Sūra 21 · 112v
Chapter 21112 verses

Al-Anbiya

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
الأنبياء
الانبیاء

سورہ انبیاء

یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں۱۱۲ آیات ہیں

سُوره انبیاء کی فضیلت

پیغمبرِ اسلامؐ سے اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت کے بارے میں منقول ہے: من قرء سورة الانبيا حاسبه الله حسابا يسيرا، و صافحه وسلم عليه كل نبي ذكر اسمه في القران۔ جو شخص سوره انبیا کو پڑھے گا، خدا اس کے حساب کو آسان کر دے گا۔ (روزِ قیامت اس کے اعمال کا حساب لینے میں سخت گیری نہیں کرے گا) اور ہر وہ پیغمبر کہ جس کا نام قرآن میں ذکر ہوا ہے وہ اس سے مصافحہ کرے گا اور ــــ اسے سلام کرے گا۔ (بحوالہ: تفسیر نورالثقلین، ج ٣، ص۴۱۲)۔ اور امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: من قرء سورة الانبياء حباً لها كان كمن رافق النبيين اجمعين في جنات النعيم، و كان مهيبًا في اعين الناس حياة الدنيا۔ جو شخص سوره انبیاء کو عشق و محبت کے ساتھ پڑھے گا وہ جنت کے پُرنعمت باغوں میں تمام انبیاء کا رفیق اور ہم نشیں ہو گا اور دنیا کی زندگی میں بھی لوگوں کی نگاہ میں باوقار ہو گا۔ (بحوالہ: تفسیر نورالثقلین، ج ٣، ص،۴۱۲)۔ لفظ "حبالها" (اس سورہ سے عشق و محبت رکھتے ہوئے) درحقیقت ان روایات کے معنی کے سمجھنے کے لیے ایک کلید ہے کہ جو قرآن کی سورتوں کی فضیلتوں کے سلسلے میں ہم تک پہنچی ہیں یعنی صرف الفاظ کا پڑھ لینا ہی مقصد نہیں ہے۔ بلکہ اس کے معانی و مطالب سے محبت کرنا ہے اور یہ بات مسلم ہے کہ معنی و مفہوم سے محبت عمل کے بغیر کوئی معنی نہیں رکھتی، اگر کوئی شخص یہ دعوی کرے کہ میں فلاں سورہ کا عاشق ہوں اور اس کا عمل اس کے مفاہیم کے خلاف ہو تو وہ جھوٹ بولتا ہے۔ ہم نے بارہا کہا ہے کہ قرآن کتاب عقیده و عمل سے اور اس کا پڑھنا مقدمہ اور تمہید ہے سمجھنے کے لیے اور سمجھنا مقدمہ ہے ایمان و عمل کے لیے۔

اِس سُورہ کے مضامین

۱- یہ سورہ جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے، انبیاء کی سورت ہے کیونکہ اس میں سولہ انبیا کے نام آئے ہیں بعض کے خاص خاص حالات زندگی بیان کیے گئے ہیں اور بعض کا صرف ذکر ہے۔ اور وہ ہیں، موسٰیؑ، ہارونؑ، ابراہیمؑ، لوطؑ، اسحٰقؑ، یعقوبؑ، نوحؑ، داؤدؑ، سلیمانؑ، ايوبؑ، اسمعیلؑ، ادریسؑ، ذالکفلؑ، ذالنون (یونسؑ)، ذکریاؑ اور یحٰیی علیہم اسلام۔ اس بناء پر اس سورہ کے اہم مباحث انبیاء کے پروگراموں کے بارے میں ہیں۔ علاوہ ازیں کچھ ایسے انبیا بھی ہیں کہ جن کے نام اس سورہ میں صراحت کے ساتھ نہیں لیے گئے لیکن ان کے بارے میں کچھ باتیں بیان ہوئی ہیں مثلًا پیغمبر اسلامؐ اور حضرت عیسی علیہ السلام۔ ۲۔ اس کے علاوہ مکی سورتوں کی خصوصیت ہے کہ وہ عقائد دینی خصوصاً مبداء و معاد کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں ـــــ اس سوره میں یہ بات پوری طرح موجود ہے۔ ٣۔ اس سورہ میں خالق کی وحدت اور یہ کہ اس کے سوا اور کوئی معبود اور پیدا کرنے والا نہیں ہے نیز عالم کی پیدائش مقصد اور پروگرام کے مطابق ہونے اور اس جہان پر حاکم قوانین کی وحدت اور اسی طرح حیات و ہستی کے سرچشمہ کی وحدت نیز موجودات کی فنا اور موت کے پروگرام میں وحدت کے بارے میں بحث ہوئی ہے۔ ۴۔ اِس سورہ کے ایک حصہ میں حق کی باطل پر توحید کی شرک پر عدل و انصاف کے لشکر کی جنود ابلیس پر کامیابی و کامرانی کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ ٥۔ یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ یہ سورہ غافل اور بےخبر لوگوں کو سختی کے ساتھ تنبیہ کرتے ہوئے حساب و کتاب سے شروع ہوتا ہے اور اس کے اختتام میں بھی اسی سلسلہ کی دوسری تنبیہیں ہیں۔ وہ انبیا کہ جن کے نام اس سورہ میں آئے ہیں ان میں سے بعض کی زندگی کا بیان اور ان کے تفصیلی پروگرام دوسری سورتوں میں ذکر ہوئے ہیں لیکن اس سورہ میں زیادہ تر انبیاء کے حالات کے اس حصہ کا ذکر ہے کہ وہ جس وقت سخت قسم کی تنگی میں گرفتار ہوتے تھے تو وہ حق تعالی کے دامنِ لطف کی طرف کس طرح سے دست توسل پھیلاتے تھے اور کس طرح سے خدا ان کے لیے بند دروازے کھول دیتا تھا اور طوفان و گرداب سے انہیں نجات بخشتا تھا۔ ابراہیمؑ جب نمرود کی آگ میں گرفتار ہوئے۔ یونسؑ جب مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے۔ زکریاؑ نے جب اپنی عمر کے آفتاب کو غروب ہونے کے قریب دیکھا لیکن ان کا کوئی جانشین نہیں تھا کہ جو ان کے پروگراموں کی تکمیل کرے۔ اور اسی طرح باقی انبیاء جب وہ سخت مشکلات میں گھرے۔

1
21:1
ٱقۡتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمۡ وَهُمۡ فِي غَفۡلَةٖ مُّعۡرِضُونَ
لوگوں کا (وقت) حساب ان کے نزدیک آچکا ہے لیکن وہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
21:2
مَا يَأۡتِيهِم مِّن ذِكۡرٖ مِّن رَّبِّهِم مُّحۡدَثٍ إِلَّا ٱسۡتَمَعُوهُ وَهُمۡ يَلۡعَبُونَ
جو کوئی بھی نئی نصیحت ان کے پرور دگار کی طرف سے ان کے پاس آتی ہے وہ اسے کھیل سمجھتے ہیں اور مذاق اڑانے کے انداز میں اسے سنتے ہیں،

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
21:3
لَاهِيَةٗ قُلُوبُهُمۡۗ وَأَسَرُّواْ ٱلنَّجۡوَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ هَلۡ هَٰذَآ إِلَّا بَشَرٞ مِّثۡلُكُمۡۖ أَفَتَأۡتُونَ ٱلسِّحۡرَ وَأَنتُمۡ تُبۡصِرُونَ
(حالت یہ ہے کہ) ان کے دل کھیل اور بیخبری میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ ظالم چپکے چپکے سر گوشیاں کرتے ہیں (اور کہتے ہیں ) کیا اس کے سوا کچھ اور بات بھی ہے کہ یہ تم ہی جیسا ایک بشر ہے؟ کیا تم دیکھتے بھالتے جادو کے پاس جاتے ہو؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
21:4
قَالَ رَبِّي يَعۡلَمُ ٱلۡقَوۡلَ فِي ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِۖ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ
(لیکن پیغمبر نے)فرمایا میرا پروردگار آسمان اور زمین کی ہر بات جانتا ہے اوروہ(بڑا) سننے والا اور جاننے والا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
21:5
بَلۡ قَالُوٓاْ أَضۡغَٰثُ أَحۡلَٰمِۭ بَلِ ٱفۡتَرَىٰهُ بَلۡ هُوَ شَاعِرٞ فَلۡيَأۡتِنَا بِـَٔايَةٖ كَمَآ أُرۡسِلَ ٱلۡأَوَّلُونَ
انہوں نے کہا:(جو کچھ محمدﷺ لائے ہیں یہ وحی نہیں ہے) یہ پریشان خواب و خیال ہیں بلکہ اس نے دل سے جھوٹ گھڑ کے خدا کی طرف منسوب کردیا ہے، وہ ایک شاعر ہے۔ (اگر وہ سچا ہے) تو ہمارے لئے ایسا ہی ایک معجزہ لے آئے جیسے معجزے پہلے انبیاء کو دے کر بھیجا گیا تھا۔

تفسیر طرح طرح کےبہانے:

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

یہ سورہ___ جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ہے____ تمام لوگوں کے لیے ایک سخت تنبیہ کے ساتھ شروع ہوتی ہے، ایک ہلا دینے والی اور بیدار کن تنبیہ___ فرمایا گیا ہے: لوگوں کا حساب ان کے قریب آ پہنچا ہے، حالانکہ وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور منہ موڑے ہوئے ہیں (اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ)۔ ان کا عمل اِس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس غفلت اور بےخبری نے ان کے سارے وجود کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے، ورنہ یہ بات کیسے ممکن ہو سکتی ہے کہ انسان حساب کے نزدیک ہونے پر ایمان رکھتا ہو ____ وہ بھی انتہائی دقیق حساب___ اور پھر وہ تمام مسائل کو معمولی سمجھنے اور ہر قسم کے گناہ میں آلودہ ہو۔ لفظ "اقترب" میں "قرب" کی نسبت کہیں زیادہ تاکید پائی جاتی ہے اور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ حساب بہت ہی نزدیک آ گیا ہے۔ "ناس" کی تعبیر اگرچہ ظاہری طور پر عام لوگوں کے لیے آئی ہے اور اس بات کی دلیل ہے کہ سب کے سب غفلت میں ہیں لیکن اِس میں شک نہیں کہ ہمیشہ جب بھی عمومی بات ہو گی تو اس میں استشنا بھی ہو گا۔ اور یہاں ایسے بیدار دل لوگوں کو کہ جو ہمیشہ حساب کی فکر میں رہتے ہیں اور اس کے لیے آمادہ و تیار ہوتے ہیں، اِس حکم سے مستشنےٰ سمجھنا چاہیے۔ یہ بات خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ حساب لوگوں کے نزدیک ہو رہا ہے، نہ کہ لوگ حساب کے۔ گویا حساب تیزی کے ساتھ لوگوں کی طرف دوڑ رہا ہے۔ ضمنی طور پر "غفلت" اور اعراض" کے درمیان فرق، ممکن ہے اس لحاظ سے ہو کہ وہ حساب کے نزدیک ہونے سے غافل ہیں اور یہ غفلت اِس بات کا سبب بنتی ہے، کہ وہ حق کی آیات سے رُدگردانی کریں۔ درحقیقت "حساب سے غفلت" علّت ہے اور "آیات حق سے اعراض" اس کا معلول ہے یا اِس عظیم عدالت میں جواب دینے کے لیے آمادگی سے اور خوُد حساب سے اعراض مراد ہے یعنی چونکہ غافل ہیں لہذا اپنے آپ کو حساب کے لیے آمادہ نہیں کرتے اور رُوگردانی کرتے ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حساب کا نزدیک ہونا اور قیامت کس معنی میں ہے؟ بعض نے کہا ہے کہ اِس سے مراد ہے کہ باقی ماندہ دنیا گزشتہ کے مقابلہ میں کم ہے۔ تو اس بناء پر قیامت نزدیک ہو گی یعنی یعنی گزشتہ کی نسبت نزدیک خاص طور پر جبکہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ منقول ہوا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: بعثت انا والساعۃ کھاتین میری بعثت اور قیامت اِن دونوں (انگلیوں) کی طرح ہے (شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا کہ جو ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں)۔ (بحوالہ: مجمع البیان آیات زیر بحث کے ذیل ہیں)۔ بعض دوسروں نے کہا ہے کہ یہ تعبیر قیامت کے (حتمی طور پر واقع) ہونے کی بناء پر ہے۔ جیسا کہ عربوں کی مشہور ضرب المثل میں کہا جاتا ہے کہ: کل ماھو اٰت قریب جو چیز قطعی و یقینی طور پر آ کر رہے گی، وہ قریب ہے۔ اس کے باوجود یہ دونوں تفسیریں آپس میں ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں۔ لہذا ممکن ہے دونوں نکات کی طرف اشارہ ہو۔ بعض مفسرین مثلاً قرطبی نے احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ یہاں "حساب" قیامت صغریٰ" یعنی موت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ موت کے وقت بھی کچھ نہ کچھ محاسبہ ہوتا ہے اور انسان کو اس کے اعمال کا کچھ بدلہ دیا جاتا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر قرطبی، جلد ۶، ص۴٣٠)۔ لیکن زیربحث آیت ظاہراً قیامت کبریٰ کی طرف راجع نظر آتی ہے۔ بعد والی آیت ان کے اعراض اور رُوگردانیوں کی ایک نشانی کو اِس صورت میں بیان کرتی ہے: اُن کے ربّ کی جو بھی کوئی نئی نصیحت اور یاد دہانی ان کے پاس آتی ہے، وہ اُسے کھیل اور مذاق کے مُوڈ میں سنتے ہیؐ: (مَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مَّن رَّبِّهِم مُّحْدَثٍ إِلَّا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ)۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ کسی سورہ یا آیت ___ اور پرودرگار کی طرف سے کسی بھی بیدار کرنے والی بات پر سنجیدگی سے سوچیں اور کچھ دیر اس پر غور و فکر کریں اور کم از کم یہ احتمال ہی کر لیں کہ یہ بات ان کی زندگی اور مستقبل پر اثر کرنے والی ہو گی۔ وہ نہ خدا کی طرف سے حساب لیے جانے کی فکر کرتے ہیں اور نہ ہی پروردگار کی تنبیوں کی۔ اصولی طور پر جاہل، متکبر اور خود غرض لوگوں کی ایک بدبختی یہ ہے کہ وہ ہمیشہ خیر خواہی کرنے والوں کی پند و نصائح کا مذاق اُڑاتے ہیں اور یہی بات اِس کا سبب بن جاتی ہے کہ وہ ہرگز خوابِ غفلت سے بیدار نہ ہوں جبکہ ایک مرتبہ بھی وہ سنجیدگی کے ساتھ اِس پر غور کریں، تو ہو سکتا ہے کہ ان کی زندگی کا راستہ اسی لمحے تبدیل ہو جائے۔ زیر غور آیت میں لفظ "ذکر" ہر بیدار کرنے والی بات کی طرف اشارہ ہے اور "محدث" (نیا اور جدید) کی تعبیر اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آسمانی کتابیں یکے بعد دیگرے نازل ہوتی ہیں اور قرآنی سورتیں اور اس آیتیں، ہر ایک تازہ بہ تازہ اور نئے نئے مفاہیم و مضامین لیے ہوئے ہوتی ہیں کہ جو مختلف اثر انگیز طریقوں سے غافلوں کو بیدار کرتی ہیں ان لوگوں کے لیے کیا فائدہ کہ جو اِن سب کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ گویا وہ نئی چیزوں سے وحشت رکھتے ہیں۔ وہ انہی قدیم خرافات پر کہ جو انہیں اپنے سے ورثہ میں ملی ہیں، خوش ہیں، گویا انہوں نے ہمیشہ کے لیے یہ عہد کر لیا ہے کہ وہ نئی حقیقت کی مخالفت کریں گے۔ جبکہ قانون ارتقا کی بنیاد اِس بات پر ہے کہ انسان کو ہر روز تازہ بہ تازہ اور نئے سے نئے مسائل کا سامنا ہو۔ پھر مزید تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے: وہ ایسی حالت میں ہیں کہ ان کے دل لہو و لعب اور بےخبری میں ڈوبے ہوئے ہیں: (لَاهِيَةً قُلُوبُهُمْ) کیونکہ وہ تمام محکم اور سنجیدہ مسائل کو ظاہری لحاظ سے شوخی اور لہو و لعب سمجھتے ہیں۔ (جیسا کہ لفظ "یلعبون" فعل مضارع اور مطلق صورت میں، اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے) اور باطنی لحاظ سے غٖفلت میں ڈالنے والے فضول مسائل کے ساتھ لہو و لعب اور فکری مشغولیت میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اور یہ امر فطری اور طبیعی ہے کہ ایسے افراد ہرگز راہِ سعادت نہیں پا سکتے۔ اس کے بعد ان کے شیطانی منصوبوں کے ایک گوشہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: یہ ظالم سازش پر منبی اپنی سرگوشیاں چھپاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تم ہی جیسا ایک عام بشر ہے: (وَأَسَرُّواْ النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُواْ هَلْ هَذَا إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ)۔ (تشریحی نوٹ: عربی ادب میں معمول ہے کہ اگر فاعل اسم ظاہر ہو تو فعل مفرد لایا جاتا ہے لیکن یہ کوئی قاعدہ کلیہ نہیں ہے۔ بعض اوقات خاص علل و اسباب کی بناء پر فعل کو جمع کی شکل میں اور فاعل کو اسم ظاہر لاتے ہیں۔" وَأَسَرُّواْ النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوا" کا جملہ بھی اِسی نوعیت کا ہے)۔ جبکہ وہ ایک عالم بشر سے زیادہ نہیں ہے، تو لازماً اس کے یہ خارق عادت کام اور اس کی بات کی اثر پذیری جادو کے سوا کچھ نہیں "تو کیا تم جادو کے پیچھے جاتے ہو، حالانکہ تم (یہ سب کچھ) دیکھ رہے ہو، (أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنتُمْ تُبْصِرُونَ)۔ ہم بیان کر چکے ہیں کہ یہ سورۃ مکہ میں نازل ہوئی ہے اور اس وقت دشمنانِ اسلام بہت طاقتور تھے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ضرورت تھی کہ وہ اپنی باتوں کو چھپائیں، یہاں تک کہ اپنی سرگوشیوں کو بھی (اس بات پر توجہ رہے کہ قرآن یہ کہتا ہے کہ وہ اپنی سرگوشیوں کو مخفی رکھتے تھے)۔ ممکن ہے یہ اس بناء پر ہو کہ وہ اِن مسائل میں کہ جو کسی سازش اور منصوبہ بندی کا پہلو رکھتے تھے، مشورہ کرتے ہوں تاکہ عام لوگوں کے سامنے ایک ہی منصوبہ کے ماتحت پیغمبرِ اکرمؐ کا مقابلہ کریں۔ علاوہ ازیں وہ قدرت و طاقت کے لحاظ سے تو مسلماً آگے تھے لیکن منطق اور نفوذِ کلام کی قدرت کے لحاظ سے پیغمبرِ اکرمؐ اور مسلمانوں کو برتری حاصل تھی۔ اور یہی برتری اِس بات کا سبب بنتی تھی کہ وہ پیغمبرِ اکرمؐ کے مقابلہ کے لئے جعلی باتیں گھڑتے، مل بیٹھ کر خفیہ مشورے کرتے تھے۔ بہرحال وہ اپنی اِس گفتگو میں دو چیزوں کا سہارا لیتے تھے۔ ایک رسول اللہَ کا بشر ہونا اور دوسرے ان کی طرف جادو کی نسبت دینا۔ اور بعد کی آیات میں جو اور چیزیں انہوں نے غلط منسوب کیں ان کا ذکر بھی آئے گا۔ قرآن ان کا بھی جواب دیتا ہے۔ لیکن پہلے قرآن کلی صُورت میں رسولِ اکرمؐ کی زبان سے اس طرح جواب دیتا ہے: میرا پروردگار ہر بات کو جانتا ہے چاہے وہ آسمان میں ہو یا زمین میں (قَالَ رَبِّي يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ)۔ یہ تصوّر نہ کرنا کہ تمہاری مخفی باتیں اور پوشیدہ سازشیں اُس پر مخفی ہیں۔ کیونکہ" وہ سنتا بھی ہے اور جانتا بھی ہے" (وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ)۔ وہ تمام چیزوں کو جانتا ہے اور تمام کاموں سے باخبر ہے۔ نہ صرف وہ باتوں کو سُنتا ہے بلکہ ان خیالات و تصوّرات کو بھی جو ان کے ذہنوں میں گزرتے ہیں اور ان ارادوں کو بھی کہ جو ان کے سینوں میں چھپے ہوئے ہیں، جانتا ہے۔ مخالفین کی بہانہ بازیوں کی دو قسموں کا بیان کرنے کے بعد، اِن بہانہ بازیوں کی دوسری چار قسموں کا ذکر شروع کرتے ہوئے قرآن اس طرح کہتا ہے: انہوں نے کہا کہ پیغمبر جو کچھ وحی کے عنوان سے لایا ہے، یہ پریشان خوابوں اور پراگندہ خیالوں کے سوا کچھ بھی نہیں کہ جہنیں وہ حقیقت اور واقعیت سمجھ بیٹھا ہے: (بَلْ قَالُواْ أَضْغَاثُ أَحْلاَمٍ)۔ (تشریحی نوٹ: "اضغاث": جمع "ضغث" (بردزن "حرص") خشک لکڑیوں یا گھاس وغیرہ کے گٹھے کے معنی میں ہے۔ "احلام" جمع ہے "حلم" کی (بردزن "نہم") خواب اور رؤیا کے معنی میں اور چونکہ لکڑی وغیرہ کے گٹھوں کو اکٹھا کرنے کے لیے بکھری ہوئی چیزوں کو ایک دوسرے کے اُوپر رکھتے ہیں اس لیے اِس تعبیر کا خوابِ پریشاں پر بھی اطلاق ہوا ہے)۔ اور کبھی اپنی اِس بات کو بدل کر کہتے ہیں کہ: "وہ جھوٹا آدمی ہے اور اس نے خدا سے یہ باتیں جُھوٹ منسوب کی ہیں (بَلِ افْتَرَاهُ)۔ اور کبھی کہتے ہیں کہ: "نہیں وہ ایک شاعر ہے" اور یہ باتیں اس کے شاعرانہ تخلیلات کا مجموعہ ہیں (بَلْ هُوَ شَاعِرٌ)۔ اور آخری مرحلہ میں کہتے ہیں کہ اگر ہم ان تمام باتوں کو چھوڑ دیں پھر بھی، اگر وہ سچ کہتا ہے کہ وہ خدا کا بھیجا ہوا (رسول) ہے تو ہمارے لیے کوئی معجزہ لے کر آئے جیسا کہ گزشتہ انبیاء معجزات کے ساتھ بھیجے گئے تھے" (فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الْأَوَّلُونَ)۔ رسول اللہؐ کی طرف اِن چیزوں کی نسبت، جو ایک دوسرے کی نقیض اور ضد ہیں، کا مطالعہ اور تحقیق خود اِس بات کی بہترین دلیل ہے کہ وہ لوگ حق طلب اور حقیقت کے متلاشی نہیں تھے بلکہ ان کا مقصد بہانہ جوئی اور حریف کو ہر صُورت میں میدان سے باہر نکالنا تھا۔ کبھی جادوگر کہتے، کبھی شاعر، کبھی مفتری اور کبھی (معاذ اللہ ) خیالی دنیا میں بسنے والا ایک شخص کہ جو اپنے خوابِ پریشاں کو وحی کہنے لگا ہے۔ اگر ہمارے پاس ان کی باتوں کو باطل کرنے کے لیے، ان کی اِدھر اُدھر کی ان منتشر باتوں کے علاوہ اور کوئی بھی دلیل نہ ہوتی، تو ان کے باطل ہونے کے لیے یہی کافی تھیں لیکن بعد کی آیات میں ہم دیکھیں گے کہ قرآن دوسرے طریقوں سے بھی انہیں قاطع جواب دیتا ہے۔

ایک نکتہ کیا قرآن حادث ہے؟

بعض مفسرین نے ان آیات کے ذیل میں لفظ "محدث" کی مناسبت سے کہ جو دوسری زیر بحث آیت میں ہے "کلام اللہ" کے حادث یا قدیم ہونے کے بارے میں بہت بحث کی ہے۔ یہ وہی مسئلہ ہے کہ جو خلفاء بنی عباس کے زمانہ میں سالہا سال تک بحث و تنقید کا موضوع بنا رہا اور جس نے ایک طویل مدت تک بہت سے علما کو الجھائے رکھا۔ لیکن ہم موجودہ زمانہ میں اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ یہ بحث زیادہ تر سیاسی پہلو رکھتی تھی۔ حکمران چاہتے تھے کہ علمائے اسلام کو آپس میں الجھائے رکھیں اور اصول اور بنیادی مسائل کہ جو وضع حکومت اور لوگوں کے طرز زندگی اور اسلام کے اصلی حقائق سے تعلق رکھتے ہیں، سے توجہ ہٹائے رکھیں۔ موجودہ زمانے میں ہمارے لیے یہ بات پورے طور پر واضح ہے کہ اگر "کلام اللہ" سے مراد اس کا معنی و مفہوم ہے، تو قطعی طور پر قدیم ہے یعنی ہمیشہ وہ علم خدا تھا اور خدا کا علم ہمیشہ سے اس پر محیط ہے۔ اور اگر اس سے مراد یہ الفاظ اور یہ کلمات اور یہ وحی ہے کہ جو پیغمبر اکرمؐ پر نازل ہوئی تو وہ بلاشک و شبہ "حادث" ہے۔ کون عاقل یہ کہتا ہے کہ الفاظ و کلمات ازلی ہیں، یا پیغمبر پر وحی کا نزول دور بعث کے آغاز سے نہیں ہوا؟ لہذا آپ ملاحظہ کریں گے کہ ہم بحث کو جس طرف سے بھی لیں مسئلہ روز روشن کی طرح واضح ہے۔ دوسرے الفاظ میں قرآن الفاظ بھی رکھتا ہے اور معانی بھی۔ اس کہ الفاظ قطعًا و یقينًا "حاوث" ہیں اور اس کے معانی قطعًا و یقینًا "قدیم" ہیں۔ لہذا کھینچا تانی اور بحث و مباحثہ کی ضرورت نہیں ہے۔ اور پھر یہ بحث اسلامی معاشرے کی کونسی علمی۔ معاشرتی۔ سیاسی اور اخلاقی مشکل کو حل کرتی ہے۔ حیرت ہے کہ بعض گزشتہ علماء نے مکار اور سازشی حکام اور بادشاہوں کی فریب کاریوں سے دھوکا کیوں کھایا۔ لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ بعض آئمہ اہل بیتؑ نے اس مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے واضح اور عملی طور پر انہیں خبردار کیا ہے کہ وہ اس قسم کی بحثوں سے پرہیز کریں۔ (بحوالہ: نورالثقلين، جلد ٣ - ص ۴۱۲۔ بحوالہ احتجاج طبرسی)

6
21:6
مَآ ءَامَنَتۡ قَبۡلَهُم مِّن قَرۡيَةٍ أَهۡلَكۡنَٰهَآۖ أَفَهُمۡ يُؤۡمِنُونَ
تمام آبادیاں جنہیں ہم نے ان سے پہلے ہلاک کیا (معجزات دیکھنے کے با وجود) وہ ہرگز ایمان نہ لائے، تو کیا یہ ایمان لے آئیں گے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
21:7
وَمَآ أَرۡسَلۡنَا قَبۡلَكَ إِلَّا رِجَالٗا نُّوحِيٓ إِلَيۡهِمۡۖ فَسۡـَٔلُوٓاْ أَهۡلَ ٱلذِّكۡرِ إِن كُنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ
ہم نے تجھ سے پہلے مرد ہی بھیجے کہ جن کی طرف ہم وحی کیا کرتے تھے۔(وہ سب کے سب انسان ہی تھے اور نوع بشر سے تھے) اگر تم نہیں جانتے تو جاننے والوں سے پوچھ لو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
21:8
وَمَا جَعَلۡنَٰهُمۡ جَسَدٗا لَّا يَأۡكُلُونَ ٱلطَّعَامَ وَمَا كَانُواْ خَٰلِدِينَ
ہم نے انہیں ایسے جسم نہیں دئیے تھے کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ ہی وہ عمرجاوداں رکھتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
21:9
ثُمَّ صَدَقۡنَٰهُمُ ٱلۡوَعۡدَ فَأَنجَيۡنَٰهُمۡ وَمَن نَّشَآءُ وَأَهۡلَكۡنَا ٱلۡمُسۡرِفِينَ
اس کے بعد جو وعدہ ہم نے ان سے کیا تھا اس کو ہم نے وفا کیا، انہیں اور جس جسکو ہم چاہتے تھے (ان کے دشمنوں کے چنگل سے) نجات دی اور زیادتی کرنیوالے کوہم نے ہلاک کردیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
21:10
لَقَدۡ أَنزَلۡنَآ إِلَيۡكُمۡ كِتَٰبٗا فِيهِ ذِكۡرُكُمۡۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ
ہم نے تم پر ایسی کتاب نازل کی ہے کہ جس میں تمہارے لئے نصیحت (اور بیداری) کا وسیلہ موجود ہے۔کیا تم غور و فکر نہیں کرتے؟

تفسیر تمام پیغمبر نوع بشر میں سے تھے:

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں دشمنان اسلام کی طرف سے ایسے چھ اعتراضات کا ذکر تھا کہ جو ایک دوسرے کی ضد اور نقیض ہیں۔ زیربحث آیات انہیں کا جواب دے رہی ہیں۔ ان میں کبھی کلی صورت میں اور کبھی کسی خاص مسئلے کے اعتبار سے جواب دیا گیا۔ پہلی زیر بحث آیت ان کے من پسند معجزات طلب کرنے کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ (تشریحی نوٹ: من پسندی سے معجزات کو اصطلاح میں "اقتراحی معجزات" کہتے ہیں۔ اور معجزات کا تقاضا درحقیقت بہانہ سازی کے طور پر تھا) اور کہتی ہے، تمام شہر اور آبادیاں کہ جنہیں ہم نے ان سے پہلے ہلاک کیا ہے، انہوں نے کبھی اسی قسم کے معمولات کا تقاضا کیا تھا لیکن جب ان کے مطالبات پورے کر دیئے گئے تو وہ پھر بھی ایمان نہ لائے۔ تو کیا یہ ایمان لے آئیں گے (ما أمنت قبلھم من قرية اهلكناها افھم یؤمنون)۔ اس ضمن میں انہیں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اقتراحی معجزات کے سلسلے میں تمہارے تقاضے کو پورا کر دیا جائے اور پھر بھی تم ایمان نہ لاؤ، تو تمهاری تباہی و نابودی حتمی و یقینی ہو جائے گی۔ آیت کی تفسیر میں یہ احتمال میں موجود ہے کہ قرآن اس آیت میں ان کے تمام ایسے اعتراضات کی طرف جو ایک دوسرے کی ضد اور نقیض ہیں، اشارہ کرتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ: سچے پیغمبروں کی دعوت کے سلسلے میں اس طرح کی ٹکر کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہٹ دھرم) اور ضدی افراد ہمیشہ ہی اسی قسم کے بہانوں کو وسیلہ بنایا کرتے تھے اور آخر کار ان کا انجام بھی سوائے کفر کے اور اس کے بعد ان کی ہلاکت اور درد ناک عذاب الہی کے اور کچھ نہیں ہوتا تھا۔ بعد والی آیت ان کے سب سے پہلے اعتراض کا خصوصیت سے جواب دے رہی ہے، یہ اعتراض پیغمبر کے بشر ہونے کے سلسلے میں تھا۔ آیت کہتی ہے تو ہی نہیں کہ جو پیغمبرؐ ہونے کے ساتھ ساتھ انسان بھی ہے بلکہ تمام کے تمام پیغمبر جو تجھ سے پہلے آئے ہیں وہ سب کے سب مرد ہی تو تھے کہ جن کی طرف ہم وحی کیا کرتے تھے (وما ارسلنا قبلك الا رجالأ نوحی الیهم)۔ یہ ایک ایسی تاریخی حقیقت ہے کہ جسے سب لوگ جانتے ہیں اور اس سے آگاہ ہیں "اور اگر تم نہیں جانتے، تو جو آگاه ہیں ان سے پوچھ لو" (فاسئلوا أهل الذكر ان كنتم لا تعلمون)۔

اہلِ ذکر کون ہیں؟

اِس میں شک نہیں کہ "اهل ذكر" لغوي مفہوم کے لحاظ سے تمام آگاہ اور باخبر افراد کے لیے بولا جاتا ہے اور زیر نظر آیت "جاہل کے عالم کی طرف رجوع کرنے" کے ایک کلی عقلی قانون کو بیان کر رہی ہے۔ اگرچہ موقع کے لحاظ سے آیت کا مصداق علماء اہل لكتاب ہی تھے، لیکن یہ بات قانون کی کلیات میں مانع نہیں ہے۔ اسی بناء پر علما اور فقہائے اسلام نے اس آیت سے "مجتہدین اسلام کی تقلید کرنے کے جواز کے" مسئلہ میں استدلال کیا ہے۔ اور اگر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اُن روایات میں، کہ جو اہل بیتؑ کی طرف سے ہم تک پہنچی ہیں، اہلِ ذکر کی علی علیه السلام یا تمام آئمہ اہلبیتؑ سے تفسیر کی گئی ہے تو یہ منحصر ہونے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ یہ اس قانون کلی کے واضح ترین مصادیق کا بیان ہے۔ اِس سلسلے میں مزید وضاحت کے لیے سورہ نحل کی آیہ ۴٣ کی تفسیر کا مطالعہ فرمائیں۔ بعد والی آیت انبیاء کے بشر ہونے کے سلسلے میں مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہے: ہم نے پیغمبروں کو ایسے جسم نہیں دیئے تھے کہ جو کھانا نہ کھاتے ہوں اور وہ ہرگز عمر جاوداں بھی نہیں رکھتے تھے۔ (وماجعلناهم جسدًا لا يأكلون الطعام وما كانوا خالدين)۔ "لا يأكلون الطعام" کا جملہ اس چیز کی طرف اشارہ ہے کہ جو قرآن میں دوسرے مقام پر اسی اعتراض کے سلسلے میں آئی ہے: وقالوا ما لهذا الرسول يأكل الطعام ويمشي في الاسواق۔ انہوں نے کہا یہ پیغمبر کھانا کیوں کھاتا ہے اور بازاروں میں کیوں چلتا پھرتا ہے۔ (فرقان۔۷)۔ "ماكانوا خالدين" کا جملہ بھی اسی معنی کی ایک تکمیل ہے۔ کیونکہ مشرکین یہ کہتے تھے کہ بشر کی بجائے اگرچہ فرشتہ بھیجا جاتا تو اچھا تھا۔ ایسا فرشته جو عمر جادوانی رکھتا ہوتا اور اسے موت نہ آتی۔ قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے: گزشتہ انبیاء میں سے کوئی بھی عمر جاودانی نہیں رکھتا تھا کہ پیغمبر اسلامؐ کے بارے میں یہ بات کی جاۓ۔ بہرحال جیسا کہ ہم نے بارہا بیان کیا ہے۔ اِس میں شک نہیں کہ انسانوں کے رہبر کو انہیں کی نوع میں سے ہونا چاہیئے، ان ہی اغراض، احساسات، جذبات، احتیاجات اور علائق کے ساتھ تاکہ وہ ان کے درد اور تکالیف کو محسوس کرے۔ اور علاج کا بہترین طریقه اپنی تعلیمات کے ذریعے پیش کرے۔ تاکہ وہ تمام انسانوں کے لیے نمونہ اور ایک اسوہ بنے اور سب پر حجت تمام کرے۔ اِس کے بعد سخت اور ہٹ دھرم منکرین کو تنبیہ اور خبردار کرنے کے عنوان سے قرآن اس طرح کہتا ہے: ہم نے اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا تھا کہ ہم انہیں دشمنوں کے چنگل سے رہائی بخشیں گے اور ان کے دور کے اصولوں کو خاک میں ملا دیں گے۔ ہاں! آخر کار ہم نے اپنے اس وعدہ کو پورا کیا اور ان کی صداقت کو آشکار کیا انہیں اور ان تمام لوگوں کو کہ جنہیں ہم چاہتے تھے نجات دی اور زیادتی کرنے والوں کو ہم نے ہلاک کر دیا: (ثم صدقناهم الوعد فانجيناهم ومن نشاء واهلكنا المسرفين)۔ ہاں! جس طرح افراد بشر میں سے رہبران بشر کو منتخب کرنا ہماری سنت تھی یہ بھی ہماری سنت تھی۔۔۔۔۔ کہ ہم مخالفین کی سازشوں کے مقابلہ میں ان کی حمایت کریں اور اگر پے در پے پند و نصائح ان پر اثر انداز نہ ہوں تو صفحہ زمین کو ان کے وجود کی گندگی سے پاک کر دیں۔ یہ بات صاف ظاہر ہے کہ "ومن نشا" (اور جسے ہم چاہیں) سے مراد ایسا چاہنا ہے کہ جو ایمان اور عمل صالح کے معیار پر پورا اترے اور یہ بھی واضح ہے کہ "مسرفین" سے یہاں ایسے لوگ مراد ہیں کہ جنہوں نے اپنے بارے میں اور معاشرے کے بارے میں کہ جس میں وہ زندگی بسر کرتے تھے، اسراف کیا ہے۔ آیات خدا وندی کا انکار کر کے اور پیغمبروں کو جھٹلا کر۔ اِس لیے قرآن میں ایک دوسری جگہ پر بیان ہوا ہے کہ: كذالك حقا علينا ننجي المؤمنين اسی طرح سے ہم پر حق اور ضروری تھا کہ ہم مومنین کو نجات دیں۔ (یونس۔۱۰٣) آخری زیر بحث آیت میں ایک مختصر اور پر معنی جملے میں مشرکین کے اکثر اعتراضات کا نئے سرے سے جواب دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ہم نے تم پر ایسی کتاب نازل کی ہے کہ جس میں تمہاری بیداری کا وسیلہ موجود ہے۔ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے: (ولقد انزلنا الیكم كتابًا فيه ذكر كم افلا تعقلون)۔ جو شخص اس کتاب کی آیات کا مطالعہ کرے جو معاشرے کے لیے تذکر اور دل کی بیداری اور فکر و نظر کے تحرک اور پاکیزگی کا موجب ہیں، تو وہ اچھی طرح سے جان لے گا کہ یہ ایک واضح اور جادوانی معجزہ ہے۔ اس آشکار معجزے کے ہوتے ہوئے کہ جس میں مختلف جہات سے اعجاز کے آثار نمایاں ہیں، (انتہائی زیادہ قوتِ جاذبہ کی جہت سے، مضامین کی جہت سے احکام و قوانین کی جہت سے اور عقائد و معارف وغیرہ کی جہت سے) کیا پھر بھی کسی دوسرے معجزے کی انتظار میں ہو؟ اس سے بہتر اور کون سا معجزه پیغمبر اسلامؐ کی دعوت کی حقانیت کو ثابت کر سکتا ہے؟ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اِس سے قطع نظر، اس کتاب کی آیات پکار پکار کہہ رہی ہیں کہ یہ جادو نہیں ہے، حقیقت و واقعیت ہے اور اس کی تعلیمات جاذب و پُرمعنی ہیں کیا پھر بھی یہی کہتے ہو کہ یہ جادو ہے؟ کیا ان آیات کی طرف "اضغاث احلام" کی نسبت دی جا سکتی ہے؟ بےمعنی اور پریشان خواب کہاں اور یہ موزوں اور ایک دوسرے سے مربوط باتیں کہاں؟ کیا اسے جھوٹ اور افترا شمار کیا جا سکتا ہے؟ جب کہ سچائی کے آثار اس کے ہر مقام سے نمایاں ہیں۔ اور کیا اسے لانے والا شاعر ہو سکتا ہے جبکہ شعر تخیل کے محور کے گرد چکر لگاتا ہے اور اس کتاب کی تمام آیات حقیقتوں پر مبنی ہیں۔ مختصر یہ کہ اس کتاب میں غور و فکر کرنے اور اس کا مطالعہ کرنے سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ یہ نسبتیں کہ وہ ایک دوسرے کی ضد اور تقیض ہیں ایسے پیوند ہیں کہ جو ہم رنگ نہیں ہیں اور ایسی باتیں ہیں کہ جو احمقانہ ہیں۔ یہ بات کہ زیر بحث آیت میں "ذ كركم" کس معنی میں ہے، اس بارے میں مفسرین کے بیانات مختلف ہیں۔ بعض نے تو کہا کہ اس سے مراد ہے کہ قرآن کی بات تمہارے لیے نصیحت اور افکار و اذہان کی بیداری کا سبب ہیں۔ جیسا کہ ایک اور جگہ قرآن کہتا ہے: فذكّر بالقران من یخاف وعید اس قرآن کے ذریعے ان لوگوں کو کہ جو خدائی عذاب اور سزا سے ڈرتے ہیں نصیحت کرو اور یاد دہانی کراؤ۔ (ق - ۴٥) بعض نے یہ کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ یہ قرآن تمہارے نام اور شہرت کو دنیا میں بلند کرے گا یعنی ہماری عزت و شرف کا باعث ہے۔ تم مومنین و مسلمین کی یا تم قوم عرب کی۔ کیونکہ قرآن تمہاری زبان میں نازل ہوا ہے۔ اور اگر یہ تم سے لے لیا جائے تو تمہارا دنیا میں نام و نشان تک باقی نہ رہے۔ بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس قرآن میں وہ تمام چیزیں موجود ہیں کہ جو تمہارے دین و دنیا کے لیے ضروری ہیں اور یا مکارم اخلاق کے سلسلہ میں جن کے تم محتاج ہو، ان سب کے لیے یاد دہانی کرائی گئی ہے۔ اگرچہ یہ تفاسیر ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں اور ممکن ہے کہ یہ سب کی سب "ذ كركم" کی تفسیر میں جمع ہوں، تاہم پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ یہ قرآن بیداری کا سبب کس طرح ہے جبکہ بہت سے مشرکین نے اسے سنا لیکن وہ بیدار نہیں ہوئے، تو ہم اس کے جواب میں کہیں گے کہ قرآن کا بیدار کرنے والا ہونا، جبری اور اضطراری پہلو نہیں رکھتا بلکہ اس کی شرط یہ ہے کہ انسان خود چاہتا ہو اور وہ اپنے دل کے دریچے اس کے سامنے کھول دے۔

11
21:11
وَكَمۡ قَصَمۡنَا مِن قَرۡيَةٖ كَانَتۡ ظَالِمَةٗ وَأَنشَأۡنَا بَعۡدَهَا قَوۡمًا ءَاخَرِينَ
ہم نے کتنی ایسی بستیوں کو کہ جو ظالم تھیں درہم برہم کردیا اور ان کے بعد ہم ایک دوسری قوم کو لے آئے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
21:12
فَلَمَّآ أَحَسُّواْ بَأۡسَنَآ إِذَا هُم مِّنۡهَا يَرۡكُضُونَ
انہوں نے جس وقت ہمارے عذاب کو محسوس کیا تواچانک راہ فرار اختیار کی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
21:13
لَا تَرۡكُضُواْ وَٱرۡجِعُوٓاْ إِلَىٰ مَآ أُتۡرِفۡتُمۡ فِيهِ وَمَسَٰكِنِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡـَٔلُونَ
فرار نہ کرو اور اپنی نازو نعمت سے پر زندگی کی طرف لوٹ آؤ اور اپنے خوبصورت گھروں میں (آجاؤ)، شا ئد کہ سائل آئیں اور تم سے سوال کریں۔(اور تم ان کو محروم کر کے پلٹا دو)

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
21:14
قَالُواْ يَٰوَيۡلَنَآ إِنَّا كُنَّا ظَٰلِمِينَ
انہوں نے کہا: ہائے افسوس ہم پر کہ ہم ظالم تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔

15
21:15
فَمَا زَالَت تِّلۡكَ دَعۡوَىٰهُمۡ حَتَّىٰ جَعَلۡنَٰهُمۡ حَصِيدًا خَٰمِدِينَ
پس وہ اسی طرح سے اپنی ان باتوں کودہرا رہے تھے، یہاں کہ ہم نے انہیں جڑسے کاٹ کرخاموش کردیا۔

ظالم عذاب کے چنگل میں کیسے گرفتار ہوئے؟

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

زیر بحث آیات میں ان باتوں کے بعد کہ جو ہٹ دھرم مشرکین اور کفار کے بارے میں گزریں، قرآن گزشتہ قوموں کے انجام کے ساتھ ان کے انجام کا موازنہ کر کے واضح کرتا ہے: پہلے کہتا ہے: کتنی ظالم اور ستمگر آبادیاں ایسی تھیں کہ جنہیں ہم نے تہ و بالا کر دیا (وكم قصمنا من قرية كانت ظالمة)۔ "اور ان کے بعد ایک دوسری قوم کو میدان آزمائش میں لے آئے" (وانشأ نا بعدها قوما أخرين)۔ اِس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ "قصم" شدت کے ساتھ توڑنے کے معنی میں ہے، یہاں اس کہ بعض اوقات کوٹنے کے معنی میں آتا اور اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ان قوموں کے ظالم ہونے کا ذکر ہے، اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ خدا ظالم و ستمگر قوموں کے بارے میں شدید ترین انتقام اور سزا و عذاب کا قائل ہے۔ ضمنی طور پر اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اگر گزشتہ لوگوں کی تاریخ کا مطالعہ کرو تو تم جان لو گے کہ پیغمبر اسلامؐ کی تہدیدیں بےبنیاد اور مذاق نہیں ہیں بلکہ وہ ایک تلخ حقیقت ہیں کہ جس کے بارے میں تمہیں خوب غور و فکر کرنا چاہیے۔ اَب ان کے حالات کی تفصیل بیان کی گئی ہے جب کہ عذاب ان کی آبادیوں کو آ لیتا تھا۔ خدائی عذاب سے مقابلہ میں ان کی بیچارگی واضح کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ جس وقت انہوں نے محسوس کیا کہ خدا کا عذاب انہیں دامن گیر ہو کے رہے گا تو انہوں نے فرار کی راہ اختیار کی: (فلما احسوا بأسنا اذا هم منها یركضون)۔ (تشریحی نوٹ: "ركض" کا معنی تیزی سے دوڑنا بھی ہے اور سواری کو دوڑانا بھی ہے اور کبھی زمین پر پاؤں مارنے کے معنی میں بھی آتا ہے اركض برجلك هذا مغتسل بارد وشراب اے ایوب! تم اپنا پاؤں زمین پر ماور (تو ایک چشمہ پھوٹ نکلے گا) کہ جو نہانے کے لیے بھی ہے اور پینے کیلئے بھی۔ (ص - ۴۲) ) ٹھیک ایک شکست خوردہ لشکر کی مانند جو دشمن کی برہنہ شمشیروں کو اپنی پشت پر دیکھ کر اِدھر اُدھر بھاگ کھڑا ہو۔ لیکن سرزنش کے عنوان سے انہیں کہا جائے گا: بھاگو نہیں! اور اپنی ناز و نعمت سے پر زندگی اور زر و جواہرسے بھرے ہوئے مکانوں، محلوں، بنگلوں کی طرف پلٹ آؤ شاید سائل آئیں اور تم سے سوال کریں: (لاتركضوا و ارجعوا إلى ما أترفتم فيه ومساکنكم لعلكم تسئلون)۔ یہ عبارت، ممکن ہے اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ ہمیشہ ان کی پر ناز و نعمت زندگی میں سائل اور خیرات مانگنے والے ان کے گھروں کے دروازوں پر امید لے کر آتے تھے اور محروم ہو کر پلٹ جاتے تھے۔ انہیں کہا گیا ہے کہ "پلٹ جاؤ اور انہیں نفرت انگیز مناظر کو پھر دہراؤ۔" یہ حقیقت میں ایک قسم کا استہزاء اور سرزنش ہے۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ "لعلكم تسئلون" ان کی جاہ و جلال کے دربار کی طرف اشارہ ہے کہ وہ خود ایک گوشہ میں بیٹھے رہتے اور مسلسل فرمان جاری کرتے اور خدمت گار پے در پے ان کے پاس آتے، اور پوچھتے کہ حضور کیا حکم ہے؟ باقی رہا یہ کہ اس بات کا کہنے والا کون ہے؟ تو یہ بات آیت میں صراحت کے ساتھ بیان نہیں کی گئی۔ ممکن ہے کہ یہ ندا خدا کے فرشتوں یا انبیاء یا ان کے قاصدوں کی ہو یا خود انہی کے ضمیر اور وجدان کی آواز ہو۔ حقیقت میں یہ خدا کی ندا ہی تھی کہ جو انہیں سنائی دے رہی تھی کہ: بھاگو نہی؛ پلٹ آو! کہ جو ان تینوں میں سے کسی ایک ذریعہ سے ان تک پہنچ رہی تھی۔ یہ بات خاص طور بھی قابل توجہ ہے کہ تمام مادی نعمتوں میں سے یہاں خصوصیت کے ساتھ "مسکن" کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ شاید یہ اس بنا پر ہو کہ انسان کے آرام و سکون کا پہلا وسیلہ ایک مناسب جائے سکونت کا ہونا ہے۔ اور یا یہ بات ہے کہ انسان عام طور پر اپنی زندگی کی بیشتر آمدنی اپنے مکان پر صرف کرتا ہے اور اسی کا زیادہ تر لگاو بھی اسی سے ہوتا ہے۔ بہرحال وہ اس وقت بیدار ہوں گے اور جس چیز کو وہ پہلے مذاق سمجھتے تھے اسے سنجیدہ ترین صورت میں اپنے سامنے دیکھیں گے اور وہ چیخ اٹھیں گے اور کہیں گے وائے ہو ہم پر کہ ہم ظالم و ستمگر تھے (قالوا یا ويلنا انا كنا ظالمین)۔ لیکن یہ اضطراری بیداری کہ جو عذاب کے حقیقی مناظر کے سامنے ہر شخص میں پیدا ہو جاتی ہے بےقدر و قیمت ہے اور اس سے ان کا انجام بدل نہیں سکتا۔ لہذا قران آخری زیر بحث آیت میں اضافہ کرتا ہے: اور وہ اس طرح اس بات کا کہ "وائے ہو ہم پر کہ ہم ظالم تھے" تکرار کر رہے تھے کہ ہم نے ان کی جڑ کو کاٹ کر رکھ دیا اور انہیں خاموش کر دیا (فما زالت تلك دعوٰهم حتى جعلناهم حصيدًا خامدین)۔ کٹی ہوئی کھیتیوں (حصيد) کی طرح زمین پر گریں گے اور ان کا آباد اور جوش و خروش سے پُر شهر، ویران قبرستان اور خاموشی میں بدل جائے گا۔ (خامدين)۔ (تشریحی نوٹ: "خامد" اصل میں "خمود" کے مادہ سے ("جنود" کے وزن پر) آگ بجھ جانے کے معنی میں ہے۔ بعد ازاں یہ لفظ ہر اس چیز پر بولا جانے لگا کہ جس کا جوش و خروش ختم ہو جائے)

16
21:16
وَمَا خَلَقۡنَا ٱلسَّمَآءَ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا لَٰعِبِينَ
ہم نے آسمان وزمین اور جوکچھ ان کے درمیان ہے، کھیل کے طورپر پیدا نہیں کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔

17
21:17
لَوۡ أَرَدۡنَآ أَن نَّتَّخِذَ لَهۡوٗا لَّٱتَّخَذۡنَٰهُ مِن لَّدُنَّآ إِن كُنَّا فَٰعِلِينَ
بفرض محال اگرہم چاہتے بھی کہ کوئی سرگرمی(اور مشغولیت) ڈھونڈیں تو اپنے شایان شان کسی چیز کا انتخاب کرتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔

18
21:18
بَلۡ نَقۡذِفُ بِٱلۡحَقِّ عَلَى ٱلۡبَٰطِلِ فَيَدۡمَغُهُۥ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٞۚ وَلَكُمُ ٱلۡوَيۡلُ مِمَّا تَصِفُونَ
بلکہ ہم حق کو باطل پر دے مارتے ہیں تاکہ اسے(باطل کو) ہلاک کردیں اور اس طرح باطل نابود ہو جاتا ہے۔لیکن تم پر وائے ہو اس تو صیف پر کہ جوتم کرتے ہو۔

تفسیر آسمان و زمین کی خلقت کھیل نہیں ہے:

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

چونکہ گزشتہ آیات میں یہ حقیقت بیان ہوئی تھی کہ ظالم بے ایمان اپنی خلقت کے بارے میں سوائے عیش و عشرت کے کسی مقصد کے قائل نہیں تھے اور حقیقتًا اس جہان کو بے مقصد خیال کرتے تھے۔ قرآن مجید زیر بحث آیات میں اس طرز فکر کو باطل قرار دینے اور پوری کائنات خصوصًا انسانوں کی خلقت کے لیے گراں قدر مقصد ہونے کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے: ہم نے آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اسے فضول اور بے ہودہ پیدا نہیں کیا ہے: (وما خلقنا السماء والأرض وما بينهما لاعبین)۔ یہ پھیلی ہوئی زمین یہ وسیع آسمان اور ان میں موجود یہ قسم قسم کی موجودات، اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ کوئی اہم مقصد پیش نظر تھا۔ ہاں! مقصد تھا اور وہ یہ تھا کہ ایک طرف تو وہ اس عظیم پیدا کرنے والے کے وجود کا ثبوت بنیں اور دوسری طرف سے "معاد" کے لیے دلیل بنیں ورنہ یہ سب شور و غل چند دن کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی انسان کسی بیابانی کے وسط میں تمام وسائل سے آراستہ و پیراستہ ایک محل بنائے، صرف اس غرض سے کہ تمام عمر میں جو ایک گھنٹے کے لیے وہاں سے گزرے گا، تو اس میں آرام کرے گا۔ مختصر یہ ہے کہ اگر ہم اس باعظمت جہان کو بےایمان لوگوں کی آنکھ سے دیکھیں تو یہ فضول اور بےمقصد ہے، صرف مبداء و معاد پر ایمان ہی ہے کہ جو اسے بامقصد بناتا ہے۔ بعد کی آیت کہتی ہے کہ اب جبکہ یہ بات مسلم ہو گئی کہ عالم بےمقصد نہیں ہے، یہ بھی مسلم ہے کہ اس خلقت کا مقصد خدا کا خلقت کے کام میں سرگرم اور مشغول رہنا نہیں ہے کیونکہ ایسی سرگرمی اور مشغولیت غیر معقول ہے "بفرض محال اگر ہم چاہتے کہ اپنے لیے کوئی سرگرمی ڈھونڈیں، تو ایسی چیز کا انتخاب کرتے کہ جو ہمارے لیے مناسب ہوتی" (لو اردنا ان نتخذ لهوا لاتخذناه من لدنا ان كنا فاعلين)۔ حقیقت میں لفظ "لعب" بے مقصد کام کے معنی میں ہے اور" لھو" نا معقول مقاصد اور سرگرمیوں کی طرف اشارہ ہے۔ زیر بحث آیت دو حقائق کو بیان کرتی ہے۔ اول تو لفظ "لو" کی طرف توجہ کرتے ہوئے جو لغت عرب میں امتناع کے لیے ہے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ امر محال ہے کہ پروردگار کا مقصد اپنے آپ کو مشغول رکھنا ہو۔ اِس کے بعد قرآن کہتا ہے: فرض کریں کہ اگر مقصد مشغول رہنا ہو، تو یہ سرگرمی اس کی ذات کے شایان شان ہونا چاہیئے۔ عالم مجردات اور اسی قسم کی چیزوں میں سے، نہ کہ اس عالم سے کہ جو مادہ میں محدود ہے۔ (تشریحی نوٹ: کچھ مفسرین نے زیر نظر آیات کو عیسائیوں کے عقائد کی نفی کی طرف اشارہ سمجھا ہے، یعنی لہو کو بیوی اور بیٹے کے معنی میں لیا ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ آیت ان کے جواب میں کہہ رہی ہے کہ اگر ہم چاہتے کہ بیٹا اور بیوی کا انتخاب کرتے، تو نوع انسانی میں سے انتخاب نہ کرتے۔ لیکن یہ تفسیر کئی جہت سے مناسب نظر نہیں آتی۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ زیر بحث آیات کا ربط گزشتہ آیات سے منقطع ہو جائے گا اور دوسرا یہ کہ "لہو" خصوصًا جب "لعب" کے بعد قرار پائے تو سرگرمی اور مشغولیت کے معنی میں ہوتا ہے، نہ کہ بیوی بیٹے کے معنی میں۔) اس کے بعد قطعی اور دو ٹوک الفاظ میں ان احمقوں کے اوہام کو باطل کرنے کے لیے کہ جو دنیا کو بےمقصد صرف مشغول اور سرگرم رہنے کا ذریعہ خیال کرتے ہیں، قرآن اس طرح کہتا ہے: جہان ایک ایسا مجموعہ ہے کہ جو حقیقت و واقعیت ہے، یہ ایسا نہیں ہے کہ جس کی بنیاد باطل پہ ہو بلکہ ہم حق کو باطل کے سر پر دے پٹکیں گے تاکہ اسے نابود اور ہلاک کر دے اور باطل محو و نابود ہو جائے: (بل نقذف بالحق على الباطل فيدمغه فاذا هو زاهق)۔ اور آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے، لیکن تم پر وائے ہو، اس توصیف پر، کہ جو تم عالم کے لیے بےمقصد ہونے کے بارے میں کرتے ہو (ولكم الويل مماتصفون)۔ یعنی ہم ہمیشہ بےہودگی کی طرف مائل لوگوں کے خیالات دادھام کے مقابلے میں عقلی دلائل، واضح استدلالات اور اپنے آشکار معجزات پیش کرتے ہیں تاکہ غور و فکر کرنے والوں اور صاحبان عقل کی نظروں میں، یہ خیالات و اوہام درہم برہم ہو جائیں۔ خدا کی معرفت کے دلائل روشن ہیں۔ معاد کے برپا ہونے کے دلائل آشکار ہیں۔ انبیاء کی حقانیت کے برابین واضح ہیں۔ اور درحقیقت ان لوگوں کے لیے کہ جو ہٹ دھرم اور بہانہ باز نہیں ہیں۔ حق باطل سے کامل طور پر الگ اور نمایاں ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ "نقذف" "قذف" کے مادہ سے پھینکنے کے معنی میں ہے، خصوصًا دور سے پھینکنا اور چونکہ دور سے پھینکنا، تیزی، سرعت اور زیادہ قوت رکھتا ہے، یہ تعبیر حق کی باطل پر کامیابی کی قدرت کو بیان کرتی ہے۔ لفظ "علٰى" بھی اسی معنی کی تائید کرتا ہے کیونکہ عام طور پر یہ لفظ "علو" اور بلندی کے مقام پر استعمال ہوتا ہے۔ "یدمغه" کا جملہ، راغب کے قول کے مطابق کھوپڑی کو توڑنے کے معنی میں ہے، جو کہ انسانی بدن کا حساس ترین مقام شمار ہوتا ہے۔ یہ لشکر حق کے غالب ہونے کی عمدہ تعبیر ہے۔ آنکھوں سے دکھائی دینے والا قطعی اور ظاہر بظاہر غلبہ۔ "اذا" کی تعبیر یہ نشاندہی کرتی ہے کہ ایسی جگہ بھی کہ جہاں یہ توقع ہی نہ ہو کہ حق کامیاب ہو گا، وہاں ہم ایسا انجام دیتے ہیں۔ "زاهق" کی تعبیر اس چیز کے معنی میں ہے کہ جو کلی طور پر مضمحل ہو جائے نیز اس مقصد کے لیے یہ بھی ایک تاکید ہے۔ اور یہ بات کہ "نقذف" اور "يدمغ" کے الفاظ فعل مضارع کی شکل میں کیوں آئے ہیں۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ یہ اس عمل کے استمرار، تسلسل اور ہمیشگی کی دلیل ہے۔

ایک نکتہ: مقصدِ خلقت:

مادیئین خلقت کے بارے میں کسی هدف و مقصد کے قائل نہیں ہیں ـــ کیونکہ وہ بےعقل و شعور اور بےهدف و مقصد، طبیعت کو مبداء خلقت سمجھتے ہیں- لہذا وه پوری ہستی کے بے فائدہ اور فضول ہونے کے داعی ہیں۔ ان کے برعکس فلاسفہ الٰہی اور ادیان آسمانی کے پیروکار سب کے سب آفرنیش و خلقت کے لیے ایک اعلٰى مقصد کا عقیدہ رکھتے ہیں کیونکہ عالم اور قادر حکیم مبداء سے یہ امر محال ہے کہ وہ کوئی کام بغیر هدف و مقصد کے انجام دے۔ اب یہ سوال سامنے آتا ہے کہ یہ هدف و مقصد کیا ہے؟ بعض اوقات ہم خدا کا اپنے اوپر قیاس کرتے ہوئے اِس توہم میں گرفتار ہو جاتے ہیں کہ شاید خدا میں کوئی کمی تھی کہ عالم ہستی کی خلقت سے، کہ جس میں سے ایک انسان بھی ہے، اس کی تلافی کرنا چاہتا تھا۔ کیا وہ ہماری عبادت و پرستش کا محتاج ہے؟ کیا وہ یہ چاہتا کہ پہچانا جائے، اس لیے اس نے مخلوق کو پیدا کیا ہے، تاکہ وہ پہچانا جائے اور اس کی شناخت ہو؟! لیکن جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ یہ ایک عظیم اشتباہ ہے کہ جو "خدا" کے "خلق" پر قیاس کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ جبکہ صفات خدا کی شناخت اور معرفت کی بحث میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی غلط قسم کا قیاس ہے۔ لہذا اس بحث میں پہلی بنیاد یہ ہے کہ ہم یہ جانیں کہ وہ کسی چیز میں ہم سے مشابہت نہیں رکھتا۔ ہم ہر نظر سے ایک محدود وجود ہیں اور اسی وجہ سے ہماری تمام کوششیں اپنی خامیوں اور نقائص کو دور کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ ہم تعلیم حاصل کرتے ہیں تاکہ پڑھے لکھے ہو جائیں اور ہماری علم کی کمی دور ہو جائے۔ کاروبار کے لیے جاتے ہیں تاکہ فقر و فاقہ اور ناداری کا مقابلہ کر سکیں۔ فوج اور قوت مہیا کرتے ہیں تاکہ دشمن سے مقابلہ کرنے کے لیے اپنی قدرت و طاقت کی کمی کی تلافی کریں۔ یہاں تک کہ معنوی مسائل اور تہذیب نفس اور مقامات روحانی کی سیر بھی، خامیوں اور نقائص کو دور کرنے کی ہی کوششیں ہیں۔ لیکن کیا وہ ہستی جو ہر لحاظ سے غیر محدود ہے جس کا علم و قدرت اور قوتیں بےانتہا ہیں، اور کسی لحاظ سے بھی جس میں کوئی کمی نہیں ہے کیا یہ بات اس کے لئے کہنا معقول ہے کہ وہ کوئی کام اپنی کمی کو دور کرنے کے لیے کرے؟ اِس تجزیے سے یہ نتیجہ نکلا کہ ایک طرف تو آفرنیش و خلقت بےهدف و مقصد نہیں ہے اور دوسری طرف سے یہ ہدف و مقصد آفرید گار و خالق سے متعلق نہیں ہے۔ تو اب آسانی کے ساتھ یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ حتمًا اور بلاشک و شبہ یہ هدف و مقصد ایسی چیز ہے کہ جو خود ہمارے ہی ساتھ تعلق رکھتی ہے۔ إِس تمہید پر توجہ کرتے ہوئے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ غرض خلقت ہمارے ہی تکامل و ارتقا اور بلندی کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے دوسرے لفظوں میں عالم ہستی ایک ایسی یونیورسٹی ہے کہ جو ہمارے علم کی تکمیل کے لیے بنائی گئی ہے۔ تربیت کے لحاظ سے ایک ایسی یونیورسٹی ہے کہ جو ہمارے نفوس کی تہذیب کے لیے ہے۔ معنوی درآمدات کو کسب کرنے کے لیے یہ ایک تجارت خانہ ہے۔ انسان کی طرح طرح کی ضروریات کی پیدائش کے لیے ایک زرخیز زمین ہے۔ ہاں! الدنيا مزرعة الأخرة .. .. .. الدنيا دار صدق لمن صدقها و دار غني لمن تزود منها و دار موعظة لمن اتعظ منها۔ دنیا آخرت کی کھیتی ہے، دنیا سچائی کا گھر ہے جو اس سے سچ بولے، تونگری کا گھر ہے جو اس سے زاد راہ اور توشہ آخرت حاصل کرے اور وعظ و نصیحت کا گھر ہے جو اس سے نصیحت حاصل کرے۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ کلمات قصار نمبر ۱٣۱)۔ یہ قافلہ عالم عدم سے چلا ہے اور مسلسل لامتناہی منزل کی طرف بڑھا چلا جا رہا ہے۔ قرآن مجید مختصر اور بہت معنی خیز اشارات کے ذریعہ مختلف آیات میں، ایک طرف تو خلقت و آفرینش میں هدف و مقصد کے اصل وجود کی طرف اشارہ کرتا ہے اور دوسری طرف اس ہدف و مقصد کو مشخص بھی کر رہا ہے۔ پہلے حصے میں کہتا ہے: أيحسب الانسان ان يترك سدًى کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ وہ مہمل پیدا کیا گیا ہے، اور فضول چھوڑ دیا جائے گا۔ (قیامت۔ ٣۶) افحسبتم انماخلقنكم عبثًا وانكم الینا لاترجعون کیا تم نے یہ خیال کر لیا ہے کہ ہم نے تمہیں عبث اور فضول پیدا کیا ہے، اور تم ہماری طرف لوٹ کر نہ آؤ گے۔ (مومنوں۔ ۱۱٥)۔ و ماخلقنا السماء والارض وما بينهما باطلا ذالك ظن الذين كفروا ہم نے آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔ باطل اور فضول پیدا نہیں کیا ہے یہ تو کافروں کا گمان ہے. (ص۔ ۲۷)۔ اور دوسرے حصہ میں کبھی تو آیات قرآن میں آفرنیش کا ھدف و مقصد خدا کی عبودیت اور بندگی کو قرار دیا ہے: و ما خلقت الجن والانس الا ليعبدون میں نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ (ذاریات - ٥۶) یہ بات واضح ہے کہ عبادت انسان کی مختلف جہات سے تربیت کا ایک مکتب ہے۔ عبادت کا وسیع معنی ہے، فرمان خدا کے سامنے سر تسلیم خم کر دینا۔ اس لحاظ سے عبادت انسان کی روح کو گوناں گوں مراحل میں تکامل و ارتقاء بخشتی ہے۔ اس کی تفصیل ہم عبادات سے مربوط مختلف آیات کے ذیل میں بیان کر چکے ہیں۔ اور کبھی کہتا ہے: خلقت کا هدف و مقصد آگاہی و بیداری اور تمہارے ایمان و اعتقاد کی تقویت ہے: الله الذي خلق سبع سماوات و من الارض مثلهن يتنزل الأمر بينهن لتعلموا ان الله على كل شي قدير خدا وہی تو ہے کہ جس نے سات آسمان اور انہی کے مانند زمینیں پیدا کی ہیں، اس کا حکم ان میں جاری و ساری ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے تھا تاکہ تم جان لو کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ (طلاق -۱۲)۔ اور کبھی کہتا ہے کہ خلقت کا مقصد تمہارے حسن عمل کی آزمائش ہے: الذي خلق الموت والحيوة ليبلوكم ايّكم احسن عملًا خدا وہی تو ہے کہ جس نے موت و حیات کو پیدا کیا تاکہ تمہیں حُسنِ عمل کے میدان میں آزمائے اور تمهاری تربیت کرے۔ (ملک۔ ۲) مندرجہ بالا تینوں آیات میں سے ہر ایک انسانی وجود کی کسی ایک جہت (آگاہی و ایمان، اخلاق اور عمل) کی طرف اشارہ کرتی ہے اور ہر ایک خلقت کے تکاملی و ارتقائی مقصد کو بیان کرتی ہے کہ جس کی بازگشت خود انسان طرف ہے۔ اِس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ چونکہ لفظ "تکامل" آیات قرآن میں ان مباحث میں بیان نہیں ہوا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ ایک وارداتی فکر ہو۔ لیکن اس اعتراض کا جواب واضح ہے کیونکہ ہم خاص الفاظ کی قید میں پابند نہیں ہیں اور مندرجہ بالا آیات میں تکامل کے مصادیق اچھی طرح روشن ہیں۔ کیا علم و آگاہی اس کا واضح مصداق نہیں ہے اور اسی طرح عبودیت، اور حسن عمل میں پیش رفت۔ سوره محمد کی آیہ ۱۷ میں بیان ہوا ہے: والذين اهتدوا زادهم هدًی۔ وہ لوگ کہ جو راہ ہدایت پر آ گئے، خدا ان کی ہدایت میں اضافہ کر دیتا ہے۔ کیا اضافہ کی تعبیر تکامل و ارتقاء کے علاوہ کوئی اور چیز ہے؟ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر هدف و مقصد تکامل و ارتقاء ہی تھا تو پھر خدا نے انسان کو ابتداء میں ہی کیوں تمام جہات میں کامل پیدا نہ کر دیا تاکہ تکامل کے مراحل کو طے کرنے کی ضرورت ہی باقی نہ رہتی؟ اس اعتراض کی بنیاد اس نکتے سے غفلت ہے کہ تکامل کی اصلی شاخ "تکامل اختیاری" ہے۔ دوسرے لفظوں میں تکامل یہ ہے کہ انسان راستہ اپنے پاؤں اور اپنے اراده و اختیار سے طے کرے۔ اگر اس کا ہاتھ پکڑ کر زبردستی آگے لے جایا جائے تو یہ نہ باعث فخر ہے اور نہ ہی تکامل و ارتقاء۔ مثلا اگر انسان ایک روپیہ اپنی خواہش اور اراده و اختیار کے ساتھ خرچ کرے تو اس نے اسی نسبت سے اخلاقی کمال کی راہ طے کی ہے۔ جبکہ اگر اس کی دولت میں سے لاکھوں روپے جبرًا چھین کر خرچ کر دیئے جائیں تو اس نے ایک قدم بھی اس راہ تکامل میں آگے نہیں بڑھایا ہے۔ لہذا قرآن مجید مختلف آیات میں یہ حقیقت کھول کر بیان کی گئی ہے کہ اگر خدا چاہتا تو تمام لوگ جبری طور پر ایمان لے آتے، لیکن اس ایمان کا ان کے لیے کوئی فائدہ نہ ہوتا: ولو شاء ربك لامن من في الأرض كلهم جمیعًا (یونس - ۹۹)۔

19
21:19
وَلَهُۥ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَمَنۡ عِندَهُۥ لَا يَسۡتَكۡبِرُونَ عَنۡ عِبَادَتِهِۦ وَلَا يَسۡتَحۡسِرُونَ
جو کچھ آسمانوں میں ہے اورجو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے اور جو (فرشتے) اس کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت پر گھمنڈ نہیں کرتے اور نہ ہی تھکتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

20
21:20
يُسَبِّحُونَ ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَ لَا يَفۡتُرُونَ
رات دن تسبیح میں مصروف رہتے ہیں اور کمزوری و کاہلی نہیں دکھا تے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

21
21:21
أَمِ ٱتَّخَذُوٓاْ ءَالِهَةٗ مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ هُمۡ يُنشِرُونَ
کیا انہوں نے ایسے زمینی خدا بنا لئے ہیں کہ جو پیدا کر کے انہیں پھیلاتے ہوں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

22
21:22
لَوۡ كَانَ فِيهِمَآ ءَالِهَةٌ إِلَّا ٱللَّهُ لَفَسَدَتَاۚ فَسُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ رَبِّ ٱلۡعَرۡشِ عَمَّا يَصِفُونَ
اگر آسمان و زمین میں خدا کے سوا اور کئی خدا ہوتے تو ان دونوں کا نظام بگڑ جا تا۔یہ لوگ جو تو صیفات بیان کر رہے ہیں عرش کا پرور دگار اللہ ان تمام باتوں سے منزہ اور پاک ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

23
21:23
لَا يُسۡـَٔلُ عَمَّا يَفۡعَلُ وَهُمۡ يُسۡـَٔلُونَ
کوئی شخص اس کے کام پر اعتراض نہیں کر سکتا جبکہ ان کے کاموں پر اعتراض ہو سکتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

24
21:24
أَمِ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ ءَالِهَةٗۖ قُلۡ هَاتُواْ بُرۡهَٰنَكُمۡۖ هَٰذَا ذِكۡرُ مَن مَّعِيَ وَذِكۡرُ مَن قَبۡلِيۚ بَلۡ أَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ ٱلۡحَقَّۖ فَهُم مُّعۡرِضُونَ
کیا انہوں نے خداکوچھوڑکر اورمعبود بنالئے ہیں ؟تم کہہ دو کہ اپنی دلیل لاؤ، یہ تومیری اور ان (پیغمبروں ) کی بات ہے جو مجھ سے پہلے تھے،لیکن ان (لوگوں ) میں سے اکثر حق کو نہیں سمجھتے، اسی وجہ سے وہ اس سے روگردان ہو جاتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

25
21:25
وَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِيٓ إِلَيۡهِ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنَا۠ فَٱعۡبُدُونِ
اورہم نے تجھ سے پہلے کوئی بھی پیغمبر ایسانہیں بھیجاجس کی طرف ہم نے یہ وحی نہ کی ہو کہ میرے سوا اورکوئی معبود نہیں، لہٰذا میری ہی عبادت کرو۔

تفسیر شرک خیال آرائی سے شروع ہوتا ہے:

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں اس حقیقت کے بارے میں گفتگو ہو رہی تھی کہ عالم ہستی بغیر هدف و مقصد کے نہیں ہے، نہ مذاق اور کھیل تماشہ ہے اور نہ ہی لہو و لعب. بلکہ یہ انسانوں کے لیے ایسا جچا تلا ہدف کمال رکھتا ہے۔ ممکن ہے یہ تو ہم پیدا ہو کہ خدا کو ہمارے ایمان اور عبادت کی کیا ضرورت ہے لہذا زیر بحث آیات پہلے اسی بات کا جواب دیتی ہیں اور کہتی ہیں: تمام (ذوی العقول) جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، اسی کی ملکیت میں: (وله من في السماوات والارض)۔ اور وہ فرشتے کہ جو مقربان بارگاه الٰہی ہیں، کبھی بھی اس کی عبادت پر تکبر نہیں کرتے اور نہ کبھی تھکتے ہیں: (ومن عندہ لا يستكبرون عن عبادته ولا يتحسرون)۔ (تشریحی نوٹ: "يتحسرون" "حسر" کے مادہ سے اصل میں پوشیدہ چیز کو کھولنے اور جس میں وہ تھی اسے الگ کر دینے کے معنی میں ہے۔ یہ لفظ بعد ازاں خستگی، تکان اور ضعیف کے معنی میں بولا جانے لگا. گویا اس حالت میں انسان کی سب قوتیں آشکار اور خرچ ہو جاتی ہیں اور ان میں سے کوئی چیز اس کے بدن میں چھپی ہوئی نہیں رہتی)۔ وہ ہمیشہ رات دن تسبیح میں لگے رہتے ہیں اور معمولی کمزوری اور کاہلی بھی وہ اپنے پاس نہیں آنے دیتے۔ (يسبّحون الليل والنهار لايفترون)۔ اِن حالات میں اسے تمہاری اطاعت و عبادت کی کیا ضرورت ہے۔ یہ سب عظیم فرشتے شب و روز اس کی تسبیح میں لگے ہوتے ہیں بلکہ وہ تو ان کی عبادت کا بھی محتاج نہیں ہے. لہذا اگر اس نے تمہیں ایمان عمل صالح، بندگی اور عبودیت کا حکم دیا ہے تو اس کا فائدہ تمھارے ہی لیے ہے۔ یہ نکتہ بھی خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ ظاہری غلامی کے نظام میں غلام جتنا آقا سے نزدیک ہو گا، اتنا ہی اس کا خضوع کم ہوتا چلا جائے گا کیونکہ وہ اب آقا کا خاص ہو گیا ہے اور اسے اس کی زیادہ ضرورت ہے۔ لیکن "خلق" اور "خالق" کے نظام عبودیت میں معاملہ برعکس ہے۔ فرشتے اور اولیاء خدا جتنا خدا سے زیادہ نزدیک ہوتے ہیں ان کا مقام عبودیت بڑھتا جاتا ہے۔ (بحوالہ: الميزان، زیر بحث آیات کے ذیل میں) جب گزشتہ آیات میں عالم ہستی کے فضول اور بےمقصد ہونے کی نفی ہو چکی اور یہ ثابت ہو گیا کہ یہ عالم ایک مقدس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے، تو اس کے بعد زیر بحث آیات میں اس جہان کے مدبر و مدیر اور وحدت معبود کا مسئلہ شروع کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: کیا انہوں نے زمین پر کچھ خدا بنا لیے ہیں،اایسے خدا کہ جو موجودات کو تخلیق و حیات عطا کریں۔ اور جہان ہستی میں انہیں پھیلا سکیں: (ام اتخذوا ألهة من الارض هم ينشرون)۔ (تشریحی نوٹ: "ينشرون" ماده "نشر" کے پیچیده چیزوں کو پھیلانے کے معنی میں ہے اور زمین و آسمان کی وسعتوں میں مخلوقات کو پیدا کرنے اور پھیلانے کے لیے بھی کنایہ کے طور پر بولا جاتا ہے۔ بعض مفسرین کا اس بات پر اصرار ہے کہ یہ لفظ "معاد" اور مردوں کے دوبارہ زندہ ہو کر اٹھ کھڑا ہونے کی طرف اشاره هے. حالانکہ بعد والی آیات کی طرف توجہ کرتے ہوئے یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ گفتگو خدا کی پاک ذات کی توحید اور معبود حقیقی کے بارے میں ہے، نہ کہ معاد اور موت کے بعد کی زندگی کے متعلق۔) یہ جملہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ معبود وہی ہونا چاہیے کہ جو خالق ہو۔ خاص طور پر حیات کا خالق کیونکہ حیات خلقت کے روشن ترین چہروں میں سے ہے۔ یہ حقیقت میں اسی چیز کے مشابہ ہے کہ جو سوره حج کی آیہ ۷٣ میں بیان ہوئی ہے: "ان الذين تدعون من دون الله لن يخلقوا ذبابًا ولو اجتمعوا له" وہ تمام معبود کہ جنہیں تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ تو اتنی بھی قدرت نہیں رکھتے کہ ایک مکھی ہی خلق کر سکیں، چاہے وہ سب کے سب اسی کے لیے اکٹھے ہی کیوں نہ ہو جائیں، اس حال میں وہ کیسے لائق عبادت ہو سکتے ہیں۔ "ألهة من الارض" (زمین میں سے کچھ خدا) کی تعبیر بتوں اور ان معبودوں کی طرف اشارہ ہے کہ جنہیں لوگ پتھر لکڑی وغیره سے بناتے تھے اور انہیں آسمانوں پر حاکم خیال کرتے تھے۔ بعد والی آیت مشرکین کے بہت سے معبودوں اور خداؤں کی نفی کے لیے ایک نہایت روشن دلیل کو اس طرح سے بیان کرتی ہے: اگر آسمان و زمین میں اللہ کے سوا اور بھی کوئی معبود اور خدا ہوتا، تو دونوں کا نظام بگڑ جاتا۔ اور نظام جہاں درہم برہم ہو جاتا (لو كان فيهما ألهة الا الله لفسدتا)۔ "عرش کا پروردگار خدا اس توصیف سے کہ جو وہ کرتے ہیں منزہ اور پاک ہے" (فسبحان الله رب العرش عما يصفون)۔ یہ ناروا نسبتیں اور یہ بناوٹي خدا اور خیالی معبود اوهام و خیالات سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے اور اس کی پاک ذات کی کبریائی کا دامن ان ناروا نسبتوں سے آلودہ نہیں ہو سکتا۔

دلیل تمانع

وہ دلیل، جو مذکورہ بالا آیت میں توحید کے اثبات اور کئی معبودوں کی نفی کے بارے میں بیان کی گئی ہے۔ ساده، آسان، روشن اور واضح ہونے کے باوجود اس سلسلے کی دقیق فلسفی دلیلوں میں سے ایک ہے کہ جسے علماء "برهان تمانع" کے عنوان سے یاد کرتے ہیں. اس دلیل کا خلاصہ اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے: ہم بلاشک و شبہ اس جہان میں ایک نظام واحد کو حکم فرما دیکھ رہے ہیں، ایسا نظام کہ جو تمام جہات سے ہم آہنگ ہے۔ اس کے قوانین ثابت اور آسمان و زمین میں جاری ہیں۔ اس کے پروگرام آپس میں منطبق اور اس کے اجزاء متناسب ہیں۔ قوانین کی یہ ہم آہنگی اور نظام آفرینش اس بات کی ترجمانی کرتے ہیں کہ ان سب کا سرچشمہ ایک ہی مبداء ہے کیونکہ اگر متعدد مبداء ہوتے اور اس میں متعدد ارادے کار فرما ہوتے تو یہ ہم آہنگی ہرگز موجود نہ ہوتی اور وہی چیز کہ جسے قرآن "فساد" سے تعبیر کرتا ہے دنیا میں صاف طور پر نظر آتی۔ اگر ہم کچھ تحقیق اور مطالعہ کرنے والے ہوں تو کسی ایک کتاب کے مطالعہ سے اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ اسے ایک شخص نے لکھا ہے یا چند افراد نے۔ وہ کتاب جو ایک شخص کی تالیف ہو اس کی عبارات میں ایک خاص نظم اور ہم آہنگی، جملہ بندی، مختلف تعبیرات، کنایات و اماراتت، عنوانات و نکات، مباحث کی طرز، خلاصہ یہ کہ اس کے تمام حصے بالکل ہم آہنگ ہوں گے۔ چونکہ وہ ایک فکر کی تخلیق اور ایک قلم کی تحریر ہے۔ لیکن اگر دو یا چند افراد ــــــ چاہے وہ سب عالم و دانشمند ہوں اور اکٹھے ایک ساتھ کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں ـــــ ہر ایک اس کے ایک حصہ کی تالیف اپنے ذمہ لے تو اس کی عبارات و الفاظ کی گہرائیوں میں اور بحثوں کی طرز میں فرق نمایاں ہو گا۔ اس کی وجہ بھی واضح ہے کیونکہ دو نفر چاہے کتنے ہی ہم فکر اور ہم سلیقہ ہوں، پھر بھی وہ دو نفر ہیں۔ اگر ان کی ہر چیز ایک ہوتی تو پھر تو وہ ایک نفر ہو جاتے۔ اس بناء پر قطعی اور یقینی طور پر ان میں فرق ہونا چاہیے تاکہ وہ دو نفر ہو سکیں اور یہ فرق آخر کار اپنا اثر ان کی تحریروں میں مرتب کرے گا۔ اب یہ کتاب چاہے کتنی ہی بڑی اور مفصل ہو اور نوع بنوع موضوعات کے بارے میں بحث کرتی ہو، یہ ناہم آہنگی بہت جلد محسوس ہو جائے گی۔ عالم آفرینش کی عظیم کتاب ـــــ کہ جس کی عظمت اس قدر ہے کہ ہم اپنے پورے وجود کے ساتھ اس کی عبارات کے اندر گم ہو جاتے ہیں، اس پر بھی یہی قانون جاری ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہم اپنی ساری عمر میں بھی اس تمام کتاب کا مطالعہ نہیں کر سکتے۔ لیکن اتنی ہی مقدار کہ جس کے مطالعہ کی ہمیں اور دنیا کے تمام علما کو توفیق ہوئی ہے، اس میں ایسی ہم آہنگی پائی جاتی ہے کہ جو اس کے مؤلف کی وحدت کی بخوبی حکایت کرتی ہے۔ ہم اس عجیب کتاب کی جتنی بھی ورق گردانی کرتے ہیں، ہر جگہ ایک عالمی نظام، نظم و ضبط اور ناقابل توصیف ہم آہنگی اس کے کلمات، سطور اور صفحات میں نمایاں ہے۔ اگر اس جہاں اور اس کے نظام کو چلانے میں کئی ارادے اور متعدد مبداء کا دخل ہوتا تو اس ہم آہنگی کا پیدا ہونا ممکن نہیں تھا۔ واقعًا خلا سے متعلق علم رکھنے والے خلائی جہازوں کو کامل باریک بینی کے ساتھ فضا میں کیونکہ بھیج دیتے ہیں اور چاند گاڑیوں کو ٹھیک اسی جگہ اتار لیتے ہیں کہ جس کا سائنسی اعتبار سے یقین کیا گیا ہو اور پھر انہیں مقرر شدہ مقام پر زمین کی طرف نیچے لے آتے ہیں۔ کیا یہ حساب کتاب کی باریکی اس بناء پر نہیں ہے کہ پورے عالم ہستی پر جو نظام حاکم ہے ــــــ وہ دقیق، منظم اور ہم آہنگ ہے۔ اور اگر اس میں ذره برابر بھی ناہم آہنگی (زمانے کے لحاظ سے ایک سکینڈ کا سواں حصہ بھی) ہوتی تو ان کے تمام اندازے درہم برہم ہو جاتے۔ مختصر یہ کہ اگر دو یا چند ارادے عالم پر حاکم ہوتے تو ہر ایک کا الگ تقاضا ہوتا اور ہر ایک دوسرے کے اثر کو ختم کر دیتا اور آخرکار سارے عالم کا نظام بگڑ کر رہ جاتا۔

ایک سوال اور اس کا جواب

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس کا جواب گزشتہ توضیحات سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جہان میں خداؤں کا تعدد اس صورت میں موجب فساد ہے جبکہ وہ ایک دوسرے کے مقابلے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں لیکن اگر ہم اس بات کو قبول کر لیں کہ وہ (خدا) حکیم اور آگاہ ہیں تو حتمی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے عالم ہستی کا نظام چلائیں گے۔ اس سوال کا جواب زیادہ پیچیدہ نہیں ہے۔ ان کا حکیم و دانا ہونا ان کے تعدد کو ختم نہیں کرتا۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ متعدد ہیں تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ ہر لحاظ سے ایک نہیں ہیں کیونکہ اگر وہ تمام جہات سے ایک ہوں تو پھر وہ ایک خدا ہو جائیں گے۔ اس بناء پر جہاں تعدد ہے، وہاں حتمی طور پر تفاوت اور اختلافات موجود ہوں گے کہ جو چاہنے اور نہ چاہنے (دونوں صورتوں میں) اراده و عمل پر اثرانداز ہوں گے اور جہان ہستی کو حرج مرج اور بگاڑ کی طرف کھینچ کر لے جائیں گے (غور کیجئیے گا)۔ إس برہان تمانع کو دوسری صورتوں میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ جو ہماری بحث کی حدود سے باہر ہے اور جو کچھ ہم نے سطور بالا میں بیان کیا ہے وہی بہتر ہے۔ اِن استدلالات میں سے بعض میں کہا گیا ہے کہ اگر دو ارادے عالم خلقت میں حکم فرما ہوتے، تو اصلاً کوئی جہان وجود میں ہی نہ آتا، جبکہ اوپر والی آیت جہان کے فساد اور نظام میں خلل پڑنے سے متعلق گفتگو کر رہی ہے نہ کہ جہان کے موجود نہ ہونے کے بارے میں (غور کیجئیے گا)۔ یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ اس حدیث میں کہ جو ہشام بن حکم نے امام صادق علیہ السلام سے نقل کی اس طرح بیان ہوا ہے کہ امام نے ایک بےایمان شخص کے جواب میں کہ جو خدا کے تعدد کے بارے میں بات کر رہا تھا فرمایا: یہ دو خدا جو تو کہتا ہے یا تو دونوں قدیم و ازلی اور طاقتور ہیں یا دونوں ضعیف و ناتواں ہیں یا اُن میں سے ایک قومی ہے اور دوسرا ضعیف و کمزور ہے، اگر دونوں قوی ہوں تو پھر اُن میں سے ہر ایک دوسرے کو ہٹا کیوں نہیں دیتا اور عالم کی تدبیر اکیلا ہی اپنے ہاتھ میں کیوں نہیں لے لیتا اور اگر تیرا گمان یہ ہے کہ ان میں سے ایک قوی ہے اور دوسرا ضعیف ہے تو تُو نے خدا کی توحید کو قبول کر لیا ہے کیونکہ دوسرا توضعیف و کمزرور ہے لہذا وہ خدا نہیں ہے اور اگر تو یہ کہے کہ وہ دو ہیں تو معاملہ دو حالت سے خالی نہیں ہے یا تو وہ تمام جہات سے متفق ہیں یا مختلف ہیں لیکن جبکہ ہم نظام خلقت کو منظم دیکھ رہے ہیں۔ آسمان کے ستارے اپنے اپنے مخصوص راستوں پر چل رہے ہیں، رات اور دن ایک خاص نظم و ضبط کے ساتھ ایک دوسرے کے بعد آتے ہیں اور سورج اور چاند ہر ایک اپنا ایک خاص نطام رکھتا ہے، تدبیر جہان کی یہ ہم آہنگی اور اس کے امور کا نظم و ضبط اس بات کی دلیل ہے کہ مدبر عالم ایک ہے. اس سے قطع نظر، اگر تیرا پھر بھی یہی دعوی ہو کہ خدا دو ہیں تو لازمی طور پر ان کے درمیان کوئی فاصلہ (یا کسی قسم کا امتیاز) ہونا چاہئے تاکہ ان کے درمیان دوئی مانی جا سکے۔ تو یہاں یہ فاصلہ (امتیاز) خود ایک تیسرا موجود ازلی ہو جاۓ گا اور اس طرح خدا تین ہو جائیں گے اور اگر تم یہ کہو گے کہ وہ تین ہیں تو پھر ان کے درمیان دو فاصلے (امتیاز) ہونے چاہئیں۔ تو اس صورت میں تو پانچ قدیم و ازلی وجودوں کا قائل ہو جائے گا اور اس طرح سے یہ تعداد بڑھتی ہی چلی جائے گی، جس کی کوئی حد اور انتہا نہ ہو گی۔ (بحوالہ: تفسیرنورالثقلین جلد٣ ص۴۱۷، ۴۱۸ بحوالہ توحید صدوق)۔ اِس حدیث کی ابتداء میں برهان تمانع کی طرف اشارہ ہے اور اس کے بعد ایک اور دلیل کی طرف اشارہ ہے کہ جسے " برهان فرجه " یا "مابه الاشتراك ومابه الامتیاز" کا فرق کہتے ہیں۔ ایک اور حدیث میں بیان ہوا ہے کہ هشام بن حکم نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا : ما الدليل على أن الله واحد ؟ قال : اتصال التدبير وتمام الصنع، كما قال الله عزوجل: لو كان فيهما ألهة الاالله لفسدتا۔ خدا کے ایک ہونے کی کیا دلیل ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : تدبیر جہان میں نظم و ضبط اور ہم آہنگی اور خلقت کا ہر طرح سے کامل ہونا، جیسا کہ خدا فرماتا ہے : لوكان فيهما الہة الا الله لفسدتا (اگر آسمان و زمین میں اللہ کے علاوہ اور بھی خدا ہوتے تو نظامِ جہاںبگڑ جاتا)۔ (بحوالہ : تفسیرنورالثقلین، جلد٣ ص ۴۱۷، ۴۱۸،بحوالہ توحید صدوق)۔ جب اس استدلال سے کہ جو آیت میں بیان ہوا ہے، عالم کے مدبر اور اس سے چلانے والے کی توحید ثابت ہو گئی تو اس کے بعد والی آیت میں فرمایا گیا ہے، اس نے اس طرح سے حکیمانہ طور پر جہان کو نظام بخشا ہے کہ کسی قسم کے اعتراض و گفتگو کی اس میں گنجائش ہی نہیں ہے۔ کوئی شخص اس کے کام پر تنقید نہیں کر سکتا اور نہ ہی کوئی (اعتراض کے طور پر) اس سے سوال کر سکتا ہے جبکہ دوسرے اس طرح نہیں ہیں۔ ان کے افعال و کردار میں بہت سے اعتراضات اور سوالوں کی گنجائش ہے: (لا یسئل عما يفعل وهم يسئلون)۔ اگرچہ اِس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے بہت کچھ کہا ہے لیکن جو کچھ اوپر بیان کیا گیا ہے وہ سب سے زیادہ صحیح دکھائی دیتا ہے اس کی وضاحت یہ ہے کہ ہم دو قسم کے سوال کرتے ہیں، سوال کی ایک قسم تو وہ ہے جسے توضیحی سوال کہتے ہیں کیونکہ انسان کچھ مسائل سے بے خبر ہوتا ہے اور وہ یہ چاہتا ہے کہ ان کی حقیقت معلوم کرے۔ یہاں تک کہ اس بات کا علم اور ایمان ہونے کے باوجود کہ جو کام انجام پایا ہے وہ ایک صحیح کام ہے۔ پھر بھی وہ اس کے اصلی هدف کو جاننا چاہتا ہے، اس کے قسم کے سوالات خدا کے افعال کے بارے میں بھی جائز ہیں۔ بلکہ یہ وہی سوال ہے جو علمی مسائل اور جہان خلقت میں تحقیق و جستجو کا سرچشمہ شمار ہوتا ہے اور اس قسم کے سوالات چاہے عالم تکوین سے تعلق رکھتے ہوں یا تشریع سے، پیغمبر اکرمؐ اور آئمہ کے اصحاب نے اکثر کیے ہیں۔ باقی رہی سوال کی دوسری قسم، وہ اعتراضی سوال ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ انجام دیا گیا فعل نا درست اور غلط تھا۔ مثلا ہم اس شخص سے کہ جس نے اپنے عہد و پیمان کو بغیر کسی دلیل کے توڑ دیا ہو، یہ کہتے ہیں کہ تو عہد شکنی کیوں کرتا ہے ؟ اس سے ہمارا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ ہم اس سے وضاحت طلب کر رہے ہیں بلکہ ہمارا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہم اس پر اعتراض کریں۔ مسلمہ طور پر خداوند حکیم کے افعال پر اس قسم کے اعتراضات کوئی معنی نہیں رکھتے اور اگر کبھی کسی سے سرزد ہو جائیں تو حتمی طور پر وه نا آگاہی اور جہالت کی وجہ سے ہوتے ہیں لیکن دوسروں کے افعال میں اس قسم کے سوالات کی بہت گنجائش ہوتی ہے۔ ایک حدیث میں امام باقر علیه السلام سے منقول ہے کہ اس آیت کے بارے میں جابر جعفی کے سوال کے جواب میں آپؑ فرمایا: لانه لايفعل الا ما كان حكمة وصوابًا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کوئی کام انجام نہیں دیتا مگر یہ کہ اس میں حکمت ہوتی ہے اور وہ بالکل صحیح اور درست ہوتا ہے۔ ضمنی طور پر اس گفتگو سے یہ نتیجہ واضح طور پر نکالا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی شخص دوسری قسم کا سوال کرتا ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ابھی اس نے خدا کو اچھی طرح سے پہچانا نہیں ہے اور اس کے حکیم ہونے کے بارے میں آگاہ نہیں ہے۔ بعد والی آیت نفی شرک کے سلسلے میں دو دوسری دلیلوں پر مشتمل ہے۔ گزشتہ دلیل سے مل کر یہ مجموعًا تین دلیلیں ہو جائیں گی۔ پہلے فرمایا گیا ہے، کیا انہوں نے خدا کو چھوڑ کر اپنے لیے کچھ اور معبود منتخب کر لیے ہیں ؟ تم کہہ دو کہ تم اپنی دلیل پیش کرو: (أم اتخذوا من دونه الهة قل هاتوا برهانكم)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر گزشتہ دلیل سے کہ جس کی بنیاد یہ تھی کہ عالم ہستی کا نظام توحید کی دلیل ہے، صرف نظر کر لو تو کم از کم شرک اور ان خداؤں کی الوہیت ثابت کرنے کے لیے تو کوئی بھی دلیل موجود نہیں ہے۔ تو پھر عاقل انسان ایسی بات بغیر دلیل کے کیسے قبول کرتا ہے؟ اس کے بعد آخری دلیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ یہ صرف میں اور میرے ہمراہی ہی نہیں کہ جو توحید کی بات کرتے ہیں بلکہ تمام گزشتہ انبیاء اور سب ایمان لانے والے موحد ہی تھے (هذا ذكر من معي وذكر من قبلی)۔ یہ وہی دلیل ہے کہ جسے علماء عقائد نے خدا کی وحدانیت کے مسئلہ پر انبیاء کے اجماع و اتفاق کے عنوان کے ماتحت بیان کیا ہے۔ ممکن ہے کہ کبھی بت پرستوں کی کثرت ___ بعض لوگوں کے لیے توحید قبول کرنے میں مانع ہو خصوصًا ان حالات میں جیسے قبل ہجرت مکہ میں غیر مسلمانوں کو درپیش تھے اور جن کی طرف سورہ انبیاء اشارہ کر رہی ہے۔ لہذا قران مزید کہتا ہے: لیکن ان میں سے اکثر حق کو نہیں جانتے اس لیے انہوں نےاس سے منہ پھیر لیا ہے: (بل اكثرهم لا يعلمون الحق فهم معرضون)۔ بہت سے معاشروں میں نادان اکثریت کی مخالفت کرنا ہمیشہ بےخبر لوگوں کے لئے روگردانی کے مترادف قرار دی جاتی رہی ہے اور قرآن نے بہت سی مکی اور مدنی آیات میں اس اکثریت کے طرز عمل کو بنیاد بنانے کی شدت کے ساتھ مذمت کی ہے اور اس کی نظر میں اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے بلکہ وہ دلیل و منطق کو ہی معیار سمجھتا ہے۔ ممکن ہے کہ بعض بےخبر یہ کہنے لگیں کہ ہمارے سامنے عیسٰی جیسے انبیاء بھی ہیں کہ جنہوں نے متعدد خداؤں کی طرف دعوت دی ہے، تو قرآن آخری زیربحث آیت میں کہتا ہے: ہم نے تجھ سے پہلے کوئی پیغمبر ایسا نہیں بھیجا کہ جس کے پاس یہ وحی نہ آئی ہو کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے، لہذا میری ہی عبادت کرو (وما ارسلنا من قبلك من رسول الا نوحي اليہ انه اله الا انا فاعبدون)۔ اس طرح سے یہ ثابت ہو گیا کہ نہ عیسٰیٰ نے اور نہ ہی ان کے علاوہ کسی اور پیغمبر نے کبھی شرک کی دعوت دی تھی اور اس قسم کی نسبتیں تہمت ہیں۔

26
21:26
وَقَالُواْ ٱتَّخَذَ ٱلرَّحۡمَٰنُ وَلَدٗاۗ سُبۡحَٰنَهُۥۚ بَلۡ عِبَادٞ مُّكۡرَمُونَ
انہوں نے کہا کہ خدائے رحمن اولاد رکھتا ہے۔ اس کی ذات منزہ ہے (اس عیب و نقص سے)۔یہ (فرشتے تو) اس کے مکرم بندے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

27
21:27
لَا يَسۡبِقُونَهُۥ بِٱلۡقَوۡلِ وَهُم بِأَمۡرِهِۦ يَعۡمَلُونَ
جو ہرگز بات کرنے میں اس پر سبقت نہیں کرتے اور اس کے فر مان کے مطابق عمل کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

28
21:28
يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ وَلَا يَشۡفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ٱرۡتَضَىٰ وَهُم مِّنۡ خَشۡيَتِهِۦ مُشۡفِقُونَ
وہ(خدا) ان (فرشتوں ) کے آج کے اور آئندہ کے تمام اعمال کو بھی جانتا ہے اور ان کے گزشتہ اعمال سے بھی آگاہ ہے اور وہ سوائے اس شخص کے کہ جس سے خدا راضی ہے کسی کی شفا عت نہیں کرتے اوروہ اس سے ڈرتے رہتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

29
21:29
۞وَمَن يَقُلۡ مِنۡهُمۡ إِنِّيٓ إِلَٰهٞ مِّن دُونِهِۦ فَذَٰلِكَ نَجۡزِيهِ جَهَنَّمَۚ كَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلظَّـٰلِمِينَ
اور جو کوئی ان (فر شتوں ) میں سے یہ کہے کہ میں خدا کے سوا معبود ہوں۔ تو ہم اس کو جہنم کی سزا دیں گے اور ہم ظالموں کو اسی طرح سے سزا دیتے ہیں۔

تفسیر فرشتے مکرم اور فرمانبردار بندے ہیں:

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

چونکہ گزشتہ بحث کی آخری آیت میں پیغمبروں اور ہر قسم شرک کی نفی (اور ضمنًا عیسٰے خدا کا بیٹا ہونے کی نفی) کے بارے میں گفتگو تھی، زیر بحث آیات سب کی سب فرشتوں کے خدا کی اولاد ہونے کی نفی کے بارے میں ہیں۔ اس کی وضاحت یہ کہ بہت سے مشرکین عرب یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ فرشتے خدا کی اولاد ہیں اور اسی بنا پر کبھی ان کی پرستش کرتے تھے۔ قران مندرجہ بالا آیات میں صراحت کے ساتھ اس بے ہودہ اور بےبنیاد عقیدے کی مذمت کرتا ہے اور مختلف دلائل کے ساتھ اس کا بطلان ظاہر کرتا ہے۔ پہلے کہتا ہے: انہوں نے کہا کہ خدائے رحمٰن کی اولاد ہے. (وقالوا اتخذ الرحمن ولدًا)۔ اگر ان کی مراد حقیقی بیٹا ہو تو اس کے لیے جسم لازم ہے اور اگر یہ متبنٰی (منہ بولا بیٹا) ہو کہ جو عربوں میں معمول تھا، تو وہ بھی ضعف و احتیاج کی دلیل ہے اور ان سب باتوں سے قطع نظر اصولی طور پر بیٹے کی احتیاج اور ضرورت اسے ہوتی ہے جو فنا ہونے والا ہو، تو اس کی نسل جائیداد اور آثار کی بقا کے لیے اس کا بیٹا مدت دراز تک اس کی زندگی کو دوام بخشے، یا (اسے بیٹے کی ضرورت اس لیے ہوتی ہے تاکہ اُسے) تنہائی کا احساس نہ ہو اور وہ اس کا مونس تنهائی بنے یا اپنی طاقت میں اضافے کے لیے لیکن ایک ازلی و ابدی وجود جو جسم نہ رکھتا ہو اور ہر لحاظ سے بےنیاز ہو اس کے بارے میں بیٹا یا اولاد کوئی معنی نہیں رکھتی۔ لہذا ساتھ ہی فرمایا گیا ہے: وہ اس عیب و نقص سے پاک اور منزہ ہے (سبحانہ). اس کے بعد فرشتوں کی صفات چھ شقوں میں بیان کی گئی ہیں۔ یہ مجموعی طور پر اس بات سے ایک روشن دلیل ہیں کہ وہ خدا کی اولاد نهیں ہیں: ۱۔ وہ بندگان خدا ہیں (بل عباد)۔ ۲- وہ مکرم و محترم بندے ہیں (مکرمون)۔ وہ بھاگ جانے والے غلاموں کی طرح نہیں ہیں کہ جو اپنے آقا کی سختی اور دباؤ تلے رہ کر خدمت کرتے ہیں بلکہ وہ ایسے بندے ہیں کہ جو ہر لحاظ سے مکرم ہیں اور جو راه عبودیت کو اچھی طرح سے جانتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں۔ خدا نے بھی عبودیت میں ان کے خلوص کی وجہ سے انہیں مکرم و محترم قرار دیا ہے۔ اور انہیں اپنی بہت سی نعمات عطا کی ہیں۔ ٣۔ وہ اس قدر مودب اور خدا کے فرمانبردار ہیں کہ "کبھی بات کرنے میں اس پر سبقت نہیں کرتے" (لايسبقونه بالقول)۔ ۴۔ اور عمل کے لحاظ سے بھی "وہ صرف اسی کے فرمان پر عمل کرتے ہیں" (وهم بامره يعملون)۔ کیا یہ صفات، اولاد کی ہو سکتی ہیں یا بندوں کی؟ اِس کے بعد ان کے بارے میں خدا کے احاطه علمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: خدا ان کے آج اور آیندہ کے اعمال کو بھی جانتا ہے اور گزشتہ کو بھی۔ ان کی دنیا سے بھی آگاہ ہے اور ان کی آخرت سے بھی۔ ان کے وجود سے پہلے بھی اور ان کے وجود کے بعد بھی: (یعلم مابين ايديهم وما خلفهم) (تشریحی نوٹ: بزرگ مفسرین نے اس جملے کی تفسیر میں تین باتیں کی ہیں، ہم نے مذکورہ بالا عبارت میں ان تینوں کو جمع کر دیا ہے. چونکہ یہ ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں)۔ مسلمہ طور پر فرشتے اس امر سے آگاہ ہیں کہ خدا ان کے بارے میں یہ سب کچھ جانتا ہے اور یہی عرفان اس بات کا سبب بنتا ہے کہ وہ نہ تو اس سے پہلے کوئی بات کہتے ہیں اور نہ ہی اس کے فرمان سے سرتابی کرتے ہیں اور اس طرح سے یہ جملہ ہو سکتا ہے کہ سابق آیت کے لیے تعلیل کا حکم رکھتا ہو۔ ٥۔اس میں شک نہیں کہ وہ جو کہ خدا کے مکرم و محترم بندے ہیں، حاجت مندوں کے لیے شفاعت کریں گے لیکن اس بات پر توجہ رہے کہ وہ ہرگز کسی ایسے کی شفاعت نہیں کریں گے جس کے بارے میں یہ نہ جان لیں کہ خدا اس سے راضی ہے اور اس نے اس کی شفاعت کی اجازت دے دی (ولا يشفعون الا لمن ارتضٰی)۔ یقینًا خدا کا راضی ہونا اور اس کا شفاعت کی اجازت دے دینا بلاوجہ نہیں ہو سکتا۔ حتمًا یہ اس سچے ایمان اور عملِ صالح کی وجہ سے ہے جس کے باعث انسان کا خدا کے ساتھ تعلق قائم رہتا ہے۔ باالفاظ دیگر ممکن ہے انسان گناہ سے آلودہ ہو جائے لیکن اگر وہ اپنا رابطہ خدا اور اولیا - خدا سے بالکل منقطع نہ کر لے تو اس کے بارے میں شفاعت کی امید ہے۔ لیکن اگر فکر اور عقیدے کے بیان سے اس کا تعلق بالکل ٹوٹ جائے یا عملی طور پر اس قدر آلودہ ہو کہ شفاعت کی اہلیت کھو بیٹھا ہو تو اس موقع پر کوئی پیغمبر مرسل یا مقرب فرشتہ اس کی شفاعت نہیں کرے گا۔ یہ وہی مطلب ہے کہ جسے ہم فلسفۂ شفاعت کی بحث کے ضمن میں بیان کر چکے ہیں کہ شفاعت ایک انسان ساز مکتب ہے اور گناہوں میں آلودہ لوگوں کو واپس صحیح راستے پر لانے کا ایک وسیلہ ہے نیز شفاعت کا عقیده یاس و ناامیدی سے بچاتا ہے کیونکہ ناامیدی انحراف اور گناہ میں غرق ہونے کا ایک عامل ہے۔ اس قسم کی شفاعت پر ایمان رکھنا اس بات کا سبب بنتا کہ گنہگار لوگ اپنا رابطہ خدا، انبیاء اور آئمہ سے منقطع نہ کریں، اپنے لوٹنے کے تمام راستوں کو ویران نہ کریں۔ (تشریحی نوٹ: هم شفاعت کے بارے میں سورہ بقرہ کی آیت ۴۸ اور ۲٥۴ کے ذیل میں تفصیل کے ساتھ بحث کر چکے ہیں، وہاں رجوع فرمائیں)۔ ضمنی طور پر یہ جملہ ان لوگوں کا جواب ہے کہ جو یہ کہتے تھے کہ ہم فرشتوں کی اس لیے عبادت کرتے ہیں تاکہ وہ بارگاہ خدا وندی میں ہماری شفاعت کریں۔ قرآن کہتا ہے، وہ اپنی طرف سے کوئی کام نہیں کر سکتے لہذا جو کچھ چاہتے ہو وہ براہ راست خدا سے چاہو، یہاں تک کہ شفاعت کرنے والوں کی شفاعت کی اجازت بھی۔ ۶۔ اسی معرفت اور آگاہی کے سبب سے" وہ صرف خدا سے ڈرتے ہیں اور صرف اسی کے خوف کو اپنے دل میں راہ دیتے ہیں" (وھم من خشيته مشفقون)۔ وہ اس لیے نہیں ڈرتے کہ انہوں نے کوئی گناہ کیا ہے بلکہ وہ عبادت میں کوتاہی یا ترک اولٰی سے ڈرتے رہتے ہیں۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ "خشيت" اصل لغت کے لحاظ سے ہر قسم کے خوف کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ وہ ایسا خوف ہوتا ہے کہ جو تعظیم و احترام کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ "مشفق" مادہ "اشفاق" سے، اُس توجہ کے معنی میں ہے کہ جو خوف کی آمیزش رکھتی ہو (چونکہ اصل میں یہ "شفق" کے مادہ سے لیا گیا ہے کہ جو ایسی روشنی ہے کہ جو تاریکی کے ساتھ ملی ہوئی ہو)۔ اِس بنا پر ان کا خدا سے خوف ایسا نہیں ہے جیسا کہ کسی انسان کو ایک وحشتناک حادثہ کا خوف ہوتا ہے اور اسی طرح ان کا "اشفاق" ایسے بھی نہیں جیسے کہ انسان کسی خطرناک چیز سے ڈرتا ہے بلکہ ان کا خوف و اشفاق احترام، عنایت، توجہ، معرفت اور احساس مسئولیت کی آمیزش کے ساتھ ہوتا ہے)۔ (تشریحی نوٹ: مفردات راغب: مادہ "خشیت" "شفق" اور تفسیر المعانی آیات زیر بحث کے ذیل میں)۔ یہ بات واضح ہے کہ فرشتے ان عمدہ اور امتیازی صفات اور خاص مقام عبودیت کے باوجود ہرگز خدائی کا دعویٰ نہیں کرتے۔ لیکن اگر یہ فرض کر لیں کہ ان میں سے کوئی یہ کہنے لگے کہ خدا نہیں، میں معبود ہوں، تو ہم اسے جہنم کی سزا دیں گے، ہاں! ظالموں کو ہم اس طرح سے سزا دیا کرتے ہیں (و من يقل منهم انی اله من دونه فذلك نجزیه جھنم، كذلك نجزي الظلمین)۔ درحقیقت الوہیت کا دعوٰی کرنا، اپنے اوپر بھی اور معاشرے کے اوپر بھی ظلم کرنے کا ایک واضح مصداق ہے اور قانون کلی میں "كذالك نجزي الظالمين" درج ہے۔

30
21:30
أَوَلَمۡ يَرَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَنَّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ كَانَتَا رَتۡقٗا فَفَتَقۡنَٰهُمَاۖ وَجَعَلۡنَا مِنَ ٱلۡمَآءِ كُلَّ شَيۡءٍ حَيٍّۚ أَفَلَا يُؤۡمِنُونَ
کیا کافروں نے یہ نہیں دیکھا کہ آسمان او زمین ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے اور ہم نے انہیں ایک دوسرے سے جدا کر دیا؟اور ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا۔ کیا ان نشانیوں کے با وجود بھی وہ ایمان نہیں لاتے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔

31
21:31
وَجَعَلۡنَا فِي ٱلۡأَرۡضِ رَوَٰسِيَ أَن تَمِيدَ بِهِمۡ وَجَعَلۡنَا فِيهَا فِجَاجٗا سُبُلٗا لَّعَلَّهُمۡ يَهۡتَدُونَ
اور ہم نے زمین میں پہاڑ گاڑدئے تاکہ وہ آرام و سکون میں رہیں اور ان کے ساتھ کسی طرف کو ڈھلک نہ جائے اور ان میں درے اور راستے قرار دیئے تاکہ (لوگ) اپنی منزل مقصود کو جا پہنچیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔

32
21:32
وَجَعَلۡنَا ٱلسَّمَآءَ سَقۡفٗا مَّحۡفُوظٗاۖ وَهُمۡ عَنۡ ءَايَٰتِهَا مُعۡرِضُونَ
اور آسمان کو محفوظ چھت قراردیا۔ لیکن وہ اس (وسیع آسمان میں موجود تو حید) کی نشانیوں سے روگرداں ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔

33
21:33
وَهُوَ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَ وَٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَۖ كُلّٞ فِي فَلَكٖ يَسۡبَحُونَ
وہ وہی ہے جس نے رات دن بنائے، نیز سورج اور چاند کو پیدا کیا ہے کہ جن میں ہر ایک اپنے ہی مدار میں گردش کر رہاہے۔

تفسیر جہان ہستی میں خدا کی مزید نشانیاں:

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں مشرکین کے بیہودہ عقائد کا ذکر تھا اور ان میں توحید سے متعلق دلائل پیش کیے گئے تھے۔ اس کے بعد اب زیر بحث آیات میں عالم ہستی کے نظام میں خدا کی نشانیوں کا ایک سلسلہ اور اس کی منظم تدبیر کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ گذشته مباحث پر مزید تاکید ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: کیا کفار نے یہ نہیں دیکھا کہ سارے آسمان اور زمین آپس میں ملے ہوئے تھے اور ہم نے انہیں کھول دیا: (اولم یر الذين كفروا ان السماوات والارض كانتا رتقا ففتقناهما)۔ اور ہم نے ہر زندہ موجود کو پانی سے پیدا کیا ہے: (وجعلنا من الماء كل شی حی)۔ کیا ان آیات اور نشانیوں کا مشاہدہ کرنے کے باوجود بھی وہ ایمان نہیں لاتے: (افلا يؤمنون)۔ اس بارے میں کہ "رتق" و "فتق" (پیوستگی اور جدائی) کہ جو یہاں آسمانوں اور زمین کے بارے میں کہی گئی ہے ___ اس سے کیا مراد ہے؟ مفسرین نے مختلف باتیں کی ہیں کہ جن میں تین تفسیریں آیت کے مفہوم کے زیادہ نزدیک معلوم ہوتی ہیں اور جیسا کہ ہم بیان کریں گے ممکن ہے تینوں تفسیریں آیت کے مفہوم میں جمع ہوں۔ (بحوالہ: فخر رازی تفسیر کبیر میں اور بعض دوسرے مفسرین)۔ ۱۔ آسمان و زمین کی ایک دوسرے سے پیوستگی، ابتداء خلقت کی طرف اشارہ ہے۔ محققین کے نظریے کے مطابق یہ جهان مجموعی طور پر حرارت سے پیدا شدہ بھاپ کے ایک عظیم ملے ہوئے ٹکڑے کی صورت میں تھا کہ جس میں اندرونی تغیرات اور حرکت کی وجہ سے آہستہ آہستہ اور بتدریج اجزا بکھرتے رہے اور نظام شمسی کے تمام سیارے اور ستارے اور کرہ زمین وجود میں آئے اور ابھی بھی یہ جهان اسی طرح پھیلتا جا رہا ہے۔ ۲۔ پیوستگی سے مراد ہے کہ جہان کا مادہ ایک ہی طرح کا تھا۔ اس طرح سے کہ سب کے سب آپس میں ملے ہوئے تھے اور ایک مادہ واحد کی صورت میں معلوم ہوتے تھے لیکن زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مادے ایک دوسرے سے جدا ہونے لگے اور ان میں نئی نئی ترکیبیں پیدا ہونے لگیں اور آسمان و زمین میں طرح طرح کی نباتات، حیوانات اور دوسری موجودات ظاہر ہوئیں۔ ایسی موجودات کہ اُن میں سے ہر ایک موجود مخصوص نظام، آثار اور امتیازی خواص رکھتا ہے اور اُن میں سے ہر ایک پروردگار کی عظمت، علم اور لامتناہی قدرت کی نشانی ہے۔ (بحوالہ: المیزان، زیر بحث آیہ کے ذیل میں) ٣۔ آسمان کی باہم پیوستگی سے مراد یہ ہے کہ ابتدا میں بارش نہیں ہوتی تھی اور زمین کی باہم پیوستگی سے مراد یہ ہے کہ اُس زمانے میں کوئی نباتات نہ اُگتی تھیں لیکن خدا نے ان دونوں کو کھول دیا۔ آسمان سے بارش نازل کی اور زمین سے انواع و اِقسام کی نباتات اُگائیں۔ متعدد روایات ـــــــ جو اہل بیتؑ سے بیان ہوئی ہیں – آخری معنی کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور اُن میں سے بعض پہلی تفسیر کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ (بحوالہ: تفسیرصافی اور تفسیر نورالثقلین میں زیر بحث آیت کے ذیل میں رجوع کریں)۔ اِس میں شک نہیں کہ آخری تفسیر ایک ایسی چیز ہے کہ جو آنکھ سے دیکھی جا سکتی ہے کہ آسمان سے کسی طرح بارش نازل ہوتی ہیں اور زمینیں شگافتہ ہوتی ہیں اور نباتات اُگتی ہیں اور یہ "اولم یرالذين كفروا" (کیا وہ لوگ کہ جو کافر ہو گئے ہیں، انہوں نے نہیں دیکھا . . ..) کے جملہ کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہے اور یہ "وجعلنا من الماء كل شی حی" (اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز کو بنایا ہے) کے جملہ کے ساتھ بھی پوری پوری ہم آہنگی رکھتی ہے۔ لیکن پہلی اور دوسری تفسیر بھی ان جملوں کے وسیع معنی کے مخالف نہیں کے کیونکہ "رویت" بعض اوقات علم کے معنی میں بھی آتی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ یہ علم و آگاہی سب کے لیے نہیں ہے۔ یہ صرف کچھ ہی صاحب علم ہوتے ہیں کہ جو آسمان و زمین کے گزشتہ کے بارے میں اور ان کی پیوستگی اور پھر اُن کی جدائی کے متعلق ہی حاصل کر سکتے ہیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ قرآن ایک زمانہ یا ایک صدی کی کتاب نہیں ہے کہ بلکہ یہ انسانوں کے لیے ہر دور میں رہبر و راہنما ہے۔ اِسی بناء پر قرآن میں اس قسم کے عمیق اور گہرے مطالب ہیں یہ ہر گروہ اور ہر زمانے کے لیے قابل استفادہ ہے۔ اس لحاظ سے ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ اس میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ زیر بحث آیت تینوں تفاسیر کی حامل ہو کہ جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ پر صحیح اور کامل ہے اور ہم نے بارہا کہا ہے کہ کسی لفظ کا ایک سے زیادہ معنی میں استعمال، نہ صرف یہ کہ قابل عتراض نہیں بلکہ کبھی کمال فصاحت کی دلیل ہوتا ہے۔ اور یہ جو روایات میں بیان کیا گیا ہے کہ قرآن کے کئی مختلف بطون ہیں، ہو سکتا ہے یہ بھی اسی معنی کی طرف اشارہ ہو۔ باقی رہا تمام زندہ موجودات کے پانی سے پیدا ہونے کے بارے میں کہ جس کی طرف زیر بحث آیت میں اشارہ ہوا ہے، تو اس کے لیے دو تفسیریں مشهور ہیں۔ ۱۔ تمام زنده موجودات کی حیات ــــــ خواہ وہ نباتات ہوں یا حیوانات ــــــــــ پانی کے ساتھ وابستہ ہے. یہی پانی کہ بالآخر جس کا مبداء وہی بارش ہے کہ جو آسمان سے نازل ہوتی ہے۔ ۲۔ دوسری یہ کہ یہاں "ماء" نطفہ کے پانی کی طرف اشارہ ہے کہ جس سے عام طور پر زنده موجودات وجود میں آتے ہیں۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ موجودہ زمانے کے محقیقن اور سائنس دان یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ زندگی کا سب سے پہلا جاندار سمندروں کی گہرائیوں میں پیدا ہوا، اسی بنا پر وہ زندگی اور حیات کا آغاز پانی سے سمجھتے ہیں۔ نیز اگر قرآن انسان کی خلقت کو مٹی سے شمار کرتا ہے، تو اس بات کو نہیں بھولنا چاہیئے کہ مٹی سے مراد وہی "طین" (گارا) ہے کہ جو پانی اور مٹی سے مل کر بنتا ہے۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ، دانشمند محققین کی تحقیق کے مطابق انسان کے بدن اور بہت سے حیوانات کے بدن کا زیادہ حصہ پانى ہی سے بنا ہوا ہے۔ (تقریبا ستر فیصد حصہ)۔ اور یہ جو بعض نے اعتراض کیا ہے کہ فرشتوں اور جنات کی پیدائش، باوجود اس کے کہ وہ بھی زنده موجودات ہیں مسلمہ طور پر پانی سے نہیں ہے، اس کا جواب واضح ہے کیونکہ یہاں مقصد وہ زندہ موجودات ہیں کہ جنہیں ہم محسوس کرتے ہیں۔ ایک حدیث میں منقول ہے کہ ایک شخص نے امام صادقؑ سے پوچھا کہ پانی کا کیا ذائقہ ہے تو امام نے پہلے فرمایا: سل تفقها ولا تسئل تعنتا سمجھنے کےلیے سوال کر، بہانہ سازی کےلیے نہ پوچھ اس کے بعد آپ نے مزید فرمایا: طعم الماء طعم الحياة! قال الله سبحانه وجعلنا من الماء كل شی حّی "پانی کا ذائقہ وہی ہے جو حیات کا ذائقہ ہے۔ خدا کہتا ہے کہ ہم نے ہر زندہ موجود کو پانی سے پیدا کیا" خصوصًا جب انسان گرمیوں میں بہت عرصہ پیاسا رہے، ہوا بھی جھلسانے والی ہو، اس کے بعد اسے خوشگوار پانی میسر آ جائے تو جونہی پانی کا پہلا گھونٹ پیتا ہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے بدن میں جان ڈالی جا رہی ہے۔ حقیقت میں امام یہ چاہتے ہیں کہ زندگی اور پانی کے ارتباط اور پیوستگی کو اس خوبصورت انداز میں ظاہر کریں۔ بعد والی آیت توحید کی نشانیوں اور اس کی عظیم نعمتوں کے ایک اور حصہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے: ہم نے زمین میں مضبوط پہاڑ گاڑ دیے تاکہ وہ انسانوں کو نہ لرزاۓ (وجعلنا في الارض رواسي ان تمیدبهم)۔ (تشریحی نوٹ: "رواسی" جمع ہے "راسیہ" اس کا معنی سخت اور گھڑے ہوۓ پہاڑ اور چونکہ اس قسم کے پہاڑ نیچے بنیادوں میں ایک دوسرے سے ملے ہوۓ ہوتے ہیں لہذا ممکن ہے اس پیوستگی کی طرف اشارہ ہو اور سائنسی لحاظ سے یہ ثابت ہوا ہے کہ پہاڑوں کی جڑوں کی باہم پیوستگی، زمین کے زلزلے اور جھٹکے کھانے سے روکنے میں گہرا اثر رکھتی ہے "تمید" "مید" کے ماده کے بڑی بڑی چیزوں ناموزوں جھٹکوں اور زلزلے کے معنی میں ہے)۔ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں کہ پہاڑوں نے کرہ زمین کو ایک زرہ کی طرح اپنے اندر لیا ہوا ہے اور یہ زمین کے اندر گیسوں کے دباؤ کی وجہ سے جو شدید جھٹکے اور زلزلے پیدا ہوتے ہیں انہیں بہت حد تک روکنے کا سبب بنتے ہیں۔ علاوہ ازیں پہاڑوں کی یہی وضع و کیفیت، چاند کی کشش سے ہونے والے مد و جزر کے مقابلہ میں زمین کے اوپر کے حصہ کی حرکات کو کم سے کم رکھتی ہے۔ دوسری طرف اگر پہاڑ نہ ہوتے تو سطح زمین ہمیشہ تیز ہواؤں کی زد میں ہوتی اور اس میں کوئی آرام و سکون دکھائی نہ دیتا، جیسا کہ شور زده زمیں اور خشک جلانے والے بیابانوں میں ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایک اور نعمت کی طرف کہ وہ بھی اس کی عظمت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے، ہم نے ان عظیم پہاڑوں کے اندر درے اور راستے بنا دیتے ہیں تاکہ ان کی راہنمائی ہو اور وہ اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائیں: (وجعلنا فیها فجاجًا سبلًا لعلھم يهتدون) سچ مُچ اگر یہ درے اور شگاف نہ ہوتے تو زمین میں ان عظیم پہاڑوں کا موجود سلسلہ مختلف علاقوں کو ایک دوسرے سے اسی طرح جدا کر دیتا کہ ان کا تعلق ایک دوسرے سے بالکل ختم ہو جاتا اور یہ بات اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ سب ظہور پذیر ہونے والے امور ایک حساب پروگرام کے مطابق ہیں۔ اور چونکہ انسان کی زندگی کے سکون کے لیے زمین کا سکون تنہا کافی نہیں ہے بلکہ اوپر کی طرف سے بھی اس کے لیے امن و امان ہونا چاہیے لہذا بعد والی آیت میں یہ اضافہ کیا گیا ہے: ہم نے آسمان کو محفوظ چھت قرار دیا ہے لیکن وہ اس وسیع آسمان میں موجود توحید کی آیات اور نشانیوں سے منہ پھیرہے ہوئے ہیں۔ (وجعلنا السماء سقفا محفوظًا وهم عن ایاتها معرضون)۔ یہاں پر آسمان سے مراد جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں۔ وہ فضا ہے کہ جس نے زمین کو ہر طرف سے گھیر رکھا ہے اور محقیقن کی تحقیقات کے مطابق اس کی ضخامت کی سو کلو میٹر ہے۔ یہ ظاہری طور لطیف قشر کہ جو ہوا اور گیسوں سے مل کر بنا ہے اس قدر محکم اور مضبوط ہے کہ باہر کی طرف سے جو بھی ٹکرانے والی موجود چیز زمین کی طرف آئے گی وہ نابود ہو جائے گی اور یہ زمین کے کره کو رات دن "شہاب" کے پتھروں کی بمباری سے، کہ جو ہر قسم کے گولوں سے زیادہ خطرناک ہیں، محفوظ رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں سورج کی وہ شعاعیں کہ جو موت کا پیغام بن سکتی ہیں، اس کے ذریعہ صاف ہو جاتی ہیں اور ان مہلک شعاعوں کو جو فضا سے زمین کی طرف آ رہی ہوتی ہیں روک دیتا ہے. ہاں! یہ آسمان بہت ہی مضبوط اور پائیدار چھت ہے کہ جسے خدانے منہدم ہونے سے بچا رکھا ہے۔ (تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے مندرجہ بالا آیت کو ان آیات سے ہم آہنگ سمجھا ہے جو قرآن مجید میں شہاب کے ذریعے شیاطین کے آسمانوں پر چڑھنے سے محفوظ رہنے کے بارے میں وارد ہوئی ہیں۔ (مثلًا: وحفظا من كل شيطان مارد صافات۔ ۷) لیکن یہ بات واضح اور روشن ہے کہ یہ تقسير لفظ "سقف" (چھت) کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے کیونکہ چھت ان لوگوں کے لیے کہ جو اس سے نیچے ہوتے ہیں، ایک ڈھانپنے کی چیز ہوتی ہے، کہ جو اس سے اوپر ہو۔ (غور کیجیئے گا)) آخری زیر بحث آیت میں رات دن اور سورج و چاند کی خلقت کا بیان شروع کرتے ہوئے کہا گیا ہے: وہی ہے کہ جس نے رات دن اور سورج و چاند کو پیدا کیا ہے (وهو الذي خلق الليل والنهار والشمس والقمر)۔ اور ان میں سے ہر ایک اپنے مدار میں گردش کر رہا ہے: (كل في فلك يسبحون)۔

چند اہم نکات: ۱- "كل في فلك يسبحون" کا مفہوم:

اس کی تفسیر کے بارے میں مفسرین نے مختلف بیانات دیئے ہیں لیکن وہ بات کہ جو علم افلاک کے ماہرین کی مسلمہ تحقیقات سے ہم آہنگ ہے یہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں سورج کی حرکت سے مراد یا تو حرکت دوری ہے کہ جو وہ خود اپنے گرد کرتا ہے یا وہ حرکت ہے کہ جو وہ نظام شمسی کے ہمراہ رکھتا ہے۔ اس نکتے کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ لفظ "كل" ممکن ہے چاند اور سورج کی طرف اشارہ ہو اور اسی طرح ستاروں کی طرف بھی اشارہ ہو کیونکہ کلمہ "لیل" (شب) سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔ بعض بزرگ مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ "شب" اور"روز" اور چاند اور سورج (چاروں) کی طرف اشارہ ہو کیونکہ رات تو زمین کا مخروطی سایہ ہی ہے۔ نیز اس کا اپنا مدار بھی ہے۔ اگر کوئی شخص کره زمین سے باہر دور سے اس کی طرف دیکھے تو وہ اس تاریک مخروطی سائے کو زمین کے گرد دائما اور ہمیشہ حرکت میں دیکھے گا اور اسی طرح سورج کی وہ روشنی کہ جو زمین پر ہوتی ہے اور جس سے دن کا ظہور ہوتا ہے، اس ستون کی مانند ہے کہ جو اس کرہ کے گرد ہمیشہ نقل مکانی کرتا رہتا ہے، لہذا رات اور دن بھی اپنے لیے ایک گردش اور ایک مکان رکھتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: یہ اقتباس المیزان سے لیا گیا ہے)۔ یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ سورج کی حرکت سے مراد ہمارے احساس میں اس کی حرکت ہے کیونکہ زمین پر کھڑے ہو کر دیکھنے والے کے لیے سورج اور چاند دونوں گردش میں ہیں۔

۲- آسمان محکم چھت ہے:

ہم نے پہلے بھی بیان کیا ہے کہ "سماء" (آسمان) قرآن میں مختلف معانی کے لیے آیا ہے کبھی تو وہ زمین کی فضا یعنی ہوا کے اس ضخیم قشر کے معنی میں آیا ہے کہ جس نے کرہ ارض کو چار طرف سے گھیرا ہوا ہے جیسا کہ مندرجہ بالا آیت میں ہے۔ اس مقام پر فزکس کے ماہرین کی زبان سے اس عظیم چھت کی مضبوطی اور استحکام کے بارے میں مزید وضاحت بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ "فرانک آلن" جو فزکس کا استاد ہے، اس طرح لکھتا ہے: وہ فضائی قشر (جو) کہ جو سطح زمین پر زندگی کی نگہبانی کرنے والی گیسوں سے مل کر بنا ہواہے، اس قدر ضخیم ہے کہ جو ایک زرہ کی طرح، زمین کو، ایسے بیس ملین آسمانی پتھروں کے شر سےکہ جو موت کا پیغام ہوتے ہیں اور جو ٥٠ کلو میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے اُس کے ساتھ آ کر ٹکراتے ہیں، امان میں رکھ سکتا ہے۔ زمین کا فضائی قشر (جو) أن دوسرے کاموں کے علاوہ سطح زمین پر درجہ حرارت کو بھی زندگی کے لیے درکار حدود تک محفوظ رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ پانی اور پانی کے بخارات کے بہت ہی ضروری ذخیرے کو سمندروں سے خشکی کی طرف منتقل کرتا ہے کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو تمام براعظم شوردار، خشک، ناقابل زیست زمین میں تبدیل ہو جاتے۔ اس طرح یوں کہنا چاہیئے کہ سمندر اور جو زمین، زمین کے لیے کنویں سے پانی کھینچنے والی چرخی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان شہابوں میں سے بعض کا وزن کہ جو زمین کی طرف آتے ہیں ایک گرام کے ہزارویں حصے کی مقدار کے برابر ہوتا ہے لیکن حد سے زیادہ سرعت اور تیزی کی وجہ سے اس کی قوت و طاقت، ايٹمی ذرات کی طاقت سے برابر ہوتی ہے کہ جن سے تباہ کن بم تیار ہوتے ہیں اور ان شہابوں کا حجم بعض اوقات ریت کے ایک ذرہ سے زیادہ نہیں ہوتا۔ ان شہابوں میں سے کئی ملین شهاب ہر روز زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی جل جاتے ہیں یا بخارات میں تبدیل ہو جاتے ہیں لیکن بعض اوقات بعض شهابوں کا حجم اور وزن اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ وہ گیسوں کے قشر سے گزر کر سطح زمین کے ساتھ ٹکراتے ہیں۔ منجمله ان شہابوں کے جو مذکورہ گیسوں سے نکل کر زمین تک پہنچے ایک بہت بڑا مشهور شهاب "سیبری" ہے کہ جو ۱۹٥۸ء میں زمین سے ٹکرایا تھا۔ اس کا قطر اتنا بڑا تھا کہ اس نے تقریبًا ۴۰ کلو میٹر زمین کو گھیر لیا تھا اور اس کے گرنے سے بہت سے نقصانات ہوۓ تھے۔ ایک اور شہاب وہ ہے کہ جو امریکہ میں "اریزونا" کے مقام پر گرا تھا کہ جس کا قطر ایک کیلومیٹر اور اس کی موٹائی بیس میٹر تھی۔ اس کے گرنے سے زمین میں گہرا شگاف پڑ گیا تھا اور اس کے پھٹنے سے اور بہت سے چھوٹے چھوٹے شہاب پیدا ہو گئے تھے کہ جو دور دور جا گرے تھے۔" "کرسی موریسن لکھتا ہے: اگر وہ ہوا کہ جو زمین کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے، اس کی نسبت کہ جتنی اب ہے کچھ بھی کم اور پتلی ہوتی تو اجرام سماوی اور شہاب ثاقب کہ جو روزانہ کئی ملین کی تعداد میں اس سے آ ٹکراتے ہیں اور اسی فضا کے اندر باہر ہی باہر منتشر اور نابود ہو جاتے ہیں، ہمیشہ سطح زمین پر پہنچ جاتے اور اس کے گوشہ و کنار سے آ ٹکراتے رہتے۔ یہ اجرام فلکی چھ سے چالیس میل فی سیکنڈ کی رفتار سے چلتے ہیں اور جس چیز سے بھی جا ٹکراتے ہیں اُسے تباہ و برباد کر دیتے ہیں اور اس میں آگ بھڑکا دیتے ہیں۔ اگر ان اجرام سماوی کی حرکت اور تیزی اس سے کمتر ہوتی، جتنی کہ اب ہے، مثلاً وہ ایک گولی کی سرعت اور تیزی کے برابر ہوتی، تو وہ سب کے سب سے زمین پر آ گرتے اور ان کی تباہی کا نتیجہ واضح ہے، منجملہ ان کے اگر خود انسان ان اجرام سمادی کے چھوٹے سے چھوٹے ٹکڑے کی زد میں آ جاتا، تو اس کی حرارت کی شدت کے باعث - کہ جو گولی کی سرعت حرکت کی نسبت نوے گنا زیادہ ہے، ٹکڑے ٹکڑے اور ریزہ ریزه ہو جاتا۔ زمین کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہوا کی موٹائی اس قدر ہے کہ وہ سورج کی شعاعوں کو صرف اتنی ہی مقدار میں کہ جتنی نباتات کی نشوونا کے لیے ضروری ہے، زمین کی طرف آنے دیتی ہے اور تمام ضرر رساں جراثیم کو اسی فضا کے اندر نیست و نابود کر دیتی ہے اور مفید وٹامن پیدا کرتی ہے۔ (بحوالہ: کتاب، "رازِآفرنیش انسان" ص ٣۴ تا ٣٥) -

34
21:34
وَمَا جَعَلۡنَا لِبَشَرٖ مِّن قَبۡلِكَ ٱلۡخُلۡدَۖ أَفَإِيْن مِّتَّ فَهُمُ ٱلۡخَٰلِدُونَ
ہم نے تجھ سے پہلے کسی بھی انسان کو دائمی زندگی نہیں دی(تو اس وقت وہ لوگ جو تیری موت کا انتظار کر رہے ہیں ) اگر تو مرجائے تو کیا وہ ہمیشہ جیتے ہی رہیں گے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔

35
21:35
كُلُّ نَفۡسٖ ذَآئِقَةُ ٱلۡمَوۡتِۗ وَنَبۡلُوكُم بِٱلشَّرِّ وَٱلۡخَيۡرِ فِتۡنَةٗۖ وَإِلَيۡنَا تُرۡجَعُونَ
ہر انسان موت کا ذائقہ چکھے گا۔اور ہم مصیبت و راحت کے ذریعے تمہاری آزمائش کریں گے اور آخرکار تم ہماری ہی طرف لوٹ کر آؤ گے۔

تفسیر موت سب کے لیے ہے:

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات کے ایک حصہ میں بیان ہوا ہے کہ مشرکین پیغمبر اکرمؐ کی نبوت کی تردید کے لیے ان کے انسان ہونے کو بہانہ بناتے تھے اور ان کا عقیدہ تھا پیغمبر کو حتمی طور پر فرشتہ ہونا اور ہر قسم کے بشری عوارض سے خالی ہونا چاہیئے۔ زیر بحث آیات ان کے کچھ اور اعتراضات کی طرف اشارہ کرتی ہیں، کبھی تو وہ یہ کہتے تھے کہ پیغمبر نے جو شاعرانہ سر و صدا بلند کر رکھی ہے، ہمیشہ نہیں رہے گی اور اس کے مرنے سے سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ جیسا کہ سوره طور کی آیہ ٣۰ میں بیان ہوا ہے: ام یقولون شاعر نتربص بہ ریب المنون اور کبھی یہ خیال کرتے تھے کہ چونکہ اس شخص کا نظریہ یہ ہے کہ یہ خاتمِ انبیاءؑ ہے۔ لہذا اُسے ہرگز نہیں مرنا چاہیئے تاکہ اپنے دین کا محافظ ہو۔ لہذا اس کی موت اس کے دعویٰ کے باطل ہونے کی دلیل ہو گی۔ قرآن مندرجہ بالا پہلی آیت میں مختصر سے جملے میں انہیں جواب دیتا ہے اور کہتا ہے: ہم نے تجھ سے پہلے کسی بشر کو جادواں زندگی نہیں دی: (وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد)۔ یہ فطرت کا ناقابلِ تغیر قانون ہے کہ کوئی بھی شخص حیات جادوانی نہیں رکھتا، لہذا جو لوگ ابھی سے تیری موت کی خوشی منا رہے ہیں کیا اگر تجھے موت آنی ہے تو وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے: (افان مت فھم الخالدون)۔ شاید اِس بات کی وضاحت کی ضرورت نہ ہو کہ شریعت و دین و آئین کی بقاء اس کے لانے والے کی بقاء کی محتاج نہیں ہے۔ ابراہیمؑ و موسیٰؑ اور عیسیٰؑ اگرچہ حیات جاوید نہ رکھتے تھے لیکن ان عظیم پیغمبروں کی وفات کے (اور حضرت عیسیٰؑ کے آسمان کی طرف صعود کرنے کے) بعد بھی قرنوں تک ان کا آئین و دین باقی رہا۔ لہذا دین و مذہب کی بقا اس بات کی محتاج نہیں کہ پیغمبر اس کی حفاظت کے لئے ہمیشہ موجود رہے کیونکہ اس کے جانشین اس کی تعلیمات اور ہدایات کو جاری اور برقرار رکھ سکتے ہیں۔ اور یہ بات کہ جو وہ خیال کرتے ہیں کہ پیغمبر کے چلے جانے کےبعد تمام چیزیں ختم ہو جاتی ہیں، درحقیقت ان کے بالکل اندھے پن کا ثبوت ہیں کیونکہ یہ بات ان مسائل کے بارے میں توصحیح ہے کہ جو کسی شخص کے ساتھ قائم ہوں اسلام نہ تو شخصی اعتبار سے پیغمبر کے ساتھ قائم تھا اور نہ ہی آپ کے انصار و اصحاب کے ساتھ۔ یہ ایک ایسا زندہ اور رواں دواں دین و آئین ہے کہ جو اپنی اندرونی حرکت کی بنیاد پر آگے بڑھتا ہے۔ اور زمان و مکان کی سرحدوں کو عبور کرتے ہوئے اپنی حرکت اور سفر جاری رکھتا ہے۔ اس کے بعد تمام نفوس کے بارے میں موت کے بلا استثناء عمومی قانون کو اس طرح بیان کرتا ہے: ہر انسان موت کا ذائقہ چکھے گا: (کل نفس ذائقۃ الموت)۔ یہ بات یاد دلانا ضروری ہے کہ لفظ "نفس" قرآن مجید میں مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے "نفس" کا پہلا معنی "ذات" یا اپنا آپ ہے۔ یہ ایک وسیع معنی ہے، یہاں تک کہ خدا کی ذات پاک پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ جیسا کہ بیان ہوا ہے: کتب علی نفسہ الرحمۃ خدا نے رحمت کو اپنے اُوپر لازم قرار دے لیا ہے۔ (انعام۔ ۱۲) بعد میں یہ لفظ انسان کے لیے یعنی جسم و رُوح کے مجموعے کے لیے استعمال ہونے لگا۔ مثلاً: من قتل نفساً بغیر نفس او فساد فی الارض فکانّما قتل الناس جمیعاً جو شخص کسی انسان کو بغیر اس کے کہ اُس نے قتل کیا ہو یا زمین میں فساد کیا ہو قتل کر دے تو یہ ایسے ہے جیسے اُس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا ہو۔ (مائدہ ۔۲۲) کبھی خصوصیت کے ساتھ یہ لفظ انسان کی رُوح کے لیے استعمال ہوا ہے مثلاً: اخرجوا انفسک رُوحوں کو قبض کرنے والے فرشتے کہیں گے کہ اپنی رُوح کو باہر نکالو۔ (انعام۔ ۹٣) یہ بات ظاہر ہے کہ زیر بحث آیت میں "نفس" سے دوسرا معنی مراد ہے۔ مقصد انسانوں کے بارے میں عمومی بیان کرنا ہے اور اس طرح سے آیت میں کسی اعتراض کی گنجائش نہیں رہ جاتی کہ "نفس" کی تعبیر تو خدا یا فرشتوں کے لیے بھی آئی ہے، تو آیہ کو کس طرح جانداروں کے لیے مختص قرار دیا جائے اور خدا اور فرشتوں کو اس میں سے کیسے خارج کیا جائے۔ (بحوالہ: المیزان، جلد۱۴، ص ٣۱۲) موت کے عمومی قانون کو بیان کرنے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس ناپائیدار زندگی کا مقصد کیا ہے اور اس کا کیا فائدہ ہے؟ قرآن اسی آیت کے آخر میں کہتا ہے: ہم تمہارا شر اور خیر کے ذریعے امتحان لیں گے اور آخر کار تم ہماری طرف ہی لوٹ کر آؤ گے: (ونبلوکم بالشر والخیر فتنۃ والینا ترجعون)۔ تمہاری اصلی جگہ یہ جہان نہیں ہے بلکہ دوسرا جہان ہے۔ تم یہاں صرف امتحان دینے کے لیے آئے ہو اور امتحان ختم ہونے ضروری کپ کمال کے بعد اپنی اصلی جگہ کی طرف، جو کہ دارِ آخرت ہے، چلے جاؤ گے۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ امتحان کے امور میں "شر" کو "خیر" پر مقدم بیان کیا گیا ہے اور ہونا بھی ایسا ہی چاہیے کیونکہ خدائی آزمائش اگرچہ کبھی نعمت کے ذریعے ہوتی ہے اور کبھی بلا و مصیبت کے ذریعے لیکن مسلمہ طور پر بلا و مصیبت کے ذریعے ہونے والی آزمائش زیادہ سخت اور زیادہ مشکل ہوتی ہے۔ یہ نکتہ بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ یہاں "شر" مطلق شر کے معنی میں نہیں ہے کیونکہ یہاں ایسا "شر" مراد ہے کہ جو آزمائش اور تکامل کا ذریعہ ہے۔ اِس بناء پر یہاں مراد نسبی شر ہے اور اصولی طور ہر صحیح توحیدی نقطہ نظر سے تمام عالمِ ہستی میں مطلق شر و وجود ہی نہیں رکھتا (غور کیجیے گا)۔ لہذا ایک حدیث میں امیرالمومنین علیہ السلام سے منقول ہے کہ ایک دفعہ امامؑ بیمار ہو گئے تو کچھ بھائی اور دوست آپؑ کی عیادت کے لیے آئے اور عرض کیا: کیف نجدک یا امیرالمومنینؑ؟ قال بالشر اے امیرالمومنینؑ آپ کا حال کیسا ہے؟ آپؑ نے فرمایا: شر ہے۔ قالوا ما ھٰذا کلام مثلک انہوں نے کہا یہ بات آپ جیسی ہستی کے لائق نہیں ہے۔ امامؑ نے فرمایا: "ان اللہ تعالیٰ یقول و نبلوکم بالشر و الخیر فتنۃ فالخیر الصحۃ و الغنا والشر المرض والفقر" خداوندتعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم تمہاری "شر" اور "خیر" کے ذریعہ سے آزمائش کرتے ہیں، "خیر" تو تندرستی اور تونگری ہے اور "شر" بیماری اور فقر و فاقہ ہے۔ (یعنی یہ وہ تعبیر ہے کہ جسے میں نے قرآن مجید سے انتخاب کیا ہے)۔ یہاں ایک اہم سوال باقی رہ جاتا ہے کہ خدا بندوں کی آزمائش کیوں کرتا ہے اور اصولی طور پر خدا کے بارے میں آزمائش کیا مفہوم رکھتی ہے؟ اِس سوال کا جواب ہم تفسیر نمونہ کی پہلی جلد میں سورہ بقرہ کی آیہ ۱٥٥ کے ذیل میں بیان کر چکے ہیں کہ خدا کے بارے میں آزمائش، تربیت کرنے کے معنی میں ہے۔ (اس موضوع کی مکمل تفصیل کا وہاں پر مطالعہ کریں)۔

36
21:36
وَإِذَا رَءَاكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَٰذَا ٱلَّذِي يَذۡكُرُ ءَالِهَتَكُمۡ وَهُم بِذِكۡرِ ٱلرَّحۡمَٰنِ هُمۡ كَٰفِرُونَ
اور (اے پیغمبر) جب کفار تجھے دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق اڑانے کے سوا انہیں اور کوئی کام ہی نہیں ہوتا۔(اور وہ یہ کہتے ہیں کہ) کیا یہ وہی شخص ہے کہ جو تمہارے خداؤں کے بارے میں باتیں بناتا ہے؟ حالانکہ وہ خود خدائے رحمن کے ذکر کے منکر ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

37
21:37
خُلِقَ ٱلۡإِنسَٰنُ مِنۡ عَجَلٖۚ سَأُوْرِيكُمۡ ءَايَٰتِي فَلَا تَسۡتَعۡجِلُونِ
ہاں ! انسان جلد باز مخلوق ہے (مگر جلدی نہ کرو) میں عنقریب تمہیں اپنی آیات دکھاؤں گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

38
21:38
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلۡوَعۡدُ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
وہ یہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچ کہتے ہو (تو بتاؤ) یہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

39
21:39
لَوۡ يَعۡلَمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَن وُجُوهِهِمُ ٱلنَّارَ وَلَا عَن ظُهُورِهِمۡ وَلَا هُمۡ يُنصَرُونَ
لیکن اگر کافر اس زمانے کو جانتے ہوتے جب وہ آگ کے شعلوں کو اپنے چہروں اور اپنی پشتوں سے دور نہیں کرسکیں گے اور کوئی شخص ان کی مدد بھی نہیں کرے گا(تو پھر اس قدر قیامت کے بارے میں جلدی نہ کرتے)!

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

40
21:40
بَلۡ تَأۡتِيهِم بَغۡتَةٗ فَتَبۡهَتُهُمۡ فَلَا يَسۡتَطِيعُونَ رَدَّهَا وَلَا هُمۡ يُنظَرُونَ
یہ خدائی عذاب اچانک ان کے پاس آئے گا اور انہیں مبہوت کردیگا۔ اس طرح سے کہ اسے دور کرنے کی ان میں طاقت نہ ہو گی اور انہیں مہلت بھی نہیں دیجائیگی۔

تفسیر انسان جلد باز مخلوق ہے:

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

اِن آیات میں مشرکین کی پیغمبر اسلامؐ کے متعلق ــــــ کچھ اور نکتہ چینیوں اور اعتراضات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں اصولی مسائل میں ان کی انحرافی طرز فکر کو بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: جس وقت كفار تجھے دیکھتے ہیں، تو تیرا تمسخر اُڑانے کے سوا انہیں اور کوئی کام ہی نہیں ہوتا: (واذا راك الذين كفروا ان يتخذونک الا هزوا)۔ وہ بےپروائی کے ساتھ اور تیری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں، کیا یہ وہی ہے کہ جو تمہارے خداؤں اور بتوں کی برائی کرتا ہے (اهذا الذي يذكر الهتكم)۔ (تشریحی نوٹ: یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ وہ اپنے الفاظ میں یہ کہتے تھے، کہ یہ وہی شخص ہے جو تمھارے خداؤں کے بارے میں باتیں کرتے ہیں وہ اسی بات تک کے لیے راضی نہ تھے کہ برائی کا لفظ اپنی عبارت میں لے آئیں اور یہ کہیں کہ یہ تمہارے خداؤں کی بدگوئی کرتاہے یا انہيں برا کہتا ہے)۔ حالانکہ وہ خود خدائے رحمٰن کے ذکر کے منکر ہیں: (وهم بذكر الرحمن ھم كافرون)۔ تعجب تو اِس بات پر ہے کہ اگر کوئی شخص ان پتھر اور لکڑی کے بنے ہوئے بتوں کی برائی کرے ـــــــ برائی ہی بیان نہ کرے، بلکہ حقیقت کا اظہار کرے اور یہ کہے کہ یہ بے روح و بےشعور اور ایک بے قدر و قیمت موجودات ہیں، تو وہ اس بات پر تعجب کرتے ہیں لیکن اگر کوئی شخص ایسے مہربان اور بخشنے والے خدا کا منکر ہو جائے کہ جس کی رحمت کے آثار وسعت عالم پر محیط ہیں اور ہر چیز میں اس کی عظمت اور رحمت کی دلیل موجود ہے، تو یہ ان کے لیے کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ ہاں! جس وقت انسان کو کسی چیز کی عادت ہو جاتی ہے اور اس کی خُوبُو اس میں رچ بس جاتی ہے اور اس میں پختہ ہو جاتا ہے، تو وہ چیز اس کی نظروں کو اچھا لگنے لگتی ہے، چاہے وہ کتنی ہی بدترین کیوں نہ ہو اور جس وقت وہ کسی چیز سے عداوت و دشمنی اختیار کر لیتا ہے تو آہستہ آہستہ وہ چیز اس کی نظروں کو بری لگنے لگتی ہے، چاہے وہ کتنی ہی زیبا اور محبوب کیوں نہ ہو۔ اس کے بعد ان بے مہار انسانوں کے ایک اور قبیح اور بے سرو پا کام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے، انسان جلد باز مخلوق ہے: (خلق الانسان من عجل) اگرچہ مفسرین نے یہاں پر "انسان" اور "عجل" کے بارے مختلف باتیں کی ہیں لیکن یہ بات ظاہر ہے کہ یہاں پر انسان سے مراد نوع انسان ہی ہے (البتہ ایسے انسان کہ جو تربیت یافتہ نہ ہوں، بلکہ خدائی رہبروں کی رہبری سے باہر رہے ہوں)۔ اور "عجل" سے مراد تیزی اور جلد بازی ہے، جیسا کہ بعد والی آیات اس بات پر شاہد ناطق ہیں اور قرآن میں ایک اور جگہ پر بیان ہوا ہے: وكان الانسان عجولًا انسان جلد باز هے۔ (بنی اسرائیل ۔۱۱) درحقیقت "خلق الانسان من عجل" کی تعبیر ایک قسم کی تاکید ہے۔ یعنی انسان اس طرح کا جلد باز ہے کہ گویا جلدبازی اور "عجلہ" سے پیدا ہوا ہے اور اس کے وجود کے تارو پود اسی سے بنے ہیں اور سچ مچ بہت سے آدمی اسی بات کے عادی ہیں۔ وہ خیر اور بھلائی میں بھی جلد باز ہیں اور شر اور برائی میں بھی۔ یہاں تک کہ جب ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ اگر تم نے کفر اور گناہ اختیار کیا تو عذاب الٰہی تمہارے دامن گیر ہو جائے گا تو وہ کہتے ہیں کہ یہ عذاب پھر جلدی کیوں نہیں آتا؟ آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے: جلدی نہ کرو، میں اپنی آیات تمہیں عنقریب دکھاؤ گا: (سأوریكم اياتي فلاتستعجلون)۔ ممکن ہے یہاں پر "آیاتی" کی تعبیر، عذاب، بلا، مصائب اور سزاؤں کی آیات اور نشانیوں کی طرف اشارہ ہو کہ پیغمبر جس سے مخالفین کو ڈراتے تھے اور یہ کور مغز بار بار یہی کہتے تھے کہ وہ بلائیں اور مصیبتیں جس سے تمہیں ڈراتے تھے کہاں گئیں؟ قرآن کہتا ہے کہ جلدی نہ کرو، زیادہ دیر نہیں گزرے گی کہ وہ نہیں آلیں گی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ان معجزات کی طرف اشارہ ہو کہ جو پیغمبر اسلامؐ کی صداقت کی دلیل ہیں یعنی اگر تم تھوڑا سا صبر کرو، تو تمہیں کافی معجزات دکھائے جائیں گے۔ یہ دونوں تفسیریں ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں کیونکہ مشرکین دونوں چیزوں میں جلد بازی کرتے تھے اور خدا نے بھی دونوں ہی انہیں دکھائیں ــــــ پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے اور بعد والی آیات کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔ ان کے ایک اور عاجلانہ تقاضے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: وہ کہتے ہیں کہ اگر سچ کہتے ہو تو قیامت کا وعدہ کب پورا ہو گا: (ويقولون متٰى هذا الوعد ان كنتم صادقین)۔ وہ انتهائی بےصبری کے ساتھ قیام قیامت کے منتظر تھے حالانکہ وہ اس بات سے غافل تھے کہ قیامت کے آتے ہی ان کی بیچارگی اور بدبختی کا آغاز ہو جائے گا لیکن کیا کیا جا سکتا ہے، جلد باز انسان اپنی بدبختی و نابودی کے لیے بھی جلد بازی کرتا ہے۔ ان كنتم صادقين (اگر تم سچے ہو) کی تعبیر جمع کی صورت میں ہے۔ حالانکه مخاطب پیغمبر اسلامؐ تھے۔ یہ اس بنا پر ہے کہ اس خطاب میں ان کے سچے پیروکاروں کو بھی شریک کیا گیا اور وہ ضمنی طور پر یہ کہنا چاہتے تھے کہ قیامت کا آنا اس بات کی دلیل ہے کہ تم سب کے سب جھوٹے ہو۔ بعد والی آیت ان کو جواب دیتے ہوئے کہتی ہے: اگر کافر اس زمانے کو جانتے ہوتے کہ جب وہ آگ کے شعلوں کو اپنے چہروں اور پشتوں سے دُور نہیں کر سکیں گے، اور کوئی شخص ان کی امداد کے لیے بھی نہیں آئے گا، تو وہ ہرگز عذاب کے لیے جلدی نہ کرتے اور یہ نہ کہتے کہ قیامت کب آئے گی۔ (لويعلم الذين كفروا حين لا يكفون عن وجوههم النار ولا عن ظهورهم ولاهم ينصرون)۔ زیر بحث آیت میں "چہروں" اور "پشتوں" کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دوزخ کی آگ اس طرح نہیں ہو گی کہ وه ان کے ایک ہی طرف رہے بلکہ ان کے سامنے کا حصہ بھی آگ میں ہو گا اور پشت والا حصہ بھی۔ گویا وہ آگ کے اندر غرق ہوں گے "ولا هم ينصرون" اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ بُت کہ جن کے بارے میں وہ یہ گمان کرتے رہے تھے کہ وہ ان کے شفیع و مددگار ہوں گے، ان سے کچھ نہیں ہو سکے گا۔ اور یہ بات خاص طور قابل توجہ ہے کہ "یہ خدائی سزا اور جلا ڈالنے والی آگ اس طرح سے اچانک اُنہیں آلے گی کہ وہ مبہوت ہو کر رہ جائیں گے": (بل تأتيهم بغتة فتبهتهم)۔ "اور انہیں اس طرح سے غافل اور مقہور و مغلوب کر دے گی کہ ان میں اس سے دُور کرنے کی بھی طاقت نہ ہو گی: (فلايستطيعون ردها)۔ یہاں تک کہ اگر وہ اب مہلت کی خواہش بھی کریں اور اس کے برخلاف کہ جس کے لیے وہ پہلے جلدبازی کیا کرتے تھے، تاخیر کی درخواست کرنے لگیں تو بھی "انہیں مہلت نہیں دی جائے گی: (ولا هم ينظرون)۔

چند اہم نکات: ۱- جلد باز کو جلد بازی سے ممانعت:

زیر بحث آیات پر توجہ کرتے ہوئے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ اگر انسان فطری طور پر جلد باز ہے تو پھر اسے جلد بازی سے منع کرتے ہوئے کیوں کہا گیا ہے: "فلاتستعجلون" (تم جلدی نہ کرو)۔ کیا یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ ہم جواب میں کہیں گے کہ انسان کے ارادہ کے اختیار اور آزادی اور اس کی اخلاقی صفات، خصوصیات اور جذبات وروحیات کے قابل تغیر ہونے کی طرف توجہ دیں تو واضح ہو گا کہ اس میں کسی قسم کا کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ تربیت اور تزکیہ نفس کے ذریعے اس حالت کو بدلا جا سکتا ہے۔

۲- "بل تأتيهم بغتة فتبهتهم" کا مفہوم:

اس کا معنی ہے عذاب الہی اچانک ان کی طرف آۓ گا، "اور انہیں مبہوت کر دے گا۔" یہ جملہ ممکن ہے اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ قیامت کے عذاب کی ہر چیز دنیا کے عذاب سے مختلف ہے۔ مثلًا جہنم کی آگ کے بارے میں یہ بیان کیا گیا ہے: نار الله الموقدة التي تطلع على الافئدة خدا کی روشن کی ہوئی آگ تو (ایسی ہے کہ جو) انسان کے دل میں جا کے لگے گی۔ (ہمزه: ۶۔ ۷) یا یہ کہ جہنم کے ایندھن کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ: وقودها الناس والحجارة جہنم کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔ (بقرۃ ۔۲۴) اِس قسم کی تعبیرات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جہنم کی آگ اچانک اور غفلت کی حالت میں آنے والی اور مبہوت کر دینے والی ہے۔

41
21:41
وَلَقَدِ ٱسۡتُهۡزِئَ بِرُسُلٖ مِّن قَبۡلِكَ فَحَاقَ بِٱلَّذِينَ سَخِرُواْ مِنۡهُم مَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ
(اگر یہ تیرا مذاق اڑاتے ہیں تو پریشان نہ ہو) تجھ سے پہلے پیغمبروں کا بھی مذاق اڑایا جاتا تھا لیکن آخرکار جس چیز کا تمسخر اڑایا کرتے تھے وہی عذاب تمسخر اڑانے والوں کے دامن گیر ہو گیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔

42
21:42
قُلۡ مَن يَكۡلَؤُكُم بِٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ مِنَ ٱلرَّحۡمَٰنِۚ بَلۡ هُمۡ عَن ذِكۡرِ رَبِّهِم مُّعۡرِضُونَ
تم کہہ دو کہ رات کو اور دن کو خدا (کے عذاب) سے تمہیں کون بچا سکتا ہے، کیا وہ اپنے پر وردگار کی یاد سے منہ پھیرے ہوئے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔

43
21:43
أَمۡ لَهُمۡ ءَالِهَةٞ تَمۡنَعُهُم مِّن دُونِنَاۚ لَا يَسۡتَطِيعُونَ نَصۡرَ أَنفُسِهِمۡ وَلَا هُم مِّنَّا يُصۡحَبُونَ
لیکن ان کے معبود ایسے ہیں کہ جو ہمارے مقابلہ میں ان کا دفاع کریں ؟ یہ (بناوٹی خدا) تو اپنی مدد بھی نہیں کر سکتے (دوسروں کی مدد کیا کریں گے) اور نہ ہی ہماری طرف سے کسی طاقت کے ذریعہ ان کی مدد بھی ہو گی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔

44
21:44
بَلۡ مَتَّعۡنَا هَـٰٓؤُلَآءِ وَءَابَآءَهُمۡ حَتَّىٰ طَالَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡعُمُرُۗ أَفَلَا يَرَوۡنَ أَنَّا نَأۡتِي ٱلۡأَرۡضَ نَنقُصُهَا مِنۡ أَطۡرَافِهَآۚ أَفَهُمُ ٱلۡغَٰلِبُونَ
ہم نے انہیں اور ان کے آباؤ اجداد اکو اپنی نعمتوں سے بہرہ مند کیا، یہاں تک کہ انہوں نے طولانی عمر پائی(اور وہی ان کے غرورو طغیان کا سبب بن گئی)۔ کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم پے در پے اور مسلسل زمین (اور اسمیں رہنے والوں ) میں کمی کرتے جا رہے ہیں ؟کیا وہ غالب ہیں ؟(یا ہم؟)

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔

45
21:45
قُلۡ إِنَّمَآ أُنذِرُكُم بِٱلۡوَحۡيِۚ وَلَا يَسۡمَعُ ٱلصُّمُّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا مَا يُنذَرُونَ
کہہ دو کہ میں تو تمہیں صرف وحی کے ذریعے ڈراتا ہوں۔ لیکن وہ لوگ کہ جن کے کان بہرے ہیں،(جس وقت) انہیں ڈرایا جاتا ہے تو باتوں کو سنتے ہی نہیں ہیں۔

کان دھر کے سنو اگر تمہارے کان

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ مشرکین اور کفار پیغمبراکرمؐ کا مذاق اڑاتے تھے۔ وہی کام کہ جو تمام جاہل اور مغرور لوگوں کی پرانی عادت ہے کہ وہ حقیقی اور اہم واقعات کو بھی مذاق اور استہزا کے طور پر لیتے ہیں۔ زیر بحث پہلی آیت میں پیغمبرؐ کو دلاسہ اور تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا : یہ صرف تم ہی نہیں ہو کہ جس کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، بلکہ " تجھ سے پہلے جو پیغمبر آئے تھے انہوں نے ان کا بھی مذاق اڑایا تها" :(ولقد استهزی برسل من قبلك ) - "لیکن آخر کار وہ عذاب الٰہی کہ جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے، تمسخر اڑانے والوں کے دامن گیر ہو گیا: (فحاق بالذين سخروا منهم ما كانوا به يستھزءون )۔ لہذا تم کسی قسم کے غم و اندوہ کو اپنے قریب بھی نہ پھٹکنے دو اورجاہلوں کے اس طرح کے کام سے تیری عظیم ورح پر معمولی سا اثر بھی نہیں ہونا چاہیے اور یہ تیرے آہنی عزم میں کسی قسم کا خلل ڈالنے پائیں۔ بعد والی آیت میں فرمایا گیا ہے، نہ صرف قیامت میں عذاب الٰہی سے تمہیں کوئی نہیں بچا سکے گا۔ بلکہ اس دنیا میں بھی یہی حال ہے۔ تم کہہ دو کہ رات اور دن میں خدائے رحمان کے عذاب سے تمہیں کون بچا سکتا ہے :(قل من يکلوكم بالليل والنهار من الرحمن)۔ حقیقت میں اگر خدا نے آسمان (جو زمین) کو ایک محفوظ چهت قرار نہ دیا ہوتا ــــــ جیسا کہ پہلی آیات میں بیان ہوا ہے ــــــ تو تمہارے لیے صرف یہی کافی تھا کہ رات دن تم آسمانی پتھروں کی زد میں ہوتے ۔ خدائے رحمن تم سے اس قدر محبت رکھتا ہے کہ اس نے تمہاری نگہبانی اور حفاظت کے لیے ایسے ایسے مامورین قرار دیئے ہوۓ ہیں کہ اگر وہ ایک لحظہ کے لیے تم سے جدا ہو جائیں تو مصائب و آلام کا سیلاب تم پر ٹوٹ پڑے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس آیت میں لفظ "اللہ" کی بجائے "رحمٰن" استعمال ہوا ہے۔ یعنی تم یہ تو دیکھو کہ تم نے کس قدر گناہ کیے ہیں کہ تم نے اس خدا کی کی ناراض کر دیا ہے جو رحمت عامہ کا مرکزہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : لیکن انہوں نے پروردگار کی یاد سے منہ موڑ لیا ہے، نہ اس کے انبیاء کے مواعظ نصائح کی طرف کان و دھرتے ہیں اور نہ ہی خدا اور اس کی نعمتوں کی یاد ان کے دلوں کو ہلاتی ہے اور نہ ایک لمحہ کے لیے بھی اس بارے میں سوچتے ہیں "بلکہ انہوں نے اپنے پروروگار کی یاد سے منہ پھیر لیا ہے: (بل هم عن ذكر ربهم معرضون)۔ پھر سوال کیا گیا ہے کہ : یہ ظالم اور گنہگار کافر، خدائى عذاب کے مقابلے میں کس پر اعتماد کیے ہوئے ہیں " کیا وہ ایسے خدا رکھتے ہیں جو ہمارے مقابلہ میں ان کا دفاع کرسکیں": (ام لهم الهة تمنعهم من دوننا)۔ "ان کے یہ جعلی خدا تو خود اپنی مدد بھی نہیں کر سکتے" اور نہ اپنا دفاع کر سکتے ہیں: ولا يستطيعون نصرانفسھم)۔ اور نہ ہی ان کی تمام کی طرف سے رحمت اور معنوی قوت کے ذریعے کوئی مدد کی جائے گی اور نہ ہی ان کا کسی طرح سے کوئی ساتھ دیا جائے گا: (ولاهم منايصحبون )۔ [تشریحی نوٹ: "يصحبون " باب افعال سے ہے۔ اصل میں اس کا معنی ہے کسی چیز کو مدد اور حمایت کے طور پر کسی شخص کو دے دیتا ۔ یہاں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ بت نہ ذاتی طور پر دفاع کی قدرت رکھتے ہیں اور نہ ہی پروردگار کی طرف سے اس قسم کی قدرت ان کے اختیار میں دی گئی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ عالم ہستی میں ہردفاعی قوت یا کسی ذات کے اندر سے ابھرتی ہے یا خدا کی طرف دی جاتی ہے۔] بعد والی آیت میں بے ایمان لوگوں کی سرکشی اور طغیان کی ایک اہم علت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا گیا ہے : ہم نے انہیں اور ان کے آباؤ اجداد کو انواع و اقسام کی نعمتیں عطا کیں، یہاں تک کہ انہوں نے طولانی عمریں پائیں -(بل متعنا هؤلاء وأبائهم حتی طال عليهم والعمر)۔ لیکن بجائے اس کے کہ یہ طولانی عمر اور فراواں نعمت آن میں شکرگزاری کا احساس ابھارتی اور وہ حق تعالٰی کے آستان عبودیت پر سر رکھتے، یہی ان کے غرور اور طغیان کا سبب بن گئی۔ لیکن کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ یہ جہان اور اس کی نعمتیں پائیدار نہیں ہیں۔ "کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم مسلسل زمین اور زمین کے رہنے والوں میں کمی کررہےہیں": (أفلا يرون انا نأتي الأرض ننقصها من أطرافها)۔ اقوام و قبائل یکے بعد دیگر آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، چھوٹے اور بڑے افراد میں سے کوئی بھی عمر جادوانی نہیں رکھتا اور سب کے سب اپنا نقاب فنا چھپا رہے ہیں۔ وہ قومیں جو ان سے زیادہ قوی، زیادہ طاقتور اور زیادہ سرکش تھیں سب سے تاریک مٹی کے نیچے اپنا منہ چھپالیا ۔ یہاں تک کہ دانشمند بزرگ اور علماء کہ جو قوام زمین تھے، انہوں نے بھی اس جہان سے آنکھیں بند کرلیں "تو ان حالات میں کیا وه غالب ہیں، یا ہم غالب ہیں" (افهم الغالبون)۔ اس بارے میں کہ " انا فأتی الارض تنقصها من اطرافها" (ہم زمین کی طرف آتے ہیں اور مسلسل اس کے اطراف کو کم کرتے رہتے ہیں) کے جملہ سے کیا مراد ہے، ماہرین نے مختلف باتیں کی ہیں: 1۔ بعض نے تو یہ کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ خدا مشرکین کی زمینوں اور بستیوں میں بتدریج کمی کر رہا ہے اورمسلمانوں کےشہروں میں اضافہ کر رہا ہے۔ لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا اور اس زمانے میں مسلمانوں کو ایسي فتویات حاصل نہیں ہو رہی تھیں، یہ تفسیر مناسب نظر نہیں آتی۔ 2- بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد زمینوں کی تدریجی خرابی اور ویرانی ہے۔ 3- بعض اسے زمین میں رہنے والوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں۔ 4- بعض نے یہاں خصوصیت سے دانشمندوں اور علماء کا ذکر کیا ہے۔ لیکن ان سب سے زیادہ مناسب بات یہ ہے کہ زمین سے مراد اس دنیا کے مختلف علاقوں کے لوگ ہیں، وہ مختلف افراد اور قومیں جو بتدریج دیار عدم کی طرف دوڑے چلے جارہے ہیں اور دنیا کی زندگی کو الوداع کہہ رہے ہیں۔ اور اس طرح سے دائمی طور پر اطراف زمین کم ہوتی رہتی ہیں۔ بعض روایات میں کہ جو آئمہ اہل بیتؑ سے نقل ہوئی ہیں، یہ آیت علماء اور دانشمندوں کی موت سے تعبیر ہوتی ہے۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: نقصانها ذهاب عالمها زمین کا نقصان اور کم ہونا علماء کے فقدان کے معنی میں ہے۔ [بحوالہ: نورالثقلین جلد 3 ص 429]- البتہ ہم جانتے ہیں کہ یہ روایات کوعمومًا واضح اور ظاہر مصداق بیان کرنے کے لیے ہیں نہ یہ کہ مفہوم آیت کو خصوصی افراد میں انحصار کرتی ہیں۔ اسی طرح سے آیت کا منشا و مفہوم یہ ہے کہ بزرگوں، بڑی بڑی قوموں یہاں تک کہ علماء کی تدریجی موت کو، مغرور اور بے خبر کافروں کے لیے ایک درس عبرت کے طور پر بیان کرے اور اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ خدا سے مقابلہ کرنے کی صورت میں کرتی ہیں۔ اس کے بعد یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ پیغمبرؐ کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ لوگوں کو وحی کے ذریعے ڈرائے۔ اس لیے روۓ سخن پیغمبرکی طرف کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : ان سے کہہ دو کہ میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا، میں تو صرف وحی کے ذریعے نہیں ڈرتاہوں: (قل انما انذركم بالوحی)۔ اور اگر تمہارے سخت دل پر اس کا اثر نہیں ہوتا تو یہ بات باعث تعجب نہیں ہے اور نہ ہی وحی آسمانی میں کسی نقص کی دلیل ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ "بہرے لوگوں کو جب ڈرایا جاتاہے تو وہ سنتے ہی نہیں " : (ولا يسمع الصم الدعاء اذا ما ينذرون)۔ سننے والے کھانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ خدا کی بات سنے نہ کہ ایسے کان کی کہ جن پر گناه، غفلت اور غرور کے پردے اس طرح پڑے ہوئے ہوں کہ وہ حق بات سننے کی اہلیت بالکل کھو چکے ہیں۔

46
21:46
وَلَئِن مَّسَّتۡهُمۡ نَفۡحَةٞ مِّنۡ عَذَابِ رَبِّكَ لَيَقُولُنَّ يَٰوَيۡلَنَآ إِنَّا كُنَّا ظَٰلِمِينَ
اگر تیرے پروردگار کا معمولی سا عذاب بھی انہیں چھولے تو وہ چیخ اٹھیں اور کہنے لگیں کہ ہائے افسوس ہم تو سب ظالم تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 47 کے تحت ملاحظہ کریں۔

47
21:47
وَنَضَعُ ٱلۡمَوَٰزِينَ ٱلۡقِسۡطَ لِيَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ فَلَا تُظۡلَمُ نَفۡسٞ شَيۡـٔٗاۖ وَإِن كَانَ مِثۡقَالَ حَبَّةٖ مِّنۡ خَرۡدَلٍ أَتَيۡنَا بِهَاۗ وَكَفَىٰ بِنَا حَٰسِبِينَ
قیامت کے دن ہم عدل کے ترازو نصب کریں گے، لہٰذا کسی بھی شخص پر ذراسی بھی زیادتی نہیں ہوگی، اور اگر کسی نے رائی برا بر بھی کوئی نیکی یا برائی کی ہو گی تو ہم اس کو حاضر کردیں گے اور اس کے لئے یہی کافی ہے کہ حساب کر نے والے ہم ہوں گے۔

قیامت میں عدل کے ترازو

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں سے ایمان لوگوں کے غرور اور بے خبری کی حالت بیان کی گئی تھی۔ زیر نظر آیات میں فرمایا گیا ہے: یہ مغرور اور بے خبر لوگ نعمت اور سکون کی حالت میں تو ہرگز خدا کے بندے نہیں بنتے (لیکن) اگر تیرے پروردگار کے عذاب کا ایک ذرہ بھی ان کے دامن کو آلگے ۔ تو اس طرح سے وحشت زدہ ہو جائیں اور چیخنے لگیں کہ ہائے افسوس ہم تو سب کے سب ظالم تھے: (ولئن مستهم نفحة من عذاب ربك ليقولن يا ويلنا انأ كنا ظالمين)۔ مفسرین اور ارباب لغت کے قول کے مطابق لفظ" تفحة " حقیر یا کم مقدار چیز یا ملائم ہوا کے معنی میں ہے، اگرچہ یہ لفظ زیادہ تر رحمت و نعمت کی ہواؤں کے لیے استعمال ہوتا ہے لیکن عذاب کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ [بحوالہ: تفسیر رازی، تفسیرفی ظلال، مفردات راغب آیہ زیر بحث اور مادہ "نفحة" کے ذیل میں]۔ تفسیر کشاف کے مطابق "لئن مسّتهم نفحة .. .. .. " میں تین تعبیریں ایسی ہیں کہ جو سب ناچیزی اور کمی کی طرف اشاره کرتی ہیں "مس" کی تعبیر اور "نفحة" کی تعبیر مادة لغت کے اعتبار سے نیز وزن اور صیغہ کے لحاظ سے۔ خلاصہ یہ ہے کہ قرآن ہی کہنا چاہتا ہے کہ یہ دل کے اندھے سالہا سال تک پیغمبر کی باتیں اور وحی کی منطق سنتے رہتے ہیں مگر ان پر کچھ بھی اثر نہیں ہوتا مگر جس وقت عذاب کا تازیانہ ــــــ چاہے وہ کتنا ہی خفیف اور مختصر ہو ـــــ ان کی پشت پر لگے گا تو پھر ان کے ہاتھ پاؤں پھول جائیں گے اور کہنے لگلیں گے کہ "انا كنا ظالمين" تو کیا عذاب کا تازیانا کھا کر ہی انہیں بیدار ہونا چاہیئے؟ اس کا کیا فائدہ؟ کیونکہ یہ اضطراری بیداری بھی ان کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگی، اس لیے کہ اگر طوفان عذاب رک جائے اور و سکون حاصل کرلیں تو وہ پھر اسی راستے پر چلنے لگیں گے اور وہی طرز عمل اپنا لیں گے۔ ٭٭٭ زیر بحث دوسری آیت قیامت میں دقیق حساب کتاب اور عادلانہ جزا و سزا کی طرف اشارہ کر رہی ہے، تاکہ بے ایمان اور ستمگر یہ جان لیں کہ اگر بالفرض دنیا کا عذاب انہیں دامنگیر ہوا تو آخرت کی سزا تو حتمی ہے اور باریک بینی کے ساتھ ان کے تمام اعمال کا حساب کتاب کیا جائے گا۔ لہذا ارشاد ہوتا ہے: ہم قیامت کے دن عمل کے ترازو نصب کریں گے:(ونضع الموازين القسط ليوم القيامة)۔ "قسط" کبھی تو عدم تبعیض اور ٹکڑے ٹکڑے نہ کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی مطلق طور پر عدالت کے معنی میں اور یہاں دوسرا معنی مناسب ہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ "قسط" کا لفظ یہاں پر "موازین" کی صفت کے طور پر آیا ہے۔ یہ ناپ تول کے ترازو ایسے دقیق اور و منظم ہیں کہ گویا عین عدالت ہیں۔[تشریحی نوٹ: اگرچہ "موازين" جمع ہے اور "قسط" مفرد لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ قسط مصدرہے اور مصدر کی جمع نہیں ہوتی لہذا کوئی مشکل پیدا نہیں ہوتی۔] اسی بنا پر ساتھ ہی مزید ارشاد ہوتا ہے: کسی بھی شخص پر وہاں معمولی سا بھی ظلم و ستم نہیں ہو گا: (فلا تظلم نفس شیئًا)۔ نہ نیکی کرنے والوں کی جزاء میں کوئی کمی ہوگی اور نہ ہی بدکاروں کی سزا میں کوئی زیادتی کی جائے گی۔ لیکن ظلم وستم کی اس نفی کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ حساب کتاب میں باریک بینی نہیں ہوگی بلکہ "اگر رائی کے برابر بھی کسی کا کوئی نیک یا بد کام ہو گا، تو ہم اسے حاضر کر دیں گے۔" (اور اسے تول کر دکھائیں گے): (وان كان مثقال حبة من خردل آتينا بها)۔ " اور (عدل کے لیے) اتنی بات ہی کافی ہے کہ بندوں کے اعمال کا حساب کرنے والے ہم خود ہوں گے" :(وکفی بنا حاسبين). "خردل" [ہمارے ہاں اسے "رائی" کہتے ہیں۔ (مترجم)] کالے رنگ کے بہت چھوٹے چھوٹے دانوں والی ایک گھاس ہوتی ہے۔ یہ چھوٹے پن اور حقیر اور معمولی چیز ہونے میں ضرب المثل ہے۔ إس تعبیرکی ایک نظیر قرآن میں ایک اور جگہ "مثقال ذرة " " ایک ذرہ کا وزن" (ایک بہت ہی چھوٹی سی چیونٹی یا مٹی اور غبار کا ایک چھوٹا سا ذرہ) کے عنوان سے آئی ہے۔ (زلزال - 7) یہ بات قابل توجہ ہے کہ قرآن مجید میں چھ موقعوں پر " مثقال ذرة “ کی تعبیر اور دو موقعوں پر "مثقال حبة من خردل" کی تعبیر آئی ہے۔ درحقیقت زیر نظر آیت میں قیامت کے دن کے دقیق حساب و کتاب کے مسئلے پر چھ مختلف تعبیروں کے ساتھ تاکید ہوئی ہے۔ 1- لفظ "موازين" وہ بھی جمع کی صورت میں۔ 2- پھر "قسط" کے وصف کا ذکر 3- اس کے بعد ظلم کی نفی پر تاکید "فلا تظلم نفس" 4- اس کے بعد کلمہ "شیئًا" (کوئی بھی چیز) کا استعمال 5- اور اس کے بعد رائی کے دانے کی مثال 6- اور آخر میں "كفى بنا حاسبين" (یہی کافی ہے کہ حساب لینے والے ہم ہوں گے کا جملہ)۔ یہ سب تاکیدیں اس بات کی دلیل ہیں کہ قیامت کے دن حساب کتاب حد سے زیادہ دقیق اور ہر قسم کے ظلم و ستم سے پاک ہو گا۔ اس بارے میں کہ ناپ تول کے ترازو سے مراد کیا ہے؟ بعض نے تو یہ خیال کیا ہے کہ وہاں اس دنیا کے ترازوں کی طرح کے ترازو نصب ہوں گے اور اسی بنا پر فرض کر لیا ہے کہ انسان کے اعمال وہاں پر بوجھ اور وزن رکھتے ہوں گے تاکہ وہ ان ترازوؤں میں تولے جانے کے قابل ہوں۔ لیکن حق بات یہ ہے کہ یہاں پر "میزان" ناپ تول اور وزن کرنے کے وسیلہ اور ذریعہ کے معنی میں ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ہر چیز کے وزن کرنے کا وسیلہ اور ذریعہ خود اس کی مناسبت سے ہوتا ہے۔ تھرمامیٹر (گرمی کی مقدار معلوم کرنے کا آلہ) بیرومیٹر (ہوا کی رفتار معلوم کرنے کا آلہ) اور اسی طرح دوسرے موازین - ہر ایک اسی چیز کے مطابق ہوتا ہے، جسے اس وسیلے اور ذریعے سے ماپنا مطلوب ہوتا ہے۔ احادیث اسلامی میں آیا ہے کہ قیامت کے دن وزن کرنے کے ترازو انبیاء آئمہ اور نیک پاک لوگ ہوں گے کہ جن کے نامہ اعمال میں کوئی تاریک نقطہ ہے ہی نہیں۔[بحوالہ: بحارالانوار، ج، 7، ص 252 (اشاعت جدید)] ہم (زیارت میں) پڑھتے ہیں : السلام على ميزان الاعمال اعمال اعمال کے ترازو پر سلام ہے. (اس موضوع کی مزید تفصیل جلد ۴ کے ص ۴۲ - پر دیکھئے) یہ بھی ممکن ہے کہ "موازین" کا ذکر جمع کی صورت میں (کہ جو میزان کی جمع ہے) اسی بات کی طرف اشارہ ہو کیونکہ مردان حق میں سے ہر ایک انسان کے اعمال کے لیے کسی کی ناپ تول کی میزان ہیں۔ علاوہ اس کے کہ وہ سب سے سب ممتاز حیثیت رکھتے ہیں لیکن پھر بھی ان میں سے ہر ایک کا ایک خاص امتیاز بھی ہے کہ جو اس خاص حصے کی ناپ تول کے لیے ترازو یا نمونہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں جو شخص جتنی مقدار میں ان سے شباہت رکھتا ہو گا اور صفات و اعمال کے لحاظ سے ان بزرگوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو گا، اسی قدر اس کا وزن بوجھل ہو گا۔ جس قدر وہ ان بزرگوں سے دور اور ان سے مختلف ہو گا، اتنا ہی ہلکا وزن رکھنے والا ہو گا۔

48
21:48
وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَىٰ وَهَٰرُونَ ٱلۡفُرۡقَانَ وَضِيَآءٗ وَذِكۡرٗا لِّلۡمُتَّقِينَ
ہم نے موسیٰ و ہارون کو فرقان، (حق کو باطل سے جدا کر نے کا وسیلہ) نور اور پر ہیز گاروں کے لئے نصیحت کا ذریعہ عطا فر مایا،

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔

49
21:49
ٱلَّذِينَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُم بِٱلۡغَيۡبِ وَهُم مِّنَ ٱلسَّاعَةِ مُشۡفِقُونَ
دہی (پرہیز گار) کہ جو اپنے پر ور دگار سے غیب میں ڈرتے ہیں اور قیامت کا خوف رکھتے ہیں۔‘‘

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔

50
21:50
وَهَٰذَا ذِكۡرٞ مُّبَارَكٌ أَنزَلۡنَٰهُۚ أَفَأَنتُمۡ لَهُۥ مُنكِرُونَ
اور یہ قر آن ایک مبارک ذکر ہے، جسے ہم نے (تم پر) نازل فرمایا ہے۔ تو کیا تم اس کا انکار کرتے ہو؟

انبیا کی کچھ داستان

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

ان آیات میں اور ان کے بعد انبیاء کی زندگی کے کچھ حالات بیان ہوئے ہیں کہ جن میں بہت سے تربیتی نکات ہیں . ان حالات سے پیغمبر اسلامؐ کی نبوت کے بارے میں گزشتہ بحثوں اور مخالفین کے ساتھ ان کے مقابلے اور مشکلات، زیادہ واضح ہو جاتے ہیں کیونکہ ان میں بہت سے مشترک پہلو موجود ہیں۔ پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے،:ہم نے موسی و ہارون کو " فرقان" یعنی حق کو باطل سے جدا کرنے کا ذریعہ، نوراور پرہیزگاروں کے لیے نصیحت عطاکی: (ولقد اتینا موسٰی وهارون الفرقان وضياء و ذكرًا للمتقتين ) "فرقان" دراصل ایسی چیز کے معنی میں ہے کہ جو حق کو باطل سے جدا کر دے اور ان دونوں کی پہچان کا ذریعہ ہو۔ یہ کہ اس سے مراد کیا ہے تو علما نے اس کے لیے متعدد تفسیر بیان کی ہیں۔ بعض نے تو اس سے مراد تورات لی ہے۔ بعض نے اسے بنی اسرائیل کے لیے دریا کا شق ہو جانا سمجھا ہے کہ جو حق کی عظمت اور موسٰی کی حقانیت کی واضح نشانی تھی۔ جبکہ بعض نے ان تمام دلائل اور سارے معجزات کہ جو موسٰی و ہارون کو دیئے گئے تھے، کی طرف اشارہ سمجھا ہے۔ لیکن یہ تمام تفاسیر ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں کیونکہ ممکن ہے کہ فرقان " تورات" کی طرف بھی اشارہ ہو، اور موسٰی کے تمام معجزات و دلائل کی طرف بھی اشارہ ہو۔ نیز تمام آیات میں "فرقان" کا کبھی تو خود "قرآن" پر اطلاق ہوا ہے۔ مثلًا: تبارك الذي نزل الفرقان على عبده ليكون للعالمين نذیرًا بزرگ اور برکتوں والا ہے وہ خدا کہ جس نے اپنے بندہ پر فرقان کو نازل کیا تاکہ وہ سارے جہان والوں کو ڈرانے والاہو۔ (فرقان - 1) کبھی ان معجزانہ کامیابیوں پر، اس لفظ کا اطلاق ہوا ہے کہ جو پیغمبراکرمؐ کو حاصل ہوئیں۔ جیسا کہ جنگ بدر کے بارے میں " يوم الفرقان" فرمایا ہے۔ (انفال ـــــ 41)۔ باقی رہا لفظ "ضیاء" تو وہ نور اور روشنی کے معنی میں ہے کہ جو کسی ذات کے اندر سے پیدا ہو اور مسلمہ طور پر قرآن، تورات اورانبیاء کے معجزات اسی طرح کے ہیں۔ (تشریحی نوٹ : ضیا کے معنی اور نور سے اس کے فرق کے بارے میں سورہ یونس آیہ 5 کے ذیل میں ہم نے جلد 5میں مزید وضاحت کی ہے۔) "ذکر" ہر وہ چیز ہے کہ جو انسان کو غفلت اور بے خبری سے دور رکھے اور یہ بھی آسمانی کتابوں اور خدائی معجزات کے واضح آثار میں سے ہے۔ ان تینوں تعبیروں کو یکے بعد دیگرے بیان کرنا، گویا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان مقصد تک پہنچنے کے لیے پہلے "فرقان" کا محتاج ہے. یعنی دوراہے یا چوراہے پر کھڑا ہوا اصلی راستے کو معلوم کرئے جب وہ اپنے مقصد تک پہنچنے کا راستہ معلوم کر لےتو پھر راستہ چلتے چلتے کبھی رکاوٹ بھی پیش آجاتی ہے۔ ایسی رکاوٹوں میں سب سے اہم غفلت ہے۔لہذا کسی ایسے وسیلے اور ذریعے کا محتاج ہے کہ جو اسے مسلسل خبردار کرتا رہے یاد دلاتا رہے اور ذکر کرتا رہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ "فرقان" معرفہ کی صورت میں آیا ہے اور " ضيا" اور "ذکر" نکرہ کی صورت میں ہے اوراس کا اثر متقین اور پرہیزگاروں کے ساتھ مخصوص قرار دیا گیا ہے تعبیر کا یہ فرق ممکن ہے کہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کر معجزات اور پیام آسمانی تو سب کے لیے راستے واضح کرتے لیکن سب لوگ ایسے نہیں ہوتے کہ جو مصمم ارادہ کرلیں اور ضیاء و ذکرسے استفادہ کریں، بلکہ وہ صرف وہی لوگ ہوتے ہیں کہ جو مسئولیت اور ذمہ داری کا احساس کرتے ہیں، اور تقوٰی شعار ہوتے ہیں۔ بعد والی آیت پرہیزگاروں کا اس طرح تعارف کراتی : وہ وہی لوگ ہیں کہ جو اپنے پروردگار سے غیب میں اور پنہاں طور پر ڈرتے ہیں: (الذين يخشون ربهم بالغيب) – اور قیامت کے دن کا خون رکھتے ہیں:(وهم من الساعة مشفقون)۔ لفظ " غیب کی یہاں پر دوتفسیریں کی گئی ہیں۔ پہلی تفسیر تو یہ ہے کہ یہ پروردگار کی ذات پاک کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی باوجود اس کے کہ خدا نظروں سے پوشیدہ اور پنہاں ہے، وہ عقل کی دلیل کی بنا پر اس پر ایمان لاتے ہیں۔ اور اس کی پاک ذات کے سامنے مسئولیت اور ذمہ داری کا احساس کرتے ہیں۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ پرہیزگار لوگ صرف معاشرے کے سامنے ہی خدا کا خوف نہیں رکھتے، بلکہ اپنی خلوت گاہوں میں بھی اسے حاضروناظر سمجھتے ہیں۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ خدا سے خوف کے لیے لفظ "خشیت" استعمال ہوا ہے۔ اور قیامت کے بارے میں "اشفاق" کی تعبیر آئی ہے، یہ دونوں الفاظ اگرچہ خوف کے معنی میں ہیں لیکن کتاب مفردات میں راغب کے قول کے مطابق "خشیت" اس حال میں بولا جاتا ہے کہ جب خوف احترام و تعظیم کے ساتھ ہو۔ اس خوف کی مانند کہ جو ایک بیٹا اپنے والد بزرگوار سے رکھتا ہے، اس بنا پر پرہیز گاروں کا خدا سے خوف معرفت کے ساتھ ملا ہوا ہوتا ہے۔ لیکن "اشفاق" کا لفظ اس تعلق اور توجہ کے معنی میں ہے کہ جو خوف سے ملا ہوا ہو. مثلًا یہ تعبیر کبھی اولاد اور دوستوں کے بارے میں استعمال ہوتی ہے کہ انسان جن سے تعلق اور دوستی رکھتا ہے لیکن اس کے باوجود چونکہ وہ آفات وتکلیف میں گرفتار ہو سکتے ہیں لہذا ان کے بارے میں ڈرتا رہتا ہے۔ حقیقت میں پرہیز گار لوگ قیامت کے دن سے بہت لگاؤ اور تعلق رکھتے ہیں کیونکہ وہ جزاء اور خدا کی رحمت کا مرکز ہے لیکن اس کے بادجود معاملہ حساب و کتاب کا بھی خوف رکھتے ہیں۔ البتہ بعض اوقات یہ دونوں الفاظ ایک ہی معنی میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔ آخری زیر بحث آیت میں قرآن کا گزشتہ کتابوں سے ایک موازنہ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے، یہ ایک مبارک ذکر ہے کہ جسے ہم نے تم پر نازل کیا ہے: (وهذا ذكر مبارك انزلناه) کیا تم اس کا انکار کرتے ہو: (افانتم له منكرون)۔ انکار کیوں کرتے ہو ؟ یہ تو ذکرہے اور تمہارے لیے بیداری و آگاہی اور یاد آوری کا باعث ہے۔ یہ تو مرکز برکت ہے، اس میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے اور یہ تمام کامیابیوں اور خوش بختیوں کا سرچشمہ ہے۔ کیا ایسی کتاب سے بھی انکار کی گنجائش ہے ؟ اس کی حقانیت کی دلیلیں خود اسی کے اندر پوشیدہ ہیں۔ اس کی نورانیت آشکار ہے۔ اور اس کے راستے پر چلنے والے سعادت مند اور کامیاب ہیں۔ اس بات کو جاننے کے لیے کہ یہ قرآن کس حد تک آگاہی کا سبب اور برکت کا موجب ہے، یہی بات کافی ہے کہ ہم قرآن کے نزول سے جزیرہ عرب میں رہنے والوں کی حالت کو دیکھیں کہ وہ وحشت و جہالت، فقر و فاقہ، بدبختی اور پراگندگی میں زندگی بسر کرتے تھے ــــــــ اور ان کی نزول قرآن کے بعد کیا کیفیت ہو گئی ۔ بعد میں وہ دوسروں کے لیے اسوہ اور نمونہ بن گئے اسی طرح دوسری اقوام کی ان کے درمیان قرآن کے ورود سے پہلے اور بعد کی وضع و کیفیت کو دیکھیں ۔

51
21:51
۞وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَآ إِبۡرَٰهِيمَ رُشۡدَهُۥ مِن قَبۡلُ وَكُنَّا بِهِۦ عَٰلِمِينَ
ہم نے ابراہیم کو پہلے ہی سے رشد و ہدایت (کا ذریعہ) دے دیاتھااور ہم اس (کی اہلیت) سے آگاہ تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 58 کے تحت ملاحظہ کریں۔

52
21:52
إِذۡ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوۡمِهِۦ مَا هَٰذِهِ ٱلتَّمَاثِيلُ ٱلَّتِيٓ أَنتُمۡ لَهَا عَٰكِفُونَ
جس وقت اس نے اپنے باپ (چچا آزر) اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ بے روح مجسمے کو جن کی تم ہمیشہ پر ستش کرتے رہتے ہو، کیا ہیں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 58 کے تحت ملاحظہ کریں۔

53
21:53
قَالُواْ وَجَدۡنَآ ءَابَآءَنَا لَهَا عَٰبِدِينَ
(انہوں نے) کہا کہ ہم نے اپنے آبا ؤ اجداد کو دیکھا ہے کہ وہ ان (بتوں ) کی عبادت کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 58 کے تحت ملاحظہ کریں۔

54
21:54
قَالَ لَقَدۡ كُنتُمۡ أَنتُمۡ وَءَابَآؤُكُمۡ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ
(ابراہیم نے) کہا کہ یقیناً تم بھی اور تمہارے آبا و اجداد بھی کھلی گمراہی میں پڑے رہے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 58 کے تحت ملاحظہ کریں۔

55
21:55
قَالُوٓاْ أَجِئۡتَنَا بِٱلۡحَقِّ أَمۡ أَنتَ مِنَ ٱللَّـٰعِبِينَ
(انہوں نے) کہا:کہ کیا تو حق بات لے کر ہمارے پاس آیا ہے، یا مذاق کر رہا ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 58 کے تحت ملاحظہ کریں۔

56
21:56
قَالَ بَل رَّبُّكُمۡ رَبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ ٱلَّذِي فَطَرَهُنَّ وَأَنَا۠ عَلَىٰ ذَٰلِكُم مِّنَ ٱلشَّـٰهِدِينَ
(ابراہیم نے) کہا:(میں تو کامل طورپر حق لے کر آیا ہوں کہ) تمہارا پر ور دگار تو وہی آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے کہ جس نے ان کو پیدا کیا ہے اور میں بھی اس بات کا گوا ہ ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 58 کے تحت ملاحظہ کریں۔

57
21:57
وَتَٱللَّهِ لَأَكِيدَنَّ أَصۡنَٰمَكُم بَعۡدَ أَن تُوَلُّواْ مُدۡبِرِينَ
خدا کی قسم !میں تمہارے جانے کے بعد تمہاری غیر حاضری میں تمہارے بتوں کی نابودی کامنصوبہ بناؤں گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 58 کے تحت ملاحظہ کریں۔

58
21:58
فَجَعَلَهُمۡ جُذَٰذًا إِلَّا كَبِيرٗا لَّهُمۡ لَعَلَّهُمۡ إِلَيۡهِ يَرۡجِعُونَ
آخرکار (ایک منا سب موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے) ان کے بڑے بت کے سوا۔ ان سب کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تاکہ وہ لوٹ کر اسکے پاس آئیں

ابراہیمؑ بتوں کی نابودی کا منصوبہ بناتے ہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس سورہ میں سولہ پیغمبروں کے حالات اور واقعات بیان ہوئے ہیں اور اس سورہ کے نام سے بھی ظاہر ہے کہ یہ انبیاء کے بارے میں ہے۔ گزشتہ آیات میں موسٰیؑ و ہارونؑ کی رسالت کی طرف کچھ اشارہ ہوا ہے۔ زیر بحث آیات میں حضرت ابراہیم کی زندگی اور بت پرستوں کے ساتھ ان کی معرکہ آرائی کا ایک اہم حصہ بیان ہو رہا ہے پہلے فرمایا گیا ہے۔ ہم نے رشد و ہدایت کا وسیلہ پہلے سے ابراہیمؑ کو دے دیا تھا اور ہم اس کی اہلیت سے آگاہ تھے : (ولقد اتينا ابراهيم رشده من قبل وكنا به عالمين)۔ "رشد" اصل میں مقصد تک راہ پانے کے معنی میں ہے اور یہاں ممکن ہے حقیقت توحید کی طرف اشارہ ہو کہ ابراہیمؑ بچپن ہی میں اس سے آگاہ ہو گئے تھے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس انتظار کے وسیع معنی کے لحاظ سے، ہر قسم کی خیرو صلاح کی طرف اشارہ ہو۔ "كنابه عالمین" کا جملہ ان سب نعمات کو حاصل کرنے کے لیے ابراہیم کی صلاحیتوں کی طرف اشارہ ہے کیونکہ درحقیقت خدا کوئی نعمت کسی کو بلا وجہ نہیں دیتا ۔ یہ صلاحیتیں اور لیاقتیں ہی ہیں کہ جن کی بنا پر نعمات الٰہی حاصل ہوتی ہیں۔ اگرچہ مقام نبوت میں ایک مقام نعمت و عطاء ہے۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم کے ایک اہم کام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ابراہیم کا یہ رشدہ و ہدایت اس وقت ظاہر ہوا کہ جب اس نے اپنے باپ سے (یہ ان کے چچاآزر کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ عرب بعض اوقات اپنے چچا کو بھی "اب"کہتے ہیں )اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ مورتیاں کیا ہیں کہ جن کے تم گرویده ہو اور رات دن ان کا طواف کرتے ہو اور ان سے دستبردار نہیں ہوتے (اذ قال لأبيه وقومه، ماهذه التماثيل التي انتم لها عاكفون)۔ حضرت ابراہیم نے یہ الفاظ کہہ کر ان بتوں کی کہ جو ان کی نظروں میں انتہائی عظمت رکھتے تھے، شدت سے تحقیروتذلیل کی، پہلے "ماهذه" (یہ کیا ہیں!) کہا۔ (تشریحی نوٹ : "ما" اس قسم کے موقعوں پر عمومًا غیر عاقل کی طرف اشارہ ہوتا ہے اور اسم اشاره قریب بھی ایسے موقعوں پر ـــــــ ایک قسم کی تحقیر کو ظاہرکرتا ہے،ورنہ دور کا اشاده مناسب تھا) دوسرے : " تماثیل "کی تعبیر استعمال کی کیونکہ "تماثیل" "تمثال" کی جمع ہے اور یہ تصویر یا بے روح مجسمہ کے معنی میں ہے (بت پرستی کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ شروع شروع میں یہ تصاویر اور مجسمے انبیا اور علماء کی یادگار کے طور تھے۔ لیکن آہستہ آہستہ ایسے مقدس سمجھے جاتے لگے کہ معبود بن گئے)۔ "انتم لها عاكفون" میں " عكوف" احترام کے ساتھ ملی ہوئی خدمت کے معنی میں ہے کہ جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انھوں نے بتوں کے ساتھ ایسی دل بستگی پیدا کرلی تھی اوران کے آستانے پر اس طرح سرجھکاتے تھے اور ان کے گرد چکر لگاتے تھے کہ گویا ہمیشہ کے لیے ان کے ملازم اور خدمت گار ہیں۔ ابراہیم کی یہ گفتگو درحقیقت بت پرستی کے ابطال کے لیے ایک واضح اور روشن استدلال ہے کیونکہ بتوں میں ہم جو کچھ دیکھتے ہیں وہ یہی مجسمہ و تمثال ہی ہے۔ باقی تخیل ہے اور تو ہم ہے اور خیال ۔ کون سا عقلمند انسان خود کو اس بات کی اجازت دے گا کہ وہ ایک چھوٹے سے پتھراور لکڑی کے لیے اس قدر عظمت، احترام اور قدرت کا قائل ہو جائے، آ خر وہ انسان کہ جو خود اشرف مخلوقات ہے اپنی ہی بنائی ہوئی چیز کے سامنے اس طرح سے خضوع و خشوع کیوں کرےاور اپنی مشکلات کا حل اس سے کیوں طلب کرے؟ لیکن بت پرست درحقیقت اس منہ بولتی اوروراضح منطق کا کوئی جواب نہیں رکھتے تھے۔ سوائے اس کے کہ اس کی ذمہ داری اپنے بڑوں کے سر تھوپ دیں ۔ لہذا انہوں نے کہا : ہم نے اپنے آباؤ اجداد اور بڑوں کو دیکھا ہے کہ وہ ان کی پرستش کرتے ہیں اور ہم اپنے بڑوں کی سنت کو پورا کر رہے ہیں: (قالوا وجدنا اباءنالھاعابدین)۔ چونکہ صرف بڑوں کی سنت اور روش کسی مشکل کو حل نہیں کرتی اور ہمارے پاس اس بات کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے کہ بزرگان گزشتہ آئندہ آنے والی نسلوں سے زیادہ عالم اور زیادہ عاقل تھے۔ بلکہ اکثر معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے کیونکہ زمانہ گزرنے کے ساتھ علم و دانش بڑھتی رہتی ہے۔ لہذا حضرت ابراہیم نے فورًا انہیں جواب دیا : تم بھی اور تمہارے آباؤ اجداد بھی یقینًا واضح گمراہی میں تھے : (قال لقد کنتم انتم واباؤ كم فی ضلال مبین)۔ یہ تعبیر کہ جس میں بہت سی تاکیدیں موجود ہیں اور بڑی قاطعیت رکھتی ہیں، اس بات کا سبب بنی کہ بت پرست کچھ ہوش میں آئیں اور تحقیق کی جانب مڑیں۔ ابراھیم کی طرف رخ کرکے کہنے لگے : کیا سچ مچ تو کوئی حق بات لے کرآیا ہے یا مذاق کر رہا ہے (قالوا أجئتنا بالحق ام انت من اللاعبين)۔ کیونکہ وہ لوگ جنہیں بتوں کی پرستش کی عادت پڑچکی تھی اور اسے ایک قطعی واقعیت سمجھتے تھے، یہ بادر نہیں کرتے تھے کہ کوئی شخص سنجیدگی اور پختگی کے ساتھ بت پرستی کی مخالفت کرے گا ۔ لہذا انہوں نے حضرت ابراہیم سے تعجب کے ساتھ یہ سوال کیا ۔ لیکن ابراھیم نے صراحت کے ساتھ انہیں جواب دیا : میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ سنجیده، محکم اور عین واقعیت ہے کہ تمھارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے : (قال بل ربكم رب السماوات والارض) ۔ وہی خدا کہ جس نے انہیں پیدا کیا ہے اور خود بھی اس عقیدہ کے گواہوں میں سے ہوں: (الذى فطرهن وانا على ذالكم من الشاهدين)۔ حضرت ابراہیمؑ نے اپنی اس دو ٹوک گفتگو سے یہ واضح کیا : کہ وہ ذات ہی پرستش کے لائق ہے کہ جو ان سب کی، زمین کی اور تمام موجودات کی خالق ہے لیکن پتھر اور لکڑی کے ٹکڑے کہ جو خود ایک ناچیز مخلوق ہیں، پرستش کے لائق نہیں ہیں۔ خاص طور پر" وانا على ذالكم من الشاهدين" کے جملے نے یہ ثابت کیا کہ صرف میں ہی نہیں ہوں کہ جو اس حقیقت پر گواہ ہوں بلکہ سب فہمیده، آگاہ اور صاحبان علم ــــ کہ جنہوں نے اندھی تقلید کے رشتوں کو توڑ دیا ہے۔ اس حقیقت پر گواہ ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کہ یہ بات سو فی صد صحیح اور محکم ہے اور وہ اس عقیده پر ہرمقام تک قائم ہیں اور اس کے نتائج و لوازم کو۔۔ جو کچھ بھی ہوں انہیں ــــــ جان و دل سے قبول کرنے کے لیے تیار ہیں، مزید کہتے ہیں : مجھے خدا کی قسم، جس وقت تم یہاں پر موجود نہیں ہو گئے اور یہاں سے کہیں باہر جاؤگے . تو میں تمہارے بتوں کو نابود کرنے کا منصوبہ بناؤں گا (وتالله لاكيدن اصنامكم بعد ان تولوا مدبرین)۔ "اكيدن " "كيد " کے مادہ سے لیا گیا ہے کہ جو پوشیدہ منصبوں اور مخفیانہ چاره جوائی کے معنی میں ہے۔ ان کی مرادیہ تھی کہ انہیں صراحت کے ساتھ سمجھا دیں، آخر کار میں اسی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں نابود اور درہم برہم کر دوں گا۔ لیکن شاید ان کی نظر میں بتوں کی عظمت اور رعب اس قدر تھا کہ انہوں نے اس کو کوئی سنجیدہ بات نہ سمجھا اور کوئی ردعمل ظاہر نہ کیا۔ شاید انہوں نے یہ سوچا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص کسی قوم و ملت کے مقدسات کے ساتھ ایسا کھیل کھیلے جب کہ ان کی حکومت بھی سو فی صد ان کی حامی ہے، وہ کسی برتے اور کس طاقت کے بل بوتے پر ایسا کرے گا ؟ اس سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ یہ جو بعض نے کہا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے یہ جملہ اپنے دل میں کہا تھا یابعض مخصوص افراد سے کہا تھا، کسی لحاظ سے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ خاص طور پر جب کہ یہ بات کامل طور سے ظاہر آیت کے خلاف ہے۔ اس کے علاوہ بعد کی چند آیات میں یہ بیان ہوا ہے کہ بت پرستوں کو ابراہیمؐ کی بات یاد آگئی اور انھوں نے کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ ایک جوان بتوں کے خلاف ایک سازش کی بات کرتاہے۔ بہرحال، حضرت ابراہیم نے ایک دن جب کہ بت خانه خالی پڑا تھا اور بت پرستوں میں سے کوئی وہاں موجود نہیں تھا، اپنے منصوبے کو عملی شکل دے دی۔ اس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ بعض مفسرین کے قول کے مطابق بت پرست ہر سال ایک مخصوص دن بتوں کی عید مناتے تھے۔ طرح طرح کے کھانے بت خانے میں چڑھا کر، سب کے سب اکٹھے شہر سے باہر چلے جایا کرتے تھے اور شام ڈھلے واپس بت خانہ میں آتے تھے تاکہ ــــــ وہ کھانے کھائیں کہ جو ان کے عقیدے کے مطابق متبرک ہو گئے تھے۔ حضرت ابراہیم سے بھی انہوں نے تقاضاکیا کہ ان کے ساتھ چلیں لیکن انہوں نے بیماری کا عذر کیا اور ان کے ساتھ نہ گئے. بہرحال وہ ـــــ بغیر اس کے کہ اس کام کے خطرات سے ڈرتے یا جو طوفان اس کام کے بعد کھڑا ہو گا، اس کا کوئی خوف دل میں لاتے ـــــ مردانہ وار میدان میں کود پڑے اور بڑی شجاعت سے ان تراشے ہوئے خداؤں سے جنگ کرنے کے لیے چل پڑے کہ جن کے اتنے متعصب اور نادان عقیدت مند تھے۔ جیساکہ قرآن کہتا ہے :سوائے ان کے بڑے بت کے سب کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا: (فجعلھم جذاذًا الّا كبيرًا لهم)۔ مقصد ان کا یہ تھا کہ "شاید بت پرست لوٹ کر اس کے پاس آئیں اور وہ بھی ساری باتیں ان سے کہے (لعلهم اليه يرجعون)۔ (تشریحی نوٹ : بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ "اليه" کا مرجع خود حضرت ابراہیمؐ ہیں اور بعض نے کہاہے کہ اس سے مراد بڑا بت ہے لیکن پہلا معنی زیادہ صحیح معلوم ہوتاہے اوریہ جو کچھ مذکورہ بالا آیت میں بیان ہوا ہے کہ یہ ان کا بڑا تھا، ممکن ہے کہ یہ ظاہری بڑے ہونے کی طرف ا شارہ ہو یا بے ہودہ بت پرستوں کی نگاہ میں اس کے زیادہ احترام کی طرف یا دونوں کی طرف اشارہ ہو)

چند اہم نکات 1- بت پرستی کی مختلف شکلیں

1- یہ ٹھیک ہے کہ ہم بت پرستی کے لفظ سے زیادہ تر پتھر اور لکڑی کے بتوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں لیکن ایک لحاظ سے بت اور بت پرستی وسیع مفہوم رکھتی ہے کہ جو غیر خدا کی طرف ہر قسم کی توجہ ـــــــ خواہ وہ کسی بھی شکل و صورت میں ہو ـــــ پر محیط ہے اور مشہور و معروف حدیث کے مطابق کہ : كلما شغللک عن الله فهو صنمك جوچیز بھی انسان کو اپنی طرف مشغول اور خدا سے دور کرے، وہ اس کا بت ہے۔ اس حدیث میں اصبغ بن نباتہ سے کہ جو علی علیہ السلام کے مشہور اصحاب میں سے ہیں، یہ بیان ہوا ہے کہ: أن عليا مرّ بقوم يلعبون الشطرنج فقال : ما هذه التماثيل التي انتم لھا عاكفون ؟ لقد عصيتم الله و رسوله امیرالمومنین علیہ السلام کچھ لوگوں کے قریب سے گزرے ۔ وہ شطرنج کھیل رہے تھے۔ آپ نے فرمایا : یہ مجسمے (اور بت) کہ جن کے ساتھ مشغول ہو کیا ہیں ؟ تم خدا کے بھی نافرمان ہو اور اس کے رسول کے بھی ۔ (بحوالہ : مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں )

2- بت پرستوں کی گفتگو اور ابراھیم کا جواب

یہ بات قابل توجہ ہے کہ بت پرستوں نے حضرت ابراھیم کے جواب میں افراد کی کثرت کا بھی ذکر کیا اور طول زمانہ کا بھی۔ وہ کہنے لگے : ہم نے اپنے آباؤ و اجداد کو اسی دین پر پایا ہے۔ انہوں نے بھی دونوں حصوں کا جواب دیا : تم بھی اور تمہارے آباو اجداد بھی، ہمیشہ واضح گمراہی میں رہے ہیں۔ یعنی عاقل انسان کہ جو استقلال فکری رکھتا ہو ہرگز ان اوهام کا پابند نہیں ہوتا ۔ نہ ہی کسی رسم اور سنت کے طرفداروں کی کثرت کو اس کی درستی کی دلیل سمجھتا ہے اور نہ ہی اس کے ہمیشہ ہوتے رہنے کو اس کی حقانیت کی دلیل جانتا ہے

59
21:59
قَالُواْ مَن فَعَلَ هَٰذَا بِـَٔالِهَتِنَآ إِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
انہوں نے کہا کہ جس نے بھی ہمارے معبودوں کیساتھ ایسا سلوک کیا ہے۔وہ قطعی طور ظالم ہے (اور اسے سزا ملنی چاہئے)

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 67 کے تحت ملاحظہ کریں۔

60
21:60
قَالُواْ سَمِعۡنَا فَتٗى يَذۡكُرُهُمۡ يُقَالُ لَهُۥٓ إِبۡرَٰهِيمُ
(بعض) کہا: ہم نے ایک جوان کو سنا ہے کہ جو بتوں کی (مخالفت کی) بات کرتا تھا، اس کا نام ابراہیم ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 67 کے تحت ملاحظہ کریں۔

61
21:61
قَالُواْ فَأۡتُواْ بِهِۦ عَلَىٰٓ أَعۡيُنِ ٱلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُونَ
(بعض نے) کہا: اسے لوگوں کے سامنے پیش کر تاکہ وہ گواہی دیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 67 کے تحت ملاحظہ کریں۔

62
21:62
قَالُوٓاْ ءَأَنتَ فَعَلۡتَ هَٰذَا بِـَٔالِهَتِنَا يَـٰٓإِبۡرَٰهِيمُ
(جب انہوں نے ابراہیم کو حاضر کیا تو) اس سے کہا : اے ابراہیم! کیا تونے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ سلوک کیا ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 67 کے تحت ملاحظہ کریں۔

63
21:63
قَالَ بَلۡ فَعَلَهُۥ كَبِيرُهُمۡ هَٰذَا فَسۡـَٔلُوهُمۡ إِن كَانُواْ يَنطِقُونَ
اس (ابراہیم) نے کہا بلکہ یہ کام ان کے بڑے نے کیا ہو گا۔ انہی سے پوچھ لو،اگر یہ بات کرتے ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 67 کے تحت ملاحظہ کریں۔

64
21:64
فَرَجَعُوٓاْ إِلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ فَقَالُوٓاْ إِنَّكُمۡ أَنتُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ
وہ اپنے ضمیر کی طرف لوٹے (اور اپنے آپ سے) کہنے لگے کہ حق بات تو یہ ہے کہ تم خود ہی ظالم ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 67 کے تحت ملاحظہ کریں۔

65
21:65
ثُمَّ نُكِسُواْ عَلَىٰ رُءُوسِهِمۡ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هَـٰٓؤُلَآءِ يَنطِقُونَ
اس کے بعد انہوں نے اپنا رخ موڑلیا (اور اپنے ضمیر کی آواز کو بالکل بھلادیا اور کہنے لگے) توجانتا ہے کہ یہ بات نہیں کرسکتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 67 کے تحت ملاحظہ کریں۔

66
21:66
قَالَ أَفَتَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكُمۡ شَيۡـٔٗا وَلَا يَضُرُّكُمۡ
(ابراہیم نے) کہا: کیا تم خدا کو چھوڑ کر اس کی پرستش کرتے ہو کہ جو نہ تو تمہیں کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 67 کے تحت ملاحظہ کریں۔

67
21:67
أُفّٖ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ
تف ہے تم پر بھی اور اس پر بھی جسے خدا کو چھوڑ کر پوجتے ہو؟کیا تم سوچتے نہیں (اور کیا تمہارے پاس عقل نہیں ہے)؟

ابراہیم کی دندان شکن دلیل

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

آخروہ عید کا دن ختم ہو گیا اور بت پرست خوشی مناتے ہوئے شہر کی طرف پلٹے اور سب بت خانے کی طرف گئے تاکہ بتوں سے اظہار عقیدت بھی کریں اور وہ کھانا بھی کھائیں کہ جو ان کے گمان کے مطابق بتوں کے پاس رکھے رہنے سے بابرکت ہو گیا تھا۔ جونہی وہ بت خانے کے اندر پہنچے تو ایک ایسا منظر دیکھا کہ ان کے ہوش اڑ گئے ۔آبادبت خانہ کے بجائے بتوں کا ایک ڈھیر تھا ان کے ہاتھ پاوں ٹوٹے ہوئے تھے اور وہ ایک دوسرے پر گرے ہوئے تھے۔ وہ تو چیخنے چلانے لگے ؟ یہ بلا اور مصیبت ہمارے خداؤں کے سر پر کون لایاہے: (قالوا من فعل هذا بالھتنا)۔ (تشریحی نوٹ : بعض مفسرین لفظ "من" کو یہاں موصولہ کہتے ہیں لیکن بعد والی آیت کی طرف توجہ کرنے سے کہ جو سوال کا جواب ہے، اس طرح نظر آتا ہے کہ "من" یہاں استفہامیہ ہے ) "یقینًا جو کوئی بھی تھا، ظالموں میں سے تھا " : (إنه لمن الظالمين)۔ اس نے ہمارے خداؤں پر بھی ظلم کیا ہے، ہماری قوم اور معاشرے پر بھی اور خود اپنے اوپر بھی کیونکہ اس نے اپنے اس عمل سے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال دیا ہے۔ لیکن وہ لوگ جو بتوں کے بارے میں ابراھیم کی دھمکیوں سے آگاہ تھے اور ان جعلی خداؤں کے بارے میں ان کی اہانت آمیز باتوں کو جانتے تھے، کہنے لگے : ہم نے سنا ہے ایک جوان بتوں کے بارے میں باتیں کرتا تھا اور انہیں برا بھلا کہتا تھا، اس کا نام ابراہیمؑ ہے : (قالوا سمعنا فتي يذكرهم يقال له ابراهیم) (تشریحی نوٹ: جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے۔ بت پرست اس بات کے لیے بھی تیار نہیں تھے کہ وہ یہ کہیں کہ وہ جوان بتوں کو برا بھلا کہتاتھا، بس اتناکہا کہ وہ بتوں کے بارے باتیں کرتا تھا۔) یہ ٹھیک ہے کہ بعض روایات کے مطابق حضرت ابراہیم اس وقت مکمل طور پر جوان تھے اور احتمال یہ ہے کہ ان کی عمر 16 سال سے زیادہ نہیں تھی اور یہ بھی درست ہے کہ جوانمردی کی تمام خصوصیات، شجاعت، شہامت، صراحت اور قاطعیت ان کے وجود میں جمع تھیں لیکن اس طرح سے بات کرنے سے بت پرستوں کی مراد یقینًاتحقیر کے علادہ کچھ نہیں تھی۔ بجائے اس کے کہ یہ کہتے کہ ابراہیمؑ نے یہ کام کیا ہے، کہتے ہیں کہ ایک جوان ہے کہ جسے ابراہیم کہتے ہیں۔ وہ اس طرح کہتا تھا .. . . یعنی ایک ایسا شخص کہ جو بالکل گمنام اور ان کی نظر میں بےحیثیت ہے۔ اصولًا معمول یہ ہے کہ جب کسی جگہ کوئی جرم ہو جائے تو اس شخص کو تلاش کرنے کے لیے کہ جس سے وہ جرم سر زد ہوا ہو، ان سے دشمنی رکھنے والوں کو تلاش کیا جاتا ہے اور اس ماحول میں ابراھیمؑ کے سوا مسلمًا کوئی شخص بتوں کے ساتھ دست وگربیان نہیں ہو سکتا تھا۔ لہذا تمام افکار انہی کی طرف متوجہ ہو گئے اور بعض نے کہا " اب جب کہ معاملہ اس طرح ہے تو جاؤ اور اس کو لوگوں کے سامنےپیش کرو تاکہ وہ لوگ کہ جو پہچانتے ہیں اور خبر رکھتے ہیں گواہی دیں: (قالوفأتوا به على اعين الناس لعلھم يشهدون)۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ اس سے مراد حضرت ابرا ھیمؑ کی سزا کے منظر کا مشاہدہ ہے نہ کہ ان کے مجرم ہونے کی شہادت۔ لیکن بعد کی آیات پر توجہ کرتے ہوئے کہ جو زیادہ ترباز پرس کا پہلو رکھتی ہیں، اس احتمال کی نفی ہو جاتی ہے ۔ علاوہ ازیں لفظ "لعل" (شاید) کی تعبیربھی دوسرے معنی کے ساتھ مناسب نہیں رکھتی ہیں، کیونکہ اگر لوگ سزا کا منظردیکھنے کے لیے آئیں تو یقینًا اسے دیکھیں گے اور اس کا مشاہدہ کریں گے ۔ ایسے موقع پر شاید کی گنجائش نہیں ہے۔ منادی کرنے والوں نے شہر میں ہرطرف یہ منادی کی کہ جو شخص بھی ابراہیم کی بتوں سے دشمنی اور ان کی بدگوئی کے بارے میں آگاہ ہے، حاضر ہو جائے ۔ جلد ہی جو آگاہ تھے وہ لوگ بھی اور تمام دوسرے لوگ بھی جمع ہو گئے تاکہ دیکھیں کہ اس ملزم کا انجام کیا ہوتا ہے۔ ایک عجیب و غریب شور و غلغلہ لوگوں میں پڑا ہوا تھا، چونکہ ان کے عقیدے کے مطابق ایک ایسا جرم جو پہلے کبھی نہ ہوا تھا،ایک آشوب طلب جوان نے شہر میں برپا کر دیا تھا۔ اس کام نے اس علاقے کے لوگوں کی مذہبی بنیاد کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ آخر کار عدالت لگی اور بازپرس ہوئی - زعمائے قوم وہاں جمع ہوئے۔ بعض کہتے ہیں کہ خود نمرود اس عمل کی نگرانی کر رہا تھا۔ پہلا سوال جو انہوں نے ابراہیم سے کیا وہ یہ تھا : " انہوں نے کہا: اے ابراہیم کیا تونے ہی ہمارے خداؤں کا ساتھ یہ کام کیا ہے" : (قالوا ءانت فعلت هذا بالهتنا يا ابراهيم)۔ وہ اس بات کے لیے تیار نہیں تھے کہ یہ کہیں کہ تونے ہمارے خداؤں کو توڑا ہے اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے ہیں، بلکہ صرف یہ کہا کہ کیا تونے ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ کام کیا ہے؟ ابراہیمؑ نے ایسا جواب دیا کہ وہ خود گِھر گئے اور ایسے گِھرے کہ نکلنا ان کے بس میں نہ تھا۔" ابراہیم نے کہا : یہ کام اس بڑے بت نے کیا ہے، ان سے پوچھو اگر یہ بات کرتے ہوں، (قال بل فعله كبيرهم هذا فاسئلوهم ان كانوا ينطقون)۔ جرائم کی تفتیش کے اصول یہ ہیں کہ جس کے پاس آثار جرم یا آلہ جرم ملے وہ ملزم ہے (مشہور روایت کے مطابق حضرت ابراہیمؑ نے وہ کلہاڑا بڑے بت کی گردن میں ڈال دیا تھا)۔ اصلًا، تم میرے پیچھے کیوں پڑ گئے ہو؟ تم اپنے بڑے خدا کو ملزم قرار کیوں نہیں دیتے ؟ کیا یہ احتمال نہیں ہے کہ وہ چھوٹے خداؤں پر غضبناک ہو گیا ہو یا اس نے انہیں اپنا آینده کا رقیب فرض کرتے ہوئے ان سب کا حساب ایک ہی ساتھ پاک کر دیا ہو؟ چونکہ اس تعبیر کا ظاہر مفسرین کی نظر میں واقعیت سے مطابقت نہیں رکھتا تھا، اور چونکہ ابراہیمؑ پیغمبر ہیں اور معصوم ہیں اور وہ ہرگز جھوٹ نہیں بولتے، لہذا انہوں نے اس جملے کی تفسیر میں مختلف مطالب بیان کیے ہیں، جو مطلب ہمیں سب سے بہتر معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ: ابراہیم نے قطعی طور پر اس عمل کو بڑے بت کی طرف منسوب کیا، لیکن تمام قرائن اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ وہ اس بات سے کوئی پختہ اور مستقل قصد نہیں رکھتے تھے، بلکہ وہ اس سے یہ چاہتے تھے کہ بت پرستوں کے مسلمہ عقائد کو، جو کہ خرافاتی اور بے بنیاد تھے، ان کے منہ پر دے ماریں اور ان کا مذاق اڑائیں اور انہیں سمجھائیں کہ یہ بے جان پتھر اور لکڑیاں اس قدر حقیر ہیں کہ ایک جملہ تک بھی منہ سے نہیں نکال سکتیں، کہ اپنی عبادت کرنے والوں سے مدد طلب کرلیں، چہ جائیکہ وہ یہ چاہیں کہ ان کی مشکلات حل کر دیں۔ اس تعبیر کی تطیر ہمارے روزمرہ کے محاورات میں بہت زیادہ ہے کہ مد مقابل کی بات کو باطل کرنے کے لیے، اسی کے مسلمات کو، امریا خبریا استفہام کی صورت میں اس کے سامنے رکھتے ہیں تاکہ وہ مغلوب ہو جائے اور یہ بات کسی طرح بھی جھوٹ نہیں ہوتی، "جھوٹ وہ ہوتا ہے کہ جس کے ساتھ کوئی قرینہ نہ ہو۔" اس روایت میں کہ جو کتاب کافی میں امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے، یہ بیان ہوا ہے کہ : انما قال بل فعله كبيرهم ارادة الاصلاح، ودلالة علی انھم لايفعلون، ثم قال والله ما فعلوه وما كذب : ابراہیم نے یہ بات اس لیے کہی کہ وہ ان کے افکار کی اصلاح کرنا چاہتے تھے اور انہیں یہ سمجھانا چاہتے تھے کہ ایسے کام بتوں سے نہیں ہو سکتے۔" اس کے بعد امامؑ نے مزید فرمایا : خدا کی قسم بتوں نے یہ کام نہیں کیا تھا اور ابراہیمؑ نے بھی جھوٹ نہیں بولا ۔ مفسرین کی ایک جماعت نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ ابراہیمؑ نے اس مطلب کو ایک جملہ شرطیہ کی صورت میں ادا کیا تھا اورانہوں نے کہا تھا کہ اگر یہ بت بات کریں تو یہ کام انہوں نے کیا ہے، اس تفسیر کے مضمون کی ایک حدیث بھی وارد ہوئی ہے۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے کیونکہ جملہ شرطیہ (ان كانوا ينطقون) سوال کرنے کے لیے (فاسئلوهم)ایک قيد ہے،(بل فعله كبيرهم) کے جملہ کے لیے نہیں ہے (غور کیجئے گا) ایک اور نکتہ کہ جس کی طرف یہاں توجہ کرنا چاہیئے یہ ہے کہ عبارت یہ ہے کہ ان بتوں سے کہ جن کے ہاتھ پاؤں ٹوٹے ہوئے ہیں، یہ سوال ہونا چاہیئے کہ یہ مصیبت ان کے سر پر کس نے ڈالی ہے نہ کہ بڑےبت سے (سوال) کیونکہ "ھم" کی ضمیر اور اسی طرح " ان كانوا ينطقون" سب جمع کی صورت میں ہیں اور یہ پہلی تفسیر کے ساتھ موا فق ہے۔(تشریحی نوٹ : علاوه ازیں ظاہر یہ ہے کہ " كبيرهم " کا ضمیر باقی ضمیروں کے ساتھ ہم آہنگ ہے) ابراہیم کی باتوں نے بت پرستوں کو ہلاکر رکھ دیا، ان کے سوئے ہوئے وجدان کو بیدار کیا اور اس طوفان کی مانند کہ جو آگ کی چنگاریوں کے اوپر پڑی ہوئی بہت سی راکھ کو ہٹا دیتا ہے اوراس کی چمک کو آشکار کر دیتا ہے، ان کی فطرت توحیدی کو تعصب، جہالت اورغرور کے پردوں کے پیچھے سے آشکار وظاہرکر دیا۔ زود گزر لمحے میں وہ موت کی سی ایک گہری نیند سے بیدار ہو گئے جیسا کہ قرآن کہتا ہے، وہ اپنے وجدان اور فطرت کی طرف پلٹے اور خود اپنے آپ سے کہنے لگے کہ حق بات یہ ہے کہ ظالم تو تم خود ہی ہو (فرجعوالى أنفسهم فقالوا انكم انتم الظالمون) (تشریحی نوٹ : بعض مفسرين نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ (فرجعوا الى انفسھم )سے مراد یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے اور ایک دوسرے کو ان ملامت و سرزنش کرنے لگے ہیں لیکن جو کچھ ہم نے سطور بالا میں بیان کیا ہے وہ زیادہ صحیح معلوم ہوتاهے) تم نے تو خود اپنے اوپر بھی ظلم وستم کیا ہے اور اس معاشرے کے اوپر بھی کہ جس کے ساتھ تمھارا تعلق ہے اورنعمتوں کے بخشنے والے پروردگار کی ساحت مقدس میں بھی . یہ بات قابل توجہ ہے کہ گزشتہ آیات میں یہ بیان ہوا ہے کہ انھوں نے ابراہیم پر ظالم ہونے کا اتہام لگایا تھا لیکن اب انہیں یہاں معلوم ہو گیا کہ اصلی اورحقیقی ظالم تو وہ خود ہیں۔ اور واقعًا ابراہیمؑ کا اصل مقصد بتوں کے توڑنے سے یہی تھا۔ مقصد تو بت پرستی کی فکر اور بت پرستی کی روح کو توڑنا تھا۔ ورنہ بتوں کے توڑنے کا تو کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ ہٹ دھرم بت پرست ان سے زیادہ اور ان سے بھی بڑے اور بنالیتے اور ان کی جگہ پر رکھ دیتے . جیساکہ نادان، جاہل اور متعصب اقوام کی تاریخ میں اس مسئلے کے بے شمار نمونے موجود ہیں۔ ابراہیم اس حد تک کامیاب ہوئے کہ انہوں نے اپنی تبلیغ کے ایک بہت ہی حساس اور ظریف مرحلہ کو ایک نفسیاتی طوفان پیدا کرکے طے کر لیا اور وہ تھا سوئے ہوئے وجدانوں کو بیدار کرنا۔ لیکن افسوس ! کہ جہالت و تعصب اور اندھی تقلید کا زنگ اس سے کہیں زیادہ تھا کہ وہ توحید کے اس ہیرو کی صیقل بخش پکار سےکلی طور پر دور ہو جاتا۔ افسوس کہ یہ روحانی اور مقدس بیداری زیادہ دیرتک نہ رہ سکی اور ان کے آلودہ اور تاریک ضمیرمیں، جہالت اور شیطانی قوتوں کی طرف سے اس نور توحید کے خلاف قیام عمل میں آگیا اور ہر چیز اپنی پہلی جگہ پر پلٹ آئی ۔ قرآن کتنی لطیف تعبیر پیش کررہا ہے، اس کے بعد وہ اپنے سر کے بل الٹے ہو گئے (ثم نكسوا على رؤوسهم)۔ اور اس غرض سے کہ اپنے گونگے اور بے زبان خداؤں کی طرف سے کوئي عذر پیش کریں۔ انہوں نے کہا : تو تو جانتا ہے کہ یہ باتیں نہیں کرتے : (لقد علمت ما هؤلاء ينطقون ) یہ تو ہمیشہ چپ رہتے ہیں اور خاموشی کے رعب کو نہیں توڑتے۔ اور اس تراشے ہوئے عذر کے ساتھ انہوں نے یہ چاہا کہ بتوں کی کمزوری، بدحالی اور ذلت کو چھپائیں۔ یہ وہ مقام تھا کہ جہاں ابراہیم جیسے ہیرو کے سامنے منطقی استدلال کے لیے میدان کھل گیا تاکہ ان پر تابڑ توڑ حملے کریں اوران کے ذہنوں کو ایسی سرزنش اور ملامت کریں کہ جو منطقی اور بیدار کرنے والی ہو۔" (ابراہیم نے) پکار کر کہا : کیا تم خدا کو چھوڑ کر دوسرے معبودوں کی پرستش کرتے ہو کہ جو نہ تمہیں کچھ فائدہ پہنچاتے ہیں اور نہ ضرر : (قال افتعبدون من دون الله مالاينفعكم شيئا ولا یضرکم)۔ یہ خیالی خدا کہ جو نہ بات کرنے کی قدرت رکھتے ہیں، نہ شعوروادراک رکھتے ہیں، نہ خود اپنا دفاع کرسکتے ہیں، نہ بندوں کو اپنی حمایت کے لیے بلا سکتے ہیں، اصلًا ان سے کونسا کام ہو سکتا ہے اور یہ کس درد کی دوا ہیں ؟! ایک معبود کی پرستش یا تو اس بنا پر ہے کہ وہ عبودیت کے لائق ہے ۔ تو یہ بات بتوں کے بارے میں کوئی مفہوم نہیں رکھتی یا کسی فائدہ کی امید کی وجہ سے ہوتی ہے اور یا ان سے کسی نقصان کے خوف سے، لیکن بتوں کے توڑنے کے میرے اقدام نے بتادیاکہ یہ کچھ بھی نہیں کرسکتے ۔ تو کیا اس حال میں تمهارا یہ کام احمقانہ نہیں ہے ؟ پھر یہ معلم توحید بات کو اس سے بھی بالاترلے گیا اور سرزنش کے تازیانے ان کی بے درد روح پر لگائے اور کہا: تف ہے تم پر بھی اور تمہارے ان خداؤں پر بھی کہ جنہیں تم نے خدا کو چھوڑ کر اپنا رکھا ہے، (اف لكم ولما تعبدون من دون الله)۔ کیا تم کچھ سوچتے نہیں ہیں اور تمھارے سر میں عقل نہیں ہے، (افلا تعقلون)۔ لیکن انہیں برا بھلا کہنے اور سرزنش کرنے میں نرمی اور ملائمت کو بھی نہیں چھوڑا کہ کہیں اور زیادہ ہٹ دھرمی نہ کرنے لگیں ۔(تشریحی نوٹ : ہم "اف" کے معنی کے بارے میں ج 6 سورہ بنی اسرائیل کی آیہ 23 کے ذیل میں تفصیل سے بحث کر چکے ہیں) درحقیقت ابراہیم نے بہت ہی جچے تلے انداز میں اپنا منصوبہ آگے بڑھایا ۔ پہلی مرتبہ انہیں توحید کی طرف دعوت دیتے ہوئے انہیں پکار کرکہا : یہ بے روح مجسمے کیا ہیں؟ کہ جن کی تم پرستش کرتے ہو؟ اگر تم یہ کہتے ہو کہ یہ تمہارے بڑوں کی سنت ہے تو تم بھی گمراہ ہو اور وہ بھی گمراہ تھے۔ دوسرے مرحلے میں ایک عملی اقدام کیا تاکہ یہ بات واضح کردیں کہ یہ بت اس قسم کی کوئی قدرت نہیں رکھتے کہ جو شخص ان کی طرف ٹیڑھی نگاہ سے دیکھے تو اس کو نابود کردیں۔ خصوصیت کے ساتھ پہلے سے خبردار کرکے بتوں کی طرف گئے اور انہیں بالکل درہم برہم کر دیا تاکہ یہ بات واضح کریں کہ وہ خیالات و تصورات جو انہوں نے باندھے ہوئے ہیں سب کے سب فضول اور بیہودہ ہیں۔ تیسرے مرحلے میں اس تاریخی عدالت میں انہیں بری طرح پھنسا کے رکھ دیا۔ کبھی ان کی فطرت کو ابھارا، کبھی ان کی عقل کو جھنجھوڑا، کبھی پند و نصیحت کی اور کبھی سرزنش و ملامت۔ خلاصہ یہ کہ اس عظیم خدائی معلم نے ہر راستہ اختیار کیا اور جو کچھ اس کے بس میں تھا اسے بروئے کار لایا لیکن تاثیر کےلیے ظرف میں قابلیت کا ہونا بھی مسلمہ شرط ہے۔ افسوس یہ اس قوم میں موجود نہیں تھی۔ لیکن بلاشبہ ابراہیم کی باتیں اور کام، توحید کے بارے میں کم ازکم استفہامی علامات کی صورت میں ان کے ذہنوں میں باقی رہ گئے اور یہ آیندہ کی وسیع بیداری اور آگاہی کے لیے ایک مقدمہ اور تمہید بن گئے. تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے کچھ افراد اگرچہ وہ تعداد میں بہت کم تھے، لیکن قدر و قیمت کے لحاظ سے بہت تھے ــــــ ان پر ایمان لے آتے تھے ۔ (بحوالہ : کامل ابن اثیر، جلد اول ص 100۔)اور نسبتًا کچھ آمادگی کا سامان دوسروں کے لیے بھی پیدا ہو گیا تھا ۔

68
21:68
قَالُواْ حَرِّقُوهُ وَٱنصُرُوٓاْ ءَالِهَتَكُمۡ إِن كُنتُمۡ فَٰعِلِينَ
انہوں نے کہا: اسے جلادو اور اپنے خداؤں کی مدد کرو، اگر تم کچھ کر سکتے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔

69
21:69
قُلۡنَا يَٰنَارُ كُونِي بَرۡدٗا وَسَلَٰمًا عَلَىٰٓ إِبۡرَٰهِيمَ
(آخرکار اسے آگ میں پھینک دیالیکن ہم نے) کہا: اے آگ! ابراہیم پر سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو جا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔

70
21:70
وَأَرَادُواْ بِهِۦ كَيۡدٗا فَجَعَلۡنَٰهُمُ ٱلۡأَخۡسَرِينَ
وہ چاہتے تھے کہ اس منصوبہ سے ابراہیم کو نابود کر دیں لیکن ہم نے انہیں سب سے زیادہ خسارے میں ڈال دیا۔

آگ گلزار ہو گئی

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

اگرچہ ابراہیمؑ کے عملی و منطقی استدلالات کے ذریعے سب کے سب بت پرست مغلوب ہو گئے تھے اور انہوں نے اپنے دل میں اس شکست کا اعتراف بھی کر لیا تھا۔ لیکن تعصب اور شدید ہٹ دھری حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ بنی . لہذا اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ انہوں ابرا ہیم کے بارے میں بہت ہی سخت اور خطرناک قسم کا ارادہ کر لیا اور وہ ابراہیم کو بدترین صورت میں قتل کرنا چاہتے تھے ۔ انہوں نے پروگرام بنایا کہ انہیں جلا کر راکھ کر دیا جائے. عام طور پر لیاقت اور عظمت کے درمیان معکوسي رابطہ ہوتا ہے جس قدر انسان میں طاقت اور قدرت زیادہ ہوتی جاتی ہے، اتنی ہی اس کی منطق کمزور ہوتی جاتی ہے، سوائے مردان حق کے کہ وہ جتنا زیادہ قوی اور طاقتور ہوتے ہیں اتنا ہی زیادہ متواضع اور منطقی ہو جاتے ہیں۔ جو لوگ طاقت کی زبان سے بات کرتے ہیں۔ جب وہ منطق کے ذریعے کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکیں تو فورًا اپنی طاقت و قدرت کا سہارا لے لیتے ہیں۔ ابراہیم کے بارے میں ٹھیک یہی طرز عمل اختیار کیا گیا ۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے: ان لوگوں نے (چیخ کر) کہا : اسے جلادو اور اپنے خداؤں کی مدد کرو، اگرتم سے کوئی کام ہو سکتا ہے :(قالوا حرقوه وانصروا الهتكم ان كنتم فاعلين)۔ طاقتور صاحبان اقتدار بے خبر عوام کو مشتعل کرنے کے لیے عام طور پر ان کی نفسیاتی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں کیونکہ وہ نفسیات کو پہچانتے ہیں اور اپنے کام کرنا خوب جانتے ہیں۔ جیسا کہ انہوں نے اس قصہ میں کیا اور ایسے نعرے لگاۓ کہ جس سے، اصطلاح کے مطابق ـــــــ ان کی غیرت کو للکارا : یہ تمهارے خدا ہیں، تمھارے مقدسات خطرے میں پڑ گئے ہیں، تمھارے بزرگوں کی سنت کو پاؤں تلے روند ڈالا گیا ہے، تمھاری غیرت و حمیت کہاں چلی گئی ؟ تم اس قدر ضعیف اور زبوں حال کیوں ہوگئے ہو؟ اپنے خداؤں کی مدد کیوں نہیں کرتے؟ ابراہیم کو جلادو اور اپنے خداؤں کی مدد کرو، اگر کچھ کام تم سے ہو سکتا ہے اور بدن میں توانائی اور جان ہے۔ دیکھو! سب لوگ اپنے مقدمات کا دفاع کرتے ہیں، تمہارا تو سب کچھ خطرے میں پڑ گیا ہے۔ خلاصہ یہ کہ انہوں نے اس قسم کی بہت سی فضول اور مہمل باتیں کیں اور لوگوں کے ابراہیم کے خلاف بھڑکایا اس طرح سے کہ لکڑیوں کے چند گٹھوں کی بجاۓ کہ وہ کئی افراد کے جلانے کے لیے کافی ہوتے ہیں لکڑیوں کے ہزار گٹھے ایک دوسرے پر رکھ کرلکڑیوں کا ایک پہاڑ بنا دیا اور اس کے بعد آگ کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا تاکہ اس عمل کے ذریعے سے اپنا انتقام بھی اچھی طرح سے لے سکیں اور بتوں کا وہ خیالی رعب و داب اور عظمت بھی جس کو ابراہیم کے طرز عمل سے سخت نقصان پہنچاتھا، کسی حد تک بحال ہو سکے۔ تاریخ دانوں نے اس مقام پر بہت سے مطالب تحریر کیے ہیں کہ جن میں سے کوئی بھی بعید نظر نہیں آتا۔ منجملہ ان کے کہتے ہیں کہ لوگ چالیس دن تک لکڑیاں جمع کرنے میں لگے رہے اور ہر طرف سے بہت سی خشک لکڑیاں لالاکر جمع کرتے رہے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ وہ عورتیں تک بھی کہ جن کا کام گھر میں بیٹھ کر چرخا کاتنا تھا، وہ اس کی آمدنی سے لکڑیوں کا گٹھا لے کر اس میں ڈلواتی تھیں اور وہ لوگ کہ جو قریب المرگ ہوتے تھے، اپنے مال میں سے کچھ رقم سے لکڑیاں خریدنے کی وصیت کرتے تھے اور حاجت مند اپنی حاجتوں کے پورے ہونے کے لیے یہ منت مانتے تھے کہ اگر ان کی حاجت پوری ہو گئی، تو اتنی مقدار لکڑیوں کا اضافہ کریں گے۔ یہی وجہ تھی کہ جب ان لکڑیوں میں مختلف اطراف سے آگ لگا دی گئی تو اس کے شعلے اتنے بلند ہوگئے تھے کہ پرندے اس علاقے سے نہیں گزر سکتے تھے۔ یہ بات واضح ہے کہ اس قسم کی آگ کے توقریب بھی نہیں جایا جا سکتا ۔ چہ جائیکہ ابراہیمؑ کو لے جاکر اس میں پھینکیں مجبورًا منجنیق سے کام لیا گیا۔ حضرت ابراھیم کو اس کے اندر بیٹھاکر بڑی تیزی کے ساتھ آگ کے اس دریا میں پھینک دیا گیا۔(بحوالہ :مجمع البیان، تفسیر المیزان، تفسیر فخررازی اور نفسیرقرطبی زیر بحث آیت کے ذیل میں اور کامل ابن اثیر جلد 1 ص 98- ) ان روایات میں کہ جو شیعہ اور سنی کی طرف سے نقل ہوئی ہیں، یہ بیان ہوا ہے کہ : جس وقت حضرت ابراہیم کو منجنیق کے اوپر بٹھایاگیا اور انہیں آگ میں پھینکا جانے لگا تو آسمان،زمین اور فرشتوں نے فریاد بلند کی اور بارگاہ خداوندی میں درخواست کی کہ توحید کے اس ہیرو اور حریت پسندوں کے لیڈر کو بچا لے۔ یہ بھی منقول ہے کہ اس وقت جبرئیل حضرت ابراہیم کے پاس آئے اور ان سے کہا : الك حاجة کیا تمہاری کوئی حاجت ہے کہ میں تمہاری مدد کروں؟ ابراہیم علیہ السلام نے مختصر سا جواب دیا: اما اليك فلا تجھ سے حاجت ؟ نہیں ! نہیں ! (میں تو اسی ذات سے حاجت رکھتا ہوں کہ جو سب سے بے نیاز اور سب پر مہربان ہے)۔ تو اس موقع پر جبرئیل نے کہا : فاسئل ربك تو پھر اپنی حاجت خدا سے طلب کرو۔ انہوں نے جواب میں کہا : حسبی من سؤالي علم بحالي میرے سوال کرنے کی بجائے یہی کافی ہے کہ وہ میری حالت سے آگاہ ہے۔ (بحوالہ : المیزان، ج 14 ص 236 بحوالہ روضۃ الکافی) ایک حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ اس موقع پر حضرت ابراہیمؑ نے اسے اس طرح راز و نیاز میں بات کی: یا احد يا احد ياصمد ياصمد يامن لم یلد ولم يولد ولم يكن له كفوًا احد توكلت على الله۔ (بحوالہ : تفسیر فخررازی زیر بحث آیہ کے ذیل میں۔) اےاکیلے ! اے اکیلے ! اے بے نیاز! اے بے نیاز! اے وہ کہ جس نے کسی کو نہیں جنا اور نہ جو جنا گیا اور کوئی جس کا ہم پلہ نہیں! میں اللہ پر ہی بھروسہ رکھتا ہوں یہ دعا مختلف عبارات کے ساتھ دوسری کتابوں میں بھی آئی ہے۔ بہرحال لوگوں کے شوروغل اور ہاؤ ہو اور جوش و خروش کے اس عالم میں حضرت ابراہیمؑ آگ کے شعلوں کے اندر پھینک دیئے گئے لوگوں نے خوشی سے اس طرح نعرے لگائے گویا بتوں کو توڑنے والا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نابود اور خاکستر ہو گیا۔ لیکن وہ خدا کہ جس کے فرمان کے سامنے تمام چیزیں سرخم کیے ہوئے ہیں . جلانے کی صلاحیت اسی نے آگ میں رکھی ہے اور ماؤں کے دل میں محبت بھی اس نے ڈالی ہے۔ اس نے ارادہ کر لیا کہ یہ خالص بنده مومن آگ کے اس دریا میں صحیح و سالم رہے تاکہ اس کے افتخار اور اعزاز کی سندوں میں ایک اور سند کا اضافہ ہو جاۓ۔ جیسا کہ قرآن اس مقام پر کہتا ہے، ہم نے آگ سے کہا : اے آگ ! ابراہیم پر سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو جا: (وقلنا يا ناركونی بردًا وسلامًا على ابراهیم)۔ اس میں شک نہیں کہ یہاں خدا کا فرمان فرمان تکوینی تھا۔ وہی فرمان کر جو وہ جہان ہستی میں آفتاب و مہتاب، زمین و آسمان، پانی اورآگ، بیانات اور پرندوں کودیتا ہے۔ مشہور یہ ہے کہ آگ اس قدر ٹھنڈی ہو گئی کہ ابراھیم کے دانت ٹھنڈک کی شدت سے بجنے لگے اور پھر بعض مفسرین کے قول کے مطابق تو اگر "سلامًا" کی تعبیر ساتھ نہ ہوتی توآگ اس قدر سرد ہو جاتی کہ ابراھیمؑ کی جان سردی سے خطرے میں پڑجاتی – ایک مشہور روایت میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ نمرود کی آگ خوبصورت گلستان میں تبدیل ہوگئی ۔ (بحوالہ : تفسیر مجمع البیان زیربحث آیہ کے ذیل میں) یہاں تک کہ بعض نے تو کہا ہے کہ جس دن ابراہیم آگ میں رہے، ان کی زندگی کے دنوں میں سب سے بہترین راحت و آرام کا دن تھا۔ (بحوالہ : تفسیر فخررازی زیر بحث آیت کے ذیل میں) بہرحال اس بارےمیں کہ آگ نے حضرت ابراھیمؑ کو کیوں نہ جلایا، مفسرین کے درمیان بہت اختلاف ہے لیکن اجمالی بات ہے یہ کہ بینش توحیدی کو مد نظر رکھتے ہوئے کسی سبب سے بھی خدا کے حکم کے بغیر کوئی کام نہیں ہو سکتا۔ ایک دن وہ ابراہیمؑ کے ہاتھ میں موجود چھری سے کہتا ہے : نہ کاٹ اور دوسرے دن آگ سے کہتا ہے : نہ جلا اور ایک دن پانی کو جو سبب حیات نے حکم دیتا ہے کہ فرعون اور فرعونیوں کو غرق کر دے۔ آخری زیر بحث آیت میں نتیجہ پیش کرتے ہوئے مختصر اور جچے تلے الفاظ میں فرمایا گیا ہے : انہوں نے یہ پختہ ارادہ کر لیا کہ ابراھیم کو ایک خطرناک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نابود کر دیں لیکن ہم نے انہیں کو سب سے زیادہ گھاٹے میں رہنے والی قرار دے دیا: (وارادوا به کیدًا فجعلنا هم الاخسرين)۔ یہ بات کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ابراھیمؑ کے آگ میں صحیح و سالم رہ جانے سے صورت حال بالکل بدل گئی۔ خوشی اورمسرت کا شوروغل ختم ہو گیا۔ تعجب سے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ کچھ لوگ ایک دوسرے کے کان میں رونما ہونے والی اس عجیب چیز کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔ ابراہیمؑ اور اس کے خدا کی عظمت کا ورد زبانوں پر جاری ہو گیا۔ نمرود کا اقتدار خطرے میں پڑگیا لیکن پھر بھی تعصب اور ہٹ دھرمی بات کو قبول کرنے میں پوری طرح حائل ہوگئی۔ اگرچہ کچھ بیدار دل اس واقعے سے بہرہ ور بھی ہوئے اور ابراہیمؑ کے خدا کے بارے میں ان کے ایمان میں زیادتی اور اضافہ ہوا مگر یہ لوگ اقلیت میں تھے۔

چند اہم نکات 1- سبب سازی و سبب سوزی

بعض اوقات انسان عالم اسباب میں اس قدر غرق ہو جاتا ہے کہ وه یہ خیال کرنے لگتا ہے کہ یہ آثار و خواص خود انہیں موجودات کے ذاتی ہیں اور اس عظیم مبداء سے کہ جس نے ان موجودات کو یہ مختلف آثار و صفات بخشے ہیں، غافل ہو جاتا ہے۔ اس مقام پر خدا بندوں کو بیدار کرنے کے لیے" سبب سازی" اور " سبب سوزی" کو بیان کر رہا ہے۔ وہ موجودات کہ جن سے کچھ بھی نہیں ہو سکتا، وہ عظیم آثار کا سرچشمہ بن جاتے ہیں۔ مکڑی کو حکم دیتا ہے کہ وہ چند کمزور تار غار ثور کے دھانے پر تن دے اور انہی چند تاروں کی وجہ سے پیغمبر اسلامؐ کے تعاقب میں نکلنے والے آپ کو نہ پا سکے جبکہ اگر وہ آپؐ کو پالیتے تو قتل کر دیتے ۔ اللہ تعالی نے اس چھوٹی سی چیز سے تاریخ عالم کا رخ موڑ کے رکھ دیا اور اس کے برعکس بعض اوقات ان اسباب کو کہ جو عالم مادہ میں ضرب المثل ہیں (آگ جلانے میں اور چھری کاٹنے میں) انہیں بیکار کر دیتا ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ ان کے پاس بھی ذاتی طورپر کچھ نہیں کیونکہ اگر رب جلیل ان کو منع کر دے اور روک دے تو وہ اپنا کام نہیں کر سکتے، چاہے ابراہیم خلیل حکم بھی دے۔ ان حقائق کی طرف توجہ ـــــ کہ جن کے بے شمار نمونے ہم نے اپنی زندگی میں دیکھے ہیں ـــــ روح توحید اور توکل کو مومن کی بندگی میں اس قدر زندہ اور بیدار کر دیتے ہیں کہ اس کے ہوتے ہوئے وہ کسی اور کے بارے میں سوچتا ہی نہیں اور اس کے غیر سے مدد طلب نہیں کرتا "مشکلات کی آگ" کو خاموش کرنے کی صرف اسی سے دعا کرتا ہے اور دشمنوں کے مکر کی نابودی بھی اس کی بارگاه سے طلب کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ کسی کی طرف نہیں دیکھتا اور اس کے غیر سے کسی چیز کی تمنا نہیں کرتا۔

2- بہادر نوجوان

بعض تفسیروں میں آیا ہے کہ حضرت ابراہیم کو جب آگ میں ڈالاگیا تو ان کی عمر سولہ سال سے زیادہ نہیں تھی، (بحوالہ : مجمع البیان، زیربحث آیہ کے ذیل میں) اور بعض نے اس وقت ان کا سن 26 سال کا ذکر کیا ہے۔ (بحوالہ : تفسیر قرطبی، جلد 6 ص 43-44 ) بہرحال وہ جوانی کی عمر میں تھے اور باوجود اس کے کہ ظاہری طور پر ان کا کوئی یارومددگار نہیں تھا، اپنے زمانے کے اس عظیم طاغوت کے ساتھ پنجہ آزمائی کی کہ جو دوسرے طاغوتوں کا سرپرست تھا ۔ آپ تن تنها جہالت، خرافات اور شرک کے خلاف جنگ کرنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے اور ماحول کے تمام خیالی مقدسات کا مذاق اڑایا اور لوگوں کے غصے اور انتقام سے ذرا بھی نہ گھبرائے کیونکہ ان کا دلی عشق خدا سے معمور تھا اور ان کا اس پاک ذات پر ہی توکل اور بھروسہ تھا۔ ہاں ! ایمان ایسی ایک چیز ہے کہ یہ جہاں پیدا ہو جاتا ہے وہاں جرات و شجاعت پیدا کر دیتا ہے اور جس میں یہ موجود ہو، اسے شکست نہیں ہو سکتی۔ آج کی طوفانی دنیا میں مسلمانوں کو عظیم شیطانی قوتوں کے مقابلہ کے لیے جس اہم ترین چیز کی ضرورت ہے وہ یہی ایمان کا عظیم سرمایہ ہے۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ اسلام سے منقول ہے : أن المؤمن اشدّ من زبر الحدید، ان زبر الحديد اذا دخل النار تغير وان المؤمن لو قتل ثم نشر ثم قتل لم يتغير قلبه مومن فولاد کے ٹکڑوں سے بھی زیادہ محکم ہوتا ہے کیونکہ فولاد کو جب آگ میں ڈالا جاتا ہے تواس میں تغیر اور تبدیلی آ جاتی ہے لیکن مومن کو اگر قتل بھی کر دیا جائے اور پھر دوبارہ زندہ کیا جائے اور پھر اسے قتل کر دیا جائے، پھر بھی اس کے دل میں تبدیلی نہیں آتی۔ (بحوالہ : سفینۃ البحار ج 1 ص 37 (مادہ امن)

3- ابراہیم اورنمرود کے مابین معرکہ

تاریخوں میں آیا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کو جب آگ میں ڈالا گیا، نمرود کو یقین ہو گیا تھا کہ ابراھیمؑ مٹھی بھر خاک میں تبدیل ہو گئے ہیں لیکن جب اس نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ تو زندہ ہیں، تو اپنے اردگرد بیٹھے ہوئے لوگوں سےکہنے لگا مجھے تو ابراہیمؑ زندہ دکھائی دے رہاہے۔ شاید مجھے اشتباہ ہو رہا ہے ۔ وہ ایک بلند مقام پر چڑھ گیا اور خوب غور سے دیکھا تو اسے معلوم ہوا کہ معاملہ تو اسی طرح سے ہے ۔ نمرود نے پکار کر کہا : اے ابراہیمؑ !واقعًا تیرا خدا عظیم ہے اور اس قدر قدرت رکھتا ہے کہ اس نے تیرے اور آگ کے درمیان ایک رکاوٹ پیدا کر دی ! . . .. اب جبکہ یہ بات ہے تو میں چاہتا ہوں کہ اس کی اس قدرت اور عظمت کی وجہ سے اس کے لیے قربانی کروں۔ (اور اس نے چار ہزار قربانیاں اس مقصد کے لیے تیار کیں) لیکن ابراہیم نے اس سے کہا : تجھ سے کسی قسم کی قربانی اور کار خیر قبول نہیں کیا جائے گا مگر یہ کہ تو پہلے ایمان لے آئے۔ نمرود نے جواب میں کہا، اس صورت میں تو میری حکومت ختم ہو جائے گی اور میں یہ بات گوارا نہیں کر سکتا۔ بہرحال یہی حادثات اس بات کا سبب بن گئے کہ کچھ آگاہ اور بیدار دل لوگ ابراہیمؑ کے خدا پرایمان لے آئے یا ان کے ایمان میں اضافہ ہو گیا اور شاید یہی واقعہ اس بات کا سبب بنا کہ نمرود ابراہیمؑ کے مقابلہ میں کسی سخت رو عمل کا اظہار نہ کرے اور صرف ان کو سرزمین بابل سے جلاوطن کرنے پر قناعت کرے۔ (بحوالہ : کامل ابن اثیر، جلد اول ص 99)

71
21:71
وَنَجَّيۡنَٰهُ وَلُوطًا إِلَى ٱلۡأَرۡضِ ٱلَّتِي بَٰرَكۡنَا فِيهَا لِلۡعَٰلَمِينَ
اورہم نے اسے (ابراہیم) اور لوط کو اس سر زمین (شام) کی طرف نجات دی جسے ہم نے سب اہل جہان کیلئے با بر کت بنایا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 73 کے تحت ملاحظہ کریں۔

72
21:72
وَوَهَبۡنَا لَهُۥٓ إِسۡحَٰقَ وَيَعۡقُوبَ نَافِلَةٗۖ وَكُلّٗا جَعَلۡنَا صَٰلِحِينَ
اور ہم نے اسے اسحاق اور (اس کے بعد) یعقوب بھی عطا فرمایا، اور ہم نے ان سب کو مردان صالح قرار دیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 73 کے تحت ملاحظہ کریں۔

73
21:73
وَجَعَلۡنَٰهُمۡ أَئِمَّةٗ يَهۡدُونَ بِأَمۡرِنَا وَأَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ ٱلۡخَيۡرَٰتِ وَإِقَامَ ٱلصَّلَوٰةِ وَإِيتَآءَ ٱلزَّكَوٰةِۖ وَكَانُواْ لَنَا عَٰبِدِينَ
اورہم نے انہیں ایسے امام (اورپیشوا) قرار دیا جو ہمارے حکم سے (لوگوں کو) ہدایت کرتے تھے اور ہم نے انہیں نیک کام انجام دینے، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی وحی کی۔اور وہ صرف میری ہی عبادت کیا کرتے تھے۔

بت پرستوں کی سرزمین سے ابراہیمؑ کی ہجرت

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

ابراہیمؑ کے آگ میں ڈالے جانے کے واقعہ اور اس خطرناک مرحلہ سے ان کی معجزانہ نجات نے نمرود کے ارکان حکومت کو لرزه براندام کر دیا۔ نمرود تو بالکل حواس باختہ ہوگیا کیونکہ اب وہ ابراہیم کو ایک فتنہ کھڑا کرنے والا اور نفاق ڈالنے والا جوان نہیں کہہ سکتا تھا کیونکہ ابراہیمؑ اب ایک خدائی رہبر اور ہیرو کی حیثیت سے پہچانا جاتا تھا ۔ اس نے دیکھا کہ ابراہیمؑ اس کے تمام تر طاقت و وسائل کے باوجود اس کے خلاف جنگ کی ہمت رکھتا ہے. اس نے سوچا کہ اگر ابراھیم ان حالات میں اس شہر اور اس ملک میں رہا تو اپنی باتوں، قوی منطق اور بے نظیر شجاعت کے ساتھ مسلم طور پر اس جابر، خودسر، خودغرض حکومت کے لیے ایک خطرے کا مرکز بن سکتا ہے. لہذا اس نے فیصلہ کیا کہ ابراہیم کو ہر حالت میں اس سرزمین سے چلے جانا چاہیے۔ دوسری طرف ابراہیم حقیقت میں اپنی رسالت کا کام اس سرزمین میں انجام دے چکے تھے ۔ وہ حکومت کی بنیادوں پر یکے بعد دیگرے چکنا چور کرنے والی ضربیں لگا چکے تھے۔ اس سرزمین میں ایمان و آگاہی کا بیج بوچکے تھے۔ اب صرف ایک مدت کی ضرورت تھی کہ جس سے یہ بیج آہستہ آہستہ بارآور ہو اور بت پرستی کی بساط الٹ جائے۔ اب ان کے لیے بھی مفید یہی تھاکہ یہاں سے کسی دوسری سرزمین کی طرف چلے جائیں اوراپنی رسالت کے کام کو وہاں بھی عملی شکل دیں لہذا انہوں نے یہ ارادہ کرلیا کہ لوط (جو آپ کے بھتیجے تھے) اور اپنی بیوی سارہ اور احتمالًا مومنین کے ایک چھوٹے سے گروہ کو ساتھ لے کہ اس سرزمین سے شام کی طرف ہجرت کرجائیں۔ جیسا کہ قران زیر بحث آیات میں کہتا ہے : ہم نے ابراہیم اور لوط کو اسی سرزمین کی طرف نجات دی کہ جسے ہم نے سارے جہان والوں کے لیے برکتوں والا بنایا تھا: (ونجيناه ولوطا إلى الارض التي باركنا فيها للعالمين )۔ اگرچہ قران میں اس سرزمین کا نام صراحت کے ساتھ بیان نہیں ہوا ہے لیکن سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت (سبحان الذي اسری بعبده ليلا من المسجد الحرام إلى المسجد الاقصى الذي باركنا حوله)۔ پر توجہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد وہی شام کی سرزمیں ہے، جو ظاہری اعتبار سے بھی پربرکت، زرخیز اور سر سبز و شاداب ہے اور معنوی لحاظ سے بھی، کیونکہ وہ انبیا کی پرورش کا مرکز تھی۔ ابراہیمؑ نے یہ ہجرت خود اپنے آپ کی تھی یا نمرود کی حکومت نے انہیں جلاوطن کیا یا یہ دونوں ہی صورتیں واقع ہوئیں، اس بارے میں تفاسیر و روایات میں مختلف باتیں بیان کی گئی ہیں ان کا مجموعی مفہوم یہی ہے کہ یہ ایک طرف تو نمرود اور اس کے ارکان حکومت ابراہیم کو اپنے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھتے تھے۔ لہذا انہوں نے انہیں اس سرزمین سے نکلنے پر مجبور کر دیا اور دوسری طرف ابراھیمؑ کی اس سرزمین میں اپنی رسالت کے کام تقریبا مکمل کر چکے تھے اور اب کسی دوسرےعلاقے میں جانے کے خواہاں تھے کہ دعوت توحید کو وہاں بھی پھیلائیں۔ خصوصًا بابل میں رہنے سے ممکن تھا کہ آپؑ کی جان چلی جاتی اور آپ کی عالمی دعوت نامکمل رہ جاتی۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ امام صادق علیہ السلام سے ایک روایت میں یہ بیان ہوا کہ جس وقت نمرود نے یہ ارادہ کیا کہ ابراہیمؑ کو اس سرزمین سے جلاوطن کر دے تو اس نے یہ حکم دیا کہ ابراہیم کی بھیڑیں اور ان کا سارا مال ضبط کرلیا جائے اور وہ اکیلا ہی یہاں سے باہرجائے۔ حضرت ابراہیمؑ نے کہا یہ میری عمر بھر کی کمائی ہے۔ اگر تم میرا مال لینا چاہتے تو میری اس عمر کو جو میں نے اس سرزمین میں گذاری ہے وہ مجھے واپس دے دو۔لہذاطے یہ پایا کہ حکومت کے قاضیوں میں سے ایک اس بارے میں فیصلہ دے، قاضی نے حکم دیا کہ ابراہیم کا مال لے لیا جائے اور جو عمرانہوں نے اس سرزمین میں خرچ کی ہے وہ انہیں واپس کر دی جائے۔ جس وقت نمرود اس واقعے سے آگاہ ہوا تو اس نے بہادرقاضی کے حقیقی مفہوم کو سمجھ لیا اور حکم دیا کہ ابراھیمؑ کا مال اور اس کی بھیڑیں اسے واپس کر دی جائیں تاکہ وہ انہیں ساتھ لے جائے اور کہا : مجھے ڈر ہے کہ اگر وہ یہاں رہ گیا تو وہ تمہارے دین و آئین کو خراب کردےگا اور تمهارے خداؤں کو نقصان پہنچانے گا : (انه ان بقى في بلادكم افسد دينكم واضرّ بالهتكم)۔ (بحوالہ : المیزان زیر بحث آیات کے ذیل میں، بحوالہ روضۃالکافی) بعد والی آیت میں ابراہیمؑ پر خدا کی ایک نہایت اہم نعمت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ ہے صالح اولاد اور ایک پھلنے پھولنے والی اچھی نسل فرمایا گیا ہے: ہم نے اسحاق (سا بیٹا) عطا کیا اور (اس کے بعد اسحاق کا بیٹا) یعقوب بھی عطا کیا: (ووهبناله اسحٰق ويعقوب نافلة)۔ (تشریحی نوٹ : یہاں اسماعیل کا ذکر کرنا جب کہ وہ ابراہیمؑ کے پہلے بیٹے تھے، شاید اس وجہ سے ہو کہ اسحاق سارہ جیسی بانجھ خاتون کے بطن سے پیدا ہوئے تھے وہ بھی اس سن میں جب معمولًا وضع حمل ممکن نہ تھا۔ لہذا یہ ایک عجیب غیرمعمولی مسئلہ معلوم ہوتا تھا جبکہ اسماعیلؑ کا اپنی والدہ حاجرہ سے پیدا ہونا ایسا عجیب نہ تھا) اورہم نے ان سب کو صالح، شائستہ اور مفید قرار دیا: (وكلًا جعلنا صالحين)– سالہا سال گزر گئے کہ ابراہیمؑ اس فرزند صالح کے انتظار اور خواہش میں ہی زندگی بسر کرتے رہے اور سورہ صافات کی آیہ 100ان کی اس اندرونی خواہش کو بیان کر رہی ہے۔ رب هب لي من الصالحين پروردگارا ! مجھے ایک صالح فرزند مرحمت فرما۔ آخرکار خدا نے ان کی دعا قبول کرلی۔ پہلے اسمٰعیلؑ اور پھراسحاقؑ انہیں مرحمت فرمایا کہ جن میں سے ہرایک، ایک بزرگ پیغمبر اور صاحب منزلت تھے۔ "نافله" کی تعبیر کہ جو ظاہری طور پر صرف یعقوب کی توصیف ہے، شاید اس بنا پر ہو کہ ابراھیمؑ نے تو صرف ایک صالح فرزند کے لیے دعا کی تھی، خدانے ایک صالح پوتے کا بھی اس پر اضافہ کر دیا کیونکہ "نافله" دراصل نعمت کے یا اضافی کام کے معنی میں ہے۔ آخری زیر بحث آیت ان عظیم پیغمبروں کے مقام امامت و رہبری اور ان کی کچھ صفات اور اہم پروگراموں کی طرف اجتماعی طور پر اشارہ کر رہی ہے۔ اس آیت میں مجموعی طور پر ان کی چھ صفات شمار کی گئی ہیں۔ ان میں صالح ہونے کی صفت کا اضافہ کرلیا جائے تو سات ہو جاتی ہیں کیونکہ گزشتہ آیت میں یہ صفت بیان ہوئی ہے ــــ یہ احتمال بھی ہے کہ ان چھ صفات کا مجموعہ کا اس آیت میں ذکر ہوا ہے۔ ان کے صالح ہونے کی تشریح ہو کہ جس کا ذکر اس سے پہلی آیت میں آچکا ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: ہم نے انہیں امام اور لوگوں کا رہبر قرار دیا (وجعلناهم ائمة)۔ یعنی مقام نبوت و رسالت کے بعد ہم نے انہیں مقام امامت بھی عطا کیا جیسا کہ پہلے بھی اشارہ کر چکے ہیں کہ امامت انسانی ارتقاء اور سیر تکامل کا آخری مرحلہ ہے کہ جو لوگوں کی مادی و معنوی، ظاہری و باطنی، جسمانی و روحانی رہبری کے معنی میں ہے۔ نبوت و رسالت کا امامت کے ساتھ یہ فرق ہے کہ انبیاء و رسل مقام نبوت و رسالت میں صرف فرمان حق کو حاصل کرتے اور اس کی خبردیتے اور لوگوں کو اس کی تبلیغ کرتے ہیں ایسا ابلاغ کہ جس میں بشارت ونذارت موجود ہو۔ لیکن مرحله امامت میں وہ ان خدائی پروگراموں کا اجراء کرتے ہیں، چاہے وہ حکومت عادلہ کی تشکیل کے ذریعے ہو یا اس کے بغیر اس لحاظ سے وہ تربیت کرنے والے احکام اور پروگرام جاری کرنے والے انسانوں کی تربیت کرنے والے اور پاک و پاکیزہ انسانی ماحول کو وجود میں لانے والے ہوتے ہیں۔ درحقیقت مقام امامت تمام خدائی پروگراموں کو عملی صورت دینے کا مقام ہے۔ دوسرے لفظوں میں مقصود و مطلوب تک پہنچنا اور تشریعی و تکوینی ہدایت کرنا ہے۔ امام اس لحاظ سے ٹھیک آفتاب کی مانند ہے کہ جو اپنی شعاعوں کے ذریعے زنده موجودات کی پرورش کرتا ہے۔ (تشریحی نوٹ : اس سلسلہ میں مزید تشریح جلد اول سورہ بقرہ کی آیہ 124 کے ذیل میں مطالعہ کریں ) بعد کے مرحلے میں اس مقام کی فعلیت اور اس کا نتیجہ بیان کیا گیا ہے : وہ ہمارے حکم کی مطابق ہدایت کرتے ہیں. (یهدون بامرنا)۔ ہدایت صرف راہنمائی اور راستہ دکھانے کے معنی میں نہیں ہے کیونکہ یہ بات تو نبوت و رسالت میں بھی موجود ہوتی ہے بلکہ دستگیری کرنے اور منزل مقصود تک پہنچانے کے معنی میں ہے۔ (البتہ انہی لوگوں کے لیے کہ جو آمادگی اور اہلیت رکھتے ہیں) تیسری،چوتھی اور پانچویں نعمت اور ان کی خصوصیت یہ تھی کہ : ہم نے انہیں اچھے کام انجام دینے اور (اسی طرح)، نماز قائم کرنے اورزکٰوة ادا کرنے کی وحی کی (وأوحينا اليهم فعل الخيرات و اقام الصلوة وإيتاء الزكوة )- یہ وحی "تشریعی وحی" بھی ہو سکتی ہے۔ یعنی ہم نے مختلف قسم کے کارہائے خیر اور ادائے نماز اور ادائیگی زکٰوة کو ان کے دینی پروگراموں میں داخل کر دیا اوروحی تکوینی بھی ہو سکتی ہے یعنی ہم نے ان امور کو انجام دینے کے لیے انہیں توفیق و توانائی اور معنوی جذبہ عطا فرمایا۔ البته ان امور میں سے کوئی چیز جبری اور اضطراری پہلو نہیں رکھتی ۔ بلکہ یہ صرف اہلیتیں ہیں کہ جو خود ان کے اپنے ارادہ اور خواہش کے بغیر ہرگز کسی نتیجہ تک نہیں پہنچتیں۔ فعل خیرات" کے بعد قیام صلوة اور ادائے زکوة" کا ذکر، ان دونوں امور کی اہمیت کی وجہ سے ہے کہ جو پہلے توعام حیثیت سے "أوحينا اليهم فعل الخيرات" کے جملے میں، اوراس کے بعد بطورخاص بیان ہوا ہے۔ آخری حصے میں ان کے مقام "عبودیت" کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : وہ صرف ہماری عبادت کرتے تھے (وكانوا لنا عابدین)۔ (تشریحی نوٹ : لفظ "لنا" کو " عابدین"پر مقدم رکھنا حصرکی دلیل ہے اور ان بزرگوں سے خالص مقام توحید کی طرف اشارہ ہے. یعنی وہ صرف خدا کی عبادت کرتے تھے) ضمنی طورپر "كانوا" کی تعبیر کہ جو اس پروگرام میں پہلے سے مسلسل عمل کرتے رہنے پر دلالت کرتا ہے۔ شاید اس بات کی طرف اشارہ ہوکہ وہ مقام نبوت و رسالت تک پہنچنے سے پہلے بھی صالح، موحد اور اہل لوگ تھے اور ان امور عمل کرتے رہنے کی بناء پرہی، خدا نے انہیں نئے انعامات سے نوازا ہے۔ اس نکتے کی یاد دہانی بھی ضروری ہے کہ "يهدون بامرنا" کا جملہ درحقیقت باطل کے رہبروں اور پیشواؤں کے مقابلہ میں، حقیقی آئمہ اور پیشواؤں کی شناخت کا ایک ذرایعہ ہے۔ کیونکہ باطل کے پیشواوں کے کام کی بنیاد تو شیطانی ہوا و ہوس پر ہے۔ ایک حدیث میں امام صادق علیه السلام منقول ہے کہ آپؑ نے فرمایا : قرآن میں دوقسم کے اماموں کا ذکر ہے، ایک جگہ فرمایا گیا ہے کہ : وجعلنا هم أئمة يهدون بامرنا" یعنی خدا کے حکم سے، نہ لوگوں کے حکم سے، وہ خدا کے حکم کو اپنے تم پر مقدم سمجھتے ہیں اوراس کے حکم کو اپنے حکم سے برتر قرار دیتے ہیں۔ لیکن دوسری جگہ فرمایا گیاہے: وجعلناهم ائمة يدعون إلى النار ہم نے انہیں ایسا امام و پیشوا قرار دے دیا ہے کہ جو دوزخ کی طرف دعوت دیتے ہیں، اپنے حکم کو خدا کے حکم سے مقدم شمار کرتے ہیں اور اپنے حکم کو اس کے حکم سے پہلے قرار دیتے ہیں اور اپنی ہوا و ہوس کے مطابق اور کتاب اللہ کے خلاف عمل کرتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ : دوسری آیت جوکہ سورۂ قصص کی آیہ 31 ہے فرعون اور اس کے لشکر کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔ یہ حدیث تفسیر صافی میں کتاب کافی سے نقل ہوئی ہے۔) اور یہ ہے معیار اور کسوٹی امام حق اور امام باطل میں تمیز کی۔

74
21:74
وَلُوطًا ءَاتَيۡنَٰهُ حُكۡمٗا وَعِلۡمٗا وَنَجَّيۡنَٰهُ مِنَ ٱلۡقَرۡيَةِ ٱلَّتِي كَانَت تَّعۡمَلُ ٱلۡخَبَـٰٓئِثَۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ قَوۡمَ سَوۡءٖ فَٰسِقِينَ
اور لوط کو(یاد کرو) جسے ہم نے حکم اور علم دیا اور اس شہر سے نجات بخشی جہاں کے باشندے قبیح اور برے کام کرتے تھے کیونکہ وہ برے اور فا سق لوگ تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 75 کے تحت ملاحظہ کریں۔

75
21:75
وَأَدۡخَلۡنَٰهُ فِي رَحۡمَتِنَآۖ إِنَّهُۥ مِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ
اور ہم نے اس کو اپنی رحمت میں داخل کر لیا، بیشک وہ صالحین سے تھا۔

بروں کے علاقوں سے لوط کی نجات

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

حضرت لوط چونکہ حضرت ابراہیم کے قریبی رشتہ داروں اور ان پر سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں سے تھے لہذا حضرت ابراہیمؑ کے واقعے کے بعد ابلاغ رسالت کے سلسلہ میں ان کی جدوجہد اور کوششوں کے ایک حصہ کی طرف اور ان کے لیے پروردگار کے انعامات و احسانات کی طرف میں اشارہ کیا گیا ہے : اور لوط کو یاد کرو کہ جسے ہم نے حکم اور علم دیا (ولوطا أتيناه حكمًا و علمًا)۔ (تشریحی نوٹ : لفظ "لوط" کا یہاں منسوب ہونا اس بنا پر ہے کہ وہ فعل مقدر کا مفعول ہے، یہ فعل ممکن کہ " أتينا" ہو یا "اذكر" ہو )۔ لفظ " حکم" بعض مقامات پر تو فرمان نبوت و رسالت کے معنی میں آیا ہے اور کچھ دوسرے مقامات پر قضاوت اور فیصلہ کرنے کے معنی میں، جب کہ بعض اوقات عقل و خرد کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ ان معانی میں سے یہاں پہلا معنی زیادہ مناسب نظر آتاہے اگرچہ ان معانی کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے۔(تشریحی نوٹ : لفظ "حكم" اور "علم" کی تفسیر اور ان دونوں کے درمیان فرق کے بارے میں ہم جلد 9 صفحہ 325 (اردو ترجمہ) پر بھی بحث کر چکے ہیں) "علم" سے مراد ہر قسم کا علم و دانش ہے کہ جس کا انسان کی سعادت اور انجام میں گہرا اثر ہوتاہے۔ لوط بزرگ انبیاء میں سے ہیں، جوابراہیم کے ہمعصر تھے اور انہوں نے ابراہیم کے ساتھ سرزمین بابل سے فلسطین کی طرف ہجرت کی تھی ۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم سے جدا ہو کر "سدوم" شہر میں آئے کیونکہ اس علاقے کے لوگ گناہ اور بد کاری میں مبتلا تھے خصوصًا جنسی انحرافات اور آلودگیوں میں غرق تھے۔ انہوں نے اس منحرف قوم کی ہدایت کے لیے بہت کوشش کی اور اس راستے میں خون جگر کے گھونٹ پیئے، لیکن ان دل کے اندھوں پر کچھ اثر نہ ہوا۔ انجام کار ــ جیساکہ ہم جانتے ہیں ــــــ خداکے شدید عذاب نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ان کی آبادیاں بالکل تہ و بالا ہوگئیں اور سوائے لوط کے گھروالوں کے، ان کی بیوی کے علاوہ سب کے سب نابود ہوگئے ہیں کہ اس کی پوری تو تفصیل ہم سوره هود کی آیت 77 کے بعد بیان کر چکے ہیں۔(بحوالہ: تفسیر نمونہ جلد 5 ص 324 کے بعد تک) لہذا زیر بحث آیت کے آخر میں اس کرم فرمائی کی طرف کہ جو اس نے لوط پر کی تھی اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیاهے، ہم نے اسے اس شہرسے کہ جہاں لوگ قبیح کام کرتے تھے رہائی بخشی (ونجيناه من القریة التي كانت تعمل الخبائث)۔ کیونکہ وہ برے لوگ تھے اور وہ فرمان حق کی اطاعت سے باہر نکل گئے تھے، (انھم كانوا قوم سوء فاسقين) – اہل شہرکی بجائے، قبیح اور برے اعمال کی "قریہ" (شهراور آبادی) کی طرف نسبت دینا، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ گناه اور بدکاری میں اس قدر ڈوبے ہوئے تھے، کہ گویا ان کی آبادی کے درودیور سے گناہ اور قبیح و پلید اعمال برس رہے تھے۔ اور "خبائث" کی تعبیر جمع کی صورت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ "لواطت کے انتہائی گندےعمل کے علاوہ اور بھی برے اور خبیث عمل کیا کرتے تھے کہ جن کی طرف ہم جلد 5کے ص 339 (اردو ترجمہ) میں اشارہ کر چکے ہیں۔ اور "قوم سوء" کے بعد "فاسقين کی تعبیر ممکن ہے اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ وہ خدا کے قوانین کے لحاظ سے بھی فاسق لوگ تھے اور انسانی معیاروں کے لحاظ بھی یہاں تک کہ دین و ایمان سے قطع نظر وہ پست، پلید، آلودہ اور منحرف افراد تھے۔ اس کے بعد حضرت لوط پر کیے گئے آخری انعام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے، ہم نے اسے اپنی خاص رحمت میں داخل کیا (و ادخلناه في رحمتنا)۔ کیونکہ وہ صالح اور نیک بندوں میں سے تھا (انه من الصالحين) خدا کی یہ خاص رحمت بلا وجہ کسی شخص پر نہیں ہوتی، یہ حضرت لوط کی اہلیت تھی جس نے انہیں اس قسم کی رحمت کامستحق بنادیا۔ واقعًا اس سے زیادہ مشکل اور کون سا کام ہو گا اور کون سا اصلاحی پروگرام اس سے زیادہ طاقت فرسا ہو گا کہ انسان ایک طویل مدت تک ایسے شہر میں کہ جس میں اس قدرگناہ اور آلودگی ہو، ٹھہرا رہے اورمسلسل گمراہ اور منحرف لوگوں کو تبلیغ وہدایت کرتا رہے اور معاملہ یہاں تک پہنچ جائے کہ وہ اس کے مہمانوں تک کے ساتھ بھی مزاحمت کرنے لگیں. واقعًا یہ صبرو استقامت خدائی پیغمبروں اور ان کی راہ پر چلنے والوں کے سوا کسی کے بس کی بات نہیں۔ ہم میں سے کون ایسا شخص ہے کہ جو اس قسم کی جانکاه روحانی سختیوں کو برداشت کر سکتا ہو؟

76
21:76
وَنُوحًا إِذۡ نَادَىٰ مِن قَبۡلُ فَٱسۡتَجَبۡنَا لَهُۥ فَنَجَّيۡنَٰهُ وَأَهۡلَهُۥ مِنَ ٱلۡكَرۡبِ ٱلۡعَظِيمِ
اور نوح (کو یاد کرو) جب اس نے (ابراہیم ولوط سے) پہلے اپنے پروردگار کو پکاراتو ہم نے اس کی دعا کو قبول فرما لیا اور اسے اور اسکے خاندان کو عظیم غم سے نجات عطا فر مائی دی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 77 کے تحت ملاحظہ کریں۔

77
21:77
وَنَصَرۡنَٰهُ مِنَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَآۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ قَوۡمَ سَوۡءٖ فَأَغۡرَقۡنَٰهُمۡ أَجۡمَعِينَ
اور ہم نے اس کی اس قوم کے مقابلہ میں کہ جنہوں نے ہماری آیات کوجھٹلا یا تھا، مدد فرمائی کیونکہ وہ بری قوم تھی لہٰذا ہم نے ان سب کو غرق کر دیا۔

متعصب اور ہٹ دھرم لوگوں سے نوحؑ کی نجات

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

ابراہیم اور لوط کی داستان کے ایک گوشہ کا ذکر کرنے کے بعد، ایک اور عظیم پیغمبر یعنی حضرت نوحؑ کی سرگزشت کے ایک حصہ کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : اور نوح کو یاد کرو جبکہ اس نے (ابراہیم ولوط سے پہلے اپنے پروردگار کو پکارا اور بے ایمان منحرف لوگوں کے چنگل سے نجات کے لیے درخواست کی ( ونوحًا اذ نادي من قبل)۔ حضرت نوحؑ کی یہ ندا ظاہری طور پر ان کی اس نفرین اور بدعا کی طرف اشارہ ہے جو قرآن مجید کی سورہ نوح میں بیان ہوئی ہے۔ جہاں پر ہے: رب لاتذر على الارض من الكافرين ديارًا إنك أن تذرهم يضلوا عبادك ولا يلدوا الا فاجرا کفارًا پروردگارا ! اس بے ایمان قوم کے کسی فرد کو باقی نہ رہنے دے کیونکہ اگر یہ باقی رہ گئے تو تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان کی آئندہ نسل بھی کافر و فاجر ہی ہوگی ۔ (نوح 26-27)۔ اور یا اس عمل کی طرف اشارہ ہے کہ جو سوره قمر کی آیہ 10 میں ہے: فدعا ربه انی مغلوب فا نتصر اس نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ میں ان کے مقابلہ میں مغلوب ہوں تو میری مدد فرما ۔ "نادی" کی تعبیر کہ جو عام طور پر پکارنے کے لیے آتی ہے، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے اس بزرگ پیغمبر کو اس قدر پریشان کیا تھا کہ وہ آخر کار چیخ اٹھا اور واقعًا اگر حضرت نوحؑ کے حالات کا ــــــ کہ جن کا کچھ حصہ سورہ نوحؑ میں بیان ہوا ہے اور کچھ حصہ سوره ہود میں ــــــ اچھی طرح سے مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ فریاد کرنے میں حق بجانب تھے۔ ( بحوالہ : تفسیر نمونہ جلد ص 234 سے لے کر 280 (اردو ترجمہ) تک مراجعہ فرمائیں) اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : ہم نے اس کی دعا قبول کرلی اور اسے اور اس کے گھروالوں کو اس عظیم غم سے نجات بخشی (فاستجبنا له فنجيناه واهله من الكرب العظیم)۔ درحقیقت لفظ "فاستجبنا" تو ان کی دعا قبول ہونے کی طرف ایک اجمالی اشارہ ہے اور "فنجينٰه واھله من الكرب العظيم" اس کی تشریح وتفصیل شمار ہوتا ہے۔ اس بارے میں کہ یہاں پرلفظ " أهل " سے کون مراد ہے، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے کیونکہ اگر اس سے مراد حضرت نوحؑ کے گھر والے ہی ہوں تو یہ صرف آپ کے بعض بیٹوں کے لیے ہی ہو گا کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ان کا ایک بیٹا، برے لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کی وجہ سے اپنی خاندان نبوت کی اہلیت کھو بیٹھا تھا۔ ان کی بیوی بھی ان کے مسلک اور طریقہ پر نہیں تھی اور اگر "اهل" سے مراد ان کے خاص پیروکار اور ان کے صاحب ایمان ساتھی ہوں تو یہ "اھل" کے مشہور معنی کے برخلاف ہے۔ البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہاں پر "اهل" ایک وسیع معنی رکھتا ہے کہ جس میں آپ کے مومن عزیز و اقارب بھی شامل ہیں اور خاص اصحاب و انصار بھی کیونکہ ان کے نا اہل بیٹے کے بارے میں تو یہ بیان ہوا ہے کہ : انه لیس من اهلک وہ تیرے خاندان میں سے نہیں ہے، کیونکہ اس نے مکتب و مذہب تجھ سے جدا کر لیا ہے. ( هود ـــــ 42) اس بنا پر وہ لوگ کہ جو حضرت نوح کے ساتھ مکتب اور مذہب کا رشتہ رکھتے تھے وہ حقیقت میں آپ کے خاندان سے شمار ہوتے تھے۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ لفظ "كرب" لغت میں "اندوہ شدید" کے معنی میں ہے اور دراصل یہ "كرب" سے لیا گیا ہے کہ جو زمین الٹنے پلٹنے کے معنی میں ہے۔ اندوہ شدید کیونکہ انسان کے دل کو تہ و بالا کر دیتا ہے اور اس کی "عظیم" کے ساتھ توصيف، نوح کے انددہ کی شدت کی انتہا کو ظاہر کر رہی ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا غم و انددہ ہو گا کہ صریح آیات قرآنی کے مطابق کہ انہوں نے ۹۵۰ سال دین حق کی دعوت دی لیکن مفسرين کے درمیان مشہور قول کے مطابق اس ساری طویل مدت میں صرف اسی افراد آپ پر ایمان لائے۔ ( بحوالہ : مجمع البیان، سورہ ہود کی آیہ کے ذیل میں اور نور الثقلین ج 2 ص 350 ) اور باقی لوگوں کا کام، ٹھٹھہ کرنے، مذاق اڑانے، اذیت دینے، اور آزار پہنچانے کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔ اگلی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے : ہم نے اس کی، اس قوم کے مقابلے میں مدد کی کہ جو ہماری آیات کی تکذیب کرتی تھی ۔ (ونصرناه من القوم الذين كذبوا بآياتنا )۔ (تشریحی نوٹ : عام طور پر "نصر" "علٰى" کے ذریعہ دوسرے مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے، مثلًا كہا جاتا ہے " اللهم انصرنا عليهم "لیکن یہاں "من " استعمال ہوا ہے، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اس سے مراد ایسی مدد کرنا ہے کہ جو نجات کے ساتھ وابستہ ہو کیونکہ نجات کا ماده "من " کے ساتھ متعدی ہو جاتا ہے.) "کیونکہ وہ بری قوم تھی لہذا ہم نے ان سب کو غرق کر دیا" (انھم كانوا قوم سوء فأغرقناهم اجمعين)۔ یہ جملہ ایک بار پھر اس حقیقت پر ایک تاکید ہے کہ خدائی عذاب اور سزائیں ہرگز انتقامی پہلو نہیں رکھتیں بلکہ بنیاد یہ ہے کہ حیات اور نعمات زندگی سے استفادہ کرنے کا حق انہی لوگوں کو حاصل ہے کہ جو ارتقائی منزلیں طے کرتے ہوئے، اللہ کے راستے پر چل رہے ہوں اور اگر ان سے کسی دن انحرافی راستے میں قدم پڑبھی جائے، تو وہ اپنی غلطی پر غور کرتے ہوئے واپسں لوٹ آئیں لیکن وہ گروہ کہ جو فاسد ہو چکا ہے اور آئندہ بھی ان کی اصلاح کی کوئی امید نہیں ہے، تو ان کا انجام سوائے موت اور نابودی کے اور کچھ نہیں ہوتا۔

ایک نکته

ایک نکته اس نکتے کا بیان بھی ضروری ہے کہ ابراہیمؑ اور لوطؑ کی سرگزشت میں بھی ان کی جابر دشمنوں اور مصائب سے نجات کا ذکر ہے۔ اور اسی طرح "ایوب " اور "یونس" کے قصہ میں بھی نوحؑ کی طرح بھی ان کی جابر دشمنوں اور مصیبتوں کے چنگل سے نجات کا ذکر آئے گا۔ گویا پروگرام یہ ہے کہ خدا اس سورة انبیاء میں پیغمبروں کی بے دریغ حمایت، اور ان کی مشکلات کے چنگل سے نجات کو بیان کرے تاکہ رسول اسلامؐ کے لیے تسلی اور مومنین کے لیے امید کا سبب ہو۔ خصوصًا اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ سورہ مکی ہے اور مسلمان اس وقت شدید پریشانی اور رنج و تکلیف میں تھے، اس مسئلہ کی اہمیت اور بھی زیادہ واضح اور روشن ہو جاتی ہے۔

78
21:78
وَدَاوُۥدَ وَسُلَيۡمَٰنَ إِذۡ يَحۡكُمَانِ فِي ٱلۡحَرۡثِ إِذۡ نَفَشَتۡ فِيهِ غَنَمُ ٱلۡقَوۡمِ وَكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شَٰهِدِينَ
اور داؤد و سلیمان (کو یاد کرو) کہ جس وقت وہ ایک کھیت کے بارے میں، جس کو ایک قوم کی بھیڑیں رات کو چر گئی تھیں (اور اسے خراب کر دیا تھا) فیصلہ کر رہے تھے اور ہم ان کے فیصلے کے گواہ تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 80 کے تحت ملاحظہ کریں۔

79
21:79
فَفَهَّمۡنَٰهَا سُلَيۡمَٰنَۚ وَكُلًّا ءَاتَيۡنَا حُكۡمٗا وَعِلۡمٗاۚ وَسَخَّرۡنَا مَعَ دَاوُۥدَ ٱلۡجِبَالَ يُسَبِّحۡنَ وَٱلطَّيۡرَۚ وَكُنَّا فَٰعِلِينَ
ہم نے اس کا (صحیح فیصلہ)سلمان کو سمجھا دیا تھا، اور ہم نے ان میں ہر ایک کو فیصلہ کی (لیاقت اور) آگاہی دی تھی،اور ہم نے داؤد کے لئے پہاڑوں اورپرندوں کو مسخر کر دیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ (خداکی) تسبیح کرتے تھے اور ہم یہ کام کرنے پر قادر ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 80 کے تحت ملاحظہ کریں۔

80
21:80
وَعَلَّمۡنَٰهُ صَنۡعَةَ لَبُوسٖ لَّكُمۡ لِتُحۡصِنَكُم مِّنۢ بَأۡسِكُمۡۖ فَهَلۡ أَنتُمۡ شَٰكِرُونَ
اور ہم نے اسے(داودکو) زرہ بنانے کی تعلیم دی تاکہ وہ تمہیں تمہاری جنگوں میں محفوظ رکھے۔ کیاتم (خدا کی نعمتوں کا) شکر ادا کرتے ہو؟

داؤدؑ اور سلیمانؑ کا فیصلہ

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

حضرت موسٰیؑ، حضرت ہارونؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت لوطؑ، اور حضرت نوحؑ سے متعلق واقعات کے بیان کے بعد زیر بحث آیات، داؤدؑ و سلیمانؑ کی زندگی کے ایک حصہ کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ ابتداء میں ایک فیصلے کا ذکر ہے کہ جو حضرت داؤد اور سلیمان نے کیا تھا ــــــــ ایک اجمالی اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اور داؤد و سلیمان کو یاد کرو کہ جس وقت وہ ایک کھیت کے بارے میں فیصلہ کر رہے تھے کہ جس کو ایک قوم کی بھیڑیں رات کے وقت چرگئی تھیں (و داؤد و سليمان اذ يحكمان في الحرث أذ نفشت فيه غنم القوم) – (تشریحی نوٹ : "نفشت" "نفش" ( بروزن "کفش") کے مادہ سے رات کو پراگنده ہونے کے معنی میں ہے، اور چونکہ بھیڑوں کا رات کو پراگندہ ہونا، اور وہ بھی ایک کھیت میں، طبعی طور پر اس میں چرنے سے ملا ہوا ہو گا، لہذا بعض نے اسے رات کو چرنا کہاہے، اور "نفش" (برزون قفس) ان بھیڑوں کے معنی میں ہے کہ جو رات کو پراگندہ اور منتشر ہو جائیں۔) اور ہم ان کے فیصلے کے شاہد تھے ( وكنا لحكمهم شاهدين)۔ اگرچہ قرآن نے اس فیصلے کا واقعہ کا ملا سربستہ طور پر بیان کیا ہے۔ اور ایک اجمالی اشارہ پر ہی اکتفا کیا ہے، اور صرف اس کے اخلاقی اور تربیتی نتیجہ پر کہ جس کی طرف ہم بعد میں اشارہ کریں گے قناعت کی ہے، لیکن اسلامی روایات اور مفسرین کے بیانات میں اس سلسلے میں بہت سی بحثیں نظر آتی ہیں۔ کچھ مفسرین نے یہ بیان کیا ہے کہ وہ واقعہ اس طرح تھا : کہ بھیڑوں کا ایک ریوڑ رات کے وقت انگوروں کے ایک باغ میں داخل ہوگیا اور انگوروں کی بیلوں اور انگوروں کے گچھوں کو کھا گیا اور انہیں خراب اور ضائع کر دیا۔ باغ کا مالک حضرت داؤد کے پاس شکایت لے کر پہنچا۔ حضرت داؤد نے حکم دیا کہ اس اتنے بڑے نقصان کے بدلے میں تمام بھیڑیں باغ کے مالک کو دے دی جائیں ۔سلیمانؑ جو اس وقت بچے تھے باپ سے کہتے ہیں کہ : اے خدا کے عظیم پیغمبر آپ اس حکم کو بدل دیں اور منصفانہ فیصلہ کریں ! باپ نے کہا کہ وہ کیسے ؟ آپ جواب میں کہتے ہیں کہ: بھیڑیں تو باغ کے مالک کے سپرد کی جائیں تاکہ وہ ان کے دودھ اور اون سے فائدہ اٹھائے اور باغ کو بھیڑوں کے مالک کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ اس کی اصلاح اور درستی کی کوشش کرے۔ جس وقت باغ پہلی حالت میں لوٹ آئے تو وہ اس کے مالک کے سپرد کر دیا جائے اوربھیڑوں میں بھی اپنے مالک کے پاس لوٹ جائیں گی (اور خدانے بعد والی آیت کے مطابق سلیمان کے فیصلہ کی تائید کی )۔ یہ مضمون ایک روایت میں امام باقر اور امام صادقؑ سے نقل ہواہے۔ ( بحوالہ : مجمع البیان، زیربحث آیت کے ذیل میں ) ممکن ہے یہ تصور ہو کہ یہ تفسیر لفظ "حرث" کے ساتھ جو کہ زراعت کے معنی میں ہے مناسبت نہیں رکھتی لیکن ظاہرًا "حرث" ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے کہ جس میں زراعت بھی شامل ہے اور باغ بھی - جیسا کہ باغ والوں کی داستان (اصحاب الجنة) سوره قلم آیہ 17 تا 22 سے معلوم ہوتا ہے۔ لیکن یہاں چند اہم سوال باقی رہ جاتے ہیں۔ 1- ان دونوں فیصلوں کی بنیاد اور معیار کیا تھا ؟ 2- حضرت داؤد اور سلیمان کے فیصلے ایک دوسرے سے مختلف کیوں تھے ! کیا وہ اجتہاد کی بنیاد پرفیصلہ کیا کرتے تھے ؟ 3- کیا یہ مسئلہ، ایک مشورے کی صورت میں تھا یا دونوں نے ایک دوسرے سے الگ، قطعی اور مستقل حیثیت سے فیصلہ ديا تھا: پہلے سوال کے جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ معیار اور بنیاد خسارے اور نقصان کی تلافی کرنا تھا ۔ حضرت داؤدؑ نے غور کیا اور دیکھا کہ انگوروں کے باغ میں جو نقصان ہوا ہے، وہ بھیڑوں کی قیمت کے برابر ہے۔ لہذا انہوں نے حکم دے دیا کہ اس نقصان کی تلافی کرنے کے لیے بھیڑیں باغ کے مالک کو دے دی جائیں کیونکہ قصور بھیڑوں کے مالک کا تھا۔ اس بات کی طرف توجہ رہے کہ بعض اسلامی روایات میں سے بیان ہوا ہے کہ رات کے وقت بھیڑوں والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ریوڑ کو دوسروں کے کھیتوں میں داخل ہونے سے روکے اور دن کے وقت حفاظت کی ذمہ داری کھیتوں کے مالک کی ہے۔ ( تشریحی نوٹ : مجمع البیان زیربحث آیت کے ذیل میں - اس طرح بیان ہواہے کہ " روی عن النبي انہ قضٰی بحفظ المواشي على اربابها ليلا وقضی بحفظ الحرث علی اربابها نهارا "یہی مضمون تفسیرصافی میں بھی کتاب کافی سے منقول ہے) اور حضرت سلیمانؑ کے حکم کا ضابطہ یہ تھا کہ انہوں نے دیکھا کہ باغ کے مالک کا نقصان بھیڑوں کے ایک سال کے منافع کے برابرہے۔ اس بنا پرفیصلہ تو دونوں نے حق و انصاف کے مطابق کیا ہے، لیکن اس میں فرق یہ ہے کہ حضرت سلیمانؑ کا فیصلہ زیادہ گہرائی پرمبنی تھا، کیونکہ اس کے مطابق خساره یکمشت پورا نہیں کیا گیا تھا بلکہ اس طرح خساره تدریجی طور پر پورا ہوتا اور یہ فیصلہ بھیڑوں والے پر بھی گراں نہ تھا ۔ علاوہ ازیں نقصان اور تلافی کے درمیان ایک تناسب تھا، کیونکہ انگور کی جڑیں ختم نہیں ہوئی تھیں، صرف ان کا وقتی منافع ختم ہوا تھا: لہذا زیادہ منصفانہ فیصلہ یہ تھا کہ اصل بھیڑیں باغ کے مالک کو نہ دی جائیں ۔ بلکہ اسے ان کا منافع دیا جائے۔ دوسرے سوال کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ بے شک انبیا کافیصلہ خدائی وحی کی بنیاد پر ہوتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جب بھی کسی فیصلے کا موقع ہو، تو ہر خاص فیصلہ کے وقت خاص وحی نازل ہوتی ہے بلکہ وہ ان عمومی ضابطوں کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں جو انہوں نے وحی سے حاصل کیے ہوتے ہیں۔ اس بنا پر اصطلاحی معنی میں اجتہاد نظری یعنی اجتہاد ظنی کی ــــــــ ان کے بارےمیں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن اس بات میں کوئی امر باقی نہیں ہے کہ ایک ضابطہ کلی کوعملی شکل دینے میں دو راستے موجود ہوں اور دو پیغمبروں میں سے ہر ایک ان میں سے کسی ایک راستے کو اختیار کر لے جبکہ حقیقت میں وہ دونوں کے دونوں صحیح ہوں اور اتفاق کی بات یہ کہ ہماری اس بحث میں بھی مطلب اسی طرح کا ہے۔ جیسا کہ اس کی تفصیل پہلے گذر چکی ہے لیکن جیسا کہ قرآن اشارہ کرتا ہے، وہ راہ جو سلیمان نے اختیار کی (وہ اجرائی لحاظ سے) زیادہ مناسب تھی اور" و كلًا اتینا حكما و علما" (ہم نے ان دونوں میں سے ہر ایک کو حکم و علم دیا تھا) کا جملہ جو اگلی آیت میں آئے گا دونوں فیصلوں کی درستی پر گواہ ہے۔ تیسرے سوال کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ بعید نہیں ہے کہ یہ بات مشاورت کے طورپر ہی ہو، ایسی مشاورت کہ جو احتمالًا سليمانؑ کی آزمائش اور امر قضاوت میں ان کی لیاقت کو آزمانے کے لئے صورت پذیر ہوئی ہو "حکمھما "(ان دونوں کے حکم)کی تعبیر بھی ان کے آخری حکم کے ایک ہونے پر گواہ ہے۔ اگرچہ ابتداء میں دومختلف تجویزیں ہی تھیں ۔(غور کیجیئے گا)۔ ایک روایت میں امام باقر علیہ اسلام سے منقول ہے کہ آپ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا : لم یحكما إنما كانا يتناظران انہوان نے آخری فیصلہ نہیں دیا تھا وہ تو اس میں اپنی اپنی آراء پیش کر رہے تھے اور مشورہ کر کر رہے تھے۔ ( بحوالہ : من لایحضره الفقيه) ایک اور روایت ہے کہ جو اصول کافی میں امام صادق علیہ اسلام سے نقل ہوئی ہے،یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ماجرا داؤد کے وصی و جانشین کے تقرر کے لیے آزمائش کے طور پر تھا۔ ( تشریحی نوٹ : مزید وضاحت کے لیے تقسیر صافی میں زیر بحث آیہ کے ذیل رجوع کریں) بہرحال، بعد والی آیت میں سلیمان کے فیصلے کی اس صورت میں تائید کی گئی ہے : ہم نے یہ فیصلہ سلیمانؑ کو سمجھا دیا تھا، اور ہماری تائید سے اس نے اس جھگڑے کے حل کی بہترین راہ معلوم کر لی (ففهمناها سلیمان)۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کر حضرت داؤد کا فیصلہ غلط تھا۔ کیونکہ قرآن ساتھ ہی کہتا ہے ہم نے ان دونوں میں سے ہر ایک کو آگاہی اور فیصلے کی اہلیت اور علم عطا کیا تھا (وكلّلا اٰتینا حكمًا وعلمًا)۔ اس کے بعد ایک اور اعزاز کہ جو خدا نے حضرت داؤد کو دیا تھا، اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ ہم نے پہاڑورں کو داؤد کے لیے مسخر کر دیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ تسبیح کرتے تھے اور اسی طرح پرندوں کو بھی (و سخرنا مع داؤد الجبال یسبحن والطير)۔ یہ سب باتیں ہماری قدرت کے سامنے کوئی اہم چیز نہیں ہیں ہم یہ کام انجام دینے پرقادر تھے (وكنا فاعلين)-

ایک نکتہ

اس بارے میں مفسرین میں اختلاف ہے کہ پہاڑ اور پرندوں کا داؤد کے ساتھ ہم صدا ہونا کس صورت میں تھا ۔مختلف مفسرین کی بعض آراء ہم ذیل میں بیان کرتے ہیں: 1- کبھی تو یہ احتمال ظاہر کیا جاتا ہے کہ حضرت داؤ کی آواز بڑی پرکشش تھی کہ جو پہاڑوں میں گونجا کرتی تھی اور پرندوں کو اپنی طرف کھینچتی تھی۔ 2- کبھی یہ کہا جا تا ہے کہ یہ تسبیح ایک ایسے شعور کی حامل تھی کہ جو زرات عالم کے باطن میں موجود ہے ۔ کیونکہ اس نظریے کے مطابق عالم کے تمام موجودات عقل وشعور رکھتے ہیں۔ لهذا وہ جس وقت حضرت داود کی مناجات و تسبیح سنتے تھے تو ان کے ساتھ مکمل ہمصدا ہو جاتے تھے اوران کی تسبیح کا غلغلہ ان کی آواز کے ساتھ مل جاتا تھا۔ 3- بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد وہی " تسبیح تکوینی "ہے کہ جو تمام موجودات عالم زبان حال سے کرتی ہیں کیونکہ ہر موجود کا ایک نظام ہے ایک ایسا نظام کو جو بہت ہی دقیق اور حساب شده ہے۔ یہ وقیق اور حساب شده نظام ایک ایسے خدا کے وجود پر دلالت کرتا ہے کہ جو پاک و منزہ بھی ہے اور صفات کمال کا مالک بھی ۔ عالم ہستی کے اس حیرت انگیز نظام کی بنا پر ہر گوشہ میں تسبیح اور حمد جاری ہے۔ (تسبیح کا معنی نقائص سے پاک شمار کرنا ہے اور حمد اس کی صفات کمال کی تعریف کرنا ہے ) ( تشریحی نوٹ : مزید وضاحت کے لیے تفسیر نمونہ کی جلد6سورہ بنی اسرائیل کی آیہ 44 کے ذیل میں رجوع کریں ۔ ) اگر یہ کہا جانے کہ یہ تسبیح تکوینی نہ تو پہاڑوں اور پرندوں کے ساتھ مخصوص ہے اورنہ حضرت داؤد کے ساتھ بلکہ ہمیشہ اورہرجگہ تمام موجودات اس تسبیح میں مصروف ہے ۔ اس کے جواب میں انہوں نے یہ کہا ہے کہ ٹھیک ہے، یہ عمومی تسبیح توہے، لیکن سب اس کو سنتے تو نہیں ہیں، یہ تو حضرت داؤد کی عظیم روح تھی کہ جو اس حالت میں عالم ہستی کے اندر اور باطن کی ہم راز اور ان سے ہم آہنگ ہو جاتی تھی اور وہ اچھی طرح سے محسوس کرتے اور سنتے تھے کہ پہاڑ اور پرندے ان کے ساتھ همصدا ہیں اور تسبیح کررہے ہیں۔ ان تفسیروں میں سے کسی کے لیے بھی ہمارے پاس کو ئی قطعی اور دو ٹوک دلیل نہیں ہے۔ آیت کے ظاہر سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ پہاڑ اور پرندے حضرت داؤد کہ ساتھ ہم صدا ہو جاتے تھے اور خدا کی تسبیح کرتے تھے۔ البتہ ان تینوں تفسروں کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے اور ان تینوں کو ایک ساتھ بھی لیا جا سکتا ہے۔ زیر بحث آخری آیت میں ایک اور نعمت کی طرف کہ خدا نے اس عظیم پیغمبر کوعطاکی تھی اشارہ کرتے ہوئے فرمایاگیا ہے: ہم نے اسے زرہ بنانے کی تعلیم دی تھی تاکہ تمہاری جنگوں میں تمہاری حفاظت کرے، کیا تم خدا کا اس کی نعمتوں پر شکر ادا کرتے ہور (وعلمناه صنعۃ لبوس لكم لتحصنكم من بأسكم فهل انتم شاكرون)۔ "لبوس" جیسا کہ طبرسی مرحوم "مجمع البیان" میں کہتے ہیں، ہر قسم کے دفاعی اور حملوں میں استعمال ہونے والے اسلحہ جیسے زرہ، تلوار اور نیزہ وغیرہ کوکہتے ہیں۔ (بحوالہ: مجمع البیان، زیربحث آیت کے ذیل میں) لیکن قرآن کی آیت میں جو قرائن ہیں،وہ اس کی نشاندہی کرتے ہیں کہ "لبوس"، یہاں پر زرہ کے معنی میں ہے کہ جو جنگوں میں حفاظت کے کام آتی ہے۔ لیکن یہ بات کہ خدا نے حضرت داؤد کے لیے لوہے کو اس طرح سے نرم کیا تھا اور انہیں زرہ سازی کی صنعت کس طرح سکھائی، تو اس کی تفصیل ہم انشا الله سوره سبا کی آیه10 اور 11 کے ذیل میں بیان کریں گے۔

81
21:81
وَلِسُلَيۡمَٰنَ ٱلرِّيحَ عَاصِفَةٗ تَجۡرِي بِأَمۡرِهِۦٓ إِلَى ٱلۡأَرۡضِ ٱلَّتِي بَٰرَكۡنَا فِيهَاۚ وَكُنَّا بِكُلِّ شَيۡءٍ عَٰلِمِينَ
ہم نے سلیمان کے لئے تیز ہوا کو مسخر کر دیا تھا، جو اس کے حکم سے اس سر زمین کی طرف، جسے ہم نے بابرکت بنا دیا تھا،چلتی تھی اور ہم ہر چیز سے آگاہ تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔

82
21:82
وَمِنَ ٱلشَّيَٰطِينِ مَن يَغُوصُونَ لَهُۥ وَيَعۡمَلُونَ عَمَلٗا دُونَ ذَٰلِكَۖ وَكُنَّا لَهُمۡ حَٰفِظِينَ
اور شیاطین کے ایک گروہ کو بھی ہم نے اس کے لئے مسخر فرما دیا تھا کہ وہ اس کے لئے (در یاؤں میں ) غوطے لگاتے تھے اور اسکے علاوہ دوسرے کام بھی اسکے لئے سر انجام دیتے تھے اور ہم انہیں (بغاوت اور سرکشی کرنے سے)باز رکھتے تھے۔

ہوائیں سلیمانؑ کے زیر فرمان

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

ان آیات میں بعض ان نعمات کی طرف اشارہ کیاگیا ہے کہ جو خدا نے اپنے ایک اور پیغمبر یعنی سلیمان کو عطا کی تھیں - ارشاد ہوتا ہے ہم نے تیز اور طوفان خیز ہواؤں کو سلیمان کے لیے مسخرکر دیا تھا کہ جو اس کے حکم سے اس سرزمین کی طرف چلتی تھیں کہ جسے ہم نے مبارک قرار دیا تھا : (ولسليمان الريح عاصفة تجري بامره الى الارض التي باركنا فيها) اور یہ کوئی عجیب کام نہیں ہے، کیونکہ ہم ہر چیز سے آگاہ تھے اور ہیں (وكنّا بکل شیء عالمين) ہم عالم هستی کے اسرار اور اس پر حاکم قوانین اور نظاموں سے بھی اگاہ ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ انہیں کس طرح سے زیر فرمان کیا جا سکتا ہے اور اس کام کے نتیجہ اور انجام سے بھی واقف ہیں۔ بہرحال ہر چیز ہمارے علم و قدرت کےسامنے قانع اور تابع فرمان ہے۔ "ولسليمان . . . " کا جمله: " وسخرنا مع داؤد الجبال "کے جملہ پر عطف ہے۔ یعنی ہماری قدرت ایسی ہے کہ ہم کبھی تو پہاڑیوں کو اپنے ایک بندے کے لیے مسخر کرتے ہیں تاکہ وہ اس کے ہمراہ تسبیح کریں اور کبھی ہواؤں کو اپنے کسی ایک بندے کے زیر فرمان کر دیتے ہیں تاکہ وہ اسے ہر جگہ پہنچائیں۔ "عاصفه" کا لفظ تیز ہوا یا طوفان کے معنی میں ہے جبکہ قرآن کی بعض دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ملائم اور آہستہ آہستہ چلنے والی ہوائیں بھی سلیمانؑ کے حکم کے تابع تھیں، جیسا کہ سورہ "ص" کی آیہ 36 میں ہے : فسخرنا له الريٰح تجري بأمره رخاء حيث أصاب ہم نے ہوا کو اس کے تابع فرمان کر دیا تھا کہ وہ نرمی سے آہستہ آہستہ جہان وہ چاہتا تھا اسی طرف کو چلتی تھی۔ البتہ یہاں لفظ "عاصفه" ( تیز و تند ہوا" کا استعمال ممکن ہے کہ حضرت سلیمانؑ کی اہمیت کو زیادہ واضح کرنے کے لیے ہو یعنی نہ صرف نرم و ملائم ہوائیں ان کے تابع فرمان تھیں بلکہ سخت طوفان اور آندھیاں بھی ان کی اطاعت گزار تھیں، کیونکہ دوسری بات زیادہ عجيب اورتعجب انگیز ہے۔ اور یہ ہوائیں صرف سر زمین مبارک (شام) کی راہ میں ہی ــــــ جو کہ سلیمان کا پایہ تخت تھا ـــــــ ان کے لیے مسخرنہیں تھیں، بلکہ سوره ص کی آیہ 36 کے مطابق، وہ جس طرف بھی چاہتے تھے وہ اسی طرف چلتی تھیں لھذا مبارک سرزمین کے نام کی تصریح زیاده تراس بنا پر ہے، کہ وہ حضرت سلیمانؑ کی حکومت کا دارالسلطنت اور پایہ تخت تھا۔ اب رہ گئی ہے یہ بات کہ ہوا ان کے اختیار میں کس طرح سے تھی اور کتنی سرعت اور تیزی سے چلتی تھی؟ سلیمان اور ان کے اصحاب کس چیز پر بیٹھ کر آیا جایا کرتے تھے ؟ چلتے وقت کون سا عامل انہیں گرنے یا ہوا کے دباؤ اور دوسری مشکلات سے محفوظ رکھتا تھا ؟ خلاصہ یہ ہے کہ وہ کونسی پراسرار قدرت اور طاقت تھی کہ جس نے اس زمانے میں ان کے لیے ایسے تیز رفتار سفر کو ممکن بنادیا تھا۔ ( تشریحی نوٹ : سوره سبا کی آیہ 12 " ولسليمان الريح غدوّها شهر و رواحها شهر" سے اجمالی طور پراتنا ہی معلوم ہوتا هے کہ وہ صبح کے وقت ایک ماه کی اور عصر کے وقت ایک ماہ کی مسافت طے کیا کرتے تھے (اس زمانے کی رفتار کے لحاظ سے) ) یہ ایسے مسائل ہیں کہ جن کی تفصیلات ہمیں معلوم نہیں ہم تو بس اتنا جانتے ہیں کہ یہ ایک عنایت الٰہی اوربخشش خداوندی اور غیر معمولی بات اور معجزہ تھی کہ اس عظیم پیغمبر کے اختیار میں دی گئی تھی اور ہم اس کی تفصیلات سے آگاہ نہیں ہیں اور کتنے ہی ایسے بہت سے مسائل میں کہ جن کو ہم اجمالی طور پر تو جانتے ہیں لیکن ان کی تفصیل نہیں جانتے، ہماری معلومات ان باتوں کے مقابلہ میں کہ جو ہمیں معلوم نہیں ہیں، ایک بہت بڑے سمندر کے مقابلے میں ایک قطرہ کی سی ہیں یا ایک عظیم پہاڑ کے مقابلہ میں غبار کے ایک ذرے کی مانند ہیں۔ خلاصہ یہ کہ ایک خدا پرست اور موحد انسان کی بصیرت کے لحاظ سے کوئی چیز خدا کی قدرت کے سامنے مشکل اور غیر ممکن نہیں ہے وہ ہر چیز پر قادر اور ہر چیز کا عالم ہے۔ البتہ حضرت سلیمانؑ کی زندگی کے دوسرے حیرت انگیز حصوں کی مانند ان کی زندگی کے اس حصے کے بارے میں بھی بہت سے جھوٹے یا مشکوک افسانے لکھے گئے ہیں کہ جو ہمارے نزدیک قابل قبول نہیں ہیں۔ ہم صرف اسی پر اکتفا کرتے ہیں کہ جو قرآن نے یہاں پر بیان کیا ہے۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ دور حاضر کے مصنفهین میں سے بعض کا نظریہ ہے کہ قرآن نے حضرت سلیمانؑ اور ان کی بساط کے ہوا کے ذریعے چلنے کے بارے میں کوئی بات صریحی طور پر بیان نہیں کی ہے بلکہ صرف ہوا کو سلیمانؑ کے لیے مسخر کر دینے کی بات کی ہے اور ممکن ہے کہ یہ زراعت سے مربوط مسائل نباتات میں زرپاشی و تلقیح، گندم وغیرہ کے خرمنوں کو صاف کرنے اورکشتیوں کے چلانے کے لیے ہواؤں کی طاقت سے استفادہ کرنے کی طرف اشارہ ہو۔ خاص طور سے جبکہ حضرت سلیمان کی سرزمین (شام) ایک طرف سے تو وہ زرعی زمین تھی اور دوسری طرف سے اس کا ایک اہم حصہ بحیرہ روم کے ساحل سے ملتا تھا اور جہازرانی کے لیے کام آسکتا تھا۔ (بحوالہ : قصص قرآن ص 185 - اعلام قرآن، ص 386 - ) لیکن یہ تفسیر، سوره "سبا" اور سورہ "ص" کی آیات اور بعض روایات کے ساتھ، کہ جو اس سلسلے میں وارد ہوئی ہیں، چنداں مطابقت نہیں رکھتی۔ بعد والی آیت حضرت سلیمان کے لیے ایک اور خاص عنایت کو بیان کرتی ہے : ہم نے بعض شیاطین کو اس کے لیے مسخر کر دیا تھا کہ جو اس کے لیے سمندر میں غوطے لگاتے تھے (اور جوہرات اور قیمتی چیزیں باہر نکال کر لاتے تھے) اور اس کے لیے ان کے علاوہ اور خدمت بھی انجام دیتے تھے (ومن الشياطين من يغوصون له و يعملون عملًا دون ذلك) اور ہم انہیں اس کے فرمان سے، سرکشی سے روکے رکھتے تھے (وكنا لھم حافظين)۔ اوپر والی آیت میں جو کچھ "شیاطین" کے حوالے سے بیان ہوا ہے، سورہ سبا کی آیات میں اسے "جن" کے حوالے سے بیان کیاگیا ہے (سبا 12، 13 ) سے ظاہر ہے کہ یہ دونوں "تعبیریں" ایک دوسرے کے کوئی منافی نہیں ہیں۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ "شیاطین" بھی جنوں کے ہی قبیلے سے ہوتے ہیں۔ بہرحال جیسے کہ ہم پہلے بھی اشارہ کر چکے ہیں جن مخلوقات کی ایک ایسی نوع ہے کہ جو عقل و شعور، استعداد اور جواب وہی رکھتی ہے۔ یہ مخلوق ہم انسانوں کی نظروں سے پوشیدہ ہے اوراسی وجہ سے :جن" کے نام سے موسوم ہے اور جیسا کہ سورہ جن کی آیات سے معلوم ہوتا ہے، ان کے بھی انسانوں کی طرح دو گروہ ہیں: 1- صالح مومن ؛ 2- سرکش کافر ۔اور ہمارے پاس ایسی موجودات کی نفی پر کوئی دلیل نہیں ہے اور چونکہ مخبر صادق (قرآن) نے ان کی خبردی ہے لہذا ہم انہیں قبول کرتے ہیں۔ سورہ "ص" اور سورہ سبا کی آیات اور اسی طرح زیر بحث آیت سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ جنات کا یہ گروه کہ جو حضرت سلیمان کے لیے مسخر تھا سمجھدار، فعال اور ہنرمند افراد پر مشتمل تھا۔ اور " يعملون عملا دون ذلك" ( اور اس کے علاوہ ان کے لیے اور کام بھی انجام دیتے تھے) جس چیز کی طرف اشاره ہے اس کی تقصیل سورہ سبا آیت 13 میں آئی ہے۔ يعملون له مايشاء من محاريب و تماثيل و جفان کالجواب و قدور راسيات سورہ سبا کی یہ آیت نشاندہی کرتی ہے کہ وہ اس کے لیے "محرابیں" بہت اعلی اور خوبصورت عبادت گاہیں اور ضروریات زندگی کی مختلف چیزیں بشمول دیگیں، بڑی بڑی سینیاں اور اسی قسم کی دوسری چیز یں بنایا کرتے تھے۔ حضرت سلیمان کے متعلق بعض دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ شیاطین کا ایک سرکش گروہ بھی موجود تھا، کہ جنہیں حضرت سلیمانؑ نے قید کر رکھا تھا : وأخرين مقرنين في الأصفاد (اور دوسروں کو زنجیروں میں جکڑ کے رکھا گیا تھا. (ص - 38) اور شاید : "و كنا لهم حافظين" کا جملہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہو کہ ہم نے سلیمان کے اس خدمت گار گروہ کو سرکشی سے روک رکھا تھا۔ آپ اس سلسلے میں مزید تفصیل انشاالله سورہ سبا اور سورہ ص کی تفسیر میں پڑھیں گے۔ ہم پھر یاددہانی کراتے ہیں کہ حضرت سلیمانؑ کی زندگی اور ان کے لشکر کے بارے میں بہت سے جھوٹے یا مشکوک افسانے گھڑے ہوئے ہیں کہ جنہیں ہرگز قرآن کے متن کے ساتھ مخلوط نہیں کرنا چاہیے تاکہ وه بہانہ سازوں کے لیے دستاویز نہ بن جائیں۔

83
21:83
۞وَأَيُّوبَ إِذۡ نَادَىٰ رَبَّهُۥٓ أَنِّي مَسَّنِيَ ٱلضُّرُّ وَأَنتَ أَرۡحَمُ ٱلرَّـٰحِمِينَ
اور ایوب (کویاد کرو) جبکہ اس نے اپنے پروردگار کو پکارا (اور عرض کی) بدحالی اور مشکلات نے میری طرف رخ کرلیا ہے اور تو ار حم الراحمین ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 84 کے تحت ملاحظہ کریں۔

84
21:84
فَٱسۡتَجَبۡنَا لَهُۥ فَكَشَفۡنَا مَا بِهِۦ مِن ضُرّٖۖ وَءَاتَيۡنَٰهُ أَهۡلَهُۥ وَمِثۡلَهُم مَّعَهُمۡ رَحۡمَةٗ مِّنۡ عِندِنَا وَذِكۡرَىٰ لِلۡعَٰبِدِينَ
پس ہم نے اس کی دعا قبول فرمائی اور جن آلام میں وہ مبتلا تھے انہیں ہم نے برطرف کر دیا۔اور اس کے گھر والے اسے پلٹا دئے اور انہی جیسے اسے مزید عطا فرمائے،ا پنی رحمت خاص کے طور پر تاکہ یہ عبادت گزاروں کے لئے ایک سبق بن جا ئے۔

حضرت ایوبؑ کی مشکلات سے نجات

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

یہ آیات خدا کے ایک اور عظیم پیغمبر اور ان کی سبق آموز سرگزشت کے بارے میں ہیں اور وه "ایوبؑ" ہیں۔ آپؑ وہ دسویں پیغمبرؑ ہیں جن کی زندگی کے ایک گوشہ کی طرف سوره انبیا میں اشارہ ہوا ہے۔ حضرت ایوبؑ کی داستان دردناک بھی ہے اور باوقاربھی، ان کا صبر و ضبط خصوصًا ناگوار حادثات میں عجیب و غریب تھا، اس طرح سے کہ "صبر ایوب" ایک ضرب المثل بن گیا۔ لیکن زیر بحث آیات میں، خاص طور سے مشکلات سے ان کی نجات اور کامیابی کا ذکر ہے اور کھوئی ہوئی نعمتیں دوبارہ حاصل ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا، تاکہ یہ ہر زمانے میں، تمام مومنین کے لیے کہ جو مشکلات میں گھر جاتے ہیں ایک سبق بن جاۓ خصوصًا یہ مکہ کےمومنین کے لیے ایک سبق تھا کہ جو ان آیات کے نزول کے وقت دشمن کے تنگ گھیرے میں تھے۔ فرمایا گیا هے : ایوبؑ کو یاد کرو کہ جس وقت اس نے اپنے پروردگار کو پکارا اور عرض کیا کہ دکھ، درد اور بیماری نے میری طرف رخ کرلیا ہے اور تو ارحم الراحمین ہے ( وایّوب اذ نادٰى ربّه انّي مسّنی الضرّ وانت ارحم الراحمين) "ضر" (برورزن "حر") ہر قسم کی بیماری اور پریشانی کو کہتے ہیں کہ جو انسان کی روح اور جسم کو عارض ہو اور اسی طرح سے یہ لفظ کسی عضو کا نقص، مال کا تلفت ہو جانا، عزیزوں کی موت، حیثیت و مقام کی پامالی اور اسی طرح کی دوسری باتوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ جیسا کہ ہم بعد میں بتائیں گے کہ ایوبؑ ان میں سے بہت سی تکالیف اور پریشانیوں میں مبتلا ہوئے تھے۔ ایوبؑ نے بھی دوسرے تمام انبیاء کی طرح ان طاقت فرسا مشکلات سے دور ہونے کے لیے دعا کرتے وقت بارگاہ الٰہی میں انتہائی ادب کو ملحوظ رکھا ۔ یہاں تک کہ زبان سے کوئی ایسی بات نہیں نکالی کہ جس سے شکایت کی بو آتی ہو ۔ صرف اتنا کہا : میں کچھ مشکلات میں گرفتار ہوگیا ہوں اور تو ارحم الراحمین ہے، یہاں تک کہ یہ بھی نہیں کہا کہ میری مشکل کو دور کر دے کیونکہ جانتے ہیں کہ وه بزرگ و برتر ہے اور بزرگی کے تقاضوں کو جانتا ہے۔ اگلی آیت کہتی ہے : ایوب کی اس دعا کے بعد ہم نے اس کی دعا کو قبول کرلیا اور اس کے رنج، دکھ اور پریشانی کو برطرف کر دی : ( فاستجبنا له فكشفنا ما به من ضرّ)۔ اور اس کے خاندان والے اسے پلٹا دیئے اور ان کے ساتھ ان ہی جیسے مزید بھی عطا کیے (وآتيناه أهله ومثلهم معهم)۔ تاکہ یہ ہماری طرف سے ان کے لیے رحمت خاص ہو اور یہ خدا کی عبادت کرنے والوں کے لیے بھی ایک سبق ہو (رحمة من عندنا وذكرىٰ للعابدین)۔ تاکہ مسلمان یہ جان لیں کہ مشکلات چاہے جتنی بھی ہوں اور مصیبتیں چاہے جس قدر ہوں، دشمن بھی چاہے جتنے بھی پھیلے ہوئے ہوں، اور وہ (دشمن) چاہے جتنی بھی طاقت و قدرت رکھتے ہوں، پھر بھی پروردگار کے تھوڑے سے لطف وکرم سے یہ سب کچھ برطرف ہونے والی چیزیں ہیں، نہ صرف نقصانات کی تلافی ہو جاتی ہے، بلکہ بعض اوقات خدا بااستقامت صبر کرنے والوں کی جزا کے عنوان سے جو کچھ ان کے ہاتھ سے گیا ہوا ہوتا ہے اتنا ہی اور مزید اسی پراضافہ کر دیتا ہے اور یہ تمام مسلمانوں کے لیے ایک درس ہے ۔ خصوصًا ان مسلمانوں کے لیے جو ان آیات کے نزول کے وقت دشمن کے سخت دباؤ اور بہت زیادہ مشکلات میں گھرے ہوئے تھے۔

چند نکات: 1- حضرت ایوبؑ کی مختصر داستان

ایک حدیث میں امام صادق علیه السلام سے منقول ہے: کسی شخص نے آپ سے پوچھا، کہ جو مصیبت ایوبؑ کو دامنگیر ہوئی تھی وہ کس لیے تھی؟ امام صادق علیه السلام نے اس کے جواب میں جو کچھ فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے: ایوبؑ پر جو مصیبت آئی اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ انہوں نے کوئی کفران نعمت کیا تھا۔ بلکہ اس کے برعکس شکر نعمت کی وجہ سے تھی، کیونکہ ابلیس نے ان پر حسد کیا اور بارگاہ خدا میں عرض کی کہ اگر وہ تیری نعمتوں کا اتنا شکر ادا کرتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ تونے اسے بڑی خوشحال زندگی دی ہے اگر تو اس سے دنیا کی مادی نعمات کو چھین لے تو پھروہ ہرگز تیرا شکر ادا نہیں کرے گا۔ تو مجھے اس کی دنیا پرمسلط کردے تو پتہ چل جائے گا کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں وہ درست ہے۔ خدا نے اس مقصد سے، کہ یہ قصہ راہ حق کے تمام راہیوں کے لیے ایک سند بن جائے، شیطان کو اس بات کی اجازت دے دی وہ اپنے کام میں مشغول ہوگیا اور ایوب کے مال و اولاد کو یکے بعد دیگرے ختم کرتا چلاگیا، لیکن ان دردناک حادثات نے نہ صرف یہ کہ شکر ایوبؑ میں کوئی کمی نہ کی، بلکہ ان کا شکر اور بھی بڑھتا گیا ۔ شیطان نے خدا سے درخواست کی کہ اسے ان کی زراعت اور بھیڑوں پرمسلط کر دے ۔ یہ اجازت بھی اسے دے دی گئی اور اس نے ساری زراعت کو آگ لگا دی اور ساری بھیڑوں کو بلاک کر دیا ۔ پھر بھی ایوب کی طرف سے حمد پروردگار اور شکر میں اضافہ ہی ہوتا چلاگیا۔ آخر شیطان نے خدا سے یہ درخواست کی کہ وہ ایوب کے بدن پر مسلط ہو جائے اور ان کیلئے شدید بیماری کا سبب بنے اور ایسا بھی ہو گیا۔ اس طرح سے کہ وہ شدت بیماری اور زخموں کی وجہ سے چلنے پھرنے اور حرکت کرنے سے بھی مجبور ہوگئے۔ البتہ ان کی عقل و شعور میں کسی قسم کا کوئی خلل پیدا نہ ہوا۔ خلاصہ یہ کہ تمام نعمتیں یکے بعد دیگے ایوبؑ سے لی جارہی تھیں لیکن ان کا شکر بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ یہاں تک کہ کچھ راہب انہیں دیکھنے کے لیے آئے اور انہوں نے پوچھا : ہمیں بتا تو سہی ! کہ تونے کون سا بڑا گناہ کیا ہے کہ ایسی مصیبت میں مبتلا ہوگیا ہے؟ (اور اس طرح سے ہر کہ دمہ کی شماتت کا آغاز ہو گیا اور یہ امر ایوب پر گراں گزرا) ایوب نے جواب دیا : مجھے اپنے پروردگار کی عزت کی قسم ہے کہ میں نے کسی غذا کا کوئی ایک لقمہ بھی اس وقت تک نہیں کھایا، جب تک کہ کوئی یتیم و ضعیف میرے دسترخوان پرنہ بیٹھا ہو اور خدا کی کوئی اطاعت سامنے نہیں آئی، مگر یہ کہ میں نے اس میں سے سخت ترین کو اختیار کیا۔ یہ وہ موقع تھا جب ایوبؑ تمام امتحانات سے صبر و شکر کے ساتھ عہدہ برا ہو چکے تھے تو زبان مناجات اور دعا کے لیے کھولی اور خدا سے اپنی مشکلات کا حل انتہائی مودبانہ طریقے سے چاہا۔ لہجہ ہر قسم کی شکایت سے خالی تھا وہی دعا جو مذکوره بالا آیات میں ابھی گزری ہے:"رب اني مسني الضر وانت ارحم الراحمين" اس موقع پر خدا کی رحمت کے دروازے کھل گئے، مشکلات بڑی تیزی کے ساتھ برطرف ہو گئیں اور نعمات الٰہی نے ان سے بھی کہیں زیادہ کہ جو پہلے ان کے پاس تھیں ان کی طرف رخ کرلیا۔ (بحوالہ : تفسیر المیزان، بحوالہ تفسیر قمی ) ہاں ! ہاں! جو مردان حق ہوتے ہیں، نعمتوں کے دگرگوں ہونے سے ان کے افکار اور طرز عمل نہیں بدلتے۔ وہ راحت و آرام میں ہوں یا مصیبت میں، آزاد ہوں یا قید میں، صحیح سلامت ہوں یا بیمار، طاقت و قدرت کی حالت میں ہوں یا ضیعف و کمزوری میں خلاصہ یہ ہے کہ وہ ہرحال میں پروردگار کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور زندگی کے تغیرات اور انقلابات ان میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کرتے۔ ان کی روح ایک عظیم سمندر کی مانند ہے کہ جس کے آرام و سکون کو کسی قسم کے طوفان درہم برہم نہیں کر سکتے۔ اسی طرح وہ ہرگز تلخ حوادث کی کثرت سے مایوس نہیں ہوتے، وہ ڈٹ جاتے ہیں اور استقامت دکھاتے ہیں۔ یہاں تک کہ خدا کی رحمت کے دروانے کھل جائیں وہ جانتے ہیں کہ سخت حوادث خدائی آزمائشیں ہیں کہ جن کے ذریعے وہ کبھی کبھی اپنے خاص بندوں کو آزماتا ہے تاکہ انہیں اور زیادہ جلا بخشے۔

2- آتيناه أهله و مثلهم معهم" کی تفسیر

مفسرین کے درمیان مشہور ہے کہ خدا نے ان کے بیٹوں کو پھر سے زندگی عطا کر دی تھی اور ان کے علاوہ اور بیٹے بھی انہیں دیئے تھے (بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ خدا نے ان بیٹوں کو بھی کہ جو اس واقعے میں مرے تھے، انہیں مرحمت فرمایا اور ان بیٹوں کو بھی زندہ کر دیا جو اس واقعے سے پہلے مرچکے تھے۔ ( بحوالہ : نورالثقلین، ج 3 ص )448 ) بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ خدا نے حضرت ایوبؑ کونئے بیٹے اور پوتے عنایت کیے کہ جہنوں نے مرجانے والوں کی خالی جگہ کو پُر کر دیا۔ بعض غیر معتبر روایات میں بیان کیاگیا ہے کہ حضرت ایوبؑ کے بدن میں شدید بیماری کے زیر اثر اس طرح بدبو پیدا ہوگئی تھی کہ لوگ ان کے قریب نہیں آسکتے تھے لیکن اہل بیتؑ کی طرف سے بیان کی گئی روایات میں اس بات کی نفی کی گئی ہے اور دلیل عقلی بھی اسی مطلب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اگر پیغمبر میں کوئی نفرت انگیز حالت یا صفت ہوگی، تو یہ بات اس کی رسالت کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو سکتی ۔ پیغمبر کو تو ایسا ہونا چاہیے کہ تمام لوگ اس سے میل ملاپ رکھ سکیں اور کلمات حق کو اس سے سن سکیں۔ پیغمبر میں ہمیشہ قوت جذب و کشش ہوتی ہے۔ حضرت ایوب کی داستان کی تفصیل انشااللہ سورہ ص کی آیہ 41 تا 44 میں بیان ہوگی۔

85
21:85
وَإِسۡمَٰعِيلَ وَإِدۡرِيسَ وَذَا ٱلۡكِفۡلِۖ كُلّٞ مِّنَ ٱلصَّـٰبِرِينَ
اور اسماعیل، ادریس اور ذالکفل (کو یاد کرو) کہ وہ سب صابرین میں سے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 86 کے تحت ملاحظہ کریں۔

86
21:86
وَأَدۡخَلۡنَٰهُمۡ فِي رَحۡمَتِنَآۖ إِنَّهُم مِّنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ
اور ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل فرمایا، کیونکہ وہ صالحین میں سے تھے۔

اسماعیلؑ ادریسؑ اور ذا الکفلؑ

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

ایوب کی سبق آموز سرگزشت اور طوفان حوادث کے مقابلہ میں ان کے صبرو ضبط کو بیان کرنے کے بعد، زیر بحث آیات میں خدا کے تین دوسرے پیغمبروں کے مقام صبروشکیبائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے : اسمعيل ادریسؑ اور ذاالکفلؑ کو یاد کرو، وہ سب کے سب صابرین میں سے تھے . ( واسماعيل وادریس و ذا الكفل كل من الصابرين) ان میں سے ہرایک نے دشمنوں کے مقابلہ میں یا زندگی کی طاقت فرسا مشکلات کے سامنے صبرواستقامت دکھائی ہے اور انہوں نے ان حوادث کے سامنے ہرگز گھٹنے نہیں ٹیکے ۔ ان میں سے ہرایک استقامت اور پامردی کا ایک نمونہ تھا۔ اس کے بعد اس صبر و استقامت پر ان کے لیے خدا کے عظیم انعام کا ذکر ہے : ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کرلیا کیونکہ وہ صالحین میں سے تھے ۔ (وادخلنا هم فی رحمتنا انهم من الصالحين)- یہ بات قابل توجہ ہے کہ یہ نہیں کہا کہ ہم نے انہیں اپنی رحمت عطا کی بلکہ یہ ہے کہ ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کیا گویا وہ اپنے پورے جسم وجان کے ساتھ رحمت الٰہی میں غوطہ زن ہوئے، جیسے کہ وہ پہلے مشکلات کے دریا میں غرق تھے۔

ادریسؑ اور ذا الکفلؑ

ادریس خدا کے بزرگ پیغمبر تھے ۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں کہ بہت سے مفسرین کے مطابق وہ حضرت نوحؑ کے والد کے وادا تھے۔ ان کا نام تورات میں اخنوخ اور عربی میں "ادریس" ہے کہ جسے بعض "درس" کے مادہ سے ماخوذ سمجھتے ہیں کیونکہ وہ پہلے شخص تھے کہ جنہوں نے قلم کے ساتھ لکھنا شروع کیا ۔ وہ مقام نبوت کے علاوہ علم نجوم اور علم ہیت پر بھی دسترس رکھتے تھے اور کہتے ہیں کہ وہ پہلے شخص ہیں کہ جنہوں نے لباس سینے کا طریقہ انسانوں کو سکھایا تھا۔ باقی رہے ذوالکفلؑ، تو مشہور یہ ہے کہ وہ انبیاء میں سے تھے۔ بحوالہ : تفسیر کبیر فخررازی زیر بحث آیہ کے ذیل میں )اگر بعض کا نظریہ، یہ ہے کہ وہ ایک صالح اور نیک انسان تھے۔ قرآن کی آیات کا ظاہری مفہوم بھی یہی ہے کہ وہ نبی تھے کیونکہ انہیں بزرگ انبیاء کے ساتھ شمار کیاگیا ہے اور زیادہ تر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وه انبیا بنی اسرائیل میں سے تھے۔ (بحوالہ : تفسیر فی ظلال، جلد 5 ص 556 ) اس نام کے ساتھ ان کو موسوم کرنے کی علت کے بارے میں متعدد احتمالات پیش کیے گئے ہیں البتہ اس بات کی طرف توجہ رہے کہ "کفل" (بروزن "فکر") حق کے معنی میں بھی ہے، اور کفالت کے معنی میں بھی آیا ہے ـــــ بعض تو یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے بکثرت عبادات کیں اور اعمال انجام دیئے اس پر اللہ نے اپنی رحمت اور ثواب کا وافرحصہ، انہیں مرحمت فرمایا تھا لہذا وہ ذوالکفل کے نام سے موسوم ہوئے(یعنی وافر حصے والے) بعض نے کہا ہے کہ چونکہ انہوں نے یہ عہد کیا ہوا تھا کہ وہ راتیں عبادت میں کھڑے سے ہوکر گزاریں گے اور دن میں روزہ رکھا کریں گے اور فیصلہ کرتے وقت ہرگز غصے میں نہ آئیں گے اور انہوں نے آخرتک اپنے اس عہد کو پورا کیا لہذا ذوالکفل نام ہو گیا۔ بعض یہ نظر یہ بھی رکھتے ہیں کہ ذوالكفل حضرت الیاسؑ کا لقب ہے، جیسا کہ اسرائیلؑ حضرت یعقوبؑ کا لقب ہے، مسیح حضرت عیسٰی کا لقب ہےاور ذا النون حضرت یونسؑ کا لقب ہے۔ ( تشریحی نوٹ :تفسیر فخر رازی زیر بحث آیہ کے ذیل میں اور تاریخ کامل میں بھی یہی لکھا ہے کہ ذوالکفل حضرت ایوبؑ کے ایک بیٹے تھے اور ان کا اصلی نام "بشر"تھا اور وہ شام میں رہتے تھے۔ کامل ابن اثیر ج 1 ص 136-)

87
21:87
وَذَا ٱلنُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَٰضِبٗا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقۡدِرَ عَلَيۡهِ فَنَادَىٰ فِي ٱلظُّلُمَٰتِ أَن لَّآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنتَ سُبۡحَٰنَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
اور ذوالنون (یونس کو بھی یادکرو) جب وہ غصے میں آکر (اپنی قوم کے در میان سے) چلا گیا اور اس کا خیال تھا کہ ہم اس پر کوئی گرفت نہیں کریں گے۔ (لیکن جب وہ مچھلی کے منہ میں چلا گیا) تو وہ اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں پکارا:خداوند ا! تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے،تو پاک ومنزہ ہے،میں ہی قصور وار تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 88 کے تحت ملاحظہ کریں۔

88
21:88
فَٱسۡتَجَبۡنَا لَهُۥ وَنَجَّيۡنَٰهُ مِنَ ٱلۡغَمِّۚ وَكَذَٰلِكَ نُـۨجِي ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
ہم نے اس کی دعا کو قبول فرمایا اور اسے رنج وغم سے نجات بخشی اور ہم مومنین کو اسی طرح سے نجات عطا فرماتے ہیں۔

یونس کی وحشتناک زندان سے رہائی

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

یہ دونوں آیات عظیم پیغمبر یونسؑ کی سرگزشت کا ایک حصہ بیان کر رہی ہیں۔ پہلے فرمایا گیا ہے: "و ذالنون" کو یاد کرو جبکہ وہ اپنی بُت پرست اور نافرمان قوم سےناراض ہو کر چلے گئے (و ذالنون اذ ذھب مغاضبا) "نون" لغت میں بہت بڑی مچھلی یا مگر مچھ یا ایک بہت بڑے دریائی جانور کے معنی میں ہے۔ اس بنا پر "ذوالنون" کا معنی ہے مچھلے والا )یا مگرمچھ والا(۔ حضرت یونسؑ کی "ذوالنون" کیوں کہا گیا ہے؟ اس سلسے میں ایک واقہ ہے جس کی تفصیل ہم ان شاء اللہ بیان کریں گے: بہرحال، اس نے یہ گمان کر لیا تھا کہ ہم اُس پر کوئی گرفت نہیں کریں گے: (فظن ان لن نقدر علیہ) ]تشریحی نوٹ: "نقدر"، "قدر" کے مادہ سے سخت گیری اور تنگی دینے کے معنی میں ہے۔ چونکہ انسان سخت گیری کرتے وقت ہر چیز کو "قدر" کے ساتھ محدود سمجھتا ہے، نہ کہ کھلا ہوا اور بے حساب]۔ ان کا یہ خیال تھا کہ انہوں نے اپنی نافرمان قوم میں اپنی رسالت کا کام پوری طرح انجام دے دیا ہے اور س بارے میں انہوں نے کوئی ترک اولیٰ تک بھی نہیں کیا۔ اور اب جبکہ قوم کو اس کی حالت پر چھوڑ کر جا رہے ہیں تو اِس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ حالانکہ بہتر یہ تھا کہ وہ ان لوگوں میں رہتے۔۔۔ اور صبر و استقامت کا مظاہری کرتے اور خونِ جگر پیتے۔ اس اُمید پر کہ شاید وہ بیدار ہو جائیں اور خدا کی طرف رجوع کر لیں۔ آخر کار اسی ترکِ اولیٰ کی وجہ سے انہیں سختی کا منہ دیکھنا پڑا، ایک بہت بڑے مگرمچھ نے انہیں نگل لیا: "اور انہوں نے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں پکارا: خداوندا تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے، )فنادی فی الظلمات ان لا الہ الا انت(۔ "خداوندا تو پاک اور منزہ ہے، میں ہی ستمگاروں میں سے تھا۔" (سبحانک انی کنت من الظالمین)۔ میں نے خود اپنے اُوپر بھی ظلم کیا ہے اور اپنی قوم کے اوپر بھی۔ مجھے چاہیے تھا کہ میں اِس سے بھی زیادہ شدائد اور سختیوں کو برداشت کرتا اور تمام مصیبتوں کو جھیلتا، شاید وہ راہِ راست پر آ جاتے۔ بالآخر ہم نے اس کی دا قبول کر لی اور غم سے اُسے رہائی بخشی (فاستجبنا لہ و نجیناہ من الغمّ)۔ اس طرح ہم مومنین کو نجات دیں گے ( وکذلک ننجی المومنین)۔ ہاں، ہاں! ہم مومنین میں سے جو بھی بارگاہ خداوندی میں اپنی کوتاہی اور تقصیر پر توبہ کرے گا اور اس کی ذاتِ پاک سے مدد اور رحمت طلب کرے گا تو ہم اس کی دعا قبول کر کے اس کے غم و اندوہ برطرف کر دیں گے۔

چند اہم نکات 1- یونسؑ کی سرگزشت

انشااللہ تفصیل کے ساتھ تو حضرت یونسؑ کی سرگزشت سورة صافات میں آئے گی لیکن اس کا خلاصہ یہ ہے کہ۔ : وہ سالہا سال تک اپنی قوم کے درمیان (عراق کی سرزمین نینوا میں) دعوت و تبلیغ میں مشغول رہے۔ لیکن انہوں نے جتنی کوشش کی، ان کے ارشادات اور ہدایت کا ان کے دلوں پر کوئی اثر نہ ہوا ۔ تو آپ نے ان سے خفا ہو کر اس جگہ کو چھوڑ دیا اور دریا کی طرف چلے گئے . وہاں کشتی پر سوار ہوگئے۔ راستے میں دریا میں طوفان آگیا اور سب اہل کشتی کے غرق ہونے میں کوئی کسر باقی نہیں رہ گئی۔ کشتی کے ملاح نے کہا، میرا خیال یہ ہے کہ تم میں سے کوئی بھاگا ہوا غلام موجود ہے کہ جسے دریا میں پھینک دینا چاہیئے ۔ (یا اس نے یہ کہا کہ کشتی زیادہ بوجھل ہے لہذا ہم ایک شخص کو قرعہ کے ذریعے دریا میں پھینک دیں )بہرحال انہوں نے چند بار قرعہ ڈالا اور ہر دفعہ حضرت یونسؑ کا نام نکلا - یونسؑ سمجھ گئے کہ اس کام میں کوئی راز پوشیدہ ہے اور خود کو حوادث کے سپرد کر دیا۔ جس وقت انہیں دریا میں پھینکا گیا تو ایک مگرمچھ نے نگل لیا لیکن خدا نے انہیں معجزانہ طور پر زندہ رکھا۔ آخرکار وہ متوجہ ہوئے کہ ان سے ترک اولٰی ہوگیا ہے۔ لہذا بارگاہ خدا کا رخ کیا اور اپنی تقصیر اور کوتاہی کا اعتراف کیا۔ خدا نے بھی ان کی دعا کو قبول کرلیا اور اس تنگ و تاریک جگہ سے انہیں نجات دی۔ (بحوالہ : تفسیر فخررازی، مجمع البیان اور نورالثقلین زیر بحث آیہ کے ذیل میں)۔ ممکن ہے یہ خیال کیا جائے کہ یہ واقعہ سائنسی لحاظ سے ممکن نہیں ہے لیکن بلا شک وشبہ یہ ایک خلاف معمول واقعہ ہے نہ کہ ایک محال عقلی - جیسا کہ مردوں کا زندہ ہو جانا کہ جو نہ صرف خلاف معمول ہے لیکن محال نہیں ہے ۔ دوسرے لفظوں میں عام اور مروجہ طریقے سے اس کا انجام پانا ممکن نہیں ہے لیکن پروردگار کی بے پایاں اور لامحدود قدرت کی مدد سے کوئی مشکل نہیں رہتی۔ اس کی مزید تفصیل انشااللہ آپ سوره صافات کی تفسیر میں پڑھیں گے۔

2- یہاں ظلمات کے کیا معنی ہیں

ممکن ہے کہ یہ تعبیر دریا اور پانی کی گہرائیوں کی تاریکی اور اس بہت بڑی مچھلی کے پیٹ کی تاریکی اور رات کی تاریکی کی طرف اشارہ ہو اور ایک روایت کہ جو امام باقرعلیہ اسلام سے نقل ہوئی ہے، وہ بھی اس کی تائید کرتی ہے ۔( بحوالہ : نورالثقلین ج 4 ص 336)

3- یونسؑ نے کون سا ترک اولٰی کیا تھا

بلا شک وشبہ "مغاضبًا" کی تعبیر یونسؑ کے بے ایمان قوم سے ناراض ہونے کی طرف اشارہ ہے اور اس قسم کا غصہ اور ناراضی ۔۔۔۔ایسے حالات میں،کہ ایک غمگسار و دلسوز پیغمبر سالہا سال تک گمراہ قوم کو ہدایت کرنے کی مشقت اٹھاتا رہے لیکن وہ اس کی ہمدردانہ اور خیر خواہانہ دعوت کا ہرگز مثبت جواب نہ دیں ـــــ کاملا طبعی اور فطری بات ہے۔ دوسری طرف چونکہ حضرت یونسؑ جانتے تھے کہ عنقریب عذاب الٰہی انہیں آلے گا ۔ اس لیے اس شہر کو چھوڑ دینا کوئی گناہ نہیں تھا لیکن یونسؑ جیسے عظیم پیغمبر کے لیے بہتر یہ تھا کہ پھر بھی آخری لمحے تک ــــ وہ لمحہ کہ جس کے بعد عذاب الٰہى نازل ہو جائے گا ـــــــــ انہیں نہ چھوڑتے اسی بنا پر حضرت یونسؑ کا نسبتًا عاجلانہ فیصلہ ترک اولٰی شمار ہوا اور خدا کی طرف سے اس پر مواخذہ کیا گیا۔ یہ وہی چیز ہے کہ جس کی طرف ہم نے داستان آدمؑ میں بھی اشارہ کیا ہے کہ یہ مطلق گناہ نہیں ہے، بلکہ نسبتی گناہ ہے یا دوسرے لفظوں میں "حسنات الابرار سيئات المقربين" کے مصداق ہے۔ مزید وضاحت کے لیے تفسيرنمونہ کی جلد 4 ص 97 (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع کریں۔

4- کردار ساز سبق

"كذلك ننجي المؤمنین" کا پرمعني جملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ گرفت اور نجات کے سلسلہ میں جو کچھ حضرت یونس پر گزری، یہ کوئی ایک خصوصی فیصلہ نہیں تھا۔ بلکہ سلسلہ مراتب کو محفوظ رکھتے ہوئے سب کے لیے ایک عمومی پہلو رکھتا ہے۔ بہت سے غم انگیز حوادث اور سخت مشکلات، خود ہمارے گناہوں کی پیدا کردہ ہوتی ہیں۔ یہ خوابیده روحوں کو بیدار کرنے کے لئے ایک تازیانہ ہوتی ہیں یا نفس انسانی کی دھات کو صاف کرنے کے لیے ایک کٹھالی کی مانند ہوتی ہیں . ایسے موقع پر انسان ان تین نکات کی طرف توجہ کرے تو نجات ملتی ہے کہ جن کی طرف یونس نے توجہ کی تھی : 1- حقیقت توحید کی طرف توجہ اور یہ کہ کوئی معبود اور کوئی سہارا اور پناہ گاہ اللہ کے سوا نہیں ہے۔ 2- خدا کو ہر نقص و ظلم سے پاک و منزہ سمجھنا اور اس کی ذات پاک کے بارے میں کسی طرح کی بدگمانی نہ کرنا۔ 3- اپنے گناہ کا اعتراف کرنا۔ اس بات کی گواہ وہ حدیث ہے کہ جو تفسیر درالمنشور میں پیغمبر اسلامؐ سے نقل ہوئی ہے کہ آپ نے فرمایا : خدا کے ناموں میں سے ایک نام کہ جس کے ساتھ جو بھی خدا کو پکارےاس کی دعا قبول ہوگی، اور جس وقت اس کے ذریعے خدا سے کوئی چیز طلب کرے تو خدا اسے عطا کرے گا۔ وہ یونس کی دعا ہے۔ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہؐ ! کیا وہ یونسؑ کے لیے مخصوص تھی یا مسلمان بھی اس میں شامل ہیں؟ آپ نے فرمایا : یہ یونسؑ کے ساتھ بھی مربوط تھی اور تمام مومنین سے بھی مربوط ہے، جب کہ وہ خدا کو پکارتے ہیں: "کیا تونے قرآن میں خدا کی گفتگو نہیں سنی: ""وكذلك ننجی المؤمنین" یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص اس طرح سے دعاکرے خدا نے اس کو قبول کرنے کی ضمانت دے دی ہے۔ ( بحوالہ : تفسیر درّ المنثور، المیزان کی نقل کے مطابق زیر بحث آیت کے ذیل میں المیزان میں زیر بحث آیت کے ذیل میں یہ روایت تفسیر درالمنثور کے حوالے سے لکھی گئی ہے)۔ یہ بات یاد دلانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس سے مراد صرف الفاظ کا پڑھنا ہی نہیں ہے بلکہ اس کی حقیقت کا نفس انسان میں نقش ہو جانا ہے۔ یعنی ان الفاظ سے پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کا تمام وجود اس کے مفہوم کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائے۔ اس نکتے کی یاد دہانی بھی ضروری ہے کہ خدا کی سزائیں اور عذاب دوقسم کے ہوتے ہیں، ان میں سے ایک تو عذاب استیصال ہے۔ یعنی آخری عذاب کہ جو ناقابل اصلاح لوگوں کی تباہی اور نابودی کے لیے آتا ہےکہ جس میں کوئی دعا فائدہ مند نہیں ہوتی کیونکہ طوفان بلا کے اتر بجانے کے بعد پھر وہی پر عمل شروع ہو جاتا هے۔ دوسری قسم کی سزائیں اور عذاب تنبیہی ہوتے ہیں کہ جو تربیتی پہلو رکھتے ہیں۔ ایسے موقعوں پر جونہی سزا کا اثر نمایاں ہونے لگتا ہے اور جن کو تنبیہہ کے طور پر سزا دی جا رہی ہے وہ بیدار اور متوجہ ہو جاتا ہے، تو بلا فاصلہ عذاب اور سزاٹل جاتی ہے۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ آفات و بلیات اور نا گوار حوادث کا ایک مقصد بیدار کرنا اور تربیت دینا ہے۔ حضرت یونس کا واقعہ راہ حق کے تمام رہبروں کومختلف حدود میں اس بات کی تنبیہہ کر رہا ہے کہ وہ کبھی پیغام رسانی کی اپنی ذمہ داری کو ختم نہ سمجھیں اور اس راستے میں سعی و کوشش کو کم شمار کریں کیونکہ ان کی مسئولیت اور ذمہ داری بڑی سنگین ہے۔

89
21:89
وَزَكَرِيَّآ إِذۡ نَادَىٰ رَبَّهُۥ رَبِّ لَا تَذَرۡنِي فَرۡدٗا وَأَنتَ خَيۡرُ ٱلۡوَٰرِثِينَ
اور زکریا(کو یاد کرو) کہ جب اس نے اپنے رب کو پکارا (اور عرض کیا): اے میرے پروردگار ! مجھے اکیلا نہ چھوڑ (اور مجھے ایک آبرو مند بیٹا عطا فر ما) اور بہترین وارث تو تو ہی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 90 کے تحت ملاحظہ کریں۔

90
21:90
فَٱسۡتَجَبۡنَا لَهُۥ وَوَهَبۡنَا لَهُۥ يَحۡيَىٰ وَأَصۡلَحۡنَا لَهُۥ زَوۡجَهُۥٓۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ يُسَٰرِعُونَ فِي ٱلۡخَيۡرَٰتِ وَيَدۡعُونَنَا رَغَبٗا وَرَهَبٗاۖ وَكَانُواْ لَنَا خَٰشِعِينَ
پس ہم نے اس (زکریا)کی دعا قبول کرلی اور اسے یحییٰ سا بیٹا عطافرمایا اور ہم نے اس کے لئے اس کی بیوی میں صلاحیت پیدا کردی ـ،کیونکہ وہ لوگ نیکیوں میں جلدی کرتے تھے اور(رحمت کے) شوق اور(عذاب کے) خوف کیساتھ ہمیں پکارتے اور وہ (ادب اور مسٔو لیت کے احساس سے) ہمارے حضورگڑ گڑایا کرتے تھے۔

زکریاؑ تنہا نہ رہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

یہ دونوں آیتیں خدا کے دو اور بزرگ پیغمبروں حضرت زکریا اور حضرت یحیٰی کی زندگی کا ایک گوشہ بیان کر رہی ہیں۔ پہلے فرمایا گیا ہے : زکریا کو یاد کرو جب اس نے اپنے رب کو پکارا اور عرض کیا : پروردگارا ! مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور توسب وارثوں سے بہتر ہے، (و زكريا اذ نادى ربه رب لاتذرني فردًا وانت خير الوارثین)۔ زکریا کی عمر کے سالہا سال گزر گئے وہ بہت بوڑھے ہو گئے لیکن ابھی تک ان کے کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی اور دوسری طرف ان کی بیوی بانجھ تھی اور اب بچہ جننے کے قابل نہ تھی۔ انہیں ایک ایسے بیٹے کی تمنا تھی کہ جو ان کے خدائی پروگراموں کو چلائے تاکہ ان کے تبلیغی کام ادھورے نہ رہ جائیں اوران کے بعد موقع کی تاڑ میں رہنے والے بنی اسرائیل ان کے عبادت خانہ اوراس کے اموال و ہدایا پر قابض نہ ہو جائیں ـــــ کیونکہ انہیں راہ خدا میں صرف ہونا چاہیئے ۔ ایسے وقت میں آپؑ نے خلوص دل کے ساتھ، بارگاہ خداوندی کی طرف رجوع کیا اور ایک صالح بیٹے کے لیے دعا کی آپ نے انتہائى ادب کے ساتھ خدا کو پکارا ۔ آپ نے لفظ " رب سے دعا شروع کی ۔ وہی ادب کہ جس کا لطف و کرم زندگی کے اولین لمحے سے انسان کے ساتھ ہوتا ہے . اس کے بعد "لاتذرنی" کی تعبیر آئی ہے ۔ یہ لفظ "وذر" (بروزن" مرز") کے مادہ سے، کسی چیز کو معمولی اورکم سمجھ کر بے اعتنائی کی وجہ سے چھوڑنے اور ترک کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ اس لفظ سے حضرت زکریا نے اس حقیقت کا اظہار کیا کہ اگر میں تنہا رہ گیا تو فراموش ہو جاؤں گا۔ نہ صرف میں بلکہ میرے پروگرام بھی بھلا دیئے جائیں گے اور آخر میں "وانت خيرالوارثین" کے جملہ سے اس حقیقت کو بیان کیا کہ میں جانتا ہوں کہ یہ دنیا دار بقا نہیں ہے اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تو بہترین وارث ہے لیکن عالم اسباب کے لحاظ سے کسی سبب کی تلاش میں ہوں کہ جو میرے ہدف اور مقصد کی طرف رہنمائی کرے۔ خدا نے حقیقت عشق سےسرشار اور پرخلوص یہ دعا قبول کرلی اور ان کی خواہش پوری کر دی ۔ جیسا کہ فرمایا گیا ہے : ہم نے اس کی دعا قبول کرلی اور اسے یحیٰی سا بیٹا عطا فرمایا: (فاستجبنا له ووهبنا له یحیٰی)۔ اور اس مقصود تک پہنچنے کے لیے اس کی بانجھ بیوی کو درست کر دیا اور اس میں بچے کی پیدائش کی صلاحیت پیدا کر دی : (واصلحنا له زوجه)۔ اس کے بعد اس گھرانے کی تین عمدہ صفات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : وہ لوگ نیک کاموں کی انجام دہی میں جلدی کرتے تھے (انھم كانوا يسارعون في الخيرات)۔ وہ اطاعت سے عشق اور گناہوں سے وحشت کے ساتھ ہر حالت میں ہمیں پکارتے تھے (ویدعوننا رغبا ورھبا)۔ ( تشریحی نوٹ : "رغبا" "رغبت" میلان اور لگاؤ کے معنی میں ہے اور "رهبا" خوف نفرت اور بیزاری کے معنی میں ہے اور یہ بات کہ یہ اعراب کے لحاظ سے ان کا محل استعمال کیاہے ۔ تو متعدد احتمالات ہیں۔ لیکن ہے حال ہو، یا مفعول مطلق ہو یا ظرفیت کا معنی رکھتا ہو" في حال الرغبة و في حال الرهبة" اگرچہ نتیجہ ان پانچوں احتمالات کا مختلف ہے لیکن یہ فرق آیت کے مفهوم کے جزئیات میں ہے، اس کی اساس اور نتیجہ میں نہیں ہے۔) وہ ہمیشہ ہمارے سامنے (ادب و احترام اور احساس مسئولیت کے ساتھ) گڑ گڑایا کرتے تھے، (وكانوا لنا خاشعين)۔ ان تینوں صفات کا ذکر ممکن ہے کہ اس بات کی طرف اشارہ ہوکہ انہیں جس وقت کوئی نعمت ملتی ہے تو وہ کم ظرف اورضعيف الايمان لوگوں کی طرح ــــــ غفلتوں اور غرور میں گرفتار نہیں ہو جاتے تھے۔ وہ کسی حالت میں بھی ضرورت مندوں کو فراموش نہیں کرتے اور اچھے کاموں کے کرنے میں جلدی کرتے تھے . وہ حالت نیاز میں بھی اور بے نیازی میں، فقیری میں بھی اور غنا میں بھی، بیماری میں بھی اور صحت میں بھی ہمیشہ خدا کی طرف متوجہ رہتے تھے ۔ مختصریہ ہے کہ وہ نعمتوں کے اپنی طرف رخ کرنے کی وجہ سے کبر و غرور میں گرفتار نہیں ہوتے تھے۔ بلکہ ہمیشہ خاشع و خاضع رہتے تھے۔

91
21:91
وَٱلَّتِيٓ أَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا فَنَفَخۡنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا وَجَعَلۡنَٰهَا وَٱبۡنَهَآ ءَايَةٗ لِّلۡعَٰلَمِينَ
اور یاد کرو اس خاتون کو کہ جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی اور ہم نے اسکے اندر اپنی روح میں سے پھونکا اور اسے اور اسکے بیٹے کو عالمین کے لئے ایک عظیم نشانی قرار دیا۔

مریم پاک دامن خاتون

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

اس آیت میں حضرت مریمؑ اور ان کے بیٹے حضرت عیسٰی کے مقام، عظمت اور احترام کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ مریم کا ذکر ــــ بزرگ انبیاء سے مربوط مباحث کے درمیان ــــ یا تو ان کے بیٹے عیسٰی کی وجہ سے ہے یا اس بنا پر کہ مریم کی ولادت بھی کئی جہات سے یحیٰی کی ولادت کے مشابہ تھی کہ جس کی تفصیل ہم نے سورہ مریم کی آیات کے ذیل میں بیان کی ہے۔ ( بحوالہ : تفسیر نمونہ جلد 13 سورۂ مریم کی ابتدائی آیات کی تفسیر دیکھئے) اور یا اس بنا پر ہے کہ اس بات کو واضح کیا جائے کہ عظمت،عظیم مردوں ہی کے لیے نہیں ہے بلکہ ایسی عظیم عورتیں بھی ہوگزری ہیں کہ جن کی تاریخ ان کی عظمت کی نشانی ہے، جو عالم کی عورتوں کے لیے ایک اسوہ اورنمونہ ہیں۔ ارشاد ہوتاہے، یاد کرو مریم کو جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی (والتي احصنت فرجها) پھر ہم نے اپنی روح میں سے اس میں پھونکا ( فنفخنا فيها من روحنا ) اور اسے اور اس کے بیٹے عیسٰی کو ہم نے عالمین کے لیے عظیم نشانی قراردیا ( وجعلناها وابنها اية للعالمين )۔

چند اہم نکات: 1- ایک ابہام کی وضاحت

فرج اصل میں لغت کے لحاظ سے فاصلہ اور شگاف کے معنی میں ہے ۔ اور کنائے کے طور پر عورت کی اندام نہائی کے لیے استعمال ہوتا ہے اور چونکہ فارسی میں اس کے کنائی معنی کی طرف توجہ نہیں ہوتی۔ لہذا بعض اوقات یہ سوال سامنے آتا ہے کہ یہ لفظ کہ جو عورت کے اس عضو خاص کے لیے بولا ہے، قرآن میں کیسے آیا ہے ؟ لیکن اس کے کنایہ ہونے کی طرف توجہ اس سوال کو حل کر دیتی ہے۔ زیادہ واضح اور روشن تعبیر میں اگر ہم کنائی معنی کو ٹھیک طور سے تعبیر کرنا چاہیں تو " احصنت فرجھا" کے جملہ کا متبادل فارسی میں یہ ہے کہ "اپنے دامن کو پاک رکھا" تو کیا فارسی میں تعبیر بری ہے ؟ بلکہ بعض کے نظریہ کے مطابق عربى لغت میں ایسے الفاظ کہ جو عضو خاص کے لیے صراحتًا ہوں، یا جنسی اختلاط میں صراحت رکھتے ہوں، اصلًا موجود ہی نہیں ہیں۔ جو کچھ بھی ہے وہ کنائے کا ہی پہلو رکھتا ہے۔ مثلا قرآن کی مختلف آیات میں اختلاط کے بارے میں،"لمس کرنا" "داخل ہونا" "ڈھانپنا" (غشیان) ۔( سوره اعراف ۔189 ) "یا بیوی کے پاس جانا" ( بقرہ – 322) کے لفظ استعمال ہوئے ہیں کہ جوسب کنایہ کا پہلو رکھتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات فارسی زبان میں ترجمہ کرنے والے ان کے کنائی معنی کی طرف توجہ نہیں کرتے اور اس کنائی معانی کے متبادل کی بجائے فارسی کے صریح الفاظ لکھ دیتے ہیں اور یہ بات سوال کا موجب بن جاتی ہے۔ بہرحال اس قسم کے الفاظ کی تفسیر میں کہ جو قرآن میں آئے ہیں، حتمی طور پر ان کے اصلی اور بنیادی معنی کی طرف توجہ کرنا چاہیے تاکہ اس کے کنایہ ہونے کا پہلو واضح ہو جائے اور ہرقسم کا ابہام ختم ہو جائے۔ اس نکتے کا ذکربھی ضروری ہے کہ زیر بحث آیت کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ حضرت مریمؑ نے اپنی عفت کی حفاظت کی، لیکن بعض مفسرین نے اس آیت کے معنی میں یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ انہوں نے کسی مرد سے (چاہے حلال ہو یا حرام) ہر قسم کے میل جول سے خود کو بچائے رکھا۔ ( بحوالہ: تفسیر کبیر فخررازی اور تفسیر فی ظلال زیر بحث آیہ سے ذیل میں) جیسا کہ سورہ مریم کی آیہ 20 میں ہے کہ: ولم یمسسنی بشر ولم اک بغیًا نہ تو کبھی کسی بشر نے مجھے چھوا ہے اور نہ ہی میں کوئی بدکار عورت ہوں۔ ( سورۂ مریم 20-) درحقیقت یہ حضرت عیسٰی کی معجزانہ پیدائش اور ان کے معجزہ ہونے کے ذکر کی تمہید ہے۔

2- "روحنا" سے مراد

جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں، ایک باعظمت اور بلند حوصلہ روح کی طرف اشارہ ہے اور اصطلاح میں اس قسم کی اضافت "اضافت تشریفیہ" کہلاتی ہے، کہ ہم کسی چیز کی عظمت کو بیان کرنے کے لیے اس کی اضافت خدا کی طرف کر دیتے ہیں، مثلًا: "بیت اللہ"- خدا کا گھر) اور " شهراللہ" خدا کا مہینہ)۔

3- ماں بیٹا ایک معجزه

زیر نظر آیت کہتی ہے : "ہم نے مریم اور اس کے بیٹے کو تمام جہان والوں کے لیے ایک آیت اور نشانی قرار دیا۔ انہیں دو آیتیں ! دو معجزات نہیں کہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا کی اس بزرگ آیت اور معجزه میں، مریم کا وجود ان کے بیٹے کے ساتھ اس طرح ملا ہوا تھا کہ وہ ایک دوسرے سے جدا شمار نہیں کیے جا سکتے تھے۔ بیٹے کا باپ کے بغیر پیدا ہونا اتنا ہی اعجاز آمیز ہے، جتنا کہ کسی عورت کا شوہر کے بغیر حاملہ ہونا ۔ علاوہ ازیں حضرت عیسٰی کے معجزات بچپن میں بھی اور بڑے ہو کر بھی، ان کی والدہ کی عظمت کی یاد دلاتے ہیں۔ ان تمام امور میں سے ہر ایک، عام طبعی اسباب سے ہٹ کر اور خلاف معمول تھا۔ یہ سب امور اس حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں کہ سلسلہ اسباب کے ماوراءایک ایسی قدرت بھی موجود ہے جوجب چاہے، ان کی روش کو بدل دے. بہرحال مسیحؑ اور ان کی والدہ مریم کی کیفیت پوری انسانی تاریخ میں بے نظیر ہے نہ اس سے پہلے کبھی ایسا ہوا اور نہ اس کے بعد دیکھا گیا ہے اور شاید لفظ "آیت" "کانکرہ" کی صورت میں کہ جو عظمت کی دلیل ہے، اسی معنی کی طرف اشارہ ہے۔

92
21:92
إِنَّ هَٰذِهِۦٓ أُمَّتُكُمۡ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ وَأَنَا۠ رَبُّكُمۡ فَٱعۡبُدُونِ
یہ(پیغمبر اور اس کی امت) سب ایک ہی امت ہیں اور میں تمہارا پر وردگار ہوں،پس میری ہی عبادت کرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 94 کے تحت ملاحظہ کریں۔

93
21:93
وَتَقَطَّعُوٓاْ أَمۡرَهُم بَيۡنَهُمۡۖ كُلٌّ إِلَيۡنَا رَٰجِعُونَ
اور(ایک گروہ نے) آپس میں اپنے کام میں تفرقہ ڈالدیا ہے،(لیکن آخر کار)سب کے سب ہماری ہ طرف ہی پلٹ کر آئیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 94 کے تحت ملاحظہ کریں۔

94
21:94
فَمَن يَعۡمَلۡ مِنَ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ وَهُوَ مُؤۡمِنٞ فَلَا كُفۡرَانَ لِسَعۡيِهِۦ وَإِنَّا لَهُۥ كَٰتِبُونَ
جوشخص بھی کچھ اعمال صالح بجا لائے گا، جب کہ وہ باایمان بھی ہو،تو اس کی کوششوں کی ناقدری نہیں ہوگی اور ہم ان کے تمام اعمال لکھ رہے ہیں

ایک امت

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں خدا کے بعض پیغمبروں کے نام آ ۓ میں اور اسی طرح مریم جیسی مثالی خاتون کا نام آیا ہے۔ ان کے حالات زندگی بیان ہوئے ہیں۔ زیر بحث آیات میں مجموعی طور نتیجہ نکالتے ہوئے فرمایا گیا ہے: یہ عظیم پیغمبر کہ جن کی طرف اشارہ ہوا ہے، سب کے سب ایک ہی امت تھے ( ان هذه امتكم أمة واحدة )۔ ان سب کا پروگرام بھی ایک تھا اور ان کا ہدف و مقصد بھی ایک ہی تھا۔ اگرچہ زمانہ اور ماحول کے اختلاف کے لحاظ سے مختلف خصوصیات اور ان کا انداز کا رکچھ مختلف تھا یعنی ان کی تکنیک مختلف تھی۔ لیکن سب کے سب آخر الامر ایک ہی مسلک اور راہ پر گامزن تھے ۔ وہ سب کے سب توحید کی راہ میں شرک کے خلاف جدوجہد کرتے تھے اور دنیا کے لوگوں کو یگانگت، حق اور عدالت کی دعوت دیتے تھے۔ پروگراموں اور هدف و مقصد کی یہ یگانگت اور وحدت اس بنا پر تھی کہ وہ سب کے سب ایک ہی مبداء سے فیض حاصل کرتے تھے کہ جو خدائے واحد ویکتا کا ارادہ تھا۔ لہذا ساتھ ہی فرمایا گیا ہے : میں تم سب کا پروردگار ہوں لہذا تم صرف میری ہی عبادت کرو: (وانا ربكم فاعبدون)۔ درحقیقت انبیاء کی توحید عقیدتی وعملی کا سر چمشہ وحی ہے ۔ اور یہ گفتگو علی علیہ السلام کی اس بات سے مشابہ ہے کہ جو آپ نے اپنے بیٹے امام مجتٰبے کو وصیت کرتے ہوئے فرمائی تھی: واعلم یا بنی انه لو كان لربك شريك لاتتك رسله ولعرفت افعاله وصفاته۔ اے بیٹا ! جان لے کہ اگر تیرے پروردگار کا کوئی اور بھی شریک ہوتا، تو اس کے رسول بھی تیری طرف آتے، تو اس سے دنیا اور آثار قدرت کو بھی دیکھتا اور اس کے افعال و صفات کو بھی پہچانتا۔ ( بحوالہ : نہج البلاغہ، مکتوب 31) امت جیسا کہ راغب کتاب مفردات میں کہتا ہے، ہراس گروہ اور جمعیت کے معنی میں ہے کہ جس کی کوئی مشترک جہت اس کے افراد کو آپس میں جوڑے رکھے. ایک دین، ایک زمانہ یا ایک معین مکان کا اشتراک چاہے یہ وحدت اختیاری ہو یا غیر اختیاری۔ بعض مفسرین نے "امت واحدة" کو یہاں "دین واحد" کے معنی میں لیا ہے لیکن جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ یہ تفسیر امت کے لغوی معنی سے مطابقت نہیں رکھتی۔ بعض دوسرے لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اس آیت میں " أمت " سے مراد، تمام زمانوں اور قرنوں کے تمام انسان ہیں یعنی اے تمام انسانو! تم سب کے سب ایک ہی امت ہو، تمہارا پروردگار بھی ایک ہے اور تمہاراحقیقی مقصد بھی ایک ہے۔ یہ تفسیر اگرچہ گزشتہ تفسیر کی نسبت زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے، لیکن اس آیت کے، پہلی آیتوں کے ساتھ تعلق کو مد نظر رکھتے ہوئے، یہ صحیح نظر نہیں آتی ۔ زیادہ مناسب یہ ہے کہ یہ جملہ ان ہی انبیاء و مرسلین کی طرف اشارہ ہے کہ جن کے حالات کی تقصیل گزشتہ آیات میں بیان کی گئی ہے۔ اگلی آیت میں، لوگوں کی اکثریت کے اس توحیدی بنیاد سے انحراف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایاگیا ہے : وہ اپنے معاملے میں اختلافات کا شکار ہوگئے (وتقطعوا امرهم بينهم)۔ معاملہ اس حد کو پہنچ گیا کہ وہ ایک دوسرے کے مقابلے میں کھڑے ہوگئے اور ہرگروہ دوسرے گروہ کولعن و نفرین کرنے لگا اور اس سے بیزار ہوگیا۔ انہوں نے اسی پر قناعت نہ کی بلکہ ایک دوسرے کے مقابلے میں ہتھیار نکال لیے اور بہت زیادہ خونریزی کی اور یہ توحید اور حق کےدین واحد سے انحراف کا نتیجہ تھا۔ "تقطعوا" ماده "قطع " سے ہے، بہ ایک با ہم ملی ہوئی چیز کو علیحدہ علیحدہ ٹکڑوں میں کر دینے کے معنی میں ہے۔ یہ "باب تفعل" سے آیا ہے، کہ جو قبول کرنے کے معنی میں بولا جاتا ہے، اس لحاظ سے جملے کا مفہوم اس طرح ہو گا : وہ تفرقہ اور نفاق کے عوامل کے سامنے جھک گئے اور انہوں نے ایک دوسرے سے علیحدگی اور بے گانگی کو قبول کرکے اپنی فطری اور توحیدی وحدت کو ختم کر دیا اور اس کے نتیجہ میں ہرقسم کی شکست، ناکامی اور بدبختی میں گرفتار ہوگئے ۔ آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے : لیکن یہ سب کے سب آخر کار ہماری ہی طرف لوٹ کر آئیں گے (كلّ الینا راجعون)۔ یہ اختلاف جو عارضی ہے ختم ہو جائے گا اور پھر قیامت میں سب کے سب وحدت ہی کی طرف جائیں گے اور قرآن کی مختلف آیات میں اس مسئلے پر بہت تاکید کی گئی ہے کہ قیامت کی خصوصیات میں سے ایک اختلافات کا ختم ہو جانا اور و حدت کی طرف چل پڑنا ہے ۔ سورة مائدہ کی آیت 48 میں ہے : الى الله مرجعكم جميعًا فينبئكم بما كنتم فيه تختلفون تم سب کی بازگشت خدا ہی کی طرف ہے اور جن چیزوں میں اختلاف رکھتے تھے تمہیں وہ ان سے آگاہ کرے گا۔ یہ مضمون قرآن مجید کی متعدد آیات میں نظر آتا ہے۔ (بحوالہ : آل عمران - 55 إنعام، 164، نحل ۔ 92 اور حج 69 وغیرہ) اور اس طرح سے انسانوں کی خلقت "وحدت" سے ہی شروع ہوتی ہے اور وحدت کی طرف ہی لوٹ جائے گی ۔ آخری زیر بحث آیت میں پروردگار کی پرستش کی راہ میں "امت واحدہ" کے ساتھ ہم آہنگی کا نتیجہ بیان کیا گیا ہے۔ جو کوئی بھی کچھ اعمال صالح انجام دے گا، جبکہ وہ ایمان بھی رکھتا ہو، تو اس کی جدوجہد اور کوشش کی ناقدری نہیں کی جائے گی : (فمن يعمل من الصالحات وهو مؤمن فلاكفران لسعيه)۔ اور مزید تاکید کے لیے اضافہ کیا گیا ہے، اور ہم اس کے اعمال صالح یقینًا لکھیں گے ( وإنا له كاتبون) اس آیت میں قرآن کی دوسری بہت سی آیات کی طرح ایمان اور عمل صالح کا انسانوں کی نجات کے لیے دو اساسی اور بنیادی ارکان کے طور ذکر ہوا ہے لیکن لفظ " من " کے اضافے کے ساتھ کہ جو تبعیض کے لیے آتاہے ۔ یہ اس مطلب کو بیان کرتا ہے کہ تمام اعمال کی انجام دہی بھی شرط نہیں ہے بلکہ اگر صاحبان ایمان کچھ بھی عمل صالح بجا لائیں تو بھی وہ اہل نجات و سعادت ہیں۔ بہرحال، یہ آیت قرآن کی بہت سی دوسری آیات کی طرح، اعمال صالح کی قبولیت کی شرط ایمان کو شمار کرتی ہے۔ "لاكفران لسعيه" کے جملہ کا ذکر، اس قسم کے افراد کی جزاءکے بیان کرنے کے لئے، ایک ایسی تعبیر ہے کہ جوانتہائی لطف ومحبت اور بزرگواری کے ساتھ ملی ہوئی ہے کیونکہ خدا اس مقام پر اپنے بندوں کی قدردانی کرتے ہوئے ان کی سعی و کوشش کا شکریہ ادا کر رہا ہے۔ یہ تعبیر اس تعبیرکی مانند ہے جو سورہ بنی اسرائیل آیہ 19 میں بیان ہوتی ہے : ومن اراد الأخرة وسعيٰ لها سعيها وهو مؤمن فاولئك كان سعيهم مشکورًا جو شخص آخرت کے گھر کی خواہش کرے گا، اور اس کے لیے سعی و کوشش کرے گا۔ جبکہ وہ ایمان بھی رکھتا ہو، تو اس کی کوشش کی قدردانی کی جائے گی۔

95
21:95
وَحَرَٰمٌ عَلَىٰ قَرۡيَةٍ أَهۡلَكۡنَٰهَآ أَنَّهُمۡ لَا يَرۡجِعُونَ
وہ شہر اور آبادیاں کہ جنہیں ہم نے (گناہوں کی پاداش میں ) ہلاک کر دیا، ان کے لئے حرام ہے کہ وہ(اس دنیا میں ) پلٹ کرآئیں،

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 97 کے تحت ملاحظہ کریں۔

96
21:96
حَتَّىٰٓ إِذَا فُتِحَتۡ يَأۡجُوجُ وَمَأۡجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٖ يَنسِلُونَ
یہاں تک کہ جب یا جوج و ماجوج پر را ہیں کھول دی جائیں گے اور وہ تیزی کے ساتھ ہر بلندی سے گزر جائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 97 کے تحت ملاحظہ کریں۔

97
21:97
وَٱقۡتَرَبَ ٱلۡوَعۡدُ ٱلۡحَقُّ فَإِذَا هِيَ شَٰخِصَةٌ أَبۡصَٰرُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يَٰوَيۡلَنَا قَدۡ كُنَّا فِي غَفۡلَةٖ مِّنۡ هَٰذَا بَلۡ كُنَّا ظَٰلِمِينَ
اور (قیامت کے بارے میں ) حق کا وعدہ (ایفاکے) قریب ہوجائیگاتو اس وقت کافروں کی آنکھیں وحشت سے حرکت چھوڑدیں گی،(وہ کہیں گے) وائے ہوہم پر کہ ہم اس کے بارے میں غفلت میں تھے ! بلکہ ہم تو ظالم تھے۔

کفار قیامت کے آستانے پر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں نیکوکار مومنین کے بارے میں گفتگوتھی اور زیر بحث پہلی آیت میں ایسے افراد کی طرف اشارہ ہے کہ جو ان کے نقطہ مقابل میں واقع ہیں وہ لوگ کہ جو آخری سانس تک گمراہی اور برائی پر باقی رہتے ہیں۔ فرمایا گیا ہے، ان بستیوں پرکہ جنہیں ہم نے ان کے گناہوں کے جرم میں نابود کر دیا ہے، حرام ہے کہ وہ دنیاکی طرف پلٹ کرآئیں، وہ ہرگز واپس نہیں آئیں گے: (وحرام على قرية اهلكناها انهم لا يرجعون)۔ (تشریحی نوٹ : اس تفسیرکے مطابق "حرام" خبر ہے مبتدائے محذوف کی اور "انھم لايرجعون" کا جملہ اس پر دلیل ہے اور تقدیر میں اس طرح تھا : حرام علی اھل قرية اهلكناها أن يرجعوا إلى الدنيا انہم لا يرجعون۔ جن اہل قریر کو ہم نے ہلاک کیا ہے ان پر حرام ہے کہ وہ پلٹ آئیں، وہ نہیں پلٹیں گے) درحقیقت وہ ایسے لوگ ہیں کہ جو عذاب الہی دیکھنے کے بعد یا ہلاکت کے بعد اور عالم برزخ میں جانے کے بعد، غرور و غفلت کے پردوں کو اپنی نگاہوں کے سامنے سے ہٹا ہوا پائیں گے، تو آرزو کریں گے کہ اے کاش! وہ ان تمام خطاؤں اور گناہوں کی تلافی کرنے کے لیے، دوبارہ دنیا کی طرف لوٹ جاتے، لیکن قرآن صراحت کے ساتھ کہتا ہے کہ ان کی بازگشت بالکل حرام یعنی ممنوع ہے ۔ یہ اسی بات کے مشابہ ہے کہ جو سورہ مومنون کی آیہ 99 میں بیان ہوئی ہے : حتى اذاجاء احد هم الموت قال رب ارجعون لعلى اعمل صالحًا فيما تركت كلا ۔۔۔ ان کی یہ کیفیت اسی طرح باقی رہے گی، یہاں تک کہ ان کی موت (کا وقت) آن پہنچےگا تو وہ یہ کہیں گے : پروردگارا! ہمیں دنیا کی طرف پلٹا دے تاکہ وہ نیک اعمال کہ جو ہم نے ترک کر دیئے ہیں انجام دیں لیکن وہ سوائے منفی جواب کے اور کچھ نہیں سنیں گے۔ اس آیت کی تفسیر میں دوسرے بیانات بھی ذکر ہوئے ہیں کہ جن میں سے بعض کی طرف نیچے حاشیہ میں اشاره ہو گا۔ (تشریحی نوٹ : بعض نے "حرام" کو یہاں "واجب" کے معنی میں لیا ہے. انہوں نے کہا ہے کہ لغت عرب میں بعض اوقات یہ لفظ اس معنی میں استعمال ہوتا ہے اور وه لفظ "لا" کو زائدہ سمجھتے ہیں۔ ان کے حساب سے آیت کا مفہوم اس طرح ہو گا : آخرت میں ان کی بازگشت واجب اور ضروری ہے۔ بعض یہ کہتے ہیں کہ "حرام" حرام ہی کے معنی میں ہے، لیکن"لا" زائده ہے، یعنی ان کی بازگشت اس جہان کی طرف حرام ہے۔ بعض مفسرین نے آیت کو خدا اور توبہ کی طرف بازگشت نہ ہونے کے معنی میں لیا ہے (تفسیر مجمع البیان اور فخر رازی زیر بحث آیہ کے ذیل میں) بعض یہ کہتے ہیں کہ آیت نفی درنفی کے قبیل سے ہے اور یہ اس بات کو بیان کرتی ہے کہ یہ حرام ہے کہ وہ قیامت میں پلٹ کر نہ آئیں یعنی وہ پلٹ کر آئیں گے۔ (تفسیرنہج الصادقین زیر بحث آیہ کے ذیل میں) لیکن جو ہم نے متن میں بیان کیا ہے اور سب سے زیادہ مناسب نظر آتا ہے)۔ بہرحال یہ بے خبرلوگ ہمیشہ غفلت اور غرور میں ہی رہیں گے اور ان کی یہ بدبختی اسی طرح باقی رہے گی یہاں تک کہ دنیا ختم ہو جائے گی۔ جیسا کہ قرآن فرماتاہے : یہ بات اس وقت میں ہوتی رہے گی یہاں تک کہ یاجوج و ماجوج پر راہ کھول دی جائے گی اور وہ ساری زمین میں پھیل جائیں اور وہ ہر بلندی سے تیزی کے ساتھ گزر جائیں: (حتى اذا فتحت يأجوج ومأجوج وهم من كل حدب ينسلون) یاجوج و ماجوج کون لوگ تھے، کہاں رہتے تھے اور آخر کار وہ کیا کریں گے اور ان کا کیا انجام ہو گا؟ اس بارے میں ہم نے سوره کہف کی آیہ 94 کے ذیل میں اور اس کے بعد بحث کی ہے اور اسی طرح اس "سد" کے بارے میں بھی کہ جو "ذوالقرنین" نے ان کے حملوں کو روکنے کے لیے پہاڑوں کے تنگ درہ میں بنائی تھی، تفصیل سے بحث ہو چکی ہے۔ کیا ان دونوں گروہوں کے کھل جانے سے مراد، اسی سد کا ٹوٹ جانا، اور ان کا اس راستے سے دنیا کے دوسرے علاقوں میں نفوذ کرنے سے مراد کرہ زمین میں ہر جانب اور ہر طرف سے نفوذ ہے ؟ زیر نظر آیت نے صریح طور پر اس بارے میں کوئی بات نہیں کہی ہے۔ صرف زمین میں پھیل جانے کو عالم کے اختتام کی ایک نشانی اور قیامت کے آنے کی ایک تمہید کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ فرمایا گیا ہے، اس وقت خدا کا وعدہ حق نزدیک آپہنچے گا : ( واقترب الوعد الحق)۔ اور ایک گھبراہٹ اس طرح کفار کے سارے وجود پر چھا جائے گی کہ ان کی آنکھیں حرکت نہیں کرپائیں گی، اور وہ یہ منظر حیرانی کے ساتھ دیکھیں گے : (فإذا هی شاخصة ابصار الذين كفروا)۔ اس وقت ان کی آنکھوں کے سامنے سے غفلت اور غرور کے پردے ہٹ جائیں گے اور انہیں پکاریں گے، وائے ہو ہم پر ہم تو اس منظر سے غفلت میں ہی تھے :(يا ويلنا قد كنا في غفلة من هذا)۔ اور چونکہ اپنے اس عذر سے اپنے گناہ نہیں چھپا سکیں گے اور خود کو بری بھی قرار نہ دے سکیں گے، لہذا صراحت کے ساتھ کہیں گے : نہیں بلکہ ہم ہی ظالم تھے : (بل كنا ظالمين)۔ اصولی طور پر خدا کے ان تمام پیغمبروں اور آسمانی کتابوں اور ان تمام ہلا دینے والے حوادث اور اسی طرح ایسے عبرت آموز سبقوں کے باوجود ـــــ کہ جو زمانہ ان کے سامنے پیش کرتا ہے ــــــ یہ بات کیسے ممکن ہو سکتی ہے کہ وہ پھر بھی غفلت میں رہیں، لہذا جو کچھ ان سے سرزد ہوا ہے، تقصیر ہے اور خود اپنے اوپر بھی اور دوسروں کے اوپر بھی ظلم ہے۔

چند الفاظ کے لغوی معنی

"حدب" (بروزن "ادب") ایسی بلندیوں کے معنی میں ہے کہ جو پستیوں کے درمیان ہوتی ہیں کبھی انسان کی پشت کے ابھار کو بھی "حدب" کہتے ہیں۔ "ينسلون" "نسول" کے مادہ سے (بروزن "فضول") تیزی سے نکلنے کے معنی میں ہے۔ یہ جو یاجوج و ماجوج کے بارے میں ہے کہ وہ ہر بلندی سے تیزی کے ساتھ گزریں گے اور نکلیں گے، یہ ان کے کره زمین میں بہت زیادہ نفوذ کرنے کی طرف اشارہ ہے ۔ "شاخصة" "شخوص" (بروزن "خلوص") دراصل گھر سے باہر نکلنے کے معنی میں ہے۔ یا ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف نکل جانے کے معنی میں ہے اور چونکہ تعجب اور حیرانی کے وقت انسان کی آنکھ گویا یہ چاہتی ہے کہ وہ باہر نکل آئے، لہذا اس حالت کو بھی "شخوص" کہا جاتا ہے۔ یہ وہ حالت ہے کہ جو قیامت میں گنہگاروں کو لاحق ہو گی۔ وہ ایسے حیران ہوں گے کہ گویا ان کی آنکھیں یہ چاہتی ہیں کہ وہ اپنے حلقہ سے باہر نکل آئیں۔

98
21:98
إِنَّكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمۡ لَهَا وَٰرِدُونَ
تم بھی اور جن جن کی تم خدا کو چھوڑ کر پرستش کرتے ہو، جہنم کا ایندھن ہوں گے، اورتم سب کے سب اس میں اسی(جہنم) میں جاؤگے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 103 کے تحت ملاحظہ کریں۔

99
21:99
لَوۡ كَانَ هَـٰٓؤُلَآءِ ءَالِهَةٗ مَّا وَرَدُوهَاۖ وَكُلّٞ فِيهَا خَٰلِدُونَ
اگریہ (بت) خداہوتے تو ہرگز اس (آگ) میں نہ جاتے اور وہ سب کے سب ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 103 کے تحت ملاحظہ کریں۔

100
21:100
لَهُمۡ فِيهَا زَفِيرٞ وَهُمۡ فِيهَا لَا يَسۡمَعُونَ
وہاں پر وہ دردناک طریقہ سے نالہ و فریاد کرتے ہوں گے اور وہاں انہیں کچھ سنائی نہ دے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 103 کے تحت ملاحظہ کریں۔

101
21:101
إِنَّ ٱلَّذِينَ سَبَقَتۡ لَهُم مِّنَّا ٱلۡحُسۡنَىٰٓ أُوْلَـٰٓئِكَ عَنۡهَا مُبۡعَدُونَ
لیکن وہ لوگ جن سے ہم نے پہلے سے اچھا وعدہ کیا ہوا ہے، انہیں اس سے دور ہی رکھا جائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 103 کے تحت ملاحظہ کریں۔

102
21:102
لَا يَسۡمَعُونَ حَسِيسَهَاۖ وَهُمۡ فِي مَا ٱشۡتَهَتۡ أَنفُسُهُمۡ خَٰلِدُونَ
وہ جہنم کی آگ کی آواز (تک بھی) نہیں سنیں گے، اور وہ جیسی نعمت چاہیں گے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس مستـغرق رہیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 103 کے تحت ملاحظہ کریں۔

103
21:103
لَا يَحۡزُنُهُمُ ٱلۡفَزَعُ ٱلۡأَكۡبَرُ وَتَتَلَقَّىٰهُمُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ هَٰذَا يَوۡمُكُمُ ٱلَّذِي كُنتُمۡ تُوعَدُونَ
انہیں وہ عظیم وحشت محزون و مغموم نہیں کرے گی اور فرشتے ان کے استقبال کے لئے بڑھیں گے (اور یہ کہیں گے): یہی تو وہ دن ہے کہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔

جہنم کا ایندھن

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں ظالم مشرکین کے انجام کے بارے میں گفتگو تھی ۔ ان آیات میں روئے سخن ان کی طرف کرتے ہوئے، ان کی اور ان کے معبودوں کے مستقبل کی اس طرح تصویرکشی کی گئی ہے، تم بھی اور جن جن کی تم خدا کو چھوڑ کر پرستش کرتے ہو (سب کے سب) جہنم کا ایندھن ہیں ( انكم وما تعبدون من دون الله حصب جهنم)۔ "حصب" دراصل پھینکنے کے معنی میں ہے۔ خصوصًا ایندھن کے ٹکڑوں کو تنور میں پھینکنے کو "حصب" کہاجاتا ہے۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ "حطب" (بروزن سبب) کہ جو ایندھن کے معنی میں ہے ۔ عربوں کی مختلف زبانوں میں مختلف تلفظ رکھتا ہے۔ بعض قبیلے اسے "حصب" اور دوسرے اس کو "خضب " کہتے ہیں اور چونکہ قرآن قبائل اور دلوں کو جوڑنے کیلئے آیا ہے لہذا بعض اوقات ان کے مختلف الفاظ کو بھی استعمال کرتا ہے تاکہ اس طریقے سے دل جمع ہوں۔ یہ لفظ "حصب" بھی ایسے الفاظ میں سے ہے کہ جو اہل یمن کے قبائل لفظ "حطب" کی جگہ تلفظ کرتے ہیں۔ ( بحوالہ : تفسیر ابوالفتوح رازی زیر بحث آیات کے ذیل میں ۔ ) بہرحال زیربحث آیت مشرکین سے کہتی ہے اور جہنم میں آگ جلانے والا ایندھن جس سے اس کے شعلے پیدا ہوں گے، خود تم اور تمھارے بناؤٹی خدا ایندھن کے بے قدر و قیمت ٹکڑوں کی طرح یکے بعد دیگرے جہنم میں پھینکے جاؤ گے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے تم اس میں جاؤگے ( انتم لها واردون)۔ یہ جملہ یا تو گزشتہ بات کی تاکید کے طور پر ہے یا ایک نئے نکتہ کی طرف اشارہ ہے، اور وہ یہ ہے کہ پہلے تو بتوں کو آگ میں ڈالیں گے، پھر تم ان پر وارد ہوگے، گویا تمهارے خدا اس آگ کے ساتھ جو ان کے وجود سے نکلے گی، تمہارا استقبال کریں گے ۔ ( تشریحی نوٹ : اس بات پر توجہ رہے کہ پہلی صورت میں " لها "کی لام " الٰى " کے معنی میں ہے اور "ها"کی ضمیر جہنم کی طرف لوٹتی ہے اور دوسری تفسیرمیں بھی لام "الٰى" کے معنی میں ہے لیکن ضمیربتوں کی طرف لوٹتی ہے ) اگر یہ سوال ہو کہ بتوں کو جہنم میں ڈالنے کا کیا فلسفہ ہے، تو اس کے جواب میں یہ کہنا چاہیے کہ یہ بھی بت پرستوں کے لیے ایک قسم کا عذاب اور سزا ہے کیونکہ وہ یہ دیکھیں گے کہ وہ اس آگ میں کہ جس کے شعلے ان کے بتوں سے نکل رہے ہیں جل رہے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ بات ان کے نظریات کی تحقیر و تذلیل ہے، کہ وہ اس قسم کی بے قدر و قیمت چیزوں کی پناہ لیا کرتے تھے۔ البتہ یہ اس صورت میں ہے جبکہ (مایعبدون) ان معبودوں کے معنی میں ہو کہ جو بے جان پتھر اور لکڑی کے بنے ہوئے بت ہیں (جیسا کہ "ما" کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کیونکہ " ما " عام طور غیر ذوي العقول کے لیے آتا ہے) لیکن اگر اس کے مفہوم کو عام سمجھیں اوراس میں وہ شیاطین بھی شامل ہوں کہ جو معبود بنے ہوئے تھے تو پھر ان معبودوں کا جہنم میں آنا بالکل واضح ہے کیونکہ وہ تو خود شریک جرم ہیں۔ اس کے بعد عمومی نتیجہ نکالتے ہوئے فرمایا گیا ہے، اگر یہ بت خدا ہوتے ہرگز جہنم کی آگ میں نہ پہنچتے (لو كان هؤلاءاٰ لهة ما وردوها)۔ لیکن یہ جان لو کہ نہ صرف یہ کہ وہ جہنم میں پہنچیں گے بلکہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس میں رہیں گے (وكل فيها خالدون)۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ بت پرست ہمیشہ اپنے خداؤں کے ساتھ ہی رہیں گے۔ وہ خدا کہ جن کی وہ ہمیشہ پرستش کیا کرتے تھے اورانهیں مصیبتوں میں ڈھال سمجھتے تھے اور اپنی مشکلات کا حل ان سے چاہتے تھے۔ ان " گمراه عبادت کرنے والوں" کی "ان کے بے قدر و قیمت معبودوں" کے ساتھ دردناک کیفیت کے بارے میں مزید وضاحت کے لیے فرمایا گیا ہے، وہ دوزخ میں درد ناک نالہ و فریاد کریں گے (لهم فيھا زفیر)۔ "زفير" اصل میں ایسی چیخ و پکار کرنے کے معنی میں ہے جس کے ساتھ سانس کی آواز بھی آرہی ہو۔ بعض نے کہاکہ خچر کی نفرت انگیز آواز کو ابتداء میں "زفير" اور آخر میں " شھیق" کہتے ہیں۔ بہرحال یہاں ایسے نالہ و فریاد کی طرف اشارہ ہے کہ جو غم و اندوہ کی وجہ سے نکلے۔ ( تشریحی نوٹ : مزید وضاحت کے لیے تفسیر نمونہ کی جلد 5میں سوره هود کی آیہ 106 کے ذیل میں رجوع کریں) یہ احتمال بھی ہے کہ یہ غم انگیز نالہ و فریاد صرف ان عبادت کرنے والوں کے ساتھ ہی مربوط نہ ہو بلکہ شیاطین کہ جو ان کے معبود تھے وہ بھی اس میں ان کے شریک ہوں۔ بعد کا جملہ ان کی ایک اور دردناک سزا کو بیان کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ : انہیں دوزخ میں کچھ سنائی نہیں دے گا: (وهو فيها لايسمعون)۔ یہ جملہ ممکن ہے اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ وہ کوئی ایسی بات ہرگز نہیں سنیں گے کہ جو ان کے لیے راحت کا باعث بنے۔ بلکہ وہ دوزخیوں کے جانکاہ نالے اور عذاب کے فرشتوں کی جھڑکیاں ہی سنیں گے۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ انہیں آگ کے تابوتوں میں رکھا جائے گا، اس طرح سے کہ وہ کسی کی آواز کو بالکل نہیں سنیں گے۔ گویا وہ اکیلے ہی عذاب میں ہیں اور یہ بات خود زیادہ عذاب کا سبب ہے کیونکہ اگر انسان کے ساتھ اور افراد بھی زندان میں ہوں تو یہ بات اس کے دل کی تسلی کا باعث ہوگی کیونکہ : البلية اذا عمت طابت بلا و مصیبت جب عام ہو تو وہ بھلی معلوم ہوتی ہے۔ اگلی آیت سچے مومنیں اور صاحبان ایمان مردوں اور عورتوں کے حالات بیان کر رہی ہے تاکہ ایک دوسرے کے ساتھ موازنہ سے دونوں کی کیفیت زیادہ واضح ہو جائے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ : وہ لوگ کہ جن سے ہم نے ان کے ایمان اور عمل صالح کی وجہ سے پہلے سے اچھا وعدہ کر رکھا ہے، وہ اس وحشتناک اورہولناک آگ سے دور رئیں گے (انّ الذين سبقت لهم منّا الحسنٰى اولئك عنها مبعدون) یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہم نے اس بیان میں مومنین سے جتنے وعدے کیے ہیں، ہم انہیں پورا کریں گے ان میں ایک ان کا جہنم کی آگ سے دور رہنا ہے۔ اگرچہ اس جملے کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ یہ تمام سچے مومنین کے لیے ہو گا لیکن بعض نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ یہ حضرت عیسٰیؑ اور مریمؑ جیسے معبودوں کی طرف اشارہ ہے کہ ایک گروہ جن کی عبادت ان کی خواہش اور مرضی کے بغیرکرتا تھا۔ اور چونکہ سابقہ آیات یہ کہتی تھیں کہ تم بھی اور تمہارے معبود بھی دوزخ میں داخل ہوں گے تو اس تعبیر سے ممکن تھا کہ حضرت عیسٰیؑ جیسے افراد بھی شامل سمجھ لیے جاتے، لہذا قران یہ جملہ فورًا ایک استثناء کے طور پر بیان کرتا ہے کہ ایسے لوگ ہرگز دوزخ میں نہیں جائیں گے۔ بعض مفسرین نے اس آیت کے بارے میں ایک شان نزول ذکر کی ہے کہ جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بعض لوگوں نے یہی سوال - پیغمبر اسلامؐ سے بھی کیا تھا لہذا یہ آیت ان کے جواب میں نازل ہوئی ہے. لیکن اس حالت میں بھی کوئی امر مانع نہیں ہے کہ زیر نظر آیت اس سوال کا جواب بھی ہو اور سب سچے مومنین کے بارے میں ایک عمومی حکم بھی ہے۔ آخری زیر بحث آیات میں خدا کی چار عظیم نعمتوں کا ذکر ہے کہ جو ان لوگوں کو میسر ہوں گی : پہلی یہ کہ وہ آگ کی آواز تک نہیں سنیں گے (لا يسمعون حسيسها)۔ "حسيس" جیسا کہ ارباب لغت نے کہا ہے، محسوس آواز کے معنی میں ہے اور خود حرکت یا خود حرکت سے جو آواز پیدا ہو اس کے معنی میں بھی ہے . دوذخ کی آگ کہ جو ہمیشہ آتش گیروں میں بڑھتی ہی جاتی ہے، ایک مخصوص اواز رکھتی ہے. یہ آوازدو جہت سے وحشتناک ہے، ایک تو اس لحاظ سے یہ آگ کی آواز ہے، اور دوسرے اس لحاظ سے کہ یہ آگے بڑھنے کی آواز ہے۔ سچے مومنین چونکہ جہنم سے دور رہیں گے لہذا یہ وحشتناک آوازیں ہرگز ان کے کانوں میں نہیں پڑیں گی ۔ دوسری یہ کہ "وہ جیسی نعمت میں چاہیں گے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس میں مستغرق رہیں گے )(وهم فيما اشتهت انفسهم خالدون)۔ یعنی وہاں پر اس جہان کی طرح کی محدودیت نہیں ہے۔ یہاں تو انسان بہت سی نعمتوں کی آرزو کرتا ہے لیکن ان تک نہیں پہنچ پاتا وہاں پر وہ جو بھی مادی و معنوی نعمت چاہے گا، اس کی دسترس میں ہوگی ۔ وہ بھی ایک دن یا دو دن نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔ تیسری یہ کہ : عظیم وحشت انہیں مغموم نہیں کرے گی (لايحزنهم الفزع الأكبر)۔ " فزع اكبر" (عظیم اور بڑی وحشت) کو بعض نے روز قیامت کی وحشتوں کی طرف اشارہ سمجھا ہے کیونکہ وہ ہر وحشت بڑی ہے اور بعض نے صور کا پھونکا جانا اور اس جہان کے ختم ہونے کی زبردست کیفیت کی طرف اشارہ سمجھا ہے، جیسا کہ سورہ نحل کی آیت 87میں ہے: لیکن چونکہ قیامت کے دن کی وحشت مسلمہ طور پر اس سے زیادہ اہم ہے، لہذا پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ آخر میں ان لوگوں کے لیے آخری نعمت کا ذکر ہے اور وہ ہے یہ کہ : رحمت کے فرشتے ان کا استقبال کرنے کے لیے آگے بڑھیں گے، انہیں مبارکباد دیں گے اور یہ بشارت دیں گے کہ یہ وہی دن ہے کہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا : ( وتتلقهم الملائكة هذا يومكم الذي كنتم توعدون)۔ نہج البلاغہ میں ہے کہ امیرالمومنین علی علیہ السلام نے فرمایا : فباد روا باعما لكم تكونوا مع جيران الله في داره، رافق بهم رسله، و ازارهم وملائكته، وأكرم اسماعهم ان تسمع حسيس نارجهنم ابدًا۔ نیک اعمال کی طرف جلدی کرو، تاکہ تم خدا کے گھر میں اس کے پڑوسی بنو۔ ایسے مقام پر کہ جہاں پیغمبروں کو ان کا رفیق قرار دیا ہے اور فرشتوں کو ان کی زیارت کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ خدا نے ان لوگوں کی اتنی عزت بڑھائی ہے کہ ان کے کان جہنم کی آگ کی آواز تک نہیں سنیں گے۔ ( بحوالہ : نہج البلاغہ، خطبہ 183)

104
21:104
يَوۡمَ نَطۡوِي ٱلسَّمَآءَ كَطَيِّ ٱلسِّجِلِّ لِلۡكُتُبِۚ كَمَا بَدَأۡنَآ أَوَّلَ خَلۡقٖ نُّعِيدُهُۥۚ وَعۡدًا عَلَيۡنَآۚ إِنَّا كُنَّا فَٰعِلِينَ
وہ دن جب ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ دیں گے جیسے خطوط کا غذوں کو آپس میں لپیٹا جاتا ہے۔(پھر) جس طرح سے ہم نے خلقت کی ابتداکی تھی، اسی طرح سے اسے واپس لوٹائیں گے۔ یہ وہ وعدہ کہ جوہم نے کیا ہے اورہم یقینی طور پر اسے انجام دیں گے۔

جب آسمانوں کو لپیٹ دیا جائے گا

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ بحث کی آخری آیت میں تھا کہ سچے مومنین عظیم وحشت سے غمگین نہیں ہوں گے۔ یہاں پر اس بڑی وحشت کے دن کا ایک اور رخ پیش کیا جا رہا ہے اور درحقیقت اس وحشت کی عظمت کی علت کی تصویر کشی کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: یہ معاملہ اس دن حقیقت کی صورت اختیار کرلے گا کہ جب ہم آسمانوں کو اس طرح سے لپیٹ دیں گے کہ جس طرح خطوں کو لپیٹا جاتا ہے (يوم نطوي السماء كطى السجل للكتب)۔ ( تشریحی نوٹ : "سجل" (بروزن "سطل") بڑے اور پانی سے بھرے ہوئے ڈول کے معنی میں ہے، اور "سجل" (سین اور جیم کی زیر اور لام کی شد کے ساتھ) ان پتھروں کے ٹکڑوں کے معنی میں ہے کہ جن کے اوپر لکھا جاتا تھا، اس کے بعد ان تمام اوراق کو کہ جن پر مطالب لکھتے ہیں کہا گیا ہے (مفردات راغب و قاموس) اس بات پر بھی توجہ رکھنی چاہیے کہ "کطى السجل للكتب" کے جملہ کی ترکیب میں کئی احتمال دیئے گئے ہیں، لیکن سب سے زیادہ مناسب یہی ہے کہ "طی" جو کہ مصدر ہے "سجل" کی طرف جو کہ اس کا مفعول ہے، مضاف ہے، اور " للكتب" میں جو لام ہے وہ اضافت کی ہے یا بیان علت کے لیے ۔ (غور کیجئے گا)۔ البتہ جیسا کہ پہلے بھی ہم نے اشارہ کیا ہے کہ خدا کی لامتناہی قدرت کے بارے ہیں "مشکل اور آسان" کوئی چیز نہیں ہے، بلکہ سب کچھ ایک جیسا ہے، اس بناء پر جو تعبیر مذکورہ بالا آیت میں آئی ہے، حقیقت میں انسانوں کی نظر کی لحاظ سے ہے۔ ) گزشتہ زمانے میں خطوط لکھنے کے لیے اور اسی طرح کتابیں لکھنے کے لیے، طومار (لپیٹے ہوئے کاغذ) کی طرح کے اوراق استعمال ہوتے تھے ۔ ان طوماروں کو لکھنے سے پہلے لپیٹ دیتے تھے اور لکھنے والا بتدریج آہستہ آہستہ اسے ایک طرف سے کھینچتا رہتا تھا اور جو مطالب اسے لکھنا ہوتے تھے اس کے اوپر لکھا کرتا تھا اور لکھائی ختم ہونے کے بعد پھر انہیں لپیٹ کر ایک طرف رکھ دیا جاتا تھا۔ لہذا ان کے خطوط اور کتابیں بھی طومار کی شکل میں ہوتی تھیں ۔اس طومار کو "سبحل" کا نام دیا جاتا تھا کہ جس کو لکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس آیت میں، دنیا کے اختتام پر، عالم ہستی کے لپیٹ دیئے جانے کی، ایک لطیف تشبیہ ہے۔ اس وقت اوراق کے یہ طومار کھلے ہوئے ہیں اور اس کے تمام نقوش اور خطوط پڑھے جارہے ہیں اور ہر ایک اپنی اپنی جگہ پر قائم اور برقرار ہے لیکن جب قیامت کا حکم ہو جائے گا تو یہ عظیم طومار اپنے تمام خطوط ونقوش کے ساتھ لپیٹ دیئے جائیں گے۔ البتہ دنیا کے لپیٹے جانے کا معنی اس کا مٹنا اور نابود ہونا نہیں ہے، جیسا کہ بعض نے خیال کر رکھا ہے۔ بلکہ اس کا درہم برہم ہوکر مل جانا اور اکٹھا ہو جانا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس جہان کی شکل وصورت تو بگڑ جائے گی، لیکن اس کا ماده نابود اور ختم نہیں ہو گا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جو آیات معاد کی مختلف تعبیرات سے اچھی طرح واضح ہوتی ہے مثلاً انسان کا بوسیده ہڈیوں اور قبروں سے اٹھنا ــــــــــــ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے کہ:" جس طرح ہم نے اسے ابتدا میں پیدا کیا ہے ( اسی طرح) دوبارہ پلٹائیں گے" یہ کام هماری عظیم قدرت کے سامنے کوئی مشکل نہیں ہے (كما بدأنا اوّل خلق نعيده) درحقیقت یہ تعبیر اس تعبیر کے مشابہ ہے کہ جو سوره اعراف کی آیه 29 میں ہے: كما بدأكم تعودون جس طرح سے اس نے تمہیں ابتداء میں پیدا کیا اسی طرح لوٹائے گا ۔ اسی طرح: وهوالذي يبدؤاالخلق ثم يعبده وهو أهون عليه اور وہی ذات تو ہے جس نے خلقت کی ابتداء کی، پھر اس کو لوٹائے گا اور یہ اس کے لیے زیادہ آسان ہے (روم ــــــــ 27) یہ جو بعض مفسرین نے احتمال پیش کیا ہے کہ اس بازگشت سے مراد فنا و نابودی کی طرف بازگشت یا آغاز آفرنیش کی طرح آپس میں لپیٹ دینا ہے، بہت ہی بعید نظر آتا ہے۔ اور آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : یہ وہ وعدہ ہے کہ جو ہم نے کیا ہے اور یقینًا ہم اسے انجام دیں گے۔ (وعدًا علينا اناكنا فاعلين)۔ (تشریحی نوٹ : "وعدًا" "وعدنا" کا مفعول ہے جوکہ مقدرہے یہ جملہ حقیقت میں چند قسم کی تاکیدیں لیے ہوئے ہے، مثلًا "وعدًا" "علينا" (ہم پر) پھر "انا" کے ساتھ تاکید اور دوسرے "كنا " میں فعل ماضی کا استعمال اور اسی طرح " فاعلین" کا لفظ ۔) بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مخلوق کی پہلی صورت میں باز گشت سے مراد یہ ہے کہ انسان دوباره ننگے پاؤں اورعریاں ــــ جیسا کہ ابتدائے خلقت میں تھے ـــــ پلٹ کرآئیں گے لیکن بلاشک اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ آیت کا مفہوم اسی معنی میں منحصر ہے، بلکہ یہ تو مخلوق کے پہلی صورت میں لوٹنے کی ایک شکل ہے۔

زمین کی حکومت صالحین کے لیے ہوگی

گزشتہ آیات میں صالح مومنین کے لیے اخروی جزاء کے ایک حصے کی طرف اشارہ کرنے کے بعد زیر بحث آیات میں نهایت عمدگی اور فصاحت سے ان کی ایک واضح دنیاوی جزا کی طرف اشارہ کیاگیاہے اور وہ ہے زمین کی حکومت ـــ ارشاد ہوتا ہے: ہم نے "زبور" میں "ذکر" کے بعد سے لکھ دیا ہے کہ آخر کار میرے صالح بندے زمین کی حکومت کے وارث ہو جائیں گے: (ولقد كتبنا فی الزبور من بعد الذكر ان الارض يرثها عبادي الصالحون) "ارض" سارے کره زمین کو کہا جاتا ہے اور سارا جہان اس میں شامل ہے مگر یہ کہ کوئی خاص قرینہ موجود ہو۔ اگرچہ بعض نے یہ احتمال پیش کیا ہے کہ اس سے مراد قیامت میں ساری زمین کا وارث ہونا ہے لیکن لفظ "ارض" کا ظاہری معنی جب کہ یہ مطلق طور پر بولا جائے، اس جہان کی زمین ہی ہوتا ہے ۔ لفظ "ارث" جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کر چکے ہیں، اس چیز کے معنی میں ہے کہ جو بغیر معاملہ اور خرید وفروخت کے کسی کی طرف منتقل ہو اور کبھی قرآن مجید میں "ارث" ایک صالح قوم کے غیرصالح قوم پر تسلط اور کامیابی اور ان کے تمام سرمائے و وسائل کو اپنے قبضہ اور اختیار میں لینے کے لیے بولاگیا هے۔ جیسا کہ سوره اعراف کی آیہ 137 میں بنی اسرائیل کی فرعونیوں پر کامیابی کے بارے میں بیان ہوا ہے : واورثنا القوم الذين كانوا يستضعفون مشارق الأرض ومغاربها ہم نے زمین کے مشرق و مغرب کو، اس مستضعف قوم کی میراث میں دے دیا ۔ اگرچہ "زبور" اصل میں ہر قسم کی کتاب اور تحریر کے معنی میں ہے ۔ قرآن مجید میں تین مواقع میں سے دو موقعوں پر یہ لفظ حضرت داؤد کی زبور کی طرف اشارہ ہے لیکن بعید نہیں کہ تیسرے موقع پر یعنی زیر بحث آیت میں بھی اسی معنی کی طرف اشارہ ہو۔ " زبور داؤدؑ" یا "عہد قدیم" کی کتابوں کی تعبیر میں "مزامیر داؤدؑ " اللہ کے نبی حضرت داؤد کی نصیحتوں دعاؤں اور مناجات کا ایک مجموعہ ہے۔ بعض مفسرین نے نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ "زبور" سے مراد یہاں گزشتہ انبیاء کی تمام کتب ہیں۔ ( تشریحی نوٹ : یہ احتمال تفسیر مجمع البیان اور تفسیر فخر رازی نے چند گزشتہ مفسرین سے نقل کیا ہے. ) لیکن مذکورہ دلیل کے پیش نظر ــــــ یہی معلوم ہوتا ہے کہ "زبور" سے مراد " مزامیر داؤد" ہی ہے۔ خاص طور جبکہ موجودہ مزامیر میں ایسی عبارتیں ملتی ہیں کہ جو زیر بحث آیت سے بالکل مطابقت رکھتی ہیں۔ انشااللہ ان کی طرف ہم بعد میں اشارہ کریں گے۔ "ذکر" دراصل یاد آوری یا اس چیز کے معنی میں ہے جو تذکر و یاد آوری کا باعث بنے۔ قرآن کی آیات میں اسی معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ کبھی حضرت موسٰیؑ کی آسمانی کتاب یعنی تورات پر بھی اس کا اطلاق ہواہے مثلا ًسوره انبیا کی آیہ 48: ولقد آتينا موسٰى وهارون الفرقان وضياء وذكرا للمتقين اور کبھی یہ لفظ قرآن کے لیے استعمال ہوا ہے۔ مثلًا سورہ تکویر کی آیہ 27: ان هو الا ذكر للعالمين لہذا بعض نے یہ کہا ہے کہ زیر بحث آیت میں ذکر سے مراد قرآن ہے اور زبور سے مراد تمام گزشتہ کتب ہیں اور "من بعد" کا لفظ، تقریبًا فارسی کے لفظ " علاوہ بریں" کے ہم معنی ہے۔ ( تشریحی نوٹ : اصطلاحی علمی تعبیر کے مطابق "بعد" کی لفظ یہاں "بعد" رتبی ہے نہ کہ "بعد" زمانی ـــــ اردو میں "من بعد" کا متبادل “علاوہ ازیں" یا "اس کے علاوہ" ہے) اس طرح سے آیت کا معنی یہ ہو گا : ہم نے قرآن کے علاوہ، تمام گزشتہ انبیاء کی کتابوں میں بھی لکھ دیا تھا کہ آخر کار تمام روۓ زمین خدا کے صالح بندوں کے اختیار میں قرار پاجائے گی۔ لیکن آیت میں جو تعبیرات استعمال ہوئی ہیں ان کی طرف توجہ کرتے ہوئے ظاہر ہے کہ زبور سے مراد حضرت داؤد کی کتاب ہی ہے اور "ذکر" تورات کے معنی میں ہے۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ زبور تورات کے بعد تھی تو "من بعد" کی تعبیر بھی حقیقی ہی ہوگی اور اس طرح آیت کا معنی یوں ہو گا: ہم نے تورات کے بعد، زبور میں یہ لکھ دیا تھا کہ اس زمین کی میراث ہمارےصالح بندوں تک پہنچے گی۔ یہاں پر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آسمانی کتابوں میں سے صرف انہی دو کتابوں کا نام کیوں لیا گیا ہے؟ ممکن ہے یہ اس وجہ سے ہو کہ حضرت داؤد ان بزرگ ترین پیغمبروں میں سے ایک تھے کہ جنہوں نے حق اور عدالت کی حکومت قائم کی اور بنی اسرائیل بھی وہ مستضعف قوم تھے کہ جنہوں نے مستکبرین کے خلاف قیام کیا اور ان کے اقتدار کو ختم کرکے ان کی حکومت اور سرزمین کے وارث ہو گئے۔ ایک اور سوال کے جو یہاں باقی رہ جاتا ہے، یہ ہے کہ خدا کے صالح بندے (عبادك الصالحون) کون ہیں؟ بندوں کی خدا کی طرف اضافت پر توجہ کرتے ہوئے، ان کے ایمان اور توحید کا مسئلہ واضح ہو جاتا ہے اور لفظ "صالحین" کی طرف توجہ کرنے سے جو کہ ایک وسیع معنی رکھتا ہے، تمام اہلتیں اور لیاقتیں ذہن میں آجاتی ہیں۔ عمل و تقوٰیٰ کے لحاظ سے اہلیت، علم و آگاہی کے لحاظ سے اہلیت، قدرت و قوت کے لحاظ سے اہلیت اور تدبیر و نظم وضبط اور اجتماعی شعور کے لحاظ سے اہلیت۔ جس وقت صاحب ایمان بندے اس قسم کی اہلیتیں پالیں، تو خدا بھی کمک اور مدد کرتا ہے تاکہ وہ مستکبرین کو شکست دے سکیں، ان کے آلودہ ہاتھوں کو زمین کی حکومت سے ہٹا سکیں اور ان کی میراثوں کے وارث بن جائیں۔ اس بنا پر صرف "مستضعف" ہونا دشمنوں پر کامیابی اور روئے زمین کی حکومت کے لیے کافی نہیں ہو گا بلکہ ایک طرف ایمان ضروری ہے اور دوسری طرف اہلیتوں کا حصول۔ مستضعفین جہان جب تک ان دو اصولوں کو زندہ نہیں کریں گے، روئے زمین کی حکومت کا نہیں پہنچ سکتے۔ اس لیے بعد والی آیت میں مزید تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے: اس بات میں ان لوگوں کے لیے کہ جو خدا کی اخلاص کے ساتھ عبادت کرتے ہیں، ایک واضح اور روشن ابلاغ ہے (ان فی هذا لبلاغا لقوم عابدين) – بعض مفسرین لفظ "هذا" کو ان تمام وعدوں اور وعیدوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں کہ جو اس سورہ میں ہیں یا سارے قرآن میں ہیں۔ لیکن آیہ کا ظاہر یہ ہے کہ "هذا" اسی وعدہ کی طرف اشارہ ہے کہ جو گزشتہ آیت میں خدا نے اپنے صالح بندوں سے روئے زمین کی حکومت کے بارے میں کیا ہے۔

چند اہم نکات: 1- قیام مہدی کے سلسلے میں روایات

بعض روایات میں یہ آیت صراحت کے ساتھ حضرت امام مهدیؑ کے یارو انصار کے ساتھ تفسیر ہوئی ہے۔ جیساکہ مجمع البیان میں امام محمد باقر علیہ السلام سے اسی آیت کے ذیل منقول ہے: هم اصحاب المهدي في اٰخر الزمان : وہ صالح بندے کہ جن کا خدا نے اس آیت میں وارثان زمین کے عنوان سے ذکر کیا ہے وہ آخری زمانے میں مہدی کے اصحاب و انصار ہیں۔ تفسیر قمی میں بھی اس آیت کے ذیل میں ہے : ان الارض يرثها عبادي الصالحون، قال القائم واصحابه اس سے مراد کہ زمین کے وارث خدا کے صالح بندے ہوں گے، مهدی قائم اور ان کے اصحاب ہیں۔ بغیر کہے یہ بات واضح ہے کہ روایات اسی ایک عالی اور آشکار مصداق کا بیان ہیں۔ ہم نے بارہا بیان کیا ہے کہ یہ تفاسیر ہرگز آیت کے مفہوم کی عمویت کو محدود نہیں کرتیں ۔ لہذا جس زمانے میں بھی اور جس جگہ بھی خدا کے صالح بندے اٹھ کھڑے ہوں گے تو وہ کامیاب ہوں گے اور آخرکار زمین اور اس کی حکومت کے وارث ہو جائیں گے۔ مندرجہ بالا روایات تو خصوصیت سے اس آیت کی تعبیر کے بارے میں ہیں۔ ان کے علاوہ بھی شعیہ سنی کتب میں حد تواتر کو پہنچی ہوئی بہت زیادہ روایات ہیں جو پیغمبر اسلام اور آئمہ اہل بیتؑ سے منقول ہیں۔ اور سب کی سب اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ آخر کار اس جہان کی حکومت صالحین کے ہاتھ آجائے گی اور خاندان پیغمبرؐ سے ایک شخص قیام کرے گا کہ جو زمین کو عدل و داد سے اس طرح سے بھر دےگا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہو گی۔ ان میں سے ایک مشہور حدیث ہے جو اکثر منابع اسلامی میں پیغمبراکرمؐ سے نقل ہوئی ہے : لو لم يبق من الدنيا الا يوم لطوّل الله ذلك اليوم حتی يبعث رجلًا (صالحًا) من اهل بيتى يملأ الأرض عدلاو قسطًا کما ملئت ظلمًا وجورًا۔ "اگر دنیا کی عمر میں سے ایک ہی دن باقی رہ جائے تو بھی خدا اس دن کو اس قدر طولانی کردے گا کہ میرے خاندان میں سے ایک مرد صالح کو مبعوث کرے گا کہ جوصفحہ زمین کو اس طرح سے عدل و انصاف سے معمور کردے گا کہ جس طرح سے ظلم و جور سے بھری ہو گی۔ یہ حدیث انہی الفاظ میں یا تھوڑے بہت فرق کے ساتھ بہت سی شیعہ اور اہل سنت کی کتابوں میں نقل ہوتی ہے ۔ ( تشریحی نوٹ : مزید معلومات کے لیے کتاب "منتخب الاثر" اور "نورالابصار" کی طرف رجوع کریں) ہم سورہ توبہ کی آیه 33 کے ذیل میں بیان کر چکے ہیں کہ بہت سے بزرگ شیعہ سنی علماء، متقدمین و متاخرین نے اپنی اپنی کتابوں میں اس بات کو صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ قیام مہدی کے سلسلہ کی احادیث حد تواتر پہنچی ہوئی ہیں اور کسی طرح سے بھی قابل انکار نہیں ہیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے اس بارے میں خصوصیت کے ساتھ کتابیں لکھی ہیں کہ جن کی تفصیل آپ تفسیر نمونہ کی چوتھی جلد سورہ توبہ کی آیه 33 کے ذیل میں مطالعہ فرما سکتے ہیں۔

2- مزامیر داؤدؑ میں صالحین کی حکومت کی بشارت

قابل توجہ بات یہ ہے کہ کتاب مزامیر داؤد میں کہ جو اس وقت کتب عہد قدیم کا حصہ ہے بالکل وہی تعبیر کہ جو مندرجہ بالا آیات میں بیان ہوئی ہے یا اس سے ملتی جلتی کئی مقام پر دکھائی دیتی ہے۔ یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان تمام تحریفات کے باوجود کہ جو ان کتابوں میں کی گئی ہیں، یہ حصہ اس طرح کی دستبرد سے محفوظ رہ گیا ہے، مثلًا: 1- مزمور 37 جملہ 9 میں ہے : "کیونکہ شریر منقطع ہو جائیں گے لیکن خدا پر توکل کرنے والے زمین کے وارث ہوں گے اور عنقریب شریر نیست و نابود ہو جائیں گے۔ تو اس کی جگہ کے بارے میں جتنا بھی پوچھے گا کچھ معلوم نہ ہو گا۔ 2- اور اسی مزمور میں دوسری جگہ (جملہ - 11) میں ہے: : لیکن انکسار و تواضع سے زمین کے وارث ہوکر بڑی سلامتی پائیں گے۔ 3- اور اسی مزمور 37 کے جملہ 27 میں یہ موضوع ایک اور تعبیر کے ساتھ بھی دکھائی دیتا ہے : کیونکہ متبرکان خدا زمین کے وارث ہو جائیں گے لیکن اس کے ملعونین منقطع ہو جا ئیں گے .. .. .. . 4- اسی مزمور کے جملہ 29 میں ہے: صدیقین زمین کے وارث ہو جائیں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ 5- اور اسی مزمور کے جملہ 18 میں ہے : خدا صالحین کے دلوں کو جانتا ہے اور ان کی میراث ابدی ہوگی۔ ( تشریحی نوٹ : ان جملوں کو عمومًا کتب عہد عتیق کے فارسی ترجمہ سے نقل کیا گیا ہے کہ جو 1878 ء میں کلیسا کی معروف شخصیات کی زیر نگرانی شائع ہوا۔ برطانیہ میں ان شخصیات نے دوسرے ممالک کو بھیجنے کے لیے کتب مقدسہ کے ترجمے کیے تھے ) یہاں پر ہم خوب دیکھ رہے ہیں کہ وہی صالحین کا لفظ کہ جو قرآن میں آیا ہے مزامیر داؤدؑ میں بھی نظرآ رہا ہے اس کے علاوہ دوسری تعبیریں " صد یقین" "متوکلين" "متبرکین" اور "متواضعین" کہ جو اس تعبیر کے ساتھ ملتے جلتے ہیں، وہ بھی دوسرے جملوں میں مذکور ہیں۔ یہ تعبیر صالحین کی عمومی حکومت کی دلیل ہیں اور قیام مہدی کی احادیث کے ساتھ مکمل مطابقت رکھتی ہیں۔

3- صالحین کی حکومت ایک قانون آفرینش ہے

اگرچہ یہ بات ان لوگوں کے لیے کہ جنہوں نے زیادہ تر ظالموں، جابروں اور سرکشوں کی حکومتوں کو ہی دیکھا ہے، اس حقیقت کو آسانی کے ساتھ قبول کرنا مشکل ہے کہ یہ سب حکومتیں قوانین جہان خلقت کے بر خلاف ہیں اور جو ان قوانین سے ہم آہنگ ہے وہ صرف صاحب ایمان صالحین کی حکومت ہے۔ لیکن منطقی اور فلسفی تجزیوں کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے . لہذا " ان الارض يرثها عبادي الصالحون" کا جملہ اس سے پہلے کہ ایک خدائی وعدہ ہو ایک قانون تکوینی بھی شمار ہوتا ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ جہاں تک ہمیں معلوم ہے جہان ہستی مختلف نظاموں کامجموعہ ہے۔ اس پورے عالم میں منظم اور عموی قوانین کا وجود اس نظام کی یگانگت اور بہم پیوستگی دلیل ہے۔ عالم آفریش کی وسعت میں نظم، قانون اور حساب کا مسئلہ، اس عالم کے اساسی ترین مسائل میں سے ایک ہے۔ مثلًا اگر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کئی سوطاقتور کمپیوٹر مل کر خلائی سفر کے لیے وقیق حساب کر رہے ہیں اور ان کے حسابات بالکل درست بیٹھتے ہیں اور چاند گاڑی اسی پہلے سے مقرر شده جگہ پر چاند میں جا اترتی ہے حالانکہ چاند اور زمین کا کرہ دونوں بڑی تیزی کے ساتھ حرکت کر رہے ہیں تو ہمیں اس بات کی طرف توجہ رکھنی چاہیئے کہ اس بات کا اس طرح ہونا، نظام شمسی اور اس کے ستاروں اور چاند کے دقیق نظام کے ماتحت ہونے کا مرہون منت ہے کیونکہ اگر وہ ایک سیکنڈ کے سویں حصے کے برابر بھی اپنی منظم رفتار سے منحرف ہو جائے، توکچھ معلوم نہیں کہ خلائی مسافر کسی مقام پر جا پڑتے۔ اب ہم اس بڑے جہاں سے چھوٹے عالم اور اس سے چھوٹے اور بہت ہی چھوٹے عالم میں آتے ہیں ۔ یہاں پر خاص طور سے زندہ موجودات میں ایک نمایاں نظم موجود ہے اور اس میں حرج و مرج کی کوئی گنجائش نہیں ہے مثلًا انسان کے دماغ کے ایک خلیے کی تنظیم کی خرابی اس بات کے لیے کافی ہے کہ اس کی زندگی کے تمام نظام کو بگاڑ دے۔ اخباروں میں ایک دفعہ یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ ایک نوجوان طالبعلم کو ٹریفک کا حادثہ پیش آیا تھا۔ اس میں وہ شدید دماغی دھچکے کا شکار ہوا تھا اور تقریبًا اپنی تمام گزشتہ باتوں کو بھول گیا۔ جبکہ وہ دوسری طرف، ہر طرح صحیح و سالم تھا - اخبارات نے لکھا کہ وہ اپنے بھائی اور بہن کو بھی نہیں پہچانتا اور جب اس کی ماں اسے اپنی آغوش میں لے کر پیار کرتی ہے تو وہ گھبراتا ہے کہ یہ اجنبی عورت میرے ساتھ کیا کر رہی ہے۔ اسے اس کمرے میں لے جایا گیا کہ جہاں وہ پل کر بڑا ہوا ہے، وہاں وہ اپنے دستی کاموں اور اپنی کھینچی ہوئی تصویروں کو دیکھتا ہے، لیکن کہتا ہے کہ میں اس قسم کے کمرے اور تصویروں کو پہلی مرتبہ دیکھ رہا ہوں، شاید وہ یہ سوچتا ہے کہ وه کسی دوسرے کرہ سے اس کرہ میں اتر آیا ہے کیونکہ تمام چیزیں اس کے لیے نئی ہیں۔ شاید اس کے دماغ کے کروڑوں سیلوں میں سے چند ارتباطی سیل کہ جو گزشتہ کو حال سے ملاتے ہیں بیکار ہوگئے تھے لیکن اس جزوی تنظیم کے خراب ہونے نے کیا وحشتناک اثردکھایا۔ تو کیا انسانی معاشره "لانظام" حرج و مرج، ظلم وستم، اور ناہنجاری کو انتخاب کرکے، اپنے آپ کو جہان آفرنیش کے اس عظیم سمندر سے الگ کرسکتا ہے؟ کہ جس میں سب کے سب منظم پروگرام کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ کیا جہان کی وضع عمومی کا مشاہدہ ہمیں یہ سوچنے پرمجبور نہیں کرتا کہ بشریت بھی خوامخواہ عالم ہستی کے نظام کے سامنے سرتسلیم خم کرے اور منظم اور عادلانہ نظام کو قبول کرے، اپنی اصلی راہ کی طرف پلٹ آئے اور اس نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائے ؟! ہم ہر انسان کے بدن کی گوناں گوں اور پیچیده مشین کی ساخت پر ایک نظر ڈالتے ہیں ۔ دل و دماغ سے لے کر آنکھ کان زبان یہاں تک کہ بال کی ایک جڑ کو دیکھتے ہیں، یہ سب کے سب قوانین نظم اور ایک حساب کے تابع ہیں، تو اس حالت میں انسانی معاشرہ ضوابط و قوانین اور صحیح عادلانہ نظام کی پیروی کے بغیر کس طرح برقرار رہ سکتا ہے؟ ہم بقائے بشریت کے خواہاں ہیں اور اس کے لیے سعی و کوشش کرتے ہیں۔ البتہ ابھی تک ہمارے معاشرے کی سطح آگاہی اس حد تک نہیں پہنچی ہے کہ ہم یہ جان لیں کہ موجودہ راہ دورش کو جاری رکھنے کا انجام ہماری فنا اور نابودی ہے۔ لیکن آہستہ آہستہ یہ ادراک اور شعور فکری ہمیں حاصل ہو جائے گا۔ ہم اپنے مفادات کے خواہاں تو ہیں لیکن ابھی تک ہم یہ نہیں جانتے کہ موجودہ حالت کو برقرار رکھنا، ہمارے مفادات کو برباد کر رہا ہے۔ البتہ آہستہ آہستہ جب ہم بیدار ہوں گے اور اسلحہ سازی پر غور کریں گے تو ہم دیکھیں گے کہ عالمی معاشروں کی آدھی فعال ترین فکری اور جسمانی قوتیں اور عالمی سرمائے کا آدھا حصہ اس راستے میں رائیگاں جا رہا ہے۔ نہ صرف رائیگاں جا رہا ہے بلکہ دوسرے آدھے کو نابود کرنے کے کام میں لایا جا رہا ہے۔ سطح آگاہی بلند ہوگی تو ہم واضح طور پر جان لیں گے کہ ہمیں عالم ہستی کے عمومی نظام کی طرف پلٹنا چاہیے اور اس کے ساتھ ہم آواز ہونا چاہیئے۔ اور جس طرح سے کہ ہم واقعی طور پر اس کل کی ایک جز ہیں، عملی طور پر بھی ہمیں ایسا ہی ہونا چاہیئے تاکہ ہم تمام مسائل میں اپنے مقاصد تک پہنچ سکیں؟ نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ جہان انسانیت میں نظام آفرینش ہی آئندہ زمانے میں ایک صحیح اجتماعی نظام کو قبول کرنے کے لیے ایک روشن دلیل بنے گا اور وہی چیز ہے کہ جو زیر بحث آیت اور "عالم کے مصلح عظیم"( مهدی ارواحنا فداه) کے قیام سے مربوط احادیث سے معلوم ہوتی ہے۔ ( تشریحی نوٹ :یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ یہ بحث سال 1402 ھ کے ماہ شعبان کی پندرہویں رات - جو ولادت باسعادت حضرت مہدی امام زمانہ (ارواحناله الفد اہ) کی رات ہے، کو لکھی گئی ہے ہم اس بحث کو ایسے وقت میں لکھ رہے ہیں کہ ہمارے مسلمان بھائی خوشیاں منا رہے ہیں۔ ایک توحضرت مہدیؑ کے میلاد مسعود کی اور دوسری ان نمایاں کامیابیوں کی کہ جو لشکر اسلام کو محاز جنگ پر نصیب ہوئی ہیں اور ہم خدا کا ان سعادتوں کے ملاپ پر شکر ادا کرتے ہیں)۔

105
21:105
وَلَقَدۡ كَتَبۡنَا فِي ٱلزَّبُورِ مِنۢ بَعۡدِ ٱلذِّكۡرِ أَنَّ ٱلۡأَرۡضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ ٱلصَّـٰلِحُونَ
ہم نے ذکر (تورات) کے بعد زبور میں لکھ دیا ہے کہ میرے صالح بندے زمین (کی حکومت) کے وارث ہوں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 112 کے تحت ملاحظہ کریں۔

106
21:106
إِنَّ فِي هَٰذَا لَبَلَٰغٗا لِّقَوۡمٍ عَٰبِدِينَ
اس میں عبادت گزاروں کے لئے ایک روشن ابلاغ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 112 کے تحت ملاحظہ کریں۔

107
21:107
وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ إِلَّا رَحۡمَةٗ لِّلۡعَٰلَمِينَ
اور (اے رسول) ہم نے تجھے عالمین کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 112 کے تحت ملاحظہ کریں۔

108
21:108
قُلۡ إِنَّمَا يُوحَىٰٓ إِلَيَّ أَنَّمَآ إِلَٰهُكُمۡ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞۖ فَهَلۡ أَنتُم مُّسۡلِمُونَ
تم کہہ دو کہ مجھے تو صرف یہ وحی ہوتی ہے کہ تمہار معبود خدائے یگانہ ہے۔ تو کیا (حق کے سامنے) سر تسلیم خم کرو گے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 112 کے تحت ملاحظہ کریں۔

109
21:109
فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَقُلۡ ءَاذَنتُكُمۡ عَلَىٰ سَوَآءٖۖ وَإِنۡ أَدۡرِيٓ أَقَرِيبٌ أَم بَعِيدٞ مَّا تُوعَدُونَ
اگر (ان تمام باتوں کے باوجود) وہ رو گر دانی کریں تو تم ان سے یہ کہدو کہ میں تم سب کو یکساں طور پر عذاب الٰہی سے خبر دار کرتا ہوں اور میں یہ نہیں جانتا کہ (عذاب خدا کا) یہ وعدہ تمہارے نزدیک ہے یا دور۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 112 کے تحت ملاحظہ کریں۔

110
21:110
إِنَّهُۥ يَعۡلَمُ ٱلۡجَهۡرَ مِنَ ٱلۡقَوۡلِ وَيَعۡلَمُ مَا تَكۡتُمُونَ
یقیناً وہ ظاہر باتوں کو بھی جانتا ہے اور جسے تم چھپاتے ہواسے بھی جانتا ہے

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 112 کے تحت ملاحظہ کریں۔

111
21:111
وَإِنۡ أَدۡرِي لَعَلَّهُۥ فِتۡنَةٞ لَّكُمۡ وَمَتَٰعٌ إِلَىٰ حِينٖ
اور میں یہ نہیں جانتا کہ شاید یہ بات تمہارے لئے آزامائش ہو اور ایک (معین) مدت کے لئے فائدہ اٹھانے کے لئے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 112 کے تحت ملاحظہ کریں۔

112
21:112
قَٰلَ رَبِّ ٱحۡكُم بِٱلۡحَقِّۗ وَرَبُّنَا ٱلرَّحۡمَٰنُ ٱلۡمُسۡتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ
(پیغمبر نے)عرـض کیا: پر ور دگار! تو حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے، اور ہمارا پر ودگار ہی وہ رحمن ہے جس سے میں تمہاری ناروا تہمتوں پر مدد طلب کرتا ہوں۔

عالمین کے لیے پیغمبر رحمت

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات صالح بندوں کو روئے زمین کی حکومت کی بشارت دے رہی تھیں، اور اس قسم کی حکومت تمام جہانوں کے لیے باعث رحمت ہے، اس لیے پہلی زیر بحث آیت میں وجود پیغمبرؐ کے رحمت عامہ ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر عالمین کے لیے رحمت بناکر ( وما ارسلناك الا رحمة للعالمین)۔ دنیا کے سبھی لوگ خواہ وہ مومن ہوں یا کافر تیری رحمت کے ممنون ہیں کیونکہ تو نے ایسے دین و آئین کی ترویج اپنے ذمہ لی ہے کہ جو سب کی نجات کا سبب ہے۔ اب اگر کچھ لوگوں نے اس سے فائدہ اٹھایا ہے اور کچھ نے نہیں اٹھایا، تو یہ بات خود انہیں سے تعلق رکھتی ہے اور اس کا تیری رحمت کے عمومی ہونے پر کوئی اثر نہیں ہے ۔ یہ بالکل اسی طرح ہے کہ ایک ساز و سامان سے آراستہ ہسپتال تمام بیماریوں کے علاج کے لیے بنایا جائے جس میں ہر قسم کی دوائیاں اور ماہر طبیب اور ڈاکٹر موجود ہوں اور اس کے دروازے سے تمام لوگوں کے لیے بلا کسی امتیاز کے کھول دیئے جائیں تو کیا یہ اس معاشرے کے تمام لوگوں کے لیے وسیلہ رحمت نہیں ہے؟ اب اگر بعض ہٹ دھرم بیمار اس فیض عام کو خود سے قبول کرنے سے انکار کر دیں تو اس مرکز شفا کے عمومی ہونے پر اثرانداز نہیں ہوں گے۔ دوسرے لفظوں میں پیغمبر اکرمؐ کے وجود کا تمام جہانوں کے لیے رحمت ہونا تو فاعل کی فاعلیت سے مقتضی ہونے کا پہلو رکھتا ہے لیکن مسلمہ طور پر فعلیت تبھی نتیجہ خیز ہے جب قبول کرنے والے میں قبول کرنے کی قابلیت بھی ہو۔ "عالمین" کی تعبیر ایسا وسیع مفہوم رکھتی ہے کہ جس میں تمام ادوار کے تمام انسان شامل ہیں اسی لیے اس آیت کو پیغمبراسلامؐ کی خاتمیت کے لیے بھی اشارہ سمجھا گیا ہے کیونکہ آپ کا وجود آئندہ کے تمام انسانوں کے لیے عالم کے اختتام تک رحمت ہے اور رہبر و پیشوا و مقتداء ہے اور ایک لحاظ سے تو یہ رحمت فرشتوں کے لیے بھی ہے۔ اس سلسلے میں ایک عمدہ حدیث نقل ہوئی ہے کہ جو اس عمومیت کی تائید کرتی ہے، حدیث یہ ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی تو پیغمبر اکرمؐ نے جبرئیلؑ سے پوچھا : هل اصابك من هذه الرحمة شيء کیا اس رحمت کا کچھ فائدہ تمہیں بھی پہنچا: تو جبرئیل نے جواب میں عرض کیا : "اني كنت اخشى عاقبة الأمر، فامنت بک، لما اثنى الله علىّ بقوله عند ذی العرش مكين" میں اپنے انجام سے ڈرتا تھا لیکن ایک آیت کی وجہ سے کہ جو آپ پر قرآن میں نازل ہوئی ہے، میں اپنی حالت سے مطمئن ہو گیا ہوں، کیونکہ خدا نے میری اس جملہ کے ساتھ مدح کی ہے: ذى قوة عند ذي العرش مكين (جبرئیل خدا کے ہاں کہ جو خالق عرش ہے بلند مقام و مرتبہ رہے)۔ (بحوالہ : مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں) بہرحال موجودہ دنیا کہ جس کے در و دیوار سے فساد، تباہی اور ظلم وستم کی بارش ہو رہی ہے جنگوں کے شعلے ہر جگہ بھڑک رہے ہیں اور ظالم قوتوں کا چنگل مظلوم مستضعفین کے گلے دبا رہا ہے، اس دنیا میں کہ جس میں جہالت، اخلاقی تباہی، خیانت ظلم و استبداد طبقاتی تفاوت نے ہزاروں قسم کی مشکلات اور مصیبتیں پیدا کر دی ہیں ۔ہاں! ہاں! ایسے جہان میں پیغمبراکرم کے "رحمۃ اللعالمین" ہونے کا مفہوم ہر دور سے زیادہ آشکار اور واضح ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا رحمت ہوگی کہ آپؐ ایک ایسا پروگرام لے کرآئے ہیں کہ جس پر عمل سے یہ تمام نامرادیاں، بدبختیاں اور سیاہ کاریاں ختم ہو سکتی ہیں۔ ہاں! ہاں! وہ بھی اور ان کے احکام بھی، آپؐ کا پروگرام اور آپ کا اخلاق بھی سب کے سب رحمت ہیں۔ ایسی رحمت کہ جو سب کے لیے ہے اور اس رحمت کی بقا و دوام کا نتیجہ تمام کره زمین پر صاحبان ایمان صالحین کی حکومت ہو گا۔ اور چونکہ رحمت کا اہم ترین مظہر اور اس کی محکم ترین بنیاد مسئلہ توحید اور اس کے جلوے ہیں لہذا اگلی آیت میں فرمایا گیا : تم یہ کہہ دو کہ مجھ پر تو یہی وحی ہوئی ہے کہ تمہارا معبود تو ایک ہی معبود ہے (قل انما يوحٰي الىّ انما الهكم اله واحد) تو کیا تم اس بات کے لیے تیار ہو کہ اس بنیادی اصل یعنی توحید کے سامنے سر تسلیم خم کردو اور بتوں کو چھوڑ دو (فهل انتم مسلمون)۔ درحقیقت اس آیت میں تین بنیادی نکات پیش کیے گئے ہیں : پہلا نکتہ یہ ہے کہ رحمت کی حقیقی بنیاد توحید ہے اور سچ بات یہ ہے کہ ہم جتنا بھی غور و فکر کریں گے اتنا ہی یہ قوی رابطہ واضح تر اور روشن تر ہوتا جائے گا ۔ اعتقاد میں توحید، عمل میں توحید، صفوں میں توحید، قانون میں توحید، غرضیکہ ہر چیز میں توحید ۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ لفظ "انّما" کے تقاضے کے مطابق کہ جو حصر پر دلالت کرتا ہے، اسلام کے پیغمبر کی تمام دعوت " کا خلاصہ، اصل توحید ہے۔ گہرا مطالعہ بھی اسی بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اصول دین میں بلکہ فروع و احکام تک میں بھی آخرکار توحید ہی کی طرف لوٹتے ہیں اور اسی بنا پر ــــــ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی بیان کیا ہے۔ توحید صرف اصول دین کی ایک اصل ہی نہیں بلکہ یہ ایک مضبوط دھاگے کی مانند ہے کہ جو تسبیح کے دانوں کو ایک دوسرے سے ملاتی ہے یا زیادہ صحیح الفاظ میں ایک روح ہے کہ جو دین کے بدن میں پھونکی کی گئی ہے۔ آخری نکتہ یہ ہے کہ تمام معاشروں اور قوموں کی اصل مشکل مختلف شکلوں میں شرک سے آلودگی ہے۔ کیونکہ" فهل انتم مسلمون" (کیا اس اصل کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہو) کا جملہ سے بتاتا ہے کہ اصل مشکل شرک اور شرک کے مظاہر سے باہر آنا اور بتوں کو توڑنے کے لیے آستینیں چڑھانا ہے، نہ صرف پتھر اور لکڑی کے بتوں، بلکہ ہرقسم کے بتوں، خصوصًا انسانی طاغوتوں کو توڑنے کے لیے – بعد والی آیت کہتی ہے کہ اگر ان تمام باتوں کے باوجود ہماری دعوت اور پیغام کی طرف توجہ نہ کریں اور روگردانی کریں تو ان سے کہہ دو کہ میں تم سب کو یکساں طور پر عذاب الہی کے خطرے سے آگاہ کرتا ہوں ( فان تولوا فقل اٰذ نتكم على سواء) ۔ "أذنت " مادہ "ایذان" سے خبردار کرنے کے معنی میں ہے جس کے ساتھ تہدید ہو موجود ہو اور بعض اوقات یہ لفظ اعلان جنگ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ لیکن چونکہ یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی تھی اور وہاں نہ تو جہاد کے لیے زمین ہموار تھی اور نہ ہی حکم جہاد نازل ہوا تھا، لہذا یہ بات بہت بعید نظر آتی ہے کہ یہ جملہ بلکہ یہاں پر اعلان جنگ سے معنی میں ہو۔ بلکہ ظاہر ہے کہ پیغمبراکرمؐ اس بات سے یہ چاہتے ہیں کہ ان سے اعلان نفرت و علیحدگی کریں۔ "على سواء" کی تعبیر یا تو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ میں خدا کی سزا اور عذاب کے خطرے سے تم سب کو یکساں طور پر خبردار کرتا ہوں تاکہ وہ یہ تصور نہ کرلیں کہ اہل مکہ یا قریش اور دوسروں میں کوئی فرق ہے اور خدا کی بارگاہ میں انہیں کوئی بڑائی با برتری حاصل ہے اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ میں اپنی آواز تم سب کے کانوں تک بغیر کسی استثناء کے پہنچا چکا ہوں۔ پھر اسی تہدید کو اور زیادہ آشکار صورت میں بیان کرتے ہوئے فرمایاگیا ہے، میں نہیں جانتا کہ عذاب کا وہ وعدہ کہ جو تم سے کیا گیا ہے، قریب ہے یا دور: (وان ادري اقریب أم بعيد ماتوعدون )۔ یہ خیال کرنا کہ یہ وعدہ دور ہے، شاید نزدیک ہو اور بہت ہی نزدیک ہو۔ یہ عذاب اور سزا کہ جس کی یہاں انہیں تہدید کی گئی ہے، ممکن ہے کہ عذاب قیامت ہو یا دنیا کی سزا اور یا یہ دونوں ہی ہوں۔ پہلی صورت میں اس کا علم خدا کے ساتھ مخصوص ہے اور کوئی بھی شخص ٹھیک طور پر وقوع قیامت کی تاریخ سے آگاہ نہیں ہے حتٰی کہ خدا کے پیغمبر بھی۔ اور دوسری اور تیسری صورت میں ممکن ہے کہ اس کی جزئیات اور زمانے کے بارے میں اشارہ ہو، کہ میں ان جزئیات سے آگاہ نہیں ہوں کیونکہ پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا علم اس قسم کے حادثات کے بارے میں ہمیشہ فعلی پہلو نہیں رکھتا بلکہ یہ بعض اوقات ارادی پہلو رکھتا ہے یعنی جب تک ارادہ نہ کریں نہیں جانتے۔ ( تشریحی نوٹ : مزید وضاحت کے لیے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم اور ان کے معصوم جانشینوں کے بارے میں کتاب رہبران بزرگ و مسئو لیت ھایی بزرگ تر کا مطالعہ کریں )۔ یہ تصور بھی اپنے ذہنوں میں نہ پھٹکنے دو کہ اگر تمہاری سزا میں کچھ تاخیر ہوجائے تو یہ اس وجہ سے ہے کہ خدا تمہارے اعمال اور تمہاری باتوں سے آگاہ نہیں ہے۔ نہیں ! ایسانہیں ہے وہ سب کچھ جانتا ہے" وہ تمہاری آشکار باتوں کو بھی جانتا ہے اور ان باتوں کو بھی کہ جنہیں تم چھپاتے ہو "(انه يعلم الجهر من القول ويعلم ماتكتمون)۔ اصولی طور پر پنہاں و آشکار، تمہارے لیے تو مفہوم رکھتا ہے کیونکہ تمہارا علم محدود ہے ـــــ لیکن اس ذات کے لیے کہ جس کا علم بے پایاں اور لامتناہی ہے، غیب وشہود ایک ہے اور پوشیدہ اور اعلانیہ یکساں ہے۔ علاوہ ازیں اگر تم یہ دیکھ رہے ہو کہ خدائی سزا فوری طور پر تمہارے دامن گیر نہیں ہو رہی تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ تمھارے کام سے آگاہ نہیں مجھے کیا معلوم ؟ شاید یہ تمھاری آزمائش کے لیے ہو" (وان ادری لعله فتنة لكم) – "اور وہ چاہتا ہے کہ تمہیں اس دنیا کی لذتوں سے ایک مدت تک بہرہ مند کرے اور اس کے بعد تم سے ہر چیزلے لے اور جزا دے (ومتاع إلى حين) درحقیقت یہاں خدائی سزاؤں کی تاخیر کے دوفلسفے بیان ہوئے ہیں۔ پہلا فلسفہ امتحان وآزمائش ہے۔ خدا ہرگز عذاب میں جلد بازی نہیں کرتا تاکہ مخلوق کی کافی حد تک آزمائش کرلے اور اتمام حجت کردے۔ دوسرا فلسفہ یہ ہے کہ کچھ ایسے افراد ہیں کہ جن کی آزمائش تو مکمل ہوچکی ہے اور ان کی سزا کا فیصلہ قطعی ہو چکا ہے لیکن اس غرض سے کہ انہیں سخت سے سخت سزا ہو، اپنی نعمت کو ان پر وسیع کر دیتا ہے تاکہ وہ پوری طرح نعمت میں غرق ہوجائیں اور ٹھیک اسی حالت میں جب کہ وہ نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں عذاب کے تازیانے ان پر پڑنے لگیں تاکہ وہ اور بھی زیادہ درد ناک اور تکلیف دہ محسوس ہوں اور محروموں اور ستم دیدہ لوگوں کی تکلیفوں کا اچھی طرح احساس کریں ۔ آخری زیر بحث آیت کہ جو سوره انبیاء کی بھی آخری آیت ہے، اس سورت کی پہلی آیت کی طرح بے خبر لوگوں کی غفلت کے بارے میں گفتگو کررہی ہے اور پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا قول نقل کیا گیا ہے: اس سے ان لوگوں کے غرور اور غفلت کے بارے میں آپ کی ناراضگی اور پریشانی ظاہر ا ہو رہی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: پیغمبر نے ان کی تمام روگردانیوں اور اعراض کو دیکھنے کے بعد عرض کیا : میرے پروردگار ! اب حق کے ساتھ فیصلہ کردے اوراس سرکش گروه کو اپنی عدالت کے قانون کے مطابق سزا دے" (قال رب احكم بالحق )۔ ( تشریحی نوٹ : اس میں شک نہیں کہ خدا کا ہر حکم حق کے مطابق ہے لہذا "بالحق" یہاں توضیحی پہلو رکھتا ہے۔ ) دوسرے جملے میں روئے سخن مخالفین کی طرف کرتے ہوئے فرمایا کیا گیا ہے: "ہم سب کا پروردگار خدائے رحمٰن ہے اور ہم اس کی مقدس بارگاہ میں ان نارو تہمتوں پر کہ جو تم اس کی طرف دیتے ہو، اسی سے مدد مانگتے ہیں" (وربنا الرحمن المستعان على ما تصفون)۔ درحقیقت لفظ "ربنا" انہیں اس حقیقت کی طرف توجہ دلارہا ہے کہ ہم سب کے سب مربوب مخلوق ہیں اور وہ ہم سب کا خالق و پروردگار ہے۔ لفط "الرحمٰن" کہ جو پروردگار کی رحمت عامہ کی طرف اشارہ ہے، انہیں یہ بات سمجھا رہا ہے کہ تمہارے سارے وجود کو خدا کی رحمت نے گھیر رکھا ہے۔ تو پھر ایک لمحے کے لیے ان سب نعمتوں اور رحمتوں کے پیدا کرنے والے سے اس میں غور و فکر کیوں نہیں کرتے؟ اور "المستعان على ما تصفون" کی تعبیر انہیں اس بات پر خبردار کر رہی ہے کہ یہ گمان نہ کرلینا کہ ہم تمہاری جمعیت کی کثرت کے مقابلہ میں تنہا ہیں اور یہ تصور بھی کرلیناکہ تمہاری یہ سب تہمتیں اور جھوٹ اور ناروا نسبتیں چاہے وہ خدا کی ذات پاک کی طرف ہوں یا ہماری طرف ان کا جواب ضرور دیا جائے گا ۔ کیونکہ ہم سب کی پناہ گاہ دہی ہے اور وہ اس بات پر قادر ہے کہ اپنے مومن بندوں کا ہرقسم کے جھوٹ اور تہمتوں کے مقابلہ میں دفاع کرے۔

اختتام

پروردگارا ! جس طرح تونے اپنے پیغمبرگرامی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے قلیل ساتھیوں کو ان کے کثیر دشمنوں کے مقابلے میں اکیلا نہیں چھوڑا، ہمیں بھی مشرق و مغرب کے ان دشمنوں کے مقابلے میں تنہا نہ رہنے دے کہ جنہوں نے ہماری تباہی کے لیے ایکا کرلیا ہے۔ خداوندا ! تونے اس پر برکت سورت میں اپنی خاص رحمت کا ذکر کیا ہے کہ جو تونے اپنے پیغمبروں پر سخت اور بحرانی مواقع میں اور زندگی کے طوفانوں کے مقابلہ میں کی ۔ بارالها ! ہم بھی اسی زمانے میں ایسے طوفانوں میں گرفتار ہیں اور اسی رحمت اور کشائش کے منتظر ہیں۔ آمین یارب العالمين

end of chapter