Al-Qadr
سورہ ٴ القدر
یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۵ آیات ہیں۔
سُورہٴ "قدر" کے مطالب اور اس کی فضیلت
اِس سُورہ کا مضمون، جیسا کہ اس کے نام سے بھی ظاہر ہوتا ہے، شبِ قدر میں قرآن کے نزول پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد شبِ قدر کی اہمیت اور اس کے برکات و آثار کا بیان ہے۔ اس بارے میں کہ یہ سُورہ "مکہ" میں نازل ہوا ہے یا "مدینہ" میں، مفسرین کے درمیان مشہور اس کا "مکی" ہونا ہے، لیکن بعض نے احتمال دیا ہے کہ یہ مدینہ میں نازل ہوا کیونکہ ایک روایت میں آیا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خواب میں دیکھا کہ "بنی اُمیہ" آپؐ کے منبر پر چڑھ گئے ہیں۔ یہ چیز آپؐ پر گراں گزری اور آپؐ رنجیدہ ہوئے تو سُورہ قدر نازل ہوئی اور آپؐ کو تسلی دی گئی، (لہٰذا بعض علماء "لَیلَةُ القَدرِ خَیرٌ مِن أَلفِ شَهرٍ" کو بنی اُمیہ کی حکومت کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جو تقریباً ایک ہزار ماہ رہی)۔ اور ہم جانتے ہیں کہ مسجد اور منبر مدینہ میں بنائے گئے تھے۔ (بحوالہ: "روح المعانی" جلد ۳۰، ص ۱۸۸ و "در المنثور" جلد ۶، ص ۳۷۱)۔ اس سُورہ کی فضیلت میں یہی کافی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہے کہ آپؐ نے فرمایا: "من قراٴھا اعطی من الاجر کمن صام رمضان و احیا لیلة القدر" "جو شخص اس کی تلاوت کرے گا تو وہ اس شخص کی طرح ہو گا جس نے ماہِ رمضان کے روزے رکھے اور شب قدر کو احیاء کیا ہو۔" (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد۱۰، ص ۵۱۶)۔ ایک اور حدیث میں امام محمّد باقر علیہ السلام سے مروی ہے: "مَنْ قَرَأَ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ بِجَهْرٍ كَانَ كَمَنْ شَهَرَ سَيْفَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَنْ قَرَأَهَا سِرًّا كَانَ كَالْمُتَشَحِّطِ بِدَمِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ۔" "جو شخص سورہ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ کو بلند آواز سے پڑھے، وُہ اس شخص کی مانند ہے جس نے راہِ خدا میں تلوار کھینچی اور جہاد کیا، اور جو شخص اسے آہستہ اور پنہاں طور پر پڑھے، وہ اس شخص کے مانند ہے جو راہِ خدا میں اپنے خون میں لت پت ہو۔" (تشریحی نوٹ: دہی مدرک)۔ واضح ہے کہ یہ سب فضیلت اس شخص کے لئے نہیں ہے جو اسے پڑھے تو سہی لیکن اس کی حقیقت کو نہ سمجھے، بلکہ یہ اس شخص کے لئے ہے جو اسے پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھتا بھی ہو، اور اس کے مضمون پر عمل کرتا ہو، قرآن کو عظیم سمجھتا ہو، اور اس کی آیات کو اپنی زندگی میں عملی شکل دیتا ہو۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 14تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 14تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 14تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر شب قدر نزولِ قرآن کی رات
Tafsīr Nemūna · Vol. 14قرآن کی آیات سے اچھی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید ماہِ مبارک رمضان میں نازل ہوا ہے: " شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ" (البقرہ: ۱۸۵)۔ اور اس تعبیر کا ظاہر یہ ہے کہ سارا قرآن اسی ماہ میں نازل ہوا۔ اور سورہ قدر کی پہلی آیت میں مزید فرماتا ہے: ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا ہے۔" اِنَّا اَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ۔" اگرچہ اس آیت میں صراحت کے ساتھ قرآن کا ذکر نہیں کیا گیا، لیکن یہ مسلم حقیقت ہے کہ "اِنَّا اَنْزَلْنَاهُ" کی ضمیر قرآن کی طرف ہی لوٹتی ہے۔ اور اس کا ظاہری ابہام اس کی عظمت اور اہمیت کے بیان کے لیے ہے۔ "اِنَّا اَنْزَلْنَاهُ" (ہم نے اسے نازل کیا) کی تعبیر بھی اس عظیم آسمانی کتاب کی عظمت کی طرف ایک اور اشارہ ہےجس کے نزول کی خدا نے اپنی طرف نسبت دی ہے خصوصاً صیغۂ متکلم مع الغیر کے ساتھ جو جمع کا مفہوم رکھتا ہے، اور عظمت کی دلیل ہے۔ اس کا شب "قدر" میں نزول، وہی شب جس میں انسانوں کی سرنوشت اور مقدّرات کی تعین ہوتی ہے۔ یہ اس عظیم آسمانی کتاب کے سرنوشت ساز ہونے کی ایک اور دلیل ہے۔ اس آیت کو سُورہ بقرہ کی آیت کے ساتھ ملانے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ شب قدر ماہ مبارک رمضان میں ہے۔ لیکن وہ کون سی رات ہے قرآن سے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوتا۔ لیکن روایات میں اس سلسلہ میں بہت زیادہ بحث آئی ہے۔ ہم انشاء اللہ اس سورہ کے آخر میں اس سلسلہ میں بھی اور دوسرے مسائل کے بارے میں بھی گفتگو کریں گے۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ تاریخی لحاظ سے بھی اور قرآن کے مضمون کے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی زندگی سے ارتباط کے لحاظ سے بھی یہ مسلم ہے کہ یہ آسمانی کتاب تدریجی طور پر اور ۲۳ سال کے عرصہ میں نازل ہوئی ہے۔ یہ بات اُوپر والی آیات سے جو یہ کہتی ہیں کہ ماہ رمضان میں اور شب قدر میں نازل ہوئی، کس طرح سازگار ہوگی؟ اس سوال کا جواب۔ جیسا کہ بہت سے محققین نے کہا ہے۔ یہ ہے کہ قرآن کے دو نزول ہیں۔ ۱۔ نزول دفعی جو ایک ہی رات میں سارے کا سارا پیغمبر اکرمؐ کے پاک قلب پر یا بیتُ المعمور پر یا لوحِ محفوظ سے نچلے آسمان پر نازل ہوا۔ ۲۔ نزول تدریجی: جو تئیس ۲۳ سال کے عرصہ میں نبوت کے دوران انجام پایا۔(ہم سورہ دخان کی آیت ۳ جلد ۱۲ تفسیر نمونہ ص ۲٦ سے آگے اس مطلب کی تشریح کر چکے ہیں۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ آغازِ نزولِ قرآن شبِ قدر میں ہوا تھا، نہ کہ سارا قرآن، لیکن یہ چیز آیت کے ظاہر کے خلاف ہے، جو کہسی ہے کہ ہم نے قرآن کو شب قدر میں نازل کیا ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن کے نازل ہونے کے سلسلے میں بعض آیات میں "انزال" اور بعض میں "تنزیل" کی تعبیر ہوئی ہے۔ اور لغت کے کچھ متنوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ "تنزیل" کا لفظ عام طور پر وہاں بولا جاتا ہے جہاں کوئی چیز تدریجاً نازل ہو لیکن "انزال" زیادہ وسیع مفہوم رکھتا ہے جو نزول دفعی کو بھی شامل ہوتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: مفردات راغب مادّہ نزل)۔ تعبیر کا یہ فرق جو قرآن کی آیات میں آیا ہے ممکن ہے کہ اُوپر والے دو نزولوں کی طرف اشارہ ہو۔ بعد والی آیت میں شب قدر کی عظمت کے بیان کے لئے فرماتا ہے: "تو کیا جانے کہ شب قدر کیا ہے۔ (وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ)۔ اور بلافاصلہ کہتا ہے: "شب قدر ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینے سے بہتر ہے۔" (لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ)۔ یہ تعبیر اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ اس رات کی عظمت اس قدر ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نورِ مسجم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم تک بھی اپنے اس وسیع و عریض علم کے باوجود آیات کے نزول سے پہلے واقف نہیں تھے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہزار ماہ اسّی (۸۰) سال سے زیادہ ہے۔ واقعاً کتنی باعظمت رات ہے جو ایک پُر برکت طولانی عمر کے برابر قدر و قیمت رکھتی ہے۔ بعض تفاسیر میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "بنی اسرائیل میں سے ایک شخص نے لباسِ جنگ زیب تن کر رکھا تھا، اور ہزار ماہ تک اُسے نہ اُتارا، وہ ہمیشہ جہاد فی سبیل اللہ میں مشغول (یا آمادہ) رہتا تھا۔ پیغمبر اکرمؐ کے اصحاب و انصار نے تعجب کیا، اور آرزو کی کہ کاش اس قسم کی فضیلت و افتخار انہیں بھی میسر آتے، تو اُوپر والی آیات نازل ہوئیں۔ اور بیان کیا کہ شب قدر ہزار ماہ سے افضل ہے۔ (بحوالہ: "در المنثور" جلد ۶، ص ۳۷۱)۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے بنی اسرائیل کے چار افراد کا ذکر کیا جنہوں نے اسی سال بغیر معصیت کیے خدا کی عبادت کی تھی۔ اصحاب نے آرزو کی کہ کاش وہ بھی اس قسم کی توفیق حاصل کرتے، تو اس سلسلے میں اُوپر والی آیات نازل ہوئیں۔ (بحوالہ: "در المنثور" جلد ۶، ص ۳۷۱)۔ اس بارے میں کہ یہاں ہزار کا عدد "تعداد" کے لیے ہے یا "تکثیر" کے لیے بعض نے کہا ہے: یہ تکثیر کے لیے ہے، اور شب قدر کی قدر و منزلت کئی ہزار ماہ سے بھی زیادہ ہے، لیکن وہ روایات جو ہم نے اُوپر نقل کی ہیں وہ اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ عددِ مذکور تعداد ہی کے لیے ہے۔ اور اصولی طور پر بھی عدد ہمیشہ تعداد کے لیے ہوتا ہے مگر یہ کہ تکثیر پر کوئی واضح قرینہ موجود ہو۔ اس کے بعد اس عظیم رات کی مزید تعریف و توصیف کرتے ہوئے اضافہ کرتا ہے: "اس رات میں فرشتے اور رُوح اپنے پروردگار کے اذن سے ہر کام کی تقدیر کے لیے نازل ہوتے ہیں۔" (تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ)۔ اِس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ "تنزل" فعل مضارع ہے اور استمرار پر دلالت کرتا ہے (جو اصل میں "تتنزل" تھا)۔ واضح ہو جاتا ہے کہ شبِ قدر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور نزولِ قرآن کے زمانہ کے ساتھ مخصوص نہیں تھی، بلکہ یہ ایک امرِ مستمر ہے، اور ایسی رات ہے جو ہمیشہ آتی رہتی ہے اور ہر سال آتی ہے۔ اِس بارے میں کہ رُوح سے کیا مُراد ہے بعض نے تو یہ کہا ہے کہ اس سے مُراد "جبرئیل امین" ہے، جسے "رُوح الامین" بھی کہا جاتا ہے، اور بعض نے "رُوح" کی سُورہ شوریٰ کی آیہ ۵۲ "وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا "، "جیسا کہ ہم نے گزشتہ انبیاء پر وحی کی تھی، اسی طرح سے تجھ پر بھی اپنے فرمان سے وحی کی ہے۔" کے قرینہ سے "وحی" کے معنی میں تفسیر کی ہے۔ اِس بناء پر آیت کا مفہوم اس طرح ہو گا "فرشتے وحی الٰہی کے ساتھ، مقدرات کی تعیین کے سلسلے میں، اس رات میں نازل ہوتے ہیں۔" یہاں ایک تیسری تفسیر بھی ہے جو سب سے زیادہ قریب نظر آتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ "رُوح" ایک بہت بڑی مخلوق ہے جو فرشتوں سے مافوق ہے، جیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ ایک شخص نے آپ سے سوال کیا: کیا رُوح وہی جبرئیل ہے"؟ امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: "جبرئیل من الملائکہ، والروح اعظم من الملائکۃ ان اللہ عزّوجل یقول: تنزل الملائکۃ والروح۔" "جبرئیل تو ملائکہ میں سے ہے، اور رُوح ملائکہ سے زیادہ عظیم ہے۔ کیا خداوند تعالیٰ یہ نہیں فرماتا: 'ملائکہ اور رُوح نازل ہوتے ہیں"؟ (بحوالہ: "در المنثور" جلد ۶، ص ۴۷۱)۔ یعنی مقابلہ کے قرینہ سے یہ دونوں آپس میں مختلف ہیں۔ لفظ "رُوح" کے لیے یہاں دوسری تفاسیر بھی ذکر ہوئی ہیں کیونکہ ان کے لیے کوئی دلیل نہیں تھی، لہٰذا ان سے صرفِ نظر کی گئی ہے۔ "من کل امر" سے مُراد یہ ہے کہ فرشتے سرنوشتوں کی تقدیر و تعین کے لیے، اور ہر خیر و برکت لانے کے لیے اس رات میں نازل ہوتے ہیں، اور ان کے نزول کا مقصد ان امور کی انجام دہی ہے۔ یا یہ مُراد ہے کہ ہر امرِ خیر اور ہر سرنوشت اور تقدیر کو اپنے ساتھ لاتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: پہلی تفسیر کے مطابق "من" کے معنی میں ہے اور "من کل امر" کا مطلب "لاجل کل امر" ہے، اور دوسری تفسیر کے مطابق "من" باء مصاجت" کے معنی میں ہے)۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سے مُراد یہ ہے کہ وہ خدا کے امر و فرمان سے نازل ہوتے ہیں لیکن مناسب وہی پہلا معنی ہی ہے۔ "ربّھم" کی تعبیر، جس میں ربوبیت اور تدبیرِ جہاں کے مسئلہ پر بات ہوئی ہے، ان فرشتوں کے کام کے ساتھ قریبی مناسبت رکھتی ہے، کہ وہ امور کی تدبیر و تقدیر کے لیے نازل ہوتے ہیں، اور ان کا کام بھی پروردگار کی ربوبیت کا ایک گوشہ ہے۔ اور آخری آیت میں فرماتا ہے: "یہ ایک ایسی رات ہے، جو طلوعِ صبح تک سلامتی اور خیر و برکت و رحمت سے پُر رہتی ہے۔" (سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ)۔ قرآن بھی اسی میں نازل ہوا، اس کا احیاء اور شب بیداری بھی ہزار ماہ کے برابر ہے، خدا کی خیرات و برکات بھی اسی شب میں نازل ہوتی ہیں، اس کی رحمتِ خاص بھی بندوں کے شاملِ حال ہوتی ہے، اور فرشتے اور رُوح بھی اسی رات میں نازل ہوتے ہیں۔ اسی بناء پر یہ ایک ایسی رات ہے جو آغاز سے اختتام تک سراسر سلامتی ہی سلامتی ہے۔ یہاں تک کہ بعض روایات کے مطابق تو اس رات میں شیطان کو زنجیر میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ لہٰذا اس لحاظ سے بھی یہ ایک ایسی رات ہے جو سالم اور سلامتی سے توأم ہے۔ اس بناء پر "سلام" کا اطلاق، جو سلامت کے معنی میں ہے، (سالم کے اطلاق کے بجائے) حقیقت میں ایک قسم کی تاکید ہے، جیسا کہ بعض اوقات ہم کہہ دیتے ہیں کہ فلاں آدمی عین عدالت ہے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس رات پر "سلام" کا اطلاق اس بناء پر ہے کہ فرشتے مسلسل ایک دوسرے پر یا مومنین پر سلام کرتے ہیں، یا پیغمبرؐ کے حضور میں اور آپ کے معصوم جانشین کے حضور میں جا کر سلام عرض کرتے ہیں۔ ان تفسیروں کے درمیان جمع بھی ممکن ہے۔ بہرحال، یہ ایک ایسی رات ہے جو ساری کی ساری نور و رحمت، خیر و برکت، سلامت و سعادت اور ہر لحاظ سے بےنظیر ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ امام محمّد باقر علیہ السلام سے پوچھا گیا، کیا آپ جانتے ہیں کہ شبِ قدر کون سی رات ہے؟ تو آپؑ نے فرمایا: "کیف لانعرف و الملائکة تطوف بنا فیھا" "ہم کیسے نہ جانیں گے جب کہ فرشتے اس رات ہمارے گرد طواف کرتے ہیں۔" (بحوالہ: "تفسیر برہان" جلد ۴، ص۴۸۸، حدیث ۲۹)۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ میں آیا ہے کہ خدا کے کچھ فرشتے آپ کے پاس آئے، اور انہیں بیٹے کی تولد کی بشارت دی اور ان پر سلام کیا، (ہود۔۶۹) کہتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کی جو لذّت ان فرشتوں کے سلام میں آئی، ساری دُنیا کی لذّتیں بھی اس کے برابر نہیں تھیں۔ اَب غور کرنا چاہیے کہ جب شبِ قدر میں فرشتے گروہ در گروہ نازل ہو رہے ہوں، اور مومنین کو سلام کر رہے ہوں، تو اس میں کتنی لذّت، لطف اور برکت ہو گی؟! جب ابراہیمؑ کو آتشِ نمرود میں ڈالا گیا، تو فرشتوں نے آ کر آپؑ کو سلام کیا اور آگ ان پر گلزار بن گئی، تو کیا شبِ قدر میں مومنین پر فرشتوں کے سلام کی برکت سے آتشِ دوزخ "برد" و "سلام" نہیں ہو گی؟۔ ہاں! یہ اُمّتِ محمّد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظمت کی نشانی ہے کہ وہاں تو خلیل پر نازل ہوتے ہیں اور یہاں اسلام کی اس اُمّت پر۔ (بحوالہ: "تفسیر فخر رازی" جلد ۳۲، ص ۳۶)۔
چند نکات ۱۔ شب قدر میں کون سے امور مقدّر ہوتے ہیں؟
اِس سوال کے جواب میں کہ اس رات کو، شبِ قدر، کا نام کیوں دیا گیا ہے، بہت کچھ کہا گیا ہے: منجملہ یہ کہ: ۱۔ شب قدر کو شب قدر کا نام اس لیے دیا گیا ہے کہ بندوں کے تمام سال کے سارے مقدرات اسی رات میں معین ہوتے ہیں، اس معنی کی گواہ سورۂ دخان ہے، جس میں آیا ہے: إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ": "ہم نے اس کتابِ مبین کو ایک پُر برکت رات میں نازل کیا ہے، اور ہم ہمیشہ ہی انتباہ کرتے رہتے ہیں، اس رات میں ہر امر خداوندِ عالم کی حکمت کے مطابق تنظیم و تعین ہوتا ہے۔" (دخان: ۳۔۴)۔ یہ بیان متعدد روایات کے ساتھ ہم آہنگ ہے جو کہتی ہیں کہ اس رات میں انسان کے ایک سال کے مقدرات کا تعین ہوتی ہے اور رزق، عمریں اور دوسرے امور اسی مبارک رات میں تقسیم اور بیان کیے جاتے ہیں۔ البتہ یہ چیز انسان کے ارادہ اور مسئلہ اختیار کے ساتھ کسی قسم کا تضاد نہیں رکھتی کیونکہ فرشتوں کے ذریعے تقدیر الٰہی لوگوں کی شائستگیوں اور لیاقتوں، اور ان کے ایمان، تقویٰ اور نیتِ اعمال کی پاکیزگی کے مطابق ہوتی ہے۔ یعنی ہر شخص کے لیے وہی کچھ مقدر کیا جاتا ہے جو اس کے لائق ہوتا ہے، یا دُوسرے لفظوں میں، اس کے مقدمات خود اسی کی طرف سے فراہم ہوتے ہیں، اور یہ امر نہ صرف اختیار کے ساتھ کوئی منافات نہیں رکھتا، بلکہ یہ اس پر ایک تاکید ہے۔ ۲۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس رات کا اس وجہ سے شبِ قدر نام رکھا گیا ہے کہ وہ ایک عظیم قدر و شرافت کی حامل ہے۔ (جس کی نظیر سورۂ حج کی آیت ٧۴ میں آئی ہے) (مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ) انہوں نے حقیقت میں خدا کی قدر و عظمت کو ہی نہیں پہچانا۔" ۳۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن اپنی پوری قدر و منزلت کے ساتھ، قدر و منزلت والے رسولؐ پر اور صاحبِ قدر و منزلت فرشتے کے ذریعے اس میں نازل ہوا ہے۔ ۴۔ یا اس کا مطلب ہے کہ یہ ایک ایسی رات ہے جس میں قرآن کے نازل ہونا مقدر ہوا ہے۔ ۵۔ یا یہ کہ جو شخص اس رات کو بیدار رہے تو وہ صاحبِ قدر و مقام و منزلت ہو جاتا ہے۔ ٦۔ یا یہ بات ہے کہ اس رات میں اس قدر فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ ان کے لیے عرصہ زمین تنگ ہو جاتا ہے، کیونکہ تقدیر تنگ ہونے کے معنی میں بھی آیا ہے۔ وَمَن قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ (طلاق۔٧) ان تمام تفاسیر کا "لیلة القدر" کے وسیع مفہوم میں جمع ہونا پُورے طور پر ممکن ہے اگرچہ پہلی تفسیر زیادہ مناسب اور زیادہ مشہور ہے۔
۲۔ شب قدر کون سی رات ہے؟
اس بارے میں کہ "لیلۃ القدر" ماہِ رمضان میں ہوتی ہے، کوئی شک و شبہ نہیں ہے کیونکہ قرآن کی تمام کی تمام آیات اسی معنی کا اقتضا کرتی ہیں، ایک طرف تو وہ کہتی ہیں کہ قرآن ماہ رمضان میں نازل ہوا ہے (بقرہ۔۱۸۵) اور دوسری طرف یہ کہتی ہیں کہ شب قدر میں نازل ہوا ہے۔ (آیات زیرِ بحث)۔ لیکن اس بارے میں کہ ماہِ رمضان کی راتوں میں سے کون سی رات ہے بہت اختلاف ہے، اور اس سلسلہ میلں بہت سی تفاسیر بیان کی گئی ہیں۔ منجلہ: پہلی رات، سترھویں رات، اُنیسویں رات، اکیسویں رات، تئیسویں رات، ستائیسویں رات اور انتیسویں رات۔ لیکن روایات میں مشہور و معروف یہ ہے کہ ماہِ رمضان کی آخری دس راتوں میں سے اکیسویں یا تئیسویں رات ہے۔ اسی لئے ایک روایت میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم ماہِ مبارک کی آخری دس راتوں میں تمام راتوں کا احیاء فرماتے اور عبادت میں مشغول رہتے تھے۔ ایک روایات میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے کہ شب قدر اکیسویں یا تئیسویں رات ہے، یہاں تک کہ جب راوی نے اصرار کیا کہ ان دونوں راتوں میں سے کون سی رات ہے اور یہ کہا کہ اگر میں ان دونوں راتوں میں عبادت نہ کر سکوں تو پھر کون سی رات کا انتخاب کروں" تو بھی امامؑ نے تعیین نہ فرمائی اور مزید کہا: "ماالیسر لیلتین فیما تطلب" "اس چیز کے لئے جسے تُو چاہتا ہے دو راتیں کس قدر آسان ہیں؟" (بحوالہ: "نور الثقلین" جلد ۵، ص٦۲٦، حدیث۵۸)۔ لیکن متعدد روایات میں جو اہل بیت کے طریقہ سے پہنچی ہیں، زیادہ تر تئیسویں رات پر تکیہ ہوا ہے۔ جب کہ اہل سنّت کی زیادہ تر روایات ستائیسویں رات کے گرد گردش کرتی ہیں۔ ایک روایات میں امام جعفر صادق علیہ سے یہ بھی نقل ہوا ہے کہ آپؑ نے فرمایا: "التقدیر فی لیلۃ القدر تسعۃ عشر، والا برام فی لیلۃ احدی وعشرین، والامضاء فی لیلۃ ثلاث وعشرین۔" "تقدیر مقدرات تو انیسویں کی شب کی ہوتی ہے، اور ان کا حکم اکیسویں رات کو، اور ان کی تصدیق اور منظوری تئیسویں رات کو۔ (بحوالہ: "نور الثقلین" جلد ۵، ص٦۲٦، حدیث٦۲)۔ اور اس طرح سے روایات کے درمیان جمع ہو جاتی ہے۔ لیکن بہرحال، اس وجہ کی بناء پر جس کی طرف بعد میں اشارہ ہو گا، شب قدر کو ابہام کے ایک ہالے نے گھیر رکھا ہے۔
۳۔ شب قدر مخفی کیوں رکھی گئی؟
بہت سے علماء کا نظریہ یہ ہے کہ سال بھر کی راتوں یا ماہِ مبارک رمضان کی راتوں میں شبِ قدر کا مخفی ہونا اس بناء پر ہے کہ لوگ ان سب راتوں کو اہمیت دیں۔ جیسا کہ خدا نے اپنی رضا و خوشنودی کو مختلف قسم کی عبادتوں میں پنہاں کر رکھا ہے تاکہ لوگ سب عبادتوں اور اطاعتوں کی طرف رُخ کریں۔ اور اپنے غضب کو معاصی کے درمیان پنہاں رکھا ہے، تاکہ سب لوگ گناہوں سے پرہیز کریں، اپنے دوستوں کو لوگوں سے مخفی رکھا ہے تاکہ سب کا احترام کریں، اور دُعاؤں کی قبولیت کو مختلف دُعاؤں میں پنہاں رکھا ہے تاکہ دُعاؤں کی طرف رُخ کریں۔ اسمِ اعظم کو اپنے اسماء میں مخفی رکھا ہے تاکہ تمام اسماء کو بزرگ و عظیم سمجھیں۔ اور موت کے وقت کو مخفی رکھا ہے تاکہ ہر حالت میں آمادہ و تیار رہیں۔ اور یہ فلسفہ مناسب نظر آتا ہے۔
۴۔ کیا گزشتہ اُمّتوں میں بھی شب قدر تھی؟
اِس سُورہ کی آیات کے ظاہر سے اس بات کی نشان دہی ہوتی ہے کہ شبِ قدر منزلِ قرآن اور پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ کے ساتھ مخصوص نہیں تھی، بلکہ دنیا کے اختتام تک اس کا ہر سال تکرار ہوتا رہے گا۔ فعل مضارع (تنزل) کی تعبیر، جو استمرار پر دلالت کرتی ہے، اور اسی طرح جملہ اسمیہ "سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ" کی تعبیر بھی، جو دوام کی نشانی ہے، اسی معنی کی گواہ ہے۔ اس کے علاوہ بہت سی روایات بھی، جو شاید حدِ تواتر میں ہیں، اِس معنی کی تائید کرتی ہیں۔ لیکن یہ بات کہ کیا گزشتہ اُمّتوں میں بھی تھی یا نہیں؟ متعدد روایات کی تصریح یہ ہے کہ یہ اُمّت پر مواہبِ الٰہیہ میں سے ہے، جیسا کہ ایک حدیث میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے آیا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: "إنّ اللہ وَھَبَ لِأُمَّتِی لَیلَةَ القَدرِ لَم یُعطِھَا مَن کَانَ قَبلَھُم" "خدا نے میری اُمّت کو شبِ قدر عطا کی ہے، گزشتہ اُمّتوں میں سے کسی کو بھی یہ نعمت نہیں ملی تھی۔" (بحوالہ: "در المنثور" ج۶، ص ۳۷۱)۔ اُوپر والی آیات کی تفسیر میں بعض وارد شدہ روایات اس مطلب پر دلالت کرتی ہیں۔
۵۔ شب قدر ہزار ماہ سے کیسے برتر ہے؟
ظاہر ہے کہ اس شب کا ہزار ماہ سے بہتر ہونا اس رات کو بیدار رہنے اور اس کی عبادت کی قدر و قیمت کی وجہ سے ہے، اور لیلة القدر کی فضیلت اور اس میں عبادت کی فضیلت کی روایات، جو شیعہ اور اہلِ سنّت کی کتابوں میں فراواں ہیں، اس مطلب کی مکمل طور پر تائید کرتی ہیں۔ اِس کے علاوہ اس رات میں قرآن کا نزول اور اس میں برکات اور رحمت الہٰی کا نزول بھی اس بات کا سبب ہے کہ یہ ہزار ماہ سے برتر و بالاتر ہو۔ ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے کہ آپ نے "علی بن ابی حمزہ ثمالی" سے فرمایا: شبِ قدر کی فضیلت کو اکیسویں اور تیئسویں رات میں تلاش کرو، اور ان دونوں راتوں میں سے ہر ایک میں ایک سو رکعت نماز بجا لاؤ۔ اور اگر تم سے ہو سکے تو ان دونوں راتوں کا طلوعِ صبح تک احیاء کرو، اور اس رات غسل کرو۔" "ابو حمزہ" کہتا ہے: مَیں نے عرض کیا: "اگر مَیں کھڑے ہو کر یہ سب نمازیں نہ پڑھ سکوں۔" آپؑ نے فرمایا: پھر بیٹھ کر پڑھ لو۔ مَیں نے عرض کیا: "اگر اس طرح بھی نہ پڑھ سکوں۔ آپؑ نے فرمایا: پھر بستر میں (لیٹ کر) پڑھ لو، اور رات کے پہلے حصہ میں تھوڑا سا سو لینے میں بھی کوئی امر مانع نہیں ہے، اور اس کے بعد عبادت میں مشغول ہو جاؤ۔ ماہِ رمضان میں آسمان کے دروازے کُھل جاتے ہیں اور شیاطین طوق و زنجیر میں جکڑے ہوئے ہوتے ہیں اور مومنین کے اعمال مقبول ہوتے ہیں، ماہِ رمضان کتنا اچھا مہینہ ہے۔
۶۔ قرآن شب قدر میں کیوں نازل ہوا؟
کیونکہ شب قدر میں ایک سال کے لئے انسانوں کی سرنوشت ان کی قابلیتوں اور صلاحیّتوں کے مطابق مقدّر کی جاتی ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ انسان اس رات بیدار رہے۔ اور توبہ اور اپنے آپ کو بہتر بنانے کی کوشش کرے اور خدا کی بارگاہ میں حاضر ہو کر خود میں اس کی رحمت کے لئے زیادہ سے زیادہ اور بہتر سے بہتر لیاقت پیدا کرے۔ ہاں! جن لمحات میں ہماری سرنوشت کی تعین ہوتی ہے ان میں انسان کو سویا ہوا نہیں ہونا چاہئیے، اور نہ ہی ہر چیز سے غافل اور بےخبر رہنا چاہئیے کیونکہ اس صورت میں ایک غم ناک سرنوشت ہو جائے گی۔ قرآن چونکہ ایک سرنوشت ساز کتاب ہے، اور اس میں انسانوں کی سعادت و خوش بختی اور ہدایت کی باتوں کی وضاحت کی گئی ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ سرنوشتوں کی تعین کا پروگرام شب قدر میں نازل ہو۔ قرآن اور شب قدر کے درمیان کتنا خوبصورت رابطہ ہے، اور ان دونوں کا ایک دوسرے سے تعلق اور رشتہ کس قدر پُر معنی ہے؟
۷۔ کیا مختلف علاقوں میں ایک ہی شب قدر ہوتی ہے؟
ہم جانتے ہیں کہ تمام شہروں میں قمری مہینوں کا آغاز یکساں نہیں ہوتا اور یہ ممکن ہے کہ ایک علاقہ میں تو آج اول ماہ ہو، اور دوسرے علاقہ میں دوسری تاریخ ہو۔ اس بناء پر شب قدرِ سال میں ایک معیّن رات نہیں ہو سکتی، کیونکہ مثال کے طور پر مکّہ کی تیئسویں رات، ایران و عراق میں بائیسویں رات ہو سکتی ہے، اس طرح اصولی طور پر ہر ایک کی علیٰحدہ شب قدر ہو گی۔ کیا یہ بات اس چیز سے، جو آیات و روایات سے معلوم ہوتی ہے، کہ شب قدر ایک معیّن رات ہے، سازگارہے؟! اس سوال کا جواب ایک نکتہ کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہو جاتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ رات وہی کرہٴ زمین کے آدھے سایہ کو ہی کہتے ہیں، جو کرہٴ زمین کے دوسرے حصہ پر پڑتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ سایہ گردش زمین کے ساتھ حرکت میں ہے، اور اس کا ایک مکمل دَورہ چوبیس گھنٹوں میں انجام پاتا ہے، اس بناء پر ممکن ہے کہ شب قدر رات کا زمین کے گرد ایک مکمل دَورہ ہو۔ یعنی تاریکی کی چوبیس گھنٹے کی مدت جو زمین کے تمام نقاط کو اپنے سائے کے نیچے لے لے، وہ شب قدر ہے، جس کا آغاز ایک نقطہ سے ہوتا ہے، اور دوسرے نقطہ میں اختتام پذیر ہوتا ہے۔ (غور کیجئے)۔ خداوندا! ہمیں اس قسم کی بیداری و آگاہی عطا فرما کہ لیلة القدر کی فضیلت سے پُورا پُورا فائدہ اٹھائیں۔ پروردگارا! ہماری چشم اُمید تیرے لطف و کرم پر لگی ہوئی ہے، ہمارے مقدرات کو اس کے موافق معین فرما۔ بارالٰہا! ہمیں اس مہینہ کے محرومین میں سے قرار نہ دے کہ جس سے بالاتر کوئی محرومیت نہیں ہے۔ آمین یا ربّ العالمین