Sūra 71 · 28v
Chapter 7128 verses

Nuh

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
نوح
نوح

سورہ نوح

یہ سُورہ مکہ میں نازل ہوئی اس میں ۲۸ آیات ہیں۔

سُورہ نوح کے مطالب و مضامین

یہ سورہ جیسا کہ اس کے نام سے واضح ہے، حضرت نوحؑ کی سرگذشت بیان کرتی ہے۔ قرآن مجید کی کئی سورتوں میں اس عظیم پیغمبر کی سرگذشت کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ ان میں سورہ شعراء، مومنون، اعراف اور انبیاء ہیں، اور سب سے زیادہ تفصیل سورہ ہود میں آئی ہے، جس میں تقریباً ۲۵ آیات اس اولوالعزم پیغمبر کے بارے میں ہیں۔ (آیہ ۲۵ تا ۴۹)۔ لیکن سُورہ نوح میں جو کچھ آیا ہے، وہ ان کی زندگی کا ایک خاص حصہ ہے، جو دوسری جگہ پر اس طرح نہیں آیا، اور یہ حصہ ان کی طرف توحید کی دعوت دینے۔ اس کی کیفیت، اس دعوت کے عناصر، اور ان کی جزئیات کے بارے میں جو اس اہم مسئلہ میں بروئے کار آئے ہیں........ اور وہ بھی اس ہٹ دھرم، خود غرض اور متکبر قوم کے مقابلہ میں جو حق کے سامنے سر جھکانے کے لیے بالکل تیار نہ تھی...... پے درپے اور مسلسل دعوت حق دینے کے ساتھ مربوط ہے۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ سورہ مکہ میں نازل ہوئی ہے اور پیغمبر اکرمؐ اور اس زمانہ کے تھوڑے سے مسلمان، نوح اور ان کے اصحاب کے زمانہ کے حالات سے مشابہ حالات رکھتے تھے، انھیں بہت سے مسائل کی تعلیم دیتا ہے اور اس واقعہ کے بیان کرنے کے اہداف و مقاصد میں ایک یہی ہے، منجملہ ان کے: ۱- انھیں یہ بتانا ہے کہ منطقی استدلال کے طریق سے، جو دشمنوں کے ساتھ محبت اور مکمل دلسوزی سے تواُم ہو، کس طرح تبلیغ کریں اور اس راہ میں ہر مفید اور مدثر ذریعہ سے کیسے فائدہ اٹھائیں۔ ۲- انھیں یہ سکھاتا ہے کہ خدا کی طرف دعوت دینے کی راہ میں ہرگز نہ تھکیں، چاہے سالہا سال گزر جائیں اور دشمن کتنا بھی مزاحم کیوں نہ ہو۔ ۳- انھیں یہ سبق دیتا ہے کہ ایک طرف تو شوق دلانے کے وسائل ہوں اور دوسری طرف ڈرانے کے عوامل، اور دعوت کرنے کے لیے دونوں طریقوں سے فائدہ اٹھایا جائے۔ ۴- اس سورہ کی آخری آیات، ہٹ دھرم مشرکین کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ اگر وہ حق کے سامنے نہ جھکے اور خدا کے حکم کے سامنے انھوں نے گردن خم نہ کی، تو ان کا انجام بہت درد ناک ہو گا۔ ۵- ان سب باتوں کے علاوہ یہ سورہ پیغمبر اور پہلے مومنین اور ان سے مشابہ افراد کے لیے دل کی تسلی کا سبب ہے کہ وہ خدا کے لطف و کرم سے اپنے پروگراموں میں سرگرم اور مشکلات اور سختیوں میں صبر و شکیبار ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ سورہ، حق و باطل کے طرف داروں میں دائمی مبارزہ کے بیان اور ان پروگراموں کی، جن پر حق کے طرف داروں کو اپنی راہ میں کاربند ہونا چاہیے، تصویر کشی کرتا ہے۔

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت

ایک حدیث میں پیغمبر گرامی اسلامؐ سے آیا ہے: "من قرأ سورۃ نوح کان من المومنین الذین تدرکھم دعوۃ نوح" "جو شخص سورۃ "نوح" کو پڑھے گا، وہ ان مومنین میں سے ہو جائے گا جنھیں نوح کی دعوت کی شعاع ڈھانپ لیتی ہے۔" (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱۰، ص ۳۵۹)۔ ایک اور حدیث میں امام صادقؑ سے آیا ہے: "من کان یؤمن باللہ والیوم الاٰخر و یقرأ کتابہ فلا یدع ان یقرأ سورۃ " ان ارسلنا نوحاً" فای عبد قرأھا محتسبا صابراً فی فریضۃ او نافلۃ اسکنہ اللہ مساکن الابرار و اعطاہ ثلاث جنان مع جنتہ کرامۃ من اللہ۔" جو شخص خدا اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اور اس کی کتاب کو پڑھتا ہے، سورۃ نوح کی تلاوت کو ترک نہ کرے، جو شخص اس سورہ کو، صبر و استقامت کے ساتھ، خدا کے لیے، واجب یا مستحب نماز میں پڑھے گا تو خدا اسے نیک افراد کی منازل میں جگہ دے گا اور جنت کے باغوں میں تین باغ، اس کے اپنے باغ کے علاوہ، اس کے احترام میں اسے مرحمت فرمائے گا۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱۰، ص ۳۵۹)۔ یہ بات کہے بغیر واضح ہے کہ اس کی تلاوت کا ہدف اور مقصد یہ ہے کہ اس عظیم پیغمبر کے طور طریقوں، اور حق کی طرف دعوت کی راہ میں، ان کے یار و انصار کے صبر و استقامت سے ہدایت حاصل کرے اور اس کی دعوت کی شعاع سے روشنی حاصل کرے، نہ کہ ایسا پڑھنا کہ جس میں غور و فکر نہ ہو، اور نہ ہی ایسا غور و فکر کہ جس میں عمل نہ ہو۔

1
71:1
إِنَّآ أَرۡسَلۡنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوۡمِهِۦٓ أَنۡ أَنذِرۡ قَوۡمَكَ مِن قَبۡلِ أَن يَأۡتِيَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ
ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔ (اور نے ان سے کہا:) اس سے پہلے کہ دردناک عذا ب ان کی طرف آئے، اپنی قوم کوڈراؤ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 4 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
71:2
قَالَ يَٰقَوۡمِ إِنِّي لَكُمۡ نَذِيرٞ مُّبِينٌ
نہوں نے کہا : اے قوم! میں تمہارے لئے ایک واضح ڈرانے والا ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 4 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
71:3
أَنِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ وَٱتَّقُوهُ وَأَطِيعُونِ
کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کی مخالفت سے پرہیز کرو، اور میری اطاعت کرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 4 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
71:4
يَغۡفِرۡ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمۡ وَيُؤَخِّرۡكُمۡ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمًّىۚ إِنَّ أَجَلَ ٱللَّهِ إِذَا جَآءَ لَا يُؤَخَّرُۚ لَوۡ كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ
اگر تم ایسا کرو گے تو اللہ تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور ایک معین وقت تک کے لئے تمہیں زندہ رکھے گا، لیکن جب خدائی اجل آگئی تو پھر تاخیر نہیں ہوگی، اگر تم سمجھو۔

تفسیر نوح کا پہلا پیغام

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

ہم بیان کر چکے ہیں کہ یہ سُورہ ںوح کے حالات کے اس حصہ کو بیان کرتا ہے، جو ان کی دعوت سے مربوط ہے، اور وہ راہ حق کے تمام راہ روؤں کو، خصوصاً ہٹ دھرم قوموں کے مقابلہ میں، حق کی طرف دعوت کے سلسلہ میں، بہت سے عمدہ نکات سکھاتی ہے۔ سب سے پہلے ان کی بعثت کے مسئلہ کو شروع کرتے ہوئے فرماتا ہے: "ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا، اور پم نے اس سے کہا: اس سے پہلے کہ درد ناک عذاب ان کی طرف آئے تم اپنی قوم کو ڈراؤ۔" (إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ أَنْ أَنذِرْ قَوْمَكَ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ)۔ یہ درد ناک عذاب، ممکن ہے دنیا کا عذاب ہو، یا آخرت کا عذاب ہو، زیادہ مناسب یہ پے کہ دونوں مراد ہوں، اگرچہ اس سُورہ کی آخری آیات کے قرینہ سے زیادہ تر مراد دنیا کا عذاب ہے۔ "انذار" (اور ڈرانے) پر تکیہ ہے، باوجودیکہ انبیاء ڈرانے والے بھی تھے، اور بشارت دینے والے بھی، اس کی بناء پر ہے کہ انذار اور ڈرانا: غالباً زیادہ قوی تاثیر رکھتا ہے، جیسا کہ تمام دنیا میں قوانین کے اجراء کے لیے انذار اور سزا پر تکیہ ہوتا ہے۔ نوح ایک "اولوالعزم" پیغمبر، جو پہلی شریعت اور دین الٰہی کے حامل تھے، عالمی دعوت رکھتے تھے، یہ فرمان حاصل کرنے کے بعد اپنی قوم کی طرف آئے اور ان سے کہا: "اے میری قوم! میں تمھارے لیے ایک واضح ڈرانے والا ہوں۔" (قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُّبِينٌ)۔ ہدف و مقصد یہ ہے کہ تم خدائے یکتا و یگانہ کی پرستش کرو، اور جو کچھ اس کے علاوہ ہے اسے دور پھینک دو، تقوٰی اختیار کرو اور میرے احکام کی جو خدا کے احکام ہیں اطاعت کرو (أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ وَأَطِيعُونِ)۔ حقیقت میں نوح نے اپنی دعوت کے مضمون کا تین جملوں میں خلاصہ بیان کیا: خدائے یکتا کی پرستش، تقوٰی کی رعایت اور قوانین و احکام کی، جو وہ خدا کی طرف سے لائے تھے اور جو عقائد و اخلاق و احکام کا مجموعہ تھے، اطاعت۔ اس کے بعد انھیں شوق دلاتے ہوئے، اور اس دعوت کو قبول کرنے کے اہم نتائج کو دو مختصر سے جملوں میں بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: اگر تم میری دعوت کو قبول کر لو تو خدا تمھارے گناہوں کو بخش دے گا۔ (يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ)- (تشریحی نوٹ: "من" اس جملہ میں زائدہ اور تاکید کے لیے ہے، کیونکہ خدا پر ایمان تمام گزشتہ گناہوں کے بخشے جانے کا باعث ہے، مگر وہ کہ جو حق الناس سے مربوط ہے، لیکن گناہ کے لحاظ سے اور حرمت کے حکم کی وجہ سے بخشا جانا اس کو بھی شامل ہے اور یہ جو بعض مفسرین نے (مثلاً فخر رازی نے تفسیر کبیر میں اور علامہ طباطبائی نے المیزان میں) احتمال دیا ہے کہ من تبعیضیہ ہے۔ یہ گزشتہ گناہوں کے بارے میں ہے، نہ کہ آئندہ والے گناہوں کے بارے میں، یہ بعید نظر آتا ہے، کیونکہ آیت میں آئندہ کے گناہوں کے بارے میں تو بات ہی نہیں ہو رہی)۔ حقیقت میں مشہور قائدہ کلیہ "الاسلام یجب ما قبلہ" (اسلام اپنے سے پہلے کی چیزوں پر پردہ ڈال دیتا ہے اور انھیں ختم کر دیتا ہے) ایک ایسا قانون ہے جو تمام توحیدی اور الٰہی دینوں میں ہے اور اسلام پر ہی منحصر نیہں ہے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: اور تمھیں ایک معین زمانہ تک تاخیر میں ڈالتا ہے اور تمھاری عمر کو طولانی کر کے تم سے عذاب کو دور رکھتا ہے۔ (وَيُؤَخِّرْكُمْ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى)۔ "کیونکہ جب خدا کی طرف سے اصلی اور آخری اجل آ جاتی ہے، تو اس میں تاخیر نہیں ہوتی، اگر تم جانتے ہو" (إِنَّ أَجَلَ اللَّهِ إِذَا جَاءَ لَا يُؤَخَّرُ لَوْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ)۔ اس آیت سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ "اجل" اور انسانی عمر کی مدت دو قسم کی ہے، "اجل مسمی" اور "اجل نہائی یا آخری" یا دوسرے لفظوں میں "اجل ادٰنی" (نزدیک کی مدّت والی) اور "اجل اقصی" (دُور کی مدت والی) یا "اجل معلق" (مشروط) اور "اجل ختمی" (مطلق)۔ پہلی قسم کی عمر کی مدّت تو وہ ہے جو قابلِ تغیر ہے اور وہ انسان کے غلط اعمال کے نتیجے میں ممکن ہے کہ بہت جلدی آ جائے جن میں ایک خدائی عذاب بھی ہے اور اس کے برعکس تقوٰی نیکوکاری اور تدبیر کی وجہ سے ممکن ہے کہ وہ بہت پیچھے اور تاخیر میں پڑ جائے۔ لیکن عمر کی اصلی اور آخری مدت کسی طرح بھی قابلِ تغیر نہیں ہے، اس موضوع کو ایک مثال کے ذریعے مشخص کیا جا سکتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ انسان عمر جاودانی اور ہمیشہ کی زندگی کی استعداد نہیں رکھتا، اگر انسانی بدن کے تمام پُرزے اور مشینری اچھی طرح سے کام کرتے رہیں تو آخرکار ایک ایسا وقت آ جائے گا، جب کہ فرسودہ اور کہنہ ہونے کی وجہ سے اس کا دل خود بخود کام کرنے سے رُک جائے گا، لیکن حفظانِ صحت کے اصولوں کی رعایت، اور بیماریوں کو وقت پر روکنے سے، انسان کی عمر کو طولانی کر سکتے ہیں، جبکہ ان امور کی رعایت نہ کرنے سے ممکن ہے کہ اس کی عمر بہت کم ہو جائے اور بہت جاری اس کو ختم کر دے۔ (تشریحی نوٹ: "اجل نہائی" اور "اجل معلق" کے بارے میں ہم نے سورہ انعام کی آیہ ۲ (جلد ۵، ص۱۴۸) کے ذیل میں ایک اور بحث کی ہے)۔

ایک نکتہ عمر کی زیادتی اور کمی کے معنوی اسباب

ایک دوسرا نکتہ جو اس آیت سے بخوبی معلوم ہوتا ہے، وہ عمر کے کم ہونے میں گناہوں کی تاثیر ہے، کیونکہ ارشاد ہوتا ہے: اگر تم ایمان لے آؤ اور تقوٰی اختیار کرو، تو خدا تمھاری موت کو تاخیر میں ڈال دے گا۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہتا ہے گناہ ہمیشہ انسان کے جسم اور روح پر ہولناک ضربیں وارد کرتے ہیں، اس مطلب کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ روایات اسلامی میں بھی اس کے معنی پر بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے، ان میں سے ایک پرمعنی حدیث میں امام صادقؑ سے آیا ہے: من یموت بالذنوب اکثر ممن یموت بالاجال، و من یعیش بالاحسان اکثر ممن یعیش بالاعمار: "وہ لوگ جو گناہ کے اثر سے مرتے ہیں وہ ان سے بہت زیادہ ہیں، جو خدائی موت سے دنیا سے رخصت ہوتے ہیں، اور وہ لوگ جو نیکوکار کی بناء پر لاطونی عمر پاتے ہیں، ان سے بہت زیادہ ہیں، جن کی عمر طبیعی عوامل کی بناء پر زیادہ ہوتی ہے۔"

5
71:5
قَالَ رَبِّ إِنِّي دَعَوۡتُ قَوۡمِي لَيۡلٗا وَنَهَارٗا
’’نوح‘‘ نے کہا، پروردگارا! میں نے اپنی قوم کو رات دن تیری طرف ) دعوت دی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
71:6
فَلَمۡ يَزِدۡهُمۡ دُعَآءِيٓ إِلَّا فِرَارٗا
لیکن میری دعوت نے حق سے فرار کے علاوہ ان میں کسی چیز کا اضافہ نہیں کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
71:7
وَإِنِّي كُلَّمَا دَعَوۡتُهُمۡ لِتَغۡفِرَ لَهُمۡ جَعَلُوٓاْ أَصَٰبِعَهُمۡ فِيٓ ءَاذَانِهِمۡ وَٱسۡتَغۡشَوۡاْ ثِيَابَهُمۡ وَأَصَرُّواْ وَٱسۡتَكۡبَرُواْ ٱسۡتِكۡبَارٗا
میں نے جب بھی انہیں دعوت دی کہ وہ ایمان لے آئیں تاکہ تو انہیں بخش دے، تو انہوں نے اپنی انگلیاں کانوں میں ٹھونس لیں، اور اپنے لباس سے چہروں کو ڈھانپ لیا، اور مخالفت پر اصرار کیا، اور شدت کے ساتھ استکبار کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
71:8
ثُمَّ إِنِّي دَعَوۡتُهُمۡ جِهَارٗا
اس کے بعد میں نے انہیں ظاہر بظاہر دعوت دی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
71:9
ثُمَّ إِنِّيٓ أَعۡلَنتُ لَهُمۡ وَأَسۡرَرۡتُ لَهُمۡ إِسۡرَارٗا
پھر میں نے علی الاعلان بھی اور پوشیدہ طور پر بھی انہیں تیری طرف بلایا۔

تفسیر ان کی ہدایت کے لیے ہر طرح سے کوشش مگر...

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

ان آیات میں، اپنی قوم کو دعوت دینے کے لیے، نوح کی رسالت اور ماموریت کے بیان کو جاری رکھتے ہوئے، خود انھیں کی زبان سے کچھ باتیں نقل ہوئی ہیں، جو انھوں نے خدا کی بارگاہ میں شکایت کے طور پر کہی تھیں، جو بہت ہی سبق آموز ہیں۔ نوحؑ کی باتیں ایسی باتوں کے سلسلہ میں ہیں، جو تمام دینی مبلغین کے لیے رہنما بن سکتی ہیں، ارشاد ہوتا ہے: "نوحؑ نے کہا: پروردگار میں نے اپنی قوم کو رات دن تیری طرف دعوت دی ہے۔" (قَالَ رَبِّ إِنِّي دَعَوْتُ قَوْمِي لَيْلًا وَنَهَارًا)۔ اور ان کی ہدایت و تبلیغ میں ایک لمحہ لے لیے بھی کوتاہی نہیں کی۔ لیکن میری اس دعوت و ارشاد نے، حق سے فرار کرنے کے سوا، ان میں کسی چیز کا اضافہ نہیں کیا۔" (فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَائِي إِلَّا فِرَارًا)۔ اور یہ عجیب بات ہے کہ کسی چیز کی دعوت، اسی سے بھاگنے کا سبب بن جائے، لیکن اس بات کی طرف توجہ کرنے سے، کہ دعوتوں کی تاثیر، ایک قسم کی آمادگی اور کشش متقابل کی محتاج ہے، تعجب کی کوئی بات باقی نہیں رہ جاتی کہ وہ معکوس اور منفی اثر ڈالے دوسرے لفظوں میں ہٹ دھرم اور حق دشمن افراد، جب مردان حق کی دعوت کو سنتے ہیں تو اس کے مقابلہ میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، اور ان کا یہی مقابلہ کے لیے کھڑے ہو جانا، انھیں راہِ حق سے زیادہ دور کر دیتا ہے، اور ان کے کفر و نفاق کو اور بھی زیادہ راسخ بنا دیتا ہے۔ یہ بات ٹھیک اسی چیز کے مانند ہے جو سورہ اسراء کی آیہ ۸۲ میں آئی ہے: "وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ وَلاَ يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلاَّ خَسَارًا"۔ "ہم نے قرآن میں ایسی آیات نازل کی ہیں جو مومنین کے لیے شفاء اور رحمت کا سبب ہیں لیکن ظالموں میں سوائے خسارے اور نقصان کے کسی چیز کا اضافہ نہیں کرتیں۔" اور قرآن آیات میں جو یہ آیا ہے کہ یہ آسمانی کتاب پرہیزگاروں کے لیے باعث ہدایت ہے "هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ" (بقرہ ـ۲) اسی وجہ سے ہے کہ انسان میں کچھ نہ کچھ تقوٰی کا وجود ہونا چاہیے تاکہ وہ حق کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہو، یہ مرحلہ وہی "حقیقت جوئی کی ورح" اور حق کی گفتگو کو قبول کرنے کی آمادگی ہے۔ اس کے بعد نوحؑ اس گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے مزید کہتے ہیں "خداوندا! میں نے جب بھی انھیں دعوت دی کہ وہ ایمان لے آئیں اور تو انھیں بخش دے، تو انھوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں، اپنے لباسوں کو اپنے اوپر لپیٹ لیا اور ایمان نہ لنے پر اصرار کیا شدت کے ساتھ استکبار کیا"۔ (وَإِنِّي كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوا أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّوا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا)۔ کانوں میں انگلیاں ڈالنا اس لیے تھا کہ حق کی آواز کو نہ سنیں، اور ان کا اوپر لباس لپیٹ لینا، یا اس معنی میں تھا کہ وہ لباس کو سر پر ڈال لیتے تھے تاکہ وہ کانوں میں ڈالی ہوئی انگلیوں کو ڈھانپ لیں اور آواز کی معمولی سے معمولی لہر بھی کانوں کے پردے سے نہ ٹکرائے، اور وہاں سے کوئی پیغام دماغ کی طرف منتقل نہ ہو، یا وہ یہ چاہتے تھے کہ اپنے چہرے کو ڈھانپ لیں، تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی نگاہیں اس بزرگ پیغمبر نوحؑ کے ملکوتی چہرے پر جا پڑیں۔ حقیقت میں انھیں یہ اصرار تھا، کہ نہ تو وہ اپنے کانوں سے ان کی کوئی بات نہیں، اور نہ ہی اپنی آنکھوں سے انھیں دیکھیں۔ واقعًا یہ ایک حیرت انگیز چیز ہے کہ انسان حق کی عداوت اور دشمنی میں اس حد تک پہنچ جائے کہ خود دیکھنے، سننے اور سوچنے تک کی بھی اجازت کی نہ دے۔ بعض اسلامی تفاسیر میں آیا ہے کہ اس منحرف قوم میں سے بعض لوگ اپنے بیٹوں کے ہاتھ پکڑ کر نوحؑ کے پاس لے جایا کرتے تھے اور ان سے یہ کہتے تھے: اس شخص سے ڈرتے رہنا کہیں یہ تمھیں گمراہ نہ کر دے، یہ وہ وصیت ہے جو میرے باپ نے مجھے کی تھی اور میں اب وہی وصیت تمھیں کر رہا ہوں (تاکہ میں وصیت اور خیر خواہی کا حق ادا کر دوں)۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱۰، ص ۳۲)۔ یہ آیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نوح اپنی طولانی عمر میں، کئی نسلوں کے درمیان اسی طرح دعوتِ الہٰی کی تبلیغ کرتے رہے تھے اور بالکل نہیں تھکے تھے۔ اور ضمنی طور پر اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ ان کی بدبختی کا ایک اہم عامل استکبار اور غرور تھا، کیونکہ وہ اپنے آپ کو اس سے بالاتر سمجھتے تھے کہ اپنے جیسے انسان کے سامنے سرتسلیم خم کریں، چاہے وہ خدا کا نمائندہ ہو اور اس کا دل علم و دانش اور تقوٰی و پرہیزگاری کا مرکز ہو۔ یہ کبر و غرور ہمیشہ ہی حق کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ رہا ہے اور ہم نے بشر کی تمام تاریخ میں اس کا شوم و منحوس نتیجہ، بےایمان افراد کی زندگی میں مشاہدہ کیا ہے۔ نوحؑ اپنی باتوں کو پروردگار کی بارگاہ میں جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں: "خداوندا! میں نے انھیں آشکار اور ظاہر طور پر تیری توحید اور عبادت کی طرف دعوت دی۔" (ثُمَّ إِنِّي دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا)۔ میں نے انھیں عمومی جلسوں میں اور بلند آواز کے ساتھ ایمان کی طرف بلایا۔ اس پر ہی قناعت نہیں کی۔ "آشکارا وپنہاں، توحید و ایمان کی حقیقت ان سے بیان کی ہے۔" (ثُمَّ إِنِّي أَعْلَنتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْرَارًا)۔ بعض مفسرین کے قول کے مطابق، نوحؐ نے اس ہٹ دھرم اور خود غرض جمیعت میں اپنی دعوت کے نفوذ کے لیے تین مختلف طریقے اختیار کیے۔ کبھی تو صرف مخفی طور پر دعوت کرتے تھے، تو چار قسم کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ (کانوں میں انگلیاں ڈالیں، اپنے اوپر کپڑے لپیٹ لیے، کفر پر اصرار کیا اور استکبار و غرور سے کام لیا)۔ کبھی علی الاعلان اور آشکارا دعوت دیتے اور کبھی آشکارا اور پنہاں دونوں طریقوں کی دعوت سے فائدہ اٹھتے، لیکن ان میں سے کوئی بھی موثر ثابت نہیں ہوئی۔ (بحوالہ: تفسیر "فخر رازی"، جلد ۲۰، ص ۱۲۶)۔ اصولی طور پر انسان کی ساخت اور بناوٹ کچھ اس قسم کی ہے کہ اگر وہ باطل کی راہ میں اس قدر آگے بڑھ جائے۔ کہ فساد کی جڑیں اس کے وجود میں مستحکم ہو جائیں، اور اس کے وجود کی گہرائیوں میں نفوذ کرتے ہوئے، طبعیت ثانوی کی شکل اختیار کر لیں، تو پھر نہ تو مردانِ حق کی دعوت کچھ اثر کرتی ہے اور نہ ہی خدا کے پیغام ہائےرسا ان کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں۔

چند نکات ۱: تبلیغ کے طریقے:

اوپر والی آیات میں، نوح کی دعوت کے سلسلہ میں کچھ بیان ہوا ہے، وہ پیغمبر اور مکہ میں رہنے والے ان تھوڑے سے مومنین کے لیے، جو آپ کے ساتھ مل گئے تھے، دلی تسلی کا ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ راہ خدا کے تمام مبلغین کے لیے ایک عمومی پروگرام بھی پیش کیا گیا ہے۔ نوحؑ کو ہرگز اس بات کی توقع نہ تھی کہ لوگ آپ کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے شہر کے ایک عمومی مرکز میں جمع ہو جائیں گے، پھر وہ اطمینان قلب کے ساتھ، اس حالت میں کہ وہ سب کے سب آپ کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے اور کان آپ کی باتوں پر لگائے ہوئے ہوں اور پھر وہ خدا کا پیغام انھیں پہنچائیں گے، بلکہ آیات لب و لہجہ سے معلوم ہوتا ہے (اور بعض روایات میں آیا بھی ہے) کہ آپ بعض اوقات لوگوں کے گھروں میں ان کے پاس جاتے، یا کوچہ و بازار میں خصوصی طور پر انھیں آواز دیتے اور حوصلہ کے ساتھ اور محبت آمیز لب و لہجہ میں انھیں تبلیغ کرتے اور کبھی آپ ان عمومی مجالس میں، جو دوسرے مقاصد مثلاً جشن یا تعزیت کے لیے قائم ہوتی تھیں چلے جاتے اور بلند آواز میں آشکارا خدا کا فرمان ان کے سامنے پڑھتے، لیکن اس کے باوجود وہ ہرگز اپنے کام سے دستبردار نہیں ہوئے۔ یہ عجیب و غریب حوصلہ اور اتنی عجیب دلسوزی اور بےنظیر استقامت اور کام کی لگن، دینِ حق کی راہ میں دعوت کے لئے ان کا سرمایہ تھی۔ اور سب سے بڑھ کر تعجب انگیز بات یہ ہے کہ آپ کی دعوت تبلیغ سے نو سو سال کی طویل مدت میں، تقریباً (۸۰) اسی افراد آپ پر ایمان لائے، اگر ہم ان دونوں اعداد کو ایک دوسرے پر تقسیم کریں تو واضح ہو جاتا ہے کہ ایک شخص کی ہدایت کے لئے اوسطاً تقریباً ۱۲ سال تبلیغ کی۔ اگر مبلغین اسلام اس قسم کی استقامت اور کام کی لگن رکھتے ہوں، تو کیا اسلام ایسے مالا مال اور عمدہ مطالب و مضامین کے ہوتے ہوئے، عالمگیر نہیں ہو جائے گا؟!

۲: حقیقت سے فرار کیوں؟

بعض اوقات انسان اس بات پر تعجب کرتا ہے کہ کیا اس آسمان کے نیچے ایسے لوگ پیدا ہو جائیں، جو حق کی بات تک سننے کے لیے تیار نہ ہوں، اور اس سے دور بھاگیں؟ بات قبول کرنے کی نہیں ہے، بات صرف سننے کی ہے۔ لیکن تاریخ بتلاتی ہے کہ اس قسم کے افراد بہت زیادہ تھے۔ صرف قوم نوح ہی ایسی نہیں تھی کہ جب آپ انھیں توحید کی دعوت دیتے تھے، تو وہ کانوں میں انگلیاں ڈال لیتے تھے، سر اور چہرے کو ڈھانپ لیتے تھے، تاکہ نہ تو حق کی بات سنیں اور نہ ہی آپ کو دیکھیں، بلکہ قرآن کی صراحت کے مطابق، پیغمبر اسلامؐ کے زمانہ میں بھی ایسا گروہ موجود تھا، جب پیغمبرؐ دل انگیز بلند آواز کے ساتھ آیاتِ قرآنی کی تلاوت کرتے، تو وہ شور و غوغا کر کے اور سیٹیاں بجا کر اس قسم کا ہنگامہ کھڑا کر دیتے تھےکہ کوئی شخص آپ کی آواز کو نہ سن پائے، وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَسْمَعُوا لِهَذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ۔ " کافروں نے کہا: اس قرآن پر کان نہ دھرو اور اس کی تلاوت پر شور و غوغا بلند کرو، تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔" (حٰم سجدۃ ـ ۲۶)۔ کربلا کی خونی تاریخ میں بھی یہ آیا ہے کہ جب امام حسینؑ سالار شہیدان نے منحرف اور کج فہم دشمنوں کو، ہدایت و ارشاد۔ اور بیدار کرنا چاہا، تو انھوں نے اس طرح شور و غوغا کیا، کہ امامؑ کی آواز اس میں گم ہو کر رہ گئی۔ (بحوالہ: بحار الانوار، جلد ۴۵ ص ۸)۔ آج بھی یہ پروگرام اسی طرح جاری و ساری ہے، البتہ دوسری شکلوں اور صورتوں میں، باطل کے طرفداروں نے، قسم قسم کی غلط سرگرمیاں، فاسد اور خراب کرنے والی موسیقوں، خراب مواد اور منشیات کے ذریعہ، اس قسم کی فضا فراہم کر رکھی ہے، کہ لوگ خصوصًا نوجوان، مردانِ حق کی دلنواز آواز سن ہی نہ سکیں۔

10
71:10
فَقُلۡتُ ٱسۡتَغۡفِرُواْ رَبَّكُمۡ إِنَّهُۥ كَانَ غَفَّارٗا
میں نے ان سے کہا: اپنے پروردگار سے بخشش طلب کرو، وہ بہت بخشنے والا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
71:11
يُرۡسِلِ ٱلسَّمَآءَ عَلَيۡكُم مِّدۡرَارٗا
(اگر ایسا کرو گے تو) وہ آسمان کی پر برکت بارشیں پے در پے تم پر بھیجے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
71:12
وَيُمۡدِدۡكُم بِأَمۡوَٰلٖ وَبَنِينَ وَيَجۡعَل لَّكُمۡ جَنَّـٰتٖ وَيَجۡعَل لَّكُمۡ أَنۡهَٰرٗا
اور تمہارے مال و اولاد میں زیادتی فرمائے گا، اور تمہارے لئے سر سبز باغات اور نہریں جاری کرے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
71:13
مَّا لَكُمۡ لَا تَرۡجُونَ لِلَّهِ وَقَارٗا
تم اللہ کی عظمت کے قائل کیوں نہیں ہوتے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
71:14
وَقَدۡ خَلَقَكُمۡ أَطۡوَارًا
حالانکہ اس نے تمہیں مختلف مرحلوں میں پیدا کیا ہے۔

تفسیر ایمان کی دنیاوی جزا

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

نوحؑ اس ہٹ دھرم اور سرکش قوم کی ہدایت کے لیے، اپنے مؤثر بیانات کو جاری رکھتے ہوئے، اس مرتبہ بشارت و تشویق پر تکیہ کرتے ہیں اور انھیں تاکید کے ساتھ یہ وعید دیتے ہیں کہ اگر وہ شرک و گناہ سے توبہ کر لیں، تو خدا ان پر اپنی رحمت کے دروازے ہر طرف سے کھول دے گا، ارشاد ہوتا ہے: "خداوندا! میں ان سے کہا کہ تم اپنے پروردگار سے بخشش طلب کرو وہ بہت ہی بخشنے والا ہے۔" (فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا)۔ نہ صرف یہ کہ وہ تمھیں گناہوں سے پاک کر دے گا، بلکہ "اگر تم ایسا کرو تو وہ تم پر آسمان سے برکتوں والی بارشیں پے در پے نازل کرے گا۔" (يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا)۔ (تشریحی نوٹ: "مدرار"، "در" (بر وزن جر) کے مادہ سے اصل میں پستان مادر سے "دودھ" کے گرنے کے معنی میں ہے اور پھر بارش برسنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ "مدرار" مبالغہ کا صیغہ ہے)۔ خلاصہ یہ کہ اس کی معنوی رحمت کی بارش بھی، اور مادی برکت پر برکت بارش بھی نازل ہو گی۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ کہتا ہے: "آسمان کو تم پر بھیجے گا" یعنی اس قدر بارش ہو گی گویا آسمان برس رہا ہے: لیکن چونکہ وہ رحمت کی بارش ہو گی، لہذا نہ تو اس کوئی ویرانی اور تبائی ہو گی، اور نہ ہی کوئی تکلیف پہنچھے گی، بلکہ وہ ہر جگہ خوشی و خرمی اور سرسبز و شادابی کا باعث ہو گی۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "اور تمھارے مال و اولاد میں زیادتی کرے گا۔" (وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ)۔ "اور تمھارے لیے سرسبز و شاداب باغ، اور رواں پانی کی نہریں قرار دے گا" (وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا)۔ اس طرح سے انھیں ایک عظیم معنوی نعمت، اور پانچ عظیم مادی نعمتوں کی وعیددی ہے، معنوی عظیم نعمت تو گناہوں کی بخشش اور کفر و عصیان کی آلودگی سے پاک ہونا ہے۔ باقی رہی مادی نعمتیں تو مفید، برموقع اور پُربرکت بارشوں کا نازل ہونا، مال کی زیادتی، اولاد کی فراوانی، (انسانی سرمایہ) پر برکت باغات اور جاری پانی کی نہریں۔ ہاں قرآن مجید کی گواہی کے مطابق، ایمان و تقوٰی، دنیا کی آبادی کا سبب بھی ہے اور آخرت کی آبادی کا موجب بھی۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ جب اس ہٹ دھرم قوم نے نوحؑ کی دعوت کو قبول کرنے سے منہ پھیر لیا، تو خشک سالی اور قحط نے انھیں گھیر لیا، اور ان کے بہت سے اموال و اولاد تباہ و ہلاک ہو گئے، عورتیں بانجھ ہو گیئں اور ان کے کوئی بچہ پیدا نہ ہوا تو نوحؑ نے ان سے کہا: اگر تم ایمان لے آؤ تو یہ تمام مصیبتیں اور بلائیں تم سے دور ہو جائیں گی۔ لیکن انھوں نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی اور اسی طرح سے سختی پر قائم رہے یہاں تک کہ آخری عذاب آ پہنچا جس نے سب کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے بعد پھر دوبارہ ڈرانے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور کہتے ہیں: "تم خدا سے ڈرتے کیوں نہیں اور خدا کی عظمت کے قائل کیوں نہیں ہوتے۔" (مَّا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا)۔ (تشریحی نوٹ: "وقار" وزن اور عظمت کے معنی میں ہے اور "ترجون"، "رجاء" کے مادہ سے، امید کے معنی میں ہے جو بعض اوقات خوف سے تو اُم ہوتا ہے۔ اور سارے جملہ کا معنی یہ ہے کہ تم عظمت خدا کے مقابلہ میں خضوع کیوں نہیں کرتے)۔ "حالانکہ خدا نے تمھیں گونا گوں طریقے کی خلقتیں دی ہیں۔" (وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا)۔ پہلے تم ایک بےقدر و قیمت "نطفہ" تھے زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ تمھیں "علقہ" بنا دیا اور اس کے بعد "مضغہ" کی صورت میں لے آیا، اس کے بعد اس نے تمھیں انسانی شکل و صورت اور جسم کو لباس حیات پہنایا اور تمھیں روح اور حس و حرکت دی، اسی طرح سے تم نے یکے بعد دیگرے مختلف جنینی مراحل طے کیے، یہاں تک کہ تم ایک مکمل انسان کی شکل و صورت میں، ماں سے پیدا ہو گئے، اس کے بعد زندگی کے مختلف اطوار اور زندگی کی مختلف شکلیں شروع ہو گیئں۔ تم ہمیشہ اس کی ربوبیت کے ماتحت رہے ہو اور ہمیشہ نئی سے نئی حالت اختیار کرتے ہو اور ایک جدید خلقت حاصل کرتے ہو، تو پھر تم اپنے خالق کے باعظمت آستانے پر سر تعظیم کیوں نہیں جھکاتے۔ نہ صرف جسمانی لحاظ سے تم مختلف شکلیں بدلتے ہو بلکہ تمھاری روح اور جان بھی ہمیشہ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ تم میں سے ہر ایک، ایک نئی استعداد رکھتا ہے، اور ہر سر میں ایک نیا ذوق اور ہر دل میں ایک نیا شوق ہے اور تم سب کے سب ہمیشہ بدلتے رہتے ہو۔ بچپنے کے احساسات اپنی جگہ، جونی کو دے دیتے ہیں اور جوانی اپنے احساسات ادھیڑ عمر اور بڑھاپے کے احساسات کے حوالے کر دیتی ہے۔ اس طرح سے وہ جگہ تمھارے ساتھ ہے اور ہر قدم پر تمھاری رہبری اور ہدایت کرتا ہے اور اس کے سارے لطف و عنایت کے باوجود یہ کفران اور بےحرمتی کس بناء پر ہے۔

ایک نکتہ "تقوی" اور "عمران و آبادی" میں ربط:

قرآن کی مختلف آیات سے، منجملہ ان کے اوپر والی آیات سے یہ نکتہ اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے، کہ ایمان و عدالت، معاشروں کی آبادی کا باعث ہیں اور کفر، ظلم اور گناہ ویرانی و تبائی کا سبب ہیں۔ سورہ اعراف کی آیہ ۹۶ میں آیا ہے: وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُواْ وَاتَّقَواْ لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ۔ "اگر شہروں اور بستیوں رہنے والے ایمان لے آتے اور تقوٰی اختیار کرتے تو ہم آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے ان پر کھول دیتے۔" اور سورہ روم کی آیہ ۴۱ میں آیا ہے: ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ۔ "خشکی اور سمندر میں، لوگوں کے اعمال کی وجہ سے فساد برپا ہو گیا ہے۔" اور سورہ شورٰی کی آیت ۳۰ میں آیا ہے: وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ۔ "جو مصیبت بھی تمھیں پہنچتی ہے، وہ تمھارے اعمال کی وجہ سے ہوتی ہے۔" اور سورہ مائدہ کی آیہ ۶۶ میں آیا ہے: وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُواْ التَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَيهِم مِّن رَّبِّهِمْ لَأَكَلُواْ مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِم۔ "اگر وہ توریت اور انجیل کو اور کو کچھ تمھارے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوا ہے اسے قائم رکھتے، تو وہ آسمان و زمین سے روزی کھاتے۔" (اور آسمان اور زمین کی برکتیں انھیں گھیرلیتیں)، اور اسی قسم کی دوسری آیات مزید ہیں۔ یہ "رابطہ" صرف ایک باطنی و معنوی رابطہ ہی نہیں ہے، بلکہ معنوی رابطہ کے علاوہ ـــــــــ جس کہ آثار ہمیں اچھی طرح دکھائی دیتے ہیں ـــــــــــــ ایک واضح مادی رابطہ بھی ہے۔ کفر و بےایمانی، مسؤلیت کے عدم احساس، قانون شکنی اور اخلاقی اقدار کو فراموش کرنے کا سرچشمہ بھی ہے اور یہ امور معاشروں کی وحدت کے ختم ہونے، اعتماد و اطمینان کے پایوں کے متزلزل ہونے، اقتصاد و انسانی قوتوں کے ضائع ہونے، اور اجتماعی اعتدال کے درہم برہم ہونے کا سبب بھی ہیں۔ واضح رہے کہ وہ معاشرہ جس پر ان امور کی حکمرانی ہو وہ بہت جلد پیچھے چلا جاتا ہے، اور سقوط و نابودی کی راہ پر چل پڑتا ہے۔ اور اگر ہم کچھ معاشروں کو دیکھتے ہیں، کہ وہ ایمان و تقوٰی کے نہ ہونے کے باوجود، مادی حالت کے سلسلہ میں، پیش رفت کر رہے ہیں تو اسے بھی بعض اخلاقی اصولوں کی رعایت کا مرہون منت سمجھنا چاہیے، جو گزشتہ انبیاء کی میراث اور خدائی رہبروں، علماء اور دانش مندوں کی صدیوں کی طویل زحمتوں کا نتیجہ ہے۔ اوپر والی آیات کے علاوہ اسلامی روایات میں بھی اس معنی پر بہت زیادہ تکیہ ہوا ہے کہ استغفار اور ترکِ گناہ، روزی کی کثرت اور زندگی کی بہبود کا سبب ہیں، منجملہ ان کے: ایک حدیث میں علیؑ سے آیا ہے، کہ آپ نے فرمایا: اکثر الاستغفار تجلب الرزق۔ زیادہ استغفار کر، تاکہ تو روزی کو جلب کرے۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ۵، ص ۴۲۴)۔ ایک اور حدیث میں پیغمبراکرمؐ سے اس طرح نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: "من انعم اللہ علیہ نعمۃ فلیحمد اللہ تعالٰی، ومن استبطا الرزق فلیستغفر اللہ، و من حزنہ امر فلیقل: لا حول و لا قوۃ الا باللہ" جسے خدا نے نعمت بخشی ہے، وہ خدا کا شکر بجا لائے، اور جس کی روزی میں کچھ تاخیر ہو تو وہ استغفار اور طلبِ بخشش کرے، اور جو کسی حادثہ کی وجہ سے غمگین ہو تو وہ "لا حول ولا قوۃ الا باللہ" کہے۔ (بحوالہ: ایضاً)۔ نہج البلاغہ میں بھی یہ آیا ہے کہ: "و قد جعل اللہ سبحانہ الاستغفار سببًا لدرور الرزق و رحمۃ الخلق، فقال سبحانہ: استغفروا ربکم انہ کان غفارًا یرسل السماء علیکم مدرارًا..." "خداوند سبحان نے استغفار کو روزی کی زیادتی، اور مخلوق کے لیے رحمت قرار دیا ہے، اور فرمایا ہے کہ اپنے پروردگار سے بخشش طلب کرو، کہ وہ بہت بخشنے والا ہے، اور وہ آسمانوں کی برکتوں والی بارش تم پر برساتا ہے۔" (بحوالہ: "نہج البلاغہ" خطبہ ۱۴۳)۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے گناہوں کی سزا، اسی جہان کی محرومیاں ہیں اور جب انسان اس سے توبہ کر کے پاکیزگی اور تقوٰی کی راہ اختیار کر لیتا ہے تو خدا اس عذاب اور سزا کو اس سے برطرف کر دیتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: ہم نے اس سلسلہ میں "گناہ اور معاشروں کی تباہی" کے عنوان کے تحت، سورہ ہود کی آیہ ۵۲ کے ذیل میں، ایک دوسری تشریح بھی کی ہے۔ تفسیر نمونہ جلد ۹، ص ۱۲۱)۔

15
71:15
أَلَمۡ تَرَوۡاْ كَيۡفَ خَلَقَ ٱللَّهُ سَبۡعَ سَمَٰوَٰتٖ طِبَاقٗا
کیا تم دیکھتے نہیں، کہ اللہ نے سات آسمانوں کو ، ایک دوسرے کے اوپر کس طرح سے خلق کیا ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
71:16
وَجَعَلَ ٱلۡقَمَرَ فِيهِنَّ نُورٗا وَجَعَلَ ٱلشَّمۡسَ سِرَاجٗا
اور چاند کو آسمانوں کے درمیان روشنی کا باعث اور سورج کو چراغ فروزاں قرار دیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔

17
71:17
وَٱللَّهُ أَنۢبَتَكُم مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ نَبَاتٗا
اور اللہ نے تمہیں نباتات کی طرح سے زمین سے اگایا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔

18
71:18
ثُمَّ يُعِيدُكُمۡ فِيهَا وَيُخۡرِجُكُمۡ إِخۡرَاجٗا
پھر تمہیں اسی زمین کی طرف لوٹا ئے گا اور پھر تمہیں دوبارہ نکال کھڑا کرے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔

19
71:19
وَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ ٱلۡأَرۡضَ بِسَاطٗا
اور اللہ نے زمین کو تمہارے لئے بچھا ہوا فرش قرار دیا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔

20
71:20
لِّتَسۡلُكُواْ مِنۡهَا سُبُلٗا فِجَاجٗا
تاکہ تم اس وسیع راستوں اور دروں سے گزرو ( اور جہاں جانا چاہو چلے جاؤ)۔

تفسیر باغبان ہستی نے تمھیں ایک پھول کی طرح پالا ہے۔

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

حضرت "نوحؑ" ہٹ دھرم مشرکین کے مقابلہ میں، اہنے گہرے اور استدلالی بیانات کے ذریعہ، پہلے تو ان کا ہاتھ پکڑ کر ان کے وجود کی گہرائیوں میں لے گئے، تاکہ وہ آیات انفسی کا مشاہدہ کریں (جیسا کہ گزشتہ آیات میں گزر چکا ہے۔ اس کے بعد، جیسا کہ زیر بحث آیات میں بیان آیا ہے، انھیں خلقت و آفرینش کے عالمِ بزرگ میں خدا کی نشانیوں کے مطالعہ کی دعوت دیتے ہیں- اور انھیں آفاق کی سیر کی طرف لے جاتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: اس بارے میں کہ یہ باتیں نوحؑ کے کلام کا تمتہ اور آخری حصہ ہے یا ایسے مستقل جملے ہیں جو خدا کی طرف سے مسلمانوں کے خطاب کے لیے بطور جملہ معترضہ کے صادر ہوتے ہیں۔ مفسرین کے درمیان اختلافات ہے، لیکن ان میں سے بعض سوں نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ یہ نوحؑ کے کلام کا تمتہ ہے اور آیات کا ظاہر بھی اسی بات کا تقاضا کرتا ہے۔ اور اگر ان آیات کے بعد "وقال نوح" کا جملہ آیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نوحؑ لوگوں سے اپنی بات ختم کرنے کے بعد بارگاہِ خدا کی طرف رخ کر کے ان کی شکایت کرتے ہیں)۔ پہلے آسمان سے شروع کرتے ہوئے کہتا ہے: "کیا تم دیکھتے نہیں کہ خدا نے سات آسمانوں کو ایک دوسرے کے اوپر کس طرح سے پیدا کیا ہے۔" (أَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللَّهُ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا)۔ (تشریحی نوٹ: "طباقًا" ممکن ہے مفعول مطلق ہو، یا حال ہو)۔ "طباق" باب "مفاعلہ" کا مصدر ہے جو "مطابقہ" کے معنی میں ہے جو بعض اوقات ایک چیز کے دوسری چیز پر قرار پانے کے معنی میں آتا ہے، اور کبھی دو چیزوں کی ایک دوسرے سے ہم آہنگی اور مطابقت کے معنی میں ہوتا ہے، اور یہاں دونوں معنی صادق آتے ہیں۔ پہلے معنی کے مطابق ساتوں آسمان ایک دوسرے کے اوپر قرار پائے ہیں اور ساتوں آسمانوں کی تفسیر میں جس طور پر ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔ ایک قابلِ توجہ تفسیر یہ ہے کہ وہ تمام ثوابت و سیار ستارے، جنھیں ہم خورد بینوں کے ذریعے یا بغیر خورد بینوں کے آنکھ سے دیکھتے ہیں، وہ سب کے سب پہلے آسمان کا حصہ ہیں اور دوسرے چھ عالم اس کے بعد ایک دوسرے کے اوپر قرار پاتے ہیں، جو موجودہ زمانہ کے انسان کی پہنچ سے باہر ہیں اور ممکن ہے کہ آئندہ کسی زمانہ میں انسان یہ لیاقت و استعداد پیدا کرے کہ وہ ان عجیب اور وسیع عوالم کو بھی ایک دوسرے کے بعد معلوم کرے۔ (تشریحی نوٹ: سات آسمانوں کی گوناگوں تفاسیر کے بارے میں ہم سورہ بقرہ آیہ ۲۹ کی ذیل میں (جلد اول تفسیر نمونہ میں) تفصیلی بحث کر چکے ہیں)۔ اور دوسرے اعتمال کی بناء پر، قرآن سات آسمانوں کی، نظم و ضبط اور عظمت و زیبائی میں، ایک دوسرے سے ہم آہنگی اور مطابقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: خدا نے چاند کو سات آسمانوں کے درمیان، تمھارے لیے نور اور روشنی کا سبب اور سورج کو چراغ فروزاں قرار دیا ہے" (وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا)۔ یہ ٹھیک ہے کہ سات آسمانوں میں لاکھوں اربوں چمکنے والے ستارے ہیں، جو ہمارے چاند اور سورج سے بھی زیادہ روشن ہیں، لیکن جو ہمارے لیے اہم ہے اور ہماری زندگی میں اثر انداز ہے وہ نظامِ شمسی کا یہی سورج اور چاند ہے۔ جن پر سے ایک تو ہماری فضائے زندگی کو دنوں میں اور دوسرا راتوں میں روشن کرتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ "فیھن" کی ضمیر جو ظاہرًا "سبح سماوات" کی طرف لوٹتی ہے کوئی مشکل پیدا نہیں کرتی، کیونکہ گفتگو ہمارے لیے نور اور روشنی کی ہے۔ اس لیے ہمارے لیے لازم نہیں ہے کہ ہم "فی" کو "مع" کے معنی میں یا "ھن" کی ضمیر کو" نچلے آسمان کے معنی میں لیں)۔ "سراج" (چراغ) کی سورج کی تعبیر اور "نور" کی "چاند" کے لیے تعبیر اس بناء پر ہے کہ "سورج" کی روشنی تو خود چراغ کی طرح اسی کے اندر سے پھوٹتی ہے، لیکن چاند کا نور خود اسی میں سے نہیں ہے، بلکہ وہ اس عکس کے مشابہ ہے جو آئینہ سے منعکس ہوتا ہے، اسی لیے لفظ "نور" جو ایک عام مفہوم رکھتا ہے اس کے بارے میں استعمال ہوا ہے۔ تعبیر کا یہ فرق قرآن کی دوسری آیات میں بھی نظر آتا ہے۔ ہم اس سلسلے میں سورہ یونس کی آیہ ۵ کے ذیل میں (جلد ۸ ص ۳۰۶) بہت زیادہ تفصیل سے بیان کر چکے ہیں۔ اس کے بعد دوبارہ انسان کی خلقت کی طرف لوٹتا ہے اور مزید کہتا ہے: "خدا نے تمھیں نباتات کی طرح زمین سے اگایا ہے" (وَاللَّهُ أَنبَتَكُم مِّنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا)۔ (تشریحی نوٹ: اس آیت میں ایک قاعدے کے لحاظ سے تو "انباتا" کہا جانا چاہیے تھا، لیکن آیت میں کچھ مقدر ہے اور وہ اس طرح ہے۔ "أَنبَتَكُم مِّنَ الْأَرْضِ فنبتم نَبَاتًا" (تفسیر فخر رازی و ابو الفتوح رازی))۔ انسان کے بارے میں "انبات" کی تعبیر اس بناء پر ہے کہ اولاً انسان کی پہلی خلقت مٹی سے ہے اور ثانیاً وہ تمام غذائیں جو انسان کھاتا ہے اور جن کی وجہ سے نشوونما پاتا ہے، وہ سب زمین سے ہیں۔ یا تو وہ براہ راست زمین سے ہوتی ہیں جیسے سبزیاں، غلے اور پھل یا غیر مستقیم طور پر مثلاً جانوروں کے گوشت اور ثالثاً انسان اور نباتات کے درمیان بہت زیادہ مشابہت ہے اور بہت سے ایسے قوانین جو نباتات کی غذا، تولید مثل اور نشوونما میں کار فرما ہیں وہ انسان پر بھی لاگو ہیں۔ یہ تعبیر انسان کے بارے میں بہت پُرمعنی ہے اور یہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسئلہ ہدایت میں خدا کا کام صرف ایک معلم و استاد کا کام ہی نہیں ہے، بلکہ اس کا کام ایک باغبان کی طرح ہے نباتات کے بیج کو ایک مساعد ماحول میں قرار دیتا ہے تاکہ ان میں چھپی ہوئی استعداد ظہور میں آئے۔ سورہ آل عمران کی آیہ ۳۷ میں حضت مریمؑ کے بارے میں بھی یہ آیا ہے: وانبتھا نباتًا حسنًا: "خدا نے بہت ہی اچھے طریقے سے مریمؑ کے وجود کو پیدا کیا اور اس کی پرورش کی۔" یہ سب اسی لطیف نکتہ کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے بعد مسئلہ معاد کی طرف، جو مشرکین کے لیے پیچیدہ مسائل میں ایک ہے، متوجہ ہوتا ہے اور فرماتا ہے: "اس کے بعد وہ تمھیں اسی زمین کی طرف، جس اس نے تمھیں اگایا تھا، دوبارہ پلٹا دے گا اور پھر دوبارہ تمھیں اس سے نکال کھڑا کرے گا" (ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيهَا وَيُخْرِجُكُمْ إِخْرَاجًا)۔ ابتداء میں بھی تم مٹی ہی تھے، پھر مٹی کی طرف لوٹ جاؤ گے اور وہی ذات جس یہ قدرت تھی کہ تمھیں ابتداء میں مٹی سے پیدا کرے، یہ قدرت رکھتی ہے کہ دوبارہ مٹی ہو جانے کے بعد، تمھارے جسم پر دوبارہ حیات پہنا دے۔ مسئلہ "توحید" سے "معاد" کی طرف یہ انتقال، جو اوپر والی آیات میں بہت ہی عمدہ طریقہ پر منعکس ہوا ہے، ان دونوں مسئلوں کے نزدیکی ربط کو بیان کرتا ہے اور اس طرح نوحؑ، مخالفین کے مقابلہ میں، نظامِ آفرینش کے طریق سے، توحید پر بھی استدلال کرتے ہیں، اور اسی طریقہ سے معاد پر بھی استدلال کرتے ہیں۔ اس کے بعد پھر نئے سرے سے آیات آفاقی اور عالم کبیر میں توحید کی نشانیوں کی طرف لوٹتا پے اور زمین کے وجود کی نعمت کے متعلق گفتگو کرتا ہے، فرماتا ہے: "خدا نے زمین کو تمھارے لیے بچھا ہوا فرش قرار دیا" (وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ بِسَاطًا)۔ (تشریحی نوٹ: "بساط"، "بسط" کی مادہ سے کسی چیز کو پھیلانے کے معنی میں ہے، اس لیے لفظ "بساط" ہر پھیلی ہوئی وسیع کو کہا جاتا ہے جس کا مصداق فرش ہے)۔ یہ نہ تو ایسی سخت ہے کہ اس پر آرام اور آمد و رفت ہی نہ کر سکو اور نہ ایسی نرم کہ تم اس میں دھنس جاؤ اور اس پر چل پھر بھی نہ سکو۔ اور نہ ایسی گرم اور جلانے والی ہے کہ اس پر گرمی کی وجہ سے تکلیف اٹھاؤ اور نہ ایسی سرد اور بےحرارت ہے کہ اس پر زندگی بسر کرنا تمھارے لیے مشکل ہو جائے۔ اس کے علاوہ ایک ایسا وسیع آمادہ و تیار فرش ہے۔ جس میں تمھاری زندگی کی تمام ضروریات موجود ہیں۔ نہ صرف ہموار زمین ہی فرش کی طرح بچھی ہوئی ہیں بلکہ پہاڑ بھی، ان درّوں اور شگافوں کی وجہ سے، جو ان کے درمیان موجود ہیں اور عبور کرنے کے قابل ہیں، بچھے ہوئے فرش ہی ہیں۔ "ہدف و مقصد یہ ہے کہ تم ان وسیع راستوں اور درّوں سے، جو اس زمین میں موجود ہیں، گزر سکو اور جس علاقہ میں جانا چاہو جا سکو۔" (لِّتَسْلُكُوا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا)۔ "فجاج" (بر وزن مزاج) جمع ہے "فج" (بر وزن فج) کی، اس درّہ کے معنی میں ہے جو دو پہاڑوں کے درمیان ہوتا ہے۔ اور وسیع و کشادہ راستہ کو بھی کہا جاتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: مفردات "راغب" مادہ "فج")۔ اس طرح "نوحؑ" اپنی گفتگو کے حصہ میں، کبھی تو آسمانوں اور آسمان کے ستاروں میں خدا کی نشانیوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور کبھی کرہ زمین میں اس کی گوناگوں نعمتوں کی طرف، اور کبھی انسان کی ساخت اور اس کی حیات کے مسئلہ کی طرف جو خدا کی شناخت کی بھی ایک دلیل ہے اور مسئلہ معاد کے اثبات کے لیے بھی۔ لیکن نہ تو پہلے انزاروں، بشارتوں اور تشویقوں نے اس ہٹ دھرم قوم کے سیاہ دل میں کوئی اثر کیا اور نہ ہی کسی منطقی استدلال نے، وہ اسی طرح سے مخالفت اور کفر پر تلے رہے اور حق کو قبول کرنے سے پہلو تہی کرتے رہے، جیسا کہ بعد والی آیات میں ان کی خیرہ سری کا انجام بیان ہوا ہے۔

21
71:21
قَالَ نُوحٞ رَّبِّ إِنَّهُمۡ عَصَوۡنِي وَٱتَّبَعُواْ مَن لَّمۡ يَزِدۡهُ مَالُهُۥ وَوَلَدُهُۥٓ إِلَّا خَسَارٗا
نوح نے عرض کیا: پروردگارا! انہوں نے میری نافرمانی کی اور ان لوگوں کی پیروی کی ، جن کے مال اور اولاد نے خسارے کے سوا ان میں کسی چیز کا اضافہ نہیں کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

22
71:22
وَمَكَرُواْ مَكۡرٗا كُبَّارٗا
اور (ان گمراہ راہبروں نے) ایک عظیم مکر کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

23
71:23
وَقَالُواْ لَا تَذَرُنَّ ءَالِهَتَكُمۡ وَلَا تَذَرُنَّ وَدّٗا وَلَا سُوَاعٗا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسۡرٗا
اور انہوں نے یہ کہا کہ : اپنے خداؤں اور بتوں سے دستبردار نہ ہونا، خصوصاً ’’ ود‘‘ و’’ سواع‘‘ و ’’ یغوث‘‘ و ’’ یعوق‘‘ و ’’ نسر ‘‘ کو نہ چھوڑنا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

24
71:24
وَقَدۡ أَضَلُّواْ كَثِيرٗاۖ وَلَا تَزِدِ ٱلظَّـٰلِمِينَ إِلَّا ضَلَٰلٗا
اور انہوں نے بہت سے گروہوں کو گمراہ کر دیا۔ خداوندا! ظالموں میں ضلالت اور گمراہی کے علاہ کسی چیز کا اضافہ نہ فرمانا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

25
71:25
مِّمَّا خَطِيٓـَٰٔتِهِمۡ أُغۡرِقُواْ فَأُدۡخِلُواْ نَارٗا فَلَمۡ يَجِدُواْ لَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ أَنصَارٗا
(ہاں !) آخر کار) وہ سب کے سب اپنے گناہوں کی وجہ سے غرق ہو گئے اور جہنم کی آگ میں داخل ہوئے اور انہیں اپنے لئے اللہ کے سوا اور کوئی یارومدد گار نہ ملا۔

تفسیر خدا کا لطف تجھ سے مدارات کرتا ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

جب نوحؑ نے سینکڑوں سال تک اپنی پوری پوری کوشش کر کے دیکھ لی اور وہ قوم ایک چھوٹے سے گروہ کے سوا، اسی طرح کفر، بت پرستی، گمراہی اور فساد پر ڈٹی رہی، تو وہ ان کی ہدایت سے مایوس ہو گئے اور بارگاہِ خدا کی طرف رخ کیا، اور ایک استدلالی مناجات کے ضمن میں خدا سے ان کے لیے عذاب کا تقاضا کیا، جیسا کہ زیر بحث آیت میں آیا۔ نوحؑ نے کہا: پروردگارا! انھوں نے میری نافرمانی کی اور ایسے شخص کی پیروی کی، جس کے مال اور اولاد نے خسارے کے سوا ان میں کسی چیز کا اضافہ نہیں کیا۔ (قَالَ نُوحٌ رَّبِّ إِنَّهُمْ عَصَوْنِي وَاتَّبَعُوا مَن لَّمْ يَزِدْهُ مَالُهُ وَوَلَدُهُ إِلَّا خَسَارًا)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس قوم کے رہبر ایسے لوگ ہیں، جن کا امتیاز مال و اولاد کی زیادتی ہے اور وہ مال و اولاد بھی ایسےجو فساد و خرابی کے سوا کسی کام نہیں آتے، نہ تو وہ مخلوق ہی کی خدمت کرتے ہیں اور نہ ہی خالق کے سامنے خضوع و خشوع کرتے ہیں اور یہ بکثرت وسائل و امکانات ان کے غرور و طغیان اور سرکشی کا سبب بن گئے ہیں۔ اگر ہم نوعِ بشر کی تاریخ کی طرف نگاہ کریں تو ہم دیکھیں گے کہ مختلف قوموں کے بہت سے رہبر اس قماش کے تھے، وہ ایسے لوگ تھے جن کا تنہا امتیاز، مالِ حرام جمع کرنا اور غیر صالح اولاد کو وجود میں لانا اور اس کے بعد سرکشی اور طغیان اور آخر میں اپنے افکار و نظریات، مستضعف اور کمزور لوگوں پر لادنا اور انھیں زنجیروں میں جکڑنا تھا۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "ان گمراہ راہبروں نے مکرِ عظیم کیا"۔(وَمَكَرُوا مَكْرًا كُبَّارًا)۔ "کبّار" جو "کبر" سے مبالغہ کا صیغہ ہے اور یہاں نکرہ کی صورت میں ذکر ہوا ہے۔ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انھوں نے لوگوں کو گمراہ کرنے اور نوحؑ کی دعوت کو قبول کرنے سے روکنے کے لیے بہت عظیم اور وسیع شیطانی منصوبے بنا رکھے تھے۔ لیکن وہ منصوبے کیا تھے، ٹھیک طور پر مشخص نہیں ہیں۔ احتمال یہ ہے کہ وہی بت پرستی کا مسئلہ ہو گا، کیونکہ بعض روایات کے مطابق، بت پرستی نوحؑ سے پہلے موجود نہیں تھی۔ بلکہ نوحؑ کی قوم نے ہی اسے ایجاد کیا تھا۔ اس مسئلہ کا سرچشمہ یہ تھا کہ آدمؑ اور نوحؑ کے درمیانی زمانہ میں کچھ ایسے نیک اور صالح افراد ہو گزرے تھے۔ جن سے لوگ اظہار محبت کیا کرتے تھے، شیطان (اور شیطان صفت انسانوں) نے لوگوں کے اس لگاؤ اور محبت سے سوءِ استفادہ کیا اور انھیں ان بزرگوں کے مجسمے بنانے، اور ان مجسموں کی عزت و احترام کرنے کا شوق دلایا۔ لیکن کچھ زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ بعد میں آنے والی نسلیں اس موضوع کے رابطہ تاریخی کو بھول گئیں اور انھوں نے خیال کیا کہ یہ مجسمے ایسے محترم موجودات ہیں۔ جن کی پرستش اور عبادت کرنا چاہیے اور اس طرح سے وہ بتوں کی پرستش میں سرگرم ہو گئے اور ظالم مستکبرین نے انھیں غفلت میں رکھ کر اس طریقے سے انھیں اپنی قید و بند میں لیا اور ایک عظیم مکر و فریب واقع ہوا۔ ہو سکتا ہے کے بعد والی آیت اس مطلب کی گواہ ہو، کیونکہ اس عظیم مکر کی طرف ایک اجمالی اشارہ کرنے کے بعد مزید کہتا ہے:" ان کے رؤسا نے کہا، اپنے خداؤں اور بتوں سے دستبردار نہ ہونا"۔ (وَقَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِـهَتَكُمْ)۔ اور خدائے یگانہ کے بارے میں نوحؑ کی ہرگز دعوت قبول نہ کرنا، وہ خدا جو نہ دکھائی ہی دیتا ہے اور نہ ہی ہاتھ کے ساتھ چھونے کے قابل ہے۔ انھوں نے خصوصیت کے ساتھ انھیں پانچ بتوں کے بارےمیں تاکید کی اور کہا: "ود"، "سواع"، "یغوث" و "یعوق" و "نسر" کو ہرگز نہ چھوڑنا اور نہ ان کے دامن کو چھوڑنا۔" (وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا)۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پانچ بت کچھ خاص امتیازات رکھتے تھے اور وہ گمراہ قوم ان کی طرف خاص طور پر متوجہ تھی اور اسی بناء پر ان کے فرصت طلب رہبر بھی ان کی عبادت پر تکیہ کرتے تھے۔ یہ بات کہ یہ پانچ بت کہاں سے آئے؟ اس سلسلہ میں گوناگوں روایات ہیں۔ ١- بعض نے یہ کہا کہ یہ پانچ نیک اور صالح افراد کے نام ہیں، جو نوحؑ سے پہلے دنیا میں گزرے ہیں۔ جب وہ دنیا سے چل بسے تو ابلیس کی تحریک پر لوگوں نے یادگار کے طور پر ان کے مجسمے بنا لیے اور ان کا احترام و عزت کرنے لگے اور آہستہ آستہ بت پرستی کی صورت اختیار کر لی۔ ٢- بعض نے یہ کہا ہے کہ یہ آدمؑ کے پانچ بیٹوں کے نام ہیں، ان میں جب کوئی دنیا سے جاتا تو اس کا مجسمہ یادگار کے طور پر بنا لیتے، لیکن کچھ عرصہ گزر جانے کے بعد یہ تعلقات فراموش ہو گئے اور نوحؑ کے زمانہ میں ان کی پرستش کی لہر دوڑ گئی۔ ۳- بعض کا کہنا یہ ہے کہ یہ ان بتوں ہی کے نام ہیں جو خود نوحؑ کے ہی زمانہ میں بنائے گئے تھے، اور یہ اس وجہ سے ہوا کہ نوحؑ لوگوں کو آدمؑ کی قبر کے گرد طواف کرنے سے روکتے تھے تو ایک گروہ نے ابلیس کی تحریک پر اس کے کچھ مجسمے بنا لیے اور ان کی پرستش میں مشغول ہو گئے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، تفسیر علی بن ابراہیم، تفسیر ابوالفتوح رازی اور دوسری تفاسیر (زیر بحث آیات کے ذیل میں))۔ اتفاقًا یہ پانچوں بت زمانہ جاہلیت کے عربوں کی طرف منتقل ہو گئے، پھر ہر قبیلہ نے ان بتوں میں سے ایک کو اپنے لیے انتخاب کر لیا، البتہ یہ بات بہت بعید نظر آتی ہے کہ خود وہ بت منتقل ہوئے ہوں بلکہ ظاہر یہ ہے کہ ان کے نام منتقل ہوئے۔ اور انھوں نے ان ناموں کے بت بنا لیے، لیکن بعض مفسرین نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ یہ پانچوں بُت طوفانِ نوح میں دفن ہو گئے تھے اور عربوں کے زمانہ جاہلیت میں شیطان نے انھیں باہر نکلا اور لوگوں کو ان کی پرستش کی دعوت دی۔ (بحوالہ: تفسیر قرطبی، جلد ١۰، ص٦۷۸۷)۔ پھر اس بارے میں کہ زمانہ جاہلیت کے عرب قبائل میں یہ بت کس طرح تقسیم ہوئے، اختلاف ہے۔ بعض نے کہا کہ "ود" بت تو "بنی کلب" کے قبیلہ سے متعلق تھا جو سرزمین "دومتہ الجندل" میں رہتا تھا (وہ شہر جو تبوک کے نزدیک ہے اور جسے موجودہ زمانہ میں "جوف" کہتے ہیں) اور "سواع" قبیلہ "ہزیل" سے جو سر زمین "رہاط" میں تھا، متعلق تھا،اور "یغوث" بت "بنی قطیف" کے قبیلہ سے یا "بنی مزحج" کے قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا اور "یعوق" قبیلہ ہمدان سے، اور "نسر"، "ذی الکلاح" قبیلہ سے جو حمیر کے قبائل میں سے تھا۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ١۰، ص ۳۶۴ و اعلام القرآن، ص ۶۳١)۔ مجموعی طور پر ان بتوں میں تین بت (یغوث، یعوق اور نسر) سر زمین یمن میں تھے، جو "ذونواس" کے یمن پر تسلط سے ختم ہو گئے اور اس علاقہ کے لوگ دینِ یہود سے وابستہ ہو گئے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ١۰، ص ۳۶۴ و اعلام القرآن، ص ۶۳١)۔ "واقدی" مشہور مؤرخ کہتا ہے کہ "ود" بت مرد کی شکل میں تھا اور "سواع" عورت کی شکل میں "یغوث" شیر کی صورت میں اور "یعوق" گھوڑے کی شکل اور "نسر" "باز" کی صورت میں (جو ایک معروف پرندہ ہے)۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ١۰، ص ۳۶۴)۔ البتہ زمانہ جاہلیت کے عربوں ـــــــــــــــ خصوصًا اہل مکہ ـــــــــــــــ کے پاس اور بت بھی تھے۔ جن میں سے ایک بت "جل" تھا، جو ان کے بتوں میں سے سب بڑا تھا اور وہ خانہ کعبہ کے اندر رکھا ہوا تھا۔ اس کا طول ١۸ ہاتھ تھا۔ بت "اساف" حجر اسود کے مقابل تھا، اور بت "نائلہ" (خانہ کعبہ کے جنوبی کونہ میں) رکن یمانی کے سامنے تھا اور اسی طرح "لات" و "عزی" بت تھے۔ اس کے بعد نوحؑ مزید کہتے ہیں: "خداوندا! ان گمراہ اور خود غرض رہبروں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا"۔(وَقَدْ أَضَلُّوا كَثِيرًا)۔ (تشریحی نوٹ: "اضلوا" کی ضمیر اس گروہ کے دولت مند رؤسا اور رہبروں کی طرف لوٹتی ہے اور قرینہ اس کا گزشتہ آیت ہے جو یہ کہتی ہے: وَقَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِـهَتَكُمْ "انھوں نے کہا اپنے بتوں کو نہ چھوڑو" لیکن بعض مفسرین نے یہ احتمال دیا ہے کہ یہ ضمیر بتوں کی طرف لوٹتی ہے کیونکہ وہی گمراہی کا سبب تھے (اور اسی کی مشابہ سورہ ابراہیم کی آیہ ۳٢ میں آیا ہے، لیکن جمع مذکر کی صورت میں نہیں بلکہ جمع مونث کی صورت میں) لیکن یہ احتمال زیرِ بحث آیت میں بہت بعید نظر آتا ہے)۔ "خداوندا! ظالموں میں ضلالت و گمراہی کے سوا کسی اور چیز کا اضافہ نہ کرنا"۔ (وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا ضَلَالًا)۔ ظالموں اور ستم گروں میں ضلالت و گمراہی کو زیادہ کرنے سے مراد وہی ان سے توفیق الٰہی کا سلب ہونا ہے جو ان کی بدبختی کا سبب بن جاتا ہے جسے وہ اپنے ظلم کی وجہ سے پاتے ہیں، کیونکہ خدا نور ایمان کو ان چھین لیتا ہے اور کفر کی تاریکی کو اس کا جانشین بنا دیتا ہے۔ یہ ان کے اعمال کی خاصیت ہے۔ جس کی خدا کی طرف نسبت دی گئی ہے، کیونکہ ہر موجود جو تاثیر بھی رکھتا ہے، وہ اسی کے حکم سے ہے (غور کیجیے)۔ جو کچھ بھی ہو، کفر و ایمان اور ہدایت و ضلالت کے سلسلہ میں وہ خداوند تعالٰی کی حکمت کے ساتھ کسی قسم کی منافات نہیں رکھتا اور اختیار کے سلب ہونے کا سبب نہیں بنتا۔ آخرکار آخری زیر بحث آیت میں، اس سلسلہ میں آخری بات خدا یہ فرماتا ہے: "وہ اپنے گناہوں کی وجہ سے غرق ہو گئے اور انھیں آگ میں داخل کر دیا گیا اور انھیں خدا کے سوا اور کوئی یار مددگار نہ ملا۔ جو اس خشم و غضب سے ان کا دفاع کرے"۔ (مِمَّا خَطِيئَاتِهِمْ أُغْرِقُوا فَأُدْخِلُوا نَارًا فَلَمْ يَجِدُوا لَهُم مِّن دُونِ اللَّهِ أَنصَارًا)۔ (تشریحی نوٹ: "مما خطیئاتھم" میں "من" یاء معیت یالام تعلیل کے معنی میں ہے اور "ما" یہاں زائد اور تاکید کے لیے ہے)۔ آیت کی تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ غرق ہونے کے بعد بلا فاصلہ آگ میں داخل کر دیے گئے اور یہ عجیب بات ہے کہ پانی میں سے فورًا آگ میں داخل ہوں، اور یہ آگ وہی برزخ والی آگ ہے، چونکہ قرآن مجید کی آیات کی گواہی کے مطابق ایک گروہ کو موت کے بعد عالمِ برزخ میں سزا ملے گی اور بعض روایات کے مطابق "قبر" یا تو جنت کے باغوں میں ایک باغ ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے۔ یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ اس سے مراد قیامت کی آگ ہے لیکن چونکہ قیامت کا وقوع قطعی اور یقینی ہے اور اس میں کوئی زیادہ فاصلہ نہیں ہے، لہذا فعل ماضی کی صورت میں ذکر ہوا ہے۔ (بحوالہ: "فخر رازی" نے اپنے تفسیر میں اسے ایک قول کے عنوان سے نقل کیا ہے۔ جلد ٢۰ ص ١۴۵)۔ بعض نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ اس سے مراد دنیا کی آگ ہے، کپتے ہیں کہ خدا کے حکم سے، طوفان کی انھیں موجوں کے درمیان ایک آگ ظاہر ہوئی اور انھیں نگل گئی۔ (بحوالہ: تفسیر "ابو الفتوح رازی" جلد ١١، ص ٢۸۰)۔

26
71:26
وَقَالَ نُوحٞ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى ٱلۡأَرۡضِ مِنَ ٱلۡكَٰفِرِينَ دَيَّارًا
نوح نے عرض کی: پروردگار! روئے زمین پر کفار میں سے کسی ایک کو بھی زندہ نہ رہنے دے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔

27
71:27
إِنَّكَ إِن تَذَرۡهُمۡ يُضِلُّواْ عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوٓاْ إِلَّا فَاجِرٗا كَفَّارٗا
کیونکہ اگر تو انہیں رہنے دے گا۔ تو وہ تیرے بندوں کو گمراہ کر دیں گے اور ایک فاجرو کافر نسل کے سوا کچھ وجود میں نہیں لائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔

28
71:28
رَّبِّ ٱغۡفِرۡ لِي وَلِوَٰلِدَيَّ وَلِمَن دَخَلَ بَيۡتِيَ مُؤۡمِنٗا وَلِلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِۖ وَلَا تَزِدِ ٱلظَّـٰلِمِينَ إِلَّا تَبَارَۢا
پروردگار! مجھے بخش دے، اور اسی طرح میرے ماں باپ کو اور ان تمام لوگوں کو، جو میرے گھر میں ایمان کے ساتھ وارد ہوئے، اور تمام مومن مرد اور مومن عورتوں کو بخش دے، اور ظالموں میں ہلاکت کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ فرما۔

تفسیر اس فاسد و مفسد قوم کو چلے جانا چاہیے!

Tafsīr Nemūna · Vol. 11

یہ آیات اسی طرح سے، نوح کی گفتگو اور خدا کی بارگاہ میں قوم کی شکایت اور ان کے بارے میں بدعا اور نفرین کو جاری رکھے ہوئے ہیں، فرماتا ہے: "پروردگارا! کفار میں کسی کو روئے زمین پر زندہ نہ رہنے دے" (وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا)۔ یہ انھوں نے اس وقت کی جب وہ مکمل طور پر ان کی ہدایت سے مایوس ہو گئے تھے اور اپنی آخری کوشش ان کے ایمان لانے کے سلسلہ میں کر چکے تھے، لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلا، اور صرف تھوڑے سے لوگ ان پر ایمان لائے۔ "علی الارض" (صفحہ زمین پر) کی تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نوحؑ کی دعوت بھی عالمی اور جہانی تھی اور وہ طوفان اور عذاب بھی جو بعد میں آیا عالمی تھا۔ "دیار" (بر وزن سیار) "دار" کے مادہ سے ہے، اس شخص کے معنی میں ہے جو گھر میں رہائش رکھتا ہو: یہ لفظ عام طور پر نفی عموم کے مواررد میں استعمال ہوتا ہے، مثلاً کہا جاتا ہے (ما فی الدار دیار) (گھر میں کوئی نہیں رہتا)۔ (تشریحی نوٹ: بعض کا کہنا ہے کہ اصل میں "دیوار" (بر وزن حیوان) تھا، اس کے بعد "واؤ"، "یاء" میں بدل گئی، اور یاء کا یاء میں ادغام ہو گیا (البیان فی غرائب القرآن جلد ٦، ص ۴٦۵ و تفسیر فخر رازی) زیر بحث آیات کے ذیل میں ہیں)۔ اس کے بعد نوحؑ اپنی نفرین اور بددعا کرنے کے بارے میں استدلال کرتے ہیں اور مزید کہتے یں: "کیونکہ اگر تو انھیں چھوڑ دے گا تو وہ تیرے بندوں کو گمراہ کر دیں گے اور فجر و کافر نسل کے سوا اور کچھ وجود میں نہیں لائیں گے۔" (إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا)۔ یہ گفتگو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انبیاء کی نفرین و بددعا، جن میں نوحؑ بھی ہیں، غیض و غضب، انتقام جوئی اور کینہ پروری کی بناء پر نہیں ہوتی تھی، بلکہ وہ ایک منطقی حساب کی صورت میں ہوتی تھی اور نوحؑ کم حوصلہ افراد کی طرح نہیں تھے کہ تھوڑی سی بات کے لیے آپے سے باہر ہو جائیں اور نفرین و بددعا کرنے لگ جائیں، بلکہ آپ نے نو سو پچاس (٩٥٠) سال کی دعوت، صبر و شکیبائی اور خون دل پینے اور مکمل مایوسی کے بعد نفرین کے لیے زبان کھولی تھی۔ اس بارے میں کہ نوحؑ نے کیسے سمجھ لیا کہ اب یہ ایمان نہیں لائیں گے اور اس کے ساتھ وہ ان بندگانِ خدا کو اس ماحول میں رہتے تھے گمراہ کریں گے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ان کی آنے والی نسل بھی فاسد و مفسد ہو گی۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اس غیب پر اطلاع و آگاہی کی بناء پر تھا جو خدا نے انھیں دیا تھا۔ یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ نوحؑ نے اس مطلب کا وحی الٰہی سے استفادہ کیا تھا، جہاں فرماتا ہے: و اوحی الٰی نوح انہ لن یؤمن من قومک الامن قد اٰمن۔ نوحؑ کی طرف وحی کی گئی تعری قوم میں سے کوئی شخص سوائے ان کے جو ایمان لا چکے ہیں، ایمان نہیں لائیں گے" (سورہ ہود آیہ ۳٦)۔ (تشریحی نوٹ: اس معنی کی طرف بہت سی روایات میں اشارہ ہوا ہے۔ (نور الثقلین، جلد ٥، ص ۴٢۸))۔ لیکن یہ احتمال بھی قابلِ قبول ہے کہ نوحؑ نے، فطری عادت اور عمومی حساب سے اس حقیقت کو معلوم کر لیا تھا، کیونکہ وہ قوم جسے ساڑھے نو سو سال تک موثر ترین بیانات کے ساتھ تبلیغ کی گئی ہو، اور وہ پھر بھی ایمان نہ لائے ہوں، اس کی ہدایت کی امید نہ تھی اور چونکہ یہ کافر گروہ معاشرے میں قطعی اکثریت رکھتا تھا اور تمام وسائل و امکانات ان کے اختیار میں تھے۔ لہذا طبعاً وہ دوسروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے تھے اور اس قسم کی قوم کی آئندہ نسل قطعی طور پر فاسد اور خراب ہوتی، ان تینوں احتمالات کے درمیان جمع بھی ممکن ہے۔ "فاجر" اس شخص کے معنی میں ہے جو بُرے اور قبیح گناہ کا مرتکب ہوتا ہے اور "کفار"، "کفر" میں مبالغہ ہے، اس بناء پر ان دو الفاظ کے درمیان فرق یہ ہے کہ ان میں سے ایک عملی کاموں سے مربُوط ہے اور دوسرا اعتقادی پہلوؤں سے۔ ان آیات کے مجموعہ سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ خدا کے عذاب "حکمت" کی بنیاد پر ہوتا ہیں۔ وہ جمیعت جو فاسد و مفسد ہو اور ان کی آئیدہ آنے والی نسلیں بھی فساد و گمراہی کے خطرے سے دوچار ہوں، وہ خدا کی حکمت میں زندگی اور حیات کا حق نہیں رکھتیں، طوفان یا صاعقہ (بجلی) یا زلزلہ یا کوئی اور دوسری بلا نازل ہو گی اور انھیں صفحہ ہستی سے مٹا دے گی، جیسا کہ طوفانِ نوح نے زمین کو اس بُری قوم کے وجود کی گندگی سے پاک کر دیا۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ قانونِ الٰہی کسی خاص زمانہ اور مکان کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ ہمیں متوجہ رہنا چاہیے کہ اگر اس وقت بھی کوئی فاسد و مفسد قوم اور اس کی اولاد "فاجر"، "کفار" ہو تو انھیں بھی عذاب الٰہی کا منتظر رہنا چاہیے، کیونکہ ان امور میں کوئی تبعیض نہیں ہے اور یہ ایک سنت الٰہی ہے۔ "يُضِلُّوا عِبَادَكَ" (تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے) کی تعبر ممکن ہے اس چھوٹے سے مومنین کے گروہ کی طرف اشارہ ہو، جو اس طویل مدّت میں نوحؑ پر ایمان لایا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ عامۃالناس میں سے مستضعف لوگوں کی طرف اشارہ ہو جو گمراہ رہبروں کے دباؤ اور فشار سے ان کے دین و مذہب کی پیروی کرتے ہیں۔ آخر میں نوحؑ اپنے لیے اور ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے تھے اس طرح دعا کرتے ہیں: "پروردگارا! مھجے بخش دے، اور اسی طرح میرے ماں باپ کو اور ان تمام لوگوں کو، جو ایمان کے ساتھ میرے گھر میں داخل ہوئے تھے، اور تمام مومنین و مومنات کو بھی بخش دے اور ظالموں کے لیے ہلاکت کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ کر۔" (رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَن دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا تَبَارًا)۔ (تشریحی نوٹ: "تبار" ہلاکت کے معنی میں ہے اور "زبان اور خسارے" کے معنی میں بھی اس کی تفسیر ہوئی ہے)۔ یہ طلب مغفرت اس لیے ہے کہ نوحؑ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگرچہ میں نے صدہا سال مسلسل تبلیغ کی ہے، اور اس راہ میں ہر قسم کی تکلیف اور مصیبت جھیلی ہے، لیکن چونکہ ممکن ہے کہ اس مدّت میں مجھ سے کوئی ترک اولٰی سرزد ہو گیا ہو، تو میں اس کے بارے میں بھی عفو و بخشش کا تقاضا کرتا ہوں، اور تیری بارگاہ مقدس میں ہرگز خود کو بری قرار نہیں دیتا۔ اور "اولیاء اللہ" کی حالت اسی طرح ہے کہ وہ راہِ خدا میں ہر قسم کی زحمت و تکلیف اور سعی و کوشش کے بعد بھی اپنے آپ کو مقصر سمجھتے ہیں اور ہرگز غرور و تکبر اور خود کو بڑا سمجھنے میں گرفتار نہیں ہوتے۔ نوحؑ حقیقت میں چند افراد کے لیے طلبِ مغفرت کرتے ہیں۔ اول: اپنے لیے، کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی قصور یا ترک اولٰی ان سے سرزد ہو گیا ہو۔ دوم: اپنے ماں باپ کے لیے، ان کی زحمتوں کی قدردانی کے باعث اور حق شناسی کے پیش نظر۔ سوم: تمام ان لوگوں کے لیے جو ان پر ایمان لائے، اگرچہ وہ بہت تھوڑے تھے اور پھر وہ آپ کے ساتھ کشتی پر سوار ہوئے کہ وہ کشتی بھی نوحؑ کا گھر تھی۔ چہارم: تمام جہان اور طول تاریخ میں ایمان لانے والے مردوں اور عورتوں کے لیے اور یہاں سے اپنا رابطہ سارے عالم کے مومنین سے برقرار کر رہے ہیں۔ لیکن آخر میں پھر ظالموں کی نابودی کی تاکید کرتے ہیں، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اپنے ظلم کی بناء پر اسی قسم کے بارے عذاب کے مستحق ہیں۔

چند نکات نوحؑ پہلے اولوالعزم پیغمبر

قرآن مجید بہت سی آیات میں نوحؑ کے بارے میں گفتگو کرتا ہے اور مجموعی طور قرآن کی انتیس سورتوں میں اس عظیم پیغمبر کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے۔ اور ان کا نام ٤٣ مرتبہ قرآن میں آیا ہے۔ قرآن مجید نے ان کی زندگی کے مختلف حصوں کی باریک بینی کے ساتھ تفصیل بیان کی ہے ایسے حصے جو زیادہ تر تعلیم و تربیت اور پند و نصیحت حاصل کرنے کے پہلوؤں سے مربوط ہیں۔ مورخین و مفسرین نے لکھا ہے کہ نوحؑ کا نام "عبد الغفار" یا "عبدالملک" یا "عبد الاعلٰی" تھا اور "نوح" کا لقب انھیں اس لیے دیا گیا ہے، کیونکہ وہ سالہا سال اپنے اوپر یا اپنی قوم پر نوحہ گری کرتے رہے۔ آپ کے والد کا نام "لمک" یا "لامک" تھا۔ اور آپ کی عمر کی مدت میں اختلاف ہے۔ بعض روایات میں ١٤٩٠ اور بعض میں ٢٥٠٠ سال بیان کی گئی ہے اور ان کی قوم کے بارے میں بھی طولانی عمریں تقریبًا ٣٠٠ سال تک لکھی ہیں، جو بات مسلّم ہے وہ یہ ہے کہ آپ نے بہت طولانی عمر پائی ہے، اور قرآن کی صراحت کے مطابق آپ ٩٥٠ سال اپنی قوم کے درمیان رہے (اور تبیلغ میں مشغول رہے)۔ نوحؑ کے تین بیٹے تھے "حام"، "سام"، "یافث" اور مؤرخین کا نظریہ یہ ہے کہ کرّہ زمین کی اس وقت کی تمام نسل انسانی کی بازگشت انھیں تینوں فرزندوں کی طرف ہے۔ ایک گروہ "حامی" نسل ہے۔ جو افریقہ کے علاقہ میں رہتے ہیں۔دوسرا گروہ "سامی" نسل جو شرق اوسط اور مشرق قریب کے علاقوں میں رہتے ہیں اور "یافث" کی نسل کو چین کے سا کنین سمجھتے ہیں۔ اس بارے میں بھی، کہ نوحؑ طوفان کے کتنے سال زندہ رہے، اختلاف ہے، بعض نے ٥٠ سال لکھے ہیں اور بعض نے ٦٠ سال – یہود کے منابع (موجودہ تورات میں بھی نوح کی زندگی کے بارے میں تفصیلی بحث آئی ہے، جو کئی لحاظ سے قرآن سے مختلف ہے، اور تورات کی تحریف کی نشانیوں میں سے ہے۔ یہ مباحث تورات کے سفر "تکوین" میں فصل ٦، ٧، ٨، ٩ اور ١٠ میں بیان ہوئے ہیں۔ نوحؑ کا ایک اور بیٹا بھی تھا جس کا نام "کنعان" تھا۔ جس نے باپ سے اختلاف کیا، یہاں تک کہ کشتی نجات میں ان کے ساتھ بیٹھنے کے لیے بھی تیار نہ ہوا، اس نے بُرے لوگوں کے ساتھ صحبت رکھی اور خاندانِ نبوت کی قدر و قیمت کو ضائع کر دیا اور قرآن کی صراحت کے مطابق آخرکار وہ بھی باقی کفار کے مانند طوفان میں غرق ہو گیا۔ اس بارے میں کہ اس طویل مُدّت میں کتنے افراد نوحؑ پر ایمان لائے، اور ان کے ساتھ کشتی میں سوار ہوئے، اس میں بھی اختلاف ہے بعض نے ٨٠ اور بعض نے ٧ افراد لکھے ہیں۔ نوحؑ کی داستان عربی اور فارسی ادبیات میں بہت زیادہ بیان ہوئی ہے، اور زیادہ تر طوفان اور آپ کی کشتی نجات پر تکیہ ہوا ہے۔ (بحوالہ: "اعلام القرآن"، "فرہنگ قصص قرآن"، "دائرۃ المعارف و ھحزا" مادہ "نوح" و "بحار الانوار، جلد")۔ نوحؑ صبر و شکر اور استقامت کی ایک داستان تھے، اور محققین کا کہنا ہے کہ وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے انسانوں کی ہدایت کے لیے وحی منطق کے عقل و استدلال کی منطق سے بھی مدد لی (جیسا کہ اس سورہ کی آیات سے اچھی طرح ظاہر ہے) اور اسی بناء پر آپ اس جہان کے تمام خدا پرستوں پر ایک عظیم حق رکھتے تھے۔ ہم نوحؑ کے حالات کی تشریح کو امام باقرؑ کی ایک حدیث پر ختم کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: نوحؑ غروبِ آفتاب اور صبح کے وقت یہ دعا اور مناجات پڑھا کرتے تھے۔ 'امسیت اشھد انہ ما امسی بی من نعمۃ فی دین او دنیا فانھا من اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الحمد بھا علی و الشکر کثیرًا فانزل اللہ، "انہ کان عبدًا شکورًا" فھذا کان شکرہ؛ میں نے اس حالت میں شام کی ہے کہ اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ دین و دنیا کی جو نعمت میں رکھتا ہوں، وہ اس خدائے یگانہ کی طرف سے ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور میں اس کی نعمتوں پر اس کی حمد و ثناء کرتا ہوں اور اس کا بہت بہت شکر کرتا ہوں۔ اسی بناء پر خدا نے قرآن میں یہ نازل فرمایا ہے کہ وہ شکر گزار بندہ تھا اور نوحؑ کا شکر اسی طرح کا تھا۔ (بحوالہ: بحار الانوار، جلد ١١، ص ٢٩١ حدیث ٣)۔ ۲۔ "رب اغفرلی والوالدی و لمن دخل بیتی مؤمنًا" پروردگارا! مجھے میرے ماں باپ کو اور جو شحص میرے گھر میں مومن وارد ہو بخش دے"۔ کے جملہ میں لفظ "بیت" کے معنی میں اختلاف ہے مجموعی طور پر اس کے چار معانی بیان کیے گئے ہیں۔ بعض نے اسے شخصی اور ذاتی گھر کے معنی میں لیا ہے۔ بعض مسجد کے معنی میں لیتے ہیں۔ بعض کشتی کے معنی میں لیتے ہیں اور بعض ان کے دین و آئین و شریعت کے معنی میں جانتے ہیں۔ ایک حدیث میں امام صادقؑ سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: "یہاں بیت سے مراد ولایت ہے، جو شخص ولایت میں داخل ہوا وہ انبیاء کے میں داخل ہوا ہے"۔ "من دخل فی الولایۃ دخل فی بیت الانبیآء علیھم السلام" خداوندا! ہمیں توفیق مرحمت فرما کہ ہم ولایت آئمہ اہل بیت کو قبول کرنے کے طریق سے بیت انبیاء میں داخل ہوں۔ پروردگارا! ہمیں ایسی استقامت عطا فرما کہ ہم نوحؑ ایسے بزرگ انبیاء کے مانند تیرے دین و آئین کی طرف دعوت کی راہ میں خستہ نہ ہوں، اور ہرگز تھک ہار کر نہ بیٹھ جائیں۔ بارالٰہا! جس وقت تیرے خشم و غضب کا طوفان آئے تو ہمیں اپنے لطف و رحمت کی نجات کی کشتی کے ذریعہ رہائی بخش دے۔ آمین یا رب العالمیبن

end of chapter