An-Nur
سوره نور
یہ سوره مدینہ میں نازل ہوئی اس میں ۶۴ آیات ہیں
سورہٴ نور کی فضیلت
رسول اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم فرماتے ہیں: من قرء سورة نور اعطیٰ من الاجر عشر حسنات بعدد کل موٴمنة و موٴمن فیما مضیٰ و فیما بقیٰ۔ جو شخص سورہٴ نور کو پڑھے (اور اس کے مطالب و احکام کو اپنی زندگی پر منطبق کرے) الله اُسے تمام گزشتہ و آئندہ مومنات اور مومنین کی تعداد کے برابر دس نیکیاں بطور اجر دے گا۔ ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا: حصّنوا اموالکم و فروجکم بتلاوة سورة نور و حصّنو بھا نسائکم، فان من ادمن قرائتھا فی کل یوم او فی کلی لیلة لم یزن احد من اھل بیتہ ابداً حتیٰ یموت۔ سورہٴ نور کی تلاوت کے ذریعے اپنے مال تلف ہونے سے بچاوٴ، اپنا دامن بےعفتی سے آلودہ ہونے سے محفوظ رکھو اور اپنی خواتین کو اس کے احکام کے زیرِ سایہ انحرافات سے بچاؤ کیونکہ جو شخص ہر روز یا ہر شب ہمیشہ اس کی تلاوت کرے گا اس کے خاندان میں سے کوئی شخص آخر عمر تک خلافِ عفّت کام میں مبتلا نہیں ہو گا (بحوالہ: نورالثقلین، ج۳، ص۲۶۸ بحوالہٴ "ثواب الاعمال" از شیخ صدوق اور تفسیر مجمع البیان اسی سورت کے ذیل میں)۔ اگر ہم سورہٴ نور کے مضامین پر توجہ رکھیں تو دیکھیں گے کہ وہ طرح طرح کے موٴثر طریقوں سے راہِ عفّت سے انحراف کے عوامل کے خلاف جہاد کرتی ہے۔ اسی وجہ سے مندرجہ بالا حدیث کا اصلی نکتہ اور عملی مفہوم واضح ہوتا ہے۔
سورہٴ نور کے مضامین
اس سورت کو درحقیقت پاکدامنی و عفّت کی اور جنسی بےراہ رویوں کے خلاف جہاد کی سورت قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ اس میں معاشرے کو جنسی انحرافات سے پاک رکھنے کے مختلف طریقوں کے بارے میں، مختلف حوالوں سے گفتگو کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں اس کے مضامین کو مندرجہ ذیل مختلف مراحل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: پہلا مرحلہ: مرحلہ زانی عورت اور زانی مرد کی سزا کے بارے میں ہے۔ یہ سزا اس سورت کی دوسری آیت میں بڑی قطعی اور حتمی صورت میں ذکر کی گئی ہے۔ دوسرا مرحلہ: اس مرحلے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس شدید حد کو جاری کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے اسلام کے قضائی قوانین اور اصولوں کے لحاظ سے اس سزا کے اجراء کے لئے نہایت سخت شرائط معین کی گئی ہیں۔ کوئی غیر مرد کسی عورت پر زنا کا الزام لگائے تو اُس کے لئے چار گواہوں کی شرط ہے اور اگر مرد اپنی بیوی پر الزام لگائے تو اس کے لئے "لعان" کا قانون ہے جس کی تفصیل عنقریب بیان کی جائے گی۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص کسی پر زنا کا الزام لگائے اور اسلامی عدالت میں اپنے اس الزام کو ثابت نہ کر سکے تو خود اسے سخت سزا بھگتنا پڑے گی (اور یہ سزا حدّ زنا کے پانچ میں سے چار حصّوں کے برابر ہو گی) یہ اس لئے ہے تاکہ کوئی شخص یہ نہ سمجھے کسیی پر الزام لگا کر اسے آسانی سے اسلامی سزا دلوا سکتا ہے بلکہ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اگر وہ ثابت نہ کر سکا تو اس کے برعکس خود وہ مستوجب سزا ہو گا۔ اسی مناسبت سے "افک" کا مشہور واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ رسول الله صلی علیہ و آلہ وسلّم کی ایک بیوی پر تہمت کا ہے قرآن نے اس واقعے کو بڑی شدّت سے ذکر کیا ہے تاکہ یہ امر پوری طرح واضح ہو جائے کہ پاکباز افراد پر الزام لگانا اور اسے شہرت دینا کتنا بڑا گناہ ہے۔ تیسرا مرحلہ: اس مرحلے میں واضح کیا گیا ہے کہ اسلام صرف گناہگار کو سزا دینے پر قناعت نہیں کر لیتا بلکہ جنسی بےراہ روی کو روکنے کے لئے کئی طرح کے اقدامات کرتا ہے۔ مردوں اور عورتوں کو دونوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے آنکھیں نہ لڑائیں۔ اسی سلسلے میں عورتوں کے لئے پردے کا تفصیلی حکم بیان کیا گیا ہے کیونکہ باہم آنکھیں لڑانا اور بےپردگی جنسی انحرافات کے اہم عامل ہیں اور جب تک ان دونوں کا خاتمہ نہ ہو جائے بےحیائی اور بےعفتی معاشرے سے ختم نہیں ہو سکتی۔ چوتھا مرحلہ: اس مرحلے میں عفت کے منافی اعمال سے بچنے کے لئے شادی بیاہ کا آسان کام صادر کیا گیا ہے تاکہ شرعی طریقے سے انسان کی جنسی ضروریات پوری کر کے اسے غیر شرعی طریقوں سے بچایا جائے۔ پانچواں مرحلہ: اس مرحلے میں اسی حوالے سے کچھ آدابِ معاشرت بیان کئے گئے ہیں اور ماں باپ کے حوالے سے اولاد کے لئے کچھ تربیتی اصول بیان کئے گئے ہیں۔ خاص اوقات میں کہ جب احتمال ہوتا ہے کہ میاں بیوی باہم خلوت میں ہوں گے، اولاد سے کہا گیا ہے کہ اجازت کے بغیر ان کے کمرے میں داخل نہ ہوں تاکہ ان کی فکر انحرافات کا شکار نہ ہو جائے۔ اسی مناسبت سے خانگی زندگی کے بارے میں کچھ دیگر آداب کا بھی ذکر ہے اگرچہ وہ جنسی مسائل سے مربوط نہیں ہیں۔ چھٹا مرحلہ: اس مرحلے میں توحید اور مبداء و معاد سے متعلق کچھ مسائل کا ذکر ہے نیز رسول اللهؐ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا ذکر ہے کیونکہ تمام عملی و اخلاقی احکام کی جڑ یہی مبداء و معاد اور حقانیتِ نبوت پر ایمان ہے اور جب تک یہ جڑ نہ ہو شاخ و برگ اور پھل و پھول پیدا نہیں ہو سکتے۔ ضمنی طور پر ایمان و عملِ صالح سے مربوط گفتگو کی مناسبت سے نیک کردار مومنین کی عالمی حکومت کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے اور اسلام کے کچھ دیگر احکام کی طرف بھی اشارہ ہوا ہے۔ اس طرح سے یہ سورت مجموعی طور پر ایک جامع اور کامل پرورگرام پر مشتمل ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 3 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر زانی مرد اور زانی عورت کی سزا
Tafsīr Nemūna · Vol. 4ہم جانتے ہیں کہ آیتِ نور کی اس سورت کا نام سورہٴ نور ہے اور یہ آیت نہایت جاذبِ نظر ہے لیکن اس سے قطع نظر اس سورہ کے مضامین و مطالب ایک خاص نورانیت کے حامل ہیں۔ یہ سورت انسانوں کو، انسان کے خاندان کو اور عورت و مرد کو پاکدامنی کا نور عطا کرتی ہے۔ زبان و کلام کو تقویٰ و صداقت کا نور بخشتی ہے۔ دلوں کو نورِ خدا پرستی اور قیامت پر ایمان سے منور کرتی ہے اور پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کی دعوت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا نورانی درس دیتی ہے۔ اس سورت کی پہلی آیت درحقیقت اس کے تمام مطالب کی طرف اجمالی اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے۔ یہ وہ سورت ہے جسے ہم نے نازل کیا اور واجب کیا اور اس میں ہم نے آیات بیّنات نازل کیں کہ شاید تم نصیحت حاصل کرو (سُورَةٌ اَنزَلْنَاھَا وَفَرَضْنَاھَا وَاَنزَلْنَا فِیھَا آیَاتٍ بَیِّنَاتٍ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُونَ)۔ "سورہ "سور" کے مادہ سے کسی عمارت کی بلندی کے معنی میں ہے۔ بعد ازاں یہ ان بلند دیواروں کے معنی میں استعمال ہونے لگا جو گزشتہ زمانے میں حملہ آوروں سے محفوظ رہنے کے لئے بنائی جاتی تھیں۔ یہ دیواریں چونکہ شہر کو بیرونی علاقے سے جدا کر دیتی تھیں اس لئے رفتہ رفتہ یہ لفظ کسی چیز کے ٹکڑے اور حصّے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ اسی طرح قرآن کے ایک ایسے ٹکڑے اور حصّے کو بھی "سورہ" کہا جاتا ہے کہ جو باقی ماندہ سے جدا ہوتا ہے۔ بعض اہل لغت نے بھی کہا ہے کہ "سورہ" خوبصورت اور بلند عمارت کو کہا جاتا ہے اور ایک عظیم عمارت کے مختلف حصّوں کو بھی "سورہ" کہتے ہیں۔ اسی بنا پر قرآن کے مختلف حصّوں کو جو ایک دوسرے سے جدا ہیں، پر اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے۔ (بحوالہ: لسان العرب، ج۴، مادہ "سور")۔ بہرحال، یہ تعبیر اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اس سورت کے تمام مطالب بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ وہ الله کی طرف سے نازل ہوئے ہیں چاہے وہ عقائد ہوں، آدابِ معاشرت ہوں یا احکام ہوں۔ خصوصاً یہاں لفظ "فَرَضْنَاھَا" (ہم نے اسے فرض قرار دیا ہے) استعمال کیا گیا ہے اور "فرض" کا معنیٰ یقین اور "قطع" ہے۔ اس لفظ سے بھی مذکورہ امر پر تاکید ہوتی ہے۔ "آیَاتٍ بَیِّنَاتٍ" کی تعبیر ہو سکتا ہے توحید، مبداء و معاد اور نبوّت جیسے حقائق کی طرف اشارہ ہو کہ جن کا ذکر اس سورت میں آیا ہے جبکہ "فرضنا" اس احکام و قوانین کی طرف اشارہ ہے کہ جو اس سورت بیان کئے گئے ہیں۔ بالفاظ دیگر ایک عقائد کی طرف اشارہ کرتا ہے اور دوسرا احکام کی طرف۔ "لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُونَ" (شاید تم نصیحت حاصل کرو) ___ یہ جملہ ایک بار پھر اس حقیقت کا ترجمان ہے کہ اسلام کے تمام سچّے عقائد اور عملی پروگراموں کی جڑ انسانی فطرت کے اندر موجود ہے یہی وجہ ہے کہ ا ن کا ذکر ایک قسم کا "تذکر" اور یاد دہانی ہے۔ اس عمومی اور کلّی بیان کے بعد زانی عورت اور زانی مرد کے بارے میں پہلا قطعی اور حتمی قانون بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: زانی عورت اور زانی مرد میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاوٴ (الزَّانِیَةُ وَالزَّانِی فَاجْلِدُوا کُلَّ وَاحِدٍ مِنْھُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ)۔ مزید تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے: اس خدائی حد کا اجراء کرتے ہوئے تمھیں ہرگز ترس نہیں آنا چاہیے، اگر تم الله اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو (وَلَاتَاْخُذْکُمْ بِھِمَا رَاْفَةٌ فِی دِینِ اللهِ إِنْ کُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِر)۔ اس خدائی سزا سے مکمل نتیجہ حاصل کرنے کے لئے آیت کے اختتام پر ایک اور نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: مومنین کا ایک گروہ حد جاری ہوتے وقت مشاہدے کے لئے موجود ہونا چاہیے (وَلْیَشْھَدْ عَذَابَھُمَا طَائِفَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ)۔ یہ آیت دراصل ان تین احکام پر مشتمل ہے: (۱) زانی عورتوں اور زانی مردوں کی سزا (زنا سے مراد اس مرد اور عورت کا آپس میں جنسی ملاپ ہے کہ جو آپس میں شادی شدہ نہیں کہ جس کے لئے کوئی شرعی جواز موجود نہیں)۔ (۲) اس امر کی تاکید کہ اس سزا کے کے اجراء کے لئے ہرگز ترس اور بےمحل نرمی کے احساسات نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ ایسے ترس اور نرمی کا نتیجہ معاشرے کی آلودگی اور ترویجِ گناہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ البتہ ایسے احساسات کو ختم کرنے کے لئے قرآن نے الله اور روزِ جزا پر ایمان کا ذکر کیا ہے کیونکہ مبداء و معاد پر ایمان کی علامت یہ ہے کہ انسان الله کے فرمان کے سامنے کاملاً سر تسلیم خم کر لے۔ خدائے حکیم پر ایمان لانا اس امر کا سبب بنتا ہے کہ انسان سمجھتا ہے کہ اس کے ہر حکم کا کوئی فلسفہ ہے اور اس میں کوئی حکمت پوشیدہ ہے اور وہ بلاوجہ نہیں ہے جبکہ معاد پر ایمان رکھنا سبب بنتا ہے کہ انسان کے اندر یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ مجھے اپنی غلطیوں کا جواب دینا ہو گا۔ اس سلسلے میں رسول اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کی ایک عمدہ حدیث نقل کی گئی ہے اس کی طرف توجہ ضروری ہے۔ آپؐ فرماتے ہیں: یوٴتی بوال نقص من الحد سوطاً فیقال لہ لم فعلت ذاک؟ فیقول: رحمة لعبادک، فیقال لہ: انت ارحم بھم منّی؟ فیوٴمر بہ الی النّار، ویوٴتی بمن زاد سوطاً، فیقال لہ: لم فعلت ذٰلک؟ فیقول: لینتھوا عن معاصیک! فیقول: انت احکم بہ منّی؟ فیوٴمر بہ الی النّار روزِ قیامت اس حاکم اور قاضی کو جس نے کسی خدائی حد میں سے کم کیا ہو گا میدانِ محشر میں پیش کیا جائے گا اور اُس سے کہا جائے گا: تو نے ایسا کیوں کیا؟ وہ کہے گا: تیرے بندوں پر رحیم اور مہربانی کرتے ہوئے۔ پروردگار اُس سے کہے گا: کیا تو اُن کے لئے مجھ سے زیادہ مہربان تھا؟ اس کے ساتھ ہی حکم ہو گا کہ اسے آتشِ دوزخ میں ڈال دو۔ اس کے بعد ایک اور کو لایا جائے گا جس نے خدائی حد سے ایک تازیانہ زیادہ کیا ہو گا۔ اس سے کہا جائے گا: تو نے ایسا کیوں کیا؟ وہ جواب میں کہے گا: تاکہ تیرے بندے تیری نافرمانی سے رُک جائیں۔ الله فرمائے گا: کیا تو مجھ سے زیادہ آگاہ اور حکیم تھا؟ پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے بھی آتش جہنم میں لے جاؤ۔ (بحوالہ: تفسیر کبیر، از فخر الدین رازی، ج۲۳، ص۱۴۸)۔ (۳) تیسرا حکم یہ ہے کہ حد جاری کرتے ہوئے کچھ مومنین موجود ہوں کیونکہ اس سزا کا صرف یہ مقصد نہیں کہ گنہگار کو عبرت حاصل ہو بلکہ مقصد یہ ہے کہ اس کی سزا دوسروں کے لئے بھی درس عبرت ہو۔ انسانی معاشرے کی تشکیل اور بناوٹ سے یہ بات عیاں ہے کہ اخلاقی برائیاں صرف ایک شخص ہی میں نہیں رہتیں بلکہ معاشرے کی طرف بھی سرایت کرتی ہیں لہٰذا معاشرے کی تطہیر کے لئے ضروری ہے کہ جس طرح کا گناہ برملا ہوا ہے سزا بھی برملا ہو۔ اس گفتگو سے اس سوال کا جواب بھی مل جاتا ہے کہ اسلام ایک شخص کی عزّت دوسروں کے سامنے برباد ہونے کی اجازت کیوں دیتا ہے کیونکہ جب تک گناہ واضح نہ ہو اور مسئلہ اسلامی عدالت تک نہ پہنچے الله کہ جو "ستار العیوب" ہے پردہ دری پر راضی میں ہے لیکن جرم ثابت ہو جانے، راز کھل جانے، معاشرے کے آلودہ ہو جانے اور گناہ کو معمولی چیز سمجھے جانے کے بعد سزا اسی صورت میں ملنا چاہیے کہ گناہ کے منفی اثرات مٹ جائیں اور گناہ کی بڑائی کا احساس اسی طرح لوٹ آئے۔ اصولی طور پر ایک صحیح و سالم معاشرے میں قانون کی خلاف ورزی کو بہت اہم سمجھا جانا چاہیے۔ مسلّم ہے کہ اگر خلاف ورزی کا تکرار ہو تو اس کی اہمیت ختم ہو جائے گی اور اس کی اہمت کا احساس بھی تبھی اجاگر ہو گا اگر خلاف ورزی کرنے والوں کو کھلے بندوں سزا دی جائے۔ یہ بات بھی ملحوظِ نظر رہے کہ بعض لوگوں کی نظر میں بدنی سزا سے زیادہ اہم ان کی حیثیت و آبرو ہے اور سزا کا کھلے بندوں ہونا ہی ان کی سرکش ہوا و ہوس کے راستے میں بند باندھ دے گا۔ زیرِ بحث آیت میں چونکہ زانی عورت اور زانی مرد کے بارے میں گفتگو کی جا رہی ہے اس لئے اسی مناسبت سے ایک سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ایسی عورت سے شادی کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے۔ تیسری آیت میں اس سوال کا جواب دیا جا رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: زانی مرد سوائے زانیہ مشرک عورت کے شادی نہیں کرتا جیسا کہ زانی عورت سوائے زانی یا مشرک مرد کے کسی سے بیاہ نہیں کرتی (الزَّانِی لَایَنکِحُ إلاَّ زَانِیَةً اَوْ مُشْرِکَةً وَالزَّانِیَةُ لَایَنکِحُھَا إِلاَّ زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ)۔ اور یہ کام مومنین پر حرام کیا گیا ہے (وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ)۔ یہ آیت ایک حکم الٰہی بیان کرتی ہے یا یہ ایک خارجی معاملے کی خبر ہے۔ اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض کا نظریہ ہے کہ یہ آیت صرف ایک عینی حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ آلودہ دامن افراد ہمیشہ ناپاک افراد کے پیچھے ہی جاتے ہیں اور بقولے ؏ کند ہم جنس باہم جنس پرواز لیکن باایمان اور پاکباز افراد ہرگز آلودہ دامن اور ناپاک افراد کو جیون ساتھی بنانے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور انھیں اپنے اوپر حرام قرار دے لیتے ہیں۔ آیت کا ظاہری مفہوم اسی تفسیر کا شاہد ہے کیونکہ آیت "جملہ خبریہ" کی صورت میں ہے۔ البتہ بعض دیگر مفسرین کا خیال ہے کہ یہ آیت ایک خدائی اور شرعی حکم بیان کر رہی ہے اور خصوصیت سے اس کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان زانی عورتوں اور مردوں سے شادی بیاہ سے اجتناب کریں کیونکہ جسمانی بیماریوں کی طرح عموماً اخلاقی بیماریاں بھی متعدی ہوتی ہیں اور ایک سے دوسرے میں سرایت کر جاتی ہیں جبکہ اس سے قطع نظر ایسے رشتے پاکدامن افراد کے لئے ننگ و عار کا بھی باعث ہیں۔ علاوہ ازیں ایسی اولاد جو مشکوک اور داغدار دامنوں میں پرورش پائے اس کا مستقبل محفوظ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس بناء پر اسلام نے ایسے رشتوں سے منع کیا ہے۔ اس تفسیر کے لئے یہ جملہ شاہد ہے: "وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ" اس میں حرام قرار دیے جانے کی تعبیر موجود ہے۔ اس تفسیر کے لئے دوسرا شاہد وہ بہت سی روایات ہیں جو اس سلسلے میں پیغمبر اسلامؐ اور آئمہ معصومین (علیه السلام) سے ہم تک پہنچی ہیں۔ ان کے مطابق یہ آیت ایک حکم بیان کر رہی ہے یہاں تک کہ بعض مفسرین نے اس آیت کے لئے یہ شان نزول بھی لکھی ہے: امّ نہرول دورِ جاہلیت میں ایک مشہور بدکار عورت تھی یہاں تک کہ اُس نے اپنی علامت اور ہیجان کے طور پر اپنے گھر کے دروازے پر ایک جھنڈا بھی گاڑ رکھا تھا۔ ایک مسلمان نے اُس سے شادی کرنے کے لئے رسول اللهؐ سے اجازت چاہی تو یہ آیت نازل ہوئی اور اس میں اس کے تقاضے کا جواب دیا گیا۔ (بحوالہ: مجمع البیان زیرِ بحث آیت کے ذیل میں نیز تفسیر قرطبی میں اسی آیت کے ذیل میں یہ حدیث نقل کی گئی ہے)۔ ایک اور حدیث امام باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ: یہ آیت ان مردوں اور عورتوں کے بارے میں ہے کہ جو رسول اللهؐ کے زمانے میں زنا سے آلودہ تھے۔ الله نے مسلمانوں کو ان سے شادی بیاہ کرنے سے منع کیا نیز یہ حکم آج بھی باقی ہے کہ جو شخص اس عمل کی انجام دہی میں مشہور ہو اس پر الله کی حد جاری ہونا چاہیے اس سے اس وقت تک شادی نہیں ہونا چاہیے جب تک اس کی توبہ ثابت نہ ہو جائے۔ (بحوالہ: مجمع البیان زیرِ بحث آیت کے ذیل میں)۔ اس نکتے کی یاد دہانی بھی ضروری ہے کہ بہت سے احکام "جملہ خبریہ" کی صورت میں بیان ہوئے ہیں اور ضروری نہیں کہ احکام الٰہی ہمیشہ "امر" اور "نہی" کے جملوں کی صورت میں ہوں۔ ضمناً توجہ رہے کہ مشرکین کا زانیوں پر عطف مطلب کی اہمیت کو واضح کرنے کے لئے ہے کیونکہ بعض روایات میں بھی آیا ہے کہ زانی جب اس کام کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ ایمان سے دُور سے ہوتا ہے۔ رسول الله صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کا ارشاد گرامی ہے: لایزن الزانی حین وھو موٴمن ولایسرق السارق حین یسرق وھو موٴمن فانّہ اذا فعل ذلک خلع عنہ الایمان کخلع القمیص۔ جب کوئی زانی اس فعل کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا اور اسی طرح جب کوئی چور چوری کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا کیونکہ اس فعل کے ارتکاب کے وقت اس کے سینے سے ایمان نکال لیا جاتا ہے جیسے لباس بدن سے اتار لیا جاتا ہے۔ (بحوالہ: اصول کافی، ج۲، ص۲۶ (مطبعہ اسلامیہ ۱۳۸۸ھ (جیسا کہ تفسیر نورالثقلین، ج۳، ص۵۷۱ پر درج ہے))۔
چند اہم نکات: ۱۔ وہ مواقع جہاں زانی کی سزا ”موت“ ہے:
مذکورہ بالا آیات میں زنا کی حد سے متعلق ایک عام حکم ہے۔ زنا کے بارے میں بعض استثنائی احکام بھی ہیں مثلاً شادی شدہ عورت یا مرد کا زنا کرنا ثابت ہو جانے کی صورت میں اس کی سزا "موت" ہے۔ محصن یا شادی شدہ مرد سے مراد یہ ہے کہ وہ عورت رکھتا ہو اور عورت سے قربت اس کے اختیار میں بھی ہو۔ محصنہ یا شادی شدہ عورت سے مراد وہ عورت ہے جس کا مرد اس کے پاس رہتا ہو۔ جب بھی کسی کے لئے جنسی تسکین کی شرعی اور قانونی سہولت موجود ہو اگر وہ زنا کا مرتکب ہو تو اس کو سزائے موت دی جائے گی۔ اس حکم کے نفاذ کی جملہ شرائط اور تفصیلات فقہی کتب میں دیکھی جا سکتی ہیں اس کے علاوہ اپنی محرم اور دوسری عورتوں کے ساتھ زنا کی سزا بھی موت، ہے اسی طرح زنا بالجبر کی سزا بھی موت ہے۔ البتہ بعض حالات ایسے بھی ہیں جن میں کوڑے، جلاوطنی اور دوسری سزاوٴں کا حکم سنایا جاتا ہے۔ ان کی تفصیلات فقہی کتب دیکھی جا سکتی ہیں۔
۲۔ زانی عورت کا ذکر مرد سے پہلے کیوں؟
اس میں شک نہیں کہ فحاشی اور بےحیائی ہر شخص کے لئے باعث ذلت و رسوائی ہے مگر عورتوں کی طرف سے اس قبیح فعل کا ارتکاب زیادہ ذلت آمیز ہے کیونکہ وہ حیاء، شرم اور پردہ داری کی زیادہ حامل ہیں اور باوجود اس کے ان کا دامن عفت کو چاک کر دینا شدید بغاوت و سرکشی کی علامت ہے۔ اس کے علاوہ اس فعل کا انجام اگرچہ دونوں کے لئے بڑا ہے مگر عورتوں کے لئے زیادہ رسوا کن اور عبرتناک ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ زنا کے سلسلے میں اکثر تحریک انہی کی طرف سے اور اکثر مواقع پر اس کا اصلی محرک وہی ہوتی ہیں یہ اسباب مجموعی طور پر اس آیت میں مرد سے پہلے عورت کے ذکر کا سبب بنے ہیں۔ مگر صاحبان ایمان اور پاک دامن خواتین و حضرات کا معاملہ ان سے بالکل الگ تھلگ ہے۔
۳۔ سزا لوگوں کی موجودگی میں یوں؟
زیرِ بحث آیت کہ جو امر کی صورت میں ہے حد جاری ہوتے وقت کچھ مومنین کو موجودگی کو واجب قرار دیتی ہے لیکن کہے بغیر واضح ہے کہ قرآن نے سزا کے لئے اسے شرط قرار نہیں دیا کہ سزا عام لوگوں کے سامنے ہو بلکہ حالات اور مصلحت کے لحاظ سے تین یا اس سے زیادہ افراد کی موجودگی کافی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ قاضی اس امر کا فیصلہ کرے کہ حد جاری کرتے ہوئے کتنے افراد کی موجودگی ضروری ہے۔ (تشریحی نوٹ: بعض فقہاء کے نزدیک اجزائے حد کے وقت کچھ مومنین کا موجود ہونا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے حالانکہ ظاہر امر وجوب ہے نہ کہ استجاب)۔ اس حکم کا فلسفہ بھی واضح ہے کیونکہ: اوّلاً: جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں یہ سزا سب کے لئے درس عبرت اور معاشرے کی تطہیر کا سبب ہے۔ ثانیاً: مجرم کی شرمساری اسے آئندہ ارتکاب جُرم سے روکے گی۔ ثالثاً: جب حد کچھ افراد کے سامنے جاری ہو گی تو قاضی یا حد جاری کرنے والوں پر کسی سازش، رشوت لینے، کوئی ترجیح دینے یا شکنجہ دینے وغیرہ کا االزام نہیں آ سکے گا۔ رابعاً: حد جاری ہوتے وقت کچھ لوگوں کی موجودگی افراط اور زیادتی سے اجتناب کا باعث ہو گی۔ خامساً: ممکن ہے حد جاری ہونے کے بعد مجرم قاضی اور حد جاری کرنے والوں کے بارے میں غلط پراپیگنڈا کرے اور جھوٹے الزامات لگائے۔ اگر اس موقع پر کچھ لوگ موجود ہوں تو وہ حقیقتِ حال واضح کر کے اس کی تخریبی سرگرمیوں کو روک سکیں گے۔ اس کے علاوہ اور بھی فوائد ہیں۔
۴۔ اس سے پہلے زانی کے لئے کیا سزا تھی؟
سورہء نساء کی آیت ۱۵ اور ۱۶ سے معلوم ہوتا ہے کہ سورہٴ نور میں زانی اور بدکار مردوں اور عورتوں کے بارے میں حکم نازل ہونے سے پہلے شادی شدہ عورتوں کے لئے اس گناہ پر عمر قید کی سزا تھی۔ ارشاد ہوتا ہے: فَاَمْسِکُوھُنَّ فِی الْبُیُوتِ حَتَّی یَتَوَفَّاھُنَّ الْمَوْتُ انھیں کمروں میں بند رکھو یہاں تک کہ انھی موت آ جائے۔ لیکن غیر شادی شدہ کی صورت میں سزا اذیت کی صورت میں تھی۔ فَآذُوھُمَا ان دونوں کو اذیت دو۔ لیکن اس اذیت کی مقدار معین نہ تھی جبکہ زیرِ بحث آیت میں ایک سو کوڑے سزا مقرر کر دی گئی ہے۔ لہٰذا زیرِ بحث آیت میں محصنہ کے بارے میں سزائے موت کا حکم عمر کی قید کی جگہ پر ہے اور سو کوڑوں کا حکم اذیت کی حد معیّن کرنے کے لئے ہے)۔
۵۔ اجرائے حد میں کمی بیشی ممنوع ہے:
اس میں شک نہیں کہ انسانیت کا تقاضا ہے کہ ہر ممکن کوشش کی جائے کہ کسی بےگناہ شخص کو سزا نہ ملے اور احکامِ الٰہی جہاں تک اجازت دیتے ہیں عفو و درگزر سے کام لیا جائے لیکن ثبوتِ جرم کے بعد سزا پر حتمی طور پر عمل کیا جانا چاہیے اور بےحقیقت احساسات و جذبات سے پرہیز کیا جانا چاہیے کہ جو نظم معاشرہ کے لئے نقصان دہ ہیں زیر بحث آیت میں اس کے لئے خاص طور پر "فی دین االله" کے الفاظ آئے ہیں یعنی جب حکم خدا کا ہے تو پھر ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی رحم میں خدا وندِ رحمان و رحیم سے بڑھ سے جائے۔ آیت میں ترس کھانے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ اکثر لوگوں کی یہی کیفیت ہوتی ہے اور ایسے موقع پر احساساتِ ترحّم کے غلبے کا امکان زیادہ ہوتا ہے لیکن اس امر کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو زیادہ سختی کے حامی ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ہم پہلے اشارہ کر چکے ہیں یہ لوگ بھی حکم الٰہی کے راستے سے منحرف ہوتے ہیں اور انھیں بھی اپنے جذبات پر قابو پانا چاہیے اور خدا سے آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس کے لئے بھی شدید سزا ہے۔
۶۔ زانی کے ساتھ شادی بیاہ کی حرمت کے شرائط:
ہم کہہ چکے ہیں کہ زیرِ بحث آیات کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ زانی مرد اور زانی عورت سے شاہدی بیاہ حرام ہے البتہ اسلامی روایات میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ حکم ایسے مردوں اور عورتوں کے بارے میں ہے جو اس کام کے لئے مشہور ہوں اور انھوں نے توبہ نہ کی ہو۔ لہٰذا اگر کوئی اس عمل کے ساتھ مشہور نہ ہو یا اُس نے اپنے گزشتہ اعمال سے کنارہ کشی اختیار کر کے پاکیزہ اور باعفت زندگی گزارنے کا مصمم ارادہ کر لیا ہو اور اس کی توبہ کے عملی آثار دکھائی دیں تو پھر اس سے شادی بیاہ میں کوئی شرعی ممانعت نہیں ہے اس صورت میں وہ زانی یا زانیہ کا مصداق نہیں رہتے اور گویا ایک حالت تھی جو ختم ہو گئی ہے لیکن پہلی صورت میں ممانعت ہے اور آیت کی شانِ نزول بھی اس کی تائید کرتی ہے۔ ایک معتبر حدیث کے مطابق مشہور فقیہ زرارہ نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا: "الزَّانِی لَایَنکِحُ إلاَّ زَانِیَةً.... " اس آیت کی کیا تفسیر ہے؟ امام (علیه السلام) نے فرمایا: ھنّ نساء مشھورات بالزنا و رجال مشھورون بالزنا، قد شھروا بالزنا وعرفوا بہ، والناس الیوم بذلک المنزل، فمن اقیم علیہ حد الزنا، او شھر بالزنا، لم ینبع لاحد یناکحہ حتّی یعرف منہ توبتہ. یہ آیت ان عورتوں اور مردوں کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جو زنا میں مشہور تھے اور اس قبیح عمل کے حوالے سے پہچانے جاتے تھے۔ آج بھی اسی طرح ہیں۔ جس شخص پر زنا کی حد جاری ہو یا جس کی شہرت اس بُرے عمل کے حوالے سے ہو وہ اس لائق نہیں کہ کوئی اس سے شادی کرے جب تک اس کی توبہ ثابت و ظاہر نہ ہو جائے۔ (وسائل الشیعہ، ج ۱۴، ص٣٣٥)۔ یہی مضمون دیگر روایات میں بھی موجود ہے۔
۷۔ حرمتِ زنا کا فلسفہ
ہم نہیں سمجھتے کہ کسی شخص پر اس فعل کے بُرے اور منحوس تنائج مخفی ہوں کہ جو فرد اور معاشرے پر مترتب ہوتے ہیں لیکن اس ضمن میں تھوڑی سی وضاحت ضروری ہے۔ اس قبیح عمل کا وجود اور پھیلاوٴ بلاشبہ خاندانی نظام کو درہم برہم کر دیتا ہے۔ اس سے باپ اور بیٹے کا تعلق مبہم اور تاریک ہو جاتا ہے تجربے نے ثابت کیا ہے کہ جو بچے نسب اور نسل کی پہچان سے محروم ہوں وہ خطرناک مجرم بن جاتے ہیں اور معاشرے میں جرائم کے اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ یہ شرمناک عمل ہوس پرستوں کے درمیان طرح طرح کے جھگڑے پیدا کرتا ہے۔ علاوہ ازیں اس سے کئی طرح کی نفسیاتی اور مخلوط بیماریاں پیدا ہوتی ہیں کہ جن کے بُرے اور منحوس نتائج کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ بچوں کا قتل، اسقاط حمل اور قسم کے دوسرے جرائم اسی عمل کے قبیح نتائج میں سے ہیں۔ اس سلسلے میں مزید تفصیل کے لئے تفسیر نمونہ جلد۶ میں سورہ بنی اسرائیل کی آیت ٣٢ کی تفسیر دیکھیئے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر تہمت کی سزا
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیات میں زانی مرد اور عورت کے لئے سخت سزا بیان کی گئی ہے۔ ہو سکتا ہے خود غرض اور بےتقویٰ افراد اس سے غلط فائدہ اُٹھائیں اور پاکدامن افراد پر تہمت لگانا شروع کر دیں اس لئے زانیوں کے لئے شدید سزا بیان کرنے کے ساتھ ہی ہوئے استفادہ کرنے والوں اور تہمت لگانے کے لئے سخت سزا بیان کی گئی ہے تاکہ ایسے افراد کے ہاتھوں پاک دامن گھرانوں کی حیثیت اور احترام محفوظ رہے اور کوئی شخص کسی کی عزت و آبرو کو زائل کرنے کی جرات نہ کر سکے۔ ارشاد ہوتا ہے: جو افراد پاک دامن عورتوں پر منافی عفت عمل کا الزام لگاتے ہیں انھیں چاہیے کہ اس دعوے کے ثبوت کے لئے چار (عادل) گواہ پیش کریں اور اگر وہ ایسا نہ کر سکیں تو ان میں سے ہر ایک کو اسّی کوڑے لگاوٴ(وَالَّذِینَ یَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوا بِاَرْبَعَةِ شُھَدَاءَ فَاجْلِدُوھُمْ ثَمَانِینَ جَلْدَةً)۔ یہ سخت سزا بیان کرنے کے بعد قرآن دو احکام کا اضافہ کرتا ہے۔ اور کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو (وَلَاتَقْبَلُوا لَھُمْ شَھَادَةً اَبَدًا)۔ اور وہ فاسق ہیں (وَاُوْلٰئِکَ ھُمَ الْفَاسِقُونَ)۔ اس طرح سے ایسے افراد کے لئے نہ صرف سخت سزا مقرر کی گئی ہے بلکہ انھیں گواہی دینے کے لئے نااہل قرار دے دیا گیا ہے اور ان کی ہر بات کو بےوقعت بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ تاکہ پاک دامن افراد کا وقار مجروح نہ کر سکیں۔ علاوہ ازیں قرآن نے ان کے ماتھے پر فسق کی علامت بھی لگا دی ہے اور معاشرے میں انھیں ذلیل و رسوا کر کے رکھ دیا ہے۔ پاک دامن افراد کی عزت و وقار کے تحفظ کے لئے ایسا سخت اقدام صرف یہیں پر نہیں ہے بلکہ بہت سی دیگر اسلامی تعلیمات میں بھی موجود ہے۔ ان تعلیمات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام کی نظر میں باایمان اور پاک دامن عورت اور مرد کا عزت و وقار کس قدر اہم ہے۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ (علیه السلام) فرماتے ہیں: اذا اتّھم الموٴمن اخاہ انماث الایمان من قلبہ کما ینماث الملح فی الماء اگر کوئی مومن اپنے مومن بھائی پر کسی ایسی چیز کا الزام لگائے کہ جو اس میں نہیں ہے تو ایمان اس کے دل میں اس طرح سے گھل جاتا ہے جیسے پانی نمک میں۔ (بحوالہ: اصول کافی، ج٢، ص٢۶۹ باب التھمۃ وسوعالظن)۔ لیکن اسلام کسی پر واپسی کی راہ بند نہیں کرتا بلکہ ہر موقع پر گناہگاروں کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ اپنا آلودہ دامن پاک کریں اور گزشتہ خطاوٴں کی تلافی کریں لہٰذا بعد والی آیت میں فرمایا گیا: مگر وہ لوگ جو بعد ازاں توبہ کر لیں اور اصلاح و تلافی کر لیں تو خدا انھیں معاف کر دیتا ہے کیونکہ الله غفور و رحیم ہے (إِلاَّ الَّذِینَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ وَاَصْلَحُوا فَإِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ)۔ کیا یہ استثناء صرف "اُوْلٰئِکَ ھُمَ الْفَاسِقُونَ" کے لئے یا "وَلَاتَقْبَلُوا لَھُمْ شَھَادَةً اَبَدًا" کے لئے بھی ہے___ اس سلسلے میں مفسرین اور علماء کی آراء مختلف ہیں یہ استثناء اگر دونوں جملوں کی طرف لوٹے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ان کی توبہ بھی مقبول ہے اور ہر لحاظ سے فسق کا حکم بھی اُن سے اُٹھا لیا جاتا ہے۔ لیکن اگر یہ استثناء صرف آخری جملے کی طرف لوٹے تو اب وہ فاسق شمار نہیں ہوں گے لیکن ان کی گواہی آخرِ عمر تک قابلِ اعتبار نہیں ہو گی۔ البتہ اصولِ فقہ میں جو قواعد تسلیم کئے جا چکے ہیں ان کے مطابق جو استثناء دو یا چند جملوں کے بعد آئے اُس کا تعلق صرف آخری جملے سے ہوتا ہے لیکن اگر کچھ قرائن ایسے موجود ہوں کہ جو بتائیں کہ اس کا تعلق پہلے پہلے جملوں سے بھی ہے تو پھر بات دوسری ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ زیرِ بحث آیت میں اس قسم کا قرینہ موجود ہے کیونکہ توبہ کے ذریعے فسق کا حکم اُٹھ جائے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ گواہی قابلِ قبول نہ رہے کیونکہ شہادت کی عدم قبولیت فسق کی وجہ سے تھی۔ اب جس شخص نے توبہ کر لی ہے اور نئے سرے سے اُس نے ملکہٴ عدالت حاصل کر لیا ہے تو فسق اس سے دُور ہو گیا ہے۔ اہل بیت علیہم السلام سے متعدد روایات ایسی منقول ہیں کہ جو اسی مفہوم پر زور دیتی ہیں۔ یہاں تک کہ امام صادق علیہ السلام اِس تصریح کے بعد کہ جنھوں نے توبہ کر لی ہے ان افراد کی شہادت قابلِ قبول ہے۔ سوال کرنے والے شخص سے پوچھتے ہیں: جو فقہاء تھارے قریب رہتے ہیں وہ کیا کہتے ہیں؟ اُس نے عرض کیا: وہ کہتے ہیں ان کی توبہ الله اور اس کے درمیان تو قبول ہو گی لیکن ان کی شہادت ہمیشہ کے لئے ناقابل قبول ہے۔ امام (علیه السلام) فرماتے ہیں: بئس ما قالوا کان ابی یقول اذا تاب ولم یعلم منہ الا خیر جازت شھادتہ. انھوں نے بہت بُری بات کہی ہے۔ میرے والد فرمایا کرتے تھے: جو شخص توبہ کر لے اور پھر اُس سے خیر اور اچھائی کے سوا کچھ نہ دیکھا جائے تو اس کی شہادت قبول ہے۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۱۸، کتاب الشہادات، باب۳۶، ص۲۸۲)۔ متعدد دیگر روایات بھی اسی طرح کی وسائل الشیعہ کے اس باب میں موجود ہیں جس سے ہم نے مذکورہ بالا حدیث درج کی ہے یہ سب روایات ہم آہنگ ہیں، سوائے ایک روایت کے اور اسے بھی تقیہ پر محمول کیا گیا ہے۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ "وَلَاتَقْبَلُوا لَھُمْ شَھَادَةً اَبَدًا" میں لفظ "اَبَدًا" حکم کی عمومیت کی دلیل ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ہر عمومیت میں استثناء (خصوصاً "متصل" کا استثناء) ہو سکتا ہے اس بناء پر یہ محض اشتباہ ہے کہ "اَبَدًا" کی تعبیر توبہ سے مانع ہے۔
چند اہم نکات ۱۔ آیت میں ”رمی“ کا کیا معنی ہے؟
"رمی" دراصل تیر، پتھر یا کوئی ایسی چیز پھینکنے کے معنی میں ہے۔ فطری سی بات ہے کہ بہت سے مواقع ایسی چیز تکلیف پہنچاتی ہے۔ بعد ازاں یہ لفظ کنائے کے طور پر الزام دینے، گالیاں بکنے اور غلط نسبت دینے کے معنی میں استعمال ہونے لگا کیونکہ یہ باتیں بھی دوسرے کو تیر کی طرح مجروح کر دیتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ زیرِ بحث آیات میں اور اسی طرح آئندہ آیات میں یہ لفظ مطلق صورت میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً یہ نہیں فرمایا: "والّذین یرمون المحصنات بالزنا" جو لوگ پاکدامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگاتے ہیں۔ کیونکہ "یرمون" کے مفہوم میں خصوصاً کلام میں موجود قرائن کے حوالے سے لفظ زنا موجود ہے نیز اس مقام پر جبکہ پاکدامن عورتوں کے بارے میں گفتگو ہو رہی ہے۔ یہ لفظ استعمال نہ کرنا ایک طرح کا احترام اور ادب شمار ہوتا ہے۔
۲۔ چار گواہ کیوں؟
ہم جانتے ہیں کہ اسلام میں حقوق اور جرائم ثابت کرنے کے لئے عموماً دو عادل گواہ کافی ہیں یہاں تک کہ کسی انسان کے قتل کا جُرم ثابت کرنے کے لئے دو عادل گواہ کافی ہیں لیکن زنا کا الزام ثابت کرنے کے لئے خصوصیت کے ساتھ چار گواہ ضروری قرار دیئے گئے ہیں۔ ہو سکتا ہے اس مقام پر گواہ اس لئے زیادہ رکھے گئے ہوں کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اس قسم کے الزامات بےمہابا لگاتے ہیں اور سوئے ظن سے یا بغیر اس کے لوگوں کی عزت و وقار مجروح کرتے ہیں اسلام نے اس طرز عمل کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ اس سلسلے میں اسلام کی یہ سختی لوگوں کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لئے ہے جبکہ دیگر مسائل یہاں تک کہ کسی کے قاتل کے بارے میں بھی لوگ اس طرح کی بے سروپا باتیں نہیں کرتے۔ اس سے قطع نظر درحقیقت قتل نفس کا مجرم ایک شخص ہے جبکہ زنا کے مسئلے میں دو افراد کے لئے اثباتِ جُرم ہوتا ہے لہٰذا اگر ہر ایک کے لئے دو گواہ درکار ہوں تو کل چار گواہ ہو جائیں گے۔ یہی بات امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک حدیث میں بھی آئی ہے۔ اہلِ سنّت کے مشہور فقیہ ابوحنیفہ کا کہنا ہے: میں نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا زنا زیادہ سنگین گناہ ہے یا قتل تو امام (علیه السلام) نے فرمایا: قتل میں نے کہا: اگر ایسا ہے تو پھر قتل نفس کے لئے دو گواہ کیوں کافی ہیں جبکہ زنا کے ثبوت کےلئے چار گواہ ضروری ہیں۔ تو امام (علیه السلام) نے فرمایا: تم اس مسئلے میں کیا کہتے ہو؟ ابوحنیفہ کے پاس کوئی واضح جواب نہ تھا۔ امام (علیه السلام) نے فرمایا: یہ اس بناء پر ہے کہ زنا کے مسئلے میں دو حدیں ہیں۔ ایک حد مرد پر جاری ہوتی ہے اور دوسری عورت پر لہٰذا چار گواہوں کی ضرورت ہے جبکہ قتلِ نفس میں صرف ایک حد ہے جو قاتل پر جاری ہوتی ہے (بحوالہ: نورالثقلین، ج۳، ص۵۷۴)۔ البتہ بعض مواقع ایسے بھی ہیں کہ جن میں زنا کے مسئلے میں صرف ایک حد جاری ہوتی ہے (مثلاً زنا بالجبر وغیرہ)۔ لیکن یہ معاملہ استثنائی پہلو رکھتا ہے۔ معمول یہی ہے کہ زنا طرفین کی رضا مندی سے صورت پذیر ہوتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ عام طور پر احکام کا فلسفہ غالب اکثریت پر مبنی ہوتا ہے۔
۳۔ قبولیت توبہ کی اہم شرط:
ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ توبہ صرف یہ نہیں کہ انسان گزشتہ گناہ پر استغفار کرے یا نادم ہو۔ یہاں تک کہ صرف آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ بھی توبہ نہیں ہے بلکہ توبہ میں یہ سب امور شامل ہیں اور ان کے علاوہ ضروری ہے کہ گناہگار گناہ کی تلافی کے درپے ہو۔ اگر کسی نے واقعاً کسی پاکدامن عورت کی عزت و وقار کو تہمت کے ذریعے داغدار کیا ہے تو اپنی توبہ کی قبولیت کے لئے اسے چاہیے کہ ان تمام افراد کے سامنے اپنی باتوں کی تکذیب کرے جنھوں نے اس سے وہ تہمت سُنی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ان کی حیثیت و عزت بحال کرے۔ لفظ "تابوا" کے بعد "واصلحوا" کا انا اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ایسے افراد کو گناہ سے توبہ کر کے اس خرابی کی اصلاح بھی کرنا چاہیے جس کے وہ مرتکب ہوئے ہیں۔ یہ صحیح نہیں ہے کہ ایک شخص برسر عام (یا مطبوعات و نشریات اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے) کسی شخص پر جھوٹی تہمت لگائے اور اس کے بعد خلوت میں جا کر استغفار کرے اور بارگاہِ الٰہی سے معافی چاہے___ الله تعالیٰ اس قسم کی توبہ ہرگز قبول نہیں کرے گا۔ اسی لئے چند احادیث میں آئمہ اسلام سے منقول ہے کہ اُن سے پوچھا گیا: جو لوگ کسی کی عزّت و ناموس پر تہمت لگاتے ہیں کیا حدِ شرعی کے اجراء اور توبہ کے بعد ان کی شہادت قابل قبول ہے؟ فرمایا: جی ہاں اور جب سوال ہوا کہ ایسا شخص کس طرح سے توبہ کرے تو فرمایا: امام (یا قاضی) کے پاس آئے اور کہے: میں نے فلاں شخص پر تہمت لگائی ہے اور جو کچھ اس سلسلے میں میں نے کہا ہے اب اس سے توبہ کرتا ہوں۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۱۸، ص۲۸۳ (کتاب الشہادات، باب۳۶، حدیث۴))۔
۴۔ احکامِ قذف
ہمارے ہاں کتابِ حدود میں ایک باب "حد قذف" کے عنوان سے ہے۔ "قذف" (بروزن "حذف") لغت کے اعتبار سے دور کی جگہ چھلانگ لگانے اور پھینکنے کے معنی میں ہے لیکن ایسے موقع پر "رمی" کسی کی عزّت پر تہمت لگانے کے مفہوم میں بطور کنایہ استعمال ہوتا ہے اور دوسرے لفظوں میں فحش کلامی اور گالیاں دینے کے معنی میں ہے۔ اگر قذف صریح لفظ کے ساتھ ہو اگرچہ کسی بھی زبان اور شکل میں ہو اس کی حد اسّی کوڑے ہے اور اگر صراحت سے نہ ہو تو پھر اس کے لئے تعزیر ہے (تعزیر ایسے گناہوں کے لئے ہوتی ہے جن کی حد شریعت نے معیّن نہیں کی بلکہ حاکمِ شرع کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مجرم کی خصوصیات، جرم کی کیفیت اور دیگر حالات کو مدّنظر رکھتے ہوئے ایک خاص حد تک سزا مقرر کرے)۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص متعدد افراد پر تہمت لگائے اور انھیں گالی دے اور ان میں ہر ایک کی طرف اس گناہ کی نسبت دے تو ہر ایک نسبت کے مقابلے میں اس پر حدِ قذف جاری ہو گی لیکن بیک مرتبہ مجموعی طور پر ان پر تہمت لگائے اور وہ بھی باہم اکھٹے ہو کر اس کی سزا کا مطالبہ کریں تو اس پر ایک حد جاری ہو گی لیکن اگر وہ الگ الگ دعویٰ دائر کریں تو ہر ایک کے مقابلے میں اس پر ایک حد جاری ہو گی۔ یہ معاملہ اس قدر اہم ہے کہ اگر کسی پر تہمت لگائی جائے اور وہ فوت ہو جائے تو اس کے وارث دعویٰ دائر کر سکتے ہیں اور حد جاری کرنے کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ البتہ یہ حکم چونکہ ایک شخص کے حق کے ساتھ مربوط ہے اس لئے اگر صاحبِ حق مجرم کو معاف کر دے تو پھر اس کی حد ساقط ہو جائے گی لیکن اگر اس جرم کا اس قدر تکرار ہو کہ معاشرے کی عزّت و وقار خطرے میں پڑ جائے تو پھر صورت اور ہو گی۔ اگر دو افراد ایک دوسرے پر تہمتِ ناموس لگائیں تو اس صورت میں دونوں سے حد ساقط ہو جائے گی۔ لیکن قاضی کے حکم سے دونوں پر تعزیر جاری ہو گی۔ لہٰذا کسی مسلمان کو حق نہیں کہ گالی کا جواب گالی سے دے بلکہ صرف قاضی کے ذریعے حق حاصل کر سکتا ہے اور گالی دینے والے کے لئے سزا کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ بہرحال، اس اسلامی حکم کا مقصد اوّلاً انسانوں کی عزت و آبرو کی حفاظت ہے اور ثانیاً بہت سے ایسے سماجی اور اخلاقی مفاسد کی روک تھام ہے کہ جو اس کام سے معاشرے پیدا ہوتے ہیں۔ کیونکہ اگر برے اور فاسد افراد کو کھلی چھٹی مل جائے کہ وہ ہر کسی کو گالیاں دیں اور تہمتیں لگائیں اور پھر انھیں کوئی سزا نہ ملے تو لوگوں کی آبرو اور ناموس ہمیشہ معرضِ خطر میں رہے گی۔ یہاں تک کہ ان تہمتوں کے باعث بیوی اور شوہر کا ایک دوسرے سے اعتماد اُٹھ جائے گا اور باپ کو اعتبار نہیں رہے گا کہ اُس کا بیٹا اس کی جائز اولاد ہے۔ مختصر یہ کہ گھرانے کا وجود خطرے میں پڑجائے گا اور اس طرح پورا معاشرہ بدگمانی اور عدم اعتبار کی کیفیت سے دوچار ہو جائے گا۔ غلط پراپیگنڈے اور تہمت تراشیوں کا بازار گرم ہو گا اور پاک ذہن اور پاک فکر داغدار ہو کر رہ جائے گی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سخت اور ٹھوس اقدام کی ضرورت ہے____ وہی سختی جو اسلام نے ایسے بدزبان اور آلودہ دہن افراد کے لئے روا رکھی ہے۔ ہاں ہاں____ ایسے افراد کو ایک بدی، تہمت اور گالی پر اسّی کوڑے کھانے چاہئیں تاکہ وہ لوگوں کی عزت و آبرو سے نہ کھیل سکیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 4ان آیات کی شان نزول کے بارے میں ابن عباس سے منقول ہے کہ: (انصار کے سردار) سعد بن عبادہ رسول اللهؐ کی خدمت میں موجود تھے۔ کچھ اور اصحاب بھی بیٹھے تھے کہ انھوں نے عرض کیا: یا رسول اللهؐ! اس منافیِٴ عفت عمل کی نسبت کسی کی طرف دینے کی سزا عدم ثبوت پر اسّی کوڑے ہے تو اگر میں اپنے گھر میں داخل ہُوں، اپنی آنکھوں سے دیکھوں کہ ایک فاسق شخص میری بیوی کے ساتھ مشغولِ بدکاری ہے تو اگر میں اُسے اسی عالم میں چھوڑ کر چار گواہ ڈھونڈنے چلا جاوٴں تو واپسی تک وہ اپنا کام کر چکا ہو گا اور اگر قتل کر دوں تو گواہ کے بغیر کوئی میری بات قبول نہیں کرے گا اور مجھ سے قاتل کے طور پر قصاص لیا جائے گا جبکہ جو کچھ میں نے دیکھا ہے وہ بیان کروں تو میری پشت پر اسّی کوڑے لگیں گے۔ رسول اکرمؐ نے اس گفتگو سے حکمِ الٰہی پر ایک طرح کا اعتراض محسوس کیا۔ آپ نے انصار کی طرف رُخ کر کے شکوے کے انداز میں فرمایا: کیا تم نے سُنا کہ تمھارے سردار نے کیا کہا ہے۔ وہ معذرت خواہانہ انداز میں کہنے لگے: یا رسول اللهؐ! اسے سرزنش نہ کیجئے۔ وہ ایک غیور آدمی ہے اور جو کچھ کہہ رہا ہے وہ شدتِ غیرت کی بناء پر ہے۔ سعد بن عبادہ نے عرض کی: یارسول اللہؐ! میرے ماں باپ آپ پر قربان۔ خدا کی قسم میں جانتا ہوں کہ یہ حکم الٰہی ہے اور حق ہے لیکن اس کے باوجود مجھے اس کی بنیاد پر تعجب ہوتا ہے (اور میں اپنے ذہن میں اس سوال کا حل نہیں کر سکا)۔ رسول اللهؐ نے فرمایا: حکم خدا یہی ہے۔ انھوں نے بھی عرض کی: "صدق الله و رسولہ" (الله اور اُس کے رسولؐ نے سچ کہا۔ ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ سعد کا چچا زاد بھائی ہلال بن امیہ دروازے سے داخل ہوا۔ اُس نے رات کے وقت ایک فاسق شخص کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھا تھا۔ وہ شکایت کے لئے رسول اللهؐ کی خدمت میں آیا تھا۔ اُس نے صراحت سے کہا: میں نے اپنی آنکھ سے یہ کچھ دیکھا ہے اور اپنے کان سے ان کی آواز سنی ہے۔ رسول اللهؐ اتنے ناراحت ہوئے کہ خشمگی کے آثار چہرہٴ مبارک پر نمایاں ہو گئے۔ ہلال نے عرض کی: میں آپ کے چہرے پر ناراضی کے آثار دیکھ رہا ہوں لیکن قسم بخدا میں سچ کہہ رہا ہوں اور میں نے کچھ بھی جھوٹ نہیں کہا مجھے امید ہے کہ الله اس مشکل کو خود حل فرما دے گا۔ بہرحال، رسول اللهؐ نے ارادہ کیا کہ ہلال پر حدِّ قذف جاری کریں کیونکہ اس کے پاس اپنے دعویٰ پر گواہ موجود نہ تھے۔ اس موقع پر انصار ایک دوسرے سے کہتے تھے دیکھا! وہی سعد بن عبادہ والی بات پوری ہو گئی تو کیا سچ مچ رسول اللهؐ ہلال کو تازیانے لگائیں گے اور اس کی گواہی رد کر دیں گے۔ اس موقع پر رسول اللہؐ پر وحی نازل ہوئی اور اس کے آثار آنحضرت کے چہرے پر ظاہر ہوئے سب خاموش تھے کہ دیکھیں کہ الله کی طرف سے کیا نیا پیغام آیا ہے۔ اس وقت مذکورہ بالا آیت نازل ہوئیں۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان فی ظلال، نورالثقلین اور المیزان (کچھ فرق کے ساتھ)۔ ان آیات میں الله تعالیٰ نے اس مسئلے کے حل کے لئے مسلمانوں کو ایک دقیق راہ بتائی کہ جس کی تفصیل آپ ذیل میں پڑھیں گے۔
تفسیر بیوی پر تہمت لگانے کی سزا
جیسا کہ شان نزول سے ظاہر ہے زیرِ نظر آیات حدِ قذف پر تبصرے کے طور پر استثنائی حکم بیان کر رہی ہیں کہ اگر شوہر اپنی بیوی پر منافیِٴ عفت عمل کا الزام عائد کرے اور کہے کہ میں نے اسے غیر مرد کے ساتھ بدکاری کی حالت میں دیکھا ہے تو اس پر اسّی کوڑے کی حدِّ قذف جاری نہیں ہو گی لیکن اس کا دعویٰ بغیر دلیل و شاہد کے قبول بھی نہیں کیا جائے گا کیوں اس میں سچ اور جھوٹ دونوں کا احتمال ہے۔ پہلے قرآن نے اس مسئلے کا حل ایسا پیش کیا ہے کہ جو بہترین بھی اور عادلانہ بھی اور وہ یہ کہ شوہر اپنے دعوے میں سچا ہونے کے لئے چار مرتبہ گواہی دے، جیسا کہ قرآن فرماتا ہے: جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگاتے ہیں اور اپنے علاوہ ان کے پاس گواہ نہیں تو دعویٰ کرنے والوں میں سے ہر شخص چار مرتبہ الله کے نام کی شہادت دے کہ وہ سچوں میں سے ہے (وَالَّذِینَ یَرْمُونَ اَزْوَاجَھُمْ وَلَمْ یَکُنْ لَھُمْ شُھَدَاءُ إِلاَّ اَنفُسُھُمْ فَشَھَادَةُ اَحَدِھِمْ اَرْبَعُ شَھَادَاتٍ بِاللهِ إِنَّہُ لَمِنَ الصَّادِقِینَ)۔ اور پانچویں دفعہ کہے کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر الله کی لعنت ہو (وَالْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَةَ اللهِ عَلَیْہِ إِنْ کَانَ مِنَ الْکَاذِبِینَ)۔ یعنی شوہر اپنے دعویٰ کے اثبات کے لئے اور حدّ قذف سے بچنے کے لئے چار مرتبہ یہ جملہ کہے: اشھد بالله انّی لمن الصادقین فیما رمیتھا بہ من الزنا میں خدا کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے اس عورت پر الزام لگایا ہے اس میں میں سچا ہوں۔ "لعنة الله علیّ ان کنتُ من الکاذبین اگر میں جھوتا ہوں تو مجھ پر الله کی لعنت۔ یہاں عورت کے لئے دو راستے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ مرد کے الزام کی نفی نہ کرے اور اس کی بات کی تصدیق کر دے تو جیسا کہ بعد کی آیت میں آئے گا اس کے لئے حدّ زنا ثابت ہو جائے گی۔ دوسرا راستہ زنا کی سزا سے بچنے کا ہے اور وہ یہ کہ چار مرتبہ الله کو گواہ قرار دے کر کہے کہ اس مرد نے غلط الزام لگایا ہے اور وہ جھوٹوں میں سے ہے (وَیَدْرَاُ عَنْھَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْھَدَ اَرْبَعَ شَھَادَاتٍ بِاللهِ إِنَّہُ لَمِنَ الْکَاذِبِینَ)۔ اور پانچویں مرتبہ کہے: اس پر خدا کا غضب ہو اگر مرد اس الزام میں سچّا ہے (وَالْخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللهِ عَلَیْھَا إِنْ کَانَ مِنَ الصَّادِقِینَ)۔ یعنی مرد نے جو پانچ مرتبہ اس عورت کے خلاف گواہی دی ہے وہ عورت بھی پانچ مرتبہ اس کی نفی کرے۔ پہلے چار مرتبہ یوں کہے: اشھد بالله انّہ لمن الکاذبین فیما رمانی بہ من الزنا میں خدا کو گواہ بناتی ہوں کہ اس نے میری طرف جو نسبت دی ہے اس میں وہ جھوٹا ہے۔ اور پانچویں دفعہ یہ کہے: ان غضب الله علیّ ان کان من الصادقین اگر وہ سچ کہتا ہے تو مجھ پر خدا کا غضب ہو۔ مندرجہ بالا آیت میں جو لفظ "لعن" آیا ہے اس کی مناسبت سے اس سارے عمل کو "لعان" کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اس عمل سے چار نتیجے مرتب ہوں گے: (۱) صیغہٴ طلاق کی ضرورت کے بغیر ہی فوراً میاں بیوی ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں گے۔ (۲) یہ عورت اور مرد ہمیشہ کے لئے ایک دوسرے پر حرام ہو جائیں گے۔ یعنی نئے سرے سے ان کی شادی کا امکان ختم ہو جائے گا۔ (۳) قذف کی حد مرد سے اور زنا کی حد عورت سے اٹھ جائے گی (لیکن اگر ان میں سے مرد یہ کام نہ کرے تو اُس پر قذف کی حد جاری ہو گی اور عورت یہ کلمات نہ کہے تو اس پر زنا کی حد جاری ہو گی)۔ (۴) اس واقع کے نتیجے میں جو بچہ پیدا ہو گا وہ اس مرد کا نہیں سمجھا جائے گا یعنی اس سے منسوب نہیں ہو گا البتہ عورت سے منسوب رہے گا۔ البتہ ان احکام کی تفصیلات زیرِ بحث آیات میں نہیں آئیں۔ فقط آیت کے آخر میں قرآن کہتا ہے: اگر الله کا فضل اور اس کی رحمت شامل حال نہ ہوتی اور وہ توبہ قبول کرنے والا اور حکیم نہ ہوتا تو بہت سے لوگ تباہ ہو جاتے یا سخت سزاوٴں میں مبتلا ہو جاتے (وَلَوْلَافَضْلُ اللهِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہُ وَاَنَّ اللهَ تَوَّابٌ حَکِیمٌ)۔ یہ آیت درحقیقت مندرجہ احکام پر تاکید کے طور پر اجمالی اشارہ ہے کیونکہ یہ آیت نشاندہی کرتی ہے کہ "لعان" کا عمل ایک فضل و کرم ہے اور وہ اس سلسلے میں میاں بیوی کے ایک مشکل معاملے کو صحیح طریقے سے حل کر دیتا ہے۔ ایک طرف تو وہ شوہر کو مجبور نہیں کرتا کہ اگر اس نے اپنی بیوی کو بدکاری کے عالم میں دیکھا ہے تو وہ خاموش رہے اور فریاد رسی کے لئے حاکم شرع کے پاس نہ آئے اور دوسری طرف عورت کو صرف الزام پر زنائے محصنہ کی حد جاری نہیں کر دیتا بلکہ اسے صفائی کا حق دیتا ہے جبکہ تیسری طرف شوہر کے ضروری قرار نہیں دیتا کہ اگر اُس نے کوئی ایسا کام دیکھا ہے تو لازماً چار گواہ ڈھونڈے اور اس المناک راز کو عریاں کرے اور چوتھی طرف اس عورت اور مرد کو ایک دوسرے سے الگ کر دیتا ہے کیونکہ اب وہ مل جل کر زندگی گزارنے کے قابل نہیں رہے۔ یہاں تک کہ انھیں آئندہ بھی ایک دوسرے سے شادی کرنے کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ اگر الزام سچا ہو تو وہ نفسیاتی طور پر اس ازدواجی زندگی کو جاری نہیں رکھ سکتے اور اگر جھوٹا الزام ہو تو عورت کے جذبات اس طرح سے مجروح ہو چکے ہوں گے کہ اب اس کے لئے مشکل ہو گا کہ وہ یہ زندگی جاری رکھ سکے کیونکہ اس عمل سے نہ صرف سرد مہری پیدا ہو جائے گی بلکہ عداوت شروع ہو جائے گی اور پانچویں رُخ سے اس معاملے میں بچے کے بارے میں ذمہ داری واضح کر دی گئی ہے۔ یہ ہے بندوں پر الله کا فضل و رحمت اور اس کا توّاب و حکیم ہونا___ وہ الله کہ جس نے اس مسئلے کے نہایت باریک اور عادلانہ حل کی راہ کھول دی ہے اور اگر ہم صحیح طرح سے غور کریں تو چار گواہوں کے لزوم کا اصل حکم بھی کاملاً ختم نہیں ہوا بلکہ مرد اور عورت جو چار چار مرتبہ شہادت دیتے ہیں ان میں سے ہر شہادت ایک گواہ کا قائم مقام ہے۔
چند اہم نکات ۱۔ حکم قذف صرف بیوی اور شوہر کے لئے مخصوص ہے؟
اس سلسلے میں پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بیوی اورشوہر کو کیا خصوصیت حاصل ہے کہ الزام کے موقع پر اُن کے لئے یہ استثنائی حکم صادر ہوا ہے۔ اس سوال کا ایک جواب تو آیت کی شانِ نزول سے حاصل کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ اگر مرد اپنی بیوی کو کسی غیر مرد کے ساتھ دیکھے تو اس کے لئے ممکن نہیں کہ خاموش رہے۔ اس کی غیرت کیونکر اجازت دے سکتی ہے کہ اپنے حریمِ ناموس میں ایسے تجاوز پر کسی ردّعمل کا اظہار نہ کرے۔ جبکہ وہ قاضی کے پاس جا کر داد و فریاد کرے گا تو فوراً اس پر حدّ قذف جاری ہو جائے گی کیونکہ قاضی کو کیا معلوم کہ وہ سچ کہتا ہے یا جھوٹ۔ نیز اگر وہ چار گواہ تلاش کرنا چاہے تو یہ بھی ہتک عزّت ہے علاوہ ازیں ہو سکتا ہے کہ گواہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ معاملہ ختم ہو جائے۔ اس مسئلے کا ایک رُخ اور بھی ہے اور وہ یہ کہ غیر لوگ تو بہت جلد ایک دوسرے پر الزام دھر دیتے ہیں لیکن میاں بیوی بہت کم ایک دوسرے پر الزام عائد کرتے ہیں۔ اسی بناء پر غیر لوگ ہوں تو چار گواہ ضروری ہیں ورنہ حدّ قذف جاری ہو گی لیکن میاں بیوی کے بارے میں ایسا نہیں ہے۔ لہٰذا حکمِ مذکور انھیں کے لئے مخصوص ہے۔
۲۔ "لعان" ایک مخصوص عمل:
آیات کی تفسیر میں جو وضاحت ہو چکی ہے اس سے ہم یہاں تک پہنچے ہیں جو مرد اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ چار دفعہ الله کو شاہد قرار دے کر کہے کہ اگر وہ سچ کہہ رہا ہے۔ دراصل اپنے اپنے مقام پر ان میں سے ہر شہادت ایک گواہ کی قائم مقام ہے اور پانچویں مرتبہ وہ مزید تاکید کے لئے کہے کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر الله کی لعنت ہو۔ اِس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ان احکام و قوانین کے اجراء کا تعلق عموماً ایک اسلامی ماحول اور مذہبی فضا ہے اور جب کوئی یہ دیکھے گا کہ اسے حاکمِ اسلامی کے سامنے اس طرح سے قطعی طور پر الله کو گواہی کے لئے بلانا ہے اور اپنے اوپر لعنت بھیجنا ہے تو اکثر اوقات وہ غلط اقدام سے بچے گا اور یہی چیز جھوٹے الزامات کے راستے میں دیوار بن جاتی ہے۔ یہ بات تو مرد کے بارے میں تھی باقی رہا یہ کہ عورت اپنی صفائی کے لئے چار مرتبہ الله کو گواہ قرار دیتی ہے تو یہ مرد اور عورت میں برابری برقرار رکھنے کے لئے ہے۔ نیز عورت پر چونکہ الزام عائد کیا گیا ہے اس لئے وہ پانچویں مرحلے میں مرد کی عبارت سے زیادہ شدید الفاظ میں اپنا دفاع کرے گی اور جھوٹی ہونے کی صورت میں وہ اپنے لئے غضبِ خدا خریدے گی۔ اور ہم جانتے ہیں کہ لعنت سے مراد رحمتِ خدا سے دوری ہے لیکن غضب لعنت سے کہیں بڑھ کر ہے کیونکہ غضب اور سزا و عذاب لازم و ملزوم ہیں کہ جو رحمت سے دوری سے بہت زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سورہٴ فاتحہ کی تفسیر میں ہم کہہ چکے ہیں کہ "مغضوب علیھم" "ضالین" سے بدتر ہیں جبکہ مسلّم ہے کہ "ضالین" رحمتِ خدا سے دُور ہیں۔
۳۔ آیت میں جملہٴ شرطیہ کی جزائے محذوف:
زیر بحث آخری آیت جملہ شرطیہ کی شکل میں ہے کہ جس کی جزا ذکر نہیں ہوئی صرف اسی قدر فرمایا گیا ہے: اگر خدا کا فضل و رحمت نہ ہوتی اور یہ کہ وہ توّاب و حکیم نہ ہوتا لیکن یہ نہیں فرمایا گیا کہ پھر کیا ہوتا؟ کلام کے قرائن کی طرف توجہ کریں تو اس شرط کی جزا واضح ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ حذف اور خاموشی ایک مطلب کو زیادہ اہمیت دے دیتی ہے اور انسان کے ذہن میں بہت سے احتمالات پیدا کر دیتی ہے کہ جن میں سے ہر ایک اس گفتگو کو ایک نیا مفہوم دیتا ہے۔ مثلاً یہاں ممکن ہے شرط کی جزاء یہ ہو کہ اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو وہ تمہارے کاموں سے پردہ اٹھا دیتا تمہارے راز ظاہر ہو جاتے اور تم ذلیل و رسوا ہو جاتے۔ یا ہو سکتا ہے شرط کی جزاء یہ ہو کہ اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہو تو وہ تمہیں فوراً ہی عذاب دیتا اور ہلاک کر دیتا۔ یا ہو سکتا ہے شرط کی جزاء یہ ہو کہ اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو وہ تم انسانوں کے لئے ایسے جچے تلے قوانین مقرر نہ کرتا۔ درحقیقت شرط کی جزاء کا یہ مخذوف ہونا سننے والے کے ذہن کو ان تمام امور کی طرف متوجہ کر دیتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر المیزان میں ایک نہایت جامع جواب شرط نقل کیا گیا ہے۔ اس میں اور بھی کئی تفسیریں آ جاتی ہیں۔ بہرحال، اس کے مطابق تقدیر کلام اس طرح ہے: لولا ما انعم اللہ علیکم من نعمۃ الدین و توبتہ لمذنبیکم و تشریح الشرایع لنظم امورحیاتکم، لزمتکم الشقوۃ، واھلکتکم المعصیۃ و الخطیئہ، واختل نظام حیاتکم بالجھالۃ اگر نعمتِ دین کی صورت میں، قبولیت توبہ کی صورت میں اور نظام زندگی چلانے کے لئے قوانین کی صورت میں اللہ کا تم پر انعام نہ ہوتا تو بدبختی تمہارے لیے لازم ہو جاتی اور معصیت و خطا تمہیں مار ڈالتی اور جہالت کے باعث تمہارا نظامِ حیات درہم برہم ہو جاتا)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 4مندرجہ بالا آیات کے لئے دو شان نزول نقل ہوئی ہیں۔ پہلی شان نزول جو زیادہ مشہور ہے اہلِ سنت کی کتب تفاسیر میں نقل ہوئی۔ شیعہ تفاسیر میں بالواسطہ طور پر شانِ نزول نقل ہوئی ہے۔ یہ شان نزول زوجہٴ رسولؐ عائشہ سے منقول ہے وہ کہتی ہیں: رسول اللهؐ جب کسی سفر پر جانے لگتے تو اپنی ازواج کے لئے قرعہ ڈالتے قرعہ جس کے نام نکلتا اُسے اپنے ساتھ لے جاتے۔ ایک جنگ (تشریحی نوٹ: جنگ بنی المصطلق، پانچ ہجری)۔ کے موقع پر قرعہ میرے نام نکلا۔ میں رسولؐ کے ہمراہ سفر پر روانہ ہوئی۔ اس وقت پردے کی آیت نازل ہو چکی تھی۔ اس لئے میں ایک محمل میں سوار تھی۔ جنگ ختم ہوئی اور ہم واپس چل پڑے۔ مدینے کے قریب پہنچے تو رات ہو گئی۔ میں رفع حاجت کے لئے لشکرگاہ سے کچھ دُور چلی گئی۔ جب واپس آئی تو میری نظر پڑی کہ یمنی منکوں والا میرا ہار ٹوٹ کر کہیں گر گیا ہے۔ میں اسے ڈھونڈنے نکل گئی اور مجھے دیر ہو گئی۔ واپس آئی تو میں نے دیکھا کہ لشکر چلا گیا ہے۔ وہ میرا محمل بھی اونٹ پر رکھ کر لے گئے۔ ان کا خیال تھا کہ میں اس میں موجود ہوں کیونکہ ان دنوں غذا کی کمی کے باعث عورتیں ہلکی پھلکی ہوتی تھیں علاوہ ازیں میری عمر بھی کم تھی۔ بہرحال، میں وہاں تن تنہا رہ گئی۔ میں نے سوچا کہ جب گھر پہنچیں گے اور مجھے نہیں پائیں گے تو میری تلاش میں نکلیں گے۔ رات میں نے اس بیابان میں بسر کی۔ اتفاق کی بات ہے کہ لشکر اسلام کا ایک فرد "صفوان" بھی لشکرگاہ سے دور رہ گیا تھا۔ وہ بھی رات اسی بیابان میں تھا۔ دن چڑھا تو دُور سے اُس نے مجھے دیکھا تو قریب آیا۔ اُس نے مجھے پہچان لیا اس نے "انّا لله و انّا الیہ راجعون" کہا۔ اس نے مجھ سے ایک لفظ بھی نہ کہا۔ اُس نے اپنا اونٹ بھٹایا اور میں اس پر سوار ہو گئی۔ اُس نے ناقہ کی مہار پکڑ لی اور چلتا رہا یہاں تک کہ ہم لشکرگاہ میں پہنچ گئے۔ یہ منظر دیکھا تو کچھ لوگ میرے بارے میں پراپیگنڈا کرنے لگے اور اپنے آپ کو (عذاب الٰہی میں گرفتار کر کے) ہلاکت میں ڈالنے لگے۔ اس تہمت طرازی میں عبدالله بن ابی سلول نے سب سے بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا۔ ہم مدینہ میں پہنچے اور یہ پراپیگنڈا شہر میں پھیل گیا جبکہ اس کی کوئی خبر نہ تھی۔ اس دوران میں میں بیمار ہو گئی۔ رسول اللهؐ مجھے دیکھنے کے لئے تو آئے لیکن مجھے وہ پہلے سی مہربانی دکھائی نہ دیتی۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ معاملہ کیا ہے۔ میری صحت اچھی ہو گئی۔ باہر نکلی تو رفتہ رفتہ مجھے اپنی قریب کے عورتوں سے منافقین کے پراپیگنڈے کا پتہ چلا تو میں سخت بیمار ہو گئی۔ رسول اللهؐ مجھے دیکھنے کے لئے آئے تو میں نے آپ سے اپنے باپ کے گھر جانے کی اجازت چاہی۔ جب میں اپنے باپ کے گھر آئی تو میں نے اپنی ماں سے پوچھا کہ لوگ کیا کہتے ہیں۔ انھوں نے کہا: غم نہ کرو، جن عورتوں کو امتیاز حاصل ہے اور دوسرے ان سے حسد کرتے ہیں، ان کے بارے میں بہت کچھ باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ اس موقع پر رسول اللهؐ نے علی علیہ السلام بن ابی طالب علیہ السلام اور اسامہ بن زید سے مشورہ کیا کہ ان باتوں کے بارے میں میں کیا کروں۔ اسامہ (رضی اللہ عنہا) نے کہا: یا رسول اللهؐ! وہ آپ کی زوجہ ہیں۔ ہم نے اُن سے بھلائی کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا (لہٰذا لوگوں کی باتوں کی پرواہ نہ کریں)۔ لیکن علی علیہ السلام نے کہا: الله نے آپ پر کوئی سختی نہیں کی۔ ان کے علاوہ بھی بیویاں ہیں۔ آپؐ ان کی کنیز سے اس کے بارے میں تحقیق کر لیجئے۔ رسول اللهؐ نے میری کنیز کو بلایا اور اس سے پوچھا: کیا تو نے عائشہ کے بارے میں کوئی ایسی چیز دیکھی ہے جو شک و شبہ پیدا کرے کنیز نے کہا: اس خدا کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے میں نے ان سے کوئی غلط کام نہیں دیکھا۔ اس وقت رسول اللهؐ نے ارادہ کیا کہ یہ باتیں لوگوں کے سامنے پیش کریں۔ آپ منبر پر تشریف لے گئے اور مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہا: اے مسلمانو! اگر کوئی شخص (آپؐ کا اشارہ عبدالله بن ابی سلول کی طرف تھا) مجھے میری اس بیوی کے معاملے میں رنج پہنچائے جس سے میں نے پاکیزگی کے سوا کچھ نہیں دیکھا تو اگر میں اسے سزا دوں تو مجھے معذور سمجھنا اور اگر کسی ایسے شخص پر تہمت لگائی جائے کہ جس سے میں نے ہرگز کوئی برائی نہیں دیکھی، تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟ سعد بن معاذ انصاری کھڑے ہو گئے۔ انھوں نے عرض کی: آپ حق رکھتے ہیں۔ اگر وہ شخص شخص قبیلہ اوس سے ہوا تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا (سعد بن معاذ قبیلہٴ اوس کے سردار تھے) اور اس کا تعلق قبیلہٴ خزرج کے ہمارے بھائیوں سے ہے تو آپ حکم دیجئے تاکہ ہم اس پر عمل کریں۔ سعد بن عبادہ قبیلہٴ خزرج کے سردار تھے وہ ایک صالح شخص تھے لیکن اس موقع پر انھیں قوی تعصّب نے آ گھیرا (عبد الله بن ابی سلول جس نے یہ جھوٹا پراپیگنڈا کیا تھا اس کا تعلق قبیلہٴ خزرج سے تھا)۔ سعد بن عباد نے سعد بن معاذ کی طرف رُخ کیا اور کہا: تو جھوٹ کہتا ہے۔ اگر وہ ہمارے قبیلے سے ہوا تو ایسے شخص کو قتل کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اسید بن خضیر سعد بن معاذ کا چچا زاد تھا۔ اُس نے سعد بن عبادہ کی طرف رُخ کیا اور کہا: تو غلط کہتا ہے والله ہم ایسے شخص کو قتل کر کے رہیں گے، تو منافق ہے اور منافقوں کی حمایت کرتا ہے۔ کوئی کسر نہ رہ گئی تھی کہ اوس و خزرج باہم دست و گریباں ہو جائیں اور ان کے درمیان جنگ چھڑ جائے جبکہ رسول اللهؐ منبر پر بیٹھے تھے۔ آخر کار آنحضرت نے انھیں خاموش کیا۔ معاملہ اسی طرح رہا۔ میں بہت غمزدہ تھی۔ ایک مہینہ گزر گیا کہ رسول اللهؐ میرے پاس نہ بیٹھے تھے۔ میں جانتی تھی کہ میرا دامن پاک ہے اور آخرکار الله اس بات کو واضح کر دے گا۔ بالآخر ایک روز رسول اللهؐ میرے پاس آئے۔ آپ بہت خوش تھے۔ آپ نے آتے ہی یہ فرمایا: تجھے خوش خبری ہو کہ الله نے تجھے اس الزام سے بری قرار دیا ہے۔ اس موقع پر إِنَّ الَّذِینَ جَائُوا بِالْإِفْک....کی تمام آیات نازل ہوئیں۔ (اور ان آیات کے نزول کے بعد ان سب افراد پر حدّ قذف جاری کی گئی جنھوں نے یہ جھوٹ پھیلایا تھا)۔ (تشریحی نوٹ: جو کچھ سطور بالا میں ذکر کیا ہے یہی روایت تھوڑے بہت فرق کے ساتھ اکثر کتب تفاسیر میں موجود ہے۔ ہم نے اسے کچھ اختصار کے ساتھ ذکر کیا ہے)۔ ایک اور شان نزول جو پہلی شان نزول کے ساتھ بعض کتب میں مذکور ہے۔ کچھ اس طرح ہے: رسول اللهؐ کی زوجہ عائشہ نے آپ کی زوجہ ماریہ قبطیہ پر تہمت لگائی کیونکہ ماریہ کا رسول اللهؐ سے ایک بیٹا تھا۔ ابراہیم ان کا نام تھا۔ وہ دنیا سے چل بسے تو رسول اللهؐ شدید غمگین ہوئے۔ عائشہ نے کہا: آپ اس قدر پریشان کیوں ہیں، وہ تو درحقیقت آپ کا بیٹا ہی نہ تھا وہ تو جریح قطبی کا بیٹا تھا۔ آنحضرت نے یہ بات سنی تو حضرت علی علیہ السلام کو جریح کے قتل پر مامور کیا کہ جو اس قسم کے جرم کا مرتکب ہوا تھا۔ جب علی علیہ السلام برہنہ شمشیر لئے جریح کی تلاش میں نکلے تو اُس کی آپ پر نظر پڑی۔ اُس نے علی علیہ السلام کے چہرے پر آثار غضب دیکھے تو بھاگ کھڑا ہوا اور کھجور کے درخت پر چڑھ گیا۔ جب اس نے محسوس کیا کہ ہو سکتا ہے علی علیہ السلام اس تک آ پہنچیں تو اُس نے درخت سے چھلانگ لگا دی۔ اس اثنا میں اس کا لباس اوپر ہو گیا تو معلوم ہوا کہ اس کا آلہٴ تناسل بالکل ہی نہیں۔ علی علیہ السلام رسول اللهؐ کی خدمت میں واپس آئے اور عرض کی: آپ کے حکم پر قطعی طور پر عمل کروں یا تحقیق کروں۔ رسول اللهؐ نے فرمایا: تحقیق کرو۔ اس پر علی علیہ السلام نے وہ واقعہ رسول اللهؐ کی خدمت میں عرض کیا۔ اس پر پیغمبر خدا الله کا شکر بجالائے اور فرمایا: اُس الله کا شکر ہے جس نے بدی اور آلودگی کو ہمارے دامن سے دُور رکھا۔ اس موقع پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں اور اس مسئلے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ (بحوالہ: تفسیر المیزان، نورالثقلین اور صافی___ تلخیص کے ساتھ)۔
شانِ نزول کے بارے میں تحقیق
پہلی شان نزول جیسا کہ ہم نے کہا ہے بہت سی کتب میں موجود ہے لیکن اس میں کئی ایک مبہم نقاط موجود ہیں مثلاً: ۱۔ اس حدیث میں الفاظ کے اختلاف کے باوجود یہ اچھی طرح واضح ہوتا ہے کہ رسول اللهؐ اس پراپیگنڈا کے زیر اثر آ گئے تھے۔ یہاں تک کہ آپؐ نے اس سلسلے میں مشورے اور بات چیت کے لئے اپنے اصحاب کے ساتھ ایک میٹنگ کی بلکہ عائشہ سے بھی اپنا رویہ تبدیل کر لیا اور طویل عرصے تک ان سے کنارہ کشی اختیار کئے رکھی اور اسی طرح دیگر کئی ایک ایسے اقدامات کئے کہ جو اس امر کی حکایت کرتے ہیں کہ رسول اکرمؐ نے اس پراپیگنڈا کو بہت حد تک قبول کر لیا تھا۔ یہ امر نہ فقط آپؐ کے مقامِ عصمت کے خلاف ہے بلکہ ایک عام باایمان ثابت قدم مسلمان کو بھی اس قسم کے بےدلیل پراپیگنڈا کا اثر قبول نہیں کرنا چاہیے اور اگر فکری طور پر کوئی اس سے متاثر ہو بھی تو عملاً اس کی وجہ سے اپنا طرزِ عمل نہیں بدلنا چاہیے اور اسے تسلیم نہیں کرنا چاہیے۔ چہ جائیکہ ایک معصوم کہ جس کا مقام اور قدر و منزلت واضح ہے۔ اگلی آیتوں میں اس پراپیگنڈا کا اثر قبول کرنے والے مومنین کو شدید سرزنش کی گئی ہے کہ انھوں نے چار گواہوں کا مطالبہ کیوں نہیں کیا۔ کیا باور کیا جا سکتا ہے کہ یہ شدید عتاب اور سرزنش پیغمبر اکرمؐ کے لئے بھی ہو؟ یہ ایک اہم اعتراض ہے کہ جو کم از کم اس شانِ نزول کے بارے میں شک ضرور پیدا کرتا ہے۔ ۲۔ ظاہرِ آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قذف سے مربوط حکم واقعہ افک سے پہلے نازل ہوا ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کے باوجود رسول اللهؐ نے عبد الله بن ابی سلول اور دیگر ان لوگوں پر اسی دن حد کیوں جاری نہ کی کہ جنھوں نے یہ تہمت لگائی تھی (البتہ اگر آیہٴ قذف اور واقعہ افک سے مربوط آیتیں اکھٹی نازل ہوئی ہوں تو پھر یہ اعتراض ہو جائے گا لیکن پہلا اعتراض اسی شدّت سے باقی رہے گا)۔ (بحوالہ: المیزان، ج۱۵، ص۱۱۱)۔ رہی دوسری شانِ نزول کی بات تو اسے قبول کرنا تو اور بھی مشکل ہے کیونکہ: اوّلاً: اس شانِ نزول کے مطابق یہ تہمت صرف ایک خاتون نے لگائی تھی جبکہ آیات صراحت کے ساتھ کہتی ہیں کہ یہ متعدد افراد کا کام تھا اور انھوں نے مل کر یہ پراپیگنڈا کیا تھا اور بات پورے ماحول میں پھیل گئی تھی۔ اسی لئے ان مسلمانوں پر عتاب و سرزنش کے لئے جو ضمیریں استعمال ہوئی ہیں سب جمع کی ہیں اور یہ امر دوسری شانِ نزول سے ہرگز مطابقت نہیں رکھتا۔ ثانیاً: یہ سوال باقی رہتا ہے کہ اگر یہ تہمت صرف عائشہ نے لگائی تھی اور بعد ازاں معاملہ اس کے برخلاف ثابت ہو گیا تو پھر رسول اللهؐ نے ان پر حد تہمت کیوں جاری نہیں کی؟ ثالثاً: کیونکر ممکن ہے کہ صرف ایک عورت کی گواہی پر رسول اللهؐ کسی ملزم کے قتل کا حکم صادر فرما دیں جبکہ سوکنوں میں رقابت و حسد تو معمول کی چیز ہے۔ یہ امر تقاضا کرتا تھا کہ آپؐ کو اس الزام میں حق و عدالت سے انحراف کا احتمال پیدا ہوتا کم از کم یہ احتمال پیدا ہو تاکہ ہو سکتا ہے اسے اشتباہ ہوا ہو۔ ________ بہرحال، ہمارے لئے جو کچھ اہم ہے وہ یہ شانِ نزول نہیں۔ اہم یہ ہے کہ ہم یہ جانیں کہ مجموعی طور پر ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات کے نزول کے وقت ایک بےگناہ شخص پر کچھ لوگوں نے بدکاری کا الزام لگایا تھا اور یہ پراپیگنڈا معاشرے میں پھیل چکا تھا۔ نیز آیت میں موجود قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے شخص پر تہمت لگائی تھی کہ جو اُس معاشرے میں خاص اہمیت کا حامل تھا اور منافقین کہ جو ظاہراً مسلمانوں میں شامل تھے اس سے غلط مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے اور اسلامی معاشرے کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے۔ لہٰذا یہ آیات نازل ہوئیں اور بےمثال قاطعیت کے ساتھ اس حادثے کا مقابلہ کیا۔ ان آ یات نے بدزبان منحرفین اور سیاہ دل منافقین کی سازشوں کو بری طرح ناکام بنا دیا۔ واضح رہے کہ شان نزول کچھ بھی ہو ان آیات کے مفہوم کو زمان و مکان میں منحصر نہیں کیا جا سکتا اور ان کا حکم ہر معاشرے اور ہر زمانے کے لئے ہے۔ ان تمام باتوں کے بعد اب ہم تفسیر آیات کی جانب متوجہ ہوتے ہیں تاکہ ہم دیکھیں کہ قرآن نے کیسی فصاحت و بلاغت سے اس واقعے کو باریکیوں کے ساتھ بیان کیا ہے یہاں تک کہ مسئلہ حل ہو گیا اور سچ جھوٹ میں فرق نمایاں ہو گیا۔
تفسیر ایک بہت بڑی تہمت
زیرِ نظر پہلی آیت واقعہ بیان کئے بغیر کہتی ہے: جن لوگوں نے یہ بہتان باندھا ہے وہ تمہی میں سے تھے (إِنَّ الَّذِینَ جَائُوا بِالْإِفْکِ عُصْبَةٌ مِنْکُمْ)۔ بلاغت کے فنون میں سے ایک یہ ہے کہ زیادہ جملوں کو حذف کر کے ایسے الفاظ پر اکتفا کیا جاتا ہے کہ جو ضروری مفہوم پر دلالت کرتے ہوں۔ لفظ "افک" (بروزن "فکر") بقول راغب ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے کہ جس کی اصلی و طبیعی حالت بدل جائے۔ مثلاً اپنے اصلی راستے ہے ہٹ جانے والی مخالف ہواوٴں کو "موٴفکہ" کہتے ہیں. بعد ازاں حق سے منحرف اور خلاف واقعہ ہر گفتگو کے لئے یہ لفظ استعمال ہونے لگا۔ اسی لحاظ سے جھوٹ، تہمت اور بہتان کو "افک" کہا جاتا ہے۔ مجمع البیان میں مرحوم علامہ طبرسی نے کہا ہے کہ ہر جھوٹ "افک" کو نہیں کہتے بلکہ ایسے بڑے جھوٹ کو کہتے ہیں کہ جو معاملے کی اصل صورت ہی بدل دے۔ اس لحاظ سے لفظ "افک" بذات خود تہمت کے اس واقعے کی اہمیت ظاہر کرتا ہے۔ لفظ "عصبة" (بروزن"غصّہ") دراصل "عصب" کے مادے سے ان خاص ریشوں اور رگوں کے معنی میں ہے کہ جو انسانی اعضاء کو آپس میں جوڑتے ہیں۔ مجموعی طور پر انھیں "اعصاب" کہتے ہیں۔ بعد ازاں یہ لفظ اس گروہ اور جمعیت کے معنی میں استعمال ہونے لگا کہ جس کے افراد باہم متحد و مربوط ہوں آپس میں ہم فکر بھی ہوں اور ہم کار بھی۔ خصوصیت سے اس لفظ کا استعمال نشاندہی کرتا ہے کہ واقعہٴ افک کا منصوبہ بنانے والے باہم بہت قریب اور مربوط تھے اور انھوں نے اس کے لئے بہت مضبوط جال بُنا تھا۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ لفظ عموماً دس تا چالیس افراد کے لئے استعمال ہوتا ہے (تشریحی نوٹ: تفسیر روح المعانی میں یہ معنی کتاب "صحاح" کے حوالے سے لکھا گیا ہے)۔ بہرحال، اس جملے کے بعد قرآن ان مومنین کی دلجوئی کرتا ہے کہ جو ایک پاکدامن شخص پر یہ تہمت لگنے کی وجہ سے شدید ناراحت تھے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ یہ گمان نہ کرو کہ یہ واقعہ تمھارے لئے برُا ہے بلکہ یہ تمہارے لیے باعث خیر ہے (لَاتَحْسَبُوہُ شَرًّا لَکُمْ بَلْ ھُوَ خَیْرٌ لَکُمْ)۔ کیونکہ اس واقع نے شکست خوردہ دشمنوں اور کورول منافقوں کے ارادوں سے پردہ اٹھا دیا ہے اور اس نے ان بد سیرت خوش نما افراد کو رسوا کر دیا ہے۔ نیز یہ بات کتنی اچھی ہے کہ ایک امتحان کی وجہ سے وہ لوگ روسیاہ ہو کر سامنے آ جائیں کہ جو دل میں کھوٹ رکھتے ہیں۔ ہو سکتا ہے اگر یہ واقعہ پیش نہ آتا تو یہ لوگ پہچانے نہ جاتے اور آئندہ خطرناک ضرب لگاتے۔ اس واقعے نے ایک درس مسلمانوں کو یہ بھی دیا کہ واقعات کے صرف ظاہر پر نظر نہ رکھیں کیونکہ بعض اوقات ظاہراً اچھے نہ لگنے والے واقعات باطنی طور پر بہت باعث خیر ہوتے ہیں۔ یہ بات لائق توجہ ہے کہ "لکم" کی ضمیر استعمال کر کے اس واقعے میں تمام مسلمانوں کو شریک گردانا گیا ہے اور دراصل ہے بھی ایسا ہی کیونکہ معاشرتی اور اجتماعی حوالے سے مسلمان ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں بلکہ غموں اور خوشیوں میں ایک دوسرے کے شریک ہیں۔ اس آیت کے دو نکتوں کی طرف مزید اشارہ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: جن لوگوں نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے ان میں سے ہر ایک کے لئے جو ابدہی اور سزا کا ایک حصّہ ہے (لِکُلِّ امْرِءٍ مِنْھُمْ مَا اکْتَسَبَ مِنَ الْإِثْمِ)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اس گناہ کی بھاری ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے جو اس کے بانی اور منصوبہ ساز ہیں اور ان کی اس ذمہ داری کا یہ مطلب نہیں کہ دوسرے کے سر کوئی ذمہ داری نہیں آتی بلکہ جو کوئی بھی جس قدر اس کام میں شریک ہے اتنی ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے۔ مزید فرمایا گیا ہے: جس کا اس گناہ میں بڑا حصّہ ہے اس پر عذاب بھی بڑا ہو گا (وَالَّذِی تَوَلَّی کِبْرَہُ مِنْھُمْ لَہُ عَذَابٌ عَظِیمٌ)۔ مفسرین نے کہا ہے کہ یہ شخص عبد الله بن ابی سلول تھا۔ یہ شخص اصحابِ افک کا سرغنہ تھا۔ بعض دیگر مفسرین نے مسطح بن اثاثہ اور حسان بن ثابت کو اس کا مصداق قرار دیا ہے۔ بہرحال، جو شخص اس واقع کا زیادہ محرک تھا، جس نے اس آگ کا پہلا شعلہ بھڑ کایا تھا اور ان لوگوں کا لیڈر تھا اس گناہ کا بڑا ہونے کی مناسبت سے اس کی سزا بھی بہت یادہ ہے (بعید نہیں کہ لفظ تولی یعنی "جو اس کا رہبر بنا" اس واقعے کی رہبری کی طرف اشارہ ہوا۔ اس کے بعد روئے سخن ان مسلمانوں کی طرف ہے کہ جو اس واقعے میں دھوکے میں آ گئے۔ چند ایک آیات میں ان کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: جس وقت تم نے یہ تہمت سنی تو مومن مردوں اور عورتوں نے اپنے بارے میں اچھا گمان کیوں نہیں کیا (لَوْلَاإِذْ سَمِعْتُمُوہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِاَنفُسِھِمْ خَیْرًا)۔ یعنی جب تم نے مومن افراد کے بارے میں منافقین کی باتیں سنیں تو دوسرے مومنین کے بارے میں حسنِ ظن سے کام کیوں نہ لیا کہ جو تمھارے لئے خود تمہی جیسے ہیں۔ اور کیوں نہیں کہا کہ یہ ایک بڑا اور سفید جھوٹ ہے (وَقَالُوا ھٰذَا إِفْکٌ مُبِینٌ)۔ جبکہ تم ان منافقین کا بُرا اور رُسوا کن ماضی جانتے تھے۔ اور تم تو ان افراد کی پاک دامنی سے اچھی طرح آگاہ تھے کہ جن پر بہتان لگایا جا رہا تھا۔ مختلف قرائن کی بنا پر تمہیں تو اطمینان تھا کہ ایسا ہونا ناممکن ہے۔ تم تو ان سازشوں سے واقف تھے کہ جو دشمن پیغمبرِ اکرمؐ کے خلاف کرتے رہتے ہیں۔ اس کے باوجود اس قسم کا جھوٹا پراپیگنڈا سن کر تمھارا خاموش رہنا لائق ملامت ہے۔ اس طرح تم تو شعوری یا لاشعوری طور پر اس الزام کی نشر و اشاعت کا ذریعہ بن گئے ہو۔ یہ بات جاذبِ توجہ ہے کہ آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ جس پر تہمت لگائی گئی تھی اُس کے بارے میں حسن ظن رکھنا چاہیے تھا بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ تمھیں اپنے بارے میں حسنِ ظن رکھنا چاہیے تھا۔ جیسا کہ ہم نے کہا ہے یہ تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مومنین کا وجود ایک دوسرے سے جُدا نہیں ہے اور سب کے سب گویا ایک ہی وجود ہیں۔ اگر کسی ایک پر تہمت لگے تو گویا سب پر لگی ہے اور اگر کسی ایک حصّے کو تکلیف پہنچے تو باقی حصّے قرار نہیں سے نہیں رہ سکتے اور جس طرح کسی ایک شخص پر تہمت لگے تو وہ اس کے دفاع کی کوشش کرتا ہے اسی طرح اُس کے دینی بھائی بہنوں کو بھی اس کا دفاع کرنا چاہیے۔ (تشریحی نوٹ: بعض نے کہا ہے کہ یہاں مضاف محذوف ہے اور تقدیر یوں تھی: ظن الموٴمنون و الموٴمنات بانفس بعضھم خیراً۔ مومن مرد اور عورتیں اپنے بعض افراد کے بارے میں اچھا گمان کرے۔ یہ احتمال معقول معلوم نہیں ہوتا اور اس سے تو کلام کی لطافت و بلاغت ہی جاتی رہتی ہے)۔ قرآن نے ایسے دیگر مواقع پر بھی لفظ "انفس" استعمال کیا ہے۔ سورہٴ حجرات کی آیت ۱۱ میں ہے: وَلَاتَلْمِزُوا اَنفُسَکُمْ اپنے آپ کی غیبت نہ کرو۔ نیز یہ جو باایمان مردوں اور عورتوں کا ذکر کیا ہے تو یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ایمان ایک ایسی صفت ہے کہ جو بدگمانیوں کو روک سکتی ہے۔ یہاں تک تو اخلاقی اور روحانی پہلو سے سرزنش کی گئی تھی اور متوجہ کیا گیا تھا کہ کسی لحاظ سے بھی مناسب نہ تھا کہ ایسی بُری تہمت پر مومنین خاموش رہتے یا کورول سازشیوں کے لئے آلہٴ کار نہ بنتے۔ اس کے بعد فیصلے اور حکم کا مرحلہ آتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: انھیں چار گواہ پیش کرنے کے لئے کیوں نہ کیا گیا (لَوْلَاجَائُوا عَلَیْہِ بِاَرْبَعَةِ شُھَدَاءَ)۔ اب جبکہ وہ گواہ پیش نہیں کر سکے تو الله کے نزدیک وہ جھوٹے ہیں۔ (فَإِذْ لَمْ یَاْتُوا بِالشُّھَدَاءِ فَاُوْلٰئِکَ عِنْدَ اللهِ ھُمَ الْکَاذِبُونَ)۔ اس مواخذہ اور سرزنش سے ظاہر ہوتا ہے کہ چار گواہوں کی شہادت اور ان کے نہ ہونے کی صورت میں حدّ قذف کا حکم آیات افک سے پہلے نازل ہو چکا تھا۔ رہا سوال یہ کہ خود رسول الله صلی الله علیہ و آلہ وسلّم نے حد جاری کیوں نہ کی، تو اس کا جواب واضح ہے کہ جب تک لوگ ساتھ نہ دیں اس طرح کا اقدام ممکن نہیں کیونکہ بعض اوقات قبائلی تعصب آڑے آ جاتا ہے اور بعض احکام وقتی طور پر ہی سہی نافذ نہیں ہو پاتے اور تاریخ شاہد ہے کہ اس واقعے میں بھی یہی معاملہ درپیش تھا۔ آخر میں مجموعی طور پر فرمایا گیا ہے: اگر الله کا فضل اور رحمت دنیا و آخرت میں تمھارے شامل حال نہ ہوتی تو تمھیں اس کام کے باعث کہ جس میں تم داخل ہو گئے تھے عذابِ عظیم دامن گیر ہوتا (وَلَوْلَافَضْلُ اللهِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہُ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ لَمَسَّکُمْ فِی مَا اَفَضْتُمْ فِیہِ عَذَابٌ عَظِیمٌ)۔ "افضتم" "افاضة" کے مادہ سے زیادہ پانی نکلنے کے معنی میں ہے نیز کبھی یہ لفظ پانی میں داخل ہونے کے معنی میں آتا ہے۔ اس تعبیر سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ مذکورہ تہمت کی شہرت اس قدر ہو گئی تھی کہ گویا مومنین اس کے اندر داخل ہو گئے تھے۔ اگلی آیت درحقیقت اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ وہ اتنے بڑے گناہ میں کیسے سادگی کے ساتھ اور آرام سے جا پڑے تھے۔ ارشاد ہوتا ہے: اس وقت کا سوچو کہ جب تم اس بڑے جھوٹ کے استقبال کے لئے جا رہے تھے اور ایک دوسرے کی زبان سے یہ پراپیگنڈا اڑائے لئے جاتے تھے (إِذْ تَلَقَّوْنَہُ بِاَلْسِنَتِکُمْ)۔ اور اپنے منہ سے تم ایسی باتیں کرتے تھے کہ جن کے بارے میں تمھیں علم و یقین نہ تھا (وَتَقُولُونَ بِاَفْوَاھِکُمْ مَا لَیْسَ لَکُمْ بِہِ عِلْمٌ)۔ اور تمھیں یہ گمان تھا کہ یہ معمولی سا معاملہ ہے حالانکہ خدا کے نزدیک یہ بہت بڑی بات ہے (وَتَحْسَبُونَہُ ھَیِّنًا وَھُوَ عِنْدَ اللهِ عَظِیمٌ)۔ آیت دراصل ان کے تین عظیم گناہوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے: پہلا: اس پراپیگنڈا کا استقبال کرنا اور اسے ایک دوسرے کی زبان سے لینا۔ (پراپیگنڈا کو قبول کرنا)۔ دوسرا: اس پراپیگنڈا کو ہوا دینا جبکہ وہ اس کے بارے میں علم و یقین نہ رکھتے تھے اور اسے دوسروں تک پہنچانا (پراپیگنڈا کی کسی تحقیق کے بغیر کے تشہیر کرنا)۔ تیسرا: اس عمل کو معمولی سمجھنا حالانکہ اس کا تعلق نہ فقط دو مسلمانوں کی عزت و آبرو اور مقام و منزلت سے تھا بلکہ اس کی زد اسلامی معاشرے کی حیثیت و آبرو پر بھی پڑتی تھی (پراپیگنڈا کو معمولی سمجھنا اور اسے شغل کے طور پر لینا)۔ یہ بات لائق توجہ ہے کہ اس موقع پر لفظ "بالسنتکم" (تمھاری زبانیں) اور "بافواھکم" (تمھارے منہ) استعمال کئے گئے ہیں جبکہ تمام باتیں زبان اور منہ ہی سے کی جاتی ہیں۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ تم نے اس پراپیگنڈا کو قبول کرنے میں دلیل کا مطالبہ کیا اور نہ پھیلانے میں دلیل کا سہارا لیا۔ زبان اور منہ کی ہوائی باتوں کو ہی تم اڑاتے رہے۔ یہ واقعہ بہت اہم تھا مگر بعض مسلمانوں نے اسے معمولی سمجھ لیا تھا۔ اس لئے ایک مرتبہ پھر انھیں سرزنش کا زوردار تازیانہ لگایا کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: جب تم نے اتنا بڑا جھوٹ سُنا تو یہ کیوں نہیں کہا کہ ہمیں اجازت نہیں ہے کہ ہم اس بارے میں گفتگو کریں (کیونکہ یہ ایک بے دلیل تہمت ہے) اے پروردگار! تو پاک ہے۔ یہ تو ایک بہت بڑا بہتان ہے (وَلَوْلَاإِذْ سَمِعْتُمُوہُ قُلْتُمْ مَا یَکُونُ لَنَا اَنْ نَتَکَلَّمَ بِھٰذَا سُبْحَانَکَ ھٰذَا بُھْتَانٌ عَظِیمٌ)۔ درحقیقت پہلے تو انھیں اس لئے ملامت کی گئی تھی کہ جن پر تہمت لگائی گئی تھی انھیں حسن ظن کی نگاہ سے کیوں نہیں دیکھا لیکن اب فرمایا گیا ہے حسنِ ظن کے علاوہ تمھیں نہیں چاہیے تھا کہ اس تہمت کے بارے میں لب کشائی کرتے چہ جائیکہ تم اس کی تشہیر کرنے لگ جاؤ۔ چاہیے تھا کہ اتنی بڑی تہمت پر تم تعجب کرتے اور پروردگار کو یاد کرتے اور ایسی تہمت کی کی تشہیر کی آلودگی سے خدا کی پناہ چاہتے۔ مگر افسوس کہ تم بڑی سادگی کے ساتھ اس کے قریب سے گزر گئے اور بغیر سوچے سمجھے پراپیگنڈاباز منافقین کے آلہٴ کار بن گئے۔ تہمت بازی کے گناہ کی اہمیت، اس کے اسباب اس کے سدّباب کے طریقے کے بارے میں اور اسی طرح دیگر موضوعات پر ہم انشاء الله آئندہ آیات کے ذیل میں بات کریں گے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر برائیوں کی اشاعت ممنوع ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 4زیرِ نظر آیات میں پھر واقعہٴ افک کے حوالے سے بات کی گئی ہے۔ ان میں غلط پراپیگنڈا کرنے اور نیک افراد پر خلافِ ناموس تہمت لگانے کے بُرے اور سنگین انجام کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ یہ مسئلہ اِس قدر اہم ہے کہ قرآن متعدد بار ضروری سمجھتا ہے کہ مختلف موٴثر طریقوں سے اس مسئلے کا جائزہ لے اور اس کے بارے میں ایسی سخت باز پرس کرے اور محکم طریقے سے بات کرے کہ آئندہ مسلمانوں کے معاشرے میں ایسے کام کا تکرار نہ ہو۔ ارشاد ہوتا ہے: اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ اگر (خدا اور روزِ جزاء پر) ایمان رکھتے ہو تو ایسے کام کی ہرگز تکرار نہ کرنا (یَعِظُکُمْ اللهُ اَنْ تَعُودُوا لِمِثْلِہِ اَبَدًا إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ)۔ (تشریحی نوٹ: اس جملے کا درحقیقت ایک لفظ مقدر ہے اور وہ ہے "لا" جملہ یوں ہو گا: یعظکم الله ان لاتعودوا لمثلہ ابداً. اور اگر یہ لفظ مقدر نہ مانیں تو پھر "یعظکم" کا لفظ "ینھاکم" کے معنی میں ہونا چاہیے خدا تمھیں ایسے کام کے تکرار سے منع کرتا ہے)۔ یعنی ایمان کی نشانی یہ ہے کہ انسان بڑے گناہوں کا ارتکاب نہ کرے اور اگر کوئی بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے تو یہ بےایمانی کی نشانی ہے یا پھر کمزور ایمان کی۔ یہ جملہ درحقیقت توبہ کے ایک پہلو اور حصّے کی نشاندہی کر رہا ہے کیونکہ گزشتہ گناہ پر پشیمانی ہی کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ آئندہ گناہ کا تکرار نہ کرنے کا پختہ عزم کیا جائے تاکہ توبہ ہمہ گیر ہو جائے۔ اس کے بعد مزید تاکید کے لئے فرمایا گیا ہے: یہ باتیں معمولی نہیں ہیں بلکہ تمھاری سرنوشت کے لئے حقائق ہیں کہ جو بڑی وضاحت و صراحت کے ساتھ تم سے بیان کئے گئے ہیں اور یہ خدائے علیم و حکیم کی طرف سے ہیں (وَیُبَیِّنُ اللهُ لَکُمْ الْآیَاتِ وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ)۔ وہ اپنے علم و آگاہی کی بناء پر تمھارے اعمال کی تمام تفصیلات سے باخبر ہے یا دوسرے لفظوں میں اپنے علم کے مطابق وہ تمھاری احتیاجات اور تمھارے خیر و شر کے عوامل سے آگاہ ہے اور اپنی حکمت کے مطابق اپنے احکام کو ان سے ہم آہنگ کرتا ہے۔ اس کے بعد بات کا رخ کچھ تبدیل کیا گیا ہے۔ اب ایک شخصی واقعے سے آگے بڑھ کر ایک عمومی اور جامع قانون کی صورت میں بات کی گئی ہے تاکہ مسئلے پر کچھ اور زور دیا جائے۔ ارشاد ہوتا ہے: جو لوگ اہلِ ایمان میں برائیاں شائع کرنا پسند کرتے ہیں ان کے لئے دنیا و آخرت میں دردناک عذاب ہے (إِنَّ الَّذِینَ یُحِبُّونَ اَنْ تَشِیعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِینَ آمَنُوا لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیمٌ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ)۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ یہ نہیں فرمایا گیا کہ جو لوگ برائیوں کو شائع کریں بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ ایسا کام کرنا پسند کرتے ہیں۔ یہ جملہ درحقیقت اس سلسلے میں انتہائی تاکید کا غماز ہے۔ __کہیں یہ تصور نہ کیا جائے کہ یہ تاکید اس بناء پر ہے کہ تہمت زوجہٴ رسولؐ یا اس پائے کی کسی شخصیت پر لگائی گئی تھی بلکہ کسی بھی باایمان شخص کے بارے میں ایسا معاملہ درپیش ہو یہ تاکید اس کے بارے میں صادق آئے گی کیونکہ یہ مسئلہ شخصی یا انفرادی پہلو نہیں رکھتا اگرچہ ممکن ہے کہ کسی موقع کی مناسبت سے اس میں دوسرے پہلووٴں کا بھی اضافہ ہو جائے۔ ضمناً توجہ رہے کہ فحشاء اور برائیوں کی اشاعت فقط یہی نہیں کہ باایمان مرد یا عورت پر لگائی گئی جھوٹی تہمت کی تشہیر کی جائے اور ان پر بدکاری کا الزام لگایا جائے۔ یہ تو اس کا ایک مصداق ہے۔ بلکہ یہ تعبیر تو بہت وسیع مفہوم رکھتی ہے اور اس میں ہر قسم کی برائیوں اور گناہوں کی ترویج و اشاعت اور اس میں مدد دینا شامل ہے۔ البتہ قرآن مجید میں عموماً لفظ "فحشاء" یا "فاحشة" جنسی انحرافات اور بدکاریوں کے معنی میں استعمال ہوا ہے لیکن جیسا کہ مفردات میں راغب نے کہا ہے لغوی مفہوم کے اعتبار سے "فحش" "فحشاء" اور "فاحشة" ہر ایسے کام کو کہتے ہیں کہ جس میں بہت زیادہ برائی اور قباحت پائی جائے۔ کبھی کبھار قرآن مجید میں بھی یہ لفظ وسیع مفہوم میں استعمال ہوا ہے مثلاً: وَالَّذِینَ یَجْتَنِبُونَ کَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ جو لوگ گناہان کبیرہ اور قبیح اعمال سے بچتے ہیں۔ (شوریٰ۔۳۷) اس سے زیرِ بحث آیت کے مفہوم کی وسعت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے۔ اب رہا مسئلہ یہ جو قرآن نے کہا ہے کہ دنیا میں بھی ان کے لئے المناک عذاب ہے۔ تو اس سے کیا مراد ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہو سکتا ہے اس سے شرعی حدود و تعزیرات، معاشرتی ردّعمل اور انفرادی سطح پر بُرے نتائج مراد ہوں اور یہ ان اعمال کے وہ نتائج ہیں کہ جو ارتکاب کرنے والوں کو دنیا میں ہی بھگتنا پڑتے ہیں۔ علاوہ ازیں ایسے لوگ حق شہادت سے محروم ہو جاتے ہیں اور رسوائی الگ ہوتی ہے۔ رہا آخرت کا دردناک عذاب تو رحمتِ خدا سے دوری، غضب الٰہی اور آتش جہنم ہے۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: اور خدا جانتا ہے جبکہ تم نہیں جانتے (وَاللهُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَاتَعْلَمُونَ)۔ الله تعالیٰ، برائیوں کی اشاعت کے منحوس نتائج اور دنیا و آخرت میں اس کے ہولناک انجام سے اچھی طرح آگاہ ہے لیکن تم اس مسئلے کے مختلف پہلووٴں سے باخبر نہیں ہو۔ وہ جانتا ہے کہ اس گناہ کی چاہت کن لوگوں کے دل میں ہے___ جو لوگ پُرفریب ناموں کے پسِ پردہ یہ بُرے عمل انجام دیتے ہیں وہ انھیں پہچانتا ہے لیکن تم نہ جانتے ہو اور نہ پہچانتے ہو اور وہ جانتا ہے کہ ان بُرے اور قبیح کاموں کو روکنے کے لئے کس طرح کے احکام نازل کرے۔ واقعہ افک، اشاعتِ فحشاء سے ممانعت اور پاکدامن اہلِ ایمان پر تہمت بازی سے روکنے کے سلسلے کی آخری آیت میں ایک بار پھر تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے: اگر فضل و رحمتِ الٰہی تمھارے شامل حال نہ ہوتی اور الله تم پر رحیم و مہربان نہ ہوتا تو تمھیں اسی دنیا میں ایسی دردناک سزا دیتا کہ جس سے تمھاری زندگی تاریک اور برباد ہو کر رہ جاتی (وَلَوْلَافَضْلُ اللهِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہُ وَاَنَّ اللهَ رَئُوفٌ رَحِیمٌ)۔ (تشریحی نوٹ: اس جملے کی نظیر گزشتہ آیات میں بھی ہے۔ اس میں ایک محذوف ہے۔ اس کی تقدیر یوں ہے: لولا فضل الله علیکم... لمسکم فیما افضتم فیہ عذاب عظیم. اگر فضل و رحمتِ الٰہی تمھارے شامل حال نہ ہوتی تو جس راہ میں تم چل نکلے ہو اس پر تمھیں عذاب عظیم آ پکڑتا)۔
چند اہم نکات ۱۔ "فحشاء" کی اشاعت سے کیا مراد ہے؟
انسان کے معاشرتی وجود ہے۔ یہ معاشرہ انسان کے لئے ایک طرح سے اس کے گھر کی مانند ہے۔ اس کی حرمت اور احترام اس کے اپنے گھر کی حرمت اور احترام کی طرح ہے۔ معاشرے کی پاکیزگی اس کی اپنی پاکیزگی کے لئے مددگار ہے اور معاشرے کی آلودگی اس کی اپنی آلودگی کی طرح ہے۔ اس اصول کی وجہ سے اسلام نے ہر اس کام کی شدید مخالفت کی ہے کہ جو معاشرے کو غلیظ یا زہر آلود کرنے کا سبب بنے۔ یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام نے غیبت کی شدید مخالفت کی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ غیبت چھپے ہوئے عیوب کو آشکار کرتی ہے اور اس سے معاشرے کا احترام مجروح ہوتا ہے۔ عیب پوشی کے حکم کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ گناہ معاشرے میں نہ پھیل جائے۔ اسلام کے احکام کی نظر میں کھلے بندوں گناہ کی اہمیت مخفی گناہ سے زیادہ ہے۔ یہاں تک کہ ایک روایت میں امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام نے فرمایا: ”المذیع بالسیئة مخذول والمستتر بالسیئة مغفور لہ“. جو شخص گناہ کی تشہیر کرے وہ مردود ہے اور جو گناہ کو مخفی رکھے اس کے لئے الله کی مغفرت ہے (بحوالہ: اصول کافی، ج۲، باب ستر الذنوب)۔ یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ زیرِ بحث آیات میں برائیوں کو پھیلانے کی سخت مذمت کی گئی ہے اور اس عمل پر شدید ڈانٹ ڈپٹ کی گئی ہے تو اس کی بھی یہی وجہ ہے۔ اصولی طور پر گناہ آگ کی مانند ہے۔ اگر معاشرے میں کسی جگہ یہ بھڑک اٹھے تو اسے بجھانے کی کوشش کرنا چاہیے یا کم از کم یہ کوشش ہونی چاہیے کہ یہ پھیلنے نہ پائے ورنہ یہ ہر جگہ کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی، اور پھر اس پر کنٹرول کرنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔ اگر لوگوں کی نظر میں گناہ ایک بڑی چیز نہ ہو تو یہ امر بذات خود گناہوں کے راستے میں ایک بڑی دیوار کی مانند ہے لیکن گناہوں اور برائیوں کی نشر و اشاعت اس دیوار کو گرا دیتی ہے اور لوگ گناہوں کو معمولی سمجھنے لگتے ہیں۔ ایک حدیث میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ و آلہ وسلّم فرماتے ہیں: من اذاع فاحشة کان کمبتدئھا بُرے کام کی تشہیر کرنے والا اس کی ابتداء کرنے والے کے برابر ہے (بحوالہ: اصول کافی، ج۲، باب التعبیر)۔ ایک اور روایت میں ہے کہ: ایک شخص امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام کی خدمت میں آیا۔ اس نے عرض کیا: میں آپ پر قربان، لوگ میرے ایک دینی بھائی کے بارے میں بتاتے ہیں کہ اس نے ایک ایسا کام انجام دیا ہے کہ جسے میں ناپسند کرتا ہوں۔ میں نے خود اس سے پوچھا تو اس نے انکار کیا جبکہ متعدد موثق افراد نے اس کے بارے میں یہ بات بتائی ہے۔ میرے لئے کیا حکم ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: کذب سمعک و بصرک عن اخیک وان تشھد عندک خمسون قسامہ وقال لک قول فصدقہ وکذبھم، ولاتذیعن علیہ شیئاً تشینہ بہ وتھدم بہ مروتہ، فتکون من الذین قال الله عزوّجل: إِنَّ الَّذِینَ یُحِبُّونَ اَنْ تَشِیعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِینَ آمَنُوا لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیمٌ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ. اپنے مومن اور مسلمان بھائی کے مقابلے میں اپنے کان اور آنکھ کو جھٹلا دو۔ یہاں تک کہ اگر پچاس آدمی بھی آ کر قسم کھا کر کہیں اس نے فلاں کام کیا ہے جبکہ وہ کہے کہ میں نے نہیں کیا تو اس بھائی کی تصدیق کرو اور ان کی بات ہرگز قبول نہ کرو۔ جو چیز ننگ و رسوائی کا باعث ہو اور اس کی شخصیت کو ختم کر دے اسے معاشرے میں نہ پھیلاوٴ ورنہ تم ان لوگوں میں سے شمار ہو گے کہ جن کے بارے میں الله فرماتا ہے: جو لوگ مومنین کی برائیاں معاشرے میں پھیلانا پسند کرتے ہیں ان کے لئے دنیا و آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ (بحوالہ: تفسیر نورالثقلین، ج٢، ص٥۸٢ بحوالہ کتاب ثواب الاعمال)۔ (تشریحی نوٹ: اس مسئلے کے کچھ استثنائی پہلو بھی ہیں۔ مثلاً عدالت میں شہادت دینا یا ایسے مواقع کہ جہاں نہی عن المنکر کے لئے اس کے سوا کوئی راستہ باقی نہ رہ جائے کہ کسی شخص کا بُرا کام فاش کر دیا جائے)۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ برائیوں کے پھیلاوٴ کی مختلف صورتیں ہیں۔ ۱۔ کبھی جھوٹ اور بہتان کو ہوا دی جاتی ہے اور ہر کسی کو بتایا جاتا ہے۔ ۲۔ کبھی ایسے مراکز کی بنیاد رکھی ہے کہ جو برائیاں پھیلنے کا سبب بنتے ہیں۔ ۳۔ کبھی گناہ کے اسباب فراہم کر کے یا لوگوں کو ترغیب دے کر گناہ پھیلایا جاتا ہے۔ ۴۔ کبھی بے شرمی اور بے حیائی عام کر کے اور برسرِ عام ارتکاب گناہ کر کے برائی پھیلائی جاتی ہے۔ یہ سب برائیاں پھیلانے کے طریقے ہیں اور اشاعتِ فحشاء کے مصداق ہیں کیونکہ اس لفظ کا ایک وسیع مفہوم ہے۔ (غور کیجئے گا)۔
۲۔ غلط پرو پیگنڈا، ایک بلا
سازشی عناصر کا نفسیاتی جنگ کا ایک اہم طریقہ یہ ہے کہ وہ جعلی باتیں گھڑتے ہیں اور پھر اُن کا خوب پراپیگنڈا کرتے۔ جو لوگ سامنے آ کے مقابلے کی ہمت نہ رکھتے ہوں تو یہ ہتھکنڈا اختیار کرتے ہیں۔ وہ لوگوں کی فکر کو مسموم کرتے ہیں۔ انھیں اپنی طرف مشغول رکھنے کے لئے پراپیگنڈا کا سہارا لیتے ہیں اور لوگوں کی توجہ حساس اور ضروری مسائل سے ہٹا دیتے ہیں۔ نیک اور پاک لوگوں کی عزّت و وقار کو مجروح کرنے اور عوام کو ان سے دور کرنے کے لئے پراپیگنڈا اور کردار کشی ایک تباہ کن ہتھیار ہے۔ زیرِ بحث آیات کی مشہور شانِ نزول کے مطابق منافقین نے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کی حیثیت و وقار کو داغدار کرنے کے جعلی پراپیگنڈا کا بزدلانہ طریقہ اختیار کیا۔ انھوں نے کسی موقع سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہونے آپ کی ایک زوجہ کی پاکدامنی کے خلاف پراپیگنڈا شروع کر دیا۔ اس سے ایک اچھی خاصی مدّت تک مسلمانوں کے اذہان پریشان رہے۔ یہاں تک کہ ثابت قدم اور سچّے مومنین بھی سخت اذیّت میں تھے۔ پھر خدا کی وحی ان کی مدد کے لئے آئی اور ایسا پراپیگنڈا کرنے والے منافقوں کی خوب خبر لی کہ جو سب کے لئے باعثِ عبرت بن گئی۔ جن معاشروں میں سیاسی گھٹن ہو وہاں پراپیگنڈا کا ہتھیار بہت موٴثر سمجھا جاتا ہے۔ دوسروں سے انتقام لینے، کردار کشی کرنے، اعتماد کی فضا خراب کرنے اور بنیادی مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے پراپیگنڈا کا سہارا لیا جاتا ہے۔ یہ بات تو کافی نہیں کہ ہم ایسے پراپیگنڈا کے محرکات سے آگاہ ہوں بلکہ اہم تو یہ ہے کہ عوام کو ایسا پراپیگنڈا کرنے والوں کا آلہٴ کار بننے سے بچایا جائے اور انھیں اپنے ہاتھوں اپنی نابودی سے روکا جائے اور انھیں سمجھایا جائے کہ ایسی بات جہاں سنیں وہیں دفن کر دیں ورنہ دشمن کی خوشنودی اور کامیابی کا باعث بن جائیں گے اور اس کے علاوہ دنیا و آخرت میں عذاب الیم کا مزہ بھی چکھنا ہو گا۔جیسا کہ زیرِ بحث آیات میں اشارہ کیا جا چکا ہے۔
۳۔ گناہ کو معمولی سمجھنا
زیرِ بحث آیات میں جہاں برائیاں پھیلانے جیسے گناہ کی مذمت کی گئی ہے وہاں اس گناہ کو معمولی سمجھنے کی بھی مذمت کی گئی ہے۔ واقعاً گناہ کو معمولی اور چھوٹا سمجھنا بذاتِ خود ایک گناہ ہے۔ جو شخص گناہ کرتا ہے پھر اسے یہ خیال ستاتا ہے کہ اس سے بہت برا کام ہو گیا اور وہ اپنے کام پر بہت ناراحت ہوتا ہے۔ ایسا شخص ہی توبہ کی طرف مائل ہوتا ہے لیکن جو شخص اپنے گناہ کو معمولی سمجھتا ہے اور اسے اہمیت نہیں دیتا یہاں تک کہ کہہ گزرتا ہے: کیا ہوا اگر میں نے یہ گناہ کیا ہے؟ اس شخص نے بہت خطرناک راستہ اختیار کا لیا ہے اور اس خیال کے باعث وہ گویا مسلسل گناہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسی بناء پر ایک حدیث میں امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: "اشدّ الذنوب ما استھان بہ صاحبہ"۔ "سب سے بڑا گناہ وہ ہے کہ جسے انجام دینے والا معمولی سمجھے"۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، کلمات قصار، نمبر۳۴۸)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر جزا اور سزا، حساب اور استحقاق کے مطابق ہو گی
Tafsīr Nemūna · Vol. 4صراحتاً تو یہ آیات واقعہٴ افک کے بارے میں نہیں ہیں تاہم انھیں اسی بحث کا تتمہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہاں تمام مومنین کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ بعض اوقات شیطانی افکار و اعمال تدریجی طور پر غیر محسوس طریقے سے اثر انداز ہو جاتے ہیں۔ اگر شروع ہی میں ان پر کنٹرول نہ کیا جائے تو پھر انسان اس وقت متوجہ ہوتا ہے جب معاملہ ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔ لہٰذا جب گناہوں اور بدکاریوں کے وسوسوں کی ابتداء ہی ہو تو ان کا مقابلہ کرنا چاہیے تاکہ وہ وسعت اختیار نہ کر جائیں۔ زیرِ نظر پہلی آیت میں روئے سخن مومنین کی طرف ہے ارشاد ہوتا ہے: اے ایمان لانے والو! شیطان کے نقشِ قدم پر مت چلو کہ کوئی بھی اس کی پیروی کرے گا وہ گمراہی، بدکاری اور نافرمانی کی طرف کھینچتا چلا جائے گا کیونکہ شیطان بدکاری و برکائی کی دعوت دیتا ہے (یَااَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا لَاتَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ وَمَنْ یَتَّبِعْ خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ فَإِنَّہُ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ وَالْمُنْکَرِ)۔ (تشریحی نوٹ: "وَمَنْ یَتَّبِعْ خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ فَإِنَّہُ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ" یہ جملہ درحقیقت محذوف رکھتا ہے (جزائے شرط) اور اس کی تقدیر یوں ہے: (ومن یتتبع خطوات الشیطان ارتکب الفحشاء والمنکر فانّہ یامر بھما) جو شخص بھی شیطان کی پیروی کرے گا وہ بدکاریوں اور برائیوں کا مرتکب ہو گا کیونکہ وہ انہی چیزوں کا حکم دیتا ہے۔ (روح المعانی، ج۱۸، ص۱۱۲، زیرِ بحث آیات کے ذیل میں) توجہ رہے کہ "فَإِنَّہُ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ وَالْمُنْکَرِ“ جزائے شرط نہیں ہو سکتا۔") "شیطان" اپنے وسیع تر معنی میں ہر موذی، تباہ کار، ویران گر اور ضرر رساں وجود کو کہتے ہیں۔ اس آیت میں اس لفظ کو اگر اس معنی میں لیا جائے تو پوری زندگی کے تمام پہلووٴں کے لئے اس تنبیہ کی وسعت واضح ہو جائے گی۔ ایک پاکباز مومن کبھی بھی یکدم برائی کی آغوش میں نہیں پڑ جاتا بلکہ قدم بقدم جاتا ہے مثلاً پہلا قدم: آلودہ گناہ افراد سے ملنا جلنا اور ان سے دوستی۔ دوسرا قدم: ان کی محفلوں میں شرکت۔ تیسرا قدم: گناہ کے بارے میں سوچنے لگنا۔ چوتھا قدم: مشکوک و مشتبہ کام کرنے لگنا۔ پانچواں قدم: گناہان صغیرہ کا ارتکاب۔ بالکل ایسے جیسے انسان اپنی باگ ڈور کسی گناہ گار مجرم کے حوالے کر دے جو قدم بقدم اسے ہلاکت کے گھڑے کی طرف لے جائے تاکہ انسان اس میں گرفتار ہو جائے____ جی ہاں! یہ ہیں "خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ"۔ (تشریحی نوٹ "فحشاء" اور "منکر" کے درمیان فرق کے سلسلے میں ہم تفسیر نمونہ کی چھٹی جلد میں سورہٴ نحل کی آیت۹ کے ذیل میں بحث کر چکے ہیں)۔ اس کے بعد راہِ ہدایت کی طرف انسانوں کی رہبری کی عظیم نعمت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اگر فضل و رحمتِ الٰہی تم پر نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی شخص پاک نہ ہوتا مگر الله جسے چاہتا ہے پاک کر دیتا ہے اور خدا تو سننے والا اور جاننے والا ہے (وَلَوْلَافَضْلُ اللهِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہُ مَا زَکَا مِنْکُمْ مِنْ اَحَدٍ اَبَدًا وَلَکِنَّ اللهَ یُزَکِّی مَنْ یَشَاءُ وَاللهُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ)۔ اس میں شک نہیں کہ خدا کا فضل و رحمت ہی ہے کہ جو انسانوں کی برائیوں، انحرافوں اور گناہوں سے نجات کا سبب ہے۔ کیونکہ ایک تو اس نے انسان کو نعمتِ عقل سے نوازا ہے اور پھر رسولؐ بھیجے ہیں اور ان کے ساتھ یہ احکام بھی بطریق وحی نازل فرمائے ہیں علاوہ ازیں اس کی خاص توفیقات اور غیبی امداد بھی ہے کہ جو اہل اور مستحق انسانوں کے شاملِ حال ہوتی ہے___ یہ سب پاکیزگی اور تزکیہ کے نہایت اہم حامل ہیں۔ جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے "من یشاء" کا مطلب بلاوجہ اور بےبنیاد نہیں ہے بلکہ جب تک بندوں کی طرف سے کوشش نہ ہو تب تک الله کی طرف سے ہدایت و نعمت پذیر نہیں ہوتی۔ جو شخص اس راہ کا طالب ہوتا ہے۔ اس راستے پر قدم رکھتا ہے اور جہاد کرتا ہے الله بھی اس کا ہاتھ تھام لیتا ہے۔ اسے شیطانی وسوسوں سے محفوظ رکھتا ہے اور منزل مقصود تک پہنچاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں (الله کا فضل و رحمت کبھی تشریعی صورت میں ہوتا ہے اور کبھی تکوینی صورت میں۔ تشریعی صورت میں اس طرح سے کہ وہ انبیاء کو مبعوث کرتا ہے۔ آسمانی کتابیں نازل کرتا ہے۔ احکام بیان کرتا ہے اور نذرات و بشارت کی حکمت اختیار کرتا ہے جبکہ روحانی اور غیبی امداد اُس کے فضل و رحمت کا تکوینی طریقہ ہے۔ "من یشاء" سے یوں لگتا ہے کہ زیرِ بحث آیات کا اشارہ دوسرے طریقے کی طرف ہے۔ ضمناً توجہ رہے کہ "زکوة" اور "تزکیة" دراصل نشوونما پانے کے معنی میں ہے لیکن بہت سے مواقع پر یہ لفظ پاک ہونے اور پاک کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور ہو سکتا ہے دونوں معانی کی بازگشت ایک ہی بنیادی مفہوم کی طرف ہو کیونکہ جب تک کوئی چیز موانع، رکاوٹوں، رذائل اور خرابیوں سے پاک نہیں ہوتی اس کے لئے نشوونما اور رشد و ارتقاء ممکن ہی نہیں۔ بعض مفسرین نے زیرِ بحث دوسری آیت کے لئے ایک شان نزول بیان کی ہے کہ جس سے اس آیت کا گزشتہ آیات سے تعلق واضح ہوتا ہے۔ مذکورہ شانِ نزول کچھ یوں ہے: یہ آیت چند صحابہ کے بارے میں نازل ہوئی کہ جنھوں نے واقعہٴ افک کے بعد قسم کھائی تھی کہ جو لوگ اس واقع میں ملوث تھے اور اس عظیم تہمت کو پھیلانے میں سرگرم تھے ان میں سے کسی کی مالی امداد نہیں کریں گے۔ اور ان میں سے کسی سے ہمدردی نہ کریں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انھیں اس شدّت عمل سے سختی سے روک دیا گیا اور عفو و درگزر کا حکم دیا گیا۔ یہ شانِ نزول قرطبی نے اپنی تفسیر میں ابن عباس اور ضحاک کے حوالے سے نقل کی ہے نیز مرحوم طبرسی نے اسے ابن عباس اور دیگر افراد سے نقل کیا ہے اور یہ شانِ نزول عمومی پہلو رکھتی ہے۔ لیکن کچھ اہل سنّت مفسرین کا اصرار ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر کے بارے میں نازل ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ واقعہ افک کے بعد انھوں نے مسطح بن اثاثہ کی مالی امداد بند کر دی تھی۔ مسطح ان کی خالہ یا بہن کا بیٹا تھا۔ لیکن آیت میں تمام جمع کی ضمیریں استعمال ہوئی ہیں۔ جمع کے یہ صیغے نشاندہی کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے ایک گروہ نے اس واقعے کے مجرمین کی مالی امداد بند گر دی تھی اور الله تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے انھیں کام سے منع کیا۔ بہرحال، ہم جانتے ہیں کہ آیاتِ قرآن شانِ نزول ہی سے مخصوص نہیں ہیں بلکہ ان کا دامن وسیع ہے اور ان کا پیغام قیامت تک کے مومنین کے لئے ہے۔ تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ ایسے مواقع پر احساسات و جذبات کی اس شدّت میں گرفتار نہ ہوں اور گنہگاروں کی لغزش اور غلطیوں پر ایسے فیصلے نہ کریں۔ اس شانِ نزول کی طرف توجہ کے ساتھ ہم آیت کی تفسیر کی طرف لوٹتے ہیں: قرآن کہتا ہے: جو لوگ مالی لحاظ سے خوشحال ہیں وہ یہ قسم نہ کھالیں (اور یہ فیصلہ نہ کر لیں) کہ اپنے رشتہ داروں، محتاجوں اور راہِ خدا کے مہاجروں کی امداد نہیں کریں گے (وَلَایَاْتَلِ اُوْلُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَةِ اَنْ یُؤْتُوا اُوْلِی الْقُرْبیٰ وَالْمَسَاکِینَ وَالْمُھَاجِرِینَ فِی سَبِیلِ اللهِ)۔ اس آیت کے الفاظ اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس واقعے میں ملوث بعض افراد راہِ خدا میں ہجرت کرنے والے بھی تھے جو منافقین کے دھوکے میں آ گئے اور ان کے سابقہ کارنامے کی وجہ سے الله نے اجازت دی کہ انھیں اسلامی معاشرے سے دھتکار دیا جائے اور ان کے استحقاق سے بڑھ اُن کے خلاف فیصلہ کیا جائے۔ ضمناً "یَاْتَل" "الیہ" (بروزن "عطیہ") کے مادے سے قسم کھانے کے معنی میں ہے یا پھر "الو" (بروزن "دلو") کے مادے سے کوتاہی کرنے اور ترک کرنے کے معنی میں ہے۔ لہٰذا پہلے معنی کے اعتبار سے اس آیت میں ایسی امداد روکنے کی قسم کھانے سے منع کیا گیا ہے۔ (تشریحی نوٹ: اس صورت میں لفظ "لا" کو "یوٴتو" سے مقدر مانا جائے گا اور تقدیر یوں ہو گی: "ولا یاتل.... ان لایوٴتوا")۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے اس عمل میں کوتاہی اور اسے ترک کرنے سے ممانعت کی گئی ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں کو ایسے نیک کام جاری رکھنے کی ترغیب دلاتے ہوئے فرمایا گیا ہے: انھیں معاف کر دینا چاہیے اور چشم پوشی کرنا چاہیے (وَلْیَعْفُوا وَلْیَصْفَحُوا)۔ کیا تمھیں پسند نہیں کہ الله تم سے درگزر کرے (اَلَاتُحِبُّونَ اَنْ یَغْفِرَ اللهُ لَکُمْ)۔ تو جیسے تم چاہتے ہو کہ الله تمھاری لغزشیں معاف کر دے ایسے ہی دوسروں کی کوتاہیوں سے بھی صرفِ نظر کر لیا کرو۔ اور الله تو غفور و رحیم ہے (وَاللهُ غَفُورٌ رَحِیمٌ)۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ایک طرف تو ایسے تند و تیز لہجے میں واقعہٴ افک کے ذمہ داروں کی مذمت کی گئی ہے جبکہ دوسری طرف افراط پسند افراد کو تجاوز کرنے سے روکا گیا ہے اور ایسے ہی تین جملوں کے ذریعے ان کے احساسات و جذبات کو کنٹرول کیا گیا ہے کہ جن میں سے ہر ایک دوسرے سے وسیع تر اور جاذب تر ہے۔ پہلے عفو و درگزر کا حکم دیا گیا ہے۔ پھر کہا گیا تم خود نہیں چاہتے کہ الله تمھیں بخش دے پس تم بھی بخش دو۔ اور آخر میں الله کی دو صفات غفو و رحیم کا ذکر کر کے تاکید مزید کی گئی ہے۔ یہ اس طرح اشارہ ہے کہ حکمِ خدا سے بڑھ کر تمھاری تپش نہیں ہو سکتی۔ الله کہ جو اس حکم کا اصلی مالک ہے وہ غفو و رحیم ہے۔ وہ حکم دیتا ہے کہ امداد نہ روکو۔ اب تم کیا کہتے ہو۔ اس میں شک نہیں کہ جو مسلمان واقعہٴ افک میں ملوث ہو گئے تھے وہ تمام اس کی سازش میں شریک نہ تھے صرف چند مسلمان نما منافقین اس کے بانی تھے اور زیادہ تر مسلمان ان کے دھوکے میں آ کر ان کے پیچھے لگ گئے تھے۔ اس میں شک نہیں کہ یہ سب ذمہ دار اور گنہگار تھے تاہم ان دونوں گروہوں کے درمیان بہت فرق تھا۔ لہٰذا سب سے ایک جیسا سلوک نہیں کیا جا سکتا۔ بہرحال، ان آیات میں آج اور کل کے مسلمان کے لئے بہت بڑا درس ہے کہ اگر کچھ لوگ گناہ و لغزش کا شکار ہو جائیں تو انھیں سزا دیتے ہوئے حدّا عتدال سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ انہیں اسلامی معاشرے دھتکار کر باہر نہیں نکال دینا چاہیے اور نہ امداد کے دروازے ان پر بند کر دینے چاہئیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ دشمنوں کے دامن میں جا گریں اور ان کی صف میں جا شامل ہوں۔ یہ آیات درحقیقت اسلام کی قوتِ جاذبہ اور قوتِ دافعہ کے اعتدال کی عکاسی کرتی ہیں۔ آیات افک پہلے مرحلے میں تو لوگوں کی ناموس پر تہمت لگانے والوں کے لئے سخت سزا کو بیان کرتی ہیں اور اس طرح دافعہ کی عظیم قوت کا مظہر ہیں اور دوسرے مرحلے میں عفو و درگزر اور الله کے غفور و رحیم ہونے کا تذکرہ ہے اس مقام پر قوت جاذب کا مظہر ہیں۔ اس کے بعد پھر قذف کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے اور موضوع پھر پاکدامن عورتوں کی ناموس پر تہمت لگانے کی طرف لوٹتا ہے۔ قطعی اور اٹل فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جو لوگ پاکدامن اور ہر گناہ سے بے خبر مومن عورتوں پر ناروا تہمت لگاتے ہیں وہ دنیا و آخرت میں رحمتِ الٰہی سے دور ہیں اور عذاب عظیم ان کے انتظار میں ہے (إِنَّ الَّذِینَ یَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ وَلَھُمْ عَذَابٌ عَظِیمٌ)۔ اس آیت میں دراصل عورتوں کی تین صفات بیان کی گئی ہیں۔ ان میں سے ہر صفت اس ظلم کی اہمیت پر ایک دلیل ہے کہ جو ان پر تہمت لگا کر کیا گیا ہے۔ "محصنات"¬¬¬¬¬¬¬¬____ پاکدامن عورتیں "غافلات"____ ہر قسم کے گناہ سے دور ___اور "موٴمنات"____ باایمان عورتیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسی پاکباز عورتوں کی طرف ناروا نسبتیں دینا کس قدر ظالمانہ اور بزدلانہ فعل ہے اور عذاب عظیم کا باعث ہے۔ (بحوالہ: المیزان، زیرِ بحث آیات کے ذیل میں، ج۱۵، ص۱۲۲)۔ ضمناً یہ بات بھی کہہ دی جائے کہ "غافلات" ایک جاذب نظر اور عمدہ تعبیر ہے کہ جو ان کی ہر قسم سے انحراف اور بےعفتی سے انتہائی پاکیزگی کی غماز ہے۔ یعنی وہ جنسی قباحتوں سے اس قدر بے اعتناء ہیں کہ گویا انھیں ان کی خبر تک نہیں کیونکہ بعض اوقات گناہوں کے بارے میں انسان کی کیفیت ایسی ہو جاتی ہے کہ اصلاً ان کا تصور تک اس کی فکر و نظر سے نکل جاتا ہے اور ان کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ گویا ایسا کوئی عمل وجود ہی نہیں رکھتا اور یہ تقویٰ کا اعلیٰ مرحلہ ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ "غافلات" سے مراد ایسی عورتیں ہیں کہ جنھیں خبر بھی نہیں کہ ان پر ایسی ناروا تہمتیں لگائی گئی ہیں لہٰذا وہ اپنا دفاع تک نہیں کر سکتیں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو زیرِ بحث آیت ایک نئے مطلب کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ گویا یہ ایک اور طرح کی تہمت ہے جبکہ گزشتہ آیات میں ایسے تہمت لگانے والوں کا ذکر تھا کہ جو جانے پہچانے اور انھیں سزا دی گئی تھی۔ لیکن اب یہاں ان تہمت ساز افراد کے بارے میں گفتگو ہے کہ جنھوں نے مخفی طور پر یہ حرکت کی اور اپنے آپ کو حدّ شرعی سے بچائے رکھا۔ قرآن کہتا ہے کہ ایسے لوگ یہ سمجھیں کہ اس عمل پر وہ ہمیشہ الله کی سزا سے بچے رہیں گے بلکہ خدا اس دنیا میں انھیں اپنی رحمت سے دور رکھے گا اور آخرت میں بھی ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔ یہ آیت اگرچہ واقعہٴ افک کے بعد آئی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس واقعے سے غیر مربوط بھی نہیں یہ بھی ان تمام آیات کی طرح ہے کہ جو خاص مواقع پر نازل ہوئیں مگر ان کا مفہوم عمومی ہوتا ہے۔ یہ آیتیں معیّن موقع کے لئے نہیں ہیں۔ _____________ تعجب کی بات ہے کہ تفسیر کبیر میں فخر رازی نے اور بعض دیگر مفسرین نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ اس آیت کے مفہوم کو ازواج پیغمبر پر تہمت لگانے کے ساتھ محدود سمجھا جائے اور اس گناہ کو سرحدِ کفر میں قرار دیا جائے۔ اس آیت میں جو لفظ "لعن" آیا ہے اسے انھوں نے اپنے اس دعویٰ کے لئے دلیل قرار دیا ہے۔ حالانکہ تہمت لگانا اگرچہ بہت بڑا گناہ ہے اور اگر یہ تہمت ازواج پیغمبر پر لگائی جائے تو بہ گناہ کہیں بڑا ہو جاتا ہے تاہم تنہا یہ گناہ موجب کفر نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس واقعے میں ملوث افراد کے ساتھ رسولِ اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم نے وہ سلوک نہیں کیا جو مرتد کے ساتھ کیا جاتا ہے بلکہ بعد والی آیتوں میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ ان پر حد سے زیادہ سختی کرنے سے منع فرمایا گیا اور اگر کفر کا مسئلہ ہوتا تو یہ بات اس سے مناسبت نہیں رکھتی تھی۔ رہی بات "لعن" (لعنت) کی __ تو اس سے مراد رحمتِ خدا سے دوری ہے کہ جو کافروں اور گناہانِ کبیرہ کا ارتکاب کرنے والوں پر صادق آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہی آیات میں کہ جو حد قذف کے بارے میں گزری ہیں "لعان" سے مربوط احکام میں دو مرتبہ جھوٹ بولنے والوں کے لئے "لعن" کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ مشہور حدیث ہے کہ: لعن الله فی الخمر عشر طوائف..... شراب کے بارے میں الله نے دس گروہوں پر لعنت کی ہے۔ _____________ اگلی آیت میں تہمت لگانے والوں کی بارگاہِ الٰہی میں کیفیت بیان کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اس روز ان پر عذابِ عظیم ہو گا کہ جس دن ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پاوٴں ان کے اعمال کی وجہ سے ان کے خلاف گواہی دیں گے (یَوْمَ تَشْھَدُ عَلَیْھِمْ اَلْسِنَتُھُمْ وَاَیْدِیھِمْ وَاَرْجُلُھُمْ بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ)۔ وہ نہیں چاہیں گے مگر ان کی زبان حرکت میں آ جائے گی اور حقائق بیان کرے گی۔ جب قطعی دلائل و شواہد سامنے آ جائیں گے تو یہ مجرم نہ چاہتے ہوئے بھی صراحت سے اپنے گناہوں کا اقرار کر لیں گے اور خود تمام کاموں کو فاش کر دیں گے اس لئے کہ انھیں انکار کی کوئی گنجائش سجھائی نہ دے گی۔ ان کے ہاتھ پاوٴں بھی بولیں گے یہاں تک کہ قرآنی آیات کے مطابق ان کے بدن کا چمڑا بھی کلام کرے گا۔ گویا یہ عالم ہو گا جیسے انسان کی ساری آوازیں ٹیپ ریکارڈ ہو چکی ہیں۔ اس کی ساری زندگی کے گناہوں کی فلم بن چکی ہے_____ جی ہاں____ وہ دن کہ جسے "یوم البروز" کہتے ہیں ___ (جو تمام بھیدوں کے آشکار ہو جانے کا دن ہے____ اس روز یہ سب کچھ آشکار ہو جائے گا۔ بعض قرآنی آیات میں روزِ قیامت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ: الْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلیٰ اَفْوَاہِھِمْ وَتُکَلِّمُنَا اَیْدِیھِمْ وَتَشْھَدُ اَرْجُلُھُمْ بِمَا کَانُوا یَکْسِبُونَ آج ہم ان کی زبان پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ پاوٴں ہم سے گفتگو کریں گے کہ جن کے ذریعے یہ کام کرتے ہیں۔ (یٰس۔۶۵) ایسی آیات زیرِ بحث آیات کے منافی نہیں ہیں کیونکہ ممکن ہے کہ پہلے تو زبان خاموش ہو جائے اور باقی اعضاء گواہی دیں اور جب ہاتھ پاوٴں کی گواہی سے حقائق آشکار ہو جائیں تو پھر زبان کو اذنِ کلام مل جائے گا اور پھر جو کچھ کہنا ہو وہ کہے اور گناہوں کا اعتراف کرے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: اس دن خدا انھیں بےکم و کاست ان کی حقیقی جزاء انھیں دے گا (یَوْمَئِذٍ یُوَفِّیھِمْ اللهُ دِینَھُمَ الْحَقَّ)۔ اور اس دن وہ جان لیں گے کہ الله حق مبین ہے (وَیَعْلَمُونَ اَنَّ اللهَ ھُوَ الْحَقُّ الْمُبِینُ)۔ اگر آج____ اس دنیا میں انھیں پروردگار کی حقانیت کے بارے میں کوئی شک ہے یا آج لوگوں کی گمراہی کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں تو اس دن کی عظمت، قدرت اور حقانیت کی نشانیاں اتنی واضح ہوں گی کہ سخت ترین ہٹ دھرم افراد بھی اعتراف پر مجبور ہو جائیں گے۔
تفسیر "کندہم جنس باہم جنس پرواز“
Tafsīr Nemūna · Vol. 4یہ آیت بھی درحقیقت آیاتِ افک اور اس سے پہلے کی آیات کا تسلسل ہے اور انھی کے مفاہیم پر ایک اور تاکید ہے۔ اس میں جہانِ خلقت میں رائج ایک فطری نظام کا بیان ہے کہ شریعت بھی جس سے ہم آہنگ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: خبیث و ناپاک عورتیں خبیث و ناپاک مردوں کے لئے ہیں جیسا کہ خبیث و ناپاک مردوں کا تعلق خبیث و ناپاک عورتوں سے ہے (الْخَبِیثَاتُ لِلْخَبِیثِینَ وَالْخَبِیثُونَ لِلْخَبِیثَاتِ)۔ اور اس کے مدّمقابل بھی "طیب و پاک عورتیں طیّب و پاک مردوں کے لئے ہیں جیسا کہ طیب و پاک مردوں کا تعلق طیب و پاک عورتوں سے ہے (وَالطَّیِّبَاتُ لِلطَّیِّبِینَ وَالطَّیِّبُونَ لِلطَّیِّبَاتِ)۔ اور آیت کے آخر میں دوسرے گروہ کے بارے میں مزید فرمایا گیا ہے: وہ ان ناروا تہمتوں سے مبرّا ہیں کہ جو ان پر لگائی جاتی ہیں (اُوْلٰئِکَ مُبَرَّئُونَ مِمَّا یَقُولُونَ)۔ اور اسی بناء پر الله مغفرت اور اسی طرح پرارزش رزق ان کے انتظار میں ہے (لَھُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ کَرِیمٌ)۔
چند اہم نکات ۱۔ "خبیثات" اور "خبیثون" کون ہیں؟
زیرِ بحث آیات میں "خبیثات" اور "خبیثون" نیز "طیبات" اور "طیبین" سے کون مراد ہیں، اس سلسلے میں مختلف بیانات ہیں مثلاً: ۱۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد ناپاک باتیں، تہمت، افتراء اور جھوٹ ہے کہ جن کا تعلق غلط کار اور گندے افراد کے ساتھ ہے اور اِس کے برعکس پاکیزہ باتیں پاک و باتقویٰ افراد کے لئے ہیں۔ ۲۔ بعض کہتے ہیں کہ "خبیثات" اور "سیّئات" کے معنی میں ہے یعنی اس سے مراد مطلق بُرے اور ناپسندیدہ کام ہیں کہ جو ناپاک مرد بجا لاتے ہیں اس کے برعکس حسنات پاک لوگوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ ۳۔ بعض کا کہنا ہے کہ اس سے مراد "خبیثات" اور "خبیثون" آلودہ دامن عورتوں اور مردوں کی طرف اشارہ ہے اور اس کے برعکس "طیبات" اور "طیبین" پاکدامن عورتوں اور مردوں کی طرف اشارہ ہے۔ ظاہراً بھی آیت سے یہی مراد ہے کیونکہ ایسے قرائن موجود ہیں کہ جو اس آخری معنی کی تائید کرتے ہیں مثلاً: (ا) یہ آیات، آیاتِ افک کے بعد آئی ہیں اوراسی طرح اس آیت سے پہلے یہ آیت بھی گزر چکی ہے: الزَّانِی لَایَنکِحُ إلاَّ زَانِیَةً اَوْ مُشْرِکَةً وَالزَّانِیَةُ لَایَنکِحُھَا إِلاَّ زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ اور یہی تیسری ان آیات کے مفہوم کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ (ب) اس آیت میں یہ جملہ: اولٰئک مبروٴن مما یقولون پاکدامن مردوں اور عورتوں پر جو ناروا تہمتیں لگائی جاتی ہیں وہ اس سے پاک و منزّہ ہیں۔ یہ جملہ بھی مذکورہ بالا تفسیر کی تائید کرتا ہے۔ (ج) اصولی طور پر قرینہٴ مقابلہ اس بات کی نشانی ہے کہ "خبیثات" سے مراد حقیقی جمع موٴنث ہے اور ناپاک عورتوں کی طرف اشارہ ہے چونکہ اس کے مقابلے میں "خبیثون" ہے کہ جو حقیقی جمع مذکر ہے۔ ( د) ان سب باتوں سے قطع نظر امام باقر علیہ السلام اور امام صادق علیہ السلام سے ایک حدیث میں منقول ہے کہ: یہ آیت بھی "الزَّانِی لَایَنکِحُ إلاَّ زَانِیَةً اَوْ مُشْرِکَةً" کی طرح ہے کیونکہ کچھ ایسے لوگ تھے کہ جنھوں نے بری عورتوں سے شادی کا ارادہ کر رکھا تھا تو الله نے انھیں اس کام سے منع کیا اور اسے ناپسند فرمایا (بحوالہ: مجمع البیان، زیرِ بحث آیات کے ذیل میں)۔ (ھ) روایاتِ نکاح میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ بعض اوقات آئمہ علیہ السلام کے اصحاب "خبیثات" سے شادی کے بارے میں سوال کرتے تو انھیں ایسا کرنے سے منع کیا جاتا۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ "خبیثات" ناپاک عورتوں کی طرف اشارہ ہے نہ کہ ناپاک باتوں اور ناپاک اعمال کی طرف۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۱۴، ص۳۳۷، باب۱۴ از ابواب "ما یحرم بالمصاھر ونحوھا")۔ اس مقام پر ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ خبیث یا طیّب ہونے سے صرف عفت و ناموس کا پہلو مراد ہے یا ہر قسم کی فکری، عملی اور زبانی ناپاکی ان کے مفہوم میں داخل ہے؟ اگر اس سلسلے کی آیات و روایات کے سیاق و سباق کو نظر میں رکھا جائے تو اس زیرِ بحث آیت کا مفہوم محدود نہیں ہونا چاہیے یعنی عفّت و ناموس کے مسئلے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے لیکن بعض ایسی روایات بھی ہیں کہ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مقام پر خبیث و طیب کا وسیع معنی ہے اور ا س کا مفہوم جنسی آلودگی اور پاکیزگی میں منحصر نہیں ہے۔ اِس نظریے کی بنیاد پر بعید نہیں ہے کہ پہلا مفہوم آیت کا خاص معنی ہو لیکن ملاک، فلسفہ اور علت کے لحاظ سے اسے عمومیت اور وسعت دی جا سکتی ہو۔ دوسرے لفظوں میں یہ آیت ہے تو عمومی بیان کے لئے لیکن زیرِ بحث مسئلے کے اعتبار سے جنسی امور میں آلودگی اور پاکیزگی کی بات کرتی ہے (غور کیجئے گا)۔
۲۔ یہ حکم تکوینی ہے یا تشریعی؟
اس میں شک نہیں کہ "نوری صرف نوریوں کے طالب ہیں" اور ناری صرف ناریوں کے طالب ہیں" نیز فارسی مثل مشہور ہے: ؏ کند ہمجنس باہم جنس پرواز اسی طرح عربی مثل بھی مشہور ہے کہ: السنخیة علة الانضمام یہ سب ضرب الامثال سنّت تکوینی کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ جو آسمان و زمین میں کائنات و موجودات کے ذرّے ذرّے پر محیط ہے۔ بہرحال، ہر جگہ ہم نوع اپنے نوع کی طرف کھینچتا ہے اور ہر گروہ اپنے ہم مزاج کی کے ساتھ مخلص ہے۔ لیکن یہ حقیقت اس سے مانع نہیں کہ زیرِ بحث آیت الزَّانِیَةً لَایَنکِحُ إلاَّ زَانِ اَوْ مُشْرِکَةً" کی طرح ایک شرعی حکم کی طرف اشارہ ہو کہ بُری عورتوں کے ساتھ کم از کم ایسے مواقع پر ممنوع ہے کہ جب وہ بدکاری میں مشہور و معروف ہوں۔ ویسے بھی کیا سب شرعی احکام کی بنیاد پر تکوینی نہیں ہے اور کیا شریعت اور تکوین آپس میں ہم آہنگ نہیں ہیں؟ یقیناً ہیں۔ مزید وضاحت کے لئے مذکورہ آیت کی تفسیر دیکھئے۔
۳۔ ایک سوال کا جواب
یہاں ایک سوال پیش آتا ہے کہ تاریخ میں اور خود اپنی زندگی میں ہم نے ایسے واقعات دیکھے ہیں کہ جو اس قانون کے ساتھ ہم آہنگ نہیں۔ مثال کے طور پر خود قرآن میں آیا ہے حضرت نوح علیہ السلام اور داوٴد علیہ السلام کی بیویاں بری تھیں اور انھوں نے ان انبیاء کرام علیہ السلام سے خیانت کی تھی۔ (تحریم۔۱۰) جبکہ اس کے مقابلے میں فرعون کی بیوی باایمان اور پاکدامن خاتون تھی کہ جو اس بے ایمان طاغوت کے چنگل میں گرفتار تھی۔ (تحریم۔۱۱) ہادیانِ اسلام کے بارے میں ایسے کئی نمونے دکھائی دیتے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں ایک بات تو یہ پیش نظر رہے کہ ہر عمومی قانون کے استثنائی پہلو بھی ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان دو نکات کی طرف بھی توجہ کرنا چاہیے: (۱) آیت کی تفسیر میں ہم کہہ چکے ہیں کہ اصولی طور پر خباثت سے مراد جنسی لحاظ سے ناپاکی ہے اور "طیب" ہونا اس کی ضد ہے۔ اس طرح سے سوال کا واضح ہو جاتا ہے کیونکہ انبیاء علیہ السلام اور آئمہ علیہ السلام کی ازواج میں سے ہرگز کوئی بھی جنسی اعتبار سے بے راہ رونہ تھی۔ حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کے واقعے میں خیانت سے مراد یہ ہے کہ وہ کافروں کے فائدے میں جاسوسی کرتی تھیں اور یہاں عفّت و ناموس کے معاملے میں خیانت مراد نہیں ہے۔ اصولی طور پر یہ عیب قابلِ نفرت عیوب شمار ہوتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ انبیاء کی ذاتی زندگی کو ایسے واقعات سے پاک ہونا چاہیے کہ جو لوگوں کی نفرت کا باعث بنیں تاکہ مقصدِ نبوت کہ جو لوگوں کو دینِ خدا کی طرف جذب کرنا ہے۔ کو نقصان نہ پہنچے۔ (۲) علاوہ ازیں انبیاء کرام علیہ السلام اور آئمہٴ طاہرینؑ کی بیویاں ابتداء میں کافر اور بےایمان نہ تھیں۔ بعض اوقات وہ بعثتِ نبوت کے بعد گمراہ ہو جاتی تھیں اور یقیناً ان انبیاء کے پہلے کے سے روابط ایسی بیویوں کے ساتھ جاری نہ رہتے تھے۔ فرعون کی بیوی کا بھی ایسا ہی مسئلہ ہے۔ جب اس کی فرعون کے ساتھ شادی ہوئی تھی اس وقت وہ حضرت موسٰی علیہ السلام پر ایمان نہیں لائی تھی۔ اصولاً تو حضرت موسٰی علیہ السلام پیدا بھی نہ ہوئے تھے۔ بعد میں جب حضرت موسیٰ علیہ السلام مبعوث بر سالت ہوئے تو وہ ایمان لے آئی۔ البتہ اس کے لئے اس کے سوا کوئی چارہٴ کار نہ تھا کہ وہ فرعون کے ساتھ اپنی زندگی کو جاری رکھتی۔ لیکن حمایتِ حق میں اس نے اپنی جد و جہد جاری رکھی اور انجام کار یہ باایمان خاتون شہادت کی منزل سے ہم کنار ہوئی۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر بغیر اجازت لوگوں کے گھروں میں نہ جاوٴ
Tafsīr Nemūna · Vol. 4ان آیات میں اسلام کے چند ایک معاشرتی آداب و احکام بیان ہوئے ہیں۔ ان عفّت و پاکدامنی سے بھی قریبی تعلق ہے۔ ان آیات میں دوسروں کے گھروں میں داخل ہونے اور داخل نہ ہونے کی اجازت لینے کے آداب بیان ہوئے ہیں۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: ایمان والوں اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں بغیر اجازت کے داخل نہ ہونا اور اس گھر والوں کو سلام بھی کرنا (اور قبل ازیں اپنی آمد کی اطلاع دینا اور داخل ہونے کے لئے اجازت حاصل کرنا) (یَااَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا لَاتَدْخُلُوا بُیُوتًا غَیْرَ بُیُوتِکُمْ حَتَّی تَسْتَاْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلیٰ اَھْلِھَا)۔ یہ تمھارے لئے بہتر ہے۔ شاید تم توجہ دو (ذَلِکُمْ خَیْرٌ لَکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُونَ)۔ یہ بات لائق توجہ ہے کہ یہاں لفظ "تَسْتَاْنِسُوا" استعمال ہوا ہے نہ کہ "تستاذنوا" کیونکہ دوسرے لفظ میں صرف اجازت لینے کا مفہوم ہے جبکہ پہلا لفظ مادہٴ "انس" سے لیا گیا ہے۔ اس سے ایسی اجازت لینا مراد ہے کہ جس میں لطف و محبت اور صداقتِ پنہاں ہو۔ یعنی موٴدبانہ طریقے سے اور بغیر کسی درشتی و سختی کے اجازت لی جائے۔ اس لحاظ سے اگر اس جملے کا تجزبہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس میں بہت سے آداب اشارتاً بیان کر دیئے گئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ شور نہ مچاوٴ، دروازہ زور زور سے نہ کھٹکھٹاوٴ اور تکلیف دہ خشک الفاظ نہ بولو اور جب اجازت مل جائے تو بغیر سلام کئے اندر نہ جاوٴ۔ ایسا سلام کہ جو صلح و سلامتی و محبت کا پیامبر ہو۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ یہ حکم جس میں انسانی احساسات کا پہلو نمایاں ہے کہ ساتھ ساتھ دو جملے مزید آئے ہیں ایک "ذلکم خیر لکم" اور دوسرا "لعلّکم تذکرون" یہ جملے اس امر کی دلیل ہیں کہ اس قسم کے احکام انسانی احساسات اور عقل و شعور کی گہرائیوں میں پہلے سے موجود ہیں اور اگر انسان ان پر تھوڑا سا غور فکر کرے تو متوجہ ہو گا کہ اس کی بھلائی انہی احکام پر عمل پیرا ہونے میں ہے۔: اگلی آیت میں ایک اور جملے کے اضافے سے اس حکم کی تکمیل کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اگر دیکھو کہ اس گھر میں کوئی نہیں ہے تو اس میں مت جاوٴ جب تک کہ تمھیں اجازت نہ مل جائے (فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فِیھَا اَحَدًا فَلَاتَدْخُلُوھَا حَتَّی یُؤْذَنَ لَکُمْ)۔ ہو سکتا ہے اس سے یہ مراد ہو کہ بعض اوقات گھر میں کچھ افراد تو ہوتے ہیں لیکن کوئی ایسا شخص نہیں ہوتا کہ جو صاحبِ اختیار اور گھر کا مالک ہو اور اجازت دے سکے۔ تو ایسی صورت میں تمھیں حق نہیں کہ اس گھر میں داخل ہو۔ یا ہو سکتا ہے کہ گھر میں داخل ہونے کی اجازت دے دے۔ اس موقع پر تم داخل ہونے کا حق رکھتے ہو۔ بہرحال، اصل مسئلہ یہ ہے کہ تم بلا اجازت کسی کے گھر میں داخل ہونے کا حق نہیں رکھتے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: اور اگر تم سے کہا جائے کہ واپس چلے جاوٴ تو اس بات کو قبول کرتے ہوئے واپس چلے جاوٴ کہ یہ تمھارے لئے بہتر اور پاکیزہ ہے (وَإِنْ قِیلَ لَکُمْ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا ھُوَ اَزْکَی لَکُمْ)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اگر تمھیں واپس چلے جانے والے کے لئے کہا جائے تو تمھیں اس جواب پر ہرگز پریشان اور ناراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ بعض اوقات صاحبِ خانہ ایسی حالت میں ہوتا ہے کہ اس لئے کہ تم سے ملنا پریشانی اور زحمت کا باعث ہوتا ہے یا اس کی اور اس کے گھر کی ایسی حالت نہیں ہوتی کہ وہ مہمان کو گھر بلا سکے۔ بعض لوگوں کو نفی میں جواب ملے تو وہ اس کی وجہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ دروازے کے سوراخوں سے دیکھتے ہیں، کان لگا کر اندر کی آوازیں سنتے ہیں یا کسی کے ذریعے سے اس کے گھر کے راز جاننے کی کوشش کرتے ہیں اسی بات کے پیش نظر قرآن مزید کہتا ہے: جو کچھ تم کرتے ہو الله اس سے آگاہ ہے (وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِیم)۔ مسائل کے حل کے معقول صورت میں پیدا کرنے کے لئے ہر حکم میں کوئی استثنائی پہلو ہوتا ہے۔ اس لئے مزید فرمایا گیا ہے: جن گھروں میں کوئی نہ رہتا ہو اور ان میں تمھارا مال و اسباب پڑا ہوا تو پھر ان میں داخل نہ ہونے میں تم پر کوئی گناہ نہیں (لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوا بُیُوتًا غَیْرَ مَسْکُونَةٍ فِیھَا مَتَاعٌ لَکُمْ)۔ یہ بھی اضافہ فرمایا گیا ہے: اور جو کچھ تو ظاہر کرتے یا چھپاتے ہو الله اسے جانتا ہے (وَاللهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَکْتُمُونَ)۔ شاید یہ اس طرف اشارہ ہو کہ بعض افراد ایسے بھی ہو سکتے ہیں کہ جو اس رعایت سے ناجائز فائدہ اٹھائیں اور غیر رہائشی گھروں میں داخل ہو کر چیزوں کو ٹوہ لگاتے پھریں یا رہائشی گھروں میں اس بہانے سے چلے جائیں کہ ہمیں معلوم نہ تھا کہ یہاں کوئی رہتا ہے لیکن الله ان تمام امور سے آگاہ ہے اور غلط فائدے اٹھانے والوں کو خوب جانتا ہے۔
چند اہم نکات ۱۔ گھر کی چار دیواری کا تحفظ اور آزادی:
اس میں شک نہیں کہ انسانی شخصیت کے دو پہلو ہیں۔ ایک انفرادی اور دوسرا اجتماعی۔ اسی وجہ سے انسان دو قسم کی زندگی کا حامل ہے۔ ایک خصوصی زندگی اور دوسری عمومی زندگی۔ ان میں سے ہر ایک کی اپنی کچھ خصوصیات ہیں اور ہر ایک کے لئے کچھ آداب و قوانین ہیں۔ اجتماعی ماحول میں انسان مجبور ہے کہ اپنے اوپر کچھ پابندیاں عائد کرے اور اپنی آمد و رفت میں تحمل کرے۔ لیکن واضح ہے کہ شب و روز وہ اپنے تئیں ان پابندیوں میں جکڑے نہیں رکھ سکتا۔ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ شب و روز میں کچھ مدّت آزاد رہے۔ آرام کرے، اپنے گھر والوں اور اولاد سے نجی گفتگو کرے اور جتنا ممکن ہو سکے اس آزادی سے فائدہ اٹھائے۔ اسی لئے وہ ایک اپنا گھر چاہتا ہے اور اس میں پناہ لیتا ہے۔ کچھ دیر اپنے گھر کے درزائے سے دوسروں پر بند کر کے اپنی زندگی کو معاشرے سے جدا کر لیتا ہے۔ اور ایسی بہت سی پابندیاں کہ جہنیں معاشرے میں قبول کرنے کے لیے وہ مجبور ہوتا ہے اُن سے گھر میں آزاد ہو جاتا ہے۔ اب اس آزدا ماحول کو برقرار رکھنے کے لئے واضح ہے کہ انسان کے لئے کچھ تحفظ اور آزادی درکار ہے۔اگر ہر شخص کو آزادی ہو تو وہ آئے گھر میں داخل ہو جائے تو پھر گھر میں ازادی اور آرام و سکون کا مفہوم ختم ہو جائے گا اور وہ کوچہ و بازار کے ماحول میں بدل جائے گا۔ یہی وجہ کہ انسان کے درمیان اس سلسلے میں ہمیشہ کچھ خاص قوانین و آداب موجود رہے ہیں اور دنیا کے تمام قوانین لوگوں کے گھروں میں ان کی اجازت کے بغیر داخل ہونا ممنوع ہے اور اس کے لئے سزا تک مقرر ہے۔ یہاں تک کہ تحفظ، امن اور دوسرے حوالوں سے ضروری ہو کہ بلا اجازت داخل ہوا جائے وہاں محدود و معیّن طریقے ہیں اور ادارے ہیں کہ جو یہ اجازت دینے کا حق رکھتے ہیں۔ اسلام میں بھی اس سلسلے میں تاکیدی حکم موجود ہے اور اس سلسلے میں جیسے حکیمانہ آداب و اسلام میں موجود ہیں ان کی نظیر بہت کم نظر آتی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللهؐ کے صحابی ابوسعید نے آپؐ کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت چاہی اور دروازے کے بالکل سامنے کھڑا ہو گیا۔ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا: اجازت لیتے وقت دروازے کے سامنے کھڑا نہ ہوا کرو۔ ایک اور روایت میں ہے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم جب کبھی کسی کے گھر کے دروازے پر آتے تو سامنے کھڑے نہ ہوتے تھے بلکہ دائیں یا بائیں ہو کر کھڑے ہوتے تھے اور "السلام علیکم" کہہ کر اجازت چاہتے تھے کیونکہ اس زمانے میں ابھی گھر کے دروازے پر پردہ لٹکانے کا معمول نہ تھا (بحوالہ: تفسیر فخر رازی، ج۲۳، ص۱۹۸، زیر بحث کے ذیل میں)۔ روایات میں یہاں تک حکم دیا گیا ہے کہ جب کوئی ماں باپ کے گھر یا اپنے بیٹے کے گھر بھی جانا چاہے تو پہلے اجازت لے۔ ایک شخص نے رسول اللهؐ سے پوچھا: یا رسول اللهؐ! جب میں اپنی ماں کے گھر جانے لگوں تو کیا وہاں بھی اجازت لوں؟ فرمایا: ہاں۔ اُس نے عرض کیا: میرے علاوہ میری ماں کا کوئی خدمت گزار بھی نہیں ہے تو کیا پھر بھی اجازت لوں؟ فرمایا: اتحب ان تراھا عریانۃ کیا تو پسند کرتا ہے کہ تو اپنی ماں کو برہنہ دیکھے۔ اُس نے عرض کیا: نہیں تو پھر فرمایا: فاستاذن علیھا جب ایسا ہے تو پھر اس سے اجازت لیا کر۔ (بحوالہ: تفسیر نورالثقلین، ج۳، ص۵۸۶)۔ ایک اور روایت میں ہے: ایک مرتبہ پیغمبر اکرمؐ اپنی دختر نیک اختر حضرت فاطمہ زہرا سلام الله علیہا کے گھر گئے۔ پہلے دروازے پر آ کر دروازے پر ہاتھ رکھ کر اُسے تھوڑا سا پیچھے ہٹایا۔ پھر فرمایا: السلام علیکم۔ جناب فاطمہ علیہ السلام نے اپنے والد گرامیؐ کو سلام کا جواب دیا۔ پھر آپؐ نے فرمایا: کیا اجازت ہے کہ اندر آ جاوٴں؟ عرض کیا: تشریف لائیے یا رسول اللهؐ رسول اللهؐ نے فرمایا: جو میرے ساتھ ہے کیا اُسے بھی اجازت ہے کہ اندر آ جائے۔ فاطمہ علیہ السلام نے عرض کیا: میرے سر پر چادر نہیں ہے۔ پھر گئیں اور چادر لی اور جب باپردہ ہو گئیں تو رسول اللهؐ نے پھر سلام کیا۔ فاطمہ علیہ السلام نے جوابِ سلام دیا۔ رسول اللهؐ پھر اپنے لئے داخل ہونے کی اجازت چاہی جب انھوں نے اجازت دی تو پھر آپؐ نے اپنے ساتھ جابر بن عبدالله کے لئے اجازت لی۔ (بحوالہ: نورالثقلین، ج۳، ص۵۸۷)۔ اس حدیث سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ رسول اکرمؐ کہ جو تمام مسلمانوں کے لئے ایک نمونہ اور ماڈل ہیں ان نکات کا کس قدر باریک بینی سے خیال رکھتے تھے۔ بعض روایات میں یہاں تک ہے کہ تین مرتبہ اجازت لینی چاہیے۔ پہلی مرتبہ اس طرح سے کہ گھر والے سُن لیں۔ دوسری مرتبہ وہ اپنے آپ کو آمادہ کر لیں۔ پھر تیسری مرتبہ اجازت طلب کی جائے، گھر والے چاہیں تو اجازت دیں اور چاہیں تو نہ دیں۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۱۴، ص۱۶۱، ابواب مقدمات النکاح، باب۱۲۳)۔ بعض نے تو یہ بھی ضروری قرار دیا ہے کہ ان تین اجازتوں کے درمیان کچھ وقت کا فاصلہ ہونا چاہیے کیونکہ بعض اوقات صاحبِ خانہ کے بدن پر مناسب لباس نہیں ہوتا اور کبھی وہ ایسی حالت میں ہوتا ہے کہ وہ نہیں چاہتا کہ اس حالت میں کوئی اسے دیکھے کبھی کمرے کی حالت درہم برہم ہوتی ہے اور کبھی کوئی راز کا ایسا معاملہ ہوتا ہے کہ وہ نہیں چاہتا کہ گھر سے باہر کسی کو پتہ چلے لہٰذا اسے وقت دینا چاہیے تاکہ وہ اپنے آپ کو آمادہ کر لے اور اگر وہ اجازت نہ دے تو بغیر تھوڑے سے بھی ملال کے واپس چلے جانا چاہیے۔
۲۔ غیر رہائشی گھروں سے کیا مراد ہے؟
اس سوال کے جواب میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے ایسی عمارتیں مراد ہیں کہ جو عمومی ہوں۔ مثلاً کارواں سرائے، مہمان خانے، حمام وغیرہ، یہ مضمون امام صادق علیہ السلام سے مروی ایک حدیث میں بالصراحت آیا ہے۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۱۴، ص۱۶۱)۔ بعض دوسروں نے کہا ہے کہ اس سے مراد خرابے اور کھنڈرات ہیں کہ جن میں کوئی نہ رہتا ہو اور جو چاہتا ہو اس میں داخل ہو جاتا ہو۔ یہ تفسیر بہت بعید معلوم ہوتی ہے کیونکہ کوئی شخص بھی اپنا مال و اسباب ایسی جگہ نہیں رکھ سکتا۔ بعض دیگر مفسرین نے اسے تاجروں کے ایسے اسٹوروں، گوداموں اور دوکانوں کی طرف اشارہ سمجھا ہے کہ جن میں لوگوں کا مال بطورِ امانت رکھا جاتا ہے اور ہر صاحبِ مال حق رکھتا ہے کہ وہ انپا مال و اسباب لینے کے لئے ان میں داخل ہو جائے۔ یہ تفسیر بھی آیت کے ظاہری مفہوم سے بالکل مطابقت نہیں رکھتی۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے ایسے گھر مراد ہوں کہ جہاں کوئی نہیں رہتا۔ ایسے گھر میں کسی نے اپنا مال بطور امانت رکھا ہو اور گھر کے مالک سے اُس نے آنے جانے اور مال اُٹھانے کی عمومی اجازت لی ہو۔ ان میں سے بعض تفاسیر ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں لیکن پہلی تفسیر آیت کےمفہوم سے زیادہ مطابقت رکھتی ہے۔ اس بیان سے ضمناً یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ انسان صرف اس بنیاد پر کسی کا گھر بلا اجازت نہیں کھول سکتا کہ اس کا کچھ مال و اسباب اس میں پڑا ہوا ہے چاہے اس میں اس وقت کوئی بھی موجود نہ ہو۔
۳۔ بلااجازت لوگوں کے گھروں میں جھانکنے کی سزا
فقہ و حدیث کی کتابوں میں یوں آیا ہے کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر اگرکوئی شخص جان بوجھ کر لوگوں کے گھروں میں تانک جھانک کرے اور عورتوں کے چہرے یا برہنہ بدن کی طرف دیکھے تو پہلی مرتبہ اس گھر والے اُسے منع کر سکتے ہیں۔ اگر وہ نہ رُکے تو پھر پتھر مار کر اسے دُور کریں اور اگر وہ پھر بھی نہ ٹلے تو پھر آلاتِ قتل سے اپنی اور اپنی آبرو کی حفاظت کر سکتے ہیں اور اس جھگڑے میں وہ شخص مارا جاے تو اُس خون رائیگاں ہے۔ البتہ اس کام میں مختلف مرحلوں کو ملحوظ رکھنا چاہیے یعنی اگر آسان طریقے سے معاملہ حل ہو سکتا ہو تو سخت طریقہ اختیار نہ کیا جائے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 31 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 4زیرِ نظر پہلی آیت کے بارے میں کتاب کافی میں امام باقر علیہ السلام سے یہ شانِ نزول نقل ہوئی ہے: انصار میں سے ایک نوجوان کا راہ چلتے ہوئے ایک عورت سے سامنا ہوا۔ اس زمانے میں عورتیں اپنی چادر کانوں کے پیچھے رکھتی تھیں (ظاہر سی بات ہے کہ اس طرح گردن اور سینے کی کچھ مقدار نمایاں ہو جاتی تھی) اس نوجوان کی نظر اُس عورت کے چہرے پر پڑی تو وہ اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ وہ عورت پاس سے گزر گئی یہ جوان ٹکٹکی باندھے اسے دیکھتا رہا۔ قدم بھی اُٹھا رہا تھا اور اس کی طرف دیکھے بھی جا رہا تھا. یہاں تک کہ ایک تنگ گلی میں داخل ہو گیا، مڑ مڑ کر عورت کی طرف بھی دیکھے جاتا تھا۔ اچانک اس کا چہرہ ایک دیوار پر لگا کہ جس میں ہڈی کی نوک یا شیشے کا ٹکڑا باہر نکلا ہوا تھا، چہرہ اس پر جا لگا۔ عورت دور چلی گئی تو نوجوان کو ہوش آیا۔ اُس نے دیکھا کہ خون اس کے چہرے سے جاری ہے اور اس کے لباس اور سینے پر گر رہا ہے (اُسے بہت افسوس ہوا)۔ وہ اپنے آپ سے کہنے لگا۔ بخدا میں رسول اللهؐ کے پاس جاتا ہوں اور یہ ماجرا اُن سے کہتا ہوں۔ جس وقت رسول خداؐ کی نگاہ اُس پر پڑی تو فرمایا: تجھے کیا ہوا؟ اس جوان نے آپؐ سے وہ تمام واقعہ بیان کیا۔ اُس وقت وحی خدا کا قاصد جبرئیل نازل ہوا اور یہ آیت پہنچائی: قُلْ لِلْمُؤْمِنِینَ یَغُضُّوا مِنْ اَبْصَارِھِمْ....(بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۱۴، ص۱۳۹، تفسیر نورالثقلین، المیزان اور روح المعانی (کچھ فرق کے ساتھ) زیرِ بحث آیت کے ذیل میں)۔
تفسیر بےپردگی اور بےحیائی کے خلاف قیام
ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ یہ سورت عفّت و پاکدامنی کا درس لئے ہوئے ہے۔ اس میں جنسی بےراہ روی کے خلاف اقدامات کئے گئے ہیں۔ اس لحاظ سے اس کے مباحث واضح طور پر ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ زیرِ بحث آیات میں غیر محرم کی طرف نگاہ کرنے، ہوسناک نگاہوں سے دیکھنے اور پردے کے بارے میں احکام بیان کئے گئے ہیں۔ ان آیات کا خلافِ ناموس تہمتیں لگانے کی بحث سے ربط کسی سے مخفی نہیں ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: مومنین سے کہہ دو کخ (نامحرموں کی طرف سے اور ہر اس چیز سے کہ جن پر نظر ڈالنا حرام ہے) اپنی آنکھیں بند رکھیں اور اپنے دامن کی حفاظت کریں (قُلْ لِلْمُؤْمِنِینَ یَغُضُّوا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَیَحْفَظُوا فُرُوجَھُمْ)۔ "یَغُضُّوا" "غض" (بروزن "خز") کے مادہ سے دراصل کم کرنے اور نقصان کے معنی میں ہے۔ بہت سے مواقع پر یہ لفظ آواز کم اور آہستہ کرنے اور نگاہی کم یا نیچی کرنے کے لئے بولا جاتا ہے لہٰذا آیت یہ نہیں کہتی کہ موٴمنین اپنی آنکھیں بند کر لیں بلکہ کہتی ہے کہ وہ اپنی نگاہیں کم اور نیچی کر لیں۔ یہ لطیف تعبیر ہے۔ کسی وقت کسی مرد کا کسی نامحرم عورت سے سامنا ہو تو اگر وہ آنکھیں بند کر لے تو اس کے چلنا اور دوسرے کام کرنا ممکن نہ ہرے۔ لیکن اگر نظریں اس عورت کے چہرے اور بدن سے ہٹا لے اور نگاہیں نیچی کر لے تو گویا اس نے اپنی نگاہ میں کمی کر دی ہے اور وہ منظر کہ جو اس کے لئے دیکھنا ممنوع ہے اُسے اُس نے اپنی نگاہوں کی پہنچ سے بالکل حذف کر دیا ہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ قرآن یہ نہیں کہتا کہ کس چیز سے آنکھیں بند کریں (اصلاح کی زبان میں فعل کے متعلق کو حذف کر دیا گیا ہے) تاکہ یہ حکم عمومیت پیدا کرے یعنی اُن تمام چیزوں کے دیکھنے سے آنکھیں بند کر لیں کہ جن کی طرف نگاہ کرنا حرام ہے۔ لیکن سیاق و سباق___ بالخصوص اگلی آیت کی طرف دیکھنے سے معاملہ واضح ہو جاتا ہے کیونکہ اگلی آیت میں پردے کا مسئلہ بیان ہوا ہے۔ لہٰذا یہاں نامحرم عورتوں کی طرف نگاہ کرنا ہے۔ مذکورہ بالا شان نزول بھی اسی مفہوم کی موٴید ہے۔ (تشریحی نوٹ: "یَغُضُّوا مِنْ اَبْصَارِھِمْ" میں لفظ "من" سے کیا مراد ہے؟ اس سلسلے میں مفسرین نے مختلف احتمالات ذکر کئے ہیں۔ بعض نے اسے "تبعیض" کے لئے، بعض نے "زائدہ" اور بعض نے "ابتدائیہ" سمجھا ہے۔ لیکن ظاہراً پہلا معنی ہی صحیح ہے)۔ جو کچھ کہا جا چکا ہے اس سے یہ نکتہ واضح ہو جاتا ہے کہ زیرِ بحث آیت کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ مرد عورتوں کے چہرے میں کھو کر نہ رہ جائیں کیونکہ اس سے تو یہ مطلب نکالا جا سکتا ہے کہ اس ارادے کے بغیر نگاہیں کرنا جائز ہے۔ درحقیقت اس سے مراد یہ ہے کہ عام طور پر دیکھتے ہوئے انسان کی نظر ایک وسیع حصّے پر پڑتی ہے اگر ایسے میں ان کی نگاہ کسی نامحرم عورت پر پڑے تو چاہیے کہ اس کی طرف نہ دیکھے اور اس کی طرف سے آنکھیں بند کر لے البتہ اپنے راستے اور اونچ نیچ پر نظر رکھے۔ یہ جو "غض" کا معنی کیا گیا ہے اس سے یہی مراد ہے (غور کیجئے گا)۔ زیرِ بحث آیت میں دوسرا حکم حفظِ فروج کے بارے میں ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی کہا جا چکا ہے "فرج" بنیادی طور پر شگاف اور دو چیزوں کے درمیانی فاصلے کو کہتے ہیں لیکن اس قسم کے مواقع پر کنایتاً شرمگاہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ہم نے اس کے کنائی معنی کے لئے لفظ "دامان" انتخاب کیا ہے۔ جیسا کہ روایت آیا ہے حفظِ فرج سے مراد دوسروں کی نظروں سے چھپانا ہے۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے: کل آیة فی القرآن فیھا ذکر الفروج من الزنا الّا ھٰذہ الآیة فانّھا من النظر۔ قرآن کی ہر آیت جس میں حفظ فرج کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے اس سے مراد زنا سے محفوظ رہنا ہے مگر اس آیت میں اس سے مراد دوسروں کی نگاہ سے محفوظ رکھنا ہے۔ (بحوالہ: نورالثقلین، ج۳، ص۵۸۷ و ۵۸۸ بحوالہٴ اصول کافی اور تفسیر علی ابن ابراہیم)۔ بعض اوقات یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام نے اس کام سے کیوں منع کیا ہے کہ جو خواہشاتِ دل کا تقاضا ہے۔ اس سلسلے میں آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: یہ ان کے لئے بہتر اور پاکیزہ ہے (ذٰلِکَ اَزْکَی لَھُمْ)۔ اس کے بعد ان لوگوں کو خطرے سے آگاہ کیا ہے جو بیان کہ جو جان بوجھ کر نامحرم عورتوں پر ہوس آلود نگاہیں ڈالتے ہیں اور پھر اسے غیر اختیاری قرار دیتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: جو کچھ تم انجام دیتے ہو الله اس سے یقینی طور پر آگاہ ہے۔ (إِنَّ اللهَ خَبِیرٌ بِمَا یَصْنَعُونَ۔ _______________ (اگلی آیت میں اس سلسلے میں عورتوں کی ذمہ داری بیان کی گئی ہے۔ پہلے تو وہ ذمہ داریاں بیان کی گئی ہیں جو مردوں کی ذمہ داریوں جیسی ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: باایمان عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی آنکھیں بند رکھیں (اور نامحرم مردوں کی طرف دیکھنے سے بچیں) اور اپنے دامن کی حفاظت کریں (وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوجَھُنَّ)۔ گویا جیسے مردوں پر ہوس آلود نگاہوں سے عورتوں کی طرف دیکھنا حرام ہے اسی طرح عورتوں پر بھی حرام ہے۔ اسی طرح دوسروں سے اپنی شرمگاہ کو چھپانا جیسے مردوں کے لئے ضروری ہے اسی طرح عورتوں پر بھی واجب ہے۔ اس کے بعد تین جملوں میں مسئلہ حجاب کا خصوصیت سے عورتوں سے متعلق ہے۔ ان تیں جملوں کو ہم ذیل میں دیکھتے ہیں: ۱۔ انھیں نہیں چاہیے کہ اپنا بناوٴ سنگھار دکھاتی پھریں سوائے اتنی مقدار کے کہ جتنی فطری طور پر ظاہر ہو جاتی ہے (وَلَایُبْدِینَ زِینَتَھُنَّ إِلاَّ مَا ظَھَرَ مِنْھَا)۔ جس زینت کا چھپانا عورتوں کے لئے ضروری ہے اور جس کے اظہار کی اجازت دی گئی ہے اس کے مصداق کے بارے میں مفسرین میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ بعض نے زینتِ پنہاں کو عورت کی فطری زینت (اُس کے خوبصورت بدن) کے معنی میں لیا ہے جبکہ لفظ "زینت" اس معنی میں بہت ہی کم بولا جاتا ہے۔ بعض دوسروں نے اسے مقامِ زینت کے معنی میں لیا ہے کیونکہ خود زینت مثلاً گوشوارہ، دست بند اور بازو بند وغیرہ کو ظاہر کرنے میں کوئی ایسی بات نہیں کہ جس کی ممانعت کی جائے۔ ظاہر کرنے کی ممانعت تو مقامِ زینت کے ساتھ مربوط ہے یعنی کان، گردن، ہاتھ اور بازو۔ کچھ مفسرین نے اپنے زینت کی چیزوں کے معنی میں لیا ہے البتہ جس وقت وہ بدن پر ہوں۔ واضح ہے کہ ایسی زینت آشکار ہو گی تو ساتھ بدن کا وہ حصّہ بھی ظاہر ہو گا کہ جس پر زینت موجود ہے۔ آخری دو تفاسیر نتیجے کے اعتبار سے یکساں ہیں اگرچہ مسئلہ مختلف طریقے سے بیان کیا گیا ہے۔ حق یہ ہے کہ ہمیں چاہیے کہ ہم پہلے سے کئے گئے فیصلے کے بغیر اور اس کے ظاہری مفہوم کے مطابق اس کی تفسیر کریں اور ظاہری مفہوم کے اعتبار سے مذکورہ بالا تیسرا معنی ہی درست ہے۔ لہٰذا عورتوں کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ زینتیں اور بناوٴ سنگھار کہ جو عموماً چھپا ہوتا ہے اسے ظاہر کریں۔ اگرچہ بدن نہ بھی ظاہر ہو۔ اس لحاظ سے عام چار یا برقعے کے نیچے جو زینت آمیز لباس ہوتا ہے اسے ظاہر کرنا بھی جائز نہیں کیونکہ قرآن نے ایسی زینتوں کے اظہار سے منع کیا ہے۔ آئمہ اہل بیت علیہم السلام جو متعدد روایات نقل ہوئی ہیں ان میں یہی معنی نظر آتا ہے۔ ان کے مطابق زینت باطن سے مراد گلوبند بازو بند اور پازیب ہے۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر علی بن ابراہیم، زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ متعدد روایات میں زینتِ ظاہر سے انگوٹھی اور سرمہ وغیرہ مراد لیا گیا ہے۔ ان روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ چھپی ہوئی زینتوں سے بھی زیورات اور بناوٴ سنگھار کی وہ چیزیں ہی مراد ہیں کہ جو عموماً چھپی ہوئی ہیں (غور کیجئے گا)۔ ٢۔ اس آیت میں عورتوں کو دوسرا حکم یہ دیا گیا ہے: اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے سینے پر ڈال لیں (وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلیٰ جُیُوبِھِنَّ)۔ "خمر" "خمار" (بروزن "حجاب") کی جمع ہے بنیادی طور پر یہ لفظ پردے اور چھپانے والی چیز کے معنی میں ہے لیکن عام طور پر اس چیز کو کہا جاتا ہے کہ جس سے عورتیں اپنا سر چھپاتی ہیں (دوپٹہ یا چادر وغیرہ)۔ "جیوب" "جیب" (بروزن "غیب") کی جمع ہے جس کا معنی ہے گریبان۔ بعض اوقات یہ لفظ سینے کے اوپر والے حصّے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے نزول سے پہلے عورتیں اپنے دوپٹوں اور چادروں کے آنچل شانوں پر یا سر کے پچھلی طرف ڈالتی تھیں۔ اس طرح سے ان کی گردن اور سینے کا کچھ حصّہ دکھائی دیتا تھا۔ قرآن حکم دیتا ہے کہ عورتیں اپنی چادر اپنے گریباں کے اوپر ڈال لیں تاکہ گردن اور سینے کا دکھائی دینے والا حصّہ چھپ جائے (مذکورہ شانِ نزول سے بھی یہی معنی معلوم ہوتا ہے)۔ ۳۔ تیسرے حکم میں ان افراد کی نشاندہی کی گئی ہے کہ جن کے سامنے عورتیں پردہ ہٹا سکتی ہیں اور چھپی ہوئی زینت کو ظاہر کر سکتی ہیں____ بات یوں شروع ہوتی ہے: عورتیں اپنی زینت اور سنگھار ظاہر نہ کریں (وَلَایُبْدِینَ زِینَتَھُنَّ)____ سوائے ان بارہ مواقع پر: ۱۔ اپنے شوہروں کے لئے (إِلاَّ لِبُعُولَتِھِنَّ)۔ ۲۔ اپنے آباوٴ اجداد کے سامنے (اَوْ آبَائِھِنَّ)۔ ۳۔ اپنے شوہروں کے آباء و اجداد کے سامنے (اَوْ آبَاءِ بُعُولَتِھِنَّ)۔ ۴۔ اپنے بیٹوں کے سامنے (اَوْ اَبْنَائِھِنَّ)۔ ۵۔ اپنے شوہروں کے بیٹوں کے سامنے (اَوْ اَبْنَاءِ بُعُولَتِھِنَّ)۔ ۶۔ اپنے بھائیوں کے سامنے (اَوْ إِخْوَانِھِنَّ)۔ ۷۔ اپنے بھائیوں کے بیٹوں کے سامنے (اَوْ بَنِی إِخْوَانِھِنَّ)۔ ۸۔ اپنی بہنوں کے بیٹوں کے سامنے (اَوْ بَنِی اَخَوَاتِھِنَّ)۔ ۹۔ اپنی ہم مذہب عورتوں کے سامنے (اَوْ نِسَائِھِنَّ)۔ ۱۰۔ اپنی مملوک کنیزوں کے سامنے (اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ)۔ ۱۱۔ ان زیردست مردوں کے سامنے کہ جو کوئی رغبت نہ رکھتے ہوں (اَوْ التَّابِعِینَ غَیْرِ اُوْلِی الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ)۔ ۱۲۔ یا اُن چھوٹے بچوں کے سامنے کہ جو ابھی عورتوں کے پوشیدہ امور کی تمیز نہیں رکھتے (اَوْ الطِّفْلِ الَّذِینَ لَمْ یَظْھَرُوا عَلیٰ عَوْرَاتِ النِّسَاءِ)۔ _______________ ۴۔ آخر میں چوتھا حکم اس طرح بیان کیا گیا ہے: راہ چلتے اپنے پاوٴں زمین پر یوں مار کر نہ چلیں کہ ان کی چھپی ہوئی زینت ظاہر ہو جائے (وَلَایَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِھِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِینَ مِنْ زِینَتِھِنَّ)۔ وہ اپنی عفّت و پاکدامنی کا پاس کریں اور ایسے کام نہ کریں کہ جن سے مردوں کے جذبات کو انگیخت ملتی ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ جادہٴ عفّت سے بھٹک جائیں۔ اس سلسلے میں اتنی احتیاط سے کام لیں کہ پازیب کی آواز بھی غیر مردوں کو سنائی نہ دے۔ یہ حکم اس امر کا مظہر ہے کہ اسلام اپنے احکام میں انتہائی باریک بینی سے کام لیتا ہے۔ آخر میں تمام مومنین کو چاہے وہ مرد ہوں یا عورت خدا کی طرف لوٹ آنے کی اور توبہ کی دعوت دی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اے ایمان والوں! سب خدا کی طرف لوٹ آوٴ تاکہ فلاخ پا جاوٴ (وَتُوبُوا إِلَی اللهِ جَمِیعًا اَیُّھَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ)۔ اگر اس سلسلے میں گذشتہ زندگی میں تم نے کوئی غلط کام کیا ہے تو اس وقت جبکہ تمھارے سامنے اسلامی احکام واضح طور پر بیان کر دیئے گئے اپنی خطاوٴں سے توبہ کرو اور نجات و فلاح کے لئے بارگاہِ الٰہی کا رخ کرو کیونکہ نجات و فلاح صرف اس کے دروازے سے ملتی ہے اور تمہارے راستے میں لغزش کے بہت خطرناک مقامات ہیں کہ جن سے نجات اُس کے لطف کے بغیر ممکن نہیں۔ اپنے آپ کو اسی کے سپرد کر دو۔ یہ بجا ہے کہ ان احکام کے نزول سے پہلے ان کے بارے میں گناہ کا کوئی مفہوم نہیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ جنسی امور سے متعلق بہت سارے مسائل عقلی پہلو رکھتے ہیں اصطلاح کی زبان میں ایسے عقلی "مسلّمات عقلیہ" کہتے ہیں اور یہ وہ مسلّمات ہیں کہ جن میں حکمِ عقل ہی ذمہ داری کے لئے کافی ہے۔
چند اہم نکات ۱۔ پردے کا فلسفہ
اس میں شک نہیں کہ ہمارے زمانے میں کہ جسے عریانی اور جنسی آزادی کا زمانہ کہتے ہیں بعض لوگوں کو ہمارا پردے کی بات کرنا سخت ناگوار گزرتا ہے۔ یہ وہی مغرب زدہ بےلگام افراد ہیں کہ جو عورتوں کو زمانے کی آزادی کا حصّہ سمجھتے ہیں۔ کبھی یہ لوگ پردے کو گزشتہ زمانے کی کہانی قرار دیتے ہیں لیکن ان بےلگام آزادیوں نے بےحساب مشکلات اور قباحتوں کو جنم دیا ہے اور روز افزوں مصائب پیدا کئے یہی وجہ ہے کہ رفتہ رفتہ پردے کی بات سننے والے کان بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ البتہ اسلامی اور مذہبی ماحول میں____ خصوصاً ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد بہت سے مسائل حل ہو گئے ہیں اور اس قسم کے سوالات کے تسلّی بخش جواب دیئے گئے ہیں لیکن پھر بھی موضوع کی اہمیت تقاضا کرتی ہے کہ اس مسئلے پر ذرا کھل کر بات کی جائے۔ انتہائی معذرت کے ساتھ____ سوال یہ ہے کہ کیا عورتوں کے بارے میں آزادی ہونی چاہیے کہ سمع، بصر اور لمس کے حوالے سے (سوائے اختلاطِ جنسی کے) سب مرد اُن سے فائدہ اٹھائیں اور وہ تمام مردوں کے اختیار میں ہوں یا یہ امور ان کے شوہروں کے ساتھ مخصوص ہوں۔ بحث یہ ہے کہ کیا عورتیں ایک ختم نہ ہونے والے مقابلے میں اپنا تن بدن دکھاتی رہیں، تحریکِ شہوات کے کام آتی رہیں اور ناپاک مردوں کی ہوس پرستی میں گرفتار رہیں یا پھر یہ باتیں معاشرے سے ختم ہو جائیں اور ان کا تعلق بیوی اور شوہر کی گھریلو زندگی سے مخصوص ہو جائے۔ اسلام دوسرے طرزِ عمل کا حامی ہے اور اسلام کے اس پروگرام کے لئے پردہ ایک اہم عنصر ہے___ جبکہ اہل مغرب اور مغرب زدہ ہوس باز پہلے طرزِ عمل کے حامی ہیں۔ اسلام کہتا ہے کہ جنسی لذّت سمعی حوالے سے ہو یا بصری حوالے سے یا پھر لمس کے ذریعے___ سب بیوی شوہر کے ساتھ مخصوص ہیں اور اس اگر کچھ اس کے علاوہ ہو تو گناہ اور معاشرے کی ناپاکی کا سبب ہے۔ جیسا کہ زیرِ بحث آیات میں ہے کہ: ذٰلِکَ اَزْکَی لَھُمْ۔ یہ تمھارے لئے زیادہ پاکیزہ ہے۔ پردے کا فلسفے کوئی راز کی بات نہیں کیونکہ: (۱) عورتوں کی بےپردگی، عریانی اور آرائش مردوں کے لئے____ بالخصوص جوانوں کے جنسی تحریک کا باعث ہے اور اگر یہ بےحیائی جاری ہے تو یہ تحریک بھی دائمی ہو گی___ ایسی تحریک کہ جو مردوں کے اعصاب کو شکستہ کر کے رکھ دے گی۔ اس سے اعصابی بیماریاں پیدا ہوں گی۔ یہ کیفیت طبیعت میں ہیجان اور نفسیاتی امراض کا سرچشمہ بن جاتی ہے۔ لیکن آخر انسان کے اعصاب کس قدر ہیجان کے متحمل ہو سکتے ہیں؟ کیا تمام ماہرین نفسیات نہیں کہتے ہیں کہ مستقل جنسی ہیجان بیماری کا سبب ہے۔ خاص طور پر اس مسئلے کی طرف توجہ رہے کہ انسانی جبلت میں جنسی قوت بہت قوی، پہلو دار اور گہری ہے۔ انسانی تاریخ میں اس نے ہولناک حوادث، جرائم اور مظالم کو جنم دیا ہے۔ یہاں تک کہ بعض نے کہا ہے کہ کوئی اہم حادثہ تاریخ بشر میں ایسا نہیں ملے گا کہ جس میں عورت کا دخل نہ ہو۔ کیا ایسی قوت و جبلت کو عریانی و فحّاشی کے ذریعے ابھارنا اور ہوا دینا آگ سے کھیلنے کے مترادف نہیں ہے؟ کیا یہ عاقلانہ کام ہے؟ اسلام چاہتا ہے کہ مسلمان مردوں اور عورتوں کی روحیں پُرسکون ہوں، اعصاب صحیح و سالم ہوں، آنکھ اور کان پاکیزہ ہوں___ اور اس کے لئے پردہ ناگزیر ہے۔ (۲) قطعی اور مستند اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ عریانی میں اضافے کی وجہ سے دنیا میں طلاق اور ازدواجی زندگی میں علیحدگی کا تناسب بڑھتا چلا جا رہا ہے چونکہ "جو کچھ آنکھ دیکھے دل اسے یاد رکھتا ہے"۔ اور جب ہوا و ہوس کی آگ سرکش ہو جائے اور آنکھ ہر روز نئے نظارے دیکھے تو دل ہر روز کسی نئے محبوب کے پیچھے لے جاتا ہے اور پہلے کو الوداع کہہ دہتا ہے۔ لیکن جس ماحول میں پردہ ہے (اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر اسلامی شرائط کی بھی پاسداری ہوتی ہے) وہاں بیوی اور شوہر ہی کو ایک دوسرے سے تعلق ہوتا ہے۔ ان کے احساسات، جذبات اور محبتیں ایک دوسرے سے مربوط اور مخصوص ہوتی ہیں۔ جبکہ عریانی کے آزاد و بازار میں کہ جہاں عورت مشترکہ ساز و سامان کی حیثیت رکھتی ہے وہاں ازدواجی عہد و پیمان کا تقدس کوئی مفہوم نہیں رکھتا، وہاں گھرانے تارِ عنکبوت کی طرف تیزی سے ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں اور بچے بےسہارا ہو کر سرگرداں ہو جاتے ہیں۔ (۳) فحّاشی کا پھیلاوٴ اور ناجائز اولاد کی کثرت بےپردگی کے دردناک ترین نتائج میں سے ہیں اور یہ بات اس قدر آشکار ہے کہ ہمارے خیال میں اعداد و شمار کی محتاج نہیں ہے اور اس کی وجوہ خصوصاً مغربی معاشروں میں پورے طور پر نمایاں ہیں بلکہ اس قدر عیاں ہیں کہ بیان کی ضرورت نہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ فحاشی اور ناجائز بچوں کا اصلی عامل بےپردگی ہے اور نہ ہم یہ کہتے ہیں کہ اس میں بےشرم استعمار اور تباہ کن سیاسی مقاصد کارفرما ہیں بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ اس کا ایک عمال بےپردگی اور عریانی ہے۔ اگر اس حقیقت کی طرف توجہ کی جائے تو اس مسئلے کے خطرناک پہلو زیادہ واضح ہو جاتے ہیں کہ فحاشی اور اس سے بڑھ کر ناجائز بچے انسانی معاشروں میں جرائم کا سرچشمہ تھے اور ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق انگلستان میں ہر سال پانچ لاکھ ناجائز بچے پیدا ہوتے ہیں۔ انگلستان کے محققین و دانشوروں نے اس سلسلے میں ملک کے ارباب بسط و کشاد کو اس مسئلے کے سنگین خطرے سے آگاہ کیا۔ ان دانشوروں کے مطابق اخلاقی و مذہبی لحاظ سے نہیں بلکہ اس ناجائز اولاد کا وجود معاشرے کے امن و امان کے لئے شدید خطرہ بن چکا ہے یہاں تک کہ جرائم کی بہت سی فائلوں میں انہی کا نام ہوتا ہے۔ اس بات سے ہم اس مسئلے کی اہمیت کو پوری طرح سمجھ سکتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ فحاشی و بدکاری کا مسئلہ اُن لوگوں کے لئے بھی شدید کرب انگیز ہو چکا ہے کہ جو مذہب و اخلاق کی کسی اہمیت کے قائل نہیں۔ لہٰذا ہر وہ چیز جو انسانی معاشرے میں جنسی بےراہ روی کے پھیلنے کا موجب ہو وہ امن و امان کے لئے خطرہ شمار ہو گی اور ہر لحاظ سے اس کے نتائج معاشرے کے لئے نقصان دہ ہوں گے۔ تربیتی امور کے محققین کا مطالعہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ جن تعلیمی اداروں میں مخلوط تعلیم ہے اور جن مراکز میں عورت اور مرد مل کر کام کرتے ہیں اور ان کا میل جول آزاد ہے وہاں کام کی رفتار اور معیار کم ہے اور احساس ذمہ داری بھی کم ہے۔ (۴) بےپردگی اور عریانی عورت کے مقام کے زوال کا بھی باعث ہے۔ اگر معاشرہ عورت کو عریاں بدن دیکھنا چاہے گا تو فطری بات ہے کہ ہر روز اُس سے آرائش کا تقاضا بڑھ جائے گا اور اس کی نمائش میں اضافہ ہو گا۔ جب عورت جنسی کشش کی بناء پر ساز و سامان کی تشہیر کا ذریعہ بن جائے گی، انتظار گاہوں میں دل بہلاوا ہو جائے گی اور سیاحوں کو متوجہ کرنے کا ذریعہ بن جائے گی تو معاشرے میں اس کی حیثیت ایک کھلونے یا بےقیمت مال و اسباب تک گر جائے گی اور اس کی شایانِ شان انسانی اقدار فراموش ہو جائیں گی اور اس کا اعزاز و افتخار صرف اس کی جوانی، زیبائش اور نمائش تک محدود ہو کر رہ جائے گا۔ اس طرح سے وہ چند ناپاک فریب کار انسان نما درندوں کی سرکش ہوا و ہوس پوری کرنے کے ذریعے میں بدل جائے گی۔ ایسے معاشرے میں ایک عورت اپنی اخلاقی خصوصیات، علم و آگہی اور بصیرت کے مظاہرے کیسے کر سکتی ہے اور کوئی بلند مقام کیسے حاصل کر سکتی ہے؟ واقعاً یہ بات تکلیف دہ ہے کہ مغربی اور مغرب زدہ ممالک میں عورت کا مقام کس قدر گر چکا ہے۔ خود ہمارے ملک ایران میں انقلاب سے پہلے یہ حالت تھی کہ نام، شہرت، دولت اور حیثیت ان چند ناپاک اور بےلگام عورتوں کے لئے تھی کہ جو "فنکارہ" اور آرٹسٹ کے نام سے مشہور تھیں۔ جہاں وہ قدم رکھتی تھی اُس گندے ماحول کے ذمہ دار اُن کے لئے آنکھیں بچھاتے اور انھیں خوش آمدید کہتے۔ الله کا شکر ہے کہ ایران میں وہ بساط لپیٹ دی گئی اور عورت اپنے اس دور سے نکل آئی ہے جس میں اُسے رسوا کر دیا گیا تھا اور وہ فرنگی کھلونے اور بےمول ساز و سامان بن رہ کر گئی تھی۔ اب اس نے اپنا مقام و وقار دوبارہ حاصل کر لیا ہے اور اپنے آپ کو پردے سے ڈھانپ لیا ہے لیکن یہ نہیں کہ وہ گوشہ نشین ہو گئی ہے بکہ معاشرے کے تمام مفید اور اصلاحی کاموں میں حتّیٰ کہ میدانِ جنگ میں اسی اسلام پردے کے ساتھ خدمات انجام دی رہی ہے۔
پردے کے مخالفین کے اعتراضات
اب ہم کچھ ان اعتراضات کا جائزہ لیتے ہیں کہ جو پردے کے مخالفین پیش کرتے ہیں: (۱) اس بنیادی اعتراض پر پردے کے سب معترضین کا اتفاق ہے کہ عورتیں معاشرے کا نصف حصّہ ہیں لیکن پردہ معاشرے کی اتنی بڑی آبادی کو گوشہ نثین بنا کر رکھ دیتا ہے اور اس طرح سے انھیں فکری، تمدنی اور ثقافتی لحاظ سے پیچھے دھکیل کر پس ماندہ کر دیتا ہے۔ خصوصاً اس اقتصادی دوڑ کے زمانے میں فعال انسانی قوتوں کی ضرورت زیادہ ہے لیکن پردے کی صورت میں اس اقتصادی دوڑ میں عورتوں سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا ہے۔ جبکہ ثقافتی اور سماجی مراکز میں بھی اُن کی جگہ اس طرح خالی رہے گی۔ اس طرح سے عورتیں معاشرے کا غیر پیداواری حصّہ بن کر ایک بوجھ بن جائیں گی۔ لیکن__ یہ اعتراض کرنے والے چند امور سے بالکل غافل ہیں یا جان بوجھ کر تفافل برتتے ہیں۔ کیونکہ: اولاً کون کہتا ہے کہ اسلامی پردہ عورت کو گوشہ نشین بنا دیتا ہے اور اسے معاشرے کے منظر سے دور پھینک دیتا ہے گزشتہ زمانے میں شاید ضروری تھا کہ اس سلسلے میں ہم استدلال پیش کریں لیکن آج انقلاب اسلامی کے بعد تو اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہم خود دیکھتے ہیں کہ عورتیں گروہ در گروہ اسلامی پردے کے اندر ہر جگہ موجود ہوتی ہیں۔ دفتروں، کارخانوں، سیاسی مظاہروں، ریڈیو، ٹیلی ویژن، اسپتال اور مراکز صحت میں خصوصاً جنگ کے زخمیوں کی دیکھ بھال کے لئے اور اسی طرح میدانِ ثقافت میں اور تعلیمی اداروں میں یہاں تک کہ دشمن سے جنگ کے میدان میں ہر کہیں پر عورتیں موجود ہیں۔ خلاصہ یہ کہ ــــ یہ کیفیت ان تمام اعتراضات کا دندان شکن جواب ہے۔ انقلاب سے پہلے اگر ہم "امکان" پر بات کرتے تھے تو آج اس کا "وقوع" اور "موجودگی" ہمارے سامنے ہے اور فلاسفہ نے کہا ہے کہ کسی شے کے امکان کی بہترین دلیل اس کا وقوع ہے۔ اور یہ آج ایسا آشکار ہے کہ محتاج بیان نہیں۔ ثانیاً کیا گھر کو چلانا، بچوں کی تربیت کر کے اُنھیں آبرومند بنانا اور ایسے انسان تیار کرنا کہ جو آئندہ اپنے توانا بازووٴں سے معاشرے کے عظیم پہیوں کو چلا سکیں، کوئی کام نہیں؟ جو لوگ عورت کی اس عظیم خدمت کو مثبت شمار نہیں کرتے وہ اس امر سے بےخبر ہیں کہ ایک خاندان ایک صحیح و سالم اور آباد و متحرک معاشرے کی تعمیر میں کیا کردار ادا کرتا ہے۔ وہ خیال کرتے ہیں کہ بس یہی صحیح راستہ ہے کہ ہمارے مرد اور عورتیں مغربی مردوں اور عورتوں کی طرح صبح سویرے گھر سے نکلیں بچوں کو پرورش گاہوں کے سپرد کر دیں یا گھر میں چھوڑ کر دروازے بند کر جائیں اور خود دفتر یا کارخانے کی طرف روانہ ہو جائیں اور اُن اَن کھلی کلیوں کو اسی عمر سے قید خانے کا تلخ ذائقہ چکھنے کے لئے چھوڑ جائیں۔ یہ لوگ اس امر سے غافل ہیں کہ یہ عمل بچوں کی شخصیت کو درہم برہم کر دیتا ہے۔ اس طرح بےروح انسانی احساسات سے عاری بچے پروان چڑھتے ہیں کہ جو معاشرے کے لئے بوجھ ہی نہیں بلکہ اس کے مستقبل کے لئے خطری بھی ہوتے ہیں۔ (۲) دوسرا اعتراض ان کا یہ ہے کہ پردہ ہاتھ پاوٴں کو باندھ دینے والا لباس ہے اور بھاگ دوڑ اور کام کاج میں بالخصوص جدید مشینی دور میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک عورت آخر اپنی حفاظت کرے، اپنی چادر سنبھالے، بچے کو تھامے یا اپنا کام کاج کرے؟ لیکن یہ اعتراض کرنے والے ایک نکتے سے غافل ہیں اور وہ یہ کہ پردہ ہمیشہ چادر اور بُرقعے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ ایسا لباس جو پورے جسم کو ڈھانپ دے وہی پردہ ہے۔ اگر چادر سے ہو تو کیا ہی بہتر اور جہاں چادر سے نہ ہو تو مکمل پہناوے پر قناعت ہو جائے گی۔ ہماری کسان اور دیہاتی عورتیں کاشت اور کٹائی کا کام کرتی ہیں۔ دھان کے کھیتوں میں ان کا کام کچھ زیادہ ہی مشکل ہوتا ہے انھوں نے یہ اہم اور مشکل کام اسلامی پردے کے ساتھ انجام دے کر ان اعتراضات کا جواب دے دیا ہے اور اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ ایک دیہاتی عورت اسلامی پردے کے ساتھ بعض اوقات مردوں سے بھی زیادہ اور بہتر کام کرتی ہے اور اس کام میں اس کا پردہ ہرگز رکاوٹ نہیں بنتا۔ (۳) ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ پردہ عورتوں اور مردوں کے درمیان حائل ہو کر مردوں کو زیادہ حریص بنا دیتا ہے۔ اس سے اُن کے حرص کی آگ بجھنے کے بجائے اور بھڑک اٹھتی ہے کیونکہ: الانسان حریص علی یمنع جس چیز سے انسان کو روکا جائے اُس پر زیادہ حریص ہوتا ہے۔ اس سوال کا جواب یا زیادہ صحیح الفاظ میں اس مغالطے کا جواب ہمارے آج کا ایرانی معاشرہ ہے۔ آج پردہ بلاشبہ استثناء ہمارے تمام معاشرے میں اور تقریباً تمام مراکز میں موجود ہے۔ اس دَور کا مقابلہ سابقہ شہنشاہی طاغوتی دَور سے کیا جا سکتا ہے جبکہ اُس زمانے میں عورتوں سے پردہ زبردستی اتروایا گیا تھا۔ اُس زمانے میں ہر گلی کوچہ مرکزِ گناہ تھا۔ گھرانوں اور خاندانوں کی عجیب بےلگام زندگی تھی۔ طلاق معاشرے میں انتہائی زیادہ ہو چکی تھی۔ ناجائز بچوں کی شرح پیدائش بڑھ چکی تھی اور اسی طرح ہزارہا بدبختیاں تھیں۔ ہم نہیں کہتے کہ ان میں سے ہر چیز بنیاد سے بالکل اُکھڑ گئی ہے لیکن بلاشبہ ان بدبختیوں میں بہت زیادہ کمی آئی ہے اور اس اعتبار سے سلامتی ہمارے معاشرے میں لوٹ آئی ہے اور انشاء الله اگر حالات اسی صورت پر رہے اور بچی کچھی قباحتیں بھی ختم ہو گئیں تو ہمارا معاشرہ خاندانوں کی پاکیزگی اور عورت کی قدر و منزلت کے تحفظ کے لحاظ سے منزل مقصود تک پہنچ جائے گا۔
٢۔ چہرے اور ہاتھوں کا استثناء:
اس سلسلے میں کہ کیا چہرے اور کلائیوں سے نیچے ہاتھوں کے لئے بھی پردے کا حکم ہے یا نہیں، اس سلسلے میں فقہاء میں بہت اختلاف ہے اور اس پر بہت بحث کی گئی ہے۔ بہت سے فقہاء کا نظریہ ہے کہ منہ اور ہاتھوں کا چھپانا پردے کے حکم سے مستثنیٰ ہے جبکہ بعض کا فتویٰ ہے کہ ان کا چھپانا بھی واجب ہے یا کم از کم احتیاط کے مطابق ہے۔ البتہ جو فقہاء ان دونوں کا چھپانا واجب نہیں سمجھتے وہ بھی یہ شرط لگاتے ہیں کہ جب ان کا نہ چھپانا گناہ و انحراف کا سبب بنتا ہو تو ان کا چھپانا واجب ہے۔ زیرِ بحث آیت میں اس استثناء کے قرائن موجود ہیں کہ جن سے پہلے قول کی تائید ہوتی ہے مثلاً: (ا) زیرِ بحث آیت میں زینتِ ظاہر کو مستثنیٰ کیا گیا ہے چاہے یہ مقامِ زینت کے معنی میں ہو یا خود زینت کے معنی میں۔ یہ اس امر کی واضح دلیل ہے کہ چہرہ اور دونوں ہاتھوں چھپانا واجب نہیں ہے۔ (ب) زیرِ بحث آیت میں چادر ایک پلّو گریبان پر ڈالنے کا حکم دیا گیا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ تمام سر، گردن اور سینہ چھپایا جائے۔ اس میں منہ کے چھپانے کی کوئی بات نہیں کی گئی۔ یہ ہمارے بیان کردہ مفہوم کی تائید کے لئے ایک اور قرینہ ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ جیسا کہ شانِ نزول میں بھی ہم نے بیان کیا ہے کہ اس زمانے میں عرب عورتیں دوپٹہ یا چادر اوڑھا کرتی تھیں۔ اس کے آنچل پر دوش پر اور پس گردن ڈال لیتی تھیں۔اس طرح سے چادر ان کے کانوں کے پیچھے ہوتی تھی سر اور گردن کی پشت کا حصّہ چھپا ہوتا تھا لیکن گلے کے نیچے کا کچھ حصّہ جو گریبان کے اوپر ہوتا تھا وہ نمایاں رہتا تھا۔ اسلام آیا تو اُس نے اس کیفیت کی اصلاح کی۔ اسلام نے حکم دیا کہ عورتیں چادر پلّو کان کے نیچے یا سر کے پیچھے سے آگے لے آئیں اور اسے گریبان اور سینے کے اوپر ڈالیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف چہرہ کھلا رہ گیا اور باقی سب کچھ چھپ گیا۔ (ج) کتب حدیث میں اس سلسلے میں بہت سی روایات موجود ہیں کہ جو ہمارے دعویٰ پر زندہ دلیل ہیں۔ (بحوالہ: کتاب وسائل الشیعہ، ج۱۴، ص۱۴۵، باب۱۰۹، از ابواب مقدمات نکاح)۔ اگرچہ ان کی معارض روایات بھی ہیں مگر ان میں اس حد تک صراحت نہیں ہے۔ ایسی دونوں طرح کی روایات کو یکجا کیا جا سکتا ہے۔ اس لحاظ سے کہ جن روایات میں چہرہ اور ہاتھ چھپانے کی بات ہے انھیں مستحب حکم سمجھا جائے یا اس حکم کو ان مواقع کے لئے سمجھا جائے کہ جہاں گناہ، برائی اور انحراف کا اندیشہ ہو۔ تاریخی شواہد بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ صدر اسلام میں عورتیں عموماً چہرے پر نقاب ڈالتی تھیں (اس مسئلے کی روایات پر نیز اس کے مختلف فقہی پہلووٴں پر تفصیلی بحث کے لئے کتب فقہ کا باب نکاح دیکھئے)۔ ہم ایک مرتبہ پھر تاکید کرتے ہیں کہ چہرے اور ہاتھوں کے کھلے رہنے کی اجازت اس صورت میں ہے جب ایسا کرنا سوئے استفادہ اور انحراف کا سبب نہ بنے۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ چہرے اور ہاتھوں کے پردے سے استثنیٰ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جائز ہے کہ دوسرے لوگ جان بوجھ کر دیکھتے رہیں بلکہ درحقیقت یہ عورتوں کے لئے امور زندگی میں سہولت کی خاطر ہے۔
٣۔ "نسائھن" سے کون مراد ہیں؟
جیسا کہ ہم نے آیت کی تفسیر میں پڑھا ہے کہ نواں گروہ جس کے سامنے عورت کو زینت ظاہر کرنے کی اجازت دی گئی ان عورتوں کا ہے جنھیں "نسائھن" (ان کی عورتیں) کہا گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان عورتیں صرف مسلمان عورتوں کے سامنے اپنا پردہ اتار سکتی ہیں۔ لیکن غیر مسلم عورتوں کے سامنے انھیں اسلامی پردے میں جانا چاہیے۔ اس حکم فلسفہ جیسا کہ روایات میں آیا ہے یہ ہے کہ ممکن ہے وہ عورتیں واپس جا کر مسلمان عورتوں کے بارے میں جو کچھ انھوں نے دیکھا اس کی تعریف اپنے شوہروں کے سامنے کریں اور یہ بات مسلمان عورتوں کے حق میں درست نہیں ہے۔ کتاب "من لایحضرہ الفقیہ" میں ایک روایت امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپؑ نے فرمایا: لاینبغی للمراة ان تنکشف بین یدی الیھودیة والنصرانیة، فانّھن یصفن ذٰلک لازواجھن. مناسب نہیں ہے کہ مسلمان عورت کسی یہودی عورت اور عیسائی عورت کے سامنے عریاں ہو کیونکہ جو کچھ وہ دیکھیں گی اپنے شوہروں سے بیان کریں گی۔ (بحوالہ: تفسیر نورالثقلین، ج۳، ص۵۹۳، بحوالہٴ "من لایحضرہ الفقیہ")۔
۴۔ "اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ" کی تفسیر:
ظاہری الفاظ کے اعتبار سے یہ جملہ وسیع مفہوم رکھتا ہے اور بتاتا ہے کہ عورت اپنے غلام و مملوک کے سامنے بےپردہ آ سکتی ہے لیکن بعض احادیث میں اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ اس سے مراد کنیزوں کے سامنے بےپردہ آنا ہے۔ چاہے وہ غیر مسلم ہی ہوں اور اس کے مفہوم میں غلام شامل نہیں ہیں۔ ایک حدیث میں امیرالموٴمنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں: لاینظر العبد الیٰ شعر مولاتہ غلام اپنے آقا کی عورت کے بال نہیں دیکھ سکتا۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ ب۱٢۴ از مقدمات نکاح، حدیث۸)۔ البتہ کچھ روایات ایسی بھی ہیں کہ جن سے اس لفظ کی عمومیت معلوم ہوتی ہے لیکن یہ بات مسلّمہ ہے کہ عمومیت خلاف احتیاط ہے۔
٥۔ "اُوْلِی الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ" کی تفسیر:
"اربہ" بنیادی طور پر "ارب" (بروزن "عَرَب") مفردات میں بقولِ راغب شدّت احتیاج کے معنی میں ہے کہ جسے پورا کرنے کے لئے انسان کوشش کرتا ہے اور کبھی یہ لفظ مطلق حاجت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور "اُوْلِی الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ" سے یہاں ایسے مرد مراد ہیں کہ جو جنسی خواہش اور بیوی کی ضرورت رکھتے ہوں۔ لہٰذا "غَیْرِ اُوْلِی الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ" سے ایسے مرد مراد ہیں کہ جو یہ میلان اور خواہش نہ رکھتے ہوں۔ مفسرین میں اس سلسلے میں اختلاف ہے کہ ان سے کون لوگ مراد ہیں، بعض اس سے وہ بوڑھے افراد مراد لیتے ہیں کہ جن کے جنسی جذبات ختم ہو چکے ہوں جیسے۔ جیسے "القواعد من النساء" (ایسی عورتیں جو شادی کے قابل نہیں رہ گئی ہوتیں اور اس لحاظ سے بیٹھ چکی ہوتی ہیں)۔ بعض دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے خُسرے اور خواجہ سرا مراد ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد ایسے افراد ہیں کہ جو آلہٴ تناسل نہیں رکھتے۔ لیکن جس معنی میں زیادہ افراد کا اتفاق ہے اور جو امام باقر علیہ السلام اور امام صادق علیہ السلام سے چند معتبر احادیث میں نقل ہوا ہے یہ ہے کہ اس سے مراد ایسے بےسمجھ مرد ہیں کہ جو ہرگز احساسِ جنسی نہیں رکھتے اور عام طور پر ان سے آسان کام لیے جاتے ہیں آیت میں "التابعین" کی تعبیر بھی اس معنی کو تقویت دیتی ہے۔ (بحوالہ: مزید وضاحت کے لئے جواہر الکلام، ج۲۹، ص۹۴ کے بعد اور اسی طرح وسائل الشیعہ، باب۱۱۱ از ابواب نکاح (ج۱۴ ص۱۴۸) اور اسی طرح تہذیب، ج۷، ص۴۶۸ کی طرف رجوع کریں)۔ البتہ چونکہ یہ وصف یعنی جنسی میلان نہ ہونا بعض بوڑھے افراد پر بھی صادق آتا ہے لہٰذا بعید نہیں کہ آیت کے مفہوم میں ایسے بوڑھے افراد بھی شامل ہوں۔ ایک حدیث میں امام کاظم علیہ السلام نے بھی ایسے بوڑھوں کو اس آیت کا مصداق قرار دیا ہے۔ لیکن بہرحال، آیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایسے مرد محرموں کی طرح ہیں۔ یہ بات مسلّم ہے کہ ایسے افراد سے سر، ہاتھ، یا بازو کا کچھ حصّہ یا جسم کا کوئی ایسا حصّہ چھپانا واجب نہیں ہے۔
۶۔ کون سے بچے اس حکم سے مستثنیٰ ہیں؟:
ہم پڑھ چکے ہیں کہ بارہواں گروہ جس سے پردہ کرنا واجب نہیں ہے وہ بچے ہیں کہ جنھیں ابھی تک جنسی امور کی تمیز نہیں۔ "لَمْ یَظْھَرُوا" کا معنی کبھی "لَمْ یَطْلَعُوا" (آگاہی نہیں رکھتے) کیا گیا ہے اور کبھی "لَمْ یَقْدَرُوا" (طاقت نہیں رکھتے) کیا گیا ہے کیونکہ یہ مادہ ان دونوں معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ قرآن میں بھی یہ مادہ دونوں مفاہیم کے لئے استعمال ہوا ہے۔ مثلاً سورہٴ کہف کی آیت ۲۰ میں ہے: إِنْ یَظْھَرُوا عَلَیْکُمْ یَرْجُمُوکُمْ اگر اہل شہر کو تمھاری موجودگی کا پتہ چل گیا تو تمھیں سنگسار کر دیں گے۔ نیز سورہٴ توبہ کی آیت۸ میں ہے: کَیْفَ وَإِنْ یَظْھَرُوا عَلَیْکُمْ لَایَرْقُبُوا فِیکُمْ إِلًّا وَلَاذِمَّةً تم عہد و پیمان توڑنے والوں سے کیسے جنگ نہیں کرتے ہو حالانکہ اگر وہ تم پر قدرت حاصل کر لیں۔ تو نہ رشتہ داری کا لحاظ رکھیں اور نہ عہد و پیمان کا۔ بہرحال، زیرِ بحث آیت میں نتیجے کے لحاظ سے ان دونوں معانی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مراد ایسے بچے ہیں کہ جو جنسی احساس نہ ہونے کی بناء پر نہ توانائی رکھتے ہیں اور نہ آگاہی۔ لہٰذا ایسے بچے کہ جو اس عمر کو پہنچ گئے ہیں کہ ان میں یہ میلان اور توانائی پیدا ہو چکی ہے مسلمان عورتوں کو اُن سے پردہ کرنا چاہیے۔
۷۔ چچا اور ماموں کو محارم کیوں شمار نہیں کیا گیا؟
اس آیت سے جو سوالات اُبھرتے ہیں اُن میں سے ایک یہ ہے چچا اور ماموں کو محارم کی فہرست میں کیوں شمار نہیں کیا گیا حالانکہ یہ بات مسلّم ہے کہ وہ بھی محرم ہیں اور اُن سے بھی پردہ ضروری نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے اس کی یہ وجہ ہو کہ قرآن اپنے مطالب کو نہایت بلاغت کے ساتھ بیان چاہتا ہے اور وہ ایک لفظ بھی اضافی استعمال نہیں کرنا چاہتا، بھتیجے اور بھانجے کو مستثنیٰ قرار دینا نشاندہی کرتا ہے کہ پھوپھی، خالہ اور ممانی بھی محرم ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عورت کا چچا اور ماموں بھی اس کے محرم ہیں۔ زیادہ واضح الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کہ محرم ہونے کے دو پہلو ہیں۔ لہٰذا ایک پہلو سے جب بھانجے اور بھتیجے محرم ہیں تو فطری سی بات ہے کہ دوسروں پہلو سے اُن کے باپ بھی محرم ہوں گے (غور کیجئے گا)۔
۸۔ جنسی جذبات کو تحریک دینے والے تمام عوامل ممنوع ہیں:
زیرِ بحث آیت کے حوالے سے آخری گفتگو اس مسئلے کے بارے میں ہے کہ آیت کے آخر میں آیا ہے کہ عورتیں راہ چلتے ہوئے اس طرح پاوٴں زمین پر نہ ماریں کہ اُن کی پازیبوں کی جھنکار سنائی دے۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام عفّت و پاکدامنی کے مسئلے میں اس قدر حساس ہے اس قسم کے کام کی بھی اجازت نہیں دیتا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو بطریق اولیٰ اسلام ان تمام عوامل کی ممانعت کرتا ہے کہ جوانوں کے جنسی جذبات کو اُبھاریں مثلاً عریاں و فحش تصویریں کی اشاعت، گمراہ کن لچر اور جنسی فلمیں اور ایسی داستانیں وغیرہ کی نشر و اشاعت کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔ اسلام اُن تمام چیزوں کا مخالف ہے کہ جو نوجوانوں لڑکے اور لڑکیوں کو گمراہی، بدکاری اور گناہ کی طرف مائل کرتی ہیں۔ اسلام خریداری کے مراکز اور بازاروں کو ان چیزوں سے پاک کر دینا چاہتا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 34 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 34 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر آسان شادی بیاہ کی ترغیب
Tafsīr Nemūna · Vol. 4اس سورہ کے آغاز سے لے کر یہاں تک جنسی آلودگیوں سے بچنے کے لئے مختلف طریقوں سے نہایت جچے تُلے انداز میں گفتگو کی گئی ہے ان میں سے ہر طریقہ اور حکم ان برائیوں کو روکنے کے لئے اپنے مقام پر موٴثر ہے۔ زیرِ بحث آیات میں ایک اور اہم حوالے سے فحاشی اور برائی کا قلع قمع کرنے کے لئے اقدام کیا گیا اور وہ شادی بیاہ کا سادہ، آسان اور بےریا طریقہ۔ یہ بات مسلّم ہے کہ بدکاری اور فحاشی کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ صحیح اور جائز طریقے سے انسان کی فطری ضرورت کو پورا کیا جائے۔ لہٰذا زیرِ نظر پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: غیر شادی شدہ مردوں اور عورتوں کی شادی کر دو اور اسی طرح نیک غلاموں اور کنیزوں کی بھی (وَاَنکِحُوا الْاَیَامَی مِنْکُمْ وَالصَّالِحِینَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَإِمَائِکُمْ)۔ "ایامیٰ"، "ایم" (بروزن "قیم") کی جمع ہے۔ بنیادی طور پر تو یہ لفظ بےشوہر عورت کے معنی میں تھا لیکن بعد ازاں اس مرد کے لئے بھی استعمال ہونے لگا کہ جو بیوی کے بغیر ہو۔ اس لحاظ سے تمام مجرّد عورتیں اور مرد اس آیت کے مفہوم میں داخل ہیں چاہے وہ کنوارے ہوں یا نہ ہوں۔ یہاں لفظ "انکحوا" (ان کا نکاح کرو) استعمال کیا گیا ہے حالانکہ شادی ایک اختیاری کام ہے اور طرفین کی رغبت و رضامندی وابستہ ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ ان کی شادی کے لئے راہ ہموار کرو، احتیاج کی صورت میں مالی امداد کرو، مناسب رشتے کی تلاش میں مدد دواور ایسے مردوں اور عورتوں کو شادی پر آمادہ کرو۔ خلاصہ یہ کہ معاملات اور مشکلات کو حل کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرو، کیونکہ ایسے کام عموماً دوسروں کی وساطت کے بغیر انجام نہیں پاتے۔ مختصر یہ کہ آیت کا مفہوم اس قدر وسیع ہے کہ اس میں دامے، درمے، قدمے، سخنے ہر طرح کی مدد شامل ہے۔ بلاشبہ تعاون کے بارے میں اسلام کا بنیادی اصول تقاضا کرتا ہے کہ مسلمان تمام امور میں ایک دوسرے کی مدد کریں لیکن شادی بیاہ کے بارے میں تعاون کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس مسئلے کی اس قدر اہمیت ہے کہ ایک حدیث میں امیرالمومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں۔ افضل الشفاعات ان تشفع بین اثنین فی نکاح حتی یجمع اللہ بینھما بہترین تعاون یہ ہے کہ تو دو افراد کے درمیان شادی کے لئے ملاپ کر دے یہاں تک کہ معاملہ تکمیل کو پہنچ جائے (بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۱۴، ص۲۷، (باب ۱۲ از ابواب مقدمات نکاح))۔ ایک اور حدیث میں امام موسیٰ کاظم بن جعفر (علیہماالسلام) سے مروی ہے کہ:۔ ثلاثة یستظلون بظل عرش الله یوم القیامة، یوم لاظلّ الّا ظلہ، رجل زوج اخاہ المسلم او اخدمہ، او کتم لہ سرّاً۔ قیامت کے دن کہ جب عرش الٰہی کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا تین گروہ اس کے سایے میں ہوں گے۔ ایک وہ کہ جو اپنے مسلمان بھائی کی شادی کے لئے وسائل فراہم کرے گا اور دوسرا وہ کہ جو خدمت کی ضرورت کے وقت اسے خدمت گار مہیّا کرے گا اور تیسرا وہ کہ جو اپنے مسلمان بھائی کے راز کو چھپائے گا۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۱۴، ص۲۷، (باب ۱۲ از ابواب مقدمات نکاح))۔ ایک اور حدیث پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم سے مروی ہے:۔ کان لہ بکل خطوة خطاھا، او بکل کلمة تکلم بھا فی ذٰلک، عمل سنة قیام لیلھا وصیام نھارھا۔ جتنے قدم بھی (کوئی مسلمان اپنے کسی مسلمان بھائی بہن کی شادی کی) راہ میں اٹھائے گا اور جنتے لفظ بھی اس مقصد کے لئے ادا کرے گا ہر ایک کے بدلے اسے اس سال کی عبادت کا ثواب ملے گا کہ جس میں رات بھر عبادت کے لئے قیام کیا گیا ہو اور دن کو روزہ رکھا گیا ہو۔ (بحوالہ وسائل الشیعہ، ج۱۴، ص۲۷، (باب ۱۲ از ابواب مقدمات نکاح))۔ _____________ عموماً شادی نہ کرنے اور اس سے بھاگنے کے لئے تنگ دستی اور غربت کا عذر پیش کیا جاتا ہے اس لئے قرآن اس کا جواب دیتے ہوئے کہتا ہے: "غربت کی وجہ سے پیشان نہ ہونا اور ان کی شادی کی کوشش کرنا کیونکہ اگر وہ تنگدست ہوئے تو الله اپنے فضل و کرم کے ذریعے انھیں بے نیاز کر دے گا" (إِنْ یَکُونُوا فُقَرَاءَ یُغْنِھِمْ اللهُ مِنْ فَضْلِہِ)۔ اور الله ایسے کام پر قادر ہے کیونکہ وہ بڑی وسعت رکھتا ہے اورعلیم ہے (وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِیمٌ)۔ اس کی قدرت اتنی وسیع ہے کہ عالمِ ہستی پر محیط ہے اور اس کا علم اتنا وسیع ہے کہ وہ تمام نیّتوں سے آگاہ ہے جو پاکدامنی کی حفاظت کے لئے شادی کرتے ہیں ان کی نیّتوں کو خُوب جانتا ہے اور وہ ان سب پر اپنا فضل و کرم کرے گا۔ اس سلسلے میں ایک واضح تجزیہ اور متعدد روایات ہم بحث کے آخر میں پیش کریں گے۔ بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ انسان خود بھی پوری کوشش کرتا ہے اور دوسرے بھی پوری سعی کرتے ہیں لیکن پھر بھی شادی نہیں ہو پاتی اور انسان مجبور ہوتا ہے کہ کچھ عرصہ محروم رہے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ اس مرحلے پر کچھ لوگ یہ گمان کرنے لگیں کہ اب ان کے لئے جنسی آلودگی جائز ہے اور ضرورت اس کا تقاضا کرتی ہے لہٰذا ساتھ ہی اگلی آیت میں پاکیزگی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے: اور وہ کہ جو شادی نہیں کر پاتے اور ان کے لئے وسیلہ نہیں بن جاتا انھیں عفّت و پاکدامنی اختیار کرنا چاہیے یہاں تک کہ الله اپنے فضل کے ذریعے انھیں بے نیاز کر دے (وَلْیَسْتَعْفِفْ الَّذِینَ لَایَجِدُونَ نِکَاحًا حَتَّی یُغْنِیَھُمْ اللهُ مِنْ فَضْلِہِ)۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اس بحرانی مسئلے میں اور خدائی آزمائش کے دور میں برائی کے لئے تیار ہو جاوٴ اور اپنے آپ کو معذور سمجھنے لگو کیونکہ ایسا کوئی عذر قابلِ قبول نہیں ہے بلکہ اس موقع پر ایمان اور تقویٰ کی قوت کام آنا چاہیے۔ جہاں بھی غلاموں اور کنیزوں کے بارے میں گفتگو ہو، موقع کی مناسبت سے اسلام ان کی آزادی کی طرف خاص توجہ دلاتا ہے لہٰذا یہاں بھی ان کی شادی کی بات آئی تو ساتھ ہی "مکاتبت" کے طریقے سے ان کی آزادی کا ذکر بھی آ گیا ہے۔ مکاتبت کا طریقہ یہ ہے کہ ایک قرار داد کے ذریعے غلام کام کرتے ہیں اور قسط وار اپنے مالک کو رقم فراہم کرتے ہیں اور اس طرح آزاد ہو جاتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: جو غلام آزادی کے لئے تم سے مکاتبت کا تقاضا کرتے ہیں ان کے ساتھ معاہدہ طے کر لو۔ اگر ان میں تم رشد اور بھلائی محسوس کرو۔ (وَالَّذِینَ یَبْتَغُونَ الْکِتَابَ مِمَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ فَکَاتِبُوھُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِیھِمْ خَیْرًا)۔ "عَلِمْتُمْ فِیھِمْ خَیْرًا" کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم دیکھو کہ اس معاہدے کے لئے ان میں کافی رشد و ہدایت موجود ہے اور پھر وہ اس پر عمل درآمد بھی رکھتے ہوں اور معاہدے کے مطابق مال ادا کر کے آزادی کی زندگی گزار سکنے کے اہل ہوں اور اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے اور یہ کام مجموعی طور پر ان کے حق میں نقصان دہ ہو اور نتیجةً وہ معاشرے کے لئے بوجھ بن رہے ہوں تو پھر یہ معاملہ کسی دوسرے وقت کے لئے اٹھا رکھو کہ جب ان میں یہ صلاحیت اور طاقت ہو۔ اس کے بعد اس بناء پر کہ یہ اقساط ادا کرتے ہوئے غلاموں کو زیادہ زحمت و مشقت نہ ہو، قرآن حکیم حکم دیتا ہے: جو مال الله نے تمھیں دیا ہے اس میں سے کچھ انھیں دو (وَآتُوھُمْ مِنْ مَالِ اللهِ الَّذِی آتَاکُمْ)۔ جو مال غلاموں کو دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سے کون سا مال مراد ہے؟ اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے زیادہ تر کہتے ہیں کہ مراد زکوٰة کا ایک حصّہ ہے۔ جیسا کہ سورہٴ توبہ کی آیت ۶ میں آیا ہے انھیں دیا جائے تاکہ وہ اپنا قرض ادا کر سکیں اور آزاد ہو جائیں۔ بعض دیگر مفسرین کہتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ غلام کا مالک چند قسطیں اسے بخش دے یا اگر لے چکا ہے تو اسے واپس کر دے تاکہ غلامی سے نجات کے لئے زیادہ توانائی حاصل کر لے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ چونکہ کام کے آغاز میں غلام اس قابل نہ ہو گا کہ مال مہیّا کر سکے لہٰذا اخراجات میں اس کی مدد کرنا چاہیے اور کچھ سرمایہ انھیں دینا چاہیے تاکہ وہ کوئی کام کاج شرع کر سکیں، اپنا نظام بھی چلا سکیں اور اپنے قرض کی اقساط بھی ادا کر سکیں۔ البتہ مذکورہ تینوں تفاسیر باہم ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں کہ تمام مفہوم آیت میں جمع ہوں۔ حقیقی مقصد یہ ہے کہ مسلمان ان مستضعف و محروم افراد کی کچھ اس طرح مدد کریں کہ یہ جتنا جلدی ممکن ہو سکے غلامی سے نجات پا لیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ اس آیت کی تفسیر میں امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:۔ تضع عنہ من نجومہ التی لم تکن ترید ان تنقصہ، ولاتزید فوق ما فی نفسک جس چیز کے لینے کا واقعاً تیرا خیال ہو تخفیف تجھے اس میں کرنا چاہیے۔ (بحوالہ: تفسیر نورالثقلین، ج۳، ص۶۰۱)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ بعض لوگ شرعی حیلے بناتے ہیں۔ یہ بتانے کے لئے ہم نے قرآن کی اس آیت پر عمل کرتے ہوئے اپنے غلاموں کی مدد کی ہے کہ وہ پہلے ہی سے مکاتبت کی رقم جتنی انھیں لینا ہوتی اس سے زیادہ لکھ لیتے تھے تاکہ تخفیف کرتے وقت زیادہ لکھی ہوئی رقم چھوڑ دیں۔ امام صادق علیہ السلام دراصل اس طرزِ عمل سے منع فرما رہے ہیں۔ بعض لوگ اپنے مملوکوں سے ایک نہایت ہی قبیح کام لیتے تھے۔ زیرِ بحث آیت کے آخر میں اس کے بارے میں فرمایا گیا ہے: دنیا کے زودگزر مال کی خاطر اپنی کنیزوں کو عصمت فروشی پر مجبور نہ کرو، جبکہ وہ پاک و پاکیزہ رہنا چاہتی ہیں (وَلَاتُکْرِھُوا فَتَیَاتِکُمْ عَلَی الْبِغَاءِ إِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا)۔ اس جملے کی تفسیر میں بعض مفسرین نے لکھا ہے:۔ عبد الله بن ابی کے پاس چھ کنیزیں تھیں، وہ مال کمانے کے لئے انھیں جسم فروشی پر مجبور کرتا تھا جس وقت (اس سورہ میں) اسلام نے منافی عفّت عمل کی مخالفت کی اور انھیں ختم کرنے کے لئے اقدام کیا تو وہ کنیزیں رسول اللهؐ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس مسئلے کی شکایت کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اس کام سے منع کیا گیا۔ (بحوالہ: مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں اور تفسیر قرطبی (کچھ فرق کے ساتھ)۔ یہ آیت نشاندہی کرتی ہے کہ زمانہ ٴ جاہلیت میں لوگ کس قدر اخلاقی پستی میں مبتلا تھے۔ حتیّٰ کی ظہور اسلام کے بعد بھی بعض لوگ ایسے کام جاری رکھے ہوئے تھے یہاں تک کہ اس آیت نے نازل ہو کر اس شرمناک کیفیت کو ختم کیا۔ لیکن_______ افسوس کی بات ہے کہ ہمارے زمانے میں کہ جسے بعض بیسویں صدی کا زمانہٴ جاہلیت قرار دیتے ہیں۔ بعض ممالک میں یہ کام بڑے شد و مد سے جاری ہے ان میں سے نام نہاد متمدّن اور ترقی یافتہ ملک بھی ہیں اور وہ حقوقِ انسانی کا ڈھنڈورا بھی پیٹتے ہیں۔ زمانہٴ طاغوت میں یہ کام ہمارے ملک میں بھی وحشتناک صورت میں موجود تھا۔ معصوم اور سیدھی سادھی لڑکیوں کو فریب دے کر بدکاری کے اڈوں میں لے جاتے تھے اور پھر انھیں شیطانی پھندوں میں جکڑ کر تن فروشی پر مجبور کرتے تھے، اور ان پھندوں سے نکل بھاگنے کے راستے ان پر ہر طرف سے بند کر دیتے تھے۔ اس طریقے سے وہ بےشمار دولت جمع کرتے تھے________ اس داستان کی تفصیل بہت دردناک ہے اور ہمارے موضوع سے خارج ہے۔ اگرچہ ظاہراً غلامی کا پُرانا نظام موجود نہیں ہے لیکن آج کی نام نہاد مہذّب دُنیا میں ایسے ایسے جرائم ہوتے ہیں کہ جو دورِ غلامی سے کہیں زیادہ وحشتناک ہیں۔ خدا دنیا کے لوگوں کو ان نام نہاد مہذّب انسانوں کے شر سے محفوظ رکھے۔ خدا کا شُکر ہے کہ اسلامی انقلاب کے بعد ہمارے ملک میں ان شرمناک اعمال کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ "إِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا" (اگر وہ پاک رہنا چاہتی ہیں....) کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر خود وہ عورتیں اس کام کی طرف مائل ہوں تو پھر انھیں مجبور کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ اس طرح کی تعبیر "منتفی بہ انتفاء موضوع" کہلاتی ہے کیونکہ "اکراہ" (مجبور کرنا) عدم رضا مندی کی صورت میں صادق آتا ہے ورنہ تن فروشی اور اس کے لئے ابھارنا ہر حالت میں گناہِ عظیم ہے یہ تعبیر اس لئے ہے کہ اگر ان کنیزوں کے مالک تھوڑی سی بھی غیرت رکھتے ہوں تو انھیں ہوش آئے کہ یہ کنیزیں جنھیں ظاہراً کم تر سمجھا جاتا ہے جب وہ اس گناہ کی طرف مائل نہیں ہیں تو تم بہت کچھ بنتے ہو_______ پھر اس پستی کو کیوں قبول کرتے ہو۔ قرآن کا اسلوب ہے کہ وہ گناہگاروں کے لئے لوٹ آنے کے دروازے کُھلے رکھتا ہے اور توبہ و اصلاح کی ترغیب دیتا ہے اس سلسلے میں آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا گیا ہے اور جس کسی نے انھیں اس کام پر مجبور کیا (اور پھر وہ اس پر پشیمان ہوا) تو ان کے جبر کے بعد الله غفور و رحیم ہے (وَمَنْ یُکْرِھُّنَّ فَإِنَّ اللهَ مِنْ بَعْدِ إِکْرَاہِھِنَّ غَفُورٌ رَحِیمٌ)۔ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں ہو سکتا ہے یہ جملہ کنیزوں کے مالکوں کی کیفیت کی طرف اشارہ ہو کہ جو اپنے تاریک اور شرمناک ماضی پر پشیمان ہیں اور اب توبہ و اصلاح پر آمادہ ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ ان عورتوں کی طرف اشارہ ہو کہ جو جبر کی وجہ سے مجبوراً یہ کام کرواتی تھیں۔ قرآن اپنی روش کے مطابق زیرِ بحث آخری آیت میں گذشتہ مباحث کی طرف مجموعی طور پر اشارہ کرتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ہم نے تم پر آیات نازل کیں کہ جو بہت سے حقائق واضح کرتی ہیں (وَلَقَدْ اَنزَلْنَا إِلَیْکُمْ آیَاتٍ مُبَیِّنَاتٍ)۔ نیز ہم نے تم سے گذشتہ لوگوں کی مثالیں اور خبریں بیان کی ہیں (وَمَثَلاً مِنَ الَّذِینَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ)۔ اور یہ سب پرہیزگاروں کے لئے نصیحت ہیں (وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِینَ)۔
چند اہم نکات ۱۔ شادی خدائی حکم ہے:
موجودہ زمانے میں شاید بیاہ میں اس قدر غلط رسمیں بلکہ خرافات داخل ہو گئی ہیں کہ نوجوانوں کے لئے یہ ایک نہایت پیچیدہ اور دشوار معاملہ بن گیا ہے لیکن ان رسموں سے قطع نظر شادی ایک فطری اور قانونِ آفرینش سے ہم آہنگ تقاضا ہے۔ انسانی نسل کی بقاء، جسم و روح کی تسکین اور زندگی کی بہت سی مشکلوں کے حل کے لئے صحیح طریقے سے شادی ناگزیر ہے۔ اسلام کہ جو ہمیشہ فطرت سے ہم آہنگ قدم اٹھاتا ہے اس نے اس سلسلے میں جاذب اور موٴثر باتیں کی ہیں۔ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کی ایک مشہور حدیث ہے:۔ تناکحوا وتناسلوا تکثروا فانّی اباھی بکم الامم یوم القیامة ولو بالسقط شادی کرو تاکہ نسل بڑھے کیونکہ روز قیامت تمھاری تعداد کی کثرت پر فخر کروں گا، یہاں تک کہ سقط شدہ بچوں پر بھی (بحوالہ: سفینة البحار، جلد اول، ص۵۶۱ (مادہٴ زوج))۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی الله علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا:۔ من تزوّج فقد احرز نصف دینہ فلیتق الله فی النصف الباقی جس نے شادی کی اس نے اپنا آدھا دین محفوظ کر لیا جبکہ باقی آدھے کے بارے میں الله سے ڈرتا رہے اور تقویٰ اختیار کرے (بحوالہ: سفینة البحار، جلد اول، ص۵۶۱ (مادہٴ زوج))۔ یہ اس لئے کہ انسان میں جنسی قوّت بہت قوی اور سرکش ہوتی ہے۔ تنہا یہ قوت باقی قوتوں اور صلاحیتوں کا مقابلہ کرتی ہے اور اس حوالے سے انسان کا انحراف اس کے آدھے دین و ایمان کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ ایک اور حدیث میں رسول اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم فرماتے ہیں:۔ شرارکم عزابکم تم میں سے بدترین افراد غیر شادی اور مجرّد ہیں۔ (بحوالہ: مجمع البیان، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں)۔ اسی بناء پر زیرِ بحث آیات میں متعدد روایات مسلمانوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ غیر شادی افراد کی شادی کروانے میں ہر قسم کی ممکنہ مدد کریں۔ خصوصاً اسلام نے اولاد کے بارے میں باپ پر سخت ذمہ داری عائد کی ہے اور جو باپ اس اہم مسئلے کی پرواہ نہیں کرتے انھیں اولاد کی کجروی کے جُرم میں شریک شمار کیا ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم سے منقول ہے:۔ من ادرک لہ ولد وعندہ ما یزوجہ فلم یزوجہ، فاحدث فالاثم بینھما جس کا بیٹا بالغ ہو جائے اور وہ شادی کے وسائل رکھتا ہو اور پھر بھی ا س کے لئے اقدام نہ کرے اور اس کے نتیجے میں اس کا بیٹا کسی گناہ کا مرتکب ہو جائے تو یہ گناہ دونوں کا لکھا جائے گا (بحوالہ: مجمع البیان زیرِ بحث آیت کے ذیل میں)۔ اسی بناء پر تاکیدی حکم دیا گیا ہے کہ شادی کے اخراجات سادہ اور آسان ہونا چاہیں چاہے وہ حق مہر کی صورت میں ہوں یا کسی اور صورت میں تاکہ اخراجات شادی کی راہ میں حائل نہ ہوں۔ عموماً زیادہ حق مہر کا مسئلہ آمدنی والے افراد کی شادی کے راستے میں حائل ہوجاتا ہے اس سلسلے میں رسول اللهؐ سے ایک حدیث مروی ہے کہ:۔ شوم المرئة غلاء مھرھا منحوس اور بدبخت ہے وہ عورت کہ جس کا حق مہر بھاری ہو (بحوالہ: وسائل الشیعہ، جلد۱۵، باب۵، از ابواب المھور، ص۱۰)۔ اسی ضمن میں ایک اور حدیث ہے:۔ من شومھا شدّة موٴنتھا اس کی نحوست کی ایک نشانی اس کی زندگی (یا شادی) کے اخراجات کا زیادہ ہونا ہے (بحوالہ: وسائل الشیعہ، جلد۱۵، باب۵، از ابواب المھور، ص۱۰)۔ بہت سے مرد اور عورتیں اس الٰہی اور انسانی ذمہ داری کو قبول کرنے کے لئے ایک عذر مالی وسائل نہ ہونے کا پیش کرتے ہیں اس سلسلے میں زیرِ بحث آیات میں صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ غربت و افلاس شادی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا بلکہ بہت سی خوشحالی کا باعث بن جاتی ہیں۔ غور کرنے سے اس کی وجہ بھی واضح ہو جاتی ہے کیونکہ جب تک آدمی اکیلا ہے اور مجرّد ہو اسے ذمہ داری کا احساس نہیں ہوتا اور وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور استعداد کو پوری طرح بروئے کار نہیں لاتا اور اگر کچھ کماتا ہے تو اسے سنبھال کر رکھنے کی کوشش نہیں کرتا اس لئے غیر شادی شدہ افراد عموماً تہی دست ہوتے ہیں لیکن شادی کے بعد انسان کی شخصیت ایک اجتماعی شخصیت بدل جاتی ہے۔ شادی کے بعد مرد شدّت سے محسوس کرتا ہے کہ اس کی ذمہ داری ہے کہ بیوی کی حفاظت کرے اور اس کا نان و نفقہ پورا کرے۔ اس میں خاندان کی آبرو کا احساس ہوتا ہے اور وہ ہونے والی اولاد کے لئے وسائل زندگی مہیّا کرنے کی تگ و دَو کرتا ہے اس لئے پورے شعور سے اپنی صلاحیّت اور استعداد بروئے کار لاتا ہے اور اپنی آمدنی کی حفاظت اور اس میں قناعت کی کوشش کرتا ہے اور تھوڑے ہی عرصے میں وہ افلاس پر غلبہ حاصل کر لیتا ہے۔ بلاوجہ نہیں کہ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:۔ الرزق مع النساء والعیال روزی بیوی اور بچوں کے ساتھ ساتھ ہے۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، ج۳، ۵۹۵)۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ:۔ ایک شخص رسول اللهؐ کی خدمت میں آیا اس نے آپؐ سے اپنی تہی دستی کی شکایت کی، آپؐ نے فرمایا:۔ تزوج شادی کرو فتزوج فوسع لہ اس نے شادی کی تو اس کے رزق میں فراخی آ گئی۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، جلد۱۴، ص۲۵ (باب ۱۱، از ابواب عقد بابِ نکاح)۔ اس میں شک نہیں کہ تائید ایزدی اور مخفی روحانی قوتیں بھی ایسے افراد کی مدد کرتی ہیں کہ جو انسانی ذمہ داری پوری کرنے اور پاکدامنی کی حفاظت کے لئے شادی کرتے ہیں۔ ہر باایمان شخص اس خدائی وعدے پر بھروسہ کر سکتا ہے اس سے ولولہ حاصل کر سکتا ہے اور اس پر ایمان لا سکتا ہے۔ ایک اور حدیث پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ سلّم سے ان الفاظ میں مروی ہے:۔ من ترک التزویج مخافة العیلة فقد ساء ظنہ بالله انّ الله عزوّجل یقول:إِنْ یَکُونُوا فُقَرَاءَ یُغْنِھِمْ اللهُ مِنْ فَضْلِہِ جو شخص غُربت کے خوف سے شادی نہ کرے اس نے الله کے بارے میں سوئے ظن کیا کیونکہ الله تعالیٰ فرماتا ہے۔" اگر وہ غریب ہوئے تو الله انھیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔" (بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۱۴، ص۲۴ (باب ۱۰، از ابواب عقد بابِ نکاح))۔ اسلامی کتب میں اس سلسلے میں بہت زیادہ روایات ہیں اگر ہم ان سب کو نقل کرنے لگیں تو بات تفسیری حدود سے بڑھ جائے گی۔
۲۔ "وَالصَّالِحِینَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَإِمَائِکُمْ" کی تفسیر:
یہ بات قابل توجہ ہے کہ زیرِ بحث آیات میں جہاں غیر شادی شدہ مردوں اور عورتوں کی شادی کرنے کے بارے میں فرمایا گیا ہے اور ایک عمومی حکم دیا گیا ہے وہاں جب غلاموں اور کنیزوں کی شادی کا ذکر آتا ہے تو اس کے ساتھ "صالح" ہونے کی شرط عائد کر دی جاتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ تفسیر المیزان کے موٴلف گرامی اور صاحبِ تفسیر صافی نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ ان میں سے جو شادی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں____ لیکن اگر معاملہ یونہی ہو تو پھر یہ شرط آزاد عورتوں اور مردوں کے لئے بھی ضروری ہے۔ بعض دیگر نے کہا ہے کہ اس سے مراد اخلاق و اعتقاد کے لحاظ سے صالح ہونا ہے کیونکہ اس سلسلے میں “صالحین” ایک خاص اہمیت کے حامل ہیں ـــــــــــ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر غلاموں کے علاوہ دوسروں کے لئے یہ شرط کیوں عائد نہیں کی گئی۔ ہمارا خیال ہے کہ اس سے ایک اور چیز مراد ہے اور وہ یہ کہ اس دور میں تمدّنی، ثقافتی اور اخلاقی لحاظ سے غلام اور کنیزیں بہت پست تھیں انھیں مشترک زندگی کی ذمہ داری کا کوئی احساس نہ تھا اگر ایسی صورت حال میں ان کی شادی کر دی جاتی تو وہ آسانی سے شریکِ حیات کو چھوڑ کر اسے پریشان و سرگرداں چھوڑ دیتے ان کے بارے میں حکم دیا گیا ہے کہ اگر وہ اخلاقی صلاحیّت رکھتے ہیں تو ان کی شادی کے لئے اقدام کیا جائے تاکہ وہ ازدواجی زندگی کے اہل ہو سکیں اور پھر ان کی شادی کی جائے۔
۳۔ عقد مکاتبہ
ہم کہہ چکے ہیں کہ اسلام نے غلاموں کی تدریجی زندگی کا پروگرام دیا تھا۔ لہٰذا اسلام نے ہر موقع سے ان کی آزادی کے لئے فائدے اٹھانے کے لئے اقدام کیا ہے ان میں سے ایک "مکاتبت" کا طریقہ ہے زیرِ بحث آیت میں ایک حکم کے طور پر اس کا ذکر آیا ہے۔ "مکاتبہ" "کتابت" کے مادے سے ہے اور کتابت بنیادی طور پر "کُتب" (بروزن "کسب") کے مادے سے جمع کرنے کے معنی میں ہے اور جو لکھنے کو "کتابت" کہتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان حروف اور الفاظ کو ایک عبارت میں جمع کر دیتا ہے اور مکاتبت میں چونکہ آقا و غلام کے درمیان قرار داد لکھی جاتی ہے لہٰذا اسے مکاتبت کہتے ہیں۔ "عقد مکاتبہ" ایک قسم کی قرارداد ہے کہ جو دو افراد کے درمیان طے پاتی ہے اس میں غلام ذمہ دار ہوتا ہے کہ آزاد محنت مزدوری کے ذریعے مال مہیّا کرے اور اسے قابل عمل قسطوں میں اپنے آقا کو ادا کرے اور آزاد ہو جائے۔ آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ یہ ساری قسطیں مل کر غلام کی قیمت سے زیادہ ہونا چاہییں۔ بعض وجوہ کی بناء پر غلام اگر قسطیں ادا کرنے سے قاصر ہو تو وہ قسطیں بیت المال سے یا زکوٰة کے ایک حصّے سے ادا کی جائیں گی تاکہ وہ آزاد ہو جائے۔ بعض فقہاء نے یہاں تک تصریح کی ہے کہ اگر زکوٰة خود آقا پر واجب الادا ہو تو وہ غلام کے ذمہ اقساط کا حساب زکوٰة سے کر لے یہ معاہدہ عقدِ لازم ہے اور طرفین میں سے کوئی بھی اسے توڑنے کا حق نہیں رکھتا۔ واضح ہے کہ اس پروگرام کے تحت بہت سے غلام حاصل کر سکیں گے اور جس مدّت میں انھیں کام کر کے اقساط ادا کرنا ہے اس میں وہ اپنے پاوٴں پر کھڑے ہونے کے قابل ہو جائیں گے اور ان مالکوں کا بھی کوئی نقصان نہیں ہو گا اور غلاموں کی کمی کی وجہ سے وہ کوئی منفی ردّعمل بھی ظاہر نہیں کریں گے۔ مکاتبت کے بارے میں بہت سے فروعی احکام بھی ہیں کہ جن کی تفصیل فقہی کتب میں متعلق باب میں دیکھی جا سکتی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 38 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 38 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 38 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر آیتِ نور
Tafsīr Nemūna · Vol. 4زیرِ نظر آیات کی تفسیر کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے۔ مسلمان مفسرین، فلاسفہ اور عرفاء میں سے ہر ایک نے اپنے انداز سے بات کی ہے گزشتہ آیات سے ان کا تعلق یہ ہے کہ قبل ازیں عفّت و پاکدامنی کے بارے میں مختلف انداز سے مختلف حوالوں سے بات ہوئی ہے۔ فحاشی اور بدکاری کی روک تھام کے لئے احکام دیئے گئے ہیں اور تمام احکامِ الٰہی کے اجراء کا ضامن ایمان ہے۔ ایمان ہی سرکش خواہشات پر کنٹرول کر سکتا ہے۔ انسانی جذبات میں سے قوی ترین جنسی جذبات ہیں اور ان پر کنٹرول ایمان کے بغیر ہی نہیں۔ لہٰذا آخرکار زیرِ نظر آیات میں بحث کا رُخ اور اس کے قوی اثرات کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:۔ الله آسمانوں اور زمین کا نور ہے (اَللهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ)۔ کیسا پیارا، حسین اور جاذب اور قیمتی جملہ ہے ______ جی ہاں! الله ہی آسمانوں اور زمین کا نُور ہے وہ خود نُور ہے اور نور رساں بھی ہے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ نور سے یہاں مراد ہے "ہدایت کرنے والا"۔ بعض نے اس کا معنی کیا ہے "روشن کرنے والا"۔ بعض نے مراد لیا ہے "زینت بخشنے والا"۔ یہ سب معانی صحیح ہیں لیکن آیت کا مفہوم ان سے بھی وسیع تر ہے اس کی وضاحت یوں ہے:۔ قرآنِ مجید اور متعدد روایات میں لفظ "نور" کا اطلاق مختلف حوالوں سے ہوا ہے مثلاً:۔ ۱۔ قرآن مجید: سورہٴ مائدہ کی آیت۱۵ میں قرآن مجید کو نور قرار دیا گیا ہے۔ قَدْ جَائَکُمْ مِنَ اللهِ نُورٌ وَکِتَابٌ مُبِینٌ الله کی طرف سے تمھارے لئے نور اور کتاب مبین آئی ہے۔ اسی طرح سورہٴ اعراف کی آیت ۱۵۷ میں ہے:۔ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِی اُنزِلَ مَعَہُ اُوْلٰئِکَ ھُمَ الْمُفْلِحُونَ جو لوگ پیغمبر کے ساتھ نازل ہونے والے نور کی پیروی کرتے ہیں وہی فلاح یافتہ ہیں۔ ۲۔ ایمان: بعض مقامات پر "ایمان" کے لئے لفظ "نور" آیا ہے۔ جیسا کہ سورہٴ بقرہ کی آیت ۲۵۷ میں ہے: اَللهُ وَلِیُّ الَّذِینَ آمَنُوا یُخْرِجُھُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّورِ الله ان کا ولی ہے جو ایمان لائے ہیں انھیں (کفر و شرک) کی تاریکیوں سے نکال کر (ایمان کے) نور کی طرف ہدایت کرتا ہے۔ ۳۔ ہدایتِ الٰہی: ہدایت اور روشن بینی کو بھی نور کہا گیا ہے۔ جیسا کہ سورہٴ انعام کی آیت ۱۲۲ میں آیا ہے۔ اَوَمَنْ کَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنَاہُ وَجَعَلْنَا لَہُ نُورًا یَمْشِی بِہِ فِی النَّاسِ کَمَنْ مَثَلُہُ فِی الظُّلُمَاتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِنْھَا جو شخص مر چکا تھا اور ہم نے اسے زندہ کیا اس کے لئے نور ہدایت قرار دیا کہ جس کے باعث وہ لوگوں کے درمیان چل پھر سکتا ہے۔ کیا ایسا شخص اس شحص کی مانند ہو سکتا ہے کہ جو تاریکی میں ہو اور اس سے کبھی نہ نکل سکے۔ ۴۔ دین اسلام: دینِ اسلام کو بھی نور قرار دیا گیا ہے سورہٴ توبہ کی آیت ۳۲ میں ہے:۔ وَیَاْبَی اللهُ إِلاَّ اَنْ یُتِمَّ نُورَہُ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُونَ اور الله سوائے اس کے کچھ نہیں چاہتا کہ اپنے نور کو تکمیل تک پہنچائے۔ چاہے کافروں کو ناگوار ہی گزرے۔ ۵۔ پیغمبر اکرمؐ: سورہٴ احزاب کی آیت ۴۶ میں رسول اکرمؐ کے بارے میں فرمایا گیا ہے:۔ وَدَاعِیًا إِلَی اللهِ بِإِذْنِہِ وَسِرَاجًا مُنِیرًا ہم نے تجھے اذنِ الٰہی سے الله کی طرف دعوت دینے والا اور روشن چراغ قرار دیا ہے۔ ۶۔ آئمہ معصومین علیہم السلام: زیارت جامعہ میں آیا ہے:۔ خلقکم الله انواراً فجعلکم بعرشہ محدقین الله نے آپ کو انوار خلق کیا اور آپ اس کے عرش کے گرد حلقہ ڈالے ہوئے تھے۔ نیز اسی زیارت میں:۔ وانتم نور الاخیار وھداة الابرار آپ بہترین لوگوں کے لئے نور ہیں اور نیک انسانوں کے لئے ہدایت ہیں۔ ۷۔ علم و دانش: مشہور حدیث ہے: العلم نور یقذفہ الله فی قلب من یشاء علم نور ہے الله جسے چاہتا ہے اس کے دل میں ڈال دیتا ہے۔ ایک طرف تو نورکے یہ مصادیق ہیں اور دوسری طرف نور کے امتیازات جن کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اجمالی مطالعے سے واضح ہو جاتا ہے کہ نور کے یہ امتیازات ہیں۔ ۱۔ مادی دنیا میں نور لطیف ترین اور حسین موجودات میں سے ہے۔ اور یہ تمام زیبائیوں اور لطافتوں کا سرچشمہ ہے۔ ۲۔ ماہرین میں یہ بات مشہور ہے کہ عالمِ مادہ میں اور روشنی کی رفتار سب سے زیادہ ہے اس کی رفتار تیس لاکھ کلو میٹر فی سیکنڈ ہے گویا نور پلک جھپکنے میں کرہٴ زمین کے ساتھ لگا سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ عظیم ستاروں کی مسافت روشنی کی رفتار کے ساتھ نا پی جا سکتی ہے اس کا ایک پیمانہ نوری سال ہے یعنی وہ مسافت جسے نور ایک سال میں طے کرتا ہے۔ ۳۔ نور اس جہان میں اجسام کی پہچان کا ذریعہ ہے اسی سے دنیا کے مختلف موجودات کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اس کے بغیر کسی چیز کو دیکھا نہیں جا سکتا۔ لہٰذا "نور" ظاہر بھی ہے "مظہر" بھی۔ (یعنی دوسروں چیزوں کو ظاہر کرنے والا بھی ہے)۔ ۴۔ سورج کی روشنی ہماری دنیا کی اہم ترین روشنی ہے یہی روشنی پھولوں، پھلوں، کھیتوں اور سبزہ زاروں کی پرورش اور نشوونما کا ذریعہ ہے بلکہ تمام زندہ موجودات کی بقاء اسی روشنی سے ہے اور ممکن نہیں ہے کہ کوئی موجود روشنی سے بالواسطہ یا بلاواسطہ استفادہ کیے بغیر زندہ رہ سکے۔ ۵۔ دورِ حاضر میں ثابت ہو چکا کہ تمام رنگ نورِ آفتاب یا اس سے مشابہ روشنیوں کا نتیجہ ہیں۔ روشنی کے بغیر سب تاریکی ہی ہے اور مطلق تاریکی میں کسی رنگ کا کوئی تصور ہی نہیں۔ ۶۔ تمام توانائیاں جو ہمارے گرد و پیش موجود ہیں، (ایٹمی توانائی کے سوا) ________ سب کا سرچشمہ سورج کی روشنی ہے۔ ہواوٴں کی رفتار، بارش کی برسات، نہروں کی روانی، آبشاروں کا گرنا________ خلاصہ یہ کہ________ تمام موجودات کی حرکت________ اگر غور کیا جائے تو روشنی کے دم سے ہے۔ حرارت کا سرچشمہ سورج کی روشنی ہے اسی کے سبب موجودات کا بستر گرم ہے۔ درختوں کی لکڑی، پتھر کے کوئلے یا پٹرول وغیرہ سے حاصل ہونے والی تمام حرکات کا اصل مآخذ سورج کی تپش ہے کیونکہ تحقیقات کے مطابق یہ تمام چیزیں نباتات اور حیوانات سے حاصل ہوتی ہیں اور نباتات و حیوانات کی بقا کا دار و مدار سورج کی روشنی اور تپش پر ہے________ لہٰذا اگر گاڑیوں اور مشینوں کی روانی بھی اسی کی برکت سے ہے۔ ۷۔ سورج کی روشنی طرح طرح کے جراثیم اور موذی موجودات کو ختم کرتی ہے اگر سورج کی بابرکت شعاعیں نہ ہوتیں تو کرہٴ زمین ایک بہت بڑے "بیمارستان" میں بدل جاتا اور اس کے تمام باسی ہمیشہ موت و حیات کی کشمکش میں رہتے۔ خلاصہ یہ کہ اس عالمِ خلقت کی اس عجیب چیز________ یعنی نور________ پر جتنا بھی غور و فکر کریں اتنا ہی اس کے گراں بہا آثار اور عظیم برکات ظاہر ہوں گی۔ اس تمہید کو پیش نظر رکھیے اور سوچیے کہ اس عالم کے حسی موجودات میں سے اگر کوئی چیز تشبیہ و تمثیل کے لئے انتخاب کریں (اگرچہ اس مقامِ باعظمت ہر شبیہ و نظیر سے برتر ہے) تو کیا لفظ "نور" کے علاوہ کسی سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ وہ خدا کہ جو تمام عالمِ ہستی کو عالمِ ظہور میں لانے والا ہے۔ جو عالمِ آفرینش کو روشنی عطا کرتا ہے۔ تمام موجودات جس کے فرمان کی برکت سے زندہ ہیں اور تمام مخلوقات جس کے خوانِ نعمت پر پلتی ہیں۔ وہی خدا________ کہ اگر لمحہ بھر کے لئے ان موجودات سے اپنی چشم پوش الطاف پھیر لے تو سب فنا کی تاریکی میں ڈوب جائیں۔ اور یہ بات جاذب نظر ہے کہ موجود اس سے جس قدر ربط رکھتا ہے۔ اسی قدر اس سے نورانیت اور روشنی حاصل کرتا ہے________ اسی لئے:۔ قرآن نور ہے چونکہ اس کا کلام ہے دین اسلام نور ہے چونکہ اس کا آئین ہے انبیاءؑ و رسلؑ نور ہیں چونکہ اس کے بھیجے ہوئے ہیں۔ آئمہ معصومین علیہ السلام نور ہیں چونکہ انبیاء کے بعد اس کے دین کے نگہبان ہیں۔ ایمان نور ہے چونکہ اس سے رشتہ جوڑ دیتا ہے۔ علم نور ہے چونکہ اس کی معرفت کا باعث ہے۔ لہٰذا________ اَللهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ________ ہے اور اگر لفظ نور کواس کے وسیع معنی میں لیں تو پھر الله کے لئے اس کا استعمال تشبیہ بھی نہیں ہو گا کیونکہ "نور" کا معنی ہے "ایسا وجود جو خود ظاہر ہو اور دوسروں کو ظاہر کرنے والا ہو"۔ اس لئے کہ عالمِ خلقت میں کوئی چیز اس سے زیادہ آشکار نہیں اور جو کچھ اس کے علاوہ ہے وہ اس کے وجود کی برکت سے ظاہر ہے۔ کتاب "توحید" میں ہے کہ کسی نے امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام سے "اَللهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ" کی تفسیر پوچھی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا:۔ ھاد لاھل السماوات وھاد لاھل الارض وہ ہادی ہے اہلِ آسمان کا اور وہ ہادی ہے اہلِ زمین کا۔ درحقیقت________ ہدایت________ نور الٰہی کی ایک خصوصیت ہے لیکن اس کی فقط یہی خصوصیت نہیں۔ اسی طرح وہ تمام تفاسیر کہ جو اس آیت کے سلسلے میں مذکور ہیں انھیں ہماری مذکورہ بالا تفسیر میں جمع کیا جا سکتا ہے کیونکہ جو کچھ بھی کہا گیا ہے وہ اس بےنظیر نور اور بےمثل روشنی کا ایک رُخ ہے۔ یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ دعائے جوشن کبیر کے سینتالیسویں حصّے میں صفات الٰہی یوں بیان ہوئی ہیں۔ یا نور النور، یا منوّر النور، یا خالق النور، یا مدبر النور، یا مقدر النور، یا نور کل نور، یا نوراً قبل کل نور، یا نوراً بعد کل نور، یا نوراً فوق کل نور، یا نوراً لیس کمثلہ نور اے نور کی روشنی، اے روشنیوں کو نور عطا کرنے والے، اے نور کے خالق، اے نور کے ناظم، اے نور کے نظامِ تقدیر، اے سب روشنیوں کے نور، اے نور جو سب روشنیوں سے پہلے ہے۔ اے نورکہ جو سب روشنیوں کے بعد ہے۔ اے نور جو سب روشنیوں سے بالاتر ہے۔ اے نور کہ جس کی مثال کوئی نور نہیں ہے۔ اس طرح تمام عالمِ ہستی کا مرکز وہی ہے اور سب نور اس کی ذات پاک کے نور تک جا پہنچتے ہیں۔ ________ اس بات کے بعد قرآن نُورِ الٰہی کیفیت کو بیان کرنے کے لئے ایک عمدہ اور دقیق مثال پیش کرتا ہے فرماتا ہے: نور خدا کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی چراغ طاق میں رکھا ہو اور وہ چراغ ایک فانوس میں ہو اور وہ فانوس فروزاں ستارے کی مانند شفاف اور درخشاں ہوں (مَثَلُ نُورِہِ کَمِشْکَاةٍ فِیھَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِی زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ کَاَنَّھَا کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ)۔ اور یہ چراغ زیتون کے اس مبارک اور بابرکت درخت کے تیل سے جلایا جاتا ہو کہ جو نہ شرقی ہے نہ غربی (یُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَکَةٍ زَیْتُونِةٍ لَاشَرْقِیَّةٍ وَلَاغَرْبِیَّةٍ)۔ اس کا تیل ایسا صاف اور خالص ہو کہ گویا آگ کے چھوئے بغیر شعلہ زن ہوجاتا ہو (یَکَادُ زَیْتُھَا یُضِیءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْہُ نَارٌ)۔ ایک نور ہے کہ جو نور کے اوپر ہے (نُورٌ عَلیٰ نُورٍ)۔ الله جسے چاہتا ہے اپنے نور کی طرف ہدایت کرتا ہے (یَھْدِی اللهُ لِنُورِہِ مَنْ یَشَاءُ)۔ اور الله لوگوں کے لئے مثالیں بیان کرتا ہے (وَیَضْرِبُ اللهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ)۔ اور الله ہر چیز سے آگاہ ہے (وَاللهُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمٌ)۔ اس مثال کی وضاحت کے لئے ذیل کے چند امور کی طرف توجہ ضروری ہے۔ "مشکوة" دراصل دیوار میں بنائے گئے سوراخ، طاق اور چھوٹی سی جگہ کے معنی میں ہے کہ جو دیوار میں چراغ رکھنے کے لئے بناتے ہیں تاکہ ہوا اور طوفان سے چراغ محفوظ رہیں کبھی کمرے کے اندر بھی چھوٹا سا طاقچہ بنایا جاتا ہے یہ طاقچہ گھر کے صحن کی جانب بنا کر آگے شیشے کے بنے ہوئے ایسے مکعب مستطیل کو بھی مشکوٰة کہتے ہیں جس کا ایک دروازہ ہوتا ہے اور اس کے اوپر ہوا کے نکلنے کے لئے سوراخ بھی ہوتا ہے اور اس میں چراغ رکھا جاتا ہے مختصر یہ کہ مشکوٰة چراغ کی حفاظت کے لئے بنائی گئی جگہ یا چیز کو کہتے ہیں کہ جو اسے ہوا اور طوفان کے تھپیڑوں سے بچاتی ہے اور چونکہ عام طور پر اسے دیوار میں بناتے ہیں لہٰذا یہ چراغ کی روشنی کو مرکوز اور منعکس کرتی ہے۔ "زجاجة"شیشے کو کہتے ہیں دراصل یہ لفظ صاف و شفاف پتھروں کے معنی میں ہے اور شیشہ بھی چونکہ پتھر ہی سے بنایا جاتا ہے اور صاف و شفاف بھی ہوتا ہے لہٰذا اسے بھی "زجاجة" کہتے ہیں یہاں یہ لفظ گلاب اور فانوس کے معنی میں ہے کہ جو چراغ کے سامنے یا اوپر رکھتے ہیں تاکہ اس کے شعلے کی بھی حفاظت کرے۔ ہوا کی گردش کو بھی نیچے سے اوپر کی طرف منظم رکھے اور اس کی روشنی میں بھی اضافہ کرے۔ "مصباح" چراغ کو کہتے ہیں۔ "یُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَکَةٍ زَیْتُونِةٍ لَاشَرْقِیَّةٍ وَلَاغَرْبِیَّةٍ" یہ جملہ خالص اور توانائی کے حامل روغن کی طرف اشارہ ہے جو زیتون کے پر برکت درخت سے اس چراغ کے لئے لیا جاتا ہے اور جلانے کے لئے ایک بہترین روغن ہے جبکہ اسے ایسے درخت سے حاصل کیا گیا ہے کہ جو نور آفتاب میں ہر طرف برابر سے پھلا پھولا اور بڑھا پھیلا ہوا ہو۔ یہ درخت نہ باغ کی مشرقی جانب دیوار کے ساتھ ہے اور نہ مغربی جانب کیونکہ اگر اس پر صرف ایک طرف سے روشنی پڑے تو اس کا پھل بھی نیم پکا اور نیم کچّا ہو گا لہٰذا اس کا روغن بھی اچھا اور صاف نہیں ہو گا۔ اس گفتگو سے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ صحیح اور اچھی روشنی کے حصول کے چار عوامل ہیں۔ ۱۔ ایسا چراغدان یا طاق کہ جو اس کی ہر طرف سے حفاظت کرے۔ اس کی روشنی میں کمی نہ کرے بلکہ اسے زیادہ متمرکز کرنے میں مدد دے۔ ۲۔ ایسا گلاب یا فانوس کہ جو گردش ہوا کو شُعلے کے گرد منظّم کرے لیکن ایسا شفاف ہو کہ روشنی کے گزرنے میں حائل نہ ہو۔ ٣۔ چراغ کہ جس کی روشنی کا مرکز اس کا فتیلہ یا فیتا ہے۔ ۴۔ صاف، خالص، عمدہ اور توانائی کا حامل روغن اور تیل کہ جو جلنے کے لئے ایسا تیار ہو کہ گویا شُعلے سے مَس ہوئے بغیر بھڑک اُٹھے۔ یہ سب کچھ ان کے الفاظ کے ظاہری پہلو کا بیان تھا۔ دوسری طرف بزرگ مفسرین نے نور کے لئے بیان کی گئی اس تشبیہ کا باطنی مفہوم بھی بیان کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف تفسیریں ہیں۔ مثلاً بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد نورِ ہدایت ہے کہ جسے الله نے مومنین کے دلوں میں روشن کیا ہے یعنی وہ ایمان ہے کہ جو الله نے مومنین کے دلوں میں جاگزیں کر دیا ہے۔ بعض نے خیال کیا ہے کہ اس سے مراد قرآن کا معنی ہے کہ جو انسان کے دل کے اندر نور افگن ہوتا ہے۔ بعض نے اس تشبیہ کو ذاتِ پیغمبرؐ کی طرف اشارہ سمجھا ہے۔ بعض نے توحید و عدلِ الٰہی کی طرف اشارہ جانا ہے۔ بعض نے سمجھا ہے کہ اس سے مراد روحِ اطاعت و تقویٰ ہے کہ جو ہر خیر و سعادت کا سرچشمہ ہے۔ درحقیقت قرآن اور حدیث میں باطنی نور کے جتنے مصادیق آئے ہیں انھیں تفسیر کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان سب کی روح ایک ہی چیز ہے اور وہ ہے نور ہدایت کہ جس کا سرچشمہ قرآن وحی اور وجود انبیاءعلیہ السلام ہے۔ دلاائل توحید سے جس کی حفاظت و تقویت ہوتی ہے جس کا نتیجہ حکمِ الٰہی کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اور تقویٰ ہے۔ نور ایمان جو مومنین کے دل میں ہے انھی چار عوامل کا حامل ہے کہ جو ایک روشن چراغ میں موجود ہیں۔ "مصباح"________ ایمان کا وہ شعلہ ہے کہ جو مومن کے دل میں بھڑکتا ہے اور نورِ ہدایت اس سے ضوفشاں ہوتا ہے۔ "دجاجة" ________ فانوس مومن کا دل ہے کہ جو ایمان کو اپنے وجود میں منظّم کرتا ہے۔ "مشکوة" ________ طاق مومن کا سینہ ________ یا دوسرے لفظوں میں اس کا علم، فکر اور آگہی بنے کہ جو اس کے ایمان کو طوفان اور ہوائے تند سے بچاتی ہے۔ "شَجَرَةٍ مُبَارَکَةٍ زَیْتُونِةٍ" وحی الٰہی ہے کہ جس کا نچوڑ اور روغن انتہائی صاف و پاک ہے اور اس کے ذریعے مومنین کا ایمان شعلہ ور اور بابرکت ہوتا ہے۔ درحقیقت یہ نور خدا وہی نور ہے کہ جو آسمان اور زمین کو منوّر کرتا ہے یہ نور قلبِ مومن سے ضوفشان ہوتا ہے اور ان کے سارے وجود کو روشن کر دیتا ہے اور جو دلائل انھوں نے عقل و بصیرت سے حاصل کئے ہیں وہ نورِ الٰہی کی آمیزش سے "نور علیٰ نور" کا مصداق بن جاتے ہیں اور یہی وہ منزل ہے کہ جہاں اہل اور تبار دل نورِ الٰہی سے ہدایت پاتے ہیں اور "یَھْدِی اللهُ لِنُورِہِ مَنْ یَشَاءُ" اپنی عملی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ لہٰذا نور الٰہی کی ہدایت اور نورِ ہدایت و ایمان کے لئے معارف، آگاہی، خود سازی اور اخلاقِ حسنہ کی ضرورت ہے کہ جو مشکوة کی طرح اس کی حفاظت کرے اور اس کے لئے دلِ آمادہ کی ضرورت ہے کہ جو "زجاجہ" کی طرح اس پروگرام کو منظّم کرے اور وحی کی امداد کی بھی ضرورت ہے کہ "شَجَرَةٍ مُبَارَکَةٍ زَیْتُونِةٍ" کی طرح اسے توانائی بخشے اور یہ نور وحی شرقی و غربی مادی انحراف اور آلودگی سے دور رہے ورنہ یہ روشنی گہنا جائے گی یہ روغن ایسا صاف اور ہر ملاوٹ اور خرابی سے پاک ہو کہ کسی دوسری چیز کی احتیاج کے بغیر تمام انسانی صلاحیتوں کو جمع کر لے اور "یَکَادُ زَیْتُھَا یُضِیءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْہُ نَارٌ" کا مصداق بنے۔ ہر قسم کی تفسیر بالرائے، پہلے سے خو کردہ فیصلے، ذاتی پسند و ناپسند، ٹھونسے گئے عقیدے، دائیں بائیں طرف میلان اور ہر قسم کے خرافات کہ جو اس مبارک شجر کے روغن کو آلودہ کریں اس چراغ کی روشنی کم کر دیتے ہیں اور کبھی اسے بالکل ہی بےنور کر دیتے ہیں۔ یہ ہے وہ مثال کہ جو الله نے اس آیت میں اپنے نور کے لئے بیان کی ہے اور وہ ہر چیز سے آگاہ ہے۔ جو کچھ ہم نے سطور بالا میں کہا ہے اس سے یہ نکتہ واضح ہو جاتا ہے کہ آئمہ معصومین علیہ السلام کی روایات میں اس آیت کہ جو تفسیر بیان ہوئی ہے وہ اس کے واضح مصادیق کا بیان ہے نہ کہ مفہوم آیت اس میں منحصر ہے مثلاً روایت آئمہ علیہ السلام میں "مشکوة" سے مراد پیغمبر اسلامؐ کا دل، "مصباع" سے نور علم، "زجاجہ" سے آپؐ کے وصی حضرت علی علیہ السلام اور "شجر مبارکہ" سے اس خاندان کے جدّ بزرگوار حضرت ابراہیمؑ خلیل الله مراد لئے گئے ہیں۔ اسی طرح "لَاشَرْقِیَّةٍ وَلَاغَرْبِیَّةٍ" سے یہود و نصاریٰ کی طرف ان کے میلان کی نفی کی گئی ہے۔ یہ تفسیر بھی درحقیقت اسی نورِ ہدایت و ایمان کا ایک رُخ پیش کرتی ہے اور اس کا ایک واضح مصداق پیش کرتی ہے۔ اسی طرح بعض مفسرین نے اس نورِ الٰہی سے قرآن، دلائلِ عقلی یا ذاتِ پیغمبر اسلامؐ مراد لی ہے۔ یہ تفسیر بھی مندرجہ بالا تفسیر سے ہم آہنگ ہے۔ یہاں تک تو اس نورِ الٰہی اور نور ہدایت و ایمان کی خوبیاں اور امتیازات بیان ہو رہے تھے اسے ایک روشن چراغ کی تشبیہ سے واضح کیا گیا ہے اب یہ دیکھنا ہے کہ یہ روشن چراغ کہاں ہے اور اس کا مقام کون سا ہے۔ اس کے لئے اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے: یہ مشکوة ایسے گھروں میں ہے کہ جن کی دیواریں بلند کرنے کا الله نے حکم دیا ہے (تاکہ دشمنوں، شیطانوں اور ہوس بازنگاہوں سے امان میں ہوں)۔ (فِی بُیُوتٍ اَذِنَ اللهُ اَنْ تُرْفَعَ)۔ "وہ گھر کہ جن میں نامِ خدا کا تذکرہ ہوتا ہے (جن گھروں میں آیاتِ قرآنی کی تلاوت ہوتی ہے اور حقائقِ وحی بیان ہوتے ہیں۔ (وَیُذْکَرَ فِیھَا اسْمُہُ)۔ جیسا کہ ہم نے بھی تفسیر کی ہے بہت سے مفسرین نے اس آیت کو گزشتہ آیت سے مربوط جانا ہے۔ (تشریحی نوٹ: آیت کی تقدیر یوں تھی: ھٰذا المشکوٰۃ فی بیوت۔۔۔ یا___ ھٰذا المصباح فی بیوت۔۔۔ یا___ ھٰذا الشجرۃ المبارکۃ فی بیوت۔۔۔ یا ___ نور اللہ فی بیوت۔۔۔ جبکہ دوسری تفسیرکے مطابق "فی بیوت کے بعد کو "یسبح" کے متعلق جانتے ہیں کہ جس سے آ ئت کا مفہوم ہوں ہو گا۔ ایسے گھروں میں کہ جن کی دیواریں بلند کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے ،جوانمرد صبح و شام اللہ کی تسبیح کرتے ہیں۔ لیکن لفظ "فیھا" کی موجود گی میں یہ تفسیر مناسب نہیں ہے کیونکہ یہ تکرار شمار ہو گا۔ علاوہ ازیں اس آ یت کی تفسیر کے ضمن میں جو روایات مروی ہیں یہ ان سے بھی ہم آہنگ نہیں ہے (غور کیجئے گا)۔ لیکن بعض نے اسے بعد والے جملے سے مربوط سمجھا ہے ہرگز صحیح معلوم نہیں ہوتا۔ رہا یہ سوال جو بعض نے کیا ہے کہ یہ روشنی چراغ ان گھروں میں ہوں کہ جن کی خصوصیات اس آیت میں بیان ہوئی ہیں تو اس کا فائدہ ہے تو اس کا جواب واضح ہے کیونکہ اگر گھر کی دیواریں بلند ہوں اور مضبوط دل، بیدار اور ہوشیار مرد اس کی پاسداری کرتے ہوں تو ایسا گھر اس روشن چراغ کی حفاظت کا ضامن ہے۔ علاوہ ازیں جنھیں ایسے نور کی جستجو ہو گی وہ اس کے گھر سے آگاہ ہو کر جلدی اس کی جانب لپکیں گے۔ رہا یہ سوال کہ ان گھروں سے کون مراد ہیں تو اس کا جواب آیت میں موجود ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:(صبح و شام ان گھروں میں تسبیح الٰہی ہوتی ہے)۔ (تشریح نوٹ: "غدو" (بروزن "علو") صبح کے معنی میں ہے۔ مفردات میں راغب نے کہا ہے "غدو" دن کے ابتدائی حصّے کو کہا جاتا ہے اور قرآن میں یہ لفظ "اٰصال" کے مقابلے میں آیا ہے جبکہ "غداة" "غشی" کے مقابلے میں آیا ہے۔ "ﺁصال" "اصل" ( بروزن "رُسُل") کی جمع ہے جبکہ "اصل" بھی "اصیل" کی جمع ہے کہ جس کا معنی ہے "عصر"۔ رہا یہ سوال کہ "غدو" مفرد کی شکل میں اور "آصال" جمع کی صورت میں کیوں ہے تو فخر رازی کے مطابق غدو "مصدری" پہلو رکھتا ہے اور مصدر کی کبھی جمع نہیں بابدھی جاتی)۔ (یُسَبِّحُ لَہُ فِیھَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ)۔ ایسے جوانمرد کہ جنھیں تجارت اور خرید و فروخت یادِ خدا، قیامِ نماز اور ادائے زکوۃ سے غافل نہیں رکھ سکتی (رِجَالٌ لَاتُلْھِیھِمْ تِجَارَةٌ وَلَابَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِیتَاءِ الزَّکَاةِ)۔ وہ اس دن سے ڈرتے ہیں کہ جب دل اور آنکھیں زیر و زبر ہو جائیں گی (یَخَافُونَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیہِ الْقُلُوبُ وَالْاَبْصَارُ)۔ یہ خصوصیات نشاہدہی کرتی ہیں کہ یہ "بیوت" وہی مراکز ہیں کہ جنھوں نے حکمِ خدا سے استحکام پایا ہے اور یادِ الٰہی کا مرکز بنے ہیں اور وہاں سے حقائق اسلام اور احکامِ الٰہی کی نشر و اشاعت ہوتی ہے اس وسیع معنی کا مصداق مساجد اور انبیاء علیہ السلام و اولیاء کے گھر ہیں۔ بالخصوص پیغمبر اکرمؐ اور امیر المومینن حضرت علی علیہ السلام کا گھر ان گھروں میں شامل ہیں۔ یہ جو بعض نے انھیں مساجد اور انبیاء علیہ السلام کے گھر اور ایسے ہی دوسرے گھروں میں منحصر کیا ہے ان کے پاس اس کی دلیل نہیں ہے البتہ بعض ایسی روایات ہیں کہ جن میں بعض خاص گھروں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ مثلاً امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا:۔ ھی بیوت الانبیاء وبیت علی منھا یہ انبیاء کے گھروں کی طرف اشارہ ہے اور علی علیہ السلام کا گھر بھی اس زمرے میں آتا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، ج۳، ص۲۰۷)۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کے بار ے میں ہے کہ:۔ اس آیت کی تلاوت کے وقت آنحضرتؐ سے پوچھا گیا: ان سے کون سے گھر مراد ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: بیوت الانبیاء نبیوں کے گھر ابوبکر نے (علی علیہ السلام و فاطمہ علیہ السلام کے گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) پوچھا: کیا یہ گھر بھی ان میں شامل ہے؟ رسول اللهؐ نے فرمایا:۔ نعم، من افاضلھا ہاں یہ تو اس گھر کے افضل ترین گھروں میں سے ہے۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں)۔ یہ سب روشن اور واضح مصادیق کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ روایات کا معمول یہ ہے کہ یہ تفسیر کے موقع پر روشن اور واضح مصادیق کی نشاندہی کرتی ہے۔ جی ہاں جو مرکز حکمِ خدا سے قائم ہوا ہے اور اس میں ذکر خدا ہوتا ہے اور اس میں ایسے باایمان جوانمرد ہیں کہ جنھیں مادّی زندگی یاد خدا سے غافل نہیں کر دیتی اور وہ اس گھر میں الله کی تسبیح و تقدیس میں مشغول رہتے ہیں ایسے گھر انوار الٰہی کے چراغدان اور ایمان و ہدایت کے فانوس ہیں درحقیقت ان گھروں کی یہ خصوصایت ہیں۔ ۱۔ ان کی بنیاد حکم خدا سے رکھی گئی ہے۔ ۲۔ ان کی بنیاد مستحکم اور دیواریں ایسی بلند ہیں______ کہ شیطان اس پر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔ ۳۔ وہ یادِ الٰہی کا مرکز ہیں۔ ۴۔ ان کی نگہبانی ایسے جواں مرد کرتے ہیں کہ جو صبح و شام تسبیح خدا میں مشغول رہتے ہیں اور پُرفریب دنیا کی کشش انھیں حق سے غافل نہیں کرتی۔ ان خصوصیات کے باعث یہ گھر ہدایت و ایمان کا سرچشمہ ہیں۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ اس آیت میں "تجارت" کا ذکر بھی آیا ہے اور "بیع" کا بھی جبکہ ظاہراً دونوں کا معنی ایک ہی ہونا چاہیے لیکن ممکن ہے کہ ان کا فرق اس لحاظ سے ہو کہ تجارت ایک مسلسل کام ہے جبکہ "ربیع" ایک وقتی کام ہے۔ اس امر کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ یہ نہیں فرمایا گیا کہ وہ ایسے مرد ہیں کہ جو تجارت اور ربیع کی طرف نہیں جاتے بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ تجارت اور بیع انھیں یادِ خدا، قیامِ نماز اور ادائے زکوٰۃ سے غافل نہیں کر دیتی وہ ہمیشہ قیامت اور عدالتِ الٰہی کے خیال سے ڈرتے رہتے ہیں کیونکہ قیامت کا دن وہ ہے کہ جب دل اور آنکھیں زیر و زبر ہو جائیں گی (توجہ رہے کہ "یخافون" فعل مضارع ہے اور روزِ قیامت سے ان کے مسلسل خوف پر دلالت کرتا ہے۔ ایسا خوف کہ جو انھیں ذمہ داریوں کا احساس دلائے رکھتا ہے)۔ زیرِ بحث آخری آیت میں نور ہدایت کے ان کے پاسداروں اور عاشقانِ حق کا اجر بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: یہ اس بناء پر ہے کہ الله انھیں ان کے بہترین اعمال کی جزا دے اور اپنے فضل سے ان کے اجر میں اضافہ بھی کر دے (لِیَجْزِیَھُمْ اللهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَیَزِیدَھُمْ مِنْ فَضْلِہِ)۔ اور تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ جو لوگ فیضان الٰہی کے لائق ہیں ان کے لئے الله کا فیضان محدود نہیں ہے اور خدا جسے چاہتا ہے رزقِ بے حساب دیتا ہے اور اسے اپنی لامتناہی نعمات سے بہرہ مند کرتا ہے (وَاللهُ یَرْزُقُ مَنْ یَشَاءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ)۔ اس آیت میں "اَحْسَنَ مَا عَمِلُوا" سے کیا مراد ہے؟ اس سلسلے میں: بعض نے کہا ہے کہ نیک اعمال کی طرف اشارہ ہے چاہے وہ واجبات ہوں یا مستحبات اور چھوٹے ہوں یا بڑے۔ بعض دوسرے معتقد ہیں یہ اس طرف اشارہ ہے کہ الله تعالیٰ کارِ خیر کا اجر کبھی دس گنا عطا فرماتا ہے کبھی سات سو گنا اور کبھی اس سے بھی زیادہ ________جیسا کہ سورہٴ انعام کی آیت ۱۶۰ میں ہے۔ من جاء بالحسنة فلہ عشر امثالھا جو شخص نیک کام کے ساتھ بارگاہِ خدا میں پیش ہو گا اسے اس کا دس گناہ اجر ملے گا۔ نیز سورہٴ بقرہ کی آیت ۲۶۱ میں راہِ خدا میں خرچ کرنے کا اجر سات سو گنا یا اس سے بھی زیادہ ذکر ہوا ہے۔ اس جملے کی تفسیر کے بارے میں یہ احتمال بھی ہے کہ مراد یہ ہو کہ الله ان کے تمام اعمال کی جزاء ان کے بہترین اعمال کے معیار کے مطابق دے گا یہاں تک کہ ان کے کم اہم اور درمیانے درجے کے اعمال کی جزاء ان کے بہترین اعمال کے معیار کے مطابق دے گا یہاں تک کہ ان کے کم اہم اور درمیانے درجے کے اعمال بھی اجر کے حساب سے ان کے بہترین اعمال کے ہم پلہ ہوں گے اور یہ فضل الہی سے بعید بھی نہیں کیونکہ عدل اور اجر میں برابری ضروری نہیں ہے لیکن جس وقت الله اپنا فضل کرنے پر آتا ہے تو پھر عنایات بے حساب ہیں کیونکہ اس کی ذات پاک غیر محدود ہے اس کی نعمتیں بھی لامتناہی ہیں اور اس کا کرم بھی بے پایاں ہے۔
چند روایات
اس آیت سے متعلقہ ضروری نکات تفسیری بحث میں آ چکے ہی البتہ کچھ روایات ایسی ہیں کہ جن کا ذکر تکمیل گفتگو کے لئے ضروری معلوم ہوتا ہے۔ انھیں ہم ذیل میں پیش کر رہے ہیں۔ ۱۔ کتاب روضة الکافی میں ہے کہ آیتِ نور کی تفسیر میں امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:۔ ان المشکوٰة قلب محمد (ص) والمصباح النور الذی فیہ العلم، والزجاجة قلب علیّ او نفسہ "مشکوٰة" قلب محمد (ص) ہے۔ "مصباح" نور علم و ہدایت ہے اور "زجاجہ" خود علی علیہ السلام ہیں یا ان کا دل کہ رحلتِ رسول کے بعد وہ "مصباح" قرار پایا۔ (بحوالہ: نور الثقلین، زیر بحث آیت کے ذیل میں، ج۳، ص۲۰۶ (کچھ تلخیص کے ساتھ)۔ ۲۔ ایک حدیث "توحید صدوق" میں امام باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپؑ نے فرمایا:۔ ان مشکوٰة نور العلم فی صدر النبی (ص) والزجاجة صدر علی.... ونور علی نور امام موٴید بنور العلم و الحکمة فی اثر الامام من آل محمد، وذلک من لدن آدم الیٰ ان تقوم الساعة، فھٰوٴلاء الاوصیاء الذین جعلھم الله عزوجل خلفاء فی ارضہ وحججہ علی خلقہ، لاتخلوا الارض فی کل عصر من واحد منھم "مشکوٰة" رسول اللهؐ کے سینے میں نورِ علم ہے۔ "زجاجہ" علی علیہ السلام کا سینہ ہے اور "نور علیٰ نور" آلِ محمد سے آئمہ اطہار علیہ السلام ہیں کہ جو یکے بعد دیگرے آتے ہیں اور نورِ علم سے ان کی تائید کی گئ ہے اور یہ سلسلہ خلقتِ آدم سے اختتامِ عالمِ تک جاری ہے یہ وہی اوصیاء ہیں کہ جنھیں الله نے زمین میں خلفاء قرار دیا ہے اور بندوں پر انھیں اپنی حجت بنایا ہے اور زمین نہ کبھی ان کے وجود سے خالی تھی اور نہ کبھی خالی ہو گی۔ (بحوالہ: نور الثقلین، زیر بحث آیت کے ذیل میں، ج۳، ص۲۰۶ (کچھ تلخیص کے ساتھ)۔ ۳۔ ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام نے "مشکوٰة" جناب فاطمہ سلام الله علیہا، "مصباح" امام حسن علیہ السلام اور "زجاجہ" امام حسین علیہ السلام کو قرار دیا ہے۔ (بحوالہ: نور الثقلین، زیر بحث آیت کے ذیل میں، ج۳، ص۶۰۲، ۶۰۳ (کچھ اختصار کے ساتھ) البتہ ہم پہلے بھی اشارہ کر چکے ہیں کہ آیات وسیع مفہوم رکھتی ہیں اور مندرجہ بالا روایات میں سے ہر ایک میں اس کے کسی نہ کسی واضح مصداق کی نشاندہی کی گئی ہے اور ان روایات سے آیت کی عمومیت ختم نہیں ہوتی لہٰذا ان روایات میں کسی قسم کا کوئی تضاد نہیں ہے۔ ۴۔ ایک روایت میں ہے کہ: امام باقر علیہ السلام بصرہ کے ایک مشہور فقیہ سے بات کر رہے تھے دورانِ گفتگو اس نے اظہارِ تعجب کیا کہ مجلس میں ایک خاص رعب اور دبدبے کی کیفیت ہے۔ امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا:۔ کیا تم جانتے ہو کہ کہاں بیٹھے ہو؟ جن کے بارے میں الله نے فرمایا ہے۔ فِی بُیُوتٍ اَذِنَ اللهُ اَنْ تُرْفَعَ وَیُذْکَرَ فِیھَا اسْمُہُ یُسَبِّحُ لَہُ فِیھَا بِالْغدو وَالْآصَالِ، رِجَالٌ لَاتُلْھِیھِمْ تِجَارَةٌ وَلَابَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِیتَاءِ الزَّکَاةِ اس کے بعد فرمایا:۔ فانت ثم ونحن اولٰئک تو وہی ہے کہ جو تو نے کہا ہے (یعنی بصرہ کا ایک فقیہ) اور ہم یہ ہیں کہ جن کے بارے میں قرآن نے کہا ہے۔ [تو تم انہی بیوت میں ہو اور ہم وہی بیوت ہیں] قتادہ نے جواب میں کہا:۔ صدقت والله، جعلنی الله فداک، والله ما ھی بیوت حجارة ولاطین والله آپ نے سچ فرمایا، میں آپ پر قربان جاوٴں، بخدا اس آیت میں پتھر اور مٹی کے گھر مراد نہیں ہیں (بلکہ وحی، ایمان اور ہدایت کے گھر مراد ہیں)۔ (بحوالہ: نورالثقلین، ج۳، ص۶۰۹)۔ ۵۔ وہ مرادنِ خدا کہ جو وحی و ہدایت کے پاسدار ہیں، ان کے بارے میں ایک حدیث میں ہے:۔ ھم التجار الذین لاتلھیھم تجارة ولابیع عن ذکر الله، اذا دخل مواقیت الصلوٰة ادوا الی الله حقہ فیھا وہ تاجر ہیں کہ جنھیں یاد خدا سے تجارت اور خرید و فروخت غافل نہیں کرتی جب نماز کا وقت آ پہنچتا ہے تو اس کا حق ادا کرتے ہیں۔ (بحوالہ: نورالثقلین، ج۳، ص۶۰۹)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ وہ اصلاحی اور مثبت اقتصادی امور سر انجام دیتے ہیں لیکن ان کے سارے کام نامِ خدا کے تابع ہیں اور کسی چیز کو اس پر مقدم نہیں کرتے۔
چند اہم نکات ۱۔ زیتون کا درخت:۔
زیرِ بحث آیات میں زیتون کے درخت کو "شجرة مبارکہ" یعنی مبارک درخت قرار دیا گیا ہے جس وقت قرآن نازل ہوا تھا ہو سکتا ہے اس وقت قرآن کی اس بات کی اہمیت لوگوں پر واضح نہ ہو لیکن آج ہمارے لئے یہ بہت واضح ہے کیونکہ عظیم سائنسدانوں اور ماہرین کہ جنھوں نے اپنی عمر کے سالہا سال نباتات کے خواص کے مطالعے میں صرف کئے ہیں ان کے بقول اس بابرکت درخت سے حاصل ہونے والی سب سے اہم چیز روغنِ زیتون ہی ہے یہ تیل بدن کی سلامتی کے لئے بہت موٴثر ہے۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ اس درخت کے تمام اجزاء مفید اور نفع بخش ہیں یہاں تک کہ اس کی راکھ بھی مفید ہے اور طوفانِ نوح کے بعد سب سے پہلے اگنے والا یہی درخت ہے اور اس درخت کے حق میں انبیاء نے دعائیں کی ہیں۔
۲۔ "نُورٌ عَلیٰ نُورٍ" کی تفسیر:
بزرگ مفسرین نے اس جملے کی تفسیر میں مختلف باتیں کی ہیں: مرحوم طبرسی مجمع البیان میں کہتے ہیں:۔ یہ ایسے انبیاء کی طرف اشارہ ہے کہ جو یکے بعد دیگرے ایک ہی نسل سے پیدا ہوتے ہیں اور راہِ ہدایت کو دوام بخشتے ہیں۔ فخر الدین رازی نے اپنی تفسیر میں کہا ہے کہ یہ نور کی شعاعوں، روشنی کی تہوں اور شعاعوں کے ایک دوسرے سے ٹکرانے کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ مومن چار حالتوں میں ہوتا ہے اسے نعمت ملے تو شکرِ خدا بجا لاتا ہے مصیبت پڑے آن پڑے تو صابر و بااستقامت ہوتا ہے۔ بات کرتا ہے تو سچ بولتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے تو عدالت کی جستجو کرتا ہے وہ جاہل لوگوں میں ایسے ہوتا ہے جیسے مردوں میں ایک زندہ۔ وہ پانچ انوار کے درمیان چلتا پھرتا ہے۔ اس کی گفتگو نور ہے۔ اس کا عمل نور ہے اس کے آنے کا مقام نور ہے اس کے جانے کی جگہ نور ہے اور اس کا ہدف روزِ قیامت نور خدا ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ قرآن میں پہلے نور سے مراد وحی الٰہی کے ذریعے ہدایتِ الٰہی کا نور ہے اور دوسرے نور سے مراد عقل کے ذریعے ہدایت الٰہی کا نور ہو۔ یا پہلا نور ہدایتِ تشریعی کا نور ہو اور دوسرا نور ہدایتِ تکوینی کا نور ہو۔ اس بناء پر نور ہے نور کے اوپر۔ اسی طرح یہ جملہ کبھی تو نور کے مختلف سر چشموں (انبیاء) سے تفسیر ہوا ہے اور کبھی نور کی مختلف قسموں سے اور کبھی اس کے مختلف مراحل سے۔ تاہم ممکن ہے یہ سب مفاہیم آیت میں جمع ہوں کہ جس کا مفہوم بہت وسیع ہے (غور کیجئے گا)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر سراب کی طرح کے اعمال
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیات میں نور الٰہی اور نور ایمان و ہدایت کے بارے میں گفتگو تھی اب زیرِ نظر آیات میں کفر، جہالت، بے ایمانی، گمراہی اور منافقت کی تاریکی کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ مومنین کی زندگی اور ان کے افکار تو "نورعلیٰ نور" تھے جبکہ منافقوں اور کافروں کا وجود "ظُلُمَاتٌ بَعْضُھَا فَوْقَ بَعْضٍ" ہے۔ اب ایسے لوگوں کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے کہ جو زندگی کے خشک، بےآب اور آگ برساتے صحراء میں پانی کے بجائے سراب کے پیچھے دوڑتے ہیں اور شدّت پیاس سے جان دیتے ہیں جبکہ مومنین کے سر پر ایمان کا سایہ ہے اور وہ ہدایت کے میٹھے اور شفاف چشمے کے کنارے راحت و آرام سے بیٹھے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ لوگ کافر ہو گئے ہیں ان کے اعمال بے آب صحرا میں سراب کی طرح ہیں پیاسا آدمی اس دور سے قریب سمجھتا ہے (وَالَّذِینَ کَفَرُوا اَعْمَالُھُمْ کَسَرَابٍ بِقِیعَةٍ یَحْسَبُہُ الظَّمْآنُ مَاءً)۔ لیکن جب اس کے قریب جاتا ہے تو کچھ نہیں پاتا (حَتَّی إِذَا جَائَہُ لَمْ یَجِدْہُ شَیْئًا)۔ البتہ الله کو اپنے اعمال کے پاس پاتا ہے اور الله اس کا حساب چکا دیتا ہے (وَوَجَدَ اللهَ عِنْدَہُ فَوَفَّاہُ حِسَابَہُ)۔ اور الله کو حساب چکاتے دیر نہیں لگتی (وَاللهُ سَرِیعُ الْحِسَابِ)۔ "سراب" بنیادی طور پر "سرب" (بروزن "شرف") کے مادے سے اوپر کی طرف جانے کے معنی میں ہے۔ اور "سرب" (بروزن "حرب") اوپر جانے والے راستے کے معنی میں ہے۔ اسی مناسبت سے "سراب" بیابانوں میں دور سے نظر آنے والی چمک کو کہتے ہیں کہ جو پانی معلوم ہوتی ہے جبکہ سورج کی روشنی کے انعکاس کے سوا وہاں کچھ نہیں ہوتا۔ (تشریحی نوٹ: آج کے ماہرین طبیعات کہتے ہیں کہ جب ہوا گرم ہو جاتی ہے تو زمین سے ملحق ہوا کا طبقہ شدّت گرمی کی وجہ سے بہت پھیل جاتا ہے اور اپنے ملحق حصّے سے جدا ہو جاتا ہے۔ روشنی کی لہریں بھی اس میں ٹوٹ جاتی ہیں اور سراب روشنی کی لہروں کے اسی ٹوٹ جانے کا نام ہے)۔ "قیعہ" بعض نظریے کے مطابق "قاعہ" کی جمع ہے اور وسیع و عریض بے آب و گیاہ زمین کے معنی میں ہے دوسرے لفظوں میں ایسے چٹیل میدان کو "قاعہ" کہتے ہیں کہ جس میں عام طور پر سراب نظر آتا ہے۔ لیکن بعض مفسرین اور اہلِ لغت "قیعہ" کو مفرد سمجھتے ہیں کہ جس کی جمع "قیعان" یا "قیعات" ہے. (تشریحی نوٹ: تفسیر مجمع البیان، تفسیر روح المعانی، تفسیر قرطبی، تفسیر فخر رازی اور مفردات راغب کی طرف رجوع کریں)۔ البتہ معنی کے لحاظ سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا لیکن آیت کی مناسبت تقاضا کرتی ہے کہ یہ لفظ مفرد ہو کیونکہ لفظ "سراب" مفرد صورت میں آیا ہے اور ظاہر ہے اس قسم کا سراب ایک ہی بیابان میں ہو گا نہ کئی بیابانوں میں (غور کیجئے گا)۔ اس کے بعد دوسری مثال بیان کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: یا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے ایک وسیع سمندر پر چھائے ہوئے اندھیرے۔ جیسے سمندر ہے اس پر ایک موج چھائی ہوئی ہے اور اس موج کے اوپر ایک اور موج ہے اور اس کے اوپر ایک تاریک بادل ہے۔ (اَوْ کَظُلُمَاتٍ فِی بَحْرٍ لُجِّیٍّ یَغْشَاہُ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِہِ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِہِ سَحَابٌ)۔ اور اندھیرے سے ایک دوسرے کے اوپر چھائے ہوئے ہیں (ظُلُمَاتٌ بَعْضُھَا فَوْقَ بَعْضٍ)۔ حالت یہ ہے کہ اگر ایسے میں کوئی شخص ہو اور وہ اپنا ہاتھ باہر نکالے تو تاریکی کا یہ عالم ہے کہ اسے ہاتھ سجھائی نہ دے گا (إِذَا اَخْرَجَ یَدَہُ لَمْ یَکَدْ یَرَاھَا)۔ جی ہاں! انسانوں کی زندگی میں نور حقیقی صرف نورِ ایمان ہے اور اس کے بغیر فضائے حیات تیرہ و تار ہے۔ لیکن یہ نور ایمان صرف الله کی طرف سے ہے اور جسے الله نور نہ بخشے اس کے لئے کوئی نور نہیں ہے (وَمَنْ لَمْ یَجْعَلْ اللهُ لَہُ نُورًا فَمَا لَہُ مِنْ نُورٍ)۔ اس مثال کی گہرائی کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ لفظ "لجی" کے معنی کی طرف توجّہ کی جائے "لجی" (بروزن "کجی") گہرے اور وسیع سمندر کے معنیٰ میں ہے یہ لفظ بنیادی طور پر "لجاج" کے مادہ سے کسی کام کے پیچھے پڑ جانے کے معنی میں ہے (اور عام طور پر غلط کاموں کے پیچھے لگ جانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے) رفتہ رفتہ لفظ سمندر کی لہروں کے ایک دوسرے کے پیچھے جانے کے معنی میں استعمال ہونے لگا اور چونکہ سمندر جتنا گہرا اور وسیع ہو گا اس کی موجیں اتنی ہیں زیادہ ہوں گی لہٰذا یہ لفظ ہوتے ہوتے وسیع سمندر کے لئے استعمال ہونے لگا۔ اب آپ عمیق، گہرے اور وسیع ٹھاٹیں مارتے ہوئے سمندر کو ذہن میں رکھیں اور ہم جانتے ہیں کہ سورج کی روشنی کہ جو قوی ترین روشنی ہے اس کی شعاعیں ایک حد تک پانی کے اندر جا سکتی ہیں اس کی تیز ترین شعاعیں تقریباً سات سو میٹر گہرائی میں جا کر محو ہو جاتی ہیں اور اس کے بعد گہرائیوں میں دائمی تاریکی اور شب جاوداں ہے وہاں روشنی کا بالکل گزر نہیں۔ یہ بات بھی ہم جانتے ہیں کہ اگر پانی بالکل صاف و شفاف ہو اور ٹھہرا ہوا تو روشنی کی بہتر منعکس کر سکتا ہے لیکن تلاطم خیز موجیں روشنی کی شعاعوں کو درہم برہم کر دیتی ہیں اور روشنی کی بہت ہی کم مقدار پانی کی گہرائیوں میں منتقل ہو پاتی ہے اب اگر ان ٹھاٹھیں مارتی ہوئی موجوں کے اوپر سیاہ بادل بھی چاہئے ہوں تو اس سے پیدا ہونے والی تاریکی کس قدر تہ بہ تہ ہو گی۔ (تشریحی نوٹ: جیسا کہ ’"لسان العرب" میں آیا ہے "سحاب" بارش والے بادل کے معنی میں ہے اور برسنے والے بادل عام طور پر تہ بہ تہ ہوتے ہیں لہٰذا زیادہ سیاہ ہوتے ہیں)۔ ایک طرف پانی کی گہرائی کی تاریکی، دوسری طرف چیختی چنگھاڑتی ہوئی موجوں کی تاریکی اور تیسری طرف سیاہ بادلوں کے اندھیرے۔ یہ سب تہ بہ تہ ظلمتیں ہیں۔ واضح ہے کہ تاریکی کے ایسے عالم میں نزدیک ترین چیز بھی سجھائی نہ دے گی۔ یہاں تک کہ اگر انسان اپنا ہاتھ بھی اپنی آنکھوں کے پاس لے جائے تو نظر نہیں آئے گا۔ وہ کافر کہ جو نورِ ایمان سے بےبہرے ہیں ایسے شخص کی مانند ہیں کہ جو اس سے کئی گنا تاریکی میں گرفتار ہو_______ جبکہ ان کے برعکس روشن ضمیر "مومنین" "نور علیٰ نور" کے مصداق ہیں۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ وہ تین قسم کی تاریکی کہ جن میں یہ بے ایمان غوطہ زن ہیں یہ ہیں۔ ۱۔ غلط اعتقاد کی ظلمت ۲۔ غلط گفتار کی ظلمت اور ۳۔ غلط کردار کی ظلمت بعض دوسرے لوگوں نے کہا ہے کہ یہ تین قسم کی ظلمتیں ان کی جہالت کے تین مرحلے ہیں۔ ۱۔ یہ کہ وہ نہیں جانتے ۲۔ یہ کہ وہ نہیں جانتے کہ وہ نہیں جانتے ۳۔ یہ کہ اس کے باوجود وہ سمجھتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں۔ اور اسی کو جہل مرکب کئی گنا جہالت کہتے ہیں۔ بعض دوسروں نے کہا کہ معرفت کے بنیادی عامل دل، آنکھ اور کان ہیں (دل سے یہاں مراد عقل ہے) جیسا کہ سورہٴ نحل کی آیہ۷۸ میں ہے۔ وَاللهُ اَخْرَجَکُمْ مِنْ بُطُونِ اُمَّھَاتِکُمْ لَاتَعْلَمُونَ شَیْئًا وَجَعَلَ لَکُمْ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَةَ الله نے تمھیں ماوٴں کے پیٹوں سے ایسی حالت میں پیدا کیا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اور پھر تمھیں کان، آنکھیں اور دل دیئے۔ لیکن کافر دل کا نور بھی گنوا بیٹھے اور سماعت و بصارت کی روشنی بھی اور تاریکیوں میں غوطہ زن ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر فخر الدین رازی، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں)۔ واضح ہے کہ یہ تینوں تفسیریں ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں اور ہو سکتا ہے آیت کے مقصود میں سب ہی شامل ہوں بہرحال، زیر بحث دو آیات کے مضمون سے آخر کار ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پہلے بے ایمان افراد کے اعمال کو جھوٹی روشنی سے دی گئی ہے کہ جو خشک اور آگ برساتے بیابان میں ایک سراب کی حیثیت رکھتی ہے۔ سراب کہ جو نہ صرف تشنہ لبوں کی پیاس نہیں بجھا سکتا بلکہ اس کے پیچھے زیادہ دوڑنے کے باعث شدّت پیاس میں اضافہ بھی ہو جاتا ہے۔ یہ جھوتی روشنی اور بےایمان منافقین کے نظر فریب اعمال کی باطنی حیثیت کو بیان کیا گیا ہے ان کا باطن ایسا ہولناک ہے کہ وہاں تمام انسانی ہو اس معطل ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اور گرد و پیش کے قریب ترین چیزیں بھی اس میں پنہاں ہو جاتی ہیں یہاں تک کہ آدمی اپنے آپ کو بھی نہیں دیکھ سکتا چہ جائیکہ دوسروں کو دیکھے۔ واضح ہے کہ ایسی ہول انگیز تاریکی میں آدمی بالکل تنہا ہو کر رہ جاتا ہے اور مکمل جہالت و بےخبری میں ڈوب جاتا ہے نہ راستہ سجھائی دیتا ہے اور نہ کوئی ہم سفر دکھائی دیتا ہے نہ اسے اپنی جگہ نظر آتی ہے اور نہ یہاں سے نکلنے کا کوئی وسیلہ اس کے پاس ہوتا ہے کیونکہ اس نے منبع نور یعنی الله سے روشنی حاصل نہیں کی اور خود پرستی و جہالت کے پردوں میں جا پڑا ہے۔ شاید آپ کو یاد ہو کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ نور تمام زیبائیوں، رنگوں، زندگی اور حرکت کا سرچشمہ ہے جبکہ اس کے برعکس برائیوں موت اور خاموشی کا منبع ہے۔ وحشت و نفرت کا مرکز تاریکی ہے. سرد مہری اور افسردگی ظلمت کے ساتھ ہیں جو لوگ نور ایمان کھو کر کفر کی ظلمت میں ڈوب جاتے ان کی یہی حالت ہوتی۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 42 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر سب اس کی تسبیح کرتے ہیں۔
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیات میں نورِ خدا یعنی ہدایت و ایمان اور کفر و ضلالت کی تہ در تہ تاریکیوں کے بارے میں گفتگو تھی زیرِ بحث آیات میں توحید کے دلائل پیش کئے گئے یہ دلائل انوار الٰہی کی نشانیاں اور ہدایت کے اسباب ہیں۔ پہلے روئے سخن پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و الہ وسلّم کی طرف اشارہ ہے: ارشاد ہوتا ہے: کیا تو نے دیکھا نہیں کہ آسمان اور زمین میں جو کوئی بھی ہے الله کی تسبیح کرتا ہے (اَلَمْ تَریٰ اَنَّ اللهَ یُسَبِّحُ لَہُ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ)۔ اور پرندے بھی کہ جب آسمان پر اپنے پر پھیلائے ہوتے ہیں اس کی تسبیح میں مشغول ہوتے ہیں (وَالطَّیْرُ صَافَّاتٍ)۔ وہ سب کے سب اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتے ہیں۔ (کُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَہُ وَتَسْبِیحَہُ)۔ اور وہ جو کام بھی کرتے ہیں الله ان سے آگاہ ہے (وَاللهُ عَلِیمٌ بِمَا یَفْعَلُونَ)۔ _________ موجودات کی یہ عمومی تسبیح الٰہی اس کی خالقیت کی دلیل ہے اور اس کی خالقیت تمام ہستی پر اس کی مالکیت کی دلیل ہے۔ نیز اس بات کی دلیل ہے کہ تمام موجودات لوٹ کی اسی کی طرف جائیں گے۔ اس لئے مزید فرمایا گیا ہے: اور آسمانوں اور زمین کی مالکیت خدا کے لئے ہے اور تمام موجودات کو اس کی طرف لوٹ جانا ہے (وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَإِلَی اللهِ الْمَصِیرُ)۔ گزشتہ سے اس آیت کا تعلق یہ بھی ہو سکتا ہے کہ گزشتہ آیت کے آخری جملے میں تمام انسانوں اور تسبیح کرنے والوں کے اعمال علمِ خدا میں ہیں اور اس آیت میں دوسرے جہان اس کی عدالت، تمام آسمانوں اور زمین پر اس کی مالکیت اور اس کے حقِ عدالت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
چند اہم نکات ۱۔ "اَلَمْ تَریٰ" کا مفہوم:۔
اس کا لفظی معنی ہے "کیا تو نے نہیں دیکھا" بہت سے مفسرین کے بقول اس کا مفہوم ہے "اَلَمْ تَری" (کیا تجھے علم نہیں) کیونکہ موجوداتِ عالم کی تسبیح عمومی کوئی ایسی چیز نہیں کہ جو آنکھ سے دیکھی جائے بلکہ یہ جس معنی میں بھی ہو اس کا ادراک دل اور عقل کے ذریعے ہوتا ہے لیکن مسئلہ اس قدر واضح ہے کہ گویا آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے لہٰذا یہاں "اَلَمْ تَری" فرمایا گیا ہے۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ اس آیت میں اگرچہ مخاطب پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم ہیں لیکن بعض مفسرین کے بقول اس سے مراد عام لوگ ہیں اور اس کی مثالیں قرآن میں بہت ہیں۔ لیکن بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ اس کا مشاہدہ پیغمبر اکرمؐ سے مخصوص ہے اس لئے آپ ہی سے خطاب ہے کیونکہ الله نے آپ کو ایسی نظر دے رکھی تھی کہ آپ اس عالم کے تمام موجودات کی تسبیح و حمد کا مشاہدہ کرتے تھے اسی طرح الله کے خاص بندے کہ جو آنحضرت کے مکتب کے پیرو ہیں وہ بھی شہودِ عینی کے مقام تک پہنچ جاتے ہیں لیکن عام لوگوں کے لئے شہودِ علمی اور شہودِ عقلی ہے نہ کہ شہودِ عینی۔ (بحوالہ: تفسیر صافی، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں)۔
۲۔ موجوداتِ عالم کی تسبیح:۔
قرآن کی مختلف آیتوں میں اس عظیم کائنات کے تمام موجودات کی چار عبادتیں بیان ہوئی ہیں:۔ ۱۔ تسبیح ۲۔ حمد ۳۔ سجدہ ۴۔ نماز زیرِ بحث آیت میں نماز اور تسبیح کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے۔ سورہٴ رعد کی آیت۱۵ میں عمومی سجدے کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ وَلِلّٰہِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ سورہٴ بنی اسرائیل کی آیت ۴۴ میں تمام موجودتِ کائنات کی تسبیح اور حمد کا ذکر ہے۔ وَإِنْ مِنْ شَیْءٍ إِلاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِہِ موجودات عالم کی عمومی تسبیح کی حقیقت اور اس سلسلے میں مختلف تفاسیر کے بارے میں سورہٴ بنی اسرائیل کی آیت۴۴ کے ذیل میں تفصیلی بحث کر چکے ہیں یہاں ہم اس کے بارے میں اختصار کے ساتھ کچھ بات کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں دو تفاسیر قابلِ توجہ ہیں۔ ۱)۔ اس عالم کے تمام ذرّات چاہے ہم انھیں عاقل شمار کر لیں چاہے وہ بےجان و بےعقل سب ایک طرح کا شعور و ادراک رکھتے ہیں وہ اپنے انداز سے الله کی تسبیح و حمد کرتے ہیں اگرچہ ہم اس کا ادراک نہیں کر سکتے اس سلسلے میں آیاتِ قرآن سے بھی شواہد پیش کئے گئے ہیں۔ (۲)۔ تسبیح و حمد سے مراد وہی ہے جسے ہم "زبانِ حال" کہتے ہیں۔ جہانِ ہستی کا نظام اور تمام موجودات میں پنہاں کائنات کے حیرت انگیز اسرار زبانِ بےزبانی صراحت کے ساتھ اپنے خالق کی قدرت و عظمت اور لامتناہی علم و حکمت بیان کرتے ہیں کیونکہ کائنات کا ہر موجود، بدیع، عمدہ اور تعجب خیز ہے۔ مصوری کا نفیس مرقع اور ایک عمدہ خوبصورت شعر بھی اپنے بنانے والے کی حمد و تسبیح کرتا ہے۔ یعنی ایک طرف تو اس کی عمدہ صفات بیان کرتا ہے (حمد) اور دوسری طرف اس سے عیب و نقص کی نفی کرتا ہے (تسبیح)۔ تو پھر یہ باعظمت جہان، اس کے یہ سب عجائبات اور اس کی بےپایاں تعجب خیز چیزیں_____ کیا اپنے مصور و خالق کی حمد و تسبیح نہیں کرتیں۔ البتہ اگر "یُسَبِّحُ لَہُ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ" کو آسمانوں اور زمین کے رہنے والوں کی تسبیح کرنے کے معنی میں لیں اور "مَن" کو ذوی العقول کے لئے محدود رکھیں تو پھر بھی تسبیح پہلے معنی میں ہو گی کہ جو شعوری اور اختیاری ہے لیکن اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ہم پرندوں کے لئے بھی اس قسم کا شعور تسلیم کریں۔ مندرجہ بالا آیت میں "مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ" سے مراد پرندے ہیں۔ البتہ ایسا ہونا کوئی عجیب و غریب نہیں ہے کیونکہ بعض دوسری آیات میں بعض پرندوں کے ایسے شعور کی طرف اشارہ موجود ہے۔ (اس بارے میں ہم نے تفسیر نمونہ جلد ٣ میں سورہٴ انعام کی آیت ۲۸ کے ذیل میں گفتگو کی ہے)۔
۳۔ پرندوں کی مخصوص تسبیح:۔
زیرِ بحث آیت میں تمام موجودات عالم میں سے بالخصوص پرندوں کی تسبیح کا ذکر کیا گیا ہے اور وہ بھی اس عالم میں جبکہ وہ آسمان پر اپنے پر پھیلائے ہوئے ہوں۔ اس میں ایک نکتہ پنہاں ہے اور وہ یہ کہ انتہائی زیادہ تنوع کے علاوہ پرندوں میں بہت سی ایسی خصویات موجود ہیں کہ جو ہر عاقل کی آنکھ اور دل کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ کششِ ثقل کے قانون کے برخلاف پرندوں کے بھاری جسم آسمانوں پر بڑی تیز رفتاری سے پرواز کرتے ہیں خصوصاً جب انھوں نے اپنے پروں کو پھیلایا ہوتا ہے اور ہوا کی موجوں پر سوار ہوتے ہیں اور بغیر اپنے آپ کو ہلائے جس طرف چاہیں تیزی کے ساتھ پھر جاتے ہیں اور پھر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ہوا شانسی کے امور میں پرندے گہری آگاہی رکھتے ہیں۔ زمین کے جغرافیائی حالات سے بہت باخبر ہوتے ہیں۔ ایک برّاعظم سے دوسرے برّاعظم کی طرف ہجرت کر جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض پرندے قطب شمالی سے قطب جنوبی تک جا پہنچتے ہیں۔ عجیب و غریب اور پراسرار نظام انھیں اس طویل سفر میں راہنمائی کرتا ہے یہاں تک کہ آسمان بادلوں سے ڈھکا ہوا ہو تب بھی وہ اپنا سفر جاری رکھتے ہیں۔ ان کی یہ آگاہی توحید کے حیران کن اور روشن ترین دلائل میں سے ہے۔ چمگادڑں کے اندر ایک خاص قسم کا راڈار نصب ہوتا ہے اس کے راڈار کے ذریعے وہ رات کی تاریکی میں اپنے راستے کی تمام رکاوٹوں کو دیکھ لیتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ پانی کی موجوں کے اندر مچھلی کا نشانہ باندھتی ہیں اور انھیں بجلی کی سی تیزی کے ساتھ اچک لیتی ہیں۔ بہرحال، پرندوں کے اندر بہت سے عجائبات چھپے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے قرآن نے خصوصیّت سے ان کا ذکر کیا ہے۔
۴۔ "کُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَہُ وَتَسْبِیحَہُ" کی تفسیر:۔
بعض مفسرین کہتے ہیں کہ "علم“ کی ضمیر "کل" کی طرف لوٹتی ہے۔ اس کے مطابق اس آیت کا مفہوم یہ ہو گا۔ آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے اور پرندے ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح سے آگاہ ہے۔ لیکن بعض دیگر مفسرین کے مطابق "علم" کی ضمیر الله کی طرف لوٹتی ہے۔ یعنی خدا ان میں سے ہر ایک کی نماز اور تسبیح سے آگاہ ہے۔ البتہ پہلی تفسیر آیت کے معنی سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔ گویا تسبیح کرنے والا ہر کوئی اپنی "تسبیح" اور اپنی "نماز" کی خصوصیات جانتا ہے۔ اگر اس سے مراد شعور کے ساتھ تسبیح ہو تو اس کا مطلب تو واضح ہے لیکن اگر زبانِ حال کے ساتھ ہو تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ ہر ایک کا اپنا خاص نظام ہے کہ جو ایک خاص طریقے سے عظمتِ پروردگار کا ترجمان ہے اور ہر ایک اس کی قدرت و عظمت کا مظہر ہے۔
۵۔ "صلاة" سے کیا مراد ہے؟
بعض مفسرین مثلاً طبرسی مرحوم نے مجمع البیان اور آلوسی نے روح البیان میں اس مقام پر "صلاة" کا معنی "دعا" کیا ہے کہ اس کا اصل لغوی معنی ہے۔ اس معنی کے لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہو گا کہ زمین و آسمان کے موجودات زبانِ حال یا زبانِ مقال سے بارگاہِ خدا میں دعا کرتے ہیں اور اس سے فیض کا تقاضا کرتے ہیں اور وہ بھی چونکہ فیاض مطلق ہے انھیں ان کی استعداد کے مطابق عطا کرتا ہے اور نوازنے میں دریغ نہیں کرتا۔ البتہ ان میں ہر کوئی اپنے آپ میں جانتا ہے کہ اسے کس چیز کی احتیاج ہے اور اسے کیا مانگنا چاہیے اور کیا دعا کرنا چاہیے۔ علاوہ ازیں ان آیات کے مطابق کہ جن کی طرف اشارہ کیا جا چکا ہے اس کی بارگاہِ عظمت اور قوانینِ آفرینش کے سامنے وہ سر تسلیم خم کئے ہوئے ہیں اور دوسری طرف اپنے تمام وجود کے ساتھ الله کی صفاتِ کمال بیان کرتے ہیں اور اس سے ہر قسم کے نقص کی نفی کرتے ہیں اور اس طرح ان کی چاروں عبادات حمد، تسبیح، دعا اور سجود کی تکمیل ہوتی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر کچھ اور عجائبات کی خلقت
Tafsīr Nemūna · Vol. 4ان آیات میں بھی عجائبات خلقت اور ان میں پوشیدہ علم و حکمت و عظمت کا ایک گوشہ بیان کیا گیا ہے اور ان میں بھی سب اس کی ذات پاک کی توحید کے دلائل ہیں۔ ایک دفعہ پھر روئے سخن پیغمبر اکرم صلی ا لله علیہ و آلہ وسلّم کی طرف ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: کیا تو نے نہیں دیکھا کہ الله بادلوں کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے۔ پھر انھیں ایک دوسرے سے جوڑ دیتا ہے اور انھیں تہ در تہ کر دیتا ہے (اَلَمْ تَریٰ اَنَّ اللهَ یُزْجِی سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَہُ ثُمَّ یَجْعَلُہُ رُکَامًا)۔ "پھر تو دیکھتا ہے کہ ان بادلوں میں سے بارش کے قطرے ٹپکنے لگتے ہیں اور کوہ و دشت اور باغ و صحرا پر برستے ہیں (فَتَرَی الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلَالِہِ)۔ "یزجی" "ازجاء" کے مادہ سے ہے۔ آہستہ آہستہ اور نرمی کے ساتھ منتشر چیزوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر چلانے کے معنیٰ میں ہے۔ بادلوں کے بارے میں یہ لفظ پوری طرح سے صادق آتا ہے۔ کیونکہ ان کے مختلف ٹکڑے سمندروں کے مختلف گوشوں سے اٹھتے ہیں۔ پھر الله کا دستِ قدرت انھیں ایک دوسرے کی طرف چلاتا ہے اور انھیں ایک دوسرے سے جوڑ دیتا ہے اور تہ دار بنا دیتا ہے۔ "رکام" (بروزن "غلام") ایسی چیزوں کے معنی میں ہے جو ایک دوسرے کے اوپر چڑھی ہوئی اور تہ در تہ ہوں۔ "ودق" "شرق" کے وزن پر ہے۔ بہت سے مفسرین کے مطابق یہ بارش کے قطروں کے معنیٰ میں ہے کہ جو بادلوں سے برستے ہیں۔ مفردات راغب کے بقول اس کا ایک اور معنیٰ بھی ہے ______ اور وہ ہے "پانی کے بہت ہی چھوٹے ذرّات کہ جو غبار کی صورت میں بارش کے برستے وقت فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ "یہاں پہلا معنیٰ زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے کیونکہ جو چیز عظمت پروردگار کی زیادہ اہم نشانی ہے۔ وہ بارش ہی کے حیات بخش قطرات ہیں نہ کہ وہ قطرات کہ جو غبار کی مانند ہیں۔ علاوہ ازیں قرآن نے جہاں کہیں بھی بادلوں اور آسمانوں سے نزول کے برکات کا ذکر کیا ہے۔ وہاں بارش کی طرف ہی اشارہ ہے۔ جی ہاں! بارش ہی ہے جو مردہ زمینوں کو زندہ کرتی ہے۔ نباتات کو لباس پہناتی ہے اور انسانوں اور حیوانوں کو سراب کرتی ہے۔ اس کے بعد آسمان اور بادلوں سے پیدا ہونے والی ایک اور عجیب و غریب چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ اور آسمانوں سے موجود پہاڑوں سے اوپر برساتا ہے (وَیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ جِبَالٍ فِیھَا مِنْ بَرَدٍ)۔ "اور جسے چاہے ان کے ذریعے نقصان پہنچاتا ہے" درخت، پھل، کھیت اور بعض اوقات انسان و حیوان بھی ان سے تباہ ہو جاتے ہیں۔ (فَیُصِیبُ بِہِ مَنْ یَشَاءُ)۔ اور جسے چاہتا ہے اس کے نقصان سے بچا لیتا ہے (وَیَصْرِفُہُ عَنْ مَنْ یَشَاءُ)۔ جی ہاں! وہی تو کبھی بادل سے حیات بخش بارش برساتا ہے اور کبھی اسے نقصان رساں ژالہ باری میں بدل دیتا ہے اور ژالہ باری جو کبھی ہلاکت آمیز بھی ہوتی ہےبلکہ ان چیزوں کو گویا ایک دوسرے کے دل میں رکھ دیا ہے۔ آیت کے آخر میں آسمان پر ابھرنے والی توحید کی ایک اور نشانی کا ذکر کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: قریب ہے کہ بادلوں سے کوندنے والی بجلی انسان کی آنکھیں اچک لے (یَکَادُ سَنَا بَرْقِہِ یَذْھَبُ بِالْاَبْصَار)۔ وہ بادل کہ جو درحقیقت پانی کے ذرّات سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ جب وہ برقی توانائی کے حامل ہو جاتے ہیں۔ تو اس کے اندر سے آگ اس طرح لپکتی ہے کہ آنکھیں خیرہ کر دیتی ہے اور اس کی گرج کانوں کو گویا پھاڑ دیتی ہے اور کبھی زمین بھی ہل کر رہ جاتی ہے۔ پانی کے لطیف بخارات کے اجتماع میں ایسی چیز کا پیدا ہونا سچ مچ تعجب انگیز ہے۔
ایک سوال کا جواب
سوال یہ ہے کہ آسمان میں کونسا پہاڑ ہے کہ جس سے ژالہ باری ہوتی ہے۔ اس ضمن میں مفسرین نے مختلف باتیں کی ہیں۔ مثلاً: ۱۔ بعض نے کہا ہے کہ "جبال" (متعدد پہاڑ) کنائے کے طور پر ہے۔ جیسے ہم کہتے ہیں۔ اناج کا پہاڑ یا علم کا پہاڑ لہٰذا یہاں آیت کا مفہوم یہ ہے کہ آسمان بادلوں میں پہاڑ کی مانند برف کا عظیم تودہ معرض وجود میں آتا ہے۔ اولے گویا اس پہاڑ کے ٹکڑے ٹکڑے اور سنگریزے ہیں۔ کچھ کسی شہر میں جا گرتے ہیں۔ کچھ بیابان میں جا پڑتے ہیں۔ یہاں تک کہ کچھ لوگوں کو ان سے نقصان بھی پہنچتا ہے۔ ۲۔ بعض نے کہا ہے کہ پہاڑوں سے مراد بادل کے بڑے بڑے ٹکڑے ہیں۔ جو پہاڑوں کی طرح عظیم ہوتے ہیں۔ ۳۔ تفسیر "فی ظلال" کے موٴلف نے اس سلسلے میں ایک بات کی ہے۔ یہ بات سب سے زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ وہ یہ کہ آسمان پر بادل کے ٹکڑے سچ مچ پہاڑ کی طرح کے ہوتے ہیں۔ اگرچہ نیچے زمین سے ہم دیکھیں تو ہموار دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن جن لوگوں نے ہوائی جہاز کے ذریعے بادلوں کے اوپر سے سفر کیا، انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ بادل بالکل پہاڑوں کی طرح ہوتے ہیں۔ ان میں سے درّے، بلندیاں اور پستیاں ہوبہو زمین پر پہاڑوں جیسی ہوتی ہیں۔ اس لحاظ سے بادل پر پہاڑ کا اطلاق بالکل نامناسب ہے۔ (بحوالہ: فی ضلال القرآن، ج۶، ص۱۰۹)۔ اس گفتگو کے ساتھ ہم اس نکتے کا اضافہ کر سکتے ہیں کہ سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق اولے پیدا ہوتے ہیں کہ بارش کے قطرے بادل سے الگ ہوتے ہیں۔ وہ ہوا کے بالائی حصّے میں سردی کی شدید لہروں سے ٹکرا کر برف کی گولیوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اس حصّے میں موجودہ تباہ کن طوفان اور جھکڑ کے باعث بعض اوقات یہ اولے پھر اوپر کی طرف اچھل کر بادل میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اس اثناء میں پانی کی تہہ ان پر چڑھ جاتی ہے۔ بادلوں سے جدا ہوتے وقت وہ پھر برف کی گولیاں بن جاتے ہیں۔ کبھی تو ان گولیوں کے گرنے اور طوفان سے ٹکرا کر اوپر بادلوں کی طرف اچھلنے کا عمل کئی مرتبہ دہرایا جاتا ہے اور ہر بار ان پر ایک نئی تہہ کا اضافہ ہو جاتا ہے یہاں تک کہ یہ اولے اتنے بڑے ہو جاتے ہیں کہ طوفان اور جھکڑ انھیں اب اوپر نہیں اچھال سکتے۔ لہٰذا وہ زمین پر آ پڑتے ہیں۔ یا پھر طوفان رک جانے کے باعث وہ کسی رکاوٹ کے بغیر زمین پر آ پڑتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: دائرة المعارف فرہنگ نامہ، مادہٴ "تگرک")۔ اس بات کی طرف توجہ کرنے سے لفظ "جبال" میں جو سائنسی نکتہ پوشیدہ ہے۔ زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔ کیونکہ بھاری اولے تبھی وجود میں آ سکتے ہیں۔ جب بادل تہ دار ہو جائیں تاکہ جس وقت طوفان برف کی گولیوں کو ان کے اندر کی طرف اچھالیں تو یہ پانی کی زیادہ مقدار جذب کر سکیں اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے۔ جب اوپر کی طرف کے ٹکڑے مرتفع اور بلند پہاڑوں کی طرح ہوں (غور کیجئے گا)۔ (تشریحی نوٹ: "وَیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ جِبَالٍ فِیھَا مِنْ بَرَدٍ" میں تین مرتبہ لفظ "من" آیا ہے۔ عربی ادب کے لحاظ سے ان میں سے پہلا "من" "ابتدائیہ" ہے۔ دوسرا بھی "ابتدائیہ" کے ساتھ مناسبت رکھتا ہے۔ البتہ تیسرے "من" کے بارے میں مختلف آراء ہیں۔ ایک یہ ہے کہ یہ "بیانیہ" ہے اور اس لحاظ سے جملے کا مفہوم یہ ہو گا کہ "الله آسمان سے اولوں کے پہاڑوں سے اولے بھیجتا ہے۔" اس قول کی بناء پر "ینزل" کا مفعول محذوف ہے "البرد" کہ جو قرینہٴ کلام سے سمجھا جاتا ہے۔ لیکن دوسری اور تیسری تفسیر کے جسے ہم نے انتخاب کیا ہے۔ کی بناء پر یہ "من" "زائدہ" ہو گا، جیسا کہ زمخشری نے روح المعانی میں لکھا ہے۔ یا پھر یہ "تبعیضیہ" ہے (غور کیجئے گا)۔ بعض موٴلفین نے اس موقع پر ایک اور بحث بھی کی ہے جس کا خلاصہ ہم ذیل میں درج کرتے ہیں۔ "زیرِ بحث آیات میں بلند بادل صریحاً برف کے پہاڑوں کی طرف اشارہ ہے اور یا دوسرے الفاظ میں ان سے وہ پہاڑ مراد ہیں کہ جن میں ایک طرح کی برف ہوتی ہے اور یہ بہت جاذب نظر ہے۔ کیونکہ ہوائی جہازوں کے وجود میں آنے کے بعد اور بلند پروازوں کے ممکن ہو جانے کے بعد انسانی علم بہت وسیع ہو گیا ہے۔ سائنسدانوں نے ایسے بادل دریافت کئے ہیں کہ جو برف کے ذرّات سے بنے ہوئے ہیں۔ اور ان کے نیچے چھپے ہوئے ہیں۔ کہ جن پر برف، موسلادھار طوفانی بارشوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے بار بار برف کے پہاڑ یا برف سے بنے ہوئے پہاڑ کے الفاظ استعمال کرتا ہے اور اس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ واقعاً آسمان میں برف کے پہاڑ موجود ہیں۔ (بحوالہ: باد وباراں در قرآن، ص۱۴۰ و۱۴۱ (مزید توضیح کے لئے مذکورہ کتاب کا مطالعہ فرمائیں)۔ اگلی آیت میں رات اور دن کی خلقت اور ان کی خصویات کے حوالے سے عظمتِ الٰہی کی ایک اور نشانی بیان کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ الله رات اور دن کو الٹ پھیر کر لاتا ہے۔ اور اس میں اہل بصیرت کے لئے عبرت ہے۔ (یُقَلِّبُ اللهُ اللَّیْلَ وَالنَّھَارَ إِنَّ فِی ذٰلِکَ لَعِبْرَةً لِاُوْلِی الْاَبْصَارِ)۔ یہ کہ اس تغیرّ اور الٹ پھیر سے مراد ہے اس سلسلے میں علماء نے مختلف تفسریں کی ہیں۔ مثلاً: بعض نے کہا کہ اس سے مراد رات اور دن کی آمد و رفت ہے۔ کیونکہ رات آتی ہے تو دن کو محو کر دیتی ہے اور دن آتا ہے تو رات کو محو کر دیتا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ ان میں سے ایک تدریجی طور پر چھوٹا ہوتا ہے تو دوسرا بڑھ جاتا ہے اور اسی سے مختلف موسم پیدا ہوتے ہیں۔ بعض نے اسے رات اور دن میں پیدا ہونے والے مختلف تغیرات مثلاً گرمی اور سردی وغیرہ کے معنی لیا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر فخر الدین رازی، تفسیر مجمع البیان اور تفسیر روح المعانی)۔ لیکن بغیر کہے واضح ہے کہ یہ تفسیریں باہم ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں۔ اور ہو سکتا ہے یہ سب "یقلب" کے مفہوم میں جمع ہوں۔ بلاشبہ سائنس نے ثابت کیا ہے کہ رات اور دن کا آنا جانا اور ان کے تدریجی تغیرات انسانی زندگی سے گہرا تعلق رکھتے ہیں اور "اولی الابصار" اور اہل نظر کے لئے درسِ عبرت ہیں۔ اگر سورج ایک ہی طرح چمکتا رہے اور دھوپ مسلسل پڑتی رہے تو ہوا کا درجہ حرارت بہت بڑھ جائے اور جاندار چیزیں جل جائیں اور اعصاب بہت تھک جائیں۔ لیکن اس تپش اور چمک کے درمیان اگر رات کے تاریک پردے حائل ہو جائیں تو ان چیزوں کو اعتدال میں رکھتے ہیں۔ شب و روز میں پیدا ہونے والی تدریجی تبدیلیاں چار موسموں کی پیدائش کا باعث بنتی ہے اور یہ نباتات کے بار آور ہونے کے لئے بہت ہی موٴثر ہیں۔ اس طرح یہ تبدیلیاں جانداروں کی زندگی، بارش برسنے اور زمینوں میں پانی کے ذخائر جمع ہونے کے لئے بہت موٴثر کردار ادا کرتی ہیں۔ (تشریحی نوٹ: اس سلسلے میں تفسیر نمونہ جلد۸ میں سورہٴ یونس کی آیت ۶ کے ذیل میں ہم تفصیلی بحث کر چکے ہیں)۔ زیرِ نظر آخر آیت چہرہٴ آفرینش کے ایک اور رخ کی طرف اشارہ کرتی ہے اور یہ بھی توحید الٰہی کے لئے ایک واضح دلیل ہے اور یہ ہے مختلف صورتوں میں زندگی کا وجود۔ ارشاد ہوتا ہے: الله نے ہر جلنے پھرنے والے کو پانی سے پیدا کیا ہے (وَاللهُ خَلَقَ کُلَّ دَابَّةٍ مِنْ مَاءٍ)۔ اگرچہ ان سب کو پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔ لیکن پھر بھی عجیب مختلف قسم کے جاندار پیدا ہوتے ہیں۔ "کچھ ان میں سے پیٹ کے بل چلتے ہیں (فَمِنْھُمْ مَنْ یَمْشِی عَلیٰ بَطْنِہِ)۔ اور کچھ ہیں کہ جو چار پاوٴں پر چلتے ہیں (چوپائے) (وَمِنْھُمْ مَنْ یَمْشِی عَلیٰ رِجْلَیْنِ وَمِنْھُمْ مَنْ یَمْشِی عَلیٰ اَرْبَعٍ)۔ اور پھر یہی نہیں، زندگی کے اور بھی مظاہر ہیں۔ ان میں سے وہ بھی جاندار ہیں کہ جو پانی میں رہتے ہیں۔ اسی طرح حشرات الارض بھی ہزاروں قسم کے ہیں۔ اسی لئے آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے: الله جس چیز کا ارادہ کرتا ہے اسے پیدا کرتا ہے (یَخْلُقُ اللهُ مَا یَشَاءُ)۔ کیونکہ الله ہر چیز پر قادر ہے (إِنَّ اللهَ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ)۔
چند اہم نکات ۱۔ آیت میں "ماء" سے کیا مراد ہے؟
لفظ "ماء" (پانی) سے یہاں کون سے پانی کی طرف اشارہ ہے۔ اس سلسلے میں مفسرین کے آراء مختلف ہیں۔ ان آراء کو تین تفسیروں میں جمع کیا جا سکتا ہے: ۱۔ اس سے مراد نطفے کا پانی ہے۔ بہت سے مفسرین نے اس تفسیر کو انتخاب کیا ہے۔ بعض روایات میں بھی اس کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ اس تفسیر میں یہ مشکل درپیش ہے کہ تمام چلنے والے جاندار نطفے سے پیدا نہیں ہوتے۔ ایسے بھی جاندار میں کہ جو ایک خلیے سے پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے بھی رینگنے والے جاندار ہیں کہ جو "دابة" کا مصداق ہیں اور خلیوں کی تقسیم سے وجود میں آتے ہیں۔ نہ کہ نطفے سے۔ ہاں البتہ یہ کہا جائے کہ آیت نوعی پہلو رکھتی ہے۔ کلی نہیں، پھر بات ٹھیک ہو سکتی ہے۔ ۲۔ اس سے مراد پہلے موجود کی پیدائش ہے۔ کیونکہ بعض روایات کے مطابق سب سے پہلے الله نے پانی کو پیدا کیا اور اس کے بعد انسانوں کو پانی سے پیدا کیا جدید سائنسی مفروضے کی بناء پر زندگی کی پہلی کونپل دریاوٴں میں ظاہر اور پانیوں میں پیدا ہونے والا یہ پہلا موجود سب سے پہلے انہی پانیوں کی گرائیوں پر یا ان کے کناروں پر حکمران ہوا۔ البتہ وہ وقت کہ جس نے ان تمام پیچیدگیوں کے ساتھ پہلے مرحلے میں موجود زندہ کو وجود بخشا اور پھر بعد کے مراحل میں ہدایت کی وہ ایک مافوق طبیعات قوت تھی _____ یعنی ارادہٴ الٰہی۔ ۳۔ ا س سے مراد یہ ہے کہ موجودہ حالت موجودات کی بقاء کا دارومدار پانی پر ہی ہے اور ان کی ساخت کا اہم حصّہ پانی پر مشتمل ہے۔ اور کوئی جاندار پانے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ یہ تفاسیر ایک دوسرے کے منافی تو نہیں لیکن پہلی اور دوسری تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ (تشریحی نوٹ: تکامل انواع کے بعض طرف داروں نے اپنے مفروضے کے اثبات کے لئے اس آیت کا سہارا لیا ہے۔ لیکن ہم نے جلد نمبر۱۱ میں سورہٴ حجر کی آیت ۲۶ کے ذیل میں اس مفروضے کے ثابت نہ ہونے کے بارے میں بات کی ہے۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ اصولاً آیات قرآن کو مفروضوں پر منطبق نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ آیاتِ قرآنی حقیقت ثابت رکھتی ہیں جبکہ مفروضے بدلتے رہتے ہیں)۔
۲۔ ایک سوال کا جواب
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں جانوروں کی ان تین قسموں ہی میں کیوں تقسیم کیا گیا ہے: ۱۔ پیٹ کے بل رینگنے والے۔ ۲۔ دو پاوٴں والے ۳۔ چوپائے جبکہ چلنے پھرنے والے جانور بہت سے ایسے ہیں کہ جو چار سے زیادہ ٹاگیں رکھتے ہیں۔ اس سوال کا جواب خود آیت میں پوشیدہ ہے کیونکہ اس جملے کے بعد الله تعالیٰ فرماتا ہے۔ یَخْلُقُ اللهُ مَا یَشَاءُ "خدا جو چاہتا ہے خلق کرتا ہے۔ " علاوہ ازیں وہ اہم ترین جانور کہ جن سے زیادہ تر انسان کا واسطہ ہے۔ وہ انہی تین گروہوں پر مشتمل ہیں۔ بعض کا یہ بھی نظریہ ہے کہ جن جانوروں کی ٹانگیں چار سے زیادہ ہیں ان کا بھی اصل دار و مدار چار ٹانگوں پر ہی ہے اور باقی ٹانگیں معاون شمار ہوتی ہیں۔
۳۔ زندگی مختلف صورتوں میں:
اس میں شک نہیں کہ کائنات میں ظاہر ہونے والے عجیب ترین زندگی ہے۔ زندگی وہ معمہ ہے جو ابھی تک دانشور اور سائنسدان حل نہیں کر سکے سب کہتے ہیں کہ یہ جاندار اس کائنات کے بے جان مادے سے معرض وجود میں آتے ہیں۔ لیکن کسی کو معلوم نہیں کہ حتماً کن شرائط اور حالات کے تحت زندگی وجود میں آ جاتی ہے۔ کیونکہ ابھی تک مشاہدے اور تجربے میں نہیں آ سکا کہ کسی لیبارٹی میں کسی بے جان چیز سے زندگی وجود میں آ جاتی ہے۔ اگرچہ اس سلسلے میں ہزار ہا ماہرین اور سائنسدان سالہا سال سے غور و فکر اور تجربات کر رہے ہیں۔ البتہ اس سلسلے میں سائنسدانوں کے سامنے _______ایک دھندلی سی تصویر ابھری ہے۔ لیکن یہ تصور ابھی بہت خام ہے۔ جو کچھ مسلّم ہے وہ یہ کہ زندگی کے اسرار اس قدر پیچیدہ ہیں کہ انسانی علوم اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود ابھی تک اسے سمجھنے سے عاجز ہیں۔ عالم کے موجودہ حالات میں جاندار صرف جانداری سے ہی وجود میں آتے ہیں۔ اور کوئی جاندار کسی کے جان سے وجود نہیں پاتا۔ لیکن مسلّماً آغازِ حیات میں یوں نہ تھا۔ دوسرے لفظوں میں کرّہٴ زمین پر حیات کی پیدائش ایک تاریخ رکھتی ہے لیکن تاریخ ابھی تک ایک ایسا معمّہ ہے جو کسی پر واضح نہیں ہے۔ اور اس سے بھی عجیب تر زندگی کا تنوع اور اختلاف۔ مختلف جانداروں میں زندگی کی صورت مختلف ہے۔ صرف مائیکرو سکوپ سے نظر آنے والے ایک سیل سے پیدا ہونے والے جاندار بھی ہیں۔ اور کوہ پیکرویل مچھلی بھی کہ جس کی لمبائی بعض اوقات تیس گز سے زیادہ ہوتی ہے اور جو گوشت کا تیرنے والا ایک پہاڑ ہے۔ حشرات الارض کی لاکھوں قسمیں ہیں اور ہزاروں طرح کے پرندے ہیں اور پھر ان میں سے بھی ہر کسی کے اسرار کی اپنی دینا ہے۔ بیالوجی کی کتب آج کے دور میں کتب خانوں کا ایک عظیم حصّہ ہیں۔ یہ کتابیں جانداروں کے اسرار کا صرف ایک گوشہ بیان کرتی ہیں۔ ان جانداروں میں دریائی جانور تو خصوصاً عجائبات کی ایک دنیا لیے ہوئے ہیں اور ان کے بارے میں آج بہت معلومات کے باوجود انسان بہت ہی کم جانتا ہے۔ واقعاً کتنا عظیم ہے وہ الله کہ جس نے ان جانداروں کو اس وسیع تنوع کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اور ہر ایک کو جس چیز کی ضرورت تھی وہ اسے عطا کی ہے اور کتنا عظیم ہے اس کا علم اور کتنی عظیم ہے اس کی قدرت کہ اس نے ہر ایک کو اس کے حالات اور ضروریات کے مطابق رکھا ہے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ سب کی ابتداء ایک ہی ہے اور وہ ہے پانی ____زمین کا کچھ مادہ۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 4مفسرین نے ان آیات کے کچھ حصّے کے لئے دو شان نزول ذکر کی ہیں جنھیں ہم درج ذیل کرتے ہیں: ۱۔ کسی منافق کا ایک یہودی کے ساتھ جھگڑا ہو گیا۔ یہودی نے مسلمان منافق سے کہا چلو پیغمبر اسلامؐ کے پاس چلتے ہیں۔ اور ان سے فیصلہ کروا لیتے ہیں۔ لیکن منافق نے یہ بات نہ مانی۔ اُس نے کہا کعب بن اشرف کے پاس چلتے ہیں۔ کعب یہودی تھا (بعض روایات میں تو یہاں تک ہے کہ اس نے کہا، ہو سکتا ہے محمد ہمارے ساتھ انصاف نہ کرے)۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور ایسے شخص کی سخت کی مذمت کی گئی۔ ۲۔ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام اور حضرت عثمان کے درمیان ایک مسئلہ پیدا ہو گیا (ایک روایت میں، حضرت عثمان کی بجائے مغیرہ بن وائل کا نام لکھا ہے) مسئلہ یہ تھا کہ ان میں سے کسی نے حضرت علی علیہ السلام سے کچھ زمین خریدی تھی۔ اس زمین میں کچھ پتھر نکل آئے، خریدار نے چاہا کہ اس زمین کو معیوب قرار دے کر سودا منسوخ کر دیا جائے۔ اس پر اختلاف پیدا ہو گیا، حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: چلو رسول اللهؐ کے پاس چلتے ہیں اور ان سے فیصلہ لیتے ہیں، لیکن حکم بن العاص کہ جو منافقین میں سے تھا، اُس نے خریدار سے کہا ایسا نہ کرنا کیونکہ اگر تو اس کے چچازاد بھائی (یعنی رسول اللهؐ) کے پاس فیصلہ کے لئے گیا تو یقیناً وہ ا س کے حق میں دیں گے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور اس کی سخت مذمت کی گئی۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، رُوح المعانی، تبیان، تفسیر قرطبی، تفسیر فخررازی،تفسیرصافی اور نورالثقلین۔ زیربحث آیت کے ذیل میں تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ)۔
تفسیر ایمان اور خدا کے فیصلے پر سرتسلیم خم
گزشتہ آیات میں الله پر ایمان لانے کے بارے میں گفتگو تھی۔ توحیدِ الٰہی دلائل پیش کئے گئے تھے۔ اور الله کی نشانیوں کا ذکر تھا۔ اب زیرِ نظر آیات میں ایمان کے آثار کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ توحید پر ایمان کے تقاضوں کا بیان ہے اور حق و حقیقت کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کی دعوت ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ہم نے_______ واضح کرنے والی آیات نازل کیں (لَقَدْ اَنزَلْنَا آیَاتٍ مُبَیِّنَاتٍ)۔ ایسی آیات کہ جو دلوں کو نور ایمان و توحید سے منوّر کرتی ہیں، افکار انسانی کو جلا بخشتی ہیں اور زندگی کے تاریک ماحول کو بدل دیتی ہیں۔ یہ آیات بیّنات ایمان کے لئے راہ ہموار کرتی ہیں۔ لیکن حقیقی تاثیر تو ہدایت الٰہی سے ہو سکتی ہے۔ کیونکہ "الله جسے چاہتا ہے صراطِ مستقیم کی ہدایت کرتا ہے" (وَاللهُ یَھْدِی مَنْ یَشَاءُ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ)۔ اور ہم جانتے ہیں کہ الله کا ارادہ اور اس کی مشیّت بے بنیاد نہیں ہے۔ نورِ ایمان سے وہ ایسے دلوں کو روشن کرتا ہے جو اسے قبول کرنے کے لئے تیار ہوں اور اس کے اہل ہوں یعنی جنھوں نے خود مجاہدہ کی ابتداء کی ہو اس کی طرف قدم بڑھائے ہوں۔ اس کے بعد منافقین کی مذمت کی گئی ہے کہ جو ایمان کا دم تو بھرتے ہیں، لیکن ایمان کے دلوں میں نہیں اترا۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ کہتے ہیں کہ ہم الله پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں اور ان کی اطاعت قبول کرتے ہیں۔ لیکن اس دعوے کے باوجود ان میں سے ایک گروہ منہ پھیر لیتا ہے۔ درحقیقت وہ مومنین ہی نہیں ہیں۔ (وَیَقُولُونَ آمَنَّا بِاللهِ وَبِالرَّسُولِ وَاَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلَّی فَرِیقٌ مِنْھُمْ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ وَمَا اُوْلٰئِکَ بِالْمُؤْمِنِینَ)۔ یہ کیسا ایمان ہے کہ جو فقط ان کی زبانوں تک محدود ہے۔ اور ان کے اعمال میں ظاہر نہیں ہوتا؟ اس کے بعد ان کی بے ایمانی کی دلیل کے طور پر فرمایا گیا ہے: جب انھیں دعوت دی جاتی ہے کہ الله اور اس کے رسول کی طرف آئیں تاکہ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو ان میں سے ایک گروہ رُخ موڑ لیتا ہے (وَإِذَا دُعُوا إِلَی اللهِ وَرَسُولِہِ لِیَحْکُمَ بَیْنَھُمْ إِذَا فَرِیقٌ مِنْھُمْ مُعْرِضُونَ)۔ مزید تاکید کے لئے اور ان کے شرک اور دُنیا پرستی کو مزید واضح کرنے کے لئے فرمایا گیا ہے: لیکن اگر یہ فیصلہ ان کے فائدے میں جاتا ہو تو بڑی عاجزی کے ساتھ رسول کی طرف آ جاتے ہیں۔ (وَإِنْ یَکُنْ لَھُمَ الْحَقُّ یَاْتُوا إِلَیْہِ مُذْعِنِینَ)۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ عبارت میں الله اور رسول دونوں کی طرف دعوت کا ذکر ہے۔ لیکن بعد والی عبارت میں "لیحکم" مفرد کی شکل میں آیا ہے کہ جو صرف رسول اللهؐ کے فیصلے کی طرف اشارہ ہے۔ یہ اس بناء پر ہے کہ رسول اللهؐ کا فیصلہ الله کے فیصلہ سے جدا نہیں ہے۔ دونوں ایک ہی حقیقت کی طرف لوٹتے ہیں۔ ضمناً توجہ رہے کہ "الیہ" کی ضمیر رسول اللہؐ یا ان کے فیصلے کی طرف لوٹنی ہے۔ اس نکتے کی طرف بھی توجہ کرنا چاہیے کہ مندرجہ بالا آیات میں رسول اللهؐ کے فیصلے سے اعراض اور منہ پھیرنے کا ذکر منافقین کے صرف ایک گروہ کے لئے ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا دوسرا گروہ اس حد تک بےحیا اور جسارت کرنے والا نہیں تھا کیونکہ نفاق بھی ایمان کی طرح مختلف درجات رکھتا ہے۔ زیرِ بحث آخری آیت میں رسول اللهؐ کے فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنے کے اصل اسباب بیان کئے گئے ہیں۔ فرمایا گیا ہے کیا ان کے دلوں میں (نفاق) کی بیماری ہے (اَفِی قُلُوبِھِمْ مَرَضٌ)۔ منافقین کی ایک صفت اور ہے کہ وہ اظہار ایمان تو کرتے ہیں۔ لیکن الله اور سولؐ کے فیصلے کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرتے کیونکہ ان کے دل توحید سے منحرف ہیں۔ اور اگر ان کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے تو پھر سچ مچ وہ "شک میں مبتلا ہیں" (اَمْ ارْتَابُوا)۔ اور فطری بات ہے کہ جو شخص کسی دین کو قبول کرنے میں متردّد ہو وہ اس کے لوازم کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرے گا۔ اور اگر یہ دو نوں باتیں نہیں ہیں اور وہ مومن ہیں "تو کیا واقعاً ڈرتے ہیں کہ الله اور اس کا رسول ان پر ظلم کرے گا"۔ (اَمْ یَخَافُونَ اَنْ یَحِیفَ اللهُ عَلَیْھِمْ وَرَسُولُہُ)۔ حالانکہ یہ واضح تضاد ہے جو شخص رسول اسلامؐ کو الله کا بھیجا ہوا رسول اور اُس کا پیغمبر سمجھتا ہے اور اُس کے حکم کو خدا کا حُکم سمجھتا ہے۔ مُمکن نہیں ہے کہ اُسے احتمال ہو کہ وہ ظلم کریں گے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ الله کسی پر ظلم کرے؟ کیا ظُلم، جہالت، احتیاج یا خود غرضی کی پیداوار نہیں؟ جبکہ ذاتِ مقدس پروردگار ان سب چیزوں سے پاک ہے۔ "بات دراصل یہ ہے کہ وہ خود ظالم ہے۔" (بَلْ اُوْلٰئِکَ ھُمْ الظَّالِمُونَ)۔ وہ نہیں چاہتے کہ اپنے حق پر قناعت کریں اور چونکہ وہ جانتے ہیں کہ پیغمبر اسلامؐ ایسی کوئی چیز انہیں دیں گے کہ جس پر کسی دوسرے کا حق ہو، لہٰذا وہ آپ کا فیصلہ قبول کرنے کو تیّار نہیں ہیں۔ تفسیر "فی ظلال القرآن" کے موٴلف کے بقول ان تینوں تعبیروں میں سے ہر ایک خاص پہلو کی حامل ہے۔ پہلی اثبات کے لئے ہے۔ دوسری تعجب کے لئے ہے۔ تیسری انکار کے لئے ہے۔ پہلے جملے میں قرآن حقیقی وجہ بیان کرنا چاہتا ہے اور وہ ہے نفاق کی بیماری۔ دوسرے جُملے میں عدالتِ رسولؐ میں ان کے شک پر تعجب کا اظہار مقصود ہے۔ نیز رسول اللهؐ کے فیصلے کی صحت کا اعلان ہے۔ جبکہ وہ ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تیسرے جُملے میں ان کے واضح تضاد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ کیونکہ ان کے ایمان کے دعوے سے ان کا عمل ہم آہنگ نہیں ہے۔ (بحوالہ: تفسیر فی ظلال القرآّن، ج۶، صفحہ ۱۱۵)۔ مفسر مذکور کی بات پر صرف یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ انھوں نے "ام ارتابوا" کو عدالت رسولؐ اور فیصلے کی صحت پر شک کے معنیٰ میں لیا ہے۔ حالانکہ ظاہر ہے کہ یہ خود نبوّت میں شک کو بیان کرتا ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین نے اس امر کو قبول کیا ہے۔
چند اہم نکات ۱۔ نفاق کی بیماری:
یہ وہ مقام نہیں کہ جہاں قرآن مجید نے نفاق کو ایک "مرض" قرار دیا ہے۔ بلکہ اس سے پہلے سورہٴ بقرہ کی ابتداء میں منافقین کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: فِی قُلُوبِھِمْ مَرَضٌ فَزَادَھُمْ اللّٰہُ مَرَضًا۔ ان کے دلوں میں ایک قسم کی بیماری ہے اور الله ان کی بیماری بڑھا دیتا ہے۔ جیسا کہ پہلی جلد میں ہم اس آیت کے ذیل یں کہہ چُکے ہیں کہ نفاق درحقیقت ایک بیماری اور انحراف ہے۔ جو انسان صحیح اور صحت مند ہو اُس کا اس کا ایک ہی چہرہ ہوتا ہے۔ اس کی رُوح اُس کا جسم آپس میں ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ اگر وہ مومن ہے تو اس کے تمام وجود سے ایمان کی صدا بلند ہوتی ہے اور اگر وہ منحرف ہے تو اس کا ظاہر و باطن انحراف کا مظہر ہے۔ لیکن جس کا ظاہر ایمان ہے اور باطن کُفر کی لو دیتا ہے۔ یہ تو ایک قسم کی بیماری ہے اور ایسے لوگ چونکہ اپنی ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی کی وجہ سے لطف و ہدایتِ الہی کے مستحق نہیں ہیں۔ لہٰذا خدا وند عالم انھیں ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے تاکہ ان کی بیماری میں اضافہ ہو۔ واقعاً کسی معاشرے کے خطرناک ترین افراد یہی منافقین ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کے بارے میں انسان پر اپنی شرعی ذمہ داری واضح نہیں ہوتی۔ نہ وہ حقیقی دوست ہوتے ہیں اور نہ ظاہراً دشمن۔ مومنین کے وسائل سے استفادہ کرتے ہیں اور کفّار کے عقاب سے بھی مامون ہوتے ہیں۔ لیکن ان کے اعمال کفار سے بدتر ہیں۔ ہم جانتے ہی کہ یہ ظاہر و باطن کے کی ناہم آہنگی ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتی۔ آخرکار پردے ہٹ جاتے ہیں اور ان کی بد باطنی ظاہر ہو جاتی ہے جیسا کہ ہم زیرِ بحث آیات اور ان کی شانِ نزول میں ملاحظہ کر چکے ہیں کہ ایک مسئلہ پیش آنے سے ان کی قلعی کھُل گئی اور اُن کا خبث باطن ظاہر ہو گیا۔ (تشریحی نوٹ: منافقین کی صفات کے متعلق مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ ج۱ میں سورہ بقرہ۱۰ کی آیہ کے ذیل میں رجوع کریں)۔
۲۔ عادلانہ فیصلہ صرف خدا کا ہوتا ہے:
اس میں شک نہیں کہ انسان کو اپنے آپ کو محبّت و نفرت، خود خواہی اور ذاتی اغراض سے الگ کرنا چاہیے جو لاشعوری طور پر ان امور کے زیرِ اثر آ جاتا ہے۔ سوائے اس کے وہ معصوم ہو اور پروردگار کی طرف سے محفوظ ہو۔ اسی بناء پر ہم کہتے ہیں کہ حقیقی قانون گزار صرف خدا ہی ہے۔ کیونکہ وہ اپنے بے پایاں علم کی وجہ سے انسان کی تمام ضروریات کو بھی جانتا ہے اور ان ضروریات کو پوار کرنے کا راستہ بھی جانتا ہے۔ خود اس کی اپنی کوئی احتیاجات بھی نہیں اور محبت و نفرت کی بناء پر وہ کبھی انحراف اور کجی کا بھی شکار نہیں ہوتا۔ لہٰذا عادلانہ ترین فیصلہ خدا، نبی اور امام معصوم ہی کا ہو سکتا ہے اور ان کے بعد ایسے افراد کا کہ جو ان کی راہ پر چلتے ہیں۔ اور ان سے شباہت رکھتے ہیں۔ لیکن یہ خود غرض انسان ایسے عادلانہ فیصلوں کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا اور عادالانہ قوانین کے توسیع اور نفاذ کو پسند نہیں کرتا۔ وہ ایسے قانون اور فیصلے کا متمنی ہوتا ہے کہ جو اس کی خواہش اور حرص کو زیادہ سے پورا کرے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں قرآن نے کیا عمدہ بات کہی ہے کہ: اُوْلٰئِکَ ھُمْ الظَّالِمُونَ۔ حقیقی ظالم یہی لوگ ہیں۔ نیز حقیقی عادلانہ فیصلے ہر انسان کے معیار ایمان کی بھی کسوٹی ہوتی ہیں۔ یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ قرآن ایک مقام پر کہتا ہے کہ اے رسول! حقیقی مومنین نہ صرف تیرے فیصلے پر سرتسلیم خم کرتے ہیں۔ بلکہ دل میں تیرے فیصلوں پر بوجھ اور ناراحتی محسوس نہیں کرتے۔ اگرچہ ظاہراً اُن کے نقصان میں ہوں۔ ارشاد الٰہی ہے۔ فَلَاوَرَبِّکَ لَایُؤْمِنُونَ حَتَّی یُحَکِّمُوکَ فِیمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لَایَجِدُوا فِی اَنفُسِھِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوا تَسْلِیمًا تیرے رب کی قسم! کوئی شخص اُس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا۔ جب تک اپنے جھگڑوں میں تجھے قاضی اور فیصل قرار نہ دے۔ نیز تیرے فیصلے کے ضروری ہے کہ اپنے دل میں کوئی بوجھ اور ناراحتی محسوس نہ کرے اور ظاہر و باطن میں حق کے سامنے تسلیم خم کرے۔ (نساء۔۶٥) لیکن وہ لوگ کہ جو الله اور رسول کا حکم اس صورت میں مانتے ہیں کہ جب اُن کا فائدہ ہو۔ حقیقت میں وہ مشرک ہیں کہ جو اپنے مفادات کے بندے ہیں۔ اگرچہ وہ ایمان کا دم بھرتے ہوں اور مومنین کی صفوں میں اُٹھتے بیٹھتے ہوں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 54 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 54 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 54 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر حق پر ایمان اور تسلیمِ کامل
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیات میں سیاہ دل مافقین کا حال بتایا گیا تھا کہ جو تہ در تہ اندھیروں میں ہیں اور "بعضھا فوق بعض" کا مصداق ہیں اور ہم نے دیکھا کہ الله اور اس کے رسول کے منصفانہ فیصلے سے کیسے روگردانی کرتے ہیں گویا انھیں خوف ہے کہ الله اور سول ان کے حق کو پامال کر دیں گے۔ زیرِ نظر آیات منافقین کے مقابلے میں مومنین کی کیفیت بیان کر رہی ہیں کہ خدائی فیصلے پر اُن کا درّعمل کیا ہوتا ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے: جب مومنین کو الله اور رسول کے فیصلے کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ صرف ایک ہی بات کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی (إِنَّمَا کَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِینَ إِذَا دُعُوا إِلَی اللهِ وَرَسُولِہِ لِیَحْکُمَ بَیْنَھُمْ اَنْ یَقُولُوا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا)۔ کیا عمدہ بات ہے _____ "سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا" (ہم نے سُنا اور اطاعت کی)۔ مختصر اور معنی خیز انداز ہے۔ یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ یہاں لفظ "انّما" استعمال ہوا ہے کہ جو حصر کے لئے ہے۔ یعنی اس کے علاوہ ان کی کوئی بات ہی نہیں اور سرتاپا اُن کی یہی کیفیت ہے اور سچ مچ حقیقت ایمان یہی ہے کہ "سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا"۔ جو شخص یہ ایمان رکھتا ہے کہ الله ہر چیز کا عالم ہے۔ وہ ہر شخص سے بےنیاز ہے اور تمام بندوں کے لئے رحیم اور مہربان ہے تو وہ الله کے فیصلے پر کسی اور کے فیصلے کو کیسے ترجیح دے سکتا ہے اور کیونکر ممکن ہے کہ وہ الله کے فیصلے پر اس کے سوا کچھ کہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ یہ کیسی عظیم ازمائش اور مومنین کی کامیابی کی کیا ہی عمدہ راستہ ہے۔ لہٰذا آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: حقیقتاً فلاح و یافتہ اور کامیاب یہی لوگ ہیں (وَاُوْلٰئِکَ ھُمَ الْمُفْلِحُونَ)۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اپنی باگ ڈور الله کے حوالے کر دے، اسے حاکم اور جج مان لے وہ ہر چیز میں کامیاب ہے مادی زندگی میں بھی اور روحانی زندگی میں بھی۔ دوسری آیت میں اسی حقیقت کو عمومی شکل دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جو لوگ الله اور اس کے رسول کی اطاعت کریں، الله سے ڈریں اور تقویٰ کو اپنا شعار بنائیں وہی نجات پانے والے اور کامیاب ہیں (وَمَنْ یُطِعْ اللهَ وَرَسُولَہُ وَیَخْشَ اللهَ وَیَتَّقِیہِ فَاُوْلٰئِکَ ھُمَ الْفَائِزُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: "یتقہ" میں قاف ساکن ہے اور "ھ" کے نیچے زیر ہے۔ یہ دراصل "یتقیہ" تھا۔ شرط کا کردار ادا کرنے کی وجہ سے اس کی "ی" حذف ہو گئی ہے۔ چونکہ یکے بعد دیگرے "دو" زیریں ثقیل تھیں، اس لئے اُن میں سے ایک حذف ہو گئی ہے اور لفظ نے یہ شکل اختیار کر لی ہے)۔ اِس آیت میں فرماں بردار اور پرہیزگار افراد کو "فائزون" کہا گیا ہے جبکہ گزشتہ آیت میں الله اور اس کے رسول کا فیصلہ ماننے والوں کو "مفلحون" کہا گیا ہے۔ لغت کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ "فوز" اور "فلاح" تقریباً ہم معنیٰ ہیں۔ مفردات میں راغب نے کہا ہے: "فوز" کا معنی ہے سلامتی کے ساتھ کامیابی اور اچھے انجام تک پہنچانا اور "فلاح" کا معنیٰ ہے کامیابی اور مقصود تک پہنچنا۔ البتہ بنیادی طور پر "فلاح" چیرنے کے معنیٰ میں ہے۔ کامیاب افراد چونکہ رکاوٹوں کو چیر کر آگے بڑھ جاتے ہیں لہٰذا "فلاح" کامیابی کے معنیٰ میں بھی استعمال ہونے لگا۔ بعد والی آیت میں مطلق فرمانبرداری کے بارے میں بات کی گئی ہے اور پہلی آیت میں خدائی فیصلے کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کا ذکر ہے۔ اس لحاظ سے عمومی اور کلّی مفہوم کا حامل ہے جبکہ دوسرا لفظ مخصوص معنی کے لئے اس لحاظ سے دونوں کا نتیجہ ایک ہی ہونا چاہیے۔ یہ بات لائق توجہ ہے کہ بعد والی آیت میں "فائزون" کے تین اوصاف ذکر ہوئے ہیں۔ (۱) الله اور رسول کا اطاعت (۲) خوفِ خدا (۳) تقویٰ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اطاعت کلّی مفہوم میں ہے۔ خوفِ خدا اس کی داخلی کیفیت ہے اور تقویٰ اس کا خارجی مظہر ہے اس لئے پہلے عمومی طور پر اطاعت کا ذکر ہے اور بعد میں اُس کی اندرونی و برونی کیفیت کی بات ہوئی ہے۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ایک روایت میں "اُوْلٰئِکَ ھُمَ الْمُفْلِحُونَ" کی تفسیر کے بارے میں امام باقر علیہ السلام سے منقول ہے: انّ المعنیٰ بالآیة امیر الموٴمنین اس آیت کے مصداق امیرالمومنین علی علیہ السلام ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر نورالثقلین، ج۳، ص۶۱۶)۔ اس میں شک نہیں کہ حضرت علی علیہ السلام اس آیت کے واضح ترین مصداق ہیں اور مذکورہ روایت کی مراد بھی یہی ہے اور اس سے آیت کی عمومیت ہرگز ختم نہیں ہوتی۔ اس سے اگلی آیت کا لب و لہجہ ظاہر کرتا ہے اور بعض تفاسیر میں مذکور اس کی شان نزول بھی نشاندہی کرتی ہے کہ گزشتہ آیات کہ جن میں منافقین کی شدید مذمت کی گئی ہے کے نزول کے بعد کچھ منافقین اپنی حالت پر سخت پریشان تھے۔ وہ پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بڑی بڑی قسمیں کھائیں کہ ہم آپ کے فرمانبردار ہیں۔ قرآن نے اس کا نوٹس لیا اور بڑے فیصلہ کن انداز میں فرمایا انھوں نے بڑی بڑی قسمیں کھائیں کہ اگر آپ انھیں حکم دیں تو وہ اپنا گھر بار سب کچھ چھوڑ دیں گے (اور اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر میدانِ جہاد کے لئے نکل کھڑے ہوں گے) ان سے کہیے قسمیں کھانے کی ضرورت نہیں۔ اطاعت اختیار کر کے عملی طور پر اپنے صدق و خلوص کا ثبوت دو کیونکہ جو کچھ تم کرتے ہو الله اس سے باخبر ہے (وَاَقْسَمُوا بِاللهِ جَھْدَ اَیْمَانِھِمْ لَئِنْ اَمَرْتَھُمْ لَیَخْرُجُنَّ قُلْ لَاتُقْسِمُوا طَاعَةٌ مَعْرُوفَةٌ إِنَّ اللهَ خَبِیرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ)۔ بہت سے مفسرین نے "لَیَخْرُجُنَّ" میں "خروج" سے مراد جہاد کے لئے نکلنا لیا ہے۔ بعض دوسرے مفسرین نے گھر بار سے نکلنے یا پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ ہر جگہ جانے اور ان کی خدمت میں رہنا مراد لیا ہے۔ البتہ قرآن مجید میں لفظ "خرج" اور اس کے مشتقات میدانِ جہاد کے طرف جانے کے معنی میں بھی آئے ہیں۔ اور گھر بار اور وطن چھوڑنے کے معنیٰ میں بھی۔ لیکن گزشتہ آیات میں اختلافی مسائل کے لئے پیغمبر اکرمؐ کے فیصلوں کو تسلیم کرنے کے بارے میں جو گفتگو کی ہوئی ہے اس کی مناسبت سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم دوسری تفسیر کو قبول کریں اور اس سے یہ مراد لیں کہ وہ رسول اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قسم کھا کر کہا کہ مال کا ایک حصّہ تو معمولی سی بات ہے آپ حکم کریں تو ہم سب کچھ چھوڑ دیں۔ تاہم اس کے باوجود کوئی مانع نہیں کہ دونوں باتیں آیت کے مفہوم میں جمع ہوں یعنی ہم اس کے حکم پر مال و منال اور گھر بار چھوڑ دیں اور اس کے لئے بھی تیار ہیں کہ جان ہتھیلی پر رکھ کر میدانِ جہاد کی طرف چلے جائیں۔ لیکن منافق لوگ بھی حالات نامساعد ہوں تو اپنا چہرہ بدل لیتے ہیں اور بڑی بڑی قسمیں کھانے لگتے ہیں اور کبھی ان کی قسمیں خود ان کے جھوٹ کی دلیل ہوتی ہیں اس لئے قرآن صراحت کے ساتھ انھیں جواب دیتا ہے کہ قسمیں کھانے کی ضرورت نہیں، عمل سے اپنی بات کا ثبوت پیش کرو لیکن الله تمھارے دل کی گہرائیوں سے آگاہ ہے وہ جانتا ہے کہ تم جھوٹی قسمیں کھا رہے ہو یا واقعاً اپنا طرز عمل بدلنے کا ارادہ رکھتے۔ اس لئے زیرِ بحث آخری آیت میں تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے: ان سے کہیں کہ الله اور اس کے رسول کی اطاعت کریں (قُلْ اَطِیعُوا اللهَ وَاَطِیعُوا الرَّسُولَ)۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے کہ اس فرمان پر دو ہی صورتیں ممکن ہیں "اگر تم منھ موڑ لو اور منحرف ہو جاوٴ تو رسول اپنے اعمال کا جواب دہ ہے (اور اس نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی ہے) اور تم بھی اپنے اعمال کے جواب دہ ہے (فَإِنْ تَوَلَّوا فَإِنَّمَا عَلَیْہِ مَا حُمِّلَ وَعَلَیْکُمْ مَا حُمِّلْتُمْ)۔ لیکن اگر تم اس کی فرمانبرداری کرو تو ہدایت پاؤ گے (وَإِنْ تُطِیعُوہُ تَھْتَدُوا)۔ کیونکہ وہ ایسا رہبر ہے کہ جو الله اور حق کے راستے کے علاوہ کسی چیز کی دعوت نہیں دیتا۔ بہرحال، رسول کی کھلی تبلیغ کے علاوہ کوئی ذمہ داری نہیں (وَمَا عَلَی الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلَاغُ الْمُبِینُ)۔ اس کی ذمہ داری ہے کہ سب تک واضح طور پر حکمِ خدا پہنچا دے چاہے کوئی قبول کرے یا نہ کرے اور اس دعوت کو قبول کرنے یا نہ کرنے کا فائدہ یا نقصان بھی انہی کو ہو گا جو قبول کریں یا نہ کریں۔ رسول کی یہ ہرگز ذمہ داری نہیں کہ وہ لوگوں کو ہدایت اور دعوت قبول کرنے پر مجبور کریں۔ یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ اس آیت میں ذمہ داری اور مسئولیت کو بوجھ سے تعبیر کیا گیا ہے اور درحقیقت ہے بھی ایسا ہی۔ رسول الله کی رسالت بھی اور ان کی دعوت پر صدق و خلوص سے اطاعت بھی دوش پر بوجھ ہے کہ جسے منزل تک پہنچانا چاہیے اور سوائے مخلص لوگوں کے کوئی اسے اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اسی لئے ایک روایت میں امام باقر علیہ السلام پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کی تعریف و توصیف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ رسول اللهؐ نے فرمایا: یا معاشر قراء القرآن اتقوا الله عزوجل فیما حملکم من کتابہ فانی مسئول وانتم مسئولون عن تبلیغ الرسالة، و امّا انتم فتسئلون عما حملتم من کتاب الله وسنتی اے قرآن پڑھنے والو! خدائے عظیم سے ڈرو اور تقویٰ اختیار کرو اس کی کتاب کے بارے میں کہ جس کا بوجھ اس نے تمھارے کندھوں پر ڈال دیا ہے کیونکہ میں جواب دہ ہوں اور تم بھی جواب دہ ہو۔ میں تبلیغ رسالت کے بارے میں جواب دہ ہوں اور تم کتابِ خدا اور میری سنت کے بارے میں جواب دہ ہو کہ جس کا بوجھ تمھارے کندھوں پر ڈال دیا گیا ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 4سیوطی نے اسباب النزول میں، طبرسی نے مجمع البیان میں، سید قطب نے فی ظلال میں، قرطبی نے اپنی تفسیر میں اور اسی طرح دیگر کئی ایک مفسرین نے (تھوڑے سے فرق کے ساتھ) اس آیت کی یہ شان نزول نقل کی ہے: جب رسول اللهؐ اور مسلمانوں نے مدینے کی طرف ہجرت کی اور انصار نے خندہ پیشانی سے انھیں خوش آمدید کہا تو تمام عرب ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ یہاں تک کہ مسلمان مجبور ہو گئے کہ ہر وقت اسلحہ اپنے ساتھ رکھیں رات کو اسلحہ پاس رکھ کر سوئیں، صبح اٹھیں تو اسلحہ ساتھ لے کر اٹھیں اور ہر وقت مستعد رہیں۔ اس حالت کا جاری رکھنا مسلمانوں کے لئے بہت مشکل تھا۔ بعض نے تو کھلے بندوں اس بات کا اظہار کیا کہ آحر یہ کیفیت کب تک باقی رہے گی کیا ایسا وقت بھی آئے گا ہم رات ہی کو چین کا سانس لے سکیں اور الله کے علاوہ ہم کسی سے نہ ڈریں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انھیں بشارت دی گئی کہ ہاں ایسا زمانہ آئے گا۔ (بحوالہ: اسباب النزول، ۱۶۳۲، مجمع البیان، تفسیر قرطبی اور تفسیر فی ظلال، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں)۔
تفسیر مستضعفین کی عالمی حکومت
گزشتہ آیات میں الله اور اُس کے رسولؐ کے حکم پر سر تسلیم خم کرنے کے بارے میں گفتگو تھی۔ اب زیرِ بحث آیت میں بھی وہی موضوع سخن جاری رکھتے ہوئے اس اطاعت کا نتیجہ عالمی حکومت کا قیام بیان کیا گیا ہے۔ آیت زور دیتے ہوئے کہتی ہے: جو لوگ ایمان لائے ہیں اور اعمالِ صالح انجام دیئے ہیں الله سے ان کا وعدہ ہے کہ یقیناً اُنھیں زمین پر خلیفہ بنائے گا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو خلافت بخشی ہے (وَعَدَ اللهُ الَّذِینَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُم فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِھِمْ)۔ اور جو دین ان کے لئے پسند کیا ہے اسے مضبوط بنادوں زمین پر قائم کرے گا (وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِینَھُمْ الَّذِی ارْتَضَی لَھُمْ)۔ اور ان کے خوف کو امن و سکون میں بدل دے گا (وَلَیُبَدِّلَنَّھُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِھِمْ اَمْنًا)۔ اور یہ عالم ہو جائے گا کہ وہ صرف میری عبادت کریں گے اور کسی چیز کو میرا شریک قرار نہیں دیں گے (یَعْبُدُونَنِی لَایُشْرِکُونَ بِی شَیْئًا)۔ مسلم ہے کہ حکومتِ توحید کے قیام، دینِ الٰہی کے استحکام اور ہر قسم کے اضطراب، بدامنی اور شرک کے خاتمے کے بعد بھی" جو لوگ پھر کافر ہو جائیں گے وہ فاسق ہیں" (وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُوْلٰئِکَ ھُمَ الْفَاسِقُونَ)۔ بہرحال، اس آیت سے مجموعی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ خدا ان مسلمانوں کو تین خوشخبریاں دیتا ہے کہ جو صاحب ایمان ہیں اور اعمال صالح بجا لاتے ہیں۔ خوش خبریاں یہ ہیں: ۱۔ روئے زمین پر حکمرانی ۲۔ ہر جگہ مستحکم بنیادوں پر دین حق کی اشاعت (یہ بات لفظ "تمکین" سے ظاہر ہوتی ہے)۔ ۳۔ تمام اسبابِ خوف و بدامنی کا خاتمہ۔ ان امور کا نتیجہ یہ ہو گا وہ بڑی آزادی سے الله کی پرستش کر سکیں، اس کے احکام بجا لائیں گے اور اس کے لئے کسی شریک کے قائل نہ ہوں اور توحیدِ خالص کو ہر جگہ پھیلا دیں۔ یہ وعدہٴ الٰہی پورا ہوا یا نہیں ______ اس سلسلے میں ہم ذیل کے نکات میں بحث کریں گے۔
چند اہم نکات ۱۔ "کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِھِمْ" کی تفسیر:
مسلمانوں سے پہلے جن لوگوں کو خلافت ملی وہ کون تھے _______ اس سلسلے میں مفسرین کی مختلف آراء ہیں، مثلاً: بعض نے اسے حضرت آدم علیہ السلام، حضرت داوٴد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف اشارہ سمجھا ہے کیونکہ قرآن سورہٴ بقرہ آیت ۳۰ میں حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں فرماتا ہے: اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْصِ خَلِیْفَة میں زمین میں اُسے خلیفہ بنانا چاہتا ہوں سورہٴ ص کی آیت ۲۶ میں حضرت داوٴد علیہ السلام کے بارے میں ہے: یا داوٴد انّا جعلناک خلیفة فی الارض اے داوٴد! ہم نے تجھے زمین پر خلیفہ بنایا ہے۔ اسی طرح سورہٴ نمل کی آیت ۱۶ کے مطابق حضرت سلیمان علیہ السلام حکومتِ داوٴد کے وارث تھے لہٰذا وہ بھی خلیفہ ہوئے۔ بعض دوسرے حضرات مثلاً مفسر عالی قدر علامہ طباطبائی نے "الیمزان" میں اس معنیٰ کو بعید قرار دیا ہے کیونکہ انھوں نے "الَّذِینَ مِنْ قَبْلِھِمْ" کے الفاظ کو انبیاء کے شایانِ شان نہیں سمجھا کیونکہ اس طرح کے الفاظ قرآن میں انبیاء کے بارے میں استعمال نہیں ہوئے۔ لہٰذا علامہ طباطبائی اسے گزشتہ امتوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں کہ جو ایمان و عمل کی حامل تھیں اور انھیں زمین پر حکمرانی حاصل ہوئی۔ لیکن بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ یہ آیت بنی اسرائیل کی طرف اشارہ کرتی ہے کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں فرعون اور اس کے ساتھیوں کے اقتدار کی تباہی کے بعد وہ حکمران ہوئے، جیسا کہ سورہٴ اعراف کی آیت ۱۳۷ میں فرمایا گیا ہے: وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِینَ کَانُوا یُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَھَا الَّتِی بَارَکْنَا فِیھَا ہم نے (مومنین بنی اسرائیل کے) کمزور کردہ لوگوں کو اس زمین کے مشارق و مغارب کا وارث بنا دیا کہ جسے ہم نے پُر برکت بنایا ہے۔ نیز انہی کے بارے میں قرآن فرماتا ہے: ونمکن لھم فی الارض ہم نے ارادہ کیا کہ اس مستضعف قوم کو زمین پر اقتدار دیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ بنی اسرائیل میں حضرت موسٰی علیہ السلام کے زمانے میں غلط اور فاسق بلکہ بعض اوقات کافر لوگ بھی تھے لیکن حکومت بہرحال، صالح مومنین کے ہاتھ میں تھی (اس لحاظ سے اس تفسیر کے بارے میں بعض مفسرین نے جو اعتراض کیا ہے وہ دور ہو جاتا ہے) یہ تیسری تفسیر ہمیں مفہوم کے زیادہ قریب معلوم ہوتی ہے۔
۲۔ الله کا یہ وعدہ کن سے ہے؟
آیت کے مطابق الله تعالیٰ نے زمین پر حکمرانی، دینی اقتدار اور مکمل امن و سکون کا وعدہ ان سے کیا ہے جو ایمان اورِ عمل صالح کے حامل ہیں۔ اس کے مصداق کون لوگ ہیں اس سلسلے میں مفسرین کے نظریات مختلف ہیں۔ بعض نے اسے اصحابِ رسول کے ساتھ مخصوص سمجھا ہے کہ اسلام کی کامیابی کے باعث وہ زمانہٴ رسول میں صاحبِ حکومت ہو گئے (البتہ اس تفسیر کے مطابق زمین سے مراد تمام روئے زمین نہیں بلکہ زمین کا ایک خطّہ مراد ہے)۔ ٭ بعض نے پہلے چار خلفاء کی حکومت کی طرف اشارہ قرار دیا ہے۔ ٭ بعض نے اس مفہوم کو اتنا وسیع لیا ہے کہ سب نے ایسے مسلمانوں کو اس کا مصداق قرار دیا ہے کہ جن میں یہ صفات موجود ہیں۔ ٭ بعض نے اسے حکومتِ حضرت مہدی علیہ السلام کی طرف اشارہ سمجھا ہے کہ عالمِ کے مشرق و مغرب جن کے زیرِ نگین ہوں گے، دینِ حق ہر جگہ حکم فرما ہو گا، بدامنی، خوف و ہراس اور جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا اور تمام لوگ شرک سے پاک عبادت بجا لائیں گے۔ اس میں شک نہیں کہ یہ آیت ابتدائی مسلمانوں کے بارے میں ہے اور اس میں بھی شک نہیں کہ حضرت مہدی علیہ السلام کی حکومت بھی آیت کا مصداق کامل ہے۔ تمام مسلمان چاہے شیعہ ہوں یا سنی اس بات کے معتقد ہیں کہ حضرت مہدی علیہ السلام کی حکومت جب دنیا و ظلم وجور سے بھر چکی ہو گی اسے عدل و انصاف سے معمور کر دے گی۔ تاہم اس کے باوجود اس میں میں کوئی مانع نہیں کہ آیت عمومیت کی حامل ہو۔ مختصر یہ کہ جس زمانے میں بھی مسلمان کے درمیان ایمان اور عمل کی بنیادیں مستحکم ہوں گی وہ ایک موٴثر حکومت کے مالک بن جائیں گے۔ بعض کہتے ہیں کہ لفظ "ارض" مطلق ہے اور اس سے ساری زمین مراد ہے اور یہ امر منحصراً حضرت مہدی علیہ السلام (ارواحنا لہ الفداء) کی حکومت سے مربوط ہے۔ یہ دعویٰ ”کَمَا اسْتَخْلَفَ...." کے جملے سے مناسبت نہیں رکھتا کیونکہ گزشتہ مومنین کی حکومت مسلّماً ساری دنیا پر محیط نہ تھی۔ علاوہ ازیں آیت کی شانِ نزول بھی نشاندہی کرتی ہے کہ چاہے رسول اللهؐ کی عمر کے آخری زمانے میں ہی سہی مسلمانوں کے لئے اس حکومت کا ایک نمونہ معرض وجود میں ضرور آیا ہے۔ بہرحال، ہم اس بات کی تکرار کرتے ہیں کہ انبیاء کی تمام زحمتوں اور مسلسل تبلیغات کا ماحصل اور کامل نمونہ ایک عالمی حکومت کی صورت میں ظاہر ہو گا جس میں توحید کی حاکمیت ہو گی، ہر طرف امن و سکون ہو گا اور شرک سے پاک عبادت ہو گی۔ یہ حضرت مہدی علیہ السلام کا زمانہ ہو گا۔ وہی مہدی علیہ السلام کہ جو سلالہٴ انبیاء اور فرزندِ رسول اسلام ہیں۔ اس زمانے کے بارے میں تمام مسلمانوں نے رسول اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم سے یہ حدیث نقل کی ہے: لو لم یبق من الدنیا الّا یوم لطول الله ذٰلک الیوم حتّی یلی رجل من عترتی، اسمہ اسمی، یملا الارض عدلاً وقسطاً کما ملئت ظلماً وجوراً اگر دنیا کی زندگی کا صرف ایک دن بھی رہ جائے گا تو الله اسے اتنا طویل کر دے گا کہ اس میں میری عترت میں سے ایک فرد زمین پر حاکم ہو گا۔ اُس کا نام میرا نام ہو گا۔ جیسے زمین ظلم وجور سے بھر چکی ہو گی وہ ایسے ہی اسے عدل و انصاف سے معمور کر دے گا۔ (تشریحی نوٹ: کتاب "منتخب الاثر" میں اس مضمون کی ایک سو تیئس احادیث نقل کی گئی ہیں۔ یہ احادیث زیادہ تر اہل سنّت کی کتابوں سے حاصل کی گئی ہیں۔ قارئین اس کتاب کے صفحہ۲۴۷ سے بعد کے صفحات کی طرف رجوع کر سکتے ہیں)۔ یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ اس آیت کے ذیل میں مرحوم طبرسی کہتے ہیں کہ اہلِ بیتِ رسولؐ سے یہ حدیث منقول ہے: انّھا فی المھدی من آل محمد یہ آیت مہدی علیہ السلام کے بارے میں ہے کہ جو آل محمد میں سے ہوں گے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں)۔ تفسیر روح المعانی اور بہت سی شیعہ تفاسیر میں امام سجّاد علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ علیہ السلام نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: ھم والله شیعتنا اھل البیت یفعل الله ذٰلک بھم علیٰ یدی رجل منّا، وھو مھدی ھٰذہ الامة، یملا الارض عدلاً و قسطا کما ملئت ظلماً وجوراً، وھو الذی قال رسول الله (ص) لو لم یبق من الدنیا الّا یوم.... الله کی قسم وہ ہمارے شیعہ ہیں۔ الله ان کے لئے یہ حکومت ہم میں سے ایک مرد کے ہاتھ سے قائم کرے گا کہ جو اس امت کا مہدی ہے۔ وہ زمین کو اس طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم وجور سے بھری ہو گی۔ یہ بزرگوار وہی ہیں کہ جن کے بارے میں رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر دنیا کی زندگی کا ایک دن بھی باقی رہ گیا..... جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ ان تفاسیر کا یہ مطلب نہیں کہ مفہومِ آیت انہی سے منحصر ہے بلکہ یہ مصداقِ کامل کا بیان ہے۔ البتہ روح المعانی کے مفسر آلوسی اور چند دیگر مفسرین کہ جنھوں نے اس نکتے کی طرف توجہ نہیں کی ان احادیث کو مشکوک قرار دیا ہے۔ اہل سنّت کے مشہور مفسر قرطبی نے مقداد بن اسود سے نقل کیا ہے: میں نے رسول اللهؐ کو یہ فرماتے سنا: ما علی ظھر الارض بیت حجر ولا مدر الّا ادخلہ الله کلمة الاسلام روئے زمین پر پتھر یا مٹی کا کوئی ایسا گھر نہیں رہے گا کہ جس میں اسلام داخل نہ ہو گا (اور ساری دنیا پر ایمان اور توحید پرستی کی حکومت ہو گی)۔ (بحوالہ: قرطبی، ج۳، ص۴۹۲)۔ حضرت مہدی علیہ السلام کی حکومت کے سلسلے میں مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ جلد ۴ میں سورہٴ توبہ کی آیت ۲۳ کے ذیل میں رجوع کیجئے۔ وہاں ہم نے شیعہ اور سنّت علماء کی کتب سے مفصل مدارک اور دلائل درج کئے ہیں۔
۳۔ اصلی ہدف____ شرک سے پاک عبادت:
"یَعْبُدُونَنِی لَایُشْرِکُونَ بِی شَیْئًا" یہ جملہ ادبی لحاظ سے حال ہو یا غایت (تشریحی نوٹ: پہلی صورت میں گزشتہ آیات میں آنے والی ضمیر "ہم" سے ہم آہنگ ہو کر حالیہ ہو جاتا ہے۔ دوسری صورت میں لام مقدر ہے اور اصل میں "لیعبدوننی" ہے۔ بعض نے اس احتمال کا بھی ذکر کیا ہے۔ یہ جملہ استینافیہ ہے لیکن یہ بہت کمزور احتمال ہے)۔ اس کا مفہوم یہ ہے حکومتِ عدل کے قیام، دینِ حق کے استحکام اور امن و امان کے حصول کا اصلی مقصد عبادت اور توحید پرستی کی بنیادوں کو مضبوط کرنا ہے۔ قرآن کی ایک اور آیت میں مقصدِ تخلیق بھی بیان ہوا ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلاَّ لِیَعْبُدُونِ میں نے جنّوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔ (زاریات۔۵۶) وہ عبادت جو انسانوں کی تربیت کرتی ہے اور اُن کی پرورش روح کے لئے بہت اعلیٰ مکتب ہے۔ وہ عبادت جس سے الله بےنیاز ہے اور بندے کمال اور ارتقاء کے لئے جس کے بہت محتاج ہیں۔ یہ اسلامی نظریہ ہے جبکہ مادی نظریے اس کے برخلاف ہیں۔ ان کا ہدف خوشحالی کے لحاظ سے بلند سطح کی مادی زندگی ہے جبکہ اسلام کبھی ایسی چیز کو اپنا ہدف قرار نہیں دے سکتا اس کی نظر میں تو مادی زندگی کی تبھی کوئی اہمیت ہے جب وہ ایسے روحانی ہدف کے حصول کا ذریعہ ہو۔ البتہ اس نکتے کی طرف توجہ ضروری ہے کہ شرک سے پاک عبادت، غیر الٰہی قانون کی نفی اور ذاتیات و خواہشات کی حکمرانی کا خاتمہ ایک حکومتِ عدل کے قیام کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ یہ تو ہو سکتا ہے کہ حکومت کے بغیر مسلسل تعلیم، تربیت اور تبلیغ کے ذریعے کچھ لوگوں کو حق کی طرف متوجہ کیا جائے لیکن معاشرے میں اسے رواج دینا باایمان صالحین کی حکومت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اسی لئے انبیاء سب سے زیادہ کوشش و محنت اسی قسم کے قیام کے لئے کرتے تھے۔ خصوصاً پیغمبر اسلامؐ کو جونہی موقع ملا ہجرت مدینہ کے موقع پر نمونے کے طور پر ________ ایسی حکومت قائم کر دی۔ یہاں سے یہ بھی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اس قسم کی حکومت صلح کرے یا جنگ، نیز تعلیم، ثقافت، اقتصاد اور فوج غرض اس کے تمام شعبوں کے پروگرام اور سرگرمیاں الله کی عبادت کے راستے میں ہوتی ہیں۔ ایسی عبادت کہ جو ہر قسم کے شرک سے خالی ہو۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ صالحین کی حکومت کے قیام، دین حق کے استحکام اور شرک سے پاک عبادت کی ترویج کا یہ معنی نہیں کہ اس قسم کے معاشرے میں کوئی گنہ گار اور منحرف نہیں ہو گا بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ نظامِ حکومت صالح مومنین کے ہاتھ میں ہے اور معاشرہ مجموعی اور عمومی طور پر شرک سے پاک ہے ورنہ جب تک انسان ارادے کی آزادی کا حامل ہے بہترین الہٰی اور انسانی معاشروں میں بھی منحرف افراد کا وجود ممکن ہے (غور کیجئے گا)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 57 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر عذاب الٰہی سے فرار ممکن نہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیت میں صالح مومنین سے زمین پر حکمرانی کا وعدہ کیا گیا ہے۔ زیرِ نظر دو آیتوں میں اس حکومت کی بنیادیں رکھنے کے لئے لوگوں کو دعوت دی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عظیم رکاوٹیں دُور کرنے کی ذمہ داری بھی خدا خود لے رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: نماز قائم کرو (وَاَقِیمُوا الصَّلَاةَ)۔ وہی نماز جو مخلوق کا خالق سے رشتہ قائم کر دیتی ہے۔ اللہ سے بندوں کے مسلسل ارتباط کی ضامن ہے اور انسانوں کو برائیوں اور نافرمانیوں سے بچا لیتی ہے۔ اور زکوٰة ادا کرو (وَآتُوا الزَّکَاةَ)۔ وہی زکوٰة کہ جو انسانوں کو مخلوقِ خدا سے مربوط کر دیتی ہے۔ ان کے باہمی فاصلوں کو کم کرنے کے لئے نہایت موٴثر ہے اور جذبات و احساسات کے رشتوں کو مستحکم کرتی ہے۔ اور مجموعی طور پر "ہر چیز میں حکم رسول کے فرمانبردار رہو" (وَاَطِیعُوا الرَّسُولَ)۔ وہ اطاعت کہ جو تمھیں صالح مومنین کے راستے پر لے جائے گی اور زمین پر حکمرانی کے اہل افراد میں شامل کر دے گی۔ "تاکہ تم ان احکام پر عمل پیرا ہو کر رحمتِ خدا کے زیر سایہ آ جاؤ (لعلکم ترحمون)۔ اور حق و عدالت کی حکومت کے علمبرداری کے لائق ہو جاؤ۔ اگر تمہارا یہ خیال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ طاقتور ہٹ دھرم دشمن اس راست میں روڑے اٹکائیں گے اور وعدہ الہٰی کی تکمیل میں رکاوٹ بنیں گے تو ایسا ہرگز ممکن نہیں ہے کیونکہ اللہ کی قدرت سامنے اُن کی طاقت کی کوئی حیثیت نہیں لہٰذا یہ "گمان نہ کرو کہ کافر لوگ الله کی سزا سے بھاگ کر اس وسیع زمین سے کہیں فرار کر جائیں گے (لَاتَحْسَبَنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا مُعْجِزِینَ فِی الْاَرْضِ)۔ یہ لوگ نہ صرف اس دنیا میں خدائی سزا سے محفوظ نہیں ہیں بلکہ آخرت میں "اُن کا ٹھکانا آگ ہے اور وہ کیسی بُری جگہ" (وَمَاْوَاھُمْ النَّارُ وَلَبِئْسَ الْمَصِیرُ)۔ "معجزین" "معجزہ" کی جمع ہے جو "اعجاز" کے مادے سے عاجز کرنے کے معنی میں ہے بعض اوقات انسان کسی کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہے اور وہ اس سے بھاگ نکلتا ہے۔ یہ جتنی بھی کوشش کرتا ہے وہ ہاتھ نہیں لگتا یہاں تک کہ وہ اس کی دسترس سے باہر نکل جاتا ہے۔ زیرِ بحث آیت کا مفہوم ہے کہ تم اقتدارِ قدرت سے باہر نہیں جا سکتے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر والدین کے کمرے میں آنے کے آداب
Tafsīr Nemūna · Vol. 4ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ اس سورہ میں سب سے زیادہ روز عفت و پاکدامنی پر دیا گیا ہے اور ہر قسم کی بدکاری اور بےحیائی سے روکا گیا ہے۔ اس موضوع پر مختلف حوالوں اور پہلووٴں سے بات کی گئی ہے۔ زیرِ بحث آیات کا بھی عنوان گفتگو یہی ہے۔ ان آیات میں میاں بیوی کے خصوصی کمرے یا خلوت گاہ میں بالغ اور نابالغ بچوں کے داخلے کے آداب بیان کئے گئے ہیں۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: اے ایمان لانے والو! جو تمھارے مملوک (اور غلام) ہیں اور اسی طرح تمھارے وہ بچے جو ابھی حدّ بلوغ کو نہیں پہنچے انھیں چاہیے کہ تین اوقات میں تم سے اجازت لیا کریں (یَااَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا لِیَسْتَاْذِنْکُمْ الَّذِینَ مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ وَالَّذِینَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْکُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ)۔ نماز فجر سے پہلے، دوپہر کے وقت جبکہ تم اپنا لباس اُتار دیتے ہو اور نماز عشاء کے بعد (مِنْ قَبْلِ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَحِینَ تَضَعُونَ ثِیَابَکُمْ مِنَ الظَّھِیرَةِ وَمِنْ بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ)۔ "ظھیرة" جیسا کہ راغب مفردات میں اور فیروز آبادی نے قاموس میں کہا ہے۔ دوپہر اور حدودِ ظہر کے معنیٰ میں ہے جس وقت عموماً لوگ اپنے اُوپر والے لباس اُتار دیتے ہیں اور بعض اوقات میا ں بیوی آپس میں خلوت کرتے ہیں۔ یہ تین اوقات تمھارے لئے پردے کے اور خصوصیت کے اوقات ہیں (ثَلَاثُ عَوْرَاتٍ لَکُمْ)۔ "عورہ" "عار" کے مادّے "عیب" کے معنی میں ہے اور آلہ جنسی کا ظاہر ہونا چونکہ عیب، شرم اور عار کا باعث ہے اس لئے عربی زبان میں اسے "عورۃ" کہتے ہیں۔ لفظ "عورة" بعض اوقات دیوار یا لباس وغیرہ کے سوراخ کے معنیٰ میں بھی استعمال ہوتا ہے اور کبھی مطلق عیب کے معنیٰ ہیں۔ بہرحال، ان تین اوقات پر اس لفظ کا اطلاق اس لئے ہوا کہ لوگ ان اوقات میں اپنے آپ کو چھپانے کا باقی اوقات کی طرح اہتمام نہیں کرتے اور ایک خاص حالت میں ہوتے ہیں۔ واضح ہے یہ حکم بچوں کے سرپرستوں کے لئے ہے کہ وہ انھیں ایسا کرنے کے لئے کہیں کیونکہ وہ ابھی بالغ ہی نہیں ہوئے لہٰذا ان پر شرعی اور الٰہی ذمہ داریاں ابھی عائد نہیں ہوتیں لہٰذا یہاں اُن کے والدین اور سرپرستوں سے خطاب ہے۔ ضمناً واضح رہے کہ آیت کا اطلاق لڑکوں اور لڑکیوں دونوں پر ہوتا ہے۔ آیت میں جمع مذکّر کا صیغہ "الذین" آیت کے مفہوم کی عمومیت میں مانع نہیں ہے کیونکہ بہت سے مواقع پر تغلیب کی وجہ سے یہ لفظ سب کے لئے یکساں بولا جاتا ہے جیسا کہ وجوبِ روزہ والی آیت میں "الذین" استعمال ہوا ہے جس سے سب مسلمان مراد ہیں (سورہٴ بقرہ۔۸۳)۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ آیت ان بچوں کے بارے میں بات کر رہی ہے جو حدّ تمیز کو پہنچ گئے ہوں اور جنسی امور اور شرمگاہ کے بارے میں کچھ سوجھ بوجھ رکھتے ہوں کیونکہ اجازت لینے کا حکم خود اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس قدر سمجھتے ہیں کہ اجازت لینے کے کیا معنی ہیں اور "ثلاث عورات" کی تعبیر بھی اس مفہوم کے لئے ایک شاہد ہے۔ اب ہم مملوک اور غلاموں کے بارے میں بات کرتے ہیں کہ کیا یہ حکم ان میں سے مردوں کے لئے مخصوص ہے یا کنیزوں کے لئے بھی ہے؟ اس سلسلے میں مختلف روایات وارد ہوئی ہیں۔ آیت کا ظاہری مفہوم تو عام ہے اور اس میں دونوں شامل ہیں لہٰذا ہم ان روایات کو ترجیح دے سکتے ہیں کہ جو ظاہر آیت سے مطابقت رکھتی ہیں۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: تم پر اور ان پر کوئی گناہ نہیں کہ ان اوقات کے بعد اجازت لئے بغیر آئیں، ایک دوسرے کی خدمت کریں اور (خلوص و محبّت کے ساتھ) ایک دوسرے کے پاس جمع ہوں (لَیْسَ عَلَیْکُمْ وَلَاعَلَیْھِمْ جُنَاحٌ بَعْدَھُنَّ طَوَّافُونَ عَلَیْکُمْ بَعْضُکُمْ عَلیٰ بَعْضٍ)۔ جی ہاں! الله اسی طرح اپنی آیتیں تمھارے لئے بیان کرتا ہے اور خدا علیم و حکیم ہے (کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللهُ لَکُمْ الْآیَاتِ وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ)۔ لفظ "طوافون" اصل میں "طواف" کے مادے سے ہے جس کا معنیٰ ہے کسی چیز کا گردش کرنا، یہاں لفظ چونکہ مبالغے کے صیغے میں آیا ہے اس لئے اس میں کثرت سے گردش کرنا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اس کے بعد "بَعْضُکُمْ عَلیٰ بَعْضٍ" آیا ہے اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے عبارت کا مفہوم یہ ہو گا کہ ان تین اوقات کے علاوہ تمھیں اجازت ہے کہ ایک دوسرے کے گرد پھرو، آو جاوٴ اور ایک دوسرے کی خدمت بجا لاوٴ۔ "کنزالعمال" میں فاضل مقداد کے بقول یہ تعبیر درحقیقت باقی اوقات میں اجازت لینے کی دلیل بیان کر رہی ہے کیونکہ اگر ہر وقت آنا جانا ہو اور ہر وقت اجازت لینے کا مسئلہ درپیش ہو تو معاملہ بہت مشکل ہو جائے۔ (بحوالہ: کنزالعرفان، ج۲، ص۲۲۵)۔ اگلی آیت میں بالغوں کے بارے میں حکم دیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: جب تمھارے بچے بالغ ہو جائیں تو ہر وقت اجازت لیا کریں جیسے کہ ان سے بڑے لوگ اجازت لیا کرتے تھے (وَإِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْکُمْ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوا کَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِھِمْ)۔ لفظ "حلم" (بروزن "کُتُب") عقل کے معنیٰ میں آیا ہے اور بلوغ کے لئے کنایہ ہے کیونکہ بلوغت کے ساتھ عموماً انسان کو عقلی اور فکری تحرّک بھی ملتا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ "حلم" خواب دیکھنے کے معنیٰ میں ہے اور چونکہ نوجوان بالغ ہونے کے ساتھ ساتھ ایسے خواب دیکھتے ہیں کہ جو ان کے احتلام کا سبب بنتے ہیں لہٰذا یہ لفظ کنائے کے طور پر بلوغ کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔ بہرحال، اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بالغوں کا حکم نابالغوں سے مختلف ہے کیونکہ گزشتہ آیت کے مطابق نابالغ بچوں کے ذمہ صرف تین اوقات میں اجازت لینا ہے کیونکہ ان کی زندگی اور بود و باش ہی ایسی ہوتی ہے کہ اُن کا ماں باپ کے پاس بہت آنا جانا ہوتا ہے اگر ہر وقت وہ اجازت لیں تو مشکل ہو جائے۔ علاوہ ازیں ان کے جنسی احساسات ابھی پوری طرح بیدار بھی نہیں ہوئے ہوتے لیکن اس سے بعد والی آیت میں بالغ بچوں کے لئے مطلق طور پر اجازت لینا واجب قرار گیا ہے۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر حالت میں ماں باپ کے پاس آتے وقت اجازت لیں۔ یہ حکم اس جگہ اور کمرے کے لئے مخصوص ہے کہ جس میں ماں باپ آرام کر رہے ہوں ورنہ عمومی کمرے میں جہاں دوسرے لوگ بھی ہوں اور کوئی رکاوٹ یا ممانعت بھی نہ ہو، اجازت لینا ضروری نہیں۔ اس نکتے کا بھی ذکر ضروری ہے کہ "کَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِھِمْ" کا جملہ ان بڑے افراد کی طرف اشارہ ہے کہ جو ہر وقت ماں باپ کے پاس ان کے کمرے میں جاتے ہوئے اجازت لینے کے ذمہ دار ہیں۔ اِس آیت میں جو ابھی نئے سن بلوغ میں داخل ہوئے انھیں ان بڑوں کی طرح اجازت لینے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ آیت کے آخر میں بطور تاکید اور مزید توجہ دلانے کے لئے فرمایا گیا ہے: اس طرح الله تمھارے لئے اپنی آیتیں واضح کرتا ہے اور الله علیم و حکیم ہے (کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللهُ لَکُمْ آیَاتِہِ وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ)۔ یہ تقریباً وہی جملہ ہے جو گزشتہ آیت کے آخر میں بھی آیا ہے۔ فرق یہ ہے کہ وہاں "الآیات" تھا اور اس میں "آیاتہ" آیا ہے کہ معنیٰ کے لحاظ سے جس میں کوئی خاص فرق نہیں۔ اس حکم کی خصوصیات اور اس کے فلسفے کے بارے میں ہم "چند اہم نکات" کے ذیل میں بات کریں گے۔ زیرِ بحث آخری آیت میں عورتوں کے لئے پردے کے حکم میں ایک استثناء بیان کیا گیا ہے عمر رسیدہ بوڑھی عورتوں کو اس حکم سے مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جو عورتیں جوانی گزار بیٹھی ہیں اور شادی کی امیدوار نہیں ان کے لئے کوئی گناہ نہیں اگر چادر اُتار رکھیں جبکہ لوگوں کے سامنے خود آرائی نہ کریں (وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللاَّتِی لَایَرْجُونَ نِکَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْھِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَضَعْنَ ثِیَابَھُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِینَةٍ)۔ اس استثناء کے لئے درحقیقت دو شرطیں ہیں: پہلی یہ کہ وہ اس عمر کو پہنچ جائیں گے اب شادی بیان کی امید اور آرزو نہ رکھتی ہوں۔ دوسرے لفظوں میں ان کے جنسی جذبات بالکل ختم ہو چکے ہوں۔ دوسرا یہ کہ پردہ اٹھا رکھنے کے بعد بناوٴ سنگھار نہ کریں۔ واضح رہے کہ ان دو شرطوں کی موجودگی میں اگر پردہ نہ ہو تو اس میں کوئی برائی نہیں اسی لئے اسلام نے ایسی خواتین کے لئے یہ گنجائش رکھی ہے۔ یہ نکتہ بھی واضح ہے کہ یہاں مراد یہ نہیں کہ اُنھیں عریاں ہونے کی اجازت مل گئی ہے اور وہ سارا لباس اُتار سکتی ہیں بلکہ صرف اُوپر کا لباس مراد ہے جسے بعض روایات میں بُرقعے، چادر اور دوپٹّے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ روایت کے الفاظ میں: الجلباب والخمار یعنی___ چادر اور دوپٹّہ۔ ایک حدیث میں اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے اما صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "الخمار والجلباب، قلت بین یدی من کان؟ قال: بین یدی من کان غیر متبرجة بزینة". راوی کہتا ہے: میں نے پوچھا جس شخص کے سامنے بھی ہو؟ فرمایا: جس کسی کے سامنے بھی ہو البتہ خودنمائی اور بناؤٴ سنگھار نہ کرے۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۱۴، کتاب النکاح، ص۱۴۷، باب۱۱۰)۔ اس مضمون کی اور اس سے ملتی جلتی متعدد روایات ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے مروی ہیں۔ (تشریحی نوٹ: روایات کے تفصیلی مطالعے کے لئے وسائل الشیعہ کے محررہ بالا باب کی طرف رجوع کریں)۔ آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے: اس سب کے باوجود اگر پاکدامنی اختیار کریں اور پردہ سے کیسے رہیں تو اُن کے لئے زیادہ بہتر ہے (وَاَنْ یَسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَھُنَّ)۔ کیونکہ عورت جس قدر بھی عفّت و حجاب کو ملحوظ رکھے اسلام کی نظر میں اسی قدر پسندیدہ ہے اور تقویٰ سے اسی قدر قریب ہے۔ ممکن ہے بعض سن رسیدہ عورتیں اس سوچی سمجھی اور جائز آزادی سے غلط فائدہ اٹھائیں اور بعض اوقات مردوں سے غیر مناسب باتوں میں مشغول ہو جائیں یا طرفین کے دل میں گندے خیالات پیدا ہوں لہٰذا آیت کے آخر میں خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اور الله سننے والا اور جاننے والا ہے (وَاللهُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ)۔ جو کچھ تم کہتے ہو وہ سنتا ہے اور جو کچھ تمھارے دل میں یا دماغ میں ہے اسے جانتا ہے۔
چند اہم نکات ۱۔ اجازت لینے کا فلسفہ
بُرائی اور بدکاری کی روک تھام کے لئے صرف مجرموں کو کوڑے لگانا کافی نہیں ہے۔ کسی بھی معاشرتی مسئلے میں اس قسم کا طریقہٴ کار مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کر سکتا بلکہ ضروری ہے کہ فکری تربیت کا اہتمام ہو، اچھی ثقافت کی تعلیم، اخلاقی آداب سکھائے جائیں۔ صحیح اسلامی تعلیمات عام کی جائیں اور ایک پاک صاف صحت مند معاشرہ اور ماحول پیدا کیا جائے۔ اس کے بعد سزا، حدود اور تعزیرات کو ان عوامل کے ساتھ ایک عامل کی حیثیت سے انتخاب کیا جائے۔ سورہٴ نور میں اسی لئے یہی روش اختیار کی گئی ہے۔ پہلے تو اس میں زانی عورتوں اور مردوں کی سزا کا ذکر ہے اور پھر اس کے بعد صحیح طریقے سے شادی کے وسائل فراہم کرنے کا حکم ہے۔ پردے کا بیان ہے۔ نظر بازی سے منع کیا گیا ہے۔ تہمت کی ممانعت کی گئی ہے اور آخر میں ماں باپ کی خلوت میں جاتے وقت اولاد کے لئے اجازت لینا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اس اعتبار سے مجموعی طور پر یہ عفت و پاکدامنی کی صورت میں ہے۔ اس قدر تفصیلات سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اسلام نے اس مسئلے سے مربوط چھوٹی چھوٹی چیزوں سے بھی غفلت نہیں برتی۔ خدمت گاروں کی ذمہ داری ہے کہ جس کمرے میں بیوی اور شوہر موجود ہیں اُس میں داخل ہوتے وقت اجازت لیں۔ بالغ بچوں کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ بلا اجازت اندر نہ جائیں یہاں تک کہ نابالغ بچے بھی ہمیشہ ماں باپ کے پاس ہوتے ہیں کم از کم تین اوقات میں ان سے اجازت لئے بغیر اُن کے کمرے میں نہ جائیں (نماز صبح سے پہلے، نماز عشاء کے بعد اور دوپہرکے وقت کہ جب ماں باپ آرام کر رہے ہوں)۔ یہ اسلامی آداب ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ زمانے میں ان کا بہت کم لحاظ رکھا جاتا ہے حالانکہ قرآن نے اس سلسلے میں بڑی صراحت سے کام لیا ہے۔ تحریروں، تقریروں اور بیان کے احکام کے وقت بھی بہت کم دیکھا گیا ہے کہ اس اسلامی حکم اور اس کے فلسفے کے بارے میں بات ہوتی ہو۔ معلوم نہیں کہ اس قطعی قرآنی حکم سے کس وجہ سے غفلت برتی جا رہی ہے۔ اگرچہ آیت ظاہری اعتبار سے اس حکم کا واجب ہونا ظاہر کر رہی ہے لیکن بالفرض اسے مستحب بھی سمجھا جائے تب بھی اس کے بارے میں گفتگو ہونا چاہیے اور اس کی تفصیلات پر بات ہونا چاہیے۔ اس کے برخلاف یہ ہے کہ بعض سادہ لوح افراد یہ خیال کرتے ہیں کہ چھوٹے بچے ایسے مسائل کی طرف توجہ نہیں دیتے اور خادم وغیرہ بھی ان امور میں نہیں پڑتے لیکن بہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ چھوٹے بچے (چہ جائیکہ بڑے) اس مسئلے میں بہت حساس ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ماں باپ غفلت برتتے ہیں اور سہل انگاری سے کام لیتے ہیں اور بچوں کے سامنے ایسی حرکتیں کرتے ہیں کہ جو نہیں کرنا چاہئیں اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچے بعض اوقات اخلاقی بے راہ روی کا یا نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہم خود ایسے افراد سے ملے ہیں کہ جنھوں نے اعتراف کیا ہے کہ اس امر سے ماں باپ کی بےتوجہی کی وجہ سے اور ماں باپ سے نفرت پیدا ہوئی کہ وہ انھیں قتل کرنے تک پر تل گئے اور بعض اوقات خود بھی خود کشی تک جا پہنچے۔ ایسے ہی مقامات پر اس حکم اسلامی کی قدر و قیمت واضح ہوتی ہے۔ وہ مسائل کہ جن تک آج ماہرین اور دانشور پہنچے ہیں اسلام چودہ سو سال پہلے اپنے احکام میں ان کے بارے میں اپنا موقف واضح کر چکا ہے۔ اس مقام پر ہم یہ بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ ماں باپ کو نصیحت کریں کہ ان آداب و رسوم کو سنجیدگی سے اپنائیں اور اپنی اولاد کو اپنے کمرے میں آنے کے لئے اجازت لینے کا عادی بنائیں۔ ہاں یہ خیال رہے کہ دوسرے امور کے علاوہ عورت اور مرد کا اس کمرے میں سونا بھی بچوں میں تحریک کا سبب بنتا ہے جس میں ممیز بچے سوئے ہوئے ہوں۔ اس سلسلے میں جتنا ممکن ہو پرہیز کرنا چاہیے اور یہ بات خوب سمجھ لینی چاہیے کہ تربیتی امور میں ان احکام و آداب کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ یہ بات لائق توجہ ہے ایک حدیث میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ و آلہ وسلّم فرماتے ہیں: ایّاکم وان یجامع الرجل امرئتہ والصبی فی المھد ینظر الیھا جب بچہ گہوارہ میں پڑا دیکھ رہا ہو تو اس وقت مباشرت نہ کرو (بحوالہ: بحارالانوار، ج۱۰۳، ص۲۹۵)۔
۲۔ سن رسیدہ عورتوں کے لئے پردے کا حکم:
علمائے اسلام کے درمیان اس بات میں اختلاف نہیں ہے کہ عمر رسیدہ عورتیں پردے کے حکم سے مستثنیٰ ہیں کیونکہ قرآن نے اس سلسلے میں واضح حکم دیا ہے۔ البتہ اس استثناء کی تفصیلات میں اختلاف موجود ہے مثلاً: ان عورتوں کی عمر کیا ہے اور یہ کہ کس حد تک پہنچ جائیں تو "قواعد" کا لفظ ان پر صادق آتا ہے۔ اس میں اختلاف ہے بعض اسلامی روایات میں ان کے لئے لفظ "مسنة" (سن رسیدہ) استعمال ہوا ہے۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۱۴، کتاب النکاح، باب۱۱۰، حدیث۴)۔ جبکہ بعض دوسری روایات میں "قعود از نکاح" کی تعبیر آئی ہے یعنی وہ شادی کے قابل نہ رہی ہوں۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۱۴، کتاب النکاح، باب۱۱۰، حدیث۵)۔ لیکن بعض فقہاء اور مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد ماہواری کا خاتمہ، بچہ جننے کے قابل نہ رہنا اور کسی سے اس کا نکاح کی خواہش نہ کرنا ہے۔ (بحوالہ: جواہر، ج۲۹، ص۸۵ اور کنز العرفان، ج۲، ص۲۲۶)۔ لیکن ظاہراً یہ سب تعبیرات ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور وہ یہ کہ عورتیں اس عمر کو پہنچ جائیں کہ جن میں عموماً کوئی عورت شادی نہیں کرتی اگرچہ ممکن ہے شاذ و نادر ایسا ہو جائے۔ ایسی عورتوں کے لئے کس قدر بدن ظاہر کرنا جائز ہے اس سلسلے میں روایات مختلف ہیں جبکہ قرآن میں اجمالی طور پر فرمایا گیا ہے کہ کوئی حرج نہیں کہ وہ اپنا لباس اتار دیں البتہ یہ بات واضح ہے کہ ا س سے اوپر والا لباس مراد ہے۔ بعض روایات میں اس سوال کے جواب میں کہ وہ کونسا لباس اتار سکتی ہیں، امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: الجلباب چادر اور برقعہ۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، کتاب النکاح، باب۱۱۰، حدیث۱)۔ جبکہ ایک اور روایت میں "جلباب و خمار" (بحوالہ: وسائل الشیعہ، کتاب النکاح، باب۱۱۰، حدیث۲و ۴) کے الفاظ ہیں ("خمار" دوپٹے کو یا اس رومال کو کہتے ہیں جو عورتیں سر پر باندھتی ہیں)۔ ظاہراً ایسی احادیث ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں۔ مراد یہ ہے کہ کوئی حرج نہیں اگر وہ اپنا سر کھلا رکھیں اور اپنے بال و گردن اور چہرہ نہ چھپائیں۔ بعض احادیث اور کلماتِ فقہاء میں ان کی کلائی کو بھی مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے لیکن اس سے زیادہ کے بارے میں استثناء کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ بہرحال، یہ سب اس صورت میں ہے کہ خود آرائی نہ کریں (غَیْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِینَةٍ)۔ اور اپنی پنہاں زینتوں کو دوسری عورتوں کی طرح چھپائیں اس طرح زیب و زینت کے لباس بھی نہ پہنیں۔ دوسرے لفظوں میں اُن کے لئے جائز ہے کہ وہ چادر اور دوپٹے کے بغیر سادہ لباس میں بغیر آرائش کے گھر سے باہر آئیں۔ لیکن اس کے باوجود ایسا کرنا اُن کے لئے ضروری نہیں بلکہ اگر وہ دوسری عورتوں کی طرح پردے کی پابندی کریں تو یہ بہتر ہے جیسا کہ زیرِ بحث آیت میں بھی اس سلسلے میں صراحت موجود ہے کیونکہ اگرچہ شاذ و نادر ہی ہو لغزش کا امکان بھی موجود ہے۔
تفسیر جن گھروں میں جا کر کھانا کھانا جائز ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیات میں معین اوقات میں یا مطلق طور پر ماں باپ کے خصوصی کمرے میں داخل ہوتے وقت اجازت لینے کے بارے میں بات کی گئی تھی۔ زیرِ بحث آیات میں درحقیقت ایک استثنائی پہلو پر بات کی گئی ہے۔ اس میں ان رشتے داروں اور دیگر لوگوں کی نشاندہی کی گئی ہے کہ جن کے ہاں خاص حالات میں جایا جا سکتا ہے اور اجازت لیے بغیر کھانا کھایا جا سکتا ہے۔ ارشاد فرمایا گیا: اندھے، لنگڑے اور بیمار اشخاص کے لئے کوئی حرج نہیں کہ وہ تمھارے ساتھ مل کر کھا پی لیں (لَیْسَ عَلَی الْاَعْمَی حَرَجٌ وَلَاعَلَی الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَاعَلَی الْمَرِیضِ حَرَجٌ)۔ بعض روایات میں ہے کہ قبول اسلام سے پہلے اہلِ مدینہ اندھے، لنگڑے اور بیمار افراد کو اپنے دسترخوان پر بیٹھنے سے منع کرتے تھے اور ان کے ساتھ مل کر کھانا نہیں کھاتے تھے۔ انھیں اس کام سے نفرت تھی۔ ظہور اسلام کے بعد کچھ لوگ ایسے افراد کو الگ کھانا کھلاتے تھے البتہ اس بناء پر نہیں کہ ان کے ساتھ کھانا کھانے سے نفرت کرتے تھے بلکہ اس بناء پر کہ شاید نابینا شخص کھانے کو اچھی طرح نہ دیکھ سکے اور یہ خود تو کھا لیں مگر وہ نہ کھا سکے اور اسے وہ خلافِ اخلاق و مروّت سمجھتے تھے۔ اسی طرح لنگڑے اور بیمار افراد کے بارے میں اس خیال سے کہ ہو سکتا ہے وہ کھانا کھانے میں پیچھے رہ جائیں اور جو لوگ صحیح و سالم ہیں وہ کھا پی لیں بہرحال، جو بھی وجہ تھی اُن کے ساتھ مل کر کھانا نہیں کھاتے تھے۔ اس بناء پر، اندھے، لنگڑے اور بیمار افراد بھی اپنے آپ کو الگ تھلگ رکھتے تھے اس خیال سے کہ ہو سکتا ہے وہ دوسروں کے لئے باعث زحمت ہوں اور اس زحمت دینے کو وہ اپنے لئے گناہ تصور کرتے تھے۔ اس سلسلے میں رسول اللهؐ سے سوال ہوا تو یہ آیت نازل ہوئی اور یہ واضح کیا گیا کہ اگر یہ افراد تمھارے ساتھ مل کر کھانا کھائیں تو کوئی حرج نہیں (تشریحی نوٹ: تفسیر درالمنثور، تفسیر نور الثقلین، زیر بحث آیت کے ذیل میں، ان کے علاوہ بھی بعض مفسرین نے اپنی تفسیر میں یہ روایت درج کی ہے مثلاً طبرسی نے مجمع البیان میں، مرحوم فیض نے تفسیر صافی میں، فخر رازی نے تفسیر کبیر میں، شیخ طوسی نے تبیان میں اسے درج کیا ہے)۔ البتہ اس جملے کی تفسیر میں مفسرین نے دیگر تفسیریں بھی ذکر کی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ افراد حکمِ جہاد سے مستثنیٰ ہیں۔ ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ تمھیں اجازت ہے کہ ایسے معذور اور ناتواں افراد کو اپنے ساتھ ان گیارہ گھروں میں لے جاوٴ کہ جن کا ذکر آیت میں آیا ہے اور یہ کہ وہ بھی وہاں سے کھانا کھائیں۔ لیکن یہ دونوں تفسیریں بہت بعید معلوم ہوتی ہیں اور آیت کے ظاہری مفہوم سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ (غور کیجئے گا)۔ __________ اس کے بعد قرآن مجید مزید کہتا ہے: تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ اپنے گھروں سے جہاں تمھاری اولاد یا بیویاں رہتی ہیں کہ جو تمھارے اپنے گھر شمار ہوتے ہیں کھا پی لو (وَلَاعَلیٰ اَنفُسِکُمْ اَنْ تَاْکُلُوا مِنْ بُیُوتِکُمْ)۔ یا اپنے باپ داد کے گھر سے (اَوْ بُیُوتِ آبَائِکُمْ)۔ یا اپنے ماوٴں کے گھر سے (اَوْ بُیُوتِ اُمَّھَاتِکُمْ)۔ یا اپنے بھائیوں کے گھر سے (اَوْ بُیُوتِ إِخْوَانِکُمْ)۔ یا اپنی بہنوں کے گھر سے (اَوْ بُیُوتِ اَخَوَاتِکُمْ)۔ یا اپنے چچوں کے گھر سے (اَوْ بُیُوتِ اَعْمَامِکُمْ)۔ یا اپنی پھوپھیوں کے گھر سے (اَوْ بُیُوتِ عَمَّاتِکُمْ)۔ یا اپنے مامووٴں کے گھر سے (اَوْ بُیُوتِ اَخْوَالِکُمْ)۔ یا اپنی خالاوٴں کے گھر سے (اَوْ بُیُوتِ خَالَاتِکُمْ)۔ یا اُن گھروں سے جن کی چابی تمھارے پاس ہے (اَوْ مَا مَلَکْتُمْ مَفَاتِحَہُ)۔ یا اپنے دوستوں کے گھر سے (اَوْ صَدِیقِکُمْ)۔ البتہ اس حکم کی کچھ شرائط اور توضیحات ہیں جنھیں ہم بعد میں ذکر کریں گے۔ اس کے بعد سلسلہٴ کلام جاری رکھتے ہوئے فرمایا گیا ہے: تمھارے لئے کوئی مضائقہ نہیں کہ مل کر کھاوٴ یا الگ سے (لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْکُلُوا جَمِیعًا اَوْ اَشْتَاتًا)۔ گویا بعض مسلمان ابتدائے اسلام میں علیحدہ علیحدہ کھانا کھانے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے اور اگر انھیں کوئی ساتھ مل کر کھانا کھانے والا نہ ملتا تو بعض اوقات عرصے تک بھوکے رہتے۔ قرآن انھیں تعلیم دیتا ہے کہ اجتماعی صورت میں بھی اور الگ سے بھی ہر دو طرح سے کھانا کھانا جائز ہے۔ (بحوالہ: تفسیر تبیان، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں)۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ بعض عربوں کے ہاں یہ رواج تھا کہ وہ مہمان کا کھانا احترام کے طور پر الگ لے کر جاتے تھے اور خود اس کے ساتھ مل کر نہیں کھاتے تھے (تاکہ کہیں وہ شرمندگی محسوس نہ کرے اور آزادی سے نہ کھا سکے)۔ آیت نے ان پابندیوں کو ختم کر دیا اور انھیں تعلیم دی کہ یہ کوئی اچھی رسم نہیں ہے۔ (بحوالہ: تفسیر تبیان، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں)۔ بعض نے کہا ہے کہ کچھ مالدار ایسے تھے کہ جو غریب لوگوں کے ساتھ کھانا نہیں کھاتے اور طبقاتی فاصلہ دسترخوان تک پر ملحوظ رکھتے تھے۔ قرآن نے اس آیت میں اس ظالمانہ روش کی نفی کی ہے۔ (بحوالہ: تفسیر تبیان، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں)۔ لیکن کوئی حرج نہیں کہ آیت کے پیش نظر یہ تمام امور ہوں۔ اس کے بعد معاشرتی اخلاق کے بارے میں ایک اور حکم ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: جب تم کسی گھر میں داخل ہو تو اپنے اوپر سلام کرو، الله کی طرف سے مبارک و پاکیزہ سلام و تحیّت (فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوتًا فَسَلِّمُوا عَلیٰ اَنفُسِکُمْ تَحِیَّةً مِنْ عِنْدِ اللهِ مُبَارَکَةً طَیِّبَةً)۔ آیت اس جملے پر ختم ہوتی ہے: تمہارے لیے اللہ اس طرح سے اپنی آیات واضح کرتا ہے شاید تم عقل و فکر سے کام لو۔ (کذٰلک یبین اللہ لکم الاٰیات لعلکم تعقلون)۔ ان "بیوت" سے کون سے گھر مراد ہیں؟ بعض مفسرین مذکورہ بالا گیارہ گھروں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں۔ بعض دوسرے مفسرین نے "بیوت" سے مسجدیں مراد لیا ہے۔ لیکن واضح ہے کہ آیت مطلق ہے اور اس سے تمام گھر مراد ہو سکتے ہیں چاہے وہ مذکورہ گیارہ گھر ہوں کہ جن میں آدمی کھانے کے لئے جاتا ہے یا دیگر رشتے داروں اور دوستوں کے گھر کیونکہ آیت کے وسیع مفہوم کو محدود کرنے کے لئے کوئی دلیل نہیں موجود نہیں ہے۔ رہا یہ سوال کہ اپنے اوپر سلام کرنے سے کیا مراد ہے؟ اس سلسلے میں بھی متعدد تفاسیر نظر آتی ہیں: ٭ بعض نے کہا ہے کہ اس سے کچھ افراد کا دوسروں کو سلام کرنا ہے جیسا کہ سورہٴ بقرہ آیت ۵۴ کے مطابق بنی اسرائیل کے واقعے میں ہے: فاقتلوا انفسکم تم ایک دوسرے کو سزا کے طور پر قتل کرو۔ ٭بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد بیوی بچوں اور اہل خانہ کو سلام کرنا ہے کیونکہ وہ انسان کی اپنی ذات ہی کی طرح ہیں اس لئے انھیں "انفس" کہا گیا ہے آیتِ مباہلہ (کو جو آل عمران کی اکسٹھویں آیت ہے) میں بھی یہ تعبیر دکھائی دیتی ہے اور اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ بعض اوقات ایک شخص دوسرے سے اس قدر نزدیک ہو جاتا ہے گویا خود اُس کا نفس ہو گیا یعنی وہی ہو گیا ہو جیسے حضرت علی علیہ السلام رسول الله صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کے انتہائی قریب تھے اور ان کے لئے یہ لفظ استعمال ہوا۔ ٭ بعض نے کہا ہے اس سے مراد وہ گھر ہیں کہ جن میں کوئی نہیں رہتا تو انسان کو چاہئے کہ اُن میں داخل ہوتے وقت اپنے آپ کو ان الفاظ میں سلام کرے: السلام علینا من قبل ربّنا ہم پر ہمارے پروردگار کی طرف سے سلام ہو۔ یا ان الفاظ میں سلام کرے: السلام علینا وعلیٰ عباد الله الصالحین ہم پر سلام ہو اور الله کے نیک بندوں پر سلام ہو۔ ہماری رائے یہ ہے کہ ان تفاسیر میں کوئی باہمی تضاد نہیں ہے۔ ہر گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنا چاہیے۔ اہلِ خانہ ایک دوسرے کو سلام کریں۔ مومنین ایک دوسرے کو سلام کریں اور اگر گھر میں کوئی نہ ہو تو پھر اپنے اوپر سلام کریں۔ کیونکہ ہر سلام کا نتیجہ درحقیقت اپنے ہی اوپر سلام ہے۔ اسی لئے امام باقر علیہ السلام سے ایک حدیث مروی ہے کہ اس آیت کی تفسیر کے بارے میں آپ علیہ السلام سے سوال کیا گیا تو فرمایا: ھو تسلیم الرجل علیٰ اھل البیت حین یدخل ثمّ یردّون علیہ فھو سلامکم علیٰ انفسکم اس سے مراد یہ ہے کہ جب کوئی آدمی کسی گھر میں داخل ہو تو اہلِ خانہ کو سلام کرے۔ وہ جواب سلام دیں گے اور اس پر سلام کریں گے اور یہ گویا تمھارا خود اپنے اوپر سلام کرنا ہے۔ (بحوالہ: نورالثقلین، ج۳، ص۶۲۷)۔ امام باقر علیہ السلام ہی سے مروی ہے کہ فرمایا: اذا دخل الرجل منکم بیتہ فان کان فیہ احد یسلم علیہ، وان لم یکن فیہ احد فلیقل السلام علینا من عند ربّنا یقول الله عزّوجل تحیّة من عند الله مبارکة طیّبة تم سے سے جب کوئی اپنے گھر میں داخل ہو، اگر اس میں کوئی موجود ہے تو اس پر سلام کرے اور اگر کوئی نہ ہو تو کہے: ہم پر ہمارے پروردگار کی طرف سے سلام۔ جیسا کہ الله نے قرآن میں فرمایا ہے: الله کی طرف سے مبارک و پاکیزہ تحیت و سلام۔ (بحوالہ: نورالثقلین، ج۳، ص۶۲۷)۔
چند اہم نکات ۱۔ کیا کسی کے ہاں سے کھانا کھانے کے لئے اجازت شرط نہیں؟
زیرِ بحث آیت میں ہم نے دیکھا کہ الله تعالیٰ نے انسان کو اجازت دی ہے کہ وہ نزدیکی رشتے داروں اور بعض دوستوں کے ہاں سے کھا پی لے۔ ایسے گیارہ قسم کے گھر گنوائے گئے ہیں۔ آیت میں ان سے اجازت حاصل کرنے کی شرط بھی عائد نہیں کی۔ ویسے بھی یہ بات مسلّم ہے کہ یہ اجازت کے ساتھ مشروط نہیں ہے کیونکہ اجازت سے تو پھر کسی کے ہاں سے بھی کھایا جا سکتا ہے اس میں پھر ان گیارہ گھروں کی کیا خصوصیت رہ جائے گی۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا باطنی رضا مندی بھی ضروری نہیں کیونکہ ظاہراً معلوم ہوتا ہے کہ صاحبِ خانہ دل سے راضی ہے یا نہیں کیونکہ آدمی کو اپنے عزیزوں اور رشتے داروں کا اندازہ ہو ہی جاتا ہے۔ آیت اپنے ظاہر کے اعتبار سے جس طرح سے مطلق ہے اس سے تو اس شرط کی بھی نفی ہوتی ہے۔ یہی احتمال کافی ہے کہ صاحبِ خانہ راضی ہے۔ لیکن اگر طرفین کے باہمی تعلقات یا کیفیت اس طرح کی ہے کہ راضی نہ ہونے کا یقین ہو تو پھر بعید نہیں کہ ایسے موقع پر حکم میں گنجائش ہو خصوصاً جبکہ ایسے مواقع شاذر و نادر ہوتے ہیں اور عموماً مطلق حکم میں ایسے شاذ و نادر امور کا استثنیٰ ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ آیت ایک خاص حد تک ان آیات و روایات کی تخصیص کرتی ہے کہ جن میں دوسروں کی مال میں تصرف کرنے کو اُن کی رضا مندی سے مشروط قرار دیا گیا ہے۔ لیکن ہم پھر یہ کہیں کہ اس اجازت بھی ایک معیّن حد ہے یعنی ضرورت کے مطابق کھانا کھانا اور اسے ضائع نہ کرنا اور اسراف سے پرہیز کرنا۔ جو کچھ ہم نے سطور بالا میں کہا ہے وہ ہمارے فقہاء کے درمیان مشہور ہے۔ اس کا کچھ حصّہ صراحت کے ساتھ روایات میں بھی آیا ہے۔ ایک معتبر روایت کے مطابق امام صادق علیہ السلام "او صدیقکم" کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: ھو والله الرجل یدخل بیت صدیقہ فیاکل بغیر اذنہ والله مراد یہ ہے کہ آدمی اپنے دوست کے گھر داخل ہو اور بغیر اجازت کے کھانا کھا لے۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۱۴، ص۴۳۴، کتاب الاطعمہ و اشربہ، ابواب آداب المائدہ، باب۲۴، حدیث۱)۔ اس سلسلے میں اور بھی متعدد روایات ہیں کہ جن میں فرمایا گیا ہے کہ اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ البتہ فقہاء کے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ اگر صراحت سے منع کر دیا جائے کہ یا ناپسندیدگی اور عدم رضا مندی کا علم اور یقین ہو تو پھر جائز نہیں ہے اور ایسے مواقع پر حکم آیت لاگو نہیں ہوتا۔ کھانا کھاتے ہوئے ضائع، خراب اور اسراف نہ کرنے کے بارے میں روایات میں تصریح موجود ہے۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۱۴، ص۴۳۴، کتاب الاطعمہ واشربہ، ابواب آداب المائدہ، باب۲۴، حدیث۴)۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ خاص قسم کی غذا کھانے اجازت ہے نہ کہ ہر غذا کو کھایا پیا جا سکتا ہے لیکن فقہاء نے اس روایت سے اعراض کیا ہے اس لئے اس سے استناد معتبر نہیں ہے۔ بعض فقہاء نے ان اچھے اور بڑھیا کھانوں کو مستثنیٰ قرار دیا ہے کہ جو صاحبِ خانہ نے کسی خاص مہمان کے لئے یا خاص موقع کے لئے رکھے ہوں اور آیت کے حکم میں یہ استثنیٰ بعید نہیں ہے۔ (بحوالہ: مزید وضاحت کے لئے جوار الکلام، ج۳۶، ص۴۰۶ (کتاب الاطعمہ و اشربہ) کی طرف رجوع فرمائیں)۔
۲۔ اس حکمِ اسلامی کا فلسفہ:
یہ ہو سکتا ہے غصب کے بارے میں اسلام کے واضح اور شدید احکام سے اس حکم کا موازنہ کیا جائے تو سوال پیدا ہو گا کہ اسلام نے دوسروں کے مال میں تصرف کے بارے میں اتنا سخت موٴقف اختیار کرنے کے باوجود اس امر کو کیسے جائز شمار کیا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ سوال سو فیصد مادی امور پر نظر رکھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا۔ یہ سوال اس معاشرے سے متعلق ہے جو آج کے مغربی ممالک کے ماحول کی طرح ہوں کہ جہاں اپنی حقیقی اولاد کو کچھ بڑا ہو جانے پر گھر سے نکال دیا جاتا ہے اور اُن کے کسی حق کا احترام نہیں کیا جاتا اور نہ اُن سے کوئی اظہار محبّت کیا جاتا ہے کیونکہ وہاں تمام مسائل مادی اور اقتصادی محور پر چکر لگاتے ہیں اور انسانی احساسات کا وہاں نام و نشان تک نہیں ہے لیکن مغربی تہذیب کی جو صورتِ حال ہے اس کے پیش نظر ایسا ہونا کوئی باعث تعجب نہیں لیکن اسلامی تہذیب اور سماجی نظام میں انسانی احساسات کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ خاص طور پر قریبی رشتہ داروں اور خاص دوستوں کے بارے میں اسلام بہت حساس ہے اسلام کی نظر میں قرابتداری اور دوستی کے رشتے ان مادی حوالوں سے بہت بلند ہیں یہ رشتے اسلام کی نظر میں بہت مقدس ہیں۔ اسلام تنگ نظری، خود غرضی اور خود پرستی کو پاک کر دینا چاہتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ غصب کے بارے میں اسلامی احکام ان حدود سے باہر ہیں۔ اسلام نے ان خاص حالات میں انسانی رشتوں اور احساسات کو غصب کے احکام پر مقدم شمار کیا ہے۔
۳۔ "صدیق" سے کون مراد ہے؟
اس میں شک نہیں کہ دوستی کا ایک وسیع مفہوم ہے۔ یہاں "صدق" سے مراد خاص اور قریبی دوست ہیں۔ جن کا ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا ہے۔ جن کے درمیان قریبی تعلقات اور روابط کا تقاضا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ہاں آئیں جائیں اور ایک دوسرے کے ہاں کھانا کھائیں۔ یہاں تک کہ اس میں اجازت شرط نہیں ہے صرف اتنا کافی ہے کہ یقین ہو کہ ان کی عدم رضامندی نہیں ہے۔ اسی لئے اس جملے کے ذیل میں بعض مفسرین نے کہا ہے کہ مراد ایسا دوست ہے کہ جو اپنی دوستی میں مخلص اور سچّا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد ایسا دوست ہے کہ جو آپ سے ظاہر و باطن میں ایک جیسا ہو۔ ظاہراً ان سب تفسیروں کا ایک ہی مفہوم نکلتا ہے۔ مناسب ہے کہ اس مقام پر دوستی کے مفہوم اور ا س کی مکمل شرائط امام صادق علیہ السلام کی ایک حدیث میں پڑھیں۔ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: لاتکون الصداقة الّا بحدودھا، فمن کانت فیہ ھذہ الحدود او شیء منھا فانسبہ الی الصداقة ومن لم یکن فیہ شیء منھا فلاتلبسہ الیٰ شیء من الصداقة، فاوّلھا ان تکون سریرتہ وعلانیتہ لک واحدة، والثانی ان یریٰ زینک زینہ وشینک شینہ، والثالثة ان لاتغیرہ علیک ولایة ولامال، والرابعة ان لایمنک شیئاً تنالہ مقدرتہ، والخامسة وھی تجمع ھٰذہ الخصال ان لایسلمک عند النکبات۔ دوستی کے کچھ شرائط اور حدود ہیں جن کے بغیر دوستی کا مفہوم نہیں۔ جس شخص میں یہ شرائط یا ان کا کچھ حصّہ ہو اُسے دوست سمجھو جس میں ان شرائط اور خصوصیات میں سے کوئی بھی شرائط نہ اُس میں دوستی والی کوئی بات نہیں۔ دوستی کی پہلی شرط یہ ہے کہ اس کا ظاہر و باطن ایک جیسا ہو۔ دوسری شرط یہ ہے کہ تیرے وقار اور آبرو کا اپنا وقار اور آبرو سمجھے۔ اور تیری برائی اور نقصان کو اپنی برائی اور نقصان سمجھے۔ تیسری شرط یہ ہے کہ مقام و منصب اور مال و دولت کی وجہ سے وہ تجھ سے برتاوٴ میں تبدیلی نہ کرے۔ چوتھی شرط یہ ہے کہ جو کچھ اس کے اختیار میں ہے اس میں تیرے لئے دریغ نہ کرے۔ اور پانچویں شرط یہ ہے کہ جس میں یہ تمام شرطیں ہیں یہ ہے کہ جب زمانہ تجھ سے منہ موڑ لے وہ تجھے تنہا نہ چھوڑے، (بحوالہ: اصول کافی، ج۲، ص۴۶۷)۔
۴۔ مَا مَلَکْتُمْ مفاتحہ کی تفسیر:
متعدد شان ہائے نزول میں آیا ہے کہ صدر اسلام میں جب مسلمان جہاد پر جاتے تھے تو کبھی کبھار اپنے گھر کی چابی ایسے افراد کو سونپ جاتے ہیں جو معذور ہونے کے باعث جہاد پر نہیں جا سکتے تھے۔ یہاں تک کہ اُنھیں یہ اجازت دے جاتے تھے کہ گھر میں موجود غذا بھی کھا سکتے ہیں اور لیکن وہ کبھی اس خوف کہ کہیں گناہ نہ ہو کھانے سے اجتناب کرتے تھے۔ ان روایات کے مطابق "مَا مَلَکْتُمْ مفاتحہ" (وہ گھر کہ جن کی چابیوں کے تم مالک ہو) سے یہی مراد ہے۔ (بحوالہ: تفسیر قرطبی، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں (وسائل الشیعہ، ج۱۶، ص۴۳۶، باب۲۴، از ابواب مائدہ میں بھی اس مضمون کی حدیث موجود ہے)۔ ابن عبّاس سے بھی منقول ہے کہ اس سے مراد انسان کا وکیل اور نمائندہ ہے اور یہ وکالت پانی، جائداد، زراعت اور پالتو جانوروں میں ہوتی ہے۔ اس نمائندے کو اجازت دی گئی ہے کہ باغ کے پھلوں میں سے ضرورت کے مطابق کھا لے اور جانوروں کا دودھ پی لے۔ بعض نے اس سے گودام کا نگران مراد لیا ہے کہ جو حق رکھتا ہے کہ وہ غذا میں سے کھا لے۔ لیکن جن لوگوں کے نام اس آیت میں لئے گئے ہیں انھیں نظر میں رکھیں تو ظاہر ہوتا ہے کہ اس سے مراد وہ افراد ہیں کہ جنھیں ان کے قریبی عزیز اعتماد اور تعلق کی بناء پر اپنے گھر کی چابی سپرد کر دیتے ہیں۔ یہ قریبی ربط و تعلق اس بات کا سبب بنا کہ رشتہ داروں اور دوستوں کی فہرست میں انھیں بھی شمار کیا جائے۔ بعض روایات کے مطابق اس سے مراد وہ وکیل ہے کہ جسے اموال کی سرپرستی سونپی جاتی ہے۔ یہ تفسیر درحقیقت اس جملے کا ایک مصداق ہے۔
۵۔ سلام و تحیّت:
جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں "تحیّة" بنیادی طور پر "حیات" کے مادہ سے ہے۔ یہ لفظ سلامتی کے لئے اور دوسری زندگی کے لئے دُعا کرنے کا مفہوم رکھتا ہے۔ چاہے یہ دعا "سلام علیکم" یا "السلام علینا" کی شکل میں ہو چاہے "حیات الله" کی صورت میں لیکن عام طور پر ہر قسم کے اظہار محبّت کو "تحیّت" کہتے ہیں کہ جو ابتدائے ملاقات میں لوگ ایک دوسرے سے کرتے ہیں۔ "تَحِیَّةً مِنْ عِنْدِ اللهِ مُبَارَکَةً طَیِّبَةً" سے مراد یہ ہے کہ "تحیّة" کا ایک طرح سے الله سے رابطہ ہونا چاہیے یعنی "سلام علیکم" سے مراد یہ کہ "الله کا تم پر سلام ہو" "الله تمھیں سلامت رکھّے" کیونکہ مؤحّد اور خدا پرست جب بھی کوئی دُعا مانگتا ہے تو آخرکار وہ الله ہی سے ہوتی ہے اور اسی سے درخواست ہوتی ہے۔ فطری بات ہے کہ جو دعا ایسی ہو وہ مبارک بھی ہے اور پاک و طیّب بھی۔ (سلام اوراس کی اہمیت اور ہر قسم کے سلام و تحیّت کے جواب کے وجوب کے بارے میں ہم تفسیر نمونہ جلد دوم میں سورہٴ نساء کی آیت۸۶ میں بحث کر چکے ہیں)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 4زیرِ نظر پہلی آیت کے بارے میں مفسرین نے مختلف شان ہائے نزول نقل کی ہیں: بعض روایات میں ہے کہ یہ آیت حنظلہ بن ابی عیاش کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ مسئلہ یہ تھا کہ وہ جس رات شادی کرنا چاہتے تھے اُس سے اگلے دن جنگ اُحد برپا ہوئی۔ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم اپنے اصحاب سے جنگ کے بارے میں مشورہ کر رہے تھے کہ وہ آپؐ کے پاس آئے اور عرض کی کہ اگر رسول اللهؐ اجازت دیں تو یہ رات اپنی بیوی کے ساتھ گزار لوں۔ آنحضرتؐ نے انھیں اجازت دے دی۔ صبح کے وقت انھیں جہاد میں شرکت کرنے کی اتنی جلدی تھی کہ وہ غسل بھی نہ کر سکے۔ اسی حالت میں معرکہٴ کارزار میں شریک ہو گئے اور بالآخر جام شہادت نوش کیا۔ رسول اللهؐ نے اُن کے بارے میں ارشاد فرمایا: میں نے فرشتوں کو دیکھا ہے کہ وہ آسمان و زمین کے درمیان حنظلہ کو غُسل دے رہے ہیں۔ اسی لئے اُنھیں "حنظلہ" کو "غسیل الملائکہ" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر علی بن ابراہیم کے حوالے سے نور الثقلین، ج۳، ص۶۲۸ پر شان نزول نقل کی گئی ہے)۔ ایک اور شان نزول میں ہے کہ یہ آیت جنگ خندق کے موقع پر نازل ہوئی۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے: پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم تمام مسلمانوں کے ساتھ بڑی تیزی کے ساتھ مدینے کے اطراف میں خندق کھودنے میں مصروف تھے۔ کچھ منافقین کہ جو ظاہراً مسلمانوں کی صف میں تھے بہت آہستہ آہستہ کام کر رہے تھے۔ وہ لوگ جب دیکھتے کہ مسلمان متوجہ نہیں ہیں تو رسول اللهؐ سے اجازت لیے بغیر چپکے سے اپنے گھروں کو چلے جاتے لیکن اگر حقیقی مسلمانوں کو کوئی مسئلہ درپیش ہوتا وہ رسول اللهؐ کی خدمت میں آ کر اجازت لیتے اور کام انجام دے کر فوراً واپس آ جاتے اور خندق کھودنے میں مشغول ہو جاتے تاکہ اس کارِ خیر میں وہ پیچھے نہ رہ جائیں۔ یہ آیت پہلے گروہ کی مذمت اور دوسرے کی تعریف کر رہی ہے۔ (بحوالہ: تفسیر فی ظلال، ج۶، ص۱۲۶، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں)۔
تفسیر رسول اللهؐ کو تنہا نہ چھوڑو
ان آیات کا گزشتہ آیات سے کیا ربط ہے؟ اس سلسلے میں طبرسی نے مجمع البیان میں اور سید قطب الدین نے تفسیر فی ظلال میں اور بعض دیگر مفسرین نے کہا کہ گزشتہ آیات میں دوستوں اور رشتے داروں سے معاشرت کے بارے میں احکام تھے اور ان آیات میں رسول اکرمؐ سے مسلمانوں کی معاشرت کے بارے میں احکام ہیں۔ ان میں مسلمانوں کو اس سلسلے میں نظم و ضبط کی پابندی کرنے کے لئے کہا گیا ہے تاکہ وہ تمام امور میں رسول اللهؐ کی طرف توجہ رکھیں اور اہم کاموں میں ضرورت اور اجازت کے بغیر الگ نہ ہوں۔ یہ احتمال بھی ہے کہ چند پہلی آیتوں میں الله اور رسول کی اطاعت کے لازمی ہونے کے بارے میں گفتگو تھی اور اطاعت کے تقاضوں میں سے ایک یہ ہے کہ ان کی اجازت اور حکم کے بغیر کوئی کام نہ کیا جائے لہٰذا زیرِ بحث آیات میں اس کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ بہرحال، زیرِ نظر پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: حقیقی مومن تو وہ ہیں کہ جو الله اور اُس کے رسول پر ایمان لائے ہیں اور جب کسی اہم کام میں ان کے ساتھ ہوں تو اجازت لئے بغیر کہیں نہیں جاتے (إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِینَ آمَنُوا بِاللهِ وَرَسُولِہِ وَإِذَا کَانُوا مَعَہُ عَلیٰ اَمْرٍ جَامِعٍ لَمْ یَذْھَبُوا حَتَّی یَسْتَاْذِنُوہُ)۔ "امر جامع" سے مراد ایسا اہم کام ہے کہ جس میں لوگوں کا جمع ہونا ضروری ہو اور اس میں تعاون اور ایک دووسرے سے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہو۔ چاہے کسی اہم مسئلے پر غور و خوض اور مشاورت کا مسئلہ ہو چاہے جہاد اور دشمنوں سے جنگ کا مسئلہ ہو یا اہم حالات میں نماز جمعہ کا اجتماع ہو یا ایسا ہی کوئی اہم کام۔ لہٰذا یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ بعض مفسرین نے اس سے مراد کوئی اہم مشورہ لیا ہے۔ بعض نے جہاد، بعض نے نماز جمعہ اور بعض نے نماز عید تو یہ سب آیت کا ایک مصداق ہیں اور مذکورہ بالا شان ہائے نزول بھی اس کلی حکم کا مصداق ہیں۔ درحقیقت یہ نظم و ضبط اور ڈسپلن کے بارے میں ایک حکم ہے اس سے کوئی منظم جماعت بےاعتنائی نہیں کر سکتی کیونکہ ایسے مواقع پر بعض اوقات ایک فرد کا بھی غائب ہو جانا بہت گراں اور نقصان دہ ہوتا ہے اور اصل مقصد کو نقصان پہنچتا ہے۔ خصوصاً اگر جماعت کا رہبر فرستادہٴ خدا اور الله کا رسول اور روحانی رہبر ہو کہ جس کا حکم واجب الاطاعت ہوتا ہے۔ اس نکتے کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ اجازت لینے سے یہ مراد نہیں ہے کہ جس شخص کو بھی کوئی کام ہو وہ بس ایک ظاہری سی اجازت لے لے اور اپنے کام کے پیچھے چل پڑے بلکہ مراد یہ ہے کہ واقعاً اجازت لے یعنی اگر رہبر اس کی عدم موجودگی کو نقصان دہ نہ سمجھے اور اسے اجازت دے تو وہ جائے ورنہ وہیں رہے اپنے ذاتی کام کو بڑے مقصد پر قربان کر دے۔ لہٰذا اس جملے کے بعد فوراً فرمایا گیا ہے: "جو لوگ تجھ سے اجازت چاہتے ہیں اور سچ مچ الله اور اُس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں" اور ان کا ایمان صرف زبانی نہیں ہے بلکہ دل و جان سے فرمانبردار ہیں (إِنَّ الَّذِینَ یَسْتَاْذِنُونَکَ اُوْلٰئِکَ الَّذِینَ یُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَرَسُولِہِ)۔ تو اس صورت میں اُن میں سے تو جس شخص کو چاہے (اور مصلحت دیکھے) اجازت دے دے (فَإِذَا اسْتَاْذَنُوکَ لِبَعْضِ شَاْنِھِمْ فَاْذَنْ لِمَنْ شِئْتَ مِنْھُمْ)۔ واضح ہے کہ ایسے باایمان افراد اس امر کی طرف متوجہ ہوتے ہیں کہ وہ ایک اہم کام کے لئے لئے جمع ہوئے ہیں لہٰذا وہ کسی معمولی سے کام کے لئے اجازت طلب نہیں کرتے اور "شانھم" سے مراد ضروری اور اہم کام ہی ہے۔ دوسری طرف رسولؐ کے چاہنے کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ وہ حالات کو تمام پہلووٴں سے مدنظر رکھے بغیر لوگوں کی موجودگی اور عدم موجودگی کے اثرات کو دیکھے بغیر اجازت دے دیں بلکہ یہ فقط اس بات کا غماز ہے کہ رہبر کو اختیار ہے کہ جب وہ محسوس کرے کہ لوگوں کا حاضر رہنا ضروری ہے تو وہ انھیں اجازت نہ دے۔ اس بات کی گواہ سورہٴ توبہ کی آیت ۴۳ ہے جس میں بعض افراد کو اجازت دینے پر تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: عَفَا اللهُ عَنْکَ لِمَ اَذِنتَ لَھُمْ حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکَ الَّذِینَ صَدَقُوا وَتَعْلَمَ الْکَاذِبِینَ الله نے اس بات سے صرف نظر کیا ہے کہ تو نے انھیں بغیر سچوں اور جھوٹوں میں تمیز کئے ہوئے کیوں اجازت دی۔ یہ آیت نشاندہی کرتی ہے کہ رسول کو بھی لوگوں کو اجازت دیتے وقت غور و خوض کرنا چاہیے اور معاملے کے تمام پہلووٴں کو ملحوظ نظر رکھنا چاہیے اور اس سلسلے میں ان پر الله کی طرف سے ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: جب تو اُنھیں اجازت دیتا ہے تو "ان کے لئے استغفار کر کہ الله غفور و رحیم ہے" (وَاسْتَغْفِرْ لَھُمْ اللهَ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ)۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ استغفار کس لئے ہے؟ یا وہ پیغمبر اکرمؐ سے اجازت کے باوجود گنہگار ہیں کہ جس کی وجہ سے استغفار کے محتاج ہیں؟ اس سوال کا جواب دو طرح سے دیا جا سکتا ہے۔ ۱۔ اگرچہ وہ چلے جانے کے مجاز ہیں پھر بھی انھوں نے اپنے ذاتی کام کو مسلمانوں کے اجتماعی کام پر ترجیح دی ہے اور ایسا کرنا ترک اولیٰ تو ضرور ہے۔ (بحوالہ: تفسیر فخر رازی، روح المعانی اور تفسیر قرطبی، زیرِ بحث آیات کے ذیل میں)۔ اسی لئے وہ استغفار کے محتاج ہیں (جیسے ایک مکروہ کام پر استغفار کی جاتی ہے)۔ ضمناً یہ تعبیر نشان دہی کرتی ہے کہ جہاں تک ہو سکے اجازت طلب کرنے سے اجتناب کرنا چاہیئے اور ایثار و قربانی سے کام لینا چاہیے اور انھیں ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اجازت لینے کے بعد بھی ان کا عمل ترک اولیٰ ہے اور یہ امر اس لئے بھی ہے کہ ایسا نہ ہو کہ جزوی اور ذاتی امور میں لوگ اہم کاموں کو ترک کرنے کے لئے اجازت ہی کو بہانہ بنا لیں۔ ۲۔ وہ اپنے رہبر کے حضور آداب کو ملحوظ رکھنے کی بناء پر لطف الٰہی کے حق دار ہیں اور رسول اللهؐ کا اُن کے لئے استغفار کرنا ایک طرح سے اظہار تحسین و تشکر ہے۔ (بحوالہ: تفسیر فخر رازی، زیرِ بحث آیات کے ذیل میں)۔ البتہ دونوں جواب آپس میں کوئی تضاد نہیں رکھتے اور ہو سکتا ہے کہ دونوں مراد ہوں۔ یہ بات بھی واضح رہے کہ نظم و ضبط کے بارے میں یہ اہم حکم صرف رسول اکرمؐ اور ان کے اصحاب کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ تمام ہادیانِ الٰہی کے بارے میں یہی حکم ہے۔ چاہے وہ نبی ہوں، امام ہوں یا ایسے علماء کہ جو اُن کے جانشین ہیں۔ کیونکہ اس حکم میں اسلامی معاشرے کے نظام کا تحفظ مضمر ہے۔ یہاں تک کہ قرآن مجید کے حکم کے علاوہ عقل و منطق کا بھی یہی تقاضا ہے کیونکہ اصولی طور پر کوئی بھی نظام اس اصول کے احترام کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا اور صحیح نظام اور ادارہ سازی اس کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ بعض مشہور علماء اہل سنّت نے اِس آیت کو جوازِ اجتہاد اور حکم کو مجتہد کی رائے پر چھوڑنے کی دلیل سمجھا ہے لیکن کہے بغیر واضح ہے کہ اصول و فقہ میں جو اجتہاد کیا جاتا ہے وہ احکامِ شریعت کے ساتھ مربوط ہے نہ کہ موضوعات کے ساتھ۔ موضوعات میں اجتہاد کرنا ناقابلِ انکار نہیں ہے۔ ہر لشکر کا کمانڈر ماہر ادارے کا سربراہ اور ہر گروہ کا سرپرست احکام کے اجراء کے موقع پر اور موضوعاتِ خارجی میں رائے دے سکتا ہے اور اس کی یہ رائے محترم ہے لیکن یہ اس امر کی دلیل نہیں شریعت کے کلّی احکام میں اجتہاد کیا جا سکتا ہے۔ مصلحت کے نام پر حکم وضعی یا حکم تکلیفی کی نفی نہیں کی جا سکتی۔ __________ اس کے بعد اتباع پیغمبرؐ سے مربوط ایک اور حکم دیا جا رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: پیغمبرؐ کی پکار اور بلانے کو تم ایسا نہ سمجھو جیسے آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو (لَاتَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَیْنَکُمْ کَدُعَاءِ بَعْضِکُمْ بَعْضًا)۔ وہ کسی مسئلے میں جب تمھیں پکاریں تو یقیناً یہ ایک اہم الٰہی اور دینی مسئلہ ہے لہٰذا اسے اہمیت دو اور سنجیدگی سے ان کے حکم پر ڈت جاوٴ۔ اُن کی پکار کو معمولی نہ سمجھو کیونکہ ان کا فرمان الله کا فرمان ہے اور ان کی دعوت پروردگار کی دعوت ہے۔ پھر مزید فرمایا گیا ہے: جو لوگ رسول کے اہم کاموں سے الگ ہو کر ایک دوسرے کی لوٹ لے کر یکے بعد دیگرے بھاگ جاتے ہیں الله انھیں جانتا ہے اور انھیں دیکھتا ہے (قَدْ یَعْلَمُ اللهُ الَّذِینَ یَتَسَلَّلُونَ مِنْکُمْ لِوَاذًا)۔ لیکن جو لوگ اس کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں انھیں ڈرنا چاہیے کہ کہیں فتنے میں گرفتار ہو جائیں یا دردناک عذاب انھیں آ لے (فَلْیَحْذَرِ الَّذِینَ یُخَالِفُونَ عَنْ اَمْرِہِ اَنْ تُصِیبَھُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیبَھُمْ عَذَابٌ اَلِیمٌ)۔ "یتسللون" "تسلسل" کے مادے سے ہے۔ اس کا معنیٰ ہے کسی چیز کو اس کی جگہ سے الگ کرنا۔ مثلاً کہا جاتا ہے: سلّ السیف من الغمد اس نے تلوار نیام سے نکالی جو لوگ چپکے سے کسی جگہ سے بھاگ جائیں عموماً انھیں "متسللون" کہا جاتا ہے۔ "لواذاً"، "ملاوذة"‘ سے چھپنے کے معنیٰ میں ہے۔ یہاں ایسے لوگوں کے عمل کے معنیٰ میں ہے جو ایک دوسرے کے پیچھے یا دیوار کی اوٹ میں چھپتے ہیں۔ گویا دوسرے کو غفلت میں پا کر بھاگ جاتے ہیں۔ یہ وہ کام تھا کہ جو منافقین انجام دیتے تھے جبکہ پیغمبر اکرمؐ لوگوں کو جہاد یا کسی اور اہم کام کے لئے بلاتے تھے۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ تمھارا یہ قبیح اور منافقانہ عمل اگر لوگوں کی نظر سے چھپا بھی رہ جائے تو خدا سے مخفی نہیں رہتا اور پیغمبرِ خدا کے حکم سے تمھاری ان سرتابیوں کی دنیا و آخر میں دردناک سزا ہے۔ یہ کہ یہاں "فتنہ" سے کیا مراد ہے۔ بعض مفسرین اسے قتل کے معنیٰ میں لیتے ہیں، بعض گمراہی کے اور بعض ظالم و جابر حکمران کے تسلط کے معنیٰ میں لیتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ ا س سے مراد نفاق کی مصیبت ہے کہ جو آدمی کے دل میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ "فتنہ" سے مراد اجتماعی فتنے، مصیبتیں، شکستیں اور آفتیں ہوں کہ جو حکمِ رہبر کی مخالفت کے باعث معاشرے کو دامن گیر ہوتی ہیں۔ بہرحال، "فتنہ" کا ایک وسیع مفہوم ہے کہ جس میں یہ تمام امور بھی شامل ہیں اور ان کے علاوہ بھی۔ اس طرح "عذاب الیم" ممکن ہے عذابِ دنیا کی طرف اشارہ ہو یا عذاب آخرت کی طرف یا دونوں کی طرف۔ یہ امر لائق توجہ ہے کہ زیرِ بحث آیت کی تفسیر میں ہم نے جو کچھ کہا ہے اس کے علاوہ بھی دو احتمال ذکر ہوئے ہیں: پہلا یہ کہ "لَاتَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَیْنَکُمْ کَدُعَاءِ بَعْضِکُمْ بَعْضًا" سے مراد یہ ہے کہ تم ایک دوسرے کو پکارتے ہو تو ادب و احترام کے ساتھ اور اُن کے شایانِ شان انداز سے پکارو نہ کہ اس طرح تم جیسے ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ یہ اس لئے فرمایا گیا کیونکہ بعض ایسے لوگ جو اسلامی آداب سے ناآشنا تھے وہ رسول اللهؐ کی خدمت میں آتے تو لوگوں کے سامنے یا تنہائی میں "یامحمد"! "یامحمد" کہتے اور یہ انداذِ تخاطب ایک عظیم الٰہی پیغمبر کے شایانِ شان نہ تھا۔ مقصد یہ ہے کہ آنحضرت کو "رسول الله" اور "یانبی الله" جیسے الفاظ کے ساتھ اور معقول اور موٴدبانہ لہجے میں پکارنا چاہیے۔ بعض روایات میں بھی یہ تفسیر موجود ہے لیکن گزشتہ آیت اور خود اس آیت میں ایسی تعبیرات ہیں کہ جو دعوتِ پیغمبرؐ کو قبول کرنے اور اُن کے پاس سے بلااجازت غائب نہ ہو جانے کی بابت گفتگو کرتی ہیں، اس لحاظ سے یہ تفسیر ظاہرِ آیت سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ ہاں البتہ یہ تفسیر جب ممکن ہے کہ ہم کہیں کہ یہ دونوں مطالب آیت کے مفہوم میں جمع ہیں۔ دوسرا احتمال بھی ہے کہ جو ضعیف معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ کہ رسول اللهؐ کی دعا یا بدعا کو آپس میں ایک دوسرے کی دعا اور بددعا کی طرح نہ سمجھو۔ (تشریحی نوٹ: لفظ "دعاء" کے بعد اگر لفظ "لام" ہو تو کسی کے حق مں دعائے خیر کے معنیٰ میں ہے اور اگر "علیٰ" ہو تو نفرین اور بددعا کے معنیٰ میں ہے اور اگر ان میں سے کوئی نہ ہو تو پھر دونوں کا احتمال ہے)۔ کیونکہ آپؐ کی دعا اور بددعا بہت سوچی سمجھی اور کسی صحیح بنیاد پر ہو گی اور خدائی پروگرام کے مطابق ہو گی اور مسلماً پوری بھی ہو بھی گی۔ لیکن یہ تفسیر آیت کے مطالب و معانی سے مطابقت نہیں رکھتی اور اس کے بارے میں کوئی روایت بھی نہیں____ لہٰذا قابلِ قبول نہیں ہے۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ علماء اصول نے "فَلْیَحْذَرِ الَّذِینَ یُخَالِفُونَ عَنْ اَمْرِہِ...." سے بھی استفادہ کیا ہے کہ رسول اللهؐ کے اوامر اور احکام واجب ہیں۔ لیکن اس استدلال پر بہت سے اشکالات ہوتے ہیں کہ جن کی طرف علمِ اصول میں اشارہ ہوا ہے۔ __________ زیرِ بحث آخری آیت میں سورہٴ نور کی بھی آخری آیت ہے۔ یہ آیت مبداء اورمعاد کی طرف ایک لطیف اور معنی خیز اشارہ ہے کہ جو تمام الٰہی احکام کی بنیاد ہیں۔ یہی عقائد درحقیقت تمام اوامر و نواحی کے اجرا کے ضامن ہیں اور ان میں وہ اوامر و نواہی بھی شامل ہیں کہ جو اس سورہ میں اول تا آخر آئے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: آگاہ رہو کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب کچھ الله کے لئے ہے (اَلَاإِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ)۔ وہ خدا کہ جس کا علم پورے عالم پر محیط ہے اور "جس میں تم ہو وہ اسے جانتا ہے" (تمھاری روش، تمھارے اعمال، تمھارے عقیدے اور تمھاری نیّتیں سب اس پر آشکار ہیں) (قَدْ یَعْلَمُ مَا اَنْتُمْ عَلَیْہِ)۔ اور جو کام بھی تم انجام دیتے ہو اس کے صفحہٴ علم پر ثبت ہیں "اور جس روز سب انسان اس کی طرف لوٹ جائیں گے اُس روز وہ انھیں ان کے انجام دیئے ہوئے اعمال سے آگاہ کرے گا" اور ان کا نتیجہ جو کچھ بھی ہو گا وہ انھیں دے گا (وَیَوْمَ یُرْجَعُونَ إِلَیْہِ فَیُنَبِّئُھُمْ بِمَا عَمِلُوا)۔ اور الله ہر چیز کا عالم اور ہر امر سے آگاہ ہے (وَاللهُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمٌ). یہ بات قابل توجہ ہے کہ ان آیات میں تین مرتبہ یہ بات آئی ہے کہ انسانوں کے اعمال خدا کے علم میں ہیں اور یہ اس لئے ہے کہ جب انسان کو احساس ہو کہ ہر وقت کوئی اس کی نگرانی کر رہا ہے اور اس کے ظاہر و باطن کا کوئی گوشہ اُس سے مخفی نہیں ہے تو یہ اعتقاد اُس کی تربیت کے لئے بہت پُر تاثیر ہو گا اور اسے گناہوں سے بچائے رکھے گا۔ __________ بارالھا! ہمارے دلوں کو چراغ علم و ایمان کے نور سے منور فرما دے اور ہمارے وجود کی "مشکٰوۃ" کو حفظ ایمان کے لئے تقویت دے تاکہ تیرے انبیاء کے "صراط مستقیم" پر چلتے ہوئے ہم تری رضا کی طرف روانہ ہوں اور "لاشرقیۃ ولاغربیۃ" کا مصداق بن کر ہم تیرے لطف و کرم کے زیر سایہ ہر قسم کے انحراف اور کج روی سے محفوظ رہیں۔ پروردگارا! ہماری آنکھ کو نور عفت سے، ہمارے دل کو نور معرفت سے، ہماری روح کو نورِ تقویٰ سے اور ہمارے سارے وجود کو نورَ ہدایت سے منور فرما دے اور ہمیں بےراہ روی، غفلت اور شیطانی وسوسوں کے چنگل میں گرفتار ہونے سے محفوظ رکھ۔ خدا وندا! اپنے احکام کے اجراء کے لئے حکومت عدل اسلامی کی بنیادوں کو مستحکم کر دے اور ہمارے معاشرے کو بُرائیوں اور غلاظتوں کے گڑے میں گرنے سے محفوظ رکھ۔ انک علی کل شیء قدیر