Sūra 81 · 29v
Chapter 8129 verses

At-Takwir

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
التكوير
التکویر

سورہ تکویر

یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس کی ۲۹ آیات ہیں۔

سورہٴ تکویر کے مضامین

یہ مکی سوروں میں سے ہے اور مختلف قرائن اس کی گواہی دیتے ہیں، یہ سورہ اس حقیقت کو پیش کرتا ہے کہ کج فہم اور ہٹ دھرم دشمن پیغمبر اسلامؐ پر جنون کی تہمت لگاتے تھے اور یہ صورت حال زیادہ تر پیغمبر اسلامؐ کے مکہ کے قیام کے زمانے میں تھی اور ابتدائی تبلیغ میں یہ کیفیت تھی۔ دشمنوں کی کوشش تھی کہ آپؐ کی باتوں کو سنجیدہ نہ سمجھیں اور ان پر زیادہ توجہ نہ دیں۔ بہرحال، یہ سورہ دو محوروں کے گرد گھومتا ہے۔ پہلا محور اس سورہ کے آغاز کی آیتیں ہیں جو قیامت کی نشانیوں، اس جہان کے آخر میں عظیم تبدیلیوں اور قیامت کے آغاز کو بیان کرتی ہیں۔ دوسرے محور میں قرآن کے لانے والے کی عظمت اور قرآن کی نفوس انسانی میں تاثیر کی گفتگو ہے۔ اس حصہ میں دل ہلا دینے والی اور بیدار کرنے والی قسمیں ہیں۔

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت

اس سورہ کی اہمیت اور تلاوت کے بارے میں کئی حدیثیں منقول ہیں، منجملہ ان دیگر احادیث کے علاوہ ایک حدیث میں پیغمبر اسلامؐ سے مروی ہے کہ: من قراء سورة اذا الشمس کورت اعاذ اللہ تعالی ان یفضحہ حین تنشر صحیفتة۔ "جو شخص "اذا الشمس کورت" کو پڑھے خدا اسے اس وقت ہر رسوائی سے محفوظ رکھے گا جب اعمال نامے کھولے جائیں گے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، ج ۱۰، ص۴۴۱)۔ ایک اور حدیث میں آنحضرتؐ ہی سے منقول ہے کہ آپؐ نے فرمایا: "من احب این ینظر الیّ یوم القیامة فلیقراء اذا الشمس کوّرت" "جو شخص چاہتا ہے کہ قیامت میں میرا دیدار کرے تو سورہٴ "اذا الشمس کورت" کی تلاوت کرے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، ج ۱۰، ص۴۴۱)۔ یہ حدیث ایک اور طرح سے بھی نقل ہوئی ہے: من سرہ ان ینظر الیّ یوم القیامة (کانہ رأی عین) فلیقراء "اذا الشمس کوّرت" و "اذا السماء انفطرت" و اذا السماء انشقت"۔ جو شخص دوست رکھتا ہے کہ قیامت میں مجھے دیکھے (گویا آنکھ سے دیکھے) تو وہ سورہٴ "اذا الشمس" اور "اذا السماء انفطرت" اور "اذا السماء انشقت" کی تلاوت کرے اس لئے کہ ان سوروں میں قیامت کی نشانیاں اس طرح بیان ہوئی ہیں کہ تلاوت کرنے والے کو گویا صیحہٴ قیامت سے دوچار کر دیتی ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر قرطبی، جلد۱۰، صفحہ ۷۰۱۷۔ اس حدیث کے معنی کا سابقہ حدیث میں بھی احتمال ہے)۔ ایک اور حدیث میں ہمیں ملتا ہے کہ پیغمبر اسلامؐ سے لوگوں نے عرض کیا کہ آپؐ پر اس قدر جلد کیوں بڑھاپے کے آثار نمایاں ہو گئے ہیں تو آپؐ نے فرمایا: شیبتی ھود و الواقعة و المرسلات و عم یتساءلون و اذا الشمس کوّرت۔ "سورہٴ ہود، واقعہ، مرسلات، عم اور اذا الشمس کورت نے مجھے بوڑھا کر دیا۔ اس لئے کہ قرآن کے ہولناک حوادث کی ان میں اس طرح تصویر کشی کی گئی ہے کہ ہر بیدار انسان کو جلد بوڑھا کر دیتی ہے۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ۵، ص ۵۱۳)۔ امام جعفر صادق علیہ السلام سے بھی ایک حدیث مروی ہے کہ جو شخص سورہ "عبس و تولیٰ" اؤ "اذا الشمس کورت" کو پڑھے تو پروردگار کے لطف و کرم کے زیر سایہ وہ جنتِ جاوداں میں ہو گا اور خدا کے نزدیک یہ کوئی اہم چیز نہیں ہے کہ وہ ارادہ کرے۔ (بحوالہ: ثواب الاعمال مطابق نقل نور الثقلین، جلد ۵ ص ۵۱۲)۔ جو تعبیریں مندرجہ بالا آیتوں میں آئی ہیں وہ بتاتی ہیں کہ مراد ایسی تلاوت ہے کہ آگاہی اور ایمان و عمل کا سرچشمہ قرار پائے۔

1
81:1
إِذَا ٱلشَّمۡسُ كُوِّرَتۡ
جس وقت سورج کو لپیٹا جائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
81:2
وَإِذَا ٱلنُّجُومُ ٱنكَدَرَتۡ
اور جس وقت ستارے بے نور ہو جائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
81:3
وَإِذَا ٱلۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ
جس وقت پہاڑ چلنے لگیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
81:4
وَإِذَا ٱلۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ
جس وقت نہایت قیمتی مال فراموش کر دیا جائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
81:5
وَإِذَا ٱلۡوُحُوشُ حُشِرَتۡ
جس وقت وحوش کو جمع کیا جائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
81:6
وَإِذَا ٱلۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ
جس وقت دریا جوش مارنے لگیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
81:7
وَإِذَا ٱلنُّفُوسُ زُوِّجَتۡ
جس وقت ہر شخص اپنے جیسے کا قریبی قرار دیا جائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
81:8
وَإِذَا ٱلۡمَوۡءُۥدَةُ سُئِلَتۡ
جس وقت زندہ درگور لڑکیوں سے سوال کیا جائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
81:9
بِأَيِّ ذَنۢبٖ قُتِلَتۡ
کہ ان کو کس گناہ کی پاداش میں قتل کیا گیا؟

تفسیر جس دن کائنات کے دفتر کو لپیٹ دیا جائے گا

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

اس سورہ کے آغاز میں جیسا کہ ہم نے کہا ہے، مختصر، ہیجان انگیز اور دل ہلا دینے والے اشاروں کے ساتھ اس جہاں کے اختتام اور قیامت کی ابتداء کے ہولناک حوادث سے ہمارا آمنا سامنا ہے۔ یہ حوادث ہمیں عجیب و غریب جہانوں کی سیر کراتے ہیں، پروردگار عالم ان نشانیوں میں سے آٹھ نشانیوں کو بیان کرتا ہے۔ پہلے ارشاد فرماتا ہے: "اس وقت جب سورج کا دفتر لپیٹ دیا جائے گا" (إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ)۔ "کورت"، "تکویر" کے مادہ سے اصل میں کسی چیز کے لپیٹنے اور جمع کرنے کے معنی میں ہے۔ (مثلاً سر پر عمامہ لپیٹنا) یہ ایسا مفہوم ہے جو لغت و تفسیر کی بہت سی کتب سے معلوم ہوتا ہے کبھی کسی چیز کے پھینک دینے اور تاریک ہونے کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ دونوں معانی اسی اصلی مضمون کی طرف لوٹتے ہیں۔ بہرحال، یہاں مراد سورج کی روشنی کا بجھ جانا ہے، اس کا تاریک ہونا، یعنی اس کے وجود کا ختم ہو جانا ہے، ہمیں معلوم ہے کہ فی الحال سورج ایک کرّہ ہے، حد سے زیادہ گرم اور جلتا ہوا، اس قدر کہ اس کا تمام مواد تہہ بہ تہہ گیس کی شکل میں نکل آیا ہے اور اس کے ارد گرد جلانے والے شعلے موجود ہیں جن کی بلندی لاکھوں میٹر ہے۔ اگر کرہٴ زمین ان میں سے کسی شعلے کی درمیان الجھ جائے تو ایک ہی لمحہ میں خاک ہو کر تھوڑی سی گیس میں تبدیل ہو جائے لیکن اس جہان کے آخر میں قیامت کی ابتداء پر جو حرارت ختم ہو جائے گی اور شعلے بجھ جائیں گے، اس کی روشنی بھی ختم ہو جائے گی اور اس کے حجم میں کمی ہو جائے گی۔ تکویر کے یہ معنی ہیں۔ اسی لئے لسان العرب میں آیا ہے: (کورت الشمس جمع ضوء ھا ولف کما تلف العمامۃ) سورج کی تکویر کے یہ معنی ہیں کہ اس کی روشنی سمٹ جائے گی اور لپیٹ دی جائے گی جس طرح عمامہ کو لپیٹتے ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کی موجودہ علم بھی تائید کرتا ہے۔ سورج کی روشنی آہستہ آہستہ تاریکی کی طرف جا رہی ہے۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "اور جس وقت ستارے بےنور ہو کر غائب ہو جائیں گے" (وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْ)۔ "انکدرت"، "انکدار" کے مادہ سے گرنے اور پراگندہ ہونے کے معنی میں ہے اور کدورت کی اصل کے پیش نظر تیرگی اور تاریکی کے معنی میں ہے۔ زیر بحث آیت میں ان دونوں کا جمع ہونا بھی ممکن ہے اس لئے کہ آغاز قیامت میں ستارے اپنی روشنی کھو بیٹھے گے، منتشر ہو جائیں گے اور گر پڑیں گے اور عالم بالا کا نظام درہم برہم ہو جائے گا جیسا کہ سورہٴ انفطار کی آیت ۲ میں آیا ہے: (وَإِذَا الْكَوَاكِبُ انتَثَرَتْ) "اور جب ستارے گر کر منتشر ہو جائیں گے" اور جیسا کہ سورہ مرسلات کی آیت ۸ میں آیا ہے (فَإِذَا النُّجُومُ طُمِسَتْ) اور جب ستارے مٹ جائیں گے اور تاریک ہو جائیں گے" قیامت کی تیسری نشانی کے سلسلہ میں فرماتا ہے: "اور جب پہاڑ چلنے لگیں گے" (وَإِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ)۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے کہ قرآن کی مختلف آیتوں سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آغاز قیامت میں پہاڑ مختلف مراحل طے کریں گے۔ پہلا مرحلہ یہ کہ وہ چلنے لگیں گے اور آخری مرحلہ میں غبار میں تبدیل ہو جائیں گے۔ (اس سلسلہ میں مزید تشریح اسی جلد میں سورہٴ نبا کی آیت ۲۵ میں ملاحظہ فرمائیں)۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "جس وقت نہایت قیمتی اموال فراموشی کے حوالے ہو جائیں گے" (وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ)۔ "عشار" جمع "عشراء" کی جو دراصل حاملہ اونٹنی کے معنی میں ہے جس کے حمل کو دس ماہ گذر چکے ہوں اور وہ بچہ جننے کے قریب ہو یعنی زیادہ وقت نہ گزرے گا کہ وہ ایک اور اونٹ کو جنم دے گی۔ اور بہت زیادہ دودھ اس کے پستانوں میں ظاہر ہو گا۔ جس وقت یہ آیتیں نازل ہوئیں تو عرب میں اس قسم کے اوٹنی بہت قیمتی شمار ہوتی تھی۔ "عطلت" تعطیل کے مادہ سے سرپرست اور چرواہے کے بغیر چھوڑ دینے کے معنی میں ہے، مراد یہ ہے کہ اس دن ہولناکی اس قدر شدید ہو گی کہ ہر انسان اپنے نفیس ترین مال کو فراموش کر دے گا۔ مرحوم طبرسی مجمع البیان میں نقل کرتے ہیں کہ بعض مفسرین نے عشار کو بادل کے معنی میں لیا ہے اور "عطلت" بارش کے معطل ہو جانے کے معنی میں ہے۔ یعنی اس دن آسمان پر بادل تو ظاہر ہوں گے لیکن برسیں گے نہیں۔ (ہو سکتا ہے یہ بادل مختلف گیسوں سے ہوں، یا ایٹمی بادل ہوں، یا گرد و غبار کے تودے جو پہاڑوں کے ریزہ ریزہ ہو جانے سے آغاز قیامت میں ظاہر ہوں گے)۔ لیکن طبرسی مزید کہتے ہیں کہ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ عشار کی تفسیر بادلوں سے کرنا ایسی چیز ہے جو لغت عرب میں معروف نہیں ہے لیکن اس مطلب کی طرف توجہ سے جو "طریحی" نے مجمع البحرین میں نقل کیا ہے کہ "عشار" اصل میں حاملہ اونٹنیوں کے معنی میں ہے اور اس کے بعد بار بردار کو کہا گیا ہے۔ ممکن ہے بادلوں پر بھی اس اطلاق عام طور پر پانی کا بوجھ اٹھانے کی وجہ سے ہو اگرچہ وہ بادل جو آغاز قیامت میں نمودار ہوں گے بار بردار نہیں ہوں گے (غور کیجئے)۔ بعض مفسرین نے "عشار" کی تفسیر گھروں اور زرعی زمینوں سے کی ہے جو عرصہٴ محشر میں بیکار ہو جائیں گی اور ساکنوں اور زراعت کرنے والوں سے محروم ہوں گی۔ لیکن پہلی تفسیر سب سے زیادہ مشہور ہے۔ بعد میں آیت میں مزید ارشاد ہوتا ہے: "اور جس وقت وحشی جانور اکھٹے کئے جائیں گے" (وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ)۔ وہی جانور جو عام حالات میں ایک دوسرے سے دور تھے اور ڈرتے تھے۔ عرصہٴ قیامت کے ہولناک حوادث کی وحشت کی شدت ایسی ہو گی کہ ان کو ایک دوسرے کے گرد جمع کر دے گی اور وہ ہر چیز کو بھول جائیں گے، گویا وہ چاہیں گے کہ اپنے اس اجتماع سے اپنے خوف و وحشت میں کمی کریں۔ دوسرے لفظوں میں جس وقت وہ ہولناک مناظر وحشی جانوروں سے ان کے مخصوص خواص چھین لیں گے تو انسانوں سے کیا سلوک کریں گے۔ لیکن بہت سے مفسرین کا نظریہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت قیامت کی عدالت میں وحشی جانوروں کو جمع ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وہ بھی اپنے عالم میں اور اپنی آگاہی اور شعور کے حدود میں رہتے ہوئے جواب دہی کے پابند ہیں اور اگر انہوں نے ایک دوسرے پر ظلم و ستم کیا ہو گا تو وہاں ان سے بدلہ لیا جائے گا۔ اس آیت کی سورہٴ انعام کی آیت ۳۸ کے ساتھ مشابہت ہے کہ جو کہتی ہے کہ: (وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلاَ طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلاَّ أُمَمٌ أَمْثَالُكُم مَّا فَرَّطْنَا فِي الكِتَابِ مِن شَيْءٍ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ) کوئی زمین میں چلنے والا اور کوئی پرندہ جو اپنے دونوں پَروں سے پرواز کرتا ہے موجود نہیں مگر یہ کہ وہ تمہاری طرح امتیں ہیں۔ ہم نے کسی چیز کو اس کتاب میں چھوڑا نہیں ہے، اس کے بعد تم اپنے پروردگار کی طرف محشور ہوں گے۔ (جانوروں کے حشر و نشر اور حساب و کتاب کے سلسلہ میں تفصیلی بحث سورہ انعام کی اسی آیت کے ذیل میں جلد ۳ ص ۳۶۹ تا ۳۷۲ ہم کر چکے ہیں)۔ جو کچھ یہاں کہا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ زیرِ بحث آیات دنیا کے اختتام اور آخرت کے آغاز کی ہولناک نشانیوں کے سلسلہ میں بحث کر رہی ہیں، لہٰذا پہلی تفسیر مناسب ہے۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے:۔ "جس وقت دریاؤں میں آگ لگ جائے گی" (وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ)۔ "سجرت"، "تسجیر" کے مادہ سے جلانے اور آگ کے ہیجان میں آنے کے معنی میں ہے۔ اور اگر قرآن کی یہ تعبیر گزشتہ زمانے میں مفسیرین کے لئے عجیب و غریب تھی تو اس وقت ہمارے لئے باعث تعجب نہیں ہے اس لئے کہ ہم جانتے ہیں کہ پانی دو عناصر، ہیڈروجن اور آکسیجن، سے مرکب ہے جو دونوں شدید طور پر قابل اشتعال ہیں۔ بعید نہیں کہ عرصہٴ قیامت میں دریا اور سمندروں کا پانی اس طرح دباؤ اور فشار میں آ جائے کہ ان کا تجزیہ ہو جائے اور یہ آگ پکڑ جائیں۔ بعض نے اس لفظ کے پر ہونے کے معنی میں تفسیر کی ہے جیسا کہ آگ سے پُر تنور کو مسجر کہا جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ عرصہ محشر کے زلزلے اور پہاڑوں کا انتشار دریاؤں اور سمندروں کے پُر ہونے کا سبب بنے یا آسمانی پتھروں کے گرنے سے وہ پُر ہو جائیں اور ان کا متلاطم پانی خشکیوں کی سطح پر جاری ہو اور ہر چیز کو غرق کر دے۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "اور جس وقت ہر شخص اپنے جیسے کا قرین ہو جائے گا (و اذا النفسوس زوّجت)۔ صالحین صالحین کے ساتھ، اور بدکار بدکار لوگوں کےساتھ، اصحاب الیمین اصحاب الیمین کے ساتھ اور اصحابِ الشمال اصحابِ الشمال کے ساتھ، اس دنیا کے برعکس جہاں سب ملے جلے ہیں، کہیں مومن کا ہمسایہ مشرک ہے اور کہیں صالح اور نیک کا ہمسایہ غیر صالح ہے۔ لیکن قیامت کے جو یوم الفصل یعنی جدائی کا دن ہے، اس میں یہ صفتیں مکمل طور پر الگ الگ اور ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں گی۔ اس آیت کی تفسیر میں دوسرے احتمالات بھی پیش ہوئے ہیں۔ منجملہ ایک یہ ہے کہ ارواح ابدان میں پلٹ آئیں گی یا جتنی نفوس رُوحوں کے ساتھ جہنمی نفسوس شیاطین کے پاس ہو جائیں گے۔ یا یہ کہ ہر انسان اپنے دوست یا رفیق کے قریب ہو گا بعد میں اس کے کہ موت ان کے درمیان جدائی ڈال دے گی یا ہر انسان اپنے اعمال کا قرین ہو گا۔ لیکن پہلی تفسیر سب سے زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ سورہ واقعہ کی آیات ۷ سے اا تک اس کی گواہ ہیں: (وَكُنتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةًO فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِO وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِO وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَO أُوْلَئِكَ الْمُقَرَّبُونَ) اس دن تم تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے۔ پہلا گروہ اصحاب میمنہ کا ہے۔ کیا کہنا اصحاب میمنہ کا۔ دوسرا گروہ اصحاب شمال کا ہے وہ کیا ہی منحوس گروہ ہے اور تیسرا گروہ سبقت کرنے والوں کا ہے اور سبقت کرنے والے ہی مقربین ہیں۔ حقیقت میں یہ آیت ایسی تبدیلیاں جو قیامت کی تمہید ہیں، ان کے ذکر کے بعد اس عظیم دن کے ہر اول دستے کی طرف اشارہ کرتی ہے اور وہ ایسا دن ہے جس میں ہر شخص اپنے قرین کے ہمراہ ہو جائے گا۔ اس کے بعد قیامت کے ایک حادثہ کو موضوع بناتے ہوئے مزید فرماتا ہے: "جس وقت زندہ درگور لڑکیوں سے سوال کیا جائے گا" (وَإِذَا الْمَوْؤُودَةُ سُئِلَتْ)۔” کہ وہ کس جرم میں قتل کی گئی ہیں" (بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ)۔ "مَوْؤُودَةُ" "وأد" (بروزن رعد) اس کی لڑکی کے معنی میں ہے جسے زندہ دفن کر دیا گیا ہو بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس کے اصل معنی ثقل، بوجھ اور سنگینی کے ہیں اور چونکہ ان لڑکیوں کو قبر میں دفن کرتے تھے اور ان پر مٹی ڈال دیتے تھے اس لئے یہ تعبیر ان کے لئے استعمال کی گئی ہے۔ بعض روایات کے نتیجہ میں اس آیت کی تفسیر کو وسعت دی گئی ہے یہاں تک کہ ہر قسم کے قطع رحم یا مودة اہل بیت کو قطع کرنا اس میں شامل ہے۔ (بحوالہ: تفسیر برہان، جلد۴، ص۴۳۲، حدیث ۷ و ۱۱)۔ ایک حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ جس وقت اس آیت کی تفسیر کے متعلق سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: (من قتل فی مودتنا) اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو ہماری محبت کی راہ میں قتل کر دیئے گئے ہیں۔ ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ اس بات کی گواہ آیت قربیٰ ہے (قل لا اسئلکم علیہ اجراً الا المودة فی القربیٰ) "کہہ دے میں تبلیغ نبوت کے سلسلہ میں تم سے کسی قسم کا اجر نہیں چاہتا سوائے اپنے اہل بیت کی مودة کے"۔ (سورہ شوریٰ۔۲۳)۔ (بحوالہ: تفسیر برہان، جلد۴، ص۴۳۲، حدیث ۷ و ۱۱)۔ البتہ آیت کا ظاہری مفہوم وہی پہلی تفسیر ہے لیکن اس میں اس قسم کے مفہوم کی صلاحیت ہے۔

چند نکات ۱۔ لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا

عربوں کے زمانہٴ جاہلیت کے درد ناک ترین اور نہایت وحشیانہ مظاہر میں سے ایک مظہر لڑکی کا زندہ درگور کر دینا ہے جس کی طرف قرآن مجید میں بارہا اشارہ ہوا ہے۔ اگرچہ بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ یہ قبیح رسم عربوں میں عام تھی۔ صرف قبیلہ کندہ یا بعض دوسرے قبائل میں تھی۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ اقدام کچھ عجیب نہیں سمجھا جاتا تھا۔ ورنہ قرآن اس بارے میں اتنی تاکید کے ساتھ بار بار گفتگو نہ کرتا۔ بہرحال، یہ کام اس قدر وحشت ناک تھا کہ اس کا کبھی کبھی ہونا بھی نہایت قبیح امر ہے۔ مفسرین نے کہا ہے کہ عربوں کے زمانہٴ جاہلیت میں جس وقت عورت کے وضع حمل کا وقت قریب آتا تو زمین میں ایک گڑھا کھود دیتے اور اس کے اوپر بیٹھ جاتے اگر نوزائیدہ بچہ لڑکی ہو تو اس کو اس گڑھے میں پھینک دیتے اور اگر لڑکا ہوتا تو اسے زندہ رہنے دیتے۔ اسی لئے ان کے شعراء میں سے ایک شاعر اس سلسلہ میں فخریہ لہجہ میں کہتا ہے: سمیتھا اذا ولدت تموت و القبر صھو ضامن ذمیت میں نے اس نوزائیدہ لڑکی کا نام اس کی ولادت کے وقت تموت رکھا (جس کے معنی مر جائے گی) اور قبر میرا داماد ہے جس نے اسے اپنی بغل میں لے لیا اور اسے خاموش کر دیا۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱۰، ص ۴۴۴)۔

اس جرم کے مختلف اسباب و عوامل تھے

زمانہٴ جاہلیت میں عورت کا ایک انسان کے لحاظ سے بےقدر و قیمت ہونا اس شدید فقر و فاقہ کی کیفیت کا نتیجہ تھا جو اس معاشرہ میں مسلط تھا۔ لڑکیاں نہ تو کچھ کما کر دے سکتی تھی نہ ڈاکہ ڈالنے میں شرکت کر سکتی تھیں۔ ایک سبب اور بھی تھا اور وہ یہ کہ اس بات کا امکان تھا کہ مختلف جنگوں میں گرفتار ہو کر لڑکیاں قید ہو جائیں اور ان کی عزت و ناموس دوسروں کے قبضہ میں چلی جائے جس کے نتیجہ میں بےغیرتی کا دھبہ متعلقین کے دامن پر لگ جائے۔ یہ چند عوامل لڑکیوں کے زندہ درگور کرنے کا سبب بنے۔ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ زمانہٴ موجود میں بھی یہ رسم کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے۔ اور کچھ نہیں تو اسقاط حمل کی آزادی کی صورت میں بہت سے متمدن ممالک میں رواج پائے ہوئے ہے۔ اگر زمانہٴ جاہلیت کے عرب نوزائیدہ بچیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے تو ہمارے زمانہ متمدن انسان انھیں شکم مادر میں قتل کر دیتے ہیں اس کی مزید تشریح جلد ۶ ص ۳۷۲ پر سورہ نحل کی آیت ۵۹ کے ذیل میں ہم لکھ چکے ہیں۔ ۲۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن مجید نے اس اقدام کو اس قدر قبیح اور قابلِ نفرت قرار دیا ہے کہ روزِ قیامت دوسرے اعمال کی پرسش سے پہلے اس داد خواہی کا تذکرہ کیا ہے۔ یہ چیز اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ قانونِ اسلام کی رُو سے عام انسانوں خصوصاً بےگناہ انسانوں کے خون کی بہت شدید گرفت کی گئی ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اسلام کی نگاہ میں عورت کی کتنی قدر و منزلت ہے۔ ۳۔ ایک اور نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ ضروری ہے وہ یہ ہے کہ قرآن میں نہیں کہا کہ قاتلوں سے سوال کریں گے بلکہ کہتا ہے کہ ان معصوم بچیوں سے سوال ہو گا کہ تمہارا کیا گناہ تھا کہ اس بےرحمانہ طریقہ پر تم کو قتل کیا گیا۔ گویا قاتل اس قابل بھی نہیں ہیں کہ ان سے ان کے جرم کے بارے میں پرسش بھی کی جائے بلکہ تنہا ان مقتولین کی گواہی کافی ہے۔

10
81:10
وَإِذَا ٱلصُّحُفُ نُشِرَتۡ
جس وقت اعمال نامے کھول دیئے جائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
81:11
وَإِذَا ٱلسَّمَآءُ كُشِطَتۡ
اور جس وقت آسمان سے پردہ ہٹا دیا جائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
81:12
وَإِذَا ٱلۡجَحِيمُ سُعِّرَتۡ
اور جس وقت دوزخ دہک اٹھے گی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
81:13
وَإِذَا ٱلۡجَنَّةُ أُزۡلِفَتۡ
اور جس وقت جنت قریب کر دی جائے گی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
81:14
عَلِمَتۡ نَفۡسٞ مَّآ أَحۡضَرَتۡ
اس وقت ہر انسان جان لے گا کہ اس نے کیا کیا ہے۔

تفسیر اس دن معلوم ہو گا کہ ہم کتنے پانی میں ہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

اس بحث کے بعد کہ جو گزشتہ آیتوں میں قیامت کے مرحلے یعنی اس جہان کی ویرانی کے موضوع پر آئی تھی زیر بحث آیتوں میں اس کے دوسرے مرحلہ یعنی دوسرے عالم کے ظہور اور نامہٴ اعمال کی طرف اشارہ کر کے فرماتا ہے: "جس روز اعمال نامہ کھول دئے جائیں گے" (وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ)۔ "صحف" صحیفہ کی جمع ہے۔ یہ اس چیز کے معنوں میں ہے جو صفحہ رخ کی طرح وسیع ہو۔ اس کا اطلاق ان تختیوں اور کاغذوں پر ہوا ہے جن پر کچھ مطالب لکھتے ہیں۔ قیامت میں اعمال ناموں کے کھلنے سے مراد یہ ہے کہ جنہوں نے وہ اعمال انجام دئے ہیں ان کے سامنے اعمال ظاہر ہو جائیں گے تاکہ وہ اپنا حساب کتاب دیکھ لیں۔ جیسا کہ سورہٴ اسراء کی آیت چار میں آیا ہے: (اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا) اور ان اعمال ناموں کا دوسروں کے سامنے واضح ہونا بھی نیکو کاروں کے لئے ایک تشویق کا عنوان ہے اور بدکاروں کے لئے تشویق و سزا و رنج اور تکلیف ہے۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "اور جس وقت آسمان کے سامنے سے پردہ ہٹا دیا جائے گا" (وَإِذَا السَّمَاءُ كُشِطَتْ)۔ "کشطت" (بروزن کشف) کے مادہ سے اصل میں، جیسا کہ راغب مفردات میں کہتا ہے، جانور کی کھال اتارنے کے معنی میں ہے اور ابن منظور کے بقول "لسان العرب" میں کسی چیز کے رخ سے پردہ ہٹانے کے معنی میں بھی آیا ہے، لہٰذا جس وقت بادل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں تو یہ تعبیر استعمال ہوتی ہے۔ زیر بحث آیت میں اس سے مراد یہ ہے کہ وہ پردے جو اس دنیا میں عالم مادہ اور عالم بالا پر پڑے ہوئے ہیں یعنی لوگ فرشتوں کو یا دوزخ و جنت کو نہیں دیکھ سکتے، وہ ہٹ جائیں گے اور انسان علم ہستی کے حقائق کو دیکھ سکیں گے۔ جیسا کہ بعد والی آیت میں آئے گا کہ جہنم شعلہ ور ہو گا اور جنت انسانوں کے نزدیک ہو جائے گی جی ہاں قیامت کا دن یوم البروز ہے۔ چیزوں کی ہئیت اس دن آشکار ہو جائے گی اور آسمان کے چہرے سے پردہ ہٹ جائے گا۔ اس تفسیر کے مطابق و مندرجہ بالا آیت قیامت کے دوسرے مرحلہ کے حوادث یعنی انسانوں کی حیات تازہ کے مراحل کی گفتگو کرتی ہے۔ قبل و بعد کی آیات بھی انہی چیزوں کے حامل ہیں اور یہ بہت سے مفسرین اس آیت کو آسمانوں کے لپیٹے جانے اور قیامت کے پہلے مرحلہ یعنی اس عالم کی فنا سے متعلق سمجھا ہے، یہ بہت بعید نظر آتا ہے اور نہ یہ مفہوم قبل و بعد کی آیت کے ساتھ ہم آہنگ ہے، اس لئے بعد والی آیات میں مزید فرماتا ہے: "اور جس وقت جہنم شعلہ ور ہو گا" (وَإِذَا الْجَحِيمُ سُعِّرَتْ)۔ (وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ)۔ "بیشک دوزخ کافروں کا احاطہ کئے ہوئے ہے" (توبہ/ ۴۹) کے مطابق جہنم اب بھی موجود ہے لیکن اس دنیا کے حجابات اس کے مشاہدہ کی راہ میں حائل ہیں۔ جیسا کہ بہت سی آیات قرآنی کے مطابق جنت بھی ان پرہیزگاروں کے لئے تیار ہے۔ اسی بناء پر بعد والی آیت میں فرماتا ہے: "اور جس وقت جنت ہیزگاروں کے نزدیک کر دی جائے گی" (وَإِذَا الْجَنَّةُ أُزْلِفَتْ)۔ یہی معنی سورہٴ شعراء کی آیت ۹۰ میں بھی اس فرق کے ساتھ آئے ہیں کہ یہاں متقین کے نام کی تصریح نہیں ہوئی۔ "ازلفت"، "زلف" (بر وزن حرف) اور "زلفیٰ" (بروزن کبریٰ) کے مادہ سے نزدیکی کے معنوں میں ہے ہو سکتا ہے اس سے مراد قرب مکانی ہو یا قرب زمانی یا اسباب و مقدمات کے لحاظ سے یا پھر یہ سب امور ہوں یعنی جنت مکان کے لحاظ سے بھی مومنین کے نزدیک ہو جائے گی اور زمانِ ورود کے اعتبار سے بھی اور اس کے اسباب و علل بھی وہاں سہل و آسان ہوں گے۔ قابل توجہ یہ ہے کہ یہ نہیں فرماتا کہ نیکوکار جنت کے نزدیک ہو جائیں گے بلکہ فرماتا ہے جنت کو ان کے نزدیک کر دیں گے اور یہ بہت ہی محترم تعبیر ہے جو اس سلسلہ میں ممکن ہے۔ جیسا کہ ہم نے کہا ہے جنت اور جہنم دونوں اس وقت موجود ہیں لیکن اس دن جنت زیادہ تر نزدیک اور دوزخ ہر زمانہ کی نسبت زیادہ بھڑک رہا ہو گا۔ آخری زیر بحث آیت میں جو فی الحقیقت تمام گزشتہ آیتوں کی تکمیل کرتی ہے اور تمام شرطیہ جملوں کی جزا ہے جو گزشتہ بارہ آیتوں میں آئے ہیں، فرماتا ہے: "اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے کیا کچھ حاضر کیا ہے" (عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا أَحْضَرَتْ)۔ اور تعبیر اچھی طرح بتاتی ہے کہ انسان کے تمام اعمال وہاں حاضر ہو گے اور وہاں انسان کا علم مشاہدہ لئے ہو گا۔ یہ حقیقت قرآن کی متعدد آیات میں آئی ہے۔ سورہٴ کہف کی آیت ۴۹ میں ہم پڑھتے ہیں (وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرً) "جو کچھ انہوں نے اعمال کئے ہیں وہ اسے حاضر پائیں گے"۔ اور سورہٴ زلزال کی آخری آیات میں آیا ہے: (فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُO وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ) جس شخص نے ذرہ برابر نیک عمل کیا ہو گا وہ اسے دیکھے گا اور جس شخص نے ذرہ برابر برائی کی ہو گی وہ اسے دیکھے گا۔ یہ آیت بھی اعمال کی تجسیم کو بیان کرتی ہے اور یہ کہ انسانوں کے اعمال جو اس جہاں میں بظاہر نابود ہو جاتے ہیں، وہ حقیقتاً نابود نہیں ہوتے۔ اس دن مناسب شکلوں اور صورتوں میں مجسم ہوں گے اور عرصہٴ محشر میں حاضر ہوں گے۔

چند نکات ۱۔ نظم آیات

زیر بحث آیتوں میں اور گزشتہ آیتوں میں مسئلہ قیامت کے رابطہ سے بارہ حادثات کی طرف اشارہ ہوا ہے جن میں سے چھ حوادث پہلے مرحلہ یعنی اس جہان کی فنا سے متعلق ہیں اور چھ دوسرے حوادث چھ دوسرے مرحلہ یعنی موت کے بعد کی نئی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں۔ پہلے حصہ میں سورج کے تاریک و سیاہ ہو جانے، ستاروں کے بےنور ہونے، پہاڑوں کے تزلزل اور حرکت میں آ جانے، سمندروں میں آگ لگ جانے، اموال کو بھول جانے، اور جانوروں کے وحشت زدہ ہو جانے کے بارے میں گفتگو ہے۔ دوسرے مرحلہ میں انسانوں کے الگ الگ صفوں میں محشور ہونے، بےگناہ زندہ درگور لڑکیوں سے سوال کیے جانے، نامہ اعمال کے کھلنے، آسمانوں سے حجابوں کے ہٹ جانے، جہنم کی آگ کے بھڑک اٹھنے، جنت کے نزدیک ہونے اور آخر میں انسان کے اپنے اعمال سے مکمل طور پر آگاہ ہونے کی بات ہوئی ہے۔ یہ آیات، باوجود اختصار، اس قدر پُرمعنی اور دل ہلا دینے والی ہیں کہ ہر انسان کے وجود کو متزلزل کر دیتی ہیں اور اسے غور و فکر پر اس طرح مجبور کر دیتی ہیں کہ وہ اس دنیا کے انجام اور قیامت کی کیفیات کو مختصر عبارتوں میں اپنی آنکھوں کے سامنے مجسم دیکھنے لگتا ہے۔ کس قدر زیبا، خوبصورت اور اثر کرنے والی یہ آیاتِ قرآن ہیں اور کس قدر پُرمعنی اور الہام بخش ان کے نکات ہیں۔

۲۔ کیا نظام شمسی ختم ہو جائے گا اور ستاروں کے چراغ گل ہو جائیں گے؟

ہر چیز سے پہلے ہمیں یہ جاننا چاہئیے کہ ہمارے نظام شمسی کا یہ حیات بخش مرکز جسے ہم سورج کہتے ہیں آسمان کے باقی رہنے ستاروں کی بہ نسبت اگرچہ یہ متوسط ستارہ ہے لیکن اپنی ذات کی حد تک اور کرہٴ زمین کی نسبت بہت بڑا ہے۔ ماہرین کی تحقیقق اور ان کے مطالعوں کے مطابق اس حجم کا ایک ملین اور تین کروڑ گنا زمین کے مقابلہ میں ہے۔ البتہ یہ چونکہ ہم سے تقریباً ایک سو پچاس ملین کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے لہٰذا وہ موجود حجم میں نظر آتا ہے۔ سورج کی عظمت و وسعت کی تصویر کشی کے لئے یہی مقدار کافی ہے کہ اگر چاند اور زمین کو اس فاصلہ کے ساتھ جو اس وقت ان دونوں کے درمیان ہے سورج کے اندر منتقل کر دیں تو چاند آسانی کے ساتھ زمین کے گرد گردش کر سکتا ہے بغیر اس کے کہ وہ سورج کی سطح سے خارج ہو۔ سورج کی سطح کی حرارت چھ ہزار سینٹی گریڈ سے زیادہ ہے اور اس کے عمق کی حرارت کئی ملین درجوں سے زیادہ ہے۔ اگر ہم چاہیں کہ سورج کے وزن کو ٹنوں کے حساب سے بیان کریں تو ضروری ہے کہ ہم دو کا عدد لکھیں اور ستائیس صفر اس کے آگے لگائیں یعنی دو ارب ارب ارب ٹن۔ سورج کی سطح سے شعلہ بلند ہوتے ہیں جنکا ارتفاع کبھی تو ایک سو ساٹھ ہزار کلو میڑ ہوتا ہے اور کرہٴ زمین اس کے اندر آسانی سے گم ہو سکتا ہے، کیونکہ زمین قطرہ بارہ ہزار کلو میٹر سے زیادہ نہیں ہے۔ باقی رہا سورج کی نورانی روشنی دینے والی طاقت کا سرچشمہ، اس کے برعکس جو بعض ماہرین نے طے کر کھا ہے، وہ چلنے سے پیدا نہیں ہوتا۔ جارج گاموف اپنی کتاب "سورج کی پیدائش اور اس کی موت" میں لکھتا ہے کہ اگر سورج کا جسم خالص پتھر کے کوئلے سے بنا ہوتا اور مصر کے پہلے فرعون کے زمانے میں اسے آگ لگائی گئی ہوتی تو ضروری تھا کہ وہ اب تک سب جل چکا ہوتا اور خاک کے سوا کوئی چیز باقی نہ بچی ہوتی اور کسی قسم کے دوسرا جلنے والا مادہ اگر پتھر کے کوئلے کی جگہ ہم فرض کریں تو وہ بھی یہی اشکال رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جلنے کا مفہوم سورج پر صادق نہیں آتا۔ اس میں جو کچھ ہے وہ ایٹمی تجربوں سے حاصل شدہ طاقت ہے ہم جانتے ہیں کہ یہ طاقت (انرجی) بہت زیادہ اور بڑی ہے اس بناء پر سورج کے ایٹم انرجی کی تبدیلی میں مصروف ہیں جو ماہرین کے حساب کے مطابق ہر سیکنڈ میں چار ملین ٹن کم ہو جاتے ہیں مگر سورج کا حجم اتنا بڑا ہے کہ ہزار ہا سال گزرنے کے باوجود اس پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور اس کیفیت و وضع میں معمولی سا تغیر بھی واقع نہیں ہوتا۔ لیکن جاننا چاہئیے کہ یہی چیز ایک مدت دراز کے بعد سورج کے فنا ہو جانے کا سبب بنے گی اور آخرکار یہ جرم عظیم لاغر، کمزور، پتلا اور بےنور ہو جائے گا۔ اور یہی چیز ستاروں پر بھی صادق آتی ہے۔ (تشریحی نوٹ: اقتباس از کتب "پیدائش و مرگ خورشید" و "نجوم بی تلسکوب" اور "ساختمان خورشید")۔ اس بناء پر جو کچھ اوپر والی آیات میں سورج کے تاریک ہونے اور ستاروں کے بکھر جانے کے سلسلہ میں آیا ہے وہ ایسی حقیقت ہے جو موجودہ زمانے کے علم کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور قرآن نے اس وقت ان حقایق کو بیان کیا ہے جب نہ صرف جزیرة العرب کے ماحول میں بلکہ اس زمانے کی علمی دنیا کی محفلوں میں بھی ان مسائل کی کوئی خبر نہیں تھی۔

15
81:15
فَلَآ أُقۡسِمُ بِٱلۡخُنَّسِ
قسم ہے ان ستاروں کی جو پلٹ آتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
81:16
ٱلۡجَوَارِ ٱلۡكُنَّسِ
چلتے ہیں اور نگاہوں سے چھپ جاتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

17
81:17
وَٱلَّيۡلِ إِذَا عَسۡعَسَ
اور قسم ہے رات کی جبکہ وہ پشت پھیرے اور اختتام کو پہنچ جائے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

18
81:18
وَٱلصُّبۡحِ إِذَا تَنَفَّسَ
اور صبح کی جب وہ تنفس کرے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

19
81:19
إِنَّهُۥ لَقَوۡلُ رَسُولٖ كَرِيمٖ
کہ یہ قرآن باعظمت بھیجے ہوئے(جبرائیل امین) کا کلام ہے ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

20
81:20
ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي ٱلۡعَرۡشِ مَكِينٖ
جو صاحب قدرت ہے اور صاحب عرش اللہ کے ہاں بلند مقام کا حامل ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

21
81:21
مُّطَاعٖ ثَمَّ أَمِينٖ
فرمانروا اور امین ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

22
81:22
وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجۡنُونٖ
اور تمہارا ساتھی (پیغمبر) دیوانہ نہیں ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

23
81:23
وَلَقَدۡ رَءَاهُ بِٱلۡأُفُقِ ٱلۡمُبِينِ
اس نے اس کو (جبرائیل کو) روشن افق میں دیکھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

24
81:24
وَمَا هُوَ عَلَى ٱلۡغَيۡبِ بِضَنِينٖ
وہ اس کے بارے میں جسے اس نے وحی سے حاصل کیا ہے بخیل نہیں ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

25
81:25
وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطَٰنٖ رَّجِيمٖ
یہ قرآن، شیطان رجیم کا قول نہیں ہے۔

تفسیر وحی الہٰی اس پر نازل ہوئی

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

پروردگار عالم گزشتہ آیتوں کے بعد، جو قیامت و معاد اور اس کے مقدمات اور محشر کے عظیم دن کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں، ان آیتوں میں قرآن کی حقانیت اور پیغمبر اسلامؐ کی گفتار کے سچ ہونے کی بحث کو پیش کرتا ہے اور معاد کے بارے میں جو کچھ گزشتہ آیات میں آیا، حقیقت میں اس کی تائید کرتا ہے اور آگاہی بخشنے والی قسموں کے ساتھ ان مطالب کی تائید کرتا ہے، پہلے فرماتا ہے: "قسم ہے ستاروں کی جو لوٹتے ہیں" (فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ) (تشریحی نوٹ: یہ کہ لا اقسم میں "لا نافیہ ہے یا زائد اور تاکید کے لئے ہے مفسرین نے اس سلسلہ میں کئی بحثیں کی ہیں اور چونکہ سورہٴ قیامت کی ابتداء میں اسی جلد میں اس عنوان پر ہم بحث کر چکے ہیں لہٰذا تکرار کی ضرورت نہیں)۔ "چلتے ہیں اور نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں" (الْجَوَارِ الْكُنَّسِ)۔ "خنس"، "خانس" کی جمع ہے "خنس" (بروزن شمس) کے مادہ سے اصل میں انقباض، بازگشت اور پنہاں ہونے کے معنی میں ہے۔ اور شیطان کو اس لئے خناس کہتے ہیں کہ وہ خود کو چھپائے رکھتا ہے اور جس وقت خدا کا نام لیا جائے تو وہ منقبض ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: (الشیطان یوسوس الی العبد فاذا ذکر اللہ خنس) شیطان ہمیشہ خدا کے بندوں کو وسوسہ میں ڈالتا ہے لیکن جس وقت خدا کو یاد کریں تو پلٹ جاتا ہے۔ (بحوالہ: لسان العرب، مادہ خنس)۔ "جوار"، "جاریہ" کی جمع ہے جس کے معنی تیز رفتار کے ہیں۔ "کنس" کانس کی جمع ہے۔ "کنس" (بروزن شمس) کے مادہ سے چھپ جانے کے معنی ہیں۔ اور کناس (بروزن پلاس) پرندوں کے گھونسلوں، ہرنوں اور دوسرے وحشی جانوروں کے چھپنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ یہ کہ ان قسموں سے کیا مراد ہے بہت سے مفسرین کا نظریہ ہے کہ اس سے نظامِ شمسی کے پانچ سیاروں کی طرف اشارہ ہے جو دوربین کے بغیر دیکھے جا سکتے ہیں۔ (عطارد، زہرہ، مریخ، مشتری، زحل) اس کی وضاحت یہ ہے کہ اگر ہم پےدرپے چند راتوں کو آسمان پر نگاہیں لگائیں رکھیں تو اس حقیقت کو سمجھنے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ آسمان کے ستارے اجتماعی طور پر بتدریج طلوع ہوتے ہیں اور اکھٹے ہی غروب ہوتے ہیں بغیر اس کے ان کے فاصلوں میں کوئی تبدیلی رونما ہو۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایسے مروارید ہیں جو ایک سیاہ پارچہ پر معین و مقرر فاصلوں پر ٹانکے گئے ہیں۔ اس پارچہ کو ایک طرف سے اوپر لے جاتے ہیں اور دوسری طرف سے نیچے کھینچتے ہیں، صرف پانچ ستارے ہیں جو اس قانون کلی سے مستثنیے ہیں یعنی دوسرے ستاروں کے درمیان چلتے پھرتے رہتے ہیں۔ گویا پانچ مروارید ٹکے ہوئے نہیں ہیں اور اس پارچہ پر آزاد قرار دئے گئے ہیں اور وہ لوٹتے پوٹتے رہتے ہیں۔ یہ وہی مذکورہ بالا پانچ ستارے ہیں جو نظام شمسی کے خاندان کے ارکان ہیں اور ان کی حرکت قریب ہونے کی وجہ سے ہمیں محسوس ہوتی ہے ورنہ آسمان کے تمام ستارے ہی اس قسم کی حرکات کے حامل ہیں۔ لیکن چونکہ وہ ہم سے دور ہیں لہٰذا ہم ان کی حرکات کو محسوس نہیں کرتے۔ پھر اس نکتہ کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ علمائے ہیئت نے ان ستاروں کا نام "نجوم متحیرہ" رکھا ہے، اس لئے کہ ان کی حرکات خط مستقیم پر نہیں ہے اور اس طرح نظر آتا ہے کہ ایک مدت تک سیر کرتے ہیں پھر تھوڑا سا واپس پلٹتے ہیں۔ دوبارہ اپنی سیر شروع کر دیتے ہیں جس کے اسباب کے بارے میں علم ہیئت میں بہت سے مباحث ہیں۔ مندرجہ بالا آیات ہو سکتا ہے اس طرف اشارہ ہوں کہ یہ ستارے حرکت رکھتے ہیں (الجوار) اور اپنی سیر و حرکت میں رجوع و بازگشت رکھتے ہیں۔ (الخنس) اور انجام کار سورج کے طلوع کے وقت پنہاں ہو جاتے ہیں، اُن ہرنوں کی طرح جو راتوں کو بیابانوں میں اپنی غذا تلاش کرنے کے لئے پھرتے رہتے ہیں اور صبح کے وقت شکاریوں اور وحشی جانوروں کے خوف سے اپنا کناس اور غار میں مخفی ہو جاتے ہیں۔ (الکنس) یہ احتمال بھی ہے کہ کنس سے مراد ان کا سورج کی شعاؤں میں پوشیدہ ہونا ہے۔ اس اعتبار سے سورج کے گردش کرتے وقت کبھی اس نقطہ پر پہنچ جاتے ہیں کہ سورج کے قریب ہو جاتے ہیں اور پھر بالکل نظر نہیں آتے جسے علمائے نجوم احتراق سے تعبیر کرتے ہیں اور یہ ایک لطیف نکتہ ہے جو ان ستاروں کی وضع کیفیت کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہوتا ہے۔ بعض مفسرین کو ان ستاروں کے آسمان کے برجوں میں قرار پانے کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں۔ جو ہرنوں کے اپنے ٹھکانوں میں پنہاں ہونے سے مشابہت رکھتا ہے۔ البتہ یہ معلوم ہے کہ نظامِ شمسی کے سیارے صرف ان پانچ تک محدود نہیں ہیں اور تین دوسرے سیارے اور انوس، پلوٹون اور نپٹون بھی موجود ہیں جو صرف ان دوربینوں سے دیکھے جا سکتے ہیں جو ستاروں کو دکھاتی ہیں اور وہ کرہٴ ارض کے ساتھ مل کر نظامِ شمسی کے نو سیّاروں کو تشکیل دیتے ہیں (البتہ یہ نو سیارے ایک یا کئی چاند رکھتے ہیں جن کا حساب اس جمع سے الگ ہے)۔ "جواری" جو جاریہ کی جمع ہے اور جس کے معنی وہ کشتیاں جو چل رہی ہوں، ایک لطیف تعبیر ہے جو ان ستاروں کی آسمان کے سمندر میں حرکت اور چلنے کو کشتیوں کے سمندروں اور دریاؤں میں چلنے سے تشبیہ دیتی ہے۔ بہرحال، قرآن مجید گویا یہ چاہتا ہے کہ ان پر معنی اور ایک قسم کے ابہام کی آمیزش رکھنے والی قسموں کے ساتھ افکار انسانی کو بیدار کرے اور انھیں آسمان کے ستاروں کی عظیم فوج اور دستوں کے درمیان جو ان سیاروں کی مخصوص اور استثنائی وضع و کیفیت ہے اس کی طرف متوجہ کرے تاکہ ان اجرام فلکی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ غور و فکر کے بعد دماغِ انسانی اس عظیم دست گاہ کو عالمِ وجود میں لانے والے کی عظمت سے آشنا ہو۔ بعض مفسرین نے مندرجہ بالا آیات کی کچھ اور تفسیریں بھی کی ہیں لیکن چونکہ وہ قابل ملاحظہ نہیں لہٰذا ان کا ذکر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں جو امیر المومنین علیہ السلام سے منقول ہے، آیا ہے کہ آپ نے ان آیات کی تفسیر میں فرمایا: (ھی خمسة انجم زحل والمشتری و المریخ و الزہرہ و عطارد) وہ پانچ ستارے ہیں زحل، مشتری، مریخ، زہرہ اور عطارد۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد۱۰ ص۴۴۶)۔ پس دوسری مرتبہ قسم کھا کر فرماتا ہے: "قسم ہے رات کی جب وہ اپنے اختتام کو پہنچتی ہے۔" (وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ)۔ "عسعس"، "عسعسة" کے مادہ سے اصل میں دقیق اور ہلکی تاریکی کے معنی میں ہے اور چونکہ رات کی ابتداء اور انتہا میں تاریکی زیادہ ہلکی ہوتی ہے لہذا یہ معنی رات کے پشت پھیرنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ اور لفظ "عسعس" کا اطلاق رات کو گردش کرنے والے ملازمین پر بھی اسی مناسبت سے ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے کہا ہے اگرچہ لفظ مکمل طور پر دو مختلف معانی رکھتا ہے لیکن یہاں بعد میں آنے والی آیت کے قرینے کے پیش نظر جو صبح کی بات کرتی ہے مراد رات کا اختتام ہی ہے اور حقیقت میں اس قسم کے مشابہ ہے جو سورہ مدثر آیت ۳۳ میں آئی ہے (وَاللَّيْلِ إِذْ أَدْبَرَ) اصولی طور پر رات جیسا کہ ہم نے پہلے اشارہ کیا ہے خدا کی عظیم نعمتوں میں سے ہے جو جسم اور روح کے آرام و سکون کا باعث بھی ہے اور حرارتِ آفتاب کے اعتدال اور موجودات کی زندگی کے جاری رہنے کا سبب بھی ہے لیکن اختتام شب پر انحصار ممکن ہے اس بناء پر ہو کہ وہ روشنی اور نور کی طرف رخ کئے ہوئے ہے اس سے قطع نظر پروردگار سے مناجات اور عبادت کرنے کے لئے بہترین وقت ہے اور عالم زندگانی کے آغاز و حرکت کا لمحہ ہے۔ آخرکار تیسری اور آخری قسم کی جانب رخ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "قسم ہے صبح کی جب وہ سانس لے" (وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ)۔ کیا عمدہ اور جاذب توجہ تعبیر کی ہے۔ صبح زندہ موجود سے تشبیہ دی ہے کہ اس کے تنفس یعنی سانس لینے کی ابتداء طلوع سپیدہٴ سحری سے ہوتی ہے وہ تمام موجودات میں روحِ حیات پھونکتی ہے۔ گویا ایک کالے حبشی لشکر کے ہاتھ اور پاؤں کے نیچے اس کا سانس رک گیا تھا اور نور و روشنی کی پہلی شعاع کے چمکنے سے اس سے چنگل سے آزاد ہو کر تازہ سانس لینے لگی ہے۔ یہ تعبیر اس تعبیر کے مشابہ ہے جو سورہٴ مدثر میں رات کی قسم کے بعد آئی ہے جس میں فرماتا ہے: (و الصبح اذا اسفر) "قسم ہے صبح کی جب وہ اپنے چہرے سے نقاب ہٹائے" گویا رات کی تاریکی سیاہ نقاب کے مانند ہے جو صبح کے چہرے پر پڑی ہے۔ سپیدہٴ سحر کے وقت نقاب ہٹا کر اپنا نورانی اور حیات افزا چہرہ جو زندگی کی نشانی ہے ساری دنیا کو دکھاتی ہے۔ بعد والی آیت میں اس چیز کو جس کی خاطر یہ ساری قسمیں کھائی گئیں ہیں پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "یقینا یہ قرآن صاحب عزت اور عظیم بھیجے ہوئے کا کلام ہے۔ (جبرائیل امینؑ) جسے وہ خدا کی طرف سے اس کے پیغمبر کی طرف لایا ہے" (إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيْمٍ)۔ یہ ان لوگوں کا جواب ہے جو پیغمبر پر اتہام لگاتے تھے کہ قرآن انہی کا بنایا ہوا ہے اور اس کو خدا سے منسوب کر دیا گیا ہے۔ اس آیت میں اور بعد والی آیت میں جبرائیل امینؑ، جو خدا کے پیک وحی ہیں، ان کے پانچ اوصاف بیان ہوئے ہیں، جو درحقیقت ایسے ہیں جو ہر جامع الشرائط بھیجے جانے والے کے لئے لازمی ہیں۔ اس کی پہلی توصیف کریم ہونا ہے جو اس کے وجود کی قدر و قیمت کی طرف اشارہ ہے، جی ہاں! وہ خداوند بزرگ کی طرف سے ہے اور قیمتی وجود کا حامل ہے۔ اس کے بعد کے دوسرے اوصاف پیش کرتے ہوئے مزید فرماتا ہے: "وہ صاحبِ قدرت ہے اور عرش والے خدا کی بارگاہ میں بلند مقام کا حامل ہے"۔ (ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ)۔ (تشریحی نوٹ: "مکین"، "مکانت" کے مادہ سے مقام و منزلت کے معنوں میں ہے اور جیسا کہ راغب کے مفردات میں کلمات سے اور دوسرے مفسرین سے معلوم ہوتا ہے یہ اصل میں کون کے مادہ سے اسم مکان ہے۔ اس کے بعد کثرت استعمال کی بنا پر اسے مادہ فعل کے برابر قرار دیا گیا ہے اور تمکن اس سے مشتق ہوا ہے، تمسکن کی طرح جو سکون کے مادہ سے ہے)۔ ذی العرش خدا کی پاک ذات کی طرف اشارہ ہے۔ اگرچہ وہ تمام عالم ہستی کا مالک ہے لیکن چونکہ عرش چاہے وہ اس عالم کے معنی میں ہو جو ماورائے طبیعت ہے، یا خدا کے علم مکنون کے مقام کے معنی میں ہو بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے لہٰذا صاحب عرش کہہ کر اس کی تعریف کی گئی ہے۔ "ذی قوة" (صاحب قدرت) کی تعبیر جبرائیلؑ کے بارے میں اس بنا پر ہے کہ اس قسم کے عظیم پیغام کے حصول اور اس کے باریک بینی پر مبنی ابلاغ کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی رسالت کے حدود میں صاحب قدرت ہو اور بالخصوص ہر قسم کی فراموشی سے مبرا ہو جو ابلاغ کی راہ میں حائل ہو۔ مکین اس شخص کے معنوں میں ہے جو صاحب منزلت و مکانت ہو، بنیادی طور پر ضروری ہے کہ رسول کی شخصیت عظیم ہو تاکہ خدا کی رسالت اور نمائندگی کا فریضہ انجام دے سکے اور مقرب بارگاہ الہٰی ہو، اور یہ مسلم ہے کہ عند کی تعبیر حضور مکانی کے معنوں میں نہیں ہے، وہ اس لئے کہ خدا کوئی مکان نہیں رکھتا۔ اس سے مراد حضورِ معنوی ہے۔ چوتھی اور پانچویں توصیف میں کہتا ہے "وہ فرشتوں کا فرمانروا اور مطاع ہے" (مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ)۔ ثَمّ کی تعبیر جو اشارہ بعید کے لئے استعمال ہوتی ہے اس حقیقت کو پیش کرتی ہے کہ پیک وحیِ الٰہی عالم فرشتگان میں موردِ اطاعت ہے اور ان تمام چیزوں سے قطع نظر پیام الہٰی کے ابلاغ میں انتہائی امین ہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کبھی کبھی جبرائیل امین قرآن کے پہنچانے کے سلسلہ میں فرشتوں کے ایک عظیم گروہ کے ہمراہ آتے تھے اور یقیناً ان کے درمیان مطاع تھے، یعنی سب فرشتے ان کی اطاعت کرتے تھے اور ایک رسول و سفیر کے لئے ضروری ہے کہ اس کے تمام ہمراہی اس کی اطاعت کرتے ہوں۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ ان آیات کے موقع پر پیغمبر اکرمؐ نے جبرائیل امین سے فرمایا: ما احسن مااثنی علیک ربک: ذی قوة عند العرش مکین مطاع ثم امین فما کانت قوتک؟ وما کانت امانتک؟ تیرے پروردگار نے تیری کیا ہی عمدہ تعریف کی ہے کہ فرمایا ہے صاحبِ قدرت ہے اور صاحبِ عرش خدا کے ہاں قرب رکھتا ہے اور وہاں فرمانروا ہے اور امین ہے، لہٰذا اپنی قدرت و امانت کا نمونہ پیش کر۔ تو جبرائیلؑ نے جواب میں عرض کیا "میری قدرت کا نمونہ یہ ہے کہ میں قوم لوط کے شہروں کی تباہی پر مامور ہوا وہ چار شہر تھے اور ہر شہر میں چار لاکھ جنگجو افراد موجود تھے ان کی اولاد اس کے علاوہ تھی میں نے ان شہروں کو اٹھا لیا اور میں انہیں آسمان کی طرف لے گیا یہاں تک کے آسمان کے فرشتے ان کے جانوروں کی آواز سننے لگے۔ پھر انہیں زمین کی طرف لایا اور انہیں زیر و زبر کر دیا۔ "باقی رہا میری امانت نمونہ تو یہ ہے کہ کوئی حکم ایسا نہیں کہ جو مجھے دیا گیا ہو اور اس میں میں نے معمولی سا تجاوز بھی کیا ہو"۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد۱۰، ص ۴۴۶۔ یہی مضمون تفسیر در المنثور میں بھی زیر بحث آیات کے ذیل میں آیا ہے)۔ اس کے بعد لوگ وہ ناروا نسبت، جو پیغمبر کی طرف دیتے تھے، اس کی نفی کرتے ہوئے فرماتا ہے: تمہارا صاحب دیوانہ نہیں ہے (وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍ)۔ " صاحب" کی تعبیر جو ہمیشہ ساتھ رہنے والے رفیق، دوست اور ہم نشین کے معنی میں ہے علاوہ اس کے کہ پیغمبر تمام لوگوں کے ساتھ اخلاق و تواضع سے پیش آتے تھے اور کبھی کسی کے مقابلہ میں برتری کا دعوی نہیں رکھتے تھے۔ اس بات کی طرف اشارہ کہ آپؐ نے سالہا سال تمہارے درمیان زندگی گذاری اور تمہارے ہم نشین رہے ہیں اور تم نے انہیں عاقل و امین دیکھا ہے اور سمجھا ہے تو اب کس طرح ان کی طرف جنون کی نسبت دیتے ہو، سوائے اس کے کہ وہ بعثت کے ساتھ ایسی تعلیمات اپنے ہمراہ لائے ہیں جو تمہارے تعصبات، ہوا و ہوس اور کورانہ تقلید کے ساتھ سازگار نہیں ہیں۔ لہٰذا اس خیال سے کہ تم اپنے کو ان کے قوانین اور احکامات کی اطاعت سے بچائے رکھو، اس قسم کے اتہام ان پر لگاتے ہو۔ جنون کا الزام ان تمام الزامات میں سے ایک ہے جو، آیاتِ قرآن کے مطابق، خدا کی طرف سے آئے ہوئے پیغمبروں پر ہٹ دھرم دشمنوں کی طرف سے لگائے گئے۔ (كَذَلِكَ مَا أَتَى الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا قَالُوا سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ) بات اس طرح ہے کہ ان سے پہلے کوئی پیغمبر کسی قوم کی طرف نہیں بھیجا گیا مگر یہ کہ اس نے کہا کہ یہ ساحر اور جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔ (ذاریات۔ ۵۲)۔ ان کی منطق میں عاقل وہ شخص تھا جو فاسد ماحول میں گھل مل جائے اور ویسی ہی خواہشات کی پیروی کرے۔ جدھر کی ہوا ہو ادھر کو چلے اور ہر اصلاحی و انقلابی تحریک سے بےتعلق رہے۔ اس معیار اور ضابطے کے مطابق دنیا پرستوں کی تاریک نگاہ میں تمام پیغمبر دیوانے تھے۔ اس کے بعد پیغمبر اسلامؐ نے جبرائیل امین سے ارتباط کی تاکید کے لئے مزید فرماتا ہے: "اس نے یقینی طور پر جبرائیل کا واضح اور آشکار افق میں مشاہدہ کیا ہے"۔ (وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ)۔ افق مبین سے مراد وہی افق اعلیٰ اور فرشتوں کو آشکار کرنے والا افق ہے جس میں پیغمبر اکرمؐ نے جبرائیل کا مشاہدہ کیا۔ بعض مفسرین نے سورہ نجم کی آیت ۷ کو جس میں ہے (وھو بالافق الاعلیٰ) اس تفسیر پر شاہد سمجھا ہے لیکن جیسا کہ سورہٴ نجم کی تفسیر میں ہم بیان کر چکے ہیں۔ کہ یہ آیت اس سورہ کی باقی آیات کی طرح ایک دوسری حقیقت کو بیان کرتی ہے جو اس کی طرف رجوع کرنے سے واضح ہو گی۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ پیغمبر نے جبرائیلؑ کا ان کی اصلی شکل و صورت میں دوبارہ مشاہدہ کیا۔ ایک دفعہ آغاز بعثت میں کہ جبرائیل آنحضرتؐ کے سامنے افق بالا پر ظاہر ہوئے اور تمام مشرق و مغرب کو ڈھانپ لیا اور دوسری مرتبہ معراج میں کہ پیغمبر نے انھیں اوپر والے آسمان میں ان کی اصلی صورت میں دیکھا اور مفسرین زیرِ بحث آیت میں اسی طرف اشارہ سمجھتے ہیں۔ یہ احتمال بھی ہے کہ خدا کی مراد ایسا مشاہدہ ہو جو شہود باطنی کے لحاظ سے ہو۔ مزید وضاحت کے لئے جلد ۲۲، ص ۴۸۶ سے آگے سورہ نجم کی آیت ۵ تا ۱۳ کی طرف رجوع فرمائیے۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "پیغمبر اس چیز کے بارے میں جو اس نے بطریق وحی عالم غیب سے حاصل کی ہے بخیل نہیں ہے"۔ (وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ)۔ ہر چیز بے کم و کاست بندگان کے اختیار میں دے دیتا ہے۔ وہ بہت سے دوسرے لوگوں کے مانند نہیں کہ جب کسی اہم حقیقت پر دسترس حاصل کر لیتے ہیں تو اس کو چھپانے پر اصرار کرتے ہیں اور اکثر اس کے بیان پر بخل سے کام لیتے ہیں اور بسا اوقات ان معلومات کو اپنے ساتھ قبر میں لے جاتے ہیں۔ پیغمبرؐ ایسے نہیں ہیں وہ پورے جود و سخا کے ساتھ، جو کچھ حاصل کرتے ہیں اُسے تمام ضرورت مندوں کے سامنے بیان کر دیتے ہیں حتیٰ کہ انھیں بھی بتا دیتے ہیں جو بلندی اور قرب کے قائل ہی نہیں ہیں اس امید پر کہ شاید ہدایت حاصل کریں اور راہ حق کو اختیار کریں۔ "ضنین"، "ضنّہ" (بروزن منّہ) نفیس اور قیمتی اشیاء کے بارے میں بخل کرنے کے معنی میں ہے اور یہ ایک عیب ہے جو کبھی کسی پیغمبر میں نہیں ہوتا۔ اور اگر دوسرے افراد اپنے علوم کے بارے میں ایسے عیب کا شکار ہیں تو ہوا کریں۔ پیغمبر، جس کے علم کا سرچشمہ علمِ خدا کا بیکراں سمندر ہے، اس قسم کی باتوں سے مبرا ہے۔ پرورگارِ عالم مزید فرماتا ہے: "اور وہ شیطان رجیم کی کہی ہوئی بات نہیں ہے" (وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَانٍ رَّجِيمٍ)۔ یہ آیاتِ قرآنی ہرگز کاہنوں کی باتوں کی طرح نہیں ہیں جو شیاطین سے تعلق کی وجہ سے معلوم کر لیتے تھے، اور پھر اس حقیقت کی نشانیاں اس کے کلام سے ظاہر ہیں۔ اس لئے کہ کاہنوں کی باتیں جھوٹی ہوتی تھیں۔ ان میں بہت سے شبہات ہوتے تھے اور وہ غلطیوں کی آمیزش سے ملوث ہوتی تھیں، اور شیطانی میلانات و خواہشات کے گرد گھومتی تھیں، اس چیز کا قرآن مجید سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ حقیقت میں ان کی تہمت کا جواب ہے۔ مشرکین کہتے تھے کہ پیغمبر اسلامؐ (معاذ اللہ) کاہن ہیں اور جو کچھ وہ لائے ہیں انھوں نے شیاطین سے لیا ہے، حالانکہ شیطانی باتیں گمراہ کن ہوتی ہیں اور قرآنی آیات سراسر نورِ ہدایت اور روشنی ہیں اور یہ حقیقت قرآنی آیات کو دیکھتے ہی ثابت ہو جاتی ہے۔ لفظ "رجیم" اصل میں رجم اور "رجام" (بروزن لجام) کے مادہ سے پتھر کے معنی میں لیا گیا ہے۔ اس کے بعد ہر قسم کے دور کرنے کے معنی میں آیا ہے اور شیطان رجیم سے مراد یہاں یہی معنی ہیں، یعنی وہ شیطان جو بارگاہِ خداوندی سے نکالا گیا ہے۔

ایک نکتہ رسول کی شائستگی کی شرطیں

پانچ صفتیں جو مندرجہ بالا آیات میں جبرائیل امین کے لئے پیغمبر گرامی اسلامؐ کی طرف خدا کے بھیجے ہوئے قاصد کے عنوان کے ماتحت آئی ہے، ان میں سے دو صفتیں ایسی ہیں جو ہر رسول اور فرستادہ خدا میں سلسلہ مراتب کو نظر میں رکھتے ہوئے پائی جانی ضروری ہیں۔ پہلی صفت کرامت اور عمدہ صفاتِ نفسی کا حامل ہونا ہے جو اس کو رسالت جیسے اہم کام کا اہل بنا دیں۔ دوسری صفت قدرت کا حامل ہونا ہے۔ (ذِي قُوَّةٍ) تاکہ اپنے اثر رسالت کو قاطعیت اور توانائی کے ساتھ وہ آگے بڑھے اور ہر قسم کے ضعف و کمزوری سے دور ہو۔ اِس کے بعد اُس ہستی کی بارگاہ میں مقام و منزلت رکھنا جس کی رسالت کو اس نے قبول کیا ہے (مکین) تاکہ پیغامات کو اچھی طرح حاصل کرے اور اگر جواب کی ضرورت ہو تو بغیر کسی خوف و خطر کے اس کا ابلاغ کرے۔ چوتھی صفت یہ کہ اگر امر رسالت اہمیت رکھتا ہو تو اس کے معاون ہونے چاہئیں جو اس کی مدد کریں۔ ایسے معاون جو اطاعت گذار و فرمانبردار ہوں۔ (مطاع) آخری صفت اس کا امانت دار ہونا ہے تاکہ وہ لوگ جو اس رسول سے پیغام لیں اس پر اعتماد کریں اور اس کی گفتگو بےکم و کاست اُس کا کلام شمار ہو جس کی طرف سے وہ آیا ہے۔ جب یہ پانچ اصول پورے ہوں تو پھر حق رسالت و پیغمبری ادا ہو گا۔ اسی لئے ہم پیغمبر اسلامؐ کے حالات اور آپؐ کی تاریخ زندگی میں دیکھتے ہیں کہ آپؐ اپنے بھیجے ہوئے ایلچیوں کو احتیاط کے ساتھ، ان افراد میں سے جو ان صفات کو حامل ہوتے تھے، منتخب کرتے تھے، جس کا ایک زندہ نمونہ جناب امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی ذات ہے اور پیغمبر کی طرف سورہ براٴت کی ابتدائی آیات کی مشرکین مکہ کے سامنے ان خاص حالات میں تبلیغ ہے جس کی تفصیل سورہٴ براٴت میں آ چکی ہے۔ حضرت فرماتے ہیں: (رسولک ترجمان عقلک و کتابک ابلغ ما ینطق عنک) تیرا بھیجا ہوا تیری عقل کو نمایاں کرتا ہے اور تیرا خط تیری بات کا نہایت پر گو ناطق ہے۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، کلمات قصار، کلمہ ۳۰۱)۔

26
81:26
فَأَيۡنَ تَذۡهَبُونَ
پس تم کہاں (بہکے) جا رہے ہو؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

27
81:27
إِنۡ هُوَ إِلَّا ذِكۡرٞ لِّلۡعَٰلَمِينَ
یہ قرآن عالمین کے لئے صرف نصیحت ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

28
81:28
لِمَن شَآءَ مِنكُمۡ أَن يَسۡتَقِيمَ
ان لوگوں کے لئے جو چاہتے ہیں کہ نصیحت حاصل کریں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

29
81:29
وَمَا تَشَآءُونَ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
اور تم نہیں چاہتے سوائے اس کے جو عالمین کا پروردگار چاہے۔

تفسیر اے غافلو! کہاں جا رہے ہو؟

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

گزشتہ آیات میں یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ قرآن مجید خدا کا کلام ہے اس لئے کہ اس کے مضامین سے ہویدا ہے کہ یہ شیطانی کلام نہیں ہے بلکہ رحمن کا کلام ہے جو پیک وحی الہٰی کے ذریعہ، قدرت و امانتِ کلی کے ساتھ اس پیغمبر پر، جو انتہائی طور پر اعتدالِ عقلی کا حامل ہے، نازل ہوا ہے۔ ایسا پیغمبر جس نے تبلیغ رسالت کے سلسلہ میں کبھی بخل سے کام نہیں لیا اور جو کچھ اسے تعلیم دی گئی ہے اس نے اسے بےکم و کاست بیان کیا ہے۔ پروردگار عالم زیر بحث آیات میں مخالفین کو اس عظیم کلام کی پیروی نہ کرنے کی وجہ سے مستحق سرزنش قرار دیتا ہے اور ایک استفہام توبیخی کے ساتھ فرماتا ہے: "ان حالات میں تم کہاں جا رہے ہو" (فَأَيْنَ تَذْهَبُونَ)۔ کیوں راہ راست کو چھوڑ کر بےراہ روی اختیار کرتے ہو اور کیوں اس چراغِ فروزاں سے منہ موڑ کر تاریکی کی طرف رواں دواں ہو۔ کیا تم اس سعادت و سلامتی کے دشمن ہو؟ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "یہ قرآن تمام لوگوں کے لئے نصیحت ہی نصیحت ہے۔" (إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِينَ)۔ سب کو نصیحت کرتا ہے تاکہ وہ خواب غفلت سے بیدار ہوں اور چونکہ ہدایت و تربیت کے لئے فاعل کی صرف فاعلیت ہی کافی نہیں ہے بلکہ قابل کی قابلیت درکار ہے، لہٰذا بعد میں آنے والی آیت میں مزید فرماتا ہے: "قرآن ان لوگوں کے لئے ہدایت کا باعث ہے جو تم میں سے چاہتے ہیں کہ صراط مستقیم اختیار کریں" (لِمَن شَاءَ مِنكُمْ أَن يَسْتَقِيمَ)۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ گزشتہ آیت میں فرماتا ہے کہ قرآن تمام لوگوں کے لئے نصیحت و بیداری کا سبب ہے اور اس آیت میں صرف ایک گروہ کا ذکر کرتا ہے وہ لوگ جو ہدایت کو قبول کرنے اور راہ راست اختیار کرنے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ فرق اس بنا پر ہے کہ گزشتہ آیت فیض الہٰی کی عمومیت کو بیان کرتی ہے اور یہ آیت اس فیض سے فائدہ اٹھانے کی شرط کو قبول کرتی ہے، تمام مواہب اور نعمتیں اسی طرح ہیں کہ اصل فیض عام ہیں لیکن اس سے فائدہ اٹھانا ارادہ کی پختگی سے مشروط ہے۔ انہی معانی کو لئے ہوئے سورہ بقرہ کی آیت ۲ بھی آئی ہے (ذَلِكَ الْكِتَابُ لاَ رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ) اس کتاب میں کوئی شک و تردد نہیں ہے اور یہ پرہیز گاروں کے لئے سبب ہدایت ہے۔ بہرحال، یہ آیت ان آیات میں سے ہے جو بتاتی ہے کہ خدا نے انسان کو آزاد و مختار پیدا کیا ہے اور راہِ حق و باطل کو طے کرنے کا آخری فیصلہ اس کے اختیار میں ہے۔ یستقیم کی تعبیر جاذبِ توجہ اور عمدہ ہے جو بتاتی ہے کہ راہِ اصلی جو انسان کے سامنے قرار پائی ہے وہ راہِ ہدایت و سعادت ہے۔ باقی سب راستے منحرف کر دینے والے ہیں۔ انسان کی تمام اندرونی اور بیرونی توانائیاں مجتمع ہیں کہ اسے راہِ مستقیم پر چلائیں اور اگر افراط و تفریط، شیطانی وسوسے اور گمراہ کرنے والے پروپیگنڈے درمیان میں نہ ہوں تو انسان ندائے فطرت کے ذریعہ اس صراط مستقیم پر قدم رکھ سکتا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ خطِ مستقیم ہمیشہ مقصد کی نزدیک ترین راہ ہوتا ہے لیکن چونکہ اس بات کا امکان ہے کہ انسان کا ارادہ یہ تو ہم پیدا کرے کہ آدمی اس طرح آزاد ہے کہ اس راستے کو طے کرنے میں الہٰی توفیق کی کوئی احتیاج نہیں رکھتا تو بعد میں آنے والی آیت میں، جو اس سورہ کی آخری آیت ہے، فرماتا ہے: "تم ارادہ نہیں کرتے مگر یہ کہ عالمین اور تمام جہانوں کا پروردگار ارادہ کرے" (وَمَا تَشَاؤُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ)۔ درحقیقت ان دونوں آیات کا مجموعہ اس دقیق و ظریف مسئلہ امرٌ بین الامرین کو بیان کرتا ہے۔ ایک طرف کہتا ہے ارادہ کی پختگی تمہارے اپنے اختیار میں ہے اور دوسری طرف کہتا ہے جب تک خدا نہ چاہے تم ارادہ نہیں کر سکتے۔ یعنی اگر تمہیں مختار و آزاد پیدا کیا گیا ہے تو یہ اختیار و آزادی بھی خدا کی جانب سے ہے۔ اس نے چاہا ہے کہ تم ایسے رہو۔ انسان اپنے اعمال میں نہ مجبور ہے نہ سو فیصدی آزاد ہے نہ طریقہٴ جبر صحیح ہے نہ طریقہٴ تفویض بلکہ جو کچھ انسان کے پاس ہے وہ جسم و ہوش، عقل و تونائی، ارادہ کی پختگی کی قوت، وہ سب خدا کی جانب سے ہے اور یہی وہ حقیقت ہے جو ہمیشہ سے ایک طرف تو خالق کا محتاج و نیاز مند بناتی ہے اور دوسری طرف اس کی آزادی اور اختیار کے تقاضے کی بنا پر اسے ذمہ داری سونپتی ہے۔ " رب العالمین" کی تعبیر اچھی طرح بتاتی ہے کہ مشیت الہٰی بھی انسان اور تمام عالمین کی تربیت، تکامل اور ارتقاء کی راہ میں دخل رکھتی ہے وہ کبھی بھی نہیں چاہتا کہ کوئی گمراہ ہو اور گناہ کر کے اس کے جوار رحمت سے دور ہو۔ وہ اپنے ربوبیت کے تقاضے سے ان تمام لوگوں کی مدد کرنا چاہتا ہے کہ راہ ارتقاء میں قدم رکھیں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ مسلک جبر کے طرفدار صرف دوسری آیت سے چمٹے ہوئے ہیں جب کہ ممکن ہے کہ تفویض کے طرفدار بھی پہلی آیت سے متوسل ہوں۔ آیات کو ایک دوسرے سے جدا کرنا جو عام طور پر پہلے کئے ہوئے غلط فیصلوں کا معلول ہے، گمراہی کا سبب ہے۔ آیاتِ قرآن کو ایک دوسرے کے ساتھ رکھ کر ان کے مجموعہ سے فائدہ اٹھانا چاہئیے۔ قابلِ توجہ یہ امر ہے کہ بعض مفسرین نے نقل کیا ہے کہ جب پہلی آیت "لِمَن شَاءَ مِنكُمْ أَن يَسْتَقِيمَ" نازل ہوئی تو ابوجہل نے جو عملی طور پر نظریہ تفویض کا حامی تھا، کہا بڑا اچھا ہوا کہ تمام اختیارات ہمیں دے دئیے گئے ہیں۔ یہی موقع تھا کہ دوسری آیت نازل ہوئی "وَمَا تَشَاؤُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ۔" (بحوالہ: روح المعانی، جلد۳۰، ص۶۲۔ اور روح البیان، جلد۱۰، ص۳۵۴)۔ خداوندا! ہم جانتے ہیں کہ راہ مستقیم کو طے کرنا تیری توفیق کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ہمیں اس راہ کو طے کرنے کی توفیق عطا فرما۔ پروردگارا! ہماری خواہش ہے کہ ہم راہِ ہدایت پر چلیں تو بھی ارادہ فرما کہ اس راہ میں ہماری دستگیری فرمائے۔ بار الہٰا! محشر کا منظر اور تیری داد گاہ عدل و انصاف بہت ہولناک ہے اور ہمارا نامہ اعمال حسنات سے خالی ہے ہمیں اپنے عضو و فضل کی پناہ میں جگہ دے، نہ کہ میزان عدل و انصاف کے سامنے۔ آمین یا رب العالمین۔

end of chapter
At-Takwir (81) — Tafseer e Namoona