Sūra 94 · 8v
Chapter 948 verses

Ash-Sharh

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
الشرح
الشرح

سورہٴ الم نشرح

یہ سُورہ مکّہ میں نازل ہوا اِس میں ۸ آیات ہیں۔

سُورہ "الم نشرح" کے مضامین اور اس کی فضیلت

مشہور یہ ہے کہ یہ سُورہ، سُورہ والضحٰی کے بعد نازل ہوا ہے اور اس کے مضامین بھی اسی مطلب کی تائید کرتے ہیں، کیونکہ اس سُورہ میں بھی پھر سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر خدا کی نعمتوں کے ایک حصہ کو شمار کیا گیا ہے۔ حقیقت میں تین قسم کی عظیم نعمتیں سُورہ والضحیٰ میں آئی تھی، اور تین ہی عظیم نعمتیں سُورہ الم نشرح میں آئی ہیں۔ گزشتہ نعمتوں میں تو بعض مادّی اور بعض معنوی تھیں، لیکن اس سُورہ کی تمام نعمتیں معنوی پہلو رکھی ہیں اور یہ سُورہ خصوصیت کے ساتھ تین محوروں کے گردش کرتا ہے: ایک تو انہی تینوں نعمتوں کا بیان ہے، دوسرا پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مستقبل میں ان کی دعوت کی مشکلات کے برطرف ہونے کے لحاظ سے بشارت ہے، اور تیسرا خداوند یگانہ کی طرف توجہ اور اس کی عبادت و بندگی کی طرف تحریص و ترغیب۔ اِسی بناء پر روایات اہل بیت میں۔۔۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے۔ یہ دونوں ایک ہی سورہ شمار ہوئی ہیں۔ اسی لئے قرأت نماز میں اسی بناء پر کہ ایک مکمل سُورت پڑھی جائے، دونوں کو اکھٹا پڑھتے ہیں۔ اہلِ سُنّت میں بھی بعض حضرات اسی نظریہ کے طرف دار ہیں جیسا کہ فخر رازی نے طاؤس اور عمر بن عبد العزیز سے نقل کیا ہے کہ وہ بھی یہی کہا کرتے تھے کہ یہ دونوں سورتیں ایک ہی سورت ہیں اور وہ ایک رکعت میں دونوں کو تلاوت کیا کرتے تھے، البتہ وہ ان دونوں کے درمیان بسم اللہ کو حذف کر دیتے تھے۔ (لیکن ہمارے فقہاء کے مطابق بسم اللہ دونوں میں ہونا چاہیئے، اور یہ جو مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں نقل کیا ہے کہ ہمارے فقہاء بسم اللہ کو خذف کر دیتے ہیں درست نظر نہیں آتا)۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ فخر رازی ان لوگوں کا قول نقل کرنے کے بعد، جو ان دونوں کو ایک سُورہ کہتے ہیں، کہتا ہے کہ یہ بات ٹھیک نہیں ہے کیونکہ ان دونوں کے مضامین ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ سُورہ والضحیٰ اس وقت نازل ہوا جب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کفّار کی اذیّت رسانی پریشا ن تھے اور زندگی سختی اور غم و اندوہ میں بسر کر رہے تھے، حالانکہ دوسری سُورت اس وقت نازل ہوئی جب کہ پیغمبرؐ خوش حال و شادمان تھے، تو یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ کیسے جمع ہو سکتی ہں؟ (بحوالہ: "تفسیر فخر رازی" جلد۳۲، ص۲)۔ لیکن یہ استدلال عجیب ہے کیونکہ دونوں سورتیں پیغمبر کی گزشتہ زندگی کی بات کر رہی ہیں، اور اس وقت کی بات ہے جبکہ آپ بہت ہی مشکلات کو پیچھے چھوڑ چکے تھے، اور آپؐ کا پاک دل امید و سرور میں غرق تھا۔ یہ دونوں سُورتیں خدا کی نعمتوں کی بات کر رہی ہیں، اور سختی اور مشکلات سے پُر ماضی کی یاد دلا رہی ہیں، تاکہ پیغمبرؐ کے دل کی تسلی اور زیادہ سے زیادہ کامل اُمید کا باعث ہو۔ بہرحال، ان دونوں سورتوں کے مضامین کا قریبی تعلق ایسی چیز نہیں ہے جو شک اور تردید کے قابل ہو، اسی معنی کی نظیر سُورہ فیل اور سُورہ قریش میں بھی آئے گی۔ انشاء اللہ۔ اس بارے میں کہ یہ سُورہ (الم نشرح) مکہ میں نازل ہوا ہے یا مدینہ میں، اُوپر بیان سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ مکّہ میں نازل ہوا ہے، لیکن آیہ (وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ): "ہم نے تیرے ذکر کو بلند کیا" کی طرف توجہ کرتے ہوئے بعض کا نظریہ یہ ہے کہ یہ مدینہ میں نازل ہوا ہے، اس وقت جب کہ اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی شہرت چاروں طرف پھیل چکی تھی۔ لیکن انصاف یہ ہے کہ یہ دلیل اطمنان بخش نہیں ہے کیونکہ پیغمبرؐ کی شہرت ان تمام مشکلات کے باوجود، جو آپ کو مکہ میں درپیش تھیں۔ ہر طرف پھیل چکی تھی، اور تمام محفلوں میں آپ کے قیام، رسالت اور دعوت کے بارے میں چرچے ہو رہے تھے اور حج کے سالانہ اجتماع کے ذریعے یہ شہرت حجاز کے دوسرے علاقوں خصوصاً مدینہ میں پہنچ چکی تھی۔ اس سُورہ کی تلاوت کی فضیلت کے سلسلے میں ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہوا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: "من قرأھا اعطی من الاجرکمن لقی محمداً (ص) مغتماً ففرج عنہ" "جو شخص اس سُورہ کو پڑھے اس کو اس شخص کا اجر ملے گا جس نے محمّد (صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم) کو غمگین دیکھا اور آپؐ کے قلبِ مبارک سے غم و اندوہ کو دُور کیا ہو۔" (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد۱۰، ص ۵۰۷)۔

1
94:1
أَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَكَ صَدۡرَكَ
کیا ہم نے تیرے سینہ کو کشادہ نہیں کیا؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
94:2
وَوَضَعۡنَا عَنكَ وِزۡرَكَ
اور تجھ سے بھاری بوجھ برطرف نہیں کیا؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
94:3
ٱلَّذِيٓ أَنقَضَ ظَهۡرَكَ
وہی بوجھ جو تیری پشت کو جھکائے دے رہا تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
94:4
وَرَفَعۡنَا لَكَ ذِكۡرَكَ
اور تیرے ذکر کو ہم نے بلند کیا؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
94:5
فَإِنَّ مَعَ ٱلۡعُسۡرِ يُسۡرًا
اس بنا پر یقینی طور پر سختی کے ساتھ آسانی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
94:6
إِنَّ مَعَ ٱلۡعُسۡرِ يُسۡرٗا
اور یقیناً سختی کے ساتھ آسانی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
94:7
فَإِذَا فَرَغۡتَ فَٱنصَبۡ
پس جب تک ایک اہم کام سے فارغ ہو جائے تو دوسری مہم کو شروع کر دے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
94:8
وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَٱرۡغَب
اور اپنے پروردگار کی طرف توجہ اور رغبت کر۔

تفسیر ہم نے تجھے انواع و اقسام کی نعمتیں عطا کی ہیں۔

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

آیات کا لب و لہجہ پروردگار کے حد سے زیادہ لطف و محبت، اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تسلی و دلداری کے پہلو رکھتا ہے۔ پہلی آیت میں خدا کی اہم ترین نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "کیا ہم نے تیرے سینہ کو کشادہ نہیں کیا۔" (أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ)۔ "نشرح"، "شرح" کے مادّہ سے، مفرادات میں راغب کے قول کے مطابق اصل میں گوشت کے ٹکڑوں کو کشادہ کرنے اور زیادہ نازک اور پتلے ورق بنانے کے معنی میں ہے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے کہ شرح صدر سے مُراد نور الٰہی اور خدا داد سکون و آرام کے ذریعے اس کو وسیع کرنا ہے، اور اس کے بعد کہتا ہے: گفتگو اور کلام کی مشکلات کی شرح کرنا، اس کو پھیلانے اور اس کے مخفی معانی کو وضاحت کرنے کے معنی میں ہے۔ بہرحال، اس میں شک نہیں ہے کہ یہاں شرح صدر سے مراد اس کا کنائی معنی ہے۔ اور وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رُوح و فکر کو وسعت دینا ہے، اور یہ وسعت ممکن ہے کہ ایک وسیع مفہوم رکھتی ہو، جو وحی و رسالت کے طریق سے پیغمبرؐ کے وسعتِ علم کو بھی شامل رکھتا ہو اور دشمنوں اور مخالفین کی ہٹ دھرمیوں اور کارشکنیوں کے مقابلہ میں آپ کے تحمل و استقامت میں وسعت و کشادگی کو بھی اپنے اندر لئے ہوئے ہو۔ اِسی لئے جب موسیٰ علیہ السلام بن عمران، فرعون جیسے سرکش کی دعوت پر مامور ہوئے، اذھب الیٰ فرعون انہ طغٰی "فرعون کے پاس جاؤ کہ وہ سرکش ہو گیا ہے"، تو بلا فاصلہ عرض کرتے ہیں: "رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي" پروردگار میرے سینہ کو کشادہ کر دے اور میرے کام کو آسان کر دے۔" (طٰہٰ۔ ۲۵۔۲۶)۔ دوسرے مقام پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے خطاب ہے فاصبر لحکم ربّک ولا تکن کصاحب الحوت اَب جب کہ یہ حال ہے تو اپنے پروردگار کے حکم کے منتظر رہ، اور استقامت اور صبر و شکیبائی اختیار کر اور یونس کی طرح نہ ہو (جو ضروری و لازمی صبر و شکیبائی کو ترک کرنے کی بناء پر ان تمام مشکلات اور تلخیوں میں گرفتار ہوا ہے)۔ (قلم۔ ۴۸)۔ شرح صدر حقیقت میں ضیق صدر کا نقطہٴ مقابل ہے جیسا کہ سورہٴ حجر کی آیہ ۹۷ میں آیا ہے۔ وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ: "ہم جانتے ہیں کہ تیرا سینہ ان کی (مغرضانہ) باتوں سے تنگ ہو جاتا ہے۔" اصولی طور پر کوئی عظیم رہبر شرح صدر کے بغیر مشکلات کا مقابلہ نہیں کر سکتا، اور وہ شخص جس کی رسالت سب سے زیادہ عظیم ہے۔ (جیسا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تھی) تو اس کا شرح صدر سب سے زیادہ ہونا چاہئیے۔ ابتلاؤں کے طوفان اس کی رُوح کے سمندر کے سکون و آرام کو درہم برہم نہ کریں، اور مشکلات سے اس کے گھٹنے نہ ٹک جائیں، دشمنوں کی کارشکنیاں اسے مایوس نہ کریں، پیچیدہ مسائل کے سوالات اُسے ہر طرف سے مجبور کر کے لاجواب نہ کر دیں، اور یہ خدا کا رسولؐ اللہ کے لئے ایک عظیم ترین ہدیہ تھا۔ اسی لئے ایک حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "میں نے اپنے پروردگار سے ایک درخواست کی، حالانکہ میں چاہتا تھا کہ یہ درخواست نہ کرتا۔ مَیں نے عرض کیا مُجھ سے پہلے پیغمبروں میں سے بعض کو ہوا کے چلنے پر اختیار دیا، بعض مردوں کو زندہ کرتے تھے۔ خدا نے مجھ سے فرمایا: کیا تُو یتیم نہیں تھا تو میں نے تجھے پناہ دی؟ مَیں نے عرض کیا، ہاں! فرمایا: کیا تُو گمشدہ نہیں تھا، میں نے تجھے ہدایت کی؟ مَیں نے عرض کیا، ہاں! اے میرے پروردگار! فرمایا: کیا مَیں نے تیرے سینہ کو کُشادہ اور تیری پُشت کے بوجھ کو ہلکا نہیں کیا؟ مَیں نے عرض کیا، ہاں! اے پروردگار!" (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد۱۰، ص ۵۱۸)۔ یہ چیز اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ "شرح صدر" کی نعمت انبیاء کے معجزات سے مافوق تھی، اور واقعاً اگر کوئی شخص پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حالات کا باریک بینی کے ساتھ مطالعہ کرے اور آپ کے شرح صدر کا اندازہ آپؐ کی زندگی کے دَور کے سخت اور پیچیدہ حوادث سے لگائے، تو وہ یقین کر لے گا کہ یہ چیز عام طریقہ سے ممکن نہیں ہے، بلکہ یہ ایک تائید الٰہی اور توفیقِ ربّانی ہے۔ اِس مقام پر بعض نے یہ کہا ہے کہ اس شرح صدر سے مراد وہی حادثہ ہے جو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بچپن یا جوانی میں پیش آیا تھا کہ آسمان سے فرشتے اترے، آپ کا سینہ شگافتہ کیا، اُن کے دل کو باہر نکال کر اسے پاک و صاف کیا، اور اس کو علم و دانش اور رافت و رحمت سے بھر دیا۔ یہ بات ظاہر ہے کہ اس حدیث سے مراد یہ جسمانی دل نہیں ہے، بلکہ یہ رُوحانی اور پیغمبر کے عزم و ارادہ کی تقویت، اور اس کی ہر قسم کے اخلاقی نقائص، اور وسوسہٴ شیطانی سے پاکسازی کے لحاظ سے خدائی امدادوں کی طرف، ایک کنایہ اور اشارہ ہے۔ لیکن بہرحال، ہمارے پاس اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ زیر بحث آیت خاص طور پر اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے، بلکہ اس کا ایک وسیع مفہوم ہے کہ یہ داستان بھی اس کا ایک مصداق شمار ہو سکتی ہے۔ اِسی شرح صدر کی بناء پر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رسالت کی مشکلات کو اعلیٰ ترین صُورت میں برداشت کیا اور اس طریقہ میں اپنی ذمہ داریوں کو اچھی طرح سے نبھایا۔ اِس کے بعد پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اپنی عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت کو بیان کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "کیا ہم نے تیرے سنگین بوجھ کو اُٹھا نہیں لیا"!؟ (وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ)۔ "وہی بوجھ جو تیری پشت پر سخت گرانی کر رہا تھا۔" (الَّذِي أَنقَضَ ظَهْرَكَ)۔ "وزر"، لغت میں بوجھ کے معنی میں ہے۔ "وزیر" کا لفظ بھی اسی معنی سے مشتق ہوا ہے چونکہ وہ حکومت کے سنگین بوجھ اپنے کندھے پر اٹھاتا ہے، اور گناہوں کو بھی اسی معنی پر "وزر" کہتے ہیں، کیونکہ وہ گنہگار کے دوش پر ایک سنگین بوجھ ہوتا ہے۔ "انقض"، "نقض" کے مادّہ سے، رسّی کی گرہ کو کھولنے کے معنی میں ہے، یا کسی عمارت کے ایک دوسرے میں گھسے ہوئے حصوں کو الگ کرنے کے معنی میں ہے، اور "انتقاض" اس آواز کو کہا جاتا ہے جو کسی عمارت کے ٹکڑوں کو ایک دوسرے سے جُدا کرتے وقت کان میں پڑتی ہے۔ یا کمر کے مہروں کی اس آواز کو کہتے ہیں جو سنگین بوجھ کے زیر بار آنے کے وقت آتی ہے۔ یہ لفظ عہد و پیمان اور معاہدوں کو توڑنے کے موقع پر بھی استعمال ہوتا ہے، کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے نقضِ عہد کیا۔ اس طرح اُوپر والی آیت یہ کہتی ہے کہ: "خدا نے وہ سنگین اور کمر توڑنے والا بوجھ تجھ سے اٹھا لیا۔" یہ کون سا بوجھ جو خدا نے پیغمبرؐ کی پشت سے اٹھا لیا؟ آیات کے قرائن اس بات کی اچھی طرح نشان دہی کرتے ہیں کہ اس سے مراد وہی رسالت و نبوت اور توحید ویکتا پرستی کی طرف دعوت کی مشکلات، اور اس آلودہ ماحول سے فساد کے آثار کو ختم کرنا ہے، نہ صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ آلہ وسلم بلکہ سارے کہ سارے انبیاء کا دعوت کے آغاز میں اس قسم کے عظیم مشکلات سے سامنا رہا، اور وہ صرف خدائی امدادوں سے ہی ان پر کامیاب ہوتے تھے، البتہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ماحول اور زمانے کے حالات کئی جہات سے زیادہ سنگین تھے۔ بعض نے "وزر" کی تفسیر آغاز نزول میں "وحی" کے بار سنگین کے معنی میں بھی کی ہے۔ بعض نے مشرکین کی ضلالت و گمراہی اور عناد اور ہٹ دھرمی کے ساتھ بھی۔ اور بعض نے ان کی حد سے زیادہ اذیت و آزار سے۔ اور بعض نے اس غم و اندوہ سے جو آپ کے چچا حضرت ابو طالبؑ کی اور آپؐ کی زوجہ حضرت خدیجہؑ کی وفات سے پیدا ہوا تھا۔ اور بعض نے گناہ سے عصمت و پاکیزگی کے مسئلہ سے تفسیر کی ہے۔ لیکن ظاہراً وہی پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے اور یہ سب اس کے شاخ و برگ ہیں۔ اور تیسری نعمت کے بارے میں فرماتا ہے: "ہم نے تیرے ذکر کو بلند کیا۔" (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ)۔ (تشریحی نوٹ: "رفع" کی "وضع" کے بعد، اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ایک دوسرے کی ضد ہیں، یہاں ایک خاص لطف دیتی ہے)۔ تیرا نام اسلام اور قرآن کے ساتھ ہر جگہ پہنچا، اور اس سے بہتر یہ ہے کہ تیرا نام ہر صبح و شام اذان کے گلدستوں پر اور اذان کے وقت اللہ کے نام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ اور تیری رسالت کی شہادت خدا کی توحید و یگانگت کی شہادت کے ساتھ اسلام کا نشان اور اس پاک دین کے قبول ہونے کی دلیل ہے۔ اس سے بڑھ کر فخر کی بات اور رفعت مقام کا اس سے بالاتر تصوّر اور کیا ہو گا؟! ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس آیت کی تفسیر میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا: "جبرائیل نے مجھ سے کہا ہے کہ خداوند تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: جس وقت میرا نام لیا جاتا ہے۔ تو اس وقت تیرا نام بھی میرے ہی ساتھ لیا جاتا ہے۔"(اور تیرے مقام کی عظمت کے لئے یہی کافی ہے)۔" "لک" (تیرے لئے) کی تعبیر اس بات کی تاکید کے لئے ہے کہ ہم نے تیرے نام اور شہرت کو ان تمام کارشکنیوں اور دشمنیوں کے باوجود بلند کیا۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے کہ یہ سُورہ مکہ میں نازل ہوا ہے، جب کہ اسلام کا پھیلنا اور پیغمبرؐ کے کاندھے سے رسالت کے بوجھ کا ہلکا ہونا اور اطراف عالم میں آپ کے نام کا بلند ہونا مدینہ میں ہوا ہے۔ اِس سوال کے جواب میں بعض نے تو یہ کہا ہے کہ اس سے مُراد یہ ہے کہ اس کی بشارت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پہلے سے دے دی گئی تھی، اور اسی چیز نے آپ کے دل سے غم و اندوہ کا بوجھ ہٹا دیا تھا۔ اور کبھی یہ کہا ہے کہ یہاں فعل "ماضی"، "مستقبل" کا معنی دیتا ہے، اور یہ آیندہ کے لئے ایک خوشخبری ہے۔ لیکن حق بات یہ ہے کہ ان امور میں سے بعض، مکّہ میں ہی خصوصاً پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے تیرہ سالہ دور کے آخری حصہ میں ہی، جب کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ میں لوگوں کو دعوت دینے میں مشغول تھے، پورے ہو چکے تھے۔ بہت سے لوگوں کے دلوں میں ایمان و اسلام نفوذ کر چکا تھا اور مشکلات نسبتاً کم ہو چکی تھیں، اور پیغمبرؐ اکرم کا نام اور کام ہر جگہ پہنچ چکا تھا، اور آیندہ کی عظیم کامیابیوں کی تمہید فراہم ہو چکی تھی۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ "حسان بن ثابت" پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مشہور شاعر، آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدح میں اس آیت کے مضمون کی طرف بڑے خوبصورت انداز میں اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: "ضم الالٰہ اسم النبی الی اسمہ اذا قال فی الخمس المؤذن اشھد وشق لہ من اسمہ لیجلّہ فذو العرش "محمود" و ھٰذا "محمّد" "خدا نے پیغمبرؐ کا نام اپنے نام کے ساتھ ضم کر دیا ہے" جب کہ مؤذن پانچ مرتبہ اشھد۔۔۔ کہتا ہے۔ اس نے اپنے نام سے اس کے نام کو مشتق کیا ہے تاکہ اس کا احترام برقرار رکھے۔ لہٰذا صاحبِ عرش خدا تو "محمود" ہے اور وہ "محمد" ہے۔ "سیمرغِ فہم ہیچکس از انبیاء نرفت آنجا کہ تو بہ بالِ کرامت پریدہ ای" "ہریک بقدر خویش بجائی رسید اند آنجا کہ جائے نیست بجائی رسیدہ ای" انبیاء میں کسی کا بھی طائر فکر و فہم وہاں تک نہیں پہنچا جہاں آپ کرامت و بزرگی کے پر و بال سے پہنچے ہیں ان میں سے ہر ایک اپنی قدر و منزلت کے ایک مقام پر پہنچا ہے جہاں کسی کے لئے کوئی مقام نہیں ہے آپؐ اس مقام پر پہنچے ہیں بعد والی آیت میں اپنے پیغمبرؐ کو اہم ترین بشارت دیتا ہے اور آپؐ کے قلب پاک میں اُمید کے انوار کی روشنی پیدا کرتا ہے اور فرماتا ہے: "یقیناً سختی کے ساتھ آسانی ہے۔" (فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا)۔ اس کے بعد پھر تاکید کرتا ہے، "یقیناً سختی کے ساتھ آسانی ہے۔" (إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً)۔ غم نہ کھاؤ یہ مشکلات اور سختیاں ایسی شکل میں باقی نہیں رہیں گی، دشمنوں کی کارشکنیاں ہمیشہ کے لئے جاری نہیں رہیں گی اور مادی محرومیاں، اقتصادی مشکلات اور مسلمانوں کا فقر و فاقہ اس صورت میں باقی نہیں رہے گا۔ جو شخص مشکلات کو برداشت کرتا ہے، اور طوفان کے مقابلہ میں ڈٹ جاتا ہے، وہ ایک دن اس کا میٹھا پھل بھی کھاتا ہے۔ جس دن دشمنوں کی چیخ و پکار بند ہو جائے، اور ان کی کارشکنیاں ختم ہو جائیں گی، ترقی و تکامل کے راستے صاف صاف ہو جائیں گے، اور راہ حق کو طے کرنا آسان ہو جائے گا۔ اگرچہ بعض مفسرین نے ان آیات کو ظہورِ اسلام کے آغاز میں مسلمانوں کے عمومی فقر و فاقہ کی طرف اشارہ شمار کیا ہے لیکن آیات کے مفہوم کی وسعت تمام مشکلات کو شامل ہے یہ دونوں آیات اس طرح سے پیش کی گئی ہیں کہ نہ تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اختصاص رکھتی ہیں اور نہ ہی آپؐ کے زمانہ سے، بلکہ یہ ایک قاعدہ کلی کی صورت میں اور سابقہ مباحث کی ایک علت کے طور پر پیش کی گئی ہیں، اور یہ تمام مخلص اور مومن اور سعی و کوشش کرنے والے انسانوں کو نوید ہے اور خوش خبری دیتی ہیں کہ ہمیشہ سختیوں کے ساتھ آسانیاں ہوتی ہیں، یہاں تک کہ "بعد" کی تعبیر نہیں کرتا بلکہ "مع" (ساتھ) کی تعبیر کرتا ہے، جو ہمراہ ہونے کی علامت ہے۔ ہاں! اسی طرح ہے، ہر مشکل کے ساتھ آسانی ملی ہوئی ہے اور سختی کے ساتھ سہولت ہے، یہ دونوں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہے ہیں اور رہیں گے۔ یہ ایسی نوید اور وعدہ الٰہی ہے، جو دل کو نور و صفا بخشتا ہے، اور کامیابیوں کا امیدوار بناتا ہے، اور یاس و نااُمیدی کے گرد و غبار کو انسان کے صفحہٴ رُوح سے صاف کر دیتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے اس سے واضح ہو گیا کہ "العسر" میں الف و لام جنس کے لئے ہے، اور عہد کے لئے نہیں ہے اور "یسر" کا لفظ اگرچہ نکرہ کی صُورت میں ذکر ہوا ہے لیکن وہ بھی جنس کے معنی دیتا ہے، اور ایسے مقام پر نکرہ ہونا عظمت کے بیان کے لئے ہوتا ہے)۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "و اعلم ان مع العسر یسراً، و ان مع الصبر النصر، و ان الفرج مع الکرب" "جان لو کہ سختیوں کے ساتھ آسانی ہے، اور صبر کے ساتھ کامیابی، اور غم و اندوہ کے ساتھ کشائش و خوش حالی ہے۔" (بحوالہ: "تفسیر نور الثقلین" صفحہ ۶۰۴، حدیث ۱۱۔ ۱۳)۔ ایک حدیث میں امیر المومنین علیہ السلام سے آیا ہے: "ایک عورت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اپنے شوہر کی شکایت کی کہ وہ مجھے کوئی خرچہ نہیں دیتا، جب کہ اس کا شوہر واقعاً تنگ دست تھا، حضرت علی علیہ السلام نے اس کے شوہر کو زندان میں ڈالنے کی بجائے اس کے جواب میں فرمایا: ان مع العسر یسراً (اور اُسے صبر کی تلقین کی)۔ (بحوالہ: "تفسیر نور الثقلین" صفحہ ۶۰۴، حدیث ۱۱۔ ۱۳)۔ ہاں! صبر و ظفر ہر دو دوستان قدیمند بر اثر صبر نوبت ظفر آید "صبر اور کامیابی دونوں قدیمی دو دوست ہیں صبر کے بعد ہی کامیابی کی نوبت آتی ہے" اس کے بعد اس سُورہ کی آخری آیت میں فرماتا ہے،: "پس جب تم کسی اہم کام سے فارغ ہو جاؤ تو دوسرے کام میں لگ جاؤ۔" (فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ)۔ ہرگز کبھی بیکار نہ رہو، تلاش و کوشش کو نہ چھوڑو، ہمیشہ جد و جہد میں مشغول رہو، اور ہر اہم کام کے ختم کرنے کے ساتھ ہی دوسرے اہم کام کو شروع کر دیا کرو۔ اور ان تمام حالات میں خدا پر بھروسہ رکھو" اور اپنے پروردگار کی طرف توجہ رکھو" (وَإِلَى رَبِّكَ فَارْغَبْ)۔ اس کی رضا و خوشنودی طلب کر اور اس کے قرب و جوار کی طرف جلدی کر۔ جو کچھ بیان کیا گیا اس کے مطابق آیت ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے، جو مفہوم سے فارغ ہونے اور دوسری مہم کو شروع کرنے کو شامل ہے، اور تمام کوششوں کا رُخ پروردگار کی طرف کرنے کا حکم دیتی ہے، لیکن بہت سے مفسرین نے اس آیت کے لئے محدود معانی ذکر کئے ہیں، جن میں سے ہر ایک کو اس کے ایک مصداق کے عنوان سے قبول کیا جا سکتا ہے۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تو واجب نماز سے فارغ ہو جائے تو دعا میں مشغول ہو جا، اور خدا سے درخواست کر کہ تیری حاجت کو پورا کر دے۔ یا یہ کہا کہ جب تُو فرائض سے فارغ ہو جائے تا نافلہٴ شب کے لئے کھڑا ہو جا۔ یا یہ کہا کہ جب تُو دُنیا کے کاموں سے فارغ ہو جائے تو آخرت کے امور، عبادت اور اپنے پروردگار کی نماز میں مشغول ہو جا۔ یا یہ کہا کہ جب تُو واجبات سے فارغ ہو جائے، تو ان مستجات کی طرف توجہ کر جن کا خدا نے حکم دیا جائے۔ یا یہ کہ جب تُو دشمن سے جہاد کرنے سے فارغ ہو جائے تو جہاد نفس کے لئے کھڑا ہو جا۔ یا یہ کہا کہ جب تُو ادائے رسالت سے فارغ ہو جائے تو شفاعت کی درخواست کرنے کے لئے کھڑا ہو جا۔ متعدد روایات میں، جنہیں اہل سنت کے مشہور عالم حافظ "حاکم حسکانی" نے "شواہد التنزیل" میں نقل کیا ہے، امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس طرح آیا ہے کہ آپ نے فرمایا: یعنی: "جب تو فارغ ہو جائے تو علی علیہ السلام کی ولایت کے لئے نصب کر دے۔" (بحوالہ: شواہد التنزیل، جلد۲، ص ۳۴۹، (احادیث ۱۱۱۶ تا ۱۱۱۹)۔ قرطبی نے بھی اپنی تفسیر میں بعض سے یہ نقل کیا ہے کہ آیت کا معنی یہ ہے کہ جب توُ فارغ ہو جائے تو اس امام کو جو تیرا جانشین ہے نصب کر دے، (اگرچہ مفسر مذکور نے خوُد اس معنی کو قبول نہیں کیا)۔ (بحوالہ: قرطبی، جلد ۱۰، ص۷۱۹۹)۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ آیہ شریفہ میں فراغت کا موضوع معین نہیں ہوا ہے اور "فانصب"، "نصب" کے مادّہ سے (نسب کے وزن پر) تعب اور زحمت کے معنی میں ہے، یہ آیت ایک ہمہ گیر اصل کلّی کو بیان کرتی ہے، اور اس کا مقصد یہ ہے کہ پیغمبرؐ کو کسی ایک مہم کے ختم ہونے کے بعد آرام سے بیٹھ جانے سے روکے اور انہیں ایک نمونہ اور مثال کے طور پر زندگی میں ہمیشہ مسلسل طور پر سعی و کوشش میں مصروف رہنے کی تلقین کرے۔ اِس معنی کی طرف توجہ کرتے ہوئے واضح ہو جاتا ہے کہ اُوپر والی تمام تفاسیر صحیح ہیں، لیکن ان میں سے ہر ایک اس وسیع اور عام معنی کے ایک مصداق کے عنوان سے ہے۔ اور کیا ہی اصلاحی اور مؤثر پروگرام ہے، جس میں کامیابی اور تکامل و ارتقاء کی رمز چھپی ہوئی ہے۔ اصولی طور پر بیکار رہنا اور مکمل طور پر فارغ ہو کر بیٹھ رہنا تھکاوٹ، خوشی کے کم ہونے اور سستی و فرسودگی کا سبب ہوتا ہے، اور بہت سے مواقع میں فساد و تباہی اور انواع و اقسام کے گناہوں کا باعث بنتا ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اعداد و شمار اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ تعلیمی اداروں کی تعطیلات کے زمانے میں بعض اوقات فتنہ و فساد کی تعداد سات گنا تک پہنچ جاتی ہے۔ بہرحال، یہ سُورہ مجموعی طور پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر خدا کی خاص عنایت اور مصائب و آلام میں تسلی اور رسالت کے کام کی مشکلات اور نشیب و فراز کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک تائید و نصرت کا وعدہ ہے اور اس کے ساتھ ہی یہ تمام انسانوں اور راہ حق پر چلنے والوں کے ایک امید بخش، اصلاحی اور حیات آفرین مجموعہ ہے۔

چند نکات

جیسا کہ ہم نے اُوپر اشارہ کیا ہے، متعدد روایات میں آیا ہے کہ (ایک اہم مصداق کے بیان کے عنوان سے)۔ "فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ" کی آیت سے مراد کارِ رسالت کی انجام دہی کے بعد امیر المومنین علیہ السلام کو خلافت کے لئے نصب کرنا ہے۔ "آلوسی"، "رُوح المعانی" میں بعض امامیہ (شیعہ) کی گفتگو کو نقل کرنے کے بعد کہتا ہے، انہوں نے "فانصب" کو "ص" کی زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ بالفرض اگر ایسا ہو بھی تو وہ اس بات کی دلیل نہیں بنتا کہ اس سے علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو نصب کرنا مُراد ہو۔ اس کے بعد وہ زمخشری کی کشاف سے نقل کرتا ہے کہ اگر شیعوں کے لئے اس قسم کی تفسیر ممکن ہو تو "ناصبی" (دُشمنانِ علیؑ) بھی اس کی نصب کے دستور کے عنوان سے (بُغض علی بن ابی طالبؑ کے معنی میں) تفسیر کر سکتے ہیں۔ (بحوالہ: "رُوح المعانی" جلد ۳، ص ۱۷۲۔ "تفسیر کشاف" جلد ۴، ص ۷۷۲)۔ کیونکہ "انصبب" (ص کی زبر کے ساتھ) خُود کو مشقّت میں ڈالنے اور جدوجہد کرنے کے معنی میں آیا ہے، جب کہ "انصب" (ص کی زیر کے ساتھ) نصب کرنے، اُوپر جانے اور قائم کرنے کا حکم دینے کے معنی میں ہے۔ اِن مفسّرین نے یہ خیال کر لیا ہے کہ شیعہ مسئلہ ولایت پر استدلال کرنے کے لئے آیت کی قرأت کو تبدیل کر دیتے ہیں، حالانکہ اس قسم کی تبدیلی کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ مذکورہ تفسیر کے لئے وہی مشہور اور جانی پہچانی قرأت ہی کافی ہے کیونکہ وہ یہ کہہ رہا ہے کہ رسالت کے اہم امر سے فارغ ہو جانے کے بعد دوسرے اہم اَمر کے لئے جیسا کہ ولایت ہے، سعی و کوشش کر اور یہ ایک اعتبار سے مکمل طور پر قابلِ قبول ہے۔ اور ہم جانتے ہیں ہیں کہ پیغمبرؐ مشہور حدیثِ غدیر اور دوسری بہت سے احادیث کے مطابق، جو تمام علماء اسلام کی کتابوں میں آئی ہیں، ہمیشہ مسلسل طور پر کوشش کرتے رہتے تھے، لیکن کتنی قابلِ افسوس اور دُکھ دینے والی بات ہے کہ زمخشری جیسا عالم جو علی علیہ السلام کو پیغمبرؐ کا چوتھا جانشین اور اسلام کا عظیم پیشوا سمجھتا ہے، یہ کہنے کے لئے تیار ہو گیا کہ ناصبی بھی یہ حق رکھتے ہیں کہ آیت کو علی بن ابی طالب علیہ السلام کے بغض کے ساتھ تفسیر کریں، یہ کتنی رکیک اور چُبھنے والی تعبیر ہے؟ وہ بھی ایسے مفسر سے؟ واقعاً تعصّب سے بھی کیسے کیسے گُل کھلاتا ہے؟ ۲۔ مشہور معتزلی علام "ابن ابی الحدید"، "نہج البلاغہ" کی شرح میں زبیر بن بکار سے جو اس کے قول کے مطابق نہ شیعہ تھا اور نہ ہی معاویہ سے دشمنی رکھتا تھا، بلکہ علی علیہ السلام سے جدا ہو کر گوشہ گیر ہو گیا تھا، اور آپ کے مخالفین سے جا ملا تھا، روایت کی ہے کہ وہ مغیرہ بن شعبہ کے بیٹے سے نقل کرتا ہے کہ میرا باپ "مغیرہ" معاویہ کی عقل اور سمجھ کے بارے میں بہت باتیں کیا کرتا تھا اور اس کے طرز فکر پر حیران ہوا کرتا تھا، لیکن رات وہ اسے پاس سے بہت غمگین اور پریشانی کی حالت میں آیا، مَیں سمجھ گیا کہ کوئی اہم مسئلہ پیش آ گیا ہے، مَیں نے اس سے سوال کیا تو اس نے معاویہ کو سخت بُرا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ جب مَیں نے اس کا سبب پوچھا تو اس نے کہا آج رات جب مَیں اور وہ خلوت میں تھے تو مَیں نے اس سے کہا، تو جس مقام و مرتبہ کا خواہش مند تھا وہ تُو نے حاصل کر لیا ہے۔ اَب تو عدل و انصاف اور نیکی کرنے میں کوشش کر، کیونکہ تیری عمر بھی اب بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ لہٰذا بنی ہاشم کے بارے میں نیکی کر کیونکہ اب تجھے ان سے کوئی خطرہ باقی نہیں رہا۔ اور یہ بات تیرے لئے نیک نامی کا سبب بن جائے گی۔ تو اس نے جواب میں کہا: ہیہات اَب میرے لئے کون سی نیک نامی باقی رہ جائے گی، خلیفہ اوّل و دوم نے کتنے کام کئے تو ان کا کون سا نام باقی رہ گیا، لیکن تم "ابن ابی کبشہ" (محمّد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو دیکھو کہ لوگ اس کا نام ہر روز پانچ مرتبہ گلدستہ اذان پر "اشہدانّ محمّداً رسول اللہ" کی صُورت میں لیتے ہیں، اے بیچارے! اَب اس کے بعد کون سا کام باقی رہ گیا ہے، اور ہمارا کون سا نام باقی رہ جائے گا، نہیں خدا کی قسم نہیں، سوائے اس صورت کے کہ یہ حالت بدل جائے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام دفن ہو جائے۔ (بحوالہ: شرح نہج البلاغہ، جلد۵، ص ۱۲۹۔ (ابن ابی الحدید) کی عبارت یہاں اس طرح ہے: "فایّ عمل یبقی؟ و ایّ ذکریدوم بعد ھٰذا؟ لا اباً لک، لا و اللہ الا دفناً دفناً"!)۔ لیکن وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ کے مقتضی کے مطابق خدا نے چاہا ہے کہ یہ مبارک نام ساری دُنیائے تاریخ اور تمام عالم بشریت میں بلند اور مشہور رہے، چاہے دُوسرے لوگ پسند کریں یا پسند نہ کریں؟ خوش ہوں یا نا خوش؟ اگر ہم ان تعبیرات کو کھول کر دیکھیں تو ان کا کیا معنی ہو گا؟ لاحول ولا قوة الا باللہ! خداوندا! ہمارے دل کو حب ذات سے خالی کر دے اور اپنے عشق و محبت سے پُر کر دے۔ پروردگارا! تُو نے خُود کو وعدہ دیا ہے کہ ہر مشکل کے ساتھ راحت اور آسُودگی ہے، اس زمانہ کے مسلمانوں کو ان عظیم سخت مشکلات سے جو دشمنوں کی طرف سے انہیں پہنچ رہی ہیں، آسُودہ کر دے۔ بار الہٰا! تیری نعمتیں اور مواہب ہم پر بہت زیادہ ہیں ان کی شکر گزاری کی توفیق مرحمت فرما۔ آمین یا ربّ العالمین

end of chapter
Ash-Sharh (94) — Tafseer e Namoona