Sūra 104 · 9v
Chapter 1049 verses

Al-Humazah

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
الهمزة
الہمزہ

سورہٴ ھمزة

یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۹ آیات ہیں۔

سُورہ ھمزۃ کے مطالب اور فضیلت

یہ سُورہ جو مکہ سورتوں میں سے ہے ایسے لوگوں کے بارے میں گفتگو کر رہا ہے جو مال جمع کرنے میں لگے رہتے ہیں اور ان کے نزدیک انسانی وجود کی تمام اقدار کا خلاصہ یہی ہے پھر وہ ان لوگوں کو جن کے ہاتھ اس سے خالی ہوتے ہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ یہ مغرور دولت جمع کرنے والے اور خُود پسند حیلہ گر، بادہٴ کبر و نخوت سے ایسے مست ہو جاتے ہیں کہ دوسروں کی تحقیر، عیب جوئی، استہزاء اور غیبت کرنے سے لذت اٹھاتے ہیں اور اس سے تفریح کرتے ہیں۔ اور سُورہ کے آخر میں ان کی دردناک سرنوشت کی بات کرتا ہے کہ وہ کیسی حقارت آمیز صُورت میں دوزخ میں پھینکے جائیں گے، اور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہر چیز سے پہلے ان کے دل پر مسلّط ہو جائے گی، اور ان کی رُوح و جان کو، جو اس سارے کبر و نخوت اور ان سب شرارتوں کا مرکز تھا، آگ میں ڈال دیا جائے گا، بھڑکتی ہوئی دوامی اور طولانی آگ۔ اِس سُورہ کی تلاوت کی فضیلت میں ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیا ہے: "من قراٴ سورة الھمزة اعطی من الاجر عشر حسنات بعدد من استھزاٴ بمحمد (ص) و اصحابہ": "جو شخص اس سُورہ کی تلاوت کرے گا اُسے ان لوگوں کی تعداد سے، جنہوں نے محمّدؐ اور ان کے اصحاب کا مذاق اُڑایا تھا، دس گنا حسنات دیے جائیں گے۔" (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ۱۰، ص ۵۳۶)۔ ایک اور حدیث میں امام جعفر صادقؑ سے آیا ہے: "جو شخص اس کو واجب نماز میں پڑھے گا، تو اس سے فقر و فاقہ دُور ہو جائے گا، اور روزی اس کا رُخ کرے گی اور قبیح اور بُری موت اس سے دُور ہو جائے گی۔" (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ۱۰، ص ۵۳۶)۔

1
104:1
وَيۡلٞ لِّكُلِّ هُمَزَةٖ لُّمَزَةٍ
ہر عیب جو اور تمسخر کرنے والے کے لئے افسوس ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
104:2
ٱلَّذِي جَمَعَ مَالٗا وَعَدَّدَهُۥ
وہی جو مال کو جمع کرکے گنتا رہا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
104:3
يَحۡسَبُ أَنَّ مَالَهُۥٓ أَخۡلَدَهُۥ
وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اس کے اموال اس کے دوام کا سبب بن جائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
104:4
كَلَّاۖ لَيُنۢبَذَنَّ فِي ٱلۡحُطَمَةِ
جیسا کہ وہ خیال کرتا ہے ایسا نہیں ہے، عنقریب اسے حطمہ (ریزہ ریزہ کرنے والی آگ) میں پھینک دیا جائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
104:5
وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا ٱلۡحُطَمَةُ
اور تو کیا جانے کہ حطمہ کیا ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
104:6
نَارُ ٱللَّهِ ٱلۡمُوقَدَةُ
اللہ کی بھڑکتی ہوئی آگ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
104:7
ٱلَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى ٱلۡأَفۡـِٔدَةِ
ایسی آگ جو دلوں سے نکلتی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
104:8
إِنَّهَا عَلَيۡهِم مُّؤۡصَدَةٞ
یہ آگ ان کے اوپر دربستہ صورت میں ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
104:9
فِي عَمَدٖ مُّمَدَّدَةِۭ
کشیدہ اور طولانی ستونوں میں۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

مفسرین کی ایک جماعت نے یہ کہا ہے کہ اس سُورہ کی آیات "ولید بن مغیرہ" کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پس پُشت تو آپ کی غیبت کیا کرتا تھا اور آپ کے سامنے طعن و تشنیع اور استہزاء کیا کرتا تھا۔ اور بعض دوسرے مفسّرین نے اسے روٴسائے شِرک اور اسلام کے جانے پہچانے دوسرے کینہ ور لوگوں مثلا: "اخنس بن شریق" و"اُمیہ بن خلف" و عاص بن وائل" کے بارے میں سمجھا ہے۔ لیکن اگر ہم ان شان ہائے نزول کو قبول بھی کر لیں تو بھی آیات کے مفہوم کی عمومیت ختم نہیں ہوتی، بلکہ وہ ان تمام کو شامل ہے جو ان صفات کے حامل ہیں۔

تفسیر عیب جوئی اور غیبت کرنے والوں کے لیے وائے ہے۔

یہ سُورہ ایک چُھبنے والی تہدید کے ساتھ شروع ہوتا ہے، فرماتا ہے: "ہر عیب جو اور تمسخر اُڑانے والے کے لئے وائے ہے" (وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ)۔ وہ لوگ جو زبان کے ڈنگ، ہاتھ اور پاوٴں کی حرکات اور چشم و ابرو کے اشاروں سے، پیٹھ پیچھے اور رُوبرو دوسروں کا مذاق اُڑاتے ہیں، یا ان کی عیب جوئی اور غیبت کرتے ہیں، یا انہیں طعن و تشنیع اور تہمت کے تیروں کا ہدف بناتے ہیں۔ "ھمزة" و"لمزة " دونوں مبالغہ کے صیغے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: مبالغہ کا صیغہ مشہور چھ اوزان کے علاوہ دوسرے اوزان پر بھی آتا ہے، منجملہ ان کے ایک یہی وزن ہے، جس کی عربی زبان میں نظائر بھی موجود ہیں، مثلاً: "ضحکہ" جو بہت زیادہ ہنسنے والے کے معنی میں ہے)۔ پہلا "ھمز" کے مادّہ سے اصل میں "توڑنے" کے معنی میں ہے۔ اور چونکہ عیب جو اور غیبت کرنے والے دُوسروں کی شخصیت کو توڑتے ہیں اس لیے ان پر "ھمزہ" کا اطلاق ہوتا ہے۔ اور "لمزة" ، "لمز" (بروزن رمز) کے مادّہ سے اصل میں غیبت کرنے اور عیب جوئی کرنے کے معنی میں ہے۔ اس بارے میں کہ کیا یہ دونوں لفظ ایک ہی معنی میں ہیں اور غیبت کرنے والوں اور عیب جوئی کرنے والوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں، یا ان دونوں کے درمیان کوئی فرق ہے؟ مفسّرین نے بہت سے احتمال دیے ہیں، بعض نے انہیں ایک ہی معنی میں لیا ہے اور اس بناء پر ان دونوں کا اکٹھا ذکر تاکید کے لیے ہے۔ لیکن بعض نے یہ کہا ہے کہ "ھمزہ" غیبت کرنے والے کے معنی میں ہے اور "لمزہ" عیب جوئی کرنے کے معنی میں ہیں۔ اور بعض دوسروں نے "ھمزہ" ان اشخاص کے معنی میں سمجھا ہے جو ہاتھ اور سر کے اشارہ سے عیب جوئی کرتے ہیں اور "لمزہ" ان اشخاص کے معنی میں جو زبان سے یہ کام انجام دیتے ہیں۔ اور بعض نے "پہلے" کو رُوبرو عیب جوئی کرنے اور "دوسرے" کو پیٹھ پیچھے عیب جوئی کرنے کی طرف اشارہ سمجھا ہے۔ اور بعض نے پہلے کو آشکارا عیب جوئی اور دوسرے کو پنہاں اور آنکھ اور آبرو کے اشارہ سے عیب جوئی کے معنی میں سمجھا ہے۔ اور بعض اوقات یہ کہا گیا ہے کہ یہ دونوں ہی اس شخص کے معنی میں ہیں جو لوگوں کو بُرے اور چُبھنے والے القاب سے یاد کرتا ہے۔ اور آخر میں "ابن عباسؑ" کی ایک روایت میں آیا ہے کہ وہ ان دونوں کی تفسیر میں اس طرح کہا کرتے تھے: "ھم المشاوٴون بالنمیمة، المفرقون بین الاحبة، الناعتون للناس بالعیب۔" "یہ وہ لوگ ہیں جو چغل خوری کرتے ہیں اور دوستوں کے درمیان جدائی ڈالتے ہیں اور لوگوں میں عیب نکالتے ہیں۔" (بحوالہ: "تفسیر فخر رازی" جلد ۳۲، ص ۹۲۔)۔ گویا ابن عباسؑ نے اس بات کا اس حدیث سے جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل ہوئی ہے استفادہ کیا ہے، جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے: "الا انبئکم بشرارکم؟ قالوا: بلی یا رسول اللہ (ص) قال: المشاوٴون بالنمیمة، المفرقون بین الاحبة، الباغون للبرآء المعایبؑ: "کیا مَیں تمہیں شریر ترین افراد کی خبر نہ دوں؟ انہوں نے کہا: "ہاں اے رسولِ خداؐ فرمایا: وہ لوگ جو بہت زیادہ چغل خوری کرتے ہیں، دوستوں کے درمیان جُدائی ڈالتے ہیں اور پاکیزہ و بےگناہ افراد کے عیوب کی جستجو میں رہتے ہیں۔ (بحوالہ: "اصول کافی، جلد ۲، باب النمیمة، حدیث ۱)۔ لیکن ارباب لغت کے کلمات کے مجموعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں الفاظ ایک ہی معنی میں ہیں اور ایک وسیع معنی رکھتے ہیں، جو ہر قسم کی عیب جوئی، غیبت، طعن و تشنیع اور علائم و اشبات اور زبان کے ذیعے ٹھٹھہ کرنے اور مذاق اُڑانے اور چغل خوری اور بد گوئی شامل ہے۔ بہرحال، اس گروہ کے بارے میں "ویل" کی تعبیر ایک تہدید شدید ہے۔ اور اصولی طور پر آیات قرآنی نے اس قسم کے افراد کے لیے سخت تنقید اور اعتراض کیا ہے اور ان کے لیے ایسی تعبیریں استعمال کی ہیں کہ ان جیسی کسی بھی گناہ کے لیے نظر نہیں آتیں۔ مثلاً جب کور دل منافقین کو مومنین کامذاق اُڑانے کی بناء پر عذابِ الیم کی تہدید کرتا ہے تو فرماتا ہے: اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِن تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَن يَغْفِرَ اللّهُ لَهُمْ: "تو ان کے لیے استغفار کر اور چاہے نہ کر، اگر ان کے لیے ستر مرتبہ بھی استغفار کرے گا تو بھی خدا انہیں نہیں بخشے گا۔" (توبہ ۔ ۸۰)۔ اسی معنی کے مشابہ، ان منافقین کے بارے میں، جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا استہزاء کرتے اور، مذاق اڑاتے تھے، سُورہ منافقین کی آیہ ۵ میں آیا ہے۔ اصولی طور پر اسلام کی نظر میں اشخاص کی عزت اور حیثیت بہت ہی محترم ہے۔ اور ہر وہ کام جو لوگوں کی تحقیر و تذلیل کا سبب ہو بہت بڑا گناہ ہے۔ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیا ہے: "اذل النّاس من اھان النّاس": "لوگوں میں سب سے زیادہ ذلیل شخص وہ ہے جو لوگوں کی توہین و تذلیل کرے۔" (بحوالہ:"بحار الانوار" جلد ۷۵، ص ۱۴۲)۔ ہم نے اس سلسلہ میں سُورہٴ حجرات کی آیہ ۱۱، ۱۲ کے ذیل میں (جلد ۱۲، ص ۴۵۸ پر) زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے اس کے بعد اس قبیح عمل (عیب جوئی و استہزاء) کے سرچشمہ کو (جو عام طور پر مال و دولت سے پیدا ہونے کبر و غرور کے سبب سے ہوتا ہے) پیش کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "وہی شخص جو مال کو جمع کر کے گنتا رہا، (حلال و حرام کا خیال رکھے بغیر) (الَّذِي جَمَعَ مَالًا وَعَدَّدَهُ)۔ اُسے مال و دولت کے ساتھ اتنی محبت ہے، کہ وہ ہمیشہ انہیں گنتا رہتا ہے اور درہم و دینار کی چمک اور دوسری قسم کے سکوں سے لذّت حاصل کرتا ہے، اور خوش ہوتا ہے ہر درہم و دینار اس کے لیے ایک بُت ہے، وُہ نہ صرف اپنی شخصیت بلکہ تمام شخصّیتوں کو انہیں میں منحصر سمجھتا ہے اور یہ ایک طبیعی و فطری اَمر ہے کہ اس قسم کا گمراہ اور دیوانہ و احمق فقیر و نادار اور مومنین کا ہمیشہ مذاق اُڑایا کرتا ہے۔ "عدّدہ" اصل میں "عد" کے مادّہ سے اسے شمار کرنے اور گِننے کے معنی میں ہے۔ بعض نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ یہ "عدہ" (بروزن عذہ) کے مادّہ سے ہے جو ان اموال کو آمادہ کرنے اور مشکلات اور بُرے دن کے لیے ذخیرہ کرنے کے معنی میں ہے۔ اور بعض نے اس کی تفسیر روک رکھنے اور بچانے کے ساتھ بھی کی ہے۔ لیکن پہلا معنی سب سے زیادہ مناسب ہے۔ بہرحال، یہ آیت ان مال جمع کرنے والوں کے بارے میں ہے جو مال کو ایک وسیلہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک ہدف اور مقصد کے طور پر دیکھتے ہیں اور اس کے جمع کرنے میں کسی قسم کی قید و شرط نہیں ہیں۔ وہ اسے حلال و حرام اور دوسروں کے حقوق پر تجاوز کر کے، شریفانہ طریقہ سے، یا پست و رذیلا طریقہ سے، جمع کرتے ہیں۔ اور صِرف اسی کو عظمت و شخصیت کی نشانی سمجھتے ہیں۔ وہ مال و دولت کو زندگی کی ضروریات کے پُورا کرنے کے لیے نہیں چاہتے، اور یہی وجہ ہے کہ ان کے مال و دولت میں جتنا اضافہ ہوتا جاتا ہے ان کی حرص اور طمع بڑھتی چلی جاتی ہے۔ ورنہ معقول حدود میں اور جائز طریقہ سے حاصل شدہ مال و دولت نہ صرف مذموم نہیں ہے بلکہ بعض اوقات قرآن مجید نے اسے "فضل اللہ" کے عنوان سے تعبیر کیا ہے، جہاں فرماتا ہے: وَابْتَغُوا مِن فَضْلِ اللَّه (جمعہ ۱۰) اور دوسری جگہ اُسے خیر سے تعبیر کرتا ہے کتب علیکم اذا حضراحدکم الموت ان ترک خیرا الوصیة: تم پر واجب ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ پہنچے تو اگر اس نے کچھ خیر چھوڑی ہے تو اس کے لیے وصیّت کرے۔ ایسا مال یقینی طور پر نہ تو طغیان و سرکشی کا باعث ہوتا ہے، نہ ہی تفاخر کا سبب بنتا ہے اور نہ ہی وہ دوسروں کے استہزاء کا موجب ہوتا ہے، لیکن وہ مال جو معبود بنا لیا گیا ہے اور وہی اصلی ہدف و مقصد بن چکا ہے، اور وہ اپنے مالکوں کو "قارون" کی طرح طغیان و سرکشی دعوت دیتا ہے، وہ ننگ و عار ہے، ذلّت ہے اور مصیبت و نکبت ہے اور خدا سے دُوری اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ میں رہنے کا باعث ہے۔ عام طور پر اس مال کو زیادہ مقدار میں جمع کرنا بہت زیادہ آلودگیوں کے سوا ممکن نہیں ہے۔ اس لیے ایک حدیث میں امام علی بن موسٰی رضا علیہ السلام سے آیا ہے، آپ نے فرمایا: "لا یجتمع المال الّا بخمس خصال: بخل شدید، وامل طویل، وحرض غالب، و قطیعة رحم، وایثار الدنیا علی الٰاخرة": "پانچ خصلتوں کے بغیر مال کسی کے پاس جمع نہیں ہو سکتا۔ (۱) بُخل شدید (۲) طویل آرزوئیں (۳) حرص غالب (۴) قطع رحمی (۵) اور دنیا کو آخرت پر مقدم رکھنا۔ (بحوالہ:"نور الثقلین"جلد ۵، ص ۶۶۸، حدیث ۷)۔ جو لوگ سخی ہوتے ہیں اور لمبی لمبی آرزؤں میں گرفتار نہیں ہوتے، حلاال و حرام کا خیال رکھتے ہیں، اپنے اقرباء کی مدد کرتے ہیں، عام طور پر ایسوں کے پاس مال جمع نہیں ہوتا ان کی آمدنی زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔ بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے: "دولت جمع کرنے والا مال پرست انسان یہ گمان کرتا ہے کہ اس کے اموال اس کی ہمیشگی کا سبب ہے" (يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ)۔ (تشریحی نوٹ: "مالہ" ممکن ہے کہ "مال" ضمیر غائب کی طرف مضاف ہو، یا "ما" موصولہ اور اس کے صلہ سے مرکب ہو، "اخلدہ" کا جملہ جو کہ فعل ماضی ہے مضارع کے معنی میں ہے۔ یا خلود کے موجبات و اسباب کے معنی میں ہے)۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ "اخلدہ" یہاں "فعل ماضی" کی صورت میں آیا ہے، یعنی وہ یہ گمان کرتا ہے، کہ اس کے اموال نے اسے ایک جاودانی اور دائمی موجود بنا دیا ہے، نہ تو موت اس کے پاس پھٹک سکتی ہے، اور نہ ہی بیماریاں اور دنیا کے حوادث اس کے لیے کوئی مشکل پیدا کر سکتے ہیں، کیونکہ اس کی نظر میں مشکل کشا صرف مال و دولت ہے، اور یہ مشکل کشا اس کے پاس حاضر ہے۔ یہ تصور کتنا غلط اور خام خیالی ہے؟ اس قدر مال و دولت جو قارون کے قبضہ و اختیار میں تھا، کہ اس کے خزانوں کی چابیاں کئی طاقتور مرد بڑی مشکل سے اُٹھا سکتے تھے، لیکن عذاب الٰہی کے حملہ کے وقت وہ اس کی موت کو ایک گھڑی کے لیے مؤخر نہ کر سکے اور خدا نے اسے اور اس کے خزانوں کو ایک ہی لمحہ میں مختصر سے زلزلہ کے ساتھ زمین میں دھنسا دیا": فَخَسَفْنَا بِهِ وَبِدَارِهِ الْأَرْضَ (قصص۔۸۱) ۔ وہ اموال جن کا کامل نمونہ فراعنہ مصر کے پاس تھا، لیکن مصداق "كَمْ تَرَكُوا مِن جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ o وَزُرُوعٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ o وَنَعْمَةٍ كَانُوا فِيهَا فَاكِهِينَ": "وہ کتنے زیادہ باغات اور چشمے کھیتیاں اور عمدہ و قیمتی محلّات، اور دوسری فراواں نعمتیں جن میں وہ ناز و نعمت کے ساتھ زندگی بسر کر رہے تھے، اپنے پیچھے چھوڑ گئے۔" (دخان ۔۲۵تا۲۷) لیکن یہ سب کے سب آسانی کے ساتھ ایک ہی ساعت میں دوسروں کے ہاتھ میں پہنچ گئے: "كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْمًا آخَرِينَ، (دخان ۔۲۸) اور اسی لیے کیونکہ قیامت میں پردے ہَٹ جائیں گے، اور انہیں اپنی عظیم غلطی کا علم ہو جائے گا، تو وہ پکار اُٹھیں گے: مَا أَغْنَى عَنِّي مَالِيَهْo هَلَكَ عَنِّي سُلْطَانِيَهْ: "میرے مال و دولت نے مجھے ہرگز بےنیاز نہیں کیا، اور میری قدرت و طاقت و اقتدار بھی میرے پاس نہ رہے۔ (حاقہ ۔۲۸۔۲۹) اصولی طور پر انسان فنا و نیستی سے متنفر ہے۔ اور وہ ہمیشگی اور دام کا طرف دار ہے، اور یہی اندرونی لگاؤ ہماری معاد کے مباحث میں مدد کرتا ہے کہ ہم یہ جان لیں کہ انسان ہمیشگی اور دام کے لیے پیدا ہوا ہے، ورنہ جاوداں ہونے کے ساتھ لگاؤ کی فطری خواہش اس میں نہ ہوتی۔ لیکن یہ مغرور خُود غرض اور دنیا پرست انسان اپنی ہمیشگی کو ایسے امور میں سمجھنے لگتا ہے جو ٹھیک اس کی فناونیستی کا سبب ہیں، مثلاَ وہ مال و مقام کو، جو عام طور پر اس کی بقاء کے دشمن ہیں دوام کا ذریعہ شمار کرنے لگتا ہے۔ اِس بیان سے واضح ہو گیا کہ مال کے ذریعے دوام اور ہمیشگی کا تصوّر، مال کے جمع کرنے کی ایک دلیل ہے اور ان دل کے اندھوں کی نظر میں مال کا جمع ہو جانا بھی دوسروں پر استہزاء اور تمسخر کرنے کا ایک عامل شمار ہوتا ہے۔ قرآن اس گروہ کے جواب میں فرماتا ہے: ایسا نہیں ہے جیسا کہ وہ گمان کرتا ہے: (كَلَّا)۔ بلکہ وہ عنقریب انتہائی ذلت و خواری کے ساتھ پاش پاش کرنے والی آگ میں پھینک دیے جائیں گے۔ "( لَيُنبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِ)۔ اس کے بعد حطمہ کی اس طرح تفسیر کرتا ہے: "اور تو کیا جانے کہ حطمہ کیا ہے" (وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْحُطَمَةُ)۔ "وہ خدا کی بھڑکی ہوئی آگ ہے۔" (نَارُ اللَّهِ الْمُوقَدَةُ)۔ "وہ آگ جو دلوں سے نکلے گی اور اس کے ابتدائی شعلے دلوں میں ظاہر ہوں گے۔" (الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْئِدَةِ)۔ "لینبذن"، "نبذ" (بروزن سبز) کے مادّہ سے "مفردات" میں "راغب" کے قول کے مطابق، اصل میں کسی چیز کو اس کی حقارت اور بےقدری کی وجہ سے دُور پھینکنے کے معنی میں ہے۔ یعنی خدا ان مغرور، خود خواہ، اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والوں کو اس دن ذلیل اور بےقدر و قیمت موجودات کی صورت میں جہنم کی آگ میں پھینکے گا، تاکہ وہ اپنے کبر و غرور کا نتیجہ دیکھ لیں۔ "حطمہ"، "حطم" کے مادّہ سے مبالغہ کا صیغہ ہے جو کسی چیز کو درہم برہم کرنے کے معنی میں ہے، اور یہ اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ بڑی سختی کے ساتھ ان کے اعضاء و جوارح کو توڑ کر رکھ دے گی، لیکن بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ "حطمہ" ساری جہنم کا نام نہیں ہے، بلکہ اس کے حد سے زیادہ گرم اور بھڑکتے ہوئے حصہ کا نام ہے۔ (بحوالہ: "نور الثقلین" جلد ۳، ص۱۷،۱۹، حدیث ۶۰،۶۴)۔ اِس معنی کو سمجھنا کہ آگ جلانے کے بجائے اعضاء کو توڑ دے گی، شاید گذشتہ زمانوں میں تو مشکل ہو، لیکن موجودہ زمانہ میں بم کے پھٹنے کی لہروں کی تاثیر کی شدت کا مسئلہ ہم سب پر واضح ہو چکا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک خوفناک بم کے پھٹنے سے پیدا ہونے والی لہریں، نہ صرف انسانوں کو بلکہ لوہے کے محکم گارڈروں اور عمارتوں کے بڑے بڑے ستونوں کو بھی توڑ دیتی ہیں، یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ "نار اللہ" (خدائی آگ) کی تعبیر اس کی عظمت کی دلیل ہے اور "موقدة" کی تعبیر اس کے ہمیشہ کے لیے روشن ہونے کی دلیل ہے۔ تعجّب کی بات یہ ہے کہ یہ آگ دُنیا کی آگ کے برخلاف، جو پہلے چمڑے کو جلاتی ہے، اور اس کے بعد بدن کے اندر نفوذ کرتی ہے، سب سے پہلے دلوں میں شعلہ ور ہو گی اور اندر کو جلائے گی۔ پہلے دل کو جلائے گی پھر دماغ اور ہڈیوں کو اور اس کے بعد باہر کی طرف سرایت کرے گی۔ یہ کس قسم کی آگ ہے جس کا پہلا شعلہ انسان کے دل میں ظاہر ہو گا؟ یہ کیسی آگ ہے جو باطن کو ظاہر سے پہلے جلائے گی؟ قیامت کی ہر چیز عجیب و غریب ہے اور اس کا اس جہان کی باتوں کے ساتھ بہت زیادہ فرق ہے، یہاں تک کہ اس کی جلانے والی آگ کی گرفت میں بھی ایک الگ خاصیّت ہے۔ ایسا کیوں نہ ہو؟ جب کہ ان کے دل ہی تو کفر اور کبر و نخوت کا مرکز تھے، اور وہ حبِّ دنیا اور مال و دولت کی محبّت کا محور بنے ہوئے تھے۔ خدا کے قہر و غضب کی آگ ہر چیز سے پہلے ان کے دلوں پر کیوں مسلط نہ ہو، جب کہ انہوں نے اس دنیا میں مومنین کے دل کو تمسخر، عیب جوئی، غیبت اور تحقیر و تذلیل کے ساتھ جلایا تھا۔ لہٰذا عدالتِ الٰہی کا تقاضا یہی ہے کہ وہ اپنے اعمال جیسا ہی کیفرِ کردار دیکھیں۔ اس سُورہ کی آخری آیت میں فرماتا ہے: "یہ جلانے والی آگ ان پر دروازہ بند صُورت میں ہو گی۔" (إِنَّهَا عَلَيْهِم مُّؤْصَدَةٌ)۔ "موصدة"، "ایصاد" کے مادّہ سے، دروازہ بند کرنے اور اس کو محکم کرنے کے معنی میں ہے، اسی لئے ان کمروں کو جو پہاڑوں کے اندر مال جمع کرنے کے لیے بناتے ہیں "وصید" کہتے تھے۔ حقیقت میں جیسا کہ وہ اپنے اموال کو مضبوط صندوقوں اور دربست خزانوں میں محفوظ کر کے رکھا کرتے تھے، خدا بھی انہیں دوزخ کے دربست عذاب، میں جس سے خلاصی اور نجات پانے کی کوئی راہ نہ ہو گی، قید کرے گا۔ اور آخر میں فرماتا ہے: "نہیں کھینچے ہوئے اور طولانی ستونوں میں رکھا جائے گا" (فِي عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ)۔ "عمد"، "عمود" جیسا کہ لکڑی اور لوے کی قطعات (شہتیر) ہوتے ہیں "ممددة" کھینچے ہوئے اور طولانی کے معنی میں ہے۔ مفسّرین کی ایک جماعت نے اس تعبیر کو لوہے کی بڑی بڑی میخوں کی طرف اشارہ سمجھا ہے، جن کے ساتھ جہنم کے دروازے محکم طور پر جڑے ہوئے ہوں گے، اس طرح کہ ان سے نکلنے کی بالکل کوئی راہ نہ ہو گی۔ اس بناء پر یہ گذشتہ آیت پر ایک تاکید ہے جو یہ کہتی ہے کہ جہنم کے دروازوں کو ان پر بند کر دیں گے، اور وہ ہر طرف سے محصور ہو کر رہ جائیں گے۔ بعض نے اسے عذاب و مجازات کے وسائل کی ایک قسم کی طرف اشارہ سمجھا ہے، اس چیز کے مانند جو ہمارے ہاں "ہتھکڑی اور بیڑی" کے ساتھ معروف ہے، اور وہ لکڑی یا لوہے کا ایک وزنی ٹکڑا ہوتا ہے جس میں پاوٴں کے ناپ کے برابر دو سُوراخ ہوتے ہیں، اس میں پاوٴں کو رکھ دیتے ہیں اور اس کے اُوپر کے سُوراخ سے پکڑ کر اس میں تالہ لگا دیتے ہیں۔ اس طرح اس آدمی میں چلنے کی طاقت نہیں رہتی تھی، اور یہ ان شکنجوں کی سزا ہو گی جو وہ بےگناہ لوگوں کو دیا کرتے تھے۔ بعض نے ایک تیسری تفسیر بھی آخری انکشافات کی مدد سے اس کے لیے بیان کی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ جہنم کے جلانے والے شعلے کشیدہ اور طولانی ستونوں کی طرح ان پر مسلط ہو جائیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ آخری انکشافات میں ثابت ہوا ہے کہ ریکس (رونٹگن) کی مخصوص شعاعیں، دوسری شعاعوں کے برخلاف جو مخروطی صُورت میں پھیلتی ہیں، وہ استوانی صُورت میں ٹھیک ستون کی طرح منتشر ہوتی ہیں، اور تعجّب کی بات یہ ہے کہ یہ شعاعیں انسان کے سارے وجود میں نفوذ کر جاتی ہیں، یہاں تک کہ اس کے دل پر بھی مسلط ہو جاتی ہیں، اور اسی بناء پر داخلی اعضاء کا ایکسرے لینے کے لیے اس سے استفادہ کرتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ جنہم کی بھڑکتی ہوئی آگ سے ایسی شعاعیں اٹھیں گی جو اُوپر والی شعاعوں سے ملتی جلتی ہوں گے۔ (تشریحی نوٹ: "طنطاوی" زیر بحث آیات کے ذیل میں)۔ لیکن ان تفاسیر میں سب سے زیادہ مناسب وہی پہلی تفسیر ہے۔ (البتہ ان تفاسیر میں بعض کی بناء پر "فی عمد ممددة" کا جملہ دوزخ کی حالت کو بیان کرتا ہے اور دوسری بعض کی بناء پر دوزخیوں کی حالت کو)

چند نکات ۱۔ کبر و غرور بڑے بڑے گناہوں کا سرچشمہ ہے

"اپنے آپ کو بڑا خیال کرنا ایسی عظیم بلا ہے جو بہت سے گناہوں کی اصل اور بُنیاد قرار پاتی ہے۔ خدا سے غفلت، نعمتوں کا کفران، عیاشی اور ہوس بازی میں غرق ہونا، دوسروں کی تحقیر و تذلیل، مومنین کا مذاق اُڑانا، اسی صفت رذیلہ کے منحوس اور بُرے اثرات ہیں۔ کم ظرف لوگ جب کسی مقام و منصب یا کسی اچھی منزل پر پہنچ جاتے ہیں تو وہ ایسے کبر و غرور میں گرفتار ہو جاتے ہیں کہ کسی دوسرے کے لیے کسی قدر و قیمت کے قائل ہی نہیں ہوتے۔ اور یہی چیز ان کے معاشرے سے جدا ہونے اور معاشرے کے ان سے الگ ہونے کا سبب بن جاتی ہے۔ وہ اپنے ہی تصورات و خیالات کی دنیا میں ڈوبے رہتے ہیں اور خود کو باقیوں سے علحٰیدہ کوئی اور مخلوق خیال کرنے لگتے ہیں، یہاں تک کہ اپنے آپ کو مقربان خدا میں بھی شمار کرنے لگتے ہیں، اور اسی وجہ سے دوسروں کی عزت و آبرو بلکہ ان کی جان تک بھی ان کے نظر میں بےقدر و قیمت ہو جاتی ہے، اور وہ "ھمز" و "لمز" یا دوسروں کی عیب جوئی اور مذمت میں مشغول ہو جاتے ہیں اور یوں اپنے خیال میں وہ اپنی عظمت میں اضافہ کرتے ہیں۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ بعض روایات میں اس قسم کے افراد کو عقرب (بچّھو) سے تشبیہ دی گئی ہے، اور اگرچہ بچھو کا ڈنک مارنا کسی کینہ کی وجہ سے نہیں ہوتا، لیکن ان کا ڈنک مارنا کینہ پروری کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا: "میں نے شبِ معراج دوزخیوں کے ایک گروہ کر دیکھا کہ ان کے پہلوؤں کے گوشت الگ کر کے انہیں کھلاتے تھے۔ مَیں نے جبرئیل سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ تو انہوں نے کہا: "ھٰؤلاء الھمّازون من امتک، اللمّازون!": "یہ آپ کی اُمّت میں سے عیب جوئی کرنے والے اور استہزاء کرنے والے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے اُوپر اشارہ کیا ہے، ہم نے سُورہ حجرات کی آیات کے ذیل میں اس سلسلہ میں تفصیلی بحث کی ہے۔

۲۔ مال جمع کرنے کی حرص

مال و دولت کے بارے میں افراط و تفریط کے لحاظ سے مختلف نظریے پائے جاتے ہیں۔ بعض لوگ تو اس کو اتنی اہمیّت دیتے ہیں کہ اُسے تمام مشکلات کا حل سمجھتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اس نظریہ کے طرف داروں نے اپنے اشعار میں اس سلسلہ میں خُوب دادِ سخن دی ہے، منجملہ ایک شاعر عرب کہتا ہے: "فصلحة سحبان و خط ابن مقلة وحکمة لقمان و زھد بن ادھم اذا اجتمعت فی المرء و المرء مفلس فلیس لہ قدر بمقدار درھم" "(عرب کے معروف فصیح)"، "سحبان کی فصاحت" اور (معروف خطاط) "ابنِ مقلہ کا خط اور "لقمان" کی حکمت اور "ابراہیم بن ادہم" کا زہد اگر کسی انسان میں جمع ہو جائے اور مفلس و نادار ہو، تو اس کی قدر و قیمت ایک درہم کے برابر بھی نہیں ہو گی"! لہٰذا اس میں تعجّب کی کوئی بات نہیں ہے اگر یہ گروہ ہمیشہ مال جمع کرنے میں مشغول رہے اور ایک آن کے لیے بھی راحت و آرام سے نہ بیٹھے اور اس کے لیے کسی بھی قید و شرط کا قائل نہ ہو اور حلال و حرام ان کی نظر میں یکساں ہو جائے۔ اِس گروہ کے نقطہٴ مقابل میں وہ گروہ ہے جو مال و دولت کے لیے کم سے کم قدر و قیمت کا بھی قائل نہیں ہے۔ وہ فقر و فاقہ کی تعریف کرتا ہے اور اس کی عظمت و بلندی کا قائل ہے، یہاں تک کہ وہ مال کو تقویٰ اور قربِ خدا میں مزاحم سمجھتے ہیں۔ لیکن دونوں نظریات کے مقابلہ میں (جو افراط و تفریط رکھتے ہیں) قرآن مجید اور اسلامی روایات سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ مال اچھی چیز ہے، لیکن چند شرائط کے ساتھ: پہلی شرط یہ ہے کہ وہ ذریعہ اور وسیلہ ہو نہ کہ ہدف اور مقصد۔ دوسری شرط یہ ہے کہ وہ انسان کو اپنا "اسیر" نہ بنائے بلکہ انسان اس کا "امیر" ہو۔ تیسری شرط یہ ہے کہ اسے مشروع اور حلال طریقہ سے حاصل کیا جائے اور وہ رضائے خدا کے لیے صَرف ہو۔ اس قسم کے مال سے محبت نہ صرف یہ کہ وہ دنیا پرستی نہیں ہے، بلکہ آخرت سے محبت کی ایک دلیل ہے۔ اسی لیے ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے: "جس وقت آپ نے ذہب و فضہ (سونا اور چاندی) پر لعنت کی، تو آپ کے ایک صحابی نے تعجب کیا، اور اس بارے میں سوال کیا تو امام علیہ السلام نے فرمایا: "لیس حیث تذھب الیہ انما الذھب الذی ذھب بالدین و الفضة الّتی افاضت الکفر": "(ذہب) سونے سے مراد وُہ چیز ہے جو دین کو ختم کر دے اور فضہ (چاندی) سے مراد وہ چیز ہے جو کُفر و بےایمانی کا سرچشمہ بنے۔" (بحوالہ: "بحار الانوار" جلد ۷۳، ص ۱۴۱، حدیث ۱۷)۔ ایک اور حدیث میں حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے آیا ہے: "السکر اربع سکرات، سکر الشراب و سکر المال، و سکر النوم، و سکر الملک۔" "نشہ اور مستی چار قسم کی ہوتی ہے: ۱۔ شراب کی مستی۔ ۲۔ مال کی مستی۔ ۳۔ نیند کی مستی۔ ۴۔ اقتدار کی مستی"! (بحوالہ: "بحار الانوار" جلد ۷۳، ص ۱۴۲)۔ ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے کہ ایک شخص آپ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا، میرے ماں باپ آپ پر قربان، مجھے کچھ وعظ و نصیحت فرمائیے، تو آپ نے فرمایا: "ان کان الحسنات حقاً فالجمع لماذا وان کان الخلف من اللہ عز و جل حقاً فالبخل لماذا؟!": "اگر حسنات حق ہیں اور ہم ان پر ایمان رکھتے ہیں تو پھر مال کا جمع کرنا کس لیے؟ (کیوں اسے راہ خدا میں خرچ نہ کریں) اور اگر بدلہ دینا اور تلافی کرنا اللہ کی طرف سے حق ہے، تو بخل کس لیے؟ (بحوالہ: "توحید صدوق" مطابق نقل "نور الثقلین" جلد ۵، ص ۶۶۸، حدیث۸)۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو آخر عمر تک مال جمع کرنے میں لگے رہتے ہیں اور انجام کار دوسروں کے لیے چھوڑ جاتے ہیں۔ ان کا حساب تو انہیں دینا پڑے گا اور اس سے فائدہ دوسرے لوگ اٹھائیں گے۔ اسی لیے ایک حدیث میں آیا ہے کہ لوگوں نے امیر المومنین علی علیہ السلام سے سوال کیا، من اعظم النّاس حسرة؟: لوگوں میں سب سے زیادہ حسرت و ندامت کس کو ہو گی؟ آپؑ نے فرمایا: "من راٴی مالہ فی میزان غیرہ و ادخلہ اللہ بہ النّار و ادخل وارثہ بہ الجنة" "وہ شخص جو اپنے اموال کو دوسروں کے اعمال میں تولنے کی ترازوں میں دیکھے، خدا اسے تو اس کے اموال کی وجہ سے دوزخ میں داخل کرے، اور اس کے وارث کو اس کی وجہ سے جنت میں داخل کرے۔" (بحوالہ: "بحار الانوار" جلد ۷۳، ص ۱۴۲)۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے آیہ "کذالک یرھم اللہ اعمالھم حسرات علیھم": (اسی طرح سے خدا ان کے اعمال کو ان کے لیے حسرت بنا دے گا) کی تفسیر میں فرمایا: "ھو الرجل یدع المال لا ینفقہ فی طاعة اللہ بخلا ثُم یموت فیدعہ لمن یعمل بہ فی طاعة اللہ او فی معصیہ" "یہ اس شخص کے بارے میں ہے جو مال چھوڑ جاتا ہے اور بخل کی وجہ سے اسے راہِ خدا میں خرچ کرتا۔ پھر وہ مر جاتا ہے، اور اُسے ایسے شخص کے لیے چھوڑ جاتا ہے جو اُسے اللہ کی اطاعت یا اس کی معصیّت میں خرچ کرتا ہے۔" اس کے بعد امامؑ نے مزید فرمایا: "اگر وہ خدا کی اطاعت میں خرچ کرے گا تو وہ اُسے دوسرے کی میزان عمل میں دیکھ کر حسرت کرے گا کیونکہ وہ مال تو اس کی ملکیّت تھا، اور اگر وہ خدا کی معصیت و نافرمانی میں صرف کرے گا، تو وہ گناہ کرنے میں اس کی تقویت کا سبب بنا (اس پر بھی اسے عقوبت اور حسرت ہو گی)۔ (بحوالہ: وہی مدرک حدیث ۲۰)۔ ہاں! انسان مال کو مختلف انداز میں استعمال کرتے ہیں، کبھی تو اُس سے ایک خطرناک بت بنا لیتے ہیں، اور کبھی عظیم سعادت کا وسیلہ۔ اِس گفتگو کو ہم "ابن عباس سے منقول ایک پُر معنی حدیث پر ختم کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: "ان اوّل درھم و دینار ضربا فی الارض نظر الیھما ابلیس فلما عاینھما اخذھما فوضعھما علی عینیہ، ثم ضمھما علی صدرہ، ثم صرخ صرخة، ثم ضمھما الیٰ صدرہ، ثم قال: انتما قرة عینی! و ثمرة فؤادی ما ابالی من بنی اٰدم اذا احبوکما ان لایعبدوا وثنا! حسبی من بنی آدم ان یحبوکما": (بحوالہ: "بحار الانوار" جلد ۷۳، ص ۱۳۷، حدیث ۳)۔ "جب دُنیا میں درہم و دینار کا سب سے پہلا سکہ بنایا گیا تو ابلیس نے اُن پر نگاہ کی، جب انہیں دیکھا تو اس نے ان دونوں کو اُٹھا لیا اور دونوں کو اپنی آنکھوں پر رکھا، پھر انہیں سینہ سے لگا لیا۔ پھر وہ والہانہ طور پر چیخا اور دوبارہ انہیں سینہ سے لگا لیا اور کہنے لگا: تم (اے درہم و دینار) میری آنکھوں کی روشنی ہو، تم میرے دل کا میوہ ہو۔ اگر انسان تمہیں دوست بنا لیں تو میرے لیے یہ بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی کہ وہ بت پرستی نہ کریں۔ بس میرے لیے یہی بات کافی ہے کہ وہ تم سے محبت کرنے لگیں، (کیونکہ تم سب بتوں سے بڑھ کر بت ہو)۔ (بحوالہ: وہی مدرک ص ۱۳۷، حدیث ۳)۔ خداوندا! ہمیں مال و غضب، دنیا و شہوت کی ہستی سے محفوظ فرما۔ پروردگارا! ہمیں شیطان کے تسلط اور درہم و دینار کی بندگی سے رہائی عطا فرما۔ بارالٰہا! جہنم کی آگ سخت توڑنے والی ہے اور تیرے لطف و کرم کے بغیر اس سے نجات ممکن نہیں ہے۔ ہمیں اپنے لطف کا مشمول قرار دے۔ آمین یا ربّ العالمین

end of chapter