As-Saffat
سورہ صافات
یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۱۸۲ آیات ہیں
سورہ صافات کے مطالب و مضامین
یہ سورہٴبھی چونکہ مکی سورتوں میں سے ہے لہذا مکی سورتوں کی تمام صفات اس میں موجود ہیں۔ اس میں سب سے زیادہ مبدا و معاد کے اسلامی عقائد و معارف کو بیان کیا گیا ہے۔ قاطع تعبیرات اور مختصر و زوردار آیات کے ذریعہ مشرکین کو سرزنش کی گئی ہے۔ نیز واضح اور روشن دلائل کے ذریعے ان کے عقائد کا بطلان ظاہر کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر اس سورہ کے مطالب کا پانچ حصّوں میں خلاصہ ہوتا ہے: پہلا حصّہ: خدا کے فرشتوں کے مختلف گروہوں کے بارے میں بحث کی گئی ہے اور ان کے مقابلے میں سرکش شیطانوں کے گروہوں اور ان کے انجام کو بیان کیا گیا ہے۔ دوسرا حصّہ: کافروں، نبوّت و معاد کے بارے میں ان کے انکار اور قیامت میں ان کے انجام کو بیان کیا گیا ہے اور اسی کے ساتھ مربوط قیامت میں ان کی آپس کی بحث اور گناہ کو ایک دوسرے کی گردن میں ڈالنے اور ان سب کے عذابِ الٰہی میں گرفتار ہونے کا ذکر ہے۔ علاوہ ازیں بہشت کی بڑی بڑی نعمتوں اور بہشتیوں کے لیے خوشیوں، لذّتوں اور زیبائیوں کو بیان کیا گیا ہے۔ تیسرا حصّہ: بزرگ انبیاء مثلاً نوح علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسحٰق علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت ہارون علیہ السلام، حضرت الیاس علیہ السلام، حضرت لوط علیہ السلام اور حضرت یونس علیہ السلام کے ایک حصّے کو مختصر اور موثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ لیکن اسی میں بُت شکن بہادر ہیرو ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں بحث اور ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو زیادہ وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور اصلی مقصد یہ ہے کہ گزشتہ بیانات اور انبیاء کی تاریخ کے عینی شواہد کچھ محسوس و ملسوس صورت میں بیان کیے جائیں اور کلی عقلی حقائق محسوس قالب میں مجسم ہو جائیں۔ چوتھا حصّہ: شرک کی ایک بدترین قسم کا ذکر ہے۔ یعنی جنّوں اور خدا یا فرشتوں اور خدا کے درمیان رشتہ داری کا اعتقاد مختصر جملوں میں اس بےہودہ عقیدے کی اس طرح دھجیاں بکھیری گئی ہیں کہ اس میں معمولی سی قدرت بھی باقی نہیں رہتی۔ پانچواں حصّہ: یہ اس سورہ کا آخری حِصّہ ہے۔ چند مختصر آیات ہیں۔ لشکرِ حق کی کفر و شرک و نفاق کے لشکر پر فتح و پیروزی کا ذکر ہے۔ اہلِ شرک و نفاق کے عذابِ الٰہی میں گرفتار ہونے کا تذکرہ ہے۔ ان ناروا نسبتوں سے، جو مشرکین پروردگار کے بار ے میں دیتے ہیں، تنزیہ تقدیس بیان کی گئی ہے اور سورہ پروردگار کی حمد و ستائش کے ساتھ ختم ہوتی ہے۔ سورہ صافات کی تلاوت کی فضیلت ایک حدیث میں پیغمبر گرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے: من قرأ سورة صافاتٍ أعطى من الأجرعشر حسنات، بعدد كل جن وشيطان، وتباعدت عنه مردة الشياطين، وبرء من الشرك، وشهد له حافظاه يوم القيامة أنه كانَ مؤمِنًا بِالمرسلين۔ جو شخص سورہ صافات کو پڑھے اسے تمام جنّون اور شیطانوں کی تعداد سے دس گنا نیکیاں دی جاتی ہیں اور سرکش شیطان اس سے دُور رہتے ہیں اور وہ شرک سے پاک رہتا ہے اور وہ دونوں فرشتے جو اس کی حفاظت پر مامور ہیں قیامت میں اس کے لیے گواہی دیں گے کہ یہ خدا کے رسولوں پر ایمان رکھتا تھا [بحوالہ: مجمع البیان، آغاز سورہ صافات]۔ ایک دوسری حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے اس طرح منقول ہے: من قرأ سورة صافات فى كل جمعة لم يزل محفوظا من كلّ آفة، مدفوعا عنه كل بلية فى حياته الدنيا، مرزوقا فى الدنيا بأوسع ما يكون من الرزق، وَلَم يصبه الله فى ماله ولا ولده ولا بدنه بسوء من شيطان رجيم، ولا جبار عنيد، وأن مات فى يومه او ليلته بعثه الله شهيدا، وأماته شهيدا، وادخله الجنة مع الشهداء فى درجة من الجنة. جو شخص سورہ صافات ہر جمعہ کو پڑھے گا وہ ہر آفت سے محفوظ رہے گا اور دنیا کی زندگی میں ہر بَلا اس سے دُور رہے گی۔ خداوندِ تعالیٰ اس کے رزق میں کشادگی کرے گا اور اس کے مال و اولاد اور بدن پر شیطانِ رجیم اور جابر دشمن کو مسلّط نہیں ہونے دے گا اور اگر اس دن یا رات کو دنیا سے کُوچ کر جائے تو خدا اسے شہید اٹھائے گا اور شہید کی موت دے گا اور اسے بہشت میں شہداء کے درجے میں جگہ عطا فرمائے گا [بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، آ غاز سورہ صافات۔ تفسیر برھان میں بھی یہ حدیث مختصر فرق کے ساتھ مرحوم صدوق رحمتہ اللہ علیہ سے نقل ہوئی ہے]۔ اس سُورہ کے مطالب پر توّجہ کرتے ہوئے اس کی تلاوت پر ان تمام عظیم ثوابوں کی وجہ واضح و روشن ہو جاتی ہے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ تلاوت کا مقصد غور وفکر کرنا ہے۔ اس کے بعد اس پر اعتقاد رکھنا اور پھر اس پر عمل کرنا ہے اور بِلا شک و شبہ جو شخص اس سُورہ کی اس طریقہ سے تلاوت کرے گا وہ شیاطین کے شر سے بھی محفوظ رہے گا اور شرک سے بھی پاک ہو جائے گا اور صحیح اور محکم اعتقاد رکھنے اور اعمالِ صالح بجا لانے اور انبیاء کی سرگزشت اور سابقہ اقوام کے واقعات سے نصیحت حاصل کرنے سے شہیدوں کے زُمرے میں بھی قرار پائے گا۔ ضمنی طور پر یہ بھی کہہ دیا جائے کہ اس سورہ کا نام "صافات" اس کی پہلی آیت کی مناسبت سے ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: وہ فرشتے جو انجامِ اُمور کے لیے آمادہ رہتے ہیں۔
Tafsīr Nemūna · Vol. 6یہ قرآنِ مجید کی وہ پہلی سُورہ ہے جس کا آغاز قسم سے ہوتا ہے۔ اس کی پرمعنی اور فکر انگیز قسمیں انسان کی فکر کو اپنے ساتھ اس جہان کے مختلف گوشوں کی طرف کھینچ لے جاتی ہیں اور حقائق قبول کرنے پر آمادہ کرتی ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ خدا سب سے بڑھ کر راست گو ہے اور اسے قسم کھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ علاوہ ازیں اگر قسم مو منین کے لیے ہو تو وہ قسم کے بغیر بھی سرتسلیم خم کیے ہوئے ہیں اور اگر منکرین کے لیے ہے تو وہ خدا کی قسموں پر اعتقاد ہی نہیں رکھتے۔ لیکن قرآن کی تمام آیات میں جن سے اس کے بعد ہمیں کبھی کبھی واسط پڑے گا، دو نکات کی طرف توجہ سے قسم کا مسئلہ واضح ہو جائے گا۔ پہلا یہ کہ قسم ہمیشہ قابلِ قدر اور اہم امور کے بارے میں کھائی جاتی ہے۔ اس بناء پر قرآنی قسمیں ان امور کی عظمت اور اہمیّت کی دلیل ہیں کہ جن کی قسم کھائی گئی ہے اور ایہی امر "مقسم بہ" یعنی وہ چیز جس کی قسم کھائی گئی ہے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ غور و فکر کا سبب بنتا ہے۔ ایسا غور و فکر جو انسان کو نئے حقائق سے آشنا کرتا ہے۔ دوسرا یہ کہ قسم ہمیشہ تاکید کے لیے ہوتی ہے اور اس امر کی دلیل ہوتی ہے کہ وہ امور جن کے لیے قسم کھائی جا رہی ہے ایسے ہیں کہ جن کے بارے میں تاکید شدید ہے۔ اس سے قطع نظر جس وقت کہنے والا اپنی بات کو دو ٹوک طریقے سے بیان کرے تو نفسیاتی طور پر سننے والے کے دل پر زیادہ اثرانداز ہوتی ہے۔لہذا قرآن کی ہر قسم مومنین کوزیادہ قوی اور منکر ین کو زیادہ نرم کر دیتی ہے۔ بہرحال وہ اس سورہ کی ابتداء میں ہمیں تین نام ملتے ہیں جن کی قسم کھائی گئی ہے [تشریحی نوٹ: یہ تین جملے ایک معنی کے لحاظ سے تین قسمیں ہیں اور ایک معنی کے لحاظ سے ایک قسم ہے تین اوصاف کے ساتھ]۔ پہلے فرماتا ہے: قسم ہے ان کی جو صف باندھے ہوئے ہیں اور جنہوں نے اپنی صفوں کو منظم کیا ہوا ہے (وَالصَّافَّاتِ صَفًّا)۔ وہی جو پوری قوت کے ساتھ روکتے ہیں (فَالزَّاجِراتِ زَجْراً)۔ اور وہ جو پےدرپے ذکرِ الٰہی کی تلاوت کرتے ہیں (فَالتَّالِياتِ ذِكْراً)۔ یہ تین گروہ کون ہیں؟ اور یہ کن افراد کی صفات ہیں؟ اور ان کا اصلی ہدف و مقصد کیا ہے؟ مفسرین نے یہاں بہت سی باتیں کی ہیں لیکن معروف و مشہور ہی ہے کہ یہ فرشتوں کے مختلف گروہوں کے اوصاف ہیں۔ ایسے گروہ جو فرمانِ الہی کو انجام دینے کے لیے عالم ہستی میں صف باندھے ہوئے آمادہ تعمیل ہیں۔ فرشتوں کے ایسے گروہ جو انسانوں کو گناہ سے روکتے ہیں اور شیطانوں کے وسوسوں کو ان کے دلوں میں بےاثر کرتے ہیں یا آسمان کے بادلوں پر مامور ہیں اور انھیں اِدھر ادھر دھکیلتے ہیں اور انھیں خشک سرزمینوں کی سیرابی کے لیے لے جاتے ہیں۔ اور آخر میں فرشتوں کے وہ گروہ جو آسمانی کتابوں کی آیاتِ نزول بھی کے وقت پیغمبروں کے سامنے پڑھتے ہیں [تشریحی نوٹ: مذکورہ بالا آیات کی تفسیر کے بارے میں دوسرے احتمالات بھی بیان ہوئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ میدانِ جہاد میں مجاہدینِ اسلام کی صفوں کی طرف اشارہ ہے اور وہ میدانِ جنگ میں دشمنوں کے سروں پر چیختے ہیں اور وہ انھیں حریمِ اسلام اور قرآن سے تجاوز کرنے سے روکتے ہیں اور وہ جو ہمیشہ ذکر تلاوت الہی کرتے ہیں اور اپنے قلب و روح کو اس کے نور سے روشن کرتے ہیں۔ یہ حتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ان تین اوصاف کے ایک حصہ کا اشارہ ان فرشتوں کی طرف ہے جو منظم صفوں کی صورت میں ہوتے ہیں اور ایک حصہ قرآنی آیات کی طرف اشارہ ہے جو لوگوں کو برائیوں سے روکتی ہیں اور ایک حصہ مومنین کی طرف اشارہ ہے جو نماز میں یا نماز کے علاوہ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں لیکن ان اوصاف کے درمیان جدائی بعید نظر آتی ہے۔ کیونکہ "فاء" کے ساتھ ان کا عطف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ سب اوصاف ایک ہی گروہ کے ہیں۔ "علامہ طباطبائی" نے "المیزان" میں یہ احتمال بھی ذکر کی ہے کہ یہ تینوں اوصاف ان فرشتوں کے ہوں جو وحی الہی کی تبلیغ پر مامور ہیں، وہ منظم صفوں میں وحی کی حفاظت کرتے ہیں اور شیطانوں کو اپنے راستے سے ہٹا دیتے ہیں اور سرانجام آیاتِ الہی کی پیغمبروں کے لیے تلاوت کرتے ہیں]۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ "صافات" "صافتہ" کی جمع ہے اور خود صافتہ بھی اپنی جگہ پر جمع کا مفہوم رکھتا ہے اور ایسے گروہ کی طرف اشارہ ہے جو صف باندھے ہوئے ہے۔ اس بنا پر "صافات" متعدد صفوں کے معنی میں ہے [تشریحی نوٹ: اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ان اوصاف کا "جمع مؤنث" کی شکل میں ذکر کرنا اس بنا پر ہے کہ ان کا مفرد خود جماعت کا معنی رکھتا ہے جو مونث لفظی ہے]۔ "زاجرات" بنیادی طور پر "زجر" کے مادہ سے کسی چیز کو بلند آواز کے ساتھ ہانکنے کے معنی میں ہے۔ بعد ازاں یہ لفظ وسیع معنی میں استعمال ہونے لگا جو ہر طرح سے دھتکارنے، روکنے اور منع کرنے کا مفہوم دیتا ہے۔ اس بنا پر "زاجرات" ان گروہوں کے معنی میں ہے جو دوسروں کو روکتے، دھتکارتے اور جھڑکتے ہیں۔ اور "تالیات" "تلاوت" کے مادہ ہے "تالی" کی جمع ہے جو ان گروہوں کے معنی میں ہے جو کسی چیز کی تلاوت کرتے ہیں [تشریحی نوٹ: یہ بات قابل توجہ ہے کہ بعض اربابِ لغت کے کہنے کے مطابق "تالی" کی جمع "تالیات" ہے اور "تالیۃ" کی جمع "توالی" ہے]۔ ان الفاظ کے مفاہیم کی وسعت اور پھیلاؤ کی طرف توجہ کرتے ہوئے کوئی تعجب کی بات نہیں لگتی کہ ان کے لیے مفسرین نے گوناگوں تفاسیر بیان کی ہیں۔ جو مختلف ہونے کے باوجود متضاد نہیں ہیں اور ممکن ہے کہ وہ سب کی سب ان آیات کے مفہوم میں جمع ہوں۔ مثلاً "صافات" سے فرشتوں کی وہ تمام صفوف مراد ہوں جو عالمِ آفرینش میں عوامر الہی کے اجزاء کے لیے کے آمادہ ہیں اور وہ فرشتے بھی مراد ہوں جو عالم تشریع میں پیغمبروں پر نزولِ وحی پر مامور ہیں۔ اسی طرح راہِ خدا میں لڑنے والے اور مجاہدین کی صفیں یا نماز گزاروں اور عبادت کرنے والوں کی صفیں۔ اگرچہ قرائن اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس سے زیادہ تر مراد فرشتے ہی ہیں اور بعض روایات میں بھی اس بات کی طرف اشارہ ہوا ہے [بحوالہ:ُ تفسیر برہان جلد ۴ ص ۱۵ الدر المنثور جلد ۵ ص ۲۷۱]۔ اسی طرح اس بات میں بھی کوئی امر مانع نہیں ہے کہ ز"اجرات" کے مفہوم میں وہ فرشتے بھی شامل ہوں کہ جو شیطانی وسوسے انسانوں کے دلوں سے دور کرتے ہیں اور ان انسانوں کو بھی جو نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔ نیز ہو سکتا ہے "تالیات" تمام فرشتوں اور مومنین کی تمام جماعتوں کی طرف اشارہ ہو جو آیاتِ الہی اور ذکرِ خدا کی پےدرپے تلاوت کرتے ہیں ۔ یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ ان تینوں لفظوں کے ایک دوسرے پر "فاء" کے ساتھ عطف کی وجہ سے آیات کا ظاہر یہ ہے کہ یہ تینوں گروہ ایک دوسرے کے پیچھے ہیں، تو کیا یہ ترتیب انجامِ ذمہ داری کے لحاظ سے ہے یا مقام کے لحاظ سے یا دونوں معانی کے لحاظ سے؟ یہ بات واضح ہے کہ صف باندھنا اور تیار ہونا پہلے مرحلہ میں ہوتا ہے، اس کے بعد رکاوٹوں کو راستے سے ہٹانے کا مرحلہ ہے اور ان کے اجراء کی نوبت ہے۔ دوسری طرف سے وہ جو فرمان کے اجراء کے لیے تیار ہونے میں ایک مقام رکھتے ہیں اور جو رکاوٹوں کو دور کرتے ہیں وہ افضل و برتر مقام رکھتے ہیں اور جو فرامین کو پڑھتے ہیں اور انھیں جاری کرتے ہیں وہ سب سے بلند مقام رکھتے ہیں۔ بہرحال پروردگار کا ان سب گروہوں کی قسم کھانا اس کی بارگاہ میں ان کے مقام کی عظمت ظاہر کرتا ہے قیمتی طور پر اس حقیقت کی طرف بھی راہنمائی کرتا ہے کہ راہِ حق کے راہبوں کو مقصود تک پہنچنے کے لیے ان تینوں مراحل سے گزرنا چاہیے۔ پہلے وہ اپنی صفوں کو منظم کریں اور ہر گروہ اپنی صف میں موجود ہو۔ اس کے بعد سب راستے سے رکاوٹوں کو دور کرنے اور بلند آواز کے ساتھ مزاحمتوں کو ہٹانے میں مصروفِ کار ہو جائیں۔ وہی کام جو زجر (جھڑکنے) کے مفہوم میں پوشیدہ ہے اور ان کے مضامین و مطالب کو روبہ عمل لائیں۔ راہِ حق کے مجاہدین کو ان تینوں مرحلوں سے گزرنے کے سوا چارہ کار نہیں۔ سچے علماء اور دانشمندوں کو بھی اپنی اجتماعی مساعی اور کوششوں میں اسی انداز سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ بعض مفسرین نے ان آیات سے مجاہدین اور بعض نے علماء مراد لیے ہیں لیکن آیات کے مفہوم کو ان دو گروہوں میں محدود کرنا بعید نظر آتا ہے، البتہ آیات کی عمومیت بعید نہیں ہے اور اگر ہم انہیں فرشتوں کے ساتھ ہی مخصوص سمجھیں پھر بھی دوسرے لوگ اپنی زندگی میں ان فرشتوں سے سبق حاصل کر سکتے ہیں۔ امیر المومنین علی علیہ السلام بھی نہج البلاغہ کے پہلے خطے میں جہاں فرشتوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں اور انہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیتے ہیں، فرماتے ہیں: وصافون لا يتزايلون، ومسبحون لا يسأمون، لا يغشاهم نوم العيون ولا سهو العقول، ولا فترة الابدان، ولاغفلة النسيان، ومنهم امناء على وحيه، والسنة الى رسله۔ ان میں سے ایک گروہ ایسی صفوں میں موجود ہے جو ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں وہ ہمیشہ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور تھکتے نہیں۔ ان کی آنکھوں میں کبھی نیند طاری نہیں ہوتی۔ سہو و نسیان میں گرفتار نہیں ہوتے۔ بدن کی سستی انھیں دامن گیر نہیں ہوتی اور نسیان کی غفلت انھیں عارض نہیں ہوتی۔ ان کا ایک گروہ وحی کے امناء ہیں اور وہ پیغمبروں کے لیے خدا کی زبانیں ہیں [بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبه ۱]۔ ان تینوں آیات کے بارے میں آخری بات یہ ہے کہ بعض یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ ان آیات میں خدا کی پاک ذات کی قسم کھائی گئی ہے اور ان سب میں لفظ "رب" مقدر ہے اور حقیقت میں اس طرح تھا : وربّ الصّافات صنا وربّ الزاجرات زجرا وربّ التاليات ذكرًا صف باندھ کر کھڑے ہوئے ان گروہوں کے پروردگار کی قسم جنھوں نے اپنی صفوں کو منظم کیا ہوا ہے اور بھڑک کر روک دینے والوں کے پروردگار کی قسم، اور پےدرپے ذکر خدا کی تلاوت کرنے والوں کے پروردگار کی قسم۔ جن لوگوں نے آیات کی اس طرح تفسیر کی ہے ان کا خیال یہ ہے کہ چونکہ خدا نے اپنے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ غیرِخدا کی قسم نہ کھائیں۔ پس خدا بھی اپنی ذات کے علاوہ کسی کی قسم نہیں کھاتا، علاوہ ازیں قسم کسی اہم امر کی کھانا چاہیے اور زیادہ اہم اس کی پاک ذات ہے۔ لیکن وہ اس نکتے سے غاضل ہیں کہ خدا کا حساب اس کے بندوں سے الگ ہے۔ وہ انسانوں کو متوجہ کرنے کے لیے "آفاقی" اور "انفسی" آیات اور آسمان و زمین میں اپنی قدرت کی نشانیوں میں سے ہمیشہ مختلف موجودات کی قسمیں کھاتا ہے تاکہ وہ انہیں ان آیات میں غور و فکر کرنے پر آمادہ کرے اور وہ اسے اس راستے سے پہچانیں۔ اس سے قطع نظر قرآن مجید کی کئی آیات ہیں جیسے سورۃ الشمس خدا نے موجوداتِ عالم کی اپنی پاک ذات کے ساتھ قسم کھائی ہے اور وہاں کسی چیز کو مقدر کرنا ممکن نہیں ہے، فرماتا ہے: والسماء وما بناها و الارض و ما طحاها ونفس وما سواها قسم ہے آسمان کی اور جس نے اسے بنایا، قسم ہے زمین کی اور جس نے اسے بچھایا ہے اور قسم ہے انسان کی جان کی اور جس نے اسے منظم کیا ہے [بحوالہ: سورة "الشمس" (آیات ۵ تا ۷)]۔ بہرحال زیر بحث آیات کا ظاہر یہی ہے کہ ان ہی تینوں گروہوں کی قسم کھائی گئی ہے اور کسی چیز کو مقدر ماننا خلافِ ظاہر ہے اور دلیل کے بغیر اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ آئیے اب یہ دیکھتے ہیں کہ ملائکہ اور انسانوں کی صفوں کی یہ پرمعنی قسمیں کس مقصد کے لیے کھائی گئی ہیں؟ بعد والی آیت اس مقصد کو واضح کرتے ہوئے کہتی ہے: تمھارا معبود یقیناً یکتا ہے. (إِنَّ إِلهَكُمْ لَواحِدٌ)۔ قسم ہے ان مقدسات کی جو بیان کیے گئے ہیں، کہ تمام بت تباہ و برباد ییں اور پروردگار کا کوئی کسی قسم کا شکریک و شبیہ و نظیر نہیں ہے۔ اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے: وہی جو آسمانوں کا بھی رب ہے اور زمین کا بھی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کا بھی اور سب مشرقوں کا پروردگار وہی ہے. (رَبُّ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ وَما بَيْنَهُما وَرَبُّ الْمَشارِقِ)۔ یہاں دو سوال سامنے آتے ہیں: ۱۔ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے کا ذکر کرنے کے بعد "مشارق" کے ذکر کی کیا ضرورت تھی، کیونکہ یہ بھی تو انھیں کا ایک جزء ہے۔ اس سوال کا جواب ایک نکتے کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہو جاتا ہے اور وہ نکتہ یہ ہے کہ "مشارق" چاہے سال کے دنوں میں سورج کے مشارق کی طرف اشارہ ہو یا آسمان کے مختلف ستاروں کے مشارق کی طرف، سب کے سب ایک مخصوص نظم اور پروگرام رکھتے ہیں کہ جو آسمانوں اور زمین کے نظام کے علاوہ ان کے پیدا کرنے والے اور مدبّر کے قدرت و علم پر دلالت کرتا ہے۔ آسمان کا سورج سال بھر میں روزانہ ایک نئے نقے سے طلوع کرتا ہے اور ان نقاط کا ایک دوسرے سے فاصلہ اس قدر منظم اور دقیق ہے کہ ایک سیکنڈ کا ہزارواں حصہ بھی کم یا زیادہ نہیں ہوتا اور لاکھوں سال گزر چکے ہیں اگر "سورج کے مشارق" کا نظم و ضبط اسی طرح قائم و برقرار ہے۔ دوسرے ستاروں کے طلوع و غروب میں بھی یہی نظام کارفرما ہے۔ علاوہ ازیں اگر سورج سال بھر کے اندر اس تدریجی راستے کو طے نہ کرتا تو چاروں فصلیں اور مخلتف برکتیں جو اس سے ہمیں حاصل ہوتی ہیں نہ ہو سکتیں اور یہ بات خود اس کی عظمت و تدبیر کی ایک اور نشانی ہے۔ اس کے علاوہ "مشارق" کا ایک دوسرا معنی یہ ہے کہ زمین کے گول ہونے کی بنا پر اس کا ہر نقطہ دوسرے نقطے کی نسبت مشرق یا مغرب شمار ہوتا ہے اور اس طرح سے زیر بحث آیت ہمیں زمین کے کروی ہونے اور اس کی مشرقوں اور مغربوں کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ اس آیت سے دونوں معانی مراد ہونے میں بھی کوئی امر مانع نہیں ہے۔ ۲۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ "مشارق" کے مقابلے میں یہاں "مغارب" کے بارے میں کیوں گفتگو نہیں ہوئی، جیسا کہ سورہ معارج کی آیہ ۴۰ میں آیا ہے: فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ وَالْمَغارِبِ مشرقوں اور مغربوں کے پروردگار کی قسم۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بعض اوقات کلام کے ایک حصے کے قرینہ کی وجہ سے حذف کر دیتے ہیں اور کبھی دونوں کو اکٹھا لے آتے ہیں۔ یہاں "مشارق" کا ذکر "مغارب" کے لیے قرینہ ہے اور بیان کا یہ تنوع بھی ایک انداز فصاحت شمار ہوتا ہے۔ بعض مفسرین کے قول کے مطابق یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ "مشارق" کا ذکر طلوع وحی کے ساتھ مناسبت رکھتا ہے جو "تالیات ذکرًا" فرشتوں کے ذریعے پیغمبر کے قلب پاک پر نازل ہوئی۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: شیاطین کے نفوذ سے آسمان کی حفاظت
Tafsīr Nemūna · Vol. 6گزشتہ آیات میں فرشتوں کی مختلف صفوں کے بارے میں گفتگو تھی، جن کی بہت بڑی بڑی ذمہ داریاں ہیں اور زیرِ بحث آیات میں ان کے مدِّمقابل یعنی شیاطین کے مختلف گروہوں اور ان کے انجام کے بارے میں گفتگو ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ مشرکین کی اس جماعت کے اعتقاد کو باطل کرنے کے لیے ایک مقدمہ ہو جو شیاطین اور جنوں کو اپنا معبود قرار دیتے ہیں ضمنی طور پر اس میں توحید کا ایک درس بھی پوشیدہ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ہم نے نزدیکی آسمان (نچلے آسمان) کو ستاروں سے مزّین کیا ہے (إِنَّا زَیَّنَّا السَّماءَ الدُّنْیا بِزینَةٍ الْکَواکِب) [تشریحی نوٹ: ترکیب کے لحاظ سے "الْکَواکِب" "زینت" کا بدل ہے اور یہ احتمال بھی ہے کہ عطف بیان ہو اور زینت یہاں پر اسمِ مصدری کا معنی رکھتا ہو نہ کہ مصدری معنی کا۔ ادبی کُتب میں ہے کہ جس وقت نکرہ معرفہ سے بدل جائے تو اس کے ساتھ ایک صفت ہونی چاہیے لیکن اس کے برعکس ضروری نہیں ہے۔ (غور کیجیے گا)]۔ سچ مچ تاریک اور ستاروں بھری رات میں صفحہٴ آسمان پر ایک نگاہ سے اس قسم کا خوبصورت منظر انسان کے سامنے مجسّم ہوتا ہے کہ وہ مسحور ہو کر رہ جاتا ہے۔ گویا تاروں بھری رات زبانِ بےزبانی سے ہم سے گفتگو کر رہی ہے اور خلقت کے راز ہم سے بیان کر رہی ہے گویا سب کے سب تارے شاعر ہیں جو پےدرپے عشق و عرفان میں ڈوبی ہوئی خوبصورت غزلیں گا رہے ہیں۔ ان کا ٹمٹمانا اور پلکیں جھپکنا ایسے رازوں کو بیان کرتا ہے کہ جو سوائے عاشق و معشوق کے اور کہیں نہیں ہوتے۔ واقعاً آسمان کے ستاروں کا منظر اس قدر خوبصُورت ہے کہ ہرگز آنکھ اس کے دیکھنے سے نہیں تھکتی، بلکہ انسانی وجود سے ساری خسگی دُور کر دیتا ہے (اگرچہ یہ مسائل ہمارے زمانے میں شہروں کے رہنے والوں کے لیے کچھ مفہوم نہیں رکھتے کیونکہ وہ کارخانوں کے دھوئیں میں ڈوبے رہتے ہیں اور ان پر ایک سیاہ تاریک آسمان ہوتا ہے، لیکن دیہاتوں کے رہنے والے اب بھی قرآن کے اس ارشاد کی عملی صورت یعنی آسمان کا درخشاں ستاروں سے مزیّن ہونا دیکھ سکتے ہیں)۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ قرآن کہتا ہے کہ "ہم نے نچلے آسمان کو ستاروں سے مزیّن کیا ہے" حالانکہ جو مفروضہ اس زمانے کے افکار اور دانشمندوں میں تسلیم کیا جاتا تھا وہ یہ تھا کہ صرف اوپر والا آسمان ثوابت ستاروں کا آسمان ہے (بطلمیوس کے مفروضہ کے مطابق آٹھواں آسمان)۔ لیکن جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ اس مفروضہ کا باطل ہونا ثابت ہو چکا ہے اور قرآن کا اس زمانے کے غیرصحیح مفروضہ کی پیروی نہ کرنا اس آسمانی کتاب کا زندہ مُعجزہ ہے۔ دوسرا قابلِ توجّہ نکتہ یہ ہے کہ موجودہ سائنس کی رُو سے یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ ستاروں کا خوبصورتی کے ساتھ ٹمٹمانا اور پلکیں جھپکنا اس کُرّہ ہوائی کی بنا پر ہے جس نے اطرافِ زمین کو گھیر رکھا ہے اور اسی کی بنا پر یوں دکھائی دیتا ہے اور یہ بات "السَّماءَ الدُّنْيا" (نچلے آسمان) کی تعبیر کے ساتھ بہت ہی مناسب ہے۔ فضائے زمین سے باہر ستارے دھندلے دھندلے نظر آتے ہیں اور ان میں یہ چمک دمک نہیں ہوتی۔ بعد والی آیت میں آسمان کے منظر کے شیاطین کے نفوذ سے محفوظ رہنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ہم نے اسے ہر خبیث اور خیر و نیکی سے عاری شیطان سے محفوظ رکھا ہے (وَحِفْظاً مِنْ کُلِّ شَیْطانٍ مارِدٍ) [تشریحی نوٹ: "حفظاً" بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق فعلِ مقدّر کے لیے "مفعول مطلق" ہے اور تقدیر میں اس طرح تھا: وحفظناھا حفظاً بعض نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ "بزینة" کے محل پر عطف ہو جو "مفعول لہ" ہے اور یہ تقدیر میں اس طرح ہو گا: إنَّا خلقنا الکواکب زینةً للسماء وحفظاً]۔ "مارد" "مرد" بر وزنِ "سرد" کے مادہ سے اصل میں اس بلند سرزمین کے معنی میں ہے جو کسی بھی قسم کے سبزے سے خالی ہو، وہ درخت جس کے پتے جَھڑ جائیں اسے "امرد" کہتے ہیں۔ اسی مناسبت سے اس نوجوان پر جس کے چہرے پر بال نہ اُگے ہوں اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے یہاں "مارد" سے مراد وہ شخص ہے جو ہر قسم کی خیر و برکت سے عاری ہو۔ ہماری تعبیر کے مطابق "جس کے پاس کچھ نہ ہو" ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ شیطانوں کے اوپر چڑھنے سے آسمانوں کا محفوظ رکھنے کا ایک ذریعہ ستاروں کا ایک گروہ ہے اور انھیں "شہب" کہا جاتا ہے۔ جس کی طرف بعد کی آیات میں اشارہ ہو گا۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: وہ عالمِ بالا کے فرشتے کی باتوں کو نہیں سُن سکتے اور غیب کے اسرار ان سے نہیں معلوم کر سکتے اور اگر ایسا کرنا چاہتے ہیں تو ہر طرف سے شہاب کے تیروں کا نشانہ بنتے ہیں۔ (لا یَسَّمَّعُونَ إِلَی الْمَلَإِ الْاَعْلی وَیُقْذَفُونَ مِنْ کُلِّ جانِبٍ)۔ ہاں انھیں شدّت کے ساتھ پیچھے کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے اور انھیں آسمان کے منظر سے نکال دیا جاتا ہے اور ان کے لیے دُحُوراً وَلَهُمْ عَذابٌ واصِبٌ). "لا یسمعون" (جو لا یتسمعون کے معنی میں ہے) اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ چاہتے ہیں "ملااعلیٰ" کی خبریں سُن لیں لیکن انھیں اجازت نہیں دی جاتی۔ "ملااعلیٰ" عالمِ بالا کے فرشتوں کے معنی میں ہے کیونکہ "ملا" اصل میں اس جماعت اور گروہ کو کہا جاتا ہے جو ایک نظریہ پر اتفاق رکھنے والوں پر مشتمل ہو اور دوسروں کی آنکھ کو اس ہم آہنگی و وحدت سے پُر کر دیں اور مسند اقتدار کے گرد موجود افراد اور اشراف و اعیان کو بھی "ملا" کہتے ہیں کیونکہ ان کی ظاہری وضع قطع آنکھ کو پُر کرتی ہے لیکن جب اس کی "اعلیٰ" کے ساتھ توصیف ہو تو پھر حق تعالیٰ کے ملائکہ کرام اور فرشتگانِ والا مقام کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ "یقذفون" "قذف" کے مادہ سے پھینکنے اور دور کی جگہ پر تیر مارنے کے معنی میں ہے اور یہاں مراد "شہب" کے ذ ریعے "شیاطین" کو بھگانا اور دور دھکیلنا ہے، جس کی تشریح ہم بعد میں بیان کریں گے اور یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خداوندِ تعالیٰ انھیں اس بات کی بھی اجازت نہیں دیتا کہ وہ ملااعلیٰ کی قلمرو کے قریب جا سکیں۔ "دحوراً " "دحر" (بر وزنِ "دہر") کے مادہ سے دھکیلنے اور دور کرنے کے معنی میں ہے اور"واصب" اصل میں پرانی بیماریوں کے معنی میں ہے لیکن کلی طور پر دائم و مسلسل کے معنی میں ہے اور کبھی یہ لفظ خالص کے معنی میں بھی آیا ہے [بحوالہ: "واصب" کے معنی کے بارے میں جلد ۶ میں سورہ نحل کی آیہ ۵۲ کے ذیل میں بحث کی گئی ہے]۔ یہاں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شیاطین نہ صرف آسمان تک پہنچنے سے روک دیئے جاتے اور بھگائے جاتے ہیں بلکہ آخر کار دائمی عذاب میں بھی گرفتار ہو جاتے ہیں۔ آخری زیرِ بحث آیت میں سرکشی اور جسارت کرنے والے شیطانوں کے ایک گروہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو آسمان کی بلندی کی طرف جانے کا ارادہ کرتے ہیں، قرآن فرماتا ہے: مگر وہ جو مختصر سے لمحے کے لیے چوری چُھپے اچٹتی سی بات سننے کے لیے آسمان کے نزدیک ہو جائیں تو شہابِ ثاقب ان کا پیچھا کرتے ہیں اور انھیں جلا دیتے ہیں (إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَأَتْبَعَهُ شِهابٌ ثاقِبٌ)۔ "خطفة" یعنی کسی چیز کو جلدی سے اچک لینا۔ "شھاب" اصل میں اس شعلہ کے معنی میں ہے جو جلتی ہوئی آگ سے بلند ہوتا ہے اور وہ آتشیں شعلے جو آسمان میں ایک لمبے خط کی صورت میں ابھرتے ہیں انھیں بھی "شہاب" کہتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ ستارے نہیں ہیں بلکہ ستاروں کے مانند پتھروں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہیں جو فضا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ زمین کی کشش کی حدود میں میں آ جاتے ہیں تو پھر زمین کی طرف دوڑتے ہیں اور زمین کے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہوا کے ساتھ تیزی اور شدت سے ٹکرانے کی وجہ سے شعلہ ور ہو جاتے ہیں۔ "ثاقب" نفوذ کرنے والے اور سوراخ کرنے والے کے معنی میں ہے گویا شدید نور کے زیرِ اثر آنکھوں میں سوراخ کر کے انسان کی آنکھ کے اندر نفوذ کر جاتا ہے اور یہاں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ جس چیز سے ٹکراتا ہے اس میں سوراخ کر کے آگ لگا دیتا ہے۔ اس طرح شیاطین کے آسمانوں میں نفوذ کرنے میں دو طرح کی رکاوٹیں موجود ہیں۔ پہلی رکاوٹ تو ہر طرف سے دھتکارا جانا اور بھگایا جانا ہے اور وہ بھی ظاہری طور پر شہب ہی کے ذریعے صورت پذیر ہوتا ہے۔ دوسری رکاوٹ شہاب کی ایک خاص قسم ہے جس کا نام "شہابِ ثاقب" ہے اور وہ ان کے انتظار میں رہتے ہیں۔ وقت بےوقت جب کبھی وہ چوری چُھپے کوئی بات سننے کے لیے آسمان پر ملااعلیٰ کے نزدیک ہوتے ہیں تو وہ ان سے ٹکرا جاتے ہیں۔ اسی طرح کی بات سورہ حجر کی آیہ ۱۷ اور ۱۸ میں کی گئی ہے، ارشاد ہوتا ہے: وَحَفِظْناها مِنْ كُلِّ شَيْطانٍ رَجِيمٍ إِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَهُ شِهابٌ مُبِينٌ ہم آسمانی بُرجوں کی ہر راندہ درگاہ شیطان سے حفاظت کرتے ہیں، مگر جو چوری چھپے باتیں سننے لگے تو شہابِ مبین اس کے پیچھے لگ جاتا ہے (انھیں بھگا دیتا ہے اور جلا دیتا ہے)۔ اس تعبیر کی نظیر سورہ ملک کی آیہ ۵ میں بھی آئی ہے۔ وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّماء َالدُّنْیا بِمَصابیحَ وَجَعَلْناها رُجُوماً لِلشَّیاطینِ ہم نے نچلے آسمان کو چراغوں کے ساتھ مزیّن کیا ہے اور ان (میں سے ایک حصّہ) کو شیطانوں کو دور کرنے اور بھگانے کے لیے قرار دیا ہے۔
توضیح و تکمیل
ان الفاظ کے ظاہر ہی کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے یا ایسے قرائن موجود ہیں کہ جن کی وجہ سے ظاہر کے خلاف تفسیر کرنی چاہیے اور انھیں تمثیل و تشبیہ و کنایہ جاننا چاہیے، اس بارے میں مفسرین کے درمیان مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ بعض نے ان آیات کے ظاہر کو انھیں معانی پر جو پہلی نظر میں دکھائی دیتے ہیں، محمول کیا ہے اور کہا ہے کہ آسمانوں میں نزدیک اور دور دراز مقامات پر فرشتوں کے کچھ گروہ ساکن نہیں اور وہ اس جہان کے حوادث کی خبریں اس سے پہلے کہ وہ زمین میں صورت پذیر ہوں وہاں منعکس ہوتی ہیں۔ شیاطین کا ایک گروہ چاہتا ہے کہ آسمانوں پر چڑھ جائے اور چوری چھپے ان خبروں میں سے کوئی بات معلوم کر لے اور کاہنوں یعنی انسانوں میں سے اپنے ساتھ مربوط لوگوں کو منتقل کر دیں۔ اس موقع پر شہاب جو ستاروں کی طرح متحرک ہیں ان کی طرف دوڑتے ہیں اور انھیں پیچھے کی طرف دھکیل دیتے ہیں یا انھیں نابود کر دیتے ہیں۔ یہ مفسرین کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے ہم موجودہ زمانے میں ان تعبیرات کے مفاہیم کو صحیح طور پر معلوم نہ کر سکیں، لیکن ہماری ذمّہ داری یہی ہے کہ ہم ان ظاہری مطالب کی حفاظت کرتے ہوئے مزید معلومات کو آئندہ پر چھوڑ دیں۔ اس تفسیر کو مرحوم طبرسی نے "مجمع لبیان" میں، آلوسی نے "روح المعانی" میں، سید قُطب نے "فی ظلال" میں اور بعض دوسرے مفسرین نے انتخاب کیا ہے۔ جبکہ بعض دوسروں کا نظریہ یہ ہے کہ زیر بحث آیات ان آیات کے مشابہ ہیں جو"لوح"، "قلم"، "عرش" اور "کُرسی" کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں اور تمثیل و کنایہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ یہ آیات "معقول" کو "محسوس" سے تشبیہ دینے کے قبیل سے ہیں اور سُورہ عنکبوت کی آیہ ۴۳ کی مصداق ہیں جس میں قرآن فرماتا ہے: وَتِلْکَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ وَما یَعْقِلُهَا إِلاَّ الْعالِمُونَ یہ وہ مثالیں ہیں جو ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں اور اہلِ علم کے سوا انھیں کوئی نہیں سمجھتا۔ ان مفسرین نے مزید کہا ہے کہ جن آسمانوں میں ملائکہ ساکن ہیں ان سے مراد عوالمِ ملکوت ہیں جن کا افق محسوس عالم سے برتر ہے اور شیاطین کے آسمانوں سے نزدیک ہونے اور "چوری چھپے" سننے اور "شہب" کے ذریعہ انھیں بھگانے سے مراد یہ ہے کہ یہ شیاطین جب اسرارِ خلقت اور آ ئندہ کے حوادث کی خبریں معلوم کرنے کے لیے فرشتوں کے عالم سے نزدیک ہونا چاہیں، تو ملکوت کے نور کے ذریعے جسے برداشت کرنے کی ان میں طاقت نہیں ہے، رُک جاتے ہیں اور دُور ہو جاتے ہیں اور حق کے ذریعے ان کے باطل کی نفی ہو جاتی ہے۔ یہ مفسرین اس سورہ کے آغاز میں فرشتوں کے گروہوں کی بحث کے بعد اس قِصّہ کے ذکر کو، اس معنی کا مئوید سمجھتے ہیں [بحوالہ: تفسیر "المیزان" (جلد ۱۷، صفحہ ۱۳۰) سے تلخیص]۔ یہ احتمال بھی ہے کہ "سماء" یہاں آسمان ایمان اور معنویت و روحانیت کے لیے کنایہ ہو۔ کیونکہ ہمیشہ شیاطین تک راہ پانے کی سعی و کوشش کرتے ہیں اور وسوسوں کے ذریعے سچّے مومنین کے دلوں میں نفوذ پیدا کرتے ہیں لیکن خدائی پیغمبر اور آئمہ معصومین اور ان کے فکری و عملی راستے کے پیرو علم و تقوٰی کے شہابِ ثاقب کے ذریعے ان پر حملہ کرتے ہیں اور انھیں اس آسمان کے قریب ہونے سے روک دیتے ہیں۔ ہم اس تفسیر کو صرف ایک احتمال کے طور پر یہاں پیش کر رہے ہیں اور اس کے قرائن و شواہد گیارہویں جلد سُورہ حجر کی آیہ ۱۸ کے ذیل میں بیان کر چکے ہیں۔ ان قرائن کی مزید وضاحت کے لیے گیارہویں جلد ہی کی طرف رجوع فرمائیں۔ قرآنِ مجید کی ان آیات اور ان سے مشابہ آیات کے معنی کے سلسلہ میں یہ تین مختلف تفاسیر تھیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: وہ ہرگز حق کو قبول نہیں کریں گے
Tafsīr Nemūna · Vol. 6یہ آیات بھی مسئلہ قیامت اور ہٹ دھرم منکرین کی مخالفت کو بیان کر رہی ہیں۔ گزشتہ بحث کے بعد اب ان آیات میں قرآن ہر چیز پر خداوندِ تعالیٰ اور آسمان و زمین کے خالق کی قدرت کے متعلق فرماتا ہے: ان سے پوچھو کیا ان کی خلقت اور معاد زیادہ مشکل اور سخت تر ہے یا فرشتوں اور آسمانوں و زمین کی خلقت (فَاسْتَفْتِهِمْ أَ هُمْ أَشَدُّ خَلْقاً أَمْ مَنْ خَلَقْنا)۔ ہاں ہم نے انھیں ایک معمولی سی چیز، چپکنے والی مٹی سے پیدا کیا (إِنَّا خَلَقْناهُمْ مِنْ طِينٍ لازِبٍ). گویا مشرکین جو معاد کے منکر تھے انھوں نے گزشتہ آیات سننے کے بعد یہ اظہار کیا کہ ہماری خلقت آسمان و زمین اور فرشتوں کی خلقت سے زیادہ اہمیّت رکھتی ہے۔ قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے: انسانوں کی خلقت، وسیع زمین و آسمان اور ان فرشتوں کی خلقت کے مقابلے میں، جو ان عوامل میں ہیں کوئی زیادہ اہمیّت نہیں رکھتی، کیونکہ انسان کی خلقت کا مبداء مٹھی بھر چپکنے والی مٹی سے زیادہ نہیں ہے۔ "استفتھم" "استفتاء" کے مادہ سے نئی خبروں کے مطالبہ کے معنی میں ہے اور یہ جو نوجوان کو "فتٰی" کہا جاتا ہے وہ بھی اس کی روح و جسم کی تروتازگی کی بنا پر [بحوالہ: "روح المعانی" زیر بحث آیت کے ذیل میں]۔ یہ تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر وہ حقیقتاً اپنی خلقت کو آسمان اور فرشتوں کی خلقت سے زیادہ اہم اور زیادہ مستحکم سمجھتے ہیں تو یہ بالکل ایک نئی بات ہے جس کی سابق میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ "لازب" کا لفظ بعض کے قول کے مطابق اصل میں "لازم" تھا۔ اس کی "میم" "ب" سے بدل گئی ہے اور اب اسی شکل میں استعمال ہوتا ہے۔ بہرحال یہ ایسی مٹی کے معنی میں ہے جس کے اجزاء ایک دوسرے کے ساتھ لازم یعنی چپکے ہوئے ہیں۔ کیونکہ انسان کی خلقت کا پہلا یہ مبدا تو مٹی ہی ہے اس کے بعد اس میں پانی ملایا گیا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ اس نے بدبودار گارے کی صورت اختیار کی۔ اس کے بعد وہ چپکنے والا گارا بن گیا۔ (اس بیان کے ساتھ قرآنِ مجید کی آیات کی گوناگوں تعبیرات جمع ہوتی ہیں)۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: تو ان کے معاد کے بارے میں انکار سے تعجّب کرتا ہے، لیکن وہ تو معاد کا مذاق اڑاتے ہیں (بَلْ عَجِبْتَ وَیَسْخَرُونَ)۔ ان برائیوں کا عامل صرف لاعلمی اور جہالت نہیں ہے بلکہ ہٹ دھرمی اور عناد ہے۔ اس لیے جب انھیں یاددہانی کرائی جائے معاد کے دلائل اور خدائی عذاب کی یاددہانی تو وہ ہرگز متوجّہ نہیں ہوتے اور اسی طرح سے اپنی راہ پر چلتے رہتے ہیں (وَإِذا ذُکِّرُوا لا یَذْکُرُوْنَ)۔ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ: جب وہ تیرے معجزات میں سے کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو نہ صرف خود تمسخر اڑاتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی ٹھٹھا کرنے پر آمادہ کرتے ہیں (وَإِذا رَأَوْا آیَةً یَسْتَسْخِرُونَ)۔ اور وہ کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے اور کچھ نہیں (وَقالُوا إِنْ ہذا إِلاَّ سِحْرٌ مُبین)۔ ان کا معجزات اور آیاتِ الٰہی کو "ھذٰا" (یہ) کہنا اس لیے تھا تاکہ وہ انھیں حقیر اور بےقدر و قیمت ظاہر کریں اور انھیں "سحر" کہنا اس بناء پر تھا کہ ایک طرف تو پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خارق العادہ اعمال و افعال قابلِ انکار نہیں تھے اور دوسری طرف وہ ایک معجزہ کے طور پر ان کے سامنے سرِتسلیم خم کرنا نہیں چاہتے۔ تھے صرف ایک لفظ جو ان کی شیطنت کا اظہار اور ان کی ہوائے نفس کو پورا کر سکتا تھا وہ یہی لفظ سحر تھا جو اس حال میں بھی قرآن اور پیغمبر کے عجیب اور انتہائی زیادہ اثر کے بارے میں دشمن کے اعتراف کی نشاندہی کرتا ہے۔
چند اہم نکات: ۱۔ "یَسْتَسْخِرُون" کا مفہوم
مفسرین کی ایک جماعت کے نظریہ کے مطابق لفظ "یَسْتَسْخِرُون" "یسخرون" (تمسخر اڑاتے ہیں) کے معنی میں آیا ہے اور ان دونوں تعبیروں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے جبکہ بعض دوسرے ان دونوں کے درمیان مختلف معانی کے قائل ہیں وہ "یَسْتَسْخِرُون" کو اس مفہوم کی بنا پر جو باب استفعال میں پوشیدہ ہے، دوسروں کو تمسخر اڑانے کی دعوت دینے کے معنی میں سمجھتے ہیں جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ نہ صرف خود آیاتِ الٰہی کا مذاق اڑاتے ہیں بلکہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ دوسرے بھی یہ کام سرانجام دیں تا کہ یہ امر معاشرے میں مذاق ہی بن کر رہ جائے۔ بعض ان دونوں کے فرق کو زیادہ تاکید کے معنی میں سمجھتے ہیں جو لفظ "یَسْتَسْخِرُون" سے معلوم ہوتی ہے۔ بعض نے اس لفظ کو کسی چیز کے مذاق ہونے کا اعتقاد رکھنے کے معنی میں بیان کیا ہے۔ یعنی وہ شدید انحراف کے نتیجے میں حقیقتاً یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ یہ معجزات ایک مذاق سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے، لیکن دوسرا معنی سب سے زیادہ مناسب نظر آتا ہے۔
۲۔ اس آیت کی ایک شانِ نزول
بعض مفسرین نے زیرِ بحث آیت کی ایک شانِ نزول بھی بیان کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک مشرک سے جس کا نام "رکانہ" تھا اطرافِ مکّہ کے ایک پہاڑ پر تنہائی میں ملاقات ہوئی۔ باوجود اس کے کہ رکانہ مکّہ کے لوگوں میں سب سے زیادہ قوی اور طاقتور تھا، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے زمین پر پٹخ دیا تاکہ اس پر ظاہر کر دیں کہ آپ معجزے کی طاقت رکھتے ہیں کیونکہ عام حیثیت کے لحاظ سے حریف کی کامیابی مسلّم تھی۔ اس کے بعد آپ نے اپنے کچھ اور معجزات بھی اسے دکھائے کہ جو اس کی ہدایت کے لیے کافی تھے لیکن وہ نہ صرف یہ کہ ایمان نہیں لایا بلکہ مکّہ میں آیا اور چلاّ کر کہا: یا بنی ھاشم ساحروا بصاحبکم اھل الارض اے بنی ہاشم! تمہارا ساتھی جادُو میں اتنا قوی ہے کہ تم اس کے ذریعہ روئے زمین کے تمام جادوگروں کا مقابلہ کر سکتے ہو۔ زیرِ نظر آیات اس کے اور اس جیسے افراد کے بارے میں نازل ہوئیں [بحوالہ: تفسیر روح المعانی جلد ۲۲، ص ۷۱]۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: کیا ہم اور ہمارے آباء پھر زندہ ہو جائیں گے؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 6یہ آیات بھی اسی طرح منکرینِ معاد کی گفتگو اور ان کو دیے گئے جواب کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پہلی آیت منکرین کا معاد کو بعید جاننا اس طرح بیان کرتی ہے کہ وہ کہتے ہیں: کیا جب ہم مر گئے اور مٹی اور ہڈیاں ہو گئے تو دوبارہ اٹھائے جائیں گے؟ (اَ إِذا مِتْنا وَکُنَّا تُراباً وَعِظاماً اَ إِنَّا لَمَبْعُوثُون) [تشریحی نوٹ: یہ آیت ایک جملہ شرطیہ کی شکل میں ہے کہ جس کی شرط کو (أَ اذا مِتْنا ...) اور اس کی جزا محذوف ہے "أَ إِنَّا لَمَبْعُوثُون " اس پر قرینہ ہے کیونکہ یہ جملہ ادبی قواعد کی بناء پر جزاء واقع نہیں ہو سکتا]۔ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ کیا ہمارے گزشتہ آباؤ اجداد بھی اٹھائے جائیں گے (اَ وَآباؤُنَا الْاَوَّلُونَ)۔ وہی جن کے وجود سے مٹھی بھر بوسیدہ ہڈیوں یا بکھری ہوئی مٹی کے سوا کچھ باقی نہیں رہا۔ کون ہے ایسا جو ان بکھرے ہوئے اجزاء کو اکٹھا کر سکے اور انھیں لباسِ حیات پہنا سکے؟ لیکن یہ دل کے اندھے اس بات کو بھولے ہوئے ہیں کہ پہلے دن وہ سب کے سب خاک ہی تو تھے، وہ مٹی ہی سے پیدا کیے گئے تھے اگر انھیں خدا کی قُدرت میں شک ہے تو انھیں جاننا چاہیے کہ خدا نے انھیں ایک مرتبہ قُدرت دکھا دی اور اگر انھیں مٹی کی قابلیّت میں شک ہے تو اس کا ایک مرتبہ ثبوت مِل چکا، اس کے علاوہ آسمانوں اور زمین کی ایسی عظیم پیدائش، کسی کے لیے حق تعالیٰ کے بےپایاں قُدرت میں شک کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں چھوڑتی۔ قابلِ توجہّ بات یہ ہے کہ وہ انکار کے لیے اپنی گفتگو کو طرح طرح کی تاکیدوں کے ساتھ زوردار بناتے ہیں چونکہ جملہ "إِنَّا لَمَبْعُوثُون" "جملہ اسمیہ" بھی ہے اور "ان" اور "لام" جو دونوں ہی تاکید کے لیے آتے ہیں، اس میں استعمال ہوئے ہیں اور یہ سب ان کی جہالت اور ہٹ دھرمی کی بنا پر تھا۔ یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ اس آیت میں لفظ "تُراب" (خاک) "عظام" (ہڈیوں) سے پہلے بیان ہوا ہے۔ ممکن ہے یہ امر ان تین نکتوں میں سے کسی ایک کی طرف اشارہ ہو۔ ۱۔ یہ کہ اگرچہ انسان مرنے کے بعد پہلے ہڈیوں کی صُورت اختیار کرتا ہے اور پھر خاک کی صُورت۔ لیکن چونکہ خاک کا دوبارہ زندہ ہونا زیادہ عجیب ہے لہٰذا پہلے اسے بیان کیا گیا ہے۔ ۲۔ جب مردوں کا جسم بکھرتا ہے تو پہلے گوشت مٹی میں تبدیل ہوتا ہے اور ہڈیوں کے پہلو میں گِر پڑتا ہے اور اس بنا پر وہ خاک بھی ہوتا ہے اور ہڈیاں بھی۔ ۳۔ ممکن ہے "تراب" تو بہت پہلے کے مرے ہوئے آباؤ اجداد کے جسموں کی طرف اشارہ ہو اور "عظام" ان آباؤ اجداد کے بدنوں کی طرف اشارہ جو ابھی تک کامل طور سے مٹی نہیں ہوئے ہیں۔ اس کے بعد قرآن انھیں ٹھونک بجا کر جواب دیتا ہے اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہتا ہے، انہیں کہہ دو: ہاں! تم سبھی اور تمہارے سارے آباؤ اجداد بھی پھر زندہ کر کے اٹھائے جاؤ گے، اس حالت میں کہ تم سب کے سب ذلیل و خوار اور حقیر ہو گے (قُلْ نَعَمْ وَاَنْتُمْ داخِرُونَ) [تشریحی نوٹ: "داخر"، "دخر" (بروزن "فخر") اور "دخور" دونوں ہی ذلّت و حقارت کے معنی میں ہیں۔ درحقیقت زیر بحث آیت کا ایک جملہ مقدر ہے کہ اصلی جواب وہی تھا اور اس پر کچھ اضافہ ہے تاکہ بات میں کچھ زیادہ زور پیدا ہو جائے۔ تقدیر اس طرح تھی]۔ کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ تمہارا اور تمہارے سارے گزشتہ آباؤ اجداد کا زندہ کرنا قادر و توانا خدا کے لیے کچھ مشکل کام ہے اور کچھ بہت ہی سخت عمل ہے؟ نہیں، صرف ایک ہی صیحہ اور عظیم آواز خدا کے مامور کی طرف سے بلند کی جائے گی تو اچانک سب سے سب قبروں سے اُٹھ کھڑے ہوں گے اور زندہ ہو جائیں گے اور خود اپنی آنکھوں سے محشر کا منظر دیکھیں گے جس کی اس دن تک تکذیب کیا کرتے تھے (فَإِنَّما هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ فَإِذا هُمْ یَنْظُرُونَ)۔ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں "زجرة" "زجر" کے مادہ سے کبھی نکالنے، دھکا دینے اور بھگان کے معنی میں آتا ہے اور کبھی آواز کے ساتھ پکارنے کے معنی میں۔ یہاں دوسرا معنی مراد ہے اور یہ اسرافیل کے دوسرے نفخ صور اور دوسری چیخ کے معنی میں ہے جس کی تشریح انشاء اللہ سورہ "زمر" کی آیات کے ذیل میں کی جائے گی۔ لفظ "ینظرون" (وہ دیکھیں گے) ان کی میدانِ محشر میں حیران و پریشان ہو کر دیکھنے یا عذاب کا نتظار کرتے ہوئے دیکھنے کی طرف اشارہ ہے اور ہر دو صورت میں مطلب یہ ہے کہ نہ صرف وہ زندہ ہی ہوں گے بلکہ اپنے ادراک اور بصارت کو بھی اس ایک صحیہ کے ساتھ ہی واپس پا لیں گے۔ "زَجْرَةٌ واحِدَةٌ" کی تعبیر ان دونوں الفاظ کے مفہوم کی طرف توجہّ کرتے ہوئے، قیامت کے تیزی کے ساتھ اچانک آنے اور اس کے خدا کی قُدرت کے سامنے بالکل آسان ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ قیامت کے فرشتے کی ایک ہی تحکم آمیز چیخ کے ساتھ ہر چیز اپنے راستے پر چل پڑے گی۔ اس موقع پر ان مغرور و سرکش مشرکین کی چیخ و پکار بلند ہو گی جو اُن کی بدحالی اور بےچارگی کی نشانی ہے اور وہ کہیں گے: وائے ہو ہم پر، یہ تو یومِ جزا ہے (وَقالُوا یا وَیْلَنا هذا یَوْمُ الدِّینِ)۔ ہاں! جس وقت ان کی نگاہیں عدالتِ الٰہی، اس عدالت کے گواہوں اور فیصلہ کرنے والوں اور عذاب کی نشانیوں اور علامات پر پڑیں گی تو بےاختیار نالہ و فریاد کریں گے اور اپنے پورے وجود کے ساتھ قیامت کی حقانیّت کا اعتراف کر لیں گے، لیکن ایسا اعتراف ان کی کسی مشکل کو حل نہیں کر سکے گا اور نہ ہی ان کے عذاب و سزا میں معمولی سی بھی کمی ہو سکے گی۔ اس موقع پر خدا یا ملائکہ کی طرف سے خطاب ہو گا: ہاں! آج وہی جدائی کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ حق کی باطل سے جدائی، بدکاروں کی صفوں کی نیکوکاروں سے علیحدگی اور پروردگارِ بزرگ و برتر کے فیصلے اور عدالت کا دن (هذا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذی کُنْتُمْ بِهِ تُکَذِّبُون)۔ اس کی نظیر قرآن کی دوسری آیات میں بھی نظر آتی ہے جن میں قیامت کے دن کو یوم الفصل یا جدائی کے دن سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کتنی عجیب، منہ بولتی اور وحشتناک تعبیر ہے؟ [بحوالہ: دخان ۴۰، مرسلات ۱۳، ۱۴، ۳۸ اور نبأ ۱۷]۔ قابلِ توجہّ بات یہ ہے کہ جب کفّار قیامت میں اس دن کے بارے میں بات کریں گے تو اسے روزِ جزاء سے تعبیر کریں گے (یا وَیْلَنا هذا یَوْمُ الدِّین) لیکن خدا یوم الفصل کے نام کے ساتھ اس کا ذکر کرتا ہے (هذا یَوْمُ الْفَصْل)۔ ممکن ہے تعبیر کا یہ فرق اس لحاظ سے ہو کہ مجرمین تو صرف اپنی سزا اور عذاب کے بارے میں سوچتے ہیں لیکن خدا ایک زیادہ وسیع معنی کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کی اقسام میں سے ایک سزا و عذاب کا مسئلہ بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ قیامت کا دن جدائیوں کا دن ہے۔ ہاں! بدکاروں کی صفوں کی نیکوکاروں سے جدائی۔ جیسا کہ سورہٴ یٰس کی آیہ ۵۹ میں بیان کیا گیا ہے۔ وَامْتازُوا الْیَوْمَ اَیُّهَا الْمُجْرِمُون اے مجرمو! تم دوسروں سے الگ ہو جاؤ۔ کیونکہ یہ دارِ دنیا نہیں ہے، جس میں بدکار لوگ خود کو بندگانِ خدا کی صف میں قرار دیں اور کتنا دردناک ہے کہ وہ یہ مشاہدہ کریں گے کہ ان کے بایمان دوست و احباب، تعلق دار اور آل و اولاد سے جدا ہو کر جنت کی طرف روانہ ہو جائیں گے۔ علاوہ ازیں وہ دن حق کی باطل سے جدائی کا دن ہے۔ اس روز سچّے اور جھوٹے طرز ِعمل، مخالف عقیدے اور مختلف مکاتبِ فکر عالم دنیا کی طرح ایک دوسرے سے ملے ہوئے نہیں ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک کو اپنی اپنی جگہ ملے گی۔ ان سب چیزوں سے قطع نظر وہ دن، روزِ فصل کے دن کے معنی میں ہے یعنی عالم و عادل خُدا اپنے بندوں کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت انتہائی منصفانہ حکم صادر فرمائے گا اور یہ موقع ہو گا کہ مشرکین کے لیے ہر طرف کی رسوائی فراہم ہو گی۔ المختصر اس دنیا کی طبیعت و مزاج و باطل کی آمیزش ہے جبکہ قیامت کی طبیعت و مزاج ان دونوں کی ایک دوسرے سے جدائی ہے۔ اسی بنا پر قرآنِ مجید میں قیامت کا ایک نام جس کا بارہا تکرار ہوا ہے۔ "یوم الفصل" ہے اصولی طور پر وہ دن جس میں تمام چھپی ہوئی باتیں ظاہر ہو جائیں گی۔ وہاں مختلف صفوں میں موجود لوگوں کی جدائی یقینی امر ہے۔ اس کے بعد خدا ان فرشتوں کو جو مجرموں کو دوزخ کی طرف چلانے پر مامور ہیں حکم دے گا: ظالموں اور ان کے مانند کام کرنے والوں کو اور جن کی وہ پرستش کیا کرتے تھے سب کو جمع کر دو (احْشُرُوا الَّذینَ ظَلَمُوا وَاَزْواجَهُمْ وَما کانُوا یَعْبُدُونَ)۔ ہاں! جن کی وہ خدا کے سوا پرستش کیا کرتے تھے انھیں چلتا کرو اور دوزخ کا راستہ دکھاؤ (مِنْ دُونِ اللہِ فَاهْدُوهُمْ إِلی صِراطِ الْجَحیمِ)۔ "احْشُرُوا" "حشر" کے مادہ سے ہے اور مفرادت میں راغب کے قول کے مطابق کسی گروہ کو اس کے مقام سے نکلنے اور انھیں میدانِ جنگ یا اسی قسم کی جگہ کی طرف روانہ کرنے کے معنی میں ہے۔ یہ لفظ بہت سے مقامات پر جمع کرنے کے معنی میں بھی آیا ہے۔ بہرحال یہ گفتگو یا تو خدا کی طرف سے ہے یا فرشتوں کے ایک گروہ کی دوسرے گروہ سے ہے جو اکٹھا کرنے اور مجرموں کو دوزخ کی طرف چلانے پر مامور ہیں اور نتیجہ ایک ہی ہے۔ "ازواج" یہاں یا تو ان کی مجرم و بُت پرست بیویوں کی طرف اشارہ ہے یا ان کے ہم فکر و ہم کار و ہم شکل لوگوں کی طرف اشارہ ہے کیونکہ یہ لفظ دونوں معنی کے لیے آیا ہے، جیسا کہ سُور ہ واقعہ کی آیہ ۷ میں بیان ہوا ہے: وکنتم ازواجاً ثلاثة تم قیامت کے دن تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے۔ اس بنا پر مشرک مشرکوں کے ساتھ، بدکار و سیاہ دل اپنے جیسے بدکاروں اور سیاہ دلوں کے ساتھ اپنی اپنی صفوں میں جہنم کی طرف دھکیلے جائیں گے۔ یا اس سے وہ شیاطین مراد ہیں جو ان کے ہم شکل و ہم عمل تھے۔ اس کے باوجود یہ تینوں معانی ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں اور ہو سکتا ہے کہ آیت کے مفہوم میں تینوں جمع ہوں۔ "ما کانُوا یَعْبُدُونَ" مشرکین کے معبودں کی طرف اشارہ ہے۔ چاہے وہ بُت اور شیاطین ہوں یا فرعون و نمرود جیسے ظالم و جابر انسان ہوں اور "ما کانُوا یَعْبُدُونَ" (وہ چیزیں جن کی وہ عبادت کرتے تھے) کی تعبیر ہو سکتا ہے اس بنا پر ہو کہ ان کے معبود زیادہ تر بےجان اور غیر ذوی العقول موجودات ہی تھے اور یہ تعبیر اصطلاح کے مطابق "تغلیب" کے لیے ہے۔ "جحیم" دوزخ کے معنی میں "جحمہ" (بروزن "ضربہ") کے مادہ سے "آگ بھڑکنے کی شدت" کے معنی سے لیا گیا ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ قرآن کہتا ہے: انھیں "صراطِ جحیم" کی طرف ہدایت کرو۔ کتنی عجیب عبارت ہے؟ اور دن انھیں"صراطِ مستقیم" کی ہدایت کی گئی۔ لیکن انھوں نے اسے قبول نہ کیا تو آج ان کی صراط جحیم کی طرف راہنمائی ہونا چاہیے اور وہ مجبور ہیں کہ اسے قبول کریں، یہ ایک ایسی گراں بار سرزنش ہے جو ان کی روح کی گہرائیوں کو جلا دے گی۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: دوزخ میں گمراہ پیشواؤں اور پیروکاروں کی گفتگو
Tafsīr Nemūna · Vol. 6جیسا کہ ہم گزشتہ آیات میں جان چکے ہیں کہ عذاب کے فرشتے ظالموں اور ان کے ہم خیالوں کو بتوں اور جھوٹے معبودوں کے ہمراہ اکٹھے چلتا کریں گے اور انھیں جہنم کی راہ پر ڈال دیں گے۔ اس بات کو جاری رکھتے ہوئے قرآن کہتا ہے: اس موقع پر خطاب ہو گا، "انھیں روکو" ابھی ان سے پوچھ گچھ ہونا ہے (وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْؤُلُون) [تشریحی نوٹ: "وَقِفُوهُمْ" وقف کے مادہ سے کبھی متعدی معنی میں استعمال ہوتا ہے (روک لینا اور بند کرنا) اور کبھی لازم کے معنی میں (رُکنا اور کھڑا ہو جانا) پہلے کا مصوّر "وقف" اور دوسرے کا "وقوف" ہے]۔ ہاں! انھیں روک کر مختلف سوالات کا جواب دینا ہے۔ لیکن ان سے کس چیز کے بارے میں سوال ہو گا؟ بعض نے تو کہا ہے کہ ان بدعتوں کے بارے میں جو انھوں نے قائم کی تھیں۔ بعض نے کہا ہے کہ ان کے بُرے اعمال اور خطاؤں کے بارے میں۔ بعض نے مزید کہا ہے کہ توحید اور لا الہ الا اللہ کے بارے میں۔ بعض نے کہا نعمتوں، جوانی، تندرستی، عمر، مال اور اسی قسم کی چیزوں کے بارے میں۔ ایک مشہور و معروف روایت میں جو سُنی و شیعہ طرق سے منقول ہے، یہ کہا گیا ہے کہ: علی علیہ السلام کی ولایت کے بارے میں سوال ہو گا [تشریحی نوٹ: اس روایت کو "صواعق" میں ابو سعید خدری کے واسطے سے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اور اسی طرح حاکم ابو القاسم حسکانی نے "شواہد التنزیل" میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے۔ عیون اخبار الرضا میں بھی یہ روایت امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے]۔ البتہ یہ تفاسیر ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں کیونکہ اس دن ہر چیز کے بارے میں سوال ہو گا۔ عقائد، توحید، ولایتِ علی علیہ السلام گفتار و کردار اور ان نعمتوں کے بارے میں جو خدا نے انسان کو عطا فرمائی ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انھیں پہلے دوزخ کی طرف کیوں چلتا کریں گے اور پھر انہیں پوچھ گچھ کے لیے کیوں ٹھہرائیں گے؟ کیا بازپرس اس کام سے پہلے نہیں ہونی چاہیے؟ اس سوال کا دو طرح سے جواب دیا جا سکتا ہے: پہلا یہ کہ اس گروہ کا جہنمی ہونا تو سب پر واضح ہے یہاں تک کہ خود ان پر بھی اور پُوچھ گچھ اس بنا پر ہو گی تاکہ ان کے جُرم کی کیفیت و کمیت ان پر واضح کر دی جائے۔ دوسرا یہ کہ سوالات فیصلہ اور انصاف کرنے کے لیے نہیں ہوں گے بلکہ یہ ایک طرح کی سرزنش اور روحانی سزا ہے۔ البتہ یہ سب کچھ اس صورت میں ہے کہ جو کچھ ہم نے کہا ہے، سوالات ان سے مربوط ہوں لیکن اگر وہ بعد والی آیت کے ساتھ مربوط ہوں کہ ان سے یہ سوال ہو گا "تم ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے"؟ تو اس صورت میں اس آیت میں کوئی مشکل باقی نہیں رہتی لیکن یہ تفسیر ان متعدد روایات کے ساتھ جو اس بارے میں وارد ہوئی ہیں۔ ہم آہنگ نہیں ہے۔ مگر یہ کہ یہ سوال بھی ان مختلف سوالات کا ایک جزء ہو جن سے یہ صُورت اختیار کرتا ہے۔ (غور کیجیے گا) بہرحال جس وقت یہ بےبس دوزخی جہنم کی راہ پر چلتا کیے جائیں گے ان کا ہاتھ ہر طرف سے بےبس ہو جائے گا، انھیں کہا جائے گا: دنیا میں تو تم مشکلات کے وقت ایک دوسرے کی پناہ لیتے تھے اور دوسرے سے مدد طلب کرتے تھے "اب یہاں ایک دوسرے سے مدد کیوں نہیں مانگتے" (ما لَکُمْ لا تَناصَرُونَ)۔ ہاں! تم دنیا میں جتنے سہارے اپنے لیے خیال کرتے تھے یہاں وہ سب ختم ہو گئے۔ تم ایک دوسرے سے مدد لے سکتے ہو نہ ہی تمہارے معبود تمہاری مدد کو آ سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ تو خود بےبس اور گرفتار ہوں گے۔ کہتے ہیں کہ ابو جہل نے بدر کے دن کہا تھا: نحن جمیع منتصر ہم سارے ایک دوسرے کی مدد سے مسلمانوں پر کامیاب ہوں گے۔ قرآنِ مجید نے اس کی گفتگو سورہ قمر کی آیہ ۴۴ میں بیان کی ہے۔ اَمْ یَقُولُونَ نَحْنُ جَمیعٌ مُنْتَصِرٌ لیکن قیامت میں ابوجہل اور اس کے ہم صفت لوگوں سے پوچھا جائے گا کہ اب تم ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے؟ لیکن ان کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہو گا اور رسوا کن سکوت کے سوا کچھ نہ کر سکیں گے۔ بعد والی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے: بلکہ وہ تو اس دن خضوع و خشوع کے ساتھ سرتسلیم خم کیے ہوں گے اور مخالفت تو کجا ان میں اظہارِ وجوہ کی بھی سکت نہ ہو گی (بَلْ هُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُونَ) [تشریحی نوٹ: "استسلام" "سلامت" کے مادہ سے باب "استفعال" کے تقاضے کے مطابق سلامتی طلب کرنے کے معنی میں ہے جو عام طور پر ایک عظیم قُدرت کے سامنے ہوتے وقت سرِتسلیم خم کی کیفیت کے ساتھ ہوتا ہے]۔ اس موقع پر وہ ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہنا شروع کر دیں گے اور ہر ایک اپنا گناہ دوسرے کی گردن میں ڈالنے کے لیے بضد ہو گا۔ پیروی کرنے والے اپنے پیشواؤں اور سربراہوں کو قصوروار ٹھہرائیں گے اور پیشوا اپنے پیروکاروں کو جیسا کہ بعد والی آیت میں فرمایا گیا ہے: وہ ایک دوسرے کی طرف رُخ کریں گے اور ایک دوسرے سے سوال کریں گے (وَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلی بَعْضٍ یَتَساء َلُونَ)۔ گمراہ پیروکار اپنے گمراہ کرنے والے پیشواؤں سے "کہیں گے: تم شیطان صفت نصیحت، خیرخواہی اور ہمدردی کے نام پر اور ہدایت و رہنمائی کے بہانے ہمارے پاس آتے تھے، لیکن تمہارے کام میں مکر و فریب کے سوا اور کچھ نہیں تھا (قالُوا إِنَّکُمْ کُنْتُمْ تَأْتُونَنا عَنِ الْیَمین)۔ ہم تو فطرت کے تقاضے کے مطابق نیکی، پاکیزگی اور سعادت کے طالب تھے لہذا ہم نے تمہاری دعوت پر لبیّک کہا، ہمیں خبر نہ تھی کہ اس خیرخواہی کے چہرے کے پیچھے شیطان صفت چہرہ چھپا ہوا ہے، جو ہمیں بدبختی کے گڑھے میں گرا دے گا۔ ہاں! ہمارے سارے کے سارے گناہ تمہاری ہی گردن پر ہیں۔ ہمار تو حسنِ نیّت اور پاک دلی کے سوا کوئی جذبہ نہ تھا اور تم شیطان صفت جھوٹوں کے پاس بھی مکر و فریب کے سوا کچھ نہ تھا۔ "یمین" کا لفظ "جو دایاں ہاتھ" یا "دائیں سمت" کے معنی میں عربوں میں بعض اوقات خیر و برکت اور نصیحت کے لیے کنائے کے طور پر بولا جاتا ہے اور اصولی طور پر عربوں کو جو کچھ دائیں طرف سے آتا تھا سے "نیک فال" سمجھتے تھے۔ اسی لیے بہت سے مفسرین نے "کنتم تأ توننا عن الیمین" کا معنی خیرخواہی اور نصیحت کا اظہار لیا ہے۔ بہرحال یہ ایک عمومی رواج ہے کہ دائیں عضو اور دائیں طرف کو محترم اور بائیں کو غیرمحترم خیال کرتے ہیں اور یہی سبب ہے کہ "یمین" نیکیوں اور خیرات کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ کچھ مفسرین نے یہاں ایک دوسری تفسیر بھی بیان کی ہے، انھوں نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تم طاقت اور اقتدار کے بل بوتے پر ہمارے پاس آتے تھے کیونکہ دائیں سمت عام طور پر زیادہ قوی ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے اکثر لوگ اہم کام دائیں ہاتھ سے ہی انجام دیتے ہیں اس لیے یہ تعبیر "طاقت" کے لیے کنائے کے طور پر آئی ہے۔ دوسری تفسیریں بھی بیان کی گئی ہیں جو مذکورہ بالا دونوں تفسیروں کی طرف ہی لوٹتی ہیں۔ لیکن بِلاشک و شبہ پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ بہرحال ان کے پیشوا بھی خاموش نہیں رہیں گے اور جواب میں "کہیں گے تم تو خود ہی اہلِ ایمان نہیں تھے" (قالُوا بَلْ لَمْ تَکُونُوا مُؤْمِنین)۔ اگر تمہارا مزاج آمادہ انحراف نہ ہوتا، اگر تم خود ہی شر و شیطنت کے طالب نہ ہوتے تو ہمارے پاس کہاں آتے؟ تم نے انبیاء اور نیک و پاک لوگوں کی دعوت کو قبول کیوں نہ کیا؟ ہمارے ایک ہی اشارے پر تم سر کے بل کیوں دوڑ پڑے؟ پس معلوم ہوتا ہے کہ خود تمہیں میں عیب تھا۔ جاؤ اور خود اپنے آپ کو ملامت کرو اور جو طعن کرنا چاہتے ہو خود کو کرو۔ ہماری دلیل واضح ہے "ہم کسی قسم کا تسلّط تم پر نہیں رکھتے تھے اور ہم نے تم پر کوئی جبر اور زبردستی نہیں کی تھی (وَما کانَ لَنا عَلَیْکُمْ مِنْ سُلْطانٍ)۔ "بلکہ تم خود ہی ایک سرکش اور حد سے بڑھنے والی قوم تھے اور تمہاری ستمگری کی عادت تمہاری بدبختی کا سبب بنی (بَلْ کُنْتُمْ قَوْماً طاغِینَ)۔ کتنی دردناک ہے یہ بات کہ انسان یہ دیکھے کہ اس کا وہ رہبر و پیشوا جس کا وہ ایک عمر تک دل سے عقیدت مند رہا تھا، اس نے اس کی بدبختی کے اسباب فراہم کیے ہیں، اس کے بعد اس طرح سے اس سے بیزاری اختیار کر رہا ہے اور تمام گناہ اس کی گردن پر ڈال رہا ہے اور خود کو بالکل بری الذمہّ قرار دے رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں گروہ ایک جہت سے سچ کہہ رہے ہوں گے نہ تو یہ بےگناہ ہیں اور نہ ہی وہ، ان کی طرف سے گمراہ کرنا اور شیطنت تھی اور ان کی طرف سے گمراہی کو اپنانا اور تسلیم کرنا تھا۔ لہذا ان باتوں کا کوئی فائدہ نہ ہو گا اور آخر کار یہ پیشوا اس حقیقت کا اعتراف کر لیں گے اور کہیں گے: "اسی بنا پر، ہمارے پروردگار کا فرمان ہم سب پر لاگو ہو گیا ہے اور عذاب کا حکم سبھی کے لیے صادر ہو گیا ہے اور ہم سب اس کے عذاب کا مزہ چکھیں گے" (فَحَقَّ عَلَیْنا قَوْلُ رَبِّنا إِنَّا لَذائِقُونَ)۔ تم سب کے سب سرکش تھے اور سرکشوں کا نجام یہی ہے اور بھی گمراہ اور گمراہ کرنے والے تھے۔ ہم نے تمہیں بھی گمراہ کیا ہے اور ہم تو خود گمراہ تھے ہی (فَاَغْوَیْناکُمْ إِنَّا کُنَّاغاوِینَ)۔ اس بنا پر اس میں تعجب کی کون سی بات ہے کہ ہم سب کے سب ان مصیبتوں اور عذاب میں شریک رہیں؟
چند اہم نکات: ۱۔ ولایتِ علی (ع) کے بار ے میں بھی سوال ہو گا
جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے شیعہ اور اہلِ سنت کی کتابوں میں آیہ " وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْؤُلُونَ" کی تفسیر کے بارے میں ایسی متعدد روایات وارد ہوئی ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اس دن مجرموں سے جو سوال پوچھے جائیں گے ان میں سے ایک (اہم سوال) امیر المومنین علی علیہ السلام کی ولایت کے بارے میں ہو گا۔ شیخ طوسی اپنی کتاب "امالی" میں انس بن مالک کے واسطے سے پیغمبر گرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کرتے ہیں: إذا كان يوم القيامة ونصب الصراط على جهنّم لم يجز عليه الا من معه جواز فيه ولاية على بن ابى طالب، وذلك قوله تعالى: وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْؤُلُونَ يعنى عن ولاية على بن ابى طالب (ع). جب روزِ قیامت ہو گا اور صراطِ جہنم کے اوپر نصب کر دی جائے گی تو اس کے اوپر سے کوئی بھی عبور نہ کر سکے گا سوائے اس شخص کے جس کے ہاتھ میں ایسا پروانہ ہو کہ جس میں ولایتِ علی ابن ابی طالب علیہ السلام ثبت ہو اور یہی وہ چیز ہے جس کے بارے میں خدا نے فرمایا ہے: "وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْؤُلُونَ" [بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ۴، ص ۴۰۱]۔ اہل سنت کی بھی بہت سی کتابوں میں اس آیت کی یہ تفسیر موجود ہے کہ علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ولایت کے بارے میں سوال ہو گا ابنِ عباس اور ابو سعید خدری کے واسطے سے پیغمبر گرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ روایات نقل ہوئی ہیں۔ اہلِ سنت کے جن حضرات نے اس حدیث کو نقل کیا ہے ان میں سے کچھ علماء یہ ہیں: ابنِ حجر میثمی، صواعق محرقہ میں۔ (ص - ۱۴۷) عبدا لرزاق حنبلی (کشف الغمہ)، ص ۹۲ پر ان کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے۔ علامہّ سبط ابن جوزی، تذکرہ (ص ۲۱) میں۔ آلوسی، روح المعانی میں، زیرِ بحث آیہ کے ذیل میں۔ ابو نعیم اصفہانی (کفایتہ الخصاص ۳۶۰ کے مطابق) [بحوالہ: اس بارے میں مزید معلومات کے لیے، بہترین کتاب "احقاق الحق" جلد ۳ (طبع جدید) ص ۱۰۴ اور المراجعات ص ۵۸ (مراجعہ ۱۲) کی طرف رجوع فرمائیں]۔ البتہ جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے، اس قسم کی روایات آیات کے وسیع مفہوم کو محدود نہیں کرتیں بلکہ حقیقت میں آیات کے واضح مصداق کو بیان کرتی ہیں۔ اس بنا پر کوئی امر مانع نہیں ہے کہ سوال تو تمام عقائد کے بارے میں ہی ہو لیکن چونکہ عقائد کی بحث میں ولایت کا مسئلہ ایک خاص اہمیّت رکھتا ہے لہذا اسے خاص طور پر بیان کیا گیا ہے۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ ولایت ایک عام دوستی یا خشک اعتقاد کے معنی میں نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد پیغمبرِ گرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اعتقادی، عملی اخلاق اور اجتماعی مسائل میں علی علیہ السلا م کی رہبری اور امامت کو قبول کرنا ہے۔ وہ مسائل جن کے نمونے نہج البلاغہ کے فصیح و بلیغ خطبوں اور آپ علیہ السلام سے منقول کلمات و ارشادات میں بیان ہوئے ہیں۔ وہ ایسے مسائل ہیں جن پر ایمان لانا اور ان کے مطابق عمل کرنا، دوزخیوں کی صف سے نکلنے اور پروردگار کی صراطِ مستقیم میں قرار پانے کا ایک موثر ذریعہ ہیں۔
۲۔ گمراہ پیشوا اور پیروکار
ان آیات میں اور قرآنِ مجید کی دوسری آیات میں قیامت کے دن یا جہنم میں گمراہ پیشواؤں اور پیروکاروں کے آپس میں جھگڑنے کے بارے میں کچھ معنی خیز اشارے کیے گئے ہیں۔ یہ ان تمام لوگوں کے لیے جو اپنی عقل اور دین کو گمراہ رہبروں کے اختیار میں دے دیتے ہیں ایک سبق آموز تنبیہ ہے۔ اس دن اگرچہ ہر شخص یہی کوشش کرے گا کہ دوسرے سے براءت کرے، یہاں تک کہ اپنا گناہ بھی دوسرے ہی کی گردن پر ڈال دے لیکن اس کے باوجود کوئی بھی اپنی بےگناہی ثابت نہ کر سکے گا۔ زیرِ بحث آیات میں ہم نے دیکھا ہے کہ گمراہ کرنے والے پیشوا اپنے تابعین کو صراحت کے ساتھ کہیں گے کہ تم پر ہمارے اثر کا اصل سبب خود تمہاری سرکشی ہی تھی (بَلْ كُنْتُمْ قَوْماً طاغِينَ)۔ اس سرکشی ہی نے ہماری طرف سے گمراہ کرنے کا میدان ہموار کیا اور اسی سے وہ انحرافات جو ہم میں پائے جاتے تھے تمہاری طرف منتقل کرنے پر ہم قادر ہوئے (فَأَغْوَيْناكُمْ إِنَّا كُنَّا غاوِينَ)۔ "اغوا" "غی" کے مادہ سے ہے۔ اس کے دقیق معنی پر غور کیا جائے تو مطلب اور بھی زیادہ واضح و روشن ہو جاتا ہے کیونکہ "غی" "مفردات" میں "راغب"کے قول کے مطابق اس جہالت کے معنی میں ہے، جس کا سرچشمہ فاسد عقیدہ ہو۔ یہ گمراہ پیشوا عالمِ ہستی اور زندگی کے حقائق سے بےخبر رہ گئے اور اس جہالت اور اعتقادِ فاسد کو اپنے پیروکاروں میں منتقل کر دیا جو فرمانِ خدا کے مقابلے میں پہلے ہی سرکش کیے ہوئے تھے۔ اسی بنا پر وہاں یہ اعتراف کریں گے کہ وہ خود بھی عذاب کے مستحق اور ان کے پیروکار بھی (فَحَقَّ عَلَيْنا قَوْلُ رَبِّنا إِنَّا لَذائِقُونَ)۔ لفظ "رب" کا خاص طور پر ذکر کرنا پُرمعنی ہے، یعنی انسان کا معاملہ اس حد تک پہنچ جائے گا کہ وہ خدا جو اس کا مالک و مربیّ ہے اور جو اس کی بھلائی اور نیکی کے سوا اور کچھ نہیں چاہتا، اسے اپنے دردناک عذاب کا مستحق قرار دے دے گا اور یقیناً یہ بھی اس کی ربوبیّت کی ایک شان ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: گمراہ پیشواؤں اور ان کے پیروکاروں کا انجام
Tafsīr Nemūna · Vol. 6قیامت کے دن جہنم کے پاس گمراہ پیروکاروں اور پیشواؤں کے جھگڑا کرنے کے بیان کے بعد۔ اب زیرِ بحث آیات میں دونوں گروہوں کا انجام ایک ہی جگہ بیان کیا گیا ہے۔ نیز ان کی بدبختی کے عوامل کو تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا۔ ان میں گویا مرض کا بیان بھی ہے اور علاج کا ذکر بھی۔ پہلے فرمایا گیا ہے: وہ سب کے سب، پیرو اور پیشوا، اس دن عذابِ الٰہی میں مشترک ہوں گے (فَإِنَّهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْعَذابِ مُشْتَرِكُونَ)۔ البتہ ان کا عذاب میں مشترک ہونا، دوزخ اور عذابِ الٰہی میں ان کے مختلف درجات میں مانع نہیں ہے۔ کیونکہ یقینی طور پر ایسا شخص جو ہزارہا انسانوں کی گمراہی اور انحراف کا سبب بنا ہے ہرگز سزا اور عذاب میں ایک عام گمراہ فرد کے برابر نہیں ہو گا۔ یہ آیت حقیقت میں سورہ مومن کی آیہ ۴۸ کے مانند ہے کہ جس کے مطابق مستکبرین کمزور عقیدہ لوگوں کے ساتھ لڑنے جھگڑنے کے بعد کہیں گے: قالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا إِنَّا كُلٌّ فِيها إِنَّ اللهَ قَدْ حَكَمَ بَيْنَ الْعِبادِ اب تو ہم سب ہی دوزخ میں ہیں کیونکہ خدا نے اپنے بندوں کے درمیان عادلانہ فیصلہ کر دیا ہے۔ اور یہ بات سورہٴ عنکبوت کی آیہ ۱۳ سے کوئی اختلاف نہیں رکھتی جس میں فرمایا گیا ہے: وَ لَيَحْمِلُنَّ أَثْقالَهُمْ وَ أَثْقالًا مَعَ أَثْقالِهِم وہ قیامت کے دن اپنا سنگین بوجھ بھی اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوں گے اور ان کے اپنے سنگین بار پر دوسروں کے بار کا بھی اضافہ ہو گا۔ جو دوسروں کو گمراہ کرنے اور گناہ کی طرف مائل کرنے اور بدعت کی بنیاد رکھنے کے نتیجہ میں حاصل ہوا ہے۔ اس کے بعد مزید تاکید کے لیے قرآن فرماتا ہے: ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا کرتے ہیں (إِنَّا کَذلِکَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِینَ)۔ یہ ہماری ہمیشہ کی سنت ہے، وہ سنت جو قانونِ عدالت سے پیدا ہوئی ہے۔ اس کے بعد ان کی بدبختی کی اصل بنیاد کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: وہ ایسے تھے کہ جب کلمہ توحید اور لا الہٰ الا اللہ ان سے کہا جاتا تھا تو وہ تکبر و استکبار کرتے تھے (إِنَّهُمْ كانُوا إِذا قِيلَ لَهُمْ لا إِلهَ إِلَّا اللهُ يَسْتَكْبِرُونَ)۔ ہاں! ان کے تمام انحرافات کی اصل جڑ بنیاد، تکبّر اور خود کو برتر سمجھنا، حق کو قبول نہ کرنا، غلط طریقوں اور باطل کی پیروی پر اصرار اور ہٹ دھرمی کرنا اور اس کے علاوہ تمام چیزوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنا تھا۔ روحِ استکبار کا مدّمقابل حق کے سامنے انکساری اور سرتسلیم خم کرنا ہی ہے اور حقیقتاً اسلام یہی ہے اور بس۔ وہ استکبار بدبختی کا باعث ہے اور یہ خضوع و تسلیم، سعادت کا موجب ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ قرآن کی بعض آیات میں، عذابِ الٰہی استکبار کے ساتھ مربوط بیان ہوا ہے، جیسا کہ سورہ احقاف کی آیہ ۲۰ میں ہے: فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذابَ الْهُونِ بِما کُنْتُمْ تَسْتَکْبِرُونَ فِی الْأرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ آج کے دن ذلیل کرنے والا عذاب تمہاری جزا ہے، کیونکہ تم زمین میں ناحق استکبار کیا کرتے تھے۔ جبکہ وہ اپنے اس عظیم گناہ کے لیے بدتر از گناہ عذر پیش کیا کرتے تھے اور ہمیشہ یہی کہتے تھے: کیا ہم اپنے خداؤں اور بتوں کو ایک دیوانے شاعر کے لیے چھوڑ دیں؟ (وَیَقُولُونَ أَ إِنَّا لَتارِکُوا آلِهَتِنا لِشاعِرٍ مَجْنُون)۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس لیے شاعر کہتے تھے کہ آپ کی باتیں اس طرح دلوں پر اثر کرتی تھیں اور انسانوں کی توجہ کو اپنی طرف کھینچ لیتی تھیں کہ جیسے آپ بہترین اشعار پڑھ رہے ہوں۔ حالانکہ آپ کی باتیں بالکل شعر نہیں تھیں اور انھیں مجنون اس لیے کہتے تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ماحول کا کوئی اثر قبول نہیں کرتے تھے اور وہ ہٹ دھرم متعصّب لوگوں کے بیہودہ عقائد کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے تھے۔ یہ ایسا کام تھا جو گمراہ عوام کی نگاہ میں ایک قسم کی جنون آمیز خودکشی تھی۔ حالانکہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عظیم افتخار یہی ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان حالات کے سامنے نہیں جھکے۔ اس کے بعد قرآن ان بےبنیاد باتوں کی نفی کرنے اور پیغمبرِ اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت اور مقامِ وحی کا دفاع کرنے کے لیے مزید کہتا ہے: ایسا نہیں ہے وہ تو حق لے کر آیا ہے اور اس نے گزشتہ پیغمبروں کی تصدیق کی ہے (بَلْ جاء َ بِالْحَقِّ وَصَدَّقَ الْمُرْسَلینَ)۔ ایک طرف تو اس کی گفتگو کے مطالب اور دوسری طرف اس کی انبیاء کی دعوت کے ساتھ ہم آہنگی اس کی گفتگو کی صداقت کی دلیل ہے۔ لیکن اے دل کے اندھے مستکبر اور بدزبان گمراہو! تم یقینی طور پر خدا کا دردناک عذاب چکھو گے (إِنَّکُمْ لَذائِقُوا الْعَذابِ الْأَلِیمِ)۔ لیکن کہیں یہ گمان نہ کر لینا کہ خدا بھی انتقام جُو ہے اور وہ تم سے اپنے پیغمبر کا انتقام لینا چاہتا ہے ایسا نہیں ہے، بلکہ "جو اعمال تم انجام دیا کرتے تھے بدلہ تو تمہیں صرف اسی کا ملے گا" (وَما تُجْزَوْنَ إِلاَّ ما کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ)۔ حقیقت میں وہ تمہارے اعمال ہی ہوں گے جو تمہارے سامنے مجسم ہو جائیں گے اور تمہارے ساتھ رہیں گے اور تمہیں آزار پہنچاتے رہیں گے۔ تمہارا عمل ہی تمہاری سزا ہے، وہی استکبار و کفر و بےایمانی، وہی آیاتِ الٰہی اور اس کے پیغمبر پر شاعری اور جنون کی تہمت باندھنا، وہی ظلم و زیادتی، بےانصافیاں اور بُرے کام۔ آخری زیر بحث آیت میں آئندہ کے مباحث کے لیے ایک مقصد اور تمہید ہے۔ اس میں ایک گروہ کو مستثنٰی کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: پروردگار کے مخلص بندوں کے سوا، جو اس تمام تر سزا و عذاب سے دور اور محفوظ رہیں گے (إِلاَّ عِبادَ اللہِ الْمُخْلَصِیْنَ) [تشریحی نوٹ: یہ جملہ استثناء منقطع کی شکل میں ہے جو "تجزون" کی ضمیر یا "لذائقوا" کی ضمیر سے استثناء ہے]۔ لفظ "عباد اللہ" اکیلا ہی اس گروہ کے خدا سے ربط کو بیان کرنے کے لیے کافی ہے۔ لیکن جب "مخلصین" بھی اس کے ساتھ ہو تو اس میں ایک اور ہی گہرائی اور جان ڈال دیتا ہے۔ وہ لفظ "مخلص" اسمِ مفعول کی صورت میں، وہ شخص جسے خدا نے خالص کیا ہے۔ ہر قسم کے شرک و ریا سے خالص اور ہر قسم کے شیطانی وسوسوں اور ہوائے نفس کی ملاوٹوں سے خالص۔ ہاں! صرف یہی گروہ ہے کہ جسے اس کے اعمال کی ہی جزا نہیں ملے گی بلکہ خدا اس سے اپنے فضل و کرم کے ساتھ پیش آئے گا اور وہ بےحساب اجر حاصل کریں گے۔
نقطہ: مخلصین کا اجر و ثواب
قرآنِ کریم کی آیات میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ "مخلص" زیادہ تر ایسے مواقع پر استعمال ہوا ہے، جب انسان تربیّت و اصلاح اور خودسازی کے مرحلوں میں ہوتا ہے اور ابھی ضروری تکامل و ارتقاء کی منزل تک پہنچا ہوا نہیں ہوتا۔ لیکن "مخلص" اس مرحلے کے لیے کہا جاتا ہے، جب انسان ایک مدّت تک جہاد بالنفس کرنے اور معرفت و ایمان کے مراحل طے کرنے کے بعد اس منزل پر فائز ہو جاتا ہے جہاں شیطان کے وسوسوں کے اثر سے محفوظ ہو جاتا ہے جیسا کہ قرآن ابلیس کے قول کو نقل کرتا ہے۔ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ تیری عزّت کی قسم! تیرے مخلص بندوں کے سِوا میں ان سب کو گمراہ کر دوں گا (ص ۸۲، ۸۳)۔ یہ جملہ جو بارہا قرآن کی آیات میں آیا ہے "مخلصین" کے مقام کی عظمت کو واضح کرتا ہے۔ یہ یوسف علیہ السلام جیسے صدّیق افراد کا مقام ہے جو عظیم آزمائش کے میدان کو عبور کرتے ہیں: كَذلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشاءَ إِنَّهُ مِنْ عِبادِنَا الْمُخْلَصِينَ ہم نے یوسف علیہ السلام کو اس طرح سے اپنی برہان دکھائی تاکہ برائی اور بدی کو ہم اس سے دُور کر دیں،کیونکہ وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے تھا (یوسف ۲۴)۔ یہ ان لوگوں کا مقام ہے جو جہادِ اکبر میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور لطفِ پروردگار کا ہاتھ، تمام غیرخالص باتوں کو ان کے وجود سے پاک کر دیتا ہے اور حوادث کی بھٹی میں وہ اس طرح سے پگھل جاتے ہیں کہ معرفتِ خالص کے سونے کے سوا ان میں کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔ یہ وہ منزل ہے جہان ان کا اجر عمل کے معیار پر نہیں ہوتا بلکہ خدا کے فضل و رحمت کے معیار پر ہوتا ہے۔ علامہ طباطبائی نے اس مقام پر ایک بات کہی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے۔ خدا زیر بحث آیت میں فرماتا ہے تمام لوگ اپنے اعمال کا اجر پائیں گے، خدا کے مخلص بندوں کے سوا۔ کیونکہ وہ اپنی عبودیت کی بنا پر خود کو کسی چیز کا مالک نہیں سمجھتے اور جو کچھ خدا چاہتا ہے اس کے سوا کسی اور چیز کا ارادہ نہیں کرتے اور جس چیز کا وہ مطالبہ کرتا ہے اس کے سوا کسی اور چیز کو انجام نہیں دیتے۔ مخلص ہونے کی بنا پر خدا نے انھیں اپنے لیے منتخب کر لیا ہے۔ وہ اس کی پاک ذات کے سوا کسی اور چیز کے ساتھ تعلق نہیں رکھتے۔ ان کے دل میں اللہ کے سوا کوئی چیز نہیں ہے، نہ زرق و برق دنیا ہے اور نہ ہی آخرت کی نعمتوں کا خیال۔ اب یہ بات واضح ہے کہ جو شخص ان صفات کا حامل ہے اس کی لذّت و نعمت اور روزی ایسی چیز ہے جو دوسروں کا حاصل نہیں ہے۔ جیسا کہ بعد والی آیت میں بیان ہوا ہے: أُولئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَعْلُومٌ ان کی روزی ایسی خاص اور مخصوص ہے کہ جو دوسروں سے جُدا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ وہ بھی دوسرے اہلِ بہشت کی طرح بہشت میں زندگی بسر کرتے ہیں لیکن ان کا حصّہِ دوسروں کے حصّے کے ساتھ کوئی مشابہت نہیں رکھتا۔ (وہ خدا کی پاک ذات کے جلووں سے باطنی لذّات محظوظ ہوتے ہیں اور ان کا دل اس کے پیمانہٴ شوق سے لبریز ہوتا ہے اور وہ اس کے عشق و وصال میں غرق ہوتے ہیں [بحوالہ: المیزان، جلد ۱۷، ص ۱۴۱]۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: بہشت کی نعمتوں کا ایک گوشہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 6گزشتہ بحث کی آخری آیت میں "عِبادَ اللہِ الْمُخْلَصین" کے بارے میں گفتگو ہوئی تھی۔ زیرِ بحث آیات ان بےشمار نعمتوں کو بیان کر رہی ہیں جو خدا ان کو عطا فرمائے گا۔ ان نعمتوں کا سات حِصّوں میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے۔ پہلے قرآن کہتا ہے: ان کے لیے معلوم و معیّن روزی ہے (أُولئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَعْلُومٌ)۔ کیا یہ انھیں نعمتوں کا خلاصہ ہے جن کی بعد والی آیات میں تشریح ہوئی ہے اور وہ انھی نعمتوں کو بیان کر رہی ہیں جو یہاں سربستہ اور اجمالی طور پر بیان ہوئی ہیں؟۔ یا یہ ان نامعلوم اور ناقابلِ توصیف نعمتوں کی طرف اشارہ ہے جو نعماتِ بہشت کا سرنامہ بن گئی ہیں؟ بعض مفسرّین نے اس کی پہلی صورت میں تفسیر کی ہے جب کہ بعض دوسروں نے اس کی دوسری صورت میں تفسیر کی ہے۔ بحث کی مناسبت اور نعمتوں کی جامعیّت دوسرے معنی کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہے۔ اس طرح سے ان سات نعمتوں میں سے سب سے پہلے زیرِ بحث آیات میں بیان ہونے والی نعمتیں۔ معنوی نعمتیں، روحانی لذّتیں اور حق تعالیٰ کی ذاتِ پاک کے جلووں کا دیدار اور اس کے عشق کے باوہٴ طہور سے سرمست ہونا ہے وہی لذّت جسے دیکھے بغیر کوئی نہیں جانتا۔ رہی یہ بات کہ قرآن کی آیات میں جنت کی نعمات تو تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہیں، لیکن معنوی نعمتوں اور روحانی لذّتوں کا بیان سربستہ اور اجمالی صورت میں کیا گیا ہے۔ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی نعمات تو قابلِ توصیف و تعریف ہیں۔ جبکہ دوسری تعریف و توصیف میں نہیں آ سکتیں۔ "رِزْقٌ مَعْلُومٌ" کے معنی کے بارے میں اور بھی بہت سی باتیں بیان کی گئی ہیں۔ کیا اس کا وقت معلوم ہے؟ کیا وہ باقی اور ہمیشہ رہنے والی ہیں؟ کیا اس کی تمام خصوصیات معلوم ہیں؟ اس ضمن میں ہم جو کچھ بیان کر چکے ہیں اس کی بنا پر کلمہ "معلوم" ایک سربستہ تعبیر ہے ان نعمات کی جن کی تعریف و توصیف نہیں ہو سکتی۔ اس کے بعد دوسری نعمتوں کا بیان شروع ہوتا ہے۔ سب سے پہلے قرآن بہشت کی نعمتوں کا نام لیتا ہے۔ نعمتیں بھی ایسی جو بہشتیوں کو انتہائی احترام کے ساتھ دی جائیں گی، فرماتا ہے: ان کے لیے طرح طرح کے پھل ہیں (فَواکِهُ)۔ اور وہ مکرم و محترم ہیں (وَهُمْ مُکْرَمُونَ)۔ ان حیوانوں کی طرح نہیں جن کے سامنے ان کا چارہ ڈال دیا جاتا ہے، بلکہ معزّز مہمانوں کی طرح انہتائی احترام کے ساتھ ان کی پذیرائی ہو گی۔ طرح طرح کے پھلوں کی نعمت اور احترام و اکرام کے بیان کے بعد، ان کی رہائش گاہ کا ذکر ہوتا ہے۔ فرمایا گیا ہے: ان کے ٹھہرنے کی جگہ بہشت کے سرسبز اور پرنعمت باغات ہیں (فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ)۔ جو نعمت بھی وہ چاہیں گے وہاں موجود ہے اور جو کچھ وہ ارادہ کریں گے ان کے سامنے حاضر ہے۔ چونکہ انسان کے لیے عظیم ترین لذّتوں میں سے ایک بےتکلّف، مخلص و باصفا دوستوں کی محبّت بھری محفل ہے لہذا چوتھے مرحلے میں اس نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: وہ تختوں کے اوپر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے اور آنکھوں سے آنکھیں ملی ہوئی ہوں گی (عَلیٰ سُرُرٍ مُتَقابِلینَ)۔ وہ ہر موضوع پر بات کریں گے۔ کبھی دنیا میں اپنے ماضی کے بارے میں اور کبھی آخرت میں پروردگار کی عظیم نعمتوں کے متعلق، کبھی خدا کے صفاتِ جمال و جلال کی بات کریں گے اور کبھی اولیاء کے مقامات اور ان کی کرامات کی اور دوسرے ایسے مسائل کے بارے میں جن سے ہم اس دنیا کے قیدیوں کے لیے آگاہی ممکن نہیں ہے۔ "سرر" "سریر" کی جمع ہے یہ ایسے تختوں کو کہا جاتا ہے جن پر مجلس سرور و انس میں بیٹھا کرتے تھے۔ بعض اوقات زیادہ وسیع معنی میں بھی اس کا اطلاق ہوا ہے۔ یہاں تک کہ کبھی میّت کے تابوت کو بھی "سریر" کہہ دیا جاتا ہے۔ شاید اس امید پر کہ وہ اس کے لیے خدا کی مغفرت اور بہشتِ جاوداں کی طرف جانے کے لیے، سرور و خوشی کی سواری بن جائے۔ نعماتِ جنت کے ذکر کے پانچویں مرحلے میں مشروبات اور شرابِ طہور کی بات ہو رہی ہے، فرمایا گیا ہے: شرابِ طہور کے لبریز پیالے ان کے گرد گھوم رہے ہیں اور جب بھی وہ ارادہ کرتے ہیں، پیمانے سے سیراب ہوتے ہیں اور نشاط و معنویت کے عالم میں ڈوب جاتے ہیں (یُطافُ عَلَیْهِمْ بِکَاْسٍ مِّنْ مَعینٍ)۔ یہ جام کسی گوشے میں پڑے ہوئے نہیں ہوں گے کہ وہ ان میں سے ایک جام کا تقاضا بلکہ "يُطافُ عَلَيْهِم" کی تعبیر کے مطابق، ان کے گرد گھمائے جا رہے ہوں گے۔ "کاس" (بر وزن رأس) اہلِ لُغت کے نزدیک اس ظرف کو کہا جاتا ہے جو پُر اور لبریز ہو اور اگر وہ خالی ہو تو عام طور پر اسے "قدح" کہتے ہیں۔ راغب مفردات میں کہتا ہے: الکأس الإناء بما فیه من الشراب کاس اس ظرف کو کہتے ہیں جو کسی پینے کی چیز سے بھرا ہوا ہو۔ "معین" "معن" (بر وزن "صحن") کے مادہ سے، جاری کے معنی میں ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہاں شرابِ طہور کے چشمے جاری ہیں۔ جن سے ہر لمحہ پیمانے بھر سکتے اور اہلِ بہشت کے گردا گرد انھیں گردش دی جائے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ شرابِ طہور ختم ہو جائے یا اسے مہیّا کرنے کے لیے زحمت اٹھانا پڑے یا وہ پرانی، خراب اور فاسد ہو جائے۔ اس کے بعد اس شرابِ طہور کے برتنوں کی تعریف کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: وہ سفید چمکدار ہیں اور پینے والوں کے لیے لذّت بخش ہیں (بَیْضاءَ لَذَّةٍ لِلشَّارِبینَ)۔ بعض مفسرین نے "بیضاء" کو اس شراب کے "ظروف" کی صفت قرار دیا ہے اور بعض نے خود "شراب طہور" کی صفت کہا ہے یعنی یہ شراب دنیا کی خوش رنگ شرابوں کی طرح نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسی شراب ہے جو پاک ہے اور شیطانی رنگوں سے پاک سفید و شفاف ہے۔ البتہ دوسرا معنی "لَذَّةٍ لِلشَّارِبینَ" کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہے۔ چونکہ شراب، پیمانہ اور اس قسم کی چیزوں کا نام ممکن ہے کچھ اور مفاہیم کو ذہنوں کی طرف دعوت دے اس لیے بعد والی آیت میں بِلافاصلہ ایک مختصر اور واضح جملے کے ساتھ ان تمام مفاہیم کو سننے والوں کے اذہان سے ہٹاتے ہوئے قرآن کہتا ہے: وہ شرابِ طہور نہ تو فسادِ عقل کا سبب اور نہ ہی مستی کا موجب (لا فِيها غَوْلٌ وَلا هُمْ عَنْها يُنْزَفُونَ)۔ اس میں ہوشیاری و نشاط اور لذّتِ روحانی کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے۔ "غول" (بر وزن "قول") اصل میں اس فساد کے معنی میں ہے جو پنہاں طور پر کسی چیز میں اُتر جائے اور یہ جو عربی ادب میں مخفی اور پوشیدہ قتل کو "غیلة" کہا جاتا ہے تو وہ بھی اسی لحاظ سے ہے۔ "ینزفون" اصل میں "نزف" (بر وزن "حذف") کے مادہ سے، کسی چیز کو تدریجی صورت میں ختم کرنے کے معنی میں ہے یہ لفظ جس وقت کنوئیں کے پانی کے بارے میں استعمال ہوتا ہے تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ پانی کو تدریجاً کنوئیں سے نکالیں یہاں تک وہ ختم ہو جائے۔ تدریجی طور پر خون نکلنے کے موقع پر بھی جو بدن کے سارے خون کے گرانے پر ختم ہو "نزف الدم" کی تعبیر استعمال ہوتی ہے۔ بہرحال زیر بحث آیت میں اس سے مراد عقل کا تدریجاً ختم ہونا اور سکرات کی حد تک پہنچ جانا ہے، جو جنت کی شرابِ طہور پر تدریجی صورت میں انسان کے وجود میں اثر کرتی ہیں اور برائی اور خرابی پیدا کرتی ہیں۔ یہ دونوں تعبیریں ضمنی طور پر دنیا کی شرابوں اور مواد الکحل کے بارے میں بہت ہی عمدہ اور دقیق بیان ہے کہ وہ مخفی طور پر تدریجی صورت میں انسان کے وجود پر اثر کرتی ہیں اور برائی اور خرابی پیدا کرتی ہیں نہ صرف عقل اور سارے اعصاب کو تباہ و برباد کر دیتی ہیں بلکہ انسان کے بدن کی تمام مشینری کو دل سے لے کر رگوں تک اور معدے سے لے کر جگر اور گردوں تک ایک ناقابل انکار تخریبی اور تباہ کن تاثیر رکھتی ہیں گویا انسان کو اندر ہی اندر خراب کر کے تباہ کر دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ شرابِ دنیا انسان کے عقل و ہوش کو کنوئیں کے پانی کی طرح بتدریج کھینچتی ہے تاکہ اسے خشک اور خالی کر دے۔ لیکن خدائی شرابِ طہور قیامت میں، ان تمام صفات سے پاک ہے [تشریحی نوٹ: "فِيها" اور "عَنْها" کی ضمیریں "خمر" کی طرف لوٹتی ہیں، جو کلام میں مذکور نہیں ہے لیکن سیاقِ کلام سے معلوم ہو جاتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ لفظ "خمر" مونث مجازی ہے اور"عنھا" میں"عن" کی علت کو بیان کرنے کے لیے ہے یعنی وہ اس "خمر" کی وجہ سے مست اور محروم عقل و ہوش نہیں ہوں گے یہ بات ذہن میں رہے کہ لفظ "خمر" ایک مشترک لفظ ہے جو کبھی تو مفسدہ انگیز اور عقل کو تباہ کرنے والی شراب کے لیے بولا جاتا ہے: مثلاً إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْاَنْصابُ (مائدہ: ۹۰)۔ اور کبھی شرابِ طہور پر جو خدا کے مخلص بندوں کا حِصّہ ہے مثلاً وَأَنْهارٌ مِنْ خَمْرٍ لَذَّةٍ لِلشَّارِبِينَ(محمد: ۱۵)۔ جو جنّت کی تعریف میں آئی ہے]۔ آخرکار قرآن چھٹے مرحلے میں جنّت کی پاک و پاکیزہ بیویوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: ان کے پاس ایسی بیویاں ہوں گی جو اپنے شوہروں کے سوا کسی اور سے محبت نہیں کرتیں، ان کے غیر کو نگاہ تک اٹھا کر نہیں دیکھتیں اور ان کی آنکھیں بڑی بڑی اور خوبصورت ہیں (وَعِنْدَهُمْ قاصِراتُ الطَّرْفِ عِينٌ)۔ "طرف" اصل میں آنکھوں کی پلکوں کے معنی میں ہے اور چونکہ دیکھتے وقت پلکیں حرکت کرتی ہیں لہذ ا یہ لفظ دیکھنے کے لیے کنایہ ہے۔ اس بنا پر "قاصرات الطرف" کی تعبیر ان عورتوں کے معنی میں ہے جو نظریں نیچی رکھتی ہیں۔ اس کی تفسیر میں کئی ایک احتمال ذکر کیے گئے ہیں جو علیحدہ علیحدہ ہونے کے باوجود سب مراد ہو سکتے ہیں۔ پہلی تفسیر یہ ہے کہ وہ صرف اپنے شوہروں کی طرف ہی دیکھتی ہیں، اپنی آنکھوں کو ہر طرف سے ہٹا کر، انھیں کو دیکھتی رہتی ہیں۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ یہ تعبیر اس بات کے لیے کنایہ ہے کہ وہ صرف اپنے شوہروں سے محبت کرتی ہیں اور ان کی محبت کے علاوہ ان کے دل میں کسی دوسرے کی محبت نہیں ہے یہ امر ایک بیوی کے لیے عظیم ترین امتیاز ہے کہ وہ اپنے شوہر کے علاوہ کسی کو اپنے وہم و خیال میں بھی نہ لائے اور اس کے علاوہ کسی اور سے اسے پیار نہ ہو۔ ایک اور تفسیر یہ ہے کہ ان کی آنکھیں خمار آلود ہیں، وہی خاص حالت جو شعراء کے اکثر اشعار میں آنکھ کی ایک خوبصُورت توصیف کے طور پر بیان ہوئی ہے [بحوالہ: "روح المعانی" جلد ۳۳ ص ۸۱]۔ البتہ پہلا اور دوسرا معنی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے اگرچہ ان معانی کو جمع کرنے میں بھی کوئی مانع نہیں ہے۔ لفظ "عین" (بر وزن "مین") جمع ہے "عیناء" کی جو بڑی آنکھ والی عورت کے معنی میں ہے۔ آخر میں آخری زیرِ بحث آیت، ان جنتی بیویوں کی ایک اور صفت کو بیان کرتے ہوئے ان کی پاکیزگی کو اس عبارت کے ساتھ بیان کرتی ہے: ان کا بدن بہت زیادہ پاکیزگی، عمدگی، سفیدی اور صفائی میں پرندے کے انڈوں کی طرح کہ جسے نہ انسانی ہاتھ نے چھوا ہو اور نہ ہی اس پر گرد و غبار پڑا ہو، بلکہ وہ پرندے کے پر و بال کے نیچے پوشیدہ رہے ہوں (كَأَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَكْنُون)۔ "بیض" جمع ہے "بیضہ" کی جو پرندے کے انڈے کے معنی میں ہے (ہر قسم کا پرندہ) اور "مکنون" "کن" (بر وزن "جب") پوشیدہ اور چُھپے ہوئے کے معنی میں ہے۔ قرآن کی یہ تشبیہ اس وقت ٹھیک طرح سے واضح ہو گی جب انسان ان لمحات میں جب انڈہ پرندے سے جدا ہو اور ابھی انسانی ہاتھ اسے نہ لگا ہو اور وہ ابھی پرندے کے پروں کے نیچے ہی پڑا ہو، اسے نزدیک سے دیکھے کہ وہ کسی عجیب شفافیت رکھتا ہے۔ بعض مفسرین نے "مکنون" کو پرندے کے انڈے کے اندر موجود مواد کے معنی میں لیا ہے جو اس کے چھلکے کے اندر چُھپا ہوا ہے اور حقیقتاً مذکورہ تشبیہ اس موقع کی طرف اشارہ ہے جب انڈے کو پکا کر اس کا چھلکا ایک ہی ساتھ جدا کر دیا جائے تو اس حالت میں سفیدی اور چمک کے علاوہ ایک خاص نرمی اور لطافت بھی اس میں ہوتی ہے۔ بہرحال قرآن کی تعبیرات حقائق بیان کرنے میں اس قدر عمیق، گہری اور معنی خیز ہیں کہ ایک مختصر سی تعبیر کے ساتھ بہت سے مطالب کو ایک لطیف انداز میں پیش کر دیتی ہیں۔
نقطہ: گزشتہ آیات پر ایک نظر
اہلِ بہشت کے لیے جو طرح طرح کی نعمتیں گزشتہ آیات میں بیان ہوئی ہیں وہ مادی و روحانی نعمتوں کا مجموعہ ہیں اور جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ پہلی نعمت جو "أُولئِکَ لَهُمْ رِزْقٌ مَعْلُومٌ" کے سربستہ جملہ سے معلوم ہوتی ہے، وہ معنوی و روحانی نعمتوں کے ساتھ مربوط ہے جس کی کسی زبان میں بھی تشریح نہیں کی جا سکتی۔ لیکن چھ دوسرے حصّے جو جنت کے پھل، شراب طہور، خوبصورت بیویاں، بہت احترام، پاکیزہ مسکن اور لائق ہمنشیں ہیں، جنت کی نعمتوں کے مختلف جہات کو واضح کرتے ہیں جو غالباً مادی و روحانی نعمتوں کا ایک امتزاج ہے۔ لیکن یہ سب کی سب ایسی باتیں ہیں جو ہماری زبان میں پیش کی گئی ہیں اور یہ جنت کی نعمتوں کی تمام خصوصیات کو منعکس نہیں کر سکتیں۔ اصولی طور پر جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں اس کے لیے ایک دوسری زبان، دوسرے کان دوسرے ادراک اور دوسری نظر کی ضرورت ہے اور اس کے لیے دوسرے ہی الفاظ، جملہ بندیاں اور گفتگو درکار ہے تاکہ اس حقیقت کو تفصیل کے ساتھ بیان کر سکے۔ دوسرے لفظوں میں جنّت کی نعمتوں کی اصل حقیقت دنیا والوں سے وہاں جا کر انھیں دیکھے اور حاصل کیے بغیر پوشیدہ رہے۔ بہرحال "مخلص بندے" اور وہ لوگ جو علم و ایمان میں کمال کے مرحلے تک پہنچے ہوئے ہیں، بارگاہِ خداوندی میں اس قدر عزیز ہیں۔ کہ ان کے لیے خدا کے الطافِ بےکراں کی توصیف ہو ہی نہیں سکتی اور ہم جتنا بھی سوچیں اور تصّور میں لائیں وہ اس سے برتر و بالا ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 61 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 61 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 61 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 61 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 61 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 61 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 61 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 61 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 61 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 61 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 61 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: جہنمی دوست کی تلاش
Tafsīr Nemūna · Vol. 6گزشتہ آیات میں پروردگار کے مخلص بندوں کا ذکر تھا جو جنت کی طرح طرح کی نعمتوں میں غرق ہوں گے انھیں قسم قسم کے پھل میسّر ہوں گے، جنت کی حوریں ان کی خدمت میں ہوں گی۔ شرابِ طہور کے جام ان کے گرد گردش میں ہوں گے اور وہ جنّت کے تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے باصفا دوستوں کے ساتھ راز و نیاز کی باتوں میں مشغول ہوں گے۔ ایسے میں اچانک ان میں سے بعض اپنے ماضی اور دنیا کے دوستوں کی سوچ میں پڑ جائیں گے وہی دوست جنھوں نے اپنی راہ الگ کر لی تھی اور جنت میں جن کی جگہ خالی پڑی ہو گی وہ ان کا انجام جاننے کی کوشش کریں گے۔ ہاں! اس وقت جبکہ "وہ گفتگو میں محو ہوں گے اور مختلف موضوعات پر بات کر رہے ہوں گے اور بعض دوسرے بعض کی طرف رُخ کر کے سوال کر رہے ہوں گے اور ان کے جواب سن رہے ہوں گے (فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلی بَعْضٍ یَتَساءَلُونَ)۔ اچانک ان میں سے ایک کو کچھ باتیں یاد آئیں گی، وہ دوسروں کی طرف منہ کر کے کہے گا: دنیا میں میرا ایک دوست اور ہمنشین تھا (قالَ قائِلٌ مِنْهُمْ إِنِّی کانَ لِی قَرینٌ)۔ لیکن افسوس وہ انحراف کی راہ پر چل پڑا اور منکرینِ قیامت کے ساتھ ہو گیا "وہ ہمیشہ مجھ سے کہا کرتا تھا کیا سچ مچ تو نے بھی اس بات کو باور کر لیا ہے اور تو بھی اس کی تصدیق کرتا ہے" (یَقُولُ اَ إِنَّکَ لَمِنَ الْمُصَدِّقینَ)۔ "کہ جس وقت ہم مر جائیں گے اور خاک اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو (دوبارہ) زندہ ہوں گے اور حساب و کتاب کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے اور اپنے اعمال و کردار کے جواب میں ہمیں مجازاتِ کردار کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میں تو ان باتوں کو باور نہیں کرتا (اَ إِذا مِتْنا وَکُنَّا تُراباً وَعِظاماً اَ إِنَّا لَمَدینُونَ) [تشریحی نوٹ: "مدینون" دین کے مادہ سے جزا کے معنی میں ہے یعنی کیا ہمیں جزا دی جائے گی؟]۔ اے دوستو! کاش مجھے معلوم ہوتا کہ اب وہ کہاں ہے اور کن حالات میں ہے؟ افسوس اس کی جگہ ہمارے درمیان خالی پڑی ہے!۔ اس کے بعد وہ مزید کہے گا: اے دوستو! کیا تم اِدھر اُدھر نظر دوڑا کر دیکھ سکتے ہو اور اس کا پتہ لگا سکتے ہو؟ (قالَ هَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُونَ) [تشریحی نوٹ: "مطلعون" "اطلاع" کے مادہ سے سر اونچا کر کے جستجو اور تلاش کرنا اور کسی چیز کے لیے جھانکنا اور اس کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا ہے]۔ اس موقع پر وہ خود بھی تلاش کے لیے کھڑا ہو جائے گا اور جہنم کی طرف ایک نگاہ ڈالے گا تو اچانک اپنے دوست کو وسطِ جنہم میں دیکھے گا (فَاطَّلَعَ فَرَآهُ فِي سَواءِ الْجَحِيمِ)۔ [تشریحی نوٹ: "سواء" وسط اور درمیان کے معنی میں ہے]۔ اسے مخاطب کرتے ہوئے "آواز دے کر کہے گا: خدا کی قسم کوئی کسر باقی نہیں رہ گئی تھی کہ تو مجھے بھی گرا دے اور ہلاکت کی طرف کھینچ لے جائے" (قالَ تَاللہِ إِنْ کِدْتَ لَتُرْدینِ) [تشریحی نوٹ: "تردین" "ارداء" کے مادہ سے بلندی سے گِرنے کے معنی میں ہے جس سے عام طور پر ہلاکت واقع ہو جاتی ہے]۔ کوئی کسر باقی نہیں رہ گئی کہ تیرے وسوسے سے میرے صاف دل پر اثر انداز ہو جائیں اور مجھے بھی اسی کج راستے پر ڈال دیں کہ جس پر تو چل رہا تھا "اگر لطفِ الٰہی میرا مددگار نہ ہوتا اور میرے پروردگار کی نعمت میری نُصرت کو نہ پہنچتی، تو میں بھی آج تیرے ہی ساتھ جہنم کی آگ میں موجود ہوتا" (وَلَوْ لا نِعْمَةُ رَبِّی لَکُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرین)۔ یہ توفیقِ الٰہی ہی تھی جو میری رفیقِ راہ بنی اور اسی کی ہدایت کے لطف و کرم کے ہاتھ نے مجھ پر نوازش کی اور میری رہبری کی۔ اس موقع پر وہ اپنے جہنمی دوست کی طرف رُخ کرے گا اور یہ بات سرزنش کے طور پر اسے یاد دلاتے ہوئے کہے گا: کیا تو ہی دنیا میں یہ نہیں کہا کرتا تھا کہ "ہم کبھی نہیں مریں گے" (أَ فَما نَحْنُ بِمَیِّتینَ)۔ سوائے اس پہلی دنیاوی موت کے اور اس کے بعد نہ کوئی نئی زندگی ہو گی اور نہ ہی ہمیں عذاب دیا جائے گا (إِلاَّ مَوْتَتَنَا الْأُولیٰ وَما نَحْنُ بِمُعَذَّبینَ)۔ اب تو دیکھ اور سوچ کہ تجھ سے بڑی غلطی ہوئی ہے؟ موت کے بعد اس قسم کی زندگی تھی اور اس طرح کا ثواب و جزا اور سزا و عذاب تھا۔ اب تمام حقائق تیرے سامنے آشکار ہوئے ہیں۔ لیکن کیا فائدہ کیوں کہ لوٹنے کی اب کوئی راہ نہیں ہے۔ اس تفسیر کے مطابق آخری دو آیات اس جنتی شخص کی اپنے دوزخی ساتھی کے ساتھ گفتگو ہے۔ وہ قیامت کے انکار کے سلسلے میں اس کی کہی ہوئی باتیں اسے یاد دلا رہا ہے۔ لیکن بعض مفسرین نے ان دونوں آیات کی تفسیر میں ایک اور احتمال ذکر کیا ہے اور وہ یہ کہ بہشتی شخص کی گفتگو دوزخی دوست کے ساتھ ختم ہو گئی ہے اور بہشتی دوست آپس میں باتیں دوبارہ کرنے لگیں گے۔ ان میں سے ایک فرطِ مسرت سے پکار کر کہے گا: "کیا واقعاً اب ہم نہیں مریں گے" اور یہاں ہماری حیات جاودانی ہے، کیا پہلی موت کے بعد اب کوئی موت نہیں آئے گی اور یہ لطفِ الٰہی ہم پر ہمیشہ ہمیشہ رہے گا اور ہمیں ہرگز عذاب نہیں ہو گا؟۔ البتہ یہ باتیں شک و شبہ کی بناء پر نہیں ہوں گی۔ بلکہ فرط و وجد و سرور سے ہوں گی۔ بالکل اسی طرح کہ جیسے بعض اوقات انسان طویل آرزو اور انتظار کے بعد کوئی وسیع اور اچھا مکان حاصل کرتا ہے تو تعجب کے ساتھ کہتا ہے کیا یہ میری ملکیت ہے؟ اے میرے خدا! یہ کتنی اچھی نعمت ہے، کیا یہ مجھ سے لے تو نہیں لی جائے گی؟ بہرحال اس گفتگو کو ایک پُرمعنی اور بہت ہی احساس انگیز جملے پر ختم کیا گیا ہے، جس میں بہت سی تاکیدات بھی موجود ہیں ارشاد ہوتا ہے: "واقعاً یہ ایک عظیم کامیابی ہے" (إِنَّ هذا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيم)۔ اس سے بڑھ کر اور کیا کامیابی ہو گی کہ انسان نعمتِ جاوداں اور حیاتِ ابدی میں مستغرق ہو اور انواع و اقسام کے الطافِ الٰہی اس کے شاملِ حال ہوں۔ اس سے برتر و بالا اور کس چیز کا تصّور ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد خداوندِ عظیم ایک مختصر، بیدار کن اور معنی خیز جملے پر اس بحث کو ختم کرتا ہے۔ اس مثال کے مطابق لوگوں کو عمل کرنا چاہیے (لِمِثْلِ هذا فَلْيَعْمَلِ الْعامِلُونَ)۔ یہ جو بعض مفسرین نے احتمال پیش کیا ہے کہ آخری آیت بھی جنتیوں کی ہی گفتگو کا حصّہ ہے، بہت بعید نظر آتا ہے کیونکہ اس دن اور کوئی عمل نہیں ہو سکتا۔ دوسرے لفظوں میں اس دن عمل کا کوئی محل نہیں ہے کہ وہ انسانوں کو یہ کہہ کر عمل کرنے کا شوق دلائیں۔ جبکہ آیت کا ظاہر اس بات کی نشا ندہی کرتا ہے کہ مقصد یہ ہے کہ یہ کہہ کر تمام گزشتہ آیات سے نتیجہ اخذ کیا جائے اور لوگوں کو ایمان و عمل کی طرف دعوت دی جائے، لہذا مناسب یہی ہے کہ اس بحث کے آخر میں یہ خدا ہی کی گفتگو ہو۔
چند اہم نکات: ۱۔ جنتیوں کا دوزخیوں کے ساتھ ربط
زیرِ بحث آیات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بعض اوقات جنتیوں اور دوزخیوں کے درمیان ایک قسم کا رابطہ قائم ہو جائے گا۔ گویا بہشتی جو اوپر رہتے ہوں گے، دوزخیوں کی طرف نگاہ کریں گے اور ان کی حالت و کیفیت کو دیکھ لیں گے (یہ معنی فاطلع کی تعبیر سے معلوم ہوتا ہے جو اوپر سے جھانکنے کے معنی میں ہے)۔ البتہ یہ اس امر کی دلیل نہیں ہے کہ جنت اور دوزخ کے درمیان فاصلہ تھوڑا ہے۔ بلکہ ان حالات میں انھیں دیکھنے کی بہت زیادہ طاقت دے دی جائے گی، جس کے سامنے فاصلے اور مکان کا مسئلہ پیش ہی نہیں آئے گا۔ مفسّرین کے کلمات میں ہے کہ بہشت میں ایک روشندان ہے جس سے جہنم کو دیکھا جا سکتا ہے۔ سورہٴ اعراف کی آیات سے بھی اس قسم کا رابطہ اچھی طرح سے واضح ہوتا ہے۔ قرآن کہتا ہے: وَنادٰى أَصْحابُ الْجَنَّةِ أَصْحابَ النَّارِ أَنْ قَدْ وَجَدْنا ما وَعَدَنا رَبُّنا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ ما وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قالُوا نَعَمْ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَنْ لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الظَّالِمِين(اعراف ۔۴۴) جنتی دوزخیوں کو پُکار کر کہیں گے: ہمارے پروردگار نے ہم سے جس چیز کا وعدہ کیا تھا ہم نے اسے برحق پایا، کیا تم نے بھی جس کا تمہارے پروردگار نے تم سے وعدہ کیا تھا اسے برحق پایا ہے؟ وہ کہیں گے: ہاں۔ تو اس وقت کوئی ان کے درمیان میں سے پکار کر کہے گا کہ ستمگروں پر خدا کی لعنت ہو۔ اسی سورہ کی آیہ ۴۶ سے معلوم ہوتا ہے کہ "اہلِ بہشت اور اہلِ دوزخ کے درمیان ایک حجاب ہے" (وَبَیْنَهُما حِجابٌ)۔ "نادٰی" کی تعبیر جو عام طور پر دور سے بات کرنے کے موقعوں پر استعمال ہوتی ہے، یہ ان دونوں گروہوں کی مکانی یا مقامی دُوری کی نشانی ہے لیکن جیسا کہ ہم نے بارہا بیان کیا ہے کہ قیامت کے دن کے حالات و شرائط اس جہان کے حالات سے بہت مختلف ہیں اور ہم اس جہان کے معیاروں پر ان کا ادراک نہیں کر سکتے۔
۲۔ آیات کس شخص کے بارے میں نازل ہوئیں؟
بعض مفسّرین نے ان آیات کے بارے میں کئی شانِ نزول نقل کیے ہیں ان کے مطابق یہ آیات ان دو افراد کی طرف اشارہ کر رہی ہیں جن کا ذکر سورہٴ کہف میں ایک مثال کے طور پر کیا گیا ہے جہاں قرآن فرماتا ہے: وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا رَجُلَيْنِ جَعَلْنا لِأَحَدِهِما جَنَّتَيْنِ مِنْ أَعْنابٍ وَ حَفَفْناهُما بِنَخْلٍ وَّجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً ... ان کے لیے ایک مثال بیان کر: ان دو مَردوں کی داستان، جن میں سے ایک کے لیے ہم نے انواع و اقسام کے انگوروں کا باغ قرار دیا تھا جس کے گرداگرد کھجور کے درخت تھے اور دونوں کے درمیان پُربرکت زراعت ہوتی تھی... (کہف ۳۲ تا ۴۳)۔ ان آیات میں یہ بیان ہوا ہے کہ ان دونوں آدمیوں میں سے ایک شخص بہت ہی خودخواہ، مغرور، کم ظرف اور منکرِ معاد تھا۔ دوسرا مومن اور قیامت کا معتقد تھا۔ بالا آخر وہ بےایمان مغرور شخص اس جہان میں بھی خدائی عذاب میں گرفتار ہوا اور اس کا سارا مال و سرمایہ تباہ و برباد ہو گیا [بحوالہ: تفسیر فخر رازی، جلد ۲۶، ص ۱۳۹]۔ لیکن زیرِ بحث آیات کا لب و لہجہ سورہ کہف کی آ یات کے ساتھ ہرگز ہم آہنگ نہیں ہے اور یہ آیات کوئی علیحدہ داستان بیان کر رہی ہیں۔ بعض دوسرے مفسرین اسے دو شریکِ کار یا دوستوں سے متعلق جانتے ہیں۔ وہ دونوں ہی دولتمند تھے۔ ایک نے راہِ خدا میں بہت زیادہ خرچ کیا اور دوسرے نے بُخل کیا۔ وہ ان باتوں کا معتقد نہیں تھا۔ کچھ مدّت کے بعد خرچ کرنے والا آدمی محتاج ہو گیا تو اس کے دوست نے اسے سرزنش کی اور بُرا بھلا کہا اور مذاق کے طور پر کہا: أَ إِنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِينَ کیا تو راہِ خُدا میں انفاق کرتا ہے [بحوالہ: روح المعانی جلد ۲۳، ص ۸۳]۔ لیکن یہ شانِ نزول اس بات پر موقوف ہے کہ ہم زیرِ بحث آیات میں "مصدقین" کے "صاد" کو تشدید کے ساتھ پڑھیں تاکہ اس کا تعلّق انفاق اور صدقہ دینے سے ہو جائے۔ جبکہ "مصدقین" کی مشہور قراءت "صاد" کی تشدید کے بغیر ہے۔ اس بناء پر مذکورہ شانِ نزول مشہور قراءت کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے۔
۳۔ اس قسم کی نعمات کے لیے کوشش کرنا چاہیے
کیا انسان کے لیے یہ بات مناسب ہے کہ انسان عمر کے گراں بہا سرمائے اور خداداد تعمیری صلاحیتوں کو ایسے امور میں صرف کرے جو پانی کے بلبلوں کی طرح ناپائیدار ہوں؟ ایسی متاع ہے جو بےقدر و قیمت اور فنا ہونے والی ہے۔ ایسی متاع ہے جس میں آ فتیں ہی آفتیں ہیں اور دردِ سر ہی دردِ سر ہے۔ یا ان قیمتی صلاحیتوں اور وسائل کو ایسی راہ میں استعمال کرے جس کا نتیجہ حیاتِ جاوداں، بےپایاں نعمتیں اور پروردگار کی خوشنودی ہے۔ قرآن زیر نظر آیات میں کتنی خوبصورت تعبیر پیش کرتا ہے، کہتا ہے سعی و کوشش کرنے والوں کو اس طرح کے مقصد کے لیے سعی و کوشش کرنی چاہیے۔ لذّاتِ روحانی سے معمور جنّت کے لیے اور جسمانی نعمتوں سے بھری ہوئی بہشت کے لیے جس کی شرابِ طہور کو ملکوتی نشے میں غرق کر دے گی اور اس کے باصفا دوستوں کی ہم نشینی پر کوئی غم نہ رہنے دے گی۔ جس میں نہ کوئی چیز محدود ہے نہ کسی چیز کی کوئی ممانعت۔ نہ اس میں زوال کا غم ہو گا اور نہ ہی حفاظت نگہداری کا درد سر۔ ہاں! ایسی جنت کے لیے سعی و کوشش کرنا چاہیے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: اہلِ دوزخ کے لیے کچھ جانکاہ عذاب
Tafsīr Nemūna · Vol. 6جنت کی قیمتی اور روح بخش نعمتوں کے بیان کے بعد زیرِ بحث آیات میں دوزخ کے دردناک اور غم انگیز عذابوں کو بیان کیا گیا ہے۔ ان کی اس طرح سے تصویرکشی کی گئی ہے جو مذکورہ نعمتوں کا موازنہ کرنے میں بیدار نفوس پر گہرا اثر مرتّب کرتی ہیں اور انھیں ہر قسم کی برائی اور ناپاکی سے باز رکھتی ہیں۔ پہلے فرمایا گیا ہے: کیا یہ جاودانی اور لذّت بخش نعمتیں، جن کے ساتھ جنتیوں کی پذیرائی کی جائے گی بہتر ہیں یا زقوم کا نفرت انگیز درخت۔ (أَ ذلِكَ خَيْرٌ نُزُلًا أَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّومِ)۔ "نزل" کی تعبیر اس چیز کے لیے بولی جاتی ہے جو مہمان کی پذیرائی کے لیے تیار کی جاتی ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ وہ پہلی چیز ہے کہ جس کے ساتھ تازہ وارد شدہ مہمان کی پذیرائی کرتے ہیں۔ یہ چیز اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بہشتی لوگوں کی عزیز و محترم مہمانوں کی طرح پذیرائی کی جائے گی۔ قرآن کہتا: کہ کیا یہ بہتر ہے یا "زقوم" کا درخت۔ "بہتر" کی تعبیر اس امر کی دلیل نہیں ہے کہ درخت زقوم کوئی اچھی چیز ہے۔ لیکن جنّت کی نعمتیں اس سے بہتر ہیں۔ کیونکہ ایسی تعبیریں عربی زبان میں بعض اوقات ایسے موقعوں پر استعمال ہوتی ہیں جہاں ایک طرف اصلاً کسی قسم کی خوبی نہیں ہوتی لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ایک قسم کا کنایہ ہو۔ اس کی مثال بالکل اس طرح ہے کہ ایک شخص طرح طرح کے گناہوں سے آلودگی کی بنا پر لوگوں میں بہت زیادہ رسوا ہو گیا ہو اور ہم اس سے یہ کہیں کہ کیا یہ رسوائی بہتر ہے یا عزّت و آبر و مندی؟ "زقوم" اہلِ لغت کے قول کے مطابق ایک کڑوی بدبودار اور بد ذائقہ پودا ہے [بحوالہ: مجمع البحرین، مادہ "زقم"]۔ بعض مفسّرین کے قول کے مطابق یہ ایک ایسے پودے کا نام ہے جس کے چھوٹے چھوٹے کڑوے اور بدبودار پتے ہوتے ہیں اور وہ "تہامہ" کے علاقے میں اگتا ہے اور مشرکین اس سے آگاہ تھے [بحوالہ: تفسیر روح البیان، جلد ۷، ص ۴۶۴]۔ تفسیر "روح المعانی" میں یہ اضافہ بھی کیا گیا ہے کہ اس پودے سے ایک شیرہ نکلتا ہے جو انسان کے بدن پر لگ جائے تو ورم ہو جاتا ہے [بحوالہ: روح المعانی، جلد ۲۳، ص ۸۵]۔ "راغب" "مفردات" میں کہتا ہے "زقوم" دوزخیوں کی ہر قسم کی تنفرآمیز غذا ہے۔ "لسان العرب" کا مولف کہتا ہے: یہ مادہ اصل میں نگل جانے کے معنی میں ہے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: جس وقت آیہ "زقوم" نازل ہوئی تو ابوجہل نے کہا اس قسم کا درخت ہماری زمین میں نہیں اگتا تم میں سے کون شخص "زقوم" کے معنی جانتا ہے؟ وہاں ایک شخص افریقہ کا رہنے والا موجود تھا اس نے کہا: زقوم افریقی زبان میں "مکھن" اور "خرما" کے معنی میں ہے۔ ابوجہل نے تمسخر اڑاتے ہوئے پکار کر کہا: اے کنیز! کچھ خرمے اور مکھن لے آؤ تاکہ ہم زقوم کھائیں۔ وہ کھاتے جاتے تھے اور تمسخر اڑاتے جاتے تھے اور کہتے تھے: "محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آخرت میں ہمیں اس سے ڈراتا ہے"۔ اس پر وحی نازل ہوئی اور انھیں یہ داندان شکن جواب دیا جو بعد والی آیت میں آیا ہے۔ بہرحال لفظ "شجرة" ہمیشہ درخت کے معنی میں نہیں ہوتا۔ بعض اوقات گھاس پُھونس اور پودوں کے معنی میں بھی آتا ہے اور قرائن اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہاں اس سے مراد گھاس پھونس ہی ہے۔ اس کے بعد قرآن اس گھاس کی بعض خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: ہم نے اسے ظالموں کے لیے رنج اور عذاب کا موجب قرار دیا ہے (إِنَّا جَعَلْناها فِتْنَةً لِلظَّالِمِينَ)۔ "فتنة" ممکن ہے رنج و عذاب کے معنی میں ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آزمائش کے معنی میں ہو۔ جیسا کہ قرآن میں اکثر موقعوں پر اسی معنی کے لیے آیا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انھوں نے جب "زقوم" کا نام سنا تمسخر اور استہزاء شروع کر دیا اور اس بنا پر وہ ان ستمگروں کی آزمائش کا ذریعہ ہو گیا۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: وہ ایسا درخت ہے جو قعر جہنم سے اگتا ہے. (إِنَّها شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِي أَصْلِ الْجَحِيمِ)۔ لیکن ان ظالموں نے اپنا تمسخر اور استہزاء جاری رکھا اور یہ کہا: کیا یہ ممکن ہے کہ پودے یا کوئی درخت قعر جہنم سے اُگے؟ آگ کہاں اور درخت اور گھاس کہاں؟ اس بنا پر اس گھاس اور اس کے اوصاف کا سننا اس دنیا میں ان کے لیے آزمائش ہے اور وہ خود ان کے لیے آخرت میں درد و رنج کا سبب ہے۔ گویا وہ اس نکتے سے غافل تھے کہ وہ اصول جو اس جہانِ آخرت کی زندگی پر لاگو ہیں، وہ اس جہان سے بہت مختلف ہیں۔ وہ درخت اور پودا جو قعر جہنم سے اگتا ہے، جنہم کے رنگ کا ہے اور اس نے جہنم کے ماحول میں پرورش پائی ہے نہ کہ وہ اس جہان کے باغوں کی مانند ہے جو اس جہان کے باغوں میں اُگتے ہیں اور شاید وہ اس نکتے سے بےخبر نہیں تھے، بلکہ ان کا مقصد تو صرف تمسخر اڑانا اور استہزاء کرنا تھا۔ اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے: اس کا شگوفہ شیاطین کے سروں کی طرح ہے (طَلْعُها كَأَنَّهُ رُؤُسُ الشَّياطِينِ)۔ "طلع" عام طور پر کھجور کے شگوفے کو کہا جاتا ہے جس کی چھال سبز رنگ کی ہوتی ہے اور اس کے اندر سفید رنگ کے دھاگے سے ہوتے ہیں جو بعد میں کھجور کے خوشے میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ لفظ "طلع" "طلوع" کے مادہ سے ہے اس کی مناسبت یہ ہے کہ یہ پہلا پھل ہے جو درخت کے اوپر ظاہر ہوتا ہے اور طلوع کرتا ہے۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے کہ کیا لوگوں نے شیاطین کے سروں کو دیکھا ہوا ہے کہ قرآن "زقوم" کے شگوفوں کو اُن سے تشبیہ دیتا ہے۔ مفسرین نے اس سوال کے متعدد جواب دیئے ہیں۔ بعض نے تو کہا ہے کہ شیطان کا ایک معنی ایک قسم کا بدمنظر سانپ ہے، جس کے ساتھ زقوم کے شگوفے کو تشبیہ دی گئی ہے۔ بعض نے کہا ہے یہ ایک بدصورت قسم کی گھاس ہے، جیسا کہ کتاب "منتھی الادب" میں آیا ہے "رأس الشیطان" یا "رؤس الشیاطین" ایک گھاس ہے۔ لیکن جو بات زیادہ صحیح نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ تشبیہ انتہائی قباحت اور اس کے تنفّر آمیز شکل کے اظہار کے لیے ہے۔ کیونکہ انسان جس چیز سے متنفّر ہو اس کے لیے اپنے ذہن میں ایک قبیح اور وحشتناک تصویرکشی کرتا ہے اور جس چیز سے لگاؤ ہو اس کے لیے ایک خوبصورت اور پیارا سا تصوّر رکھتا ہے۔ اس لیے لوگ جو تصویریں فرشتوں کی بناتے ہیں، ان میں انہتائی خوبصُورت اور زیبا ترین چہروں کی تصویرکشی کرتے ہیں۔ اور اس کے برعکس شیطانوں اور دیوؤں کے لیے بدترین چہرے بناتے ہیں حالانکہ نہ تو انھوں نے فرشتوں کو دیکھا ہے اور نہ ہی شیطانوں اور دیوؤں کو۔ روزمرّہ کے الفاظ میں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ کہتے ہیں: فلاں آدمی دیو کے مانند ہے یا دیو کے شکل رکھتا ہے۔ یہ سب تشبیہات، انسانوں کے ذہنی تصوّرات کی بنیاد پر، مختلف مفاہیم کے اعتبار سے لطیف اور مُنہ بولتی ہیں۔ قرآن مزید کہتا ہے: یہ مغرور ظالم یقیناً یہی گھاس کھائیں گے اور اسی سے شکم پُر کریں گے (فَإِنَّهُمْ لَآكِلُونَ مِنْها فَمالِؤُنَ مِنْهَا الْبُطُونَ)۔ یہ وہی فتنہ و عذاب ہے جس کی طرف گزشتہ آیات میں اشارہ ہوا ہے۔ اس دوزخ کی گھاس جو بہت ہی بدبودار ہے جس کا ذائقہ کڑوا ہے اور جس کے شیرہ سے بدن میں ورم پیدا ہو جاتا ہے اور اسے کھانا بھی زیادہ مقدار میں ہو تو اندازہ کیا جائے کہ یہ کس قدر درناک عذاب ہے [تشریحی نوٹ: "منھا" کی ضمیر "شجرة" کی طرف لوٹتی ہے اور یہ خود اس بات کے لیے قرینہ ہے کہ یہاں "شجرة" سے مراد گھاس ہے نہ کہ درخت کیونکہ گھاس کو تو کھاتے ہیں درخت کو نہیں]۔ یہ بات ظاہر ہے کہ اس ناگوار اور کڑوی غذا میں سے کھانا پیاس لگائے گا، لیکن جس وقت وہ پیاسے ہوں گے تو کیا پئیں گے؟ قرآن کہتا ہے: ان دوزخیوں کے لیے اس زقوم کے بعد کھولتا ہوا، کثیف اور گندا پانی ہو گا (ثُمَّ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْها لَشَوْباً مِنْ حَمِيمٍ)۔ "شرب" اس چیز کے معنی میں ہے جو کسی دوسری چیز کے ساتھ مل جائے اور"حمیم" کھولتے ہوئے اور جلانے والے پانی کو کہتے ہیں، اس بنا پر وہ گرم کھولتا ہوا پانی جو وہ پئیں گے، وہ بھی خالص نہیں ہو گا بلکہ آلودہ اور گندہ ہو گا۔ وہ تو دوزخیوں کی غذا ہے اور یہ ان کے پینے کی چیز، لیکن اس پذیرائی کے بعد وہ کہاں جائیں۔ قرآن کہتا ہے: پھر ان کی بازگشت جہنم کی طرف ہے۔ (ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَی الْجَحیمِ)۔ بعض مفسرین نے اس تعبیر سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ یہ گرم اور آلودہ پانی جہنم سے باہر کے ایک چشمہ کا ہے۔ دوزخیوں کو پہلے ان جانوروں کی طرح جنھیں پانی کے گھاٹ پر لے جایا جاتا ہے اسے پینے کے لیے وہاں بلایا جائے گا اور اسے پینے کے بعد دوبارہ جہنم کی طرف لوٹ جائیں گے۔ بعض دوسروں نے کہا ہے کہ یہ دوزخ کے مختلف مقامات کی طرف اشارہ ہے کہ ظالموں کو ایک علاقہ سے دوسرے علاقے کی طرف لے جایا جائے گا، تاکہ وہ یہ جلانے والا پانی پئیں۔ پھر انھیں اصلی جگہ کی طرف لوٹا دیا جائے گا۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے جنت کی نعمتوں کی حقیقی تصویرکشی اس دنیا میں ہمارے لیے ممکن نہیں ہے اور نہ ہی دوزخیوں کے عذاب کی۔ صرف دور سے ایک دھندلی سی تصویر مختصر سی عبارتوں کے ساتھ ہمارے ذہن میں پیدا ہوتی ہے۔ (پروردگارا! ہمیں ان عذابوں سے اپنے لطف و کرم کی پناہ میں محفوظ رکھ)۔ قرآن زیرِ بحث آخری آیت میں دوزخیوں کی ان دردناک سزاؤں اور عذاب کے چنگل میں گرفتاری کی اصل وجہ کو دو مختصر اور پرمعنی جملوں میں بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: انھوں نے اپنے آباؤ اجداد کو گمراہ پایا (إِنَّهُمْ اَلْفَوْا آباءَهُمْ ضالِّینَ)۔ لیکن اس حال میں بھی وہ بےاختیار تیزی کے ساتھ انہی کے پیچھے دوڑے چلے جاتے ہیں (فَهُمْ عَلی آثارِهِمْ یُهْرَعُون)۔ قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ یہاں "یھرعون" "اھراع" کے مادہ سے، صیغہ مجہول کی صُورت میں آیا ہے اور سرعت اور تیزی کے ساتھ دوڑنے کے معنی میں ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انھوں نے اپنے بڑوں کی تقلید پر اپنے دل اور دین کو اس طرح سے لگا دیا ہے کہ وہ انھیں بےاختیار تیزی کے ساتھ اپنے پیچھے دوڑا رہے ہیں۔ گویا وہ خود سے ان کا کوئی ارادہ ہی نہیں یہ ان کے انتہائی تعصّب اپنے بڑوں کے خرافات کے ساتھ شیفتگی کی طرف اشارہ ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 74 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 74 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 74 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: گزشتہ گمراہ اقوام
Tafsīr Nemūna · Vol. 6کیونکہ مجرموں اور ظالموں سے مربوط گزشتہ مسائل کسی خاص زمان و مکان کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں۔ لہذا قرآن زیر بحث آیات میں ان کی عمومیّت اور وسعت کو بیان کرتا ہے۔ ان چند آیات میں گزشتہ بہت سی اُمتوں کے حالات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن سے مطلع ہونا گزشتہ مباحث کے لیے ایک اچھی سند ہے۔ مثلاً قومِ نوح، ابراہیم، قومِ موسیٰ و ہارون، قوم لوط، قومِ یونس وغیرہ۔ پہلے فرمایا گیا ہے: ان سے پہلے بہت سے گزشتہ لوگ گمراہ ہو گئے (وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَکْثَرُ الْاَوَّلینَ)۔ صرف مشرکینِ مکہ ہی نہیں جو اپنے بڑوں کی تقلید میں تھا وہ گمراہی میں جا گرے ہیں بلکہ ان سے پہلے بھی اکثر گزشتہ اقوام میں اس قسم کے انجام سے دوچار ہوئی تھیں اور ان کے مومنین بھی ان کے گمراہوں کے مقابلہ میں بہت ہی تھوڑے تھے اور یہ پیغمبرِ اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اور ان پہلے مومنین کے لیے جو اس زمانے میں مکّہ میں تھے اور ہر طرف سے دشمن کے محاصرہ میں تھے، ایک تسلّی خاطر ہے۔ اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے: ان کی گمراہی اس لیے نہیں تھی کہ ان کا کوئی رہبر و رہنما نہیں تھا بلکہ ہم نے ان میں ڈرانے والے بھیجے تھے (وَلَقَدْ اَرْسَلْنا فیهِمْ مُنْذِرینَ)۔ ایسے پیغمبر جو انھیں شرک و کفر، ظلم و ستم اور دوسروں کی اندھی تقلید سے ڈراتے اور انھیں ان کی ذمہ ّداریوں سے آشنا کرتے تھے۔ یہ ٹھیک ہے کہ انبیاء کے ایک ہاتھ میں انذار اور دوسرے ہاتھ میں بشارت کا پروانہ ہوتا تھا لیکن چونکہ ان کی تبلیغ کا رکنِ اعظم خصوصاً اس قسم کی گمراہ اور سرکش اقوام کے لیے انذار ہی تھا لہذا یہاں صرف اسی کو بیان کیا گیا ہے۔ اس کے بعد ایک مختصر اور پُرمعنی جملے میں فرمایا گیا ہے: اب دیکھ ڈرائے جانے والوں اور ہٹ دھرم اور گمراہ اقوام کا انجام کیا ہوا؟ (فَانْظُرْ کَیْفَ کانَ عاقِبَةُ الْمُنْذَرینَ)۔ "فانظر" (اب دیکھ) میں ہو سکتا ہے کہ مخاطب پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات ہو یا ہر عاقل و بیدار فرد ہو۔ حقیقت میں یہ جملہ ان اقوام کے انجامِ کار کی طرف اشارہ ہے جن کی حالت کی تشریح بعد والی آیات میں آئے گی۔ آخری آیت میں ایک استثناء کے بعد فرمایا گیا ہے: مگر خدا کے مخلص بندے۔ (إِلاَّ عِبادَ اللہِ الْمُخْلَصین)۔ حقیقت میں یہ جملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان اقوام کی عاقبت اور انجام کو دیکھو کہ ہم نے انھیں کیسے دردناک عذاب میں گرفتار کیا ہے اور ہلاک کیا ہے، سوائے صاحبانِ ایمان اور مخلص بندوں کے کہ جو اس ہلاکت سے بچے رہے اور نجات پا گئے [تشریحی نوٹ: یہ جملہ ایک محذوف سے استثناء ہے جو مذکور میں سمجھا جاتا ہے اور جو تقدیر میں اس طرح ہے: فانظر كيف كان عاقبة المنذرين فإنّا أهلكنَاهم جميعا إلّا عباد الله المخلصين]۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اس سُورہ میں مختلف آیات میں پانچ مرتبہ خدا کے مخلص بندوں کا ذکر آیا ہے اور یہ ان کے مرتبہ و مقام کی عظمت کی نشانی ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے، وہ ایسے لوگ ہیں جو معرفت، ایمان اور جہاد بالنفس میں اس طرح کامیاب ہوئے ہیں کہ خدا نے انھیں منتخب کر کے خالص کر لیا ہے اور اسی وجہ سے وہ انحرافات اور لغزشوں سے بچے رہے۔ شیطان ان میں نفوذ پیدا کرنے سے عاجز اور مایوس ہے اور پہلے دن سے ان کے مقابلے میں سِپر ڈال کر اپنی عاجزی کا اظہار کر چکا ہے۔ ماحول کا شور و غوغا، گمراہ کرنے والوں کے وسوسے، آباؤ اجداد کی تقلید، غلط اور طاغوتی تعلیمات انھیں ہرگز اپنے راستے سے منحرف نہیں کر سکتیں۔ حقیقت میں یہ اس زمانے میں مکہ میں پامردی دکھانے والے مومنین کے لیے اور آج کی شور و غوغا سے پُر دنیا میں رہنے والے ہم جیسے مسلمانوں کے لیے ایک الہام بخش پیام ہے کہ ہم دشمنوں کی کثرت سے نہ ڈریں اور کوشش کریں کہ خدا کے مخلص بندوں کی صف میں جگہ پا لیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: نوح (ع) کی داستان کا ایک گوشہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 6یہاں سے خدا کے نو عظیم پیغمبروں کی داستان کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ اس کی طرف گزشتہ آیات میں اجمالی طور پر ذکر ہوا تھا۔ سب سے پہلے شیخ الانبیاء اور پہلے اولوالعزم پیغمبر حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر کیا گیا ہے، پہلے ان کی اس پرسوز دعا کی طرف۔ جو انھوں نے اس وقت کی تھی جب وہ اپنی قوم سے مایوس ہو گئے تھے۔ اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: نوح نے ہمیں پکارا تو ہم نے بھی ان کی دعا قبول کر لی اور ہم کیسے اچھے قبول کرنے والے ہیں (وَلَقَدْ نادانا نُوحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجیبُون) [تشریحی نوٹ: "مجیبون" صیغہ جمع ہے حالانکہ اس سے مُراد خدا ہے کہ جس نے نوح کی دعا قبول کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض اوقات جمع کا صیغہ اظہارِ عظمت کے لیے آتا ہے۔ جیسا کہ "نادانا" میں جمع متکلم کی ضمیر بھی اسی مقصد کے لیے ہے]۔ یہ دعا ممکن ہے اسی دعا کی طرف اشارہ ہو جو سورہٴ نوح میں آئی ہے ارشاد ہوتا ہے: وَقالَ نُوحٌ رَبِّ لا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكافِرِينَ دَيَّاراً إِنَّكَ إِنْ تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فاجِراً كَفَّاراً نوح نے کہا: پروردگارا! کافروں میں سے کسی کو زمین پر نہ رہنے دے کیونکہ اگر تو انھیں ان کی حالت پر چھوڑ دے گا تو وہ تیرے بندوں کو گمراہ کر دیں گے اور ان سے فاجروں اور کافروں کے سوا اور کوئی پیدا نہیں ہو گا (وہ خود بھی فاسد ہیں اور ان کی آئندہ نسل بھی فاسد ہو گی)۔ (نوح ۲۶، ۲۷) یا وہ دعا جو آپ علیہ السلام نے کشتی پر سوار ہوتے وقت بارگاہِ خدا میں کی تھی۔ رَبِّ اَنْزِلْنی مُنْزَلاً مُبارَکاً وَاَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلینَ پروردگارا! تو ہمیں کسی پُربرکت منزل پر اتارنا اور تو بہترین منزل عطا کرنے والا ہے۔ (مومنون ۲۹) یا وہ دعا جو سُورہ قمر کی آیہ ۱۰ میں آ ئی ہے۔ فَدَعا رَبَّهُ اَنِّی مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ نوح علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے اس طرح دعا کی: (پروردگارا) میں اس قوم کے چنگل میں مغلوب ہوں میری مدد فرما۔ البتہ اس بات میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ زیر بحث آیہ ان تمام دعاؤں کی طرف اشارہ ہو اور مراد یہ ہو کہ خدا نے بہترین طریقے سے ان سب کو قبول فرمایا۔ لہذا بعد والی آیت میں بِلافاصلہ فرمایا گیا ہے: ہم نے اسے اور اس کے خاندان کو عظیم غم سے نجات بخشی (وَنَجَّیْناہُ وَاَهْلَهُ مِنَ الْکَرْبِ الْعَظیم) [تشریحی نوٹ: "کرب" مفردات میں راغب کے قول کے مطابق "اندوہِ شدید" کے معنی میں ہے اور"عظیم" اس معنی پر مزید تاکید کے لیے ہے]۔ یہ غم و اندوہ کیا تھا، جس نے حضرت نوح علیہ السلام کو ستا رکھا تھا؟ ممکن ہے یہ کافر و مغرور قوم کی طرف سے مذاق اڑانے اور زبانی آزار پہچانے اور آپ کی اور آپ کے پیروکاروں کی توہین کرنے کی طرف اشارہ ہو یا اس ہٹ دھرم قوم کی طرف سے پے درپے جھٹلانے کی طرف اشارہ ہو۔ کبھی وہ کہتے تھے: وَ ما نَراكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذِينَ هُمْ أَراذِلُنا ہم نہیں دیکھتے کہ کسی نے تیری پیروی کی ہو سوائے ہمارے چند حقیر لوگوں کے۔ (ہود ۲۷) کبھی کہتے تھے: يا نُوحُ قَدْ جادَلْتَنا فَأَكْثَرْتَ جِدالَنا فَأْتِنا بِما تَعِدُنا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ: اے نوح! تو نے ہم سے بہت باتیں کر لیں (اور خُوب جھگڑ چکا ہے) اگر تو سچ کہتا ہے تو وہ عذاب جس کا تو وعدہ کیا کرتا ہے اسے لے آ۔ (ہود ۳۲) اور کبھی جیسا کہ قرآن کہتا ہے: وَیَصْنَعُ الْفُلْکَ وَکُلَّما مَرَّ عَلَیْهِ مَلَأٌ مِنْ قَوْمِهِ سَخِرُوا مِنْهُ وہ تو کشتی کے بنانے میں مشغول تھا مگر جس وقت اس کی قوم کا کوئی گروہ اس کے قریب سے گزرتا تو اس کا مذاق اڑاتا (وہ کہتے کہ یہ شخص دیوانہ ہو گیا ہے)۔ (ہود ۳۸) حضرت نوح علیہ السلام جیسے باحوصلہ پیغمبر کو انہوں نے اس قدر پریشان کیا اور آپ علیہ السلام کی اتنی بےادبی کی کہ آپ علیہ السلام کو دیوانہ تک کہا۔ آپ نے عرض کیا: رَبِّ انْصُرْنی بِما کَذَّبُون پروردگارا! ان کی تکذیب کے مقابلے میں میری مدد فرما۔ (مومنون ۲۶) بہرحال مجموعی طور پر ان سب ناگوار حوادث اور زبان کے شدید زخموں نے ان کے پاکیزہ دل کو سخت پریشان کر دیا تھا۔ یہاں تک کہ طوفان آ پہنچا اور خدا نے انھیں اس ستمگر قوم کے چنگل سے اس کربِ عظیم اور اندوہِ کبیر سے نجات بخشی۔ بعض مفسرّین نے یہ احتمال پیش کیا ہے کہ "کربِ عظیم" سے مراد وہی طوفان تھا، جس سے حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے انصار و اصحاب کے علاوہ کسی نے نجات نہیں پائی، لیکن یہ معنی بعید نظر آتا ہے۔ اس کے بعد مزید ارشاد ہوتا ہے: ہم نے نوح کی اولاد کو (زمین پر) باقی رہ جانے والا قرار دیا۔ (وَ جَعَلْنا ذُرِّيَّتَهُ هُمُ الْباقِينَ)۔ کیا واقعاً تمام انسان جو اس وقت روئے زمین پر زندگی بسر کر رہے ہیں حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد ہیں اور کیا مذکورہ بالا آیت یہی کچھ کہتی ہے یا انبیاء اور اولیاء و صلحاء کا ایک عظیم گروہ ان کی اولاد میں سے باقی رہا اگرچہ تمام لوگ ان کی اولاد میں سے نہیں ہیں؟ ہم اس سلسلے میں ان آیات کی تفسیر کے بعد ایک بحث پیش کریں گے۔ اس کے علاوہ ہم نے بعد میں آنے والی امتوں میں نوح علیہ السلام کے لیے ذکرِ خیر، ثناءِ جمیل اور نیک نام جاری رکھا (وَ تَرَكْنا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ)۔ وہ انھیں ایک ثابت قدم قیام کرنے والا، شجاع، بہت زیادہ صبر کرنے والا، دلسوز و مہربان پیغمبر کے عنوان سے یاد کرتے ہیں اور انہیں شیخ الانبیاء کہتے ہیں۔ ان کی تاریخ ثبات قدم، پامردی اور استقامت کا ایک نمونہ ہے اور دشمنوں اور بےعقل کی سختیوں کے مقابلے میں ان کا طرزِعمل راہِ حق کے تمام راہیوں کے لیے الہام بخش ہے۔ عالمین کے لوگوں میں نوح پر سلام (سَلامٌ عَلی نُوحٍ فِی الْعالَمینَ)۔ اس سے برتر و بالا تر اور کون سا اعزاز و افتخار ہو گا کہ خداوندِ عالم ان پر سلام بھیجتا ہے۔ ایسا سلام جو جہان اور جہان والوں کے درمیان باقی رہتا ہے اور دامنِ قیامت تک پھیلا دیا جاتا ہے۔ خدا کا سلام جو اس کے بندوں کی طرف سے ثناءِ جمیل اور ذکرِ خیر کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ قرآن میں اس وسعت کے ساتھ بہت کم سلام کس کے لیے نظر آتا ہے۔ خاص طور پر یہ بات کہ "العالمین" (اس بناء پر کہ جمع ہے اور الف و لام اس کے ساتھ ہے) ایسا وسیع معنی رکھتا ہے، جو نہ صرف انسانوں بلکہ ممکن ہے کہ فرشتوں اور ملکوت کے عوامل پر بھی محیط ہو۔ اور اس غرض سے کہ یہ دوسروں کے لیے الہام بخش ہو۔ مزید فرمایا گیا ہے: ہم اسی قسم کی جزا نیکوکاروں کو دیتے ہیں۔ (إِنَّا کَذلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنینَ)۔ چونکہ وہ ہمارے صاحبِ ایمان بندوں میں سے تھا ((إِنَّهُ مِنْ عِبادِنَا الْمُؤْمِنِينَ)۔ درحقیقت مقامِ بندگی اور اسی طرح ایمان جو احسان و نیکی کے ساتھ ہو جس کا بیان آخری دو آیات میں ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام کے لیے خدا کے لطف اور اندوہِ عظیم سے ان کی نجات اور ان پر خدا کے درود و سلام کی اصل وجہ تھی کیونکہ اگر یہی طرزِ عمل دوسروں کا بھی ہو تو وہ بھی اسی رحمت اور لطف کے حقدار ہوں گے کہ جن کے نوح تھے، کیونکہ پروردگار کے الطاف کا معیار تخلف ناپذیر ہے اور وہ کسی خاص شخص کے لیے نہیں ہوتا۔ آخری زیر بحث آپ میں ایک مختصر اور تیز جملے کے ساتھ اس ظالم شریر اور کینہ پرور قوم کا انجام بیان کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: پھر ہم نے دوسروں کو غرق کر دیا (ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْآخَرینَ)۔ آسمان سے بارش کا طوفان ٹوٹ پڑا اور زمین سے پانی ابلنے لگا اور سارے کا سارا کرہ ارض تھپیڑیں مارتے ہوئے سمندر میں بدل گیا، اس نے ظالموں کے محل درہم برہم کر دیئے اور ان کے بےجان جسم صفحہٴ آب پر باقی رہ گئے قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھ اپنے الطاف و اکرام کی بات تو اللہ تعالیٰ نے کئی آیات میں بیان کی ہے لیکن اس سرکش قوم کے عذاب کا بیان تحقیر و بےاعتنائی کے ساتھ ایک مختصر سے جملے میں تمام کر دیا ہے، کیونکہ مومنین کے افتخارات اور کامیابیوں اور ان کے لیے خدا کی مدد و نصرت کا بیان توضیح کا حقدار ہے اور سرکشوں کی حالت بےاعتنائی و بےپرواہی سے بیان ہونا چاہیے۔
نکتہ: کیا روئے زمین کے تمام لوگ نوح (ع) کی اولاد ہیں؟
بزرگ مفسّرین کی ایک جماعت نے "وَجَعَلْنا ذُرِّيَّتَهُ هُمُ الْباقِينَ" "ہم نے نوح کی اولاد کو زمین میں باقی رہ جانے والا قرار دیا" سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ نوح کے بعد تمام نسلِ بشر انھی کی اولاد میں سے وجود میں آئی ہے اور اس وقت کے تمام انسان انہی کی اولاد ہیں۔ اس بات کو بہت سے مورخین نے نقل کیا ہے کہ نوح کے تین بیٹے باقی رہ گئے تھے۔ سام، حام اور ریافث اور اس وقت کُرّہ زمین پر موجود تمام نسلیں انہی پر منتہی ہوتی ہیں۔ یہ حضرات عرب، فارس اور رُوم کے لوگوں کو سام کی نسل سمجھتے ہیں اور ترکی نسل اور کچھ دوسرے گروہوں کو "یافث" کی اولاد سے اور سوڈان، سندھ، ہند، نوبہ، حبشہ، قبط اور بَربر کے لوگوں کو حام کی اولاد میں شمار کرتے ہیں۔ اب بحث اس مسئلہ میں نہیں ہے کہ فلاں نسلِ نوح علیہ السلام کے کس بیٹے کی اولاد ہے کیونکہ اس مسئلے میں مورخین و مفسّرین کے درمیان مختلف نظریات ہیں۔ بحث اس بارے میں ہے کہ کیا یہ سب انسانی نسلیں انہی تینوں کی طرف لوٹتی ہیں؟ یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ کیا دوسرے مومنین حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھ سوار نہیں ہوئے؟ (اگر ہوئے) تو پھر ان کا انجام کیا ہوا؟ کیا وہ سب کے سب اس حالت میں رخصت ہو گئے کہ ان کی کوئی اولاد باقی نہ رہی۔ یا اگر کوئی اولاد باقی رہی ہو تو وہ لڑکیاں تھیں جنہوں نے نوح کی اولاد سے شادیاں کر لیں؟ یہ مسئلہ تاریخی لحاظ سے چنداں روشن و واضح نہیں ہے بلکہ بعض روایات اور قرآنی آیات کے کچھ اشارات سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ ان کی بھی روئے زمین پر کچھ اولاد باقی رہ گئی تھی اور کچھ قومیں ان کی اولاد میں سے ہیں۔ ایک حدیث تفسیر علی بن ابراہیم میں امام باقر علیہ السلام سے مذکورہ بالا آیت کی وضاحت میں نقل ہوئی ہے۔ اس میں اس طرح بیان ہوا ہے۔ الحق والنبوة و الكتاب والايمان فى عقبه، وليس كل من فى الأرض من بنى آدم من ولد نوح (ع) قال الله عزّوجلّ فى كتابه احْمِلْ فِيها مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَ أَهْلَكَ إِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ مِنهم وَمَنْ آمَنَ وَما آمَنَ مَعَهُ إِلَّا قَلِيلٌ، و قال الله عزّوجلّ ايضا: ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنا مَعَ نُوح۔ خدا کی اس آیہ (وَجَعَلْنا ذُرِّيَّتَهُ هُمُ الْباقِينَ) سے مراد یہ ہے کہ حق، نبوّت، کتابِ آسمانی اور ایمان اولادِ نوح میں باقی رہا، لیکن آدم کی اولاد میں سے تمام وہ لوگ جو روئے زمین پر زندگی بسر کر رہے ہیں سب کے سب نوح کی اولاد میں سے نہیں ہیں کیونکہ خداوندِ تعالیٰ اپنی کتاب میں کہتا ہے: ہم نے نوح کو حکم دیا کہ جانوروں کے جوڑوں میں سے ایک جوڑا کشتی میں سوار کر لے اور اسی طرح اپنے اہلِ خانہ کو، سوائے ان کے جن کی ہلاکت کا وعدہ کیا جا چکا ہے (نوح کی بیوی اور ایک بیٹے کی طرف اشارہ ہے) اور اسی طرح مومنین کو (بھی سوار کر لو) اور نوح پر تو ایک چھوٹے سے گروہ کے سوا کوئی ایمان ہی نہیں لایا تھا۔ علاوہ ازیں (بنی اسرائیل کو خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے) اے ان لوگوں کی اولاد کہ جنھیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا [بحوالہ: یہ حدیث نور الثقلین، جلد ۴، ص ۴۰۵ پر آئی ہے۔ اس طرح تفسیر صافی میں زیر بحث آیات کے ذیل میں بھی ہے]۔ اور اس طرح سے روئے زمین کی تمام نسلوں کا نوح کی اولاد تک منتہی ہونے کے بارے میں جو کچھ مشہور ہے وہ ثابت نہیں ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 94 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 94 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 94 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 94 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 94 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 94 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 94 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 94 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 94 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 94 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 94 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: ابراہیم کی بُت شکنی کا زبردست منظر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6حضرت نوح علیہ السلام کی بھرپور تاریخ کے کئی گوشوں کو بیان کرنے کے بعد اب ان آیات میں بُت شکنی کے ہیرو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کے ایک اہم حصّے کو بیان کیا گیا ہے۔ یہاں پر حضرت ابراہیم کی بُت شکنی کے واقعے اور ان سے بُت پرستوں کی شدید مڈھ بھیڑ کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ دوسرے حصّے میں حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی عظیم فداکاری اور ان کے فرزند کی بانی کے مسئلہ کا ذکر کیا گیا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کا یہ حِصّہ قرآنِ مجید میں صرف اسی مقام پر بیان کیا گیا ہے۔ پہلی آیت میں قِصّہ ابراہیم علیہ السلام کو قِصّہٴ نوح علیہ السلام کے ساتھ اس طرح سے منسلک کیا گیا ہے: اور ابراہیم نوح کے پیروکاروں میں سے تھا (وَإِنَّ مِنْ شيعَتِهِ لَإِبْراهيمَ)۔ وہ اسی راہِ توحید و عدل اور اسی راہِ تقوٰی و اخلاص پر گامزن تھا جو نوح کی سُنّت تھی، کیونکہ انبیاء سارے کے سارے ایک ہی مکتب کے مبلغ اور ایک ہی یونیورسٹی کے استاد ہیں اور ان میں سے ہر ایک دوسرے کے پروگرام کو دوام بخشتا، اسے آگے بڑھاتا اور اس کی تکمیل کرتا ہے۔ کیسی عمدہ تعبیر ہے کہ ابراہیم نوح کے شیعوں میں سے تھے حالانکہ ان دونوں کے زمانے میں بہت فاصلہ تھا (بعض مفسّرین کے قول کے مطابق تقریباً ۲۶۰۰ سال)۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ مکتبی رشتے میں زمانے کی حیثیت نہیں ہے [تشریحی نوٹ: بعض مفسّرین نے "شیعتہ" کی ضمیر پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف پلٹائی ہے حالانکہ قرآن کی آیات یہ کہتی ہیں کہ پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، دینِ ابراہیم کے پیرو تھے۔ اس کے علاوہ اس قسم کی ضمیر کا مرجع قبل و بعد کی آیات میں موجود نہیں ہے۔ شاید انہوں نے تصوّر کر لیا ہے کہ شیعہ کی تعبیر حضرت نوح علیہ السلام کی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے افضلیت کی دلیل ہے، جبکہ قرآن ابراہیم کے لیے والاتر شخصیّت کا قائل ہے لیکن یہ تعبیر اس مسئلے پر کوئی دلیل نہیں رکھتی بلکہ اس سے مراد راہِ فکری و مکتبی کا دوام ہے، جیسا کہ پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تمام انبیاء سے افضل ہونا، ابراہیم کے مکتب توحیدی کی پیروی کے منافی نہیں قرآن کہتا ہے: فَبِهُداهُمُ اقْتَدِهْ: اے پیغمبر! گزشتہ انبیاء کی ہدایت کی پیروی کر۔ (انعام ۹۰)]۔ اس اجمالی بیان کے بعد اس کی تفصیل پیش کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: یاد کرو اس وقت کو جبکہ ابراہیم قلبِ سلیم کے ساتھ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں آیا (إِذْ جاءَ رَبَّهُ بِقَلْبٍ سَلیمٍ)۔ مفسّرین نے "قلبِ سلیم" کی متعدد تفسیریں بیان کی ہیں، جن میں سے ہر ایک اس مسئلے کی جہت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ مثلاً وہ دل جو شرک سے پاک ہو۔ وہ دل جو گناہوں، کینہ اور نفاق سے پاک ہو۔ وہ دل جو عشقِ دنیا سے خالی ہو۔ وہ دل جس میں خدا کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ "سلیم" سلامت کے مادہ سے ہے اور جب مطلق طور سے سلامت کہا جائے تو اس سے مراد ہر قسم کی اخلاقی و اعتقادی بیماری سے سلامتی ہو گی۔ قرآنِ مجید منافقین کے بارے میں کہتا ہے: فی قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَهُمُ اللہُ مَرَضا ان کے دلوں میں ایک قسم کی بیماری ہے اور خدا بھی (ان کی ہٹ دھرمی اور گناہ کی وجہ سے) اس بیماری میں اضافہ کر دیتا ہے۔ (بقرہ ۱۰)۔ "قلبِ سلیم" کی عمدہ ترین تفسیر امام صادق علیہ السلام نے فرمائی ہے۔ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: القلب السليم الذى يلقى ربه و ليس فيه احد سواه قلبِ سلیم ایک ایسا دل ہوتا ہے جو خدا سے اس حالت میں ملاقات کرے کہ اس میں خدا کے سوا اور کچھ نہ ہو [تفسیر صافی، سورہٴ شعراء کی آیہ ۸۹ کے ذیل میں، بحوالہ کافی]۔ یہ تعبیر تمام مذکورہ بالا اوصاف کی جامع ہے۔ اس کے علاوہ ایک دوسری روایت میں امام صادق علیہ السلام سے ہی مروی ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: صاحب النيّة الصادقة صاحب القلب السليم، لان سلامة القلب من هواجس المذكورات تخلص النية لله فى الأمور كلها جو شخص نیّت صادق رکھتا ہے وہ صاحبِ قلبِ سلیم ہے کیونکہ شرک و شک سے دل کی سلامتی نیت کو ہر چیز میں خالص کر دیتی ہے [ایضاً]۔ قلبِ سلیم کی اہمیّت کے بارے میں یہی کافی ہے کہ قرآنِ مجید اسے روزِ قیامت کے لیے اکیلا ہی سرمایہٴ نجات شمار کرتا ہے۔ چنانچہ سورہٴ شعراء کی آیہ ۸۸، ۸۹ میں اسی عظیم پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبانی یہ بیان کیا گیا ہے: یَوْمَ لا یَنْفَعُ مالٌ وَلا بَنُونَ إِلاَّ مَنْ اَتَی اللہَ بِقَلْبٍ سَلیمٍ اس دن مال و اولاد انسان کو کوئی فائدہ نہ دیں گے، البتہ جو قلبِ سلیم کے ساتھ بارگاہِ خداوندی میں حاضر ہو گا [تشریحی نوٹ: قلب سلیم کے بارے میں تفسیر نمونہ کی جلد ۸ میں سورہٴ شعراء کی آیہ ۸۸، ۸۹ کے ذیل میں تفصیلی بحث کی ہے]۔ ہاں! ابراہیم علیہ السلام قلب سلیم، روحِ پاک، قوی ارادہ اور عزمِ راسخ کے ساتھ بُت پرستوں کے خلاف جہاد کے لیے مامور ہوئے اور اپنے باپ (یعنی چچا) اور اپنی قوم سے اس کا آغاز کیا۔ جیسے کہ قرآن کہتا ہے: یاد کرو اس وقت کو جبکہ اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا: یہ کیا چیز ہیں کہ جن کی تم پرستش کرتے ہو۔ (إِذْ قالَ لِاَبیهِ وَقَوْمِهِ ما ذا تَعْبُدُونَ)۔ کیا یہ بات قابلِ افسوس نہیں ہے کہ انسان باوجود اس مقامِ ذاتی اور عقل و خرد کے، بےقدر و قیمت اور حقیر مٹی اور لکڑیوں کی تعظیم کرے؟ تمہاری عقل کہاں کھو گئی؟ اس تعبیر میں بتوں کی کھلی تحقیر موجود تھی پھر اس بات کی ایک دوسرے جملہ سے تکمیل کی اور کہا: کیا تم خدا کو چھوڑ کر جو برحق ہے جھوٹے خداؤں کے پیچھے جاتے ہو ((أَ إِفْكاً آلِهَةً دُونَ اللهِ تُرِيدُون) [تشریحی نوٹ: اس جملے کی تفسیر میں مفسرین نے دو احتمال ذکر کیے ہیں۔ پہلا یہ کہ "افکاً" مفعول ہے "تریدون" کا اور "اٰلھة" اس سے بدل ہے، دوسرا یہ کہ "اٰلھة" مفعول بہ ہے اور"افکاً" مفعول لاجلہ ہے کہ جسے اہمیّت کی بنا پر مقدّم رکھا گیا ہے]۔ "افک" بڑے جھوٹ کے معنی میں ہے یا قبیح ترین جھوٹ کے معنی میں ہے۔ ایسے الفاظ کے استعمال سے حضرت ابراہیم کی قاطیت اور بتوں کے بارے میں ان کا دو ٹوک فیصلہ زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔ آخر میں ایک اور تیکھے جملے کے ساتھ اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا: تمہارا عالمین کے پروردگار کے بارے میں کیا گمان ہے؟ (فَما ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعالَمِينَ)۔ روزی تم اس کی کھاتے ہو، اس کی نعمتوں نے تمہارے سارے وجود کا احاطہ کیا ہوا ہے، اس کے باوجود تم نے حقیر اور بےقدر و قیمت موجودات کو اس کا ہم پلہ بنا دیا ہے۔ اس حالت میں بھی تم یہ امید رکھتے ہو کہ وہ تم پر رحم کرے اور تمہیں زیادہ سخت عذاب کے ساتھ سزا نہ دے؟ کتنی بڑی غلطی ہے یہ؟ اور کتنی خطرناک گمراہی ہے یہ؟ " رَبِّ الْعالَمِين" کی تعبیر میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سارے عالم کا نظام اس کے سایہ ربوبیّت میں چلتا ہے تم اسے چھوڑ کر معمولی سی خیالی اور وہمی چیز کے پیچھے لگ گئے ہو، جس سے کوئی کام نہیں ہو سکتا۔ تورایخ و تفاسیر میں آیا ہے کہ بابل کے بُت پرست ہر سال ایک مخصوص عید کے دن کچھ رسومات ادا کیا کرتے تھے۔ بُت خانہ میں کھانے تیار کرتے ہیں اور وہیں انھیں دسترخوان پر چُن دیتے تھے اس خیال سے کہ یہ کھانے متبرک ہو جائیں گے۔ اس کے بعد سب کے سب مل کر اکٹھے شہر سے باہر چلے جاتے تھے اور دن کے آخر میں واپس لوٹتے تھے اور عبادت کرنے اور کھانا کھانے کے لیے بُت خانہ میں آ جاتے تھے۔ اس روز اسی طرح شہر خالی ہو گیا اور بتوں کو توڑنے اور انھیں درہم برہم کرنے کے لیے ایک اچھا موقع حضرت ابراہیم کے ہاتھ آ گیا۔ یہ ایسا موقع تھا جس کا ابراہیم علیہ السلام عرصے سے انتظار کر رہے تھے اور نہیں چاہتے تھے کہ ہاتھ سے نکل جائے۔ لہذا جب انہوں نے ابراہیم علیہ السلام کو جشن میں شرکت کی دعوت دی تو "اس نے ستاروں پر ایک نظر ڈالی" (فَنَظَرَ نَظْرَةً فِی النُّجُومِ)۔ "اور کہا میں تو بیمار ہوں" (فَقالَ إِنِّی سَقیمٌ)۔ اور اس طرح سے اپنی طرف سے عذر خواہی کی۔ "انہوں نے رُخ پھیرا اور جلدی سے اس سے دور ہو گئے" اور اپنے رسم و رواج کی طرف روانہ ہو گئے (فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرینَ)۔ یہاں دو سوال پیدا ہوتے ہیں: پہلا یہ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف کیوں دیکھا، اس دیکھنے سے ان کا مقصد کیا تھا؟ دوسرا یہ کہ کیا واقعاً وہ بیمار تھے کہ انہوں نے کہا میں بیمار ہوں؟ انھیں کیا بیماری تھی؟ پہلے سوال کا جواب بابل کے لوگوں کے اعتقاد اور رسوم کو دیکھتے ہوئے واضح و روشن ہے۔ وہ علمِ نجوم میں بہت ماہر تھے۔ یہاں تک کہ کہتے ہیں کہ ان کے بُت ستاروں کے ہیکلوں اور شکلوں میں تھے اور اسی بنا پر ان کا احترام کرتے تھے کہ وہ ستاروں کے سمبل تھے۔ البتہ علمِ نجوم میں مہارت کے ساتھ ساتھ بہت سی خرافات بھی ان کے درمیان موجود تھیں۔ ان میں سے ایک یہ تھی کہ وہ ستاروں کو اپنی سرنوشت میں موثر سمجھتے تھے اور ان سے خیر و برکت طلب کرتے تھے اور ان کی وضع و کیفیّت سے آنے والے واقعات پر استدلال کرتے تھے۔ ابراہیم علیہ السلام نے اس غرض سے کہ انہیں مطمئن کر دیں، ان کی رسوم کے مطابق آسمان کے ستاروں پر ایک نظر ڈالی تاکہ وہ یہ تصوّر کریں کہ انہوں نے اپنی بیماری کی پیشگوئی ستاروں کے اوضاع کے مطالعے سے کی ہے اور وہ مطمئن ہو جائیں۔ بعض بزرگ مفسّرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ وہ چاہتے تھے کہ ستاروں کی حرکت سے اپنی بیماری کا وقت ٹھیک طور سے معلوم کر لیں کیونکہ ایک قسم کی بیماری انہیں تھی وہ یہ کہ بخار انہیں ایک خاص وقفہ کے ساتھ آتا تھا لیکن بابل کے لوگوں کے افکار و نظریات کی طرف توجّہ کرتے ہوئے پہلا احتمال زیادہ مناسب ہے۔ بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ ان کا آسمان کی طرف دیکھنا درحقیقت اسرارِ آفرینش میں مطالعہ کے لیے تھا اگرچہ وہ آپ کی نگاہ کو ایک منجم کی نگاہ سمجھ رہے تھے۔ جو یہ چاہتا ہے کہ ستاروں کے اوضاع سے آئندہ کے واقعات کی پیش بینی کرے۔ دوسرے سوال کے مفسّرین نے متعدد جواب دیئے ہیں۔ منجملہ ان کے یہ ہے کہ وہ واقعاً بیمار تھے، اگرچہ وہ صحیح و سالم بھی ہوتے تب بھی بتوں کے جشن کے پروگرام میں ہرگز شرکت نہ کرتے، لیکن ان کی بیماری ان مراسم میں شرکت نہ کرنے اور بتوں کو توڑنے کے لیے ایک سنہرا موقع اور اچھا بہانہ بھی تھا اور اس بات پر کوئی دلیل نہیں ہے کہ ہم یہ کہیں کہ انہوں نے یہاں "توریہ" کیا تھا، کیونکہ انبیاء کے لیے "توریہ" کرنا مناسب نہیں ہے۔ بعض دوسروں نے کہا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کو واقعی طور پر کوئی جسمانی بیماری نہیں تھی لیکن ان کی روح ان لوگوں کے غیر موزوں اعمال اور ان کے کفر و شرک اور ظلم و گناہ کی بنا پر بیمار تھی۔ اس بنا پر انہوں نے حقیقت کو بیان کیا اگرچہ انہوں نے دوسری طرح سوچا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جسمانی طور پر بیمار سمجھا۔ یہ احتمال بھی بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس گفتگو میں تو یہ کہا ہو گا۔ مثلاً یہ کوئی شخص گھر کے دروازے پر آ کر سوال کرتا ہے کہ فلاں شخص گھر میں ہے، وہ جواب میں کہتے ہیں: یہاں نہیں ہے اور "یہاں" سے ان کی مراد گھر کے دروازے کے پیچھے ہوتی ہے نہ کہ سارا گھر۔ جبکہ سننے والا اس طرح نہیں سمجھا (ایسی تعبیرات کو جو جھوٹ نہیں ہیں لیکن ان کا ظاہر کچھ اور ہوتا ہے، فقہ میں "توریہ" کہتے ہیں)۔ اس بات سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مراد یہ تھی کہ ہو سکتا ہے میں آیندہ بیمار ہو جاؤں، تاکہ وہ ان سے الگ ہو کر اپنا کام کریں۔ لیکن پہلی اور دوسری تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ اس طرح ابراہیم علیہ السلام اکیلے شہر میں رہ گئے اور بُت پرست شہر خالی کر کے باہر چلے گئے، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے اِدھر اُدھر دیکھا، شوق کی بجلی ان کی آنکھوں میں چمکی، وہ لمحات جن کا وہ ایک مُدّت سے انتظار کر رہے تھے آن پہنچے، انہوں نے اپنے آپ سے کہا، بتوں سے جنگ کے لیے اٹھ کھڑا ہو اور سخت ضرب ان کے پیکروں پر لگا۔ ایسی ضرب جو بُت پرستوں کے سوئے ہوئے دماغوں کو ہلا کر رکھ دے اور انہیں بیدار کر دے۔ قرآن کہتا ہے: وہ ان کے خداؤں کے پاس آیا، ایک نگاہ ان پر اور کھانے کے ان برتنوں پر جو ان کے اطراف میں موجود تھے، نظر ڈالی اور تمسخر کے طور پر کہا: تم یہ کھانے کھاتے کیوں نہیں؟ ((فَراغَ إِلى آلِهَتِهِمْ فَقالَ أَ لَا تَأْكُلُونَ) [تشریحی نوٹ: "راغ" "روغ" کے مادہ سے کسی چیز کی طرف توجہ اور میلان کے معنی میں ہے جو پوشیدہ اور مخفی طور سے ہو یا سازش اور تخریب کی صورت میں]۔ یہ کھانے تو تمہاری عبادت کرنے والوں نے فراہم کیے ہیں۔ مرغن و شیریں، طرح طرح کی رنگین غذائیں ہیں، کھاتے کیوں نہیں ہو؟ اس کے بعد مزید کہتا ہے: تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ تم بات کیوں نہیں کرتے؟ تم گونگے کیوں بن گئے ہو؟ تمہارا منہ کیوں بند ہے؟ (مَا لَکُمْ لا تَنْطِقُونَ)۔ اس طرح ان کے تمام بیہودہ اور گمراہ عقائد کا مذاق اڑایا۔ بِلاشک وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ کھانا کھاتے ہیں اور نہ ہی بات کرتے ہیں اور بےجان موجودات سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے، لیکن حقیقت میں وہ یہ چاہتے تھے کہ اپنی بُت شکنی کے اقدام کی دلیل اس عمدہ اور خوبصورت طریقہ سے پیش کریں۔ پھر انہوں نے اپنی آستین چڑھا لی، کلہاڑا ہاتھ میں اٹھایا اور پوری طاقت کے ساتھ اسے گھمایا اور بھرپور "توجہّ کے ساتھ ایک زبردست ضرب ان کے پیکر پر لگائی" (فَراغَ عَلَیْهِمْ ضَرْباً بِالْیَمینِ)۔ "یمین" سے مراد یا تو واقعی دایاں ہاتھ ہے جس سے انسان اپنے زیادہ تر کام کرتا ہے اور یا یہ قدرت و قوّت کیلیے کنایہ ہے (دونوں معنی بھی ہو سکتے ہیں)۔ بہرحال تھوڑی سی دیر میں وہ آباد اور خوبصورت بُت خانہ ایک وحشتناک ویرانہ بن گیا۔ تمام بت ٹوٹ پھوٹ گئے۔ ہر ایک ہاتھ پاؤں تڑوائے ہوئے ایک کونے میں پڑا تھا اور سچ مچ بت پرستوں کے لیے ایک دلخراش، افسوسناک اور غم انگیز منظر تھا۔ ابراہیم علیہ السلام اپنا کام کر چکے اور پورے اطمینان و سکون کے ساتھ بتکدے سے باہر آئے اور اپنے گھر چلے گئے۔ اب وہ اپنے آپ کو آئندہ کے حوادث کے لیے تیار کر رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ انہوں نے شہر میں بلکہ پورے ملکِ بابل میں ایک بہت بڑا دھماکہ کیا ہے جس کی صدا بعد میں بلند ہو گی۔ غُصّہ اور غضب کا ایک ایسا طوفان اٹھے گا اور وہ اس طوفان میں اکیلے ہوں گے۔ لیکن ان کا خدا موجود ہے اور وہی ان کے لیے کافی ہے۔ بُت پرست شہر میں واپس لوٹے اور بُت خانے کی طرف آئے، کتنا وحشتناک اور مبہوت کن منظر تھا؟ جہاں کے تہاں بےحس و حرکت ہو گئے؟ کافی دیر تک ان کے اوساں خطا رہے۔ انتہائی حیرانی اور پریشانی کے عالم میں اس ویرانے پر نگاہ ڈالی اور ان بتوں کو جنہیں وہ اپنی بےپناہی کے دن کے لیے پناہ گاہ خیال کرتے تھے وہاں بےپناہ دیکھا۔ اس کے بعد سکوت ٹوٹا اور چیخ و پکار اور نالہ و فریاد کی صدا بلند ہوئی کس نے کیا ہے یہ کام؟ کون تھا وہ ستمگر؟ دیر نہ گزری تھی کہ انہیں یاد آ گیا۔ اس شہر میں ایک خدا پرست جوان رہتا ہے۔ اس کا نام ابراہیم ہے۔ وہ بتوں کا مذاق اڑایا کرتا تھا اور اس نے یہ دھمکی دی تھی کہ میں نے تمہارے بتوں کے لیے ایک خطرناک منصوبہ بنا لیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام اسی نے کیا ہے۔ پھر وہ اس کی طرف چل پڑے۔ وہ بڑی تیزی سے (غُصّہ کے عالم میں) چل رہے تھے (فَاَقْبَلُوا إِلَیْهِ یَزِفُّونَ)۔ "یزفّون" "زف" (بروزن "کف") کے مادہ سے دراصل ہوا کے چلنے اور شترمُرغ کے تیز دوڑنے کے معنی میں ہے جبکہ شترمرغ دوڑتے ہوئے پھڑ پھڑا بھی رہا ہوتا ہے۔ بعد ازاں یہ لفظ بطور کنایہ "زفاف عروس" یعنی دلہن کو دولہا کے گھر لے جانے کے موقع پر استعمال ہونے لگا۔ بہرحال مراد یہ ہے کہ بُت پرست تیزی کے ساتھ ابراہیم کی طرف آئے اس قصّے کا باقی حصّہ بعد کی آیات میں بیان ہو گا۔
چند اہم نکات ۱۔ کیا انبیاء بھی توریہ کرتے ہیں؟
پہلے ضروری ہے کہ ہم یہ جانیں کہ "توریہ" کیا ہوتا ہے؟ "توریہ" (بروزن "توصیہ") کو بعض اوقات "معاریض" سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس سے مراد ہے ایسی بات کہنا جس کا ایک ظاہری مفہوم ہو لیکن کہنے والے کی مراد کچھ اور ہو، اگرچہ سامع کی نظر ظاہری مفہوم کی طرف ہی جاتی ہو۔ مثلاً کوئی شخص کسی آدمی سے سوال کرتا ہے: تم سفر سے کب آئے ہو؟ وہ کہتا ہے: غروب سے پہلے۔ حالانکہ وہ ظہر سے پہلے آیا ہے۔ سننے والا اس کلام سے غروب سے تھوڑا سا پہلے سمجھتا ہے، جبکہ کہنے والے کا ارادہ زوال سے پہلے ہے، کیونکہ وہ بھی غروب سے پہلے ہے۔ یا کوئی شخص دوسرے سے سوال کرتا ہے: "کیا تو نے کھانا کھایا ہے"؟ وہ کہتا ہے: ہاں! سامع اس بات سے یہ سمجھتا ہے کہ اس نے آج کھا لیا ہے جبکہ اس کی مراد یہ ہے کہ اس نے کل کھانا کھایا ہے۔ یہ نکتہ فقہ کی کتابوں میں بیان ہوا ہے کہ کیا توریہ جھوٹ شمار ہوتا ہے یا نہیں؟ بعض بزرگ فقہاء جن میں شیخ انصاری (رضوان اللہ علیہ) بھی شامل ہیں کا نظریہ ہے کہ توریہ جھوٹ میں داخل نہیں ہے۔ نہ عرفاً اس پر جھوٹ صادق آتا ہے اور نہ ہی اسلامی روایات سے اس کا جھوٹ سے تعلّق معلوم ہوتا ہے، بلکہ چند روایات میں باقاعدہ اس کے جھوٹ ہونے کی نفی کی گئی ہے۔ امام صادق علیہ السلام سے ایک حدیث منقول ہے۔ الرجل يستاذن عليه فيقول للجارية قولى ليس هو هاهنا فقال (ع) لا بأس ليس بكذب کوئی شخص دروازے پر آتا ہے اور گھر میں داخل ہونے کی اجازت چاہتا ہے، صاحبِ خانہ (کو اس کی پذیرائی میں کوئی امر مانع ہے) اپنی کنیز سے کہتا ہے کہ کہہ دے کہ وہ یہاں نہیں ہے۔ (اور اس سے مراد مثلاً گھر کے دروازے کے پیچھے ہے)۔ امام نے فرمایا: یہ جھوٹ نہیں ہے [بحوالہ: وسائل الشیعہ جلد ۸، ص ۵۸۰ (باب ۱۴۱ از ابواب العشرہ حدیث ۸)]۔ حق یہ ہے کہ یہاں کچھ تفصیل کی ضرورت ہے اور ایک ضابطٴ کلی کے طور پر کہنا چاہیے کہ جہاں لفظ لغوی و عرفی مفہوم کے لحاظ سے دو معانی کی قابلیّت رکھتا ہے لیکن مخاطب کا ذہن اس سے ایک معنی مراد لیتا ہے جبکہ کہنے والے کی نظر میں دوسرا معنی ہے، اس قسم کا توریہ جھوٹ نہیں ہے۔ مثلاً یہ کہ مشترک لفظ استعمال کریں۔ سننے والے کا ذہن ایک معنی کی طرف متوجہ ہو جبکہ کہنے والے کی نظر دوسرے معنی کی طرف ہو۔ مثلاً سعید بن جبیر کے حالات میں منقول ہے کہ حجّاج نے ان سے پوچھا کہ تمہارا نظریہ میرے متعلق کیسا ہے؟ انہوں نے کہا:میرے نظریہ کے مطابق "تو عادل ہے"، حجاج کے مصاحبین اور حامی خوش ہو گئے۔ حجّاج نے کہا: اس نے اس بات سے میرے کفر کا حکم صادر کیا ہے۔ کیونکہ عادل کا ایک معنی حق کے باطل کی طرف عدول کرنے والا اور منہ پھیر لینے والا ہے۔ لیکن اگر لفظ لغوی اور عرفی مفہوم کے لحاظ سے ایک ہی معنی رکھتا ہے اور کہنے والا اسے چھوڑ کر قرینہ مجاز ذکر کیے بغیر مجازی معنی مراد لے تو اس قسم کا توریہ بلاشک و شبہ حرام ہے اور ممکن ہے اس تفصیل کے ذریعے فقہاء کے مختلف نظریات یکجا اور جمع کیے جا سکیں۔ البتہ اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ ایسے مواقع پر بھی، جہاں توریہ جھوٹ کا مصداق نہیں ہے بعض اوقات اس کے مفاسد کا حامل ہوتا ہے اور جہالت میں پڑنے اور لوگوں کو غلطی میں ڈالنے کا سبب بنتا ہے اور اس لحاظ سے ہو سکتا ہے کہ وہ بعض اوقات حرام کے مرحلہ تک پہنچ جائے لیکن جب اس میں نہ تو اس قسم کا کوئی مفسدہ ہو اور نہ ہی وہ جھوٹ کا مصداق ہو تو اس کی حرمت پر ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے اور امام صادق علیہ السلام کی روایت اسی پہلو سے ہے۔ اس بناء پر صرف جھوٹ نہ ہونا توریہ کرنے کے لیے کافی نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ دوسرے مفاسد بھی اس میں نہ ہوں۔ البتہ وہ مواقع جہاں ضرورت کا تقاضا ہو کہ انسان جھوٹ بولے وہاں یقیناً جب تک توریہ ممکن ہے اسے توریہ کرنا چاہیے تاکہ اس کی بات جھوٹ کا مصداق نہ بنے۔ باقی رہی یہ بات کہ انبیاء کے لیے توریہ جائز ہے یا نہیں؟ تو کہنا چاہیے کہ وہ صورت جس میں توریہ عام لوگوں کے اعتماد کے تزلزل کا موجب بنتا ہے، وہاں جائز نہیں ہے کیونکہ تبلیغ کی راہ میں انبیاء کا سرمایہ عام لوگوں کا اعتماد ہی تو ہے۔ لیکن ایسے مواقع جس کی مثال مذکورہ بالا آیات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی داستان ہے میں کوئی اشکال نہیں۔ اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیماری کا اظہار کیا، منجمین کی طرح آسمان کی طرف دیکھا۔ البتہ خیال ہے کہ ایسے کام میں ایک اہم مقصد پیشِ نظر ہو اور اس سے حق طلب لوگوں کا اعتماد بھی ڈانواں ڈول نہ ہوتا ہو۔
۲۔ ابراہیم (ع) اور "قلبِ سلیم"
ہم جانتے ہیں کہ قرآن کی اصطلاح میں "قلب" روح اور عقل کے معنی میں ہے۔ اس بنا پر "قلبِ سلیم" اس پاک اور سالم روح کے لیے بولا جاتا ہے جو ہر قسم کے شرک، شک اور گناہ سے پاک ہو۔ قرآنِ مجید نے بعض قلوب کو "قاسیة" (قساوت مند) قرار دیا ہے۔ (مائدہ ۱۳) بعض قلوب کا "ناپاک" کے عنوان سے تعارف کروایا ہے۔ (مائدہ ۴۱) کچھ دلوں کو "بیمار" کہا ہے۔ (بقرہ ۶) بعض دلوں کو "مہرزدہ" اور بند کہا ہے۔ (توبہ ۸۷) ان کے مقابل میں قرآن "قلبِ سلیم" کو پیش کرتا ہے کہ جس میں ان عیوب میں سے کوئی بھی نہیں ہے۔ وہ پاک بھی ہے اور نرم و مہربان بھی، سالم بھی ہے اور حق کو قبول کرنے والا بھی۔ یہ وہی قلب ہے کہ روایات میں جس کی "حرمِ خدا" کہہ کر تعریف کی گئی ہے، جیسا کہ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: القلب حرم اللہ فلا تسکن حرم اللہ غیر اللہ قلب حرمِ خدا ہے، خدا کے حرم میں خدا کے غیر کو نہ بساؤ [بحوالہ: بحار جلد ۷۰، صفحہ ۲۵ "باب حب اللہ حدیث ۲۷"]۔ یہی وہ قلب ہے جو غیب کے حقائق دیکھ سکتا ہے اور عالمِ بالا کے ملکوت کا نظارہ کر سکتا ہے۔ جیسا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک حدیث میں منقول ہے: لولا أن الشياطين يحومون على قلوب بنى آدم لنظروا الى الملكوت اگر شیاطین اولادِ آدم کے دلوں کو گھیر نہ لیں تو وہ عالمِ ملکوت کو دیکھ سکتے ہیں [بحوالہ: بحار جلد ۷۰ صفحہ ۵۹ "باب القلب وصلاحہ" حدیث ۳۹]۔ بہرحال قیامت میں نجات کے لیے بہترین سرمایہ قلبِ سلیم ہے اور یہی قلبِ سلیم تھا جس کے ساتھ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے پروردگار کی بارگاہ کی طرف چلے اور فرمانِ رسالت حاصل کیا۔ یہ بیان ہم ایک حدیث کے ساتھ ختم کرتے ہیں، ایک روایت میں آیا ہے: إن للَه فى عباده آنية وهو القلب فأحبها اليه" اصفاها" و" اصلبها" و" ارقها": اصلبها فى دين امه، واصفاها من الذنوب، وأرقها على الأخوان خدا کا اس کے بندوں میں ایک ظرف اور پیمانہ ہے۔ جس کا نام "دل" ہے۔ ان میں سے سب سے بہتر وہی ہے جو زیادہ صاف و شفاف، زیادہ محکم اور زیادہ لطیف ہو۔ خدا کے دین میں سب سے زیادہ محکم ہو، گناہوں سے سب سے زیادہ پاک ہو اور دینی بھائیوں کے لیے زیادہ لطیف اور مہربان ہو [بحوالہ: بحار جلد ۷۰، صفحہ ۵۶ "باب القلب وصلاحہ" حدیث ۲۶]۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 100 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 100 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 100 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 100 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 100 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: مشرکین کے منصُوبے خاک میں مِل گئے
Tafsīr Nemūna · Vol. 6آخر بُت شکنی کے واقعے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اسی الزام میں عدالت میں لے گئے۔ وہ انہیں ملزم ٹھہراتے ہوئے ان سے پوچھنے لگے کہ: "اس بات کی وضاحت کرو کہ بُت خانے کا وحشتناک حادثہ کس کے ہاتھ سے انجام پایا ہے"۔ قرآن نے اس واقعے کی تفصیل سُورہٴ انبیاء میں بیان کی ہے اور زیرِ بحث آیات میں اس کے صرف ایک حساس حِصّے کا ذکر کیا ہے اور وہ ہے بُت پرستی کے باطل ہونے کے بارے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ان سے آخری گفتگو۔ ابراہیم نے کہا: کیا تم ایسی چیز کی پرستش کرتے ہو جسے تم اپنے ہاتھ سے تراشتے ہو (قالَ اَ تَعْبُدُونَ ما تَنْحِتُونَ)۔ کیا کوئی بھی عقلمند انسان اپنی بنائی ہوئی چیز کی عبادت کرتا ہے؟ کیا کوئی ذی شعور اپنی مخلوق کے سامنے زمین پر زانو جھکاتا ہے؟ کون سی عقل و منطق تمہیں ایسا کرنے کی اجازت دیتی ہے؟ معبود تو وہ ہونا چاہیے جو انسان کا خالق ہو نہ وہ کہ جو خود انسان کا تراشیدہ ہو۔ اب اچھی طرح سے غور کرو اور معبودِ حقیقی کو تلاش کرو۔ "خدا نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور ان بتوں کو بھی جنہیں تم بناتے ہو" (وَاللہُ خَلَقَکُمْ وَما تَعْمَلُونَ)۔ آسمان و زمین سب اسی کی مخلوق ہیں اور زمان و مکان سب اسی کے بنائے ہوئے ہیں۔ ایسے خالق کے آستانے پر سر رکھنا چاہیے اور اس کی پرستش و عبادت کرنا چاہیے۔ یہ ایک بہت ہی قوی اور دندان شکن دلیل ہے، جس کے مقابلے میں ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ "ما تعملون" میں "ما" اصطلاح کے مطابق "ما موصولہ" ہے (نہ کہ ما مصدریہ) حضرت ابراہیم علیہ السلام یہ کہنا چاہتے ہیں کہ خدا نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور تمہاری مصنوعات کو بھی۔ اگر بتوں پر انسان کے "مصنوع" یا "معمول" کے لفظ کا اطلاق ہو تو یہ اس صورت کی بنا پر ہے جو انسان اسے دیتا ہے، ورنہ اس کا مادہ تو خدا ہی نے پیدا کیا ہے۔ یہ بات بالکل اس طرح ہے کہ کہتے ہیں یہ فرش، یہ گھر اور یہ گاڑی اور بس انسان کی بنائی ہوئی ہے۔ یقیناً اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ انسان نے اس کے مواد کو بنایا ہے بلکہ ان کی شکل و صورت انسان کے ہاتھ کی بنائی ہوئی ہے۔ لیکن اگر "ما" کو مصدری معنی میں لیں تو اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ خدا نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور تمہارے اعمال کو بھی۔ البتہ یہ معنی بھی غلط نہیں ہے اور بعض کے نظریہ کے برخلاف جبر پر بھی دلالت نہیں کرتا، کیونکہ ہمارے اعمال اگرچہ ہمارے ارادہ و اختیار سے انجام پاتے ہیں لیکن کسی کام کے کرنے کے لیے ارادہ و قدرت اور دوسر ی قوتیں جن کے ساتھ انسان اپنے افعال انجام دیتا ہے سب خدا کی طرف سے ہیں لیکن اس کے باوجود آیت اس معنی پر دلالت نہیں کرتی بلکہ یہ بتوں پر دلالت کرتی ہے۔ آیت یہ کہتی ہے کہ "خدا تمہارا بھی خالق ہے اور ان بتوں کا بھی جنہیں تم نے تراشا ہے" اور بات کا لطف بھی اسی میں ہے، کیونکہ بحث بتوں کے بارے میں تھی نہ کہ انسانی اعمال کے بارے میں۔ درحقیقت یہ آیت اس بات کے مشابہ ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور جادوگروں کی داستان میں آئی ہے، جہان قرآن بیان کرتا ہے۔ فَإِذا هِيَ تَلْقَفُ ما يَأْفِكُونَ موسیٰ نے عصا پھینکا، تو وہ بہت بڑا اژدہا بن گیا اور جو کچھ انہوں نے جھوٹ موٹ بنا رکھا تھا انھیں نگل گیا۔ (اس سے مراد جادوگروں کے بنائے ہوئے سانپ ہیں)۔ (اعراف ۱۱۷) لیکن ہم جانتے ہیں کہ جھوٹے اور سرکش لوگ کبھی بھی منطق و استدلال سے آشنا نہیں رہے۔ اسی بنا پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طاقتور اور عمدہ دلیل کا بابل کے جابر نظام کے سرداروں کے دلوں پر کوئی اثر نہ ہوا۔ ہو سکتا ہے مستضعف عوام کے ایک گروہ کو اس نے بیدار بھی کیا ہو۔ لیکن وہ مستکبرین جو اس توحیدی منطق کو اپنے مفادات کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے تھے، طاقت، نیزے کی نوک اور آگ کی منطق کے ساتھ میدان میں آ گئے۔ یہ وہ منطق جس کے سوا اور کوئی بات انہیں سمجھائی نہ دیتی تھی۔ انہوں نے اپنی طاقت کا سہارا لیا اور چلّا کر کہا: اس کے لیے اونچی سی جگہ بناؤ اور اس کے اندر آ گ روشن کرو اور اسے اس جلانے والی جہنم میں پھینک دو۔ (قالُوا ابْنُوا لَهُ بُنْياناً فَأَلْقُوهُ فِي الْجَحِيمِ)۔ اس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے یہ حکم دیا گیا کہ ایک بہت بڑی چاردیواری بنائی جائے اور پھر اس کے اندر آگ جلائی جائے۔ شاید اس کی وجہ سے یہ ہو کہ ایک آ گ کو پھیلنے اور احتمالی خطرات سے روکا جائے۔ دوسرے وہ دوزخ جس کی ابراہیم علیہ السلام بُت پرستوں کو دھمکی دیتے تھے عملی طور پر تیار کر دی جائے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ابراہیم علیہ السلام جیسے ایک انسان کو جلانے کے لیے لکڑیوں کا ایک چھوٹا سا گٹھا ہی کافی تھا۔ لیکن بتوں کے ٹوٹنے سے ان کے دل میں جو آگ بھڑک رہی تھی وہ اسے ٹھنڈا کرنا چاہتے تھے اور جہاں تک انتقام لیا جا سکتا تھا لینا چاہتے تھے اور ضمنی طور پر وہ بتوں کی شوکت و عظمت بھی ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ شاید ان کی برباد ہونے والی آبرو پلٹ آئے۔ نیز اپنے تمام مخالفین کو وہ درسِ عبرت دینا چاہتے تھے تاکہ یہ حادثہ پھر بابل کی تاریخ میں نہ دہرایا جائے۔ اس لیے وہ آگ کا دریا تیار کرنا چاہتے تھے (اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ "جحیم" لغت میں اس آگ کے معنی میں ہے جو ایک دوسرے کے اوپر تہ بہ تہہ رکھی گئی ہو)۔ بعض نے "بنیان" سے "منجنیق" مراد لی ہے جس سے دور سے بھاری چیزیں پھینکی جاتی تھیں۔ لیکن اکثر مفسرین نے پہلی تفسیر کو اختیار کیا ہے کہ "بنیان" سے مراد عمارت اور بڑی چاردیواری ہے۔ یہاں قرآن اس مسئلے کے جزئیات کی طرف جو سُورہٴ انبیاء میں آ چکے ہیں، اشارہ نہیں کرتا۔ صرف یکجائی طور پر ایک مختصر اور عمدہ پیرائے میں اس قِصّے کے آخری حِصّے کو اس طرح بیان کرتا ہے: انہوں نے ابراہیم کو ختم کرنے کے لیے ایک زبردست منصوبہ تیار کیا تھا لیکن ہم نے انہیں پست اور مغلوب کر دیا (فَأَرادُوا بِهِ كَيْداً فَجَعَلْناهُمُ الْأَسْفَلِينَ)۔ "کید" اصل میں ہر قسم کی "تدبیر سوچنے" کے معنی میں ہے۔ چاہے وہ صحیح راستے کے لیے ہو یا غلط کے لیے، اگرچہ عام طور پر یہ لفظ مذموم موقعوں کے بارے میں استعمال ہوتا ہے۔ یہاں یہ لفظ نکرہ کی صورت میں آیا ہے۔ جبکہ نکرہ عظمت و اہمیّت پر دلالت کرتا ہے، لہٰذا یہ ایک وسیع و عریض منصوبے کی طرف اشارہ ہے، جو انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ختم کرنے اور ان کی قولی و عملی تبلیغ کے اثرات ختم کرنے کے لیے بنایا تھا۔ ہاں خدا نے انہیں اسفل اور نچلے درجے میں قرار دیا اور ابراہیم کو اعلیٰ مرتبہ عطا کیا۔ جیسا کہ ان کی منطق میں بھی برتری تھی۔ نیز آگ میں جلانے کے واقعے میں بھی خدا نے انہیں برتر رکھا اور ان کے طاقتور دشمنوں کو پست کر دیا۔ آگ کو ابراہیم علیہ السلام کے لیے سرد اور سلامتی والا بنا دیا۔ یہاں تک کہ وہ ایک بال تک بھی نہ جلا سکی اور وہ آگ کے دریا سے صحیح و سالم باہر نکل آئے۔ ایک دن میں تو وہ نوح علیہ السلام کو "غرق" ہونے سے نجات دیتا ہے اور دوسرے دن ابراہیم علیہ السلام کو "حرق" (جلنے) سے، تاکہ سب پر واضح کر دے کہ پانی اور آگ اس کے تابع فرمان ہیں اور جو کچھ خدا حکم دیتا ہے وہ وہی کرتے ہیں۔ ابرا ہیم علیہ السلام اس ہولناک حادثہ اور خطرناک سازش سے جو دشمن نے ان کے خلاف کی تھی صحیح و سالم اور سربلند باہر نکل آئے اور چونکہ بابل میں آپ نے اپنی پیغام رسانی کی ذمہ داری کو ادا کر دیا تھا لہذا شام کی مقدس سرزمین کی طرف، ہجرت کا ارادہ کیا اور کہا "میں اپنے پروردگار کی طرف جاتا ہوں وہ مجھے ہدایت کرے گا" (وَ قالَ إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي سَيَهْدِينِ)۔ یہ بات واضح ہے کہ خدا کوئی مکان نہیں رکھتا، لیکن آلودہ اور گندے ماحول سے پاک ماحول کی طرف ہجرت کرنا، خدا کی طرف ہجرت کرنا ہے۔ سرزمینِ انبیاء و اولیاء کی طرف ہجرت اور وحی الہٰی کے مراکز کی طرف ہجرت ہے۔ جیسا کہ مکہ کی طرف ہجرت کرنا، خدا کی طرف ہجرت کرنا ہے۔ علاوہ ازیں انجامِ فریضہٴ الٰہی کی طرف ہجرت دوست کی طرف سفر کرنا ہے اور اس سفر میں ہر جگہ ہادی و رہنما خدا ہے۔ یہاں خدا سے ان کا پہلا تقاضا اور درخواست جو مذکورہ بالا آیات میں مذکور ہے، صالح اور نیک فرزند کی درخواست ہے۔ ایسا فرزند جو ان کے راستے کو دوام بخشے اور ان کے ادھورے کاموں کی تکمیل کرے۔ یہ وہ منزل تھی کہ انہوں نے عرض کیا: "پروردگارا! مجھے ایک فرزندِ صالح عطا فرما"۔ (رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ)۔ کتنی عمدہ تعبیر ہے "صالح اور نیک فرزند" اعتقاد و ایمان کے لحاظ سے صالح، گفتار و عمل کے لحاظ سے صالح اور تمام جہات سے صالح۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ایک جگہ تو ابراہیم علیہ السلام اپنے لیے درخواست کرتے ہیں وہ صالحین میں سے ہوں، جیسا کہ قرآن ان کے قول کو نقل کرتا ہے: رَبِّ هَبْ لِي حُكْماً وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ پروردگارا! مجھے علم و دانش مرحمت فرما اور مجھے صالحین سے ملحق کر دے۔ (شعراء ۸۳) جبکہ یہاں یہ تقاضا کرتے ہیں کہ مجھے اولادِ صالح مرحمت فرما کیونکہ صالح ایک جامع صفت ہے جس میں ایک کامل انسان کی تمام خوبیاں جمع ہوتی ہیں۔ خدا نے بھی اس دعا کو قبول کر لیا اور اسماعیل علیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام جیسے صالح بیٹے انہیں مرحمت فرمائے۔ چنانچہ اسی سورہ کی بعد والی آیات میں یہ بیان ہوا ہے۔ وَبَشَّرْناهُ بِإِسْحاقَ نَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِين۔ ہم نے اسے اسحٰق کی پیدائش کی بشارت دی جو صالحین میں سے نبی ہے۔ نیز اسماعیل کے بارے میں کہتا ہے: وَإِسْماعِيلَ وَإِدْرِيسَ وَذَا الْكِفْلِ كُلٌّ مِنَ الصَّابِرِينَ وَأَدْخَلْناهُمْ فِي رَحْمَتِنا إِنَّهُمْ مِنَ الصَّالِحِينَ۔ اور اسماعیل، ادریس اور ذاالکفل کو یاد کرو، وہ سب صابرین میں سے تھے اور ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کیا کیونکہ وہ صالحین میں سے تھے۔ (انبیاء ۸۵، ۸۶)
چند اہم نکات: ۱۔ہر چیز کا خالق وہی ہے
زیر بحث آیات میں بیان ہوا ہے "وَاللہُ خَلَقَکُمْ وَما تَعْمَلُونَ" ابراہیم علیہ السلام بُت پرستوں سے کہتے ہیں: "تم بھی خدا کی مخلوق ہو اور تمہارے بنائے ہوئے بُت بھی"۔ بعض نے اس آیت کو اپنے فاسد مذہبِ جبر کے لیے توجیہ خیال کیا ہے اس طرح سے کہ "ماتعملون" میں "ما" کو انہوں نے "ما صدریہ" لیا ہے اور کہا ہے کہ جملے کا مفہوم یہ ہو گا کہ خدا نے تمہیں اور تمہارے اعمال کو خلق کیا ہے اور جب ہمارے اعمال مخلوقِ خدا ہیں تو پھر اپنی طرف سے ہمیں کچھ اختیار نہیں۔ یہ بات کئی جہات سے بےبنیاد ہے۔ اوّلاً: جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ "ماتعملون" سے مراد یہاں بُت ہیں، جنہیں انہوں نے اپنے ہاتھ سے بنایا تھا نہ کہ اعمالِ انسانی اور اس میں شک نہیں کہ وہ ان کے مادے کو عالمِ خلقت سے لے کر ایک شکل دیتے تھے (اس بنا پر ماء موصولہ ہے)۔ ثانیاً: اگر آیت کا مفہوم وہ ہو جو انہوں نے خیال کیا ہے تو یہ تو بُت پرستوں کے فائدے میں ایک دلیل ہے نہ کہ ان کے برخلاف۔ کیونکہ وہ کہہ سکتے تھے کہ ہماری بُت سازی اور بُت پرستی کا عمل چونکہ خدا نے خلق کیا ہے لہٰذا ہم تو اس معاملے میں بالکل بےقصور ہیں۔ ثالثاً: اگر یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ آیت کا مفہوم اور معنی اسی طرح (جس طرح وہ کہتے ہیں) تو پھر یہ جبر کی دلیل نہیں ہے کیونکہ ارادہ و اختیار کی آزادی کی صورت میں ایک معنی کے لحاظ سے خد اہی ہمارے اعمال کا خالق ہے، کیونکہ خدا کے سوا ارادے کی یہ آزادی اور ارادہ کی طاقت اور جسمانی، فکری، مادّی اور روحانی قوتیں ہمیں کس نے دی ہیں؟ پس خالق وہی ہے باوجودیکہ فعل ہمارا اختیاری ہے۔
۲۔ ابراہیم (ع) کی ہجرت
بہت سے پیغمبروں نے اپنی زندگی میں اپنے فریضہٴ رسالت کی ادائیگی کے لیے ہجرت کی ہے ان میں سے ایک ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ ان کی ہجرت کے بارے میں قرآن کی مختلف آیات میں ذکر کیا گیا ہے۔ سورہٴ عنکبوت کی آیہ ۲۶ میں بیان ہے: وَقالَ إِنِّي مُهاجِرٌ إِلى رَبِّي إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ اس نے کہا: میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرتا ہوں بیشک وہ عزیز و حکیم ہے۔ اس مقام پر قرآن نے یہ بات ابراہیم کے آگ میں ڈالے جانے کے مسئلے کے بعد بیان کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدائی رہبر جب اپنا فریضہٴ رسالت ایک جگہ مکمل کر لیتے تھے یا ماحول کو اپنی دعوت کے پھیلنے کے لیے سازگار نہیں پاتے تھے تو اس غرض سے کہ کہیں ان کی ذمہ اور پیام میں رکاوٹ نہ پڑ جائے ہجرت کر جاتے تھے۔ ادیان کی تاریخ میں یہ ہجرتیں بہت زیادہ برکتوں کا سرچشمہ بنیں۔ یہاں تک کہ تاریخ اسلام ظاہری و معنوی لحاظ سے پیغمبرِ اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجرت کے محور کے گرد ہی گھومتی ہے اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو اسلام مکہ کے بُت پرستوں کی چالبازیوں کے سامنے ہمیشہ کے لیے دب جاتا۔ یہ ہجرت ہی تھی جس نے اسلام اور مسلمانوں کو نئی روح عطا کی اور ہر چیز کو ان کے فائدے میں بدل کر رکھ دیا اور انسانیت کو ایک نئی راہ پر ڈال دیا۔ بلکہ ایک لحاظ سے ہجرت ہر فردِ مومن کے لیے ایک عمومی حکمتِ عملی ہے کہ وہ جب بھی اپنی زندگی کے دوران میں ماحول کو اپنے مقدس مقاصد کے لیے غیر مناسب دیکھے اور اسے ایسی متعفن صُورت میں پائے جس میں ہر چیز خراب ہو جاتی ہے تو اس لیے ضروری ہے کہ ہجرت کر جائے۔ اسے چاہیے کہ سامانِ سفر باندھ کر زیادہ مناسب سرزمین کی طرف کوچ کر جائے کیونکہ خدا کا ملک محدود نہیں ہے۔ لیکن اس سے پہلے کہ ذات سے باہر کی طرف ہجرت کرے، اپنی ذات کے اندر ہجرت کا اہتمام کرے۔ پہلے داخلی ہجرت کی ضرورت ہے۔ آلودگیوں سے پاکیزگی کی طرف ہجرت، شرک سے ایمان کی طرف ہجرت، گناہ سے پروردگارِ بزرگ کی اطاعت کی طرف ہجرت۔ یہ اندرونی ہجرت فرد اور معاشرہ کے لیے تبدیلی انقلاب کی ابتداء ہو گی اور بیرونی ہجرت کے لیے ایک مقدمہ اور تمہید بنے گی۔ ہم تفسیر نمونہ کی چوتھی جلد سورہ نساء کی آیہ ۱۰۰ کے ذیل میں "اسلام و مہاجرت" کے عنوان کے تحت اس ضمن میں مفصل بحث کر چکے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 110 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 110 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 110 کے تحت ملاحظہ کریں۔
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 6tafseer for this ayah is linked with ayah below.
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 110 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 110 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 110 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 110 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 110 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: ابراہیم قُربان گاہ میں
Tafsīr Nemūna · Vol. 6گزشتہ آیات میں ہم یہاں تک پہنچے تھے کہ ابراہیم نے بابل میں اپنی رسالت کی ادائیگی کے بعد وہاں سے ہجرت کی اور اپنے پروردگار سے ان کا پہلا نقاضا یہ تھا کہ انہیں فرزندِ صالح عطا فرمائے کیونکہ ابھی تک وہ صاحبِ اولاد نہ تھے۔ زیرِ بحث پہلی آیت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا کی قبولیّت کو بیان کر رہی ہے، ارشاد ہوتا ہے: ہم نے اسے ایک حلیم و بردبار اور بااستقامت نوجوان کی بشارت دی (فَبَشَّرْناهُ بِغُلامٍ حَلیم)۔ حقیقت میں اس جملے میں تین بشارت جمع ہیں، ایک بیٹے کی، دوسری اس کے نوجوانی کے سن تک پہنچنے کی اور تیسری اس کے حلم جیسی صفت کا حامل ہونے کی۔ "حلیم" کی تفسیر میں بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مراد ایسا شخص ہے جو توانائی ہوتے ہوئے کسی کام میں اس کے وقت سے پہلے جلدی نہیں کرتا اور مجرموں کو سزا دینے میں جلد بازی سے کام نہیں لیتا، جو ایک عظیم روح کا مالک ہوتا ہے اور اپنے جذبات و احساسات پر کنٹرول رکھتا ہے۔ "راغب" مفردات میں کہتا ہے: حلم زیادہ غُصّے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھنے کے معنی میں ہے اور چونکہ ایسی حالت عقل و خرد سے پیدا ہوتی ہے لہذا بعض اوقات یہ لفظ عقل و خرد کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ البتہ "حلم" کا حقیقی معنی وہ ہے جو پہلے بتایا گیا ہے۔ ضمنی طور پر اس توصیف سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے اس فرزند کے بقاء کی بشارت اس زمانہ تک کے لیے دی ہے جب وہ ایسے سن تک پہنچ جائے کہ حلم کے ساتھ متصف ہو جائے اور جیسا کہ ہم بعد والی آیت میں دیکھیں گے، اس نے اپنے حلیم ہونے کا "ذبح" کے موقع پر مظاہرہ کیا۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی اپنے حلیم ہونے کا مظاہرہ اس وقت بھی اور آگ میں ڈالے جانے کے موقع پر بھی کیا۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ لفظ "حلیم" قرآن مجید میں پندرہ بار آیا ہے یہ لفظ زیادہ تر خدا کی صفت کے طور پر آیا ہے۔ سوائے دو موقعوں کے، جن میں یہ ابراہیم علیہ السلام اور ان کے فرزند کی صفت کے طور پر کلامِ خدا کے طور پر آیا ہے اور ایک موقع پر دوسروں کی زبان سے حضرت شعیب کی صفت میں بیان ہوا ہے۔ لفظ "غلام" بعض کے نظریہ کے مطابق سنِ جوانی تک پہنچنے سے پہلے ہر بچے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ بعض نے اس بچہ پر اس کا اطلاق کیا ہے جو دس سال سے اوپر ہو لیکن ابھی سنِ بلوغ کو نہ پہنچا ہو۔ عربی لغت میں جو مختلف تعبیریں بیان ہوئی ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ "غلام" دراصل "طفل" (بچہ) اور "شاب" (جوان) کے درمیان حدِّ فاصل ہے، جسے ہم فارسی زبان میں "نوجوان" سے تعبیر کرتے ہیں۔ آخر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا فرزندِ موعود خدائی بشارت کے مطابق پیدا ہوا اور باپ کا دل تو سالہا سال سے فرزندِ صالح کی انتظار میں تھا۔ فرزند کی پیدائش سے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ملی پھر وہ فرزند بچپن کے دور کو گزار کر جوانی کے سن میں داخل ہوا۔ قرآن اس موقع پر کہتا ہے: جس وقت وہ اس کے ساتھ سعی و کوشش کے قابل ہوا (فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ)۔ یعنی وہ ایسے مرحلہ میں پہنچ گیا کہ زندگی کے مختلف مسائل میں باپ کے ہمراہ سعی و کوشش کر سکے اور اس کی مدد کر سکے۔ بعض نے یہاں "سعی" کو عبادت اور خدا کے لیے کام کرنے کے معنی میں سمجھا ہے۔ البتہ "سعی" ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے جس میں یہ معنی بھی شامل ہے لیکن اس میں منحصر نہیں ہے اور "معہ" باپ کے ساتھ کا معنی دیتا ہے۔ اس سے مراد امورِ زندگی میں باپ کی معاونت و مدد ہے۔ بہرحال مفسّرین کے قول کے مطابق بیٹا ۱۳ سال کا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک عجیب اور حیرت انگیز خواب دیکھا۔ یہ خواب اس عظیم الشان پیغمبر کے لیے ایک اور آزمائش شروع ہونے کو بیان کرتا تھا۔ انہوں نے خواب دیکھا کہ انہیں خدا کی طرف سے یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کو اپنے ہاتھ سے قربانی کریں اور اسے ذبح کر دیں۔ ابراہیم وحشت زدہ خواب سے بیدار ہوئے، وہ جانتے تھے کہ پیغمبروں کے خواب حقیقت ہوتے ہیں اور شیطانی وسوسوں سے دور ہوتے ہیں، لیکن اس کے باوجود دو اور راتوں میں بھی یہی خواب دیکھا جو اس امر کے لازم ہونے اور اسے جلد انجام دینے کے لیے تاکید تھی۔ کہتے ہیں کہ پہلی مرتبہ "شب ترویہ" (آٹھ ذی الحجہ کی رات) یہ خواب دیکھا اور"عرفہ" اور "عیدِ قربان" (نویں اور دسویں ذی الحجہ) کی راتوں میں خواب کا تکرار ہوا۔ لہذا اب ان کے لیے ذرا سا بھی شک باقی نہ رہا کہ یہ خدا کا قطعی فرمان ہے۔ ابراہیم جو بارہا امتحانِ خداوندی کی گرم بھٹی سے سرفراز ہو کر باہر آئے تھے اس دفعہ بھی چاہیے کہ بحرِ عشق میں کود پڑیں اور حقِ تعالیٰ کے فرمان کے سامنے سر جھکا دیں اور اس فرزند کو جس کے انتظار میں عمر کا ایک حِصّہ گزار دیا تھا اور اب وہ ایک آبرومند نوجوان تھا، اسے اپنے ہاتھ سے ذبح کر دیں۔ لیکن ضروری ہے کہ ہر چیز سے پہلے اپنے فرزند کو اس کام کے لیے آمادہ کریں، لہذا اس کی طرف رخ کر کے فرمایا: میرے بیٹے! میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کروں، اب تم دیکھو! تمہاری اس بارے میں کیا رائے ہے؟ ( قالَ يا بُنَيَّ إِنِّي أَرى فِي الْمَنامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرْ ما ذا تَرى). بیٹا بھی تو ایثار پیشہ باپ کے وجود کا ایک حصّہ تھا اور جس نے صبر و استقامت اور ایمان کا درس اپنی چھوٹی سی عمر میں اسی کے مکتب میں پڑھا تھا، اس نے خوشی خوشی خلوصِ دل کے ساتھ اس فرمانِ الٰہی کا استقبال کیا اور صراحت اور قاطعیّت کے ساتھ کہا: ابا جان! جو حکم آپ کو دیا گیا ہے اس کی تعمیل کیجیے (قالَ یا اَبَتِ افْعَلْ ما تُؤْمَر)۔ میری طرف سے بالکل مطمئن رہیے۔ "إن شاءاللہ آپ مجھے صابرین میں سے پائیں گے" (سَتَجِدُنی إِنْ شاء َ اللہُ مِنَ الصَّابِرینَ)۔ باپ اور بیٹے کی یہ باتیں کس قدر معنی خیز ہیں اور کتنی باریکیاں ان میں چھپی ہوئی ہیں۔ ایک طرف تو باپ ۱۳ سالہ بیٹے کے سامنے اسے ذبح کرنے کی بات بڑی صراحت کے ساتھ کرتا ہے اور اس سے اس کی رائے معلوم کرتا ہے۔ اس کے لیے مستقل شخصیت اور ارادے کی آزادی کا قائل ہوتا ہے، وہ ہرگز اپنے بیٹے کو دھوکے میں رکھنا نہیں چاہتا اور اسے اندھیرے میں رکھتے ہوئے امتحان کے اس عظیم میدان میں آنے کی دعوت نہیں دیتا۔ وہ چاہتا ہے کہ بیٹا بھی اس عظیم امتحان میں پورے دل کے ساتھ شرکت کرے اور باپ کی طرح تسلیم و رضا کا مزہ چکھے۔ دوسری طرف بیٹا بھی یہ چاہتا ہے کہ باپ اپنے عزم و ارادہ میں پکا اور مضبوط رہے۔ یہ نہیں کہتا کہ مجھے ذبح کر دیں۔ بلکہ کہتا ہے: جو آپ کو حکم دیا گیا ہے اسے بجا لائیں میں اس کے امر و فرمان کے سامنے سرِ تسلیم خم ہوں، خصوصاً باپ کو "یَا اَبَتِ" (ابا جان!) کہہ کر مخاطب کرتا ہے، تاکہ اس بات کی نشاندہی کر دے کہ اس مسئلے پر جذبات فرزند و پدر کا سوئی کی نوک کے برابر بھی اثر نہیں، کیونکہ فرمانِ خدا ہر چیز پر حاکم ہے۔ اور تیسری طرف سے پروردگار کی بارگاہ میں مراتبِ ادب کی اعلیٰ ترین طریقے سے پاسداری کرتا ہے، ہرگز اپنے ایمان اور عزم و ارادہ کی قوت پر بھروسہ نہیں کرتا، بلکہ خدا کی مشیت اور اس کے ارادے پر تکیہ کرتا ہے اور اس عبارت کے ساتھ اس سے پامردی اور استقامت کی توفیق چاہتا ہے۔ اس طرح سے باپ بھی اور بیٹا بھی اس عظیم آزمائش کے پہلے مرحلے کو مکمل کامیابی کے ساتھ گزار دیتے ہیں۔ اس دوران کیا کیا حالات پیش آئے، قرآن نے انہیں تشریح کے ساتھ بیان نہیں کیا اور صرف اس عجیب ماجرے کے نہایت حسّاس پہلو ذکر کیے ہیں۔ بعض نے لکھا ہے کہ فداکار بیٹے نے اس بنا پر کہ باپ کی اس ماموریت کی انجام دہی میں مدد کرے اور ماں کے رنج و اندو ہ میں کمی کرے۔ جس وقت وہ اسے سرزمین "منٰی کے" خشک اور جلا ڈالنے والے گرم پہاڑوں کے درمیان، قربان گاہ میں لائے تو باپ سے کہا: ابا جان! رسی کو مضبوطی کے ساتھ باندھ دیجئے، تاکہ میں فرمانِ خداوندی کے اجراء کے وقت ہاتھ پاؤ نہ ہِلا سکوں مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس سے میرے اجر میں کمی واقع نہ ہو جائے۔ ابّا جان! چُھری تیز کر لیجیے اور تیری کے ساتھ میرے گلے پر چلائے تاکہ اسے برداشت کرنا مجھ پر بھی (اور آپ پر بھی) زیادہ آسانہ ہو جائے۔ ابا جان! میرا کرتا پہلے ہی میرے بدن سے اتار لیجیے تاکہ وہ خون آلود نہ ہو، کیونکہ مجھے خوف ہے کہ کہیں میری ماں اسے دیکھے تو دامن صبر اس کے ہاتھ سے نہ چھوٹ جائے۔ پھر مزید کہا، میرا سلام میری ماں کو پہنچا دیجیے گا اور اگر کوئی امر مانع نہ ہو تو میرا کُرتا اس کے لیے لے جائیے گا جو اس کی تسلّی خاطر اور تسکین کا باعث بنے گا کیونکہ وہ اس سے بیٹے کی خوشبو سونگھے گی اور جس وقت دل بےقرار ہو گا تو اسے اپنی آغوش میں لے لے گی اس طرح یہ اس کے دردِ دل میں تخفیف کا باعث ہو گا۔ آخر وہ حساس لمحے آن پہنچے جب فرمانِ الٰہی کی تعمیل ہونا تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب بیٹے کے مقامِ تسلیم کو دیکھا، اسے اپنی آغوش میں لے لیا، اس کے رخساروں کے بوسے لیے اور اس گھڑی دونوں رونے لگے۔ ایسا گریہ تھا کہ ان کے جذبات اور لقائے خدا کے لیے ان کا شوق ظاہر ہوتا تھا۔ قرآن مختصر اور معنی خیز عبارت میں صرف اتنی سی بات کہتا ہے: جب دونوں آمادہ و تیار ہو گئے اور (باپ) ابراہیم نے بیٹے کو ماتھے کے بَل لٹایا۔ (فَلَمَّا أَسْلَما وَ تَلَّهُ لِلْجَبِينِ) [تشریحی نوٹ: "تلّہ" "تل" کے مادے سے اصل میں اونچی جگہ کے معنی میں ہے اور"تلّہ للجبین" کا مفہوم یہ ہے کہ اس کو ایک اونچی جگہ پر چہرے کی ایک طرف زمین پر لٹایا۔ "جبین" چہرے کی طرف کے معنی میں ہے اور اس کی دونوں طرفوں کو "جبینان" کہتے ہیں]۔ قرآن یہاں پھر اختصار کے ساتھ گزر گیا ہے اور سننے والے کو اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے احساسات کی موجوں کے ساتھ قصّے کو سمجھے۔ بعض نے کہا ہے کہ " تَلَّهُ لِلْجَبِين " سے مراد یہ تھی کہ بیٹے کی پیشانی خود اس کی فرمائش پر زمین پر رکھی کہ مبادا ان کی نگاہ بیٹے کے چہرے پر پڑے اور پدری جذبات جوش میں آ جائیں اور فرمانِ خدا کے اجزاء میں مانع ہو جائیں۔ بہرحال حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کے چہرے کو خاک پر رکھا اور چُھری کو حرکت دی اور تیزی اور طاقت کے ساتھ اسے بیٹے کے گلے پر پھیر دیا جب کہ ان کی روح ہیجان میں تھی اور صرف عشقِ خدا ہی انہیں اپنی راہ میں کسی شک کے بغیر آگے بڑھا رہا تھا۔ لیکن تیزدھار چھری نے بیٹے کے لطیف و نازک گلے پر معمولی سا بھی اثر نہ کیا۔ حضرت ابراہیم حیرت میں ڈوب گئے، دوبارہ چھری کو چلایا، لیکن پھر بھی وہ کارگر ثابت نہ ہوئی، ہاں! خلیل تو کہتے ہیں کہ "کاٹ" لیکن خداوندِ جلیل یہ حکم دے رہا ہے کہ "نہ کاٹ" اور چھری تو صرف اسی کی فرمانبردار ہے۔ یہ وہ منزل ہے کہ جہاں قرآن ایک مختصر اور معنی خیز جُملے کے ساتھ انتظار کو ختم کرتے ہوئے کہتا ہے: اس وقت ہم نے نِدا دی (اور پکار کر کہا) کہ اے ابراہیم! (وَنادَيْناهُ أَنْ يا إِبْراهِيمُ)۔ خواب میں جو حکم تمہیں دیا گیا تھا وہ تم نے پورا کر دیا (قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا)۔ ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیا کرتے ہیں (إِنَّا كَذلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ)۔ ہم ہی انہیں امتحان میں کامیابی کی توفیق دیتے ہیں اور ہم ایسا بھی نہیں ہونے دیں گے کہ ان کا فرزند دل بند ان کے ہاتھ ہی سے چلا جائے۔ ہاں! جو شخص سر تا پا ہمارے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کیے ہوئے ہے اور اس نے نیکی کو اعلیٰ حد تک پہنچا دیا ہے، اس کی اس کے سوا اور کوئی جزا نہیں ہو گی۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: بےشک یہ اہم اور آشکار امتحان ہے (إِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ)۔ بیٹے کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا، وہ بھی نیک اور لائق بیٹا، اس باپ کے لیے جس نے ایک عمر ایسے فرزند کے انتظار میں گذاری ہو سادہ اور آسان کام نہیں ہے۔ ایسے فرزند کی یاد کس طرح دل سے نکال سکتا تھا؟ اس سے بھی بالا تر یہ کہ وہ انتہائی تسلیم و رضا کے ساتھ ماتھے پر شکن لائے بغیر ایسے فرمان کی تعمیل کے لیے آگے بڑھے اور اس کے تمام مقدمات کو آخری مرحلے تک انجام دے، اس طور پر کہ روحانی اور عملی آمادگی کے لحاظ سے کوئی کسر باقی نہ چھوڑے۔ اس سے بھی بڑھ کر عجیب، اس فرمان کے آگے اس نوجوان کی اطاعت شعاری کی انتہاء وہ خوشی خوشی، اطمینانِ قلب کے ساتھ، پروردگار کے لطف سے، اس کے ارادہ کے سامنے، سرِتسلیم خم کرتے ہوئے، ذبح کے استقبال کے لیے آگے بڑھا۔ اسی لیے بعض روایات میں ہے کہ جس وقت یہ کام انجام پا چکا تو جبرئیل نے (تعجب کرتے ہوئے) پکار کر کہا "اللہ اکبر" "اللہ اکبر" ابراہیم علیہ السلام کے فرزند نے کہا: "لآالٰہ الاّ اللہ واللہ اکبر" اور عظیم فداکار باپ نے بھی کہا "اللہ اکبر و للہ الحمد" [بحوالہ: تفسیر قرطبی اور تفسیر روح المعانی]۔ اور یہ ان تکبیروں کے مشابہ ہے جو ہم عیدِ قربان کے دن پڑھتے ہیں۔ لیکن اس غرض سے کہ ابراہیم کا پروگرام بھی نامکمل نہ رہ جائے اور خدا کی بارگاہ میں ان کی طرف سے قربانی بھی ہو جائے اور ابراہیم کی آرزو پوری ہو جائے، خدا نے ایک بہت بڑا مینڈھا بھیج دیا تاکہ بیٹے کی جگہ اس کی قربانی کریں اور مراسمِ "حج" اور سرزمین "منٰی" میں آنے والوں کے لیے اپنی سنت چھوڑ جائیں۔ چنانچہ قرآن کہتا ہے: ہم نے ذبح عظیم کو اس کا فدیہ قرار دیا (وَفَدَیْناہُ بِذِبْحٍ عَظیمٍ)۔ اس بارے میں کہ اس ذبح کی عظمت کس لحاظ سے تھی، جسمانی اور ظاہری لحاظ سے یا اس جہت سے کہ فرزندِ ابراہیم علیہ السلام کا فدیہ تھی یا اس لحاظ سے کہ خدا کی راہ میں اور خد کے لئے تھی یا اس لحاظ سے کہ یہ قربانی خدا کی طرف سے ابراہیم علیہ السلام کے لیے بھیجی گئی تھی [تشریحی نوٹ: ظاہر ہے کہ جانور کتنا ہی باعظمت کیوں نہ ہو وہ کسی عام انسان کے مقابلے میں بھی عظیم نہیں ہو سکتا، چہ جائیکہ وہ ایک نبی و رسول اور وہ بھی ذبیح اللہ جیسے نبی کے مقابلے میں، لہذا ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مفسرین نے اس کی طرف توجہ نہیں کی، ورنہ مسئلہ واضح ہے۔ سوال پید اہوتا ہے کہ اگر یہ نہیں تو پھر ذبحِ عظیم سے کون مراد ہے؟ اس سلسلے میں شاعرِ مشرق کہتے ہیں: اللہ اللہ بائے بسم اللہ پدر معنی "ذبحِ عظیم" آمد پسر جبکہ شیعہ و سنی طرق سے کئی ایک روایات بھی اس پر دلالت کرتی ہیں کہ ذبح عظیم سے مراد امام حسین علیہ السلام کی قر بانی ہے (مترجم)]۔ مفسرین نے اس سلسلے میں بہت کچھ کہا، لیکن کوئی مانع نہیں کہ یہ تمام جہات ذبحِ عظیم میں جمع ہوں اور وہ مختلف جہات سے عظمت کی حامل ہو۔ اس ذبح کی عظمت کی ایک نشانی یہ ہے کہ زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ ہر سال زیادہ وسعت پا رہی ہے۔ اس وقت ہر سال اس ذبحِ عظیم کی یاد میں دس لاکھ سے زیادہ جانور ذبح کیے جاتے ہیں اور اس یاد کو زندہ کیا جاتا ہے۔ "فدینا" "فدا" کے مادہ سے اصل میں کسی شخص یا چیز کی بَلا دور کرنے یا دفع ضرر کے لیے کسی دوسری چیز کو صدقہ قرار دینے کے معنی میں ہے۔ اسی لیے وہ مال جو قیدی کو آزاد کرنے کے لیے دیتے ہیں اسے "فدیہ" کہتے ہیں۔ نیز اس کفّارہ کو بھی فدیہ کہتے ہیں جو بعض بیمار روزہ کے بجائے دیتے ہیں۔ وہ بہت بڑا مینڈھا ابراہیم علیہ السلام کو کس طرح دیا گیا ہے اس بارے میں زیادہ تر اس بات کے معتقد ہیں کہ اسے جبرائیل لائے تھے، بعض یہ بھی کہتے ہیں وہ کہ "منٰی"کے پہاڑوں کے دامن نیچے اُترا تھا۔ بہرحال جو کچھ بھی تھا خدا کے حکم اور اس کے ارادے سے تھا۔ خدا نے نہ صرف اس دن کے عظیم امتحان میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کامیابی کی تعریف و توصیف کی۔ بلکہ اس کی یاد کو جاودانی بنا دیا۔ جیسا کہ بعد والی آیت میں فرمایا گیا ہے: ہم نے ابراہیم کے نیک نام کو بعد کی امتوں میں باقی رہنے والا بنایا (وَ تَرَكْنا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ)۔ وہ آنے والی سب نسلوں اور لوگوں کے لیے نمونہ اور تمام پاکباز اور کوئے دوست کے ولدادہ عاشقوں کے لیے راہنما بن گئے اور ہم نے ان کے طرزِ عمل کو رہتی دنیا تک کے لیے حج کی سنّت کے طور پر جاودانی بنا دیا۔ وہ عظیم پیغمبروں کے باپ تھے وہ امتِ اسلامی اور پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے باپ تھے۔ ابراہیم پر سلام (جو مخلص اور پاکباز تھا) (سَلامٌ عَلى إِبْراهِيمَ)۔ ہاں ہم اسی طرح سے نیکوکاروں کا بدلہ دیا کرتے ہیں (کَذلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنینَ)۔ عظمتِ دنیا کا صلہ، تمام زمانوں میں ہمشیگی کا صلہ، خدائے بزرگ کے لائقِ درود و سلام کا صلہ۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ "کَذلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنین" کا جملہ ایک دفعہ تو یہاں آیا ہے اور اس سے پہلے کی چند آیات میں بھی آیا ہے۔ اس تکرار میں حتماً کوئی نکتہ ہے۔ ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ پہلے مرحلے میں تو خدا تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ان کے عظیم امتحان میں کامیابی کی تصدیق کرتا ہے اور ان کی کا میابی پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے۔ یہ خود ایک عظیم جزا ہے، یہ ایک اہم خوشخبری تھی جو خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دی تھی اس کے بعد ذبحِ عظیم کے فدیہ کرنے، ان کے نام اور سنت کے جاوداں رہنے اور ان پر خدا کے سلام بھیجنے کا ذکر ہے جو تین دوسری بڑی نعمتیں ہیں اور اسے نیکوکاروں کے اجر کے عنوان سے بیان کرتا ہے۔
چند اہم نکات: ۱۔ ذبیح اللہ کون ہے؟
اس بارے میں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دونوں فرزندوں (اسمٰعیل علیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام) میں سے کون قربان گاہ میں لایا گیا اور کس نے ذبیح اللہ کا لقب پایا؟ مفسّرین کے درمیان شدید بحث ہے۔ ایک گروہ حضرت اسحاق علیہ السلام کو "ذبیح" جانتا ہے اور ایک جماعت حضرت اسماعیل علیہ السلام کو۔ پہلے نظریئے کو بہت سے مفسّرین اہلِ سنت اور دوسرے نظریہ کو مفسّرینِ شیعہ نے اختیار کیا ہے۔ لیکن جو کچھ قرآن کی مختلف آیات کے ظاہر سے ہم آہنگ ہے وہ یہی ہے کہ "ذبیح" "اسماعیل" علیہ السلام تھے کیونکہ: اوّلاً: ایک جگہ بیان ہوا ہے: وَبَشَّرْناهُ بِإِسْحاقَ نَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِينَ ہم نے اسے اسحاق کی بشارت دی جو صالحین میں سے ایک پیغمبر تھا (صافات ۱۱۲) یہ تعبیر بخوبی نشاندہی کرتی ہے کہ خدا نے اسحاق کے پیدا ہونے کی بشارت اس واقعے کے بعد دی ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانیوں کی وجہ سے انہیں یہ بشارت دی گئی۔ اس بناء پر ذبح کا واقعہ ان کے ساتھ مربوط نہیں تھا۔ علاوہ ازیں جب خدا کسی کی نبوت کی بشارت دیتا ہے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ زندہ رہے گا اور یہ بات بچپن میں ذبح کے مسئلے کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے۔ ثانیاً سوُرہٴ ہود کی آیہ ۷۱ میں بیان ہوا ہے: فَبَشَّرْناها بِإِسْحاقَ وَ مِنْ وَراءِ إِسْحاقَ يَعْقُوبَ ہم نے اسے اسحٰق کے پیدا ہونے کی بشارت دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کے پیدا ہونے کی بھی۔ یہ آیت اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام مطمئن تھے کہ اسحاق علیہ السلام زندہ رہیں گے اور ان سے یعقوب علیہ السلام جیسا فرزند پیدا ہو گا اس بنا پر ان کے ذبح کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جو لوگ حضرت اسحاق علیہ السلام کو ذبیح جانتے ہیں، حقیقت میں انہوں نے ان آیات کو نظر انداز کر دیا ہے۔ ثالثاً: منابعِ اسلامی میں بہت سی روایات ایسی آئی ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ "ذبیح" اسماعیل علیہ السلام تھے نمونہ کے طور پر: ایک معتبر حدیث میں پیغمبر گرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے: انا ابن الذبیحین میں دو ذبیحوں کا بیٹا ہوں۔ اور دو ذبیحوں سے مراد ایک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے والد گرامی حضرت عبداللہ ہیں، کیونکہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جدِّ امجد حضرت عبدالمطلب نے نذر مانی تھی کہ وہ انہیں خدا کے لیے قربان کریں گے۔ اس کے بعد حکمِ خدا سے ایک سو اونٹ ان کے فدیہ کے طور پر دیئے گئے اور ان کی داستان مشہور ہے۔ دوسرے حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے کیونکہ یہ بات مسلّم ہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنابِ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے نہ کہ حضرت اسحاق علیہ السلام کی [بحوالہ: تفسیر "مجمع البیان" زیرِ بحث آیت کے ذیل میں]۔ اس دعا میں جو علی علیہ السلام نے پیغمبرِ گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کی ہے، یہ بیان ہوا ہے: يا من فدا اسماعيل من الذبح اے وہ جس نے اسماعیل کے لیے فدیہ قرار دیا [بحوالہ: نور الثقلین جلد ۴ ص ۴۲۱]۔ ان احادیث میں جو امام باقر علیہ السلام اور امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی ہیں یہ بیان کیا گیا ہے جس وقت لوگوں نے سوال کیا کہ "ذبیح" کون تھا؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "اسماعیل"۔ اس حدیث میں جو امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے، یہ بیان ہوا ہے۔ لو علم الله عزّوجلّ شيئا اكرم من الضان لفدى به اسماعيل اگر کوئی جانور (خدا کے نزدیک) دنبے سے بہتر ہوتا تو اسے اسماعیل کا فدیہ قرار دیتا [بحوالہ: نور الثقلین جلد ۴ ص ۴۲۲]۔ خلاصہ یہ کہ اس سلسلے میں بہت سی روایات ہیں اگر ان سب کو نقل کرنا چاہیں تو گفتگو لمبی ہو جائے گی [تشریحی نوٹ: ان روایات کے بارے میں مزید اطلاع کے لیے تفسیر "برہان" (جلد ۴، ص ۲۸) اور تفسیر نورالثقین جلد ۴ ص۴۲۰، اس کے بعد کی طرف رجوع کریں]۔ ان فراواں روایات کے مقابلے میں جو قرآن کی آیات کے ظاہری مفہوم سے بھی ہم آہنگ ہیں ایک شاذ روایت بھی ہے، جو حضرت اسحاق علیہ السلام کے ذبیح ہونے پر دلالت کرتی ہے جو پہلی روایات کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور نہ ہی ظاہر آیات کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ ان سب باتوں سے قطعِ نظر یہ مسئلہ مسلّم ہے کہ وہ بچہ جسے ابراہیم علیہ السلام حکمِ خدا سے اس کی ماں کے ساتھ مکّہ لائے اور وہاں پر اسے چھوڑا۔ پھر خانہ کعبہ اس کی مدد کے ساتھ بنایا اور اس کے ساتھ طواف، وسعی بجا لائے وہ اسماعیل تھے۔ یہ امور اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ذبیح بھی اسماعیل علیہ السلام ہی تھے کیونکہ ذبیح کا عمل مذکورہ بالا پروگرام کی تکمیل کرتا ہے۔ البتہ جو کچھ کتب عہد عتیق (موجودہ تورات) سے معلوم ہوتا ہے یہ ہے کہ ذبیح اسحاق علیہ السلام تھے [بحوالہ: تورات، سفر تکوین فصل ۲۲]۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے ہاں بعض غیر معروف روایات جن میں حضرت اسحاق علیہ السلام کو ذبیح قرار دیا گیا ہے، اسرائیلی روایات سے متاثر ہیں اور احتمالاً یہودیوں کے جہولات میں سے ہیں۔ یہودی چونکہ حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے لہٰذا وہ چاہتے تھے کہ یہ افتخار و اعزاز اپنے لیے ثبت کر لیں اور مسلمانوں کہ جن کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نسلِ اسماعیل علیہ السلام سے ہیں ان سے یہ اعزز چھین لیں، چاہے اس کے لیے حقائق کا انکار ہی کیوں نہ ہو۔ بہرحال ہمارے لیے جو کچھ سب سے زیادہ محکم ہے وہ آیاتِ قرآن کے ظواہر ہیں جو بخوبی نشاندہی کرتے ہیں کہ ذبیح اسماعیل علیہ السلام تھے اگرچہ ہمارے لیے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ذبیح اسماعیل علیہ السلام ہوں یا اسحاق علیہ السلام، دونوں ابراہیم علیہ السلام کے فرزند تھے اور دونوں ہی خدا کے عظیم پیغمبر تھے۔ مقصد تو اس تاریخی واقعے کا واضح و روشن ہونا ہے۔
۲۔کیا ابراہیم (ع) فرزند کو ذبح کرنے پر مامور تھے؟
ایک اور سوال جو یہاں مفسّرین کو درپیش ہے یہ ہے کہ کیا ابراہیم علیہ السلام واقعاً بیٹے کو ذبح کرنے پر مامور تھے یا انہیں اس کے مقدمات کا حکم تھا؟ اگر وہ ذبح پر مامور تھے تو پھر یہ حکمِ الٰہی انجام پانے سے پہلے ہی کس طرح منسوخ ہو گیا؟جب کہ عمل سے پہلے منسوخ ہونا جائز نہیں ہے اور یہ معنی علمِ اصولِ فقہ میں ثابت ہو چکا ہے۔ اگر وہ ذبح کے لیے اقدامات کرنے پر مامور تھے تو یہ افتخار کوئی اہمیّت نہیں رکھتا۔ بعض نے کہا ہے کہ اس مسئلہ کی اہمیّت اس امر سے پیدا ہوئی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا خیال تھا کہ مقدمات فراہم کرنے اور ابتدائی امور انجام دینے کے بعد شاید ذبح کا اصل حکم دیا جائے اور یہی ان کا عظیم امتحان تھا۔ ہمارے نزدیک اس نظریئے میں کوئی خاص جاذبِ نظر آیات نہیں ہے ہماری رائے میں یہ سب باتیں اس لیے پیدا ہوئی ہیں کہ امتحانی اور غیرامتحانی اوامر میں فرق نہیں رکھا گیا۔ ابراہیم علیہ السلام کو جو امر ہوا تھا وہ ایک امتحانی امر تھا اور ہم یہ جانتے ہیں کہ امتحانی اوامر میں حتمی ارادہ اور چیز ہے اور اصل عمل کچھ اور شے۔ ایسے اوامر میں مقصد یہ ہوتا ہے کہ یہ واضح ہو جائے کہ موردِ آزمائش شخص کہاں تک فرمان کی اطاعت پر آمادگی رکھتا ہے اور یہ اس صورت میں ہوتا ہے، جبکہ موردِ آزمائش شخص پشت پردہ اسرار سے آگاہ نہیں ہوتا۔ لہٰذا یہاں نسخ واقع نہیں ہوا کہ عمل سے پہلے اس کی صحت کے بارے میں بحث و گفتگو ہو۔ اگر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس واقعے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہتا ہے: قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيا اے ابراہیم! تم نے جو خواب دیکھا تھا، سچ کر دکھایا۔ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ فرزندِ دلبند کو ذبح کے سلسلہ میں جو کچھ ان کے بس میں تھا انہوں نے انجام دیا اور اس سلسلے میں اپنی روحانی اور دلی آمادگی ہر جہت سے درجہ ثبوت تک پہنچا دی اور آزمائش کی اس ذمہ داری کو خوب اچھی طرح سے پورا کر دکھایا۔
۳۔ حضرت ابراہیم (ع) کا خواب کس طرح حُجّت ہو سکتا ہے؟
خواب اور خواب دیکھنے کے بارے میں بہت سی باتیں ہیں، جس کی ایک مبسوط تفصیل ہم سُورہٴ یوسف کی آیہ ۴ کے ذیل میں بیان کر چکے ہیں [بحوالہ: جلد ۹ میں ملاحظہ کیجیے]۔ یہاں پر جو بات ضروری ہے کہ جس کی طرف توجّہ کی جائے یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب کو کس طرح حجت سمجھا اور اسے کیوں اپنے عمل کا معیار قرار دیا؟ اس سوال کے جواب میں کبھی تو یہ کہا جاتا ہے کہ انبیاء کے خواب ہرگز شیطانی خواب نہیں ہوتے اور نہ ہی قوتِ داہمہ کی فعالیت کی پیداوار ہوتے ہیں، بلکہ وہ ان کی نبوّت اور وحی کا ایک گوشہ ہوتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں انبیاء کا مصدر وحی کے ساتھ ارتباط کبھی تو دل میں القاء کی شکل میں ہوتا ہے اور کبھی فرشتہ لوحی کو دیکھنے کی صورت میں ہوتا اور کبھی صوتی امواج کی راہ سے جو خدا کے فرمان سے پیدا ہوتی ہیں اور کبھی خواب کے طریقے سے۔ لہٰذا ان کے خوابوں میں کسی قسم کی خطاء یا غلطی پیدا نہیں ہوتی اور جو چیز وہ خواب میں دیکھتے ہیں وہی کچھ ہوتا ہے جو وہ بیداری میں دیکھتے ہیں۔ کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیداری کی حالت میں وحی کے ذریعے آگاہی حاصل کی تھی کہ وہ "ذبح" کے بارے میں جو خواب دیکھیں اس پر عمل کریں۔ نیز کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ اس خواب میں مختلف قرائن تھے۔ ایک یہ کہ تین شب پےدرپے بعینہ اس کا تکرار ہوا کہ جس نے اُن کے لیے یہ علم و یقین پیدا کر دیا کہ یہ ایک خدائی ماموریت ہے کوئی اور چیز نہیں ہے۔ بہرحال ممکن ہے کہ یہ تمام ہی تفاسیر صحیح ہوں اور آپس میں کوئی تضاد بھی نہیں رکھتیں اور ظواہر آیات کے خلاف بھی نہیں ہیں۔
۴۔ شیطانی وسوسے ابراہیم (ع) کی عظیم روح پر اثر نہ کر سکے
ابراہیم علیہ السلام کا امتحان پوری تاریخ میں ایک عظیم امتحان تھا۔ ایسا امتحان جس کا مقصد یہ تھا کہ ان کے دل کو غیرِ خدا کی مہر و محبت اور عشق سے پاک رکھنا اور عشقِ الٰہی کو ان کے سارے کے سارے دل پر سایہ فگن کرنا تھا۔ بعض روایات کے مطابق شیطان نے بہت ہاتھ پاؤں مارے کہ کوئی ایسا کام کرے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اس میدان سے کامیاب ہو کر نہ نکلیں، وہ (اسمٰعیل کی) ماں ہاجرہ کے پاس آیا اور ان سے کہا تمہیں معلوم ہے کہ ابراہیم نے کیا ارادہ کیا ہے؟ وہ چاہتا ہے آج اپنے بیٹے کو ذبح کر دے۔ ہاجرہ نے کہا: دور ہو جا، محال اور نہ ہونے والی بات نہ کر، کیونکہ وہ تو بہت مہربان ہے اپنے بیٹے کو کیسے ذبح کر سکتا ہے؟ اصولاً کیا دنیا میں کوئی ایسا انسان پیدا ہو سکتا ہے جو اپنے بیٹے کو اپنے ہاتھ سے ذبح کر دے؟ شیطان نے اپنے وسوسہ کو جاری رکھتے ہوئے کہا: اس کا دعویٰ ہے کہ خدا نے اسے حکم دیا ہے۔ ہاجرہ نے کہا: اگر خدا نے اسے حکم دیا ہے تو پھر اسے اطاعت کرنا چاہیے اور سوائے رضاء و تسلیم کے کوئی دوسری راہ نہیں ہے۔ پھر شیطان ان کے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کے پاس آیا اور انہیں ورغلانے لگا۔ ان سے بھی کچھ حاصل نہ ہو سکا، کیونکہ اس نے اسماعیل علیہ السلام کو تسلیم و رضا کا پیکر پایا۔ آخر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آیا اور ان سے کہا: ابراہیم! جو خواب تم نے دیکھا ہے وہ شیطانی خواب ہے، تم شیطان کی اطاعت نہ کرو۔ ابراہیم علیہ السلام نے نورِ ایمان اور نبوّت کے پَرتو میں اسے پہچان لیا: چِلاّ کر کہا: "دور ہو جا اے دشمنِ خدا" [بحوالہ: تفسیر ابو الفتواح رازی جلد ۹ ص ۳۲۶، زیرِ بحث آیات کے ذیل میں]۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پہلے مشعر الحرام میں آئے تاکہ بیٹے کی قربانی دیں، تو شیطان ان کے پیچھے دوڑا۔ وہ جمرہ اولیٰ کے پاس آئے۔ شیطان وہاں بھی ان کے پیچھے لگ گیا۔ ابراہیم علیہ السلام نے سات پتھر اٹھا کر اسے مارے۔ جس وقت دوسرے جمرہ کے پاس پہنچے تو پھر شیطان کو دیکھا، دوبارہ پتھر اسے مارے یہاں تک کہ "جمرہ عقبہ" میں آئے تو سات اور پتھر اسے مارے۔ (اور اُسے ہمیشہ کے لیے اپنے سے مایوس کر دیا) [ایضاً]۔ یہ چیز اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شیطانی وسوسے امتحان کے عظیم میدانوں میں ایک طرف سے ہی نہیں بلکہ مختلف سمتوں سے ظاہر ہوتے ہیں۔ ہر زمانے میں ایک نئے رنگ میں اور ایک نئے طریقہ سے۔ مردانِ خدا کو چاہیے کہ وہ ابراہیم السلام کی طرح شیاطین کو تمام چہروں میں پہچانیں اور وہ جس طریقے سے بھی وارد ہوں، ان کے راستے بند کر دیں اور انہیں سنگسار کریں اور کیا ہی عظیم درس ہے۔
۵۔ "منٰی" میں تکبیرات کا فلسفہ
ہم جانتے ہیں کہ اسلامی روایات میں عید الاضحیٰ کے بارے میں جو احکام آئے ہیں ان میں کچھ مخصوص تکبریں ہیں۔ جو تمام مسلمان پڑھتے ہیں چاہے وہ مراسمِ حج میں شریک ہوں اور منیٰ میں موجود ہوں اور چاہے دوسرے مقامات پر ہوں۔ فرق اتنا ہے کہ جو منٰی میں ہیں ۱۵ نمازوں کے بعد پڑھتے ہیں جن میں سے پہلے عید کے دن کی نمازِ ظہر ہے اور جو منٰی نہیں ہوتے وہ ۱۰ نمازوں کے بعد تکرار کرتے ہیں اور ان تکبیرات کی صورت اس طرح ہے: اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الهٰ الا اللہ، واللہ اکبر، اللہ اکبر، وللہ الحمد، اللہ اکبر علیٰ ماھدانا جس وقت ہم اس حکم کا اس حدیث کے ساتھ موازنہ کر کے دیکھتے ہیں۔ جسے ہم پہلے نقل کر چکے ہیں۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تکبیریں حقیقت میں جبرائیل اور اسماعیل علیہ السلام اور ان کے باپ ابراہیم علیہ السلام کی تکبیروں کا مجموعہ ہیں اور کچھ اس پر اضافہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ الفاظ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اس عظیم آزمائش میں کامیابی کی یاد لوگوں کی نظروں میں زندہ کرتے ہیں اور تمام مسلمانوں کو ایک پیغامِ الٰہی دیتے ہیں۔ چاہے وہ منٰی میں ہوں یا منٰی کے علاوہ دوسرے مقامات پر۔ ضمنی طور پر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ "منٰی" کا نام اس بناء پر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جب اس زمین پر پہنچے اور اپنے امتحان سے گزر چکے تو جبرائیل علیہ السلام نے ان سے کہا: جو کچھ آپ چاہتے ہیں، اپنے پروردگار سے کہیں انہوں نے خدا سے تمنا کی کہ خدا یہ حکم دے کہ وہ اپنے بیٹے اسماعیل کے فدیہ کے طور پر دنبہ ذبح کریں اور ان کی یہ تمنا پوری ہو گئی [بحوالہ: تفسیر نور الثقلین جلد ۴ ص ۴۲۰ (حدیث ۶۸)]۔
۶۔ حج ایک اہم انسان ساز عبادت ہے
سفرِ حج حقیقت میں ایک عظیم ہجرت ہے، ایک خدائی سفر ہے، خود سازی اور جہادِ اکبر کا ایک وسیع میدان ہے۔ مراسمِ حج حقیقت میں ایک ایسی عبادت کی نشاندہی کرتے ہیں جو ابراہیم علیہ السلام، ان کے فرزند اسمٰعیل علیہ السلام اور ان کی زوجہ ہاجرہ کی جدوجہد اور جہاد کی گہری یاد کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ہم اگر اسرارِ حج کے مطالعے میں اس نکتہ سے غفلت برتیں تو اس کے بہت سے مراسم معمّا دکھائی دیں۔ ہاں! اس معمّا کے حل کی چابی اس گہرے تعلّق کی طرف توجہ کرنے میں ہے۔ جب ہم منیٰ کی قربان گاہ میں آتے ہیں تو ہم تعجّب کرتے ہیں کہ یہ سب قربانیاں کس لیے ہیں؟ اصولی طور پر کیا جانور ذبح کرنا بھی عبادتوں میں سے ایک عبادت ہو سکتی ہے؟ لیکن جب ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کو یاد کرتے ہیں، جنہوں نے اپنے عزیز ترین اور اپنی عمر کے شیریں ترین ثمر کو راہِ خدا میں قربان کیا تھا اور اس کے بعد ایک سنّتِ قربانی کے عنوان سے منیٰ میں وجود میں آئی، تو ہمیں اس کام کا فلسفہ معلوم ہو جاتا ہے۔ یہ قربانی معبود کی راہ میں ہر چیز کو چھوڑ دینے کی دلیل ہے۔ یہ قربانی غیرِ خدا کی یاد سے دل کو خالی کرنے کا مظہر ہے۔ ان مناسک سے اسی وقت پورا پورا تربیتی فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے جبکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ذبح ہونے کا منظر اور قربانی کے وقت اس باپ اور بیٹے کی روحانی حالت اور جذبات کا منظر آنکھوں میں پِھر جائے اور وہ حالت و جذبات انسان کے وجود پر اپنا پرتو ڈالیں [تشریحی نوٹ: افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ دورِ حاضر میں قربانی کے مراسم نے غیر مطلوب شکل اختیار کر لی ہے جس سے نجات حاصل کرنے کے لیے علماءِ اسلام کو کوشش کرنی چاہیے ہم اس سلسلے میں اور حج کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں جلد ۷ سورہ حج کی آیات ۲۶ تا ۲۸ کے ذیل میں تفصیلی بحث کر چکے ہیں]۔ جس وقت جمعرات (پتھر کے تین مخصوص ستون جنہیں حجاج کرام مراسمِ حج میں سنگسار کرتے ہیں اور ہر دفعہ سات پتھر مراسمِ مخصوص کے ساتھ انہیں مارتے ہیں) کے پاس جائیں تو یہ معمّا ہماری نظر میں واضح ہوتا ہے کہ یہ سب پتھر ایک بےروح ستون کی طرف پھینکنے کا کیا مفہوم ہو سکتا ہے اور اس سے کون سا مسئلہ حل ہوتا ہے؟ لیکن اس وقت اسی کا مفہوم کھل کر ہمارے سامنے آ جاتا ہے جب ہم دل میں یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ تو مکتبِ توحید کے ہیرو ابراہیم علیہ السلام کے شیطان کے وسوسوں سے مقابلے اور جہاد کی یاد تازہ کرنے کے لیے ہے کہ جب شیطان تین مرتبہ ان کے راستے میں حائل ہونے کے لیے آیا تھا اور وہ چاہتا تھا کہ انہیں اس "جہادِ اکبر" کے میدان میں سستی اور شک و شبہ میں مبتلا کر دے لیکن ابراہیم علیہ السلام جیسے بہادر ہیرو نے تینوں مرتبہ پتھر مار کر اسے اپنے سے دور کر دیا۔ ان مراسم کا مفہوم یہ ہے کہ تم سب کو بھی اپنی پوری زندگی میں جہادِ اکبر کے میدان میں شیاطین کے وسوسوں کا سامنا ہے اور جب تک تم انہیں سنگسار نہ کرو گے اور اپنے سے دُور نہ بھگاؤ گے، کامیاب نہ ہو گے۔ اگر تم یہ چاہتے ہو کہ جس طرح خداوندِ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام پر سلام بھیجا ہے اور ان کے مکتب اور یاد کو جاودانی بنا دیا ہے۔ تم پر بھی لطف و رحمت کی نظر کرے، تو ضروری ہے کہ ان کے راستے پر ہمیشہ چلو۔ یا جس وقت ہم صفا اور مروہ کی طرف آتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ لوگ گروہ در گروہ ایک چھوٹی سی پہاڑی سے اس سے بھی زیادہ چھوٹی پہاڑی کی طرف جاتے ہیں اور وہاں سے پھر اسی کی طرف پلٹ آتے ہیں اور بِلا کچھ حاصل کیے اس عمل کو دہراتے ہیں، کبھی دوڑتے ہیں اور کبھی چلتے ہیں، یقیناً ہم تعجب کرتے ہیں کہ یہ کیا کام ہے اور اس کا کیا مفہوم ہو سکتا ہے؟ لیکن پھر ہم پیچھے کی طرف لوٹ جاتے ہیں اور اس باایمان خاتون (ہاجرہ علیہا السلام) کی اپنی شیرخوار بچّے اسماعیل علیہ السلام کی جان بچانے کے لیے، اس خشک اور گرمی سے جلتے ہوئے بیابان میں سعی و کوشش کو یاد کرتے ہیں کہ کسی طرح اس سعی و کوشش کے بعد خدا نے اسے اس کے مقصد تک پہنچایا۔ زمزم کا چشمہ اس کے نو زائیدہ بچّے کے پاؤں کے نیچے سے پھوٹا۔ اچانک زمانے کی گردش پیچھے کی طرف لوٹتی ہے، پردے ہٹ جاتے ہیں اور ہم اپنے آپ کو اس لمحے ہاجرہ کے پاس پاتے ہیں اور اس کے ساتھ سعی و تلاش میں ہمگام ہو جاتے ہیں کیونکہ راہِ خدا میں کوئی شخص سعی و تلاش کے بغیر منزل تک نہیں پہنچتا۔ جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے، اس سے انسان آسانی کے ساتھ یہ نتیجہ حاصل کر سکتا ہے کہ حج کے ان رموز کی تعلیم دینا چاہیے اور ابراہیم علیہ السلام، ان کے فرزند اور ان کی زوجہ کی یادوں کی قدم بہ قدم پیروی کرنی چاہیے تاکہ حج کے فلسفے کا بھی ادراک ہو اور حج کے اخلاقی، عمیق اور گہرے اثرات بھی حجاج کے دلوں پر سایہ فگن ہوں کیونکہ ان آثار کے بغیر ظاہری چھلکے کے سوا کچھ نہیں ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 113 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 113 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: ابراہیم (ع) خدا کا مومن بندہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 6زیرِ نظر تین آیات حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے فرزندوں کے بارے میں جاری گفتگو کے اعتبار سے آخری آیات ہیں۔ ان میں درحقیقت جو کچھ گذر چکا ہے اس کی ایک دلیل بھی بیان کی گئی ہے اور ایک نتیجہ بھی۔ پہلے فرمایا گیا ہے: وہ (براہیم) ہمارے باایمان بندوں میں سے ہے (إِنَّهُ مِنْ عِبادِنَا الْمُؤْمِنین)۔ دراصل یہ جملہ ایک دلیل ہے اس چیز کی جو گزر چکی ہے۔ اس میں یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ اگر ابراہیم علیہ السلام نے اپنی ساری ہستی اور وجود کو یہاں تک کہ اپنے عزیز فرزند کو بھی پورے اخلاص کے ساتھ اپنے معبود کی راہ میں قربان کر دیا، تو یہ اپنے عمیق اور طاقتور ایمان کی وجہ سے کیا تھا۔ ہاں! یہ تمام چیزیں ایمان کے جلوے ہیں اور یہ ایمان کے کیا ہی عجیب و غیریب جلوے ہوتے ہیں۔ یہ تعبیر لا کر قرآن ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے کے واقعے کو وسعت اور ہمہ گیری دے رہا ہے اور اسے ایک شخصی اور انفرادی واقعے سے ممتاز کر رہا ہے۔ گویا قرآن اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جہاں کہیں ایمان ہے وہاں ایثار، عشق، فداکاری اور قربانی ہے۔ ابراہیم علیہ السلام اُسی چیز کو پسند کرتے تھے جسے خدا پسند کرتا تھا اور وہی چاہتے تھے جو خدا چاہتا تھا اور ہر مومن ایسا ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے خدا کی ایک اور نعمت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ہم نے اسے اسحاق کی بشارت دی، جس کے مقدر میں تھا کہ پیغمبر ہو اور صالحین میں سے ہو (وَبَشَّرْناہُ بِإِسْحاقَ نَبِیًّا مِنَ الصَّالِحین)۔ "فَبَشَّرْناهُ بِغُلامٍ حَلِيم" کی آیت کی طرف توجہ کرتے ہوئے جو اس واقعے کے آغاز میں ذکر ہوئی ہے، بخوبی واضح و روشن ہو جاتا ہے کہ یہ دونوں بشارتیں دو بیٹوں کے ساتھ مربوط ہیں۔ اگر آخری بشارت زیرِ بحث آیت کی صراحت کے مطابق "اسحاق علیہ السلام" سے مربوط ہے تو پھر"غلام حلیم" (بردبار و صابر) کی بشارت یقیناً "اسماعیل علیہ السلام" سے ربط رکھتی ہے اور جن لوگوں کا یہ اصرار ہے کے اسحاق علیہ السلام ہی ذبیح ہیں انہوں نے دونوں آیات کا ایک ہی مطلب کی طرف اشارہ سمجھا ہے۔ اس فرق کے ساتھ کہ پہلی آیت کو خود بیٹے کی اصل بشارت سمجھا ہے اور دوسری آیت کو نبوّت کی بشارت۔ لیکن یہ معنی بہت بعید ہے۔ زیرِ بحث آیات وضاحت کے ساتھ کہتی ہیں کہ یہ دونوں بشارتیں دو الگ الگ بیٹوں کے ساتھ مربوط ہیں۔ (غور کیجئے گا) اس سے قطع نظر بشارتِ نبوّ ت بتاتی ہے کہ اسحاق علیہ السلام زندہ رہیں گے اور فرائضِ نبوت انجام دیں گے، لیکن یہ بات ذبح کے مسئلے کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ یہاں ہم ایک مرتبہ پھر صالحین کے مقام و مرتبہ کی عظمت ملاحظہ کر رہے ہیں۔ حضرت اسحاق علیہ السلام کی توصیف و تعریف میں فرمایا گیا ہے، کہ وہ پیغمبر ہوں گے اور صالحین میں سے ہوں گے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ خدائے بزرگ و برتر کی بارگاہ میں صالحین کا مقام کتنا بلند و بالا ہے۔ زیر بحث آخری آیت میں اس برکت کے بارے میں گفتگو ہو رہی ہے جو خدا نے ابراہیم علیہ السلام اور ان کے فرزند اسحاق علیہ السلام کو عطا فرمائی، فرمایا گیا ہے: ہم نے اسے اور اسحاق کو برکت سے نوازا (وَبارَكْنا عَلَيْهِ وَعَلى إِسْحَاقَ)۔ لیکن کس چیز میں برکت دی گئی؟ اس کی وضاحت نہیں کی گئی اور ہم جانتے ہیں کہ عام طور پر جس وقت کوئی فعل مطلق آئے اور اس میں کوئی قید و شرط نہ ہو تو وہ ہمہ گیری کے معنی دیتا ہے اس بناء پر برکت سب چیزوں پر محیط ہو گی یعنی عمر اور زندگی میں، آئندہ کی نسلوں میں، تاریخ و مکتب میں گویا ہر ایک چیز میں اصولی طور پر "برکت" اصل میں "برک" (بر وزن "ورک") اونٹ کے سینے کے معنی میں ہے۔ جس وقت اونٹ اپنا سینہ زمین پر رکھتا ہے تو یہی مادہ اس کے بارے میں استعمال ہوتا ہے۔ سینے کے معنی میں ہے۔ جس وقت اونٹ اپنا سینہ زمین پر رکھتا ہے تو یہی مادہ اس کے بارے میں استعمال ہوتا ہے۔ "برک البعیر"۔ رفتہ رفتہ یہ مادہ کسی چیز کے ثبات و دوام کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ "برکہ آب" کو بھی اسی بنا پر"برکہ" کہتے ہیں کہ اس میں پانی ثابت و برقرار رہتا ہے اور مبارک کو بھی اس لحاظ سے مبارک کہتے ہیں کہ اس کی خیر و خوبی باقی اور برقرار رہتی ہے۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ زیر بحث کہ آیت ابراہیم و اسحٰق (اور ان کے خاندان پر) نعماتِ الٰہی کے ثابت و برقرار رہنے اور دوام کی طرف اشارہ ہے اور ایک برکت جو خدا نے ابراہیم علیہ السلام کو دی، یہ تھی کہ بنی اسرائیل کے تمام انبیاء اسحاق کی اولاد میں سے ہوئے، جبکہ اسلام کے عظیم پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ لیکن اس بنا پر کہ یہ توہم نہ ہو کہ یہ برکت ابراہیم علیہ السلام کے خاندان میں نسب اور قبیلے کے طور پر ہے بلکہ یہ تو مذہب و مکتب اور ایمان کے ساتھ رابطہ رکھنے کی بنا پر ہے۔ آیت کے آخر میں مزید ارشاد ہوتا ہے: ان دونوں کی اولاد میں سے نیک بھی تھے اور ایسے افراد بھی جنہوں نے عدم ایمان کی بنا پر اپنے اوپر ظلم کیا (وَمِنْ ذُرِّیَّتِهِما مُحْسِنٌ وَظالِمٌ لِنَفْسِهِ مُبینٌ)۔ "محسن" یہاں مومن اور فرمانِ خدا کے مطیع کے معنی میں ہے اور کون سا احسان اور نیکی اس سے برتر و افضل تصور ہو سکتی ہے؟ جبکہ "ظالم" کافر و گنہگار کے معنی میں ہے اور"لنفسہ" کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کفر و گناہ پہلے درجے میں خود اپنے اوپر ظلم ہے اور وہ بھی واضح و آشکار ظلم۔ اس طرح سے مذکورہ بالا آیت یہود و نصاریٰ کے ان لوگوں کو جو اس بات پر فخر کرتے تھے کہ ہم انبیاء کی اولاد ہیں، جواب دیتی ہے کہ صرف رشتہ باعثِ افتخار نہیں ہے جبکہ اس کے ساتھ فکری و مکتبی رشتہ برقرار نہ ہو۔ اس بات پر شاہد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وہ حدیث ہے جو پیغمبر گرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل ہوئی ہے کہ آپ نے بنی ہاشم کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: لا ياتينى الناس باعمالهم وتاتونى بانسابكم! اے بنی ہاشم! کہیں ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن باقی لوگ تو میرے پاس اپنے اعمال کے ساتھ آئیں اور تم اپنے نسب اور رشتہ داری کا تعلق جتاتے ہوئے آؤ [بحوالہ: روح البیان، جلد ۷ ص ۴۷۹]۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 122 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 122 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 122 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 122 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 122 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 122 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 122 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 122 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: موسیٰ و ہارون پر خدائی نعمتیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 6ان آیات میں "موسیٰ" اور ان کے بھائی "ہارون" کے بارے میں الطافِ الٰہی کے ایک گوشے کی طرف اشارہ ہوا ہے اور جو کچھ گذشتہ آیات میں حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں بیان ہوا ہے اس سے ہم آہنگ بحثیں آئی ہیں۔ آیات کے مضامین بھی ایک دوسرے سے مشابہ ہیں اور کئی لحاظ سے الفاظ بھی مشابہت رکھتے ہیں، تاکہ مومنین کے لیے ایک منظم تربیتی پروگرام پیش کیا جائے۔ ان آیات میں پھر بیان واقعات کے متعلق و تفصیل کی مخصوص قرآنی روش سے استفادہ کیا گیا ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: "ہم نے موسیٰ پر اور ہارون پر احسان کیا اور انہیں اپنی نعمتوں کا مرہونِ منّت بنایا (وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلى مُوسى وَهارُونَ)۔ "منت" جیسا کہ ہم نے پہلے بھی بیان کیا ہے، اصل میں "من" سے ہے جو اس پتھر کے معنی میں ہے جس کے ساتھ وزن کیا جاتا ہے، رفتہ رفتہ بڑی اور بھاری نعمتوں کے لیے بولا جانے لگا اگر وہ عملی پہلو رکھتی ہوں تو زیبا اور پسندیدہ ہیں اور اگر الفاظ اور باتیں ہی ہوں تو قبیح اور بدنما ہیں۔ اگرچہ "منت" روزمرہ کے استعمال میں زیادہ تر دوسرے معنی میں بولا جاتا ہے اور یہی امر زیر بحث آیات جیسی آیات کے مطالعے کے وقت نامطلوب امور کی طرف توجہ مبذول کرنے کا سبب بنتا ہے، لیکن اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ لفظ "منت" لغت اور قرآنی استعمال کے اعتبار سے ایک وسیع معنی رکھتا ہے جو مذکورہ پہلے مفہوم (بڑی بڑی نعمتیں بخشنے) کو بھی اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہے۔ بہرحال خدا اس آیت میں سربستہ اور اجمالی طور پر ان بڑی اور گِراں قدر نعمتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ان دونوں بھائیوں کو عطا کی گئیں اور بعد والی آیات میں ان نعمتوں کے سات مواقع بیان کرتا ہے۔ ان نعمتوں میں سے ہر ایک دوسری سے زیادہ گراں قدر ہے۔ پہلے مرحلے میں فرمایا گیا ہے: ہم نے ان دونوں بھائیوں اور ان کی قوم کو عظیم کرب سے نجات بخشی (وَنَجَّيْناهُما وَقَوْمَهُما مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيمِ)۔ اس سے بڑا کرب اور کیا ہو گا کہ بنی اسرائیل جابر اور خونخوار فرعونیوں کے چنگل میں گرفتار تھے؟ وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کر دیتے تھے، ان کی عورتوں کو خدمت گاری اور مردوں کو غلامی اور بیگار کے لیے زندہ رہنے دیتے تھے۔ ہاں! حُرّیت و آزادی کھو بیٹھنا اور ایسے بےرحم بادشاہ کے چنگل میں گرفتار ہونا کہ جو نہ چھوٹوں پر رحم کرتا تھا اور نہ بڑوں پر، یہاں تک کہ وہ قوم و ملّت کی آبرو اور تعداد کو پامال کرتا تھا جو ایک بہت ہی بڑا دُکھ اور عظیم کرب تھا اور یہ پہلا احسان تھا جو خدا نے بنی اسرائیل پر کیا۔ دوسرے مرحلے میں فرمایا گیا ہے: ہم نے ان (موسیٰ، ہارون اور بنی اسرائیل) کی مدد کی یہاں تک کہ وہ اپنے طاقتور دشمن پر غالب آ گئے (وَنَصَرْناهُمْ فَكانُوا هُمُ الْغالِبِينَ)۔ جس دن فرعونی خونخوار لشکر عظیم طاقت کے ساتھ حرکت میں آیا، جس کے آگے آگے خود فرعون تھا، بنی اسرئیل ایک ضعیف اور ناتوان قوم تھی۔ ان کے پاس نہ جنگجو سپاہی تھے اور نہ ہی ہتھیار۔ لیکن خدا نے اپنے لطف و کرم سے ان کی مدد کی۔ فرعونیوں کو پانی کی لہروں میں غرق کر دیا اور ان (بنی اسرئیل) کو ڈوبنے سے بچا لیا اور فرعونیوں کے محلات، مال و دولت، باغات اور تمام خزانے ان کے سپُرد کر دیئے۔ تیسرے مرحلے میں اس نعمت کی طرف جو خدا نے قیدِ غلامی سے رہائی پانے والی اس قوم کو عنایت فرمائی، اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: ہم نے ان دونوں کو آشکار و واضح کتاب دی (وَآتَيْناهُمَا الْكِتابَ الْمُسْتَبِينَ). ہاں! تورات کتاب "مستبین" یعنی واضح و روشن کرنے والی کتاب تھی اور اس زمانے میں بنی اسرائیل کی تمام دینی و دنیاوی ضروریات کی کفیل تھی۔ جیسا کہ سُورہ مائدہ کی آیہ ۴۴ میں بھی بیان ہوا ہے۔ إِنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْراةَ فِيها هُدىً وَ نُورٌ ہم نے تورات کو نازل کیا جس میں ہدایت بھی ہے اور نور و روشنی بھی۔ چوتھے مرحلے میں پھر ایک اور روحانی نعمت، صراطِ مستقیم کی ہدایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: ہم نے ان دونوں کو راہِ راست کی ہدایت کی (وَهَدَيْناهُمَا الصِّراطَ الْمُسْتَقِيم)۔ وہی راہِ راست جو ہر قسم کی کجی سے خالی، انبیاء و اولیاء کی راہ ہے اور اس میں انحراف، گمراہی اور تباہی کا خطرہ موجود نہیں ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ سُورہ حمد میں، جسے ہم تمام نمازوں میں پڑھتے ہیں۔ ہم خدا سے صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت کی درخواست کرتے ہیں تو یہ کہتے ہیں: ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے نعمتیں نازل کی ہیں نہ کہ مغضوبین اور گمراہوں کی راہ۔ تو یہ دراصل انبیاء و اولیاء ہی کی راہ ہے۔ پانچو یں مرحلے میں مکتب کی ہمیشگی اور نیک نامی کی بقاء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ہم نے ان دونوں کا ذکرِ خیر بعد والی اقوام میں باقی اور برقرار رکھا (تاکہ وہ دو نمونوں کے عنوان سے پہچانے جائیں اور پورے جہاں کے لوگ ان کی روش اور تاریخ سے ہدایت اور راہنمائی حاصل کریں(وَتَرَكْنا عَلَيْهِما فِي الْآخِرِينَ)۔ یہی تعبیر گذشتہ آیات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں آئی تھی، اصولی طور پر سب ہی مردانِ خدا اور راہ ِ حق کے عظیم راہیوں کی تاریخ اور نام ہمیشہ ہمیشہ باقی رہتا ہے اور ایسا ہی ہونا چاہیے کیونکہ یہ لوگ کسی خاص قوم و ملّت کے ساتھ متعلق نہیں، بلکہ تمام عالمِ انسانیت سے تعلّق رکھتے ہیں۔ چھٹے مرحلے میں موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام پر خدا کے سلام کا ذکر ہے، فرمایا گیا ہے: موسیٰ اور ہارون پر سلام (سَلامٌ عَلى مُوسى وَهارُونَ)۔ ایسا سلام جو بزرگ و مہربان خدا کی طرف سے ہے۔ ایسا سلام، جو دین، ایمان، اعتقاد، مکتب اور مذہب میں سلامتی کی طرف اشارہ ہے۔ ایسا سلام، جو اس جہان اور اس جہان کی سزاؤں اور عذاب سے نجات بیان کرنے والا ہے۔ ساتویں اور آخر ی مرحلے میں ان کے لیے اپنی عظیم جزا کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کہتا ہے: ہم نیکوکاروں کو اسی طرح سے بدلہ دیا کرتے ہیں (إِنَّا كَذلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ)۔ اگر انہوں نے یہ افتخارات اور اعزازات حاصل کیے ہیں تو یہ بِلاوجہ نہیں تھے، وہ محسن تھے وہ مومن، مخلص، فداکار اور نیکوکار تھے اور اس وسم کے لوگوں کو ایسا ہی صلہ اور بدلہ ملنا چاہیے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ بعینہ یہی عبادت "إِنَّا كَذلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ"۔ اسی سورہ میں حضرت نوح علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت ہارون علیہ السلام اور حضرت الیاس علیہ السلام کے بارے میں آئی ہے۔ نیز اسی سے ملتی جلتی ایک تعبیر سُورہ یوسف کی آیہ ۲۲ میں حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں اور سُورہ انعام کی آیہ ۸۴ میں بعض انبیاء کے بارے میں بھی نظر آتی ہے۔ یہ سب تعبیریں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ الطافِ الٰہی سے بہرہ مند ہونے کے لیے پہلے محسنین کے زُمرے میں قرار پانا چاہیے، جس کے بعد برکاتِ الٰہی کا ہونا قطعی ہے (غور کیجیے گا)۔ انجامِ کار آخری زیر بحث آیت میں اسی دلیل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اس سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کی داستان میں آ چکی ہے، ارشاد ہوتا ہے: وہ دونوں (موسیٰ و ہارون) ہمارے مومن بندوں میں سے تھے (إِنَّهُما مِنْ عِبادِنَا الْمُؤْمِنِينَ)۔ یہ ایمان ہی ہے جو انسان کی روح کو اس طرح سے روشن اور قوی کر دیتا ہے کہ وہ احسان، نیکی، پاکیزگی اور تقویٰ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ ایسا احسان جو رحمتِ الٰہی کے دروازے انسان کے سامنے کھول دیتا ہے اور پھر اس کی انواع و اقسام کی نعمتیں انسان پر نازل ہوتی ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 132 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 132 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 132 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 132 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 132 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 132 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 132 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 132 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 132 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: پیغمبرِ خدا الیاس (ع) مشرکین کے مقابلے میں
Tafsīr Nemūna · Vol. 6زیرِ نظر آیات میں گزشتہ انبیاء میں سے ایک اور نبی کی سرگزشت بیان کی جا رہی ہے یہ اس سُورہ میں آنے والی چوتھی سرگزشت ہے۔ یہ حضرت الیاس کی ایک مختصر سی سرگزشت ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: الیاس خدا کے رسولوں میں سے تھا (وَإِنَّ إِلْياسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ)۔ حضرت الیاس علیہ السلام ان کے نسب اور ان کی زندگی کی خصوصیات کے بارے میں انشاء اللہ کچھ گفتگو ان آیات کے آخر میں نکات کے ضمن میں آئے گی۔ اس کے بعد اس اجمال کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اس وقت کو یاد کرو جب اس نے اپنی قوم کو خبردار کیا اور کہا: "کیا تم تقویٰ اختیار نہیں کرتے" (إِذْ قالَ لِقَوْمِهِ أَ لا تَتَّقُونَ)۔ تقوائے الٰہی شرک و بُت پرستی سے پرہیز، ظلم و گناہ سے پرہیز اور انسانیت کے لیے تباہ کن سب باتوں سے پرہیز۔ بعد والی آیت میں اس مسئلہ کے بارے میں، اس سے بھی زیادہ صراحت کے ساتھ بات کی گئی ہے: کیا تم بعل بُت کو پکارتے ہو اور بہترین خالق کو چھوڑ رہے ہو ((أَ تَدْعُونَ بَعْلًا وَتَذَرُونَ أَحْسَنَ الْخالِقِينَ)۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ ان کا ایک معروف بُت تھا، جس کا نام "بعل" تھا اور وہ اس کے سامنے سجدہ کیا کرتے تھے۔ حضرت الیاس علیہ السلام نے انہیں اس قبیح عمل سے روکا اور عظیم آفریدگارِ عالم اور توحیدِ خالص کی طرف دعوت دی۔ اسی وجہ سے ایک جماعت کا نظریہ ہے کہ حضرت الیاس علیہ السلام کی فعالیّت کا مرکز شامات کے شہروں میں سے شہر "بعلبک" تھا [تشریحی نوٹ: بعلبک موجودہ زمانے میں لبنان کا حِصّہ ہے اور شام کی سرحد پر واقع ہے]۔ کیونکہ "بعل" اس مخصوص بُت کا نام تھا اور"بک" کا معنی ہے شہر۔ ان دونوں کی آپس میں ترکیب سے "بعلبک" ہو گیا۔ کہتے ہیں کہ سونے کا انتا بڑا بُت تھا کہ اس کا طول بیس ہاتھ تھا۔ اس کے چار چہرے تھے اور اس بُت کے چارسو سے زیادہ خادم تھے [بحوالہ: روح المعانی، زیر بحث آیت کے ذیل میں]۔ البتہ بعض کسی معیّن بُت کو "بعل" نہیں سمجھتے بلکہ بت کے مطلق معنی میں لیتے ہیں مگر بعض دوسرے اسے "رب اور معبود" کے معنی میں سمجھتے ہیں۔ راغب مفردات میں کہتا ہے "بعل" اصل میں شوہر کے معنی میں ہے لیکن عرب اپنے ان معبودوں کو جن کے ذریعے وہ خدا کا تقرب چاہتے تھے "بعل" کا نام دیتے تھے۔ احسن الخالقین، بہترین خالق کی تعبیر۔ حالانکہ عالَم میں خالق حقیقی خدا کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔ ظاہراً ان مصنوعات کی طرف اشارہ ہے جنہیں انسان موادِ طبیعی سے شکل بدل کر بناتا ہے اور اس لحاظ سے اس پر خالق کا اطلاق ہوتا ہے، اگرچہ انسان مجازی خالق ہے۔ بہرحال الیاس علیہ السلام نے اس بُت پرست قوم کی سخت مذمت کی اور مزید کہا: اس خدا کو چھوڑ رہے ہو جو تمہارا اور تمہارے گزشتہ آباؤ اجداد کا پروردگار ہے (اللهَ رَبَّكُمْ وَرَبَّ آبائِكُمُ الْأَوَّلِينَ)۔ تم سب کا مالک و مربیّ وہی تھا اور ہے۔ جو نعمت بھی تمہارے پاس ہے وہ اسی کی طرف سے ہے اور ہر مشکل کا حل اسی کے دستِ قُدرت سے ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ نہ تو خیر و برکت کا کوئی اور سرچشمہ موجود ہے اور نہ ہی شرّ و آفت کا کوئی اور دفع کرنے والا ہے۔ گویا حضرت الیاس علیہ السلام کے زمانے کے بُت پرست بھی پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے کے بُت پرستوں کی طرح اپنے کام کی توجیہہ کے لیے اپنے آباؤ اجداد اور بڑوں کے طریقے ہی کا سہارا لیتے تھے کیونکہ حضرت الیاس علیہ السلام ان کے جواب میں کہتے ہیں: اللہ ہی تمہارا اور تمہارے آباؤ اجداد کا رب ہے۔ "رب" (مالک و مربی) کی تعبیر غور و فکر کے لیے بہترین محرک ہے کیونکہ انسانی زندگی میں اہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ وہ یہ جانے کہ اسے کس نے پیدا کیا ہے اور آج اس کا مربی، ولی نعمت اور صاحبِ اختیار کون ہے؟ لیکن اس سرپِھری اور خود پسند قوم نے خدا کے اس عظیم پیغمبر کے استدلالی پند و نصائح اور واضح ہدایت پر کان نہ دھرے اور "اس کی تکذیب کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے" (فَكَذَّبُوهُ)۔ خدا نے بھی ان کی سزا کو ایک مختصر سے جملے میں بیان کرتے ہوئے کہہ دیا: وہ بارگاہِ عدلِ الٰہی اور اس کی دوزخ کے عذاب میں حاضر کیے جائیں گے (فَإِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ)۔ اور اپنے قبیح اور بداعمال کی سزا کا مزہ چکھیں گے۔ لیکن ظاہر ہوتا ہے کہ چھوٹا سا نیک، پاک اور مخلص گروہ حضرت الیاس علیہ السلام پر ایمان لے آیا تھا لہذا ان کا حق فراموش نہ کرتے ہوئے بِلافاصلہ فرمایا گیا ہے: مگر خدا کے مخلص بندے (إِلَّا عِبادَ اللهِ الْمُخْلَصِينَ) [تشریحی نوٹ: جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے اس کے مطابق یہ استثناء "استثناء متصل" ہے "کذبوہ" کی واؤ سے یعنی تمام قوم نے تو تکذیب کی اور وہ سب عذابِ الٰہی میں گرفتار ہوئے سوائے خدا کے مخلص بندوں کے]۔ اس داستان کی آخری آیات میں وہی چار مسائل جو دوسرے انبیاء (موسیٰ علیہ السلام و ہارون علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام و نوح علیہ السلام) کے واقعات میں آئے تھے، ان کی اہمیّت کے پیشِ نظر پھر دہرائے گئے ہیں۔ پہلے فرمایا گیا ہے؟ ہم نے الیاس کا نیک نام بعد والی امتوں میں جاوداں کر دیا (وَتَرَكْنا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ)۔ دوسری امتیں ان بزرگ انبیاء کی انتہائی زحمتوں کو، جو انہوں نے راہِ توحید کی پاسداری اور تخمِ ایمان کی آبیاری کے لیے اٹھائی ہیں، کبھی فراموش نہیں کریں گے اور جب تک دنیا قائم ہے، ان مردانِ بزرگ اور فداکاروں کا مکتب اور یاد زندہ و جاوید رہے گی۔ دوسرے مرحلے میں قرآن مزید کہتا ہے: الیاسین پر سلام و درود ہو (سَلامٌ عَلى إِلْياسِينَ)۔ "الیاس" کی بجائے "الیاسین" کی تعبیر یا تو اس بنا پر ہے کہ "الیاسین" لفظِ "إلیاس" کی ایک لغت ہے اور دونوں ایک ہی معنی میں ہیں اور یا الیاس علیہ السلام اور ان کے پیروکاروں کی طرف اشارہ ہے اور جمع کی شکل میں آیا ہے [تشریحی نوٹ: پہلے الیاس منسوب ہوا اور "الیاسی" ہوا پھر جمع کی شکل میں آ کر "الیاسین" ہو گیا اور اس کے بعد مخفف ہو کر "الیاسین" ہو گیا ہے (غور کیجیے گا)]۔ تیسرے مرحلے میں فرمایا گیا ہے: ہم نیکوکاروں کو اسی طرح سے بدلہ دیا کرتے ہیں (إِنَّا كَذلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِين)۔ نیکی اور احسان سے اس لفظ کا وسیع معنی مراد ہے، جس میں دین اور اس کے تمام احکام پر عمل کرنا شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شرک، انحراف، گناہ اور فساد سے مقابلہ کرنا بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے۔ چوتھے مرحلے میں ان تمام باتوں کی اصل بنیاد یعنی ایمان کا ذکر ہے: یقیناً وہ (إلیاس) ہمارے مومن بندوں میں سے ہے (إِنَّهُ مِنْ عِبادِنَا الْمُؤْمِنِينَ)۔ "ایمان" و "عبودیت" "احسان" کا سرچشمہ ہے اور احسان مخلصین کی صف میں شامل ہونے اور خدا کے سلام کا حقدار ہونے کا سبب ہے۔
چند اہم نکات: ۱۔ الیاس (ع) کون ہیں؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت الیاس علیہ السلام خدا کے عظیم انبیاء میں سے ایک ہیں اور زیرِ بحث آیات نے یہ مسئلہ صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ "وَإِنَّ إِلْیاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلینَ"۔ اس پیغمبر کا نام قرآنِ مجید کی دو آیات میں آیا ہے ایک تو اسی سورہٴ صافات میں اور دوسرا سورہ انعام میں چند انبیاء کے ساتھ، جہاں فرمایا گیا ہے: وَزَکَرِیَّا وَیَحْیی وَعیسی وَإِلْیاسَ کُلٌّ مِنَ الصَّالِحین (انعام: ۸۵)۔ لیکن اس بارے میں کہ قرآن میں جن انبیاء کا نام آیا ہے انہی میں سے ایک پیغمبر کا نام الیاس ہے یا یہ کسی پیغمبر کا مستقل نام ہے نیز اس کی خصوصیات کیا ہیں؟ اس ضمن میں مفسرین میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ ان کا خلاصہ کچھ یوں ہے: الف: بعض کہتے ہیں کہ "الیاس" "ادریس" کا دوسرا نام ہے کیونکہ ادریس کا ادراس بھی تلفظ ہوا ہے اور وہ مختصر سی تبدیلی کے ساتھ الیاس ہو گیا۔ ب: بعض کا کہنا ہے کہ الیاس بنی اسرائیل کے پیغمبروں میں سے ہیں۔ "یاسین" کے فرزند ہیں اور موسیٰ کے بھائی ہارون کے نواسوں میں سے ہیں۔ ج: کچھ کا یہ بھی کہنا ہے کہ الیاس خضر کا دوسرا نام ہے جبکہ بعض دوسروں کا کہنا ہے کہ الیاس خضر کے دوستوں میں سے ہیں اور دونوں زندہ ہیں اس فرق کے ساتھ کہ الیاس تو خشکی پر مامور ہیں لیکن خضر جزیروں اور دریاؤں پر مامور ہیں، بعض دوسرے الیاس کی ماموریت بیابانوں میں اور خضر کی ماموریت پہاڑوں پر خیال کرتے ہیں اور دونوں کے لیے عمر جاودانی کے قائل ہیں۔ بعض الیاس کو "السیع" کا فرزند سمجھتے ہیں۔ د: بعض کہتے ہیں کہ الیاس بنی اسرائیل کے وہی "ایلیا" پیغمبر ہیں جو"آجاب" بادشاہ بنی اسرائیل کے ہم عصر تھے جنہیں خدا نے اس ظالم بادشاہ کو ڈرانے اور ہدایت کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ بعض نے انہیں "یحیٰی" بھی جانا ہے جو مسیح کے تعمید دہندہ تھے۔ لیکن قرآن کی آیات کے ظاہر کے ساتھ جو بات ہم آہنگ ہے وہ یہ ہے کہ لفظ مستقلاً ایک پیغمبر کا نام ہے اور قرآن میں جن دیگر پیغمبروں کے نام آئے ہیں یہ ان کے علاوہ ہیں جو ایک بُت پرست قوم کی ہدایت کے لیے مامور ہوئے تھے اور اس قوم کی اکثریت ان کی تکذیب کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی لیکن مخلص مومنین کے ایک گروہ نے ان کی پیروی کی۔ اور جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کر چکے ہیں اور بعض اس بات پر توجہ کرتے ہوئے کہ اس قوم کے بڑے بت کا نام ہے "بعل" تھا یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ یہ پیغمبر سرزمین شامات میں مبعوث ہوئے تھے اور ان کی فعالیت کا مرکز شہر "بعلبک" تھا جو اِس وقت لبنان کا حِصّہ ہے اور شام کی سرحد پر واقع ہے۔ بہرحال اس پیغمبر کے بارے میں مختلف داستانیں کتابوں میں بیان کی گئی ہیں اور چونکہ وہ قابلِ اعتماد و اطمینان نہیں لہذا ہم نے انہیں نقل نہیں کیا [بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، تفسیر المیزان، روح المعانی، تفسیر فخر رازی فی ظلال، اعلام القرآن اور دائرة المعارف دھخدا]۔
۲۔ "الیاسین" کون ہیں؟
مفسرین اور مورخین کے "الیاسین" کے بارے میں مختلف نظریات ہیں۔ الف: بعض اسے الیاس کی ایک لغت سمجھتے ہیں یعنی جس طرح "میکان" و "میکائیل" ایک مخصوص فرشتے کے لیے دو لفظ ہیں اور"سینا" اور "سینین" دونوں ایک معروف سرزمین کے نام ہیں۔ اسی طرح "الیاس" اور "الیاسین" بھی اس عظیم پیغمبر کے نام ہیں [بحوالہ: "البیان" فی غریب اعراب القرآن جلد ۲ ص ۳۰۸]۔ ب: بعض دوسرے اسے جمع سمجھتے ہیں۔ اس طرح سے کہ "الیاس" کے ساتھ یاء نسبتی کا اضافہ ہوا تو "الیاسی" ہو گیا اور اس کے بعد یاء اور نون کے ساتھ اس کی جمع بنائی گئی اور"الیاسین" ہو گیا اور تخفیف کے بعد "الیاسین" رہ گیا۔ اس بنا پر اس کا مفہوم وہ تمام اشخاص ہیں جو الیاس کے ساتھ مربُوط تھے اور ان کے مکتب کے پیروکار بن گئے تھے [ایضاً]۔ ج: بعض کا خیال ہے کہ "آلیاسین" الف ممدودہ کے ساتھ ہے جو لفظ "آل" اور "یاسین" کا مرکب ہے۔ ایک روایت کے مطابق "یاسین" حضرت الیاس کے باپ کا نام ہے۔ ایک اور روایت کے مطابق پیغمبر گرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام ہے۔ اس بنا پر "آل یاسین" پیغمبر گرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آل و اولاد کے معنی میں ہے یا الیاس کے باپ یاسین کا خاندان مراد ہے۔ واضح قرائن خود قرآن میں موجود ہیں جو اسی پہلے معنی کی تائید کرتے ہیں۔ یعنی "الیاسین" سے مراد الیاس ہی ہیں کیونکہ "سَلامٌ عَلی إِلْیاسینَ" کی آیت سے ایک آیت کے فاصلہ کے بعد فرمایا گیا ہے: إِنَّهُ مِنْ عِبادِنَا الْمُؤْمِنینَ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔ ضمیر مفرد کا "الیاسین" کی طرف لوٹنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ایک شخص سے زیادہ نہیں یعنی وہی جناب الیاس علیہ السلام دوسری دلیل یہ ہے کہ یہ چار آیات جو حضرت الیاس علیہ السلام کی داستان کے آخر میں ہیں بعینہ وہی آیات ہیں جو نوح علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی داستان کے آخر میں آئی ہیں اور جب ہم ان آیات کو ایک دوسرے کے پہلو میں رکھ کر دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جو سلام خدا کی طرف سے ان آیات میں آیا ہے وہ اسی پیغمبر کے لیے ہے جس کا بیان ابتداءِ گفتگو میں ہے (سَلامٌ عَلى نُوحٍ فِي الْعالَمِينَ- سَلامٌ عَلى إِبْراهِيمَ- سَلامٌ عَلى مُوسى وَهارُونَ) اس بنا پر یہاں بھی: "سَلامٌ عَلی إِلْیاسینَ": الیاس پر سلام ہو گا (غور کیجیے گا)۔ وہ نکتہ جس پر یہاں خاص طور پر توجہ کی ضرورت ہے یہ ہے کہ بہت سی تفاسیر ہیں ایک حدیث نقل ہوئی ہے کہ جس کی سند ابن عباس کی طرف لو ٹتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ "آلِ یاسین" سے مراد آلِ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ کیونکہ "یاسین" پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسماء میں سے ایک ہے۔ معانی الاخبار میں صدوق نے ایک بات جو "آل یاسین" کی تفسیر کے لیے ذکر کیا ہے، اس میں پانچ احادیث اس ضمن میں نقل کی ہیں۔ ان میں سے ایک حدیث کے سوا کوئی بھی آئمہ اہلِ بیت تک نہیں پہنچتی اور اس حدیث کا راوی ایک شخص "کادح" یا "قادح" نامی ہے [بحوالہ: معانی الاخبار ص ۱۲۲ (جامعة المدرسّین قم کی شائع کردہ)] جس کے بارے میں کتب رجال میں کوئی خبر نہیں ہے۔ چونکہ یہ اخبار اس مفروضہ کی بنا پر ہیں کہ ہم اوپر والی آیت کی قراءت کو "سلام علیٰ اٰل یاسین" کی صورت میں پڑھیں اور آیات کی ہم آہنگی کو نظر انداز کر دیں اور ان روایات کی اسناد بھی جیسا کہ ہم نے دیکھ لیا ہے قابلِ بحث ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ ہم ان روایات کے بارے میں فیصلہ کرنے سے باز رہیں اور ان کا علم ان کے اہل کے سپرد کر دیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 138 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 138 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 138 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 138 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 138 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: اس قوم کی تباہ سرزمین تمہارے سامنے ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 6پانچویں پیغمبر جن کا اس سُورہ میں اور آیات کے سلسلے میں نام آیا ہے اور ان کی تاریخ کا ایک مختصر حِصّہ، تربیتی اور اصلاحی درس کے طور پر بیان ہوا ہے وہ حضرت لُوط علیہ السلام ہیں۔ قرآن کی صراحت کے مطابق وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہم عصر تھے۔ وہ خدا کے عظیم پیغمبروں میں سے ہیں (عنکبوت ۲۶، ہود ۷۴)۔ حضرت لوط علیہ السلام کا نام قرآن میں بہت سی آیات میں آیا ہے اور بارہا ان کے اور ان کی قوم کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ خاص طور پر اس منحرف قوم کا انجام، ایک واضح اور روشن صورت میں بیان کیا گیا ہے (شعراء ۱۶۷ تا ۱۷۳ اور ہود ۷۰ تا ۸۳، نمل ۵۴ تا ۵۸ اور دوسرے مقامات)۔ ارشاد ہوتا ہے: لوط ہمارے رسولوں میں سے تھا (وَإِنَّ لُوطاً لَمِنَ الْمُرْسَلینَ)۔ اس اجمال کو بیان کرنے کے بعد قرآن اجمال و تفصیل کی اپنی روش کے مطابق، اس ماجرے کے ایک حِصّے کی وضاحت کرتے ہوئے کہتا ہے: وہ وقت یاد کرو جب ہم نے لُوط اور اس کے سارے خاندان کو نجات دی (إِذْ نَجَّیْناہُ وَاَهْلَهُ اَجْمَعینَ)۔ سوائے اس کی بڑھیا بیوی کے جو اس قوم کے درمیان باقی رہ گئی (إِلاَّ عَجُوزاً فِی الْغابِرینَ) [تشریحی نوٹ: "غابر" جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں "غبور" کے مادہ سے ("عبور" کے وزن پر) کسی چیز کے باقی ماندہ حِصّہ کے معنی میں ہے اور جس وقت کوئی جمعیت کسی جگہ سے حرکت کرے اور کوئی اس جگہ سے رہ جائے تو اس کو "غابر" کہتے ہیں۔ اسی بنا پر باقی ماندہ خاک کو"غبار" کہتے ہیں اور پستان میں باقی رہ جانے والے دودھ کو "غبرة" بر وزن "لقمة" کہتے ہیں]۔ پھر باقی لوگوں کو ہم نے تباہ و برباد کر دیا (ثُمَّ دَمَّرْنَا الْآخَرین)۔ یہ مختصر جملے اس قوم کی عجیب تاریخ کی طرف اشارے ہیں۔ اس کی تفصیل سُورہ ہود، شعراء اور عنکبوت میں گزر چُکی ہے۔ حضرت لُوط علیہ السلام نے تمام انبیاء کی طرح سب سے پہلے اپنی دعوت توحید سے شروع کی۔ اس کے بعد ماحول کے مفاسد اور خرابیوں کے خلاف شدید جنگ میں مصروف ہو گئے، خصوصاً وہ لوگ معروف اخلاقی انحراف یعنی ہم جنس بازی کا شکار تھے جس کی رسوائی تمام تواریخ میں منعکس ہے۔ اس عظیم پیغمبر علیہ السلام نے بہت سی سختیاں جھیلیں، خون جگر پیا اور ان سے جتنا ہو سکا اس قبیح سیرت اور قبیح صورت منحرف قوم کی اصلاح اور انہیں شرمناک اعمال سے روکنے کی کوشش کی، لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلا اور اگر کچھ تھوڑے سے افراد ان پر ایمان لائے بھی تو بہت جلد وہ اس گندے ماحول سے نجات پا گئے۔ آخرکار حضرت لُوط علیہ السلام ان سے ناامید ہو گئے اور دعا کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ انہوں نے خدا سے اپنی اور اپنے خاندان کی نجات کے لیے درخواست کی، خدا نے ان کی دعا کو قبول فرمایا اور اس چھوٹے سے گروہ کو نجات بخشی، سوائے ان کی بیوی کے، وہی بڑھیا جو نہ صرف آپ کی تعلیمات کی پیروی نہیں کرتی تھی بلکہ بعض اوقات آپ کے دشمنوں کی مدد بھی کیا کرتی تھی۔ خدا نے بھی اس قوم پر نہایت سخت عذاب نازل کرنے کا ارادہ کر لیا۔ سب سے پہلے ان کے شہروں کو تہ و بالا کیا۔ پھر مسلسل اور پےدرپے پتھروں کی بارش ان پر برسائی۔ یہاں تک کہ سب کے سب نابود ہو گئے اور ان کے جسموں کا بھی نام و نشان باقی نہ رہا۔ چونکہ یہ سب ذکر غافل اور مغرور لوگوں کو بیدار کرنے کے لیے ایک مقدمہ اور تمہید کے طور پر ہے لہذا اس گفتگو کے آخر میں ارشاد ہوتا ہے: تم ہمیشہ صبح کے وقت ان کے شہروں کے ویرانوں کے قریب سے گزرتے ہو (وَإِنَّکُمْ لَتَمُرُّونَ عَلَیْهِمْ مُصْبِحینَ)۔ اور رات کو بھی وہاں سے گزرتے ہو، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ (وَبِاللَّیْلِ اَ فَلاتَعْقِلُون)۔ یہ تعبیر اس وجہ سے بیان ہوئی ہے کیونکہ قومِ لُوط کے شہر حجاز کے لوگوں کے قافلوں کو شام کی طرف راستے میں پڑتے تھے اور وہ اپنے دنوں اور راتوں کے سفر میں ان کے قریب سے گزرتے تھے۔ اگر وہ دل و جان کے کان رکھتے تو اس گنہگار تباہ شدہ قوم کی دلخراش اور جانکاہ آواز سنتے، کیونکہ ان کے شہروں کے ویرانے اپنی زبانِ بےزبانی سے تمام گزرنے والوں کو درسِ عبرت دیتے ہیں اور ان جیسے حوادث کے چنگل میں گرفتار ہونے سے ڈراتے ہیں۔ ہاں: مااكثر العبر واقل الاعتبار [بحوالہ: نہج البلاغہ کلمات قصار، کلمہ ۲۹۷]۔ عبرت کے درس تو بہت ہیں لیکن عبرت حاصل کرنے والے تھوڑے ہیں۔ اسی معنی و مفہوم کی نظیر سورہ حجر کی آ یہ ۷۶ میں قومِ لوط کی داستان کے بیان کے بعد آئی ہے: وَإِنَّها لَبِسَبِيلٍ مُقِيمٍ یہ آثار پاس سے گذرنے والوں کے راستہ میں پڑتے ہیں۔ ایک روایت میں امام صادق علیہ السلام سے اس جملے کی ایک اور طرح سے تفسیر کی گئی ہے۔ ایک صحابی نے "وَإِنَّكُمْ لَتَمُرُّونَ عَلَيْهِمْ مُصْبِحِينَ وَبِاللَّيْلِ أَ فَلا تَعْقِلُونَ" کی آیات کی تفسیر کے بارے میں آپ علیہ السلام سے سوال کیا تو فرمایا: تمرون عليهم فى القرآن اذا قرأتم فى القرآن فاقرئوا ما قص الله عليكم من خبرهم۔ تم قرآن میں جب قرآن کی آیات کی تلاوت کرتے ہو تو ان کے پاس سے گزرتے ہو، قرآن ان اخبار کو جو خدا نے بیان کی ہیں تمہارے لیے واضح کرتا ہے [بحوالہ: یہ روایت روضہ کافی سے نور الثقلین جلد ۴ ص ۴۳۲ پر نقل کی گئی ہے]۔ ممکن ہے یہ تفسیر آیت کے دوسرے معنی اور اس کے بطون کی طرف اشارہ ہو۔ بہرحال دونوں تفسیروں کے جمع ہونے میں بھی کوئی امر مانع نہیں ہے، کیونکہ قومِ لوط کے آثار بھی خارج میں ان کی آنکھوں کے سامنے موجود تھے اور قرآنِ مجید میں ان کے اخبار بھی سامنے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 148 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 148 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 148 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 148 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 148 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 148 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 148 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 148 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 148 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: یونس امتحان کی بھٹی میں
Tafsīr Nemūna · Vol. 6اس سورہ میں یہ گزشتہ انبیاء اور اقوام کی چھٹی اور آخری سرگزشت ہے۔ ان آیات میں یونس علیہ السلام اور ان کی توبہ کرنے والی قوم کی سرگزشت بیان کی گئی ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ گزشتہ پانچ سرگزشتیں جن میں نوح علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام، وہارون علیہ السلام، الیاس علیہ السلام اور لُوط علیہ السلام کا ذکر تھا وہ سب کی سب یہاں آ کر ختم ہوئیں کہ وہ قومیں ہرگز بیدار نہ ہوئیں اور عذابِ الٰہی میں گرفتار ہو گئیں اور خدا نے ان میں سے ان عظیم انبیاء کو نجات بخشی۔ لیکن اس داستان میں معاملے کا اختتام ان کے برعکس ہے۔ یونس علیہ السلام کافر قوم عذابِ الٰہی کی ایک نشانی کو دیکھتے ہی بیدار ہو گئی اور اس نے توبہ کر لی اور خدا نے اس پر اپنا لطف و کرم فرمایا اور اسے مادی و روحانی برکات سے بہرہ مند کیا۔ یہاں تک کہ یونس علیہ السلام کو اس ترکِ اولیٰ کی بنا پر جو اس قوم کے درمیان سے ہجرت کرنے میں جلدی کرنے کی وجہ سے ان سے سرزد ہوا تھا، مصائب و مشکلات میں پھنسا دیا، یہاں تک کہ ان کے بارے میں لفظ "ابق" استعمال کیا کہ جو عام طور پر بھاگ جانے والے غلاموں کے لیے بولا جاتا ہے۔ یہ داستانیں اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہیں کہ اے مشرکینِ عرب اور اے دیگر انسانو! کیا تم ان پانچ قوموں کی طرح بننا چاہتے ہو یا قومِ یونس علیہ السلام کی طرح؟ کیا تم اس بُری اور دردناک عاقبت اور انجام کے طالب ہو یا اس خیر و سعادت کے؟ یہ بات خود تمہارے اپنے ارادے کے ساتھ وابستہ ہے۔ بہرحال قرآن مجید کی متعّدد سورتوں میں (منجملہ سُورہ انبیاء، یونس، قلم اور زیر بحث سورہ صافات میں) اس عظیم پیغمبر کی داستان بیان ہوئی ہے اور ہر ایک میں ان کے حالات کا ایک حِصّہ ذکر ہوا ہے۔ سُورہ صافات میں زیادہ تر یونس علیہ السلام کے فرار، ان کی گرفتاری اور پھر نجات کا مسئلہ بیان ہوا ہے۔ پہلے گزشتہ داستانوں کی طرح ان کے مقامِ رسالت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا ہے: یونس خدا کے رسولوں میں سے تھا (وَإِنَّ یُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلین)۔ یونس علیہ السلام نے بھی دیگر انبیاء کی طرح اپنی دعوت کی ابتداء توحید اور بُت پرستی کے خلاف قیام سے شروع کی۔ اس کے بعد ان برائیوں کے خلاف نبرد آزمائی کی جو اس ماحول میں رائج تھے۔ لیکن وہ متعصّب قوم، آنکھیں اور کان بند کر کے، اپنے بڑے بوڑھوں کی تقلید کر رہی تھی، ان کی دعوت کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہوئی۔ حضرت یونس علیہ السلام اسی طرح ایک مہربان باپ کے مانند دل سوزی اور خیرخواہی کے ساتھ اس گمراہ قوم کو وعظ و نصیحت کرتے رہے، لیکن اس حکیمانہ منطق کے مقابلے میں دشمنوں کے پاس مغالطے اور ڈھٹائی کے سوا کوئی چیز نہ تھی۔ صرف ایک چھوٹا سا گروہ جو شاید دو افراد (ایک عابد اور ایک عالم) پر مشتمل تھا ان پر ایمان لایا۔ حضرت یونس علیہ السلام نے اس قدر تبلیغ کی کہ ان سے تقریباً مایوس ہو گئے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ عابد کے کہنے پر (اور گمراہ قوم کی کیفیت اور حالات کو دیکھتے ہوئے) آپ نے پُختہ ارادہ کر لیا کہ ان کے خلاف بددعا کریں [بحوالہ: تفسیر برہان جلد ۴ ص ۳۵]۔ یہ پروگرام پورا ہو گیا اور حضرت یونس علیہ السلام نے ان پر نفرین کی اور انہیں بددعا دی جو آپ پر وحی آئی کہ فلاں وقت عذابِ الٰہی نازل ہو گا۔ جب عذاب کے وعدے کا وقت قریب آیا تو حضرت یونس علیہ السلام اس عابد کے ساتھ اس قوم کے درمیان سے باہر چلے گئے، ایسی حالت میں کہ آپ نہایت غصے میں تھے یہاں تک کہ دریا کے کنارے پر پہنچ گئے وہاں لوگوں اور وزن سے بھری ایک کشتی دیکھی آپ نے ان سے خواہش کی کہ مجھے بھی اپنے ہمراہ لے چلیں۔ اسی واقعے کی طرف قرآن بعد والی آیت میں اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: اس وقت کو یاد کرو جب اس نے وزن اور لوگوں سے بھری ہوئی کشتی کی طرف فرار کیا (إِذْ أَبَقَ إِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ)۔ "ابق" "اباق" کے مادہ سے غلام کے اپنے آقا و مولا کے پاس سے بھاگ جانے کے معنی میں ہے اس مقام پر یہ ایک عجیب و غریب تعبیر ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بہت ہی چھوٹا سا ترکِ اولیٰ کہ جو عالی مقام پیغمبروں سے سرزد ہو جائے، خدا کی طرف سے کس قدر سخت گیری اور عتاب کا باعث بنتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے پیغمبر کو بھاگ جانے والے غلام کا نام دیتا ہے۔ بِلاشک و شبہ یونس معصوم پیغمبر تھے اور وہ کبھی بھی گناہ کے مرتکب نہیں ہوئے، لیکن پھر بھی بہتر یہی تھا کہ وہ تحمل سے کام لیتے اور نزولِ عذاب سے قبل کے آخری لمحات تک اپنی قوم میں رہتے کہ شاید وہ بیدار ہو جائے۔ یہ ٹھیک ہے کہ بعض روایات کے مطابق آپ نے چالیس سال تک تبلیغ کی تھی، لیکن پھر بھی بہتر یہی تھا کہ چند روز یا چند گھنٹے اور ٹھہر جاتے۔ آپ نے چونکہ ایسا نہیں کیا لہٰذا آپ کو بھاگ جانے والے غلام سے تشبیہ دی گئی ہے۔ بہرحال یونس کشتی پر سوار ہو گئے۔ روایات کے مطابق ایک بہت بڑی مچھلی نے کشتی کی راہ روک لی اور منہ کھول دیا گویا وہ کچھ کھانے کو مانگ رہی ہو۔ کشتی میں بیٹھنے والوں نے کہا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی گنہگار ہمرے درمیان ہے (کہ جسے اس مچھلی کا لقمہ بننا چاہیے اور قرعہ اندازی سے کام لینے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے)۔ اس موقع پر انہوں نے قرعہ حضرت یونس علیہ السلام کا نام نکل آیا۔ ایک روایت کے مطابق انہوں نے تین مرتبہ قرعہ ڈالا اور ہر دفعہ حضرت یونس علیہ السلام ہی کا نام نکلا۔ ناچار انھوں نے یونس علیہ السلام کو پکڑ کر اس بہت بڑی مچھلی کے منہ میں پھینک دیا۔ قرآن زیرِ بحث آیات میں ایک مختصر سے جملے کے ذریعے اس ماجرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: یونس نے ان کے ساتھ قرعہ ڈالا اور مغلوب ہو گیا (فَساهَمَ فَكانَ مِنَ الْمُدْحَضِينَ)۔ "ساھم" "سھم" کے مادہ سے دراصل تیر کے معنی میں ہے اور"ساھمہ" قرعہ اندازی کے معنی میں ہے، کیونکہ گزشتہ زمانے میں قرعہ اندازی کے وقت تیر کی لکڑیوں پر نام لکھا کرتے تھے اور انہیں ایک دوسرے کے ساتھ مِلا دیتے تھے، پھر ان میں سے ایک تیر کی لکڑی باہر نکالتے تھے، جس کے نام کا ہوتا اسی کا قرعہ کہلاتا۔ "مدحض" "ادحاض" کے مادہ سے باطل کرنے، زائل کرنے اور مغلوب کرنے کے معنی میں ہے۔ یہاں مراد یہ ہے کہ قرعہ ان کے نام نکلا۔ یہ تفسیر بھی بیان کی جاتی ہے کہ دریا میں طوفان آ گیا تھا اور کشتی پر وزن بہت زیادہ تھا اور کشتی میں بیٹھنے والوں کو ہر لمحے غرق ہونے کا خطرہ ہونے لگا۔ اس کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں تھا کہ کشتی کو ہلکا کرنے کے لیے کچھ لوگوں کو دریا میں پھینک دیا جائے اور قرعہ یونس علیہ السلام کے نام نکل آیا۔ انہوں نے آپ کو دریا میں پھینک دیا اور ٹھیک اسی وقت ایک مگرمجھ وہاں آن پہنچا اور اس نے آپ کو نگل لیا۔ بہرحال قرآن کہتا ہے کہ ایک بہت بڑی مچھلی نے اسے نگل لیا جب کہ وہ مستحق ملامت تھا (فَالْتَقَمَهُ الْحُوتُ وَهُوَ مُلِيمٌ)۔ "التقمہ" "التقام" کے مادہ سے نِگل جانے کے معنی میں ہے۔ "ملیم" دراصل "لوم" کے مادہ سے ہے جو ملامت کے معنی میں ہے (اور جب یہ بابِ افعال میں چلا جائے تو استحقاق ملامت کے معنی دیتا ہے(۔ یہ بات مسلّم ہے کہ یہ ملامت و سرزنش کسی کبیرہ یا صغیرہ گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے نہ تھی، بلکہ اس کا سبب صرف ترکِ اولیٰ تھا، جو ان سے سرزد ہوا اور وہ اپنی قوم کو چھوڑ جانے اور ان سے ہجرت کرنے میں جلدی کرنا۔ لیکن وہ خدا جو آگ کو پانی کے اندر اور شیشے کو پتھر کی آغوش میں محفوظ رکھتا ہے، اس نے اس عظیم جانور کو حکمِ تکوینی دیا کہ اس کے بندے یونس علیہ السلام کو معمولی سی تکلیف بھی نہ پہنچائے۔ حضرت یونس علیہ السلام کو ایک بےنظیر اور عجیب قید میں رہنا تھا، تاکہ وہ اپنے ترکِ اولیٰ کی طرف متوجہ ہوں اور اس کی تلافی کریں۔ ایک روایت میں آیا ہے: اوحى الله الى الحوت لا تكسر منه عظما ولا تقطع له وصلاً خدا نے اس مچھلی کی طرف وحی کی کہ اس کی کوئی ہڈی نہ توڑنا اور اس کے کسی جوڑ کو نہ کاٹنا [بحوالہ: تفسیر رازی جلد ۲۶ ص ۱۶۵۔ نیز یہی بات تھوڑے سے فرق کے ساتھ تفسیر برہان جلد ۴ ص ۳۷ پر بیان ہوئی ہے]۔ یونس بہت ہی جلد اصل قضیّے کی طرف متوجہ ہو گئے۔ آپ نے پوری توجہ کے ساتھ بارگاہِ خداوندی کی طر ف رُخ کیا اور اپنے ترکِ اولی پر استغفار کی اور اس کی مقدس بارگاہ سے عفو کا تقاضا کیا۔ اس مقام پر ایک نہایت پرمعانی اور معروف ذکر حضرت یونس علیہ السلام کی زبانی نقل ہوا ہے جو سورہ انبیاء کی آیہ ۸۷ میں آیا ہے اور اہلِ عرفان کے درمیان ذکر"یونسیہ"کے نام سے مشہور ہے: فَنادى فِي الظُّلُماتِ أَنْ لا إِلهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ۔ اس نے تہہ بہ تہہ تاریکیوں میں پکارا کہ: تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے، تو پاک و منزہ ہے میں ہی ظالموں میں سے تھا۔ میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور تیری بارگاہ میں سے دور ہو گیا ہوں اور تیرے عتاب و سرزنش میں، جو میرے لیے جہنم سوزاں کے مانند ہے، گرفتار ہو گیا ہوں۔ اس مخلصانہ اعتراف اور ندامت سے ملی ہوئی تسبیح نے اپنا کام کیا اور جیسا کہ سورہ انبیاء میں بیان ہوا ہے: فَاسْتَجَبْنا لَهُ وَنَجَّيْناهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذلِكَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِينَ۔ ہم نے اس کی دعا قبول کر لی اور اسے غم و اندوہ سے نجات دی اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح سے نجات دیا کرتے ہیں (انبیاء ۸۸)۔ اب دیکھیں زیر بحث آیات اس سلسلے میں کیا کہتی ہیں، ایک مختصر سے جملے میں فرمایا گیا ہے: اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا (فَلَوْ لا اَنَّهُ کانَ مِنَ الْمُسَبِّحین)۔ تو یقیناً وہ قیامت کے دن تک مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتا (لَلَبِثَ فی بَطْنِهِ إِلی یَوْمِ یُبْعَثُونَ)۔ اور یہ وقتی قیدخانہ دائمی زندان میں بدل جاتا اور وہ دائمی زنداں اس کے لیے قبرستان میں بدل جاتا۔ حضرت یونس علیہ السلام کا مچھلی کے پیٹ میں قیامت تک رہنا (بالفرض اگر وہ درگاہِ الٰہی میں تسبیح اور توبہ نہ کرتے) زندہ صورت میں ہونا یا مُردہ صورت میں۔ اس ضمن میں مفسّرین نے کئی احتمال بیان کیے ہیں۔ پہلا احتمال تو یہ ہے کہ وہ دونوں ہی زند ہ رہتے اور یونس علیہ السلام ایک قیدی کی صورت میں قیامت کے دن تک مچھلی کے پیٹ میں قید رہتے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ یونس علیہ السلام تو مر جاتے اور مچھلی چلتی پھرتی قبر کی صورت میں زندہ رہتی۔ تیسرا احتمال یہ ہے کہ یونس علیہ السلام اور مچھلی دونوں ہی کا پیٹ یونس علیہ السلام کی قبر بن جاتا اور زمین مچھلی کی قبر۔ وہ مچھلی کے اندر اور مچھلی زمین کے اندر قیامت کے دن تک دفن ہو جاتے۔ زیرِ بحث آیت ان اقوام میں سے کسی کے لیے بھی دلیل نہیں بن سکتی۔ لیکن متعدد آیات جو یہ کہتی ہیں کہ اختتامِ دنیا پر سب مر جائیں گے، اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ قیامت کے دن تک یونس کا زندہ رہنا یا مچھلی کا زندہ رہنا ممکن نہیں ہے اس لیے ان تینوں تفاسیر میں سے تیسری تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے [تشریحی نوٹ: قابل توجہ بات یہ ہے کہ مفسّر عظیم طبرسی مرحوم جو عام طور پر مختلف اقوال آیات کے ذیل میں جمع کرتے ہیں۔ یہاں انہوں نے صرف اسی احتمال پر قناعت کی ہے اور کہتے ہیں: لصار بطن الحوت قبرًا له الیٰ يوم القيامة مچھلی کا پیٹ قیامت تک کے لیے ان کی قبر بن جاتا]۔ یہ احتمال بھی ہے کہ یہ تعبیر طولانی مدّت کے لیے کنایہ ہو یعنی وہ ایک طولانی مدّت تک اسی زنداں میں رہتے۔ جیسا کہ یہ تعبیر اس سے ملتے جلتے موقعوں پر استعمال کی جاتی ہے کہ تجھے فلاں کام کے انتظار میں قیامت تک رہنا ہو گا۔ لیکن اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ سب کچھ اس صورت میں ہوتا جب وہ تسبیح اور توبہ نہ کرتے لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ انہوں نے تسبیحِ پروردگار کی اور اس کی خاص بخشش اور عفو ان کے شاملِ حال ہوئی۔ پھر جیسا کہ قرآن کہتا ہے: ہم نے اسے ایک خشک اور درخت اور سبزے سے خالی سرزمین میں پھینک دیا اور اس حالت میں کہ وہ بیمار تھا (فَنَبَذْناهُ بِالْعَراءِ وَهُوَ سَقِيمٌ)۔ وہ بہت بڑی مچھلی خشک و بےگناہ ساحل کے نزدیک آئی اور حکمِ خدا سے اس لقمے کو جو اس سے زائد تھا باہر پھینک دیا۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس عجیب و غریب زنداں نے یونس علیہ السلام کے جسم کی سلامتی کو درہم برہم کر دیا تھا۔ لہٰذا وہ بیمار و ناتواں اس زنداں سے آزاد ہوئے۔ ہمیں صحیح طور پر معلوم نہیں ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کتنی مدّت تک مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ لیکن یقینی طور پر جتنا عرصہ بھی رہے اس کے عوارض سے بچ نہیں سکتے تھے۔ یہ ٹھیک ہے کہ فرمانِ الٰہی صادر ہوا تھا یونس علیہ السلام مچھلی کے بدن میں ہضم اور جذب نہ ہوں، لیکن یہ اس معنی میں نہیں تھا کہ اس زنداں کے کچھ آثار بھی وہ اپنے ساتھ نہ لائیں لہٰذا مفسّرین کی ایک جماعت نے لکھا ہے کہ وہ ایک نومولود، ضعیف و ناتواں اور بےپر و بال، پرندے کے بچے کی طرح مچھلی کے پیٹ سے باہر آئے۔ اس طرح سے کہ ان میں حرکت کرنے کی بھی طاقت نہیں تھی۔ پھر لطفِ الٰہی ان کے شاملِ حال ہوا،کیونکہ ان کا بدن بیمار اور خستہ حال تھا اور ان کا جسم کمزور و ناتواں تھا. ساحل کی دھوپ انہیں تکلیف پہنچاتی تھی. لہٰذا ان کے لیے ایک نرم و گداز اور لطیف قسم کے لباس کی ضرورت تھی تاکہ ان کے بدن کو اس کے نیچے آرام حاصل ہو۔ اس مقام پر قرآن کہتا ہے: "ہم نے ایک کدّو کی بیل اس کے اوپر اگا دی" تاکہ وہ اس کے چوڑے اور مرطوب پتوں کے نیچے آرام کرے (وَ أَنْبَتْنا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِنْ يَقْطِينٍ) ۔ "یقطین" کا معنی بہت سے اربابِ لغت اور مفسّرین نے یہ بیان کیے ہیں کہ یہ اس پودے کو کہتے ہیں جس کی شاخ اور تنا نہ ہو اور جس کے پتے چوڑے ہوں۔ مثلاً خربوزہ، کدو، کھیرا اور تربوز وغیرہ۔ البتہ بہت سے مفسّرین اور راویانِ حدیث نے تصریح کی ہے کہ اس مقام پر اس سے مراد کدّو کی بیل ہے۔ توجہ رہے کہ "شجرة" عربی زبان میں ان نباتات کو بھی کہا جاتا ہے جن کا تنا اور شاخ ہو اور ان کو بھی جو تنا اور شاخ نہ رکھتے ہوں۔ دوسرے لفظوں میں یہ درخت اور پودے کے لیے عام ہے۔ یہاں تک کہ اس ضمن میں پیغمبر گرامی السلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک حدیث بھی نقل کی گئی ہے کہ ایک شخص نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا: إنّک تحب القرع آپ کدّو کو پسند کرتے ہیں؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: اجل ھی شجرة أخی یونس ہاں یہ میرے بھائی یونس علیہ السلام کی سبزی ہے [بحوالہ: روح البیان جلد ۷ ص ۴۸۹]۔ کہتے ہیں کہ کدو کی بیل میں اس کے علاوہ کہ اس کے پتے چوڑے اور پانی سے پُر ہوتے ہیں اور اس سے اچھا خاصا سائبان بنایا جا سکتا ہے، مکھی بھی اس کے پتوں پر نہیں بیٹھتی اور یونس علیہ السلام کے بدن کی جلد مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے اس قدر نازک اور حساس ہو گئی تھی کہ اس پر حشرات کے بیٹھنے سے بھی تکلیف ہوتی تھی۔ انہوں نے اپنے بدن کو اس کدّو کی بیل کے ساتھ چھپا لیا تاکہ سورج کی تپش سے بھی مامون رہیں اور حشرات الارض سے بھی۔ شاید خدا کو یہ مطلوب ہے کہ وہ سبق جو حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ میں دیا تھا اس کی اس مرحلہ میں تکمیل کرے۔ وہ سورج کی تپش اور اس کی حرارت کو اپنے بدن کی نازک جلد پر محسوس کریں۔ تاکہ آیندہ رہبر ہوتے ہوئے اپنی امت کی جہنم کی جلانے والی آگ سے نجات کے لیے زیادہ کوشش کریں۔ یہی مضمون بعض روایات میں بھی آیا ہے [بحوالہ: تفسیر نور الثقلین جلد ۴ ص ۴۳۶ حدیث ۱۱۶]۔ اب ہم حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر چھوڑتے ہیں اور ان کی قوم کا حال بیان کرتے ہیں۔ جب حضرت یونس علیہ السلام نے غیض و غضب کی حالت میں اپنی قوم کو چھوڑ دیا اور خدا کے غضب کے آثار بھی اس پر ظاہر ہو گئے، تو وہ لوگ شدّت کے ساتھ لرز اُٹھے۔ اب انہیں ہوش آیا۔ ایک عالم کہ جو ان کے درمیان رہتا تھا وہ اس کے گرد جمع ہو گئے اور اس کی رہبری اور ہدایت سے توبہ پر آمادہ ہو گئے۔ بعض روایات میں ہے کہ وہ سب مل کر بیابان کی طرف چل پڑے اور عورتوں اور بچّوں نیز جانوروں اور ان کے بچوں کے درمیان جدائی ڈال دی۔ پھر گریہ و زاری میں مشغول ہو گئے اور نالہ و فریاد کی صدا بلند کی اور خلوص کے ساتھ اپنے گناہوں اور ان کوتاہیوں پر توبہ کی کہ جو انہوں نے خدا کے پیغمبر حضرت یونس علیہ السلام کے ساتھ روا رکھی تھیں۔ اس موقع پر عذاب کے پردے ہٹ گئے اور وہ حادثہ پہاڑوں پر جاگرا اور توبہ کرنے والے اہلِ ایمان نے لطفِ الٰہی کے باعث نجات پائی [بحوالہ: تفسیر برہان جلد ۴ ص ۳۵ پر یہ حدیث امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے]۔ حضرت یونس اس ماجرے کے بعد اپنی قوم کے پاس آئے تاکہ دیکھیں کہ عذاب سے ان پر کیا گزری؟ جب وہ آئے تو بہت متعجّب ہوئے کہ گویا دنیا بدل گئی۔ وہ تو ان کی ہجرت کے وقت سب کے سب بُت پرست تھے لیکن اب وہ سب کے سب خدا پرست موحّد بن گئے ہیں۔ قرآن اس موقع پر کہتا ہے: ہم نے اسے ایک لاکھ یا اس سے کچھ زیادہ افراد کی طرف بھیجا (وَاَرْسَلْناہُ إِلی مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزیدُونَ)۔ وہ ایمان لے آئے اور ہم نے انہیں ایک معیّن مُدّت تک دنیاوی نعمتیں اور زندگی سے بہرہ مند کیا (فَآمَنُوا فَمَتَّعْناهُمْ إِلی حِینٍ)۔ البتہ ان کا اجمالی ایمان اور توبہ تو پہلے ہو چکی تھی لیکن خدا اور اس کے پیغمبر حضرت یونس علیہ السلام اور ان کی تعلیمات و احکام پر تفصیلی ایمان اس وقت صورت پذیر ہوا جب جنابِ یونس علیہ السلام ان کے درمیان پلٹ کر آئے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ آیاتِ قرآنی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ماموریت نئے سرے سے اسی قوم کی طرف ہوئی تھی اور یہ جو بعض نے ان کی جدید ماموریت کو ایک نئی قوم کے لیے سمجھا ہے وہ ظاہر آیات کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے، کیونکہ ایک طرف تو یہ بیان ہوا ہے کہ: فَآمَنُوا فَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ ۔ یعنی یہ قوم جس کی ہدایت کے لیے یونس علیہ السلام مامور ہوئے تھے وہ ایمان لے آئی اور ہم نے انہیں ایک معین زمانے تک بہرہ مند کیا۔ اور دوسری طرف یہی تعبیر سورہ یونس میں اسی سابق قوم کے بارے میں آئی ہے۔ فَلَوْ لا كانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَها إِيمانُها إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنا عَنْهُمْ عَذابَ الْخِزْيِ فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَ مَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ (دوسری) قوموں میں سے کوئی قوم بروقت ایمان کیوں نہ لائی تاکہ وہ ان کے حال کے لیے مفید ہوتا۔ سوائے قومِ یونس کے کہ جس وقت وہ ایمان لے آئی تو ہم نے دنیاوی زندگی میں خوار کرنے والا عذاب ان سے برطرف کر دیا اور ہم نے انہیں ایک مدّت معین تک بہرہ مند کیا (یونس ۹۸)۔ ضمنی طور پر یہاں یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ "الیٰ حین" (معیّن مدت تک) سے مراد وہی ان کی زندگی اور اجل طبیعی کا اختتام ہے۔ زیر بحث آیات میں "ایک لاکھ یا اس سے زیادہ" کیوں فرمایا گیا ہے اور زیادہ سے مراد کتنی تعداد ہے؟ اس بارے میں مفسّرین نے طرح طرح کی تفسیریں بیان کی ہیں۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ اس قسم کی تعبیریں کسی چیز کی عظمت اور تاکید کے لیے ہوتی ہیں نہ کہ کہنے والے کے شک و شبہ کے لیے [تشرحی موٹ: اس بناء پر یہاں "بل" (یعنی بلکہ) کے معنی میں ہے]۔
چند اہم نکات: ۱۔ حضرت یونس کی زندگی کی مختصر تاریخ
"یونس" "متی" کے فرزند ہیں "ذوالنون" (مچھلی والا) آپ کا لقب ہے اور یہ لقب اس بنا پر ہے کہ چونکہ ان کی سرگزشت۔ جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے۔ ایک مچھلی کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔ آپ ان مشہور پیغمبروں میں سے ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کے بعد اس دنیا میں آئے۔ بعض نے انہیں حضرت ہود علیہ السلام کی اولاد میں سے قرار دیا ہے اور ان کی ماموریت قومِ ثمود کے باقی ماندہ لوگوں کی ہدایت قرار دیا ہے۔ ان کے ظہور کا مقام عراق کا ایک علاقہ تھا جس کا نام نینوا تھا [تشریحی نوٹ: "نینوا" کئی مقامات کا نام ہے پہلا موصل کے نزدیک شہر ہے (یا قصبہ موصل) اور دوسرا اطرافِ کوفہ میں کربلا کی سمت کا ایک علاقہ ہے اور ایشیائے کوچک میں ایک شہر ہے جو دجلہ کے کنارے واقع مملکت آشور کا پایہ تخت ہے (دائرة المعارف دھخدا بعض دوسروں نے لکھا ہے کہ"نینوا" ملک آشور کا ایک بہت بڑا شہر ہے جو موصل کے بالکل سامنے دجلہ کے مشرق کنارے پر تعمیر کیا گیا تھا۔ (فرہنگ قصصِ قرآن)]۔ بعض نے ان کا ظہور ۸۲۵ قبل مسیح لکھا ہے اور اب بھی کوفہ کے نزدیک شطِ فرات کے کنارے "یونس" کے نام کی ایک معروف قبر موجود ہے۔ بعض کتابوں نے لکھا ہے کہ آپ بنی اسرائیل کے ایک پیغمبر تھے جو حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد اہلِ نینوا کی طرف مبعوث ہوئے۔ کتاب "یوناہ" میں جو عہد عتیق (تورات) کی کتابوں میں سے ہے۔ "یونس" کے بارے میں تفصیل ذکر"یوناہ بن متی" کے نام سے کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق وہ اس بات کے لیے مامور ہوئے تھے کہ عظیم شہر نینوا جائیں اور لوگوں کی شرارت کے خلاف قیام کریں۔ اس کے بعد کچھ اور واقعات بھی بیان کے گئے ہیں جو قرآن کے بیان سے بہت کچھ ملتے جلتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اسلامی روایات کے مطابق تو حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم کو دعوت دینے کے لیے قیام کیا اور اس سلسلے میں اپنے فریضے اور ذمّہ داری کو انجام دیا اور جب ان کی قوم نے ان کی دعوت کو رد کر دیا تو انہوں نے نفرین کی اور بددعا دی۔ پھر ان کے درمیان سے چلے گئے اور کشتی اور مچھلی کا واقعہ انہیں پیش آیا۔ لیکن تورات کی عبارت بہت ناموزوں سی ہے اور تصریح کے ساتھ کہتی ہے کہ وہ انجامِ ذمّہ داری سے پہلے ہی یہ چاہتے تھے کہ استعفیٰ دے دیں۔ لہٰذا وہ بھاگ کھڑے ہوئے اور کشتی اور مچھلی والا واقعہ پیش آیا۔ اس سے بھی بڑھ کر تعجّب کی بات یہ ہے کہ "تورات" کہتی ہے۔ جب خدا نے اس قوم سے ان کی توبہ کی وجہ سے عذاب اٹھا لیا، تو یونس علیہ السلام کو بہت دُکھ ہوا اور وہ بھڑک اُٹھے [بحوالہ: تورات کتاب یوناہ پیغمبر فصل اول و دوم و سوم و چہارم]۔ تورات کی فصول سے معلوم ہوتا ہے کہ یونس علیہ السلام کو دو مرتبہ مامور کیا گیا پہلی ماموریت کے موقع پر انکار کر دیا اور اس دردناک انجام میں مبتلا ہوئے۔ دوبارہ انہیں مامور کیا گیا کہ اسی شہر"نینوا" کی طرف جائیں کہ نینوا کے لوگ بیدار ہو چکے ہیں اور خدا پر ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کر لی ہے اور وہ عفوِ الٰہی ان کے شاملِ حال ہو گیا ہے، لیکن یہ عفو و بخشش یونس کو اچھی نہیں لگی۔ قرآن اور اسلامی روایات کے بیانات کا موجودہ تورات کے بیانات سے موازنہ کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ "تورات" میں کتنی تحریف ہو گئی ہے کہ اس نے اس عظیم پیغمبر علیہ السلام کے مقام کو اس قدر گِرا دیا ہے۔ کبھی ان کی طرف ماموریت اور ذمّہ داری قبول نہ کرنے کی نسبت دیتی ہے اور کبھی ایک توبہ کرنے والی قوم پر پروردگار کے عفو و رحمت کو دیکھ کر خشمناک ہونے کی نسبت دیتی ہے۔ یہی چیزیں ہیں جو اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ موجودہ تورات کسی لحاظ سے بھی قابلِ اعتماد کتاب نہیں ہے بہرحال وہ ایک عظیم پیغمبر ہیں جن کو قرآن نے عظمت کے ساتھ یاد کیا ہے۔
۲۔ یونس مچھلی کے پیٹ میں کیسے زندہ رہے؟
ہم بیان کر چکے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی واضح دلیل نہیں ہے کہ یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں کتنی مدّت رہے؟ چند گھنٹے یا چند دن یا چند ہفتے؟ بعض روایات میں نو گھنٹے، بعض میں تین دن اور بعض میں اس سے زیادہ، یہاں تک کہ چالیس دن تک کی مدّت بیان کی گئی ہے، لیکن ان اقوال کا کوئی یقینی ثبوت موجود نہیں ہے۔ صرف تفسیر علی بن ابراہیم میں امیرالمومنین علی علیہ السلام سے ایک حدیث میں حضرت یونس علیہ السلام کا مچھلی کے پیٹ میں توقف ۹ گھنٹے بیان ہوا ہے [بحوالہ: نور الثقلین جلد ۴ ص ۴۳۶ بحوالہ تفسیر علی بن ابراہیم]۔ بعض مفسّرین اہلِ سنت نے اس کی مُدّت ایک گھنٹہ بھی بیان کی ہے [بحوالہ: تفسیر قُرطبی جلد ۸ ص ۵۵۶۷]۔ لیکن جو کچھ بھی ہو بِلاشک و شبہ یہ توقف ایک غیرمعمولی امر ہے انسان ایسے ماحول میں جہاں ہوا نہ ہو چند منٹ سے زیادہ زندہ نہیں رکھ سکتا اور اگر ہم دیکھتے ہیں کہ بچہ ماں کے پیٹ میں کئی ماہ تک زندہ رہتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی تک اس کے تنفس کی مشینری نے اپنا کام کرنا شروع نہیں کیا ہوتا اور وہ ضروری آکسیجن صرف ماں کے خون کے راستے سے حاصل کرتا ہے۔ اس بنا پر حضرت یونس علیہ السلام کا ماجرا بلاشبہ ایک اعجاز ہے اور یہ پہلا اعجاز نہیں ہے جو ہمیں قرآن سے معلوم ہوا ہے۔ وہی خدا جس نے ابراہیم علیہ السلام کو آگ کے درمیان صحیح و سالم رکھا اور موسیٰ و بنی اسرائیل کو دریا کے وسط میں خشک راستے بنا کر غرق ہونے سے بچایا اور نوح کو ایک سادہ اور عام کشتی کے ذریعے اس عظیم اور وسیع طوفان سے نجات بخشی اور صحیح و سالم زمین پر اتارا۔ وہی خدا یہ قدرت بھی رکھتا ہے کہ اپنے مخصوص بندوں میں سے ایک بندے کو ایک بہت بڑی مچھلی کے پیٹ میں صحیح و سالم رکھے۔ البتہ گزشتہ اور موجودہ زمانے میں اس قسم کی بڑی مچھلیوں کا موجود ہونا کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ اس وقت بھی بڑی بڑی مچھلیاں "وہیل" نام کی موجود ہیں۔ جن کی لمبائی ۳۰ میٹر سے بھی زیادہ ہوتی ہے اور یہ اس زمین کا سب سے بڑا جانور ہے اور اس کا جگر ایک ٹن تک ہوتا ہے۔ ہم نے اسی سورہ میں گزشتہ انبیاء کی داستانیں پڑھی ہیں جنہوں نے اعجاز آمیز طریقے سے بلاؤں اور مصائب کے پنجے سے نجات پائی اور حضرت یونس علیہ السلام اس سلسلہ بیان کے آخری نبی ہیں۔
۳۔ چھوٹی سی داستان میں بہت سے سبق
ہم جانتے ہیں کہ قرآن مجید میں ان قصّوں کا بیان تربیتی مقاصد کے لیے ہے کیونکہ قرآن کوئی قصے کہانیوں کی کتاب نہیں ہے بلکہ یہ انسان سازی اور تربیّت کی کتاب ہے۔ اس عجیب داستان میں سے بہت سے پند و نصائح حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ الف: تخلّف، چاہے ایک بزرگ پیغمبر سے، ایک "ترکِ اولیٰ" کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو خدا کی بارگاہ میں بہت اہم ہے اور موجبِ سزا ہے۔ البتہ چونکہ پیغمبروں کا مقام بہت اونچا ہوتا ہے لہذا ان کی ایک چھوٹی سی غفلت بھی کبھی دوسروں کے گناہِ کبیرہ کے برابر سمجھی جاتی ہے۔ اسی بنا پر ہم نے دیکھ لیا ہے کہ اس داستان میں خدا نے انہیں بھاگ جانے والا غلام کہا ہے۔ روایات میں بیان کیا گیا ہے کہ کشتی میں بیٹھنے والوں نے کہا تھا کوئی گنہگار آدمی ہمارے درمیان ہے اور انجام کار خدا نے انہیں ایک وحشتناک زنداں میں گرفتار کیا اور توبہ اور خدا کی طرف بازگشت کے بعد اس زنداں سے خستہ حال اور بیمار بدن کے ساتھ آزاد ہوئے تھے۔ تاکہ سب لوگ جان لیں کہ تخلّف اور گناہ کسی شخص سے بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔ انبیاء و اولیاءِ خدا کے مقام کی عظمت بھی اسی میں ہے کہ وہ اس کے فرمان کے مطیع ہوتے ہیں ورنہ کوئی بھی خدا کے ساتھ کوئی رشتہ داری نہیں رکھتا۔ البتہ یہ اس عظیم پیغمبر کی عظمت کی نشانی ہے کہ خدا اس کے بارے میں اس قسم کی سخت گیری کر رہا ہے۔ ب: اسی داستان (کے اس حصّے میں جو سورہ انبیاء کی آیت ۸۷ میں آیا ہے) میں مومنین کے غم و اندوہ اور مشکلات سے نجات کا بھی وہی راستہ بتایا گیا ہے جو خود حضرت یونس علیہ السلام نے طے کیا تھا اور وہ ہے حق تعالیٰ کی بارگاہ میں خطا اور غلطی کا اعتراف، تسبیح و تنزیہ اور اس کی بارگا ہ میں توبہ و انابت و بازگشت۔ ج: یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایک گنہگار اور مستحقِ عذاب قوم، کس طرح سے آخری لمحات میں اپنی تاریخ کا راستہ بدل سکتی ہے اور خدا کی رحمت و محبت بھری آغوش کی طرف پلٹ کر نجات پا سکتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ موقع ہاتھ سے نکلنے سے پہلے متوجہ ہو جائے اور اگر ہو سکے تو کسی عالم کو اپنی رہبری کے لیے منتخب کرے۔ د: یہ ماجرا اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ خدا پر ایمان اور گناہ سے توبہ آثار و برکات کے علاوہ، دنیا کی ظاہری نعمتوں کا رُخ بھی انسان کی طرف موڑ دیتی ہے، آبادی بڑھاتی ہے نیز طولِ عمر اور زندگی کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا سبب بنتی ہے اور مطلب کی نظیر حضرت نوح علیہ السلام کی داستان میں بھی آئی ہے۔ اس کی تفصیل و تشریح انشاءاللہ سورہ نوح کی تفسیر میں بیان کی جائے گی۔ ھ: خدا کی قدرت اس قدر وسیع و عریض ہے کہ اس کے سامنے کوئی بھی چیز مشکل نہیں ہے۔ یہاں تک کہ وہ ایک انسان کو ایک عظیم اور وحشتناک جانور کے منہ اور پیٹ میں سالم و محفوظ رکھ سکتا ہے اور سالم ہی باہر نکال سکتا ہے یہ امور اس بات کی نشادہی کرتے ہیں کہ اس عالم کے تمام اسباب اس کے ارادے کے تحت اور اس کے فرمان کے سامنے سرنگوں ہیں۔
۴۔ ایک سوال کا جواب:
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ دوسری اقوام کی سرگزشتوں کے بیان میں آیاتِ قرآنی میں آیا ہے کہ نزولِ عذاب کے وقت (عذاب استیصال جو سرکش اقوام کی نابودی کے لیے نازل ہوتا ہے) توبہ و انابت بےاثر ہوتی ہے تو پھر قومِ یونس کے لیے اس مسئلے میں استثناء کیسے ہوا۔ پہلا جواب تو یہ ہے کہ عذاب ابھی نازل نہیں ہوا تھا ابھی کچھ علامات ہی، جو تنبیہ اور خبردار کرنے کے لیے تھیں، نظر آئی تھیں کہ انہوں نے ان تنبیہوں سے برمحل استفادہ کیا اور نزولِ عذاب سے پہلے ہی توبہ کر لی اور ایمان لے آئے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ عذاب "عذابِ استیصال" نہیں تھا بلکہ گوشمالی کے طور پر تھا۔ ایسی گوشمالی قوموں پر عذاب نازل کرنے سے پہلے کی جاتی تھی، تاکہ وہ موقع ہاتھ سے نکل جانے سے پہلے بیدار ہو جائیں اور تقویٰ کا راستہ اختیار کر لیں۔ جیسا کہ غرق ہونے سے پہلے فرعون کی قوم پر مختلف عذاب بھیجے گئے تھے۔
۵۔ اسلام میں قرعہ اندازی کی مشروعیت
قرعہ اور اس کی مشروعیت سے ربوط روایات میں امام صادق ع سے منقول ہے: اى قضية أعدل من القرعة اذا فوض الأمر الى الله عزّوَجلّ، يقول: فَساهَمَ فَكانَ مِنَ الْمُدْحَضِينَ قرعہ سے بڑھ کر عادلانہ فیصلہ اور کون سا ہو سکتا ہے (کہ جب معاملہ مشکل ہو جائے) تو موضوع کو خدا کے سُپرد کر دیا جائے، کیا خدا (قرآن مجید میں یونس علیہ السلام کے بارے میں) نہیں کہتا: "فَساھَمَ فَکانَ مِنَ الْمُدْحَضِینَ" (یونس نے کشتی میں بیٹھنے والوں کے ساتھ قرعہ اندازی کی اور قرعہ یونس کے نام نکلا اور وہ مغلوب ہو گئے) [بحوالہ: تفسیر برہان جلد ۴ ص ۳۷ (حدیث ۶)]۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب معاملہ مشکل ہو جائے اور اس کے حل کی اور کوئی دوسری راہ موجود نہ ہو اور کام کو خدا کے سپرد کر دیا جائے تو واقعاً قرعہ راہ کشا ہوتا ہے۔ جیسا کہ حضرت یونس علیہ السلام کی داستان میں حقیقت پر ٹھیک منطبق ہوا۔ یہی مطلب ایک دوسری حدیث میں پیغمبر گرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں: ليس من قوم تنازعوا (تقارعوا) ثم فوضوا امرهم الى الله الّا خرج سهم المحق کسی قوم نے (جب مسئلہ کے حل کی تمام راہیں مسدود ہو گئی ہوں) قرعہ پر اقدام نہیں کیا جبکہ انہوں نے اپنے کام کو خدا کے سپرد کر دیا ہو۔ مگر یہ کہ قرعہ حقیقت کے مطابق نکلا اور حق آشکار و واضح ہو گیا [وسائل، کتاب القضاء جلد ۱۸ باب الحکم بالقرعة فی القضایا المشکتہ از ابواب کیفیتہ الحکم و احکام الدعویٰ (باب ۱۳) حدیث ۵]۔ اس مسئلے کی مزید تشریح و تفصیل ہم نے کتاب "القواعد الفقھیه" میں بیان کی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 160 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 160 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 160 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 160 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 160 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 160 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 160 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 160 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 160 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 160 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 160 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: قبیح تہمتیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 6گذشتہ انبیاء کی چھ داستانوں اور ان میں سے ہر ایک میں جو اصلاح و تربیتی درس پوشیدہ تھا، اسے ذکر کرنے کے بعد موضوعِ سخن تبدیل کرتے ہوئے ایک اور مطلب شروع کیا جا رہا ہے کہ جو مشرکینِ عرب کے ساتھ شدید ارتباط رکھتا ہے، ان کے شرک کی مختلف شکلوں کو پیش کر کے ان سے سخت اور شدید بازپرس کی جا رہی ہے اور مختلف دلائل کے ذریعے کے بےہودہ اور خرافاتی انکار کی سرکوبی کی جا رہی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ مشرکینِ عرب کی ایک جماعت انحطاط فکری اور کسی قسم کا علم و دانش نہ ہونے کی بنا پر خدا کو اپنے جیسا قیاس کرتے تھے اور اس کے لیے اولاد اور کبھی بیوی کے بھی قائل تھے۔ ان میں سے جہینہ، سلیم، خزاعہ اور بنی ملیح وغیرہ قبیلے یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں اور بہت سارے مشرکینِ عرب جنّوں کو بھی خدا کی اولاد سمجھتے تھے یا بعض پروردگار کے لیے جنّات میں سے بیوی کے قائل تھے۔ اس قسم کے بےبنیاد، بےہود ہ اور خرافاتی خیالات و تصوّرات نے انہیں بالکل راہِ حق سے منحرف کر دیا تھا۔ اس طرح سے کہ توحید اور خدا کی یگانگی کے آثار ان کے ہاں سے ختم ہو گئے تھے۔ حدیث میں آیا ہے کہ چیونٹی یہ خیال کرتی ہے کہ اس کا پروردگار اس کی طرح دو ڈنگ رکھتا ہے۔ ہاں، کوتاہ نظری، انسان کو موازنہ کرنے کی طرف کھینچ لے جاتی ہے، خالق کا مخلوق کے ساتھ موازنہ اور خدا کی شناخت اور معرفت کے سلسلے میں یہ قیاس گمراہی کا بدترین سبب ہے۔ بہرحال قرآن پہلے ان کی طرف توجہ کرتا ہے جو فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں خیال کرتے تھے اور انہیں تجرباتی، عقلی اور منقول تینوں طریقوں سے جواب دیتا ہے۔ پہلے فرماتا ہے: ان سے پوچھ، کیا تیرے پروردگار کی تو بیٹیاں ہیں اور ان کے بیٹے ہیں (فَاسْتَفْتِهِمْ أَ لِرَبِّكَ الْبَناتُ وَلَهُمُ الْبَنُونَ) [تشریحی نوٹ: "استفتھم" مادہ "استفتاء" سے اصل میں "فتویٰ" سے لیا گیا ہے جو مشکل مسائل کا جواب دینے کے معنی میں ہے]۔ جس چیز کو تم خود اپنے لیے پسند نہیں کرتے ہو، اسے خدا کے لیے قرار دیتے ہو۔ یہ گفتگو ان کے باطل عقیدہ کے مطابق ہے کیونکہ وہ لڑکی سے سخت متنفر تھے اور لڑکے سے شدید لگاؤ رکھتے تھے کیونکہ لڑکے ان کی جنگوں اور غارت گریوں میں نمایاں کردار ادا کرتے تھے جبکہ لڑکیاں ان کی کچھ مدد نہیں کر پاتی تھیں۔ بِلاشک لڑکے اور لڑکیاں انسانی نکتہ نظر سے اور خدا کی بارگاہ میں قدر و قیمت کے لحاظ سے، یکساں اور برابر ہیں، دونوں کی شخصیت کا معیار پاکیزگی اور تقویٰ ہے لیکن یہاں پر قرآن کا استدلال اصطلاح کے مطابق "مسلمات خصم" [تشریحی نوٹ: مخالف کی تسلیم شدہ بات سے استدلال کرنا مراد ہے] کو بیان کرنے کے طور پر ہے کہ طرفِ مقابل کے مطالب کو لے کر خود اسی کی طرف پلٹائے جائیں۔ اس معنی کی نظیر قرآن کی دوسری صورتوں میں بھی آئی ہے مثلاً سورہ نجم کی آیہ ۲۱، ۲۲ میں بیان ہوا ہے: أَ لَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنْثى تِلْكَ إِذاً قِسْمَةٌ ضِيزٰى کیا تمہارے لیے تو بیٹا ہے اور اس کے لیے بیٹی، یہ تو ایک غیرعادلانہ تقسیم ہے۔ اس کے بعد اس مسئلے کی حسّی دلیل پیش کی گئی ہے۔ پھر استفہامِ انکاری کی صورت میں قرآن کہتا ہے: کیا ہم نے فرشتوں کو لڑکیوں کی صورت میں پیدا کیا ہے اور وہ اس کے شاہد و ناظر تھے؟ (أَمْ خَلَقْنَا الْمَلائِكَةَ إِناثاً وَهُمْ شاهِدُونَ)۔ بِلاشک و شبہ اس سلسلے میں ان کا جواب منفی تھا۔ کیونکہ ان میں سے کوئی بھی خلقتِ ملائکہ کے وقت اپنے حضور و شہود کا دعویٰ نہیں کر سکتا تھا۔ بار دیگر دلیل عقلی کے جو ان کے مسلّماتِ ذہنی سے لی گئی ہے کی طرف رجوع کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: جان لو کہ وہ اپنی اس قبیح اور بہت بڑی تہمت کے ساتھ کہتے ہیں۔ (أَلا إِنَّهُمْ مِنْ إِفْكِهِمْ لَيَقُولُونَ)۔ خدا صاحبِ اولاد ہے (جبکہ) وہ قطعاً جھوٹے ہیں (وَلَدَ اللہُ وَإِنَّهُمْ لَکاذِبُونَ)۔ کیا اس نے بیٹوں کو بیٹیوں پر ترجیح دی ہے؟ (أَصْطَفَى الْبَناتِ عَلَى الْبَنِين)۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ یہ کیسے فیصلے کر رہے ہو؟! کچھ سمجھتے بھی ہو کہ کیا کہہ رہے ہو (ما لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُونَ)۔ کیا ابھی اس بات کا وقت نہیں آیا کہ تم ان مہمل، فضول اور قبیح و رسوا خرافات سے دستبردار ہو جاؤ؟ کیا تم متوجہ نہیں ہوتے؟ (اَ فَلا تَذَکَّرُونَ)۔ یہ باتیں اس قدر باطل اور بےبنیاد ہیں کہ اگر انسان تھوڑی سی بھی عقل اور سمجھ بوجھ رکھتا ہو اور اس بارے میں غور کرے تو ان کے باطل ہونے کا ادراک کر لے گا۔ ایک حسّی اور ایک عقلی دلیل کے ساتھ ان کے بیہودہ اور خرافاتی دعوے کو باطل کرنے کے بعد قرآن تیسری دلیل پیش کرتا ہے جو منقولات سے متعلق ہے۔ کہتا ہے: اگر اس قسم کی کوئی بات جو تم کہتے ہو صحیح ہوتی تو اس کا کوئی اثر و نشان گزشتہ کتابوں میں ہونا چاہیے کیا تمہارے پاس اس سلسلے میں کوئی واضح دلیل موجود ہے؟ (اَمْ لَکُمْ سُلْطانٌ مُبین)۔ "اگر تمہارے پاس کوئی ایسی دلیل موجود ہے تو اپنی کتاب لے آؤ، اگر تم سچ کہتے ہو" (فَأْتُوا بِکِتابِکُمْ إِنْ کُنْتُمْ صادِقین)۔ کس کتاب میں؟ کس تحریر میں؟ اور کس وحی آسمانی میں اس قسم کی چیز آئی ہے اور کس پیغمبر پر نازل ہوئی ہے؟ ایسی ہی بات قرآن میں بُت پرستوں کے لیے موجود ہے۔ اس ضمن میں قرآن کہتا ہے کہ انہوں نے فرشتوں کو جو خدا کے بندے ہیں بیٹیاں قرار دے دیا ہے اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اگر خدا نہ چاہتا تو ہم ان کی پرستش نہ کرتے۔ قرآن مزید کہتا ہے: أَمْ آتَيْناهُمْ كِتاباً مِنْ قَبْلِهِ فَهُمْ بِهِ مُسْتَمْسِكُونَ کیا ہم نے اس سے پہلے ان کے پاس کوئی ایسی کتاب بھیجی ہے جس سے وہ اپنے دعوے میں سہارا لیتے ہیں۔ (زخرف ۲۱) نہیں! یہ باتیں کُتبِ آسمانی سے اخذ نہیں کی گئیں۔ یہ تو وہ خرافات ہیں جو ایک نسل سے دوسری نسل کی طرف اور کچھ جاہلوں سے دوسرے جاہلوں کی طرف منتقل ہوئی ہیں اور اس کی عقل کے اعتبار سے کوئی بنیاد نہیں ہے۔ جیسا کہ سُورہ زخرف کی اسی آیہ کے ذیل میں بھی اشارہ ہوا ہے۔ بعد والی آیت میں مشرکینِ عرب کی خرافات میں سے ایک اور بےہودگی بیان کی گئی ہے اور وہ وہ نسبت ہے جو وہ "خدا" اور"جن" کے درمیان سمجھتے تھے۔ اس موقع پر گفتگو خطاب کی صُورت سے نکل کر غائب کی صورت میں آ گئی ہے۔ گویا وہ اس قدر بےقدر و قیمت ہیں کہ آمنے سامنے بات کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ فرمایا گیا ہے: وہ اس کے اور جن کے درمیان رشتہ داری اور نسبت کے قائل ہو گئے ہیں (وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَباً)۔ یہ کون سی نسبت تھی جس کے وہ خدا اور جن کے درمیان قائل تھے؟ اس سوال کے جواب میں کئی تفاسیر بیان کی گئی ہیں۔ بعض نے تو یہ کہا ہے کہ وہ دوگانہ پرست تھے اور یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ (نعوذ باللہ) خدا اور شیطان بھائی بھائی ہیں خدا تو نیکیوں کا خالق ہے اور شیطان برائیوں کا خالق ہے۔ یہ تفسیر بعید نظر آتی ہے کیونکہ دوگانہ پرست اور ثنوئین دنیائے عرب میں مشہور نہیں تھے۔ البتہ سانیوں کے دور میں ایران کے مانند کچھ علاقوں میں یہ بےہودہ عقیدہ موجود تھا۔ بعض دوسرے مفسّرین نے جن اور مَلک کو ایک ہی معنی میں سمجھا ہے۔ کیونکہ جن اصل میں اس موجود کے معنی میں ہے جو نگاہوں سے پوشیدہ ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ فرشتے چونکہ آنکھ سے نظر نہیں آتے لہذا یہ لفظ انہی کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس بنا پر وہ یہ کہتے ہیں کہ نسب سے مراد وہی نسبت ہے جس کی زمانہ جاہلیّت کے عرب ان کے لیے قائل تھے اور انہیں خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ مشکل ہے کہ یہ تفسیر بھی صحیح ہو چونکہ زیر بحث آیات ظاہری اعتبار سے دو الگ الگ مطالب بیان کر رہی ہیں۔ علاوہ ازیں لفظ "جن" کا "ملائکہ" پر اطلاق معمولی و مانوس نہیں ہے، خصوصاً قرآن مجید میں۔ تیسری تفسیر جو بعض نے اس آیہ کے بارے میں بیان کی ہے کہ وہ جنّوں کو خدا کی بیویاں خیال کرتے تھے اور ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں۔ یہ تفسیر بھی بعید نظر آتی ہے چونکہ لفظِ "نسب" کا "زوجیت" پر اطلاق بھی بعید ہے۔ وہ تفسیر جو سب سے زیادہ مناسب ہے یہ ہے کہ "نسب" سے مراد ہر قسم کی نسبت و رابطہ ہے۔ چاہے رشتہ داری کا کوئی پہلو اس میں نہ ہو اور ہم جانتے کہ بعض مشرکینِ عرب جنّوں کی پرستش کرتے تھے اور انہیں خدا کا شریک سمجھتے تھے اور اس طرح سے وہ ان کے اور خدا کے درمیان ایک نسبت اور رابطے کے قائل تھے۔ بہرحال قرآنِ مجید اس بےہودہ اور خرافاتی عقیدے کا شدّت کے ساتھ انکار کرتا ہے اور کہتا ہے: وہ جن جنہیں خرافاتی بُت پرست اپنا معبود خیال کرتے تھے یا انہیں خدا کا رشتہ دار سمجھتے تھے۔ ہاں! وہی جن اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ بےہودہ بت پرست خدا کی عدالت میں حساب و کتاب اور عذاب و سزا کے لیے ضرور حاضر ہوں گے (وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ إِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ)۔ بعض نے اس آیت کی تفسیر میں ایک اور احتمال بھی ذکر کیا ہے وہ یہ کہ اس سے مراد یہ ہے کہ گمراہ کرنے والے جنّات اتنے ہیں کہ وہ خود عدالتِ خداوندی میں حساب و کتاب اور عذاب کے لیے حاضر کیے جائیں گے۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب لگتی ہے [تشریحی نوٹ: پہلی صورت میں "ھم" کی ضمیر مشرکین کی طرف لوٹتی ہے اور دوسری صورت میں "جن" کی طرف]۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: خدا اس تعریف و توصیف سے جو یہ (جاہل و گمراہ) گروہ کرتا ہے، پاک و منز ہ ہے (سُبْحانَ اللہِ عَمَّا یَصِفُونَ)۔ اس توصیف کے سوا جو خدا کے مخلص بندے (از روئے آگاہی و معرفت اس کے بارے میں کرتے ہیں) کوئی توصیف اس مقدس ذات کے لیے شایان نہیں ہے (إِلاَّ عِبادَ اللہِ الْمُخْلَصین)۔ اس طرح ہر قسم کی توصیف جو لوگ خدا کے بارے میں کرتے ہیں درست نہیں ہے اور خدا اس سے پاک ومنزہ ہے۔ سوائے اس توصیف کے جو مختلف بندے اس کی کرتے ہیں۔ وہ بندے ہر قسم کے شرک، ہوائے نفس، جہالت اور گمراہی سے مبّرا ہیں اور خدا کی اس کے سوا جس کی اس نے خود اجازت دی ہے توصیف نہیں کرتے [تشریحی نوٹ: اس تفسیر کی بنا (إِلاَّ عِبادَ اللہ) کا جملہ (یَصِفُونَ) کی ضمیر سے استثناء ہے لیکن بعض اسے "محضرون" کی ضمیر سے استثناء سمجھتے ہیں اور اس کی مختلف تفسیریں کرتے ہیں۔ البتہ پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے اور ہر حالت میں استثناء "منقطع" ہے]۔ "عِبادَ اللہِ الْمُخْلَصین" کے بارے میں ہم نے اسی سُورہ کی آیہ ۱۲۸کے ذیل میں بحث کی ہے۔ ہاں! خدا کی شناخت اور معرفت کے لیے ان خرافات کے پیچھے نہیں جانا چاہیے جو زمانہ جاہلیت کی اقوام سے باقی رہ گئی ہیں اور انسان کو انہیں بیان کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے بلکہ مخلص بندوں کی پیروی کرنا چاہیے۔ جن کی گفتار انسان کی روح کو آسمانوں کی بلندی کی طرف لے جاتی ہے اور اس کے نورِ وحدانیت میں محو کر دیتی ہے۔ شرک کے ہر طرح کے شک و شبہات کو اس کے دل سے دھو دیتی ہے اور ہر قسم کے تجسّم و تشبیہ کو ذہن سے مٹا دیتی ہے۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشادات علی علیہ السلام کے نہج البلاغہ کو خطبات اور صحیفہ سجادیہ میں امام سجاد علیہ السلام کی پُرمغز دعاؤں کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور ان بندگانِ خدا کی توصیفوں سے خدا کو پہچاننا چاہیے۔ امیرالمومنین علیہ السلام ایک مقام پر فرماتے ہیں: لم يطلع العقول على تحديد صفته، ولم يحجبها عن واجب معرفته، فهو الذى تشهد له اعلام الوجود، على اقرار قلب ذى الجحود، تعالى الله عما يقوله المشبهون به و الجاحدون له علوا كبيرًا نہ تو اس نے عقلوں کو اپنی صفات کی کنہ و حقیقت سے آگاہ کیا ہے اور نہ ہی انہیں اپنی معرفت و شناخت سے باز رکھا ہے۔ وہ وہی تو ہے جس کے وجود کے اقرار پر عالمِ ہستی کی نشانیاں منکرین کے دلوں کو ابھارتی ہیں اور وہ ان لوگوں کی بات سے برتر و بالا ہے جو اسے اس کی مخلوقات کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں یا اس کے انکار کا راستہ اختیار کرتے ہیں [بحوالہ: نہج البلاغہ خُطبہ ۴۹]۔ ایک دوسری جگہ پروردگار کی تعریف و توصیف اس طرح فرماتے ہیں: لا تناله الأوهام فتقدره، ولا تتوهمه الفطن فتصوره، ولا تدركه الحواس فتحسه، ولا تلمسه الايدى فتمسه، ولا يتغير بحال، ولا يتبدل فى الأحوال، ولا تبليه الليالى والايام، ولا يغيره الضياء والظلام، ولا يوصف بشىء من الاجزاء ولا بالجوارح والاعضاء، ولا بعرض من الاعراض، ولا بالغيرية والأبعاض، ولا يقال له حد ولا نهاية، ولا انقطاع ولا غاية بلند اوہام اور اندیشوں کے ہاتھ اس کی دامنِ کبریائی تک نہیں پہنچ سکتے کہ اسے کسی حد میں محدود کر دیں اور صاحبِ ہوش و خرد اس کے نقش کی اپنے خیال میں تصویرکشی نہیں کر سکتے۔ حواس اس کے ادراک سے عاجز ہیں اور ہاتھ اسے چھونے سے قاصر ہیں۔ تغیّر و تبدّل اس کے لیے نہیں ہے۔ زمانہ گزرنے سے اس کے وجود میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ راتوں اور دنوں کا آنا جانا اسے کہنہ اور پرانا نہیں کرتا۔ روشنی اور تاریکی اس میں تغیّر پیدا نہیں کرتے۔ اس کی نہ تو اجزاء اور اعضاء و جوارح کے ساتھ توصیف ہو سکتی ہے اور نہ ہی عوارض و ابعاض کے ساتھ اور اس کے لیے کوئی حدبندی اور انتہا نہیں ہے اور وہ کوئی نقطاع و انتہا نہیں رکھتا [بحوالہ: نہج البلاغہ خُطبہ ۱۸۶]۔ ایک اور جگہ فرماتے ہیں: ومن قال فيم؟ فقد ضمنه، ومن قال علام؟ فقد اخلى منه، كائن لا عن حدث، موجود لا عن عدم، مع كل شىء لا بمقارنة وغير كل شىء لا بمزايله جو شخص یہ کہے کہ خدا کہاں ہے؟ اس نے اس کا کسی چیز میں تصوّر کیا ہے اور جو کوئی یہ پوچھے کہ وہ کس چیز پر برقرار ہے، اس نے کسی جگہ کو اس سے خالی سمجھا ہے، وہ ہمیشہ سے تھا اور کسی چیز سے وجود نہیں آیا. وہ ایسا وجود ہے کہ جس سے پہلے عدم ہے ہی نہیں اور وہ ہر چیز کے ساتھ ہے لیکن اس کا قرین ہو کر نہیں اور ہر چیز سے الگ اور غیر ہے، لیکن اس سے بیگانہ اور جُدا ہو کر نہیں [بحوالہ: نہج البلاغہ، خُطبہ ۱]۔ امام علی بن الحسین سید الساجدین علیہ السلام صحیفہ سجادیہ میں فرماتے ہیں: الحمد لله الاول بلا اول كان قبله، والآخر بلا آخر يكون بعده، الذى قصرت عن رؤيته ابصار الناظرين وعجزت عن نعته اوهام الواصفين حمد و ستائش مخصوص ہے اس خدا کے لیے جس کی ہستی مبدأ آفرینش ہے بغیر اس کے کہ اس کی ذاتِ ازلی کی کوئی ابتداء ہو اور وجود میں آخری ہے بغیر اس کے کہ اس حقیقتِ ابدی کے لیے آخر و انتہا کا کوئی تصوّر ہو سکے۔ کوئی موجود اس سے پہلے اور اس کے بعد نہیں ہو سکتا۔ وہ ایسی ذات ہے کہ دیکھنے والوں کی نگاہیں اسے دیکھنے سے قاصر ہیں اور توصیف کرنے والوں کی عقل و فہم اس کی حمد و ثنا سے عاجز ہے [بحوالہ: صحیفہ سجادیہ، پہلی دُعا]۔ ہاں خدا کی معرفت اور شناخت ان "عِبادَ اللہِ الْمُخْلَصین" کے مکتب سے حاصل کرنا چاہیے اور اس مدرسہ سے خداشناسی کا سبق پڑھنا چاہیے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 170 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 170 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 170 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 170 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 170 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 170 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 170 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 170 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 170 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: جھوٹے دعوے
Tafsīr Nemūna · Vol. 6گذشتہ آیات میں مشرکین کے مختلف معبودوں کے بارے میں گفتگو تھی، زیرِ بحث آیات میں بھی وہی مسئلہ جاری ہے اور اس سلسلے میں چند آیات میں ایک ایک مطلب بیان ہو رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ تم بُت پرستوں کے وسوسے کا نیک اور پاک لوگوں کے دلوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا، صرف آلودہ دل اور تمہاری برائی کی طرف مائل ہونے والی دوزخی روحیں ہی ان وسوسوں کو قبول کرتی ہیں۔ فرمایا گیا ہے: تم اور جن کی تم عبادت کرتے ہو۔۔۔۔۔ (فَإِنَّکُمْ وَما تَعْبُدُونَ)۔ "تم ہرگز کسی کو (اس سے) فریب نہیں دے سکتے اور فتنہ و فساد کے ذریعے خدا سے منحرف نہیں کر سکتے (ما أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفاتِنِين) [یہ آیت اور اس سے پہلی آیت اور بعد والی آیت مشہور علماء کے قول کے مطابق ترکیب نحوی کے لحاظ سے اس طرح ہے "ما" "ما تَعْبُدُونَ" کے جملہ میں "ماء موصولہ" ہے اور اس کا عطف "ان" کے اسم پر ہے اور"ما أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفاتِنِين" اس کی خبر ہے اس قید کے ساتھ کہ "مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ" کا "ما" نافیہ ہے اور "علیہ" کی ضمیر خدا کی طرف لوٹتی ہے اور اس کا مجموعی نتیجہ یہ بنتا ہے۔ انكم وَإِلهتكم التي تعبدونها لا تقدرون على اضلال احد على الله بسببها الّا من يحترق بنار الجحيم بسوء اختیارہ بعض دوسرے علماء نے "انکم وما تعبدون" کی آیت کو مستقل جملہ جانا ہے جس کا مفہوم یہ ہو گا کہ تم اپنے معبودوں کے ساتھ رہو۔ اس کے بعد والی آیت میں کہتا ہے کہ تم اس کے ذریعے کسی کو گمراہ نہیں کر سکتے مگر انہی کو جو خود دوزخی ہونا چاہیں]۔ مگر وہی جو خود یہ چاہتے ہیں کہ جہنم کی آگ میں جلیں (إِلَّا مَنْ هُوَ صالِ الْجَحِيمِ)۔ مسلک جبر کے طرفداروں نے ان آیات سے جو کچھ سمجھا ہے اس کے برخلاف یہ آیات اس مکتب کے برخلاف ایک دلیل ہے اور اس حقیقت کی طرف ایک اشارہ ہے کہ کوئی بھی شخص انحراف کے مقابلے میں اپنے آپ کو معذور نہیں جان سکتا اور یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ مجھے دھوکہ دے کر بُت پرستی کی طرف لے جایا گیا ہے۔ قرآن کہتا ہے: تم بُت پرست لوگوں کو فتنہ اور فریب دینے کی طاقت نہیں رکھتے، مگر انہی کو جو خود اپنے ارادے کے ساتھ دوزخ کی راہ اختیار کر لیں۔ اس بات کا شاہد "صال الجحیم" کی تعبیر ہے، کیونکہ دراصل "صالی" اسمِ فاعل کی شکل میں تھا اور عام طور پر جس وقت اسمِ فاعل کے صیغے کو کسی موجود عاقل کے لیے استعمال کرتے ہیں تو اس کا مفہوم کسی کام کو ارادہ و اختیار سے انجام دینا ہے۔ مثلاً "قاتل" و "جالس" و "ضارب" اس بنا پر "صال الجحیم" یعنی وہ شخص جو اپنے آپ کو جہنم کی آگ میں جلانے کے لیے آمادہ ہو اور اس طرح سے تمام انحراف کرنے والوں کے لیے عذر کی راہ بند ہو جاتی ہے۔ بعض مشہور مفسّرین کے بارے میں تعجّب ہے کہ انہوں نے آیہ کا اس طرح معنی کیا ہے: تم کسی کو دھوکہ اور فریب نہیں دے سکتے سوائے ان لوگوں کے جن کا جہنمی ہونا مقدّر ہو چکا ہے۔ واقعاً اگر آیت کا معنی یہ ہے تو پھر پیغمبر کس لیے آتے ہیں؟ آسمانی کتابیں کس مقصد کے لیے نازل ہوئی ہیں؟ حساب و کتاب اور قرآن کی آیات میں بُت پرستوں کو لعنت و ملامت کا کیا مفہوم ہے؟ اور خدا کی عدالت کہاں جائے گی؟ ہاں! مکتبِ جبر کا اعتراف کرنے سے اس حقیقت کو قبول کر لینا چاہیے کہ یہ مکتب انبیاء کی اصالت کو کلی طور پر مخدوش کر دیتا ہے، اس کے تمام مفاہیم کو مسخ کر دیتا ہے اور تمام الٰہی اور انسانی قدروں کو برباد کر دیتا ہے۔ اس نکتے کی طرف توجہ ضروری ہے کہ "صالی" "صلی" (بر وزن "سرد") کے مادہ سے آگ جلانے، آگ میں داخل ہونے یا آگ میں بھونے جانے کے معنی میں ہے اور "فاتن" "فتنہ" کے مادہ سے "اسم فاعل" فتنہ گر اور گمراہ کرنے والے کے معنی میں ہے۔ یہ تین آیات جو بُت پرستوں کی فتنہ جوئی اور گمراہ کن حرکتوں کے مقابلہ میں انسانوں کے مسئلہ اختیار کو واضح کرتی ہیں۔ ان کے بعد تین آیات میں فرشتوں کے بلند و بالا مقام کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ وہی فرشتے جنہیں بُت پرست خدا کی بیٹیاں خیال کرتے ہیں اور قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ گفتگو کو خود انہی کے زبان سے بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: ہم میں سے ہر ایک کا ایک معلوم مقام ہے (وَما مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقامٌ مَعْلُومٌ) [تشریحی نوٹ: بعض روایات جو اہلِ بیت علیہ السلام کے طریقے سے وارد ہوئی ہیں، میں یہ تفسیر بیان کی گئی ہے کہ اس سے مراد آئمہ معصومین علیہ السلام ہیں۔ ممکن ہے یہ تفسیر آئمہ کے مقام کی فرشتوں کے ساتھ تشبیہ کے عنوان سے ہو۔ یعنی جس طرح وہ معین و معلوم مقامات اور فرائض اور ذمہ داریاں رکھتے ہیں۔ اسی طرح ہم بھی ہیں]۔ اور ہم سب فرمانِ خدا کی اطاعت کے لیے صف بستہ کھڑے ہیں اور اس کے حکم کی تعمیل کے لیے تیار رہتے ہیں (وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ)۔ اور ہم سب کے سب اس کی تسبیح کرتے ہیں اور اس کو ان چیزوں سے جو اس کی پاک ذات کے لائق نہیں ہیں۔ منزہ شمار کرتے ہیں (وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُون)۔ ہاں! ہم تو وہ بندے ہیں جو دل و جان کو ہتھیلی پر رکھے ہوئے ہیں۔ ہماری آنکھیں اور کان اس کے فرمان پر لگے ہوئے ہیں۔ ہم کہاں اور خدا کا بیٹا ہونا کہاں؟ ہم اسے ان قبیح اور جھوٹی نسبتوں سے پاک اور منزّہ سمجھتے ہیں اور ہم مشرکین کے ان خرافات اور اوہام سے متنفّر اور بیزار ہیں۔ حقیقت میں یہ تین آیات فرشتوں کی صفات کے تین حِصوّں کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ پہلا یہ کہ ان میں سے ہر ایک ایک مرتبہ و منزلت رکھتا ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتا۔ دوسرا یہ کہ فرشتے عرصہ آفرینش میں اور وسیع عالمِ ہستی میں اوامرِ خداوندی کے اجراء کے سلسلے میں ہمیشہ فرمانِ خدا کی اطاعت کے لیے آمادہ و تیار رہتے ہیں۔ یہ بات اس چیز سے مشابہ ہے جو سورہ انبیاء کی آیہ ۲۶ ، ۲۷ میں آئی ہے کہ: بَلْ عِبادٌ مُكْرَمُونَ لا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ وہ خدا کے اچھے بندے ہیں جو بات کرنے میں اس سے سبقت نہیں کرتے اور اس کے فرمان پر عمل کرتے ہیں۔ تیسرا یہ کہ وہ ہمیشہ خدا کی تسبیح کرتے ہیں اور اس کو اس چیز سے جو اس کے مقام کے لائق نہیں ہے، منزہ شمار کرتے ہیں۔ چونکہ ان دونوں جملوں (إِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُون) کا عربی ادب کے لحاظ سے مفہوم "حصر" ہے، لہذا بعض مفسّرین نے اس سے یہ مطلب لیا ہے کہ فرشتے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ صرف ہم خدا کے حکم کے مطیع ہیں اور اس کی حقیقی تسبیح کرنے والے بھی ہم ہی ہیں۔ ہم گویا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بنی آدم کی اطاعت و تسبیح فرشتوں کے کام کے مقابلے میں کوئی اہم چیز نہیں ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ مفسّرین نے ان آیات کے ذیل میں پیغمبر گرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک حدیث نقل کی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: ما فى السماوات موضع شبر الّا وعليه ملك يصلى ويسبح تمام آسمانوں میں ایک بالشت بھر جگہ بھی ایسی نہیں ہے جہاں پر کوئی فرشتہ نماز اور خدا کی تسبیح میں مصروف نہ ہو [بحوالہ: تفسیر قرطبی جلد ۸، ص ۵۵۸۱]۔ ایک دوسری روایت میں یہی معنی ایک دوسری صورت میں بیان ہوا ہے: ما فى السماء موضع قدم الا عليه ملك ساجد او قائم تمام آسمانوں میں ایک قدم رکھنے کی جگہ بھی ایسی نہیں ہے کہ جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ حالتِ سجدہ یا قیام میں نہ ہے [بحوالہ: تفسیر قرطبی جلد ۸، ص ۵۵۸۱]۔ ایک اور روایت میں پیغمبر گرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن اپنے اصحاب سے جو آپ کے گرد بیٹھے ہوئے تھے، فرمایا: اطت السماء وحق لها ان تاط! ليس فيها موضع قدم الا عليه ملك راكع او ساجد، ثم قرأ وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُون آسمان نے (اپنے بار کی سنگینی سے) فریاد کی اور و ہ حق رکھتا ہے کہ نالہ و فریاد کرے کیونکہ اس میں ایک قدم رکھنے کی بھی جگہ ایسی نہیں جس پر کوئی نہ کوئی فرشتہ حالتِ رکوع میں یا حالتِ سجود میں نہ ہو۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان آیات کی تلاوت فرمائی "و إِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُون" [بحوالہ: درالمنثور سے المیزن جلد ۱۷ ص ۱۸۸ پر نقل کیا گیا ہے]۔ یہ گوناگوں تعبیریں اس بات کی طرف ایک لطیف کنایہ ہیں کہ عالمِ ہستی پروردگار کے فرماں برداروں اور اس کی تسبیح کرنے والوں سے معمور ہے۔ اس کے بعد زیرِ بحث آخری چار آیتوں میں اسی بُت پرستی سے مربُوط اور کچھ دوسرے مطالب کے لیے ان مشرکین کے ایک عذر لنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن جواب دیتا ہے اور فرماتا ہے: وہ ہمیشہ کہتے تھے (وَإِنْ کانُوا لَیَقُولُون) [تشریحی نوٹ: "ان" یہاں پر مثقلہ سے مخففہ ہے یہ تقدیر میں اس طرح تھا "و انھم کانو لَیقولون"]۔ اگر ہمارے پاس پہلے لوگوں کی کتابوں میں سے کوئی کتاب ہوتی (لَوْ اَنَّ عِنْدَنا ذِکْراً مِنَ الْاَوَّلین)۔ تو ہم خدا کے مخلص بندوں میں سے ہوتے (لَکُنَّا عِبادَ اللہِ الْمُخْلَصینَ)۔ ان سب مخلص بندوں اور جنہیں خدا نے خالص کیا ہے، ان کے بارے میں گفتگو نہ کر۔ نوح علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام جیسے بزرگ پیغمبروں کو ہمارے سامنے پیش نہ کر۔ اگر ہمارے اوپر بھی لطفِ خدا ہوتا اور ہم پر بھی کوئی آسمانی کتاب نازل ہوئی ہوتی، تو ہم بھی ان ہی مخلص بندوں کے زمرے میں ہوتے۔ یہ بعینہ پیچھے رہ جانے والے اور فیل ہو جانے والے طالب علموں کی مانند گفتگو ہے، جو اپنی سُستی پر پردہ ڈالنے کے لیے کہا کرتے ہیں کہ اگر ہمارا بھی اچھا استاد ہوتا تو ہم بھی اول آنے والے طالب علموں میں سے ہوتے۔ بعد والی آیت کہتی ہے کہ ان کی یہ آرزو بھی اب عملی جامہ پہن چکی ہے اور خدا کی عظیم ترین آسمانی کتاب قرآن مجید ان کے لیے نازل ہوئی ہے، لیکن یہ غلط دعوے کرنے والے جھوٹے اس سے کافر ہو گئے ہیں اور اس کی مخالفت انکار اور دشمنی پر تُل گئے ہیں لیکن وہ جلد ہی اپنے کام کا نتیجہ جان لیں گے (فَكَفَرُوا بِهِ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ) [تشریحی نوٹ: یہ جملہ حقیقت میں ایک محذوف رکھتا ہے اور اس کی تقدیر اس طرح ہے: "فلما اتاھم الکتاب وھو القراٰن کفروا بہ فسوف یعلمون عاقبة کفرھم" جب قرآن جیسی کتاب ان کے پاس آ گئی تو انہوں نے اس کا انکار کر دیا اور کافر ہو گئے۔ عنقریب انہیں اپنے کفر کا انجام معلوم ہو جائے گا]۔ یہ لاف و گزاف کی باتیں نہ کرو اور اپنے آپ کو خدا کے مخلص بندوں کی صف میں شامل ہونے کے لائق شمار نہ کرو۔ تمہارا جھوٹ واضح ہو چکا ہے اور تمہارے دعوے کھوکھلے نکلے ہیں۔ قرآن سے بہتر کسی کتاب کا تصوّر نہیں ہو سکتا اور کوئی مکتبِ اسلام جیسے تربیتی مکتب سے بہتر نہیں ہے۔ لیکن اب تم خود ہی دیکھ لو کہ تم نے اس آسمانی کتاب کا کس طرح استقبال کیا ہے۔ لہذا اپنے کفر و بےایمانی کے دردناک انجام کے منتظر رہو۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 177 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 177 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 177 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 177 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 177 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 177 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: اللہ کا گروہ کامیاب ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 6عظیم انبیاء کی جدوجہد اور بےایمان مشرکین کی کارشکنیوں کے سلسلے میں ان گوناگوں مباحث کے بعد، جو اس سورہ کی آیات میں بیان ہوئی ہیں۔ اب جبکہ ہم اس سورہ کی آخری آیات کے قریب ہو رہے ہیں تو اس سے مربوط اہم ترین مسئلہ بیان کیا جا رہا ہے اور خاتمہ بالخیر کو اعلیٰ ترین صورت میں پیش کیا جا رہا ہے اور وہ خدا کے لشکر کی شیطان اور دشمنانِ حق کے لشکر پر مکمل فتح کی خبر ہے تاکہ وہ تھوڑے سے مومنین جو ان آیات کے نزول کے وقت مکہ میں دشمنانِ اسلام کی سختی اور دباؤ کا شکار تھے اور اسی طرح ہر عصر اور ہر زمانہ کے تمام محروم مومنین، خدا کے اس عظیم وعدے سے مطمئن ہو جائیں اور یاس و ناامیدی کا گرد و غبار اپنے قلب و روح سے دھو ڈالیں اور باطل کے لشکر کے ساتھ مقابلہ جاری رکھنے کے لیے آمادہ رہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: ہمارے مرسل بندوں کے ساتھ ہمارا قطعی وعدہ پہلے سے مسلّم ہو چکا ہے (وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنا لِعِبادِنَا الْمُرْسَلینَ)۔ کہ ان کی مدد و نصرت کی جائے گی (إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُورُون)۔ اور ہمارے لشکر تمام میدانوں میں کامیاب ہوں گے (وَإِنَّ جُنْدَنا لَهُمُ الْغالِبُونَ)۔ کتنی صریح اور منہ بولتی عبارت ہے اور کتنا روح پرور اور امید بخش وعدہ ہے۔ ہاں! حق کے لشکر کی باطل پر کامیابی اور اللہ کے لشکر کا غلبہ اور مرسل اور مخلص بندوں کے لیے خدا کی مدد و نُصرت، اس کے مسلّم اور یقینی وعدوں اور قطعی سنتوں میں سے ہے، جو ان آیات میں "سَبَقَتْ کَلِمَتُنا" (ہمارا یہ وعدہ اور یہ سنت ابتدا سے تھی) کے انداز میں پیش ہوئی ہے۔ قرآن مجید کی دوسری بہت سی آیات میں بھی ان مطالب کی نظیر موجود ہے۔ سورہ روم کی آیہ ۴۷ میں بیان ہوا ہے۔ وَکانَ حَقًّا عَلَیْنا نَصْرُ الْمُؤْمِنینَ مومنین کی مدد کرنا ایسا حق ہے جو ہم پر مسلّم ہے۔ نیز سورہ حج کی آیہ ۴۰ میں بیان ہوا ہے۔ وَلَیَنْصُرَنَّ اللہُ مَنْ یَنْصُرُہ خدا ہر اس شخص کی ضرور مدد کرے گا جو اس کے دین و آئین کے لیے اُٹھے گا۔ اور سورہ مومن کی آیہ ۵۱ میں یہ بیان ہوا ہے: إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهادُ ہم اپنے رسولوں کی اور صاحبِ ایمان کی، دنیا کی زندگی میں بھی مدد کریں گے اور (قیامت کے دن) جب حق کی گواہی دینے والے قیام کریں گے اس دن بھی مدد و نصرت کریں گے۔ سورہ مجادلہ کی آیہ ۲۱ میں تو پوری قاطعیت اور دو ٹوک فیصلے کے طور پر اس غلبے اور کامیابی کے بارے میں ایک قطعی سنت کے طور پر گفتگو کی گئی ہے۔ كَتَبَ اللهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي خدا نے مقرر کر دیا ہے (اور لکھ دیا ہے) کہ میں اور میرے رسول قطعی طور پر غالب ہو کے رہیں گے۔ یہ بات واضح ہے کہ وہ خدا جو ہر چیز پر قادر ہے اور جس کے وعدوں میں نہ تخلّف تھا اور نہ ہے، وہ اپنے اس عظیم وعدے کو عملی جامہ پہنا سکتا ہے اور عالمِ ہستی کی دوسری تخلف ناپذیر سنتوں کی طرح مردانِ حق کو بےکم و کاست کامیاب کر سکتا ہے۔ یہ خدائی وعدہ ان اہم ترین مسائل میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے راہِ حق کے راہ و مطمئن اور دل گرم رہتے ہیں اور اس سے روحِ تازہ حاصل کرتے ہیں، جس وقت تھک جاتے ہیں تو اس کے ذریعے تازہ دم ہو جاتے ہیں اور نیا خون ان کی رگوں میں جاری ہونے لگتا ہے۔
ایک اہم سوال
یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر خدا کی مشیت و ارادہ میں پیغمبروں کی مدد و نصرت اور مومنین کی کامیابی مقرر ہو چکی ہے تو ہم بشر کی بھرپور تاریخ میں کئی پیغمبروں کو بشارت پر فائز ہوتے ہوئے مشاہدہ کیوں کرتے ہیں اور مومنین کے کئی گروہ شکست سے دوچار کیوں ہوئے؟ اگرچہ تخلّف ناپذیر سنتِ الٰہی ہے تو پھر یہ استثناءت کس بنا پر ہیں؟
ہمارا جواب
اوّلا: کامیابی ایک وسیع معنی رکھتی ہے اور ہمیشہ دشمن پر ظاہری اور جسمانی غلبہ کے معنی میں نہیں ہوتی۔ بعض اوقات مکتب اور نظریے کی کامیابی کو بھی کامیابی ہی کہتے ہیں اور اہم ترین کامیابی یہی ہے۔ فرض کریں کہ پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی جنگ میں شہید ہو جاتے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ان کا دین ساری دنیا میں پھیل گیا ہے تو کیا یہ ممکن ہے کہ ہم اس شہادت کو شکست سے تعبیر کریں؟ اس سے بھی واضح روشن مثال یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام اور آپ کے انصار نے کربلا کے میدان میں واقعاً شربتِ شہادت نوش کیا، لیکن ان کا ہدف و مقصد یہ تھا کہ بنی امیہ کے مکروہ چہرے کو بےنقاب کر دیں کہ جو ظاہر میں تو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی خلافت کے مدعی تھے لیکن حقیقت میں اسلامی معاشرے کو زمانہٴ جاہلیّت کی طرف واپس لوٹانا چاہتے تھے اور وہ اس عظیم ہدف و مقصد میں کامیاب ہو گئے۔ آپ نے مسلمانوں کو اس خطرے سے آگاہ کر دیا اور اسلام کو مٹنے سے بچا لیا۔ تو کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ کربلا میں مغلوب ہو گئے؟ اہم بات یہ ہے کہ انبیاء اور جنودِ الٰہی یعنی مومنین، حق کے دشمنوں کی تمام متواتر و منظم کوششوں کے باوجود، اس بات پر قادر ہو سکے کہ اپنے اہداف و مقاصد کو دنیا میں آگے بڑھائیں اور زیادہ سے زیادہ پیروکار پیدا کر سکیں اور اپنے مکتبی راستے کو دوام دے سکیں اور ان تمام طوفانوں کے مقابلہ میں ڈٹ جائیں۔ یہاں تک کہ موجودہ زمانہ میں دنیا کے اکثر لوگوں کے افکار کو اپنی طرف متوجہ کر لیں۔ کامیابی کی ایک اور قسم بھی ہے جو دشمن کے مقابلہ میں صدیوں کے دوران میں تدریجی طور پر حاصل ہوتی ہے۔ کبھی ایک نسل میدان میں آتی ہے اور کامیاب نہیں ہوتی لیکن آ ئندہ آنے والی نسلیں ان کے کام کو آگے بڑھاتی ہیں اور کامیابی سے ہمکنار ہو جاتی ہیں (مثلاً دو سو سال کے بعد لشکرِ السلام کی صلیبیوں کے لشکر پر کامیابی) یہ کامیابی بھی سب کی کامیابی سمجھی جائے گی۔ ثانیاً: اس بات کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ خدا کا مومنین کے لیے غلبہ کا وعدہ ایک مشروط وعدہ ہے نہ کہ مطلق اور اس حقیقت کی طرف متوجہ نہ کرنے سے ہی بہت سے اشتباہات پیدا ہوتے ہیں۔ کیونکہ زیرِ بحث آیات میں لفظ "عبادنا" (ہمارے بندے) اور "جندنا" (ہمارا لشکر) یا اسی قسم کی دوسری تعبیریں جو اس سلسلے میں قرآن کی دوسری آیات میں آئی ہیں مثلاً " حِزْبَ اللهِ- و- الَّذِينَ جاهَدُوا فِينا- و- وَلَيَنْصُرَنَّ اللهُ مَنْ يَنْصُرُهُ " اور اسی قسم کی دوسری تعبیریں سب کی سب کامیابی کی شرائط کے لیے ایک واضح دلیل ہیں۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ نہ تو ہم مجاہد مومن بنیں اور نہ ہی مخلص لشکر اور اس حال میں حق و عدالت کے دشمنوں پر غالب آ جائیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ خدا کی راہ میں شیطانی افکار اور پروگراموں کے ساتھ پیش رفت کریں۔ اس کے بعد تعجّب کرتے ہیں کہ ہم دشمنوں سے مغلوب کیوں ہو گئے۔ تو کیا ہم نے اپنے وعدوں پر عمل کیا ہے کہ خدا سے اس کے وعدوں کے ایفا کا مطالبہ کر رہے ہیں؟ جنگِ اُحد میں پیغمبر السلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں سے کامیابی کا وعدہ کیا تھا اور جنگ کے پہلے مرحلے میں کامیاب ہوئے بھی لیکن ایک گروہ جنگ کا مالِ غنیمت جمع کرنے، تفرقہ و نفاق پیدا کرنے اور فرمانِ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوڑ دینے کی فکر میں پڑ گیا اور جنگ کے آغاز میں جو کامیابی حاصل ہوئی تھی، اس کی اور درّہ احد کی حفاظت میں کوتاہی کی اور یہی امر اس جنگ میں ان کی شکست کا سبب بن گیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ گروہ جو اپنے آپ کو کامیابی کا طلبگار سمجھتا تھا پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور مخصوص لب و لہجہ میں عرض کی کہ کامیابی کا وہ وعدہ کیا ہوا؟ قرآن نے انہیں بہت ہی عمدہ جواب دیا جو ہماری گفتگو کا گواہ ہے۔ فرمایا: وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ حَتَّى إِذا فَشِلْتُمْ وَتَنازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ وَعَصَيْتُمْ مِنْ بَعْدِ ما أَراكُمْ ما تُحِبُّونَ مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الْآخِرَةَ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ وَلَقَدْ عَفا عَنْكُمْ وَاللهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ خدا نے (اُحد میں دشمن پر کامیابی کا) تم سے کیا ہوا وعدہ پورا کر دیا۔ اس وقت (جب ابتداءِ جنگ میں) تم دشمنوں کو اس کے حکم سے قتل کر رہے تھے اور یہ کامیابی اسی طرح برقرار رہی، یہاں تک کہ تمہی سُست پڑ گئے اور اپنے کام میں ایک دوسرے سے جھگڑنے لگے اور جب (تم نے اپنے مطلوب کو پا لیا اور) جو کچھ تم پسند کرتے تھے وہ خدا نے تمہیں دکھا دیا، تو تم نے نافرمانی کی۔ تم میں سے بعض تو دنیا کے طالب تھے اور بعض آخرت کے چاہنے والے تھے (اس کے باوجود اس نے تمہیں مکمل شکست سے نجات دی) اور انہیں تم سے منصرف کر دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے اور تمہیں اپنے عفو سے نوازا اور خدا مومنین کے لیے صاحبِ فضل و بخشش ہے۔ (آلِ عمران ۱۵۲) "فشلتم" (تم کمزور پڑ گئے)۔ "تنازعتم" (ایک دوسرے سے جھگڑنے اور نزاع و اختلاف کرنے لگے)۔ "عصیتم" (تم نے نافرمانی کی)۔ یہ ایسی تعبیریں ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ انہوں نے خدا کی مدد اور دشمن پر کامیابی کی شرائط کو چھوڑ دیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اپنے مقصد کو حاصل نہ کر سکے۔ ہاں! خدا نے ہرگز یہ وعدہ نہیں کیا کہ جس شخص نے اپنا نام مسلمان اور مجاہدِ اسلام رکھ لیا اور "جند اللہ" اور "حزب اللہ" کا دم بھرنے لگا وہ ہر میدن میں دشمن پر غلبہ حاصل کر لے گا۔ بلکہ یہ خدائی وعدہ تو ان لوگوں کے ساتھ مخصوص ہے جو دل و جان سے رضائے خدا کے خواہاں ہیں اور عملی لحاظ سے اس کے فرمان پر چلتے ہیں اور تقویٰ و امانت کو نہیں بھولتے۔ اس سوال و جواب کی نظیر، ہم نے "دعا" اور "خدا" کے وعدہ "اجابت" کے بارے میں بھی بیان کی ہے [بحوالہ: تفسیر نمونہ جلد اول سورہ بقرہ آیہ ۱۸۶ کے ذیل میں رجوع کریں]۔ اس کے بعد ان آیات کو جاری رکھتے ہوئے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومنین کی دلجوئی اور کامیابی کی تاکید کے لیے بھی اور بےخبر مشرکین کی تنبیہ و تہدید کے لیے بھی فرمایا گیا ہے: ان سے منہ پھیر لے اور انہیں ایک معیّن وقت تک کے لیے ان کی حالت پر چھوڑ دے (فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتَّى حِينٍ)۔ یہ ایک پُرمعنی اور ہول انگیز تہدید ہے جس کا سرچشمہ مکمل کامیابی کا اطمینان ہے۔ خصوصاً "حتٰی حین" (ایک مدّت تک) کی تعبیر اجمالی اور سربستہ صورت میں ادا ہوئی ہے۔ لیکن کتنی مدّت تک؟ ہجرت کے زمانے تک؟ جنگِ بدر کے موقع تک؟ فتح مکہ تک؟ یا اس زمانے تک کہ ان دل کے اندھوں کے خلاف، مسلمانوں کے لیے مکمل اور عمومی قیام کے حالات فراہم ہوں۔ یہ بات دقیقاً معلوم نہیں ہے۔ اس تعبیر کی نظیر قرآن کی دوسری آیات میں بھی نظر آتی ہے، کبھی کہتا ہے: فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ ان سے رُخ پھیر لے اور خدا پر توکل کر۔ (نساء ۸۱) دوسری جگہ کہتا ہے: قُلِ اللہُ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِي خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ کہو اللہ، پھر انہیں چھوڑ دو کہ اپنے جھوٹ کے ساتھ کھیلتے رہیں۔ (انعام ۹۱) اس کے بعد اس جملے کی ایک دوسری تہدید کے ساتھ تاکید کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ان کی حالت کی طرف دیکھ (ان کی ہٹ دھرمیاں، ان کے جھوٹ، ان کی خرافات اور سرکشیاں کتنی بےکار اور فضول ہیں) لیکن وہ جلد ہی اپنے کارِ بد کا انجام دیکھ لیں گے (وَاَبْصِرْهُمْ فَسَوْفَ یُبْصِرُونَ)۔ وہ بہت جلد اسی دنیا میں تیری اور مومنین کی کامیابی اور اپنی ذلّت آمیز شکست اور دوسرے جہان میں خدا کا عذاب دیکھیں گے۔ اور چونکہ یہ بےشرم سرکش یہی کہتے تھے، کہ عذابِ الٰہی کا وہ وعدہ کیا ہوا اور اگر تو سچ کہتا ہے تو پھر دیر کیوں کر رہا ہے؟ تو قرآن تہدید آمیز لہجے میں ان کے جواب میں کہتا ہے: کیا یہ ہمارے عذاب کے لیے جلدی کر رہے ہیں؟ کبھی کہتے ہیں "متٰی ھٰذا الوعد" (یہ وعدہ الٰہی کب پورا ہو گا) اور کبھی یہ کہتے ہیں "متٰی ھٰذا الفعح" (یہ کامیابی کب حاصل ہو گی) (اَفَبِعَذابِنا یَسْتَعْجِلُونَ)۔ لیکن جب ہمارا عذاب ان کے گھر کے صحن میں اُترے گا اور ان کے دن تیرہ و تاریک ہو جائیں گے، تو اس دن انہیں سمجھ آئے گی کہ جنہیں ڈرایا گیا تھا ان کی صبح کتنی بُری اور خطرناک ہے (فَإِذا نَزَلَ بِساحَتِهِمْ فَساءَ صَباحُ الْمُنْذَرِينَ) [تشریحی نوٹ: اس جملے میں کچھ محذوف ہے اور اس کی تقدیر اس طرح ہے "فساد الصباح صباح المذرین" (منذرین کی صبح بُری صبح ہے)]۔ "ساحة" (گھر کا صحن اور گھروں کے اندر کی فضا) کی تعبیر اس لیے ہے تاکہ نزولِ عذاب کو ان کی زندگی کے اندر مجسم کر دیا جائے اور ان کے آرام و سکون کے مرکز کے وحشت و اضطراب کے مرکز میں بدل جانے کی نشان دہی کر دی جائے۔ "صَباحُ الْمُنْذَرینَ" (ڈرائے گئے لوگوں کی صبح) کی تعبیر ممکن ہے اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ اس ہٹ دھرم اور ستم گر قوم پر خدا کا عذاب بہت سی گزشتہ اقوام کی طرح صبح کے وقت نازل ہو گا۔ یا یہ اس معنی میں ہے کہ سارے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ان کی صبح خیر و خوبی کے ساتھ شروع ہو، لیکن ان کے سامنے بُری اور تیرہ تار صُبح ہے۔ یا اس کا مطلب یہ ہے کہ صبح بیداری کا وقت ہوتا ہے یہ بھی اس وقت بیدار ہوں گے کہ جب نجات کی کوئی راہ باقی نہیں رہے گی اور پانی سر سے اونچا ہو گیا ہو گا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 182 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 182 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 182 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 182 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: ان کا اعتناء نہ کر!
Tafsīr Nemūna · Vol. 6ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس سُورہ کی آخری آیات پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومنین کی دلجوئی کے لیے ایک وسیلہ و ذریعہ ہیں اور ہٹ دھرم کفّار کے لیے ایک تہدید ہیں۔ زیرِ بحث دو آیتیں تو وہی ہیں جو پہلے بھی آ چکی ہیں اور یہاں پر تاکید کے لیے دہرائی گئی ہیں۔ تہدید آمیز لہجے میں فرمایا گیا ہے: ان سے مُنہ پھیر لے اور انہیں ایک مُدّت معیّن تک ان کی حالت پر چھوڑ دے (وَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتَّى حِينٍ)۔ ان کی ہٹ دھرمی، انحراف اور تکذیب و انکار کو دیکھ، وہ بھی جلد ہی اپنے کام کے نتیجہ کو دیکھ لیں گے (وَ أَبْصِرْ فَسَوْفَ يُبْصِرُونَ)۔ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں یہ تکرار تاکید کے لیے ہے تاکہ وہ یہ بات جان لیں کہ یہ ایک قطعی مسئلہ ہے کہ وہ جلد ہی اپنی سزا، شکست اور ناکامی کو دیکھ لیں گے اور اپنے اعمال کے تلخ تنائج میں گرفتار ہوں گے اور مومنین کی کامیابی قطعی اور مسلّم ہے۔ یا یہ اس بنا پر ہے کہ پہلے تو انہیں دنیاوی سزا اور عذاب کی تہدید کی گئی ہے اور دوسری مرتبہ آخرت میں خدائی سزا و عذاب کی دھمکی ہے۔ اس کے بعد سُورہ کو "خداوندِ تعالیٰ" "پیغمبروں" اور"عالمین" کے بارے میں تین پُرمعنی جملوں کے ساتھ ختم کیا گیا ہے۔ فرمایا گیا ہے: تیرا پروردگار، پروردگارِ عزّت و قدرت ان بےبنیاد توصیفوں سے، جو جاہل و مشرک لوگ کرتے ہیں، پاک و منزہ ہے (سُبْحانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُونَ)۔ کبھی فرشتوں کو اس کی بیٹیاں کہتے ہیں، کبھی اس کے اور جنّوں کے درمیان رشتہ داری جوڑتے ہیں اور کبھی پتھروں اور لکڑی جیسی بےقدر و قیمت موجودات کو اس کا ہم پلہ قرار دیتے ہیں۔ عزّت (مطلق و شکست ناپذیر قُدرت) حقیقت میں ان تمام خیالی معبودوں پر خطِ بُطلان کھینچنے کے معنی میں ہے۔ اس سورہ کی آیات میں کبھی "عِبادَ اللہِ الْمُخْلَصین" کی تسبیح و تنزیہ کا ذکر ہے اور کبھی فرشتوں کی تسبیح کا تذکرہ اور یہاں خود خدا کی ذاتِ پاک کے بارے میں خدا کی تسبیح و تنزیہ کا ذکر ہے۔ دوسرے جملے میں اللہ تعالیٰ تمام پیغمبروں کے لیے اپنے بےپایاں لطف و کرم کا اظہار فرماتے ہوئے کہتا ہے، تمام رسولوں پر سلام ہو (وَسَلامٌ عَلَی الْمُرْسَلینَ)۔ وہ سلام جو قیامت کے دن ہر قسم کے عذاب و سزا سے سلامتی و عافیت کی نشانی ہے۔ وہ سلام جو شکستوں کے مقابلہ میں امان اور دشمنوں پر کامیابی کی دلیل ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اس سُورہ کی آیات میں بہت سے پیغمبروں پر الگ الگ سلام بھیجا گیا ہے۔ آیہ ۷۹ میں فرمایا گیا ہے: سَلامٌ عَلی نُوحٍ فِی الْعالَمین اور آیہ ۱۰۹ میں فرمایا گیا ہے: سَلامٌ عَلى إِبْراهِيمَ اور آیہ ۱۲۰ میں ہے: سَلامٌ عَلى مُوسى وَهارُونَ اور آیہ ۱۳۰ میں ہے: سَلامٌ عَلى إِلْياسِينَ لیکن یہاں پر ان تمام سلاموں اور ان کے علاوہ دوسروں کو ایک ہی جملے میں خلاصہ کر کے اور یکجا طور پر فرمایا گیا ہے: سب رسولوں پر سلام۔ اور بالاآخر گفتگو کے آخری جملے کو حمدِ الٰہی پر ختم کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: حمد و ستائش مخصوص ہے اس خدا کے لیے جو عالمین کا پروردگار ہے (وَالْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعالَمین)۔ آخری تین آیات ہو سکتا ہے اس سُورہ کے تمام مسائل پر ایک اجمالی نظر اور اشارہ ہو۔ کیونکہ اس سورہ کا اہم حِصّہ توحید اور شرک کی مختلف اقسام سے مقابلہ کے سلسلہ میں تھا اور پہلی آیت سب مشرکین کی تمام توصیفوں سے خدا کی تسبیح و تنزیہ کر رہی ہے۔ اس سورہ کا دوسرا حِصّہ سات عظیم پیغمبروں کے حالات کے کچھ گوشوں کا بیان تھا۔ دوسری آیہ انہیں کی طرف اشارہ ہے۔ اور آخر میں تیسرا حِصّہ خدا کی نعمتوں، خصوصاً بہشت کی طرح طرح کی نعمتوں اور خدا کے لشکروں کی کفر کے لشکر پر کامیابی کے بارے میں تھا۔ لہذا آخر میں خدا کی حمد و ستائش ان تمام چیزوں کی طرف اشارہ ہے۔ بعض مفسّرین نے اس سورہ کی ان آخری تین آیات کی ایک اور تحلیل کی ہے، جو یہ ہے: اہم ترین مسائل جو انسان کو اپنی طرف متوجہ رکھتے ہیں، وہ تین چیزوں کی معرفت ہے۔ پہلی چیز بشر کی طاقت کے مطابق خداوندِ عالم کی معرفت اور آخری کام جو انسان اس سلسلے میں انجام دے سکتا ہے، وہ تین امر ہیں: اسے ان چیزوں سے پاک و منزہ جاننا جو اس کے مقام کے لائق نہیں ہیں، یہ مفہوم "سُبحان" کے لفظ میں موجود ہے اور اس کی تمام صفاتِ کمال کے ساتھ توصیف، جس کی طرف لفظِ "رب" میں اشارہ ہوا ہے، جو خدا کی حکمت و رحمت اور موجودات کی مالکیت و پرورش کی دلیل ہے۔ اور ہر قسم کے شریک و نظیر سے منزہ ہونا، اس کا مفہوم "عمّا یصفون" کے جملہ میں آیا ہے۔ دوسرا اہم مسئلہ انسانوں کی زندگی میں نقائص کو دُور کرنا ہے جو خدائی رہبروں اور آسمانی ہادیوں کے بغیر ممکن نہیں ہے اور "سَلامٌ عَلَی الْمُرْسَلینَ" کا جملہ اسی کی طرف اشارہ ہے۔ تیسرا اہم مسئلہ انسانی زندگی کا یہ ہے کہ وہ یہ جانے کہ مرنے کے بعد اس کا انجام کیا ہو گا؟ یہاں پر "رب العالمین" کی نعمتوں کی طرف توجہ اور اس کا مقامِ غنا اور رحمت و لطف، انسان کو آرام و سکون بخشتا ہے "وَالْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعالَمین" [بحوالہ: تفسیر کبیر، فخر رازی، جلد ۲۶ ص ۱۷۳]۔
ہر کام کے آخر میں سوچنے کی بات
متعدد روایات میں جو پیغمبر گرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، امیرالمومنین علیہ السلام اور امام باقر علیہ السلام سے منقول ہوئی ہیں، یہ آیا ہے: من اراد أن يكتال بالمكيال الاوفى (من الأجر يوم القيامة) فليكن آخر كلامه فى مجلسه سُبْحانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِين جو شخص یہ چاہتا ہے کہ قیامت کے دن اس کو اجر بڑے اور کامل پیمانہ سے دیا جائے گا تو وہ جس مجلس میں بیٹھے اس کی آخری گفتگو یہ ہونی چاہیے "سبحان ربک رب العزة عمّا یصفون وسلام علی المرسلین والحمد اللہ رب العالمین" [بحوالہ: "مجمع البیان" زیر بحث آیات کے ذیل میں، اصولِ کافی اور"من لا یحضرہ الفقیہ" (تفسیر نور الثقلین جلد ۴ ص ۴۴۰ کے مطابق)]۔ ہاں! اپنی مجلس کو ذاتِ خدا کی تنزیہ اور اس کے پیغمبروں پر درود بھیجنے اور پروردگار کی نعمتوں پر حمد و شکر کے ساتھ ختم کرنا چاہیے، تاکہ اگر اس مجلس میں اس سے کوئی غلط کام یا ناروا گفتگو سرزد ہو گئی ہو تو اس کی تلافی ہو جائے۔ کتابِ توحید صدوق میں اس طرح آیا ہے کہ: "شام کا ایک عالم امام باقر علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ میں آپ سے ایک مسئلے کے بارے میں سوال کرنے آیا ہوں، جس کے متعلق اب تک کسی نے میرے لیے درست وضاحت نہیں کی۔ میں نے تین گروہوں سے سوال کیا ہے اور ہر کسی نے دوسرے کے برخلاف جواب دیا ہے"۔ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: "تیرا مسئلہ کیا ہے"؟ اس نے عرض کیا: میرا سوال یہ ہے کہ پہلی چیز جو خداوندِ تعالیٰ نے خلق فرمائی تھی وہ کیا تھی؟ بعض نے تو مجھے یہ جواب دیا ہے کہ وہ "قدرت" تھی اور بعض نے کہا "علم" تھا اور بعض نے کہا "روح" تھی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: کسی نے بھی تجھے صحیح جواب نہیں دیا۔ اب میں تجھے بتاتا ہوں کہ ابتداء میں خدا تھا اور اس کے علاوہ کوئی چیز نہیں تھی لیکن اس کے باوجود وہ قادر و عزیز تھا اور ابھی عزّت پیدا نہیں ہوئی تھی (وہ اپنی ذات پاک میں قدرت بھی رکھتا تھا اور علم بھی بغیر اس کے کہ علم و قدرت کی آفرینش کا محتاج ہو) پھر مزید فرمایا: یہ وہی چیز ہے کہ جو خدا فرماتا ہے "سبحان ربک رب العزة عمّا یصفون" [بحوالہ: تفسیر نور الثقلین جلد ۴ ص ۴۴۰]۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اِدھر اُدھر لوگوں نے جو تجھ سے باتیں کی ہیں وہ شرک آلودہ باتیں ہیں کہ جن کا جواب اس آیت میں موجود ہے۔ یہی خدا ازل سے ہی قادر و عالم و عزیز ہے۔ پروردگارا! تو نے خود وعدہ کیا ہے کہ اپنے رسولوں کی مدد اور اپنے لشکروں کو کامیاب کرے گا ہمیں رسولوں کا پیروکار اور اپنے لشکروں میں قرار دے اور ہمیں ان خونخوار دشمنوں پر کامیاب فرما کہ جو عالم کے مشرق و مغرب سے قرآن کے نور کو خاموش کرنے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ بارالٰہا! ہمیں ہر قسم کے شرک میں آلودہ ہونے سے اور توحید کے راستے سے انحراف کرنے سے محفوظ فرما۔ خداوندا! جو مشکلات انبیاء کو تاریخ میں شرک و کفر کے لشکر کے مقابلے میں درپیش تھیں وہی اس وقت ہمارے اسلامی معاشرے کے سامنے پیدا ہو چکی ہیں۔ وہی سلام جو پیغمبرانِ مرسل کی سلامتی کا باعث تھا ان معرکوں میں ہمارے شاملِ حال فرما۔ آمین یا ربّ العالمین۔