Az-Zumar
سورہ زمر کے مطالب و مضامین
یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی۔ اسی بنا پر اس میں زیادہ تر توحید و معاد، قرآن کی اہمیت اور پیغمبرؐ اسلام کے مقامِ نبوت سے مربوط مسائل سے متعلق گفتگو ہے۔ جیسا کہ مکی سورتوں کا معمول ہے۔ مکہ کا دور دینی اعتقادات کی بنیادوں اور ایمانی اساس کے لحاظ سے مسلمانوں کی اصلاح و تربیت کا دور تھا - لہذا اس سلسلے میں مکی سورتوں میں قوی ترین اور مؤثر ترین مباحث موجود ہیں اور یہی محکم بنیاد تھی جس کے عجیب و غریب اثرات مدنیہ میں جنگوں میں، دشمنوں کا مقابلہ کرنے میں، منافقین کی کارستانیوں کے مقابلے میں اور نظامِ اسلام کو قبول کرنے میں ظاہر ہوئے اور اگر ہم مسلمانوں کی مدینہ میں تیزی کے ساتھ کامیابی کا راز معلوم کرنا چاہیں تو ہمیں مکہ کی مؤثر تعلیم و تربیت کا مطالعہ کرنا پڑے گا۔ بہرحال، یہ سورہ چند اہم حصوں پر مشتمل ہے۔ 1- وہ چیز جو سورہ میں سب سے زیادہ دکھائی دیتی ہے وہ توحیدِ خالص کے مسئلہ کی طرف دعوت ہے۔ اس کے تمام پہلوؤں اور جہتوں کے بارے میں نصحت، نیز توحیدِ خالقیت، توحیدِ ربوبیت اور توحیدِ عبادت کا ذکر ہے۔ اس سورہ کی مختلف آیات میں خدا کی عبادت و بندگی میں اخلاص کا مسئلہ خصوصیت کے ساتھ مذکور ہے، اور اس سلسلےمیں اس کی تعبیرات اس قدر مؤثر ہیں کہ وہ انسان کے دل کو اخلاص کی طرف کھینچتی اور جذب کرتی ہیں۔ 2- دوسرا اہم مسئلہ جو اس سورہ کے مختلف حصوں میں تقریبًا ابتداءسے لے کر آخری تک قابل توجہ ہے، وہ عظیم عدالت الٰہی اور معاد کا مسئلہ ہے۔ ثواب و جزا، بہشت کے بلند مقامات اور دوزخ کی آگ کے سائبانوں کا مسئلہ بھی اس میں مذکور ہے اور قیامت کے دن کے خوف و وحشت، اعمال کے نتائج کے واضح اور آشکار ہونے اور اس عظیم منظر میں خود اعمال کے ظاہر ہو جانے کا معاملہ بھی موجود ہے۔ جھوٹوں اور خدا پر افتراءباندھنے والوں کی صورتوں کے سیاہ ہونے، کافروں کے جہنم کی طرف دھکیلے جانے، ان کے لیے فرشتگان عذاب کی طرف سے ملامت و سرزنش کرنے، رحمت کے فرشتوں کی طرف سے بہشتیوں کو بہشت کی طرف دعوت د ینے اور انہیں تبریک و تہنیت پیش کرنے کا ذکر بھی ہے۔ یہ مسائل و معاد کے محور کے گرد گھومتے ہیں توحید کے مسائل کے ساتھ اس طرح ملے ہوئے ہیں گویا ایک ہی کپڑے کا تانا بانا ہیں۔ 3- اس سورہ کا تیسرا حصہ جو اس کے صرف تھوڑے سے حصے پر مشتمل ہے قرآن مجید کی اہمیت ہے لیکں یہ تھوڑا سا حصہ بھی قرآن کی ایک عمدہ تصوير اور قلب و روح پر اس کی قوی تاثیر لیے ہوئے ہے۔ 4- چوتھا حصہ جو اس سے بھی مختصر تر ہے گزشتہ اقوام کی سرگزشت اور آیات کی تکذیب کرنے والوں کے لیے خدا کا دردناک عذاب بیان کرنا ہے۔ 5- اس سورہ کا آخری حصہ، خدا کی طرف بازگشت کے دروازوں کے کھلا ہونے اور توبہ کا مسئلہ ہے۔ اس نے میں توبہ و رحمت کی مؤثر ترین آیات بیان ہوئی ہیں کہ شاید سارے قرآن میں اس سلسلے میں کوئی آیت اس سے زیادہ خوشخبری دینے والی نہ ہو۔ یہ سورہ سوره زمر کے نام سے مشہور ہے اور یہ نام اس سورہ کی آیہ 17 اور 73، سے لیا گیا ہے، کبھی اسے اس کی آیہ 20 کی مناسبت سے سورة غرف بھی کہا جاتا ہے۔
سورة زمر کی فضیلت
احادیث میں اس سورہ کی تلاوت کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ ان میں سے ایک حدیث میں پیغمبر اسلامؐ سے منقول ہے۔ من قرءسورة الزمر لم يقطع الله رجاہ، واعطاہ ثواب الخائفين الذين خافوا الله تعالى جو شخص سوره زمر کی تلاوت کرے خدا (اپنی رحمت سے) اس کی امید منقطع نہیں کرے گا اور ان لوگوں کا اجر اسے عطا کرے گا جو خدا سے ڈرتے ہیں۔(بحوالہ: مجمع البیان ، سورہ زمر کی ابتداءمیں)۔ ایک اور حدیث میں امام صادقؑ سے اس طرح نقل ہوا ہے: من قرءسورة الزمر اعطاہ الله شرف الدنيا والاخرة واعزه بلا مال ولاعشيرة، حتی یھابہ من یراہ وحرم جسدہ علی النار جو شخص سورہ زمر کی تلاوت کرئے گا خدا اسے دنیا و آخرت کا شرف عطا کرے گا اور مال و قبیلہ کے بغیر بھی اسے قدرت و عزت بخشے گا۔ اس طرح سے کہ جو شخص بھی اسے دیکھے گا اس سے ہیبت کھائے گا اور اس کا بدن آتش دوزخ پر حرام کر دے گا۔( مجمع البیان - ثواب الاعمال او نور الثقلین)۔ ان فضیلتوں کا اس سورہ کے مضامین کے ساتھ موازنے کی ضرورت ہے۔ سورہ کے مضامین میں پروردگار کا خوف، اس کی رحمت کی امید، عبادت میں اخلاص اور حق تعالی کی ذات پاک کے سا منے سر تسلیم خم کرنا موازنے سے یہ بات اچھی طرح سے واضح ہوتی ہے کہ یہ اجر و ثواب ان لوگوں کے لیے ہے، جو تلاوت کو غور و فکر کے لیے اور غور و فکر کو ایمان و عمل صالح کے لیے وسیلہ قرار دیتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اس سورہ کے مفہوم ان کی روح کے اندر عملی شکل پیدا کرے اور اس کی تجلی ان کی ساری زندگی میں نمایاں ہو۔ ہاں ! ایسے ہی اشخاص اس قسم کے عظیم اجر اور پرودگار کی وسیع رحمت کے اہل ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 3 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: دین کو شرک سے پاک کرو
Tafsīr Nemūna · Vol. 6یہ سورہ قرآن مجید کے نزول سے متعلق دو آیات سے شروع ہوتی ہے۔ ان میں سے ایک آیت میں تو نزولِ قرآن کے مبدا ءیعنی خدا کی پاک ذات کے متعلق بیان ہے اور دوسری آیت میں قرآن کے مطالب و مقاصد کے بارے میں گفتگو ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: یہ کتاب، خداوند عزیز و حکیم کی طرف سے نازل ہوئی ہے (تنزيل الكتاب من الله العزيزالحکیم)۔ (تشریحی نوٹ: تنزيل الكتاب "ایک مبتدائے محذوف کی خبر ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے: "هذا نتزيل الكتاب "بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ "تنزيل الكتاب "مبتداءہے اور "من الله "اس کی خبر ہے۔ لیکن پہلا احتمال زیادہ صحیح نظر آتا ہے۔ ضمنًا "تنزیل"میں مصدر ہے جو اسم مفعول کے معنی میں ہے اور صفت کی موصوف کی طرف اضافت بے یعنی "هذا کتاب. منزل من الله .. - - - - - " ہر کتاب کو اس کے نازل کرنے والے یا لکھنے والے سے پہچاننا چاہیے اور جب ہمیں معلوم ہو جائے کہ اس عظیم آسمانی کتاب کا سر چشمہ ایک قادر و حاکیم خدا کا علم ہے جس کی بے پایاں قدرت کے مقابلے میں کوئی چیز مشکل نہیں ہے اور کوئی امر اس کے لامتناہی علم مخفی نہیں رہتا تو ہمیں اس کے مضامین کی عظمت کا علم ہو جاتا ہے اور مزید کسی وضاحت کے بغیر ہی ہمیں یقین آ جاتا ہے کہ اس کے مطالب حق ہیں اور یہ سراسر حکمت، نور اور ہدایت ہے۔ ضمنی طور پر قرآن کی سورتوں کے آغاز میں اس قسم کی تعبیریں مؤمنین کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہیں کہ اس عظیم کتاب میں جو کچھ بھٍی بیان کیا گیا ہے وہ خدا کا کلام ہے، پیغمبر کا کلام نہیں ہے اگرچہ پیغمبر اکرمؐ کا کلام بھی بلند مرتبہ اور حکیمانہ ہے۔ اس کے بعد اس آسمانی کتاب کے مطالب و مقصد کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے، ہم نے اس کتاب کو حق کے سا تھ تجھ پر نازل کیا بے (انا انزلنا اليك الكتاب بالحق)۔ اس میں حق کے سوا اور کچھ نہیں ہے اور تو حق کے سوا اور کوئی مطلب اس میں مشاہدہ نہیں کرے گا۔ اسی وجہ سے حق طلب لوگ اس کی پیروی کرتے ہیں اور وادیِ حقیقت کے پیاسے اس کے مطالب کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں۔ نیز اس کے نازل کرنے کا مقصد چونکہ انسانوں کو خالص دین پہنچانا ہے اس لیے آیت کے آخر میں مزیر فرمایا گیا ہے:اب جبکہ یہ بات ہے تو پھر خدا کی پرستش کر، اس حال میں کہ اپنے دین کو اسی کے لیے خالص کر لے "( فاعبد الله مخلصًا لہ الدین)۔ ممکن ہے یہاں"دین"سے مراد خدا کی عبادت ہو کیونکہ اس سے پہلے"فاعبد الله"کے ذریعے عبادت کاحکم دیا گیا ہے۔ اس بنا پر اس کا لاحقہ جو"مخلصًاله الدين"ہے صحت عبادت کی شرط یعنی اخلاص اور ہر قسم کے شرک و ریا اور غیر خدا سے خالی ہونے کو بیان کرتا ہے۔ اس حالت میں"دین"کے مفہوم کی وسعت اور اس میں کسی شرط کا نہ ہونا زیادہ وسیع معنی پر دلالت کرتا ہے، جس میں عبادت بھی شامل ہے اور دوسرے اعمال بھی اور اعتقادات بھی۔ دوسرے لفظوں میں"دین"انسان کی روحانی اور مادی حیات کے مجموعے کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ لہذاخدا کے خالص بندوں کو چاہیے ہے کہ وہ اپنی زندگی کے تمام حالات کو اس کے لیے خالص بنائیں اور اس کے غیر کو خانہِ دل، صحنِ جان اور میدانِ عمل اور دائرہِ گفتار سے دور کر دیں۔ اس کے لیے غور و فکر کریں۔ اسی کے لیے دوست بنائیں۔ اسی کی بات کریں۔ اسی کے لیے عمل کریں اور ہمیشہ اس کی رضا کی راہ میں قدم اٹھائیں۔ کیونکہ "اخلاص دین یہی ہے۔ اسی بنا پر آیت کے مفہوم کو"لا اله الا الله"کی شہادت میں یا خاص"عبادت و اطاعت"میں محدود کرنا نہ تو ضروری ہے اور نہ ہی اس پر کوئی واضح دلیل موجود ہے۔ بعد والی آیت میں دوبارہ مسئلہ اخلاص کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: آگاہ رہو کہ دین خالص اللہ کے لیے مخصوص ہے۔ (الا للہ الدين الخالص ) اس عبارت میں دو معانی کی گنجائش ہے۔ پہلا یہ کہ: جسے خدا قبول کرتا ہے وہ صرف دین خالص ہے اور صرف اس کے فرمان کے سا منے بلا کسی شرط کے سر تسلیمِخم کرنا ہے اور قسم کا شرک و ریا اور قوانین خداوندی کو ان کے غیر کے ساتھ ملانا مردود و مسترد ہے۔ دوسرا یہ کہ: خالص دین و آئین صرف خدا سے ہی لینا چاہیے کیونکہ جو کچھ انسانوں کے افکار کا ساخته و پرداختہ ہے وہ نارسا اور خطا و اشتباہ کی آمیزش رکھتا ہے۔ لیکن سابقہ آیت کے مفہوم کو پیش نظر رکھیں تو پہلا معنی زیادہ مناسب نظر آتا ہے، کیونکہ وہاں اخلاص کا باعث بندے ہیں۔اس بنا پر زیر بحث آیت میں بھی خلوص کی انھیں کی طرف نسبت ہونی چاہیے۔ اس بات کا دوسرا شاہد وہ حدیث ہے جو پیغمبر گرامیؐ سے نقل ہوئی ہے۔ ایک شخص آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول الله و انا نعطي اموالنا التماس الذكر فهل لتا من اجر؟ فقال رسول الله (ص) لا، قال يارسول الله! أنا نعطى التماس الأجر والذكر، فهل لنا اجر؟ فقال رسول الله (ص) أن الله تعالٰی لایقبل الا من اخلص له، ثم تلا رسول الله (ص) هذه الاية الا لله الدين الخالص، یا رسول اللہ !ہم اپنے اموال دوسروں کو بخشتے ہیں تاکہ ہم اپنا نام و نمود لوگوں کے درمیان پیدا کریں، تو کیا ہمارے لیے کوئی اجرہے؟ فرمایا: نہیں۔ پھر ا س نے عرض کیا: ہم بعض اوقات خدا سے اجر کے حصول کے لیے بھی اور نام و نمود کے لیے بھی بخشش کرتے ہیں تو کیا اس صورت میں ہمارے لیے کوئی اجر و پاداش ہے۔ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا : خدا کسی بھی چیز کو قبول نہیں کرتا سوائے اس کے جو اس کے لیے خالص ہو۔پھر آپؐ نے اس آیت کی تلاوت کی۔ الا لله الدين الخالص۔(بحوالہ:روح المعاني ، جلد 23 ص 212 (زیِربحث آیات کے ذیل ہیں)۔ بہرحال، یہ آیت حقیقت میں گزشتہ آیت کی دلیل بیان کر رہی ہے۔ ہاں قرآن کہتا ہے: کہ خدا کی اخلاص کے ساتھ عبادت کرو اور یہاں اضافہ کرتا ہے: جان لے کہ خدا تو صرف اس خالص عمل کو قبول کرتا ہے۔ آیات قرآن اور احادیث اسلامی میں مسئلہ اخلاص پر بہت کچھ فرمایا گیا ہے۔ زیر بحث جملے کی ابتداء"ألا"کے ساتھ جو عام طور پر توجہ مبذول کرنے کے لیے بولا جاتا ہے، اسی موضوع کی اہمیت کی ایک اور نشانی ہے۔ اس کے مشرکین جو اخلاص کی راہ چھوڑ کر شرک کی بے راہروی میں سرگرداں تھے کمزور اور فضول منطق کو باطل کرتے ہوئے اس طرح فرمایا گیا ہے، وہ لوگ جنہوں نے خدا کے سوا دوسروں کو اپنے اولیاءبنا لیا ہے اور ان کی دلیل یہ ہے کہ ہم ان کی پرستش نہیں کرتے مگر صرف اس لیے کہ یہ ہمیں خدا سے نزدیک کر دیں، خدا قیامت کے دن جس چیز میں وہ اختلاف کرتے ہیں، ان کے درمیان فیصلہ کر دےگا اور وہاں ان کے اعمال و افکار کی خرابی اور تباہی سب پر ظاہر ہو جائے گی۔ (وَالَّـذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٓ ٖ اَوْلِيَآءَۚ مَا نَعْبُدُهُـمْ اِلَّا لِيُـقَرِّبُوْنَآ اِلَى اللّـٰهِ زُلْفٰىؕ اِنَّ اللّـٰهَ يَحْكُمُ بَيْنَـهُـمْ فِىْمَا هُـمْ فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ)۔ (تشریحی نوٹ: یہ بات واضح ہے کہ زیِربحث آیت میں"مانعبدهم "سے پہلے ایک جملہ مقدر ہے۔ "يقولون مانعبدهم... ")۔ یہ آیت حقیقت میں مشرکین کے لیے ایک قاطع اور دو ٹوک تہدید ہے قیامت کے دن اختلافات کے برطرف ہونے اور حقائق کے ظاہر و آشکار ہونے کا دن ہے کہ خدا ان کے درمیان فیصلہ کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی سزا دے گا۔ علاوہ ازیں، وہ میدان محشر میں سب کے سامنے ذلیل و رسوا بھی ہوں گے۔ یہاں بت پرستوں کی منطق وضاحت کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ: بعض اس بات کے معتقد ہیں کہ بت پرستی کا ایک سرچشمہ یہ ہے کہ ایک گروہ اپنے گمان میں خدا کی پاک ذات کو اس سےبزرگ و بالا سمجھتا تھا کہ ہماری عقل و فکر اس تک پہنچ سکے اور اس بنیاد پر وہ اس سے منزہ سمجھتا تھا کہ ہم براہِ راست اس کی عبادت کریں۔ اس بنا پر ضروری ہے کہ ہم ایسے افراد کی طرف رخ کریں جن کے ذمے خدا کی طرف سے اس عالم کی ربوبیت اور تدبیر کر دی گئی ہے اور انھیں خدا اور اپنے درمیان واسطہ بنائیں۔ انھیں"ارباب"اور خداؤں کے طور پر قبول کر لیں اور ان کی پرستش کریں تاکہ وہ ہمیں خدا کے قریب کر دیں اور وہ ملائکہ جن اور کلی طور پر کائنات کے مقدس موجودات ہیں۔ پھر اس بنا پر مقدسین تک بھی دسترس ممکن نہیں تھی لہذا ان کی مورتیاں اور تصویریں بنا لیا کرتے تھے اور ان کی پرستش کیا کرتے تھے، اور یہی بت تھے اور چونکہ وہ ان مورتیوں اور مقدسین کی ذوات کے درمیان ایک قسم کی وحدت کے قائل تھے لہذا وه بتوں کو بھی"ارباب"اور خدا خیال کرتے تھے۔ اس طرح سے ان کی نزدیک وہ موجودات ممکن ہی خدا تھے جو خداوند عالم کی طرف سے پیدا کیے گئے تھے اور ان کے گمان میں وہ بارگاہ حق کے مقرب اور پروردگار کے حکم سے امور عالم کو چلانے والے تھے اور وہ خدا کو رب الارباب (خدائوں کا خدا) جانتے تھے جو عالم ہستی کا خالق اور آفریدگار ہے۔ ورنہ بت پرستوں سے بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جو عقیدہ رکھتے ہوں کہ یہ پتھر اور لکڑی کے بت ان کے خیالی خدا یعنی فرشتے اور جن وغیرہ تک بھی اس جہان کے خالق و آفریدگار ہوں۔(بحوالہ: تفسیر المیزان ، جلد 17 ص 274 (کچھ فرق کے ساتھ)۔ البتہ بت پرستی کے اور بھی بہت سے سرچشمے ہیں منجملہ ان کے یہ ہے کہ انبیاءاور صالح لوگوں کا احترام بعض اوقات اس بات کا سبب بنتا تھا کہ ان کی تصویروں اور مورتیوں کا بھی احترام کریں۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد ان تصویروں نے ایک مستقل صورت اختیار کرلی اور احترام بھی پرستش میں تبدیل ہو گیا۔ اسی بنا پر اسلام مجسمہ سازی کوسختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے۔ یہ چیز بھی تواریخ میں آئی ہے کہ زمانہ جاہلیت کے عرب چونکہ کعبہ اور سرزمین مکہ کا بہت زیادہ احترام کرتے تھے، اس لیے بعض اوقات وہاں سے پتھر کےکچھ ٹکڑے اپنے ساتھ مختلف علاقوں میں لے جاتے تھے۔ پہلے تو صرف احترام کرتے اور پھر آہستہ آہستہ ان کی پرستش کرنے لگ جاتے۔ بہرحال، یہ چیز اس بات جو"عمرو بن لحی"کی داستان میں منقول ہے کوئی تضاد نہیں رکھتی کہ اس نے شام کے سفر کے موقع پر بت پرستی کے کچھ مناظر کا مشاہدہ کیا اور پہلی مرتبہ ایک بت اپنے ساتھ حجاز میں لے آیا اور بتوں کی پرستش اس وقت سے معمول بنی چونکہ جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے ان میں سے ہر ایک بت پرستی کی کس ایک بنیاد کو بیان کرتا ہے اور شامیوں کے بتوں کی پرستش کرنے کا سبب بھی یہی امور یا ان جیسے امور ہیں۔ لیکن ہر صورت میں یہ سب بے بنیاد اوہام و خیالات تھے جو نا توان دماغوں سے ٹپکتے تھے اور لوگوں کو خدا شناسی کے اصلی راستے سے منحرف کر دیتے تھے۔ قرآن مجید خصوصیت کے ساتھ اس نکتے پر تاکید کرتا ہے کہ انسان بغیر کسی واسطے کے خدا کے ساتھ تعلق پیدا کر سکتا ہے، اس سے گفتگو کر سکتا ہے، راز و نیاز کر سکتا ہے، اپنی حاجت طلب کر سکتا ہے، عفو و بخشش کی درخواست کر سکتا ہے اور توبہ و انابت کر سکتا ہے، یہ سب چیزیں اسی لیے ہیں اسی کے اختیار و قدرت میں ہیں۔ سوره"حمد"اسی حقیقت کو بیان کر رہی ہے کیونکہ بندے روزانہ نماز میں اس سورہ کے پڑھنے سے، دائمی طور پر براہِ راست ا پنے پروردگار کے ساتھ رابطہ رکھتے ہیں اس کو پکارتے ہیں اور بغیر کسی وا سطے کے اس سے دعا کرتے ہیں اور اپنی حاجات طلب کرتے ہیں۔ اسلامی احکام میں توبہ و استغفار کا طریقہ اور اسی طرح خدائے بزرگ سے ہر قسم کی درخواستیں، جن سے ہماری ماثورہ دعائیں بھری پڑی ہیں، یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اسلام ان مسائل میں کسی واسطے کا قائل نہیں اور یہی حقیقت توحید ہے۔ یہاں تک کہ مسئلہ شفاعت اور اولیاءاللہ سے توسل بھی اذنِ پروردگار اور اس کی اجازت کے ساتھ مقید ہے او وہ بھی اسی مسئلہ توحید پر ایک تاکید ہے۔ اسی طرح سے رابطہ قائم و برقرار رہناچاہیے کیونکہ وہ ہم سے بھی، خود ہم سے بھی زیادہ قریب ہے، جیساکہ قرآن کہتا ہے: ونحن أقرب اليه من حبل الوريد ہم انسان کی شہ رگ گردن سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔ (ق ــــــــــــــ 16) ایک اور مقام پر فرمایا گیا ہے واعلموا ان الله یحول بین المرءو قلبه جان لو کہ خدا انسان اور اس کے دل کے درمیان رہتا ہے (انفال ــــــــــ24) ان حالات میں نہ وہ ہم سے دور ہے اور نہ ہم اس سے دور ہیں کہ واسطے کی ضرورت پڑے۔ وہ دوسرے ہر شخص کی نسبت ہم سے زیادہ نزدیک ہے وہ ہر جگہ موجود و حاضر ہے اور ہمارے دل کے اندر اس کی جگہ ہے۔ اسی بنا پر واسطوں کی پرستش چاہے وہ فرشتے اور جن ہوں یا ان کے مانند دوسری مخلوق اور چاہے پتھر اور لکڑیوں کے بتوں کی پرستش ہو، ایک بے بنیاد اور جھوٹا عمل ہے۔ علاوہ ازیں پروردگار کی نعمتوں کا کفران بھی ہے۔ کیونکہ نعمت کا بخشنے والا پرستش کا حقدار ہے نہ کہ بے جان سراپا نیاز و اجتیاج موجودات. اس لیے آیت کے آخر میں قرآن کہتا ہے: خدا ایسے شخص کو جو جھوٹا اور کفران کرنے والا کبھی ہدایت نہیں کرتا (ان الله لا يهدي من هو كاذب کفار). نہ اس جہان میں صراط مستقیم کی طرف ہدایت اور نہ دوسرے جہان میں جنت کی طرف ہدایت، کیونکہ اس نے خود ہدایت کے سب دروازوں کے بند ہونے کی بنیاد فراہم کر دی ہے، کیونکہ خدا اپنی ہدایت کا فیض اسی زمینوں پر بھیجتا ہے جو اسے قبول کرنے کے لائق اور اس کے لیے آمادہ ہوں، نہ کہ ان دلوں میں جانتے ہوئے شعوری طور پر ہرقسم کی اہلیت کو تباہ کر دیں۔
تـنزيل"اور"انزال میں فرق
اس سورہ کی پہلی آیت میں "تـنزیل الکتاب"کی تعبیر ہے اور دوسری آیت میں"انزلنا اليك الكتاب"کی تعبیر ہے۔ "تـنزيل"اور "انزال"میں کیا فرق ہے اور ان آیات میں تعبیر کا یہ اختلاف کس لیے ہے؟ اس بارے میں جو کچھ چند لغات کےمتنوں سے معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ "تـنزیل"تو عام طور پر ایسے مواقع پر بولا جاتا ہے جہاں کوئی چیز بتدتریج اور آہستہ آہستہ نازل ہوا، جب کہ "انزال"ایک عام معنی رکھتا ہے، جس میں نزول تدریجی بھی شامل ہے اور"دفعی"(ایک ہی مرتبہ کانزول) بھی۔ (تشریحی نوٹ: مفردات راغب مادہ"نزل": والفرق بين الانزال والتنزيل في وصف القران والملائكة ان التنزيل بختص بالموضع الذي یشیر الیه انزالہ مفرقا و مرة بعد اخرٰی والانزال عام)۔ بعض ان دونوں کو ایک دوسرے کے مقابل سمجھتے ہیں اور ان کا خیال یہ ہے کہ "تنزیل"صرف نزول تدریجی ہے اور "انزال"صرف نزول دفعی ہے۔(تفسیر فخررازی میں بعض سے یہ فرق نقل ہوا ہے)۔ اس بنا پر مذکور تعبیر کا اختلاف ممکن ہے اس بنا پر ہو کہ قرآن دو قسم کے نزول کا حامل ہے۔ ایک نزول دفعی (یعنی ایک کی مرتبہ) جو شب قدر میں اور ماه مبارک رمضان میں واقع ہوا، اس موقع پر قرآن اکٹھا پیغمبر گرامی اسلامؐ کے قلب مبارک پر نازل ہوا۔ جیسا کہ قرآن کیا ہے۔ انا انزلناه في ليلة القدر ہم نے قرآن کو شب قدر میں نازل کیا۔ (قدر ــــــــــــــــــ ا) انا انزلناه في ليلة مباركة ہم نے اسے ایک مبارک رات میں نازل کیا۔ (دخان ـــــــــــــ3) شهر رمضان الذی انزل في القرأن رمضان وہی مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا۔ (بقره ــــــــــ 185) ان تمام مواقع پر"انزال"کے مادہ سے استفادہ کیا گیا ہے جو قرآن کے دفعی (ایک ہی مرتبہ کے) نزول کی طرف اشارہ ہے۔ دوسرا نزول جو تدریجًا پیغمبر اکرمؐ کی نبوت کے 23 سالہ دور میں صورت پذیر ہوا۔ ہر حادثے ہر واقعے میں اس سے مناسبت رکھنے والی آیات نازل ہوتی رہیں۔ اس طریقے نے مسلمانوں کو مرحلہ به مرحلہ روحانی، اخلاقی، اعتقای اور اجتماعی کمال کے مدارج طے کرائے۔ جیسا کہ سوره بنی اسرائیل کی آیہ 106 اس میں بیان ہوا ہے۔ وقرانا فرقناه لتقرائہ على الناس على مكث ونزلناہ تنزیلاً ہم نے تجھ پر قرآن نازل کیا جو ایک دوسرے سے جدا آیتوں کی صورت میں ہے تاکہ تو اسے تدریجًا اور آہستہ آہستہ لوگوں کے سامنے پڑھے (اور یہ دلوں میں جذب ہو جائے) اور ہم نے اس قران کو قطعی طور پر تدریجًا نازل کیا۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ بعض اوقات ایک ہی آیت میں دونوں تعبیریں دو الگ الگ مقاصد کے لیے استعمال ہوئی ہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید سورہ محمد کی آیہ 20 میں کہتا ہے: ويقول الذين امنوا لولا نزلت سورة فاذا انزلت سورة محكمة وذكر فيها القتال رأيت الذين في قلوبهم مرض ينظرون اليك نظر المغشى عليه من الموت مومنین کہتے ہیں کہ کوئی سورہ نازل کیوں نہ ہوئی؟ جس وقت محکم سورہ نازل ہو جائے گی اور اس میں جنگ کا ذکر ہو گا۔ تو، تُو بیمار دل منافقوں کو دیکھے گا کہ وہ کس طرح سے تیری طرف دیکھ رہے ہیں جیسے ان کی روح قبض کی جاری ہے۔ گویا مومنین ایک سورہ کے تدریجی نزول کا تقاضا کرتے ہیں تا کہ وہ ا س کے خوگر ہو جائیں لیکن کیونکہ بعض اوقات ان کی سورہ کا تدریجی نزول کچھ وسائل کے موقعوں پر مثلًا جہاد میں منافقین کے سواءاستفادہ کا سبب بنتا تھا تاکہ مرحلہ بہ مرحلہ اس سے پہلو تہی کر لیں، تو ایسے مواقع پر پوری سورۃ ایک ہی ساتھ نازل ہو جاتی تھی۔ یہ آخری چیز ہے جو ان دونوں تعبیروں کے فرق کے سلسلہ میں کہی جا سکتی ہے اور اس کے مطابق زیرِ بحث آیات میں دونوں قسم کے نزول کی طرف اشارہ ہوا ہے اس لحاظ سے یہ کامل جامعیت رکھتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود مذکورہ بالا تفسیر اور فرق کے استثنائی مواقع بھی موجود ہیں۔ منجملہ ان کے سوره فرقان کی آیہ 32 میں بیان ہوا ۔ وقال الذین کفروا لولا نزل عليه القرأن جملة واحدة كذالك لنثبت به فؤادك و رتلناه ترتیلا کافروں نے کہا قرآن اکٹھا اور یکجا کیوں نازل نہیں ہوتا ؟یہ اس بنا پر ہے کہ ہم تیرے دل کو محکم کر دیں، اس لیے ہم نے اسے نہ تدریجًا تیرے لیے پڑھا ہے۔ البتہ ان دونوں قسم کے "نزول"میں سے ہر ایک کے کچھ فوائد و آثار ہیں، جن کی طرف متعلقہ جگہ اشارہ کیا گیا ہے۔( تشریحی نوٹ: قرآن کے تدریجی نزول کے بارے میں ہم نے جلد 15 میں تفصیلی بحث کی ہے)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: وہ ہرچیزپر حاکم ہے۔ اسے اولاد کی کیا ضرورت ہے؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 6گزشتہ آیات میں اس ضمن میں گفتگو ہوئی ہے کہ مشرکین بتوں کو خدا کے نزدیک واسطہ اور شفیع سمجھے تھے۔ اس کے علاوہ وہ اپنے بعض معبودوں مثلاً فرشتوں کے بارے میں ایک اور عقیدہ بھی رکھتے تھے کہ وہ انہیں خدا کی بیٹیاں خیال کرتے تھے۔ پہلی زیِر بحث آیت اس قبیح خیال کا جواب دیتے ہوئے کہتی ہے: اگر خدا کسی کو اپنی اولاد بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا منتخب کر لیتا (لو اراد الله ان يتخذ ولدا لاصطفى مما يخلق ما يشاء)۔ وہ اس سے پاک اور منزہ ہے کہ اس کی کوئی اولا ہو وہ اللہ واحد ہے قہار ہے (سبحانه هو الله الواحد القهار). پہلے جملہ کی تفسیر میں مفسرین نے مختلف تفسیریں کی ہیں۔ بعض نے تو یہ کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر کسی کو اولاد بنانا ہی چاہتا تو بیٹیوں کا انتخاب کیوں کرتا، جو تمھارے زعم کے مطابق بے قدر و قیمت انسان ہیں، وہ بیٹوں کو منتخب کیوں نہ کرتا اور یہ حقیقت میں مخاطب کے ذہن کے مطابق ایک طرح کا استدلال ہے تاکہ وہ اپنی گفتگوکے بے بنیاد ہونے کو سمجھ لیںٓ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر خدا چاہتا کہ اس کی اولاد ہو تو فرشتوں سے برتر و بہتر مخلوق پیدا کرتا۔ لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ خدا کی بارگاہ میں بیٹیوں کے وجود کی قدر و قیمت بیٹوں سے کمتر نہیں ہے اور اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے فرشتے اور حضرت عیسٰیؑ جو منحرفین کے اعتقاد کے مطابق خدا کی اولاد ہیں۔ بہت ہی باشرف اور لائق موجودات ہیں، اس لیے ان دونوں تفاسیر میں سے کوئی بھی مناسب نظر نہیں آتی۔ بہتر یہ ہے کہ کہا جائے کہ آیت اس مطلب کو بیان کرنا چاہتی ہے کہ اولاد ضروری طور پر مدد اور روحانی تسکین کے لیے ہوتی ہے۔بفرضِ محال اگر خدا کو اس قسم کی احتیاج ہوتی تو اس کے لیے اولاد کا ہونا ضروری نہیں تھا بلکہ اپنی باشرف مخلوق میں سے کچھ لوگوں کو منـتخب کر لیتا جو اس مقصد کو پورا کرتے، اولاد کا انتخاب کیوں کرتا؟ لیکن وہ چونکہ واحد و یگانہ اور ہر چیز پر قاہر و غالب ہے اور ازلی و ابدی ہے، نہ وہ کسی کی مدد محتاج ہے اور نہ ہی کسی وحشت کا اس کے لیے کوئی تصور ہے، جو کسی چیز سے روحانی تسکین حاصل ہونے کی وجہ سے برطرف ہو اور نہ ہی وہ نسل کے جاری رہنے کا محتاج ہے۔ اس بنا پر وہ اولاد رکھنے سے پاک و منزہ ہے، چاہےوہ حقیقی اولاد ہو یا اپنائی اور انتخاب کی ہوئی۔ علاوہ ازیں، جیسا کہ ہم نے پہلے بھی بیان کیا ہے کہ کم عقل بے خبر جو کبھی فرشتوں کو خدا کی اولاد خیال کرتے تھے اور کبھی اس کے اور جنوں کے درمیان کسی نسبت کے قائل ہوتے تھے اور کھبی حضرت مسیحؑ یاحضرت عزیزؑ کو خدا کا بیٹا بتاتے تھے، اس واضح حقیقت سے بے خبر تھے کہ اگر بیٹے سے مراد حقیقی بیٹا ہو تو سب سے پہلے تو اس کا لازمہ جسم ہے، دوسرے تجزیہ کو قبول کرنا ہے (کیونکہ بیٹا باپ کے وجود کا ایک جزو ہوتا ہے جو اس سے جدا ہوتا ہے)۔ تیسرے اس کو لازمہ شبیہ و نظیر کا رکھنا ہے (کیونکہ بیٹا باپ سے مشابہت رکھتا ہے) اور جوتھے اس کا لازمہ بیوی کی احتیاج ہے۔ اور خدا ان تمام امور سے پاک و منزہ ہے۔ نیز اگر اس سے مراد انتخاب کردہ بیٹا ہو اور یعنی اپنایا ہوا ہو تو وہ بھی یا جسمانی کمک و مدد کے لیے ہوتا ہے۔ یا اخلاقی اور اس کے مانند انس کے لیے ہوتا ہے اور خداوند قادر و قاہر ان سب امور سے بے نیاز ہے۔ اس بنا پر"واحد"و"قہار"کی تعبیر ان تمام احتمالات کا مختصر سا جواب ہے۔ بہرحال، لفظ "لو"جو عام طور پر محال شرطوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اس چیز کی طرف اشارہ ہے کہ یہ ایک فرض محال ہے کہ خدا کسی فرزند کا انتخاب کرے اور اگر بفرضِ محال اسےاس کوئی ضرورت ہوتی تو جو کچھ وہ کہتے ہیں اسے اس کی ضرورت نہیں تھی، بلکہ اس کی برگزیده مخلوقات اس مقصد کو پورا کر دیتیں۔ پھر اس حقیقت کو ثابت کر نے لیے کہ خدا مخلوقات سے کوئی احتیاج نہیں رکھتا اور ساتھ ہی توحید اور اس کی عظمت کی نشانیوں کو بیان کرنےکے لیے فرمایا گیا ہے؛ خدا نے تمام آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے (خلق السماوات و الأرض بالحق)۔ ان کاحق ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ایک عظیم مقصد درمیان میں تھا کہ وہ موجودات کے ارتقاءکے سوا ــــــــــــــــــــــــــــــ جن کے آگے آگے انسان ہیں اور پھر قیامت پر اختتام ہےـــــــ کچھ اور چیز نہیں ہے۔ اس عظیم آفرینش کے بیان کے بعد ایک عجیب وغریب تدبیر اور جچے تلے تغیرات اور ان پر حاکم عجیب نظام کے ایک گوشے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: وہ رات کو دن پر اور دن کو رات پر لپیٹ دیتا ہے (یکور الليل على النهار ویكور النهار على الليل)۔ کیسی عمدہ تعبیر ہے اگر انسان کره زمین سے باہر بیٹھا ہوا ہو اور زمین کی خود اپنے گرد حرکت وضعی کا منظر اور اس کے گرد رات اور دن پیدا ہونے کو دیکھے تو اسے نظر آئے گا گویا مرتب طور پر ایک طرف سے رات کی سیاہ رنگ کی نوار دن کی روشنی پر لپٹی جا رہی ہے اور دوسری طرف سے دن کی سفید رنگ کی نوار رات کی سیاہی پر لپٹی جا رہی ہے اور اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ "یکور"، "تکویر"کے مادہ سے لپینٹے کے معنی میں ہے اور ارباب لغت خصوصیت کے ساتھ عمامہ اور دستار سر کے گرد لپیٹے کو اس کا ایک نمونہ شمار کرتے ہیں، تواس سے ایک نکتہ جو اس قرآنی تعبیر پوشیدہ ہے واضح ہو جاتا ہے، اگر بہت سے مفسرين نے اس نکتہ کی طرف توجہ نہ ہونے کی وجہ سے دوسرے مطالب بیان کیے ہیں جو "تکویر"کے مفہوم سے چنداں مناسب نہیں رکھتے۔ نکتہ یہ ہے کہ زمین کروی (گول) شکل کی ہے اور اپنے گرد حرکت کرتی ہے اور اس گردش کے زیر اثر رات کی سیاه نوار اور دن کی سفید نوار ہمیشہ اس کے گرد چکر لگاتی ہے گویا ایک طرف سے سفید نوار سیاه پر اور دوسری طرف سے سیاہ نوار سفید لپیٹی جا رہی ہے۔ بہرحال، قرآن مجید نور و ظلمت اور رات دن پیدا ہونے کے بارےمیں مختلف تعبیریں پیش کرتا ہے جن میں سے ہر ایک کسی ایک نکتے کی طرف اشارہ کرتی ہے اور اس کی طرف ایک خاص زاویے سے دیکھتی ہے۔ کبھی کہتا ہے: يولج الليل في النهار ويولج النهار في الليل رات کو دن میں تدریجًا داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں۔ (فاطر ـــــــــ 54) یہاں رات کے دن میں اور دن کے رات میں چپکے چپکے بغیر کسی شور و شین کے داخل ہونے کے متعلق گفتگو ہے۔ اور کبھی کہتا ہے: يغشى الليل النهار خدا رات کے ظلمانی پردے دن کو پہنا دیتا ہے۔ (اعراف ـــــــــ 54) یہاں رات کو ظلمانی پردوں سے تشبیہ دی گئی ہے جو گویا دن کی روشنی پر پڑتے ہیں اور اسے چھپا دیتے ہیں۔ زیر بحث آیات میں "تکویر"اور ان دونوں کے ایک دوسرے میں لپیٹے جانے سے متعلق گفتگو ہے جبکہ اس میں بھی ایک نکتہ ہے جس کی طرف سطور بالا میں اشارہ ہو چکا ہے۔ اس کے بعد اس جهان کی تدبیر و نظم کے ایک گوشے کو بیان کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: اس نے سورج اور چاند کو اپنے فرمان کا مسخر قرار دیا ہے کہ ان میں سے ہر ایک معین مدت تک اپنی حرکت کو جاری رکھے ہوئے ہے ( و سخر الشمس والقمر كل يجري لاجل مسمًی)۔ وہ حرکت جو خورشید کا نور خود اپنے گرد کرتی ہے یا اسی حرکت میں کہ جس میں وہ سارے نظام شمسی کے ساتھ کہکشاں کے ایک خاص نقطے کی طرف بڑھ رہا ہے، معمولی سے معمولی دب نظمی بھی دکھائی نہیں دیتی اور نہ ہی چاند کی اپنی حرکت میں جو وہ زمین کے گردکرتا ہے یا خود اپنے گرد گھومتا ہے (کوئی بد نظمی ہوتی ہے) بلکہ سب کے سب اس کے مطیع فرمان ہیں۔ اس کے (آفرنیش کے قوانین کے) مسخرہیں اور اپنی عمر کے اختتام تک اپنی یہی کیفیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ احتمال بھی ہے کہ سورج اور چاند کے مسخر ہونے سے مراد ان کا پروردگار کے اذن سے انسان کے لیے مسخر ہونا ہو۔ جیسا کہ سورة ابراہیم کی آیہ 33 میں ہے: وسخر لکم الشمس والقمر دائبین اس نے سورج اور چاند کو جو ہمیشہ حرکت میں رہتے ہیں تمھارے لیے مسخر کر دیا ہے۔ لیکن زیر بحث آیت کے جملوں کی طرف توجہ کرتے ہوئے اور اس بات کی طرف توجہ کرنے سے بھی کہ "لكم"کی تعبیر زیر بحث آیت میں نہیں ہے، یہ معنی بعید نظر آتا ہے۔ آیت کے آخر میں مشرکین کو ــــــــــــــــــــــــــــــــــ بازگشت اور لطف و عنایت کی راہ کھلا رکھنے کے ساتھ ساتھ ــــــــــــــــــــــــــــــــــ تہدید کے طور پر فرمایا گیا ہے، جان لو کہ وہ عزیز و غفار ہے (الا هو العزيز الغفار)۔ اس کی بے انتہا عزت و قدرت کی بنا پر کوئی گنہ گار اور مشرک اس کے عذاب کے پنجے سے بھاگ کر نہیں نکل سکتا اور وہ اپنی غفاریت کے تقاضے سے توبہ کرنے والوں کے عیوب اور گناہوں پر پردہ ڈال دیتا ہے اور انھیں میں اپنی رحمت کے سایے تلے لے لیتا ہے۔ "غفار"، "مبالغے کا صیغہ ہے "غفران"کے مادہ سے جو اصل میں ایسی چیز کو چھپانے کے معنی میں ہے جو انسان کو آلودگی سے محفوظ رکھے اور جس وقت یہ خدا کے بارے میں استعمال ہوتا ہے تو اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ وہ نادم اور پشیمان بندوں کے عیوب اور گناہوں کو چھپا دیتا ہے اور انھیں عذاب اور کیفر کردار سے بچا لیتا ہے۔ ہاں! وہ صاحب عزت و قدرت کے ساتھ ساتھ غفار بھی ہے اور رحمت و غفران کے ساتھ ساتھ "قہار"بھی ہے۔آیت کے آخر میں ان دونوں اوصاف کا بیان بندوں میں خوف و رجاءکی حالت پیدا کرنے کے لیے ہے جو ہر قسم کے تکامل و ارتقاءکی تحریک کا اصلی عامل ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔
سب کی ایک ہی نفس سے پیدائش
Tafsīr Nemūna · Vol. 6ان آیات میں پھر آفرنیشِ الٰہی کی عظمت کی نشانیوں کے بارے میں گفتگو ہو رہی ہے اور انسانوں کے لیے اس کی طرح طرح کی نعمتوں کا حصہ بیان کیا جا رہا ہے۔ پہلے انسان کی خلقت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: خدا نے تم سب کو ایک شخص سے پیدا کیا ہے، پھر اس کی بیوی کو اس سے پیدا کیا (خلقکم من نفس واحدة ثم جعل منها زوجها)۔ تمام انسانوں کی ایک ہی نفس سے خلقت دراصل ہمارے پہلے جد امجد حضرت آدمؑ کی خلقت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ تمام انسان خلقت کے تنوع، مختلف اخلاق و عادات اور مختلف استعداد اور ذوق کے ساتھ ایک ہی جڑ کی طرف لوٹتے ہیں کہ جو "آدم"ہے۔ "ثم جعل منها من زوجها"دراصل اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا نے پہلے آدم کو خلق کیا پھر اس کے بعد اس کی بیوی کو اس کی باقی ماندہ مٹی سے پیدا کیا۔(درحقیقت مذکورہ بالا جملے میں ایک محذوف ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے : خلقکم من نفس واحدة خلقها ، ثم جعل منها زوجها۔) بیان کر چکے ہیں۔(جلد 4 کی طرف رجوع کریں)۔ اس حساب سے حوا کی خلقت آدمؑ کی خلقت کے بعد اور اولاد آدم کی خلقت سے پہلے ہوئی۔ لفظ"ثم "ہمیشہ تاخیر زمانی کے لیے نہیں آتا بلکہ کبھی تاخیر بیان کے لیے بھی آتا ہے مثلاً ہم کہتے ہیں: ہم نے تمھارا آج کا کام دیکھا پھر تمھارا کل کا کام بھی دیکھا۔ حالانکہ گزشتہ کل کے اعمال سے مسلمًا آج کے اعمال سے پہلے واقع ہوئے ہیں، لیکن ان کا ذکر بعد کے مرحلے میں ہوا۔ یہ جو بعض نے اس تعبیر کو آدم کی خلقت کے بعد اور حوا کی خلقت سے پہلے عالم ذر میں اولاد آدم کی چیونٹیوں کی شکل میں خلقت کی طرف اشارہ سمجھا ہے، درست نہیں ہے۔ اس بات کو ہم سوره اعراف کی آیہ 172، کے ذیل میں عالم ذر کی تفسيریں یہ نکتہ بھی یاد دہانی کے قابل ہے کے آدم کی بیوی کی خلقت خود آدم کے وجود کے اجزا سے نہیں ہوئی بلکہ اس کی بچی ہوئی گیلی مٹی سے ہوئی تھی۔ جیسا کہ روایات میں اس کی تصریح موجود ہے لیکن وہ روایت میں یہ بیان ہوا ہے کہ حوا آدم کی آخری بائیں پسلی سے پیدا ہوئی ہیں ایک بے بنیاد بات ہے جو اسرائیلیات میں سے ہے اور وہ اس مطلب کے ساتھ ہم آہنگ ہے کہ جو موجودہ تحریف شدہ تورات کے سفر تکوین کی دوسری فصل میں موجود ہے اور اس سے قطع نظر وہ مشاہدہ اور حس کے بات ہے بر خلاف ہے کیونکہ اس روایت کے مطابق آدم کی ایک پسلی اٹھا دی گئی اور اس سے حوا پیدا ہوئیں، اس لیے مردوں کے بائیں طرف کی ایک پسلی کم ہوتی ہے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ مرد اور عورت کی پسلیوں کی تعداد میں کوئی فرق نہیں ہے اور یہ فرق ایک افسانے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ اس کے بعد چوپایوں کی خلقت کا ذکر ہے کہ جو انسانوں کی زندگی کے اہم وسائل میں سے ہیں۔ چوپائے ایک طرف تو دودھ اور گوشت کے لیے کام آتے ہیں۔ دوسری طرف ان کے چمڑے اور بالوں سے لباس اور زندگی کی دوسری ضروریات تیار کی جاتی ہیں۔ نیز سواری اور حمل و نقل کے لیے انسان ان سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔ لہذا اس طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: تمھارے لیے چوپایوں کے آٹھ جوڑے نازل کیے (وانزل لكم من الأنعام ثمانية ازواج )- آٹھ جوڑوں سے مراد گوسفند، بکری، اونٹ اور گائے کے نر اور مادہ ہیں۔ چونکہ لفظ "زوج"ہر جنس کے نر اور مادہ دونوں کو کہا جاتا ہے۔ لہذا مجموعی طور پر8 زوج ہوں گے (اگرچہ ہماری روزمرہ کی زبان میں "زوج"جوڑے کو کہا جاتا ہے، لیکن عربی زبان میں ایسا نہیں ہے) اسی لیے اس آیت کی ابتداءمیں حضرت آدمؑ کی بیوی کو زوج کہا گیا ہے۔ "انزل لكم)"(تمھارے لیے نازل کیا) کی تعبیر، جو چوپایوں کے بارے میں ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی بیان کیا ہے ـــــــــــــــــــــــــــــ اوپر کی طرف سے نیچے کی طرف بھجینے کے معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ اس قسم کے موقع پر یہ لفظ"نزول مقامی"کے معنی میں ہوتا ہے۔ یعنی وہ ایک ایسی نعمت ہے جو برتر مقام اور بالاتر ہستی کی طرف سے پست تر مخلوق کو عطا کی گئی ہے۔ یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ یہاں "انزال"، "نزل "، "(بروزن رسل) کے مادہ سے، مہمان کی پذیرائی کرنے یا اس پہلی چیز کے معنی میں ہے جو مہمان کی دعوت اور پزیرائی کے لیے لائی جائے۔ جیسا کہ سورة آل عمران کی آیہ 198 میں جنتیوں کے بارے میں ہے۔ خالدين فيهانزلاً من عند الله وہ ہمیشہ ہمیشہ بہشت میں رہیں گے یہ خدا کی طرف سے پذیرائی ہے۔ بعض مفسیرن نے یہ بھی کہا ہے کہ چوپائے اور اگرچہ اوپر کی طرف سے نہیں اترتے لیکن ان کی حیات و پرورش کے مقدمات یعنی بارش کے حیات بخش قطرات اور سورج کی حیات کی حیات شعاعیں اوپر سے زمین کی آتی ہیں۔ اس تعبیر کی ایک چوتھی تفسیری بیان کی گئی ہے اور وہ یہ کہ ابتدا میں تمام موجودات عالم غیب میں پروردگار کے علم و قدرت کے خزانے میں تھیں۔ اس کے بعد وہ مقام غیب سے مقام شہود و ظهور میں پہنچی ہیں۔ اس لیے اسے "انزال"سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جیسا کہ سوره حجر کی آیہ 21 میں ہے: وان من شي الاعندنا خزائنه و ماننزله الا بقدر معلوم ہر چیز کے خزانے ہمارے پاس ہیں اور ہم ایک معین و معلوم اندازے کے مطابق ہی اس میں سے نازل کرتے ہیں۔(بحوالہ: تفسیر المیزان "روح المعانی"زیریحث آیات کے ذیل میں). البتہ پہلی تفسیر سب سے زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ اگرچہ ان تفاسیر کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے اور ممکن ہے کی یہ سب آیت کے مفہوم میں داخل ہوں۔ ایک حدیث میں امیر المؤمنین علؑی سے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: انزاله ذالک خلقه اياه چوپایوں کے آٹھ جوڑے نازل کرنے کا معنی خدا کی طرف سے ان کی خلقت ہی ہے۔ یہ حدیث بیی کا ظاہرًا پہلی تفسیرکی طرف ہی اشارہ ہے، کیونکہ خدا کی طرف سے خلقت ایک ایسی خلقت ہے جو ایک برتر مقام کی طرف سے ہے۔ بہرحال، اگر چہ موجودہ زمانے میں چوپایوں سے حمل و نقل کا بہت کم کام لیا جاتا ہے لیکن ان کے دوسرے اہم فائدے نہ صرف یہ کہ گزشتہ زمانے کی نسبت کم نہیں ہوئے بلکہ ان میں اور بھی وسعت پیدا ہو گئی ہے۔ آج بھی انسانوں کی غذا کا بہترین حصہ چوپایوں ہی کے دودھ اور گوشت سے حاصل ہوتا ہے۔ جبکہ لباس اور دوسری ضروریات زندگی بھی انھی کے بالوں اور چمڑے سے تیار کی جاتی ہیں۔ اسی بنا پر دنیا کے بڑے بڑے ممالک کی آمدنی کا ایک اہم حصہ انھیں جانوروں کی پرورش سے صورت پذیر ہوتا ہے۔ اس کے بعد آفرنیشِ الٰہی کے مختلف طریقوں میں سے ایک اور طریقہ کو بیان کیا گیا ہے اور وہ ہے جنین کی خلقت کے مختلف مراحل ارشاد ہوتا ہے: وہ تمھیں تمھاری ماؤں کے پیٹوں میں تین تاریکیوں کے پردے میں ایک کے بعد دوسری خلقت، اور ایک کے بعد دوسری آفرینش عطا کرتا ہے (يخلقكم في بطون امهاتکم خلقًا من بعد خلق في ظلمات ثلاث)۔ یہ بات کہے بغیر کی ظاہر ہے کہ "خلقًا من بعد خلق"سے مراد مکرر پے در پے اور یکے بعد دیگرے کئی خلقتیں ہیں نہ کہ صرف دو خلقتیں۔ یہ بات بھی واضح ہے "يخلقکم"اس بنا پر فعل مضارع ہے۔ استمرار پر دلالت کرتا ہے اور جنین کے ایک دوسرے سے مخالفت اور عجیب و غریب اور حیرت انگیز مرحلوں اور اس میں ان عجیب تبدیلیوں کے واقع ہونے کی طرف ایک مختصر اور پر معنی اشارہ ہے، جو ماں کے پیٹ میں ظہور پزیر ہوتی ہیں۔ جنین شناسی علماءکے بقول یہ سب کچھ پروردگار کی آفرنیش کے نمونوں میں سے عجیب ترین اور ظریف ترین ہے۔ یہاں تک کہ جنین شناسی کا علم، توحید اور خدا شناسی کا ایک مکمل دوره شمار ہوتا ہے اور بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جو ان مسائل کی باریکیوں کو مطالعہ کرنے کے بعد بھی ان کے پیدا کرنے والے کی حمد و ستائش نہ کرنے لگیں۔ "ظلمات ثلاث"(تین تاریکیوں) کی تعبیر شکم مادر کی تاریکی، رحم کی تاریکی اور یہ مشیمہ(وہ مخصوص تھیلی جس میں جنین ہوتا ہے) کی تاریکی ہے جو حقیقت میں تین ضخیم اور دبیز پردے ہیں جو "جنین"کے اوپر لپیٹے ہوئے ہیں۔ عام تصویر بنانے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مکمل نور اور روشنی کے سامنے تصویر بنائیں لیکن انسان کا پیدا کرنے والا اس عجیب اندھیری جگہ میں پانی پر اس طرح نقش و نگار اور تصویر بناتا ہے کہ سب اسے دیکھ کر محو ہو جاتے ہیں اور ایسے مقام پر جہاں پر بھی قسم کی دسترس کسی طرف سے نہیں ہے، اس کی روزی اور رزق لگاتار پہنچاتا ہے تاکہ وہ تیزی کے ساتھ نشوونما پائے اور اس وقت اس امر کا وہ سخت محتاج ہوتا ہے۔ سیدالشهداءامام حسین علیه السلام کی ایک مشہور دعائے عرفہ ہے جو درس توحید کا ایک کامل و عالی دورہ ہے۔ اس میں آپؑ خدا کی نعمتوں اور اس کی قدرتوں کو شمار کرتے وقت اس کی بارگاہ میں اس طرح عرض کرتے ہیں: وابتدعت خلقی من منی يمني ، ثم اسكنتني في ظلمات ثلاث، بين الحم وجلد و دم ، لم تشهر بخلقي، ولم تجعل الى شيئا من امری، ثم اخرجتني الى الدنيا تامًا سويا میری خلقت و آفرنیش کی ابتداءمنی کے ناچیز قطرات سے قرار دی۔ پھر مجھے تین تاریکیوں کے اندر گوشت، پوست اور خون کے درمیان ساکت کر دیا۔ میری خلقت کو تو نے آشکار نہیں کیا اور اس پوشیده جگہ پر میری خلقت کو مختلف مراحل میں جاری رکھا اور میری زندگی کے امور میں کسی ایک کو بھی میرے سپرد نہیں کیا۔ پھر مجھے کامل و سالم دنیا میں منتقل کر دیا۔(بحوالہ: دعائے عرفه (مصباح الزائرابن طاؤس)۔ (جنین کے دور اور اس کے مختلف مراحل کی خلقت کے بارے میں جلد 2 میں سورہ آل عمران کی آیہ 6 کے ذیل میں اور جلد 14 میں سورة حج کی آیه 5 کے ذیل میں ہم نے گفتگو کی ہے۔) تین توحیدی حلقوں انسانوں کی خلقت، چوپایوں کی پیدائش اور جنین کی مختلف حالتوں اور مرحلوں کے بارے میں بیان کرنے کے بعد آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: یہ ہے تمھارا پروردگار خدا، تمام عالم ہستی کی حکومت اسی کے لیے ہے، اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے۔ پھر (ایسے میں) تم راہ حق سے کس طرح منحرف ہوتے ہو (ذالكم الله ربكم له الملك لا اله الا هو فانی صرفون )۔ گویا انسان کو توحید کے ان عظیم آثار کے مشاہدہ کے بعد پروردگار کے مقام شہود تک پہنچا دیا ہے۔ اس کے اپنی مقدس ذات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: یہ ہے تمھارا خدا معبود اور پروردگار، اور واقعًا اگر چشم بینا ہو تو اسے ان آثار کی اوٹ میں اچھی طرح دیکھ سکتا ہے، سر والی آنکھ تو آثار کو دیکھتی ہے اور دل والی آنکھ آثار کے پیدا کرنے والے کو۔ ؎ باصد ہزار جلوه برون آمدی کہ من باصد ہزار دیده تماشا کنم تو را تّو تو ایک لاکھ جلوؤں کے ساتھ باہر آیا ہے اور میں بھی ایک لاکھ آنکھوں سے تجھے دیکھ رہا ہوں۔ "ربکم"کی تعبیر اور اسی طرح "له الملك"کی تعبیر حقیقت میں خداکی ذات پاک ہی میں جو منحصر ہونے کی ایک دلیل ہے جو "لا اله الا هو"میں بیان ہوئی ہے۔ (غور کیجیے گا) جب خالق وہی ہے تو مالک و مربی بھی وہی ہے، تمام عالم ہستی کی مالکیت بھی اسی کے لیے ہے۔ اس کے سوا کسی اور کا کون سا نقش ہے کہ اسے عبودیت کے لائق سمجھا جائے؟ یہ وہ منزل ہے کہ گویا وہ ایک سوئی ہوئی جماعت اور ایک غافل اور ہر چیز سے بے خبر گروہ کو پکار کر کہتا ہے، فانی تصرفون اس حالت میں تم کسی طرح غافل ہوئے اور راہ توحید سے منحرف ہو گئے؟۔(تشریحی نوٹ: توجہ رکھیں کہ"این"کہاں اور کبھی "کیف"(کس طرح) کے معنی میں آتا ہے)۔ پروردگار کی ان عظیم نعمتوں کے ذکر کے بعد اگلی آیت میں شکر و کفران کے حوالے سے اس کے مختلف پہلوؤں کو مورد طالعہ قرار دیا گیا ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے تمھارے کفران اور شکر کا نتیجہ تمھاری ہی طرف لوٹتا ہے اور اگر تم کفران کرو گے توخدا تم سے بے نیاز ہے ( اور اس ی طرح اگر تم اس کی نعمت کا شکر بجا لاؤ گے تو اسے اس کی بھی احتیاج نہیں ہے) (ان تکفروا فان الله غني عنكم )۔ اس کے بعد مزید ارشاد ہوتا ہے: پروردگار کی یہ بے نیازی اور غنا اس سے مانع نہیں ہے کہ تمھیں شکر کا ذمہ دار قرار دے اور کفران سے روک دے۔ چونکہ فریضہ خودایک لطف اور ایک دوسری نعمت ہے۔ ہاں! وہ اپنے بندوں سے ہر گز کفران نعمت پسند نہیں کرتا اور اگر اس کا شکر بجا لاؤ تو وہ تمھارے لیے پسند کرتا ہے (ولا يرضٰى لعباده الكفر وان تشکروا یرضه لكم)۔(تشریحی نوٹ: لفظ "یرضه"مشہور قرات میں ہاءکی پیش کے ساتھ ضمیرکے اشباع کے بغیر پڑھا جاتا ہے کیونکہ اصل میں "يرضاه "تھا۔ الف جزم کی وجہ سے گر گیا ہے، اور"یرضه"ہو گیا ہے ضمنی طور پر توجہ رکھناچاہیے کہ یہ ضمیر شکر کی طرف لوٹتی ہے۔ اگرچہ قبل کی عبارت میں شکرکا لفظ صراحت کے ساتھ نہیں آیا لیکن "ان تنشكروا "اس پر دلالت کرتا ہے ہے "اعدلوا هو اقرب للتقوٰی"کی ضمیر عدالت کی طرف لوٹتی ہے)۔ ان دو مطالب کو بیان کرنے کے بعد اس سلسلے کا تیسرا مسئلہ پیش کیا گیا ہے اور وہ ہے ہر شخص کی اس کے اپنے عمل پر باز پرسں۔ کیونکہ زمہ داری اور "تکلیف"کا مسئلہ اس مطلب کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ لہذا فرمایاگیا ہے: کوئی شخص دوسرے کے گناہ کا بوجھ اپنے کندھے پر نہیں اٹھائے گا (ولا تزر وازرۃ وزر اخٰری)۔ اور چونکہ ذمہ داری جزاءو سزا کے بغیر کوئی معنی نہیں رکھتی۔ لہذا چوتھے مرحلے میں معاد کے مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: پھر تم سب کی واپسی تمھارے پروردگار کی طرف ہو گی اور وہ تمھیں ان چیزوں سے آگاہ کرے گا جنھیں تم انجام دیا کرتے تھے (ثم الى ربكم مرجعكم فينبئكم بما كنتم تعملون)۔ اور چونکہ محاسبہ اور جزا کا مسئلہ پوشیده بھیدوں سے آگاہی کے بغیر ممکن نہیں ہے لہذا آیت کو اس جملہ پر ختم کیا گیا ہے۔ وہ ان تمام باتوں سے آگاہ ہے جو سینوں میں چھپی ہوئی ہیں اور جو کچھ سینوں پر حکم فرما ہے ( انه عليم بذات الصدور) – اس طرح سے ذمہ داری اور اس کی خصوصیات اور اسی طرح انسانوں کی مسئولیت اور جزا و سزا کا فلسفہ مجموعی طور پر مختصر میں ایک نظر ترتیب کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے۔ ضمنی طور پر یہ آیت مکتب جبر و اکراہ کے طرفداروں کا ایک دندان شکن جواب ہے۔ باعث افسوس ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں میں کم نہیں ہیں۔ صراحت کے ساتھ قرآن کہتا ہے: وہ اپنے بندوں کے کفران کرنے پر ہر راضی نہیں ہے۔ یہ بات خود ایک واضح دلیل ہے کہ اس نے کافروں کے بارے میں کبھی بھی کفر کا ارادہ نہیں کیا ہے (جیسا کہ مکتب جبر کے پیروکار کرتے ہیں) کیونکہ جب وہ کسی چیز سے راضی نہیں ہے تو یقینًا اس کا ارادہ بھی نہیں کرے گا کیا یہ ممکن نہیں کہ اس کا ارادہ اس کی رضا سے جدا ہو؟ تعجب تو ان متعصب لوگوں پر ہے جو اس واضح عبارت پر پردہ پوشی کرنے کے لیے چاہتے ہیں کہ لفظ "عباد"کو مومنین یا معصومین میں محصور کر دیں۔ حالانکہ یہ لفظ مطلق ہے اور واضح طور پر تمام بندوں کے لیے ہے۔ہاں ! خدا کفر و کفران اپنے بندوں میں سے کسی کے لیے بھی پسند نہیں کرتا۔ جیسا کہ بغیر کسی استثناءکے ان سب کے لیے شکر کو پسند کرتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: "شکر"اس کی اہمیت ، اس کا فلسفہ اس کی ، اس مفہوم حقیقی اور اس کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں ہم جلد 10 میں سورة ابراہیم کی آیہ 5 کے ذیل میں تفصیل سے بات کر چکے ہیں)۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ ہر شخص کی، اس کے اعمال کے مقابلہ میں اصل مسئولیت، منطقی اصول کے مطابق اور تمام ادیان آسمانی کے مسلمات میں سے ہے۔( تشریحی نوٹ: اس سلسلے میں بھی جلد 12 میں سورہ بنی اسرائیل کی آیہ 15 کے ذیل میں گفتگو ہو چکی ہے)۔ البتہ کبھی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انسان کسی دوسرے کے جرم میں شریک ہو لیکن یہ اس صورت میں ہے جبکہ وہ کسی طرح سےاس عمل کے مقدمات یا خود اس عمل کے ایجاد کرنے میں خیال رکھتا ہو۔ ان لوگوں کے مانند جو کوئی بری بدعت قائم کر جاتے ہیں یا کسی قبیح و غلط رسم کی بنیاد ڈال جاتے ہیں۔ تو جو شخص بھی اس پر عمل کرے گا، اس کا گناہ "مسبب اصلی"کے لیے بھی لکھا جائے گا۔ بغیر اس کے کہ اس پر کرنے والوں کے گناه کسی چیز کی کمی ہو۔ (تشریحی نوٹ: اس سلسلے میں بھی سورہ انعام کی آیه 64 کے ذیل میں ہم نے بحث کی ہے۔)
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔
کیا عالم وجاہل برابر ہیں؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 6گزشتہ آیات میں توحیدِ استدلالی اور آفاق و انفس میں عظمت خدا کی نشانیوں کے حوالے سے معرفتِ پروردگار کے متعلق گفتگو تھی۔ زیِر بحث آیات میں پہلے توحید فطری کی بات کی گئی ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ انسان عقل و خرد اور نظام آفرینش کے مطالعے سے جو کچھ درک کرتا ہے وہ فطری طور پر اس کی روح کی گہرائیوں میں موجود ہے۔ مشکلات اور حوادث کے طوفانوں میں یہ توحید فطری خود کو ظاہر کر دیتی ہے لیکن فراموش کار انسان طوفان حوادث گزر جانے کے بعد دوبارہ غفلت و غرور میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ فرمایا گیا ہے:جس وقت انسان کو کوئی نقصان پہنچتا ہے (تو نور توحید اس کے دل میں جگمگا اٹھتا ہے اور وہ) اپنے پروردگار کو پکارتا ہے۔ اس حال میں وہ اسی کی طرف رجوع کرتا ہے اور اپنے گناہ اور غفلت پر پشیمان ہوتا ہے (و اذا مس الانسان ضر دعا ربه منيبًا اليه)۔ لیکن جب خود اپنی طرف سے کوئی نعمت اسے عطا کرتا ہے تو وہ گزشتہ ابتلاءعادی مشکلات کو بھول جاتا ہے جن کی وجہ سے لطف الٰہی کے دامن سے وابستہ ہوا (ثم اذاخوله نعمة منه نسي ما كان يدعوا اليه من قبل)۔ (تشریحی نوٹ: "نسى ما كان يدعوا الیه"میں "ما"کیا معنی دیتا ہے؟ اس بارے میں مفسرین کے درمیان بحث ہے۔ ایک جاعت تو یہ کہتی ہے کہ یہ "ما"، "موصولہ"ہے اور "ضر"کی طرف اشارہ ہے(یہ معنی تمام معانی میں سے زیادہ مناسب نظر آتا ہے، اور سطور بالا میں ہم نے اسی کو انتخاب کیا ہے)۔ بعض اسے "اللہ"کے معنی میں لیتے ہیں۔ بعض اسے"ما مصدریہ"اور دعاءکے معنی میں سمجھتے ہیں۔ سورۃ یونس کی آیہ 12 میں ہے۔ واذا مس الانسان الضر دعانا لجنبه او قاعدًا او قائمًا فلما كشفنا عنه ضرہ مرّ كان لم یدعنا الفي ضر مسّه اس میں غور کیا جائے تو یہ آیت بھی ہمارے مذکورہ پہلے معنی کے لیے ایک شاہد هے۔) وہ خدا کے لیے شریک اور شبیہ بنا لیتے ہیں اور ان کی پرستش کرنے لگتے ہیں تاکہ اپنی گمراہی کے علاوہ لوگوں کو بھی راہ خدا سے منحرف کر دی (و جعل لله اندادًا ليضل عن سبيله). یہاں انسان سے مراد عام انسان اور انبیاءکی تعلیمات کے سایے میں تربیت پانے والے انسان ہیں۔ ورنہ مردان حق کے ہاتھوں تربیت پانے والے انسان خود ان کی طرح"سراء"و "ضراء"میں تکلیف و راحت میں اور ناکامیوں اور کامیابیوں میں ہمیشہ اس کی یاد میں رہتے ہیں اور اس کے دامن لطف سے وابستہ رہتے ہیں۔ یہاں "ضر"سے مراد ہر قسم کا گزند، نقصان، ناراحتی اور تکلیف ہے چاہے وہ جسمانی پہلو سے ہو یا روحانی سے۔ "خوله"، "خول"(بروزن "عمل") کے مادہ سے، کسی چیز سے سرکشی اور ہمیشہ کی پریشانی کے معنی میں ہے اور چونکہ اس قسم کی مخصوص توجہ کا لازمہ عطا و بخشش ہے۔ اس لیے یہ ماده بخشنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک گروہ نے یہ بھی کہا ہے کہ "خول"(بروزن "عمل") خدمت گزاری کے معنی میں بھی آیا ہے اس بنا پر"خوله"کا معنی یہ ہو گا کہ "اسے خدمت گزار بخشا"اور پھر ہر قسم کی نعمت بخشنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ بعض نے اس مادہ کو فخر و مباہات کے معنی میں سمجھا ہے۔ اس بنا پر مذکورہ جملے کا مطلب ہے کسی کو عطائے نعمت کے ذریعے مفتخر بنانا۔ (تشریحی نوٹ: لسان العرب، مفردات راغب او تفسیر روح المعانی کی طرف رجوع کریں)۔ مجموعی طور پر یہ جملہ عطاءو بخشش کے علاوہ خدا کی خاص توجہ اور عنایت کو بھی بیان کرتا ہے۔ "منيبًا الیه"کی تعبیر اس بات کی نشاند ہی کرتی ہے کہ انسان سخت حالات میں جبکہ غرور غفلت کے تمام پردے بٹ جاتے ہیں، تو خدا کے سوا جو کچھ بھی ہے اس سب کو چھوڑ کر خدا کی طرف رجوع کرتا ہے اور "انابة"اور بازگشت کے مفهوم میں حقیقت بھی چھپی ہوئی ہے کہ انسان کا اصلی مقام اور اس کا مبداءو مقصد بھی خدا ہی تھا۔ "انداد"، "ند"(بروزن "ضد") کی جمع ہے مثل و مانند کے معنی میں ہے۔ اس فرق کے ساتھ کے "مثل"ایک وسیع مفهوم رکھتا ہے۔ لیکن "ند"کسی چیز کی حقیقت اور اس کے جوہر میں مماثلث کے معنی میں ہے۔ "جعل"کی تعبیر اس بات کی نشاند ہی کرتی ہے کہ انسان اپنے وہم و گمان اور خیالِ خام سے خدا کے مثل و مانند تراشتا ہے اور جعل کرتا ہے یعنی وہ چیز کسی طرح بھی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتی۔ "ليضل عن سبيله"اس بات کی نشاندہی کرتا ہے مغرور و گمراہ لوگ صرف اپنی ہی گمراہی پر بس نہیں کرتے کہ وہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ دوسروں کو بھی اس وادی کی طرف کھینچ لے جائیں۔ بہرحال، قرآن مجید کی آیات میں توحید فطری اور زندگی کے سخت حوادث کا ربط بارہا بیان کیا گیا ہے، کیونکہ یہ حوادث ا س کی تجلی گاہ ہیں ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ نیز اس مغرور انسان کی بدل جانے والی حالت اور کم ظرفی کو بھی بیان کیا گیا ہے۔انسان طوفانوں میں تو توحید خالص اور رنگ الہی کو اپنا لیتا ہے اور طوفان کے رکتے ہی اس رنگ کو بدل دیتا ہے، یہ اور ہٹ دھرمی سے شرک کی راہ میں قدم اٹھاتا ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ایسے متلون مزاج افراد کس قدر زیادہ ہیں اور ایسے لوگ کتنے کم ہے کہ جن میں کامیابیاں نعمتیں، راحت و آرام اور طوفان حوادت کی کسی قسم کا کوئی تغیر پیدا نہیں کرتے۔ ہاں! ایک پانی کا برتن یا ایک چھوٹا سا لوٹا معمولی سی ہوا سے الٹ جاتا ہے لیکن ایک بڑا سمندر اپنی عظمت کی وجہ سے سخت طوفانوں کے مقابلے میں بھی اپنی جگہ پر رہتا ہے اور اسی وجہ سے اس نے اپنے لیے آرام کا نام اپنایا ہوا ہے۔آیت کے آخر میں ایسے انسان کو صریح، قاطع اور زور دار تہدید کے ساتھ مخاطب کرنے کے لیے قرآن کہتا ہے، اس سے کہہ دے تو اپنے کفر اور کفران سے تھوڑا سا فائده اٹھا لے، چند دن اور غفلت اور غرور میں بسر کر لے لیکن یہ جان ہے کہ آخرکار تو اصحاب دوزخ سے ہے (قل تمتع بكفرك قليلاً انك من اصحاب النار)۔ کیا اس قسم کے کوتاہ فکر گمراہ اور گمراہ کرنے والے انسان کا انجام اس کے علاوہ بھی کچھ ہوتا ہے؟ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بعد والی آیت میں موازنہ کیا جا رہا ہے اور مختلف مسائل سمجھانے میں قرآن کی جانی پہچانی روش ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: کیا ایسا شخص قدر و قیمت والا ہے یا وہ شخص جو رات کی گھڑیوں میں پروردگار کی عبادت اور سجدہ و قیام میں مشغول رہتا ہے، اس کے ساتھ راز و نیاز کی باتیں کرتا ہے، عذابِ آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے پروردگار کی رحمت کی امید رکھتا ہے (امن هو قانت آناءالليل ساجدًا وقائمًا يحذر الأخرة و برجوا رحمة ربه)۔ (تشریحی نوٹ:اس جملے میں محزوف ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے: اهذا الذي ذكرناه خیر امّن هو قانت آناءالليل۔۔۔)۔ کہا وہ مشرک و فراموش کار، متلون مزاج ، گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا انسان اور کہاں یہ بیدار، نورانی اور باصفادل والا انسان۔ کہ جس وقت رات کی تاریکی میں غافلوں کی آنکھیں نیند میں بند ہوتی ہیں وہ اپنی پیشانی کو اپنے محبوب کی چوکھٹ پر رکھے ہوئے ہوتا ہے اور خوف و رجاءکے ساتھ اسے پکارا ہوتا ہے۔ ایسے افراد نہ تو نعمت کے وقت اپنے آپ کو سزا سے امان میں سمجھتے ہیں اور نہ ہی بلاءو مصیبت کے وقت اس کی رحمت سے و قطع امید کرتے ہیں اور یہ دونوں عوامل ان کے وجود کو ہمیشہ اور مسلسل متحرک رکھتے ہوئے ہوش اور احتیاط کے ساته، دوست کی طرف لے جاتے ہیں۔ "قانت"، "قنوت"کے مادہ سے، خضوع کے ساتھ ان اطاعت میں لگے رہنے کے معنی میں ہے۔ "اناء"، "انا"(بروزن"صدا"و "فنا") کی جمع ہے۔ ساعت اور وقت کی کچھ مقدار کے معنی میں ہے۔ رات کی سماعت اور گھڑی کا ذکر اس بنا پر ہے کہ اس وقت حضور قلب زیادہ اور ریا سے آلودگی دیگر اوقات کی نسبت بہت کم ہوتی ہے۔ "ساجدًا"کو "قائما"پر اس وجہ سے مقدم رکھا ہے کیونکہ سجدہ عبادت کا بالاتر مرحلہ ہے۔ نیز رحمت کا مطلق ہونا اور اس کا آخرت کے ساتھ مشروط نہ ہونا، خدا کی رحمت کی وسعت اور دنیا و آخرت دونوں جہانوں میں اس کی موجودگی کی دلیل ہے۔ ایک حدیث میں جو علل الشرائع میں امام باقر سے اور اسی طرح کتاب کافی میں آپ ہی سے نقل ہوئی ہے۔ بیان ہوا ہے کہ یہ آیت (امن هو قانت آناءالليل)نماز شب کے معنی میں ہے۔(بحوالہ:علل الشرائع اور کافی؛ بحوالہ: نورالثقلین جلد 4 ص 479 کے مطابق)۔ یہ بات واضح ہے کہ تفسیر بھی بہت کی دوسری تفاسیر کی طرح اور ویسے ہی ایک واضح مصداق کے مانند ہے۔ جیسےقرآن کی مختلف آیات ذیل میں مصداق کے طور پر تفاسیر بیان ہوئی ہیں اور یہ آیت کے مفہوم کو نماز شب میں محدود نہیں کرتی۔ آیت کے آخری میں پیغمبر اکرمؐ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: کہہ دے کیا علم والے اور بے علم برابر ہوتے ہیں (قل هل يستوي الذين يعلمون والذين لا يعلمون). نہیں! وہ یکساں نہیں ہیں۔ "صرف صاحبان فکر و نظرہی ان سے متوجہ ہوتے ہیں"( انما بتذكر اولوا الالباب)۔ اگرچہ مذکورہ سوال ایک وسیع سوال ہے اور آگاہ و نا آگاہ اور صاحبان علم اور بے علم لوگوں کے درمیان ایک واضح موازنہ ہے۔ لیکن اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ اس سوال سے پہلے ایک اور سوال ہے اور وہ ہے مشرکین کے مومنین شب زنده دار کے برابر ہونے کے بارے میں۔ اس لیے دوسرا سوال بھی زیادہ تر اسی مسئلے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یعنی وہ لوگ جو یہ جانتے ہیں کہ یہ ہٹ دهرم اور دل کے اندھے مشرک،ان پاک و روشن ضمیر اور مخلص مومنین کے برابر نہیں ہیں۔ کیا وہ ان افراد کے مساوی ہیں جو اس واضح و روشن حقیقت سے آگاہ نہیں ہیں؟ بہرحال، یہ جملہ جو استفہام انکاری سے شروع ہوا ہے اور اسلام کے اساسی اور بنیادی شعاروں میں سے ہے، جاہلوں کے مقابلے میں علم اور علماءکے مقام کی عظمت کو واضح کرتا ہے اور چونکہ یہ نا برابری مطلق صورت میں ذکر ہوئی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں گروہ نہ تو بارگاہ خدا میں یکساں ہیں اور نہ ہی آگاہ مخلوق کی نظر ميں، تو دنیا میں ایک صف میں کھڑے ہو سکتے ہیں اور نہ ہی آخرت میں، نہ ظاہر میں یکساں ہیں اور نہ باطن میں۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
چند اہم نکات
ان دونوں آیتوں میں چند عمدہ نکات کی طرف کچھ لطیف اشارے موجود ہیں، جو تھوڑا سا غور کرنے پر واضح ہو جاتے ہیں ــــــــــ مثلاً- 1- پہلی آیت میں تلخ و ناگوار واقعات، دل کی آنکھ کے سامنے سے غرور و غفلت کے پردوں کے ہٹنے، نور ایمان کے جلوہ گر ہونے اور پروردگار کی طرف بازگشت اور توبہ وانابت کا ایک فلسفہ بیان ہوا ہے اور یہ ان لوگوں کے لیے کیا جواب ہے جو زندگی کے تلخ حوادث کو پروردگار کی عدالت یا نظام آفرنیش پر ایک اعتراض کی بات سمجھتے ہیں۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 2- دوسری آیت عمل اور خود سازی کے ساتھ شروع ہوتی ہے اور علم و معرفت پر جا کر ختم ہوتی ہے، کیونکہ جب تک خود سازی نہ ہو اس وقت تک نور معرفت دل میں نہیں چمکتا اور اصولی طور پر یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 3- "قانت آناءالليل"کی تعبیر جو اسم فاعل کی صورت میں آئی ہے "الليل"کے لفظ کے مطلق ہونے کی طرف توجہ کرتے ہوئے ان کی خدا کی بارگاہ میں، عبودیت و خضوع کے دوام و استمرار کی دلیل ہے، کیونکہ اگر عمل میں دوام نه ہو تو اس کی تاثیر بہت کم ہوتی ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 4- اضطراری علم و آگاہی، جو نزول بلا کے وقت حاصل ہوتی ہے اور انسان کا مبداءآفرنیش کے ساتھ رشتہ قائم کر دیتی ہے، اسی صورت میں علم کا مصداق بنتی ہے جبکہ وہ طوفان با مشکل ختم ہونے پر بھی برقرار رہے۔ لہذا زیِر بحث آیات ان لوگوں کو جاہلوں میں سے قرار دیتی ہیں جو بلا و مصیبت کے وقت تو بیدار ہو جاتے ہیں لیکن اس کے بعد بھی فراموشی میں غرق ہو جاتے ہیں۔ اس بنا پر حقیقی عالم وہ ہیں جو ہر حالت میں اس کی طرف توجہ رکھتے ہیں۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 5- قابل توجہ بات یہ ہے کہ آیت کے آخری قرآن کہتا ہے، علم اور جہالت کے فرق کو بھی صاحبان فکر و نظر ہی سمجھتے ہیں کیونکہ جاہل تو علم کی قدر و قیمت کو جانتا ہی نہیں ہے۔ حقیقت میں علم کا ہر مرحلہ دوسرے مرحلے کے لیے مقدمہ اور تمہید ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 6- اس آیت میں اور قرآن کی دوسری آیات میں علم کامعنی چند ایک اصطلاحات یا اشیاءکے درمیان مادی روابط اور اصطلاح کے مطابق مروجہ علوم نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد کی خاص معرفت اور آگاہی ہے جو انسان کو "قنوت"یعنی پروردگار کی اطاعت اس کی عدالت کا خوف اور اس کی رحمت کی امید کی طرف دعوت دیتی ہے۔ یہ ہے علم کی حقیقت اور مروجہ علوم بھی اگر اس قسم کی معرفت کے لیے کار آمد ہوں تو علم ہیں اور اگر غرور و غفلت اور ظلم و فساد فی الارض کا سبب بنیں اور ان سے مذکورہ کیفیت اور خاص حالت حاصل نہ ہو تو پھر وه قیل و قال سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 7- جو کچھ ہے خبر لوگ خیال کرتے ہیں اور مذہب کو افیون سمجھتے ہیں، اس کے بر خلاف انبیاءکی اہم ترین دعوت علم و دانش کی طرف ہی تھی اور انھوں نے جہالت سے اپنی بیزاری کام ہر جگہ اعلان کیا ہے۔ آیات قرانی نے اس حقیقت کو بیان کرنے کے لیے ہر موقع سے استفادہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ روایات اسلامی میں بھی بہت سی ایسی تعبیریں نظر آتی ہیں کہ جن سے بالا تر علم کی اہمیت کا تصور نہیں ہو سکتا۔ ایک حدیث میں پیغمبر گرامی اسلامؐ سے منقول ہے: لا خير في العيش الا لرجلين عالم مطاع او مستمع و اع زندگی کا سوائے دو اشخاص کے کوئی فائدہ نہیں ہے ایک وہ عالم جس کے نظریات و تعلیمات کا اجراءہو اور دوسرے وہ طالب علم جو عالم کی بات کو کان دھر کے سنے۔(بحوالہ: کافی ، جلد اول، باب "صفۃ العلم و فضلہ"حدیث ۷)۔ ایک اور حدیث میں امام صادقؑ سے منقول ہے: ان العلماءورثة الأنبياءو ذاك ان الانبياءلم یورثوا درھمًا ولا دينارًا، و انما او رثوا احادیث من أحاديثهم، فمن أخذ بشيءمنها فقد اخذ حظا وافرا، فانظر وا علمكم هذا عمن تأخذونه فان فينا اهل البيت في كل خلف عدولا ینفون عنہ تحريف الغالين وانتحال المبطلين و تأويل الجاهلين علما انبیاءکے وارث ہیں کیونکہ انبیاءدرہم و دینار اپنی یادگار کے طور پر نہیں چھوڑتے، بلکہ علوم و احادیث ان کی یادگار ہوتی ہیں جس شخص کے پاس اس میں سے کچھ حصہ ہو اس کے پاس میراث انبیاءکا فراواں حصہ ہے۔ اس کے بعد امام مزید فرماتے ہیں: اب تم دیکھو کہ تم اپنا علم کس شخص سے اخذ کر رہے ہو ( واقعی علماءیا علماءنما سے) جان لو کہ ہم اہل بیتؑ میں سے ہر زمانے میں عادل اور قابل اعتماد افراد موجود رہتے ہیں جو غلو اور تجاوز کرنے والوں کی تحریف اور منحرف لوگوں کے لیے بے بنیاد دعووں اور جاہلوں کی توجیہات کی اس پاک دین سے نفی کرتے ہیں۔(بحوالہ: باب "صفۃ العلم و فضلہ"حدیث 2)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 8- آخری آیت میں تین گروہوں کے بارے میں بات ہو رہی ہے: علماء، جہلاءاور اولوا الباب، ایک حدیث میں امام صادق السلام سے ان تینوں گروہوں کی تفسیری بیان ہوا ہے: نحن الذين يعلمون وعدونا الذين لايعلمون و شیعتنا اولوا الالباب عالم تو ہم ہیں اور ہمارے دشمن جاہل ہیں اور ہمارے شیعہ اولوال لباب ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، زیر بحث آیات کے ذیل میں یہ بات واضح ہے کہ یہ تفسیر آیت کے واضح مصداق کے بیان کے طور پر ہے اور آیت کے مفہوم کی عمومیت کی نفی نہیں کرتی۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 9- ایک حدیث میں آیا ہے کہ امیر المومنین علی ایک رات مسجد کوفہ سے اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئے، جبکہ کمیل بن زیاد کہ جو آپ کے خاص دوستوں میں سے تھے، آپؑ کے ساتھ ساتھ تھے۔اثنائے راہ میں ایک شخص کے گھر کے قریب سے گزرے۔ گھر سے قرآن کی تلاوت کی آواز آ رہی تھی اور وہ اس آیت کو دلنشیں اور دلگذار آواز کے ساتھ پڑھ رہا تھا: امن هو قانت آناءالليل .......... کمیل دل ہی دل میں اس شخص کی حالت پر بہت خوش ہوئے اور اس کی روحانیت پر مسرور ہوئے۔ اس سے پہلے کہ وہ زبان سے کچھ کہتے، امام نے کمیل کی طرف رخ کیا اور فرمایا: اس شخص کی صدا تیرے لیے باعث حیرت نہ ہو، یہ شخص اہل دوزخ میں سے ہے اور میں عنقریب تجھے اس کی خبر دوں گا۔ کمیل اس پر تعجب میں ڈوب گئے۔ پہلی بات تو یہ امامؑ نے بہت جلدی کمیل کی فکر اور نیت کو جان لیا اور دوسری یہ کہ اس شخص کے دوزخی ہونے کی خبر دی جو ظاہری طور پر صالح نظر آتا تھا۔ کچھ مدت یونہی گزر گئی، یہاں تک کہ خوارج کا مسئلہ اس حد کو پہنچ گیا کہ وہ امیر المومنینؑ کے مقابلے میں آکھڑے ہوئے اور حضرتؑ نے ان سے جنگ کی۔ حالانکہ وہ قرآن کو جس طرح کہ وہ نازل ہوا تھاحفظ کیے ہوۓ تھے۔ امیر المومنین علیؑ نے کمیل کی طرف رخ کیا جبکہ تلوار آپؑ کے ہاتھ میں تھی اور ان سرکش کافروں کے سر زمین پر گر پڑے تھے، تو آپ نے شمشیر کی نوک سے ان میں سے ایک سر کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: اے کمیل! امّن هو قانت آناءالليل یہ وہی شخص ہے جو اس رات قرآن کی تلاوت کر رہا تھا۔ اور اس کی حالت تجھے معلوم بھی ہوئی تھی اور اس کی حالت نے تیرے تعجب اور حیرت کو بڑھا دیا تھا۔ کمیل نے حضرت کا بوسہ لیا اور استغفار کی۔ (بحوالہ: "سفیۂ البحار"جلد 2 ص496 حالات کمیل)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: مخلص بندوں کا طرزِحیات
Tafsīr Nemūna · Vol. 6گزشتہ آیات میں مغرور مشرکین اور فرمان خدا کے مطیع مومنین کا فرق نیز علماءو جہلاءکے درمیان موازنہ کیا گیا تھا۔ اب زیر بحث آیات میں سچے اور مخلص بندوں کے طرز حیات میں سے سات دستوروں کا ذکر چند آیات میں سمو دیا گیا ہے اور ان میں سے ہر آیہ "قل"سے شروع ہوتی ہے۔ پہلے تقوی کا ذکر ہے۔ پیغمبر اکرمؐ کو حکم دیا گیا ہے: کہہ دے: اے میرے مومن بندو! اپنے پروردگار سے ڈرو اور تقوی اختیار کرو۔ (قل ياعباد الذين آمنوا اتقوا ربکم)۔( تشریحی نوٹ: یہ بات واضح ہے کہ "يا عباد"کا خطاب خدا کی طرف سے ہے اور اگر اللہ پیغمبر اکرمؐ سے کہتا ہے کہ یہ بات کرو اس سے مراد یہ ہے کہ میری طرف سے انھیں خطاب کرو)۔ ہاں تقوٰی یعنی خود کو گناہ سے بچانا اور حق تعالی کی بارگاہ میں مسئولیت اور ذمہ داری کا احساس ہے۔ یہ خدا کے مومن بندوں کا پہلا کام ہے۔ تقوٰی جہنم کی آگ سے بچاؤ کے لیے ایک ڈھال ہے اور انحراف سے باز رکھنے کا ایک عامل ہے۔ تقوی بازارِ قیامت کا سب سے بڑا سرمایہ ہے اور پروردگار کی بارگاہ میں انسان کے مرتبہ و مقام کا معیار ہے۔ دوسرے حکم میں اس دنیا میں احسان اور نیکو کاری کا ذکر ہے، کیونکہ یہ دنیا دارِ عمل ہے۔ اس کے لیے احسان کا نتیجہ بیان کر لوگوں کو اس کی تشویق دلائی گئی ہے فرمایا گیا ہے: ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اس دنیا میں کوئی نیکی کی ہے، بہت بڑا اجر و ثواب ہے۔ (للذين احسنوا في هذه الدنيا حسنة)۔(تشریحی نوٹ: اکثر مفسرين نے "في هذه الدنيا "کو "احسنوا"سے متعلق قرار دیا ہے۔ اس بنا پر "حسنة"مطلق ہوگئی اور ہرقسم کے اجر پر مشتمل ہو گی ۔ خواہ وہ اس جہان میں ہو یا دوسرے جہان میں ۔ نیز اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ایسے مقام پر تنوین عظمت کی دلیل ہے، اس اجر کی عظمت کی واضح ہو جاتی ہے)۔ ہاں اس دنیا میں دوستوں اور بیگانوں کے ساتھ گفتار میں، عمل میں، طرز فکر نظر میں نیکو کاری کا نتیجہ دونوں جہان میں مطلق طور پر اجر کی صورت میں حاصل ہوتا ہے، کیونکہ نیکی کا نتیجہ نیکی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ حقیقت میں تقوٰی تو ایک باز رکھنے والا عامل ہے اور احسان و نیکی حرکت پیدا کرنے والا عامل ہے جو مجموعی طور سے ترک گناہ اور فرائض و مستحبات کی انجام دہی دونوں پر مشتمل ہے۔ تیسرا حکم شرک و کفر اور گناہ سے آلودہ مراکز و مقامات سے "ہجرت"کرنے کی تشویق ہے فرمایا گیا ہے: خدا کی زمین وسیع ہے۔(وارض الله واسعة)۔ درحقیقت یہ ان کمزور ارادے والے بہانہ جو افراد کے لیے جواب ہے جو کہتے تھے کہ ہم مشرکین کی حکومت کے تسلط کی وجہ سے اپنے خدا کی طرف سے عائد کردہ فرائض کی انجام دہی پر قادر نہیں ہیں۔ قرآن کہتا ہے: خدا کی سرزمین مکہ میں ہی محدود نہیں ہے، مکہ نہ ہوا تو مدینہ سہی، دنیا وسیع ہے، اپنے آپ کو حرکت دو اور شرک و کفر و خفقان والے مراکز سے نقل مکانی کر جاؤ کہ جو تمہیں آزادی اور انجام فرائض سے مانع ہیں۔ نقل مکانی کر جاؤ۔ مسئلہ ہجرت اہم ترین مسائل میں سے ہے، اس نے آغاز اسلام میں حکومت اسلامی کی کامیابی کی تکمیل کی۔ اسی بنا پر تاریخ اسلام کی بنیاد اور سرآغاز بنا۔ دوسرے زمانوں میں بھی یہ مسئلہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل رہا ہے۔یہ طریقہ ایک طرف تو مومنین کو دباؤ اور گھٹن کے سامنے جھکنے اور گٹھنے ٹیکنے سے باز رکھتا ہے اور دوسری طرف سے عالم کے مختلف حصوں میں اسلام کے صدور کا عامل بھی ہے۔ قران مجید کہتا ہے: انّ الذين توفاهم الملائكة ظالمي أنفسهم قالوا فيم كنتم قالوا كنا مستضعفين في الارض قالوا الم تكن أرض الله واسعة فتهاجروا فيها فاولئك مأواهم جهنم وساءت مصيرًا (نساء 97) ظالموں اور مشرکوں کی روح قبض کرتے وقت قبض روح کرنے والے فرشتے پوچھتے ہیں کہ تم کسی حالت میں تھے؟ وہ جواب میں کہتے ہیں: مستضعف تھے اور اپنی سرزمین میں دباؤ اور سختی میں تھے لیکن فرشتے انھیں جواب دیتے ہیں: کیا خدا کی زمین وسیع نہیں تھی، تم نے ہجرت کیوں نہ اختیار کی، ان کی جگہ جہنم ہے اور کتنی بری جگہ ہے۔ یہ چیز اس بات کی اچھی طرح سے نشاندہی کرتی ہے کہ ماحول کا دباؤ اور گھٹن، ایسے مقام پر جہاں سے ہجرت کرنا ممکن ہو۔ بارگاه خداوندی میں عذر نہیں بن سکتا۔ (اسلام میں ہجرت کی اہمیت اور اس کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد 4 سورة نساءکی آیہ 100 کے ذیل میں اور جلد 7 سوره انفال کی آیہ 72 کے ذیل میں بحث کی جا چکی ہے)۔ چونکہ ہجرت سے عام طور پر زندگی کے مختلف پہلوؤں میں بہت سی مشکلات پیش آتی ہیں، اس لیے چوتھا حکم صبر و استقامت کا اس صورت میں بیان کیا گیا ہے: صبر کرنے والے اور استقامت دکھانے والے اپنا اجر و ثواب بے حساب حاصل کریں گے۔(انما يوفي الصابرون أجرهم بغير حساب)۔(بحوالہ: "بغير حساب"ممکن ہے"يوفی"سے متعلق ہو یا "اجرهم "سے حال ہو لیکن پہلا احتمال زیادہ مناسب ہے)۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ "يوفي"کی تعبير جو"و فی"سے اور اعطاءِ کامل کے معنی میں ہے اور "بغیر حساب"کی تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ استقامت دکھانے والے صابر لوگ بارگاہ خداوندی سے برترین اور افضل ترین اجر پائیں گے اور کسی بھی عمل کی صبر و استقامت کے برابر اہمیت نہیں ہے۔ اس بات کی شاہد وہ حدیث ہے جو امام صادق نے رسول اللہؐ سے بیان فرمائی ہے۔ اذا نشرت الدواوين ونصبت الموازين ،لم ينصب لاهل البلاءميزان ، ولم ينشر لهم ديوان ثم تلا هذه الآية : انما يوفى الصابرون أجرهم بغير حساب جس وقت اعمال نامے کھولے جائیں گے اور پروردگار کی عدالت کے ترازو نصب ہوں گے تو ایسے اشخاص کے لیے جو مصائب اور سخت حوادث میں گرفتار رہے ہیں اور انھوں نے استقامت سے کام لیا ہے، نہ تو وزن کے لیے میزان نصب ہو گی اور نہ ہی ان کا اعمال نامہ کھولا جائے گا۔ اس کے بعد پیغمبر اکرمؐ نے اپنی گفتگو کے شاہد کے عنوان سے مذکورہ بالا آیت کی تلاوت کی کہ خدا صابروں کو بے حساب اجر دے گا۔(بحوالہ:"تفسیرمجمع البیان"زیِربحث آیات کے ذیل میں اور یہی معنی مختصر سے فرق کے ساتھ تفسیر قرطبی میں حسین بن علیؑ سے ان کے جز رسول اللہ سے نقل ہوا ہے)۔ بعض کا نظریہ یہ ہے کہ یہ آیت مسلمانوں کی پہلی ہجرت کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس میں جعفر بن ابی طالب کی سرکردگی میں ایک بڑے گروہ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی ہم نے یہ بارہا بیان کیا ہے کہ باوجود اس کے کہ شان نزول آیات کے مفاہیہم کو واضح کرتی ہیں لیکن انھیں محدود نہیں کرتیں۔ پانچویں حکم میں اخلاص کے بارے میں شرک کے ہر شائبہ سے پاک اور خالص توحید کے متعلق گفتگو ہے، لیکن یہاں گفتگو کا لب و لہجہ بدل جاتا ہے اور پیغمبر خدا اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: میں تو اس بات پر مامور ہوں کہ خدا ہی کی عبادت کروں، اس حال میں کہ میں اپنے دین کو ا س کے لیے خالص رکھوں (قل اني امرت ان اعبد الله مخلصًا له الدين )۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے، اور میں اس بات پر مامور ہوں کہ میں پہلامسلمان بنوں ( وامرت لأن اكون اول المسلمين)۔ یہاں پر چھٹا حکم یعنی اسلام اور فرمان خدا کے سامنے پوری طرح سر تسلیم خم کرنے میں سبقت کرنے کے بارے میں ہے۔ ساتواں اور آخری حکم قیامت کے دن خدا کی سزا سے متعلق ہے۔ یہ بھی اسی لب و لہجہ میں بیان ہوا ہے۔ فرمایا گیا ہے، کہہ دے: اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو قیامت کے عظیم دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں ( قل اني اخاف ان عصيت ربی عذاب يوم عظيم )۔ یہ اس لیے ہے تاکہ حقیقت واضح ہو جائے کہ پیغمبر بھی بندگان خدا میں سے ہیں، وہ بھی خالص طور سے عبادت کرنے پر مامور ہیں، وہ بھی خدا کے عذاب و سزا سے ڈرتے ہیں اور وہ فرمان حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنے پر مامور ہیں، بلکہ وہ دوسروں کی نسبت سنگین تر ذمہ داری رکھتے ہیں کہ وہ سب سے آگے بڑھ کر رہیں۔ وہ کبھی بھی مقام الوہیت کے مدعی اور عبادت کے راستے سے باہر قدم رکھنے کے دعویدار نہیں تھے بلکہ وہ تو اپنے مقام عبودیت پر فخر و مباہات کرتے تھے اور اسی بنا پر وہ ہر چیز میں نمونہ اور اسوہ ہیں۔ وہ ان جہات میں اپنے لیے دوسروں سے امتیاز کے قائل نہیں ہیں اور یہ بات خود ان کی عظمت اور حقانیت کی ایک واضح و روشن نشانی ہے۔ جھوٹے مدعیوں کی طرح نہیں جو دوسروں کو تو اپنی پرستش کی دعوت دیتے تھے اور اپنے آپ کو مافوق البشر اور والا تر گوہر کی حیثیت سے متعارف کرواتے تھے۔ ایسے لوگ بعض اوقات اپنے پیروکاروں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ انھیں ہر سال ان کے و وزن کے برابر سونا اور جواہرات دیں۔ رسولؐ تو درحقیقت یہ فرماتے ہیں:۔ "میں ایسے سلاطین جابر کی طرح نہیں ہوں جو لوگوں کو تو کچھ ذمہ داریوں کی انجام دہی کا ذمہ دار ٹھراتے ہیں۔ لیکن خود اپنے آپ کو ذمہ داری سے مافوق سمجھتے ہیں"۔ اور یہ حقیقت میں ایک اہم تربیتی مطلب کی طرف اشارہ ہے کہ ہر مربی و رہبر کو اپنے مکتب کے احکام کی انجام دہی میں سب سے آگے قدم بڑھانا چاہیے۔ وہ اپنے آئین کا سب سے پہلا مومن، سب سے زیادہ کوشش کرنے والا اور سب سے زیادہ فداکاری کرنے والا ہونا چاہیے تاکہ لوگ اس کی صداقت پر ایمان اس لائیں اور اس کو ہر چیز میں اپنے لیے راہنما اور اسوہ سمجھیں۔ اور یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پہلا مسلمان ہونا نہ صرف زمانے کے لحاظ سے ہے۔ بلکہ تمام جہات میں آپ پہلے مسلمان تھے کہ ایمان کے لحاظ سے، اخلاص و عمل اور فداکاری کے اعتبار سے اور جہاد و استقامت کی جہت سے۔ پیغمبر اکرمؐ کی ساری زندگی اس حقیقت کی تائید کرتی ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ زیرِ بحث آیات میں سات احکام (تقوی، احسان، ہجرت، صبر، اخلاص، تسلیم اور خوف) کے ذکر کے بعد مسئلہ اخلاص چونکہ خصوصیت کے ساتھ شرک کے مختلف اسباب و عوامل کے مقابلے میں ایک خصوصیت رکھتا ہے، لہذا تاکید کے لیے اسے دوبارہ بیان کیا گیا ہے اور اسی لب و لہجہ میں فرمایا گیا ہے کہہ دے: میں تو خدا ہی کی عبادت کرتا ہوں اس حال میں کہ اپنے دین کو اس کے لیے خالص رکھتا ہوں۔ (وقل الله اعبد مخلصًاله دینی)۔(تشریحی نوٹ: ۔ الله "کا مقدم ہونا جو کہ "اعبد"کا مفعول ہے یہاں "حصر"کے لیے ہے۔ یعنی میں صرف اسی کی عبادت کرتا ہوں اس بنا پر "مخلصًا لہ دینی"جو کہ حال ہے، اس معنی ایک نئی تاکید ہے)۔ لیکن تم اس کے علاوہ جس کی چاہو پرستش کرتے رہو (فاعبدوا ما شئتم من دونه)- اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: کہہ دے !نقصان اٹھانے والوں کا راستہ ہے۔ کیونکہ حقیقی زیاں کار وہی تو ہیں جو اپنی عمر اور وجود کا سرمایہ یہان تک کہ اپنے وابستگان کو بھی قیامت کے دن ہاتھ سے گنوا بیٹھیں گے۔ ( قل أن الخاسرين الذين خسروا انفسهم واهليهم يوم القيامة)۔ نہ تو انھوں نے اپنے وجود سے ہی کچھ فائدہ اٹھایا ہے اور نہ ہی سرمایہ عمر سے کچھ حاصل کیا ہے، نہ ان کا خاندان اور اولاد ان کی نجات کا ذریعہ بنتے ہیں اور نہ ہی بارگاہ حق میں ان کی آبرو اور شفاعت کا سبب ہوۓ ہیں۔آگاہ رہو کہ واضح خسارہ یہی ہے (الا ذالك هو الخسران المبـــین) ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ آخری زیر بحث آیت میں ان کے ایک اور واضح خسارے اور نقصان کا ذکر اس انداز سے کیا گیا ہے: ان کے لیے ان سروں کے اوپر آگ کے سائبان ہیں اور ان کے پاؤں کے نیچے بھی آگ کے سائبان ہیں۔(لهم من فوقهم ظلل من النار ومن تحتهم ظلل)۔ اس طرح سے وہ ہر طرف سے آگ کے شعلوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ اس سے بالاتر اور کون ساخسران ہو گا اور اس سے بڑھ کر دردناک عذاب اور کیا ہو گا؟ "ظلل"جمع "ظله"(بروزن "قله") اس پردے کے معنی میں ہے جو اوپر کی طرف سے نصب ہو، اس بنا پر اس کا فرش پر اطلاق جو ان کے پاؤں کے نیچے بچھا ہوا ہے، ایک قسم کا مجازی اطلاق ہے اور اس لفظ کے مفہوم میں توسیع کے حوالے سے ہے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ چونکہ دوزخی جہنم کے کئی طبقات میں گرفتار ہوں گے اس لیے آگ کے پردے ان کے سروں کے اوپر بھی ہوں گے اور انکے پاؤں کے نیچے بھی۔ اس لیے لفظ "ظلل"کا اطلاق نچلے پردوں پر بھی مجاز نہیں ہے۔ سوره عنکبوت کی آیہ 55 اسی آیت کے مانند ہے۔ يوم يغشٰهم العذاب من فوقهم ومن تحت ارجلهم ويقول ذوقوا ما کنتم تعملون اس دن خدا کا عذاب انہیں سر کے اوپر سے بھی اور پاؤں کے نیچے سے بھی (ہر طرف) سے ڈھانپ لے گا اور ان سے کہے گا اس کا مزہ چکھو کہ جو تم کیا کرتے تھے۔ یہ درحقیقت ان کے دنیا کے حالات کا تجسم ہے کہ جہالت و کفر و ظلم نے ان کے تمام وجود کو گھیر رکھا تھا، اور ہر طرف سے انھیں ڈھانپ لیا تھا۔ اس کے بعد تاکید اور عبرت کے لیے مزید فرمایا گیا ہے: یہی تو وہ چیز ہے جس سے خدا اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ جب ایسا ہے تو اے میرے بندو! میری نافرمانی سے پرہیز کرو۔(ذالك يخوف الله به عباده یا عباد فاتقون)۔ اس آیت میں"عباد"(بندے) کی تعبیر اور اس کی خدا کی طرف اضافت اور وہ بھی تکرار کے ساتھ، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر خدا عذاب کی کوئی تہدید کرتا ہے تو وہ بھی اس کے لطف و رحمت کی بنا پر ہے تاکہ بندگان حق اس قسم کے برے انجام میں گرفتار ہوں۔ یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ اس آیت میں ہم"عباد"سے مراد خصومیت کے ساتھ مومنین لیں بلکہ یہ سب کے لیے ہے، کیونکہ کسی شخص کو بھی اپنے آپ کو عذاب الٰہی سے مامون نہیں سمجھنا چاہیے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1- چند اہم نکات: خسران وزیاں کی حقیقت
خسران ــــــــــــــــــــــــــــــــــ جیسا کہ "راغب"، "مفردات"میں کہتا ہے: ـــــــــــــــــــــــــــــ اصل میں سرمایہ ہاتھ سے دے بیٹھنا اور اس کا کم ہو جانا ہے۔ کبھی تو اس کی انسان کی طرف نسبت دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے زیاں کیا اور ا س نے نقصان اٹھایا اور کبھی عمل کی طرف نسبت دی جاتی ہے اور کہتے ہیں: اس کی تجارت میں نقصان ہوا ہے۔ دوسری طرف "خسران"بھی تو ظاہری سرمایوں کے بارے میں استعمال ہوتا ہے، جیسے مال اور دنیاوی مقام، اور معنوی سرمایوں کے بارے میں جیسے صحت و سلامتی، عقل و ایمان اور ثواب اور یہی وہ چیز ہے جس کا خدا نے "خسران مبین"نام رکھا ہے اور جس جس خسران کو خدا نے قرآن میں بیان کیا ہے وہ دوسرے ہی معنی کی طرف اشارہ ہے نہ کہ وہ جو دنیاوی سرمایوں اور عام تجارتوں سے مربوط ہے۔(بحوالہ: مفردات ، مادہ "خسر")۔ قرآن نے حقیقت میں انسانوں کو ان تجارت پیشہ افراد تشبیہ دی ہے جو بہت زیادہ سرمایے کے ساتھ اس جہان کے تجارت خانہ میں قدم رکھتے ہیں، بعض کو تو بہت زیادہ نفع ہوتا ہے اور بعض کو سخت نقصان۔ قرآن مجید میں بہت سی ایسی آیات ہیں جن میں تعبیر تشبیہ بیان ہوئی ہے اور درحقیقت اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں کہ قیامت میں نجات حاصل کرنے کے لیے اس کی اور اس کی کسی کی انتظار میں نہیں بیٹھنا چاہیے۔اس کا واحد راستہ موجود سرمایوں اور وسائل سے فائدہ اٹھانا ہے اور اس عظیم تجارت میں سعی و کوشش کرنا ہے کیونکہ وہاں تو "همه چیز رابه بها می دهند، به بهانه نمی دهنده"یعنی ہر چیز قیمت کے ساتھ دیتے ہیں بہانے سے نہیں دیتے۔ لیکن اس نے مشرکین اور گنہگاروں نے زیاں و نقصان کو "خسران مبین"کے ساتھ توصیف کیوں کی ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اولاً انھوں نے افضل ترین سرمایہ یعنی عمر، عقل و خرد و احسانات اور زندگانی کا سرمایہ ہاتھ سے گنوا دیا ہے جبکہ اس کے بدلے میں کوئی چیز حاصل نہیں کی۔ ثانیًا اگر انہوں نے صرف سرمایہ کی کھویا ہوتا اور کوئی عذاب و سزا نہ خریدی ہوتی تو پھر بھی کوئی بات تھی - بدبختی کی بات تو یہ کہ انھوں نے یہ عظیم سرمائے گنوا کر سخت ترین اور دردناک ترین عذاب اپنے لیے فراہم کر لیا ہے۔ ثالثًا یہ ایسا نقصان ہے جو قابل تلافی نہیں ہے اور یہ بات سب سے زیادہ بڑھ کر درد ناک ہے۔ ہاں! یہ ہے "خسران مبین"۔
2- "فاعبدوا ماشئتم "کا مفہوم
اس کا معنی ہے جس کی چاہو تم عبادت کرو۔ اصطلاح کے مطابق یہ ایک ایسا امر ہے جو تہدید کے لیے ہے اور یہ ایسے مقام پر کہا جاتا ہے جہاں مجرم اور گنہ گار شخص پر پند نصحیت اثر نہ کرتی ہو تو آخری بات جو اس سے کہی جاتی ہے یہ ہے کہ جو چاہو کرو لیکن سزا اور عذاب کے منتظر رہو۔ یعنی تم اسی منزل پر پہنچ گئے ہے کہ اب ذمہ داری سوپنے جانے اور پند و نصیت کے لائق نہیں رہے ہو اور دردناک عذاب کے سوا تمھارے لیے کوئی دوسرا انجام اور علاج نہیں ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
3- اهل سے مراد کون لوگ ہیں ؟
ان آیات میں بیان ہوا ہے کہ زیاں کار نہ صرف اپنی ہستی اور وجود کا سرمایا ہاتھ کھو بیٹھے ہیں بلکہ یہ تو اپنے "اہل"کے وجود کا سرمایہ بھی گنوا دیتے ہیں۔ بعض مفسرین نے تو یہ کہا ہے کہ یہاں "اہل"سے مرداد انسان کے پیروکار اور وہ لوگ ہیں جو اس کے مکتب اور پروگراموں پر چلتے ہیں۔ بعض نے اس کی بہشتی بیویوں کے مفہوم میں تفسیر کی ہے یعنی مشرکین اور مجرمین انھیں کھو بیٹھیں گے۔ بعض اس سے دنیا میں گھر والے اور نزدیکی مراد لیتے ہیں اور یہی آخری معنی اس لفظ کے اصلی مفهوم کی طرف توجہ کرتے ہوئے سب زیادہ مناسب نظر آتا ہے۔ کیونکہ بے ایمان افراد آخرت میں انھیں کھو بیٹھیں گے اگر وہ مومن ہوئے تو ان سے جدا ہو جائیں گے اور خود انھیں کی طرح سے کافر ہوئے تو پھر نہ صرف یہ کہ ان سے انھیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا بلکہ وہ زیادہ دردناک عذاب کا بھی سبب بنیں گے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر : خدا کے حقیقی بندے
Tafsīr Nemūna · Vol. 6قران نے پھر ان آیات میں موازنے کی روش سے فائدہ اٹھایا ہے اور ان متعصب اور ہٹ دھرم مشرکین کے مقابلے میں جن کی سرنوشت جہنم کی آگ کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ پروردگار کے خاص اور حقیقت کے متلاشی بندوں کے متعلق گفتگو شروع کی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:ان لوگوں کے لیے جنھوں نے "طاغوت"کی عبادت سے اجتناب کیا ہے اور خدا کی طرف بازگشت کی بشارت اور خوشخبری ہے ( والذين اجتنبوا الطاغوت ان يعبدوها وانابوا الى الله لهم البشرٰی)۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ "بشری"یہاں مطلق ہے لہذا ہر قسم کی خدائی نعمتوں پر مشتمل ہے چاہے وہ مادی ہوں یا معنوی، لیکن یہ عظیم بشارت ایسے لوگوں کے لیے مخصوص ہے جو طاغوت کی پرستش سے اجتناب کریں اور خدا کی طرف لوٹ آئیں۔ سارا ایمان و عمل اسی جملے میں جمع ہے ہے۔ کیونکہ "طاغوت"اصل میں"طغیان "کے مادہ سے حد سے تجاوز کرنے والے معنی میں ہے۔ اس لیے یہ لفظ ہر تجاوز کرنے والے اور خدا کے سوا ہر معبود، جیسے شیطان اور ظالم حکمران پر بولا جاتا ہے (یہ لفط واحد و جمع دونوں معانی میں استعمال ہوتا ہے)۔( تشریحی نوٹ: بعض مفسرین مثلاً زمحشری کا کشاف میں یہ نظریہ ہے کہ "طاغوت"اصل میں طغووت (بروزن "فعلوت") مثل "ملکوت تھاپھر وہ مقلوب ہو گی ا اور لام الفعل عین الفعل سے مقدم ہو گئی اور "طوغوت"ہو گی ا اور واؤ کے الف سے مل جانے کے بدل جانے کے بعد طاغوت ہو گی ا اور کئی لحاظ سے تاکید کے معنی دنیا ہے۔ صیغہ مبالغہ معنی منصداری اور قلب کی وجہ سے (تفسیر کشاف جلد 4 ص 120)۔ اس بنا پر "طاغوت"سے اجتناب"اس وسیع و عریض معنی کا حامل ہے یعنی ہر قسم کے شرک، بت پرستی، ہوس پرستی اور شيطان پرستی سے دوری نیز حکام جور اور ظلم کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرنے والوں کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور "آنابوا الى الله"تقوی پرہیزگاری اور ایمان کا جامع ہے۔ یقینًا اس کے افراد ہی بشارت کے اہل ہیں۔ یہ نکته بھی قابل توجہ ہے کہ طاغوت کی عبادت صرف رکوع و سجود کے معنی میں نہیں ہے بلکہ یہ ہر قسم کی اطاعت کے مفہوم ہے جیسا کہ ایک حدیث میں امام صادقؑ سے سے منقول ہے من اطاع جبارا فقد عبده جس شخص نے کسی ستم گر حکمران کی اطاعت کی اس نے اس کی عبادت کی۔(بحوالہ: مجمع البیان ، زیر بحث آیات کے ذیل میں جلد 7 ص 493)۔ پھران خاص بندوں کے تعارف کے لیے قرآن کہتا ہے: میرے خاص بندوں کو بشارت دے دے (فبشر عباد)۔ (تشریحی نوٹ: "عباد"اصل میں "عبادی"تھا۔ یا حزف ہو گئی اور زیر اس کا قائم مقام ہے)۔ وہ لوگ جو بات (غور سے) سنتے ہیں اور اس میں سے جو بات زیادہ اچھی ہوتی ہے، اس کی پیروی کرتے ہیں (الذين يستمعون القول فيتبعون أحسنه). وہ ایسے لوگ ہیں جن کی خدا نے ہدایت کی ہے اور وہ عقل و خرد رکھنے والے ہیں (اولئك الذين هداهم الله وأولئک هم اولوا الألباب)۔ یہ دو آیات جو اسلامی شعار کی صورت میں سامنے آئی ہیں مسلمانوں کی حریت فکر اور مختلف مسائل میں (اچھی سے اچھی بات کو) انتخاب کرنے کی خوب نشاندہی کرتی ہیں۔ پہلے فرمایا گیا ہے میرے بندوں کو بشارت دے دے اور اس کے بعد ان خاص بندوں کا اس صورت میں تعارف کروایا گیا ہے: وہ ہری کسی بات کو غور سے سنتے ہیں یہ دیکھے بغیر کہ کہنے والا کون ہے اور کیا نظریہ رکھتا ہے اور عقل و خرد کی قوت کے ساتھ ان میں سے بہترین کا انتخاب کر لیتے ہیں۔ وہ کسی قسم کا تعصب اور ہٹ دھرمی نہیں کرتے اور کسی قسم کی تنگ نظری ان کی فکر و نظر میں نہیں ہے۔ وہ حق کے متلاشی اور حقیقت کے پیاسے ہیں وہ جہاں کہیں بھی انھیں ملے، لپک کر اس کا استقبال کرتے ہیں اور اس کے صاف چشمے سے بغیر روک ٹوک کے پیتے ہیں اور سیراب ہوتے ہیں وہ نہ صرف حق کے طالب اور اچھی گفتگو کے پیاسے ہیں بلکہ "خوب"اور "خوب تر"میں سے اور "نیک"اور "نیک تر"میں سے دوسرے کا انتخاب کرتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ وہ بہترین اور برترین کے خواہاں ہیں۔ ہاں! یہی ہے نشانی ایک سچے مسلمان اور حق طلب مومن کی۔ "يستمعون القول"(بات کو سنتے ہیں) میں"قول"سے کیا مراد ہے۔ اس ضمن میں مفسرین نے گوناگوں تفسیریں کی ہیں۔ بعض نے اس سے قرآن مراد لیا ہے اور جو کچھ اس میں احکام اور مباحات کے سلسلہ میں بیان ہوا ہے وہ ان میں سے احکام کی پیروی کو احسن کی پیروی سمجھتے ہیں۔ بعض دوسروں نے اس کی مطلق اوامرِ الٰہی سے تفسیر کی ہے، چاہے وہ قرآن میں ہوں یا غیر قرآن میں۔ لیکن ان محدود تفسیروں کے لیے کسی قسم کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے، بلکہ آیت کا ظاہری مفهوم ہر قسم کے قول اور ہر بات پر محیط ہے۔ خدا کے با ایمان بندے تمام باتوں میں سے اس بات کو انتخاب کر لیتے ہیں جو "احسن"ہے اور ا س کی پیروی کرتے ہیں اور اپنے عمل میں اسی پر کار بند ہیں۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن نے مذکورہ بالا آیت میں صاحبان ہدایت الہی کو اسی گروہ میں منحصر کر دیا ہے، جیسا کہ عقل مندوں کو بھی انہیں منحصر قرار دیا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ گروہ ظاہری و باطنی ہدایت کا حامل ہے۔ ظاہری ہدایت عقل و خرد کے طریق سے اور باطنی ہدایت نور الٰہی اور امدادی غیبی کے راستے سے، اور یہ دونوں افتخار اس قسم کے حقیقت کے متلاشی حریت فکر کے حامل لوگوں کے لیے ہیں۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ چونکہ پیغمبر خداؐ گمراہوں اور مشرکین کو ہدایت کرنے سے بہت لگاؤ رکھے تھے اور ان لوگوں کے احراف سے انھیں بہت تکليف جو حقیقت کو سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔ لہذا بعد والی آیات میں اس حقیقت کو بیان کر کے ان کی دلجوئی کی گئی ہے کہ یہ عالم آزادی اور امتحان کا عالم ہے اور ایک گروہ آخرکار جہنم کی آگ میں جلے گا۔ ارشاد ہوتا ہے: کیا تو ایسے لوگوں کو جن کے لیے خدا کا فرمانِ عذاب قطعی اور حتمی ہو چکا ہے، نجات دلا سکتا ہے؟ کیا تو ایسے شخص کو جو آگ کے اندر ہے پکٹر کر باہر نکال سکتا ہے؟ (اَفَمَنۡ حَقَّ عَلَیۡہِ کَلِمَۃُ الۡعَذَابِ ؕ اَفَاَنۡتَ تُنۡقِذُ مَنۡ فِی النَّار)۔ "حق علیہ کلمۃ العذاب"( جس کے بارے میں عذابِ الہی کا فرمان متحقق اور ثابت ہو چکا ہے)۔ یہ جملہ ان آیات سے ملتا جلتا ہے جن میں شیطان اور اس کے پیروکاروں کے بارے میں یہ بیان ہوا ہے کہ: لَاَمۡلَـَٔنَّ جَھَنَّمَ مِنۡکَ وَ مِمَّنۡ تَبِعَکَ مِنۡہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ یقیناً میں جہنم کو تجھ سے اور تیرے پیروکاروں سے بھر دوں گا۔ (ص ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 85) یہ بات صاف طور پر ظاہر ہے کہ اس گروہ کے بارے میں فرمانِ عذاب کا قطعی ہونا اجباری پہلو نہیں رکھتا بلکہ یہ ان کے اعمال کی وجہ سے ہے جن کے وہ مرتکب ہوئے ہیں اور اس اصرار کی بنا پر جو ظلم و فساد اور گناہ پر رکھتے تھے ۔ اس طرح سے کہ ایمان و حق کی پہچان کی روح ہمیشہ کے لیے ان میں مر چکی تھی اور ان کا وجود جہنمی وجود کا ایک ٹکڑا بن چکا تھا۔ اور یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ "اَفَاَنۡتَ تُنۡقِذُ مَنۡ فِی النَّار"( کیا توں اس شخس کو نجات دے سکتا ہے جو آگ کے اندر ہے) یہ جملہ اس حقیقت کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ ان کا دوزخی ہونا اس قدر یقینی اور مسلم ہے کہ گویا وہ اب اس وقت جہنم کی آگ میں ہیں اور ہم جاتنے ہیں کہ اس قسم کے افراد جنھوں نے خدا سے اپنے تعلق کے تمام راستوں کو مسدوس کر دیا ہے، نجات کی کوئی راہ نہیں رکھتے۔ یہاں تک پیغمبر اسلامؐ بھی باوجودیکہ "رحمۃللعالمین"ہیں، انہیں عذاب سے نہیں چھڑوا سکتے۔ لیکن اپنے رسول کے دل کو خوش کرنے اور مومنین کو پرامید رکھنے کے لیے آخری آیت میں اللہ تعالی اس طرح فرماتا ہے: لیکن وہ لوگ جو خدا کا تقوی اختیار کرتے ہیں انکے لیے جنت میں بالاخانے ہیں جن کے اوپر پھر بالا خانے بنے ہوئے ہیں(لٰکِنِ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّہُمۡ لَہُمۡ غُرَفٌ مِّنۡ فَوۡقِھَا غُرَفٌ)۔ اگر دوزخی آگ کے پردوں کے اندر ٹھہرے ہوئے ہیں اور گزشتہ آیات کی تعبیر کے مطابق"لَہُمۡ مِّنۡ فَوۡقِہِمۡ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنۡ تَحۡتِہِمۡ ظُلَلٌ"تو بہشتیوں کے لیے ایسے بالا خانے ہیں جو دوسرے بالاخانوں کے اوپر ہیں اور ایسے قصر و محلات ہیں جو دوسرے محلات کے اوپر بنے ہوئے ہیں، کیونکہ پھولوں، پانی، نہروں اور باغوں کے منظر کو بالاخانہ کے اوپر سے دیکھنا لذت بخش اور زیادہ دلپذیر ہوتا ہے۔ "غرف"جمع ہے "غرفہ"کی "غرف"(بروزن "حرف") کے مادہ سے۔ ایسی چیز کو اوپر اٹھانے کے معنی میں ہے۔ اسی لیے اس پانی کو جو چلو کے ساتھ چشمے سے اٹھا کر پیتے ہیں "غرفه"کہتے ہیں۔ یہ لفظ بعد ازاں کسی عمارت کے اوپر والے حصے اور منازل کے بالائی طبقات کے معنی میں بولا جانے لگا۔ بہشت کے یہ حیسن خوبصورت بالاخانے، ان نہروں کے ساتھ ، جو ان کے نیچے بہہ رہی ہیں، سجائے گئے ہیں، اسی لیے آیت کے آخر میں ہے ان کے نیچے دوامی نہریں جاری ہیں (امبنية تجري من تحتها الأنهار)۔ ہاں یہ خدائی وعدہ ہے اور خدا اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا (وعد الله لا يخلف الله الميعاد)۔( زمخشری کشاف میں کہتے ہیں: "وعد الله"مفعول مطلق کے طور پرمنصوب تاکید ہے کیونکہ"لهم غرف"وعدهم الله غرفا"کے معنی میں ہے)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1- چند اہم نکات: اسلام اور حریت فکر
بہت سے مذاہب اپنے پیروکاروں کو دوسروں کی باتوں کے مطالعے اور تحقیق سے منع کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنی منطق کی کمزوری کی وجہ سے اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں پڑھنے والا دوسروں کی منطلق قبول نہ کر لے اور اس طرح ان پیر کار ان کے ہاتھ سے نکل جائیں۔ لیکن جیسا کہ زیر بحث آیات میں بیان ہوا ہے، اسلام نے اس بارے میں "کھلے دروازوں"کی تدبیر اپنائی ہے اور انہی لوگوں کو خدا کے سچے بندے قرار دیتا ہے جو اہل تحقیق ہیں، ایسے کہ جو نہ تو دوسروں کی باتوں کو سننے سے گھبراتے ہیں اور نہ ہی کسی قید و شرط کے بغیر سر تسیلم خم کرتے ہیں اور نہ ہی کسی وسوسے کو قبول کرتے ہیں۔ اسلام ایسے ہی لوگوں کو بشارت دیتا ہے جو باتوں کو غور سے سنتے ہیں اور ان میں سے جو بہت اچھی ہیں انھیں انتخاب کر لیتے ہیں، نہ صرف یہ کہ اچھی باتوں کو بری باتوں پر ترجیح دیتے ہیں بلکہ پھولوں میں سے بھی جو پھول بہتر ہوتا ہےاسے انتخاب کرتے ہیں۔ قرآن ان بے خبر جاہلوں کی شدید مذمت کرتا ہے جو پیام حق سنتے وقت کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں اور سر پر کپڑا ڈال لیتے ہیں جیسا حضرت نوحؑ کے ارشادات میں ایسے لوگوں کی بارگاہ پروردگار میں شکایت ان الفاظ میں کی گئی ہے: و اني كلما دعوتهم لتغفر لهم جعلوا اصابعهم في أذانهم و استغشوا ثيابهم واصروا واستكبروا استکبارًا خداوندا! جب بھی میں نے انھیں بلایا تاکہ تو انھیں بخش دے تو انھوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھوس لیں اور اپنے اوپر کپڑا ڈال لیا، اپنی گمراہی پراصرار کیا اور بہت تکبر کیا۔ (نوح ـــــــــــــ 7) اصولی طور پر وہ مکتب جو قوی منطق رکھتا ہے، اس کے لیے دوسروں کی باتوں سے گبھرانے کی کوئی وجہ نہیں ہے اور نہ ہی ان کی طرف سے مسائل کے پیش ہونے پر اسے خوف کھانے کی ضرورت ہے۔ ڈرنا تو انھیں چاہیے جو کمزوراور بے منطق ہیں۔ آیت ایسے لوگوں کو جو ہر بات کو بغیر کسی قید شرط کے قبول کر لیتے ہیں"اولوا الالباب"اور "ہدایت یافتہ افراد"شمار نہیں کرتی، ان کی مثال ان بھیڑوں کی سی ہے جوکسی سبزہ زار میں چرتے وقت کوئی تحقیق نہیں کرتی ۔آیت ان دو اوصاف ان کو ایسے لوگوں کے ساتھ مخصوص کرتی ہے جو تو بے قید و شرط تسلیم کے افراط میں گرفتار ہیں اور نہ ہی خشک اور جاہلانہ تعصبات کی تفریط میں۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
2- چند سوالوں کا جواب
1- ممکن ہے یہاں یہ سوال پیش کیا جائے کہ اسلام میں کتب ضلال کی خرید و فروش کیوں منع ہے؟ 2- قرآن کو کفار کے ہاتھوں میں دنیا کیوں حرام قرار دیا گیا ہے؟ 3- جو شخص کسی مطلب کو جانتا ہی نہیں وہ اس میں سے انتخاب کیسے کرے گا اور اچھے کو برے سے کسی طرح ادا کرے گا؟ کیا اس بات سے دور لازم نہیں آتا؟ پہلے سوال کا جواب واضح ہے، کیونکہ زیر بحث آیات میں ایسی باتوں کے متعلق بحث ہے جن میں ہدایت کی امید ہو، جب غور و فکر اور تحقیق کے بعد یہ ثابت ہو گیا ہو کہ فلاں کتاب گمراہ کرنے والی ہے تو پھر وہ اس حکم کے موضوع سے خارج ہو جائے گی۔ اسلام کبھی بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ لوگ ایسے راستے میں قدم رکھیں جس کا نا درست اور غلط ہونا ثابت ہوچکا ہے۔ البتہ جب تک یہ امر کسی پر ثابت نہ ہوا ہو اور وہ صحیح دین قبول کرنے لیے، مختلف مذاہب کے بارے میں تحقیق کر رہا ہو اس وقت تک ان تمام کتابوں کا مطالعہ اور تحقیق کر سکتا ہے لیکن مطلب ثابت ہو جانے کےبعد اس کو ایک زہریلے مادہ کی طرح ہر کسی کی دسترس سے باہر رکھنا چاہیے۔ باقی رہا دوسرے سوال کے بارے میں تو اس صورت میں قرآن غیر مسلم کے ہاتھ میں دینا جائز نہیں ہے جب کہ یہ اس کی ہتک اور بے حرمتی کا باعث ہو ورنہ، اگر ہمیں یہ معلوم ہو کہ غیر مسلم واقعًا اسلام کے بارے میں تحقیق کی فکر میں ہے اور وہ یہ چاہتا ہے کہ قرآن کا اس مقصد کے لیے مطالعہ کرتے تو نہ صرف یہ کہ قران اسے دینے میں کوئی حرج اور رکاوٹ نہیں ہے بلکہ شاید اسے دینا واجب ہو اور جنھوں نے اسے حرام قرار دیا ہے ان کی مراد اس صورت کے علاوہ دوسری صورت ہے۔ اسی لیے عظیم اسلامی معاشرے اس بات پر اصرار کر رہے ہیں کہ قران کا دنیا کی زندہ زبانوں میں ترجمہ ہونا چاہیے اور دعوت اسلامی کی نشر و اشاعت کے لیے اسے حق طلبی اور حقائق کے پیاسوں تک پہنچانا چاہیے۔ تیرے سوال کے سلسلے میں اس نکتے پر توجہ کرنا چاہیے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان ذاتی طور پر کسی کام سے عہدہ بر آ نہیں ہو سکتا۔ البتہ جب کوئی دوسرا اسے انجام دے لیتا ہے تو پھر وہ بھی اچھے اور برے میں تشخیص کر سکتا ہے اور عقل و خرد کی قوت اور وجدان کے سرماۓ سے ان میں سے بہترین کا انتخاب کر سکتا ہے۔ مثلًا ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہوں جو فن معماری اور تعمیر کے کام سے آگاہ نہ ہوں، یہاں تک کہ وہ انیٹیں بھی صحیح طریقے پر ایک دوسرے پر نہ رکھ سکیں لیکن اس کے باوجود وہ ایک اچھی عمارت کی اعلٰی کیفیت میں اور ایک قبیح بے ڈھنگی اور ناموزوں عمارت میں تمیز کر سکیں۔ بہت سے افراد کو ہم جانتے ہیں جو خود تو شاعر نہیں ہیں لیکن بزرگ شعراءکے اشعار کے وزن میں تمیز کر سکتے ہیں اور انھیں بے وقعت تکلفًا کہنے والے شعراءکے اشعار سے جدا سکتے ہیں، کچھ لوگ خود تو کشتی نہیں لڑتے لیکن کشتی لڑنے والوں کے درمیان فیصلہ اور ان میں سےاچھے کا انتخاب کر سکے۔
3- حریت فکر اور اسلامی روایات
احادیث اسلامی میں جو زیر بحث آیات کی تفسیر میں وارد ہوئی ہیں یا مستقل طور پر منقول ہوئی ہیں اس امر پر بہت زور دیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک حدیث امام موسٰی بن جعفرعلیهما السلام سے منقول ہے کہ آپؑ نے اپنے ایک دانش مند صحابی ہشام بن حکم سے فرمایا: - يا هشام أن الله تبارك وتعالى بشر اهل العقل والفهم في كتابه، فقال فبشر عباد الذین یستمعون القول فيتبعون أحسنه اے ہشام خداوند تعالی نے اہل عقل و فہم کو اپنی کتاب میں بشارت دی ہے اور فرمایا ہے: میرے ان بندوں کو بشارت دے دو جو باتوں کو (غور سے) سنتے ہیں اور ان میں سے بہترین کی پیروی کرتے ہیں۔ وہ ایسے لوگ ہیں جن کی خدا نے ہدایت کی ہے اور وہ صاحبان عقل و فکر ہیں۔(بحوالہ: 1 کافي ، جلد1 ، کتاب العقل ، حدیث 12)۔ ایک اور حدیث میں امام صادقؑ سے منقول ہے کہ آپؑ نے زیِر بحث آیت کی تفسیر کے ضمن میں فرمایا : هو الرجل يسمع الحديث فيحدث به کما سمعه، لايزيد فيه ولاینقص یہ آیت ایسے لوگوں کے بارے میں جوحدیث سنتے ہیں اور بے کم و کاست اور بغیر کمی و بیشی کے دوسروں کے لیے نقل کرتے ہیں۔(بحوالہ: نورالثقلين، جلد 4 ، ص 482 ، حدیث 34)۔ البتہ اس حدیث سے مراد"فيتبعون أحسنه"کی تفسیر ہے کیونکہ بہترین باتوں کی پیروی کرنے کی ایک نشانی یہ ہے کہ انسان اپنی طرف سے اس میں کوئی اضافہ نہ کرے اور بعنیہ دوسروں تک پہنچا دے۔ نہج البلاغہ میں امیر المومنین حضرت علیؑ کے کلمات قصار میں ہے کہ آپؑ نے فرمایا : الحكمة ضالة المؤمن فخذ الحكمة ولو من اهل النفاق حکمت آمیز باتیں مومن کی گم شدہ چیز ہے، پس وہ حکمت کو لے لے چاہے وہ منافق کے پاس سے ملے۔بحوالہ: نہج البلاغہ ، کلمات قصاء، کالمہ 80)۔
4- تطبیق با شان نزول
مفسرین نے کئی ایک شان نزول بیان کی ہیں۔ ان میں سے یہ بھی ہے کہ والذین اجتنبوا الطاغوت..... کی آیت اور اس کے بعد والی آیت تین افراد کے بارے میں وارد ہوئی ہے جو زمانہ جاہلیت میں (اس آلود ماحول میں مشرکین کے شور و غوغا کے سامنے نہیں جھکے اور) وہ کہتے تھے لا اله الا الله ـــــــ وہ سلمان فارسی . اور ابوذر غفاری اور زید بن عمر تھے۔(بحوالہ: تفسیر "قرطبی"و "مجمع البیان"زیر بحث آیات کے ذیل میں)۔ بعض روایات میں زید بن عمرو کی جگہ سعید بن زید آیا ہے۔ (بحوالہ: در المنثور"طبق نقل تفسیر المیزان جلد 17 صفحہ )۔267 بعض نے بھی کیا ہے کہ آیہ افمن حق عليه كلمة العذاب ... . . ابوجہل وغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔(بحوالہ: اس قول کو "روح المعانی"نے بعض سے نقل کیا ہے)۔ لیکن بعید نہیں ہے کہ یہ اصطلاحی شان نزول میں سے نہ ہو بلکہ آیت کے واضح مصادیق پر تطبیق کی گئی ہو۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: وہ لوگ جو نور کے مرکب پر سوار ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 6قران ان آیات میں دوبارہ توحید و معاد کے دلائل پیش کرتا ہے اور ان مباحت کی تکمیل کرتا ہے جو گزشتہ آیات ہیں کفر و ایمان سلسلے میں بیان ہوئے۔ نظام جہان ہستی میں پروردگار کی عظمت و ربوبیت کے آثار میں سے، آسمان سے نزول بارش کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پھر اس بے رنگ پانی سے ہزاروں رنگ کے نباتات کی پرورش اور حیات کے مراحل کو طے کرنے اور آخری مرحلے تک پہنچنے کی تفصیل بیان کرتا ہے۔ روئے سخن پیغمبر اکرمؐ کی طرف کرتے ہوئے تمام مومنین کے لیے ایک نمونے کے طور پر فرماتا ہے: کیا تو نے دیکھا نہیں کہ خدا نے آسمان سے پانی نازل کیا اسے چشموں کی صورت میں زمین میں داخل کیا۔ (الم تر ان الله انزل من السماءماءفسلکه ينابيع في الارض )۔( بحوالہ: "يناببع"ترکیب نحوی کے لحاظ سے "منصوب بنزع خافض "ہے اور اصل میں "في ينابيع"تھا۔ (تفسیر روح المعانی و روح البیان)۔ بارش کے حیات بخش قطرے آسمان سے برستے ہیں۔ زمین کی نفوذ پذیر تہہ انھیں زمین کے اندر قبول کر لیتی ہے اور جب وہ نفوذ نا پذیر تہہ تک پہنچ جاتے ہیں تو وہاں رک جاتے ہیں اور زمین انھیں ذخیرہ کر لیتی ہے اور اس کے بعد چشموں، نالوں اور کنوؤں کی صورت باہر بھیجتی ہے۔ "سلکه"(بارش کے پانی کو زمین کے اندر داخل کیا) اسی امر کی طرف اشارہ ہے جو ہم نے سطور بالا میں بیان کیا ہے۔ "ينابيع"، "ينبوع"کی جمع ہے اور "نبع"کے مادہ سے ہے کہ جو زمین سے پانی کے جوش مارنے کے معنی نہیں ہے۔ اگر زمین میں ایک ہی نفوذ ناپذیر نہ ہوتی تو بارش کے پانی کے ایک بھی قطرے کو اپنی اندر ذخیرہ نہ کر سکتی اور آسمان سے بارش برسنے کے بعد سارا پانی دریاؤں میں جا پڑتا اور اس صورت میں نہ تو کوئی چشمہ ہوتا نہ نہریں اور نہ نالے ہوتے اور نہ ہی کنویں ہوتے اور اگر اس میں ایک نفوز پذیر تہہ ہی ہوتی تو سارا پانی زمین کی گہرائیوں میں چلا جاتا اس طرح سے اس تک دسترس ممکن نہ ہوتی۔بعض اوقات ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ زمین کی ان دوتہوں نفوذ پذیر اور نفوذ ناپذیرــــــــــــــــــــــــ کئی طبقات اوپر تلے ہوتے ہیں جن سے اونچی سطح پر، نیم گہرے اور گہرے کنویں کھودنے میں استفادہ کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: پھر خدا اس کے ذریعے نباتات کو نکالتا ہے جوخلقت رنگ کے ہوتے ہیں (ثم يخرج به زرعًا مختلفًا الوانه)۔ ان کی انواع کبھی مختلف ہیں۔ جیسے گندم، جو، چاول اور مکی اور ان کی کیفیتیں بھی مختلف ہیں اور ان کا ظاہری رنگ بھی۔ بعض کے گہرے سبز رنگ کے، بعض کے ہلکے سبرنگ کے، نیم کے پتے چوڑے اور پھیلے ہوئے ہوتے ہیں اور بعض کے باریک اور پتلے وغیرہ وغیرہ۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ "ذرع"ایسے پودے کو کہا جاتا ہے جس کا تنا قوی نہ ہو اس کے مقابلے میں لفظ "شجر"ہے۔ جو زیادہ تر اس درخت کو کہا جاتا ہے جس کا ساتھ میں ہو۔ "زرع "ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے جو غیر غذائی نباتات کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ طرح طرح کے پھول، سجاوٹ کی گھاس اور دوائیوں کی جڑی بوٹیاں وغیرہ جو بہت متنوع اور گوناگوں رنگوں اور صورتوں والی ہوتی ہیں بعض اوقات تو ایک ہی شاخ پر بلکہ ایک بی پھول میں مختلف کا بہت ہی عمدہ اور خوبصورت پہلو بہ پہلو دکھائی دیتے ہیں اور زبان بے زبانی سے خدا کی توحید اور تسبیح کا نغمہ سنا رہے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد ان نباتات کی حیات کے کچھ اور مراحل پیش کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: اس کے بعد یہ زراعت ختم ہو جاتی ہے اسی طرح سے کہ تو اسے زرد اور بے روح دیکھتا ہے۔ (ثم يهيج فتراه مصفرًا)۔(تشریحی نوٹ: "یھیج"، "ھیجان"کے مادہ سے ہے۔ لغت میں یہ لفظ دو معنی میں آیاہے۔ ایک پودے کا خشک اور زرد ہونا اور دوسرا حرکت میں آنا اورجوش و خروش دیکھاتا۔ ممکن ہے کہ یہ دوتوں معانی ایک ہی بنیاد کی طرف لوئیں، کیونکہ جس وقت پودا خشک ہو جائے تو گویا پھر بکھر جانے اور حرکت و ہیجان کے لیےآماده و تیار ہو جاتاہے)۔ تیز ہوا برطرف سے چلتی ہے اور اور جو پودا کمزور ہو چکا ہوتا ہے اسے اس کی جگہ سے اکھاڑ دیتی ہے۔ پھر خدا سے درہم برہم کرکے ریزہ ریزہ کر دیتا ہے (ثم يجعله حطامًا )- "ہاں! اس واقعے میں صاحبان فکر و نظر کے لیے نصحیت اور یاد آوری ہے"(ان في ذالك لذکرٰى الأولي الألباب)۔ اس عظیم منظر ميں پروردگارکی ربوبیت اور عالم ہستی کے باعظمت اور جچے تلے نظام کے سلسلے میں ایک امر توجہ طلب اور تذکر ہے اور زندگی کے ختم ہونے کے بارے میں بھی ایک تذکر ہے اور اس کے بعد قیامت اور مردوں کے نئے سرے سے زندہ ہونے کے سلسلہ بھی یادآوری ہے۔ یہاں اگرچہ نباتات کا منظر پیش کیا گیا ہے، لیکن یہ انسانوں کو خبردار کرتا ہے کہ اسی طرح سے تمھاری حیات میں بھی تکرار ہو گا، ممکن ہے کہ اس کی مدت مختلف ہو لیکن اس کا اصول ایک ہی ہے تو هے۔ تولد و پیدائش، نشاط و جوانی اور پھر پژمردگی اور بڑھاپا اور آخر موت۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ توحید و معاد کے اس درس کے بعد مومن و کافر کے درمیان ایک موازنہ پیش کیا گیا ہے، تاکہ اس حقیقت کو واضح کیا جائے کہ قران اور وحی آسمانی بھی بارش کے قطروں کی طرح ہے جو دلوں کی سرزمین پر نازل ہوتی ہے جس طرح صرف آماده اور اہل زمین ہی بارش کے حیات بخش قطرات سے فائدہ اٹھاتی ہے اسی طرح سے آیات الہی سے بھی صرف وہی دل بہرہ مند ہوتے ہیں جو اس کے سایہ لطف میں خود سازی کے لیے آمادہ و تیار ہوتے ہیں، فرمایاگیا ہے: کیا وہ شخص جس کے سینے کو خدا نے اسلام قبول کرنے کے لیے کشادہ کر دیا ہے اور وہ نور الٰہی کے مرکب پر سوار ہے، ان بے نور سنگدلوں کی طرح ہے جن کے دلوں میں خدا کی ہدایت نہیں پہنچی۔ (افمن شرح الله صدرہ للاسلام فهوعلی نور من ربه)۔(تشریحی نوٹ: اس آیت میں ایک محذوف ہے جو بعد والے جملے کے قرینے سے واضح ہو جاتا ہے اور تقدیرمیں اس طرح ہے: - افمن شرح الله صدره للاسلام فهو على نور من ربه کمن هو قاسي القلب لا يهتدی بنور)۔ اس کے بعد مزید فرمایاگیا ہے، وائے ہے ان پر جو سخت اور نفوذ ناپذیر دل رکھتے ہیں اور ان میں ذکر خدا کچھ بھی اثر نہیں کرتا۔ (فویل للقاسية قلوبهم من ذكر الله)۔ نہ سودمند نصیحتیں ان پر اثر کرتی ہیں، نہ انزار و بشارت، نہ قران کی ہالا دینے والی آیات انھیں حرکت میں لاتی ہیں اور نہ وحی کی حیات بخش بارش ان میں تقوٰی و فضیلت کے پھول اگاتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ: نہ طراوتی نہ برگی نہ گلی نہ سایہ دارند نہ ان میں کچھ طراوت ہے، نہ ان پر کوئی پتہ ہے نہ ہی پھول اور نہ سایہ ہے۔ ہاں! یہ لوگ ضلال مبین اور واضح گمراہی میں ہیں (اولئك في ضلال مبين)۔ "قاسية"، "قسوة"کے مادہ سے خشونت، سختی اور نفوذ ناپزیری کے معنی میں ہے۔ اسی لیے سخت پتھروں کو "قاسی"کہتے ہیں، ان دلوں کو "قلوب قاسیہ"(سخت دل) کہا جاتا ہے کہ جو نور حق و ہدایت کے لیے کوئی رغبت اور جھکاؤ نہیں رکھتے، نرم اور رام نہیں بوتے اور نور ہدایت ان میں نفوذ نہیں کرتا، فارسی میں اسے سنگدل سے تعبیر کرتے ہیں۔ بہرحال، یہ تعبیر شرح صدر، سینے کی کشادگی اور وسعت روح کے مقابلے میں آئی ہے، کیونکہ کشادگی قبولیت کے لیے آمادگی کے لیے کنایه ہے۔ ایک بیابان اور وسیع گھر بہت سے انسانوں کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہوتا ہے اور فراخ سینہ اور کشادہ روح زیادہ سے زیادہ حقائق کو قبول کرنے کے اہل ہوتی ہے۔ ایک روایت پیغمبر اسلامؐ سے منقول ہے، ابن مسعود کہتے ہیں میں نے بھی پیغمبر اسلامؐ سے اس آیہ کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا "افمن شرح الله صدرہ للاسلام فهو على نور من ربہ"انسان کا شرح صدر کیسے ہوتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: اذا دخل النور في القلب انشرح و انفتح جس وقت نور انسان کے دل میں داخل ہو جاتا ہے اور وہ وسیع و کشادہ ہو جاتا ہے۔ میں نے عرض کیا : اے خدا کے رسولؐ! اس کی نشانی کیا ہے؟ فرمایا: الانابة الى دار الخلود، والتجافي عن دار الغرور، والاستعداد للموت قبل نزوله اس کی نشانی ہمیشہ کے گھر کی طرف توجہ، غرور کے گھر سے علیحدگی اور موت کے استقبال کے لیے۔ اس کے نزول سے پہلے آمادہ ہونا ہے۔ ۔ تفسیر علی بن ابراہیم میں بیان ہوا ہے کہ "افمن شرح صدرہ للسلام "کا جملہ امیرالمومنین علیؑ کے بارے میں نازل ہوا ہے اور بعض تفاسیر میں آیا ہے کہ "فويل للقاسية قلوبهم"کا جملہ ابولہب اور اس کے بیٹوں کے متعلق ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ یہ شان نزول حقیقت میں مفہوم کلی کے واضح مصادق کے مانند ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ"فهو على نور من ربه "میں نور اور روشنی کا ذکر کی سواری کے طور پر ہے کہ جس پر مومنین سوار ہوں گے۔ اس کی سرعت رفتار عجیب اس کا راستہ واضح اور اس کے دوڑنے کی طاقت تمام جہان پر محیط ہو گئی۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
شرح صدر اور قساوت قلب کے عوامل
قبولیتِ حق، ادراکِ مطالب اور خود جوشی کے اعتبار سے سب انسان یکساں نہیں ہیں۔ بعض ایک لطیف اشارے یا ایک مختصر سی گفتگو سے حقیقت کو اچھی طرح سے سمجھ لیتے ہیں، ایک تذکرہ انہیں بیدار کر دیتا ہے اور ایک ہی نصیحت ان کی روح امیں ایک طوفان برپا کر دیتی ہے۔جبکہ بعض افراد ایسے ہوتے ہیں کہ شدید ترین خطاب اور واضح ترین پند و نصائح بھی ان پر معمولی سا اثر نہیں ڈالتے اور یہ مسئلہ سادہ نہیں ہے۔ قرآن اس سلسلے میں کیسی عمدہ تعبیر بیان کرنا ہے کہ بعض شرح صدر اور وسعت روح کا حامل اور بعض کو تنگ سینے والا قرار دیتا ہے۔ جیسا کہ سورہ انعام کی آیہ 125 میں ہے۔ فَمَن يُرِدِ اللَّهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ ۖ وَمَن يُرِدْ أَن يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاءِ جس شخص کو خدا ہدایت کرنا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کشادہ کر دیتا ہے اور جسے گمراہ کرنا چاہتا ہے اس کے سینے کو اس طرح تنگ کر دیتا ہے جیسے وہ آسمان کی طرف چڑھ جائے گا۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ افراد کے حالات کے مطالعے سے کامل طور پر واضح ہو جاتاہے۔ بعض کی روح تو اس طرح سے وسیع اور کشادہ ہوتی ہے کہ جس قدر حقائق اس میں داخل ہوں وہ آسانی کے ساتھ انہیں قبول کر لیتی ہے لیکن بعض کی روح اور فکر اس طرح سے محدود ہوتی ہے گویا کوئی جگہ کسی حقیقت کے لیے اس میں نہیں ہے۔ جیسے ان کا دماغ ایک محفوظ جگہ میں آہنی دیواروں کے اندر بند ہے۔ البتہ ان دونوں میں ہر ایک کے کچھ عوامل و اسباب ہیں۔ ارباب دانش اور صالح علماءکے ساتھ دائمی ربط و تعلق مسلسل و پے در پے مطالعات، خود سازی اور تہذیب نفس گنا سے پر ہیز خصوصاً حرام غذا سے اور خدا کو یاد کرنا شرح صدر کے عوامل و اسباب میں سے ہے۔ اس کے برعکس جہالت، گناہ ہٹ دھرمی، جنگ دجدال ، برے لوگوں یعنی فاسقوں، فاجروں اور مجرموں کی صحبت، دنیا پرستی و ہوس پرستی ، تنگیِ روح اور قساوتِ قلب کا باعث بنتی ہے۔ یہ جو قرآن کہتا ہے کہ جدا جس شخص کو ہدایت کرنا چاہتا ہے اس کا شرح صدر کرتا ہے یا جسے خدا چاہتا ہے کہ گمراہ کرے تو اس کے سینے کو تنگ کر دیتا ہے۔ یہ "چاہنا اور نہ چاہنا"بلا وجہ نہیں ہوتا۔ اس کا سرچشمہ خود ہماری ہی ذات ہوتی ہے۔ ایک حدیث میں امام صادقؑ سے منقول ہے: اَوحَی اللهُ عَزّوَجَلّ اِلی موسی(ع): یا موسی! لاتَفرحْ بِكَثرَةِ المالِ وَ لا تَدَعْ ذِكریِ عَلی كُلِّ حالٍ فَاِنَّ كَثَرةَ المالِ تُنسیِ الذُّنوبَ، وَ اِنَّ تَرْكَ ذِكری یُقسی القُلوبَ. خدا نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ اے موسیٰ مال کی کثرت پر خوش نہ ہونا اور میری یاد کو کسی حالت میں ترک نہ کرنا کیونکہ مال کی زیادتی اکثر گناہوں کی فراموشی کا سبب بن جاتی ہے۔ اور میری یاد کو ترک کر دینا دل کو سخت کر دیتا ہے۔( بحوالہ: بحارالانوار، جلد70ص55( حدیث 23-24) ایک دوسری حدیث امیر المومنینؑ سے منقول ہے: ما جفت الدموع إلا لقسوة القلوب، وما قست القلوب إلا لكثرة الذنوب آنسو خشک نہیں ہوتے مگر دلوں کے سخت ہو جانے اور دل سخت نہیں ہوتے مگر گناہوں کی زیادتی سے( بحوالہ: بحارالانوار، جلد70ص55( حدیث 23-24) ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ حضرت موسیٰ کو پروردگار کا ایک پیغام یہ تھا: یا موسی، لاتُطَوِّلْ فی الدُّنْیا أملَک فَیقْسُوَ قَلْبُک، والقاسِی القلبِ منّی بَعِیدٌ۔ اے موسیٰ: دنیا میں اپنی آرزوؤں کو لمبا نہ کر، کیونکہ اس سے تیرا دل سخت اور انعطاف ناپذیر ہو جائےگا اور سنگ دل مجھ سے دور ہوتے ہیں۔( بحوالہ: کافی جلد دوم، باب "القسوۃ"حدیث 1)۔ ایک اور حدیث میں امیر المؤمنین علی ؑ سے اس طرح منقول ہے: لمتان، لمۃ من الشیطان و لمۃ من الملک، فلمۃ الملک الرقہ و الفھم، و لمۃ الشیطان السھو و القسوۃ القاءدوم قسم کے ہوتے ہیں: ایک القائے شیطانی اور دوسرا القائے ملک( فرشتہ ) فرشے کا القاءدل کی نرمی اور فہم و ذکاءمیں اضافے کا باعث بنتا ہے اور شیطانی القاءسہو و نسیان اور قساوتِ قلب کا باعث ہوتا ہے۔( بحوالہ: کافی جلد دوم، باب "القسوۃ"حدیث 3)۔ بہرحال، شرحصدر حاصل کرنے اور قساوتِ قلبی سے رہائی پانے کے لیے بارگاہِ خداوندی کی طرف رخ کرنا چاہیے جاکہ وہ نورِالہی جس کا خدا نے وعدہ کیا ہے، انسان کے دل روشن ہو۔ دل کے آئننے کو گنا کے زنگ سے صاف و صیقل کرنا چاہیے اور دل کے گھر کو ہوا و ہوس کی غلاظت سے پاک رکھنا چاہیے جاکہ وہ محبوب کی پذیرائی کے لیے آمادہ ہو۔ خوفِ خدا سے آنسو بہانا اور اس سے بے مثاک محبوب کے عشق میں گریہ و بکا کرنا، رقت قلبی، نرم دلی روح کی وسعت کے لیے عجیب و غریب اثر رکھتا ہے اور آنکھ کا جمود اور خشک ہونا سنگدلی کی نشانی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 6شان نزول بعض مفسرین نے عبدالله بن مسعود سے نقل کیا ہے کہ ایک دن پیغمبر اکرمؐ کے اصحاب کی ایک جماعت نے جو ملالتِ قلبی پیدا کر چکی تھی۔ عرض کیا : اے رسول خداؐ! کیا ہی اچھا ہوتا کہ آپ کوئی ایسی ہدایت کی بات ہمارے لیے بیان کرتے جس سے ہمارے دلوں سے ملالت و رنجیدگی کا زنگ اتر جاتا؟اس موقع پر ان آیات میں سے پہلی آیت نازل ہوئی اور اس میں قرآن کا "احسن الحدیث کے عنوان سے تعارف کروایا گیا۔(بحوالہ: یہ شان نزول کچھ مختلف الفاظ میں تفسیر کشاف (جلد 4 ص 123 و تفسیر قرطبی ، تفسیر الوسی اور تفسیر ابوالفتح رازی وغیرہ میں زیِر بحث آیات کے ذیل میں بیان ہوئی ہے)۔
تفسیر: بہترین سخن کا انتخاب
گزشتہ آیات میں ان بندگان خدا کے بارے میں گفتگو تھی جو تمام باتیں سنتے ہیں اور ان میں سے بہترین کا انتخاب کرتے ہیں اور ایسے کشادہ سنیوں اور شرح صدر کے بارے میں گفتگو ہوئی تھی جو کلام حق قبول کرنے پر آمادہ ہیں۔ اب زیر بحث آیات میں اسی مناسبت سے قرآن کے بارے میں گفتگو ہو رہی ہے تاکہ گزشتہ مباحث کی تکمیل کرتے ہوئے و توحید و معاد کے حلقوں کے ساتھ نبوت کے دلائل کے حلقے کا بھی اضافہ ہو جائے۔ ارشاد ہوتا ہے: خدا نے بہترین حدیث اور بہت اچھی گفتگو بھیجی ہے (الله نزل احسن الحديث )۔ اس کے بعد قرآن کے تین امتیازات بیان کرتے ہوئے اس آسمانی کتاب کی یوں توصیف کی گئی ہے: یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیات ہم آہنگ اور ہم صدا ہیں اور لطافت و زیبائی اور بیان کی گہرائی کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔ (کتابًا متشابهًا)۔ "متشابها"سے یہاں ایسا کلام مراد ہے جس کے مختلف حصے ایک دوسرے کے ساتھ ہم رنگ ہم آہنگ ہیں، ان کے درمیان کسی قسم کا تضاد اور اختلاف نہیں ہے ایسا نہیں کہ اس کی آیتیں کچھ اچھی اور کچھ بری ہوں، بلکہ ایک سے ایک بہترہے۔ یہ انسانی باتوں کی طرح نہیں ہے کہ جن میں جس قدر بھی غور کیا جائے اور جوں جوں وہ وسیع ہوتی جاتی ہیں ان میں خواہ نہ خواہ اختلافات، تناقضات اور تضادات پیدا ہو جاتے ہیں۔بعض تو خوبصورتی، زیبائی اور عمدگی کی بلندیوں پر ہوتے ہیں اور بعض بلکل عام اور معمولی سی ۔معروف بزرگ مصنفین و مؤلفین کے آثار خواہ وہ نظم کی صورت میں ہوں یا نثر کی صورت میں، ان کا مطالعہ اس امر پر گواہ ہے۔ لیکن کلامِ خدا، قرآن مجید ایسا نہیں ہے، انتہائی نظم و ترتیب، مفاہیم میں ہم بستگی اور ایسی بے نظیر فصاحت و بلاغت جو اس کی تمام آیات میں جھلک رہی ہے، اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ یہ انسانوں کا کلام نہیں ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے کہ اس کتاب کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ ( اس کے بیانات)"مکرر"ہیں (مثانی)۔ ممکن ہے یہ تعبیر مختلف داستانوں، سرگزشتوں، پند و نصائح کو بار بار دہرانے کی طرف اشارہ ہو لیکن یہ ایسا تکرار ہے کہ جس سے ہرگز کوئی بدمزگی اور ملال پیدا نہیں ہوتا۔ بلکہ اس سے اور شوق پیدا ہوتا ہے اور خوشی محسوس ہوتی ہے اور یہ بات فصاحت کے اہم اصولوں میں سے ایک ہے کہ انسان ضرورت کے وقت گہری اور عمیق تاثیر پیدا کرنے کے لیے تکرار کرے لیکن ہر مو قع پر ایک تازہ شکل اور ایک نئی صورت میں جس سے کوئی ملال اور بد مزگی پیدا نہ ہو۔ علاوہ ازیں، قرآن کے مکرر مطالب ایک دوسرے کے مفسر ہیں اور بہت سے سوالات اس طریقے سے حل ہو جاتے ہیں۔ بعض نے اسے قرآن کی بار بار تلاوت اور بار بار تلاوت کرنے سے اس کا اثر نہ ہونے کی طرف اشارہ سمجھا ہے۔ بعض دیگر نے اسے قرآن کے مکرر نازل ہونے کی طرف اشارہ سمجھا ہے، ایک مرتبہ تو شبِ قدر میں پیغمبر پر اکٹھا اور مجموعی صورت میں نازل ہوا اور دوسری مرتبہ پھر تدریجی صورت میں 23 سا کے عرصے میں نازل ہوا۔ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ اس سے مراد ہر زمانے میں قرآن کی حقیقت کی تکرار ہو، یعنی سال اور مہینے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں پنہاں مطالب ایک نئی تجلی کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں۔ ان تفاسیر میں پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے اگرچہ ان کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے اور ان سب کا جمع ہونا بھی ممکن ہے۔ اس توصیف کے بعد، اس بحث میں قرآن کی ایک اور خصوصیت یعنی انتہائی گہری کا ذکر یوں کیا ہے: اس قرآن کی آیات سن کر پروردگار کے آگے خشوع کرنے والوں کے جسم لرز اٹھتے ہیں ( اور ان کے رونگٹے کٹھرے ہو جاتے ہیں) اس کے بعد ان کا بدن اور ان کا دل، ان کا اند اور ان کا باہر خدا کا ذکر قبول کرنے کے لیے آمادہ ہو جاتا ہے۔ اور سکون و اطمنان پا لیتا ہے۔(تقشعر منہ جلود الذین یخشون ربھم ثم تلین جلودھم و قلوبھم الی ذکر اللہ) اہل دلوں پر آیاتِ قرآنی کی عجیب و غریب تاثیر کی کتنی عمدہ تصویر کشی کی گئی ہے۔ پہلے اس میں خوف اور ڈر پیدا کرتی ہیں، ایسا خوف جو بیداری اور حرکت کے آغاز کا سبب بنے اور ایسا ڈر جو انسان کو اسکی مختلف ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرے۔ اس کے بعد کے مرحلے میں اسے نرمی کی حالت اور حق بات قبول کرنے کی استعداد عطا فرما دیتا ہے اور اس کے بعد اسے سکوں و آرام حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ دونوں حالتیں جو "سلوک الی اللہ"کی منزلوں اور مختلف مرحلوں کی نشاندہی کرتی ہیں، پورے طور پر قابل ادراک ہیں،آیاتِ غضب اور پیغمبر کا مقام انزار دلوں کو لرزا دیتا ہے اس کے بعد رحمت والی آیتیں انھیں سکون بخشتی ہیں۔ حق تعالی کی ذات کے بارے میں غور و فکر اور اس ذات پاک کی ابدیت و ازلیت اور لامتناہی ہونے کا مسئلہ انسان کو وحشت زدہ کر دیتا ہے کہ اسے کس طرح پہچانا جا سکتا ہے لیکن انفس و آفاق میں اس ذات پاک کے آثار و شواہد کا مطالعہ اسے سکون و آرام بخشتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: "تقشعر"، "قشعريره"کے مادہ سے بے جس کے لیے ارباب لغت اور مفسرین نے مختلف معانی بیان کیے ہیں۔ یہ معانی ایک دوسرے سے کچھ زیاده مختلف نہیں ہیں۔ بعض نے اسے بدن کی جلد کے جمع ہو جانے کے معنی میں (وہ حالت جو انسان کو خوف کے وقت عارض ہو جاتی ہے )۔ بعض اسے اس لرزش کے معنی میں سمجھا ہے۔ جو ایسے موقعوں پر جسم میں پیدا ہو تی ہے اور بعض اسے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جانے کے معنی میں سمجھتے ہیں اور حقیقت میں یہ سب کے سب معانی ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم . (مفردات راغب، لسان العرب ، تفسیر کشاف ، تفسیر روح المعانی اور قرطبی کی طرف رجوع کریں)۔ تاریخ اسلام مومنین کے دلوں پر بلکہ غیر مومن افراد کے دلوں پر بھی کہ جن کے دل اہل تھے قران کی عجیب و غریب تاثیر کی نشانیوں سے بھری پڑی ہے، اور تاثیر اور انتہائی زیادہ کشش اس بات کی واضح و روشن دلیل ہے کہ کتاب وحی کی صورت میں نازل ہوئی ہے۔ ایک حدیث میں حضرت اسماءسے منقول ہے، وہ فرماتی ہیں: كان اصحاب النبي حق اذا قرءعليهم القران كما نعتهم الله ــ تدمع اعينهم و تقشعر جلودهم اصحابِ پیغمبر کے سامنے جس وقت قرآن کی تلاوت ہوتی تھی ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ جیسا کہ قرآن نے ان کی تعریف و توصیف کی ہے ـــــــــــــــــــــــــــــــ ان کی آنکھیں اشکبار ہو جاتی تھیں اور وہ لرزہ براندام ہو جاتے تھے۔(بحوالہ: 2 تفسیر قرطبی جلد 8 ص 5693)۔ (تشریحی نوٹ:آیات قرآن کی انتهای تاثیر کے سلسلےمیں متعدد روایات ہم تفسیر نمونہ کی تیسری جلد میں بیان کر چکے ہیں)۔ امیرالمومنین علیؑ نے پرہیزگاروں کے بارے میں یہ حقیقت اعلٰی ترین طریقے سے بیان فروائی ہے۔ آپ فرماتے ہیں :۔ اما الليل فصافون اقدامهم تالين لاجزاءالقرأن يرتلونها ترتیلا یحزنون به انفسهم و يستثيرون به دواءدائهم ، فاذا مروا باية فيها تشویق رکنوا اليها طمعًا وتطلعت نفوسهم اليها شوقًا، وظنوا انها نصب اعينهم، واذا مروا باية فيها تخویف اصغوا اليها مسامع قلوبهم وظنوا ان زفير جهنم و شهيقها في اصول أذانهم وہ رات کو صف بستہ ہوتے ہیں، ٹھہر ٹھہر کر غور و فکر کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور اپنی روح کو اس کے ساتھ دل پذیر غم مستغرق کر لیتے ہیں اور اپنے درد کی دوا اس سے طلب کرتے ہیں جس وقت ایسی آیت سامنے آتی ہے ہیں جس میں تشویق ہو تو ا س کے ساتھ دل بستگی پیدا کرتے ہیں، ان کی روح کی آنکھیں کمال شوق سے چمک اٹھتی ہیں اور وہ اسے اپنا نصب العین بنالیتے ہیں اور وقت وہ کسی ایسی آیت پر پہنچتے ہیں جس میں انداز و تخویف ہوتی ہے تو اسے دل کے کانوں کے ساتھ سنتے ہیں، گویا نالہ وفریاد کی صدائیں اور جہنم کے مہیب شعلوں کے ایک دوسرے سے ٹکرانے کی آوازیں ان کے کانوں میں گونج رہی ہوں ۔ یہ اوصاف بیان کرنے کے بعد آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: "اس کتاب میں خدا کی ہدایت ہے وہ جسے چاہتا ہے اس کے ساتھ ہدایت کرتا ہے (ذالك هدي الله يهدی به من يشاء). یہ درست ہے کہ قرآن سب کی ہدایت کے لیے نازل ہوا ہے لیکن صرف حق طلب، حقیقت کے جویا اور پرہیزگار اس کے نور ہدایت سے فائدہ اٹھائیں گے اور جنہوں نے اپنے دل کے دریچے جان بوجھ کر اس کے سامنے بند کر لیے ہیں اور تعصب اور ہٹ دھرمی کی تاریکی ان کی روح پر چھائی ہوئی ہے، وہ نہ صرف یہ کہ اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ عناد اور دشمنی کی وجہ سے ان کی ضلالت و گمراہی میں اور اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس لیے اس گفتگو کے بعد فرمایا گیا ہے: اور جس شخص کوخدا گمراہ کر دے اس کے لیے کوئی ہادی و راہنما نہیں ہو گا۔ (و من يضلل الله فما له من هاد)۔ وہ گمراہی جس کی بنیادیں خود اس کے اپنے ہاتھ کے ساتھ رکھی ہوئی ہیں اور اس کی بنیادیں ا س کے غلط اعمال کی وجہ سے مضبوط ہوئی ہیں اور اسی بنا پر یہ بات انسانوں کے اصول اختیار اور آزادی ارادہ کے ہرگز منافی نہیں ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بعد والی آیت میں ظالموں اور مجرموں کا مومنین کے ساتھ موازنہ کیا گیا ہے، جن کی کیفیت پہلے بیان ہو چکی ہے تاکہ اس سے حقائق بہتر طور سے واضح ہو جائیں۔ فرمایا گیا ہے: کیا وہ شخص جو اپنے چہرے سے خدا کے دردناک عذاب کو دور کر لیتا ہے، اس شخص کی طرح ہے جو اس دن انتهائی امن و امان کے ساتھ بسر کرے گا اور ہرگز جہنم کی آگ اس تک نہ پہنچے گی (افمن یتقي بوجهه سوءالعذاب يوم القيامة )۔(تشریحی نوٹ: اس جملے میں ایک محذوف ہے اور یہ تقدیر میں اس طرح ہے: فمن يتقي بوجهه سوءالعذاب يوم القيامة كمن هو امن لا تمسه النار کیا وہ شخص جو اپنے چہرے سے دردناک عذاب دور کر لیتا ہے اس شخص کے مانند ہے جو امن میں ہے اور آگ اس تک نہیں پہنچتی)۔ وہ نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ کرنا ضروری ہے، یہ ہے کہ قرآن کہتا ہے: وہ اپنے چہرے کے ساتھ عذاب کو اپنے سے دور کر لے گا۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ یہ تعبیر اس بنا پر ہے کیونہ "وجهه"(چہرہ) انسان کے اشرف اعضاءمیں سے ہے اور انسان کے اہم حواس (آنکھ ، کان ،ناک اور زبان) اس میں موجود ہیں اور اصولی طور پر انسان کی پہچان بھی چہرے کے ذریعے ہی ہوتی ہے اور ان ہی وجوہات کی بنا جس وقت اسے کوئی خطرہ ہوتا ہے تو اپنے ہاتھ، بازو اور جسم کے دوسرے اعضا کو اس کے سامنے ڈھال بنا لیتا ہے تاکہ خطرہ دور کر ے۔ لیکن دوزخی ظالموں کی حالت اس دن کچھ اس طرح کی ہو گی کہ انھیں اپنے چہرے کے ساتھ ہی اپنا دفاع کرنا پڑے گا کیونکہ ان کے ہاتھ پاؤں تو زنجیر میں جکڑے ہوئے ہوں گے۔ جیسا کہ سورہ یٰس کی آیہ 8 میں ہے: ہم نے ان کی گردن میں طوق ڈال رکھے ہیں (اور ان کے ہاتھوں کو ان کے ساتھ جکڑا ہوا ہے) ان کے یہ طوق ٹھوڑیوں تک پہنچے ہوئے ہوں گے، لہذا ان کے سر اوپر کی طرف ہوں گے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ تعبیر اس بنا پر ہے کہ انہیں منہ کے بل آگ میں ڈالا جائے گا۔ لہذا ان کا پہلا عضو جو آگ میں پہنچے گا وہ ان کا چہرہ ہے، جیسا کہ سورہ نمل کی آیہ 90 میں ہے: ومن جاءبالسيئة فكبت وجوههم في النار اور جولوگ برا کام انجام دیں گے وہ منہ کے بل آگ میں ڈالے جائیں گے۔ کبھی یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ تعبیر صرف جہنم کی آگ کے مقابلے میں ان کا اپنا دفاع نہ کر سکنے کے لیے کنایہ ہے۔ یہ تینوں تفاسیر ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں اور ممکن ہے کہ یہ سب آیت کے مفهوم میں جمع ہوں۔ اس کے بعد آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے: اس دن ظالموں سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم کیا کرتے تھے اب اس کا مزہ چکھو (وقيل للظالمين ذوقوا ماکنتم تكسبون ) ہاں! عذاب کے فرشتے ان سے یہ دردناک حقیقت بیان کریں گے کہ یہ تمہارے ہی اعمال ہیں جو تمھارے سامنے آۓ ہیں اور تمہیں تکلیف دے رہے ہیں اور یہ بیان خود ان کے لیے ایک اور روحانی اذیت ہو گی۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ نہیں فرمایا گیا ہے کہ اپنے اعمال کی سزا اور عذاب بھگتو بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ اپنے اعمال کو چکھو اور بات "تجسم اعمال"پر بھی ایک اور شاہد ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اب تک جو کچھ بیان ہوا ہے وہ قیامت میں ان کے لیے دردناک عذاب کی طرف ایک اشارہ تھا۔بعد والی آیت ان کے لیے دنیاوی عذاب کی بات کرتی ہے تاکہ کہیں وہ یہ تصور نہ کرنے لگیں کہ وہ اس دنیاوی زندگی میں تو امان میں ہی رہیں گے۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے، انھوں نے بھی ہماری آیات کو جھٹلایا تھا، تو عذاب الٰہی ایسی جگہ سے ان پر نازل ہوا جہاں کا انہیں گمان بھی نہیں تھا۔ (كذب الذين من قبلهم فآتاهم العذاب من حيث لايشعرون)۔ اگر انسان کو کسی ایسی جگہ سے ضرب گئے جہاں سے اسے توقع ہو تو وہ زیادہ دردناک نہیں ہوتی لیکن اگر اسے کسی ایسی جگہ ضرب لگے جہاں سے اسے ہرگز توقع نہ ہو تو وہ اس کے لیے کہیں زیادہ درناک ہوتی ہے مگر اس کے نزدیک ترین دوستوں اس کی زندگی کی محبوب ترین چیزوں سے، اس پانی سے جو اس کی زندگی کا سبب ہے، اس باد نسیم سے اس کی نشاط و خوشی کا موجب ہے، اس سکون و راحت والی زمین سے جو اس کی استراحت اور امن و امان کا مقام سمجھی جاتی ہے۔ ہاں! عذاب الٰہی کا ان طریقوں سے نزول بہت ہی دردناک ہے اور یہ وہی چیز ہے جو قوم نوح، عاد و ثمود،قوم لوط، قوم فرعون و قارون وغیرہ کے بارے میں بیان ہوئی ہیں۔ ان میں سے ہرایک قوم انھی میں سے کسی ایک طریقے سے گرفتارِ عذاب ہوئی اور جس کے بارے میں اسے ہرگز توقع نہ تھی۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ آخری زیِر بحث آیت میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ان کے لیے دنیاوی عذاب صرف جسمانی پہلو ہی نہیں رکھتا تھا بلکہ نفسیاتی و روحانی عذاب بھی تھا، فرمایا گیا ہے: خدا نے انھیں اس دنیاوی زندگی میں بھی ذلت و خواری کا مزہ چکھایا (فاذاقم الله الخزي في الحيوة الدنيا)۔(تشریحی نوٹ: "خزی"خواری اورذلت کے معنی میں ہے اور رسوائی وفضحیت کے معنی میں بھی آیا ہے (لسان لعرب "خزی"کے مادہ کی طرف رجوع کریں)۔ ہاں! اگر انسان کو مصیبت میں گرفتار ہو جائے لیکن وہ آبرومندانہ اور سربلندی کے ساتھ جان د ے دے تو یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ذلت و خواری کے ساتھ جان دے اور بے آبروئی اور رسوائی کے ساتھ عذاب کے چنگل میں گرفتار ہو جائے۔ لیکن ان تمام چیزوں کے باوجود آخرت کا عذاب زیادہ سخت زیادہ شدید اور زیادہ دردناک ہے، اگر وہ جانتے (ولعذاب الأخرة اکبرلو كانوايعلمون)۔ لفظ "اکبر"(زیاده بڑا) عذاب کی شدت اور سختی کے لیے کنایہ ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایک نکته
ان آیات کے ذیل میں کچھ روایات وارد ہوئی ہیں جو آیات کے مفاہیم کے زیادہ وسیع افق ہمارے سامنے مجسم کرتی ہیں۔ ایک حدیث میں پیغمبر اکرمؐ کے چچا حضرت عباس آپؐ سے نقل کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا: اذا اقشعر جلد العبد من خشية الله تحاتت عنه ذنوبه کما یتحات عن الشجرة اليابسة ورقها جب کسی بندے کا بدن خوف خدا سے لرز اٹھے تو ا س کے گناہ اس طرح سے گرتے ہیں جس طرح سے درختوں کے خشک پتے جھڑتے ہیں۔(بحوالہ: مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں، یہ روایت ابوالفتوح رازی اور قرطبی نے بھی کچھ فرق کے ساتھ نقل کی ہے)۔ یہ بات واضح ہے کہ جو شخص خدا کے خوف سے اس طرح متاثر ہوتا ہے تو اس میں توبہ و انابت کی حالت پیدا ہو جاتی ہے اور اس قسم کا شخص یقیناً پروردگار کی مغفرت کا مستحق ہو گا۔ ایک اور حدیث میں جو حضرت اسماءنقل ہوئی ہے اور جسے ہم نے آیات کی تفسیر میں بھی بیان کیا ہے کہ جس وقت ان سے اصحابِ پیغمبرؐ کے بارے میں سوال ہوتا وہ کہتی ہیں : جس وقت وہ قرآن پڑھتے تھے ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ تو جس طرح سے خدا ان کی تعریف و توصیف کرتا ہے۔ ان کی آنکھیں اشک بار ہو جاتی تھیں اور ان کا بدن لرز اٹھتا تھا۔ اس کے بعد راوی کہتا ہے: میں نے اسماءسے پوچھا: ہمارے ہاں بھی کچھ لوگ ہیں جس وقت قرآن کی آیات سنتے ہیں تو ان پر غشی کی حالت طاری ہو جاتی ہے اور وہ مست و مدہوش ہوتا جاتے ہیں۔ اسماءنے کہا: اعوذ باللہ تعالیٰ من الشیطان یعنی یہ تو ایک شیطانی عمل ہے۔ یہ حدیث درحقیقت ان لوگوں کا جواب ہے جو تصوت کا دم بھرتے ہیں اور جلسے اور حلقے بناتے ہیں اور آیات و اذکار پڑھتے ہیں، پھر اپنے آپ کو خوب حرکت دیتے ہیں اور اصطلاح کے مطابق "حال"اور وجد و مستی کی حالت میں آ جاتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں، ہا ہو ہا کرتے ہیں اور اپنے آپ کو غشی کی حالت میں ڈال دیتے ہیں اور شاید بعض کو غشی ہو بھی جاتی ہے۔ اس قسم کے حالات اصحابِ پیغمبرؐ سے ہرگز نقل نہیں ہوئے اور یہ متصوفہ کی بدعات میں ایک ہے۔ البتہ یہ بات ممکن ہے کہ انسان شدتِ خوف کی بنا پر مد ہوش ہو جائے لیکن یہ کام صوفیون کے کاموں سے بہت مختلف ہے کو ذکر و ورد کی ایسی محفلیں منعقد کرتے ہیں ، جن کی طرف ہم نے سطورِ بالا میں اشارہ کیا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 31 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 31 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 31 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 31 کے تحت ملاحظہ کریں۔
قرآن میں کجی نہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 6ان آیات میں قرآن مجید اور اس کی خصویات کے بارے میں اسی طرح سے بحث جاری ہے اور یہ گزشتہ مباحث کا تسلسل ہیں۔ پہلے قرآن کی جامعیت کے سلسلہ میں اس طرح گفتگو ہے: ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال پیش کی ہے۔(ولقد ضربناللناس في هذا القران من كل مثل)۔ گزشتہ ستم گروں اور سرکشوں کا دردناک انجام، گناہ کے ہولناک نتائج، مختلف پند و نصائح، اسرارِ خلقت، نظامِ آفرنیش اور محکم قوانین و احکام کے بارے میں۔ خلاصہ یہ کہ انسانوں کی ہدایت کے لیے جو کچھ ضروری ہے ہم نے مثالوں کے پیرائے میں بیان کر دیا ہے۔ شاید وہ متوجہ ہو جائیں اور راہ خطا سے صراطِ مستقیم کی طرف لوٹ آئیں۔ (لعلهم يتذكرون). لغت عرب میں مثل ہر اس بات کو کہتے ہیں جو کسی حقیقت کو مجسم کر دے یا کسی چیز کی تعریف و توصیف کرے یا ایک چیز کی دوسری چیز سے تشبیہ دے۔ ان مفاہیم کی طرف توجہ کریں تو واضح ہوتا ہے کہ یہ تعبیر قرآن کے تمام حقائق و مطالب کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے اور اس کی جامعیت کو واضح کرتی ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد قرآن کی ایک دوسری توصیف ذکر کی گئی ہے، ہم قرآن فصیح ہے اور ہر قسم کی کجی انحراف اور تناقض و تضاد سے خالی ہے( قرأنًا عربيًا غير ذي عوج)۔(تشریحی نوٹ: "قرانًا عربيًا"اعراب کےلحاظ سے "القرآن"کے لیے "حال"ہے جو اس سے پہلے ذکر ہوا ہےلیکن چونکہ "قراٰنًا"وصفی پہلو نہیں رکھتا لہذا اسے "حال"کے لیے تمہید سمجھتے ہیں جو "عربیًا"ہے اور بعض "مقروًا"کے معنی میں لیتے ہیں جو وصفی معنی ہے اور بعض اسے ایک مقدر فعل سے منصوب سمجھتے ہیں)۔ حقیقت میں یہاں قرآن کے تین اوصاف بیان ہوئے ہیں۔ پہلی تعبیر "قرانًا"جو اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ آیات مرتبًا بھی جاتی ہیں یا نماز میں اور نماز کے علاوہ خلوت میں اور اجتماع میں اور اسلام کی پوری تاریخ میں اور اختتام جہاں تک اور اس طرح سے یہ ایک ایسا نورِ ہدایت ہے جو ہمیشہ درخشاں رہنے والا ہے۔ دوسرا مسئلہ اس خدائی کلام کی فصاحت، شیرینی اور کشش ہے کہ جسے "عربیا"کے لفظ سے بیان کیا گیا ہے کیونکہ "عربي"کا ایک معنی "فصیح"ہے اور یہاں یہی معنی مراد ہے۔ تسیری بات یہ ہے کہ کسی قسم کی کجی اور ٹیڑھا پن اس میں نہیں ہے۔اس کی آیات ہم آہنگ، اس کی تعبیریں منہ بولتی اور اس کی عبارتیں ایک دوسرے کی مفسر ہیں۔(تشریحی نوٹ: "عوج"چونکہ نکرہ کی صورت میں سیاق نفی میں واقع ہوا ہے لہذا عموم کا فائدہ دیتا ہے، اس لیے ہر قسم کی کجی اور انحراف کی قرآن سے نفی کرتا ہے)۔ بہت سے اہل لغت اور اہل تفسیر نے کہا ہے کہ "عوج"(عین کی زیر کے ساتھ) معنوی انحرافات کے معنی میں ہے، جبکہ "عوج"(عین کی فتح کے ساتھ) ظاہری انحراف کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ (البتہ پہلی تعبیر کبھی کبھی ظاہری انحرافات کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔ مثلًا سورۃ طٰہٰ کی آیہ 107 :- الا ترٰى فيها عو جا ولا امتًا تو اس زمین میں کسی قسم کی کجی اور بلندی نہیں دیکھے گا۔ لہذا بعض ارباب لغت پہلی تعبیر کو زیاده عام جانـتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ:"مفردات راغب ، لسان العرب اور مختلف تفاسیر کی طرف رجوع کرلی)۔ بہرحال، ان تمام اوصاف کے ہوتے ہوئے قرآن کے نزول کا ہدف و مقصد یہ تھا کہ شاید وہ پرہیزگاری اختیار کریں"(للعھم يتقون)۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ گزشته آیت میں "لعلهم يتذكرون"آیا تھا اور یہاں "لعلهم يتقون"کیونکہ ہمیشہ یاددہانی اور توجہ "تقوٰی"کے لیے ایک مقدمہ اور تمہید ہوتا ہے اور پرہیزگاری اسی درخت کاایک پھل ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد قرآن کی مثال پیش کرتا ہے اور موحد و مشرک کے انجام کی ایک فصیح اور خوبصورت مثال کے ذریعے اس طرح تصویر کشی کرتا ہے: خدا نے ایک مثال بیان کی ہے کہ ایک تو ایسا آدمی ہے جو ایسے شرکاءکا غلام ہے جو ہمیشہ اس کے بارے میں جھگڑتے رہتے ہیں۔ (ضرب الله مثلًا رجلًا فيه شركاءمتشاكسون)۔( تشریحی نوٹ:"متشاكسون"، "شکاسة"کے مادہ سے، بداخلاقی ، جھگڑے اور خصومت کے معنی میں ہے۔ اسی بنا پر "متشاکس"اس شخص کہا جاتا ہے جوتعصب اور بدخلقی کے ساتھ بحث و نزاع اور جھگڑے میں مشغول ہو)۔ ایک ایسا غلام ہے جس کے کئی مالک ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اسے کوئی کام کرنے کاحکم دیتا ہے۔ ایک کہتا ہے فلاں کام انجام دو۔ دوسرا کہتا ہے یہ کام مت کرو۔ وہ ان دونوں کے درمیان پریشان ہے اور ان متضاد احکام کے درمیان حیران کھڑا ہے اور اسے سمجھ نہیں آ رہی کہ اپنے آپ کو کس کی آواز کے ساتھ ہم آہنگ کرے۔ اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ اس کی زندگی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک اسے دوسرے کے حوالے کر دیتا ہے اور دوسرا اسے پہلے کی طرف پلٹا دیتا ہے لہذا اس لحاظ سے بھی وہ محروم، بیچاره، بے نوا اور سرگرداں ہے۔ پھر ایک شخص ہے جو ایک ہی شخص کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہے۔ (و رجلاً سلمًا لرجل). اس کا راستہ اور پروگرام مخشص ہے۔ اس کے اوپر جسے اختیار ہے وہ معلوم ہے۔ نہ شک و ترد میں گرفتار ہے، نہ کوئی تضاد ہے نہ تناقض سکون قلب اور آرام روح کے ساتھ قدم اٹھاتا ہے اور پوری دلجمعی کے ساتھ آگے بڑھتا ہے وہ ایسےشخص کی سرپرستی میں ہے جو ہر چیز میں ہرحال میں اور ہر جگہ اس کی حمایت کرتا ہے "کیا یہ دونوں یکساں ہیں"(هل یستویان مثلاً)۔ "مشرک"اور"موحد"کا یہی حال ہے، مشرکین طرح طرح کے تضادات میں غوطہ زن ہیں۔ ہر روز ایک معبود کے ساتھ دل باندھتے ہیں اور ہر وقت کسی ایک رب کا رخ کرتے ہیں کہ کوئی آرام و سکون حاصل ہے نہ کچھ اطمینان ہے اور نہ ہی کوئی واضح راستہ۔ لیکن موحدین کا دل خدا کے عشق کا گرویدہ ہے۔ انھوں نے ساری کائنات میں سے اسی کو انتخاب کیا ہے اور ہر حالت میں اس کے لطف و کرم کے سایے میں پناہ لیتے ہیں جو ہر چیز سے بالا ہے۔ انھوں نے ماسوا اللہ سےآنکھ اٹھالی ہے اور اسی پر نظریں جمادی ہیں۔ ان کا راستہ اور پروگرام واضح ہے اور ان کی سرنوشت اور انجام روشن ہے۔ ایک روایت میں حضرت علی علیہ اسلام نقل ہوا ہے کہ آپؑ نے فرمایا : انا ذاک الرجل السلم لرسول اللهؐ میں ہوں وہ مرد جو ہمیشہ رسول اللہ کے لیے سر تسلیم خم کیے رہتا تھا۔ (تشریحی نوٹ: پہلی حدیث"حاکم ابو القاسم حسکانی"نے شواهد التنزیل میں اور دوسری کو عباسی نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے) (مجمع البیان زیِربحث آیات کے ذیل میں)۔ ایک دوسری حدیث میں آیا ہے: الرجل السلم للرجل حقا علی و شیعته وہ مرد جو حقیقتًا سر تسلیم خم کیے تھاوہ علی اور ان کے شیعہ تھے۔( تشریحی نوٹ: پہلی حدیث"حاکم ابو القاسم جسکانی"نے شواهد التنزیل میں اور دوسری کو عباسی نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے۔ (مجمع البیان زیِربحث آیات کے ذیل میں)۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: حمد و سپاس خدا کے ساتھ مخصوں ہے ( الحمدلله). وہ خدا جس نے ان واضح و روشن مثالوں کے ذریعے تمھیں راستہ دکھایا ہے اور تمھیں حق کی باطل سے تمیز کے لیے واضح دلائل دیئے ہیں، وہ خدا جو سب کو اخلاص کی طرف دعوت دیتا ہے اور اخلاص کے سایے میں آرام و سکون بخشتا ہے، کون سی نعمت اس سے بالاتر ہے؟ اور کون سا شکر و حمد اس سے زیادہ ضروری ہے؟ "لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے"اور ان واضح دلائل کے باوجود، حبِ دنیا اور سرکش مادی خواہشات کی خاطر حقیقت کی راہ اختیار نہیں کرتے (بل اکثرهم لايعلمون)۔ ـ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ گزشتہ آیات میں توحید و شرک کے بارے میں بحث تھی اس کے بعد اب قیامت کے میدان میں توحید و شرک کے نتائج کے بارے میں گفتگو کی ہے۔ بات موت کے مسئلے سے شروع کی گئی ہے جو قیامت کا دروازہ ہے اور سب انسانوں کے لیے موت کے قانون کی عمومیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: وہ بھی مر جائے گا اور وہ بھی سب کے سب مر جائیں گے (انك ميت وانهم میتون)۔ (تشریحی نوٹ: البتہ "انك ميت وانهم میتون"کا جملہ حال حاضر میں سب کے مر جانے کی خبردیتا ہے لیکن اصطلاح کے مطابق "مضارع متحقق الوقوع"ہے جو کبھی حال کی صورت میں اور کبھی ماضی کی صورت میں بیان ہوا ہے)۔ ہاں موت ایسے مسائل میں سے ہے جن میں سب لوگ یکساں ہیں، اس میں کسی قسم کااستثناءاور فرق موجود نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی راہ ہے جسے سب کو طے کرنا پڑے گابہ الفاظ دیگر یہ وہ اونٹ ہے جو ہر شخص کے گھر میں بیٹھ چکا ہے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ کے دشمن آپؐ کی موت کے منتظر رہتے تھے اور وہ ا س بات پر خوش تھے کہ آخر کار وہ مر جائیں گے تو قرآن اس آیت میں انھیں جواب دیتا ہے کہ اگر پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلم وسلم، مر جائے گا تو کیا تم زندہ رہو گے؟ سورة انبیاءکی آیہ 34 میں بھی ہے: افئن مت فهم الخالدون کیا اگر تو مر جائے اور ہمیشہ کے لیے زندہ رہیں گے؟ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد قرآن بحث کو قیامت کی عدالت میں لے گیا ہے اور میدانِ محشر ميں، بندوں کے جھگڑے کی تصویر کشی کرتا ہے اور فرماتا ہے: پھر قیامت کے دن اپنے پروردگار کے پاس جھگڑنے کے لیے کھڑے ہوگے (ثم انکم یوم القيامة عند ربكم تختصمون)۔ "تختصمون"، "اختصام"کے مادہ سے دو ایسے افراد یا دو گروہوں کے درمیان نزاع و جدال کے معنی میں ہے، جن میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ دوسرے کی بات کو باطل کرے۔ کبھی توایک حق پر ہوتا ہے اور دوسرا باطل پر اور کبھی ممکن ہے کہ دونوں ہی باطل پر ہوں۔ جیسا کہ اہل باطل کا ایک دوسرے کے ساتھ مخاصمہ اور جھگڑا۔ اسبارے میں مفسرین میں بحث ہے کہ کیا یہ حکم عمومیت رکھتا ہے یانہیں؟ بعض نے تو یہ تصور کیا ہے کہ یہ جھگڑا مسلمانوں اور کفار کے درمیان ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ مسلمانو اور اہل قبلہ کے درمیان بھی جھگڑا ممکن ہے۔ اس موقع پر ابوسعید خدری سے ایک حدیث نقل ہوئی ہے وہ کہتے ہیں کہ: هم پیغمبر خدا کے زمانے میں کبھی نہیں سوچتے تھے کہ ہم مسلمانوں کے درمیان مخاصمت ہو گی۔ ہم کہتے تھے کہ ہمارا پروردگار ایک، ہمارا پیغمبر ایک، ہمارا دین ایک ہے تو اس کے باوجود جھگڑا کس طرح ممکن ہے، یہاں تک کا صفین کا دن آ پہنچا اور دو گروہ جن میں سے ہر ایک ظاہراً مسلمان تھے اگرچہ ایک حقیقی مسلمان تھا اور دوسرا اسلام کا مدعی تھا۔ ایک دوسرے کے مقابلے میں تلوار کھینچ کر کھڑے ہو گئے تو ہم نے کہا، ہاں !یہ آمیت ہمارے بارے میں بھی ہے۔( بحوالہ:: مجمع البیان ، جلد 7 ص 497)۔ لیکن بعد والی آیات بتاتی ہیں کہ یہ مخاصمت کی طرف سے پیغمبر اکرمؐ اور مومنین اور دوسری طرف سے مشرکین اور مکذبین کے درمیان ہوئی۔ تاریخ اسلام میں مشہور ہے کہ حضرت عمر نے وفات پیغمبر صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ کی وفات کا انکار کر دیا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ یہ بات ممکن نہیں ہے کہ رسول اللہ مر جائیں وہ تو اپنے پروردگار کی طرف گئے ہیں۔ جیسے موسٰی بن عمران چالیس راتوں تک اپنی قوم سے غائب رہے تھے اور پھران کی طرف والپیں لوٹ آئے۔ خدا کی قسم رسول اللہ بھی پلٹ کرآئیں گے جیسے موسٰی پلٹ کرائے تھے جولوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ رسول خدا مر چکے ہیں، ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں، یہ بات ابوبکر تک پہنچی تو عمر کے پاس آۓ اور وہ بعض آیات جو پیغمبراکرمؑ کی موت پر دلالت کرتی تھیں وہ عمر کے سامنے پڑھیں تو عمر خاموش ہوگئے اور کہا خدا کی قسم یہ پہلا موقع تھا میں نے یہ آیات سنی ہے۔( بحوالہ: سیرۃ ابن ہشام جلد 4 ص 305، 306 تخلیص کے ساتھ ۔ یہ ماجرا کامل ابن اثیر جلد 2 ص 323 ص 324 پر بھی نقل ہوا ہے)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: جو کلامِ خدا کی تصدیق کرتے ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 6گزشتہ آیات میں میدان قیامت میں لوگوں کے حاضر ہونے اور اس عظیم عدالت میں ان کے جھگڑے کے بارے میں گفتگو تھی۔ ان آیات میں بھی وہی بحث جاری ہے اور لوگوں کو دو گروہوں"مکذبین اور "مصدقین"میں تقسیم کر رہی ہیں۔ پہلا گروہ دو صفات کا حامل ہے، جیسا کہ قرآن فرماتا ہے: اس سے زیادہ ستم گر اور کون ہو گا جو خدا پر جھوٹ باندھے اور سچی اور حق بات جو اس کے پاس آئے اس کی تکذیب کرے۔(فمن اظلم ممن کذب على الله وكذب بالصدق اذ جاءه)۔ بےایمان اور مشرک اور خدا پر بہت ہی زیادہ جھوٹ باندھا کرتے تھے۔ کبھی فرشتوں کو خدا کی بٹیاں کہتے تھے کبھی عیسٰیؑ کواس کا بیٹا کہتے تھے۔ کبھی بتوں کو اس کی بارگاہ میں شفیع قرار دیتے تھے اور کبھی حلال و حرام کے سلسلے میں جھوٹے احکام گھڑ لیا کرتے تھے اور اس کی طرف منسوب کر دیا کرتے تھے اور اسی قسم کی دوسری باتیں۔ باقی رہی وه سچی بات جو ان کے پاس آئی اور انھوں نے اس کی تکذیب کی وہ وہی آسمانی وحی قرآن مجید ہے۔ آیت کے آخر میں ایک مختصر سے جملہ میں اس قسم کے افراد کی سزا اس طرح بیان کی گئی ہے: کیا جہنم ان کافروں کے رہنے کی جگہ نہیں ہے؟(اليس في جهنم مثوى للکافرين)۔ (تشریحی نوٹ: "مثوی"، "ٹواء"کے مادہ سے ہے اور اس کا معنی ہے ایساقیام جو دائمی ہو اس بنا پر "مثویٰ یہاں ہمیشگی کی اور دائمی جگہ کے معنی میں ہے)۔ جب "جہنم"کا نام لیا جاتا ہے تو باقی درد ناک عذاب کا بھی اس میں خلاصہ بیان ہو جاتا ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ دوسرے گروہ کے بارے میں بھی دو اوصاف کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اور جو شخص سچی اور حق بات لے کر آئے اور وہ شخص جو اس کی تصدیق کرے، وہی تو واقعی پرہیزگار ہیں (والذي جاءبالصدق وصدق به او لئك هم المتقون)۔ اہل بیتؑ کی بعض روایات میں "والذي جاءبالصدق "کی پیغمبر اکرمؐ سے تفسیر بیان ہوئی ہے۔ ان میں "وصدق بہ"سے علی عیہ السلام مراد لیے گئے ہیں۔( بحوالہ: مجمع البیان ، زیر بحث آیات کے ذیل میں)۔ لیکن اس سے مراد واضح مصداق کا بیان ہے کیونکہ"اولئك هم المتقون"(وہی تو متقی ہیں) کا جملہ آیت کی عمومیت کی دلیل ہے۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس آیت سے ذات پیغمبر مراد لینا جو وحی کے لانے والے بھی ہیں اور اس کے تصدیق کرنے والے بھی، بیان مصداق ہی ہونا چاہیے نہ کہ آیت کے تمام مفہوم کا بیان۔ اسی لیے بعض مفسرين نے "والذي جاءبالصدق"سے تمام پیغمبر مراد لیے ہیں اور "صدق به"سے ان کے سچے پیروکار مراد لیے ہیں جن میں دنیا کے تمام پرہیزگار شامل ہیں۔ اس آیت کی ایک اور عمده تفسیر موجود ہے جو سب سے زیادہ وسیع اور جامع تر ہے، اگرچہ مفسرین نے بہت کم اس کی طرف توجہ کی ہے۔ لیکن وہ آیات کے ظاہر کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہے اور وہ یہ ہے کہ "الذي جاءبالصدق"وحی کا پیغام لانے والوں میں منحصر نہیں ہے بلکہ تمام ایسے افراد جو ان کے مکتب کے مبلغ تھے اور حق و صداقت کی باتوں کے مروج رہے ہیں اس صف میں شامل ہیں اور اس صورت میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ دونوں جملے ایک ہی گروہ منطبق ہوں (جیسا کہ آیت کی تعبیر کا ظاہر ہے، کیونکہ "والذي"صرف ایک مرتبہ ذکر ہوا ہے )۔ گویا یہ گفتگو ایسے لوگوں کے بارے میں ہے جو صدق اور سچائی کے لانے والے بھی ہیں اور اس پر عمل کرنے والے بھی۔ یہ ان لوگوں کی بات ہے جنہوں نے مکتت وحی اور پروردگار کی حق بات کو سارے عالم میں نشر کیا ہے اور خود اس پر ایمان رکھتے ہیں، چاہے وہ انبیاءو مرسلین ہوں یا کے مکتب کو بیان کرنے والے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ وحی کے بجائے "صدق"کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ صرف وہ بات جس میں جھوٹ اور غلطی کا احتمال نہیں ہے، وہی ہے جو وحی کے ذریعے پروردگار کی طرف سے نازل ہوتی ہے اور تقوٰی و پرہیزگاری صف مکتب انبیاءکی تعلیمات کے سائے میں اور اس کی دل و جان سے تصدیق کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ بعد والی آیات میں ایسے لوگوں کیلئے تین عظیم اجر بیان کیے گئے ہیں، پہلے ارشاد ہوتا ہے: وہ جو کچھ بھی چاہیں گے ان کے پروردگار کے پاس ان کے لیے موجود ہے اور نیکو کاروں کی یہی تو جزا ہے۔( لهم ما يشاءون عند ربهم ذالك جزاءالمحسنين)۔ اس آیت کے مفہوم کی وسعت اس قدر ہے کہ تمام روحانی اور مادی نعمتیں اس میں شامل ہیں وہ سب کچھ ہمارے تصور اور وہم و گمان میں سما سکے یا نہ سما سکے۔ بعض نے یہاں ایک سوال پیش کیا ہے کیا اگر وہ انبیاءو اولیاءکے مقامات کا تقاضا کریں جو خود ان سے برتر ہیں تو وہ بھی ان دیا جائے گا؟ یہ سوال کرنے والے اس حقیقت سے غافل ہیں کہ بہشتی لوگ چونکہ حقیقت بین آنکھ رکھتے ہیں اس لیے وہ ہرگز ایسی چیز کی فکر میں نہیں پڑیں گے جو حق و عدالت کے بر خلاف اور اہليت و جزا کے قانون کے بر خلاف ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ وہ افراد جو ایمان و عمل کے مختلف درجات میں ہیں۔ ان کی ایک جیسی جزا ہو، بہشتی ایک محال چیز کی آرزو کیسے کریں گے؟ اس کے باوجود وہ روحانی طور پراس طرح ہیں کہ جو کچھ ان کے پاس ہے اسی پر راضی ہیں اور ان میں کسی قسم کا کوئی حسد پایا ہی نہیں جاتا۔ ہم جانتے ہیں کہ آخرت کے اجزا، یہاں تک تفضلات الہی تھی ان اہلیتوں کی بنیاد پر ہیں جو انسان اس دنیامیں حاصل کرتا ہے، جو شخص یہ جانتا ہے کہ اس کا ایمان و عمل اس دنیا میں دوسرے کے ایمان و عمل کے برابر نہیں تھا وہ کبھی بھی ان کے مقام کی آرزو نہیں کرے گا کیونکہ یہ ایک غیر منطقی آرزو ہے۔ "عند ربهم"(ان کے پروردگار کے نزدیک) کی تعبیر ان کے بارے میں انتہائی لطف الہی کا بیان ہے گویا وہ ہمیشہ کے لیے اس کے مہمان ہیں اور وہ جو کچھ چائیں گے اس کے پاس موجود پائیں گے۔"ذالك جزاءالمحسنين (یہ ہے نیکوکاروں کی جزا) اس میں ضمیر کے بجائے اسم ظاہر سے استفادہ کیا گیا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان جزاؤں کی علتِ اصلی ان کی نیکی ہی ہے۔ ان کی دوسری اور تیسری جزا اس صورت میں بیان کی گئی ہے: وہ چاہتے ہیں کہ خدا ان کے ان بدترین اعمال کو جو انھوں نے انجام دیئے ہیں بخش دے اور ان کی تلافی کر دے، انھیں ان کے ان بہترین اعمال کا جو انھوں نے انجام دیئے ہیں اجر عطا کرے۔ (لیكفر الله عنهم اسوءالذين عملوا ويجزيهم اجرهم باحسن الذي كانوا يعملون)۔ (تشریحی نوٹ:اس بارے میں "لیکفر الله عنهم"کسی سے متعلق ہے مفسرین نے بہت سے احتمال ذکر کیے ہیں لیکن معنی کے لحاظ سے جو کچھ زیادہ مناسب نظرآتا ہے یہ ہے "احسنوا"متعلق فعل ہے جو "المحسنين"سے سمجھ میں آتا ہے اور وہ تقدیر میں اس طرح ہے۔ (ذالك جزاءالمحسنين احسنوا لیکفر الله عنه ....) ہاں انھوں نے نیکیاں کیں تاکہ خدا ان کی لغزشوں کو بخش دے اور انھیں بہترین اجر دے)۔ کتنی عمدہ تعبیر ہے؟ ایک طرف تو وہ یہ تقاضا رکھتے ہیں کہ ان کے بدترین اعمال لطف الٰہی کے سایے میں چھپادیئے جائیں اور توبہ کے پانی سے یہ داغ ان کے دامن سے دھل جائیں اور دوسری طرف سے ان کا یہ تقاضا ہے کہ خدا ان کے بہترین اعمال کو اجر و پاداش کا معیار قرار دے اور ان کے تمام اعمال کو اسی حساب سے قبول کر لے۔ خداوند تعالٰی نے بھی ان کی درخواست کو اسی تعبیر کے ساتھ قبول کر لیا ہے جیسا کہ ان آیات میں بیان کیا گیا ہے یعنی وہ بدترین کو بخش دے گا اور بہترین کو اجر و پاداش کا معیار قرار دے گا۔ یہ بات ظاہر ہے کہ وقت بڑی بڑی لغزشیں عفوِالٰہی کی مشمول ہو جائیں، تو باقی تو بطریق اولٰی مشمول ہو جائیں گی۔ عمدہ بات یہ ہے کہ انسان کی سب سے زیادہ پریشانی بڑی بڑی لغزشوں کے بارے میں ہی ہوتی ہے اور اسی وجہ سے مومنین کو زیادہ تر اسی کی فکر ہے۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے کیا گزشتہ آیات میں گفتگو کو پیغمبروں اور ان کے پیروکاروں کے بارے میں ہی نہیں تھی؟ وہ بڑی بڑی لغزشیں اس طرح کرتے ہیں؟ اس سوال کا جواب ایک نکتے کی طرف توجہ کرتے ہوئے واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ جب کسی فعل کی کسی گروہ کی طرف نسبت دی جاتی ہے تواس کا مفہوم یہ نہیں ہوتا کہ وہ سب کے سب اس فعل کے مرتکب ہوئے تھے بلکہ اتنا ہی کافی ہے کہ ان میں سے کچھ نے اسے انجام دیا ہو مثلاً ہم کہتے ہیں کہ بنی عباس نے رسول اللہؐ کی مسند خلافت پر ناحق قبضہ کیا تھا، تو اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ وہ سب کے سب خلافت تک پہنچے تھے بلکہ کافی ہے کہ ان میں سے ایک گروہ ایسا ہو۔ زیر بحث آیت میں بھی پیغام وحی لانے والوں اور ان کے مکتب کے پیروکاروں میں سے بعض کی کچھ لغزشیں تھیں جن سے خدا ان کے نیک اعمال کی وجہ سے درگزر کرے گا۔ بہرحال، غفران و بخشش کاذکر اجر و ثواب سے پہلے اس بنا پر ہے کہ پہلے انہیں اپنے آپ کو پاک و صاف کرنا چاہیے اس کے بعد قربِ خدا کی بساط پر قدم رکھیں۔ پہلے عذاب الہی سے آسوده خاطر ہو لیں کہ جنت کی نعمتیں انھیں نصیب ہوں ۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پہلا صدیق کون تھا؟
پہلا صدیق کون تھا؟ بہت سے مفسرین اسلام نے، خواہ وہ شیعہ ہوں یا اہل سنت "والذي جاءبالصدق وصدق به"کی آیت کی تفسیر میں یہ نقل کیا ہے کہ "الذي جاءبالصدق"سے مراد پیغمبر اکرمؐ ہیں اور "صدق به"سے مراد علیؑ ہیں۔ اسلام کے بزرگ مفسر طبری نے مجمع البیان میں اور ابو الفتوح رازی نے روح الجنان میں اس چیز کو آئمہؑ اہل بیت سےنقل کیا ہے۔ اہل سنت کے علماءاور مفسرین کی ایک جماعت نے اسے پیغمبر اسلامؐ سے ابوہریرہ کی وساطت سے یا دوسرے طرق سے روایت کیا ہے۔ مثلًا: علامہ ابن مغازلی نے مناقب میں، غلامہ گنجی نے کفاۃ الطالب میں بمشهور مفسر قرطبی نے اپنی تفسیر میں، علامہ سیوطی نے درالمنشور ميں اور اس ی طرح سے آلوسی نے روح المعانی میں۔( تشریحی نوٹ: مزید واضاحت کے لیے احقاق الحق جلد سوم ص 177 اور المراجعات ص 64 مرجعہ 12 کي طرف رجوع کریں)۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے کہ اس قسم کی تفاسیر روشن ترین اور زیادہ واضح مصادیق بیان کے لیے ہوتی ہیں اور اس میں تو کوئی شک ہی نہیں ہے کہ علیؑ، پیغمبر اسلامؐ کے پیروکاروں اور آپ کی تصدیق کرنے والوں میں سب سے مقدم تھے اور پہلے "صديق"آپؑ ہی ہیں۔ علماءاسلام میں سے کوئی بھی اس حقیقت کا منکر نہیں ہے علیؑ مردوں میں سے شخص ہیں جنھوں نے پیغمبر اسلامؐ کی تصدیق کی ہے بعض کی طرف سے تنقید کی گئی ہے وہ صرف اس بات پر ہے کہ آپؐ ایمان لانے کے وقت 10 یا 12 سال کے تھے اور آپؑ کا اسلام اس عمر میں قانونی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔ لیکن یہ بات ہی عجیب نظر آتی ہے کیونکہ یہ بات کس طرح سے صحیح ہے جبکہ پیغمبر اسلامؐ نے اسے قبول کر لیا ہے اور انھیں اپنا"وزیر"و "وصی"کہہ کر خطاب کیا اور پیغمبر اسلام کے ارشادات میں انھیں بارہا "اول المؤمنين"یا "اولكم اسلامًا"(مومنین میں سے پہلا یا تم میں سے جو سب سے پہلے اسلام لایا ) کے نام کے ساتھ ان کا ذکر کیا ہے کہ جس کے مدارک ہم اہل سنت کے علماءکی کتب سے اسی تفسیر کی چوتھی جلد سورہ توبہ کی آیہ 10 کے ذیل تفصیل سے بیان کر چکے ہیں۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 6بہت سے مفسرین نے نقل کیا ہے کہ مکہ کے بت پرست پیغمبر اکرمؐ کو بتوں کے غیض و غضب سے ڈراتے تھے اور کہتے تھے کہ ان کی بدگوئی نہ کرو اور ان کے بر خلاف اقدام نہ کرو کیونکہ وہ تمھیں دیوانہ کر دیں گے اور تکلیف و اذیت پہنچائیں گے (اس پر مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی اور انھیں جواب دیاگیا)۔(بحوالہ: تفسیرکشاف ، تفسير مجمع البیان ، تفسیر ابوالفتوح رازی اور تفسیر فی ظلال (مختلف تعبیروں کے ساتھ)۔ بعض نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ جس وقت "خالد"پیغمبر اکرمؐ کے حکم پر مشہور بببببت "عزی"کو توڑنے پر مامور هوا تو مشرکین نے :کہا! بتوں کے غضب سے ڈرو کیونکہ ان کا غضب بہت سخت ہے (وہ تجھے لاچار کر دے گا) خالد نے وہ کلہاڑا جو اس کے ہاتھ میں تھا مضبوطی کے ساتھ اس بت کی ناک پر مارا اور اسے توڑ پھوڑ دیا اور کہا: كفرًا لک ياغزی لا سبحانك ـــــ سبحان من اهانک انی رایت الله قد أهانك اے عزی تیری نافرانی اور برائی کرتا ہوں تو ہرگز منزہ اور پاک نہیں ہے منزه وہ ہے جس نے تیری توہین کی ہے، میں نے دیکھ لیا ہے کہ خدا نے تیری اہانت کی ہے۔(بحوالہ: مجمع البیان، زیِربحث آیات کے ذیل میں (کشاف اور قرطبی میں بھی یہ روایت مختصرًا بیان ہوئی ہے)۔ لیکن خالد کی داستان جواصولی طور پر فتح مکہ کے بعد ہونی چا ہیے شان نزول نہیں ہو سکتی کیونکہ سوره زمر ساری کی ساری مکی ہے۔ اس بنا پر ممکن ہے کہ تطبیق کے طور پر ہو۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر: خدا کافی ہے
ان دھمکیوں کے بعد جو خدا نے گزشتہ آیات میں مشرکین کے لیے بیان کی گئی ہیں اور ان وعدوں کے بعد جو اس نے رسول اکرمؐ سے کئے ہیں، پہلی زیِربحث آیت میں کفار کی دھمکیوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: کیا خدا اپنے بندے کی دشمنون سے نجات اور حفاظت کے لیے کافی نہیں ہے لیکن وہ تجھے اس کے غیر سے ڈراتے ہیں (اليس الله بكاف عبده يخوفونك بالذين من دونه). وہ خدا جس کی قدرت تمام قدرتوں نے برتر ہے اور جو اپنے بندوں کی حاجات اور مشکلات سے اچھی طرح واقف ہے اور ان کے لیے انتہائی لطف اور مہربانی رکھتا ہے، کیسے ممکن ہے کہ اپنے ایمان دار بندوں کو حوادث کے طوفان اور دشمنوں کی موجِ عداوت کے مقابلے میں اکیلا چھوڑ د ے، جبکہ وہ اپنے بندے کا پشتیبان ہے۔ اگر تیغ عالم بجنبد ز جای نبرد رگی چوں نخواہد خدای: اگر زمانے کی تلوار اپنی جگہ سے حرکت کرے تو جب تک خدا نہ چاہے وہ رگِ گردن نہیں کاٹ سکتی اور وقت وہ چاہے کسی کی مدد کرے تو: ہزار دشمنم ار می کنند قصد ہلاک گرم تو دوستی از دشمنان ندارم باک اگر میرا دشمن ہزار مرتبہ میری ہلاکت کا ارادہ کرے، اگر توں میرا دوست ہے تو پھر مجھے دشمنوں کا کوئی خوف نہیں ہے۔ چہ جائیکہ یہ بت جو بے قدر و قیمت اور بے خاصیت چیزیں ہیں۔ اگرچہ آیت کی شان نزول مذکورہ روایت کے مطابق بتوں کے غضب سے ڈرانے دھمکانے کے بارے میں ہے، لیکن آیت کا مفهموم اتنا وسیع ہے کہ اس میں غیر خدا کی قسم کی تہدید شامل ہے۔ بہرحال، یہ آیت راہ حق پر چلنے والے تمام سچے مومنین کے سے ایک نوید ہے خصوصًا ایسے ماحول اور معاشرے میں جہاں وہ اقلیت میں ہیں اور انھیں ہر طرف سے دھمکیاں ملتی رہتی ہیں۔ یہ آیت ان کے دلوں کو گرماتی اور اثبات قدم بخشی ہے، نشاط و خوشی سے ان کی روح کو سرشار اور ان کے قدموں کو استوار کرتی ہے۔ اور دشمنوں کی زیاں بار نفسياتی دھمکیوں کو بے کار کر دیتی ہے۔ ہاں! جب خدا ہمارے ساتھ ہے تو پھر ہمیں اس کے غیر سے کیا ڈر ہے اور اگر تم اس سے بے گانہ اور جدا ہو جائیں تو پھر ہر چیز ہمارے لیے وحشت ناک ہے۔ اس آیت کے آخری میں اور بعد والی آیت میں ہدایت و گمراہی کے بارے میں گفتگو ہے اور لوگوں کو دو گروہوں گمراہ اور ہدایت یافتہ میں تقسیم کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ سب کچھ خدا کی طرف سے ہے تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ تمام بندے اس کی بارگاہ کے نیازمند اور محتاج ہیں اور عالم ہستی میں کوئی چیز اس کے چاہے بغیر نہیں ہوتی، فرمایا گیا ہے: اور جسے خدا گمرا کر دے اسے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ہے ( ومن يضلل الله فما له من هاد ). اور جسے خدا ہدایت کرے کوئی شخص اسے گمراہ نہیں کر سکتا۔(ومن يهد الله فما له من مضل )۔ یہ بات ظاہر ہے کہ نہ وہ ضلالت و گمراہی بلا وجہ ہے اور نہ یہ ہدایت بغیر کسی حساب کتاب کے ہے بلکہ ان میں سے ہر ایک خود انسان کی خواہش اور اس کی سعی و کوشش کا ایک تسلسل ہے اگر کوئی شخص گمراہی کی راہ میں قدم رکھتا ہے اور اپنی پوری طاقت کے ساتھ نور حق کو خاموش کرنے کے لیے کوشش کرتا ہے، دوسروں کو غافل کرنے میں کوئی موقع جانے نہیں دیتا اور سر سے لے کر پاؤں تک گناه و عصیان میں غرق ہو جاتا ہے تو یہ بات صاف طور پر ظاہر ہے کہ خدا اسے گمراہ رکھتا ہے، نہ صرف یہ کہ اس سے توفیق ہدایت سلب کر لیتا ہے بلکہ اس کی ادراک اور پہچان کی قوت کو بھی بیکار کر دیتا ہے، اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے اور یہ نتیجہ ہے ان اعمال کا جنھیں وہ انجام دیتا ہے۔ لیکن جو لوگ خلوص نیت کے ساتھ "سير الى الله"کا ارادہ رکھتے ہیں، اس کے اسباب فراہم کرتے ہیں اور ابتدائی قدم اٹھا لیتے ہیں تو ہدایت الٰہی کا نور ان کی مدد کے لیے آگے بڑھتا ہے اور حق کے فرشتے ان کی مدد کو آتے ہیں اور شیاطین کے وسوسوں کو ان کے دلوں سے دور کرتے ہیں، ان کے ارادوں کو قوی اور ان کے قدموں کو استوار کرتے ہیں اور مقامات لغزش پرلطف الٰہی ان کا ہاتھ تھام لیتا ہے۔ یہ ایسے مسائل ہیں جن کے بارے میں قرآن مجید کی بہت سی آیات شاہد و گواہ ہیں، اور کتنے بے خبر ہیں وہ لوگ جو اس قسم کی آیات کا قرآن کی دوسری آیات سے رابط منقطع کر کے انھیں مکتب جبر کا گواہ بناتے ہیں، گویا وہ یہ بات نہیں جانتے کہ آیات قرآنی ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں۔ بلکہ اسی زیِربحث آیت کے ذیل میں اس معنی پر ایک واضح شاہد موجود ہے، کیونکہ فرمایا گیا ہے: کیا خدا قادر اور صاحب انتقام نہیں ہے۔ (اليس الله بعزیز ذی انتقام)۔ ہم جانتے ہیں کہ خدا کی طرف سے انتقام ان غلط اعمال کے مقابلے میں سزا و عذاب کے معنی میں ہے جو انجام دیئے گئے ہیں۔ یا امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس کا گمراہ کرنا سزا کا پہلو رکھتا ہے اور خود انسانوں کے اعمال کا ردعمل ہے نیز طبعی و فطری طور پر اس کی ہدایت بھی اجر و پاداش کا پہلو رکتھی ہے اور خالص و پاک اعمال اور اللہ کی راہ میں مجاہدے کا عکس العمل ہے۔( بحوالہ: راغب مفردات میں کہتاہے کہ "نقمت"، "عقوبت اور سزا کے معنی میں ہے)۔
1- ہدایت اور ضلالت خدا کی طرف سے ہے
لغت میں ہدایت کا معنی دلالت و رہنمائی ہے جو دقیق طور پر اور اس کے ساتھ ہو۔( بحوالہ:مفرادت مادہ "ھدی")۔ اسے دو حصوں تقسیم کیا گیا ہے ایک "ارائه طريق"(راستہ دکھانا) اور "ایصال به مطلوب"دوسرے لفظوں "ہدایت تشریعی"اور"ہدایت تکوینی"۔ (تشریحی نوٹ: غور کیجیے کہ یہاں ہدایت تکونی ایک وسیع معنی میں لی گئی ہے اس میں قوانین کو بیان کرنے اور راستہ دکھانے کے علاوہ ہر طرح کی ہدایت شامل ہے)۔ اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ بعض اوقات انسان ایسے شخص کو پوری دقت اور لطف و عنایت کے ساتھ راستہ دکھاتا ہے۔ جو اس کا طالب ہے، لیکن راستہ طے کرنا اور مقصود تک پہنچنا خود اس کے ذمہ ہوتا ہے۔ لیکن کبھی طالبان مقصد کاہاتھ پکڑ کےکر راستہ دکھانے کے علاوہ اسے مقصد تک بھی پہنچا دیا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں پہلے مرحلے میں صرف قوانین و احکام بیان کر کے راستہ طے کرنے کی شرائط و حالات اور مقصد تک پہنچنے کو بیان کر دیا جاتا ہے، لیکن دوسرے مرحلے میں اس کے علاوہ سفر کے وسائل فراہم کیے جاتے ہیں، رکاوٹوں کو دور کیا جاتا ہے مشکلات حل کی جاتی ہیں اور اس راستے کے مسافروں کی مقصد تک ہمراہی ، حفاظت اور حمایت کی جاتی ہے۔ البتہ اس کا متضاد "اضلال"ہے۔ آیات قرآنی پر ایک اجمالی نگاه ہی اچھی طرح سے واضح کر دیتی ہے کہ قرآن ہدایت و ضلالت کو خدا کا فعل شمار کرتا ہے اور دونوں کی اپنی طرف نسبت دیتا ہے۔ اگر ہم اس سلسلے کی تمام آیات شمار کریں تو بات لمبی ہو جائے گی بس اتنا ہی کافی ہے کہ سورة بقرہ کی آیہ 213 میں یہ بیان ہوا ہے: والله يهدي من يشاءالٰى صراط مستقیم خدا جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت کرتا ہے۔ نیز سورۂ نحل کی آیہ 93 میں یہ بیان ہوا ہے: ولكن يضل من يشاءويهدي من يشاء لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ ہدایت و ضلالت دونوں کے بارے میں یا ان دونوں میں سے ایک کے متعلق ایسی ہی تعیبر قرآن مجید کی بہت سی آیات میں نظر آتی ہے۔(بحوالہ: مثال کے طور پر دیکھے، فاطر-8 ، زمر-33 ، مدثر - 31 ، بقرہ - 272 ، انعام - 88 ، یونس - 25 ، رعد-27 ، اور ابراہیم 4)۔ اس سے بڑھ کریہ کہ بعض آیات میں صراحت کے ساتھ پیغمبر اسلامؐ سے نفی کی ہے اور خدا کی طرف نسبت دی ہے، چنانچہ سورہ قصص کی آیہ 56 میں ہے۔ انك لاتهدى من احببت ولكن الله يهدي من يشاء تو جسے چاہے ہدایت نہیں کر سکتا لیکن خدا جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے۔ سورة بقرہ کی آیہ 272 میں ہے: ليس علياك هداهم ولكن الله يهدي من يشاء انھیں ہدایت کرنا تیرے ذمہ نہیں ہے لیکن خدا جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے۔ ان آیات کے سطحی مطالعے اور ان کے عمیق اور گہرے معنی کا ادراک نہ کرنے کے باعث ایک گروہ ان کی تفسیر کرنے میں گمراہ ہو گیا اور راہ ہدایت سے انحراف کر بیٹھا اور اس نے مکتب جبر کو اختیار کر لیا۔ یہاں تک کہ بعض مشہور مفسر بھی اس آفت سے محفوظ نہ رہ سکے اور اسی ہولناک گڑھے میں جا گرے، یہاں تک کہ انھوں نے ہدایت و ضلالت کو تمام مراحل میں جبری سمجھ لیا اور تعجب کی بات یہ ہے کہ چونکہ اس عقیدہ کا مسئلہ عدالت الٰہی اور حکمت خداوندی سے تضاد واضح تھا لہذا اسے ترجیح دیتے ہوئے اصل عدالت کے ہم منکر ہو گئے تاکہ اپنی غلطی کی اصلاح کر لیں، اصولاً اگر ہم اصول جبر کے قائل ہوں تو پھر شرعی ذمہ داری رسولوں کے بھیجنے اور آسمانی کتابوں کے نازل کرنے کا کوئی مفہوم ہی باقی نہیں رہ جاتا۔ لیکن وہ لوگ جو مکتب اختیار کے طرف دار ہیں ان کا عقیدہ یہ ہے کہ کوئی عقل سلیم اس بات کو قبول نہیں کر سکتی کہ خدا کسی گروہ کو ضلالت و گمراہی کا راستہ طے کرنے پر مجبور کرے اور پھر اس جبری کام کی وجہ سے اسے سزا بھی دے یا کسی گروہ کو ہدایت پر مجبور کرے اور اس کے بعد بغیر کسی وجہ سے انھیں جزا بھی دے اور ایسے کام کی وجہ سے جسے انھوں نے خود سے انجام نہیں دیا ہے انھیں دوسروں پر امتیاز بھی دے، ان لوگوں نے ان آیات کی تفسیر کے لیے دوسرے راستے اختیار کیے ہیں، جن میں سے زیاده اہم حسب ذیل ہیں۔ 1- ہدایت الٰہی سے مراد بات تشریعي ہے، جو وحی، آسمانی کتابوں اور پیغمبروں اور ان کے اوصیاءکے ذریعے اور اسی طرح عقل و جدان کے ادراک سے صورت پذیر ہوتی ہے۔ لیکن تمام مراحل میں راستہ طے کرنا خود انسان کے اپنے ذمہ ہے۔ البتہ یہ تفسیر ہدایت والی بعض آیات کے ساتھ ہم آہنگ ہے لیکن دوسری بعض آیات کی یہ تفسیر نہیں کی جا سکتی کیونکہ وہ صراحت کے ساتھ "ہدایت تکوینی"اور "ایصال به مطلوب"کے بارے میں ہیں۔ مثلاً سورہ قصص کی آیہ 56 میں ہے کہ: تو جس شخص کو پسند کرے ہدایت نہیں کر سکتا لیکن خدا جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے۔ کیونکہ ہم جا نتے ہیں کہ ہدایت شریعی اور راستہ دکھانا پیغمبروں کی اصلی ذمہ داری ہے۔ 2- مفسرین کی ایک اور جمآعت نے ہدایت و گمراہی کی اس مقام پر جہاں وہ تکوینی پہلو رکھتی ہے، جزا و سزا اور بہشت و دوزخ کے راستے تک پہنچانے کے معنی میں تفسیر کی ہے، انھوں نے یہ کہا ہے کہ خدا نیکو کاروں کو بہشت کے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے اور بدکاروں کو اس سے گمراہ کرتا ہے۔ البتہ یہ معنی بھی صرف بعض آیات کے بارے میں صحیح ہے لیکن دوسری آیات کے بارے میں لفظ ہدایت و ضلالت کے مطلق ہونے اور ان میں کسی قسم کی قید و شرط نہ ہونے کی وجہ سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ 3- ایک اور جماعت نے یہ کہا ہے کہ ہدایت سے مراد مقصود تک پہنچنے کے اسباب و مقدمات فراہم کرنا ہے اور ضلالت سے مردان کو مہیا نہ کرنا یا انھیں حذف کرنا ہے بعض نے اسے "توفیق"اور "سلب توفیق"سے تعبیر کیا ہے۔ کیونکہ توفیق سے مراد مقصود تک پہنچنے کے لیے مقدمات کا فراہم ہونا اور سلبِ توفیق انہیں اٹھا لینا ہے۔ اس بنا پر خدا کی بات اس طرح نہیں ہے کا خدا جبری طور پر انسانوں کو مقصد تک پہنچا دے بلکہ اس طرح ہے کہ ا س کے وسائل انھیں مہیا کر دے۔ مثلا اچھے مربی کا ہونا تربیت کے ماحول کا صحیح ہونا، دوستوں اور ساتھ دینے والوں کا صالح و نیک ہونا اور اسی قسم کی دوسری چیزیں سب کی سب مقدمات ہیں لیکن ان تمام باتوں کے باوجود انسان کو ہدایت کا راستہ طے کرنے پر مجبور نہیں کرتا بلکہ وہ ان سب کو پس پشت ڈال کر راہ ضلالت کو اختیار سکتے ہیں۔ لیکن اس تفسیر میں اس سوال کی گنجائش رہ جاتی ہے کہ یہ تو فیقات ایک گروہ کے شامل حال کیوں ہوتی ہیں، جبکہ دوسرا گرده ان سے محروم رہتا ہے۔ اس تفسیر کے طرفداروں کو خدا کے افعال کے حکیمانہ ہونے کی طرف توجہ کرتے ہوئے اس فرق کے دلائل ذکر کرنا پڑیں گے۔ مثلاً یہ کہیں کہ عمل خیر انجام دینا توفیق الٰہی کا سبب بنتا ہے اور اعمال شر انجام دینا انسان سے توفیق سلب کر لیتا ہے۔ بہرحال، یہ ایک اچھی تفسیر ہے لیکن مطلب پھر بھی اس سے زیادہ گہرا ہے۔ 4- دقیق ترین تفسیر جو ہدایت و ضلالت کی تمام آیات سے ہم آہنگ ہے اور ان سب کا مفہوم اچھی طرح سے واضح کرتی ہے بغیر اس کے کہ اس میں کوئی معمولی سا بھی خلاف ظاہر پایا جائے یہ ہے کہ ہم کہیں کہ : ہدایت تشریعی راستہ دکھانے کے معنی میں جنبہ عمومی رکھتی ہے اور کسی قسم کی قید و شرط اس میں نہیں ہے۔ جیسا کہ سورہ دہر کی آیہ 3 میں بیان ہوا ہے کہ : انا هديناه السبل أما شاکرًا و اما کفورًا ہم نے انسان کو راستہ دکھا دیا ہے اب چاہے وہ شکر گزاری کرے یا کفران و ناشکری کرے۔ نیزسورة الشورٰی کی آیہ52 میں یہ بیان ہوا کہ: وانك لتهدي الٰى صراط مستقیم تو تمام انسانوں کو صراط مستقیم کی طرف ہدایت کرتا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ نبی کی دعوت خدا کی دعوت کی مظہر ہے کیونکہ اس کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ خدا کی طرف سے ہے۔ اور منحرفین اور مشرکین کی ایک جماعت کے بارے میں سورہ نجم کی آیہ 23 میں ولقد جاءهم من ربهم الهدٰی خدائی ہدایت پروردگار کی طرف سے ان کے پاس آئی۔ لیکن ہدایت تکوینی جس کا معنی ہے ایصال بہ مطلوب اور بندوں کا ہاتھ پکڑ کر راستے کے تمام پیچ و خم سے گزار کر لے جانا اور ان کی حفاظت کرنا، ساحل نجات تک پہنچانے تک یہ بہت سی دوسری آیات کا موضوع بحث ہے۔ یہ ہدایت ہرگز غیر مشروط نہیں ہے یہ ہدایت ایسے گروہ کے ساتھ مخصوص ہے جس کے اوصاف قرآن میں بیان ہوئے ہیں اور گمراہ کرنا جو اس کا الٹ ہے وہ بھی ایک ایسے گروہ کے ساتھ مخصوص ہے جس کے اوصاف قرآن میں بیان ہوئے ہیں اور گمراہ کرنا جو اس کا الٹ ہے بھی ایک ایسے گروہ کے ساتھ مخصوص ہے کہ جن کے اوصاف بیان ہو چکے ہیں۔ اگربعض آیات مطلق ہیں، لیکن بہت سی دوسری آیات نے ان کی قید و شرط کو دقت کے ساتھ بیان کر دیا ہے اور جس وقت ان مطلق اور مقید آیات کو ایک دوسرے کے ساتھ ملاکر رکھیں تو پھر مطلب پورے طور پر واضح ہو جاتا ہے اور آیات کے معنی میں کسی قسم کا ابہام اور ترد باقی نہیں رہتا اور وہ نہ صرف یہ کہ انسان کے اختیار اور ارادے کی آزادی کے خلاف نہیں ہے بلکہ پوری طرح اس کی تاکید کرتا ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایک وضاحت
قرآن مجید ایک بار کہتا ہے: يضل به كثيرًا ويهدي به كثيرًا ومايضل به الا الفاسقين وه ان ضرب الامثال کے ذریعے بہت سوں کو گمراہ اور بہت سوں کو ہدایت کرتا ہے لیکن فاسقوں کے علاوہ اور کسی کو گمراہ نہیں کرتا۔ (بقره ــــــــــ 26) یہاں ضلالت کا سرچشمہ فسق اور اطاعت و فرمان الٰہی سے خروج کوشمار کیا گیا ہے ایک اور جگہ قرآن کہتا ہے: و الله لا يهدي القوم الظالمين خدا ظالم قوم کو ہدایت نہیں کرتا۔ (بقره ـــــــــ258 )۔ یہاں ظلم کا ذکر ہے اور اسی ضلالت کے لیے میدان ہموار کرنے والے کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ دوسری جگہ ہے: والله لا يهدي القوم الكافرين اللہ کافر قوم کو ہدایت نہیں کرتا۔ (بقره ــــــــــ264 ) یہاں کفر کا گمراہی کے لیے زمین ہموار کرنے والے کے عنوان سے ذکر کیا گیا ہے۔ ایک اور آیت بیان ہوا ہے۔ ان الله لا يهدي من ھو کاذب کفار خدا جھوٹے اور کفران کرنے والے کو ہدایت نہیں کرتا۔ (زمر ـــــــــــ 3)۔ ایک دوسری جگہ آیا ہے:- أن الله لايهدي من هو مسرف كذاب خدا بہت زیادہ جھوٹ بولنے والے اور اسراف کرنے والے کو ہدایت نہیں کرتا۔ (مؤمن ــــــــ 28) یعنی اسراف اور دروغ گوئی گمراہی کے عامل ہیں۔ البتہ ہم نے جو کچھ یہاں پر بیان کیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی آیات کا ایک حصہ ہے، ان آیات میں سے بعض انھیں مفاہیم کے ساتھ مختلف سورتوں میں بار بار آئی ہیں۔ نتیجہ کلام یہ ہے کہ قرآن خدائی ضلالت کو ایسے افراد کے ساتھ مخصوص شمار کرتا ہے جو ان اوصاف کے حامل ہیں ؛ کفر، ظلم ،فسق، دروغ، اسراف اور کفران- کیا وہ لوگ جوان اوصاف کے حامل ہیں وہ ضلالت و گمراہی کے لائق نہیں ہیں؟ دوسرے لفظوں میں جو شخص ان امور کا مرتکب ہوتا ہے کیا اس کے دل پر تاریکی کے پردے نہیں پڑ جاتے؟ زیادہ واضح عبارت میں ان اعمال و صفات کے کچھ آثار میں خواہ مخواہ انسان کو دامن گیر ہو جاتے ہیں، اس کی آنکھ ، کان اور عقل پر، پردہ ڈال دیتے ہیں اور اسے ضلالت و گمراہی کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں۔ چونکہ سب چیزوں کی خاصیت اور تمام اسباب کی تاثیر حکم خدا سے ہے، اسی بنا پر ان تمام مراحل میں گمراہ کرنے کی نسبت خدا کی طرف دی جا سکتی ہے لیکن یہ نسبت بندوں کا عین اختیار اور ارادے کی آزادی ہے۔ یہ بات تو ہوئی ضلالت و گمراہی کے سلسلے میں، باقی رہا ہدایت کے سلسلے میں تو اس کے لیے بھی قرآن میں کئی شرائط و اوصاف بیان ہوئے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ بھی علت و سبب کے بغیر نہیں ہے اور حکمت الٰہی کے بر خلاف نہیں ہے۔ اوصاف کا ایک حصہ جو استحقاق ہدایت پیداکرتا ہے اور لطف الٰہی کھینچتا ہے۔ ذیل کی آیات میں آیا ہے، ایک جگہ بیان ہوا ہے۔ يهدی به الله من اتبع رضوانه سبل السلام ويخرجهم من الظلمات الى النور باذنه ويهديهم الى صراط مستقیم خدا قرآن کے ذریعے ان لوگوں کو جو اس کی رضا و خوشنودی کی پیروی کرتے ہیں، سلامتی کے راستوں کی ہدایت کرتا ہے اور اپنے حکم سے تاریکیوں سے روشنی کی طرف سے جاتا ہے اور انھیں راہ راست کی طرف ہدایت کرتا ہے۔ (مائدہ ــــــــــــــــــ 16)۔ یہاں فرمان خدا کی پیروی اور اس کی خوشنودی کے حصول کو ہدایت الٰہی کے لیے راہ ہموار کرنے والا شمار کیا گیا ہے۔ دوسری جگہ بیان ہوا ہے: ان الله يضل من يشاءويهدي اليه من اناب خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جو شحص اس کی طرف رجوع اور بازگشت کرےاس کی ہدایت کرتا ہے۔ ( رعد ــــــــ 27)۔ یہاں توبہ و انابت کو استحقاق ہدایت کاعامل شمار کیا گیا ہے: ایک دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے: والذین جاهدوا فينا لنهدینهم سبلنا جو لوگ ہماری راہ میں جہاد کریں کہ انھیں اپنے راستوں کی طرف ہدایت کرتے ہیں۔ (عنکبوت ــــــــــــ 69)۔ یہاں پر "جہاد"وہ بھی مخلصانہ جہاد، جوخدا کی راہ میں ہو، ہدایت کی اصلی شرط کے طور پر ذکر ہوا ہے۔ ایک دوسری آیت میں بھی بیان ہوا ہے: والذين اهـتدوا زادهم هدی جنھوں نے ہدایت کے لیے پہلے قدم اٹھا لیے ہیں، خدا ان کی ہدایت میں اضافہ کرتا ہے۔ ( محمد ــــــــــ 17)۔ یہاں راہ ہدایت کی کچھ مقدار کو طے کرلینا ، لطف خدا سے اس راستے سے جاری رہنے کی ایک شرط کے عنوان سے ذکر ہوا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جب تک بندوں کی طرف سے توبہ و انابت نہ ہو، جب تک وہ اس کے فرمان کے پیرو نہ بنیں، جب تک جہاد اور سعی و کوشش نہ کریں اور جب تک راہ حق میں پہلا قدم اٹھائیں لطف الہی ان کے شامل حال نہیں ہوتا اور ان کا ہاتھ پکڑ کر انھیں مطلوب تک نہیں پہنچاتا۔ جو ان اوصاف کے حامل ہیں کیا ایسے افراد کے لیے ہدایت کا حصول بے سبب ہے یا کیا یہ ہدایت کے جبری ہونے کی دلیل شمار ہو گی ؟ آپ دیکھ رہے ہیں کہ قرآن کی آیات اس سلسلے میں بہت واضح اور منہ بولتی ہیں۔ البتہ وہ لوگ جو آیات ہدایت و ضلالت کی صحیح طور سے جمع بندی نہ کر سکے یا انھوں نے جمع کرنا نہ چاہا ہے وہ اس قسم کی خطرناک غلطی میں گرفتار ہو گئے ہیں اور بقولے: چوں ندیدند حقیقت، ره افسانہ زدند (چونکہ حقیقت کو نہ دیکھ پائے لہذا افسانے کی راہ اختیار کرلی) یہ کہنا چاہیے کہ اس "ضلالت"کے لیے زمین انھوں نے خود ہموار کی ہے۔ بہرحال، مشیت الٰہی کی ہدایت و ضلالت کی مذکورہ آیات ہرگز بے دلیل اور حکمت و مصلحت سے خالی مشیت کے معنی میں نہیں ہیں، بلکہ ہر موقع و محل پر اس کی خاص شرائط ہیں جو اسے خدا کے حکیم ہونے کے ساتھ ہم آہنگ کرتی ہیں۔
2- لطف خدا کا ذکر
انسان حوادث کی تند و تیز ہوا کے سامنے گھاس کے ایک تنکے کے مانند ہے اور ہر وقت کسی بھی طرف پھینکا جا سکتا ہے ممکن ہے کہ گھاس کا یہ تنکا کسی پتے یا ٹوٹی ہوئی شاخ کے ساتھ جا ملے لیکں تیز ہوا ان دونوں کو ہی اڑالے جائے، یہاں کہ اگر وہ کسی درخت کے ساتھ جا چپکے تو ممکن ہے کبھی طوفان درخت کو بھی اکھاڑ لے جائے لیکن اگر وہ کسی بہت بڑے پہاڑ کے ساتھ جڑ جائے تو کوئی بھی طوفان اسے اس کی جگہ سے نہیں ہلا سکتا۔ یہ پہاڑ توخدا پر ایمان کا دوسرا نام ہے اور باقی جو کچھ بیان ہوا وہ اس کے غیر پر بھروسہ کرنے کی طرح ہے اور اسی بنا پر مذکررہ بالا آیات میں قرآن کہتا ہے: اليس الله بكاف عبده کیا خدا اپنے بندے کی حمایت کے لیے کافی نہیں ہے؟ اس آیت کے مضمون و مطالب پر توجہ اور ایمان انسان کو بہت زیادہ شجاعت اور اعتماد ذات بخشتا ہے، اس کے دل کو آرام و سکون دیتا ہے تاکہ سخت حوادث کے مقابلے میں پہاڑ کی طرح ڈٹ جائے، دشمنوں کی کثرت سے نہ ڈرے اور ساتھیوں کی کمی سے نہ گبھرائے اور شدید بحران اس کا روحانی سکون درہم برہم نہ کرے جیسا حدیث میں آیا ہے: المؤمن کالجبل الراسخ لا تحركه العواصف مومن مضبوط پہاڑ کی طرح ہے اسے تند و تیز آندھیاں اپنی جگہ سے نہیں ہلا سکتیں۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تمھارے معبود کوئی مشکل حل کر سکتے ہیں؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 6گزشتہ آیات میں مشرکین کے انحرافی عقائد اور ان کے برے نتائج کے بارے میں گفتگو تھی۔ اب زیِربحث آیات میں توحید کے دلائل سے تعلق گفتگو کی گئی ہے تاکہ گزشتہ بحث کو دلیل سے مکمل کیا جائے، نیز گزشتہ آیات میں اس سلسلے میں گفتگو تھی کہ خدا کی حمایت ہی کافی ہے، اس مسئلے کو بھی زیِربحث آیات میں دلیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: اگر توان سے سوال کرے کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو یقینا وہ یہی کہیں گےکہ خدا نے (ولئن سألتهم من خلق السماوات والارض ليقولن الله). کیونکہ کوئی وجدان اور عقل اس بات کو قبول نہیں کرتی کہ یہ وسیع و عریض جہان، اتنی عظمت و بزرگی کے ساتھ کسی زمینی موجودکی مخلوق ہو، چہ جائیکہ بے روح اور بے عقل و شعور بتوں کی مخلوق ہو۔ اس طرح سے قرآن انھیں عقل کے فیصلے اور وجدان و فطرت کے حکم کی طرف لے جاتا ہے تاکہ توحید کی پہلی بنیاد کو کہ جو آسمان و زمین کی خالقیت ہے، ان کے دلوں میں کم کرے۔ بعد والے مرحلے میں انسان کے سود و زیان اور اس کے نفع و نقصان میں تاثیر کو بیان کرتا ہے تاکہ یہ ثابت کرے کہ بت اس سلسلے میں کچھ اثر نہیں رکھتے، مزید کہتا ہے: ان سے کہہ دے، خدا کے علاوہ ان معبودوں کو تم پکارتے ہو کیا تم نے کبھی ان کے متعلق سوچا ہے کہ اگر خدا میرے لیے کسی نقصان کا ارادہ کرے، تو کیا وہ اسے برطرف کر سکتے ہیں یا اگر میرے لیے کسی رحمت کا ارادہ کرے تو کیا ان میں اس کی رحمت کو روک لینے کی طاقت ہے (قل أفرأيتم ما تدعون من دون الله ان ارادني الله بضر هل هن کاشفات ضره او ارادني برحمة هل هن ممسكات رحمته)۔ (تشریحی نوٹ: عام طور مفسرین اور ارباب لغت "افرأيتم"کے جملے کی "خبرونی"(مجھے بتاؤ) کے معنی میں تفسیر کرتے ہیں۔ حالانکہ اس میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ یہان"رؤیت"کی اس کے اصل معنی یعنی آنکھ یا دل سے دیکھنے کے معنی میں تفسیرکی جائے اس بنا پر"کیا تم نے مشاہد کیا"یا "کیا تمھیں معلوم ہوا"کا معنی کیا جا سکتا ہے)۔ اب جبکہ ان کے لئے خالقیت ثابت ہے اور نہ ہی وہ سود و زیان کی کوئی قدرت رکھتے ہیں، تو ان کی پرستش کیا معنی رکھتی ہے؟ مبدءجہان آفرینش اور ہر سود و زیان کے مالک کو چھوڑ کر ان بے خاصیت اور بے شعور موجودات کا دامن کیوں تھاما جائے؟ اور اگران کے معبود باشعور ہوتے جیسے جنات اور فرشتے کہ جن کی بعض بت پرست پرستش کیا کرتے تھے۔تو پھر بھی نہ وہ خالق ہیں اور نہ سود و زیان نے ان کے بس میں ہے۔ یہ وہ منزل ہے جہاں ایک کلی اور آخری نتیجے کے طور پر قرآن کہتا ہے: کہہ دے خدا میرے لیے کافی ہے اور سب توکل کرنے والوں کو اسی پر توکل کرنا چا ہے (قل حسبي الله علیہ یتوكل المتوكلون)۔ یہ بات کہ مشرکین آسمان و زمین کی خالقیت کو خدا کے ساتھ مخصوص سمجھتے تھے بارہا قرآن کی آیات میں بیان ہوئی ہے۔(بحوالہ: عنکبوت 61 ، 63 ، لقمان 31 ، زخرف 9- 87 )۔ یہ چیز اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ بات ان کے نزدیک بلکل مسلمہ تھی اور یہ بات خود شرک کے بطلان پر ایک بہترین سند ہے کیونکہ عالمِ ہستی کی توحید خالقیت و مالکیت و ربوبیت بذاتِ خود توحیدِ عبودیت پر بہترین دلیل ہے اور اس کا نتیجہ خد کی پاک ذات پر توکل اور اس کے غیر سے آ نکھیں پھیر لینا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ابراہیمؑ بت شکن کی سرکش نمرود کے ساتھ مقابلے کے موقع پر اس نے عالم ہستی کی ربوبیت کا دعویٰ کیا اور لوگوں کی موت و حیات کو اپنے ہاتھ میں قرار دیا۔ پھر جب ابراہیمؑ نے کہ کہ اگر تو سچ کہتا ہے تو سورج کو مغرب سے نکل کے دکھا تو وہ مبہوت و خاموش ہو گیا۔ یہ طرز ِ فکر بت پرستوں کے درمیان کم ہی دکھائی دیتا ہے اور یہ نمرود جیسے مغرور بے شعور کے ناتواں دماغ میں ہی پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ اس آیت میں وہ ضمیر جو جھوٹے معبودوں کی طرف لوٹتی ہے اور جمع کے سارے صیغے مؤنث کی صورت میں ( ھن ــــــــــــــــــ کاشفات ـــــــــــــ ممسکات) یہ اسی بنا پر ہے کہ اول تو دنیائے عرب کے مشہور بتوں کے نام مؤنث تھے ( لات ـــــــــــــــــــــــــ منات ـــــــــــــــــــ عزی) دوسرے چونکہ وہ صنفِ مؤنث کے ضعف و ناتوانی کے معتقد تھے لہذا خدا اس بیان کے ساتھ بتوں کی ناتوانی کو خود انہیں کے اعتقاد کے مطابق مجسم کرنا چاہتا ہے۔ تیسری طرف چونکہ بتوں میں بے روح موجودات بہت تھے اور جمع مؤنث کا صیغہ بے جان موجودات کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، اس لیے زیر بحث آیت میں اس سے استفادہ کیا گیا ہے۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ"علیہ یتوکل المتوکلوں"کا جملہ "علیہ"مقدم ہونے کی بنا پر حصر کا معنی دیتا ہے۔ یعنی توکل کرنے والے صرف اسی پر توکل اور بھروسہ کرتے ہیں۔ بعد میں آنے والی آیت میں ان لوگوں کو جو عقل و وجدان کی منطق کے سامنے سر تسلیمِ خم نہیں کرتے، ایک مؤثر تہدیدِ الہی کے ساتھ مخاطب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ان سے کہہ دے : اے میری قوم! تم اپنی جگہ پر رہو اور تم میں جتنی طاقت، قوت اور توانائی ہے وہ انجام دے لو، میں بھی اپنی ذمہ داری پوری کروں گا، لیکن تم بہت جلد حقیقت جان لو گے( قل یا قوم اعملوا علیٰ مکانتکم انی عامل فسوف تعلمون) (تشریحی نوٹ: مکانۃ"کس مادہ سے ہے اور اس کا کیا معنی ہے اس بارے میں اکثر مفسرین اور ارباب لغب کہتے ہیں کہ یہ "کون"کے مادہ سے ہے اور مقام، جگہ اور منزلت کے معنی میں ہے لیکن وہ یہ تصریح کرتے ہیں کہ چونکہ لفظ"مکان"زیادہ تر اسی صورت میں استعمال ہوا ہے لہذا یہ تصور کی اگیا ہے کہ اس میں "میم "اصلی ہے، اس لیے اس کی جمع مکسر"امکنہ"لائی جاتی ہے لیکن لسان العرب میں یہ احتمال ذکر کیا گیا ہے کہ یہ لفظ"مکنہ"اور "تمکن"کے مادہ سے ہے جو توانائی اور قدرت کے معنی میں ہے۔ بہرحال، پہلی صورت میں آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ تم اپنی جگہ پر رہو اور دوسری صورت میں معنی یہ ہو گا کہ جو کچھ تمہاری طاقت، قوت اور بس میں اسے انجام دو،) تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ دنیا میں ذلیل و خوار کرنے والا عذاب کس شخص کے پاس آئے گا اور وہ اس سے رسوا ہو جائے گا ۔ اور اس کے بعد آخرت میں ہمیشہ ہمیشہ کا عذاب اس پر وارد ہو گا (من یأتیه عذاب يخزيه و يحل عليه عذاب مقیم)۔ اس طرح سے ان کے ساتھ آخری بات کی گئی ہے کہ یاتو عقل و خرد کی منطق کے سامنے سرتسلیم خم کر لو اور وجدان کی آواز پر کان دهرو اور یاد و درد ناک عذابوں کے انتظار میں رہو ، ایک دنیا کا عذاب جوخواری و رسوائی کا باعث ہے اور دوسرا آخرت کا عذاب جادوانی اور دائمی ہے اور یہ وہی عذاب ہیں جنھیں تم نے خود اپنے ہاتھ سے فراہم کیا ہے اور یہ ایسی آگ ہے جس کا ایندھن تم نے خود جمع کیا ہے اور اسے خود تم بھڑکایا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: موت اور نیند کے وقت ارواح قبض ہو جاتی ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 6دلائل توحید کے ذکر اور مشرکین و موحدین کا انجام بیان کرنے کے بعد زیر بحث پہلی آیت میں اس طرح حقیقت کی وضاحت کی گئی ہے کہ حق کو قبول کرنے اور نہ کرنے کا سود و زیاں خود تمھارے ہی لئے ہے، اگر اللہ کا نبی اس سلسلے میں اصرار کرتا ہے تو یہ اس بنا پر نہیں ہے کہ اسے اس سے کوئی فائدہ ہو گا بلکہ یہ توصرف فریضۂ الہی کی انجام دی ہے۔ فرمایا گیا ہے: تم نے اس آسمانی کتاب کو حق کے ساتھ تم لوگوں کے لیے نازل کیا ہے (انا انزلنا عليك الكتاب للناس بالحق)۔ (تشریحی نوٹ : "بالحق"ممکن ہے کہ "کتاب"کے لیے حال (انزلنا) میں فاعل کے لئے حال هو - اگرچہ پہلا معنی زیادہ مناسب نظر آتا ہے اس بنا پر آیت کا مفهوم اسی طرح ہے کہ ہم نے قرآن کو اسی حالت میں تجھ پر نازل کیا ہے کہ وہ حق کے ہمراہ اور ہمگام ہے)۔ جو شخص ہدایت قبول کرے گا خود اسی کے فائدے میں ہے اور جو شخص گمراہی اختیار کرے گا تو ا س کا نقصان بھی اسی کو ہو گا۔ (فمن اهتدى فلنفسه ومن ضل فانمايضل علیها)۔ بہرحال، "تو حق کو ان کے دلوں میں جبرًا داخل کرنے پر مامور نہیں ہے"، تیری ذمہ داری توصرف ابلاغ و انذار ہے (وما كانت عليهم بوكيل)۔ جو شخص راہ حق اختیار کرے گا اس کا فائدہ اسی کو پہنچے گا اور جوشخص بے راہ روی اختیار کرے گا اس کا نقصان بھی خود اسی کو ہو گا۔ یہ امر آیات قرآنی میں بارہا بیان ہوا ہے اور یہ اس حقیقت پر ایک تاکید ہے کہ خدا کو نہ تو بندوں کے ایمان کی احتیاج ہے اور نہ ہی ان کے کفر سے اسے کوئی وحشت ہے اور نہ ہی اس کے پیغمبر کو اس سے کوئی وحشت ہے اس نے یہ پروگرام اس لیے مرتب نہیں کیا ہے کہ اس سے اسے کوئی فائدہ ہو، بلکہ اس لیے ہے تاکہ اپنے بندوں پر مہربانی اور کرم کرے۔ "وما انت عليهم بوكيل"کی تعبیر (اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ وکیل یہاں اس شخص کے معنی میں ہے۔ جو گمراہوں کے ایمان لانے کی ذمہ داری رکھتا ہو) قرآنی آیات میں اسی عبارت کے ساتھ یا اس کے مشابہ عبارت سے بارہا تکرار ہوئی ہے اور یہ اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ پیغمبر اکرمؐ لوگوں کے ایمان لانے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ اصولاً ایمان جبر کے ساتھ ہوتا ہی نہیں۔ نبی تو صرف اس بات کا ذمہ دار ہے کہ خدا کا فرمان لوگوں تک پہنچانے میں لمحہ بھر بھی کوتاہی اور سستی نہ کرے، چاہے وہ اسے قبول کریں یا اس سے روگرداں ہو جائیں۔ اس کے بعد یہ واضح کرنے کے لیے کہ انسانوں کی ہر چیز، جن میں ان کی موت وحیات بھی ہے، خدا ہی کے ہاتھ میں ہے فرمایا گیا ہے: خدا ارواح کو موت کے وقت قبض کر لیتا ہے۔ (اللہ يتو في الانفس حین موتها )۔ (تشریحی نوٹ: "توفي"کا معنی قبض کرنا اور پورے طور پر پکڑ لینا ہے اور "انفسی"یہاں اوراح کے معنی میں ہے۔ "يتوفی "کے قرینہ سے)۔ اور ان ارواح کو جن کی موت نہیں آئی ہوتی نیندیں میں کر لیتا ہے ( والتي لم تمت في منامها)۔( تشریحی نوٹ:"منام"مصدری معنی رکھتا ہے اور "نوم "نیند کے معنی میں ہے)۔ اس طرح سے "نیند"، "موت"کی بہن ہے اور اس کی ایک کمزور شکل ہے، کیونکہ نیند کے وقت روح کا جسم سے رابطہ بہت ہی کم رہ جاتا ہے اور ان دونوں کے بہت سے رشتے منقطع ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: کہ ان کی ارواح کو جن کی موت کا حکم صادر کر چکا ہے روک لیتا ہے (اس طرح سے کہ وہ ہرگز نیند سے بیدار نہیں ہوتے) اور جن کی حیات کے برقرار رہنے کا فرمان دے چکا ہے ان کی ارواح انھیں بدنوں کی طرف لوٹا دیتا ہے جو ایک معین مدت تک رہیں گی (فيمسك التي قضٰى عليها الموت ويرسل الاخرٰي الٰى اجل مسمًی)۔ ہاں اس مسئلے میں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں واضح آیات اور نشانیاں ہیں (ان في ذالك لآيات لقوم يتفكرون). ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس آیت سے درج ذیل امور کا بخوبی علم ہو جاتاہے۔ 1- انسان روح اور جسم سے مرکب ہے، روح ایک غیر مادی جوہر ہے جس کا جسم کے ساتھ ارتباط اس کے لیے نور اور حیات کا سبب ہے۔ 2- موت کے وقت خدا اس رابط کو منقطع کر دیتا ہے اور روح کو عالم ارواح کی طرف لے جاتا ہے اور نیند کے وقت بھی اس روح کو قبض کر لیتا ہے۔ لیکن اس طرح سے نہیں کہ بالکل ہی رابطہ منقطع ہو جائے۔ اس بنا پر روح بدن کے لیے تین حالتیں رکھتی ہے۔ (ارتباط تام (حیات و بیداری کی حالت)، ارتباط ناقص (نیند کی حالت) اور کامل طور پر ارتباط کا منقطع ہونا (موت کی حالت) 3- نیند، موت کی کمزورحالت ہے اور موت نیند کامکمل نمونہ ہے۔ 4- نیند روح کے استقلال اور اصلت کی دلیل ہے، خصوصًاجب کو خواب اور وہ بھی سچے خواب کے ساتھ ہو تو پھر یہ معنی زیادہ واضع ہو جاتا ہے۔ 5- بعض ارواح کا جب نیند کی حالت میں ان کا جسم کے ساتھ رابطہ کمزور ہو جاتا ہے تو کبھی تو یہ ارتباط ممکل انقطاع کی صورت اختیار کر لیتا ہے، اس طرح سے کہ وہ سونے والے پھر کبھی بیدار نہیں ہوتے، لیکن دوسری روحیں نیند اور بیداری کی حالت میں متحرک رہتی ہیں یہاں تک کہ حکم الٰہی نہ آپہنچے۔ 6- اس بات کی طرف توجہ کہ انسان ساری رات نیند کے وقت موت کے آستانہ پر ہوتا ہے ایک درس عبرت ہے کہ اگر وه اس میں غور و فکر کرے تو اس کی بیداری کے لیے کافی ہے۔ 7- یہ تمام امور خدا کی قدرت کے ہاتھوں انجام پاتے ہیں اور اگر دوسری آیات میں "ملک الموت"اور موت کے فرشتوں کے ہاتھوں قبض روح کی بات آئی ہے تو وہ ا س لحاظ سے ہے کہ وہ حق تعالٰی کے فرمان کی تعمیل کرنے والے اور اس کے اوامر کو جاری کرنے والے ہیں اور ان دونوں مفاہیم کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے۔ بہرحال، یہ جو آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ "اس میں ایسے لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں، واضح نشانیاں ہیں"۔ اس سےمراد خدا کی قدرت کی نشانیاں، مبدءومعاد کا مسئلہ اور خدا کے ارادے کے سامنے انسان کی کمزوری و ناتوانی ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ گزشتہ آیت میں انسان کے وجود پر اللہ کی حاکمیت اور موت و حیات اور خواب و بیداری کے نظام کے ذریعے اس کی تدبیر مسلم ہو چکی ہے۔ لہذا بعد والی آیت میں مسئلہ شفاعت میں مشرکین کے انحراف کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ ان پر ثابت کیا جائے گا شفاعت کا مالک وہی ہے جو موت و حیات کا مالک ہے نہ کہ بے شعوربت - فرمایا گیا ہے: انھوں نے خدا کے علا وہ شفیع بنا لیے ہیں (ام اتخذوا من دون الله شفعاء)۔ (تشریحی نوٹ: "ام"یہاں منقطعہ ہے اور "بل"کے معنی میں ہے اور اگر متصل ہو تو اس کے مقابلے میں دوسرا "اما"مقدر ماننا پڑے گا جو خلاف ظاہر ہے)۔ ہم جانتے ہیں کہ بتوں کی عبادت کے بارے میں بت پرستوں کے مشہور بہانوں میں سے ایک یہ تھا کہ وہ یہ کہتے تھے:- ہم تو ان کی اس لیے پرستش کرتے ہیں تاکہ وہ اللہ کے ہاں ہمارے شفیع ہوں۔ جیسا کہ اسی سورہ کے شروع میں بیان ہواہے:- مانعبدهم الا ليقربونا الى الله زلفي (زمر ـــــــــــ 3) چاہے اس بنا پر کہ وہ بتوں کو فرشتوں اور ارواح مقدسہ کی تمثال اور مظاہر سمجتے تھے اور چاہے اس لیے کہ وہ ان بے جان پتھروں اور لکڑیوں کے لیے کسی پر اسرار قدرت کے قائل تھے۔ بہرحال، شفاعت اولاً فہم و شعور کے ادراک کی فرع ہے اور ثانیًا قدرت، مالکیت اور حاکمیت کی فرع ہے لہذا آیت کے آخر میں ان کے جواب میں فرمایا گیا: ان سے کہہ دے کہ کیا ان سے شفاعت طلب کرتے ہوا چاہے وہ کسی بھی چیز کے مالک نہ ہوں، یہانتک کہ کچھ ادراک و شعور بھی نہ رکھتے ہوں ( قل اولو كانوا لا يملكون شيئا ولا يعقلون)۔ (تشریحی نوٹ: "اولو كانوا لا يملكون شيئا"کا جملہ کچھ مقدار رکھتا ہے اور معنی کے لحاظ سے اس طرح ہے:- ایشفعون لكم ولو كانوا لايملكون شيئا )۔ اگر تم فرشتوں اور ارواح مقدسہ کو اپنے شفیع سجھتے ہو تو وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں رکھتے، ان کے پاس جو کچھ ہے خدا کی طرف سے ہے اور اگر پتھر اور لکڑی کے بتوں سے شفاعت طلب کرتے ہو تو وہ عدم مالکیت کے علاوہ بے عقل و بے شعور بھی ہیں۔ ان بہانوں کو چھوڑ دو اور ایسی ذات کی طرف رخ کرو جس کی مالکیت و حاکمیت تمام عالم ہستی پر محیط ہے اور ہر چیز کی انتہا اسی کی ذات پاک پر ہوتی ہے۔ اس لیے بعد والی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے: کہہ دے! کہ تمام شفاعت خدا ہی کے لیے ہے ( قل للہ الشفاعۃ جمیعاً) کیونکہ زمین و آسمان کی مالکیت و حاکمیت اسی کے لیے ہے اور پھر تم سب کے سب اسکی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔( لہ ملک السموات و الارض ثم الیہ ترجعون) اور اس طرح سے قرآن انہیں کلی طور پر غیر مسلح کر دیتا ہے، چونکہ وہ توحید جو سارے عالم پر حاکم ہے وہ کہتی ہے کہ شفاعت بھی پروردگار کے اذن و حکم کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ من ذا الذی یشفع عندہ الا باذنہ کون ہے جو اسکے پاس اس کے اذن و فرمان کے بغیر شفاعت کرے ۔ ( بقرہ ـــــــــــــــــــــــــــــ 255) یا بعض مفسرین کے قول کے مطابق بنیادی طور پر شفاعت کی حقیقت خد کے اسماءحسنیٰ سے توسل ہے یعنی اس کی رحمانیت، غفاریت اور ستاریت سے توسل ہے، اس بنا پر ہر قسم کی شفاعت آخر کار اسی کی ذات پاک کی طرف لوٹتی ہے۔ لہذا جب صورت حال یہ ہو تو اس کے اذن کے بغیر اس کے غیر سے کس طرح سا شفاعت طلب کی جاسکتی ہے۔( بحوالہ: المیزان جلد 17، ص 286)۔ "ثم الیہ ترجعون "( پھر تم اس کی طرف لوٹو گے) کے جملے کا اس کے ما قبل سے ارتباط کے بارے میں مفسرین کے مختف بیانات نظر آتے ہیں۔ مثلاً 1- یہ جملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نہ صرف اس دنیا میں شفاعت خدا کے اختیار میں ہے بلکہ آخرت میں بھی شفاعت نیت اسی کے ساتھ مخصوص ہے اور اسی کی جانب سے ہے۔ لہذا مشرکین کی طرح مشکلات کا حل اور مصائب کی دوری کے لیے غیر خدا کی طرف رجوع نہیں کرنا چاہیے۔ 2- یہ جملہ شفاعت کے خدا کے ساتھ مخصوس ہونے کی ایک اور دلیل ہے کیونکہ پہلی دلیل میں خدا کی مالکیت کا ذکر ہوا ہے اور یہاں تمام چیزوں کی اس کی طرف باز گشت کا ذکر ہے۔ 3- یہ مشرکین کے لیے ایک تہدید اور دھمکی ہے اور ان سے کہ کہا جا رہا ہے کہ تم خدا کی طرف لوٹ جاؤ گے اور اسکے ہاں تم اپنے برے اور قبیح افکار و اعمال کا نتیجہ دیکھو گے ۔ یہ تمام تفسریں مناب ہیں اگرچہ پہلی اور دوسری زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔
1- نیند کا اسرار آمیز عالم
نیند کی حقیقت کیا ہے اور کیا ہو جاتا ہے کہ انسان سو جاتا ہے؟ اس سلسلہ میں ماہرین نے بہت بحث کی ہے: بعض اس کو خون کے اہم حصے کے دماغ سے نکل کر بدن کے دوسرے حصوں میں انتقال کا نتیجہ سمجھتے ہیں اور اسی طرح سے وہ اس کے لیے طبیعیاتی عامل کے قائل ہیں۔ بعض دوسروں کا نظریہ یہ ہے کہ جسم کی زیادہ کارکردگی کی وجہ سے ایک خاص زہریلا مواد بدن میں جمع ہو جاتا ہے اور یہی چیز نظام اعصاب پر اثر انداز ہوتی ہے اور انسان پر نیند کی حالت طاری ہو جاتی ہے اور جب تک وہ زہر تحلیل ہو کر بدن میں جذب نہیں ہو جاتا یہ حالت برقرار رہتی ہے۔ اس طرح سے وہ اس کے لیے کیمیائی عامل کے قائل ہیں۔ ایک اور گروہ نیند کے لیے ایک قسم کے اعصابی عامل کا قائل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ اعصاب کی خاص فعال مشین جو انسان کے دماغ کے اندار ہے اور جو اعضاءکی حرکات کا مبدءہے، وہ زیادہ تھکان کے زیر اثر بے کار اور معطل ہو جاتا اور خاموش ہو جاتا ہے۔ لیکن ان میں سے کوئی نظریہ بھی نیند کے مسئلے تسلی بخش جواب نہیں دے سکا، اگرچہ ان عوامل کی اجمالی طور پر تاثیر کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ جو چیز اس بات کا سبب بنی ہے کہ موجودہ ماہرین نیند کی واضح تفسیر بیان کرنے عاجز رہ گئے ہیں وہ ان کا ویی مادی تفکر ہے، وہ چاہتے ہیں کہ اس مسئلے کی روح کے استقلال اور اصالت کو قبول کیے بغیر تفسیر کریں۔ حالانکه ننید اس سے پہلے کہ وہ ایک جسمانی پیدا ہونے والی چیز ہو ایک روحانی چیز ہے جس کی روح کی صحیح شناخت کے بغیر تفسیر کرنا ناممکن ہے۔ قرآن مجید نے مذکورہ بالا آیات میں نیند کے مسئلے کی ایک دقیق ترین تفسیر بیان کی ہے، کیونکہ وہ کہتا ہے کہ نیند ایک قسم کا قبض روح اور روح کی جسم سے جدائی ہے لیکن مکمل جدائی نہیں۔ اس طرح سے جسں وقت حکم خدا سے انسان کے بدن سے روح کا پر تو ختم ہو جاتا ہے اور اس جسم کے اوپر اس میں سے ایک ہلکی سی شعاع کے سوا کچھ نہیں رہتا تو ادراک و شور کی مشینری معطل ہو جاتی ہے اور انسان کی حس و حرکت رک جاتی ہے۔ اگرچہ کچھ عمل جو اس کی حیات کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں، مثلاً دل کا دھڑکنا اور خون کی گردش اور عمل تنفس و تغدیہ برقرار رہتا ہے۔ ایک حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے قول ہے:- ما من احد ينام الا عرجت نفسه الى السماءو بقيت روحه في بدنه، و صار بينهما سبب کشعاع الشمس، فان أذن الله في قبض الروح اجابت الروح النفس ، وان اذن الله في رد الروح اجابت النفس الروح فهو قوله سبحانہ الله يتوفي الانفس حین موتھا۔.... جو شخص سو جاتا ہے، اس کا نفس آسمان کی طرف صعود کر جاتا ہے اور روح اس کے بدن میں رہ جاتی ہے اور ان دونوں کے درمیان سورج کی شعاعوں کی طرح ربط قائم رہتا ہے۔ جس وقت خدا انسان کی روح کے قبض کرنے کا حکم صادر فرماتا ہے تو روح نفس کی دعوت قبول کر لیتی ہے اور اس کی طرف پرواز کے جاتی ہے لیکن جب خدا روح کو واپسی کی اجازت دیتا ہے تو پھر نفس روح کی دعوت قبول کر لیتا ہے اور بدن کی طرف لوٹا آتا ہے اور یہی معنی ہے اور خداند سبحان کے ارشاد کا جو فرماتا ہے: الله يتو فى الانفس حین موتها۔(بحوالہ: مجمع البیان زیِربحث آیہ کے ذیل میں اور تفسیر صافی)۔ ( تشریحی نوٹ:اس بات کی طرف توجہ رہے کہ اس روایت میں "روح"سے مراد روح حیوانی اور بدن کی اصلی مشینری کا کام کرنا ہے اور "نفس"انسانی کے معنی میں ہے)۔ یہاں ضمنی طور سے خواب کے بار ے میں ایک اور اہم مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے کیونکہ بہت سے ایسے خواب میں جو بعینہ یا تھوڑے سے تغیرکے ساتھ خارج میں واقع ہو جاتے ہیں۔ مادی تفسیریں اس قسم کے خوابوں کی توجیہ کرنے سے عاجز ہیں، جبکہ روحانی تفسیریں اس مسئلے کو اچھی طرح سے راضح کر سکتی ہیں، کیونکہ انسان کی روح بدن سے جدا ہونے اور عالم ارواح سے ارتباط کے وقت بہت سے گزشتہ اور آئندہ سے مربوط حقائق جان لیتی ہے اور یہی وہ چیز ہے جو سچے خوابوں کی بنیاد ہے۔ (مزید وضاحت کے لیے تفسیر نومونہ کی جلد 9 سورة یوسف کی آیہ 4 کے ذیل میں رجوع فرمائیں جہاں اس سلسلے میں تفصیل کے ساتھ بحث کی گئی ہے)۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
2- "نیند"، اسلامی روایات کی رو سے
جو روایات مفسرين نے زیر ربحث آیات کے ذیل میں ذکر کی ہیں ان سے اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ اسلام میں "نیند"روح کی عالم ارواح کی طرف حرکت کو کہا گیا ہے اور "بیداری"روح کی بدن کی طرف واپس اور ایک قسم کی حیات مجدد ہے۔ ایک حدیث میں امیر المومنین علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپؑ اپنے اصحاب کو اس طرح تعلیم دیتے تھے: لا ينام المسلم وهوجنب، لا ينام الا على طهور، فان لم يجد الماءفليتيم بالصعيد، فان روح المؤمن ترفع الی الله تعالى فيقبلها ویبارك عليها، فان كان اجلها قد حضر جعلها في كنوز رحمته وان لم یکن اجلها قدحضر بعث بها مع أمنائه من ملائكته، فيردونها في جسده مسلمان کو چاہیے کہ وہ حالت جنابت میں نہ سوئے، وضو کی طہارت کے بغیر بستر پر نہ جائے، اور اگر پانی نہ ہو تو تیمم کر لے کیونکہ مومن کی روح خداوند تعالٰی کی طرف اوپر کو جاتی ہے وہ اسے قبول کرتا اور برکت دیتا ہے، اگر اس کی اجل آخر کو پہنچ گئی ہو تو اسے اپنی رحمت کے خزانوں میں قرار دیتا ہے اور اگر اجل آخر کو نہ پہنچی ہو تو اپنے امین فرشتوں کے ساتھ اس کے بدن کی طرف پلٹا دیتا ہے۔( بحوالہ:خصال صدوق (نوالثقلین جلد 4 ص 488 کے مطابق)۔ ایک اور حدیث میں امام باقرؑ سے اس طرح منقول ہے: اذا قمت بالليل من منامك فقل: الحمد لله الذي رد على روحي لاحمده واعبده جس وقت رات کو نیند سے بیدار ہو تو اس طرح کہہ: الحمد لله الذي رد على روحي لاحمدہ و اعبدہ. (یعنی حمد خاص خدا کے لیے ہے جس نے میری روح کو میری طرف لوٹایا تاکہ میں اس کی حمد و ثناءاس کی عبادت کروں)۔ (بحوالہ: اصول کافي (والثقلین جلد 4 ص 488 کے مطابق)
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 48 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 48 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 48 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: وہ لوگ جو خدا کے نام سے گھبراتے ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 6ان آیات میں پھر توحید اور شرک کے متعلق گفتگو ہو رہی ہے۔ پہلی زیر بحث آیت میں مشرکین اور معاد کے منکرین کا توحید کے مقابلے میں ایک انتهائی قبیح اور برا چہرہ دکھاتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جس وقت خدائے یگانہ و یکتا کا نام لیا جائے تو ان لوگوں کے دل جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے متنفر بو جاتے ہیں لیکن جب دوسرے معبودوں کے بارے میں کوئی گفتگو ہوتی ہے تو سرور میں ڈوب جاتے ہیں (واذا ذكر الله وحده اشمازت قلوب الذين لا يؤمنون بالأخرة واذا ذكر الذين من دونه اذاهم يستبشرون)۔ (تشریحی نوٹ: "اشمأزت"، "اشمنزاز"کے مادہ سے گرفتگی اور کسی چیز ہے تنفرکے معنی میں ہے وحد منصوب منصوب یا مفعول مطلق کے عنوان سے)۔ کبھی انسان برائیوں کا ا س طرح سے عادی ہو جاتا ہے اور پاکیزگیوں اور نیکیوں سے ایسا بیگانہ ہو جاتا ہے کہ حق کا نام سننے سے ناراحت اور متنفر ہوتا ہے اور باطل کے ذکر سے مسرور اور خوش ہوتا ہے جو خدا عالم ہستی کا پیدا کرنے والا ہے اس کے سامنے سر تعظیم نہیں جھکاتا، لیکن پتھر اور لکڑی کے ٹکڑے کے سامنے جو اس کا اپنا بنایا ہوا ہے یا انسانوں اور اپنے ہی جیسے دوسرے موجودات کے آگے زانوئے ادب جھکا دیتا ہے اور ان کی تعظیم و تکریم کرتا ہے۔ اسی معنی کے مشابہ سورة بنی اسرائیل کی آیہ 46 میں بھی ہے: واذا ذكرت ربك في القرأن وحده ولوا علٰى ادبارهم نفورًا جس وقت تو اپنے پروردگار کا قرآن میں وحدانیت کے ساتھ ذکر کرتا ہے تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ خدا کے عظیم پیغمبر نوحؑ اس قسم کے کج فکروں کی بارگاہ خداوندی میں شکایت کرتے ہوئے کہتے ہیں:- واني كلما دعوتهم لتغفر لهم جعلوا أصابعهم في آذانهم واستغشوا ثیابهم واصروا واستكبروا استكبارًا خداوندا! جب بھی میں نے انھیں دعوت دی کہ وہ تیری بارگاہ میں آئیں تاکہ تو انھیں بخش دے تو انھوں نےاپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں اور اپنے سر اور چہرے کو کپڑے سے ڈھانپ لیا تاکہ وہ میری آواز نہ سن سکیں اور انھوں نے گمراہی کی راہ میں اصرار کیا اور بہت شدت کے ساتھ تکبر و استکبار کیا۔ (نوح ــــــــــ 7) ہاں! ہٹ درهم تعصب کرنے والوں اور مغرور جاہلوں کا یہی حال ہے۔ ضمنی طور پر کی آیت سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ اسی گروہ کی بد بختی کا سرچشمہ دو چیزیں تھیں، اصول توحید کا انکار اور آخرت پر ایمان نہ رکھنا- ان کے مدمقابل وہ مومن ہیں جو خداوند یگانہ کا نام سن کر اس کے مقدس نام کی طرف اس طرح کھنچتے اور جذب ہوتے ہیں کہ وہ اپنی ہرچیز اس کی راہ میں نثار کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ محبوب کا نام ان کے کام و دہن کو شیریں۔ ان کے مشام جاں کو معطر اور ان کے سارے دل کو روشن کر دیتا ہے، نہ صرف اس کا نام بلکہ ہر وہ چیز جو اس سے ارتباط اور تعلق رکھتی ہے ان کے لیے سرور آفرین ہے۔ یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ یہ صفت زمانہ پیغمبرؐ کے مشرکین کے ساتھ مخصوص تھی بلکہ ہر زمانے میں ایسے تاریک دل منحرفین ہوتے ہیں جو خدا کے دشمنوں کے نام اور الحادی مکاتب فکر اور ظالموں کی کامیابی کا ذکر سننے سے خوش ہوتے ہیں لیکن نیک اور پاک لوگوں، ان کے پروگراموں اور کامیابیوں کا نام ان کے لیے تکلیف دہ ہوتا ہے۔ اس لیے بعض روایات میں اس آیت سے ایسے لوگ مراد لیے گئے ہیں جو اہل بیتؑ پیغمبر ؐکے فضائل سننے سے یا ان کے مکتب کی پیروی سے ناراحت اور پریشان ہو جاتے ہیں۔( بحوالہ: اصول کافی اور روضہ کا في (نورالثقلين جلد ص 490 کے مطابق)۔ جب گفتگو یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ یہ ہٹ دھرم گروہ اور مغرور جاہل خداوند یگانہ کا نام تک بھی سننے سے متنفر و بیزار ہیں تو اللہ اپنے پیغمبرؐ کو حکم دیتا ہے کہ ان سے منہ پھیرے اور اپنے پوروردگار کی بارگاہ کی طرف رخ کر لے، اس سے ایسے لب و لہجہ کے ساتھ گفتگو کر جو اس کے عشق سے سرشار اور گہرے ایمان کا ترجمان ہے اور اس کی بارگاہ میں اس گروہ کی شکایت کرتا کہ اپنے دل کو بھی جو غم زده ہے آرام و سکون دے سکے اور اس طریقہ سے سوئے ہوئے غافل انسانوں کی ارواح کو بھی ہلا سکے۔ فرمایا گیا ہے، کہہ دے : خداوندا ! اے وہ کہ جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور پنہاں و آشکار بھیدوں سے آگاہ ہے، تو ہی اپنے بندوں کے درمیان ان باتوں کے لیے جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے فیصلہ کرے گا (قل اللهم فاطر السماوات والارض عالم الغيب والشهادة انت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفنون)۔ ( تشریحی نوٹ: (فاطر السماوات ) منصوب ہے مناوائی مضاف کے عنوان سے)۔ ہاں قیامت کا دن، جو تمام اختلافات اٹھ جانے کا دن ہے اور پوشیدہ حقائق ظاہر ہو جانے کا دن ہے، اس دن حاکم مطلق اور فرمانروا تو ہی ہے، تو ہی سب چیزوں کا خالق ہے اور ان کے اسرار سے بھی آگاہ ہے، وہاں تیرے فیصلے سے اختلافات ختم ہو جائیں کے اور یہ ہٹ دھرم گمراہ اپنی غلطی کو سمجھ لیں گے اور وہاں فکر و نظر کی تلافی ہو جائے گی، لیکن انھیں کیا فائده ؟ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ جیسا کہ بعد والی آیت میں فرمایا گیا ہے: "اگر ظالم ان تمام چیزوں کے مالک ہو جائیں جو روئے زمین پر ہیں اور اتنا ہی ان کے پاس اور بھی ہو تو وہ یومِ قیامت کے عذاب سے رہائی حاصل کرنے کے لیے ان سب کو قربان کرنے کے لیے تیار ہو جائیں گے( لیکن ایسی بات ممکن نہیں ہے)۔ ( ولو ان للذین ظلموا ما فی الارض جمیعاً و مثلہ معہ لا فتدوا بہ من سوءالعذاب یوم القیامۃ) "ظلم"یہاں ایک وسیع معنی رکھتا ہے کہ اس میں شرک بھی شامل ہے اور دوسرے مظالم بھی۔ اس کے بعد مزید اشارہ ہوتا ہے: خدا کی طرف سے ان کے لیے ایسے امور ظاہر ہوں گے جن کا وہ کبھی گمان بھی نہیں کرتے تھے (و بدا لھم من اللہ ما لم یکونوا یحتسبون) اور وہ ایسے عذابوں کی اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے جو ہرگز ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوں گے۔ علاوہ ازیں، وہ صرف لطفِ خداوندی کی وجہ سے مغرور تھے، جب کہ وہ اس کے غصے، غضب اور مقہوریت سے غافل تھے۔ وہ دیدہ و دانستہ ایسے اعمال انجام دیا کرتے تھے جنہیں وہ نیکیاں سمجھا کرتے تھے، حالانکہ بعض اوقات وہ گناہاںِ کبیرہ میں سے ہوتے بہرحال، ان جہات میں ایسے مسائل ان کے لیے ظاہر ہوں گے جنہیں وہ کبھی بھی باور نہیں کرتے تھے۔ یہ ٹھیک نیکی کے اس وعدے کا الٹ ہے جو مومنین سے کیا گیا ہے اور فرمایا گیا ہے۔ فلاتعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین کوئی نہیں جانتا کہ ان کے لیے کیسے کیسے اجر پنہاں کر کے رکھے گئے ہیں جو ان کی آنکھوں کی روشنی اور ٹھنڈک کا سبب ہیں۔ ( الم سجدہ ــــــــــــــــــــــــــــــــــ 17) منقول ہے کہ ایک مسلمان موت کے وقت بہت ہی بے تابی اور جزع و فزع کر رہا تھا ۔ جب لوگوں نے اس کا سبب پوچھا تو اس نے کہا میں اس آیت کے بارے سوچ رہا ہوں کہ خدا فرماتا ہے۔ و بدا لھم من اللہ ما لم یکونوا یحتسبون وحشت اور پریشانی نے مجھے گھیر رکھا اور میں اس بات سے ڈر رہا ہوں کہ کہیں خدا کی طرف سے میرے لیے ایسے امور آشکارہ و ظاہر نہ ہو جائیں جن کا میں کبھی گمان بھی نہیں رکھتا تھا۔ ( بحوالہ: تفسیر مجمع البیان اور تفسیر قرطبی، زیر بحث آیات کے ذیل میں)۔ بعد والی آیت اس مطلب کی توضیح یا تکمیل ہے جو پہلی آیت میں گزر چکا ہے۔ فرمایا گیا ہے: اس دن وہ برے اعمال جنہیں انھوں نے انجام دیا ہے ان کے لیے ظاہر ہو جائیں گے ( و بدال ھم سیات ما کسبوا) اور جس چیز کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے وہی انھیں آ کر گھیر لے گی ( و حاق بھم ما کانوا بہ یستھزءون) درحقیقت ان آیات میں مشرکین اور ظالموں سے مربوط چار باتیں بیان ہوئی ہیں؛ پہلی یہ کہ اس دن عذاب الٰہی کا ہول و وحشت اس قدر زیادہ ہو گا کہ اگر ان کے پاس روئے زمین کی ثروت و اموال کا دگنا بھی ہو تو وه عذاب سے رہائی پانے کے لیے تمام کا تمام دینے پر تیار ہو جائیں گے لیکن وہاں کچھ نہ بن پائے گا۔ دوسری یہ کہ خدا کی سزاؤں کی وہ اقسام جو کبھی بھی ان کے ذہن میں نہیں آئی تھیں ان کے سامنے ظاہر ہو جائیں گی۔ تیسری یہ کہ ان کے برے اعمال ان کے سامنے آحاضر ہوں گے اور مجسم ہو جائیں گے۔ چوتھی یہ کہ جس بات کو معاد کے سلسلے میں مذاق سمجھتے تھے اسے حقیقت عینی کی صورت میں دیکھ لیں گے اور نجات کے تمام دروازے ان کے لیے بند ہو جائیں گے۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ قرآن کہتا ہے کہ "ان کے برے اعمال آشکار ہو جائیں گے"یہ آیت تجسم اعمال کے مسئلہ پر ایک دلیل ہو گی کیونکہ یہ لازم و ضروری نہیں ہے کہ لفظ مجازات اور کیفر کو مقدر مانا جائے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 52 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 52 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 52 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: سختیوں میں یادِ خدا، لیکن
Tafsīr Nemūna · Vol. 6یہاں پھر موضوع سخن ہے ایمان اور ظالم لوگ ہیں اور ان کے قبیح چہروں میں سے ایک اور چہرہ دکھایا جا رہا ہے۔ پہلے فرمایا کیا ہے: جب انسان کو کوئی ضرر یا نقصان پہنچتا ہے (اور کوئی درد و ر نج و فقر پہنچتا ہے) تو اپنی مشکل کے حل کے لئے مجھے پکارتا ہے (فاذ امس الانسان ضردعانا)۔ وہی انسان جو گزشتہ آیات کے مطابق خدائے یگانہ کا نام سننے پر اظهار تنفر کرتا تھا، ہاں ! وہي انسان حوادث میں گرفتاری کے وقت لطف الہی کے سایے میں پناہ لیتا ہے۔ لیکن وه بھی وقتی طور پر جس وقت ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا کر دیتے ہیں اور اس کا درد و رنج دور کر دیتے ہیں تو وہ ہمارے لطف و عطاءکو بھلا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ نعمت تو میں نے خود حاصل کی ہے اور یہ میری لیاقت (اور کام جاننے) کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے (ثم اذا خولناه نعمة منا قال انما اوتيته على علم)۔ (تشریحی نوٹ: "خول"، "تخویل"کے مادہ سے اعطاءوبخشش اور تفضل کے معنی میں ہے اور اسی سوره زمر کی آی 8 کے ذیل میں ہم نے اس لفظ کی مزید نشریح کی ہے "اوتيته"کی ضمیر باوجود اس کے کہ وہ نعمت کی طرف لوٹتی ہے، مذکر کی صورت میں آئی ہے، کیونکہ اس سے مراد "شییءمن النعمة"يا"، "قسم من النعمة"ہے)۔ اس گفتگو کا نمونه سورۂ قصص کی آیہ 78 میں قار ون کی زبانی موجود ہے، جس نے بنی اسرائیل کے ان علما کے سامنے جنھوں نے اسے یہ پند و نصحیت کی تھی کہ ان خداد نعمتوں سے ان کی رضامندی حاصل کر یہ کہا تھا: انما اوتيته على علم عندی یہ وہ نعمات ہیں جنھیں میں نے اپنے علم و دانش کی وجہ سے حاصل کیا ہے۔ یہ بے خبر غافل کچھ بھی تو نہیں سوچتے کہ وہ علم و دانش بھی تو خدا ہی کی طرف سے ایک نعمت ہے۔ کیا انھوں نے یہ علم و دانش جو ان کی تدبیر معاش اور فراواں آمدنی کا سبب ہے خود اپنے آپ کو دیا ہے یا کیا یہ ازل سے ان کی ذات کا جزءتھا؟ بعض مفسرین نے اس جملے کی تفسیر میں ایک اور احتمال بھی ذکر کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں: یہ نعمات خدا نے ہمیں اس بنا پر دی ہیں چونکہ وہ ہماری لیاقت و استعداد کو جانتا تھا۔ اگرچہ یہ احتمال زیر بحث آیت میں تو ممکن ہے لیکن سورہ قصص کی آیت میں قارون کے بارے میں "عندی"(میرے پاس) کے لفظ کی طرف توجہ کرتے ہوئے ممکن نہیں ہے اور یہ امر زیر بحث آیت کے لیے پہلی تفسیر کی ترجیح کے لیے ایک قرینہ ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد قرآن ان خود غرض اور کم ظرف لوگوں کے جواب میں، جو نعمت حاصل ہوتے ہی بہت جلد خود کو بھول جاتے ہیں اس طرح کہتا ہے: بلکہ یہ نعمت تو ان کی آزمائش کا ایک ذریعہ ہے لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے (بل هي فتنة ولكن اكثرهم لايعلمون)۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ سخت حوادث ظاہر ہونے اور اس کے بعد بڑی بڑی نعمتیں پا لینے سے جو کچھ ان کے اندر ہے اسے ظاہر کر دیں۔ کیا وہ مصیبت کے وقت مایوس اور نعمت کے وقت مغرور ہو جاتے؟ کیا ان انقلابات میں بھی خدا کو یاد کرتے ہیں یا دنیا میں غرق ہو جاتے ہیں؟ کیا وہ اپنے آپ کو بھول جاتے ہیں یا اپنی کمزوریوں کی طرف توجہ کرتے ہوئے خدا کو پہلے سے بھی زیادہ یاد کرتے ہیں؟ لیکن افسوس! زیادہ تر لوگ فراموش کار ہی ہیں اور وہ ان حقائق سے آگاہ نہیں ہیں۔ اس حقیقت کو قرآنی آیات میں بارہا دہرایا گیا ہے کہ خداوند حکیم کبھی تو انسان کو مشکلات کی سختیوں میں مبتلا کرتا ہے اور کبھی عیش و آرام اور آسائش و نعمت میں تاکہ ان طریقوں سے اسے آزمائے، اس کے وجود کی قدر و قمیت کو بلند کر دے اور اسے اس حقیقت سے آشنا کر دے کہ سب کچھ اسی کی طرف سے ہے۔ اصولی طور پر فضا ساز شدائد فطرت کو ظاہر کرنے والے ہوتے ہیں، جیسے نعمتیں معرفت کا مقدمہ بنتی ہیں (اس سلسلہ میں جلد 16 سورۂ عنکوبت کی آیہ 65 کے ذیل میں بھی ہم نے گفتگو کی ہے) قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس آیت میں لفظ انسان آیا ہے اور فراموش کار اور مغرور کے طور پر اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ ایسے انسانوں کی طرف اشارہ ہے جو خدائی مکاتب کے زیر تربیت نہیں آئے اور جن کا کوئی مربی اور راہنما نہیں تھا۔ ان کی خواہشات آزاد تھیں اور وہ ہوا و ہوس میں غوطہ زن تھے اور خود رو گھاس کے مانند تھے۔ ہاں! یہی وہ لوگ ہیں کہ وقت وہ درد و رنج میں گرفتار ہوتے ہیں تو خدا کو یاد کرنے لگتے ہیں اورجب حوادت کا طوفان رک جاتا ہے اور انھیں نعمتیں حاصل ہو جاتی ہیں تو پھر خدا کو بھول جاتے ہیں (اس سلسلے میں مزید تشریح "انسان قرآن کریم میں"کے عنوان کے تحت جلد سورہ یونس کی آیہ 12 کے ذیل میں مطالعہ کریں)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بعد والی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے: یہ بات ان لوگوں نے بھی کہی تھی جو ان سے پہلے گزرے ہیں (وہ بھی یہی دعوٰی کیا کرتے تھے کہ ہماری نعمتیں ہمارے علم و لیاقت کی پیداوار ہیں) لیکن جو کچھ انھوں نے حاصل کیا تھا وہ ان کے کچھ کام نہ آیا (قد قالها الذين من قبلهم فما اغنٰى عنهم ما كانوا يكسبون )۔ (تشریحی نوٹ: "قد قالها"کی ضمیر "کلمہ"یا "مقالہ"کی طرف لوٹتی ہے۔ یہ امر سابقہ جملے سے سمجھا جا سکتا ہے اور اس سے مراد "انما اوتيته علٰی علم "کا جملہ ہے)۔ ہاں قارون جیسے مغرور افراد اپنے اموال کواپنی لیاقت و قابلیت کی پیداوار سمجھتے تھے اور ان پر جو خدا کی نعمتیں تھیں انھیں وہ بھلا چکے تھے۔ انھوں نے مبدءاصلی سے غافل ہو کر صرف ظاہری اسباب پر نظريں جمالی تھیں، لیکن تاریخ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جس وقت خدا نے انھیں اور ان کے خزانوں کو زمین میں دھنسا دیا تو کوئی بھی ان کی مدد کرنے والا نہیں تھا اور ان کا مال و دولت ان کی حالت کے لیے کوئی فائدہ نہ دے سکا۔جیسا کہ قرآن کہتا ہے: فخسقنا به و بدارہ الارض فما كان له من فئة ينصرونه من دون الله (قصص ــــــــــــــــــ 81) نہ صرف قارون بلکہ عاد و ثمود اور قوم سبا جیسی اقوام بھی اسی انجام میں گرفتار ہوئیں۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: ان کے برے اعمال انھیں دامن گیر ہو گئے (فاصابهم سیئات ما کسبوا ). ان میں سے سب عذاب الٰہی کی کسی ایک قسم طوفان، سیلاب، زلزلہ یا صحیہ آسمانی میں گرفتار ہو گئے اور تباہ و برباد ہو گئے۔ مزید فرمایا گیا ہے:یہ انجام انھیں میں منحصر نہیں تھا بلکہ مکہ کے یہ ظالمین و مشرکین بھی بہت جلہ اپنے برے اعمال میں گرفتار ہوں گے اور ہرگز عذاب الہی کے چنگل سے بھاگ کر نہیں نکل سکتے (والذين ظلموا من هؤلاءسيصيبهم سیئات ما كسبوا وما هم بمعجزین)۔ بلکہ یہ بات تو ان سے بھی اوپر جاتی ہے اور ہر دور خدا سے بےخبر اور مغرور ستم گر اس میں شامل ہیں۔ "سيصيبهم میئات ماکسبوا"سے مراد دنیاوی عذاب ہے یا اخروی. اس بارے میں دونوں احتمال ذکر کیے گئے ہیں لیکن "فاصا بهم سيئات ما كسبوا "(ان سے پہلے لوگ بھی اپنے برے اعمال میں گرفتار ہوئے تھے، کے قرنیہ سے پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظرآتی ہے)۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ جو کہتے تھے ہماری نعمتیں خود ہماری آگاہی اور توانائی کی وجہ سے ہیں، قرآن ان سے کہتا ہے کہ گزرے ہوئے لوگوں کی تاریخ پڑھو اور دیکھو کہ یہی بات دوسرے لوگوں نے بھی کہی تھی اور وہ کیسے کیسے مصائب اور عذاب میں گرفتار ہوئے، یہ ایک تاریخی جواب ہے۔ اس کے بعد والی آیت میں ایک عقلی جواب دیتے ہوئے قرآن کہتا ہے ؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ خدا جس کے لیے چاہتا ہے روزی کشادہ یا تنگ کر دیتا ہے (اولم يعلموا أن الله يبسط الرزق لمن يشاءويقدر)۔ کتنے بہت سے ایسے اہل اور لائق افراد ہیں جو زندگی میں محروم اور گوشہ نشیں ہیں اور کتنے بہت سے ایسے کمزور ناتواں افراد ہیں جو ہر لحاظ نعمتوں سے بہرہ مند ہیں، اگر ساری کی ساری مادی کامیابیاں خود افراد کی اپنی سعی و کوشش اور لیاقت و قابلیت کی بنا پر انھیں حاصل ہوتیں تو پھر ہمیں یہ منظر نظر نہ آتے۔ یہی چیز خود اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمِ اسباب کی پشت پر ایک اور طاقتور ہاتھ بھی ہے جو اسے جچے تلے نظام کے مطابق چلا رہا ہے۔ یہ ٹھیک ہے انسان کو زندگی میں سعی و کوشش کرنا اس چاہیے، یہ بھی درست ہے کہ جہاد و کوشش بہت سی مشکلات کے حل کی کلید ہے، لیکن یہ ایک بہت بڑی غلطی ہے کہ ہم سبب الاسباب کو ہی بھول جائیں اور صرف اسباب پر نظر رکھیں اور خود اپنے ہی آپ کو مؤثر حقیقی سمجھ بیٹھیں۔ بہت سے لائق اور لوگوں کے ناکام رہنے کا راز اور بہت سے جاہل افراد کے کامیاب ہونے کا بھید یہی ہے، یہ بات تمام لوگوں کے لیے ایک تنبیہ ہے تاکہ وہ عالمِ اسباب میں گم نہ ہو جائیں اور صرف اپنی ہی شخصی قوت پر بھروسہ نہ کر بیٹھیں۔ لہذا آیت کے آخر میں مزید فرمایاگیا ہے: اس میں ان لوگوں کے لیے، جو ایمان لائے ہیں آیات اور نشانیاں ہیں (ان في ذالك لآيات لقوم يؤمنون) خدا کی پاک ذات کے لیے نشانیاں، جیسا کہ امیرالمومنین علیؑ نے فرمایا ہے:- عرفت الله بفسخ العزائم وحل العقود ونقص الهمم میں نے خدا کو پختہ اور مصمم ارادوں کے ٹوٹ جانے اور مشکلات کی گرہیں کھلنے اور ارادوں کے درہم برہم ہونے سے پہچانا ہے۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ ، کلمات قصار ، کلمہ 250)۔ یہ انسان کے ضعف و ناتوانی کی نشانیاں ہیں تاکہ وہ اپنے آپ کوگم نہ کر بیٹھے اور غرور وخودبینی میں گرفتار ہو جائے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: خدا تمام گناہوں کو بخش دے گا
Tafsīr Nemūna · Vol. 6گزشتہ آیات میں مشرکین اور ظالمین کے بارے میں بار بار تہدیدیں آئی ہیں، ان کے بعد اب ان آیات میں تمام گناہ گاروں کو امید دلائی جارہی ہے اور ان کے لیے بازگشت کا راستہ کھولا جا رہا ہے، کیونکہ ان تمام امور کا ہدف اصلی تربیت و ہدایت ہے نہ کہ انتقام جوئی و خشونت و سختی۔ انتہائی لطف اور محبت بھرے انداز میں، سب کے لیے اپنی آغوش رحمت کھولے ہوئے اور ان کے لیے عفو و مہربانی کا فرمان صادر کرتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے: ان سے کہہ دے! اے میرے وہ بندو جنھوں نے اپنے اوپر اسراف اور ظلم کیا ہے خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو جانا، کیونکہ خدا تمام گناہوں کو بخش دے گا۔ بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے (قل يا عبادي الذين اسرفوا على انفسهم لاتقنطوا من رحمة الله ان الله يغفر الذنوب جميعًا انه هو الغفور الرحیم)۔ اس آیت کے الفاظ میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت قرآن کی آیات ہیں گنہ گاروں کے لئے سب سے زیادہ امید بخش ہے اور اس کی وسعت اس حد تک ہے کہ ایک روایت کے مطابت امیرالمومنین علی علیہ السلام نے فرمایا کہ سارے قرآن میں کوئی آیت اس سے زیادہ وسیع نہیں ہے۔ آپ کے الفاظ یوں ہیں:- ما في القران اية اوسع من یاعبادي الذين اسرفوا۔........(بحوالہ: مجمع البیان ، تفسیر قرطبی اور تفسیرصافی ، زیِربحث آیت کے ذیل میں)۔ اس کی دلیلی واضح ہے کیونکہ: 1- يا عبادی "(اے میرے بندو!) کی تعبیر پروردگار کی جانب سے ایک لطف و عنایت کا آغاز ہے۔ 2- "اسراف"کی تعبیر "ظلم و گناه و جرم"کے بجائے ایک اور لطف ہے۔ 3- "علٰى انفسهم "کی تعبیراس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انسان کے سارے گناہ خود اسی کی طرف لوٹتے ہیں۔ یہ پروردگار کی محبت کی ایک اور نشانی ہے۔ جیسا کہ ایک شفیق باپ اپنے بیٹے سے کہتا ہے۔ "یہ سارا ظلم اپنے اوپر نہ کر"۔ 4- "لاتقنطوا"(نا امید نہ ہوں) کی تعبیر کہ "قنوط"اصل میں اچھائی اور خیر سے مایوس ہونے کے معنی میں ہے، تنہا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ گنہ گاروں کو "لطف الہی"سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ 5- "من رحمة الله"کی تعبیر "لا تقنطوا"کے بعد اس خیر و محبت پر اور بھی زیادہ تاکید ہے۔ 6- جب ہم "ان الله يغفر الذنوب جميعًا"کے جملے پر پہنچتے ہیں، جس کی ابتداءحرفِ تاکید کے ساتھ ہو رہی ہے، اور لفظ "الذنوب"(الف ولام کے ساتھ جمع) جو بغیر کسی استثناءکے تمام گناہوں کو اپنے دامن میں لے لیتا ہے تو گفتگو اوج و بلندی پر پہنچ جاتی ہے اور دریائے رحمت موجزن ہو جاتا ہے۔ 7- جس وقت "جميعًا"کا یعنی ایک اور تاکید کا اضافہ ہو جاتا ہے تو امید آخری مرحلے تک پہنچ جاتی ہے۔ 8- 9- خدا کی "غفور"و "رحیم"کے ساتھ توصیف جو پروردگار کی صفات میں سے دو امید بخش اوصاف ہیں، آیت کے آخر میں یاس و ناامیدی کی کم سےکم گنجائش بھی باقی نہیں رہنے دیتی۔ ہاں! اسی دلیل کی بنیاد یہ آیت قرآن کی آیات میں سب سے زیادہ وسعت رکھنے والی آیت ہے جو ہر قسم کے گناہ کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہے اور اسی وجہ سے یہ قران مجید کی آیات میں سب سے زیادہ امید بخش آیت شمار ہوتی ہے۔ واقعا ایسی ذات سے جس کو دریائے لطف بیکراں، اور جس کے فیض کی شعاعیں غیر محدود ہیں۔ اس سے اس کے علاوہ اور کوئی توقع نہیں کی جا سکتی۔ وہ ذات جس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت رکھتی ہے اور جس نے اپنے بندوں کو رحمت کیلیےہی پیدا کیا ہے نہ خشم و عذاب کے لیے، اس سے اس کے علاوہ اور کوئی امید نہیں۔ کیا رحیم و مهربان خدا ہے اور کیسا مہر و محبت والا پروردگار! یہاں دو مسائل نے مفسرین کی فکر کو اپنی طرف متوجہ کر رکھا ہے اور اتفاق کی بات یہ ہے کہ ان کاحل خود اسی آیت میں اور اس کے بعد کی آیات میں پوشیدہ ہے۔ پہلا مسئلہ تو یہ ہے کہ کیا آیت کی عمومیت تمام گناہوں کو حتٰی کہ شرک اور دوسرے تمام گناہان کبیرہ پر بھی محیط ہے اگر ایسا ہے تو پھر سورة نسا کی آیہ 48 میں شرک کو قابل بخشش گناہوں سے الگ کیوں کیا گیا ہے؟ جیسا کہ فرمایا گیا ہے: ان الله لايغفر ان يشرك به ويغفر ما دون ذالك لمن يشاء خدا شرک کو نہیں بخشتا لیکن اس کے سوا دوسرے گناہوں میں سے جسے چاہے بخش دیتا ہے۔ دوسرامسئلہ یہ ہے مغفرت کا یہ وعده جو زیر بحث آیت میں آیا ہے کیا یہ مطلق ہے یا توبہ اور اسی قسم کی کسی چیز کے ساتھ مشروط ہے؟ البته یہ دونوں سوالات ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں اور ان کا جواب بعدوالی آیات میں اچھی طرح سے مل سکتا ہے کیونکہ بعد والی آیات میں تین حکم دیئے گئے ہیں جو تمام باتوں کو واضح کر دیتے ہیں۔ "وانيبوا الى ربكم"(اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو )۔ "واسلموا له"(اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرو)۔ "واتبعوا احسن ما انزل اليكم من ربکم"(ان بہترین احکام و فرامین کی پیروی کرو جو تمھارے پروردگار کی طرف سے تم پرنازل ہوئے ہیں)۔ تینوں احکام تو یہ کہتے ہیں کہ غفران و رحمت کے دروازے تو تمام بندوں پر بغیر کسی استثناءکے کھلے ہوئے ہیں لیکن وہ اس بات کے ساتھ مشروط ہیں کہ وہ گناہ کے ارتکاب کے بعد ہوش میں آئیں، اپنا راستہ بدل لیں، درگاہ خداوندی کی طرف رجوع کریں، اس کے فرمان کے سامنے سر تسیلم خم کریں اور عمل کے ساتھ اس توبہ و انابت میں اپنی صداقت کی نشاندہی کریں۔ اس طرح سے نہ شرک اس سے مثتنٰی ہےاور نہ کوئی دوسرا گناہ اور اس عفوعمومی اور رحمت واسعہ کا کچھ شرائط کے ساتھ مشروط ہونا بھی ناقابل انکار ہے۔ اگر ہم ہی دیکھتے ہیں کہ سورہ نساءکی آیہ 48 میں مشرکین کے لئے بخشش اور عفو کے بارے میں استثناءکیا گیا ہے تو ان مشرکین کے بارے میں ہے جو حالت شرک میں دنیا سے جائیں نہ کہ وہ جو بیدار ہو جائیں اور راہ حق پر چل پڑیں، کیونکہ صدر اسلام کے مسلمانوں کی اکثریت اسی قسم کی تھی۔ اگر ہم بہت سے مجرمین کی حالت پر نظر کریں تو گناہ کرنے کے بعد اس طرح پریشان اور پیشمان ہوتے ہیں کہ انھیں یقین ہی نہیں آتا کہ ان کے لیے بازگشت کی کوئی راہ کھلی ہو گی اور وہ اپنے آپ کو ایسا آلودہ سمجھتے ہیں کہ وہ گویا کسی بھی پانی کے ساتھ پاک ہونے کے قابل نہیں ہیں، وہ پوچھتےہیں کہ کیا واقعًا ہمارے گناہ بھی قابل بخشش ہیں؟ وہ سوچنے ہیں کیا خدا کی طرف ہمارے لیے بھی کوئی راستہ کھلا ہوا ہے؟ کیا ہماری واپسی کی بھی کوئی گنجائش ہے؟ اگر ہم اس کیفیت پر نظر رکھیں تو آیت کے مفہوم کو اچھی طرح سے سمجھ لیں گے، کیونکہ وہ ہر قسم کی توبہ کے لئے تو آمادہ ہیں لیکن اپنے گناه کو قابل بخشش نہیں سمجھتے۔خصوصًا اگر انھوں نے بارہا توبہ کی ہو اور توڑ ڈالی ہو۔ یہ آیت ان سب کو خوشخبری دے رہی ہے کہ تم سب کے لیے راستہ کھلا ہے۔اسی لئے تاریخ اسلام کے مشهور مجرم اور سید الشهداءحمزہ کے قاتل "وحشی"نے جب مسلمان ہونا چاہا تو وہ اس بات سے ڈر رہا تھا کہ اس کی توبہ قبول نہ ہو گی کیونکہ واقعًا اس کا گناہ بہت بڑا تھا۔ بعض مفسرين کہتے ہیں کہ مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی اور اس نے رحمت الٰہی کے دروازے اس وحشی اور دوسرے توبہ کرنے والے وحشیوں پر کھول دے۔ اگرچہ یہ سورہ مکی سورتوں میں سے ہے اور جس دن یہ آیت نازل ہوئی اس وقت تک نہ جنگ احد ہوئی تھی، نہ حضرت حمزہ ؑکی شہادت رونما ہوئی تھی اور نہ ہی وحشی کی توبہ کا کا مسئلہ تھا ۔ لہذا یہ ماجرا اس آیت کے لیے شان نزول نہیں بن سکتا، بلکہ ایک قانون کلی کی ایک مصداق پر تطبیق ہو سکتا ہے، لیکن بہرحال، یہ واقعہ آیت کے مفہوم کی وسعت کو مشخص کر سکتا ہے۔ ہم نے جوکچھ بیان کیا ہے اس سے واضح ہو گیا ہے کہ روح المعانی میں آلوسی جیسے مفسرین کا اس چیز پر اصرار کہ اس آیت میں غفران و بخشش کا وعده کسی چیز سے مشروط نہیں ہے، ایک غلط بات ہے اگرچہ اس نے اس کے لیے سترہ دلیلیں ذکر کی ہیں، کیونکہ بعد والی آیات کے سا تھ واضح تضاد رکھتی ہے، اور اس کی سترہ دلیلیں جن میں سے بہت سی قابل ادغام ہیں، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں بتائیں کہ خدا کی رحمت وسیع اور کشادہ ہے جس میں تمام گنہ گار شامل ہیں اور یہ چیز بعد والی آیات کے قرینے سے، اس وعدہ الٰہی کے مشروط ہونے کے منافی نہیں۔ اس آیت کے سلسلے میں کچھ اور مطالب بھی ہیں جو انشاءاللہ "چند نکات"کے تحت آئیں گے۔ بعد والی آیت میں تمام مجرموں اور گنہ گاروں کو رحمت الٰہی کے اس بے کراں دریا میں ورود کی راہ دکھاتے ہوئے فرمایا گیا ہے، اپنے پروردگار کی طرف لوٹ آؤ (وانيبوا الٰی ربکم )۔ اور اس کے سا منے سر تسلیم خم کرلو،اس کا فرمان دل و جان کے ساتھ سنو اور اسے قبول کرو. اس سے پہلے کے عذاب الٰہی تمھیں دامن گیر ہو جائے اور کچھ کوئی تمھاری مدد نہ کر سکے (واسلموا له من قبل ان يأتيكم العذاب ثم لاتنصرون)۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ان دو مراحل (مرحلہ انابت اور اسلام) کو طے کر لینے کے بعد تیسرے مرحلے کے بارے میں جو مرحلہ عمل ہے۔ گفتگو کرتے ہوئے مزید فرمایا گیا ہے: ان بہترین احکام کی جو تمھارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوئے ہیں پیروی کرو، اس سے پہلے کہ عذاب الہی اچانک تھارے پاس آجائے اور تمھیں اس کی خبر بھی نہ ہو (واتبعوا احسن ما انزل الیکم من ربکم من قبل ان ياتیكم العذاب بغتة وانتم لا تشعرون )۔ اس طرح سے رحمت خدا تک پہنچنے کی راہ تین قدموں سے زیادہ نہیں ہے۔ پہلا، قدم توبہ اور گناہ پریشمانی اور خدا کی طرف رخ۔ دوسرا، قدم ایمان اور خدا کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم۔ تیسرا، قدم عمل صالح۔ یہ تینوں قدم بڑھانے کے بعد یہ اس وعدے کے مطابق جو اس نے فرمایا ہے۔ اس کی رحمت کے بیکراں سمندر مین داخل، چاہے انسان کے گناہوں کا بوجھ کتنا ہی سنگین اور بھاری کیوں نہ ہو۔ "اتبعوا احسن ما انزل الیکم من ربکم"(بہترین چیز جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو) سے کیا مراد ہے۔ اس بارے میں مفسرین نے کئی احتمال ذکر کیے ہیں۔ ان میں سے جو احتمال سب سے بہتر نظر آتا ہے یہ ہے کہ جو احکام خدا کی طرف سے نازل ہوئے ہیں وہ مختلف ہیں۔ بعض واجبات کی طرف دعوت دیتے ہیں، بعض مستحبات کی طرف اور بعض مباحات کی اجازت پر مشتمل ہیں۔ لہذا احس سے مراد واجبات و مستحبات کا انتخاب کرنا ہے البتہ ان کی ترتیب و مرتبہ کو ملحوظ و خاظر رکھتے ہوئے۔ بعض نے اسے کتب آسمانی میں سے قرآن طرف اشارہ سمجھا ہے، اسی سورہ زمر کی آیت 23 میں بیان کردہ قرینے کی رو سے، جس میں قرآن "احن الحدیث"( بہترین گفتگو) کہا گیا ہے: اللہ نزل احسن الحدیث کتاباً متشابھاً مثانی البتہ ان دونوں تفسیروں میں کوئی ایک دوسرے کے منافی نہیں ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
چند اہم نکات: 1توبہ کی راہ سب کے لیے کھلی ہے
اہم مسائل میں سے جو تربیتی مسائل کی راہ میں موجود ہیں گزشتہ برے اعمال کی وجہ سے گناہگاری کا احساس ہے۔ خاص طور پر اس وقت جبکہ گناہ بہت بڑے اور سنگین ہوں، کیونکہ اس صورت میں ہمیشہ یہ فکر انسان کی نظر میں رہتی ہے کہ اگر وہ پاکیزگی ، تقوی اور خدا کی راہ کی طرف لوٹنا بھی چاہے تو وہ اپنی گزشتہ بھاری ذمہ داریوں سے کس طرح رہائی پا سکتا ہے یہ فکر ایک وحشت ناک خواب کی طرح اسکی روح پر سایہ ڈالے رہتی ہے اور اکثر اوقات اسے زندگی کا طرز عمل بدلنے اور پاکیزگی کی طرف جھکنے سے باز رکھتی ہے وہ اس سے کہتی ہے کہ توبہ کرنے کا کیا فائدہ؟ تیسرے گزشتہ اعمال کی زنجیر لعنت کے ایک طوق کی طرح تیرے ہاتھ پاؤں میں پڑی ہوئی ہے، ہوئی تو تو گناہ کے رنگ میں ڈھل گیا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ کتنی بڑی مشکل ہے؟ اسلامی تعلیمات کہ جو قرآن مجید سے اخذ کی گئی ہیں میں یہ مسئلہ حل ہو چکا ہے اور وہ توبہ و انابت کو جبکہ وہ شرائط کے ساتھ گزشتہ کردار سے جدا ہونے اور نئی زندگی کے آغاز کرنے کا ایک قاطع ذریعہ سمجھتی ہیں، بلکہ اسے "تولد ثانی"قرار دیتی ہیں۔ اسلامی روایات میں بعض گناہ گاروں کے بارے میں بارہا بیان ہوا ہے۔ کمن ولدته امه وہ اس شخص کی طرح ہے جوابھی ماں کے بطن سے پیدا ہوا ہے۔ اس طرح سے قرآن لطفِ الہی کے دروازوں کو ہر انسان کے لیے ہر حالت میں اور ذمہ داریوں کے ہر قسم کے بوجھ کی صورت میں کھلا رکھتا ہے، اور اس کی واضح دلیل زیر بحث آیات ہیں۔ ان میں طرح طرح سے مجرموں اور گنہ گاروں کوخداکی طرف دعوت دی گئی ہے اور انھیں یہ اعتماد دیتی ہیں کہ وہ اپنے آپ کو گزشتہ زندگی سے بالکل جدا کر سکتے ہیں۔ ایک روایت میں اپنی گرامی اسلام سے منقول ہے: التائب من الذنب كمن لا ذنب له جو شخص گناہ سے توبہ کر لے وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے اصلاً کوئی گناہ نہ کیا ہو۔(بحوالہ: سفینۃ البحار جلد 1 ص 127 ( مادہ توبہ)۔ یہی مفهوم کچھ اضافے کے ساتھ امام باقرؑ سے نقل ہوا ہے، آپؐ نے فرمايا: التائب من الذنب كمن لا ذنب له ، والمقيم على الذنب وهو مستغفر منه کالمستهزء جوشحص گناہ سے توبہ کرے وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو، اور چو شخص استغفارکے ساتھ ساتھ گناہ بھی جاری رکھے ہوئے ہو تو وہ اس شخص کی طرح ہے جومذاق کرتا ہو۔( بحوالہ: اصول کافي جلد 2 باب توبہ حدیث 10 ص 316 )۔ لیکن ظاہر ہے کہ رحمت الٰہی کی طرف یہ واپسی بلاشرط نہیں ہو سکتی ، کیونکہ وہ حکیم ہے اور وہ کوئی کام بےحساب نہیں کرتا۔ اگر اس نے اپنی رحمت کی آغوش کو سب کے لیے کھول رکھا ہے اور انھیں ہمیشہ اپنے طرف بلاتا رہتا ہے تو اس کے لیے بندوں میں اہلبیت کا ہونا بھی ضروری ہے ایک طرف تو انھیں اپنے تمام وجود کے ساتھ بازگشت کا خواہاں ہونا چاہیے اور اندرونی انقلاب اور بنیادی تبدلی پیدا کرنی چاہیے۔ دوسری طرف بازگشت کے بعد اپنے ایمان اور اعتقاد کی ان بنیادوں کو نئے سرے سے اٹھانا چاہیے جو طوفان گناہ کے باعث منہدم ہو چکی ہیں۔ تیسری طرف اعمال صالح کے ذریعے اپنی روحانی ناتوانی اور اخلاقی کمزوری کی تلافی کرنا چاہیے البتہ سابق گناہ جتنے زیادہ سنگین تھے اسی حساب سے زیادہ صالح اعمال بجالانے چاہییں اور یہ بالکل وہی چیز ہے جسے قرآن نے مذکورہ بالا تین آیات میں "انابت"، "اسلام"اور "اتباع احسن"کے عنوان سے بیان کیا ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
2سنگین بوجھ والے افراد
بعض مفسرین نے ان آیات کی کچھ شان نزول بیان کی ہیں۔ جو سب کی سب احتمالاً تطبیق کی حیثیت رکھتی ہیں نہ کہ شان نزول کی۔ ان میں سے ایک "وحشی"کی داستان ہے جو میدان احد میں بہت بڑے جرم کا مرتکب ہوا تھا اور پیغمبر اکرمؐ کے چچا حضرت حمزہ جیسے شجاع اور بہارد کمانڈر کو بزدلانہ طریقے سے شہید کر دیا جنھوں نے ہر جگہ اپنی جان کو پیغمبر اکرمؐ کے لیے سپر بنا رکھا تھا۔ جب اسلام کو عروج حاصل ہوا اور مسلمان ہر جگہ کامیاب ہوئے، تو اس وحشی نے بھی اسلام قبول کرنا چاہا لیکن وہ ڈر رہا تھا کہ اس کا اسلام قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس ضمن میں مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی اور وہ اسلام لے آیا۔ پیغمبر اکرمؐ نے اس سے پوچھا : تو نے میرے چچا کو کس طرح قتل کیا تھا؟ اس نے تفصیل کے ساتھ واقعہ بیان کیا۔ پیغمبر اکرمؐ بہت زیادہ روئے، اس کی توبہ تو قبول کرلی، لیکن اس سے فرمایا : غيب وجهك عني فاني لا استطيع النظر اليك فلحق بالشام فمات في الخمر میری آنکھوں کے سامنے کبھی نہ آتا کیونکہ میں تجھے نہیں دیکھ سکتا۔وحشی سر زمین شام کی طرف چلا گیا اور آخر کار خمر نامی علاقے میں جا کر مر گیا۔ بعض لوگوں نے سوال کیا کہ کیا یہ آیت صرف اس وحشی کے بارے میں ہے یا سب مسلمانوں کے لیے ہے؟ فرمایا سب کے لیے۔(بحوالہ: سفینۃ البحارجلد 2 ص 637 (ماده "وحش") تفسیر فخررازی جلد 27 ص 4 اورتفسیرنورالثقلین جلد 4 ص 493)۔ دوسری ایک شخص نباش (قبروں کو کھود کر کفن چوری کر کے لے جاتا ہے) کی داستان ہے جس کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے:- ایک جوان روتا ہوا پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں آیا۔وہ بہت ہی پریشان تھا۔ کہہ رہا تھا کہ میں خدا کے غضب سے ڈر رہا ہوں۔ فرمایا : کیا تو نے شرک کیا ہے؟ کہا: نہیں! فرمایا : کیا تو نے خون ناحق بہایا ہے؟ عرض کیا : نہیں! فرمایا : خدا تیرے گناہوں کو بخش دے گا چاہے وہ جتنے بھی زیادہ ہوں۔ عرض کیا: میرا گناہ آسمان و زمین اور عرش و کرسی بھی بڑا ہے! فرمایا : کیا تیرا گناه خدا سے بھی بڑا ہے؟ عرض کیا : نہیں! خدا تو ہر چیز سے بڑا ہے۔ فرمایا : جا! (توبہ کر) کہ خدائے عظیم گناہ کو بخش دیتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا: اچھا بتا تو سہی تو نے کون سا گناہ کیا ہے؟ عرض کیا : اے رسول خداؐ! مجھے شرم آتی ہے کہ اسے آپ کے سامنے بیان کروں۔ فرمایا : آخر بتا توسہی کہ تو نے کیا کیا ہے؟ عرض کیا : میں سات سال سے قبریں کھود کر مردوں کے کفن اتارتار رہا ہوں، یہاں تک کہ ایک دن قبر کھودتے ہوئے مجھے (قبر ميں )انصار کی ایک لڑکی نظر آئی۔ جب میں نے اسے برہنہ کر لیا تو میرا نفس ہیجان میں آگیا ....... (اس کے بعد اس نے اپنی دست درازی کا قصہ بیان کیا) جس وقت اس کی گفتگو یہاں تک پہنچی تو پیغمبر اکرمؐ کو سخت غصہ آیا اور رنجیدہ ہوئے اور فرمایا اس فاسق کو نکال دو اور اس کی طرف رخ کر کے فرمایا : تو دوزخ سے کتنا نزدیک ہے۔ وہ جوان باہر نکلا تو شدت کے ساتھ رو رہا تھا ۔ بیابان ان کی طرف نکل گیا اور کہتا جاتا تھا: اے محمد کے خدا ! اگر تو میری توبہ قبول کر لے تو اس کی اپنے بغیر کو اطلاع کر دے۔ ورنہ آسمان سے آگ بھیج کر مجھے جلا دے اور مجھے آخرت کے عذاب سے نجات دے۔ یہ موقع تھا جبکہ قاصد وحی خدا پیغمبر گرامیؐ پرنازل ہوا اور آیہ قل ياعبادی الذین اسرفوا۔..... ، آنحضرتؐ کے حضور میں پڑھی۔(بحوالہ: تفسير ابوالفتوح رازی جلد نہم صفحہ 412 (زیِربحث آیات کے ذیل میں)۔ جبرئیل کی طرف سے اس آیت کی تلاوت، یہاں ممکن ہے پہلی بار کی صورت میں نہ ہو کہ شان نزول کا پہلو پیدا کرے بلکہ ایک ایسی آیت کا تکرار ہو جو پہلے نازل ہو چکی ہے اور یہ اس گنہ گار شخض کی توبہ قبول کرنے کے اعلان اور زیادہ تاکید و توجہ کے لیے ہو۔ ہم پھر عرض کیے دیتے ہیں کہ اس قسم کے اشخاص جوگناہ کا سنگین بوجھ اپنے کندھوں پر لیے ہوئے ہوتے ہیں وہ اپنے اعمال صالح کے ذریعے تلافی کرنے کے لیے بہت بھاری ذمہ داری رکھتے ہیں۔ جناب فخر رازی نے زیِربحث آیات کے لیے ایک اور شان نزول بیان کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بعض نے کہا ہے کہ یہ آیات اہل مکہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، وہ کہتے تھے کہ محمدؐ کا خیال یہ ہے کہ جو شخص بت کی پوجا کرے یا جس کا ہاتھ کسی کے خون میں رنگا ہوا تو وہ کبھی بھی نہیں بخشا جائ گا، اس کے باوجود وہ ہم سے یہ بھی کہتا ہے کہ اسلام لے آؤ، ہم کس طرح اسلام کے آئیں جبکہ ہم نے بت پرستی بھی کی ہے اور بے گناہوں کا خون بھی بہایا ہے (تو یہ آیات نازل ہوئیں اور توبہ کا دروازہ ان کے سامنے کھول دیا گیا) ۔(بحوالہ: تفسیر فخررازی ، جلد 27 ص 4 ( زیر بحث آیات کے ذیل میں)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 59 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 59 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 59 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: اس دن پشیمانی فضول ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 6گزشتہ آیات میں توبہ اور گزشتہ اعمال کی تلافی اور اصلاح کے لیے ایک تاکیدی حکم آیا تھا۔ زیِربحث آیات اس کے بعد آئی ہیں، پہلے فرمایا گیا ہے: یہ حکم اس لیے دیئے گئے تھے کہ مبادا کوئی قیامت کے دن کہے کہ افسوس ہے میرے لیے ان کوتاہیوں کی وجہ سے جو میں نے فرمانِ خدا کی اطاعت میں کی ہیں اور اس کی آیات اور رسولوں کا میں نے مذاق اڑایا تھا (أن تقول نفس يا حسرتا على مافرطت في جنب الله وان كنت لمن الساخرين)۔ (تشریحی نوٹ: آیت کی ابتدا میں کچھ محزوف ہےجو اسے گزشتہ آیات کے ساتھ جوڑتا ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے "لنلا تقول نفس "یا "حذرًا ان تقول نفس...."دوسری صورت میں یہ جملہ "انیبوا وأسلموا واتبعوا"کا "مفعول لہ"ہو گا اور "وان كنت لمن الساخرین میں"ان مخففہ ہے مثقلہ سے اوراصل ميں"اني كنت من الساخرين "تھا)۔ "یا حسرتا"اصل میں "یاحسرتی"تھا (حسرت کی یاءمتکلم کی طرف اضافت ہوئی ہے) اور "حسرت"ان چیزوں پر غم کے معنی میں ہے جو ہاتھ سے نکل گئی ہوں اور پشیمانی باقی رہ گئی ہو۔ "راغب"مفردات میں کہتا ہے کہ یہ لفظ "حسر"( بروزن"حبس") کے مادہ سے برہنہ کرنے اور لباس اتارنے کے معنی میں ہے اور چونکہ گزشتہ پر ندامت اور غم کے موقع پر گویا جہالت کے پردے برطرف ہو گئے ہیں، ا س لیے یہ تعبیر استعمال ہوئی ہے۔ ہاں! جس وقت انسان عرصہ محشر میں وارد ہو گا اور کوتاہیوں، چشم پوشیوں، غلط کاریوں اور اہم باتوں کو مذاق سمجھنے کے نتائج کو اپنی آنکھ کے سامنے دیکھے گا تو وہ "واحسرتا"کہہ کر فریاد بلند کرے گا۔ ایک بھاری غم گہری ندامت کے ساتھ اس کے دل پر سایہ فگن ہو گا اور وہ اپنی اس اندرونی حالت کو زبان پر جاری کرتے ہوئے مذکورہ جملوں کی صورت میں بیان کرے گا۔ اس بارے میں کہ یہاں"جنب الله"کے کیا معنی ہیں؟ مفسرین نے بہت سے احتمال ذکر کیے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ "جنب "لغت میں پہلو کے معنی میں ہے۔ بعد ازاں ہر اس چیز پر اس کا اطلاق ہونے لگا جو کسی دوسری چیز کے ساتھ قرار پائی ہے۔ جیسا کہ "يمين"و "يسار"بدن کے دائیں اور بائیں طرف کے معنی میں ہے۔ اس کے بعد ہر اس چیز کو جو اس طرف قرار پائی ہے۔ "یمین"و "يسار"کہا جانے لگا۔ یہاں بھی "جنب الله"ان تمام امور کے معنی میں ہے جو پروردگار کی جانب اور اس کے لیے قرار پاتے ہیں۔ اس کا فرمان، اس کی اطاعت، اس کا قرب اور کتب آسمانی جو اس کی طرف سے نازل ہوئیں، یہ سب اس کے معنی میں جمع ہیں۔ اس طرح سے گنہگاران تمام کو تاہیوں پر جو انھوں نے خدا کے بارے میں کی تھیں، ندامت، افسوس اور حسرت کا اظہار کریں گےاور اس کی آیات اور رسولوں کے بارےمیں تمسخر و استہزاءانھیں خاص طور پر یاد آئے گا کیونکہ ان کی کوتاہیوں کا اصلی عامل ان عظیم حقائق سےجہالت اور غرور اور تعصب کے باعث بے اعتنائی کرنا اور مذاق خیال کرنا ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: اور مبادا وہ یہ کہے کہ اگر خدا مجھے ہدایت کرتا تو میں پرہیز گاروں میں سے ہوتا (او تقول لو أن الله هداني لکنت من المتقين)۔ یہ بات گویا وہ اس وقت کہے گا جب اسے میزان حساب کے پاس لائیں گے۔ وہ ایک گروہ کو دیکھے کا جو نیکیوں سے بھرے دامن کے ساتھ جنت کی طرف جا رہے ہیں لہذا وہ بھی یہ آرزو کرے گا کہ ان کی صف میں ہو اور ان کےساتھ خدائی نعمتوں کی طرف جائے۔ مزید ارشاد ہوتا ہے: اور مبادا جس وقت وہ عذاب الہیٰ کو دیکھے تو کہے: کیا یہ ہو سکتا ہے کہ مجھے دوبارہ دنیا کی طرف پلٹا دیں تاکہ میں نیکو کاروں میں سے ہو جاؤں؟ ( یہ اس وقت کی بات ہے جب اسے جہنم کی طرف لے جائین گے اور اس کی آنکھ جلا دینے والی آگ اور اس کے درد ناک عذاب کے منظر پر پڑے گی، اس کے دل سے ایک آہ نکلے گی اور وہ آرزو کرے گا اے کاش: اسے اجازت دے دی جاتی کہ وہ دنیا کی طرف پلٹ جائے، اپنی گزشتہ تباہ کاریوں کا اپنے نیک اعمال کے ساتھ ازالہ کرے اور نیکو کاروں کی صف میں جگہ پائے۔ اس طرح مجرمین قیامت میں یہ تینوں طرح کی گفتگو ایک خاص موقعہ پر کریں گے۔ صحنِ محشر میں وارد ہوتے ہی اظہار حسرت کریں گے۔ پرہیز گاروں کے اجر کو دیکھ کر ان کی سی سر نوشت کی آرزو کریں گے ۔ اور عذابِ الہیٰ کا مشاہدہ کر کے دنیا کی طرف لوٹنے اور گزشتہ اعمال کی تلافی کی آرزو کریں گے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ قرآن اس تینوں طرح کی گفتگو کے مقابلے میں صرف دوسری گفتگو کا اس طرح جواب دیتا ہے: ہاں! میری آیات تیرے پاس آئیں اور تو نے ان کی تکذیب کی اور تکبر کیا اور کافروں میں تھا۔( یعنی تو جو یہ کہتا ہے کہ اگر خدائی ہدایت میرے پاس آئی ہوتی تو میں بھی پرہیز گاروں میں سے ہوتا، تو ہدایت الہی کیا ہے؟ وہ ان سب آسمانی کتابوںم خدا کے رسولوں اور آفاق و انفس میں حق کی نشانیوں کے سوا اور تو کچھ نہیں ہے۔ تو نے سب آیات کو دیکھا بھی ہے اور سنا بھی ہے، ان کے بارے میں تیرا ردِعمل کیا تھا؟ تکذیب، تکبر، اور کفر۔ کیا یہ ممکن ہے ہے کہ خدا اتمامِ حجت کے بغیر کسی کو سزا دے؟ کیا خدا کے تربیتی نظام کے لحاظ سے تیرے اور ہدایت یافتہ لوگوں کے درمیان کوئی فرق تھا؟ ان تینوں اعمال میں سے "تکبر"تو صلی جڑ ہے، اس کے بعد "آیات الہیٰ کی تکذیب"ہے اور اس کے نتیجہ کفر و بے ایمانی ہے۔ لیکن وہ ان کی پہلی بات کا جواب کیوں نہیں دیتا؟ کیونکہ وہ ایک ایسی حقیقت ہے اس سے کوئی گریز نہیں ہے۔ انہیں حسرت و ندامت اٹھانا اور غم و اندوہ میں ہی غرق رہنا چاہیے۔ باقی رہا تیسری بات کے بارے میں جو دنیا کی طرف بازگشت کا تقاضا ہے تو قرآن کی آیات میں متعدد مواقع پر اس کا جواب دیا جاچکا ہے لہذا اب تکرار کی ضرورت نہیں۔ مثلًا سوره انعام کی آیہ 28: ولوردوا لعادوا لما نهوا عنہ وانهم لكاذبون اگر وہ لوٹ بھی جائیں تو بھی انھیں گزشتہ اعمال کو دہرائیں گے اور وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ اسی طرح سورہ مؤمنون کی آیہ ۔۔ا بھی اس ضمن میں موجود ہے۔ اس سے قطع نظر جو جواب ان کی دوسری بات کا دیاگیا ہے وہی ان کے پہلے سوال کے جواب کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے، کیونکہ دنیا کی طرف واپس لوٹنے کا مقصد کیا ہے؟ کیا اتمام حجت کے سوا کچھ اور ہے؟ جبکہ خدا ان پر اتمام حجت کر چکا ہے اور اس سلسلے میں کوئی کمی نہیں کی ہے کہ دوبارہ اسے بیان کرے۔ جو بیداری مجرمین میں عذاب دیکھ کر پیدا ہو گی، وہ ایک قسم کی اضطراری بیداری ہو گی، اور واپسی کی صورت میں عام حالت میں اس کے آثار باقی نہیں رہیں گے۔ یہ ٹھیک اسی بات کے مانند بے جو قرآن مشرکین کے دریا کی موجوں میں گرفتار ہو جانے کے موقع کے بارے میں بیان کرتا ہے کہ وہ اس وقت تو خدا کو اخلاص کے ساتھ پکارتے ہیں لیکن جب وہ ساحل نجات پر پہنچ جاتے ہیں تو سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ فاذا ركبوا في الفلك دعوا الله مخلصين له الدين فلمانجاهم الى البر اذا هم پیشرکون (عنکبوت ــــــــ 65) ــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اہم نکات: 1"جنب اللہ"میں کوتاھی
ہم بیان کر چکے ہیں کہ زیرِ بحث آیات میں "جنب اللہ"ایک وسیع معنی رکھتا ہے جو ہر اس مطلب پر محیط ہے جو خدا کے ساتھ مربط ہے اور اس طرح سے اس حصے میں کوتاہی اس کے فرمان کی اطاعت، کتب آسمانی کی پیروی اور انیاءو اولیاءکی اقتدا ءکے ضمن میں تمام قسم کی کوتاہوں پر محیط ہے۔ اسی بنا پر متعدد روایات میں آئمہ اہل بیتؑ سے منقول ہے کہ "جنب اللہ"سے مراد آئمہ اہل بیتؑ کی تفسیر کے بارے میں بیان ہوئی ہے، اس میں ہے:۔ جنب اللہ امیر المؤمنینؑ و کذالک من کان بعدہ من الاوصیاءبالمکان الرفیع الی ان ینتھی الامر الی آخرھم "جنب اللہ"امیر المؤمنین اور اسی طرح آپ کے بعد کے اوصیاء ہیں جو بلند مقام رکھتے ہیں یہان تک کہ یہ سلسلہ ان کے آخری تک جا پہنچے( کہ وہ حضرت مہدیؑ ارواحنا فداہ ہیں)( بحوالہ: تفسیر نورالثقلین جلد 4 ص 495)۔ نحن جنب اللہ جنب اللہ ہم ہیں۔( بحوالہ:تفسیر نورالثقلین جلد 4 ص 495)۔ یہی معنی دوسری روایات میں دوسرے آئمہؑ سے بھی نکل ہوا ہے۔ جیسا کہ ہم نے بارہا بیان کیا ہے، یہ تفاسیر واضح مصادیق کا بیان ہیں، کیونکہ یہ بات تو مسلم ہے کہ آئمہ کے مکتب کی پیروی پیغمبرؐ کی پیروی اور خدا کے حکم کی اطاعت ہے، کیونکہ وہ خود اپنی طرف سے کوئی چیز نہیں کہتے۔ ایک اور حدیث میں قیامت کے دن حسرت و ندامت رکھنے والوں کا واضح مصداق"بے عمل عالموں"کو بتایا گیا ہے۔ کتاب "محاسن"میں امام باقرؑ سے منقول ہے: ان اشد الناس حسرۃ یوم القیامۃالذین و صفوا العدل ثم خالفوہ، وھو قول اللہ عزوجل ان تقول نفس یا حسرتا علی ما فرطت فی جنب اللہ قیامت کے دن سب لوگوں سے زیادہ افسوس کرنیوالے وہ لوگ ہوں گے جو حق اور عدالت کے راستے کی لوگوں کے سامنے تعریف و توصیت کرتے تھے، اور پھر خود ہی اس کی مخالفت پر تیار ہوجاتے تھے اور یہ وہی چیز ہے جسے خداوند تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے۔ ان تقول نفس یا حسرتا علی ما فرطت فی جنب اللہ۔( بحوالہ: تفسیر نورالثقلین جلد 4 ص 496)۔
2۔ موت کے آستانے پر یا قیامت:
کیا یہ تینوں باتیں جو مجرمین عذاب الہی کو دیکھ کر کریں گے ان کی عمرکے آخر میں عذاب استیصال کے ساتھ مربوط ہیں؟ یا عرصہ قیامت میں درود کے وقت سے مربوط ہیں؟ اس سلسلے میں دوسرا معنی زیادہ صحیح نظر آتا ہے، اگرچہ اس سے پہلے کی آیات عذاب استیصال کے ساتھ مربوط ہیں اور اس کے بعد والی قیامت کے ساتھ مربوط ہے۔ اس بات کی شاہد سورہ انعام کی آیا 31 ہے جس میں یہ بیان ہوا ہے: قد خسرالذین کذبوا بلقاءالله حتٰي اذاجاءتهم الساعة بغتة قالوا ياحسرتنا على ما فرطنا فيها وہ لوگ جنھوں نے لقاے پروردگار کا انکار کر دیا تھا وہ نقصان اور خسارے میں گر فتار ہو گئے، ان کی حالت اسی طرح سے جاری رہے گی، یہاں تک کہ اچانک قیامت آجائے گی۔ اس وقت وہ کہیں گے ہائے افسوس ہم نے اس بارے میں کوتاہی کی تھی۔ مذکورہ بالا روایات کی ایک معنی پر ایک گواہ ہیں۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: ہر چیز کا خالق ومحافظ خدا ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 6گزشتہ آیات میں ان متکبر اور جھوٹے مشرکین کے بارے میں گفتگوتھی جو قیامت کے دن اپنے کیے پریشمان ہوں گے اور اس جہان کی طرف واپسی کا تقاضا کریں گے۔ ایسا تقاضا جو لاحاصل اور ناقابل قبول ہے۔ اب زیِربحث آیات میں اسی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا گیا ہے، جنھوں نے خدا پر جھوٹ باندھا تھا، قیامت کے دن تو دیکھے گا کہ ان کے منہ کالے ہیں (و يوم القيامة ترى الذين كذبوا على الله وجوههم مسودة)۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: کیا جہنم میں مستکبرین کے لیے کوئی جگہ نہیں ؟ (اليس في جهنم مثوي للمتکبرین)۔ اگرچہ "كذبوا على الله"(خدا پر انھوں نے جھوٹ باندها ) کا مفہوم وسیع اور کشادہ ہے، لیکن زیِربحث آیت میں خدا کی طرف شرک کی نسبت دینے اور خدا کے لیے فرشتوں میں سے یا حضرت عیسٰی یا کسی اور کے فرزند ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ اسی طرح لفظ "مستکبر"اگرچہ یہ ان تمام لوگوں کے لیے بولا جاتا ہے جو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں لیکن یہاں زیادہ تر وہ لوگ مراد ہیں جنھوں نے انبیاءکی دعوت کے مقابلے میں دین حق سے استکبار کیا اور ان کی دعوت قبول کرنے سے روگردانی کی۔ قیامت میں جھوٹ بولنے والوں کی روسیاہی، ان کی ذلت و خواری اور رسوائی کی نشانی ہے۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ عرصہ قیامت انسان کے پوشیده اسرار ظاہر ہونے اور ان کے اعمال و افکار مجسم ہونے کا میدان ہے۔جو لوگ اس دنیا میں سیاہ اور تاریک دل رکھتے تھے۔ اور ان کے اعمال ان کے افکار کی طرح تیره و تار تھے، وہاں ان کی یہ اندرونی حالت باہر آجانے گی اور ان کے چہرے تاریکی سیاه ہو جائیں گے۔ دوسرے لفظوں میں قیامت میں ظاہر و باطن ایک ہو جائے گا اور چہرے دلوں کا رنگ اختیار کرلیں گے جن کے دل تاریکی و سیاه ہوں گے ان کے چہر ے سیاہ ہو جائیں گے اور جن کے دل نورانی ہیں ان کے چہرے بھی ایسے ہی ہوں گے۔ جیسا کہ سوره آل عمران کی آیه 106، 107 میں آیا ہے: يوم تبيض وجوه وتسود وجوہ فأما الذين أسودت وجوهھم اكفرتم بعدايمانكم فذوقوا العذاب بما كنتم تكفرونه وأما الذين ابیضت وجوھھم ففى رحمة الله هم فیها خالدون اس دن کچھ چہرے سفید اور کچھ چہرے سیاہ ہو جائیں گے، جن کے چہرے سیاہ ہو جائیں گے ان سے کہا جائے گا: کیا تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے تھے۔ اب تم اپنےکفر کی وجہ سے عذاب چکھو اور جن کے چہرے سفید اور نورانی ہوں گے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خدا کی رحمت میں رہیں گے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ کچھ روایات جو منابع اہل بیتؑ سے نقل ہوئی ہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا پر جھوٹ جو باندھنا قیامت میں روسیاہی کا سبب ہے، ایک سیع معنی رکھتا ہے۔ اس میں امانت اور رہبری ناحق دعوٰی بھی شامل ہے۔ جسیاکہ صدوق کتاب اعتقادات میں اما صادقؑ سے نقل کرتے ہیں: من زعم انہ امام و لیس بامام"قیل و ان کان علواً فاطمیاً؟ قال و ان کان علویاً فاطمیاً اس سے مراد وہ شخص ہے جو خود کو امام سمجھے جبکہ وہ امام نہ ہو ۔ عرض کیا گیا : چاہے وہ نسل علی اور فاطمہ سے ہو؟ فرمایا: ہاں چاہیے وہ نسل علی اور اولاد فاطمہ سے ہی ہو۔ یہ ایک واضح مصداق کا بیان ہے، کیونکہ خدا کی طرف سے امانت و رہبری کا دعوی کرنا اگر حقیقت کے مطابق نہ ہو تو خدا پر جھوٹ باندھنے کا واضح ترین مصداق ہے۔ اسی طرح جو لوگ پیغمبر یا امامِ برحق کی طرف جھوٹی نسبت دیں تو ان کا عمل بھی درحقیقت خدا پر جھوٹ بولنا ہے، کیونکہ وہ اپنی طرف سے کوئی چیز نہیں کہتے۔ اسی لیے مام صادقؑ سے ایک حدیث میں منقول ہے۔ من حدث عنا بحدیث فنحن سائلوہ عنہ یوماً فان صدق علینا فانما یصدق علی اللہ و علی رسولہ، ان کذب علینا فانہ یکذب علی اللہ و رسولہ، لانا اذا حدثنا لانقول قال فلان و قال فلان، انما نقول قال اللہ و قال رسولہ ثم تلا ھذہ الاٰیۃ و یوم القیامۃ تری الذین کذبوا علی اللہ وجوھم مسودۃ۔ جو شخص کوئی حدیث ہم سے نقل کرے تو ہم ایک دن اس سے سوال کریں گے: اگر اس نے سچ کہا ے تو ہم سے یہ بیان کیا ہے تو حق بات کی خدا اور اس کے پیغمبرؐ کی طرف نسبت دی ہے اور اگر ہم پر جھوٹ بولا ہے تو اس نے خدا اور اس کے رسول پر جھوٹ بولا ہے۔ کیونکہ ہم جس وقت کوئی حدیث بیان کرتے ہیں تو ہم یہ نہیں کہتے کہ فلا شخص اور فلاں شخص نے یہ کہا ہے بلکہ ہم کہتے ہیں کہ خدا نے یہ کہا ہے اور اس کے پیغمبر ؐ نے کہا ہے پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی : و یوم القیامۃ تری الذین کذبوا علی اللہ وجوہ ھم مسودۃ۔ یہ حدیث اچھی طرح سے اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آئمہ اہل بیتؑ اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کرتے اور تمام صحیح اور معتبر احادیث جو ان سے نقل ہوئی ہیں وہ سب کی سب پیغمبر اکرم کی طرف بازگشت کرتی ہیں، اور یہ ایسا نکتہ ہے جو تمام علماءالسلام کے لیے قابل غور ہے۔ اس بنا پر ان لوگوں کو بھی جو ان کی امامت قبول نہیں کرتے کم از کم ان کی احادیث کو احادیث رسولؐ کے عنوان سے تو قبول کرنا چاہیے۔ اسی مضمون کی ایک اور حدیث امام صادقؑ سے کافی میں نقل ہوئی ہے اس میں بیان ہوا ہے: ہم میں سے ہر ایک امام کی حدیث دوسرے امام کی حدیث ہے اور ہماری حدیث رسول اللہ کی حدیث ہے (بحوالہ: کافی جلد اول باب روایت الکتب والحدیث حدیث 14) یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ آیات قرآنی سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ کفر کا اصلی سرچشمہ کبر و غرور ہی ہے۔ جیسا کہ شیطان کے بارے میں آیا ہے: ابٰی و استكبر وكان من الكافرين اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور کافروں میں سے ہو گیا۔ (بقرہ ـــــــــــ 34) اسی بنا پر متکبرین جگہ جہنم کی جلا ڈالنے والی آگ کے سوا اور کہیں نہیں ہو سکتی۔ یہاں تک کہ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے منقول ہے: ان في جهنم لواد للمتكبرين يقال له سقر، شکی الی الله عز وجل شدۃ حره، وسئله ان يتنفس فاذن له فتنفس فاحرق جهنم جہنم میں ایک علاقہ ایسا ہے جو متکبرین کے لیے مخصوص ہے اسے سقر کہا جاتا ہے، ایکی دفع اس نےاپنی حرارت کی شدت کی خدا سے شکایت کی اور یہ تقاضا کیا کہ وہ ایک سانس لےلے، اسے اجازت دے دی گئی تو اس نے ایک ایسا سانس لیا جس نے جہنم کو جلا کر رکھ دیا۔(بحوالہ: تفسیرعلی بن ابراہیم . تورالثقلین جلد 4 ص 496 کے مطابق یہی تفسیر صافی میں بھی زیر بحث آیات کے ذیل میں آیا ہے)۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بعد والی آیت میں اس گروہ کے مد مقابل معنی پر ہیزگاروں کے اور قیامت میں ان کی سعادت کے متعلق گفتگو ہو رہی ہے، فرمایا گیا ہے: خدا ان لوگوں کو جنھوں نے تقوٰی اختیار کیا نجات دے گا اور انھیں کامیاب کرے گا۔ (وينجي الله الذين اتقوا بمفازتهم)۔ (تشریحی نوٹ: "مفازة"مصدر میمی ہے اور فلاح اور کامیابی کے معنی میں ہے اور "بمفاز تهم"میں "با "یا ملابست کے لیے بے یاسیت کے لیے پہلی صورت میں آیت کا معنی یہ ہو گا۔ خدا انھیں کامیابی کے ساتھ نجات دے گا ۔ دوسری صورت میں آیت کا معنی یہ ہے:- خدا انھیں ان کی کامیابی کی وجہ سے ایمان اور عمل صالح کی طرف کنایہ ہے )کہ نجات اور رہائی بخشے گا)۔ اس کے بعد اس فلاح و کامیابی کی ان دو مختصر اور پر معنی جملوں کے ساتھ وضاحت کی گئی ہے: کوئی برائی ان تک نہ پہنچے گی اور کوئی غم انھیں نہیں ہو گا (لا يمسهم السوءولا هم يحزنون)۔ وہ ایسے عالم میں زندگی بسر کریں گے جہاں سوائے نیکی و پاکیزگی اور وجد و سرور کے کوئی چیز نہ ہو گی۔ حقیقت میں اس مختصری سی تعبیر نےخدا کی تمام نعمتوں کو اپنے اندر جمع کرلیا ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بعد والی آیت ایک بار پھر مسئلہ توحید کی جانب اور شرک کے خلاف مقابلے کی طرف لوٹتی ہے اور مشرکین کے ساتھ جو گفتگو ہو رہی تھی، اسی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ فرمایا گیا ہے، خدا کی ہر چیز کا خالق ہے اور وہی تمام چیزوں کا محافظ اور ان پر ناظر و نگران ہے (الله خالق كل شيءوهو على كل شيءوكيل )۔ پہلا جملہ "توحید خالقیت"کی طرف اشارہ ہے۔ دوسرا جملہ "توحید ربوبیت"کی طرف اشارہ ہے توحید خالقیت کا مسئلہ تو ایسی چیز ہے کہ مشرکین تک بھی عام طور پر اس کے معترف تھے۔ جیسا کہ اس سورہ کی آیہ 38 میں بیان ہوا ہے۔ اگر تو مشرکین سے پوچھے کہ آسمان و زمین کس نے پیدا کیے تو وہ کہیں گئے : اللہ نے۔ لیکن انھوں نے توحید ربوبیت میں انحراف کیا تھا، وہ اپنے کاموں کا محافظ، نگهبان اور مدبر بتوں کو سمجھتے تھے اور مشکلات میں انھی سے پناہ لیتے تھے۔ قرآن درحقیقت مذکورہ بیان کے ذریعے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ امور عالم کی تدبیر اور اس کی حفاظت و نگہداری کی ہستی کے ہاتھ میں ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے۔ اس بنا پر ہر حالت میں اسی کی پناہ لینی چاہیے۔ ابن منظور نے لسان العرب میں "وکیل"کے متعدد معانی بیان کیے ہیں۔ مثلًا "کفیل"، "حا فظ"اور "وہ ہستی جو کسی چیز کے امور کی تدبیر کرے"۔ اس طرح سے ثابت ہو جاتا ہے کہ بت نہ تو کوئی فائدہ ہی پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی نقصان، نہ تو وہ کوئی گرہ کھول سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی گرہ لگا سکتے ہیں، ایک ایسا ضعیف و کمزور وجود ہیں کہ جن سے کوئی کام نہیں ہو سکتا۔ مکتب جبر کے پیروکار "الله خالق كل شيء"سے اپنے انحرافی عقیدہ پر استدلال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے اعمال بھی آیت کے مفہوم میں داخل ہیں۔ اس بنا پران کا خالق بھی خدا ہی ہے اگرچہ ان کا ظہور کا مقام ہمارے بدن اعضاءہیں- ان کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ اس مطلب کو نہ سمجھ سکے کہ خدا کی خالقیت، ہمارے افعال کے بارے میں ہمارے اختیار اور ارادے کی آزادی سے کوئی تضاد نہیں رکھتی، کیونکہ یہ دونوں نسبتیں طول میں ہیں میں عرض میں نہیں۔ اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ ہمارے اعمال خدا کی طرف کی نسبت رکھتے ہیں اور ہماری طرف بھی۔ ایک طرف تو عالم ہستی کی کوئی چیز بھی خدا کے احاطہ قدرت سے باہر نہیں ہے اور اس لحاظ سے ہمارے اعمال بھی اسی کی مخلوق ہیں، لیکن اس نے چونکہ ہمیں قدرت و طاقت عقل و فہم، اراده و اختیار، آلات کار اور آزادی عمل عطا کی ہے تو اس لحاظ سے ہمارے عمل کو اس کی طرف نسبت دی جا سکتی ہے۔ اس کی مشیت یہ ہے کہ ہم آزاد ہیں اور اعمال اختیاری بجا لائیں اور اس نے تمام وسائل ہمارے اختیار میں دے دیئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہم اپنے عمل میں آزاد و مختار ہیں اور اس لحاظ سے ہمارے افعال ہماری طرف منسوب ہیں اور ہم ان کے بارے میں مسئول اور ذمہ دار ہیں۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ہم ہی اپنے اعمال کے خالق ہیں اور خدا کا ان میں کوئی دخل نہیں ہے تو وہ مشرک ہے کیونکہ وہ دو خالقوں کا معتقد ہو گیا، بڑا خالق اور چھوٹا خالق، اور اگر کوئی یہ کہے کہ ہمارے افعال کا خالق خدا ہے اور ہمارا اس میں کوئی دخل نہیں ہے تو وہ منحرف ہے۔ کیونکہ اس نے خدا کی حکمت و عدالت کا انکار کیا ہے، کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ اعمال تو اس کے ہوں اور ان کے بارے میں جواب دہ ہم ہوں؟ اس صورت میں سزا و جزا، حساب و معاد اور ذمہ داری و مسئولیت کے کوئی معنی نہ ہوں گے۔ اس بنا پر صحیح اسلامی عقیدہ جو قرآن کی آیات کو یکجا جمع کرنے سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے یہ ہے کہ ہمارے تمام اعمال اس کی طرف بھی نسبت رکھتے ہیں اور ہماری طرف بھی نسبت رکھتے ہیں اور یہ دونوں میں آپس میں کسی قسم کی کوئی تضاد نہیں رکھتیں کیونکہ بہ وہ طولی نسبتیں ہیں نہ کہ عرضی متوازی (غور کیجیے گا)۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بعد والی آیت خدا کی توحید، مالکیت کے ذکر کے ساتھ گزشتہ آیت کی توحیدی بحث کی تکمیل کرتی ہے اور کہتی ہے، آسمانوں اور زمین کیا چابیاں اسی کے لیے ہیں (له مقاليد السماوات والارض) ۔ "مقالید"اکثر ارباب لغت کے قول کے مطابق "مقلید"کی جمع ہے (اگرچہ زمخشری نے یہ کہا ہے کہ یہ کلمہ اپنی جنس سے کوئی مفرد نہیں رکھتا) اور مقليد "و"اقليد "دونوں چابی کے معنی میں ہیں اور لسان العرب اور بعض دوسروں کے مطابق اس کی اصل فارسی کے لفظ ” کلید"سے لی گئی ہے اور عربی میں بھی اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس بنا پر ( مقاليد السماوات والارض) کا معنی آسمانوں اور زمین کی چابیاں ہی ہے۔(تشریحی نوٹ: بعض فارسی لغت نوسیوں سے قول کے مطابق "کلید"کا معرب"اقلید"و "اکیل"ہے اور "تقلاد"وہ آلہ ہے جس کے ساتھ قفل کھولا اور بند کیا جاتا ہے۔ (حاشیہ برھان بیان قاطع)۔ یہی تعبیر عام اور کسی چیز کی مالکیت اور اس پر تسلط کے لیے کنایہ ہوتی ہے۔ جیسا کہ ہم کہتے ہیں، اس کام کی چابی فلاں کے ہاتھ میں ہے۔ لہذا زیِربحث آیت خدا کی توحید مالکیت کی طرف بھی اشارہ ہوسکتی ہے اور عالم ہستی پاک کی توحید و تدبیر و ربوبیت و حاکمیت کی طرف بھی۔ اسی بنا پر قرآن اس جملے کے بعد بلا فاصلہ اس طرح نتیجہ نکالتا ہے، جنھوں نے آیات خدا سے کفر کیا ہے وہ زیاں کار ہیں (والذين كفروا بآيات الله اولئك هم الخاسرون)۔ کیونکہ انھوں نے تمام خیرات و برکات کے منبع اصلی اور سرچشمہ حقیقی کو چھوڑ دیا ہے اور بے راہ رو ہو کر سرگرداں ہو گئے ہیں۔ جس ذات کے ہاتھ میں آسمان و زمین کی تمام چابیاں ہیں اس سے روگردانی کر کے ناتواں موجودات کے پیچھے لگ گئے ہیں، جن سے مطلق طور پر کوئی بھی کام نہیں ہو سکتا ۔ ایک حدیث میں امیرامؤالمنین علیؑ سے منقول ہوا ہے کہ میں نے رسول خدا سے "مقالید"کی تفسیر پوچھی، تو آپؐ نے فرمایا : يا على لقد سئلت عن عظیم المقاليد، هوان تقول عشرًا اذا اصبحت، وعشرًا اذا امسيت، لا اله الا الله والله اکبر سبحان الله و الحمد لله واستغفر الله ولا قوة الا بالله (هو) الأول والأخر والظاهر و الباطن له الملك وله الحمد (يحيي ويميت) بيده الخير و هو على كل شيءقدير تو نے عظیم چابیوں کے بارے میں سوال کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ تو ہر صبح اور ہر شام ان جملوں کی تکرار کر ے لا اله الا الله والله اكبر وسبحان الله و الحمد لله ................... آخر حدیث تک۔ پھر آپؐ نے مزید فرمایا : جو شخص ہر صبح وشام دس مرتبہ ان کلمات کی تکرار کرے گا، خدا اسے چھ اجر عطا کرے گا، جن میں سے ایک یہ ہے کہ خدا اسے شیطان اور اس کے لشکر سے محفوظ رکھے گا تاکہ اس کا اس پرتسلط نہ ہو۔(بحوالہ: تفسیر قرطبی جلد 8 ص 8719 اور تفسير ابوالفتوح الرازی جلد 9 ص 417 زیر بحث آیات کے ذیل میں (تلخیص کے ساتھ)۔ یہ بات کہے بغیر ہی واضع ہے کہ ان کلمات کہنا زبان کے ساتھ پڑھنے کی صورت میں ان سب امور کے لیے کافی نہیں ہے۔ بلکہ مطالب و معانی پر ایمان اور ان پر عمل بھی ضروری ہے۔ یہ حدیث ممکن ہے خدا کے اسمائے حسنٰی کی طرف ایک لطیف اشارہ ہو، جوعالم ہستی پر اس کی مالکیت و حاکمیت کا مبدءہیں۔ (غور کیجیے گا) توحید کی شاخوں کے بارے میں گزشتہ آیات میں جو کچھ بیان ہوا ہے، اس سے مجموعی طور پر بخوبی یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے، کہ "توحید اور عبادت"ایک ناقابل انکار حقیقت ہے، یہاں تک کہ ایک فہمیده اور عقل مند انسان اپنے آپ کو اس بات کی اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ بتوں کے سامنے سجدہ کرے۔ اس لیے اس کے بعد ایک قاطع اور سخت لب و لہجے میں فرمایا گیا ہے: کہہ دے: اے جاہلو! کیا تم یہ حکم دیتے ہو کہ میں غیر خدا کی عبادت کروں (قل افغيراللہ تأمرونى اعبد ایها الجاهلون)۔ یہ گفتگو خاص طور پر اس بات کی طرف توجہ کرنے سے ایک بہت عمیق مفہوم پیدا کرتی ہے کہ کفار و مشرکین بعض اوقات پیغمبراسلامؐ کو دعوت دیتے تھے کہ آپؐ ان کے خداؤں کا احترام اور پرستش کریں یا کم از کم بتوں کی عیب جوئی اور ان پر تنقید کرنے سے پرہیز کریں۔ گویا یہ آیت صراحت کے ساتھ اعلان کرتی ہے کہ مسئلہ توحید اور نفی شرک کوئی ایسی بات نہیں ہے جس پر کوئی معامله سودے بازی یا سمجھوتہ کیا جا سکے۔ شرک تو چاہے جس صورت میں بھی ہو اسے نابود کر دینا چاہیے اور اسے صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہیے۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ بت پرست عام طور پر جاہل ہوتے ہیں، نہ صرف یہ کہ وہ پروردگار کے بارے میں جاہل ہیں بلکہ انھوں نے تو خود اپنی انسانیت کے بلند و بالا مقام کو بھی نہیں پہچانا اور اسے پامال کر دیا ہے۔ اس آیت میں امر اور حکم کی تعبیر بھی معنی خیز ہے۔ یہ اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ وہ کسی دلیل و منطق کے بغیر ایک آمرانہ لہجے میں پیغمبراسلامؐ کو بت پرستی کی دعوت دیتے تھے۔ اس قسم کی باتیں جاہل و نادان افراد سے کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ کیا یہ جہالت و نادانی کی بات نہیں ہے کہ انسان عالم ہستی میں خدا کی ان تمام آیات اور نشانیوں کو چھوڑ دے جو اس کے علم و حکمت اور قدرت و تدبیر پر گواہ ہیں اور بے قدر و قمیت چیزوں سے مل جائے، جو نہ تو کوئی اثر رکھتی ہیں اور نہ ہی کسی خاصیت کی حامل ہیں- ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 67 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 67 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: تومشرک ہو جائے تو سب اعمال برباد
Tafsīr Nemūna · Vol. 6ان آیات میں اسی طرح شرک و توحید سے مربوط مسائل ہی بیان ہو رہے ہیں جن کے متعلق گزشتہ آیات میں بھی گفتگو تھی۔ پہلی آیت میں شرک کے نقصان کو دو ٹوک انداز میں بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: تجھ سے پہلے کے تمام انبیاءکی طرف بھی اور تیری طرف بھی یہی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو یقینًا تیرے تمام اعمال حبط و نابود ہو جائیں گے اور تو زیان کاروں میں سے ہو جائے گا۔ (ولقد اوحي اليك والى الذين من قبلك لئن اشرکت ليحبطن عملك ولتكونن من الخاسرین ) اس طرح سے شرک کے دو خطرناک نتائج ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ خدا کے پیغمبروں کے لیے بھی اگر بفرضِ محال وہ مشرک ہو جائیں تو یہی نتائج ہوں گے۔ پہلا مسئلہ تو حبط اعمال ک ہے اور دوسرا مسئلہ زندگی کے خسران و زیان میں گرفتار ہونے کا ۔ "حبط اعمال"کا معنی شرک کی وجہ سے عمل کے آثار اور اجر کا محو ہو جانا ہے کیونکہ اعمال قبول ہونے کی شرائط، اصولِ توحید کا اعتقاد ہے اور اس کے بغیر عمل بھی قابل قبول نہیں ہوتا۔ شرک جلا ڈالنے والی وہ آگ ہے جو آدمی کے اعمال کے درخت کو جلا کر رکھ دیتی ہے۔ شرک ایک ایسی کوندنے والی بجلی ہے جو زندگی کے تمام حاصل کو جلا کر خاکستر کر دیتی ہے۔ شرک اس طوفان کے مانند ہے جو انسان کے اعمال کو ریزہ ریزہ کر کے اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ جیسا کہ سورہ ابراہیم کی آیہ 18 میں بیان ہوا ہے۔ مَثَلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمۡ اَعۡمَالُہُمۡ کَرَمَادِۣ اشۡتَدَّتۡ بِہِ الرِّیۡحُ فِیۡ یَوۡمٍ عَاصِفٍ ؕ لَا یَقۡدِرُوۡنَ مِمَّا کَسَبُوۡا عَلٰی شَیۡءٍ ؕ ذٰلِکَ ھُوَ الضَّلٰلُ الۡبَعِیۡدُ جن لوگوں نے اپنے رب کا انکار کیا ہے ان کے اعمال کی مثال اس راکھ کی سی ہے جسے آندھی کے دن تیز ہوا نے اڑا دیا ہو، وہ اپنے اعمال کا کچھ بھی (پھل) حاصل نہ کر سکیں گے، یہی تو بہت گہری گمراہی ہے۔ اسی لیے ایک حدیث میں پیغمبر گرامی اسلام سے منقول ہے ان اللہ تعالی یحاسب کل خلق الا من اشرک باللہ فانہ لایحاسب و یؤمر بہ الی النار خداوند تعالی تمام بندوں کا محاسبہ کرے گا مگر جس نے خدا کے ساتھ شرک کیا ہو گا اسے بغیر حساب کے جہنم کی آگ میں بھیج دی جائے گا۔ باقی رہا ان کا زیان کار ہونا تو وہ اس بنا پر ہے کہ انہوں نے اپنا عظیم ترین سرمایہ یعنی عقل و خرد اور قیمتی عمر، دنیا کی تجارت کے اس عظیم بازار میں گنوا دی ہے اور حسرت و اندوہ کے سوا انہوں نے کوئی چیز نہ خریدی۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ بات ممکن ہے کہ خدا عظیم پیغمبر شرک کا راستہ اختیار کر لیں گے کہ آیت اس لہجے کے ساتھ ان سے بات کر رہی ہے؟ اس سوال کا جواب واضح ہے اور وہ یہ کہ انبیاءہرگز شرک نہیں کریں گے اگرچہ وہ اس کام پر قدرت و اختیار رکھتے ہیں اور معصوم ہونے کا معنی سلب قدرت و اختیار نہیں ہے بلکہ ان کی سطح معرفت کا بلند ہونا اور مبدءوحی کے ساتھ دوامی اور مستقیم ارتباط اس بات سے مانع ہے کہ وہ ایک لمحہ بھر کے لیے بھی شرک کا تصور کریں۔ کیا کوئی عقل مند اور حاذق طبیب ، جو انتہائی خطرناک و مہلک اور زہریلے مادے کی تاثیر سے بخوبی آگاہ ہو، ا س سے یہ بات ممکن ہے کہ وہ اپنی فکر و عقل کے اعتدال کی صورت میں خود کو اس سے آلودہ کرے؟ مقصد یہ ہے کہ شرک کے خطرے کی اہمیت سب کے گوش گزار ہو جائے تاکہ لوگ جان لیں کہ جب خدا اپنے بزرگ پیغمبروں کے ساتھ اسی طرح سے گفتگو کر رہا ہے تو دوسروں کا معاملہ تو واضح ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ عربوں کی اس مشہور ضرب المثل کی طرح ہے: ایاک اعنی واسمعي يا جارة مراد تو میری تو ہے اور اے پڑوسن تو بھی سنتی رہنا۔ یہی معنی ایک حدیث میں امام علی بن موسٰی رضا علیه اسلام سے بھی منقول ہیں، جب کہ مامون نے آپ سے چند آیات کے بارے میں سوال کیا تو امام نے فرمایا ؟ اس قسم کی آیات سے مراد امت ہے اگرچہ مخاطب رسول خدا ہیں۔ (بحوالہ: نورالثقلین جلد 4 ص 497)۔ بعد والی آیت میں مزید تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے: بلکہ صرف خدا ہی کی عبادت کر اور شکر گزاروں میں سے ہو جا (بل الله فاعبده وكن من الشاکرین)۔ (تشریحی نوٹ: "فاعبد"میں "فا "ممکن ہے زائدہ ہو جو اس قسم کے موقعوں پرتاکید کے لیے آتی ہے بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ لفظ شرط محزوف کی جزا ہے اور تقدیر میں اس طرح تھا"ان كنت عابدًا فاعبد الله - پھر شرط حزف ہوگئی اور مفعول اس کی جگہ پر مقدم ہو گیا لفظ "اللہ"کو "حصر"کے لیے مقدم رکھا گیا ہے، یعنی صرف اللہ کی ذات پاک ہی کو منحصر طور پر تیرا معبود ہونا چاہیے اور اس کے بعد شکر گزاری کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ ان نعمتوں کاشکر ادا کرنا جن میں انسان غرق ہے۔اللہ کی معرفت اور ہرقسم کے شرک کی نفی کے لیے ہمیشہ ایک سیٹرھی کا کام دیتا ہے۔ نعمت کے جواب میں شکر کرنا ہر انسان کے لیے فطری امر ہے اور شکر گزاری کے لیے ہر چیز سے پہلے منعم کی ہستی کی معرفت لازم ہے اور وہ مقام ہے جہاں شکر کا راستہ توحید کے راستے سے جاملتا ہے اور وہ بت جو کسی نعمت کا مبدءنہیں ہیں الگ ہو جاتے ہیں۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ آخری زیِربحث آیت میں نفی شرک کے لیے ایک اور بات کی گئی ہے اور ان کے انحراف کی اصلی جڑ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: "انھوں نے خود کو اس کے شایان شان طریقے سے نہیں پہچانا"اور اسی بنا پر اس کے مقدس نام کو اتنا نیچے لے آئے ہیں کہ اسے بتوں کے ہم پلہ بنادیا (و ماقدروا الله حق قدره) ۔ ہاں !شرک کا سرچشمہ خدا کے بارے میں صحیح معرفت نہ ہونا ہے، جو شخص یہ جانتا ہو کہ: اولاً وہ ہر لحاظ سے بے پایاں اور غیر محدود وجود ہے۔ ثانیًا تمام موجودات کی خلقت و پیدائش اسی کی طرف سے ہے، یہاں تک کہ اپنی بقا کے لیے بھی اسی کے فیض وجود کے محتاج ہیں۔ ثالثًا عالم ہستی کی تدبیر اور تمام مشکلات کاحل اور تمام ارزاق اسی کے دست قدرت میں ہیں۔ یہاں تک کہ اگر کسی کی شفاعت بھی ہو گی تو اسی کے اذان و فرمان سے ہو گی تو پھر کوئی وجہ نہیں ہے کہ انسان اس کے علاوہ کسی اور کی طرف رخ کرے۔ اصلاً ان صفات کے ساتھ کسی وجود کے لیے دو گانگی محال ہے، کیونکہ تمام جہات سے دو غیر محدود وجودوں کا ہونا محال ہے اور عقلًا ممکن نہیں ہے۔ (غور کیجیے گا)۔ اس کے بعد اس کی عظمت و قدرت کے بیان کے لیے دو عمدہ کنایوں سے استفادہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے، قیامت کے دن تمام زمین اسی کے قبضے میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے ( والارض جمیعًا قبضته يوم القيامة والسماوات مطوبات بيمينه). "قبضہ"اس چیز کے معنی میں ہے جو مٹھی میں لی جاتی ہے اور عام طور پر یہ کسی چیز پر قدرت مطلقہ اور تسلط کامل کے لیے کنایہ ہے۔ جیسا کہ روز مرہ کے جملوں میں ہم کہتے ہیں کہ فلاں شہر میرے قبضہ میں ہے یا فلاں ملک میرے قبضہ اور مٹھی میں ہے۔ "مطويات"، "طی"کے مادہ سے "لپیٹنے کے معنی میں ہے جو کبھی عمر کے گزرنے یا کسی چیز سے عبور کرنے کے لیے کنایہ ہوتا ہے سورہ انبیاءکی آیہ 104 میں آسمانوں کے بارے میں یہی تعبیر زیادہ واضح صورت میں بیان ہوئی ہے۔ يوم نطوي السماءكل السجل للكتب اس دن ہم آنسمانوں کو طوماروں کی طرح لپیٹ دیں گے۔ جو شخص چٹائی لپیٹ کر دائیں ہاتھ میں لیے ہوئے ہو وہ اس پر کامل ترین تسلط رکھتا ہے۔ خصوصًا "یمین"(دایاں ہاتھ) اس بنا پر کہا گیا ہے کیونکہ اکثر لوگ اہم کام دائیں ہاتھ سے ہی انجام دیتے ہیں اور اس میں زیادہ قوت کا احساس کرتے ہیں۔ مختصر بات یہ ہے کہ یہ سب تشبیہات اور تعبیرات دوسرے جہان میں عالم ہستی پر پروردگار کے مطلق تسلط کے لیے کنایہ ہیں، تاکہ سب لوگ یہ بات جان لیں عالم قیامت میں کلید نجات اور حل مشکلات خدا کے دست قدرت میں ہے تاکہ شفاعت وغیرہ کے بہانے سے بتوں اور دوسرے معبودوں کی طرف نہ جائیں۔ کیا اس دنیا میں زمین و آسمان اسی صورت میں اس کے قبضہ قدرت میں نہیں ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر قرآن آخرت کی بات کیوں کر رہا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس دن خداکی قدرت ہر زمانے کی نسبت زیادہ آشکار ہو گی اور اصلی ظہور کے مراحلے میں پہنچی ہوئی ہو گی اور سب کے سب واضح و آشکار طور پر جان لیں گے کہ ہر چییز اسی کی ہے اور اسی کے اختیار اور قبضے میں ہے۔ علاوہ ازیں، ممکن ہے بعض لوگ نجات کے بہانے سے قیامت میں غیر خدا کے پاس چلے جائیں جیسا کہ عیسائی عیسٰی کی پرستش کے سے نجات کا مسئلہ اٹھاتے ہیں۔ اس بنا پر مناسب یہی ہے کہ قیامت میں خدا کی قدرت کے بارے میں گفتگو کی جائے۔ ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے اس سے اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ یہ ساری تعبیریں کنایہ کا پہلو رکھتی ہیں اور ہمارے الفاظ کی کوتاہ دامنی کی وجہ سے مجبور ہیں کہ روز مرہ کی زندگی میں ان بلند معانی کو انھیں معمولی الفاظ کے قالب میں ڈھالیں اور اس بات کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ کوئی شخص ان سے پروردگار کے تجسم کا احتمال سمجھے سوائے اس کے کہ جو بہت کی سادہ لوح کوتاه بین اور کوتاه فکر ہو، تواس صورت میں کیا کیا سکتا ہے؟ وہ الفاظ جو پروردگار کی عظمت کا مقام بیان کرنے کی گنجائش رکھتے ہوں ہمارے پاس نہیں ہیں، لہذا ہمیں انھیں الفاظ کے کنائی معانی سے استفادہ کرتے ہوئے۔ جو وسیع اور کشادہ دامن رکھتے ہیں، فائدہ اٹھانا چاہیے۔ بہرحال، ان بیانات کے بعد آیت کے آخر میں ایک مختصر اور واضح نتیجہ اخذ کرتے ہوئے قرآن فرماتا ہے: اس کی ذات ان شرک سے منزہ اور پاک ہے اور بلند و بالا ہے۔ (سبحانه وتعالى عما يشركون)۔ اگر انسان اپنے افکار کے چھوٹے سے پیمانوں کے ساتھ اس کی پاک ذات کے بارے میں فیصلہ نہ کرتا تو ہرگز شرک و بت پرستی نہ کرتا۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1- مسئلہ حبط اعمال
کیا واقعًا یہ بات ممکن ہے کہ انسان کے نیک اور اچھے اعمال اس کے برے اعمال کی بنا پر حبط و نابود ہو جائیں؟ کیا یہ مسئلہ ایک طرف تو خدا کی عدالت کے اور ان آیات کے ظاہری مفہوم کے منافی نہیں ہے وہ یہ کہتی ہیں کہ انسان اگر ذرہ برابر اچھا یا برا کام انجام دے تو اسے دیکھے گا۔ یہاں بحث کا دامن بہت وسیع ہے۔ دلائل عقلی کے لحاظ سے بھی اور دلائل نقلی کے لحاظ سے بھی۔ جس کا ایک حصہ جلد دوم میں سورة بقرہ کی آیہ 217 اس کے ذیل میں پیش کر چکے ہیں اور انشاءاللہ آئندہ بھی دیگر متعلقہ آیات کے ذیل میں پیش کریں گے۔ وہ بات جس کی طرف یہاں اشارہ کرنا ضروری ہے اور جو زیر بحث آیات میں درپیش ہے یہ ہے کہ اگر کوئی شخص دوسرے گناہوں کے مقابلے میں "حبط اعمال"میں شک کرے تو کم از کم وہ شرک کی حبط اعمال میں تاثیر کے متعلق شک نہیں کرے گا، کیونکہ قرآن مجید کی بہت سی آیات جن میں سے بعض کی طرف ہم اوپر کر چکے ہیں، میں صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ ایمان کے ساتھ دنیا سے جانا اعمال کی قبولیت کی شرط ہے اور اس کے بغیر کوئی بھی عمل قابل قبول نہیں ہو گا۔ مشرک کا دل کی شوره زار کے مانند ہے کہ اگر تمام پھولوں کے بیج اس میں چھڑک دیئے جائیں اور حیات بخش بارش اس کے اوپر برستی رہے تو اس میں ایک پھول بھی اگانے کی استعداد نہ ہو گی اور خس و خاشاک کے سوا اس سے کوئی بھی باز نہ آئے گی۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
2- کیا مؤمنوں نے خدا کو پہچان لیا ہے
ان آیات میں بیان ہوا ہے کہ مشرکین نے خدا کو اس کے شایان شان طریقہ سے نہیں پہچانا کیونکہ اگر وہ پہچان لیتے تو اور پھر شرک کی راہ پر نہ چلتے، اس کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ مومنینِ موحد نے اسے حقیقی طور پر پہچان لیا ہے۔ تو اب یہ سوال سامنے آتا ہے کہ یہ بات پیغمبر اکرمؐ کی اس مشہور حدیث کے ساتھ کیسے ہم آہنگ ہے جس میں آپؐ فرماتے ہیں: ماعرفناك حق معرفتك، وما عبدناك حق عبادتك ہم نے تجھے ایسا نہیں پہچانا جیسا کہ تیری معرفت کا حق ہے، اور ہم نے تیری ایسے عبادت نہیں کی جیسے کہ تیری عبادت کا حق ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ معرفت کے کئی مرحلے اور درجے ہوتے ہیں ان میں سے ایک مرحلہ ایسا ہے جو معرفت سے بالا ہے اور وہ خدا کی ذات کی کنہ اور حقیقت معلوم کرنا ہے اور یہ بات کسی کے لیے بھی ممکن نہیں ہے اور اس کی ذات پاک کے سوا کوئی بھی اس کی ذات پاک کی کنہ اور حقیقت سے باخبر نہیں ہے۔ پیغمبر اکرمؐ کی مذکورہ مشہور حدیث اسی معنی کی طرف اشارہ ہے۔ لیکن کچھ مراحل ایسے ہیں جو اس سے بہت نیچے ہیں جو انسانوں کی استعدادی ہیں اور وہ اس کی صفات کی اجمالی شناخت اور اس افعال کی تفصیلی شناخت کا مرحلہ ہے اور یہ مرحلہ انسان کے لیے ممکن ہے اور اللہ کی معرفت حاصل کرنے کا حکم اسی مرحلہ سے متعلق ہے۔ زیِر بحث آیت بھی اسی مرحلے کے بارے میں گفتگو کررہی ہے جس میں مشرکین عاجز رہ جاتے ہیں۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر: صُور پھونکا جانا اور سب کی موت وحیات
Tafsīr Nemūna · Vol. 6گزشتہ آیتوں میں قیامت کے بارے میں گفتگو تھی- زیِربحث آیت میں اس مسئلے کو بہت سی خصوصیات کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے۔ پہلے دنیا کے اختتام کی بات کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اور صور پھونکا جائے گا تو وہ سب کے سب مر جائیں گے۔ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سوائے ان کے جنھیں خدا چاہے گا (ونفخ في الصور فصعق من في السماوات ومن فی والارض الا من شاءاللہ )۔ پھر صور پھونکا جائے گا تو اچانک سب کے سب اٹھ کھڑے ہوں گے اور وہ اپنے حساب و جزا اور نام کے انتظار میں ہوں گے۔ (ثم نفخ فیه اخرٰی فاذاهم قیام ينظرون)۔ اس آیت سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی انتہا اور قیامت کے آغاز میں دو حادثے ناگہانی اور اچانک رونما ہوں گے۔ پہلے حادثے میں سب زنده موجودات فورا مر جائیں گے اور دوسرے حادثے میں جو کچھ وقفے کے بعد صورت پذیر ہو گا، تمام انسان اچانک زندہ ہو کر کھڑے ہو جائیں گے اور حساب و کتاب کا انتظار کریں گے۔ قرآن مجید ان دونوں حادثوں کو "نفخ صور"سے تعبیر کرتا ہے جو ناگہانی اور اچانک حوادث کے بارے میں ایک خوبصورت اور زیبا کنایہ ہے۔ کیونکہ "نفخ"کا معنی ہے "پھونکنا "اور "صور"کا معنی ہے "بگل"یا اندر سے خالی سینگ جو عام طور پر قافلے یا لشکر کو چلانے یا ٹھہرا نے کے لیے بجاتے ہیں۔ البتہ ان دونوں کی آوازوں میں آپسں میں فرق ہوتا ہے۔ ٹھہرنے کا بگل قافلے کو ایک جگہ ٹھہرا دیتا ہے اور چلنے کا بگل قافلے کے چلنے کی ابتداءکا اعلان کرتا ہے۔ یہ تعبیر ضمنی طور پر حکم کی سہولت کو بھی بیان کر رہی ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خداوند بزرگ و برتر ایک ہی فرمان سے جو ایک بگل میں پھونکنے کی طرح آسان ہے، اہل آسمان و زمین کو مار دے گا اور ایک ہی فرمان سے کہ وہ بھی کوچ کرنے اور چلنے کے بگل سے مشابہت رکھتا ہے، سب کو زندہ کر دے گا۔ ہم بارہا بیان کر چکے ہیں کہ سارے الفاظ جو ہماری روزمرہ کی محدود زندگی کے لیے وضع ہوئے ہیں اس سے بہت زیادہ عاجز ہیں۔ کے ماوراءطبعیت جہان یا اس جہان کے اختتام اور دوسرے جہان کے آغاز سے مربوط حقائق کو صحیح طور پر بیان کر سکیں۔ اسی بنا پر ضروری ہے کہ معمولی اور عام الفاظ سے ہی ان وسیع و کشادہ معانی کے لیے استفادہ کیا جائے اور ان الفاظ کے معانی کے لیےان میں موجود قرائن پر توجہ رکھنی چاہیے۔ اس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ قرآن مجید میں اس جہان کے خاتمے اور دوسرے جہان کے حادثاتی آغازکے متعلق مختلف تعبيريں آئی ہیں معتدد آیات میں(دس سے زیادہ مواقع پر) "نفخ صور"کا ذکر ہے۔ (تشریحی نوٹ: وہ مواقع جہاں قرآن میں "نفخ صور"کا لفظ آیاہے، حسب ذیل ہیں: کہف ------- 99، مؤمنون -------- 101 ، یٰس --------51 ، زمر ---------- 68 ، ق ------- 20 ، الحاقہ ------13 ، انعام ---------- 73 ، طٰہٰ --------- 102 ، نمل ----------- 87 ، بناء-------------18)۔ ایک مقام پر "نقر في الناقور"کہا گیا ہے اور بھی بگل یا اسی قسم کی چیز میں پھونکنے کے معنی میں ہے ارشادالٰہی ہے؛ فاذا نقرفي الناقور فذالك يوميذیوم عسير (مدثر ــــــــــــــــ9،8 ) بعض مواقع پر "قارعة"،کی تعبیر نظر آتی ہے جوسختی کے ساتھ کھٹکھٹانے کے معنی میں ہے۔ جن دوسرے مقامات پر صيحة کی تعبیر آئی ہے جو ایک عظیم صدا کے معنی میں ہے۔ جیسے سوروہ یٰسں کی ہے۔ ۴۹ میں ہے (قارعہ ـــــــــــ1،2،3،) ماينظرون الاصيحة واحدة تأخذهم وهم يخصمون یہ آیت دنیا کے اختتام کے صیحہ کی بات کرتی ہے جو لوگوں کو بے ہوش کر دے گی اور سورۂ یٰس کی آیہ 53 میں ہے:- ان كانت الاصيحة واحدة فاذا هم جميع لدينا محضرون یہاں قیامت کے اس صیحہ کے بارے میں بات ہے جس کے بعد تمام لوگ زندہ ہو جائیں گئے اور پروردگار کی عدالت میں حاضر ہوں گے۔ ان آیات سے مجموعی طور پر معلوم ہوتا ہے۔ دنیا کے آخر میں ایک عظیم صیحیہ آسمانوں اور زمین پر تمام رہنے دنوں والوں کو مار دے گی اور اس کو "موت کی چیخ"کہتے ہیں۔ قیامت کے آغاز میں ایک عظیم صیحہ اور چیخ کے ساتھ سب کے سب زندہ ہو جائیں گے اور قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور یہ حیات کی صیحہ اور چیخ ہو گی۔ لیکن یہ دونوں آوازیں دقیقًا کس طرح کی ہوں گی؟ پہلی چیخ کا کیا اثر ہو گا اور دوسری چیخ میں کیا تاثیر ہے؟ یہ بات خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا لہذا بعض روایات میں صور کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے ک جو اسرافیل پھونکے گا۔مثلًا وللصور رأس واحد وطرفان، و بین طرف رأس كل منهما إلى الأخر مثل ما بين السماءالى الارض اسرافیل کے بگل کا ایک سر اور دو شاخیں ہوں گی اور ان دونوں شاخوں کے درمیان آسمان اور زمین کے درمیان جتنا فاصلہ ہو گا۔ پھر اسی روایت کے ذیل میں ہے: جس وقت وہ اس میں زمین کی طرف ہونکے گا تو زمین میں کوئی زنده موجود باقی نہ رہے گا اور جس وقت وہ اس میں آسمان کی طرف والے حصے میں پھونکے گا تو سارے کے سارے آسمان والے مر جائیں گے پھر خدا اسرافیل کے لیے موت کا حکم دے گا اور کہے گا کہ مر جا تو وہ بھی مر جائے گا۔ ((بحوالہ: تفسیر علی بن ابراھیم ، تفسیر نورالثقلین جلد 4 ص 502 کے مطابق) بہرحال، اکثر مفسرین نے نے "نفخ صور"کے معنی "بگل میں پھونکنے"کے ہی کیے ہیں۔ جس کے بارے میں ہم بیان کر چکے ہیں کہ یہ اس جہان کے اختتام اور قیامت کے آغاز کے بارے میں لطیف کنایہ ہے لیکن کچھ مفسرین نے "صور"کو "صورت"کی جمع سمجھا ہے اور اس بنا پر اس نفخ صور و صورت میں پھونکنے کے معنی میں جانا ہے، جیسے روح کو بدن میں پھونکتے ہیں۔ اس تفسیر کے مطابق ایک مرتبہ انسانی صوتوں میں پھونکا جائے گا تو سب کے سب مر جائیں گے اور ایک مرتبہ اور پھونکا جائے گا تو سب کے سب زندہ ہو جائیں گے۔(بحوالہ: توجہ کیجیے کہ "صور"بروزن"نور "و "صور"بروزن"زحل"دونوں "صورت"کی جمع ہیں۔) یہ تفسیر علاوہ اس کے کہ متون روایات سے ہم آہنگ نہیں ہے خودآیت کے ساتھ بھی مطابقت نہیں رکھتی ، کیونکہ "ثم نفخ فيه اخری"میں ضمیر مذکر اس کی طرف لوٹتی ہے،حالانکہ اگرجمع کے معنی میں ہوتا تو پھر اس کی طرف مفرد مؤنث کی ضمیر لوٹتی اور "نفخ فيها"کہا جاتا۔ اس سے قطع نظر صورت میں پھونکنا مُردوں کو زندہ کرنے کے موقع پر تو مناسب ہے (جیسا کہ حضرت عیسٰیؑ کے معجزات میں آیا ہے) لیکن یہ تعبیر قبض روح کے لیے استعمال نہیں ہوتی ۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
چند نکات: 1. صور کتنی مرتبہ پھونکا جائے گا ؟
کیا نفخ صور دو مرتبہ ہوگا یا اس سے زیاده؟ علماءاسلام کے درمیان مشهور دو ہی مرتبہ ہے۔ زیر بحث آیت کا ظاہری مفہوم بھی یہی ہے۔ دوسری آیات قرآن بھی مجموعی طور پر دو"نفخوں"کی کہ خبر دیتی ہیں لیکن بعض نے اس کی تعداد تین نفخہ یا چار نفخہ بھی سمجھی ہے۔ اس طرح سے نفخہ اولٰی کو نفخہ "فزع "بھی کہتے ہیں۔ یہ تعبیر سورہ نمل کی آیہ 87 سے لی گئی ہے۔ ويوم ينفخ في الصور ففزع من في السماوات ومن في الارض جس وقت صور پھونکا جائے گا اس وقت انسانوں میں رہنے والے اور زمین میں بسنے والے سب وحشت زدہ ہو جائیں گئے۔ وہ دوسرے اور تیسرے نفخہ کو "موت و حیات"کا نفخہ سمجھتے ہیں۔ جس کی طرف زیر بحث آیات اور قرآن کی دوسری آیات میں اشارہ ہوا ہے۔ ایک کونفخہ"صعق"کہتے ھیں۔ ("صعق"بے ہوش ہونے کے معنی میں آیا ہے اور مرنے کے معنی میں بھی) اور دوسرے کو نفخہ "قیام"کہتے ہیں۔ جنھوں نے چوتھے نفخہ کا احتمال ذکر کیا ہے ، ظاہرًا انھوں نے سورہ یٰسں کی آیہ 53 سے یہ مفہوم اخذ کیا ہے، جہاں نفخۂ حیات کے بعد کے بارے میں ہے : ان كانت الا صيحة واحدة فاذا هم جميع لدينا محضرون صرف ایک چیخ ہو گئی اور اس کے اور وہ سب کے سب ہمارے پاس حاضر ہو جائیں گے۔ ان کے نزدیک یہ نفخہ "جمع و حضور"ہے۔ لیکن حق بات یہی ہے کہ دو نفخوں سے زیادہ نہیں ہوں گے اور فرع اورعمومی وحشت کا مسئلہ حقیقت میں سارے جہان والوں کے مرنے کے لیے ایک مقدمہ ہے جو پہلے نفخہ یا پہلے صیحہ سے حاصل ہو گا۔ جیسا کہ نفخہ جمع اسی نفخہ حیات کا انجام ہے۔ اس طرح سے دو سے زیادہ نے نہیں ہوں گے ۔ "نفخہ موت"اور "نفخہ حیات"اس گفتگو کا دوسرا شاہد سوره نازعات کی آیہ 6 ،7 ہیں جہاں قرآن کہتا ہے۔ یوم ترجف الراجفة تتبعها الرادفة جس دن ہولناک زلزلہ ہر جگہ کو لرزا کے رکھ دے گا تو اس کے بعد بھی وہ زلزلہ آجائے گا جو بندوں کو زنده اور اکٹھا کر کے رکھ دے گا۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
2- صورِ اسرافیل کیا ہے ؟
اس کی صوتی امواج ساری دنیا کو کس طرح گھیر لیں گی؟ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ صوتی مواج سست رفتار ہوتی ہیں اور ایک سیکنڈ میں دو سو چالیسں میٹر سے آگے نہیں جاتیں، جبکہ روشنی کی رفتار اس سے 10 لاکھ گنا سے بھی زیادہ ہے اور ایک سیکنڈ میں تین لاکھ کلومیٹر تک پہنچ جاتی ہے۔ ہمیں کہنا پڑے گا کہ ہم اس موضوع کے بارے میں قیامت کے بہت سے دوسرے مسائل کی طرح صرف اجمالی علم رکھتے ہیں، اور جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں اس کی جزئیات ہمارے لیے واضح نہیں ہیں۔ اسلامی کتب میں صور کے بارے میں آنے والی روایات میں غور کرنے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ بعض کے خیالات کے بر خلاف "صور"ایک معمولی قسم کا بگل نہیں ہو گا۔ ایک روایت میں امام علی بن حسینؑ سے منقول ہے: ان الصور قرن عظيم له رأس واحد وطرفان ، و بين الطرف الاسفل الذي یلي الارض الى الطرف الاعلي الذي يلي السماءمثل تخوم الارضين الي فوق السماءالسابعة ، فيه اثقاب بعدد ارواح الخلائق "صور"ایک بہت بڑا سینگ ہے جسں کا ایک سر اور دو اطراف ہیں، اور اس کی نچلی سمت جو زمين کی طرف ہے اور اوپر والی سمت جو آسمان کی طرف ہے کا درمیانی فاصلہ زمین کےنیچلےحصے سے لے کر ساتویں آسمان کے اوپر تک ہے اور اس میں مخلوقات کی ارواح کی تعداد کے برابر سوراخ ہیں۔(بحوالہ: لئالی الاخبار، ص 453)۔ ایک او حدیث میں پیغمبر گرامی اسلامؐ سے منقول ہے: الصور قرن من نور فيه اثقاب على عدد ارواح العباد صور ایک نورانی سینگ ہے جس میں بندوں کی ارواح کی تعداد کے برابر سوراخ ہیں۔(بحوالہ: علم الیقین ص 892)۔یہاں نور کا ذکر مذکورہ دوسرے سوال کا بھی جواب دیتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ یہ عظیم چنگھاڑ ہماری عام صوتی امواج کی طرح نہیں ہے۔ ایک ایسی چیخ ہے جو بہت ہی برتر و بالا تر ہے اور نور کی امواج سے بھی بہت زیادہ سریع تر امواج رکھتی ہے جو زمین وآسمان کی وسعت کو تھوڑی سی دیر میں طےکر لے گی پہلی مرتبہ کی چیخ موت آفرین ہو گی اور دوسری زندہ کرنے والی اور حیات بخش۔ یہ مسئلہ کہ ایک آواز اس طرح سے موت آفریں کیسے ہو سکتی ہے اگر گزشتہ زمانے میں کسی کے لیے باعث تعجب تھی تو اب ہمارے لیے اس میں کوئی تعجب نہیں ہے کیونکہ ہم نے اکثر سنا ہے کہ بموں کے پھٹنے کی آوازیں کانوں کو بہرہ ، جسم کو ریزہ زیرہ اور گھروں تک کو تباہ کر دیتی ہیں اور انسانوں کو ایک جگہ سے اٹھا کر دور دراز مقام پر پھینک دیتی ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک ہوائی جہاز کی تیزرفتاری، دیوار صوتی کو توڑنے کے لیے ایسی وحشتناک آواز اور تباہ کن لہريں پیدا کرتی ہے کہ عمارتوں کے شیشوں کو ایک وسیع شعاع سے ٹکڑ ےٹکڑے کر دیتی ہے۔ جب امواج صوتی کے لیے چھوٹے چھوٹے نمونے جو انسانوں نے ایجاد کیے ہیں، اپنا اثر دکھاتے ہیں تو عظیم صیحہ جو خدا کی طرف سے ہو گی یعنی وہ عظیم عالمی دھماکہ کیا اثرات مرتب کرے گا؟ لہذا کوئی تعجب کی بات نہیں کہ اس کے مد مقابل کچھ موجیں ایسی بھی ہیں جو ہلا دینے والی اور بیدار کرنے والی اور زندہ کرنے والی ہوں، اگرچہ اس کا تصور آج ہمارے لیے ممکن نہیں ہے لیکن سوئے ہوئے افراد کو بلند آواز کے ساتھ بیدار کرنا یا شدید جھٹکوں کے ساتھ بیہوش افراد ہوش میں لانا، کم از کم ہم نے ضرور دیکھا ہے ہم دوبارہ عرض کرتے ہیں کہ ہم اپنے محدود علم کی بنا پر صرف دور سے ان امور کا بہت ہلکا سا نقش ہی دیکھ سکتے ہیں۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
3- کون سے افراد مستثنٰی ہیں؟
جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ زیِر بحث آیت میں قرآن کہتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں ہونے رہنے والے سب کے سب مر جائیں گے، پھر ایک گروہ کا استثناءکرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: الا من شاءالله سوائے ان لوگوں کے جنھیں خدا چاہے گا۔ اس بارےمیں کہ یہ لوگ کون ہیں؟ مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ایک گروہ کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ خدا کے کچھ عظیم فرشتے مثلًا جبرئیل، میکائیل، اسرافیل اور عزرائیل ہیں۔ ایک اور روایت میں بھی اسے مطلب کی طرف اشارہ ہوا ہے۔(بحوالہ: مجمع البیان، زیِربحث آیات کے ذیل میں)۔ بعض نےحاملین عرش خدا کا بھی اس پر اضافہ کیا ہے (جیسا کہ ایک دوسری روایت میں آیا ہے) ۔(بحوالہ: بحارالانوار، جلد 6 ص 329)۔ بعض دوسروں نے ارواح شہداءکو مستثنٰی جانا ہے جوآیات قرآنی کے حکم کے مطابق "احياءعند ربهم يرزقون "وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے پاس سے رزق پاتے ہیں۔ ایک روایت میں اس مطلب کی طرف بھی اشارہ ہوا ہے۔(بحوالہ: نورالثقلین جلد4 ، ص 503، حدیث 119)۔ البتہ یہ روایات آپس میں کوئی تضاد نہیں رکھتیں، لیکن بہرحال، ان ہی روایات میں سے بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ باقی رہ جانی والا گروہ بھی آخر کار مر جائے گا۔ اس طرح سے خدائے "حی لایموت"کے سوا سر تا سر عالم ہستی میں کوئی زنده موجود باقی نہ رہے گا۔ اس بارے میں فرشتوں یا ارواح شہداء، انبیاءاور اولیاءکے لیے موت کیسے ہو گی؟ تواس کے یہی احتمالی یہی ہے کہ ان کے بارے میں موت سے مراد، روح کے فرشتے قالب مثالی سے ٹوٹ جانا یا ارواح کا مسلسل فعالیت معطل ہو جانا ہے۔
4- کیا دونوں نفخ ناگہانی ہوں گے ؟
قرآن مجید کی آیات سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ دونوں نفخہ ناگٓہانی صورت میں وقوع پذیر ہوں گے لیکن پہلا نفخہ اسی غفلت کی حالت میں ہو گا کہ بہت سے لوگ کسب و کار اور اموال پر جھگڑے اور خرید و فروخت میں مشغول ہوں گے اور سب کے سب وہیں کے وہیں مر جائیں گے جیسا کہ سورہ یٰس کی آیہ 29 میں ہے: ان كانت الا صيحة واحدة فاذاهم خامدون وہ بس ایک ہی چیخ ہو گی جس سے وہ وہیں کے وہیں بجھ کر رہ جائیں گے۔ دوسرے صیحہ کے بارے میں زیر بحث آیت میں بھی ہے۔ فاذا هم قیام ينظرون اچانک وہ کھڑے ہو جائیں گے اور حساب و جزا کا انتظار کریں گے۔ یہ اور دیگر تعبیرات نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ بھی ناگہانی طور پر ہی واقع ہو گی۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
5- یہ دونوں نفخوں کے درمیان فاصلہ
قرآن مجید کی آیات سے اس سلسلے میں کچھ معلوم نہیں ہوتا صرف "ثم"کی تعبیر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ فاصلہ ہو گا، البتہ اسلامی روایات میں یہ فاصلہ چالیس سال ذکر ہوا ہے۔( بحوالہ: نورالثقلين جلد 4 ص 503 حدیث 119)۔ جن کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہے کہ ان سالوں کا پیمانہ کیا ہو گا، کیا یہ عام سالوں کی طرح ہوں گے یا قیامت کے سالوں اور ایام جیسے؟ یہ امر واضح نہیں۔ بہرحال، نفخ صور اور اس جہان کے اختتام، اسی طرح نفخہ ثانی اور دوسرے جہان کے آغاز میں غور و فکر، ان اشارات کی طرف توجہ کرتے ہوئے جو قرآن مجید میں آئے ہیں اور مزید تفصیل جو روایات اسلامی میں دکھائی دیتی ہے، انسانوں کو گہرا تربیتی درس دیتی ہے۔ خاص طور پر اس سے یہ حقیقت واضح اور روشن ہوتی ہے کہ ہر لمحہ اور ہر حالت میں اس قسم کے عظیم اور ہولناک حادثے کے استقبال کے لیے تیار رہنا ہیے کیونکہ اس کے لیے کوئی معین تاریخ بیان نہیں ہوئی اور اس کے وقوع کا ہر زمانے میں احتمال ہے۔ علاوہ ازیں، وہ بغیر کسی مقدمے کسی تمہید کے شروع ہو گا اسی لیے نفخ صور سے مربوط مذکورہ احادیث میں سے ایک کے ذیل میں۔ راوی کہتا ہے کہ جب گفتگو یہاں تک پہنچی کہ ــــــــــــــــــــــــــ رایت علی بن الحسین بیکی عندذالك بكاءشديدًا امام سجادعلیہ السلام کو میں نے دیکھا کہ آپؑ شدت کے ساتھ گریہ فرما رہے ہیں اور اس جہان کے خاتمے، قیامت اور بارگاہ خداوندی میں لوگوں کے حساب و کتاب کے لیے حاضر ہونے کے بارے میں آپؑ سخت پریشان ہیں۔(بحوالہ:تفسیرصافی ، زیر بحث آیت کے ذیل میں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: جب زمین پروردگار کے نور سے روشن ہو جائے گی
Tafsīr Nemūna · Vol. 6ان آیات میں قیامت سے مربوط وہ گفتگو کو گزشتہ آیات میں شروع ہوئی تھی، اسی طرح جاری ہے۔ ان دونوں آیات میں سات جملے ہیں، جن میں سے ہر ایک معاد کے سلسلہ میں ایک مطلب کو بیان کرتا ہے اس طرح سے کہ ہر ایک دوسرے مطلب کی تکمیل کرتا ہے یا اس کی دلیل بیان کرتا ہے اور ان میں ایک خاص نظم پایا جاتا ہے۔ پہلے فرمایاگیا ہے: اس دن زمین اپنے پروردگار کے نور سے روشن ہو جائے گی (واشرقت الارض بنور ربها). اس "اشراق"اور نور الٰہی کی روشنی سے کیا مراد ہے؟ اس سلسلے میں مختلف تفسیرین بیان کی گئی ہیں جن میں سے مندرجہ ذیل میں تین تفسیرین زیادہ اہم ہیں۔ 1- ایک جماعت کہتی ہے کہ "نور رب"سے مراد حق و عدالت ہے کہ خدا اس دن صفحۂ زمین کو اس کے ساتھ منور کر دے گا۔ مرحوم مجلسی بحارالانوار میں کہتے ہیں: ای اضائت الارض بعدل ربها يوم القيامة لان نور الارض بالعدل یعنی قیامت کے دن زمین عدل پروردگار سے روشن ہو جائے گی کیونکہ زمین کا نور عدالت کی ہی وجہ سے ہے۔(بحوالہ بحارالانوار ، جلد 6 ص 321)۔ بعض دوسروں نے اس مشہور حدیث نبوی کو اس معنی کا شاہد قرار دیا ہے: الظلم ظلمات يوم القيامة ظلم قیامت کے دن تاریکی اور ظلمت کی صورت میں مجسم ہو جائے گا۔ (بحوالہ: روح المعاني و روح البیان ، زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ زمخشری نے بھی کشاف میں اسی معنی کو اختیار کیا ہے اور کہا ہے؛ اس دن میں عدل قائم ہونے اور سب کتاب میں انصاف کی وسعت اور حسنات و سیئات کا صلہ ملنے سے روشن ہو جائے گی۔ 2- بعض دوسروں کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ ایک ایسے نور کی طرف اشارہ ہے جو سورج اور چاند کے نور کے علاوہ ہو گا، جسے خدا خصوصیت کے ساتھ اس دن پیدا کرے گا۔ 3- مفسرعالی قدر مولف المیزان کہتے ہیں: زمین کے نور پروردگار سے روشن ہونے سے مراد جو روز قیامت کی خصوصیات میں سے ہے، ویی کشف غطاء، پردوں اور حجابوں کا ہٹ جانا، حقائق اشیاء، خیر و شر، اطاعت و عصیاں اور حق و باطل میں سے انسانوں کے اعمال کا ظاہر ہو جانا ہے۔ اس کے بعد اس معنی پر سورة ق کی آیہ 22 سے استدلال کرتے ہیں۔ لقد كنت في غفلة من هذا فكشفنا عنك غطاءك فبصرك اليوم حديد تواس بارےمیں غفلت میں تھا۔ ہم نے تیری آنکھ کے سامنے سے پردہ ہٹا دیا اور آج تیری آنکھ اچھی طرح سے دیکھے گی۔ یہ ٹھیک ہے کہ یہ اشراق اس دن ہر چیز کے بارے میں ہو گا لیکن ان سب میں سے خصوصیت کے ساتھ زمین ہی کا ذکر اس بنا پر ہے کہ اصلی ہدف و مقصد اس دن روئے زمین کے لوگوں کی حالت بیان کرتا ہے۔ البتہ یہ تفسیریں آپس میں تضاد نہیں رکھتیں اور قابل جمع ہیں اگرچہ پہلی اور تیسری تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ یہ آیت قیامت کے ساتھ مربوط ہے اور اگر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بعض روایات اہل بیتؑ میں حضرت مہدیؑ کےقیام سے اس کی تفسیر ہوئی ہے تو یہ حیقیقت میں ایک قسم کی تطبیق تشبیہ ہے اور اسی معنی پر تاکید ہے حضرت مہدی کے وقت دنیا صحن قیامت کا ایک نمونہ ہو جائے گی اور اس امام برحق اور جانشین بپیغمبرؐ اور نماینده پروردگار کے ذریعے روئے زمین میں عدل و داد اس حد تک حکم فرما ہو جائے گا کہ جسے زمین کی طبیت و مزاج قبول کر لے۔ مفضل بن عمر امام صادق سے نقل کرتے ہیں: اذا قام قائمنا اشرقت الارض بنور ربها واستغنى العباد عن ضوءالشمس وذهبت الظلمة جس وقت ہمارے قائم قیام کریں گے تو زمین اپنے پروردگار کے نور سے روشن ہو جائے گی اور بندوں کو سورج کی روشنی کی ضرورت نہ رہے گی اور ظلمت بطرف ہو جائے گی۔( بحوالہ: ارشاد مفید (تفسیرصافی اور نور الثقلین کے مطابق زیِربحث آیات کے ذیل میں) - یہی معنی مرحوم علام مجلسی نے بحارالانوار جلد 52 ص 330 پرتھوڑے سے فرق کے ساتھ نقل کیا ہے)۔ اس آیت کے دوسرے جملے میں نامۂ اعمال کے بارے میں گفتگو ہے، قرآن کہتا ہے: اس دن اعمال نامے آگے رکھ دیئے جائیں گے اور وہ انھیں دیکھیں گے۔ (و وضع الكتاب). وہ اعمال نامے جن میں انسان کے تمام چھوٹے بڑے عمل جمع ہوں گے اور قرآن میں سورہ کہف کی آیه 49 کے بیان کے مطابق۔ لايغادر صغيرة ولا كبيرة الا احصاها کوئی چھوٹی یا بڑی معصیت ایسی ہو گی جو اس میں شمار نہ کی گئی ہو۔ اور بعد والے جملے میں گواہوں کے بارے میں گفتگو رہی ہے اور قران مزیدکہتا ہے، اس دن پیغمبروں اور گواہوں کو حاضر کریں گے (و جایءبالنبيين والشهداء). پیغمبروں کو اس لیے حاضر کیا جائے گا تاکہ وہ مجرمین کو اپنے فریضیۂ رسالت کی ادائیگی کے بارے میں بنائیں۔ جیسا کہ سوره اعراف کی آیہ 6 میں بیان ہوا ہے: ولنسئلن المرسلين. ہم رسولوں سے قطعی طور پر سوال کریں گے۔ اور "گواہوں"کو اس بنا پر حاضر کیا جائے گا تا کہ وہ عدالت میں گواہی دیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ خدا ہرچیز سے آگاہ ہے، لیکن مراتب عدالت کی تاکید کے لیے گواہوں کی حاضری ضروری ہے۔ یہ گواہ کون لوگ ہیں ؟ اس بارے مفسرین کے درمیان بحث ہے۔ بعض نے انھیں امت کے نیک، پاک اور عادل افراد سمجھا ہے جو انبیاءکے فریضۂ رسالت کی ادائیگی کی بھی گواہی دیں گے اور ان لوگوں کے اعمال کی بھی جان کے زمانے میں زندگی بسر کرتے تھے جن میں سے افضل و اشرف معصومینؑ ہیں۔ بعض دوسروں نے انھیں فرشتوں تفسیر کیا ہے کہ وہ انسانوں کے اعمال پر گواہ ہیں۔ انھوں نے سورة ق کی آیہ 21 کو اس معنی کا گواہ بنایا ہے، جس میں یہ بیان کیا گیا ہے۔ و جاءت كل نفس معها سائق و شهید ہر شخص صحن محشر میں اس حالت میں وارد ہو گا کہ اس کے ساتھ ایک تو عدالت الٰہی کی طرف ہانک کر بجانے والا ہو گا اور دوسرا گواہ ہو گا۔ بعض نے ان سے مرداعضاءبدن اور اطاعت و معصیت مکان و زمان لیے ہیں کہ جو قیامت کے دن کے گواہوں میں سے ہوں گے۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ "شہداء"(گواہ) ایک وسیع معنی رکھتا ہے اور مفرین میں سے ہر ایک نے اس کے ایک حصے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ اس سےخصوصیت کے ساتھ "شہیدان راہِ خدا"مراد ہیں لیکن یہ بعید نظر آتا ہے کیونکہ گفتگو عدالت الٰہی کے گواہوں کے بارے میں ہو رہی ہے نہ کہ راہ حق کے شہیدوں کے بارے میں۔ اگرچہ ممکن ہے کہ وہ بھی شہود (گواہوں) کی صف میں ہوں۔ چوتھا جملہ کہتا ہے: ان کے درمیان کے حق ساتھ فیصلہ ہو گا ( وقضى بينهم بالحق). پانچویں جملہ میں مزید فرمایا گیا ہے: اور ان پرظلم نہیں ہو گا (وهم يظلمون). . یہ بات ظاہر واضع ہے کہ جس وقت عالم خدا ہو اور زمین اس کی عدالت کے نور سے روشن ہو جائے اور نامۂ اعمال جو صحیح طور پر بالتفصيل انسان کے اعمال بیان کر رہا ہو پیش کر دیا گیا ہو اور پیغمبرؐ اور سارے گوہان عدالت حاضر ہوں تو حق کے علاوہ اور کوئی فیصلہ نہیں ہو گا اور اس قسم کی عدالت میں ظلم و بیداد گری کا کوئی مفہوم ہی نہیں ہے۔ چھٹاجملہ بعد والی آیت میں اس بات کی تکمیل کرتا ہے اور کہتا ہے: ہر شخص کو جو عمل اس نے انجام دیا ہے، بے کم و کاست پورا پورا دیا جائے گا (و وفيت كل نفس ماعملت). ان کے اعمال کا بدلہ، صلہ ، جزا اور پاداش نہیں بلکہ خود ان کے اعمال ہی ان کے حوالے کر دیئے جائیں گے اور کون سی جزا یا سزا اس سے بڑھ کر ہو سکتی ہے کہ انسان کا عمل کامل طور سے اس کے حوالے کر دیا جائے۔ اس بات کی طرف توجہ رکھیے کہ "وفیت"(کامل طورسے ادا کرنے کے معنی میں ہے) اور اس کا وہ عمل ہمیشہ کے لیے اس کا ہم نشین اور ساتھی بن جائے گا۔ کون ہے جوعدالت کے اس نظام کو دقیقًا اجرا کر سکتا ہو ؟ وہی ذات کہ جس علم ہر چیز پر احاطہ رکھتا ہے لہذا ساتویں اور آخری جملہ میں فرمایا گیا ہے: اور جو عمل وہ انجام دیا کرتے تھے وہ اس کے بارے میں سب سے زیادہ آگاہ ہے ( وهو أعلم بما يفعلون). یہاں تک کہ شہود اور گواہوں کی بھی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ تمام شہود اور گواہوں سے زیادہ علم رکھتا ہے لیکن اس کے لطف و عدالت کا تقاضا یہی ہے کہ گواہوں کو حاضر کرے۔ ہاں! ایسا ہے قیامت کا میدان ، جس کے لیے سب کو آمادہ و تیار رہنا چاہیے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 72 کے تحت ملاحظہ کریں۔
گروہ در گررہ جہنم میں داخل ہوں گے
Tafsīr Nemūna · Vol. 6ان آیات میں بھی اسی طرح سے معاد کی بحث جاری ہے، گزشتہ آیات میں مومنین اور کفار کی جزا اور سزا کے سلسلہ میں جو کچھ اجمالی صورت میں بیان ہوا تھا وہ اب تفصیل کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے۔ دوزخیوں کے بارے میں بات شروع کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: وہ لوگ جو کافر ہو گئے تھے، گروہ در گروہ جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے (وسيق الذین کفروا الٰى جهنم زمرًا). انھیں کون ہانک کر لے جائے گا ؟ عذاب کے فرشتے! جو انھیں جہنم کے دروازوں تک لے جانے پر مامور ہوں گے۔ اسی تعبیر کی مشابہ سورة ق کی آیہ 21 میں بھی بیان ہوا ہے۔ و جاءت كل نفس معها ساتق وشهيد ہر انسان میدان قیامت میں اس حال میں آئےگا کہ اس کے ساتھ ایک تو ہانکنے والا ہو گا اور ایک گواہی دینے والا ہو گا۔ "زمر"کی تعبیر چھوٹے گروہ کے معنی میں ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے اور علیحدہ علیحیدہ گروہوں کی صورت میں جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے۔ "سيق"، "سوق"کے مادہ سے چلانے کے معنی میں ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: یہ کام لگاتار جاری رہے گا یہاں تک کہ وہ دوزخ تک پہنچ جائیں گے۔ اس موقع پر دوزخ کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور دوزخ کے نگہبان ملامت کے طور پر انھیں کہیں گے کہ کیا تمھی میں سے تمھارے پیغمبر نہیں آئے تھے جو تمہارے پروردگار کی آیات تمھارے لیے پڑھیں اور اس دن کی ملاقات سے تمھیں ڈرائیں (حتٰی اذاجاءوها فتحت أبوابها وقال لهم خزنتها الم يأتكم رسل منکم یتلون علیکم آيات ربكم وينذرونكم لقاءيومكم هذه ). (تشریحی نوٹ: "خزنة"جمع ہے "خازن"کی "خزن"(بروزن "جزم") کے مادہ سے کسی چیز کی حفاظت کرنے کے معنی میں ہے اور"خازن"محافظ و نگہبان کو کہا جاتا ہے)۔ اس تعبیر سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ جہنم کے دروازے ان کے ورود سے پہلے بند ہوں گے، بالکل زندانوں کے دروازوں کی طرح جب وہ ان کے قریب جائیں گے تو وہ اچانک ان کے سامنے کھل جائیں گے اور ناگہانی مشاہده انھیں اور بھی زیاده وحشت زده کر دے گا، لیکن سب سے پہلے انہیں جہنم کے خازنوں کی ملامت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وہ ان سے کہیں گے کہ ہدایت کے تمام اسباب تمھارے لیے فراہم تھے۔ ایسے پیغمبر جو خود تمھاری اپنی ہی نوع میں سے تھے، تمھارے پروردگار کی آیات لے کرمسلسل اور پے در پے خطرات کا اعلان کرتے اور ڈراتے ہوئے اور یکے بعد دیگرے لگاتار آیات الٰہی کی تلاوت کرتے ہوئے تمھارے پاس آتے رہے تھے۔ ( تشریحی نوٹ:"یتلون"و "ينذرون"فعل مضارع ہے اور استمرار کی دلیل ہے)۔ اس کے باوجود یہ بدبختی تمھیں کس طرح دامن گیر ہو گئی اور واقعًا جہنم کے خازنوں کی گفتگو ان کے لیے دردناک ترین عذابوں میں ہوئی سے ہو گی جس کا جہنم میں ورود کے وقت انھیں سامنا کرنا پڑے گا (جب کہ اہل بہشت کوخوش آمدید کہا جائے گا)۔ بہرحال، وہ انھیں ایک مختصر اور درد آمیز جملے کے ساتھ جواب دیتے ہوئے "کہیں گے : ہاں خدا کے پیغمیر بھی آئے تھے اور آیات الٰہی بھی ہمارے سامنے پڑھی گئی تھیں اور انھوں نے کافی انذار کی لیکن کافروں کے لیے عذاب الہی کافرمان مسلم ہو گی ا“ اور اس کا عذاب ہميں دامن گیر ہو گیا (قالوا بلى ولكن حقت كلمت العذاب على الكافرين)۔ بعض بزرگ مفسرین "کلمة العذاب"کو اس گفتگو کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جو آدم کے زمین پر ہبوط یا شیطان کیطرف سے بنی آدم کو گمراہ کرنے کا ارادہ ظاہر کرنے کے وقت پروردگار نے کہی تھی۔ جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیہ 39 میں ہے کہ جس وقت آدم نے زمین پر ہبوط کیا تو خدا نے فرمایا : والذين كفروا وكذبوا بآياتنا اولك اصحاب النارهم فيهاخالدون جولوگ کافر ہو گئے اور انھوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی وہ جہنمی ہیں اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اسی میں رہیں گے۔ اور جس وقت شیطان نے یہ عرض کیا کہ میں مخلصین کے سوا ان سب کو گمراہ کر دوں گا، تو خدا نے فرمایا : لاملئن جهنم من الجنة والناس اجمعين میں مسلمًا دوزخ کو گنہ گار جنوں اور انسانوں سے بھردوں گا۔ (الم سجده-ـــــــــــــ 13) اس طرح سے وہ اس بات کا اعتراف کرلیں گے کہ انھوں نے تکذیب انبیاءاور آیات الہی کے انکار کی راہ اختیار کر لی تھی اور طبعی طور پر ان کی اس سے بہتر سرنوشت نہیں ہو سکتی تھی۔ یہ احتمال بھی ہے کہ "حقت كلمة العذاب "سے مراد وہی کچھ ہو جو سورۂ یٰس کی آیہ 7 میں بیان ہوا ہے: لقدحق القول على اكترهم فهم لا يؤمنون ان میں سے اکثر کے بارےمیں فرمان عذاب پورا ہو گیا کہ وه ایمان نہیں لائیں گے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے بعض اوقات انسان کا کام بہت زیادہ گناہوں، دشمنی، ہٹ دھرمی اور حق کے مقابلے میں تعصب کرنے کی وجہ سے یہاں تک پہنچ جاتا ہے کہ اس کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے اور اس کے لیے بازگشت کی کوئی راہ باقی نہیں رہتی تو اس حالت میں عذاب الٰہی کا فرمان اس کے بارے میں قطعی ہو جاتا ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــ لیکن بہرحال، ان سب چیزوں کا سرچشمہ انسان کے خود اپنے اعمال ہیں اور اس بات کی ذرا سی بھی گنجائش نہیں ہے کوئی شخص اس جملے سے جبر اور انسان کے ارادے کی آزادی نہ ہونے کا وہم کرے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ يہ مختصر سی گفتگو جہنم کے دروازے پر ختم ہو جائے گی اور "ان سے کہا جائے گا جہنم کے دروازوں میں سے داخل ہو جاؤ اور ہمیشہ کےاس میں رہو، متکبروں کے رہنے کا ٹھکانا کتنی بری جگہ ہے (قیل ادخلوا أبواب جهنم خالدين فيها و فبئس مثوى المتکبرین)۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے۔ ممکن ہے جہنم کے دروازے ایسے دروازوں کے معنی میں ہوں جو انسانوں کے اعمال کے مطابق و بنتے ہیں اور ہر گروہ کو اس کے عمل کی مناسبت سے جنم میں لے جائیں گے۔ جیسا کہ بہشت کے دروازے بھی اسی طرح کے ہیں، لہذا اس کے دروازوں میں سے ایک دروازے کا نام "باب المجاهدين"ہے اور امیرالمونین علی علیہ اسلام کے کلام میں بھی آیا ہے۔ ان الجهاد باب من ابواب الجنة جہاد بہشت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔(بحوالہ: نہج البلاغہ خطبہ 27 )۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ فرشتے انسان کے تمام اوصاف رذیلہ میں سے جو اسے دوزخ کی طرف لے جاتے ہیں ۔"تکبر"کا ذکر کریں گے، یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کفر و انحراف اور گناه کا اصلی اور بڑا سرچشمہ زیاده کبر و غرور اور حق کے سامنے عدم تسلیم ہی ہے۔ ہاں! یہ کبرہی ہے جو انسان کی آنکھ پر ضخیم پردے ڈال دیتا ہے اور اس کو تابناک چہرے دیکھنے سے محروم کر دیتا ہے۔ اسی بنا پر ایک روایت میں امام صادقؑ اور امام باقرؑ سے منقول ہوا ہے۔ لا يدخل الجنة من في قلبه مثقال ذرة من كبر جس شخص کے دل میں ذرہ بھر بھی تکبر ہوا وہ جنت میں داخلے نہیں ہو گا۔ (بحوالہ: کافی ، جلد باب الکبر حدیث 6)
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 75 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 75 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: گروہ در گروہ جنت میں دردد
Tafsīr Nemūna · Vol. 6یہ آیات و سوره زمر کی آخری آیات ہیں، اسی طرح سے معادسے مربوط مباحث کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور چکونہ گزشتہ آیات میں تمام کافروں کے جہنم کے ورود کی کیفیت کے بارے میں گفتگو تھی، لہذا یہان پرہیزگار مومنین کے جنت میں ورود کے بارے میں گفتگو ہو رہی ہے تاکہ تقابل سے مسائل زیادہ واضح اور آشکار ہو جائیں۔ پہلے فرمایا گیا ہے: جنھوں نے تقوائے الٰہی اختیار کیا، انھیں گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا (وسیق الذین اتقوا ربهم الى الجنة زمرا)۔ "سيبق "("سوق"کے مادہ سے "شوق"کے وزن پر ہے اور ہانکنے کے معنی میں ہے) کی تعبیر یہاں سوال انگیز ہے بہت سے مفسرین کی توجہ کو اپنی طرف جذب کیا ہے۔ کیونکہ یہ تعبیر ان مواقع پر استعمال ہوتی ہے جب کوئی کام بغیر شوق اور داخلی جذبے سے انجام پائے۔ یہ تعبیر دوزخیوں کے بارے میں تو صحیح ہے لیکن جنتیوں کے بارے میں کیوں ہے؟ جو پورے شوق کے ساتھ جنت کی طرف جائیں گے۔ بعض نے اس تعبیر سے یہ سمجھا ہے کہ بہت سے جنتی اپنے دوستوں کے انتظار میں ہوں گے۔ بعض اسے اس بنا پر جانتے ہیں کہ شوق لقائے پروردگار نے پرہیزگاروں کو اس طرح اپنی طرف جذب کر رکھا ہو گا کہ وہ اس کے غیر کی طرف یہاں تک کہ جنت کی طرف بھی توجہ نہ کريں گے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کی سواریاں انھیں تیزی کے ساتھ جنت کی طرف ہانک لے جائیں گی۔ باوجودیکہ یہ سب تفسیر اچھی ہیں اور آپس میں کوئی تضاد بھی نہیں رکھتیں تاہم ایک نکتہ اور بھی یہاں پر موجود ہے جو ممکن هے اس تعبیر کا اصلی راز ہو اور وہ یہ ہے کہ جس قدر پرہیزگار بہشت کے عاشق ہیں، بہشت اور رحمت کے فرشتے ان کے بہشت میں آنے کے ان سے بھی زیادہ عاشق ہیں۔ جیسا کہ بعض اوقات میزبان اپنے مہمان کے دیدار کا اتنا شائق ہوتا ہے کہ وہ جس رفتار سے خود آ رہا ہوتا ہے اس سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ اپنی طرف لے جاتا ہے۔ رحمت کے فرشتے بھی انھیں اسی طرح جنت کی طرف لے جائیں گے۔ بہرحال، یہاں بھی لفظ "زمر"جو چھوٹے سے گروہ کے معنی میں ہے، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بہشتی بھی مختلف گرہوں کی شکل میں جنت کی طرف جائیں گے اور اس سے ان کے روحانی مقامات و مراتب کی نشاندہی ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ جنت میں پہنچ جائیں گے، اس حال میں کہ اس کے دروازےان کے لیے پہلے سے کھلے ہوئے ہوں گے اور اس وقت جنت کے خازن اور نگهبان، رحمت کے فرشتے ان سے کہیں گے : تم پر سلام ہو، یہ نعمتیں تمھیں بھلی ہوں، جنت میں داخل ہو جاؤ اور ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہو (حتی اذا جاءوهاو فتحت أبوابها وقال لهم خزنتها سلام علیکم طبتمر فادخلوها خالدين ۔(تشریحی نوٹ: جملہ شرطیہ "اذا جاءوها"کی جزاکیا ہے اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان بجٹ ہے۔ سب سے زیادہ مناسب یہی ہے "قال لهم خزنتها "کاجملہ جزا ہے اور اس کی واؤ زائدہ ہے۔ یہ احتمال بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ جزا ایک محزوف جملہ ہے اور تقدیرمیں "سلام من الله عليكم"ہے یا یہ جزا کا محزوف ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ مطلب اس قدر وسیع و عالی ہے کہ قابل توصیف نہیں ہے بعض نے "فتحت"کو بھی جزا سمجھا ہے اور واؤ کو زائدہ سمجھا ہے)۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ دوزخیوں کے بارے میں تو قرآن یہ کہتا ہے جس وقت وہ دوزخ کے قریب پہنچیں گے تو اس کے دروازے کھل جائیں گے لیکن بہشتیوں کے بارے میں کہتا ہے کہ اس کے دروازے پہلے سے کھلے ہوئے ہوں گے اور یہ ایک خاص احترام و اکرام کی طرف اشارہ ہے۔یہ بات بالکل اس عشق و محبت رکھنے والے میزبان کی کیفیت کے مانند ہے جو اپنے گھر کے دروازے مہمان کے آنے سے پہلے ہی کھول دیتا ہے اور دروازے کے پاس اس کے انتظار میں کھڑا رہتا ہے۔ رحمت الٰہی کے فرشتے کی بھی یہی حالت ہو گئی ۔ گزشتہ آیات میں دوزخیوں کے بارے میں تو یہ بیان کیا تھا کہ عذاب کے فرشتوں کی ان سے پہلی گفتگو سخت ملامت و سرزنش ہو گی۔ کہ وه اسباب ہدایت رکھنے کے باوجود انھیں یہ روز بد کیوں دیکھنا پڑا ہے؟ لیکن بہشتیوں کے لیے پہلی گفتگو "سلام و درود اور احترام و اکرام ہے اور پھر بہشت جاوداں کی طرف ورود کی دعوت ہے۔ "طبتم"، "طیب"(بروزن "صید") کے مادہ سے پاکیزگی کے معنی میں ہے اور چونکہ یہ اسلام ورود کے بعد کہ اگیا ہے، لہذا زیادہ مناسب پر ہے کہ "انشائی"مفہوم رکھتا ہو۔ یعنی پاک و پاکیزو رہو ، خوش و خرم رہو یا دوسرے لفظوں میں یہ پاکیزہ نعمتیں تمھیں بھلی ہوں، اے پاک سرشت پاک دل لوگو: لیکن بہت سے مفسرین نے اس کی "خبر"کے معنی میں تفسیر ہے اور یہ کہا ہے کہ فرشتے ان سے کہیں گے کہ تم آلودگی اور ناپاکی سے پاک ہو چکے ہو اور ایمان اور عمل صالح کے ذریعے تمھارا قلب و روح پاک ہو گیا ہے اور گناہوں اور معاصی سے بھی تم پاک ہو گئے ہو۔ یہاں تک کہ بعض نے یہ روایت نقل کی ہے کہ جنت کے دروازے پر ایک درخت ہے جن کے نیچے صاف پانی کے دو چشمے ابل رہے ہیں، مومنین ایک چشمے کا پانی پئیں گے تو ان کا باطن پاک و پاکیزہ ہو جائے گا اور دوسرے چشمے کے پانی سے نہائیں گے توان کا ظاہر پاک و صاف ہو جائے گا اور یہ وہ موقع ہے جب نگہبان جنت ان سے کہیں گئے (اسلام علیکم طبتم فادخلوها خالدين)۔(بحوالہ: تفسیر قرطبی جلد 8 ص 5730)۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ دوزخیوں کے بارے میں بھی "خلود"اور ہمیشگی کی تعبیر آئی ہے اور بہشتیوں کے بارے میں بھی تاکہ اگر پہلا گروہ ہے یہ جان لے کہ نجات کا کوئی راستہ موجود نہیں ہے اور دوسرا گروہ بھی نعمت خداوندی کے زوال کے بارے میں ہرگز پریشان نہ ہو۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــ بعد والی آیت میں چار مختصر اور معنی خیز جملے جو بہشتیوں کی انتہائی خوشنودی اور دلی مسرت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ انھی کی زبانی نقل ہوئے ہیں: "وہ کہیں گے : حمد و ستائش خدا ہی کے لیے مخصوص ہے جس نے ہمارے بارے میں اپنے وعدے کی وفا کی "(و قالوا الحمدلله الذي صدقنا وعده)۔ بعد والے جملہ میں مزید فرمایا گیا ہے: (کہ وہ کہیں گے) اور جنت کی زمین کو ہماری میریث قرار دے دیا ہے اور ا سے ہمیں بخش دیا (واورثنا الأرض)۔ یہاں زمین سے مراد جنت کی زمین ہے اور "وارث کی تعبیر اس بنا پر ہے کہ یہ ساری نعمتیں انھیں تھوڑی سی زحمت کی وجہ سے دے دی گئی ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ میراث ایک ایسی چیز ہے جس کے لیے انسان عام طور پر کوئی زحمت نہیں اٹھاتا اور یا یہ اس لحاظ سے ہےہر انسان کے لیے ایک مکان تو جنت میں ہے اور ایک جگہ جہنم میں ہے۔ جب وہ اپنے اعمال کی وجہ سے دوزخی ہو جاتا ہے تواس کا جنت والامکان دوسروں کے سپرد کر دیا جاتا ہے اور اگروہ بہشتی ہو جائے تواس کا دوزخی مکان دوسروں کے لیے رہ جاتا ہے اور یا اس بنا پر ہے کہ وه انتہائی آزادی کے ساتھ اس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ میراث سے استفادہ کیا جاتا ہے کیونکہ انسان اس سے استفاده کرنے میں مکمل طور پر آزاد ہوتا ہے۔ یہ جملہ حقیقت میں اس وعده الٰہی کا ٹھیک ٹھیک طور سے پورا ہونا ہے جو سورہ مریم کی آیہ 63 میں آیا ہے: تلك الجنة التي نورث من عبادنا من كان تقيًا یہ وہ بہشت ہے جو ہم اپنے پرہیزگاربندوں کو میراث میں دیں گے۔ تیسرے جملہ میں پروردگارکی وسیع جنت سے استفادہ کرنے میں اپنی مکمل آزادی کو اس طرح سے بیان کرتے ہیں: ہم جنت میں جس جگہ چاہیں قیام کریں اور ٹہریں (نتبوأ من الجنة حيث نشاء)۔ قرآن کی مختلف آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ بہشت بہت سے باغات سے مل کر بنی ہے۔ اسی لیے ان میں "جنات عدن"(بہشت کے جادوانی باغات) (توبہ - 72) کی تعبیر آئی ہے اور بہشتی لوگ اپنےسلسلہ مراتب اور اپنے مقامات روحانی کے لحاظ سے ان میں ساکن ہوں گے۔ اس بنا پر ان کی آزادی بہشت کے انھیں وسیع باغات کے اندر ہے جو ان کے اختیار میں ہیں، ان بالا تر مقامات میں نہیں جن کے لیے وہ خود کو ابل اور لائق نہیں پاتے اور بنیادی طور وہ ایک قسم کا کوئی تقاضابھی نہیں کرتے۔ آخر میں آخری جملے میں ہے: عمل کرنے والوں کے لیے پروردگار کے حکم سے کیسا اچھا اجر و ثواب ہے (فنعم اجر العاملين)۔ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ وسیع نعمتیں "بہا"(قیمت) کے ساتھ دی جاتی ہیں "بہانہ"کے ساتھ نہیں دی جاتیں۔ ایمان اور عمل صلح لازمی اور ضروری ہے تاکہ اس کی وجہ سے اس قسم کاحق اور لیاقت و اہلیت پیدا ہو جائے۔ کیا یہ جملہ بہشتیوں کا ہی ہے یا یہ پروردگار کا کلام اور گفتگو ہے، جو ان کی باتوں کے بعد کی گئی ہے۔ مفسرین نے دونوں احتمال ذکر کیے ہیں لیکن پہلا معنی یعنی اس کا اہل بہشت کی گفتگو ہونا زیادہ ہم آہنگ ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــ آخر کار آخری زیِر بحث آیت میں جو سورہ زمر کی آخری آیہ ہے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: تو اس دن فرشتوں کو دیکھ گا کہ وہ عرش خدا کے گرد حلقہ کیے ہوئے طواف کر رہے ہیں اور اپنے پروردگار کی تسبیح اور حمد بجالا رہے ہیں۔ (وترى الملائكة حافين من حول العرش يسبحون بحمد ربهم)۔ عرش خدا کے گرد فرشتوں کی وضع و کیفیت کے طرف اشارہ یا تو اس بنا پر ہے کہ اوامر الٰہی کے اجراءکے لیے ان کی آمادگی کو بیان کیا جائے یا اس پرارزش اور قابل قدر باطنی حالت مشہود کی طرف اشارہ ہے جو خاصان و مقربان بارگاہ خداوندی کو اس دن حاصل ہو گی اگرچہ یہ تینوں معنی آپس میں کوئی تضاد نہیں رکھتے لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب نظر آتا ہے۔ لہذا اس کے بعد فرمایا گیا ہے: اس دن بندوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ ہو گا (وقضی بینهم بالحق)۔ اور چونکہ یہ امور ، پروردگار کی ربوبیت کی نشانیاں اور ہر قسم کی حمد و ستائش کے لیے اس کی ذات پاک کی لیاقت کے دلائل میں، لہذا آخری جملے میں فرمایا گیا ہے: اس دن کہا جائے گا، حمد و سپاس عالمین کے پروردگار کے لیے مخصوص ہے (وقيل الحمد لله رب العالمين)۔ کیا اس بات کے کہنے والے فرشتے ہیں ؟ یا بہشتی اور پرہیزگار ؟ یا وہ سب کے سب؟ آخری معنی زیادہ مناسب نظر آتا ہے کیونکہ خدا کی حمد و سپاس تمام صاحبان عقل و فکر اور تمام خاصان خدا اور مقربان بارگاہ الٰہی کا طرز عمل ہے اور فعل مجہول قیل کا لانا بھی اسی معنی کا مؤید ہے۔ خداوندا! ہم بھی تمام فرشتوں اور تیرے فرمانبردار بندوں کے ساتھ ہم صدا اور ہم آواز ہوتے ہیں اور تیری ان تمام نعمتوں پر جو تو نے میں عنایت فرمائی میں شکر بجالاتے ہیں خصوصًا اس عظیم نعمت پر ہم تیرا شکر کرتے ہیں کہ تو نے اپنے قرآن مجید کی آیات میں فکر و نظرکی ہمیں توفیق دی ہے اور عرض کرتے ہیں: الحمد لله رب العالمین بارالٰہا : ہم تجھے تیرے عظیم پیغمبر کی ، تیرے حاملین عرش کی اور تیری بارگاہ کے تمام مقربین کی قسم دیتے ہیں کہ ہمیں اس جہان میں بھی اور اس جہان میں بھی اس جہان میں بھی ان سے جدا نہ فرما۔ بارالٰہا! ہمیں ان لوگوں کے زمرے میں قرار دےجو تقوٰی اور عمل صالح کے سایے میں گروہ در گروہ تیری بہشت بریں میں وارو ہوں گے اور تیرے فرشتے جن پر سلام ورود کریں گے۔ آمین یارب العالمین۔