوئی انھیں جو احکام دئے گئے تھے ان کا ایک حصہ انھوں نے فراموش کردیا (وَمِنَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓاْ إِنَّا نَصَٰرَىٰٓ أَخَذۡنَا مِيثَٰقَهُمۡ فَنَسُواْ حَظّٗا مِّمَّا ذُكِّرُواْ بِهِۦ) ۔
ہاں انھوں نے بھی خد اسے پیمان باندھا تھا کہ وہ حقیقتِ توحید سے منحرف نہیں ہوں گے اور احکام الہٰی کو فراموش نہیں کریں گے اور آخری پیغمبر ؐکی نشانیاں نہیں چھپائیں گے لیکن انھوں نے بھی یہودیوں کا سا طرز عمل اختیار کرلیا ۔ فرق یہ ہے کہ قرآن یہودیوں کے بارے میں کہتا ہے کہ ان کی قلیل تعداد پاک اور حق شناس تھی لیکن نصاریٰ کے بارے میں کہتا ہے کہ ان میں سے ایک گروہ منحرف ہوگیا اس سے واضح ہوتا ہے کہ عیسائیوں کی نسبت یہودیوں کی نسبت میں سے منحرف ہونے والے زیادہ تھے۔
موجودہ اناجیل کی تاریخ کہتی ہے کہ یہ ساری انجیلیں حضرت مسیح (علیه السلام) کے کئی سال بعد بعض عیسائیوں نے لکھی تھیں یہی وجہ ہے کہ ان میں واضح تناقضات موجود ہیں ۔ یہ چیز اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ انجیل کی آیات کا ایک اہم حصہ بھول چکے تھے موجودہ اناجیل میں واضح طور پر خرافات موجود ہیں مثلاً حضرت مسیح (علیه السلام) کی شراب خوری کاذکر ہے (بحوالہ انجیل یو حنا، باب ۲)جو کہ عقل کے بھی خلاف ہے اور خود موجودہ تورات و انجیل کی بعض آیات کے بھی خلاف ہے ۔ اسی طرح مریم مجدلیہ کا قصہ بھی ہے ۔ (انجیل لوقا، باب ۷، جملہ ۳۶ تا ۴) ضمناً توجہ رہے کہ ” نصاریٰ“ ”نصرانی“کی جمع ہے ، عیسائیوں کو اس نام سے کیوں موسوم کیا گیا ہے اس سلسلے میں مختلف احتمالات پیش کیے جاتے ہیں :
پہلا یہ کہ حضرت عیسیٰ (علیه السلام) نے بچپن ناصرہ شہر میں گزارا ۔
دوسرا یہ کہ لفظ نصران سے لیا گیا ہو ۔ یہ ایک بستی کا نام ہے جس سے نصاریٰ خاص لگاوٴ رکھتے تھے ۔
تیسرا یہ کہ جب حضرت مسیح (علیه السلام) نے لوگوں میں سے یاروانصار طلب کیے تو انھوں نے آپ کی دعوت قبول کرلی جیسا کہ قرآن میں ہے:
کماقال عیسیٰ ابن مریم للحواریین من انصاری الیٰ اللہ قال الحواریون نحن انصار اللہ۔
جیسا کہ عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا کہ کون اللہ کے لیے میری نصرت کرنے والا ہوگا، تو حواریوں نے کہا کہ ہم انصار ِ خدا ہیں ۔ (صف۱۴) چونکہ ان سے بعض ایسے بھی تھے جو اپنے کہنے کے مطابق عمل نہ کرتے تھے اور صرف دعویٰ کی حد تک حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کے یارو انصار تھے لہٰذا قرآن زیر بحث آیت میں کہتا ہے ومن الذین قالوا انا نصاریٰ (ان لوگوں میں سے جو موجود کہتے تھے کہ ہم عیسیٰ کے مدد گار ہیں لیکن وہ اس دعویٰ میں سچے نہ تھے) ۔ اس کے بعد قرآن عیسائیوں کے اعمال کے بارے میں کہتا ہے کہ ان کے اعمال کے نتیجے میں ہم قیامت تک کے لیے ان میں دشمنی ڈال دی (فَأَغۡرَيۡنَا بَيۡنَهُمُ ٱلۡعَدَاوَةَ وَٱلۡبَغۡضَآءَ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ) ۔ ان کے لیے دوسری سزا کہ جس کی طرف آیت کے آخری حصے میں اشارہ کیا گیا ہے یہ ہے کہ : عنقریب خدا انھیں ان کے اعمال کے نتائج کی خبر دے گا اور وہ عملی طور پر اسے اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے (وَسَوۡفَ يُنَبِّئُهُمُ ٱللَّهُ بِمَا كَانُواْ يَصۡنَعُونَ) ۔
چند اہم نکات
۱۔ ” اغوینا“ کا مفہوم : یہ لفظ ” اغراء“ کے مادہ سے ہے اس کا معنی ہے کسی چیز سے چمٹا دینا اور جو ڑ دینا ۔ بعد ازاں کسی کام کا شوق دلانے اور اس پر اکسا نے کے مفہوم میں استعمال ہو نے لگا کیونکہ یہ بات لوگوں کے معین اسباب سے مربوط ہونے کا سبب بنتی ہے ۔ لہٰذا آیت کا مفہوم یہ ہے کہ نصاریٰ کی عہد شکنی اور غلط کاریاں اس بات کا سبب بنیں کہ ان میں عداوت و دشمنی اور نفاق و اختلاف پیدا کر دیا جائے ( کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اسبابِ تکوینی کے آثار کی نسبت خدا کی طرف دی جاتی ہے ) آج بھی عیسائی حکومتوں کے درمیان بے شمار کشمکش موجود ہیں جن کی بنا پر اب تک دو عالمی جنگیں ہوچکی ہیں ان میںگروہ بند یاں اور عداوت و دشمنی آج بھی جاری و ساری ہے ۔ علاوہ ازیں عیسائیوں کے مختلف مذاہب میں اختلافات اور عداوتیں اس قدرہیں کہ آج بھی وہ ایک دوسرے کا کشت و خون جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ یہاں مراد یہود و نصاریٰ کے درمیان دشمنی ہے جو رہتی دنیا تک جاری رہے گی لیکن آیت کا ظاہری مفہوم عیسائیوں کے مابین عداوت ہی کی تائید کرتا ہے ۔ (اس بنا پر ” بینھم “ کی ضمیر نصاریٰ کی طرف ہی لوٹے گی کہ جن کا ذکر آیت کی ابتداء میں ہوچکا ہے ۔) شاید اس بات کی یاد دہانی کی ضرورت نہ ہو کہ دردناک انجام عیسائیوں ہی میں منحصر نہیں اگر مسلمان ان کا طریقہ اپنا ئیں گے تو وہ بھی اس نتیجے سے دو چار ہو ں گے۔ ۲۔ ”عداوت “اور” بغضاء“کا مفہوم : ”عداوت“ ” عدو“ کے مادہ سے تجاوز کرنے کے معنی میں ہے ، اور ” بغضاء“ بعض “ کے مادہ سے کسی چیز سے نفرت کرنے کے معنی میں ہے ان دونوں الفاظ میں یہ فرق ہو کہ ” بغض“ زیادہ تر قلبی پہلو رکھتا ہے جب کہ ” عداوت“ عملی پہلو رکھتی ہے یا کم از کم عملی اور قلبی دونوں پہلو رکھتی ہے ۔ ۳۔ کیا یہودیت اور عیسائیت ہمیشہ موجود رہیں گی ؟ : زیر بحث آیت میں یوں لگتا ہے جیسے نصاریٰ ایک مذہب کے پیرو کار ہونے کے حوالے سے (یا یہودو نصاریٰ دونوں )رہتی دنیا تک موجود رہیں گے۔ یہاں سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی روایات سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مہدی (علیه السلام) کے ظہور کے بعد پورے عالم میں ایک سے زیادہ دین نہیں ہو گا اور وہ دین اسلام ہے تو ان دو باتوں کو کیسے جمع کیا جاسکتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے کہ عیسائیت ( عیسا ئیت اور یہودیت) ایک بہت
اے اہل کتاب ! تمہارے پاس ہمارا رسول آیا ہے جو آسمانی کتاب کے ان بہت سے حقائق کو واضح کرے گا جنہیں تم چھپاتے تھے اور بہت سی چیزوں سے (جن کی عملاً ضرورت نہیں ) صرف نظر کر لے گا خدا کی طرف سے تمہارے پاس نور اور واضح کتاب آئی ہے۔
جو لوگ اس کی خوشنودی کی پیروی کرتے ہیں خدا انہیں سلامتی کے راستوں کی ہدایت کرے گا اور اپنے حکم سے تاریکیوں سے نکال کر انہیں روشنی میں لے جائے گا اور انہیں راہ راست کی ہدایت کرے گا۔
یہود و نصاری کو اسلام کی دعوت
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ آیات میں یہودو نصاریٰ اور ان کی عہد شکنیوں کے بارے میں گفتگو تھی ۔ اب ان آیات میں ان سے بلا واسطہ خطاب کے ذریعے انھیں اسلام کی طرف دعوت دی گئی ہے جس نے ان کے آسمانی دین کو خرافات سے پاک کیا اور انھیں اس راہِ راست کی ہدایت کی جارہی ہے جو ہر قسم کے انحراف اور کجروی سے دور ہے ۔ پہلے فرمایاگیا ہے : اے کتاب ! ہمارا بھیجا ہوا تمہاری طرف آیاہے تاکہ آسمانی کتب کے وہ بہت سے حقائق آشکارکرے جنہیں تم نے چھپا رکھا تھا جب کہ بہت سی ایسی چیزیں جنھیں ذکر کرنے کی ضرورت نہیں اور جو گذشتہ ادوار سے مربوط ہیں ان سے صرف نظر کرے يَٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ قَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمۡ كَثِيرٗا مِّمَّا كُنتُمۡ تُخۡفُونَ مِنَ ٱلۡكِتَٰبِ وَيَعۡفُواْ عَن كَثِيرٖۚ ۔
اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب نے بہت سے حقائق چھپارکھے تھے لیکن پیغمبراسلام ؐنے صرف وہ باتیں بیان کیں جن کی اس وقت لوگوں کو احتیاج تھی ۔ مثلاً حقیقت ِ توحید، انبیاء کی طرف نارواء نسبتیں جو کتب عہدین میں ان کی طرف دی گئی تھیں ، سود اور شراب کی حرمت اور اس طرح کے دیگر امور لیکن ان امور سے صرف نظر کرلیا جن کا تعلق گذشتہ امتوں اور زمانوں سے تھا اور موجودہ اقوام کے لیے ان کے بیان کا کوئی فائدہ نہ تھا ۔
اس کے بعد قرآن مجیدکی نصیحت و عظمت اور نوع بشرکی ہدایت و تربیت کے لیے اس کے گہرے اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ خدا کی جانب سے تمہارے پاس نور اور واضح کتا ب آئی ہے (قَدۡ جَآءَكُم مِّنَ ٱللَّهِ نُوروَكِتَٰب مُّبِين ) ۔ وہ نور آیا ہے کہ جس کے ذریعے خدا ان لوگوں کو سلامتی کے راستوں کی ہدایت کرتا ہے جو اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے در پے ہیں (یَہْدِی بِہِ اللهُ مَنْ اتَّبَعَ رِضْوَانَہُ سُبُلَ السَّلاَمِ) ۔ علاوہ ازیں انھیں طرح طرح کی ظلمتوں یعنی شرک، جہالت، پراکندی اور نفاق جیسی تاریکیوں سے توحید، علم اور اتحاد کے نور کی طرف رہبری کرتا ہے (وَیُخْرِجُہُمْ مِنْ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّورِ بِإِذْنِہِ وَیَہْدِیہِمْ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ) ۔ پہلی آیت میں نور سے کیا مراد ہے ؟ بعض مفسرین کے نزدیک اس سے مراد پیغمبر اسلامؐ کی ذات ہے اور بعض کے نزدیک قرآن مجید ۔ قرآن مجید مختلف آیات میں قرآن کو نور سے تشبیہ دی گئی ہے یہ بات اس چیز کی نشاندہی کرتی ہے کہ زیر نظر آیت میں نور سے مراد قرآن حکیم ہی ہے ۔ اس بناء پر ” کتاب مبین“ اس پر لطف ِ تو ضیحی ہے ۔ سورہٴ اعراف آیت ۱۵۷ میں ہے : فالذین اٰمنوا بہ و عزروہ نصروہ و اتبعوا النور الذی انزل معہ اولئک ھم المفلحون۔ وہ لوگ جو پیغمبرؐ پر ایمان لے آئے ہیں اور انھوں نے اس کی عظمت کو تسلیم کرلیا ہے اور ان کی مدد کی ہے اور اس نور کی پیروی کی ہے جو اس کے ساتھ نازل ہوا ہے ، اہل نجات اور کامیاب ہیں ۔
سورہ ٴ تغابن آیہ ۸ میں ہے: فامنوا باللہ و رسلہ و النور الذی انزلنا خدا ، اس کے پیغمبرؐ اور اس نور پر جو ہم نے نازل کیا ہے، ایمان لے آوٴ۔
اسی طرح متعدد دیگر آیات بھی ہیں لیکن لفظ نور کا اطلاق پیغمبر ؐاسلام، کی ذات پر قرآن میں نظر نہیں آتا ۔ علاوہ ازیں بعد والی آیت میں ” بہ “ کی ضمیر مفرد ہے اس سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ نور او رکتاب مبین ایک ہی حقیقت ہیں ۔ البتہ متعدد روایات میں نور سے امیر المومنین (علیه السلام) یا تمام آئمہ اہل بیت (علیه السلام) مراد لیے گئے ہیں لیکن واضح ہے کہ یہ آیات کے مختلف بطون کے حوالے سے ایک بطن کی تفسیر کی طرح ہے ۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ قرآن کے ظاہری معانی کے علاوہ کچھ باطنی مفاہیم بھی ہیں جنھیں ” بطون ِ قرآن“ کہا جاتا ہے یہ جو ہم نے کہا ہے کہ واضح ہے کہ یہ تفسیربطون قرآن سے مربوط ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت آئمہ موجود نہیں تھے کہ اہل کتاب کو ان پر ایمان لانے کی دعوت دی جاتی ۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ دوسری آیت رضائے الہٰی کے حصول کے لیے قدم بڑھا نے والوں کو نوید سناتی ہے کہ قرآن کے سائے میں انھیں تین عظیم نعمتیں دی جائیں گی ۔ پہلی نعمت سلامتی کی شاہراہ کی ہدایت ہے یہ سلامتی در حقیقت ، فرد، معاشرے ، روح ،خاندان اور اخلاق کی سلامتی ہے ( اور یہ سلامتی عملی پہلو رکھتی ہے ) ۔ دوسری نعمت کفر اور بے دینی کی ظلمتوں سے نکال کر نور ایمان کی طرف لے جانا ہے ( یہ اعتقادی پہلو رکھتی ہے ) ۔ تیسری نعمت ان تمام چیزوں کو مختصر ترین اور نزدیک ترین راستے سے انجام دینا ہے ، جسے ” صراط مستقیم “ کہتے ہیں ۔
لیکن یہ سب نعمتیں ان لوگوں کو نصیب ہوں گی جو تسلیم اور حق گوئی کے دروازے سے داخل ہوں گے اور ” من اتبع رضوانہ“ کے مصداق ہوں گے۔ منافقین اور ہٹ دھرم افراد جو حق سے دشمنی رکھتے ہیں انھیں اس سے کوئی فائدہ نصیب نہیں ہوگا، جیسا کہ قرآن کی دیگر آیات گواہی دیتی ہیں ۔ نیز ان سب آثار کا سر چشمہ خدا کا حتمی ارادہ ہے جس کی طرف لفظ” باذنہ“ سے اشارہ کیا گیا ہے ۔
یقیناً جنہوں نے کہا کہ مسیح بن مریم خدا ہے وہ کافر ہو گئے ہیں کہہ دو اگر خدا چاہے کہ مسیح بن مریم اس کی ماں اور روئے زمین پر موجود تمام لوگوں کو ہلاک کر دے تو اسے کون روک سکتا ہے؟ (ہاں ) آسمانوں زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کی حکومت خدا ہی کے لئے ہے جو وہ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
کیسے ممکن ہے کہ مسیح (علیه السلام) خدا ہو؟۔
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ مباحث کی تکمیل کے لیے اس آیت میں حضرت مسیح (علیه السلام) کی الوہیت کے دعویٰ پر شدید حملہ کیا گیا ہے اور اسے ایک واضح کفر قرار دیا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : یہ امر مسلم ہے کہ جن لوگوں نے کہا ہے کہ مسیح بن مریم خدا ہے وہ کافر ہوگئے ہیں اور در حقیقت انھوں نے خدا کا انکار کیا ہے (لَّقَدۡ كَفَرَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓاْ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡمَسِيحُ ٱبۡنُ مَرۡيَمَۚ) ۔ اس جملے کا مفہوم واضح ہونے کے لیے ہمیں جاننا چاہئیے کہ عیسائی خدا کے بارے میں بے بنیاد دعوے کرتے ہیں ۔
پہلا وہ تین خدا وٴں کو عقیدہ رکھتے ہیں جسے سورہٴ نساء کی آیہ ۱۷۰ میں باطل قرار دیا گیا ہے : لا تقولوا ثلاثة انتھوا خیراً لکم انما اللہ الہ واحد یعنی ــــــــــــــ یہ نہ کہوکہ تین خدا ہیں ،اس عقیدے سے باز آجاوٴ۔ یہی تمہارے حق میں بہتر ہے ، معبود تو فقط تنہا خدا ہے ۔(۔ اس آیت کی تفسیر اس جلد کی ابتداء میں گذر چکی ہے ۔) دوسرا وہ عالم ہستی پیدا کرنے والے کو ان تین میں سے ایک خدا شمار کرتے ہیں اور ” باپ خدا “ ( عیسائی کتب میں ہے : باپ خدا بیٹے کے واسطے سے پوری کائنات کا خالق ہے ( قاموس کتاب مقدس ص ۳۴۵) ۔( اس کی تفسیر انشاء اللہ عنقریب آئے گی)۔ نیز یہ بھی ہے : خد ایعنی جو خود بخود وجود میں آیا تمام مخلوقات کے خالق اور ساری کائنات کے مالک کا نام اور وہ ایک لامتناہی اور ازلی روح ہے جو اپنے وجود حکمت قدرت اور عدالت میں انواعِ مختلف کے ساتھ ایسا ہے جس میں تغیرو تبدل نہیں ہے ۔ ( قاموس کتاب مقدس ص ۳۴۴) کہتے ہیں ۔ سورہ ٴ مائدہ ۷۳ میں قرآنِ مجید نے اس عقدے کو بھی باطل قرار دیا ہے :
لقد کفرو الذین قالوا ان اللہ ثالث ثلاثة و ما من الٰہ الاالٰہ واحد
یعنی ـــــــــــــــ کافر کہتے ہیں کہ خدا تین میں سے تیسرا ہے ۔ جب کہ ایک اکیلے معبود کے علاوہ کوئی معبود نہیں ۔( اس کی تفسیر جلد آئے گی انشاء اللہ) تیسرا وہ کہتے ہیں کہ تینوں خدا تعداد حقیقی کے باوجود ایک ہیں اس عقیدے کو وہ ” وحدت در تثلیث“ بھی کہتے ہیں اس بات کی طرف زیر نظر آیت میں اشارہ کیا گیا ہے وہ کہتے ہیں کہ خدا مسیح بن مریم ہے او رمسیح بن مریم خدا ہے اور دونوں روح القدس سے مل کر تین متعدد ذاتیں ہونے کے باوجود ایک ہیں ۔
سہ گانہ تثلیث کے تمام پہلو جن میں سے ہر ایک عیسائیت کا عظیم ترین انحراف ہے ، قرآن کی ایک ہی آیت میں باطل قرار دئے گئے ہیں۔
عقیدے تثلیث کے بطلان کے بارے میں تفصیلی وضاحت اسی جلد میں سورہٴ نساء کی آیہ ۱۷۱کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں ۔
ہم نے جو کچھ مندرجہ بالا سطور میں کہا ہے اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ فخر الدین رازی او ربعض دیگر مفسرین کو اس آیت کے سمجھنے میں یہ جو اشکال ہوا ہے کہ کوئی عیسائی بھی صراحت سے خدا اور مسیح کے اتحاد کے عقیدہ کا اظہار نہیں کرتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ انھیں مسیحیت کی کتب پر کافی احاطہ نہیں ہے کیونکہ موجودہ عیسائی کتب میں ” وحدت در تثلیث“ کا مسئلہ بالوضاحت پیش کیا گیا ہے ۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایسی کتابیں اس زمانے میں ان مفسرین کے ہاتھ نہ لگی ہوں۔
اس کے بعدعقیدہ الوہیت کے بطلان کے لیے قر آن کہتا ہے : اگر خدا چاہے کہ مسیح ، اس کی والدہ اور زمین میں بسنے والے تمام لوگوں کو ہلاک کردے تو کون اسے روک سکتا ہے قُلۡ فَمَن يَمۡلِكُ مِنَ ٱللَّهِ شَيۡـًٔا إِنۡ أَرَادَ أَن يُهۡلِكَ ٱلۡمَسِيحَ ٱبۡنَ مَرۡيَمَ وَأُمَّهُۥ وَمَن فِي ٱلۡأَرۡضِ جَمِيعٗاۗ) ۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ حضرت مسیح (علیه السلام) اور ان کی والدہ مریم دیگر انسانوں کی طرح انسان ہونے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ اس بناپر مخلوق ہونے کے لحاظ سے وہ دیگر مخلوقات کی طرح ہیں لہٰذا نابودی ان کے لیے بھی ہے اور وہ چیز جس کے لیے نیستی کا تصور ہوسکے کس طرح ممکن ہے کہ وہ ازلی و ابدی خدا ہو۔
دوسرے لفظوں میں اگرمسیح (علیه السلام) خدا ہو تو خالق کائنات اسے ہلاک نہیں کر سکتا اور اس طرح اس کی قدرت محدود ہو جائے گی اور ایسی ہستی خدا نہیں ہوسکتی کیونکہ خدا کی قدرت اس کی ذات کی طرح غیر محدود ہے ( غور کیجئے گا) ۔
آیت میں ” مسیح بن مریم “ کے الفاظ کا تکرار ہے شاید اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو کہ تم خود معترف ہو کہ مسیح (علیه السلام) مریم کے فرزند تھے اور وہ ماں کے بطن سے پیدا ہوئے ان پر ایک مرحلہ حالتِ جنین کا گذرا، پھر وہ نو زائیدہ بچے کی حالت میں رہے اور انھوں نے تدریجاً پرورش پائی اور بڑے ہوئے۔ تو کیا یہ ممکن ہے کہ خدا ایک چھوٹے سے محیط مثلاً شکم مادر میں رہے اس میں یہ تمام تغیرات اور تحویلات پیدا ہوں نیز جنین اور شیر خوارگی کے عالم میں وہ ماں کا محتاج ہو۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ زیر بحث آیت میں حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کے ذکر کے ساتھ خصویت سے ان کی والدہ کے نام کے ساتھ لفظ ” وامہ“ آیا ہے یوں مادر عیسیٰ (علیه السلام) کو دنیا کے دیگر لوگوں سے ممتاز کیا گیا ہے ، ممکن ہے یہ تعبیر اس بنا پر ہو کہ عیسائی پو جا پاٹ کی وقت ان کی والدہ کی پرستش بھی کرتے ہیں اور اس وقت کے کلیسا وٴں میں دیگر مجسموں کے علاوہ جناب مریم کا مجسمہ بھی ہوتا ہے جس کی وہ تعظیم اور پر ورش کرتے ہیں ۔ سورہٴ مائدہ کی آیت ۱۱۶ میں بھی اس مطلب کی طرف اشارہ کیاگیا ہے ۔
و اذقال اللہ یا عیسیٰ بن مریم اٴ انت قلت للناس اتخذونی و امی الھین من دون اللہ۔
روزقیامت جب خدا کہے گا : اے عیسیٰ بن مریم ! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کو چھوڑ کر میر او رمیری والدہ کی پرستش کرو۔
جولوگ بغیر باپ کے پیدا ہونے کو مسیح (علیه السلام) کی الوہیت کی دلیل سمجھتے ہیں ، آیت کے آخر میں انھیں جواب دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے وہ سب خدا کے قبضہ قدرت میں ہے وہ جیسی مخلوق چاہے پیدا کرتا ہے ( تو چاہے تو کسی کو بغیر ماں باپ کے پیدا کرے جیسے اس نے حضرت آدم(علیه السلام) کو پیدا کیا ، وہ چاہے تو ماں باپ کے توسط سے پیدا کرے ۔ جیسے عام انسانوں کو پیدا کرتا ہے اور وہ چاہے تو کسی کو صرف ماں کے توسط سے پیدا کرے جیسے اس نے حضرت مسیح (علیه السلام) کو پیدا کیا ہے خلقت کو یہ تنوع کسی اورچیزکا نہیں بلکہ اس کی قدرت کی دلیل ) اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
(وَلِلَّهِ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَاۚ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِير) ۔
یہود و نصاریٰ کہتے تھے کہ ہم خدا کے بیٹے ہیں اور اس کے خاص دوست ہیں ان سے کہہ دو کہ پھر وہ تمہیں تمہارے گناہوں کی سزا کیوں دیتا ہے بلکہ تم اس کی مخلوقات میں سے انسان ہو وہ جسے چاہتا ہے اور اہل پاتا ہے اسے بخش دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے (اور مستحق سمجھتا ہے) اسے سزا دیتا ہے آسمانوں اور زمین کی حکومت اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے سب اس کے لئے ہے اور تمام موجودات کی بازگشت اسی کی طرف ہے۔
اے اہل کتاب: ہمارا رسول تمہاری طرف آ گیا ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
اس آیت میں گذشتہ مباحث کی تکمیل کی گئی ہے ، یہود و نصاریٰ کی بے بنیاد دعووٴں اور موہوم امتیازات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے دوست ہیں (وَقَالَتِ ٱلۡيَهُودُ وَٱلنَّصَٰرَىٰ نَحۡنُ أَبۡنَٰٓؤُاْ ٱللَّهِ وَأَحِبَّٰٓؤُهُۥۚ) ۔
وہ اپنے بارے میں صرف اسی امتیاز کے قائل نہیں بلکہ آیات قرآنی میں بار ہا ان کے اس قسم کے دعووٴں کا ذکر کیا گیاہے سورہٴ بقرہ آیت ۱۱۱ میں ان کے دعویٰ کا بھی ذکر ہے کہ ان کے علاوہ کوئی جنت میں داخل نہیں ہوگا او ریہ کہ جنت یہود و نصاریٰ ہی سے مخصوص ہے ۔ سورہٴ بقرہ کی آیت۸۰ میں یہودیوں کے اس دعویٰ کا ذکر کیا گیا ہے کہ جہنم کی آگ چند دن کے سوا ان تک نہیں پہنچے گی ۔اس دعویٰ کے ذکر کے بعد ان کی سرزنش کی گئی ہے ۔ مندرجہ بالا آیت میں ان کے اس موہوم دعویٰ کا تذکرہ ہے کہ وہ خدا کے بیٹے اور خاص دوست ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ وہ اپنے آپ کو خدا کا حقیقی بیٹا نہیں سمجھتے تھے عیسائی صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا حقیقی بیٹا سمجھتے ہیں اور بالتصریح اپنے اس عقیدے کا اظہار کرتے ہیں ۔(” خد اکا بیٹا“ یہ لفظ ہمارے منجی ( نجات دینے والے ) اور فادی( فدیہ بنے والے ) کا ایک لقب ہے جو کسی دوسرے پر نہیں بولا جاسکتا مگر ایسے مقام پر کہ قرآن سے معلوم ہو کہ مقصد خدا کا حقیقی بیٹا نہیں ۔ ( قاموس کتاب مقدس /ص ۳۴۵) )وہ بات اپنے لیے اس مفہوم میں استعمال کرتے تھے کہ وہ خدا سے خاص ربط رکھتے ہیں اور جو شخص بھی ان کی نسل میں سے ہے یا ان کے گروہ میں داخل ہو جاتا ہے وہ اعمال صالح کے بغیر خود بخود خدا کے دوستوں اور فرزندوں میں شمار ہو جاتا ہے ۔ ( کچھ عرصہ ہوا ہمارے علاقے میں کچھ افراد نے لوگوں کو عیسائی بنانے کے لیے خاص تبلیغات شروع کررکھی تھیں اور وہ اپنے آپ کو ” خدا کے بیٹے “ کہتے تھے ۔) ہم جانتے ہیں کہ قرآن ان تمام موہوم امتیازات سے جنگ کرتا ہے او رہر شخص کا امتیاز صرف ایمان ، عمل صالح اور ا س کی پر ہیز گاری میں سمجھتا ہے اسی لیے زیر نظر آیت میں اس دعویٰ کے بطلان کے لیے فرمایا گیا ہے : ان سے کہیے کہ اگر ایسا ہے تو پھر وہ تمہیں تمہارے گناہوں کی سزا کیوں دیتا ہے(قُلۡ فَلِمَ يُعَذِّبُكُم بِذُنُوبِكُمۖ) ۔ یعنی تم خود اعتراف کرتے ہو کہ تمہیں تھوڑی سی مدت کے لیے سزا دے گا گناہ گاروں والی جو یہ سزا تمہیں ملے گی اس بات کی دلیل ہے کہ تمہارا یہ دعویٰ بے بنیاد ہے کہ تم خدا سے خا ص تعلق رکھتے ہو بلکہ اپنے آپ کو خدا کا بیٹا شمار کرتے ہو۔ علاوہ ازیں تمہاری تاریخ شاہد ہے کہ خود اسی دنیا میں تم کئی سزاوٴں اور عذابوں میں مبتلاہوئے ہو۔ یہ تمہارے دعویٰ کے بطلان پر دوسری دلیل ہے ۔ اس مفہوم کی تاکیدکے لیے مزید ارشاد ہوتا ہے : تم مخلوقاتِ خدا میں سے دیگر انسانوں جیسے انسان ہو( بَلْ اٴَنْتُمْ بَشَرٌ مِمَّنْ خَلَق) ۔ یہ سب کے لیے قانون ِعام ہے کہ خدا جسے چاہتا ہے ( اور اہل سمجھتا ہے ) بخش دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ( اور مستحق پاتاہے ) ۔ سزا دیتا ہے (يَغۡفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُۚ) ۔ علاوہ ازیں سب خدا کی مخلوق، اس کے بندے او رمملوک ہیں لہٰذا کسی کو خدا کا بیٹا کہنا منطقی اور اصولی بات نہیں ہے (وَلِلَّہِ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا ) ۔اور آخرکار ساری مخلوق نے اسی کی طرف لوٹ جانا ہے (وَإِلَيۡهِ ٱلۡمَصِيرُ) ۔
یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ یہودو نصاریٰ نے کہاں ” خدا کے بیٹے“ ہونے کا دعویٰ کیا ہے ( چاہے یہاں بیٹا حقیقی میں نہیں مجازی معنی میں ہی ہو)؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ موجودہ اناجیل میں یہ بات بار ہا دکھائی دیتی ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ انجیل یوحنا باب ۸ جملہ۴۱ کے بعد درج کی گئی ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیه السلام) نے یہودیوں سے کہا :
” تم اپنے باپ والے کام کرتے ہو
“۔ یہودیوں نے جواب دیا :
ہم زنا سے پیدا نہیں ہوئے ، ہمارا ایک باپ ہے جو کہ خدا ہے ۔
عیسیٰ (علیه السلام) نے ان سے کہا: اگرخدا تمہارا باپ ہوتا تو تم مجھے دوست رکھتے۔
روایات اسلامی میں بھی ابن عباس سے ایک حدیث مروی ہے : پیغمبر اسلام نے یہودیوں کی ایک جماعت کو دین اسلام کی دعوت دی اور انھیں خدا کے عذاب سے ڈرایا تو وہ کہنے لگے تم ہمیں خدا کے عذاب سے کیسے ڈراتے ہو جب کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے دوست ہیں ۔
( بحوالہ تفسیر مجمع البیان فخر رازی جلد ۱۱ ص ۱۹۲۔) تفسیرمجمع البیان میں زیر بحث آیت کے ذیل میں اس حدیث سے ملتی جلتی ایک روایت نقل کی گئی ہے کہ :
پیغمبر ؐخدا نے خدا کے عذاب سے ڈرایا تو ایک گروہ کہنے لگا ہمیں تہدید نہ کرو او رنہ ڈراوٴ کیونکہ ہم تو خدا کے بیٹے اور اس کے دوست ہیں اگر وہ ہم پر ناراض بھی ہو تو اس کی یہ ناراضگی ایسی ہے جیسے کوئی انسان اپنے بیٹے پرناراض ہوتا ہے
( یعنی بہت جلد اس کا غصہ ٹھنڈا ہوجاتاہے ) ۔
اے اہل کتاب ! ہمارا رسول تمہاری طرف آ گیا ہے اور وہ پیغمبروں کے درمیانی عرصے اور فاصلے کے بعد تمہارے لیے حقائق بیان کرتا ہے کہ مبادا (روزقیامت ) کہو کہ ہمارے پاس نہ بشارت دینے والا آیا ہے نہ ڈرانے والا۔ (لہٰذا اب) بشارت دینے والا اور ڈرانے والا (پیغمبر ) تمہارے پاس آ گیا ہے اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
پھر روئے سخن اہل کتاب کی طرف
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
اس آیت میں پھر روئے سخن اہل کتاب کی طرف ہے : اے اہل کتاب ! اے یہوو نصاریٰ ! ہمارا پیغمبر تمہاری طرف آیا ہے اور اس دور میں جب انبیاء الہٰی کے درمیان فاصلہ اور وقفہ ہو چکا ہے،اس نے تمہارے سامنے حقائق بیان کیے ہیں ۔ ایسا نہ ہو کہ تم کہو کہ خدا کی طرف سے ہماری طرف کوئی بشارت دینے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا (يَٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ قَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمۡ عَلَىٰ فَتۡرَةٖ مِّنَ ٱلرُّسُلِ أَن تَقُولُواْ مَا جَآءَنَا مِنۢ بَشِيرٖ وَلَا نَذِيرٖۖ) ۔ ”بشیر اور نذیر“ یعنی پیغمبر اسلام جنہوں نے صاحب ایمان او رنیک افراد کو خدا کی رحمت و جزا کی بشارت دی او ربے ایمان، گنہ گار اور آلودہ افراد کو عذاب ِ الہٰی سے ڈرا یا ایسا پیغمبر تمہاری طرف آگیا ہے (ٖۖ فَقَدۡ جَآءَكُم بَشِيروَنَذِيرۗ) ۔ ” فترت“ در اصل سکون و اطمنان کے معنی میں ہے ۔ دو حرکات، دو کوششوں اور دو انقلابات کے درمیانی فاصلے کو بھی ” فترت“ کہتے ہیں ۔ حضرت موسیٰ (علیه السلام) اور حضرت مسیح (علیه السلام) کے درمیانی انبیاء مرسلین موجود تھے لیکن حضرت مسیح (علیه السلام) اور پیغمبر اسلام کے درمیان یہ صورت نہیں تھی قرآن نے اس دور کانام ” فترت رسل “ رکھا ہے او رہم جانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ اور بعثتِ پیغمبرؐکے درمیان تقریباً چھ سو سال کا فاصلہ تھا ۔(بعض ان دو عظیم پیغمبروں کے درمیانی عرصے کو چھ سوسال سے کم سمجھتے اور بعض زیادہ۔ کچھ کے بقول حضرت مسیح (علیه السلام) کی ولادت اور پیغمبر اسلام کی ہجرت کے درمیان رومی سالوں کے حساب سے چھ سو اکیس سال اور ایک سو بچانوے دن کا فاصلہ ہے ۔( تفسیر الفتوح رازی ج۴ ص ۱۵۴ کے حاشیہ پر مر حوم شعرانی کی تحریر)۔
لیکن جس طرف قرآن نے (سورہ یسین آیہ 14 میں ) اشارہ کیا ہے اور مفسرین ِ اسلام کے قول کے مطابق ان پیغمبروں کے درمیانی عرصے میں کم از کم تین رسول آئے اور بعض ان کی تعداد چار سمجھتے ہیں ، پھر بھی ان رسولوں کی وفات اور رسول ِ السلام کے درمیان فاصلہ تھا اسی لیے قرآن نے اس عرصے کو " فترت" قرار دیا ہے۔
ایک سوال اور اس کا جواب
ممکن ہے کہ اس مقام پر کہا جائے کہ ہمارے عقیدے کے مطابق تو انسانی معاشرہ ایک لحظہ کے لیے بھی خدا ئی نمائندے اور ا س کے بھیجے ہو ئے افراد سے خالی نہیں ہوسکتا لہٰذا ” فترت“ کا ایسا دور کیونکر ہو سکتا ہے ۔ تو جہ رہے کہ قرآن کہتا ہے :” علی فترة من الرسل“ ۔۔۔۔۔۔۔یعنی اس دور میں رسول نہیں تھا ۔ یہ بات اس کے خلاف نہیں کہ اس دور میں اوصیاء موجود ہوں ۔ بہتر الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ ” رسول “ ان ہستیوں کو کہتے ہیں جو وسیع و عریض تبلیغات پر مامور تھے ۔ لوگوں کو بشارتیں اورنذارتین دیتے تھے ، معاشروں کا سکوت توڑتے تھے اور اپنی آواز تمام لوگوں کے کانوں تک پہنچاتے تھے ۔ لیکن سب کے سب اوصیاء ایسی ماموریت اور ذمہ داری نہ رکھتے تھے یہاں تک کہ ممکن ہے وہ بعض اجتماعی عوامل کی وجہ سے پوشیدہ طور لوگوں میں زندگی گزارتے ہوں ۔ حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں ایک بیان میں فرماتے ہیں ۔ اللھم لاتخلوا الارض من قائم للہ بحجة اما ظاہراً مشھوراً اوخائفاً مغموراً لئلا تبطل حجج اللہ وبیناتہ یحفظ اللہ بھم حججہ و بینا تہ حتی یودعو ھا نظرائھم ویزرعوھا فی قلوب اشباھھم۔
ہاں روئے زمین ایسے شخص کے وجود سے ہر گز خالی نہیں ہوتی جو حجت ِ خدا کے ساتھ قیام کرے ، وہ آشکار او رمشہور ہو یا مخفی اور نہ پہچانا ہو تاکہ خدا ئی احکام ، دلائل او رنشانیاں ختم نہ ہو جائیں ( اور وہ انھیں تحریف اور دستبردسے محفوظ رکھیں ) خدا ن کے ذریعے اپنے دلائل اور نشانیوں کی حفاظت کرتا ہے تاکہ وہ انھیں اپنے جیسے افراد تک پہنچا دیں ، آہستہ آہستہ خرافات، شیطانی وسوسے، تحریفات اور تعلیماتِ الہٰی سے بے خبری پھیلی رہے گی ایسے میں ممکن ہے کہ کچھ لوگ ذمہ داریوں سے فرار کے لیے ایسی صورت کو بہانہ بنائیں تو اس صورت میں خدا آسمانی جوانمردوں کے ذریعے اس بہانے کو منقطع کردیتا ہے ۔ ( بحوالہ نہج البلاغہ کلمات قصار، کلمہ ۱۴۷)۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے (وَاللهُ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیر) ۔یعنی پیغمبروں کو بھیجنا اور ان کے جانشینوں کو دعوت حق کی نشر و اشاعت کے لیے بھیجنااس کے قدرت کے سامنے آسان سا کام ہے ۔ ۲۰
وہ (وقت یاد) کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا: اے قوم! تم پر خدا نے جو نعمت کی ہے اسے یاد رکھو جب اس نے تمہارے درمیان انبیاء مقرر کیے (اور فرعونی استعمار کی زنجیر توڑ دی) اور تمہیں خود اپنا مختار بنا دیا اور تمہیں ایسی کئی چیزیں بخشیں جو عالمین میں سے کسی کو نہیں دیں۔
(حضرت موسیٰ نے کہا:) اے قوم ! سرزمین مقدس میں داخل ہو جاؤ جسے خدا نے تمہارے لیے مقرر فرمایا ہے اور پچھلے پاؤں نہ لوٹ جاؤ (اور پیچھے نہ ہٹو) کہ خسارے میں رہو گے۔
وہ کہنے لگے: اے موسیٰ ! اس سر زمین میں ظالم رہتے ہیں جب تک وہ نہ نکل جائیں ہم اس میں ہر گز داخل نہ ہوں گے پس اگر وہ اس (سرزمین) سے نکل جائیں تو ہم اس میں داخل ہو جائیں گے۔
ان لوگوں میں سے دو شخص جو خدا سے ڈرتے تھے اور خدا نے (عقل ایمان اور شجاعت کی صورت میں ) انہیں اپنی نعمت سے نوازا تھا کہنے لگے ان کے شہر کے دروازے میں داخل ہو جاؤ جب تم داخل ہو گئے تو کامیاب ہو جاؤ گے اور خدا پر توکل کرو اگر ایمان رکھتے ہو۔
خدا نے موسیٰ سے فرمایا: یہ سر زمین چالیس سال تک ان کے لئے ممنوع ہے (اور یہ اس تک نہیں پہنچ سکیں گے) اور ہمیشہ زمین میں سر گرداں رہیں گے اور اس گنہ گار جمعیت کے (انجام کے) بارے میں غمگین نہ ہو۔
بنی اسرائیل اور سر زمین ِ مقدس
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
ان آیات میں یہودیوں میں روحِ حق شناسی بیدار کرنے ،گذشتہ خطاوٴں کے بارے میں ان کے شعور کو دعوت دینے اور انھیں ان خطاوٴں کی تلافی پر ابھارا نے کے لیے فرمایا گیا ہے : وہ وقت یاد کرو جب موسیٰ نے اپنے پیرو کاروں سے کہاکہ خدا نے تمہیں جو نعمتیں بخشی ہیں انھیں فراموش نہ کرو وَإِذۡ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوۡمِهِ يَٰقَوۡمِ ٱذۡكُرُواْ نِعۡمَةَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ) ۔ واضح ہے کہ ” نِعۡمَةَ ٱللَّهِ “ کا مفہوم پروردگار کی تمام نعمات پر محیط ہے۔ لیکن یہاں ان کے تین کی طرف اشارہ کیا گیاہے ۔ پہلی یہ کہ بہت سے انبیاء اور رہبران ان میں پیدا ہوئے یہ در اصل ان کے لیے سب سے بڑی نعمت تھی (إِذۡ جَعَلَ فِيكُمۡ أَنۢبِيَآءَ )یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ صرف حضرت موسیٰ بن عمران کے زمانے میں ستر سے زیادہ پیغمبر تھے ۔ وہ تمام ستر افراد جو حضرت موسی ٰ علیہ السلام کے ہمراہ کوہ طور پر گئے تھے، انبیاء کے زمرے میں آتے ہیں ۔ اسی نعمت کی برکت سے وہ شرک، بت پرستی اور گوسالہ پرستی جیسی ہولناک مصیبتوں سے رہا ہوئے اور انھوں نے طرح طرح کے خرافات موہومات، قباحتوں اور نجاستوں سے نجات حاصل کی ۔ یہ ان کے لیے عظیم ترین نعمت تھی ۔ ایک عظیم مادی نعمت تھی جو اپنے مقام پر روحانی نعمتوں کے لیے ایک مقدمہ بھی ہے ۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : تمہاری جان و مال اور زندگی کا اختیار خود تمہارے ہاتھ میں دے دیا(وَجَعَلَكُم مُّلُوكٗا) بنی اسرائیل سالہال سے فرعون اور فرعونیوں کی قید و بند کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اور ان کے اپنے ہاتھ میں کوئی اخیتار نہ تھا ۔ ان کیساتھ قیدی جانوروں کا سا سلوک روا رکھا جاتا تھا ۔ حضرت موسیؑ بن عمران نے حکمِ خدا سے قیام کیا اور ان کے پاؤں میں پڑی غلامی اور استعمار کی زنجیروں کو توڑ کر رکھ دیا اور انہیں ان کی زندگی کا مختار بنا دیا۔ بعض خیال ظاہر کرتے ہیں کہ " ملوک" سے یہا ں مراد وہ بادشاہ اور سلاطین ہیں جو بنی اسرائیل سے ہوئے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے پاس حکومت ایک مختصر سے دور کے لیے ہی رہی اور ا ن میں سے چند افراد ہی اس مقام تک پہنچے جب کہ آیت کہتی ہے "( وَجَعَلَكُم مُّلُوكٗا) یعنی خدا نے تم سب کو یہ مقام عطا کیا ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ آیت سے مراد و ہی کچھ ہے جو ہم نے سطور بالا میں کہا ہے ۔ علاوہ ازیں ” ملک“ ( بر وزن” الف“ ) لغت میں بادشاہ او رصاحب اقتدار کے معنی میں بھی آتا ہے ۔( کتب لغت میں ہے ): الملک من کان لہ الملک و الملک ھو مایملکہ الانسان و یتصرف بہ ۔ او ۔ العظمة و السلطة ۔
(مَلِک وہ شخص ہے جو مِلک رکھتا ہو اور مِلک ان سب چیزوں کو کہتے ہیں جس کا انسان مالک ہو اور ان میں تصرف کرے)
درمنثور میں پیغمبر اکرم سے منقول ہے : کانت بنو اسرائیل اذاکان لاحد ھم کادم و دابة و امراٴة کتب ملکاً
بنی اسرائیل میں سے جس شخص کے پاس غلام ، گھوڑا اور بیوی ہوتی اسے ملک کہتے۔( بحوالہ المیزان جلد ۵ ص ۳۱۹ ، تفسیر طبرسی ج۶ ص ۱۰۸ میں بھی یہ روایت نقل ہے) آیت کے آخر میں کلی طور پر ان اہم نعمتوں کاذکر ہے جو اس زمانے میں کسی اور کو نہیں دی گئی تھی ، تمہیں ایسی چیزیں دی گئیں جو عالمین میں سے کسی کو نہیں دی گئی تھیں (وَءَاتَىٰكُم مَّا لَمۡ يُؤۡتِ أَحَدٗا مِّنَ ٱلۡعَٰلَمِينَ) ۔ ایسی طرح طرح کی بہت زیادہ نعمتیں تھیں ان میں سے یہ بھی تھیں کہ انہیں معجزانہ طور پر فرعون سے نجات ملی ، ان کے لیے دریا شق ہوا اور مَن و سلویٰ جیسی خاص غذا انھیں مسیر آئی ۔ اس کی تفصیل سورہٴ بقرہ آیت ۵۷ کے ذیل میں جلد اول ( ص۲۱۴، اور دو ترجمہ ) میں گذر چکی ہے۔ اس کے بعد سر زمین مقدس میں بنی اسرائیل کے حدود کے بارے میں یوں بیان کیا گیا ہے : موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تم سر زمین مقدس میں جسے خدا نے تمہارے لیے مقرر کیا ہے داخل ہو جاوٴ، اس سلسلے میں مشکلات سے نہ ڈرو، فدا کاری سے منہ نہ موڑو او راگر تم نے اس حکم سے پیٹھ پھیری تو خسارے میں رہو گے (يَٰقَوۡمِ ٱدۡخُلُواْ ٱلۡأَرۡضَ ٱلۡمُقَدَّسَةَ ٱلَّتِي كَتَبَ ٱللَّهُ لَكُمۡ وَلَا تَرۡتَدُّواْ عَلَىٰٓ أَدۡبَارِكُمۡ فَتَنقَلِبُواْ خَٰسِرِينَ) ۔
آیت میں ارض مقدسہ سے کیا مراد ہے ، اس سلسلے میں مفسرین نے بہت کچھ کہا ہے ، بعض بیت المقدس کہتے ہیں کچھ اردن یا فلسطین کانام لیتے ہیں اور بعض سر زمین طور سمجھتے ہیں ، لیکن بعید نہیں کہ اس سے مراد منطقہ شامات ہو، جس میں تمام مذکورہ علاقے شامل ہیں کیونکہ تاریخ شاہد ہے کہ یہ سارا علاقہ انبیاء الہٰی کا گہوارہ، عظیم ادیان کے ظہور کی سر زمین اور طویل تاریخ میں توحید، خدا پرستی اور تعلیماتِ انبیاء کی نشر و اشاعت کا مرکز رہا ہے لہٰذا اسے سر زمین مقدس کہا گیا ہے اگر چہ بعض اوقات خاص بیت المقدس کو بھی ارض مقدس کہا جاتا ہے ۔ ” کتب اللہ علیکم “ سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے یہ فیصلہ کر رکھا تھا کہ نبی اسرائیل سر زمین مقدس میں امن و سکون اور خوشحالی کی زندگی بسر کریں (اس شرط کے ساتھ کہ اسے شرک اور بت پرستی سے پاک رکھیں اور خود بھی انبیاء کی تعلیم سے منحرف نہ ہوں ) لیکن وہ اگر اس حکم پر کار بند نہ رہے تو انھیں بہت زیادہ نقصان اٹھانا پرے گا ۔ لہٰذا اگر ہم دیکھتے ہیں کہ اس آیت کی مخاطب نبی اسرائیل کی ایک نسل اس سر زمین میں داخل نہ ہوسکی اور چالیس سال تک بیا بان میں سرگرداں رہی اور ان کی اگلی نسل کو یہ توفیق ملی تو یہ بات ” کتب اللہ لکم “ ( خدا نے تمہارے لیے مقرر کیا ہے ) کے مفہوم کے منافی نہیں ہے کیونکہ یہ بات چند شرائط سے مشروط تھی جنہیں انھوں نے پورا نہیں کیا ۔ جیسا کہ بعد والی آیت سے معلوم ہوتا ہے ۔ بنی اسرائیل نے اس حکم پر حضرت موسیٰ (علیه السلام) کو وہی جواب دیا جو ایسے موقع پر کمزور ، بزدل اور جاہل لوگ دیا کرتے ہیں ۔ ایسے لوگ چاہتے ہیں کہ تمام کامیابیاں انھیں اتفاقاً اور معجزانہ طور پر ہی حاصل ہو جائیں یعنی لقمہ بھی کوئی اٹھاکر ان کے منہ میں ڈال دے ، وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگے: آپ جانتے ہیں کہ اس علاقے میں ایک جابر اور جنگجوگروہ رہتا ہے جب تک وہ اسے خالی کرکے باہر نہ چلاجائے ہم تو اس علاقے میں قدم تک نہیں رکھیں گے ۔ اسی صورت میں ہم آپ کی اطاعت کریں گے اور سر زمین ِ مقدس میں داخل ہو ں گے۔ (قَالُواْ يَٰمُوسَىٰٓ إِنَّ فِيهَا قَوۡمٗا جَبَّارِينَ وَإِنَّا لَن نَّدۡخُلَهَا حَتَّىٰ يَخۡرُجُواْ مِنۡهَا فَإِن يَخۡرُجُواْ مِنۡهَا فَإِنَّا دَٰخِلُونَ ۔( توجہ رہے کہ لفظ ”جبار“ اصل میں مادہ ” جبر “ سے ہے اس کامعنی ہے کہ کسی چیز کی قوت سے اور زبر دستی اصلاح کرنا، اسی لیے ٹوٹی ہوئے ہڈی باندھنے کو ” جبر“ کہتے ہیں ۔ بعد ا زاں ایک طرف ہر طرح کی اصلاح اور دوسری طرف ہر طرح کے تسلط اور غلبہ کے مفہوم میں استعمال ہونے لگا خدا کو بھی جبار اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ تمام چیزوں پر تلسط رکھتا ہے یا ہر محتاج کی اصلاح کرتا ہے) ۔ بنی اسرائیل کا یہ جواب اچھی طرح نشاندہی کرتا ہے کہ طویل فرعونی استعمار نے ان کی نسلوں پر کیسا منحوس اثر چھوڑا تھا ۔ لفظ” لن “ جو دائمی نفی پر دلالت کرتا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ سر زمین مقدس کی آزادی کے لیے مقابلے سے کس قدر خوفزدہ تھے ۔ چاہیے تو یہ تھاکہ بنی اسرائیل سعی و کوشش کرتے، جہاد و قربانی کے جذبے سے کام لیتے اور سر زمینِ مقدس پر قبضہ کرلیتے اگر فرض کریں کہ سنت الہٰی کے بر خلاف بغیر کسی اقدام کے ان کے تمام دشمن معجزانہ طور پر نوبود ہو جاتے اور بغیر کوئی تکلیف اٹھائے وہ وسیع علاقے کے وارث بن جاتے تو اس کا نظام چلانے اور ا س کی حفاظت میں بھی ناکام رہتے ۔ بغیر زحمت سے حاصل کی ہوئی چیز کی حفاظت سے انھیں سرو کار ہو سکتا تھا نہ وہ اس کے لیے تیار ہوتے اور نہ اہل ۔ جیساکہ تواریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آیت میں قوم ِ جبار سے مراد قوم عمالقہ ہے(عمالقہ ، سام کی اولاد میں سے ایک قوم تھی یہ لوگ جزیرہ نمائے عرب کے شمال میں صحرائے سینا کے نزدیک رہتے تھے وہ مصر پر حملہ آور ہوئے اور مدتوں اس پر قابض رہے ان کی حکومت کا عرصہ تقریباً ۵۰۰ سال تھا ( ۲۲۱۳ ق م سے لے کر ۱۷۰۳ ق م تک ) ۔ ( بحوالہ دائرة المعارف فرید وجدی ج۶ ص ۲۳۲ طبع سوم ) یہ لوگ سخت جان اور بلند قامت تھے ۔ یہاں تک کہ ان کی بلند قامت کے بارے میں بہت مبالغے ہوئے اور افسانے تراشے گئے۔ اس سلسلے میں مضحکہ خیز باتیں گھڑی گئیں جن کے لیے کوئی عملی دلیل نہیں ہے ۔ خصوصاً ” عوج“ کے بارے میں خرافات سے معمور ایسی کہانیاں تاریخوں میں ملتی ہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے افسانے جن میں سے بعض اسلامی کتب میں بھی آگئے ہیں ، در اصل نبی اسرائیل کے گھڑے ہوئے ہیں انھیں عام طور پر ” اسرائیلیات“ کہا جاتا ہے ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ خود موجودہ تورات کے متن میں ایسے افسانے دکھائی دیتے ہیں ۔ سفر اعداد کی تیرہویں فصل کے آخر میں ہے ۔
اس زمین کے بارے میں جس کے تجسس میں (نبی اسرائیل کے جاسوس) لگے ہوئے تھے انھوں نے آکر ایک بری خبر دی ۔ وہ کہنے لگے کہ جس زمین کے بارے میں ہم تجسس کرنے گئے ہوئے تھے جب ہم اس کے نزدیک سے گزرے تو دیکھا کہ و ہ ایسی زمین ہے جو اپنے رہنے والوں کو تلف کردیتی ہے اور اس میں ہم نے جتنے لوگوں کو دیکھا سب بلند قامت تھے ۔ وہاں ہم نے بلند قد والوں یعنی اولاد عناق جو بلند قامت ہیں و دیکھا ہے ہمیں ایسا لگا جیسے ٹڈی دل ہیں اور خود ان کی نگاہوں میں بھی ہم ایسے ہیں تھے۔ اس کے بعد قرآن کہتا ہے : اس وقت اہل ایمان میں سے دو افراد ایسے تھے جن کے دل میں خوفِ خدا تھا اور اس بنا پر انھیں عظیم نعمتیں مسیر تھیں ان میں استقامت و شجاعت بھی تھی، وہ دوراندیش بھی تھے اور اجتماعی اور فوجی نقطہ نظر سے بھی بصیرت رکھتے تھے انھوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دفاعی تجویز کی حمایت کی اور بنی اسرائیل سے کہنے لگے: تم شہر کے در وازےسے داخل ہو جاوٴ اور اگر تم داخل ہو گئے تو کامیاب ہو جاوٴ گے(قَالَ رَجُلَانِ مِنَ ٱلَّذِينَ يَخَافُونَ أَنۡعَمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِمَا ٱدۡخُلُواْ عَلَيۡهِمُ ٱلۡبَابَ فَإِذَا دَخَلۡتُمُوهُ فَإِنَّكُمۡ غَٰلِبُونَۚ ) ۔ لیکن ہر صورت میں تمہیں روح ایمان سے مدد حاصل کرنا چاہئیے خدا پر بھروسہ کرو تاکہ اس مقصد کو پالو(وَعَلَى ٱللَّهِ فَتَوَكَّلُوٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ)۔ اس بارے میں کہ یہ دوا آدمی کون تھے ؟ اکثر مفسرین نے لکھا ہے کہ وہ یوشع بن نون اور کالب بن یوحنا ( یوفنہ بھی لکھتے ہیں ) تھے جو بنی اسرائیل کے نقیبوں میں سے تھے کہ جن کی طرف پہلے بھی اشارہ کیا جاچکا ہے ۔ (بحوالہ موجودہ تورات کے سفر تثنیہ باب اول سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان افراد کے نام یوشع اور کالب تھے ۔) من الذین یخافون ـــــــــــ کی تفسیر میں بھی کئی احتمالات پیش کیے گئے ہیں لیکن واضح ہے کہ ظاہری مفہوم یہ ہے کہ وہ دونوں مرد ایسے تھے جو خدا سے ڈر تے تھے اسی لیے تو انھیں غیر خدا کا کوئی خوف نہ تھا ۔ انعم اللہ علیھما ـــــــــــخدا نے ان پر فراوان نعمت کی یہ جملہ مندرجہ بالا مفہوم کا شاہد ہے کیونکہ اس سے بڑی نعمت اور کیا ہو گی کہ انسان صرف اللہ سے ڈرے نہ کہ اس کے غیر سے ۔
یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ یہ دو شخص کیسے جانتے تھے کہ اگر بنی اسرائیل اچانک حملہ کرکے شہر میں داخل ہو جائیں تو عمالقہ شکست کھاجائیں گے ۔
شاید یہ اس لیے ہو کہ وہ موسیٰ (علیه السلام) بن عمران کے وعدہٴ فتح و نصرت پر اعتمادرکھتے تھے اور اس کے علاوہ وہ بھی جانتے تھے کہ تمام جنگوں کا ایک یہ اصول ہے کہ اگر حملہ آور فوج اپنے دشمن کے اصلی مرکز پرجاپہنچے یعنی اس کے گھر میں جاکر لڑے، تو عام طور پر کامیاب ہوجاتی ہے ۔ نہج البلاغہ میں بھی خطبہ جہاد میں اس جنگی حکمت ِ عملی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ امیر المومنین (علیه السلام) فرماتے ہیں ۔
فوا للہ ماغزی قوم فی عقر دار ھم الاذلوا
بخداجس قوم پر بھی اس کے گھر میں حملہ کیا گیا ،وہ ذلیل ہوئی ۔ (خطبہ۔ ۲۷)
علاوہ از ایں جیساکہ یہ واضح ہو چکا ہے کہ عمالقہ ایک تنومند اور قوی ہیکل قوم تھی ( البتہ ان کے بارے میں افسانوی پہلووٴں کا ہم نے انکار کیا ہے ) اور ایسی قوم بیابانی جنگ میں اپنی مہارت کا بہتر مظاہرہ کرسکتی ہے لیکن شہر کے گلی کوچوں میں ویسا نہیں لڑسکتی ۔ ان سب باتوں سے قطع نظر جیسا کہ کہا جاتا ہے وہ لوگ تنومند اور قوی ہیکل ہو نے کے باوجود ڈر پوک تھے اور اچانک حملے سے جلدی مرعوب ہو جاتے ۔ ان تمام امور کے باعث ان دو افراد نے بنی اسرائیل کی کامیابی کی ضمانت دی تھی ۔ مگر بنی اسرائیل نے یہ تجویز قبول نہ کی اور ضعف و کمزوری جو ان کی روح پر قبضہ کرچکی تھی، کے باعث انھوں نے صراحت سے حضرت موسیٰ (علیه السلام) سے کہا: جب تک وہ لوگ اس سر زمین میں ہیں ہم ہر گز داخل نہیں ہو ں گے ، تم اور تمہارا پر وردگار جس نے تم سے کامیابی کا وعدہ کیا ہے ، جاوٴ اور عمالقہ سے جنگ کرو اور جب کامیاب ہو جاوٴ تو ہمیں بتا دینا ہم یہیں بیٹھے ہیں (قَالُواْ يَٰمُوسَىٰٓ إِنَّا لَن نَّدۡخُلَهَآ أَبَدٗا مَّا دَامُواْ فِيهَا فَٱذۡهَبۡ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَٰتِلَآ إِنَّا هَٰهُنَا قَٰعِدُونَ)
یہ آیت نشاندہی کرتی ہے کہ نبی اسرائیل نے اپنے پیغمبرکے سامنے جسارت کی انتہا کردی تھی، کیونکہ پہلے تو انھوں نے لفظ ” لن“ اور ” ابدا“ استعمال کرکے اپنی صریح مخالفت کااظہار کیا اور پھر یہ کہا کہ تم اورتمہارا پر وردگارجاوٴ اور جنگ کرو، ہم تو یہاں بیٹھے ہیں انھوں نے حضرت موسیٰ ؑ(علیه السلام) اور ان کے وعدوں کی تحقیر کی یہاں تک کہ خدا کے ان دو بندوں کی تجویز کی بھی پر واہ نہیں کی اور شاید انھیں تو کوئی مختصر سا جواب تک نہیں دیا ۔
یہ امر قابل توجہ ہے کہ موجودہ تورات میں بھی اس داستان کے بعض اہم حصے موجود ہیں ۔ یہ واقعہ سر اعداد باب ۱۴ میں ہے ،جہاں مذکورہ ہے
تمام بنی اسرائیل موسیٰ اور ہارون پر معترض ہو ئے اور سب انھیں کہنے لگے کہ کاش ہم سر زمین مصر ہی میں مر گئے ہو تے یا پھر کسی جنگل بیابان میں مر جاتے۔ خدا اس زمین میں ہمیں کیوں لے آیا ہے کہ جہاں ہم تلوار زنی کاشکار ہو جائیں اور ہمار ی عورتیں اور بچے لوٹ کا مال بن جا ئیں پس موسیٰ اور ہارون بنی اسرائیلی عوام کے سامنے منہ کے بل گر پڑے اور یو شع بن نون اور کالیب بن یفتہ جو زمین کے متجسسین میں سے تھے انھوں نے اپنا گریبان چاک کرلیا ۔ اگلی آیت میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ان لوگوں سے بالکل مایوس ہو گئے اور انھوں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دئے اور ان سے علیحدگی کے لیے یوں تقاضا کیا : پر ور دگاررا ! میرا صرف اپنے آپ پر اور اپنے بھائی پر بس چلتا ہے : خدا یا ! ہمارے اور اس فاسق و سر کش گروہ میں جدائی ڈال دے تاکہ وہ اپنے اعمال کا نتیجہ دیکھ لیں اور ان کی اصلاح ہو جائے(قَالَ رَبِّ إِنِّي لَآ أَمۡلِكُ إِلَّا نَفۡسِي وَأَخِيۖ فَٱفۡرُقۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡفَٰسِقِينَ)۔
البتہ نبی اسرائیل نے جو کام کیا تھا یعنی اپنے پیغمبر کے حکم ِصریح کی نافرمانی وہ کفر کی حد تک پہنچی ہو تھی اور اگر قرآن نے انھیں فاسق کا لقب دیا ہے تو اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ ” فاسق“ ایک وسیع معنی رکھتاہے اور اس میں ہر طرح کی عبودیت اور خدا کی بندگی سے خارج ہونے کا مفہوم شامل ہے اسی لیے شیطان کے بارے میں ہے : ففسق عن امر ربہ وہ فرمان خدا کے مقابلے ،میں فاسق ہو گیا اور اس نے مخالفت کی ۔ (کہف ۵۰)
اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ گذشتہ آیات میں ” من الذین یخافون“ سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل میں اقلیت میں کچھ افراد ایسے بھی تھے جو خدا سے ڈرتے تھے ۔ یوشع اور کالیب ایسے ہی افراد میں سے تھے لیکن یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیه السلام) اپنا اور اپنے بھائی ہارون (علیه السلام) ہی کا نام لیتے ہیں اور ان دونوں کی طرف اشارہ نہیں کرتے۔ شاید یہ اس لیے ہو کہ حضرت ہارون (علیه السلام) ایک تو حضرت موسیٰ (علیه السلام) کے جانشین تھے اور دوسرا یہ کہ حضرت مویسٰ (علیه السلام) کے بعد نبی اسرائیل میں سب سے زیادہ افضل تھے لہٰذا خصوصیت سے ان کا نام لیا گیا ہے ۔ آخر کار حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا قبول ہوئی اور بنی اسرائیل اپنے ان برے اعمال کے انجام سے دو چار ہو ئی ۔ خداکی طرف سے حضرت موسیٰ (علیه السلام) کو وحی ہوئی : یہ لوگ اس مقدس سر زمین سے چالیس سال تک محروم رہیں گے جو طرح طرح کی مادی اور روحانی نعمات سے مالا مال ہے قَالَ فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيۡهِمۡۛ أَرۡبَعِينَ سَنَةٗۛ) ۔علاوہ ازیں ان چالس سالوں میں انھیں اس بیابان میں سر گرداں رہنا ہو گا (يَتِيهُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِۚ) ۔(”یتھون “ کا مادہ ” تیہ“ ہے جس کا معنی ہے سر گردانی ۔ بعد ازاں ” تیہ“ اس بیا بان کا نام ہو گیا جس میں بنی اسرائیل سر گر داں رہے۔ جیسا کہ ہم تفسیرنمونہ جلد اول ( ص ۲۱۳، ار دو ترجمہ)بیان کرچکے ہیں یہ صحرا، صحرائے سینا کا ایک حصہ ہے ۔) اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا گیا ہے : اس قوم کے سر پر جو کچھ بھی آئے وہ صحیح ہے ، ان کے اس انجام پر کبھی غمگین نہ ہونا(فَلَا تَأۡسَ عَلَى ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡفَٰسِقِينَ)۔ آخری جملہ شاید اس لیے ہو کہ جب بنی اسرائیل کے لیے یہ فرمان صادر ہوا کہ وہ چالیس سال تک سزا کے طور پر بیابان میں سر گرداں رہیں ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دل میں جذبہٴ مہربانی پیدا ہوا اور شاید انھوں نے در گاہ خدا وندی میں ان کے لیے عفوو در گذر کی در خواست بھی کی ہو جیسا کہ موجودہ تورات میں بھی ہے لیکن انھیں فوراً جواب دیا گیا کہ وہ اس سزا کے مستحق ہیں نہ کہ عفو و در گذر کے ، کیونکہ جیسا کہ قرآن میں ہے کہ وہ فاسق اور سر کش لوگ تھے اور جو ایسے ہوں ان کے لیے یہ انجام حتمی ہے ۔ توجہ رہے کہ ان کے لیے چالیس سال کی یہ محرومیت انتقامی جذبے سے نہ تھی( جیسا کہ خدا کی طرف سے کوئی سزابھی ایسی نہیں ہوتی بلکہ یا اصلاح کے لیے ہوتی ہے اور یا عمل کا نتیجہ)در حقیقت اس کا ایک فلسفہ تھا اور وہ یہ کہ بنی اسرائیل ایک طویل عرصے تک فر عونی استعمار کی ضربیں جھیل چکے تھے ۔ اس عرصے میں حقارت آمیز رسومات، اپنے مقام کی عدم شناخت اور احساسات ِ ذلت کا شکار ہو چکے تھے اور وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے عظیم رہبر کی سر پرستی میں اس تھوڑے سے عر صے میں اپنی روح کو ان خامیوں سے پا ک نہیں کر سکتے تھے اور وہ ایک ہی جست میں افتخار، قدرت اور سر بلندی کی نئی زندگی کے لیے تیار نہیں ہو پاتے تھے ۔ حضرت موسیٰ (علیه السلام) نے انھیں مقدس سر زمین کے حصول کے لیے جہاد آزادی کا جو حکم دیا تھا اس پر عمل نہ کرنے کے لیے انھوں نے جو کچھ کہا وہ اس حقیقت کی واضح دلیل ہے لہٰذا ضروری تھا کہ وہ ایک طویل مدت وسیع بیابانوں میں سر گرداں رہیں اور اس طرح ان کی ناتواں اور غلامانہ ذہنیت کی حامل موجودہ کمزور نسل آہستہ آہستہ ختم ہو جائے اور نئی نسل حریت و آ زادی کے ماحول میں اور خدائی تعلیمات کی آغوش میں پر وان چڑھے تاکہ وہ اس قسم کے جہاد کے لیے اقدام کر سکے اور اس طرح سے اس سر زمین پر حق کی حکمرانی قائم ہو سکے۔
آدم کے دو بیٹوں کا قصہ حق کے ساتھ ان کے سامنے پڑھیئے جبکہ ان میں سے ہر ایک نے(پروردگار کے) تقرب کے لئے ایک کام کیا مگر وہ ایک کا عمل تو قبول ہو گیا لیکن دوسرے سے قبول نہ کیا گیا وہ بھائی جس کا (عمل) قبول نہیں ہوا تھا دوسرے بھائی سے کہنے لگا خدا کی قسم میں تجھے قتل کر دوں گا (دوسرے بھائی نے ) کہا: (میں نے کونسا گناہ کیا ہے کیونکہ) خدا تو صرف پرہیز گاروں سے قبول کرتا ہے۔
میں تو چاہتا ہوں کہ (تو یہ عمل انجام دے کر) میرا اور اپنا بوجھ اٹھائے ہوئے لوٹے اور (دونوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے) تو جہنمیوں میں سے ہو جائے اور ستمگروں کی یہی سزا ہے۔
روئے زمین پر پہلا قتل
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
ان آیات میں حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں کا ذکر ہے ان میں سے ایک کے ہاتھوں دوسرے کے قتل کے بارے میں داستان بیان کی گئی ہے۔ ان آیات کا گذشتہ آیات سے شاید یہ ربط ہو کہ بنی اسرائیل کے بہت سے غلط اعمال کا سبب حسد تھا ان آیات کے ذریعے خدا تعالیٰ انھیں متوجہ کر رہا ہے کہ حسد کا انجام کتنا ناگوار ہولناک ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کہ وجہ سے ایک بھائی اپنے بھائی کے خون سے بھی ہاتھ رنگین کرلیتا ہے پہلے فرمایا: اے پیغمبر! انھیں آدم کے بیٹوں کا حقیقی قصہ سنا دیجئے (وَ اتۡلُ عَلَیۡہِمۡ نَبَاَ ابۡنَیۡ اٰدَمَ بِالۡحَقِّ) ۔
” بالحق“ ممکن ہے اس طرف اشارہ ہو کہ مذکورہ سر گذشت عہد قدیم ( تورات) میں بڑی خرافات کی آمیزش کے ساتھ بیان کیا گئی ہے لیکن قرآن میں اس حقیقت و واقعیت کو بیان کیا گیا ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ یہاں ” آدم “ سے مراد ہی مشہور آدم ہیں جو موجودہ نسل انسانی کے پہلے باپ ہیں اور یہ جو بعض نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ اس سے مراد آدم بنی اسرائیل میں سے ایک فرد تھا، بالکل بے بنیاد ہے کیونکہ یہ لفظ قرآن مجید میں بار ہا اس معنی میں استعمال ہوا ہے اور اگر یہاں کو ئی اورمعنی مراد ہوتا تو ضروری تھا کہ ا س کے لیے کوئی قرینہ ہوتا باقی رہی آیت” من اجل ذٰلک“ کہ جس کی تفسیر عنقریب آئے گی جیسا کہ ہم وضاحت کریں گی ہر گز اس معنی کے لیے قرینہ قرار نہیں پا سکتی ۔
اس کے بعد واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : جب ہر ایک نے تقربِ پر وردگار کے لیے ایک کام انجام دیا تو ایک کا عمل تو قبول کرلیا گیا لیکن دوسرے کا قبول نہ ہوا (اِذۡ قَرَّبَا قُرۡبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنۡ اَحَدِہِمَا وَ لَمۡ یُتَقَبَّلۡ مِنَ الۡاٰخَرِ) ۔ اسی وجہ سے جس کا عمل قبول نہ ہوا تھا اس نے دوسرے بھائی کا قتل کی دھمکی دی اور قسم کھا کر کہا کہ میں تجھے قتل کر دوں گا
(قَالَ لَاَقۡتُلَنَّکَ (۔
لیکن دوسرے بھائی نے اسے نصیحت کی اور کہا کہ اگر یہ واقعہ پیش آیا تو اس میں میرا کوئی گناہ نہیں ہے بلکہ اعتراض تو تجھ پر ہونا چاہئیے کیونکہ تیرے عمل میں تقویٰ شامل نہیں تھا اور خدا تو صرف پر ہیز گاروں کا عمل قبول کرتا ہے (ؕ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الۡمُتَّقِیۡنَ) ۔مزید کہا کہ حتی اگر تم اپنی دھمکی کو عملی جامہ پہناوٴ اور میرے قتل کے لیے ہاتھ بڑھاوٴتو میں ہر گز ایسا نہیں کروں گا اور تمہارے قتل کے لیے ہاتھ نہیں بڑھاوٴں گا۔ (للَئِنۡۢ بَسَطۡتَّ اِلَیَّ یَدَکَ لِتَقۡتُلَنِیۡ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیۡکَ لِاَقۡتُلَکَ) ۔ کیونکہ میں تو خدا سے ڈرتا ہوں اور ایسے گناہ سے ہر گز اپنے ہاتھ آلودہ نہیں کروں گا ۔ (ۚ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اللّٰہَ رَبَّ الۡعٰلَمِیۡنَ) ۔ علاوہ ازیں میں نہیں چاہتا کہ دوسرے کے گناہ کا بوجھ اپنے گردن پر لادلوں بلکہ میں تو چاہتا ہوں کہ تم ہی میرے اپنے گناہ کا بار اپنے کندھے پر اٹھا لو ( کیونکہ اگر واقعاً تم اپنے اس دھمکی کو عملی جامہ پہناوٴ تو میرے گذشتہ گناہوں کا بوجھ بھی تمہارے کندھوں پر آپڑے گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ تم مجھ سے حقِ حیات چھینو گے توتاوان بھی تمہی کو دینا ہو گا اور چونکہ تمہارے پاس کوئی عمل صالح نہیں ہے لہٰذا میرے گناہ تمہیں اپنے کندھوں پر اٹھا نا ہوں گے۔ (اِنِّیۡۤ اُرِیۡدُ اَنۡ تَبُوۡٓاَ بِاِثۡمِیۡ وَ اِثۡمِکَ) ۔( ۔” تبوء“ مادہ ” بواء“ سے ہے اور اس کا معنی ہے ” باز گشت“)
اور مسلم ہے کہ یہ بوجھ اٹھا کر تم جہنمیوں میں سے ہو جاوٴ گے اور ستمگروں کی یہی سزا ہے (فَتَکُوۡنَ مِنۡ اَصۡحٰبِ النَّارِ ۚ وَ ذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیۡنَ)
چند اہم نکات
1-آدم کے بیٹوں کے نام -: قرآن مجید میں حضرت آدم (علیه السلام) کے بیٹوں کے نام نہیں لیا گیا ہے،نہ اس جگہ اور نہ کسی اور مقام پر لیکن اسلامی روایات کے مطابق ایک نام ہابیل ہے اور دوسرے کا قابیل ۔ موجودہ تورات کے سفر تکوین کے چوتھے باب میں ایک نام قائن مذکور ہے اور دوسرے کا ہابیل۔ جیسا کہ مشہور مفسر ابو الفتح رازی کہتے ہیں ہر ایک کے نام میں چند لغوی پہلو ہیں ۔ پہلے کانام ” ہابیل ، ” ہابل“ یا ” ہابن“ تھا اور دوسرے کا نام ” قابیل“ ، ”قابن“ یا ”قبن“ تھا ۔ بہر حال اسلامی روایات اورتورات کے متن میں قابیل کے نام کے بارے میں اختلاف لغت کی طرف بازگشت ہے اور یہ کوئی اہم بات نہیں ہے ۔
تعجب کی بات ہے کہ ایک عیسائی عالم نے اس امر کو قرآن پر اعتراض کی بنیاد بنا لیا ہے کہ قرآن نے ” قائن “ کو ” قابیل“ کیوں کہا ہے حالانکہ اول تو یہ اختلافِ لغت ہے اور لغت میں ناموں کے بارے میں بہت زیادہ اختلاف ہے مثلاً تورات ” ابراہیم “ کو ” ابراہام “ لکھتی ہے اور قرآن اسے ” ابراہیم“ لکھتا ہے ۔ ثانیاً بنیادی طو ر پر ” ہابیل “ اور ” قابیل “ کے نام قرآن میں مذکور ہی نہیں یہ اسماء تو اسلامی روایات میں آئے ہیں ۔( علامہ شیخ محمد جواد بلاغی نے اس سلسلے میں ایک رسالہ ” الاکاذیب الاعاجیب“ (تعجب انگیز جھوٹ) کے نام سے لکھا ہے جس میں مذکورہ جھوٹ کی طرح کے لئی جھوٹ بتائے گئے ہیں اس رسالے کا فارسی ترجمہ چھپ چکا ہے )۔ 2۔ ” قربان “ کامفہوم:ہم جانتے ہیں کہ ” قربان “ ایسی چیز کوکہتے ہیں جو تقرب الہٰی کا باعث بنے مگر جو کام ان دونوں بھائیوں نے انجام دیا اس کا قرآن میں تذکرہ موجود نہیں ہے۔ بعض اسلامی رویات اور تورات کے سفر تکوین باب چہارم میں جو کچھ مذکورہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہابیل کے پاس چونکہ پالتو جانور تھے اس نے ان میں سے ایک بہترین پلا ہوا مینڈھا منتخب کیا ۔ قابیل کسان تھا اس نے گندم کا گھٹیا حصہ یا گھٹیا آٹا اس کے منتخب کیا ۔
3۔ قبولیت کی دلیل کیا تھی: سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فرزندان آدم (علیه السلام) کو کیسے پتہ چلا کہ ایک کا عمل بار گاہ ایزدی میں قبول ہو گیا ہے۔اور دوسرے کا رد کردیا گیا ہے ۔ قرآن میں اس کی بھی وضاحت نہیں ہے البتہ بعض اسلامی روایات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ دونوں اپنی مہار شدہ چیزیں پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے قبولیت کے اظہار کے طور پر بجلی نے ہابیل کی قربانی کوکھا لیا اور اسے جلا دیا لیکن دوسری اپنی جگہ پر باقی رہی اور یہ نشانی پہلے سے مروج تھی ۔
بعض دوسرے مفسرین کا خیال ہے کہ ایک عملی کی قبولیت دوسرے کا ردّ حضرت آدم (علیه السلام) کو وحی کے ذیعے بتا یا گیا اور اس کے وجہ سوائے اس کے کہ کچھ نہ تھی کہ ہابیل ایک باصفا، باکردار اور راہ خدا میں سب کچھ کر گزرنے والا شخص تھا جبکہ قابیل تاریک دل ، حاسد اور ہٹ دھرم تھا، قرآن نے دونوں بھائیوں کی جو گفتگو بیان کی ہے اس سے ان کی روحانی کیفیت اچھی طرح سے واضح ہوجاتی ہے۔ 4۔ ظلم کا پہلا سر چشمہ حسد ہے : ان آیات سے واضح طور پر معلوم ہوجاتا ہے جہانِ انسانیت میں اختلاف ، قتل تجاوز اور ظلم کا پہلا سر چشمہ حسد ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اخلاقی رذالت کے حوالے سے حسد کا مقام کس قدر پست ہے ۔ بہت سے اجتماعی اور معاشرتی امور پر اس کے گہرے منفی اثرات بھی اس سے ظاہر ہوتے ہیں ۔
اس کے بعد خدا نے ایک کوا بھیجا جو زمین میں کوشش کرتا ( اور اسے کھودتا ) تاکہ وہ اسے بتائے کہ اپنے بھائی کا جسم زمین میں کیسے دفنائے تو وہ کہنے لگا: وائے ہو مجھ پر کہ میں اس کوے جیسا (بھی) نہیں ہو سکا کہ اپنے بھائی کو دفن کرتا اور آخر کار وہ (رسوائی کے خوف اور وجدان کے دباؤ سے اپنے کام پر) پشیمان ہوا۔
ظلم پر پَردہ پوشی
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
ان آیات میں حضرت آدم (علیه السلام) کے بیٹوں کا واقعہ ، ایک بھائی کا دوسرے کے ہاتھوں قتل اور قتل کے بعد کے حالات بیان کیےگئے ہیں ، پہلے فرمایا سر کش نفس نے بھائی کے قتل کے لیے اسے پختہ کردیا اور اس نے اسے قتل کردیا (فَطَوَّعَتۡ لَہٗ نَفۡسُہٗ قَتۡلَ اَخِیۡہِ فَقَتَلَہٗ) ۔ ”طوع“ کا معنی ہے کسی چیز کا رام اور مطیع ہونا ۔ اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہابیل کا عمل قبول ہونے کے بعد قابیل کے دل میں ایک طوفان پیدا ہو گیا ایک طرف دل میں ہر وقت حسد سے ذاتی تنفر اسے جرم سے باز رکھنے کی کوشش کرتا ۔ لیکن آخر کار سر کش نفس آہستہ آہستہ روکنے والے عوامل پر غالب آگیا اور اس نے اس کے بیدا ر وجدان کو رام کرلیا اور اسے جکڑ دیا اور بھائی کو قتل کرنے پر آمادہ کرلیا“ طوعت“ ایک چھوٹا سا لفظ ہے لیکن اس کے سارے مفہوم کی طرف بھر پور اشارہ کرتا ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کسی کو ایک ہی لمحے میں رام نہیں کیا جاسکتا بلکہ ایسا تدریجی طور پر کئی طرح کی کشمکش کے بعد عمل میں آتا ہے ۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے : اس کام کے نتیجے میں وہ زیان کاروں میں سے ہو گیا (فَاَصۡبَحَ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ) ۔ اس سے بڑھ کراور کیا خسارہ ہو گا کہ اس نے وجدان کا عذاب ، خدا کی طرف سے سزا اور قیامت تک کے لیے اپنے نام پر ننگ و عار خرید لی ۔
اصبح “ سے بعض نے یہ استفادہ کیا ہے کہ یہ قتل رات کے وقت ہوا حالانکہ یہ لفظ لغت ِ عرب میں رات یا دن کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ کسی چیز کے واقع ہونے پر دلالت کرتا ہے ، مثلاً سورہٴ آلِ عمران آیہ ۱۰۳ میں ہے :
” فاصبحتم بنعمتہ اخواناً“ نعمتِ خدا کی وجہ سے تم میں سے ایک دوسرے کے بھائی بن گئے ۔
امام صادق علیہ السلام سے منقول بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قابیل نے جب اپنے بھائی کو قتل کردیا تو اس کی لاش اس نے صحرا میں ڈال رکھی تھی اور اسے نہیں معلوم تھا کہ اسے کیا کرنا چاہیئے زیادہ دیر نہ گذری کہ درندے ہابیل کے جسم کی طرف آنے لگے ۔ قابیل ضمیر کے شدید دباوٴ کا شکار تھا بھائی کے جسم کو بچانے کے لیے وہ لاش کو ایک مدت تک کندھے پر لیے بھرتا رہا، کچھ پرندوں نے پھربھی اسے گھیر رکھا تھا اور وہ اس انتظار میں تھے کہ وہ کب اسے زمین پر پھینکتا ہے تاکہ وہ لاش پر جھپٹ پڑیں۔(بحوالہ مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں) جیسا کہ قرآن مجید کہتا ہے کہ اس موقع پر خدا تعالیٰ نے ایک کوّا بھیجا ۔ مقصد یہ تھا کہ وہ زمین کھودے اور اس میں دوسرے مردہ کوّے کا جسم چھپادے یا اپنے کھانے کی چیزوں کو زمین میں چھپا دے جیسا کہ کوّے کی عادت ہے تاکہ قابیل سمجھ سکے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کس طرح سپرد خاک کرے (فَبَعَثَ اللّٰہُ غُرَابًا یَّبۡحَثُ فِی الۡاَرۡضِ لِیُرِیَہٗ کَیۡفَ یُوَارِیۡ سَوۡءَۃَ اَخِیۡہِ ؕ) ۔ (” یبحث“ ” بحث“کے مادہ سے ہے جیسا کہ مجمع البیان میں ہے در اصل یہ لفظ مٹی میں سے کسی چیز کو تلاش کرنے کے معنی میں ہے بعد ازں یہ لفظ ہر طرح کی جستجو حتیٰ کہ عقلی و فکری مباحث کے لیے بھی استعمال ہونے لگا اور ” سواٴة“ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو انسان کو پسند نہ آئے اس لیے کبھی شرمگاہ تک کے لیے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے ضمناً توجہ رہے کہ ” لیریة“ کا فاعل ممکن ہے خدا ہو، یعنی خدا چاہتا تھا کہ ہابیل کا احترام ملحوظ رہے اور اس کے لیے قابیل کو اسے دفن کرنے کا طریقہ سکھائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کا فاعل وہی کوّا ہو جس نے حکم خدا سے یہ کام انجام دیا)۔
البتہ اس بات میں کوئی تعجب نہیں کہ انسان کوئی چیز کسی پرندے سے سیکھے کیونکہ تاریخ اور تجربہ شاہد ہیں کہ بہت سے جانور طبعی طور پر معلومات رکھتے ہیں کہ انسان نے اپنی پوری تاریخ میں جانوروں سے بہت کچھ سیکھا ہے یہاں تک کہ میڈیل کی بعض کتب میں ہے کہ انسان اپنی بعض طبّی معلومات میں حیوانات کا مرہون منت ہے ۔ اس کے بعد قرآن مجید مزید کہتا ہے : اس وقت قابیل اپنی غفلت اور جہالت سے پریشان ہو گیا اور چیخ اٹھا کہ وائے ہو مجھ پر ، کیا میں اس کوّے سے بھی زیادہ ناتواں اور عاجز ہوں ، مجھ سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ میں اس کی طرح اپنے بھائی کا جسم دفن کروں (قَالَ یٰوَیۡلَتٰۤی اَعَجَزۡتُ اَنۡ اَکُوۡنَ مِثۡلَ ہٰذَا الۡغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوۡءَۃَ اَخِیۡ ۚ)بہر حال وہ اپنے کیے پر نادم و پشمان ہو اجیسا کہ قرآن کہتا ہے : (فَاَصۡبَحَ مِنَ النّٰدِمِیۡنَ) ۔
کیا اس کی پشیمانی اس بناپر تھی کہ اس کا گھٹیا اور برا عمل آخر کار اس کے ماں باپ پر احتمالی طور پر دوسرے بھائی تھے ان پر آشکار ہو جائے گا اور وہ اسے بہت سر زنش کریں گے ـــــــــــــــ یا کیا یہ پشمانی ا س بنا پر تھی کہ کیوں میں ایک مدت تک بھائی کی لاش کندھے پر لیے پھر تا رہا اور اسے دفن نہ کیا اور یا پھر یہ ندامت اس وجہ سے تھی کہ اصول طور پر انسان ہر برا کام انجام دے لینے کے بعد اپنے دل میں ہر طرح کی پریشانی اورندامت محسوس کرتا ہے لیکن واضح ہے کہ اس کی ندامت کی جو بھی وجہ ہو وہ اس کے گناہ سے توبہ کی دلیل نہیں ہے کیونکہ توبہ یہ ہے کہ ندامت خوف خدا کے باعث اور عمل کے برا ہونے کے احساس کی بنا پر ہو اور یہ احساس اسے اس بات پر آمادہ کرے کہ وہ آیندہ ہر گز ایسا کام نہیں کرے گا ۔ قرآن میں قابیل کی ایسی کسی توبہ کی نشاندہی نہیں کی گئی ۔ بلکہ شاید اگلی آیت میں ایسی توبہ کے نہ ہونے کی طرف اشارہ ہے ۔ پیغمبر اسلام ؐسے ایک حدیث منقول ہے ، آپ نے فرمایا:
” لاتقتل نفس ظلماً الا کان علی ابن آدم الاولیٰ کفل من دمھا لانہ کان اول من سن القتل “ ۔ جس کسی انسان کا بھی خون بہا یا جاتا ہے اس کی جوابدہی کا ایک حصہ قابیل کے ذمہ ہوتا ہے کہ جس نے انسان کشی کی اس بری سنت کی دنیا میں بنیاد رکھی تھی ۔ (بحوالہ تفسیر فی ظلال جلد ۲ صفحہ ۷۰۳۔ زیربحث آیت کے ذیل میں ، بحوالہ مسند احمد حنبل)۔
اس حدیث سے ضمنا ً یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ ہر بری اور منحوس سنت جو دنیا میں باقی ہے اس کی سزا کا ایک حصہ اس شخص کے کندھے پر ہے جو اس کی بنیاد رکھتا ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں کا یہ واقعہ ایک حقیقی واقعہ ہے اس کے علاوہ کہ آیات قرآن اور اسلامی روایات کا ظاہری مفہوم اس کی واقعیت کو ثابت کرتا ہے کہ اس کے ” بالحق“ کی تعبیر بھی جو ان آیات میں آئی ہے اس بات پر شاہد ہے ۔ لہذا جو لوگ ان آیات میں بیان کیے گئے واقعہ کو تشبیہ، کنایہ یا علامتی(symbolic)داستان سمجھتے ہیں ، بغیر دلیل کے ایسا کرتے ہیں ۔ اس کے باوجود اس بات میں کوئی مضائقہ نہیں کہ یہ حقیقی واقعہ اس جنگ کے لیے نمونہ کے طور پر بیان کیا گیا ہو جو ہمیشہ سے مردانِ پاکباز ، صالح و مقبولِ بار گاہِ خدا انسانوں اور آلودہ، منحرف، کینہ پرور، حاسد ا ور ناجائز ہٹ دھرمی کرنے والوں کے درمیان جاری رہی ہے ۔ وہ لوگ کتنے پاکیزہ اور عظیم ہیں جنہوں نے ایسے برے لوگوں کے ہاتھوں جامِ شہادت نوش کیا ۔ آخر کار یہ برے لوگ اپنے شرمناک اور برے اعمال کے انجام سے آگاہ ہو جاتے ہیں اور ان پر پر دہ ڈالنے اور انھیں دفن کرنے کے در پے ہو جاتے ہیں اس موقع پر ان کی آرزوئیں ان کی مدد کو لپکتی ہیں ۔ کوّا ان آرزوٴں کا مظہر ہے جو جلدی سے پہنچتا ہے اور انھیں ان کے جرائم پر پر دہ پوشی کی دعوت دیتا ہے ۔ لیکن آخرکار خسارے، نقصان اور حسرت کے سوال کچھ نصیب نہیں ہوتا ۔
اس بنا پر ہم نے بنی اسرائیل کے لئے یہ قرار دیا کہ جو شخص کسی انسان کو بغیر اس کے کہ وہ ارتکاب قتل کرے اور روئے زمین پر فساد پھیلائے قتل کر دے تو یہ اس طرح ہے گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جو کسی ایک انسان کو قتل سے بچا لے تو گویا اس نے تمام انسانوں کو زندگی بخشی ہے اور ہمارے رسول واضح دلائل کے ساتھ بنی اسرائیل کی طرف آئے پھر بھی ان میں سے بہت سے لوگوں نے روئے زمین پر ظلم اور تجاوز کیا۔
انسانی رشتہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
حضرت آدم (علیه السلام)کے بیٹوں کا ذکر کرنے کے بعد اس آیت میں ایک عمومی نتیجہ بیان کیا گیا ہے ۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے : اس بناء پر ہم نے بنی اسرائیل کے لیے یہ قرار دیا کہ جب کوئی انسان کسی شخص کو ارتکابِ قتل اور زمین پر فسادپھیلانے کے جرم کے بغیر قتل کردے تو ایسے ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا او رجو کسی انسان کو موت سے بچا لے ، ایسے ہے گو یا اس نے تمام انسانوں کو موت سے بچا لیا مِنۡ اَجۡلِ ذٰلِکَ ۚۛؔ کَتَبۡنَا عَلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اَنَّہٗ مَنۡ قَتَلَ نَفۡسًۢا بِغَیۡرِ نَفۡسٍ اَوۡ فَسَادٍ فِی الۡاَرۡضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ وَ مَنۡ اَحۡیَاہَا فَکَاَنَّمَاۤ اَحۡیَا النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ ) ۔(”اجل“ (بروزن ” نخل “ در اصل ” جرم “ کے معنی میں ۔ بعد ازاں ہراس کام کو اجل کہا جانے لگا جس کا انجام ناگوار ہو اور اب زیادہ تر تعلیل او رکسی چیز کی علت بیان کرنے کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے)۔ یہاں یہ اہم سوال سامنے آتا ہے کہ ایک انسان کا قتل سب انسانوں کے قتل کے برابر کیسے ہوسکتا ہے اور اسی طرح ایک انسان کو بچا لینا سب کی نجات کیسے قرار پا سکتا ہے ۔ مفسرین نے بہت سے جوابات دیے ہیں تفسیر تبیان میں چھ جواب ہیں ، مجمع البیان میں پانچ اور کنز العر فان میں چار جواب دئے گئے ہیں ان میں سے بعض جوابات تو ا ٓیت کے معنی سے بہت دور ہو گئے ہیں۔ بہر حال مذکورہ سوال کا جواب یہ ہے کہ قرآن اس آیت میں ایک اجتماعی اور تربیتی حقیقت بیان کرتا ہے ۔ در حقیقت جو شخص کسی بے گناہ کے خون میں ہاتھ رنگتا ہے وہ اس بات پر تیار ہو تا ہے کہ وہ اس مقتول جیسے دیگر بے گناہ انسانوں پر بھی حملہ کرکے انھیں قتل کردے وہ حقیقت میں ایک درندہ ہے جس کی غذا بے گناہ انسان ہیں ہم جانتے ہیں کہ اس لحاظ سے بے گناہ انسانوں میں کوئی فرق نہیں ۔ اسی طرح جو شخص بھی انسانی جذبے او رانسان دوستی کی بنیاد پر ایک انسان کو موت سے نجات دیتا ہے وہ اس بات پر تیار ہوتا ہے کہ ایسا سلوک ہر انسان کے ساتھ کرے۔ وہ بے گناہ انسانوں کی نجات سے لگاوٴ رکھتا ہے ۔اس لحاظ سے اس کی نگاہ میں اس انسان میں اور اس انسان میں کوئی فرق نہیں اور قرآن جو یہ کہتا ہے : فکانما ـــــــ )( یعنی ــــــــ یہ ایسے ہے گویا ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک آدمی کی موت یا حیات اگر چہ پورے معاشرے میں مو ت یا حیات کے برابر نہیں لیکن اس سے شباہت ضرور رکھتی ہے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ انسانی معاشرے در حقیقت ایک ہی اکائی ہے اس کے افراد ایک جسم کے اعضاء کی طرح ہیں ، جو تکلیف اس پیکر کے ایک عضو کو پہنچتی ہے اس کا اثر کم و بیش تمام اعضاء پر ظاہر ہوتا ہے ، معاشرہ افراد سے بنتا ہے ایک فرد کی نابودی سے پورے معاشرے کو نقصاب پہنچتا ہے ایک فرد کا فقدان اس کے وجود کے اثرات کی مناسبت سے معاشرے کے ایک حصے کا فقدان ہے یوں یہ نقصان پورے معاشے کو متاثر کرتا ہے۔ اسی طرح ایک نفس کی زندگی اس جسم کے باقی اعضاء کی زندگی کا سبب ہے کیونکہ ہر کوئی اپنے وجود کی حیثیت کے اعتبار سے انسانی معاشرے کی عظیم عمارت میں اس کی ضرورت و احتیاج کو پورا کرتا ہے ، کوئی زیادہ کردار ادا کرتا ہے اور کوئی کم۔
یہ جو بعض روایات میں ہے کہ ایسے انسان کی سزا قیامت میں ایک شخص کی سی ہے جس نے تمام انسانوں کو قتل کیا ہو، در اصل یہ بھی اسی مذکورہ مفہوم کی طرف اشارہ ہے نہ کہ ایک انسان ہر لحاظ سے تمام بنی نوعِ انسان کے برابر ہے اسی لیے ان روایات میں یہ بھی ہے کہ اگر کوئی بہت سے افراد کو قتل کرے تو سزا بھی اسی نسبت سے بڑھ جائے گی ۔ اس آیت سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن کی نظر میں ایک انسان کی موت یا حیات کسی قدر اہمیت رکھتی ہے اور اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ آیات ایسے ماحول میں نازل ہو ئیں جس میں انسانی خون کی کوئی قیمت نہ تھی ، اس کی عظمت اور زیادہ واضح ہو جاتی ہے ۔ یہ قابل توجہ ہے کہ متعدد روایات میں یہ بیان ہوئی ہے کہ آیت ظاہری طور پر اگر چہ مادی موت وحیات کے بارے میں ہے لیکن اس سے زیادہ اہم معنوی موت و حیات ہے یعنی کسی شخص کو گمراہ کرنا یا کسی شخص کو گمراہی سے نجات دلانا ۔ کسی نے امام صادق علیہ السلام سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ (علیه السلام) نے فرمایا: ” من حرق او غرق _______ثم سکت_______ ثم قال تاٴویلھا الاعظم ان دعا ھا فاستجاب لہ“
یعنی ______ قتل کرنے اور موت سے نجات دینے سے آیت میں مراد جلنے سے نجات یا غرق ہونے سے بچا نا وغیرہ ہے ۔
پھر امامؑ کچھ خاموش ہو گئے ، کچھ توقف کے بعد مزید فرمایا: آیت کی سب سے بڑی تاویل اور سب سے بڑا مفہوم یہ ہے کہ دوسرے کو راہ حق کی طرف دعوت دی جائے یا باطل کی طرف اور وہ یہ دعوت قبول کرلے ۔( بحوالہ ۔ تفسیر نو ر الثقلین ج۱ صفحة ۶۲۰۔ اسی مضمون کی اور روایات بھی موجود ہیں) دوسرا سوال جو آیت کے بارے میں باقی رہ جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اس میں خصوصیت سے بنی اسرائیل کا نام کیوں لیا گیا ہے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ مذکورہ حکم انہی سے مخصوص نہیں ہے ۔ اس کے جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ بنی اسرائیل کا ذکر اس لیے ہے کہ ان میں ایسے قتل بہت ہوئے جن کا جذبہ محرکہ حسد او رجاہ طلبی تھا ۔ دور حاضر میں بھی بہت سا قتل و خون انہی کے ہاتھوں ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ خدائی حکم سب سے پہلے ان کے بارے میں آیا ۔
آیت کے آخر میں بنی اسرائیل کی قانون شکنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فر مایا گیا ہے : ہمارے پیغمبر روشن دلائل کے ساتھ ان کی ہدایت کے لیے آئے لیکن ان میں سے بہت سوں نے قوانین ِ الہٰی کو توڑ دیا اور تجاوز کا راستہ اختیار کیا(وَ لَقَدۡ جَآءَتۡہُمۡ رُسُلُنَا بِالۡبَیِّنٰتِ ۫ ثُمَّ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ بَعۡدَ ذٰلِکَ فِی الۡاَرۡضِ لَمُسۡرِفُوۡنَ) ۔ توجہ رہے کہ ”اسراف“ لغت میں وسیع مفہوم رکھتا ہے جس میں حد سے ایسا تجاوز بھی شامل ہے اگر چہ اکثر اوقات مصارف و اخرجات میں تجاوز کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔
جو لوگ خدا اور پیغمبر سے جنگ کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور روئے زمین پر فساد برپا کرتے ہیں اور ڈرا دھمکا کر لوگوں کی جان و مال اور ناموس پر حملہ کرتے ہیں ) ان کی سزا یہ ہے کہ انہیں قتل کر دیا جائے یا سولی پر لٹکا دیا جائے یا ان کے دائیں ہاتھ اور بائیں پاؤں کی چار انگلیوں کو کاٹ دیا جائے اور یا انہیں انکی زمین سے جلا وطن کر دیا جائے یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔
مگر وہ جوان پر تمہارے ہاتھ ڈالنے سے پہلے توبہ کر لیں اور جان لو کہ خدا ان کی توبہ قبول کر لے گا کیونکہ خدا بخشنے والا اور مہربان ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
اس آیت کی شان ِ نزول کے بارے میں منقول ہے کہ مشر کین کی ایک جماعت خدمت ِ پیغمبرؐ میں پہنچی اور یہ لوگ مسلمان ہو گئے لیکن مدینہ کی آب و ہوا انھیں راس نہ آئی ان کے رنگ زرد ہو گئے اور وہ بیمار پڑ گئے ۔ پیغمبرؐ اسلام نے ان کی صحت کے پیش نظر حکم دیا کہ وہ مدینہ سے باہر ایک صحت افزائی صحرائی علاقے میں چلے جائیں ، جس میں زکوٰة کے اونٹوں کو چرایا جاتا تھا، تاکہ اونٹنیوں کا تازہ دودھ بھی انھیں میسر آسکے۔ وہ صحت مند ہو گئے لیکن پیغمبرؐ اکرم کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے انھوں نے مسلمان چرواہوں کے ہاتھ پاوٴں کاٹ دئیے ، ان کی آنکھیں نکال لیں ، انھیں قتل کرنا شروع کردیا، زکوٰة کے اونٹ لوٹ لیے اور اسلام سے خارج ہو گئے۔ پیغمبر اکرم نے حکم دیا کہ انھیں گرفتار کرلیا جائے اور جو سلوک انھوں نے مسلمان چر واہوں سے کیا ہے قصاص کے طور پر وہی ان سے کیا جائے ۔ آنکھیں نکال لی گئیں ہاتھ پاوٴں کاٹ ڈالے گئے اور انھیں قتل کر دیا گیا تاکہ دوسرے لوگ اس سے عبرت حاصل کریں اور ایسے انسانیت کش افعال کا ارتکاب نہ کریں زیر نظر آیت ایسے ہی لوگو ں کے بارے میں نازل ہو ئی جس میں ان کے بارے میں حکم ِ شریعت بیان کیا گیا ہے ۔
(بحوالہ تفسیر المنار ج۶ صفحہ ۳۵۳ اور تفسیر قرطبی ج۳ صفحہ ۲۱۴۵۔)
لوگوں کی جان و مال پر حملہ کرنے والوں کی سزا
يہ أيت حقیقتمیں قتل نفس كے بارے میں جاری بحث کی تکمیل کرتی ہے اس میں مسہمانوں کے خلاف مسلح ہوکر دھمکیاں دیتے ہوئے بلکہ انھیں قتل کرکے ان کا مال و اسباب لوٹنے والوں کی نہایت سخت سزا بیان کی گئی ہے ارشاد ہوتا ہے: جو لوگ خدا اور پیغمبر کے خلاف جنگ کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ارن زمین میں فساد برپا کرتے ہیں یہ ہے ان چار سزائوں میں سے کوئی ایک ان پر جاری کی جائے
پہلی یہ کا وہ قتل کر دئس جائیں
دوسری یہ کہ انھیں سولی پر لٹکا دیا جائے
تیسری یہ کہ ان کس الٹے ہاتھ پائوں کاٹ دئے جائیں
اور چھتھی یہ کہ وہ حس علاقے میں رہتے ہوں انھیں اس سے جلا وطن کر دیا جائے (انما جزاء الذين يهاربون الله ورسوله وييسمون فى الارض فسادًا إن يقتلوا او يصلبوا او تقطع ايد يلم وارجلهم من خلاف اوينقوا من الارض).
چند اہم نکات
۱۔ خدا اور رسول سے جنگ کرنے سے کیا مراد ہے ؟ جیسا کہ روایت ِاہل بیت علیہم السلام میں آیا ہے اور کم و بیش آیت کی شانِ نزول بھی اس کی گواہی دیتی ہے ، خدا اور رسول سے جنگ کرنے سے مراد یہ ہے کہ کوئی ڈرادھمکا کر مسلح ہو کر لوگوں کے جان و مال پر حملہ آور ہو ۔ چاہے تو چوروں ڈاکووٴں کی طرح شہروں سے باہر ایسا کرے یا شہر کے اندر۔ اس بناپر وہ بد معاش لٹیرے جو لوگوں کے جان و مال او رناموس پر حملہ کرتے ہیں اب اس حکم میں شامل ہیں ۔ ضمناً توجہ رہے کہ اس آیت میں بند گان خدا کے ساتھ جنگ کرنے کو خدا کے ساتھ جنگ قرار دیا گیا ہے ۔ یہ بات ثابت کرتی ہے کہ اسلام کی نظر میں انسانوں کے حقوق اور ان کے امن و سکون کی کس قدر اہمیت ہے ۔ ۲۔ ہاتھ پاوٴں کاٹنے کا کیا مطلب ہے ؟ جیسا کہ فقہی کتب میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ہاتھ پاوٴں کا ٹنے سے مراد اتنی ہی مقدار ہے جو چوری کے بارے میں بیان ہوئی ہے یعنی ہاتھ پاوٴں کی صرف چار انگلیاں کاٹنا ۔ (۔بحوالہ کنزل العرفان فی فقہ القرآن ج۲ صفحہ ۳۵۲۔) ۳۔ کیا چاروں سزائیں اختیاری ہیں : زیر نظر آیت میں چار سزائیں بیان ہوئی ہیں ۔ اس سلسلے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سزائیں اختیاری حیثیت رکھتی ہیں یعنی حکومت اسلامی ان میں سے جس شخص کے لیے مناسب سمجھے جاری کرے یا جرم کی مناسبت سے ان میں سے سزا اختیار کی جائے گی یعنی اگر حملہ آوروں ( ڈاکووٴں) نے بے گناہ لوگوں کوقتل کیا ہے تو ان کے لیے قتل والی سزا انتخاب ہو گی اور اگر مسلح ہو کر لوگوں کو ڈرا دھمکاکر ان کا مال لوٹا ہے تو ان کی انگلیاں کاٹی جائیں گی اور اگر انھوں نے قتل بھی کیا ہے اور مال بھی چرایا ہے تو انھیں قتل کیا جائے گا اور لوگوں کی عبرت کے لیے ان کی لاشیں کچھ عرصے کے لیے سولی پر لٹکائی جائیں گی اور لوگوں کے خلاف ہتھیار لے کرنکلے ہیں لیکن انھوں نے خون نہیں بہایا اور چوری بھی نہیں کی تو انھیں دوسرے شہر کی طرف جلا وطن کیا جائے گا ۔ اس میں شک نہیں کہ دوسرا معنی حقیقت سے زیادہ قریب ہے اور یہی مفہوم آیمہ اہل بیت علیہم السلام سے منقول چند احادیث میں بھی آیا ہے۔ (بحوالہ نور الثقلین جلد ۱ صفحہ ۶۲۲۔) یہ صحیح ہے کہ کچھ احادیث میں اس سلسلے میں حکومتِ اسلامی کو اختیار حاصل ہونے کی طرف بھی اشارہ ہوا ہے لیکن جن احادیث کی پہلے بات کی گئی ہے ان کی طرف توجہ کرتے ہوئے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اختیار سے مراد یہ نہیں ہے کہ حکومت اسلامی ان چار میں سے خودہی کوئی سزا منتخب کرے اور جرم کی کیفیت کو پیش نظر نہ رکھے کیونکہ یہ بہت بعیدہے کہ قتل اور سولی دیئے جانے کو جلا وطنی کا ہم پلہ قرار دیا جائے یہ سب ایک ہی سطح پر نہیں ہو سکتے۔ اتفاق کی بات ہے کہ آج کی دنیا میں جرائم اور سزا کے بہت سے قوانین میں بھی یہ بات صریح طور پر دیکھی جاتی ہے کہ ایک قسم کے جرم کے لیے متعدد سزائیں مقر رکی جاتی ہیں مثلاً بعض جرائم کے لیے قانون میں تین سے لے کر دس تک قید معین کی جاتی ہے اور قاضی کا ہاتھ اس سلسلے میں کھلا رکھا جاتا ہے اس کا مفہوم یہ نہیں ہو تا کہ جج اپنی مرضی سے قید کی مدت کا تعین کرے بلکہ مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ سزا کی مدت جرم کے خفیف یا شدید ہونے کے حوالے سے معین کرے اور مناسب سزا کا انتخاب کرے۔
اس اہم اسلامی قانون میں بھی حملہ آوروں کے لیے سزا کی کیفیت مختلف بیان کی گئی ہے کیونکہ جرم کی کیفیت بھی اس سلسلے میں مختلف ہوتی ہے اور سب حملہ آور یقینا ایک جیسے نہیں ہوتے۔
کہے بغیر واضح ہے کہ اسلام نے حملہ آوروں کی بارے میں اتنی شدید سزا اس لیے مقرر کی ہے تاکہ بے گناہوں کے خون ، جان و مال اور ناموس کی ہٹ دھرم، منہ زور ، اوباش اورفسادی لوگوں کے حملوں اور تجاوزات سے حفاظت کی جائے۔ (سطوربالا میں جو احکام بیان کیے گئے ہیں وہ اجمال اور خلاصہ کے طور پر اس اسلامی قانون کی تفصیل اور شرائط کا مطالعہ فقہی کتب میں کیا جانا چاہئیے)۔
آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : یہ رسوائی اور سزا تو ان کے لیے دنیا میں ہے لیکن صرف اسی سزا پر اکتفا نہیں کی جائے گی بلکہ آخرت میں بھی انھیں سخت سزا دی جائے گی(ذٰلِکَ لَہُمۡ خِزۡیٌ فِی الدُّنۡیَا وَ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ) ۔اس جملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی حدود اور سزائیں اگر دنیا میں جاری ہو جائیں تو وہ آخرت کی سزاوٴں سے مانع نہیں ہیں ۔ اس کے بعد اس بناء پر کہ لوٹ آنے کا راستہ ایسے خطر ناک مجروموں پر بھی بند نہ کیا جائے اور اگر وہ مائل بہ اصلاح ہو جائیں تو ان کے تلافی اور تجدید نظر کا راستہ کھلا رکھا جائے ، ارشاد ہوتا ہے : مگر وہ لوگ کہ جو قابو آنے سے پہلے تو بہ کرلیں تو عفوِ الہٰی ان کے شامل حال ہو گا اور جان لوکہ خدا غفور و رحیم ہے ۔ (اِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَقۡدِرُوۡا عَلَیۡہِمۡ ۚ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ) ۔
اس جملے سے معلوم ہوتا کہ اس سلسلے میں انھیں صرف اس صورت میں سزا نہیں ملے گی کہ اگر وہ پکڑے جانے سے پہلے اپنے ارادے سے اور رغبت سے اس جرم سے صرفِ نظر کرلیں اور پشمان ہو جائیں ۔
یہاں شاید یاد دہانی کی ضرورت نہ ہو کہ ان کی توبہ اس کا سبب نہیں بنے گی کہ اگر انھوں نے قتل کیا ہے یا چوری کی ہے تو اس کی سزا انھیں نہیں ملے گی بلکہ صرف اسلحہ اٹھا کر لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کی سزا بر طرف ہو جائے گی ۔ دوسرے لفظوں میں صرف حقوق اللہ میں ان کی سزا توبہ کی صورت میں ساقط ہو جائے گی، لیکن حقوق الناس میں صاحبانِ حق کی رضا کے بغیر ساقط نہیں ہو گی( غور کیجئے گا ) ۔ اس کا تیسرا مفہوم یہ ہے کہ محارب کی سزا عام قاتل یا چور سے زیادہ سخت اور شدید تر ہے لیکن توبہ کرنے سے محارب والی سزا اس سے بر طرف ہو جائے گی ۔ باقی رہی چور ، غاصب یا عام قاتل والی سزا تو و ہ اسے ملے گی ۔ ممکن ہے یہاں یہ سوال کیا جائے کہ توبہ تو ایک باطنی امر ہے اسے کس طرح ثابت کیا جائے گااس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ یہ بات ثابت کرنے کے بہت سے راستے ہیں مثلاً دو عادل گواہی دیں کہ فلاں مجلس میں انھوں نے اس کی توبہ سنی ہے اور اس نے بغیر کسی دباوٴ کے اپنی رضا و رغبت سے توبہ کی ہے ۔ مثلاً وہ اپنی زندگی کی روش اور طور طریقہ اس طرح سے بد ل لے کہ اس سے توبہ کے آثار ظاہر ہوںَ
اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو او ر قرب خدا کا وسیلہ تلاش کرو اور راہ خدا میں جہاد کرو تاکہ فلاح اور نجات پا جاؤ۔
توسل کی حقیقت
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
اس آیت میں روئے سخن اہل ایمان کی طرف ہے اور نجات کے لیے انھیں تین حکم دیئے گئے ہیں پہلے فرمایا گیا ہے ۔ اے ایمان والو! تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار کر(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ) ۔ اس کے بعد حکم دیا گیا ہے تقرب الہٰی کا وسیلہ اختیار کرو(وَ ابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَ) آخر میں راہ خدا میں جہاد کا حکم دیا گیا ہے (وَ جَاہِدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِہٖ)۔ان سب احکام پر عمل کا نتیجہ ہو گا کہ تم نجات پا جاوٴ گے (لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ) ۔ اس آیت میں جس موضوع کو زیر بحث لایا جانا چاہئیے وہ اس میں اہل ایمان کو وسیلہ تلاش کرنے کے لیے دیا جانے والا حکم ہے ۔ ” وسیلہ “ قرب حاصل کرنے کو کہتے ہیں یا اس چیز کو کہتے ہیں جو لگاوٴ اور رضا و رغبت سے دوسرےکا قرب حاصل کرنے کا باعث بنے لہٰذا آیت میں لفظ ”وسیلہ “ ایک وسیع مفہوم کو حامل ہے اس کے مفہوم میں ہر وہ کام اور چیز شامل ہے جو پر ور دگار کی بار گاہِ مقدس سے قریب ہونے کا باعث ہو اس میں اہم ترین خدا اور پیغمبر اکرم پر ایمان لانا او رجہاد کرنا، ،نیز نماز، زکوٰة،روزہ اور خانہ خدا کا حج ، اسی طرح صلہ رحمی، راہ خدا میں پنہاں یا آشکار خرچ کرنا اور ایسا اچھا اور نیک کام اس کے مفہوم میں داخل ہے جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں فرمایا ہے :
ان افضل ماتو سل بہ المتوسلون الیٰ اللہ سبحانہ و تعالیٰ الایمان بہ و برسلہ والجھاد فی سبیلہ فانہ ذروة الاسلام، وکلمة الاخلاص فانھا الفطرة و اقام الصلوٰة فانھا الملة و ایتاء الزکوٰة فانھا فریضة واجبة و صوم شھر رمضان فانہ جنة من العقات وحج البیت و اعتمارہ فانھما ینتفیان و یرحضان الذنب، وصلة الرحم فانھا مثراة فی المال و مغساة فی الاجل، و صدقہ السر فانھا تکفر الخطینة و صدقة العلانیة فانھا تدفع میّة السوء و صنائع المعروف فانھا تقی مصارع الھوان۔
یعنی بہترین چیز اجس کے ذریعے اور وسیلے سے تقرب ِ الہٰی حاصل ہو سکتا ہے وہ خدا اور اس کے پیغمبر پر ایمان لانا اور جہاد کرنا ہے کہ جو کوہسارِ اسلام کی چوٹی ہے اسی طرح جملہٴ اخلاص ( لاالہ الااللہ ) کہ جو وہی فطرتِ توحید ہے اور نما ز قائم کرنا کہ جو آئین اسلام ہے اور زکوٰة کہ جو واجب فریضہ ہے او رماہ رمضان کے روزے کہ جو گناہ اور عذاب ِ خدا کے سامنے سپر ہیں اور حج و عمرہ کہ جو فقرو فاقہ اور پریشانی کو دور کرتے ہیں اور گناہوں کو دھو ڈالتے ہیں اور صلہ رحمی کہ جو مال و ثروت کو زیادہ اور زندگی کو طویل کرتا ہے اور مخفی طور پر خرچ کرنا کہ جو گناہوں کی تلافی کا باعث بنتا ہے اور ظاہری طور پر خرچ کرنا کہ جو ناگہانی اور بری موت کو دور کرتا ہے اور نیک کہ جو انسان کو ذلت و خواری کے گڑھے میں گرنے سے بچا تے ہیں ( سب تقرب الہٰی کا وسیلہ ہیں ) (یہ یاد وہانی ضروری ہے یہاں یہ مقصد ہر گز نہیں کہ کوئی چیز ذات ِ پیغمبر یا امام سے مستقل طور پر مانگی جائے بلکہ مراد اعمال ِ صالح بجا لانا ہے پیغمبرؐ و آئمہ ؑ کی پیروی کرنا ہے ، ان کی شفاعت کا حصول ہے یا پھر ان کے مقام و مکتب کا واسطہ دینا ہے ( جوکہ خود ایک قسم کا احترام ہے اور اس سے واسطہ دینے والے کی نظر میں ان کی حیثیت و مقام کی اہمیت ظاہر ہو تی ہے اور یہ بھی ایک قسم کی خدا کی عبادت ہے ) اور اس ذریعے خدا سے مانگا جائے تو اس میں کوئی بوئے شرک نہیں اور نہ ہی یہ قرآن کی دوسری آیات کے خلاف ہے اور نہ ہی یہ زیر بحث آیت کے عمومی مفہوم سے متجا وز ہے ( غور کیجئے گا) ۔
انبیاء، آئمہ اور خدا کے نیک بندوں کی شفاعت بھی کہ جو صراحت ِ قرآنی کے مطابق تقرب ِ الہٰی کا ذریعہ ہے وسیلہ کے وسیع مفہوم میں داخل ہے۔ اسی طرح پیغمبرؐ اور امامؑ کی پیروی بھی بار گاہ ِ الہٰی کی قربت کا موجب ہیں یہاں تک کہ خدا کو انبیاء، آئمہ اور صالحین کے مرتبہ و مقام کا واسطہ بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے کیونکہ ان کا ذکر در اصل ان کے مقام او رمکتب کو اہمیت دینے کے مترادف ہے ۔ جن لوگوں نے زیر نظر آیت کو ان کے مفاہیم میں سے کسی ایک کے ساتھ مخصوص قرار دیا ہے ان کے پاس در حقیقت اس تخصیص کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے کہ کیونکہ جیسے ہم کہہ چکے ہیں لغوی مفہوم کے لحاظ سے ہر چیز جو تقرب کا سبب بنے ” وسیلہ “ ہے ۔
قرآن اور توسل
قرآن کی دیگر آیات سے بھی اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ کسی نیک انسان کے مقام کو بار گاہ ِ وسیلہ قرار دینا اور اس کی وجہ سے خدا سے کوئی چیز طلب کرنا کسی طرح بھی ممنوع نہیں ہے اور یہ توحید کے منافی نہیں ہے سورہٴ نساء آیت ۶۴ میں ہے : ولو انھم اذظلموا انفسھم جاؤ ک فاستغفروا اللہ و استغفر لھم الرسول لوجدوا اللہ تواباً رحیما ۔ اور جب ان لوگوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا ( اور گناہ کے مرتکب ہو ئے ) اگر تمہارے پاس آجاتے اور خدا سے مغفرت طلب کرتے او رتم بھی ان کے لیے طلب مغرفت کرتے تو خدا کو توبہ قبول کرنے والا اور رحیم و مہر بان پاتے۔ نیز سورہ یوسف آیہ ۹۷ میں ہے کہ برا درانِ یوسف نے اپنے باپ سے در خواست کی کہ وہ بار گاہ خدا وندی میں ان کے لیے استغفا ر کریں اور حضرت یعقوب(علیه السلام) نے بھی ان کی اس درخواست کو منظور کرلیا ۔
سورہٴ توبہ آیت ۱۱۴ میں بھی حضرت ابراہیم (علیه السلام) کے بارے میں ہے کہ انھوں نے اپنے باپ (۔ یہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) کے چچا کی کی طرف اشارہ ہے جنہیں وہ اپنے باپ کے بمنزلہ سمجھتے تھے ( مترجم ) کے لیے طلب مغفرت کی یہ امر بھی دوسرے لوگوں کے لیے انبیاء کی دعا کے موٴثر ہو نے کی تائید کرتا ہے اسی طرح قرآن کی دیگر متعدد روایات سے بھی اس بات کی تائید ہو تی ہے ۔
روایات ِ اسلامی اور توسل
بہت سی شیعہ سنی روایات سے بھی یہ بات واضح ہو تی ہے کہ توسل کے مذکورہ مفہوم میں کوئی اشکال نہیں ہے بلکہ یہ ایک اچھا طریقہ شمار ہوتا ہے ۔ ایسی روایات بہت زیادہ ہیں اور بہت سی کتب میں مذکورہیں ۔ ہم نمونہ کے طور پر اہل سنت کی کتب سے چند روایات نقل کرتے ہیں : ۱۔ کتاب ” وفاء الوفا“ اہل سنت کے ایک مشہور عالم سمبودی کی تالیف ہے اس کتاب میں ہے : بار گاہ خدا میں رسول اللہ اور ان کے مقام و مرتبہ کے وسیلے سے آپ کی والادت سے پہلے ، آپ کی ولادت کے بعد ،آپ کی رحلت کے بعد ، عالم برزخ کے دوران میں اور قیامت کے دن ، شفا عت طلب کرنا جائز ہے ۔ اس کے بعد وہ اس روایت کو نقل کرتے ہیں جس میں ہے کہ حضرت آدم(علیه السلام) نے پیغمبر اسلام کو وسیلہ قرار دیا چونکہ آپ پیغمبراسلامؐ کے آئندہ پیدا ہونے کے بارے میں جانتے تھے۔ حضرت آدم (علیه السلام) نے بارگاہِ الہٰی میں یوں عرض کیا:
”یارب اسئلک بحق محمد لما غفرت لی “ خدا وند!بحق محمد تجھ سے در خواست کرتا ہوں کہ مجھے بخش دے ۔(۔ وفا ء الوفاء جلد ۳ صفحہ ۱۳۷۱، کتاب ” التوصل الیٰ الحقیة التوسل“ میں بھی بیہقی کی ” دلائل النبوة“ کے حوالے سے یہ روایت مذکورہے)
اس کے بعد صاحب ” وفا ء الوفاء“ نے ایک اور حدیث ، راویانِ حدیث کی ایک جماعت جس میں نسائی اور ترمذی جیسے مشاہیر علماء شامل ہیں کے حوالے سے پیغمبر اکرم کی زندگی کے دوران میں توسل کے جواز کے بارے میں بطور شاہد نقل ہے حدیث کا خلاصہ یہ ہے : ایک نابینا نے پیغمبر اکرم ؐسے اپنی بیماری سے شفا کے لیے دعا کی درخواست کی تو پیغمبر اکرم نے اسے حکم دیا کہ اس طرح دعا کرو۔ ”اللھم انی اسئلک و اتوجہ الیک بنبیک محمد نبی الرحمة یا محمد انی توجھت بک الیٰ ربی فی حاجتی لتقضی لی اللھم شفعہ فی “ یعنی خدا یا ! میں تجھ سے تیرے پیغمبر جو نبی ٴ ؐرحمت ہے کے صدقے میں سوال کرتا ہوں اور تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں ، اے محمد! میں آپ کے وسیلے سے اپنی حاجت روائی کے لیے اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہوتا ہوں خدا یا! انھیں میرا شفیع قرار دے ۔ ( بحوالہ وفا ء الوفاء، صفحہ ۱۳۷۳)۔
اس کے بعد صاحب الوفاء الوفاء نے آنحضرت کی وفات کے بعد آپ سے توسل کے جواز میں یہ روایت نقل کی ہے : حضرت عثمان کے زمانے میں ایک حاجت مند پیغمبراکرم کی قبر کے پاس آیا اور نماز پڑھ کر اس نے اس طرح دعا کی :
”اللھم انی اسئلک و اتوجہ الیک بنبینا محمد نبی الرحمة یا محمد انی اتوجہ بک الیٰ ربک ان تقضی حاجتی
“ یعنی خدا وندا ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور اپنے پیغمبر جو نبی ِ رحمت کے وسیلے سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں ۔ اے محمد ! میں آپ کے پر وردگار کی طرف متوجہ ہوتا ہوں تاکہ میری مشکل آسان ہو جائے۔ اس کے بعد لکھتے ہیں کہ فوراً اس کی مشکل حل ہو گئی ۔ ( وفا ء الوفاء صفحہ ۱۳۷۳)۔ ۲۔ کتاب ”التوصل الیٰ الحقیقة التوسل“ کا موٴلف نے جو توسل کے بارے میں بہت سخت گیر ہے ، ۲۶ احادیث مختلف کتب اور مصادر سے نقل کی ہیں جن سے توسل کا جواز ظاہر ہوتا ہے اگر چہ موصوف نے ان احادیث کی اسناد میں کیڑے نکالنے کی کوشش کی ہے لیکن واضح ہے کہ روایات جب بہت زیادہ ہوں اور حد تواتر تک پہنچ جائیں تو پھر سند حدیث میں کوئی خدشہ اور ردو قدح کی گنجائش باقی نہیں رہتی اور توسل و وسیلہ کے بارے میں منابع اسلامی میں مذکورہ روایات حد تواتر سے بھی زیادہ ہیں ۔ ان میں سے ایک روایت صواعق میں اہل سنت کے مشہور امام شافعی سے نقل کی گئی ہے وہ اہل بیت ِ رسول سے متوسل ہونے کے بارے میں کہتے ہیں :
آل النبی ذریعتی وھم الیہ وسیلتی ارجو بھم اعطی عنداً بید الیمین صحیفتی
اہل بیت رسول میرا وسیلہ ہیں ۔
وہ اس کی بار گاہ میں میرے تقرب کا ذریعہ ہیں میں امید کرتا ہوں کہ ان کے ذریعے سے کل قیامت کے دن میر انامہ اعمال میرے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ۔( بحوالہ التوصل صفحہ ۳۲۹)۔
نیز بیہقی سے صاحب ِ صواعق نے نقل کیا ہے کہ خلیفہ دوم کی خلافت کے زمانے میں ایک مرتبہ قحط پڑگیا ، حضرت بلاچند صحابہ کے ساتھ پیغمبراکرم کی قبر انور کے پاس آئے اور یوں کہنے لگے :
” یا رسول اللہ استسق لامتک فانھم قد ھلکوا “ یعنی ـــــــــ اے رسول خدا ! اپنی امت کے لیے اپنے خدا سے بارانِ رحمت طلب کیجئے
۔۔۔۔۔کیونکہ ممکن ہے کہ وہ ہلاک ہو جائے۔ یہاں تک کہ ابن حجر سے کتاب” الخیرات الحسان “ میں منقول ہے کہ امام شافعی جن دنوں بغداد میں تھے امام ابو حنیفہ کی زیارت کے لیے گئے اور اپنی حاجات کے لیے ان سے متوسل ہو ئے ۔ (بحوالہ التوصل صفحہ ۳۳۱)۔
نیز صحیح دارمی میں ابو الجوزاء سے منقول ہے :
ایک سال مدینہ میں سخت قحط پڑا تو بعض لوگوں نے حضرت عائشہ سے شکایت کی ، انھوں نے کہا: قبر پیغمبر ؐکے اوپر چھت میں ایک سوراک کریں تاکہ قبر پیغمبر ؐکی بر کت سے خدا کی طرف سے بارش نازل ہو، ان لوگوں نے ایسا کیا تو بہت زیادہ بارش برسی ۔ ت
فسیر آلوسی میں مندرجہ بالا احادیث میں سے متعدد نقل کی گئی ہیں اس کے بعد ان کاتفصیلی تجزیہ کیا گیا ہے حتی کہ ان احادیث کے بارے میں سخت رویہ اختیار کیا گیا ہے آخر میں مجبوراً صاحب مقامِ پیغمبر ؐسے متوسل ہونے سے نہیں روکتا ، خواہ حیات پیغمبروں میں ہو یا آپ کی رحلت کے بعد ۔ پھر مزید تفصیلی بحث کے بعد کہا ہے ۔ خدا کی بار گاہ میں رسول ؐاللہ کے علاوہ کسی اور سے متوسل ہونے میں بھی کوئی حرج نہیں بشرطیکہ جسے وسیلہ بنایا جائے وہ بار گاہ الہٰی میں مقام و منزلت رکھتا ہو۔ ( بحوالہ روح المعانی جلد ۴ ، صفحہ ۱۱۴، ۱۱۵ )رہی شیعہ کتب تو ان میں یہ بات اتنی واضح ہے کہ کوئی حدیث نقل کرنے کی ضرورت ہی نہیں ۔
چند قابل توجہ باتیں
۱۔ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ توسل سے مراد یہ نہیں کہ کوئی شخص پیغمبرؐ یا آئمہؑ (علیه السلام) سے حاجت طلب کرے بلکہ مقصد یہ ہے کہ ان کے مقام و منزلت کو بار گاہ ِ خدا میں رابطے کا وسیلہ قرار دے یہ در حقیقت خدا کی طرف ہی توجہ کرنا ہے کوینکہ پیغمبرؐ کا احترام بھی اس بنا پر ہے کہ وہ خدا کے بھیجے ہوئے تھے اور انھوں اسی راہ میں قدم بڑھا یا ہے ہمیں ایسے لوگوں پر تعجب ہوتا ہے کہ جو اس قسم کے توسل کو شرک کی ایک قسم خیال کرتے ہیں حالانکہ شرک تو یہ ہے کہ خدا کی صفات اور افعال میں کسی کو خدا کا شریک سمجھا جائے لیکن ایساتوسل جس کا ہم نے ذکر کیا ہے کسی طرح سے بھی شرک سے مشابہ نہیں ہے ۔ ۲۔ بعض لوگ چاہتے ہیں کہ پیغمبر اکرمؐ اور آئمہ کی حیات اور وفات میں فرق کریں حالانکہ مذکورہ روایات میں سے اکثر وفات کے بعد کے زمانے سے مربوط ہیں سے قطع نظر بھی ایک مسلمان کی نظر میں انبیاء اور آئمہ علیہم السلام وفات کے بعد بر زخ میں ایسی حیات رکھتے ہیں جیسی قرآن نے شہداء کے بارے میں بیان کی ہے اور کہا ہے : انھیں مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں ۔( آل عمران ۱۶۹) ۳۔ بعض پیغمبراکرمؐ سے دعا کی درخواست کرنے اور خدا کو ان کے مقام کی قسم دینے میں بھی فرق پر اصرار کرتے ہیں وہ دعا کی درخواست کو جائز سمجھتے ہیں اور اس کے علاوہ کو ممنوع سمجھتے ہیں حالانکہ منطقی طور پر ان میں کوئی فرق نہیں ۔ ۴۔ اہل سنت کے بعض مولفین اور علماء خصوصاً وہابی حضرات بڑی ہٹ دھرمی سے توسل کے سلسلے میں وارد ہونے والی روایات کو ضعیف ثابت کرنے کے در پے رہتے ہیں ۔ وہ فضول اور بے اعتراضا ت کے ذریعے انھیں طاق نسیان کردیا چاہتے ہیں ۔ ان کی بحث اس طرح سے ہوتی ہے کہ ایک غیر جانب دار شخص محسوس کرتا ہے کہ عقیدہ انھوں نے پہلے بنا لیا ہے اور پھر اپنے عقیدے کو رویات ِ اسلامی پر ٹھونسنا چاہتے ہیں اور جو کچھ ان کے عقیدے کے خلاف ہے اسے راستے سے ہٹا دینا چاہتے ہیں حالانکہ ایک محقق ایسی غیر منطقی اور تعصب آمیز بحث کو ہر گز قبول نہیں کرسکتا ۔ ۵۔جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں توسل والی روایات حد تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں یعنی اس قدر زیادہ ہیں کہ ہمیں اسناد کی تحقیق سے بے نیاز کردیتی ہیں ۔ علاہو ازیں ان میں صحیح روایات بھی بہت سی ہیں لہٰذا بعض دیگرکی اسناد میں ردو قدح کی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔ ۶۔ جو کچھ ہم نے کہا ہے اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ وہ رویات جو اس آیہ کے ذیل میں وارد ہوئی ہیں اور ان میں ہے کہ پیغمبر اکرم لوگوں سے فرماتے تھے کہ خدا سے میرے لیے وسیلہ کی دعا کرو ۔ یاکتاب کافی میں حضرت علی (علیه السلام) کا یہ فرمان کہ ” وسیلہ “ جنت میں بالاترین مقام ہے ــــــــــ ایسی روایات آیت کی مذکورہ بالا تفسیر کے منافی نہیں کیونکہ جیسے ہم نے بار ہا نشاندہی کی ہے ، وسیلہ میں تقرب ِ پر وردگار کا ہر مفہوم شامل ہے اور خدا سے پیغمبر اکرم کا تقرب اور جنت میں بلند ترین درجہ اس کا ایک مقام ہے ۔
جو لوگ کافر ہو گئے ہیں ا گر روئے زمین میں جو کچھ ہے اس کے برابر ان کے پاس ہو اور وہ روز قیامت سزا سے نجات کے لئے فدیہ کے طور پر دے دیں تو بھی ان سے قبول نہیں کیا جائے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا۔
وہ ہمیشہ چاہیں گے کہ آگ سے نکل آئیں لیکن وہ اس سے نکل نہ پائیں گے اور ان کے لئے پائیدار عذاب ہو گا۔
بے ایمان اور آلودہِ گناہ افراد کا انجام
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ آیت میں مومنین کو تقویٰ ، راہ جہاد اور وسیلہ تلاش کرنے کا حکم دیا گیا تھا اب ان دو آیات میں گذشتہ حکم کا سبب بیان کرنے کے حوالے سے بے ایمان اور آلودہٴِ گناہ افراد کے انجام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایاگیا ہے : جو لوگ کافر ہو گئے ہیں اگر چہ روئے زمین میں ہے اس جتنا سر مایہ رکھتے ہوں اور اسے روز قیامت سے سزا سے نجات کے لیے دے دیں تو ان سے قبول نہیں کیا جائے گا او ران کے لیے دردناک عذاب ہو گا (اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوۡ اَنَّ لَہُمۡ مَّا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا وَّ مِثۡلَہٗ مَعَہٗ لِیَفۡتَدُوۡا بِہٖ مِنۡ عَذَابِ یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ مَا تُقُبِّلَ مِنۡہُمۡ ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ) ۔
یہی مضمون سورہٴ رعد آیہ ۴۷ میں بھی ہے ۔ اس سے خدائی سزا کے بارے میں انتہائی تاکید ظاہر ہو تی ہے اور یہ کسی بھی سرما ئے اور طاقت کے ذریعےاس سے رہائی حاصل نہیں کی جاسکتی چاہے وہ سرمایہ ساری زمین کے برابر یا اس سے بھی زیادہ کیوں نہ ہو، نجات فقط ایمان، تقویٰ ، جہاد اور عمل ہی سے حاصل ہو سکتی ہے ۔ اس کے بعد اس سزا کے دائمی ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : وہ ہمیشہ چاہیں گے کہ جہنم کی آگ سے باہر نکل آئیں لیکن نکل نہ سکیں گے اور ان کی سزا باقی اور برقرار رہے گی (یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّخۡرُجُوۡا مِنَ النَّارِ وَ مَا ہُمۡ بِخٰرِجِیۡنَ مِنۡہَا ۫ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّقِیۡمٌ) ۔ دائمی سزا اور کفارکے دوزخ میں ہمیشہ رہنے کی بحث انشاء اللہ سورہ ہود آیہ ۱۰۸ کے ذیل میں آئے گی ۔
کیا تمہیں معلوم نہیں کہ خدا آسمانوں اور زمین کا مالک اور حکمران ہے جسے چاہتا ہے (اور مستحق سمجھتا ہے) سزا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے (اور اہل سمجھتا ہے) بخش دیتا ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔
چور کی سزا
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
قبل از ایں چند آیات میں ” محارب “ یعنی ڈرادھمکا کر علی الاعلان مسلح ہو کر لوگوں کی جان و مال او رناموس کے خلاف حملہ کرنے والے شخص کے بارے میں احکام بیان ہوئے ہیں ۔ اسی مناسبت کی بنا پر ان آیات میں چور کہ جو مخفی طور پر لوگوں کا مال لے جاتا ہے ، کے بارے میں حکم بیان ہوا ہے ۔ پہلے فرمایا گیا ہے : چورمرد اور عورت کا ہاتھ کاٹ دو (وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَۃُ فَاقۡطَعُوۡۤا اَیۡدِیَہُمَا ) ۔ یہاں چور مرد کو چور عورت پر مقدم رکھا گیا ہے چونکہ چوری کے سلسلے میں اصلی عامل زیادہ تر مرد ہوتے ہیں لیکن ارتکاب ِ زنا کے موقع پر زیادہ اہم عامل اور محرک بے لگام عورتین ہوتی ہیں ۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے : یہ سزا ان کے اعمال پر ہے جو انھوں نے انجام دئیے ہیں اوریہ خداکی طرف سے عذاب ہے (جَزَآءًۢ بِمَا کَسَبَا نَکَالًا مِّنَ اللّٰہِ ؕ ) ۔ اس جملہ میں در حقیقت اس طرف اشارہ ہے کہ اول تویہ سزا ان کے کام کا نتیجہ ہے اور ایسی چیز ہے جو انھوں نے خود اپنے لیے خرید ی ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ ایک طرح سے پیش بندی اور حق و عدالت کی طرف باز گشت سے کیونکر ” نکال “کا معنی ہے ایسی سزا جو پیش بندی کے لیے ترک گناہ کے مقصد کے لیے ہو۔ در اصل اس لفظ کا معنی ہے ” لگام “ بعدازاں ہر ا سکام کے لیے استعمال ہو نے لگا جو انحراف اور کج روی سے روکے ۔ آیت کے آخر میں اس لیے منادہ یہ وہم ہو کہ مذکورہ سزا عادلانہ نہیں ، فرمایا گیا ہے : خدا قادر و توانا ہے لہٰذا کوئی وجہ نہیں کہ وہ کسی سے انتقام لے اور حکیم بھی ہے اس لیے وہ کسی کو بلا وجہ نہیں دے(وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ) ۔ بعد والی آیت میں ان کے لیے لوٹ آنے کا راستہ کھولتے ہوئے فرماتا ہے : اس ظلم کے بعد جو شخص توبہ کرلے اور اصلاح و تلافی کو راہ اپنائے خدا اسے بخش دے گا کیونکہ وہ بخشنے والا مہر بان ہے (فَمَنۡ تَابَ مِنۡۢ بَعۡدِ ظُلۡمِہٖ وَ اَصۡلَحَ فَاِنَّ اللّٰہَ یَتُوۡبُ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ) ۔
کیا توبہ کرنے سے صرف اس کا گناہ بخشا جائے گا یا چوری کی سزا ( ہاتھ کاٹنا) بھی ساقط ہو جائے گی ۔ اس سلسلے میں ہمارے فقہاء میں یہی مشہور ہے کہ اگر وہ اسلامی عدالت میں چوری ثابت ہوجانے سے پہلے کرلے تو چوری کی حد بھی بر طرف ہ وجائے گی لیکن جب دو عادل گواہوں کے ذریعے اس کا جرم ثابت ہوجائے تو پھر تو بہ سے حد ساقط نہیں ہو گی ۔ در اصل حقیقی توبہ جس کی طرف آیت میں اشارہ کیا گیا ہے وہ ہے جو عدالت میں ثبوت جرم سے پہلے انجام پائے ورنہ تو ہر چیز چور جب اپنے آپ کو سزا کے سامنے پائے گا اظہار توبہ کرے گا اور اس طرح تو کسی پر سزا جاری ہی نہ ہوگی ۔ دوسرے لفظوں میں ” اخباری توبہ “وہ ہے جو شرعی عدالت میں جرم ثابت ہونے سے پہلے انجا م پائے ورنہ ” اضطراری توبہ “ ہو گی اور اضطراری توبہ تو ایسی ہے جسے عذاب الہٰی یا آثار موت دیکھ کر کی جائے اور ایسی توبہ کی کوئی قیمت نہیں ۔
چوروں کے بارے میں توبہ کا حکم بیان کرنے کے بعد روئے سخن اسلام کے عظیم پیغمبر کی طرف کیا گیا ہے ، فرمایا : کیا تمہیں معلوم نہیں کہ خدا آسمانوں اور زمین کا مالک ہے ا ور جس طرح مناسب سمجھتا ہے ان میں تصرف کرتا ہے ، جس شخص کو سزا کا مستحق سمجھتا ہے سزا دیتاہے اور جسے بخشش کے لائق سمجھتا ہے بخش دیتاہے اور وہ ہر چیزپر قدرت رکھتا ہے (اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ یُعَذِّبُ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَغۡفِرُ لِمَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ) ۔
چند اہم نکات
۱۔ چور کو سزا دینے کی شرائط: دیگر احکام کی طرح اس حکم میں قرآن نے بنیادی بات بیان کی ہے اس کی تفصیل سنت ِ پیغمبر ؐپر چھوڑدی ہے ، روایاتِ اسلامی سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ہاتھ کاٹنے کی اس اسلامی حد کے اجراء کے لیے بہت سی شرائط ہیں جن کے بغیر اسے جاری کرنا جائز نہیں ہے ان میں سے کچھ شرائط ہیں : ۱) چوری کیاہو امال کم از کم ایک چوتھائی دینار کی مالیت کا ہونا چاہئیے۔( دینار سے مراد سکہ دار سونے کا ایک مثقال ِ شرعی اور مثقال شرعی برابر ہے ۱۸ چنے کے دانوں کے یعنی عام مثقال کا ۴/۳حصہ)
۲) مال محفوظ جگہ سے مثلاً اگر، دوکان یا اندر کی جیب سے چوری کیا جائے ۔ ۳) چوری قحط سالی کے زمانے میں جبکہ لوگ بھوک زدہ ہو تے ہیں او ر انھیں کوئی راہ سجھائی نہیں دیتی ، نہ ہوئی ہو۔ ۴) چور عاقل و بالغ ہو اور ا س نے حالت ِ اختیار میں یہ کام کیا ہو۔ ۵)باپ کا بیٹے کے مال سے چوری کرنا یا ایک شریک کا شرکت والے مال سے چوری کرنا اس حکم میں نہیں آتا ۔ ۶)باغ کے درختوں سے بھل کی چوری کو بھی اس حکم سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے ۔ ۷) ہر وہ موقع جہاں چور کے لیے اشتباہ کا احتمال ہو کہ اس نے دوسرے کے مال کو اشتباہ سے اپنا مال سمجھتے ہوئے لیا ہے ، بھی اس حکم سے مستثنیٰ ہو گا ۔
کچھ اور شرائط بھی ہیں جن کی تفصیل فقہی کتب میں آئی ہے ۔ اشتباہ نہ ہو کہ مذکورہ شرائط کی صورت ہی میں چوری حرام ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ مذکورہ حد کا اجراء ان شرائط سے مخصوص ہے ورنہ چوری تو ہر شکل و صورت ، ہر مقدار، اور ہر کیفیت سے اسلام میں حرام ہے ۔ ۲۔ ہاتھ کاٹنے کی مقدار : روایات اہل بیت علیہم السلام سے استفادہ کرتے ہوئے ہمارے فقہا میں مشہور یہی ہے کہ دائیں ہاتھ کی صرف چار انگلیان کاٹی جائیں نہ کہ اس سے زیادہ۔ اگر چہ فقہاء اہل سنت اس سے زیادہ کے قائل ہیں ۔ ۳۔ کیا یہ سخت سزا ہے ؟ : مخالفین ِ اسلام اور کچھ ناواقف مسلمانوں کی طرف سے بارہا یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ یہ اسلامی سزا بہت سخت ہے اور اگرآج کی دنیا میں یہ سزا نافذ ہو جائے تو بہت سے ہاتھ کٹ جائیں ، علاوہ ازیں اس حکم کے اجراء سے ایک شخص نہ صرف اپنے بدن کے ایک اہم حصے سے محروم ہو جائے گا بلکہ ساری عمر کے لیے لوگوں کی انگشت نمائی کاشکار ہو جائے گا ۔ اس سوال کے جواب میں ان حقائق کی طرف توجہ کرنا چاہئیے ۔ ۱) جیسا کہ ہم نے اس حکم کی شرائط میں کہا ہے کہ یہ حکم ہر چور کے لیے نہیں ہے ، بلکہ چوروں کے ایک خطر ناک گروہ کے لیے ہے ۔ ۲) اس جرم کے ثبوت کے لیے اسلام میں چونکہ خاص شرائط معین ہیں لہٰذا اس سے بہت کم لوگوں پر یہ سزا جاری ہو گی ۔ ۳) کم معلومات رکھنے والے لوگ جو بہت سے اعتراضات اسلامی قوانین پر کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک حکم کو مستقل طور پر دوسرے تمام احکام سے الگ کرکے بحث کرتے ہیں ۔ بالفاظ دیگر وہ اس حکم کو سوفی صد غیر اسلامی معاشرے میں فرض کرتے ہیں لیکن اگر ہم توجہ رکھیں کہ اسلام صرف اسی ایک حکم کا نام نہیں بلکہ وہ احکام کے ایک مجموعے کا نام ہے اور اگر یہ تمام احکام کسی معاشرے پر حکمران ہوں تو عدالت ِ اجتماعی وجود میں آجائے ، فقر و تندستی کے خلاف جنگ کی جائے، تعلیم و تربیت صحیح ہو اور آداب و اخلاق ، آگاہی، بیداری اورتقویٰ کا دور دورہ ہو۔ اس سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ اس حکم کے زیر اثر آنے والے لوگوں کی تعدا کس قدر کم ہوگی ۔
کہیں اشتباہ نہ ہو، مقصد یہ نہیں کہ آج کے مختلف معاشروں میں یہ حکم جاری نہ ہو بلکہ مراد یہ ہے کہ فیصلہ اور قضاوت کرتے وقت ان تمام پہلووٴں کو نظر میں رکھنا چاہئیے۔ خلاصہ یہ کہ حکومت ِ اسلامی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے تمام افراد کو بنیادی ضروریات مہیا کرے ، انھیں ضروری تعلیم دلائے اور ان کی اخلاقی تربیت کرے واضح ہے کہ پھر ایسے ماحول میں غلط کار افراد بہت کم ہوں گے ۔ ۴) اگر آج ہم دیکھتے ہیں کہ چور زیادہ ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسا حکم جاری نہیں ہوا لہٰذا جس علاقے میں اسلامی حکم جار ی ہوتا ہے ( مثلاً سعودی عرب میں گذشتہ سالوں میں یہ حکم جاری ہوتا تھا) وہاں بہت اچھا امن و امان ہو تا ہے ۔ خانہ خدا کے بہت سے زائرین سوٹ کیس ، بٹوے اور تھیلے حجاز کے گلی کوچوں میں پڑے دیکھتے ہیں انھیں کوئی شخص ہاتھ لگانے کی جراٴت نہیں کرتا یہاں تک کہ گمشدہ چیزوں کے ادارے کے مامورین آتے ہیں اور انھیں اس ادارے میں لے جاتے ہیں او رمالک نشانی بتا کر لے جاتے ہیں اسی طرح رات کو بغیر در وازوں کے اکثر دکانیں کھلی پڑی رہتی ہیں او رکوئی ان میں چوری نہیں کرتا ۔
یہ امر قابل توجہ ہے کہ اسلامی حکم اگر صدیوں تک جاری ہوتا رہا اور اس کی پناہ میں صدر اسلام کے مسلمان امن امان کی زندگی بسر کرتے رہے لیکن صد یوں میں گنتی کے صرف چند افراد پر یہ حکم جاری ہوا ۔ ایک ملت کی صد یوں کی زندگی کے لیے چند غلط کار افراد کے ہاتھ کاٹ دیئے جائیں تو کیا یہ کوئی زیادہ قیمت ہے ۔ ۴۔ ایک اعتراض کا جواب : بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایک چوتھائی دینار کی چوری پر حد کا اجراء کیا مسلمان کی جان کے بارے میں اعتراضات کے اسلامی احکام کے منافی نہیں کیونکہ اسلام تو مسلمان کے لیے ہر قسم کی گزند سے محفوظ رہنے کا قائل ہے اور ایک انسان کی چار انگلیان کاٹنے کی دیت اسلام نے بہت زیادہ معین کی ہے ۔
جیساکہ بعض تواریخ سے معلوم ہوتا ہے ، اتفاقاً یہی سوال اسلام کے ایک عظیم عالم مرحوم سید مرتضیٰ علم الھدیٰ سے تقریباً ایک ہزار سال پہلے ہوا تھا ، سائل نے شعر کی صورت میں اپنا سوال یوں پیش کیا :
ید بخمس مئین عجد و دیت ما بالھا قطعت فی ربع دینار یعنی ـــــــ وہ ہاتھ جس کی دیت پانچ سو دینار ہے ۔ (توجہ رہے کہ پانچسو دینار پانچ انگلیاں کاٹنے پر ہے ، لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں فقہائے اہل بہت (علیه السلام) کے نزدیک چوری میں چار انگلیاں کاٹی جاتی ہیں ) ۔ ایک چوتھائی دینار کے بدلے کیوں کاٹا جاتا ہے ۔ سید مرتضیٰ نے اس کے جواب میں یہ شعر ارشاد فرمایا:
عز الامانة اغلاھا و ارخصھا
ذل الخیانة فانھم حکمة الباری یعنی ـــــ امانت کی عزت نے اس ہاتھ کو گراں قیمت بنادیا تھا
لیکن خیانت کی ذلت نے اس کی قیمت گرادی ۔ تم ذرا حکمت ِ الہٰی کو سمجھو۔( بحوالہ تفسیر آلوسی جلد ۲ صفحہ ۶ پر بھی یہ واقعہ منقول ہے لیکن وہاں سید مرتضی علم الہدی کی بحائے عل الدین سخاوہ کی نام آیا ہوا ہے)
شان نزول
اس آیت کی شان ِ نزول کے بارے میں متعدد روایات ہیں ان میں سے زیادہ واضح روایت وہ ہے جو امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل ہو ئی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے : خیبر کے یہودیوں کے ایک بڑے آدمی نے جو شادی شدہ تھا ایک شوہر دار عورت سے خلاف عفت کام کیا وہ عورت بھی خیبر کے ایک بڑے خاندان سے تعلق رکھتی تھی ۔
تورات میں اس سلسلہ میں سنگساری کا حکم تھا، یہودی اس کے اجراء میں پریشان تھے اور ایسے حل کی تلاش میں تھے جس میں دونوں کی معافی ہو جائے اور اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو احکام ِ الہٰی کاپابند بھی کہیں ۔ انھوں نے اپنے ہم مذہب اہل مدینہ کو پیغام بھیجا کہ وہ اس حادثہ کے بارے میں پیغمبر اسلامؐ سے حکم در یافت کریں ( تاکہ اگر اسلام میں اس سے کوئی آسان حکم ہو تو اسے انتخاب کر لیا جائے ورنہ اس سے بھی صرف ِ نظر کرلیا جائے اور شاید اس طرح سے وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ پیغمبر اسلام کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائیں اور اپنے آپ کو مسلمانوں کا دوست ظاہر کریں ) ۔ اسی مقصد کے لئے مدینہ کے برے یہودی پیغمبر اسلامؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آنحضرت نے فرمایا : میں جو حکم کروں گا اسے قبول کروگے؟ وہ کہنے لگے : ہم اسی لیے آپ کے پاس آئے ہیں ۔
اس موقع پر زنا ئے محصنہ کا ارتکاب کرنےو الوں کے لیے سنگسار کیے جانے کا حکم نازل ہوا لیکن انھوں نے اسے قبول نہ کیا ( اور عذر یہ پیش کیا کہ ہمارے مذہب میں تو ایسا حکم نہیں آیا) ۔ پیغمبر اسلام ؐنے مزید فرمایا : یہ وہی حکم ہے جو تمہاری تورات میں بھی آیا ہے کیا تم اس بات سے اتفاق کرتے ہو کہ میں تم میں سے ایک شخص کو فیصلے کے لیے بلاوٴں او رجو کچھ وہ تورات سے بیان کرے اسے قبول کرلوں ۔
وہ کہنے لگے : جی ہاں ۔ پیغمبر اسلام ؐنے فرمایا :ابن صوریا جو کہ فدک میں رہتا ہے ، کیسا عالم ہے ؟ وہ بولے ؛ وہ تو تورات کا سب سے بڑا عالم ہے ۔ کسی کو اسے لینے کے لیے بھیجا گیا جب وہ آنحضرؐت کی خدمت میں پہنچا تو آپ نے اس سے فرمایا: تمجھے اس خدائے یکتا کی قسم دیتاہوں جس نے تورات کو موسیٰ (علیه السلام) پر نازل کیا ، تمہارے لیے دریا شگاف کیا، تمہارے دشمن فرعون کو غرق کیا اور تمہیں بیابا ن میں اپنی نعمتوں سے نوازکہو کیا ایسے موقع پر تورات میں تمہارے لیے سنگسار کرنے کا حکم نازل ہواہے یا نہیں ؟
وہ کہنے لگا: آپ نے مجھے ایسی قسم دی ہے کہ میں مجبور ہو گیا ہوں کہ کہوں جی ہاں ! ایسا ہی حکم تورات میں موجود ہے ۔پیغمبر اسلام ؐنے فرمایا: پھر اس کے حکم کے اجراء کی مخالفت کیوں کرتے ہو؟ وہ بولا : حقیقت یہ ہے کہ ہم گذشتہ زمانے میں یہ حد عام افراد پر تو جاری کر دیتے تھے لیکن دولتمندوں او ربڑے لوگوں پر نہیں کرتے تھے یہی وجہ تھی کہ ہمارے معاشرے کے خوش حال طبقوں میں یہ گناہ رائج ہو گیا۔ یہاں تک کہ ہمارے ایک سر دار کا چچا زاد بھائی اس قبیح عمل کا مر تکب ہوا اور حسب معمول اسے سزا دی گئی ۔ اسی اثنا میں ایک عام آدمی اس کا مرتکب ہوا ۔ جب اسے سنگسار کرنے لگے تو اس کے رشتہ داروں نے اعتراض کیا او رکہنے لگے یہ حکم جاری ہو نا ہے تو پھر دونوں پر ہو، اس صورت ِ حال کے پیش نظر ہم بیٹھ گئے اور سنگسار کے قانون کی جگہ ایک آسان قانون بنا لیا اور وہ یہ تھا کہ ہر ایک کو چالیس کوڑے لگائے جائیں اور ان کا منہ کالا کر کے اور سواری پر بٹھا کر انھیں گلی کوچوں میں پھرایا جائے۔ اس وقت پیغمبر اکرم ؐنے حکم دیا کہ اس مرد اور عورت کو مسجد کے سامنے سنگسار کیا جائے۔(بحوالہ بیہقی نے اپنی سنن جلد ۸ صفحہ ۲۴۶ میں جو روایت نقل کی ہے ۔ اس کے مطابق علماء ِ یہود جب پیغمبر ؐ اسلام کی خدمت میں آئے تو اس عورت اور مرد کوف بھی ساتھ لائے)۔ پھر آپ نے فرمایا: خدا یا! میں پہلا شخص ہوں جس نے تیرے حکم کو زندہ کیا، جبکہ یہودی اسے ختم کرچکے تھے ۔) اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہو ئیں اور اس وقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔
اے خدا کے رسول ! وہ لوگ جو زبان سے کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور ان کے دل ایمان نہیں لائے اور وہ راہ کفر میں ایک دوسرے پر سبقت کرتے ہیں تم ان کے بارے میں غم نہ کرو اور یونہی یہودیوں کے بارے میں (جو اسی راہ پر چلتے ہیں ) وہ زیادہ آپ کی باتیں سنتے ہیں تاکہ انہیں تمہاری تکذیب کے لئے کوئی بات ہاتھ آ جائے وہ دوسرے لوگوں کے جاسوس ہیں جو (لوگ) خود تمہارے پاس نہیں آئے وہ باتوں کو ان کی جگہ سے بدل دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر یہ (جو ہم چاہتے ہیں ) تمہیں دیں اور (محمد تمہاری خواہش کے مطابق فیصلہ کریں ) تو اسے قبول کر لو (ورنہ دوری اختیار کرو) اور اس پر عمل نہ کرواور جسے خدا (اس کے پے در پے گناہوں کی وجہ سے) سزا دینا چاہے تو کوئی اسے بچا نہیں سکتا وہ ایسے لوگ ہیں کہ خدا ان کے دلوں کی پاکیزگی (طہارت) نہیں چاہتا انہیں دنیا میں رسوائی نصیب ہو گی اور آخرت میں وہ عذاب عظیم سے دو چار ہوں گے۔
وہ تمہاری باتیں بہت غور سے سنتے ہیں تاکہ انہیں جھٹلائیں وہ مال حرام زیادہ کھاتے ہیں اگر وہ تمہارے پاس آئیں تو ان کے درمیان قضاوت کرو یا (اگر مصلحت ہو تو) انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دو اور اگر ان سے صرف نظر کر لو تو وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اگر ان کے درمیان فیصلہ کرو تو عدالت سے کام لو کہ خدا عدل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
دوست اور دشمن کے درمیان فیصلہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
زیر نظر آیات اور بعد کی چند آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے قاضی حق رکھتے ہیں کہ مخصوص شرائط کے ساتھ غیر مسلموں کے مقدمات کابھی فیصلہ کریں ، تفصیل آیات کے ذیل میں بیان کی جائے گی ۔ زیر نظر آیات میں سے پہلی آیت یا ایھا الرسول ( اے بھیجے ہوئے)سے شروع ہوتی ہے ۔ قرآن میں یہ تعبیر صرف دو جگہ پر نظر آتی ہے ایک اس مقام پر اور ایک اسی سورہ کی آیہ ۶۷ میں جہاں ولایت و خلافت کے مسئلے پر گفتگو کی گئی ہے ، معاملہ چونکہ اہم ہے اور دشمن کا خوف بھی ہے لہٰذا چاہتا ہے کہ پیغمبرمیں احساس مسئولیت کو اور متحرک کرے اور ان کے ارادے کو تقویت پہنچائے یہ کہتے ہوئے کہ تو صاحب ِ رسالت ہے اور رسالت بھی ہماری اس لیے حکم بیان کرنے میں استقامت اور مامردی سے کام لو۔
اس کے بعد پیغمبر کی دلجوئی اور تسلی کےلیے بعد والے حکم کی تمہید کے طور پر فرمایا گیا ہے ۔ جو لوگ زبان سے ایمان کے دعویدار ہیں اور ان کا دل ہرگز ایمان نہیں لایا اور کفر میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے ہیں وہ تمہارے غم و اندوہ کا سبب نہ بنیں ( کیونکہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ) (لَا یَحۡزُنۡکَ الَّذِیۡنَ یُسَارِعُوۡنَ فِی الۡکُفۡرِ مِنَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاَفۡوَاہِہِمۡ وَ لَمۡ تُؤۡمِنۡ قُلُوۡبُہُمۡ ۚۛ)
بعض کا نظریہ ہے کہ”یُسَارِعُونَ فِی الْکُفْر“ ِ ” یُسَارِعُونَ اِلیٰ الْکُفْرِ“میں فرق ہے کیونکہ پہلا جملہ ایسے لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے جو کافر ہیں اور کفر کے اندر غوطہ زن ہیں اور کفر کے آخری مرحلہ تک پہنچنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں کوشان ہیں لیکن دوسرا جلہ ایسے لوگوں کے بارے میں ہے جو باہر سے کفر کی چار دیواری کی طرف حر کت میں ہیں اور ایک دوسرے پر سبقت کررہے ہیں۔ ( بحوالہ المنار ج۶ صفحہ۲۸۸)۔
منافقین اور داخلی دشمنوں کی کارستانیوں پر ان کی حوصلہ شکنی کے بعد خارجی دشمنوں اور یہودیوں کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔ ارشاد ہ وتا ہے : اسی طرح یہودیوں میں سے بھی جو لوگ اس راہ پر چل رہے ہیں وہ بھی تمہارے لیے حزن و ملال کا باعث نہ ہوں (وَ مِنَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا ۚۛ) ۔ اس کے بعد ان منافقانہ افعال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : وہ تمہاری باتوں کو بڑے غور سے سنتے ہیں لیکن ان کی یہ توجہ اطاعت کے لیے نہیں بلکہ اس لیے ہے کہ انھیں تمہاری تکذیب کے لیے اور تم پر افترا باندھنے کے لیے کوئی عذر ہاتھ آجائے (سَمّٰعُوۡنَ لِلۡکَذِبِ) ۔
اس جملے کی ایک اور تفسیر بھی ہے اور وہ یہ کہ : وہ اپنے گذشتہ لوگوں کے جھوٹ اور افتراء کی طرف زیادہ کان دھرتے ہیں ، لیکن بات قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔ (پہلی صورت میں ” للکذب“ کی لام ” لام تعلیل “ ہے اور دوسری صورت میں ” لام تعدیہ “ ہے )۔
ان کی ایک اور صفت یہ ہے کہ یہ نہ صرف جھوٹ باندھنے کے لیے تمہاری مجلس میں آتے ہیں بلکہ جو لوگ تمہارے پاس نہیں آتے ان کے جاسوس کا کردار بھی ادا کرتے ہیں (سَمّٰعُوۡنَ لِقَوۡمٍ اٰخَرِیۡنَ ۙ لَمۡ یَاۡتُوۡکَ ؕ) ۔
دوسری تفسیر کے مطابق وہ اپنے گروہ کے حکم پر کان دھرتے ہیں ان کا طریقہ یہ ہے کہ اگر تم میں سے کوئی حکم اپنی منشاء کے مطابق سن لیں تو اسے قبول کرلیتے ہیں اور اگر کوئی حکم ان کے میلانِ طبع کے خلاف ہے تو اس کی مخالفت کرتے ہیں لہٰذا وہ اپنے بڑون کافرمان سنتے ہیں اور ان کی اطاعت کرتے ہیں نہ کہ تمہاری ۔ ان حالات میں ان کی مخالفت تمہارے لیے باعث ِ غم اندوہ نہیں ہونا چاہئیے ، کیونکہ وہ ابتداء سے ہی تمہارے پاس قبولِ حق کی غرض سے نہیں آئے ۔ ان کی صفات میں سے یہ بھی ہے کہ وہ کلام ِ الہٰی میں تحریف کرتے ہیں ( چاہے تحریف ِ لفظی ہو یا تحریف معنوی) جس حکم کو وہ اپنے مفاد اور ہواو ہوس کے خلاف سمجھتے ہیں اس کی کوئی توجیہ کرلیتے ہیں یا سے بالکل مسترد کردیتے ہیں ۔ (یُحَرِّفُوۡنَ الۡکَلِمَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَوَاضِعِہٖ ۚ) ۔(تحریف کی کیفیت اور اقسام کے بارے میں اسی سورہ کی آیت ۱۳ کے ذیل میں بحث ہو چکی ہے ۔)
زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ تمہارے پاس آنے سے پہلے ہی پختہ ارادہ کرلیتے ہیں ۔ ان کے بڑوں نے انھیں حکم دیا ہے کہ اگر محمد کوئی حکم ہماری خواہش کے مطابق دے تو اسے قبول کرلو اور اگر ہماری خواہش کے خلاف ہو تو اس سے دور رہو(یَقُوۡلُوۡنَ اِنۡ اُوۡتِیۡتُمۡ ہٰذَا فَخُذُوۡہُ وَ اِنۡ لَّمۡ تُؤۡتَوۡہُ فَاحۡذَرُوۡا ؕ ) ۔
وہ اس طرح سے گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور اپنے ان افکار و نظر یات میں اتنے پختہ ہیں کہ بغیر کسی سوچ بچار اور تحقیق و مطالعہ کے جو کچھ بھی ان کے تحریف شدہ مطالب کے خلاف ہو اسے رد کردیتے ہیں اس طرح ان کی ہدایت کی کوئی امید نہیں اور خدا چاہتا ہے کہ اس ذریعے سے سزا دے کر انھیں رسوا کرے اور جس کی سزا اور رسوائی کا خدا ارادہ کرلے تو تم ہر گز اس کا دفاع نہیں کر سکتے۔( وَ مَنۡ یُّرِدِ اللّٰہُ فِتۡنَتَہٗ فَلَنۡ تَمۡلِکَ لَہٗ مِنَ اللّٰہِ شَیۡئًا ؕ ) ۔
وہ اس قدر آلودہ ہیں کہ ان کی آلودگی دھلنے کے قابل نہیں ہے وہ ایسے لوگ ہیں کہ خدا ان کے دلوں کو پاک نہیں کرنا چاہتا(اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَمۡ یُرِدِ اللّٰہُ اَنۡ یُّطَہِّرَ قُلُوۡبَہُمۡ ؕ) ۔ کیونکہ خدا کا کام ہمیشہ حکمت آمیز ہوتا ہے اور وہ لوگ جو اپنے ارادے سے زندگی کا ایک حصہ کجروی میں گزار چکے ہیں اور نفاق ، جھوٹ، مخالفتِ حق اور قوانین ِ الہٰی میں تحریف کا جرم کرچکے ہیں ان کے لیے پلٹنا عادتاً ممکن نہیں ہے ۔ اور آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : وہ اس دنیا میں میں بھی رسوا ہوں گے اور آخرت میں بھی انھیں عذاب عظیم ہوگا ۔ لَہُمۡ فِی الدُّنۡیَا خِزۡیٌ ۚۖ وَّ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ) ۔
دوسری آیت میں قرآن دوبارہ تاکید کرتا ہے کہ ان کے سننے والے کان تو تمہاری بات سن کر اس کی تکذیب کرنے کے لیے ہیں ( یا پھر وہ اپنے بڑوں کے جھوٹ سننے کے لیے گوش ِ شنوا رکھتے ہیں )( سَمّٰعُوۡنَ لِلۡکَذِبِ) ۔یہ جملہ تاکید کے طور پر ہے اور اس بری صفت کے اثبات کے لیے تکرار ہے ۔ اس کے علاوہ وہ ناحق ، حرام اور رشوت زیادہ کھاتے ہیں (اَکّٰلُوۡنَ لِلسُّحۡتِ ؕ) ۔(”سحت“ ( بر وزن جفت“ در اصل درخت کے چھلکے اتارنے اور شدید بھوک کے معنی میں ہے بعد ازاں ناجائز مال اور خصوصاً رشوت کے لیے بولاجانے لگا کیونکہ ایسا مال معاشرے سے تازگی، پاکیز گی اور برکت چھین لیتا ہے جیسے درخت سے چھلکے اتاردئیے جائیں تو اس پر پذمردگی چھا جاتی ہے اور وہ خشک ہو جاتا ہے اس بنا ہر ” سحت“ کا ایک وسیع معنی ہے اگر بعض روایات میں اس کا کوئی خاص مصداق بیان کیا گیا ہے تو وہ اختصاص کی دلیل نہیں ہے)۔ اس کے بعد پیغمبر اکرمؐ کو اختیار دیا گیا ہے کہ اگر ایسے لوگ فیصلہ حاصلہ کرنے کے لیے ان کی طرف رجوع کریں تو وہ احکام ِ اسلام کے مطابق ان کے درمیان فیصلہ کرسکتے ہیں اور یہ بھی کہ ان سے منہ پھیر بھی سکتے ہیں (فَاِنۡ جَآءُوۡکَ فَاحۡکُمۡ بَیۡنَہُمۡ اَوۡ اَعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ ۚ) ۔ البتہ یہاں یہ مراد نہیں کہ پیغمبر اکرم ؐکسی ذاتی میلان کی بنیاد پر کوئی راستہ اپنالیں بلکہ مراد یہ ہے کہ حالات و اوضاع کو پیش نظر رکھتے ہوئے اگر مصلحت ہو تو حکم جاری کریں ورنہ صرفِ نظر کرلیں ۔ روح ِ پیغمبرؐ کی تقویت کے لیے مزید فرمایا گیا ہے : اگر مصلحت اس میں ہو کہ ان سے منہ پھیر لو تو وہ تمہیں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے (وَ اِنۡ تُعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ فَلَنۡ یَّضُرُّوۡکَ شَیۡئًا ؕ) ۔ اور اگر ان کے درمیا ن فیصلہ کرنا چاہو تو یقینا تمہیں اصولِ عدالت کو ملحوظ رکھنا چاہئیے کیونکہ خدا، حق، انصاف اور عدالت کے مطابق فیصلہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے وَ اِنۡ حَکَمۡتَ فَاحۡکُمۡ بَیۡنَہُمۡ بِالۡقِسۡطِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ) ۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت ِ اسلامی کو آج بھی یہ اختیار ہے کہ وہ غیر مسلموں کے بارے میں احکام ِ اسلام کے مطابق فیصلہ کردے یا فیصلہ کرنے سے اعراض کرے ۔ اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے ۔ بعض کا نظر یہ ہے کہ اسلامی ماحول میں جو شخص بھی زندگی بسر کرتا ہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم ، حقوق اور جزا و سزا کے اسلامی قوانین سب کے بارے میں یکساں ہیں ۔ اس بناپر مندرجہ بالاآیت کا حکم یا تو منسوخ ہو چکا ہے یا غیر ذمی کفار سے مخصوص ہے ( یعنی وہ کفار جو ایک اقلیت کے طور پر اسلامی ملک میں زندگی بسر نہیں کرتے لیکن مسلمانوں کے ساتھ معاہدوں میں شریک ہیں اور ان سے میل جول رکھتے ہیں ) بعض دیگر حضرات کا نظریہ ہے کہ اسلامی حکومت اس وقت بھی غیر مسلموں کے بارے میں یہ اختیار رکھتی ہے کہ وہ حالات و اوضاع کو ملحوظ رکھتے ہوئے مصلحت سمجھے تو ان کے بارے میں احکامِ اسلام کے مطابق فیصلہ کرے اور یا انھیں ان کے اپنے قوانین کی طرف رجوع کرنے کی اجازتدے دے ( تفصیلی مطالعہ اور تحقیق کے لیے فقہی کتب میں قضاوت کی بحث سے رجوع کریں )
وہ کس طرح تجھے فیصلہ کے لئے بلاتے ہیں جبکہ ان کے پاس تورات ہے اور اس میں خدا کا حکم موجود ہے اور پھر فیصلہ کے بعد انہوں نے چاہا کہ تجھ سے منہ پھیر لیں اور وہ مومن نہیں ہیں۔
زنا محصنہ کے مرتکب مرد عورت کو سنگسار کرنے کا حکم اور تورات
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ آیت میں پیغمبر اکرم سے یہودیوں کے فیصلہ طلب کرنے کا ذکر تھا یہ آیت بھی اسی معاملے کے بارے میں ہے ۔ یہاں تعجب کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : وہ کس طرح تجھے فیصلہ کے لئے بلاتے ہیں جب کہ تورات ان کے پاس ہے اور اس میں خدا حکم بھی آچکا ہے ( وَکَیْفَ یُحَکِّمُونَکَ وَعِنْدَہُمْ التَّوْرَاةُ فِیہَا حُکْمُ اللهِ) ۔ یاد رہے کہ زنا محصنہ کے مرتکب مرد عورت کو سنگسار کرنے کا مذکورہ حکم موجودہ تورات کے سفر تثنیہ فصل بائیس میں موجود ہے ۔ تعجب اس بات پر ہے کہ وہ تو تورات کو ایک منسوخ کتاب مانتے اور دین اسلام کو باطل سمجھتے ہیں اس کے باوجود وہ تورات کے ان احکام کو چھوڑ کر جو انکی طبیعت کے مطابق نہیں ہیں ایسے حکم کی تلاش کرتے ہیں جو اصولی طور پر ان کے موافق نہیں ہے ۔ اس سے بھی بڑ کر تعجب کی بات یہ ہے کہ تجھے فیصلہ کرنے کے لئے منتخب کرلینے کے بعد تیرا حکم قبول نہیں کرتے کہ حکم تورات کے مطابق ہے کیونکہ یہ حکم ان کے میلان اور رغبت کے خلاف ہے ( ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْ بَعْدِ ذَلِکَ ) حقیقت یہ ہے کہ وہ ایمان ہی نہیں رکھتے ورنہ احکام ِ خدا کے ساتھ ایسا کھیل نہ کھیلتے(وَمَا اٴُوْلَئِکَ بِالْمُؤْمِنِینَ ) ۔ ممکن ہے یہ اعتراض کیا جائے کہ مندرجہ بالا آیت یہ کیونکہ کہتی ہے کہ حکم خدا تورات میں مذکورہے حالانکہ قرآنی آیات اور تاریخی اسناد سے معلوم ہوتا ہے کہ تورات تحریف شدہ کتاب ہے اور یہی تحریف شدہ کتاب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں تھی ۔ اس سلسلے میں توجہ رہے کہ اول توہم تمام تورات کو تحریف شدہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کے کچھ حصے کو واقع کے مطابق جانتے ہیں اور اتفاق کی بات ہے کہ زیر بحث حکم غیر تحریف شدہ احکام میں سے ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ تورات جو کچھ بھی تھی یہودیوں کے نزدیک تو آسمانی کتاب تھی جو تحریف شدہ نہیں سمجھی جاتی تھی لہٰذا ان حالات میں کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ وہ اس پر عمل نہ کریں ۔
ہم نے تورات کو نازل کیا کہ جس میں ہدایت اور نور تھا اور انبیاء کو جو حکم خدا کے سامنے تسلیم تھے اس کے مطابق یہودیوں میں فیصلہ کرتے تھے اور (اسی طرح) علماء بھی اس کتاب کے مطابق حکم کرتے تھے کہ جو ان کے سپرد تھی اور وہ اس پر گواہ تھے اس بنا پر (آیات الٰہی کے مطابق فیصلہ کرنے کے بارے میں ) لوگوں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور میری آیات معمولی قیمت پر نہ بیچو اور جو لوگ خدا کے نازل کردہ احکام کے مطابق حکم نہیں کرتے وہ کافر ہیں۔
ہم نے تورات نازل کی
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
زیر نظر اور آئندہ آیت گذشتہ بحث کی تکمیل کرتی ہے ۔ حضرت موسیٰ (علیه السلام) کی آسمانی کتاب کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت اور نور ہ ، ہدایت حق کی طرف راہنمائی کے لیے اور نور جہل و نادانی کی تاریکیوں کو دور کرنے کے لیے (اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَا التَّوۡرٰىۃَ فِیۡہَا ہُدًی وَّ نُوۡرٌ ۚ) ۔ اس بنا پر وہ پیغمبر ان ِ خدا جو حکم خدا کے سامنے سر تسلیم خم کیے ہو ئے تھے اور نزول تورات کے بعد مصروف کارتھے، سب یہودیوں کے لیے اس کے مطابق حکم کرتے تھے (یَحۡکُمُ بِہَا النَّبِیُّوۡنَ الَّذِیۡنَ اَسۡلَمُوۡا لِلَّذِیۡنَ ہَادُوۡا) ۔ صرف وہی ایسانہ کرتے تھے بلکہ ” یہودیوں کے بزرگ علماء اور صاحب ِ ایمان پاکباز دانشور اس آسمانی کتاب کے ہی مطابق فیصلہ کرتے تھے جو ان کے سپرد کی گئی تھی اور وہ اس پر گواہ تھے (وَ الرَّبّٰنِیُّوۡنَ وَ الۡاَحۡبَارُ بِمَا اسۡتُحۡفِظُوۡا مِنۡ کِتٰبِ اللّٰہِ وَ کَانُوۡا عَلَیۡہِ شُہَدَآءَ ۚ) ۔(”ربانی “ کے معنی اور اس کے اصلی مادہ کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد دوم ص ۳۸۷ (اردو ترجمہ ) میں بحث کی جاچکی ہے نیز ” احبار “ ” حبر “ ( بر وزن “ فکر )کی جمع ہے اور اسی طرح بر وزن ” ابر “ ہو تو اس کا معنی ہے ” نیک اثر “ بعد ازاں یہ لفظ ایسے علماء کے بارے میں استعمال ہو نے لگا جو معاشرے میں اچھا اور نیک اثر رکھتے ہوں دوات کی سیاہی کو بھی ”حبر “ اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ نیک آثار رکھتی ہے )۔
یہاں روئے سخن اہل کتاب کے ان علماء کی طرف ہے جو اس زمانے میں موجود تھے ار شاد ہوتا ہے : لوگوں سے نہ ڈرو اور خدا کے حقیقی احکام بیان کرو اور چاہے تو یہ کہ میر مخالفت سے ڈرو کیونکہ اگر تم نے حق کو چھپا یا تو تمہیں سزادی جائے گی (فَلَا تَخۡشَوُا النَّاسَ وَ اخۡشَوۡنِ) ۔
اور اسی طرح آیاتِ خدا کو کم قیمت پرنہ بیچو(وَ لَا تَشۡتَرُوۡا بِاٰیٰتِیۡ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ) ۔
در اصل حق کو چھپا نے کی وجہ یا لوگوں کا خوف ہے یا پھر ذاتی مفاد کا حصول بہر حال جو کچھ بھی ہو ضعف ایمان کی دلیل او رمقام ِ انسانیت کی نفی ہے اور مندجہ بالا جملوں میں دونوں کی طرف اشارہ کیاگیا ہے۔ ایسے اشخاص کے بارے میں آیت کے آخر میں قطعی فیصلہ صادر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : جو لوگ احکام ِ خدا کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہیں (وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ) ۔
واضح ہے کہ حکم خدا کی مطابق فیصلہ نہ کرنے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ خاموش رہا جائے اور بالکل کوئی فیصلہ نہ کیا جائے اور اپنی خاموشی سے لوگوں کو گمراہی میں ڈال دیا جائے اور یہ بھی کہ بات کی جائے اور حکم خدا کے خلاف فیصلہ دیاجائے ۔
یہ بھی واضح ہے کہ کفر کے کئی مراتب اور مختلف درجات ہیں اور یہ اصل وجود خدا کے انکار سے شروع ہو تا ہے اور اس کی نافرمانی اور معصیت تک جا پہنچتا ہے ۔ کیونکہ ایمان ِ کامل انسان کو حکم ِ خدا کے مطابق عمل کرنے کی دعوت دیتا ہے اور وہ جو عمل نہیں کرتے ان کا ایمان کا مل نہیں ہے ۔
یہ آیت ہر امت کے علماء اور داشنوروں پر عائد ہو نے والی بھاری ذمہ داری اور جوابدہی کو واضح کرتی ہے ۔ آیت کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے گرد رونما ہونے والے معاشرتی طوفان اور حوادث کا مقابلہ کریں ۔ کجرویوں کے خلاف فیصلہ کن انداز میں ڈٹ جائیں اور کسی سے خوف نہ کھائیں ۔
اور ہم نے اس تورات میں ان بنی اسرائیل کے لئے مقرر کر دیا تھا کہ جان کے بدلے جان‘ آنکھ کے بدلے آنکھ‘ ناک کے بدلے ناک ‘کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت ہے اور ہر زخم کے لئے قصاص ہے اور اگر کوئی قصاص سے صرف نظر کرتے ہوئے اسے بخش دے تو یہ اس کے گناہوں کا کفارہ شمار ہو گا اور جو شخص خدا کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو ایسے ہی لوگ ظالم ہیں۔
قصاص اور در گذر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
اس آیت میں ان حدودِ الہٰی کا ایک حصہ بیان کیا گیا ہے جو تورات میں ہیں ، فرمایا گیا ہے : ہم نے تورات میں قانون ِ قصاص مقرر کیا ہے کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر کسی بے گناہ کو قتل کردے تو مقتول کے اولیاء قاتل کو اس کے بدلے قتل کر سکتے ہیں (وَ کَتَبۡنَا عَلَیۡہِمۡ فِیۡہَاۤ اَنَّ النَّفۡسَ بِالنَّفۡسِ ۙ) ۔ اور اگر کوئی دوسرے کی آنکھ کو نقصان پہنچائے اور اسے ختم کردے تو وہ اس کی آنکھ نکال سکتا ہے (وَ الۡعَیۡنَ بِالۡعَیۡنِ) ۔ نیز کان کاٹنے کے بدلے مد مقابل کا کان کاٹا جا سکتا ہے (وَ الۡاُذُنَ بِالۡاُذُنِ) ۔ اسی طرح کسی کی ناک کاٹنے کے بدلے جائز ہے کہ مجرم کی ناک کاٹی جائے(وَ الۡاَنۡفَ بِالۡاَنۡفِ) ۔ اور اگر کوئی کسی کا دانت توڑ دے تو وہ بھی اس کادانت توڑ سکتا ہے (وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ ۙ) ۔ اسی طرح جو بھی کسی کو کوئی زخم لگائے تو وہ اس کے بدلے قصاص لے سکتا ہے (وَ الۡجُرُوۡحَ قِصَاصٌ ؕ) ۔
لہٰذا حکم ِ قصاص بغیر کسی نسلی ، طبقاتی ، اجتماعی ، قبائلی اور شخصی امتیاز کے جاری ہو گا اور اس سلسلے میں کسی کے لیے بھی کسی پہلو سے کوئی فرق اور تبعیض نہیں ہے ( البتہ دیگر اسلامی احکام کی طرذح اس حکم کی بھی کچھ شرائط ہیں جو فقہی کتب میں موجود ہیں کیونکہ یہ حکم بنی اسرائیل سے مخصوص نہیں ہے اسلام میں بھی اس کی نظیر موجود ہے جیسا کہ سورہٴ بقرہ کی آیہ ۱۷۸ میں مذکورہ ہے کہ جو آیہ قصاص ہے ) ۔
ناروا امتیازات اور تفریقات جو اس زمانے میں مروج تھیں انھیں یہ آیت ختم کرتی ہے جیساکہ بعض تفاسیر سے معلوم ہوتا ہے اس زمانے میں یہودِ مدینہ کے دو گروہوں میں ایک عجیب عدم مساوات موجود تھی اور وہ یہ کہ بنی نضیر کو کائی شخص بنی قریظہ کے کسی شخص کو قتل کردیتا ہے تو اس سے قصاص نہ لیا جاتا لیکن اس کے بر عکس بنی قریظہ کا کوئی شخص بنی نضیر کے کسی شخص کو قتل کردیتا تو وہ اس کے بدلے قتل کیا جا تا ۔ جب مدینہ میں اسلام آیا تو نبی قریظہ نے اس بارے میں پیغمبر اسلام ؐ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا: خون کسی کا ہو کوئی فرق نہیں ۔ اس پر بنی نضیر اعتراض کرنے لگے اور کہنے لگے : آپ ہما را مقام نیچے لے آئے ہیں اور اسے پست کردیا ہے ۔ زیر نظر آیت اسی ضمن میں نازل ہو ئی اور انھیں بتا یا گیا کہ نہ صرف اسلام میں بلکہ یہودیوں کے دین میں بھی مساوات کا یہ قانون موجود ہے( تفسیر قرطبی جلد ۳ صفحہ ۲۱۸۸)۔
لیکن اس بنا پر کہ کہیں یہ گمان نہ ہو کہ خدا نے قصاص کو لازمی قرار دیا ہے اور مقابلہ بمثل کی دعوت دی ہے ، مزید فرمایا گیا ہے ، : اگر کوئی اپنے حق سے در گذر کرے اور عفو و بخشش سے کام لے تو یہ اس کے گناہوں کا کفارہ شمار ہو گا اور جس طرح اس نے در گذر سے کام لیا ہے خدا اس سے در گذر کرے گا (فَمَنۡ تَصَدَّقَ بِہٖ فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ ؕ ـــــــــــــــــــــــ) (بہت سے مفسرین نے یہ آیت کے بارے میں ایک اور احتمال بھی پیش کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ” لہ“ کی ضمیر مجرم کے بارے میں ہے اس طرح آیت کا معنی یہ ہو گا : جو شخص اپنے حق سے درگذر کرے تو اس سے جان کا قصاص بر طرف ہوجائے گا اور یہ اس کے عمل کا کفارہ شمار ہو گا لیکن آیت کا ظہور وہی ہے جو ذکر ہو چکا ہے )۔
گویا قصاص ایک صدقہ و عطیہ ہے جو مجرم کو بخش دیا گیا ہے یہاں” تصدق“ کی تعبیر اور خدا کی طرف سے ” تصدق“ کرنے والے کو عفو کا وعدہ، یہ سب کچھ عفو و در گذر کا شوق پیدا کرنے کے لیے ہے ۔ کیونکہ اس میں شک نہیں کہ قصاص کے ذریعے کھوئی ہوئی چیز تو ہاتھ میں نہیں آسکتی یہ تو فقط وقتی سکون ن و اطمنان دیتا ہے لیکن خدا کی طرف سے عفو و بخشش کا وعدہ در اصل ایک دوسری صورت میں اس کی تلافی ہے جو وہ ہاتھ سے دے بیٹھا ہے اور اس طرح سے اس کی پریشانی ختم ہو جاتی ہے اور یہ ایسے لوگوں کے لیے عمدہ اور بہترین تشویق ہے ۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے ، آپ (علیه السلام)نے فرمایا: جو شخص معاف کردیتا ہے ، خدا بھی اسی طرح کے گناہ معاف کردیتا ہے ۔ ( بحوالہ نو ر الثقلین ج ۱ ص ۶۳۷)۔
یہ جملہ در حقیقت ان لوگوں کے لیے ایک دندان شکن جواب ہے جو قانون قصاص کو غیر عادلانہ سمجھتے ہیں اور اسے ایک آدم کش قانون قرار دیتے ہیں ۔ پوری آیت پر غو ر و خوض سے معلوم ہوتا ہے کہ قصاص کی اجازت مجر موں کو خوف زدہ کرنے کے لیے ہے تاکہ بے گناہ لوگ ان کے اقدامِ ِ جرم سے مامون رہیں لیکن اس کے باوجود عفو و باز گشت کا راستہ بھی کھلا رکھا گیا ہے ۔ خوف و امید کی یہ کیفیت پیدا کوتے ہوئے اسلام چاہتا ہے کہ ظلم و زیادی کو بھی رو کے اور جتنا ہو سکے او رمناسب ہو خون کو خون سے پاک کرنے کی پیش بندی بھی کرے۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : اور جو لوگ خدا کے حکم کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ ظالم ہیں وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ)۔ اس سے بڑ ھ کر کیا ظلم ہو گا کہ ہم جھوٹے احساسات اور جذبات سے مغلوب ہو کر قاتل سے اس بہانے سے صرفِ نظر کرلیں کہ خون کو خون سے نہ دھو یا جائے اور قاتلوں کے ہاتھ دوسرے لوگوں کو قتل کرنے کے لیے کھلے چھوڑ دیں ، اور اس طرح سے بے گناہوں پر ظلم و ستم کریں۔ توجہ رہے کہ موجودہ تورات میں بھی سفر خروج کی اکیسویں فصل میں ہے کہ : اور اگر دوسرے کو اذیت پہنچائی گئی ہو تو اس وقت جان کے عوض جان دی جائے ۔ آنکھ کے عوض آنکھ ، دانت کے بدلے دانت ، ہاتھ کے بدلے ہاتھ اور پاوٴں کے بدلے پاوٴں اور خلانے کے بدلے جلایا جائے ، زخم کے عوض زخم اور تھپڑ کے بدلے تھپڑ۔ (سفر خروج ۔ جملہ ۲۳، ۲۴ اور ۲۵)۔
اور ان گذشتہ انبیاء کے بعد ہم نے عیسیٰ کو مقرر کیا تاکہ اس سے پہلے جو تورات میں بھیجا گیا تھا اس کی تصدیق کرے اور ہم نے اسے انجیل دی کہ جس میں ہدایت اور نور تھا اور اس کی یہ آسمانی کتاب بھی تورات کی تصدیق کرتی تھی جو اس سے پہلے تھے اور متقیوں کے لئے ہدایت اور موعظہ ہے۔
عیسیٰ کو انجیل دی
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
تورات سے مربوط آیات کے بعد یہ آیت انجیل کی کیفیت بیان کررہی ہے ارشاد ہوتا ہے : گذشتہ رہبروں اور پیغمبروں کے بعد ہم نے مسیح کو مبعوث کیا جب کہ اس کی نشانیاں بالکل ان نشانیوں کے مطابق تھیں جو تورات نے بیان کی تھیں وَقَفَّیْنَا عَلَی آثَارِہِمْ بِعِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنْ التَّوْرَاةِ) ۔
اس جملہ کی ایک اور بھی تفسیر ہے اور وہ یہ ہے کہ : حضرت مسیح (علیه السلام) نے تورات کی حقانیت کا اعتراف کیا کہ جو حضرت موسیٰ بن عمران پرنازل ہوئی تھی جیسے تمام آسمانی پیغمبر اپنے سے پہلے انبیاء کی حقانیت کے معترف تھے ۔
اس کے بعد فرمایا گیا ہے : ہم نے اسے انجیل سونپی کہ جس میں ہدایت اور نور تھا (وَآتَیْنَاہُ الْإِنجِیلَ فِیہِ ہُدًی وَنُورٌ) ۔ قرآن مجید میں تورات ، انجیل اور قرآن تینوں کو نور کہا گیا ہے ۔ تورات کے بارے میں ہے : انا انزلنا التوراة فیھا ھدی و نور ( مائدہ۔ ۴۴) انجیل کے بارے میں تو مندرجہ بالا آیت شاہد ہے اور قرآن کے بارے میں ہے :
” وَ قَد جاء کم من اللہ نور و کتاب مبین “ ( مائدہ ۔۱۵)
در حقیقت جیسے تمام موجودات ِ عالم اپنی زندگی کے تسلسل کے لیے نور کے سخت محتاج ہیں ۔ اسی طرح خدا کے دین اور آسمانی کتب کے احکام و قوانین انسانوں کے رشد و تکامل اور ارتقاء کے لیے ناگزیر ہیں ۔ اصولی طور پر ثابت ہو چکا ہے کہ تمام توائیوں اور حرکات اور زیبائیوں کا سرچشمہ نور ہے اور نور نہ ہوتو خاموشی اور موت تمام جگہوں پر چھا جائے ۔اسی طرح پیغمبروں کی تعلیمات نہ ہوں تو تمام انفرادی و اجتماعی انسانی قدریں موت کی نیند سو جائیں اور اس نمونے ہم مادی معاشروں میں واضح طو ر پر دیکھ سکتے ہیں ۔
قرآن نے کئی ایک مقامات پر تورات اور انجیل کو آسمانی کتاب کے عنوان سے یاد کیا ہے اور بتا یا ہے کہ یہ دونوں کتابیں اصل میں خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہیں اور اس میں کوئی شک بھی نہیں لیکن یہ بھی مسلم ہے کہ اپنے پیغمبروں کے بعد یہ دونوں آسمانی کتابیں تحریف کی نذر ہو گئیں کچھ حقائق ان میں سے کم کر دئے گئے اور کچھ اورکتب نے ان کی جگہ لے لی ۔ جن میں کچھ حصہ اصلی کتب کا بھی تھا ۔( تورات اور انجیل میں تحریف اور اس کی تاریخی اسناد کے بارے میں زیادہ وضاحت کے لیے کتاب ”الھدی الیٰ دین المصطفیٰ “ اور ” انیس الاعلام“ کی طرف رجوع فرمائیں) لہٰذانور کا اطلاق اصلی تورات اور انجیل پر ہوتا ہے ۔ تحریف شدہ کتب پر نہیں ۔ دوبارہ بطور تاکید فرمایا گیا ہے کہ : نہ صرف یہ کہ عیسیٰ بن مریم ، تورات کی تصدیق کرتے تھے بلکہ ان کی آسمانی کتاب انجیل بھی تورات کی صداقت پر گواہ تھی وَمُصَدِّقًا لِمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنْ التَّوْرَاةِ) ۔ آخر میں ارشاد ہو تا ہے : یہ آسمانی کتاب پرہیز گاروں کے لیے ہدایت اور وعظ و نصیحت کا سر مایہ ہے وَہُدًی وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِینَ) ۔ یہ تعبیر بھی ویسی ہی ہے جیسی سورہٴ بقرہ کی ابتداء میں قرآن کے بارے میں آئی ہے ۔ جہاں فرمایا گیا ہے :
ھدی للمتقین یعنی ـــــــــــــ قرآن پرہیز گاروں کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے ۔ نہ صرف قرآن بلکہ تمام آسمانی کتب اسی طرح پرہیز گاروں کے ہدایت کا ذریعہ ہیں ۔ پرہیز گاروں سے مراد وہ لوگ ہیں جو حق کی تلاش میں رہتے ہیں اور اسے قبول کرنے کے لیے آمادہ و تیار رہتے ہیں ۔ واضح ہے کہ جو لوگ ہٹ دھرمی اور دشمنی کی بنا پر اپنے دل کادریچہ حق کے سامنے بند کرلیتے ہیں وہ کسی بھی حقیقت سے بہرہ مند نہیں ہوسکتے۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ زیر بحث آیت میں پہلے انجیل کے بارے میں ” فیہ ھدیً“ کہا گیا ہے اور بعد میں بطور مطلق ” ھدیً“ کہا گیا ہے ۔ تعبیر کا یہ فرق ممکن ہے اس بنا پر ہو کہ انجیل اور دوسری آسمانی کتب میں ہر شخص کے لیے بلا استثناء ہدایت کے دلائل موجود ہیں لیکن پرہیزگاروں کے لیے کہ جو اس میں دقت نظر کرتے ہیں وہ ہدایت تربیت، تکامل اور ارتقاء کا باعث ہے ۔
ہم نے اہل انجیل ( پیر وان مسیح ) سے کہا کہ جو کچھ خدا نے اس میں نازل کیا ہے وہ اس کے مطابق حکم کریں اور جو لوگ اس کے مطابق حکم نہیں کرتے جو خدا نے نازل کیا ہے وہ فاسق ہیں۔
وہ جو قانونِ الہٰی کے مطابق حکم نہیں کرتے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ آیات میں انجیل کے نازل ہونے کا ذکر ہے ۔ اب اس آیت میں فرمایا گیا ہے : ہم نے اہل انجیل کو حکم دیا کہ جو کچھ خدا نے اس میں نازل کیا ہے اس کے مطابق حکم اور فیصلہ کریں (وَ لۡیَحۡکُمۡ اَہۡلُ الۡاِنۡجِیۡلِ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فِیۡہِ ؕ) ۔
اس میں شک نہیں کہ اس جملے سے یہ مراد نیں کہ قرآن عیسائیوں کو یہ حکم دے رہا ہے کہ انھیں اس وقت انجیل کے احکام پر عمل کرنا چاہئیے کیونکہ یہ بات تو قرآن سے مناسبت نہیں رکھتی کہ جو نئے آئیں اور دین کا اعلان کررہا ہے ، پرانے دین کو منسوخ کررہا ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ ہم نے عیسیٰ پر انجیل نازل کرنے کے بعد اس کے پیروکاروں کا حکم دیا تھا کہ وہ اس پر عمل کریں اور ا س کے مطابق فیصلے کریں ۔ (۱در حقیقت اسی طرح جیسے بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ ”قلنا“ یہاں مقدر ہے اور آیت کا مفہوم ہے ” و قلنا لیحکم اھل الانجیل ۔۔۔۔۔) اس آیت کے آخر میں بطور تاکید فرماتا ہے : جو لوگ حکم ِ خدا کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہ فاسق ہیں (وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ) ۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ ان آیات میں ایک مقام پر انہی افراد کو ” کافر “ کہا گیا ہے ۔ دوسرے مقام پر ” ظالم “ قراردیا گیا ہے اور تیسرے مقام پر ” فاسق“ کہا گیا ہے ۔ تعبیر میں یہ فرق ممکن ہے اس بنا پر ہو کہ ہر حکم تین پہلو رکھتا ہے ۔ ایک طرف سے وہ قانون بنانے والے ( خدا ) پر منتہی ہوتا ہے دوسری طرف قانون جاری کرنے والے ( حاکم و قاضی) تک پہنچتا ہے اور تیسری طرف اس شخص کہ جس پر قانون جاری ہورہا ہے ( محکوم) تک پہنچتا ہے ۔ گویا ہر تعبیر تین میں سے ایک پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہے کیونکہ جو شخص خدا کے ایک حکم کے خلاف فیصلہ کرتا ہے وہ ایک ظرف سے قانون ِ الہٰی کو پاوٴن تلے روند کر ” کفر“ اختیار کرتا ہے ۔ دوسری طرف ایک بے گناہ انسان پر” ظلم “کرتا ہے اور تیسری طرف وہ اپنی ذمہ داری اور مسئولیت کی سر حد سے انحراف کرکے ” فاسق“ بن جاتا ہے جیسا کہ کہا جا چکا ہے کہ فسق کا معنی بندگی اور مسئولیت کی سر حد سے تجاوز ہے ۔
اور اس کتاب کو ہم نے حق کے ساتھ تم پر نازل کیا جبکہ یہ گذشتہ کتب کی تصدیق کرتی ہے اور ان کی محافظ و نگہبان ہے لہٰذا خدا نے جو احکام نازل کیے ہیں ان کے مطابق حکم کرو اور ان کے ہوا و ہوس اور خواہشات کی پیروی نہ کرو اور حق (احکام الٰہی سے) جو کچھ تم پر نازل ہوا ہے اس سے منہ نہ پھیرو ،ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے واضح آئین اور طریقہ مقرر کر دیا ہے اگر خدا چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت قرار دیتا۔ لیکن خدا چاہتا ہے کہ اس نے جو کچھ تمہیں بخشا ہے اس میں تمہیں آزمائے (اور تمہاری صلاحتیوں کی نشو و نما کرے) اس لیے تم کوشش کرو اور نیکیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاؤ تم سب کی بازگشت خدا کی طرف ہے اور جس میں تم نے اختلاف کیا ہے وہ تمہیں اس کی خبر دیتا ہے۔
قرآن کے مقام و مرتبے کا تذکرہ ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد اس آیت میں قرآن کے مقام و مرتبے کا تذکرہ ہے ” مھیمن “ در اصل ایسی چیز کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز کی محافظ، شاہد، امین اور نگہدار ہو۔ قرآن چونکہ گذشتہ آسمانی کتب کے اصولوں کی مکمل حفاظت و نگہداری کرتا ہے اور ان کی تکمیل کرتا ہے لہٰذا اسے ” مھیمن “ قرار دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے ہم نے اس آسمانی کتاب کو حق کے ساتھ نازل کیا ہے ، جبکہ یہ گذشتہ کتب کی تصدیق کرتا ہے ( اور اس کی نشانیاں اور علامات اس کے مطابق ہیں جو گذشتہ کتب نے بتائی ہیں ) اور یہ ان کا محافظ و نگہبان ہے وَ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ مِنَ الۡکِتٰبِ وَ مُہَیۡمِنًا عَلَیۡہِ ) ۔
بنیادی طور پر تمام آسمانی کتابیں اصول ِ مسائل میں ہم آہنگ ہیں اور سب کا ہدف و مقصدایک ہی ہے یعنی سب انسانی تربیت، ارتقاء اور تکامل کے در پے ہیں اگر چہ فروعی مسائل میں تکامل و ارتقاء کے تدریجی قانون کے مطابق مختلف ہیں اور ہر نیا دین بالاتر مرحلے کی طرف قدم بڑھا تا ہے اور جامع ترین پروگرام پیش کرتا ہے ۔ ”مُصَدِّقًا لِمَا بَیْنَ یَدَیْہِ “کے بعد”مھَیْمِنًا عَلَیْہِ “ کا ذکر جو تم پر نازل ہو ئے ہیں (فَاحۡکُمۡ بَیۡنَہُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ) ۔یہ جملہ فاء تفریح کے ساتھ آیا ہے جو گذشتہ ادیان کے احکام کی نسبت احکام اسلام کی جامعیت کا نتیجہ ہے ۔ یہ حکم گذشتہ آیات کے اس حکم کی منافی نہیں کہ جن میں پیغمبر کویہ بتا دیا گیا ہے کہ ان کے درمیان خود فیصلہ کریں یا انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیں ۔ کیونکہ یہ آیت کہتی ہے کہ جب اہل کتاب کے درمیان فیصلہ کرنا چاہو تو قرآن کے احکام کے مطابق فیصلہ کرو ۔
پھر مزید فرما یا گیا ہے کہ جو لوگ چاہتے ہیں کہ احکام الہٰی کو اپنی خواہشات کے مطابق ڈھال لیں ، تم ان کے ہواو ہوس اور خواہشات کی اتباع نہ کرو۔ اور حق میں سے جو کچھ تم پرنازل ہوا ہے اس سے منہ نہ پھیرو(وَ لَا تَتَّبِعۡ اَہۡوَآءَہُمۡ عَمَّا جَآءَکَ مِنَ الۡحَقِّ ؕ) ۔ بحث کی تکمیل کے لیے فرما یا گیا ہے : تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے دین ، شریعت ، طریقہ اور واضح راستے کا تعین کردیا ہے (لِکُلٍّ جَعَلۡنَا مِنۡکُمۡ شِرۡعَۃً وَّ مِنۡہَاجًا ؕ ) ۔”شرع“ اور ” شریعة“ اس راستے کو کہتے ہیں جو پانی کی طرف جاتا ہو اور وہاں کا کر ختم ہو تا ہو اور دین کو شریعت اس لیے کہتے ہیں کہ وہ حقائق اور ایسی تعلیمات تک پہنچا تا ہے جو پاکیزگی ، طہارت اور انسانی زندگی کا سر مایہ ہیں ” نھج“ اور” منھاج “ واضح راستے کو کہتے ہیں راغب مفردات میں ابن عباس سے نقل کیا ہے :
” شرعة “ اور ” منھاج “ میں یہ فرق ہے کہ ” شرعة“ اسے کہا جا تا ہے جو قرآن میں وارد ہوا ہے اور منہاج سے مرادوہ امور ہیں جو سنت ِ پیغمبر میں وارد ہو ئے ہیں ۔ یہ فرق اگر چہ جاذب ِ نظر ہے لیکن اس کے لیے کوئی قطعی دلیل ہمارے پاس نہیں ہے ۔ ( بعض بذرگ مفسرین کا نظر یہ ہے کہ دین اور شریعت کے درمیان فر ق یہ ہے کہ دین توحید اور دیگر اصول سے عبارت ہے جو تمام مذاہب میں مشترک ہیں اسی لیے دین ہمیشہ ایک ہی رہا ہے لیکن شریعت ایسے قوانین ، احکام کو کہا جاتا ہے جو ان مذاہب میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں) ۔
لیےاس کے بعد فرمایا گیا ہے : خدا میں یہ طاقت تھی کہ وہ تمام لوگوں کو ایک ہی امت قرار دے دیتااور سب کو ایک ہی دین کا پیرو بنا دیتا لیکن یہ بات تدریجی تکامل کے قانون اور مختلف تربیتی مراحل کے اصول سے مناسبت نہیں رکھتی تھی (وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ لَجَعَلَکُمۡ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ لٰکِنۡ لِّیَبۡلُوَکُمۡ فِیۡ مَاۤ اٰتٰىکُمۡ) ۔
لِّیَبۡلُوَکُمۡ فِیۡ مَاۤ اٰتٰىکُمۡ۔یعنی ــــــــــ تاکہ تمہیں ان چیزوں کے متعلق آزمائے جو تمہیں دی گئی ہیں ۔ یہ جملہ اسی بات کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کی طرف ہم اشارہ کرچکے ہیں اور وہ یہ کہ خدا نے وجود انسانی میں مختلف قسم کی استعدادیں اور صلاحیتیں پیدا کی ہیں اور وہ آزمائشوں کے ذریعے اور تعلیمات ِ انبیاء کے ذریعے لوگوں کی تربیت اور پرورش کرتا ہے ۔ اسی لیے ایک مرحلہ طے کرنے کے بعد انھیں بالاتر مرحلے میں لے جاتا ہے ایک دور کے ختم ہونے پر دوسرے پیغمبر کے ذریعے بالاتر دور میں لے جاتا ہے بالاتر تمام اقوام و ملل کو مخاطب کرکے دعوت دیتا ہے کہ بجائے اس کے کہ اپنی توانائیاں اختلافات و مشاجرات میں صرف کرو، نیکیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرو(فَاسۡتَبِقُوا الۡخَیۡرٰتِ ؕ)کیونکہ سب کی باز گشت خدا کی طرف ہے اور وہی روز قیامت ان چیزوں سے آگاہ کرے گا ، جن میں تم اختلاف کرتے ہو( ا اِلَی اللّٰہِ مَرۡجِعُکُمۡ جَمِیۡعًا فَیُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ) ۔ ۴۹۔ وَ اَنِ احۡکُمۡ بَیۡنَہُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ وَ لَا تَتَّبِعۡ اَہۡوَآءَہُمۡ وَ احۡذَرۡہُمۡ اَنۡ یَّفۡتِنُوۡکَ عَنۡۢ بَعۡضِ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ اِلَیۡکَ ؕ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ اَنۡ یُّصِیۡبَہُمۡ بِبَعۡضِ ذُنُوۡبِہِمۡ ؕ وَ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوۡنَ ۔۔ ۵۰۔ اَفَحُکۡمَ الۡجَاہِلِیَّۃِ یَبۡغُوۡنَ ؕ وَ مَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰہِ حُکۡمًا لِّقَوۡمٍ یُّوۡقِنُوۡنَ۔
ترجمہ ۴۹۔ اور ان ( اہل کتاب) کے درمیان تمھیں اس کے مطابق حکم کرنا چاہئیے جو خدا نے نازل کیا ہے اور ان کی ہوا و ہوس کی پیروی نہ کرو اور اس سے بچو کہیں تمہیں وہ بعض ایسے احکام سے منحرف کردیں جو تم پر نازل ہوئے ہیں اور اگر وہ ( تمہارے کام اور فیصلے سے ) رو گردانی کریں تو جان لو کہ خدا چاہتا ہے کہ ان کے کچھ گناہوں کے بدلے انھیں سزا دے اور بہت سے لوگ فاسق ہیں ۔ ۵۰۔ کیا وہ ( تم سے ) زمانہ ٴ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں اور اہل ایمان کے لیے خدا سے بہتر حکم کون کر سکتا ہے ۔
شانِ نزول
بعض مفسرین نے اس پہلی آیت کی شان ِ نزول میں ابن عباس سے نقل کیا ہے : یہودیوں کے بڑوں کی ایک جما عت نے آپس میں سازش کی او رکہا کہ محمد کے پاس جاتے ہیں ۔ شاید اسے ہم اس کے دین سے منحرف کردیں ۔ یہ طے کرکے وہ پیغمبر اسلامؐ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم یہودیوں کے علماء اور اشراف ہیں ، اگر ہم آپ کی پیروی کرلیں تو مسلم ہے کہ باقی یہودی ہماری اقتداء کریں گے لیکن ہمارے اور ایک گروہ کے درمیان ایک نزاع ہے ( ایک شخص کے قتل یا کسی اور بات کے بارے میں ) اگر اس جھگڑے میں آپ ہمارے فائدے میں فیصلہ کردیں تو ہم آپ پر ایمنا لے آئیں گے ۔ اس پرپیغمبر اسلام ؐنے ایسے ( غیر عادلانہ ) فیصلے سے منہ موڑ لیا ۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی ۔ ( تفسیر المنار ۔ج۶ ص ۴۲۱۔)
تفسیر
اس آیت میں خدا تعالیٰ دوبارہ اپنے پیغمبرؐکو تاکید کرتا ہے کہ اہل کتاب کے درمیان حکم ِ خدا کے مطابق فیصلہ کریں ، اور ان کی ہوا وہوس کے سامنے سر تسلیم خم نہ کریں۔ (وَ اَنِ احۡکُمۡ بَیۡنَہُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ وَ لَا تَتَّبِعۡ اَہۡوَآءَہُمۡ) ۔
اس حکم کی تکراریا تو ان مطالب کی وجہ سے ہے جو آیت کے ذیل میں آئے ہیں یا اس بناپر ہےکہ اس فیصلے کا موضوع گذشتہ آیات کے فیصلے کے موضوع سے مختلف ہے ۔ گذشتہ آیات میں موضوع زنا ئے محصنہ اور یہاں موضوع قتل یا کوئی اور جھگڑا تھا ۔ اس کے بعد پیغمبرؐ کو متوجہ کیا گیا ہے کہ انھوں نے سازش کی ہے کہ تمھیں آئیں حق و عدالت سے روگرداں کردیں تم ہوشیار اور آگاہ رہو(وَ احۡذَرۡہُمۡ اَنۡ یَّفۡتِنُوۡکَ عَنۡۢ بَعۡضِ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ اِلَیۡکَ ؕ) ۔
اور اگر اہل کتاب تمہارے عادلانہ فیصلے کے سامنے سر نہیں جھکاتے تو جان لو کہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ان کے گناہوں نے ان کا دامن پکڑ رکھا ہے اور اس سے توفیق سلب ہو چکی ہے اور خدا چاہتا ہے کہ ان کے بعض گناہوں کی وجہ سے انھیں سزا دے فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ اَنۡ یُّصِیۡبَہُمۡ بِبَعۡضِ ذُنُوۡبِہِمۡ ؕ) ۔ تمام گناہوں کی بجائے بعض گناہوں کا ذکر ممکن ہے اس بنا پر ہو کہ تمام گناہوں کی سزا اس دنیا میں انجام نہیں پاتی صرف کچھ سزا انسان کو ملتی ہے اور باقی معاملہ دوسرے جہان کے سپرد ہوجاتا ہے۔ انھیں کون سی سزا دامن گیر ہوئی ، اس کی آیت میں کوئی صراحت نہیں ہے لیکن احتمال ہے کہ اسی انجام کی طرف اشارہ ہے ، جس سے مدینہ میں یہودی دو چار ہوئے ۔ وہ اپنی پے در پے خیانتوں کے باعث اپنا گھربار چھوڑ کر مدینہ سے باہر چلے جانے پرمجبورہوئے یایہ کہ سلبِ توفیق ان کے لیے ایک سزا شمار ہوئی ہو۔ دوسرے لفظوں میں پیہم گناہ اور ہٹ دھرمی کی سزا عادلانہ احکام سے محرومی اور بے راہ و سرگردان زندگی کی صورت میں انھیں ملی ہو۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : اگر یہ لوگ راہ ِ باطل میں ڈٹے ہو ئے ہیں تو تم پرشان نہ ہونا کیونکہ بہت سے لوگ فاسق ہیں وَ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوۡنَ) ۔
اور ان (اہل کتاب) کے درمیان تمہیں اس کے مطابق حکم کرنا چاہئے جو خدا نے نازل کیا ہے اور ان کی ہوا و ہوس کی پیروی نہ کرو اور اس سے بچو کہ کہیں تمہیں وہ بعض ایسے احکام سے منحرف کر دیں جو تم پر نازل ہوئے ہیں اور اگر وہ (تمہارے کام اور فیصلے سے) رو گردانی کریں تو جان لو کہ خدا چاہتا ہے کہ ان کے کچھ گناہوں کے بدلے انہیں سزا دے اور بہت سے لوگ فاسق ہیں۔
کیا وہ (تم سے) زمانہ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں اور اہل ایمان کے لئے خدا سے بہتر حکم کون کر سکتا ہے ۔
ایک سوال اور اس کا جواب
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
ہوسکتا ہے یہ اعتراض کیا جائے کہ زیر بحث آیت اس امر پر دلیل ہے کہ پیغمبرؐ بھی حق سے انحراف کرسکتے ہیں لہٰذا خدا انھیں تنبیہ کررہا ہے تو کیا یہ بات انبیاء کے معصوم ہو نے کے مقام سے مناسبت رکھتی ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ معصوم ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ پیغمبرؐاور امام کے لیے گناہ محال ہے ورنہ ان کے لیے ایسی عصمت میں تو کوئی فضیلت نہ ہوگی بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ گناہ کی طاقت رکھنے کے باوجود گناہ کے مرتکب نہیں ہوتے۔اگر چہ یہ مرتکب نہ ہوناتذکرات ِ الہٰی کی وجہ سے ہی ہو ۔ دوسرے لفظوں میں خدائی تو جہات گناہ سے پیغمبر ؐکے محفوظ رہنے کا ایک عامل ہے ۔
انبیاء اور آئمہ کے مقام عصمت کے بارے میں تفصیلی بحث انشاء اللہ آیت تطہیر ( احزاب۔۲۳)کے ذیل میں آئے گی ۔
بعد والی آیت میں استفہام انکارتی کے طور پر فرمایا گیا ہے : کیا یہ لوگ آسمانی کتب کی پیروی کے مدعی ہیں ،توقع رکھتے ہیں کہ تم زمانہ جاہلیت کے احکام کی طرح اور تبعیض و امتیاز برتتے ہو ئے ان کے درمیان قضاوت کرو(اَفَحُکۡمَ الۡجَاہِلِیَّۃِ یَبۡغُوۡنَ ؕ) ۔ حالانکہ اہل ایمان کے لیے حکم ِ خدا سے بہتر اور بالا تر کوئی فیصلہ نہیں ہے (وَ مَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰہِ حُکۡمًا لِّقَوۡمٍ یُّوۡقِنُوۡنَ) ۔
جیسا کہ ہم گذشتہ آیات کے ذیل میں کہہ چکے ہیں کہ یہودیوں کے مختلف قبائل میں بھی عجیب و غریب امتیازات تھے۔ مثلاً اگر بنی قریظہ کا کوئی شخص بنی نضیر کے کسی شخص کو قتل کردیتا تو قصاص لیا جاتا تھا ۔ لیکن اس کے برعکس بنی نضیر کا کوئی شخص بنی قریظہ کے کسی شخص کو قتل کردیتا تو قصاص نہ لیا جاتا یا یہ کہ دیت اور خون بہا عام دیت سے دو گنا لیتے تھے ۔ قرآن کہتا ہے کہ ایسے امتیازار زمانہ جاہلیت کی نشانیاں ہیں ۔ جبکہ خدا ئی احکام کی نظر میں بند گانِ خدا میں کوئی امتیاز نہیں ۔ کافی میں امیر المومنین علیہ السلام سے منقول ہے ، آپ (علیه السلام) نے فرمایا : الحکم حکمان حکم اللہ و حکم الجاھلیة فمن اخطاٴ حکم اللہ حکم بحکم الجاھلیة
حکم صرف دو طرح کے ہیں ۔ اللہ کا حکم یا جاہلیت کا حکم ۔ اور جو خدا کا حکم چھوڑ دے، اس نے جاہلیت کا حکم اختیار کرلیا ۔
( بحوالہ نوالثقلین جلد ۱ ص ۶۴۰) ۵۱۔ یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَتَّخِذُوا الْیَھُودَ وَالنَّصَارَی اٴَوْلِیَاءَ بَعْضھہُمْ اٴَوْلِیَاءُ بَعْضٍ وَمَنْ یَتَوَھَُمْ مِنْکُمْ فَإِنَّہُ مِنْھُمْ إِنَّ اللهَ لاَیَھْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ ۔ ۵۲۔ فَتَرَی الَّذِینَ فِی قُلُوبِھِمْ مَرَضٌ یُسَارِعُونَ فِیھِم یَقُولُونَ نَخْشَی اٴَنْ تُصِیبَنَا دَائِرَةٌ فَعَسَی اللهُ اٴَنْ یَاٴْتِیَ بِالْفَتْحِ اٴَوْ اٴَمْرٍ مِنْ عِنْدِہِ فَیُصْبِحُوا عَلَی مَا اٴَسَرُّوا فِی اٴَنفُسِہِمْ نَادِمِینَ۔ ۵۳۔ وَیَقُولُ الَّذِینَ آمَنُوا اٴَہَؤُلاَءِ الَّذِینَ اٴَقْسَمُوا بِاللهِ جَہْدَ اٴَیْمَانِہِمْ إِنَّہُمْ لَمَعَکُمْ حَبِطَتْ اٴَعْمَالُھُمْ فَاٴَصْبَحُوا خَاسِرِینَ۔ ترجمہ ۵۱۔اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو اپنا سہارا نہ بناوٴ وہ تو ایک دوسرے کے لیے سہارا ہیں اور جو ان پر بھروسہ کرتے ہیں وہ انھی میں سے ہیں اور خدا ظالم قوم کو ہدایت نہیں کرتا ۔ ۵۲۔ تم ایسے لوگوں کو دیکھتے ہو جن کے دلوں میں بیماری ہے جو ( ایک دوسرے کی دوستی میں ) ایک دوسرے پر سبقت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں ڈرہے کہ کوئی حادثہ پیش نہ آئے( کہ جس میں ہمیں ان کی مدد کی ضرورت پڑے) شاید خدا کی طرف سے کوئی او رکامیابی یا واقعہ ( مسلمانوں کے فائدے میں ) رونما ہوجائے اور یہ لوگ اپنے دلوں میں جو کچھ چھپائے ہوئے ہیں اس پر پشمان ہیں ۔ ۵۳۔ اور وہ جو ایما ن لائے ہیں کہتے ہیں کیا یہ وہی ( منافق) ہیں جو بڑی تاکید سے قسم کھاتے ہیں کہ وہ تمہارے ساتھ ہیں ( ان کا معاملہ یہاں تک کیوں آپہنچا کہ) ان کے اعمال نابود ہو گئے اور وہ خسارے میں جا پڑے۔ شان نزول بہت سے مفسرین نے نقل کیا ہے کہ جنگ ِ بدر کے بعد عبادہ بن صامت خزرجی پیغمبر اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: یہودیوں میں کچھ میرے ہم پیمان ہیں جو تعداد میں بہت ہیں اور طاقت ور ہیں ، اب جبکہ وہ ہمیں جنگ کی دھمکی دے رہے ہیں اور مسلمانوں کا معاملہ غیر مسلموں سے الگ ہو گیا ہے تو میں ان کی دوستی اور عہد و پیمان سے براٴت کا اظہار کرتا ہوں او رمیرا ہم پیمان صرف خدا اور اس کا رسول ہے ۔ عبداللہ بن ابی کہنے لگا : میں تو یہودیوں کی ہم پیمانی سے براٴت نہیں کرتا کیونکہ میں مشکل حوادث سے ڈرتا ہوں اور مجھے ان لوگوں کی ضرورت ہے ۔ اس پرپیغمبر اکرم ؐنے فرمایا : یہودیوں کی دوستی کے سلسلہ میں مجھے جس بات کا ڈر عبادہ کے بارے میں تھا وہی تیرے متعلق بھی ہے ( اور اس دوستی اور ہم پیمانی کاخطرہ اس کی نسبت تیرے لیے بہت زیادہ ہے ) ۔ عبد اللہ کہنے لگا : اگر ایسی بات ہے تو میں بھی قبول کرتا ہوں اور ان سے رابطہ منقطع کرلیتا ہوں ۔ اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں اور مسلمانوں کو یہودو نصاریٰ سے دوستی کرنے سے ڈرا یاگیا ۔
یہود و نصاری سے دوستی پر شدید تہدید
مندر جہ بالا آیات مسلمانوں کو یہودو نصاریٰ کی دوستی اور ہم کاری سے شدت کے ساتھ ڈراتی ہیں۔ پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے : اے ایمان والو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا سہارا اور ہم پیمان نہ بناوٴ(یعنی خدا پر ایمان کا تقاضا ہے کہ مادی مفاد کے لیے ان سے ہم کاری اور دوستی نہ کرو) (یَااَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَتَّخِذُوا الْیَھُودَ وَالنَّصَارَی اَوْلِیَاءَ ) ۔
” اولیاء “ ”ولی “ کی جمع ہے اور” ولایت“ کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے دو چیزوں کے درمیان بہت زیادہ قرب ، نزدیکی اور دوستی ۔ نیز اس میں ہم پیمان ہونے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے لیکن آیت کی شان ِ نزول اور باقی موجودی قرائن کو مد نظر رکھا جائے تو پھر اس سے مراد یہاں معنی نہیں کہ مسلمان یہود و نصاریٰ سے کوئی تجارتی اور سماجی رابطہ نہ رکھیں بلکہ مراد یہ ہے کہ ان سے عہد و پیمان نہ کریں ارو دشمنوں کے مقابلے میں ان کی دوستی پر بھروسہ نہ کریں ۔
عہد و پیمان کا مسئلہ اس زمانے میں عربوں میں بہت رائج تھا اور اسے ” ولاء “ سے تعبیر کرتے تھے ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ یہاں ” اہل کتاب “ نہیں کہا گیا بلکہ یہود و نصاریٰ کہا گیا ہے ۔ شاید یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اگر وہ اپنی آسمانی کتاب پر عمل کرتے تو پھر تمہارے اچھے ہم پیمان ہوتے لیکن ایک دوسرے سے ان کا اتحاد آسمانی کتاب کی رو سے نہیں ہے بلکہ سیاسی اور نسلی اغراض پر مبنی ہے ۔
اس کے بعد ایک مختصر سے جملے سے اس نہی کی دلیل بیان فرمائی گئی ہے : ان دونوں گروہوں میں سے ہر ایک اپنے ہم مسلک لوگوں کے دوست اور ہم پیمان ہیں (بَعْضھہُمْ اٴَوْلِیَاءُ بَعْضٍ) ۔یعنی جب تک ان کے اپنے اور ان کے دوستو ں کے مفادات بیچ میں ہیں وہ تمہاری طرف ہر گز متوجہ نہیں ہوں گے۔ لہٰذا تم میں سے جو کوئی بھی ان سے دوستی کرے اور عہد و پیمان باندھے وہ اجتماعی او رمذہبی تقسیم کے لحاظ سے انھی کا جزء شمار ہو گا ۔ ا(وَمَنْ یَتَوَھَُمْ مِنْکُمْ فَإِنَّہُ مِنْھُمْ)
اور اس میں شک نہیں کہ خدا ایسے ظالم افراد کو جو اپنے ساتھ اور اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ خیانت کریں اور دشمنوں پر بھروسہ کریں ، ہدایت نہیں کرے گا إِنَّ اللهَ لاَیَھْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ) ۔ بعد والی آیت میں ان بہانہ تراشیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو بیمار فکر اراد غیر سے اپنے غیر شرعی روابط کے لیے پیش کرتے ہیں ، ارشاد ہوتا ہے :جن کے دلوں میں بیماری ہے وہ اصرار کرتے ہیں کہ انھیں اپنے لیے سہارا سمجھیں اور انھیں اپنا ہم پیمان بنائیں اور ان کا عذر یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم ڈرتے ہیں کہ قدرت طاقت ان کے ہاتھ میں آجائے اور پھر ہم مصیبت میں گرفتار ہو جائیں (فَتَرَی الَّذِینَ فِی قُلُوبِھِمْ مَرَضٌ یُسَارِعُونَ فِیھِم یَقُولُونَ نَخْشَی اَنْ تُصِیبَنَا دَائِرَةٌ) ۔(”دائرة“ کا مادہ ” دور“ ہے اس کا معنی ہے ایسی چیز جو گردش میں ہو اور چونکہ تاریخ میں حکومت و سلطنت ہمیشہ گردش میں رہی ہے ، اس لیے اسے دائرة کہتے ہیں ۔ اسی طرح مختلف حوادث زندگی میں جو افراد کے گرد جمع رہتے ہیں انھیں ”دائرة “ کہا جاتا ہے ۔)
قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے : جیسے انھیں اس بات کا احتمال ہے کہ کسی دن طاقت یہودیوں اور عیسائیوں کے ہاتھ آجائے گی اسی طرح انھیں یہ خیال بھی آنا چاہیے کہ آخر کار ہو سکتا ہے کہ خدا مسلمانوں کو کامیاب کرے اور قدرت و طاقت ان کے ہاتھ آجائے او ریہ منافق اپنے دلوں میں جو کچھ چھپائے ہوئے ہیں اس پر پشمان ہیں (فَعَسَی اللهُ اَنْ یَاٴْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِنْ عِنْدِہِ فَیُصْبِحُوا عَلَی مَا اَسَرُّوا فِی اَنفُسِہِمْ نَادِمِینَ)۔
اس آیت میں در حقیقت انھیں دو طرح سے جواب دیا گیا ہے : پہلا یہ کہ ایسے خیالات بیماردلوں سے اٹھتے ہیں اور ان لوگوں کے دلوں سے کہ جن کا ایمان متزلزل ہے اور وہ خدا کے بارے میں بد گمانی رکھتے ہیں ورنہ کوئی صاحب ایمان ایسے خیالات کو اپنے دل میں راہ نہیں دیتا اور دوسرا یہ کہ فرض کریں کہ ان کی کامیابی کا احتمال ہو بھی تو کیا مسلمانوں کی کامیابی کا احتمال نہیں ہے ؟
جو کچھ بیان کیا گیا ہے ، اس کی بنا پر ” عسیٰ “ کا مفہوم ہے ” احتمال “ اور ” امید“ اس سے اس لفظ کا ہر جگہ استعمال ہونے والا اصلی معنی بر قرار رہتا ہے۔ لیکن عام طور پر مفسرین نے یہاں خدا کی طرف سے مسلمانوں کے لیے قطعی وعدہ مراد لیا ہے جو کہ لفظ ”عسیٰ “ کے ظاہری مفہوم سے مناسبت نہیں رکھتا ۔
لفظ ” فتح“ کے بعد ” او امر من عندہ“کے جملے سے مراد یہ ہے کہ ممکن ہے مسلمان آئندہ زمانے میں اپنے دشمنوں پرجنگ اور اس میں کامیابی کی وجہ سے غالب آجائیں یاجنگ کے بغیر ان میں اتنی قدرت پیدا ہو جائے کہ دشمن جنگ کیے بغیر گھٹنے ٹیک دے دوسرے لفظوں میں لفظ ” فتح“ مسلمانوں کی فوجی کامیابیوں کی طرف اشارہ ہے اور” امر من عندہ “اجتماعی ، اقتصادی اور دیگر کامیابیوں کی طرف اشارہ ہے ۔ لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ خدا یہ احتمال بیان کررہا ہے اور وہ آئندہ کی وضع و کیفیت سے آگاہ ہے لہٰذا یہ آیت مسلمانوں کی فوجی ، اجتماعی اور اقتصادی کامیابیوں کی طرف اشارہ ہی سمجھی جائے گی ۔
آخری آیت میں منافقین کے انجام ِ کار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : جب سچے مسلمانوں کو فتح و کامرانی نصیب ہو جائےاور منافقین کا معاملہ الم نشرح ہو جائے تو ” مومنین تعجب سے کہیں گے کہ کیا یہ منافق لوگ وہی نہیں ہیں کہ دعویٰ کرتے تھے اور قَسمیں کھاتے تھے کہ وہ ہمارے ساتھ ہیں اب ان کا یہ انجام کیوں ہوا ہے وَیَقُولُ الَّذِینَ آمَنُوا اَہَؤُلاَءِ الَّذِینَ اَقْسَمُوا بِاللهِ جَہْدَ اَیْمَانِہِمْ إِنَّہُمْ لَمَعَکُمْ) ۔( مندرجہ بالا آیت میں ” ھٰؤلاء“ مبتدا ہے اور ” الذین اقسمو ا باللہ “ ا سکی خبر ہے اور ” جھد ایمانھم“ مفعول مطلق ہے ۔) اور اسی نفاق کی وجہ سے ان کے تمام اعمال باطل اور نابود ہو گئے کیونکہ ان کا سر چشمہ پاک اور خالص نیک نہ تھی اور ” اسی بناپر وہ اس جہان میں بھی اور دوسرے جہ ان بھی خسارے میں ہیں حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ فَاٴَصْبَحُوا خَاسِرِینَ) ۔
در اصل آخری جملہ سوالِ مقدرکے جواب کی طرح ہے گویا کوئی پوچھتا ہے کہ ان کا انجام کار کیا ہو گیا تو ان کے جواب میں کہا گیا ہے کہ ان کے اعمال بالکل بر باد ہو گئے ہیں اور انھیں خسارا اٹھانا پڑا ہے ۔ یعنی انھوں نے نیک اعمال ِ خلوص سے بھی انجام دئے ہوں لیکن آخر کار انھوں نے چونکہ نفاق اور شرک اختیار کیا ہے لہٰذا ان کے اعمال بر باد ہو گئے ہیں جیساکہ تفسیر نمونہ جلد دوم ( ص۶۶ اردو ترجمہ ) سورہ ٴبقرہ آیہ ۲۱۷ کے ذیل میں بیان کیا جاچکا ہے ۔
اے ایمان والو ! یہود و نصاریٰ کو اپنادوست اور ہم پیمان نہ بناؤ۔ وہ تو ایک دوسرے کے لئے دوست اور ہم پیمان ہیں (لہٰذا) تم میں سے جو کوئی بھی ان سے دوستی اور عہد و پیمان باندھے تو وہ انہی میں سے ہیں اور خدا ظالم قوم کو ہدایت نہیں کرتا۔
تم ایسے لوگوں کو دیکھتے ہو جن کے دلوں میں بیماری ہے جو ایک دوسرے کی دوستی میں ایک دوسرے پر سبقت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں ڈر ہے کہ ہمیں کوئی حادثہ پیش نہ آئے کہ جس میں ہمیں ان کی مدد کی ضرورت پڑے شاید خدا کی طرف سے کوئی اور کامیابی یا واقعہ ( مسلمانوں کے فائدے میں ) رونما ہو جائے اور یہ لوگ اپنے دلوں میں جو کچھ چھپائے ہوئے ہیں اس پر پشیمان ہیں۔
اور وہ جو ایمان لائے ہیں کہتے ہیں کیا یہ وہی منافق ہیں جو بڑی تاکید سے قسم کھاتے ہیں کہ وہ تمہارے ساتھ ہیں ان کا معاملہ یہاں تک کیوں آ پہنچا کہ ان کے اعمال نابود ہو گئے اور وہ خسارے میں جا پڑے۔
غیروں پہ تکیہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
شانَ نزول میں تو عبادہ بن صامت اور عبد اللہ بن ابی کی گفتگو آئی ہے لیکن اس میں شک نہیں کہ یہ آیات صرف دوتاریخی شخصیتوں کے مابین ہونے والی گفتگو کے حوالے ہی سے نہیں دیکھی جاسکتیں بلکہ وہ دونوں دو معاشرتی مکاتب ِ فکر کی نمائندگی کررہے ہیں ۔ ایک مکتب کہتا ہے کہ دشمن سے الگ رہنا چاہئیے اور اپنی مہار اس کے ہاتھ میں نہیں دیا چاہئیے اور اس کی امداد پر اطمنان نہیں کرنا چاہئیے ۔ جبکہ دوسرا مکتبِ فکر کہتا ہے کہ اس ہنگامہ خیز دنیا میں ہر شخص اور ہر قوم کو ایک سہارے کی ضرورت ہے ۔ بعض اوقات مصلحت کا تقاضا ہوتا ہے کہ غیروں میں سے کسی کو سہارا بنا لیا جائے اور غیروں کی دوستی بھی قدر وقیمت کی حامل ہے اور ایک دن وہ ثمر بخش ثابت ہوگی ۔ قرآن دوسرے مکتب کی شدت سے سر کوبی کرتا ہے او رمسلمانوں کو اس طرز فکر سے تاکید اً ڈراتا ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض مسلمان یہ عظیم خدائی حکم بھلا چکے ہیں اور غیروں میں سے بعض پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں ۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کی بہت سی بد بختیوں کا سر چشمہ یہی چیز ہے ۔
اُندلس اس کی زندہ نشانی ہے ۔ کل کے اندلس اور آج کے اسپانیہ میں مسلمانوں نے کیسے اپنی قوت و طاقت کے بل پر ایک درخشان تمدن کی بنیاد رکھی اور پھر غیروں پر بھروسہ کرکے اس سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
اس کی دوسری دلیل عظیم عثمانی بادشاہت ہے جو تھوڑی ہی مدت میں گرمیوں میں پگھل جانے والی برف کی طرف بہہ گئی ۔ دور حاضر میں اس مکتب سے منحرف ہونے سے مسلمانوں نے جو کاری ضربیں کھائی ہیں وہ بھی کم نہیں ہیں لیکن تعجب ہے کہ ہم اب بھی کیوں بیدار نہیں ہوتے۔
غیر بہر حال غیرہی ہے ۔ مشترک مفادات کی خاطر اگر کوئی غیر چند قدم ہمارے ساتھ چلے بھی تو آخر کار حساس لمحات میں نہ صرف یہ کہ وہ ساتھ چھوڑدے گا بلکہ ہم پر کاری ضربیں بھی لگائے گا ۔ چاہئیے یہ کہ آج کا مسلمان اس قرآنی صدا پر سب سے زیادہ کان دھرے اور اپنی طاقت کے علاوہ کسی پر بھروسہ نہ کرے۔ پیغمبر اسلامؐ اس بات کا اس قدر خیال رکھتے تھے کہ جنگ ِ احد کے موقع پر جب بہت سے یہودی مشرکین کے خلاف جنگ کے لیے آپ سے آملے تو آپ نے دوران ِ راہ ہی انھیں واپس کردیا اور ان کی مدد قبول نہ فرمائی ۔ حالانکہ یہ تعداد جنگ احد میں ایک موٴثر کر دار ادا کرسکتی تھی آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ اس لیے کہ کچھ بعید نہ تھا کہ وہ جنگ کے حساس لمحات میں دشمن سے مل جاتے اور بچے کھچے لشکر اسلام کو بھی ختم کردیتے۔
اے ایمان والو ! تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے گا وہ خدا کا کوئی نقصان نہیں کرے گا خدا آئندہ ایک ایسا گروہ لے آئے گا جسے وہ دوست رکھتا ہے اور وہ لوگ بھی اسے دوست رکھتے ہیں جو مومنین کے سامنے متواضع اور کفار کے مقابلے میں طاقت ور ہیں وہ راہ خدا میں جہاد کرتے ہیں اور سرزنش کرنے والوں کی سرزنش سے نہیں ڈرتے۔ یہ خدا کا فضل و کرم ہے وہ جسے چاہتا ہے اور اہل سمجھتا ہے عطا کرتا ہے اور خدا کا فضل وسیع ہے اور خدا جاننے والا ہے۔
وہی ذات ہے جس کا دائرہ فضل و کرم بہت وسیع ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
منافقین کے بارے میں بحث کے بعد مرتدین کے سلسلے میں گفتگو ہے کہ قرآن کی پیشین گوئی کے مطابق اس دین سے خارج ہو جائیں گے لیکن خدا ، اس کے دین نیز مسلمانوں اور اسلامی معاشرے کی تیز رفتار پیش رفت کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے ۔ کیونکہ خدا آئندہ اس دین کی حمایت کے لیے ایک اور گروہ کو مبعوث کرے گا (یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَنۡ یَّرۡتَدَّ مِنۡکُمۡ عَنۡ دِیۡنِہٖ فَسَوۡفَ یَاۡتِی اللّٰہُ بِقَوۡمٍ )۔
اس کے بعد ان لوگوں کی جو یہ عظیم کار رسالت انجام دیں گے ، یہ صفات بیان فرمائی گئی ہیں : پہلی ) یہ کہ وہ خدا کے عاشق ہوں گے اور اس کی خشنودی کے سوا انھیں کوئی فکر دامن گیر نہ ہوگی” خدا انھیں پسند کرتا ہے اور وہ خدا سے محبت کرتے ہیں “(یُّحِبُّہُمۡ وَ یُحِبُّوۡنَہٗۤ ۙ) ۔
دوسری ۔ اور تیسری) صفت ان لوگوں کی یہ ہے کہ وہ مومنین کے لیے منکسر المزاج اور مہر بان ہیں جبکہ دشمنوں اور ستم گروں کے مقابلے میں مضبوط ، سخت اور طاقت ور ہیں (اَذِلَّۃٍ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ ۫) ۔
چوتھی ) صفت ان کی یہ ہے کہ راہِ خدا میں جہاد کرنا ان کے مسلسل پروگرام میں شامل ہے (یُجَاہِدُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ) ۔
پانچویں) خصوصیت ان کی یہ ہے کہ وہ فرمانِ الہٰی کی انجام دفاع ِ حق کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے وَ لَا یَخَافُوۡنَ لَوۡمَۃَ لَآئِمٍ ؕ ) ۔
در حقیقت وہ جسمانی طاقت کے علاوہ ایسا عزم رکھتے ہیں کہ غلط رسومات کو توڑنے اور انحراف کرنے والی اکثریت کو خاطر میں نہیں لاتے کثرت کے زعم میں دوسروں کا مذاق اڑانے والوں کی پرواہ نہیں کرتے۔ ہم ایسے بہت سے افراد کو جانتے ہیں کہ جو ممتاز صفات کے حامل ہیں لیکن معاشرے کی خلاف ، عوام کے افکار و نظر یات اور منحرف اکثریت کے سامنے بہت محتاط ہو جاتے ہیں اور ان کے سامنے بزدلی اور کم ہمتی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ان کے مقابلے میں بہت جلد میدان سے ہٹ جاتے ہیں حالانکہ ایک مصلح اور رہبر اور اس کے افکار کی تبلیغ وترویج کے لیے میدان میں اترنے والوں کے لیے ہر چیز سے پہلے شہامت و جراٴت کی ضرورت ہے ۔ عوام او رماحول سے ڈرجانے سے اصلاح نہیں ہو سکتی اور ان سے خوفزدہ ہو نا بلند روحانی امتیاز کے منافی ہے ۔ آخرمیں فرمایا گیا ہے : ان امتیازات و خصوصیات کا حصول( انسانی کوشش کے علاوہ ) خدا کے فضل وکرم کامرہونِ منت ہے وہ جسے چاہتا ہے اور اہل پاتا ہے عطا کرتا ہے ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ) ۔
وہی ذات ہے جس کا دائرہ فضل و کرم بہت وسیع ہے اور جو اس کی لیاقت او راہلیت رکھتے ہیں ، ان سے آگاہ ہے وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡم ٌ) ۔
اس سلسلے میں کہ مندرجہ بالاآیت کن یاورانِ اسلام کی طرف اشارہ کررہی ہے اور خدا تعالیٰ یہاں کن افراد کی خصوصیات بیان فرمارہا ہے روایات ِ اسلامی اور اقوال مفسرین میں اس سلسلے میں بڑی بحث کی گئی ہے ۔ تاہم شیعہ سنی طرق سے وارد ہونے والی بہت سی روایات میں ہے کہ آیت حضرت علی (علیه السلام) کے بارے میں فتح خیبر پر یا ناکثین ، قاصطین اور مارقین سے ان کی جنگ کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے ۔ ی(یاد رہے کہ ناکثین جنگ جمل کی آگ بھڑکانے والوں کو ، قاسطین معاویہ کی فوج کو ، اور مارقین خوارج کو کہا جاتا ہے ۔ )
اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ لشکر اسلام کے بعض کمانڈر جب خیبر کو فتح نہ کر سکے تو اس کے بعد ایک رات پیغمبر اسلام ؐنے مرکز فوج میں ان کی طرف رخ کرکے فرمایا:
لاعطین الرایة غداً رجلا ً، یحب اللہ ورسولہ ویحبہ اللہ ورسولہ ،
کراراً،غیر فرار، لایرجع حتی یفتح اللہ علی یدہ۔
بخداکل عَلم ایسے مرد کو دوں گا جو خدا اور رسول سے محبت رکھتا ہے اور خدا اور رسول بھی
اس سے محبت رکھتے ہیں وہ بڑھ بڑھ کر دشمنوں پر حملہ کرنے والا ہے اور کبھی پشت
نہیں دکھاتا اور وہ اس میدان سے اس وقت تک پلٹ کر نہیں آئے گا،
جب تک خدا اس کے ہاتھ سے مسلمانوں کو فتح نصیب نہیں کردیتا ۔( تفسیر برہان اور نور الثقلین میں آئمہ اہلبیت علیہم السلام سے اس بارے میں کئی ایک روایات نقل کی گئی ہیں ۔ اہل سنت کے علماء میں سے ثعلبی نے ان روایات کو نقل کیا ہے ( بحوالہ کتاب احقاق الحق ج۳ ، ص ۲۰۰ کی طرف رجوع فرمائیں )
ایک اور روایت میں ہے کہ جب پیغمبر اکرم نے لوگوں نے اس بارے میں سوال کیا تو آپ نے سلمان کے کندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا: اس سے یہ ، اس کے یار و انصار اور ہم وطن لوگ مراد ہیں ۔ اس طرح آپؐ نے اہل ایران کے اسلام لانے اور اسلام کی پیش رفت کے لیے ان کی ثمر بخش کاوشوں اور جستجو کی پیش گوئی فرمائی ہے ۔ اس کے بعد آپ نے مزید فرمایا:
” لوکان الذین معلقاً بالثریا لتنا ولہ رجال من ابناء الفارس“
اگر دین ثریا پر جا ٹھہرتا اور آسمانوں میں جاپہنچتا تو بھی فارس کے لوگ اسے دستیاب کرلیتے۔ (بحوالہ ۔ مجمع البیان جلد ۳ ص ۲۰۸، نور الثقلین جلد ۱ ص ۶۴۲۔لیکن ابن عبد البر نے استیعاب جلد ۲ص ۵۷۷ میں یہ عبارت نقل کی ہے : "لو کان الدین عند الثریا لنا لہ سلیمان۔۔۔۔) ایک اور روایت میں ” دین “ کی جگہ ” علم “ کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔
بعض اور روایات میں ہے کہ آیت حضرت مہدی علیہ السلام کے یارو انصار کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو اپنی پوری طاقت سے ان لوگوں کے مقابلے میں قیام کریں گے جو دین حق و عدالت سے مرتد ہو جائیں گے اور وہ دنیا کو ایمان و عدل سے معمور کردیں گے ۔ اس میں شک نہیں کہ یہ روایات جو اس آیت کی تفسیر کے بارے میں مروی ہیں باہم کوئی تضاد نہیں رکھتیں کیونکہ یہ قرآن کی سیرت کے مطابق ایک کلی اور جامع مفہوم بیان کرتی ہے اور اس کے اہم مصادیق میں حضرت علی علیہ السلام ، سلمان فارسی اور وہ لوگ شامل ہیں جو اس پرگرام کے مطابق چلیں گے چاہے روایات میں ان کا ذکر نہ بھی ہو۔
لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس آیت کے بارے میں بھی قومی تعصبات کے باعث جو لوگ اہلیت نہیں رکھتے تھے اور آیت میں مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں نہ تھی انھیں بھی آیت کا مصداق ٹھہرا یا گیا اور انھیں بھی شانِ نزول کا عنوان بنا لیا گیا یہاں تک کہ ابو موسیٰ اشعری کو بھی آیت کے مصادیق میں شمار کرلیا گیا جس نے اپنی بے مثال تاریخی حماقت سے اسلام کو ہلاکت کے گڑھے تک پہنچا دیا اور علمدارِ اسلام حضرت علیہ السلام کو ا(صفہانی نے حلیة المتقین جلد ۶ ص ۶۴ میں حدیث کی یہ عبارت نقل کی ہے : ”لوکان العلم منوطاًً بالثریا لتنا ولہ رجال من ابناء الفارس“تفسیر طبری جلد ششم صفحہ ۱۸۴۔ لیکن بعض روایات میں صرف ابو موسیٰ کی قوم کا نام آیا ہے جوکہ اہل یمن کی طرف اشارہ ہے ۔ جنہوں نے نہایت حساس موقع پر اسلام کی مدد کی اور ابو موسیٰ اس میں شامل نہیں ہے جبکہ حضرت سلمان کے بارے میں جو روایات ہیں ان کے مطابقوہ خود اور ان کی قوم اس آیت کی مصداق ہیں )۔
ایک سخت تنگ موڑ پر پہنچا دیا ۔
اس جلد کے آخری حصے کی اصلاح کا کام میں نے مکہ مکرمہ میں جوار خانہ خدا میں انجام دیا جب کہ وہاں عمرہ کے پر شکوہ مراسم بھی انجام پارہے تھے۔ اس وقت میرے ہاتھ میں درد تھا اور قلم تک پکڑنا بھی مشکل ہو رہا تھا ۔ ایسے میں مَیں نے محسوس کیا کہ وہی تعصبات جوعلمی کتب میں دکھائی دیتے ہیں آج بھی شدید پیمانے پر یہاں عوام میں بلکہ ان علماء میں دکھائی دیتے ہیں اور ایسا لگتا ہے جیسے کوئی ہاتھ درمیان میں کام کررہا ہے تاکہ مسلمان کبھی متحد نہ ہوں ۔ یہاں تک کہ یہ تعصب تاریخ اسلام سے پہلے کے ایام تک بھی جاپہنچا ہے ۔ خانہ کعبہ کے نزدیک جس شاہراہ کانام اس وقت شارع ابو سفیان ہے وہ شارع ابراہیم الخلیل جو بانی مکہ کے نام پر ہے سے زیادہ شکوہ مند ہے ۔ آج یہا ں مسلمانوں کی طرف” شرک “ کی نسبت دینا ایک متعصب گروہ کے لیے پانی کا گلاس پینے کے برابر ہے ، ادھر آپ نے اپنے جسم کو حرکت دی ادھر ” مشرک “ کی صدا بلند ہو نے لگی ۔ گویا اسلام ان کے گھر کی باندی ہے او روہی قرآن کے متولی ہیں اور بس ۔ او ردوسروں کا اسلام و کفران کی پسند اور ناپسند پر منحصر ہے کہ ایک لفظ کے ساتھ جسے چاہیں مشرک اور جسے چاہیں مسلمان کہہ دیں ۔
حالانکہ مندرجہ بالا آیات کے ذیل میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ جب اسلام کی غربت کا دورہو گا ۔ خدا تعالیٰ سلمان جیسے بزرگ عظمت ِ دین کے لیے بھیجے گا اور یہ پیغمبر ؐکی دی ہوئی بشارت ہے ۔
تعجب کی بات ہے کہ مسئلہ توحید جسے وحدت مسلمین کی بنیاد ہو نا چاہئیے۔ آج مسلمانوں کی صفوں میں انتشار اور انھیں مشرک و کافر قرار دینے کے لیے دستاویز بن چکا ہے ۔ یہا ں تک کہ ایک آگاہ شخص نے ان کے بعض متعصبین سے کہا تھا: ذرا دیکھو! ہمارا او ر تمہارا معاملہ کہا تک جا پہنچا ہے کہ اسرائیل ہم پر مسلط ہو جائے تو
تم میں سے کچھ لوگ خوش ہوں گے اور اگر تمہاری سر کوبی کرے تو ہم میں سے بعض لوگ خوشی
منائیں گے ۔ کیا یہی وہ ( اسرائیل اور ا س کے سر پرست) نہیں چاہتے؟ انصاف کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئیے ۔ ان کے بعض علماء سے جو میں نے متعدد بار ملاقات کی ہے اس سے یہ واضح ہوا ہے کہ اکثر بافہم اور سمجھدار حضرات اس کیفیت پر پریشان ہیں ۔ ایک مرتبہ ایک یمنی عالم حدود ِ شرک کے بارے میں بحث کے سلسلے میں بہت سے بزرگ مدرسین ِ حرم کے سامنے کہنے لگے:
اہل قبلہ کو شرک کی نسبت دینا بڑا گناہ ہے جسے گذشتہ لو گ زیادہ اہمیت دیتے ہیں ۔ یہ کیا ہے کہ نافہم لوگ ہر وقت لوگوں پر شرک کی تہمت لگاتے رہتے ہیں کیا وہ یہ نہیں جانتے کہ اس طرح اپنے اوپر کتنی بڑی ذمہ داری لے رہے ہیں ۔
تمہارا سر پرست اور رہبر صرف خدا اس کا پیغمبر اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نماز قائم کی ہے اور حالت رکوع میں زکوۃ ادا کی ہے۔
آیہٴ ولایت
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
تفسیر مجمع البیان اور دوسری کتب میں عبد اللہ ابن عباس سے منقول ہے : ایک روز میں چاہِ زمزم کے پاس بیٹھا تھا اور لوگوںکو ارشادات ِ رسول سنا رہا تھا کہ اچانک ایک شخص قریب آیا ۔ اس کے سر پر عمامہ تھا ۔ اس نے اپنا چہرہ چھپا رکھا تھا ۔ جب پیغمبر اسلام ؐسے کوئی حدیث نقل کرتا تو وہ بھی ” قال رسول اللہ “ کہہ کر دوسری حدیث ِ رسول بیان کردیتا ۔ ابن عباس نے اس شخص کو قسم دی کہ وہ تعارف کروائے تو اس نے اپنے چہرے سے نقاب الٹ دی اور پکار کر کہا اے لوگو!
جو شخص مجھے نہں جانتا وہ جان لے کہ میں ابو ذر غفاری ہوں۔ ان کا نوں سے میں نے خود رسول اللہ سے سنا ہے اور اگر میں جھوٹ بولوں تو میرے دونوں کان بہرے ہو جائیں ، رسول اللہ نے فرمایا: ” علی قائد البررة و قاتل الکفرة منصور من نصر و مخذول من خذلہ“
یعنی ـــــــــ علی نیک اور پاک لوگوں کے قائد ہیں اور کفار کے قاتل ہیں جو ان کی نصرت و مدد کرے خدا اس کی مدد کرے گا اور جو شخص ان کی نصرت و مدد سے ہاتھ کھینچ لے خدا بھی اس کی مدد سے ہاتھ کھینچ لے گا ۔ اس کے بعد ابو ذر نے مزید کہا: اے لوگو! ایک میں رسول خدا کے ساتھ مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک سائل مسجد میں داخل ہوا اور لوگوں سے مدد طلب کی لیکن کسی نے اسے کچھ نہ دیا تو اس نے اپنا ہاتھ آسمان کی طرف بلند کرکے کہا: خدا یا گواہ رہنا کہ میں نے تیرے رسول کی مسجد میں مدد طلب کی ہے، لیکن کسی نے مجھے جواب تک نہیں دیا ۔ ایسی حالت میں جبکہ حضرت علی (علیه السلام) رکوع میں تھے اپنے دائیں ہاتھ کی چھنگلی سے اشارہ کیا ۔ سائل قریب آیا اور انگوٹھی آپ کے ہاتھ سے اتار لی ۔پیغمبر خدا ؐنے جو حالت ِ نماز میں تھے اس واقعہ کو دیکھا ۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو سر آسمان کی طرف بلند کیا اور اس طرح کہا: خدا یا ! میرے بھائی موسیٰ نے تجھ سے سوال کیا تھا کہ ان کی روح کو وسعت دے اور ان کے کام ان پر آسان کردے اور ان کی زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ ان گفتار کو سمجھ سکیں ۔ نیز موسیٰ نے سوال کیا کہ ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر اور یار و مدد گار قرار دے اور ان کے ذریعے ان کی قوت میں اضافہ فرمااور انھبیں ان کے کاموں میں شریک کردے خدا وند ! میں محمدﷺ تیرا رسول اور بر گزیدہ ہوں میرے سینہ کو کھول دے ، میرے کام کو مجھ پر آسان کردے اور میرے خاندان میں سے علی ؑ کو میرا وزیر بنادے تاکہ اس کی وجہ سے میری کمر مضبوط اور قوی ہو جائے۔ ابو ذر کہتے ہیں : ابھی پیغمبر خدا کی دعا ختم نہیں ہوئی تھی کہ جبرائیل نازل ہو ئے اور رسول اللہ سے کہا: پڑھیے! حضور نے فرمایا : کیا پڑھوں؟ تو جبرائیل نے کہا: پڑھئیے : انما ولیکم اللہ و رسولہ و الذین اٰمنو ـــــــــــــــــــ یہ شان نزول ( جیسا کہ بیان کیا جائے گا ) تفصیلات کے کچھ اختلافات کے ساتھ مختلف طرق سے نقل ہو ئی ہے البتہ اصل اور بنیاد سب روایات کی ایک ہی ہے ۔
مومنوں کے ولی صرف تین ہستیاں
یہ آیت لفظ ” انما“ سے شروع ہوتی ہے ۔ یہ لفظ لغتِ عرب میں حصر و انحصار کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : تمہارے ولی ، سر پرست اور تمہارے امور میں حق تصرف رکھنے والی تین ہستیاں ہیں ۔ خدا ، اس کا رسول اور وہ جو ایمان لائے ، نماز قائم کی او رحالت ِ رکوع میں زکوٰة دیتے ہیں (اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا الَّذِیۡنَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ ہُمۡ رٰکِعُوۡنَ) ۔
اس میں شک نہیں کہ لفظ” رکوع“اس آیت میں نماز کے رکوع کے معنی میں ہے نہ کہ خضوع و خشوع کے معنی میں کیونکہ عرفِ شریعت اور اصطلاح ِ قرآن میں جب رکوع کہا جائے تو اسی مشہور معنی میں یعنی نماز کے رکوع کے معنی میں ہوگا ۔ نیز آیت کے شان ِ نزول اور متعدد روایات جو حضرت علی (علیه السلام) کے حالت ِ رکوع میں انگوٹھی عطا فر مانے کے بارے میں وارد ہوئی ہیں کہ جھنیں ہم تفصیل سے ذکر کریں گے کے علاوہ ” یقیمون الصلٰوة “ بھی اس بات پر شاہد ہے ۔ قرآن میں کوئی ایسی مثال نہیں ہے کہ جس میں یہ ہو کہ زکوٰة خضوع سے ادا کرو بلکہ زکوٰة کو خلوص نیت سے اور احسان جتلائے بغیر ادا کرنا چاہئیے۔ اسی طرح اس میں بھی شک نہیں کہ لفظ ” ولی “ اس آیت میں دوست یا مدد گار کے معنی میں نہیں ہے کیونکہ دوستی اور مدد کرنے کے معنی میں ولایت نماز پڑھنے والوں اور حالت ِ رکوع میں زکوٰة ادا کرنے والوں سے مخصوص نہیں ہے بلکہ وہ تو ایک عمومی حکم ہے جو تمام مسلمانوں پر محیط ہے ۔ تمام مسلمانو ں کو چاہئیے کہ وہ ایک دوسرے سے دوستی رکھیں اور ایک دوسرے کی مدد کریں ۔ یہاں تک وہ بھی جن پر زکوٰة واجب نہیں ہے او رجن کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں کہ جس پر زکوٰة ادا کریں چہ جائیکہ وہ حالت رکوع میں زکوٰة ادا کریں انھیں بھی چاہئیے کہ ایک دوسے کے دوست اور مدد گار ہوں۔
یہاں اسے واضح ہو جاتا ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں” ولی“سے مراد ولایت بمعنی سر پرستی ، تصرف اور مادی و روحانی رہبری اور قیادت ہے خصوصاً جبکہ یہ ولایت ِ الہٰی اور ولایت پیغمبر کے ہم پلہ قرار پائی ہے اور تینوں کو ایک ہی لفظ کے تحت بیان کیا گیا ہے ۔ اس طرح سے یہ آیت ان آیات میں سے ہے جو حضرت علی (علیه السلام) کی امامت و ولایت پر نص ِ قرآنی کی حیثیت سے دلالت کرتی ہیں ۔ اس موقع سے متعلق کچھ اہم بحثیں ہیں جن پرہم علیحدہ علیحدہ تحقیق کرتے ہیں.
احادیث ، مفسرین اور موٴرخین کی شہادت جیسا کہ ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ بہت سے اسلامی کتب او راہل سنت کے منابع میں اس ضمن میں متعدد رویات موجود ہیں کہ یہ آیت حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے ان میں سے بعض روایات میں حالتِ رکوع میں انگوٹھی دینے کی طرف بھی اشارہ ہے ۔ جب کہ بعض میں اس کا تذکرہ نہیں ہے ۔ بلکہ اس آیت کے حضرت علی (علیه السلام) کی شان میں نازل ہونے کا ہی مذکور ہے ۔ اس روایت کو ابن عباس ، عمار ابن یاسر ، عبد اللہ بن سلام ، سلمہ بن کہیل ، انس بن مالک ، عتبہ بن حکیم ، عبد اللہ ابی ، عبد اللہ بن غالب ، جابر بن عبد اللہ انصاری اور ابو ذر غفاری نے بیان کیا ہے ۔ ) احقاق الحق ج۲ ص ۳۹۹ تا ۴۱۰ سے رجوع کریں(
ان مذکورہ دس افراد کے علاوہ اہل سنت کی کتب میں یہ روایت خود حضرت علی (علیه السلام) سے بھی نقل ہو ئی ہے ۔ ) بحوالہ المراجعات ص ۱۵۵)۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ کتاب غایة المرام میں اس بارے میں ۲۴ احادیث کتب اہل سنت سے اور ۱۹/ احادیث طرق ِ شیعہ سے نقل کی گئی ہیں۔ ( بحوالہ منہاج البراعہ ج۲ ص ۳۵۰)۔
مشہور کتب جن میں یہ حدیث نقل ہو ئی ہے تیس سے متجاوز ہیں جو کہ سب اہل سنت کے منابع و مصاد میں سے ہیں ، ان میں سے یہ بھی ہیں : ۱۔ ذخائرہ العقبیٰ ص ۸۸ از محب الدین طبری ۔ ۲۔ تفسیر فتح القدیر ج۲ ص ۵۰ از علامہ قاضی شوکانی ۔ ۳۔ جامع الاصول ج ص ۴۷۸۔
۴۔ اسباب النزول ص ۱۴۸۔ از واحدی ۔ ۵۔ لباب النقول ۹۰ از سیوطی ۶۔ تذکرة ص ۱۸ از سبط جوزی
۷۔ نور الابصار ص ۱۰۵ از شبلنجی ۸۔ تفسیر طبری ص ۱۶۵ ۔ ۹۔ الکافی الشاف ص ۵۶ از ابن حجر عسقلانی ۔ ۱۰۔مفاتیح الغیب ج۳ ص ۴۳۱ از رازی ۔ ۱۱۔ در المنثور ج۲ ص ۳۹۳ از سیوطی ۔ ۱۲۔ کنزالعمال ج۶ ص ۳۹۱۔ ۱۳۔ مسند ابن مردویہ۔ ۱۴۔ مسند ابن الشیخ۔ ۱۵۔ صحیح نسائی ۔ ۱۶۔ الجمع بین الصحاح الستہ۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سی کتب میں اس ضمن میں احادیث موجود ہیں ۔ ( مزید تفصیل کے لیے احقاق الحق ج۲ ، الغدیر ج۲اور المراجعات کی طرف رجوع کریں)۔ ان حالات میں کیسے ہو سکتا ہے کہ ان تمام احادیث کی پر واہ نہ کی جائے جب کہ دیگر آیات کی شانِ نزول کے لیے ایک یا دو روایات پر قناعت کرلی جاتی ہے لیکن شاید تعصب اجازت نہیں دیتا کہ اس آیت کی شان نزول کے لیے ان سب روایات اور ان سب علماء کی گواہیوں کی طرف توجہ دی جائے۔ اگر بنا یہ ہو کہ کسی آیت کے سلسلے میں اس قدر روایات کی بھی پر واہ نہ کی جائے تو پھر ہمیں قرآنی آیات کی تفسیر میں کسی بھی روایت کی طرف توجہ نہیں کرنا چاہئیے، کیونکہ بہت کم آیات ایسی ہیں جن کی شان ِ نزول میں اس قدر روایات وارد ہوئی ہوں۔
یہ مسئلہ اس قدر واضح و آشکارتھا کہ زمانہ ٴ پیغمبرؐ کے مشہور شاعر حسّان بن ثابت نے حضرت علی (علیه السلام) کی شان میں روایت کے مضمون کو اپنے اشعار میں یوں بیان کیا ہے :
فانت الذی اعطیت اذکنت راکعاً
زکاتاً فدتک النفس یا خیر راکع
فانزل فیک اللہ خیر ولایة
و بینھا فی محکمات الشرایع ۔
یعنیــــــــــــ آپ وہ ہیں کہ جنھوں نے حالتِ رکوع میں زکوٰة دی ۔ آپ پر جان فدا ہو۔ اے بہترین رکوع کرنے والے ۔ اور اس کے بعد خدا نے بہترین ولایت آپ کے بارے میں نازل کی اور قرآنِ مجید میں اسے ثبت کردیا ۔ (لیےحسان بن ثابت کے اشعار ھتوڑے بہت فرق کے ساتھ بہت سی کتب میں نقل ہو ئے ہیں ۔ ان میں تفسیر روح المعانی از شہاب الدین محمود آلوسی اور کفایة الطالب از گنجی شافعی وغیرہ شامل ہیں ۔)
اعتراضات کا جواب
بعض متعصب اہل سنت نے اس آیت کے حضرت علی (علیه السلام) کی شان میں نازل ہو نے سے انکار کیا ہے اور اسی طرح ” ولایت“ کی تفسیر سر پرستی، تصرف اور امامت کرنے پر بھی اعتراض کیا ہے ۔ ان میں سے اہم اعتراضات پر ہم یہاں تحقیق کرتے ہیں
۱۔ ” الذین “ جمع کا صیغہ ہے
ایک اعتراض یہ ہے کہ آیت میں ” الذین “ جمع کا صیغہ ہے لہٰذا اس آیت کو ایک شخص پر کیسے منطبق کیا جاسکتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں آیت کہتی ہے کہ تمہارے ” ولی “ و ہ اشخاص ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالتِ رکوع میں زکوٰة دیتے ہیں ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ عربی ادبیات میں ایسا بارہا دکھائی دیتا ہے کہ مفرد کے لیے جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے ۔ مثالیں ملاحظہ ہوں :
• آیہ مباہلہ میں لفظ” نسائنا “ جمع کی صورت میں ہے جب کہ اس سے مراد جناب فاطمہ زہرا(علیه السلام) ہیں جیسا کہ اس ضمن میں مروی متعدد شانِ نزول شان ِ گواہی دیتی ہیں ۔ آیہ مباہلہ ہی میں لفظ ” انفسنا“ جمع کی صورت میں ہے جبکہ مباہلہ کےلیے جانے والوں میں رسول اللہ کے علاوہ صرف حضرت علی (علیه السلام) تھے ۔
• جنگ احد کے ایک واقعہ کے سلسلے میں سورہ آل ِ عمران آیہ ۱۷۲ میں ہے : ” الذین قال لھم الناس ان الناس قد جمعوا لکم فاخشوھم فزادھم ایماناً“ تیسری جلد میں اس آیہ کی تفسیر میں ہم ذکر کرچکے ہیں کہ بعض مفسرین نے اس کی شانِ نزول کی نقل کی ہے ، جس میں ” الذین “ سے ایک ہی شخص نعیم بن مسعود مراد لیا گیا ہے ۔
• سورہ مائدہ کی آیہ ۵۲ میں ہے ” یقولون نخشی ان تصیبنا دائرة “
• اس میں بھی جمع کے صیغے ہیں ۔ حالانکہ یہ آیت عبد اللہ ابن ابی کے بارے میں وارد ہوئی ہے ۔ جس کی تفسرگزر چکی ہے ۔
• علاوہ ازیں : ممتنحہ ۔ آیہٴ 1
• منافقون آیہ ۸
• بقرہ آیہ ۲۱۵، ۲۷۴ ، وغیرہ
میں ایسی تعبیرات موجودہیں جو جمع کی شکل میں ہیں ، لیکن ان کی شانِ نزول کے مطابق ان سے ایک ہی شخص مراد تھا ۔ ایسی تعبیرات یا تو اس شخص کی حیثیت اور مقام کی اہمیت اور اس کے کام کے نقش ِ موٴثر واضح کرنے کے لیے ہوتی ہیں یا اس لیے کہ حکم کو کلی صورت میں پیش کیا جائے اگر چہ اس کامصداق ایک ہی فرد ہو۔ خدا کہ جو اکیلا ہے اس کے لیے قرآن مجید میں بہت سی آیات میں جمع کی ضمیر تعظیم کے طور پر ہی استعمال ہوئی ہے ۔ البتہ اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کہ بغیر قرینہ کے خلاف ظاہر مفرد کے لیے جمع کا استعمال جائز نہیں ہے لیکن آیت کی شان ِ نزول میں وارد ہونے والی تمام روایات ہمارے پاس واضح قرینہ کے طور پر موجود ہیں جب کہ دوسرے مواقع پر اس سے کم قرینہ پر بھی قناعت کرلی جاتی ہے ۔
۲۔ حالت رکوع میں زکوٰة ؟
فخر الدین رازی اور بعض دوسرے متعصبین نے اعتراض کیا ہے کہ حضرت علی(علیه السلام) تو نماز میں مخصوص توجہ رکھتے تھے اور پر وردگار سے مناجات میں مستغرق رہتے تھے یہاں تک کہ مشہور ہے کہ ایک مرتبہ حالتِ نماز میں تیر کا پھل آپ کے پاوٴں سے نکالا گیا اور آپ متوجہ نہیں ہوئے تو پھر کیسے ممکن ہے کہ آپ نے سائل کی آواز سن لی اور اس کی طرف متوجہ ہو گئے ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اعتراض کرنے والے اس نکتہ سے غافل ہیں کہ سائل کی آواز سننا اور اس کی مدد کرنا اپنی طرف متوجہ ہونا نہیں ہے کہ بلکہ عین خدا کی طرف توجہ ہے ۔ حضرت علی (علیه السلام) حالت نمازمیں اپنے آپ سے غافل تھے نہ کہ خدا سے ۔ اور ہم جانتے ہیں کہ مخلوقِ خدا سے غفلت اور بیگانگی در اصل خدا سے غفلت اور بے گانگی ہے ۔ زیادہ واضح لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ حالت نماز میں زکوٰة دینا عبادت کے اندر عبادت ہے نہ کہ عبادت کے دورون ایک عمل مباح کی انجام دہی ۔ ایک اور عبارت میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ بات جو روح ِ عبادت سے مناسبت نہیں رکھتی یہ ہے کہ کو ئی شخص عبادت کے دوران مادی اور شخصی زندگی سے مربوط ہو جائے ۔ لیکن ان امور کی طرف متوجہ ہو نا جو رضائے الہٰی کا ذریعہ ہیں روح ِ عبادت کے لیے ساز گار ہیں عبادت کے لیے بلند مرتبے کا باعث ہیں ۔
اس نکتہ کا ذکر بھی ضروری ہے کہ خدا کی طرف توجہ اور استغراق کا یہ مطلب نہیں کہ انسان بے اختیار ہو کر اپنا احساس کھو بیٹھے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے مقصد و ارادہ سے اپنی توہ ایسی ہر چیز سے پھیر لیتا ہے جو راہ خدا میں اور خدا کے لیے نہیں ہے ۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ فخرالدین رازی کا تعصب یہاں تک آپہنچا ہے کہ اس نے سائل کو حضرت علی (علیه السلام) کے اشارہ کرنے کو کہ وہ خود آکر انگشتری اتار لے ” فعل کثیر“ قرار دیا ہے جو ان کی نظر میں نماز میں درست نہیں ۔ حالانکہ وہ نماز میں ایسے کام انجام دینا جائز سمجھتے ہیں جو اشارہ سے کئی درجہ زیادہ ہیں اور اس کے باوجود وہ نماز کے لیے نقصان وہ نہیں ہیں ۔ یہاں تک کہ حشرات الارض مثلاً سانپ یابچھوکو مارنا ، بچے کواٹھا نا اور بٹھانا یہاں تک کہ شیر خوار بچے کو دودھ پلانے کو تووہ نماز میں فعل کثیر نہیں سمجھتے پھر ایک اشارہ فعل کثیر کس طرح ہو گیا لیکن جب کسی کی دانش مندی طوفانِ تعصب میں پھنس جاتی ہے تو پھر ایسے تعصبات اس کے لیے باعث ِ تعجب نہیں رہتے۔
۳۔ لفظ ”ولی “ کا مفہوم
آیت پر ایک اور اعتراض لفظ ” ولی “ کے معنی کے بارے میں کیا گیا ہے اور اس سے مراد” دوست اور مدد کرنے والا“ لیا گیا ہے نہ کہ ” متصرف ، سرپرست اور صاحب اختیار“۔ اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ ہم آیت کی تفسیر کے بارے میں اوپر ذکر کرچکے ہیں کہ لفظ ”ولی “ سے یہاں دوست اور مدد کرنے والا مراد نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ صفت تو تمام مومنین کے لیے ثابت ہے نہ کہ ان مخصوص مومنین کے لیے جو آیت کے مطابق نماز قائم کریں اور حالت ِ رکوع میں زکوٰة دیں ۔ دوسرے لفظوں میں دوستی اور مدد کا ایک عام حکم ہے ، جب کہ آیت ایک خصوصی حکم بیان کررہی ہے اسی لیے تو ایمان کا ذکر کرنے کے بعد خا ص صفات بیان کی جارہی ہیں کہ جو ایک شخص کے ساتھ مخصوص ہیں ۔
۴۔ حضرت علی (علیه السلام) پرواجب زکوٰة
کہاجاتا ہے کہ حضرت علی (علیه السلام) پر کو ن سی زکوٰة واجب تھی جب کہ وہ مالِ دنیا میں سے اپنے لیے کچھ فراہم ہی نہ کرتے تھے اور اگر اس سے مراد مستحب صدقہ ہے تو اسے زکوٰة نہیں کہا جاسکتا ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ :
اول تو تواریخ گواہی دیتی ہیں کہ حضرت علی (علیه السلام) نے اپنے ہاتھ سے بہت سامال کمایا تھا اور اسے راہ خدا میں صرف کردیا تھا ۔ یہاں تک کہ مرقوم ہے کہ آپ نے ایک ہزار غلام اپنے ہاتھ کی کمائی سے آزاد کرایا ۔ علاوہ ازیں آپ کو مختلف جنگو ں کے مال غنیمت میں سے بھی بہت کچھ ملا تھا ۔ لہٰذا کچھ ایسا مال یا کوئی چھوٹا سا کھجوروں کا باغ جس کی زکوٰة ادا کرنا آپ پر واجب ہو اس ہو نا کوئی ایسی اہم بات نہیں ہے ۔ نیز ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ زکوٰة فوراً ادا کرنے کے وجوب کی فوریت ” عرفی فوریت “ ہے جو نماز پڑھتے ہوئے ادا کرنے کے منافی نہیں ہے ۔ دوم یہ کہ مستحب زکوٰة کو قرآن مجید میں بہت مرتبہ زکوٰة کہا گیا ہے بہت سی مکی سورتوں میں یہ لفظ زکوٰة آیا ہے جس سے مراد مستحب زکوٰة ہی ہے کیونکہ یہ بات مسلم ہے کہ واجب زکوٰة کا حکم پیغمبر اسلام ؐکی ہجرت ِ مدینہ کے بعد نازل ہوا( نمل ۔ ۳، روم۔ ۲۹ ، لقمان۔ ۴ ، فصلت۔ ۶ وغیرہ) ۔
۵۔ آیت میں ”ولایت بالفعل “کا ذکر ہے
اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر ہم حضرت علی (علیه السلام) کی خلافت ِ بلا فصل پر ایمان بھی آئیں تب بھی یہ بات قبول کرنا پڑے گی کہ اس کاتعلق زمانہ ٴ پیغمبرؐ کے بعد سے ہے لہٰذا حضرت علی (علیه السلام) نزول آیت کے وقت ولی نہ تھے ۔ دوسرے لفظوں میں اس وقت ان کے لیے ” ولایت بالقوة “ تھی ” ولایت بالفعل“ نہ تھی جب کہ آیت ظاہراً ” ولایت بالفعل“کا ذکر کررہی ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ روز مرہ کی گفتگو میں ایسی والی تعبیرات بہت دکھائی دیتی ہیں ۔ لوگوں کے لیے ایسے الفاظ بولے جاتے ہیں جو وہ ” بالقوة“ ہیں مثلاً انسان اپنی زندگی میں وصیت کرتا ہے اورکسی شخص کو اپنے بچوں کے لیے وصی اور قیم معین کرتا ہے اور اسی وقت سے ” وصی “ اور قیم “ کے الفاظ اس شخص کے لیے بولے جانے لگتے ہیں جب کہ وصیت کرنے والا ابھی زندہ ہوتا ہے ۔ شیعہ سنی طرق سے پیغمبر اکرم ؐسے جو روایات حضرت علی (علیه السلام) کے بارے میں مروی ہیں ان میں ہم دیکھتے ہیں کہ آپ نے انہیں ” میرے وصی“ اور میرے خلیفہ “ کہہ کر خطاب کیا جب کہ ایسا زمانہٴ پیغمبرؐ میں نہ تھا ۔ قرآن مجید میں بھی ایسی تعبیرات دکھائی دیتی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت زکریا (علیه السلام) کے بارے میں ہے کہ انھوں نے خدا سے یہ در خواست کی۔
” ھب لی من لدنک ولیاً یرثنی و یرث من اٰل یعقوب “ ( مریم ۔ ۵)
حالانکہ مسلم ہے کہ ”ولی “ سے یہاں مراد ” سرپرست “ ہے جو ان کی وفات کے بعد ہو گا ۔ بہت سے لوگ اپنے جانشین اپنی زندگی میں معین کرتے ہیں اور اسی وقت سے اسے جانشین کہنے لگتے ہیں حالانکہ وہ ” بالقوة “ ہی ہوتے ہیں ” بالفعل “ نہیں ۔
۶۔ حضرت علی (علیه السلام) نے اس آیت سے خود استدلال کیوں نہیں کیا؟
کہا جاتا ہے کہ حضرت علی (علیه السلام) نے اس واضح دلیل سے خود استدلال کیوں نہیں کیا ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جیساکہ آیت کے شان، نزول کے بارے میں وارد شدہ روایات کی بحث کے ضمن میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ یہ حدیث متعدد کتب میں خود حضرت علی (علیه السلام)سے بھی نقل ہوئی ہے جیسا کہ مسند ابن مردویہ ، مسند ابی شیخ اور کنز العمال میں سے یہ بات در حقیقت اس آیت سے آپ کااستدلا ل ہی ہے ۔ کتاب ِ نفیس ” الغدیر“ میں کتاب سلیم بن قیس ہلالی سے ایک مفصل حدیث نقل کی گئی ہے جس کے مطابق حضرت علی (علیه السلام) نے میدان صفین میں کچھ لوگوں کی موجودگی میں اپنی حقانیت پر دلائل پیش کیے ان میں سے ایک استدلال اسی آیت سے تھا ۔( بحوالہ الغدیر جلد ۱ ص ۱۹۶) غایة المرام مین ابو ذر سے منقول ہے : حضرت علی (علیه السلام) نے شوریٰ کے دن بی اس آیت سے استدلال کیا تھا ۔(نقول از منہاج البراعة جلد ۲ ص ۳۶۳)۔
۷۔ قبل اور بعد کی آیات سے آیہٴ ولایت کا ربط
یہ بھی کہاجاتا ہے کہ قبل اور بعد کی آیات سے ولایت و امامت والی تفسیر مطابقت نہیں رکھتی کیونکہ ان میں ولایت دوستی کے معنی میں آئی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم بار ہا کہہ چکے ہیں کہ قرآنی آیات چونکہ تدریجا ً اور مختلف واقعات میں نازل ہوئی ہیں لہٰذا ان کا تعلق ان حوادث اور واقعات سے ہے جن کے سلسلے میں وہ نازل ہو ئی ہیں نہ یہ کہ ایک سورت کی آیات یا یکے بعد دیگرے آنے والی آیات ہمیشہ ایک دوسرے سے مربوط ہیں یا مفہوم و معنی کے اعتبار سے ہمیشہ نزدیکی تعلق رکھتی ہے ۔ لہٰذا اکثر ایسا ہو تا ہے کہ دو آیات ایک دوسرے کے بعد نازل ہوئی ہیں۔ لیکن ان کا تعلق دو مختلف واقعات سے ہے ۔ مختلف واقعات سے تعلق رکھنے کی وجہ سے دونوں معافی و مفہوم کے لحاظ سے ایک دوسرے سے بالکل جد اہیں ۔ جیسا کہ شان ِ نزول شاہد ہے کہ آیت” انما ولیکم اللہ “ حضرت علی علیہ السلام کے حالت ِ رکوع میں زکوٰة دینے کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور اس سے قبل او ربعد کی آیات جیسا کہ ہم پڑھ چکے ہیں او رپڑھیں گے دوسرے واقعات کے سلسلے میں نازل ہوئی ہیں لہٰذا ان کے ایک دوسرے سے تعلق کی بات کا زیادہ سہارا نہیں لیا جاسکتا ۔ علاوہ ازیں اتفاق کی بات ہے کہ زیر بحث آیت گذشتہ اور پیوستہ آیات سے مناسبت بھی رکھتی ہے کیونکہ دوسری آیات میں ولایت بمعنی دوستی او رمددکے گفتگو ہے جبکہ زیر بحث آیت میں ولایت رہبری اور سر پرستی کے مفہوم میں ہے اور اس میں شک نہیں کہ ولی ، سر پرست او رمتصرف اپنے پیروکاروں کا دوست اور یاور و مدد گار بھی ہوتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں دوست اور مدد گار ہونا ولایت مطلقہ کے کوائف اور اوصاف میں سے ہے ۔
۸۔ ایسی قیمتی انگوٹھی کہاں سے آئی تھی؟
کہا جاتا ہے کہ ایسی گراں قیمت انگوٹھی جو تاریخ نے بیان کی ہے حضرت علی (علیه السلام) کہاں سے لائے تھے ؟ علاوہ ازیں ایسی غیر معمولی قیمت کی انگوٹھی پہنا اسراف بھی ہے ، تو کیا یہ بات اس کی دلیل نہیں کہ مذکورہ تفسیر صحیح نہیں ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس نگوٹھی کی قیمت کے بارے میں جو مبالغے کیے گئے ہیں وہ بالکل بے بنیاد ہیں اور اس کے بہت قیمتی ہونے کی ہمارے پاس کوئی قابل قبول دلیل ہیں ہے۔ یہ جو ایک ضعیف روایت ( یہ ضعیف روایت بطور مرسل تفسیر برہان ج۱ ص ۴۸۵پر مذکورہے) میں اس کی قیمت خراج شام کے برابر بیان کی گئی ہے ۔ حقیقت سے زیادہ ایک افسانے سے مشابہت رکھتی ہے اور شایداس اہم واقعے کی اہمیت ختم کرنے کے لیے اسے گھڑ اگیا ہے ۔ صحیح اور معتبر روایات جو آیت کی شان ِ نزول کے بارے میں بیان ہوئی ہیں ۔ ان میں ایسے کسی افسانے کا کوئی ذکر نہیں لہٰذا ایسی باتوں سے ایک تاریخی واقعے اور حقیقت پر پردہ نہیں ڈالا جاسکتا ۔
اور جو لوگ اللہ اس کے پیغمبر اور صاحبان ایمان کی ولایت قبول کر لیں وہ کامیاب ہیں کیونکہ خدا کی حزب اور پارٹی ہی کامیاب ہے۔
جنہوں نے ان ہستیوں کی ولایت کو قبول کیا، وہی کامیاب اور حزبِ خدا میں شامل
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
یہ آیت گذشتہ آیت کے مضمون کی تکمیل کرتی ہے اور اسی کے ہدف کی تاکید و تعقیب کرتی ہے او رمسلمانوں کو بتاتی ہے کہ جنھوں نے خدا، اس کے رسول اور ان صاحبان ِ ایمان کی ولایت، سر پرستی او ررہبری کو قبول کرلیا ہے کہ جنکی طرف گذشتہ آیت میں اشارہ کیا جا چکا ہے وہ کامیاب ہوں گے کیونکہ وہ حزبِ خدا میں داخل ہو جائیں گے اور حزب ِ خداکامیاب و کامران ہے (وَ مَنۡ یَّتَوَلَّ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فَاِنَّ حِزۡبَ اللّٰہِ ہُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ) ۔ اس آیت میں” ولایت “کے اس معنی پر ایک اور قرینہ موجود ہے جس کا ذکر گذشتہ آیت کے ذیل میں کیا گیا ہے یعنی ” ولایت “ بمعنی ” سر پرستی ، تصرف اور رہبری “ کیونکہ ” حزبب اللہ “ اور اس کا غلبہ حکومتِ اسلامی سے مربوط ہے نہ کہ ایک عام او رمعمول کی دوستی سے اور یہ خود اس بات پر دلیل ہے کہ آیت میں ” ولایت“ سر پرستی ، حکومت نیز اسلام اور مسلمانوں کی باگ دوڑ ہاتھ میں لینے کے معنی میں ہے کیونکہ ” حزب اللہ “ کے مفہوم میں ایک طرح کی تشکیل ، وابستگی اور مشترک اہداف و مقاصد کی تکمیل کے لیے ایک اجتماع کا تصور پوشیدہ ہے ۔
توجہ رہے کہ ” الذین اٰمنوا “ سے اس آیت میں تمام صاحب ِ ایمان مرادنہیں ہیں بلکہ اس سے مراد وہی شخص ہے جس کی طرف معین اوصاف کے ساتھ گذشتہ آیت میں اشارہ ہو چکا ہے ۔ یہاں ایک سوال پیدا ہو تا ہے کہ کیا آیت میں حزب اللہ کی کامیابی سے مراد صرف معنوی کامیابی ہے یا س میں ہر طرح کی معنوی و مادی کامیابی شامل ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ آیت کا اطلاق حز ب اللہ کی عام محاذوں پرمطلق کامیابی کی دلیل ہے ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اگر کوئی جمیعت حزب اللہ میں شامل ہویعنی ایمان ِ محکم ، تقویٰ ، عمل صالح، اتحاد ، کامل باہمی اعتماد ، آگاہی اور علم رکھتا ہواور کافی تیاری کیے ہوئے ہو توبلا تردید وہ تمام معاملات میں کامیاب ہو گا ۔ آج اگر ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کو ایسی کامیابی میسر نہیں ہے تو اس کا سبب واضح ہے کیونکہ حز اللہ کی مذکورہ شرائط میں سے زیادہ تر آج مسلمانوں میں نہیں پائی جاتیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جو توانائیں اور صلاحتیں دشمن کو شکست دینے کے لیے استعمال ہو نا چاہییں ، زیادہ تر ایک دوسرے کو کمزور کرنے پر صرف ہورہی ہیں ۔ سورہ مجادلہ آیہ۲ میں بھی حزب اللہ کی کچھ صفات بیان ہوئی ہیں جس کی تعبیر انشاء اللہ متعلقہ مقام پر آئے گی ۔
اے ایمان والو ! اہل کتاب اور مشرکین میں سے ان لوگوں کو اپنا دوست اور سہارا نہ سمجھو جو تمہارے دین کا مذاق اڑاتے ہیں اور اسے کھیل کود سمجھتے ہیں اور اگر ایمان دار ہو تو خدا (کے حکم کی مخالفت) سے ڈرو۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
تفسیر مجمع البیان ، تفسیر ابو الفتوح رازی اور تفسیر فخر الدین رازی میں منقول ہے : رفاعہ اور سوید مشرکین میں سے تھے ۔ انھوں نے اظہار اسلام کیا او رپھر وہ منافقین کے ہم کاروں میں داخل ہو گئے ۔ بعض مسلمان ن ان دونوں سے میل جول رکھتے تھے اور اظہار دوستی کرتے تھے اس پر مندرجہ بالاآیت نازل ہوئیں اور انھیں اس راہ و رسم کے خطرے سے آگاہ کیا گیا تاکہ وہ اس عمل سے پرہیز کریں ۔
یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس آیت میں ولایت بمعنی دوستی ہے نہ کہ ولایت بمعنی سر پرستی و تصرف جو کہ گذشتہ آیات میں تھی، کیونکہ اس آی کی شانِ نزول ان آیات سے مختلف ہے ۔ لہٰذا انھیں ایک دوسرے کے لیے قرینہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔ دوسری آیت جو پہلی کا ضمیمہ ہے ، اس کی شان ِ نزول یہ منقول ہے : یہودیوں کا ایک گروہ اور کچھ عیسائی جب موٴذن کی اذان کی آواز سنتے او رنماز کے لیے مسلمانوں کا قیام دیکھتے تو تمسخر او راستہزا شروع کردیتے ۔ لہٰذاقرآن مسلمانوں کو ایسے لوگوں سے دوستی کرنے سے پرہیز کاحکم دیتا ہے ۔
منافقوں کی دوستی سے بچو
اس آیت میں خدا وند عالم دوبارہ مومنین کو حکم دے رہا ہے کہ منافقوں اور دشمنوں کی دوستی سے بچو ، البتہ ان کے جذبات و میلانات کو متحرک کرنے کے لیے یوں فرماتا ہے : اے ایمان والو! جو لوگ تمہارے دین کا مذاق اڑاتے ہیں اور اسے کھیل کود سمجھتے ہیں وہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرکین و منافقین میں سے ان میں سے کسی کو بھی دوست نہ بناوٴ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا دِیۡنَکُمۡ ہُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ وَ الۡکُفَّارَ اَوۡلِیَآءَ ۚ) ۔ آیت کے آخر میں (وَ اتَّقُوا اللّٰہَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ) ۔فرماکر تاکید کی گئی ہے کہ تقویٰ او رایمان سے ایسے لوگوں کی دوستی مناسبت نہیں رکھتی ۔
وجہ رہے کہ ” ھزو“(بروزن ”قفل “) کا معنی ہے ” تمسخر آمیز باتیں یا حرکات جو کسی چیز کے بے وقعت ظاہر کرنے کے لیے کی جائیں ” جیسا کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے استہزاء ایسے مذاق کو کہتے ہیں جو کسی عدم موجود گی میں اور پس پشت کیا جائے اگر چہ کبھی کبھار کسی کے سامنے اس کا تمسخر اڑانے پربھی یہ لفظ بطور نادر بولا جاتا ہے ۔
”لعب “ عام طور پر ایسے کاموں کوکہا جاتا ہے جن کے انجام دینے میں کوئی مصحیح غرض کار فرما نہ ہو یا جو بالکل بغیر ہدف اور مقصد کے انجام پائیں ، نہ بچوں کے کھیل کود کوبھی ” لعب “ اسی بنا پر کہتے ہیں ۔
گذشتہ آیت میں منافقین اور اہل کتاب کی ایک جماعت سے دوستی کرنے سے روکا گیا ہے کیونکہ وہ لوگ احکام اسلام کا مذاق اڑاتے تھے ۔ اب اگلی آیت میں شاہد کے طور پر ان کے ایک عمل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ : جب تم مسلمانوں کو نماز کی دعوت دیتے ہوتو وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور اسے کھیل کود سمجھتے ہیں وَ اِذَا نَادَیۡتُمۡ اِلَی الصَّلٰوۃِ اتَّخَذُوۡہَا ہُزُوًا وَّ لَعِبًا ؕ)( مفسرین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ ” اتخذوھا “ کی ضمیر نما زکی طرف لوٹتی ہے یا اذان کی طرف۔ جو شان نزول اس سلسلے میں ذکر کی گئی ہیں ان میں بھی یہ دونوں احتمالات موجود ہیں ، کیونکہ منافقین او رکفاراذان کی روح پروندا کا مذاق بھی اڑاتے تھے اور نماز کا بھی ۔ لیکن آیت کا ظہور زیادہ تر اس احتمال کی تائید کرتا ہے کہ یہ ضمیر ”صلوٰة “ کی طرف لوٹتی ہے )۔
اس کے بعد ان کے عمل کی علت بیان کی گئی ہے : ایسا اس لیے ہے کہ وہ ایک نادان گروہ ہے اور حقائق کا ادراک کرنے کی منزل سے دور ہے (ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَوۡمٌ لَّا یَعۡقِلُوۡنَ) ۔
جب تم اذان کہتے ہو اور لوگوں کو نماز کے لئے پکارتے ہو تو وہ لو گ اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور اسے کھیل تماشہ سمجھتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایسا گروہ ہیں جو عقل و ادراک نہیں رکھتے۔
اذان اسلام کا عظیم شعار ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
ہر دور میں ملت کا کوئی ایسا شعار ہوتا ہے جو وہ اپنے لوگوں کے احساسات و جذبات کو ابھار کر انھیں ذمہ داریوں کی طرف دعوت دینے کے لیے استعمال کرتی ہے اور یہ بات دورحاضر میں زیادہ وسعت سے دکھائی دیتی ہے ۔ گذشتہ او رموجودہ زمانے میں عیسائی ناقوس کی ناموزوں آواز کے ذریعے اپنے پیروں کاروں کو کلیسا کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔ لیکن اسلام میں اس دعوت کے لیے اذان کو اپنا لیا گیا ہے جو صدائے ناقوس سے کئی درجے موٴثر اور دلآویز ہے ۔ اس اسلامی شعار کی جاذبیت اور کشش اتنی زیادہ ہے کہ صاحب ”المنار“ کے بقول جب متعصب عیسائی بھی اسے سنتے ہیں تو سننے والوں پر اس کی گہری تاثیر کا اعتراف کرتے ہیں۔ اس کے بعد موصوف نے نقل کیا ہے کہ مصر کے ایک شہر میں کچھ عیسائیوں کو لوگوں نے دیکھا ہے کہ وہ مسلمانوں کی اذان کے وقت اس سرودِ آسمانی کو سننے کےلیے جمع ہو تے ہیں ۔ اس سے بہتر شعار کون سا ہوگا ، جس کی ابتداء خدائے بزرگ و بر تر کے نام سے ہوتی ہے ، جو خالق ِ عالم وحدانیت اور اس کے پیغمبرؐکی رسالت کے اعلان کے ساتھ بلند ہوتا ہے او رکامیابی ، فلاح، نیک عمل اور یادِ خدا پر اختتام پذیر ہوتا ہے ۔ یہ شعار اللہ کے نام سے شروع ہوتا ہے اور اللہ ہی کے نام پر تمام ہو تا ہے ۔ اس میں موزوں جملے ، مختصر عبارات ، واضح محتویات اور اصلاح کنندہ اور آگہی عطا کرنے والا مضمون ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ اسلامی روایات میں اذان کہنے کےلیے بہت تاکید کی گئی ہے اس سلسلے میں پیغمبر اکرم ؐسے ایک مشہور حدیث منقول ہے ، جس میں آپ نے فرمایا : روز قیامت اذان کہنے والے دوسروں سے سر اور گردن کی مقدار کے برابر بلند تر ہو ں گے ۔
یہ بلندی در حقیقت وہی مقام ِ رہبری ہے اور دوسروں کو خدا کی طرف او رنماز جیسی عبادت کی طرف دعوت دینے کے سبب سے ہے۔
اسلامی شہروں میں وقت نماز جب اذان کے نغمے گلدستہ اذان سے گونجتے ہیں تو ان کی آواز سچے مسلمانوں کے لیے پیام آزادی اور استقلال و عظمت کی حیات بخش نسیم کی مانند ہوتی ہے ۔ یہ آواز بد خواہوں کے تن بدن میں رعشہ اور اضطراب ڈال دیتی ہے ۔ یہ صدا بقائے اسلام کی ایک رمز ہے انگلستان کے ایک مشہور شخص کا ایک اعتراف اس پر گواہ ہے ۔ وہ عیسائیوں کے ایک گروہ سے خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے ۔
جب تک محمد کانام گلدستہ ہائے اذان سے بلند ہورہا ہے ، خانہ کعبہ اپنی جگہ پر قائم ہے اور قرآن مسلمانوں کا رہنما اور پیشوا ہے ، اس وقت تک ممکن نہیں ہے کہ اسلامی سر زمینوں پر ہماری سیاست کی بنیادیں استوار ہو سکیں ۔ ( یہ الفاظ گلاوسٹون کے ہیں جو اپنے زمانے میں انگریزوں کا پہلے درجہ کا سیاستدان تھا )۔ لیکن بعض بے چارے اور بینوا مسلمانوں کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ انھوں نے اس عظیم اسلامی شعار کو ترک کرکے اس کی جگہ فضول سے پروگرام رکھ دئیے ہیں جب کہ اسلامی شعار ان کے دین اور ثقافت کے قیام کی صدیوں پر حاوی تاریخ کی سند ہے۔ خدا ایسے افراد کی ہدایت کرے اور انھیں مسلمانوں کی صفوں میں پلٹا دے ۔ واضح ہے کہ جیسے اذان کا باطن اور ا س کے مفاہیم خوبصورت ہیں اسی طرح اسے ادا بھی اچھی آواز میں کرناچاہئیے اور اس کے باطنی حسن کو نامرغوب طریقے سے ظاہر کرکے پامال نہیں کردینا چاہئیے ۔
اذان وحی کے ذریعے پہنچی اہل سنت کے طرقسے منقول کئی ایک روایات میں اذان کی تشریع کے بارے میں عجیب و غریب باتیں منقول ہیں جو منطق اسلام سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے :۔
پیغمبرؐ خدا سے اصحاب نے درخواست کی کہ وقت ِ نماز بتانے کے لیے کوئی نشانی ہو نا چاہئیے ۔ اس پر آپ نے اپنے صحابہ سے مشورہ کیا۔ ہر ایک نے کوئی نہ کوئی تجویز پیش کی ۔ کسی نے کہا مخصوص علم لہرانا چاہئیے ، کسی نے کہا آگ روشن کرنا چاہئیے اور کسی نے کہا ناقوس بجا نا چاہئیے ۔ لیکن رسول اللہ نے ان میں سے کوئی بات قبول نہ کی ۔ یہاں تک کہ عبد اللہ ابن زید اور عمر بن خطاب نے خواب میں دیکھا کہ کوئی شخص انھیں حکم دے رہا ہے کہ نماز کو وقت بتانے کے لیے اذان کہیں اور اس نے ان دونوں کو اذان سکھائی اور رسول اللہ نے اسے قبول کرلیا ۔ (بحوالہ تفسیر قرطبی )
یہ جعلی روایت پیغمبر اکرمؐ کی توہیں معلوم ہوتی ہے کہ جس کے مطابق آپ وحی پر انحصار کرنے کی بجائے کچھ افراد کے خوابوں کا سہارا لیتے تھے اور کچھ لوگوں کے خوابوں کی بنیاد پر اپنے دین کے احکام پیش کرتے تھے ۔ در حقیقت ایسا نہیں ہے بلکہ جیساکہ روایات ِ اہل بیت (علیه السلام) میں ہے کہ اذان پیغمبر اسلام ؐکو وحی کے ذریعے تعلیم دی گئی تھی امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب جبرئیل اذان لے کر آئے تو پیغمبر خدا کا سر حضرت علی (علیه السلام) کی گود میں تھا اور جبرئیل نے آپ کو اذان و اقامت بتائیں ۔ جب رسول اللہ نے اپنا سر اٹھا یا تو حضرت علی (علیه السلام) سے پوچھا : کیا تم نے جبرئیل کی اذان کی آواز سنی ہے ۔ حضرت علی (علیه السلام) نے کہا :
جی ہاں ۔
رسول ؐاللہ نے پھر پوچھا :
کیا اسے یاد کرلیا ہے ؟ حضرت علی (علیه السلام) نے کہ
ا: جی ہاں پیغمبرؐ خدا نے فرمایا :
بلال ( جن کی آواز اچھی تھی ) کو بلاٴ اور اسے اذان و اقامت سکھادو۔
حضرت علی (علیه السلام) نے بلال کو بلا کر اسے اذان و اقامت سکھا دی ۔ ( بحوالہ وسائل ، ج ۴ ص ۶۱۲) ۔ اس سلسلے میں مزید وضاحت کے لیے کتاب ” النص و الاجہاد“ ص۱۲۸ کی طرف رجوع کریں ۔
کہہ دو اے اہل کتاب ! کیا تم ہم پر اعتراض کرتے ہو (مگر ہم نے کیا کیا ہے) سوائے اس کے کہ ہم خدائے یکتاپر، جو کچھ اس نے ہم پر نازل کیا ہے اس پر اور جو کچھ اس سے پہلے ناز ل ہو چکا ہے اس پر ایمان لے آئے ہیں اور یہ اس بنا پر ہے کہ تم میں سے اکثر را ہ حق سے منحرف ہو گئے ہیں۔
کہہ دو کیا میں تمہیں ایسے لوگوں کے بارے میں آگاہ کروں جن کا ٹھکانا اور جزا اس سے بد تر ہے وہ لوگ کہ جنہیں خدا نے اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے اور ان پر اپنا غضب نازل کیا ہے اور انہیں مسخ کر دیا ہے اور ان میں سے بند ر اور خنزیر بنائے اور جنہوں نے بت پرستی کی ہے ان کا ٹھکانا برا ہے اور وہ راہ راست سے بھٹکے ہوئے ہیں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
عبد اللہ بن عباس سے منقول ہے : کچھ یہودی رسول ؐاللہ کے پاس آئے اور در خواست کی کہ اپنے عقائد انھیں بتائیں ۔ رسول اللہ نے فرمایا : میں خدائے بزرگ و یگانہ پر ایمان رکھتا ہوں اور جو کچھ ابراہیم ، اسماعیل ، اسحاق، یعقوب ، موسیٰ، عیسیٰ اور دوسرے پیغمبران ِ خد اپر نازل ہوا ہے اسے حق سمجھتا ہوں اور ان میں تفریق نہیں کرتا ۔ وہ کہنے لگے : ہم عیسیؑ کو نہیں مانتے اور اس کی نبوت کو قبول نہیں کرتے ۔ انھوں نے مزید کہا : ہم کسی دین کو تمہارے دین سے بد تر نہیں سمجھتے ۔ اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں اور انھیں جواب دیا ۔
عیسائی او ریہودی علماء کی گناہ آمیز باتیں اور مالِ حرام
پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبرؐ کو حکم دیتا ہے کہ اہل کتاب سے پوچھئیے اور کہئیے کہ ہم سے کون سا کام سرزد ہواہے کہ ہم تم میں عیب نکالتے ہو اور ہم پرتنقید کرتے ہو، سوائے اس کے کہ ہم خدائے یگانہ پر ایمان لائے ہیں اور جو ہم پر اور گذشتہ انبیاء پر نازل ہوا ہے اس کے سامنے ہم سر تسلیم خم کرتے ہیں ۔( قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ ہَلۡ تَنۡقِمُوۡنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡنَا وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلُ ۙ) ۔(۔”تنقمون“ مادہ ” نقمت“ سے ہے یہ در اصل کسی چیز کا انکار کرنے کے معنی میں ہے چاہے وہ انکار زبان سے ہو یا عمل سے اور سز ادینے کے ذریعے سے ہو)
یہ آیت یہودیوں کی بے محل ضد، ہٹ دھرمی اور تعصبات کے ایک پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔ وہ لوگ اپنے اور اپنے تحریف شدہ دین کے خلاف کسی کی کچھ وقعت کے قائل نہیں تھے اور ا سی شدید تعصب کی بنا پر حق ان کی نظر میں باطل اور باطل ان کی نگاہ میں حق بن چکا ہے ۔ آیت کے آخر میں ایک جملہ جو در حقیقت پہلے جملے کی علت اور سبب ہے ۔ اس میں کہا گیا ہے : اگر تم توحید ِ خالص او رتمام آسمانی کتب کے سامنے سر تسلیم خم کرنے پر ہم اعتراض کرتے ہوتو اس کی وجہ یہ ہے کہ تم میں سے اکثر فسق اور گناہ سے آلودہ ہو چکے ہیں اور اگر کچھ لوگ پاکیزگی اور حق کا راستہ اپناتے ہیں تو یہ تمہاری نظر میں عیب ہے (وَ اَنَّ اَکۡثَرَکُمۡ فٰسِقُوۡنَ) ۔ فسق و گناہ سے آلودہ انسانوں کی کثرت سے تشکیل پانے والے آلودہ ماحول میں اصولی طور پر حق و باطل کا معیار اس قدر دگر گون ہ وجاتا ہے کہ اس میں پاکیزہ عقیدہ اور صالح کو برا سمجھا جانے لگتا ہے اور اسے ہدفِ تنقید بنا یا جا تا ہے اور غلط عقائد و اعمال کو اچھا سمجھا جا تا ہے او رانہیں بنظر تحسین دیکھا جاتا ہے ۔ یہ مسخ شدہ فکر کی خاصیت ہے ۔ جب کوئی گناہ میں ڈوب جاتا ہے اور اس کا عادی ہو جاتا ہے تو اس کی یہی حالت ہو جاتی ہے۔
توجہ رہے کہ پہلے بھی اشارہ کیا جا چکا ہے کہ آیت تمام اہل کتاب پر تنقید نہیں کررہی بلکہ صالح او رنیک اقلیت کا حساب لفظ” اکثر“ استعمال کرکے الگ کردیا گیا ہے ۔ دوسری آیت میں اہل کتاب کے تحریف شدہ عقائد ، غلط اعمال اور جو سزائیں انہیں دامن گیر ہوئیں ان کا موازنہ سچے مومنین اور مسلمین کی حالت و کیفیت سے کیاگیا ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ ان دونوں گروہوں میں سے کو ن سا تنقید اور سر زنش کا مستحق ہے۔ یہ در اصل متعصب او رہٹ دھرم افراد کو متوجہ کرنے کے لیے ایک منطقی جواب ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے ! اے پیغمبر ؐ! ان سے کہہ دو کیا خدا ئے یکتا اور آسمانی کتب پر ایمان لانا باعث ِ سر زنش اور وجہ ِ اعتراض ہے یا پھر خو د ان کے برے اعمال جن کے سبب وہ خدائی سزا وٴں میں گرفتار ہو ئے ہیں ۔انہیں کہہ دو: کیا میں تمھیں ان لوگوں کے بارے میں آگاہ کروں جن جن کا معاملہ بار گاہ الٰہی میں اس سے بد تر ہے (قُلۡ ہَلۡ اُنَبِّئُکُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰلِکَ مَثُوۡبَۃً عِنۡدَ اللّٰہِ) ۔(”مثوبة “اور ”ثواب “ در اصل پہلی حالت کی طرف رجوع کرنے اور پلٹنے کے معنی میں ہے یہ لفظ ہر طرح کی جزا اور سر زنش کے لیے بھی بولا جاتا ہے لیکن زیادہ تر اچھی چیز کے لیے استعمال ہوتاہے بعض اوقات سزا کے معنی میں بھی استعمال ہوتاہے ۔ مندرجہ بالا آیت میں یہ لفظ انجام یا جزا و سزا کے معنی میں ہے) ۔ اس میں شک نہیں کہ خدا تعالیٰ اور آسمانی کتاب پر ایمان لانا کوئی بری بات نہیں ہے ۔ یہ جو زیر نظر آیت میں اس کا موازنہ اہل کتاب کے اعمال و افکار سے کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ” ان میں سے بد تر کون ہے “ در حقیقت ایک کنایہ ہے ، جیسے اگر کوئی ناپاک شخص کسی پاکیزہ انسا ن پر تنقید کرے تو وہ جواب میں کہتا ہے کہ پاکدامن بد تر ہیں یا گناہ سے آلودہ لوگ۔
اس کے بعد اس مطلب کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : وہ لوگ جو اپنے اعمال کی وجہ سے پر وردگار کی آفت اور غضب کا شکار ہو ئے ہیں انہیں بندر اور خنزیر کی شکل میں مسخ کردیا گیا ہے اور وہ کہ جنہوں نے طاغوت اور بت کی پرستش کی ہے یقینا ایسے لوگوں کی دنیا میں حیثیت و مقام اور آخرت میں ٹھکانا بد تر ہوگا اور وہ راہ راست اور جادہٴ مستقیم سے بہت گمراہ ہیں (مَنۡ لَّعَنَہُ اللّٰہُ وَ غَضِبَ عَلَیۡہِ وَ جَعَلَ مِنۡہُمُ الۡقِرَدَۃَ وَ الۡخَنَازِیۡرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوۡتَ ؕ اُولٰٓئِکَ شَرٌّ مَّکَانًا وَّ اَضَلُّ عَنۡ سَوَآءِ السَّبِیۡلِ) ۔ سواء “ لغت میں مساوات ، اعتدال اور برابری کے معنی میں ہے اور یہ جو آیت ِ بالا میں جادہ ٴ مستقیم کو سواء السبیل کہا گیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ہر طرف سے برابر ، مساوی او رہموار ہے ۔ اور معتدل ، منظم اور انحراف سے خالی روش اور طریقے کو سیدھا راستہ کہا جاتا ہے ۔ ضمناً توجہ رہے کہ ” عبد الطاغوت“ کا عطف ” من لعنہ اللہ “ اور ” عبد“ فعل ماضی ہے اور عبد کی جمع نہیں ہے جیسا کہ بعض نے احتمال ظاہر کیا ہے ۔ اور اہل کتاب کی طرف طاغوت کی پرستش کی نسبت یہودیوں کی گوسالہ پرستی کی طرف اشارہ ہے یا منحرف اور کجرو پیشوا وٴں کے سامنے بے چون و چرا سر تسلیم خم کرنے کی طرف اشارہ ہے )۔ مسخ اور بعض انسانوں کے چہروں کے متغیر ہونے کے بارے میں او ریہ مسخ سے مراد جسمانی چہرے کا تغیر ہے یا فکری و اخلاقی چہرے کی تبدیلی ، اس سلسلے میں انشاء سورہٴ اعراف آیہ ۱۶۳ کے ذیل میں تفصیلی گفتگو کی جائے گی ۔ ۶۱
اور وہ جب تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں لیکن وہ کفر کے ساتھ داخل ہوتے ہیں اور کفر کے ساتھ ہی نکل جاتے ہیں اور جو کچھ وہ چھپائے ہوئے ہیں خدا اس سے آ گاہ ہے۔
(عیسائی اور یہودی علماء) انہیں گناہ آمیز باتوں اور مال حرام کھانے سے کیوں منع نہیں کرتے کس قدر برا ہے وہ عمل جو وہ انجام دیتے ہیں
اور یہودی کہتے ہیں کہ خدا کا ہاتھ تو زنجیرسے بندھا ہو اہے ۔
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
پہلی آیت میں اہل کتاب منافقین کے بارے میں بحث مکمل کرتے ہوئے اور ان کے چہروں سے نفاق کے پردے ہٹا تے ہوئے مسلمانو ں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ : جس وقت وہ تمھارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں لیکن کفر سے معمور دل کے ساتھ آتے ہیں اور اسی حالت میں تمہارے پا سے اٹھ جاتے ہیں اور منطقی استدلال اور تمہاری باتیں ان کے دل پر کچھ اثر نہیں کرتیں وَ اِذَا جَآءُوۡکُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا وَ قَدۡ دَّخَلُوۡا بِالۡکُفۡرِ وَ ہُمۡ قَدۡ خَرَجُوۡا بِہٖ) ۔ لہٰذا وہ ظاہر اً حمایت حق میں باتیں کرتے ہیں ، اظہار ایمان کرتے ہیں اور تمہاری باتوں کی ریا کارانہ پذیرائی کرتے ہیں ، اس سے تمہیں دھوکا نہ ہو ۔ آیت کے آخر میں انھیں خطرے سے آگاہ کرتا ہے کہ ان تمام پر دہ پوشیوں کے باجود جو کچھ تم چھپاتے ہو خدا اس سے آگاہ اور با خبر ہے (وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا کَانُوۡا یَکۡتُمُوۡنَ) ۔
بعد والی آیت میں ان کے نفاق کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں ۔ ارشاد ہوتا ہے : تم ان میں سے بہت سوں کو دیکھو کے کہ گناہ ، ظلم اور حرام خوری کی راہ میں ایک دوسرے پر سبقت کرتے ہیں (وَ تَرٰی کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ یُسَارِعُوۡنَ فِی الۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ وَ اَکۡلِہِمُ السُّحۡتَ ؕ) ۔
(”سحت“ کے معنی کے بارے میں اس سورہ کی آیہ ۴۲ کے ذیل میں ” یسارعون“ کے بارے میں اسی سورہ کی آیہ ۴۱ کے ذیل میں اور ” اثم “ کے متعلق سورہ بقرہ آیہ ۲۱۹ کے ذیل میں جلد دوم میں بحث کی جاچکی ہے ۔) یعنی گناہ اور ظلم کے راستے میں یوں قدم بڑھا تے ہیں گویا باعث ِ فخر اہداف کی طرف بڑھ رہے ہیں اور بغیر کسی شرم کے کوشش کرتے ہیں کہ ایک دوسرے پر سبقت لے جائیں ۔
توجہ رہے کہ لفظ” اثم “ کفر کے معنی میں بھی آیا ہے او رہر قسم کے گناہ کے مفہوم میں بھی آیا ہے ۔ لیکن یہاں ” عدوان “ کے مقابلے میں آیا ہے۔ لہٰذا بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیا ن کیا ہے : ایسے گناہ جن کا نقصان صرف کرنے والے ہی کو پہنچے بخلاف” عدوان “ کے جس کا نقصان دوسروں کو پہنچتا ہے ۔
یہ احتمال بھی بیان کیا گیا ہے کہ ” عدوان“ کا ذکر ” اثم “ کے بعد اصلاح کے مطابق خا ص کے بعد عام کاذکر ہے اور ان کے بعد حرام کھانے کا تذکرہ ” ذکر اخص“ کے طور پر ہے ۔ اس طرح پہلے تو ان کی ہر قسم کے گناہ کی بنا ء پر مذمت کی گئی ہے اس کے بعد اہمیت کی وجہ سے دو عظیم گناہوں کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ یعنی ایک ظلم و ستم اور دوسرا حرام خوری چاہے وہ رشوت کی صورت میں ہو یا کسی اور صورت میں ۔ مختصریہ کہ قرآن اہل کتاب کے ان منافق افراد کو آشکار کرتا ہے اور ان کی مذمت کرتا ہے جو بڑی لا پر واہی سے ہر طرح کا گناہ سرانجام دیتے ہیں ، خصوصاً ظلم و ستم کرتے ہیں اور بالخصوص نا جائز مال کھاتے ہیں مثلاً رشوت اور سود کھاتے ہیں ۔ آیت کے آخر میں ان کے اعمال کی برائی تاکیداً ظاہرکرنے کے لیے فرمایا گیا ہے : یہ لوگ کیسا برا قبیح عمل انجام دیتے ہیں (لَبِئۡسَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ) ۔ ” کانو ا یعملون “ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان اعمال کو وہ اتفاقیہ نہیں بجا لاتے بلکہ وہ ان پرڈٹے رہتے ہیں او ربار بار ان کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
تیسری آیت میں ان کا علماء پر حملہ کیا گیا ہے جو اپنی خاموشی کے ذریعے انھیں گناہ کا شوق دلاتے تھے ،ارشاد ہوتاہے : عیسائی اور یہودی علماء انھیں گناہ آلودہ باتوں اور حرام خوری سے کیوں نہیں روکتے(لَوۡ لَا یَنۡہٰہُمُ الرَّبّٰنِیُّوۡنَ وَ الۡاَحۡبَارُ عَنۡ قَوۡلِہِمُ الۡاِثۡمَ وَ اَکۡلِہِمُ السُّحۡتَ ؕ لَبِئۡسَ) ۔
جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے ” ربانیوں “ ربانی “ کی جمع ہے اور یہ لفظ”رب “ سے لیا گیا ہے اس کا مطلب ہے ایسے علماء جو لوگوں کی خدا کی طرف دعوت دیتے ہیں ، لیکن زیادہ تر یہ لفظ عیسائی مذہبی علماء کے لیے استعمال ہوتا ہے ” احبار“ ” حبر “ ( بر وزن ” ابر “ کی جمع ہے ۔ اس کا مطلب ہے ایسے علماء جو معاشرے پر اچھا اثر مرتب کریں ، لیکن زیادہ تر یہ لفظ یہودی مذہبی علماء کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ ضمناً سوال پیدا ہوتا ہے کہ گذشتہ آیت میں لفظ” عدوان “ تھا لیکن اس آیت میں نہیں ہے ، بعض نے اس سے یہ سمجھا ہے کہ ” اثم “ایسا وسیع مفہوم جس میں ”عدوان “ بھی داخل ہے ۔
اس آیت میں گذشتہ آیت کے بر خلاف ” قولھم الاثم “ آیا ہے ۔ یہ تعبیر ممکن ہے اس طرف اشارہ ہو کہ علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو آلودہ باتوں سے بھی روکیں اور اعمال گناہ ۔ یا پھر قول یہاں اعتقاد کے معنی میں ہے یعنی علماء ایک فاسد معاشرے کی اصلاح کے لیے پہلے ان کے غلط افکار اور عقائد کی اصلاح کریں کیونکہ جب تک افکار نظر یات میں انقلاب نہیں آتا ہے یہ توقع نہیں کیا جاسکتی ہے کہ ان کے عمل میں کوئی گہری اصلاح ہو سکے۔ اس طرح سے آیت فاسد اور برے معاشرے کی اصلاح کے لیے علماء کو نشاندہی کرتی ہے کہ کام فکری انقلاب سے شروع کیا جائے۔ جیسے اصلی گناہ گاروں کی مذمت کی گئی ہے آیت کے آخر میں خاموش رہنے والے اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر ترک کر دینے والے علماء کی بھی مذمت کی گئی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : کتنا برا ہے وہ کام جو یہ انجام دیتے ہیں (لَبِئۡسَ مَا کَانُوۡا یَصۡنَعُوۡنَ) ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جو لوگ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی عظیم ذمہ داری کو پورا نہیں کرتے خا ص طو رپر علماء اور دانشمندان کا انجام بھی اصلی گناہ گاروں کا سا ہو گا ۔ در حقیقت یہ لوگ ان کے جرم میں شریک شمار ہو ں گے ۔
مشہورمفسرابن عباس سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں : اپنی ذمہ داریوں کی پیمان نہ کرنے والے اور خاموش رہنے والے علماء کی مذمت میں یہ سخت ترین آیت ہے ۔ واضح ہے کہ یہ حکم خاموش رہنے والے یہودی اور عیسائی علماء سے مخصوص نہیں ہے بلکہ ان تمام صاحبان ِ فکر و نظر ، راہبروں او رعلماء کے بارے میں ہے جو لوگوں کو گناہ سے آلودہ ہوتا دیکھیں اور انھیں ظلم و ستم کی راہ پر تیز گام پائیں او رخاموش بیٹھے رہیں ، کیونکہ خدا کا حکم تو سب کے لیے برابر ہے ۔ امیر المومنین حضرت علی (علیه السلام) نے اپنے ایک خطبے میں ارشاد فرمایا : گذشتہ قومیں اس بناء پر ہلاک او رنابود ہو گئیں کہ وہ گناہ کی مرتکب ہوتی تھیں اور ان کے علماء سکوت اختیارکرلیتے تھے اور نہی عن المنکر نہیں کرتے تھے ۔ اس حالت میں ان پر خدا کا عذاب ، سزائیں اور مصیبتیں نازل ہوتی تھیں ۔ پس اے لوگو! تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کیا کرو تاکہ تمہارا بھی وہی انجام نہ ہو۔ ( بحوالہ نور الثقلین جلد ۱ ص ۶۴۹)
یہی مضمون نہج البلاغہ کے خطبہ قاصعہ( خطبہ ۱۹۲) میں بھی ہے ، آپ نے فرمایا :
” فان اللہ سبحانہ لم یلعن القراٰن الماضی بین ایدیکم الالترکھم
الامر بالمعروف و النھی عن المنکر فلعن السفھا ء لرکوب المعاصی و الحکماء لترک التناھی “۔
گذشتہ زمانے کے لوگوں کو خدا تعالیٰ نے صرف اس لیے اپنی رحمت سے دور کردیا کہ انھوں نے امر المعروف او رنہی عن المنکر کو ترک کردیا ۔ اس نے عوام کو گناہ کے ارتکاب اور علماء کو نہی عن المنکر ترک کرنے پر اپنی لعنت کا حق دار قرار دیا اور انھیں اپنی رحمت سے دور کردیا ۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ گذشتہ آیت میں عام لوگوں کے بارے میں لفظ ”یعملون “ آیا ہے اور زیر نظر آیت میں علماء کے لیے ” یصنعون“ استعمال ہوا ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ ” یصنعون “ صنع“ کے مادہ سے ہے ۔ اس کا مطلب ہے ایسے کام جو بڑی توجہ او رمہارت سے انجام دئیے جائیں جب کہ ” یعملون “” عمل “کے مادہ سے ہے اور ہر کام کے لیے بولا جاتا ہے اگر نادان لوگ اور عوال برے کام انجام دیتے ہیں تو ان میں سے کچھ نادانی اور بے خبر ی کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں لیکن علماء اور دانشور جو اپنی ذمہ داری پر عمل نہیں کرتے تو واضح ہے کہ وہ جانتے ہوئے اور ماہرانہ طور پر غلط کام انجام دیتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے عالم کے لیے جاہل سے زیادہ سخت سزا ہے ۔
اور یہودی کہتے ہیں کہ خدا کا ہاتھ تو زنجیر سے بندھا ہوا ہے انہی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور وہ اس بات کی وجہ سے رحمت الٰہی سے دور ہیں جبکہ اس (کی قدرت) کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں وہ جس طرح سے چاہے (بخشتا اور) خرچ کرتا ہے اور یہ آیات جو تجھ پر تیرے پروردگار کی نازل ہوئی ہیں ان میں سے بہت سوں کے طغیان اور کفر کو بڑھا دیتی ہیں اور ان کے درمیان ہم نے قیامت تک کے لئے دشمنی اور عداوت ڈال دی ہے اور جب بھی انہوں نے جنگ کی آگ روشن کی خدا نے اسے خاموش کر دیا اور وہ زمین میں فساد کے لئے کوشاں رہتے ہیں اور خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔
اور اگر اہل کتاب ایمان لائے اور انھوں نے تقویٰ اختیار کیا تو
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
اس آیت میں یہودیوں کی ناروا اور گناہ آلودہ باتوں کی ایک مثال کی گئی ہے کہ جب کہ گذشتہ آیت میں کلی طو ر پر ان کی ایسی باتوں کی طرف اشارہ کیا گیا تھا ۔ اس کی وضاحت کچھ اس طرح ہے کہ تاریخ نشاندہی کرتی ہے کہ یہودی ایک زمانے میں اوج قدرت میں تھے ۔ اس وقت کم اہم آباد دنیا کے ایک حصے پر ان کی حکومت تھی ۔ حضرت داوٴد علیہ السلام اور حضرت سلیمان بن داوٴد (علیه السلام) کے زمانے کو بطور نمونہ پیش کیا جاسکتا ہے ۔ بعد میں بھی زور و شور سے ان کی قدرت و طاقت موجود رہی لیکن ظہورِ اسلام کے ساتھ ہی خصوصاً حجاز میں ان کی قدرت کا آفتاب ڈوب گیا ۔ بنی نضیر ، بنی قریظہ اور خیبر کے یہودیوں سے پیغمبر اکرمؐ کی جنگوں کے باعث وہ انتہائی کمزور ہو گئے ۔ اس موقع پر ان میں سے بعض نے اپنی گذشتہ قدرت و عظمت کو مد نظر رکھتے ہوئے استہزاء اور مذاق کے طور پرکہا کہ خدا کا ہاتھ تو زنجیر سے بندھا ہوا ہے اور وہ ہم پر بخشش و نوازش نہیں کرتا( بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ بات کہنے والا فخاس بن عازذورا تھا جوبنی قینقاع کا سر دار تھا او ربعض نے نباش بن قیس کا نام لکھا ہے ) چونکہ دوسرے بھی اس کی گفتگو سے راضی تھے لہٰذا قرآن نے اس بات کی ان سب کی طرف نسبت دی ہے اور فرمایا ہے یہودیوں نے کہا کہ خدا کا ہاتھ زنجیر سے بندھا ہو اہے (وَ قَالَتِ الۡیَہُوۡدُ یَدُ اللّٰہِ مَغۡلُوۡلَۃٌ ) ۔ توجہ رہے کہ ”ید “ عربی زبان میں کئی معانی میں استعمال ہوتا ہے ۔ اس کا ایک معنی ” ہاتھ “ ہے ۔ دوسرا” نعمت “ ، تیسرا ” قدرت“ چوتھا”سلطنت و حکومت “اور پانچواں ” تسلط“ ہے ۔ البتہ اس کا حقیقی معنی ” ہاتھ “ ہی ہے او رچونکہ انسان اہم ترین کام ہاتھ سے انجام دیتا ہے لہٰذا یہ لفظ کنایہ کے طور پر دوسرے معانی بھی استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فارسی میں ” دست “بھی اسی طرح مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ طریق اہل بیت ؑسے مروی بعض روایات میں ہے کہ یہ بات یہودیوں کے مسئلہ قضا و قدر اور سر نوشت و تفویض کے بارے میں عقیدے کی طرف اشارہ ہے ، ان کا نظر یہ تھا کہ ابتدائے خلق میں خدا نے تمام امور کا تعین کردیا ہے اور جسے انجام پانا چاہے وہ گویا انجام پا چکا ہے اور خدا بھی اس میں تبدیلی نہیں کرسکتا ۔ ۱ البتہ آیت میں ” بل یداہ مبسوطتان “ بھی ہے جیسا کہ آگے آئے گا ، یہ عبارت پہلے معنی کی تائید کرتی ہے ، البتہ دوسرا معنی بھی پہلے معنی کی طرف ہی ایک راستہ ہے کیونکہ جب ان کی زندگی درہم بر ہم ہو گئی اور ان کے اقبال کا ستارہ ڈوب گیا تو ان کا خیال تھا کہ یہ ان کی تقدیر میں تھا جسے بدلا نہیں جاسکتا کیونکہ یہ انجام تو شروع سے معین ہو چکا ہے اور عملی طور پر خدا کا ہاتھ بند ہوا ہے ۔ خدا تعالیٰ ان کے جواب میں پہلے تو اس عقیدے کی مذمت کرتا ہے ، فرما یا گیا ہے : ان کے ہاتھ زنجیر سے بندھے ہوں اور اس ناروا بات کی وجہ سے وہ رحمت سے دور ہوں (غُلَّتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ لُعِنُوۡا بِمَا قَالُوۡا ) ۔
اس کے بعد اس غلط عقیدے کے بطلان کےلیے ارشاد ہوتا ہے : خدا کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں وہ جس طرح چاہتا ہے اور جس پر چاہتاہے لطف و عنایت کرتا ہے (بَلۡ یَدٰہُ مَبۡسُوۡطَتٰنِ ۙ یُنۡفِقُ کَیۡفَ یَشَآءُ ) ۔اس کام میں کوئی مجبوری نہ ہو وہ عوامل ِطبعی و فطری کے جبر کا محکوم ہے اور نہ وہ جبر تاریخی کاپابندہے بلکہ اس کا رادہ ہر چیز سے بالاتر اور ہر چیز میں نافذ ہے ۔
یہ امر قابل توجہ ہے کہ یہودیوں نے لفظ ” ید “ مفرد استعمال کیا ہے لیکن خدا نے ” ید “ کو تثنیہ کے طور پر استعمال کیا ہے ، فرماتا ہے : اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں ۔ یہ دراصل تاکید ِ مطلب بھی ہے اور خدا تعالیٰ کے انتہائی جود بخشش کے لیے لطیف کنایہ بھی ۔ کیونکہ جو ذات زیادہ سخی ہو دونوں ہاتھ بخشش کرتی ہے ۔ علاوہ ازیں دو ہاتھوں کا ذکر قدرت ِ کاملہ کے لیے بھی کنایہ ہو سکتا ہے اور شاید یہ مادی و معنوی یا دینوی و اخروی نعمتوں کی طرف بھی اشارہ ہو۔
پھر ارشاد ہوتا ہے : یہاں تک کہ ان کی گفتار اور عقائد سے پر دہ کشائی کرنے والی یہ آیات ان پر مثبت اثر مرتب کرنے کی بجائے اور انہیں غلط راستے سے باز رکھنے کی بجائے ان میں سے بہت سوں کو ہٹ دھرمی کے چکر میں ڈال دیتی ہیں اور ان کا طغیان و کفر مزید بڑھ جاتا ہے وَ لَیَزِیۡدَنَّ کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ مَّاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ طُغۡیَانًا وَّ کُفۡرًاؕ) ۔
”عداوت“ اور ” بغضاء “ سے یہا ں کیا مراد ہے ، اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے لیکن اگر ہم یہودیوں کی موجودہ صورتِ حال سے قطع نظر کرلیں اور تاریخ میں ان کی در بدر اور پراگندی کی زندگی کو ملحوظ ِ نظر رکھیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ اس خاص تاریخی کیفیت کا ایک اہم عامل ان میں اتحاد، عزم اور ارادے کی پختگی کا فقدان تھا کیونکہ اگر ان میں اتحاد اور عزم صمیم ہوتا تو اتنی طویل تاریخ میں وہ اس طرح سے در بدر ، منتشر او ربدبخت نہ رہتے۔ اسی سورہ کی آیہ ۱۴ کے ذیل میں اہل کتاب کے درمیان دائمی عداوت و دشمنی کے مسئلہ پر ہم نے مزید ضاحت کی ہے ۔ آیت کے آخر میں آتش ِ جنگ بھڑ کانے کےلیے یہودیوں کی کوششوں اور خدا کی طرف سے مسلمانوں کو اس نابود کرنے والی آگ سے رہائی اور لطف و رکم کے بارے میں اشارہ ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : جب انھوں نے آتشِ جنگ بھڑ کائی تو خدا نے اسے خاموش کردیا اور تمھیں اس سے محفوظ رکھا (وَ اَلۡقَیۡنَا بَیۡنَہُمُ الۡعَدَاوَۃَ وَ الۡبَغۡضَآءَ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ؕ کُلَّمَاۤ اَوۡقَدُوۡا نَارًا لِّلۡحَرۡبِ اَطۡفَاَہَا اللّٰہُ ) ۔
یہ حقیقت میں پیغمبر اسلامؐ کی پر دعا اعجاز زندگی کا ایک نکتہ ہے ۔ کیونک یہودی حجاز کے تمام لوگوں کی نسبت زیادہ طاقتور او رجنگی امور سے زیادہ آشنا تھے ۔ ان کے پاس نہایت محکم قلعے تھے ۔ علاوہ ازیں ان کے پاس مالی وسائل بھی بہت تھے جن سے وہ جنگوں میں کام لیتے تھے ۔ یہاں تک کہ قریش ان کی مدد حاصل کرنے میں کوشش کرتے تھے ۔ اوس و خزرج میں سے ہر قبیلہ ان سے پیمان دوستی اور جنگی معاہدے کی کوشش کرتا تھا ۔ اس کے باوجود ان کی طاقت کا زعم اس طرح ٹوٹا کہ کوئی اس کے بارے میں سوچ بھی نہ سکتا تھا ۔ بنی نضٰیر ، بنی قریظہ او ربنی قینقا ع کے یہودی خاص حالات کی وجہ سے جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے خیبر کے قلعوں میں رہنے والے اور فدک یہودیوں نے ہتھیار ڈال دیے ۔ یہاں تک کہ حجاز کے بیابانوں میں رہنے والے یہودیوں نے بھی عظمت اسلام کے سامنے گھٹنے ٹیک دئے ۔ نہ صرف یہ کہ وہ مشرکین کی مدد نہ کر سکے بلکہ خود بھی مقابلے سے کنارہ کش ہو گئے ۔ قرآن مزید کہتا ہے : وہ ہمیشہ روئے زمین میں فتنہ فساد کے بیج بونے کی کوشش کرتے ہیں (وَ یَسۡعَوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ فَسَادًا ؕ) ۔ جب کہ خدا فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ (وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ الۡمُفۡسِدِیۡن) ۔
اس بنا پر قرآن ان پر بھی کبھی نسلی اور خاندانی حولاے سے کوئی اعتراض نہیں کرتا بلکہ قرآن کی تنقید اور سر زنش کا معیار او رنمونہ وہ اعمال ہیں جو ہر شخص اور گروہ انجام دیتا ہے ۔ بعد کی آیات میں ہم دیکھیں گے کہ ان تمام چیزوں کے باوجود قرآن نے ان کے لیے راہ ِ حق کی طرف لوٹ آنے کی راہ کھلی رکھی ہے ۔
اور اگر وہ تورات ‘ انجیل اور جو کچھ ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے (قرآن کی صورت) میں نازل ہوا ہے اسے قائم رکھیں تو آسمان اور زمین سے رزق کھائیں گے ان میں سے کچھ لوگ میانہ روہیں لیکن ان میں سے اکثر برے اعمال انجام دیتے ہیں۔
وما انزل الیھم من ربھم “ سے مراد تمام آسمانی کتب اور خدائی احکام ہیں `
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ آیات میں اہل کتاب کے طور طریقوں اور طرز عمل پر تنقید کی گئی ہے ۔ اب ان دو آیا ت میں تربیتی اصول کے مطابق خدا تعالیٰ اہل کتاب میں سے منحر فین کو راہ ِ راست پر لانے ، انھیں حقیقی راستے کی نشاندہی کرنے اور ان میں سے اقلیت جو ان کے غلب افعال میں ہم قدم نہ تھی کی تعریف کرنے کے لیے کہتا ہے : اگر اہل کتاب ایمان لے آئیں اور تقویٰ اختیار کرلیں تو ہم ان کے گذشتہ گناہوں پر پر دہ ڈال دیں گے اور ان سے صرف ِ نظر کرلیں گے ۔ (وَ لَوۡ اَنَّ اَہۡلَ الۡکِتٰبِ اٰمَنُوۡا وَ اتَّقَوۡا لَکَفَّرۡنَا عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ) ۔نہ صرف ان کے گناہ بخش دیں گے بلکہ انھیں طرح طرح کی نعمتوں سے پرباغات ِ جنت میں داخل کریں گے (وَ لَاَدۡخَلۡنٰہُمۡ جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ) ۔یہ تو معنوی او راخروی نعمتوں کے بارے میں ہے ۔ اس کے بعد ایمان و تقویٰ کے گہرے اثر حتی مادی زندگی میں اس کے اثر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : اگر وہ تورات اور انجیل کو قائم رکھیں اور زندگی کے دستور العمل کے طور پر انھیں اپنی آنکھوں کے سامنے رکھیں او رجو کچھ پر ور دگار کی طرف سے ان پر نازل ہوا ہے اس سب پر عمل کریں چاہے وہ گذشتہ آسمانی کتب ہوں یا قرآن اور ان میں تفریق و تعصب کر راہ نہ دیں تو آسمان و زمین کی نعمتیں انھیں گھیر لیں گی(وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ اَقَامُوا التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِمۡ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ لَاَکَلُوۡا مِنۡ فَوۡقِہِمۡ وَ مِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِہِمۡ) ۔
اس میں شک نہیں کہ تورات اور انجیل کو قائم اور بر پا رکھنے سے مراد ان کا وہ حقیقی حصہ ہے جو اس زمانے میں ان کے پاس موجود تھا نہ ان کے تحریف شدہ حصے جو کم و بیش قرائن سے پہنچا نے جاتے تھے اور ” وما انزل الیھم من ربھم “ _________سے مراد تمام آسمانی کتب اور خدائی احکام ہیں کیونکہ یہ جملہ مطلق ہے اور در حقیقت اس طرف اشارہ ہے کہ قومی تعصبات کو دینی او رالٰہی مسائل کے ساتھ نہیں ملانا چاہےئے ۔ یہاں عربوں اور یہودیوں کی آسمانی کتب کی بات نہیں ۔ اصل بات تو خدا ئی احکام کی ہے ۔ یہ کہہ کر قرآن چاہتا ہے کہ جس قدر ہو سکے ان کے تعصب کو کم کیا جائے اور ان کے قلب و روح کی گہرائیوں میں بات اثر کرسکے۔ اسی لیے تمام ضمیریں انھیں کی طرف لوٹتی ہیں (الیھم ، من ربھم ، من فوقھم ، من تحت ارجلھم )یہ سب کچھ اس بنا پر ہے کہ تاکہ وہ ہٹ دھرمی کی سواری اتر پڑیں اور یہ تصور نہ کریں کہ قرآن کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یہودیوں نے عربوں کے سامنے سر جھا دیا بلکہ اس کا مطلب تو خدائے عظیم کے سامنے جھکانا ہے ۔
اس میں شک نہیں کہ تورات و انجیل کے احکام کو قائم، کرنے سے مراد ان کے اصول پر عمل کرنا ہے کیونکہ جیسے ہم بار ہا کہہ چکے ہیں کہ تعلیمات ِ انبیاء کے اصول تمام جگہ ایک جیسے ہیں اور ان کے درمیان صرف کامل و اکمل کا فرق ہے او ریہ بات اس کے منافی نہیں کہ گذشتہ دین کے بعض احکام بعد والے دین کے بعض احکام کے ذریعے منسوخ ہو جا ئیں ۔
مختصر یہ کہ مندرجہ بالا آیت ایک مرتبہ پھر اس بات پر زور د ے رہی ہے کہ آسمانی تعلیمات کی پیروری صرف بعد از موت کی زندگی کے اسباب مہیا کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ انسانوں کی تمام مادی زندگی کے لیے بھی مفید ہے ۔ یہ پیروی جماعتوں او رگروہوں کی صفوں کو منظم کرتی ہے ، توانائیوں کومجتمع کرتی ہے ،نعمتوں کو با بر کت کرتی ہے ، وسائل کو وسعت دیتی ہے ، زندگی کو خوش حال بناتی ہے اور امن و امان میں پیدا کرتی ہے ۔
ان عظیم مادی مسائل او ر فراوان انسانی توانائیوں پر ایک نظر ڈالی جائے کہ جو آج کی دنیا ئے انسانیت میں تعلیمات ِ انبیاء سے انحراف کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں تو ہم دیکھیں گے کہ سب تباہ کن ہتھیار وں ، بے سبب کشمکشوں اور ویران کن مساعی پر صرف ہورہی ہیں ۔آج دنیا کی جتنی دولت اور وسائل دنیا کی تباہی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں وہ اصلاح و فلاح کے لیے استعمال ہونے والے مسائل سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ۔ آج کس قدر دماغی صلاحتیں جو جنگی ہتھیاروں کی تیاری اور استعماری و سامراجی مقاصد کے لیے استعمال ہورہی ہیں ۔ جو وسائل و ذرائع ، صلاحتیں ، اور توانائیاں فضول اور بے کار صرف ہورہی ہیں ان کی نوع ِ انسانی کس قدر ضرورت مند اور محتاج ہے ۔ یہ سب نہ ہوتا تو دنیا آج خو ب صورت ، زیبا او ررہنے کے قابل ہو تی ۔
ضمنی طور پر توجہ رہے کہ ” من فوقھم “ اور ” من تحت ارجلھم “ سے مراد یہ ہے کہ آسمان و زمین کی تمام نعمتیں انھیں گھیر لیں گی ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ یہ اس بات کے لیے کنایہ ہو کہ یہ نعمات عمومیت رکھتی ہیں ۔ جیسا کہ عربی اور غیر عربی ادب میں کہا جاتا ہے کہ ” فلان شخص سر تا پا نعمتوں میں ڈوبا ہو اہے “ یعنی ہر طرف سے نعمتیں اسے گھیرے ہوئے ہیں ۔ یہ آیت یہودیوں کی اس گفتگو کا جواب بھی ہے کہ جو گذشتہ آیات میں ہم بڑھ چکے ہیں ۔ یعنی اگر تم دیکھتے ہوکہ خد اکی نعمتیں تم سے منقطع ہو چکی ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ ذات مقدس ِ خدا میں بخل آگیا ہے ۔ او راس کا ہاتھ بندھا ہوا ہے ، بلکہ یہ تو تمہارے اعمال ہی ہیں جو تمہاری مادی او رمعنوی زندگی میں منعکس ہو ئے ہیں او رتمہارے اعمال ہی نے تمہاری ہر طرح کی زندگی کو تاریک کردیا ہے اور جب تک تم نہیں پلٹو گے یہ تاریکیاں بھی نہیں پلٹیں گی ۔ آیت کے آخر میں ان میں سے ایک نیک اقلیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے : اگر چہ ان میں سے زیادہ تر تو بد کار ہی ہیں لیکن پھر بھی کچھ میانہ رو اور معتدل افراد ان میں موجود ہیں ( جن کا معاملہ خد اکے نزدیک اور مخلوق خدا کے نزدیک دوسروں سے مختلف ہے مِنۡہُمۡ اُمَّۃٌ مُّقۡتَصِدَۃٌ ؕ وَ کَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ سَآءَ مَا یَعۡمَلُوۡنَ) ۔ اہل کتاب میں سے نیک اور صالح اقلیت کے بارے میں سورہ ٴ اعراف آیہ ۱۵۹ اور ۱۸۱ اور سورہ ٴ آل ِ عمران آیہ ۷۵ میں بھی ایسی تعبیر دکھائی دیتی ہے ۔
اے پیغمبر جو کچھ تیرے پروردگار کی طرف سے تجھ پر نازل ہوا ہے اسے کامل طور سے لوگوں تک پہنچا دو اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو گویا تم نے اس کا کوئی کار رسالت سر انجام ہی نہیں دیا اور خداوند تعالیٰ تمہیں لوگوں کے ان تمام خطرات سے جن کا احتمال ہے محفوظ رکھے گا اور خداوند تعالیٰ ہٹ دھرم کفار کی ہدایت نہیں کرتا۔
انتخابِ جانشین پیغمبر ہی آخری کار رسالت تھا
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
انتخابِ جانشین پیغمبر ہی آخری کار ِ رسالت تھا اس آیت کا ایک مخصوص لب ولہجہ ہے جو اسے اس سے پہلی آیات اور اس کے بعد کی آیات سے ممتاز کرتا ہے ۔ اس آیت میں روئے سخن صرف پیغمبر کی طرف ہے اور یہ آیت صرف انہی کی ذمہ داری کو بیان کرتی ہے ۔ یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ اے پیغمبر! سے اس آیت کی ابتدا ہورہی ہے اور یہ آیت صراحت اور تاکید کے ساتھ پیغمبرؐ کو حکم دے رہی ہے کہ جو کچھ اُ ن پر اُن کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے اُسے لوگوں تک پہنچادیں۔ (بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ )حافظ ابو نعیم اصفہانی نے اپنی کتاب ”مانزل من القرآن فی علی“ میں بحوا لہ خصائص ص/۲۹ یہ روایت درج کی ہے ۔)اس کے بعد (اس حکم کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے) تاکید مزید کے طور پر اس خطرے سے متنبّہ کرتا ہے کہ اگر تم نے یہ کام نہ کیا (حالانکہ وہ ہرگز اس کام کی سرانجام دہی کو ترک نہ کرتے ) تویہ ایسا ہوگا گویا تم نے (کوئی) کار رسالت سرانجام ہی نہیں دیا " وَ اِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسَالَتَہٗ ۔ اس کے بعد پیغمبر اکرمؐ کے اضطراب وپریشانی کو دور کرنے کے لیے انھیں تسلی دیتے ہوئے کہتا ہے: اس رسالت اور پیغام کی ادائیگی کے بارے میں تجھے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ خدا تمھیں اُن خطرات سے محفوظ رکھے گا< وَ اللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ۔ اور آیت کے آخر میں اُن لوگوں سے جو اس مخصوص پیغام کا انکار کریں اور اس کے خلاف ہٹ دھرمی کرتے ہوئے کفر اختیار کرلیں ایک تہدید اور سزا کے عنوان سے یوں کہتا ہے: خدا ہٹ دھرمی کرنے والے کافروں کو ہدایت نہیں کرتا < اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡکٰفِرِیۡنَ ۔ آیت کے جملوں کی بندش، اس کا مخصوص لب ولہجہ اور اس میں پے در پے تاکیدوں پر تاکیدیں اور آیت کا ”یا ایہا الرسل“ سے شروع ہونا جو تمام قرآن مجید میں صرف دو مقام پر ہے اور اس حکم کی تعمیل اور اس رسالت کی تبلیغ نہ کرنے کی صورت میں پیغمبر کو یہ تہدید کہ اگر تم نے اس حکم کے پہنچانے میں کوتاہی کی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم نے کوئی رسالت سرانجام ہی نہیں دیا جو قرآن میں صرف اسی آیت میں ہے، اسی بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ گفتگو کسی ایسے اہم امر کے متعلق ہورہی ہے کہ جس کی تبلیغ نہ کرنا کوئی بھی کارِ رسالت سرانجام نہ دینے کے برابر ہے ۔ اس کے علاوہ اس سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ یہ موضوع ایسا تھا جس پر شدّت کے ساتھ مخالفت پیدا ہوچکی تھی اور اس موضوع کے مخالفین اتنے سخت تھے کہ اُن کی مخالفت کے پیش نظر پیغمبرؐ بہت ہی پریشان تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس اعلان کو سن کر اسلام اور مسلمانوں کے لیے مشکلات پیدا کردیں اسی لیے خداوندتعالیٰ انھیں تسلی دیتا ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کونسا ایسا اہم مقصد ومطلب تھا جس کے پہنچانے کے لیے خداوندتعالیٰ اپنے پیغمبرؐ کو اتنی تاکید کے ساتھ حکم دے رہا ہے؟ در آں حالیکہ جب ہم اس سورہ کے نزول کی تاریخ پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورہ مسلّماً پیغمبرؐ کی عمر کے آخری دنوں میں نازل ہوئی ہے ۔ کیا یہ توحید اور شرک وبت پرستی سے مربوط مسائل تھے جو برسوں پہلے پیغمبرؐ اور مسلمانوں کے لیے حل ہوچکے تھے؟ یا یہ مسائل احکام شرع اور قوانین اسلام سے متعلق تھے؛ جبکہ اس وقت تک اُن کے اہم ترین مسائل بیان ہوچکے تھے ۔ یا یہ مسائل اہلِ کتاب ویہود ونصاریٰ سے مربوط تھے؛ حالانکہ ہمیں معلوم ہے کہ بنی النضیر، بنی قریضہ اور بنی قینقاع نیز خیبر وفدک اور نصارائے نجران کے واقعہ کے بعد اہلِ کتاب کا کوئی مسئلہ مسلمانوں کے لیے مشکل نہیں سمجھا جاتا تھا ۔ یا اس کا رابطہ منافقین کے ساتھ تھا ؟ در آنحالیکہ ہمیں معلوم ہے کہ فتح مکہ کے بعد جب اسلام کا پورے جزیرے نمائے عرب پر تسلط اور نفوذ ہوگیا تھا تو منافقین کا معاشرے میں کوئی مقام ہی نہیں رہا تھا اور ان کی قوت بالکل ٹوٹ چکی تھی اور ان کے پاس جو کچھ تھا وہ ان کے باطن میں تھا ۔
حقیقتاًاب وہ کونسا اہم مسئلہ تھا جو پیغمبر کی زندگی کے آخری دنوں میں باقی رہ گیا تھا کہ مذکورہ بالا آیات جس کے بارے میں اس قسم کی تاکید کررہی ہے ۔ اس حقیقت میں بھی تردید کی گنجائش نہیں ہے کہ پیغمبرؐ کا اضطراب اور پریشانی اپنی ذات اور اپنے نفس کے لیے نہیں تھی بلکہ مخالفین کی طرف سے ان احتمالی کارشکنیوں اور مخالفین کے بارے میں تھی جن کا نتیجہ مسلمانوں کے لیے خطرات اور نقصانات کی صورت میں نکلتا ۔ تو کیا پیغمبر کے جانشین کے تعین اور اسلام ومسلمین کی آئندہ سرنوشت کے سوا کوئی مسئلہ ایسا ہوسکتا ہے جس میں یہ صفات پائی جاتی ہوں۔ اب ہم اُن مختلف روایات کی طرف لوٹتے ہیں جو اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کی متعدد کتابوں میں آیتِ مذکور بالا کے بارے میں وارد ہوئی ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ ان روایات سے مذکورہ احتمال کے ثابت کرنے میں کہاں تک استفادہ ہوتا ہے ۔ اس کے بعد ہم اُن اعتراضات اور سوالات پر بحث کریں گے جو اس تفسیر کے بارے میں اہل سنت کے بہت سے مفسّرین کی طرف سے ظاہر کیے گئے ہیں ۔ آیت کی شان نزول اگرچہ انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ اس آیت سے مربوط حقائق کسی قسم کی پردہ پوشی کے بغیر تمام مسلمانوں کے ہاتھوں تک نہیں پہنچائے گئے اور پہلے سے کیے گئے اور مذہبی تعصّبات اس کے اظہار سے مانع ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود اہلِ سنت کے علماء کی تحریر کردہ مختلف کتابوں میں خواہ وہ تفسیر کی کتابیں ہوں یاحدیث وتاریخ کی، اُن میں بہت زیادہ روایات ایسی ملتی ہیں جو صراحت کے ساتھ اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں کہ آیت مذکورہ حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔
ان روایات کو بہت سے اصحاب پیغمبر نے نقل کیا ہے ۔ مثلاًز ید ابن ارقم، ابوسعید خُدری، ابن عباس، جابر ابن عبد الله انصاری، ابوہریرہ، برآء ابن عازب، حذیفہ، عامر بن لیلی بن ضرہ اور ابن مسعود۔ یہ سب کے سب اصحاب پیغمبر اس بات پر متفق ہیں کہ آیت مذکور حضرت علی علیہ السلام اور واقعہ غدیر کے متعلق ہی نازل ہوئی ہے ۔ یہ احادیث مذکورہ اصحاب پیغمبر سے مختلف طرق سے، ابوسعید خدری کی بیان کردہ حدیث گیارہ طرق سے، ابن عباس کی بیان کردہ حدیث گیارہ طرق سے اور برآء بن عازب کی بیان کردہ حدیث تین طرق سے نقل کی گئی ہے ۔ جن علماء نے اپنی کتابوں میں ان احادیث کو تصریح کے ساتھ بیان کیا ہے وہ بہت زیادہ ہیں جن میں سے بعض کے نام نمونہ کے طور پر ذکر کررہے ہیں: ۱۔ حافظ ابو نعیم اصفہانی نے اپنی کتاب "ما نزل من القراّں فی علی" میں بحوالہ خصائص ص ۲۹ یہ روایت درج کی ہے۔
۲۔ ابوالحسن واحدی نیشاپوری نے ”اسباب النزول“ ص/۱۵۰ میں ۔ ۳۔ حافظ ابو سعید سجستانی نے کتاب ”الولایہ“ میں کتاب ”طرائف“ کے حوالے سے ۔ ۴ ابن عساکر شافعی نے ”درمنثور“ ج۲/ ص۲۹۰ کے حوالے سے ۔ ۵۔ فخر الدین رازی نے ”تفسیر کبیر“ ،ج۳، ص۶۳۶ میں ۶۔ ابو اسحاق حموینی نے ”فرائد السمطین“ میں ۔ ۷۔ ابن صباغ مالکی نے ”فصول المہمہ“، ص۲۷ پر ۔ ۸ ۔ جلال الدین سیوطی نے ”درّ منثور“، ج۲، ص۲۹۸ میں ۔ ۹ ۔ قاضی شوکانی نے ”فتح القدیر“، ج۳، ص۵۷ میں ۔ ۱۰۔ شہاب الدین آلوسی نے ”روح المعانی“ ج۶، ص۱۷۲ پر ۔ ۱۱۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی نے”بیابیع المودة“ میں ص۱۲۰پر ۔ ۱۲۔ بدرالدین حنفی نے ”عمدة القاری فی شرح البخاری“ ج۸، ص۵۸۶ پر ۔ ۱۳۔ شیخ محمد عبدہ مصری نے تفسیر المنار، ج۶، ص۴۶۳ پر ۔ ۱۴۔ حافظ ابن مردویہ (متوفی ۴۱۶) نے سیوطی کے حوالے سے ۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے علماء اہل سنت نے آیت مذکورہ کی یہی شان نزول بیان کی ہے اس سے یہ اشتباہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ مذکورہ علماء ومفسّرین نے آیت کے حضرت علی علیہ السلام کی شان نزول کو قبول بھی کرلیا ہے بلکہ اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ اُنھوں نے اس مطلب سے مربوط روایات کو اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔ اگرچہ اس معاشرے کے مخصوص حالات کے خوف سے یا پہلے سے کیے ہوئے غلط فیصلے کی بناپر صحیح فیصلہ کرنے میں حائل ہوتی ہے، بعض نے تو یہ کوشش کی ہے کہ جتنا بھی ہوسکے اس کی اہمیت کو گھٹاکر پیش کیا جائے ۔ مثلاً فخرالدین رازی نے جس کا تعصّب مخصوص مذہبی مسائل میں مشہور ومعروف ہے، اس شان نزول کی اہمیت کم کرنے کے لیے اسے آیت کا دسواں احتمال قرار دیا ہے اور دوسرے نو (۹) احتمال جو انتہائی کمزور اور بہت ہی بے ہودہ اور بے وقعت ہیں انھیں پہلے بیان کیا ہے ۔ فخرالدین رازی پر زیادہ تعجب نہیں کیونکہ اس کی تو ہر جگہ یہی روش ہے لیکن تعجب تو اُن روشن فکرلکھنے والوں پر ہوتا ہے جنہوں نے اس آیت کی شان نزول کے بارے میں کہ جس سے مختلف قسم کی کتابیں بھری پڑی ہیں مطقاً کوئی گفتگو ہی نہیں کی یا اِس کو اتنی کم اہمیت دی ہے کہ کسی کی اس طرف توجہ ہی نہ جائے، جیسا کہ سید قطب نے ”فی ظلال“ میں اور رشید رضا نے ”المنار“ میں اس کی شان نزول کو بالکل بیان ہی نہیں کیا ۔ ہمیں نہیں معلوم کہ آیا ان کا ماحول اس حقیقت کو بیان کرنے کی اجازت نہیں دیتا تھا یا تعصب آمیز فکری حجاب اتنا زیادہ تھے کہ روشن فکری کی بجلی کی چمک اُن پَردوں کو ہٹاکر اس حقیقت کی گہرائی تک نہ پہنچ سکی ۔ البتہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنھوں نے اس آیت کی شان نزول کو حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں برملا طور پر تسلیم کیا ہے ۔ لیکن انھوں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ یہ آیت مسئلہ ولایت و خلافت پر ولایت کرتی ہے ہم ان کے اعتراضات اور جوابات انشاء اللہ آگے چل کر بیان کریں گے ۔ بہر حال جیسا کہ ہم اوپر بیان کر آئے ہیں کہ وہ روایات جو اس بارے میں شیعہ کتب ہی میں نہیں بلکہ اہل سنت کی معروف کتابوں میں بھی ہیں اتنی زیادہ ہیں کہ ان کا انکار کیا ہی نہیں جاسکتا اور نہ ہی انھیں آسانی کے ساتھ نظر انداز کیا جاسکتا ہے ۔ ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ قرآن مجید کی دوسری آیات کی شان نزول میں تو ایک دو احادیث پر ہی اِکتفا کر لیا جاتا ہے لیکن اِس آیت کی شان نزول کے بارے میں اتنی کثیر روایات کو بھی کیوں کافی نہیں سمجھا جاتا؟ کیا یہ آیت ایسی خصوصیت رکھتی ہے جو دوسری آیات نہیں رکھتیں؟ اور کیا اس آیت کے سلسلے میں اس سخت رویّے کے متعلق کوئی منطقی دلیل مل سکتی ہے؟ دوسری بات جس کی یاد دہانی اس مقام پر ضروری ہے یہ ہے کہ جو روایات ہم نے اوپر بیان کی ہیں وہ تو صرف وہ تھیں جو اس آیت کے حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہونے کے بارے میں وارد ہوئی ہیں (یعنی وہ روایات تھیں جو اس آیت کی شانِ نزول کے متعلق تھیں) ورنہ وہ روایات جو غدیر خم کے مقام پر پیغمبر اکرم (ص) کے خطبہ پڑھنے اور حضرت علی علیہ السلام کا بطور وصی و ولی کے تعارف کرانے کے بارے میں منقول ہیں وہ تو اُن سے کئی گنا زیادہ ہیں ۔ چنانچہ علامہ امینیۺ نے اپنی کتاب ”الغدیر“کو ۱۱۰ اصحاب پیغمبر سے اور ۸۴ تابعین سے اور ۳۶۰ علماء سے اور مشہور کتب اسلامی سے اسناد و مدارک کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ یہ صورتِ حال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مذکورہ حدیث قطعی ترین متواتر احادیث میں سے ہے اور اگر کوئی شخص ایسی حدیث و روایت کے قطعی و یقینی ہونے میں بھی شک و شبہ کرے تو پھر یہ کہنا پڑے گا کہ وہ کسی بھی متواتر حدیث کو قبول نہیں کرسکتا ۔ ان تمام روایات کے متعلق بحث کرنا جو آیت کی شانِ نزول کے بارے میں وارد ہوئی ہیں اور اسی طرح اُن تمام روایات کے سلسلہ میں گفتگو کرنا جو حدیث غدیر کے متعلق نقل ہوئی ہیں ایک ضخیم کتاب کا محتاج ہے ۔ ان کا تفصیلی بیان ہمیں تفسیر کے دائرے سے خارج کردے گا لہٰذا ہم اسی مقدار پر قناعت کرتے ہیں اور ان اشخاص کو جو اس سلسلہ میں مزید مطالعہ کرنا چاہتے ہیں یہ دعوت دیتے ہیں کہ وہ سیوطی کی ”درمنثور“، علامہۺ کی ”الغدیر“، نور اللہ شوستری کی ”احقاق الحق“، شرف الدین کی ”المراجعات“ اور محمد حسن مظفر کی ”دلائل الصدق“ جیسی کتابوں کی طرف رجوع کرے ۔ ۱۔ لفظ ”بلّغ“ جیسا کہ راغب اصفہانی نے مفردات میں لکھا ہے ”ابلغ“ کی نسبت زیادہ تاکید ظاہر کرتا ہے ۔
واقعہ غدیر کا خلاصہ
بہت سی روایات جو اس سلسلے میں وارد ہوئی ہیں باوجودیکہ سب کی سب ایک ہی واقعہ کے گرد گھومتی ہیں پھر بھی طرح طرح کی تعبیرات کی حامل ہیں ۔ بعض روایات بہت مفصل اور طویل ہیں، بعض مختصر لیکن نپی تلی ہیں، بعض روایات اس واقعہ کا ایک گوشہ بیان کرتی ہیں تو دوسری روایات اس واقعہ کے دوسرے پہلو پر روشنی ڈالتی ہوئی نظر آتی ہیں لیکن ان تمام روایات کے مجموعے اور اسلامی تواریخ، قرائن وحالات اور ماحول ومقامِ واقعہ کے مطالعہ سے یہ واقعہ سامنے آتا ہے: پیغمبر اکرم کی زندگی کا آخری سال تھا ۔ حجة الوداع کے مراسم جس قدر باوقار وپرشکوہ ہوسکتے اُس قدر پیغمبر اکرم کی ہمراہی میں اختتام پذیر ہوئے ۔
سب کے دل روحانیت سے شرسار تھے ابھی اُن کی روح اس عظیم عبادت کی معنوی لذّت کا ذائقہ محسوس کررہی تھی ۔ اصحاب پیغمبر جن کی تعداد بہت زیادہ تھی اس عظیم نعمت سے فیضیاب ہونے اور اس سعادت کے حاصل ہونے پر جامے میں پھولے نہیں سماتے تھے (پیغمبر اکرم کے ہمراہ جانے والوں کی تعداد بعض نے ۹۰ ہزار،بعض نے ۱۱۴ ہزار، بعض نے ۱۲۰ ہزار اور بعض نے ۱۲۴ ہزار لکھی ہے) نہ صرف مدینے کے لوگ اس سفر میں پیغمبر کے ساتھ تھے بلکہ جزیرہ نمائے عرب کے دیگر مختلف حصّوں کے مسلمان بھی یہ تاریخی اعزاز وافتخار حاصل کرنے کے لیے آپ کے ہمراہ تھے ۔ سرزمین حجازکا سورج درّوں اور پہاڑوں پر آگ بر سار ہا تھا لیکن اس سفر کی بے نظیر روحانی مٹھاس تمام تکلیفوں کو آسان بنارہی تھی ۔ زوال کا وقت نزدیک تھا ۔ آہستہ آہستہ جحفہ کی سرزمین اور اس کے بعد خشک اور جلانے والے ”غدیر خم“ کے بیابان نظر آنے لگے ۔ در اصل یہاں پر ایک چوراہا ہے جو حجاز کے لوگوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے ۔ شمالی راستہ مدینہ کی طرف، دوسرا مشرقی راستہ عراق کی طرف، تیسرا راستہ مغربی ممالک اور مصر کی طرف اور چوتھا جنوبی راستہ سرزمین یمن کو جاتا ہے یہی وہ مقام ہے جہاں پر آخری مقصد اور اس عظیم سفر کا اہم ترین کام انجام پذیر ہونا تھا تاکہ مسلمان پیغمبر کی اہم ذمہ داریوں میں سے اُن کا آخری حکم جان کر ایک دوسرے سے جدا ہوں ۔ جمعرات کا دن تھا اور ہجرت کا دسواں سال۔ آٹھ دن عید قربان کو گزرے تھے کہ اچانک پیغمبر کی طرف سے ان کے ہمراہیوں کو ٹھہرجانے کا حکم دیا گیا ۔ مسلمانوں نے بلند آواز سے اُن لوگوں کو جو قافلہ کے آگے آگے چل رہے تھے واپس لوٹنے کے لیے پکارا اور اتنی دیر کے لیے ٹھہر گئے کہ پیچھے آنے والے لوگ بھی پہنچ جائیں ۔ آفتاب خط نصف النہار سے گزر گیا تو پیغمبر کے موٴذّن نے الله اکبر کی صدا کے ساتھ لوگوں کو نمازِظہر پڑھنے کی دعوت دی ۔ مسلمان جلدی جلدی نماز پڑھنے کے لیے تیار ہوگئے ۔ لیکن فضا اتنی گرم تھی کہ بعض لوگ مجبور تھے کہ وہ اپنی عبا کا کچھ حصّہ پاؤں کے نیچے اور باقی سر کے اوپر لے لیں۔ ورنہ بیابان کی گرم ریت اور سورج کی شعاعیں ان کے سر اور پاؤں کو تکلیف دے رہے تھے ۔ اس صحرا میں نہ کوئی سائبان نظر آتا تھا اور نہ ہی کوئی سبزہ یا گھاس صرف چند بے برگ وباربیابانی درخت تھے جو گرمی کا سختی کے ساتھ مقابلہ کررہے تھے کچھ لوگ اُنہی چند درختوں کاسہارا لیے ہوئے تھے اور انھوں نے اُن برہنہ درختوں پر ایک کپڑا ڈال رکھا تھا اور پیغمبر کے لیے ایک سائبان سا بنارکھا تھا لیکن گرم ہوا اس سائبان کے نیچے سے گزرتی ہوئی سورج کی جلانے والی گرمی کو اُس سائبان کے نیچے بھی پھیلا رہی تھی ۔ بہرحال ظہر کی نماز پڑھ لی گئی ۔
مسلمان ارادہ کررہے تھے کہ فوراً اپنے چھوٹے چھوٹے خیموں میں جاکر پناہ لیں جو اُنھوں نے اپنے ساتھ اٹھارکھے تھے لیکن رسول اللہ نے انھیں آگاہ کیا کہ وہ سب کے سب خداوند تعالیٰ کا ایک نیا پیغام سننے کے لیے تیار ہوں جسے ایک مفصل خطبے کے ساتھ بیان کیا جائے گا ۔
جو لوگ رسول اللہ سے دور تھے وہ پیغمبر کا ملکوتی چہرہ اس عظیم اجتماع میں دور سے نہیں دیکھ پارہے تھے لہٰذا اونٹوں کے پالانوں کا منبر بنایا گیا ۔ پیغمبر اس کے اوپر تشریف لے گئے ۔ پہلے پروردگار عالم کی حمد و ثنا بجالائے اور خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے یوں خطاب فرمایا: میں عنقریب خداوندتعالیٰ کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے تمھارے درمیان سے جارہا ہوں میں بھی جوابدہ ہوں اور تم بھی جوابدہ ہو تم میرے بارے میں کیا گواہی دوگے؟ لوگوں نے بلند آواز میں کہا: ”نشہد انک قد بلغت ونصحت وجہدت فجزاک الله خیراً“ یعنی ہم گواہی دیں گے آپ نے فریضہٴ رسالت انجام دیا اور خیر خواہی کی ذمہ داری کو انجام دیا اور ہماری ہدایت کی راہ میں سعی وکوشش کی، خدا آپ کو جزائے خیر دے ۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: کیا تم لوگ خدا کی وحدانیت، میری رسالت اور روز قیامت کی حقانیت اور اُ س دن مردوں کے قبروں سے مبعوث ہونے کی گواہی نہیں دیتے؟
سب نے کہا: کیوں نہیں ہم سب گواہی دیتے ہیں ۔ آپؐ نے فرمایا: خداوندا گواہ رہنا ۔ آپؐ نے مزید فرمایا: لوگو! کیا تم میری آواز سن رہے ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں ۔
اس کے بعد سارے بیابان پر سکوت کا عالم طاری ہوگیا ۔ سوائے ہوا کی سنسناہٹ کے کوئی چیز سنائی نہیں دیتی تھی ۔ پیغمبرؐ نے فرمایا: دیکھو! میں تمھارے درمیان دو گرانمایہ اور گرانقدر چیزیں بطور یادگار کے چھوڑے جارہا ہوں تم اُن کے ساتھ کیا سلوک کروگے؟
حاضرین میں سے ایک شخص نے پکار کر کہا: یا رسول الله! وہ دو گرانمایہ چیزیں کونسی ہیں؟
تو پیغمبر اکرم ؐنے فرمایا: پہلی چیز تو الله تعالیٰ کی کتاب ہے جو ثقل اکبر ہے ۔ اس کا ایک سرا تو پروردگار عالم کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سرا تمھارے ہاتھ میں ہے، اس سے ہاتھ نہ چھڑانا ورنہ تم گمراہ ہوجاؤگے اور دوسری گرانقدر یادگار میرے اہلِ بیت ہیں اور مجھے خدائے لطیف وخبیر نے خبر دی ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ بہشت میں مجھ سے آملیں گے ۔
ان دونوں سے آگے بڑھنے( اور ان سے تجاوز کرنے) کی کوشش نہ کرنا اور نہ ہی اُن سے پیچھے رہنا کہ اس صورت میں تم ہلاک ہوجاؤگے ۔ اچانک لوگوں نے دیکھا کہ رسول الله ؐاپنے اردگرد نگاہیں دوڑا رہے ہیں گویا کسی کو تلاش کررہے ہیں جو نہی آپ کی نظر حضرت علی علیہ السلام پر پڑی فوراً اُن کا ہاتھ پکڑ لیا اور اتنا بلند کیا کہ دونوں کی بغلوں کے نیچے کی سفیدی نظر آنے لگی اور سب لوگوں نے انھیں دیکھ کر پہچان لیا کہ یہ تو اسلام کا وہی سپہ سالار ہے کہ جس نے کبھی شکست کا منھ نہیں دیکھا ۔ اس موقع پر پیغمبرؐ کی آواز زیادہ نمایاں اور بلند ہوگئی اور آپ نے ارشاد فرمایا: ”ایہا الناس من اولی الناس بالموٴمنین من انفسہم“
یعنی ۔ــــــــــ اے لوگو! بتاؤ وہ کون ہے جو تمام لوگوں کی نسبت مومنین پر خود اُن سے زیادہ اولویت رکھتا ہے؟ اس پر سب حاضرین نے بہ یک آواز جواب دیا کہ خدا اور اس کا پیغمبرؐ بہتر جانتے ہیں ۔
تو پیغمبرؐ نے فرمایا: خدا میرا مولا ورہبر ہے اور میں مومنین کا مولا ورہبر ہوں اور ان کے اوپر ان کی نسبت خود اُن سے زیاد حق رکھتا ہوں (اور میرا ارادہ ان کے ارادے سے مقدم ہے)۔ اس کے بعد فرمایا: ”فمن کنت مولاہ فعلی مولاہ“ یعنی جس جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس اس کا مولا ورہبر ہے ۔
پیغمبر اکرمؐ نے اس جملے کی تین مرتبہ تکرار کی اور بعض روایوں کے قول کے مطابق پیغمبرؐ نے یہ جملہ چار مرتبہ دہرایا اور اُس کے بعد آسمان کی طرف سر بلند کرکے بارگاہ خداوندی میں عرض کی: ”اللہم وال من والاہ وعاد من عاداہ واحب من احبّہ وابغض من ابغضہ وانصر من نصرہ واخذل من خذلہ وادر الحق معہ حیث دار“
یعنی ــــــــــــ"بارالٰہا! جو اس کو دوست رکھے تو اس کو دوست رکھ اور جو اس سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی رکھ۔ جو اس سے محبت کرے تو اُس سے محبت کر اور اس سے بغض رکھے تو اس سے بغض رکھ ، جو اس کی مدد کرے تو اُس کی مدد کر، جو اس کی مدد سے کنارہ کشی کرے تو اسے اپنی مدد سے محروم رکھ اور حق کو ادھر پھیر دے جدھر وہ رُخ کرے۔" اس کے بعد فرمایا:” الا فلیبلغ الشاہد الغائب“ یعنی : تمام حاضرین آگاہ ہوجائیں اس بات پر کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو اُن لوگوں تک پہنچائیں جو یہاں پر اور اس وقت موجود نہیں ہیں ۔ پیغمبرؐ کا خطبہ ختم ہوگیا ۔ پیغمبر پسینے میں شرابور تھے۔ حضرت علی علیہ السلام بھی پسینے میں نہائے ہوئے تھے ۔ دوسرے تمام حاضرین کے بھی سر سے پاؤں تک پسینہ بہ رہا تھا ۔ ابھی اس جمعیت کی صفیں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوئی تھیں کہ جبرئیل امین وحی لے کر نازل ہوئے اور تکمیل دین کی پیغمبر کو بایں الفاظ بشارت دی :
”الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی .... الخ.“
”آج کے دن میں نے تمہارے دین اور آئین کو کامل کردیا اور اپنی نعمت کو تم پر تمام کردیا“۔
تمام نعمت کا پیغام سن کر پیغمبرؐ نے فرمایا: ”الله اکبر الله اکبر علی اکمال الدین و اتمام النعمة ورضی الرب برسالتی والولایة لعلی من بعدی“
ر طرح کی بزرگی و بڑائی خداہی کے لیے ہے کہ جس نے اپنے دین کو کامل فرمایا اور اپنی نعمت کو ہم پر تمام کیا اور میری نبوت و رسالت اور میرے بعد کے لیے علی کی ولایت کے لیے خوش ہوا ۔ امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ولایت کا پیغمبر کی زبان مبارک سے اعلان سُن کر حاضرین میں مبارک باد کا شور برپا ہوا، لوگ بڑھ چڑھ کر اُس اعزاز و منصب پر حضرت علی علیہ السلام کو اپنی طرف سے مبارک مباد پیش کررہے تھے ۔ معروف شخصیتوںمیں سے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی طرف سے مبارک باد کے یہ الفاظ تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہیں کہ انھوں نے کہ: ”بِخٍّ بِخٍّ لک یا بن ابی طالب اصبحت وامسیت مولای ومولا کل موٴمن وموٴمنة“
مبارک ہو! مبارک ہو! اسے فرزند ابی طالب کہ آپ میرے اور تمام صاحبان ایمان مردوں اور عورتوں کے مولا ورہبر ہوگئے ۔
اس وقت ابن عباس نے کہا: بخدا یہ عہد وپیمان سب کی گردنوں میں باقی رہے گا ۔ عرب کے مشہور شاعر مدّاح رسول ”حسان بن ثابت“ نے پیغمبر سے اجازت لے کر اس موقع کی مناسبت سے ایک قصیدہ پڑھا جس کے ابتدائی اشعار یہ ہیں:
ینادیھمِ یَومَ الغدیرِ نبیھّم ـــــــــ ٭ ــــــــــــــ بخُمٍّ وَاسمَعْ بالرّسولِ مُنادیاً فقال:
فمن مولاکم و نبیّکم ـــــــــ ٭ ــــــــــــــ فقالوا ولم یَبْدُوا ھناک التّعامیا
الٰھک مولنا وانت نَبِیُّنَا ـــــــــ ٭ ــــــــــــــ لَم تلق منّا فی الولایةِ عاصیا ف
قال لہ: قُم یا علیُّ فاننّی ـــــــــ ٭ ــــــــــــــ رضیتُکَ من یعدی اماماً و ھادیا
فمن کنتُ مولاہ فہذاولیّہ ـــــــــ ٭ ــــــــــــــفکونوا لہُ اتباع صِدقِ موالیاً
ھناک دعا: اللھُمّ و ال ولیّہ ـــــــــ ٭ ــــــــــــــو کُن لِلّذی عادا علیًا معادیاً ”یعنی پیغمبر نے غدیر کے دن خم کے مقام پر اُنھیں ندا دی اور پکارا اور یہ پکارنے والا کس قدر گرامی قدر تھا“۔ ”
فرمایا: “ تمھارا مولا اور تمھارا نبی کون ہے؟ تو انھوں نے بلاتردّد صراحت کے ساتھ جواب دیا ”
کہ آپ کا خدا ہمارا مولا اور آپ ہمارے پیغمبر ہیں اور ہم آپ کی ولایت کے قبول کرنے سے روگردانی نہیں کریں گے۔”
اس پر پیغمبر اکرمؐ نے حضرت علی علیہ السلام سے کہا: “ کھڑے ہوجاؤ کیونکہ میں نے تمھیں اپنے بعد امام اور رہبر منتخب کیا ہے”
اس کے بعد فرمایا: “جس شخص کا میں مولا ورہبر ہوں یہ علی اس کے مولا ورہبر ہیں پس تم سچے دل سے ان کی پیروی کرنا ۔”
اس وقت پیغمبر نے عرض کیا: بارالٰہا! اس کے دوست کو دوست اور اس کے دشمن کو دشمن رکھنا۔ (یہ اشعار اہل سنت کے بہت سے علماء نے نقل کیے ہیں ان میں حافظ ابونعیم اصفہانی، حافظ ابو سعید سجستانی، خوارزمی مالکی، حافظ ابو عبدالله مرزبانی گنجی شافعی، جلال الدین سیوطی، سبط ابن جوزی اور صدر الدین حموی کے نام لیے جاسکتے ہیں)۔
یہ تھا مشہور حدیث غدیر کا خلاصہ جو اہل سنت اور شیعہ کتب میں موجود ہے ۔
جرح وتنقید اور اعتراضات
اس میں شک نہیں کہ اگر یہ آیت خلافتِ علی ؑکے علاوہ کسی دوسرے موضوع سے متعلق ہوتی تو جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ ان روایات اور خود آیت میں موجود قرائن سے کم مقدار پر بھی قناعت کرلی جاتی جیسا کہ دنیائے اسلام کے بڑے بڑے مفسّرین نے قرآن کریم کی باقی تمام آیات کی تعبیر میں بعض اوقات زیر نظر آیت کے موجود مدارک کے دسویں حصّہ بلکہ اس سے بھی کم تر پر قناعت کرلی ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس مقام پر تعصّب کے پردے بہت سے حقائق کو قبول کرنے میں رکاوٹ بن گئے ہیں ۔
جن لوگوں نے اس آیت کی تفسیر اور اُن متعدد روایات کے متعلق جو اس آیت کی شان نزول کے بارے میں بیان ہوئی ہیں اختلاف کیا ہے اور حدِّ تواتر سے بڑھی ہوئی اُن روایات کے مقابلے میں علم مخالفت بلند کیا ہے جو دراصل واقعہ غدیر کے متعلق ہیں دوقسم کے ہیں: پہلی قسم ان لوگوں کی ہے کہ جو شروع ہی سے نہ صرف دشمنی اور ہٹ دھرمی سے اس پر بحث کرتے ہیں بلکہ انھوں نے شیعوں کی ہتک وتوہین، بدگوی اور دشنام طرازی کا راستہ اختیار کیا ہے ۔
دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے روح تحقیق کی حفاظت کی ہے اور وہ کسی حد تک حقیقت کی تہ تک پہنچ گئے ہیں لہٰذا انھوں نے استدلال کی راہ اپنائی ہے اسی بناپر انھوں نے حقائق کے ایک حصّے کا اعتراف کرلیا ہے ۔ لیکن انھوں نے اس آیت اور اس سے مربوط روایات بیان کرنے سے پہلے کچھ اشکالات بیان کیے ہیں اور وہ اشکالات جو شاید اُن حالات کا نتیجہ تھے جو اُن کے فکری ماحول پر محیط تھا، بیان کرنے کے بعد اس آیت اور اس آیت سے مربوط روایات ذکر کی ہیں ۔ پہلے گروہ کا واضح نمونہ ابن تیمیہ ہے اس نے اپنا موقف کتاب ”منہاج السنة“ میں بیان کیا ہے اس میں اس کی حالت بالکل اس شخص کی طرح ہے جو روز روشن میں اپنی آنکھیں بند کرلے اور اپنی انگلیاں زور سے کانوںمیں ٹھونس لے اور چلّانا شروع کردے کہ سورج کہاں ہے ۔ نہ تو وہ اپنی آنکھوں کو کھولنے کے لیے تیار ہوتا ہے کہ کچھ حقائق کو دیکھ لے، نہ کانوں سے انگلیاں نکالنے پر آمادہ ہوتا ہے کہ کچھ اسلامی محدثین ومفسّرین کی داد وفریاد سن سکے، بس مسلسل اور پے درپے گالیاں دیئے چلے جارہا ہے اور ہتک حرمت پر کمربستہ ہے ۔ ایسے افراد جہالت، بے خبری، ہٹ دھرمی اور خشونت آمیز تعصّب کے ہاتھوں اتنے مجبور ہیں کہ ایسے واضح اور بدیہی مسائل کا بھی انکار کردیتے ہیں جن کا ہر آدمی آسانی کے ساتھ اِدراک کرسکتا ہے ۔ لہٰذا ایسے شخص کی باتیں نقل کرنے کی ہم اپنے آپ کو زحمت دیتے ہیں اور نہ ہی ان کے جوابات پڑھنے کی تکلیف قارئین کو دیتے ہیں کیونکہ عظیم اسلامی علماء ومفسرین جن کی اکثریت علماء اہل سنت میں سے ہے جنھوں نے نے تصریح کی ہے کہ یہ آیت حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے اور جو شخص ان کے خلاف ڈھٹائی سے کہے کہ ان میں سے کسی ایک نے بھی ایسی کوئی چیز اپنی کتاب میں نقل نہیں کی، ایسے شخص کے بارے میں ہم کیا کہہ سکتے ہیں اور ایسے آدمی کی بات کیا وزن رکھتی ہے کہ جس پر ہم بحث کریں ۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ”ابن تیمیہ“ نے اُن بہت سی معتبر کتابوں کے مقابلے میں کہ جن میں اس آیت کے حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہونے کو صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، اپنی برائت کے لیے اس مضحکہ خیز جملہ پر اکتفا کیا ہے:
”اُن علماء میں سے جویہ جانتے ہیں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں کوئی بھی اس آیت کوحضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہونے کو نہیں جانتا“ گویا صرف وہ علماء جو ابن تیمیہ کے عناد آلود ہٹ دھرمی کے افراط زدہ میلانات کے ساتھ ہم آواز ہیں صرف وہی ”سمجھتے ہیں کہ کیا کہہ رہے“ ورنہ جو شخص اس کا ہم آواز نہیں ہے وہ ایسا دانشمند ہے کہ جسے یہ پتہ ہی نہیں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے ۔ یہ ایسے شخص کی منطق ہے کہ جس کی فکر خود خواہی اور ہٹ دھرمی سایہ فگن ہے ۔ ہم اس گروہ کا ذکر یہیں پر چھوڑتے ہیں ۔ البتہ ان اعتراضات میں سے جو دوسرے گروہ نے کیے ہیں اُن میں چند قابل بحث ہیں جنھیں ہم ذیل میں آپ کے سامنے پیش کررہے ہیں ۔
۱۔ کیا مولیٰ کا معنی اولیٰ بالتصرف ہے؟
اہم ترین اعتراض جو حدیث غدیر کے سلسلہ میں کیا جاتا ہے یہ ہے کہ ”مولیٰ“ کے معانی میں سے ایک معنی دوست اور یاور ومددگار بھی ہے اور یہ معلوم نہیں ہے کہ یہاں یہ معنی مراد نہ ہو! اس بات کا جواب کوئی مشکل یا پیجیدہ نہیں ہے کیونکہ ہر غیر جانبدار دیکھنے والا شخص جانتا ہے کہ علی کی دوستی کے ذکر اور یاددہانی کے لیے ان مقدمات وتشکیلات اور خشک جلادینے والے بیابان کے وسط میں خطبہ پڑھنے اور لوگوں کو وہاں ٹھہرانے اور اُن سے پے درپے اقرار لینے اور اعتراف کرانے کی ضرورت نہیں تھی ۔ کیونکہ مسلمانوں کا ایک دوسرے سے دوستی رکھنا مسائل اسلامی میں سے ایک بدیہی ترین مسئلہ تھا جو آغاز اسلام سے ہی موجود تھا، علاوہ از ایں یہ کوئی ایسا مطلب نہیں تھا کہ جس کی پیغمبر نے اُس وقت تک تبلیغ نہ کی ہو بلکہ آپ تو بارہا اس کی تبلیغ کرچکے تھے ۔
یہ کوئی چیز بھی نہیں تھی کہ جس کے اظہار سے آپؐ پریشان ہوں اور خدا کو اس کے لیے تسلی اور حفاظت کی ضمانت دینی پڑے ۔
یہ کوئی ایسا مسئلہ بھی نہیں تھا کہ خداوندعالم اس لب ولہجہ کے ساتھ اپنے پیغمبرؐ سے گفتگو کرتا ”اگر اس کی تبلیغ نہ کی تو رسالت کی تبلیغ بھی نہ کی“ یہ سب چیزیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ یہ مسئلہ ایک عام دوستی سے کہیں اونچا تھا، وہ دوستی جو اسلام کے پہلے ہی دن سے اخوّت اسلامی کی الف کا حصّہ شمار ہوتی تھی ۔ علاوہ از ایں اگر اس سے ایک عام اور سادہ دوستی کا بیان کرنا ہی منظور ہوتا تو پیغمبر پہلے یہ اقرار لوگوں سے کیوں لیتے کہ ”الست اولیٰ بکم مِن انفسکم“ یعنی کیا میں تمھاری نسبت تمھارے نفوس پر خود تم سے زیادہ حقدار اور صاحب اختیار نہیں ہوں( یہ جملہ متعدد روایات میں وارد ہوا ہے)۔
کیا یہ جملہ ایک عام دوستی کے بیان کے ساتھ کسی خاص قسم کی مناسبت رکھتا ہے؟ نیز ایک عام دوستی تو یہ مقام نہیں رکھتی کہ لوگ یہاں تک کہ حضرت عمر جیسی شخصیت بھی حضرت علی - کو اس طرح سے مبارکباد اور تہنیت پیش کریں۔
”اصبحت مولای ومولا کل موٴمن وموٴمنة“ ” اے علی ! آپ میرے اور ہر مومن مرد اور ہر مومن عورت کے مولا ہوگئے“ اور اِسے ایک نیا منصب اور اعزاز شمار کریں۔(اس واقعہ کے اس حصہ کو کہ جو حدیث تہنیت کے نام سے مشہور ہے، اہل سنت کے بہت سے عظیم علماء حدیث وتفسیر وتاریخ نے متعدد طریقوں سے بہت سے صحابہ سے نقل کیا ہے مثلاً: ابن عباس، ابوہریرہ، برآء ابن عازب اور زید ابن ارقم، مرحوم علامہ امینی نے ”الغدیر“ کی پہلی جلد میں اس حدیث کو اہل سنت کے ساٹھ علماء سے نقل کیا ہے )۔
کیا حضرت علی ؑ اس دن تک ایک عام مسلمان کی حیثیت سے بھی پہچانےنہیں گئے تھے؛ کیونکہ ایک مسلمان کی دوستی تو تمام مسلمانوں پر لازم وضروری ہے ۔ کیا مسلمانوں کے لیے آپس میں ایک دوسرے سے دوستی کرنا کوئی نئی بات تھی کہ جس کے لیے مبارکباد دینے کی ضرورت ہو اور وہ بھی رسول الله کی عمر کے آخری سال میں ۔
علاوہ از ایں کیا حدیث ثقلین اور وداعِ پیغمبر سے تعلق رکھنے والی تعبیرات کا حضرت علی - کی دوستی کے مسئلہ سے بھی کوئی ربط ہوسکتا ہے؟ حضرت علی علیہ السلام کی مومنین کے ساتھ ایک عام دوستی کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ پیغمبر اکرم اُسے قرآن کے ہم پلّہ اور برابر قرار دے دیں۔ (حدیث ثقلین ان متواتر احادیث میں سے ہے جسے اہل سنت کی بہت سی کتابوں میں متعدد صحابہ سے نقل کیا گیا ہے مثلاً: ابوسعید خدری، زید ابن ارقم، زید بن ثابت، ابوہریرہ، حذیفہ بن اسید، جابر بن عبدالله انصاری، عبدالله بن خطب، عبد بن حمید، جبیر بن مطعم، ضمر واسلمی، ابوذر غفاری، ابورافع اور امّ سلمہ نے پیغمبر سے نقل کیا ہے )۔ کیا ہر غیر جانبدار دیکھنے والا شخص اس تعبیر سے یہ نہیں سمجھتا کہ یہاں پر مسئلہ رہبری وامامت سے متعلق گفتگو ہورہی ہے؛ کیونکہ پیغمبر کی رحلت کے بعد قرآن مسلمانوں کا پہلا رہبر ہے لہٰذا اسی بنیاد پر اہلِ بیت علیہم السلام مسلمانوں کے دوسرے رہبر ہیں ۔
۲۔ آیات کا ایک دوسرے کے ساتھ ربط
بعض اوقات یہ کہا جاتا ہے کہ اس سے قبل وبعد کی آیات اہل کتاب اور ان کی غلط کاریوں کے بارے میں ہیں ۔ خاص طور پر تفسیر المنار کے موٴلف نے جلد۶ صفحہ۴۶۶ پر اس مسئلہ پر زیادہ زور دیا ہے ۔ لیکن جیسا کہ ہم خود اس آیت کی تفسیر میں کہہ چکے ہیں کہ اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے ؛ کیونکہ اوّل تو اس آیت کا لب ولہجہ اور اس کا قبل وبعد کی آیات سے فرق مکمل طور پر یہ نشاندہی کرتا ہے کہ اس آیت میں موضوع سخن کوئی ایسی چیز ہے جو قبل وبعد کی آیات سے مختلف ہے، دوسری بات یہ ہے کہ جیسا کہ ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ قرآن ایک کلاسیکی کتاب نہیں ہے کہ جس کے مطالب کو خاص حصّوں اور ابواب میں ترتیب کے ساتھ بیان گیا ہو، بلکہ جیسے جیسے ضرورت پڑتی گئی اور مختلف حادثات وواقعات رونما ہوتے گئے اُن کے مطابق نازل ہوتا رہا، لہٰذا ہم دیکھتے ہیں قرآن ایک جنگ کے متعلق بحث کرتے کرتے یکایک ایک فرعی حکم کا ذکر چھیڑ دیتا ہے ۔ یا جب وہ یہود ونصاریٰ کے بارے میں گفتگو کررہا ہوتا ہے تو اچانک ہی مسلمانوں کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے ایک اسلامی حکم اُن کے لیے بیان کردیتا ہے ۔ مزید وضاحت کے لیے ایک دفعہ اس بحث کی طرف رجوع فرمائیں جو ہم نے اس آیت کی تفسیر کے ابتدا میں کی ہے ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض متعصب قسم کے لوگوں کو اس بات پر اصرار ہے کہ یہ آیت ابتدائے بعثت میں نازل ہوئی ۔ حالانکہ سورہٴ مائدہ پیغمبرؐ کی زندگی کے آخری ایام میں نازل ہوا ہے اور اگر وہ یہ کہیں کہ صرف یہ ایک آیت مکہ میں ابتدائے بعثت میں نازل ہوئی ہے جسے آپ منوانا چاہتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ابتدائے بعثت میں نہ تو پیغمبر یہودیوں کے ساتھ برسرجنگ تھے اور نہ ہی عیسائیوں کے ساتھ ، اس بنیاد پر تو اس آیت کا قبل وبعد کی آیت سے کوئی تعلق ہی نہ رہے گا(غور کیجئے)۔ یہ سب چیزیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ آیت تعصب کے طوفان کی زد میں آگئی ہے اور اسی بناپر اس میں کئی طرح کے احتمالات پیدا کیے جاتے ہیں جبکہ اس جیسی دوسری آیات میں اُس قسم کی کوئی بات نہیں ہوتی ۔ ہر ایک اسی کوشش میں لگا ہوا ہے کہ کسی حیلہ وبہانہ سے یا کسی بے بنیاد ودستاویز کے ذریعہ اس کے مفہوم کو اس کے صحیح راستہ سے منحرف کردے ۔
۳۔ کیا یہ حدیث تمام کتبِ صحاح میں نقل ہوئی ہے؟
بعض کہتے ہیں کہ ہم کس طرح اس حدیث کو قبول کرسکتے ہیں جبکہ بخاری اور مسلم نے اپنی اپنی کتاب میں اسے نقل کیا ہے، یہ اعتراض بھی عجائبات میں سے ہے کیونکہ اوّل تو بہت سی معتبر احادیث ایسی ہیں جنھیں علمائے اہل سنت نے قبول کیا ہے ۔ حالانکہ وہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں نہیں ہیں اور یہ کوئی پہلی حدیث بھی نہیں کہ جس کی یہ وضع وکیفیت ہو۔ دوسری بات قابل غور یہ ہے کہ کیا ان کے نزدیک صرف یہی دو کتابیں معتبر ہیں؛ حالانکہ یہ حدیث ان کے قابل اعتماد منابع اور کتب میں موجود ہے، یہاں تک کہ صحاح ستّہ( اہل سنت کی چھ مشہور کتابیں جن پر وہ اعتماد کرتے ہیں)مثلاً سنن ابن ماجہ(جلد اوّل، ص۵۵ و۵۸.) میں یہ حدیث موجود ہے اسی طرح مسند احمد حنبل
مسند احمد حنبل، ج۱، ص۸۴۔۸۸، ۱۱۸۔۱۱۹، ۱۵۲، ۳۳۱، ۳۸۱، ۳۷) میں یہ حدیث آئی ہے اور حاکم ذہبی اور ابن حجر جیسے علماء نے بھی اپنے شہرہ آفاق تعصب کے باوجود اس حدیث کے بہت سے طرق کے صحیح ہونے کا اعتراف کیا ہے ۔ بنابر یں بعید نہیں کہ بخاری ومسلم اس مخصوص فضا اور گھُٹے ماحول میں صریحاً اپنی کتاب میں ایسی چیز نہ لکھ سکے ہوں یا نہ لکھنا چاہتے ہوں جو اُن کے وقت کے صاحبانِ اقتدار کے مزاج کے خلاف تھی ۔
۴۔ حضرت علی - نے اور اہلِ بیت نے اِس حدیث سے استدلال کیوں نہیں کیا؟
بعض حضرات کہتے ہیں کہ اگر حدیث غدیر اس عظمت کے ساتھ موجود تھی تو خود حضرت علیؑ نے اور ان کے اہل بیت ؑ اور یار وانصاراور ان سے تعلق رکھنے والوں نے ضروری مقامات پر اس سے استدلال کیوں نہیں کیا، آیا یہ بہتر نہ تھا کہ وہ حضرت علی ؑ کی حقانیت ثابت کرنے کے لیے اس قسم کے اہم مدرک کو سند کے طور پر پیش کرتے ۔
یہ اعتراض بھی اسلامی کتابوں سے خواہ حدیث سے متعلق ہوں یا تاریخ وتفسیر سے، عدم واقفیت کا نتیجہ ہے، کیونکہ اہل سنت کے علماء کی کتابوں میں ایسے بہت سے مواقع کا ذکر کیا گیا ہے کہ جہاں پر خود حضرت علی ؑ نے یا آئمہ اہل بیت ؑنے یا اس مسلک سے تعلق رکھنے والوں نے حدیثِ غدیر سے استدلال کیا ہے ان میں سے ایک واقعہ خود حضرت علی ؑ سے متعلق ہے جسے خطیب خوارزمی نے عامر بن واصلہ کے حوالے سے نقل کیا ہے، عامر کہتا ہے:
”میں شوریٰ کے روز حضرت علی - کے ساتھ اس گھر میں موجود تھا میں نے خود سنا کہ آپ ارکان شوریٰ سے اس طرح کہہ رہے تھے کہ میں ایک ایسی محکم دلیل تمھارے سامنے قائم کررہا ہوں جسے عرب وعجم مل کر بھی تبدیل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تمھیں خدا کی قسم! بتلاؤ کیا تمھارے درمیان کوئی ایسا شخص ہے کہ جس نے مجھ سے پہلے خدا کو اس کی توحید ویکتائی کے ساتھ پکارا ہو؟ اس کے بعد آپ نے خاندانِ رسالت کی معنوی عظمتیں بیان کی یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: تمھیں خدا کی قسم دیتا ہوں بتلاؤ تمھارے درمیان میرے علاوہ اور کوئی شخص ایسا ہے جس کے حق میں پیغمبر نے یہ کہا ہو: ”من کنت مولاہ فعلی مولاہ اللھم وال من والاہ وانصر من نصرہ لیبلغ الشاھد الغائب“ سب نے کہا: نہیں( بحوالہ مناقب ،ص ۲۱۷)
یہ روایت حموینی نے فرائد السمطین باب ۵۸ میں اور اسی طرح ”ابن حاتم“ نے ”دارالنظیم“ میں، دار قطنی نے اپنی کتاب میں، ابن عقدہ نے اپنی کتاب میں اور ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں نقل کیا ہے ۔ فرائد السمطین کے باب ۵۸ میں منقول ہے کہ حضرت علی - نے حضرت عثمان کے زمانے میں مسجد کے اندر چند لوگوں کی موجود گی میں بھی واقعہ غدیر سے استدلال کیا تھا، اسی طرح کوفہ میں اُن لوگوں کے سامنے جو پیغمبرؐ کی طرف سے ان کی خلافت بلافصل کے لیے نص ہونے کا انکار کررہے تھے صراحت کے ساتھ اس حدیث سے استدلال کیا ہے ۔الغدیر کے مطابق اس حدیث (یعنی کوفہ میں واقعہ غدیر سے آپ کے استدلال) کو اہلِ سنت کی مشہور کتابوں اور معروف ماٴخذوں میں چار صحابہ اور چودہ تابعین سے روایت کیا گیا ہے ۔ جنگِ ”جمل“ کے دن بھی ”حاکم“ کی کتاب مستدرک جلد سوم، صفحہ ۲۷۱ کی روایت کے مطابق طلحہ کے سامنے حدیث غدیر سے استدلال فرمایا ۔
نیز جنگ صفین کے دن ”سلیم بن قیس ہلالی“ کی روایت کے مطابق حضرت علی ؑ نے اپنی لشکر گاہ میں مہاجرین وانصار اور اطراف وجوانب سے آنے والے لوگوں کے سامنے اس حدیث سے استدلال کیا ۔ اور بدر مبین (جو جنگ بدر میں پیغمبر کے ساتھ تھے) میں سے بارہ افراد نے کھڑے ہوکر گواہی دی کہ انھوںنے یہ حدیث پیغمبر ؐسے سنی ہے ۔
حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ بانوئے اسلام حضرت فاطمہ زہر، امام حسن ، امام حسین ، عبداللہ بن جعفر، عمار یاسر، قیس بن سعد، عمر بن عبدالعزیز اور عباسی خلیفہ مامون نے بھی اس حدیث کو سند کے طور پر پیش کیا ہے ۔ یہاں تک کہ عمروبن عاص نے اس خط میں جو اُس نے معاویہ کو اس لیے لکھا تھا تاکہ وہ اس پر اچھی طرح سے یہ بات ثابت کردے کہ وہ حضرت علی ؑکے مرتبہ و مقام اور معاویہ کی وضع سے متعلق حقائق سے خوب آگاہ ہے، اس خط میں اس نے صراحت کے ساتھ مسئلہ غدیر کا ذکر کیا تھا اور اسے خطیب خوارزمی حنفی نے اپنی کتاب مناقب کے صفحہ ۱۲۴ پر نقل کیا ہے ۔ وہ لوگ جو اس سے زیادہ توضیحات کے خواہاں ہیں اور حضرت علی ، اہلبیت ، صحابہ اور غیر صحابہ کی طرف سے حدیث غدیر سے استدلال کرنے کے بارے میں ان روایات کے مختلف ماخذوں میں بیان سے آگاہ ہونا چاہیں تو وہ کتاب الغدیر جلد اوّل صفحات ۵۹ تا۲۱۳ کی طرف رجوع کریں۔ علامہ امینی نے صحابہ وغیر صحابہ میں سے ۲۲ حضرات سے مختلف مواقع پر اس حدیث سے استدلال کرنے کی روایات پیش کی ہیں ۔
۵۔ روایت کے آخری جملہ کا مفہوم کیا ہے؟
بعض کہتے ہیں کہ اگر یہ آیت حضرت علی کو خلافت وولایت کا منصب عطا کرنے اور واقعہ غدیر سے مربوط ہے تو پھر یہ آخری جملہ کہ: ”ان الله لایھدی القوم الکافرین“ یعنی ”خدا کافر قوم کو ہدایت نہیں کرتا“ اس مسئلے سے کیا ربط رکھتا ہے ۔ اس اعتراض کا جواب دینے کے لیے بس اتنا جان لینا کافی ہے کہ لفظ ”کفر“ لغت میں بھی اور اسی طرح قرآن کی زبان میں بھی انکار، مخالفت اور ترک کے معنی میں ہے ۔ کبھی انکار خدا یا انکار نبوت پیغمبر کے لیے بولا جاتا ہے ہے اور کبھی دوسرے احکام کے مقابلے میں انکار یا مخالفت پر اس کا اطلاق ہوتا ہے، سورہٴ آل عمران آیت۹۷ میں حج کے بارے میں ہے:
وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ الله غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ”
جو لوگ حج کے حکم کو پائمال کرتے ہیں اور اس کی مخالفت کرتے ہیں تو وہ خدا کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے خدا تمام جہانوں سے بے نیاز ہے“ سورہٴ بقرہ کی آیت ۱۰۲ میں جادوگروں کے لیے بھی اور ان کے بارے میں بھی کہ جو جادو میں آلودہ نہیں لفظ ”کفر“ بولا گیا ہے:وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولاَ إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلاَ تَكْفُرْ
سورہٴ ابراہیم آیت۲۲ میں بھی ہے کہ شیطان اُن لوگوں کے مقابلے میں کہ جنھوں نے اس کی پیروی اور اطاعت کی، قیامت کے دن صریحاً اظہار نفرت کرتے ہوئے اُن سے کہے گا کہ تم نے احکام الٰہی کی اطاعت میں مجھے اس کا شریک قرار دیا تھا اور میں آج تمھارے اس کام سے کفر کرتا ہوں:إِنِّي كَفَرْتُ بِمَآ أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ (ابراہیم/۲۲)
اس بناپر کفر کا اطلاق مسئلہ ولایت ورہبری کے مخالفین پر ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے ۔ ۶۔ ایک ہی زمانہ میں دو ولی ہوسکتے ہیں؟ ایک اور بہانہ جو اس متواتر حدیث اور اسی طرح زیر بحث آیت سے روگردانی کے لیے کیا گیا ہے یہ ہے کہ اگر پیغمبر ؐنے حضرت علی ؑکو غدیر خم میں ولایت ورہبری وخلافت کے لیے مقرر کردیا ہوتو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک ہی زمانہ میں دو رہبر اور دو پیشوا ہوجائیں گے ۔
لیکن اس آیت کے نزول اور حدیث کے ورود کے زمانے کے خاص اوضاع وشرائط اور مخصوص حالات و کوائف کو مدنظر رکھتے ہوئے اور اسی طرح اُن قرائن پر توجہ کرتے ہوئے کہ جو پیغمبر اسلامؐ کی زندگی کے آخری مہینوں میں واقع ہوا ہے جبکہ آپ آخری احکام کو لوگوں تک پہنچا رہے تھے ۔ خصوصاً جب کہ آپؐ نے صراحت کے ساتھ فرمایا کہ میں بہت جلد تمھارے درمیان سے جارہا ہوں اور دو گرانمایہ چیزیں تمھارے درمیان چھوڑے جارہا ہوں ۔
جو شخص یہ گفتگو کررہا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ اپنے جانشین کے مقرر کرنے کا انتظام میں مصروف ہے اور وہ آئندہ کے لیے پروگرام دے رہا ہے، نہ کہ اپنے زمانے کے لیے ۔ لہٰذا اس سے صاف واضح اور روشن ہے کہ اس سے دو امیروں اور دو پیشواؤں کا ایک ہی زمانے میں وجود مقصود نہیں ہے ۔ وہ بات جو خاص طور پرلائق توجہ ہے یہ ہے کہ ایک طرف تو بعض علمائے اہل سنت یہ اعتراض پیش کررہے ہیں تو بعض دوسرے ایسے ہیں جنھوں نے اس کے مقابلے میں ایک اور اعتراض پیش کردیا ہے اور وہ یہ کہ پیغمبر ؐنے حضرت علی کی ولایت وخلافت کے منصب پر تقرری تو کی ہے لیکن اس کی تاریخ صاف اور واضح طور پر بیان نہیں فرمائی، تو اس صورت میں کیا رکاوٹ ہے کہ یہ ولایت وخلافتِ علی کا بیان دوسرے تین خلفاء کے بعد کے لیے ہو۔ حقیقتاً کتنی حیرت کی بات ہے کہ کوئی چھت کے اُس طرف گررہا ہے اور کوئی اس طرف، لیکن متن واقعہ کو مان لینے میں تعصبات حائل ہوگئے ہیں ۔ ذرا کوئی اُن سے یہ تو پوچھے کہ اگر پیغمبر اکرم یہ چاہتے تھے کہ اپنے چوتھے خلیفہ کو معین کریں اور مسلمانوں کے آئندہ کی فکر تھی تو کیوں اپنے پہلے، دوسرے اور تیسرے خلیفہ کا ذکر جس کا تعین چوتھے پر مقدم ولازم تھا غدیرِ خم کے خطبہ میں نہ فرمایا ۔ ہم یہاں پر اپنا سابقہ بیان دہراتے ہیں اور اس بحث کو ختم کرتے ہیں کہ اگر مخصوص نظریات درمیان میں نہ ہوتے یہ تمام اعتراضات اس آیت اور اس حدیث کے سلسلے میں نہ کی جاتے جس طرح کہ دوسرے مواقع اس قسم کا کوئی اعتراض نہیں ہوا ہے ۔
اے اہل کتاب تم کچھ وقعت نہیں رکھتے جب تک کہ تم تورات و انجیل اور اس کو جو تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے قائم اور برپا نہ کرو لیکن جو کچھ تجھ پر تیرے پروردگر کی طرف سے نازل ہوا ہے( نہ صرف ان کی بیداری کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ) ان میں سے بہت سوں کے طغیان اور کفر کو زیادہ کرتا ہے اس بنا پر اس کافر قوم( اور ان کی مخالفت) سے غمگین نہ ہو۔
وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور یہودی صائبین اور عیسائی جو بھی خدائے یگانہ اور روز قیامت پر ایمان لے آئے گا اور عمل صالح بجا لائے گا تو نہ ایسے لوگوں پر کوئی خوف طاری ہو گا اور نہ ہی وہ مخزون و مغموم ہوں گے۔
شان نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
”مجمع البیان“ اور تفسیر قرطبی میں ابن عباس سے اس طرح منقول ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت پیغمبر کی خدمت میں آئی اور پہلا سوال یہ کیا کہ کیا آپ یہ اقرار کرتے ہیں کہ تورات خدا کی طرف سے ہے ۔ پیغمبرؐ نے اثبات میں جواب دیا: انھوں نے کہا کہ ہم بھی تورات کو قبول کرتے ہیں ۔ لیکن اس کے علاوہ اور کسی چیز پر ایمان نہیں رکھتے (در حقیقت تورات ہمارے اور آپ کے درمیان قدر مشترک ہے لیکن قرآن ایسی کتاب ہے کہ جس پر صرف آپ ہی عقیدہ رکھتے ہیں، تو کیا ہی اچھا ہو کہ ہم تورات کو قبول کرلیں اور اس کے علاوہ کی نفی کردیں) اس پر پہلی آیت نازل ہوئی اور انھیں جواب دیا گیا ۔
ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا
جیسا کہ ہم اس سورہ کی آیات کی تفسیر میں اب تک پڑھ چکے ہیں کہ اُن میں قابلِ لحاظ حصہ اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ )کی وعدہ شکنیوں بحثوں، سوالات اور اعتراضات سے ہی متعلق تھا ۔ یہ آیت بھی اُن بحثوں کے ایک اور رُخ کی کی طرف اشارہ کرتی ہے اور ان کی اس کمزور منطق کا جواب دے رہی کہ جو یہ چاہتے تھے کہ تورات کو تو مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان ایک متفق علیہ کتاب ہونے کی حیثیت سے قبول کرلیا جائے اور قرآن کو ایسی کتاب ہونے کی حیثیت سے کہ جس میں اختلاف پایا جاتا ہے چھوڑدیا جائے ۔ یہ آیت انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہہ رہی ہے: اہل کتاب تمہاری کوئی بھی وقعت نہیں ہوگی جب تک کہ تم تورات و انجیل اور تمام آسمانی کتابوں کو جو تم پر نازل ہوئی ہیں بلااستثنا اور بغیر کسی تفاوت کے تسلیم نہ کرو گے ۔ ” قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لَسۡتُمۡ عَلٰی شَیۡءٍ حَتّٰی تُقِیۡمُوا التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ “
کیونکہ جیسا کہ ہم عرض کرچکے ہیں کہ یہ تمام کتابیں ایک ہی مبدا سے صادر ہوئی ہیں اور اِن سب کی اساس اور اصول بھی ایک سے ہیں اگر چہ اُن میں سے آخری کتاب کامل ترین اور جامع ترین ہے ۔ اسی بناپر لازم العمل ہے اُن کے علاوہ پہلی کتابوں میں آخری کتاب یعنی قرآن کے بارے میں متعدد بشارتیں بھی آئی ہیں ۔ وہ مدعی ہیں اس بات کے کہ وہ تورات و انجیل کو قبول کرتے ہیں پس اگر وہ اپنے اس دعوے میں سچے ہیں تو انھیں چاہیے کہ وہ ان بشارتوں کو بھی قبول کریں اور جب کہ انھوں نے ان نشانیوں کو قرآن میں پالیا ہے تو اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیں ۔
مذکورہ بالا آیت یہ بھی کہتی ہے کہ صرف دعویٰ ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان آسمانی کتابوں پر عملاً قائم ہونا چاہیے ۔ علاوہ ازیں ”ہماری“ اور ”تمہاری“کتاب کی بات نہیں ہے ۔ معاملہ تو آسمانی کتابوں کا ہے اور جو کچھ خدا کی طرف سے آیا ہے، اُس کا ہے ۔ پس تم کس طرح اس کمزور منطق کے ذریعے آخری کتاب کو نظر انداز کرسکتے ہو۔ قرآن پھر ایک مرتبہ ان کی اکثریت کی حالت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے اُن میں سے بہت سے لوگ نہ صرف ان آیات سے پند و نصیحت نہیں لیتے اور ہدایت حاصل نہیں کرتے بلکہ ان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ان کا کفر و طغیان بڑھتاہی جاتا ہے ۔
” وَ لَیَزِیۡدَنَّ کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ مَّاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ طُغۡیَانًا وَّ کُفۡرًا “
اور آیات حق اور صحیح باتوں کی بیمار افکار اور ہٹ دھرمی سے بھرے ہوئے دلوں پر ایسی ہی اُلٹی تاثیر پیدا ہوا کرتی ہے ۔ آیت کے آخر میں اپنے پیغمبر ؐکو اس منحرف اکثریت کی انتہائی سختی کے مقابلہ میں تسلی دیتے ہوئے کہتا ہے: اس کافر جمیعت کی مخالفتوں سے غمگین نہ ہو کیونکہ اس کا نقصان خود اُن ہی کی طرف لوٹ جائے گا اور تجھے اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچے گا (فلا تاٴس(تاس“ کا مادہ ”آس “ ہے جس کا معنی ہے ”غم و اندوہ“.)
(عَلَی الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ)۔
یہ بات بھی صاف ظاہر ہے کہ اس آیت کے مفاہیم قوم یہود کے ساتھ ہی مخصوص نہیں بلکہ مسلمان بھی اگر صرف اسلام کے دعویٰ پر ہی قناعت کریں اور تعلیمات انبیاء کے اصول اور خاص طور پر اپنی آسمانی کتاب قرآن کو عملاً برپا نہ کریں تو ان کی کسی قسم کی کوئی حیثیت اور قدر و قیمت بارگاہ خدا میں ہوگی نہ انفرادی و اجتماعی زندگی میں اور وہ ہمیشہ زبوں حال، زیر دست اور شکست خوردہ رہیں گے ۔ بعد والی آیت میں پھرنئے سرے سے اس حقیقت کو محلِ تاکید قرار دیتے ہوئے کہتا ہے کہ تمام اقوام و ملل اور تمام مذاہب کے پیروکار بلا استثنا خواہ وہ مسلمان ہوں یا یہودی، صائبین ہوں یا نصاریٰ صرف اسی صورت میں اہلِ نجات ہوں گے اور اپنے آئندہ سے خوف زدہ اور گذشتہ سے محزون و غمگین نہ ہوں گے جب کہ وہ خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہوں گے اور نیک اعمال انجام دیں گے ۔
(اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا وَ الصّٰبِـُٔوۡنَ وَ النَّصٰرٰی مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ).
یہ آیت حقیقت میں ان لوگوں کے لیے دندان شکن جواب ہے جو نجات کو کسی خاص ملت اور قوم میں منحصر سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ انبیاء کے احکام میں تبعیض (بعض کو ماننا اور بعض کو نہ ماننا) کے قائل ہوجائیں اور مذہبی دعوتوں کو قومی تعصبات سے ملادیں ۔ آیت کہتی ہے کہ راہِ نجات ایسی باتوں کو برکنار رکھنے میں منحصر ہے ۔ جیسا کہ سورہٴ بقرہ کی آیت ۶۲ کے ذیل میں کہ جس کا مضمون مذکورہ بالا آیت کے ساتھ تقریباً یکساں ہے ہم واضح کرچکے ہیں کہ بعض لوگ ایک سنسطہ آمیز بیان کے ذریعہ چاہتے ہیں کہ مذکورہ بالا آیت کو ”صلح کل “ کے مسلک پر دلیل قراردیں اور تمام مذاہب کے پیردکاروں کو اہلِ نجات فرض کرلیں اور اسے نظر انداز کردیں کہ در حقیقت آسمانی کتابوں کے یکے بعد دیگر سے نازل ہونا جہانِ انسانیت کے بتدریج درجہٴ کمال تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے ۔ لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ آیت ”عمل صالحا“ کی تعبیر کے ذریعے اس حقیقت کو مشخص و ممتاز کرتی ہے کہ مذاہب کے اختلاف کی صورت میں آخری قانون پر عمل کریں ۔ کیونکہ منسوخ شدہ قوانین پر عمل کرنا عمل صالح نہیں ہے ۔ بلکہ عمل صالح تو موجودہ قوانین اور آخری قانون پر عمل کرنا ہے ۔( اس کی مزید توضیح کے لیے تفسیر نمونہ اُردو ترجمہ جلد اوّل، ص ۲۲۷ کی طرف رجوع فرمائیں) ۔
علاوہ ازیں اس آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی قابلِ قبول ہے کہ (من آمن باللّٰہ و الیوم الاٴخرو عمل صالحاً) کا جملہ صرف یہود و نصاریٰ اور صائبین کی طرف لوٹتا ہو کیونکہ ”الذین آمنوا “ جو آیت کی ابتداء میں ذکر ہوا ہے وہ اس قید کا محتاج نہیں ہے ۔ تو اس طرح سے اس آیت کا معنی یوں ہوگا کہ صاحبان ایمان اور مسلمان افراد اور اسی طرح یہود و نصاریٰ اور صائبین بشرطیکہ وہ بھی ایمان لے آئیں اور اسلام قبول کرلیں اور عمل صالح بجالائیں تو سب کے سب اہلِ نجات اور رستگار ہوں گے اور کسی بھی قسم کے لوگوں کے سابقہ مذہبی اعتقادات کا اس صورت میں ان پر کوئی اثر نہ ہوگا اگر وہ ایمان لے آئیں اور راستہ سب کے سامنے کھلا ہوا ہے (غور کیجئے )
ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ان کی طرف رسول بھیجے لیکن جب بھی کوئی پیغمبر ان کی خواہشات نفسانی اور میلانات کے خلاف آتا تو بعض کی تو تکذیب کرتے اور بعض کو قتل کر دیتے۔
اور انہوں نے یہ گمان کر لیا تھا کہ اس کا کوئی بدلہ اور سزا نہ ہو گی لہٰذا وہ حقائق کو دیکھنے اور سچی باتوں کو سننے سے اندھے اور بہرے ہو گئے اس کے بعد (پھر وہ بیدار ہوئے اور) خدا نے ان کی توبہ قبول کر لی اس کے بعد (دوبارہ خواب غفلت میں جا پڑے اور) ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہو گئے اور خدا ان کی کار گزاریوں پر خوب اچھی طرح مطلع ہے۔
نبی اسرائیل اور قتل پیامبران
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
سورہٴ بقرہ میں جو آیات گزر چکی ہیں اُن میں اور اِس سورہ کے شروع میں جو آیات گزری ہیں اُن میں اُس تاکیدی عہد و پیمان کی طرف جو خداوند تعالیٰ نے نبی اسرائیل سے لیا تھا ،اشارہ ہو چکا ہے ۔ اس آیت میں دوبارہ اس عہد و پیمان کی یاد دہانی کراتے ہوئے فرماتا ہے: ہم نے بنی اسرائیل سے پیمان کو وفا کرنے کا مطالبہ کرنے کے لیے ان کی طرف پیغمبر بھیجے (لَقَدۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ وَ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡہِمۡ رُسُلًا ؕ)
جیسا کہ جلد اوّل میں بیان ہوچکا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ پیمان وہی ہے جس کی طرف سورہٴ بقرہ کی آیت ۹۳ میں اشارہ ہوا ہے یعنی اس پر عمل کرنے کا پیمان جو خدانے ان پر نازل کیا تھا ۔( تفسیر نمونہ جلد اوّل سورہ بقرہ آیت ۹۳ کے ذیل میں)
پھر مزید کہتا ہے: انھوں نے نہ صرف یہ کہ اُس پیمان پر عمل نہیں کیا بلکہ جب بھی کوئی پیغمبرؐان کے میلانات اور ہوا و ہوس کے خلاف کوئی حکم لاتا تو وہ اس کی مخالفت میں سخت ترین مقابلے اور جھگڑنے پر اتر آتے تھے ۔ اُن کے اثرات کو روکنے پر قادر نہ ہوتے تھے انھیں قتل کردیتے تھے۔ (کُلَّمَا جَآءَہُمۡ رَسُوۡلٌۢ بِمَا لَا تَہۡوٰۤی اَنۡفُسُہُمۡ ۙ فَرِیۡقًا کَذَّبُوۡا وَ فَرِیۡقًا یَّقۡتُلُوۡنَ)۔ یہ ہیں طریقے منحرف اور خودخواہ افراد کے کہ بجائے اپنے رہبروں کی پیروی کرنے کے وہ اس بات پر مصر ہیں کہ رہبران کے میلانات اور خواہشات کے تابع ہوں اور اگر وہ ان کے میلانات اور خواہشات کے خلاف ہوں تو اس صورت میں نہ صرف ان کی رہبری قبول نہیں کرتے بلکہ انھیں زندہ رہنے کا حق دینے کو بھی تیار نہیں ہوتے ۔
مندرجہ بالا جملے میں ”کذبوا“ ماضی کی شکل میں اور ”یقتلون“ مضارع کی صورت میں آیا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ اس کا سبب قبل و بعد کی آیات کی لفظی مناسبت کا لحاظ رکھنے کے علاوہ کہ جو سب کے سب مضارع کی صورت میں آئے ہیں۔ یہ ہو کہ چونکہ فعل مضارع استمرار پر دلالت کرتا ہے لہٰذا خدا یہ چاہتا ہے کہ وہ اس روح اور فکر کے اُن میں ہمیشہ جاری رہنے کو بیان کرے کہ پیغمبروں کو جھٹلانا اور انھیں قتل کرنا ان کی زندگی کا کوئی اتفاقی حادثہ نہیں تھا بلکہ ان کا یہ عمل ایک مستقل پروگرام اور مکتب کی صورت اختیار کرگیا تھا ۔(حقیقت میں ”فریقاً کذبوا و فریقاً یقتلون “کا جملہ جیسا کہ مجمع البیان اور دیگر تفاسیر میں آیا ہے در اصل ”کذبوا و قتلوا “ اور ”یکذبون و یقلون “ تھا ۔
بعد والی آیت میں ان سرکشیوں اور جرائم کے با وجود ان کی بے جا خود فریبی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:
ان حالات کے با وصف وہ یہ کمان کرتے تھے کہ کوئی عذاب و سزا دامن گیرنہ ہوگی ۔
جیسا کہ دوسری آیات میں تصریح ہوچکی ہے وہ خود کو ایک برتر قوم و قبیلہ سمجھتے تھے اور خود کو خدا کا بیٹا کہتے تھے (وَ حَسِبُوۡۤا اَلَّا تَکُوۡنَ فِتۡنَۃٌ) ۔ آخر کار اس خطرناک فریب خوردگی نے اور اپنے آپ کو برتر سمجھنے نے ایک قسم کا پردہ ان کی آنکھوں اور کانوں پر ڈال دیا تھا جس کی وجہ سے وہ آیات خدا دیکھنے سے اندھے اور کلماتِ حق سننے سے بہرے ہوگئے (فَعَمُوۡا وَ صَمُّوۡا)۔ لیکن جب انھوں نے اللہ کے عذاب کے نمونے اور اپنے بُرے اعمال کے انجام کا مشاہدہ کیا تو پشیمان ہوئے اور توبہ کرلی اور اس حقیقت کی طرف متوجہ ہوئے کہ خداوند تعالیٰ کی دھمکیاں یقینی اور سچ ہونے والی ہیں نیز وہ قطعاً کوئی برتر خاندان نہیں ہیں تو خدانے بھی اُن کی توبہ کو قبول کرلیا (ثُمَّ تَابَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ) ۔
مگر یہ بیداری اور ندامت و پشیمانی زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی اور انھوں نے دوبارہ طغیان دسر کشی اختیار کرلی اور حق و عدالت کو ٹھکرانا شروع کردیا اور ایک دفعہ پھر غفلت کے پردے کہ جو گناہ کے اندر ڈوب جانے کے آثار ہیں اُن کی آنکھوں اور کانوں پر پڑگئے اور پھر وہ آیات ِ حق دیکھنے سے اندھے اور حق کی باتیں سننے سے بہرے ہوگئے اور اُن میں سے بہت سوں کی یہ حالت ہوگئی (ثُمَّ عَمُوۡا وَ صَمُّوۡا کَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ) ۔
شاید ”عموا“(اندھے ہوگئے)کو ”صموا“(بہرے ہوگئے) پر مقدم رکھنے میں اس بات کی طرف اشارہ ہوکہ پہلی دفعہ انھیں آیات خدا اور پیغمبر کے معجزات کو دیکھنا چاہیے اور پھر ان کے احکام کو سننا چاہیے ۔ ”کثیر منھم“(ان میں سے بہت سے)کا ذکر ”عموا و صموا“ کے الفاظ کی تکرار کے بعد در حقیقت دونوں الفاظ کی توضیح کے طور پر ہے یعنی غفلت و بے خبری اور اندھے اور بہرے ہونے کی حالت حقائق کے مقابلے میں کوئی عمومی حیثیت نہیں رکھتی تھی بلکہ ہمیشہ ایک صالح اور نیک اقلیت بھی ان کے درمیان موجود رہی تھی اور یہ اس امر کی واضح دلیل ہے کہ قرآن کے یہودیوں پر حملے کسی طرح بھی نسلی اور قبائلی پہلو نہیں رکھتے تھے بلکہ وہ صرف ان کے اعمال کی وجہ سے تھے ۔ کیا ”عموا و صموا“کے الفاظ کی تکرار کلیت اور تاکید کا پہلو رکھتی ہے یا یہ دو مختلف واقعات کی طرف اشارہ ہے جو بنی اسرائیل میں ہوئے تھے ۔ بعض مفسرّین کا خیال ہے کہ یہ دو مختلف واقعات کی طرف اشارہ ہیں۔ ایک بابل کے لوگوں کے حملے کے وقت اور دوسرے ایرانیوں اور رومیوں کے حملے کے زمانے میں کہ جس کی طرف قرآن نے سورہٴ بنی اسرائیل کی ابتداء میں ایک مختصر سا اشارہ کیا ہے ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ وہ بارہا اس حالت میں گرفتار ہوتے رہے ہیں اور جب بھی وہ اپنے بُرے اعمال کے منحوس نتائج دیکھتے تو توبہ کرلیتے اور پھر توبہ کو توڑ دلیتے نہ یہ کہ صرف دو ہی مرتبہ ایسا ہوا ۔ آیت کے آخر میں ایک مختصر اور پُر معنی جملے کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ خدا کسی وقت بھی ان کے اعمال سے غافل نہیں تھا اور تمام کام جو انجام دیتے ہیں انھیں وہ دیکھتا ہے ۔ (وَ اللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ)
جنہوں نے یہ کہا کہ خدا مسیح ابن مریم ہی ہے وہ یقیناً کافر ہیں (جبکہ خود) مسیح نے یہ کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل تم خدائے واحد و یگانہ کی عبادت کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی،کیونکہ جو شخص کسی کو خدا کا شریک قرار دے گا خدا نے اس پر جنت کو حرام کر دیا ہے اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ظالموں کا کوئی یاور و انصار نہیں ہے۔
جنہوں نے یہ کہا کہ خدا تین میں سے ایک ہے وہ بھی یقیناً کافر ہو گئے ہیں کیونکہ معبود یگانہ کے سوا اور کوئی خدا نہیں ہے اور اگر وہ اپنے اس قول سے دستبردار نہ ہوئے توا ن میں سے (اس عقیدہ پر قائم رہنے والے) کافروں کو درد ناک عذاب پہنچے گا۔
کیا وہ خدا کے حضور توبہ نہیں کرتے اس کی طرف نہیں پلٹتے اور اس سے طلب بخشش نہیں کرتے جبکہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
مسیح اور تثلیت
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
ان مباحث کے بعد کہ جو گذشتہ آیات میں یہودیوں کے انحرافات سے متعلق گزری ہیں، یہ آیات اور ان سے بعد والی آیات عیسائیوں کے انحرافات کے متعلق بحث کرتی ہیں ۔ سب سے پہلے تو خدا اس آیت میں مسیحیت کے اہم ترین انحراف یعنی مسئلہ الو ہیتِ مسیح اور تثلیت معبود سے بحث کرتے ہوئے کہتا ہے: یقینا جنہوں نے یہ کہا کہ خدا مسیح ابن مریم ہی ہے وہ کافر ہوگئے ہیں ۔ (لَقَدۡ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ مَرۡیَمَ ) اس سے بڑھ کر اور کیا کفر ہوگا کہ ہر جہت سے لامحدود خدا کو ایسی مخلوق کے ساتھ کہ جوہر جہت سے محدود ہے ایک اور متحد سمجھ لیا جائے اور مخلوق کی صفات کو خالق میں قرار دے لیا جائے جبکہ خود مسیح نے صراحت کے ساتھ بنی اسرائیل سے کہا کہ تم خدائے یگانہ کی عبادت کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمھارا بھی ۔ (وَ قَالَ الۡمَسِیۡحُ یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اعۡبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیۡ وَ رَبَّکُمۡ)
اور اس طرح سے اپنے متعلق ہر قسم کے غلو اور شرک سے نفی کرتے ہوئے اس سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا اور خود کو خدائے تعالیٰ کی دوسری مخلوقات کی طرح ہی ایک مخلوق کی حیثیت سے متعارف کرایا ۔ ساتھ ہی اس مطلب کی تاکید مزید اور ہر قسم کا شک و شبہ دور کرنے کے لیے مسیح نے مزید کہا کہ ”جو خدا کے لیے کوئی شریک قرار دے اس پر خدانے جنت حرام کردی ہے اور اس کا ٹھکانا جہنم کی آگ ہے“۔ (اِنَّہٗ مَنۡ یُّشۡرِکۡ بِاللّٰہِ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِ الۡجَنَّۃَ وَ مَاۡوٰىہُ النَّارُ )
پھر مزید تاکید اور اس حقیقت کے اثبات کے لیے کہ شرک و غلو ایک قسم کا کھلم کھلا ظلم ہے اُن سے کہتا ہے کہ ستمگروں اور ظالموں کے لیے کوئی بھی مددگار نہ ہوگا ۔
(وَ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ)
جیسا کہ ہم پہلے اشارہ کرچکے ہیں کہ تاریخ مسیحیت یہ کہتی ہے کہ تثلیث کا قرن اوّل میں اور خصوصاً حضرت مسیح کے زمانے میں کوئی وجود نہ تھا۔ یہاں تک کہ موجودہ انجیلوں میں بھی اپنی تمام تر تحریفات کے باوجود تثلیث کے بارے میں ذراسی بات بھی دکھائی نہیں دیتی اور خود مسیحی محققین بھی اس امر کا اعتراف کرتے ہیں ۔ بنابرین مذکورہ بالا آیت میں حضرت مسیح کی ثابت قدمی و پافشاری اور مسئلہ توحید کے بارے میں جو کچھ نظر آتا ہے وہ مسیحیت کے موجودہ منابع اور کتب سے بھی ہم آہنگ ہے اور یہ بات قرآن کی عظمت کے دلائل میں سے شمار ہوتی ہے ۔ (اس موضوع کی مزید و ضاحت اور مسئلہ تثلیث اور وحدت در تثلیث کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد چہارم ، ص ۱۷۶ کی طرف رجوع کریں (اُردو ترجمہ)۔
ضمنی طور پر اس بات کی طرف بھی توجہ رہے کہ اس آیت میں جو موضوع زیر بحث ہے وہ مسئلہ غلو اور جناب مسیح کی خدا کے ساتھ وحدت ہے دوسرے لفظوں میں ”توحید در تثلیث“ کا معاملہ زیر نظر ہے لیکن بعد کی آیت میں مسیحیوں کے نقطہ نظر سے ”خداؤں کے تعدّد“ یعنی تثلیث در توحید کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے”جنہوں نے یہ کہا کہ خدا تین اقانیم میں سے تیسرا اقنوم (اقنوم“ کا معنی ہے اصل اور ذات اور اس کی جمع ”اقانیم“ہے ) ہے وہ مسلماً کافر ہیں “ (لَقَدۡ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ ثَالِثُ ثَلٰثَۃٍ ۘ)۔ بہت سے مفسّرین نے مثلاً طبرسی نے” مجمع البیان“ میں شیخ طوسی نے ”تبیان“ میں اور رازی و قرطبی نے اپنی اپنی تفسیروں میں یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ پہلی آیت تو عیسائیوں کے یعقوبیہ نامی فرقے کے بارے میں ہے جو خدا کو حضرت مسیح کے ساتھ متحد جانتے ہیں لیکن یہ آیت ملکانیہ اور فسطوریہ نامی فرقوں کے بارے میں ہے ۔ یہ لوگ تین خداؤں کے قائل ہیں ۔
لیکن جیسا کہ ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں کہ اسے مسیحیوں کے بعض فرقوں سے غیر متعلق کہنا حقیقت کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا چونکہ تثلیث کاا عقیدہ تو تمام عیسائیوں میں عمومیت رکھتا ہے جیسا کہ خدا کی توحید اور یکتائی کا مسئلہ ہم مسلمانوں کے درمیان قطعی اور مسلم ہے ۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ جہاں وہ خداؤں کو تین مانتے ہیں وہاں وہ اسے یگانہٴ حقیقی بھی مانتے ہیں اور ان کے اعتماد کے مطابق تین حقیقی واحد مل کر ایک حقیقی واحد کو تشکیل دیتے ہیں ۔ مذکورہ بالا دونوں آیات ظاہراً ان دونوں قضیوں کے دو مختلف پہلوؤں کی طرف ہی اشارہ کرتی ہیں۔ پہلی آیت میں تین خداؤں کی وحدت کے عقیدے کی طرف اشارہ ہے اور دوسری آیت میں اُن کے تعدد کے عقیدے کی طرف اشارہ ہے اور ان دونوں بیانات کا ایک دوسرے کے ساتھ آگے پیچھے آنا در حقیقت اُن کے عقیدے کے بطلان کے روشن و واضح دلائل میں سے ہے کہ کس طرح ان کے زخم میں خداوند تعالیٰ کبھی مسیح اور روح القدس کے ساتھ مل کر حقیقتاً ایک ہو جاتاہے اور کبھی حقیقتاً تین چیزیں بن جاتا ہے کیا تین کا ایک کے ساتھ مساوی ہوجانا کوئی معقول بات ہے ۔
جو بات اس حقیقت کی تائید کرتی ہے یہ ہے کہ عیسائیوں میں ایک گروہ بھی ایسا دکھائی نہیں دیتا جو تین خداؤں کا قائل نہ ہو۔(۔ بعض روایات و تواریخ میں نقل ہوا ہے کہ عیسائیوں میں ایک ایسی اقلیت بھی وجود رکھتی ہے جو تین خداؤں کے قائل نہیں ہیں بلکہ صرف عیسیٰ ؑکی خدا سے وحدت کے قائل ہیں لیکن آج ایسے لوگ بہت کم یاب ہیں) ۔
پھر قرآن قطعی طور پر ان کے جواب میں کہتا ہے: خدائے یکتا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے”وَ مَا مِنۡ اِلٰہٍ اِلَّاۤ اِلٰہٌ “ خصوصاً لفظ ”من“کا لفظ ”الہ“ سے پہلے آنا دوسرے معبودوں کی نفی کرتا ہے ۔ دوسری مرتبہ پھر انتہائی سخت اور تاکیدی لب و لہجہ میں اُن کو اس خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے کہتا ہے: اگر دواس عقیدے سے دستبردار نہ ہوں گے تو اُن لوگوں کو جو اس کفر پر باقی رہیں گے ضرور دردناک عذاب پہنچے گا (وَ اِنۡ لَّمۡ یَنۡتَہُوۡا عَمَّا یَقُوۡلُوۡنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ)۔ ”منھم“میں کلمہ ”من“بعض کی نظر میں بیانیہ ہے لیکن ظاہر یہ ہے کہ اسے ”بعض“ کے مفہوم میں ہونا چاہیے اورحقیقت میں یہ ایسے اشخاص کی طرف اشارہ ہے جو اپنے کفر و شرک پر اڑے رہے اور قرآن کی دعوت توحید کے بعد بھی صحیح عقیدے کی طرف نہیں پلٹے نہ کہ وہ لوگ جنہوں نے توبہ کرلی اور صحیح عقیدہ کی طرف پلٹ آئے ۔ تفسیر” المنار“ میں کتاب ”اظہار الحق“ سے ایک داستان نقل ہوئی ہے کہ جس کا یہاں پر ذکر کرنا غیر مناسب نہیں ہے ۔ اس سے اس بات کی نشاندہی ہوجاتی ہے کہ عیسائیوں کی تثلیث و توحید کتنی نا قابلِ فہم ہے ۔ اس کتاب کا موٴلف کہتا ہے: تین آدمی عیسائی ہوگئے ۔ پادری نے عیسائیت کے ضروری عقائد کہ جن میں سے ایک عقیدہ تثلیث بھی تھاانھیں تعلیم کردیا ۔ ایک دن ایک کٹّر عیسائی عقیدہ رکھنے والا اُس پادری کے پاس آیا اور اُس نے اُن لوگوں کے بارے میں جو نئے نئے عیسائی ہوئے تھے سوال کیا ۔ پادری نے انتہائی خوشی کے عالم میں ان تین افراد کی طرف اشارہ کیا تو اس نے فوراً پوچھا کہ کیا انھوں نے ہمارے ضروری عقائد میں سے کچھ یاد کرلیا ہے ۔ پادری نے بڑی دلیری اور تاکید کے ساتھ کہا: ہاں!ہاں!۔
اس کے بعدنمونے کے طور پر اُن میں سے ایک کو آواز دی تاکہ مہمان کے سامنے اس کی آزمایش کرے ۔ پادری نے کہا تم تثلیث کے بارے میں کیا جانتے ہو؟۔ اس نے جواب میں کہا: آپ نے مجھے یہ بتلایا ہے کہ خداتین ہیں ۔ ایک آسمان میں ہے، دوسرا زمین میں ہے کہ جو مریم کے شکم سے پیدا ہوا ہے ۔ تیسرا خدا کبوتر کی شکل میں دوسرے خدا پر تیس سال کی عمر میں نازل ہوا ۔ پادری کو غصّہ آگیا اور اُس کو باہر نکال دیا ۔ کہنے لگا: اسے کچھ بھی سمجھ میں نہیں آتا ۔ پھر دوسرے شخص کو آوازدی تو اُس نے اس سوال کے جواب میں تثلیث کے بارے میں بتلا یا کہ آپ نے مجھے اس طرح تعلیم دی ہے کہ خدا تین تھے ۔ لیکن اُن میں سے ایک سولی پر چڑھا دیا گیا لہٰذا اب ہمارے پاس صرف دو خدا باقی رہ گئے ہیں ۔ پادری کو اس پر اس سے بھی زیادہ غصّہ آیا اور اسے بھی باہر نکال دیا ۔ اس کے بعد تیسرے آدمی کو جو سب سے زیادہ سمجھدار اور دینی عقائد کو یاد کرنے میں زیادہ کوشش کرنے والا تھا، آوازدی اور وہی مسئلہ اُس نے بڑے ادب اور احترام سے کہا: اے میرے پیشوا جو کچھ آپ نے مجھے تعلیم دی ہے میں نے اسے مکمل طور پر یاد کر لیا ہے اور حضرت مسیح کی برکت سے میں نے اُسے اچھی طرح سے سمجھ لیا ہے ۔ آپ نے کہا ہے کہ خدائے یگانہ سہ گانہ ہے (ایک خداتین ہیں) اور تین خدا ایک ہیں ۔ اُن میں سے ایک کو انھوں نے سولی پر لٹکا دیا اور وہ مرگیا اس بناپر وہ سب کے سب مرگئے کیونکہ وہ باقیوں کے ساتھ متحد اور ایک ہی تھا لہٰذا اس طرح سے اب کوئی خدا باقی نہیں رہا ۔
ان آیات میں سے تیسری آیت میں دعوت دی گئی ہے کہ اس کفر آمیز عقیدے سے توبہ کرو، یہ دعوت اس لیے ہے تاکہ خدا اپنی عفو و بخشش ان کے شامل حال کردے ۔ لہٰذا کہا گیا ہے: کیا وہ ان تمام باتوں کے بعد خدائے یکتا کی طرف نہیں پلٹتے اور اس شرک اور کفر سے مغفرت نہیں چاہتے حالانکہ خدا غفور و رحیم ہے ۔
مسیح ابن مریم فقط فرستادہ خدا تھے ان سے پہلے اور دوسرے بھی فرستادگان الٰہی ہی تھے ان کی ماں بھی بہت سچی خاتون تھیں وہ دونوں کھانا کھاتے تھے (لہٰذا تم کسی طرح سے مسیحی کی الوہیت کا دعویٰ اور اس کی ماں کی عبادت کرتے ہو) غور کرو کہ ہم کس کس طرح سے نشانیوں کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ا س کے بعد یہ دیکھو کہ وہ حق سے کس طرح باز رکھے جاتے ہیں۔
(اے رسول)کہہ دو کیا تم خدا کے سوا ایسی چیز کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہیں نقصان ہی پہنچا سکتی ہے اور نہ ہی تمہارے نفع کی مالک ہے اور خدا سننے والا اور جاننے والا ہے۔
(اے رسول)کہہ دو! اے اہل کتاب تم اپنے دین میں غلو (اور تجاو ز) نہ کرو اور حق کے سوا کچھ نہ کہو اور ایسے لوگوں کی ہوا و ہوس کی پیروی نہ کرو جو اس سے پہلے خود بھی گمراہ ہو گئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کر دیا اور سیدھے راستے سے منحرف ہو گئے۔
حضرت عیسیٰ کو فقط ایک فرستادہ خدا (رسول) جانیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
اس بحث کے بعد جو گذشتہ آیات میں حضرت مسیح کے بارے میں عیسائیوں کے غلو اور ان کی الوہیت کے اعتقاد سے متعلق گزری ہیں ۔ان آیات میں واضح دلائل سے چند مختصر جملوں میں ان کے اس عقیدے کو باطل کرتا ہے ۔
پہلے کہتا ہے کہ مسیح اور باقی انبیاء کے درمیان کیا فرق ہے کہ جس کی وجہ سے تم مسیح کی الو ہیت کا عقیدہ رکھتے ہو۔ مسیح ابن مریم بھی خدا کے ایک رسول ہی تھے اور اُن سے پہلے بھی خدا کی طرف سے رسول اور اس کے دیگر فرستادگان آتے رہے ہیں (ما المسیح ابن مریم الارسول قد خلت من قبلہ الرسل )۔
اگر خدا کی طرف سے رسول ہونا الوہیت اور شرک کی دلیل ہے تو پھر باقی انبیاء کے متعلق بھی اسی چیز کے قائل کیوں نہیں ہوتے لیکن ہم جانتے ہیں کہ کج رو و عیسائی ہر گز اس بات پر قانع نہیں ہیں کہ حضرت عیسیٰ کو فقط ایک فرستادئہ خدا (رسول) جانیں بلکہ ان کا عام عقیدہ کہ جس پر وہ فعلاً قائم ہیں یہ ہے کہ وہ انھیں خدا کا بیٹا اور ایک معنی میں خود خدا سمجھتے ہیں کہ جو بشریت کے گناہوں کو خرید نے کے لیے (نہ کہ ان کی ہدایت و رہبری کے لیے) آیا ہے ۔ اسی لیے وہ اس کو ”فادی“ (نوع بشر کے گناہوں کا فدیہ ہونے والا) کا لقب دیتے ہیں ۔ اس کے بعد اس بات کی تائید کے لیے ارشاد ہوتا ہے: اس کی ماں بہت ہی سچی خاتون تھیں (وَاُمّہ صدیقة)۔ بہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اولاً تو وہ شخص کہ جس کی کوئی ماں ہے اور وہ ایک عورت کے شکم میں پرورش پاتا ہے اور بہت سی حوائج و ضروریات رکھتا ہے وہ کس طرح خدا ہوسکتا ہے؛ اور دوسرے یہ کہ اگر اس کی ماں قابلِ احترام ہے تو وہ اس بناپر ہے کہ وہ بھی مسیح کی رسالت کے دوران اُن سے ہم آہنگ تھیں اور کار رسالت میں ان کی مددگار تھیں تو اس طرح سے وہ بھی خدا کی ایک خاص بندہ ہی تھیں لہٰذا ان کی ایک معبود کی طرح سے عبادت و پرستش نہیں کرنی چاہیے جیسا کہ عیسائیوں میں رائج ہے کہ وہ اُن کے مجسمہ کے سامنے عبادت و پرستش کی حد تک خضوع کرتے ہیں ۔ اس کے بعد عیسیٰؑ کی ربوبیت کی نفی کی ایک اور دلیل کی طرف اشارہ کرتے فرمایا: وہ اور ان کی ماں دونوں کھانا کھاتے تھے(کانا یاٴ کلان الطعام ) تو جو شخص اتنا محتاج ہے کہ اگر چند دن اُسے کھانا نہ ملے تو اُس میں چلنے پھر نے کی بھی طاقت نہ رہے وہ کس طرح سے پروردگار یا خدا کے ہم پلہ ہوسکتا ہے ۔ آیت کے آخر میں ایک طرف تو اُن دلائل کے واضح ہونے کی طرف اشارہ ہے اور دوسری طرف ان واضح و آشکار دلائل کے مقابلہ میں ان کی ہٹ دھرمی ، سختی اور نادانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: ذرا دیکھو تو سہی کہ ہم کس طرح ان دلائل کو وضاحت کے ساتھ کھول کھول کر بیان کرتے ہیں (انظر کیف نبین لھم الاٰیات ثم انظرانّٰی یوٴفکون)۔( ”یوفکون“ کا مادہ ”افک “ ہے اور یہ در اصل کسی چیز سے منحرف کرنے کے معنی دیتا ہے اور ”ما فوک “ ایسے شخص کو کہا جاتا ہے کہ جسے حق سے روک دیا گیا ہو، اگر چہ خود اس کی کوتاہی کی بناپر ایسا ہوا ہو۔ اور چونکہ جھوٹ انسان کو حق سے روک دیتا ہے اس لیے اس کو ”افک “کہا جاتا ہے ۔ )
بنابرین ان دوجملوں میں ”انظر“کی تکرار اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک طرف تو ان روشن و واضح دلائل پر غور کرو کہ جو ہر شخص کی توجہ کے لیے کافی ہیں اور دوسری طرف اُن کے حیرت انگیز اور منفی عکس العمل پر نظر کرو کہ جوہر شخص کے لیے تعجب خیز ہے ۔
بعد والی آیت میں گذشتہ استدلال کی تکمیل کے لیے فرمایا گیا ہے: تمھیں معلوم ہے کہ مسیح خود سرتا پا احتیاجاتِ بشری رکھتے اور خود اپنے نفع و نقصان پر قادر نہیں تھے چہ جائیکہ وہ تمہارے نفع و نقصان پر قادر نہیں تھے چہ جائیکہ وہ تمہارے نفع و نقصان پر قادر ہوں (قل اتعبد ون من دون مالا یملک لکم ضرًا ولا نفعاً )۔
اسی بناپر وہ بارہا دشمنوں کے ہاتھوں میں گرفتار ہوئے ۔ یا ان کے دوست گرفتار ہوئے ۔ اگر لطف خدا ان کے شامل حال نہ ہوتا تو وہ ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتے تھے ۔
آخرین اُنہیں اس خطرے سے آگاہ کرتا ہے کہ خبردار کہیں یہ گمان نہ کرلینا کہ خدا تمہاری ناروا باتوں کو سنتا نہیں ہے یا وہ تمہارے باطن سے آگاہ نہیں ہے، خدا سننے والا بھی ہے اور عالم و دانا بھی (و اللّٰہ ھو السمیع العلیم )۔ یہ بات خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ مسیح کے بشر ہونے اور ان کی مادّی اور جسمانی ضروریات اور احتیاجات کا مسئلہ کہ جس کا قرآن نے ان آیات اور دوسری آیات میں تذکرہ کیا ہے حضرت عیسیٰ کی خدائی کا دعویٰ کرنے والے عیسائیوں کے لیے بہت بڑی مشکلات میں سے ایک ہے کہ جس کی توجیہ کے لیے وہ بہت ہی ہاتھ پاؤں مارتے ہیں اور بعض اوقات وہ مجبور ہوجاتے ہیں کہ مشکلات میں سے ایک ہے کہ جس کی توجیہ کے لیے وہ بہت ہی ہاتھ پاؤں مارتے ہیں اور بعض اوقات وہ مجبور ہوجاتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کے لیے جنبوں کے قائل ہوں جنبہ لاہوت اور دوسرے جنبہ ناسوت ۔ جنبہ لاہوت کی نظر سے وہ خدا کے بیٹے ہیں اور خود خدا ہیں اور ناسوت کی نظر سے جسم اور مخلوقِ خدا ہیں اور اسی قسم کی دوسری توجیہات کہ جوان کی منطق کے ضعف اور نادرستی کی بہترین مظہر ہیں ۔
اس نکتہ کی طرف بھی توجہ کرنی چاہیے کہ آیت میں لفظ ”من“ کے بجائے ”ما“ استعمال ہوا ہے جو عام طور پر غیر ذوی العقول موجودات کے لیے ذکر ہوتا ہے یہ تعبیر شاید اسی بناپر ہو کہ باقی معبودوں اور بتوں کو بھی جو پتھر اور لکڑی سے بنے ہوئے ہوتے ہیں اس جملہ کی عمومیت میں داخل کرتے ہوئے یہ کہا جائے کہ اگر مخلوق کی پرستش جائز ہو تو پھر بت پرستوں کی بت پرستی بھی جائز شمار کی جائے ۔ کیونکہ مخلوق ہونے میں سب برابر ہیں اور مساوی ہیں اور حقیقت میں حضرت مسیح کی الوہیت پر ایمان ایک طرح کی بت پرستی ہیں ہے نہ کہ خدا پرستی ۔ انبیاء کے بارے میں غلو کے سلسلے میں روشن دلائل سے اہلِ کتاب کا اشتباہ واضح ہوجانے کے بعد پیغمبر کو حکم دیا گیا ہے کہ اُنہیں دعوت دو کہ وہ اس راستے سے عملی طور پر پلٹ آئیں ۔ فرمایا گیا ہے: کہہ دو کہ اے اہلِ کتاب! اپنے دین میں غلونہ کرو اور حد سے تجاوز نہ کرو اور حق کے علاوہ کوئی بات نہ کہو (قل یا اھن الکتاب لا تفلوافی دینکم غیر الحق )۔
(”لا تغلوا“ کا مادہ ”غلو“ ہے جس کے معنی ہیں حق سے تجاوزکرنا ۔ فرق یہ ہے کہ جب یہ کسی کے مقام و منزلت سے متعلق تجاوز ہو تو غلو کہا جاتا ہے، اگر کسی چیز کے زخ اور قیمت کے بارے میں ہو تو غلاء کہا جاتا ہے اور اگر تیرکے بارہ میں ہو تو غلو بروزن دلو کہتے ہیں جوش مارنے کو غلیان کہتے ہیں اور جو جانور بہت ہی سرکش ہو اُسے غلواء کہتے ہیں، یہ سب اسی مادہ سے ہیں ۔ بعض کا نظریہ یہ ہے کہ غلو افراط کی طرف بھی بولا جاتا ہے اور تفریط کی طرف بھی جبکہ بعض اسے تفریط میں منحصر سمجھتے ہیں اور اس کے نقطہ مقابل کو تقصیر کہتے ہیں) ۔
البتہ عیسائیوں کا غلو تو واضح ہے باقی رہا یہودیوں کا غلو کہ اہلِ کتاب کا خطاب ان کے بارے میں بھی ہے، تو بعید نہیں ہے کہ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہو جو وہ عزیرؑ کے بارے میں کہتے تھے اور اُسے خدا کا بیٹا سمجھتے تھے ۔ چونکہ غلو کا سر چشمہ عموماً گمراہ لوگوں کی ہوا وہوس کی پیروی کرنا ہے اس لیے اس گفتگو کی تکمل کے لیے فرمایا گیا ہے کہ اس قوم کی خواہشات کی پیروی نہ کرو کہ جو تم سے پہلے گمراہ ہوئی اور انھوں نے بہت سے لوگوں کو بھی گمراہ کیا اور جو راہ مستقیم سے منحرف ہوگئے (ولا تتبعوا اھوا ۔ قوم قد ضلوا من قبل و اضلوا کثیرًا و ضلوا عن سواء السبیل)۔
یہ جملہ حقیقت میں ایک ایسی چیز کی طرف اشارہ ہے جو مسیحیت کی تاریخ میں بھی منعکس ہے کہ مسئلہ تثلیث اور حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں غلو مسیحیت کی ابتدائی صدیوں میں ان کے درمیان وجود نہیں رکھتا تھا بلکہ جب ہندوستان کے بت پر ست اور ان کی مانند دوسرے لوگوں نے دین مسیحیت اختیار کیا تو انھوں نے اپنے سابقہ دین میں سے باقی ماندہ ایک چیز یعنی تثلیثِ شرک کو مسیحیت میں شامل کردیا ۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ ثابوث ہندی (تین خداؤں، بر ہما فیشنو، سیفا پر ایمان) تاریخی لحاظ سے تثلیث مسیحیت سے پہلے تھا اور در حقیقت یہ اسی کی عکاسی ہے ۔ سورئہ توبہ کی آیت ۳۰ میں بھی یہود و نصاریٰ کے عزیر و عیسیٰ کے بارے میں غلو کے ذکر کے بعد ہے کہ: ”یضَاھِنُوْنَ قَوٴلَ الَّذِیْنَ کَفَرُوٴا مِنْ قَبْلُ
ان کی باتیں گذشتہ کفار کی باتوں سے مشابہت رکھتی ہیں ۔ اس عبارت میں لفظ ”ضلوا“ اُن کفار کے بارے میں ہے کہ جن سے اہلِ کتال نے غلو کا قتباس کیا تھا اور یہ لفظ دو مرتبہ آیا ہے ۔ ممکن ہے کہ یہ تکرار تاکید کے لیے ہو یا اس بناپر ہو کہ وہ پہلے سے گمراہ تھے ہی لیکن بعد میں اپنی تبلیغات کے ذریعہ انھوں نے دوسروں کو بھی گمراہ کردیا تو وہ ایک نئی گمراہی میں جاگرے ۔ کیونکہ جو شخص یہ کوشش کرتا ہے کہ دوسروں کو بھی گمراہی کی طرف کھینچ لے جائے در حقیقت وہ سب سے زیادہ گمراہ ہوتا ہے ۔ کیونکہ اُس نے اپنی قوتوں کو خود اپنی اور دوسرے لوگوں کی بدبختی میں تلف کردیا ہے اور دوسروں کے گناہوں کا بوجھ بھی اپنے دوش پر اٹھالیا ہے ۔ آیا وہ شخص کہ جو سیدھے راستے پر قرار پاچکا ہو کبھی اس بات کے لیے تیار ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے گناہوں کے بوچھ کے ساتھ دوسروں کے گناہوں کا بوجھ بھی اپنے کندھوں پر اٹھائے ۔
تم ان میں سے بہت سے لوگوں کو دیکھو گے کہ وہ کافروں اور بت پرستوں کو دوست رکھتے ہیں اور ان سے راہ و رسم بڑھاتے ہیں انہوں نے کتنے برے اعمال اپنے (انجام اور آخرت) کے لئے آگے بھیجے ہیں کہ جن کا نتیجہ خدا کی ناراضگی تھی اور وہ ہمیشہ عذاب الٰہی میں رہیں گے۔
بنی اسرائیل کے کافروں پر داوٴد و عیسی ابن مریم کی لعنت
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
ان آیات میں اس بناپر کہ اہلِ کتاب کو اُن سے پہلے لوگوں کی اندھی تقلید سے روکا جائے اُن کی بدبختی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے؟ بنی اسرائیل کے کافروں پر حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی ہے اور ان دو بزرگ انبیاء نے خدا سے درخواست کی ہے کہ وہ انھیں اپنی رحمت سے دور رکھے (لُعِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡۢ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیۡسَی ابۡنِ مَرۡیَمَ)۔
اس سلسلے میں کہ صرف ان دو ہی پیغمبروں کا نام کیوں لیا گیا کئی احتمال پیش کیے گئے ہیں ۔ کبھی تو یہ کہا جاتا ہے کہ اس کا سبب یہ ہے کہ حضرت موسیٰؑ کے بعد زیادہ معروف نبی یہی دونوں تھے ۔ کبھی یہ کہا جات ہے اہلِ کتاب اس بات پر فخر کرتے تھے کہ وہ داؤد کی اولاد ہیں ۔ لہٰذا قرآن اس جملے کے ذریعہ اس حقیقت کو ظاہر کر رہا ہے کہ حضرت داؤد ان لوگوں سے کہ جنہوں نے کفر و طغیان اختیار کیا تھا متنفر تھے ۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ اس آیت میں دو تاریخی واقعات کی طرف اشارہ ہے کہ جس پر یہ دونوں عظیم پیغمبر غضب ناک ہوئے اور انھوں نے بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر لعنت کی ۔ حضرت داؤد نے ساحلی شہر ایلہ کے ساکنین پر کہ جو اصحاب سبت کے نام سے مشہور تھے ۔ ان کا قصہ سورہٴ اعراف میں آئے گا اور حضرت عیسیٰ نے اپنے پیروکاروں میں سے اس گروہ پر لعنت ونفرین کی کہ جنھوں نے آسمائی مائدہ کے نازل ہونے کے بعد بھی انکار ومخالفت کی راہ کیے رکھے تھی ۔
بہرحال اس آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ نسل بنی اسرائیل سے ہونا یا حضرت عیسی کے ماننے والوں میں سے ہونا کسی کی نجات کا باعث نہیں ہوگا، جب تک اُن کے اعمال کے ساتھ ہم آہنگی نہ پیدا کی جائے ۔ بلکہ خود ان انبیاء نے ایسے افراد سے نفرت کی ہے ۔ آیت کا آخری جملہ بھی اس مطلب کی تائید کرتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ نفرت وبیزاری کا یہ اعلان اس بناپر تھا کہ وہ گنہگار اور تجاوز کرنے والے تھے (ذٰلِکَ بِمَا عَصَوۡا وَّ کَانُوۡا یَعۡتَدُوۡنَ)۔ اس کے علاوہ وہ لوگ کسی طرح بھی اپنے لیے کسی اجتماعی ذمہ داری کے قائل نہ تھے اور ایک دوسرے کو غلط کاری سے منع نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ اُن میں سے نیک لوگوں کا ایک گروہ خاموشی سے اور سازشی انداز میں گنہگار لوگوں میں عملی طور پر شوق پیدا کرتا تھا (کانوا لایتناھون عن منکر فعلوہ)۔
اس طرح ان کی زندگی کا لائحہٴ عمل بہت ہی پست اور ناپسندیدہ تھا (لبئس ماکانوا یفعلون)۔ اس آیت کی تفسیر میں پیغمبر اکرم اور آئمہ اہلبیت سے ایسی روایات نقل ہوئی ہیں جو بہت ہی سبق آموز ہیں ۔ ایک حدیث میں جو پیغمبر ؐسے روایت ہوئی ہے منقول ہے: ”لتاٴمرن بالمعروف ولتنھون عن المنکر ولتاٴخذن علی ید السفیہ ولتاطرنہ علی الحق اطرا، اٴو لیضربن اللّٰہ قلوب بعضکم علیٰ بعض ویلعنکم کما لعنہم“
تم ضرور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرو، نادان اور جاہل لوگوں کا ہاتھ پکڑو اور حق کی طرف دعوت دو ورنہ خدا تمھارے دلوں کو ایک دوسرے کی مانند کردے گا اور تمھیں اپنی وصیت سے اسی طرح دور کرے گا جس طرح سے اس نے انھیں اپنی رحمت سے دور کردیا تھا ۔( تفسیر مجمع البیان میں زیر بحث آیت کے ذیل میں اور تفسیر قطبی جلد چہارم صفحہ ۲۲۵۰ میں اسی مضمون کی ایک حدیث ترمذی سے نقل کی گئی ہے ) ایک دوسری حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے (کانوا لایتناھون عن منکر فعلوہ) کی تفسیر میں منقول ہے: ”اما انّھم لم یکونوا یدخلون مداخلھم ولایجلسون مجالسہم ولکن کانوا اذا لقوھم ضحکوا فی وجوھھم وانسو بھم“( بحوالہ تفسیر برہان، ج۱، ص ۴۹۲؛ تفسیر نور الثقلین، ج۱، ص۶۶۱.)
"یہ گروہ جن کی خدا مدمت کررہا ہے ہرگز گنہگاروں کے کاموں اور ان کی محفلوں میں شریک نہیں ہوا کرتے تھے بلکہ فقط اُس وقت جبکہ اُن سے ملاقات کرتے تھے تو اپن کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے اور ان سے مانوس تھے“۔ بعد والی آیت میں ان کے ایک اور غلط عمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ تم اُن میں سے بہت سوں کو دیکھوگے کہ وہ کافروں کے ساتھ محبت اور دوستی کی بنایادیں استوار کرتے ہیں (تریٰ کثیراً منھم یتولون الذین کفروا) ۔ یہ بات صاف ظاہر ہے کہ ان کی دوستی ایک عام دوستی کی طرح نہ تھی بلکہ وہ طرح طرح کے گناہوں سے مخلوط اور غلط اعمال وافکار کا شوق پیدا کرنے والی دوستی تھی لہٰذا آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: اُنھوں نے کیسے بُرے ااعمال اپنی آخرت کے لیے آگے بھیجے ہیں کہ جن کا نتیجہ خدا خشم وغضب تھا اور وہ ہمیشہ کے لیے غذابِ الٰہی میں مبتلا رہیں گے ۔ (لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَھُمْ اٴَنفُسُھُمْ اٴَنْ سَخِطَ اللهُ عَلَیْھِمْ وَفِی الْعَذَابِ ھُمْ خَالِدُون)۔
اس بارے میں کہ ”الذین کفروا“ سے اس آیت میں کون سے افراد مراد ہیں بعض نے تو یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ اس سے منظور مشرکین مکّہ ہیں کہ جن کے ساتھ یہودیوں نے دوستی کی پینگیں بڑھا رکھی تھیں اور بعض نے یہ احتمال پیش کیا ہے کہ اس سے منظور وہ ظالم وستمگر ہیں جن کے ساتھ یہودیوں نے گذشتہ زمانے میں دوستی کررکھی تھی ۔ وہ حدیث جو امام باقر علیہ السلام سے اس سلسلہ میں وارد ہوئی وہ بھی اس معنی کی تاکید کرتی ہے، آپ فرماتے ہیں: ”یتولون الملوک الجبارین ویزینون ھوائھم لیصیبوا من دنیاھم“(مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں )۔
یہ گروہ ایسے لوگوںپر مشتمل تھا جو جابر بادشاہوں کو دوست رکھتے تھے اور ان کے ہوس آلود گناہوں کو ان کی نظر میں اچھا کرکے پیش کرتے تھے تاکہ انھیں اُن کا تقرب حاصل ہو اور ان کی دنیا سے بہرہ ور ہوں“ اس امر میں کوئی مانع نہیں ہے کہ آیت دونوں ہی معنی کی طرف اشارہ کرتی ہو بلکہ ان معنی سے بھی بڑھ کر عام ہو۔
اگر وہ خدا پر اور پیغمبر پر اور جو کچھ اس کے اوپر نازل ہوا ہے اس پر ایمان لے آتے تو (ہر گز) انہیں اپنا دوست نہ بناتے لیکن ان میں سے بہت سے لوگ فاسق ہیں۔
خدا نجات کی طرف رہنمائی کرتا ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
اس آیت میں الله تعالیٰ انھیں اس غلط اور نادرست طریقہ عمل سے راہ نجات کی طرف رہنمائی کررہا ہے کہ اگر واقعاً وہ خدا اور پیغمبر ؑاور کچھ اس پر نازل ہوا ہے اس پر ایمان رکھتے تھے تو کبھی بیگانوں اور خدا کے دشمنوں سے دوستی نہ کرتے اور نہ ہی انھیں اپنے لیے سہارے کے طور پر منتخب کرتے (ولو کانوا یوٴمنون باللّٰہ والنبی ومااٴنزل الیہ وماتخذہوھم اولیاء) لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اُن میں اطاعت خدا کرنے والے لوگبہت ہی کم ہیں اور اُن میں سے زیادہ تر فرمان خدا کے دائرہ سے خارج ہوچکے ہیں اور فسق کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں (وَ لٰکِنَّ کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ)
یہ بات صاف ظاہر ہے کہ اس مقام پر ”النبی“ سے مراد پیغمبر اسلام ؐ ہیں کیونکہ قرآن مجید کی مختلف آیات میں یہ لفظ اسی معنی میں آیا ہے اور یہ امر قرآن کی دسیوں آیات میں دکھائی دیتا ہے ۔ آیت کی تفسیر میں ایک اور احتمال بھی ہے کہ ”کانوا“ کی ضمیر مشرکین اور بت پرستوں کی طرف لوٹتی ہو کہ اگر یہ مشرک جو یہودیوں کے دوست اور ان کے لیے قابل اعتماد ہیں پیغمبر اکرم ؐ اور قرآن پر ایمان لاتے تو یہودی کبھی انھیں اپنا دوست نہ بناتے اور یہ اُن کی گمراہی اور فسق وفجور کی واضح نشانی ہے کیونکہ وہ کتب آسمانی کی پیروی کے دعوے کے ساتھ بت پرستوں سے اس وقت تک دوستی نہ کرتے جب تک وہ مشرک ہیں جبکہ ہوتا یہ ہے کہ جب وہ خدا اور آسمانی کتابوں کی طرف آجاتے ہیں تویہ اُن سے دوری اختیار کرلیتے ہیں ۔ لیکن پہلی تفسیر آیات کے ظاہری مفہوم سے زیادہ مطابقت رکھتی ہے اور اس کے مطابق تمام ضمیریں ایک ہی مرجع (یعنی یہودیوں) کی طرف لوٹتی ہیں ۔
اسلام کے پہلے مہاجرین
اسلام کے پہلے مہاجرین بہت سے مفسرین نے منجملہ طبرسی نے ”مجمع البیان“ میں اور فخر الدین رازی اور ”المنار“ کے موٴلف نے اپنی اپنی تفسیروں میں اپنے سے پہلے مفسرین کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ یہ آیات پیغمبر اکرم کے زمانے کے حبشہ کے بادشاہ نجاشی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نال ہوئی ہیں، نیز جو حدیث تفسیر ”برہان“ میں نقل ہوئی ہے اس میں بھی یہی بات شرح وبسط سے بیان کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں اسلامی روایات وتواریخ اور مفسرین کے اقوال سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ اس طرح ہے کہ پیغمبر اکرم ؐکی بعثت اور عمومی دعوت کے ابتدائی سالوں میں مسلمان بہت ہی کم تعداد میں تھے ۔ قریش نے قبائل عرب کو یہ نصیحت کر رکھی تھی کہ ہر قبیلہ اپنے قبیلہ کے ان لوگوں پر کہ جو پیغمبر اکرم پر ایمان لاچکے ہیں انتہائی سخت دباؤ ڈالیں اور اس طرح مسلمانوں میں سے ہر کوئی اپنی قوم وقبیلہ کی طرف سے انتہائی سختی اور دباؤ میں مبتلا تھا، اس وقت مسلمانوں کی تعداد جہادِ آزادی شروع شروع کرنے کے لیے کافی نہیں تھی، پیغمبر اکرمؐ نے اس چھوٹے سے گروہ کی حفاظت اور مسلمانوں کے لیے حجاز سے باہر قیام گاہ مہیّا کرنے کے لیے انھیں ہجرت کا کا حکم دے دیا اور اس مقصد کے لیے حبشہ کو منتخب فرمایا اور کہا کہ وہاں ایک نیک دل بادشاہ ہے جو ظلم وستم کرنے سے اجتناب کرتا ہے ۔ تم وہاں چلے جاؤ۔ یہاں تک کہ خداوندتعالیٰ کوئی مناسب موقع ہمیں عطا فرمائے ۔ پیغمبر اکرمؐ کی مراد نجاشی سے تھی (نجاشی ایک عام نام تھا جسے ”کسریٰ“ جو حبشہ کے تمام بادشاہوں کا خاص لقب تھا لیکن اس نجاشی کا اصل نام جو پیغمبر کا ہم عصر تھا اصحمہ تھا جو کہ حبشہ کی زبان میں عطیہ وبخشش کے معنی میں ہے)۔
مسلمانوں میں سے گیارہ مرد اور چار عورتیں حبشہ جانے کے لیے تیار ہوئے اور ایک چھوٹی سی کشتی کرایہ پر لے کر بحری راستے سے حبشہ جانے کے لیے روانہ ہوگئے، یہ بعثت کے پانچویں سال ماہ رجب کا واقعہ ہے ۔ کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ جناب جعفر بن ابوطالب بھس مسلمانوں کے ایک گروہ کے ساتھ حبشہ چلے گئے ۔ اب اس اسلامی جمعیت میں ۸۲ مردوں کے علاوہ کافی تعداد میں عورتیں اور بچے بھی تھے ۔ اس ہجرت کی بنیاد بت پرستوں کے لیے سخت تکلیف دہ تھی کیونکہ وہ اچھی طرح سے دیکھ رہے تھے کہ کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرے گا کہ وہ لوگ جو تدریجاً اسلام قبول کرچکے ہیں اور حبشہ کی سرزمین امن وامان کی طرف چلے گئے ہیں، مسلمانوں کی طاقتور جماعت کی صورت اختیار کرلیں گے ۔ یہ حیثیت ختم کرنے کے لیے انھوں نے کام کرنا شروع کردیا ، اس مقصد کے لیے انھوں نے جوانوں میں سے دو ہوشیار، فعّال، حیلہ ساز اور عیّار جوانوں یعنی عمروبن عاص اور عمارہ بن ولید کا انتخاب کیا، بہت سے ہدیے دے کر اُن کو حبشہ کی طرف روانہ کیا گیا ۔ ان دونوں نے کشتی میں بیٹھ کر شراب پی اور ایک دوسرے سے لڑپڑے، لیکن آخر کار وہ اپنی سازش کو روبہ عمل لانے کے لیے سرزمین حبشہ میں داخل ہوگئے، ابتدائی مراحل طے کرنے کے بعد وہ نجاشی کے دربار میں پہنچ گئے، دربار میں باریاب ہونے سے پہلے انھوں نے نجاشی کے درباریوں کو بہت قیمتی ہدیے دے کر اُن کو اپنا موافق بنالیا تھا اور اُن سے اپنی طرفداری اور تائید کرنے کا وعدہ لے لیا تھا ۔
عمروعاص نے اپنی گفتگو شروع کی اور نجاشی سے اس طرح ہمکلام ہوا:
”ہم سرداران مکہ کے بھیجے ہوئے ہیں، ہمارے درمیان کچھ کم عقل جوانوں نے مخالفت کا علم بلند کیا اور وہ اپنے بزرگوں کے دین سے پھر گئے ہیں اور ہمارے خداؤں کو بُرا بھلا کہتے ہیں، انھوں نے فتنہ وفساد برپا کردیا ہے، لوگوں میں نفاق کا بیج بودیا ہے؛ آپ کی سرزمین کی آزادی سے انھوں نے غلط اُٹھایا ہے اور انھوں نے یہاں آکر پناہ لی ہے، ہمیں اس بات کا خوف ہے کہ وہ یہاں بھی خلل اندازی نہ کریں، بہتر یہ ہے کہ آپ انھیں ہمارے سُپرد کردیں تاکہ ہم انھیں اپنی جگہ واپس لے جائیں ۔
یہ کہہ کر ان لوگوں نے وہ ہدیے جو اپنے ساتھ لائے تھے پیش ئی ۔
نجاشی نے کہا:
جب تک میں اپنی حکومت میں پناہ لینے والوں کے نمائندوں سے نہ مل لوں اس سلسلے میں کوئی بات نہیں کرسکتا اور چونکہ یہ ایک مذہبی بحث ہے لہٰذا ضروری ہے کہ مذہبی نمائندوں ہی کو ایک جلسہ میں تمھاری موجودگی میں دعوت دی جائے ۔ دوسرے دن ایک اہم جلسہ منعقد ہوا، اس میں نجاشی کے مصاحبین اور عیسائی علماء کی ایک جماعت شریک تھی، جعفر بن ابی طالب مسلمانوں کے نمائندوں کی حیثیت سے موجود تھے اور قریش کے نمائندے بھی حاضر تھے، نجاشی نے قریش کے نمائندوں کی باتیں سننے کے بعد جناب جعفر کی طرف رخ کیا اور اُن سے خواہش کی کہ وہ اس سلسلے میں اپنا نقطہ نظر بیان کریں ۔ جناب جعفر ادائے احترام کے بعد اس طرح گویا ہوئے: پہلے ان سے پوچھئے کہ کیا ہم ان کے بھاگے ہوئے غلاموں میں سے ہیں؟ عمرو نے کہا: نہیں بلکہ آپ آزاد ہیں ۔ جعفر: ان سے یہ بھی پوچھیے کہ کیا ان کا کوئی قرض ہمارے ذمّے ہے کہ جس کا وہ ہم سے مطالبہ کرتے ہیں؟
عمرو: نہیں ہمارا آپ سے ایسا کوئی مطالبہ نہیں ہے ۔ جعفر: تو کیا ہم نے تمھارا کوئی خون بہایا ہے کہ جس کا ہم سے بدلہ لینا چاہتے ہو؟ عمرو: نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔ جعفر: تو پھر تم ہم سے کیا چاہتے ہو؟ تم نے ہم پر اتنی سختیاں کیں اور اتنی تکلیفیں پہنچائیں اور ہم تمھاری سرزمین سے جو سراسر مرکز ظلم وجور تھی باہر نکل آئے ہیں ۔
اس کے بعد جناب جعفر نے نجاشی کی طرف رخ کیا اور کہا :ہم جاہل اور نادان تھے، بت پرستی کرتے تھے، مردار کا گوشت کھاتے تھے، طرح طرح کے برے اور شرمناک کام انجام دیتے تھے، قطع رحمی کرتے تھے، اپنے ہمسایوں سے برا سلوک کرتے تھے اور ہمارے طاقتور کمزوروں کے حقوق ہڑپ کرجاتے تھے ۔ لیکن خداوند تعالیٰ نے ہمارے درمیان ایک پیغمبرؐ کو مبعوث فرمایا، جس نے ہمیں حکم دیا کہ ہم خدا کا کوئی مثل اور شریک نہ بنائیں اور فحشاء و منکر، ظلم و ستم اور قمار بازی ترک کردیں ۔ ہمیں حکم دیا کہ ہم نماز پرھیں، زکوٰة ادا کریں، عدل و احسان سے کام لیں اور اپنے وابستگان کی مدد کریں ۔ نجاشی نے کہا: عیسیٰ مسیح بھی انہی چیزوں کے لیے مبعوث ہوئے تھے ۔ اس کے بعد اس نے جناب جعفر سے پوچھا: ان آیات میں سے جو تمہارے پیغمبر ؐپر نازل ہوئی ہیں کچھ تمھیں یاد ہیں ۔ جعفر نے کہا: جی ہاں: اور پھر انھوں نے سورہ مریم کی تلاوت شروع کردی ۔ اس سورہ کی ایسی ہلا دینے والی آیات کے ذریعہ جو مسیح اور اُن کی ماں کو ہر قسم کی ناروا تہمتوں سے پاک قرار دیتی ہیں، جناب جعفر کے حسن انتخاب نے عجیب و غریب اثر کیا یہاں تک کہ مسیحی علماء کی آنکھوں سے فرط شوق میں آنسو بہنے لگے اور نجاسی نے پکار کر کہا: خدا کی قسم! ان آیات میں حقیقت کی نشانیان نمایاں ہیں ۔
جب عمرونے چاہا کہ اب یہاں کوئی بات کرے اور مسلمانوں کو اس کے سُپرد کرنے کی درخواست کرے، نجاشی نے ہاتھ بلند کیا اور زور سے عمرو کے منہ پر مارا اور کہا: خاموش رہو، خدا کی قسم! اگر ان لوگوں کی مذمت میں اس سے زیادہ کوئی بات کی تو میں تجھے سزادوں گا ۔ یہ کہہ کر مامورینِ حکومت کی طرف رُخ کیا اور پکار کر کہا: ان کے ہدیے ان کو واپس کردو اور انھیں حبشہ کی سرزمین سے باہر نکال دو۔ جناب جعفر اور اُن کے ساتھیوں سے کہا: تم آرام سے میرے ملک میں زندگی بسر کرو۔ اِس واقعہ نے جہاں حبشہ کے کچھ لوگوں پر اسلام شناسی کے سلسلے میں گہرا تبلیغی اثر کیا وہاں یہ واقعہ اس بات کا بھی سبب بنا کہ مکے کے مسلمان اس کو ایک اطمینان بخش جائے پناہ شمار کریں اور نئے مسلمان ہونے والوں کو اُس دن کے انتظار میں کہ جب وہ کافی قدرت و طاقت حاصل کریں وہاں پر بھیجتے رہیں ۔
کئی سال گزرگئے ۔ پیغمبر ؐبھی ہجرت فرماگئے اور اسلام روز بروز ترقی کی منزلیں طے کرنے لگا، عہد نامہٴ حدیبیہ لکھا گیا اور پیغمبر اکرم ؐفتح خیبر کی طرف متوجہ ہوئے ۔ اس وقت جبکہ مسلمان یہودیوں کے سب سے بڑے اور خطرناک مرکز کے ٹوٹنے کی وجہ سے اتنے خوش تھے کہ پھولے نہیں سماتے تھے، دور سے انھوں نے ایک مجمع کو لشکر اسلام کی طرف آتے ہوئے دیکھا ۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ معلوم ہوا کہ یہ وہی مہاجرین حبشہ ہیں، جو آغوش وطن میں پلٹ کر آرہے ہیں، جب کہ دشمنوں کی بڑی بڑی طاقتین دم توڑچکی ہیں اور اسلام کا پودا اپنی جڑیں کافی پھیلا چکا ہے ۔ پیغمبر اکرمؐ نے جناب جعفر اور مہاجرین حبشہ کو دیکھ کر یہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا: ”لا ادری انا بفتح خبیر اسرام بقدوم جعفر؟
میں نہیں جانتا کہ مجھے خیبر کے فتح ہونے کی زیادہ خوشی ہے یا جعفر کے پلٹ آنے کی“ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے علاوہ شامیوں میں سے آٹھ افراد کہ جن میں ایک مسیحی راہب بھی تھا اور ان کا اسلام کی طرف شدید میلان پیدا ہوگیا تھا، پیغمبرؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھو ں نے سورہٴ یٰسین کی کچھ آیات سننے کے بعد رونا شروع کردیا اور مسلمان ہوگئے اور کہنے لگے کہ یہ آیات مسیح کی سچّی تعلیمات سے کس قدر مشابہت رکھتی ہیں ۔ اُ س روایت کے مطابق جو تفسیر ”المنار“ میں سعید ابن جبیر سے منقول ہے نجاشی نے اپنے یاور وانصار میں سے تیس بہترین افراد کو پیغمبر اکرمؐ اور دین اسلام کے ساتھ اظہارِ عقیدت کے لیے مدینہ بھیجا اور یہ وہی تھے جو سورہٴ یٰسین کی آیات سُن کر رو پڑے تھے اور اسلام قبول کرلیا تھا ۔ اس پر مذکورہ بالا آیات نازل ہوئیں اور ان مومنین کی عزت افزائی کی گئی ۔ (یہ شان نزول اس بات کے خلاف نہیں کہ سورئہ مائدہ پیغمبر اکرمؐ کی عمر کے اواخر میں نازل ہوئی ہو۔ کیونکہ یہ بات اس سورہ کی اکثر آیات کے ساتھ مربوط ہے لہٰذا اس میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ اُن میں سے کچھ آیات قبل کے واقعات کے سلسلے میں نازل ہوئی ہوں اور پیغمبرؐ کی ہدایت کے مطابق اس سورہ میں بہت سی مناسبات کی وجہ سے شامل کردی گئی ہوں)۔
یقینی طور پر تم یہود اور مشرکین کو مومنین کی دشمنی میں سب لوگوں سے بڑھا ہوا پاؤ گے لیکن وہ لوگ کہ جو خود کو مسیحی کہتے ہیں انہیں تم مومنین کے ساتھ دوستی میں قریب تر پاؤ گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں کچھ دانشمند اور دنیا سے دور افراد موجود ہیں اور وہ حق کے مقابلے میں تکبر نہیں کرتے۔
اور وہ جس وقت پیغمبر پر نازل ہونے والی آیات سنتے ہیں تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے (فرط شوق میں )آنسو جاری ہو جاتے ہیں کیونکہ انہوں نے حق کو پہچان لیا ہے وہ کہتے ہیں ؟ اے پروردگار ! ہم ایمان لے آئے ہیں پس تو ہمیں حق کی گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔
خدا نے انہیں ان ہی باتوں کی وجہ سے جنت کے ایسے باغات ثواب و جزا کے طور پر دیئے کہ جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے اور یہ نیکو کار لوگوں کی جزا ہے۔
اور وہ لوگ جو کافر ہو گئے اور انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا وہ اہل دوزخ ہیں۔
یہودیوں کی کینہ پروری اور عیسائیوں کی نرم دلی
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
ان آیت میں اُن یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان موازنہ کیا گیا ہے پیغمبرؐ کے ہم عصر تھے ۔ پہلی آیت میں یہودیوں اور مشرکین کی ایک ہی صف میں قرار دیاگیا ہے اور عیسائیوں کو دوسری صف میں، ابتدا میں فرمایا گیا ہے: مومنین کے سخت ترین دشمن یہودی اور مشرکین ہیں لیکن عیسائی مومنین سے زیادہ محبت کرنے والے ہیں (لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوا الۡیَہُوۡدَ وَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا ۚ وَ لَتَجِدَنَّ اَقۡرَبَہُمۡ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوا الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰی)۔ تاریخ اسلام اس حقیقت کی اچھی طرح گواہ ہے کیونکہ اسلام کے خلاف لڑی جانے والی بہت سی جنگوں کے میدان میں یہودی بلا واسطہ یا بالواسطہ طریقہ سے دخیل رہے ہیں اور کسی عہد شکنی اور دشمنی سے باز نہیں آتے تھے ۔ اُن میں سے بہت ہی کم افراد ایسے ہیں جو حلقہ بگوش اسلام ہوئے جبکہ ہم اسلام ہوئے جبکہ ہم اسلامی جنگوں میں بہت کم مسلمانوں کو عیسائیوں سے آمنا سامنا کرتے دیکھتے ہیں اور ہم یہ بھی مشاہدہ کرتے ہیں کہ اُن میں سے بہت سے افراد مسلمانوں کی صفوں میں آملے ۔ اس کے بعد قرآن اس روحانی فرق کی دلیل اور رہن سہن کے اجتماعی طریقوں کو چند جملوں میں بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ پیغمبرؐ کے ہم عصر عیسائی کچھ ایسے امتیازات رکھتے تھے کہ جو یہودیوں میں نہیں تھے ۔ پہلا امتیاز تو یہ ہے کہ ان میں علماء اور دانشمندوں کی ایک ایسی جماعت موجود تھی جو دنیا پرست یہودی علماء کی طرح حقیقت کو چھپانے کی کوشش نہیں کرتے تھے (ذٰلِکَ بِاَنَّ مِنۡہُمۡ قِسِّیۡسِیۡنَ)۔ کشیش اصل میں سریانی زبان کا لفظ کہ جس کا معنی عیسائیوں کا مذہبی پیشوا اور رہنما ہے جس کو عربی میں قسیس کہا جاتا ہے اس کی جمع قسیسین ہے ۔
نیز اُن کے درمیان کچھ لوگ تارک دنیا بھی تھے کہ جواز روئے عمل لالچی یہودوں کے بالکل بر خلاف تھے اگر چہ وہ بھی کئی طرح کے انحرافات کے مرتکب تھے لیکن پھر بھی وہ ایک ایسی سطح پر تھے جو یہودیوں سے بالاتر تھی (وَ رُہۡبَانًا)۔
اُن میں سے بہت سے ایسے بھی تھے جو حق کے قبول کرنے میں خاضع تھے اور اپنی طرف سے تکبر کا اظہار نہیں کرتے تھے جبکہ یہودیوں کی اکثریت دین اسلام کو قبول کرنے سے اس وجہ سے سرتابی کرتی تھی کیونکہ وہ خود کو ایک برتر نسل سمجھتے تھے اور دین اسلام یہودیوں کی نسل میں قائم نہیں ہوا تھا (وَّ اَنَّہُمۡ لَا یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ)۔ علاوہ ازین ان میں سے ایک جماعت (جیسے جناب جعفر کے ساتھی اور حبشہ کے عیسائیوں میں سے کچھ لوگ) ایسے تھے کہ وہ جس وقت قرآن کی آیات کو سنتے تھے تو حق کے حاصل ہوجانے کی خوشی میں ان کی آنکھوں سے شوق کے آنسو جاری ہو جاتے تھے (وَ اِذَا سَمِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَی الرَّسُوۡلِ تَرٰۤی اَعۡیُنَہُمۡ تَفِیۡضُ مِنَ الدَّمۡعِ مِمَّا عَرَفُوۡا مِنَ الۡحَقِّ)۔
اور وہ صراحت کے ساتھ علی الاعلان بغیر کسی لاگ لپیٹ کے پکار اُٹھتے تھے پروردگارا ! ہم ایمان لے آئے ہیں ہمیں حق کے گواہوں اور محمد کے ساتھیوں اور یا و انصار میں سے قرار دے (یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاکۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰہِدِیۡنَ)۔ وہ اس آسمانی کتاب کی ہلادینے والی آیات سے اس قدر متاثر ہوتے تھے کہ پکار اُٹھتے کہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ ہم خدائے یکتا پر اور ان حقائق پر جو اُس کی طرف سے آئے ہیں ایمان نہ لائیں جبکہ ہم توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہمیں صالحین کے زمرے میں قرار دے (وَ مَا لَنَا لَا نُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ مَا جَآءَنَا مِنَ الۡحَقِّ ۙ وَ نَطۡمَعُ اَنۡ یُّدۡخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الۡقَوۡمِ الصّٰلِحِیۡنَ)۔
البتہ جیسا ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں یہ موازنہ زیادہ تر پیغمبر اسلامؐ کے ہم عصر یہود و نصاریٰ کے بارے میں ہے کیونکہ یہودی آسمانی کتاب کے حامل ہونے کے باوجود مادیت سے بے اندازہ لگاوٴ کی وجہ سے مشرکین کی صف میں جاکھڑے ہوتے تھے ۔ جب کہ مذہبی نقطہٴ نظر سے اُن دونوں میں کوئی وجہ مشترک نہیں تھی ۔ حالانکہ ابتدا میں یہودی اسلام کی بشارت دینے والوں میں شمار ہوتے تھے اور اُن میں عیسائیوں کی طرح تثلیث اور غلو جیسے انحرافات موجود نہیں تھے ۔
لیکن ان کی شدید دنیا پرستی نے انہیں حق سے بالکل بیگانہ کردیا جبکہ اُس زمانے کے عیسائی ایسے نہیں تھے ۔ لیکن گذشتہ اور موجودہ زمانے کی تاریخ ہمیں یہ بتلاتی ہے کہ بعد کے زمانوں کے عیسائی، اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں ایسے جرائم کے مرتکب ہوئے جو یہودیوں کے جرائم سے کسی طرح کم تھے ۔ گذشتہ زمانے میں طویل اور خونین صلیبی جنگیں اور اِس زمانے کی ایسی بے شمار تحریکیں جو مسیحی سامراجی ممالک کی طرف سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہو رہی ہیں ہیں کسی پرڈھکی چھُپی نہیں ۔ لہٰذا اُوپر والی آیات کو تمام عیسائیوں کے بارے میں ایک قانون کلی کے طور پر نہیں جاننا چاہیے ۔ و اذا سمعوا ما انزل الی الرسول ۔ اور اس کے بعد کے جملے اس بات پر گواہ ہیں کہ یہ آیات صرف پیغمبرؐ اکرم کے ہم عصر عیسائیوں کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ۔
اس کے بعد کی دو آیات میں ان ہی دونوں گرہوں کے انجام اور جزا و سزا کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔ پہلے فرمایا گیا ہے: جن لوگوں نے صاحبِ ایمان افراد کے سامنے محبت کا اظہار کیا اور آیات الٰہی کے مقابلہ میں سر تسلیم خم کیا اور صراحت کے ساتھ اپنے ایمان کا اظہار کیا خداوند تعالیٰ اس کے بدلے میں بطورِ جزا و ثواب انہیں جنت کے ایسے باغات عطا فرمائے گا جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے اور نیکو کار لوگوں کی یہی جزا ہے (فَاَثَابَہُمُ اللّٰہُ بِمَا قَالُوۡا جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَ ذٰلِکَ جَزَآءُ الۡمُحۡسِنِیۡنَ)”ثابھم“ ثواب کے مادے سے لیا گیا ہے کہ جو اصل میں ”لوٹ آنے “ ”نیکی کرنے“ اور کسی کو نفع پہنچانے کے معنی میں ہے
(اور ان کے مقابلے میں وہ لوگ ہیں جنہوں نے دشمنی کا راستہ اختیار کیا اور کافر ہوگئے (وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَحِیۡمِ)۔
اے ایمان والو ! ان پاکیزہ چیزوں کو جو خدا نے تم پر حلال کر دی ہیں اپنے اوپر حرام نہ کرو اور حد سے تجاوز نہ کرو کیونکہ خدا حد سے تجاوز کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔
خداوند تعالیٰ تمہیں بے ہودہ ( اور بے ارادہ ) قسموں کی وجہ سے مواخذہ نہیں کرے گا لیکن وہ قسمیں کہ جنہیں (ارادہ کے ساتھ) تم نے محکم کیا ہو ان کے بارے میں مواخذہ کرے گا اس قسم کی قسموں کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے (کھانا ایسا ہونا چاہئے) جو تم عام طور پر اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو۔ یا دس مسکینوں کو لباس پہنانا ہے یا ایک غلام آزاد کرنا ہے اور جسے ان میں سے کچھ میسر نہ ہو وہ تین دن روزے رکھے یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسمیں کھاتے ہو تو اپنی قسموں کی حفاظت کرو اور انہیں نہ توڑو۔ خداوند تعالیٰ اسی طرح سے اپنی آیات کو تمہارے لیے بیان کرتا ہے تاکہ تم اس کا شکر بجا لاؤ۔
حد سے تجاوز نہ کرو
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
حد سے تجاوز نہ کرو درج بالا آیات کے بارے میں متعدد روایات نقل ہوئیہیں منجملہ اُن کے ایک یہ ہے کہ ایک دن پیغمبر ؐنے روز قیامت خداوند تعالیٰ کی عظیم عدالت میں لوگوں کی حالت و کیفیت سے متعلق کچھ بیان فرمایا ۔ اِن بیانات نے لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا اور کچھ لوگ رونے لگے اُس کے بعد اصحاب پیغمبرؐ میں سے ایک گروہ نے پختہ ارادہ کر لیا وہ کچھ لذائذ اور راحتوں کو اپنے اوپر حرام کرکے ان کی جگہ عبادت میں مشغول رہیں ۔ امیرالمومنین حضرت علیؑ نے قسم کھائی کہ رات کو بہت کم سویا کریں گے اور عبادت میں مشغول رہیں گے ۔ بلال نے قسم کھائی کہ ہمیشہ روزہ رکھیں گے ۔ عثمان بن مظعون نے قسم کھائی کہ اپنی بیوی سے مباشرت ترک کرکے عبادت کرتے رہیں گے ۔ ایک دن عثمان بن مظعون کی بیوی عائشہ کے پاس آئی ۔ وہ ایک جوان عورت تھی اور بڑی ہی حسین و جمیل تھی ۔ عائشہ کو اس کی حالت پر تعجب ہوا اور کہنے لگی کہ تم اپنا بناؤ سنگھار کیوں نہیں کرتی ۔ اس نے کہا کہ بناؤ سنگھار کس کے لیے کروں میرے شوہر نے تو ایک عرصہ ہوا مجھے چھوڑ کر رہبانیت اختیار کر رکھی ہے ۔ یہ باتیں پیغمبر ؐکے گوش گزار ہوئیں تو آپ منبر پر تشریف لے گئے اور پروردگار کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا:
تم میں سے بعض لوگوں نے پاکیزہ چیزوں کو کیوں اپنے اوپر حرام کرلیا ہے میں اپنی سنت تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں، جو اُس سے روگردانی کرے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ میں رات کے ایک حصّہ میں سوتا ہوں اور اپنی بیویوں سے مباشرت کرتا ہوں اور ہر روز روزہ بھی نہیں رکھتا ۔ آگاہ ہو میں ہرگز تمہیں یہ حکم نہیں دیتا کہ عیسائیوں کے پادریوں اور راہبوں کی طرح دنیا ترک کردو کیونکہ اس قسم کے مسائل اور اس طرح کی رہبانیت میرے دین میں نہیں ہے ۔ میری اُمت کی رہبانیت جہاد میں ہے (اگر تم دنیا کو ترک کرنا چاہتے ہوتو کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ وہ جہاد جیسے تعمیری راستے پر چلتے ہوئے ہو) تم اپنے آپ کو سختی میں نہ ڈالو کیونکہ جو لوگ تم سے پہلے ہو گزرے ہیں اُن میں سے ایک گروہ اپنے آپ کو سختی میں ڈالنے کے نتیجے میں ہی ہلاک ہوا تھا ۔ جن لوگوں نے یہ قسم کھارکھی تھی کہ وہ ان چیزوں کو چھوڑدیں گے وہ کھڑے ہوگئے اور انہوں نے کہا: اے رسولِ خدا! اس سلسلے میں ہم نے قسم کھائی تھی اب اس قسم کے سلسلے میں ہماری ذمہ داری کیا ہے تو مندرجہ آیات نازل ہوئیں جن کے ذریعہ انہیں جواب دیا گیا ۔اس مقام پر یہ یاد و ہانی ضروری ہے کہ مذکورہ قسموں میں سے بعض مثلاً وہ قسم جو عثمان بن مظعون سے نقل کی گئی ہے چونکہ وہ ان کی بیوی کے حقوق کے منافی تھی لہٰذا وہ قسم شرعاً جائز نہیں تھی ۔ لیکن حضرت علی علیہ السلام کی قسم جو کہ رات کو بیدار رہنے اور عبادت میں مشغول رہنے کے سلسلے میں ہے ایک امر مباح اور جائز تھی اگر چہ آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اولیٰ اور بہتریہی تھا کہ مسلسل ایسا نہ ہو لیکن یہ امر حضرت علی علیہ السلام کے مقامِ عصمت کے منافی نہیں ہے ۔ جیسا کہ اس کی نظیر پیغمبرؐ کے بارے میں بھی سورہٴ تحریم کی پہلی آیت میں ہے: ”
ا ایّہا النّبی لم تحرم ما احلّ اللّٰہ لک تبتغی مرضات ازواجک “
اے پیغمبر! ؐوہ امور جو تیرے لیے اللہ نے حلال قرار دیے ہیں اپنی بیویوں کو خوش کرنے کے لیے اپنے اُوپر کیوں حرام کرتے ہو (یا اپنے آپ کو ان سے کیوں محروم کرتے ہو)۔[مذکورہ بالاشان نزول کا کچھ حصّہ تفسیر علی بن ابراہیم سے اور کچھ حصّہ مجمع البیان اور دوسری تفاسیرے لیا گیا ہے ۔ اس روایت میں جناب امیر کا ذکر درست نہیں معلوم ہوتا کیونکہ آپ اُن ذوات مقدسہ میں سے ہیں کہ جن سے ترک اولیٰ کا صدور بھی نہیں ہوتا ۔ (مترجم)]
قسم اور اس کا کفارہ
اس آیت میں اور اس سے بعد کی آیات میں اہم اسلامی احکام کا ایک سلسلہ بیان ہوا ہے ۔ اُن میں سے بعض تو ایسے ہیں جو پہلی مرتبہ بیان ہوئے ہیں ۔ لیکن زیادہ اہم حصّہ ان اَحکام کی توضیح و تاکید کے طور پر بھی بیان ہوا ہے جو قرآن کی دیگر آیات میں پہلے بیان ہوچکے ہیں ۔ جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ یہ سورہ پیغمبر کی عمر کے آخر میں نازل ہوئی ہے لہٰذا ضروری تھا کہ اس میں مختلف اسلامی احکام کے بارے میں زیادہ تاکید کی جائے۔ پہلی آیت میں بعض مسلمانوں کی طرف سے کچھ نعمات الٰہی کی تحریم کی طرف اشارہ ہوا ہے اور انہیں اس کام کی تکرار سے منع کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ”اے ایمان لانے والو! طیبات اور ایسے پاکیزہ امور جنہیں خدانے تمہارے لیے حلال قرار دیا ہے اپنے اوپر حرام نہ کرو“۔ (یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکُمۡ)۔((حلال و ”طیب“ کے معنی کے بارے میں پہلی جلد میں بحث ہوچکی ہے) ۔
اس حکم کا تذکرہ شان نزول کے مفہوم کے علاوہ ممکن ہے اس بارے میں بھی ہوکہ اگر گذشتہ آیات میں کچھ عیسائی علماء اور رہبانوں کی مدح و ستائش کی گئی ہے تو وہ ان کے حق کی طرف مائل ہونے اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی وجہ سے تھی نہ کہ اُن کے ترک ترکِ دنیا کے عمل اور تحریم طیبات کی خاطر تھی اور اس مسلمان اس بارے میں اُن کی پیروی کرسکتے ۔ یہ حکم بیان کرکے اسلام نے صراحت کے ساتھ رہبانیت اور ترکِ دنیا سے جیسے عیسائی پادری اور ر اہب کرتے ہیں اپنی بیگانگی کا اعلان کیا ہے ۔ اس امر کے بارے میں مزید نشریح سورہٴ حدید کی آیت ۲۷ ”و رھبانیة ابتدعوہا“ کے ذیل میں آئے گی اس کے بعد اس امر کی تاکید کے لیے کہتا ہے: سرحدوں اور حدبندیوں سے آگے نہ بڑھو گیونکہ خدا تجاوز کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ۔( وَ لَا تَعۡتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ)۔ بعد والی آیت میں نئے سرے سے اس مطلب کی تاکید کرتا ہے البتہ فرق یہ ہے کہ گذشتہ آیت میں تحریم سے نہی کی گئی تھی اور اس آیت میں نعمات الٰہی سے جائز طور پر بہرہ ور ہونے کا حکم دیتے ہوئے فرمایاگیا ہے: ان چیزوں میں سے جو خداوند تعالیٰ نے تمہیں بطور روزی دی ہیں حلال و پاکیزہ چیزیں کھاؤ (وَ کُلُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلٰلًا طَیِّبًا ۪)۔ ان مواہب و نعمات سے بہرہ ور اور مستفید ہونے کی شرط یہ ہے کہ اعتدال، تقویٰ اور پرہیزگاری کو فراموش نہ کرو اسی لیے فرمایا: (وَّ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیۡۤ اَنۡتُمۡ بِہٖ مُؤۡمِنُوۡنَ)۔ یعنی خدا پر تمہارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس کے تمام احکام کا احترام کرو ان سے نفع بھی اٹھاؤ اور اعتدال و تقویٰ کو بھی ملحوظ نظر رکھو۔ اس جملے کی تفسیر میں ایک اور احتمال بھی ہے اور وہ یہ کہ حکم تقویٰ سے مرادیہ ہے کہ مباحات و طیبات کو حرام قرار دینا تقویٰ کے عالی اور کامل درجے سے مناسبت نہیں رکھتا ۔ تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کسی طرف بھی حدِّ اعتدال سے نہ نکلے ۔
قسموں کی دوقسمیں قرآن بعد والی آیت میں اُن قسموں کے بارے میں کہ جو حلال کی تحریم یا اور چیزوں کے متعلق کھائی جائیں بطور کلی بحث کرتےہوئے قسموں کو دوحصّوں میں تقسیم کرتا ہے، پہلا کہتا ہے: خداوند تعالیٰ تمہیں لغو اور فضول قسموں کے بارے میں نہ کوئی مواخذہ کرے گا اور نہ ہی سزا دے گا (لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغۡوِ فِیۡۤ اَیۡمَانِکُمۡ)۔
جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت ۲۲۵ کی تفسیر میں بھی لغو قسموں کے مقابلے میں سزا نہ ہونے کے بارے میں بحث ہوئی تھی تو وہاں ہم نے کہا تھا کہ لغو قسم سے مراد جیسا کہ مفسرّین اور فقہانے کہا ہے، وہ قسمیں ہیں کہ جن کا ہدف و مقصد مشخص و معین نہ ہو اور جو قصد اور ارادہٴ مصمم سے سرزدنہ ہوئی ہوں ۔ بلکہ بغیر توجہ کیے واللہ ۔ باللہ ۔ یا لا و اللہ یا بلیٰ و اللہ کہہ دیا ہویا شدت ہیجان و غضب کے وقت بغیر قصد و ارادہ کے قسم کھائی جائے ۔
بعض کہتے ہیں کہ اگر انسان کسی چیز کا یقین رکھتا ہو اور وہ اس کی بنیاد پر قسم کھائے لیکن بعد میں معلوم ہوکہ اُسے اشتباہ ہوا ہے تو ایسی قسم بھی لغو قسموں میں ہی شمار ہوگی ۔ مثلاً یہ کہ کوئی شخص چغل خور، افراد کی چغلی کی وجہ سے اپنی بیوی کی کجروی کا یقین کرلے اور وہ اس کو طلاق دینے کی قسم کھالے لیکن بعد میں معلوم ہوکہ وہ بات جھوٹی تھی تو اس قسم کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ حتمی قسموں میں قصد و آمادہ و تصمیم کے لازم ہونے کے علاوہ یہ بات بھی ضروری ہے کہ قسم کا مضمون کوئی غیر مشروع اور مکروہ فعل بھی نہ ہو۔ لہٰذا اگر انسان حالت اختیار میں قصد و ارادہ سے قسم کھائے کہ کسی فعل حرام یا مکروہ کو انجام دے گا، ایسی قسم کی بھی کوئی قیمت نہیں ہے اور اس کا پورا کرنا ضروری نہیں ہے ۔ احتمال یہ ہے کہ زیر نظر آیت میں لفظ لغو کا ایک وسیع مفہوم ہے یہاں تک کہ اس طرح کی قسم بھی اس میں شامل ہے ۔ دوسری قسم کی قسمیں وہ ہیں جو قصد و ارادہ اور عزم مصمم سے کھائی جائیں ۔ اس قِسم کی قسموں کے بارے میں قرآن زیر بحث آیت میں کہتا ہے: ”خدا تمہارا ایسی قسموں کے بارے میں کہ جنگی گرہ کو تم نے محکم کررھا ہے مواخذہ کرے گا اور تمہیں اس پر عمل کرنے کا پابندا اور ذمہ دار ٹھہرائے گا“۔ (وَ لٰکِنۡ یُّؤَاخِذُکُمۡ بِمَا عَقَّدۡتُّمُ الۡاَیۡمَانَ ۚ)
لفظ ”عقد“ جیسا کہ ہم سورہ مائدہ کی ابتدا میں کہہ چکے ہیں، اصل میں ایک محکم چیز کے اطراف کو جمع کرنے کے معنی میں ہے ۔اسی وجہ سے رسی کے دونوں سروں میں گرہ لگانے کو ”عقد“ کہتے ہیں اور اسی مناسبت سے یہ لفظ معنوی امور میں بھی استعمال ہوتا ہے اور ہر قسم کے عہد و پیمان کو بھی ”عقد“ کہتے ہیں ۔ زیر نظر آیت میں ”عقد ایمان“ یعنی قسمیں باندھنے سے مراد کسی کام کا عزم مصمم ہے جو قسم کے مطابق انجام دیا جاتا ہے ۔ البتہ قسم کا حتمی ہونا اس کی درستی کے لیے اکیلا کافی نہیں ہے بلکہ جس طرح اُوپر اشارہ ہوا ہے کہ قسم کا مضمون کم از کم کوئی امر مباح ہونا چاہیے اور یہ بھی جاننا چاہیے کہ خدا کے نام کے بغیر قسم معتبر نہیں ہے ۔ اسی بناپر اگر کوئی شخص خدا کے نام کی قسم کھاتا ہے کہ وہ کوئی نیک عمل یا کم از کم کوئی مباح کام انجام دے گا تو واجب ہے کہ وہ اپنی قسم پر عمل کرے اور اگر اس نے قسم توڑلی تو اس کا کفارہ دینا پڑے گا ۔ قسم کا کفارہ وہی ہے جو محلِ بحث آیت کے ذیل میں بیان ہوا ہے ۔ اس قِسم کی قَسم کا کفارہ تین چیزوں میں سے ایک چیز ہے: پہلی چیز ہے دس مسکینوں کو کھانا کھلانا (فَکَفَّارَتُہٗۤ اِطۡعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیۡنَ)۔ البتہ اس بناپر کہ کہیں اس حکم سے بعض لوگ یہ استفادہ نہ کریں کہ پست و بے قیمت غذا کفارے کے طور پر کھانے لگیں، تصریح کی گئی ہے کہ یہ کھانا کم از کم ایک متوسط غذا ہونا چاہیے جو عام طور پر اپنے گھر میں کھاتے ہیں (مِنۡ اَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُوۡنَ اَہۡلِیۡکُمۡ)۔
البتہ اس تعبیر سے ظاہر ہوتا ہےکہ یہاں کیفیت کے لحاظ سے حد متوسط مراد ہے لیکن ممکن ہے کہ کیفیت کی طرف بھی اشارہ ہو اور مقدا و کمیت کیطرف ف بھی جیسا کہ ایک روایت میں امام صادق سے حدوسط کیفیت کے لحاظ سے اور ایک روایت میں امام باقر سے حد وسط کمیت کے لحاظ سے نقل ہوا ہے کہ جن کا خلاصہ دونوں لحاظ سے حد وسط بنتا ہے ( بحوالہ نور الثقلین جلد اول صفحہ 666 اور تفسیر برہان جلد اول صفحہ 496)۔
یہ بات بغیر کہے ظاہر ہے کہ حد وسط کا مسئلہ دونوں لحاظ سے شہروں، آبادیوں اور زمانوں کے اختلاف کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مختلف ہوگا ۔
آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کہ واسط اچھے اور عالی کے معنی میں ہے کیونکہ ”اوسط“ کا ایک معنی ”عالی “بھی ہے جیسا کہ پورہ قلم کی آیت ۲۸ میں ہے: قَالَ اَوسَطُھُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَکُمْ لَوٴ لَا تُسَبِّحُوْنَ ”
ان میں سے بہترین شخص نے یہ کہا کہ کیا میں نے تم سے کہا نہیں تھا کہ تم خدا کی تسبیح کیوں نہیں کرتے“۔
دوسری چیز ہے دس محتاج لوگوں کو لباس پہنانا (اَوۡ کِسۡوَتُہُمۡ البتہ آیت کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ ایسا لباس ہونا چاہیے کہ جو عام طور پر ان کو ڈھانپ لے اسی لیے بعض روایات میں ہے کہ امام صادق نے فرمایا کہ اس آیت میں (کسوہ) سے مراد دو قطعہ لباس (یعنی قمیص و شلوار) ہیں اور اگر ہم بعض روایت میں جیسے وہ روایت جو امام باقر سے نقل ہوئی ہے یہ پڑھتے ہیں کہ ایک کپڑے پر بھی قناعت کی جاسکتی ہے تو شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ عربی قسم کے بڑے قمیص اکیلے ہی سارے بدن کو ڈھانپ سکتے ہیں ۔ البتہ عورتوں کے لیے ایک قمیص چاہے وہ کتنا ہی بڑاکیوں نہ ہو کافی نہیں ہے بلکہ سر اور گردن کو ڈھانپنے کے لیے دوپٹہ بھی ضروری ہے ۔ کیونکہ عورت کو کم ا زکم جتنے لباس کی ضرورت ہوسکتی ہے وہ اس سے کم نہیں ہے ۔ تو اس احتمال کے ہوتے ہوئے بعید نہیں ہے کہ وہ لباس کہ جو کفارہ کے طور پر دیا جاتا ہے اس میں فصول (اس سلسلے میں ایک حدیث بھی امام باقر یا امام صادق سے نقل ہوئی ہے)، مکان اور زبان کے لحاظ سے تفاوت ہوجائے۔ اس سلسلے میں کہ کیا کیفیت کے لحاظ سے کم از کم کافی ہے یا یہاں بھی حدِ وسط کو ملحوظ رکھا جائے ۔ مفسرّین میں دو نظرئیے پائے جاتے ہیں ۔ پہلا یہ کہ آیت کے اطلاق کا تقاضا یہ ہے کہ ہر قسم کا لباس کافی ہے ۔ اور دوسرا یہ کہ اس شرط کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ جو کھانا کھلانے میں تھی یہاں بھی حد وسط کو ملحوظ رکھا جانا چاہیے ۔ البتہ پہلا احتمال آیت کے اطلاق کے ساتھ زیادہ مناسب ہے ۔
تیسری چیز ہے ایک غلام کو آزاد کرنا (اَوۡ تَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ)۔ اس سلسلے میں کہ جو غلام آزاد ہوگا کیا اُسے مسلمان اور مومن ہونا چاہیے یا کسی بھی غلام کو آزاد کرنا کافی ہے، فقہا کے درمیان اختلاف ہے اور اس کی وضاحت کتب فقہ میں پڑھنا چاہیے )۔
گر چہ آیت کا ظاہری مفہوم مطلق ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے اسلام مختلف ذارئع سے غلاموں کو آزاد کرانے کے لیے استفادہ کرتا ہے اور ہمارے جیسے زمانے میں جبکہ غلام نہیں ہیں دیگر کفاروں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا ۔
اس میں شک نہیں کہ تینوں چیزیں قیمت کے لحاظ سے بہت مختلف ہیں اور شاید یہ تفاوت اس بناپر ہو کہ ہر شخص آزاد ہے کہ وہ اپنی طاقت کے مطابق ان میں سے ایک کو منتخب کرسکے ۔
لیکن چونکہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوں جو اُن میں سے کسی پر بھی قدرت نہ رکھتے ہوں لہٰذا اس حکم کے بعد فرماتا ہے: اور وہ لوگ جو ان میں سے میں سے تک دسترس نہیں رکھتے انہیں تین دن کے روزے رکھنا چاہئیں (فَمَنۡ لَّمۡ یَجِدۡ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ) اس بناپر تین دن روزے رکھنا صرف اُن لوگوں سے مربوط ہے جو ان اُوپر والے تین امور میں سے کسی کی بھی انجام وہی کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس کے بعد تاکید کے طور پر قرآن کہتا ہے: تماری قسموں کا کفارہ یہ ہے جو بیان کیا گیا ہے (ذٰلِکَ کَفَّارَۃُ اَیۡمَانِکُمۡ اِذَا حَلَفۡتُمۡ)۔ لیکن اس بناپر کہ کوئی شخص یہ تصور نہ کرے کہ کفارہ دینے سے صحیح قسم کو توڑنا حرام نہیں ہے کہتا ہے: اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو (وَ احۡفَظُوۡۤا اَیۡمَانَکُمۡ)دوسرے لفظوں میں قسم پر عمل کرنا شرعاً واجب ہے اور اس کا توڑنا حرام ہے لیکن اگر توڑا ہے تو اس کا کفارہ دینا پڑے گا، قرآن آیت کے آخر میں فرماتا ہے: اس طرح خدا تمہارے لیے اپنی آیات بیان کرتا ہے تاکہ تم اس کا شکر ادا کرو اور ان احکام کے بارے میں کہ جو فرد و اجتماع کی سعادت و سلامتی کے ضامن ہیں اس کی حمد و سپاس کرو (کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمۡ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ)۔ ۹۰ ۔یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَ الۡمَیۡسِرُ وَ الۡاَنۡصَابُ وَ الۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡہُ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ۔۔ ۹۱ ۔اِنَّمَا یُرِیۡدُ الشَّیۡطٰنُ اَنۡ یُّوۡقِعَ بَیۡنَکُمُ الۡعَدَاوَۃَ وَ الۡبَغۡضَآءَ فِی الۡخَمۡرِ وَ الۡمَیۡسِرِ وَ یَصُدَّکُمۡ عَنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ عَنِ الصَّلٰوۃِ ۚ فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّنۡتَہُوۡنَ ۔ ۹۲ ۔ وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ احۡذَرُوۡا ۚ فَاِنۡ تَوَلَّیۡتُمۡ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا عَلٰی رَسُوۡلِنَا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ۔ ترجمہ ۹۰۔ اے ایمان لانے والو شراب، قمار بازی، بت اور ازلام (جو ایک قسم لاٹری تھی) پلید اور عمل شیطان ہیں، ان سے سے اجتناب کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ ۹۱۔ شیطان چاہتا ہے کہ شراب اور قمار بازی کے ذریعہ تمہارے درمیان دشمنی ڈال دے اور تمہیں ذکر خدا اور نماز سے باز رکھے تو کیا تم (ان تمام نقصانات اور اس تاکیدی نہی کے بعد) اس سے رکوے گے؟ ۹۲۔ اور خدا و پیغمبرؐ کی اطاعت کرو اور (اس کے فرمان کی مخالفت سے) ڈرو اور اگر تم روگردانی کرو گے تو (سزا کے مستحق ہوگے اور) جان لو کہ پیغمبرؐ کے ذمہ واضح ابلاغ کے سوا اور کچھ نہیں ہے (اور اس نے یہ فریضہ تمہارے سامنے انجام دے دیا ہے )۔
شان نزول پہلی آیت کے بارے میں شیعہ وسُنّی تفاسیر میں مختلف شان نزول ذکر ہوئی ہیں، جو تقریباً ایک دوسرے سے مشابہت رکھتی ہیں ۔ منجملہ اُن کے تفسیر در منشور میں سعد بن ابی و قاص سے اس طرح منقول ہے: وہ کہتا ہے یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ۔ انصار میں سے ایک شخص نے کھانا تیار کیا ہوا تھا اور اُس نے ہمیں دعوت دی اور چند افراد نے اس کی مجلس مہمانی میں شرکت کی اور کھانا کھانے کے علاوہ انہوں نے شراب بھی پی اور یہ اسلام میں شراب کی حرمت سے پہلے کا واقعہ ہے اور جب اُن کے دماغ شراب سے گرم ہوئے تو انہوں نے اپنے افتخارات بیان کرنا شروع کردئیے ۔ آہستہ آہستہ معاملہ بڑھتا گیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ اُن میں سے ایک نے اونٹ کی ہڈی اُٹھا کہ میری ناک پر ماردی اور اُسے چیردیا ۔ میں پیغمبرؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ ماجرا عرض کیا تو اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ مسند احمد، سنن ابی داؤد، نسائی اور ترمذی سے اس طرح منقول ہے: حضرت عمر (جو تفسیر فی ضلال جلد سوم ص۳۳ کے مطابق شراب کے بڑے رسیا تھے) دعا کرتے تھے خدایا! کوئی واضح بیان شراب کے بارے میں ہم پر نازل فرما ۔ جب سورہٴ بقرہ کی آیت ۲۱۹(ویسئلونک عن الخمر والمیسر) نازل ہوئی تو پیغمبرؐ نے ان کے سامنے اس آیت کی تلاوت فرمائی لیکن وہ پھر بھی یہی دعا کرتے رہے اور کہتے رہے کہ خدایا اس بارے میں کوئی واضح تر بیان ہم پر نازل فرما یہاں تک کہ سورہٴ نساء کی آیت ۴۳ نازل ہوئی جو یہ ہے: ” يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَقْرَبُواْ الصَّلاَةَ وَأَنتُمْ سُكَارَى۔“ پیغمبرؐ نے وہ بھی ان کے سامنے پڑھی ۔ انہوں نے پھر بھی اپنی اسی دعا کو جاری رکھا یہاں تک کہ سورئہ مائدہ کی (آیہ زیر بحث) کہ جس میں اس موضوع پر ایک غیر معمولی صراحت موجود تھی نازل ہوئی ۔ جب پیغمبر اکرم ؐنے یہ آیت حضرت عمر کے سامنے پڑھی تو انہوں نے کہا: ”انتہینا انتہینا“ہم اب شراب پینے سے رک گئے ۔ اب ہم شراب خواری سے رک گئے“(بحوالہ تفسیر برہان جلد اول صفحہ ۴۹۶۔ تفسیر المینار جلد ۷ صفحہ ۵۰.)
شیطان چاہتا ہے کہ شراب اور قمار بازی کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی ڈال دے اور تمہیں ذکر خدا اور نماز سے باز رکھے تو کیا تم (ان تمام نقصانات اور اس تاکیدی نہی کے بعد) اس سے رکو گے ؟
اور خدا و پیغمبر کی اطاعت کرو اور اس کے فرمان کی مخالفت سے ڈرو اور اگر تم رو گردانی کرو گے تو (سزا کے مستحق ہو گے اور) جان لو کہ پیغمبر کے ذمہ واضح ابلاغ کے سوا اور کچھ نہیں ہے (اور اس نے یہ فریضہ تمہارے سامنے انجام دے دیا ہے)۔
شراب کے بارے میں قطعی حکم اور اس کے تدریجی مراحل
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
جیسا کے ہم نے اس تفسیر کی جلد سوم میں سورہٴ نساء کی آیہ ۴۳ کے ذیل میں اشارہ کیا ہے کہ ظہور اسلام سے پہلے زمانہٴ جاہلیت میں شراب خواری اور مے نوشی کا بہت زیادہ رواج تھا اور یہ ایک عمومی و باکی صورت اختیار کر گئی تھی یہاں تک کہ بعض مورخین کہتے ہیں کہ زمانہٴ جاہلیت کے عربوں کے عشق کا خلاصہ تین چیزیں تھیں شعر و شراب اور جنگ! روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شراب کے حرام ہونے کے بعد تک بھی بعض مسلمانوں کے لیے اس کی ممانعت کا مسئلہ حد سے زیادہ سخت اور مشکل تھا ۔ یہاں تک کہ وہ یہ کہتے تھے کہ ”ما حرّم علینا شیٴ اشدّ من الخمر“۔ ”شراب کے حرام ہونے سے زیادہ اور کوئی حکم ہم پر سخت تر نہیں تھا“۔(بحوالہ المنار جلد۷ صفحہ ۵۱.)
یہ بات واضح ہے کہ اگر اسلام چاہتا کہ اس عظیم عمومی وبا کے خلاف نفسیات اور معاشرے کے اجتماعی اصول کو مد نظر رکھے بغیر بر سر بیکار ہوجائے تو کامیابی ممکن نہ تھی لہٰذا اس نے مے نوشی کی بیخ کنی کے لیے تدریجی طریقہ اختیار کیا ۔ پہلے ان کے اذہان و افکار کو آمادہ کیا گیا پھر حرمت کا حکم ناقذ کیا گیا ۔ کیونکہ مے نوشی کی عادت ان کی ایک فطرت ثانیہ بن چکی تھی پہلے مکی سورتوں میں بعض آیات میں اس کام کی برائی کی طرف کچھ اشارے کیے گئے ۔ جیسا کہ سورہٴ نحل کی آیت ۶۷ میں ہے:
”و من ثمرات النخیل و الاعناب تتخذون منہ سکراً و رزقا حسناً“
تم انگور اور کھجور کے ردخت کے پھلوں سے مسکرات (نشہ آور چیزیں) اور پاکیزہ روزی فراہم کرتے ہو“۔ اس مقام پر لفظ ”مسکر“ یعنی مسکر اور اس شراب کو جو وہ انگور اور خرما سے حاصل کرتے تھے رزقِ حسن کے مد مقابل بیان کیا گیا ہے اور اُسے ایک ناپاک اور آلودہ مشروب شمار کیا گیا ہے ۔
لیکن شراب خواری کی بُری عادت نے اس سے کہیں زیادہ جڑیں پکڑی ہوئی تھیں کہ اُس کی ان اشاروں سے بیخ کنی ہوجائے ۔ اس کے علاوہ شراب اُن کی اقتصادی در آمدات کے ایک حصّہ کی ضامن بھی تھی لہٰذا جب مسلمان مدینے میں منتقل ہوگئے اور پہلی اسلامی حکومت کی تشکیل ہوئی تو شراب خواری کی ممانعت کے بارے میں دوسرا حکم قاطع تر صورت میں نازل ہوا تا کہ افکار کو (شراب کی) حرمت کے انتہائی حکم کے لیے اور زیادہ آمادہ کیا جاسکے ۔ یہ موقع تھا جبکہ سورہٴ بقرہ کی آیت ۲۱۹ نازل ہوئی: ”یسئلونک عن الخمر و المیسر قل فیہما اثم کبیر و منافع للنّاس و اثمہما اکبر من نفعہما“ اس آیت میں بعض معاشروں مثلاً دورِ جاہلیت کے لیے شراب کے اقتصادی منافع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کے خطرات اور عظیم نقصانات کی جانب توجہ مبذول کروائی گئی ہے جو کہ اُس کے اقصادی منافع سے کئی درجہ بڑھ کر ہیں ۔
اس کے بعد سورہٴ نساء کی آیت ۴۳ ہے: ” يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَقْرَبُواْ الصَّلاَةَ وَأَنتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُواْ مَا تَقُولُونَ “ اس مسلمانوں کو صراحت سے حکم دیا گیا ہے کہ وہ مستی کی حالت میں ہرگز نماز نہ پڑھیں جب تک کہ یہ نہ جانیں کہ وہ اپنے خدا سے کیا باتیں کرتے ہیں ۔ البتہ اس آیت کا مفہوم یہ نہیں تھا کہ نماز کی حالت کے علاوہ شراب پینا جائز ہے بلکہ مقصد وہی تدریجی طور پر اس کی حرمت کا حکم نافذ کرنا تھا ۔ دوسرے لفظوں میں یہ آیت نماز کی حالت کے علاوہ دوسری حالتوں کے سلسے میں خاموش ہے اور صراحت سے کچھ نہیں کہتی ۔
مسلمانوں کی احکام اسلام سے شناسائی اور اس عظیم معاشرتی روگ کو جو اُن کے وجود کی گہرائیوں میں اُتر چکا تھا جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے اُن کی فکری آمادگی اس بات کا سبب بنی کہ آخری حکم مکمل صراحت اور قاطعیت سے نازل ہوا کہ جس کے بعد بہانہ سازی کرنے والے بھی اعتراض نہ کرسکیں اور وہ یہی زیر بحث آیت ہے قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس آیت میں مختلف تعبیرات کے ذریعہ اس کام کی ممنوعیت پر تاکید کی گئی ہے: ۱۔ آیت ”یا ایہا الذین آمنوا“ کے خطاب سے شروع ہوئی ہے، یہ اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس حکم کی مخالفت روح ایمان کے منافی ہے۔
۲ -اس کے بعد لفظ ”انّما“ جو استعمال ہوا ہے حر وتاکید کے لیے ہے ۔ ۳۔ شراب اور قمار بازی کو انصاب (انصاب، نصیب کے بارے میں ہم اس تفسیر کی جلد چہارم میں بحث کرچکے ہیں) (وہ بت کہ جن کی کوئی مخصوص شکل وصورت نہیں تھی صرف پتھر کے ٹکڑے سے بنے ہوئے تھے) کے ساتھ ذکر کرتے ہوئے اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ شراب اور قمار بازی کا خطرہ اس قدر زیادہ ہے کہ وہ بت پرستی کے ہم پلہ قرار پایا ہے، اسی بناپر پیغمبر اکرمؐ سے ایک روایت میں ہے: ”شراب الخمر کعابد الوثن“ ”
شراب خوار بت پرست کی مانند ہے(حاشیہ تفسیر طبری، ج۷، ص۳۱۔ یہی حدیث تفسیر نور الثقلین، ج۱، ص۶۶۹ میں امام صادق علیہ السلام سے بھی منقول ہے ۔)
۴۔ شراب، قمار بازی اور اسی طرح بت پرستی اور ازلام (جو ایک قسم کی لاٹری ہے)
”ازلام“ کے بارے میں ہم تفسیر نمونہ چلد چہارم میں بحث کرچکے ہیں (دیکھئے صفحہ۲۰۵ اُردو ترجمہ)
یہ سب رجس وپلیدی کے طور پر شمار کیے گئے ہیں (اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَ الۡمَیۡسِرُ وَ الۡاَنۡصَابُ وَ الۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ) ۵۔ یہ سب شیطانی اعمال میں سے قرار دیئے گئے ہیں (مِّنۡ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ) ۶۔ آخر کار ان سے اجتناب کرنے کے بارے میں قطعی حکم صادر کرنے کرتے ہوئے فرماتا ہے: (فَاجۡتَنِبُوۡہُ) ضمنی طور پر توجہ رہے کہ اجتناب، نہی کی نسبت زیادہ رسا مفہوم رکھتا ہے کیونکہ اجتناب کا معنی فاصلہ پر رہنا ، دوری اختیار کرنا اور نزدیک نہ جانا ہے جو کہ ”نہ پیو“ سے کہیں بہتر اور رساتر ہے ۔ ۷۔اس آیت کے آخر میں قرآن کہتا ہے کہ یہ حکم اس بنا پر دیا گیا ہے تا کہ تم کا میابی اور فلاح حاصل کر لو (لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ) یعنی اس کے بغیر کامیابی اور نجات ممکن نہیں ہے ۔ ۸۔ بعد والی ایت میں شراب اور قمار بازی کے بعض واضح نقصان ذکر کیے گئے ہیں، پہلے کہتا ہے کہ شیطان چاہتا ہے کہ شراب اور قمار بازی کے ذریعے تمہارے درمیان عداوت ودوشمنی کی تخم ریزی کرے اور تمھیں نماز اور ذکر خدا سے بازرکھے (اِنَّمَا یُرِیۡدُ الشَّیۡطٰنُ اَنۡ یُّوۡقِعَ بَیۡنَکُمُ الۡعَدَاوَۃَ وَ الۡبَغۡضَآءَ فِی الۡخَمۡرِ وَ الۡمَیۡسِرِ وَ یَصُدَّکُمۡ عَنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ عَنِ الصَّلٰوۃِ)۔ ۹ اس آیت کے آخر میں استفہام تقریری کے طور پر کہتا ہے: ”کیا تم اس سے بچوگے اور رک جاؤگے“ (فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّنۡتَہُوۡنَ)۔ یعنی کیا ان تمام تاکیدوں کے باوجود ان دو عظیم گناہوں کو ترک کرنے کے بارے میں کوئی بہانہ جوئی یا شک وتردّد کی گنجائش رہ گئی ہے ۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عمر تک بھی گذشتہ آیات کی تصریحات کو اس لگاؤ کی وجہ سے جو (سنّی مفسّرین کی تصریح کے مطابق) انھیں شراب سے کافی نہیں سمجھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد کہنے لگے کہ یہ حکم کافی دوانی اور قناعت کنندہ ہے ۔ ۱۰۔ تیسری آیت میں اس حکم کی تاکید کے طور پر پہلے تو مسلمان کو حکم دیتا ہے کہ خدا اور اس کے پیغمبر کی اطاعت کریں اور اس کی مخالفت سے پرہیز کریں ۔ ” اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ احۡذَرُوۡا “
اس کے بعد مخالفین کو دھمکی دیتا ہے کہ اگر انھوں نے پروردگار کے فرمان کی اطاعت سے روگردانی کی کیفر کردار اور سزا کے مستحق ہوں گے اور پیغمبرؐ کی ذمہ داری اور فریضہ سوائے واضح ابلاغ اور تبلیغ کے اور کچھ نہیں ہے(فَاِنۡ تَوَلَّیۡتُمۡ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا عَلٰی رَسُوۡلِنَا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ) ۔
شراب اور قمار بازی کے مہلک اثرات
تفسیر نمونہ کی دوسری جلد میں سورہٴ بقرہ کی آیت۲۱۹ کے ذیل میں ان دو اجتماعی اور معاشرتی باؤں کے سلسلے میں تفصیلی بحث کی جاچکی ہے لیکن یہاں پر تاکید مطلب کے لیے قرآن مجید کی اقتدا کے طور پر ضروری ہے کہ کچھ اور نکات کا تذکرہ کیا جائے ۔ یہ نکات اُن مختلف اعداد وشمار کا مجموعہ ہیں جن میں علیحدہ علیحدہ اُن نقصانات کی گہرائی اور وسعت ظاہر ہوتی ہے جن کا تعلق ان دونوں سے ہے ۔
۱۔ ان اعداد وشمار کے مطابق جو انگلستان میں الکحل کے جنون کے بارے میں شائع ہوئے ہیں کہ جن میں دیوانگی کا دوسری چیزوں سے ہونے سے والی دیوانگی اور جنون سے موازنہ کیا گیا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ۲۲۴۹ الکحل کے دیوانوں کے مقابلہ میں صرف ۵۳ دیوانے دوسرے اسباب کی وجہ سے ہوئے تھے(سمپوزیوم الکحل، ص۶۵1)
۲۔ دوسرے اعداد وشمار میں جو امریکہ کے اسپتالوں سے ہاتھ لگے ہیں ان کے نفسیاتی مریضوں میں سے ۸۵ فیصد الکحل سے مریض تھے(کتاب سمپوزیوم الکحل، ص۶۵)
۳ ۔ ایک انگریزی دانشور جس کا نام ”بنٹام“ ہے لکھتا ہے: مشروباتِ الکحل شمالی ممالک میں انسان کو احمق وبے وقوف بناتے ہیں اور جنوبی ممالک میں دیوانہ بنادیتے ہیں ۔ پھر مزید کہتا ہے : دین اسلام نے تمام قسم کے مشروبات ِ الکحل کو حرام قرار دیا ہے اور یہ اسلام کی خصوصیات میں سے ہے(بحوالہ تفسیر طنطاوی، ج۱، ص۱۶۵.)
۴۔ جن لوگوں نے مستی اور نشہ کی حالت میں کوئی قتل یا کسی اور جرم کا ارتکاب کیا ہے اور گھروں کے گھر ویران کردیئے اور خاندان تباہ کردیئے ہیں اگر ان کے اعداد وشمار جمع کیے جائیں تو وہ ہوش ربا حد تک بہت زیادہ ہوں گے(دائرة المعارف، فرید وحیدی، ج۳، ص۷۹۰.)
۵۔فرانس میں ہر روز ۴۴۰ افراد اپنی جان الکحل کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں (بحوالہ بلاہائے اجتماعی قرن ما، ص۲۰۵)
۶۔ایک اور اعداد وشمار کے مطابق امریکہ میں ایک سال میں نفسیاتی بیماریوں سے تلف ہونے والی جانیں دوسری عالمی جنگ امریکیوں کی تلف ہونے والی جانوں سے دوگنی تھیں اور محققین کے نظریہ کے مطابق امریکہ میں نفسیاتی بیماریوں میں مشروباتِ الکحل اور سگرٹ نوشی کا بنیادی حصّہ ہے(مجموعہ انتشارات نسل نو)
۷۔ان اعداد وشمار کے مطابق جو ایک دانشور ”ہوگر“ کے ذریعے مجلّہٴ علوم کی بیسویں سالگرہ کی مناسبت سے شائع ہوئے تھے ۶۰فیصد قتل عمر، ۵فیصد مارپیٹ اور زخمی کرنے کے جرائم، ۳۰فیصد اخلاقی جرائم (جن میں محارم سے زنا کے جرائم بھی شامل ہیں) اور ۲۰فیصد چوری چکاری کے جرائم شراب اور مشروبات الکحل کے ساتھ مربوط تھے ۔ اسی دانشور کے اعداد وشمار کے مطابق ۴۰فیصد مجرم بچے الکحل کے ساتھ اثر کے حامل ہیں( بحوالہ سمپوزیوم الکحل، ص۶۶.)
۸۔اقتصادی نقطہٴ نظر سے صرف انگلستان میں وہ نقصانات جو کاریگروں کے کارخانوں سے مے نوشی کی وجہ سے غیر حاضر رہنے سے پیدا ہوتے ہیں سال میں ۵۰ملین ڈالر (تقریباً اسی کروڑ روپئے موجودہ حساب سے) ہیں ۔ یہ وہ رقم جو ہزراوں نرسری، پرائمری اور ہائی اسکولوں کے اخراجات پورے کرسکتی ہے( بحوالہ مجموعہ انتشارات نسلِ جوان، سال دوم، ص۳۳۰)
۹۔ان اعداد وشمار کے مطابق جو مے نوشی کے نقصانات کے سلسلے میں فرانس میں شائع ہوئے ہیں ۱۳۷ ارب فرانک سالانہ انفرادی نقصانات کے علاوہ حکومت فرانس کے مخارج میں الکحل سے مدرجہ ذیل تفاصیل کے مطابق نقصان ہوتا ہیں: ۶۰۔ ارب فرانک عدالت اور قید خانے کے اخراجات ۔ ۴۰ ارب فرانک تعاون عمومی اور خیرات کے اخراجات ۔
۱۰ ارب فرانک شراب خواری کے ہسپتالوں کے اخراجات ۔ ۷۰ ارب فرانک معاشرے کے امن وامان کو برقرار رکھنے کے اخراجات ۔ تو اس طرح واضح ہوجاتا ہے کہ نفسیاتی بیماریوں ہسپتالوں، قتلوں، خونی فسادات، چوریوں، زیادتیوں اور حادثوں کی تعداد میخانوں کی تعداد کے ساتھ براہِ راست منسلک ہے(نشریہ مرکز مطالعہ پیشرفت ہائے ایران (الکحل اور قمار بازی کے بارے میں) ۱۰۔ امریکہ میں اعداد وشمار کے سب سے بڑے مرکز نے ثابت کردیا ہے کہ قمار بازی کا ۳۰فیصد جرائم میں براہِ راست حصّہ ہے ۔ دوسرے اعداد وشمار کے مطابق جو قماربازوں کے سلسلے میں شائع ہوئے ہیں، بڑے افسوس کے ساتھ ہم دیکھتے ہیں کہ ۹۰فیصد جیب تراشی، ۵۰فیصد اخلاقی خرابیاں، ۳۰فیصد طلاقیں، ۴۰فیصد مارپٹائی اور زخمی کرنے کے واقعات اور ۵فیصد خودکشیاں قماربازی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
نشریہ مرکز مطالعہ پیشرفتہائے ایران (برائے الکحل و قمار بازی)
جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک عمل کرنے لگے انہوں نے پہلے جو کچھ کھایا پیا اس پر کوئی گرفت نہ ہو گی بشرطیکہ وہ آئندہ ان چیزوں سے بچے رہیں جو حرام کی گئی ہیں اور ایمان پر ثابت قدم رہیں اور اچھے کام کریں پھر جس جس چیز سے روکا جائے اس سے رکیں اور جو فرمان الٰہی ہو اسے مانیں پھر خدا ترسی کے ساتھ نیک رویہ رکھیں اللہ نیک کردار لوگوں کو پسند کرتا ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
تفسیر مجمع البیان، تفسیرطبری، تفسیر قرطبی اور بعض دوسری تفاسیر میں اس طرح آیا ہے کہ شراب وقماربازی کی حرمت کی آیت کے نزول کے بعد بعض اصحاب پیغمبر نے کہا کہ اگر ان دونوں کاموں کے یہ سب گناہ ہیں تو پھر ہمارے اُن مسلمان بھائیوں کا کیا بنے گا جو اس آیت کے نزول پہلے کرچکے ہیں اور انھوں نے اس وقت تک ان دونوں کاموں کو ترک نہیں کیا تھا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اُنہیں جواب دیا گیا ۔
تقویٰ اختیار کریں اور ایمان لے آئیں اور عمل صالح بجا لائیں
اس آیت میں اُن لوگوں کے بارے میں جواب دیتے ہوئے جو شراب ار قمار بازی کی حرمت کے نزول سے پہلے مرچکے تھے اُن لوگوں کے بارے میں کہ جن کے کانوں تک ابھی تک یہ حکم نہیں پہنچا تھا اور وہ دور دراز کے علاقوں میں زندگی بسر کررہے تھے فرمایا گیا ہے: وہ لوگ جو ایمان رکھتے تھے اور عمل صالح انجام دیتے تھے اور یہ حکم اُن تک نہیں پہنچا تھا، اگر اُنھوں نے شراب پی ہے یاقماربازی کی کمائی سے کھاتے رہے تو اُن پر کوئی گناہ نہیں ہے (لَیۡسَ عَلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیۡمَا طَعِمُوۡۤا)
یہ بات قابل توجہ رہے کہ ”طعام“ زیادہ تر کھانے کی چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے نہ پینے کی چیزوں کے لیے لیکن بعض اوقات پینے کی چیزوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے مثلاً سورہٴ بقرہ کی آیت۲۴۹ میں ہے : (فَمَنْ شَرِبَ مِنْہُ فَلَیْسَ مِنِّی وَمَنْ لَمْ یَطْعَمْہُ فَإِنَّہُ مِنِّی)
اس کے بعد اس حکم کو اس بات کے ساتھ مشروط کرتا ہے کہ وہ تقویٰ اختیار کریں اور ایمان لے آئیں اور عمل صالح بجالائیں (اِذَا مَا اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ)۔ پھر اس امر کی تکرار کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: پھر تقویٰ اختیار کرو اور ایمان لے آؤ (ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا )۔ اس کے بعد تیسری مرتبہ تھوڑے سے فرق کے ساتھ اسی حکم کی تکرار کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: پھر تقویٰ اختیار کرو اور نیکی کرو (ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اَحۡسَنُوۡا ) آیت کے آخر میں فرمایا: خدا نیک لوگوں کو دوست رکھتا ہے (وَاللهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِینَ )۔
ان تین جملوں کی تکرار کے سلسلے میں قدیم وجدید مفسّرین کےدرمیان زیادہ اختلاف ہے، بعض انہیں تاکید پر محمول کرتے ہیں، کیونکہ تقویٰ، ایمان اور عمل صالح کے موضوعات کی اہمیت کا تقاضا یہ ہے کہ انھیں پختگی کے ساتھ باربار بیان کیا جائے اور تاکید کی جائے ۔
لیکن بعض مفسّرین کا یہ نظریہ ہے کہ اِن تینوں جملوں میں سے ہر ایک میں علیحدہ اور جداگانہ حقیقت بیان ہوئی ہے، انھوں نے ان کے اخلاف کے سلسلے میں کئی احتمال پیش کیے ہیں کہ جن میں بہت سے ایسے ہیں کہ جن کی کوئی دلیل اور شاہد نہیں ہے ۔ شاید اس سلسلے میں بہترین بات یہ ہے کہ پہلی مرتبہ ذکر ہونے والے ”تقویٰ“ سے مراد اندرونی تقویٰ اور باطنی احساسِ ذمہ داری ہے جو انسان کو دین کے بارے میں تحقیق وجستجو کرنے، پیغمبر کے معجزے میں غوروفکر کرنے اور حق کے بارے میں جستجو کرنے پر اُبھارتی ہے جس کا نتیجہ ایمان اور عمل صالح ہے، دوسرے لفظوں میں جب تک تقویٰ کا ایک مرحلہ وجود انسانی میں پیدا نہیں ہوتا اُس وقت تک اُسے تحقیق کی جستجو کی فکر لاحق نہیں ہوتی، اس بناپر پہلی مرتبہ اُوپر والی آیت میں تقویٰ کے بارے میں جو گفتگو ہوئی ہے وہ تقویٰ کے اسی مرحلہ کی طرف اشارہ ہے ۔ یہ چیز آیت کے ابتدا کے اس حصّے کے منافی نہیں ہے: (لَیْسَ عَلَی الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ )
کیونکہ ہوسکتا ہے کہ آیت کی ابتدا میں ایمان ظاہری تسلیم کے معنی میں ہو لیکن جو ایمان تقویٰ کے بعد پیدا ہوتا ہے وہ حقیقی ایمان ہے ۔ دوسری دفعہ جو تقویٰ کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے وہ اُس تقویٰ کی طرف اشارہ ہے جو انسان کے اندر اور باطن میں نفوذ کرجائے کہ جس کا اثر زیادہ گہرا ہوتا ہے اور اس کا نتیجہ ایمان مستقر وثابت ہے، کہ عمل صالح جس کا ایک حصّہ اور جز ہے، اسی لیے دوسرے مرحلے ایمان کے ذکر کے بعد عمل صالح کے ذکر کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ تیسری مرتبہ ”تقویٰ“ سے متعلق جو گفتگو ہے اس سے مراد وہ تقویٰ ہے جو اپنے بلند ترین مرحلے تک پہنچ جاتا ہے اس طور پر کہ اب اُسے حتمی فرائض کی انجام دہی کی دعوت کے علاوہ احسان یعنی نیک کاموں کی دعوت بھی دی گئی ہے، یہاں تک کہ اُن کاموں کے لیے بھی کہ جو داخل نہیں ہیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ تقویٰ کے بار ے میں تین مرتبہ کا یہ تذکرہ احساسِ ذمہ داری اور پرہیزگاری کے ایک ایک مرحلہ کی طرف اشارہ ہے، ”ابتدائی مرحلہ“، ”درمیانہ مرحلہ“ اور ”آخری مرحلہ“ اور ان میں سے ہر ایک خود آیت میں ایک قرینہ رکھتا ہے کہ جس کا سہارا لے کر مقصد معلوم کیا جاسکتا ہے، بخلاف ان احتمالات کے جو بعض مفسّرین نے ان تین قسم کے تقویٰ اور ایمان کے فرق کے بارے میں پیش کیے ہیں کہ جن کے لیے کوئی قرینہ اور شاہد موجود نہیں ہے ۔
اے ایمان والو ! خدا تمہیں شکار کی اس شرط پر کہ (جو تمہارے قریب آ جائیں اور) تمہارے ہاتھ اور نیزے ان تک پہنچ جاتے ہیں، آزمائے گا تاکہ معلوم ہو جائے کہ کون شخص غیب پر ایمان رکھتے ہوئے خدا سے ڈرتا ہے اور جو شخص اس کے بعد تجاوز کرے تو اس کے لئے درد ناک عذاب ہو گا۔
اے ایمان والو ! حالت احرام میں شکار کو قتل نہ کرو اور جو شخص تم میں سے جان بوجھ کر اسے قتل کرے گا تو اسے چاہئے کہ اس کا معادل کفارہ جو پایوں میں سے دے، ایسا کفارہ کہ جس کے معادل ہونے کی دو آدمی تصدیق کریں اور وہ قربانی کی شکل میں (حریم) کعبہ میں پہنچے یا (قربانی کے بجائے) مساکین و فقرا کو کھانا کھلائے یا اس کے معادل روزے رکھے تاکہ اپنے کام کی سزا کا مزہ چکھ سکے۔ جو کچھ گذشتہ زمانے میں ہو چکا ہے خدا نے وہ معاف کیا اور جو شخص تکرار کرے خدا اس سے انتقام لے گا اور خدا تو انا اور صاحب انتقام ہے۔
دریا کا شکار اور اس کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے تاکہ تم اور مسافرین اس سے فائدہ اٹھائیں لیکن جب تک تم حالت احرام میں ہو تو صحرا کا شکار تم پر حرام ہے اور (خدا کی نا فرمانی سے کہ) جس کی طرف تم محشور ہو گے ڈرتے رہو۔
حالت احرام میں شکار کرنے کے احکام
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
یہ آیات عمرہ اور حج کے احکام میں سے ایک حکم یعنی حالت احرام میں صحرائی اور دریائی جانوروں کے شکار کا مسئلہ بیان کرتی ہیں، پہلے تو اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ جس کا ”حدیبیہ“ والے سال مسلمانوں کو سامنا کرنا پڑا تھا ارشاد ہوتا ہے: ”اے ایمان والو! خدا تمھیں شکار میں سے ایک چیز کے ساتھ آزمائے گا، ایسے شکار جو تمھارے اس قدر نزدیک ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ تم نیزہ اور ہاتھ کے ساتھ انھیں شکار کرسکتے ہو (یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَیَبۡلُوَنَّکُمُ اللّٰہُ بِشَیۡءٍ مِّنَ الصَّیۡدِ تَنَالُہٗۤ اَیۡدِیۡکُمۡ وَ رِمَاحُکُمۡ) ۔
آیت کی تعبیر سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا یہ چاہتا ہے کہ پیش بینی کے طور پر لوگوں کو ایک ایسے واقعہ سے جو انھیں پیش آنے والا تھا آگاہ کرے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس تمام شکار کا وہاں کے لوگوں کے ہاتھوں کی پہنچ میں آجانا ایک ایسا امر تھا جو پہلے کبھی نہیں ہوا تھا اور یہ مسلمانوں کے لیے ایک قسم کی آزمائش تھی خصوصاً یہ دیکھتے ہوئے جانوروں کے گوشت سے غذا مہیا کرنے کی اُنھیں ضرورت بھی تھی۔
اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ یہ جانور وسوسہ انگیزی کی صورت میں خیموں کے اطراف میں اور ان کے گرداگرد آتے جاتے تھے، اس قسم کی میسّر غذا سے محروم رہنا، وہ بھی اس زمانے اور وقت میں ایسے لوگوں کے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس جملہ سے مراد کہ ”تمھارے ہاتھ سے شکار کے قابل ہوں گے“ یہ ہے کہ وہ انھیں جال وغیرہ سے پکڑ سکتے تھے لیکن آیت کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ حقیقتاً ان کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ خود ہاتھ سے انھیں پکڑسکتے تھے ۔ اس کے بعد تاکید کے طور پر فرمایا ہے: یہ ماجرا اس لیے ہوا تھا کہ وہ لوگ جو ایمان بالغیب کی بناپر خدا سے ڈرتے ہیں دوسرے لوگوں سے ممتاز ہوجائیں (لِیَعۡلَمَ اللّٰہُ مَنۡ یَّخَافُہٗ بِالۡغَیۡبِ) ۔ جیسا کہ ہم جلد اوّل میں سورئہ بقرہ کی آیت ۱۴۳ کے ذیل میں کہہ چکے ہیں کہ ”لنعلم“تاکہ ہم جان لیں یا”لیعلم“ ”تاکہ خدا جان لے“وغیرہ جیسی تعبیرات سے مراد یہ نہیں ہے کہ خدا کسی چیز کو جانتا نہیں اس لیے وہ چاہتا ہے کہ آزمائش اور امتحان وغیرہ کے ذریعہ سے جان لے ۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ ہم چاہتے کہ اپنی واقعیتِ علمی کو عملی جامہ اور متحققِ خارجی کا لباس پہنائیں کیونکہ باطنی نیتیں اور لوگوں کی آمادگیاں، تکامل وار تقا، اور جزا و سزا کے لیے اکیلی ہی کافی نہیں ہیں بلکہ انھیں خارجی افعال کی شکل میں ظہور پذیر ہونا چاہیے تاکہ وہ ان آثار کے حامل ہوسکیں (مزید وضاحت کے لیے مذکورہ آیت کی تفسیر کی طرف رجوع کیجئے) ۔ آیت کے آخر میں اُن اشخاص کو کہ جو اس خدائی حکم کی مخالفت کرتے ہیں درناک عذاب کی تہدید کی گئی ہے (فَمَنِ اعۡتَدٰی بَعۡدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ) اگر چہ آیت کا آخری جملہ اجمالی طور پر حالت احرام میں شکار کی حرمت پر دلالت کرتا ہے لیکن بعد والی آیت میں مزید صراحت اور قطعیت کے ساتھ اور بطور عموم حالت احرام میں شکار کے حرام ہونے کا حکم صادر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے: ”اے ایمان لانے والو! حالت احرام میں شکار نہ کرو“ (یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡتُلُوا الصَّیۡدَ وَ اَنۡتُمۡ حُرُمٌ) ۔
کیا شکار کی حرمت (جو بعد والی آیت کے قرینہ کے ساتھ صحرائی شکار ہے) صحرا کی تمام اقسامِ شکار پر محیط ہے چاہے وہ حلال گوشت ہوں یا حرام گوشت یا حلال گوشت شکار سے مخصوص ہے ۔ مفسّرین اور فقہا کے درمیان اس سلسلے میں کوئی ایک نظریہ نہیں ہے ۔ تا ہم فقہا و مفسّرین امامیہ میں مشہور یہ ہے کہ حکم عام ہے اور جو روایات اہلِ بیت علیہم السلام کے طریق سے وارد ہوئی ہیں وہ بھی اس مطلب کی تائید کرتی ہیں بعض فقہائے اہل سنت مثلاً ابوحنیفہ ہمارے ساتھ اس سلسلے میں متفق ہیں مگر دوسرے بعض مثلاً شافعی اسے حلال گوشت جانوروں کے ساتھ مخصوص سمجھتے ہیں بہرحال یہ حکم گھریلو جانوروں کے بارے میں نہیں ہے کیونکہ گھریلو جانوروں کو صیدو شکار نہیں کہا جاتا۔قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ہماری روایات میں نہ صرف یہ کہ حالت احرام میں شکار کرنا حرام ہے بلکہ اس میں مددکرنا، اشارہ کرنا اور شکار کی نشاندہی کرنا بھی حالت احرام میں حرام قرار دیا گیا ہے ۔
ہوسکتا ہے کہ بعض لوگ یہ تصور کریں کہ صید وشکار کا مفہوم حرام گوشت جانوروں پر محیط نہیں ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔ کیونکہ جانوروں کا شکار مختلف مقاصد کے لیے انجام پاتا ہے ۔ بعض اوقات مقصود اُن کے گوشت سے فائدہ اٹھاناہوتا ہے، بعض اوقات ان کی کھال سے نفع حاصل کر نے لیے ہو تا ہے اور بعض اوقات ان کی مزاحمت کو دور کرنے لیے ہوتاہے ۔
وہ مشہور شعر جو حضرت علی علیہ اسلام سے منقول ہے وہ بھی عمومیت کا مشاہدہ بن سکتا ہے، آپ فرماتے ہیں:
صید العلوک ارانب و ثعالب ــــــــ و اذا رکبت فصیدی الا بطال
بادشاہوں کے شکار خرگوش اور لومڑیاں ہیں لیکن میرا شکار، جب میں میدان جنگ میں وارد ہوتا ہوں تو شجاع اور بہادر ہوتے ہیں ۔ (مزید وضاحت کے لیے فقہی کتب کی طرف رجوع کیا جائے) ۔ اس کے بعد حالت احرام میں شکار کرنے کے کفارہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: جو شخص جان بوجھ کر شکار کو قتل کردے تو اُسے چاہیے کہ چوپاؤں میں سے اُن جیسے جانور کفارہ میں دے یعنی انھیں قربانی کرکے ان کا گوشت فقراء ومساکین کو دے (وَ مَنۡ قَتَلَہٗ مِنۡکُمۡ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثۡلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ)
یہاں مثل سے مراد کیا ہے؟ کیا شکل وصورت اور مقدار میں ایک جیسا ہونا، اس معنی میں کہ مثلاً اگر کوئی شخص کسی بڑے وحشی جانور مثلاً شتر مرغ کو شکار کرتا ہے تو اسے چاہیے کہ اس کا کفارہ اونٹ کی صورت میں دے؟ یا اگر ہرن کا شکار کرتا ہے تو کفارہ کے لیے بھیڑ بکری کی قربانی دے جو تقریباً اس جیسی ہے؟ یا یہ کہ مثل سے مراد قیمت میں ایک جیسا ہونا ہے؟
فقہا اور مفسّرین میں پہلا معنی ہی مشہور ہے اور آیت کا ظاہری مفہوم بھی اسی کے مطابق ہے، کیونکہ حلال گوشت اور حرام گوشت کے حکمِ عمومی کو مدنظر رکھتے ہوئے دیکھیں تو بہت سے جانور ایسے ہیں جن کی قیمت ثابت ومشخص نہیں ہے کہ جس کے ذریعہ اُن جیسے گھریلو جانوروں کا انتخاب کیا جاسکے اور اس کا مثل شکل وصورت اور مقدار کے مطابق ہی مل سکے ورنہ دوسری صورت میں تو اس کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں کہ کسی طرح سے اس شکار کی قیمت معیّن کی جائے اور اُس کا مثل قیمت کے لحاظ سے حلال گوشت گھریلو جانوروں میں سے انتخاب کریں، ممکن ہے کہ بعض اوقات مثل کے معاملے میں کوئی شک وتردید ہوجائے لہٰذا قرآن نے حکم دیا ہے کہ یہ کام دو باخبر اور عادل افراد کے زیرِنظر انجام پذیر ہو(یَحۡکُمُ بِہٖ ذَوَا عَدۡلٍ مِّنۡکُمۡ) ۔
اس سلسلے میں کہ یہ قربانی کہاں ذبح ہو، حکم دیتا ہے کہ وہ قربانی اور ”ھدی“ کی صورت میں کعبہ کا ہدیہ بنایا جائے اور سرزمین کعبہ میں پہنچے (ہَدۡیًۢا بٰلِغَ الۡکَعۡبَۃِ) ۔ ضمنی طور توجہ رہے کہ ہمارے فقہا کے درمیان مشہور ہے کہ احرام عمرہ کی حالت میں شکار کا کفارہ مکہ میں ذبح ہونا چاہیے اور احرام عمرہ کی حالت میں منیٰ اور قربان گاہ میں اور یہ بات اُوپر والی آیت کے منافی نہیں ہے کیونکہ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ یہ آیت، احرام عمرہ کی حالت میں نازل ہوئی ہے، اس کے بعد مزید کہتا ہے کہ ضروری نہیں ہے حتماً کفارہ قربانی کی صورت میں ہو بلکہ دو اور چیزوں میں سے بھی ہر ایک اُس کی جانشین ہوسکتی ہے، پہلا یہ کہ اُ س کے برابر رقم مساکین کو کھانا کھلانے میں صرف کی جائے (اَوۡ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰکِیۡنَ)یا اُس کے مساوی روزے رکھے (اَوۡ عَدۡلُ ذٰلِکَ صِیَامًا) ۔ اگرچہ آیت میں اُن مساکین کی تعداد جنھیں کھانا کھلایا ہے بیان نہیں ہوئی اور نہ ہی روزوں کے دنوں کی تعداد بتائی گئی ہے لیکن ایک طرف سے ان دونوں کا ایک دوسرے سے ساتھ ہونا اور دوسری طرف یہ صراحت کہ روزوں کے درمیان موازنہ ضروری ہے، نشاندہی کرتا ہے کہ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ جتنے مسکینوں کو وہ کھانا کھلانا چاہے کھلادے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ قربانی کی قیمت کے برابر ہونا چاہیے، باقی رہا یہ کہ روزہ اور مسکین کو کھانا کھلانے کے درمیان تعادل وبرابری کس طرح قائم ہو تو بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک ”مد“ طعام کے مقابلہ میں ایک روزہ رکھے ۔ یہ حقیقت میں اس بناپر ہے کہ ماہ مبارک رمضان میں جو اشخاص روزہ پر قدرت نہیں رکھتے تو وہ ہر دن کے بدلے میں ایک یا دو مد کھانا مساکین کوکھلائیں (اس امر کے بارے میں مزید وضاحت فقہی کتب میں ملاحظہ فرمائیں) ۔
اس بارے میں کہ وہ شخص جو حالت احرام میں شکار کا مرتکب ہوا ہے کیاوہ ان تین چیزوں میں سے جس کو چاہے کرلے یا اُسے ترتیب کو پیش نظر رکھنا چاہیے ۔ پہلے تو اُسے قربانی کرنا چاہیے اور اگر ایسا نہیں کرسکتا تو مساکین کو کھانا کھلائے اور اگر یہ بھی میسر نہ ہو تو پھر روزہ رکھے ۔ اس سلسلہ میں مفسّرین اور فقہا کے درمیان اختلاف ہے لیکن آیت کا ظاہر اختیار کا معنی دیتا ہے ۔ یہ کفارے تو اس بناپر ہیں کہ وہ اپنے غلط کام کی سزا اور انجام دیکھ للیں (لِّیَذُوۡقَ وَبَالَ اَمۡرِہٖ)
وبال جیسا کہ راغب اصفہانی نے مفردات میں لکھا ہے: اصل میں ”وبل“ اور ”وابل“ سے سخت بارش کے معنی میں ہے ۔ اس کے مشکل، شاق اور سخت کام پر بھی بولا جانے لگا اور چونکہ سزا وعذاب میں بھی شدت اور سختی ہوتی ہے اسے وبال کہتے ہیں ۔
اور اس بناپر کہ عموماً کوئی حکم بھی گذشتہ امور کو شامل نہیں ہوتا صراحت کے ساتھ کہتا ہے کہ خدا نے اُن غلط کاریوںکو جو اس سلسلے میں گذشتہ زمانے میں تم نے انجام دی ہیں معاف کردیتا ہے(عَفَا اللّٰہُ عَمَّا سَلَفَ) ۔ اور جو شخص ان بار بار کے اظہار کے خطر اور کفارہ کے حکم کی پروا نہ کرے اور پھر بھی حالت احرام میں شکار کا مرتکب ہو تو خدا ایسے شخص سے انتقام لے گا اور خدا توانا وصاحب قدرت ہے اور برمحل انتقام لیتا ہے (وَ مَنۡ عَادَ فَیَنۡتَقِمُ اللّٰہُ مِنۡہُ ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ) ۔ مفسرین کے درمیان اختلاف ہے کہ آیا شکارکا کفارہ دوبارہ شکار کرنے سے دوگناہ ہوتا ہے یا نہیں ؟تو آیت کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ تکرار کی صورت میں صرف انتقال الٰہی کی تہدید اور دھمکی ہی دی گئی ہے اور اگر کفارہ کا تکرار بھی ہوتا تو صرف انتقال الٰہی کے ذکر پر اکتفانہ کی جاتی اور تکرار کفارہ کی تصریح بھی ہوتی ۔ ان روایات میں جواہل بیت علیہم السلام کے طریق سے ہم تک پہنچی ہیں یہی بات بیان کی گئی ہے ۔ بعد والی آیت میں دریائی شکار کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہتا ہے:(حالت احرام میں) دریائی شکار اور اسے کھانا تمھارے لیے حلال ہے (اُحِلَّ لَکُمۡ صَیۡدُ الۡبَحۡرِ وَ طَعَامُہٗ) ۔
اس بارے میں کہ طعام اور کھانے سے کیا مراد ہے؟مفسّرین نے یہ احتمال پیش کیا ہے کہ اس سے مراد وہ مچھلیاں ہیں جو شکار کیے بغیر مرجاتی ہیں اور پانی کے اُوپر رہ جاتی ہیں، جبکہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ بات ٹھیک نہیں ہے کیونکہ مردہ مچھلی کا کھانا حرام ہے، اگرچہ اہلِ سنت کی بعض روایات میں ان کے حلال ہونے کی صراحت موجود ہے ۔ آیت کے ظاہری مفہوم سے جو بات زیادہ معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ طعام سے مراد وہی خوراک ہے کہ جو شکار شدہ مچھلیوں سے تیار کی جاتی ہے کیونکہ آیت دو امور کو جائز قرار دے رہی ہے پہلے شکار کرنا اور دوسرے شکار شدہ کھانا کھانا ۔
ضمناً اس تعبیر سے اس معروف فتویٰ کے لیے بھی اجمالی طور پر استفادہ ہوتا ہے جو ہمارے فقہا کے درمیان موجود ہے اور جو برّی (وصحرائی) جانوروں کے بارے میں ہے اور وہ یہ کہ نہ صرف انھیں شکار کرنے کا اقدام حرام ہے بلکہ شکار شدہ جانور کا گوشت کھانا بھی جائز نہیں ہے ۔
اس کے بعد اس حکم کے فلسفہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: یہ اس بناپر ہے کہ تم اور مسافر اس سے فائدہ اٹھاسکیں (مَتَاعًا لَّکُمۡ وَ لِلسَّیَّارَۃِ) ۔ یعنی اس غرض سے کہ تم حالت احرام میں کھانے کے لیے زحمت ومشقت میں نہ پڑو اور ایک قسم کے شکار سے فائدہ اٹھا سکو یہ اجازت تمھیں دریائی شکار کے بارے میں دی جاتی ہے ۔ اور چونکہ عموماً اگر مسافر یہ چاہیں کہ شکار شدہ مچھلی اپنے ساتھ لے جائیں تو اس میں نمک ملاکر اُسے ”ماہی شور“ کی صورت میں تیار کرلیتے ہیں ۔ بعض مفسّرین نے مندرجہ بالا جملے کی اس طرح کی تفسیر کی ہے کہ مقیم افراد تازہ مچھلی سے اور مسافر نمک لگی مچھلی سے استفادہ کریں ۔ ہم نے درج بالا آیت میں یہ پڑھا ہے کہ دریائی شکار تمھارے لیے حلال ہے ۔ یہاں اشتباہ نہیں ہونا چاہیے ، اس کا مفہوم دریائی شکاروں کے بارے میں ایک عمومی حکم نہیں ہے، جیسا کہ بعض نے خیال کرلیا ہے ۔ آیت یہاں پر دریائی شکاروں کا اصل حکم بیان کرنا نہیں چاہتی، بلکہ آیت کا مقصد وہدف یہ ہے کہ وہ احرام باندھے ہوئے شخص کو اس بات کی اجازت دے کہ دریا کے دو شکار جو احرام سے پہلے حلال تھے احرام کی حالت میں بھی وہ اُس سے استفادہ رکرسکتا ہے ۔ دوسرے الفاظ میں آیت یہاں اصل تشریعِ قانون بیان نہیں کررہی بلکہ اِس کی نظر اُن قانونی خصوصیات کی طرف ہے جو پہلے سے تشریع ہوچکا ہے ۔ اصطلاح میں یہ بیان حکمِ عمومی کے نقطہ نظر سے نہیں بلکہ آیت صرف محرم کے احکام بیان کررہی ہے ۔
مگر دوسری مرتبہ تاکید کے طور پر حکم سابق کی طرف لوٹتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جب تک تم حالت احرام میں ہو صحرائی اور وحشی جانوروں کا شکار تم پر حرام ہے(وَ حُرِّمَ عَلَیۡکُمۡ صَیۡدُ الۡبَرِّ مَا دُمۡتُمۡ حُرُمًا) ۔ آیت کے آخر میں اُن تمام احکام کی تاکید کے لیے جو ذکر ہوچکے ہیں فرماتا ہے: اس خدا سے ڈرو جس کی بارگاہ میں تمھیں قیامت کے دن محشور ہونا ہے (وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیۡۤ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ) ۔
حالتِ احرام میں شکار کی حرمت کا فلسفہ
ہمیں معلوم ہے کہ حج و عمرہ ان عبادات میں سے ہے جو انسان کو عالم مادہ سے جدا کرکے ایک ایسے ماحول میں جو روعانیت و معنویت سے معمور ہیں ,مستغرق کردیتی ہیں ۔ مادّی زندگی کے مقررات، جنگ و جدال، جھگڑے فساد، جنسی ہوس رانیاں اور مادی لذات حج و عمرہ کے مراسم میں کلی طور پر چھوڑنا پڑتی ہیں اور انسان ایک قسم کی شرعی الٰہی ریاضت میں مشغول ہوجاتاہے ۔ یوں نظر آتا ہے کہ حالت احرام میں حرمت شکار بھی اسی مقصد کے ماتحت ہے ۔ علاوہ ازیں اگر خانہٴ خدا کے زائر کے لیے شکار کرنا ایک مشروع اور جائز کام ہوتا تو اس آمدورفت کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ جو ہر سال اس مقدس سرزمین میں ہوتی ہے، اس علاقہ کے بہت سے جانوروں کی نسل کہ جو خشکی اور پانی کی کمی کی وجہ سے پہلے ہی کم ہے، ختم ہوجاتی لہٰذا یہ حکم اس علاقے کے جانوروں کی نسل کی بقا کے لیے ایک قسم کی حفاظت و ضمانت ہے ۔ خصوصاً اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ حالت احرام کے علاوہ بھی حرم میں شکار اور اسی طرح اس کے درختوں اور گھاس پھونس کا اکھاڑنا ممنوع ہے، اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ حکم زندگی کے ماحول کی حفاظت اور اس علاقے کے سبزہ زاروں اور جانوروں کو فنا و نابودی سے بچانے کے مسئلہ سے نزدیکی ربط رکھتا ہے ۔ یہ حکم اس قدر دقیق تشریع ہوا ہے کہ نہ صرف جانوروں کا شکار کرنا بلکہ اس سلسلہ میں مدد کرنا، یہاں تک کہ شکاریوں کو شکار کی نشاندہی کرنا اور انھیں شکار کرنے کی رائے دینا بھی حرام قرار دیا گیا ہے ۔ جیسا کہ اہلِ بیت(علیه السلام) کے طریق سے وارد شدہ روایات میں ہے کہ امام صادق (علیه السلام) نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا: ”لا تستحلن شیئاً من الصید واٴنت حرام ولا وانت حلال فی الحرم ولاتدلن علیہ محلا ولامحرما فیصطادہ ولاتشر الیہ فیستحل من اجلک فان فیہ فداء لمن تعمدہ“
ہرگز شکار میں سے کسی چیز کو حالت احرام میں حلال شمار نہ کرنا اور اسی طرح حرم کا شکار غیر حالت احرام میں بھی حلال نہیں ۔ محرم و غیر محرم کو شکار کی نشاندہی بھی نہ کرنا کہ وہ شکار کرلے، یہاں تک کہ اس کی طرف اشارہ بھی نہ کرنا (اور اُسے کوئی حکم نہ دینا) کہ وہ تیری وجہ سے شکار کو حلال سمجھے کیونکہ یہ کام اس شخص کا شمار ہوگا جس نے شکار کا حکم دیا ہے یا اشارہ کیا ہے اور کفارہ بھی اس پر واجب ہوگا“۔
( بحوالہ وسائل الشیعہ جلد ۵ صفحہ ۷۵ -)
خدا نے کعبہ بیت الحرام کو لوگوں کے امر کے قیام کا ذریعہ قرار دیا ہے اور اس طرح حرمت والا مہینہ اور بے نشان قربانیاں اور نشان دار قربانیاں اس قسم کے (حساب شدہ اور دقیق) احکام اس لیے ہیں کہ تمہیں معلوم ہو کہ خدا جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے جانتا ہے۔
پیغمبر کی ذمہ داری ابلاغ رسالت (اور احکام الٰہی پہنچانے) کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے اور وہ تمہارے اعمال کا جواب دہ نہیں ہے اور خدا جانتا ہے کہ تم کن چیزوں کو آشکار اور کن چیزوں کو مخفی رکھتے ہو۔
خدا نے بیت الحرام کو لوگوں کے امر کے قیام کا ذریعہ قرار دیا
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ آیات میں حالتِ احرام میں شکار کی حرمت کے بارے میں بحث تھی ۔ اس آیت میں ”مکہ“ کی اہمیت اور مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کی اصلاح و ترتیب میں اس کے اثر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پہلے فرماتا ہے: خدا نے بیت الحرام کو لوگوں کے امر کے قیام کا ذریعہ قرار دیا (جَعَلَ اللّٰہُ الۡکَعۡبَۃَ الۡبَیۡتَ الۡحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ) ۔
یہ مقدس گھر لوگوں کے اتحاد کی علامت، دلوں کے مجتمع ہونے کا ایک وسیلہ اور مختلف رشتوں اور گرہوں کے استحکام کے لیے ایک عظیم مرکز ہے۔ اس مقدس گھر اور اس کی مرکزیت و معنویت کے سائے میں کہ جو گہری تاریخی بنیادوں پر استوار ہے، وہ اپنی بہت سی بے سامانیوں کا سامان (اور بہت سی خرابیوں اور کمزوریوں کی اصلاح) کرسکتے ہیں اور اپنی سعادت کا محل اس کی بنیادوں پر کھڑا کرسکتے ہیں ۔ اس لیے سورہٴ آلِ عمران میں خانہ کعبہ کو وہ پہلا گھر بتایا گیا ہے جو لوگوں کے فائدے کے لیے بنایا گیا ہے ۔ (سورہٴ آل عمران، آیت۹۶ )
حقیقت یہ ہے کہ ”قِیَاماً لِلنَّاسِ“ کے معنی کی وسعت کو مد نظر رکھتے ہوئے مسلمان اس گھر کی پناہ میں اور حج کے اسلامی حکم کے سائے میں اپنے تمام معاملات کی اصلاح کرسکتے ہیں ۔
چونکہ ضروری تھا کہ یہ مراسم جنگ، کشمکش اور نزاع سے ہٹ کر امن و امان کے ماحول میں صورت پذیر ہوں، حرام مہینوں (وہ مہینے کہ جن میں جنگ مطلقاً حرام ہے) کے اثر کی طرف اس موضوع میں اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے (وَ الشَّہۡرَ الۡحَرَامَ ۔
۲۔حرام مہینوں کے بارے میں جلد دوم میں سورہٴ بقرہ کی آیت۱۹۴ کے ذیل میں بحث ہوچکی ہے۔
علاوہ ازیں اس نظر سے کہ بے نشان قربانیوں ( ھدی) اور نشاندار قربانیوں (قلائد) کا وجود، کہ جو مراسم حج و عمرہ میں مشغول ہونے کے دونوں میں لوگوں کو غذا مہیا کرتا ہے اور ان کی سوچ کو اس جہت سے آسودہ خاطر کرتا ہے، اس پروگرام کی تکمیل میں مخصوص اثر رکھتا ہے ۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے (وَ الۡہَدۡیَ وَ الۡقَلَآئِدَ) ۔
اور چونکہ یہ تمام پروگرام، قوانین اور مقرر شدہ احکامِ شکار، اور اسی طرح حرمِ مکہ و ماہِ حرام وغیرہ ایک قانون ساز کی وسعتِ علم اور تدبیر کی گہرائی کا پتہ دیتے ہیں لہٰذا آیت کے آخر میں اس طرح کہتا ہے کہ: خدانے یہ منظم پروگرام اس لیے مقرر کیے ہیں تاکہ تمھیں معلوم ہوجائے کہ اس کا علم اس قدر وسیع ہے کہ جو کچھ آسمان میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے وہ سب کو جانتا ہے اور تمام چیزوں سے خصوصاً اپنے بندوں کی روحانی اور جسمانی ضروریات سے باخبر ہے (ذٰلِکَ لِتَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ وَ اَنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ) ۔
ہم جو کچھ سطور بالا میں کہہ آئے ہیں اسے مد نظر رکھتے ہوئے آیت کی ابتدا ور انتہا کا با ہمی تعلق واضع ہو جاتا ہے ۔کیونکہ ان گہرے تشریع احکام کو وہی ذات منظم کرسکتی ہے جو قوامین تکوینی کی گہرائی سے آگاہ اورباخبر ہو ۔ جب تک کوئی زمین اور آسمان کے تمام جزئیات اور روح وجسم کے تخلیقی رموز سے آگاہ نہ ہو، وہ ایسے احکام کی پیش بینی نہیں کرسکتا ۔ کیونکہ وہی قانون درست اور اصلاح کنندہ ہوسکتا ہے جو قانونِ خلقت و فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو ۔
پھر بعد والی آیت میں گذشتہ احکام کی تاکید، لوگوں کو ان کے انجام دینے کی تشویق اور مخالفین اور نافرمانوں کی تہدید کے طور پر فرماتا ہے: جان لو کہ خدا شدید العقاب (ہونے کے ساتھ) غفور رحیم بھی ہے (اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ) ۔
نیز یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ مندرجہ بالا آیت میں ”شدید العقاب“کو ”غفور رحیم“ پر مقدم رکھا گیا ہے، تو شاید یہ امن بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدائی سزاکو اس کی پوری شدت کے باوجود توبہ کہ پانی سے دھویا جاسکتا ہے اور خداکی مغفرت و رحمت شامل حال ہوسکتی ہے ۔ پھر مزید تاکید کے لیے فرماتا ہے: اپنے اعمال کے جواب دہ خود تمہی ہو، اور پیغمبر کی ذمہ داری تبلیغِ رسالت اور احکام خدا تم تک پہنچانے کے سوا کچھ نہیں(مَا عَلَی الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ) ۔ اس کے باوجود خدا تمھاری نیتوں سے اور تمہارے سب آشکار وپنہاں اعمال سے باخبر آگاہ ہے(وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَ مَا تَکۡتُمُوۡنَ) ۔
کعبہ کی اہمیت
کعبہ جس کا ان آیات اور گذشتہ آیات میں دومرتبہ ذکر کیا گیا ہے اصل میں مادہ ”کعب “ سے مشقق ہے، جس کا معنی ہے ”پاوٴں کے اُوپر کی ابھری ہوئی جگہ“، بعد از اں یہ لفظ ہر قسم کی بلندی اور اُبھری ہوئی چیز کے لیے استعمال ہونے لگا اور ”مکعب“ کو بھی اس لیے مکعب کہتے کہا جاتاہے کہ وہ چاروں اطراف سے ابھرا ہوا ہوتا ہے، اُن عورتوں کو جن کے سینے تازہ تازہ ابھر رہے ہوتے ہیں ”کاعب“ کہا جاتا ہے جس کی جمع ”کواعب“ ہے اس کی بھی یہی وجہ ہے بہرحال یہ لفظ (کعبہ) خانہٴ خدا کی ظاہری بلندی کی طرف اشارہ بھی ہے اور اس کے مقام کی عزت وبلندی کی علامت بھی ہے ۔ کعبہ ایک طویل اور پُرحوادث تاریخ کا حامل ہے، یہ تمام حوادث بہرحال اس کی عظمت واہمیت ہی کے باعث ظہور پذیر ہوئے ہیں ۔ کعبہ کی اہمیت اس قدر ہے کہ روایات اسلامی میں اسے خراب ویران کرنے کو پیغمبر ؐاور امام(علیه السلام) کے قتل کرنے کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ اس کی طرف دیکھنا عبادت او ر اس کے گرد طواف کرنا بہترین اعمال میں سے ہے، یہاں تک کہ ایک روایت میں امام باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا:
”لاینبغی لِاَحدٍ اٴن یرفع بنائہ فوق الکعبة“ ”
مناسب نہیں ہے کہ کوئی شخص اپنا گھر کعبہ سے اونچا بنائے“( بحوالہ سفینة البحار، ج۲، ص۴۸۲) لیکن اس طرف توجہ رکھنا چاہیے کہ کعبہ کی اہمیت اور احترام قطعاً اس کی عمارت کی وجہ سے نہیں ہے؛ کیونکہ نہج البلاغہ کے خطبہ قاصعہ میں حضرت امیرالمومنین(علیه السلام) کے ارشاد کے مطابق: ”خدا نے اپنے گھر کو ایک خشک جلی ہوئی اور سخت پہاڑوں کے درمیان والی زمین میں قرار دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ اسے بہت ہی سادہ مصالحہ سے بنایا جائے، عام اور معمولی پتھر سے“( بحوالہ نہج البلاغہ، خطبہ ۱۹۲، خطبہ قاصعہ) لیکن چونکہ خانہٴ کعبہ ایک قدیم ترین اور بہت ہی سابق ترین توحید اور خدا پرستی کا مرکز ہے اور مختلف ملل واقوام کی توجہ کی مرکزیت کا نقطہ ہے لہٰذا اسے درگاہ خداوندی سے ایسی اہمیت میسّر آئی ہے ۔ –
کہہ دو کہ پاک و ناپاک کبھی برابر نہیں ہو سکتے اگرچہ ناپاکوں کی کثرت تجھے بھلی معلوم ہو خدا کی مخالفت سے پرہیز کرو اے صاحبان عقل و خرد ! تاکہ تم فلاح و نجات حاصل کر سکو ۔
اکثریت پاکیزگی کی دلیل نہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
اکثریت پاکیزگی کی دلیل نہیں گذشتہ آیات میں مشروبات الکحل ، قمار بازی، انصاب وازلام اور حالت احرام میں شکار کرنے کی حرمت کے سلسلے میں گفتگو تھی، چونکہ ہوسکتا ہے بعض لوگ ایسے گناہوں کے ارتکاب کے لیے کچھ معاشروں اور علاقوں میں اکثریت کے عمل کو دستاویز قرار دیں اور اس بہانے سے کہ مثلاً شہر کی اکثریت شراب پیتی ہے یا قمار بازی کرتی ہے یا یہ کہ لوگوں کی اکثریت فلاں قسم کے حالات میں حرمتِ شکار وغیرہ کی پرواہ نہیں کرتی لہٰذا وہ ان احکام پر عمل در آمد سے روگردانی کریں اور انھیں طاق نسیاں کردیں تو اس بناپر کہ یہ بہانہ اس مقام پر اور اس قسم کے افراد سے دیگر مواقع میں کلی طور پر چھپن لیا جائے، خدا ایک بنیادی کلیہ قاعدہ مختصر سی عبارت میں بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: اے پیغمبر! پاک و ناپاک کبھی برابر نہیں ہوسکتے اگر چہ ناپاک لوگوں کی زیادتی اور آلودہ لوگوں کی کثرت تجھے تعجب میں ڈال دے اور بھلی معلوم ہو (قُلۡ لَّا یَسۡتَوِی الۡخَبِیۡثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوۡ اَعۡجَبَکَ کَثۡرَۃُ الۡخَبِیۡثِ) ۔
اس بناپر درج بالا آیت میں خبیث و طیب ہر قسم کے پاک و ناپاک وجود کے معنی میں ہے چاہے وہ پاک و ناپاک کھانے کی چیزیں ہوں یا پاک و ناپاک افکار و نظریات ہوں ۔ آیت کے آخر میں صاحبان فکر اور ارباب عقل و ہوش کو مخاطب کرتے ہوئے تاکید کرتا ہے کہ خدا سے ڈرو تاکہ کامران و کامیاب ہوجاؤ (فَاتَّقُوا اللّٰہَ یٰۤاُولِی الۡاَلۡبَابِ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡن)
لیکن یہ جو آیت میں ایک واضح چیز کی توضیح کی گئی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کوئی یہ خیال کرے کہ کچھ عوارض مثلاً پلید و ناپاک کے طرفداروں کی زیادتی جسے اصطلاح میں ”اکثریت“ کہتے ہیں اس چیز کی باعث بنے کہ ناپاک کی ہم پلہ قرار پاجائے ۔ جیسا کہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض اوقات کچھ لوگ انبوہ کثیر اور کثریت کے میلانات کے زیر اثر آجاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اگر اکثریت کسی مطلب کی طرف مائل ہوجائے تو یہ اس مطلب کے بے چون و چرا درست ہونے کی قطعی نشانی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔ ایسے مواقع بہت سے ہو گزرے ہیں جن میں معاشروں کی اکثریت واضع اشتباہات اور غلطیوں میں گرفتار ہوئی ہے اور مواقع اور حقیقت میں جو چیز اچھی چیز کی بُری چیز سے (اور خبیث کی طیب سے) پہچان کے لیے لازمی ہے ”وہ اکثریت کیفی“ ہے نہ کہ”اکثریت کمی“ یعنی قوی تر، والاتر اور اعلیٰ ترین افکار اور توانا تر اور پاکترین نظریات کی ضرورت ہے، نہ کہ طرفداروں کی کثرت۔ یہ مسئلہ شاید اس زمانہ کے بعض لوگوں کے ذوق کے مطابق نہ ہو کیونکہ تلقین و تبلیغ کے ذریعے بہت کوشش کی گئی ہے کہ لوگ اکثریت کے رجحانات ومیلانات کو نیک و بد کے پرکھنے کی ترازو کے طور پر قبول کرلیں ۔ یہاں تک کہ ان لوگوں نے باور کرلیا ہے کہ”حق“ وہ چیز ہے جس کو اکثریت پسند کرتی ہو اور اچھی چیز وہ ہے جس کی طرف اکثریت مائل ہو ۔ حالانکہ معاملہ اس طرح نہیں ہے ۔ دنیا کے بہت سے مصائب و آلام اسی طرز فکر کی وجہ سے ہیں ۔ ہاں اگر اکثریت صحیح رہبری اور درست تعلیمات سے بہرہ مند ہوجائے اور اصطلاحی طور پر عام معنی کے لحاظ سے ایک رشید اکثریت ہو تو پھر ممکن ہے کہ اس کے میلانات نیک و بد کی پہچان کا مقیاس و میزان بن سکیں، نہ کہ وہ اکثریتیں جن کی رہنمائی نہیں ہوئی اور جو غیر رشید ہیں ۔ بہر حال قرآن محل بحث آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: کبھی تمھیں بُروں اور نا پاک چیزوں کی زیادتی تعجب میں نہ ڈالے ۔ دیکر مقامات پر بھی متعدد مرتبہ فرمایا ہے: ”وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاس لَا یَعْلَمُون“
اکثر لوگوں کے کام علم و دانش کے ماتحت نہیں ہوتے ۔ ضمنی طور پر توجہ کرنا چاہیے کہ اگر آیت میں لفظ ”خبیث“، ”طیب“ پر مقدم رکھا گیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ محل بحث آیت میں روئے سخن، ان لوگوں کی طرف ہے جو خبیث کی زیادتی کو اس کی اہمیت کی دلیل سمجھتے ہیں ۔ لہٰذا ضروری ہے کہ انھیں جواب دیا جائے، اس لیے قرآن اُن کے گوش گزار کرتا ہے کہ نیکی و بدی اور اچھائی و بُرائی کا معیار کسی بھی موقع پر کثرت و قلت اور اکثریت و اقلیت نہیں ہے، بلکہ ہر جگہ اور ہر وقت ”پاکی“ ”ناپاکی“ سے بہتر ہے اور صاحبانِ عقل و فکر کبھی کثرت سے دھوکا نہیں کھاتے ۔ وہ ہمیشہ پلیدی سے دوری اختیار کرتے ہیں اگر چہ اُن کے ماحول کے تمام افراد آلودہ ہوں ۔ وہ پاکیزگیوں کی تلاش میں لگے رہتے ہیں اگر چہ ان کے معاشرے کے تمام افراد اس کے خلاف ہوں ۔
اے ایمان والو ! تم ایسے مسائل کے متعلق سوال نہ کرو کہ اگر وہ تمہارے سامنے واضح ہو جائیں تو تمہیں برے لگیں اور اگر قرآن کے نزول کے وقت ان کے متعلق سوال کرو تو وہ تمہارے لیے آشکار ہو جائیں گے خدا نے تمہیں معاف کر دیا ہے اور خدا بخشنے والا اور حلیم ہے۔
تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں میں سے ایک گروہ نے ان چیزوں کے متعلق سوال کیا تھا اور پھر ان کی مخالفت کے لئے کھڑے ہو گئے تھے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
اُوپر والی آیت کے شان نزول کے سلسلے میں کتبِ حدیث و تفسیر میں مختلف اقوال نظر آتے ہیں لیکن جو اُوپر والی آیت اور ان کی تعبیرات کے ساتھ زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے وہ، وہ شانِ نزول ہے جو تفسیر مجمع البیان میں علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے منقول ہے ۔ اور وہ یہ ہے: ایک دن پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم نے خطبہ دیا اور حج کے بارے میں خدا کا حکم بیان کیا تو ایک شخص جس کا نام ”عکاشہ “تھا (اور ایک روایت کے مطابق ”سراقہ“) نے کہا: کیا یہ حکم ہر سال کے لیے ہے اور ہر سال ہمیں حج بجالانا ہوگا؟ پیغمبرؐ نے اس کے سوال کا جواب نہ دیا، لیکن اس نے اصرار کیا اور دو مرتبہ یا تین مرتبہ اپنے سوال کا تکرار کیا، پیغمبر نے فرمایا: وائے ہو تم پر، کیوں اس قدر اصرار کررہے ہو، اگر تمھارے جواب میں میں ہاں کہدوں تو ہر سال تم پر حج واجب ہوجائے گا اور اگر ہر سال واجب ہوگیا تو اس کی انجام دہی کی تم میں طاقت نہیں ہوگی اور اگر اس کی مخالفت کی تو گنہگار ہوگے، لہٰذا جب تک میں تم سے کوئی چیز بیان نہ کروں تم اس پر اصرار نہ کیا کرو کیونکہ (ایک چیز) اُن امور میں سے جو (بعض) گذشتہ اقوام کی ہلاکت کا سبب بنی یہ تھی کہ وہ ہٹ دھرمی کرتے تھے اور بڑھ بڑھ کر باتیں کرتے تھے اور اپنے پیغمبرؐ سے زیادہ سوال کرتے تھے، اس بناپر جب میں تمھیں کوئی حکم دوں تواپنی توانائی کے مطابق اُسے انجام دو ۔ ”اِذَا اَمَرتکُم مِن شَیء فَاٴتُو مِنہُ مَا اسْتَطَعتُم“ اور جب تمھیں کسی چیز سے منع کروں تو اجتناب کرو، تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انھیں اس کام سے روکا گیا۔ کہیں اس سے اشتباہ نہ ہو کہ اس شان نزول سے مراد۔ جیسا کہ ہم آیت کی تفسیر میں بیان کریں گے ۔ یہ نہیں ہے کہ لوگوں کے لیے راہ پرسش وسوال اور مطالب علمی سمجھنا بند کردیا جائے، کیونکہ قرآن تو خود اپنی آیات میں صراحت کے ساتھ حکم دیتا ہے کہ لوگ جو کچھ نہیں جانتے اس کااہلِ علم سے سوال کریں ۔ ”فَاسْئَلُوا اٴَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُم لَا تَعْلَمُونَ“ بلکہ اس سے مراد بے جا سوال،بہانہ سازیاں اور ہٹ دھرمیاں ہیں، یہ طریقہٴ کار زیادہ تر لوگوں کے ذہنوں کی خرابی، گفتگو کرنے کی مزاحمت اور اس کے سلسلہٴ گفتگو اور پروگرام کی پراکندگی کا سبب بنتا ہے ۔
غیر مناسب سوالات
اس میں شک نہیں کہ سوال کرنا حقائق کو سمجھنے کی کلید ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جو کم پوچھتے ہیں کم جانتے ہیں ۔آیات وروایاتِ اسلامی میں بھی مسلمان کو تاکیدی حکم دیاگیا ہے کہ جو کچھ وہ نہیں جانتے پوچھیں، لیکن چونکہ ہر قانون کا کوئی استثنائی پہلو ہوتا ہے لہٰذاتعلیم وتربیت کی یہ بنیاد بھی استثنا سے خالی نہیں ہے اور وہ یہ ہے کہ بعض اوقات کچھ مسائل کا مخفی رہنا اجتمائی نظام کی حفاظت اور لوگوں کی مصلحتوں کے پیش نظر بہتر ہوتا ہے ۔ ایسے مواقع پر واقعیت اور حقیقت کے چہرے سے پردہ اُٹھانے کے لیے جستجو کرنا اور پے در پے سوال کرنا نہ صرف یہ کہ فضیلت نہیں رکھتا، بلکہ مذموم و ناپسندیدہ بھی ہے ۔ مثلاً زیادہ تر ڈاکٹراسی میں مصلحت جانتے ہیں کہ سخت اور وحشت ناک بیماریوں کو بیمار سے مخفی رکھیں۔ بعض اوقات صرف ساتھ والے لوگوں کو اصل ماجرا کی خبر دیتے ہیں، اس شرط کے ساتھ کہ بیمار سے چھپائے رکھیں ۔ کیونکہ تجربہ نشاندہی کرتا ہے کہ بہت سے لوگ اگر اپنی بیماری کے گہرے پن سے باخبر ہوجائیں تو وحشت و سرگردانی میں مبتلا ہوجاتے ہیں یہ وحشت اُنھیں مارنہ ڈالے تو کم از کم بیماری سے صحت یابی میں تاخیر کا سبب ضرور بن جاتی ہے ۔ لہٰذا ایسے مواقع پر بیمار کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ اپنے ہمدرد و طبیب کے سامنے سوال و اصرار کرنے لگے کیونکہ اس کا بار بار اصرار بعض اوقات طبیب پر میدان کو اس طرح تنگ کردیتا ہے کہ وہ اپنی آسودگی اور دوسرے بیماروں کی خبر گیری کے لیے اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں دیکھتا کہ اس ”ہٹ دھرم“بیمار کے لیے حقیقت واضع کردے، اگر چہ اسے اس سے بہت نقصانات اٹھانا پڑیں ۔ اسی طرح لوگ اپنے ساتھیوں کے بارے میں خوش گمانی کے محتاج ہیں اور اس عظیم سرمائے کی حفاظت کے لیے بہتر ہی ہے کہ ایک دوسرے کے حالات کی تمام تفصیلات سے باخبر ہوں، کیونکہ آخر کار ہر شخص میں کوئی نہ کوئی کمزوری ضرور ہوتی ہے، اور تمام کمزوریوں کا فاش ہوجانا، لوگوں کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے میں مشکلات پیدا کردے گا ۔مثلاً ہوسکتا ہے کہ ایک فرد جو موثر شخصیت کامالک ہے، اتفاق سے کسی پست اور نچلے خاندان میں پیدا ہوا ہے اب اگر اس کا سابقہ حال فاش ہوجائے تو ہوسکتا ہے کہ اس کے وجود کی تاثیر معاشرے میں متزلزل ہوجائے ۔ اس لیے اس قسم کے مواقع پر لوگوں کو کسی طرح بھی اصرار نہیں کرنا چاہیے اور کسی جستجو میں نہیں پڑنا چاہیے ۔ یا یہ کہ مبارزات اجتماعی کے بہت سے منصوبے ایسے ہوتے ہیں جنھیں عملی شکل دینے تک پوشیدہ رہنا چاہیے اور ان کے افشا پر اصرار کرنا معاشرے کی کامیابی پر منفی طور پر اثر انداز ہوگا ۔ یہ اور ان جیسے کئی ایک مواقع ایسے ہیں جن میں سوال کرنا صحیح نہیں ہے اور رہبر اور قائدین کو جب تک وہ بہت زیادہ دباؤ اور فشار میں نہ ہوں ان کا جواب نہیں دینا چاہیے ۔
قرآن زیر نظر آیت میں اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صراحت کے ساتھ کہتا ہے: اے ایمان لانے والو! ایسے امور کے افشا کے متعلق سوال نہ کرو کہ جو موجب رنج و تکلیف ہوں یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَسۡـَٔلُوۡا عَنۡ اَشۡیَآءَ اِنۡ تُبۡدَ لَکُمۡ تَسُؤۡکُمۡ) ۔ لیکن اس سبب سے کہ بعض افراد کی طرف سے پے در پے سوالات کا ہونا اور ان کا جواب نہ دینا ممکن ہے دوسروں کے لیے شک و شبہ کا باعث بن جائے اور بہت سے مفاسد پیدا کرد ے تو مزید کہتا ہے: اگر ایسے مواقع پر زیادہ اصرار کرو گے تو آیاتِ قرآن کے ذریعے تمھارے لیے افشاء ہوجائیں گے اور تم زحمت و تکلیف میں پڑ جاؤ گے (وَ اِنۡ تَسۡـَٔلُوۡا عَنۡہَا حِیۡنَ یُنَزَّلُ الۡقُرۡاٰنُ تُبۡدَ لَکُمۡ) ۔
یہ جوان کے افشاء کرنے کو نزول قرآن کے زمانے کے ساتھ مخصوص کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سوالات ایسے مسائل سے مربوط تھے جنھیں وحی کے ذریعے ہی واضح اور روشن ہونا تھا ۔ مزید ارشاد ہوتا ہے: یہ خیال نہ کرو کہ اگر خدا کچھ مسائل بیان کرنے سے سکوت اختیار کرتا ہے تو اُن سے غافل تھا بلکہ وہ تمھارے لیے وسعت چاہتا ہے اور انھیں معاف کردیا ہے اور خدا بخشنے والا حلیم و بردبار ہے(عَفَا اللّٰہُ عَنۡہَا ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ حَلِیۡم) ۔ ایک حدیث میں حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ان اللّٰہ افترض علیکم فرائض فلا تضیعوھا وحدّ لکم حدوداً فلا تعتدوھا و نہی عن اشیاء فلا تنتھکوھا و سکت لکم عن اشیاء ولم یدعھا نسیانا فلا تتکلفوھا “ خدا نے کچھ واجبات تمہارے لیے مقرر کیے ہیں، انہیں ضائع نہ کرو اور کچھ حدود تمہارے لیے نافذ کی ہیں اُن سے تجاوز نہ کرو اور کچھ چیزوں سے منع کیا ہے اُن کی پردہ دری نہ کرو اور کچھ امور سے خاموش رہا ہے اور ان کے پوشیدہ رکھنے کو اس نے بہتر سمجھا ہے اور یہ پوشیدہ رکھنا نسیان اور بھول چوک کی وجہ سے ہرگز نہیں تھا ۔ ایسے امور کے افشاء اور ظاہر کرنے پر اصرار نہ کرنا ۔ ( مجمع البیان آیہ محل بحث کے ذیل میں۔)
ایک سوال اوراس کا جواب
ممکن ہے کہا جائے کہ اگر ان امور کا افشا کرنا لوگوں کی مصلحت کے خلاف ہے تو پھر اصرار کی صورت میں اُسے کیوں افشاء کیا جاتا ہے؟
اس کی دلیل وہی ہے جس کی طرف اُوپر اشارہ ہوچکا ہے کہ بعض اوقات اگر پے در پے سوالات کے مقابلے میں سکوت اور خاموشی اختیار کرلی جائے تو اُس سے کئی دوسرے مفاسد پیدا ہوجاتے ہیں، بدگمانیاں سر اٹھالیتی ہیں، اور لوگوں کے اذہان خراب ہونے کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے ۔ جیساکہ اگر طبیب بیمار کے پے در پے سوالات کے جواب میں سکوت اختیار کرے تو بعض اوقات ہوسکتا ہے یہ امر بیمار کو طبیب کے بارے میں بیماری کی اصل تشخیص کے سلسلے میں شک میں ڈال دے اور وہ یہ خیال کرے کہ اصولی طور پر اس کی بیماری کی شناخت نہیں ہوسکی ۔ لہٰذا وہ طبیب کی ہدایات پر عمل نہ کرے تو اس صورت میں طبیب کے پاس بیماری کے افشاء کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہتا ۔ اگر چہ بیمار اس طریقے سے کئی ایک مشکلات اور دشواریاں پیدا کرے گا ۔ بعد والی آیت میں اِس آیت کی تاکید کے لیے فرمایا گیا ہے: گذشتہ اقوام میں سے بھی بعض لوگ اسی قسم کے سوالات کیا کرتے تھے اور جب انھیں جواب دیا گیا تو مخالفت اور نافرمانی کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے قَدۡ سَاَلَہَا قَوۡمٌ مِّنۡ قَبۡلِکُمۡ ثُمَّ اَصۡبَحُوۡا بِہَا کٰفِرِیۡنَ) ۔
اس سلسلے میں کہ یہ اشارہ گذشتہ اقوام میں سے کس قوم سے مربوط ہے، مفسّرین کے درمیان اختلاف ہے ۔ بعض کا تو یہ خیال ہے کہ اس کا تعلق حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کے اپنے شاگردوں کے ذریعہ مائدہ آسمانی کی درخواست سے مربوط ہے کہ جس کے صورت پذیر ہوجانے کے بعد بعض مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے ۔
بعض نے یہ احتمال پیش کیا ہے کہ اس کا ربط حضرت صالح(علیه السلام) سے معجزہ طلب کرنے کے ساتھ ہے لیکن ظاہراً یہ تمام احتمالات صحیح نہیں ہیں کیونکہ آیت ایسے سوال کے بارے میں گفتگو کررہی ہے جس کا معنی ”پوچھنا“ اور کشفِ مجہول کرنا ہے نہ کہ وہ سوال جس کا معنی تقاضا کرنا اور کسی چیز کی درخواست کرنا ہے ۔ گویا لفظ ”سوال“ کا دونوں معنی میں استعمال ہونا اس قسم کے اشتباہ کا سبب بنا ہے ۔
البتہ ممکن ہے کہ جماعت بنی اسرائیل مراد ہو کہ جب وہ ایک جرم (قتل) کی تحقیق کے سلسلے میں ایک گائے کے ذبح کرنے پر مامور ہوئے تھے (جس کی توضیح جلد اول میں گزرچکی ہے) تو اُنہوں نے موسیٰ سے ٹیڑھے سوال کیے اور گائے کی جزئیات کے بارے میں ایسے پے در پے سوالات کیے جن کے بارے میں کوئی خاص حکم اُنھیں نہیں دیا گیا تھا ۔ اسی بناء پر انہوں نے کام اپنے اُوپر اتنا سخت کرلیا تھا کہ ایسی گائے کا ہاتھ آنا اس قدر مشکل اور قیمتی ہوگیا کہ قریب تھا کہ اس سے صرف نظر کرلیں ۔
”اٴَصْبَحُوا بِھَا کَافِرِینَ“۔ اس جملے کے بارے میں دو احتمال پائے جاتے ہیں: پہلا یہ کہ ”کفر“ سے مراد نافرمانی اور مخالفت ہو جیسا کہ اوپر اشارہ کرچکے ہیں اور دوسرا یہ کہ ”کفر“ اپنے مشہور معنیٰ میں ہو، کیونکہ بعض اوقات ایسے تکلیف دہ جوابات سُننا جو سُننے والے کے ذہن پر بوجھ بن جاتے ہیں کہ وہ اصل موضوع اور کہنے والے کی صلاحیت کا ہی انکار کرنے پر آمادہ ہوجائے، مثلاً یہ کہ بعض اوقات طبیب کی طرف سے ایک تکلیف دہ جواب کا سننا اس بات کا سبب بن جاتا ہے کہ بیمار اپنی طرف سے مخالفت کا اظہار کرے اور اس کی صلاحیت کا ہی انکار کردے اور اس تشخیص کو بڑھاپے کا نتیجہ قرار دے یا یہ کہے کہ طیب مخبوط الحواس ہے ۔
اس بحث کے آخر میں ہم یہ نکتہ دُہرانا ضروری سمجھتے ہیں کہ زیر بحث آیات کسی صورت میں بھی، منطقی، علمی، تہذیبی اور تربیتی سوالات کی راہ لوگوں بند نہیں کرتیں بلکہ یہ پابندی منحصر طور پر صرف بے جا اور نامناسب سوالات اور ایسے امور کے متعلق جستجو سے مربوط ہے جس کے پوچھنے کی نہ صرف یہ کہ ضرورت واحتیاج نہیں ہے بلکہ ان کا چُھپا رہنا ہی بہتر بلکہ بعض اوقات تو لازمی اور ضروری ہوتا ہے۔
خدا نے کوئی ’’بحیرہ‘‘ ’’سائبہ‘‘ ’’و صیلہ‘‘ ’’حام‘‘ قرار نہیں دیا لیکن جو لوگ کافر ہو گئے انہوں نے خدا پر جھوٹ باندھا ہے اور ان میں سے زیادہ تر سمجھتے نہیں ہیں۔
اور جس وقت ان سے کہا جائے کہ جو کچھ خدا نے نازل کیا ہے اس کی طرف اور پیغمبر کی طرف آؤ تو وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہم نے اپنے آباؤ اجداد سے پایا ہے وہ ہمارے لئے کافی ہے کیا ایسا نہیں ہے کہ ان کے آباؤ اجداد کچھ نہیں جانتے تھے اور انہوں نے ہدایت حاصل نہیں کی تھی۔
چار غیر مناسب ”بدعات“
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
آیت میں پہلے تو چار غیر مناسب ”بدعات“ کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔ جو زمانہ جاہلیت کے عربوں میں موجود تھیں، اُنھوں نے کچھ جانوروں کے بارے میں کسی جہت سے علامت اور نشانی مقرر کررکھی تھی اور ان کا گوشت کھانا ممنوع قرار دے رکھا تھا یہاں تک کہ اُن کا دودھ کا پینا، اُون کاٹنا اور اُن پر سواری کرنا جائز شمار نہیں کرتے تھے ۔ بعض اوقات ان جانوروں کو آزاد چھوڑدیتے تھے کہ جہاں چاہیں چلے جائیں اور کوئی شخص اُن سے متعرض نہ ہوتا ۔ یعنی کلی طور پر اس جانور کو بے کار اور فضول چھوڑ دیتے تھے ۔(یہ چار قسم کے گھریلو جانور وں کی طرف اشارہ ہے، زمانہ جاہلیت میں ان سے استفادہ ممنوع سمجھا جاتا تھا، اسلام نے اس بدعت کا خاتمہ کردی)۔ لہٰذا قرآن مجید کہتا ہے: خدا ان احکام میں سے کسی کو بھی قانونی طور پر قبول نہیں کرتا نہ اس نے بحیرہ قرار دیا نہ سائبہ نہ وصیلہ اور نہ حام (مَا جَعَلَ اللّٰہُ مِنۡۢ بَحِیۡرَۃٍ وَّ لَا سَآئِبَۃٍ وَّ لَا وَصِیۡلَۃٍ وَّ لَا حَامٍ ۙ) ۔ باقی رہی ان چار قسم کے جانوروں کی تشریح اور وضاحت تو وہ یہ ہے: ۱۔ بحیرہ: اس جانور کو کہتے ہیں کہ جس نے پانچ مرتبہ بچہ جنا ہو کہ جن میں پانچواں بچہ مادہ یا ایک روایت کے مطابق نر ہو ۔ ایسے جانور کے کان میں ایک وسیع سوراخ کردیتے تھے اور اُسے اس کے حال پر چھوڑدیتے تھے اور اسے ذبح یا قتل نہیں کرتے تھے ۔ ”بحیرہ“ بحر کے مادہ سے وسعت اور پھیلاؤ کے معنی میں ہے ۔ عرب سمندر کو بحر اس کی وسعت کی بناپر ہی کہتے ہیں اور بحیرہ کو جو اس نام سے پکارتے تھے تو یہ اُس وسیع شگاف کی وجہ سے تھا جو اُس کے کان میں وہ کردیتے تھے ۔ ۲۔ سائبہ وہ اونٹنی جس نے بارہ یا ایک روایت کے مطابق دس بچے جنے ہوں اُسے آزاد چھوڑ دیتے تھے ۔ یہاں تک کہ کوئی اس پر سوار نہیں ہوتا تھا اور وہ جس چراگاہ میں جاتی آزاد تھی اور جس گھاٹ اور چشمے سے چاہتی پانی پیتی ۔ کوئی اُس سے مزاحمت کا حق نہیں رکھتا تھا ۔ کبھی کبھار صرف اس کا دودھ وہ لیتے اور مہمان کو پلاتے (سائبہ سیب کے مادہ سے، پانی جاری ہونے، اور چلنے میں آزادی کے معنی میں ہے) ۔ ۳۔ وصیلہ اس گوسفند کو کہتے تھے جس نے سات دفعہ بچہ جنا ہو اور ایک روایت کے مطابق اس گوسفند کو کہتے تھے جو دو بچوں کو ایک ہی مرتبہ جنم دے (وصیلہ وصل کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے باہم بستگی) ایسے جانور کو قتل کرنا بھی حرام سمجھتے تھے ۔ ۴۔ حام: ”مادہ حمایت“ کا اسم فاعل ہے، جو حمایت کرنے والے کے معنی میں ہے ۔ حام اُس نر جانور کو کہتے ہیں جس سے مادہ جانوروں کی تلقیح اور جفتی میں استفادہ کیا جاتا ہے ۔ جب عرب دس مرتبہ اس جانور سے جفتی میں استفادہ کرلیتے اور ہر دفعہ اس کے نطفہ سے بچے پیدا ہوجاتا تو کہتے کہ اس جانور نے اپنی پشت کی حمایت کی ہے یعنی اب کوئی شخص اس پر سوار ہونے کا حق نہیں رکھتا (ایک معنی اس کا ”حمی“ نگہداری، رکاوٹ اور ممنوعیت بھی ہے) ۔
اُوپر والے چار عناوین کے معنی میں مفسّرین کے درمیان او راحادیث کے اندر دوسرے احتمال بھی نظر آتے ہیں لیکن سب کی قدر مشترک یہ ہے کہ مراد ایسے جانور تھے جنہوں نے حقیقت میں اپنے مالکوں کی زیادہ بار بار نتیجہ بخش طور پر خدمت کی ہو ۔ وہ بھی ان کی اس خدمت کے صلے میں ان جانوروں کے لیے ایک قسم کے احترام اور آزادی کے قائل ہوجاتے تھے ۔
یہ صحیح ہے کہ ان تمام مواقع پر جانوروں کی خدمات کے بدلے میں شکر گزاری اور قدر دانی کی روح کار فرما نظر آتی ہے اور اس لحاظ سے ان کا عمل قابل احترام تھا چونکہ ان جانوروں کے بارے میں ان سے استفادہ نہ کرنا ایک ایسا احترام تھا جس کا کوئی مفہوم نہ تھا علاوہ ازیں ایک قسم کا مال کا اتلاف، نعمات الٰہی کا ضیاع اور انھیں معطل کرنا بھی شمار ہوتا تھا سب چیزوں کو چھوڑتے ہوئے یہ جانور اس احترام کی وجہ سے جانکاہ تکالیف اور مصائب میں گرفتار ہوجاتے تھے کیونکہ عملی طور پر بہت کم افراد اس کے لیے تیار ہوتے تھے کہ انہیں صحیح غذا مہیا کریں اور ان کی حفاظت اور نگہداری کریں اور اگر اس چیز کو مد نظر رکھا جائے کہ یہ جانور بہت زیادہ سِن کے ہوتے تھے تو مزید اندازہ ہوگا کہ وہ تکلیف دہ حالت میں بے پناہ محرومیوں میں زندگی بسر کرتے تھے یہاںتک کہ مرجاتے، انہی وجوہ کی بناپر اسلام نے سختی سے ان امور سے منع کیا ۔ ان سب باتوں کو چھوڑتے ہوئے کئی ایک روایات اور تفاسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ ان سب چیزوں کو یا ان میں سے بعض کو بتوں کے لیے انجام دیتے تھے اور درحقیقت انھیں بت کی نذر کرتے تھے، لہٰذا اس صورت میں اسلام کا اس کام سے مبارزہ بت پرستی سے مقابلہ بھی تھا ۔ تعجب کی بات یہ ہے بعض روایات کے مطابق جب اُن میں سے بعض جانور طبعی موت مرجاتے تو بعض اوقات اُن کے گوشت سے گویا بطور تبرک وتیمن استفادہ کرتے جو بذاتِ خود ایک قبیح فعل تھا۔
(بحوالہ تفسیر نور الثقلین، ج۱، ص۴۸۶-)
اس کے بعد فرماتا ہے: کافر لوگ اور بت پرست ان چیزوں کی طرف نسبت دیتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ قانونِ الٰہی ہے (وَّ لٰکِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ) اُن میں سے اکثر اس بارے میں تھوڑاسا بھی غور وفکر نہیں کرتے تھے اور اپنی عقل کو کام میں نہیں لاتے تھے، بلکہ دوسروں کی اندھی تقلید کرتے تھے(وَ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡقِلُوۡنَ) بعد والی آیت میں ان کی بے تکی اور غیر مناسب تحریکوں کی دلیل ومنطق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: جب اُن سے یہ کہا جائے کہ جو کچھ خدا نے نازل کیا ہے اس کی طرف اور پیغمبرؐکی طرف آؤ، تو وہ اس کام سے روگردانی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے بڑوں کے رسم ورواج اور ان کے طریقے اور دستور کافی ہیں(وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ تَعَالَوۡا اِلٰی مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ وَ اِلَی الرَّسُوۡلِ قَالُوۡا حَسۡبُنَا مَا وَجَدۡنَا عَلَیۡہِ اٰبَآءَنَا) ۔
حقیقت میں ان کی غلط کاریاں اور بُت پرستیاں ایک دوسری قسم کی بت پرستی سے پھوٹتی تھیں، وہ اپنے بزرگوں اور بڑے بوڑھوں کے بیہودہ رسم ورواج اور طور طریقوں کوبلاقید وشرط اختیارکرتے تھے، گویا وہ صرف ”بوڑھوں“ اور ”آباؤاجداد“ سے نسبت کو اپنے عقیدہ اور عادت ورسوم کی صحت ودرستی کے لیے کافی سمجھتے تھے ۔ قرآن صراحت سے انھیں جواب دیتا ہے: کیا ایسا نہیں کہ اُن کے آباؤاجداد صاحب علم ودانش نہیں تھے اور انھیں ہدایت حاصل نہیں ہوئی تھی(اَوَ لَوۡ کَانَ اٰبَآؤُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ شَیۡئًا وَّ لَا یَہۡتَدُوۡنَ) ۔
یعنی اگر تمھارے وہ بڑے بوڑھے اور بزرگ جن پر تم اپنے عقیدہ اور اعمال کے لیے تکیہ ہوئے ہو، ارباب علم ودانش اور ہدایت یافتہ ہوتے تو تمھارا ان کی پیروی کرنا جاہل کا عالم کی تقلید کرنے کے زمرے میں شمار ہوتا، لیکن اس صورت میں جبکہ تم خود بھی جانتے ہو کہ وہ کوئی چیز تم سے زیادہ نہیں جانتے تھے بلکہ شاید تم سے بھی پیچھے تھے تواس حالت میں تو تمھارا معاملہ جاہل کا جاہل کی تقلید کرنے کا واضح مصداق ہے، جوکہ عقل وخرد کے ترازو میں بہت ہی ناپسندیدہ فعل ہے ۔ چونکہ اُوپر والے جملے میں قرآن نے لفظ ”اکثر“ استعمال کیا ہے اس لیے اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس جہالت وتاریکی کے ماحول میں بھی ایک سمجھدار اقلیت اگرچہ وہ کمزور تھی، موجود تھی، جو ایسے اعمال کو حقارت اور نفرت کی نگاہ سے دیکھتی تھی۔
اپنے بزرگوں اور بڑوں کے نام کا بت
منجملہ اُن امور کے جو زمانہ جاہلیت بڑی شدّت کے ساتھ رائج تھے ایک اپنے بزرگوں اور بڑوں پر فخر کرنا اور پرستش کی حد تک بلاقید وشرط ان کی شخصیات، افکار، عادات اور رسوم کا احترام کرنا تھا۔ قرآن نے بھی اس امر کا مختلف آیات میں ذکر کیا ہے، نیز یہ امر زمانہ جاہلیت سے مخصوص نہیں تھا بلکہ بہت سی اقوام وملل میں موجود ہے اور شاید یہ ایک نسل سے دوسری نسل کی طرف خرافات اور بیہودہ چیزیں پھیلنے اور منتقل ہونے کے اصلی عوامل میں سے ایک ہے۔ گویا ”موت“ گزرے ہوئے لوگوں کے لیے ایک قسم کی مصئونیت اور تقدّس پیدا کردیتی ہے اور انھیں احترام وتقویٰ کے حالے میں لے لیتی ہے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ قدردانی کی روح اور اصول انسانی کے احترام کا تقاضا یہی ہے کہ آباؤاجداد اور اپنے بزرگوں کو محترم سمجھا جائے لیکن اس معنی میں نہیں کہ معصوم عن الخطاء جان لیا جائے اور ان کے افکار وآداب پر تنقید، تحقیق اور تجسس چھوڑ ہی دیا جائے اور ان کی بیہودہ باتوں کی بھی اندھی پیروی اور تقلید اختیار کرلی جائے ۔
یہ عمل حقیقت میں ایک قسم کی بت پرستی اور جاہلانہ منطق ہے، بلکہ ضروری یہ ہے ان کے حقوق اور مفید افکار وسنن کے احترام کے باوجود، ان کے غلط مراسم اور طور طریقوں کو سختی سے کچلا جائے، خاص طور پر جبکہ آئندہ نسلیں زمانہ گزرنے کے ساتھ علم ودانش کی ترقی اور زیادہ تجربات کی بناپر عام طور سے گذشتہ نسلوں کی نسبت زیادہ دانا اور ہوشمند ہیں اور کوئی عقل وخرد گذشتہ لوگوں کی اندھی تقلید کی اجازت نہیں دیتی۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض علماء یہاں تک کہ یونیورسٹیوں کے اساتذہ کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ بھی اس کمزور منطق سے کنارہ کش نہیں ہوئے اور بعض اوقات بڑے ہی حیرت انگیز طریقے سے مضحکہ خیز خرافات کو عملاً قبول کرلیتے ہیں مثلاً بعض اپنے آباؤ اجداد کی تقلید میں سال کے آخر میں آگ کے اوپر کودتے ہیں تاکہ کسی نہ کسی طرح اپنے بڑوں کی آتش پرستی کو زندہ رکھ سکیں اور درحقیقت ان کی یہ منطق زمانہٴ جاہلیت کے بدووٴں کی سی منطق کے سوا اور کچھ نہیں ۔
بے دلیل تضاد
تفسیر المیزان میں تفسیر درّمنثور سے اہلِ سنت کے علماء کے ایک گروہ سے منقول ہے کہ ابوالاحوص نامی ایک شخص سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: میں پیغمبر اسلام صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے پُرانا اور بوسیدہ لباس پہن رکھا تھا، پیغمبر نے فرمایا: کیا تمھارے پاس مال ودولت ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں! پیغمبر نے فرمایا: کس قسم کا مال ہے؟ میں نے کہا: ہر قسم کا مال میرے پاس موجود ہے؛ اونٹ، گوسفند، گھوڑے وغیرہ، پیغمبر نے فرمایا: جب خدا تجھے کوئی چیز دے تو ضروری ہے کہ اُس کے آثار بھی تم میں دکھائی دیں (نہ یہ کہ اپنی ثروت کو ایک طرف رکھ دو اور غریبوںمسکینوں کی طرح زندگی بسر کرو) ۔
اس کے بعد فرمایا: کیا تمھارے اونٹوں کے بچے پھٹے ہوئے کانوں کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں یا سالم کانوں کے ساتھ، میں نے کہا: یقینا صحیح وسالم کانوں کے ساتھ، کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ اوٹنی کٹے ہوئے کان والا بچہ جنے؟ تو آپ نے فرمایا:پھر تو لازماً خود تم ہی تلوار ہاتھ میں لے کر اُن میں سے بعض کے کانوں کو چیرتے ہو اور کہتے ہو کہ یہ ”بحر “ ہے اور کچھ دوسرں کے کانوں کو کاٹ کر کہتے ہو کہ یہ”صرم “ ہے ۔میں نے کہا: جی ہاں ایسا ہی کرتا ہوں ۔ فرمایا: ہرگز ایسا کام نہ کرو، جو کچھ خدا نے تجھے دیا ہے، وہ تیرے لیے حلال ہے، اس کے بعد آپ نے (اس آیت کی) تلاوت کی: (مَا جَعَلَ اللهُ مِنْ بَحِیرَةٍ وَلاَسَائِبَةٍ وَلاَوَصِیلَةٍ وَلاَحَامٍ)( بحوالہ المیزان، ج۶، ص۱۷۲) ۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے مال کے ایک حصے کو معطل اور بے مصرف چھوڑ دیتے تھے اور کنجوسی کرکے پھٹے پُرانے کپڑے پہنتے۔در اصل یہ ایک بے دلیل تضاد تھا ۔
اے ایمان والو ! اپنے اوپر نظر رکھو جب تمہیں ہدایت حاصل ہو جائے تو ان لوگوں کی گمراہی جو گمراہ ہو چکے ہیں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گی تمام چیزوں کی بازگشت خدا کی طرف ہے اور وہ تمہیں اس عمل سے جو تم کیا کرتے تھے آگاہ کرے گا۔
ہر شخص اپنے کام کا جواب دہ ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
گذشتہ آیت میں زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی اپنے بڑوں کی اندھی تقلید کے متعلق گفتگو تھی ۔ قرآن نے واضح طور پر انھیں ڈرایا کہ اس قسم کی تقلید عقل و منطق کی رو سے درست نہیں ہے ۔ اس کے بعد فطری طور پر یہ سوال ان کے ذہن میں آتا تھا کہ اگر ہم ایسے مسائل میں اپنا معاملہ اپنے بزرگوں سے الگ کرلیں تو پھر ان کی سرنوشت کیا ہوگی، علاوہ ازین اگر ہم اس قسم کی تقلید سے دست بردار ہوجائیں تو ایسی ہی تقلید کرنے والے دیگر بہت سوں کے بارے میں کیا صورت ہوگی ۔ زیر نظر آیت اس قسم کے سوالات کے جواب میں کہتی ہے: اے ایمان لانے والو! تم اپنے ہی جوابدہ ہو، اگر تم ہدایت یافتہ ہوگئے تو دوسروں کی گمراہی (چاہے، وہ تمھارے اپنے بڑے ہوں یا ہم عصر دوست واحبات) تمھیں کوئی ضرر نہیں پہنچائے گی (یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا عَلَیۡکُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ ۚ لَا یَضُرُّکُمۡ مَّنۡ ضَلَّ اِذَا اہۡتَدَیۡتُمۡ ؕ) ۔اس کے بعد قیامت، حساب کتاب اور ہر کسی کے اعمال کے انجام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: تم سب کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور تم میں سے ہر ایک کا حساب الگ ہوگا اور جو کچھ تم نے انجام دیا اس سے تمھیں آگاہ کیا جائے گا اِلَی اللّٰہِ مَرۡجِعُکُمۡ جَمِیۡعًا فَیُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ) ۔
ایک سوال کا جواب
اس آیت کے بارے میں بہت زیادہ آوازیں بلند ہوئی ہیں، بعض نے یہ خیال کرلیا ہے کہ اس آیت کے درمیان اور ”امربمعروف“، ”و نہی از منکر“ کے حکم کے درمیان کہ جو اسلام کا ایک قطعی اور مسلّم حکم ہے ایک قسم کا تضاد پایا جاتا ہے، کیونکہ یہ آیت کہتی ہے کہ تم اپنے حالات کی طرف توجہ کرو (اور اپنے ہی متعلق سوچ بچار کرو اور اپنی حالت میں مگن رہو) دوسروں کا انحراف اور کجروی تمھاری حالت پر اثر انداز نہیں ہوسکتی ۔ اتفاقاًروایات سے پتہ چلتا ہے کہ اس قسم کا اشتباہ آیت کے نزول کے زمانے میں بھی بعض کم علم لوگوں میں پایا جاتا تھا ۔ ”جبیر ابن نفیل“ کہتے ہیں: میں چند اصحاب پیغمبر کے حلقہ میں بیٹھا ہوا تھا اور میں اُن میں سب سے زیادہ کم سن تھا ۔ اُنہوں نے امربمعروف اور نہی از منکر کے متعلق گفتگو شروع کردی، میں ان کی باتوں کے درمیان بول پڑا اور میں نے کہا کہ کیا خدا قرآن میں یہ نہیں کہتا: (یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا عَلَیۡکُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ ۚ لَا یَضُرُّکُمۡ مَّنۡ ضَلَّ اِذَا اہۡتَدَیۡتُمۡ) اس بناپر امر بمعروف اور نہی از منکر کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے ۔ اچانک اُن سب نے مجھے سرزنش کی اور کہنے لگے: تم قرآن کی ایک آیت کو اس کا معنی سمجھے بغیر الگ کررہے ہو ۔ میں اپنی گفتگو سے بہت ہی شرمندہ ہوااور انھوں نے اپنا مباحثہ جاری رکھا، جب وہ وہاں سے مجلس برخاست کرکے اُٹھنے لگے تومیری طرف رخ کرکے کہنے لگے: تُو کمسن جوان ہے اور تم نے قرآن کی ایک آیت کو اس کا معنی سمجھے بغیر اُسے باقی سے الگ کرلیا ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ تم ایسے زمانے کوپاؤ کہ تم یہ دیکھو کہ بخل لوگوں پر چھایا ہوا ہے اور ان پر اس کی فرمانروائی ہے، ہواہوس لوگوں کا پیشوا ہے اور ہر شخص صرف اپنی ہی رائے پسند کرتا ہے، ایسے زمانے میں تم صرف اپنی ہی خیر مناؤ، دوسروں کی گمراہی تمھیں کوئی نقصان نہیں پہچائے گی (یعنی آیت ایسے زمانے کے ساتھ مربوط ہے) ۔
ہمارے زمانے کے بعض آرام پرست بھی جب دو عظیم خدائی فرائض امر بمعروف اور نہی از منکر کی انجام دہی کی گفتگوہوتی ہے تو جوابدہی سے اپنے کندھوں کو خالی رکھنے کے لیے اس آیت کا ذکر کرتے ہیں اور اس کے معنی میں تحریف کرتے ہیں حالانکہ تھوڑے غور وفکر کے بعد یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ ان دو احکام کے درمیان کسی قسم کا تضاد نہیں ہے؛
کیونکہ:
پہلی بات تو یہ ہے کہ محل بحث آیت کہتی ہے کہ ہر شخص کا حساب کتاب الگ الگ ہے اور دوسروں کی گمراہی، مثلاً اپنے گزرے ہوئے بزرگوں یا غیروں کی گمراہی ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت پر کوئی ضرب نہیں لگاتی، یہاں تک کہ اگر وہ بھائی بھائی بھی ہوں، یا باپ بیٹا ہوں لہٰذا تم ان لوگوں کی پیروی نہ کرو اور خود اپنے آپ کو بچاؤ(غور کیجئے) ۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ آیت اس موقع کی طرف اشارہ کرتی ہے جس وقت امربمعروف اور نہی از منکر کارگر نہ ہوں، یا ان کی تاثیر کے حالات موجود نہ ہوں، بعض اوقات کچھ لوگ ایسے موقع پر پریشان ہوجاتے ہیں کہ ان حالات میں ہماری ذمہ داری کیا ہے؟ قرآن انھیں جواب دیتا ہے کہ تمھارے لیے کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے کیونکہ تم نے اپنے فرض کی انجام دہی کردی ہے اور انھوں نے قبول نہیں کیا، یا ان میں قبول کرنے والوں کی اہلیت اور اسباب موجود نہیں تھے، اس بناپر کوئی نقصان تمھیں نہیں پہنچے گا ۔
یہی مفہوم اُس حدیث میں جو ہم اُوپر نقل کرچکے ہیں موجود ہے، اسی طرح بعض دوسری احادیث میں نقل ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم سے اس آیت کے متعلق سوال ہوا تو آپ نے فرمایا:
”اٴ یتمروا بالمعروف وتناہو عن المنکر فاذا راٴیت دنیاً موٴثرة وشحاً مطاعاً وہوی متبعاً واعجاب کل راٴی برایہ فعلیک بخویصة نفسک وذر عوامہم“ ”
امر بمعروف ونہی از منکر کرو، لیکن جب دیکھو کہ لوگ دنیا پسند کو ترجیح دیتے اور مقدم سمجھتے ہیں، بخل اور ہواوہوس ان پر حکمران ہے اور ہر شخص صرف اپنی ہی رائے پسند کرتا ہے(اور ا س کے کان کسی دوسرے کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں) تو اپنے آپ میں لگ جاؤ اور لوگوں کو چھوڑدو“( بحوالہ تفسیر نور الثقلین، ج۱، ص۶۸۴)
بہرحال اس میں کوئی شک نہیں کہ امر بمعروف اور نہی از منکر ارکانِ اسلام میں سے اہم ترین مسئلہ ہے، جس کی جوابدہی سے کسی طرح بھی سبکدوشی ممکن نہیں، صرف ان مواقع پر یہ دونوں فرائض ساقط ہوجاتے ہیں جب ان کے اثرانداز ہونے کی اُمید نہ ہو اور لازمی وضروری شرائط ان میں موجود نہ ہوں(اس سلسلے میں تفصیلی اسلامی احکام جاننے کے لیے امام خمینی کی توضیح المسائل کے امربالمعروف ونہی عن المنکر کے باب کی طرف رجوع فرمائیں، نیز دیگر متعلق اسلامی کتب کا مطالعہ کریں(مترجم) ۔
اے ایمان لانے والوں ! جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے تو وصیت کرتے وقت اپنے میں سے دو عادل افراد کو بلا لو یا اگر تم سفر میں ہو اور تمہیں موت آ پہنچے (اور راستے میں تمہیں کوئی مسلمان نہ ملے) تو اغیار میں سے دو افراد اور اگر شہادت ادا کرتے وقت ان کے سچے ہونے میں شک کرو تو انہیں نماز کے بعد روک رکھو تاکہ وہ یہ قسم کھائیں کہ ہم حق کو کسی چیز کے بدلے فروخت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اگرچہ ہمارے رشتہ داروں کے بارے میں ہو اور ہم خدائی شہادت کو نہیں چھپاتے کہ مبادا ہم گنہگاروں میں سے ہو جائیں۔
اور اگر اطلاع حاصل ہو جائے کہ وہ دونوں گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں (اور انہوں نے حق کو چھپایا ہے) تو دو اور افراد کو جن پر پہلے گواہوں نے ظلم کیا ہے ان کی جگہ قرار پائیں گے اور خدا کی قسم کھائیں گے کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی کی نسبت حق کے زیادہ قریب ہے اور ہم تجاوز و زیادتی کے مرتکب نہیں ہوئے اور اگر ہم نے ایسا کیا ہو تو ہم ظالمین میں سے ہوں گے۔
یہ کام زیادہ سبب بنے گا کہ وہ حق کی گواہی دیں (اور خدا سے ڈریں ) اور یا (لوگوں سے) ڈریں کہ (ان کا جھوٹ فاش ہو جائے گا اور) ان کی قسموں کی جگہ دوسری قسمیں لے لیں گے اور خدا (کی مخالفت) سے ڈرو اور کان دھر کر بات سنو اور خدا فاسقین کی ہدایت نہیں کرتا۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
مجمع البیان اور بعض دوسری تفاسیر میں درج بالا آیات کی شان نزول کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ مسلمانوں میں سے ”ابن ابی ماریہ“ نامی ایک شخص دو عرب عیسائیوں کی ہمراہی میں جن کے نام ”تمیم“ اور ”عدی“ تھے اور وہ دونوں بھائی تھے، تجارت کے ارادے سے مدینہ سے نکلا ۔ اثنائے راہ میں ”ابن ابی ماریہ“ جو مسلمان تھا بیمار ہوگیا اس نے وصیت نامہ لکھا اور اُسے اپنے سامان میں چھپا دیا اور اپنا مال اپنے دو ہمسفر عیسائیوں کے سپرد کرتے ہوئے وصیت کی کہ وہ اسے اس کے رشتہ داروں تک پہنچادیں وہ مرگیا ۔ اُس کے ہمسفر دونوں افراد نے اس کا مال و اسباب کھولا اور اس میں سے گراں قیمت اور زیادہ اہم چیزیں اٹھالیں اور باقی مال وارثوں کو پہنچادیا ۔ وارثوں نے جب سامان کھولا تو انھیں اس میں اُن چیزوں میں سے جو ”ابن ابی ماریہ“ اپنے ساتھ لے گیا تھا، کچھ چیزیں نہ ملیں ۔ اچانک اُن کی نظر وصیت نامے پر پڑی ۔ انہوں نے دیکھا کہ تمام چوری شدہ مال کی تفصیل اس میں درج ہے ۔ انہوں نے اُن دو ہمسفر عیسائیوں کے سامنے ماجرا پیش کیا ۔ انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ اُس نے ہمیں دیا وہ ہم نے تمھارے سپرد کردیا ۔ مجبوراً انہوں نے پیغمبر ؐسے شکایت کی توزیر نظر آیات نازل ہوئیں جن میں اس سلسلے میں حکم بیان کیا گیا ۔ لیکن اس شان نزول سے کہ جو کتاب کافی میں بیان ہوئی ہے، یوں معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے پہلے تو دوسرے مال و متاع کا انکار کیا اور معاملہ پیغمبر ؐکی خدمت میں لایا گیا ۔ پیغمبر ؐ کے پاس چونکہ ان دو افراد کے خلاف کوئی دلیل موجود نہیں تھی تو اُنھیں قسم کھانے پر آمادہ کیا اور اُن سے قسم لینے کے بعد اُنھیں بَری کردیا، لیکن کچھ وقت نہیں گزرا تھا کہ اُن دونوں آدمیوں کے پاس سے مالِ متنازعہ میں سے کچھ مال مل گیا اور اس طرح سے اُن کا جھوٹ ثابت ہوگیا، ماجرا پیغمبرؐ کی خدمت میں عرض کیا گیا، پیغمبرؐ انتظار میں ہی تھے کہ درج بالا آیات نازل ہوئیں ۔ اس کے بعد آپ نے حکم دیا کہ مرنے والے کے ورثا قسم کھائیں اور پھر آپ نے مال لے کر ان کے سپُرد کردیا ۔
اسلام کے اہم ترین مسائل میں سے ایک حفظِ حقوق
اسلام کے اہم ترین مسائل میں سے ایک حفظِ حقوق اور لوگوں کے اموال اور مکمل عدالت اجتماعی کے اجراء کرنے کا مسئلہ ہے ۔ اُوپر والی آیات اس حصہ سے مربوط احکام کا ایک گوشہ ہیں ۔ پہلے اس بناپر کہ وارثوں کے حقوق مرنے والے کے مال میں سے ضائع نہ ہوں اور پسماندگان، یتیم اور چھوٹے بچوں کا حق پائمال نہ ہو، صاحب ایمان افراد کو حکم دیتا ہے اور اُن سے یہ کہتا ہے: اے ایمان لانے والو! جب تم میں سے کسی کو موت آگھیرے تو وصیت کرتے وقت دو عادل افراد کو گواہی کے لیے بلاؤ اور اپنا مال امانت کے طور پر ورثا کے حوالے کرنے کے لیے ان کے سپرد کردو یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا شَہَادَۃُ بَیۡنِکُمۡ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الۡمَوۡتُ حِیۡنَ الۡوَصِیَّۃِ اثۡنٰنِ ذَوَا عَدۡلٍ مِّنۡکُمۡ) ۔
ہاں عدل سے مراد وہی عدالت ہے جو گناہِ کبیرہ وغیرہ سے پرہیز کرنے کے معنی میں ہے ۔ البتہ آیت کے معنی میں یہ احتمال بھی ہے کہ عدالت سے مراد ”امور مالی میں امانت“ اور ”عدم خیانت“ ہو مگر یہ کہ دوسرے دلائل سے ثابت ہو کہ اس سے مزید شرائط بھی اس سلسلے میں ضروری ہیں ۔
”منکم“ سے مراد یعنی تم مسلمانوں میں سے، غیر مسلم افراد کے مقابلے میں ہے کہ جس کی طرف بعد والے جملے میں اشارہ ہوگا ۔ البتہ اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ یہاں عام شہادت کے متعلق بحث نہیں ہے، بلکہ یہ وہ شہادت ہے جو وصیت کے ساتھ وابستہ ہے، یعنی یہ دونوں افراد وصی بھی ہیں اور گواہ بھی ۔ باقی رہا یہ احتمال کہ یہاں پر دو گواہوں کے علاوہ ایک تیسرے شخص کا وصی کے طور پر انتخاب بھی ضروری ہے تو وہ ظاہر آیت کے خلاف اور شانِ نزول کے مخالف ہے، کیونکہ ہم شان نزول میں پڑھ چکے ہیں کہ ابن ماریہ کے ہمسفر صرف دو افراد تھے کہ جنھیں اُس نے اپنی میراث پر وصی اور گواہ اٹھہرایا تھا ۔
اس کے بعد مزید کہتا ہے: اگر تم مسافرت میں ہو اور تم پر موت کی مصیت آپڑے (اور مسلمانوں میں سے کوئی وصی اور شاہد تمھیں نہ مل سکے) تو اس مقصد کے لیے غیر مسلمانوں میں سے دو افراد کا انتخاب کرلو (اَوۡ اٰخَرٰنِ مِنۡ غَیۡرِکُمۡ اِنۡ اَنۡتُمۡ ضَرَبۡتُمۡ فِی الۡاَرۡضِ فَاَصَابَتۡکُمۡ مُّصِیۡبَۃُ الۡمَوۡتِ) ۔ اگرچہ اس آیت میں اس موضوع سے متعلق کوئی بات دکھائی نہیں دیتی کہ غیر مسلموں میں سے وصی وشاہد کا انتخاب مسلمانوں میں سے کسی مسلمان کے نہ ملنے کے ساتھ مشروط ہے البتہ یہ بات واضح ہے کہ مراد ایسی صورت میں ہی ہے جب مسلمان تک رسائی نہ ہو اور مسافرت کی قید کا ذکر بھی اسی وجہ سے ہوا ہے ۔ اسی طرح کلمہ ”اٴو“ اگرچہ عام طور پر اختیار کے لیے آتا ہے لیکن یہاں بھی بہت سے دوسرے مواقع کی طرح ”ترتیب“ ہی منظور ہے، یعنی پہلے تومسلمانوں میں سے انتخاب ہونا چاہیے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر غیر مسلموں میں سے انتخاب کرو ۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ غیر مسلموں سے یہاں صرف اہل کتاب یعنی یہود ونصاریٰ ہی مراد ہیں کیونکہ اسلام مشرکوں اور بت پرستوں کی اہمیت کا کبھی قائل نہیں ہوا ۔
پھر حکم دیتا ہے کہ اگر گواہی دینے کے وقت، رفعِ شک کی غرض سے، ان دونوں افراد کو نماز کے بعد اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ الله کی قسم کھائیں (تَحۡبِسُوۡنَہُمَا مِنۡۢ بَعۡدِ الصَّلٰوۃِ فَیُقۡسِمٰنِ بِاللّٰہِ اِنِ ارۡتَبۡتُمۡ) اور ان کی شہادت اس طرح سے ہونا چاہیے کہ وہ کہیں کہ: ہم اس بات پر آمادہ نہیں ہیں کہ حق کو مادی منافع کی خاطر بیچ ڈالیں اور ناحق گواہی دیں اگرچہ ہمارے رشتہ داروں اور عزیزوں کے بارے میں ہی کیوں نہ ہو (لَا نَشۡتَرِیۡ بِہٖ ثَمَنًا وَّ لَوۡ کَانَ ذَا قُرۡبٰی) اور ہم کبھی خدائی گواہی کو نہیں چھپائیں گے کیونکہ اس طرح تو تم گنہگاروں میں سے ہوجائیں گے (وَ لَا نَکۡتُمُ شَہَادَۃَ ۙ اللّٰہِ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الۡاٰثِمِیۡنَ) ۔ اس حقیقت پر بھی توجہ رکھنی چاہیے کہ: اوّلاً یہ تمام لوازمات شک وشبہ اور اتہام کی صورت میں ادائے شہادت کے سلسے میں ہیں ۔
دوسرا یہ کہ حفاظت کے لیے ایک طرح کی محکم ضمانت ہے اور یہ بات شہادت عدلین کو بغیر قسم کے قبول کرلینے کے منافی نہیں ہے کیونکہ یہ حکم عدم اتہام کے مواقع کے ساتھ مربوط ہے، لہٰذا اس بناپر نہ تو اس آیت کا حکم منسوخ ہوا ہے اور نہ ہی یہ غیرمسلموں کے ساتھ مخصوص ہے (غور کیجیے) ۔
یہ کہ نماز سے مراد غیر مسلموں کی صورت میں از روئے اصول وقاعدہ خود ان کی ہی نماز ہونا چاہیے جو اُن میں توجّہ اور خوف خدا پیدا کرتی ہے، باقی رہا مسلمانوں کے بارے میں تو ایک گروہ کا نظریہ تو یہ ہے کہ اس سے مراد خاص طور پر نماز عصر ہے اور اہل بیت علیہم السلام کی بعض روایات میں بھی اس بارے میں اشارہ ہوا ہے لیکن آیت کا ظاہر مطلق ہے اور وہ ہر نماز کے لیے ہے، ہوسکتا ہے کہ ہماری روایات میں خصوصیت کے ساتھ نماز عصر کا ذکر استحبابی پہلو رکھتا ہو کیونکہ نماز عصر میں لوگ زیادہ تعداد میں جمع ہوجاتے تھے ۔ علاوہ ازیں فیصلہ اور قضاوت کا وقت بھی مسلمانوں کے نزدیک زیادہ تر یہی ہوتا تھا ۔ چوتھا یہ کہ شہادت کے لیے نماز کے وقت کا انتخاب اس بناپر تھا ہ کیونکہ اس موقع پر انسان میں خدا خوفی کی روح بیدار ہوتی ہے جیسا کہ فرمایا گیا ہے: ” إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ “(سورہٴ عنکبوت، آیت۴۵-)
زمان ومکان کی حالت انسان کو حق کی طرف متوجہ کرتی ہے، یہاں تک کہ بعض فقہا نے کہا ہے کہ اگر گواہی کے لیے مکہ میں ہوں تو بہتر ہے خصوصاًکعبہ کے پاس ”رکن“ و ”مقام“ کے درمیان کہ جو بہت ہی مقدس جگہ ہے اور اگر مدینہ میں ہوں تو پیغمبر ؐکے منبر کے پاس یہ شہادت ادا ہو ۔
بعد والی آیت میں ایسے مواقع کے متعلق گفتگو ہورہی ہے جب یہ ثابت ہوجائے کہ دونوں گواہ خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں اور انھوں نے حق کے خلاف گواہی دی ہے جیسا کہ آیت کی شان نزول میں بیان ہوا ہے ۔ ایسے موقع کے لیے حکم یہ ہے کہ: اگر یہ معلوم ہوجائے کہ دونوں گواہ گناہ، جرم اور تعدی کے مرتکب ہوئے ہیں اور انھوں نے حق کو پامال کردیا ہے تو دوسرے دو آدمی اُن لوگوں میں سے لیے جائیں جب پر پہلے گواہوں نے ظلم کیا ہے یعنی مرنے والے کے ورثا میں سے اور وہ اپنا حق ثابت کرنے کے لیے گواہی دیں گے (فَاِنۡ عُثِرَ عَلٰۤی اَنَّہُمَا اسۡتَحَقَّاۤ اِثۡمًا فَاٰخَرٰنِ یَقُوۡمٰنِ مَقَامَہُمَا مِنَ الَّذِیۡنَ اسۡتَحَقَّ عَلَیۡہِمُ الۡاَوۡلَیٰنِ) ۔
مرحوم طبرسی نے ”مجمع البیان“ میں کہا ہے کہ یہ آیت معنی اور اعراب کے لحاظ سے پیچیدہ ترین اور مشکل ترین آیات قرآن میں سے ہے، لیکن دونکات کی طرف توجہ کرنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ آیت اس قدر پیچیدہ بھی نہیں ہے ۔ پہلا نکتہ ہے کہ لفظ ”اثم“ (گناہ) کے قرینہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہاں ”اسْتَحَقَّ “سے مراد جرم اور دوسرے کے حق پر تجاوز ہے اور دوسرے یہ کہ ”اولیان“ یہاں ”اولان“ کے معنی میں ہے یعنی دو گواہ کہ جنھیں پہلے گواہی دینا چاہیے تھی اور اب وہ راہ راست سے منحرف ہوگئے ہیں، بنابر یں آیت کا معنی اس طرح ہوگا کہ اگر کوئی ایسی اطلاع مل جائے کہ پہلے والے دو گواہ غلطی کے مرتکب ہوئے ہیں تو دوافراد ان کی جگہ لے لیں گے یہ دو گواہ ان لوگوں میں ہوں گے کہ جن پر پہلے دو گواہوں نے زیادتی اور تجاوز کیا ہے
(اس بناپر اعراب کے لحاظ سے ”آخران“ مبتدا ہے اور ”یَقُومَانِ مَقَامَھُمَا “ خبر ہے اور ”اولیان“ ”استحق“ کا فاعل ہے ”الَّذِینَ“ ورثاء کے معنی میں ہے جن پر ظلم ہوا ہے اور جارومجرور ”مِنَ الَّذِینَ “کا ”اخران“ کی صفت ہوگا )(غور کیجیے)
آیت کے ذیل میں دوسرے دو گواہوں کی ذمہ داری یوں بیان کی گئی ہے: خدا کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی پہلے دوافراد کی گواہی کی نسبت زیادہ صحیح اور حق کے زیادہ قریب ہے اور تجاوز اور کسی ظلم وستم کے مرتکب نہیں ہوں گے اور اگر ہم ایسا کریں گے تو ظالموں میں سے قرار پائیں گے (فَیُقۡسِمٰنِ بِاللّٰہِ لَشَہَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنۡ شَہَادَتِہِمَا وَ مَا اعۡتَدَیۡنَاۤ ۫ۖ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیۡنَ) ۔
حقیقت میں مرنے والے کے اولیاء پہلے سے اس کے مال ومتاع کے بارے میں مسافرت کے وقت یا مسافرت کے علاوہ جو کچھ جانتے ہیں اس کی بنیاد پر گواہی دیں گے کہ پہلے دو گواہ ظلم وخیانت کے مرتکب ہوئے ہیں اور یہ گواہی مشاہدہ وحس کی بناپر ہے نہ کہ حدس وقرائن کی رو سے ۔ زیر بحث آیت کے آخر میں در حقیقت ان احکام کا فلسفہ بیان ہورہا ہے جو شہادت کے سلسلے میں پہلی آیات میں گزر چکے ہیں کہ اگر اُوپر والے حکم کے مطابق عمل ہو یعنی دونوں گواہوں کو نماز کے بعد جماعت کی موجودگی میں گواہی کے لیے طلب کریں اور ان کی خیانت ظاہر ہونے کی صورت میں دوسرے افراد ورثاء میں سے ان کی جگہ لے لیں اور حق کو واضح کریں تو یہ لائحہ عمل اس بات کا سبب بنے گا وہ گواہ گواہی کے معاملے میں غور وخوض سے کام لیں گے اور خدا کے خوف یا خلق خدا کے ڈر سے واقع کے مطابق گواہی دیں گے (ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ یَّاۡتُوۡا بِالشَّہَادَۃِ عَلٰی وَجۡہِہَاۤ اَوۡ یَخَافُوۡۤا اَنۡ تُرَدَّ اَیۡمَانٌۢ بَعۡدَ اَیۡمَانِہِمۡ) ۔
در حقیقت یہ کام اس بات کا سبب بنے گا کہ اُن میں خدا کے سامنے یا بندگانِ خدا کے سامنے زیادہ سے زیادہ بازپُرس کا خوف پیدا ہوجائے گا اور وہ حق کے مرکز سے روگرداں نہ ہوں ۔ آیت کے آخر میں تمام گذشتہ احکام کی تاکید کے لیے ایک حکم دیا گیا ہے: پرہیزگاری اختیار کرو اور فرمان خدا کان لگا کر سنو اور یہ جان لو کہ خدا فاسق گروہ کو ہدایت نہیں کرتا (وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اسۡمَعُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ) ۔ ۱۰۹ یَوۡمَ یَجۡمَعُ اللّٰہُ الرُّسُلَ فَیَقُوۡلُ مَا ذَاۤ اُجِبۡتُمۡ ؕ قَالُوۡا لَا عِلۡمَ لَنَا ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُیُوۡبِ ۔ ترجمہ ۱۰۹۔ اُس دن سے ڈرو جس دن خدا پیغمبروں کو جمع کرے گا اور انھیں کہے گا کہ لوگوں نے تمھاری دعوت کا کیا جواب دیا تھا تو وہ کہیں گے ہمیں تو پتہ نہیں تُو خود تمام پوشیدہ چیزوں کا جاننے والا ہے ۔
اس دن سے ڈرو جس دن خدا پیغمبروں کو جمع کرے گا اور انہیں کہے گا کہ لوگوں نے تمہاری دعوت کا کیا جواب دیا تھا تو وہ کہیں گے ہمیں تو پتہ نہیں تو خود تمام پوشیدہ چیزوں کا جاننے والا ہے۔
اس دن سے ڈرو جس دن خدا پیغمبروں کو جمع کرے گا
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
یہ آیت حقیقت میں گذشتہ آیات کی تکمیل کرتی ہے کیونکہ گذشتہ آیات کے ذیل میں جو حق وباطل کی شہادت کے مسئلہ کے ساتھ مربوط تھیں ، تقویٰ اور حکم خدا کی مخالفت سے ڈرنے کا حکم دیا گیا تھا، اس آیت میں کہتا ہے کہ اس دن سے ڈرو جس دن خدا پیغمبروں کو جمع کرے گا اور اُن سے رسالت اور ان کی ماموریت کے بارے میں سوال کرے گا اور اُن سے کہے گا کہ لوگوں نے تمھاری دعوت کا کیا جواب دیا تھا (یَوۡمَ یَجۡمَعُ اللّٰہُ الرُّسُلَ فَیَقُوۡلُ مَا ذَاۤ اُجِبۡتُمۡ) ۔
وہ اپنے کسی بھی قسم کے ذاتی علم کی نفی کرتے ہوئے تمام حقائق کو علم پروردگار کے ساتھ وابستہ کرکے کہیں گے: خداوندا! ہمیں کوئی علم نہیں ہے تو ہی تمام پوشیدہ اور چھپی ہوئی چیزوں سے آگاہ ہے (قَالُوۡا لَا عِلۡمَ لَنَا ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُیُوۡبِ) ۔
اسی طرح تمھارا ایسے علام الغیوب خدا اور ایسی عدالت سے سامنا ہوگا، اسی لیے تم اپنی گواہیوں میں حق وانصاف کو ملحوظ نظر رکھو(جو کچھ اوپر کہا جاچکا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اعراب کے لحاظ سے ”یوم“ تقوا کا مفعول ہے کہ جو اس کی تقدیر ہے اور پہلی آیت سے ظاہر ہوتا ہے) یہاں پر دو سوال سامنے آتے ہیں: پہلا: یہ کہ قرآن کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء ومرسلین(علیه السلام) اپنی اُمت کے گواہ اور شاہد ہیں جب کہ اُوپر والی آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ سے علم کی نفی کرتے ہیں اور تمام چیزوں کو خدا کے سپُرد کررہے ہیں ۔ لیکن ان دونوں باتوں کے درمیان کوئی تضاد اور اختلاف نہیں ہے، بلکہ یہ دونوںباتیں علیحدہ علیحدہ مرحلوں کے ساتھ مربوط ہیں، پہلے مرحلہ میں جس کی طرف زیرِ بحث آیت میں اشارہ ہے انبیاء علیہم السلام نے پروردگار کے سوال کے جواب میں اظہارِ ادب کیا اور اپنے آپ سے علم کی نفی کی ہے اور تمام چیزوں کو خدا کے علم سے وابستہ کیا ہے، لیکن بعد کے مرحلوں میں اپنی اُمت کے بارے میں جو کچھ جانتے ہیں اس کو واضح کریں گے اور اس کی گواہی دیں کے، یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح سے کہ بعض استاد اپنے شاگرد سے کہتا ہے کہ فلاں شخص کے سوال کا جواب دو اور شاگرد پہلے تو اظہار ادب کے طور پر اپنے استاد کے علم کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر قرار دیتا ہے اور پھر جو کچھ وہ جانتا ہے اسے بیان کرتا ہے ۔ دوسرا: یہ کہ انبیاء علیہم السلام اپنے سے علم کی نفی کیسے کریں گے حالانکہ وہ عام عادی علم کے علاوہ بہت سے مخفی پروردگار کی تعلیم کے ذریعے جانتے ہیں ۔
اگرچہ اس سوال کے جواب میں مفسّرین نے طرح طرح کی بحثیں کی ہیں لیکن ہمارے عقیدے کے مطابق یہ بات بالکل واضح وروشن ہے کہ یہاں پر انبیاء علیہم السلام کی مراد یہ ہے کہ وہ اپنے علم کو خدا کے علم کے مقابلے میں ہیچ سمجھتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے، ہماری ہستی اس کی بے پایاں ہستی کے سامنے کوئی چیز ہی نہیں ہے اور ہمارا علم اس کے علم کے سامنے کوئی علم ہی شمار نہیں ہوتا اور خلاصہ یہ ہے کہ ”ممکن“ جو کچھ بھی ہو ”واجب“ کے مقابلے میں کوئی چیز نہیں ہے، دوسرے لفظوں میں اگرچہ انبیاء علیہم السلام کا علم ودانش اپنے مقام پر بہت زیادہ ہے لیکن جب اس کا قیاس علم پروردگار کے ساتھ کیا جائے گا تو وہ کوئی شمار نہیں ہوگا ۔ حقیقت میں عالمِ واقعی وہ ذات ہے کہ جو ہر جگہ اور ہر وقت حاضر وناظر ہو اور تمام ذرّات عالم کے ایک دوسرے سے وصل وپیوند سے باخبر ہو اور جہان کی تمام خصوصیات سے کہ جو ایک وحدت کی صورت میں ایک دوسرے کے ساتھ ملا ہوا ہے اور یہ صفت صرف خداوندتعالیٰ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے ۔ ہم نے اب تک جو کچھ بیان کیا ہے اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ آیت پیغمبروں اور اماموں سے ہر قسم کے علمِ غیب کی نفی کی دلیل نہیں ہوسکتی، جیسا کہ بعض لوگوں نے خیال کررکھا ہے کیونکہ علم غیب ذاتی طور پر تو اُسے علم غیب دیا اتنا ہی وہ جانتا ہے، قرآن کی متعدد آیات اس چیز کی گواہ ہیں کہ جن میں سے سورہٴ جن کی آیت ۲۶ میں ہے: ”عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًاO إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِن رَّسُولٍ“ ”خداوند تعالیٰ عالم الغیب ہے اور سوائے ان رسولوں کے کہ جنھیں اس نے برگزیدہ کیا اور کسی کو اپنے علم غیب سے آگاہ نہیں کرتا“ نیز سورہٴ ہود کی آیت ۴۹ میں ہے: ” تِلْكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهَا إِلَيْكَ”
یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تجھ پر وحی کرتے ہیں“ ان آیات اور ان جیسی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ علم غیب ذات خدا کے ساتھ مخصوص نہیں ہے لیکن جس شخص کے لیے وہ جتنا مصلحت سمجھتا ہے اسے تعلیم دیتا ہے اور اس کی کمیت وکیفیت اس کی خواہش اور مشیّت سے مربوط ہے۔
وہ وقت یاد کرو جب خدا نے عیسیٰ بن مریم سے کہا کہ اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر اور تمہاری والدہ پر کی ہے جب میں نے روح القدس کے ذریعے تیری تقویت کی کہ تو گہوارے میں اور بڑے ہو کر لوگوں سے گفتگو کرتا تھا اور جب میں نے تجھے کتاب و حکمت اور تورات و انجیل کی تعلیم دی اور جب کہ تو میرے حکم سے مٹی سے پرندے کی شکل بناتا اور اس میں پھونکتا تھا اور وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتا تھا اور مادر زاد اندھے اور برص کی بیماری والے کو تو میرے حکم سے شفا دیتا تھا اور مردوں کو بھی تو میرے حکم سے زندہ کرتا تھا اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تجھے اذیت و تکلیف پہنچانے سے باز رکھا جب تو ان کے پاس واضح دلائل لے کر آیا تھا لیکن ان میں سے کافروں کی ایک جماعت نے کہا کہ یہ تو کھلے ہوئے جادو کے سوا کچھ نہیں۔
مسیح(علیه السلام) پر انعاماتِ الٰہی
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
مسیح(علیه السلام) پر انعاماتِ الٰہی یہ آیت اور سورہٴ مائدہ کے آخر تک بعد والی آیات حضرت عیسیٰ(علیه السلام) کی سرگذشت اور ان انعامات سے مربوط ہیں جو آنجناب(علیه السلام) اور ان کی اُمت کو بخشی گئیں اور وہ یہاں پرمسلمانوں کی بیداری اور آگاہی کے لیے بیان ہوئی ہیں پہلے ارشاد ہوتا ہے: وہ وقت یاد کرو جب خدا نے عیسیٰ (علیه السلام) ابن مریم سے فرمایا کہ تم اُس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر اور تمھاری والدہ پر کی (إِذْ قَالَ اللهُ یَاعِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ اذْکُرْ نِعْمَتِی عَلَیْکَ وَعَلی وَالِدَتِکَ) ۔
اس تفسیر کے مطابق اوپر والی آیات ایک مستقل بحث شروع کررہی ہیں جو مسلمانوں کے لیے تربیتی پہلو رکھتی ہے اور اس کا اسی دنیا کے ساتھ ربط ہے، لیکن بعض مفسرین مثلاً طبرسی، بیضاوی اور ابوالفتوح رازی نے یہ احتمال دیا ہے کہ یہ آیت پہلی آیت کا ضمیمہ ہے اور اس کا ربط ان سوالات اور باتوں سے ہے جو خداوند تعالیٰ قیامت کے دن پیغمبروں سے کرے گا اور اس بناپر ”قَالَ “ جو فعل ماضی ہے یہاں ”یقول“ یعنی فعل مضارع کے معنی میں ہوگا، لیکن یہ احتمال ظاہرِ آیت کے خلاف ہے، خاص طور پر جبکہ معمول یہ ہے کہ کسی کے لیے نعمتوں کا شمار کرنا اس میں روحِ شکرگزاری زندہ کرنے کی غرض سے ہوتا ہے، جبکہ قیامت میں یہ مسئلہ زیر بحث نہیں آئے گا ۔ اس کے بعد اپنی نعمات کا ذکر شروع کردیا ہے، پہلے کہتا ہے: میں نے تجھے روح القدس کے ذریعے تقویت دی ہے (إِذْ اٴَیَّدتُّکَ بِرُوحِ الْقُدُسِ ) ۔ روح قدس کے معنی کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد اوّل میں تفصیل سے بحث ہوچکی ہے۔
(حوالہ تفسیر نمونہ،( اردو ترجمہ) ج۱، ص۳۶۰)
خلاصہ یہ کہ ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد وحی لانے والا فرشتہ یعنی جبرئیل ہو، اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد وہی غیبی طاقت ہو جو حضرت عیسیٰ(علیه السلام) کو معجزے دکھانے اور رسالت کے کام سرانجام دینے کے لیے تقویت دیتی تھی اور یہ چیز انبیاء(علیه السلام) کے علاوہ دوسروں میں بھی ضعیف تر درجہ موجود ہوتی ہے ۔ نعمات الٰہی میں سے دوسری نعمت تجھ پر یہ ہے کہ روح القدس کی تائید کے ذریعے تو گہوراے میں اور پختہ کار ہوکر گفتگو کرتا تھا (تُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَھْدِ وَکَھْلًا ) ۔ یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ تیری گہوارہ کی باتیں بھی بڑے ہونے کے بعد کی باتوں کی مانند پختہ اور جچی تلی ہوتی تھیں اور وہ بچوں کی طرح بے وزن نہیں ہوتی تھیں ۔
تیسری نعمت یہ کہ میں نے تجھے کتاب وحکمت اور تورات وانجیل کی تعلیم دی (وَإِذْ عَلَّمْتُکَ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنجِیلَ) ۔ کتاب کے ذکر کے بعد تورات وانجیل کا تذکرہ ہے جبکہ وہ بھی آسمانی کتابوں میں سے ہیں حقیقت میں اجمال کے بعد تفصیل کی صورت میں ہے ۔
چوتھی نعمت یہ ہے کہ تُو میرے حکم سے پرندے کی شکل کی ایک چیز مٹی سے بناتا تھا اس کے بعد اس میں پھونکتا تھا تو وہ میرے حکم سے ایک زندہ پرندہ ہوجاتی تھی (وَإِذْ تَخْلُقُ مِنْ الطِّینِ کَھَیْئَةِ الطَّیْرِ بِإِذْنِی فَتَنفُخُ فِیھَا فَتَکُونُ طَیْرًا بِإِذْنِی) ۔
پانچویں نعمت یہ ہے کہ تو میرے اذن سے مادر زاد واندھے اور برص کی بیماری میں مبتلا شخص کو شفا دیتا تھا (وَتُبْرِءُ الْاٴَکْمَہَ وَالْاٴَبْرَصَ بِإِذْنِی) ۔ اور بالآخر میری نعمتوں میں سے ایک اور نعمت تجھ پر یہ تھی کہ میں نے بنی اسرائیل کو تجھے پہنچانے سے اس وقت باز رکھا جبکہ ان کے کافر تیرے واضح اور روشن دلائل کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوئے اور انھیں کھلا جادو کہنے لگے، میں نے اس تمام شور وغل اور سخت اور ہٹ دھرم دشمنوں کے مقابلے میں تیری حفاظت کی تاکہ تو اپنی دعوت کو آگے بڑھاسکے (وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتَی بِإِذْنِی وَإِذْ کَفَفْتُ بَنِی إِسْرَائِیلَ عَنْکَ إِذْ جِئْتَھُمْ بِالْبَیِّنَاتِ فَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْھُمْ إِنْ ھَذَا إِلاَّ سِحْرٌ مُبِینٌ) ۔ یہاں پر ایک بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ اس آیت میں چار مرتبہ لفظ ”باذنی“ (میرے حکم سے)دُہرایا گیا ہے تاکہ حضرت عیسیٰ(علیه السلام) کے لیے غلو اور دعائے الوہیت کی کوئی گنجائش ہی باقی نہ رہے، یعنی جو کچھ وہ انجام دیتے تھے اگرچہ بہت عجیب وغریب اور حیرت انگیز تھا اور خدائی کاموں کے ساتھ شباہت رکھتا تھا لیکن اُن میں سے کام خود عیسی(علیه السلام)ٰ کی طرف سے نہیں تھا کہ بلکہ یہ سب کام خدا کی طرف سے انجام پذیر ہوتے تھے، وہ ایک بندہٴ خدا تھے اور خداوندتعالیٰ کے تابع فرمان تھے اور ان کے پاس جو کچھ بھی تھا وہ خدائے لایزال کی قدرت سے تھا ۔
ہوسکتا ہے یہ کہا جائے کہ یہ تمام نعمتیں حضرت عیسی(علیه السلام)ٰ کے ساتھ مربوط تھیں تو اس آیت میں ان نعمتوں کو ان کی والدہ جناب مریم(علیه السلام) کے لیے بھی نعمت کیوں شمار کیا گیا ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات مسلم ہے کہ جو نعمت بیٹے تک پہنچتی ہے وہ حقیقت میں اس کی ماں کو بھی پہنچتی ہے کیونکہ دونوں ایک اصل سے ہیں اور ایک ہی درخت کی شاخ اور جڑ ہیں ۔
ضمنی طور پر جیسا کہ ہم سورہٴ آلِ عمران کی آیہ ۴۹ کے ذیل میں بیان کرچکے ہیں یہ آیت اور اسی قسم کی آیات اولیاء خدا کی ولایت تکوینی کے واضح دلائل میں سے ہیں کیونکہ مسیح(علیه السلام) کے قصّے میں مُردوں کو زندہ کرنے، مادر زاد اندھوں اور لاعلاج بیماروں کو شفا دینے کو مسیح(علیه السلام) کی ذات کی طرف منسوب کیا گیا ہے البتہ اذن و فرمانِ خدا کے ساتھ۔ اس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات عین ممکن ہے کہ خداوند تعالیٰ عالم تکوین میں تصرف کرنے کے لیے اس قسم کی قدرت کسی شخص کے اختیار میں دے دے کہ وہ کبھی اس قسم کے اعمال انجام دے لیا کرے اور اس آیت کی تفسیر انبیاء کے دعا کرنے اور خدا کی طرف سے ان کی دعا قبول ہونے کے ساتھ کرنا مکمل طور پر ظواہر آیات کے خلاف ہے ۔ البتہ اولیاء خدا کی ولایت تکوینی سے ہماری مراد اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے جسے ہم اُوپر بیان کرچکے ہیں ۔ کیونکہ اس مقدار سے زیادہ کے لیے ہمارے پاس کوئی دلیل موجود نہیں ہے ۔ مزید و ضاحت کے لیے جلد دوم کی طرف رجوع کریں ۔
وہ وقت یاد کرو جب میں نے حواریوں کی طرف وحی کی کہ مجھ پر اور میرے بھیجے ہوئے پر ایمان لاؤ تو انہوں نے کہا کہ ہم ایمان لے آئے اور تو گواہ رہ کہ ہم مسلمان ہیں۔
(وہ وقت کہ) جب حواریوں نے یہ کہا کہ اے عیسیٰ بن مریم ! کیا تیرا پروردگار آسمان سے مائدہ نازل کر سکتا ہے تو اس نے (جواب میں ) کہا اگر تم صاحبان ایمان ہو تو اللہ سے ڈرو۔
وہ کہنے لگے (ہم یہ بات بری نیت سے نہیں کہتے بلکہ) ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل (آپ کی رسالت پر) مطمئن ہو جائیں اور ہم جان لیں کہ تو نے ہم سے سچی بات کہی ہے اور ہم اس پر گواہ ہو جائیں۔
عیسیٰ نے عرض کیا اے خدا ! اے ہمارے پروردگار ! ہم پر آسمان سے مائدہ نازل فرماتا کہ وہ ہمارے اول و آخر کے لئے عید قرار پائے اور تیری طرف سے نشانی ہو اور ہمیں روزی عطا فرما تو بہترین روزی دینے والا ہے۔
خداوند تعالیٰ نے (دعا قبول فرما لی) اور کہا: میں اسے تم پر نازل کروں گا لیکن جو شخص تم میں سے اس کے بعد کافر ہو جائے گا (اور وہ انکار کی راہ اختیار کرے گا) اسے میں ایسی سزا دوں گا کہ عالمین میں سے ویسی سزا کسی کو نہ دی ہو گی۔
حواریوں پر مائدہ کے نزول کا واقعہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
اس بحث کے بعد جو مسیح(علیه السلام) اور ان کی والدہ کے بارے میں نعمات الٰہی کے سلسلہ میں گذشتہ آیات میں بیان ہوچکی ہے ان آیات میں اُن نعمات کی طرف اشارہ کرتا ہے جو حواریوں یعنی حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کے نزدیکی اصحاب و انصار کو بخشی گئی ہیں ۔ پہلے فرماتا ہے، اُس وقت کو یاد کرو جب ہم نے حواریوں کی طرف وحی بھیجی کہ مجھ پر اور میرے بھیجے ہوئے مسیح(علیه السلام) پر ایمان لے آؤ تو انہوں نے میری دعوت کو قبول کرلیا اور کہا کہ ہم ایمان لے آئے، خدایا! گواہ رہنا کہ ہم مسلمان ہیں اور تیرے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہیں (وَ اِذۡ اَوۡحَیۡتُ اِلَی الۡحَوَارِیّٖنَ اَنۡ اٰمِنُوۡا بِیۡ وَ بِرَسُوۡلِیۡ ۚ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا وَ اشۡہَدۡ بِاَنَّنَا مُسۡلِمُوۡنَ) ۔ البتہ یہ بات ہم اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ لفظ وحی قرآن کریم میں ایک وسیع معنی کا حامل ہے اور ان وحیوں میں منحصر نہیں ہے کہ جو پیغمبروں پر نازل ہوتی ہیں بلکہ وہ الہام بھی جو مختلف افراد کے دلوں پر ہوتے ہیں اس کے مصداق ہیں اور اسی لیے مادر موسیٰ(علیه السلام) کے بارے میں (سورہٴ قصص آیت ۷ میں) وحی کا لفظ آیا ہے۔ (وَأَوْحَيْنَا إِلَى أُمِّ مُوسَى أَنْ أَرْضِعِيهِ فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَأَلْقِيهِ فِي الْيَمِّ ---- ”ہم نے موسیٰ کی والدہ پر وحی کی کہ اُسے دودھ پلاؤ اور جب اس کے بارے میں تمھیں ڈر ہو تو اُسے دریا میں پھینک دو) یہاں تک کہ حیوانات کے طبعی و فطری الہامات کے لیے بھی قرآن میں لفظ وحی استعمال کیا گیا ہے جیسا کہ شہد کی مکھیوں کے لیے ہے ۔
یہ احتمال بھی موجود ہے کہ اس سے وہ وحی مراد ہو جو حضرت مسیح(علیه السلام) کے ذریعے اور معجزات کی شکل میں ان کی طرف بھیجی جاتی تھی، ہم نے حواریوں کے بارے میں یعنی حضرت عیسیٰ کے اصحاب اور شاگردانِ خاص کے لیے جلد دوم صفحہ ۳۳۷ پر بحث کی ہے ۔
(اردو ترجمہ میں دیکھئے)
اس کے بعد مائدہ آسمانی کے نزول کے مشہور واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: مسیح کے اصحابِ خاص نے حضرت عیسیٰ(علیه السلام) سے کہا کیا تیرا پروردگار ہمارے لیے آسمان سے غذا بھیج سکتا ہے(اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِیُّوۡنَ یٰعِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ ہَلۡ یَسۡتَطِیۡعُ رَبُّکَ اَنۡ یُّنَزِّلَ عَلَیۡنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ) ۔
”مائدہ“ لغت میں خوان، دستر خوان اور طبق کو بھی کہا جاتا ہے اور اُس غذا کو بھی کہتے ہیں جو اُس میں رکھی ہوئی ہو، اصل میں یہ ”مید“ کے مادہ سے بنایا گیا ہے جس کے معنی حرکت دینے اور ہلانے کے ہیں اور شاید دستر خوان اور غذا پر مائدہ کا اطلاق اس نقل وانتقال کی وجہ سے ہی جو اُن میں صورت پذیر ہوتا رہتا ہے ۔
حضرت مسیح(علیه السلام) نے اس مطالبہ پر کہ جس میں ایسے معجزات وآیات دکھانے کے باوجود شک اور تردّد کی بو آرہی تھی، غور کیا اور انھیں تنبیہ کی اور کہا کہ اگر تم ایمان رکھتے ہو تو خدا سے ڈرو (قَالَ اتَّقُوا اللّٰہَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ) ۔
لیکن انھوں نے جلد ہی حضرت عیسیٰ(علیه السلام) کو بتادیا کہ ہمارا اس مطالبہ سے کوئی غلط مقصد نہیں ہے اور نہ ہی اس میں ہماری کسی ہٹ دھرمی کی غرض پوشیدہ ہے بلکہ ہماری تمنا یہ ہے کہ ہم اس مائدہ میں سے کھائیں (اور آسمانی غذا کے کھانے سے نورانیت ہمارے دل میں پیدا ہوگی، کیونکہ غذا مسلمہ طور پر روح انسانی پر اثر انداز ہوتی ہے، اس کے علاوہ) ہمارے دلوں میںٖ راحت پیدا ہوگی اور اطمینان حاصل ہوگا اور یہ عظیم معجزہ دیکھنے سے ہم علم الیقین کی سرحد تک پہنچ جائیں گے اور یہ جان لیں گے کہ آپ نے جو کچھ ہم سے کہا ہے وہ سچ ہے تاکہ ہم اس پر گواہی دے سکیں (قَالُوۡا نُرِیۡدُ اَنۡ نَّاۡکُلَ مِنۡہَا وَ تَطۡمَئِنَّ قُلُوۡبُنَا وَ نَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ صَدَقۡتَنَا وَ نَکُوۡنَ عَلَیۡہَا مِنَ الشّٰہِدِیۡنَ) ۔
جب حضرت عیسیٰ(علیه السلام) ان کے اس مطالبہ میں ان کی حُسنِ نیت سے آگاہ ہوئے تو ان کی درخواست کو بارگاہ خداوندی میں اس طرح سے بیان فرمایا کہ خداوندا ہمارے لیے آسمان سے مائدہ بھیج جو ہمارے اوّل وآخر کے لیے عید ہو اور تیری طرف سے ایک نشانی شمار ہو اور ہمیں رزق عطا فرما کہ تو ہی بہترین رزی رساں ہے (قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ اللّٰہُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَیۡنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ تَکُوۡنُ لَنَا عِیۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَۃً مِّنۡکَ ۚ وَ ارۡزُقۡنَا وَ اَنۡتَ خَیۡرُ الرّٰزِقِیۡنَ) ۔
اس میں یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ حضرت عیسیٰ(علیه السلام) نے ان کی درخواست کو بہت ہی عمدہ طریقے سے بارگاہ خداوندی میں پیش کیا، جس میں حق طلبی کی روح کا اظہار بھی پایا جاتا ہے اور اجتماعی وعمومی مصالح کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے ۔ خداوند تعالیٰ نے اس دعا کو کہ جو حسنِ نیت اور خلوص کے ساتھ دل سے نکلی تھی قبول کرلیا اور اُن سے فرمایا کہ: میں اس قسم کا مائدہ تم پر نازل کروں گالیکن اس بات پر بھی توجہ رہنی چاہیے کہ اس مائدہ کے اتر نے کے بعد تمھاری ذمہ داری بہت سخت ہوجائے گی اور اس قسم کا واضح معجزہ دیکھنے کے بعد جس شخص نے راہ کفر اختیار کی تو اُسے ایسی سزادوں گا کہ عالمین میں سے کسی کو ایسی سزا نہیں دی ہوگی (قَالَ اللّٰہُ اِنِّیۡ مُنَزِّلُہَا عَلَیۡکُمۡ ۚ فَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بَعۡدُ مِنۡکُمۡ فَاِنِّیۡۤ اُعَذِّبُہٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُہٗۤ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِیۡنَ)
چند ضروری نکات کی یاد دہانی
ان آیات میں چند ایسے نکات ہیں کہ جن کا مطالعہ کرنا ضروری ہے:
۱۔ مائدہ کے مطالبہ سے کیا مراد تھی؟ اس میں توشک نہیں ہے کہ حوارئین اس درخواست میں کوئی بُرا ارادہ نہیں رکھتے تھے اور ان کا مقصد حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کے مقابلے میں ہٹ دھرمی کرنا نہیں تھا بلکہ مزید اطمینان کی جستجو تھا تاکہ ان کے دلوں کی گہرائیوں میں جو شکوک و شبہات اور دسو سے باقی ہیں وہ بھی دور ہوجائیں ۔ کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان کسی مطلب کو استدلال کے ذریعے یہاں تک کہ کبھی کبھی تجربہ کی بنیاد پر بھی ثابت کرلیتا ہے لیکن جب مسئلہ زیادہ اہم ہوتا ہے تو بہت سے وسو سے اور شکوک و شبہات اس کے دل کے گوشوں میں باقی رہ جاتے ہیں لہٰذا اس کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ یا تو بار بار کے تجربے اور آزمائش کے ذریعے اور یا استدلال علمی کو عینی مشاہدات کے ساتھ بدل کر شکوک و شبہات اور وسوسوں کو اپنے دل کی گہرائیوں سے اکھاڑ کر پھینک دے ۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) باوجود اس کے کہ وہ ایمان و یقین کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے پھر بھی خداوند تعالیٰ سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ مسئلہ معاد کا اپنی آنکھوں کے ساتھ مشاہدہ کریں تاکہ ان کا وہ ایمان جو آز روئے علم تھا ”عین الیقین“ اور شہود سے بدل جائے ۔
لیکن اس سبب سے کہ حواریوں کے مطالبہ کا ظاہری طور پر جو مطلب نکلتا تھا وہ چھبتا ہوا معلوم ہوتا تھا لہٰذا حضرت عیسیٰ (علیه السلام) نے اسے بہانہ جوئی پر محلول کیا اور ان پر اعتراض کیا، لیکن جب انہوں نے کافی وضاحت کے ساتھ اپنا مقصد روشن کردیا تو حضرت عیسیٰ (علیه السلام) نے بھی ان کی بات کو تسلیم کرلیا ۔
۲ ۔ ”ہَلْ ییَسْتَطِیْعُ رَبُک “ سے کیا مراد ہے؟ مسلمہ طور پر ابتدا میں یہ جملہ یہی معنی دیتا ہے کہ حوارئین نزول مائدہ کے سلسلے میں قدرت خدا میں شک رکھتے تھے لیکن اس کی تفسیر میں اسلامی مفسّرین کے بعض بیانات جالب نظر ہیں، پہلا یہ کہ یہ درخواست انھوں نے ابتدائے کار میں کی تھی، جبکہ وہ مکمل طور پر صفات خداوندی سے آشنا نہیں ہوئے تھے، دوسرا یہ کہ ان کی مراد یہ تھی کہ کیا خداوند تعالیٰ کے نزدیک اس میں مصلحت ہے کہ وہ اس قسم کا مائدہ ہم پر نازل کردے، جیسا کہ مثال کے طور پر ایک شخص دوسرے سے یہ کہے کہ میں اپنی ساری دولت فلاں شخص کے ہاتھ میں نہیں دے سکتا، یعنی میں اس میں مصلحت نہیں سمجھتا ، نہ یہ کہ میں قدرت نہیں رکھتا، تیسرا یہ کہ ”یستطیع“ کا معنی ”یستجیب“ ہو، کیونکہ مادہ طوع کا معنی انقیاد ومطیع ہونا ہے اور جب وہ باب (استفعال) میں چلا جائے تو پھر اس سے یہ مطلب لیا جاسکتا ہے ۔ اس بناپر اس جملے کا یہ معنی ہوگا کہ کیا تیرا پروردگار ہماری اس بات کو قبول کرے گا کہ آسمانی مائدہ ہم پر نازل کرے ۔
۳۔ یہ آسمانی مائدہ کیا تھا؟ یہ آسمانی مائدہ جن چیزوں پر مشتمل تھا ان کے بارے میں قرآن میں کوئی تذکرہ نہیں ہے لیکن احادیث میں کہ جن میں سے ایک حدیث امام باقر علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ وہ کھانا چند روٹیاں اور چند مچھلیاں تھیں ۔ شایداس قسم کے معجزے کے مطالبے کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے سُن رکھا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کے معجزہ سے بنی اسرائیل پر مائدہ آسمانی اُترا تھا ۔ لہٰذا انھوں نے بھی حضرت عیسی(علیه السلام)ٰ سے اسی قسم کا تقاضا کیا ۔
۴۔ کیا ان پر کوئی مائدہ نازل ہوا؟ باوجود اس کے کہ مذکورہ بالا آیات نزول مائدہ کو تقریباً صراحت کے ساتھ بیان کررہی ہیں کیونکہ خداوندتعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض مفسّرین نے نزول مائدہ کی تردید کی ہے اور انھوں نے یہ کہا ہے کہ جب حوارئین نے نزول مائدہ کے بعد سخت ذمہ داری کا احساس کیا تو انھوں نے اپنا مطالبہ ترک کردیا لیکن حق بات یہ ہے کہ مائدہ ان پر نازل ہوا ۔
۵۔ عید کسے کہتے ہیں؟ عید لغت میں مادہ عود سے مشتق ہے جس کے لغوی معنی بازگشت (لوٹ آنا) کے ہیں ، اسی لیے اُن دنوں کو جن میں کسی قوم وملّت کی مشکلات برطرف ہوجاتی ہیں اور وہ پہلے جیسی کامیابیوں اور راحتوں کی طرف پلٹ آتی ہے، عید کہا جاتا ہے، اسلامی عیدوں کو اس مناسب سے عید کہا جاتا ہے کہ ماہِ مبارک رمضان میں ایک مہینے کی اطاعت کے بعد یا حج کا عظیم فریضہ انجام دینے کی وجہ سے روح میں پہلی سی فطری صفائی اور پاکیزگی لوٹ آتی ہے اور وہ آلودگیاں جو خلاف فطرت ہیں ختم ہوجاتی ہیں، چونکہ نزول مائدہ کا دن کامیابی، پاکیزگی اور خدا پر ایمان لانے کی طرف بازگشت کا دن تھا لہٰذا حضرت عیسیٰ(علیه السلام) نے اس کا نام عید رکھا، جیسا کہ روایات میں آیا ہے مائدہ کا نزول اتوار کے دن ہوا تھا لہٰذا شاید عیسائیوں کے نزدیک اتوار کے احترام کی علتوں میں سے ایک علت یہ بھی ہو ۔
حضرت علی علیہ السلام سے نقل شدہ ایک روایت میں ہے کہ: ”وکل یوم لایعصی الله فیہ فہو یوم عید“ ”یعنی ہر وہ دن کہ جس میں خداوند تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی جائے وہ عید کا دن ہے“( بحوالہ نہج البلاغہ، کلمات قصار، ۴۲۸-) یہ بھی اس امر کی طرف اشارہ ہے کیونکہ گناہ کو چھوڑنے کا دن کامیابی، پاکیزگی اور فطرت اوّلیہ کی طرف لوٹنے کا دن ہے ۔
۶۔ عذاب شدید کس بناپر تھا؟ یہاں پر ایک اہم نکتہ ہے جس کی طرف توجہ کرنا چاہیے اور وہ یہ کہ جب ایمان مرحلہ شہود اور عین الیقین کو پہنچ جائے یعنی حقیقت کو آنکھ سے دیکھ لے اور کسی قسم کے تردّد اور وسوسے کی گنجائش باقی نہ رہے تو پھر ایسے شخص کی ذمہ داری اور مسئولیت بہت زیادہ سخت ہوجاتی ہے، کیونکہ اب یہ وہ سابق انسان نہیں ہے کہ جس کا ایمان پایہٴ شہود پر نہیں تھا اور کبھی کبھار اس میں وسوسے پیدا ہوجاتے تھے، وہ ایمان اور ذمہ داری کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، اب اس کی تھوڑی تقصیر اور کوتاہی بھی مجازات شدید اور سخت سزا کا سبب بنے گی، اسی لیے تو انبیاء اور اولیائے خدا کی مسئولیت بہت سخت تھی اسی طرح کہ وہ ہمیشہ اُس سے وحشت وپریشانی میں رہتے تھے، ہم اپنی روزمرّہ کی زندگی میں بھی اس قسم کی باتوں کا سامنا کرتے رہتے ہیں، مثلاً اصولی طور پر ہر کسی کو معلوم ہے کہ اُس کے شہر اور علاقے میں کئی بھوکے ایسے موجود ہیں جن کے بارے میں اُس سے بازپُرس ہوگی، لیکن جب وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لے کہ ایک بے گناہ انسان بھوک کی شدّت سے فریاد کررہا ہے تو اب اس کی جوابدہی کی صورت مل جائے گی اور سخت تر ہوجائے گی۔
۷۔ عہد جدید اور مائدہ: موجودہ چاروں انجیلوں میں مائدہ کے بارے میں اس طرح گفتگو نہیں ہے جس طرح کہ ہم قرآن مجید میں دیکھتے ہیں، اگرچہ انجیل یوجنا باب ۲۱ میں ایک بیان ایسا موجود ہے کہ جس میں حضرت عیسیٰ(علیه السلام) کی طرف سے لوگوں کو کھانا کھلانے اور اُن کی طرف سے روٹی اور مچھلی کے ساتھ معجزانہ طور پر دعوت کا ذکر کیا گیا ہے لیکن تھوڑی سی توجہ سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کا مائدہ آسمانی اور حواریوں کے مسئلے سے کوئی ربط نہیں ہے( بحوالہ الہدیٰ الیٰ دین المصطفیٰ، ج۲، ص۲۴۹) کتاب ”اعمالِ رسولان“ میں بھی جو ”عہد جدید“ کی ایک کتاب ہے، پطرس نامی ایک حواری پر نزول مائدہ کا ذکر کیا گیا ہے، وہ بھی اُس بحث سے الگ چیز ہے کہ جس کے بارے میں ہم گفتگو کررہے ہیں، لیکن کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ بہت سے ایسے حقائق ہیں کہ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل نہیں ہوئے تھے لہٰذا اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے نزول مائدہ کے واقعہ کے سلسلے میں کوئی مشکل پیدا نہیں ہوگی(حوالہ سابقہ)۔
وہ وقت جب خداوند تعالیٰ عیسیٰ ابن مریم سے کہے گا کہ(اے عیسیٰ) کیا تو نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے علاوہ دو خدا بنا لو وہ جواب دیں گے کہ تیری ذات پاک ہے مجھے کوئی حق نہیں ہے کہ ایسی بات کہوں جو میرے لائق نہیں ہے اگر میں نے کوئی ایسی بات کہی ہو گی تو اس کا تجھے ضرور علم ہو گا تو ان سب باتوں کو جانتا ہے کہ جو میرے نفس و روح میں ہیں لیکن میں جو کچھ تیری ذات پاک میں ہے اسے نہیں جانتا کیونکہ تو تمام اسرار اور پوشیدہ چیزوں سے باخبر ہے۔
مجھے تو نے جس کام پر مامور کیا تھا میں نے اس کے سوا ان سے اور کوئی بات نہیں کہی تھی میں نے تو ان سے یہی کہا تھا کہ اس خدا کی پرستش کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار ہے اور میں تو اس وقت تک ہی ان کا نگران اور گواہ تھا جب تک کہ میں ان کے درمیان تھا اور جب تو نے مجھے ان کے درمیان سے اٹھا لیا تو پھر تو ہی ان کا نگران تھا اور توہی ہر چیز پر گواہ ہے۔
(اس صورت میں ) اگر تو انہیں سزا دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو تو توانا و حکیم ہے
حضرت مسیح(علیه السلام) کی اپنے پیروکاروں کے شرک سے بیزاری
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
حضرت مسیح(علیه السلام) کی اپنے پیروکاروں کے شرک سے بیزاری یہ آیات قیامت کے دن حضرت مسیح(علیه السلام) سے گفتگو کے بارے میں ہیں اور دلیل اس کی یہ ہے کہ بعد کی چند آیات میں ہے کہ: ”ھَذَا یَوْمُ یَنفَعُ الصَّادِقِینَ صِدْقُھُمْ“
"آج کا دن وہ دن ہے کہ جس میں سچوں کو ان کی سچائی فائدہ دے گی“ اور یہ بات مسلّم ہے کہ اس سے مراد قیامت کا دن ہے ۔ اس کے علاوہ (فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِی کُنتَ اٴَنْتَ الرَّقِیبَ عَلَیْھِمْ) کا جملہ اس پر دوسری دلیل ہے کہ یہ گفتگو مسیح(علیه السلام) کی نبوت ورسالت کا زمانہ گزرنے کے بعد کی ہے اور آیت کی ابتدا ”قال“کے جملے ساتھ کرنا کہ جو فعل ماضی کے لیے ہے کوئی مشکل پیدا نہیں کرتا، کیونکہ قرآن مجید میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ قیامت سے مربوط مسائل زمان ماضی کی شکل میں بیان کیے گئے ہیں اور یہ چیز قیامت کے قطعی ویقینی ہونے کی دلیل ہے یعنی اس کا زمانہ آئندہ میں واقع ہونا ایسا مسلّم ہے گویا کہ وہ زمانہ ماضی میں واقع ہوچکا ہے لہٰذا اسے فعل ماضی کے صیغہ کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے ۔
بہر حال پہلی آیت یہ کہتی ہے کہ خداوند تعالیٰ قیامت کے دن حضرت عیسیٰ(علیه السلام) سے کہے گا کیا تو نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو الله کے علاوہ اپنا معبود قرار دو اور ہماری پرستش کرو (وَ اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوۡنِیۡ وَ اُمِّیَ اِلٰہَیۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ) ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ(علیه السلام) نے کوئی ایسی بات نہیں کہی ہے بلکہ صرف توحید اور عبادت خدا کی دعوت دی ہے، لیکن اس استفہام کا مطلب یہ ہے کہ اُن سے اُن کی اُمت کے سامنے اقرار لے کر اُن کی اُمت کا جرم ثابت کیا جائے ۔
مسیح علیہ السلام اس سوال کے جواب میں انتہائی احترام کے ساتھ چند جملے کہیں گے: ۱۔ پہلے خداوندتعالیٰ کو ہر قسم کے شریک وشبیہ سے پاک کرتے ہوئے کہیں گے: اے خدا! تو ہر قسم کے شریک سے پاک ہے (قَالَ سُبۡحٰنَکَ) ۔ ۲۔ کس طرح ممکن ہے کہ میں ایسی بات کہوں جو میرے لیے شائستہ اور مناسب نہیں ہے (مَا یَکُوۡنُ لِیۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَیۡسَ لِیۡ ٭ بِحَقٍّ)۔ حقیقت میں نہ صرف اس بات کے کہنے کی وہ اپنے سے نفی کرتے ہیں بلکہ کہتے ہیں کہ بنیادی طور پر میں اس قسم کا کوئی حق ہی نہیں رکھتا اور اس قسم کی گفتگو میں مرتبہ ومقام کے ساتھ ہرگز سازگار ہی نہیں ۔
۳۔ اس کے بعد پروردگار عالم کے علم بے پایاں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: میری گواہ یہ حقیقت ہے کہ اگر میں نے ایسا کیا ہوتا تو تجھے اس کا علم ضرور ہوتا کیونکہ تو اس سے بھی آگاہ ہے جو میری روح کے اندر ہے جبکہ میں اُس سے بے خبر ہوں جو تیری ذات پاک میں ہے، کیونکہ علام الغیوب ہے اور تمام رازوں اور پوشیدہ چیزوں سے باخبر ہے (اِنۡ کُنۡتُ قُلۡتُہٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَہٗ ؕ تَعۡلَمُ مَا فِیۡ نَفۡسِیۡ وَ لَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِیۡ نَفۡسِکَ ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُیُوۡبِ) ۔ (یہاں پر لفظ نفس کا اطلاق روح اور جان کے معنی میں نہیں ہے بلکہ نفس کا ایک معنی ذات ہے (جیسے کہتے ہیں وہ نفس بنفیس آئے) ۴۔ میں نے جو بات ان سے کہی ہے وہ صرف وہی تھی جس کے لیے تو نے مجھے مامور کیا تھا اور وہ یہ کہ میں انھیں تیری عبادت کی طرف دعوت دوں اور اُن سے کہوں کہ اس خدائے یگانہ کی پرستش کرو کہ جو میرا اور تمھارا پروردگار ہے (مَا قُلۡتُ لَہُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِیۡ بِہٖۤ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیۡ وَ رَبَّکُمۡ) ۔
۵ ۔ اور جس وقت تک میں اُن کے درمیان رہا ان کا نگران وگواہ تھا اور میں نے انھیں راہِ شرک اختیار نہیں کرنے دیا، لیکن جب تونے مجھے اُن کے درمیان سے اٹھالیا تو پھر تُو ہی اُن کا نگران ونگہبان تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے (وَ کُنۡتُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا مَّا دُمۡتُ فِیۡہِمۡ ۚ فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ کُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِیۡبَ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ اَنۡتَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ) ۔ (”توفی“ کے معنی کے بارے میں اور یہ کہ اس سے مراد مرنا نہیں ہے، سورہٴ آل عمران کی آیت ۵۵ کے ذیل میں صفحہ ۲۴۱ پر تفصیلی بحث ہوچکی ہے (جلد۲، اردو ترجمہ)
۶۔ ان تمام باتوں کے باوجود پھر بھی حکم تو تیرا چلے گا ہی اور جو تو چاہے گا وہی ہوگا، اب اگر تو انھیں ان کے اس عظیم انحراف پر سزا دے گا تو وہ تیرے بندے ہیں اور وہ تیری سزا سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکیں گے اور تیرا یہ حق تیرے نافرمان بندوں کے لیے ثابت ہے اور اگر تو انھیں بخش دے اور ان کے گناہوں کی طرف سے چشم پوشی کرے تو توانا وحکیم ہے نہ تو تیری بخشش ہی کمزوری کی علامت ہے اور نہ ہی تیری سزا حکمت وحساب سے خالی ہے(اِنۡ تُعَذِّبۡہُمۡ فَاِنَّہُمۡ عِبَادُکَ ۚ وَ اِنۡ تَغۡفِرۡ لَہُمۡ فَاِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ) ۔
دوسوال اور ان کا جواب
۱۔ کیا عیسائیوں کی تاریخ میں کہیں دیکھا گیا ہے کہ وہ مریم کو اپنا معبود قرار دیتے ہوں ۔ یا یہ کہ وہ صرف تثلیث یعنی تین خداؤں ”باپ خدا“، ”بیٹا خدا“ اور ”روح القدس“ کے قائل تھے اور اس میں شک نہیں ہے کہ ان کے نظریہ کے مطابق ”روح القدس“ ”باپ خدا“ اور ”بیٹا خدا“ کے درمیان واسطہ ہے اور وہ مریم کے علاوہ ہے ۔ اس سوال کے جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ تو صحیح ہے کہ عیسائی حضرت مریم کو خدا تو نہیں جانتے تھے لیکن اس کے باوجود اُن کے اور اُن کے مجسمے کے سامنے مراسم عبادت سرانجام دیتے رہے تھے جیسا کہ بت پرست بتوں کو خدا نہیں سمجھتے تھے پھر بھی انھیں عبادت میں خدا کا شریک سمجھتے تھے اور زیادہ واضح الفاظ میں ”الله“ بمعنی خدا اور ”الٰہ“ بمعنی معبود میں فرق ہے، عیسائی جناب مریم کو الٰہ یعنی معبود جانتے تھے نہ کہ خدا ۔ ایک مفسّر کی تعبیرکے مطابق اگرچہ کوئی عیسائی فرقہ ”اِلٰہ“ اور ”معبود“ کا اطلاق جناب مریم پر نہیں کرتا بلکہ انھیں صرف خدا کی ماں سمجھتے ہیں، لیکن عملی طور پر اس کے سامنے خصوع خشوع اور مراسم عبادت بجالاتے ہیں، چاہے یہ نام ان کے لیے رکھیں یا نہ رکھیں ۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے کہ کچھ ہی عرصہ پہلے کی بات ہے کہ بیروت میں عیسائیوں کے مجلہ ’مشرق“ کے ساتویں سال کے نویں شمارے میں پاپ بیوس نہم کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر حضرت مریم کی شخصیت کے بارے میں چند قابلِ ملاحظہ مطالب منتشر ہوئے تھے اس شمارہ میں پوری صراحت کے ساتھ لکھا تھا کہ مشرقی گرجوں میں بھی مغربی گرجوں کی طرح حضرت میرم کی عبادت کی جاتی ہے ۔ اسی مجلہ کے پانچویں سال کے چودھویں شمارے میں ایک مقالہ انستاس کرملی کے قلم سے لکھا ہوا درج تھا جس میں یہ کوشش کی گئی تھی کہ حضرت مریم کی عبادت کے مسئلہ کے سلسلہ میں عہد عتیق اور تورات سے بھی کوئی دلیل پیدا کی جائے ۔ چنانچہ وہ سانپ (شیطان) اور عورت (حوّا) کی دشمنی کی داستان کو مریم کے عنوان سے تفسیر کرتا ہے ۔ اس بناپر حضرت مریم(علیه السلام) کی پرستش اور عبادت ان میں موجود ہے ۔ (بحوالہ فسیر المنار، ج۷، ص۲۶۳-) ۲۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ حضرت مسیح(علیه السلام) ایسے الفاظ میں جس سے شفاعت کی بو آتی ہے اپنی اُمت کے مشرکین کے بارے میں کیوں گفتگو کرتے ہیں اور یہ کیوں عرض کرتے ہیں کہ اگر تو انھیں بخش دے تو تُو عزیز وحکیم ہے ۔
اس کے جواب میں اس نکتے کی طرف توجہ رکھنی چاہیے کہ اگر حضرت عیسیٰ(علیه السلام) کا ہدف شفاعت ہوتا تو آپ یوں فرماتے کہ (اِنَّکَ اَنتَ الغَفُورُ الرَّحِیم) کیونکہ خدا کا غفور ورحیم ہونا مقام شفاعت کے ساتھ مناسبت رکھتا ہے جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ خدا کی عزیز وحکیم کے ساتھ توصیف کررہے ہیں تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے لیے شفاعت اور بخشش کی درخواست منظور نہیں ہے بلکہ اس میں اصلی ہدف اپنی ذات سے ہر قسم کے اختیار کی نفی کرنا اور معاملہ کو پروردگار کے سپُرد کرنا ہے یعنی یہ کام تیرے ہی ہاتھ میں ہے اگر چاہے تو بخش دے اور اگر چاہے تو سزا دے اگرچہ نہ تیری سزا بغیر دلیل کے ہے اور نہ ہی تیری بخشش بغیر علّت وسبب کے ہے اور ہر حالت میں تیری قدرت وتوانائی سے تو باہر ہی ہے ۔
علاوہ ازیں یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے درمیان کسی گروہ نے اپنے اشتباہ کی طرف توجہ کرتے ہوئے توبہ کی راہ اختیار کرلی ہو اور یہ جملہ اُس گروہ کے بارے میں ہو ۔
خدا فرماتا ہے کہ یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کو ان کی سچائی فائدہ بخشے گی ان کے لئے جنت کے باغات ہیں جن کے درختوں کے نیچے پانی کی نہریں جاری ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے خدا ان سے راضی و خوشنود ہو گا اور وہ خدا سے راضی اور خوشنود ہوں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان تمام چیزوں کی حکومت اللہ ہی کے لئے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
عظیم کامیابی
Tafsīr Nemūna · Vol. 1
روز قیامت خداوند تعالیٰ کی حضرت عیسیٰ(علیه السلام) سے گفتگو جس کی تشریح گذشتہ آیات میں ہوچکی ہے کے ذکر کے بعد اس آیت میں ہم پڑھتے ہیں کہ خداوند تعالیٰ اس گفتگو کے بعد یوں فرماتا ہے: آج کا دن وہ دن ہے جس میں سچوں کو اُن کی سچائی فائدہ دے گی (قَالَ اللّٰہُ ہٰذَا یَوۡمُ یَنۡفَعُ الصّٰدِقِیۡنَ صِدۡقُہُمۡ) ۔ یقینا اس جملے میں صدق وراستی سے مراد دنیا میں گفتار وکردار اور راستی وسچائی ہے جو آخرت میں مفید ہوگی ورنہ آخرت کی سچائی اور راستی جو کہ محل تکلیف ہی نہیں ہے وہ کوئی فائدہ بھی نہیں دے گی اس کے علاوہ اس دن کی تو حالت وکیفیت ہی ایسی ہوگی کہ کوئی شخص سچائی کے سوا کچھ اور کہہ ہی نہ سکے گا ۔ یہاں تک کہ سب ہی گنہگار وخطاکار اپنے اپنے اعمالِ بد کا اعتراف کرلیں گے اور یوں اس دن جھوٹ بولنے کا کوئی وجود ہی نہ ہوگا۔ اس بناپر وہ لوگ جنھوں نے اپنی ذمہ داری کو پورا کیا اور اپنی رسالت کا کام انجام دیا اور سچائی اور درستی کے سوا انھوں نے اور کوئی راستہ اختیار نہیں کیا، جیسے حضرت مسیح علیہ السلام اور ان کے سچے پیرو یا باقی تمام انبیاء علیہم السلام کے سچے پیروکار کہ جو اس دنیا میں سچائی کی راہ پر گامزن ہوئے ۔ وہ اپنے اعمال سے پوری طرح بہرہ مند ہوں گے ۔
ضمناً اس جملے سے اجمالی طور پر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صدق وراستی میں تمام نیکیوں کا خلاصہ آجاتا ہے ۔ گفتار میں صداقت وراستی اور عمل میں صداقت وراستی اور قیامت کے دن صرف صداقت وراستی ہی وہ سرمایہ ہے کہ جو کام آئے گا اس کے علاوہ اور کچھ کام نہیں آئے گا ۔
اس کے بعد سچوں کو ملنے والی جزا کے بارے میں یوں بیان کرتا ہے: ان کے لیے بہشت کے باغات ہیں جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اُسی میں رہیں گے (لَہُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ) ۔
اور اس مادی نعمت سے زیادہ اہم یہ ہے کہ خدا بھی ان سے راضی ہے اور وہ خدا سے راضی ہیں (رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ) ۔ یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ اس آیت میں بہشت کے باغوں کا اس کی تمام نعمتوں کے ساتھ ذکر کرنے کے بعد خدا کی اپنے بندوں سے خوشنودی اور بندوں کی خدا سے خوشنودی کی نعمت کا ذکر ہے اور اس کے بعد (ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ) کا جملہ ہے اس سے اس حقیقت کی نشاندہی ہوتی ہے کہ طرفین کی یہ رضایت وخوشنودی کس قدر اہمیت کی حامل ہے (خدا کی بندوں سے خوشنودی اور بندوں کی خدا سے خوشنودی) ۔ کیونکہ عین ممکن ہے کہ انسان اعلیٰ سے اعلیٰ نعمتوں میں غرق ہو لیکن جب وہ یہ احساس کرے گا کہ اس کا مولیٰ اور اس کا معبود ومحبوب اس سے ناراض ہے تو وہ تمام نعمتیں اس کی روح کے لیے تلخی اور اذیت کا سبب بن جائے گی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ انسان کو ہر چیز میسر ہو لیکن جو کچھ اُس کے پاس ہے وہ اُس پر راضی وقانع نہ ہو ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ تمام نعمتیں اس کیفیت کے ساتھ سب سے اس کو خوش بخت نہیں رکھ سکتیں اور اُسے اندرونی تکلیف ہمیشہ آزار میں رکھے گی اور روحانی اطمینان جو کہ سب سے بڑی نعمت الٰہی اُس سے چھین لے گی۔
علاوہ ازیں جب خدا کسی سے خوش ہوگا تو جو کچھ وہ چاہے گا خدا اُسے دے گا اور جب یہ اُس کو وہ کچھ دے دے، جو وہ چاہتا ہے تو وہ بھی اُس سے خوش ہوگا ۔ نتیجہ اس کا یہ ہے کہ سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ خدا نسان سے خوش ہو اور وہ بھی اپنے خدا سے راضی ہو ۔ آخری آیت میں آسمانوں، زمین اور جوکچھ اُن کے درمیان ہے پر خدا کی حاکمیت ومالکیت کی طرف اشارہ ہوا ہے اور اس کی قدرت کی عمومیت تمام چیزوں پر بیان ہوئی ہے (لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَمَا فِیھِنَّ وَھُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ) ۔ یہ تذکرہ حقیقت میں خدا سے بندوں کی رضا وخوشنودی کی دلیل اور علت کے عنوان سے آیا ہے کیونکہ جو ہستی تمام چیزوں پر قدرت رکھتی ہو اور جو سراسر عالم ہستی پر حکومت رکھتی ہو وہ قدرت رکھتی ہے کہ جو کچھ اس کے بندے اس سے چاہیں وہ انھیں بخش دے اور اُنھیں خوشنود وراضی کرے ۔
ضمنی طور پر یہ بھی ہوسکتا ہے یہاں مریم کی پرستش کے سلسلے میں عیسائیوں کے عمل کے غلط ہونے کی طرف اشارہ ہو کیونکہ عبادت کے لائق تو صرف وہ ذات ہے جو سراسر عالم آفرینش پر حکمران ہو نہ کہ مریم جو کہ مخلوق ہونے کے علاوہ کچھ نہیں ۔
یہاں پر سورہٴ مائدہ کی تفسیر اختتام کو پہنچتی ہے۔