Fatir
سوره فاطر
یہ سورہ مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۴۵ آیات ہیں۔
سورہ فاطر کے مطالب و مضامین
یہ سورہ کہ جسے کبھی سورہ فاطر اور کبھی سورہ ملائکہ کا نام دیتے ہیں (اس کے آغاز کو مدِّنظر رکھتے ہوئے کہ جو "فاطر" اور "ملائکہ" کے عنوان سے شروع ہوتا ہے) مکّی سورتوں میں سے ہے، اگرچہ بعض نے اس کی دو آیات کا استثناء کیا ہے اور انہیں مدنی شمار کیا ہے (آیہ ۲۹۔۳۲) لیکن اس کے استثناء کی واضح دلیل ان کے پاس نہیں ہے۔ چونکہ یہ سورہ مکّی ہے لہٰذا مکّی سورتوں کے عام مضامین یعنی "مبداء" و "معاد" شرک کے ساتھ مبارزہ "رسالتِ انبیاء کی دعوت"، "پروردگار کی نعمتوں کا تذکرہ" اور "روزِ جزاء میں مجرموں کا انجام" اس میں پورے طور پر منعکس ہیں۔ اس سورہ کی آیات کو پانچ حصّوں میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے: ۱۔ اس سورہ کی آیات کا ایک اہم حصہ عالمِ ہستی میں خدا کی عظمت کی نشانیوں اور توحید کے دلائل کے سلسلہ میں گفتگو کرتا ہے۔ ۲۔ اس کا دوسرا حصہ پروردگار کی ربوبیت اور سارے جہان کے لیے اور خصوصاً انسان کے بارے میں اس کی تدبیر، اس کی خالقیت و رازقیت اور مٹی سے انسان کی خلقت اور اس کے تکامل و ارتقاء سے بحث کرتا ہے۔ ۳۔ اس کا تیسرا حصّہ معاد اور آخرت میں نتائجِ اعمال اور اس جہان میں خدا کی رحمت کی وسعت اور مستکبرین کے بارے میں اس کی تخلف ناپذیر سنت سے متعلق ہے۔ ۴۔ اس کی آیات کا ایک حصّہ انبیاء کی رہبری اور ہٹ دھرم اور سخت قسم کے دشمنوں کے ساتھ مسلسل اور متواتر مبارزہ اور اس سلسلے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دلداری اور تسلی کے مسئلہ کی طرف اشارہ ہے۔ ۵۔ آخری حصّہ میں خدائی مواعظ اور پند و نصائح بیان ہے، یہ بیان مختلف امور کے بارے میں گزشتہ مباحث کی تکمیل کرتا ہے۔ بعض مفسرین نے اس ساری سورت کو ایک ہی حلقہ میں خلاصہ کیا ہے اور وہ خدا کی قاہریت کا مسئلہ ہے [بحوالہ: تفسیر فی ظلال، آغاز سورہ فاطر]۔ یہ بات اگرچہ اس سورہ کی کچھ قابلِ توجہ آیات کے ایک حصّہ کو مدِّنظر رکھتے ہوئے مناسب معلوم ہوتی ہے، لیکن اس کے باوجود اس سورہ میں دوسری مختلف بحثوں کے وجود کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔
اس سورہ کی فضیلت
ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے کہ: "من قرأ سورة الملائكه دعته يوم القيامة ثلاثه ابواب من الجنة ان ادخل من اىّ الأبواب شئت"۔ "جو شخص سورہٴ فاطر کو پڑھے تو قیامت کے دن جنت کے دروازوں میں سے تین دروازے اسے اپنی طرف دعوت دیں گے کہ وہ جس دروازے سے چاہے داخل ہو جائے" [بحوالہ: مجمع البیان، آغاز سورہ فاطر]۔ "اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ہم یہ جانتے ہیں کہ جنت کے دروازے وہی عقائد اور اعمالِ صالح ہیں کہ جو بہشت میں داخل ہونے کا سبب بنتے ہیں، جیسا کہ بعض روایات میں باب المجاہدین کے عنوان سے ذکر ہوا ہے، ممکن ہے کہ یہ روایت توحید، معاد اور رسالتِ پیغمبر کے اعتقاد کے تین دروازوں کی طرف اشارہ ہو"۔ ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ: "قرآنِ مجید میں دو سورتیں (یکے بعد دیگرے قرار پائی ہیں) سورہ سبا و فاطر کی جو "الحمد للہ" سے شروع ہوتی ہیں، جو شخص انہیں رات کو پڑھے گا تو خدا اسے اپنی حمایت کے سائے میں حفاظت کرے گا اور جو شخص دن میں پڑھے گا تو اسے کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور خدا اسے اس قدر خیرِ دنیا و آخرت عطا فرمائے گا کہ جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ آیا ہو گا اور کسی نے اس کی تمنا تک نہ کی ہو گی [بحوالہ: ثواب الاعمال مطابق نقل تفسیر نور الثقلین، جلد ۴، ص ۳۴۵]۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں کہ قرآن عملی پروگرام ہے اور اس کی تلاوت کرنا تفکر اور ایمان کا مقدمہ اور تمہید ہے اور وہ اس کے معنی و مفہوم پر عمل کرنے کا ذریعہ بنتا ہے اور یہ سب اجر اور صلے بھی اسی کی بناء پر ہیں اور انہیں شرائط کے ساتھ حقیقت بنتے ہیں (غور کیجئے)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 3 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: بند دروازوں کا کھولنے والا وہي ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 5اس سورہ کی ابتداء سوره "حمد" و "سبا" اور "کہف" کی طرح پروردگار کی حمد سے ہوتی ہے، اس کی حمد و ثنا وسیع عالمِ ہستی کی خلقت و آفرینش کی بناء پر فرماتا ہے: حمد مخصوص ہے اس خدا کے ساتھ کہ جو آسمان اور زمین کا خالق ہے اور عالمِ ہستی کی تمام نعمات و مواہب کا سرچشمہ اسی کا وجود ذیجود ہے (الْحَمْدُ لِلَّهِ فاطِرِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ)۔ "فاطر" "فطور" کے مادہ سے اصل میں شگافتہ کرنے کے معنی میں ہے اور چونکہ موجودات کی آفرنیش ظلمتِ عدم کے شگافتہ ہونے اور نورِ ہستی کے باہر آنے کی مانند ہے اس لیے یہ تعبیر خلقت و آفرینش کے معنی میں استعمال ہوتی ہے خصوصًا جدید علوم کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ جو یہ کہتے ہیں کہ عالمِ ہستی کا مجموعہ ابتداء میں ایک ہی ٹکڑا تھا کہ جو بتدریج شگافتہ ہوا اور اس سے مختلف حصے جدا ہوئے، خدا کی ذاتِ پاک کے لیے لفظ "فاطر" کا اطلاق اپنے اندر زیادہ واضح اور روشن مفہوم رکھتا ہے۔ [تشریحی نوٹ: "فاطر" اور "فطور" کے معنی کے بارے میں چھٹی جلد (سوره ابراهیم) کی آیہ 10 کے ذیل میں اور اسی طرح تیسری جلد (سورہ انعام کی آیہ 14 کے ضمن میں بھی) ہم نے بیان کیا ہے]۔ ہاں! ہم اس کی خالقیت کی بناء پر اس کی حمد و ثنا کرتے ہیں، کیونکہ جو کچھ بھی ہے اسی کی طرف سے ہے اور کوئی شخص اس کے علاوہ اپنی طرف سے کچھ نہیں رکھتا۔ اور چونکہ اس عالم کی تدبیر اس بناء پر کہ یہ عالم، عالمِ اسباب ہے۔ پروردگار کی طرف سے فرشتوں کے ذمہ لگائی ہے، لہذا بِلافاصلہ ان کی خلقت اور ان کی عظیم قدرتوں کے متعلق کو جو پروردگارِ عالم نے انہیں عطا کی ہیں گفتگو کرتا ہے: "وہی خدا کہ جس نے فرشتوں کو رسول قرار دیا ہے وہ دو دو، تین تین اور چار چار پروں کے حامل ہیں"۔ (جاعِلِ الْمَلائِكَةِ رُسُلًا أُولِي أَجْنِحَةٍ مَثْنى وَثُلاثَ وَرُباعَ)۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "خدا جتنا چاہتا ہے خلقت میں اضافہ کر دیتا ہے کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے" (يَزِيدُ فِي الْخَلْقِ ما يَشاءُ إِنَّ اللهَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ)۔ یہاں تین سوال پیدا ہوتے ہیں: پہلا سوال یہ ہے کہ ملائکہ اور فرشتوں کی رسالت کہ جو اوپر والی آیت میں بیان کی گئی ہے، کس چیز میں ہے؟ کیا یہ رسالتِ تشریعی ہے یعنی خدا کی طرف سے انبیاء کی طرف اس کے پیغام کا لانا ہے، یا یہ رسالت تکوینی ہے؟ یعنی عالمِ آفرینش میں مختلف فرائض کی ذمہ داری کا سپرد ہونا، جیسا کہ نکات کی بحث میں اس کی طرف اشارہ ہو گا۔ یا یہ دونوں جہت ہیں؟ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ گزشتہ جملے میں آسمان اور زمین کی خلقت کے بارے میں گفتگو تھی اور زیرِبحث جملے میں فرشتوں کے متعدد پروں کے متعلق گفتگو ہے کہ جو ان کی قدرت کی نشاندہی کرتا ہے اور اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے بھی کہ تمام فرشتوں کے لئے رسالت کا بیان ہوا ہے۔ (یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ "الملائكه" ایسی جمع ہے کہ جس کے ساتھ "الف و لام" آیا ہے لہذا یہ عموم کا معنی دیتا ہے) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں رسالت ایک وسیع و عریض معنی میں استعمال ہوا ہے کہ جو "رسالتِ تشریعی" اور "رسالتِ تکوینی" دونوں کو شامل ہے۔ رسالت کا اطلاق "تشریعی رسالت" پر اور انبیاء کی طرف وحی کے پیغام لانے پر، قرآن میں بہت زیادہ بیان ہوا ہے لیکن اس کا اطلاق "رسالتِ تکوینی" پر بھی کم نہیں ہے۔ سورہ یونس کی آیہ 21 میں بیان ہوا ہے کہ: " إن أرسلنا يكتبون ما تمكرون"۔ "ہمارے رسول (ہمارے فرشتے) تمھارے مکر و فریب کو لکھتے رہتے ہیں"۔ اور سورہ انعام کی آیہ 61 میں بیان ہوا ہے کہ: "حَتَّى إِذا جاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنا" (جس وقت تم میں سے کسی کی موت کا وقت آن پہنچتا ہے تو ہمارے رسول اس کی روح قبض کرتے ہیں)۔ سوره عنکبوت کی آیہ 31 میں ان فرشتوں کے بارے میں کہ جو قومِ لوط کی سر زمین کو زیر و زبر (تہ و بالا) کرنے پر معمور تھے یہ بیان ہوا ہے کہ: " و لما جاءت رُسُلُنا إِبْراهِيمَ بِالْبُشْرىٰ قالُوا إِنَّا مُهْلِكُوا أَهْلِ هذِهِ الْقَرْيَةِ إِنَّ أَهْلَها كانُوا ظالِمِينَ" (جس وقت ہمارے رسول ابراہیم کے پاس آئے تو انہوں نے کہا کہ ہم اس آبادی میں رہنے والوں کو ہلاک کر دیں گے کیونکہ وہ ستمگر لوگ ہیں)۔ قرآن کی دوسری آیات میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ فرشتوں کے ذمہ جو مختلف کام لگائے گئے ہیں وہ ان کی رسالتیں شمار ہوتے ہیں، اسی بناء پر رسالت ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ فرشتوں کے پروں سے مراد اور وہ بھی دو دو، تین تین اور چار چار تیار کیا ہے؟ بعید نہیں ہے کہ پَر و بال سے مراد یہاں قدرت اور حرکت کی توانائی ہو کہ جس سے بعض دوسروں کی نسبت برتر اور بیشتر رکھتے ہوں۔ لہذا وہ بال و پر میں ان کے لیے سلسلہ مراتب کا قائل ہوا ہے کہ بعض چار بال (مثنٰی، دو دو) اور بعض چھ بال اور بعض آٹھ بال رکھتے ہیں۔ "اجنحة" "جناح" (بر وزن جمال) کی جمع ہے، جو پرندوں کے پَروں کے معنی میں ہے کہ جو انسان کے ہاتھوں کی طرح ہیں اور چونکہ پَر پرندوں کی نقل و انتقال اور ان کی حرکت و فعالیت کا ذریعہ ہوتے ہیں لہذا کبھی یہ لفظ فارسی یا عربی میں حرکت و اعمال کے وسیلے اور قدرت و توانائی کے لیےکنایہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے، مثلًا یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص کے بال و پر جل گئے، جو اس بات کا کنایہ ہے کہ اس سے حرکت و توانائی کی قوت سلب ہو گئی ہے، یا یہ کہ اس نے فلاں شخص کو اپنے پَر و بال کے پیچھے لے لیا، یا یہ کہ انسان کو چاہیئے کہ وہ علم و عمل کے دو پَروں کے ساتھ پرواز کرے اور اس قسم کی تمام تعبیرات کو جو سب کی سب اس لفظ کے کنائی معنوں کو بیان کرتی ہیں۔ اور دوسرے موارد میں بھی کچھ تعبیرات مثلاً: "عرش" "کرسی" اور "لوح" و "قلم" ایسی نظر آتی ہیں کہ جن میں عام طور پر ان کے معنوی مفہوم کی طرف ہی توجہ ہے نہ کہ ان کے مادی جسم کی طرف۔ البتہ قرینہ کے بغیر قرآن کے الفاظ کو ظاہری معنی کے غیر پر حمل نہیں کرنا چاہیئے، لیکن جہاں واضح قرائن پائے جاتے ہوں وہاں کوئی مشکل پیدا نہیں ہو گی۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ جبرائیل (وحی خدا پہنچانے والی) کے چھ سو پَر ہیں اور جس وقت اس حالت میں پیغمبر اسلام سے ملاقات کی تو زمین و آسمان کے درمیانی فاصلہ کو پُر کر رکھا تھا۔ [بحوالہ: تفسیر علی بن ابراہیم مطابق نقل نور الثقلین جلد 4 ص 349]۔ یا یہ کہ "خدا کا ایک فرشتہ ہے کہ جس کے کان کی لَو سے آنکھ تک کا فاصلہ پانچ سو سال کی راه ہے (تیز پرواز) پرندرے کے ذریعہ"۔ [بحوالہ: تفسیر علی بن ابراہیم مطابق نقل نور الثقلین جلد 4 ص 349]۔ یا یہ کہ نہج البلاغہ میں جس وقت پروردگار کے فرشتوں کی عظمت کے بارے میں گفتگو ہو رہی ہے تو فرماتے ہیں کہ: " و منهم الثابتة فى الأرضين السفلى اقدامهم، و المارقة من السماء العليا أعناقهم، و الخارجة من الأقطار أركانهم، و المناسبة لقوائم العرش أكتافهم"۔ "بعض فرشتے اس قسم کی عظمت رکھتے ہیں کہ ان کے پاؤں تو زمین کے نچلے طبقات میں قائم ہیں اور ان کی گردن آسمان بریں سے برتر ہے، ان کے وجود کے ارکان اقطارِ عالم سے باہر نکلے ہوئے ہیں اور ان کے کندھے عرشِ پروردگار کو اٹھانے کے لیے متناسب ہیں۔[بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ 1]۔ یہ بات واضح ہے کہ اس قسم کی تعبیرات کو مادی جسمانی پہلوؤں پر حمل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ یہ ان کی معنوی عظمت اور جہاتِ قدرت کو بیان کرنے والی تعبیرات ہیں۔ اصولی طور پر ہم جانتے ہیں کہ پَر صرف زمین کی فضا میں اڑنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، کیونکہ کرّہ زمین کے اطراف کو دباؤ ڈالنے والی ہوا نے گھیر رکھا ہے اور پرندے اپنے پَروں کے ذریعہ امواجِ ہوا پر قرار پاتے ہیں اور نیچے اوپر آ جا سکتے ہیں، لیکن اگر زمین کی فضا کے محیط سے خارج ہو جائیں کہ جس میں ہوا نہیں ہے، تو وہاں پر پَر و بال اڑنے کے لیے معمولی سے معمولی تاثیر بھی نہیں رکھتے اور اس لحاظ سے وہ ٹھیک دوسرے اعضاء کے مانند ہوتے ہیں۔ اس سے قطع نظر وہ فرشتہ کہ جس کے پاؤں زمین کی گہرائیوں میں ثبت ہیں اور اس کا سَر برترین آسمان سے بالا تر ہے تو اسے جسمانی پرواز کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اس بارے میں بحث کہ فرشتے جسمِ لطیف ہے یا مجردات میں سے ہے ایک دوسری بحث ہے کہ جس کی طرف انشاء اللہ نکات کی بحث میں اشارہ ہو گا۔ یہاں پر صرف یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ ہم جان لیں کہ پَر و بال فعالیت اور حرکت و قدرت کا ذریعہ ہیں اور اس مقصد کو ثابت کرنے کے لیے اوپر والے قرائن کافی گویا ہیں۔ جیسا کہ عرش و کرسی کی بحث میں ہم نے کہا ہے کہ یہ دونوں لفظ اگرچہ "بلند پائے والے" اور "چھوٹے پائے والے" تختوں کے معنی میں ہے، لیکن مسلمہ طور پر اس سے مراد عالم کے مختلف جہات میں پروردگار کی قدرت ہے۔ ایک حدیث میں امام صادق عليه السلام سے منقول ہے: " الملائكه لا ياكلون و لا يشربون و لا ينكحون، و انما يعيشون بنسيم العرش"۔ "فرشتے نہ تو کھانا کھاتے ہیں اور نہ پانی پیتے ہیں اور نہ ہی شادی بیاہ کرتے ہیں، وہ صرف نسیمِ عرش سے زندہ ہیں" [بحوالہ: تفسیر علی بن ابراہیم مطابق نقل نور الثقلین جلد 4 ص 349، عرش کے معنی کے بارے میں ہم نے چھٹی جلد ص۔۔۔(سوره اعراف ذیل آیہ 54) کے ذیل میں تفصیل سے بحث کی ہے]۔ تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا " يَزِيدُ فِي الْخَلْقِ ما يَشاءُ" "وہ خلقت میں جتنا چاہتا ہے اضافہ کر دیتا ہے" فرشتوں کے پَر و بال کے اضافہ کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ مفسرین نے کہا ہے یا یہ وسیع معنی رکھتا ہے، کہ جو اس کو بھی شامل ہے اور باقی افزائشوں کو بھی کہ جو آفرینشِ موجودات میں صورت پزیر ہوتے ہیں۔ ایک طرف تو جملہ کا مطلق ہونا اور دوسری طرف بعض ایسی اسلامی روایات کے جو اوپر والی آیات کی تفسیر میں وارد ہوئی ہیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دوسرا معنی زیادہ مناسب ہے۔ ان میں سے ایک حدیث میں پیغمبرِ گرامی اسلامؐ سے منقول ہوا ہے کہ آپؐ نے اس جملہ کی تفسیر میں فرمایا کہ: " هو الوجه الحسن، و الصوت الحسن، و الشعر الحسن"۔ "اس سے مراد خوبصورت چہره، اچھی آواز اور خوبصورت بال ہیں"۔ [بحوالہ: مجمع البیان زیرِبحث آیات کے ذیل میں، قرطبی نے اپنی تفسیر میں اس حدیث کو زیرِبحث آیت کے ذیل میں پیش کیا ہے]۔ ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے کہ: " حسنوا القرآن باصواتكم فان الصوت الحسن يزيد القرآن حسنا، و قرأ يَزِيدُ فِي الْخَلْقِ ما يَشاءُ:"۔ "قرآن کو خوبصورت آواز کے ساتھ زینت بخشو، کیونکہ اچھی آواز قرآن کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے، پھر آپؐ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی" " يَزِيدُ فِي الْخَلْقِ ما يَشاءُ "۔ پروردگار کی خالقیت اور فرشتوں کی رسالت کا بیان کرنے کے بعد کہ جو فیض خدا کا واسطہ ہیں، اپنی رحمت کو بیان فرما رہا ہے کہ جو عالمِ ہستی کی بنیاد ہے، فرماتا ہے کہ: خدا جس رحمت کو لوگوں کے لیے کھول دے اُسے کوئی نہیں روک سکتا" (ما يَفْتَحِ اللهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها)- "اور جسے روک لے اس کے سوا کوئی شخص اس کے بھیجنے پر قدرت نہیں رکھتا" (وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ) ۔ "کیونکہ وہ ایسا قدرت والا ہے کہ جو شکست ناپذیر ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ حکیم و آگاه ہے": (وَهُوَالْعَزِيزُ الْحَكِيمُ) ۔ خلاصہ یہ ہے کہ رحمت کے تمام خزانے اس کے پاس ہیں اور جس کو وہ لائق سمجھتا ہے اس کو مشمولِ رحمت کر لیتا ہے اور جہاں اس کی حکمت کا تقاضا ہو اس کے دروازے کھول دیتا ہے، اگر تمام جہانوں کے لوگ مِل کر یہ چاہیں کہ اس دروازے کو کہ جسے اس نے کھولا ہے بند کر دیں یا جس دروازے کو اس نے بند کیا ہے اسے کھول دیں تو ان میں ہرگز بر قدرت نہیں ہو گی، یہ حقیقت میں توحید کی ایک شاخ ہے کہ جو دوسری شاخوں کی بنیاد ہے۔ (غور کیجئے) اس معنی کے مشابہ قرآنِ کریم کی دوسری آیات میں بھی بیان ہوا ہے جہاں کہتا ہے کہ: " وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللهُ بِضُرٍّ فَلا كاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَوَإِنْ يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلا رَادَّ لِفَضْلِهِ يُصِيبُ بِهِ مَنْ يَشاءُ مِنْ عِبادِهِ وَهُوَالْغَفُورُ الرَّحِيمُ" "اگر خدا (امتحان یا غلطی کی سزا کے لیے) تجھے کوئی نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی بھی اسے بطرف نہیں کر سکتا اور اگر وہ تیرے لیے کسی خیر اور بھلائی کا ارادہ کرے تو کوئی شخص اس کے فضل سے مانع نہیں ہو گا، وہ اپنے بندوں میں سے جس شخص کو چاہے اپنا فضل پہنچتا ہے اور وہ غفور و رحیم ہے۔ (یونس - 107)
چند توجہ طلب امور
"يفتح" کی تعبیر "فتح" کے مادہ سے کھولنے کے معنی میں ہے، یہ رحمتِ الٰہی کے خزانوں کے وجود کی طرف اشارہ ہے، جیسا کہ قرآن کی دوسری آیات میں بھی اس کی طرف اشارہ ہوا ہے، توجہ طلب بات یہ ہے کہ یہ خزانے ایسے ہیں کہ جو کھلنے کے ساتھ ہی مخلوقات پر جاری ہو جاتے ہیں اور کسی دوسری چیز کی ضرورت نہیں رہتی اور کوئی شخص اس سے مانع نہیں ہو سکتا۔ رحمت کے کھولنے کو اس کے امساک اور روکنے پر مقدم رکھنا اس بناء پر ہے کہ ہمیشہ خدا کی رحمت اس کے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔ 2- رحمت کی تعبیر بہت ہی وسیع اور کشادہ معنی رکھتی ہے کہ جو عالم کے مواہب اور نعمات کو شامل ہے، کبھی معنوی پہلو رکھتی ہے اور کبھی مادی پہلو، اسی بناء پر جب کبھی کوئی انسان تمام ظاہری دروازوں کو اپنے سامنے بند دیکھتا ہے تو پھر بھی وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ رحمتِ الٰہی اس کے دل و جان میں جاری و ساری ہے۔ لہذا وہ خوش و خرم اور آرام و مطمئن ہے، اگرچہ وہ زندان کی کال کوٹھری میں گرفتار ہو۔ اس کے برعکس کبھی تمام ظاہری دروازوں کو انسان اپنے اوپر کھلا ہوا دیکھتا ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے رحمتِ الٰہی کے دروازے اس کی جان پر بند ہو گئے ہیں، لہذا وہ اپنے آپ کو اس طرح تنگی اور دباؤ میں محسوس کرتا ہے کہ جیسے دنیا اپنی پوری وسعت کے باوجود اس کے لیے ایک تاریک اور وحشتناک زندان ہے اور یہ ایک ایسی چیز ہے کہ جو بہت سے لوگوں کے لیے حقیقت کا درجہ رکھتی ہے۔ 3۔ دو اوصاف "عزیز و حکیم" کی تعبیر رحمت کے "ارسال" اور "امساک" پر اس کی قدرت کو بیان کرتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ ہے کہ یہ کھولنا اور باندهنا ہر جگہ حکمت کی بنیاد پر ہے، کیونکہ اس کی قدرت اس کی حکمت سے ملی ہوئی ہے۔ بہرحال اس آیت کے مفہوم و مضمون کی طرف توجہ ایک مومن انسان کو اس طرح سکون و آرام پہنچاتی ہے کہ وہ تمام حوادث و مصائب کے مقابلہ میں کھڑا ہو جاتا ہے اور کسی مشکل سے نہیں ڈرتا اور کسی کامیابی سے مغرور نہیں ہوتا۔ [تشریحی نوٹ: قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ "فلا ممسك لها" کی ضمیر مونث کی شکل میں ہے اور "فلا مرسل له" میں مذکر کی شکل میں چونکہ پہلی کا مرجع لفظ "رحمت" ہے اور دوسری کا "ما" ہے، علاوہ ازیں "من بعده" ظاہراً خدا کی طرف لوٹتا ہے یعنی خدا کے سوا کوئی اس کے کھولنے پر قادر نہیں ہے، یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ یہ ضمیر "امساک" کی طرف لوٹے یعنی "من بعد امسال اللہ" کہ جو معنی کے لحاظ سے چنداں فرق نہیں رکھتا]۔ بعد والی آیت میں "توحید در عبادت" کے مسئلہ کی طرف "توحید در خالقیت و رازقیت" کی اساس پر اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ: اے لوگو! اپنے اوپر خدا کی نعمت کو یاد کرو"۔ (يا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ)۔ ٹھیک طریقہ سے غور و فکر کرو کہ یہ تمام انعامات اور برکات اور زندگی کے یہ تمام وسائل و امکانات کہ جو تمہارے اختیار میں قرار دیئے گئے ہیں اور تم ان نعمتوں کے اندر ڈوبے ہوئے ہو، ان کا اصل پیدا کرنے والا کون ہے اور ان کا سرچشمہ کیا چیز ہے؟ "کیا خدا کے سوا کوئی اور خالق آسمان و زمین سے تمہیں روزی دیتا ہے" (هَلْ مِنْ خالِقٍ غَيْرُ اللهِ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ)- وہ کون ہے کہ جو سورج کی حیات بخش روشنی اور بارش کے زندہ کرنے والے قطرات اور بادِ نسیم کی روح پرور موجیں آسمان سے تمہاری طرف بھیجتا ہے؟ اور کون ہے وہ کہ جو زمین سے معاون و ذخائر اور موادِ غذائی، انواع و اقسام کے نباتات اور پھل اور دوسری برکارت اس زمین سے تمہارے لیے نکالتا ہے۔ اب جبکہ تم اس بات کو جانتے ہو کہ ان سب برکات کا سرچشمہ وہی ہے تو پھر جان لو کہ: "اس کے سوا کوئی اور معبود بھی نہیں ہے اور عبادت و پرستش صرف اسی کی ذات پاک کے لائق ہے" (لا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ)۔ "اس حالت میں تم کس طرح حق کی راہ سے باطل کی طرف منحرف ہوتے ہو اور اللہ کے بجائے بتوں کے سامنے سجدہ کرتے ہو" (فانی تؤفكون)۔ "تؤفكون" "افك" (بر وزن فکر) کے مادہ سے ہے، جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں کہ "افک" ہر اس چیز کو کہتے ہیں کہ جو اپنی اصلی حالت سے بدل جائے لہذا ہر اس بات کو کہ جو حق سے انحراف پیدا کرے "انک" کہتے ہیں اور یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ جھوٹ اور تہمت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے تو اسی لحاظ سے ہے، البتہ بعض کا نظریہ یہ ہے کہ یہ لفظ جھوٹ اور بڑی بڑی تہمتوں کو بیان کرتا ہے۔
نکتہ: ملائکہ قرآن مجید میں
قرآنِ مجید میں ملائکہ کا بہت زیادہ بیان ہوا ہے۔ بہت سی آیاتِ قرآن فرشتوں کی صفات، خصوصیات، فرائض اور وظائف اور ذمہ داریوں کے سلسلہ میں گفتگو کرتی ہیں، یہاں تک کہ قرآن نے ملائکہ پر ایمان رکھنے کو خدا، انبیاء اور کتبِ آسمانی پر ایمان رکھنے کی ردیف میں قرار دیا ہے اور یہ چیز اس مسئلہ کی بنیادی اہمیت کی دلیل ہے، (آمَنَ الرَّسُولُ بِما أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللهِ وَمَلائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ)۔ "پیغمبر اسلام اس چیز پر کہ جو ان کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے ایمان لائے اور مومنین بھی خدا، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور رسولوں سب پر ایمان لائے ہیں" ( بقرہ 285)۔ اس میں شک نہیں کہ فرشتوں کا وجود امورِ غیبیہ میں سے ہے کہ جس کے ثابت کرنے کے لیے ان صفات و خصوصیات کے ساتھ اولہ نقلیہ کے علاوہ کوئی اور راہ نہیں ہے اور ایمان بالغیب کے حکم کے مطابق انہیں قبول کرنا چاہیئے۔ قرآنِ مجید ان کی خصوصیات کو مجموعی طور پر اس طرح شمار کرتا ہے: 1- فرشتے عاقل اور باشعور موجودات ہیں اور خدا کے گرامی قدر اور معزز بندے ہیں: (بَلْ عِبادٌ مُكْرَمُونَ) (انبیاء 26)۔ 2- وہ خدا کے تابع فرمان ہیں اور ہرگز اس کی معصیت و نافرمانی نہیں کرتے (لا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ) (انبیاء 27)۔ 3- وہ خدا کی طرف سے اہم اور بہت ہی متنوع ذمہ داریاں اور وظائف اپنے ذمہ رکھتے ہیں۔ ایک گروہ حاملینِ عرش کا ہے۔ (حاقہ 17) ایک گروه مدبر امر ہے۔ (نازعات 5) ایک گروه قابضِ ارواح فرشتوں کا ہے۔ (اعراف 37) ایک گروہ اعمالِ انسانی کا نگران ہے۔ (سورہ انفطار10 تا 13) ایک گروہ انسان کی خطرات و حوادث سے حفاظت کرتا ہے۔ (انعام 61) ایک گروہ سرکش اقوام کو عذاب اور سزا دینے پر مامور ہے۔ (ہود 77) ایک گروہ جنگوں میں خدا کی طرف سے مومنین کی مدد کرنے والا ہے۔ (احزاب 9) اور بالآخر ایک گروہ انبیاء کے لیے وحی کا پہنچانے والا اور ان کے پاس کتبِ آسمانی کا لانے والا ہے۔ (نحل 2) اگر ہم چاہیں کہ ان کی ایک ایک ذمہ داری اور ماموریت کو شمار کریں تو بحث طویل ہو جائے گی۔ 4- وہ ہمیشہ خدا کی تسبیح و تقدیس میں مشغول رہتے ہیں جیسا کہ سورہ شوریٰ کی آیت 5 میں بیان ہوا ہے: (: وَالْمَلائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الْأَرْضِ) "فرشتے اپنے پروردگار کی تسبیح اور حمد بجا لاتے ہیں اور جو لوگ زمین میں ہیں ان کے لیے استغفار کرتے ہیں"۔ 5- اس کے باوجود انسان تکامل و ارتقاء کی استعداد کے مطابق ان سے بھی برتر و الفضل تر ہے، یہاں تک کہ تمام فرشتے بغیر استثناء کے آدمؑ کی خلقت کے وقت اس کے سجدے میں گرپڑے اور آدمؑ ان کے معلِّم قرار پائے۔ (البقره 30 - 34) 6- وہ کبھی انسان کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں اور انبیا بلکہ غیر انبیاء کے سامنے بھی آتے ہیں، جیسا کہ سوره مریم میں بیان ہوا ہے کہ: "ایک عظیم خدائی فرشتہ ایک موزوں اور ٹھیک ٹھاک انسان کی شکل میں مریم کے سامنے ظاہر ہوا" (فَأَرْسَلْنا إِلَيْها رُوحَنا فَتَمَثَّلَ لَها بَشَراً سَوِيًّا)۔ (مریم 17) دوسرے مقام پر انسانوں کی شکل میں ابراہیمؑ و لوطؑ پر ظاہر ہوئے۔ (ہود 69 - 77) یہاں تک کہ ان آیات کے ذیل میں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قومِ لوط نے بھی انہیں موزوں انسانی شکلوں میں دیکھا تھا۔ (ہود 78) کیا چہره انسانی میں ظہور ایک واقعیتِ عینی ہے یا قوّتِ ادراک میں تمثیل و تصرف ہے۔ آیاتِ قرآنی کا ظاہر پہلا معنی ہے۔ اگرچہ بعض بزرگ مفسرین نے دوسرے معنی کا انتخاب کیا ہے۔ 7- روایاتِ اسلامی سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ کسی طرح بھی انسان کے ساتھ قابل قیاس نہیں ہیں جیسا کہ ایک روایت میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ جس وقت لوگوں نے آنحضرتؐ سے پوچھا کہ کیا فرشتوں کی تعداد زیادہ ہے یا انسانوں کی تو آپ فرمایا: "قسم ہے اس خدا کی کہ جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، آسمانوں میں خدا کے فرشتوں کی تعداد زمین کے خاک کے ذرات سے بھی زیادہ ہے اور آسمان میں ایک قدم رکھنےکی جگہ نہیں ہے مگر یہ کہ وہاں ایک فرشتہ خدا کی تسبیح و تقدیس کرتا ہے"۔ [بحوالہ: بحار الانوار، جلد 59 ص 176 (حدیث 7) اس سلسلے کی اور دوسری بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں]۔ 8- وہ نہ غذا کھاتے ہیں، نہ پانی پیتے ہیں اور نہ ہی نکاح و ازدواج کرتے ہیں، جیسا کہ ایک حدیث میں امام صادقؑ سے منقول ہے: "ان الملائكة لا ياكلون و لا يشربون و لا ينكحون و انما يعيشون بنسيم العرش"۔ "فرشتے نہ کھانا کھاتے ہیں نہ پانی پیتے ہیں اور نہ ہی نکاح و ازدواج کرتے ہیں وہ توصرت نسیمِ عرش سے زندگی بسر کرتے ہیں"۔ [بحوالہ: بحار الانوار، جلد 59 ص 174 (حدیث 4)]۔ 9- نہ انہیں نیند آتی ہے نہ سستی و غفلت ان پر طاری ہوتی ہے جیسا کہ حضرت علیؑ نے ایک حدیث میں فرمایا ہے کہ: "ليس فيهم فترة، و لا عندهم غفلة، و لا فيهم معصية ... لا يغشاهم نوم العيون و لا سهوا العقول، و لا فترة الأبدان، لم يسكنوا الأصلاب و لم تضمهم الأرحام:"۔ "نہ ان میں سستی ہے اور نہ غفلت، نہ عصیان و نافرمانی ہے اور نہ ہی ان پر نیند کا غلبہ ہوتا ہے۔ ان کی عقل سہو و نسیان میں گرفتار نہیں ہوتی، ان کا بدن سستی کی طرف مائل نہیں ہوتا اور وہ باپوں کے صلب اور ماؤں کے رحم میں قرار نہیں پاتے۔ [بحوالہ: بحار الانوار، جلد 59 ص 175] 10۔ وہ مختلف مقامات اور متفاوت مدارج رکھتے ہیں بعض ہمیشہ رکوع میں ہیں اور بعض ہمیشہ سجدے میں ہیں۔ "ما مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقامٌ مَعْلُومٌ وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ"۔ "ہم میں سے ایک معلوم مقام رکھتا ہے، ہم ہمیشہ صف کشیده اس کے فرمان کے منتظر رہتے ہیں اور مسلسل اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں"۔ (صافات: 164 تا 166) امام صادقؑ فرماتے ہیں: "و ان للَّه ملائكة ركعا الى يوم القيامه و ان للَّه ملائكة سجد الى يوم القيامه"۔ "خدا کے کچھ فرشتے ایسے ہیں کہ جو قیامت تک رکوع میں ہیں اور کچھ فرشتے ایسے ہیں کہ جو قیامت تک سجدے میں ہیں"۔ [بحوالہ: بحار الانوار، جلد 59 ص 174]۔ ملائکہ کے اوصاف اور ان کے اصناف سے زیادہ سے زیادہ آگاہی حاصل کرنے کے لیے کتاب "السماء والعالم"، بحار الانوار، ابواب الملائكہ (جلد 59 ص 144 تا 326) کی طرف رجوع فرمائیں، اسی طرح نہج البلاغہ خطبہ ہائے اوّل و 91 خطبه اشباح: 109 و 171 سے رجوع فرمائیں، اسی طرح نہج البلاغہ خطبہ ہائے اول و 91 خطبہ اشباح: 109 و 171 سے رجوع کریں۔ کیا ان اوصاف کے باوجود کہ جو فرشتوں کے بارے میں بیان ہوئے ہیں وہ کوئی مجرد وجود ہیں یا مادی؟ اس میں شک نہیں کہ وہ ان اوصاف کے ساتھ اس کثیف عنصری مادہ سے تو نہیں ہو سکتے، لیکن اس بات میں کوئی امر مانع نہیں ہے، کہ وہ اجسام لطیفہ سے خلق ہوئے ہیں، ایسے اجسام کہ جو اس عام مادہ سے مافوق ہو کہ جس سے تم آشنا نہیں۔ فرشتوں کے لیے "تجردِ مطلق" کا اثبات، حتٰی زمان و مکان اور اجزاء سے "تجرد" کوئی آسان کام نہیں ہے اور اس مسئلہ کے بارے میں تحقیق بھی کوئی زیادہ فائدہ مند نہیں ہے، زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہم فرشتوں کو ان اوصاف کے ساتھ کہ جن کے ساتھ قرآن اور مسلمہ روایاتِ اسلامی نے ان کی توصیف کی ہے انہیں پہچانیں اور انہیں خدا کی عظیم اور عمده موجودات میں سے ایک عظیم نوع سمجھیں، بغیر اس کہ ہم ان کے لیے مقام بندگی اور عبودیت کے سوا کسی اور مقام و مرتبہ کے ان کے لیے قائل ہوں اور انہیں خلقت یا عبادت میں خدا کا شریک سمجھیں کیونکہ یہ شرک اور کفرِ محض ہے۔ فرشتوں کے بارے میں ہم اسی قدر بحث پر قناعت کرتے ہیں اور اس کی تفصیل ان کتب کے حوالہ کرتے ہیں کہ جو خصوصیات کے ساتھ اس سلسلہ میں لکھی گئی ہیں۔ تورات کی بہت سی عبارتوں میں فرشتوں کو "خداؤں" کے ساتھ تعبیر کیا گیا ہے، کہ جو شرک آلود تعبیر ہے۔ اور موجودہ تورات کی تحریف کی نشانیوں میں سے ہے، لیکن قرآنِ مجید اس قسم کی تعبیروں سے پاک اور منزہ ہے۔ کیونکہ قرآن ان کے لیے مقامِ بندگی و عبادت اور احکام و فرامینِ الٰہی کے اجراء کے سوا اور کسی مقام کا قائل نہیں ہوا ہے۔ یہاں تک کہ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ قرآن کی مختلف آیات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ انسانِ کامل کا مقام فرشتوں سے والا تر اور بالا تر ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: دنیا اور شیطان تمہیں فریب نہ دے
Tafsīr Nemūna · Vol. 5اِس سورہ کی آیات کے دوسرے حصّہ میں اس گفتگو کے بعد کہ جو توحید و خالقیت و رازقیت کے سلسلہ میں تھی پہلے رُوئے سخن پیغمبر ص کی طرف اور پھر عام لوگوں کی طرف کرتے ہوئے ان کے عملی پروگرام کی گزشتہ عقیدے سے متعلق پروگرام کے بعد تشریح کرتا ہے۔ پہلے پیغمبر کو اپنی راہ پر چلنے کے لیے استقامت کا درس دیتا ہے، کہ جو آپ کے لیے اہم ترین درس ہے، فرماتا ہے کہ: " اگر وہ تیری تکذیب کریں تو غم نہ کرو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، تجھ سے پہلے جو پیغمبر ہوتے ہیں ان کی بھی تکذیب کی گئی تھی۔ (وَإِنْ يُكَذِّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِكَ)۔ انہوں نے بھی اس راہ میں ثابت قدمی سے کام لیا، جب تک فرضِ رسالت کو ادا نہ کر لیا بیٹھے نہیں تھے۔ تم بھی مضبوطی کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور ادائے رسالت کرو نتیجہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ "اہم بات یہ ہے کہ تمام کام خدا ہی کی طرف لوٹتے ہیں اور وہ ہر چیز پر ناظر اور ہر کام کا حساب کتاب کرنے والا ہے (وَإِلَى اللهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ)۔ وہ اس راہ میں تیری زحمت و تکالیف کو ہرگز بےاعتنائی سے نہیں دیکھتا جس طرح سے کہ ان ہٹ دھرم مخالفین کے جھٹلانے کو بغیر سزا دیئے نہیں چھوڑتا، اگر قیامت کا دن آنے والا نہ ہوتا تو پریشانی کا مقام تھا لیکن اس عظیم دادگاہ اور اس عظیم دن کے لیے لوگوں کے تمام اعمال کے ثبت و ضبط ہونے کی طرف توجہ کرتے ہوئے پریشانی کی کونسی بات ہے؟ اس کے بعد انسانوں کے اہم ترین پروگرام کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ: "اے لوگو! خدا کا وعدہ حق ہے"۔ (يٰا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ) قیامت، حساب و کتاب، میزان، مجازات، کیفر، جنت، جہنم سب کے سب ایسے وعدے ہیں کہ جو خدائے قادر و حکیم کی طرف سے پورے ہونے والے ہیں۔ اس وعدہ حق کی طرف توجہ کرتے ہوئے: "کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیاوی زندگی تمہیں دھوکہ دے دے اور دھوکہ دینے والا شیطان کہیں تمہیں فریب نہ دے دے اور خدا کے عفو و کرم سے مغرور کر دے" (فَلا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَياةُ الدُّنْيا وَلا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللهِ الْغَرُورُ)۔ ہاں سرگرم کرنے والے عوامل اور اس جہان کے دل فریب ٹھاٹھ باٹھ چاہتے ہیں کہ تمہارے سادے دل کو ان سے بھر دیں اور اس عظیم خدائی وعدے سے غافل بنا دیں۔ شیاطین جن و انس فریب کاری کے گوناں گوں وسائل کے ساتھ لگاتار وسوسہ میں مشغول ہیں، وہ بھی چاہتے ہیں کہ تمہاری ساری فکر کو اپنی طرف مشغول رکھیں اور اس عظیم روزِ موعود سے کہ جو آگے آ رہا ہے اس سے تمہیں منحرف کر دیں، کہ اگر ان کے مکر و فریب اور وسوسے موثر ہو جائیں تو پھر تمہاری ساری زندگی تباہ و برباد اور تمہاری سعادت کی آرزو نقش بر آب ہو جائے گی لہذا ان سے بھی بچتے رہو۔ لوگوں کو بار بار اس بات کی تنبیہ کرنا کہ نہ تو وہ شیطانی وسوسوں سے مغرور ہوں اور نہ ہی دنیا سے، واقع میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان میں گناہ کے نفوذ کی دو راہیں ہیں۔ ۱۔ دنیا کے فریب دینے والے مظاہر، جاہ و جلال اور مال و منال اور طرح طرح کی خواہشات۔ ۲۔ خدا کے عفو و کرم پر مغرور ہونا اور یہ وہ مقام ہے کہ جہاں شیطان ایک طرف تو اس عالم کے ٹھاٹھ باٹھ کو انسان کی نگاہ میں زینت دیتا ہے اور اس کو ایک نقد متاع، پرکشش اور قیمتی اور دوست رکھنے کے لائق چیز ظاہر کرتا ہے۔ اور دوسری طرف جب انسان یہ چاہتا ہے کہ قیامت اور پروردگار کی عظیم دادگاہ کو یاد کر کے اپنے آپ کو دنیا کے غریب اور اس کی شدید کشش کے مقابلہ میں کنٹرول کرے تو وہ اس کو عفوِ الہٰی اور اس کی رحمت کی وسعت کا بیان کر کے مغرور کر دیتا ہے اور اس کے نتیجے میں اسے گناہ اور سرکشی کی دعوت دیتا ہے۔ وہ اس بات سے غافل ہے کہ خدا جس طرح رحمت کے مقام پر "ارحم الراحمین" (سب سے زیادہ رحم کرنے والا) ہے، سزا اور کیفر کے مقام پر "اشد المعاقبین" (سب سے سخت عذاب کرنے والا) بھی ہے، اس کی رحمت کبھی بھی گناہ کا شوق پیدا نہیں کرتی جیسا کہ اس کا غضب یاس و ناامیدی کا سبب نہیں ہو سکتا۔ "غرور" (بروزن جسور) مبالغہ کا صیغہ ہے اور اُس موجود کے معنی میں ہے کہ جو حد سے زیادہ فریب کار ہو اور یہاں ممکن ہے کہ اس سے فریب کاری کا ہر عامل مراد ہو، جیسا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے خصوصیت کے ساتھ شیطان مراد ہو۔ البتہ دوسرا معنی بعد کی آیت کے ساتھ زیادہ مناسب ہے، خاص طور پر اس صورت میں کہ قرآنی آیات میں بارہا "فریب و غرور" کی شیطان کی طرف نسبت دی گئی ہے۔ بعض مفسرین نے یہاں ایک تجزیہ کیا ہے جس کا خلاصہ اس طرح ہے۔ وہ افراد کہ جو عواملِ فریب کے مقابل قرار پاتے ہیں، تین گروہ ہیں: ایک گروہ تو اس قدر ضعیف و ناتواں ہوتا ہے کہ جو معمولی سی چیز سے دھوکا کھا جاتا ہے۔ دوسرا گروہ کہ جو اُن سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے وہ صرف دنیا کے ٹھاٹھ باٹھ اور زرق برق سے فریفتہ نہیں ہوتا، بلکہ وہ صرف اس صورت میں فریب کھاتے ہیں کہ کوئی طاقتور وسوسہ ڈالنے والا انہیں تحریک کرے اور ان کے مفاسدِ اعمال کو ان کی نظر میں ہلکا کر کے پیش کرے، لہٰذا ایک طرف سے تو جلدی گزر جانے والی لذتیں اور دوسری طرف سے وسوسے انہیں بُرے اعمال کے انجام دینے پر ابھارتے ہیں۔ تیسرا گروہ وہ ہوتا ہے کہ جو ان سے بھی زیادہ طاقتور اور قوّی ہے جو نہ تو خود ہی مغرور ہوتے ہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا انہیں فریب دے سکتا ہے۔ " فَلا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَياةُ الدُّنْيا" کا جملہ پہلے گروہ کی طرف اشارہ ہے۔ اور " وَلا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللهِ الْغَرُورُ" کا جملہ دوسرے گروہ کی طرف اور باقی رہا تیسرا گروہ تو وہ درحقیقت " إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ " کے عنوان میں داخل ہے۔ [بحوالہ: تفسیر فخر رازی جلد ۲۶ ص ۵]۔ بعد والی آیت تمام مومنین کو، ان شیطانی وسوسوں کے مسئلہ سے مربوط کے جس کا بیان اس سے پہلی آیت میں ہوا تھا، ایک تنبیہ ہے، کہتا ہے کہ: "شیطان یقیناً تمہارا دشمن ہے، تم بھی اس کو اپنا دشمن سمجھو" (إِنَّ الشَّيْطانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا)۔ اس کی دشمنی آدم کی پیدائش کے پہلے دن سے ہی شروع ہو چکی تھی اور جس وقت وہ آدم کو سجدہ کرنے کے بارے میں حکمِ خدا کو تسلیم نہ کر کے راندہ درگاہ ہو گیا تو اس نے قسم کھائی کہ وہ ہمیشہ کے لیے آدم اور اس کی اولاد سے دشمنی رکھے گا، یہاں تک کہ اس کام کے لیے خدا سے مہلت اور طویل عمر کا تقاضا کیا۔ وہ اپنی کہی ہوئی بات پر اَڑا ہوا ہے اور دشمنی نکالنے کے لیے اور تم پر ضَرب لگانے کے لیے تھوڑی سے تھوڑی فرصت کو بھی غنیمت شمار کرتا ہے۔ کیا عقل اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ تم اس کو اپنا دشمن نہ سمجھو اور ایک لمحہ کے لیے بھی اس سے غافل رہو؟ چہ جائیکہ تم یہ چاہنے لگو کہ "خطوات شیطان" اور اس کے قدموں کی پیروی کرو، یا یہ کہ تم اسے اپنا شفقت کرنے والا رفیق اور ناصح دوست سمجھنے لگو: (أَ فَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِياءَ مِنْ دُونِي وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ) "کیا تم اسے اور اس کی اولاد کو میری بجائے اپنا دوست بناتے ہو، درحالیکہ وہ تمہارا بہت ہی سخت دشمن ہے۔ (کہف ۵۰) علاوہ ازیں وہ ایک ایسا دشمن ہے کہ جو ہر طرف سے حملہ کرتا ہے، جیسا کہ وہ خود کہتا ہے: " ثُمَّ لَآتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمانِهِمْ وَعَنْ شَمائِلِهِمْ" (پھر میں ہر طرف سے اولادِ آدم کے پاس آؤں گا، ان کے آگے سے بھی، ان کے پیچھے سے بھی، ان کے دائیں طرف سے بھی اور بائیں طرف سے بھی) ۔ (اعراف - ۱۷) خصوصاً وہ جبکہ ایسی کمین گاہ میں ہے کہ: "وہ تو انسان کو دیکھتا ہے، لیکن انسان اسے نہیں دیکھتا" (إِنَّهُ يَراكُمْ هُوَوَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لا تَرَوْنَهُمْ) "شیطان اور اس کا قبیلہ تو تمہیں دیکھتا ہے، جبکہ تم اس کو نہیں دیکھتے"۔ (اعراف ۲۷) البتہ یہ بات اس کے وسوسوں کے مقابلہ میں تمہارے اپنے آپ سے قدرتِ دفاع میں مانع نہیں ہے۔ موسی علیہ السلام بن عمران کو پروردگار کی وصیتوں میں ایک عمدہ تعبیر بیان ہوئی ہے، جیسا کہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ خدا نے موسی علیہ السلام سے فرمایا میں تمہیں چار وصیتیں کرتا ہوں انہیں یاد رکھنا: أولاً: "أولاهن ما دمت لا ترىٰ ذنوبك تغفر فلا تشتغل بعيوب غيرك!"۔ والثانیة: "ما دمت لا ترى كنوزى قد نفدت فلا تهتم بسبب رزقك! و الثالثة ما دمت لا ترى زوال ملكى فلا ترج أحدا غيرى! و الرابعة ما دمت لا ترى الشيطان ميتا فلا تأمن مكره!"۔ "پہلی وصیت تو یہ ہے کہ جب تک تو اپنے گناہوں کو بخشا ہوا نہ دیکھ لے دوسروں کی عیب جوئی نہ کر۔ دوسری وصیت یہ ہے کہ جب تک تو میرے خزانوں کو ختم ہونے والا نہ دیکھ لے اپنی روزی کے لیے غمناک نہ ہو۔ تیسری وصیت یہ ہے کہ جب تک تو میری حکومت کو زائل ہونے والا نہ دیکھ لے میرے علاوہ کسی اور سے امید نہ باندھنا۔ چوتھی وصیت یہ ہے کہ جب تک تو شیطان کو مرا ہوا نہ دیکھ لے اُس وقت تک اس کے مکر و فریب اور اس کے منصوبوں سے امن میں نہ رہ"۔ [بحوالہ: سفینة البحار، جلد ۱ صفحه ۵۰۱ ماده ربع]۔ بہرحال بنی آدم کے ہاتھ شیطان کی دشمنی ایک ایسا مضمون ہے جس کی طرف قرآن کی بہت سی آیات میں اشارہ ہوا ہے۔ یہاں تک کہ بار بار تکرار کے ساتھ اُسے "عدو مبین" (واضح دشمن) کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔ [بحوالہ: آیه ۱۶۱، ۲۰۸ بقره - انعام آیه ۱۴۲ - اعراف - ۲۲ - یوسف -۵ - یسین - ۶۰ - زخرف – ۶۲]۔ اس قسم کے دشمن سے ہمیشہ ڈرتے رہنا چاہیئے۔ آیت کے آخر میں مزید تاکید کے لیے کہتا ہے: "وہ تو صرف اپنے ہی گروہ کو اس لیے دعوت دیتا ہے تاکہ وہ جہنم کی جلانے والی آگ میں داخل کیے جائیں" (إِنَّما يَدْعُوا حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحابِ السَّعِيرِ)- "حزب" اصل میں جماعت اور ایسے گروہ کے معنی میں ہے کہ جو تشکل اور شدتِ عمل کا حامل ہو، لیکن عام طور پر ہر اس گروہ اور جمعیت کے لیے بولا جاتا ہے کہ جو ایک خاص پروگرام اور مقصد کی پیروی کرتا ہے۔ "حزب شیطان " سے مراد اس کے پیروکار اور وہ لوگ ہیں کہ جو اس کے کہنے پر عمل کرتے ہیں۔ البتہ شیطان ہر شخص کو اپنے حزب کا رسمی ممبر نہیں بنا سکتا اور نہ ہی انہیں جہنم کی طرف دعوت دے سکتا ہے، اس کے حزب کے افراد تو وہ ہیں جن کا قرآن کی دوسری آیات میں بیان ہوا ہے اور وہ ذیل کی نشانیاں رکھتے ہیں: وہ لوگ کہ جنہوں نے اس کی بندگی اور ولایت و دوستی کا طوق اپنی گردن میں ڈال رکھا ہے۔ "(إِنَّما سُلْطانُهُ عَلَى الَّذِينَ يَتَوَلَّوْنَهُ)" اس کا تسلط صرف ان افراد پر ہے کہ جو اس کی ولایت کو قبول کرتے ہیں"۔ (النحل ۱۰۰) "وہ لوگ کہ جن پر شیطان کا غلبہ ہے اس طرح سے کہ ان سے خدا کی یاد کو بھلا دیا ہے وہ شیطان کا حزب ہے اور شیطان کا حزب ہی واقعی زیاں کار ہے" (اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطانُ فَأَنْساهُمْ ذِكْرَ اللهِ أُولئِكَ حِزْبُ الشَّيْطانِ أَلا إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطانِ هُمُ الْخاسِرُونَ)- (مجادله - ۱۸) قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ قرآن میں تین مقامات پر تو حزب اللہ کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے اور تین ہی مقامات پر حزبِ شیطان کے بارے میں، تاکہ دیکھیں کہ کون کون سے افراد اس حزب میں اپنا نام لکھاتے ہیں اور کون سے اُس حزب کے ممبر بنتے ہیں۔ لیکن بہرحال یه طبیعی امر ہے کہ شیطان اپنے حزب کو کس چیز کی دعوت دیتا ہے، آلودگی اور گناہ کی، شہوات کی پلیدی کی، شرک و طغیان کی، ظلم و ستم کی اور آخرکار جہنم کی آگ کی طرف [تشریحی نوٹ:یہ نکتہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ "لیکونو" میں "لام" لامِ علت بھی ہو سکتی ہے اور لام غایت بھی]۔ ہم انشاء الله "حزب اللہ" اور "حزب الشیطان" کی خصوصیات کے بارے میں مزید تفصیل سورہ مجادلہ کی آیہ ۲۲ کے ذیل میں بیان کریں گے۔ آخری زیرِ بحث آیت میں حزب اللہ کا انجامِ کار اور حزب الشیطان کی دردناک عاقبت کو اس طرح بیان کرتا ہے کہ: "جو لوگ کافر ہو گئے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے عملِ صالح انجام دیئے تو وہ مغفرت اور اجرِ عظیم کے مستحق ہیں"۔ "(الَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ عَذابٌ شَدِيدٌ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَّ أَجْرٌ كَبِيرٌ)"- قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اوپر والی آیت میں عذاب کے استحقاق کے لیے تو صرف مسئلہ کفر پر قناعت کرتا ہے لیکن مغفرت اور اجرِ کبیر کے مسئلہ میں ایمان کو کافی نہیں سمجھتا بلکہ "عملِ صالح" کا بھی اس پر مزید اضافہ کرتا ہے، کیونکہ کفر تو تنہا ہی عذاب میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے کا سبب ہے، لیکن ایمان و عمل کے بغیر سببِ نجات نہیں ہو گا، بلکہ ایمان و عمل ایک لحاظ سے ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں اور ایک دوسرے سے ملے ہوتے ہیں۔[تشریحی نوٹ:"مغفرت" اور "عذاب" میں تنوین تعظیم و تفخیم کے لیے ہے یعنی عظیم مغفرت اور دردناک عذاب]۔ اوپر والی آیت میں آخر میں پہلے مغفرت کے بارے میں گفتگو ہے، اس کے بعد اجرِ کبیر کے بارے میں، کیونکہ مغفرت حقیقت میں مومنین کو ابتداء میں گناہوں سے دھو کر پاک کر دیتی ہے، اس کے بعد اس کو "اجرِ کبیر" کے قبول کرنے کے لیے آمادہ کر دیتی ہے۔ اصطلاح کے مطابق اوّل تخلیہ ہے اور دوسرا تحلیہ ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
پاک اور صالح گفتار و کردار خدا کی طرف لے جاتے ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 5چونکہ گزشتہ آیات میں لوگوں کی دو گروہوں میں تقسیم ہوئی تھی، ایک "گروہِ مؤمن" اور ایک "گروہِ کافر" یا ایک گروه "حزب اللہ اور شیطان کا دشمن" اور دوسرا گروہ "اس کا پیرو اور اس کا حزب"۔ پہلی زیرِبحث آیت ان دونوں گروہوں کی ایک اہم خصوصیت کو جو واقع میں ان کے تمام پروگراموں کا سرچشمہ ہے، بیان کرتے ہوئے کہتی ہے: "کیا وہ شخص کہ جس کے عمل کی برائی اس کی نظروں میں زینت دے دی گئی ہے اور وہ اس کو ایک اچھی اور خوبصورت بات سمجھتا ہے، اس شخص کی مانند ہے کہ جو واقعات کو بعینہ اسی طرح سے جیسے کہ وہ ہیں اچھے یا برے درک کرتا ہے"؟ (أَ فَمَنْ زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ فَرَآهُ حَسَناً)۔ حقیقت میں یہ مسئلہ گمراہ اور ہٹ دھرم قوموں کی سب بدبختیوں کی کلید ہے۔ کیونکہ ان کے تمام برے اعمال، ان کے سیاہ دل اور خواہشاتِ نفسانی سے ہم آہنگ ہونے کی وجہ سے ان کی نظر میں خوبصورت دکھائی دیتے ہیں۔ یہ بات محتاجِ ثبوت نہیں ہے کہ اس قسم کا آدمی نہ تو وعظ و نصیحت کو قبول کرتا ہے اور نہ ہی ان تنقید کو سننے کے لیے آمادہ ہوتا ہے اور نہ ہی اپنی رفتار کو بدلنے پر تیار ہوتا ہے۔ نہ وہ اپنے اعمال کے سلسلہ میں تجزیه و تحلیل کرتا ہے اور نہ ہی ان کے انجام سے ڈرتا ہے۔ اور اس سے بالا تر بات یہ ہے کہ جس وقت برائی اور اچھائی یا قباحت و زیبائی کی بات چھڑتی ہے، تو اچھائیوں اور زیبائیوں کی ضمیر کا مرجع اپنی ذات کو سمجھتا ہے اور برائیوں اور قباحتوں کی ضمیر کا مرجع مومنین کو اور کتنے ہی کفارِ لجوج ایسے ہیں کہ جس وقت انہوں نے حزبِ شیطان پر گزرے ہوئے عذاب اور ان کے انجام کے بارے میں سنا تو انہوں نے اس کو سچے مومنین پر منطبق کر دیا اور خود اپنے آپ کو حزب اللہ کا مصداق شمار کیا۔ اور یہ ایک بہت ہی بڑی مصیبت اور دکھ کی بات ہے۔ لیکن وہ کون ہے کہ جو بدکاروں کے برے اعمال کو ان کی نظر میں جلوہ دیتا ہے؟ کیا خدا؟ یا ہوائے نفس؟ یا شیطان؟ اس میں شک نہیں کہ عاملِ اصلی تو ہوائے نفس اور شیطان ہی ہے، لیکن چونکہ یہ اثر خدا نے ان کے اعمال میں پیدا کیا ہے لہذا انہیں خدا کی طرف بھی منسوب کیا جا سکتا ہے کیونکہ انسان جب کسی گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں تو ابتداء میں چونکہ ان کی فطرت پاک اور ان کا وجدان بیدار اور ان کی عقل واقع بیں ہوتی ہے لہذا وہ اپنے برے عمل سے بےچین اور پریشان ہوتے ہیں، لیکن جس قدر وه اس عمل کو دہراتے ہیں تو ان کی پریشانی میں کمی ہوتی جاتی ہے۔ آہستہ آہستہ وہ بےپرواہی کے مرحلہ تک پہنچ جاتے ہیں اور اگر پھر بھی اس عمل کو دہراتے رہیں تو برائیاں ان کی نظر میں اچھائیاں ہو جاتی ہیں یہاں تک کہ وہ اپنے لیے افتخارات اور فضائل شمار کرنے لگ جاتے ہیں، حالانکہ وہ بدبختی کی منجدھار میں غوطہ زن ہوتے ہیں۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ جس وقت قرآن اس سوال کو پیش کرتا ہے کہ: "کیا وہ شخص کہ جس کے عمل کی برائی اس کی نظر میں مزیّن کر دی گئی ہے اور وہ اسے زبیا اور خوبصورت نظر آتی ہے .... " تو اس کے نقطہ مقابل کو صراحت کے ساتھ ذکر نہیں کرتا۔ گویا وہ یہ چاہتا ہے کہ سننے والے کو ایک وسیع گنجائش دے تاکہ وہ ان مختلف امور کو کہ جو نقطہ مقابل بن سکتے ہیں اپنی نظر میں مجسم کرے۔ اور انہیں زیادہ سے زیا دہ سمجھ سکے۔ گویا وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ کیا اس قسم کے افراد واقع بیں افراد کی طرح ہیں؟ کیا اس قسم کے آدمی کے لیے بھی نجات کی امید ہے۔ [تشریحی نوٹ: اس سے واضح ہو گیا ہے کہ اس آیت میں ایک جملہ مقدر ہے جو ممکن ہے کہ اس طرح ہو: "كمن ليس كذلك ... كمن يحاسب نفسه و يرى القبيح قبيحا ... هل يرجى له صلاح و متاب]۔ اس کے بعد قرآن ان دونوں گروہوں کے درمیان فرق کا سبب بیان کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "خدا جس شخص کو چاہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہے ہدایت کرتا ہے"۔ (فَإِنَّ اللهَ يُضِلُّ مَنْ يَشاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشاءُ)۔ اگر پہلے گروہ کے اعمال ان کی نظر میں زینت دے دیئے گئے ہیں تو یہ خدا کی طرف سے انہیں گمراہی میں رکھنے کا نتیجہ ہے، وہی خدا ہے کہ جس نے برے اعمال کی تکرار میں یہ خاصیت قرار دے دی ہے کہ نفسِ انسانی اس کا خوگر ہو جاتا ہے اور اس کے ہم رنگ اور ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ اور وہی خدا ہے کہ جو پاک دل مومنین کو ایسی ناقد و بینا آنکھیں اور ایسے کان کہ جو حقائق کو اس طرح درک کرنے والے ہوں جیسے کہ وہ ہیں بخشتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ مشیتِ الٰہی اس کی حکمت کے ساتھ توام ہے اور ہر شخص کو جس کا وہ لائق ہے اس کو وہی دیتا ہے۔ اسی لیے آیت کے آخر میں فرماتا ہے: مبادا ان کی وضع و کیفیت پر شدّتِ تاسف اور حسرت کے زیرِ اثر تو اپنی جان دے بیٹھے" (فَلا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَراتٍ)۔ یہ تعبیر اسی تعبیر کی طرح ہے کہ جو سورۂ شعراء کی آیہ 3 میں بیان ہوئی ہے: (لَعَلَّكَ باخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ)"گویا تو چاہتا ہے کہ اپنی جان گنوا بیٹھے کہ وہ ایمان نہیں لاتے"۔ [تشریحی نوٹ: اوپر والی آیت کے لیے مفسرین نے ایک اور تفسیر بھی بیان کی ہے اور وہ یہ ہے کہ پیغمبر ان کے آزاروں اور مخالفتوں کی شدت اور سختی سے پریشان نہ ہو کیونکہ خدا ان کے اعمال کو اچھی طرح جانتا ہے اور ان سے برمحل انتقام لے گا]۔ "حسرات" کی تعبیر کہ جو اصطلاح کے مطابق "مفعول لاجله" ہے گزشتہ جملہ کے لیے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تو نہ صرف ایک ہی حسرت ان کے لیے رکھتا ہے، بلکہ تجھے ان پر کئی حسرتیں ہیں۔ نعمتِ ہدایت کو ہاتھ سے دینے کی حسرت، گوہرِ انسانیت ضائع کرنے کی حسرت تشخیص کی حِس ہاتھ سے دے بیٹھنے کی حسرت، یہاں تک کہ وہ برائی کو اچھائی سمجھنے لگے ہیں اور آخر میں پروردگار کے قہر و غضب کی آگ میں گرفتار ہونے کی حسرت۔ لیکن تو حسرت نہ کر: "اس لیے کہ خدا ان کے اعمال سے آگاہ ہے اور وہ جس چیز کے لائق ہیں وہی چیز انہیں دے گا" (إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ بِما يَصْنَعُونَ)۔ آیت کے لب و لہجہ سے پیغمبر اسلامؐ کی گمراہوں اور منحرفین کے بارے میں دل سوزی پورے طور پر ظاہر ہے۔ اور ایک سچے خدائی رہبر کی حالت یہی ہوتی ہے، کہ وہ لوگوں کے حق کو قبول نہ کرنے اور باطل کے سامنے سرِتسلیم خم کرنے اور سعادت و نیک بختی کے تمام وسائل کو پسِ پشت ڈال دینے سے اس طرح غمگین ہوتا ہے جیسے کہ وہ اپنی جان ہی دے دے گا۔ بعد والی آیت میں گزشتہ مباحث کی طرف توجہ کرتے ہوئے۔ کہ جو ہدایت و ضلالت اور ایمان و کفر کے سلسلے میں گزر چکی ہیں۔ مبدأ و معاد کے بارے میں مختصر اور واضح بیان کر رہا ہے اور "مبداء و معاد" کے اثبات کو ایک عمدہ دلیل میں ایک دوسرے کے قریب کرتے ہوئے فرماتا ہے: "خدا وہی ہے کہ جس نے ہواؤں کو بھیجا تاکہ وہ بادلوں کو چلائیں" (وَاللهُ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّياحَ فَتُثِيرُ سَحاباً)۔ [تشریحی نوٹ: اس بارے میں کہ پہلا فعلِ ماضی کی شکل میں کیوں آیا ہے (ارسل) اور دوسرا فعلِ مضارع کی صورت میں (فتثیر) ایک غائب کی صورت میں آیا ہے (ارسل) اور دوسرا متکلّم کی صورت میں (فسقناه) اس کی مفسرین سے کئی وجوہ بیان کی ہیں لیکن اور ان میں کوئی دقیق بات نہیں لہذا ان سے صَرف نظر کیا گیا ہے، ممکن ہے کہ یہ بیان میں تفنن اور گفتگو میں تنوع کے لیے ہو]۔ "پھر ہم ان بادلوں کو مردہ اور خشک زمین کی طرف چلاتے ہیں" (فَسُقْناهُ إِلى بَلَدٍ مَيِّتٍ)۔ "اور اس کے ذریعہ ہم زمین کو مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتے ہیں" (فَأَحْيَيْنا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها)۔ "ہاں! مردوں کا موت کے بعد زنده ہونا بھی اسی طرح ہے (کذؑلك النشور)۔ ایک جچا تُلا نظام جو ہواؤں کے چلنے اور اس کے بعد بادلوں کی حرکت اور اس کے بعد بارش کے حیات بخش قطرات کے برسنے اور اس کے بعد مردہ زمینوں کے زندہ ہونے پر جاری ہے وہ خود بہترین دلیل اور عمدہ ترین گواہ ہے اس حقیقت پر کہ ایک حکیم و دانا کا دستِ قدرت اس کارخانے کے پیچھے برقرار ہے اور وہ اس کی تدبیر کر رہا ہے۔ پہلے گرم اور جلا دینے والی ہواؤں کو حکم دیتا ہے کہ وہ مناطق استواء سے سرد منطقوں کی طرف جائیں اور اپنے راستے میں پڑنے والے سمندروں کے پانی کو بخارات میں تبدیل کرتے ہوئے آسمان کی طرف بھیجیں، اس کے بعد قطبین کی طرف سے منظم طور پر چلنے والی ٹھنڈی ہواؤں کو کہ جو ہمیشہ پہلے چلنے والی ہواؤں کے مخالف سمت میں چلتی ہیں حکم دیتا ہے کہ وہ حاصل شده بخارات کو جمع کر کے بادلوں کو تشکیل دیں۔ پھر انہیں ہواؤں کو حکم دیتا ہے کہ وہ بادلوں کو اپنے دوش پر اٹھا کر مردہ بیابانوں کی طرف دھکیل کر لے جائیں تاکہ بارش کے زندہ کرنے والے قطرات وہاں برسیں۔ پھر مخصوص حالات میں زمین اور ان نباتات کے بیجوں کو کہ جو اس میں بکھیرے ہوئے ہیں، پانی اور نشو ونما کو قبول کرنے کا حکم دیتا ہے اور ظاہراً پست و بےقدر و قیمت موجود سے زندہ اور بہت ہی متنوع اور زیبا، خرم و سرسبز اور پُربار موجودات کو وجود میں لاتا ہے۔ یہ اس کی قدرت کی بھی دلیل ہے، اس کی حکمت پر بھی گواہ ہے اور قیامتِ کبریٰ کی نشانی بھی ہے۔ حقیقت میں اوپر والی آیت چند جہات سے توحید کی طرف دعوت دیتی ہے۔ برہانِ نظم اور برہانِ حرکت کے لحاظ سے، کہ ہر متحرک موجود کے لیے کسی محرک کی ضرورت ہے اور نعمتوں کے بیان کے لحاظ سے کہ جو فطری ہونے کی بناء پر منعم کا شکر ادا کرنے کا محرک ہے اور کئی جہات سے معاد پر بھی دلیل ہے۔ موجودات کے سیرِ تکامل و ارتقاء کے لحاظ سے اور مردہ زمین سے زندگی اور حیات کے چہره کے نمودار ہونے کے لحاظ سے، یعنی اے انسان معاد کا منظر ہر سال کی مختلف فصلوں میں تیری آنکھ کے سامنے اور تیرے پاؤں کے نیچے ہے۔ اس نکتہ کی طرف توجہ بھی ضروری ہے کہ، "فتثیر" کا جملہ "اثارہ" کے مادہ سے منتشر کرنے اور پراکَندہ کرنے کے معنی میں ہے اور اس مقام پر سمندروں کے اوپر ہواؤں کے چلنے کے اثر سے بادلوں کے پیدا ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے، چونکہ بادلوں کے چلنے کا مسئلہ بعد والے جملہ (فَسُقْناهُ إِلى بَلَدٍ مَيِّتٍ) میں آیا ہے۔ یہ بات لائق توجہ ہے کہ جو ایک حدیث میں پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہوئی ہے کہ ایک صحابی نے عرض کیا کہ: "يا رسول الله كيف يحيى الله الموتى و ما آية ذلك فى خلقه؟"۔ اے اللہ کے رسولؐ! خدا مُردوں کو کیسے زندہ کرے گا اور عالمِ خلقت میں اس کی نشانی اور نمونہ کیا ہے؟ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "اما مررت بوادى أهلك محلا ثم مررت به يهتز خضرا؟" کیا تو کبھی اپنے قبیلہ کی سرزمین سے نہیں گزرا درانحالیکہ وہ مردہ اور خشک تھی اور پھر تو وہاں سے اس حالت میں نہیں گزرا کہ وہ خرم و سرسبز ہونے کی وجہ سے ایسے لگتی ہے جیسے کہ حرکت میں آ گئی ہے۔ "قلت نعم يارسول الله"۔ "میں نے عرض کیا جی ہاں اے اللہ کے رسول"۔ "قال: فكذلك يحيى الله الموتى و تلك آيته فى خلقه"۔ آپؐ نے فرمایا: "خدا اس طرح سے مردوں کو زندہ کرتا ہے اور یہ عالمِ خلقت میں اس کا نمونہ اور نشانی ہے"۔ [بحوالہ: تفسیر قرطبی جلد 8 ص 5409 (زیرِبحث آیت کے ذیل میں)]۔ ہم نے تفسیرِ نمونہ کی سولہویں جلد میں سورہ روم کی آیہ 48 کے ذیل میں ایک دوسری بحث اس سلسلہ میں بیان کی ہے۔ توحید کی اس بحث کے بعد مشرکین کے ایک بہت بڑے اشتباہ اور غلطی کی طرف کہ وہ اپنے لیے بتوں سے عزت کے خواستگار تھے اور پیغمبرؐ پر ایمان لانے کو اپنے گرد جمع شدہ لوگوں کی پراکَندگی کا سبب سمجھتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ: " إِنْ نَتَّبِعِ الْهُدى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ أَرْضِنا" اگر ہم تیرے ساتھ ہدایت کو قبول کر لیں، تو طاقتور دشمن ہمیں اس سرزمین سے اچک لیں"۔ (قصص 57) اشاره کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ: "جو لوگ عزت چاہتے ہیں وہ خدا سے طلب کریں کیونکہ ساری عزت خدا ہی کے ساتھ مخصوص ہے"۔ (مَنْ كانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعاً)۔ "عزت" "مفردات" میں راغب کے قول کے مطابق اصل میں وہ حالت ہے کہ جو انسان کو محکم، مضبوط اور ناقابل شکست بنا دیتی ہے، سخت اور محکم زمینوں کو بھی اسی لیے "اعزاز" (بر وزن اساس) کہتے ہیں۔ کیونکہ یہ صرف اسی کی ذات پاک ہے کہ جو ناقابل شکست ہے، ورنہ تمام مخلوقات اپنی محدودیت کی بناء پر قابلِ شکست ہیں۔ لہذا ساری عزت اسی کے لیے ہے۔ اور جو شخص بھی عزت حاصل کرتا ہے وہ اسی کے غیر متناہی دریائے عزت کی برکت سے ہے۔ ایک حدیث میں انس سے منقول ہے کہ پیغمبر نے فرمایا: "ان ربكم يقول كل يوم انا العزيز، فمن اراد عز الدارين فليطع العزيز!"۔ "تمہارا پروردگار ہر روز کہتا ہے کہ عزیز میں ہوں پس جو شخص دونوں جہانوں کی عزت چاہتا ہے وہ عزیز کی اطاعت کرے"۔ حقیقت میں آگاہ اور باخبر انسان کو چاہیئے کہ وہ پانی سرچشمہ سے حاصل کرے کیونکہ وہاں صاف شفاف اور فراواں پانی ہوتا ہے، نہ کہ چھوٹے چھوٹے برتنوں سے، کیونکہ ایک تو وہ محدود ہیں اور دوسرا آلودہ بھی اور وہ اِس کے اور اس کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں۔ امام حسن علیہ السلام کے حالاتِ زندگی میں ہم پڑھتے ہیں کہ اپنی زندگی کے آخری وقت میں جبکہ آپ کے ایک صحابی "جنادہ بن ابی سفیان" نے آپ سے وعظ و نصحیت کی درخواست کی تو آپ نے قیمتی اور موثر نصیحتیں اس کے لیے بیان کیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ: "و اذا اردت عزا بلا عشيرة و هيبة بلا سلطان فاخرج من ذل معصية الله الى عز طاعة الله"۔ "جب تو یہ چاہے کہ قبیلہ و عشرہ کے بغیر عزیز رہے اور اقتدار سلطنتی کے بغیر ہیبت رکھے تو خدا کی معصیت کی ذلت سے نکل کر اس کی اطاعت کی عزت کی پناہ میں آ جا"۔ (بحار الانور ج 44 ص 139) اور اگر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ قرآن کی بعض آیات میں، "عزت" کو خدا کے علاوہ پیغمبر اور مومنین کے لیے بھی قرار دیتا ہے: " وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِين"۔ (المنافقون 8) اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے بھی پروردگار کی عزت کے سایہ سے عزت حاصل کی ہے اور اس کی اطاعت کی راہ میں قدم اٹھاتے ہیں۔ اس کے بعد عزت حاصل کرنے کی راہ کی اس طرح تشریح کرتا ہے کہ: "پاکیزہ باتیں اس کی طرف صعود کرتی ہیں" (إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّب)- "اور وہ عملِ صالح کو اوپر لے جاتا ہے" (وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ)۔ "الكلم الطيب" پاکیزه باتوں کے معنی میں ہے اور باتوں کی پاکیزگی اس کے مضمون کی پاکیزگی سے ہوتی ہے اور مضمون کی پاکیزگی ان مفاہیم کی بناء پر ہوتی ہے کہ جو پاک و درخشاں عینی واقعیتوں اور حقیقتوں کے مطابق ہوتے ہیں اور خدا کی ذاتِ پاک سے بالاتر اور اس کے حق و عدالت کے آئین سے بالاتر اور ان نیک اور پاک ہستیوں سے کہ جو اس کی نشر و اشاعت کی راہ میں قدم اٹھاتے ہیں، سے بڑھ کر اور کونسی حقیقت ہو گی؟ اسی لیے "الكلم الطيب"، کی مبداء و معاد اور دین خدا کے بارے میں صحیح اعتقادات کے ساتھ تفسیر کی گئی ہے۔ ہاں! ایسا ہی پاک و پاکیزہ عقیدہ ہوتا ہے کہ جو خدا کی طرف بلند ہوتا ہے اور اپنے حامل کو بهی پر پرواز دیتا ہے، تاکہ وہ حق تعالٰی کے قرب میں جگہ حاصل کرے اور خدائے عزیز کی عزت میں غلطاں ہو جائے۔ یقیناً اس پاک و پاکیزہ اصل سے ایسی شاخیں پھوٹتی ہیں کہ جن کا پھل عملِ صالح ہے ہر شائستہ، مفید اور اصلاحی کام، چاہے وہ حق کی طرف دعوت ہو، چاہے مظلوم کی حمایت ہو، چاہے ظالم و ستمگر کے ساتھ مبارزہ ہو، چاہے خود سازی و عبادت ہو اور چاہے تعلیم و تربیت ہو، خلاصہ یہ کہ ہر وہ چیز کہ جو اس وسیع و عریض مفہوم میں داخل ہو، اگر وہ خدا کے لیے اور اس کی رضا کے لیے انجام پائے تو وہ بھی بلند ہو جاتی ہے اور لطفِ پروردگار کے آسمان پر عروج کرتی ہے اور اپنے حامل کی معراج اور کامل و اراتقاء کا سبب بنتی ہے اور حق تعالٰی کی عزت سے بہرہ اندوز ہوتی ہے۔ یہ وہی چیز ہے کہ جس کی طرف سورة ابرا ہیم کی آیہ 24 میں اشارہ ہوا ہے: " أَ لَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُها ثابِتٌ وَفَرْعُها فِي السَّماءِ تُؤْتِي أُكُلَها كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّها" "کیا تو نے نہیں دیکھا کہ خدا نے پاکیزه باتوں کے لیے کیسی مثل بیان کی ہے؟ جیسا کہ وہ ایک پاک درخت ہے کہ جس کی جڑ ثابت اور برقرار ہے اور اس کی شاخ آسمان میں پھیلی ہوئی ہے، وہ ہر وقت اپنے پروردگار کے اذن سے اپنے پھل (اشتیاق رکھنے والوں کو) دیتا ہے"۔ ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ جو بعض مفسرین نے کلمہ طیبہ کی "لااله الا اللہ" سے اور بعض دوسروں نے "سبحان الله و الحمد للَّه و لا اله الا الله و الله اكبر" سے اور بعض نے توحید سے، توحید کے بعد "محمد رسول الله، و علی ولی الله و خليفة رسوله" کے ساتھ تفسیر کی ہے، یا بعض روایات میں "الکلم طيب"و "العمل الصالح" "ولایتِ اہلِ بیت یا اسی کے مانند دوسری چیزوں سے تفسیر کی ہے اور یہ سب اسی وسیع و عریض مفہوم کے واضح مصادیق کے بیان کی قبیل سے ہیں اور اس کے مفہوم کو محدود نہیں کرتے کیونکہ ہر وہ بات کہ جو پاک و پاکیزہ اور بلند مفہوم کی حامل ہو وہ سب اس عنوان میں جمع ہو جاتی ہیں۔ بہرحال وہی خدا ہے جو گزشتہ آیت کے اقتضا کے مطابق مردہ زمین کو بارش کے حیات بخش قطرات سے زندہ کرتا ہے، وہی "کلاِم طیب" اور "عملِ صالح" کو بھی پرورش کرتا ہے اور اپنے قرب اور جوارِ رحمت تک پہنچتاتا ہے۔ اس کے بعد نقطۂ مقابل کو پیش کرتے ہوئے کہتا ہے: "وہ لوگ کہ جو بُرے منصوبے بناتے ہیں ان کے لیے شدید عذاب ہے"۔ (وَالَّذِينَ يَمْكُرُونَ السَّيِّئاتِ لَهُمْ عَذابٌ شَدِيدٌ)۔ "اور ان کی آلوده و ناپاک و فاسد سعی و کوشش نابود ہو جاتی ہے اور کسی مقام تک نہیں پہنچتی" (وَمَكْرُ أُولئِكَ هُوَيَبُورُ)۔ اگرچہ یہ فاسدین و مفسد یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ظلم و ستم اور جھوٹ اور مکاری کے ذریعہ اپنے لیے عزت حاصل کر سکتے ہیں اور مال و دولت اور طاقت و قدرت بھی لیکن انجام کار انہوں نے اپنے لیے عذاب الہٰی بھی فراہم کیا ہے اور ان کی ساری کوششیں بھی برباد ہو جاتی ہیں۔ کچھ لوگ ایسے ہی تھے کہ جو قرآن کے بیان کے مطابق "بناوٹی خداؤں کو اپنے لیے باعث عزت خیال کرتے تھے" " (وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللهِ آلِهَةً لِيَكُونُوا لَهُمْ عِزًّا)۔ (مريم 81) اور ایسے منافق بھی تھے کہ جو اپنے آپ کو عزیز اور مومنین کو ذلیل خیال کرتے تھے اور: "وہ یہ کہتے تھے کہ اگر ہم مدینہ میں پلٹ کر گئے تو عزت والے ذلیلوں کو باہر نکال پھینکیں گے" (يَقُولُونَ لَئِنْ رَجَعْنا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ) (المنافقون 8) کچھ افراد ایسے بھی تھے کہ جو فرعونوں کے قرب کو اپنی عزت کا سبب تصور کرتے تھے یا گناه و ظلم سے عزت و آبرو طلب کرتے تھے لیکن وہ سب تباہ ہو گئے اور یہ صرف ایمان و عملِ صالح ہی ہے کہ جلد خدائے عزیز کی طرف اوپر جاتا ہے۔ "مکر" اگرچہ لغت میں ہر قسم کی چارہ جوئی کے معنی میں ہے لیکن بعض مواقع پر ایسی چارہ جوئی کے لیے استعمال ہوتا ہے کہ جو فساد کے ساتھ توام ہو- زیرِبحث آیت اسی معنی میں ہے۔ "سیئات" اوپر والی آیت میں تمام برائیوں اور قباحتوں کے لیے عام اس سے کہ وہ عقائد کی برائیاں ہوں یا عمل کی، سب کو شامل ہے۔ اور یہ جو بعض نے پیغمبرِ اسلامؐ کو قتل کرنے یا مکہ سے جلاوطن کرنے کے سلسلہ میں مشرکین کی سازشوں کے ساتھ تفسیر کی ہے تو یہ واقع میں اس کے ایک مصداق کو بیان کیا ہے، نہ کہ اس کے پورے مفہوم کو۔ "یبور" کا جملہ "بوار" اور "بوران" کے مادہ سے اصل میں حد سے زیادہ کسادبازاری کے معنی میں ہے اور چونکہ اس قسم کا کساد نابودی کا سبب بنتا ہے، اس لیے یہ لفظ ہلاکت و نابودی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، مشہور ضرب المثل ہے (کسدحتٰی فسد) "اس قدر کساد اور مندا ہوا کہ فاسد ہو گیا"۔
چند نکات: ۱- تمام "عزت" خدا کے لیے ہے
عزت کی حقیقت کیا ہے؟ کیا ناقابل شکست ہونے کے مرحلہ تک پہنچنے کے علاوہ کوئی چیز ہے؟ اگر اس طرح ہے تو پھر عزت کو کہاں تلاش کرنا چاہیئے؟ اور کونسی چیز انسان کو عزت دے سکتی ہے؟ ہم ایک واضح تحلیل و تجزیہ کے ذریعے اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ عزت کی حقیقت پہلے درجہ میں ایک ایسی قدرت ہے کہ جو انسان کے دل و جان میں ظاہر ہوتی ہے اور وہ اس کو طاغیوں، باغیوں اور سرکشوں کے مقابلہ میں خضوع و خشوع کرنے اور سرِتسلیم خم کرنے سے روکتی ہے۔ ایسی قدرت کہ جس کے ہوتے ہوئے انسان خواہشات کا اسیر نہیں ہوتا اور ہوا و ہوس کے مقابلہ میں سر نہیں جھکاتا۔ ایسی قدرت کہ جو اسے نفوذ ناپذیری کے مرحلہ میں "زر" و "زور" کے مقابلہ میں ارتقاء تکامل بخشتی ہے۔ کیا اس قدرت کا سرچشمہ ایمان بخدا یعنی قدرت و عزت کے اصل منبع سے ارتباط کے بغیر ہو سکتا ہے؟ یہ بات تو تھی فکر و عقیدہ اور روح و جان کے مرحلہ میں لیکن عمل کے مرحلہ میں عزت کا سرچشمہ ایسے اعمال ہیں کہ جو صحیح بنیادوں اور حساب شده پروگرام اور طریقہ کے حامل ہوں، دوسرے لفظوں میں اسے عملِ صالح میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے یہی وہ دو چیزیں ہیں کہ جو انسان کو سربلندی و عظمت دیتی ہیں اور اُسے عزت اور ناقابل شکست ہونے کا شرف بخشتی ہیں۔ فرعون کے زمانے کے دنیا پرست جادوگروں نے اپنے عجائبات کا اس کے نام اور اس کی عزت کے ساتھ آغاز کیا: (وَقالُوا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغالِبُونَ) "اور انہوں نے کہا فرعون کی عزت کی قسم کہ ہم ہی کامیاب ہوں گے"۔ (شعراء 44) لیکن وہ بہت ہی جلد موسیٰ کے عصا سے شکست کھا گئے لیکن وہی جس وقت فرعون کے ذلت بار پرچم کے سائے سے باہر نکلے اور توحید کے سائے میں قرار پائے اور ایمان لے آئے، تو ایسے طاقتور اور ناقابل شکست ہو گئے کہ فرعون کی سخت ترین دھمکیاں بھی ان پر اثرانداز نہ ہوئیں۔ انہوں نے اپنے ہاتھ پاؤں یہاں تک کہ اپنی جان بھی عاشقانہ راہِ خدا میں دے دی اور شربتِ شهادت نوش کر لیا۔ انہوں نے اپنے اس عمل کے ذریعے یہ واضح کر دیا کہ وہ زر اور زور کے سامنے سرِتسلیم خم نہیں کریں گے اور وہ ناقابلِ شکست ہیں اور ان کی ہی پُرافتخار تاریخ آج ہمارے لیے ایک سبق آموز دنیا ہے۔
۲- "کلامِ طیب" اور "عملِ صالح" میں فرق
ممکن ہے کہ یہ سوال کیا جائے کہ زیرِبحث آیت "کلامِ طیّب" کے بارے میں یہ کیوں کہتی ہے کہ وہ خودبخود پروردگار کی طرف بلند ہوتا ہے۔ لیکن عملِ صالح کے بارے میں یہ کہتی ہے کہ خدا اسے اوپر لے جاتا ہے؟ اس سوال کا اس طرح جواب دیا جا سکتا ہے کہ "کلامِ طیب" جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے ایمان اور پاکیزہ عقیدے کی طرف اشارہ ہے اور وہ خدا کی طرف عینِ بلندی ہے کیونکہ ایمان کی حقیقت اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے لیکن عملِ صالح کو وہ قبول کرتا ہے اور اس کی پذیرائی کرتا ہے اور اس پر کئی گنا اجر دیتا ہے اور اسے بقاء و دوام بخشتا ہے اور بلندی عطا کرتا ہے۔ (غور کیجئے)
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شیریں اور شور پانی والے دریا یکساں نہیں ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 5گزشتہ آیات میں توحید، معاد اور صفاتِ خدا کے بارے میں گفتگو تھی- زیرِبحث آیات میں بھی جاندار مخلوقات اور آفاق میں اللہ کی بعض اور نشانیوں کا ذکر ہے کہ جو خدا کی قدرت کی بھی دلیل ہیں اس کے علم کی بھی اور امکانِ معاد کی بھی۔ پہلے مختلف مراحل میں انسان کی پیدائش کے متعلق اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: "خدا نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا"۔ (وَاللهُ خَلَقَكُمْ مِنْ تُرابٍ)۔ "پھر نطفہ سے"(ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ). "پھر تمهارے جوڑے بنا دیئے"۔ (ثُمَّ جَعَلَكُمْ أَزْواجاً). یہ تین مرحلے انسان کی خلقت کے مراحل میں سے ہیں مٹی، نطفہ اور زوجیت۔ یہ بات مسلم ہے کہ انسان مٹی سے بنا ہے اس لحاظ سے بھی کہ انسانوں کے جَدِّ اعلیٰ حضرت آدمؑ مٹی سے پیدا ہوئے اور اس لحاظ سے بھی کہ وہ تمام مادے کہ جو جسمِ انسانی کو تشکیل دیتے ہیں یا انسان ان سے غذا لیتا ہے، یا اس کا نطفہ ان سے بنتا ہے وہ سب کے سب مٹی ہی سے نشو ونما پاتے ہیں۔ بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ مٹی سے پیدائش صرف پہلی خلقت کی طرف اشارہ ہے لیکن نطفہ سے پیدائش بعد کے مراحل کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ پہلے انسانوں کی خلقت کا اجمالی مرحلہ ہے (کیونکہ سب کا وجود آدم کے وجود سے چلتا ہے) اور دوسرا مرحلہ تفصیلی ہے کہ جس میں انسان ایک دوسرے سے جدا ہوتا ہے۔ جبکہ زوجیت کا مرحلہ نسلِ انسانی کے تسلسل اور اضافے کا مرحلہ ہے۔ نیز یہ جو بعض نے خیال ظاہر کیا ہے کہ "ازواج" یہاں "اصناف" یا "روح و جسم" وغیرہ کے معنی میں ہے، بہت بعید نظر آتا ہے۔ اس کے بعد حیاتِ انسانی کے چوتھے اور پانچویں مرحلے کا ذکر ہوتا ہے اور ماؤں کے حاملہ ہونے اور بچے جننے کے بارے میں بات کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے۔ "کوئی مادہ حاملہ نہیں ہوتی اور بچہ نہیں جنتی مگر وہ خدا کے علم میں ہوتا ہے" (وَما تَحْمِلُ مِنْ أُنْثى وَلا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِ)۔ حمل ٹہرنا اور پھر جنین کی حالت میں بہت ہی عجیب اور پیچیدہ تبدیلیاں اور اس کے بعد وضع حمل یہ حساس اور حیرت انگیز تغیرات کہ جو ایک طرف ماؤں کو اور دوسری طرف جنین کو پیش آتے ہیں، اتنے عمیق اور دقیق ہیں کہ جو خدا کے بےپایاں علم کے بغیر ممکن نہیں ہیں، کیونکہ اگر ان پر حکم فرما نظام سوئی کی نوک کے برابر بھی معطل ہو جائے، تو حمل یا وضع حمل کے سارے پروگرام میں خلل واقع ہو جائے اور معاملہ تباہی تک پہنچ جائے۔ انسان کی زندگی کے ان پانچ مرحلوں میں سے ہر ایک دوسرے سے بڑھ کر عجیب اور تعجب خیز ہے۔ بےجان مٹی کہاں اور زندہ، عقل مند، صاحب ہوش اور نوبہ نو کام کرنے والا انسان کہاں؟ بےقدر و قیمت نطفہ کہ جو متعفن پانی کے چند قطروں سے بنا ہے کہاں؟ صاحبِ رشد خوبصورت مختلف حواس کا حامل اور طرح طرح کی کاریگری کا مظہر انسان کہاں؟ [تشریحی نوٹ: "نطفہ" جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں، اصل میں پانی یا تھوڑے سے صاف پانی کو کہتے ہیں، اسی مناسبت سے تھوڑے سے پانی کے لیے یہ لفظ بولا جانے لگا کہ جو انعقادِ جنین کی بنیاد بنتا ہے]۔ جب ہم اس مرحلہ سے گزر جاتے ہیں تو نوعِ انسان کی دو صنفوں "مذکر" اور "مونث" میں تقسیم کا مسئلہ پیش آتا ہے۔ اس میں جسم اور فزیالوجی کے حوالے سے بہت سے اختلافات موجود ہیں۔ یہ دونوں انعقادِ نطفہ کے آغاز ہی سے اپنے اپنے راستے ایک دوسرے سے جدا کر لیتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک اپنی ذمہ داری کے مطابق آگے بڑھتے ہیں اور تکامل و ارتقار کی منزلیں طے کرتے ہیں۔ اس کے بعد اس بار کو قبول کرنے، اٹھانے، اس کی حفاظت کرنے، غذا دینے اور پرورش کرنے کے لیے ماں کی ذمہ داری کا ذکر آتا ہے۔ یہ وہ مسئلہ ہے جس نے صدیوں سے عظیم علماء اور دانشوروں کے افکار کو اپنی طرف متوجہ کیا ہوا ہے اور وہ اس بات کے معترف ہیں کہ یہ مسئلہ عالمِ ہستی کے عجیب ترین مسائل میں سے ہے۔ آخری مرحلہ بچہ کی پیدائش کا ہے، یہ ایک نہایت سخت اور تغیراتی مرحلہ ہے کہ جو بہت سے عجائبات کا حامل ہے۔ وہ کون سے عوامل ہیں کہ جو بچے کو شکمِ مادر سے باہر نکلنے کا حکم دیتے ہیں؟ اس حکم اور اندامِ مادر کا اس کے لیے آمادہ ہونا، ان دونوں کے درمیان کیسی مکمل ہم آہنگی برقرار ہوتی ہے؟ بچہ اس وضع و کیفیت کو کہ جس کا وہ نو ماہ سے عادی تھا لحظہ بھر میں کیسے بالکل بدل دیتا ہے اور ماں سے اپنا رابطہ منقطع کر لیتا ہے اور آزاد ہوا سے استفادہ کرنے لگتا ہے۔ اس کی غذا کی آمد و رفت بندِ ناف کی راہ سے اچانک بند ہو جاتی ہے اور غذا کی آمد و رفت کے لیے ایک نیا راستہ یعنی اس کا منہ کام کرنے لگتا ہے۔ ماں کے پیٹ کا تاریک ماحول چھوڑ کر روشنی میں آ جاتا ہے اور ان تمام تغیرات کا مقابلہ کرتا ہے اور فوری طور پر خود کو ان کے مطابق ڈھال لیتا ہے۔ کیا یہ خدا کے بےپایاں علم و قدرت کی بہترین نشانی نہیں ہے؟ اور کیا بےشعور مادہ اور بےہدف طبعیت اور اندھے اتفاقات زنجیرِ خلقت کے ہزاروں حلقوں میں سے ایک چھوٹے سے حلقے کی تنظیم کا کام بھی سرانجام دے سکتے ہیں؟ کس قدر بےانصافی ہے کہ انسان اپنی خلقت کے بارے میں اس قسم کے موہوم خیالات کو قبول کر لے۔ اس کے بعد اس عجیب و غریب نظامِ عمل کے چھٹے اور ساتویں مرحلہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ عمر کے مختلف مراحل کی مختلف عوامل کے زیرِاثر زیادتی اور کمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے "کوئی شخص طولانی عمر نہیں پاتا اور کسی کی عمر میں کمی نہیں ہوتی مگر یہ کہ وہ خدا کے علم کی کتاب میں ثبت ہے" یہ کام ایسے قوانین اور نظام کی پیروی کرتا ہے، کہ جن پر اس کا علم و قدرت حکم فرما ہے (وَما يُعَمَّرُ مِنْ مُعَمَّرٍ وَلا يُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهِ إِلَّا فِي كِتابٍ)۔ [تشریحی نوٹ: "کتاب" سے مراد خدا کا بےپایاں علم ہے اور یہ جو بعض اس سے لوحِ محفوظ یا "حیاتِ انسانی کا نامہ اعمال" مراد لیتے ہیں تو یہ مفہوم بھی علمِ خدا کی طرف لوٹتا ہے]۔ وہ کون سے عوامل ہیں جو حیاتِ انسانی کو جاری رکھنے میں مؤثر ہیں اور وہ کون سے عوامل ہیں کہ جو اس کی حیات کو جاری رکھنے کی مخالفت کرتے ہیں یعنی وہ کون سے عوامل ہیں کہ جن کے ہوتے ہوئے انسان سو سال یا اس سے کم و بیش زندگی کو جاری رکھ سکے اور وہ کون سے عوامل ہیں کہ جو انسانوں کی عمر میں اختلاف کا سبب بنتے ہیں؟ یہ سب کے سب امور دقیق اور پیچیدہ حقائق رکھتے ہیں، کہ جن سے خدا کے علاوہ کوئی آگاہ نہیں ہے موجودہ زمانے میں ہم جو کچھ اس سلسلے میں جانتے ہیں وہ اس کے مقابلے میں کہ جسے ہم نہیں جانتے بہت ہی کم ہے اور زیاده قدر و قیمت کا حامل نہیں ہے۔ "معمر" "عمر" کے مادہ سے ہے۔ اصل میں یہ لفظ "عمارت" سے لیا گیا ہے کہ جو آبادی کے معنی میں ہے۔ یہ جو حیاتِ انسانی کی مدّت کو "عمر" کہا جاتا ہے تو یہ اس بناء پر ہے کہ اس کے بدن کی "عمارت" اور آبادی اسی مدت میں ہے۔ "معمر" اس شخص کے معنی میں ہے کہ جس کی عمر طولانی ہو۔ آخرکار آیت کو اس جملے پر ختم کر دیا گیا ہے: "یہ سب کچھ خدا کے لیے آسان ہے"۔ (إِنَّ ذلِكَ عَلَى اللهِ يَسِيرٌ)۔ اس عجیب و غریب موجود کی "مٹی" سے خلقت اور "نطفہ کے پانی" سے ایک کامل انسان کی خلقت کا آغاز اور اسی طرح زوجیت، حمل، وضعِ حمل اور عمر کی زیادتی و کمی سے متعلق مسائل چاہے وہ قدرت کے لحاظ سے ہوں یا علم و حساب کے لحاظ سے، سب کے سب اس کے لیے سہل اور آسان ہیں، یہ سب دنیائے انفس میں اس کی نشانیوں کا ایک گوشہ ہے ۔ یہ امور ایک طرف تو ہمیں عالمِ ہستی کے مبداء سے مربوط و آشنا کرتے ہیں اور دوسری طرف معاد و قیامت کے امکان پر زنده دلائل شمار ہوتے ہیں۔ وہ ذات کہ جو "مٹی" اور "نطفہ سے پہلی خلقت پر قادر ہے، کیا وہ انسانوں کی حیاتِ نو پر قادر نہیں ہے؟ اور وہ ذات کہ جو ان قوانین سے مربوط تمام جزئیات سے باخبر ہے، کیا اسے بندوں کے حساب و کتاب کو قیامت کے میدان کے لیے محفوظ رکھنے میں کوئی مشکل ہو گی؟ بعد والی آیت میں آفاق میں اس کی عظمت و قدرت کی کچھ نشانیاں ذکر کی گئی ہیں۔ دریاؤں کی خلقت اور ان کی برکات و فوائد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: "دو دریا یکساں نہیں ہیں ان میں سے ایک عمدہ، شیریں اور پینے میں خوشگوار ہے اور ان میں سے دوسرا کھاری اور گلوگیر ہے" (وَما يَسْتَوِي الْبَحْرانِ هذا عَذْبٌ فُراتٌ سائِغٌ شَرابُهُ وَهذا مِلْحٌ أُجاجٌ)۔ [تشریحی نوٹ: "عذب" جیسا کہ راغب مفردات میں کہتا ہے پاکیزہ اور سرد کے معنی میں ہے اور "لسان العرب" میں اس کا معنی صرف پاکیزه پانی بیان ہوا ہے (الماء الطيب) ممکن ہے کہ اس کا ٹھنڈا و شیریں ہونا بھی، "طیب" کے مفہوم میں داخل ہو]۔ اگرچہ وہ دونوں پہلے دن تو بارش کے شیریں قطرات کی شکل میں آسمان سے زمین پر برسے تھے اور دونوں کا سرچشمہ ایک ہی تھا، لیکن اب گویا دونوں کا چہرہ مختلف ہے اور مختلف فوائد کے حامل ہیں۔ اور تعجب کی بات یہ ہے کہ: "تم ان دونوں ہی سے ترو تازہ گوشت کھاتے ہو" (وَمِنْ كُلٍّ تَأْكُلُونَ لَحْماً طَرِيًّا)۔ "اور دونوں سے ہی پہننے کے لیے زینت کی چیزیں نکالتے ہو"۔ (وَتَسْتَخْرِجُونَ حِلْيَةً تَلْبَسُونَها)۔ علاوہ ازیں دونوں ہی سے مال و متاع اور نقل وحمل کے لیے فائدہ اٹھاتے ہو، لہذا تم کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ جو ہر طرف دریاؤں کو چیرتی ہوئی آگے بڑھتی ہیں، تاکہ تم خدا کے فضل سے فائدہ اٹھاؤ، شاید اس کے شکر کا حق ادا کرو" (وَتَرَى الْفُلْكَ فِيهِ مَواخِرَ لِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ)۔
چند قابلِ غور نکات
1- "فرات" "لسان العرب" کے مطابق ایسا پانی ہے کہ جو بہت صاف ستھرا اور شیریں ہو۔ "سائغ" اس پانی کے معنی میں ہے کہ جو خوشگوار ہونے کی وجہ سے آسانی کے ساتھ گلے سے نیچے چلا جاتا ہے، "ملح" (شور پانی) کے برعکس۔ جبکہ "اجاج" ایسا کڑوا پانی ہے کہ جس سے گلے میں جلن ہو اور جو حلق کو بند کر دے۔ 2- بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ یہ مومن و کافر کی عدمِ مساوات کی ایک مثال ہے۔ لیکن قبل و بعد کی آیات کہ جو خلقت کی نشانیوں کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ یہ جملہ بھی اسرارِ توحید کے سلسلے میں ہے اور پانی کی مختلف قسموں، مختلف آثار اور مشترک فوائد کی طرف ا شاره کرتا ہے۔ 3- اس آیت میں دریاؤں اور سمندروں کے بہت سے فوائد میں سے تین فائدے بیان ہوئے ہیں۔ 1- غذا۔ 2- زینت کی چیزیں اور 3- نقل و حمل۔ ہم جانتے ہیں کہ سمندر اور دریا نوعِ بشر کے منابعِ غذائی میں سے ایک اہم منبع ہے اور ہر سال کئی ملین ٹن گوشت اس سے حاصل کیا جاتا ہے، بغیر اس کے کہ انسان اسی کے لیے تکلیف اور مشقت اٹھائے، کارخانہ قدرت نے اس سلسلے میں ایک دقیق نظام بنایا ہے تاکہ انسان خدا کے اس بِچھے ہوئے دسترخوان اور خوانِ نعمت سے تھوڑی سی زحمت کر کے فائدہ حاصل کریں۔ زینت و تزئین کی مختلف چیزیں "صدف"، "موتی" اور " مرجان" اس سے نکالے جاتے ہیں۔ قرآن نے اس مسئلے کا اس لیے ذکر کیا ہے کہ انسان کی روح چوپاؤں کی طرح نہیں ہے بلکہ مختلف جہات کی حامل ہے کہ جن میں سے ایک زیبائش کی حِس ہے جو ذوق، ہنر اور ادب کا سرچشمہ ہے۔ یہ انسانی حِس اگر ہر قسم کے افراط و تفریط اور اسراف و تبذیر سے بچتے ہوئے صحیح صورت میں سیر ہو تو یہ روح کی شادابی کا باعث ہے اور اس سے انسان کو نشاط اور سکون ملتا ہے اور وہ زندگی کے سخت کاموں کی انجام دہی کے لیے آماده ہو جاتا ہے۔ باقی رہا نقل وحمل کا مسئلہ تو یہ انسانی تمدن اور معاشرتی زندگی کی ایک اہم بنیاد ہے۔ سمندروں نے زیادہ تر زمین کے حصے کو گھیر رکھا ہے اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، اس امر کی طرف توجہ کی جائے تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ نقل وحمل کے سلسلے میں سمندر انسانوں کی نہایت اہم خدمت سرانجام دے سکتے ہیں۔ اس ساز و سامان کا حجم کہ جس کی سمندروں کے ذریعے نقل وحمل ہوتی ہے اور وہ مسافر کہ جو ان کے ذریعے اِدھر اُدھر آتے جاتے ہیں، اس قدر زیادہ ہیں کہ کسی بھی دوسرے ذریعے پر اس کا قیاس نہیں کیا جا سکتا، چنانچہ بعض اوقات ایک سمندری جہاز ہزارہا موٹروں اور ٹرکوں کے برابر بار اٹھا کر لے جاتا ہے۔ [تشریحی نوٹ: اس وقت بھی پانچ لاکھ ٹن تیل لے جانے والے جہاز موجود ہیں۔ نقل وحمل کا کوئی بھی دوسرا ذریعہ ان کی جگہ نہیں لے سکتا اور سمندروں علاوہ کوئی بھی رات اس کو اٹھانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ گزشتہ زمانوں میں بھی کشتیوں اور بحری جہازوں کی صلاحیت چوپاؤں کی نسبت بہت زیادہ تھی]۔ 4- البتہ سمندروں کے فوائد مذکوره مسائل تک ہی منحصر نہیں ہیں اور قرآن ان کو ان ہی تین امور میں محدود نہیں کرتا، بادل ان سے بنتے ہیں، دوائیوں کے لیے مواد، تیل، پہننے کی چیزیں، بنجر زمینوں کی تقویت کے لیے مواد ان سے حاصل ہوتا ہے، ہواؤں کے پیدا ہونے میں ان کا کردار بھی قابلِ ذکر ہے اور ان کے علاوہ سمندروں کی اور بھی بہت سی برکات ہیں۔ 5- "لحما طریًّا" (تر و تازه گوشت) پر قرآن کا اظہار اس قسم کے گوشت کے غذائی فوائد کے بارے میں، پرانے اور ڈبوں میں بند اور اسی قسم کے دوسرے گوشتوں کے مقابلے میںــــ ایک پرمعنی اشارہ ہے۔ 6- یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کڑوے اور شور سمندر تو سارے کرّه زمین میں پھیلے ہوئے ہیں لیکن میٹھے پانی کے سمندر کہاں ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ میٹھے پانی کے سمندر اور بحیرے بھی کرّه زمین میں کم نہیں ہیں مثلًا ریاستہائے متحده امریکہ وغیرہ میں میٹھے پانی کے چھوٹے چھوٹے سمندر ہیں۔ اس کے علاوہ بڑے بڑے دریاؤں کو بھی "بحر" کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ حضرتِ موسیٰ کے واقعے میں لفظ "بحر" کا دریائے نیل پر اطلاق ہوا ہے۔ (بقره 50، شعراء 63 اور اعراف 138)- اس سے قطع نظر بڑے بڑے دریاؤں کا پانی سمندروں کے اندر تک بڑھتا چلا جاتا ہے۔ وہ سمندروں کے شور پانی کو پیچھے دھکیل دیتا ہے اور کچھ عرصے تک ان میں مخلوط نہیں ہوتا۔ اس طرح وہ خود میٹھے پانی کا ایک عظیم سمندر بنا دیتا ہے۔ 7- " لِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ " (تاکہ اس کے فضل سے فائدہ اٹھاؤ) یہ جملہ ایک وسیع معنی رکھتا ہے۔ اس میں ہر وہ اقتصادی نقل و حرکت شامل ہے کہ جو سمندروں کے راستے سے ہوتی ہے۔ اور " لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ" کا جملہ انسانوں کے احساسِ شکرگزاری کو بیدار کرنے کے لیے آیا ہے اور یہ احساس خدا جوئی اور خدا شناسی کے لیے ایک ذریعہ ہے۔
طویل عمر اور کم عمر کے روحانی عوامل
زیرِبحث آیات میں پروردگار کے فرمان سے عمر کی زیادتی اور کمی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں روایات بھی وارد ہوئی ہیں۔ اسی مناسبت سے مفسرین نے بھی عمر کے طویل اور کوتاہ ہونے کے بارے میں کئی بحثیں کی ہیں۔ البتہ طبیعی عوامل کا ایک سلسلہ عمر کی زیادتی یا کمی میں دخل رکھتا ہے کہ جن میں سے بہت سے عوامل کو نوعِ بشر نے اب تک پہچان لیا ہے۔ مثلًا افراط و تفریط سے بچتے ہوئے صحیح غذا کھانا، کام اور حرکت میں رہنا، ہر قسم کے نشے، خطرناک عادات اور الکحل کی مشروبات سے پرہیز کرنا، ہر وقت کے ہیجانات سے دور رہنا اور قوی اور مضبوط ایمان رکھنا کہ جو انسان کی زندگی کی ناہمواریوں میں سکون بخش سکے۔ ان کے علاوہ بھی کچھ ایسے عوامل ہیں کہ جن کا طولِ عمر کے ساتھ ظاہری ارتباط ہم پر چنداں واضح نہیں ہے۔ مگر روایاتِ اسلامی میں ان کے بارے میں بہت تاکید کی گئی ہے۔ نمونے کے طور پر ذیل کی چند روایات پر توجہ فرمائیں: الف۔ پیغمبر گرامیؐ فرماتے ہیں: ان الصدقة و صلة الرحم تعمران الديار وتزيدان في الأعمار۔ راہِ خدا میں خرچ کرنا اور صلہ رحمی گھروں کو آباد اور عمروں کو زیادہ کرتا ہے۔ [بحوالہ: تفسیر نورا لثقلین جلد 4 ص 354، ص 355]۔ ب- ایک اور حدیث میں رسولِ اکرمؐ ہی سے منقول ہے: من سره ان يبسط فى رزقه و ينسى له فى اجله فليصل رحمه۔ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں زیادتی ہو اور اس کی اجل میں تاخیر ہو تو اسے چاہیئے صلہ رحمی کرے۔[بحوالہ: تفسیر نورا لثقلین جلد 4 ص 354، ص 355]۔ ج- بعض گناہوں بالخصوص زنا اور بدکاری کے متعلق وارد ہوا ہے کہ وہ انسان کی عمر میں کمی کا باعث بنتے ہیں۔ پیغمبرِ اکرمؐ کی مشہور حدیث میں ہے کہ: يا معشر المسلمين اياكم و الزنا فان فيه ست خصال: ثلاث فى الدنيا، و ثلاث فى الآخره، اما التي فى الدنيا فانه يذهب بالبهاء، و يورث الفقر، و ينقص العمر۔ اسے مسلمانو! زنا سے پرہیز کرو کیونکہ اس کے چھ برے نتائج ہیں، تین دنیا میں اور تین آخرت میں۔ وہ تین کہ جو دنیا میں ہیں یہ ہیں: انسان کے (چہرے) کی رونق اور نورانیت ختم ہو جاتی ہے، فقر و فاقہ اور تنگدستی آ جاتی ہے اور انسان کی عمر کم ہو جاتی ہے۔ [بحوالہ: تفسیر نورا لثقلین جلد 4 ص 354، ص 355]۔ د- امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: البر و صدقة السر ينفيان الفقر و يزيدان فى العمر و يدفعان عن سبعين ميتة سوء۔ نیکوکاری اور پوشیدہ طریقے سے صدقہ دینا فقر و فاقہ کو دور کرتا ہے، عمر میں زیادتی کرتا ہے اور ستر قسم کی بری موت سے بچاتا ہے۔ [بحوالہ: سفینہ البحار جلد ۲، ص ۲۳ مادہ "صدقہ"]۔ بعض دوسرے گناہوں کے متعلق مثلاً ظلم بلکہ مطلق گناہوں کے بارے میں بھی کچھ اشارے آئے ہیں۔ بعض مفسرین کہ جو "اجلِ حتمی" اور "اجلِ معلق" کے درمیان فرق نہیں کر سکے، انہوں نے اسی قسم کی احادیث پر سخت اعتراض کیا ہے اور انہیں نصوصِ قرآنی کے مخالف سمجھا ہے کیونکہ، انسان کی حدِّ علم کو ثابت اور غیر متبدل سمجھتے ہیں۔ [بحوالہ: تفسیر آلوسی جلد ۲۲، ص ۱۶۴ زیرِبحث آیات کے ذیل میں]۔
اس کی وضاحت
اس میں شک نہیں کہ انسان دو قسم کی اجل رکھتا ہے۔ ایک اجل حتمی کہ جو جسمِ انسانی کی استعدادِ بقاء کا اختتام ہے۔ اس کے پہنچ جانے سے ہر چیز فرمانِ الٰہی سے ختم ہو جاتی ہے۔ دوسری اجل معلق کہ جو حالات و شرائط بدلنے کے ساتھ بدل جاتی ہے۔ مثلاً ایک انسان خودکشی کر لیتا ہے، حالانکہ وہ اگر اس گناہِ کبیرہ کا ارتکاب نہ کرتا تو شاید سالہا سال زندہ رہتا اسی طرح الکحل کے مشروبات، نشہ آور چیزیں اور بےلگام شہوت پرستی سے بھی انسان اپنے جسم کی توانائی مختصر سی مدت میں کھو بیٹھتا ہے، حالاناکہ اگر یہ امور نہ ہوتے تو وہ سالہا سال تک زندہ رہ سکتا تھا۔ یہ ایسے امور ہیں کہ جو سب کے لیے قابلِ ادراک ہیں اور تجربے میں آ چکے ہیں اور کوئی بھی ان کا انکار نہیں کر سکتا۔ اچانک پیش آنے والے واقعات اور حادثات کے بارے میں کچھ امور اجل معلق کے ساتھ مربوط ہیں کہ جو قابل انکار نہیں ہیں۔ اس بناء پر اگر بکثرت روایات میں منقول ہوا ہے کہ راہِ خدا میں خرچ کرنا یا صلہ رحمی عمر کو طولانی کر دیتا ہے اور مصیبتوں کو برطرف کر دیتا ہے تو وہ بھی حقیقت میں انہیں عوامل کے پیشِ نظر ہے۔ اگر ہم اجل اور عمر کے خاتمہ کی یہ دو قسمیں ایک دوسرے سے جدا نہ کریں تو قضا و قدر اور سعی و کوشش کے اثرات سے مربوط بہت سے مسائل انسانی زندگی میں لاینحل ہو کر رہ جائیں۔ اس بحث کو ایک عام اور سادہ مثال کے ذریعے واضح کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان نئی موٹروں کا ایک کارخانہ لگاتا ہے۔ فرض کریں کہ مختلف تخمینوں کے مطابق کے وہ بیسں سال تک چل سکتی ہیں لیکن اس شرط کے ساتھ کہ پوری احتیاط کے ساتھ ان کی دیکھ بھال کی جائے اور ضروری حفاظت کی جائے۔ اس صورت میں اس موٹر کی حتمی عمر بیس سال ہو گی کہ جس سے آگے وہ نہ چل سکے گی۔ لیکن اگر ضروری حفاظت اور دیکھ بھال نہ کی جائے اور اسے ناواقف اور بےپرواہ لوگوں کے سپرد کر دیا جائے اور اس سے اس کی طاقت سے زیادہ کام لیا جائے، روزانہ سنگلاخ راستوں پر اسے چلایا جائے تو ہو سکتا ہے کہ اس کی بیس سالہ عمر آدھی رہ جائے یا دسویں حصے تک کم ہو جائے تو یہ اس کی "اجلِ معلق" ہے۔ ہمیں تعجب ہوتا ہے کہ بعض مشہور مفسرین نے اس قسم کے واضح اور روشن مسئلے کی طرف توجہ کیوں نہیں کی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
یہ جهوٹے معبود تو تمہاری آواز تک نہیں سنتے
Tafsīr Nemūna · Vol. 5ان آیات میں قرآن ایک مرتبہ پھر توحید کی نشانیوں اور پروردگار کی بےپایاں نعمتوں کے ایک حصے کی طرف اشارہ کرتا ہے تاکہ انسان کے احساسِ تشکر کو ابھار کر اسے معبودِ حقیقی کی شناخت کی طرف لایا جائے اور اسے ہر قسم کے شرک اور بےہودہ عبادتوں سے باز رکھا جائے، فرمایا گیا ہے۔ "وہ وہی ہے کہ جو رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے" (يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهارِ وَيُولِجُ النَّهارَ فِي اللَّيْلِ)۔ "يولج" "ایلاج" کے مادہ سے داخل کرنے کے معنی میں ہے۔ ممکن ہے اس لفظ سے ذیل کے دو معانی میں سے ایک کی طرف یا دونوں کی طرف اشارہ ہو۔ سال بھر میں رات دن کی تدریجی زیادتی اور کمی کہ جو اپنے تمام آثار و برکات کے ساتھ مختلف موسموں کی پیدائش کا سبب ہے۔ شفق اور بین الطلوعین کے ذریعے رات کا دن میں اور دن کا رات میں بتدریج منتقل ہونا، کہ جو اچانک اور ناگہانی طور پر ظلمت سے نور کی طرف اور نور سے ظلمت کی طرف منتقل ہونے کے خطرات سے روکتا ہے اور انسان کو مکمل اور بےخطر ایک کیفیت سے دوسری میں جانے کے قابل بناتا ہے۔ [تشریحی نوٹ: رات اور دن کی تدریجی تبدیلی کے بارے میں جلد دوّم میں سورہ آلِ عمران کی آیہ 28 کے ذیل میں بحث ہو چکی ہے]۔ اس کے بعد سورج اور چاند کی تسخیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: "اس نے سورج اور چاند کو تمھارے لیے مسخر کیا ہے" (وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ)۔ اس سے بڑھ کر اور تسخیر کیا ہو گی کہ وہ سب انسان کے فائدے میں حرکت کر رہے ہیں اور انسانی زندگی میں انواع و اقسام کی برکات کا سرچشمہ ہیں۔ ابر، ہوا، سورج، چاند اور فلک سب کے سب کام میں لگے ہوئے ہیں تاکہ انسان اپنی زندگی کو سنوار سکے اور غفلت میں وقت نہ گزارے اور مسلسل ان نعمات کے اصل منبع کی یاد میں رہے۔ (سورج اور چاند کی تسخیر کے سلسلے میں ہم جلد ۵ سورہ رعد کی آیہ ۲ اور سورہ ابراہیم کی آیه ۳۳ کے ذیل میں تفصیلی بحث کر چکے ہیں)۔ لیکن یہ سورج اور چاند باوجودیکہ پورے طور پر منظم طریقے سے اپنے راستے پر چل رہے ہیں اور انسان کے اچھے خدمت گزار ہیں، تاہم جو نظام ان پر حاکم ہے وہ جادوانی اور ہمیشہ کے لیے نہیں ہے، یہاں تک کہ یہ عظیم سیارے بھی باوجود اس نور کے آخرکار تاریک اور بےکار ہو جائیں گے۔ اس لیے قرآن تسخیر کے بارے میں بات کرنے کے بعد مزید کہتا ہے: ان دونوں میں سے ہر ایک، ایک خاص زمانے کے جو ان کے لیے معین ہوا ہے اپنی حرکت جاری رکھے گا"۔ (كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُسَمًّى)۔ اور " اذا الشمس كورت، واذا النجوم انکدرت" (تکویر 1، 2) کے تقاضے کے مطابق آخرکار یہ سب کے سب تاریکی اور خاموشی میں ڈوب جائیں گے۔ بعض مفسرین نے "اجل مسمی" (معین وقت) کے لیے ایک دوسری تفسیر کی ہے اور وہ سورج اور چاند کی حرکت دوری ہے کہ جن میں سے پہلی ایک سال میں مکمل ہوتی ہے اور دوسری ایک ماہ میں ختم ہوتی ہے۔ [بحوالہ: تفسیر روح المعانی اور ابو الفتوح رازی]۔ لیکن قرآنِ مجید کی متعدد آیات میں یہ تعبیر عمر کے ختم ہونے کے معنی میں آتی ہے۔ ان مواقع استعمال کی جانب توجہ کی جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ مذکورہ تفسیر درست نہیں ہے اور پہلی تفسیر ہی درست ہے یعنی چاند اور سورج کی عمر کا اختتام- (نحل 61، فاطر 45، زمر 42، نور 4 اور مؤمن 67 کی طرف رجوع فرمائیں)۔ پھر توحید کی اس بحث سے یہ نتیجہ نکالنے کے طور پر فرمایا گیا ہے: "یہ ہے خدا تمہارا عظیم پروردگار"۔ (ذلِكُمُ اللهُ رَبُّكُمْ)۔ وہ خدا کہ جس نے سورج اور چاند کے نور و ظلمت اور حرکات کے حساب شده نظام کو تمام برکات کے ساتھ مقرر فرمایا ہے۔ "عالمِ ہستی میں حاکمیت اسی کے ساتھ مخصوس ہے"۔ (له الملك)۔ "اور وہ معبود کہ جنہیں تم اسے چھوڑ کر پکارتے ہو، وہ تو کھجور کی گٹھلی کے اوپر کی نازک جھلی کے برابر بھی عالمِ ہستی میں حقِ حاکمیت اور مالکیت نہیں رکھتے" (وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ ما يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ)۔ [تشریحی نوٹ: الذين کی تعبیر کہ جو عام طور پر جمع مذکر عاقل کے لیے آتی ہے، بتوں کے بارے میں مشرکین کے توہم کی بناء پر ہے کہ جو وہ ان بےجان موجودات کے متعلق رکھتے تھے قرآن انہی کی تعبیر ذکر کر کے، پھر اس کی سختی سے تردید کرتا ہے]۔ "قطمیر" مفردات میں راغب کے مطابق وہ جھلّی ہے کہ جو کھجور کی گٹھلی کی پشت پر ہوتی ہے اور مجمع البیان میں طبرسی کے مطابق اور تفسير قرطبی کے مطابق یہ ایک پتلا سا سفید رنگ کا چھلکا ہے کہ جو پوری گٹھلی کو چھپائے ہوتا ہے۔ بہرحال یہ بہت ہی چھوٹی اور حقیر چیز کی طرف اشارہ ہے۔ جی ہاں! یہ بت نہ تو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان، نہ وہ تمہارا دفاع کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنا، نہ وہ حاکمیت رکھتے ہیں اور نہ ہی مالکیت۔ یہاں تک کہ کھجور کی گٹھلی کے اوپر کی جھلی پر بھی نہیں۔ اس حالت میں تم بےعقل کس طرح ان کی پرستش کرتے ہو اور اپنی مشکلات کا حل ان سے چاہتے ہو۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: "اگر تم انہیں اپنی مشکلات کے حل کے لیے پکارو تو وہ ہرگز تمهاری پکار نہیں سنتے"۔ (إِنْ تَدْعُوهُمْ لا يَسْمَعُوا دُعاءَكُمْ)۔ کیونکہ وہ چند پتھروں اور لکڑی کے ٹکڑوں کے علاوہ کچھ نہیں ہیں، وہ بےشعور جمادات ہی تو ہیں۔ "اور بالفرض وہ تمہارے نالہ و فریاد کو سن بھی لیں تب بھی وہ تمہاری حاجات کا جواب دینے کی توانائی نہیں رکھتے"۔ (وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجابُوا لَكُمْ)۔ یہ بات واضح ہے کہ وہ تو کھجور کی گٹھلی کی جھلی کے برابر بھی عالمِ ہستی میں سود و زیاں کے مالک نہیں ہیں، اس کے باوجود تم کس طرح سے یہ توقع رکھتے ہو کہ وہ تمہارے لیے کوئی کام کر سکیں گے یا تمهاری کوئی مشکل آسان کر سکیں گے۔ "اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ جب قیامت کا دن ہو گا تو وہ تمہاری عبادت اور شرک کا انکار کر دیں گے" (وَيَوْمَ الْقِيامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ)۔ اور کہیں گے کہ خداوندا! یہ ہماری پرستش نہیں کرتے تھے، بلکہ حقیقت میں یہ تو اپنے نفس کی پرستش کرتے تھے۔ یہ گواہی یا تو زبان حال کےساتھ ہے، کہ جو شخص بتوں کی حالت کو دیکھے تو وہ گوش ہوش کے ساتھ یہ بات ان سے سنتا ہے اور یا یہ بات ہے کہ وہ خدا جو اس دن انسان کے اعضاء و جوارح اور بدن کی جلد کو قوتِ گویائی دے گا، انہیں بھی بات کرنے کا فرمان جاری کرے گا، تاکہ وہ یہ گواہی دیں کہ منحرف بت پرست حقیقت میں اپنے اوہام اور خواہشات کی پرستش کرتے تھے۔ سورہ یونس کی آیت ۲۸ میں بھی ایسی بات بیان کی گئی ہے، ارشاد ہوتا ہے: وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعاً ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا مَكانَكُمْ أَنْتُمْ وَشُرَكاؤُكُمْ فَزَيَّلْنا بَيْنَهُمْ وَقالَ شُرَكاؤُهُمْ ما كُنْتُمْ إِيَّانا تَعْبُدُون۔ "اور اس دن کو یاد کرو کہ جب ہم ان سب کو جمع کریں گے، پھر مشرکین سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے معبود اپنی جگہ پر ٹھہرو (تاکہ تمہارا حساب کتاب چکایا جائے) پھر ہم انہیں ایک دوسرے سے جدا کر دیں گے، (تاکہ ہر ایک سے الگ الگ سوال ہو) تو وہاں ان کے معبود ان سے کہیں گے، تم ہرگز ہماری عبادت نہیں کرتے تھے۔ مفسرین کے ایک گروہ نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ تعبیر ملائکہ اور حضرتِ عیسٰی جیسے "معبودوں" کے بارے میں ہے، کیونکہ قیامت میں صرف وہی بات کر سکیں گے اور "إِنْ تَدْعُوهُمْ لا يَسْمَعُوا دُعاءَكُمْ "، کا جملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اپنے آپ میں ایسے مشغول ہوں گے کہ اگر تم ان کو پکارو گے تو وہ تمہاری باتوں کو نہیں سنیں گے۔ [بحوالہ: یہ احتمال تفسیر مجمع البیان، تفسیر آلوسی اور قرطبی میں مذکور ہے]۔ لیکن " وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ " کے مفہوم کی وسعت کی طرف توجہ کرتے ہوئے یہ بات واضح ہے کہ مراد بُت ہی ہیں: "إِنْ تَدْعُوهُمْ لا يَسْمَعُوا دُعاءَكُمْ " (اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری آواز کو نہیں سنتے) یہ جملہ ظاہراً دنیا کے ساتھ مربوط ہے۔ آیت کے آخرمیں مزید تاکید کے لیے فرمایا گیا ہے: "خدا کے مانند کہ جو ہر چیز سے آگاہ ہے، کوئی بھی تجھے باخبر نہیں کرے گا" (وَلا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ)۔ اگر وہ یہ کہتا ہے کہ بت قیامت میں تمہاری پرستش کا انکار کر دیں گے اور تم سے بیزاری اختیار کریں گے، تو اس سے تعجب نہ کرو، کیونکہ ایسی ذات اس موضوع کی خبر دے رہی ہے کہ جو تمام عالمِ ہستی اور اس کے ذرّہ ذرّہ سے آگاہ ہے، اس کے علم کی بارگاہ میں مستقبل بھی ماضی اور حال کی طرح آشکار ہے۔ اگرچہ اس جملے میں ظاہراً ذات میں مخاطب ہے، لیکن یہ بات واضح ہے کہ نظر تمام انسانوں پر ہے۔
آیات سے سوء استفاده اور انحرافي تفاسير
اگرچہ آیات کی تفسیر کے دوران میں واضح ہو گیا ہے کہ آخری زیرِبحث آیت " إِنْ تَدْعُوهُمْ لا يَسْمَعُوا دُعاءَكُمْ " سے مراد بت ہیں کہ جو اوّل تو اپنی عبادت کرنے والوں کے تقاضوں کو سننے والا کان ہی نہیں رکھتے اور اگر رکھتے بھی تو ان کی مشکل حل کرنے پر قادر نہیں ہیں اور نہ ہی دو عالمِ ہستی میں سوئی کی نوک کے برابر مالکیت و حاکمیت رکھتے ہیں۔ لیکن بعض ہٹ دھرم وہابیوں نے پیغمبرِ اسلامؐ اور ہادیانِ برحق پیشواؤں سے توسل اور شفاعت طلب کرنے کے خلاف اس آیت اور اسی قسم کی دوسری آیات کا سہارا لینے کی کوشش کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ قرآن کہتا ہے کہ وہ تمام لوگ کہ جنہیں تم خدا کے سوا پکارتے ہو یہاں تک کہ انبیاء اور پیغمبر بھی تمہاری بات نہیں سنتے اور اگر سنیں بھی تو جواب نہیں دے سکتے یا جیسا کہ سورہ اعراف کی آیہ ۱۹۷ میں بیان ہوا ہے کہ: وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ لا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلا أَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُونَ۔ "خدا کے علاوہ جن جن کو تم پکارتے ہو وہ تمہاری مدد نہیں کر سکتے اور نہ اپنی مشکلات میں اپنی ہی مدد کر سکتے ہیں"۔ وہ لوگ اس قسم کی آیات اور اس طرح سے پیغمبروں اور آئمہ کے ارواح سے ہر قسم کے توسل کی نفی کرتے ہیں اور اسے توحید کے مخالف شمار کرتے ہیں۔ حالانکہ ان آیات سے پہلے اور بعد کی آیات پر ایک سرسری سی نگاہ اس حقیقت کے ادراک کے لیے کافی ہے کہ اس سے مراد بت ہیں کیونکہ ان تمام آیات میں بتوں ہی کے بارے میں گفتگو ہے پتھر اور لکڑی کے متعلق گفتگو ہے کہ جنہیں وہ خدا کا شریک خیال کرتے تھے اور وہ ان کے لیے خدا کی قدرت کے مقابلے میں قدرت کے قائل تھے۔ لیکن کون نہیں جانتا کہ شهداءِ راہ خدا کی طرح کہ جن کی زندگی کے بارے میں قرآن صراحت کے ساتھ بات کرتا ہے انبیاء و اولیاء بھی حیاتِ برزخی کے حامل ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ برزخی زندگی میں روح کی فعالیت زیادہ وسیع اور کشادہ ہے کیونکہ وه مادی حجابات اور دنیوی تعلقات سے رہائی پا چکی ہوتی ہے۔ دوسری طرف ان ارواحِ پاک سے توسل اس معنی میں نہیں ہے کہ ہم ان کے لیے خدا کے مقابلے میں کسی استقلال کے قائل ہوں، بلکہ مقصد یہ ہے کہ ان کی جاہ و منزلت جو بارگاہِ خدا میں ہے اس سے ہم مدد طلب کریں اور عظمت و احترام وہ درگاہِ خدا میں رکھتے ہیں اس سے مدد چاہیں اور یہ عین توحید اور عبودیتِ پروردگار ہے۔ (غور کیجئے گا)۔ اس بناء پر جیسا کہ قرآن صراحت کے ساتھ مسئلہ شفاعت کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ خدا کے اذن اور فرمان سے شفاعت کریں گے: مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ "کون ہے کہ جو بارگاہِ خدا میں اس کے فرمان کے بغیر شفاعت کر سکے"۔ (بقره ۲۵۵) اسی طرح ان سے توسل بھی اسی طریقے سے ہے۔ کون شخص ہے کہ جو توسل کی صریح آیات کا انکار کر سکے؟ یا اسے شرک خیال کرے اور قرآن سے مقابلے میں کھڑا ہو جائے اور پھر توحید کا دم بھرے سوائے ایسے مغرور جاہلوں کے کہ جنہوں نے ایسے منحوس راگ الاپے ہیں کہ جو مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور اختلاف پیدا کرنے کا سبب ہیں۔ لہذا ہم پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ کے حالات میں پڑھتے ہیں کہ وہ مشکلات کے وقت رسولِ اکرمؐ کی قبر کے پاس آتے تھے اور توسل قائم کرتے ہوئے آپؐ کی روح پاک سے بارگاہ خداوندی میں مدد طلب کرتے تھے۔ جیسا کہ اہلِ سنت کے مشہور محدث "بہیقی" نے نقل کیا ہے کہ خلیفہ دوّم کے زمانہ میں خشک سالی اور قحط پڑ گیا، تو حضرت بلال صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ پیغمبرِ اکرمؐ کی قبر کے پاس آئے اور اس طرح کہا: يا رسول الله استق لامتك ... فانهم قد هلكوا . "اے خدا کے رسولؐ! اپنی امت کے لیے بارش طلب کیجئے ....... کہ وہ ہلاک ہو گئی ہے"۔ [بحوالہ: از كتاب "التوصل الى حقيقة التوسل"]۔ آلوسی کے مانند اہلِ سنت کے بعض مفسرین نے اس سلسلے میں بہت سی احادیث نقل کی ہیں، آلوسی ان احادیث کے بارے میں سختی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے یوں کہتے ہیں: میں ان تمام باتوں کے باوجود بارگاہِ خدا میں پیغمبر کے مرتبے سے توسل میں کچھ مانع نہیں دیکھتا، چاہے وہ حیات ہوں یا ان کی وفات کے بعد... اس کے بعد کچھ دوسرے لوگوں کا کہ جو بارگاہِ خدا میں مرتبہ و مقام رکھتے ہیں اضافہ کرتے ہوئے اعتراف کرتے ہیں کہ ان سے توسل رکھنا جائز ہے [بحوالہ: روح المعانی]۔ اس سلسلے میں ہم تفصیلی بحث جلد۳ میں سورۂ مائدہ کی آیت ۳۵ کے ذیل میں کر چکے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔
کوئی شخص دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا
Tafsīr Nemūna · Vol. 5گزشتہ آیات میں توحید کی دعوت تھی اور ہر قسم کے شرک اور بت پرستی کی نفی کی گئی تھی۔ ممکن ہے کہ اس سے بعض کے دل میں یہ توہم پیدا ہو کہ خدا کو ہماری پرستش کی کیا ضرورت ہے۔ اس قدر اصرار اور تاکید کیوں کی گئی ہے، اس لیے زیرِبحث آیات میں اس حقیقت کو بیان کرنے کے لیے کہ ہمیں تو ضرورت ہے کہ اس کی عبادت کریں، وہ ہماری عبادت کا محتاج نہیں ہے، فرمایا گیا ہے: " اے لوگو! تم خدا کے محتاج ہو اور وہ ہر لحاظ سے بےنیاز اور حمد و ستائش کے لائق ہے" (يا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَراءُ إِلَى اللهِ وَاللهُ هُوَالْغَنِيُّ الْحَمِيدُ)۔ یہ کتنی اہم اور قیمتی گفتگو ہے کہ جو عالمِ ہستی میں ہمیں ہستی بخشنے والے کے سامنے ہماری حیثیت واضح کرتی ہے اور بہت سے عقدے کھولتی ہے اور بہت سے سوالات کا جواب دیتی ہے۔ ہاں! حقیقی بےنیاز اور تمام عالمِ ہستی میں قائم بالذات ایک ہی ہے اور وہ خدا ہے۔ تمام انسان بلکہ تمام موجودات سر تا پا احتیاج و فقر ہیں اور اس مستقل وجود کے ساتھ وابستہ ہیں، کہ اگر ایک لمحہ کے لیے بھی ان کا ربط اس سے ٹوٹ جائے تو وہ بےکار ہو کر رہ جائیں۔ جیسا کہ وہ بےنیازِ مطلق ہے، انسان فقیرِ مطلق ہے اور جس طرح کہ وہ قائم بالذات ہے، ساری مخلوق اس کے ساتھ قائم ہے۔ کیونکہ وہ ہر لحاظ سے ایک لامتناہی وجود ہے اور ذات و صفات میں واجب الوجود ہے۔ تو ان حالات میں اسے کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ ہماری عبادت کا محتاج ہو، یہ تو ہم ہی ہیں کہ جو اس کی عبادت اور اطاعات کے ذریعے تکامل و ارتقاء کی راہ طے کرتے ہیں اور بےپایاں فیض کے مبداء سے اس کی عبادت کے سائے میں لمحہ بہ لمحہ زیادہ سے زیادہ نزدیک ہوتے جاتے ہیں اور اس کی ذات و صفات کے انوار سے بہرہ اندوز ہیں۔ حقیقت میں یہ آیت ان گزشتہ آیات کی ایک وضاحت ہے کہ جن میں فرمایا گیا ہے کہ: " ذلِكُمُ اللهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ ..." یہ ہے خدا، تمہارا پروردگار، عالمِ ہستی کی مالکیت و حاکمیت اسی کے ساتھ مخصوص ہے۔ دوسرے موجودات تو کھجور کی گٹھلی کی نازک جھلی کے برابر بھی اپنی طرف سے کچھ نہیں رکھتے "۔ اس بناء پر انسان اس کے محتاج ہیں نہ کسی اور کے۔ انہیں ہرگز اس کے غیر کے آستانے پر سر نہیں جھکانا چاہیئے۔ اور اپنی حاجت اس کے غیر سے طلب نہیں کرنا چاہیئے، کیونکہ وہ سب کے سب اس مانگنے والے کی طرح کی نیازمند اور محتاج ہیں، یہاں تک کہ خدائی پیمغبروں اور پیشوایان کی بزرگی و عظمت بھی اس بناء پر ہے کہ وہ اس کے بھیجے ہوئے نمائندے ہیں، نہ کہ وہ اپنی طرف سے قائم ہیں۔ اس بناء پر وہ غنی بھی ہے اور حمید بھی یعنی بےنیاز ہونے کے ساتھ ساتھ اسی قدر عطا والا ہے کہ ہر قسم کی حمد و ستائش کے لائق ہے، اور بخشندگی اور بندہ نوازی کے ساتھ ساتھ سب سے بےنیازی بھی ہے۔ اس حقیقت پر توجہ مومن انسانوں میں دو مثبت اثر رکھتی ہے۔ ایک طرف تو وہ انہیں غرور و تکبر اور خودخواہی اور سرکشی سے بچاتی ہے اور انہیں خبردار کرتی ہے کہ وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں رکھتے کہ جس پر فخر کر سکیں جو کچھ بھی ان کے پاس ہے پروردگار کی امانت ہے۔ دوسری طرف اس کے غیر کی بارگاہ میں دستِ نیاز دراز نہ کریں اور غیراللہ کی عبودیت کا طوق اپنی گردن میں نہ ڈالیں اور ان تمام بندھنوں سے آزاد ہو کر ہمت سے کام لیں۔ مومنین اس نظر سے عالم میں جو کچھ دیکھتے ہیں اسے اسی کے وجود کا پَرتو سمجھتے ہیں اور ان کے اسباب کی طرف توجہ انہیں ہرگز مسبب الاسباب سے غافل نہیں کرتی۔ بعض فلاسفہ نے اس آیت کو "فقر و امکان" یا "امکان و وجوب واجب اور الوجود" کے بارے میں مشہور دلیل کی طرف اشارہ سمجھا ہے اگرچہ آیت وجودِ خدا کا استدلال پیش نہیں کر رہی بلکہ اس کے اوصاف بیان کر رہی ہے لیکن مذکورہ برہان کو مفہومِ آیت کا ایک لازمی نتیجہ سمجھا جا سکتا ہے۔
برهان امکان و وجوب (فقر و غنٰی) کی وضاحت
تمام موجودات کہ جنہیں ہم اس جہان میں دیکھتے ہیں، وہ سب کے سب ایک دن معدوم تھے، پھر انہوں نے لباسِ وجود پہنا یا زیادہ دقیق تعبیر کے مطابق ایک دن وہ کچھ بھی نہ تھے اور پھر وجود میں آئے۔ یہ امر اس چیز کی دلیل ہے کہ وہ کسی اور وجود کے "معلول" ہیں اور وہ خود سے کوئی وجود و ہستی نہیں رکھتے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم معلول وجود اپنی "علت" سے وابستہ اور اس کے ساتھ قائم ہے اور سراپا نیاز و احتیاج ہے۔ اب اگر وہ علت بھی کسی اور علت کی معلول ہو تو وہ بھی اپنے مقام پر محتاج اور نیازمند ہو گی اور اگر یہ امر لامتناہی ہو تو نیازمند اور محتاج موجودات کا ایک مجموعہ بن جائے۔ مسلم ہے کہ اس قسم کا مجموعہ ہرگز وجود میں نہیں آ سکتا، کیونکہ لامتناہی احتیاج بہرحال احتیاج ہے اور لامتناہی فقر و نیاز بہرحال فقر و نیاز ہے اور لامتناہی صفر کسی عدد کو وجود نہیں بخش سکتے اور لامتناہی وابستہ اور غیرمستقل سے استقلال حاصل نہیں ہو سکتا۔ تو اس سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ انجامِ کار ہمیں ایک ایسے وجود تک پہنچنا چاہیئے کہ جو قائم بالذات ہو اور تمام جہات سے مستقل ہو۔ وہ خود علت ہو لیکن کسی اور کا معلول نہ ہو اور وہی واجب الوجود ہے۔ [تشریحی نوٹ: اس بات پر بھی توجہ رہے کہ امکان و وجوب کی برہان کی دو تفسیریں ہیں۔ کیونکہ فلاسفہ نے امکان کے دو معانی کیے ہیں۔ امکان ماعوی اور امکان وجودی اور چونکہ محققینِ فلاسفہ کی نظر اصالۃ الوجود پر ہے اِس بناء پر یہاں امکان کی امکان وجودی کی شکل میں تفسیر کرنا چاہیئے کہ علت کی طرف نیاز و وابستگی اصل وجود میں ہے (اس سلسلے میں مزید وضاحت کے لیے کتب فلسفہ کا مطالعہ کریں)]۔ یہاں یہ سوال سامنے آیا ہے کہ زیرِبحث آیت میں صرف انسانوں اور ان کی خدا کی طرف احتیاج کے بارے میں گفتگو کیوں کی گئی ہے، جبکہ یہ فقره احتیاج عالمِ ہستی میں عمومی حیثیت رکھتا ہے اور کائنات کی ہر چیز محتاج ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر انسان جو کہ اس جہان کا گلِ سرسبد ہے، سر تا پا اس کا محتاج ہے تو پھر باقی موجودات کی حالت واضح ہے۔ دوسرے لفظوں میں باقی موجودات بھی علتِ فقر یعنی امکانِ وجود میں انسان کے ساتھ شریک ہیں۔ انسان کے بارے میں خصوصیت کے ساتھ اس بناء پر گفتگو کی گئی ہے کہ اسے مرکبِ غرور و تکبر سے نیچے اتارا جائے اور وہ ہر حال میں ہر چیز کے لیے اور ہر جگہ اپنی حاجت کی خاطر خدا ہی کی طرف توجہ دے۔ وہی توجہ کہ جو صفات فاضلہ اور ملکاتِ اخلاقی کی اصل بنیاد ہے۔ وہی توجہ کہ جو تواضع و انکساری، ترکِ ظلم و ستم، ترکِ غرور وتکبر اور ترکِ بخل و حرص و حسد کی رمز ہے اور حق کے سامنے سرِتسلیم خم کرنے کی محرک ہوتی ہے۔ بعد والی آیت میں انسانوں کی اسی احتیاج و فقر کی تاکید کے لیے ان سے فرمایا گیا ہے: "اگر وہ چاہے تو تمہیں اٹھا لے اور ایک نئی مخلوق لے آئے" (إِنْ يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ)۔ اسی بناء پر اسے تمہاری اور تمہاری عبادت کی کوئی احتیاج نہیں اور یہ تم ہو کہ جو اس کے محتاج ہو۔ یہ آیت اسی مطلب کی مثال ہے کہ جو سورہ انعام میں بیان ہوا ہے جہاں فرمایا گیا ہے: وَرَبُّكَ الْغَنِيُّ ذُو الرَّحْمَةِ إِنْ يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَسْتَخْلِفْ مِنْ بَعْدِكُمْ ما يَشاءُ كَما أَنْشَأَكُمْ مِنْ ذُرِّيَّةِ قَوْمٍ آخَرِينَ۔ "تیرا پروردگار بےنیاز و مہربان ہے، اگر وہ چاہے ہے تو تمہیں لے جائے اور جسے چاہے تمہاری جگہ لے آئے جیسا کہ تمہیں دوسری قوموں کی نسل سے وجود میں لایا ہے"۔ (انعام ۱۳۳) وہ نہ تو تمہاری اطاعت کا محتاج ہے اور نہ ہی اسے تمہارے گناہوں کا خوف ہے لیکن اس کے باوجود اس کی وسیع رحمت تم سب پر سایہ فگن ہے۔ نہ تو اس سارے جہان کے ختم ہو جانے سے اس کی عظمت میں کسی چیز کی کمی ہو گی اور نہ ہی اس عالم کی خلقت نے اس کے مقام کبریائی میں کوئی اضافہ کیا ہے۔ آیت کے آخر میں نئے سرے سے تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے: "اور یہ کام خدا کے لیے ناممکن نہیں ہے"۔ (وَما ذلِكَ عَلَى اللهِ بِعَزِيزٍ)۔ جی ہاں! وہ جس چیز کا ارادہ کرتا ہے حکم دیتا ہے کہ ہو جا، وہ فوراً وجود میں آ جاتی ہے تخلیقِ انسان تو معمولی سی بات ہے، یہ بات تو تمام عالمِ ہستی کے بارے میں صادق ہے۔ بہرحال اگر وہ تمہیں ایمان، اطاعت اور پرستش کا حکم دیتا ہے تو سب تمہارے ہی فائدہ میں ہے اور اس کی برکات تمہیں ہی حاصل ہوتی ہیں۔ آخری زیرِبحث آیت گزشتہ آیات کے ربط میں پانچ "نکات" کی طرف اشارہ کرتی ہے: اوّل یہ کہ گزشتہ آیات میں بیان ہوا تھا کہ "اگر خدا چاہے تو وہ تمہیں اٹھا لے اور تمہاری جگہ دوسری قوم لے آئے۔ یہ گفتگو ممکن ہے کہ بعض افراد کے لیے یہ سوال پیدا کرے کہ اس آیہ کے مخاطب تمام گنہگار افراد نہیں ہیں، کیونکہ میرے زمانے میں مومنین صالح موجود رہے ہیں اور آج بھی ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ وہ بھی دوسروں کے گناہوں کی سزا میں گرفتار ہوں اور وہ بھی فنا ہو جائیں؟ اسی سبب سے فرمایا گیا ہے: "کوئی شخص دوسرے کے گناہ کا بار اپنے کندھے پر نہیں اٹھائے گا" (وَلا تَزِرُ وازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرىٰ)۔ "وزر" بوجھ کے معنی میں ہے اور "وزر" (بر وزن "نظر") سے لیا گیا ہے کہ جو پہاڑوں کی پناہ گاہ کے معنی میں آیا ہے اور کسی مسئولیت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، جیسا کہ "وزیر" کو اس لحاظ سے "وزیر" کہتے ہیں کہ وہ ذمہ داریوں کا بھاری بوجھ اپنے کندھے پر اٹھاتا ہے، "موازرہ" بھی معاونت کے معنی میں ہے، کیونکہ ہر شخص معاونت کرتے وقت دوسرے کے بار کا ایک حصہ اپنے کندھے پر اٹھاتا ہے۔ یہ جملہ اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے، حقیقت میں یہ ایک طرف تو عدلِ خداوندی سے ارتباط رکھتا ہے کہ جو ہر شخص کو اس کے عمل کے بدلے گروی شمار کرتا ہے، اس کی سعی و کوشش کا اسے اجر دیتا ہے اور اس کے گناہوں کی اسے سزا دیتا ہے۔ اور دوسری طرف قیامت کے دن کی شدّتِ مجازات کی طرف اشارہ ہے کہ کوئی بھی دوسرے کے گناہوں کا بوجھ اپنے کندھے پر اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہوتا چاہے اس سے انہتائی لگاؤ اور تعلق ہی کیوں نہ رکھتا ہو۔ اس مطلب کی طرف توجہ انسانوں کی خودسازی میں زیادہ اثر رکھتی ہے کیونکہ جو شخص اپنے کو بچانا چاہے وہ ہرگز اس بہانہ سے کہ اس کا ماحول یا اس کا معاشرہ خراب ہے، برائی میں کودنے کے لیے تیار نہیں ہو گا اور ماحول کی خرابی کو اپنی بےراہ روی کے لیے وجہ جواز نہیں بنائے گا کیونکہ ہر شخص اپنے گناه کا بوجھ خود ہی اپنے کندھے پر اٹھاتا ہے۔ عدلِ الٰہی کا یہ پہلو انسانوں کو یہ ادراک اور سوجھ بوجھ بھی دیتا ہے کہ خدا معاشروں کا مجموعی طور پر حساب نہیں لیتا، بلکہ ہر شخص کا اپنا حساب لیا جائے گا یعنی اگر اس نے اپنی اصلاح کے لیے اور برائی کے خلاف جہاد کرنے کے سلسلے میں اپنی ذمہ داری کو نبھایا ہو تو اسے کسی قسم کا خوف نہیں ہو گا چاہے اس کے علاوہ سارے جہان کے لوگ کفر و شرک اور ظلم و گناہ میں آلودہ ہوں۔ اصولی طور پر کوئی تربیتی پروگرام اس بنیادی اصول کی طرف توجہ دیئے بغیر مؤثر نہیں ہو سکتا۔ (غور کیجئے گا)۔ دوسرے جملے میں اسی مسئلے کو ایک دوسری شکل میں پیش کیا گیا ہے، قرآن کہتا ہے: "اگر کوئی شخص بھاری بوجھ اٹھائے ہوئے ہو اور وہ کسی دوسرے شخص کو اپنے گناہوں کو اٹھانے کے لیے کہے، تو وہ اس کا منفی جواب دے گا اور اس کے گناہ اور جواب دہی میں سے کسی چیز کو نہیں اٹھائے گا، چاہے وہ اس کے قریبیوں اور رشتہ داروں میں سے ہو"۔ (وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلى حِمْلِها لا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كانَ ذا قُرْبٰي) ۔ [تشریحی نوٹ: "مثقلة" بھاری بوجھ کے معنی میں ہے اور یہاں وہ شخص مراد ہے جو گناہوں کا بوجھ اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے ہے اور "حمل" (بر وزن "شعر") "مفردات" میں راغب کے قول کے مطابق وہ بوجھ ہے جو پشت پر اٹھایا جاتا ہے"۔ "حمل" (بر وزن "حمد") کے مقابلے میں کہ یہ ایسا بوجھ ہے کہ جو پیٹ میں اٹھایاجاتا ہے۔ مثلًا "جنین" یا وہ پانی کہ جو بادل کے اندر ہے، یا وہ پھل کہ جو درخت کے اوپر ہے اور چونکہ وہ زیرِبحث آیت میں گناہ کو اس بوجھ کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے کہ جو کندھے پر اٹھایا جاتا ہے، اس لیے "حمل" حاء کی زیر کے ساتھ آیا ہے]۔ ایک حدیث میں ہے: قیامت کے دن ایک ماں اور ایک بیٹے کو لایا جائے گا۔ ان دونوں ہی کے کندھوں پر گناہوں کا بھاری بوجھ ہو گا۔ ماں بیٹے سے تقاضا کرے گی کہ ان تمام زحمتوں کے بدلے میں کہ جو میں نے تیرے لیے دنیا میں جھیلی ہیں میرے گناہوں کی مسئولیت کا کچھ بوجھ اپنے کندھے پر اٹھا لے، اس پر بیٹا ماں سے کہے گا کہ تو مجھ سے دور ہو جا، کیونکہ میں تو تجھ سے بھی زیاده گرفتار ہوں۔ [تشریحی نوٹ: اگرچہ یہ حدیث مختلف تفاسیر میں کبھی فضیل بن عیاض سے اور کبھی ابنِ عباس سے نقل ہوئی ہے لیکن یہ بات بعید نظر آتی ہے کہ یہ بات تو انہوں نے خود اپنی طرف سے کہی ہو۔ ہو سکتا ہے کہ اصل حدیث پیغمبرؐ سے منقول ہو (تفسیر ابو الفتوح، قرطبی اور روح البیان کی طرف رجوع کریں)]۔ یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ کیا یہ آیت ان بہت سی روایات کے منافی تو نہیں جن میں سنتِ حسنہ و سنتِ سیئہ کا ذکر ہے۔ کیونکہ وہ روایات یہ کہتی ہیں کہ جو شخص کوئی اچھی سنت قائم کرے گا تو ان تمام لوگوں کا اجر کہ جنہوں نے اس پر عمل کیا ہے اس کے لیے لکھا جائے گا بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں کچھ کمی ہو اور جو شخص بری سنت کی بنیاد رکھے گا تو ان لوگوں کا بوجھ بھی کہ جو اس پر عمل کریں گے اس پر ہو گا بغیر اس کے کہ ان کے گناہ میں کوئی کمی ہو۔ لیکن ایک نکتے کی طرف توجہ کرنے سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے۔ وہ یہ کہ اس صورت میں ایک شخص کا گناہ دوسرے کے ذمہ نہیں لکھا جاتا کہ جب وہ کسی قسم کا دخل اس میں نہ رکھتا ہو لیکن اگر وہ کسی کام کی بنیاد رکھے، معاونت کرے یا ترغیب دے اور اس طرح اس میں حصہ دار ہو تو پھر یقیناً یہ اس کا عمل شمار ہو گا اور وہ اس میں شریک قرار پائے گا۔ تیسرے جملے میں اس حقیقت سے پرده اٹھایا گیا ہے کہ پیغمبرؐ کی تنبیہ صرف آماده دلوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: "تم صرف انہی لوگوں کو ڈرا پاتے ہو جو اپنے پروردگار سے غیب اور تنہائی میں ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں" (إِنَّما تُنْذِرُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ وَأَقامُوا الصَّلاةَ)۔ انبیاء اور اولیاء کے ڈراوے اس وقت تک بےاثر رہیں گے جب تک دل میں خوٖفِ خدا نہ ہو اور انسان پنہاں و آشکار اپنے اوپر ایک مافوق قوت کی نگرانی کا احساس نہ کرے اور نماز کے ذریعے اس اندرونی احساس کو قوی نہ کرے کیونکہ نماز دل کو زندہ کرتی ہے اور ذکرِ خدا پر ابھارتی ہے۔ ابتداء میں جبکہ انسان نے کوئی عقیدہ نہ اپنایا ہو اور ایمان نہ لایا ہو، اگر اس میں حق جوئی اور حق طلبی کی روح موجود نہیں ہے اور اس میں حقائق کی شناخت کے سلسلے میں جوابدہی کا احساس بھی نہیں ہے تو وہ انبیاء کی دعوت پر کان نہیں دھرے گا اور عالمِ ہستی میں پروردگار کی نشانیوں میں غور و فکر بھی نہیں کرے گا۔ چوتھے جملے میں قرآن پھر اس حقیقت کی طرف لوٹتا ہے کہ خدا سب سے بےنیاز ہے اور مزید کہتا ہے کہ: "جو شخص پاکیزگی اور تقوٰی اختیار کرے تو اس پاکیزگی کا نتیجہ خود اسی کو حاصل ہو گا" (وَمَنْ تَزَكَّى فَإِنَّما يَتَزَكَّى لِنَفْسِهِ)۔ آخرکار پانچویں اور آخری جملے میں قرآن خبردار کرتا ہے کہ اگر نیک و بد افراد اس جہان میں اپنے اعمال کے نتائج نہ پائیں تو کوئی اہم بات نہیں ہے کیونکہ "سب کی بازگشت خدا کی طرف ہے اور آخرکار وہ سب کا حساب چکائے گا"۔ (وَإِلَى اللهِ الْمَصِيرُ)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
نور و ظلمت یکساں نہیں ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 5ان مباحث کی مناسبت سے کہ جو ایمان و کفر کے سلسلے میں گزشتہ آیات میں بیان ہوئے تھے، زیرِبحث آیات میں چار پرکشش مثالیں مومن اور کافر کے بارے میں بیان کی گئی ہیں جن میں "ایمان و کفر" کے آثار نہایت واضح طور پر مجسم ہو گئے ہیں۔ پہلی مثال میں کافر و مومن کو نابینا اور بینا کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے اور فرمایا گیا ہے: "نابینا اور بینا ہرگز برابر نہیں ہیں"۔ (وَما يَسْتَوِي الْأَعْمى وَالْبَصيرُ)۔ ایمان نور ہے اور روشنی بخشنے والا ہے اور انسان کو کائنات شناسی، اعتقاد، عمل اور تمام زندگی میں روشنی اور آگاہی بخشتا ہے۔ لیکن کفر ظلمت اور تاریکی ہے اور اس میں نہ تو سارے عالمِ ہستی کے بارے میں صحیح دانش و بینش ہے اور نہ صحیح اعتقاد اور عملِ صالح کی کوئی خبر ہے۔ قرآنِ مجید اسی سلسلے میں سورہ بقرہ کی آیہ، ۲۵۷ میں حقِ مطلب ادا کرتے ہوئے کہتا ہے: اللهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِياؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُمْ مِنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُماتِ أُولئِكَ أَصْحابُ النَّارِ هُمْ فِيها خالِدُونَ۔ "خدا مومنوں کا ولی، راہنما اور سرپرست ہے۔ وہ انہیں تاریکیوں سے روشنی کی طرف ہدایت کرتا ہے لیکن کافروں کا ولی طاغوت ہے کہ جو انہیں روشنی سے ظلمتوں کی طرف کھینچ لے جاتا ہے، وہ اصحابِ دوزخ ہیں اور ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے"۔ چشمِ بینا تنہا کافی نہیں ہے، لہذا روشنی اور نور بھی ہونا چاہیئے تاکہ انسان ان دو عوامل کی مدد سے موجودات کا مشاہدہ کر سکے۔ بعد والی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے: "نہ ہی تاریکیاں نور کے برابر ہیں"۔ (و لا الظلمات و لا النور)۔ چونکہ تاریکی گمراہی کا سبب ہے، تاریکی سکون و جمود کی عامل ہے اور تاریکی طرح طرح کے خطرات کی عامل ہے لیکن نور اور روشنی حیات و حرکت، رشد و نمود اور تکامل و ارتقاء کا منشاء ہے۔ اگر نور ختم ہو جائے تو عالم کی تمام قوتیں اور طاقتیں ختم ہو جائیں اور موت سارے مادی عالم کو گھیر لے اور اسی طرح عالمِ روحانی میں نورِ ایمان ہے کہ وہ رشد و تکامل کا عامل ہے اور حیات و حرکت کا سبب ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: "(آرام بخش) سایہ گرم ہَوَا اور جلانے والی لُو کے برابر نہیں ہے"۔ (و لا الظل و لا الحرور)۔ مومن اپنے ایمان کے سائے میں سکون اور امن و امان سے زندگی بسر کرتا ہے لیکن کافر اپنے کفر کی وجہ سے تکلیف اور رنج میں جلتا رہتا ہے۔ راغب مفردات میں کہتا ہے "حرور" (بر وزن "قبول") گرم اور جلانے والی ہوا کے معنی میں ہے (مارنے والی اور خشک کر دینے والی ہوا)۔ بعض اسے بادِ سموم کے معنی میں سمجھتے ہیں اور بعض سورج کی سخت اور شدید حرارت کے معنی میں۔ زمخشری کشاف میں کہتا ہے کہ "سموم" موذی اور ہلاک کرنے والی ہواؤں کو کہتے ہیں۔ جو دن کے وقت چلتی ہیں لیکن "حرور" کہا تو انہیں ہواؤں کو جاتا ہے لیکن بغیر اس تمیز کے کہ وہ دن کے وقت چلیں یا رات کو بہرحال اس قسم کی ہوائیں کہاں اور ٹھنڈا اور نشاط آفریں کی سایہ کہاں کہ جو انسان کی روح اور جسم کو نوازتا ہے۔ آخری تشبیہ میں فرمایا گیا ہے: "اور زندہ اور مردہ ہرگز برابر نہیں ہے" (وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ)۔ مومنین زندہ ہیں اور سعی و کوشش، حرکت و جنبش اور رشد و نمو کے حامل ہیں۔ وہ شاخیں، پتے، پھول اور پھل رکھتے ہیں لیکن کافر خشک لکڑی کی طرح ہیں کہ جس میں نہ طراوت ہے نہ پتّا، نہ پھول اور نہ کوئی سایہ اور سوائے جلانے کے اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ سوره انعام کی آیہ ۱۲۲ میں ہے کہ: أَ وَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ وَجَعَلْنا لَهُ نُوراً يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَثَلُهُ فِي الظُّلُماتِ لَيْسَ بِخارِجٍ مِنْها۔ "کیا وہ شخص کہ جو مردہ تھا اور ہم نے اسے زندہ کیا اور ہم نے اسے نور عطا کیا کہ جس کے ذریعے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے، اُس شخص کے مانند ہے کہ جو ظلمات اور تاریکیوں میں غوطہ زن ہے اور ہرگز اس سے نہیں نکلے گا"؟ آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے: "خدا جسے چاہتا ہے سننے والا بنا دیتا ہے" تاکہ وہ حق کی دعوت کو دل کے کان سے سنے اور توحید کی منادی کرنے والوں کی ندا پر لبیک کہے "(إِنَّ اللهَ يُسْمِعُ مَنْ يَشاءُ) "اور تم اپنی بات ہرگز ان مردوں کے کانوں تک نہیں پہنچا سکتے جو قبروں میں سوئے ہوئے ہیں" (وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ)۔ تمہاری فریاد چاہے جس قدر رسا ہو اور تمهاری گفتگو جس قدر بھی دل نشین ہو اور تمهارا بیان جتنا بھی فصیح و بلیغ ہو مُردے اس میں سے کسی چیز کو سمجھ نہیں سکتے اور وہ لوگ کہ جو گناہ پر اصرار اور تعصب، عناد، ظلم اور فساد میں غوطہ زن ہونے کی وجہ سے اپنی روح انسانی کو کھو بیٹھے ہیں، یقیناً تمهاری دعوت قبول کرنے کی استعداد نہیں رکھتے۔ اس بناء پر ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے پریشان اور بےتاب نہ ہو۔ تمهاری ذمہ داری تو صرف بات کو پہنچانا اور ڈرانا ہے۔ "تم تو صرف ڈرانے والے ہو"۔ (إِنْ أَنْتَ إِلَّا نَذِيرٌ)۔
چند اہم نکات: ۱- ایمان و کفر کے آثار
ہم جانتے ہیں کہ قرآن جغرافیائی، نسلی اور طبقاتی قسم کی سرحدوں میں سے کہ جو انسانوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہیں کسی کا قائل نہیں ہے اس نے تو صرف ایک ہی سرحد شمار کی ہے اور وہ ایمان و کفر کی سرحد ہے اور وہ اس طرح سے تمام انسانی معاشرے کو دو گروہوں۔ مؤمن اور کافر میں تقسیم کر دیتا ہے۔ قرآن نے ایمان کے تعارف میں متعدد مواقع پر اسے نور کے ساتھ یہ تشبیہ دی ہے اور کفر کو ظلمت کے ساتھ اور یہ تشبیہ نتیجہ خیزی کے لیے ایک زندہ ترین تشبیہ ہے۔ [بحوالہ: بقره ۲۵۷، مائده ۱۵، ۱۶، ابراہیم ۱۔ ۵، زمر۲۲، حدید ۹ اور طلاق ۱۱ کی طرف رجوع فرمائیں]۔ ایمان ایک قسم کا باطنی ادراک اور بصیرت ہے۔ قلبی عقیدے اور جنبش و حرکت سے توام یہ ایک قسم کا علم و آگاہی ہے۔ یہ ایک قسم کا یقین ہے کہ جو انسان کے قلب و روح کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے اور ایسے اسلامی کاموں کا سرچشمہ بن جاتا ہے کہ جو معاشرے کی رشد و نمو کا باعث بنتے ہیں۔ لیکن کفر و جہالت ہے، ناآگاہی اور بےیقینی ہے کہ جس کا نتیجہ عدمِ تحرک، احساسِ مسئولیت کا فقدان اور شیطانی اور مخرب حرکات ہیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ "نور" عالمِ مادہ میں انسان، حیوان اور نباتات کے لیے ہر قسم کی حیات، حرکت، نمو اور رشد کا مبداء ہے اور اس کے برعکس ظلمت و تاریکی خاموشی اور خواب و غفلت کی عامل ہے اور مسلسل جاری رہنے کی صورت میں موت ہے اور زندگی کے خاتمے کا سبب ہے۔ اس بناء پر یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ ان آیات میں ایمان و کفر کو نور و ظلمت سے، حیات و موت سے اور آرام بخش سائے اور بادِ سموم سے تشبیہ دی گئی ہے اور اسی طرح مومن و کافر کو بینا و نابینا سے تشبیہ دی گئی ہے۔ کہنے کے لائق تمام باتیں ان چار تشبیہوں میں بیان ہو گئی ہیں۔ ہم زیادہ دور نہ جائیں، جس وقت ہم ایک مومن کے ساتھ نشست و برخاست کرتے ہیں، تو ہم اس کے تمام وجود میں اس نور کا اثر محسوس کرتے ہیں اس کے افکار ضیا بخش ہوتے ہیں، اس کی باتیں درخشنده ہوتی ہیں اور اس کے اعمال و اخلاق ہمیں حقیقتِ زندگی اور حیاتِ واقعی سے آشنا کرتے ہیں۔ لیکن کافر کے تمام وجود سے تاریکی برستی ہے، وہ اپنے مادی اور وقتی مفادات کے علا وہ کچھ نہیں سوچتا اس کی فکر کا افق اور فضا اس کی شخصی زندگی کی چار دیواری سے اوپر نہیں جاتے وہ شہوات کے طوفانوں میں غوطہ زن ہوتا ہے اور اس کی ہمنشینی انسان کے قلب و روح کو ظلمات و تاریکی کی موجوں میں ڈبو دیتی ہے کیونکہ: ؎ ہمدمی مرده دھد مردگی صحبت افسردہ دل افسردگی مردے کی ہمنشینی سے مردگی حاصل ہوتی ہے اور افسردہ دل کی صحبت سے افسردگی ملتی ہے۔ اور اس طرح سے قرآن نے جو کچھ ان آیات میں بیان کیا ہے اسے ہم محسوس بھی کر سکتے ہیں سمجھ بھی سکتے ہیں یعنی وہ قابلِ ادراک ہے۔
۲- کیا مردے کسی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے؟
اوپر والی آیات میں جو کچھ بیان ہوا ہے اس پر توجہ دینے سے دو سوال پیدا ہوتے ہیں: پہلا یہ کہ قرآن یہ کیسے کہتا ہے کہ: "تم اپنی آواز مردوں کے کانوں تک نہیں پہنچا سکتے"، حالانکہ مشہور حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اکرمؐ نے جنگِ بدر کے دن یہ حکم دیا تھا کہ جنگ کے اختتام پر کفار کے بدنوں کو کنویں میں پھینک دیا جائے۔ اس کے بعد آپؐ نے انہیں پکار کر فرمایا: هل وجدتم ما وعد الله و رسوله حقا؟ فانى وجدت ما وعدنى الله حقا۔ "کیا تم نے اس چیز کو کہ جس کا خدا اور اس کے رسول نے وعدہ کیا تھا حق پایا ہے؟ میں نے تو جس کا خدا نے مجھ سے وعدہ کیا تھا اسے حق پایا ہے۔" اس موقع پر حضرت عمر نے کہا کہ اے خدا کے رسولؐ! آپ ایسے اجساد سے کس طرح گفتگو کر رہے ہیں جن میں روح ہی نہیں ہے؟ پیغمبرِ اکرمؐ نے فرمایا: ما انتم باسمع لما اقول منهم، غير أنهم لا يستطيعون أن يردوا شيئا۔ "تم میری باتوں کو ان سے بہتر طور پر نہیں سنتے، بات صرف اتنی ہے کہ وہ جواب دینے کی توانائی نہیں رکھتے۔ [بحوالہ: تفسیر روح البیان، زیرِبحث آیت کے ذیل میں۔ صحیح بخاری میں بھی یہ حدیث تھوڑے سے فرق کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ (صحیح بخاری جلد ۵، ص ۹۷ باب قتل ابی جہل)]۔ اسی طرح آدابِ میت میں سے ایک یہ ہے کہ عقائد حقّہ کی اسے تلقین کی جائے، سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ بات زیرِبحث آیات کے ساتھ کس طرح مناسبت رکھتی ہے؟ اس سوال کا جواب ایک نکتے کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ زیرِبحث آیات مردوں کے عدمِ ادراک کو معمول کے لحاظ سے اور طبعی حوالے سے بیان کرتی ہیں لیکن جنگِ بدر کی روایات یا تلقینِ میت والی روایت فوق العادۃ شرائط و حالات کے ساتھ مربوط ہے کہ خدا نے اپنے پیغمبر کی باتیں فوق العادۃ طور پر ان مردوں کے کانوں تک پہنچائیں۔ دوسرے لفظوں میں عالمِ برزخ میں انسان کا ربط عالمِ دنیا سے منقطع ہو جاتا ہے، سوائے ان موقعوں کے کہ جن کے بارے میں خدا حکم دے دے کہ یہ ارتباط برقرار رہے اسی بناء پر عام حالات میں ہم مردوں کے ساتھ ارتباط پیدا نہیں کر سکتے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر ہماری آواز مردوں کے کانوں تک نہیں پہنچتی تو پھر پیغمبرِ اکرمؐ اور آئمہ پر سلام بھیجنا اور انہیں وسیلہ قرار دینا اور ان کی قبور کی زیارت کرنا اور بارگاہِ خداوندی میں ان سے شفاعت کا تقاضا کرنا کیا مفہوم رکھتا ہے؟ وہابیوں کی ایک جماعت ہے جو عام طور پر فکری جمود کے حوالے سے مشہور ہے۔ قرآن کی دوسری آیات کا مطالعہ کیے بغیر ابتدائی ظواہر سے یہی بات کرتی ہے۔ یہ لوگ بہت سی احادیث کو کہ جو پیغمبرؐ سے منقول ہوتی ہیں کوئی وقعت نہ دیتے ہوئے، مسلہ توسل کی نفی کر دیتے ہیں اور یوں انہوں نے اپنے گمانِ ناقص سے ان پر خطِ بطلان کھینچ دیا ہے۔ اس سوال کا جواب بھی اسی سے کہ جو ہم نے پہلے سوال کے جواب میں دیا ہے واضح ہو جاتا ہے کیونکہ پیغمبرِ اکرمؐ اور اولیائے خدا کا معاملہ دوسرے لوگوں سے الگ ہے۔ وہ شہداء کے مانند بلکہ ان کی پہلی صف میں قرار پاتے ہیں اور زندہ جاوید ہیں اور " أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُون" کے مصداق پروردگار کی روزی سے بہرہ اندوز ہوتے ہیں۔ خدا کے حکم سے اس جہان کے ساتھ ان کا ارتباط باقی رہتا ہے۔ جیسا کہ اس جہان میں رہتے ہوئے وہ مردوں کے ساتھ ارتباط برقرار رکھ سکتے ہیں جیسا کہ مقتولینِ بدر کی مثال موجود ہے۔ اسی بناء پر بہت سی روایات میں کہ جو اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کی کتابوں میں منقول ہوئی ہیں یہ بیان کیا گیا ہے کہ پیغمبرِ اکرمؐ اور آئمہ کچھ لوگوں کی باتیں جو دور یا نزدیک سے ان پر سلام بھیجتے ہیں، سنتے ہیں اور انہیں جواب دیتے ہیں، یہاں تک کہ امت کے اعمال بھی ان کی خدمت میں پیش ہوتے ہیں۔ [بحوالہ: کشف الارتياب ص ۱۰۹، آیه ۱۰۵سورہ توبہ کے ذیل میں ہم نے بھی "اعمال پیش ہونے کا مسئلہ" کی طرف اشارہ کیا ہے جلد ۸ تفسیرِ نمونہ ص ۱۰۸ اردو ترجمہ کی طرف رجوع کریں]۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ ہمیں یہ حکم ہے کہ نماز کے تشہد میں پیغمبرِ اکرمؐ پر سلام بھیجیں اور یہ تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے چاہے وہ شیعہ ہوں یا اہلِ سنت، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم آںحضرت سے ایسی بات کریں کہ جسے آپؐ بالکل نہیں سنتے۔ متعدد روایات میں صحیح مسلم میں ابو سعید خدری اور ابو ہریرہ سے خود پیغمبرِ اکرمؐ سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: لقنوا موتاكم لا اله الّا الله۔ "اپنے مردوں کو لا اله الا الله کی تلقین کرو"۔ [بحوالہ: صحیح مسلم، کتاب الجنائز حدیث ۱،۲ جلد ۲ ص ۶۳۱]۔ نہج البلاغہ میں بھی مردوں کی ارواح کے ساتھ ارتباط کے مسئلے کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ حضرت علیؑ نے ان مومنین کے ارواح سے کہ جو کوفے کے نواحی قبرستان میں تھے گفتگو کی۔
۳- تعبیرات کا تنوع فصاحت کا ایک حصہ ہے
ان چار تشبیہوں میں کہ جو اوپر والی آیات میں بیان ہوئی ہیں مختلف تعبیرات نظر آتی ہیں۔ مثلاً "اعمٰی" و "بصيره"- "ظل" و "حرور" مفرد کی صورت میں آئی ہیں۔ جبکہ "احیاء" و "اموات" دونوں جمع کی صورت میں ہیں اور "ظلمات" و "نور" میں سے ایک لفظ مفرد اور دوسرا جمع کی صورت میں آیا ہے۔ نیز پہلی اور دوسری تشبیہ میں جو منفی صورت رکھتے ہیں انہیں مقدم رکھا ہے (اعمٰی و ظلمات) جبکہ تیسری اور چوتھی تشبیہ میں جو کہ مثبت صورت رکھتے ہیں "ظل" اور "احیاء" کو مقدم رکھا گیا ہے۔ تیسرا پہلو یہ ہے کہ پہلی تشبیہ میں حرفِ نفی کا تکرار نہیں ہوا جبکہ باقی تین تشبیہات میں نفی کا تكرار ہوا ہے۔ چوتھا پہلو یہ ہے کہ "ما یستوی" صرف پہلی اور آخری تشبیہ میں آیا ہے اور باقیوں میں نہیں ہے۔ بعض مفسرین نے اس تفاوت کے لیے کچھ نکات بیان کیے ہیں۔ جن میں سے کچھ تو قابلِ ملاحظہ ہیں اور قابلِ اعتراض۔ منجملہ ان نکات کے کہ جو قابلِ ملاحظہ ہیں ایک یہ ہے کہ "ظلمات" کا جمع ہونا اور "نور" کا مفرد ہونا اس بناء پر ہے کہ ظلمت یعنی کفر کے بہت سے شعبے ہیں، لیکن ایمان اور توحید کی صرف ایک ہی حقیقت ہے۔ ایمان خطِ مستقیم ہے کیونکہ دو نقطوں کے درمیان ایک خطِ مستقیم کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہوتا لیکن ظلمت، کفر ٹیڑھے خطوط کی طرح ہے کیونکہ دو نقطوں کے درمیان ہزارہا ٹیڑھے خطوط کرتے ہیں- پہلی دو مثالوں میں منفی صورتوں کو مقدم رکھنا آغازِ اسلام کی طرف اشارہ ہے کہ لوگوں نے جاہلیت کی نابینائی اور شرک کے ظلمات سے اسلام کی روشنی اور بینائی کی طرف ہدایت پائی۔ لیکن دو دوسری مثالیں دوسرے مراحل کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ جب اسلام نے اپنی جڑوں کو دلوں کی زمین میں محکم کر لیا تھا اور اپنی اثباتی صورتوں کو معاشرے میں وسعت دی تھی۔ لیکن ان تمام باتوں سے قطع نظر اصولی طور پر بیان میں تنوّعِ گفتگو میں ایک خاص قسم کی روح اور تازگی پیدا کر دیتا ہے اور اسے دل نشین، خوبصورت اور پرکشش بنا دیتا ہے، جبکہ ایک ہی طرح کے کلام کی تکرار سوائے استثنائی مواقع کے گفتگو کی لطافت ختم کر دیتی ہے۔ اسی بناء پر فصحاء و بلغاء ہمیشہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ اپنی گفتگو کی تعبیروں کو متنوع اور دل نشیں بنائیں اور ہم جانتے ہیں کہ قرآن فصاحت و بلاغت کے اعلیٰ درجہ پر ہے۔ اس بناء پر اگر فصاحت و بلاغت کے علاوہ ان تعبیرات میں اور کوئی نکتہ نہ بھی ہوتا تب بھی یہی چیز کافی تھی۔ اگرچہ یہ بھی ممکن ہے کہ آنے والے حضرات ان اسرار کے علاوہ کہ جو ہم نے پیش کیسے ہیں، ان تعبیرات میں دوسرے اسرار تلاش کر سکیں کہ جو اس وقت ہم سے پوشیدہ ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
دل کے اندھے ایمان نہ لائیں تو تعجب نہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 5گزشتہ آیات میں ہم یہاں تک پہنچے تھے کہ کچھ افراد ایسے ہیں کہ جو مردوں اور نابیناؤں کی مانند ہیں کہ جن کے دل میں انبیاء کی باتیں معمولی سا اثر بھی نہیں کرتیں۔ اس کے بعد زیرِبحث آیات میں پیغمبرِ اکرمؐ کی اس سلسلے میں دلجوئی کے لیے تاکہ وہ غمگین اور پریشان نہ ہوں، پہلے فرمایا گیا ہے: "ہم نے تجھے حق کے ساتھ بشارت دینے والا اور تنبیہ کرنے والا بنا کر بھیجا اور گزشتہ زمانے میں کوئی امت ایسی نہ تھی کہ جس میں ڈرانے والا نہ آیا ہو"۔ (إِنَّا أَرْسَلْناكَ بِالْحَقِّ بَشِيراً وَنَذِيراً وَإِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلا فِيها نَذِيرٌ)۔ تو "بشارت" و "انذار" کی ذمہ داری میں کوتاہی نہ کرے یہی تیرے لیے کافی ہے۔ تو اپنی نِدا ان کے کانوں تک پہنچا، خدا کی جزاؤں کی بشارت دے اور پروردگار کے عذاب سے انہیں ڈرا، چاہے وہ قبول کریں یا دشمنی اور ہٹ دھرمی اختیار کر لیں۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ گزشتہ بحث کی آخری آیت میں فرمایا گیا ہے کہ: " إِنْ أَنْتَ إِلَّا نَذِيرٌ" لیکن زیرِبحث پہلی آیت میں یہ ہے کہ: "ہم نے تجھے برحق بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے" یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر تو ڈرانے والا ہے تو تُو خود اپنی طرف سے یہ کام نہیں کرتا، یہ تو ایک ماموریت ہے کہ جو ہم نے تیرے سپرد کی ہے۔ اور اگر گزشتہ آیت میں صرف انذار کا ذکر ہوا تھا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ وہاں ہٹ دھرم جاہلوں کے بارے میں گفتگو ہو رہی تھی کہ جو قبرستان کے مردوں کی طرح کوئی بات قبول کرنے کے لیے تیار ہی نہیں تھے، لیکن یہاں پر انبیاء کی ذمہ داری کو کلی طور پر بیان کیا جا رہا ہے کہ جو بشارت و انذار کے دونوں پہلوؤں کی حامل ہے۔ البتہ اس آیت کے آخر میں پھر نئے سِرے سے "نذیر" کا ذکر ہے، کیونکہ مشرکین اور ظالموں کے مقابلے میں انبیاء کی دعوت کا بنیادی حصہ "انذار" پر مشتمل تھا۔ "خلا" "خلاء" کے مادہ سے اصل میں ایک مکان اور جگہ کے معنی میں ہے کہ جس میں کوئی ڈھانپنے والی چیز نہ ہو، یہ لفظ زمانے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور مکان کے لیے بھی اور چونکہ زمانہ گزر جانے والی چیز ہے اس لیے گزشتہ زمانوں کو "ازمنہ خالیہ" کہا جاتا ہے، کیونکہ اب وہ باقی نہیں ہیں اور دنیا ان سے خالی ہو چکی ہے۔ اِس بناء پر "إِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلا فِيها نَذِيرٌ" کا جملہ اس معنی میں ہے کہ: "گزشتہ امتوں میں سے ہر امت کے لیے گزشتہ زمانے میں کوئی نہ کوئی ڈرانے والا موجود رہا ہے"۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ زیرِبحث آیت کے مطابق تمام امتیں خدا کی طرف سے انذار کرنے والا یعنی پیغمبر رکھتی تھیں، اگرچہ بعض نے اس کو ایک وسیع تر معنی میں لیا ہے کہ جس میں علماء اور ایسے دانشور بھی شامل ہیں کہ جو لوگوں کو متنبہ کیا کرتے ہیں یہ معنی ظاہرِ آیت کے خلاف ہے۔ بہرحال اس بات کا معنی یہ نہیں ہے کہ ہر شہر اور ہر علاقے میں ایک پیغمبر مبعوث ہوا، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ پیغمبروں کی دعوت اور ان کی باتیں ان سب لوگوں کے کانوں تک پہنچ گئی تھیں۔ کیونکہ قرآن کہتا ہے: " خَلا فِيها نَذِيرٌ" یعنی "ان میں ڈرانے والا موجود تھا" یہ نہیں کہتا کہ "منها" یعنی خود "ان میں سے" تھا۔ اس بناء پر جو کچھ زیرِبحث آیت میں بیان ہوا ہے وہ سورہ سبا کی آیہ ۴۴ سے اختلاف نہیں رکھتا کہ جو یہ کہتی ہے: خَلا فِيها نَذِيرٍ۔ "ہم نے مشرکینِ مکہ کی طرف تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجا تھا"۔ یہاں ڈرانے والا سے مراد خود انہیں میں سے ہے جبکہ زیرِبحث آیت میں پیغمبر کی دعوت کا ان تک پہنچنا ہے۔ بعد والی آیت میں قرآن مزید کہتا ہے: "اگر وہ تمہاری تکذیب کریں تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے اور تم اس پر غمگین نہ ہو، کیونکہ جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی اپنے پیغمبروں کی تکذیب کی تھی جبکہ وہ واضح معجزات و دلائل، پند و نصائح سے معمور کتب اور ایسی آسمانی کتب لے کر ان کے پاس آئے تھےکہ جو ضیاء بخش احکام و قوانین پر مشتمل تھیں" (وَإِنْ يُكَذِّبُوكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ جاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّناتِ وَبِالزُّبُرِ وَبِالْكِتابِ الْمُنِيرِ)۔ صرف تم ہی نہیں کہ جو معجزات اور آسمانی کتاب کے حامل ہو۔ اس کے باوجود اس جاہل قوم نے تمہاری تکزیب کی ہے، بلکہ گزشتہ پیغمبر بھی اسی طرح کی مشکل سے گزرتے رہے ہیں۔ اس بناء پر تم غمگين نہ ہو اور مضبوطی کے ساتھ اپنے راستے پر قدم بڑھاتے رھو اور جان لو کہ قبول کرنے والے قبول کر ہی لیں گے۔ "بينّات" "زبر" اور "کتاب منیر" کے درمیان فرق کے بارے میں مفسرین نے مختلف نظریات پیش کیے ہیں۔ ان میں سے زیادہ واضح دو تفسیریں ہیں: 1- "بینات" ان واضح اور روشن دلائل و معجزات کے معنی میں ہے کہ جو پیغمبر کی حقانیت ثابت کر دیں لیکن "زبر" کہ جو "زبور" کی جمع ہے، ان کتابوں کے معنی میں ہے کہ جنہیں مستحکم کر کے لکھا گیا (پتھر وغیرہ پر لکھی ہوئی تحریر کے مانند) جبکہ یہاں انکے مطالب کے استحکام کے لیے کنایہ ہے۔[بحوالہ: راغب مفردات میں کہتا ہے: زبرت الكتاب كتبته كتابة عظيمه و كل كتاب غليظ الكتابه يقال له زبور (مفردات ماده زبر) "میں نے مستحکم اور عظیم کتابت کی اور جس کتاب کی کتابت مستحکم اور سخت ہوا اسے "زبور" کہتے ہیں"]۔ بہرحال یہ ایسی کتابوں کی طرف اشارہ ہے کہ جو حضرت موسیٰ سے پہلے نازل ہوئیں جبکہ "کتاب منیر" کتابِ موسی اور ان دوسری آسمانی کتابوں کی طرف اشارہ ہے کہ جو اس کے بعد نازل ہوئیں (کیونکہ قرآنِ مجید میں سورہ مائدہ کی آیہ ۴۴، ۴۶ میں تورات اور انجیل کو ہدایت و نور کے عنوان سے ذکر کیا گیا ہے اور اسی سورہ کی آیہ ۱۵میں قرآنِ مجید کے بارے میں بھی نور کی تعبیر آئی ہے)۔ 2۔ "زبر" سے مراد کتبِ انبیاء کا وہ حصہ ہے جس کے مطالب اور مضامین صرٖف وعظ و نصیحت اور مناجات پر مشتمل تھے (مثلاً زبورِ داؤد)۔ لیکن "کتابِ منیر" آسمانی کتابوں کی وہ قسم ہے کہ جو احکام و قوانین اور مختلف اجتماعی و انفرادی دستور کی حامل تھیں، مثلاً تورات، انجیل اور قرآنِ مجید۔ دوسری تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ آخری زیرِبحث آیت میں اسی گروہ کے دردناک عذاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ایسا نہیں تھا کہ وہ خدائی عذاب سے محفوظ رہ جائیں اور ہمیشہ اپنی تکذیبوں کو جاری رکھیں لہذا "اس کے بعد ہم نے کافروں کو پکڑ لیا اور انہیں سخت سزا دی" (ثُمَّ أَخَذْتُ الَّذِينَ كَفَرُوا)۔ [تشریحی نوٹ: "اخذت" "اخذ" کے مادہ سے پکڑنے اور گرفت کرنے کے معنی میں ہے لیکن یہاں سزا کے لیے کنایہ ہے کیونکہ گرفت میں لینا اور پکڑنا سزا کی تمہید ہے]۔ کسی گروہ کو طوفان نے آ لیا، کسی اور کو تیز اور ویران کن آندھی نے تباہ کر دیا اور کسی جماعت کو ہم نے آسمانی چنگھاڑ، صاعقہ اور زلزلہ کے ذریعے دہرم برہم کر دیا۔ اس کے بعد آخر میں تاکید اور ان کی سزا کی شدت بیان کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے: "ان کے لیے میرا عذاب کیسا تھا"؟ (فَكَيْفَ كانَ نَكِيرِ)۔ یہ بالکل اسی طرح ہے کہ اب تک کوئی اہم کام انجام دیتا ہے اور اس کے بعد حاضرین سے سوال کرتا ہے کہ میں نے یہ کام کیسا کیا ہے؟ بہرحال یہ آیات ایک طرف تو راهِ خدا کے تمام راہیوں خصوصاً ہر زمانے اور ہر امّت کے سچے رہبروں اور پیشواؤں کی دلجوئی کرتی ہیں اور ان کے دلوں کو گرماتی ہیں کہ وہ مخالف صداؤں سے دل تـنگ اور مایوس نہ ہوں اور یہ جان لیں کہ خدائی دعوتیں ہمیشہ ہٹ دھرموں، متعصبوں اور مفاد پرست ظالموں کی طرف سے شدید مخالفتوں کا سامنا کرتی رہی ہیں جبکہ کچھ دلسوز طالبانِ حق اور عاشقانِ پاکباز بھی موجود رہتے ہیں کہ جو داعیانِ حق کا ساتھ دیتے ہوئے اپنی جان کو قربان کر دیتے ہیں۔ دوسری طرف یہ آیات ان ہٹ دھرم مخالفین کے لیے ایک دھمکی کی حیثیت رکھتی ہیں تاکہ وہ یہ جان لیں کہ وہ ہمیشہ کے لیے اپنے شرمناک اور مخرب اعمال جاری نہیں رکھ سکتے۔ جلد یا بدیر خدائی عذاب دامن گیر ہو کر رہے گا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: وجود کے در و دیوار پر عجیب نقش و نگار
Tafsīr Nemūna · Vol. 5ان آیات میں پھر مسئلہ توحید زیر بحث ہے اور کتاب تکوین کا ایک نیا صفحہ انسانوں کی نگاہوں کے سامنے ہے تاکہ ہٹ دھرم مشرکین اور سخت منکرینِ توحید کا ایک دندان شکن جواب پیدا ہو۔ اس عظیم کتابِ آفرینش کے اس خوبصورت صفحہ میں بےجان موجودات کے تنوع کا ذکر ہے اور نباتات، حیوانات اور انسانوں کی دنیا میں حیات کے مختلف اور خوبصورت چہروں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور دعوت دی گئی ہے کہ دیکھیں خدا نے کس طرح بےرنگ پانی سے لاکھوں رنگ ظاہر کیے ہیں اور معین و محدود عناصر سے بالکل متنوع موجود پیدا کیے ہیں کہ جن میں سے ہر ایک دوسرے سے زیادہ زیبا اور خوبصورت ہے۔ اس غالب و ماہر نقاش نے ایک ہی قلم اور سیاہی سے انواع و اقسام کے نقش ایجاد کر دیئے ہیں کہ جو دیکھنے والوں کو فریفتہ و شیفتہ کر دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں پہلے فرمایا گیا ہے: "کیا تو نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمان سے پانی نازل کیا اور اس کے ذریعے ہم نے مختلف رنگ کے پھل پیدا کیے" (أَ لَمْ تَرَ أَنَّ الله أَنْزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَخْرَجْنا بِهِ ثَمَراتٍ مُخْتَلِفاً أَلْوانُها)- اس جملے کی استفہام تقریری کے ذریعہ ابتداء انسانوں کی تلاش و جستجو کی حِس کو تحریک دیتے ہوئے، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ مطلب اتنا روشن و واضح ہے کہ جو شخص بھی نگاہ کرے گا، دیکھ لے گا۔ ہاں! وہ اس حقیقت کو دیکھ لے گا کہ ایک ہی پانی اور زمین سے کہ جن میں سے ایک بےرنگ ہے اور دوسری طرف ایک رنگ رکھتی ہے، یہ سب مختلف قسم کے رنگ، طرح طرح کے پھلوں، خوبصورت پھولوں، پتوں اور شگوفوں میں مختلف شکلوں میں ظاہر ہوئے ہیں۔ "الوان" ممکن ہے کہ پھولوں کے ظاہری رنگوں کے معنی میں ہو کہ ایک ہی قسم کے پھل میں بھی کئی قسم کے رنگ پائے جاتے ہیں۔ جیسے سیب مختلف رنگوں میں ہوتا ہے اور مختلف قسم کے پھلوں کی تو بات ہی اور ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ ان کے ذائقے، ساخت اور خواص میں اختلاف کی چرف اشارہ ہو، یہاں تک کہ ایک ہی پھل کی کئی قسمیں ہوتی ہیں، مثلاً انگور کی شاید پچاس قسمیں ہیں اور کھجور کی تقریباً ستر قسمیں ہیں۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ زیرِ بحث آیت میں فعل غائب کی شکل میں آیا ہے، اس کے بعد متکلم کی صورت میں شروع میں ہے کہ "خدا نے آسمان سے پانی نازل کیا" پھر اضافہ کیا گیا ہے کہ ہم نے اس کے ذریعہ رنگا رنگ میوے اور پھل نکالے، یہ طرزِ تعبیر صرف اسی آیت میں منحصر نہیں ہے، قرآنِ مجید میں دوسرے مقامات پر بھی یہی بات نظر آتی ہے۔ گویا پہلا جملہ مخاطب کو خدا کے بارے میں ایک تازہ ادراک و معرفت عطا کرتا ہے اور وہ اس ادراک و معرفت عطا کرتا ہے اور وہ اس ادراک و معرفت کے ساتھ خدا کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے اور جب وہ حاضر ہو جاتا ہے تو اللہ اس سے گفتگو کرتا ہے۔ آیت کے آخر میں ان راستوں کے تنوع کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو پہاڑوں میں پائے جاتے ہیں۔ یہ فرق مختلف راستوں کی پہچان کا سبب بنتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: "پہاڑوں میں بھی راستے بنائے گئے ہیں سفید و سرخ رنگ کے، مختلف رنگوں کے اور کبھی گہرے سیاہ رنگ کے (وَمِنَ الْجِبالِ جُدَدٌ بِيضٌ وَحُمْرٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوانُها وَغَرابِيبُ سُودٌ)۔ [تشریحی نوٹ: بعض نے اس جملے کو جملہ استیئافیہ سمجھا ہے ("من الجبال" "غیر مقدم" اور "جدد" مبتداے مؤخر ہے) اور بعض نے کہا ہے کہ یہ تقدیر میں اس طرح تھا: أ لم تر ان من الجبال جدد بيض و حمر مختلف ألوانها]۔ رنگوں کا یہ اختلاف ایک طرف تو پہاڑوں کو خوبصورت بناتا ہے اور دوسری طرف راستوں کو معلوم کرنے اور پر پیچ کوہستانی سڑکوں میں گم نہ ہو جانے کا سبب ہے اور آخر میں ہر چیز میں خدا کی قدرت کی دلیل ہے۔ "جدد" جمع "جده" (بروزن "غده") جادہ اور راستے کے معنی میں ہے۔ "بیض" "ابیض" کی جمع ہے اور اس کا معنی ہے "سفید" اور "حمر" "احمر" کی جمع ہے، اس کا معنی "سرخ"۔ "غرابیب" "غربیب" (بروزن "کبریت") کی جمع ہے اور گہرے سیاہ رنگ کے معنی میں ہے۔ یہ جو عرب لوگ کوّے کو "غراب" کہتے ہیں، تو یہ بھی اسی بناء پر ہے نیز لفظ "سود" "اسود" کی جمع ہے اور سیاہ ہی کے معنی میں ہے یہ "غرابیب" کے بعد یہ لفظ اس معنی کی تاکید کے طور پر آیا ہے اور یہ بعض کوہسانی راستوں کے گہرے سیاہ ہونے کے معنی میں ہے۔ [تشریحی نوٹ: جس طرح سے کہ بعض کتب لغت مثلاً "لسان العرب" اور بعض مفسرین نے تصریح کی ہے کہ زیرِ بحث آیت میں سود "غرابیب" کا بدل ہے کیونکہ رنگوں کے بارے میں تاکید مقدم نہیں ہوتی، اس بات پر توجہ رکھیے کہ "خرابیب" میں سیاہی کے لحاظ سے "سود" کی نسبت زیادہ تاکید ہے لہٰذا انہوں نے کہا ہے کہ اصل میں "سود" "غرابیب" تھا]۔ آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ خود پہاڑ بھی خط اور راستوں کی مانند ہیں کہ جو زمین کی سطح کے اوپر کھینچے گئے ہیں اور وہ دُور کے فاصلوں سے خصوصیت کے ساتھ مکمل طور پر محسوس ہوتے ہیں۔ ایسے خطوط کہ جو بعض سفید رنگ کے ہیں، بعض سرخ رنگ کے اور بعض گہرے سیاہ رنگ کے ہیں۔ یہ ایسے خطوط ہیں کہ جو پروردگار کے دستِ تقدیر نے زمین کے چہرے پر نقش کیے ہیں۔ [بحوالہ: تفسیر المیزان، جلد ۱۷، ص ۴۲]۔ بعد والی آیت میں انسانوں اور دوسرے جانداروں میں رنگوں کے اختلاف کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: "انسانوں، جانداروں اور چوپائیوں میں سے بھی مختلف رنگوں والے ہوتے ہیں "وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَابِّ وَالْأَنْعامِ مُخْتَلِفٌ أَلْوانُهُ"۔ ہاں! سب انسان باوجودیکہ ایک ہی ماں باپ سے پیدا ہوتے ہیں مکمل طور پر مختلف قبیلوں اور رنگوں کے حامل ہیں۔ بعض برف کی طرح سفید، بعض سیاہی کے مانند سیاہ، یہاں تک کہ ایک ہی نسل اور خاندان میں بھی رنگوں میں بہت اختلاف ہے، بلکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو جڑواں بچے بھی رنگ اور روپ میں یکساں نہیں ہوتے۔ اگر چہ انہوں نے جسم میں تمام مراحل ایک دوسرے کے ساتھ طے کیے ہیں اور ابتداء سے ایک دوسرے کے ہم آغوش رہے ہیں۔ باوجودیکہ وہ ایک ماں اور ایک باپ سے ہیں، ایک ہی وقت میں ان کا نطفہ قرار پاتا ہے اور انہوں نے ایک ہی قسم کی غذا کھائی ہوتی ہے۔ ظاہری چہرے سے قطع نظر، ان کے باطنی رنگ، ان کے اخلاق و عادات، ان کی صفات و خصوصیات اور ان کی استعداد اور ذوق بالکل متنوع اور مختلف ہیں یہاں تک کہ تمام ضروریات کے ساتھ مجموعی طور پر ایک منظم اکائی معرض وجود میں آتی ہے۔ جانداروں کی دنیا میں ہزارہا قسم کے حشرات، پرندے، رینگنے والے دریائی اور وحشی جنگلی جانور موجود ہیں کہ جن میں سے ہر ایک اپنی خصوصیات اور عجائباتِ خلقت کے ساتھ آفریدگار کی قدرت، عظمت اور علم کی نشانی ہیں۔ جس وقت ہم کسی بڑے چڑیا گھر میں قدم رکھتے ہیں تو باوجودیکہ وہاں پر عالم کے زندہ موجودات کا ہزارواں حصہ بھی موجود نہیں ہوتا پھر بھی ہم اس طرح سے مبہوت و مسحور اور دنگ ہو جاتے ہیں کہ بےاختیار ہو کر اس خدا کی ستائش کرنے لگتے ہیں کہ جس نے وجود کے در و دیوار پر یہ تمام نقش بنائے ہیں۔ توحید کی ان نشانیوں کو بیان کرنے کے بعد آخر میں مجموعی طور پر فرمایا گیا ہے: "ہاں! معاملہ اسی طرح ہے (كذٰلك)۔ [تشریحی نوٹ: اس بارے میں کہ "كذٰلك" کا اعراب کے لحاظ سے کیا مقام ہے علماء نے مختلف آراء ذکر کی ہیں بعض اسے مستقل جملہ سمجھتے ہیں کہ جو تقدیر میں اس طرح تھا "الامر كذٰلك" اور ہم نے تفسیر میں اسی معنی کو اختیار کیا ہے کیونکہ یہ زیادہ پرکشش اور زیادہ مناسب ہے لیکن بعض نے اسے قبل کے جملے سے متعلق قرار دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ اس کا معنی اس طرح ہے: "كما أنّ الثّمرات و جدد الجبال مختلف الوانها كذٰلك الناس و الدّواب و الأنعام" یه احتمال بھی بیان کیا گیا ہے کہ یہ بعد والے جملے سے مربوط ہے اور اس کا معنی یوں ہے: كذٰلك تختلف احوال العباد فى الخشية]۔ اور چونکہ ان عظیم آیات خلقت سے بہرہ اندوز ہونا سب سے زیادہ عقلمند اور دانشمند افراد کا کام ہے اس لیے آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے، صرف علماء ہی اللہ سے ڈرتے ہیں (إِنَّما يَخْشَى الله مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ)- جی ہاں! تمام بندوں میں سے علماء ہی ہیں کہ جو خشیت کے عالی مقام پر فائز ہوتے ہیں یعنی وہ پروردگار کے مقام کی عظمت کو سمجھتے ہوئے دل میں مسئولیت کا خوف رکھتے ہیں۔ "خشیت" کی یہ حالت انفس و آفاق کی نشانیوں میں سیر، پروردگار کے علم و قدرت سے آگاہی اور مقصدِ آفرینش کو جاننے کا نتیجہ ہے۔ "راغب" مفردات میں کہتا ہے کہ "خشیت" اس خوف کے معنی میں ہے کہ جس کے ساتھ تعظیم کی آمیزش ہو اور زیادہ تر ایسے مواقع پر استعمال ہوتا ہے کہ جب خوف کا سرچشمہ کسی چیز سے علم و آگاہی ہو۔ اس بناء پر قرآنِ مجید میں یہ مقام علماء کے ساتھ مخصوص شمار ہوا ہے۔ ہم نے بارہا بیان کیا ہے کہ خدا کا خوف ان مسئولیتوں اور ذمہ داریوں کے خوف کے معنی میں ہے کہ جو انسان پر خدا کی طرف سے عائد ہوتی ہیں۔ اس بات کا خوف کہ کہیں اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کوتاہی نہ ہو جائے۔ اس سے قطع نظر اصولی طور پر عظمت کا ادراک وہ بھی ایسی عظمت کے جو غیر محدود وجود و بےپایاں ہے انسان جیسے محدود وجود کے لیے خوف آفرین ہے غور کیجئے گا۔ اس جملے سے ضمناً یہ واضح نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ حقیقتی علماء وہی ہیں کہ جو اپنی ذمہ داریوں کی جوابدہی کا شدید احساس رکھتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں وہ اہلِ علم ہیں اہلِ گفتار نہیں ہیں چونکہ علم بغیر عمل کے عدم خشیت کی دلیل ہے اور ایسے افراد زیر بحث آیت میں علماء کے زمرے میں شمار نہیں ہوتے۔ یہی حقیقت ایک حدیث میں امام زین العابدین علی بن الحسین علیہ السلام سے منقول ہے۔ آپ نے فرمایا: و ما العلم بالله و العمل الّا الفان مؤتلفان فمن عرف الله خافه، و حثه الخوف على العمل بطاعة الله ، و ان ارباب العلم و اتباعهم (هم) الذين عرفوا الله فعملوا له، و رغبوا اليه، و قد قال الله: إِنَّما يَخْشَى الله مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ۔ "علم و عمل دو مخلص دوست ہیں، جو شخص خدا کو پہچان لے وہ اس سے ڈرتا ہے اور یہی خوف اسے عمل اور فرمانِ خدا کی اطاعت پر آمادہ کرتا ہے۔ صاحبانِ علم اور ان کے پیروکار وہ لوگ ہیں جنہوں نے خدا کو اچھی طرح پہچانا ہے اور اس کے لیے عمل کرتے ہیں اور اس کے ساتھ عشق رکھتے ہیں جیسا کہ خدا فرماتا ہے: إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ"۔ [بحوالہ: تفسیر نور الثقلین جلد ۴ ص ۳۵۹، بحوالہ روضتہ الکافی]۔ ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ: يعنى بالعلماء من صدق قوله فعله و من لم يصدق قوله فعله فليس بعالم۔ "علماء سے مراد وہ لوگ ہیں کہ جن کے اعمال ان کے اقوال کے ساتھ ہم آہنگ ہوں، جس شخص کی گفتار و کردار ایک دوسرے سے ہم آہنگ نہ ہو وہ عالم نہیں ہے"۔ [مجمع البیان، زیر بحث آیات کے ذیل میں]۔ ایک اور دوسری حدیث میں آیا ہے: اعلمكم باللَّه اخوفكم للَّه۔ "تم میں سے زیادہ عالم وہ ہے جس کا خوفِ خدا سب سے زیادہ ہے"۔ [بحوالہ: مجمع البیان، زیر بحث آیات کے ذیل میں]۔ مختصر یہ کہ قرآن کی منطق کے مطابق علماء وہ لوگ نہیں ہیں کہ جن کا دماغ اس کی اور اُس کی آرا و افکار کا صندوقچہ ہو اور عالمی قوانین اور علمی فارمولوں سے بھرا ہو اور ان کی زبان ان مسائل کو بیان کرتی ہو اور ان کی زندگی مدارس، یونیورسٹیوں اور کتاب خانوں میں گزرتی ہوں بلکہ علماء تو وہ صاحبِ نظر اور دانشمند ہیں کہ جن کے نورِ علم و دانش نے ان کے تمام وجود کو خدا کے نور اور ایمان و تقویٰ سے روشن کیا ہو اور اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں سختی سے احساسِ مسئولیت رکھتے ہوں اور سب سے زیادہ پابند ہوں۔ ہم نے سورہ قصص میں بھی پڑھا ہے کہ جس وقت مغرور و خود پسند قارون نے کہ جو ایک مقامِ علم کا بھی مدعی تھا، اپنی ثروت کی نمائش کی تو دنیا پرست لوگوں نے جو اس کے ٹھاٹھ باٹھ سے بہت زیادہ متاثر تھے، یہ آرزو کی کہ اسے کاش! وہ بھی اس قسم کے اموالِ دنیا سے بہرہ ور ہوتے لیکن بنی اسرائیل کے علماء نے پکار کر ان سے کہا: "تم پروائے ہو! خدائی اجر و ثواب تو ان لوگوں کے لیے ہے کہ جو ایمان لاتے ہیں اور جنہوں نے عملِ صالح انجام دیا ہے اور وہ بہتر ہے۔ یہ وہ مقام ہے کہ جو صرف صابر اور صاحب استقامت لوگوں کے لیے ہے"۔ و قال الذين اتوا الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوابُ اللَّهِ خَيْرٌ لِمَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صالِحاً وَلا يُلَقَّاها إِلَّا الصَّابِرُونَ ۔ (قصص ۸۰) آیت کے آخر میں سابقہ بیان پر ایک مختصر دلیل کے عنوان سے فرمایا گیا ہے: "خدا عزیز و غفور ہے" (إِنَّ اللهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ).)- اس کی بےپایاں عزت و قدرت علماء کے خوف و خشیت کا سرچشمہ ہے اور اس کی "غفوریت" کہ جو اس کی بےانتہا رحمت کی نشانی ہے ان کی رجاء و امید کا سبب ہے اور اس طرح سے یہ دو مقدس نام خدا کے بندوں کو خوف و رجاء کے درمیان محفوظ رکھتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ تکامل و ارتقاء کی طرف مسلسل حرکت ان دو صفات سے متصف ہوئے بغیر ممکن نہیں ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
پروردگار کے ساتھ نفع بخش تجارت
Tafsīr Nemūna · Vol. 5گزشتہ آیات میں علماء کے خوف و خشیت کے مقام کی طرف اشارہ ہوا تھا۔ زیرِبحث آیات میں ان کے مقام "امید و رجاء" کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کیونکہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ دو چیزوں کے ساتھ ہی انسان آسمانِ سعادت کی بلندی پر پرواز کر سکتا ہے اور تکامل و ارتقاء کی راہ طے کر سکتا ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: "جو لوگ کتابِ الٰہی کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو رزق ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے پنہاں و آشکار خرچ کرتے ہیں، وہ ایسی تجارت کی امید رکھتے ہیں کہ جس میں گھاٹا نہیں ہے" (إِنَّ الَّذِينَ يَتْلُونَ كِتابَ اللهِ وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَأَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْناهُمْ سِرًّا وَعَلانِيَةً يَرْجُونَ تِجارَةً لَنْ تَبُورَ)۔ [تشریحی نوٹ: توجہ رکھیے کہ " يَرْجُونَ " "إنّ" کی خبر ہے]۔ یہ بات واضح ہے کہ یہاں "تلاوت" سرسری اور غور و فکر سے خالی قرات کے معنی میں نہیں ہے بلکہ اس سے ایسا پڑھنا مراد ہے کہ جو غور و فکر کا سرچشمہ ہو، وہ فکر کہ جو عملِ صالح کا سرچشمہ بنے، ایسا عمل کہ جو ایک طرف تو انسان کا خدا سے رشتہ جوڑ دے جس کا مظہر نماز ہے اور دوسری طرف اسے مخلوق کے ساتھ مربوط کر دے کہ جس کا مظہر انفاق ہے۔ خرچ بھی تمام چیزوں میں سے کہ جو خدا نے انسان کو دی ہیں، اپنے علم میں سے، اپنے مال و ثروت اور اثر و رسوخ میں سے اپنی قوی فکر و نظر میں سے اور اپنے اخلاق و تجربات میں سے خلاصہ یہ کہ تمام خداداد نعمات میں سے۔ یہ انفاق کبھی تو پوشیدہ طریقے سے ہوتا ہے تاکہ مکمل اخلاص کی نشانی بنے (سرًا) اور کبھی آشکارا اور علی الاعلان تاکہ دوسروں کے لیے تشویق کا سبب ہو اور شعائرِ الٰہی کی تعظیم بھی ہو (اعلانية)۔ ہاں! وہ علم کہ جو اس قسم کا اثر رکھتا ہو وہ رجاء و امید کا سبب بنتا ہے۔ اس آیت میں اور گزشتہ آیت میں جو کچھ بیان ہوا ہے اس سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ سچے علماء ان صفات کے حامل ہوتے ہیں۔ روحانی لحاظ سے ان کا دل عظمتِ خدا کے احساس سے خوف و خشیت سے معمور ہوتا ہے۔ گفتگو کے لحاظ سے ان کی زبان آیاتِ خدا کی تلاوت میں مشغول ہوتی ہے۔ روحانی اور جسمانی عمل کے بیان سے نماز پڑھتے ہیں اور اسے بطورِ عبادت بجا لاتے ہیں۔ دولت سے متعلق عمل کے لحاظ سے جو کچھ ان کے پاس ہے اسے آشکارا اور پنہاں انفاق کرتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ مقصد کے لحاظ سے ان کا افقِ فکر اتنا بلند و بالا ہے کہ ان کا دل زودگزر مادی دنیا سے اچاٹ ہو جاتا ہے، ان کی نظر صرف سود مند خدائی تجارت پر ہوتی ہے کہ جس کے دامن کی طرف فنا کا ہاتھ دراز نہیں ہوتا۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ "تبور" "بوار" کے مادہ سے، سخت گھاٹے کے معنی میں آیا ہے۔ اور چونکہ شدید گھاٹا باعثِ تباہی ہوتا ہے۔ لہذا "بوار" ہلاکت کے معنی میں آیا ہے، اس طرح "بوار" سے خالی تجارت وہ ہے کہ جو نہ گھاٹا ہو اور نہ ہی تباہی۔ ایک حدیث میں آیا ہے: ایک شخص نے رسولِ خدا کی خدمت میں عرض کی کہ مجھے موت کیوں پسند نہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس کچھ مال و دولت ہے؟ اس نے عرض کی: ہاں! فرمایا: اسے اپنے سے پہلے آگے بھیج دے۔ عرض کیا: میں ایسا نہیں کر سکتا۔ فرمایا: إن قلب الرجل مع ماله إن قدمه أحب أن يلحق به، و إن أخره أحب أن يتأخّر معه ۔ "انسان کا دل اس کے مال کے ساتھ ہوتا ہے، اگر وہ اسے اپنے آگے بھیج دے تو وہ چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ جا ملے اور اگر اسے اپنے پاس روک رکھے تو چاہتا ہے کہ وہ بھی اس کے ہمراہ یہیں رہے"۔ [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۸ ص ۴۰۷ زیرِبحث آیات کے ذیل میں]۔ یہ حدیث حقیقت میں زیرِبحث آیت کی روح کو منعکس کرتی ہے، کیونکہ ارشاد ہوتا ہے: کہ وہ لوگ جو نماز قائم کرتے ہیں اور راہِ خدا میں انفاق کرتے ہیں وہ دارِ آخرت کی امید اور اس سے لگاؤ رکھتے ہیں چونکہ انہوں نے نیکیوں کو اپنے سے پہلے بھیج دیا ہے لہذا وہ اس کے ساتھ جا ملنے کی آرزو کرتے ہیں۔ آخری زیرِبحث آیت سچے مومنین کے مقصد کو اس طرح بیان کرتی ہے: وہ یہ اعمالِ صالح انجام دیتے ہیں تاکہ خدا انہیں مکمل اجر اور صلہ دے اور اپنے فضل سے اضافہ بھی کرے کہ وہ بخشنے والا اور شکور ہے" (لِيُوَفِّيَهُمْ أُجُورَهُمْ وَيَزِيدَهُمْ مِنْ فَضْلِهِ إِنَّهُ غَفُورٌ شَكُورٌ)۔ [تشریحی نوٹ: " لِيُوَفِّيَهُمْ " یا تو " يَتْلُونَ كِتابَ اللهِ ........" سے متعلق ہے، اس لحاظ سے اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ ان کا مقصد تلاوت، نماز اور انفاق سے خدا کا اجر و ثواب حاصل کرنا ہے اور یا یہ "لن تبور" سے متعلق ہے اور اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ ان کی تجارت کبھی بھی گھاٹے کی طرف نہیں جائے گی کیونکہ ان کا اجر و صلہ دینے والا خدا ہے]۔ یہ جملہ حقیقت میں ان کے انتہائی خلوص کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اپنے نیک اعمال میں خدائی اجر و ثواب کے سوا اور کسی چیز پر نظر نہیں رکھتے جو کچھ چاہتے ہیں اس سے چاہتے ہیں اور ریا، دکھاوے اور لوگوں کی تحسین و تعریف کے لیے قدم نہیں اٹھاتے کیونکہ اعمالِ صالح میں اہم ترین مسئلہ وہی نیت خالص ہے۔ "اجور" "اجر" کی جمع ہے اور "مزدوری" کے معنی میں ہے۔ حقیقت میں یہ تعبیر پروردگار کی طرف سے ایک لطف کی مظہر ہے گویا وہ بندوں کو اعمالِ صالح کے بدلنے کا حقدار سمجھتا ہے۔ حالانکہ بندوں کے پاس جو کچھ بھی ہے اسی کی طرف سے ہے، یہاں تک کہ اعمالِ صالح انجام دینے کی طاقت بھی اسی کی عطا کردہ ہے۔ اس تعبیر سے بھی زیادہ محبت آمیز "ویزیدهم من فضله" کا جملہ ہے کہ جس سے انہیں نوید اور خوشخبری دی گئی ہے کہ عام اجر کے علاوہ کہ جو خود کبھی عمل سے سینکڑوں گنا اور کبھی ہزاروں گنا ہے، اپنے فضل سے مزید اس میں اضافہ کرتا ہے اور وہ نعمتیں کہ جو کسی کے وہم و گمان میں کبھی نہیں آتیں اور اس جہان میں کوئی بھی شخص ان کا تصور نہیں کر سکتا اپنے وسیع فضل سے انہیں بخشے گا۔ ایک حدیث میں ابن مسعود سے منقول ہے کہ پیغمبرِ اکرمؐ نے اسی آیت کی تفسیر میں فرمایا: هو الشفاعة لمن وجبت له النّار مِمَّن صنع إليه معروفًا فى الدنيا "اس سے مراد مرتبہ و مقامِ شفاعت ہے کہ جو انہیں حاصل ہو گا تاکہ وہ ان لوگوں کی شفاعت کریں کہ جنہوں نے ان سے دنیا میں کوئی نیکی کی ہے لیکن اپنے اعمال کی وجہ سے مستحق عذاب ہو گئے ہیں"۔ [بحوالہ: مجمع البیان، زیر بحث آیات کے ذیل میں]۔ اس طرح سے نہ صرف وہ خود اہلِ نجات ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی پروردگار کے فضل سے نجات کا باعث ہیں۔ بعض مفسرین نے " و يَزِيدَهُمْ مِنْ فَضْلِهِ" کو مقامِ "شہود" کی طرف اشارہ سمجھا ہے کہ جو قیامت میں مومنین کو حاصل ہو گا یعنی وہ پروردگار کے جمال و جلال کی طرف دیکھیں گے اور اس منظر سے بہت لذت حاصل کریں گے۔ لیکن ظاہراً مذکورہ جملہ ایک وسیع معنی رکھتا ہے کہ جس میں مذکورہ حدیث کا مضمون بھی شامل ہے اور دوسری نعمات بھی شامل ہیں۔ " إِنَّهُ غَفُورٌ شَكُورٌ" کا جملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پہلا لطفِ پروردگار تو ان کے حق میں وہی گناہوں اور لغزشوں کی بخشش ہے کہ جو کبھی کبھی ان سے سرزد ہوتے رہے کیونکہ انسان کی زیادہ تر پریشانی اسی وجہ سے ہو گی۔ جب وہ اس لحاظ سے آسودہ خاطر ہو جائیں گے تو اللہ انہیں ان کے اعمال کا شکریہ ادا کرے گا اور انہیں افضل ترین جزا دےگا۔ تفسیر مجمع البیان میں یہاں عربوں کی ایک جاذبِ نظر ضرب مثل نقل ہوئی ہے کہ وہ کہتے ہیں: اشكر من بروقه "فلاں شخص درخت بروقہ سے بھی زیادہ شکرگزار ہے"۔ [تشریحی نوٹ: " بروقه " بر وزن "حنجرہ"]۔ اور یہ ایک چھوٹے سے درخت کی طرف اشارہ ہے کہ جو سرزمین عربستان میں ہوتا تھا اور عربوں کا عقیدہ تھا کہ جب اس پر بادل کا سایہ ہوتا ہے تو یہ فوراً سرسبز ہو جاتا ہے اور بادل برسے بغیر اس کے پتے نکل آتے ہیں اور یہ انتہائی شکرگزاری کے لیے ایک ضرب المثل ہے کہ جو معمولی سی خدمت کے بدلے بڑی سے بڑی جزا اور اجر دینے کے موقع پر بولی جاتی ہے۔ [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۸ ص ۴۰۷]۔ البتہ اس قسم کے درخت کا خالق و مالک اس سے بھی زیادہ قدردانی کرنے والا اور بخشش کرنے والا ہے۔
اس تجارت کی عجیب شرائط
پرلطف بات یہ ہے کہ بہت سی آیاتِ قرآنی میں اس جہان کو ایسے تجارت گھر سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جس کے تاجر انسان ہیں اور خریدار پروردگارِ عظیم اور مال و متاع عملِ صالح ہیں اور قیمتِ بہشت اور خدا کی راحمت و رضا ہے۔ [بحوالہ: صف -۱، توبہ - ۱۱۱، بقره - ۲۰۷، نساء –۷۴]۔ اگر ہم صحیح طور پر غور و فکر کریں تو خداوندِ کریم کے ساتھ ہی عجیب و غریب تجارت بےمثال ہے، کیونکہ یہ ایسے امتیازات کی حامل ہے جو کسی بھی تجارت میں موجود نہیں ہیں: 1- تمام سرمایہ اس نے خود ہی بیچنے والے کو دیا ہے اس کے بعد خود ہی خریدار بن جاتا ہے۔ 2- وہ خریدار ہے، حالانکہ اُسے ان اعمال کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہر چیز کے خزانے اُسی کے پاس ہیں۔ 3- وہ "متاع قليل" کو بہت زیادہ قیمت پر خریدتا ہے: يا من يقبل اليسير و يعفو عن الكثير "اے وہ خدا کہ جو تھوڑے سےعمل کو قبول کر لیتا ہے اور بہت سے گناہوں کو بخش دیتا ہے"۔ 4- یہاں تک کہ وہ معمولی قسم کے مال و متاع بھی خرید لیتا ہے: فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَرَهُ"۔ "جو ذرہ برابر بھی عمل کرتا ہے وہ اسے دیکھے گا"۔ 5- کبھی وہ سات سو گنا اور کبھی اس سے بھی کہیں زیادہ قیمت دیتا ہے۔ (بقره- ۲۶۱) 6- اس عظیم قیمت کے علاوہ اپنے فضل و رحمت سے اتنا اضافہ کرے گا کہ جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتا۔ " وَيَزِيدَهُمْ مِنْ فَضْلِهِ"۔ (زیرِبحث آیت) کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ایک آزاد اور عاقل انسان اس قسم کی تجارت سے آنکھ بند کر لے اور اس کے غیر کی طرف رخ کرے اور اس سے بھی بد تر بات یہ کہ اپنی ہستی اور وجود کے مال و متاع کو بےقیمت بیچ ڈالے۔ امیرالمومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں: و إنه ليس لِإنفسكم ثمن إلا الجنّة فلا تبيعوها إلّا بها ۔ "جان لو کہ تمہارے سرمایہ ہستی کی قیمت جنت کے علاوہ کچھ نہیں اسے جنت کے علاوہ کسی اور چیز کے بدلے نہ بیچو"۔ [بحوالہ: نہج البلاغہ - کلمات قصار - جملہ ۴۵۲]۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
ميراثِ انبیاء کے حقیقی وارث
Tafsīr Nemūna · Vol. 5گزشتہ آیات میں پاک دل مومنین کے بارے میں گفتگو تھی کہ جو کتاب اللہ کی آیات پڑھتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، زیرِبحث آیات میں اس آسمانی کتاب اور اس کی صداقت کے دلائل اور اسی طرح اس کتاب کے حقیقی حاملین کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ اس لحاظ سے گزشتہ آیات میں توحید کے بارے میں بحث تھی اور یہاں نبوت کے متعلق گفتگو سے سلسلہ کلام کی تکمیل کی گئی ہے، ارشاد ہوتا ہے: "ہم نے کتاب میں سے جو کچھ تجھے وحی کیا ہے وہ حق ہے اور جو کچھ گزشتہ کتب میں آیا ہے یہ اس کی تصدیق کرتی ہے۔ خدا اپنے بندوں کے بارے میں آگاہ اور بینا ہے" (وَالَّذِي أَوْحَيْنا إِلَيْكَ مِنَ الْكِتابِ هُوَالْحَقُّ مُصَدِّقاً لِما بَيْنَ يَدَيْهِ إِنَّ اللهَ بِعِبادِهِ لَخَبِيرٌ بَصِيرٌ)۔ حق کا معنی ہے "ایسی چیز جو واقعیت سے ہم آہنگ اور اس کے مطابق ہو" یہ تعبیر اس مطلب کو ثابت کرنے کے لیے ایک دلیل ہے کہ یہ آسمانی کتاب پروردگار کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔ کیونکہ ہم اس کے مضامین میں جس قدر بھی غور و فکر کرتے ہیں اسے اتنا ہی حقائق کے ساتھ ہم آہنگ پاتے ہیں۔ اس میں کوئی تناقض ہے، نہ جھوٹ اور نہ کوئی بیہودہ پَن۔ اس کے اعتقادات و معارف عقلی منطق سے ہم آہنگ ہیں، اس کی تاریخ افسانوں اور مَن گھڑت قصّوں سے خالی ہے اور اس کے قوانین انسانی احتیاجات کے موافق ہیں۔ اس کی حقانیت اس بات کی ایک واضح دلیل ہے کہ یہ خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔ اس مقام پر تو قرآن کے مقام اور حیثیت کو ظاہر کرنے کے لیے لفظ "حق" سے استفادہ کیا گیا ہے جبکہ قرآن کی دوسری آیات میں لفظ "نور"، "برہان"، "فرقان"، "ذکر"، "موعظہ" اور "ہدیٰ" سے استفادہ کیا گیا ہے کہ جن میں سے ہر ایک قرآن کی مختلف برکتوں اور پہلوؤں میں سے کسی ایک کی طرف اشارہ کرتا ہے اور "حق" لفظ ان سب کا جامع ہے۔ راغب مفردات میں کہتا ہے کہ "حق" مطابقت اور موافقت کے معنی میں ہے اور یہ لفظ کئی معانی کے لیے بولا جاتا ہے: پہلا وہ ذات کہ جو کسی چیز کو حکمت کی اساس پر ایجاد کرے۔ اسی بناء پر خدا کو حق کہا جاتا ہے: فَذلِكُمُ اللهُ رَبُّكُمُ الْحَق (یونس ــــــ ۳۲)۔ دوسرا وہ چیز کہ جو حکمت کی بنیاد پر ایجاد ہوئی ہے اسے بھی حق کہا جاتا ہے اور چونکہ عالمِ ہستی خدا کا فعل ہے اور حکمت کے موافق ہے لہذا وہ سب کا سب حق ہے جیسا کہ قرآن کہتا ہے: ما خَلَقَ اللهُ ذلِكَ إِلَّا بِالْحَقِّ۔ "خدا نے ان موجودات (سورج اور چاند اور ان کی منازل) کو حق کے سوا پیدا نہیں کیا"۔ (یونس - ۵) تیسرا ان عقائد کو کہ جو حقیقت کے مطابق ہیں حق کہا جاتا ہے: فَهَدَى اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ۔ "خدا نے مومنین کی اس بات کی طرف کہ جس میں انہوں نے حق سے اختلاف کیا تها ہدایت فرمائی"۔ (بقره - ۲۱۳) چوتھا ان باتوں اور افعال کو بھی کہا جاتا ہے جو ذمہ داری کے مطابق اور وقت مقررہ پر انجام پاتے ہیں۔ جیسا کہ ہم کہتے ہیں کہ تیری بات حق ہے اور تیرا کردار حق ہے۔ [بحوالہ: مفرداتِ راغب ماده "حق"]۔ اس بناء پر قرآنِ مجید کا حق ہونا اس لحاظ سے بھی ہے کہ یہ مصلحت اور حقیقت کے مطابق گفتگو کرتا ہے اور اس لحاظ سے بھی کہ اس میں موجود عقائد و معارف حقیقت سے ہم آہنگ ہیں اور یہ خدا کا کام بھی ہے کہ جسے اس نے حکمت کی بنیاد پر ایجاد کیا ہے۔ خود خداوندِ عالم کہ جو عینِ حق ہے کی اس میں تجلّی ہے اور عقل اس چیز کی تصدیق کرتی ہے کہ جو حق اور واقعیت ہے۔ " مُصَدِّقاً لِما بَيْنَ يَدَيْهِ" کا جملہ اس کتابِ آسمانی کی صداقت کی دوسری دلیل ہے کیونکہ وہ ایسی نشانیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہے جو گزشتہ کتب میں اس کے بارے میں اور اس کے لانے والے کے بارے میں آئی ہیں (اس سلسلے میں ہم سورہ بقرہ کی آیہ ۴۱ کے ذیل میں تفصیلی بحث کر چکے ہیں)۔ [بحوالہ: جلد اوّل ص ۱۸۷ اردو ترجمہ کی طرف رجوع فرمائیں]۔ " إِنَّ اللهَ بِعِبادِهِ لَخَبِيرٌ بَصِيرٌ" کا جملہ قرآن کی حقانیت کی علّت ہے اور حقائق اور انسانی تقاضوں کے ساتھ اس کی ہم آہنگی کو بیان کرتا ہے کیونکہ یہ اس خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے کہ جو اپنے بندوں کو اچھی طرح سے پہچانتا ہے اور ان کی احتیاجات کے بارے میں بصیر و بینا ہے۔ "خبیر" اور "بصیر" کے درمیان کیا فرق ہے، اس بارے میں عرض ہے کہ "خبیر" تو انسان کے باطن، اس کے عقائد، نیت اور روح کے معنی میں ہے اور "بصير" اس کے ظواہر اور رونما ہونے والے جسمانی امور کے بارے میں بینا ہونے کے معنی میں ہے۔ [بحوالہ: فخر رازی تفسیر کبیر زیرِبحث آیت کے ذیل میں]۔ بعض مفسرین "خبیر" کو انسان کی اصل خلقت کی طرف اور "بصیر" کو اس کے اعمال و افعال کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں۔ [بحوالہ: روح البیان زیرِبحث آیت کے ذیل میں]۔ البتہ پہلی تفسیر زیا دہ مناسب معلوم ہوتی ہے اگرچہ آیت سے دونوں معانی مراد ہونا بھی بعید نہیں ہے۔ بعد والی آیت میں اس عظیم آسمانی کتاب کے حاملین کا ذکر ہے۔ یعنی وہ لوگ کہ جنہوں نے پیغمبر اکرمؐ کے پاکیزہ دل پر قرآن کے نزول کے بعد اس مشعلِ فروزاں کو ہر زمانے میں روشن رکھا اور اس کی پاسداری کی۔ ارشاد ہوتا ہے: "پھر ہم نے یہ آسمانی کتاب اپنے برگزیدہ بندوں میں سے ایک گروہ کو میراث میں دے دی" (ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنا مِنْ عِبادِنا)۔ واضح رہے کہ یہاں "کتاب" سے مراد وہی چیز ہے جو گزشتہ آیت میں بیان ہوئی ہے (یعنی قرآنِ مجید) اور اصطلاح کے مطابق اس میں الف اور لام عہد کا ہے اور یہ جو بعض علماء نے اسے تمام کتبِ آسمانی پر اشارہ سمجھا ہے اور اسے جنس کے لیے آنے والا الف لام سمجھا ہے بہت ہی بعید نظر آتا ہے اور گزشتہ آیات سے مناسبت نہیں رکھتا۔ قرآنِ مجید میں یہاں اور اس کے مشابہ دوسرے مواقع پر "ارث" کی تعبیر اس بناء پر ہےکہ "ارث" ایسی چیز کو کہا جاتا ہے جو کسی زحمت کے بغیر ہاتھ آئے اور خدا نے بھی یہ بہت ہی عظیم کتاب اسی طرح مسلمانوں کو عطا کر دی ہے۔ اس مقام پر اہلِ بیت علیہ السلام کے حوالے سے بہت سی روایات وارد ہوئی ہیں ان سب میں خدا کے برگزیدہ بندوں سے مراد آئمہ معصومین لیے گئے ہیں۔ [بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ۴ ص ۳۶۱ کی طرف رجوع کریں]۔ یہ روایات جیسا کہ ہم نے بارہا بیان کیا ہے، واضح اور درجہ اوّل کے مصادیق بیان کرتی ہیں۔ یہ بات اس میں مانع نہیں کہ امت کے علماء، صالحین اور شہداء کہ جنہوں نے اس کتابِ آسمانی کی حفاظت و پاسداری اور اس کے فرامین کو دوام بخشنے کے لیے کوشش کی ہے " الَّذِينَ اصْطَفَيْنا مِنْ عِبادِنا" (خدا کے برگزیدہ بندے) کے مفہوم میں داخل ہوں۔ اس کے بعد اس سلسلے میں لوگوں کو مختلف گروہوں میں تقسیم کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: "ان میں سے کسی گروہ نے اپنے اوپر ظلم کیا، کسی نے درمیانی راہ اختیار کی اور کسی گروہ نے حکمِ خدا سے نیکیوں میں دوسروں سے سبقت حاصل کر لی اور یہ بہت بڑی فضیلت ہے"۔ (فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سابِقٌ بِالْخَيْراتِ بِإِذْنِ اللهِ ذلِكَ هُوَالْفَضْلُ الْكَبِيرُ)۔ آیت کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ یہ تینوں گروہ "خدا کے برگزیدہ بندوں" میں سے ہیں کہ جو وارث و حاملِ کتابِ الٰہی ہیں۔ زیادہ واضح تعبیر میں خدا نے اس کتابِ آسمانی کی پاسداری اور حفاظت اپنے پیغمبرؐ کے بعد اس امت کے ذمہ رکھی ہے۔ وہ امت کہ جو خدا کی برگزیدہ ہے لیکن اس امت کے درمیان مختلف طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں ان میں سے بعض اس کتاب کی پاسداری اور اس پر عمل کرنے کی عظیم ذمہ داری میں کوتاہی کرتے ہیں اور انہوں نے حقیقت میں اپنے اوپر ظلم کیا ہے، یہ " ظالِمٌ لِنَفْسِهِ " کے مصدق ہیں۔ دوسرے گروہ نے کافی حد تک اس ذمہ داری کو پورا کیا ہے اور کتاب پر عمل کرنے کی کوشش کی ہے، اگرچہ ان سے کچھ لغزشیں اور خطائیں بھی ہوئی ہیں یہ "مقتصد" کے مصداق ہیں۔ ایک ممتاز گروه وہ ہے جس نے اپنی بھاری ذمہ داری کو احسن طریقے سے انجام دیا ہے اور مقابلہ کے اس عظیم میدان میں یہ لوگ سب سے بازی لے گئے ہیں۔ یہ ان سب کے پیشوا ہیں جنہیں آیت میں " سابِقٌ بِالْخَيْراتِ بِإِذْنِ اللهِ" کہا گیا ہے۔ ممکن ہے کہ یہاں یہ کہا جائے کہ " اصْطَفَيْنا " اس بات کی دلیل ہے کہ یہ تمام گروہ خدا کے برگزیدہ ہیں لیکن یہاں ایک ظالم گروہ کا ذکر اس امر کے منافی ہے۔ ہم جواب میں کہیں گے کہ یہ ایسے ہی ہے جیسے بنی اسرائیل کے بارے میں سورہ مومن کی آیہ ۵۳ میں ہے کہ جس میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے: وَلَقَدْ آتَيْنا مُوسَى الْهُدى وَأَوْرَثْنا بَنِي إِسْرائِيلَ الْكِتابَ ۔ "ہم نے موسیٰ کو ہدایت (آسمانی کتاب) دی اور یہی آسمانی کتاب ہم نے بنی اسرائیل کو میراث کے طور پر عطا کی"۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ سارے بنی اسرائیل نے اپنی اس عظیم میراث کے بارے میں اپنا فریضہ انجام نہیں دیا۔ اسی طرح سوره آلِ عمران کی آیہ ۱۱۰ میں بھی ہے کہ: كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ۔ "تم مسلمان بہترین امت ہو کہ جہنوں نے انسانوں کے نمائندہ کے لیے عرصہ حیات میں قدم رکھا"۔ اسی طرح سوره جاثیہ کی آیہ ۱۶ میں بنی اسرائیل کے بارے میں ہے: وَفَضَّلْناهُمْ عَلَى الْعالَمِين ۔ "ہم نے انہیں عالمین پر فضیلت دی"۔ اسی طرح سورہ حدید کی آیہ ۲۶ میں ہے کہ: وَلَقَدْ أَرْسَلْنا نُوحاً وَإِبْراهِيمَ وَجَعَلْنا فِي ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتابَ فَمِنْهُمْ مُهْتَدٍ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فاسِقُونَ۔ "ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا اور ان کی اولاد میں نبّوت اور کتاب رکھی ان میں سے بعض تو ہدایت یافتہ ہیں اور بہت سے فاسق اور گنہگار ہیں"۔ مختصر یہ کہ اس قسم کی تعبیرات کا مقصد امت کا ہر فرد نہیں ہے بلکہ پوری امت مراد ہے، اگرچہ اس میں مختلف طرح کے گروہ اور لوگ پائے جاتے ہیں۔ [تشریحی نوٹ: بعض نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ یہ تقسیم "عبادنا" کے ساتھ مربوط ہے نہ کہ برگزیدہ افراد کے ساتھ۔ اس بناء پر یہ تینوں گروه وارِثان کتابِ الٰہی میں شامل نہیں ہیں بلکہ وہ تمام بندگانِ خدا میں تو شامل ہیں لیکن برگزیدہ اور چنے ہوئے صرف تیسرے گروہ کے افراد یعنی سابق بالخيرات ہوں گے لیکن یہ تفسیر بہت بعید نظر آتی ہے۔ کیونکہ ظاہر یہ ہے کہ یہ گروہ ان لوگوں کا ہے جن کا آیت میں ذکر کیا جا رہا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ آیت تمام عباد کے با رے میں نہیں بلکہ برگزیدہ لوگوں کے متعلق گفتگو ہے۔ اس سے قطع نظر "عباد" کی "نا" کی طرف اضافت ایک طرح مدح کو بیان کرتی ہے کہ جو دوسری تفسیر کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے]۔ بہت سی روایات میں کہ جو اہلِ بیتؑ کے طرق سے وارد ہوئی ہیں "سابق با الخیرات" سے امامِ معصوم مراد لیا ہے اور "ظالم لنفسه" سے وہ افراد کہ جو امام کی معرفت اور شناخت نہیں رکھتے اور "مقتصد" سے امام کے عارف پیروکار مراد لیے گئے ہیں۔ [بحوالہ: تفسیر نور الثقلین جلد ۴ ص ۳۶۱ اس کے بعد اسی طرح اصول کافی جلد ۱ باب ان من اصطفاه الله من عباده...]۔ یہ تفاسیر اس بات کی واضح گواہ ہیں کہ اس میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ وارثانِ کتابِ الٰہی میں یہ تینوں گروہ شامل ہیں جیسا کہ ہم نے تفسیرِ آیت میں کہا ہے۔ شاید اس بات کی یاد دہانی کی ضرورت نہیں کہ مذکورہ بالا روایات کی تفسیر واضح مصادیق کا بیان ہے، یعنی امامِ معصوم "سابق بالخیرات" کی صف اوّل میں ہے اور علماء اور دینِ الٰہی کے محافظین دوسری صفوں میں ہیں۔ وہ تفسیر کہ جو اِن روایات میں "ظالم" و "مقتصد" کے بارے میں بیان کی گئی ہے وہ بھی مصداق بیان کرتی ہے۔ یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ روایات میں آیت کے مفہوم میں علماء کی بالکل نفی کی گئی ہے تو ایسا در حقیقت ان صفوں کے آگے آگے امامِ معصوم کے وجود کی طرف توجہ دلانے کے لیے ہے۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ گزشتہ اور موجودہ مفسرین میں سے بعض نے ان تینوں گروہوں کے بارے میں دوسرے بہت سے احتمال بھی ذکر کیے ہیں کہ جو سارے کے سارے اس کے مصداق کا ہی بیان ہیں۔ [تشریحی نوٹ: بعض نے تو یہ کہا ہے کہ "سابق باالخيرات"، اصحابِ پیغمبر ہیں اور "مقتصد" "تابعین کا طبقہ ہے" اور "ظالم النفسة" دوسرے افراد ہیں۔ بعض دوسروں سے "سابق" سے وہ لوگ مراد لیے ہیں جن کا باطن ان کے ظاہر سے اچھا ہے اور "مقتصد" سے وہ لوگ کہ جن کا ظاہر و باطن ایک جیسا ہے اور ظالم وہ کہ جن کا ظاہر ان کے باطن سے بہتر ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ "سابقون" صحابہ ہیں اور "مقتصدون" ان کے تابعین ہیں اور "ظالمون" منافق ہیں۔ بعض نے اس آیت کو اُن تینوں گروہوں کی طرف اشارہ سمجھا ہے کہ جن کا ذکر سورہ واقعہ کی آیت ۷ تا ۱۱ میں آیا ہے: وَكُنْتُمْ أَزْواجاً ثَلاثَةً فَأَصْحابُ الْمَيْمَنَةِ ما أَصْحابُ الْمَيْمَنَةِ وَأَصْحابُ الْمَشْئَمَةِ ما أَصْحابُ الْمَشْئَمَةِ وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ أُولئِكَ الْمُقَرَّبُونَ۔ ایک حدیث میں "سابق بالخيرات" سے آئمہ بزرگوار حضرت علیؑ، امام حسنؑ اور امام حسینؑ اور شہیدانِ آل محمدؐ مراد لیا گیا ہے اور "مقتصد" سے متدین مجاہد ہیں اور "ظالم" سے وہ کہ جن کے نیک اعمال غیرصالح اعمال کے ساتھ ملے جلے ہیں۔ یہ تمام تفسیریں بیانِ مصداق کے عنوان سے قابلِ قبول ہیں سوائے پہلی تفسیر کے کہ اس کا کوئی درست مفہوم نہیں ہے]۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ پہلے ظالمین کے بارے میں پھر درمیانے افراد کے بارے میں اور سب سے آخر میں "سابق بالخيرات" کے بارے میں بات کیوں کی گئی ہے جبکہ کئی ایک جہات اسے الٹی ترتیب بہتر نظر آتی ہے۔ بعض بزرگ مفسرین نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ اس کا مقصد سلسلہ کمال میں لوگوں کے مقامات کی ترتیب بیان کرنا ہے کیونکہ پہلا مرحلہ عصیان و غفلت کا ہے، اس کے بعد توبہ و انابت کا مقام ہے اور انجامِ کار خدا کی طرف توجہ اور اس کے قرب کی منزل ہے۔ جس وقت انسان سے گناہ سرزد ہوتا ہے تو وہ "ظالم" ہے اور جس وقت وہ مقامِ توبہ میں آتا ہے تو "مقتصد" ہے اور جس وقت اس کی توبہ قبول ہو جاتی ہے اور خدا کی راہ میں اس کی مساعی بہت بڑھ جاتی ہیں تو وہ اس کے مقامِ قرب میں پہنچ جاتا ہے اور "سابق بالخيرات" میں شمار ہونے لگتا ہے۔ [بحوالہ: طبرسی "مجمع البیان" زیرِبحث آیت کے ذیل میں]۔ بعض نے یہ بھی اضافہ کیا ہے کہ یہ ترتیب ان تینوں گروہوں کے افراد کی زیادتی اور کمی کے لحاظ سے ہے، ظالمین اکثریت میں ہوتے ہیں اور مقتصدين بعد والے مرحلہ میں اور سابقين بالخیرات کہ جو خاص اور پاک لوگ ہیں سب سے کم ہوتے ہیں اگرچہ کیفیت کے لحاظ سے سب سے بلند مرتبہ ہیں۔ [بحوالہ: تفسیر "فی ظلال القرآن" زیرِبحث آیت کے ذیل میں]۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ایک حدیث میں امام صادقؑ سے نقل ہوا ہے کہ آپؑ نے فرمایا: ظالم کو اس سبب سے مقدم رکھا ہے تاکہ وہ اس کی رحمت سے مایوس نہ ہو جائے اور سابق بالخیرات کو اس لیے موخر کیا ہے تاکہ وہ اپنے عمل پر مغرور نہ ہوں۔ [بحوالہ: تفسير ابو الفتوح رازی، جلد ۹ زیرِبحث آیت کے ذیل میں]۔ لہذا ممکن ہے کہ تینوں معانی مراد ہوں۔ آخری بات اس آیت کی تفسیر میں یہ ہے کہ "ذالك هوالفضل الكبير" (یہ بہت بڑی فضیلت ہے) کے جملے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے کہ اس میں مشار الیہ کیا ہے؟ بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد کتابِ الٰہی کی میراث ہی ہے اور بعض نے اسے اس توفیق کی طرف اشارہ سمجھا ہے کہ جو "سابق بالخیرات" کے شاملِ حال ہوتی ہے اور وہ اذنِ خدا سے اس راہ کو طے کرتے ہیں لیکن پہلا معنی ظاہر آیت کے ساتھ زیادہ مناسب ہے۔
کتابِ الٰہی کے پاسدار کون ہیں؟
قرآنِ مجید کی گواہی کے مطابق خداوندِ تعالٰی نے امتِ اسلامیہ کو اتنی عظیم نعمتیں عطا کی ہیں کہ جن میں سے زیادہ اہم خدا کی عظیم میراث قرآنِ مجید ہی ہے۔ اس نے امتِ مسلہ کو ساری امتوں پر برتری عطا کی اور اسے یہ نعمت دی لیکن انہیں اپنے لطفِ خاص سے نوازا ہے تو ان پر اسی نسبت سے ذمہ داری بھی عائد کی ہے۔ وہ صرف اسی صورت میں اس میراث عظیم کی پاسداری کا حق ادا کر سکتے ہیں کہ اپنے آپ کو "سابق بالخیرات" کی صف میں داخل کرنے کے قابل بنا لیں یعنی تمام امتوں سے نیکیوں کی انجام دہی میں آگے بڑھ جائیں علم و دانش کے حصول میں سبقت حاصل کریں اور تقویٰ و پرہیزگاری میں عبادت و خدمت خلق میں، جہاد و کوشش میں، نظم و ضبط اور حساب و کتاب میں اور ایثار و فداکاری میں سب سے بڑھ کر ہیں۔ اس صورت کے علاوہ وہ اس کا حق ادا نہ کر سکیں گے۔ خصوصاً "سابقٌ بِالخيرات" کی تعبیر اتنا وسیع اور کشادہ مفہوم رکھتی ہے کہ جو زندگی کے تمام مثبت پہلوؤں میں اور نیک اعمال میں تقدم حاصل کرنے کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ ہاں! اس قسم کی میراث کے حامل ایسے لوگ بھی ہو سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ لوگ جو اس عظیم آسمانی عنایت کی طرف پشت کر لیتے ہیں اور اس کی حرمت کا خیال نہیں رکھتے، "ظالم النفسۃ" کا مصداق ہیں اور خود اپنے ہی اوپر ظلم کرتے ہیں کیونکہ اس کے مطالب ان کی نجات، خوشبختی اور کامیابی کے سوا اور کچھ نہیں ہیں۔ وہ آدمی کہ جو کسی شفاء بخش نسخہ کو استعمال نہیں کرتا اس نے اپنے درد اور تکلیف کے باقی رہنے میں خود کمک کی ہے اور جو شخص کسی تاریک راستے کو طے کرنے کے موقع پر اپنے روشن چراغ کو توڑ دیتا ہے وہ خود کو بےراہی اور ہلاکت کے گڑھے کی طرف لے جاتا ہے۔ کیونکہ خدا سب سے بےنیاز اور مستغنی ہے۔ اس کے باوجود اس گنہگار گروہ کو حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیئے کہ وہ بھی زیرِبحث آیت کے مضمون کے مطابق "پروردگار کے برگزیدہ لوگوں" کے زمرے میں آتا ہے اور یہ استعداد رکھتا ہے کہ مرحلہ ظلم کو پسِ پشت ڈال کر مقتصد کے مرحلے میں قدم رکھے اور وہاں سے پرواز کر کے "سابق بالخيرات" کے اوجِ افتخار پر جا پنہچے کیونکہ وہ بھی فطرت اور روحانی ساخت کے لحاظ سے حقِ تعالیٰ کے برگزیدہ ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔
جہاں غم ہے نہ تھکان
Tafsīr Nemūna · Vol. 5جو کچھ گزشتہ آیات میں گزر چکا ہے، یہ آیات حقیقت میں اسی کا ایک نتیجہ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: "نیکیوں میں پیش قدمی کرنے والوں کے لیے دائمی بہشت کے باغات ہیں جس میں وہ سب کے سب داخل ہوں گے"۔ (جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَها)۔ [تشریحی نوٹ: جنات عدن ...... ممکن ہے کہ مبتدائے محذوف کی خبر ہو اور تقدیر میں "جزاهم جنات عدن .." یا " أُولئِكَ لَهُمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ" تھا (نظیر آیہ ۳۱ سورہ کہف) بعض نے اسے فضلِ کبیر سے بدل سمجھا ہے۔ لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ "فضلِ کبیر" کتاب آسمانی کی میراث کی طرف اشارہ ہے لہذا "جنت" اس سے بدل نہیں ہو سکتا مگر یہ کہ ہم مسبب کو سبب کا جانشین بنا لیں]۔ "جَنّات" "جنۃ" کی جمع ہے اور باغ کے معنی میں ہے اور"عدن" "استقرار و ثبات" کے معنی ہے اور معدن کو اس وجہ سے معدن کہتے ہیں کیونکہ وہ مختلف دھاتوں اور جواہرات کے استقرار کی جگہ ہے۔ اس بناء پر "جنات عدن" کا معنی ہے "بہشت کے ہمیشہ رہنے والے باغات"۔ بہرحال یہ تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بہشت کی عظیم نعمتیں جاودانی اور قائم رہنے والی ہیں اور مادی دنیا کی نعمتوں کی طرح ان کے بارے میں زوال کا خوف نہیں ہے بہشت میں رہنے والوں کے لیے بہشت کا ایک ہی باغ نہیں ہو گا بلکہ بہشت کے باغات ان کے پاس ہوں گے۔ اس کے بعد جنّت کی نعمتوں کے تین حصوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن میں سے بعض مادی اور ظاہری پہلو رکھتے ہیں، بعض روحانی اور باطنی اور ایک حصہ ہر قسم کے مزاحم کی نفی کرتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: "نیکیوں میں بڑھ جانے والے یہ لوگ بہشتِ جاودانی میں سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ ہوں گے اور وہاں ان کا لباس ریشم کا ہو گا"۔ (يُحَلَّوْنَ فِيها مِنْ أَساوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَلُؤْلُؤًا وَلِباسُهُمْ فِيهَا حَرِيْرٌ)۔ انہوں نے اس دنیا میں اس کے زرق برق سے بےاعتنائی برتی تھی اور خود کو سونے اور زیورات کا اسیر نہیں بنایا تھا۔ محروم لوگ سوتی لباس سے بھی محروم تھے تو انہوں نے بھی فاخره لباس نہیں پہنا تھا خدا اسی چیز کی تلافی کے طور پر انہیں دوسرے جہان میں بہترین لباس اور زیور پہنائے گا۔ انہوں نے اس جہان ظاہر میں اپنے آپ کو راہِ خدا میں خیرات کے ساتھ آراستہ کیا تھا، خدا بھی دوسرے جہان میں کہ جو تجسمِ اعمال کا جہان ہے انہیں طرح طرح کے زیورات سے آراستہ کرے گا۔ ہم نے بارہا کہا ہے کہ ہمارے الفاظ اس جہان کی محدود زندگی کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔ یہ قیامت کے عظیم عالم کے مفاہیم ہرگز بیان نہیں کر سکتے۔ ان نعمتوں کے بیان کے لیے کسی اور طرح کی الف۔با اور کوئی دوسری زبان اور لغت کی ضرورت ہے لیکن بہرحال اس غرض سے کہ اس جہان میں مقید افراد کو ان عظیم نعمتوں کا ایک تصور پیش کرنے کے لیے انہی ناچیز اور نارسا الفاظ سے مدد لینا پڑتی ہے۔ اس مادی نعمت کا ذکر کرنے کے بعد ایک خاص روحانی نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: "وہ کہیں گے کہ حمد و ستائش اس خدا کے ساتھ مخصوص ہے کہ جس نے ہم سے غم دور کر دیا" (وَقالُوا الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ)۔ وہ اس عظیم نعمت کے لیے خدا کی حمد کرتے ہیں کہ جو انہیں نصیب ہوئی ہے اور خدا کے لطف کی برکت سے ان کی زندگی سے غم کے تمام عوامل دور ہو گئے ہیں اور ان کی روح کا آسمان رنج و غم کے تاریک بادلوں سے پاک ہو گیا ہے۔ نہ تو انہیں خدا کے عذاب کا کوئی خوف ہے اور نہ ہی مرگ و فنا سے کوئی وحشت۔ نہ دل کی بےاطمینانی کی کوئی وجہ ہے اور نہ بدخواہوں کی آزار، نہ جابروں کا دباؤ ہے اور نہ ہی بُروں اور کم ظرفوں کی ہم نشینی۔ بعض مفسرین نے اس حزن کو دنیاوی غموں کی طرف اشارہ سمجھا ہے کہ جو میدانِ حشر میں انہیں اپنے عمل کے نتیجہ کے بارے میں ہو گا۔ یہ دونوں تفاسیر ایک دوسرے کے ساتھ کوئی تضاد نہیں رکھتیں اور دونوں ہی آیت کے معنی میں جمع ہو سکتی ہیں۔ "حزن" (بر وزن "عدم") اور "حزن" (بر وزن "مزد") جیسا کہ لغت اور تفسیر کی بہت سی کتابوں میں آیا ہے دونوں کا ایک ہی معنی ہے۔ اصل میں یہ زمین کی ناہمواری کے معنی میں ہے اور چونکہ غم و اندوه روحِ انسانی کو ناہموار اور سخت کر دیتے ہیں اس لیے یہ تعبیر اس معنی میں استعمال ہوتی ہے۔ [تاج العروس میں بعض علماءِ ادب سے منقول ہے کہ جس وقت یہ لفظ رفع اور جر کے اعراب کے ساتھ استعمال ہو تو پھر (ز) کے سکون کے ساتھ اس کا تلفظ ہوتا ہے اور جب نصب اور زبر کی صورت میں ہو تو پھر (ز) کی فتح کے ساتھ۔ لیکن ادبیاتِ عرب میں یہ امر ایک قانون کی صورت میں ہمیشہ کے لیے نہیں ہو سکتا اگرچہ اکثر ایسا ہوتا ہے کیونکہ قرآنِ مجید میں بعض مواقع پر حالتِ نصب میں بھی (ز)کے سکون کے ساتھ آیا ہے]۔ اس کے بعد بہشتی مومنین مزید کہیں گے کہ: "ہمارا پروردگار غفور و شکور ہے (إِنَّ رَبَّنا لَغَفُورٌ شَكُورٌ)۔ اپنی غفوریت کی صفت کی بناء پر اس نے لغزشوں اور گناہوں کا بھاری غم دور کر دیا ہے اور اپنی شکوریت کے ذریعے ہمیشہ ہمیشہ کی نعمتیں کہ جن کے اوپر کبھی بھی غم و اندوہ کا منحوس سایہ نہیں پڑتا ہمیں عطا کی ہیں۔ ہمارے بہت سے گناہوں کو اس کے غفران نے چھپا لیا ہے اور ہمارے حقیر اور تھوڑے سے اعمال کا اپنی شکوریت کی بنا پر ہمیں بہت زیادہ اجر اور صلہ دیا ہے۔ آخر میں آخری نعمت کا بیان ہے۔ ان کا قول نقل کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے :"حمد و ستائش اس خدا کے لیے ہے کہ جس نے اپنے فضل سے ہمیں اس ابدی ٹھکانے میں جگہ دی کہ جس میں نہ رنج و غم ہے اور نہ ہی خستگی اور تھکان" (الَّذِي أَحَلَّنا دارَ الْمُقامَةِ مِنْ فَضْلِهِ لا يَمَسُّنا فِيهَا نَصَبٌ وَلا يَمَسُّنا فِيْهَا لُغُوْبٌ)۔ ایک طرف تو وہ ٹھہرنے اور قیام کی جگہ ہے اور ایسا نہیں ہے کہ انسان ابھی اس ماحول سے آشنا ہو رہا ہو گا اور اس کے ساتھ دل لگا رہا ہو کہ کوچ کا نقّارہ بج جائے گا۔ دوسری طرف اس کے باوجود کہ اس کی عمر طولانی اور ابدی ہو گی اور اس قسم کی مدت میں قاعدتاً تھکان تکلیف اور زحمت ہوتی لیکن وہاں ایسا نہیں ہو گا۔ کیونکہ ہر روز نئی نعمت اور نعمتوں کی تازہ بہار اور پرروردگار کے جلوے اہلِ بہشت کو نظر آئیں گے۔ "نصب" (بر وزن "حسب") مشقت اور زحمت کے معنی میں ہے اور "لغوب" کو بھی بہت سے اربابِ لغت اور مفسرین نے اسی معنی میں لیا ہے جبکہ بعض نے ان دونوں کے درمیان یہ فرق کیا ہے کہ "نصب" جسمانی مشقتوں اور "لغوب" روحانی تھکان کو کہتے ہیں۔[بحوالہ: تفسیر روح المعانی جلد ۲۲ ص ۱۸۴ زیرِبحث آیت کے ذیل میں]۔ بعض نے "لغوب" کو بھی اس سستی اور تھکاوٹ کے معنی میں سمجھا ہے کہ جو مشقّت اور رنج سے پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح سے "لغوب" "نصب" کا نتیجہ ہو گا۔[بحوالہ: تفسیر روح المعانی جلد ۲۲ ص ۱۸۴ زیرِبحث آیت کے ذیل میں]۔ گویا وہاں نہ تو مشقت جسمانی کے عوامل موجود ہیں اور نہ ہی روحانی رنج و تکلیف کے اسباب کی کوئی خبر ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 38 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 38 کے تحت ملاحظہ کریں۔
ہمیں لوٹا دو تاکه ہم اچھے عمل کریں
Tafsīr Nemūna · Vol. 5عام طور پر قرآن "وعدوں" کے ساتھ "وعید" اور بشارت کے ساتھ نذارت کا ذکر کرتا ہے تاکہ خوف و رجاء کے دونوں عوامل کو تقویت دے، کیونکہ یہ دونوں باہم انسان کے رشد و کمال کا سبب ہیں انسان حبِّ ذات کے تقاضے کے ماتحت فائدے کے حصول اور دفع ضرر کی خواہش رکھتا ہے، اس لیے گزشتہ آیات میں "خیرات میں سبقت کرنے والے مومنین" کی عظیم اور روح پرور جزاؤں کے بارے میں گفتگو کی تھی اور زیرِبحث آیات میں کفار کی دردناک سزا کے بارے میں بات کی جا رہی ہے۔ یہاں بھی مادی اور روحانی دونوں سزاؤں سے متعلق گفتگو ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: "وہ لوگ کہ جنہوں نے راہِ کفر اختیار کی، ان کے لیے جہنم کی آگ ہے"۔ (وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ نارُ جَهَنَّمَ)۔ جس طرح ان لوگوں کے لیے بہشتِ جادوانی ہے اور ہمیشہ ہمیشہ رہنے کی جگہ اور ٹھہرنے کا گھر ہے اسی طرح دوزخ بھی اس گروہ کے لیے ہمیشہ ہمیشہ رہنے کا مقام ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: "ان کے لیے ہرگز موت کا حکم صادر نہیں ہو گا کہ وہ مر جائیں اور اس رنج و الم سے رہائی پائیں" (لا يُقْضىٰ عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا)۔ [تشریحی نوٹ: "لا يقضٰى عليهم" "لا يحكم عليهم" کے معنی میں ہے]۔ اس کے با وجود کہ جلانے والی آگ اور وہ تمام دردناک عذاب ہر لمحہ موت کے منہ میں لے جا سکتا ہے لیکن چونکہ موت و حیات سمیت ہر چیز اللہ کے ہاتھ میں ہے اس لیے اس کی طرف سے موت کا حکم صادر نہیں ہو گا لہذا وہ نہیں مریں گے بلکہ انہیں زندہ رہنا پڑے گا تاکہ وہ عذابِ الٰہی کا مزہ چکھیں۔ موت تو اس قسم کے لوگوں کے لیے نجات کا ایک ذریعہ ہو گی لیکن اس جملے میں یہ دریچہ بند ہو گیا ہے۔ اب ایک ہی راستہ باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ زندہ رہیں اور ان کی سزا میں تدریجاً تخفیف ہو یا ان میں قوتِ برداشت کا اضافہ ہو تاکہ اس کے نتیجہ میں درد اور تکلیف میں تخفیف ہو۔ اس دریچے کو بھی ایک اور جملے کے ساتھ بند کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: "دوزخ کے عذاب میں سے ان کے لیے کسی چیز کی تخفیف نہیں کی جائے گی"۔ (وَلا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِنْ عَذابِهَا)۔ آیت کے آخر میں اس وعیدِ الٰہی کے قطعی ہونے کی تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے: "ہر کفران کرنے والے کو ہم اسی طرح سے جزا دیں گے" (كَذلِكَ نَجْزِي كُلَّ كَفُورٍ)۔ جنہوں نے پہلے تو وجودِ انبیاء اور کتبِ آسمانی کی نعمت کا کفران کیا ہے، ان خداداد صلاحیتوں کو ضائع کر دیا ہے کہ جو راہِ سعادت میں ان کے لیے مددگار ہو سکتی تھیں۔ ہاں! کفران کرنے والوں کی جزا آگ کے دردناک عذاب میں جلنا ہی ہے۔ ایسی آگ کہ جس کو انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے دنیا کی زندگی میں روشن کیا ہے۔ اس کا ایندھن ان کے افکار و اعمال اور ان کے وجود بنیں گے۔ "کفور" مبالغے کا صیغہ ہے اس لیے یہ "کافر" سے زیادہ عمیق اور گہرا معنی رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں کافر مومن کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے لیکن "کفور" تمام نعمتوں کا کفران کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ لہذا اس کا مفہوم زیادہ وسیع ہے۔ اس طرح سے "کفور" ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے کہ جنہوں نے تمام خدائی نعمتوں کا کفران کیا ہے اور اس جہان میں اس کی رحمت کے تمام دروازوں کو اپنے اوپر بند کر لیا ہے۔ اس لیے آخرت میں خدا بھی نجات کے تمام دروازے ان پر بند کر دے گا۔ بعد والی آیت ان کے دردناک عذاب کے ایک اور حصہ کو بیان کرتی ہے اور اس سلسلے میں بعض حساس نکات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے: "وہ دوزخ میں فریاد کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں اس جگہ سے نکال۔ تاکہ ہم عملِ صالح بجا لائیں، ان اعمال کے بجائے کہ جو تم پہلے انجام دیتے تھے" (وَهُمْ يَصْطَرِخُونَ فِيها رَبَّنا أَخْرِجْنا نَعْمَلْ صالِحاً غَيْرَ الَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ)۔ [تشریحی نوٹ: " يَصْطَرِخُونَ " "صراخ" کے مادہ سے شدید فریاد اور چیخ و پکار کے معنی میں ہے کہ جو انسان استغاثہ کرنے اور درد و تکلیف دور کرنے کے لیے اور مددگار کو بلانے کے لیے دل سے نکالتا ہے]۔ ہاں! وہ اپنے برے اعمال کو دیکھ کر گہری ندامت میں جا پڑیں گے اور دل سے فریاد کریں گے۔ وہ ایک محال چیز کا تقاضا کریں گے یعنی اعمالِ صالح بجا لانے کے لیے دنیا کی طرف بازگشت کرنے کا مطالبہ۔ "صالحاً" کی تعبیر (نکرہ کی شکل میں) اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہم نے کوئی معمولی سا عمل بھی انجام نہیں دیا اور لازمی طور پر یہ سب عذاب اور رنج و تکلیف ایسے ہی لوگوں کے لیے ہے کہ جو زندگی میں خدا کے ساتھ کوئی ربط و تعلق اور واسطہ نہیں رکھتے تھے اور عصیان و گناہ میں غرق تھے۔ اس بناء پر ممکن ہے کہ کچھ تھوڑے بہت اعمالِ صالح بھی نجات کا سبب بن جائیں۔ "نعمل" کہ جو فعلِ مضارع اور استمرار کی دلیل ہے اسی معنی کی تاکید ہے کہ "ہم ہمیشہ غیرصالح اعمال میں مشغول رہے"۔ بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ "صالح" کی "کنا نعمل" کے جملہ کے ساتھ توصیف ایک لطیف نکتے کی حامل ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم اپنے بُرے اعمال کو ہوائے نفس اور شیطان کی طرف سے مزین کیے جانے کی وجہ سے اعمالِ صالح خیال کرتے تھے۔ اب ہمارا مصمم ارادہ ہے کہ اگر ہم واپس چلے جائیں تو ان اعمال کے بجائے کہ جو ہم پہلے انجام دیتے تھے، واقعی اعمالِ صالح بجا لائیں گے۔ ہاں! گنہگار شروع شروع میں اپنی پاکیزگی فطرت کے مطابق اپنے اعمال کی برائی کا ادراک کرتا ہے لیکن آہستہ آہستہ وہ اس کا عادی ہو جاتا ہے اور اس کی برائی اس کی نظر میں کم ہوتی جاتی ہے اور رفتہ رفتہ وہ اس سے بھی اوپر چلا جاتا ہے اور اس کی نظر میں وہی برائی اچھائی دکھائی دینے لگتی ہے، جیسا کہ قرآن کہتا ہے: " (زُيِّنَ لَهُمْ سُوءُ أَعْمالِهِمْ "۔ "ان کے بُرے اعمال کو ان کی نظر میں اچھا بنا دیا جاتا ہے۔ (توبه ۳۷) قران کبھی یہ بھی کہتا ہے: وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعاً۔ "وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ نیک عمل انجام دے رہے ہیں"۔ (کہف ۱۰۴) بہرحال اس تقاضے کے مقابلے میں خدا کی طرف سے انہیں ایک قاطع اور دو ٹوک جواب دیا جائے گا: "کیا ہم نے تمہیں بیداری اور غور و فکر کے لیے کافی عمر نہیں دی تھی"۔ (أَ وَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ ما يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَنْ تَذَكَّرَ)۔ "اور کیا خدا کی طرف سے ڈرانے والا تمہارے پاس نہیں آیا تھا" (وَجاءَكُمُ النَّذِيرُ)۔ اب جبکہ یہ بات ہے کہ نجات کے تمام وسائل تمہیں میسر تھے اور تم نے ان سے فائدہ نہیں اٹھایا تو پھر اسی جگہ گرفتارِ بلا رہو، "پس اب تم مزہ چکھو کیونکہ ستمگروں کے لیے کوئی یار و مددگار نہیں ہے"۔ (فَذُوقُوا فَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ نَصِيرٍ)۔ یہ آیت صراحت کے ساتھ کہتی ہے کہ تمہیں کسی چیز کی کمی نہیں تھی کیونکہ تمہارے پاس کافی مہلت تھی اور ضروری تعداد میں خدا کی طرف سے ڈرانے والے بھی تمہارے پاس آئے، بیداری و نجات کے یہ دونوں رکن تمہیں حاصل ہو گئے تھے۔ اس بناء پر تمہارے لیے کوئی عذر اور بہانہ نہیں رہا۔ اگر تمہارے پاس کافی مقدار میں مہلت نہ ہوتی تو عذر تھا اور اگر مہلت تو ہوتی، لیکن معلم و مربی اور رہبر و ہادی تمہارے پاس نہ آتا تب بھی کوئی عذر تھا لیکن ان دونوں کے ہوتے ہوئے کونسا عذر و بہانہ باقی رہ جاتا ہے۔ لفظ "نذیر" (ڈرانے والا) آیاتِ قرآن میں عام طور پر وجودِ انبیاء خصوصاً پیغمبر اسلامؐ کی طرف اشارے کے طور پر آیا ہے لیکن بعض مفسرین نے اس کے لیے ایک وسیع تر معنی بیان کیا ہے کہ جس میں انبیاء کتبِ آسمانی اور بیدار کن حوادث مثلاً دوستوں اور رشتہ داروں کی موت اور پیری و ناتوانی بھی شامل ہے۔ خصوصاً عربی اشعار میں لفظ "نذير" بڑھاپے کے معنی میں بہت استعمال ہوا ہے۔ مثلاً ذیل کے شعر میں: رأيت الشيب من نذر المنايا لصاحبه و حسبك من نذير "میں نے بڑھاپے کے سفید بالوں کو موت سے ڈرانے والا دیکھا ہے اور تیرے لیے یہی "نذير" کافی ہے"۔ [بحوالہ: مجمع البیان، زیرِبحث آیات کے ذیل میں]۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ اسلامی روایات میں عمر کی اس حد کے بارے میں کہ جو انسان کی بیداری اور توجہ کے لیے کافی ہے مختلف تعبيرات بیان کی گئی ہیں۔ بعض میں ساٹھ سال بیان ہوئی ہے، جیسا کہ ایک حدیث میں پیغمبرِ اسلامؐ سے منقول ہے: من عمره الله ستين سنة فقد اعذر اليه جسے خدا نے ساٹھ سال عمر دی ہے اس کے لیے عذر کی راہ بند کر دی ہے۔ [بحوالہ: مجمع البیان، زیرِبحث آیات کے ذیل میں]۔ یہی معنی امیرالمومنین علیؑ سے بھی نقل ہوا ہے۔ [بحوالہ: مجمع البیان، زیرِبحث آیات کے ذیل میں]۔ ایک اور حدیث میں پیغمبرِ اسلامؐ سے منقول ہے کہ: اذا كان يوم القيامة نودى (اين) ابناء الستين؟ و هو العمر الذى قال الله فيه: او لم نعمركم ما يتذكر فيه من تذكر۔ "جس وقت قیامت کا دن ہو گا تو منادی نِدا کرے گا کہ ساٹھ سالہ لوگ کہاں ہیں؟ یہ وہی عمر ہے کہ جس کے بارے میں خدا فرماتا ہے: "کیا ہم نے تمہیں اتنی مقدار میں عمر نہیں دی تھی کی جس میں لوگ اچھی طرح غور و فکر کرتے ہیں"۔ [بحوالہ: تفسیر قرطبی اور تفسیر درالمنثور]۔ لیکن ایک دوسری حدیث میں امام صادقؑ سے اس کی مقدار صرف اٹھارہ سال معین ہوئی ہے۔ [بحوالہ: مجمع البیان، زیرِبحث آیت کے ذیل میں]۔ البتہ ممکن ہے کہ آخری روایت کم سے کم کی طرف اشارہ ہو اور گزشتہ روایات زیادہ سے زیادہ کی طرف اس بناء پر ان روایات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ یہاں تک کہ افراد کے اختلاف کے ساتھ دوسرے برسوں پر بھی قابلِ تطبیق ہے۔ بہرحال آیت کے مفہوم کی وسعت پھر بھی باقی رہتی ہے۔ آخری زیر بحث آیت میں کفار کے اس تقاضے کا جو وہ دوزخ میں دنیا کی طرف بازگشت کے لیے کریں گے، جواب دیا گیا ہے: "خدا آسمانوں اور زمین کے غیب کو جانتا ہے، ایسا خدا یقیناً اس چیز سے بھی آگاہ ہے کہ جو دلوں کے اندر ہے" (إِنَّ اللهَ عالِمُ غَيْبِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ)۔ درحقیقت پہلا جملہ دوسرے جملے کی ایک دلیل ہے۔ یعنی یہ کس طرح ممکن ہے کہ خدا دلوں کے بھیدوں سے بےخبر ہو جبکہ زمین و آسمان کے تمام اسرار اور عالمِ ہستی کی تمام غیب چیزیں اس کے لیے آشکار ہیں۔ ہاں! وہ جانتا ہے کہ اگر دوزخیوں کے تقاضے کا مثبت جواب دیا جائے اور وہ دنیا کی طرف لوٹ آئیں تو وہی اعمال جاری رکھیں گے جیسا کہ سورہ انعام کی آیت ۲۸ میں صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے: وَلَوْ رُدُّوا لَعادُوا لِما نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكاذِبُونَ اگر وہ پلٹ جائیں تو وہ پھر انہیں کاموں کو انجام دیں گے کہ جن سے انہیں منع کیا گیا ہے۔ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ آیت تمام مومنین کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ وہ اپنی نیتوں میں اخلاص پیدا کرنے کی کوشش کریں اور خدا کے علاوہ کسی پر نظر نہ رکھیں کیونکہ اگر ان کی نیت اور محرکاتِ عمل میں معمولی سی بھی ناخالصی ہوئی تو وہ جو تمام غیوب سے آگاہ ہے، اسے بھی جانتا ہے اور اسی کے مطابق جزا دے گا۔
چند اہم نکات: ۱- "ذات الصدور" سے کیا مراد ہے؟
قرآنِ مجید کی دس سے زیادہ آیات میں بعینہ یہی جملہ آیا ہے یا تھوڑے سے فرق کے ساتھ یہ بات آئی ہے: إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ۔ "ذات" کا لفظ کہ جس کا مذکر "ذو" ہے اصل میں "صاحب" کے معنی میں ہے۔ اگرچہ فلاسفہ کی تعبیرات میں عین و حقیقت اور گوہرِ اشیاء کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، لیکن مفردات میں راغب کے قول کے مطابق یہ ایک ایسی اصطلاح ہے کہ جو کلامِ عرب میں موجود نہیں ہے۔ اس بنا پر " إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ " کا مفہوم یہ ہو گا کہ خدا دلوں کے صاحب و مالک سے باخبر ہے"۔ یہ جملہ انسانوں کے عقائد و نیّات کے بارے میں ایک لطیف کنایہ ہے کیونکہ عقیدے اور نیّتیں جس وقت دل میں گھر کر لیں تو گویا وہ قلبِ انسان کی مالک ہو جاتی ہیں اور اس پر حکومت کرتی ہیں اور اسی بناء پر یہ عقائد و نیّات انسانی دل کے صاحب و مالک شمار ہوتے ہیں۔ یہ وہی بات ہے کہ جس سے بعض بزرگ علماء نے استفادہ کرتے ہوئے اسے اس عبارت میں مجسم کیا ہے: الانسان آرائه و افكاره، لا صورته و اعضائه ۔ "انسان تو بس اس کے عقائد و افکار ہی ہوتے ہیں، نہ کہ اس کی شکل و صورت اور اعضاءِ بدن"۔ [بحوالہ: عالمِ بزرگوار مرحوم کاشف انعطاء کی "اصل الشیعہ و اصولھا"]۔
۲- واپسی کی کوئی راہ نہیں
یقیناً قیامت اور موت کے بعد کی زندگی دنیا کی نسبت ایک مرحله تکامل و ارتقاء ہے اور وہاں سے اس جہان کی طرف بازگشت کوئی معقول بات نہیں ہے۔ کیا ہم گزرے ہوئے کل کی طرف لوٹ سکتے ہیں؟ کیا نومولود بچہ جنینی دور کی طرف لوٹ سکتا ہے؟ کیا وہ پھل جو شاخ سے جدا ہو گیا ہے ممکن ہے کہ پھر شاخ کی طرف لوٹ جائے؟ اسی بناء پر آخرت والوں کے لیے دنیا کی طرف بازگشت ممکن نہیں ہے۔ اگر بالفرض ممکن بھی ہو تو کبھی فراموش کار انسان اپنی اس گزشتہ روش کو برقرار رکھے گا۔ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے، ہم نے بارہا خود اپنے آپ کو آزمایا ہے کہ خاص حالات میں جبکہ ہم کسی تنگی یا سختی میں گرفتار ہوتے ہیں، تو اس وقت اپنے خدا کے ساتھ مخلصانہ عہد و پیمان کرتے ہیں، لیکن جس وقت وہ حالات بدل جاتے ہیں تو ہم تمام قول و قرار بھول جاتے ہیں، سوائے ان لوگوں کے جو سچ مچ اپنے اندر ایک گہری تبدیلی پیدا کر لیتے ہیں۔ ایسی تبدیلی نہیں کہ جو حالات کے ساتھ مشروط ہو۔ یہ حقیقت قرآنِ مجید کی متعدد آیات میں بیان ہوئی ہے۔ سوره انعام کی آیہ ۲۸ میں قرآن صريحاً ایسے افراد کی تکذیب کرتے ہوئے کہتا ہے: "اگر یہ پلٹ بھی جائیں تو ان کا طرزِ عمل وہی پہلے والا ہو گا"۔ لیکن سوره اعراف کی آیہ ۵۳ میں صرف اسی بات پر قناعت کی گئی ہے کہ وہ زیاں کار لوگ ہیں لیکن ان کی بازگشت کی درخواست کا صراحت کے ساتھ جواب نہیں دیا گیا: فَهَلْ لَنا مِنْ شُفَعاءَ فَيَشْفَعُوا لَنا أَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ قَدْ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ ما كانُوا يَفْتَرُونَ۔ "کیا آج ہمیں کوئی شافعی مل جائیں گے کہ جو ہماری شفاعت کریں یا پھر ہمیں اجازت ملے کہ ہم واپس چلے جائیں اور جو عمل ہم پہلے کیا کرتے تھے اس کے بجائے نیک عمل انجام دیں؟ انہوں نے اپنے وجود کا سرمایہ گنوا دیا ہے اور اپنا ہی نقصان کیا ہے اور وہ سارے جھوٹے معبود جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے گم ہو گئے اور ان کے بناوٹی معبودوں کا کوئی نام و نشان وہاں نہیں ملے گا"۔ یہی مطلب سوره مومنون کی آیہ ۱۰۷، ۱۰۸ میں دوسری طرح بیان ہوا ہے: رَبَّنا أَخْرِجْنا مِنْها فَإِنْ عُدْنا فَإِنَّا ظالِمُونَ قالَ اخْسَؤُا فِيها وَلا تُكَلِّمُونِ۔ "پروردگارا! ہمیں دوزخ سے نکال، اگر ہم پلٹ گئے (اور پھر انہیں اعمال کو دہرایا) تو پھر ہم ظالم ہیں، وہ ان کے جواب میں فرمائے گا: دور ہو جائو اور مجھ سے بات نہ کرو"۔ بہرحال یہ ایک بےبنیاد تقاضا ہے اور محال آرزو ہے۔ شاید وہ بھی کم و بیش یہ جانتے ہیں لیکن شدّتِ بیچارگی کی وجہ سے اس تقاضے کو دہرائیں گے لہذا آج ہی جبکہ ہمیں موقع میسر ہے ہم جو کچھ چاہتے ہیں وہ انجام دینا چاہیئے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
آسمان و زمین اس کی قدرت سے قائم ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 5ان مباحث کے بعد کہ جو گزشتہ آیات میں کفار و مشرکین کے انجام کے بارے میں تھیں زیرِ بحث آیات میں ایک اور طریقے سے ان سے بازپرس کی گئی ہے اور ان کے طرزِ عمل کے بطلان کو کچھ اور واضح دلائل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: "وہ وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں جانشین بنایا" (هُوَالَّذِي جَعَلَكُمْ خَلائِفَ فِي الْأَرْضِ)- یہاں پر "خلائف" چاہے زمین میں خدا کے خلفاء اور خدائی نمائندوں کے معنی میں ہو اور خواہ گزشتہ اقوام کے جانشینوں کے معنی میں (اگرچہ یہاں پر دوسرا معنی ہی زیادہ صحیح نظر آتا ہے) انسانوں پر خدا کے انتہائی لطف و کرم کی دلیل ہے کہ اس نے زندگی کے تمام وسائل انہیں عطا فرمائے ہیں۔ اسی نے عقل و شعور اور فکر و ہوش دیئے ہیں اور اسی نے مختلف جسمانی قویٰ انسان کو عطا کیے ہیں۔ اسی نے روئے زمین کو طرح طرح کی نعمتوں سے بھر دیا ہے۔ اسی نے ان وسائل سے استفاده کرنے کا طریقہ بھی انسان کو سکھایا ہے۔ اس کے باوجود وہ اپنے ولی نعمت کو بھلا کر بےحقیقت اور بناوٹی خداؤں کے دامن سے کیسے وابستہ ہو جاتا ہے؟ درحقیقت یہ جملہ توحید و ربوبیت کا بیان ہے کہ جو توحیدِ عبادت پر ایک دلیل ہے۔ ضمنی طور پر یہ جملہ تمام انسانوں کے لیے ایک تنبیہ بھی ہے کہ وہ جان لیں کہ ان کی یہ زندگی ابدی و جاودانی نہیں ہے جس طرح سے یہ دوسری اقوام کے جانشین بنے ہیں، کچھ دنوں کے بعد چلے جائیں گے اور دوسری قومیں ان کی جانشین ہو جائیں گی۔ لہذا ٹھیک طرح سے سوچ لیں کہ وہ اس چند روزہ زندگی میں کیا کر رہے ہیں اور اپنے مستقبل کو کس طرح لکھ رہے ہیں اور ان سے متعلق دُنیا میں کس طرح کی تاریخ باقی رہ جائے گی؟ اسی بنا پر ساتھ ہی یہ فرمایا گیا ہے: "جو شخص کافر ہو جائے گا اس کا کفر خود اسی کے نقصان میں ہو گا"(فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُ)۔ "نیز کافروں کا کفر پروردگار کے نزدیک غضب کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہیں کرتا" (وَلا يَزِيدُ الْكافِرِينَ كُفْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ إِلَّا مَقْتاً)۔ "اور ان کا کفر خسارے کے سوا ان کے لیے کچھ بھی زیادہ نہیں کرتا" (وَلا يَزِيدُ الْكافِرِينَ كُفْرُهُمْ إِلَّا خَساراً)۔ درحقیقت آخری دو جملے " فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُ" کی تفسیر ہیں کیونکہ یہ جملہ کہتا ہے کہ انسان کا کفر صرف اس کے اپنے نقصان پر تمام ہوتا ہے اس کے بعد اس مسئلے کے لیے دو دلیلیں قائم کرتا ہے: پہلی دلیل یہ ہے کہ یہ کفران اور بےایمانی ان کے پروردگار کے ہاں کہ جو تمام نعمتوں کا بخشنے والا ہے اس کے غضب کے سوا کوئی نتیجہ نہیں رکھتی۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ خشمِ الٰہی کے علاوہ یہ کفر گھاٹے کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہیں کرتا، وہ اپنی ہستی کا سرمایہ اپنے ہاتھ سے دے بیٹھتے ہیں اور انحطاط اور ظلمت کو اپنے لیے خرید لیتے ہیں، اس سے زیادہ اور کیا نقصان ہو گا؟ ان دونوں میں سے ہر ایک دلیل اس غلط روش کو باطل کرنے کے لیے کافی ہے۔ "لايزيد" (زیادہ نہیں کرتا) کی تکرار وہ بھی فعلِ مضارع کی شکل میں کہ جو استمرار کی دلیل ہے، اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ انسان طبعی طور پر افزائش کی جستجو میں ہوتا ہے۔ اگر وہ توحید کا راستہ اختیار کر لے تو سعادت و کمال میں افزائش ہو گی اور اگر کفر کی راہ میں قدم رکھے گا تو اسے پروردگار کے غضب اور خسارے میں اضافہ نصیب ہو گا۔ اس نکتے کی یاددہانی بھی ضروری ہے کہ پروردگار کا غضب اور غصہ اس معنی میں نہیں ہے کہ جو انسانوں میں ہوتا ہے کیونکہ انسان میں تو غصہ ایک قسم کا ہیجان اور اندرونی برافروختگی ہے کہ جو تند و تیز اور شدید حرکات کا سرچشمہ ہوتی ہے اور انسانی قوتوں کو دفاع کے لیے یا انتقام لینے کے لیے مجتمع کرتی ہے لیکن پروردگار میں ان مفاہیم میں سے کوئی بھی بات نہیں۔ اور یہ تو متغیر اور ممکن موجودات کے آثار ہیں۔ بلکہ غضبِ الٰہی سے مراد ایسے لوگوں سے کہ جو بُرے اعمال کے مرتکب ہوتے ہیں رحمت کے دامن کو کھینچ لینا اور اپنے لطف کو روک لینا ہے۔ بعد والی آیت ایک اور دوٹوک جواب مشرکین کو دیتی ہے اور انہیں یہ بات سمجھاتی ہے کہ اگر انسان کسی کی پیروی کرتا ہے یا اس سے دل لگاتا ہے تو اسے چاہیئے کہ اس کے لیے کوئی عقلی دلیل رکھتا ہو یا منقولات میں سے کوئی قطعی دلیل اس کے پاس ہو۔ قرآن کہتا ہے کہ تمہارے پاس تو ان دونوں میں سے کوئی بھی دلیل موجود نہیں ہے۔ اس صورت میں تو تم صرف دھوکے اور فریب میں مبتلا ہو۔ فرمایا گیا ہے: "ان سے کہہ دے کیا تم جعلی معبودوں کے بارے میں غور نہیں کرتے کہ جنہیں تم نے خدا کا شریک سمجھ لیا ہے، مجھے دکھاؤ تو سہی کہ انہوں نے زمین میں سے کس چیز کو پیدا کیا ہے" (قُلْ أَ رَأَيْتُمْ شُرَكاءَكُمُ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ أَرُونِي ما ذا خَلَقُوا مِنَ الْأَرْضِ)۔ [تشریحی نوٹ: "ارایتم" کا جملہ، کیا تم دیکھتے نہیں؟ کیا تم غور نہیں کرتے؟ کے معنی میں ہے لیکن بعض مفسرین نے اسے "اخبروني" (مجھے خبر دو) کے معنی میں لیا ہے۔ ہم نے پانچویں جلد میں سورہ انعام کی آیہ ۴۰ کے ذیل میں تفصیلی بحث کی ہے]۔ "یا کیا وہ آسمانوں کی خلقت میں شریک ہیں" (أَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِي السَّماواتِ)۔ اس حال میں ان کی پرستش کی کیا دلیل ہے؟ معبود ہونا خالق ہونے کی فرع ہے اور جبکہ تم جانتے ہو کہ آسمان و زمین کا خالق تو صرف خدا ہے تو اس کے سوا کوئی اور معبود بھی نہیں ہو گا کیونکہ ہمیشہ خالقیت میں توحید، عبودیت میں توحید کی دلیل ہے۔ اب جبکہ ثابت ہو گیا کہ کوئی عقلی دلیل تمہارے مدعا کے لیے نہیں ہے تو کیا کوئی دلیل منقول تمھارے پاس موجود ہے؟ "کیا ہم نے کوئی (آسمانی) کتاب انہیں دی ہے اور اپنے اس کام کے لیے اس میں ان کے پاس کوئی واضح دلیل ہے"؟ (أَمْ آتَيْناهُمْ كِتاباً فَهُمْ عَلى بَيِّنَةٍ مِنْهُ)- نہیں کتابِ الٰہی میں سے ان کے پاس کوئی واضح دلیل اور برہان نہیں ہے۔ پس ان کا سرمایہ مکر و فریب کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ "بلکہ یہ ستمگر ایک دوسرے سے جھوٹے وعدے کرتے ہیں"۔ (بَلْ إِنْ يَعِدُ الظَّالِمُونَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا إِلَّا غُرُورًا)۔ دوسرے لفظوں میں اگر ہر گروہ کے بت پرست اور تمام مشرک یہ دعوٰی رکھتے ہیں کہ روئے زمین میں ان کے بت ان کی مرادوں کو پورا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں، تو انہیں چاہیئے کہ کوئی ایسی چیز نمونے کے طور پر پیش کریں کہ جو زمین میں ان کے معبودوں نے خلق کی ہو۔ اگر ان کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ بت فرشتوں اور آسمان کی مقدس مخلوقات کے مظہر ہیں۔ جیسا کہ ان کی ایک جماعت کا عقیدہ تھا۔ تو انہیں چاہیئے کہ آسمانوں میں ان کی خلقت کی شرکت کی نشاندہی کریں۔ اور اگر ان کا عقیدہ یہ ہے کہ خلقت میں تو شریک نہیں ہیں۔ البتہ انہیں صرف مقامِ شفاعت حاصل ہے۔ جیسا کہ بعض کا دعوٰی تھا۔ تو انہیں چاہیے کہ وہ کتبِ آسمانی سے کوئی سند اس مدعا کو ثابت کرنے کے لیے پیش کریں۔ اب جبکہ ان مدارک میں سے کوئی بھی مدرک ان کے پاس نہیں ہے تو یہ ستمگر ایسے فریب کار ہیں کہ جو جھوٹی باتیں ان سے کہتے رہتے ہیں۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ "زمین و آسمان" سے مراد یہاں زمینی اور آسمانی مخلوق کا مجموعہ ہے اور زمین کے بارے میں خلقت اور آسمان کے بارے میں شرکت کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آسمانوں میں شرکت بھی خلقت کے حوالے سے ہونا چاہیئے۔ اور "کتاباً" کی تعبیر "نکرہ" کی شکل میں اور وہ بھی پروردگار کی طرف استناد کے ساتھ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کسی بھی آسمانی کتاب میں کوئی چھوٹی سے چھوٹی دلیل بھی ان کے دعوٰی پر نہیں ہے۔ "بينة" کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ واضح و روشن دلیل آسمانی کتب سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ "ظالمون" کی تعبیر دوبارہ اسی معنی پر ایک تاکید ہے کہ "شرک" واضح اور آشکار "ظلم" ہے۔ "غرور" کے وعدوں کی تعبیر اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ بت پرست یہ خرافات و اوہام کھوکھلے وعدوں کی شکل میں ایک دوسرے سے کرتے تھے اور مروج اور بےبنیاد تقلیدوں کی صورت میں ایک دوسرے کی طرف القا کرتے تھے۔ بعد والی آیت میں آسمانوں اور زمین پر خدا کی حاکمیت کے بارے میں گفتگو ہے۔ حقیقت میں بناوٹی معبودوں کی عالمِ ہستی میں دخالت کی نفی کے بعد خالقیت و ربوبیت میں توحید کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: "خدا ہی آسمان اور زمین کو روکے ہوئے ہے تاکہ وہ اپنی راہ سے منحرف اور زائل نہ ہو جائیں" (إِنَّ اللهَ يُمْسِكُ السَّماواتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولا)۔ [تشریحی نوٹ: " أَنْ تَزُولا" کا جملہ تقدیر میں اس طرح تھا: لئلا تزولا- يا- كراهة ان تزولا]۔ نہ صرف ابتدائی خلقت ہی خدا کی طرف سے ہے بلکہ ان کی نگہداری، تدبیر اور حفاظت بھی اسی کے دستِ قدرت میں ہے بلکہ ان میں ہر لحظہ جدید تخلیقات ہوتی رہتی ہیں اور ہر زمانے میں ایک نئی خلقت ہوتی ہے اور اس مبداء فیاض سے لمحہ بہ لمحہ کا فیضِ ہستی انہیں پہنچتا رہتا ہے کیونکہ اگر ایک لمحے کے لیے بھی ان کا رابطہ اس عظیم مبداء سے منقطع ہو جائے تو وہ فنا کی راہ اختیار کر لیں: اگر نازى كند يك دم فرو ريزند قالبها "اگر وہ ایک لمحے کے لیے بھی ناز کرے تو تمام سانچے گِر پڑیں"۔ یہ درست ہے کہ آیت عالمِ ہستی کے اعلیٰ نظام کی حفاظت کا ذکر کرتی ہے لیکن جیسا کہ فلسفیانہ مباحث میں ثابت ہو چکا ہے، ممکنات اپنی بقاء میں بھی اسی طرح سے مبداء کے محتاج ہیں جس طرح سے کہ اپنے حدوث میں، لہذا اس طرح نظام کی حفاظت نئی تخلیقات کو جاری رکھنے اور فیضِ خداوندی کو جاری رکھنے کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ آسمانی کرّے بغیر اس کے کہ کسی جگہ بندھے ہوئے ہوں، ہزاروں لاکھوں سال سے اپنے معین مدار پر حرکت کر رہے ہیں۔ بغیر اس کے کہ ذرّہ برابر بھی انحراف کریں۔ اس کا نمونہ نظامِ شمسی میں دیکھتے ہیں۔ ہماری زمین کئی ملین بلکہ کئی ارب سال سے سورج کے گرد اپنے راستے پر دقیق نظم کے تحت چکر لگا رہی ہے کہ جس کا سرچشمہ قوّتِ جاذبہ اور قوّتِ واقعہ کا اعتدال ہے اور فرمانِ پروردگار پر سرتسلیم خم کیے ہوئے ہے۔ پھر تاکید کے طور پر مزید فرمایا گیا ہے: "اگر وہ یہ چاہیں کہ اپنے مدار سے باہر نکل جائیں تو کوئی بھی خدا کے سوا انہیں روک نہیں سکتا" (وَلَئِنْ زالَتا إِنْ أَمْسَكَهُما مِنْ أَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ)۔ نہ تمهارے گھڑے ہوئے بت، نہ فرشتے اور نہ ہی ان کے علاوہ کوئی اور کوئی بھی شخص اس کام پر قادر نہیں۔ آیت کے آخر میں اسی بناء پر کہ گمراہ مشرکین کے سامنے توبہ کا دروازہ بند نہ کیا جائے اور ہر مرحلے میں انہیں بازگشت کا موقع میسر رہے، فرمایا گیا ہے: "خدا ہمیشہ حلیم و غفور ہے"۔ (إِنَّهُ كانَ حَلِيماً غَفُوراً)۔ اپنے حلم کی وجہ سے ان کی سزا میں جلدی نہیں کرتا اور اپنی غفوریت کی وجہ سے ان کی توبہ اس کی شرائط کے ساتھ قبول کرتا ہے۔ اس بناء پر آیت میں مشرکین کی کیفیت اور توبه و بازگشت کے وقت خدا کی رحمت ان کے شامل حال ہونے کو بیان کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین نے ان دو اوصاف کو آسمان و زمین کی حفاظت کے ساتھ مربوط سمجھا ہے کیونکہ ان کا زوال عذاب و مصیبت ہے اور خدا اپنے حلم و غفران کی وجہ سے اس عذاب و مصیبت کو لوگوں کے دامن گیر نہیں ہونے دیتا اگرچہ ان میں سے بہت سوں کے گفتار و اعمال کا تقاضا یہی ہے کہ یہ عذاب نازل ہو۔ جیسا کہ سوره مریم کی آیات ۸۸ تا ۹۰ میں بیان ہوا ہے: وَقالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمنُ وَلَداً لَقَدْ جِئْتُمْ شَيْئاً إِدًّا تَكادُ السَّماواتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبالُ هَدًّا۔ "انہوں نے کہا کہ خدائے رحمٰن نے اپنے لیے بیٹا انتخاب کیا ہے۔ تم نے یہ کیسی بری اور تکلیف دہ بات کہی ہے؟ قریب ہے کہ آسمان اس بات کو سن کر منتشر ہو جائے اور زمین پھٹ پڑے اور پہاڑ شدت سے نیچے گِر پڑیں"۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ "ولئن زالتا" ... کا جملہ اس معنی میں نہیں ہے کہ اگر وہ زائل ہو جائیں تو خدا کے سوا کوئی بھی انہیں نہیں روکے گا بلکہ اس معنی میں ہے کہ اگر وہ مائل بہ زوال ہوں تو خدا ہی ان کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔ ورنہ زوال کے بعد محفوظ رکھنے کا کوئی مفہوم نہیں ہے۔ پوری انسانی تاریخ میں بارہا یہ امر پیش آیا ہے کہ بعض ستارہ شناسوں نے یہ پیش گوئی کی ہے کہ ممکن ہے کہ فلاں دُمدار ستارہ یا اس کے علاوہ کوئی ستارہ اپنے راستے اس کرّه زمین کے قریب سے گزرے تو اس کے ٹکرا جانے کا احتمال ہے۔ ایسی پیش گوئیوں نے کئی دفعہ تمام دنیا والوں کو پریشان کر کے رکھ دیا۔ ان حالات میں سب کو یہ احساس ہوتا تھا کہ ایسے میں کسی شخص سے کچھ نہیں ہو سکتا کیونکہ اگر فلاں کرّه آسمانی زمین کی طرف آ جائے اور قوتِ جاذبہ کے زیرِ اثر دونوں ایک دوسرے سے ٹکرا جائیں تو نوعِ بشر کے کئی ہزار سالہ تمدن کا نام و نشان مٹ جائے یہاں تک کہ دوسرے زندہ موجودات بھی صفحہ زمین پر باقی نہ رہیں، پروردگار کی قدرت کے سوا کوئی اس حادثے کو روکنے پر قادر نہیں۔ اس قسم کے حالات میں سب کے سب نیازِ مطلق کا احساس بےنیازِ مطلق خدا کی طرف ہی کریں گے، لیکن جب احتمالی خطرات برطرف ہو جائیں گے تو بھول اور نسیان انسانوں پر سایہ فگن ہو جائے گا۔ نہ صرف آسمانی کروں اور سیاروں کا ٹکرانا ہولناک ہے بلکہ کسی ایک سیارے کا مختصر سا انحراف مثلاً زمین کا اپنے مدار سے ہٹ جانا کئی ہولناک حادثوں کا سبب ہو سکتا ہے۔
اس کی قدرت کے سامنے چھوٹا بڑا سب برابر ہے
یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ زیر بحث آیات میں آسمانوں کے اپنی جگہ پر قائم رہنے کو خدا کی قدرت کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ قرآن کی دوسری آیات یہی تعبیر امواجِ ہوا کے اوپر پرندوں کی موجودگی کے بارے میں آئی ہے: أَ لَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّراتٍ فِي جَوِّ السَّماءِ ما يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا اللهُ إِنَّ فِي ذلِكَ لَآياتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ۔ کیا انہوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا کہ جو آسمان کی بلندیوں میں مسخر ہیں۔ خدا کے سوا کوئی بھی انہیں نہیں روکتا۔ اس چیز میں ایمان لانے والوں کے لیے خدا کی عظمت و قدرت کی نشانیاں ہیں"۔ (النحل - ۷۹) تعبیرات کی یہ ہم آہنگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پروردگار کی بےانتہا قدرت کے لیے تمام آسمانوں کے کرّوں اور زمین کی نگہداری امواجِ ہوا کے اوپر ایک پرندہ کی نگہداری کے مانند ہے۔ ایک مقام پر تو وہ وسیع آسمان کی خلقت کو اپنے وجود کی نشانی بتاتا ہے اور دوسری جگہ مچھر جیسے چھوٹے سے حشرہ کی خلقت کو اپنی قدرت کی نشانی قرار دیتا ہے۔ کبھی "سورج" کی قسم کھاتا ہے کہ جو عالمِ ہستی میں قوت و طاقت کا عظیم منبع ہے اور کبھی بہت ہی عام "انجیر" جیسے پھل کی قسم کھاتا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس کی قدرت کے سامنے چھوٹے بڑے میں کوئی فرق نہیں امیرالمومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں: و ما الجليل و اللطيف و الثقيل و الخفيف، و القوى و الضعيف، فى خلقه الا سواء۔ چھوٹا اور بڑا، بھاری اور ہلکا، قوی اور ضعیف سب اس کی توانائی کے سامنے یکساں ہیں۔ [بحوالہ: نہج البالغہ، خطبہ ۱۸۵]۔ ان تمام مسائل کی دلیل ایک ہی چیز ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا کا وجود ایک ایسا وجود ہے کہ جو ہر جہت سے لامتناہی ہے اور "لامتناہی" کے مفہوم پر غور و خوض اس حقیقت کو اچھی طرح ثابت کر دیتا ہے کہ "سخت" اور "آسان" "چھوٹا" اور "بڑا" "پیچیدہ" اور "سادہ" جیسے مفاہیم صرف محدود موجودات کو پیش آتے ہیں۔ جس وقت لامحدود قدرت کے بارے میں بات ہوتی ہے تو پھر یہ مفاہیم بالکل بدل جاتے ہیں اور سب کے سب بالا تفريق ایک ہی صف میں قرار پاتے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر درالمنثور، روح المعانی، مفاتیح الغیب اور دوسری تفسیروں میں ہے کہ مشرکین عرب جس وقت یہ سنتے تھے کہ بعض گزشتہ امتوں مثلاً یہودیوں نے خدائی پیغمبروں کی تکذیب کی تھی اور انہیں شہید کر دیا تھا تو کہتے تھے کہ ہم ایسے نہیں ہیں، اگر خدا کا بھیجا ہوا پیغمبر ہمارے پاس آئے تو ہم تمام امتوں کی نسبت زیادہ ہدایت قبول کرنے والے ہوں گے، لیکن وہی لوگ تھے کہ جب اسلام کا آفتاب عالم تاب ان کی سرزمین سے طلوع ہوا اور پیغمبرِ اسلامؐ سب سے عظیم کتاب لے کر ان کے پاس آئے تو نہ صرف یہ کہ انہوں نے ان کی دعوت قبول نہ کی بلکہ جھٹلایا، طرح طرح کے مکر و فریب بھی کیے اور آپؐ کے خلاف لڑے بھی۔ زیر نظر آیات اسی ضمن میں نازل ہوئیں اور انہیں ان کھوکھلے اور بےبنیاد دعووں پر ملامت و سرزنش کی۔ [تشریحی نوٹ: اکثر تفاسیر، زیرِ بحث آیات کے ذیل میں]۔
تفسیر: استکبار اور سازشیں ان کی بدبختی کا سبب
گزشتہ آیات میں مشرکین اور دنیا و آخرت میں ان کے انجام کے بارے میں گفتگو تھی زیر بحث آیات میں بھی وہی بحث جاری ہے۔ پہلی آیت کہتی ہے کہ: "انہوں نے انتہائی تاکید کے ساتھ قسم کھائی کہ اگر کوئی خبردار کرنے والا ان کے پاس آئے تو یقیناً وہ تمام امتوں کی نسبت زیادہ ہدایت یافتہ ہوں" (وَأَقْسَمُوا بِاللهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ لَئِنْ جاءَهُمْ نَذِيرٌ لَيَكُونُنَّ أَهْدى مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ)۔ [تشریحی نوٹ: چونکہ احدی مفرد ہے لہذا آیت کا مفہوم پہلی نظر میں یہ ہو گا کہ وہ امتوں میں سے ایک امت سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوں گے کہ جو احتمالاً قومِ یہود کی طرف اشارہ ہے (کیونکہ اثباتیہ جملہ میں مفرد عموم کا معنی نہیں رکھتا) لیکن جیسا کہ بعض مفسرین نے اشارہ کیا ہے کہ قرائن حال اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان کی مراد اس مفرد سے عموم تھا۔ کیونکہ وہ مبالغہ اور تاکید کے مقام پر تھے اور چاہتے تھے کہ یہ دعویٰ کریں کہ ان کے درمیان پیغمبر کے مبعوث ہونے کی صورت میں وہ سب امتوں سے آگے نکل جائیں گے]۔ "ایمان" "یمین" کی جمع ہے اور قسم کے معنی میں ہے۔ یمین اصل میں دائیں ہاتھ کے معنی میں ہے اور چونکہ قسم کھاتے اور عہد باندھتے وقت دایاں ہاتھ ایک دوسرے کے ہاتھ میں دیا جاتا ہے اس بناء پر یہ لفظ آہستہ آہستہ قسم کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ "جهد" "جہاد" کے مادہ سے سعی و کوشش کے معنی میں ہے اس بناء پر "جھد إیمانھم" کی تعبیر تاکیدی قسم کی طرف اشارہ ہے۔ جی ہاں، وہ جس وقت تاریخ کے صفحات کا مطالعہ کرتے تھے کہ جو گزشتہ امتوں خصوصا یہودیوں کی اپنے پیغمبروں سے بے وفائیوں، ناشکریوں، وعدہ شکنیوں اور جرائم کی داستان بیان کرتی تھی تو بہت تعجب کرتے تھے اور اپنے بارے میں دعوے اور لاف زنی کیا کرتے تھے۔ لیکن جب تجربے کی کسوٹی اور امتحان کی گرم بھٹی سے گزرے ان کی خواہش کے مطابق اللہ کی طرف سے رسول آگیا تو انہوں نے ثابت کیا کہ وہ بھی اسی قماش کے ہیں۔ جیسا کہ قرآن اسی ایت کے آخر میں کہتا ہے: "جس وقت خدا کی طرف سے خبردار کرنے والا اور ڈرانے والا ان کے پاس آیا تو فرار کرنے اور حق سے دور ہونے کے سوا ان میں کسی چیز کا اضافہ نہیں ہوا" "(فَلَمَّا جاءَهُمْ نَذِيرٌ ما زادَهُمْ إِلَّا نُفُوراً)"۔ یہ تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ پہلے بھی اپنے دعویٰ کے برخلاف حق کے طرفدار نہیں تھے۔ دینِ ابراہیمی کا جو حصّہ ان کے پاس تھا وہ اُسے محترم نہیں سمجھتے تھے۔ ہر روز کسی بہانے سے اسے پاؤں کے نیچے روندتے تھے۔ "مستقلات عقلیہ" اور حکمِ عقل کی قدر و قیمت کے بھی قائل نہیں تھے۔ جب پیغمبرِ اسلام نے قیام کیا اور ان کے جاہلانہ تعصب اور ناجائز مفادات پر زد پڑی تو وہ حق سے اور زیادہ دور ہو گئے۔ ہاں! وہ ہمیشہ سے حق سے دُور ہی تھے اور اب یہ دُوری ہر زمانے کی نسبت زیادہ ہو گئی تھی۔ بعد والی آیت اسی بات کی تشریح ہے کہ جو گزشتہ آیت میں گزر چکی ہے، یہ آیت کہتی ہے: "حق سے ان کی دوری اس بناء پر تھی کہ انہوں نے زمین میں تکبر کی راہ اختیار کر رکھی تھی اور حق کے سامنے سرِتسلیم خم کرنے کے لیے ہرگز تیار نہ ہوئے تھے" (اسْتِكْبارًا فِي الْأَرْضِ) [تشریحی نوٹ: بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ استکبار ترکیب نحوی کے لحاظ سے "مفعول لہ" ہے اور "نفور" اور حق سے دور ہونے کی علت کا بیان ہے اور "مکر السیئ" کو اس پر عطف سمجھتے ہیں اور بعض نے اسے "نفوراً" پر عطف سمجھا ہے]۔ "اور اس بناء پر بھی تھا کہ انہوں نے قبیح اور بُری چالوں کو اپنا پیشہ بنا لیا تھا" (و مکر السیئی) [تشریحی نوٹ: "مکر السیئی" جنس کی نوع کی طرف اضافت کے قبیل سے ہے جیسے علم الفقہ کیونکہ مکر ہر قسم کی چارہ جوئی اور تدبیر کے معنی میں ہے، چاہے بری ہو یا اچھی، اسی لیے کبھی اس کی خدا کی طرف بھی نسبت دی گئی ہے مثلاً " وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللهُ " (آل عمران ۵۴) لیکن "سیئ" مکر کی ایک خاص نوع ہے کہ جو حیلہ سازی اور چالبازی ہے]۔ "لیکن یہ بُری چالیں صرفت چالبازوں کے ہی دامن گیر ہوتی ہیں" (و لا يحيق المكر السيئ الا باهله)- "لا يحيق" "حاق" کے مادہ سے ہے اور اس کا معنی ہے نازل نہیں ہوتا، درستی کو نہیں پہنچتا اور احاطہ نہیں کرتا"۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہو سکتا ہے وقتی طور پر دوسرے لوگ ان کی چالوں کا شکار ہو جائیں لیکن آخرکار وہ حیلہ سازی خود حیلہ ساز کی طرف لوٹتی ہے اسے مخلوقِ خدا کے سامنے رسوا اور بدنام کرتی ہے اور بارگاہِ خدا میں شرمسار کرتی ہے اور یہی رسوائی مشرکین مکہ نے حاصل کی۔ درحقیقت یہ آیت کہتی ہے کہ انہوں نے صرف خدا کے عظیم پیغمبر سے دوری اختیار کرنے پر ہی قنات نہیں کی بلکہ آپ پر ضرب لگانے کے لیے اپنی پوری طاقت سے مدد لی اور اس کا اصلی سبب اور محرک کبر و غرور اور حق کے سامنے سرتسلیم خم نہ کرنا تھا۔ اس آیت کے آخر میں اس مستکبر، مکّار اور خیانت کار گروہ کو ایک پرمعنی اور ہلا دینے والے جملے کے ساتھ تحدید کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: "کیا انہیں گزشتہ لوگوں کے سے انجام کے علاوہ کسی اور کی توقع ہے" (فَهَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ الْأَوَّلِين)۔ [تشریحی نوٹ: "نظر" اور "انتظار" جیسا کہ راغب مفردات میں کہتا ہے کبھی ایک ہی معنی میں آتے ہیں]۔ یہ مختصر سا جمله تمام سرکش اقوام مثلاً قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود اور قوم فرعون کے بُرے اور منحوس انجام کی طرف اشارہ ہے۔ ان میں سے ہر قوم بلائے عظیم میں گرفتار ہوئی۔ قرآن نے بارہا ان کی دردناک سرنوشت کے بعض گوشوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ یہاں اسی ایک مختصر سے جملے کے ساتھ ان سب کو اس گروہ کی آنکھوں کے سامنے مجسم کر دیا ہے۔ اس کے بعد مزید تاکید کے لیے فرمایا گیا ہے: "تو سنّتِ الہٰی میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں پائے گا اور سنّتِ الہٰی میں تجھے ہرگز کوئی تغیر نہ ملے گا" (فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللهِ تَبْدِيلًا وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللهِ تَحْوِيلًا)۔ کیسے ممکن ہے کہ خدا ایک قوم کو تو کچھ اعمال کی بناء پر سزا دے لیکن کسی دوسرے گروہ کو کہ جس کا وہی طرزِ عمل ہو اسے معاف کر دے؟ کیا وہ حکیم و عادل نہیں ہے اور کیا وہ ہر کام حکمت اور عدل کی بناء پر انجام نہیں دیتا؟ سنتوں کی تبدیلی اُس کے بارے میں متصور ہوتی ہے کہ جو محدود آگاہی رکھتا ہے اور زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ایسے مسائل سے واقف ہوتا ہے کہ جو اسے گزشتہ طریقے سے باز رکھتے ہیں یا وہ کہ جو آگاہ تو ہے لیکن حکمت و عدالت کی میزان کے مطابق عمل نہیں کرتا اور مخصوص میلانات اس کی فکر پر حاوی ہوں لیکن وہ پروردگار کہ جو ان تمام امور سے منّزہ اور پاک ہے، اس کی سنت آئندہ کے لوگوں کے بارے میں بھی وہی ہے کہ جو گزشتہ لوگوں کے بارے میں تھی اس کی سنتیں ثابت اور تغیر ناپذیر ہیں۔ قرآن نے متعدد آیات میں خدائی سنتوں کے تغیر ناپذیر ہونے کا ذکر کیا ہے اس بارے میں ہم نے جلد ۹ میں سورہ احزاب کی آیہ ۶۲ کے ذیل میں تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے۔ اجمالی طور پر یہ ہے کہ اس جہان کے عالم تکوین و تشریح میں ثابت اور غیر متغیر قوانین ہیں کہ جنہیں قرآن نے نے خدائی سنتوں کے ساتھ تعبیر کیا ہے جن میں ہرگز تبدیلی اور تغیر کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ قوانین جس طرح سے گزشتہ ایام پر نافذ تھے اسی طرح آج بھی اور آئندہ کل پر بھی نافذ ہیں۔ بےایمان مستکبرین کی سزا جبکہ خدا کی طرف سے پند و نصیحت سود مند نہ ہو، اسی طرح راہروانِ راہِ حق کی مدد جبکہ وہ مخلصانہ کوشش سے دستبردار نہ ہوں۔ انہیں سنتوں میں سے ہے۔ اور یہ دونوں سنتیں گزشتہ زمانے میں بھی تغیر ناپذیر تھیں اور آج بھی تغیر ناپذیر ہیں۔ [بحوالہ: اس سلسلے میں جلد ۹ میں سورہ احزاب کی آیہ ۶۲ کے ذیل میں بحث کے علاوہ ہم نے جلد ۶ میں سورہ بنی اسرائیل کی آیه ۷۷ کے ذیل میں بھی بحث کی ہے]۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ قرآن مجید کی بعض آیات میں صرف خدائی سنتوں کے تبدیل نہ ہونے کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے (احزاب -۶۲) اور بعض دوسری آیات میں ان کے عدم تحویل کی بات ہوئی ہے۔ (بنی اسرائیل ۷۷) لیکن زیر بحث آیت میں دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ تاکید کی صورت میں لایا گیا ہے اور ارشاد ہوتا ہے کہ: "سنتِ الہٰی کے لیے تجھے نہ تبدیلی ملے گی اور نہ تحویل"۔ کیا ان دونوں کے ایک ہی معنی ہیں اور تاکید کے لیے دونوں الفاظ اکٹھے بیان ہوئے ہیں یا ان میں سے ہر ایک کسی مستقل معنی کی طرف اشارہ ہے؟ ان دونوں الفاظ کے بنیادی مفہوم کی طرف توجہ کرتے ہوئے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دونوں دو مختلف معانی کی طرف اشارہ کرتے ہیں "تبدیل" یہ ہے کہ کسی چیز کو بالکل بدل دیا جائے یعنی اسے لے جا کر کوئی دوسری چیز اس کی جگہ پر رکھ دی جائے لیکن "تحویل" یہ ہے کہ اُسی موجود کو "کیفیت" یا "کمیت" کے لحاظ سے تبدیل کر دیا جائے۔ اسی طرح سے خدائی سنتیں نہ تو بالکل بدلتی ہیں اور نہ ہی کم و بیش اور ضعیف و شدید ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ خدا مشابہ گناہوں اور جرائم کے بارے میں ہر جہت سے مشابہ سزا دیتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ایک گروہ کے لیے تو سزا ہو اور دوسرے گروہ کو معاف کر دے یا کسی گروہ کی سزا کو کم یا ہلکا کر دے۔ وہ قانون کہ جو ایک ثابت بنیاد پر استوار ہے اس میں نہ کوئی تبدیلی ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی تغیر و تبدل۔ [تشریحی نوٹ: مفسرین کی ایک جماعت نے یہاں "تحویل" کو "عذاب کے نقل مکانی" کے معنی میں تفسیر کیا ہے، اس معنی میں کہ خدا اپنی سزا ایک شخص سے اٹھا کر دوسرے کو دے دے۔ یہ تفسیر زیرِ بحث آیت سے ہم آہنگ نظر نہیں آتی۔ گفتگو یہ نہیں ہے کہ ایک شخص کو دوسرے کی جگہ سزا نہ دے بلکہ گفتگو یہ ہے کہ سزا کمی و زیادتی اور تغیر و تبدل پیدا نہیں کر سکتی۔ گویا ان مفسرین نے "تحول" کے مادہ کا "تحویل" کے ساتھ اشتباہ کیا ہے۔ بعض متون لغت مثلاً "مجمع البحرین" میں اس طرح آیا ہے: التحويل: تصيير الشيء على خلاف ما كان و التحول: التنقل من موضع الى موضع۔ "کسی چیز کا اس حالت کے برخلاف ہو جانا کہ جس پر پہلے تھی تحویل ہے"]۔ آخری نقطہ جو اس آیہ کے بارے میں نظر آتا ہے یہ ہے کہ ایک جگہ "سنت" کی اللہ کی طرف نسبت دی گئی ہے اور اسی آیت میں دوسری جگہ "سنت" کی گزرے ہوئے لوگوں کی طرف نسبت دی گئی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ پہلی نظر میں ان دونوں کے درمیان اختلاف کا خیال پیدا ہو۔ لیکن ایسا نہیں ہے کیونکہ پہلے موقع پر فاعل کی طرف اضافت ہے جبکہ دوسرے موقع پر مفعول کی طرف۔ پہلے موقع پر سنت گزار کے بارے میں گفتگو ہے اور دوسرے موقع پر اس شخص کے بارے میں گفتگو ہے کہ جس کے بارے میں یہ سنّتِ الہٰی جاری ہو گی۔ بعد والی آیت اس مشرک اور مجرم گروہ کو گزرے ہوئے لوگوں کے آثار اور ان کا انجام مشاہدہ کرنے کی دعوت دیتی ہے تاکہ انہوں نے جو کچھ تاریخ میں ان کے بارے میں سنا ہے ان کے علاقوں میں جا کر اور ان کے آثار کے اندر پہنچ کر خود اپنی آنکھ سے دیکھیں تاکہ بات عین الیقین میں بدل جائے۔ فرمایا گیا ہے: "کیا انہوں نے زمین میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ ان لوگوں کا کیا انجام ہوا کہ جو ان سے پہلے تھے"۔ (أَ وَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرُوا كَيْفَ كانَ عاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ)- اگر یہ لوگ تصور کرتے ہیں کہ یہ ان سے زیادہ طاقتور ہیں تو انتہائی غلط فہمی میں مبتلا ہیں کیونکہ وہ ان سے زیادہ قوی اور طاقتور تھے (وَكانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً)- وہ فرعونی کہ جنہوں نے سرزمینِ مصر کو اپنے اقتدار کی جولان گاہ بنایا ہوا تھا اور وہ نمرودی کہ جنہوں نے اپنی پوری طاقت و قوت کے ساتھ بابل کی وسیع سرزمین اور دوسرے ملکوں پر حکومت کی تھی اتنے قوی تھے کہ مکّہ کے بت پرست تو ان کے مقابلے میں کسی شمار و قطار میں بھی نہیں۔ علاوہ ازیں انسان خواہ جتنے بھی طاقتور اور قوی ہوں، ان کی طاقت خدا کی قدرت کے مقابلے میں صفر ہے کیونکہ کوئی چیز آسمان میں سے اور نہ ہی زمین میں سے، اس کی قدرت کے احاطے سے نہیں نکل سکتی اور نہ ہی اسے عاجز و ناتواں کر سکتی ہے ((وَما كانَ اللهُ لِيُعْجِزَهُ مِنْ شَيْءٍ فِي السَّماواتِ وَلا فِي الْأَرْضِ)۔ [تشریحی نوٹ: "لیعجزہ" جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں اعجاز سے ہے اور عاجز کرنے کے معنی میں ہے اسی بناء پر بہت سے مواقع پر قلمرو قدرت سے فرار نہ کر سکنے یا کسی پر قابو نہ پانے کے معنی میں آیا ہے]۔ وہ دانا بھی ہے اور توانا بھی، نہ کوئی چیز اس کی نگاہ سے مخفی رہ سکتی ہے اور نہ ہی کوئی کام اس کی قدرت کے سامنے مشکل ہے اور نہ ہی کوئی شخص اس پر غلبہ حاصل کر سکتا ہے۔ یہ دل کے اندھے، مستکبر اور مکّار حیلہ گر اگر یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ اس کی قدرت کے چنگل سے بھاگ کر نکل سکتے ہیں تو یہ ان کی کور چشمی ہے اور اگر وہ اپنے قبیح اور شرمناک اعمال سے دستبردار نہ ہوں گے تو وہ بھی آخرکار گزرے ہوئے سرکشوں کے سے ہولناک انجام میں گرفتار ہوں گے۔ قرآنِ مجید میں بارہا یہ مطلب ہمارے سامنے آیا ہے کہ خدا بےایمان اور سرکش افراد کو زمین میں سیر کرنے اور ان اقوام کے آثار کا مشاہدہ کرنے کی دعوت دیتا ہے جو عذابِ الہٰی میں گرفتار ہوئے۔ سورہ روم کی آیہ ۹ میں ہے: أَ وَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرُوا كَيْفَ كانَ عاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ كانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَأَثارُوا الْأَرْضَ وَعَمَرُوها أَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا وَجاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّناتِ فَما كانَ اللهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلكِنْ كانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ- "کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی تاکہ وہ دیکھتے کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوا کہ جو ان سے پہلے تھے۔ وہی کہ جو ان سے زیادہ قوت رکھتے تھے اور انہوں نے زمین کو دگرگوں کیا اور زمین پر اُن کی آبادی ان سے زیادہ تھی اور ان کے پیغمبر واضح دلائل کے ساتھ ان کے پاس آتے تھے مگر وہ اپنی خودسری پر قائم رہے اور خدا کے دردناک عذاب میں گرفتار ہوئے، خدا نے ہرگز ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود ہی اپنے اوپر ظلم کیا۔ یہی مطلب سورۃ یوسف کی آیہ ۹ میں، سورہ حج کی آیہ ۴۶ میں، سورۃ مومن کی آیہ ۱۲۱ اور ۸۲ میں اور سورہ انعام کی آیہ ۱۱ میں اور قرآن کی بعض دوسری سوتوں میں بھی بیان ہوا ہے۔ یہ مکرّر تاکیدیں انسانوں کے نفوس میں ان مشاہدات کے بہت اثر انداز ہونے کی دلیل ہیں۔ انہیں ان مقامات پر جانا چاہیے اور جو کچھ انہوں نے تاریخ میں پڑھا ہے یا لوگوں سے سنا ہے اسے انکھ سے دیکھنا چاہیے۔ وہ جائیں اور فرعونوں کے الٹے ہوئے تخت، بادشاہانِ کسریٰ کے ویران محلات، قیصروں کی اکھڑی ہوئی قبروں اور نمرودوں کی بوسیدہ اور خاک شدہ ہڈیوں اور قومِ لوط و ثمود کی تباہ شدہ سرزمینوں کو قریب سے دیکھیں خاموش آثار کے پند و نصائح سنیں، مٹی کے اندر سونے والوں کی فریادوں پر کان دھریں اور جو کچھ انجام کار ان کے اوپر آنے والا ہے اسے اپنی آنکھ سے دیکھیں۔ [تشریحی نوٹ: ایک معاصر شاعر نے اس سلسلے میں بہت عمدہ اشعار کہے ہیں اور اس قرآنی حقیقت کو مصر کے سفر اور فراعنہ کے آثار دیکھنے کے بعد بہت ہی لطیف، پرکشش اور ہلا دینے والے اشعار میں بیان کیا ہے وہ کہتا ہے: به مصر رفتم و آثار باستان ديدم / به مصر آنچه شنيدم ز داستان ديدم بسى چنين و چنان خوانده بودم از تاريخ / به مصر از تو چه پنهان كه بر عيان ديدم تو كاخ ديدى و من خفتگان در دل خاك / هنوز در طلب ملك جاودان ديدم تو تاج ديدى و من ملك رفته بر تاراج / تو عاج ديدى و من مشت استخوان ديدم تو تخت ديدى و من بخت واژگون از تخت / تو صخره ديدى و من سخره زمان ديدم گذشته در دل آينده آنچه پنهان داشت / به مصر از تو چه پنهان كه بر عيان ديدم ترجمہ: میں مصر گیا اور آثار قدیمہ دیکھے مصر کی جو داستان سنی تھی اُسے خود دیکھا۔ بہت سی ایسی ویسی باتیں تاریخ میں پڑھی تھیں اور مصر میں بہت سی چیزیں جو تجھ سے پنہاں میں انہیں عیاں دیکھا۔ تو نے محل دیکھا اور میں نے مٹی میں سونے والے دیکھے جو ابھی تک ملک جاوداں کے طالب ہیں۔ تو نے تاج دیکھا اور میں نے تاراج شدہ ملک دیکھا، تو نے ہاتھی دانت دیکھے اور میں نے مٹھی بھر ہڈیاں دیکھیں۔ تو نے تخت دیکھا اور میں نے سرنگوں شدہ بخت دیکھا، تو نے پتھر دیکھے اور میں نے زمانے کو ان کا مذاق اڑاتے دیکھا۔ ماضی نے ہر انے والے کے دل میں جو کچھ چھپایا ہوا تھا وہ بہت کچھ مصر میں مَیں نے عیاں دیکھا ہے۔ زمین میں سیر کرنے اور خدا کے آثارِ تقوینی کا مطالعہ کرنے اور اسی طرح گزشتہ لوگوں کے آثار اور ان کے روح انسان کی تربیت کے لیے بےحد اثرات کے سلسلے میں ہم نے سورہ آل عمران کی آیہ ۱۳۸ کے ذیل میں تفصیلی بحث کی ہے]۔
اس کا لطف نہ ہوتا تو کوئی جاندار زمین پر باقی نہ رہتا
Tafsīr Nemūna · Vol. 5زیر نظر آیت سورة فاطر کی آخری آیت ہے۔ اس سورہ کی گزشتہ آیات میں تند و تیز بحثیں اور شدید تہدیدیں کی تھیں اور آخری آیت میں پروردگار کے لطف و رحمت کا بیان ہے جیسے اس سورہ کا آغاز لوگوں پر اللہ کی وسیع رحمت کے ذکر سے ہوا تھا۔ اس طرح سے اس کے آغاز و اختتام پر رحمتِ الٰہی کا بیان ہے۔ گزشتہ آیت بےایمان مجرموں کو گزشتہ لوگوں کی سرنوشت کے حوالے سے تہدید کرتی ہے، اس لیے بہت سے لوگوں کے سامنے یہ سوال ابھرتا ہے کہ اگر تمام سرکشوں کے بارے میں سنتِ الٰہی یہی ہے تو پھر مکہ کی اس مشرک اور سرکش قوم کو خدا سزا کیوں نہیں دیتا؟ اس سوال کے جواب میں فرمایا گیا ہے: "اگر خدا تمام لوگوں کو ان اعمال کی بناء پر کہ جو انہوں نے انجام دیئے ہیں سزا دے (اور اصلاح، تجدیدِ نظر اور خود سازی کے لیے انہیں کچھ بھی مہلت نہ دے) تو پھر کسی بھی جاندار کو زمین پر باقی نہ چھوڑے گا"۔ (وَلَوْ يُؤاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِما كَسَبُوا ما تَرَكَ عَلى ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّة)۔ ایسے پےدرپے عذاب نازل ہوں اور بجلیاں، زلزلے اور طوفان ظالم گنہگاروں کی سرکوبی کریں کہ زمین کسی کے لیے زندہ رہنے کی جگہ نہ رہے۔ لیکن خدا اپنے لطف و کرم سے انہیں معین زمانے تک تاخیر میں ڈالے گا اور انہیں توبہ و اصلاح کی مہلت دے گا"۔ (وَلكِنْ يُؤَخِّرُهُمْ إِلى أَجَلٍ مُسَمًّى)۔ لیکن حلم اور خدائی مہلت ایک حساب سے ہوتی ہے۔ یہ اس وقت تک کے لیے ہے کہ ان کی اجل آن پہنچے گی تو ہر شخص کو اس کے عمل کے مطابق جزا دے گا کیونکہ خدا اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے، وہ ان کے اعمال کو بھی دیکھ رہا ہے اور ان کی نیتوں سے بھی باخبر ہے"۔ (فَإِذا جاءَ أَجَلُهُمْ فَإِنَّ اللهَ كانَ بِعِبادِهِ بَصِيراً)۔ [تشریحی نوٹ: "فَإِذا جاءَ أَجَلُهُمْ" کا جملہ شرط ہے اور اس کی جزا مقدر ہے، یہ واقع میں اس طرح تھا: فإذا جاء أجلھم یجازی کل أحد بما عمل۔ اس بناء پر "فان الله" کا جملہ جزا کی علت ہے کہ جو محذوف معلول کا جانشین ہوا ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ "لا يَسْتَأْخِرُونَ ساعَةً وَلا يَسْتَقْدِمُونَ" کی جزا ہو کہ جو قرآن کی دوسری آیات مثلاً سورہ نحل کی آیہ ۶۱ میں بیان ہوئی ہے۔ تو اس بناء پر " فَإِنَّ اللهَ كانَ بِعِبادِهِ بَصِيرا" کا جملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ سب کو پہچانتا اور جانتا ہے کہ کس کی اجل آن پہنچی ہے، تاکہ اسے اپنی قدرت کے ذریعے پکڑ لے]۔ یہاں دو سوال سامنے آتے ہیں جن کا جواب اس سے کہ جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے واضح ہو جاتا ہے۔ پہلا سوال یہ ہے کہ ہم حکمِ عام کہ اگر خدا لوگوں کو ان کے اعمال کی وجہ سے سزا دے تو کوئی بھی صفحہ زمین پر باقی نہ بچے گا، انبیاء و اولیاء اور صالحین کو بھی شامل کر لیتا ہے۔ اس سوال کا جواب واضح ہے کیونکہ اس قسم کے احکام عامة الناس اور اکثریت قاطع سے متعلق ہوتے ہیں۔ انبیاء و آئمہ اور صالحین کہ جو اقلیت میں ہیں مسلمہ طور پر اس سے خارج ہیں خلاصہ یہ ہے کہ ہم استناء رکھتا ہے اور وہ اس حکم سے مستثنٰی ہیں۔ یہ بعنیہ اس طرح ہے جیسا کہ ہم کہتے ہیں اہلِ جہان غافل ہیں، حریص ہیں اور مغرور ہیں اور اس سے مراد ان کی اکثریت ہے۔ سورہ روم کی آیہ ۴۱ میں ہے: ظَهَرَ الْفَسادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِما كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ "لوگوں کے اعمال کی وجہ سے خشکی اور تری میں خرابی کا آشکار ہو گئی ہے، خدا چاہتا ہے کہ اُن کے اعمال کے بعض نتائج انہیں چکھائے تاکہ وہ پلٹ آئیں"۔ ظاہر ہے کہ یہ خرابی تمام لوگوں کے اعمال کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ اکثریت پر نظر ہے۔ اسی سورہ کی آیہ ۳۲ کہ جو انسانوں کو تین گروہوں ظالم، درمیانے اور "سابق بالخیرات" میں تقسیم کرتی ہے، اس معنی پر ایک اور گواہ ہے۔ اس بناء پر زیرِ بحث آیت عصمتِ انبیاء سے کسی قسم کا اختلاف نہیں رکھتی۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا زیر بحث آیت میں "دابة" (چلنے پھرنے والا) غیر انسانوں کے لیے بھی ہے؟ یعنی وہ بھی انسانوں کی سزا کی بناء پر ختم ہو جائیں گے۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ دوسرے جانداروں کے وجود کا فلسفہ یہ ہے کہ انسان ان سے فائده اٹھائیں اور جب نسلِ بشر ہی ختم کر دی جائے تو پھر ان کے وجود کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ [تشریحی نوٹ: "دابة" "وہیب" کے مادہ سے آہستہ آہستہ چلنے اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانے کے معنی میں ہے لیکن لغوی معنی کے لحاظ سے عام طور پر چلنے پھرنے والے کو کہتے ہیں چاہے وہ جلدی جلدی چلے یا آہستہ آہستہ لیکن کبھی کبھی "دواب" سواری کے جانوروں کے لیے بھی بولا جاتا ہے]۔ آخر میں ہم اس بحث کو پیغمبرِ اکرمؐ کی ایک حدیث کے ساتھ ختم کرتے ہیں کہ جو آخری آیت کی تفسیر میں بیان ہوئی ہے۔ اس حدیث کے مطابق پیغمبرِ اکرم صلی الله علیه و سلم فرماتے ہیں: "خداوندِ عالم نے فرمایا ہے کہ اے آدمؑ کے بیٹے تو میرے ارادے اور مشیت کے مطابق آزاد پیدا کیا گیا ہے کہ تو جو کچھ اپنے لیے چاہے اختیار کر سکتا ہے اور تو میرے ارادے کے ساتھ صاحب ارادہ ہوا ہے تو جو کچھ اپنے لیے ارادہ کرنا چاہے کر سکتا ہے۔ ان نعمتوں کے ذریعے کہ جو میں نے تجھے دی ہیں تو نے قوت حاصل کی ہے اور میری معصیت کا مرتکب ہوا ہے اور میری عطا کردہ قدرت و عافیت کے ساتھ تو میرے فرائض کو ادا کر سکتا ہے۔ اس بنا پر میں تیرے حسنات اور نیکیوں کے سلسلے میں خود تجھ سے اولیٰ ہوں اور تو اپنے گناہوں کے سلسلے میں مجھ سے اولیٰ ہے میری طرف سے ان نعمتوں کے ذریعے کہ جو میں نے تجھے دی ہیں ہمیشہ خیرات ہی پہنچی ہیں اور تیری طرف سے تیرے جرائم کی بناء پر ہمیشہ شر اور برائی تجھ تک پہنچتی ہے... میں نے تجھے انذار کرنے اور پند و نصیحت کرنے میں ہرگز کوئی کسر نہیں چھوڑی اور غرور و غفلت کے موقع پر میں نے تجھے فوراً سزا نہیں دی (بلکہ میں نے توبہ و اصلاح کے لیے تجھے کافی مہلت دی)۔ اس کے بعد پیغمبرؐ نے فرمایا کہ یہ وہی چیز ہے کہ جس کے متعلق خدا فرماتا ہے کہ: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِما كَسَبُوا ما تَرَكَ عَلى ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّةٍ "۔ [بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، ج ۴ ص ۳۷۰ بحوالہ تفسیر علی بن ابراہیم]۔ پروردگارا! ہمیں ان لوگوں میں سے قرار دے کہ جو موقع نکل جانے سے پہلے بیدار ہو جاتے ہیں اور تیری طرف پلٹ آتے ہیں اور اپنے تاریک ماضی کو حسنات کے نور اور تیری رضا سے روشن کرتے ہیں۔ بارِالہٰا! اگر تیری رحمت شاملِ حال نہ ہوتی تو وہ آگ کہ جو ہمارے برے اعمال کے اندر سے بھڑکتی ہمیں نِگل جاتی اور اگر تیری بخشش کے نور اور روشنی کا ہمارے دل پر چھڑکاؤ نہ ہوتا تو شیطان کا لشکر اس پر قبضہ کر لیتا۔ خداوندا! ہمیں ہر قسم کے شرک سے محفوظ رکھ اور ایمان اور خالص توحید کا چراغ ہمارے دل میں روشن فرما اور ہماری گفتار و اعمال میں تقوٰی کی روشنی زیادہ کر دے۔