Sūra 47 · 38v
Chapter 4738 verses

Muhammad

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
محمد
محمد

سورہ محمد

یہ سوره مدینہ میں نازل ہوئی اس میں ۳۸ آیات ہیں

سورہ محمدؐ کے مضامین

اس سُورت کی دوسری آیت میں چونکہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام مذکور ہوا ہے اس لیے اس کا نام "محمدؐ" رکھا گیا ہے اور اس کا دوسرا نام قتال بھی ہے۔ واقع یہ ہے کہ دشمنانِ اسلام کے ساتھ جنگ اور جہاد جو نہایت اہم موضوع ہے۔ اس سُورت پر سایہٴ فگن ہے جب کہ اس سُورت کی دوسری بہت سی آیات میں کفّار اور مومنین کے حالات اور صفات و خصوصیات کا تقابل کیا گیا ہے، اسی طرح ان کے اُخروی انجام کو بیان کیا گیا ہے، کلی طور پر اس سُورت کے ذیل میں مضامین کو چند حصّوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: ۱۔ ایمان اور کفُر کا مسئلہ اور اس دُنیا میں اور اس جہان میں مومنین اور کفّار کے حالات کا تقابل۔ ۲۔ دشمنوں کے ساتھ جنگ اور جہاد کے مسئلے پر واضح اور تفصیلی بحث اور جنگی قیدیوں کے متعلق حکم۔ ۳۔ اس کا ایک بڑا حِصّہ منافقین کے حالات کی تشریح کرتا ہے، جو ان آیات کے نزُول کے وقت مدینہ میں تخر یبی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ ۴۔ ایک اور حِصّے میں "زمین کی سیر" اور گزشتہ اقوام کے انجام کے سلسلے میں تحقیق کی بات کی گئی ہے اور ان کے انجام سے درسِ عبرت حاصل کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ ۵۔ کچھ آیات میں جنگ کے مسئلے کی مناسبت سے الہٰی امتحان کا تذکرہ ہے۔ ۶۔ ایک اور حِصّہ میں "انفاق" (راہ خدا میں خرچ کرنے) کی بات کی گئی ہے جو بذاتِ خود جہاد کی ایک قسم ہے اور اس کا نُقطہٴ مقابل "بخل" ہے اس کے بارے میں بھی گفتگو کی گئی ہے۔ ۷۔ سُورت کی بعض آیات میں اسی مناسبت سے کفار کے ساتھ صُلح (جو شکست اور ذلت کا موجب بنے) کی بات کی گئی ہے اور اس قسم کی صلح سے روکا گیا ہے۔ مجمُوعی طور پر اس سُورت میں جس اصل مسئلے پر زیادہ زور دیا گیا ہے وہ جنگ کا مسئلہ ہے اور باقی مسائل اسی محور کے گرد گھومنتے ہیں، کیونکہ یہ سورة مدینہ میں اس وقت نازل ہوئی جب مسلمانوں کی دشمنانِ اسلام کے ساتھ جنگ زوروں پر تھی اور بعض مفسرین نے بقول جنگِ اُحد کے دوران یا اس کے بہت تھوڑے عرصے بعد نازل ہوئی، ایسی جنگ جو تقدیر ساز اور مومنین کو کفار اور منافقین کی صفوف سے جدا کر دینے والی ہو، ایسی جنگ جو اسلام کی بنیادوں کو محکم کر دے اور ان دشمنانِ اسلام کو سبق سیکھائے جو اسلام اور مسلمانوں کی نابودی کا ارادہ رکھتے ہوں۔

سُورہٴ محمدؐ کی تلاوت کی فضیلت

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: " من قرءَ سورةَ مُحَمَّد كَانَ حَقّاً عَلَى اَللهِ اَنْ يَسْقِيَهُ مِنَ اَنْهَارِ اَلْجَنَّةِ۔" "جو شخص سُورہ محمد کی تلاوت کرے گا، خدا پر حق بن جاتا ہے کہ اسے بہشت کی نہروں سے سیراب کرے۔ (بحوالہ: تفسیرمجمع البیان، جلد۹، سورہ ٴ محمد کا آغاز)۔ کتاب "ثواب الأعمال" میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے بھی ایک حدیث نقل کی گئی جس میں آپؐ نے فرمایا ہے: " مَن قرءَ سورة الّذين كفروا (سورة محمد) لم يرتب ابدًا، وَلم يدخله شكٍ فى دينه ابدًا، ولم يبتله الله بِفقرٍ ابدًا وَلا خوفٌ سلطان أبدًا ولم يزل محفوظا من الشّرك والكفر ابدًا حتى يموت فاذا مات وكله الله به فى قبره الف ملك يصلون فى قبره وَيكون ثواب صلاتهم له ويشيعونه حتى يوقفوه موقف الامن عند الله عزّ وَجلّ و يكون فى أمان الله وأمان محمد۔" "جو شخص سُورہ ٴ محمدؐ کی تلاوت کرے، کبھی بھی شک و شبہ اس کے دین میں داخل نہیں ہو گا اور خدا اسے کبھی دین کے فقر میں مبتلا نہیں کرے گا اور اسے ہرگز بادشاہ کا خوف لاحق نہیں ہو گا اور آخر عمر تک شرک و کفر سے محفوظ اور امان میں ہو گا اور جب مرے گا تو خدا ایک ہزار فرشتوں حکم دے گا کہ اس کی قبرمیں جا کر نماز ادا کریں اور اس نماز کا ثواب اس مرنے والے کو ملے گا اور یہ ہزار فرشتے محشر تک اس کے ساتھ رہیں گے اور عرصہ محشرمیں اسے امن وامان کے مقام پر لے جا کر کھڑا کریں گے اور وہ ہمیشہ اللہ اور محمدؐ کی امان میں رہے گا (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد۵، صفحہ ۳۵، بحوالہ ثواب الأعمال)۔ ظاہری بات ہے کہ جو لوگ ان آیات کے مندرجات کو اپنی ذات پر نافذ کریں گے اور سخت، بےرحم اور منطق دشمن کے ساتھ برسرِ پیکار ہوں گے تو ان کے دل میں نہ تو کسی قسم کا شک و شبہ پیدا ہو گا اور نہ ہی ارادہ میں لغزش ایک تو ان کے دین کی بنیاد یں مستحکم ہوں گی اور دوسرے خوف، ذّلت اور تنگ دستی کا خاتمہ ہو گا اور ساتھ ہی قیامت میں رحمتِ الہٰی کے جوار میں نعمتوں سے بہرہ ور ہوں گے۔ ایک اور حدیث میں امام علیہ السلام فرماتے ہیں: "من أراد أن يعرف حالنا وحال أعدائنا فليقرء سورة محمد فإنّه يراها آية فينا وَآية فيهم۔" "جو ہمارے اور ہمارے دشمنوں کے حال کو دیکھنا چاہیے اسے سورہٴ محمّد کی تلاوت کرنا چاہیے کیونکہ اس کی ایک آیت ہمارے حق میں اور ایک آیت ہمارے دشمن کے بارے میں ہے۔" (بحوالہ: مجمع البیان، جلد۹، اسی سُورت کا آغاز)۔ اس حدیث کو"اہل سنت کے مفسر آلوسی نے رُوح المعانی (بحوالہ: تفسیر رُوح المعانی، جلد ۲۶، صفحہ ۳۳) اور سیوطی نے درمنثور میں بھی نقل کیا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر درمنثور، جلد۶، صفحہ ۴۶)۔ یہ حدیث اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ ایمان کا کامل نمونہ اہل بیت پیغمبر علیہم السلام اور کفر و نفاق کا مجسم نمونہ بنی امیّہ ہیں۔یہ ٹھیک ہے کہ سورة میں اہل بیت علیہ السلام کے نام سے تصریح نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی بنی امیّہ کا نام لیا گیا ہے لیکن چونکہ موٴمن میں منافق گروہوں کے بارے میں اور ان کی خصوصیات کے سلسلے میں بحث کی گئی ہے، لہٰذا سب سے پہلے ان دو واضح مصداقوں کی طرف اشارہ کرتی ہے، البتہ تمام مومنین اور تمام منافقین پر اس کے صادق آنے میں کوئی مانع نہیں ہے۔

1
47:1
ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ أَضَلَّ أَعۡمَٰلَهُمۡ
جن لوگوں نے کفرا ختیار کیا اور لوگوں کو خدا کے راستے سے روکا اللہ ان کے اعمال کو اکارت کر دیتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 3 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
47:2
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ وَءَامَنُواْ بِمَا نُزِّلَ عَلَىٰ مُحَمَّدٖ وَهُوَ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّهِمۡ كَفَّرَ عَنۡهُمۡ سَيِّـَٔاتِهِمۡ وَأَصۡلَحَ بَالَهُمۡ
اور جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اوراچھے اچھے کام کئے اور جو کچھ محمدپر نازل ہو ، سب بر حق ہے اور پروردگار کی جانب سے ہے۔ اس پر بھی ایمان لے آئے تو خدا ان کے گناہوں کو بخش دے گا اور ان کی حالت بھی سنواردے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 3 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
47:3
ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ ٱتَّبَعُواْ ٱلۡبَٰطِلَ وَأَنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّبَعُواْ ٱلۡحَقَّ مِن رَّبِّهِمۡۚ كَذَٰلِكَ يَضۡرِبُ ٱللَّهُ لِلنَّاسِ أَمۡثَٰلَهُمۡ
یہ اس وجہ سے ہے کہ کافروں نے باطل کی پیروی کی اور مومنوں نے اس حق کی جو ان کے پروردگار کی طرف سے تھا۔ اللہ اس طرح لوگوں کے لئے ان کی زندگی(کے حا لات) کو بیان فرماتا ہے۔

تفسیر مُؤمن حق کی اور کافر باطِل کی اتباع کرتے ہیں:

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

یہ تین آیات درحقیقت، مقدمہ ہیں ایک اہم جنگی حُکم کا جو چوتھی آیت میں دیا گیا ہے۔ پہلی آیت میں کفّار کا اور دوسری میں مومنین کا حال بیان کرنے کے بعد تیسری آیت میں ان کا آپس میں تقابل کیا گیا ہے تاکہ جب دونوں خطُوط اور راستے واضح ہو جائیں تو ظالم اور بےرحم دشمن کے ساتھ عقیدے پر مبنی جنگ کے لیے پوری آ مادگی حاصل ہو جائے۔ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: جن لوگوں نے کُفر اختیار کیا اور لوگوں کو خدا کے راستے سے روکا اللہ ان کے اعمال اکارت کر دیتا ہے (الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللهِ أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ)۔ یہ کفّار کے سرغنوں اور مکّہ کے مشرکین کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے اسلام کے خلاف جنگ کی آگ بھڑکائی تھی وہ خود ہی کافر نہیں تھے بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی مختلف حیلوں اور بہانوں سے خدا کے راستے سے روکتے تھے۔ اگرچہ بعض مفسرین مثلاً کشاف میں زمخشری کے مانند یہاں پر"صد" کی ایمان سے "روگرانی" کے معنی کی تفسیر کی گئی ہے بعد کی آیات کے مقابل میں جن میں ایمان کی بات کی گئی ہے، لیکن اس کلمے کے قرآن مجید میں استعمال کے مواقع کے پیشِ نظر اس کے اصلی معنی کو ہی لیا جائے گا جو "روکنے اور منع کرنے" کے ہیں۔ "اَضَلَّ اَعْمالَهُم" سے مراد یہ ہے کہ ان کے اعمال اکارت کر دے گا، کیونکہ گم کرنا، کنایہ ہے کسِی چیز کے بے سرپرست ہونے کے لیے کہ جس کے نتیجے میں وہ چیز ختم ہو جاتی ہے۔ بہرحال، بعض مفسرین نے اس جُملے کو ان لوگوں کی طرف اشارہ سمجھا ہے جنہوں نے جنگ بدر کے دن اونٹ نحر کر کے لوگوں میں تقسیم کیے، ابوجہل نے دس اونٹ، صفوان نے دس اونٹ، اور سہل بن عمرو نے بھی دس اونٹ اپنے فوجیوں کے لیے نحر کیے تھے۔ (بحوالہ: تفسیر روح المعانی، جلد۲۶، صفحہ ۳۳) لیکن چونکہ یہ کام شیطانی مقاصد اور شرک کے لیے تھے لہذا سب ضبط ہو گئے۔ لیکن بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت اسی معنی میں محدُود نہیں ہے، بلکہ انہوں نے محتاجوں یا مہمانوں کی امداد وغیرہ کے لیے جو بھی ظاہری اعمال انجام دیئے ہیں ان کے خدا پر ایمان نہ ہونے کے سبب سب کے سب اکارت جائیں گے۔ علاوہ ازیں، انہوں نے اسلام کو مٹانے اور مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کے لیے جو کام بھی کیے ہیں خدا تعالیٰ نے ان سب کو بھی فنا اور نامراد بنا دیا اور انہیں مقصد تک پہنچنے سے روک دیا۔ بعد کی آیت مومنین کی کیفیّتب بیان کر رہی ہے جو کفار کے مدّمقابل ہیں اور ان کی کیفیّت گذشتہٴ آیت میں مذ کور ہو چکی ہے، ارشاد ہوتا ہے: اور جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور انہوں نے اچھے اچھے کام کیے اور جو کچھ محمدؐ پر نازل ہوا اور سب برحق ہے اور پروردگار کی جانب سے ہے، اس پر بھی ایمان لے آئے تو خدا ان کے گناہوں کو بھی بخش دے گا اور ان کی دُنیا اور آخرت میں حالت سنوار دے گا۔ (وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ كَفَّرَعَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ)۔ (تشریحی نوٹ: کچھ مفسرین نے "وَهُوَ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ" کے جُملے کو جُملہ معترضہ سمجھا ہے)۔ مطلق ایمان کا ذکر کرنے کے بعد جو کُچھ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی اُس پر ایمان کا تذکرہ رسُولِ اعظم کے تمام اُمور پر ایمان لانے کا تاکیدی بیان ہے گویا یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے اور اس حقیقت کو واضح کر رہا ہے کہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل کردہ چیزوں پر ایمان نہ لایا جائے اس وقت تک خدا پر ایمان کی تکمیل ناممکن ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ شاید یہ پہلا جُملہ خدا پر ایمان کی طرف اشارہ ہو جو اعتقادی پہلو کا حامل ہے اور یہ جُملہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات اور اسلام کے پیش کردہ نظام اور احکامات پر ایمان کی طرف اشارہ ہے اور یہ جو عملی پہلو کا حامل ہے۔ بالفاظ دیگر صرف خدا پر ایمان لانا کافی نہیں ہے " ما أنزل عليه" پر ایمان بھی ضروری ہے، قرآن پر ایمان، جہاد پر ایمان، نماز روزے پر ایمان اور ان اخلاقی اقدار پر ایمان جو آپؐ پر نازل ہوئیں۔ ایسا ایمان جس سے اعمال صالحہ کی بجا آوری کے لیے تحرک پیدا ہو۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ اس جُملے کے بعد فرمایا گیا ہے: "وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ" حالانکہ وہ برحق اور خدا کی طرف سے ہے۔ یعنی ان کا ایمان نہ تو کسی حساب و کتاب کے بغیر ہوتا ہے اور نہ ہی بغیر کسی دلیل و استدلال کے ہے، کیونکہ انہوں نے حق کو پہچانا ہے، لہذا اس پر ایمان لے آئے ہیں۔ اور" مِن رَّبِّهِمْ" (ان کے پروردگار کی طرف سے) اس حقیقت کی تاکید ہے کہ حق ہمیشہ پروردگار کی طرف سے ہوتا ہے، اسی سے معرض ِوجود میں آتا ہے اور اسی کی طرف پلٹ جاتا ہے۔ یہ بات بھی شایان توجہ ہے کہ جس طرح راہ حق سے روکنے والے کفّار کے لیے دو سزائیں بیان ہوئی ہیں اسی طرح صالح العمل موٴمنین کے لیے بھی جزائیں بیان ہوئی ہیں، ان میں سے ایک تو لغزشوں کی معانی اور خطاؤں کی بخشش ہے جن کے ارتکاب سے کوئی بھی غیر معصوم محفوظ نہیں ہے اور دوسرے حالات کی اصلاح اور امور کا سنوارنا جِسے"اصلاح بال" کہا گیا ہے۔ "بال" کے مختلف معانی مذکور ہُوئے ہیں مثلاً حال، کام اور دِل۔ لیکن مفردات میں راغب کے بقول "زبردست اہمیّت کے حامل حالات" کے معنی میں ہے، بنابریں، "اصلاحِ بال" کا معنیٰ تمام زندگی کے مکمل امور کو سنوارنا اور سدھارنا ہے جو فطری طور پر دنیا اور آخرت کی کا میابی پر مشتمل ہوتے ہیں․کفار کے انجام کے بالکل برعکس کہ " أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ" کے پیش نظر جن کی تمام تگ و دو کسی نتیجہ پر نہیں پہنچتی اور سوائے شکست کے انہیں کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ گناہوں کی معافی ان کے ایمان کا نتیجہ ہوتی ہے اور "اصلاحِ بال" ان کے اعمالِ صالح کا نتیجہ ہوتا ہے۔ موٴمنین کو ایک تو ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے اور دوسرے انہیں عملی پروگراموں میں کامیابی حاصل ہوتی ہے جو وسیع پیمانے پر اصلاح اُمور کی صورت ہوتی ہے اور اس سے بڑھ کر اور کیا نعمت ہو سکتی ہے کہ انسان کو روحانی سکون اور قلبی اطمینان کے حصُول کے علاوہ مفید اور تعمیری پروگراموں پر عمل پیرا ہونا نصیب ہو۔ اس سِلسلے کی آخری آیت میں مومنین کی کامیابی اور کفار کی شکست کا اصل نکتہ ایک مختصر لیکن واضح تقابل کی صورت میں بیان کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے: یہ اس وجہ سے ہے کہ کافروں نے باطل کی پیروی کی اور موٴمنوں نے اس حق کی جو ان کے پروردگار کی طرف سے تھا (ذَلِكَ بِأَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَأَنَّ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِن رَّبِّهِمْ)۔ تمام مطالب کی جان یہی ایک نکتہ ہے جس سے "ایمان" اور"کفر" کے دو خطوط بالترتیب "حق" اور "باطل" سے حاصل ہوتے ہیں۔ "حق" یعنی عینی حقیقیتں جن میں سرفہرست پروردگار عالم کی ذات پاک ہے اور اس کے بعد وہ حقائق ہیں جن کا انسانی زندگی سے تعلق ہوتا ہے اور وہ قوانین ہیں جو بندے اور خدا کے درمیان نیز خود بندوں کے درمیان باہمی رابطے کا کام دیتے ہیں۔ "باطل" یعنی اٹکل پچو، خیالات، نیز نگیاں، خرافاتی افسانے اور بےہودہ اور بےمقصد کام،غرض عالمِ ہستی پر حکم فرما ہر قسم کے گمراہ کن قوانین۔ جی ہاں! مومنین حق کی اس معنی کے ساتھ جو بیان ہُوا ہے پیروی کرتے ہیں اور کفار، باطل کی۔․یہی وجہ ہے کہ مومنین کو کامیابی اور کفار کو ناکامی اور شکست کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔ قرآن کہتا ہے: "وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا۔" "ہم نے تمام آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اسے باطل پیدا نہیں کیا۔" (ص / ۲۷)۔ بعض مفسرین نے "باطل" کو"شیطان" کے اور بعض نے "بیہودہ اور بےمقصد" کے معانی سے تفسیر کیا ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم ابھی بتا چکے ہیں "باطل" وسیع معنی میں استعمال ہُوا ہے جو اِن معنی اور دوسرے معانی پر بھی محیط ہے۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: خدا لوگوں کے لیےان کی زندگی یوں بیان فرماتا ہے (کَذلِکَ یَضْرِبُ اللہُ لِلنَّاسِ اَمْثالَهُمْ)۔ یعنی جس طرح اللہ نے مومنین اور کفار کی زندگی کے خطُوط، ان کے عقائد اور عملی پروگرام اور نتائج کو ان آیات میں بیان فرمایا ہے اسی طرح وہ ان کی زندگی کے انجام اور عاقبت ألأمر کو بھی واضح فرماتا ہے۔ راغب اپنی کتاب مفردات میں کہتے ہیں کہ "مثل" کسِی چیز کے بارے میں ایسی گفتگو کو کہتے ہیں جیسی اس مطلب کے مشابہ کے بارے میں کی گئی ہے تاکہ یہ ایک دوسرے کو واضح کریں۔ راغب کی دوسری گفتگو سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ کلمہ کبھی تو "مشابہت" کے معنی میں اور کبھی "توصیف" کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ زیر تفسیرآیت میں بظاہر دوسرا معنی مراد ہے، یعنی خدا اس طرح لوگوں کے حالات بیان کرتا ہے جیسا کہ سُورہ محمد (ص) کی پندرھویں آیت میں ہے: "مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ" "بہشت والوں کی صفت کہ جس بہشت کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا کچھ یُوں ہے․․․۔" بہرحال، اس آیت سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ ہم حق کے جتنا نزدیک ہوں گے اسی قدر ایمان کے نزدیک ہوں گے اور ہمارا ایمان و عمل جس قدر باطل کے نزدیک ہو گا اسی قدر ہم ایمان سے دُور ہوں گے، کیوں کہ ایمان و کُفر کے خطوط ہی تو حق و باطل کے خطُوط ہوتے ہیں۔

4
47:4
فَإِذَا لَقِيتُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فَضَرۡبَ ٱلرِّقَابِ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَثۡخَنتُمُوهُمۡ فَشُدُّواْ ٱلۡوَثَاقَ فَإِمَّا مَنَّۢا بَعۡدُ وَإِمَّا فِدَآءً حَتَّىٰ تَضَعَ ٱلۡحَرۡبُ أَوۡزَارَهَاۚ ذَٰلِكَۖ وَلَوۡ يَشَآءُ ٱللَّهُ لَٱنتَصَرَ مِنۡهُمۡ وَلَٰكِن لِّيَبۡلُوَاْ بَعۡضَكُم بِبَعۡضٖۗ وَٱلَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعۡمَٰلَهُمۡ
جب تم میدان جنگ میں کافروں کے آمنے سامنے آجاؤ تو ان کی گردنیں مار دواور اس کام کو برابر جاری رکھویہاں تک کہ کافی حد تک دشمن کا قلع قمع کر دو۔ ایسے میں قیدیوں کو خوب باندھ لو، پھر اس کے بعد یا ان پر احسان کر و(اور انہیں چھوڑ دو )یا رہائی کے بدلے میں ان سے فدیہ لو اور یہ صورت حال اسی طرح جاری رہے،یہاں تک کہ جنگ اپنا سنگین بوجھ زمین پر رکھ دے(اور ختم ہو جائے) طریقہ کار یہی ہے۔ اگر خدا چاہتا تو ان سے کئی اور طریقے سے انتقام لے لیتا۔ لیکن وہ چاہتا ہے کہ تمہاری آزمائش ایک دوسرے سے کرے، اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ہیں خدا ان کے اعمال ہر گز اکارت نہیں کرتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
47:5
سَيَهۡدِيهِمۡ وَيُصۡلِحُ بَالَهُمۡ
اللہ عنقریب ان کی ہدایت کرے گا اور ان کا کام سنوارد ے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
47:6
وَيُدۡخِلُهُمُ ٱلۡجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمۡ
اور انہیں اپنی( جاودانی) بہشت میں داخل کر ے گا، جس کے اوصاف اس نے ان سے بیان فرمائے ہیں۔

تفسیر میدانِ جنگ میں ارادے کی پختگی ضروی ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں گزشتہ آیات مسلمانوں کو ایک اہم جنگی حکم کے لیے آمادہ کرنے کے لیے مقدمہ تھیں، جس کے بارے میں زیر تفسیر آیات میں تفصیل سے گفتگو کی جا رہی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: جب میدانِ جنگ میں کافروں کے آمنے سامنے آ جاؤ تو پوری طاقت کے ساتھ ان پر حملہ کرو اور ان کی گردنیں مار دو (فَإِذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ)۔ (تشریحی نوٹ: "ضرب" مصدر ہے اور ایک فعل مقدر کا مفعول مطلق ہے، جس کی تقدیر یوں ہے "إضربوا ضرب الرّقاب" جیسا کہ سُورہ انفال آیت ۱۲ میں اس کی تصریح کی گئی ہے کہ "فَاضْرِبُوا فَوْقَ الْأَعْناقِ")۔ ظاہر سی بات ہے کہ "گردن مار دینا" قتل کے لیے کنایہ ہے، لہذا اس کی ضرورت نہیں ہے کہ مجاہدین اس بات کی کوشش کریں کہ وہ ان کی صرف گردنیں اڑائیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ دشمن کا صفایا کر دیں، لیکن چونکہ گردن اڑانا قتل کا روشن ترین مصداق ہے لہذا اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور ہر حالت میں یہ حکم میدانِ جنگ کے ساتھ مخصوص ہے، کیونکہ " لَقِيتُمْ" جو "لِقَاء" کے مادہ سے ہے ایسے مواقع پر "جنگ" کے معنی میں آتا ہے، متعدد قرینے بھی خود آیت میں اسی معنی پر گواہ ہیں، جیسے "قیدیوں کی أسارت" ، "حرب" (جنگ) کا لفظ اور "راہ خدا میں مارا جانا" وغیرہ۔ قصّہ مختصر یہ کہ "لِقاء" کبھی تو ہر قسم کی ملاقات کے لیے استعمال ہوتا ہے اور کبھی میدان جنگ میں دشمن سے مڈبھیڑ کے لیے اور قرآن مجید میں بھی دونوں معانی کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اور زیر نظر آیات میں دوسرے معنی کے لیے استعمال ہوا ہے۔ یہیں سے یہ بات بھی بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ جو لوگ اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کی غرض سے آیت کا دوسرے انداز میں معنی کرتے ہیں کہ اسلام کہتا ہے "جب تم کسی کافر کے آمنے سامنے آ جاؤ تو اس کی گردن اڑا دو" بدنیتی اور خود غرضی کے سوا اور کچھ نہیں ہے جبکہ یہی آیت صراحت کے ساتھ میدان جنگ میں مڈبھیڑ ہونے کی بات کر رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب انسان میدان جنگ میں کسی خونخوار کا سامنا کرتا ہے تو اگر پُورے عزم اور دو ٹوک انداز میں دشمن پر سخت اور تابڑ توڑ حملے نہ کرے اور اس پر کاری ضربیں نہ لگائے تو خود فنا ہو جائے اور یہ ایک صحیح اور بالکل منطقی حکم ہے۔ پھرفرمایا گیا ہے: یہ کاری ضربیں ان پر برابر جاری رکھو، یہاں تک کہ دشمن کا ستیاناس کر دو اور ان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دو، ایسے میں قیدیوں کی گرفتاری کا کام کرو اور انہیں خوب باندھ لو (حَتَّى إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّواالْوَثَاقَ)۔ "أَثْخَنتُمُوهُمْ"، "ثخن" (بروزن "شکن") ٹھوس اور سخت ہونے کو کہتے ہیں۔ اسی لیے اس کا اطلاق دشمن پر مکمل فتح و کامرانی، واضح غلبہ اور مکمل تسلط حاصل کر لینے پر ہوتا ہے۔ اگرچہ اکثر مفسرین نے اس کو"دشمن کو کثرت اور شدت کے سات کرنے کے معنی میں لیا ہے، لیا ہے جیسا کہ ہم ابھی بتا چکے ہیں یہ اس کا لغوی معنی نہیں ہے، لیکن چونکہ بعض اوقات جب تک دشمن کو زبردست اور وسیع پیمانے پر قتل نہ کر دیا جائے اس وقت تک خطرہ ٹلتا نہیں ہے۔ لہذا ان حالات میں قتل کرنا اس کا ایک مصداق تو ہو سکتا ہے اس کا اصل مفہوم نہیں ہے۔ (تشریحی نوٹ: "لسان العرب" میں "ابن اعرابی" سے نقل کیا گیا ہے کہ "اثخن اذا غلب و قھر" قہر و غلبہ کے معنی میں ہے)۔ بہرحال، مندرجہ بالا آیت ایک نہایت حساب جنگی حکمت عملی بیان کر رہی ہے کہ جب تک دشمن کا زور پوری طرح ٹوٹ نہ جائے اس وقت تک جنگی قیدی بنانے کا اقدام نہ کیا جائے، کیونکہ اس اقدام سے بعض اوقات مسلمانوں کے میدان جنگ میں پاؤں اکھڑ جانے کا احتمال ہوتا ہے اور جنگی قیدیوں کی گرفتاری اور انہیں محاذ سے پیچھے منتقل کرنے کی وجہ سے اصل کی ادائیگی سے رہ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ "فَشُدُّوا الْوَثَاقَ" کی تعبیر (اس بات کے پیش نظر کہ "وثاق" رسی یا ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے کسی چیز کو باندھا جائے ) جنگی قیدیوں کو اچھی طرح باندھنے کی طرف اشارہ ہے مبادا کوئی قیدی موقع مِلنے پر اپنے آپ کو چھڑا لے اور کوئی زبردست نقصان پہنچا دے۔ بعد کے جُملے میں جنگی قیدیوں کے بارے میں حکم بیان کیا جا رہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ ارشاد فرمایا گیا ہے: یا تو ان پر احسان کرو اور کسی معاوضے کے بغیر انہیں چھوڑ دو یا پھر ان سے فدیہ اور معاوضہ لے کر رہا کر دو (فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً)۔ اس طرح سے جنگی قیویوں کو جنگ کے خاتمہ کے بعد قتل نہ کرو۔ بلکہ اسلامی رہنما مصلحت کے پیشِ نظر یا تو ان سے معاوضہ لے کر انہیں چھوڑ دے یا معاوضہ لیے بغیر انہیں رہا کر دے اور یہ معاوضہ درحقیقت، ایک قسم کا جنگی تاوان ہے جو دشمن کو ادا کرنا پڑتا ہے۔ البتہ اس سِلسلے میں اسلام کا ایک تیسرا حکم بھی ہے وہ یہ کہ ان قیدیوں کو غلام بنا لیا جائے، لیکن یہ ایک لازمی حکم نہیں ہے، بلکہ مسلمانوں کے سربراہ کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ خاص حالات اور زمان و مکان کی مصلحت کے پیشِ نظر اس حکم پر عمل درآمد ضروری سمجھتا ہو، شاید اسی لیے قرآنی متن میں اس کا صراحت کے ساتھ حکم نہیں آیا، صرف اسلامی روایات میں ذِکر کیا گیا ہے۔ ہمارے مشہور فقیہ "فاضل مقدار"، "کنز العرفان" میں فرماتے ہیں: "اگر جنگ کے خاتمے پر کوئی قیدی پکڑا جائے تو مسلمانوں کے امام کو ان تین امور میں سے کسِی ایک کو اختیار کرنے کی اجازت ہے: ۱۔ غیر مشروط طور پر اسے چھوڑ دے۔ ۲۔ فدیہ اور معاوضہ لے کر اسے رہا کر دے۔ ۳۔ اِسے غلام بنا لیا جائے اور کسی بھی صورت میں اسے قتل کرنا جائز نہیں۔" اور ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: غلام بنانے کا مسئلہ روایات سے تو ثابت ہے، لیکن قرآن کی کِس آیت سے ثابت نہیں ہے۔ (بحوالہ: کنز العرفان، جلد۱، صفحہ ۳۶۵) یہ مسئلہ دوسری فقہی کتابوں میں بھی درج ہے۔ (بحوالہ: "شرائع الاسلام" کتاب الجہاد۔ و۔"شرح لمعہ" احکام ِغنیمت)۔ "غلامی" کی بحث کے سلسلے میں انہی آیات کے ضمن میں ہم اس بات کی طرف بھی اشارہ کریں گے۔ اسی آیت کوآگے بڑھاتے ہُوئے فرمایا گیا ہے: یہ صُورت حال اس وقت تک جاری رہے اور دشمنوں پر اس وقت تک کاری ضربیں لگاتے رہو اور کچھ لوگوں کو جنگی قیدی بنا لو، یہاں تک کہ جنگ اپنا سنگین بُوجھ زمین پر رکھ دے (حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا)۔ (تشریحی نوٹ: "حتّٰی"، "فضرب الرّقاب" کے لیے غایب ہے، اس بارے میں اور بھی بہت سے احتمالات بیان کیے گئے ہیں جو قابل اعتنا نہیں ہیں)۔ جنگ سے صرف اس وقت ہاتھ اُٹھاؤ جب دشمن کی تمام توانائیاں ختم ہو جائیں اور جنگ کی آگ بُجھ جائے۔ "اوزار"، "وزر" کی جمع ہے جس کا معنی "سنگین بوجھ" ہے، اور بعض اوقات اس کا اطلاق "گناہوں" پر بھی ہوتا ہے، کیونکہ وہ بھی تو گناہگاروں کے کندھے کے بوجھ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اس آیت میں اس سنگین بوجھ کی نسبت جنگ کی طرف دی گئی ہے۔ فرمایا گیا ہے: جنگ اپنا سنگین بوجھ زمین پر رکھ دے۔ یہ سنگین بوجھ مختلف "اسلحہ جات" اور "مشکلات" کے لیے کنایہ ہے۔ جسے مجاہدین اپنے کندھے پر لیے ہوتے ہیں یا ان کا انہیں سامنا ہوتا ہے اور جب تک جنگ کا خاتمہ نہ ہو جائے اس وقت تک یہ سنگین بوجھ ان کے کندھوں پر رہتا ہے۔ لیکن اسلام اور کفُر کے درمیان جنگ کب ختم ہو گی؟ یہ ایک ایسا سوال ہے، جس کے بارے میں مفسرین نے مختلف جوابات دیئے ہیں، ابن عباس اور بعض دوسرے حضرات نے کہا ہے کہ یہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک روئے زمین پر ایک بھی بُت پرست باقی اور شرک موجود ہے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اسلام اور کفر کے درمیان جنگ میں اس وقت تک جاری ہے جب تک مُسلمان "دجّال" پر غلبہ حاصل نہ کر لیں۔ انہوں نے اس نظریے کا استدلال پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان سے کیا ہے: " وَاَلْجِهَادُ مَاضٍ مُذ بَعَثَنِي اَللهُ إِلَى أَنْ يُقَاتِلَ آخِرُ أُمَّتِي الدَّجَّالَ۔" جب سے خدا نے مجھے مبعُوث فرمایا ہے اس وقت سے لے کر تب تک جہاد جاری رہے گا جب تک میری اُمّت کا آخر ی شخص دجال سے لڑتا رہے گا۔" (بحوالہ: مجمع البیان، جلد۹، صفحہ ۹۸)۔ دجال کے بارے میں ایک لمبی چوڑی بحث ہے، لیکن اس حد تک ضرور معلوم ہے کہ دجال ایک یا کئی مکار انسان ہیں جوآخری زمانے میں لوگوں کو اصول توحید اور حق و عدالت کی را ہوں سے ہٹانے میں سرگرم عمل ہوں گے اورحضرت امام مہدی علیہ السلام اپنی عظیم طاقت کے ذریعے انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے۔ اس طرح جب تک دجال روئے زمین پر موجُود ہیں، حق اور باطل کی معرکہ آرائی جاری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی کُفر کے ساتھ دو طرح کی معرکہ آرائی جاری ہے، ایک محدُود اور قلیل المعیاد جیسے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غزوات جو آپؐ نے اپنے دشمنوں سے کئے اور ہر جنگ کے بعد تلواریں نیاموں میں چلی جاتیں اور دوسری مسلسل اور طویل المعیاد جو شرک، کفر، ظلم، برائی اور فتنہ و فساد کے خلاف ہے اور یہ سلسلہ حضرت اور امام مہدی علیہ السلام کے ذریعے عالمی سطح پر عدل و انصاف کی حکومت کے قائم ہونے تک جاری رہے گا۔ پھر فرمایا گیا ہے: تمہاری صورتِ حال یہی ہونی چا ہیئے(ذَلِكَ)۔ (تشریحی نوٹ: "ذالِکَ" ایک محذوف مبتداء کی خبر سے جو تقدیری طور پر یُوں ہے: "أَلأَمرُ ذَلِكَ ")۔ اور اگر خدا چاہتا تو ان سے کئی اور طریقے سے انتقام لے لیتا، (وَلَوْ يَشَاءُ اللهُ لَانتَصَرَ مِنْهُمْ)۔ آسمانی بجلیوں، زلزلوں، آندھیوں اور دوسری آفات کے ذریعے سے، تاہم اس صورت میں آزمائش و امتحان کی بات ختم ہو جاتی، "لیکن خدا چاہتا ہے کہ تمہاری ایک دوسرے کے ذریعہ آزمائش کرے" (وَلَكِن لِّيَبْلُوَاْ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ)۔ جنگ کا حقیقی فلسفہ اور حق و باطل کی معرکہ آرائی کا اصل نکتہ بھی یہی ہے، جنگوں میں حقیقی مومنین کی صفیں غیر حقیقی مومنین سے جدا ہو جاتی ہیں اور کردار کے غازی گفتار کے غازیوں سے جدا ہو جاتے ہیں، صلاحیتیں پروان چڑھتی ہیں، استقامت اور پامردی کا احیا ہوتا ہے اور دنیا میں زندگی بسر ہونے کا اصل مقصد حاصل ہوتا ہے، یعنی قوّتِ ایمان کو پرورش ہوتی ہے اور انسانی اقدار کا صحیح معنوں میں احیاء ہوتا ہے۔ اگر موٴمنین ایک گوشے میں بیٹھ کر اپنے معمولی کی زندگی بسر کرنے میں لگ جاتے اور جب بھی مشرکین اور ظالموں کا کوئی لشکر مسلمانوں پر حملہ کرتا اور خدا غیب کی راہوں اور معجزے کے ذریعے انہیں تباہ و برباد کر دیتا تو معاشرے کی کوئی قدر و قیمت نہ ہوتی، معاشرے میں ٹھہراؤ سُستی، کمزوری اور کاہلی وجود میں آ جاتے اور اسلام و ایمان صرف نام کی حد تک ہوتے۔ خلاصتہ الکلام یہ کہ اللہ کو اپنے مقدس دین کے استقلال کے لیے ہماری جنگ و جدال کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ہم خُود، دشمن کے مقابلے میں تربیّت پاتے ہیں اور ہمیں اس مقدس جنگ کی ضرورت ہے۔ یہی قرآن مجید کی دوسری آیات میں دیگر صورتوں میں بیان ہوا ہے، مثلاً "أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللهُ الَّذِينَ جَاهَدُواْ مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ" "کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم صرف ایمان کے خالی دعووں سے بہشت میں چلے جاؤ گے حالانکہ ابھی تک خدا نے تم میں سے مجاہدین اور صابرین کو معیّن نہیں کیا ہے۔ (اٰل عمران /۱۴۲)۔ اس سے پہلی آیت میں ہے "وَلِيُمَحِّصَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَمْحَقَ الْكافِرِينَ" مقصد یہ ہے کہ خدا (ان جنگوں کے سایے میں) مومنین کو خالص کرے اور کفّار کو نیست و نابُود کرے۔ زیر تفسیر آیت کے آخری جُملہ میں ان شہیدوں کا تذکرہ ہے جو ایسی جنگوں میں اپنی شیرین زندگی کو قربان کرتے ہیں اور اسلامی معاشرے پر ان کا بہت بڑا حق ہے، ارشاد ہوتا ہے: اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ہیں خدا ان کے اعمال کو ہرگز اکارت نہیں کرے گا (وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ)۔ ان کی زحمتیں، تکلیفیں اور ایثار و فدا کاریاں ضائع نہیں ہوں گی، سب خدا کی بارگاہ میں محفوظ ہیں۔ اس دنیا میں بھی ان کی فدا کاریوں کے آثار باقی رہ جاتے ہیں "لَا الهٰ إلّا اللہ" کی جو بھی صدا سُنائی دیتی ہے انہی کی تکلیفوں کا ثمرہ ہے جو مسلمان بھی اللہ کی بارگاہ میں سر بسجود ہوتا ہے تو ان کی فدا کاریوں کی برکت سے ہے، غلامی کی زنجیریں ان کے مصائب جھیلنے سے ٹوٹتی ہیں اور مسلمانوں کی عزّت و آبرو بھی انہی کی مرہونِ مِنّت ہے۔ شہدا پر خدا کی یہ ایک عنایت ہے۔ تین اور عنایتوں کا تذکرہ بعد کی آیات میں ہوتا ہے۔ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: اللہ انہیں ہدایت کرے گا۔ (سَيَهْدِيهِمْ)۔ بلند مرتبہ مقامات،عظیم کامیابی اور رضوان الہٰی کی طرف ہدایت۔ دوسری عنایت یہ کہ "ان کے حالات سنوار دے گا" (وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ)۔ اللہ انہیں تسکین، اطمینانِ خاطر اور روحانی سردر فرماتا ہے، فرشتوں کے ہم آہنگ صفائے باطن اور روحانی مدارج سے نوازتا ہے جو ان کے ہمدم ہوتے ہیں۔ اور اپنی رحمت کے جوار میں انہیں اپنی ضیافت میں بلاتا ہے۔ آخری عنایت یہ ہے کہ "انہیں اپنی جاودانی بہشت میں داخل کرے گا جس کے اوصاف انہیں پہلے بتا رکھے ہیں (وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ)۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ انہیں بہشت بریں اور مقامِ رضوان کے صرف کلی اوصاف ہی سے آگاہ نہیں کرتا، بلکہ بہشت کے محلات کی علامتوں اور نشانیوں سے بھی مکمل طور پر آگاہ کر دیتا ہے، اس حد تک کہ جب بھی وہ بہشت میں داخل ہوں گے سیدھے اپنے اپنے محلات میں چلے جائیں گے (بحوالہ: مجمع البیان، جلد۹، ص ۹۸)۔ بعض مفسرین نے "غرّفھا" کی "عِرف" (بروزن "فِکر") عطر اور خوشبُو، کے معنی سے تفسیر کی ہے، یعنی خدا انہیں ایسی بہشت میں پہنچائے گا جو مہمانوں کے لیے سراسر معطر ہو گی۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اگر ان آیات کو "وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ اللهِ أَمْوَاتًا" (آل عمران / ۱۶۹) کے ساتھ ملا دیں تو یہ نتیجہ نکلے گا کہ "اصلاح بال" سے مراد وہی جاودانی زندگی ہے، جس کے سائے میں شہدائے راہِ خدا پر دے اور حجابات ہٹ جانے کے بعد اپنے ربّ کے حضور شرف یابی کے لیے تیار ہوں گے۔ (بحوالہ: المیزان، جلد۱۸، ص ۲۴۴)۔

چند نکات ۱۔ شہداء کا بلند مقام:

اقوام کی تاریخ ایسے دن بھی آ جاتے ہیں جن میں سے بےحد ایثار قربانی اور فدا کاری و جانفشانی کے بغیر خطرات نہیں ٹل سکتے اور عظیم اور مقدس مقاصد نہیں بچ سکتے، ایسے مواقع پر موٴمن اور فدا کار لوگوں کوآگے آنا چاہیے اوراپنے خون کی قربانی دے کر آئین حق کی حفاظت کرنی چاہیے۔ اسلامی منطق کی رُو سے ایسے افراد کو"شہید" کہا جاتا ہے۔ "شہید"، "شہود" کے مادہ سے ہے اور اس کا ان پر اطلاق اس لیے ہوتا ہے کہ: ۱۔ کیونکہ وہ دشمنانِ حق کے مقابلے میں میدان میں حاضر ہوتے ہیں یا ۲۔ بوقتِ شہادت، رحمت کے فرشتوں کا مشاہدہ کرتے ہیں یا ۳۔ خدا کی جو عظیم نعمتیں ان کے لیے فراہم کی جا چکی ہے ان کا مشاہدہ کرتے ہیں یا ۴۔ بارگاہ ربّ العزت میں پہنچ کر حاضری دیتے ہیں جیسا کہ آیت مجید میں ارشاد ہوتا ہے۔ " وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ اللهأَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ" (آل عمران / ۱۶۹)۔ اسلام میں بہت کم لوگ شہداء کے مرتبے کے برابر ہیں، وہی شہداء جو سوچ سمجھ کر اور خلوص قلب کے ساتھ معرکہ حق و باطل میں قدم رکھتے ہیں اور اپنے پاکیزہ خون کے آخری قطرات تک نچھاور کر دیتے ہیں۔ شہداء کے مقام اور مرتبہ کے بارے میں اسلامی مآخذ میں بہت سی حیرت انگیز روایات ملتی ہیں جن سے شہدا کے کارناموں کی عظمت کا پتہ چلتا ہے۔ چنانچہ رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث ہے: "إنّ فوق کلّ برٍّ بِرّاً حتی یقتل الرّجل شھیدً فی سبیل اللہ۔" "ہر نیکی سے بڑھ کر ایک نیکی ہوتی ہے جب تک انسان راہ خدا میں شہید نہ کر دیا جائے۔ جب اسے شہادت مل جاتی ہے تو پھر اس سے بڑھ کر کوئی اور نیکی نہیں ہے۔ (بحوالہ: بحار الانوار، جلد۱۰۰، صفحہ ۱۵)۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے: "ألمجاھدونَ فی اللہ قواد أھل الجنّة۔" "مجا ہدین راہ خدا بہشت والوں کے قائد ہوں گے" (بحوالہ: بحار الانوار، جلد۱۰۰، صفحہ ۱۵)۔ ایک اور حدیث میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: "مَا من قطرة أحب الی اللہ مِن قطرة دم فی سبیل اللہ، أو قطرةٌ مّن دموع عین فی سواد الّلیل مِنْ خشیةِ اللہ، َومَا من قدم أحبّ الی اللہ من خُطوة الیٰ ذی رحم، اوخُطوة یتم بها زحفاً فی سبیل اللہ۔" "کوئی قطرہ خدا کو خون کے اس قطرے سے زیادہ محبُوب نہیں ہے جو راہ خدا میں یہ جاتا ہے یا آنسو کے اس قطرے سے جو رات کی تاریکی میں خوفِ خدا سے جاری ہوتا ہے۔ اور کوئی قدم خدا کو اس قدم سے زیادہ محبُوب نہیں ہے جو صلہٴ رحمی کے لیے اُٹھایا جائے یا اس قدم سے جو راہ خدا میں جنگ کے لیے آگے بڑھتا ہے، جس سے جنگ اپنے انجام کو پہنچتی ہے۔ (بحوالہ: بحار الانوار، جلد۱۰۰، صفحہ۱۴)۔ اگر تاریخ ِ اسلام کی ورق گردانی کی جائے تو معلوم ہو گا کہ شہداء راہ خدا نے ہی اسلام کے بہت سے حِصّے کو اعزاز بخشا ہے اور اس طرح سے انہوں نے اسلام کی بہت بڑی خدمت کی ہے۔ نہ صرف ماضی میں بلکہ آج بھی شہادت ایک تقدیر ساز کلمہ ہے، جس سے دشمنوں پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے اور انہیں اسلام کے قلعوں میں رخنہ ڈالنے سے مایوس کر دیتا ہے اور شہادت کا کلمہ مسلمانوں کے لیے کس قدر مبارک اور دشمنانِ اسلام کے لیے کسِ قدر خطرناک ہے؟ لیکن اس میں بھی شک نہیں ہے کہ شہادت کوئی مقصد نہیں بلکہ اصل مقصد دشمن پر کامیابی اور آئین حق کی حفاظت اور پاسداری ہوتا ہے، لیکن یہ محافظین اپنے آپ کو اس حد تک تیار رکھیں کہ اگر اس راہ میں انہیں خون کی قربانی بھی دینا پڑے تو اس سے دریغ نہ کریں اور یہی ہے امت شہید پروردگار کا معنی نہ یہ کہ شہادت کو ایک مقصد سمجھ لیا جائے۔ اسی لیے تو رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک مفصّل حدیث کے آخر میں ہم پڑھتے ہیں جو آپؐ سے حضرت علی علیہ السلام نے روایت کی ہے، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قسم اٹھا کر فرماتے ہیں: " والّذی نفسى بيده لو كان الأنبياء فى طريقهم لترجلوا لَهم لما يرون من بهائهم ويشفع الرّجل مِنهم سَبعينَ الفاً من أهل بيته وجيرته ۔" "اس ذات کی قسم جس کے قبضہ ٴقدرت میں میری جان ہے، جب شہدا عرصہ ٴمحشر میں وارد ہوں گے، اگر انبیاء بھی ان کے راستے میں سوار ہوں گے تو ان کے نور اور شان و شوکت کی وجہ سے سواریوں سے اُتر پڑیں گے اور ان میں سے ہر ایک شخص اپنے خاندان اور ہمسایوں میں سے ستر ہزار لوگوں کی شفاعت کرے گا۔ (بحوالہ: بحار الانوار، جلد۱۰۰، صفحہ۱۴)۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ اسلامی ثقافت میں شہادت کے دو مختلف معانی ہیں ایک خاص اور دوسرا عام۔ شہادت کا خاص معنی تو یہ ہے کہ انسان راہِ خدا میں میدانِ جنگ میں مارا جائے اور اس کے اسلامی فقہ میں کُچھ مخصوص احکام ہیں، مثلاً اسے غسل و کفن کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اسی خون آلودہ لباس میں ہی اسے دفن کیا جائے گا۔ جب کہ شہادت کا وسیع اور عام معنی یہ ہے کہ انسان خدائی فریضے کی انجام دہی میں مارا جائے یا مر جائے اور جو شخص بھی اس قسم کے فریضے کی ادائیگی کرتا ہوا کسِی حالت میں بھی دُنیا سے اُٹھ جائے وہ "شہید" ہے۔ اسی لیے اسلامی روایات میں وارد ہوا ہے کہ چند قسم کے لوگ اس دُنیا سے "شہید" ہو کر جاتے ہیں۔ ۱۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے کہ: " إِذَا جَاءَ اَلْمَوْتُ طَالِبَ اَلْعِلْمِ وَ هُوَ عَلَى هَذِهِ اَلْحَالِ مَاتَ شَهِيداً ۔" "جو شخص حصولِ علم کے راستے میں مر جائے وہ شہید ہو کر مرتا ہے۔" (بحوالہ: سفینتہ البحار، جلد۱، مادہ "شہید")۔ ۲۔ امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں: " مَنْ مَاتَ مِنْكُمْ عَلَى فِرَاشِهِ وَهُوَ عَلَى مَعْرِفَةِ حَقِّ رَبِّهِ وَحَقِّ رَسُولِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ مَاتَ شَهِيداً ۔" "جس شخص کو موت آ جائے لیکن وہ حق معرفت پروردگار اور حق معرفت رسُول و اہل بیت رکھتا ہو تو وہ شہید ہو کر مرتا ہے۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ نمبر ۱۹۰ (آخری خُطبہ)۔ ۳۔ ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "مَنْ قَتلَ دُونَ مَالِهِ فَھُوَ شَھِیدٌ۔" اسی طرح کئی اور لوگ ہیں جو راہ حق میں مار دیئے جاتے ہیں یا اپنی طبعی موت مرتے ہیں اور یہیں سے اس اسلامی ثقافت اور اس کی ہمہ گیریت کا پتہ چلتا ہے۔ ۴۔ اس بحث کو حضرت امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام کی ایک حدیث کے ساتھ پایہ تکمیل کو پہنچاتے ہیں، امام علیہ السلام نے اپنے آباؤ اجداد کے ذریعے رسُول اللہؐ سے یُوں روایت کی ہے۔ "أَوّلُ مَن یُدخل الجنّة الشَھِیدُ۔" "سب سے پہلے شہید ہی بہشت میں جائے گا۔" (بحوالہ: بحار الانوار، جلد۱۷، صفحہ ۲۷۲)۔

۲۔ اسلام میں جنگ کے مقاصد:

اسلام میں جنگ کو کبھی بھی اقدار کی حیثیت حاصل نہیں رہی، بلکہ انسانوں کی تباہی و بربادی اور ذرائع دو سائل کی نابُودی کی وجہ سے اسے "خلاف اقدار" شمار کیا گیا ہے۔ اسی لیے قرآن کی بعض آیات میں اسے عذابِ الہٰی کے زمرے میں ذکر کیا گیا ہے، چنانچہ سُورہٴ انعام کی ۶۵ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے۔ "قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعاً وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ۔" "کہہ دے کہ خدا اس بات پر قادر ہے کہ تم پر (بجلیوں کے مانند) تمہارے اوپر سے یا (زلزلوں کے مانند) تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیج دے یا تمہیں ٹولیوں کی صورت میں متفرق کر دے، یا تمہیں ایک دوسرے کے خلاف جنگ اور خون ریزی کا مزہ چھکائے۔ اس آیت میں جنگ کو"صاعقہ" اور "زلزلہ" جیسی راضی و سماوی آفات کے زمرے میں شمار کیا گیا ہے۔ اسی لیے اسلام میں تا حدّ امکان جنگ سے پرہیز کیا جاتا ہے۔ لیکن جب کسی قوم کے وجود کو خطرہ لاحق ہو، یا اس کے مقدس اور اعلیٰ مقاصد کو تباہی کا اندیشہ ہو تو اس وقت جنگ کو"اقدار" کی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے اور جنگ "جہاد فی سبیل اللہ" کا مقام حاصل کر لیتی ہے۔ اسی وجہ سے اسلام سے جہاد کی کئی قسمیں بتائی گئی ہیں: ۱۔ آزادی خواہی پر مبنی ابتدائی جہاد۔ ۲۔ دفاعی جہاد۔ ۳۔ فتنہ و فساد، اور شرک و بُت پرستی کی آگ بُجھانے کا جہاد۔ اس کی تفصیل ہم کسی اور جگہ بیان کر چکے ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر نمونہ جلد اول، سورہ بقرہ کی آیت ۱۹۳ کے ذیل میں)۔ بنابریں، اسلامی جہاد (جیسا کہ اسلام کے زبردست مخالفین پروپیگنڈا کرتے ہیں) عیقدہ مسلط کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ اصولی طور پر مسلط کردہ عقیدے کی اسلام میں کوئی قدر و قیمت نہیں ہے، بلکہ جہاد ایسے وقت ہوتا ہے جب دشمن جنگ کو اسلامی اُمّت پر مسلط کر دیں یا ان سے خدا داد آزادی چھیننا چاہیں، یا اس کے حقوق پامال کرنا چاہیں یا ظالم، مظلوم کا گلا دبانا چاہیں تو اس وقت تمام مسلمانوں پر فرض بن جاتا ہے کہ وہ مظلوم کی امداد کریں خواہ انہیں ظالم قوم سے لڑنا پڑے۔ گزشتہ آیات میں ایک مختصر اور لطیف جملے میں یہی بات ہوئی ہے، جہاں فرمایا گیا ہے کہ کفار تو باطل کی پیروی کرتے ہیں اور مومنین حق کی اتباع کرتے ہیں، تو اس لحاظ سے وہ جنگ "حق اور باطل کے درمیان جنگ" سمجھی جائے گی، نہ کہ کشور کشائی، وسعت طلبی، دوسروں کے سرمائے کو لٹ مار اور قدرت نمائی اور طاقت منوانے کے لیے۔ اسی وجہ سے ہم گزشتہ آیات کی تفسیر میں ایک روایت میں پڑھ چکے ہیں کہ انسانی معاشرے میں جنگ اِس وقت تک جاری رہے گی جب تک دجالوں کے وجُود کا خاتمہ نہیں ہو جاتا اور زمین ان کے نجس وجود سے پاک نہیں ہو جاتی۔ یہ نُکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ اسلام میں دوسرے آسمانی ادیان کے پیرو کاروں کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی پر بہت زور دیا گیا ہے اور اس کی زبردست تاکید کی گئی ہے۔ قرآنی آیات، اسلامی روایات اور فقہٴ اسلامی میں اس بارے میں "اہل ذمہ کے احکام" کے عنوان سے تفصیلی بحث کی گئی ہے، اگر اسلام عقائد مسلط کرنے اور اپنی طاقت بزورِ شمشیر منوانے کا حامی ہوتا تو پھر اسے پُر امن بقائے باہمی اور اہلِ ذمہ کے متعلق قوانین ِبنانے کی کیا ضرورت تھی؟

۳۔ جنگی قیدیوں کے احکام:

ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ میدانِ جنگ میں دشمن کی مکمل شکست سے پہلے مسلمانوں کو کسی بھی صُورت میں جنگی قیدی بنانے کا اقدام نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس سے ہر حالت میں سنگین خطرات کا احتمال ہے لیکن زیر تفسیر آیات کے لب و لہجہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دشمن پر کامیابی کے بعد انہیں قتل کرنے کے بجائے قیدی بنا لیا جائے اسی لیے قرآن فرماتا ہے: جب تم دشمن کا سامنا کرو تو اس پر کاری ضربیں لگاؤ۔ پھر فرمایا گیا ہے: یہ کاری ضربیں ان پر برابر جاری رکھو، یہاں تک کہ دشمن کا ستیاناس کر دو اور انہیں گھنٹے ٹیکنے پر مجبُور کر دو، ایسے میں قیدیوں کی گرفتاری کے لیے اقدام کرو اور انہیں خوب باندھ لو (فَإِذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ)۔ لہذا دشمن پر قابو پانے کے بعد انہیں قتل کرنے کے بجائے اسیر بنا لیا جائے اور یہ ایسا کام ہے جس سے گریز ناممکن ہے، کیونکہ اگر دشمن کو چھوڑ دیا جائے تو ممکن ہے کہ وہ دوبارہ سنبھل کر پھر حملہ کر دے۔ لیکن قیدی بنانے کے بعد حالات یکسر تبدیل ہو جاتے ہیں اور اسیر تمام جرائم کے باوجُود مسلمانوں کے ہاتھ میں خدا کی ایک امانت کی صُورت میں آ جاتا ہے جس کے بہت سے حقوق کی حفاظت مسلمانوں پر فرض ہو جاتی ہے۔ قرآن مجید نے ایسے لوگوں کی زبردست تعریف کی ہے، جنہوں نے ایثار سے کام لیا اور اپنا کھانا اسیر کو دے دیا۔ ارشاد ہوتا ہے: " وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا" "خدا کے نیک بندے کھانے کی خواہش رکھنے کے باوجُود اپنا کھانا مسکین، یتیم اور اسیر کو دے دیتے ہیں۔" (دھر۔ ۸)۔ مشہور روایت کے مطابق یہ آیت حضرت علی، جناب فاطمہ زہرا اور حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین علیہم السلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے اپنے افطار کا کھانا مسکین، یتیم اور اسیر کو دے دیا۔ حتّٰی کہ بعض استثنائی حالات میں مثلاً ان کے خطر ناک ہونے یا خاص قسم کے جرائم کے ارتکاب کی وجہ سے جن قیدیوں کو سزائے موت کا حکم جاتا ہے، ان کے بارے میں بھی حکم یہی ہے کہ سزا پر عمل درآمد سے پہلے تک ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ہے: "إطعَامُ الأسیر والإحسان إلیه حَقًّ واجبٌ وإن قتلته مِنَ الْغد۔" "اسیر کو کھانا کھلانا اور اس سے حسنِ سلوک کرنا ایک واجب حق ہے، ہر چند کہ یہ طے پا چکا ہو کہ کل اسے سزائے موت دی جائے گی۔" (بحوالہ: وسا ئل الشیعہ، جلد ۱۱، صفحہ ۶۹)۔ اس بارے میں اور بھی بہت سی احادیث موجُود ہیں۔ (بحوالہ: فروع کافی، جلد۵، صفحہ باب الرفق بالاسیر واطعامہ)۔ ایک حدیث میں حضرت امام علی بن الحسین زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں: " إذا أَخذت أسيرًا فعجز عنِ المشى وليس معك محمل فأرسله، ولا تقتله، فانَّك لاتدرى ما حكم الإمام فيه۔" "جب تم کسی کو اسیر بنا لو اور اپنے ساتھ لے آؤ، لیکن وہ چلنے سے عاجز ہو اور تمہارے پاس اس کے لیے سواری بھی نہ ہو تو اسے چھوڑ دو اور قتل نہ کرو، کیونکہ تم یہ نہیں جانتے کہ جب اسے امام کے پاس لے جاؤ تو وہ اس کے بارے میں کیا فیصلہ کرے (بحوالہ: فروع کافی، جلد۵، صفحہ باب الرفق بالأسیر وإطعامه)۔ حتّٰی کہ تاریخ میں رہبرانِ اسلام کے حالات میں ملتا ہے کہ جو کھانا وہ خود کھاتے تھے، اسیروں کو بھی وہی کھلاتے تھے۔ لیکن اسیروں کے بارے میں حکم جیسا کہ ہم آیات کی تفسیر میں بتا چکے ہیں، جنگ کے خاتمے کے بعد ان تینوں چیزوں میں سے ایک ہے: یا تو انہیں غیر مشروط طور پر چھوڑ دیا جائے یا فدیہ (تاوان) لے کر انہیں آزاد کر دیا جائے یا پھر انہیں غلام بنا لیا جائے، البتہ مذکورہ تینوں صورتوں میں سے کسی ایک کا انتخاب امام مسلمین اور پیشوائے اسلام کی مرضی پر موقوف ہے اور وہ بھی اُسراء کے حالات، داخلی اور خارجی لحاظ سے اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے جو بات بھی اسے زیادہ مناسب نظر آئے گی اختیار کرے گا اور اس پر عمل در آمد کا حکم دے گا۔ بنابریں، نہ تو تاوان لینا ضروری ہے اور نہ ہی غلام بنانا بلکہ یہ سب کچھ امام المسلمین کی صوابدید پر منحصر ہے کہ اگر مصلحت اس بات میں ہے کہ تاوان لے کر چھوڑ دیا جائے تو وہ ایسا ہی کرے گا اور اگر مصلحت غلام بنانے میں ہے تو غلام بنائے گا اور اگر مصلحت اس بات میں ہو کہ غیر مشروط پر چھوڑ دے تو ایسا ہی کرے گا۔ فدیہ اور تاوان کے بارے میں ہم تفسیر نمونہ جلد ۷، سُورہ انفال کی۷۰ ویں آیت کی تفسیر میں تفصیل سے گفتگو کر چکے ہیں۔

٤۔ اسلام اور غلامی:

اگرچہ قرآن مجید میں جنگی قیدیوں کے "استرقاق" (غلام بنانے) کا مسئلہ ایک حتی حکم کے عنوان سے بیان نہیں ہوا لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ قرآن پاک میں غلاموں کے احکام بھی بیان ہوئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ صدرِ اسلام اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں بھی غلام تھے، جیسے غلام کے ساتھ ازدواج، محرم ہونے یا "مکاتبت" (غلاموں کی آزادی کے لیے عہد و پیماں) کے احکام وغیرہ، جو قرآن مجید کی متعدد آیات میں بیان ہُوئے ہیں، مثلاً سُورہٴ نساء، سُورہ موٴمنون، سُورہٴ نحل، سُورہ ٴ نور، سُورہٴ روم اور سُورہ احزاب کی آیات۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ اسلام پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام نے اپنی تمام اعلیٰ تعلیمات اور انسانی اقدار کو بلند کرنے کے باوجُود غلامی کے مسئلے پر بطور کلی خطِ تنسیخ کیوں نہیں کھینچا اور ایک دو ٹوک اور عمومی حُکم کے ذریعے تمام غلاموں کی آزادی کا اعلان کیوں نہیں کیا؟ یہ ٹھیک ہے کہ اسلام نے غلاموں کے بارے میں بڑی سفارش کی ہے، لیکن سب سے اہم بات ان کی غیر مشرُوط آزادی ہے، آخر ایک انسان دوسرے انسان کا مملُوک اور بندہ کیوں ہو اور آزادی جو خدا کی بہترین نعمت اور قدرت کا بہترین عطیہ ہے اس سے وہ کیوں بہرہ مند نہ ہو؟ ایک مختصر جملے میں اس کا جواب یہ دیا جا سکتا ہے کہ اسلام نے غلاموں کی آزادی کے لیے ایک جچا تلا اورایک شیڈول پر مبنی پروگرام دیا ہے کہ جس کے مطابق وہ آہستہ آہستہ آزادی کی نعمت سے مالا مال ہو جاتے ہیں اور اسی طرح کی آزادی سے معاشرے پر بھی کوئی خوشگوار اثر نہیں پڑتا۔ لیکن اس اسلامی منصوبے کی تشریح اور تفصیل سے پہلے ہم مقدمے کے طور پر یہاں پر قارئین کی توجہ چند نکات کی طرف مبذول کراتے ہیں۔ ۱۔ اسلام غلامی کا مُوجد ہرگز نہیں ہے: یہ بات مسلّم ہے کہ غلامی کی ایجاد اسلام نے نہیں کی، بلکہ وہ اس وقت ظہور پذیر ہوا جب ساری دُنیا میں غلامی کا دور دورہ تھا اور غلامی انسانی معاشرے میں رچ بس چکی تھی، حتّٰی کہ اسلام کے بعد تک بھی غلامی کا رواج جاری رہا اورآج سے تقریباً ایک صدی قبل اس وقت تک تھا جب غلاموں کی آزادی کی تحریک شروع نہیں ہوئی تھی، کیونکہ انسانی زندگی کے نظام کی تبدیل سے غلام بنانے کی پرانی روش اب قابلِ قبول نہیں رہی تھی۔ غلامی کے خلاف جدّ و جہد سب سے پہلے پورپ سے شروع ہوئی، پھر اس کا دائرہ، امریکی اور ایشیائی ملکوں تک بھی پھیل گیا۔ انگلستان میں ۱۸۴۰ء تک، فرانس میں ۱۸۴۸ء تک، ہالینڈ میں ۱۸۶۳ء تک اور امیریکہ ۶۵ ۱۸ء تک غلامی کا سلسلہ جاری رہا، آخر کار برسیل میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ایک مشترکہ اعلامیے کے ذریعے ساری دنیا میں غلامی کے سلسلے کو ختم کرنے کا تہیہ کر لیا گیا اور یہ ۱۸۹۰ء کی بات ہے (یعنی تقریباً سو سال سے بھی کم عرصہ گزارا ہے)۔ ۲۔ اس دور میں غلامی کے انداز بدلے گئے ہیں: یہ ٹھیک ہے کہ اہل یورپ غلامی کے خاتمے کے لیے پیش قدم ثابت ہُوئے، لیکن جب اسے مسئلے پر ذرا غور و فکر سے کام لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ غلامی کا نہ صرف خاتمہ ہی نہیں ہوا، بلکہ یہ پہلے سے زیادہ خطر ناک اور وحشت ناک صورت میں ظاہر ہوئی ہے، یعنی قوموں کے استعمار اور مُلکوں پر سامراجیّت کی صُورت میں، وہ اس طرح سے کہ انفرادی غلام جتنا جتنا کمزور ہوتی گئی اجتماعی غلامی اور سامراجیّت اسی قدر افزوں تر اور قوی تر ہوتی گئی، برطانوی شہنشاہیّت اگر انفرادی غلامی کے خاتمے کے لیے پیش قدم ہے تو استعمار اور سامراجیّت کے لیے بھی پیش گام دکھائی دیتی ہے۔ مغربی سامراجیوں نے اپنے سامراجی تسلط کے دوران جن جرائم کا ارتکاب کیا ہے وہ صرف غلامی کے دورائے کے جرائم سے کم نہیں بلکہ وسعت اور شدّت کے لحاظ سے اس سے چار قدم آ گے دکھائی دیتے ہیں۔ حتّٰی کہ سامراج کے چنگل سے آزاد ہونے والے ملکوں میں قوموں کی غلامی کا سلسلہ پھر بھی جاری رہا،غلامی سے یہ آزادی ایک نام نہاد سیاسی آزادی تھی، جب کہ آج بھی سامراج کے چنگل سے آزاد ہونے والے ملکوں اور دوسرے کئی ملکوں میں بھی اقتصادی اور ثقافتی غلامی اور استعمار کی حکمرانی ہے۔ یہ صورت حال کمیونسٹ ملکوں میں تو خصوصیّت کے ساتھ جاری ہے، آزادی کا دم بھرتے اور غلامی کے خاتمہ کے لیے دوسروں س زیادہ شور مچاتے ہیں حالانکہ وہ خود ایک شرمناک قسم کی بر دہ داری میں گرفتار ہیں۔ جو لوگ ان ملکوں میں رہتے ہیں وہ غلاموں کے مانند بالکل بے اختیار ہیں اور ان ملکوں کے باشندوں کے تمام اختیار کمیونسٹ پارٹی کے لیڈروں کے ہاتھ میں ہیں، اگر کوئی شخص اختلاف رائے کا اظہار کرتا ہے تو اسے یا تو جبری کام کے مراکز میں بھیج دیا جاتا ہے یا پھر زندان کی کال کوٹھڑیوں میں بند کر دیا جاتا ہے اور اگر اس کا شمار دانشوروں میں ہو تو اِسے نفساتی مریض قرار دے کر پاگل خانے میں بھیج دیا جاتا ہے۔ مختصر یہ غلامی نام کے تابع نہیں ہے، جو چیز ناپسندیدہ اور بری ہے وہ ہے اصل غلامی اور اس کا حقیقی مفہوم اور ہر ایک کو معلُوم ہے کہ یہ مفہوم سامراجی تسلط میں موجُود اور کمیونسٹ ممالک میں بدترین صُورت میں موجُود اور معمُول ہے۔ خلاصۃ الکلام یہ کہ آج کی دُنیا میں غلامی کے خاتمے کی ایک ظاہری صُورت تھی جس نے حقیقت میں ایک نئی صُورت اختیار کر لی ہے۔ ۳۔ ماضی میں غلاموں کا دردناک انجام: تاریخی لحاظ سے غلاموں کی ایک نہایت دردناک تاریخ ہے اور وہ ساری زندگی اندوہناک انجام سے دوچار ہوتے رہے ہیں، مثال کے طور پر (SRARTA) کے غلاموں کے تاریخ کو لے لیجئے جو کہ بزعم خود ایک متمدن قوم تھی، کتاب "روح القوانین" کے مصنف کے بقول (SPARTA) کے غلام اس قدر مصیبت زدہ تھے کہ ان میں سے کوئی بھ غلام کسِی فرد واحد کا غلام نہیں ہوتا تھا بلکہ تمام معاشرے کا غلام ہوتا تھا اور ہر شخص کسی بھی قانونی خوف کے بغیر اپنے یا کسِی دوسرے کے غلام کو جتنا چاہتا دُکھ اور ایذائیں پہنچاتا، درحقیقت، اس معاشرے کے غلاموں کی زندگی حیوانات سے بھی بدترتھی۔ جب کسِی پسماندہ ملک سے غلاموں کا شکار کیا جاتا تھا، شکار کے وقت سے لے کر منڈیوں تک لانے کے عرصے میں بہت سے غلام مر جایا کرتے تھے، جو بچ جاتے تھے وہ لالچی بردہ فروشوں کی کمائی کا ذریعہ بنتے تھے، انہیں کھانے کو صرف اس حد تک دیا جاتا کہ جس سے وہ جسم اور رُوح کا رشتہ بحال رکھ سکتے اور کام بجا لاتے تھے جب وہ بوڑھے ہو جاتے یا کسِی جان لیوا بیماری کا شکار ہو جاتے تو انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور وہ تڑپ تڑپ کر مر جاتے لہذا تاریخی طور پر غلامی کا نام اپنے ساتھ ہولناک جرائم کی ایک تفصیلی داستان رکھتا ہے۔ یہ چند موٹے موٹے نکات اجمالی طور پر بیان کرنے کے بعد ہم اسلام کے غلاموں کو بالتد ریج آزاد کرنے کے منصوبے پر قدر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہیں۔ ۴۔غلاموں کی آزادی کے لیے اسلام کا منصوبہ: جس چیز پر عام طور سے زیادہ توجہ نہیں دی جاتی وہ یہ ہے کہ اگر کوئی غلط نظام کسی معاشر میں رواج پا جائے تو اسے ختم کرنے کے لیے ایک مدّت درکار ہوتی ہے اور اس سلسلے میں کوئی بھی اقدام جو سوچے سمجھے منصوبے کے بغیر کیا جائے اس کا نتیجہ اُلٹا نکلتا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے کوئی شخص کسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہو جائے اور اس کی یہ بیماری اپنی انہتا تک پہنچ چکی ہو، یا جیسے کوئی شخص کسِی بُری عادت کا شکار ہو جائے اور اس کی یہ عادت سالہاسال ہے اِس میں راسخ ہو چکی ہو تو ایسے حالات میں ایک تدریجی شیڈول کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے تحت اس کا علاج کیا جاتا ہے تب کہیں جا کر کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ زیادہ واضح الفاظ میں یوں کہیں کہ اگر اسلام ایک عمومی حکم کے ذریعہ اس زمانے کے تمام غلاموں کی آزاد ی کا حکم دے زیادہ آبادی غلاموں کی تھی، جن کا نہ تو کوئی مستقل ذریعہٴ معاش تھا، نہ سر چھپانے کے لیے اپنا گھر اور نہ ہی پیٹ پالنے اور زندہ رہنے کے لیے کوئی اور ذریعہ۔ اگر ایک مقررہ دن اور مقررہ وقت پر وہ سب آزاد ہو جاتے تو معاشرے کا ایک بہت بڑا حِصّہ بےکار اور بےروزگار ہو جاتا جِس سے ایک تو ان کی اپنی زندگی خطرے میں پڑ جاتی اور دوسرے ممکن تھا کہ معاشرے کے نظم و نسق میں خلل پڑ جاتا اور جب ہر طرف سے انہیں مایوسیوں اور محرومیوں کا سامنا کرنا پڑتا تو وہ ہر ایک پر حملہ آور ہوتے جس سے خانہ جنگی اور خوں ریزی کا زبردست اندیشہ تھا۔ اسی لیے ضروری معلوم ہوا ہے کہ غلاموں کو تدریجی طور پر آزاد کیا جائے تاکہ وہ ماحول اور معاشرے میں رچ بس جائیں جس سے نہ تو انہیں خود کو کسِی قسم کا خطرہ ہو اور نہ ہی معاشرے کے لیے امن و امان کا مسئلہ کھڑا ہو۔ لہذا اسلام نے بھی ٹھیک اسی سوچے سمجھے منصُوبے کو اپنایا ہے۔ اس قسم کے منصوبے کو کئی طرح سے عملی جامہ پہنانے کا حکم دیا گیا ہے، جس کے اہم پہلوؤں کو ہم دفعات کی صورت میں فہرست و اربیان کرتے ہیں البتہ اس کی تفصیل کے لیے ایک مستقل کتاب کی ضرورت ہے۔ دفعہ (۱) "غلامی کی بیخ کنی" تاریخی لحاظ سے غلامی کے کئی مختلف اسباب مِلتے ہیں، صرف جنگ ہی میں گرفتار ہونے والے قیدیوں کو غلام نہیں بنایا جاتا تھا، بلکہ جو مقروض اپنا قرض ادا نہیں کر سکتے تھے انہیں بھی غلام بنا لیا جاتا تھا۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ زور،غلبہ اور طاقت بھی غلام بنانے کے اسباب تھے، طاقت درمُلک مختلف اسلحہ سے مسلح کر کے اپنے افراد افریقہ اور اس جیسے دوسرے پسماندہ مُلکوں میں بھیجتے تھے اور وہ وہاں پر جا کر ٹولیوں اور گروہوں کی صُورت میں انسانوں کا شکار کرتے تھے اور انہیں قیدی بنا کر کشتیوں کے ذریعے ایشیائی اور پوربی ممالک کی منڈیوں میں جا کر بیچ ڈالتے تھے۔ اسلام نے ان تمام مسائل کی روک تھام کی ہے اور صرف ایک موقعہ پر غلام بنانے کی اجازت دی ہے اور وہ ہے، جنگی قیدیوں کے بارے میں اور وہ بھی ضروری طور پر نہیں بلکہ جیسا کہ ہم مندرجہ بالا آیات کی تفسیر میں بتا چکے ہیں، اس بات کی اجازت بھی دے دی تھی کہ یا تو انہیں غیر مشروط طور چپر رہا کر دیں یا فدیہ لے کر چھوڑ دیں۔ اس زمانے میں قید خانے نہیں ہوتے تھے کہ جنگی قیدیوں کو ان کا انجام واضح ہونے تک قید خانوں میں رکھ جاتا لہٰذا اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ انہیں مختلف کنبوں میں تقسیم کر کے، غلاموں کی صورت میں ان کی نگہداشت کی جاتی۔ ظاہر ہے کہ جب مذکورہ صُورت تبدیل ہو جائے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ اسیروں کے بارے میں امام المسلمین غلامی کا حکم صادر کرے وہ "من" اور"فداء" کے ذریعے سے انہیں آزاد کر سکتا ہے، کیونکہ اسلام نے مسلمانوں کو اس بارے میں اجازت دے رکھی ہے کہ وہ مصلحت کو پیش نظر رکھتے ہُوئے مذکورہ صورتوں میں سے کوئی ایک اپنا لیں۔ اس طرح اسلام میں غلامی کا راستہ تقریباً بند ہو جاتا ہے۔ دفعہ (۲) آزادی کی راہیں: اسلام نے غلاموں کوآزاد کرنے کا ایسا وسیع منصوبہ تشکیل دیا ہے کہ اگر مُسلمان اس پر عمل کرتے تو سب کے سب غلام تدریجاً اور نہایت ہی قلیل مدّت میں آزاد ہو جاتے اور اسلامی معاشرے میں گھل مِل کر اس کا جزو بن جاتے، اس منصوبے کے چیدہ چیدہ اُصول یہ ہیں: ا۔ اِسلام میں زکوٰة کے آٹھ مصرف ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس سے غلام کو خرید کرآزاد کروایا جائے۔ (ملاحظہ ہو سورہ توبہ /۶۰) ۔ اس طرح سے اسلامی بیت المال میں ایک مستقل اور دائمی حِصّہ مقرر کیا گیا ہے تاکہ غلاموں کی مکمل آزادی کا سلسلہ جاری رہے۔ ب۔ اس مقدس کو پایہٴ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اسلام میں کچھ قوانین وضع کیے گئے ہیں جن کی رُو سے غلام اپنے آقا سے ایک طرح کا سمجھوتہ کرتا ہے اور عہد و پیمان باندھتا ہے جس کی رُو سے وہ اپنی محنت و مشقت سے حاصل کی ہوئی رقم سے آزاد ہو جاتا ہے۔ (اس بارے میں اسلامی فقہ میں "مکاتبة" کے عنوان سے ایک مستقل فصل موجود ہے)۔ (تشریحی نوٹ: "مکاتبة" کے بارے میں اور اس کے دلچسپ احکام کے متعلق ہم نے تفسیر نمونہ چودھویں جلد میں تفصیل سے بحث کی ہے)۔ ج۔ اسلام میں غلاموں کی آزادی کو بہترین عبادات میں سے اور عملِ خیر قرار دیا گیا ہے اور اس بارے میں پیشوایان اسلام پیش پیش نظرآتے ہیں جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام کے حالات میں موٴرخین نے لکھا ہے کہ: "إعتق ألفاً مِن کدّ یدة"۔ "آپ نے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے ایک ہزار غلام آزاد کیے"۔ (بحوالہ: بحارالانوار، جلد۴۱، صفحہ ۴۳)۔ د۔ اسلام کے عظیم رہبر اورآئمہ اطہار علیہم السلام بہانے سے غلاموں کوآزاد کر دیا کرتے تھے تاکہ اس طرح وہ غلاموں کی آزادی کے لیے دوسرے لوگوں کے لیے نمونہ قرار پائیں، چنانچہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے ایک غلام نے ایک معمولی سا اچھا کام انجام دیا تو امام علیہ السلام نے اسے فرمایا: "َاِذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَسْتَخْدِمَ رَجُلاً مِنْ أَهْلِ اَلْجَنَّةِ "۔ "جاؤ! تم آزاد ہو، کیونکہ مجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ اہلِ بہشت میں سے کسی سے خدمت لوں"۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، جلد۱۶، صفحہ ۳۲)۔ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے حالات میں مِلتا ہے کہ: "آپ کا غلام آپ علیہ السلام کے سر پر پانی ڈال رہا تھا کہ پانی کا برتن اس کے ہاتھ سے گِرا جس سے آپ مجرُوح ہو گئے۔ امام نے اپنا سر اوپر اُٹھا یا تو اس نے یہ قرآنی آیت پڑھی "وَالکاظمین الغیظ"حضرت نے فرمایا "میں نے اپنا غُصّہ پی لیا" اس نے کہا "وَالْعافِينَ عَنِ النَّاسِ" امام نے فرمایا میں نے تجھے معاد کر دیا، خدا بھی تجھے معاف کرے"۔ اس نے فوراً کہا "وَاللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ" تو امام علیہ السلام نے فرمایا "جاؤ! راہِ خدا میں تُم آزاد ہو"۔ (بحوالہ: تفسیر نورالثقلین، جلد۱، صفحہ ۳۹۰)۔ ھ ۔ بعض اسلامی روایات میں ہے کہ ساتھ سال کے بعد غلام خود بُخود آزاد ہو جاتا ہے، جیسا کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: " مَنْ كَانَ مُؤْمِناً فَقَدْ عَتَقَ بَعْدَ سَبْعِ سِنِينَ أَعْتَقَهُ صَاحِبُهُ أَمْ لَمْ يُعْتِقْهُ وَلاَ يَحِلُّ خِدْمَةُ مَنْ كَانَ مُؤْمِناً بَعْدَ سَبْعِ سِنِينَ"۔ "مومن غلام سات سال کے بعد خود بخود آزاد ہو جاتا ہے، خواہ اس کا مالک اسے آزاد کرے یا نہ کرے اور سات سال کے بعد مومن غلام سے خدمت لینا جائز اور حلال نہیں ہے۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، جلد۱۶، صفحہ ۳۶)۔ اسی باب میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث بھی درج کی گئی ہے، آپ فرماتے ہیں: "مَازَالَ جَبْرَئِيلُ يُوصِينِي بِالْمَمْلُوكِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيَضْرِبُ لَهُ أَجَلاً يُعْتَقُ فِيهِ"۔ "مجھے غلاموں کے بارے میں جبرائیل بار بار سفارش کرتے رہے ہیں، جس سے میں یہ سمجھنے لگا کہ بہت جلد ان کی آزادی کی تاریخ مقرر کر دیں گے کہ جس میں وہ آزاد کر دیئے جائیں گے۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، جلد۱۶، صفحہ ۳۷)۔ و۔ جو شخص کسی مشترک غلام کو اپنے حِصّے کی نسبت آزاد کر دے، اس پر فرض بن جاتا ہے کہ بقیہ حِصّے کی خریداری کر کے اسے آزاد کرے (بحوالہ: شرائع الاسلام کتاب العلق، وسائل الشیعہ، جلد۱۶، صفحہ ۲۱)۔ جو شخص اپنے تمام غلام کے کچُھ حِصّے کوآزاد کر دے تو یہ آزادی اس کے تمام حصّوں میں سرایت کر جاتی ہے اور وہ خود بخود مکمل طور پر آزاد ہو جاتا ہے۔ (بحوالہ: شرائع الاسلام کتاب العلق)۔ ز ۔ جو شخص اپنے والد یا والدہ یا نانا یا نانی یا دادا یا دادی یا اولاد یا چچا یا پھوپھی، ماموں یا خالہ یا بھائی یا بہن یا بھتیجے یا بھانجے یا بھتیجی یا بھانجی کا مالک بن جائے تو وہ فوراً آزاد ہو جاتے ہیں۔ ح ۔ جب آقا کی اپنی کنیز سے کوئی اولاد ہو جائے تو اس کنیز کا فروخت کرنا جائز نہیں ہے اور اپنی اولاد کے حِصّے سے وہ فوراً آزاد کر دی جائے۔ یہ صورت حال بہت سی کنیزوں کی آزادی کا سبب بن جاتی تھی کیونکہ وہ اپنے آقاؤں کی بیوی کی حیثیت سے ہوتی تھیں اور ان سے صاحب اولاد ہو جاتی تھی۔ ط ۔ اسلام میں بہت سی خلاف ورزیوں کا کفّارہ غلاموں کی آذادی مقرر کیا گیا ہے (مثال کے طور پر قتل خطاء، روزے کو جان بُوجھ کر نہ رکھنا اور قسم وغیرہ کے کفارے )۔ ی۔ کئی ایسی سخت سزائیں ہیں کہ اگرآقا اپنے غلام کو وہ سزائیں دے تو غلام خود بخود آزاد ہو جاتا ہے۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، جلد۱۶، صفحہ ۲۶)۔ دفعہ(۳) غلاموں کی شخصیت کا احیاء: اسلام نے اس درمیانی مدّت کے لیے غلاموں کے حقوق کے احیاء کے لیے وسیع اقدامات کیے ہیں جو وہ اسلامی منصُوبے کے تحت آزادی کے لیے طے کر رہے ہوتے ہیں ایسے اقدامات کے تحت جہاں ان کے حقوق کا احیاء مقصُود ہوتا ہے وہاں ان کی انسانی شخصیّت کے احیاء کو بھی پیشِ رکھا گیا ہے تاکہ انسانی شخصیّت کے لحاظ سے آزاد اور غلام کا فرق مٹ جائے۔ اسی لیے اسلام نے انسانی شخصیّت کا معیار "تقوٰی" قرار دیا ہے، اسی لیے غلاموں کو بھی اجازت دی گئی کہ ہر قسم کے اہم معاشرتی مناصب حتی کہ قاضی جیسے نہایت اہم عہدے پر بھی فائز ہو سکتے ہیں۔ (بحوالہ: شرائع الاسلام "کتاب القضاء"۔)۔ عصر رسالت مآبؐ میں لشکر کی سپہ سالاری سے لے کر دوسرے اہم ترین اور حساس ترین عہدوں پر غلام یا آزاد کردہ غلام فائز رہے ہیں۔ رسُول اعظمؐ کے بہت سے دوست اور صحابی یا تو غلام تھے یا آزاد غلام تھے اور ان میں سے بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جو بزرگانِ اسلام کے معاون و مددگار کی حیثیت سے کام کرتے تھے اور اس بارے میں سلمان فارسیؓ، عمّار یاسرؓ، اور قنبرؓ جیسے صحابیوں کا نام لیا جا سکتا ہے۔ "غزدہ بنی مصطلق" کے بعد رُسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قبیلے کی ایک آزاد شدہ کنیز سے ازدواج فرمایا اور یہ بات اس قبیلے کے تمام گرفتار شدہ قیدیوں کی آزادی کا بہانہ بن گئی۔ دفعہ (۴)۔ "غلاموں سے انسانی سلُوک": اسلام میں غلاموں کے ساتھ نرمی برتنے اور ان کے ساتھ مدارات اور حسنِ سلُوک کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے، حتّٰی کہ انہیں اپنے آ قاؤں کے ساتھ زندگی میں حِصّے دار بھی بنایا گیا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: "جس شخص کا بھائی اس کے زیرِدست ہے، اسے چاہیئے کہ جو کچھ وہ خود کھاتا ہے ویسا ہی اسے کھلائے، جو خود پہنتا ہے اسے بھی ویسا پہنائے اور اس کی طاقت سے زیادہ اس سے کام نہ لے۔ (بحوالہ: بحارالانوار، جلد ۷۴، صفحہ ۱۴۱ (حدیث ۱۱)۔ حضرت علی علیہ السلام اپنے غلام قنبر سے فرمایا کرتے تھے:۔ "مجھے خدا سے شرم آتی ہے کہ میں تجھ سے اچھا لباس پہنوں، کیونکہ رسولِ خداؐ فرمایا کرتے تھے جو کچُھ تم خود پہنتے ہو ویسا ہی انہیں پہناؤ اور جو تم خود کھاتے ہو، ویسا ہی انہیں کھلاؤ"۔ (بحوالہ: بحارالانوار، جلد۷۴، صفحہ ۱۴۴ (حدیث ۱۹)۔ امام جعفر صادق علیہ السلام فرمایا کرتے تھے:۔ "میرے والد جب کسی غلام کو کسی کام کے بجا لانے کا حکم دیتے تو اگر وہ کام مشکل ہوتا تو پہلے خُود بسم اللہ کہہ کر اسے انجام دیتے اور اس کی امداد کیا کرتے تھے۔ (بحوالہ: بحارالانوار، جلد۷۴، صفحہ ۱۴۲ (حدیث ۱۳)۔ اس تدریجی اور عبوری عرصے کے دوران غلاموں کے بارے میں اسلام کے حسن سلُوک کا حکم اس حد تک ہے کہ اسلام سے اجنبی افراد بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے اور اس کی تعریف کی ہے۔ مثال کے طور پر جرجی زیدان (عیسائی موٴرّخ اپنی کتاب تاریخی تمدن میں لکھتے ہیں: "اسلام، غلاموں کے ساتھ حد سے زیادہ مہربان ہے، پیغمبر اسلام نے غلاموں کے بارے میں بڑی تاکید کی ہے، یہاں تک کہ پیغمبر اسلامؐ کا کہنا ہے: جن کاموں کی بجا آواری غلاموں کے بس کی بات نہیں وہ ان کے ذمے نہ لگائے جائیں، جو کچھ تم کھاتے ہو ویسا ہی غلاموں کو کھلاؤ"۔ ایک اور موقع پر فرماتے ہیں: "اپنے غلاموں کو کنیز یا غلام نہ کہو، بلکہ انہیں میرا بیٹا اور میری بیٹی کہہ کر بلایا کرو"۔ قرآن نے بھی غلاموں کے بارے میں بڑی عمدہ سفارش پیش کی ہیں، چنانچہ کہتا ہے: "خدا کی عبادت کرو، اس کا شریک مت ٹھہراؤ ماں باپ، قریبی رشتہ داروں، یتیموں، بے نواؤں، نزدیک اور دور کے ہمسایوں، دوستوں بے خانمان لوگوں اور غلاموں کے ساتھ حسن سلُوک کیا کرو، خدا خود پسند لوگوں سے بیزار ہے"۔ (بحوالہ: تاریخِ تمدنِ اسلام، جلد۴، صفحہ ۵۴)۔ دفعہ (۵) "آدم فروشی کو بدترین فعل بتایا گیا ہے": اصولی طور پر اسلام میں غلاموں کی خرید فروخت کو بدترین اور سب سے زیادہ قابل نفرت کاروبار قرار دیا گیا ہے، حتّٰی کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث میں آیا ہے کہ: "شر النّاس من باع النّاس"۔ "بدترین لوگ وہ ہیں جو غلاموں کو بیچتے ہیں"۔ (بحوالہ: مستدرک الوسائل، جلد۲، کتاب التجارة، باب ۱۹، حدیث۱)۔ غلاموں کے بارے میں اسلام کے نطقہٴ نظر کو سمجھنے کے لیے یہی بات کافی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی منصوبوں کا رُخ کسِ طرف کو ہے۔ اس سے بڑھ کر دلچسپ اور جاذب توجہ یہ امر ہے کہ اسلام میں جو گناہ ناقابلِ معافی شمار کیے گئے ہیں ان میں سے ایک گناہ یہ بھی ہے کہ انسان کی آزادی اور حریت کو سلب کر لیا جائے اور اسے ایک سودے کی صورت میں تبدیل کر دیا جائے، جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: "إنّ اللہ تعالیٰ غافرُ کلُّ ذنبٍ إلّا مَن جَحَدَ مَھراً أو اغتصب أجیراً أجرہ، أو باع رَجُلًا حرًا"۔ "خدا تین گناہوں کے علاوہ دوسرے سب گناہ معاف کر دے گا۔ ۱۔ جو شخص اپنی زوجہ کے مہر کا انکار کر دے۔ ۲ ۔ مزدور کی مزدوری غصب کر لے۔ ۳۔ کسی انسان کو بیچ ڈالے۔ (بحوالہ: بحارالانوار، جلد ۱۰۳، صفحہ ۱۶۸ (حدیث ۱۱)۔ اس حدیث کی رُو سے عورتوں کے حقوق کا غصب کرنا، مزدوری کا غصب کرنا اور انسانی آزادی کا چھین لینا، تین ناقابلِ معافی گناہ ہیں۔ جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں کہ اسلام نے صرف ایک موقع پر غلام بنانے کی اجازت دی ہے اور وہ بھی جنگی قیدیوں کو اور وہ بھی ہرگز لازمی نہیں ہے، جبکہ ظہور اسلام کے زمانے میں اور اس کے کئی صدیاں بعد تک طاقت کے ذریعے اور سیاہ فام لوگوں کے ملکوں پر حملہ کر کے آزاد انسانوں کو گرفتار کر کے انہیں غلام بنانے کا طریقہ ٴکار عام تھا اور بعض اوقات تو وحشت ناک تعداد میں اس قسم کے غلاموں کا سُودا کیا جاتا یہاں تک کہ ۱۸ ویں صدی عیسوی کے آخر میں حکومت برطانیہ سالانہ دو لاکھ انسانوں کو غلاموں کی صُورت میں فروخت کیا کرتی تھی اور ہر سال ایک لاکھ انسانوں کو افریقہ سے پکڑ کر غلاموں کی صورت میں انہیں امریکہ لے جایا جاتا تھا۔ (بحوالہ: تفسیرالمیزان، جلد۶، صفحہ ۳۶۸)۔ مختصر یہ کہ جو لوگ غلاموں کے بارے میں اسلامی حکمت عملی پر اعتراض کرتے ہیں انہوں نے دُور ہی سے اس بارے میں کچُھ سُن رکھّا ہے اور اس پروگرام کے اصولوں اور اسلام کے ہدف سے قطعاً ناآشناء ہیں، کیونکہ اسلام کا اصولی پروگرام غلاموں کی تلفی کے بغیر تدریجی آزادی ہے، یا وہ لوگ پھر ان مفاد پرستوں کی باتوں میں آ کر ایسی باتیں کرتے ہیں جنہوں نے اپنے خیال میں اسے اسلام کا زبردست کمزور نقطہ سمجھ لیا ہے اور اسی چیز کو لے کر اسلام کے خلاف پروپیگینڈے میں مصروف ہیں۔

7
47:7
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِن تَنصُرُواْ ٱللَّهَ يَنصُرۡكُمۡ وَيُثَبِّتۡ أَقۡدَامَكُمۡ
اے وہ لوگو جو ایمان لے آئے ہو !اگر تم خدا کی مدد کر و گے تو وہ بھی تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
47:8
وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فَتَعۡسٗا لَّهُمۡ وَأَضَلَّ أَعۡمَٰلَهُمۡ
اور جو لوگ کافر ہیں وہ مرجائیں اور ان کے اعمال اکارت ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
47:9
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ كَرِهُواْ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأَحۡبَطَ أَعۡمَٰلَهُمۡ
یہ اس لئے کہ خدا نے جو چیز نازل فرمائی انہوں نے اسے ناپسند کیا تو خدا نے ان کے اعمال کو حبط کر دیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
47:10
۞أَفَلَمۡ يَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَيَنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۖ دَمَّرَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِمۡۖ وَلِلۡكَٰفِرِينَ أَمۡثَٰلُهَا
تو کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا؟ خدا نے انہیں ہلاک کر دیا اور کافروں کے لئے اسی طرح کی سزا ہو گی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
47:11
ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ مَوۡلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَأَنَّ ٱلۡكَٰفِرِينَ لَا مَوۡلَىٰ لَهُمۡ
یہ اس وجہ سے ہے کہ خدا ایمان داروں کا مولا اور سرپرست ہے، لیکن کافروں کا کوئی سر پرست نہیں۔

تفسیر تم خدا کی مدد کرو گے تو وہ بھی تمہاری مدد کرے گا

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

یہ آیات مثل سابق موٴمنین کو دشمنان حق کے خلاف قیام کی ترغیب دے رہی ہیں اور دلکش تعبیر کے ساتھ انہیں جہاد پرآمادہ کر رہی ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: "اے وہ گروہ لوگوں جو ایمان لے آئے ہو! اگر تم خدا کی مدد کرو گے تو وہ بھی تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا۔ (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ)۔ "ایمان کے مسئلے پر تاکید اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سچے دل سے ایمان کی ایک علامت دشمنانِ دین کے ساتھ جنگ ہے۔ خدا کی مدد کرنے کا مطلب واضح ہے کہ اس کے دین کی مدد کی جائے، اس کے پیغمبؐر کی نصرت کی جائے، پیغمبرؐ کی شریعت اور تعلیمات کی نصرت کی جائے، اسی لیے قرآن مجید کی دوسری آیات میں خدا اور رسُول کی نُصرت ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ مذکور ہوئی ہیں، جیسا کہ سُورہٴ حشر کی آٹھویں آیت میں ہے: "وَيَنصُرُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ أُوْلَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ" باوجودیکہ خدا کی قدرت بےانتہا ہے اور مخلوق کی قدرت اس کے مقابلے میں بالکل ہی ناچیز ہے، لیکن پھربھی "خدا کی مدد" کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں تاکہ جہاد اورآئین حق کے دفاع کی اہمیّت واضح کی جائے اور اس سے بڑھ کر اس موضوع کے لیے کوئی اور باعظمت تعبیر نہیں مِل سکتی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ خدا نے اپنے دین کے دفاع کے بدلے جو وعدہ مجاہدین سے کیا ہے وہ کیا ہے؟ ارشاد ہوتا ہے: "خدا تمہاری مدد کرے گا" لیکن کِس طریقے سے؟ بہت سے طریقے ہیں! تمہارے دل میں نور ایمان، تمہاری روح میں تقویٰ، تمہارے ارادوں میں قوّت اور تمہارے افکار میں اطمینان ڈال کر۔ پھر یہ بھی کہ فرشتے تمہاری امداد کے لیے بھیجتا ہے، حالات کا دھارا تمہارے حق میں موڑ دیتا ہے، لوگوں کے دِلوں کو تمہاری طرف پھیر دینا ہے، تمہاری باتوں میں تاثیر بخشتا ہے، تمہاری سرگرمیوں کو مفید اور نتیجہ خیز ہوتا ہے، غرض خدا کی مدد تمہارے جسم و جان اور تمہارے ظاہر و باطن پر چھا جاتی ہے۔ لیکن امداد کی مذکورہ تمام صورتوں میں "ثبات قدم" کے مسئلے پر زیادہ زور دیا گیا ہے، کیونکہ دشمن کے مقابلے میں استقامت اور پامردی میں کامیابی کا سب سے زیادہ اور اہم راز پوشیدہ ہے اور میدانِ جنگ میں انہیں کامیابی حاصل ہوتی ہے جو ثباتِ قدم اور استقامت کا زیادہ ثبوت پیش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بنی اسرائیل کے عظیم سپہ سالار حضرت طالوت کی ایک ستم گار، خوتحوار اور طاقت ور بادشاہ جالُوت کے ساتھ جنگ کے واقعے میں ہے کہ جب مومنین کی مختصر سی تعداد جو طالوت کے ساتھ تھی، طاقتور دشمن کے مقابلے میں آئی تو کہا: "رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ" "خداوندا! تو ہمارے لیے ضبر و استقامت کی فراوانی کر دے اور ہمارے قدموں میں ثبات عطا فرما اور کافرقوم کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔" (بقرہ ۔۲۵۰)۔ چنانچہ اس کے بعد کی آیت میں ہے: "فَهَزَمُوهُم بِإِذْنِ اللهِ" "طالوت کے ساتھیوں نے جالُوت کے طاقت ور لشکر کو حکم الہٰی سے شکست دے دی۔" یقینا! ثبات قدم کا نتیجہ دشمن پر مکمل فتح اور کامرانی ہوتا ہے۔ چونکہ بعض اوقات دشمن کا جرم غفیر اور ان کی افرادی قوّت قسم کے اسلحہ جات مجاہدین راہ حق کے افکار کو اپنی طرف متوجہ کر لیتے ہیں، لہذا بعد کی آیت میں فرمایا گیا ہے: اور جو لوگ کافر ہیں وہ ہلاک ہوں اور ان کے اعمال برباد ہوں (وَالَّذِينَ كَفَرُوا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ)۔ (تشریحی نوٹ: "تعساً" ایک فعل مقدر کا مفعول مطلق ہے جس کی تقدیر یوں ہے "تعسھم تعساً" اور "اَضَلَّ اَعْمالَهُم" کا جُملہ اس فعل مقدر پر عطف ہے اور دونوں جُملے نفرین کی صورت میں ہیں، جیسے "قاتلھم اللہ" اور ظاہر ہے کہ خدا کی طرف سے نفرین اس کے وقوع پذیر ہونے کے معنی میں ہے)۔ "تعس" (بروزن "نحس") کا معنی ڈگمگانا اور منہ کے بل گرنا ہے، بعض لوگوں نے اس کا معنی ہلاکت، انحطاط اور پستی بیان کیا ہے۔ انہوں نے درحقیقت، اس کے نتیجے کو بیان کیا ہے۔ بہر صُورت ان دونوں گروہوں کے درمیان تقابل بڑی حد تک بامعنی ہے، سچّے موٴمنین کے بارے میں فرمایا گیا ہے: "انہیں ثابت قدم رکھے گا"، لیکن کافروں کے متعلق فرمایا گیا ہے: "انہیں سقوط و لغزش نصیب ہو" اور وہ بھی نفرین کی صُورت میں کہ جس کی گہرائی واضح ہے۔ جی ہاں! جب بے ایمان لوگ لعزش کرتے ہیں تو کوئی بھی انہیں سہارا نہیں دے سکتا، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بڑی آسانی کے ساتھ شکست کھا جاتے ہیں، لیکن موٴمنین کی امداد کے لیے فرشتے موجُود ہوتے ہیں جو انہیں بڑھ کر تھام لیتے ہیں اور انہیں لغزش اور ڈگمگاہٹ سے فوراً بچا لیتے ہیں، جیسا کہ ایک اور جگہ پر خدا تعالیٰ فرماتا ہے: "إِنَّ الَّذینَ قالُوا رَبُّنَا اللہُ ثُمَّ اسْتَقامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلائِکَةُ" (حٰم سجدہ:۳۰)۔ مومنین کے اعمال میں برکت ہوتی ہے، لیکن کفار کے اعمال برکت سے خالی ہوتے ہیں جو بہت جلد نیست و نابُود ہو جاتے ہیں۔ بعد کی آیت ان کے سقوط اور ان کے اعمال کی بربادی کو ان الفاظ میں بیان کرتی ہے: یہ اس لیے کہ خدا نے جو چیز نازل فرمائی انہوں نے اسے ناپسند کیا تو خدا نے بھی ان اعمال کو اکارت کر دیا (ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنزَلَ اللهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ)۔ خدا نے ہر چیز سے پہلے آئین توحید کو نازل فرمایا، لیکن انہوں نے اس کے مُنہ موڑ لیا اور شرک کی طرف متوجہ ہو گئے خدا نے حق و عدالت اور طہارت و تقویٰ کا حکم دیا، لیکن انہوں نے اس کی طرف بھی پیٹھ کر لی اور ظلم و فساد کو اپنا لیا، حتّٰی کہ جب ان کے سامنے خداوند وحدۀ لاشریک کا نام لیا جاتا تو وہ اس سے بھی اظہار نفرت کرتے، جیسا کہ سُورہٴ زمر کی ۴۵ ویں آیت میں ہے: "وَإِذَا ذُكِرَ اللهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ" جی ہاں! جب یہ لوگ ان چیزوں سے متنفر ہیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ اس راہ میں قدم بھی نہیں اُٹھاتے بلکہ ان کی تمام سعی کوشش باطل کی راہوں پر گامزن ہونے میں صرف ہوتی ہے، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے اعمال اکارت ہو جاتے ہیں۔ ایک روایت میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ: "كرهوا ما أنزلَ الله فِى حَقِّ عَلِى۔" "ان لوگو ں نے ہر اس چیز کو ناپسند کیا جو خدا نے علی علیہ السلام کے حق میں نازل کی۔" (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان انہی آیات کے ذیل میں)۔ البتّہ "مَا أنزلَ الله" کی تعبیر ایک وسیع معنی کی حامل ہے، جس کا ایک روشن اور واضح مصداق امیر المومنین علیہ السلام کی ولایت کا مسئلہ بھی ہے نہ یہ کہ مفہوم اسی میں منحصر ہے۔ قرآن مجید بہت سے مقامات پر ظالموں کو "حسّی نمونے" دکھاتا ہے لہذا یہاں پر بھی انہیں گزشتہ اقوام کے حالات کا مطالعہ کرنے کی دعوت دیتے ہُوئے فرماتا ہے: تو کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں، تاکہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا کیا انجام ہوا، وہی جنہوں نے کُفر و سرکشی کی راہیں اختیار کیں اور خدا نے انہیں ہلاک کر دیا (أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ دَمَّرَاللهُ عَلَيْهِمْ)۔ وہ یہ گمان نہ کریں کہ اس قسم کا دردناک انجام گزشتہ اقوام کے سرکش لوگوں کے لیے مخصوص تھا اور وہ بچ جائیں گے، نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے "مشرکین اور کفار کے لیے بھی اس قسم کی سزا ہو گی" (وَلِلْكَافِرِينَ أَمْثَالُهَا)۔ (تشریحی نوٹ: ۔ "أمثالھا" کی ضمیر "عاقبة" کی طرف لوٹ رہی ہے، جو پہلے جُملے سے سمجھی جاتی ہے)۔ وہ اس بات کی توقع ہرگز نہ رکھیں کہ ان جیسے کردار کا مظاہرہ بھی کریں گے اور ان جیسے انجام سے دوچار بھی نہیں ہوں گے، انہیں چاہیے کہ گزشتہ لوگوں کے آثار بھی دیکھیں اور اپنے مستقبل اور انجام کا بھی ان کی زندگی کے آئینے میں مشاہدہ کریں۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ "دمر"، "تدمیر" کے مادہ سے ہے، جس کا اصل معنی "ہلاک کرنا" ہے، لیکن جب "علی" کے ساتھ مذکور ہو تو اس کا معنی ہر چیز کو حتّٰی کہ انسان کا اپنی اولاد، خا ندان اور مخصوص اموال کو ملیامیٹ اور نیست و نابود کرنا ہوتا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر روح المعانی، تفسیر رُوح البیان اور تفسیرفخر الرازی) اس طرح سے یہ تعبیر ایک بہت بڑی درد ناک مصیبت کی نشاندہی کر رہی ہے اور خاص کر جب لفظ "علیٰ" پر تو جہ مرکوز کی جائے کہ جو کسی کام پر تسلط اور غلبہ کے لیے استعمال ہوتا ہے، تواَب پورے جُملے کا مفہوم یہ ہو گا کہ خدا نے ان اقوام پر، ان کے اموال پر اور ان کی تمام پسندیدہ چیزوں پر ہلاکت اور تباہی و بربادی کو گرا دیا۔ "زمین میں چلنے پھرنے" کے بارے میں ہم نے تفسیر نمونہ جلد سوم (سورہٴ آلِ عمران کی ۱۳۷ ویں آیت) کے ذیل میں تفصیل سے گفتگو کی ہے، اسی طرح سولہویں جلد میں اس ضمن میں بات کی گئی ہے۔ اسی سلسلے کی آخری آیت میں خدا نے موٴمنین کو اپنی مکمّل حمایت کی یقین دہانی کرواتے ہُوئے سرکش کفّار کی نابودی کی خبر دی ہے، یہ اس لیے ہے کہ خدا ایمان داروں کا مولا اور سرپرست ہے، لیکن کافروں کا کوئی مولا نہیں ہے (ذَلِكَ بِأَنَّ اللهَ مَوْلَىٰ الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لَا مَوْلَى لَهُمْ) (تشریحی نوٹ: " ذٰلِكَ" کا مشارٌالیہ مومنین کا نیک انجام اور کفار کا بُرا انجام ہے جن کی طرف گزشتہ آیات میں اشارہ ہو چکا ہے)۔ "مولیٰ" بمعنی "دلی" سرپرست، دوستاور مدد گار ہے، تو اس لحاظ سے خدا نے مومنین کی ولایت، سرپرستی اور امداد کو اپنے ذمہ لے لیا ہے اور کافروں کو اس اپنی ولایت کے دائرے سے نکال دیا ہے ظاہر سی بات ہے کہ جو لوگ اس کی ذات پاک ولایت کے زیرسایہ ہوتے ہیں، خدا ان کے ہرآڑے وقت میں مدد فرماتا ہے اور ثبات قدمی عطا فرماتا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اپنے گوہر مراد کو پا لیتے ہیں، لیکن جو لوگ اس دائرہ سے خارج ہوتے ہیں ان کے اعمال کو اکارت کر دیتا ہے اور انجام کار وہ ہلاکت سے دوچار ہوتے ہیں۔ یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ زیر تفسیر آیت میں اللہ کو صرف "مومنین کا مولا" کی حیثیت سے ذکر کیا گیا ہے جب کہ دوسری بعض آیات میں کافروں کا مولا بھی بتایا گیا ہے، مثلاً سُورہٴ یونس کی تیسویں آیت میں ہے۔ " وَرُدُّواْ إِلَى اللهِ مَوْلاَهُمُ الْحَقِّ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ۔" "وہ اپنے حقیقی مولا خدا کی طرف لوٹائے جائیں گے اور جن بُتوں کو وہ جُھوٹ سے خدا کا شریک گردانتے تھے وہ غائب اور نابُود ہو جائیں گے۔" اگر ایک نکتے کو پیشِ نظر رکھا جائے تو یہ ایک بات واضح ہو جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا کی "ولایت عامہ" یعنی خالق اور مدبّر ہونا سب کے لیے ہے، لیکن اس کی "ولایت خاصہ" کی جس میں اس کی طرف سے حمایت بھی شامل ہے، صرف مؤمنین کے شاملِ حال ہوتی ہے۔ (تشریحی نوٹ: بعض مفسرین مثلاً آلوسی نے تفسیر روح المعانی میں زیر نظر آیت کی تفسیر کے سلسلے میں "مولا" کا معنی ناصر" اور سورہٴ یونس کی آیت جیسی آیات میں مولا کا معنی "مالک" لکھا ہے)۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیت قرآن کی تمام دوسری آیات سے زیادہ امید بخش ہے یعنی "أرجی اٰیة فِی القُراٰن" ہے، کیونکہ یہ تمام مومنین ہیں، خواہ وہ عالم ہیں یا جاہل، زا ہد ہیں یا راغب، چھوٹے ہیں یا بڑی، مرد ہیں یا عورت اور بوڑھے ہیں یا جوان، یہ آیت ان سب مومنین کے لیے پروردگار عالم کی خاص عنایت اور حمایت کی نشاندہی کرتی ہے، حتّٰی کہ گناہگار مومنوں کی بھی اس سے مستثنٰی نہیں کرتی، خدا سخت سے سخت حوادث اور جانکاہ مصائب میں اپنی حمایت کے نمونے ِدِکھا چکا ہے اور ہر شخص اپنی زندگی میں اس چیز کو ضرور محسُوس کرتا ہے اور تاریخ میں بھی اس کی بہت سی مثالیں مِلتی ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسِی جنگ سے واپسی پر ایک درخت کے نیچے اکیلے بیٹھے ہُوئے تھے کہ اچانک ایک مشرک نے تلوار نیام سے نکال کرآپ بر تان کر کہا: "من یخلصک مِنّی۔" "اب بتاؤ کہ تمہیں مجھ سے کون بچا سکتا ہے۔" تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے برجستہ فرمایا:اللہ! یہ سُن کر اس مشرک کے پاؤں ڈگمگا گئے، وہ زمین پر گر پڑا اور تلوار اس کے ہاتھ سے چھُوٹ گئی۔ رسُول اللہ صلی اللہ علیه وآلہ وسلم نے وہ تلوار اُٹھا کر فرمایا: "اب تم بتاؤں کہ تمہیں میرے ہاتھوں سے کون چھڑا سکتا ہے"؟ تو اس نے کہا، کوئی نہیں! یہ کہا اور ایمان لے آیا۔ (بحوالہ: تفسیر روح البیان، جلد۸، صفحہ ۵۰۳)۔

12
47:12
إِنَّ ٱللَّهَ يُدۡخِلُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۖ وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يَتَمَتَّعُونَ وَيَأۡكُلُونَ كَمَا تَأۡكُلُ ٱلۡأَنۡعَٰمُ وَٱلنَّارُ مَثۡوٗى لَّهُمۡ
(یقیناً خدا ان لوگوں کو،جو ایمان لے آئے اور اچھے اچھے کام کرتے رہے، بہشت کے ان باغات میں پہنچادے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔اور جو کافرہیں وہ دنیا کی جلد ختم ہونے والی متاع سے استفادہ کرتے ہیں اور چوپایوں کے مانند کھاتے ہیں اور آخر ان کا ٹھکا نا جہنم ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
47:13
وَكَأَيِّن مِّن قَرۡيَةٍ هِيَ أَشَدُّ قُوَّةٗ مِّن قَرۡيَتِكَ ٱلَّتِيٓ أَخۡرَجَتۡكَ أَهۡلَكۡنَٰهُمۡ فَلَا نَاصِرَ لَهُمۡ
اور جس شہر نے تجھے نکال دیا، کتنے شہر تھے جو اس سے زیادہ طاقت ور تھے کہ جنہیں ہم نے تباہ و برباد کر دیا جب کوئی ان کا مد دگار بھی نہیں تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
47:14
أَفَمَن كَانَ عَلَىٰ بَيِّنَةٖ مِّن رَّبِّهِۦ كَمَن زُيِّنَ لَهُۥ سُوٓءُ عَمَلِهِۦ وَٱتَّبَعُوٓاْ أَهۡوَآءَهُم
تو کیا جو شخص اپنے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہو اس شخص کے برابر ہو سکتا ہے جس کی بداعمالیاں اسے بھلی کر کے دکھائی گئی ہوں اور وہ اپنی نفسانی خواہشوں کی پیروی کرتا ہو؟۔

تفسیر مُؤمِنین اور کفّار کا انجام:

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

گزشتہ آیات میں حق و باطل اور ایمان و کُفر کی مُسلسل آویزش کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے۔ اب ان آیات میں ایک واضح تقابل کے ذریعے مومنین اور کفار کا انجام بیان کیا جا رہا ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ یہ دونوں گروہ دُنیا ہی کی زندگی میں ایک دوسرے مختلف نہیں ہیں، بلکہ آخرت میں بھی ان کے زندگی میں زبردست فرق ہو گا ارشاد ہوتا ہے: خدا ان لوگوں کو جو ایمان لے آئے اور اچھے اچھے کام کرتے رہے بہشت کے ان باغات میں پہنچا دے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں (إِنَّ اللهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ)۔ جبکہ کافر لوگ دُنیا کی زوو گزر متاع سے استفادہ کرتے ہیں اور چو پایوں کے مانند کھاتے ہیں اور آخر ان کا ٹھکانا جہنم ہے (وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ)۔ (تشریحی نوٹ: " کَمَا یَاکُلُ․․․" ایک مقدر مفعول مطلق کے مقام نصب پر ہے، اصل میں یُوں ہے "یَاکُلُونَ أَکَلًا کَمَا یَاکُلُ الأنعام۔")۔ یہ ٹھیک ہے کہ دونوں قسم کے لوگ اپنی دنیا میں رہ رہے ہیں، اس کی نعمتوں سے بہرہ مند بھی ہو رہے ہیں، لیکن فرق یہ ہے کہ موٴمنین کی زندگی کا مقصد ایسے اعمال صالح کی بجا آوری ہے جو مفید، تعمیری اور رضائے الہٰی کے حُصول کا سبب ہوتے ہیں، جبکہ کفّار کی زندگی کا اصل مقصد صرف کھانا پینا اور سونا اور دنیاوی لذتوں سے لطف اندوز ہونا ہوتا ہے۔ مومنین کا ہر ایک اقدام معرفت پر مبنی ہوتا ہے، جب کہ کفار بے مقصد زندگی گزارتے ہیں اور بےمقصد موت کو اختیار کرتے ہیں بالکل ویسے ہی جیسے چوپائے ہوتے ہیں۔ موٴمنین نے دنیاوی زندگی میں اپنے لیے بہت سی سی شرائط اور حدیں عائد کر رکھی ہیں، وہ دُنیاوی امور کے جواز حصُول اور مصرف کی کیفیّت کے سلسلے میں بڑی سوچ و بچار سے کام لیتے ہیں، لیکن کفار چوپایوں کے مانند ہوتے ہیں جنہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ یہ چارہ ان کے مالک کا ہے یا غصبی؟ کسِی یتیم اور بیوہ کا اس میں حق ہے یا نہیں۔ موٴمنین جب کسِی دنیاوی نعمت سے استفادہ کرتے ہیں تو اس کے عطا کرنے والے کے بارے میں سوچتے ہیں، اس نعمت میں اُس کی آیات کو دیکھتے ہیں اور منعم حقیقی کا شکر بجا لاتے ہیں، جب کہ کفّار کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ بےسوچے سمجھے اور کسِی چیز کے بارے میں سوچے بغیر اس سے لُطف اندوز ہوتے ہیں اور ہمیشہ اپنے ظلم و گناہ کے بوجھ میں اضافہ کرتے رہتے ہیں، خود کو ہلاکت کے نزدیک کرتے رہتے ہیں بالکل ویسے ہی جیسے کوئی موٹی تازہ بکری جتنا زیادہ کھاتی جاتی ہے اتنا ہی زیادہ موٹی ہوتی جاتی ہے اور ذبح ہونے کے زیادہ قریب ہوتی جاتی ہے۔ بعض مفسرین نے دونوں گروہوں کا باہمی فرق ان الفاظ میں بیان کیا ہے: " إِنَّ المُؤمنَ لا يخلو أَكله عن ثلاثٍ: الورع عند الطلب، وإستعمال الأدب، والأكل للسبب، وَالكافر يطلب للنهمة وَيأكل ِللشّهوةِ وَعيشه فى غفلة۔" "موٴمن کا کھانا تین صورتوں سے خالی نہیں ہوتا ہے، کھانے کے حصُول میں پرہیزگاری، ادب کو کام میں لانا اور مصرف میں مقصد کے لیے اور اس کی تمام زندگی غفلت میں گزرتی ہے۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ موٴمنین کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ "خدا انہیں بہشت کے باغوں میں پہنچا دے گا" لیکن کفّار کے متعلق فرمایا گیا ہے "ان کا ٹھکانا جہنم ہے" پہلی تعبیر اہل ایمان کے احترام اور ان کی طرف توجہ کی غماز ہے، جب کہ دوسری تعبیر کفار کی تحقیر اور ان سے بےاعتنائی کی آئینہ دار ہے کیونکہ وہ خدا کی ولایت کے دائر سے نکل چکے ہیں۔ بعض مفسرین نے " وَالنَّارُ مَثْوىً لَهُمْ" (جہنم کی آگ ان کا ٹھکانا ہے) کے جُملے سے یہ سمجھا ہے کہ وہ اس وقت بھی جہنم میں ہیں، ان کے بقول کیونکہ یہ جُملہ فعل مضارع اور مستقبل کی صُورت میں نہیں ہے بلکہ حال کی خبر دے رہا ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کیونکہ ان کے اپنے کردار اور کرتوت ہی آگ ہیں جس میں وہ گرفتار ہیں اور وہ انہیں ہر طرف سے گھیرے ہُوئے ہیں ہر چند کہ یہ حیوان صفت لوگ اس چیز سے غافل اور بےخبر ہیں چنانچہ ہم سورہٴ توبہ کی آیت ۴۹ میں پڑھتے ہیں: "وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ۔" "جہنم نے کافروں کو ہرطرف سے گھیرا ہوا ہے۔" قرآن مجید کی کچھ اور آیات میں بھی ان جہنمیوں کو چوپایوں سے تشبیہ دی گئی ہے، بلکہ انہیں ان سے بھی بدتر گردانا گیا ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: "أُوْلَـئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُوْلَـئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ" (اعراف/ ۱۷۹)۔ "یہ لوگ چوپایوں کے مانند ہیں، بلکہ ان سے بھی بدتر یہ غافل لوگ ہیں" اس کی مفصّل تشریح ہم تفسیر نمونہ کی ساتویں جلد کے ابتدائی حِصّے میں پیش کر چکے ہیں۔ اس مقصد کی تکمیل کے لے بعد کی آیت میں مشرکین مکّہ اور سابقہ دور کے بُت پرستوں کے درمیان ایک تقابلی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے اور واضح لفظوں میں انہیں سخت تنبیہ کی جا رہی ہے اور ضمنی طور پر ان کے ان بعض جرائم کو بیان کیا جا رہا ہے جو جنگ کا جواز فراہم کرتے ہیں، ارشاد ہوتا ہے: "اور جس شہر سے لوگوں نے تجھے نکال دیا ہے اس سے زیادہ قوی بہت سے شہر تھے، جن کو ہم نے تباہ و برباد کر دیا، جبکہ کوئی ان کا مددگار نہیں تھا (وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ هِيَ أَشَدُّ قُوَّةً مِّن قَرْيَتِكَ الَّتِي أَخْرَجَتْكَ أَهْلَكْنَاهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ)۔ وہ یہ گمان نہ کریں کہ چند روزہ دُنیا ان کے کچھ کام آئے گی، اس لیے وہ اس قدر جسور اور جری ہو چکے ہیں کہ خدا کے عظیم رسُول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مقدس ترین شہر سے نکال دیا ہے وہ یہ نہ سمجھیں کہ یہ صورتِ حال ہمیشہ یونہی رہے گی، نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے یہ لوگ قومِ عاد و ثمود، فراعنہ مصر اور ابرہہ کے لشکر کے مقابلے میں تو بہت ہی کمزور اور ناتوان ہیں، خدا نے تو اُن کو بھی نابُود کر دیا تھا، اور انہیں تہس و نہس کر دیا تھا، ان کی سرکوبی تو معمولی بات ہے۔ ابن عباس سے ایک روایت منقول ہے کہ جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکّہ سے غار ثمور کی طرف جا رہے تھے تو آپؐ نے مکّہ کی طرف مُنہ کر کے کہا: " أنت أحبّ البِلاد الى الله وَأنت أحبّ البِلاد اِلى وَلولا المشركون أهلك أخرجونى لما خرجت منك۔" تو خدا کے نزدیک بھی محبُوب ترین شہر ہے اور میرے نزدیک بھی محبُوب ترین شہر ہے اگر تیرے رہنے والے مُشرک لوگ مجھے نہ نکالتے تو میں اپنی مرضی سے کبھی نہ نکلتا۔" اسی موقع پر مندرجہ بالا آیت نازل وئی (جس میں پیغمبر کو نصرت الہٰی کی خوشخبری دی گئی ہے اور مشرکین کو سزا کے لیے متنبہ کیا گیا ہے۔ (بحوالہ: تفسیرقرطبی، جلد۹، صفحہ ۶۰۵۵)۔ اس شانِ نزول کے مطابق یہ آیت مکّہ میں نازل ہوئی، لیکن معلوم ہوتا ہے کہ یہ شانِ نزُول سُورہ قصص کی ۲۵ ویں آیت سے متعلق ہے اور بہت سے مفسرین نے اسے وہیں پر ذکر کیا ہے اور اس کی زیادہ مناسبت بھی اسی آیت کے ساتھ معلوم ہوتی ہے، جس میں فرمایا گیا ہے: " إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرادُّكَ إِلى‏ مَعادٍ۔" "جس خدا نے تجھ پر قرآن فرض کیا ہے وہی تجھے تیری (ولادت) کی جگہ لوٹائے گا۔ (تشریحی نوٹ: اس بارے میں مزید تفصیل کے لیے تفسیر نمونہ جلد ۹ میں ملاحظہ فرمایئے (مذکورہ آیت کی تفسیر کے ذیل میں)۔ یہاں پر یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ آنحضرتؐ کو باہر نکال دینے کی نسبت شہر مکّہ کی طرف دی گئی ہے جبکہ نکالنے والے اہالیان شہر تھے یہ ایک لطیف کنایہ ہے، جو اس شہر پر ایک خاص گروہ کے تسلط کو بیان کرتا ہے۔ اس طرح کے کنایئے قرآن مجید کی اور بھی آیات میں ذکر ہُوئے ہیں۔ ضمنی طورپر ہم پھر یہ بتاتے چلیں کہ لفظ "قریة" شہر اور آبادی کے لیے بولا جاتا ہے نہ کہ "گاؤں" کے معنی میں ہے اور اس بات کو ہم پہلے بھی کئی مقامات پر بیان کر چکے ہیں۔ اسی سِلسلے کی آخری آیت میں مومنین اور کفار کے درمیان ایک اور تقابل کو پیش کیا گیا ہے، ان دونوں گروہوں کا آپس میں ہر چیز میں فرق ہے۔ ایک گروہ ایمان پر قائم اور اعمال صالح پر کار بند ہے، جب کہ دوسرا گروہ پُورے طور پر حیوانی زندگی گزار رہا ہے۔ ایک پروردگار کی ولایت کے زیر سایہ رہ رہا ہے اور دوسرا بے مولا اور بےسرپرست ہے، ارشاد ہوتا ہے: تو کیا جو شخص اپنے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل پر ہو اس شخص کے برابر ہو سکتا ہے، جس کی بداعمالیاں اسے بھلی کر کے دکھائی گئی ہوں اور وہ اپنی نفسانی خواہشوں کی پیروی کرتا ہو (أَفَمَن كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ كَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءَهُمْ)۔ پہلے گروہ نے اپنے راستے کو پا لیا ہے اور وہ صحیح معرفت، یقین، دلیل، اور قطعی برہان کے ساتھ اس پر گامزن ہے، اپنے راستے اور مقصد کو واضح طور پر دیکھ رہا ہے اور اس کی طرف رواں دواں ہے، جبکہ دوسرا گروہ غلط پہچان اور حقائق کے عدم اور اک کا شکار ہے اور اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہے، راہ سے بھٹک کر منزل مقصود سے کوسوں دُور ہے، اس بھٹکنے کا اصل سبب سرکش نفس کی خواہشات کی اتباع ہے کیونکہ خواہشات نفسانی انسان کی عقل و فکر پر پردے ڈال دیتی ہیں، اچھائیوں کو برائیاں اور برائیوں بنا کر پیش کرتی ہیں۔ حتّٰی کہ بعض اوقات سرکش نفس کا تابع انسان اپنے ناپاک اور شرم آور کردار پر فخر ومباہات کرنے لگتا ہے، جیسا کہ سُورہٴ کہف کی ۱۰۳ تا ۱۰۵ آیات میں ہے: " قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمالًا الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعاً أُولئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآياتِ رَبِّهِمْ وَلِقائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمالُهُمْ فَلا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ وَزْنًا۔" "کہہ دے: کیا ہم تمہیں ایسے لوگوں کے بارے میں بتائیں کہ جو سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں؟ یہ وہی لوگ تو ہیں کہ دنیاوی زندگی کے لیے جن کی سعی و کوشش کا کُچھ حاصل نہیں اور بھر بھی وہ یہی سمجھتے ہیں کہ وہ اچھّے کام انجام دے رہے ہیں، وہی تو ہیں جو اپنے ربّ کی آیات اور اس کی ملاقات کے منکر ہیں، اسی لیے تو ان کے اعمال اکارت جائیں گے اور قیامت کے دن ہم ان کے لیے میزان اور ترازو قائم نہیں کریں گے، (کیونکہ ان کے اعمال میں کوئی وزن نہیں ہو گا)۔ "بیّنة" آشکار اور روشن دلیل کے معنی میں ہے اور یہاں پر قرآن مجید پیغمبرؐ اکرم کے معجزات اور دوسرے عقلی دلائل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ "افمن کان۔۔۔" میں "استفہام انکاری" ہے یہ دونوں گروہ آپس میں ہرگز برابر نہیں ہو سکتے۔ یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان نفس پرستوں کے بُرے اعمال کو کون بھلا بنا کر پیش کرتا ہے؟ خود وہ آپ یا خدا، یا شیاطین؟ تو جواب یہ ہے کہ سب کے سب! کیونکہ قرآنی آیات میں ان تینوں کی طرف نسبت دی گئی ہے، سورہٴ نمل کی چوتھی آیت میں فرمایا گیا ہے: "إِنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ زَيَّنَّا لَهُمْ أَعْمَالَهُمْ۔" "جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ہم ان کے اعمال کو ان کی نگاہوں میں مزین کر دیتے ہیں۔" دوسری متعدد آیات بشمول سُورہٴ عنکبوت کی ۳۸ ویں آیت کا مفہوم یہ ہے کہ شیطان نے ان کے اعمال کو بنا سنوار کر پیش کیا ہے۔ " وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ۔" اور زیر تفسیر آیت میں "وَاتَّبَعوا أَھْوائھُم" کے جملے کے پیش نظریہ زینت ان کی خواہشات نفسانی کی اتباع کی وجہ سے ہوتی ہے اور یہ بات مکمل طور پر قابل ِفہم ہے کہ خواہشات نفسانی کی اتباع انسان سے ادراک اور تشخیص کی صلاحیّت سلب کر لیتی ہے۔ البتہ اس کی شیطان کی طرف نسبت بھی صحیح ہے کیونکہ وہ نفسانی خواہشات کو بھڑکاتا اور انسان کو ہمیشہ وسوسوں میں ڈالتا رہتا ہے۔ اور اگر اس کی نسبت خدا کی طرف دی گئی ہے تو اس لیے کہ وہ "مسبت الاسباب" ہے اور ہر سبب کا جو اثر ہوتا ہے وہ اسی کی جانب سے ہے۔ اسی نے آگ کو تپش عطا کی ہے اور خواہشات نفسانی کو حقائق پر پردہ ڈالنے کی تاثیر بھی نیز وہ اس تاثیر کے بارے میں بتا بھی چکا ہے۔ تو اس طرح سے ساری ذمہ داری خود انسان پر عائد ہوتی ہے۔ بعض مفسرین نے " أَ فَمَنْ كانَ عَلى‏ بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ" کو پیغمبر اکرمؐ کی طرف اشارہ سمجھا ہے اور بعد کے جُملے کو کفّارِ مکّہ کی طرف، لیکن ظاہر یہ ہے کہ آیت کا وسیع معنی ہے اور یہ مفاہیم اس کے مصداق ہیں۔

15
47:15
مَّثَلُ ٱلۡجَنَّةِ ٱلَّتِي وُعِدَ ٱلۡمُتَّقُونَۖ فِيهَآ أَنۡهَٰرٞ مِّن مَّآءٍ غَيۡرِ ءَاسِنٖ وَأَنۡهَٰرٞ مِّن لَّبَنٖ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهُۥ وَأَنۡهَٰرٞ مِّنۡ خَمۡرٖ لَّذَّةٖ لِّلشَّـٰرِبِينَ وَأَنۡهَٰرٞ مِّنۡ عَسَلٖ مُّصَفّٗىۖ وَلَهُمۡ فِيهَا مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ وَمَغۡفِرَةٞ مِّن رَّبِّهِمۡۖ كَمَنۡ هُوَ خَٰلِدٞ فِي ٱلنَّارِ وَسُقُواْ مَآءً حَمِيمٗا فَقَطَّعَ أَمۡعَآءَهُمۡ
جس بہشت کا پرہیز گاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی صفت یہ ہے کہ اس میں صاف و شفاف پانی کی نہریں ہیں جن میں بدبو نہیں ہے ، دودھ کی نہریں ہیں،جن کا مزہ تک نہیں بدلا، شراب( طہور) کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لئے لذت ہی لذت ہیں، صاف و شفاف شہد کی نہریں ہیں، ہاں ان کے لئے ہر قسم کے پھل ہیں اور( ان سب سے بڑھ کر)ان کے پروردگار کی طرف سے بخشش ہے ۔بھلا یہ لوگ ان کے برابر ہو سکتے ہیں جو ہمیشہ دوزخ کی آگ میں رہیں گے اور انہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو وہ ان کی آنتوں کوٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے گا۔

تفسیر بہشت کی ایک اور صفت:

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

یہ آیت گزشتہ آیات کی مانند کافر اور موٴمن دونوں گروہوں کے اوصاف بیان کر رہی ہے، ایک گروہ کے شرم ناک اور بُرے اعمال ہیں جو ان کی نظر میں بھلے معلوم ہوتے ہیں اور دوسرے کے نیک اور صالح۔ اس آیت میں اہل بہشت کی چھ قسم کی نعمتوں اور اہل دوزخ کے دو قسم کے سخت اور درد ناک عذاب کا تذکرہ کیا گیا ہے اور ساتھ ہی ان کے انجام کو واضح کیا گیا ہے۔ اہل بہشت کی نعمتوں میں چار نہروں کا نام لیا گیا ہے جن میں سے ہر ایک ایک خاص چیز کی ہے اور ہر ایک کا اپنا مزہ ہے، پھر بہشت کے پھولوں کا ذکر ہے اور آخر میں روحانی نعمتوں کا تذکرہ ہے۔ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: جس بہشت کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی صفت یہ ہے کہ اس میں صاف و شفاف پانی کی نہریں ہیں جن میں بدبو نہیں ہے (مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ فِيهَا أَنْهَارٌ مِّن مَّاءٍ غَيْرِاٰسِنٍ)۔ (تشریحی نوٹ: اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کے مختلف اقوال ملتے ہیں، سب سے مناسب قول یہی ہے کہ "مثل الجنّة" مبتدا ہے اور اس کی خبر محذوف ہے، جو تقدیری طور پر یوں"مثل الجنّة الّتی وعد المتّقون جنّة فیھا أنھار" درحقیقت، یہ آیت سورہٴ رعد کی ۳۵ ویں آیت سے مِلتی جُلتی ہے، جس میں کہا گیا ہے: "مَّثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ")۔ "اٰسن" کا معنی "بدبو" ہے لہٰذا "ماءِغَیْرِ آسِن" کا معنی ہو گا: وہ پانی جو مدتوں رہنے کی باوجُود بدبو دار نہیں ہوتا، یہ بہشت کی نہروں کی وہ پہلی قسم ہے جس کا پانی صاف و شفاف، خوشبو دار اور خوش ذائقہ ہے۔ پھر فرمایا گیا ہے: اور دودھ کی نہریں ہیں جن کا مزہ تک نہیں بدلا (وَأَنْهَارٌ مِن لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُ)۔ اصولی طور پر بہشت ایک ایسا مقام ہے، جہاں پر نہ تو کسِی چیز کے بگڑنے کا اندیشہ ہے نہ ہی خراب ہونے کا یہ تو اس مادی دُنیا کا خاصہ ہے جس میں مختلف قسم کے جراثیم ہوتے ہیں جو غذا کو خراب کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد بہشت کی تیسری قسم کے نہروں کے کا تذکرہ کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے: اور شراب (طہور) کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لیے لذت ہی لذّت ہیں (وَأَنْهَارٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ)۔ آخر میں بہشت کی چوتھی قسم کی نہر کا حال اس صُورت میں بیان فرمایا گیا ہے: اور صاف و شفاف شہد کی نہریں ہیں (وَأَنْهَارٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى)۔ ان گونا گوں نہروں جن میں سے ہر ایک علیحدہ مقصد کے لیے پیدا کی گئی ہے کہ علاوہ پانچویں نعمت کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے اور وہ ہے بہشت کے مختلف النوع پھل، ارشاد فرمایا گیا ہے: اور وہاں ان کے لیے ہر قسم کے پھل ہیں (وَلَهُمْ فِيهَا مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ) (تشریحی نوٹ: اس جُملے کا ایک محذوف ہے جو تقدیری صورت میں یوں ہے۔ "لَهُمْ فیها أنواع مِنْ کُلِّ الثَّمَرات")۔ طرح طرح کے پھل مختلف ذائقے اور مختلف خوشبُو کے ساتھ، جن کا ہم تصور کر سکتے ہیں یا ہمارے تصور سے باہر ہیں سب کے سب بہشت والوں کو عطا ہوں گے۔ آخر میں خدا کی چھٹی نعمت کا تذکرہ ہے جو گزشتہ مادی نعمتوں سے ہٹ کر ہے اور رُ وحانی حیثیت کی حامل ہے ارشاد ہوتا ہے: ان کے لیے ان کے پروردگار کی طرف سے بخشش ہے (وَمَغْفِرَةٌ مِّن رَّبِّهِمْ)۔ ایک عظیم اور وسیع رحمت جو ان کی تمام لغزشوں کو چھپا رہی ہو گی اور انہیں روحانی تسکین عطا کر رہی ہو گی، اور بارگاہ ربّ العزت کا محبوب بنا رہی ہو گی اور"رَضِیَ اللَّہُ عَنهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ذلِکَ الْفَوْزُ الْعَظیمُ" (خدا ان سے راضی اور وہ خدا سے راضی) یہ بہت بڑی کامیابی ہے (مائدہ ۔ ۱۱۹) کا مصداق بنا رہی ہے۔ تو اس طرح سے پاک باز اور صالح العمل موٴمنین بہشت بریں میں خدا کی ہر طرح کی مادی اور روحانی نعمتوں سے اس کے جوار میں رہ کر بہرہ مند ہوں گے۔ اب یہ دیکھنا چاہیے کہ ان کا مقابل گروہ کس انجام سے دوچار ہو گا؟ تو اسی آیت میں اسے بھی بیان فرمایا گیا ہے: ارشاد ہوتا ہے: بھلا یہ لوگ ان کے برابر ہو سکتے ہیں جو ہمیشہ دوزخ کی آگ میں رہیں گے اور انہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا، تو وہ ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے گا (كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ)۔ (تشریحی نوٹ: اس آیت کی تفسیر میں بھی مختلف اقوال ملتے ہیں اور ان سب میں مناسب تر یہی ہے کہ کہا جائے کہ اس آیت میں ایک مقدر ہے جس کی اصلی اور تقدیری صورت یوں ہے: "أ فمن هو خَالِد فی الجنة التي هذه صفاته كمن هو خالدٌ فى النّار")۔ "امعاء" جمع ہے "معی" (بروزن "سعی") کی، اور"معاد" (بروزن "غنا") کا معنی آنت ہے اور کبھی اس کا اطلاق شکم کے اندر موجُود تمام چیزوں پر بھی ہوتا ہے اور ان کا ٹکڑے ٹکڑے ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جہنم کا یہ وحشت ناک مشروب اس قدر گرم ہو گا کہ پیٹ میں موجُود تمام چیزوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے گا۔

چند نکات ۱۔ بہشت کی چار نہریں:

قرآنی آیات سے یہ بات بخوبی سمجھی جا سکتی ہے کہ بہشت میں مختلف قسم کی نہریں اور چشمے ہیں، جن میں سے ہر ایک کا اپنا فائدہ اور اپنا لطف و مزہ ہے، جن میں سے چار کا نمونہ تو مندرجہ بالا آیت میں پیش کیا گیا ہے اور باقی کے نمونے ان شاء اللہ سُورہ ٴ دہر کی تفسیر میں بیان ہوں گے۔ ان چار قسم کی نہروں کو "أنھار" کے لفظ سے یاد کیا گیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک نہر نہیں بلکہ کئی کئی "نہریں" ہوں گی۔ ہم پہلے بھی کئی مرتبہ بتا چکے ہیں کہ بہشت کی نعمتیں ایسی ہیں جنہیں روز مرّہ کی دنیاوی زندگی کے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا، الفاظ ان نعمتوں کی کماحقہ تصویر کشی سے قاصر اور عاجز ہیں، بلکہ صرف ان کا ایک ہلکا اور معمُولی سا خاکہ پیش کر سکتے ہیں۔ زیر تفسیر آیت میں بہشت کی چار پانی، دودھ، شراب طہور، اور شہد کی نہروں کا ذکر کیا گیا ہے، ممکن ہے پہلی نہر پیاس دُور کرنے کے لیے، دوسری خوراک کے حصُول کے لیے، تیسری نشاط اور فرخت بخشنے کے لیے اور چھوتھی لذّت و قوت پیدا کرنے کے لیے ہو۔ یہ بات بھی جاذبِ توجہ ہے کہ قرآن کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام اہل بہشت ان تمام نہروں سے سیراب نہیں ہوں گے، بلکہ مراتب اور منصب کے لحاظ سے ان سے بہرہ ور ہوں گے، جیسا کہ سورہٴ مطففین کی ۲۸ ویں آیت میں ہم پڑھتے ہیں: "عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُونَ"، "ایسا چشمہ ہے جس سے مقربین بارگاہ الہٰی پانی پئیں گے۔"

۲۔ شراب طہُور:

واضح سی بات ہے کہ بہشت کی شراب کا اس دُنیا کی غلیظ اور نجس شراب سے کسِی قسم کا کوئی رابط اور واسط نہیں ہے، جیسا کہ قرآن مجید ایک اور مقام پر اس شراب بہشت کی یُوں تعریف کرتا ہے۔ "لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنْزَفُونَ۔" "وہ شراب ایسی ہے، جس سے نہ تو عقل خراب ہوتی ہے اور نہ مستی کا سبب بنتی ہے۔" (صافات / ۴۷)۔

۳۔ خراب نه ہونے والے مشروبات:

بہشت کی نہروں کی ایک مرتبہ تو غیراٰسن (اس کی بُو نہیں بدلی) کے ساتھ اور دوسری مرتبہ "لَمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُه" (اس کا ذائقہ نہیں بدلا) کے ساتھ تعریف و توصیف کی گئی ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ بہشت کے مشروبات اور غذائیں ہمیشہ تر و تازہ رہیں گی، پہلے دن کی سی تازگی۔ آخر ایسا کیوں نہ ہو، جب کہ خوارک کا تغیر اور اس میں خرابی جراثیم کی وجہ سے عمل میں آتی ہے، اگر یہ دُنیا میں نہ ہوتے تو کسی چیز میں کوئی خرابی پیدا نہ ہوتی اور ہر چیز اپنی اصلی حالت پر باقی رہتی، لیکن چونکہ بہشت خرابی پیدا کرنے والوں کی جگہ نہیں ہے، لہذا وہاں ہر چیز پاک، صاف، صحیح و سالم اور تر و تازہ رہے گی۔

۴۔ پھل کیوں؟

اس آیت میں بھی اور قرآن کی دوسری آیات میں بھی بہشت کی غذاؤں کے تذکرے میں پھلوں کا ذکر لازمی طور پر ہوا ہے، مختلف الانواع پھل جو تمام ذائقوں کا باب ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پھل بہشت کی نہایت اہم غذا ہیں حتّٰی کہ اس دنیا میں بھی انسانی غذاؤں میں سب سے زیادہ صحیح و سالم اور بہترین غذا پھل ہی ہیں۔

۵۔ "سقوا":

(انہیں پلایا جائے گا) کی تعبیر فعل مجہول کے ساتھ کی گئی ہے جو اس حقیقت کی غماز ہے کہ ان (جہنمیوں) کو کھولتا اور جلتا پانی زبردستی پلایا جائے گا وہ اپنی خوشی سے نہیں پئیں گے اور جہنم کی اس آگ میں ان کے سیراب ہونے کے بجائے، ان کی آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے اور دوزخ کے معمول کے مطابق پھر وہ اپنی اصل حالت میں آ جائیں گے، کیونکہ وہاں موت نہیں ہے۔

16
47:16
وَمِنۡهُم مَّن يَسۡتَمِعُ إِلَيۡكَ حَتَّىٰٓ إِذَا خَرَجُواْ مِنۡ عِندِكَ قَالُواْ لِلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ مَاذَا قَالَ ءَانِفًاۚ أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ طَبَعَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ وَٱتَّبَعُوٓاْ أَهۡوَآءَهُمۡ
ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو تیر ی طرف کان لگائے رہتے ہیں لیکن جب تیرے پاس سے نکلتے ہیں تو جن لوگوں کو خدا نے علم و دانش عطا فرمائی ہے، ان سے( بطور مذاق) کہتے ہیں، ابھی اس شخص نے کیا کہا تھا ؟ یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر خدا نے مہر لگا دی ہے اور وہ اپنی خواہشات نفسانی کی پیروی کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔

17
47:17
وَٱلَّذِينَ ٱهۡتَدَوۡاْ زَادَهُمۡ هُدٗى وَءَاتَىٰهُمۡ تَقۡوَىٰهُمۡ
جو لوگ ہدایت یا فتہ ہیں ان کی خدا مزید ہدایت کرتا ہے اور انہیں پرہیز گاری کی روح عنایت فرماتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔

18
47:18
فَهَلۡ يَنظُرُونَ إِلَّا ٱلسَّاعَةَ أَن تَأۡتِيَهُم بَغۡتَةٗۖ فَقَدۡ جَآءَ أَشۡرَاطُهَاۚ فَأَنَّىٰ لَهُمۡ إِذَا جَآءَتۡهُمۡ ذِكۡرَىٰهُمۡ
تو کیا یہ لوگ بس قیامت ہی کے انتظار میں ہیں کہ ان پر ناگہان آجائے (تو اس وقت وہ ایمان لائیں گے)۔ حالانکہ اس کی نشانیاں تو آچکی ہیں لیکن جس وقت وہ آپہنچے گی تو اس وقت ان کی توجہ اور ایمان انہیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔

19
47:19
فَٱعۡلَمۡ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ وَٱسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۢبِكَ وَلِلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِۗ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ مُتَقَلَّبَكُمۡ وَمَثۡوَىٰكُمۡ
پس جان لے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہ ، نیز ایمان دار مردوں اور ایمان دارعورتوں کے لئے استغفار کر اور خدا وند تعالیٰ تمہارے چلنے پھرنے اور ٹھہرنے کی جگہ کو جانتا ہے۔

تفسیر قیامت کی نشانیاں ظاہر ہو چکی ہیں:

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

یہ آیات وحی الہٰی، آیات قرآنی اور احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں منافقین کی کیفیت کی تصویر کشی اور دشمنانِ اسلام کے ساتھ جنگ و جہاد کے مسئلے کو بیان کر رہی ہیں۔ مدنی سُورتوں میں منافقین کا بہت تذکرہ ملتا ہے جب کہ مکّی سُورتوں میں ایسا نہیں ہے، کیونکہ فقت اور نفاق کا مسئلہ اسلام کی کامیابی اور اس کے مکمل طور پر مسلط ہو جانے کے بعد پیدا ہوا، کیونکہ مخالفین کی طاقت کمزور ہو گئی تھی اور وہ کھلم کھلا طور پر اسلام کی مخالفت نہیں کر سکتے تھے۔ لہذا وہ بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کے دائرے میں در آئے تاکہ اس طرح سے وہ مسلمانوں کے غیظ و غضب سے بچے رہیں، لیکن باطنی طور پر مختلف سازشوں میں مصروف رہے، مدینہ کے یہودی جو فوجی اور اقتصادی لحاظ سے بہت طاقت ور تھے وہ بھی منافقین کے پشت پناہ ثابت ہوئے۔ بہرحال، وہ سچے موٴمنین کی صفوں میں گھُس آئے، نماز جمعہ اور دیگر اجتماعات میں رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے، لیکن قرآنی آیات کے مقابلے میں ان کا ردّعمل ان کے دلوں کی بیماری کا آئینہ دار ہوتا۔ اس لیے زیر تفسیرآیات میں سے پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: ان میں سے کچھ لوگ تیرے پاس آتے ہیں۔ تیری باتوں کو کان لگا کر سنتے بھی ہیں، لیکن جب تیرے پاس سے نکلتے ہیں تو جن لوگوں کو خدا نے علم و دانش عطا کی ہے ان سے تحقیر اور تمسخر کے انداز میں کہتے ہیں، ابھی اس شخص نے کیا کہا تھا (وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ حَتَّى إِذَا خَرَجُوا مِنْ عِندِكَ قَالُوا لِلَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ آنِفًا)۔ "اس شخص" سے ان کی مراد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات تھی۔ ان لوگوں کا آنحضرت صلی اللہ علیہ آلہٖ وسلم اور آپؐ کی گوہر بار گفتگو کے بارے میں ردّ عمل، اس قدر تحقیر آمیز، غلط اور ناروا تھا، جس سے صاف سمجھا جاتا تھا کہ وہ آسمانی وحی پر بالکل ایمان نہیں رکھتے۔ "اٰنفا"، "انف" کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے "ناک" اور ناک چونکہ انسان کے چہرے پر خاص طور سے ایک نمایاں چیز ہے، لہذا یہ کلمہ کسی قوم کے شریف اور معزز افراد کے لیے استعمال ہوتا ہے اور زمانے کے لحاظ سے اس کا اطلاق زمانہٴ حال پر ہوتا ہے، جیسا کہ اسی آیت میں ذکر ہوا ہے۔ ضمنی طور پر یہ بھی بتاتے چلیں "للّذین اوتو العلم" کی تعبیر اس بات کی نشاں دہی کر رہی ہے کہ موٴمنین کی علامت ان کا کافی حد تک علم حامل ہونا بھی ہے، کیونکہ علم ہیایمان کا سرچشمہ ہوتا ہے اور ایمان ہی کی وجہ سے علم حاصل ہوتا ہے۔ لیکن آیت کے آخر میں قرآن مجید ان (کفار) کو دندان شکن جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: رسُول اکرمؐ کی باتوں میں نہ تو کسِی قسم کی پیچدگی ہوتی ہے اور نہ ہی بے معنی ہوتی ہیں، بلکہ یہ لوگ خود ایسے ہیں جن کے دلوں پر خدا نے مہر لگا دی ہے اور وہ اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں، لہذا انہیں کچھ سمجھ نہیں آتا (أُوْلَئِكَ الَّذِينَ طَبَعَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءَهُمْ)۔ درحقیقت، دوسرا جُملہ پہلے جُملے کی علّت ہے، یعنی خواہشات نفسانی کی پیروی انسان سے حقائق کے ادراک کی طاقت اور تشخیص کی صلاحیّت سلب کر لیتی ہے اور اس کے دل پر پردہ ڈال دیتی ہے، گویا خواہش پرستوں کے دِل اس ظرف کے مانند ہو جاتے ہیں، جس کا مُنہ بند کر دیا جائے اور اسے سر بہر کر دیا جائے، نہ تو اس میں کوئی چیز رکھی جا سکتی ہے اور نہ ہی اس سے نکالی جا سکتی ہے۔ ان کے برعکس سچے مومنین ہیں، جن کے بارے میں بعد کی آیت میں گفتگو ہو رہی ہے، ارشاد ہوتا ہے: جو لوگ ہدایت یافتہ ہیں انہیں مزید ہدایت کرتا ہے اور انہیں تقویٰ ہے اور پرہیزگاری کی رُوح عطا فرماتا ہے۔ (وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَآتَاهُمْ تَقْوَاهُمْ)۔ جی ہاں! انہوں نے ہدایت کیلیے پہلے ازخود اقدام کیا، اپنی عقل و خرد اور فطرت سے سے صحیح معنوں میں کام لیا پھر خدا بھی حسبِ وعدہ اپنی راہ پر چلنے والے مجاہدوں کی زیادہ سے زیادہ ہدات اور رہنمائی کرتا ہے، ان کے دلوں میں نورِ ایمان ڈال دیتا ہے اور شرح صدر اور روشن بینی سے انہیں بہرہ مند کرتا ہے۔ یہ تو ہوتا ہے کہ ایمان اور اعتقاد کے لحاظ سے، لیکن عملی لحاظ سے بھی ان میں تقویٰ کی رُوح کو اس حد تک زندہ کرتا ہے کہ انہیں گناہوں سے نفرت ہونے لگتی ہے اور اطاعت و نیکی سے جنون کی حد تک محبت کرنے لگتے ہیں۔ بعد کی آیت میں مذاق اڑانے والے اس بےایمان ٹولے کو زبر دست تنبیہ کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے: تو کیا یہ لوگ بس قیامت ہی کے انتظار میں ہیں کہ ان پر ناگہاں آ جائے (تو اس وقت وہ ایمان لائیں گے) حالانکہ اس کی نشانیاں توآہی چکی ہیں، لیکن جس وقت قیامت ان کے سر پر آ پہنچے گی تو اس وقت ان کے لیے بیداری، توجہ اور ایمان مفید واقع نہیں ہوں گے (فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً فَقَدْ جَاءَ أَشْرَاطُهَا فَأَنَّى لَهُمْ إِذَا جَاءَتْهُمْ ذِكْرَاهُمْ)۔ جی ہاں! جس وقت ان لوگوں کو ایمان لانا چاہیے اور وہ ایمان ان کے لیے مفید بھی ہو اس وقت تو ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور حق کے آگے سرتسلیم خم نہیں کرتے بلکہ تمسخر اڑاتے اور ٹھٹھا مذاق کرتے ہیں، لیکن جب ہولناک حوادث اور قیامت کا آغاز دنیا کو لرزہ براندام کر دے گا تو اس قسم کے لوگوں وحشت زدہ ہو کر خضوع و خشوع اور ایمان کا اظہار کریں گے، لیکن اس وقت انہیں اس کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو گا۔ اس کی مثال یوں سمجھےٴ، جیسے ہم کسی کو کہیں کہ آیا تم اس انتظار میں ہو کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے اور تمہارا مریض موت کے دہانے تک پہنچ جائے، پھر ڈاکٹر اور دوا کا بندوبست کرو؟ لہذا بہتر یہی ہے کہ موقع ہاتھ سے نکل جانے سے پہلے کوئی مفید اور موٴثر قدم اُٹھاؤ۔ "أشراط"، "شرط" (بروزن "شرف") کی جمع ہے جس کا معنی علامت ہے بنابریں، "اشراط الساعة" سے مراد قیامت کے قریب ہونے کی علامتیں ہیں۔ یہاں پر قیامت کے قریب ہونے سے کیا مراد ہے؟ مفسرین نے اس بارے میں تفصیلی بحث کی ہے، حتّٰی کہ اس سلسلے میں بہت سی چھوٹی بڑی کتابیں بھی لکھی گئی ہیں۔ لیکن بہت سے لوگ اس بات کے معتقد ہیں کہ زیر تفسیر آیت میں "اشراط الساعة" سے مراد خود پیغمبر اسلامؐ کا قیام ہے اور اس کی گواہ خود آپ کی یہ حدیث ہے جس میں آپؐ نے ارشاد فرمایا ہے: "بعثت أَنا والسّاعَةُ کَھَاتَین وَضَمّ السّبابة والوُسطیٰ۔" "میری بعثت اور قیامت ان دو کے مانند ہیں" اور پھر آپؐ نے اپنی دو انگلیوں کو ملا کر اشارہ کیا ایک درمیانی انگلی اور دوسری انگشتِ شہادت۔" (تشریحی نوٹ: تفسیر مجمع البیان، تفسیر قرطبی، تفسیر فی ظلال القرآن اور کئی دوسری تفسیریں، انہی آیات کے ذیل میں۔ (تعبیر میں قدرے تفاوت کے ساتھ)۔ بعض مفسرین نے "شقّ القمر" کے مسئلے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و ٓلہ و سلم کے دور میں رونما ہونے والے بعض دوسرے واقعات کو بھی "اشراط الساعة" میں شمار کیا ہے۔ اس بارے میں بہت سی حدیثیں بھی وارد ہوئی ہیں، خصوصاً بہت سے گناہوں کا عوام الناس میں عام ہو جانا بھی قیامت کے قریب ہونے کی علامات میں شمار کیا گیا ہے، جیسا کہ شیخ مفید علیہ الرحمہ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث "روضة الواعظین" میں درج کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "مِن إِشراطِ السّاعةِ أَن يرفع العلم، وَيظهر الجهل، وَيشرب الخمر ويفشد الزنا" قیامت کی علامتوں میں سے ہے، عِلم کا اٹھا لیا جانا، جہالت کا آشکار ہو جانا، شراب کا پیا جانا اور زنا کی کثرت۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ۵، ص ۳۷)۔ حتّٰی کہ اہم اور موثر واقعات کو بھی "اشراط الساعة" میں شمار کیا گیا ہے جیسے امام مہدی علیہ السلام (أرواحنا فداہ) کا قیام ہے۔ لیکن یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ ہم کبھی تو "اشراط الساعة" کے بارے میں بطور مطلق بحث کرتے ہیں کہ قیامت کے نزدیک ہونے کی کیا علامتیں ہیں اور کبھی صرف اور خاص طور پر آیت کے بارے میں۔ آیت کے بارے میں مطلب وہی ہے ہم بتا چکے ہیں، لیکن مُطلق طورپر قیامت کے نزدیک ہونے کے علامتوں کے بارے میں بڑی حد تک بحث کی گئی ہے اور اس بارے بہت سی روایات مشہور اسلامی کتابوں میں درج ہیں اور ہم بھی نکات کی بحث میں اس طرح اشارہ کریں گے۔ (تشریحی نوٹ: جو کچھ ہم بتا چکے ہیں اگر اس کو مدّنظر رکھا جائے تو معلوم ہو گا "فقد جاء اشراطھا" کے جملے سے یہ مراد نمہیں ہے کہ قیامت کی تمام علامات پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں ظاہر ہو چکی ہیں، بلکہ اس سے یہ مراد ہے کہ ان میں سے بعض علامتیں ظاہر ہو چکی ہیں، جو قیامت کے قریب ہونے کی خبر دیتی ہیں ہر چند کہ کچھ اور علامتیں ابھی بعد میں ظاہر ہوں گی")۔

کیا پیغمبر اسلام کی بعثت قیامت کے قریب ہونے کی علامت ہے؟

یہاں پر یہ سوال پیش آتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کو کیونکر قریب قیامت کی علامت قرار دیا گیا ہے، جب کہ چودہ سو سال ہے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، مگر اب تک قیامت کا کُچھ پتہ نہیں؟ اس سوال کا جواب ایک نکتے کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ باقی ماندہ دُنیا کو اس کے گزشتہ حِصّے کے تناظر میں دیکھنا چاہیے اور آئندہ کو گزشتہ سے تقابل کر کے دیکھا جانا چاہیے اور اس تقابل میں دُنیا کا جو حِصّہ باقی رہ گیا ہے وہ بہت زیادہ نہیں ہے۔ جیسا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے بعد اور غروب آفتاب سے کچھ پہلے اپنے اصحاب سے خُطبہ ارشاد فرمایا اور کہا: "وَالّذِى نَفْس مُحَمَّد (ص) بيده مثل مَا مضىٰ مِنَ الدّنيا فيمَا بَقِى مِنهَا إِلّا مثل ما مضى مِنْ يّومكم هذا فيها بقى منه، وَمَا بقى مِنه إلّا اليسير۔" "اس ذات کی قسم جس کے قبضہٴ قدرت میں محمدؐ کی جان ہے، جو مدّت دُنیا کی گزر چکی ہے اس حِصّے کی نسبت جو کچھ باقی رہ گیا ہے اس مقدار کے مانند ہے جو تمہارے آج کے دن کا حِصّہ گزر چُکا ہے اس حِصّہ کی نسبت جو کچھ باقی رہ گیا ہے اور تم دیکھ رہے ہو کہ اس دن کا حِصّہ تھوڑی سی مقدار سے زیادہ باقی نہیں ہے۔ ( بحوالہ: تفسیر رُوح المعانی، جلد۳۶، ص٤۸)۔ اس سلسلے کی آخری آیت ایمان و کفر اور مومنین و کفار کے انجام کے متعلق تمام گفتگو کے نتیجے کے طور پر بیان ہوئی ہے، ارشاد ہوتا ہے: پس جان لو کہ خدا کے سوا کوئی معبُود نہیں ہے (فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ)۔ بعنی توحید کی راہ پر قائم رہو کیونکہ شفا عطا کرنے کی دوا اور نجات کا بہترین وسیلہ یہی توحید ہے کہ جس کی علامات اس سے پہلے کی آیات میں بیان ہو چکی ہیں۔ بنابریں، اس آیت کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم توحید سے بےخبر تھے، بلکہ اس سے مرا د یہ ہے کہ اس راہ پر برقرار رہیں اور ثابت قدم، بالکل ویسے ہی جیسے سُورہٴ حمد کی کی یہ آیت ہے "إهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ" مفسرین کہتے ہیں کہ اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ ہم ہدایت پر نہیں، لہٰذا صراط مستقیم کی ہدایت فرما، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ہمیں ہدایت کی راہ پر ثابت قدم رکھ۔ ایک احتمال یہ بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ امر توحید میں زیادہ غور و فکر سے کام لیا جائے اور اعلیٰ سے اعلیٰ مقامات کی طرف ارتقاء کی کوشش کی جائے، کیونکہ یہ ایک ایسا امر ہے کہ جس میں جنتا زیادہ سوچ بچار اور غور و فکر سے کام لیا جائے اور خدا کی آیات کا جتنا زیادہ سے زیادہ مطالعہ کیا جائے اتنا ہی اعلیٰ سے اعلیٰ مراحل کی طرف ترقی ہوتی جاتی ہے اور گزشتہ آیات میں ایمان اور کُفر کے متعلق جو کچھ بتایا جا چکا ہے اس کے بارے میں تحقیق و جستجو بھی ایمان و کفر کے اضافے کا بذات خود ایک عامل ہے۔ تیسری تفسیریہ ہے کہ اس سے مراد توحید کا عملی پہلو ہے، یعنی آپ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ پوری کائنات میں صرف خدا ہی کی ذات ہے جو پناہ گاہ کی حیثیت رکھتی ہے، لہذا اس کی پناہ میں آ جایئے اور مشکل کا حل بھی اسی کے پاس لہذا اسی سے حل مشکلات کی دُعا کیجئے اور دشمن کی افرادی قوّت سے ہرگز نہ گھبرایئے۔ ان تینوں تفسیروں کا آپس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اور ممکن ہے کہ تینوں آیت کے مفہوم میں جمع ہوں۔ عقیدے پر مبنی اس مسئلے کے بیان کے بعد ایک بار پھر تقوٰی اور گناہوں سے پاک ہونے کی بات کی گئی ہے. ارشاد ہوتا ہے: اور اپنے لیے اور ایمان دار مردوں اور ایمان دار عورتوں کے گناہوں پر إستغفار کرتے رہو (وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ)۔ ظاہر سی بات ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصمت کی بنا پر ہرگز کسی گناہ کے مرتکب نہیں ہُوئے اور اس قسم کی تعبیر پا تو "خوب تر" کو چھوڑ کر "خوب" کو اپنانے اور "حسنات الابرار سیّئاٰت المقربین" کی طرف اشارہ ہے، یا پھر مسلمانوں کے لیے تنبیہ اور نموہٴعمل ہے (جب معصوم نبی کو إستغفار کا حکم ہے، تم گناہگار تو بطریق اولیٰ إستغفار کرنے کے لیے مامور ہیں)۔ ایک روایت میں ہے کہ "حذیفہ یمانی" کہتے ہیں "میں ایک تندزبان شخص تھا اور اپنے گھر والوں سے سخت کلامی سے پیش آتا تھا، رسُول اللہؐ کی خدمت میں عرض کی یارسول اللہ! مجھے اس بات کا خوف ہے کہ زبان کی یہ تندی مجھے جہنّم میں نہ لے جائے! تو رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "فَأينَ أنت مِن الْإستغفار؟ إنّى لَأستَغفِرالله فى اليومِ مِائة مرةٍ۔" "تم إستغفار سے کیوں غافل ہو؟ حتّٰی کہ خود میں بھی روزانہ سو مرتبہ إستغفار کرتا ہوں۔" (اور بعض روایات میں ہے ستر مرتبہ) (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۹، ص۱۰۴ (انہی آیات کے ذیل میں)۔ اگر دوسرے لوگ اپنے گناہوں اور معاصی پر إستغفار کرتے ہیں تو پیغمبر اکرمؐ جس لمحے یاد خاد نہ کرسکتے یا "خوب تر" کے بجائے "خوب" کو انجام دیتے تھے تو إستغفار کرتے تھے۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ یہاں پر خدا نے موٴمنین اور مومنات کے لیے شفاعت کی سفارش کی ہے اور اپنے پیغمبر کو اُن کے لیے إستغفار کا حکم دیا ہے تاکہ اپنی رحمت ان کے شاملِ حال کرے۔ چنانچہ اس سے دنیا و آخرت میں مسئلہ "شفاعت" کی گہرائی اور مسئلہ "توسّل" کی اہمیّت بھی واضح اور آشکار ہو جاتی ہے۔ اس آیت کے ذیل میں علت کو بیان کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے، خدا تمہارے چلنے پھرنے اور ٹھہرنے کی جگہ کو جانتا ہے (وَاللهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَمَثْوَاكُمْ)۔ وہ تمہارے ظاہر و باطن، اندرون و بیرون اشارے کنائے کو اچھی طرح جانتا ہے، حتّٰی کہ تمہارے افکار، نیتوں اور حرکات و سکنات سے بھی پوری طرح باخبر ہے۔ اسی لیے تمہیں چاہیے کہ تم اس کی طرف توجہ کرو اور اس کی بارگاہ سے طلب مغفرت کرو۔ "متقلب" کا معنی آمد و رفت کی جگہ اور"مثوٰی" کا معنی ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ (تشریحی نوٹ: بنابریں، "مُتَقَلَّب" اسم مفعول ہے جو یہاں پر اہم مکان کےمعنی میں ہے۔ لیکن کچھ اور مفسرین اسے "مصدر میمی" سمجھتے ہیں۔ جس کامعنی ایک مال سے دوسرے مال کی طرف منتقل ہونا ہے۔ لیکن "مثوٰی" کےقرینے کےپیش نظر جو کہ مسلم طور پر اسم مکان ہے، پہلا معنی زیادہ مناسب ہے)۔ ظاہر یہ ہے کہ ان دونوں کلمات کا مفہوم وسیع اور عام ہے، جس میں انسان کی تمام حرکات و سکنات آ جاتی ہیں خواہ وہ دُنیا میں ہوں یا آخرت میں، شکم مادر میں ہوں یا قبر کے پیٹ میں، اگرچہ بہت سے مفسرین نے ان کے محدُود معانی بتائے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے انسان کی دن کو حرکات اور رات کو سکون مراد ہے بعض کہتے ہیں کہ اس سے دُنیا میں چلنے پھرنے کی اور آخرت میں انسان کے ٹھہرنے کی جگہ مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے انسان کی دن کو حرکات اور رات کو سکون مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے دنیا میں چلنے پھرنے کی اور آخرت میں انسان کے ٹھہرنے کی جگہ مراد ہے، بعض کہتے ہیں کہ اس سےانسان کا باپوں کی پشت اور ماؤں کے رحم میں منتقل ہونا اور قبر میں ثبات و قرار مراد ہے اور بعض کہتے ہیں اس سے انسان کا سفر میں حرکت کرنا اور حضرت میں آرام کرنا مراد ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں آیت کا مفہوم وسیع اور عام ہے جو مذکورہ تمام تفاسیر کو اپنے دامن میں لیے ہُوئے ہے۔

"اشراط السّاعة" کیا ہیں؟

جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ "اشراط"، "شرط" کی جمع ہے جس کا معنی "علامت" ہے اور "اشراط السّاعة" قرب قیامت کی علامتوں کو کہتے ہیں، شیعہ سُنی کتابوں میں اس بارے میں بہت سی روایات درج ہیں جب کہ قرآن مجید میں صرف اسی آیت میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس بارے میں سب سے زیادہ مفصل اور جامع وہ حدیث ہے جو ابن عباس کے بقول حجتہ الوداع کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد کی ہے، جس میں بہت سے مسائل ہمارے لیے درس آموز ہیں اور وہ بہت سے نکات کی حامل ہے، اسی لیے یہاں پر مکمل حدیث کو نقل کیے دیتے ہیں۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ ہم حجة الوداع کے موقع پر آنحضرتؐ کے ہمراہ تھے (حجتہ الوادع، اس حج کو کہتے ہیں جِسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخری عمر میں ادا کیا تھا) پیغمبرؐ خدا نے خانہ کعبہ کے دروازے کی زنجیر کو پکڑ کر ہماری طرف منہ کر کے ارشاد فرمایا: "آیا تمہیں "اشراط السّاعة" سے آگاہ کروں؟" حضرت سلمان نے جو اس وقت آنحضرتؐ کے سب سے زیادہ نزدیک تھے، عرض کی: ضرور ارشاد فرمایئے یا رسولؐ اللہ!۔" آپؐ نے ارشاد فرمایا: قیامت کی نشانیوں میں سے ہے نماز کو ضائع کر دینا، شہوتوں کی پیروی کرنا، خواہشات نفسانی کی طرف مائل ہونا، دولت مندوں کی عزت کرنا، دین کو دنیا کے بدلے بیچ ڈالنا، ایسے موقع پر موٴمن کا دل یوں گھلتا رہے گا جس طرح نمک پانی میں گھلتا ہے، کیونکہ وہ ان برائیوں کو دیکھے گا، لیکن ان کا ازالہ اور تبدیلی اس کے بس سے باہر ہو گی۔" سلمان نے عرض کی: یا رسولؐ اللہ! ایسا بھی ہو گا؟ فرمایا: ہاں اس ذات کی قسم جس کے قبضہٴ قدرت میں میری جان ہے، سلمان! اس زمانے میں حکام ظالم، وزراء فاسق پیشہ ور ظالم اور امانت میں خیانت کرنے والے لوگوں پر حکومت کریں گے۔" سلمان: "یا رسولؐ اللہ ایسا بھی ہو گا۔ فرمایا: "سلمان! اس ذات کی قسم جس کے قبضہٴ قدرت میں میری جان ہے، اس وقت اچھائیاں برائیاں اور برائیاں اور اچھائیاں سمجھی جائیں گی، امانت خائنوں کے سپرد کی جائے گی، امین خائن بن جائیں گے، چھوٹوں کی تصدیق اور سچّوں کی تکذیب کی جائے گی۔" سلمان: تو کیا ایسا بھی ہو گا؟ اے اللہ کے رسُول!۔" فرمایا: ہاں خدا کی قسم اے سلمان! اس وقت حکومت عورتوں کے ہاتھ میں ہو گی، غلاموں سے مشورہ کیا جائے گا، لڑکے منبروں پر بیٹھیں گے، جھوٹ دل لگی کے طور پر بولا جائے گا، زکوٰة کو تاوان سمجھا جائے گا اور بیت المال کو غنیمت سمجھ کر لوٹا جائے گا۔" "لوگ اپنے والدین سے برائی اور دوستوں سے اچھائی کریں گے، آسمان پر دم دار ستارہ ظاہر ہو گا۔" سلمان: "یا رسولؐ اللہ! کیا ایسا بھی ہو گا؟۔" فرمایا: ہاں سلمان! اُس کی قسم جس کے قبضہٴ قدرت میں میری جان ہے، اس وقت عورت اپنے شوہر کے ساتھ تجارت میں شریک ہو گی (اور دونوں کی سرگرمیان گھر سے باہر کے ماحول سے متعلق ہوں گی اور دونوں کی توجہ دولت سمیٹنے پر مرکوز ہو گی) بارشیں کم ہوں گی، سخی لوگ بخیل ہو جائیں گے اور غریبوں کو حقیر سمجھا جائے گا، اس وقت بازار ایک دوسرے کے نزدیک ہو جائیں گے ایک (دو کاندار) کہے گا، میں نے کچھ نہیں بیچا، دوسرا کہے گا مجھے منافع حاصل نہیں ہوا، غرض سب اپنے رب کی شکایت اور مذمت کرتے ہوں گے۔ سلمان! اللہ کے رسُولؐ! ایسا بھی ہو گا؟۔" فرمایا: ہاں سلمان! اُس کی قسم جس کے دست ِقدرت میں میری جان ہے اس وقت ایسی قومیں حکومت کریں گی کہ اگر کوئی شخص بات کرے گا تو وہ لوگ اسے مار ڈالیں گے اور اگر خاموشی اختیار کرے گا تو اس کا سب کچھ مباح سمجھ کر لوٹ لیا جائے گا، اس کی عزت و احترام کو پامال کر کے اس کا خون بہایا جائے گا، دلوں کو خوف و وحشت اور دشمنی سے بھر دیا جائے گا اس وقت سب لوگوں پر خوف و وحشت طاری ہو گی۔" سلمان: "یا رسول اللہ! ایسا بھی ہو گا؟۔" فرمایا: ہاں سلمان! اس کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے اس وقت کچھ مشرق سے لے آئیں گے اور کچھ مغرب سے لے آئیں گے (کچھ قانون مشرق سے اور کچھ قانون مغرب سے لے آئیں گے) اور میری اُمّت مختلف رنگ اختیار کرے گی۔ اس وقت کی امت کے کمزور افراد پر افسوس ہے نہ تو چھوٹوں پر رحم کریں گے نہ ہی بڑوں کا احترام کریں گے اور نہ ہی کسی گناہ گار کو بخشیں گے، ان کے جسم تو انسانوں جیسے ہوں گے لیکن دِل شیاطین کے سے۔" سلمان: "یا رسُول اللہؐ! آیا ایسا بھی ہو گا؟۔" فرمایا: ہاں! اس ذات کی قسم جس کے قبضہٴ قدرت میں میری جان ہے اے سلمان! اس زمانے میں مرد، مردوں پر قناعت کریں گے اور عورتیں عورتوں پر اور لڑکوں پر اسی طرح رقابت کریں گے، جس طرح لڑکیوں پر ان کے خاندانوں میں کی جاتی ہے، عورتیں خود کو مردوں کے مشابہ بنائیں گی اور مرد عورتوں کے اور عورتیں زین سواری کریں گے (اور خود نمائی کریں گے) خدا کی ان پر لعنت ہو۔ سلمان! "اللہ کے رسُولؐ! آیا ایسا بھی ہو گا۔" فرمایا: "ہاں سلمان! اس کی قسم جس کے قبضہٴ قدرت میں میری جان ہے، اس زمانے میں مسجدوں کو یوں سجایا جائے گا جس طرح یہود و نصارٰی اپنی عبادت گاہوں کو سجاتے ہیں، قرآنوں کو مزین کریں گے (اس کے مضامین پر عمل نہیں کریں گے) مسجدوں کے مینار اونچے ہوں گے اور نمازیوں کی صفیں بڑی تعداد میں ہوں گی، لیکن ان کے دل ایک دوسرے کے دشمن اور زبانیں مختلف ہوں گی۔" سلمان: "یا رسُول اللہؐ! آیا ایسا بھی ہو گا؟۔" فرمایا: "ہاں سلمان! اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس زمانے میں میری اُمّت کے لڑکے سونے کے ساتھ زینت کریں گے، حریر و دیبا پہنیں گے اور چیتے کی کھال سے اپنا لباس تیار کر کے پہنیں گے۔" سلمان: "یا رسُولؐ اللہ! آیا ایسا بھی ہو گا؟۔" فرمایا: ہاں سلمان! اس کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، اس وقت زنا عام ہو جائے گا، کام غیبت اور رشوت سے انجام پائیں گے، دین کو پائمال کریں گے اور دُنیا کو سر پر رکھیں گے۔" سلمان! "یا رسولؐ اللہ! آیا یوں بھی ہو گا؟" فرمایا: ہاں! سلمان! اس کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، اس وقت طلاق کی بہتات ہو جائے گی۔ خدا کی کسی حد کا اجراء نہیں کیا جائے گا، لیکن یہ بات خدا کو نقصان نہیں پہنچائے گی (بلکہ وہ لوگ خود نقصان اٹھائیں گے)۔" سلمان: "آیا ایسا بھی ہو گا یا رسُولؐ اللہ!۔" فرمایا: ہاں سلمان! جس کے قبضہٴ قدرت میں میری جان ہے اُس کی قسم، اس زمانہ میں عورتیں گانا گائیں گی، لہو و لعب اور گانے بجانے کے آلات کھلم کھلا ہوں گے اور میری اُمّمت کے شریر ان کے پیچھے پھریں گے۔" سلمان: "یا رسولؐ اللہ! ایسا بھی ہو گا؟۔" فرمایا: ہاں سلمان! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اُس کی قسم، اس وقت میری اُمّت کے مالدار لوگ تفریح کی غرض سے متوسط طبقہ تجارت کے قصد سے اور غریب لوگ ریا کاری کے لیے حج پر جائیں گے۔ اس وقت ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن کو غیر خدا کے لیے تھامیں گے اور اس کے ساتھ لہو و لعب کے آلات کا سا سلوک کریں گے اور ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو غیر خدا کے لیے عِلم دین حاصل کریں گے، زنا کی اولاد کثرت سے ہو گی، قرآن کو راگ کی طرز میں پڑھا جائے گا اور دُنیا کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جائیں گے۔" سلمان: ایسا بھی ہو گا یا رسُولؐ اللہ!؟۔" فرمایا: ہاں سلمان! جس کے قبضہٴ قدرت میں میری جان ہے اس کی قسم یہ اس وقت ہو گا، جب حرمت کے پردے چاک ہو جائیں گے، گناہ کثرت سے رونما ہوں گے، بدکار لوگ نیک لوگوں پر مسلط ہو جائیں گے، جھوٹ عام ہو جائے گا، ہٹ دھرمی زیادہ ہو جائے گی اور فقر و فاقہ کی کثرت ہو جائے گی، لوگ مختلف لباسوں کی وجہ سے ایک دوسرے پر فخر کریں گے، بارشیں بے موقع ہوں گی، جوا اور آلاتِ موسیقی کو اچّھا اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر کو بُرا سمجھیں گے۔ "حالات اس حد تک بگڑ جائیں گے کہ اس وقت مومن تمام لوگوں سے زیادہ ذلیل ہو گا، قرآن کے قاری اور عبادت گزار لوگ ایک دوسرے کی بدگوئی کریں گے اور انہیں ملکوت اعلیٰ میں نجس اور پلید لوگوں کے نام سے پکارا جائے گا۔" سلمان: "یا رسولؐ اللہ! کیا ایسا بھی ہو گا؟۔" فرمایا: ہاں سلمان! جس کے قبضہٴ قدرت میں میری جان ہے اس کی قسم اس وقت مالدار لوگ غریبوں پر کوئی رحم نہیں کریں گے، حتّٰی کہ کوئی ضرورت مند لوگوں میں کھڑا ہو کر اپنی حاجت کا اظہار کرے گا تو کوئی اسے کچھ نہیں دے گا۔" سلمان: "ایسا بھی ہو گا یا رسولؐ اللہ!؟۔" فرمایا: "ہاں سلمان! جس کے قبضہٴ قدرت میں میری جان ہے اس کی قسم، اس وقت "رویبضہ" بھی بات کر ے گا۔" سلمان: "یا رسولؐ اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں، "روبیضہ" کیا ہے؟۔" فرمایا: "جس نے کبھی کوئی بات نہیں کی ہو گی وہ بھی مظلوم و محروم انسان کے حق میں بات کرے گا" (وہ شخص بھی بولے گا جسے بولنے کا موقع نہیں دیا جاتا ہو گا)۔ "تو اس وقت زیادہ دیر نہیں گزرے گی کہ زمین سے اس انداز میں چیخ بلند ہو گی کہ ہر گروہ یہ سمجھے گا کہ یہ آواز اسی کے علاقے سے اُٹھ رہی ہے۔ پھر ایک عرصے تک جب تک خدا چاہے گا لوگ اسی حال پر باقی رہیں گے، پھر اسی دوران میں پتھر زمین میں شگاف کریں گے اور زمین اپنے دل کے ٹکڑے باہر نکال پھینکے گی، یعنی سُونا اور چاندی۔ پھرآپؐ نے ہاتھ سے ستون مسجد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا "ان کے مانند" اور اس روز سونا اور چاندی کسی کام کے نہیں رہیں گے (حکمِ الہٰی پہنچ جائے گا، یہ ہے معنی خدا کے اس فرمان کا: فقد جاء اشراطھا)۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر نور الثقلین بحوالہ تفسیر علی ابراہیم و تفسیر صافی اسی آیت کے ذیل میں)۔ یہاں پر یہ سوال پیش آتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کو کیونکر قریب قیامت کی علامت قرار دیا گیا ہے، جب کہ چودہ سو سال ہے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، مگر اب تک قیامت کا کُچھ پتہ نہیں؟ اس سوال کا جواب ایک نکتے کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ باقی ماندہ دُنیا کو اس کے گزشتہ حِصّے کے تناظر میں دیکھنا چاہیے اور آئندہ کو گزشتہ سے تقابل کر کے دیکھا جانا چاہیے اور اس تقابل میں دُنیا کا جو حِصّہ باقی رہ گیا ہے وہ بہت زیادہ نہیں ہے۔ جیسا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے بعد اور غروب آفتاب سے کچھ پہلے اپنے اصحاب سے خُطبہ ارشاد فرمایا اور کہا: "وَالّذِى نَفس مُحَمّد (ص) بِيَدِه مِثل مَا مضىٰ مِنَ الدّنيا فيما بقى مِنها إلّا مثل ما مضى مِن يومكم هذا فيها بقى منه، وما بقى منه إلّا اليسير۔" "اس ذات کی قسم جس کے قبضہٴ قدرت میں محمدؐ کی جان ہے، جو مدّت دُنیا کی گزر چکی ہے اس حِصّے کی نسبت جو کچھ باقی رہ گیا ہے اس مقدار کے مانند ہے جو تمہارے آج کے دن کا حِصّہ گزر چُکا ہے اس حِصّہ کی نسبت جو کچھ باقی رہ گیا ہے اور تم دیکھ رہے ہو کہ اس دن کا حِصّہ تھوڑی سی مقدار سے زیادہ باقی نہیں ہے۔ ( بحوالہ: تفسیر رُوح المعانی، جلد۳۶، ص٤۸)۔ اس سلسلے کی آخری آیت ایمان و کفر اور مومنین و کفار کے انجام کے متعلق تمام گفتگو کے نتیجے کے طور پر بیان ہوئی ہے، ارشاد ہوتا ہے: پس جان لو کہ خدا کے سوا کوئی معبُود نہیں ہے (فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ)۔ بعنی توحید کی راہ پر قائم رہو کیونکہ شفا عطا کرنے کی دوا اور نجات کا بہترین وسیلہ یہی توحید ہے کہ جس کی علامات اس سے پہلے کی آیات میں بیان ہو چکی ہیں۔ بنا بریں اس آیت کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم توحید سے بےخبر تھے، بلکہ اس سے مرا د یہ ہے کہ اس راہ پر برقرار رہیں اور ثابت قدم، بالکل ویسے ہی جیسے سُورہٴ حمد کی کی یہ آیت ہے "إهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ" مفسرین کہتے ہیں کہ اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ ہم ہدایت پر نہیں، لہٰذا صراط مستقیم کی ہدایت فرما، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ہمیں ہدایت کی راہ پر ثابت قدم رکھ۔ ایک احتمال یہ بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ امر توحید میں زیادہ غور و فکر سے کام لیا جائے اور اعلیٰ سے اعلیٰ مقامات کی طرف ارتقاء کی کوشش کی جائے، کیونکہ یہ ایک ایسا امر ہے کہ جس میں جنتا زیادہ سوچ بچار اور غور و فکر سے کام لیا جائے اور خدا کی آیات کا جتنا زیادہ سے زیادہ مطالعہ کیا جائے اتنا ہی اعلیٰ سے اعلیٰ مراحل کی طرف ترقی ہوتی جاتی ہے اور گزشتہ آیات میں ایمان اور کُفر کے متعلق جو کچھ بتایا جا چکا ہے اس کے بارے میں تحقیق و جستجو بھی ایمان و کفر کے اضافے کا بذات خود ایک عامل ہے۔ تیسری تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد توحید کا عملی پہلو ہے، یعنی آپ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ پوری کائنات میں صرف خدا ہی کی ذات ہے جو پناہ گاہ کی حیثیت رکھتی ہے، لہذا اس کی پناہ میں آ جایئے اور مشکل کا حل بھی اسی کے پاس لہذا اسی سے حل مشکلات کی دُعا کیجئے اور دشمن کی افرادی قوّت سے ہرگز نہ گھبرایئے۔ ان تینوں تفسیروں کا آپس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اور ممکن ہے کہ تینوں آیت کے مفہوم میں جمع ہوں۔ عقیدے پر مبنی اس مسئلے کے بیان کے بعد ایک بار پھر تقوٰے اور گناہوں سے پاک ہونے کی بات کی گئی ہے. ارشاد ہوتا ہے: اور اپنے لیے اور ایمان دار مردوں اور ایمان دار عورتوں کے گناہوں پر إستغفار کرتے رہو (وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ)۔ ظاہر سی بات ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصمت کی بنا پر ہرگز کسی گناہ کے مرتکب نہیں ہُوئے اور اس قسم کی تعبیر پا تو "خوب تر" کو چھوڑ کر "خوب" کو اپنانے اور "حسنات الابرار سیّئات المقرّبین" کی طرف اشارہ ہے، یا پھر مسلمانوں کے لیے تنبیہ اور نموہٴ عمل ہے (جب معصوم نبی کو إستغفار کا حکم ہے، تم گناہگار تو بطریق اولیٰ إستغفار کرنے کے لیے مامور ہیں)۔ ایک روایت میں ہے کہ "حذیفہ یمانی" کہتے ہیں "میں ایک تندزبان شخص تھا اور اپنے گھر والوں سے سخت کلامی سے پیش آتا تھا، رسُول اللہؐ کی خدمت میں عرض کی یارسول اللہ! مجھے اس بات کا خوف ہے کہ زبان کی یہ تندی مجھے جہنّم میں نہ لے جائے! تو رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: " فاٴین أنت من اِلإستغفار؟ إنِّى لَأستَغفِرُالله فِى اليوم مائة مرةٍ ۔" "تم إستغفار سے کیوں غافل ہو؟ حتّٰی کہ خود میں بھی روزانہ سو مرتبہ إستغفار کرتا ہوں۔" (اور بعض روایات میں ہے ستر مرتبہ) (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۹، ص۱۰۴ (انہی آیات کے ذیل میں)۔ اگر دوسرے لوگ اپنے گناہوں اور معاصی پر إستغفار کرتے ہیں تو پیغمبر اکرمؐ جس لمحے یاد خاد نہ کرسکتے یا "خوب تر" کے بجائے "خوب" کو انجام دیتے تھے تو إستغفار کرتے تھے۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ یہاں پر خدا نے موٴمنین اور مومنات کے لیے شفاعت کی سفارش کی ہے اور اپنے پیغمبر کو اُن کے لیے إستغفار کا حکم دیا ہے تاکہ اپنی رحمت ان کے شاملِ حال کرے۔ چنانچہ اس سے دنیا و آخرت میں مسئلہ "شفاعت" کی گہرائی اور مسئلہ "توسل" کی اہمیّت بھی واضح اور آشکار ہو جاتی ہے۔ اس آیت کے ذیل میں علت کو بیان کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے، خدا تمہارے چلنے پھرنے اور ٹھہرنے کی جگہ کو جانتا ہے (وَاللهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَمَثْوَاكُمْ)۔ وہ تمہارے ظاہر و باطن، اندرون و بیرون اشارے کنائے کو اچھی طرح جانتا ہے، حتّٰی کہ تمہارے افکار، نیتوں اور حرکات و سکنات سے بھی پوری طرح باخبر ہے۔ اسی لیے تمہیں چاہیے کہ تم اس کی طرف توجہ کرو اور اس کی بارگاہ سے طلب مغفرت کرو۔ "متقلب" کا معنی آمد و رفت کی جگہ اور"مثوٰی" کا معنی ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ (تشریحی نوٹ: بنا بریں "مُتَقَلَّبَ" اسم مفعول ہے جو یہاں پر اہم مکان کےمعنی میں ہے۔ لیکن کچھ اور مفسرین اسے "مصدر" میہی سمجھتے ہیں۔ جس کامعنی ایک مال سے دوسرے مال کی طرف منتقل ہونا ہے۔ لیکن "مثوٰی" کےقرینے کےپیش نظر جو کہ مسلم طور پر اسم مکان ہے، پہلا معنی زیادہ مناسب ہے)۔ ظاہر یہ ہے کہ ان دونوں کلمات کا مفہوم وسیع اور عام ہے، جس میں انسان کی تمام حرکات و سکنات آ جاتی ہیں خواہ وہ دُنیا میں ہوں یا آخرت میں، شکم مادر میں ہوں یا قبر کے پیٹ میں، اگرچہ بہت سے مفسرین نے ان کے محدُود معانی بتائے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے انسان کی دن کو حرکات اور رات کو سکون مراد ہے بعض کہتے ہیں کہ اس سے دُنیا میں چلنے پھرنے کی اور آخرت میں انسان کے ٹھہرنے کی جگہ مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے انسان کی دن کو حرکات اور رات کو سکون مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے دنیا میں چلنے پھرنے کی اور آخرت میں انسان کے ٹھہرنے کی جگہ مراد ہے، بعض کہتے ہیں کہ اس سےانسان کا باپوں کی پشت اور ماؤں کے رحم میں منتقل ہونا اور قبر میں ثبات و قرار مراد ہے اور بعض کہتے ہیں اس سے انسان کا سفر میں حرکت کرنا اور حضرت میں آرام کرنا مراد ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں آیت کا مفہوم وسیع اور عام ہے جو مذکورہ تمام تفاسیر کو اپنے دامن میں لیے ہُوئے ہے۔

20
47:20
وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَوۡلَا نُزِّلَتۡ سُورَةٞۖ فَإِذَآ أُنزِلَتۡ سُورَةٞ مُّحۡكَمَةٞ وَذُكِرَ فِيهَا ٱلۡقِتَالُ رَأَيۡتَ ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ يَنظُرُونَ إِلَيۡكَ نَظَرَ ٱلۡمَغۡشِيِّ عَلَيۡهِ مِنَ ٱلۡمَوۡتِۖ فَأَوۡلَىٰ لَهُمۡ
اور مومنین کہتے ہیں کہ (جہاد کے بارے میں ) کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہو تی؟ لیکن جب کوئی محکم سورت نازل ہوتی ہے کہ جس میں جہاد کا ذکر ہوتو توبیمار دل منافقوں کو دیکھے گا کہ تیری طرف اس طرح دیکھیں گے جس طرح کسی کو موت آنے لگے۔ پس موت اور تباہی ان کے لئے بہتر ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔

21
47:21
طَاعَةٞ وَقَوۡلٞ مَّعۡرُوفٞۚ فَإِذَا عَزَمَ ٱلۡأَمۡرُ فَلَوۡ صَدَقُواْ ٱللَّهَ لَكَانَ خَيۡرٗا لَّهُمۡ
لیکن اگر وہ اطاعت کر یں اور سنجیدہ اور شائستہ بات کریں تو یہ ان کے لئے بہتر ہے پھر جب جہاد کا حتمی حکم آجائے تو اگر یہ لوگ خدا سے سچے رہیں تو ان کے حق میں بہتر ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔

22
47:22
فَهَلۡ عَسَيۡتُمۡ إِن تَوَلَّيۡتُمۡ أَن تُفۡسِدُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَتُقَطِّعُوٓاْ أَرۡحَامَكُمۡ
لیکن اگر تم روگردانی اختیار کر و تو تم سے سوائے زمین میں فساد اور قطع رحمی کے اور کیا تو قع رکھی جا سکتی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔

23
47:23
أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَعَنَهُمُ ٱللَّهُ فَأَصَمَّهُمۡ وَأَعۡمَىٰٓ أَبۡصَٰرَهُمۡ
یہ ایسے لوگ ہیں جنہیں خدا نے اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے، ان کے کانوں کو بہرہ اور ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔

24
47:24
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلۡقُرۡءَانَ أَمۡ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقۡفَالُهَآ
کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا پھر کیا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔

تفسیر وہ جہاد کے نام سے بھی ڈرتے ہیں:

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

ان آیات میں جہاد کے متعلق مومنین اور منافقین کا ردّعمل بیان کیا جا رہا ہے، گزشتہ آیات میں ان دونوں گروہوں کے متعلق گفتگو کے سلسلے میں یہ آیات تتمہ کی حیثیت رکھتی ہیں، چنانچہ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: مومنین ہمیشہ کہتے رہتے ہیں کہ کوئی سُورت کیوں نازل نہیں ہوتی (وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُوا لَوْلَا نُزِّلَتْ سُورَةٌ)۔ ایسی سُورت کہ جس میں جہاد کا حکم ہو اور سنگدل، خونخوار اور بےمنطق دشمن کے مقابلے میں ہمیں ہمارے فرائض سے آگاہ کرے۔ ایسی سُورت کہ جس کی آیات ہمارے دلوں کے لیے نور ہدایت ہُوں اور ہماری رُوح کو اپنے فروغ سے روشن کر دیں۔ یہ تو ہے حقیقی مومنین کی کیفیّت۔ لیکن منافقوں کا حال یہ ہے کہ "جب کوئی محکم سُورت نازل ہوتی ہے، جس میں جنگ اور جہاد کا ذکر ہو تو تو بیمار دِلم منافقوں کو دیکھے گا کہ تیری طرف اس طرح دیکھیں گے جس طرح کوئی موت کے کنارے پہنچ کر پریشان اور مبہوت ہو کر دیکھتا ہے اور جس کی آنکھوں کے ڈھیلے حرکت کرنے سے رُ ک جاتے" (فَإِذَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَذُكِرَ فِيهَا الْقِتَالُ رَأَيْتَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ نَظَرَ الْمَغْشِيِّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ)۔ جنگ کا نام سننے سے وحشت و اضطراب انہیں سرتاپایوں گھیر لیتے ہیں جیسے قریب سے ہے کہ دل ان کے سینے سے باہر آ جائیں، ان کی عقلیں ماؤف ہو جائیں، آنکھیں پتھرا جائیں جس طرح موت کے قریب انسان کی آنکھیں بےحس و حرکت اور کھلی کی کھُلی رہ جاتی ہیں اور یہ ڈرپوک اور بُزدل منافقین کی کیفیّت کی ایک واضح اور مکمل تصویر ہے۔ آخر جہاد کے بارے میں مومنین اور منافقین کا مختلف ردّعمل کیوں نہ ہو، جبکہ پہلا گروہ اپنے محکم ایمان کی وجہ سے ایک تو اپنے پروردگار کے لطف و کرم اور امداد کا امیدوار ہوتا ہے اور دوسرے اس کی راہ میں شہادت سے بھی نہیں گھبراتا۔ ان کے لیے میدانِ جہاد، محبُوب سے اظہارِ عشق کا مقام، شرافت کا میدان، استعداد اور صلاحیت کے پروان چڑھنے کی جگہ اور استقامت و فتح و کامرانی کا میدان ہوتا ہے۔ اس طرح کے میدان سے خوف کے کیا معنی۔ جبکہ منافقین کے لیے موت، تباہی اور بربادی کا مقام، شکست اور دنیاوی لذتوں کو خیر آباد کہنے کی جگہ ظلمتوں اور تاریکیوں بھرا میدان اور ایسا میدان ہوتا ہے جس کا مستقبل وحشت ناک اور نامعلوم ہوتا ہے۔ بعض مفسرین کے نظریہ کے مطابق "سورة محکمة" سے مراد وہ سُورتیں ہیں جن میں جہاد کے مسائل بیان کیے گئے ہیں لیکن اس تفسیر کی کوئی دلیل نہیں ملتی، بلکہ اس کی بظاہر تفسیر یہ ہے کہ "محکم" یہاں پر مستحکم، پائدار، دو ٹوک اور ہر قسم کے ابہام سے خالی کے معنی میں ہے جو بعض اوقات "متشابہ" کے مقابل میں ذکر ہوتا ہے، البتہ چونکہ آیات جہاد میں عام طور پر واضح اور دو ٹوک حکم ہوتا ہے لہذا اس مفہوم سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے، لیکن اس میں منحصر نہیں ہے۔ " الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ" (جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے) کی تعبیر قرآنی زبان میں عام طور پر "منافقین کے لیے استعمال ہوتی ہے، بعض مفسرین اِس سے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے مراد "ضعیف الایمان" لوگ ہیں تو ان کا نظریہ نہ تو قرآن کی دوسری آیات سے ہم آہنگ ہے اور نہ ہی زیر تفسیر آیت سے قبل و بعد کی آیات سے جو سب کی سب منافقین کے متعلق گفتگو کر رہی ہے ہیں۔ بہرحال، آیت کے آخر میں مختصراً فرمایا گیا ہے: ان پر افسوس ہے کہ موت اور تباہی ان کے لیے زندگی سے بہتر ہے۔ (فَأَوْلَى لَهُمْ)۔ "اَوْلیٰ لَهُم" کا جُملہ عربی ادب میں عام طور پر کسی دھمکی دینے کسی پر لعنت بھیجنے کسِی سے اظہار نفرت کرنے اور کسی کے لیے بدبختی اور پریشانی کی آرزو کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ جُملے کا معنی یوں ہو گا "یلیه مکروہ" اور اسے "ویل لَھُم" کے ہم معنی سمجھا ہے)۔ بعض مفسرین نے اس کی "الموت اولیٰ لَھُم" (موت ان کے لیے بہتر ہے) کے معنی سے تفسیر کی ہے اور اگر ان دونوں معانی کو آپس میں ملا دیا جائے جس طرح ہم نے آیت کی تفسیر میں کیا ہے تو کوئی مانع موجُود نہیں ہے۔ بعد کی آیت میں فرمایا گیا ہے: لیکن اگر وہ اطاعت کریں اور فرمانِ جہاد سے منہ نہ موڑیں، نیک، سنجیدہ اور اچھی باتیں کریں تو یہ ان کے لیے بہتر ہے (طَاعَةٌ وَقَوْلٌ مَّعْرُوفٌ)۔ (تشریحی نوٹ: "طاعة: مبتدا ہے اور اس کی خبر محذُوف ہے جو تقدیری طور پر یوں ہو گی "طاعةٌ وقولٌ معروف أمثل لَھُم" بعض اسے مبتداء محذوف کی خبر سمجھتے ہیں جو تقدیری طور پر یوں ہوں گی "أمرنا طاعةٌ" لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے)۔ ممکن ہے "قولِ معروف" کی تعبیر منافقین کی جہاد کے بارے میں ان ناموزوں اور غیر مناسب باتوں کے مقابلے میں ہو جو وہ جہاد کی آیات نازل ہونے کے بعد کیا کرتے تھے، کبھی تو کہتے تھے کہ: "لاَ تَنفِرُواْ فِي الْحَرِّ" "اس قدر شدید گرمی میں میدانِ جہاد کی طرف مت نکلو" (توبہ /۸۱)۔ اور کھبی کہتے: "وَإِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا" "خدا اور اس کے رسُول نے ہمیں کامیابی کے جُھوٹے وعدے کے سوا اور کچھ نہیں دیا" (احزاب / ۱۲)۔ کبھی موٴمنین کو ناامید کرنے اور انہیں میدان جنگ سے روکنے کے لیے کہتے: "هَلُمَّ إِلَيْنَا۔" "ہماری طرف آؤ اور خوش رہو۔" (احزاب / ۱۸)۔ وہ لوگوں کو نہ صرف جہاد کی ترغیب نہیں دیتے تھے بلکہ ان کے حوصلے پست کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور بھی لگایا کرتے۔ مزید فرمایا گیا ہے: پھر جب لڑائی ٹھن جائے اور حکم جہاد قطعی ہو جائے تو اگر یہ لوگ خدا سے سچے رہیں اور صدق و صفا کی راہ اختیار کریں تو ان کے حق میں بہتر ہے (فَإِذَا عَزَمَ الْأَمْرُ فَلَوْ صَدَقُوا اللهَ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ)۔ یہ بات دُنیا میں بھی ان کی سرفرازی کا باعث ہے اور آخرت میں بھی وہ ثواب عظیم اور بہت بڑی کامیابی حاصل کریں گے۔ "عَزَمَ الْاَمْر" دراصل کسِی کام کے پختہ اور محکم ہونے کی طرف اشارہ ہے، لیکن قبل و بعد کی آیات کے قرینے کی وجہ سے اس سے مراد "جہاد" ہے۔ بعد کی آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے: لیکن اگر مخالفت کا راستہ اختیار کرو اور فرمانِ الہٰی اور اس کی کتاب پر عمل کرنے سے روگردانی کرو تو تم سے سوائے روئے زمین پر فساد برپا کرنے اور قطع رحمی کے اور کیا توقع رکھی جا سکتی ہے (فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ)۔ (تشریحی نوٹ: اگرچہ مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں بہت کم بحث کی ہے، لیکن یوں معلوم ہوتا ہے کہ "إن تولّیتم" کا جُملہ جو "عسٰی" کے اسم و خبر کے درمیان واقع ہوا ہے، جملہٴ شرطیہ ہے اور اس کی جزاء "فَهَلْ عَسَيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ" کا مجموعی جُملہ ہے جو تقدیری طور پر یوں ہے "إن توَلّیتُم عَن کتابِ اللہ فھل یترقّبُ مِنکُم إلّا الفساد فِی الأرض")۔ کیونکہ اگر تم قرآن اور توحید سے روگردان ہو جاؤ تو یقینا جاہلیّت کی طرف لوٹ جاؤ گے اور جاہلیت کا طریقہٴ کار تو بس "فساد فِی الأرض" قتل و غارت اور خوں ریزی اور قریبی عزیزوں اور بیٹیوں کو موت کے گھاٹ اتارنا ہے۔ یہ اس صورت میں ہے جب "تولّیتم" کو "تولی" یعنی روگردانی کے مادہ سے لیا جائے، لیکن بہت سے مفسرین نے اسے "ولایت" (حکومت) کے مادہ سے لیا ہے، جس کا معنی یہ ہو گا کہ اگر حکومت کی باگ ڈور تمہارے ہاتھ آ جائے تو تم سے تباہی و بربادی، خون ریزی اور قطع رحمی کے علاوہ اور کوئی توقع نہیں کی جا سکتی۔ گویا کچھ منافقین نے میدان جہاد سے راہ فرار اختیار کر لینے کا یہ بہانہ گھڑ لیا تھا کہ ہم میدان جنگ میں کیوں قدم رکھیں اور کیوں وہاں پر خوں ریزی کا ارتکاب کریں اور اپنے قریبیوں کو موت کے گھاٹ اتار کر "مفسدٌ فِی الأرض" بنیں۔ قرآن مجید ان کے اس بہانے کے جواب میں کہتا ہے: تو کیا جب حکومت تمہار ے پاس تھی، اس وقت تُم "فساد فی الارض" قتل و غارت اور خون ریزی اور قطع رحمی کے علاوہ اور کیا کیا کرتے تھے؟ یہ سب بہانے ہیں، اسلام میں جنگ کا مقصد فتنہ کی آگ کو بُجھانا ہے نہ کہ فتنہ و فساد کو ہوا دینا اور ظلم و ستم کی بساط کو الٹنا ہے نہ کہ قطع رحمی۔ اہل بیت اطہار علیہم السلام سے منقول بعض روایات میں ہے کہ "یہ آیت بنی امیہ کے بارے میں ہے کہ جب انہوں نے زمام ِ حکومت سنبھالی تو نہ تو کسی چھوٹے پر رحم کیا اور نہ ہی کسِی بڑے پر "حتّی کہ وہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو بھی موت کے گھاٹ اتارنے سے نہیں چُوکے۔" (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد۵، صفحہ ۴۰)۔ ظاہر ہے کہ ابو سفیان سے لے کر اس کے پوتوں پڑپوتوں تک تمام بنی امیّہ اس آیت کا روشن مصداق تھے اور روایت کی مراد بھی یہی ہے، لیکن آیت کا مفہوم عام اور وسیع ہے جس میں تمام ظالم اور مفسد منافقین شامل ہیں۔ بعد کی آیت اس منافق اور بہانہ جُو مفسد گروہ کے حتمی انجام کو ان لفظوں میں بیان کرتی ہے: "یہ وہی لوگ ہیں جنہیں خدا نے اپنی رحمت سے دُور رکھا ہے، ان کے کانوں کو بہرہ اور ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا ہے، نہ تو وہ کسِی حقیقت کو سن سکتے ہیں اور نہ ہی اسے دیکھ سکتے ہیں (أُوْلَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ)۔ وہ اسلامی جہاد کو، جو حق و عدالت پر مبنی ہوتا ہے قطع رحمی اور فساد فی الارض سے تعبیر کرتے ہیں لیکن دور جاہلیّت میں انہوں نے خود جن جرائم کا ارتکاب کیا ہے، اپنی حکومت کے دوران بے گناہوں کا جو خون بہایا ہے اور معصُوم نومولُود بچّوں کو اپنے ہاتھوں سے زندہ درگور کیا ہے، کیا وہ سب حق بھی تھا اور عدالت پر مبنی بھی؟ خدا کی لعنت ہو ان پر جن کے پاس نہ تو حق سننے کے لیے کان ہیں اور نہ ہی حقیقت کو دیکھنے کے لیے آنکھیں۔ حضرت امام علیؑ بن الحسینؑ سے روایت ہے کہ آپ نے اپنے فرزند امام محمد باقر علیہ السلام سے فرمایا: " إيّاك وَمصاحبة القاطع لرحمة، فإنّى وَجدته ملعونًا فى كتابِ الله عزّوَجلّ فى ثلاث مواضع: قال الله عزّوَجَلّ فَهَلْ عَسَيْتُمْ ۔" "میرے بیٹے! ان لوگوں کی دوستی سے پرہیز کرو جو قطع رحمی کرتے ہیں، کیونکہ میں نے انہیں قرآن میں تین مقام پر ملعون پایا ہے اور پھر آپ نے آیت "فھل عسیتم" کی تلاوت فرمائی۔" (تشریحی نوٹ: اصول کافی، جلد۲، باب من تکرہ مجالسة حدیث ۷، لیکن دوسری دو آیتیں جو حدیث کے ضمن میں بیان ہوئی ہیں ایک تو سورہٴ رعد کی ۲۵ ویں آیت ہے اور دوسری سورہٴ بقرہ کی ۲۷ ویں آیت ہے ایک میں صراحت کے ساتھ لعنت کا تذکرہ ہے اور دوسری میں کنایہ ٴ کے طور پر)۔ "رحم" دراصل شکم مادر میں جنین کے رہنے کی جگہ کو کہتے ہیں، بعد ازاں اس تعبیر کا تمام رشتہ داروں پر اطلاق ہونے لگا، اس لیے کہ ان سب کا ایک ہی "رحم" سے تعلق ہوتا ہے۔ رسُول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان ہے: "ثلاثة لا یدخلون الجنّة مدمن خمر ومدمن سحر وقاطع رحم۔" تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جو بہشت میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے، شرابی، جادوگر اور قطع رحمی کرنے والے۔ (بحوالہ: خصال صدوق)۔ ظاہر سی بات ہے کہ ایسے لوگوں پر خدا کی لعنت اور رحمت خدا سے دوری اسی طرح ان سے حقائق کے ادراک کی قوت کا سلب ہو جانا، ہرگز جبر پر مبنی نہیں ہے، کیونکہ یہ خُود ان کے اپنے اعمال کی سزا اور ان کے کردار و گفتار کا ردّعمل ہے۔ اسی سلسلے کی دوسری آیت میں اس بدبخت گروہ کے انحراف اور گمراہی کے سبب کو یوں بیان فرمایا گیا ہے: تو کیا یہ لوگ قرآنی آیات میں غور فکر نہیں کرتے (تاکہ حقائق ادراک کر کے اپنے فرائض کو انجام دیں) یا پھر کیا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہُوئے ہیں (أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا)۔ جی ہاں! ان کے مصیبت کا سبب ان دو چیزوں میں سے ایک ہے یا تو وہ قرآن میں غور و فکر کرتے جو قرآن ہدایت الہٰی کا حامل اور شفا عطا کرنے کا مکمل نسخہ ہے یا اگر غور تو کرتے ہیں، لیکن خواہشاتِ نفسانی کی اتباع اور پہلے سے انجام دیئے ہُوئے کرتوتوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر ایسے قفل پڑ چکے ہیں کہ کوئی بھی حقیقت ان کے دلوں تک نہیں پہنچ پاتی۔ دوسرے لفظوں میں اگر کوئی شخص تاریکیوں میں اپنا راستہ کھو بیٹھے اور اس کے ہاتھ میں کوئی چراغ بھی نہ ہو یا اگر چراغ تو ہو لیکن اس کی آنکھیں نابینا ہوں تو وہ راستے سے بھٹک جائے گا، لیکن اگر ہاتھ میں چراغ بھی ہو اور آنکھیں بھی صحیح و سالم ہوں تو راستہ واضح ہوتا ہے۔ "أقفال"، "قفل" کی جمع ہے جو اصل میں "قفول" (واپس لوٹ جانا) کے مادہ سے ہے یا "قفیل" (بمعنی خشک چیز) کے مادہ سے، چونکہ جس وقت دروازے کو بند کر کے اسے تالا لگا دیا جاتا ہے تو جو شخص بھی آتا ہے وہاں سے واپس پلٹ جاتا ہے اور خشک اور ٹھوس چیز کے مانند کوئی چیز بھی اس میں داخل نہیں ہو سکتی لہذا یہ کلمہ اس مخصوص اوزار پر استعمال ہونے لگا۔

چند نکات ۱۔ قرآن فکر و عمل کی کتاب ہے:

قرآن کی مختلف آیات اس حقیقت کو واشگاف الفاظ میں بیان کر رہی ہیں کہ یہ عظیم آسمانی کتاب صرف تلاوت کرنے کے لے نہیں ہے، بلکہ اس کا منتہائے مقصُود "ذکر" (یاد دہانی) "تدبر" (نتائج پر غور و خوض") "إنذار" (لوگوں کو ظلمات سے نکال کر نور تک پہنچاتا) اور "شفا، رحمت اور ہدایت" ہے۔ " وَهَذَا ذِكْرٌ مُّبَارَكٌ أَنزَلْنَاهُ" "یہ بابرکت یاد دہانی ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے۔" ( انبیاء/ ۵۰)۔ "كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ۔" "یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے تجھ پر نازل کیا ہے تاکہ تو اس کی آیات میں غور کرے۔" (ص/ ۲۹)۔ سورہٴ انعام کی ۱۹ ویں آیت میں ہے: " وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لِأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ۔" "یہ قرآن مجھ پر وحی کیا گیا ہے، تاکہ اس کے ذریعے سے تمہیں اور ان لوگوں کو ڈراؤں جن تک یہ پیغام پہنچے۔" سورہٴ ابراہیم کی پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: "كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ۔" یہ ایک کتاب ہے، جسے ہم نے تجھ پر نازل کیا ہے تاکہ اس کے ذریعے تو لوگوں کو تاریکیوں سے نکل کر نور تک پہنچائے۔ سُورہٴ نبی اسرائیل کی ۸۲ ویں آیت میں ہے: "وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ۔" "ہم قرآن کی ایسی آیتیں بھی نازل کرتے ہیں جو موٴمنین کے لیے شفا اور رحمت کا سبب ہیں۔" اس طرح قرآن مجید کو مسلمانوں کی زندگی کے لیے راہنما کی حیثیت سے اختیار کیا جانا چاہیے اور اسے اپنے لیے اسوہ اور نمونہ قرار دینا چاہیے، اس کے احکام پر پُورے طور پر عمل کرنا چاہیے اور اُس سے بال برابر انحراف نہیں کرنا چاہیے اور زندگی کے تمام خطوط کو اس سے ہم آہنگ کرنا چاہیے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مسلمانوں کا سلوک اس سے نہایت ہی ناروا ہے اور اسے صرف بےمعنی ورد و وظیفہ تک محدُود کر دیا گیا ہے۔ صرف سرسری تلاوت پر اکتفا کیا جاتا ہے زیادہ سے زیادہ تجوید، خوش الحافی اوراچھی آواز سے پڑھنے کو اہمیّت دیتے ہیں، مسلمانوں کی بہت بڑی بدبختی ہے کہ انہوں نے قرآن مجید کو اپنی زندگی کے پروگراموں سے نکال کر بس اس کے الفاظ پر گزارہ کر رکھا ہے۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ان زیر تفسیر آیات میں بڑی صراحت کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ دل کے مریض ان منافق لوگوں نے قرآن میں تدبّر نہیں کیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہیں یہ سیاہ اور تاریک دن دیکھنے نصیب ہُوئے۔ "تدبر"، "دبر" (بروزن "أبر") کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے، کسِی چیز کے نتائج اور انجام پر غور کرنا۔ یہ "تفکر" کے برعکس ہے، جس کا زیادہ تر اطلاق کسِی چیز کے اسباب اور وجوہات پر غور کرنے پر ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں ان دونوں کلموں کا استعمال نہایت ہی معنی خیز ہے۔ نیز اس بات کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ قرآن مجید سے استفادہ کے لیے ایک قسم کی خود سازی کی ضرورت ہوتی ہے، قرآن مجید خود بھی اس قسم کی خود سازی کے لیے معاون ثابت ہوتا ہے، کیونکہ اگر دلوں پر ہوا و ہوس، تکبر اور غرور، ہٹ دھرمی اور تعصب کے تالے لگے ہُوئے ہوں تو یہ رکاوٹیں نورِ حق کو ان میں داخل ہونے سے روک دیتی ہیں اور زیرِ تفسیر آیات میں بھی اس تفسیر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، کیا ہی زیبا فرمان ہے امیر المومنین علی علیہ السلام کا جو ایک خطبے کے ضمن میں متقین کے بارے میں ہے: "أما الليل فصافون أقدامهم، تالين لِأجزاء القرآن يرتلونها ترتيلا، يحزنون به أنفسهُم، وَيستثيرون به دواء دائهم، فاذا مروا بآية فيها تشويق ركنوا اليها طمعا، و تطلعت نفوسهم اليها شوقا، وَظنوا أنها نصب أعينهم، وَإذا مروا بآية فيها تخويف إصغوا إليها مسامع قلوبهم، وَظنوا أن زفير جهنم و شهيقها فى أصول آذانهم۔" وہ رات کے وقت قیام کرتے ہیں، قرآن کی ٹھہر ٹھہر کر اور سوچ سمجھ کر تلاوت کرتے ہیں۔ اپنے آپ کو اس کے ذریعے پرسُوز کرتے ہیں، اپنے درد کی دوا اسی میں تلاش کرتے ہیں، جب کسی ایسی آیت پر پہنچتے ہیں جس میں شوق دلایا گیا ہے تو وہ بڑے اشتیاق کے ساتھ اس کی طرف مائل ہوتے ہیں، دل کی آنکھیں بڑے شوق کے ساتھ اور خُوب عذر سے اسے دیکھتی ہیں اور ہمیشہ اسے اپنا نصب العین قرار دیتے ہیں اور اگر کسی آیت پر پہنچتے ہیں جس ڈرایا گیا ہے تو دل کے کان کھول کر اسے سنتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ جلا ڈالنے والی دوزخ کی آگ کی چیخ و پکار اور اس کے شعلوں کی لپٹیوں کی آواز ان کے دل کے کانوں میں گونج رہی ہے۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، خُطبہ ۱۹۳، معروف بہ خُطبہ ہمام)۔

۲۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کی حدیث:

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام، "أَمْ عَلى‏ قُلُوبٍ أَقْفالُها" کے جملے کی تفسیر یوں فرماتے ہیں: أن لك قلبا ومسامع، وإن الله إذا أراد أن يهدى عبدا فتح مسامع قلبه، وإذا أراد به غير ذلك ختم مسامع قلبه، فلا يصلح أبدا وهو قول الله عزّوجلّ: أَمْ عَلى‏ قُلُوبٍ أَقْفالُها تمہارے لیے دل بھی ہے اور کان بھی (جن میں داخل ہونے کے رستے ہیں) اور جب خدا کسی بندے کو (اس کے تقویٰ کی وجہ سے) ہدایت کرنا چاہے تو اس کے دل کے کانوں کو کھول دیتا ہے اور جب اس کے علاوہ اور برعکس چاہتا ہے تو اس کے دل کے کانوں پر مہر لگا دیتا ہے اور اس کی کبھی اصلاح نہیں ہو سکتی اور یہی ہے معنی خدا کے اس قول ، أَمْ عَلى‏ قُلُوبٍ أَقْفالُها، کا (بحوالہ تفسیر نور الثقلین ج ۵، صفحہ ۴۱)۔

25
47:25
إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱرۡتَدُّواْ عَلَىٰٓ أَدۡبَٰرِهِم مِّنۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ ٱلۡهُدَى ٱلشَّيۡطَٰنُ سَوَّلَ لَهُمۡ وَأَمۡلَىٰ لَهُمۡ
جو لوگ حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی الٹے پاؤں پھر گئے ہیں، شیطان نے ان کے برے اعمال کو ان کی نگاہوں میں بنا سجا کر پیش کیا ہے اور انہیں لمبی آرزؤں پر فریفتہ کیا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔

26
47:26
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَالُواْ لِلَّذِينَ كَرِهُواْ مَا نَزَّلَ ٱللَّهُ سَنُطِيعُكُمۡ فِي بَعۡضِ ٱلۡأَمۡرِۖ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ إِسۡرَارَهُمۡ
یہ اس لئے ہے کہ وہ (منافقین) ان لوگوں سے کہتے ہیں جو( پیغمبر پر) نزول وحی کو ناپسند کرتے ہیں کہ ہم بعض کاموں میں تمہاری پیروی کریں گے، جب کہ خدا ان کے رازوں سے آگاہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔

27
47:27
فَكَيۡفَ إِذَا تَوَفَّتۡهُمُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ يَضۡرِبُونَ وُجُوهَهُمۡ وَأَدۡبَٰرَهُمۡ
اس وقت ان کا کیا حال ہوگا جب( موت کے) فرشتے ان کے چہروں اور ان کی پشت پر مارتے ہوں گے (اور ان کی روح قبض کریں گے)

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔

28
47:28
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمُ ٱتَّبَعُواْ مَآ أَسۡخَطَ ٱللَّهَ وَكَرِهُواْ رِضۡوَٰنَهُۥ فَأَحۡبَطَ أَعۡمَٰلَهُمۡ
یہ سب اس وجہ سے ہے کہ جس چیز سے خدا ناخوش ہے، اس کی تو یہ لوگ پیروی کرتے ہیں اور جس میں خدا کی خوشی ہے اس سے بیزار ہیں۔ لہٰذا خدا نے ان کے سب اعمال اکارت کر دیئے۔

تفسیر وہ قراٰن میں غور کیوں نہیں کرتے؟

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

یہ آیات بھی منافقین کے بارے میں ہیں اور ان کے مختلف اعتراضات بیان کر رہی ہیں، ارشاد ہوتا ہے: بیشک جو لوگ حق واضح ہو جانے کے بعد بھی اُلٹے پاؤں پھر گئے ہیں، شیطان نے ان کے بُرے اعمال کو ان کی نگاہوں میں بنا سجا کر پیش کیا ہے اور انہیں لمبی آرزُووں پر فریفتہ کر دیا ہے (إِنَّ الَّذِينَ إرْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِهِم مِّن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَى الشَّيْطَانُ سَوَّلَ لَهُمْ وَأَمْلَى لَهُمْ)۔ اگرچہ بعض مفسرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ آیت ان بعض اہلِ کتاب کافروں کے متعلق گفتگو کر رہی ہے جو پیغمبر اسلامؐ کی بعثت سے پہلے اپنی آسمانی کتابوں سے آنحضرتؐ کی نشانیاں بیان کیا کرتے تھے اور آپؐ کے ظہور کے شدید منتظر تھے لیکن جب آپؐ تشریف لے آئے اور وہ نشانیاں بھی ظاہر ہو گئیں تو اُلٹے پاؤں پھر گئے اور خواہشات نفسانی اور مادی فوائد ان کے ایمان کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔ لیکن گزشتہ اور آیندہ آیات سے بخوبی سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ یہ آیت بھی منافقین کی بات کر رہی ہے، جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نزدیک سے دیکھا، آپؐ کی حقانیت کے دلائل کا بخوبی مشاہدہ کیا اور سُنا، لیکن نفسانی خواہشات اور شیطانی پھندوں میں آ کر پیٹھ پھیر دی۔ "سوّل"، "سوٴل" (بروزن "قفل") کے مادہ سے ہے، جس کا معنی ایسی حاجت ہے جس کے پورا ہونے کے لیے نفس انسانی حریص ہوتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: لہٰذا بعض مفسرین نے اس کی "امید اور آرزُو" کے معنی میں تفسیر کی ہے جیسا کہ سُورہ طٰہٰ کی ۳۶ ویں آیت میں ہے "قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يا مُوسیٰ")۔ "تسویل “ کا معنی ان امور کی بابت رغبت اور شوق دلانا ہے جن کی انسان کو حرص ہوتی ہے۔ اس امر کی شیطانی کی طرف نسبت ان وسوسوں کی وجہ سے ہے جو وہ انسان کے دل میں ڈالتا ہے اور اس کی ہدایت کے آگے رکاوٹ بنتا ہے۔ "أملیٰ لھم"، "املاء" سے ہے جس کا معنی لمبی چوڑی اور دُور دراز کی امیدیں اور آرز وئیں باندھنا ہے جو انسان کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں اور حق سے باز رکھتی ہیں۔ بعد کی آیت ان شیطانی تسویلات اور سجاوٹوں کی اس طرح تشریح کرتی ہے: یہ اس لیے کہ وہ ان لوگوں سے کہتے ہیں جو پیغمبرؐ اسلام پر نزول وحی کو ناپسند کرتے ہیں، ہم بعض کاموں میں تمہاری بات مانیں گے (ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لِلَّذِينَ كَرِهُوا مَا نَزَّلَ اللهُ سَنُطِيعُكُمْ فِي بَعْضِ الْأَمْرِ)۔ منافقین کا کام یہی ہوتا ہے کہ وہ غلط کار اور مخالف لوگوں کے پیچھے لگے رہتے ہیں اور اگر تمام پہلوؤں کے لحاظ سے ان میں مشترک قدریں نہ پائیں جاتی ہوں تو جس حد تک بھی ان کی قدریں آپس میں مشترک ہوتی ہیں ان سے تعاون بلکہ ان کی اطاعت کرتے ہیں۔ منافقینِ مدینہ بھی بنی نضیر اور نبی قریظہ کے یہودیوں کے پاس آئے جو آنحضرت کی بعثت سے قبل اسلام کے مبلغ تھے، لیکن جب آنحضرتؐ کی بعثت ہو گئی تو حسد، تکبّر اور مفادات خطرے میں پڑجانے کی وجہ سے ظہور اسلام کو ناپسند کرنے لگے اور چونکہ پیغمبرؐ اسلام کی مخالفت اور آپؐ کے خلاف سازشیں منافقین اور یہود کے درمیان قدر مشترک تھیں لہذا ان سے باہمی تعاون کا وعدہ کر لیا۔ "فِي بَعْضِ الْأَمْرِ" کی تعبیر شاید اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہم صرف اس حد تک تمہارے ساتھ تعاون کریں گے۔ لیکن تم چونکہ بُت پرستی کے مخالفت اور روز قیامت کے معتقد ہو لہٰذا ہم ان امور میں تمہارے ساتھ نہیں ہیں۔ (تشریحی نوٹ: اس آیت کی تفسیر میں کئی اور احتمالات کا ذکر بھی کیا گیا ہے جو گزشتہ اور آیندہ آیات سے ہم آہنگ نہیں ہیں لہٰذا انہیں ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے)۔ یہ بات سورہٴ حشر کی گیارہویں آیت سے ملتی جُلتی ہے، جس میں کہا گیا ہے: " أَ لَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ نافَقُوا يَقُولُونَ لِإِخْوانِهِمُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتابِ لَئِنْ أُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَلا نُطِيعُ فِيكُمْ أَحَداً أَبَداً وَإِنْ قُوتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ:۔" "کیا تم نے منافقین کو نہیں دیکھا جو اپنے اہل کتاب کافر بھائیوں سے کہتے ہیں کہ اگر تم ان شہروں سے کوچ کرو گے تو ہم بھی تمہارے ساتھ آئیں گے اور تمہاری مخالفت میں کسِی بھی شخص کی اطاعت نہیں کریں گے اور اگر وہ تمہارے ساتھ لڑیں گے تو ہم تمہاری مدد کریں گے۔" آیت کے آخر میں انہیں مختصر سی عبارت کے ساتھ تنبیہ کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے: خدا ان کی مخفی باتوں اور رازوں سے آگاہ ہے (وَاللهُ يَعْلَمُ إِسْرَارَهُمْ)۔ ان کے باطنی کفر اور نفاق سے بھی آگاہ ہے اور یہودیوں کے تعاون سے یہ جو سازشیں تیار کرتے ہیں ان سے بھی آگاہ ہے اور وقت آنے پر انہیں سزا دے گا۔ نیز یہ بھی کہ یہود کی مخفی دُشمنی وعناد اور حسد سے بھی آگاہ ہے، وہ اپنی کتاب کی گواہی کے پیش نظر پیغمبرؐ اسلام کی نشانیوں سے اس قدر آگاہ تھے کہ انہیں ویسے پہنچانتے تھے جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتے تھے اور یہ نشانیاں آپؐ کے ظہور سے پہلے لوگوں کو کھلے بندوں بتاتے تھے، لیکن آپؐ کے ظہور کے بعد انہوں نے ان سب کو چھپا دیا ہے، خدا اس مخفی کام سے آگاہ ہے۔ امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہم السلام سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ "كَرِهُوا مَا نَزَّلَ اللهُ" سے مراد "بنی امیہ" ہیں جو حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کے بارے میں فرمان الہٰی کے نزُول کو پسند نہیں کرتے تھے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد۹، صفحہ ۱۰۵)۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ تطابق اور بیان مصداق ہے کہ آیت کا مفہوم اسی میں منحصر ہے۔ بعد کی آیت اس تہدید کی وضاحت ہے، جس میں کہا گیا ہے: اس وقت ان کا کیا حال ہو گا جب موت کے فرشتے ان کے چہروں اور پشت پر ماریں گے اور ان کی رُوح قبض کریں گے (فَكَيْفَ إِذَا تَوَفَّتْهُمْ الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ)۔ (تشریحی نوٹ: "کیف" ایک مبتدا محذوف کی خبر ہے جو تقدیری صورت میں یوں ہے "فکیف حالھم")۔ جی ہاں یہ رشتے مامور ہیں کہ موت کے آغاز ہی میں انہیں سزا دینا شروع کر دیں تاکہ وہ کفر و نفاق اور ہٹ دھرمی و عناد کا مزہ چکھیں، ان کے چہروں پر اس لیے ماریں گے کہ انہوں نے دشمنان ِخدا کی طرف منہ کیا ہو گا اور پشت پر اس لیے کہ خدا کی آیات اور پیغمبر کی طرف پشت کی ہو گی۔ یہ بات سُورہٴ انفال کی ۵۰ ویں آیت سے مِلتی جُلتی ہے جو کفار و منافقین کے بارے میں ہے، اسی میں ہے۔ "وَلَوْ تَرَى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُواْ الْمَلَآئِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ وَذُوقُواْعَذَابَ الْحَرِيقِ" "اور اگر تو کافروں کو اس وقت دیکھے کہ جب موت کے فرشتے ان کی رُوح قبض کرتے ہیں اور ان کے چہروں اور پشت پر مارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جلا ڈالنے والے عذاب کا مزہ چکھو۔" اِسی سِلسلے کی آخری آیت میں بھی بوقت وفات ان پر عذاب ِالہٰی کی علّت کو بیان کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے: یہ عذاب اور سزا اس لیے ہے کہ جس چیز سے خدا ناخوش ہے اس کی تو یہ لوگ پیروی کرتے ہیں اور جس میں خدا کی خوشی ہے اس سے بیزار ہیں، لہذا خدا نے ان کے سب اعمال کو اکارت کر دیا ہے (ذَلِكَ بِأَنَّهُمُ اتَّبَعُوا مَا أَسْخَطَ اللهَ وَكَرِهُوا رِضْوَانَهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ)۔ کیونکہ تمام اعمال کی قبولیت اور ہر قسم کی سعی و کوشش منظور ہونے کی شرطِ اوّلین خدا کی رضا ہے، بنابریں، فطری بات ہے کہ جو لوگ خدا کو ناراض کرنے پر تلے ہُوئے ہیں اور اس کی رضا مندی کی مخالفت کرتے ہیں ان کے اعمال اکارت جائیں گے اور وہ گناہوں کا بوجھ کاندھوں پر اُٹھائے اِس عالم سے اس عالم کو سدھاریں گے۔ ان لوگوں کا حال موٴمنین کے حالات کے بالکل برعکس ہے کیونکہ موت کے فرشتے بوقت وفات ان کے استقبال کو آتے ہیں اور خندہ پیشانی کے ساتھ انہیں کہتے ہیں: تم پر سلام ہو، اب تم اپنے انجام دیئے ہُوئے اعمال کی وجہ سے بہشت میں چلے جاؤ، قرآن کے الفاظ میں: "الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَآئِكَةُ طَيِّبِينَ يَقُولُونَ سَلاَمٌ عَلَيْكُمُ ادْخُلُواْ الْجَنَّةَ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ" (نحل / ۳۲)۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ خدا کی ناراضی کے بارے میں جملہ فعلیہ "ما أَسْخَطَ الله" آیا ہے اور اس کی رضا مندی کے بارے میں جُملہ اسمیہ "رِضْوانَهُ" ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ تعبیر کے اس فرق میں عجیب قسم کا لطف ہے اور وہ یہ کہ خدا کی ناراضی کبھی کبھی ہوتی ہے اور اس کی رضا و رحمت دائمی اور ہمیشہ ہے۔ یہ نکتہ بھی واضح ہے کہ خدا کے بارے میں ناراضی،غضب اور غُصّے کا ذکر نفسانی تاثرات کے معنی میں نہیں، جیسا کہ اس کی رضا مندی رُوحانی خوشی کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ جیسا کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "غضب الله عقابه وَرضاه ثوابه۔" "خدا کا غضب اس کا عذاب ہے اور اس کی رضا اس کا ثواب ہے۔" (بحوالہ: تفسیر المیزان، جلد۱۸، صفحہ ۲۶۶، بحوالہ توحید صدوق)۔

29
47:29
أَمۡ حَسِبَ ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ أَن لَّن يُخۡرِجَ ٱللَّهُ أَضۡغَٰنَهُمۡ
کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے ان کا یہ خیال ہے کہ خدا ان کے کینوں کو ظاہر نہیں کرے گا؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 31 کے تحت ملاحظہ کریں۔

30
47:30
وَلَوۡ نَشَآءُ لَأَرَيۡنَٰكَهُمۡ فَلَعَرَفۡتَهُم بِسِيمَٰهُمۡۚ وَلَتَعۡرِفَنَّهُمۡ فِي لَحۡنِ ٱلۡقَوۡلِۚ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ أَعۡمَٰلَكُمۡ
اگر ہم چاہیں تو انہیں تجھ کو دکھادیں تاکہ تو انہیں ان کے چہروں سے پہچان لے، اگر چہ تو انہیں ان کے انداز گفتگو سے پہچان سکتا ہے، اور خدا تمہارے اعمال سے واقف ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 31 کے تحت ملاحظہ کریں۔

31
47:31
وَلَنَبۡلُوَنَّكُمۡ حَتَّىٰ نَعۡلَمَ ٱلۡمُجَٰهِدِينَ مِنكُمۡ وَٱلصَّـٰبِرِينَ وَنَبۡلُوَاْ أَخۡبَارَكُمۡ
ہم تم لوگوں کو ضرور آزمائیں گے تاکہ معلوم ہو جائے کہ تم لوگوں میں صحیح معنوں میں مجاہد اور صابر کون ہیں ؟نیز ہم تمہاری خبروں کو بھی آزمائیں گے۔

تفسیر منافقین اندازِ گفتگو سے پہچانے جاتے ہیں:

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

ان آیات میں بھی ایک اور بحث کے حوالے سے منافقین کی صفات اور علامات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، اور اس بات پر خاص تاکید کی گئی ہے کہ یہ لوگ یہ تصور نہ کریں کہ ہمیشہ اپنے نفاق کو رسولؐ خدا اور مومنین سے چھپائے رکھیں گے اور اپنے آپ کو بہت بڑائی رسوائی سے بچاتے رہیں گے۔ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے انہیں یہ خیال ہے کہ خدا ان کے شدید کینوں کو ظاہر نہیں کرے گا (أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ أَن لَّن يُخْرِجَ اللهُ أَضْغَانَهُمْ)۔ (تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے مندرجہ بالا آیت میں "أم" کو "استفہامیہ" سمجھا ہے اور بعض دوسرے مفسرین نے نے اسے "منقطعہ" بمعنی "بل" سمجھا ہے، لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے)۔ "اضغان"، "ضغن" (بروزن "حرص" اور بروزن "عقد") سخت اور شدید کینے کے معنی میں ہے۔ ان کے دل میں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور مؤمنین کے بارے میں زبردست کینہ تھا اور ہر وقت اس بات کی انتظار میں تھے کہ کوئی موقع ملے اور ان پر کاری ضربیں لگائیں، قرآن پاک انہیں متنبہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ یہ تصور نہ کریں کہ وہ ہمیشہ اپنے حقیقی چہرے کو چھپائے رکھیں گے۔ لہذا بعد کی آیت میں فرمایا گیا ہے: اگر ہم چاہیں تو انہیں تجھ کو دکھا بھی دیں تاکہ تو اُن کو ان کے چہرے مہرے سے پہچان لے (وَلَوْ نَشَاءُ لَأَرَيْنَاكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُم بِسِيمَاهُمْ)۔ ہم اُن کے چہروں پر ایسا نشان لگائیں گے جسے دیکھ کر آپؐ ان کے نفاق سے آگاہ ہو جائیں گے اور "رأئ العین" سے انہیں دیکھیں گے۔ پھر فرمایا گیا ہے: اگرچہ تو اب بھی انہیں ان کے اندازِ گفتگو سے پہچان سکتا ہے۔ (وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِي لَحْنِ الْقَوْلِ)۔ راغب مفردات میں کہتے ہیں کہ "لحن" کا معنی یہ ہے کہ لفظ کو اپنے قواعد اور اصل طریقہ کار سےپھیر دیا جائے یا اصلی اعراب کی جگہ کوئی دوسرا اعراب دیا جائے یا صراحت سے اشارے اور کنائے کی طرف لے جایا جائے۔ زیرِ تفسیر آیت میں اس سے تیسرا معنی مراد ہے، یعنی دل کے مریض منافقوں کو اس طرح پہچانا جا سکتا ہے کہ وہ ایک صریح اور واضح معنی کو کنائے، تکلیف وہ تعبیر اور دل دکھانے کے انداز میں استعمال کرتے ہیں۔ جہاں پر جہاد کی بات ہوتی ہے، وہاں پر وہ کوشش کرتے ہیں کہ لوگوں کے ارادے کمزور اور ان کے حوصلے پست کردیں۔ جہاں پر حق اور عدالت کی بات ہوتی ہے وہاں پر وہ اسے دوسرے لفظوں میں پھیر لے جاتے ہیں اور جہاں پر نیک اور پاکیزہ اور اسلام کے پیش قدم لوگوں کا تذکرہ آتا ہے تو وہ کوشش کرتے ہیں کہ انہیں عیب دار اور کم حیثیت بتا کر پیش کریں۔ لہذا ابو سعید خدری سے مروی ایک مشہور روایت میں ہے: " لَحْنُ اَلْقَوْلِ بُغْضُهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ قَالَ وَ كُنَّا نَعْرِفُ اَلْمُنَافِقِينَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ بِبُغْضِهِمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلاَمُ۔" "لحن القول" سے مراد علی بن ابی طالب کے ساتھ بخض ہے اور پیغمبر خدا کے زمانے میں منافق لوگوں کو ہم علی بن ابی طالب کے ساتھ دشمنی سےپہچانا کرتے تھے۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر مجمع البیان اسی آیت کے ضمن میں، ساتھ ہی ہم بھی بتاتے چلیں کہ اس روایت کو اہل سُنت کے بہت سے بزرگوں نے بھی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے، جن میں سے چند ایک علماء اور ان کی کتابوں کے نام یہ ہیں، احمد نے کتاب "فضائل" میں، ابن عبدالبر نے "استیعاب" میں ذہبی نے "تاریخ اوّل الاسلام" میں، ابن اثیر نے "جامع الاصُول" میں علامہ گنجی نے "کفایة الطالب" میں محب الدین طبری نے "ریاض النضرة" میں سیوطی نے "دُرّمنثور" میں، آلوسی نے "رُو ح المعانی" میں اور دوسرے بہت سے علماء نے اپنی اپنی کتابوں میں اسے درج کیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ایسی مسلمہ روایات میں ہے کہ جو پیغمبر اسلامؐ سے منقُول ہے (مزید تفصیل کے لیے "احقاق الحق" جلد سوم، صفحہ ۱۱۰ ملاحظہ فرمایئے)۔ جی ہاں منافقوں کی ایک واضح علامت یہ بھی ہے کہ وہ مسلمانوں میں سے مومن اوّل اور اوّلین جانباز اسلام سے دشمنی کیا کرتے تھے۔ اصولی طور پر یہ بات ممکن نہیں ہے کہ انسان کسی چیز کو دل میں چھپائے رہے اور اسے ایک طویل عرصے تک اس قدر مخفی رکھے کہ اشارات وکنایات اور "لحن القول" میں بھی اسے ظاہر نہ کر پائے۔ اسی لیے تو حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام فرماتے ہیں: " ما أضمر أحد شيئا إلّا ظهر فى فلتات لسانه وصفحات وجهه۔" "کوئی شخص کسی چیز کو اپنے دل میں مخفی نہیں رکھتا مگر یہ کہ باتوں باتوں میں اس کے منہ سے غیر شعوری طور پر نکل جاتی ہے اور اس کے چہرے پر آشکار ہو جاتی ہے۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، کلمات قصار، جملہ ۲۶)۔ قرآن مجید کی دوسری آیات میں منافقین کی تکلیف دہ باتوں کو بیان کیا گیا ہے جو اسی "لحن القول" کا مصداق ہیں، یا پھر ان کی مشکوک حرکتوں کو نقل کیا گیا ہے، شاید اسی وجہ سے بعض مفسرین نے کہا ہے کہ زیرِ تفسیر آیت کے نزول کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم منافقین کو ان کی علامتوں سے بخوبی پہچان لیا کرتے تھے۔ اس بات کی واضح دلیل یہ چیز ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو حکم دیا گیا ہے کہ: "وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلاَ تَقُمْ عَلَىَ قَبْرِه۔" "جب ان میں سے کوئی مر جائے تو اس پر نماز نہ پڑھیں اور اس کی بخشش کے لیے دُعا کرنے کی خاطر کھڑے نہ ہوں۔" (توبہ/۸۴) جن موقعوں پر خاص طور پر منافقین اپنے حقیقی چہرے ظاہر کیا کرتے تھے ایک جہاد کا موقع بھی تھا، جنگ سے قبل امداد کی جمع آوری کے وقت، میدانِ جنگ میں دُشمن کے شدید حملوں کے موقع پر اور جنگ کے بعد تقسیم غنائم کے وقت قرآن مجید کی بہت سے آیات میں خاص لے کر سورہ توبہ اور سورہ احزاب کی آیتوں میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ ایک عام مسلمان تک بھی انہیں ایسے موقع پر پہچان لیا کرتا تھا۔ آج کے دور میں بھی "لحن القول" کے ذریعے اور ان کے اہم اجتماعی مسائل خصوصًا بحرانوں اور جنگوں میں ردِّعمل کی وجہ سے منافقین کی پہچان مشکل بات نہیں ہے اور ذرا سا غور و فکر کرنے سے انہیں ان کی رفتار اور گفتار سے پہچانا جا سکتا ہے کیا یہ بہتر ہو کہ مسلمان بیدار ہوں اور اس آیت سے ہدایت لیتے ہوئے اس خطرناک اور کینہ پرور گروہ کو پہچانیں اور اسے الم نشرح کریں۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: خدا تم سب کے اعمال کو جانتا ہے (وَاللهُ يَعْلَمُ أَعْمَالَكُمْ)۔ بعد کی آیت میں مومنین اور منافقین میں تمیز اور پہچان کے ذرائع پر زیادہ سے زیادہ تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے: اور ہم تم لوگوں کو ضرور آزمائیں گے تاکہ معلوم ہو جائے کہ تم لوگوں میں صحیح معنوں میں مجاہد اور صابر کون ہیں اور مجاہدوں کی شکل کے سست عناصر منافق کون ہیں؟ (وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجَاهِدِينَ مِنكُمْ وَالصَّابِرِينَ)۔ اگرچہ اس آزمائش کا میدان وسیع اور عام ہے اور تمام فرائض کی ادائیگ کے موقع پر صبر و شکیبائی بھی اس میں شامل ہے، لیکن "مجاہدین" کے لفظ اور اوّل و آخر کی آیات کی مناسبت سےزیادہ تر میدانِ جہاد و جنگ میں آزمائش مراد ہے اور یہ ہے بھی حقیقت کہ میدان جہاد ایک عظیم اور سخت آزمائش کا مقام ہوتا ہے اور وہاں پر بہت کم ہی کوئی شخص اپنے حقیقی چہرے کو لوگوں کی نگاہوں سے چھپا سکتا ہے۔ نیز اسی آیت کےذیل میں فرمایا گیا ہے: تمہاری آزمائش کے علاوہ "ہم تمہاری خبروں کو بھی آزمائیں گے۔" (وَنَبْلُوَا أَخْبَارَكُمْ)۔ بہت سے مفسرین کہتے ہیں کہ یہاں پر "اخبار" سے مراد انسانوں کے اعمال ہیں کیونکہ جب کوئی عمل انسان سے سرزد ہوتا ہے تو وہ "خبر" کے مانند لوگوں میں نشر ہو جاتا ہے۔ بعض دوسرے کہتے ہیں کہ یہاں پر "اخبار" سے مراد انسان کے اندرونی راز ہیں، کیونکہ لوگوں کے اعمال ان اسرار کی خبر دیتے ہیں۔ ایک احتمال یہ بھی ہے کہ یہاں پر "اخبار" ان خبروں کے معنی میں ہوکہ جولوگ اپنی کیفیت یا معاہدات کے متعلق دیتے ہیں۔ مثلاً منافقین نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے معاہدہ کیا ہوا تھا کہ میدانِ جنگ سے پیٹھ نہیں پھیریں گے۔ اور پھر انہوں نے اپنے اس معاہدے کو توڑ ڈالا۔ چنانچہ سورہ احزاب کی ۱۵ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے: "وَلَقَدْ كَانُوا عَاهَدُوا اللهَ مِن قَبْلُ لَا يُوَلُّونَ الْأَدْبَارَ" نیز ان میں سے کچھ پیغمبر اسلامؐ سےمیدان جہاد سےپلٹ جانے کی اجازت مانگا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں جب کہ وہ غیر محفوظ نہیں تھے۔ ان کا اصل مقصد میدان سے فرار کرنا ہوتا تھا، قرآنی الفاظ میں: "وَيَسْتَأْذِنُ فَرِيقٌ مِّنْهُمُ النَّبِيَّ يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ وَمَا هِيَ بِعَوْرَةٍ إِن يُرِيدُونَ إِلَّا فِرَارًا۔" (احزاب۔۱۳) تو اس طرح سے خدا تعالیٰ انسانوں کے اعمال کو بھی آزماتا ہے اور ان کی گفتار اور خبروں کو بھی۔ اس تفسیر کے مطابق زیر تفسیر آیت کے دونوں جملوں کے دو مختلف معانی ہیں جب کہ پہلی تفسیر کے مطابق یہ دونوں حصے ایک دوسرے کی تاکید کرتے ہیں۔ بہرحال، یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ خداوند عالم لوگوں کو علی الاعلان فرما رہا ہو کہ ہم تمہیں آزمائش گے تاکہ تمہاری صفیں ایک دوسرے سے نمایاں اور ممیز ہو جائیں اور حقیقی مومنین کو ضیعف الاعتقاد اور منافقین سے علیحدہ پہچانا جاسکے۔ قرآن کی بہت سی آیات میں آزمائشو امحتان کےمسئلے کو بیان کیا گیاہے۔ ہم نے بھی پہلی جلد سُورہٴ بقرہ کی آیت ۵۵ کے ذیل میں خدا کی آزمائش کے بارے میں تفصیل سے بحث کی ہے اسی طرح سُورہ عنکبوت کے آغاز میں بھی (ملاحظہ ہو تفسیر نمونہ جلد ۱ اور جلد ۱۶ متعلقہ حِصّے)۔ ساتھ ہی یہ بتاتے چلیں کہ "حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجَاهِدِينَ مِنكُمْ" (تاکہ تم میں سے مجاہدین کی شناخت ہو جائے) کا جُملہ اس معنی میں نہیں ہے کہ خدا ان لوگوں سے واقف نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد خدا کے علم کا خارج میں ظہور اور ایسے افراد کو نمایاں کرنا ہے، یعنی اس طرح سے خارج میں بھی خدا کا علم حقیقت کی صُورت اختیار کر لے اور حقیقی مجاہدین کی صفیں بھی دوسرے نام نہاد مجاہدین سے علیٰحدہ ہو جائیں گے۔

32
47:32
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَشَآقُّواْ ٱلرَّسُولَ مِنۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ ٱلۡهُدَىٰ لَن يَضُرُّواْ ٱللَّهَ شَيۡـٔٗا وَسَيُحۡبِطُ أَعۡمَٰلَهُمۡ
بے شک جو لوگ کافر ہو گئے، انہوں نے لوگوں کو خدا کی راہ سے روکااور حق کے ظاہر ہو جانے کے بعد رسول خدا کی مخالفت کی تو وہ خدا کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچاتے جب کہ و ہ(اللہ) بہت جلد ان کے اعمال کو اکارت کر دے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 34 کے تحت ملاحظہ کریں۔

33
47:33
۞يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ وَلَا تُبۡطِلُوٓاْ أَعۡمَٰلَكُمۡ
اے وہ لوگوں جو ایمان لے آئے ہو! خد اکی اطاعت کر و، رسول خدا کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 34 کے تحت ملاحظہ کریں۔

34
47:34
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ثُمَّ مَاتُواْ وَهُمۡ كُفَّارٞ فَلَن يَغۡفِرَ ٱللَّهُ لَهُمۡ
جو لوگ کافر ہو گئے اور انہوں نے لوگوں کو خدا کی راہ سے روکا، پھر کافر ہی مر گئے تو خدا ان کو ہر گز نہیں بخشے گا۔

تفسیر کفر کی حالت میں مرنے والے نہیں بخشے جائیں گے:

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

گزشتہ آیات میں منافقین کے بارے میں مختلف زاویوں سے گفتگو کی گئی تھی اب ان آیات میں کفار کے ایک اور ٹولے کے بارے میں گفتگو ہو رہی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: بےشک جو لوگ کافر ہو گئے انہوں نے لوگوں کو خدا کی راہ سے روکا اور حق ظاہر ہو جانے کے بعد رسولؐ خدا کی مخالفت کی تو وہ خدا کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچاتے اور وہ بہت جلد ان کے اعمال کا اکارت کر دے گا (إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّواعَن سَبِيلِ اللهِ وَشَاقُّوا الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الهُدَى لَن يَضُرُّوا اللهَ شَيْئًا وَسَيُحْبِطُ أَعْمَالَهُمْ)۔ ہو سکتا ہے کہ یہ لوگ وہی مشرکین مکّہ ہوں یا مدینہ کے کافر یہودی ہوں یا دونوں قسم کے لوگ ہوں، کیونکہ "کُفر" اور " صَدُّ عَنْ سَبیلِ اللَّہِ" (لوگوں کو راہ خدا سے روکنا) کی تعبیر قرآنی آیات میں دونوں قسم کے لوگوں کے بارے میں آئی ہے۔ "تبین ھدایت" مشرکین مکّہ کے بارے میں معجزات کے ذریعے تھی اور اہل کتاب کافروں کے بارے میں ان کی آسمانی کتاب کے ذریعے سے۔ ان کے اعمال کا اکارت جانا یا تو ان کے ان نیک اعمال کی طرف اشارہ ہے جو وہ کبھی کبھار انجام دیا کرتے تھے، جیسے مہمان نوازی، مسافرین کی امداد اور انہیں کھانا پلانا وغیرہ یا پھر ان کے اسلام کے خلاف منصوبوں کی ناکامی کی طرف اشارہ ہے۔ بہرحال، ان لوگوں میں تین قسم کے صفات پائی جاتی تھیں ایک کُفر، دوسری "صَدُّ عَنْ سَبیلِ اللَّہِ" اور تیسری رسولؐ پاک سے دشمنی۔ پہلی صفت تو خدا کے ساتھ مخالفت پر مبنی تھی، دوسری اس کے بندوں کے ساتھ مخالفت پر اور تیسری رسُولؐ اللہ کے ساتھ مخالفت پر۔ بعد کی آیت میں رُوئے سخن موٴمنین کی طرف ہے اور کفّار و منافقین کے طرز عمل کو واضح کرنے کے بعد ان کے راستے کی ان الفاظ میں وضاحت کی گئی ہے: اے وہ لوگو جو ایمان لے آئے ہو! خدا کی اطاعت کرو، رسولِؐ خدا کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو باطل نہ کرو (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ)۔ حقیقت یہ ہے کہ مومنین کی تمام زندگی کفار و منافقین کی زندگی کے بالکل برعکس ہے کیونکہ کفار و منافقین فرمانِ الہٰی کی مخالفت کرتے ہیں اور مومنین اطاعت کرتے ہیں وہ رسُولؐ خدا سے دشمنی کرتے ہیں اور یہ آپ کی فرمانبر داری اُن کے اعمال کُفر، ریا کاری اور احسان جتانے کے ذریعے اکارت ہو جاتے ہیں جبکہ مومنین کے اعمال ان چیزوں سے خالی ہوتے ہیں اوران کی جزا خدا کے پاس محفوظ ہے۔ بہرحال، آیت کا انداز بتا رہا ہے کہ اس زمانے میں کچھ ایسے مومنین بھی تھے جو خدا اور سُول کی اطاعت اور اپنے اعمال کی حفاظت کے معاملے میں کوتاہی کیا کرتے تھے، جنہیں خداوند عالم نے ان آیات کے ذریعے خبردار کیا ہے۔ بعض فقہا نے "وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ" کے ذریعے نماز کو توڑنے کی حرمت پر استدلال قائم کیا ہے، لیکن جیسا کہ گزشتہ اور آیندہ آیات اِسی طرح خود یہی آیت گواہی دے رہی ہیں کہ اس کا اس معنی سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ شرک و کُفر، ریا کاری اور احسان جتانے وغیرہ کے ذریعے اپنے اعمال کو باطل نہ کرنا ہے۔ اس سلسلے کی آخری آیت، گزشتہ آیات میں کفار کے متعلق جو کچھ بیان ہو چکا ہے، ان کی وضاحت اور تاکید کے طور پر ہے اور ساتھ ہی ان لوگوں کو توبہ اور بازگشت کے راستے بتا رہی ہے جو توبہ کرنے کے لیے مائل ہوں، ارشاد ہوتا ہے: بےشک جو لوگ کافر ہو گئے اور انہوں نے لوگوں کو خدا کی راہ سے روکا، پھر کافر ہی مر گئے تو خدا ان کو ہرگز نہیں بخشنے گا۔ (إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللهِ ثُمَّ مَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَن يَغْفِرَ اللهُ لَهُمْ)۔ کیونکہ موت کے ساتھ ہی توبہ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں اور وہ اپنے کُفر اور دوسروں کی گمراہی کا بوجھ اپنے کندھوں پر اُٹھا کر اس دُنیا سے سدھاریں گے، تو پھر انہیں کیسے معاف کیا جا سکتا ہے؟ تو اس طرح ان آیات میں مجموعی طور پر تین قسم کے لوگوں کا تذکرہ ہوا ہے، منافقین کا، کفار کا اور مومنین کا اور ان میں سے ہر ایک کی صفات اور انجام کو علیٰحدہ علیٰحدہ بیان کیا گیا ہے۔

ثواب ضائع ہونے کے اسباب:

قرآن کی مختلف آیات بشمول زیر تفسیر آیت میں جن حساس نکتوں کی طرف زیادہ توجہ دلائی گئی ہے اور خبردار کیا گیا ہے ان میں ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ مومنین ہوشیار رہیں کہ ان کے اعمال بھی کفّار کے اعمال کی طرح اکارت نہ چلے جائیں، بالفاظ دیگر خود عمل ایک علیٰحدہ بات ہے اور اس کی حفاظت ایک اور بات، اگرچہ عمل بھی اہم چیز ہے لیکن عمل کی حفاظت اس سے اہم تر ہے، ایک پاک و پاکیزہ، صحیح و سالم اور مفید عمل وہی ہوتا ہے جوآغاز سے ہی صحیح و سالم اور بےعیب ہو اور آخری عمر تک اس کی حفاظت کی جائے۔ جو اسباب و عوامل انسان کے اعمال کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں یا انہیں نیست و نابُود کر دیتے ہیں، بہت ہیں جن میں چند ایک یہ ہیں۔ ۱۔ احسان جتانا اور تکلیف پہنچانا، جیسا کہ قرآن فرماتا ہے: " يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تُبْطِلُواْ صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَى كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلاَ يُؤْمِنُ بِاللهوَالْيَوْمِ الآخِرِ۔" "اے ایمان دارو! اپنے مال کے راہ خدا میں خرچ کو احسان جتانے اور تکلیف پہنچانے کے ذریعے ضائع مت کرو، اس شخص کے مانند جو اپنے مال کو لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرتا ہے اور خدا اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ (بقرہ / ۲۶۴)۔ یہاں پر عمل ضائع ہونے کے دو عوامل بتائے گئے ہیں۔ ایک منت جتانا اور تکلیف پہنچانا اور دوسرے ریا کاری اور کفر میں، پہلا عامل عمل کی انجام دہی کے بعد درپیش آتا ہے اور دوسرا اس کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ اور نیک اعمال کوآگ میں ڈال دیتا ہے۔ ۲۔ عجب اور خود پسندی ایک اور عامل ہے جو آثارِ عمل کو مٹا دینا ہے، لہذا حدیث میں ہے: "العجب یاکل الحَسنات کما تاکُل النّار الحطب۔" خود پسندی نیکیوں کو یُوں ختم کر دیتی ہے، جس طرح آگ ایندھن کو۔ (بحوالہ: تفسیر رُوح البیان، جلد۸، صفحہ ۵۲۳)۔ ۳۔ حسد بھی نیکیوں کے ضائع ہونے کا ایک سبب ہے اور اس کے بارے میں بھی حدیث میں تقریباً وہی الفاظ استعمال ہُوئے ہیں جو عجب و خود پسندی کے بارے میں ہیں: چنانچہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: "إیّاکم وَالحَسَد فَإنَّ الحسدَ ليأكُلُ الحسناتِ كما تأكُلُ النَّارُ الحطَبَ" (بحوالہ: بحار الانوار، جلد۷۳، صفحہ۲۵۵)۔ اصولی طور پر جس طرح اچھائیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ " إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ۔" اسی طرح کبھی کبھی برائیاں بھی اچھائیوں کو بالکل بےاثر بنا دیتی ہیں۔ ۴۔ مرتے دم تک ایمان پر قائم رہنا بقائے عمل کی اہم ترین شرط ہے، کیونکہ قرآن مجید صراحت کے ساتھ کہہ رہا ہے کہ جو لوگ بےایمان ہو کر مرتے ہیں ان کے سارے کے سارے عمل اکارت جاتے ہیں۔ (بحوالہ: سُورہٴ زمرآیت ۶۵)۔ اسی سے ہم اعمال کی حفاظت کے مسئلے کی اہمیّت اور مشکلات کا اندازہ لگاتے ہیں، لہٰذا ایک حدیث میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: " ألَا بقاء على العمل أشدّ من العمل، قال وَما الإبقاء على العمل؟ قال يصل الرّجل بصلة وَينفق نفقة للَه وحده ولا شريك له، فكتب له سرا ثُمّ يذكرها فتمحى فتكتب له علانية، ثم يذكرها فتمحى وتكتب له رياء۔" "اعمال کی حفاظت خود اعمال کی بجا آوری سے زیادہ سخت ہے، راوی نے عرض کیا، اعمال کی حفاظت سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: انسان کبھی بخشش کرتا ہے یا راہ خدا میں چھپ کر خرچ کرتا ہے تو اس کے نامہٴ اعمال میں ایک مخفی عمل لکھا جاتا ہے، پھر کسی جگہ پر اس کا تذکرہ کرتا ہے تو مخفی نیکی کے بجائے ظاہری نیکی لِکھ دی جاتی ہے پھر ایک اور جگہ پر اسے بیان کرتا ہے تو نیکی مٹا کر ریا کاری لکھ دی جاتی ہے۔" (بحوالہ: کافی، جلد۲، باب ریاء حدیث ۱۶)۔ زیر تفسیرآیت مذکورہ تمام امور کی طرف ایک اجمالی اشارہ کرتے ہوئے فرماتی ہے: "وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ۔" (تشریحی نوٹ: اعمال کے ضائع ہونے کے بارے میں مزید تفصیل تفسیر نمونہ جلد دوم سورہٴ بقرہ کی ۲۱۷ ویں آیت کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں)۔

35
47:35
فَلَا تَهِنُواْ وَتَدۡعُوٓاْ إِلَى ٱلسَّلۡمِ وَأَنتُمُ ٱلۡأَعۡلَوۡنَ وَٱللَّهُ مَعَكُمۡ وَلَن يَتِرَكُمۡ أَعۡمَٰلَكُمۡ
پس تم کبھی ہمت نہ ہارو اور دشمن کو (رسوا کن) صلح کی دعوت نہ دو۔ تم تو غالب ہو ۔ خدا تمہارے ساتھ ہے اور وہ تمہارے اعمال کے ثواب میں ہر گز کمی نہ کرے گا۔

تفسیر بے جا اور رُسواکن صلح

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

گزشتہ آیات جہاد کے سلسلہ میں تھیں اور یہ آیت بھی جہاد ہی کے بارے میں ایک اہم نکتے کی طرف اشارہ کر رہی ہے اور وہ یہ کہ سُست اور ضعیف الایمان افراد جہاد کی سختیوں اور میدانِ جنگ کی مشکلات سے جان چھڑانے کے لیے عام طور پر "صُلح" کا پرچار کرنے لگتے ہیں۔ یقینا صُلح ایک بہت اچھی چیز ہے، لیکن اپنے مقام پر، ایسی صُلح جو اسلام کے اعلیٰ مقاصد کی تکمیل کرے اور مسلمانوں کی عزت و عظمت اور شرافت کی حفاظت کرے، نہ کہ وہ صلح جو مسلمانوں کی ذلت اور خواری کا باعث بن جائے۔ اسی لیے ارشاد فرمایا گیا ہے: اب جب گزشتہ احکام کو تم نے سُن لیا تو اب تم ہمّت نہ ہارو اور دشمن کو صلح کی دعوت نہ دو تم برتر ہو۔ (فَلَاتَهِنُوا وَتَدْعُوا إِلَى السَّلْمِ وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ)۔ (تشریحی نوٹ: "تدعوا" مجزوم ہے اور "لَا تَھِنُوا" پر اس کا عطف ہے، جس کا معنی یہ ہے: "لَا تَهِنُوا وَتَدْعُوا إِلَى السَّلْمِ ")۔ یعنی اب جبکہ تمہاری فتح و برتری کی علامت ظاہر ہو چکی ہے تو تم ایسی صلح کی پیش کش کر کے اپنی کامیابی کو ملیامیٹ کر رہے ہو جس صلح کا معنی پیچھے ہٹنا اور شکست تسلیم کرنا ہے۔ یہ تو سُستی اور کمزوری کی وجہ سے ہے، یہ ایک طرح بڑی آرام طلبی ہے، جس کے نتائج نہایت ہی درد ناک اور خطر ناک ہوتے ہیں۔ اسی آیت کے ضمن میں مسلم مجاہدین کے حوصلے بلند کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے: اور خدا تمہارے ساتھ ہے اور وہ ہرگز تمہارے اعمال کے ثواب کو کم نہ کرے گا (وَاللهُ مَعَكُمْ وَلَن يَتِرَكُمْ أَعْمَالَكُمْ)۔ جس کے ساتھ خدا ہے کامیابی کے تمام اسباب و عوامل بھی اسی کے پاس ہیں وہ اپنے آپ کو کبھی اکیلا نہیں سمجھتا، نہ تو کسی سُستی کا اظہار کرتا ہے اور نہ ناتوانی کا، صلح کے نام پر دشمن کے آگے ہتھیار نہیں ڈالتا، شہیداء کے خون سے حاصل ہونے والے نتائج کو برباد نہیں کرتا۔ "لَن يَتِرَكُمْ"، "وتر" (بروزن "سطر") کے مادہ سے ہے، جس کا معنی ہے "اکیلا" اسی لیے ان لوگوں کو "وتر" (بروزن "فکر") کہتے ہیں جن کے قریبی رشتہ دار میدانِ جنگ میں مارے جاتے ہیں اور وہ اکیلے رہ جاتے ہیں۔ نقص اور کمی کو بھی "وتر" کہتے ہیں اور زیر تفسیر آیت میں اسی چیز کو کنایہ میں بیان کیا گیا ہے کہ خدا تمہیں اکیلا نہیں چھوڑے گا اور تمہارے اعمال کے اجر و ثواب کو تمہارے ہمراہ کر دے گا۔ خاص کر یہ تو جب تم جانتے ہو کہ جہاد کی راہ میں تم جو بھی قدم اٹھاتے ہو وہ لکھ لیے جاتے ہیں اس سے صرف یہ نہیں کہ تمہارے اجر و ثواب میں سے کُچھ کمی نہیں کرتا، بلکہ اپنے فضل و کرم سے اس میں اضافہ بھی کرتا ہے۔ ہمارے ان تمام بیانات کا جو صُلح کے بارے میں سُورہٴ انفال کی ۶۱ ویں آیت سے کوئی تضاد نہیں ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ: "وَإِن جَنَحُواْ لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ" اگر وہ صلح پر مائل ہو جائیں تو تجھے بھی صلح کر لینی چاہیے اور خدا پر بھروسہ رکھ، کیونکہ وہ سُننے اور جاننے والا ہے۔ ان میں سے کسِی آیت کو دوسری کا ناسخ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بلکہ ان دونوں کا اپنا اپنا خاص موقع ہے ایک "معقول صلح" کا تحفظ کیا جاتا ہے اور دوسری وہ ہے جو فتح اور کامرانی کے نزدیک کے وقت ضعیف اور سُست ایمان مسلمانوں کی طرف سے پیش کی جاتی ہے، اسی لیے سُورہٴ انعال ۶۱ والی آیت کے بعد کے حصّے میں فرمایا گیا ہے: "وَإِن يُرِيدُواْ أَن يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ اللهُ۔" اور وہ اگر صلح کی بات کر کے تمہیں دھوکا دینا چاہیں اور اس کے پردے میں کوئی فریب کاری کار فرما ہو تو ان کی باتوں میں ہرگز نہ آاور نہ ہی گھبرا، کیونکہ خدا تیرا پشت پناہ ہے۔" امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام مالک اشتر کے نام اپنے ایک فرمان میں ان دونوں قسم کی صلح کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے ارشاد فرماتے ہیں: " وَلاَ تَدْفَعَنَّ صُلْحاً دَعَاكَ إِلَيْهِ عَدُوُّكَ وَلِلهِ فِيهِ رِضًى۔" "جب دشمن تمہیں ایسی صلح کی دعوت دیں جس میں خدا کی رضا مندی ہو تو اس پیش کو مت ٹھکراؤ۔" (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ۵۳)۔ دشمن کی طرف سے صلح کی دعوت ایک طرف سے اور خدا کی رضا کا اس میں شامل ہونا دوسری طرف سے، تو اس طرح سے صلح دو حِصّوں میں تقسیم ہو گئی جن کی طرف ہم اوپر اشارہ کر چکے ہیں۔ بہرحال، مسلمان سربراہوں کو صلح و جنگ کے موقع کی پہچان کرنی چاہیے، کیونکہ یہ ایک نہایت ہی باریک ترین اور پیچیدہ ترین مسئلہ ہے، جس میں نہایت ہی وقت اور ہوشیاری کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس بارے میں ذرا سی حسابی غلطی کا ہولناک اور مہیب انجام ہوتا ہے۔

36
47:36
إِنَّمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا لَعِبٞ وَلَهۡوٞۚ وَإِن تُؤۡمِنُواْ وَتَتَّقُواْ يُؤۡتِكُمۡ أُجُورَكُمۡ وَلَا يَسۡـَٔلۡكُمۡ أَمۡوَٰلَكُمۡ
دنیوی زندگی تومحض کھیل تماشا ہے، اگر تم ایمان رکھو اور تقویٰ اختیار کرو تو وہ تم کو پورا اجرعطا فرمائے گااور (اس کے عوض) تم سے تمہارا مال طلب نہیں کروں گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 38 کے تحت ملاحظہ کریں۔

37
47:37
إِن يَسۡـَٔلۡكُمُوهَا فَيُحۡفِكُمۡ تَبۡخَلُواْ وَيُخۡرِجۡ أَضۡغَٰنَكُمۡ
کیونکہ اگر وہ تم سے مال طلب کرے ،بلکہ تم سے اصرار کر کے مانگے بھی، تو تم بخل کرتے ہو اور وہ تمہارے غصے اور کینے کو ظاہر کرد ے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 38 کے تحت ملاحظہ کریں۔

38
47:38
هَـٰٓأَنتُمۡ هَـٰٓؤُلَآءِ تُدۡعَوۡنَ لِتُنفِقُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَمِنكُم مَّن يَبۡخَلُۖ وَمَن يَبۡخَلۡ فَإِنَّمَا يَبۡخَلُ عَن نَّفۡسِهِۦۚ وَٱللَّهُ ٱلۡغَنِيُّ وَأَنتُمُ ٱلۡفُقَرَآءُۚ وَإِن تَتَوَلَّوۡاْ يَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَيۡرَكُمۡ ثُمَّ لَا يَكُونُوٓاْ أَمۡثَٰلَكُم
جی ہاں !تم وہی لوگ تو ہو جو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے بلائے جاتے ہو تو بعض تم میں سے ایسے ہیں جو بخل کرتے ہیں، جو شخص بخل کرتا ہے تو وہ اپنے ہی سے بخل کرتاہے اور خد اتو بے نیاز ہے جب کہ تم سب محتاج ہو۔ اور اگر تم روگردانی کرو گے تو خدا تمہاری جگہ پر دوسرے لوگوں کو لے آئے گا۔ اور وہ تمہاری طرح نہیں ہوں گے۔

تفسیر اگر تم روگردانی کرو گے تو دوسرے لوگ آ جائیں گے:

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

الحمد للہ علی توفیقہ

end of chapter