Sūra 85 · 22v
Chapter 8522 verses

Al-Buruj

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
البروج
البروج

سورہ بروج

یہ سورہ مکے میں نازل ہوا اس میں۲۲ آیتیں ہیں۔

سورہ بروج کے مضامین اور اس کی فضیلت

ابتدائے بعثت کے زمانے میں مومنین (مکہ میں) بہت سخت رنج و تکلیف اور دباؤ کی حالت میں تھے اور ہمیشہ دشمنوں کی طرف سے جسمانی اور روحانی اذیتوں میں گرفتار رہتے تھے اور یہ اس وجہ سے تھا کہ وہ راہِ ایمان کو خیرباد کہہ دیں۔ اس سلسلہ میں ایک گروہ نے صورتِ حال کا مقابلہ کیا، لیکن بعض کمزور افراد دشمنوں کے مقابلہ میں شکستہ دل ہو کر راہِ ایمان سے پلٹ گئے۔ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ سورہ مکّی ہے یوں نظر آتا ہے کہ اس کا مقصدِ اصلی مومنین کے قلب و روح میں تقویت پیدا کرتا ہے۔ یہ سورہ ان مومنین کی پامردی اور استقامت کا شوق دلاتا ہے۔ اس صورتِ حال کے حوالے سے پروردگار عالم اس سورہ میں اصحابِ اخدود کے واقعہ کو نقل کرتا ہے: وہی لوگ جنہوں نے خندق کھودی، اس میں بہت زیادہ آگ جلائی اور مومنین کو اس آگ میں جلانے کی دھمکی دی اور ایک گروہ کو اس آگ میں جلایا، لیکن انہوں نے راہ ایمان کو خیرباد نہیں کہا۔ پھر اس سورہ کے دوسرے حصہ میں ان کافروں کو تنبیہ کرتا ہے جنہوں نے مومنین پر دباؤ ڈال رکھا تھا، اور انہیں جہنم میں جلانے والے عذاب کی خبر دیتا ہے، جبکہ جنت کے پُر نعمت باغات کی مومنین کو بشارت دیتا ہے۔ بعد والے حصہ میں انہیں گزشتہ تاریخ کی طرف لے جاتا ہے اور فرعون و ثمود اور دیگر ظالم اقوام کی داستانیں ان کی نگاہوں کے سامنے مجسم کر کے پیش کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ عذاب الہٰی نے انہیں کس طرح نابود کر دیا، تاکہ کفارِ مکہ جو ان کی نسبت بہت کمزور تھے اپنا اندازہ لگا لیں۔ نیز یہ کہ یہ صورتِ حال پیغمبرؐ اور مومنین کے دلوں کی تسلی کا سبب بھی ہو۔ اس سورہ کے آخری حصہ میں قرآن مجید کی عظمت اور وحی الہٰی کی سب سے زیادہ اہمیت کی طرف اشارہ کرتا ہے اور اسی مفہوم پر سورہ کو ختم کرتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ سورہ مومنین کو ظالموں کے مقابلہ میں پامردی، استقامت اور صبر و شکیبائی کا درس دیتا ہے۔ اس کی آیتوں کے اندر نصرتِ الہٰی کا وعدہ بھی چھپا ہوا ہے، اس سورہ کا جو بروج کا نام رکھا گیا ہے وہ اس لفظ کی وجہ سے ہے جو اس کی پہلی آیت میں آیا ہے۔ اس سورہ کی فضیلت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ پیغمبر اسلامؐ کی ایک حدیث میں ہمیں ملتا ہے کہ: (من قراء ھٰذہ السورة اعطاہ اللہ من الاجر بعدد کل من اجتمع فی جمعة و کل من اجتمع فی یوم عرفة عشر حسنات و قرائتھا تنجی من المخاوف و الشدائد)۔ "جو شخص اس سورہ کو پڑھے تو خداوندِ عالم اسے ان افراد کی تعداد سے جو نماز جمعہ میں جمع ہوتے ہیں اور ان کی تعداد سے جو یومِ عرفہ عرفات میں جمع ہوتے ہیں، دس گنا حسنات دیتا ہے اور اس کی تلاوت انسان کو خوف و ہراس اور مصائب سے رہائی بخشتی ہے۔ (بحوالہ: تفسیر برہان، جلد ۴، ص ۴۴۵)۔ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ "شاہد و مشہود" کی ایک تفسیر روزِ جمعہ اور روزِ عرفہ ہے، نیز اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ گزشتہ سورہ مصیبتوں کے مقابلہ میں مومنین کی مقاومت کو بیان کرتی ہے، لہٰذا اس اجر و ثواب کی مناسبت سورہ کے مضامین سے واضح ہو جاتی ہے اور حتمی طور پر یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ تمام اجر و ثواب ان لوگوں کے لئے ہے جو اسے پڑھیں، اس میں غور و فکر کریں اور پھر اس پر عمل کریں۔

1
85:1
وَٱلسَّمَآءِ ذَاتِ ٱلۡبُرُوجِ
قسم ہے آسمان کی جس کے بہت سے بروج ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
85:2
وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡمَوۡعُودِ
اور قسم ہے اس موعود دن(قیامت) کی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
85:3
وَشَاهِدٖ وَمَشۡهُودٖ
اور شاہد و مشہود کی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
85:4
قُتِلَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡأُخۡدُودِ
موت اور عذاب ہو ایذا دینے والے اصحاب اخدود (آگ کی خندق) پر۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
85:5
ٱلنَّارِ ذَاتِ ٱلۡوَقُودِ
شعلہ اور آگ سے پرخندقیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
85:6
إِذۡ هُمۡ عَلَيۡهَا قُعُودٞ
جس وقت وہ اس کے کنارے پر بیٹھے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
85:7
وَهُمۡ عَلَىٰ مَا يَفۡعَلُونَ بِٱلۡمُؤۡمِنِينَ شُهُودٞ
انہیں کوئی اعتراض ان (مومنین) پر نہیں تھا سوائے اس کے کہ وہ خداوند عزیز و حمید پر ایمان لائے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
85:8
وَمَا نَقَمُواْ مِنۡهُمۡ إِلَّآ أَن يُؤۡمِنُواْ بِٱللَّهِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَمِيدِ
اور جو کچھ وہ مومنین کی نسبت انجام دے رہے تھے اسے دیکھ رہے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
85:9
ٱلَّذِي لَهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ شَهِيدٌ
وہی اللہ کہ آسمانوں اور زمین کی حکومت جس کے لئے ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔

تفسیر مومنین انسانوں کو جلانے والی بھٹیوں کے سامنے

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

ہمیں معلوم ہے کہ مکّے کے مسلمان ابتداء میں سخت فشار اور دباؤ میں تھے اور دشمن ان کے لئے ہر قسم کی تکلیف کو جائز سمجھتے تھے اور جیسا کہ ہم نے سورہ کے مضامین کی تشریح میں کہا ہے اس سورہ کے نزول کا مقصد ان ایذا پہنچانے والے کفار کو خبردار کرنا ہے کہ وہ ماضی کی اپنے سے مشابہت رکھنے والی اقوام کے لوگوں کی سرنوشت کو پیش نظر رکھیں، اور ساتھ ہی یہ سورہ موجودہ مومنین کی تسلی، دلداری اور تقویتِ روحانی کا باعث اور تمام مسلمانوں کے لئے ایک درس بھی ہے۔ پہلے فرماتا ہے: "قسم ہے آسمان کی جس کے بہت سے بروج ہیں۔" (وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ) "بروج"، "برج" کی جمع ہے جس کے معنی اصل میں قصر اور محل کے ہیں۔ بعض مفسرین نے اسے ظاہر و آشکار شے کے معنوں میں لیا ہے اور بلند و بالا عمارات کو اس نام سے منسوب کرنے کا سبب ان کے ظاہر ہونے کو قرار دیا ہے۔ اسی بنا پر شہر کے اطراف کی دیوار کے ایک خاص حصہ کو اور لشکر کے جمع ہونے کی جگہ کو جو نمایاں ہوتی ہے، برج کا نام دیا جاتا ہے اور جب عورت اپنی زینت کا اظہار کرے تو اسے تبرجت المراة کہا جاتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: بعض محققین کا نظریہ ہے کہ یہ لفظ فارسی لفظ "بزر" سے لیا گیا ہے جو بلندی، بزرگی اور شکوہ کے معنی رکھتا ہے، برہان قاطع اور اس کے حاشیہ کی طرف رجوع کیا جائے)۔ آسمانی برج یا تو آسمان کے درخشاں اور روشن ستاروں کے معنی میں ہے یا آسمانی شکلوں اور صورتوں کے معنی میں ہے، یعنی ستاروں کا ایسا مجموعہ جو ہماری نظروں کے اعتبار سے موجودات زمین میں سے کسی ایک سے مشابہت رکھتا ہے اور بارہ برج بارہ فلکی شکلیں ہیں۔ سورج اپنے سالانہ سفر میں سے ہر ماہ ان میں سے ایک برج کی حدود میں گزارتا ہے، البتہ سورج حرکت نہیں کرتا۔ زمین اس کی گردش کرتی ہے لیکن نظر ایسا آتا ہے کہ سورج حرکت کر رہا ہے اور ان فلکی صورتوں میں سے کسی ایک کے سامنے آ گیا ہے۔ (تشریحی نوٹ: یہ بارہ صورتیں عبارت ہیں حمل، ثور، جوزا، سرطان، اسد، میزان، عقرب، قوس، جدی، دلو اور حوت سے جو اسی ترتیب سے گوسفند، بیل، دو بچے جو اخروٹ کھیل رہے ہیں، کیکڑا، شیر، خوشہ، ترازو، بچھو، کمان، بکری، ڈول اور مچھلی کی شکلیں ہیں)۔ ان معانی میں سے جو بھی ہوں وہ عظیم ہیں اور پھر ان کی عظمت بھی ایسی ہے جو غالباً اس زمانے میں عربوں پر واضح نہیں تھی لیکن موجودہ زمانے میں ہمارے لئے جانی پہچانی ہے۔ اگرچہ زیادہ یہی نظر آتا ہے کہ مراد وہی آسمانی ستارے ہوں۔ ایک حدیث میں منقول بھی ہے کہ لوگوں نے پیغمبرؐ اسلام سے اس آیات کی تفسیر پوچھی تو آپؐ نے فرمایا کہ اس سے مراد ستارے ہیں۔ (بحوالہ: در المنثور، جلد۶، ص۳۳۱)۔ اس کے بعد دوسری آیت میں ارشاد ہوا: "اور قسم ہے اس موعود دن کی" (قیامت کا دن جس کا وعدہ کیا گیا ہے)۔ (وَالْيَوْمِ الْمَوْعُودِ)۔ وہی دن جس کی تمام انبیاء اور پیغمبروں نے خبر دی ہے اور کئی سو قرآنی آیتیں جس کے ثبوت کے طور پر وہی دن جو اولین و آخرین کی وعدہ گاہ ہے اور وہی دن جس میں سب کے حساب کا فیصلہ ہونا ہے۔ تیسری اور چوتھی قسم میں فرماتا ہے: "اور قسم ہے شاہد و مشہود کی" (وَشَاهِدٍ وَمَشْهُودٍ)۔ یہ کہ شاہد و مشہود سے کیا مراد ہے، اس کی علماء نے بہت سی تفسیریں کی ہیں جو تعداد میں تیس سے زیادہ ہیں جن میں سے اہم ترین درج ذیل ہیں: ۱۔ شاہد سے مراد پیغمبر اسلامؐ کی ذات گرامی ہے جیسا کہ قرآن مجید کہتا ہے: (يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا) "اے پیغمبر ہم نے تجھے شاہد، بشارت دینے والے اور ڈرانے والے کی حیثیت سے بھیجا ہے۔" (احزاب۔ ۴۵)۔ اور مشہور سے مراد قیامت کا دن ہے جیسا کہ قرآن کہتا ہے: (ذَلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ) قیامت کا دن وہ دن ہے جس میں تمام لوگ جمع ہوں گے وہ مکمل طور پر "مشہود" اور آشکار دن ہے۔ (ہود ۔ ۱۰۳)۔ ۲۔ شاہد سے مراد انسان کے اعمال کے گواہ ہیں، مثلاً اس کے جسم کے اعضاء جوارح جیسا کہ سورہ نور کی آیت ۲۴ میں ہمیں ملتا ہے (یوم تشہد علیہم السنتھم و ایدیھم و ارجلھم بما کانوا یعملون) وہ دن جس میں ان کی زبانیں، ہاتھ اور پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ لہٰذا مشہود سے مراد انسان اور اس کے اعمال ہیں۔ ۳۔ شاہد کے معنی جمعہ کا دن ہے جو نماز جمعہ کے بہت ہی اہم مراسم کے سلسلہ میں مسلمانوں کے اجتماع کا شاہد ہے اور "مشہود" عرفہ کا دن ہے کہ بیت اللہ الحرام کے زائرین اس دن کے شاہد و ناظر ہیں۔ ایک روایت میں پیغمبر اسللامؐ، اور امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ سے یہ تفسیر منقول ہے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱۰، ص ۴۶۶)۔ ۴۔ شاہد عید قربان کا دن ہے اور "مشہود" عرفہ کا دن ہے (جو عیدِ قربان سے ایک دن پہلے ہے)۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص مسجد نبوی میں داخل ہوا، اس نے کسی کو دیکھا کہ بیٹھا ہوا ہے اور رسول اللہؐ سے حدیث نقل کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میں نے اس شخص سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو اس نے کہا شاہد سے مراد جمعہ کا دن ہے، وہ کہتا ہے کہ مَیں وہاں سے ہٹ کر ایک دوسرے شخص کے پاس گیا وہ بھی رسول اللہؐ سے حدیث نقل کر رہا تھا تو میں نے اس آیت کی تفسیر اس سے بھی پوچھی تو اس نے کہا شاہد جمعہ کا دن اور مشہود عید قربان کا دن ہے۔ اس سے ہٹ کر مَیں ایک جوان کے پاس گیا جو خوبصورت تھا اور رسول خداؐ ہی حدیث نقل کر رہا تھا۔ مَیں نے کہا اس آیت کی تفسیر کے بارے میں کچھ بتا، تو اس نے کہا: "شاہد محمدؐ ہیں اور مشہود قیامت کا دن ہے۔ کیا تُو نے سنا نہیں کہ خدا کہتا ہے": (يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا) اور یہ بھی سنا کہ خدا کیا کہتا ہے: (ذَلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ)۔ میں نے سوال کیا کہ پہلا شخص کون تھا، لوگوں نے بتایا ابن عباس، دوسرے کے متعلق پوچھا تو بتایا عبد اللہ بن عمر اور تیسرے کے متعلق پوچھا تو بتایا کہ وہ حسینؑ بن علی علیہ السلام تھے۔ (تشریحی نوٹ: نور الثقلین، جلد۵، ص۵۴۳۔ یہی مضمون ابو الفتوح رازی اور طبرسی نے بھی اپنی تفسیروں میں نقل کیا ہے)۔ ۵۔ شاہد سے مراد راتیں اور دن ہیں اور مشہود سے مراد اولادِ آدم جن کے اعمال کی وہ گواہی دیں گے، جیسا کہ امام زین العابدین علیہ السلام کی صبح و شام کی دعا میں ہم پڑھتے ہیں (ھٰذا یوم حادث جدید و ھو علینا شاہد عتید ان احسنّا ودعنا بحمد و ان اسأنا فارقنا بذنب) یہ نیا دن ہے جو ہمارے اعمال کا شاہد ہے اگر ہم نیکی کریں تو حمد و سپاس کے ساتھ ہم کو الودع کہے گا اور اگر برائی کریں تو مذمت کرتا ہوا ہم سے جدا ہو گا۔ (بحوالہ: صحیفہ سجادیہ، دعائے ششم)۔ ۶۔ شاہد سے مراد ملائکہ اور شہود سے مراد قرآن ہے۔ ۷۔ شاہد سے مراد حجر الاسود اور مشہود سے مراد حجاجِ حرم ہیں جو اس کے پاس آتے ہیں اور اس پر ہاتھ رکھتے ہیں۔ ۸۔ شاہد مخلوق اور مشہود حق تعالیٰ ہے۔ ۹۔ شاہد سے مراد امت اسلامی اور مشہود سے مراد دوسری تمام امتیں ہیں جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت ۱۴۳ میں آیا ہے (لِّتَكُونُواْ شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ) مقصد یہ ہے کہ تم دوسری امتوں پر گواہ بنو۔ ۱۰۔ شاہد پیغمبر اسلامؐ اور مشہود باقی تمام انبیاء ہیں۔ سورہ نساء کی آیت ۴۱ میں گواہی ہے (وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَـؤُلاَءِ شَهِيدًا) "اس دن ہم تجھے دوسرے انبیاء کا گواہ بنا کر لائیں گے۔" ۱۱۔ شاہد پیغمبرؐ اور مشہود حضرت علی علیہ السلام ہیں۔ البتہ اس آیت کی گزشتہ آیتوں سے مناسبت اس کو قبول کرتی ہے کہ روز قیامت کے شہود اور گواہوں کی طرف اشارہ ہو عام اس سے کہ وہ پیغمبر اسلامؐ ہو یا باقی انبیاء اپنی امتوں کے مقابلہ میں، یا ملائکہ ہوں یا بدن انسانی کے اعضاء و جوارح، یا رات دن، یا کچھ امور، اور مشہور سے مراد انسان ہوں یا ان کے اعمال۔ اسی طرح بہت سے تفسیریں ایک دوسرے میں سے مدغم ہو جائیں گی اور ایک مجموعی مفہوم میں ان کا خلاصہ ہو جائے گا۔ لیکن روز جمعہ، روزِ عرفہ اور روزِ عید جیسی تفسیریں ان معانی سے الگ ہیں، اگرچہ وہ بھی روز محشر کے مشہود اور انسانوں کے اعمال کے گواہ ہیں بلکہ ان میں سے ہر ایک ایسا پُر ہجوم دن ہے جو اس دنیا میں قیامت کا ایک منظر شمار ہوتا ہے۔ اس بیان کی طرف توجہ کرتے ہوئے واضح ہو جاتا ہے کہ ان تفسروں کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے اور ہو سکتا ہے کہ شاہد و مشہود کے وسیع مفہوم میں یہ سب شامل ہوں۔ اور یہ قرآن کی عظمت کی ایک نشانی ہے کہ اس میں اس قسم کے وسیع مفاہیم ہیں جو مختلف اور کافی تفسیروں کے اپنے اندر جگہ دیتے ہیں اس لئے کہ شاہد ہر قسم کے گواہ کو کہتے ہیں اور مشہود ہر اس چیز کو جس کی گواہی دی جائے۔ پھر یہ دونوں نکرہ کی شکل میں بیان ہوئے ہیں جو اس شاہد اور مشہود کی عظمت کی طرف اشارہ ہے جو اوپر والی تفسیروں میں منعکس ہوا ہے۔ قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ ایک لطیف و عمدہ تعلق ان چار حصوں کے درمیان اور اس مطلب کے درمیان، جس کی قسم کھائی گئی ہے، موجود ہے، آسمان، درخشاں ستارے اور اس کے موزوں برج سب کے سب نظم و حساب کی نشانی ہیں اور یومِ موعود حساب وکتاب کا واضح منظر ہے، شاہد و مشہود بھی اسی حساب کی نکتہ رسی کا ذریعہ ہیں۔ پھر یہ تمام قسمیں اس لئے ہیں کہ ایذا پہنچانے والے ظالموں کو خبردار کرے کہ سچے مومنین کے ساتھ کئے جانے والے ان کے تمام مظالم ثبت و ضبط ہیں اور یوم موعود کے لئے انہیں محفوظ کیا گیا ہے اور وہ مشہود جنہوں نے تمہارے جسم کو ہر طرف سے گھیر رکھا ہے، عام اس سے کہ وہ فرشتے ہوں یا تمہارے جسم کے اعضاء و جوارح یا رات و دن یا اور اسی قسم کی اشیاء، وہ سب ان کاموں کو نظر میں رکھے ہوئے ہیں اور قیامت میں گواہی دیں گے۔ (تشریحی نوٹ: اس بنا پر جواب قسم یہاں محذوف ہے اور قُتِلَ أَصْحَابُ الْأُخْدُودِ کا جملہ یا إِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ اس پر دلالت کرتے ہیں اور تقدیر میں اس طرح ہے۔ اقسم بہٰذا الامور إِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ معذبین ملعونون کما لعن أَصْحَابُ الْأُخْدُودِ ۔ میں ان امور کی قسم کھاتا ہوں جن لوگوں نے مومنین مرد و عورت کو مصیبت میں ڈالا وہ ملعون و معذب ہیں، جس طرح خندق والے معذب تھے)۔ اس لئے اس قسموں کے بعد فرماتا ہے: "موت اور عذاب تشدد کرنے والوں پر یوں" (قُتِلَ أَصْحَابُ الْأُخْدُودِ)۔ "وہی خندقین جو آگ اور لکڑیوں سے پُر تھیں جن میں سے بڑے بڑے شعلے نکل رہے تھے" (النَّارِ ذَاتِ الْوَقُودِ)۔ "جس وقت وہ اس آگ کی خندق کے پاس بیٹھے ہوئے تھے" (سرد مہری سے) (إِذْ هُمْ عَلَيْهَا قُعُودٌ)۔ "اور جو کچھ مومنین کے بارے میں انجام دے رہے تھے اسے دیکھ رہے تھے۔" (وَهُمْ عَلَى مَا يَفْعَلُونَ بِالْمُؤْمِنِينَ شُهُودٌ)۔ "اخدود" مفردات میں راغب کے بقول زمینِ وسیع و عمیق اور کھلے ہوئے شگاف کے معنی میں ہے دوسرے لفظوں میں بڑی بڑی خندقوں اور گڑہوں کو کہتے ہیں۔ اس کی جمع "اخاوید" ہے اور اصل انسان کے خد سے لی گئی ہے جو انسان کی ناک کے دونوں طرف دائیں اور بائیں دو دھنسی ہوئی جگہوں کے معنی میں ہے۔ (رخسار) اور گریہ کرتے وقت اس پر آنسوں جاری ہوتے ہیں۔ اس کے بعد بطور کنایہ اس گڑھے پر اس کا اطلاق ہوا ہے جو زمین پر ظاہر ہو (پھر ایک حقیقی معنی کی شکل اختیار کر گیا ہے)۔ یہ کہ یہ اذیت دینے والا گروہ کون تھا اور کس زمانہ میں تھا، مفسرین اور اربابِ تاریخ اس سلسلہ میں مختلف نظریات کے حامل ہیں، جن کی تشریح انشاء اللہ آیات کے ذیل میں نکات کی بحث میں آئے گی۔ لیکن یہ طے شدہ بات ہے کہ انہوں نے آگ کی بہت بڑی بڑی خندقیں بنا رکھیں تھیں۔ وہ مومنین کو مجبور کرتے تھے کہ اپنے ایمان سے دستبردار ہو جائیں۔ مومنین جس وقت اس کے مقابلہ میں کھڑے ہوتے تھے تو وہ انھیں جلانے والی ان بھٹیوں میں ڈال کر آگ لگا دیتے تھے۔ "وقود" اصل میں ان مادوں کے معنی میں ہے جس سے وہ آگ لگاتے تھے، (لکڑیاں وغیرہ) اور ذات الوقود کی تعبیر اگرچہ ایندھن کی محتاج نہیں ہوتی ہے لیکن یہاں اس سے آگ بھڑکانے والے مواد کی کثرت کی طرف اشارہ ہے، جسے وہ استعمال کرتے تھے اور جس کی آگ طبعی طور پر بہت زیادہ اور طبیعی ہوتی تھی۔ یہی وہ وجہ ہے، کہ جسے بعض مفسرین نے سمجھا ہے کہ وقود کے دو معنی ہیں، ایک ایندھن اور دوسرے شعلہ، اور انہوں نے افسوس کیا ہے کہ مفسرین و مترجمین نے اس نکتہ کی طرف توجہ کیوں نہیں کی۔ اس آیت (اذھم علیھا قعود) اور اس کے بعد کی دوسری آیت سے مراد یہ ہے کہ ایک گروہ انتہائی سرد مہری سے بیٹھا ہوا تھا اور اس تشدد کو دیکھ رہا تھا اور لذت حاصل کر رہا تھا، جو خود ان کی انتہائی قساوت اور سخت دل ہونے کی نشانی ہے۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ گروہ مذہب حق سے مومنین کو روگرداں کرنے پر مامور تھا۔ بعض نے انہیں دو گروہوں پر مشتمل سمجھا ہے، ایک اذیت دینے والا اور دوسرا تماشہ دیکھنے والا۔ اور چونکہ دیکھنے والے تشدد کرنے والوں کے اعمال سے راضی تھے لہٰذا اس فعل کی ان سب کی طرف نسبت دی گئی ہے اور یہ فطری، بات ہے کہ اس قسم کے کام میں ایک گروہ ہمیشہ کام کرنے والا ہوتا ہے اور ایک دیکھنے والا۔ علاوہ ازیں ان کے سرغنے عام طور پر حکم دیتے ہیں اور کارندے نچلے طبقے کے لوگ ہوتے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک گروہ بیٹھا ہوا تھا اور تشدد کے عمّال کی نگرانی کر رہا تھا کہ وہ متعلقہ کام سے کسی قسم کی رو گردانی نہ کریں اور بادشاہ کے سامنے گواہی دیں کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو اچھی طرح نبھایا ہے۔ اس گروہ کی تشکیل ان مختلف گروہوں سے بھی بعید نظر نہیں آتی۔ لہٰذا ان تمام تفسیروں کے درمیان جمع بھی ممکن ہے۔ بہرحال، یفعلون کا جملہ فعل مضارع کی شکل میں اس بات کی دلیل ہے کہ یہ عمل ایک مدت استمرار رکھتا تھا اور کوئی یک لخت ہونے والا حادثہ نہیں تھا۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "وہ تشدد کرنے والے ان مومنین پر سوائے اس کے اور کوئی اعتراض نہیں رکھتے تھے کہ وہ خداوندِ عزیز و حکیم پر ایمان لائے ہوئے تھے" (وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَن يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ)۔ جی ہاں! ان کا جرم اور گناہ صرف خدائے واحد و یگانہ و یکتا پر ایمان تھا۔ خداوند قادر جو ہر قسم کی ستائش کے لائق اور ہر قسم کے کمال کا جامع ہے، تو کیا اس قسم کے خدا پر ایمان لانا جرم و گناہ ہے یا ہر قسم کے شعور و شائستگی سے محروم بتوں پر ایمان رکھنا کوئی گناہ یا جرم ہے؟ "نقموا"، "نقم" (بروزن قلم) کے مادہ سے کسی چیز کا انکار کرنے یا اسے عیب لگانے کے معنی میں ہے۔ زبانی طور پر عیب لگانا یا کسی عملی طور پر سزا دینا، یہ دونوں پہلو اس کے معنی میں داخل ہیں۔ اسی مادہ سے انتقام ہے یہ بات طے شدہ ہے کہ اس قسم کا کام ایک بڑے اور واضح گناہ کے مقابلہ میں سرانجام پاتا ہے، نہ کہ پروردگار عالم پر ایمان لانے کے سلسلہ میں۔ اس قسم کے اقدام سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ قوم جو یہ کام کر رہی تھی اس کا تمدن نہایت پست اور بگڑا ہوا تھا، جبھی تو ان کے نزدیک افتخار و اعزاز والا کام، عظیم ترین جرم و گناہ تھا۔ بہرحال، یہ چیز سورہ مائدہ کی آیت ۵۹ میں آئی ہے کہ جادوگروں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے اور فرعون کی طرف سے تشدد اور قتل کی دھمکی کے بعد اس سے کہا کہ (هَلْ تَنقِمُونَ مِنَّا إِلاَّ أَنْ آمَنَّا بِاللّهِ) "تُو ہم سے صرف اس وجہ سے انتقام لے رہا ہے کہ ہم اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے ہیں۔" "عزیز" طاقتور اور شکست نہ کھانے والے اور "حمید" ہر قسم کی تعریف اور توصیف کے قابل اور ہر قسم کے کمال کے حامل کی تعبیر حقیقت میں ان کے جرائم کا جواب ہے اور ان کے برخلاف ایک دلیل ہے یعنی کیا اس قسم کے خدا پر ایمان لانا جرم و گناہ ہے۔ ضمنی طور پر یہ بھی واضح ہے کہ یہ بات تشدد کرنے والے کے لئے پورے دورِ تاریخ میں ایک قسم کی تہدید و تنبیہ بھی ہے کہ خداوند عزیز و حمید ان کی کمین گاہ میں ہے۔ اس کے بعد وہ عظیم معبود اپنے دو اور اوصاف کو بیان کرتے ہوئے مزید فرماتا ہے: "وہی خدا کہ آسمان اور زمین کی حکومت جس کے لئے ہے اور جو ہر چیز کا گواہ ہے اور ہر جگہ حاضر و ناظر ہے (الذی لہ ملک السماوات و الارض و اللہ علی کل شیء شہید)۔ حقیقت میں یہ چار اوصاف ایسے ہیں جو عبودیت کی قابلیت کو مسلم کر دیتے ہیں کہ خدا وہ ہے جو قادر و توانا ہے، ہر قسم کے کمال کا حامل ہے وہ آسمانوں اور زمین کا مالک ہے اور ہر چیز سے آگاہ ہے، یہ چیز مومنین کے لئے بشارت بھی ہے کہ خدا حاضر و ناظر ہے اور ایمان کی حفاظت کے سلسلہ میں وہ ان کے صبر و استقامت کو دیکھتا ہے اور ان کے ایثار و قربانی اور فدا کاری کا اسے علم ہے۔ ایسی صورت حال ان کو قوت توانائی اور احساس نشاط عطا کرتی ہے دوسرے یہ ان کے دشمنوں کے لئے تہدید اور دھمکی ہے کہ اگر خدا ان کے کام میں مانع نہیں ہوتا تو یہ اس کمزوری کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ آزمائش اور امتحان کی وجہ سے ہے اور انجام کار یہ ظالم اپنے گناہ کے نتیجہ میں درد ناک عذاب کا تلخ مزہ چکھیں گے۔

چند نکات ۱۔ اصحابِ اُخدود کون لوگ تھے؟

ہم بتا چکے ہیں کہ اُخدود عظیم گڑھے اور خندق کے معنی میں ہے اور یہاں بڑی بڑی خندقین مراد ہیں جو آگ سے پُر تھیں تاکہ تشدد کرنے والے اس میں مومنین کو پھینک کر جلائیں۔ یہ حقیقت ہے کہ یہ واقعہ کس قوم سے متعلق ہے اور کس وقت معرض وجود میں آیا اور کیا یہ ایک خاص معین و مقرر واقعہ تھا، یا دنیا کے مختلف علاقوں کے اسی قسم کے متعدد واقعات کی طرف اشارہ ہے۔ مفسرین و مورخین کے درمیان اس موضوع پر اختلاف ہے، سب سے زیادہ مشہور یہ کہ یہ واقعہ سرزمین یمن کے قبیلہ حمیر (تشریحی نوٹ: حمیر یمن کے مشہور قبائل میں سے ایک قبیلہ تھا)۔ کے ذونواس نامی باشاہ کے دَور کا ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ ذونواس، جو حمیر نامی قبیلہ سے متعلق تھا، یہودی ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی اس کا پورا قبیلہ بھی یہودی ہو گیا۔ اس نے اپنا نام یوسف رکھا۔ ایک عرصہ تک یہی صورت حال رہی۔ ایک وقت ایسا آیا کہ کسی نے اسے خبر دی کہ سرزمین نجران (یمن کا شمالی حصہ) میں ابھی تک ایک گروہ نصرانی مذہب پر قائم ہے۔ ذونواس کے ہم مسلک لوگوں نے اسے اس بات پر ابھارا کہ اہل نجران کو دینِ یہود کے قبول کرنے پر مجبور کرے۔ وہ نجران کی طرف روانہ ہو گیا۔ وہاں پہنچ کر اس نے وہاں کے رہنے والوں کو اکٹھا کیا اور دین یہود ان کے سامنے پیش کیا اور ان سے اصرار کیا کہ وہ اس دین کو قبول کریں۔ لیکن انہوں نے انکار کیا اور شہادت قبول کرنے پر تیار ہو گئے۔ انہوں نے اپنے دین کو خیرباد نہ کہا۔ ذونواس کے حکم پر اس کے حامیوں نے بہت بڑی خندق کھودی، اس میں لکڑیاں ڈالیں اور آگ لگا دی۔ ذونواس اور اس کے ساتھیوں نے ایک گروہ کو پکڑ کر اس آگ میں زندہ جلایا اور ایک گروہ کو تلوار کے گھاٹ اتارا اس طرح آگ میں جلنے والوں اور مقتولین کی تعداد بیس ہزار تک پہنچ گئی۔ (بحوالہ: تفسیر علی ابن ابراہیم قمی، جلد ۲، ص ۴۱۴)۔ بعض مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس سلسلہ دار و گیر سے بچ کر نصاریٰ بنی نجران کا ایک آدمی قیصر روم کے دربار میں جا پہنچا۔ اس نے وہاں ذونواس کی شکایت کی اور اس سے مدد طلب کی۔ قیصر نے کہا تمہاری سرزمین مجھ سے دور ہے۔ بادشاہ حبشہ کو خط لکھتا ہوں جو عیسائی ہے اور تمہارا ہمسایہ ہے میں اس سے کہتا ہوں کہ وہ تمہاری مدد کرے۔ پھر اس نے خط لکھا اور حبشہ کے بادشاہ سے نصاریٰ نجران کے عیسائیوں کے خون کا انتقام لینے کی خواہش کی۔ وہ نجرانی شخص بادشاہ حبشہ نجاشی کے پاس گیا، نجاشی اس سے یہ تمام ماجرا سن کر بہت متاثر ہوا اور سرزمین نجران میں شعلہ دین مسیح کے خاموش ہو جانے کا اسے بہت افسوس ہوا۔ اس نے ذونواس سے شہیدوں کے خون کا بدلہ لینے کا مصمم ارادہ کر لیا۔ اس مقصد کے پیش نظر حبشہ کی فوج یمن کی طرف روانہ ہوئی اور گھمسان کی جنگ کے نتیجے میں اس نے ذونواس کو شکست فاش دی اور ان میں سے بہت سے افراد کو قتل کیا۔ جلد ہی نجران کی حکومت نجاشی کے قبضہ میں آ گئی اور نجران حبشہ کا ایک صوبہ بن گیا۔ (بحوالہ: قصص قرآن بلاغی، ص ۲۸۸)۔ بعض مفسرین نے تحریر کیا ہے کہ اس خندق کا طول چالیس ذراع (ہاتھ) تھا اور اس کا عرض بارہ ذراع تھا۔ (ایک ذروع تقریباً آدھا میٹر ہے اور بعض اوقات گز کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جو تقریباً ایک میٹر ہے)۔ بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ سات گڑھے تھے جن میں سے ہر ایک کی وسعت اتنی ہی تھی جتنی اوپر بیان ہوئی۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر روح المعانی اور ابو الفتوح رازی زیر بحث آیات کے ذیل میں)۔ مندرجہ بالا واقعہ تاریخ و تفسیر کی بہت سی کتابوں میں درج ہے منجملہ دیگر کتب کے عظیم مفسر طبرسی نے مجمع البیان میں، ابو الفتوح رازی نے اپنی تفسیر میں فخر رازی نے اپنی تفسیر کبیر میں، آلوسی نے روح المعانی میں اور قرطبی نے اپنی تفسیر میں زیرِ بحث آیات کے ذیل میں، اسی طرح ہشام نے اپنے سیرہ (جلد اول ص۳۵) میں اور ایک دوسری جماعت نے اپنی کتب میں اس واقعہ کو تحریر کیا ہے۔ جو کچھ ہم نے تحریر کیا اس سے واضح ہوتا ہے کہ تشدد کرنے والے بے رحم افراد آخرکار عذابِ الہٰی میں گرفتار ہوئے اور ان سے اس خون ناحق کا انتقام دنیا ہی میں لیا گیا اور عاقبت کا عذاب جہنم ابھی ان کے انتظار میں ہے۔ انسانوں کے جلانے والی یہ بھٹیاں جو یہودیوں کے ہاتھ سے معرض وجود میں آئیں، احتمال اس امر کا ہے کہ پوری انسانی تاریخ میں یہ پہلی آدم سوز بھٹیاں تھیں لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ اسی قسم کی قساوت اور بےرحمی کا خود یہودی بھی شکار ہوئے جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے بہت سے لوگ ہٹلر کے حکم سے آدم سوز بھٹیوں میں جلائے گئے اور اس جہان میں بھی عذابِ حریق کا شکار ہوئے۔ علاوہ ازیں ذونواس یہودی، جو اس منحوس اقدام کا بانی تھا، وہ بھی اپنی بداعمالی کے انجام سے نہ بچ سکا۔ جو کچھ اصحابِ اخدود کے بارے میں درج کیا گیا ہے یہ مشہور و معروف نظریات کے مطابق ہے لیکن اس ضمن میں کچھ اور روایات بھی موجود ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ اصحاب اخدود صرف یمن میں ذونواسی ہی کے زمانے میں نہیں تھے۔ بعض مفسرین نے تو ان کے بارے میں دس قول نقل کئے ہیں۔ ایک روایت امیر المومنین علی علیہ السلام سے منقول ہے۔ آپؑ نے فرمایا ہے وہ اہل کتاب مجوسی تھے جو اپنی کتاب پر عمل کرتے تھے۔ ان کے بادشاہوں میں سے ایک نے اپنی بہن سے مباشرت کی اور خواہش ظاہر کی کہ بہن سے شادی کو جائز قرار دے۔ لیکن لوگوں نے قبول نہیں کیا۔ بادشاہ نے ایسے بہت سے مومنین کو جنہوں نے یہ بات قبول نہیں کی تھی، جلتی ہوئی آگ کی خندق میں ڈلوا دیا۔ (بحوالہ: اعلام قرآن، ص۱۳۷ ۔ ۱۳۸)۔ یہ فارس کے اصحاب الاخدود کے بارے میں ہے۔ شام کے اصحاب الاخدود کے بارے میں بھی علماء نے لکھا ہے کہ وہاں مومنین رہتے تھے اور آنتیا حوس نے انہیں خندق میں جلوایا تھا۔ (بحوالہ: اعلام قرآن، ص۱۳۷۔ ۱۳۸)۔ بعض مفسرین نے اس واقعہ کو بنی اسرائیل کے مشہور پیغمبر حضرت دانیالؑ کے اصحاب و انصارکے ساتھ مربوط سمجھا ہے جس کی طرف تورات کی کتاب دانیال میں اشارہ ہوا ہے اور ثعلبی نے بھی اخدود فارسی کو انہی پر منطبق کیا ہے۔ (بحوالہ: اعلام قرآن، ص۱۳۷۔ ۱۳۸)۔ کچھ بعید نہیں کہ اصحابِ اخدود میں یہ سب کچھ اور ان جیسے دوسرے لوگ شامل ہوں اگرچہ اس مشہور مصداق سرزمینِ یمن کا ذونواس ہی ہے۔

۲۔ حفظ ایمان کے سلسلہ میں استقامت

ان کی حفاظت کے سلسلہ میں ماضی و حال دونوں میں فدا کاری کی بہت درخشاں مثالیں ہیں۔ تاریخِ انسانی بہت سے ایسے افراد کا پتہ دیتی ہے جنہوں نے اس راستے میں جامِ شہادت نوش کیا ہے اور سولی کی رسی اور جلادوں کی تلواروں کو بوسہ دیا ہے اور پروانہ وار تشدد کرنے والوں کی روشن کی ہوئی آگ میں جلے ہیں جن میں سے صرف ایک گروہ کا نام و نشان تاریخ میں محفوظ ہے۔ آسیہ زن فرعون کی داستان ہم نے سنی ہے جو موسیٰ بن عمران پر ایمان لانے کی وجہ سے ان تمام شدائد سے دوچار ہوئی اور جس نے انجام کار اس راہ میں اپنی جان جانِ آفرین کی بارگاہ میں پیش کی۔ ایک حدیث میں حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ خدا نے حبشہ کے لوگوں میں سے ایک پیغمبر ان پر مبعوث کیا۔ وہ لوگ اس پیغمبر کی تکذیب پر آمادہ ہوئے۔ ان کے دمیان جنگ ہوئی۔ آخرکار ان لوگوں نے اس پیغمبر کے اصحاب میں سے ایک گروہ کو قتل کیا اور ایک گروہ کو اس پیغمبر سمیت گرفتار کر لیا۔ اس کے بعد ایک جگہ آگ تیار کی اور لوگوں کو اس کے قریب بلایا اور کہا جو شخص ہمارے دین پر ہے وہ ایک طرف ہو جائے اور جو اس گروہ کے دین پر ہے وہ اپنے آپ کو آگ میں ڈال دے۔ پیغمبر کے وہ مقید ہمراہی آگ میں کودنے پر ایک دوسرے سے سبقت کرتے تھے۔ اس موقع پر ایک عورت آئی جس کی گود میں ایک مہینے کا بچہ تھا جس وقت عورت نے چاہا کہ اس آگ میں چھلانگ لگائے تو شفقتِ مادری جوش میں آئی اور سدِ راہ ہوئی تو اس بچے نے کہا اے مادر گرامی خوف نہ کھائیں آپ خود بھی اس آگ میں کود جائیں اور مجھ کو بھی ڈال دیں۔ خدا کی قسم یہ چیز راہِ خدا میں بہت معمولی ہے۔ (ان ھٰذا و اللہ فی اللہ قلیل۔) اور یہ بچہ بھی ان افراد میں سے تھا جنہوں نے گہوارہ میں کلام کیا۔ (بحوالہ: تفسیر عیاشی مطابق تفسیر المیزان، جلد۲۰، ص۳۷۷۔ (تلخیص کے ساتھ)۔ اس داستان سے معلوم ہوتا ہے کہ چوتھا گروہ اصحاب الاخدود کا حبشہ میں تھا۔ حضرت عمار یاسر کے ماں باپ اور ان جیسے دوسرے افراد کی داستان اور اس سے بڑھ کر حضرت امام حسین علیہ السلام کا واقعہٴ جاں بازی اور میدانِ کربلا میں ایک دوسرے سے بڑھ کر جامِ شہادت نوش کرنا، اسلام میں مشہور و معروف ہے۔ ہم اپنے اس زمانے میں بھی بہت زیادہ نمونے اس موضوع کے اپنے کانوں سے سنتے ہیں اور اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ بوڑھوں اور جوانوں نے دین و ایمان کی حفاظت کے سلسلہ میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر نہایت والہانہ انداز میں منزلِ شہادت کی طرف قدم بڑھائے۔ کہنا یہ چاہیئے کہ خدا کے دین کی بقا گزشتہ اور موجودہ زمانہ میں اس قسم کی قربانیوں کے بغیر نہ تھی۔

10
85:10
إِنَّ ٱلَّذِينَ فَتَنُواْ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوبُواْ فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ ٱلۡحَرِيقِ
جنہوں نے صاحب ایمان مردوں اور عورتوں پر تشدد کیا، پھر انہوں نے توبہ نہ کی ان کے لئے دوزخ کا عذاب اور آگ کا جلانے والا عذاب ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
85:11
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ لَهُمۡ جَنَّـٰتٞ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۚ ذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡكَبِيرُ
جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اعمال صالح انجام دئیے ان کے لئے جنت کے باغات ہیں جن کے (درختوں کے) نیچے نہریں جاری ہیں اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
85:12
إِنَّ بَطۡشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ
یقیناتیرے پروردگار کی سزا بہت ہی شدید ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
85:13
إِنَّهُۥ هُوَ يُبۡدِئُ وَيُعِيدُ
وہی ہے جو خلقت کا آغاز کرتا ہے اور وہی ہے جو دوبارہ پلٹاتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
85:14
وَهُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلۡوَدُودُ
اور بخشنے والا اور (مومنین کا) دوست رکھنے والا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

15
85:15
ذُو ٱلۡعَرۡشِ ٱلۡمَجِيدُ
صاحب عرش مجید ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
85:16
فَعَّالٞ لِّمَا يُرِيدُ
اور جو چاہتا ہے انجام دیتا ہے۔

تشدد کرنے والے عذابِ الہٰی کے سامنے

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

گزشتہ اقوام میں سے تشدد کرنے والوں کی عظیم بےرحمی کے بیان کے بعد جو صاحب ایمان لوگوں کو آگ میں زندہ جلاتے تھے ان آیات میں ان تشدد کرنے والوں کے متعلق خدا کے سخت عذاب اور مومنین کے لئے عظیم ثواب کی طرف نوید ہے۔ پہلے فرماتا ہے: "وہ جنہوں نے ایماندار مردوں اور عورتوں کو موردِ آزار و عذاب قرار دیا اور پھر توبہ نہیں کی ان کے لئے دوزخ کا عذاب ہے اور اسی طرح جلانے والی آگ کا عذاب ہے" (إِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ)۔ "فتنوا"، "فتن" (بروزن متن) اور فتنہ کے مادہ سے اصل میں سونے کو آگ میں ڈالنے کے معنی میں ہے تاکہ اس کو پرکھا جا سکے اور کھرا کھوٹا قرار دیا جا سکے۔ اس کے بعد یہ مادہ (فتنہ) آزمائش، عذاب و عقاب، گمراہی اور شرک کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے اور زیر بحث آیت میں عذاب، آزار اور تشدد کے معنی میں ہے۔ اس کی نظیر سورہ ذاریات کی آیت ۱۳۔ ۱۴ میں بھی آئی ہے (یوم ھم علی النار یفتنون ذوقوا فتمتکم ھٰذا الذی کنتم بہ تستعجلون) "وہی دن جس دن وہ آگ میں جلائے جائیں گے اور ان سے کہیں گے کہ عذاب کا مزہ چکھو۔ یہ وہی چیز ہے جس کے بارے میں تمہیں جلدی تھی۔"، "ثم لم یتوبوا" کا جملہ بتاتا ہے کہ توبہ کا راستہ اس قسم کا تشدد کرنے والوں کے لئے بھی کھلا ہوا ہے اور یہ چیز یہ بتاتی ہے کہ پروردگار عالم گناہ گاروں پر کتنا رحم کرنا چاہتا ہے۔ ضمناً یہ مکّے کے لوگوں کے لئے تنبیہ ہے کہ وہ جلد از جلد مومنین کو آزار پہنچانے اور تکلیف دینے سے باز آ جائیں اور خدا کی طرف رجوع کریں۔ قرآن اصولی طور پر بازگشت کی راہ کسی پر بند نہیں کرتا اور یہ چیز بتاتی ہے کہ درد ناک عذابِ دنیا بھی مفسدین کی اصلاح کے لئے ہے اور ان کے حق کی طرف لوٹ آنے کے لئے ہے۔ قابلِ توجہ یہ ہے کہ اس آیت میں ان کے لئے دو قسم کے عذاب بیان ہوئے ہیں، ایک عذاب جہنم دوسرا عذاب حریق (جلانے والی آگ کا عذاب) ان دو عذابوں کا ذکر ہو سکتا ہے کہ اس بناء پر ہو کہ چونکہ جہنم میں کئی قسم کی سزائیں اور عذاب ہیں۔ جن میں سے ایک جلانے والی آگ ہے۔ اس کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس بناء پر کہ تشدد کرنے والے مذکورہ افراد مومنین کو آگ میں جلاتے تھے لہٰذا وہاں انہیں آگ کی سزا ملنی چاہئیے۔ لیکن یہ آگ کہاں اور وہ آگ کہاں۔ وہ آگ خدا کے قہر غضب کے شعلوں سے بھڑکائی گئی ہے اور وہ ہمیشہ قائم رہنے والی ہے، نیز ذلت و خواری اپنے ہمراہ لیئے ہوئے ہے، جب کہ دنیا کی آگ ناپائیدار ہے جو کمزور مخلوق کی جلائی ہوئی ہے اور جو مومنین اس میں جلے ہیں وہ سر بلند پر افتخار ہوں گے اور راہ حق کے شہیدوں کی پہلی صف میں ان کی جگہ ہے۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ عذابِ جہنم ان کی کفر کی سزا تھی اور عذابِ حریق ان کے تشدد اعمال کے نتیجے میں ہے۔ اس کے بعد مومنین کے اجر کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اعمال صالحِ انجام دیئے ان کے لئے جنت کے باغات ہیں جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں اور یہ بہت بڑی کامیابی اور نجات ہے۔" (إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيرُ)۔ اس سے بہتر کونسی کامیابی ہو گی کہ پروردگار عالم کے جوارِ اقدس میں انواع و اقسام کی پائیدار نعمتوں کے درمیان سر بلندی و افتخار کے ساتھ ان کو جگہ ملے۔ لیکن اس بات کو فراموش نہیں کرنا چاہیئے کہ اس فوزِ کبیر اور کامیابی کی اصل کلید ایمان اور عملِ صالح ہے۔ اس راہ کا اصلی سرمایہ یہی ہے، باقی جو کچھ ہے وہ اس کی شاخیں ہیں۔ "عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ" کی تعبیر (اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ صالحات صالح کی جمع ہے) بتاتی ہے کہ صرف ایک یا چند عمل صالح کافی نہیں ہیں بلکہ ضروری ہے کہ انسان ہر قدم پر عمل صالح انجام دے۔ "ذَلِكَ" کی تعبیر جو عربی میں دور کے اشارے کے لئے آیا ہے، اس قسم کے مقامات پر اہمیت اور بلندی کو ظاہر کرتی ہے یعنی ان کی کامیابی، نجات اور اختیارات اور اعزازات اس قابل ہیں کہ ہماری فکر کی دسترس سے خارج ہیں۔ اس کے بعد دوبارہ تشدد کرنے والوں اور کفار کو تنبیہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "یہ یقینی بات ہے کہ تیرے پروردگار کی قہر آمیز گرفت اور سزا بہت ہی شدید ہے۔" (إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ)۔ اس کے بعد فرماتا ہے: "یہ گمان نہ کرو کہ تمہارے درمیان میں قیامت نہیں ہے، یا تمہاری بازگشت مشکل ہے، وہی ہے جو خلقت کا آغاز کرتا ہے اور وہی ہے جو واپس لوٹائے گا۔" (إِنَّهُ هُوَ يُبْدِئُ وَيُعِيدُ)۔ "بطش" کے معنی ایسی گرفت کے ہیں جس میں قہر و قدرت کا دخل ہو، چونکہ عام طور پر یہ کام سزا کی تمہید ہوتا ہے اس لئے یہ لفظ سزا کے معنی میں بھی آیا ہے۔ "رَبِّكَ" تیرے پروردگار کی تعبیر پیغمبر کے دل کی تسلی اور خدا کی طرف سے ان کی حمایت کی تاکید ہے۔ قابلِ توجہ یہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت کئی قسم کی تاکیدوں کو لیے ہوئے ہیں۔ ایک طرف تو لفظ بطش خود قہر آمیز گرفت کے معنی میں ہے اور اس میں شدت پوشیدہ ہے، دوسرے جملہ اسمیہ ہے جو عام طور پر تاکید کے لئے آتا ہے، تیسرے "شدید" کی تعبیر اور چوتھے لفظ "اِنّ"، پانچویں "لام تاکید" یہ سب اسی آیت میں جمع ہیں، اس بناء پر قرآن مجید چاہتا ہے کہ انہیں انتہائی قطعی انداز میں سزاؤں کے بیان سے تہدید کرے اور دھمکائے اور إِنَّهُ هُوَ يُبْدِئُ وَيُعِيدُ کا جملہ، جس میں معاد کی اجمالی دلیل پوشیدہ ہے، کہہ کر ایک اور تاکید کا اضافہ کرتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: معاد کے بارے میں مندرجہ بالا خوب صورت دلیل وہی ہے جو سورہ یٰسین کے آخر میں آیہ۷۹ میں بھی آئی ہے۔ (قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ) کہہ دے وہی ذات جس نے اسے ابتداء میں خلق کیا ہے، دوبارہ زندہ کرے گی اور وہ اپنی پوری مخلوق سے آگاہ ہے۔ کہتے ہیں کہ فارابی کی آرزو تھی کہ کاش مشہور یونانی فیلسوف ارسطو زندہ ہوتا تاکہ وہ محکم اور خوبصورت دلیل معاد و قیامت کے بارے میں قرآن مجید کی طرف سے سنتا)۔ اس کے بعد خدائے عظیم و برتر کے اوصاف میں سے پانچ اوصاف بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: "وہ توبہ کرنے والے بندوں کو بخشنے والا اور مؤمنین کو دوست رکھنے والا ہے۔" (وَهُوَ الْغَفُورُ الْوَدُودُ)۔ "وہ تخت قدرت والا، عالم ہستی پر حکومتِ مطلقہ رکھنے والا صاحبِ مجدد و عظمت ہے۔" (ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيدُ) "وہ کام کا ارادہ کر کے اسے انجام دیتا ہے۔" (فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيدُ)۔ "غفور" و "ودود" دونوں مبالغہ کے صیغہ ہیں اور اس کی انتہائی بخشش اور محبت کی طرف اشارہ ہیں۔ گناہ گار توبہ کرنے والوں کا بخشنے والا اور بندگان صالح کے بارے میں شفیق و مہربان۔ حقیقت میں ان اوصاف کا ذکر اس تہدید کے مقابلہ میں، جو گزشتہ آیات میں آئی ہے، اس حقیقت کو بیان کرنے کے لئے ہے کہ بازگشت کا راستہ گناہگاروں کے سامنے کھولا ہے اور خدا شدید العقاب ہونے کے باوجود غفور و ودود و رؤف و مہربان ہے۔ جو کچھ کہا گیا ہے اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ ودود یہاں فاعل کے معنی رکھتا ہے، نہ کہ مفعول کے۔ اور یہ جو بعض مفسرین نے ودود کے لفظ کو اسم مفعول کے معنوں میں سمجھا ہے، مثل رکوب کے جو مرکوب کے معنی میں آیا ہے یعنی خدا سے بہت زیادہ محبت و دوستی کی گئی، غفور کی صفت کے ساتھ جو اس سے پہلے آئی ہے کوئی مناسبت نہیں رکھتا۔ اس لئے کہ خدا کا ہدف و مقصد بندوں سے محبت کرنا اور انہیں دوست رکھنا ہے، نہ کہ بندوں کا اس کی نسبت دوست رکھنا اور محبت کرنا ہے۔ تیسری صفت یعنی ذوالعرش، اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ عرشِ بلند تختِ شاہی کے معنی میں ہے، اس قسم کے موارد میں قدرت و حاکمیت کا کنایہ ہے اور اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ جہانِ ہستی کی حکومت اسی کے لئے ہے اور جو کچھ وہ ارادہ کرے وہ انجام پا جاتا ہے۔ اس بنا پر حقیقت میں "فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيدُ" کا جملہ اس حاکمیت مطلقہ کے لوازم میں سے ہے اور ان سب میں مسئلہ معاد اور مُردوں کو موت کے بعد زندہ کرنے والے جباروں کو سزا دینے اور کیفرِ کردار تک پہنچانے کے سلسلہ میں اس کی طاقت و قدرت کی نشاندہی کرتا ہے۔ "مجید"، "مجد" کے مادہ سے کرم و شرافت و جلالت کی وسعت کے معنی میں ہے اور یہ ایسی صفات میں سے ہے جو خدا کی ذات سے مخصوص اور دوسروں کے بارے میں بہت کم استعمال ہوتی ہیں۔ (تشریحی نوٹ: توجہ رکھنی چاہئیے کہ اوپر والی آیت میں مجید مشہور قرائت کی بناء پر مرفوع ہے اور خدا کے اوصاف میں سے ہے نہ کہ مجرد اور عرش کے اوصاف میں سے)۔ یہ پانچویں صفتیں ایک واضح انجام اور ایک دوسرے سے تعلق رکھتی ہیں، اس لئے کہ غفور و ودود ہونا اس وقت مفید ہے جب قدرت حاصل ہو اور کرمِ وسیع اور نعمت بےپایاں ہو، تاکہ وہ جو کچھ ارادہ کرے انجام دے سکے۔ نہ کوئی چیز اس کے کام میں مانع ہو اور نہ کوئی مقابلہ کی قدرت رکھتا ہو اور اس کے ارادہ میں ضعف و نقاہت و شک اور تردید و فسخ کا امکان نہ ہو۔

17
85:17
هَلۡ أَتَىٰكَ حَدِيثُ ٱلۡجُنُودِ
کیا لشکروں کی داستان تجھ تک پہنچی ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

18
85:18
فِرۡعَوۡنَ وَثَمُودَ
فرعون و ثمود کے لشکر۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

19
85:19
بَلِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فِي تَكۡذِيبٖ
بلکہ کفار ہمیشہ حق کی تکذیب میں مصروف رہتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

20
85:20
وَٱللَّهُ مِن وَرَآئِهِم مُّحِيطُۢ
اور اللہ ان سب پر احاطہ رکھتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

21
85:21
بَلۡ هُوَ قُرۡءَانٞ مَّجِيدٞ
(یہ کوئی جادو اور جھوٹ نہیں ہے) بلکہ باعظمت قرآن ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

22
85:22
فِي لَوۡحٖ مَّحۡفُوظِۭ
جو لوح محفوظ میں موجود ہے۔

تفسیر تُو نے دیکھا کہ خدا نے فرعون و ثمود کے لشکروں کے ساتھ کیا کیا؟

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

گزشتہ آیات میں خدا کی قدرتِ مطلقہ، اس کی قطعی حاکمیت اور تشدد کرنے والے کفار کی تہدید کے طور پر تھیں۔ یہ بتانے کے لئے یہ تہدیدیں عملی ہیں، باتوں اور نعروں کی حد تک محدود نہیں ہیں، زیرِ بحث آیات میں روئے سخن پیغمبر کی طرف کرتے ہوئے فرماتا ہے: "کیا لشکروں کی داستان تجھ تک پہنچی ہے۔" (هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْجُنُودِ)۔ وہ عظیم لشکر جنہوں نے خدائی پیغمبروں کے مقابلہ میں صف آرائی کی اور لڑنے کے لئے مستعد ہو گئے اس گمان میں کہ وہ خدائی قدرت کے مقابلہ میں اپنے کو پیش کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد ان کے دو بہت ہی واضح اور آشکار نمونوں کی طرف، جن میں سے ایک قدیم الایام میں اور دوسرا بہت ہی نزدیک کے زمانہ میں وقوع میں آیا، اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "وہی فرعون اور ثمود کے لشکر" (فرعون و ثمود)۔ "وہی جن میں سے بعض نے دنیا کے مشرق و مغرب کو اپنے زیرِ تسلط کر لیا تھا اور بعض نے پہاڑوں کے چیر کر بڑے بڑے پتھر کاٹ کر ان سے بڑے بڑے مکانات، قصر اور محل بنائے اور کسی میں بھی ان کا مقابلہ کرنے کی جرأت نہیں تھی، لیکن خدا نے اپنے گروہ کو پانی کے ذریعہ اور دوسرے کی آندھی کے وسیلے سے، جو دونوں انسانی زندگی کا ذریعہ ہیں اور زیادہ لطیف موجودات شمار ہوتے ہیں، سپرد کوبی کی۔ دریائے نیل کی موجیں فرعون اور اس کے لشکر کو نگل گئیں اور ٹھنڈی اور سرکوبی کرنے والی ہَوا قومِ ثمود پرِکِاہ کی طرح اٹھاتی اور تھوڑے وفقہ کے بعد ان کے بےجان جسموں کو سطح زمین پر پھینک دیتی تھی تاکہ مشرکین عرب جان لیں کہ وہ کچھ بھی کر سکتے۔ جب خدا نے ان عظیم اور طاقتور لشکروں سے اس طرح انتقام لیا تو ان لوگوں کی کیا ہستی ہے جو ان کے مقابلہ میں بہت ہی کمزور و ناتواں ہیں، اگرچہ اس کی قدرت مقابلہ کے میں ضعیف قوی برابر ہیں۔ گزشتہ عام اقوام میں سے قوم ثمود و فرعون کا انتخاب سرکش قوموں کے نمونہ کے طور پر اس بناء پر ہے کہ وہ دونوں قومیں انتہائی طاقتور تھیں۔ ایک گزشتہ ادوار سے متعلق تھی (قوم ثمود) اور دوسری زیادہ نزدیک ماضی سے تعلق رکھتی تھی (قوم فرعون) علاوہ ازیں قوم عرب ان ناموں سے باخبر تھی اور اجمالی طور پر ان کی تاریخ سے آشنا تھی۔ بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے: "بلکہ وہ لوگ کافر ہو گئے۔ وہ ہمیشہ حق کی تکذیب میں گرفتار و مبتلا ہیں۔" (بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي تَكْذِيبٍ)۔ اس طرح نہیں ہے کہ حق کی نشانیاں کسی سے مخفی ہیں۔ عناد اور ہٹ دھرمی اجازت نہیں دیتے کہ بعض لوگ راہ نکال کر منزل حق کی طرف قدم بڑھائیں۔ "بل" کی تعبیر جو اصطلاح کے، مطابق ”اضراب“ (ایک چیز سے دوسری چیز کی طرف عدول کرنے) کے لئے ہے، گویا اس طرف اشارہ ہے کہ یہ مشرک گروہ قومِ فرعون و ثمود سے بھی بدتر اور زیادہ ہٹ دھرم ہے۔ یہ لوگ ہمیشہ قرآن کے انکار اور تکذیب میں لگے رہتے ہیں اور اس مقصد کے لئے اور وسیلہ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ لیکن انہیں جان لینا چاہئیے کہ خدا ان سب پر احاطہ رکھتا ہے اور وہ سب ان کی قدرت کی گرفت میں ہیں (وَاللَّهُ مِن وَرَائِهِم مُّحِيطٌ)۔ اگر خدا انہیں مہلت دیتا ہے تو عجز و توانائی کی بناء پر نہیں ہے اور اگر انہیں جلدی سزا نہیں دیتا تو وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ اس کی اقلیم قدرت سے باہر ہیں۔ (وَرَائِهِم) ان کے پیچھے اور پسِ پشت کی تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ وہ ہر جہت سے قدرت الہٰی کے قبضہ میں ہیں اور قدرت تمام اطراف سے ان کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اس بناء پر ممکن نہیں ہے کہ اس کی عدالت اور سزا سے راہ فرار اختیار کر سکیں۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد ان کے اعمال پر تمام جہات سے خدا کا علمی احاطہ ہو اس طرح سے کہ ان کی کوئی گفتار، ان کا کوئی کردار اور ان کا کوئی کام اس سے مخفی نہیں ہے۔ بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے: "ان کا قرآن مجید کی تکذیب پر اصرار اور اسے سحر، جادو، شعر اور کہانت سے تشبیہ دینا، بیہودہ اور فضول بات ہے، بلکہ وہ قرآن مجید با عظمت اور بلند مرتبہ ہے" (بَلْ هُوَ قُرْآنٌ مَّجِيدٌ)۔ "ایسا کلام ہے جو لوح محفوظ میں ثبت ہے اور نااہل شیاطین اور کاہنوں کا ہاتھ ہرگز اس تک نہیں پہنچتا، اور ہر قسم کے تغیر، تبدیلی، اضافہ اور نقصان سے محفوظ ہے (فِي لَوْحٍ مَّحْفُوظٍ)۔ اس بناء پر اگر وہ ناروا نسبتیں تیری طرف دیتے ہیں اور تجھے شاعر، ساحر، کاہن، اور مجنون کہتے ہیں تو تُو اس سے ہرگز غمگین نہ ہو۔ تیری تکیہ گاہ محکم، تیری راہ روشن اور تیرا حمایتی صاحبِ قدرت ہے۔ "مجید" جیسا کہ ہم نے کہا ہے "مجد" کے مادہ سے شرافت و جلالت کی وسعت کے معنی میں ہے اور یہ معنی قرآن کے بارے میں پورے طور پر صادق آتے ہیں، اس لئے کہ قرآن کے مشمولات و مضامین وسیع و عظیم ہیں اور اس کے معانی بلند و پَر مایہ ہیں۔ معارف و عقائد کے سلسلہ میں بھی اور اخلاق و مواعظ و احکام و تسنن کے بارے میں بھی۔ (لوح، لام کے زبر کے ساتھ) عریض و وسیع صفحہ کے معنی میں ہے جس پر کوئی چیز لکھتے ہیں اور لُوح (لام کے پیش کے ساتھ) پیاس کے معنی میں ہے۔ اس ہَوا کو بھی کہتے ہیں، جو زمین و آسمان کے درمیان موجود ہے، وہ فعل جو پہلے تلفظ سے مشتق ہوتا ہے آشکار ہونے اور چمکنے کے معنوں میں ہے۔ بہرحال، یہاں مراد وہ صفحہ ہے جس پر قرآن مجید تحریر ہے۔ لیکن وہ صفحہ نہیں جو ہمارے درمیان رائج ہے جو الواح کی مانند ہے بلکہ ایک تفسیر کے مطابق جو ابن عباس سے منقول ہے کہ: لوحِ محفوظ کا طول زمین و آسمان کے درمیانی فاصلے کے برابر ہے اور عرض مغرب و مشرق کے فاصلے کے برابر ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں محسوس ہوتا ہے کہ لوحِ محفوظ وہی علم خدا کا ایک صفحہ ہے جس نے عالم مشرق و غرب کو گھیر رکھا ہے اور وہ ہر قسم کی دگرگونی، تغیر اور تبدیلی و تحریف سے محفوظ ہے۔ جی ہاں! قرآن مجید کا سرچشمہ حق تعالیٰ کا علمِ بےپایاں ہے۔ یہ انسانی فکر کی پیداوار نہیں ہے، نہ یہ القائے شیاطین کا نتیجہ ہے۔ اس کے مشمولات و مضامین اس حقیقت کے گواہ ہیں۔ یہ احتمال وہی چیز ہے جسے قرآن مجید میں کبھی کتاب مبین سے اور کبھی ام الکتاب سے تعبیر کیا گیا ہے جیسا کہ سورہ رعد کی آیت ۳۹ میں ہم پڑھتے ہیں (يَمْحُو اللّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ) خدا جسے چاہتا ہے محو کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے اور اس کے پاس ام الکتاب ہے۔ اور سورہ انعام کی آیت ۵۹ میں آیا ہے (وَلاَ رَطْبٍ وَلاَ يَابِسٍ إِلاَّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ) خشک و تر کی کوئی چیز ایسی نہیں مگر یہ کہ واضح کتاب میں ثبت ہے۔ خداوندا! ہمیں اپنی اس عظیم آسمانی کتاب کی حقیقت سے زیادہ آشنا فرما۔ پروردگارا! اس دن جس میں مومنینِ صالح فوزِ کبیر حاصل کریں گے اور کافرین مجرم عذابِ حریق میں گرفتار ہوں گے، ہمیں اپنے دامن عافیت میں پناہ دیجئو۔ بار الہٰا! تُو غفور و ودود و رؤف و مہربان ہے۔ تو ہم سے وہ سلوک کر جو تیرے ان اسمائے صفات سے ہم آہنگ ہے۔ وہ سلوک نہ کیجو جس کا ہمارے اعمال تقاضا کرتے ہیں۔ آمین یا رب العالمین

end of chapter
Al-Buruj (85) — Tafseer e Namoona