Sūra 30 · 60v
Chapter 3060 verses

Ar-Rum

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
الروم
الروم

سورہ روم

یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں۶٠ آیات ہیں۔

سورہ روم کے مندرجات

قول مشہور کے مطابق چونکہ یہ تمام سورہ مکّہ میں نازل ہوئی ہے لہذا اس میں مکی سورتوں کے سے مضامین اور روح موجود ہے۔ یعنی اس میں سب سے زیادہ مبداء و معاد کے مسئلے پر بحث کی گئی ہے۔ کیونکہ اسلام کا مکّی عہد ایسا زمانہ تھا جس میں بنیادی اعتقادات کی تعلیم پر زور تھا۔ مثلا توحید، مبارزہ باشرک، توجہ بہ معاد اور بروز قیامت اعمال کی جزا و سزا وغیرہ۔ ان مباحث کے ضمن میں کچھ اور مطالب بھی آ گئے ہیں جو ان ہی سے مربوط ہیں۔ درحقیقت، اِس سورة کے مضامین کا اِن سات حصّوں میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے: ۱۔ اس میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ آئندہ ہونے والی جنگ میں اہل روم کو ایرانیوں پر فتح حاصل ہو گی۔ یہ پیش گوئی اس گفتگو کی مناسب سے ہے جو اِس موضوع پر مسلمانوں اور مشرکین میں ہوئی تھی۔ ان شاءاللہ آئندہ ہم تفصیل سے اس کا ذکر کریں گے۔ ۲۔ کسی قدر بےایمان افراد کی طرز فکر اور اُن کی کیفیت حالات کا ذکر ہے اور اس کے بعد انھیں بروز قیامت ان کی بد اعمالیوں کی سزا اور عذاب الہٰی سے ڈرایا گیا۔ ۳۔ اس سورة کی آیات کے اہم حصے میں خدا کی عظمت کا ذکر ہے اور اس کے لیے ان امور کی نشاندہی کی گئی ہے: آسمان و زمین، انسان کے وجود، موت سے حیات اور حیات سے موت کے ظہور، خاک سے انسان کی پیدائش، اس کے لیے نظام زوجیت اور اس نظام سے ہم جنس افراد کی پیدائش، پھر اُن کے درمیان ربط محبت، بوقت شب نیند کی نعمت، دن کو حصول معاش کے لیے حرکت و عمل، ظہور رُعددو برق و باران، موت کے بعد زمین کا دوبارہ زندہ ہونا اور امر الہٰی کے مطابق زمین اور دیگر سیّاروں کے نظام کی تدبیر۔ ۴۔ ان دلائل کے ذکر کے بعد جو معرفت الہٰی کے لیے انفس و آفاق میں موجود ہیں، یہ ذکر ہے کہ توحید ایک امر فطری ہے۔ ۵۔ بےایمان افراد کے حالات کو مشرح طور پر مکرر بیان کیا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ ان کے گناہوں کے نتیجے میں زمین فساد سے بھر گئی ہے۔ ۶۔ سود خواری کی مذمّت کی گئی ہے نیز مسئلہ مالکیّت اور حق ذی القربیٰ کا ذکر ہے۔ ۷۔ دلائل توحید کے لیے حق کی نشانیوں کا مکرر ذکر ہے اور ان کو مسائل کو بیان کیا گیا ہے جو معاد سے متعلق ہیں۔ خلاصہٴ کلام یہ ہے کہ اس سورة میں بھی قرآن کی دُوسری سورتوں کی طرح دلائل عقلی بھی ہیں، جذب و احساس کو بھی بیدار کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ خطابت کا مرکب ہے کہ مجموعی طور پر نفوس انسانی کی ہدایت اور تربیت کے لیے ایک جامع منصوبہ ہے۔

فضیلتِ سورہٴ روم

امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک حدیث منقول ہے۔ جس کی طرف ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص ماہ رمضان کی تیسویں (۲۳) شب میں سورہٴ عنکبوت اور سورہٴ روم پڑھے گا، قسم بخدا وہ اہل بہشت میں سے ہے۔ میں اس کلیہ میں کوئی استثنا نہیں کرتا۔ اِن دو سورتوں کی خدا کے نزدیک بڑی وقعت ہے۔ (بحوالہ: تفسیر نورا ثقلین، جلد ۴، ص ۱۶۹ بحوالہ ثواب الاعمال از شیخ صدوق)۔ جناب رسو ل خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک اور حدیث اِس طرح منقول ہے: من قرئھا کان لہ من الاجر عشر حسنات بعدد کل ملک سبح اللہ بین السمآء و الاض و ادرک ما ضیع فی یومہ و لیلتہ۔ جو شخص کہ سورہ روم کو پڑھے گا اسے ہر اُس فرشتے کے حسنات کے مقابل جو زمین اور آسمان کے درمیان خدا کی تسبیح کرتا ہے، دس گناہ اجر ملے اور جو کچھ اس نے رات یا دن میں تلف کیا ہے اس کی بھی تلافی ہو جائے گا۔ (بحوالہ: مجمع البیان آغاز سورہ ٴ روم)۔ یہ امر واضح ہے کہ جو شخص اس سورة کے مضامین کو جو کہ سراسر درس توحید خدا ہے اور بروز قیامت عظیم عدل و انصاف کے بیان پر مشتمل ہیں۔ اپنے قلب و روح میں جگہ دے گا، وہ محسوس کرے گا کہ خدا ہر لمحہ اس کا محافظ و نگہبان ہے اور روز جزا اور برز قیامت عدل الہٰی کا یقین رکھے گا اور اس کا دل خدا کے خوف سے اس طرح سے معمول ہو جائے گا کہ وہ ایسے اجر عظیم کا مستحق ٹھہرے گا۔

1
30:1
الٓمٓ
الم

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
30:2
غُلِبَتِ ٱلرُّومُ
اہل روم مغلوب ہو گئے

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
30:3
فِيٓ أَدۡنَى ٱلۡأَرۡضِ وَهُم مِّنۢ بَعۡدِ غَلَبِهِمۡ سَيَغۡلِبُونَ
(اور یہ شکست)نزدیک کے ملک میں واقع ہوئی لیکن وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب پھر غالب آ جائیں گے،

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
30:4
فِي بِضۡعِ سِنِينَۗ لِلَّهِ ٱلۡأَمۡرُ مِن قَبۡلُ وَمِنۢ بَعۡدُۚ وَيَوۡمَئِذٖ يَفۡرَحُ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ
چند ہی سال میں اورسب کام حکم خدا سے ہوتے ہیں (اس شکست و کامیابی سے) قبل ہوں یا بعد میں اور اس روز مومنین خوش ہو جائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
30:5
بِنَصۡرِ ٱللَّهِۚ يَنصُرُ مَن يَشَآءُۖ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
(یہ خوشی) خدا کی مددسے (ہوگی) خدا جسے چاہتاہے فتح و نصرت فرماتاہے اور وہ عزیز و رحیم ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
30:6
وَعۡدَ ٱللَّهِۖ لَا يُخۡلِفُ ٱللَّهُ وَعۡدَهُۥ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ
یہ خدا کا وعدہ ہے اور وہ کبھی اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
30:7
يَعۡلَمُونَ ظَٰهِرٗا مِّنَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَهُمۡ عَنِ ٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ غَٰفِلُونَ
یہ لوگ تو دنیا کی صرف ظاہری زندگی کو جانتے ہیں۔اور آخرت کی زندگی سے غافل ہیں۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

جملہ مفسرین بزرگ کا اس پر اتفاق ہے کہ اس سورة کی پہلی آیات اُس وقت نازل ہوئی تھیں جب جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکّہ میں تھے اور مومنین بہ لحاظ تعداد اقلیّت میں تھے۔ اس زمانے میں ایرانیوں اور رومی حکومت میں جنگ ہوئی۔ جس میں ایرانی فوج کو فتح ہوئی تھی۔ مکّہ کے مشرکین نے اس فتح کو فال نیک سمجھ کر اپنے شرک کو مبنی برحق ہونے کی دلیل قرار دیا اور کہا کہ ایرانی تو مشرک اور مجوسی ہیں کیونکہ وہ ثنویت پرست ہیں مگر رومی مسیحی اور اہل کتاب ہیں۔ لہذا جس طرح ایرانی غالب اور رومی مغلوب ہوئے اسی طرح آخری فتح شرک ہی کی ہو گی، اسلام کا دور جلد ختم ہو جائے گا اور ہم فتح مند ہوں گے۔ اگرچہ اس قسم کی خوش فہمیاں بےبنیاد ہوتی ہیں۔ لیکن معاشرے اور ماحول کے جہلا میں یہ پروپیگنڈا بےاثر نہیں رہ سکتا تھا۔ لہذا یہ امر مُسلمانوں پر گراں گزرا۔ اُس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ جن میں حتمی طور پر یہ کہا گیا کہ اگرچہ ایرانی اس جنگ میں کامیاب ہو گئے ہیں لیکن زیادہ وقت نہیں گزرے گا کہ رُومی فوج سے شکست کھائیں گے۔ یہاں تک کہ اس پیش گوئی کے پورا ہونے کا وقت بھی بتا دیا گیا اور کہا کہ چند سال کے اندر ہی یہ امر وقوع پذیر ہو گا۔ قرآن کی یہ حتمی گوئی ایک طرف تو اس کتاب آسمانی کے اعجاز کی علامت اور اس امر کی دلیل تھی کہ اس کے لانے والے کو خدا کے علم بےپایاں اور اس کے عالم الغیب ہونے پر کتنا بھروسہ تھا۔ دُوسری طرف یہ مشرکین کی فال گیری کی نقیض تھی۔ اس پیش گوئی نے مسلمانوں کو ایسا آسودہ مطمئن کر دیا کہ اُن میں سے بعض نے اس مسئلہ پر مشرکین سے شرط باندھنی شروع کر دی۔ (یہ ملحوظ رہے کہ اس وقت تک اس قسم کی شرط بندی کی ممانعت کا حکم نہیں آیا تھا) ۔ (تشریحی نوٹ: یہ شان نزول مختلف تعبیرات سے تفاسیر مجمع البیان، المیزان، نوراثقلین، ابوالفتوح رازی، تفسیر فخررازی، تفسیر فی ضلال اور دوسری تفاسیر میں آئی ہے)۔

تفسیر ایک عجیب پیشین گوئی:

یہ سورہ اُن انتیس سورتوں میں سے ایک ہے جو صرف مُقطّعہ سے شروع ہوئی ہیں (الم) ہم اِن حروف مقطعہ کے تفسیر کے بارے میں بارہا بحث کر چکے ہیں بالخصوص سورہ بقرہ، سورہ آل عمران اور سورہ اعراف کی ابتداء میں۔ اِس مقام پر جو چیز جاذب توجہ ہے وہ صرف یہ ہے کہ بہت سی ان سورتوں کے برخلاف جو حروف مقطعہ شروع ہوتی ہیں اور معا بعد ازاں اُن میں عظمت قرآن کا ذکر شروع ہو جاتا ہے۔ اس سورہ میں عظمت قرآن کی بحث نہیں ہے بلکہ ایرانیوں کے مقابلے میں اہل روم کی شکست اور پھر ان کی فتح کا ذکر ہے۔ لیکن غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ یہ بحث بھی عظمت قرآن ہی کا بیان ہے۔ کیونکہ یہ غیبی خبر زمانہٴ مستقبل سے متعلق ہے، اِس کتاب آسمانی کی عظمت و اعجاز کے دلائل میں شمار ہوتی ہے۔ خداوند عالم حروف مقطعہ کے ذکر کے بعد فرماتا ہے، رُومی مغلوب ہو گئے: (غُلِبَتِ الرُّومُ)۔ اور یہ شکست اس مقام پر ہونی ہے جو تم سے نزدیک ہے: (فِي أَدْنَى الْأَرْضِ)۔ "اے ساکنانِ مکّہ" تمہارے نزدیک کے علاقہ میں یہ واقعہ نمودار ہوا ہے۔ یعنی جزیرة العرب کے شمال سرزمین شام میں۔ اِس علاقے میں جو بصری اور اذرعات کے درمیان واقع ہے۔ اِس مقام سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کلمہ "روم" سے مشرقی روم (موجود ترکی) مراد ہے نہ کہ مغربی۔ بعض مفسرین (مثلاً شیخ طوسی نے تبیان میں) نے یہ خیال کیا ہے کہ "ادنی الارض" سے مراد ملک ایران ہے یعنی یہ شکست ایران اور رُوم کی سرحد پر واقع ہوئی۔ (بحوالہ: تفسیر بیان، جلد ۸، ص ۲۰۶)۔ کلمہ "الارض" کی ابتداء میں الف و لام عہد کے پیش نظر پہلی تفسیر درست معلوم ہوتی ہے لیکن بعض جہات سے جن کا ذکر ہم کریں گے دُوسری تفسیر زیادہ صحیح نظر آتی ہے۔ کلمہ "ادنی الارض" سے ایک تیسرا مفہوم بھی اخذ ہو سکتا ہے جو باعتبار نتیجہ تفسیر دوم سے زیادہ مختلف نہیں ہے اور وہ یہ ہے کہ "زمین" سے مراد روم کا علاقہ ہے یعنی اہل روم نے اپنی سرحد کے قریب ترین علاقے میں ایرانیوں سے شکست کھائی۔ کلمہٴ "ادنی" سے اس شکت کی اہمیت کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ اگر کسی فوج کو اس کے ملک کی سرحد سے دور دراز علاقے میں شکست ہو جائے تو یہ امر اس قدر اہم نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ کسی فوج کو اس کے ملک کے قریبی علاقے میں جہاں اسے ہر طرح کی کمک پہنچ سکتی ہے اور جو مضبوط علاقہ شمار ہو وہاں شکست ہو جائے۔ اس بناء پر "فی ادنی الارض" کے مفہوم میں رومیوں کی شکست کی اہمیت شامل ہے۔ اِس حالت میں مغلوب قوم کے لیے یہ پیش گوئی کہ انھیں آئندہ چند سال میں فتح حاصل ہو گی اور بھی زیادہ اہم ہے اور ایسی پیش گوئی طریق اعجاز کے علاوہ، اور کسی طرح نہیں ہو سکتی۔ اس شکست کے ذکر کے بعد یہ اضافہ کیا گیا ہے کہ رومی اس شکست کے بعد جلد ہی فتح یاب ہوں گے: (وَهُم مِّن بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ)۔ صرف کلمہ "سیغلبون" ہی (یعنی وہ جلد غالب ہوں گے) بیان مقصود کے لیے کافی تھا مگر "من بعد غلبھم" کا اضافہ اس لیے کیا گیا ہے تاکہ فتح کی اہمیت زیادہ ہو جائے۔ کیونکہ ایک شکست خوردہ فوج کا ایک قلیل مدّت میں پھر غالب آ جانا غیر متوقع ہے اور قرآن میں مستقبل میں اس کے وقوع کی خبر دی گئی ہے۔ (تشریحی نوٹ: خسرو اول نوشیرواں کے بعد اس کا بیٹا ہرمزد کے قتل کے بعد پرویزملقب۔ بہ خسرو دوم تخت نشین ہوا. ۶۱۲ء میں روم کے بادشاہ قیصر ماریس کو ایک شخص مسمی فوکس نے قتل کر دیا۔ خسرو نے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر روم کے خلاف جنگ شروع کر دی۔ اِس جنگ میں چو ۶۱۵ء تک جاری رہی. ایرانی سپہ سالاروں نے الرّہا، انطکیہ، دمشق اور یروشلم پر قبضہ کر لیا اور شمالی مصر کے بعض حصے بھی فتح کر لیے "غلبت الروم" اِس واقعے کی طرف اشارہ ہے۔ قیصر ماریس کے بعد ہرقل روم کا بادشاہ بناء اس نے ۶۲۳۔ ۶۲۴عیسوی میں ایرانیوں سے نہ صرف مفتوحہ علاقے واپس لے لیے بلکہ وہ ایرانی حدود میں داخل ہو کہر شہر کنزک تک پہنچ گیا۔ ۶۲۸ ء میں وہ ایران کے دارالسلطنت تیسفون تک آ پہنچا۔ خسرو وہاں سے فرار ہو گیا اور تھوڑی مدّت بعد ایک بغاوت میں مارا کیا۔ "وَهُم مِّن بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ" رُومیوں کی اس فتح کی پیش گوئی ہے)۔ اِس کے بعد اس حادثے کے وقوع کی مدت بالفاظ (فِي بِضْعِ سِنِينَ) چند سال ہی میں بیان کی گئی ہے۔ جب کلمہ "بضع" کہا جاتا ہے تو اس سے کم از کم تین سال اور زیادہ سے زیادہ نو سال مدّت مراد ہوتی ہے۔ (تشریحی نوٹ: کلمہ "بضع" سے اور معنی بھی مراد لیے گئے ہیں۔ مثلا یہ مدّت کم از کم تین سال اور زیادہ سے دس سال ہوتی ہے یا کم از کم ایک سال اور زیادہ سے زیادہ نو سال یا کم از کم چھ سال اور زیادہ سے زیادہ نو سال۔ مگر ہم نے جو کہا وہ زیادہ مشہور ہے)۔ اگر خدا زمانہٴ مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کی خبر دیتا ہے تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ چیز اور ہر کام اسی کے اختیار میں ہے۔ خواہ کوئی بات اس شکست خوردہ قوم کی فتح سے پہلے ہو یا بعد میں: (لِلَّهِ الْأَمْرُ مِن قَبْلُ وَمِن بَعْدُ)۔ یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ کائنات میں ہونے والے ہر واقعے کا خدا کے حکم اور اس کے ارادے سے وقوع پذیر ہونا ہمارے اختیار و آذادیٴ ارادہ اور پیش نظر مقاصد کے حاصل کرنے کے لیے اسعی و کوشش میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ بہ الفاظ دیگر یوں کہنا چاہیے کہ اس عبارت کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ وہ انسان سے اختیار کر سلب کر لے بلکہ یہ نکتہ سمجھانا مقصود ہے کہ درحقیقت، قادر بالذات اور"مالک علی الاطلاق" وہی ہے اور کسی انسان کے پاس جو کچھ ہے اسی کا دیا ہوا ہے۔ اس کے بعد ان الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے کہ: آگر آج رومیوں کو شکست ہو گئی ہے اور مشرک اس سے خوش ہیں تو جب رومی غالب ہوں گے تو مومنین خوش ہوں گے: (وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ)۔ البتہ مومنین نصرت الہٰی سے خوش ہوں گے: (بِنَصْرِ اللَّهِ)۔ خدا جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے، وہ شکست ناپذیر اور مہربان ہے: (يَنصُرُ مَن يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ)۔ اُس روز مسلمانوں کی خوشنودی سے کیا مراد ہے؟ اس کے متعلق کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ رُومیوں کی فتح سے خوش ہوں گے۔ ہر چند کہ ان کا شمار بھی کفار میں تھا۔ لیکن ___ چونکہ وہ کتاب آسمانی کے حامل تھے اس لیے مشرک مجوسیوں پر اُن کی فتح گویا شرک پر توحید کی فتح کا ایک مرحلہ تھی۔ اِس مسئلے میں بعض حضرات کا خیال یہ ہے کہ مومنین اس وجہ سے خوش ہوئے کہ انھوں نے اس واقعے کو فال نیک سمجھا اور مشرکین پر اپنی فتح کی دلیل خیال کیا۔ یا یہ کہ __ اُن کی خوشی کا باعث یہ تھا کہ اس وقعے سے اس روز قرآن کے عظمت اور اس کی پیش گوئی کی صداقت ظاہر ہو گئی۔ یہ بات بھی مسلمانوں کے لیے ایک اہم معنوی فتح خیال کی گئی۔ یہ احتمال بھی بعید نہیں ہے کہ رُومیوں کی فتح مسلمانوں کی مشرکین پر فتوحات میں سے ایک فتح کی ہم زمان تھی۔ بالخصوص بعض بزرگ مفسرین نے لکھا ہے کہ رُومیوں کی یہ فتح مسلمانوں کی جنگ بدر میں فتح یا صلح حدیبیہ کے ہم زمان تھی کہ وہ بھی اپنی حیثیت سے ایک بڑی فتح شُمار ہوتی تھی۔ خاص طور پر کلمہ "بنصراللہ" اس مطلب سے مناسب رکھتا ہے۔ خلاصہٴ کلام یہ ہے کہ مسلمان اُس روز مختلف جہتوں سے خوش ہوئے۔ اوّل تو اس وجہ سے کہ اہل کتاب کو مجوسیوں پر فتح حاصل ہوئی جو کہ خدا پرستی کی شرک پر فتح کی علامت تھی۔ دوم: چونکہ قرآن کی معجزانہ پیش گوئی صحیح ثابت ہوئی۔ اس لیے یہ بھی ایک معنوی فتح تھی۔ سوم: اُسی زمانے میں مسلمانوں کو دوسری فتوحات کے علاوہ، ایک اور فتح حاصل ہوئی تھی، وہ تھی صلح حدیبیہ۔ پھر بطور تاکید مزید فرمایا گیا ہے: یہ وہ وعدہ ہے جو خدا نے کیا ہے: (وَعْدَ اللَّهِ)۔ (تشریحی نوٹ: "وعداللہ" بطور مفعول مطلق منصوب ہے اور اس کا حامل محذوف ہے اور اس کے ماقبل جملہ "سیغلبون" سے جو کہ وعدہٴ الہٰی کا مصداق ہے، معلوم ہوتا ہے اور بحالت تقدیر پورا جملہ یوں ہے: "وعداللہ ذلک وعدا")۔ اور خدا ہرگز وعدہ خلافی نہ کرے گا، اگرچہ اکثر آدمی نہیں جانتے: (لَا يُخْلِفُ اللَّهُ وَعْدَهُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ)۔ اور لوگوں کی لاعلمی کا باعث ہے کہ اُنھیں خدا اور اُس کے علم و قدرت کی معرفت حاصل نہیں ہے۔ درحقیقت، انھوں نے خدا کو پہچانا ہی نہیں۔ اس لیے وہ اس حقیقت سے کہ خدا کا اپنے وعدے سے پھر جانا محال ہے، آگاہ نہیں ہیں کہ کیونکہ وعدہ سے پھر جانا یا تو جہالت کی وجہ سے ہوتا ہے یعنی وعدہ کرتے وقت کوئی بات نامعلوم تھی مگر جب بعد میں معلوم ہوئی تو رائے بدل گئی یا وعدہ خلافی ضعف و ناتوانی کی وجہ سے ہوتی ہے جس کے باعث وعدہ کرنے والا اپنے رائے بدل لیتا ہے کیونکہ اس میں اپنا وعدہ پورا کرنے کی قدرت نہیں ہوتی۔ لیکن وہ خدا جو ہر کام کے انجام سے باخبر ہے اور اس کی قدرت جملہ اہل جہان کی قدرتوں پر توقیت رکھتی ہے، ہرگز اپنے وعدے سے نہ پھرے گا۔ اس کے بعد یہ اضافہ کیا گیا ہے کہ : یہ کو تاہ بیں لوگ دنیا کی صرف ظاہری زندگی کودیکھتے ہیں اور آخر ت اورانجام کار سے بے خبرہیں: (يَعْلَمُونَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ عَنِ الْآخِرَةِ هُمْ غَافِلُونَ)۔ یہ لوگ صرف دُنیاوی زندگی سے جو آگاہ ہیں اور زندگی کی بھی صرف ظاہری حالت پر قناعت کیے ہوئے ہیں۔ اِن لوگوں نے دُنیاوی زندگی سے جو حاصل کیا ہے وہ صرف چند مصروفیات، لذّاتِ زور گزرا ور خواب و خیال ہیں اور اس زندگی کے ماحصل میں جو غرور اور غفلت پوشیدہ ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اگر وہ لوگ دُنیا کی اس زندگی کے باطن اور مخفی کیفیت کو بھی جانتے ہوتے تو یہی بات ان کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی تھی کہ آخرت میں کیا ہو گا۔ کیونکہ اگر اس حیات ناپائیدار پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ طویل زنجیر حیات کی ایک کڑی ہے اور طویل سفر کی ایک منزل ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے شکم مادر میں بچے کی زندگی مقصود بالذّات نہیں ہے بلکہ وہ تو ایک طویل زندگی کا ابتدائی مرحلہ ہے۔ ہاں ٹھیک ہے کہ وہ لوگ اس دنیاوی زندگی کے ظاہری کو دیکھتے ہیں اور اس کی باطنی کیفیت اور مخفی حالت سے غافل ہیں۔ اِس موقع پر جاذب توجہ یہ امر ہے کہ آیت ہفتم میں ضمیر "ھم" مکرّر استعمال ہوئی ہے جو اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اِس غفلت و بےخبری کا باعث وہ خود ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے کوئی ہم سے کہے کہ: "تو نے مجھے اس کام سے غافل کر دیا"۔ اور ہم اس کے جواب میں یہ کہیں کہ: تو خود ہی غافل ہوگیا۔ اور ہم اُس کے جواب میں یہ کہیں کہ: تو تو خود ہی غافل ہوگیا۔ یعنی تو خود ہی اپنی غفلت کا باعث تھا۔

چند اہم نکات: ۱۔ اعجاز قرآن __ علم غیب کے لحاظ سے:

قرآن کا معجزہ ثابت کرنے کے دلائل میں سے ایک دلیل قرآن کی غیبی خبریں بھی ہیں کہ جن کا ایک نمونہ آیات زیر بحث میں آیا ہے۔ چنانچہ آیات کے اندر مکرر تاکیدات کے ساتھ ایک شکست خوردہ فوج کی چند سال بعد عظیم فتح کی خبر دی گئی ہے اور اس اطلاع کو خدا کے تخلف ناپذیر وعدہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس پیش گوئی کے چند اہم پہلو ہیں، اوّل تو مطلقاً فتح کی خبر دی گئی ہے: وَهُم مِّن بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ اور اس کے بعد انہیں جلدی ہی فتح نصیب ہو گی۔ دوسرے کُفّار پر اسی زمانے کے قریب مسلمانوں کی فتح کی خبر ہے: وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ اللَّهِ اور اُس نصرت الہٰی کے باعث اہل ایمان خوش ہوں گے۔ تیسرے یہ تصریح ہے کہ واقعہ چند سال بعد ظہور پذیر ہو گا: فی بضع سنین۔ چوتھے دوبار تاکید کے ساتھ، اس وعدے کا قطعی ہونا ثابت کرتا ہے: وَعْدَ اللَّهِ لَا يُخْلِفُ اللَّهُ وَعْدَهُ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ نو سال بھی نہیں گزرے تھے، یہ دونوں واقعات وقوع پذیر ہو گئے۔ نئی جنگ میں رُومیوں نے ایرانیوں بتاتی پر فتح حاصل کی اور قریباً اسی زمانے میں صلح حدیبیہ کے ذریعہ (اور ایک روایت کے مطابق جنگ بدر میں) مُسلمانوں کو دشمنوں پر قابل دید فتح حاصل ہوئی۔ اِس مقام پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک انسان اپنے عام اکتسابی علم کے ساتھ ایسے اہم واقعے کی بطور قطعی خبر دے سکتا ہے۔ یہاں تک کہ بالفرض اگر کوئی سیاسی آدمی پیش بینی کے قابل بھی ہو، تب بھی وہ ایسی بات نہایت محتاط الفاظ میں بطور احتمال کہے گا، نہ کہ اس طرح صراحت اور تیقن کے ساتھ کیونکہ اگر یہ پیش گوئی غلط ثابت ہو جاتی تو دُشمنوں کے ہاتھ ابطالِ نبّوت کی ایک سند آ جاتی۔ حقیقت یہ ہے کہ مسائل مثلاً اہل رُوم کی فتح مباہلہ یا مُباہلہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے علم و اطلاع کا منبع کوئی دُوسرا تھا۔ وگر نہ کوئی شخص بھی معمول کے اور عام حالات میں نہ اتنی توانائی رکھتا ہے، نہ جرائت کر سکتا ہے کہ تیقن کے ساتھ ایسی بات کہہ دے۔ بالخصوص پیمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حالات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے نہ تھے جو غیر محتاط بات کہہ دیتے ہیں بلکہ آپؐ کے تمام کام منظم و محکم تھے۔ ایسا شخص اگر اس قسم کا دعویٰ کرتا ہے تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کی اطلاعات کا مرکز ماورائے طبیعت ہے اور اس کا انحصار وحی الہٰی اور خدا کے بےپایاں علم پر ہے۔ اِس پیش گوئی کی تاریخی مطابقت پر ہم جلد ہی بحث کریں گے۔

۲۔ ظاہر بین لوگ:

اصولاً ایک مومن اور صاحب معرفت انسان اور ایک مادہ پرست یا مُشرک بصیرت میں بہت فرق ہے۔ مقدّم الذکر انسان اپنے عقیدہٴ توحید کی بناء پر کائنات کو خدا ئے حکیم و دانا کی مخلوق سمجھتا ہے۔ اور یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اللہ کے تمام افعال ایک پیش نظر غایت کے تحت حکمت پر مبنی ہیں۔ اور اسی دلیل سے وہ عالم کو نہایت دقیق اسرار و رموز کا مجموعہ سمجھتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے، اس عالم میں کوئی چیز بھی غیر اہم نہیں ہے۔ اس کتاب کائنات کے تمام کلمات پر مغز و پُر معنی ہیں۔ یہ بصیرت توحیدی اسے متنبہ کرتی رہتی ہے کہ دنیا کے کسی واقعے اور کسی امر سے سرسری نہ گزر جانا کیونکہ ممکن ہے کہ جو بات بالکل سادہ نظر آتی ہے اس میں پیچیدہ ترین راز ہوں۔ توحید پرست انسان کی نظر میں دُنیا کی گہرائی کو دیکھتی ہے، صرف اس کے ظاہر قناعت نہیں کرتی۔ اُس نے مکتب توحید میں یہ سبق پڑھا ہے۔ وہ یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ خدا کا کوئی فعل بھی عبث نہیں ہے اور تخلیق عالم کی کوئی غایت ہے۔ اِس لیے کائنات کے ہر جزء کو اسی غایت کے نقطہٴ نظر سے دیکھتا ہے۔ اُس کے مقابلہ میں مؤخرالذکر مادّہ پرست بے ایمان انسان دُنیا کو اندھے، بہرے اور بےمقصد واقعات کا ایک مجموعہ سمجھ کر صرف اس کے ظاہر کو دیکھتا ہے اور اس حقیقت کا قائل ہی نہیں ہے کہ اِس کا باطن اور عمق بھی ہے۔ اس گروہ کا خیال ہے کہ بالفرض ایک کتاب ہے جس کے اوراق پر ایک طفل نادان نے اپنی انگلیوں سے بےمقصد لکیریں اور خطوط کھینچ دیئے ہیں تو کیا اس کتاب کی کوئی اہمیت ہو گی؟ یا اُس میں کچھ معنی ہوں گے؟ اُن کی نظر میں یہ دُنیا بھی ایسی ہی ہے۔ یہاں تک کے بعض عظیم سائنس دانوں کا قول ہے کہ بنی نوع انسان میں سے ہر طبقہ اور ہر گروہ کے وہ منکرین جو نظام کائنات کے متعلق غور و فکر کرتے رہے ہیں وہ مذہبی ذہن رکھتے تھے۔ (غور کیجئے گا)۔ چنانچہ دانش مند معروف معاصر آئن سٹائن یوں کہتا ہے: (تشریحی نوٹ: آئن سٹائن (Albert Einstein) کا انتقال ۱۹۵۵ء میں ہوا)۔ دُنیا کے مغزہائے متفکر (Masterminds) میں سے بمشکل کوئی ایسا شخص مل سکتا ہے جو ایک قسم کا مخصوص مذہبی احساس نہ رکھتا ہو۔ اگرچہ اُس کا مذہب عامۃ النّاس کے مذہب سے مختلف ہوتا ہے۔ اس عالم کا مذہب کائنات کے عجیب و دقیق نظام پر غور کرنے کے بعد ایک مسرت بخش حیرت پر مبنی ہوتا ہے۔ جب کبھی ان اسرار سے پردہ اُٹھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان نے اَب تک اپنی منظم کوشش اور غور و فکر سے اس کائنات کے متعلق جو کچھ جانا ہے، وہ علم کے ایک ہلکے عکس سے زیادہ نہیں ہے۔ آئن سٹائن ایک دُوسری جگہ کہتا ہے: سائنس دانوں، متفکرین اور انکشاف کرنے والوں کے لیے وہ شے جو اس بات کا سبب ہوئی کہ وہ عمر ہا عمر اور سالہا سال تک گوشہٴ تنہائی میں بیٹھ کر کائنات کے دقیق اسرار کا مطالعہ کرتے رہیں، ان کا یہی مذہبی اعتقاد تھا۔ (تشریحی نوٹ: از کتاب "دنیای کہ من بینم")۔ ایک وہ آدمی ہے جو اس دُنیا ہی کو آخری مرحلہ اور مقصود حیات سمجھتا ہے۔ دُوسرا وہ شخص ہے جس کا نقطہٴ نگاہ ہے کہ یہ دُنیا اور اس کی زندگی تو ایک کھیت اور اُس حیاتِ جاودانی کے لیے میدان امتحانِ ہے جو اس کے بعد آنے والی ہے۔ بھلا ان دونوں آدمیوں کا دُنیا کے متعلق طرز عمل یکساں کیسے ہو سکتا ہے؟ اُن میں سے ایک کی نظر صرف اس کے ظاہر پر ہوتی ہے اور دُوسرا اس کی عمیق حقیقت پر غور و فکر کرتا ہے۔ اور زاویہٴ نظر کا یہ اختلاف ان لوگوں کی تمام زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ ظاہر بیں انسان راہ خدا میں خرج کرنے کو نقصان مایہ سمجھتا ہے۔ جب کہ مرد موحدِّ اسے پُر منفعت تجارت خیال کرتا ہے۔ اُن میں سے ایک سُود خوری کو اپنی آمدنی میں افزائش کا ذریعہ خیال کرتا ہے اور دُوسرا اُسے باعث وبال و بدبختی و زبان سمجھتا ہے۔ اُن میں سے ایک جہاد کو اپنے لیے باعث زحمت اور شہادت کو بہ معنی فنا سمجھتا ہے اور دُوسرا جہاد کو رمز سر بلندی اور شہادت کو حیات جاوداں خیال کرتا ہے۔ یہ درست ہے کہ بےایمان لوگ دُنیا کی صرف ظاہری زندگی کو دیکھتے ہیں اور آخرت سے غافل ہیں: يَعْلَمُونَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ عَنِ الْآخِرَةِ هُمْ غَافِلُونَo

۳۔ تاریخی مطابقت:

اس پیش گوئی سے جنگ ایران و رُوم کی مطابقت تاریخی یوں ہے کہ: خسرو پرویز کے عہد میں ایرانیوں اور رُومیوں کے درمیان ایک طویل جنگ کا سلسلہ شروع ہوا جو تقریباً چوبیس سال تک جاری رہی یعنی ۶۰۴ سے شروع ہو کر ۶۲۷ عیسوی میں ختم ہوئی۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ۶۱۶ عیسوی میں ایران کے دو سپہ سالاروں شہر براز اور شاہین نے رُوم کے مشرق علاقے پر حملہ کر دیا اور رُومیوں کو شکست دے کر شامات، ایشیائے کوچک اور مصر تک کو فتح کر لیا۔ رُوم کی مشرقی حکومت جس نے شدید شکست کھائی تھی تباہی کے کنارے جا پہنچی اور ایرانیوں نے اُن کے تمام ایشیائی مقبوضات پر قبضہ کر لیا۔ یہ واقعہ بعثتِ پیمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریباً ساتویں سال پیش آیا۔ اِس کے بعد قیصر روم "ہرقل" نے ۶۲۲ عیسوی میں ایران پر جوابی حملہ کیا اور خسرو پرویز کی فوجوں کے پے در پے شکستیں دیں۔ اِس جنگ کا سلسلہ جس میں رُومی فاتح رہے ۶۲۷ عیسوی تک جاری رہا۔ ایرانیوں نے شکست سے متاثر ہو کر خسرو پرویز کو سلطنت سے معزول کر کے اس کے بیٹے "شیرویہ" کو بادشاہ بنا دیا۔ تاریخی لحاظ سے یہ امر پیشِ نظر رہے کہ جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت ۵۷۱ عیسوی میں ہوئی اور آپ کی بعثت ۶۱۰ عیسوی میں ہوئی۔ اِس حساب سے ایرانیوں کے ہاتھ رُومیوں کو بعثت کے ساتویں سال شکست ہوئی اور پھر رُومیوں کو فتح اور ایرانیوں کو شکست ہجرت کے پانچویں یا چھٹے سال سے منطبق ہوتی ہے۔ ہجرت کے پانچویں سال جنگ خندق ہوئی اور چھٹے سال صلح حدیبیہ واقع ہوئی۔ البتہ ایران اور رُوم کے مابین جنگ کی خبروں کو حجاز و مکہ تک پہنچتے تک کچھ دیر لگی ہو گی۔ بہرحال، اس تاریخ کی مطابقت سے قرآن کی پیش گوئی کی صداقت واضح ہوتی ہے۔ (غور کیجئے گا)۔

8
30:8
أَوَلَمۡ يَتَفَكَّرُواْ فِيٓ أَنفُسِهِمۗ مَّا خَلَقَ ٱللَّهُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَآ إِلَّا بِٱلۡحَقِّ وَأَجَلٖ مُّسَمّٗىۗ وَإِنَّ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلنَّاسِ بِلِقَآيِٕ رَبِّهِمۡ لَكَٰفِرُونَ
کیا وہ اپنے دل میں یہ نہیں سوچتے کہ اللہ نے آسمانوں ‘ زمین اور ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے، کو نہیں پیدا کیا مگر حق کے ساتھ اور ایک معینہ مدت کے لئے؟ مگر بہت سے لوگ (قیامت اور) اپنے رب کی لقا کے منکر ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
30:9
أَوَلَمۡ يَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَيَنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ كَانُوٓاْ أَشَدَّ مِنۡهُمۡ قُوَّةٗ وَأَثَارُواْ ٱلۡأَرۡضَ وَعَمَرُوهَآ أَكۡثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا وَجَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِۖ فَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيَظۡلِمَهُمۡ وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ
کیا ان لوگوں نے زمین میں سیر نہیں کی کہ دیکھ لیتے کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو ان سے پہلے تھے ؟وہ قوت میں ان سے زیادہ تھے۔ انہوں نے زمین کو زراعت اور آبادی کیلئے دگرگوں کیا اور اس سے زیادہ آباد کیا تھا۔ ان کے لئے مبعوث شدہ نبی ان کے پاس روشن دلیلوں کے ساتھ آتے رہے اور خدا ایسا نہ تھا جو ان پر ظلم کرتا۔ تو انہوں نے خود ہی اپنے آپ پر ظلم کیا تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
30:10
ثُمَّ كَانَ عَٰقِبَةَ ٱلَّذِينَ أَسَـٰٓـُٔواْ ٱلسُّوٓأَىٰٓ أَن كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَكَانُواْ بِهَا يَسۡتَهۡزِءُونَ
پھر ان لوگوں کا انجام جو اعمال بد کے مرتکب ہوئے، اس مقام تک پہنچا کہ انہوں نے آیات الٰہی کو جھٹلایا اور ان کی ہنسی اڑائی۔

تفسیر بد کاروں کا انجام:

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

گزشتہ زیر بحث آیات میں سے آخری آیت میں اُن ظاہر بیں لوگوں کا ذکر تھا جن کے افق فکر کی وسعت صرف اس محدود عالم اور جہان مادی تک ہے۔ وُہ لوگ قیامت اور وجُودِ عالم ماورائے طبیعت سے غافل ہیں۔ مگر ــــــــ آیات زیر بحث اور آیات آئندہ میں مبداء و معاد کے متعلق مختلف مطالب کا ذکر ہے۔ اوّل ــــــــ بطور استفہام اعتراض آمیز قرآن کہتا ہے: کیا یہ لوگ اپنے ذہن میں یہ نہیں سوچتے کہ خدا نے آسمانوں کو، زمین کو اور اُن کے درمیان اور جو کچھ ہے اٗسے بھی حق کے بغیر پیدا نہیں کیا اور اُن کے لیے ایک معین مدت مقرر کی ہے: (اولم يتفكروا فی انفسهم ما خلق الله السماوات والأرض وما بينهما الّا بالحق وأجل مسمًی)۔ یعنی اگر وہ لوگ صحیح طور پر سوچیں اور اپنے وجدان اور عقل کے فیصلے کی طرف رجوع کریں تو وه إن دو اُمور سے خوب آگاه ہو جائیں گے جن میں سے اوّل یہ ہے کہ یہ کائنات اساسِ حق پر پیدا کی گئی ہے۔ اور اُس کا وجُود ایسے نظام کے تحت قائم ہے جو اُس کے خالق کی عقل، قدرت کامل اور اس کے وجود کی دلیل کامل ہے۔ دُوسرے ــــــــ یہ کائنات زوال اور فنا کی طرف رواں۔ چونکہ ـــــــ یہ ممکن نہیں ہے کہ اُس خالق حکیم نے اسے بےمقصد و ہےغایت پیدا کیا ہو۔ اس کا وجود، اِس اَمر کی دلیل ہے کہ اِس جہاں کے بعد ایک اور دُنیا اور دارُالبقا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اِس جہان کی آفرنیش بےمعنی تھی اور یہ قطعی لایعنی بات تھی کہ انسان کی چند روزہ زندگی کے لیے اس طویل و عریض کائنات کو پیدا کر دیا جائے۔ اسی سے وجود آخرت کا ثبوت ملتا ہے۔ اگر اس حقیقت پر غور کیا جائے کہ یہ کارخانہ کائنات ایک نظم و ترتیب کے تحت چل رہا ہے۔ کائنات کا کوئی جز بھی آزاد اور مستقل نہیں بلکہ ہر جز اپنے وجود و بقا کے لیے ایک دوسرے کا محتاج اور باہم دگر منحصر ہے تو ہمیں تو ہمارے ذہن کی رسائی کسی مبداء یعنی خالق حکیم کی طرف ہوتی ہے اور "اجل مسمٰی" معاد کی دلیل ہے۔ یعنی اس کائنات کا وجود ایک معینہ وقت تک ہے اور (غور کیجیئے گا)۔ لہذا آیت کے اخیر میں ان الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے پروردگار کی لقا کے منکر ہیں: (وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ لَكَافِرُونَ)۔ یا اکثر آدمی "معاد" ہی کے منکر ہیں۔ جیسا کہ قرآن شریف میں مُشرکین کا قول بار بار نقل ہوا ہے کہ وہ کہتے تھے: کیا یہ ممکن ہے کہ جب ہم خاک ہو جائیں گے۔ تو ہم پھر زندہ ہو جائیں؟ یہ تو عجیب بات ہے اور یہ غیر ممکن ہے۔ یہ، اس بات کے کہنے والے کے جنون کی دلیل ہے، (رعد-٥، مومنون-۲٥، نمل۔۶۷، ق-٣) یا - یہ کہ وہ زبان سے تو انکار نہیں کرتے لیکن اُن کا عمل ایسا پر عصیان اور شرم ناک ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ معاد پر قطعی یقین نہیں رکھتے۔ کیونکہ اگر وہ معاد کے معتقد ہوتے تو اُن کا عمل ایسا فاسد نہ ہوتا اور وہ خود ایسے مفسد نہ ہوتے۔ آیت میں جو"في انفسهم" کے الفاظ ہیں اُن کا یہ مفهوم نہیں ہے کہ وہ لوگ اپنے "اسرار وجود" کا مطالعه کریں، جیسا کہ فخر رازی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے: بلکہ اِن الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ وہ عقل وجدان کو کام میں لا کر زمین اور آسمان کی خلقت بر غور کریں۔ ممکن ہے کہ کلمہ "بالحق" کے دو معنی ہوں۔ ایک تو یہ کہ کائنات کی آفرنیش، اُس کا نظم و ترتیب اور قانونِ فطرت حق کے ساتھ ہے۔ دوسرے یہ کہ تخلیق کا مقصد حق ہے۔ ان دونوں تفسیروں میں باہم کوئی تضاد نہیں ہے۔ (تشریحی نوٹ: اگر پہلے معنی مراد لیے جائیں تو"بالحق" میں جو باء ہے وہ مصاحبت کے لیے ہو گی۔ دوسری صورت میں یہ "لام" کے معنی میں ہو گی)۔ "لقاء ربّھم" سے مُراد (جیسا کہ تم نے بارہا کہا ہے) یہ ہے کہ بروز قیامت حجابات اُٹھ جائیں گے اور انسان اپنے "شہود باطنی" سے خدا کو اُس کی عظمت کے ساتھ پہچانے گا۔ "اجل مُسمٰی" کے الفاظ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اس دنیا کی زندگی کو دوام اور بقا نہیں ہے۔ گویا یہ تمام دُنیا پرست لوگوں کو ایک تنبہیہ ہے۔ آیت مابعد میں یہ اضافہ کیا گیا ہے۔ کیا اُنہوں نے زمین میں سیر نہیں کی کہ وہ دیکھتے کہ اُن لوگوں کا کیا انجام ہوا جو اُن سے پہلے تھے: (أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ)- وہ لوگ طاقت میں ان سے زیادہ تھے۔ اُنھوں نے زمین کو دگرگوں کیا اُسے اِن سے زیادہ آباد کیا تھا: (كَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَأَثَارُوا الْأَرْضَ وَعَمَرُوهَا أَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا)۔ اُن کی طرف مبعوث پیغمبر اُن کے پاس روشن دلیلوں کے ساتھ آئے: (وَجَاءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ)۔ لیکن اُنھوں نے احکام الہی سے بغاوت کی اور حق کی اطاعت نہ کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وُہ خدا کی طرف سے دردناک عذاب میں مبتلا ہوۓ۔ خدا نے تو ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا۔ لیکن اُنھوں نے خود ہی اپنے اوپر ظلم کیا: (فَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ)۔ درحقیقت، آیت٩ میں اُن اقوام کی طرف اشارہ ہے جو پیغمبر کے ہم عصر مشرکین کے مقابلے میں مال، جسمانی طاقت اور قدرت کے لحاظ سے کہیں بہتر اور برتر تھے۔ نیز اُن کے دردناک انجام کو اِن کُفّار کے لیے درس عبرت قرار دیا گیا ہے۔ آیت میں "أَثَارُوا الْأَرْضَ" کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، ممکن ہے کہ اِس سے زراعت و شجر کاری کے لیے زمین کا جوتنا یا کھودنا مُراد ہو یا نہریں اور کاریز کا کھودنا، یا کسی بڑی عمارت کی تعمیر کے لیے بُنیاد کھودنا مراد ہو یہ تمام چیزیں مراد ہوں۔ کیونکہ "أَثَارُوا الْأَرْضَ" کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ یہاں تک کہ تعمیر و آبادی کے جُملہ مراحل اس میں شامل ہیں۔ (تشریحی نوٹ: "اثار" کا مادہ "ثور" (بروزن "غور") ہے، جس کے معنی پراگندہ کرنے کے ہیں۔ عرب بیل کو ثور کہتے تھے۔ وجہ تسمیہ یہ تھی کہ وه اُسے ہل بھی جوتتے تھے)۔ چونکہ اس زمانے میں وہی لوگ سب سے زیادہ صاحب قوت و اقتدار سمجھے جاتے تھے جو کاشت کاری میں ترقی یافتہ تھے یا جنہوں نے فن تعمیر میں خوب ترقی کی تھی۔ لہذا ظاہر ہے کہ اُن لوگوں کو مشرکین مکہ کے مقابلے میں (جو کہ ان فنون میں نہایت پس مانده تھے) يقينًا برتری حاصل تھی۔ لیکن جب اُنھوں نے ان فنون میں برتری کے باوجود آیات الٰہی اور اُس کے پیغمبروں کا انکار کیا اور اُن کی تکذیب کی تو اُن میں عذاب الٰہی سے بچ کر نکل جانے کی طاقت نہ تھی۔ لہذا اے مشرکین مکہ! تم سوچو کہ تم کس طرح اُس کے عذاب سے بچ سکتے ہو؟ وہ یہ دردناک عذاب اور اپنے اعمال کی پاداش کو خود ہی لائے تھے۔ اُنھوں نے خود ہی اپنے اُوپر ظلم کیا تھا۔ خدا تو کبھی کسی پر ظلم و ستم روا نہیں رکھتا۔ زیر بحث آیات میں سے آخری آیت میں اقوام کو گزشتہ کے آخری مرحلہ کفر کا بیان ہے کہ: اُن کی بد اعمالیاں اور سرکشی یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ اُنھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس سے بھی بدتر یہ کہ اُن کا مذاق اڑانے لگے: (ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِينَ أَسَاؤُوا السُّوأَى أَن كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللَّهِ وَكَانُوا بِهَا يَسْتَهْزِؤُون)- البتہ گناه اور آلودگی نفس جذام کی بیماری کی طرح ہے، جو رُوح ایمان کو کھا کر فنا کر دیتی ہے یہاں تک کہ انسان آیات الٰہی کی تکذیب کرنے لگتا ہے۔ اس منزل سے بھی آگے بڑھ کر آیاتِ الٰہی اور پیغمبروں کا مذاق اڑانے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ کفر کے اُس مرحلے پر پہنچ جاتا ہے کہ اُس پر کسی وعظ، نصیحت یا تخویف کا اثر ہی نہیں ہوتا۔ اِس حالت میں اس کے لیے صرف عذاب الہی کا تازیانہ ہی باقی رہ جاتا ہے۔ گناه گاروں اور اوامر الہی کے باغیوں کے صفحات زندگی کو اگر بغور دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ ابتدا میں ایسے سرکش اور طغیان کوش نہ تھے۔ اُن کے دلوں میں نور ایمان کی کوئی کرن ضرور چمکتی تھی، لیکن پے در پے گناہوں کا ارتکاب انھیں روز بروز ایمان اور تقوٰی سے دُور کرتا گیا اور انجام یہ ہوا کہ وہ کُفر کے آخری مرحلے پر پہنچ گئے۔ کربلا کی شیر دل خاتون جناب زینب سلام اللہ علیہا نے دمشق میں یزید کے سامنے جو خطبہ دیا ہے، اُس میں آپؑ نے اس آیت اِنہی معنی میں استعمال کیا ہے جو ہم نے اُوپر بیان کیے ہیں۔ اُن معظمہ نے دیکھا کہ یزید کفر آمیز کلمات کہہ رہا ہے اور وہ مشہور اشعار پڑھ کر جن میں سے ایک کی ابتدا یوں ہے، لعبت هاشم بالملك۔۔ ۔۔ ۔۔ اسلام کی ہر شے کا مذاق اڑا رہا ہے اور اس کی ان باتوں سے ثابت ہوتا تھا کہ اس کا اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے کسی پر بھی ایمان نہیں ہے، تو، اُن مخدومہ نے حمدِ الٰہی اور پیغمبر اکرمؐ پر درود بعد یوں فرمایا: صدق الله كذالك يقول ثم كان عاقبة الذين اساءوا السوای آن كذّبوا بآياتِ الله و كانوا بها یستهزءون ۔۔ ۔۔ ۔۔ اگر آج تو ان کُفر آمیز اشعار کے ذریعے اسلام اور ایمان کا انکار کر رہا ہے اور اپنے مُشرک بزرگوں سے جو جنگ بدر میں مُسلمانوں کے ہاتھ سے قتل ہوئے تھے یہ کہہ رہا ہے کہ: "کاش کہ تم زندہ ہوتے اور یہ دیکھتے کہ میں نے خاندان بنی ہاشم سے تمہارا انتقام لے لیا ہے"۔ (تشریحی نوٹ: نفی اسلام اور انکار نبوت کے سلسلے میں تاریخوں میں یزید کے متعدد اشعار نقل کیے گئے ہیں جن میں ایک کا ترجمہ یہ ہے: نہ کوئی نبی آیا اور نہ وحی اُتری۔ یہ تو بنی ہاشم کی ملک و مال پر قبضہ کرنے کے لیے محض ایک چال تھي۔ گویا کے اعلان نبوت محض ایک سیاسی کھیل تھا)۔ تو بہ کچھ تعجب کا مقام نہیں ہے کیونکہ یہ وہی بات ہے جو خدا نے فرمائی ہے کہ "مجرمین آخر کار ہماری آیات کی تکذیب کرتے ہیں"۔ اُن معظمہ نے اِس سلسلے میں بہت سے مطالب ارشاد فرمائے۔ (مزید توضیح کے لیے بحارالانوار، جلد۴٥، صفحه۱٥۷ دیکھیئے)َ (تشریحی نوٹ: آیت نمبر۱٠ کی تفسیر میں ہم نے جو کچھ کہا ہے اِس سے مطابق "السواي"، "اساوا" کا مفعول ہے اور "أن كذبوا بایات الله" اس "کان" کے بجائے ہے اور اس کی خبر عاقبة هے۔ علامہ طباطبائی مرحوم نے اِس مطلب کا بطور احتمال ذکر کیا ہے۔ اگرچہ خود اُنھوں نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ اور ابوالبقاء نے کتاب "املاء ما من به الرحمن" کے صفحہ۱۸٥ جلد۲ پر اِس مطلب کا دو احتمالات میں سے ایک کو قابل قبول ہونے کے طور پر ذکر کیا ہے مگر مفسرین کی اکثریت مثلًا طبرسی، صاحب المیزان، فخررازی، آلوسی، ابوالفتوح رازی، اور قربطی نے فی ظلال و تبیان میں اس آیت کی تفسیر میں ایک دوسرے احتمال کو قوی سمجھا ہے اور وہ یہ ہے کہ "سویء" کان کا اسم ہو گا اور "اُن کذبوا" تعلیل کے لیے ہے۔ اس تفسیر کے مطابق آیت سے معنی یہ ہوں گے: "آخرکار اُن لوگوں کا انجام جو اعمالِ بد انجام دیتے رہے، بدہی ہوا۔ کیونکہ اُنھوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی"۔ یہ جملہ "للذين احسنوا الحسنٰی" کے مشابہ ہے جس کا معنی ہے۔ جنھوں نے نیکی کی اُن کے لیے نیکی ہے۔ مگر انصاف یہ ہے کہ آیت کے ظاہری معنی سے جو کچھ سمجھ میں آتا ہے یہ تفسیر اُس کے برخلاف ہے اور ان مفسرین نے اگر اس تفسیر کو اختیار کیا ہے تو ہمیں یہ امراس بات پر مجبور نہیں کر سکتا کہ آیت کے ظاہری معنی سے جو مفہوم ہم آہنگ ہے اُسے ترک کر دیں۔ بالخصوص وہ اپنا مطلب واضع کرنے کے لیے اس امر مجبور ہیں کہ "جملہ "ان کذبوا" میں حرف "لام" کو مقدر سمجھیں اور یہ تقدیر ظاہر کلام کے خلاف ہے)۔ (غور کیجیئے گا)

11
30:11
ٱللَّهُ يَبۡدَؤُاْ ٱلۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ ثُمَّ إِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ
خدا ہی آفرینش کا آغاز کرتا ہے، پھر اس کا اعادہ فرماتاہے ٗپھر تم سب اسی کی طرف لوٹ جاؤ گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
30:12
وَيَوۡمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ يُبۡلِسُ ٱلۡمُجۡرِمُونَ
اور جس روز قیامت برپا ہو گی مجرمین مایوسی اور غم و اندوہ میں ڈوب جائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
30:13
وَلَمۡ يَكُن لَّهُم مِّن شُرَكَآئِهِمۡ شُفَعَـٰٓؤُاْ وَكَانُواْ بِشُرَكَآئِهِمۡ كَٰفِرِينَ
اور جنہیں انہوں نے خدا کا شریک قرار دیا تھا ان میں سے کوئی بھی ان کا شفیع نہ ہو گااور وہ(اس روز) ان شریکوں کا انکار کر دیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
30:14
وَيَوۡمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ يَوۡمَئِذٖ يَتَفَرَّقُونَ
اور جس روز قیامت برپا ہو گی تو(لوگ) ایک دوسرے کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

15
30:15
فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ فَهُمۡ فِي رَوۡضَةٖ يُحۡبَرُونَ
وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئیٗ وہ باغ جنت میں خوش و مسرور ہوں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
30:16
وَأَمَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَكَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا وَلِقَآيِٕ ٱلۡأٓخِرَةِ فَأُوْلَـٰٓئِكَ فِي ٱلۡعَذَابِ مُحۡضَرُونَ
لیکن وہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا اور ہماری آیات اور لقاکی تکذیب کی، وہ عذاب الٰہی میں حاضر کئے جائیں گے۔

تفسیر قیامت میں مُجرمین پر کیا گزرے گی:

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

گزشتہ آیت میں اُن تکذیب کرنے والوں کا ذکر تھا جو آیات الٰہی کا مذاق اڑاتے تھے اور زیر نظر آیات میں کچھ معاد اور قیامت میں مجرمین کی حالت کا ذکر کر کے معاد کے متعلق اس مضمون کی تکمیل کی گئی ہے جس کا ذکر آیات ماقبل میں آیا تھا۔ پہلے یہ فرمایا گیا ہے: خدا آفرینش کا آغاز کرتا ہے۔ اور پھر اس کا اعادہ کرے گا اور تم سب پھر اسی کی طرف لوٹ جاؤ گے: (اَللَّهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ)۔ اِس آیت میں مسئلہ معاد کے بارے میں ایک کے پُر معنی اور مختصر دلیل دی گئی ہے۔ قرآن کی دوسری آیات میں بھی بالفاظِ مختلف اِس دلیل کی تکرار ہوئی ہے اور وہ ہے کہ: وہی ذات جو آفرینش اوّل پر قدرت رکھتی تھی، معاد پر بھی قدرت رکھتی ہے۔ نیز قانون عدالت اور حکمتِ الٰہی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ مخلوق فنا ہو کر دوبارہ پیدا ہو۔ " ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ" سے یہ مُراد ہے کہ بروز قیامت زندہ ہونے کے بعد سب کے سب خدا کے دار العدل کی طرف وہاں سے سزا یا جزا پانے کے لیے لوٹیں گے۔ اِس سے برتر ہے کہ وہ مومنین جو دُنیا میں اوامر الٰہی کی اطاعت کر کے مدارج رُوحانی کی تکمیل کرتے رہے ہیں، وُہ اپنی رُوحانی تکمیل میں اسی طرح ختم ناپیزیر منزل معرفت اور پروردگار کی قربت کی طرف بڑھتے رہیں گے۔ آیت مابعد میں مجرموں کی بات اس طرح بیان کی گئی ہے کہ: جس روز قیامت برپا ہو گی، مجرمین ناامیدی اور غم و اندوہ میں ڈوب جائیں گے: (وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُبْلِسُ الْمُجْرِمُونَ)- "يبلس" ماده "ابلاس" سے بنا ہے۔ اِس کے معنی اس غم و اندوہ کے ہیں جو انسان پر شِدّت یاس و نااُمیدی سے طاری ہو جاتا ہے۔ یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ بالفرض انسان کسی چیز نامید بو جاتا تو اگر وہ شے بقائے حیات سے لیے اہمیت نہیں رکھتی تو اس کی ناامیدی بھی اہم نہیں ہے۔ لیکن اگر وہ کسی لازمه زندگی مایوس ہوا بے تو اُس پر غم و اندوہ کاعادی ہونا بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اِس لیے بعض مفسرین نے مادہ "ابلاس" کا خاصہ "ضروری بونا" بھی قرار دیا بے- "ابلیس" کو اسی مناسبت سے ابلیس کہتے ہیں کہ وه رحمت الٰہی سے مایوس اور غم ناک ہو گیا ہے۔ بہرحال، مجرم اسی کے مستحق ہیں کہ اُس روز مایوس اور غم ناک ہوں کیونکہ وہ عرصہ محشر میں اپنے ساتھ نہ تو ایمان اور عمل صالح لائے ہیں۔ اور نہ اُس روز کا کوئی مدد گار و رفیق ہو گا نہ یہ امکان ہو گا کہ وہ پھر دُنیا کی طرف لوٹ جائیں اور اپنی گزشته کوتاہیوں کی تلافی کر لیں۔ لہذا آیت مابعد میں یہ اضافہ کیا گیا ہے۔ اُن کے معبود اُس روز شفاعت نہ کریں گے: (وَلَمْ يَكُن لَّهُم مِّن شُرَكَائِهِمْ شُفَعَاءُ)۔ آیت میں معبودوں نے وہی بُت مراد ہیں کہ جس وقت اُن کُفّار سے پُوچھا جاتا تھا کہ تم اِن بُتوں کی پرستش کیوں کیا کرتے ہو، تو وہ جواب دیتے تھے۔ هَـؤُلاَءِ شُفَعَاؤُنَا عِندَ اللّهِ یہ بُت درگاہ الٰہی میں ہمارے شفیع ہیں۔ (یونس-۱۸) اُن کُفّار کی سمجھ میں اُس وقت یہ بات آئے گی کہ وہ پتھر کے بے قدر و قیمت ٹکڑے تو کسی قسم کا اختیار اور قدرت نہ رکھتے تھے۔ اِسی وجہ سے وہ ان معبودوں سے جنہیں وہ خدا کا شریک سمجھا کرتے تھے، نفرت اور بیزاری کا اظہار کریں گے اور "اُن سے کسی قسم کا تعلق رکھنے سے انکار کر دیں گے: (وَكَانُوا بِشُرَكَائِهِمْ كَافِرِينَ)- بھلا کفار معبودوں کا انکار کیونکر نہ کریں گے کیونکہ وہ یہ دیکھ رہے ہوں گے کہ یہ معبود نہ صرف یہ کہ ان کی کسی مصیبت میں کام نہیں آ سکتے بلکہ بقول قرآن وہ معبود اپنے پرستاروں ہی کی تکذیب کرنے لگیں تھے اور کہیں گے: اے پروردگار! "مَا كَانُوا إِيَّانَا يَعْبُدُونَ" یہ لوگ ہماری نہیں، بلکہ اپنی ہوائے نفس کی پرستش کرتے تھے۔ (قصص-۶۳) اس سے بھی سوا یہ کہ وہ معبود اپنے پرستاروں کی دُشمنی پر کمر باندھ لیں گی۔ جیسا کہ سورة احقاف آیت ۶ میں ہے: وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ جس وقت مشرکین محشور ہوں گے تو اُن کے جھوٹے معبود اُن کی دشمن ہو جائیں گے اور اُن کی عبادت کا انکار کر دیں گے۔ آیت۱۴ میں بروز قيامت لوگوں کے مختلف گروہ ہو جانے کی طرف اشارہ ہے فرمایا گیا ہے۔ بروز قیامت لوگ ایک دُوسرے جدا ہو جائیں گے: (وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّقُونَ)۔ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے اعمال صالح انجام دیے۔ وہ بہشت کے باغ میں نعمت الٰہی سے بہرہ مند اور مسرور و شاد کام ہوں گے، اس طرح سے کہ اُن کے چہروں مسرت کے آثار ظاہر ہوں گے: (فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَهُمْ فِي رَوْضَةٍ يُحْبَرُونَ)- "یحبرون" کا مادہ "حبر" ہے (بروزن "قشر") اس کا معنی ہے "اچھا اثر" یہ کلمہ اُس وقت بھی بولا جاتا جب خوشی اور مُسرت کا اثر چہرے سے ظاہر ہو اور چونکہ اہل بہشت خوشی اور سرور سے ایسا معمور ہو گا کہ اُس کا اثر اُن کے تمام وجود ظاہر ہو گا اس لیے اس مفہوم کے اظہار کے لیے یہ کلمہ استعمال ہوا ہے۔ "روضة" اس مقام کو کہتے جہاں پانی اور درخت بکثرت ہوں اس لیے سرسبز و شاداب باغات کو بھی روضہ کہتے ہیں۔ اگر اس آیت میں یہ کلمہ بصورت اسم نکرہ استعمال ہوتا ہے تو اس مقام کی عظمت اور بزرگی کو واضح کرنے کے لیے ہے یعنی مومنین بہشت سے بہترین خوبصورت اور سرور انگیز باغات اور نعمات الٰہي لطف اندوز ہوں گے۔ لیکن جو کافر ہو گئے ہیں اور انھوں نے ہماری آیات اور لقائے آخرت کی تکذیب کی ہے وہ ضرور عذاب الٰہى میں حاضر کیے جائیں گے: (وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَلِقَاءِ الْآخِرَةِ فَأُوْلَئِكَ فِي الْعَذَابِ مُحْضَرُونَ)- يہ امر جاذب توجہ بے کہ اہل بہشت سے کلمہ "يحبرون" استعمال ہوا ہے جو بر لحاظ سے ان کی مسرت کی علامت هے لیکن دوزخیوں کے لیے کلمہ "محضرون" استعمال ہوا ہے، جو اُن کی انتہائی کراہت اور ناراحتی کی دلیل ہے کیونکہ حاضر کیے جانے کا اطلاق اس موقع پر ہوتا ہے کہ کسی آدمی کو اس کی دلی خواہش کے خلاف پکڑ کر لایا جائے۔ دوسرا نکتہ یہ ہے اہل بہشت سے معاملہ میں "ایمان" اور "عمل صالح" دونوں کی قید لگائی گئی ہے۔ جب کہ دوزخیوں کے متعلق صرف عدم ایمان (انکار مبداء و معاد) کا ذکر کیا گیا ہے۔ اِس میں رمز یہ ہے کہ داخل بہشت ہونے کے لیے صرف ایمان کافی نہیں۔ اس سے ساتھ عمل صالح بھی لازم ہے۔ مگر واصل جہنم ہونے کے لیے عدم ایمان ہی کافی ہے۔ خواہ اُس آدمی نہ کوئی گناہ نہ کیا ہو۔ کیونکہ "کفر" بجائے خود گناہ عظیم ہے۔

قیامت کا ایک نام "ساعت" کیوں ہے؟

یہ نکتہ بھی توجہ طلب ہے کہ قرآن کی بہت سی آیات میں قیامت کو "ساعت" کہا گیا ہے۔ اُن آیات میں زیر نظر آیات میں سے دو آیات (۱۲۔۱۴) بھی شامل ہیں۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ "ساعت" کا حقیقی معنی، "زمانے کا ایک حصہ" یا "جلد گزر جانے والے لمحات" ہے۔ اور چونکہ حادثہ قیامت ناگہانی اور برق آسا طور پر واقع ہو گا۔ نیز یہ کہ خدا "سریع الحساب" ہے، اس لیے وہ اُس روز بندوں کا جلد حساب لے گا لہذا قیامت کو "ساعت" کہا گیا ہے۔ تاکہ لوگ یوم رستا خیز کی حیثیت و واقفیت کو ہمیشہ نظر میں رکھیں۔ ابن منظور "لسان العرب" میں لکھتا ہے کہ "ساعة" اس وقت کا نام ہے جب کہ اس عالم اختتام کے لیے ایک چیخ ماری جائے گی اور اس آواز کو سن کر سب جاندار فورًا مر جائیں گے اور یہ اس وقت کا نام بھی ہے جبکہ قیامت میں لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں۔ دُنیا کے اختتام اور وقوع قیامت کے لیے اس نام کا اس لیے انتخاب کیا گیا ہے کہ پہلی چیخ میں جیسا کہ خدا نے اس آیت میں اشاره کیا ہے: إن كانت الاّ صيحة واحدة فاذا هم خامدون"۔ (بحوالہ: یٰس- ۲۸) سب کے سب بطور ناگہاني مر جائیں گے۔ اور جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو سب کے سب ناگہاں زندہ ہو جائیں گے اور پھر قیامت برپا ہو گی۔ "زبیدی" نے "تاج العروس" میں بعض علماء سے نقل کیا ہے کہ "ساعة" تین قسم کی ہے: ۱- ساعت کبریٰ: وہ دن جب لوگوں کو حساب کے لیے زندہ کیا جائے گا۔ ۲- ساعت وُسطیٰ: جب خدا کی طرف سے نزول عذاب کی وحید سے کسی مخصوص زمانے میں ناگہانی طور پر سب کے سب آدمی بہ یک وقت مر جائیں گے۔ ٣- ساعټ صُغریٰ: ہر انسان کی موت کا دن۔

17
30:17
فَسُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ حِينَ تُمۡسُونَ وَحِينَ تُصۡبِحُونَ
پاک و منزہ ہے(اسی کی تسبیح و تنزیہ کرو) جس وقت تم شام کرتے ہو اور صبح کرتے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔

18
30:18
وَلَهُ ٱلۡحَمۡدُ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَعَشِيّٗا وَحِينَ تُظۡهِرُونَ
آسمانوں اور زمینوں میں حمد و ستائش اسی کیلئے مخصوص ہے، بوقت ظہربھی اور عصر بھی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔

19
30:19
يُخۡرِجُ ٱلۡحَيَّ مِنَ ٱلۡمَيِّتِ وَيُخۡرِجُ ٱلۡمَيِّتَ مِنَ ٱلۡحَيِّ وَيُحۡيِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَاۚ وَكَذَٰلِكَ تُخۡرَجُونَ
وہ خدا زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے اور زمین کو اس کی موت کے بعد حیات بخشا ہے اور اسی طرح تم بروز قیامت نکالے جاؤ گے۔

تسبیح و حمد ہرحال میں خدا کے لیے ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

گزشتہ آیات میں مبداء و معاد کے موضوع پر ایک طویل بحث گزری ہے اور کسی قدر مومنین کے اجر اور مشرکین کی پاداش عمل کا ذکر آیا ہے۔ زیر نظر آیات میں خدا کی حمد، تسبیح اور ہر قسم کے شرک، نقص اور عیب سے اس کے منزہ ہونے کا ذکر ہے۔ چنانچہ خدا فرماتا ہے: تسبیح و تنزیہ اسی خدا کے لیے مخصوص ہے جس وقت کہ تم صبح کرتے ہو اور شام کرتے ہو (فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ)۔ آسمان و زمین میں حمد اور ستائش اسی ذات پاک کے لیے مخصوص ہے اور بوقت عصر اور جب ظہر کا وقت ہوتا ہے: (وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ)۔ اِن دو آیات میں اس ترتیب سے تسبیح پروردگار کے لیے چار اوقات کا بیان ہے: ۱- آغاز شب (حين تمسون)۔ ۲- طلوع صبح (وحين تصبحون)۔ ٣- وقت عصر (وعشیًا)۔ ۴- زوال آفتاب یعنی ظہر کا وقت (وحين تظهرون)۔ (تشریحی نوٹ: ملحوظ خاطر رہے کہ "عشیًا" و"حين تظھرون" عطف ہے "حين تمسون" پر جس کا تعلق موضوع تسبیح سے ہے)۔ لیکن بحیثیت مکان "ادائے حمد" میں عمومیت ہے۔جس میں آسمانوں اور زمین کی وسعتیں شامل ہیں۔ آیات فوق میں مذکورہ بالا چار اوقات کے ذکر سے ممکن ہے بطور محاورہ یہ مراد ہو کہ ہمیشہ اور دائمی طور پر تسبیح کرتے رہو۔ جیسا کہ ہم کہتے ہیں کہ "فلاں شخص کی صبح و شام دیکھ بھال کرتے رہو اور مراد ہوتی ہے کہ ہمیشہ اور ہر وقت اس کے نگران حال نہ ہو۔ بعض مفسرین نے یہ خیال بھی ظاہر کیا ہے کہ مذکوره چار اوقات سے نماز کے چار اوقات مراد ہیں۔ مگر اس اعتراض کا جواب دینے سے قاصر ہیں کہ پانچ اوقات کے بجائے صرف چار اوقات کا ذکر کیوں ہے؟ (یعنی وقت عشاء کا کوئی ذکر نہیں ہے) لیکین ـــــــ ممکن ہے کہ اس سوال کا یہ جواب دیا جائے کہ چونکہ مغرب و عشا کی نمازوں کا وقت نسبتًا نزدیک هے اور ان دونوں نمازوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ گھنٹے کا فاصلہ ہے۔ اس لیے دونوں کا ذکر ایک ہی جگہ کر دیا گیا، جب کہ نماز ظہر و عصر کے اوقات فضیلت میں چند گھنٹے کا فاصلہ ہے۔ لیکن ــــــ اگر ہے ہم حمد و تسبیح کا وہ وسیع مفہوم لیں جو آیات زیر بحث سے مترشح ہوتا ہے تو پھر سے پانچ نمازوں میں محدود نہ رہے گی۔ ہر چند کہ ان نمازوں میرے اس کا واضح اطلاق ہوتا ہے۔ اِس مقام میر اس نکتے کا ذکر بھی لازمی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ "سبحان الله"، "وله الحمد" کہہ کر خدا نے اپنی تسبیح و حمد خود ہی کی ہو۔ جیسا کہ سورہ مومنون کی آیت۱۴ میں فرمایا گیا ہے: فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ پُر برکت اور جاوید وہ خدا جو خلق کرنے والوں میں بہترین ہے۔ یا ــــــ ممکن ہے کہ یہ حمد و تسبح بمعنی امر ہو۔ یعني "سبحوه واحمدوا لہ" یعنی اس کی تسبیح اور حمد کرو یہ تفسیر اس مفہوم سے قریب تر معلوم ہوتی ہے کہ آیات زیر بحث میں تمام بندوں کو ہر صبح و شام اور بوقت ظہر و عصر حمد و تسبیح کا حکم دیا گیا ہے، خواہ نماز میں ہو یا اس کے علاوہ، تاکہ اُن کے قلب و رُوح سے شرک و گناہ کے آثار پوری طرح محو ہو جائیں۔ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے مروی ایک حدیث میں یوں آیا ہے کہ: جو کوئی اِن دو آیات اور اُس کے بعد کی آیت کو بوقت صبح پڑھے گا تو جو فریضہ بھی اُس سے دن میں فوت ہو گا۔ خدا اُسے اُس کا بھی صلی دے گا اور جو کوئی اِن آیات کو آغاز شب میں پڑھے گا تو جو فریضہ بھی اس سے رات کو فوت ہو گا خدا اُس کا اجر بھی دے گا۔ (تفسیر نور الثقلین، جلد۴، صفحہ۱۷۲) اِس کے بعد کی آیت میں پھر مسئلہ معاد کا ذکر ہے اور منکرین جس بات کو بعید از عقل سمجھتے تھے اُس کا ایک اور طرح سے جواب دیا گیا ہے وہ یہ کہ: سنت الہٰی یہ ہے کہ وہ زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے باہر نکالتا ہے اور زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے۔ تم بھی اسی طرح بروز قیامت زندہ کیے جاؤ گے اور اپنی قبروں سے نکالے جاؤ گے: (يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَيُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَكَذَلِكَ تُخْرَجُونَ)۔ یعنی معاد کے منظر اور اختتام دُنیا کے منظر کی بالترتیب یا ہمیشہ تمہاری آنکھوں کے سامنے تکرار ہوتی رہتی ہے۔ جن میں سے ایک تو زندہ کو مردہ سے نکالنا ہے اور دوسرا مردہ کو زندہ سے۔ بنابریں، یہ کوئی تعجب کا مقام نہیں ہے کہ دنیا کے خاتمے پر تمام زندہ موجودات مر جائیں اور قیامت میں تمام انسان ایک نئی زندگی حاصل کر لیں۔ لیکن قرآن شریف میں اس حقیقت کو کہ "مردہ سے زندہ کو کیسے نکالا جاتا ہے" بارہا مردہ زمین کی مثال دے کر واضح کیا گیا ہے۔ یہ امر سب پر روشن ہے کہ سردیوں کے موسم میں زمین مردہ ہوجاتی ہے۔ نہ اس میں گھاس اُگتی ہے۔ نہ کوئی پھول کھلتا ہے نہ کوئی شگوفہ۔ (تشریحی نوٹ: یہ تشبیہ ایرانی موسم کے لحاظ سے ہے۔ ہمارے ملک میں زمین موسم گرما (مئی جون) میں مردہ ہوتی ہے اور برسات اُسے زندہ کرتی ہے)۔ لیکن فصل بہار میں اعتدال ہوا اور حیات بخش بارش کے قطرات گرنے کی وجہ سے زمین میں ایک جنبش پیدا ہوتی ہے۔ ہر جگہ گھاس اُگ آتی ہے۔ پھول کھلتے ہیں شاخوں پر شگوفے نمودار ہوتے ہیں۔ یہ ہے معاد کا منظر جسے ہم دنیا میں دیکھتے ہیں۔ لیکن یہ کہ زندہ سے مردہ کیونکہ نکالا جاتا ہے، یہ بات بھی پوشیدہ و پنہاں نہیں ہے۔ کُرّہ زمین کی سطح پر درخت مر جاتے ہیں اور خشک لکڑی کی صورت میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح انسان اور حیوانات اپنی زندگی سے محروم ہو کر جسد بےجان بن جاتے ہیں۔ لیکن ـــــ بعض مفسرین نے زندہ کو مردہ سے نکالنے کی یہ تفسیر کی ہے کہ انسان و حیوان نطفے سے پیدا ہوتے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ کافر کے گھر میں مومن پیدا ہو جائے۔ بعض نے سونے والوں کا بیدار ہونا مراد لیا ہے۔ لیکن یہ قطعی عیاں ہے کہ یہ تمام تعبیرات و تاویلات آیت کے لغوی معنی سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ کیونکہ نطفے ہی کو لیجئے تو وہ مردہ نہیں ہوتا بلکہ وہ موجود زندہ ہوتا ہے۔ اسی طرح ایمان و کفر کے استعارات کو آیت کے باطن سے تو اخذ کیا جا سکتا ہے لیکن ظاہری معنی اس طرح رائج نہیں ہیں۔ آیت کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ خدا ہمیشہ مردہ موجودات سے زندہ موجودات کو نکالتا ہے۔ اور زندہ موجودات کو بےجان موجودات میں بدل دیتا ہے۔ دور حاضر میں انسان نے علوم میں تجربات اور مشاہدات سے جتنی بھی ترقی کی ہے اور معلومات کا جو ذخیرہ مبہم پہنچایا ہے اس کے مطابق ہے یہ ہرگز نہیں دیکھا گیا کہ غیر ذی حیات تو زنده وجود پیدا ہو جائے۔ یعنی زندگی سے زندگی پیدا ہوتی ہے نہ کہ موت سے۔ بلکہ ہمیشہ زندہ موجودات بیج یا کسی دوسرے سے زندہ وجود کے نطفے سے پیدا ہوتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: مصنف نے بیج کی مثال تو دی، مگر اس کی تشریح نہیں کی۔ ہر بیج میں قابلیت نشو و نما خفتہ ہوتی ہے۔ زمین کی قوت نامیہ اسے بیدار کرتی ہے اور روح پیدا کر دیتی ہے۔ صرف جدید علمائے حیاتیات BIOLOGIST ہی نہیں، قدماء نے بھی یہ معلوم کر لیا تھا کہ نباتات میں بھی زندگی ہے۔ اس کا نام انھوں نے روح نباتی رکھا تھا۔ اس لحاظ سے آیت کا مفہوم قطعی واضح ہے کہ خدا مرده شے سے زندہ کو وجود میں لاتا ہے۔ مفسرین نے زندگی کا صرف ایک ہی صورت کو پیش نظر رکها جو حیوانات میں ہے۔ اسی وجہ سے انھوں نے ادھر ادھر کی تاویلات کی ہیں)۔ ابتدا میں یہ کره زمین آگ کا ایک گولا تھا۔ اس پر زندگی کا وجود نہ تھا۔ بعد میں اُن مخصوص اسباب کی وجہ سے (جن کا علوم حاضر کے ذریعے سے اب تک انکشاف نہیں ہو سکا) اس بےجان زمین سے، ایک عظیم تحریک کے ساتھ زنده مخلوقات پیدا ہو گئی۔ لیکن جہاں یہ موجودہ حالات میں، انسان کے علم و دانش کی رسائی ہے اس کے ذریعے کره زمین کے موجوده حالات میں یہ تحریک نظر نہیں آتی۔ (ممکن ہے کہ سمندروں کی گہرائی میں اب تک یہ عظیم تحریک حیات موجود ہو)۔ لیکن ہمارے لیے جو بات محسوس اور کاملًا قابل ادراک ہے وہ یہ ہے کہ بےجان موجودات زنده موجودات کے اجسام کا جزو بن جاتے ہیں اور پھر خود بھی زنده مخلوقات میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ہم جو آب و غذا کھاتے ہیں وہ زندہ مخلوق نہیں ہے۔ لیکن وہ جیسے ہی ہمارے جسم کا جزو بنتی ہے، ایک زنده مخلوق بن جاتی ہے۔ غذا کی وجہ سے ہمارے بدن کے خلیوں CELLS پر مزید خلیوں کا اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ چنانچہ اسی طرح ایک طفل شیر خوار جوان ہو کر قوی ہیکل بن جاتا ہے۔ کیا یہ اصول تغذیہ موت سے زندگی کو برآمد کرنا نہیں ہے؟ بنابریں، کہا جا سکتا ہے کہ عالم طبیعی کے نظام میں دائما ایک دور جاری رہتا ہے کہ موت سے زندگی اور زندگی سے موت خارج ہوتی رہتی ہے۔ اسی دلیل سے وہ خدا جو خالق فطرت ہے اس امر پر میں قادر ہے کہ بروز قیامت مردوں کو زندہ کر دے۔ البتہ، جیسا کہ تم نے سطور بالا میں کہا ہے، معنوی اور باطنی لحاط سے آیۂ بحث کی اور تفاسیر بھی ہو سکتی ہیں مثلًا: کافر کی نسل سے مومن پیدا ہو جائے اور مومن پیدا ہو جائے اور مومن کی اولاد کافر ہو جائے، جاہل کی اولاد عالم ہو جائے اور عالم کا فرزند جاہل رہ جائے، مفسد کا خلف صالح ہو اور صالح کا خلف مفسد ہو جائے۔ بعض اسلامی روایات میں اس طرف اشاره بھی ہوا ہے۔ ممکن ہے کہ بطون آیت سے یہ معانی اخذ کیے گئے ہوں۔ کیونکہ آیات قرآن کا ظاہر بھی ہے اور باطن بھی نیز یہ بھی ممکن ہے کہ مرگ و حیات کے ایک جامع اور وسیع معنی ہوں جن میں مادی اور روحانی دونوں کو شامل ہوں۔ امام موسٰی بن جعفر علیہ السلام سے آیہ "یحى الارض بعد موتها" کی تفسیر میں ایک روایت مروی ہے کہ آپ نے فرمایا "لیس یحییها بالمطر ولكن یبعث الله رجالًا فيحيون العدل فتحي الارض لاحياء العدل ولَاِقامة العدل فيه انفع في الارض من المطر اربعين صباحًا- اس آیت کا مقصود یہ نہیں ہے کہ خدا زمین کو بارش کے ذریعے زندہ کرتا ہے؛ بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو پیدا کرتا ہے جو اصول عدل کو زندگی بخشتے ہیں اور احیاء عدل سے زمین زندہ ہو جاتی ہے اور آگاہ رہو کہ زمین پر عدل کا قائم ہونا چالیس روز تک مسلسل بارش سے زیادہ نافع ہے۔ (تشریحی نوٹ: نقل از کتاب کافي۔ نور الثقلین، جلد۴ ، ص۱۷٣)۔ امامؑ کے اس قول سے کہ آیت کا مقصد "نزول باران" نہیں ہے۔ اس آیت کے معانی کو محدود کرنے کی نفی ہو جاتی ہے یعنی آیت کی تفسیر کو بارش کے معنی ہی تک محدود نہ کرنا چاہیئے کیونکہ عدالت کے ذریعے زمین کی معنوی زندگی نزول باراں سے کہیں زیادہ اہم ہے۔

20
30:20
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦٓ أَنۡ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٖ ثُمَّ إِذَآ أَنتُم بَشَرٞ تَنتَشِرُونَ
اور اس خدا کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ اس کے بعد جب تم انسان بن گئے تو روئے زمین پر پھیل گئے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

21
30:21
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦٓ أَنۡ خَلَقَ لَكُم مِّنۡ أَنفُسِكُمۡ أَزۡوَٰجٗا لِّتَسۡكُنُوٓاْ إِلَيۡهَا وَجَعَلَ بَيۡنَكُم مَّوَدَّةٗ وَرَحۡمَةًۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ
اور اس کی آیات میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے ازواج کو پیدا کیا تاکہ تم ان کی قربت میں تسکین پاؤ اور اس نے تمہارے درمیان مودت و مہربانی پیدا کر دی۔ اس میں ان لوگوں کیلئے نشانیاں ہیں جو غور کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

22
30:22
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦ خَلۡقُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱخۡتِلَٰفُ أَلۡسِنَتِكُمۡ وَأَلۡوَٰنِكُمۡۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّلۡعَٰلِمِينَ
نیز اس کی آیات میں آسمانوں اور زمین کو پیدا اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کامختلف ہونا بھی ہے بیشک اہل علم کے لئے اسی میں بہت سی نشانیاں ہیں۔

تفسیر انفس و آفاق میں خدا کی آیات:

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

اِن آیات اور ان کے بعد آنے والی آیات کے کچھ حصے میں نظام عالم ہستی میں خدا کی نشانیوں اور دلائل توحید کے جاذب توجہ نکات کو بیان کیا گیا ہے۔ اِس بیان سے گزشتہ مباحث کی تکمیل ہوتی ہے۔ یہ کہہ سکتے ہیں کہ بحیثیت مجموعی یہی آیات قرآن کی آیات توحید کا ایک اہم حصہ ہیں۔ یہ آیات جو سب کی سب "من اياته" (یعنی خدا کی نشانیوں میں سے ایک) سے شروع ہوتی ہیں، اُن کا ایک مخصوص آہنگ ہے، لب و لہجہ دلچسپ اور دلکش ہے اور ان کی تعبیرات موثر اور عمیق ہیں۔ مجموعی طور پر یہ آیات سات ہیں۔ ان میں چھ تو مسلسل ہیں اور ایک آیت نمبر۴۲ الگ ہے۔ آیات آفاقی وانفسی کے لحاظ سے ان آیات کی تقسیم دلچسپ ہے۔ اس طرح سے کہ ان میں سے تین آیات میں "آیات انفس کا ذکر ہے۔ (یعنی خود انسان کی ذات میں کون سی آیات الٰہی ہیں)۔ اور تین آیات میں آیات آفاق کا بیان ہے (یعنی عالم خارجی میں عظمت پروردگار کی کون کون سی نشانیاں ہیں)۔ جب کہ ایک آیت میں آیات انفس و آفاق دونوں کا ذکر ہے۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ وہ آیات جو "من اياته" سے شروع ہوتی میں قرآن میں گیارہ سے زیادہ نہیں ہیں۔ جن میں سے سات تو اسی سورہ روم میں ہیں اور دو آیتیں سورہ حم سجدہ (٣۷۔٣٩) میں اور دو آیات سوره شوری میں ہیں (۲٩۔٣۲) اور حق یہ ہے کہ ان گیارہ آیات کا مجموعہ اثبات توحید پر کاملًا حاوی ہے۔ آیات زیر نظر کی تفسیر شروع کرنے سے پہلے ہم اس نکتے کا ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ جن مسائل اور رموز فطرت کی طرف قرآن کی ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے وہ بظاہر عام آدمیوں کے لیے قابل ادراک اور قریب نعہم ہیں۔ لیکن انسان علم و دانش کی و ترقی کے ساتھ ساتھ ان آیات الٰہی کے تازہ رموز و نکات کا انکشاف ہوتا جاتا ہے۔ اس تفسیرمیں ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کریں گے۔ قرآن میں سب سے پہلے انسان کی آفرنیش کا ذکر ہے اور تخلیق انسان اللہ کی پہلی اور سب سے اہم نعمت اور احسان ہے۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے۔ آیات الٰہی میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ اس کے بعد تم انسان بن گئے اور روئے زمین پر پھیل گئے: (وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا أَنتُم بَشَرٌ تَنتَشِرُونَ)۔ اِس آیت میں خدا کی دو نشانیوں کا ذکر ہوا ہے۔ اوّل انسان کی مٹی سے پیدائش کا۔ اس سے پہلے انسان یعنی آدم کی تخلیق مراد ہے یا تمام انسانوں کی پیدائش مراد کیونکہ وہ مواد غذائی جس سے انسان کا جسم پرورش پاتا ہے بلاواسطہ یا بالواسطہ زمین ہی سے حاصل ہوتا ہے۔ دُوسری نشانی ہے کہ نسل انسانی کثیر ہو گئی اور نسل آدم تمام روئے زمین پر پھیل گئی۔ اگر خدا آدم میں افزائش نسل کی خصوصیت نہ رکھتا تو اس کی نسل کا سلسلہ کب کا منتقطع ہو چکا ہوتا۔ مقام حیرت ہے کہ کثیف مٹی کہاں اور انسان جیسی لطیف ہستی کہاں؟ مقام غور ہے کہ آنکھ کے نازک ترین پردے جو برگ گل سے بھی لطیف تر، حساس تر اور نازک تر ہوتے ہیں، اسی طرح سے دماغ کے لطیف اور غیر معمولی حساس خلیات کو اگر ہم مٹی کے پاس رکھیں اور پھر دونوں کا مقابلہ کریں تو اس وقت یہ راز سمجھ میں آئے گا کہ خالق کائنات نے کسی حکمت بالغہ سے مٹی کے مادہ کثیف سے کسی قسم کے نازک، دقیق اور قمیتی آلات سریع الحس تخلیق کیے ہیں۔ مٹی میں نہ تو نور بپے، نہ حرارت ہے، نہ زیبائی- نہ طراوت، نہ حس و حرکت۔ مگر بایں ہمہ خلقتِ وجود انسانی کا خمیر اُسی سے اُٹھا ہے۔ جو ذات کے ایسے بےجان مادہ سے (جو موجودات عالم میں سب سے کمتر اور پست ترین شمار ہوتا ہے) اسی عجیب و غریب مخلوق پیدا کر سکتی ہے، وہی اِس قدرت اور لامحدود علم و دانش کے لیے ہر قسم کی تحسین و ستائش کی مستحق ہے۔ تبارك الله احسن الخالقين اِس بیان سے اس واقعیت کا علم بھی ہوتا ہے کہ بحیثیت نوع انسانوں میں بھی فرق نہیں ہے۔ اُن کا جوہر آفرینش آیات کی ہے۔ خاک سے سب کا ناقابل انقطاع تعلق ہے اور طبعًا أخرکار سب کے سب خاک کی طرف لوٹ جائیں گے۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ لغت عرب میں کلمہ "اذا" امورِ ناگہانی کے موقع پر استعمال ہوتا ہے۔ اس مقام پر اس کلمہ کے استعمال سے ممکن ہے یہ مراد ہو کہ خدا نے آدم کو "تکثیر مثل کی اتنی قدرت دی کہ قلیل مدت میں اس کی نسل تمام روئے زمین پر پھیل گئی اور ایک انسانی معاشرہ وجود میں آ گیا۔ زیر بحث آیات میں سے دوسری آیت میں تخلیق انسان کا حال بیان کرنے کے بعد ان نشانیوں کا ذکر ہے جو انسان کے نفس میں موجود ہیں۔ چنانچہ خدا فرماتا ہے۔ آیاتِ الٰہی میں سے ایک اور بات یہ ہے کہ تمہاری ہی جنس سے تمهارے لیے ازواج کو پیدا کیا گیا ہے تاکہ تم ان کی قربت میں سکون حاصل کرو: (وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا)۔ اور چونکہ زن و شوہر کے درمیان رشتہ محبت کی بقا کے لیے بالخصوص اور تمام انسانوں کے درمیان بالعموم، ایک جذبہ اور رُوحانی و قلبی کشش کی ضرورت ہے، اِس لیے آیت میں ان الفاظ کا اضافہ کیا گیا۔ تمہارے درمیان محبت اور رحمت کو پیدا کیا: (وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً)۔ آیت کے اخیر میں تاکید مزید کےلئے فرمایا گیا ہے۔ ان امور میں فکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں: (إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ)۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ اِس آیت میں شادی کا مقصد سکون و راحت بیان کیا گیا ہے۔ اس کے لیے نہایت پُرمعنی لفظ "لتسكنوا" استعمال کیا گیا ہے۔ اس ایک لفظ میں بہت سے مسائل بیان کر دیئے گئے ہیں۔ اس قسم کی تعبیر کی نظیر سورہ اعراف کی آیت۱۸٩ میں بھی ملتی ہے۔ یہ حق ہے کہ ان خصوصیات کے ساتھ شریک حیات کا وجود کہ وہ ایک دوسرے کے لیے زندگی کی راحت کا باعث ہیں خدا کی بہت بڑی نعمت ہے۔ زندگی کے اِس راحت و آرام کا باعث یہ ہے کہ یہ دونوں اصناف ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی اور ایک دوسرے کی خوشی مسرت اور پرورش کا وسیلہ ہیں۔ یہاں تک کہ ان میں سے ہر ایک، ایک دوسرے کے بغیر ناقص ہے اور یہ فطری امر ہے کہ ایک شخصیت موجود اور دوسرے اس کے باعث تکمیل وجود میں اس قسم کا خوش آیند جذبہ موجود ہونا چاہیے۔ اِس اصول فطرت سے یہ نتیجہ نکالنا درست ہے کہ جو لوگ اس سنتِ الٰہی کو ترک کرتے ہیں ان کی شخصیت ناقص رہ جاتی ہے کیونکہ ان کی تکمیل شخصیت کا ایک مرحلہ طے نہیں ہوا۔ تجرد کی زندگی صرف ان حالات میں جائز ہے جب انسان کسی خاص ضرورت یا شرائط کے تحت مجبور ہو۔ بہرحال، زندگی کا یہ آرام و سکون، جسمانی، روحانی، انفرادی اور اجتماعی ہر حثیت سے ہے۔ اِس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ترک ازدواج کی وجہ سے بعض جسمانی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں- اِسی طرح مجرد افراد میں جو نفسیاتی ألجھنیں اور رُوحانی اضطراب ہوتا ہے۔ اُس کی وجہ بھی یہی ہے، جو سب پر روشن ہے۔ معاشرتی نقطہ نگاہ سے مجرد لوگوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس بہت کم ہوتا ہے۔ اِسی لیے ان میں خودکشی کے واقعات بہت نظر آتے ہیں اور ان سے خوفناک جرائم بھی سرزد ہوتے ہیں۔ جس وقت انسان تجرد کی زندگی کو چھوڑ کر خانگی زندگی اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے اندر ایک تازہ شخصيت کا احساس کرتا ہے نیز اسے اپنی ذمہ داری کا احساس بھی ہونے لگتا ہے۔ حالتِ ازدواج میں انسان کو جو راحت ملتی ہے، اس میں یہ امور بھی داخل ہیں۔ اب رہا "مودت اور رحمت" کا مسئلہ تو درحقیقت، یہ دونوں چیزیں انسانی معاشرے کی عمارت کی تعمیر کا مسئلہ ہیں کیونکہ ہر معاشرہ افراد کے اجتماع سے بنتا ہے۔ اِس کی مثال اس عمارت کی سی ہے جو اینٹوں اور پتھروں سے ٹکڑوں سے مل کر تعمیر ہوتی ہے۔ اگر افراد انسان پراگندہ حالت میں رہیں تو کوئی معاشره بھی وجود میں نہیں آ سکتا ہے جیسے کہ اجزائے تعمیر اگر باہم مربوط نہ ہوں تو کوئی عمارت بھی وجود میں نہیں آ سکتی۔ وُہ ذات جس نے انسان کو معاشرتی زندگی کے لیے پیدا کیا، اسی نے اس کی فطرت میں باہمی تعاون اور الفت کا جذبہ بھی ودیعت کر دیا ہے۔ ممکن ہے کہ "مودّت" اور "رحمت میں مختلف جہات سے فرق ہو: ۱- "مودّت" وہ داخلی تحریک ہے جو ابتداء میں ارتباط کا سبب بنتی ہے۔ لیکن عمر کے آخری حصے میں اگر زوجین میں سے ایک ضعیف و ناتواں ہو جائے اور اُس میں اتنی طاقت نہ رہے کہ دوسرے کی خدمت کر سکے تو اُس وقت "رحمت" مودت کی جگہ لے لیتی ہے۔ ۲- "مودت" کا تعلق سن رسیدہ لوگوں سے ہے جو ایک دوسرے کی خدمت کر سکتے ہیں۔ لیکن اولاد اور چھوٹے بچے سایہ رحمت میں پرورش پاتے ہیں۔ ٣- مُودّت یک طرفہ نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے طرف ثانی کی بھی ضرورت ہے۔ لیکن "رحمت" ایثار ہوتا ہے۔ اِس لیے وہ یک طرفہ ہوتی ہے۔ کیونکہ ایک معاشرے کی بقا کے لیے کبھی تو یہ ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کے تعاون سے خدمت کریں اور یہ جذبہ مٗودّت سے پیدا ہوتا ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ خدمت کے صلہ کی توقع نہیں کی جاتی اسے "ایثار" کہتے ہیں، جو جذبہ رحمت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اگر آیت میں "زوجین" کے درمیان "مودت" اور "رحمت" دونوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس لیے اس تعبیر سے یہ احتمال ہوتا ہے کہ یہ خصوصیت جملہ بنی نوع انسان کے لیے ہے۔ جن میں زوجین کا تعلق ان جذبات کا واضح مصداق کہے جا سکتے ہیں۔ بنی نوع انسان کے تمام معاشروں میں خاندانی زندگی ایسی چیز ہے جس کا وجود مودت اور رحمت کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے اگر افراد خاندان کے درمیان یہ جذبات نہ رہیں یا کمزور ہو جائیں تو اِس سے معاشرے میں ہزاروں اضطراب، بےچینیاں اور مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔ زیر بحث آیات میں سے آخری آیت ان مضامین کا ایک مجموعہ ہے جن کا ان آیات میں ذکر ہوا ہے جن میں انفس و آفاق میں پائی جانے والی نشانیوں کا ذکرہ ہے۔ اِس میں سب سے پہلے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا ذکر کیا گیا ہے اور فرمایا گیا ہے ــــــ خدا کی عظیم آیات میں سے آسمانوں اور زمین کی تخلیق بھی ہے: (وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ)۔ آسمان پر سیّاروں کے کرات ہیں۔ اٗن کے نظامات، کہکشائیں اور اُن کی بلندی اور مسافت کا یہ عالم ہے کا انسان کا بلند پرواز تخیل اُن کی عظمت کا ادراک کرنے سے عاجز اور اُن کے مطالعے سے انسان تھک جاتا ہے۔ انسان کا علم و دانش جس قدر بھی ترقی کرتا جاتا ہے، اُسی قدر خدا کی عظمت کے تازہ نکات اس پر آشکار ہوتے جاتے ہیں۔ ایک وقت وہ بھی تھا کہ انسان بلندی پر نظر آنے والے ستاروں کی تعداد صرف اتنی ہی سمجھتا تھا جتنے نظر آتے تھے۔ ماہرين علم ہیئت نے اُن ستاروں کی تعدار جو بغیر دُوربین کے نظر آتے میں پانچ ہزار سے چھ ہزار تک بیان کی ہے۔ لیکن جس رفتار سے بڑی بڑی دُوربینوں کی ایجاد میں اضافہ ہوا ہے اسی رات مزید آسمانی الحبثہ کرات دریافت ہوتے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ علمائے ہیئت کا خیال ہے کہ یہ کہکشاں جو ہم سے قریب تر ہے اور جو خلائے لامحدود میں موجود کثیر کہکشاؤں میں سے ایک ہے، اِس میں ایک ارب سے زیادہ ستارے ہیں۔ جن میں ہمارا سورج اپنی خیرہ کُن عظمت کے باوجود کہکشاں کے متوسط ستاروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ تو صرف خدا ہی کو علم ہے کہ ان تمام کہکشاؤں میں جن کا ابھی تک شمار نہیں ہو سکا، کتنے ستارے ہوں گے۔ اِسی طرح جس سُرعت سے سائنسی علوم مثلًا: علم الارض، علم نباتات، علم الحیات، علم تشریح اعضاء، طبیعیات علم النفس اور تحلیل نفسی ترقی کر رہے ہیں، اُسی رفتار سے آفرنیش زمین کے متعلق تازه انکشافات ہو رہے ہیں، جن میں سے ہر ایک عظمت الٰہی کی ایک آیت ہے۔ اس کے بعد کلام کا پہلو بدل کر انسان کے نفس میں من جملہ آیات عظیم کے ایک آیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ فرمایا گیا ہے تمہاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف بھی اس کی آیات عظمت میں سے ہے: (وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ)۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ انسان کی اجتماعی زندگی افراد و اشخاص کی شناخت کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ اگر کوئی ایسا وقت آ جائے کہ دنیا کے تمام انسانوں کی شکلیں، قیافہ، قد اور ڈیل ڈول یکساں ہو جائے تو اسی دن ان کی زندگیوں کا شیرازه بکھر جائے گا۔ باپ اور بیٹے، اپنے اور غیر کی پہچان نہ ہو سکے گی۔ اور ـــــ نہ مُجرم و بےگناہ، قرض خواہ و مقروض، حاکم و محکوم رئیس و مرؤس، میزبان و مہمان اور دوست و دشمن کی تمیز ہو سکے گی۔ ایسی حالت میں کیسا عجیب گھپلا اور گڑبڑ پیدا ہو جائے گی۔ کبھی کبھی دو جڑواں بھائیوں کے، جوہر جہت سے باہم مشابہہ ہوتے ہیں، لوگوں سے ملنے اور ان کی شناخت کے بارے میں یہ دشواری پیش آتی ہے۔ چنانچہ ہم نے سنا ہے کہ دو، ہم رنگ و ہم شکل بھائیوں میں سے ایک بیمار ہوا اور ماں نے دوا دوسرے کو پلا دی۔ اِس لئے معاشرہ کی تنظیم کے لیے خدا نے انسانوں کی آوازوں اور رنگوں کو مختلف بنایا ہے۔ جیسا کہ فخر الدين رازی نے آیت زیر بحث کے ذیل میں کہا ہے: ایک انسان دوسرے انسان کو یا تو آنکھ سے دیکھ کر پہچانتا ہے یا اس کی آواز سن کر، اس لیے خدا نے بذریعہ چشم شناخت کرنے کے لیے انسانوں کے رنگ، صورتوں اور شکلوں کو مختلت بنایا ہے۔ اور بذریعہ گوش شناخت کرنے کے لیے آوازوں اور لہجوں میں اختلاف پیدا کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ ـــــــ تمام دنیا میں دو انسان بھی ایسے نہیں مل سکتے جو چہرے کی بناوٹ اور آواز کے لہجے میں ہر لحاظ سے یکساں ہوں۔ یعنی انسان کی صورت جو ایک چھوٹی سی بات ہے اور اس کی آواز کا لہجہ جو ایک سادہ سی چیز ہے، قدرت خدا سے کروڑوں آدمیوں کا بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ اور یہ خدا کی عظیم آیات میں سے ہے۔ اس موقع پر ایک احتمال اور بھی ہے اور بعض مفسرین نے اس کی طرف اشارہ بھی کیا ہے کہ اختلاف الالسنہ سے مُراد بولی جانے والی زبانوں کا فرق ہے جیسے عربی، فارسی، ترکی وغیرہ اور رنگوں کے اختلاف سے نسلوں کے رنگوں کا اختلاف مُراد ہے۔ جیسے زرد نسلیں، سیاہ نسلیں، گوری نسلیں وغیرہ۔ لیکن آیت میں استعمال شدہ کلمہ اِختلاف" کے ویسع معنی بھی لیے جا سکتے ہیں۔ جن میں یہ تفسیر اور تفسیر ماقبل دونوں شامل ہوں۔ بہرکیف، خلقت کا یہ تنوع ہر جہت سے خدا کی قدرت اور عظمت کی نشانی ہے۔ فرید وجدی نے اپنی دائرۃ المعارف ENCYCLOPEDIA میں مغرب کے مشہور سائنس دان نیوٹن کا یہ قول درج کیا ہے: "خالقِ کائنات خدا کے بارے میں ہرگز شک نہ کرو کیونکہ عقل اِسے قبول نہیں کرتی کہ صرف بےشعور فطرت اور سلسلہ علت و معلول سے موجودات ظہور میں آ جائیں۔ کیونکہ اندھی فطرت BLIND NATURE (جو ہر زمان ومکان میں یکساں وجود رکھتی ہے) سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ اُس سے یہ تمام نوع بہ نوع کائنات اور رنگارنگ موجودات صادر ہو سکیں اور یہ ممکن نہیں ہے کہ اندھی فطرت سے کوئی ایسا عالم پیدا ہو جائے جس کے اجزا میں نظم و ترتیب ہو اور تغیّراتِ زمان و مکان کے باوجود اُس کے تناسب اور ہم آہنگی میں کوئی فرق نہ آئے۔ اِس سے ثابت ہے کہ لازماً اِس کائنات کا مبداء کوئی ایسی ذات ہے جو صفات علم و حکمت اور ارادہ سے متصف ہے۔ (تشریحی نوٹ: دائرۃ المعارف فرید وجدی، جلد اوّل صفحہ ۴۶۶ (مادہ الہ) قرآن شریف آیت کے آخر میں کہتا ہے: اِن چیزوں میں اہل علم و دانش کے لیے آیاتِ الہٰی ہیں۔ (إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّلْعَالِمِينَ)۔ کیونکہ اہلِ علم ہی عامۃ الناس کے مقابلے میں ان اسرار سے بہتر طور پر آگاہ ہوتے ہیں۔

23
30:23
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦ مَنَامُكُم بِٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ وَٱبۡتِغَآؤُكُم مِّن فَضۡلِهِۦٓۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَسۡمَعُونَ
اور اس کی آیات میں تمہاری رات اور دن کی نیند بھی ہے اور فضل الہی کے حصول کے لئے تمہاری سعی وکوششں بھی۔ تحقیق ان امور میں سننے والوں کے لئے (بہت سی) نشانیاں ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

24
30:24
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦ يُرِيكُمُ ٱلۡبَرۡقَ خَوۡفٗا وَطَمَعٗا وَيُنَزِّلُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَيُحۡيِۦ بِهِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَآۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ
اور اس کی آیات میں یہ بھی ہے کہ وہ تم کو بجلی دکھاتا ہے جو خوف کا باعث بھی ہے اور(بارش کی) امید کا بھی۔اور وہ آسمان سے پانی برساتا ہے جس سے وہ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیتا ہے اس میں ان لوگوں کیلئے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

25
30:25
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦٓ أَن تَقُومَ ٱلسَّمَآءُ وَٱلۡأَرۡضُ بِأَمۡرِهِۦۚ ثُمَّ إِذَا دَعَاكُمۡ دَعۡوَةٗ مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ إِذَآ أَنتُمۡ تَخۡرُجُونَ
اور اس کی آیات میں ایک یہ بھی ہے کہ آسمان و زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔پھر جب وہ تمہیں (قیامت میں ) زمین سے بلائے گا تو تم(سب کے سب) فوراً نکل پڑو گے۔

تفسیر انسان کے نفس اور خارجی دُنیا میں خدا کی عظمت کی نشانیاں:

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

گزشتہ بحثوں کے بعد جن میں انفس و آفاق میں آیات الٰہی کا ذکر تھا، زیر نظر آیات میں ان عظیم آیات کے ایک اور حصہ کا بیان ہے۔ سب سے پہلے نیند کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے کیونکہ وُہ مظاہر فطرت میں سے ایک اہم مظہر اور نظام عالم میں اس کے خالق کی حکمت کا اظہار ہے۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے۔ تمهارا دن اور رات میں سونا نیز فضل الٰہی سے حصہ پانے کے لیے تمہاری سعی و کوشش اور ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لیے تمہاری بھاگ دوڑ اور ان کا پورا ہونا یہ سب آیات الٰہی میں سے ہے: (وَمِنْ آيَاتِهِ مَنَامُكُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَابْتِغَاؤُكُم مِّن فَضْلِهِ)- آیت کے اخیر میں یہ الفاظ ہیں: سننے والوں کے لیے ان امور میں بہت سی نشانیاں ہیں: (إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَسْمَعُونَ)۔ کسی سے بھی یہ حقیقت پوشیدہ نہیں ہے کہ تمام "جان داروں" کو صرف شده طاقت کو بحال کرنے اور آئند محنت و مشقت کے واسطے تیار ہونے کے لیے، آرام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ استراحت اور نیند لازمی طور پر انسان پر طاری ہو جاتی ہے اور وہ لوگ جو کسب معاش میں محنت اور مشقت کرتے ہیں وہ تو ناگزیر طور سے تھک کر سو جاتے ہیں۔ پھر سے تازہ دم ہونے کے لیے نیند سے بہتر اور کونسا ذریعہ ہو سکتا ہے جو فطرتًا انسان پر طاری ہو جاتی ہے اور جو وقتی طور پر انسان کے تمام جسمانی، فکری اور رُوحانی اعمال کو معطل کر دیتی ہے۔ صِرف بعض اعضا و قویٰ جن کا مصروف عمل اور بیدار رہنا ثبات حیات کے لیے لازم ہے نہایت آہستگی کے ساتھ اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں۔ مثلًا حرکت قلب، روانی تنفس اور دماغ کے بعض حصے۔ یہ نعمتِ الٰہی اِس امر کا باعث ہوتی ہے کہ انسان کے جسم اور رُوح میں ازسرنو قُوتِ کار آ جاتی ہے۔ انسان جب استراحت کرتا ہے تو وُہ اُس وقت کام سے فارغ ہوتا ہے۔ تھوڑی دیر سونے سے اُس کی تھکن دُور ہو جاتی ہے اور اُس کے اعضا کو آرام مل جاتا ہے اِس طرح انسان میں ایک نئی زندگی، خوشی اور تازه توانائی پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر انسان سویا نہ کرتا تو اس کا جسم جلد ہی پژمردہ اور فرسُودہ ہو جاتا اور بہت جلد ناتوان اور ضعیف بو جاتا۔ یہی وجہ ہے نہ مناسب و متعدل نیند انسان کے لیے نشاط جوانی کی بقا، طول عمر اور صحت و سلامتی کا باعث ہے۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ آیت میں نیند کا ذکر " ابْتِغَاؤُكُم مِّن فَضْلِهِ " سے پہلے آیا ہے، جس کے معنی ہیں کہ اپنی روزی تلاش کرو- اِس ترتیب میں مصلحت یہ ہے کہ "نیند" تلاش رزق کے لیے بنیادی شرط ہے۔ کیونکہ اگر انسان نے کافی آرام نہ کیا ہو تو " ابْتِغَاؤُكُم مِّن فَضْلِهِ" بھی مشکل ہے۔ دوسرے یہ کہ یہ بھی درست ہے کہ معمولًا انسان رات کو سوتا ہے اور دن کو اپنا رزق تلاش کرتا ہے مگر یہ لازمی نہیں ہے کہ انسان اپنے معمولات حیات کو بدل نہ سکے- خدا نے انسان کی فطرت ایسی بنائی ہے کہ وہ اپنی نیند کی عادت کو بدل سکتا ہے اور ضرورت کے مطابق اس میں تغیر کر سکتا ہے۔ اِسی لیے " مَنَامُكُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ" کہا گیا ہے (رات کا ذکر پہلے اور دن کا ذکر بعد میں ہے)۔ بے شک سونے کا اصل وقت رات ہی کا ہے اور تاریکی کے سبب شب کو سکون محسوس ہوتا ہے اس لیے آرام کرنے کے لیے اسے اولیت حاصل ہے مگر انسان کی زندگی میں بعض حالات ایسے پیش آ جاتے ہیں کہ اس کے برعکس عمل کرنا پڑتا ہے مثلًا رات کو سفر کرنا پڑے تو دن کو آرام کرنا پڑے گا۔ اسی قیاس پر دیکھئے کہ اگر سونے کے اوقات انسان کے اختیار میں نہ ہوتے تو کتنی دشواری پیش آتی- نیند کی آیات الٰہی میں شمار کرنے کی اہمیت ہمارے زمانے میں اور بھی زیادہ واضح ہو گئی ہے کیونکہ فی زماننا بعض صنعتی کارخانے اور ہسپتال رات دن کام کرتے اور کھلے رہتے ہیں اور ان میں کام کرنے والے تین تین شفٹوں میں کام کرتے ہیں۔ آدمی کے جسم اور روح کو نیند کی ضرورت اتنی زیادہ ہے کہ انسان میں بے خوابی کے تحمل کی توانائی بہت ہی کم ہے اور انسان چند شب و روز سے زیادہ بے خوابی برداشت نہیں کر سکتا۔ اِس لیے ظالم اور ستم شعار اہل اقتدار کسی کو بدترین سزا یہی دیتے ہیں کہ اسے سونے نہیں دیتے۔ اس کے برعکس، بہت سی بیماریوں کا موثر علاج یہ ہے کہ بیمار کو گہری نیند سلا دیا جائے۔ اس طرح سے اس کی قوت مدافعت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ لیکن عام انسانوں کے لیے نیند کی مقدار کو معین نہیں کیا جا سکتا کیونکہ طول خواب کا انحصار انسان کے سن و سال، اُس کے حالات، اس کی جسمانی بناوٹ اور نفسیاتی کیفیت پر ہے۔ البتہ ـــــــ نیند کی اس مقدار کافی کہہ سکتے ہیں جس کے بعد انسان اپنے اندر تازگی محسوس کرے۔ جس طرح پانی پی کر اور غذا کھا کر سیری محسوس کرتا ہے۔ یہ امر ملحوظ خاطر رہے کہ نیند کے لیے جس طرح طول زمان کا لحاظ ہے، اُس کا گہرا ہونا بھی اہمیت رکھتا ہے۔ کیونکہ بسا اوقات ایک گھنٹے کی گہری نیند، چند گھنٹوں کی اچٹتی ہوئی نیند کے مقابلے میں انسان کی رُوح اور جسم کو تازگی بخشنے میں زیادہ موثر ہوتی ہے۔ لیکن ـــــــ اگر کسی موقع پر گہری نیند ممکن نے نہ ہو، صرف خفیف اور اچٹتی ہوئی نیند اور غنودگی بھی خدا کی نعمتوں میں سے ہے۔ جیسا کہ سوره انفال کی آیت۱۱ میں مجاہدین بدر کے متعلق ذکر ہے کیونکہ میدان جنگ میں گہری نیند مکن ہی نہیں ہے اور نہ مُفید و سُودمند ہے۔ بہرحال، نیند اور استراحت۔ اور اُس سے جو سکون، نشاط اور توانائی حاصل ہوتی ہے، خدا کی ایسی نعمت ہے جس کی کسی طرح بھی توصیف نہیں ہو سکتی۔ اِس کے بعد کی آیت میں آیات الہی کی پانچویں قسم کو بیان کیا گیا ہے۔ اِس آیت میں بھی خدا کی ان نشانیوں کا ذکر ہے جو نفس انسانی سے باہر عالم خارج میں پائی جاتی ہیں۔ اس میں خصوصیت سے رعد و برق، بارش اور زمین کی موت کے بعد دوباره زندہ ہونے کا ذکر ہے۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے۔ آیاتِ الٰہی میں سے ایک بجلی بھی ہے جو تمہارے لیے موجب خوف بھی هے اور باعث امید بھی (وَمِنْ آيَاتِهِ يُرِيكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا)۔ بجلی کا خوف تو یہ ہے کہ وہ کبھی بصورت صاعقہ ٹوٹ پڑتی ہے اور ہر اس چیز کو جو اس کے احاطے میں آ جائے جلا خاک کر دیتی ہے۔ بجلی چمکنے سے "امید" یہ ہوتی ہے کہ عمومًا گرج چمک سے تند و تیز بارش ہوتی ہے۔ اِس بناء پر بجلی نزول بارش کا پیش خیمہ ہے۔ اِس کے علاوہ، بجلی کے چمکنے میں جو فوائد ہیں انہیں اس زمانے میں سائنس دانوں نے منکشف کیا ہے۔ ہم نے سُوره رَعد کے آغاز میں ان کی طرف اشارہ کیا ہے۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر نمونہ، جلد٥ کی طرف رجوع فرمایئے)۔ اس کے بعد یہ فرمایا گیا ہے کہ خدا آسمان سے پانی برساتا ہے جو زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیتا ہے: (وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَيُحْيِي بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا)۔ خشک اور جلتی بھنتی زمین میں جس سے موت کی بو آتی ہے چند حیات بخش بارشوں کے بعد جان آ جاتی اور وہ زندہ ہو جاتی ہے۔ اُس سے اگنے والے پھولوں، سبزے اور جڑی بوٹیوں سے اس کے آثار حیات نمایاں ہوتے ہیں۔ اُس کی حالت دیکھ کر کوئی یقین بھی نہیں کر سکتا کہ یہ وہی مُردہ زمیں ہے۔ آیت کے آخر میں بطور تاکید اضافہ کیا گیا ہے کہ اِن چیزوں میں اُن لوگوں کے لیے جو فکر کرتے اور عقل سے کام لیتے ہیں خدا کی نشانیاں ہیں۔ (إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ)۔ اہل عقل و فکر میں یہ سمجھتے ہیں کہ اس مرتب نظام فطرت کے پیچھے کسی قادر مطلق کا ہاتھ ہے جب اس نظام کو چلا رہا ہے۔ نیز یہ کہ یہ نظام فطرت محض اتفاقًا یا اندھی اور بہری حرکت و ضرورت سے ظہور میں نہیں آ گیا۔ زیر نظر آیات میں سے آخری آیت میں، عالم خارج میں موجود آیات الہی کے سلسلے میں زمین و آسمان کے نظام اور اُن کی ثبات و بقا کا ذکر ہے، چنانچہ فرمایا گیا۔ آیات عظمت الٰہی میں سے ایک یہ ہے کہ آسمان و زمین اُس کے امر سے قائم ہے: (وَمِنْ آيَاتِهِ أَن تَقُومَ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ بِأَمْرِهِ)۔ یعنی صرف آسمان و زمین کی تخلیق ہی جیسا کہ آیت۲۲ میں اشارہ ہوا ہے، آیت الٰہی نہیں بلکہ اِن کے نظام کا باقی رہنا ایک دوسری نشانی ہے۔ کیونکہ یہ عظیم اجرام اپنی منظم گردش کے لیے اور چیزوں کی احتیاج بھی رکھتے ہیں جن میں سے سب اہم اُن کی باہم قوت جاذبہ اور دافعہ ہے۔ خداوند عالم نے کراتِ سماوی میں اِن دونوں قوتوں کو ایسے اعتدال پر رکھا ہے کہ لاکھوں سال گزرنے کے بعد بھی سرمُو انحراف کے بغیر اپنے اپنے مدار پر گردش کر رہے ہیں۔ ایک اور پہلو سے دکھا جائے تو گزشتہ آیت میں یہ بیان ہے کہ خالق کائنات ذاتِ واحد ہے۔ اور ــــ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اِس کارخانہ عالم کی مربی اور مدبر بھی ذات احدیت ہی ہے۔ آسمان اور زمین کے لیے فعل "تقُوم" کا استعمال جس سے اُن کا قیام اور ثبات مراد ہے، ایک لطیف تعبیر ہے۔ جو انسان کے معمولات حیات سے لی گئی ہے کیونکہ انسان کے کام کرنے کے لیے بہترین حالت، حالت قیام ہے۔ اِس حالت میں وہ اپنے تمام کام انجام دینے پر قدرت رکھتا ہے اور اپنے اطراف پر پورا تسلط رکھتا ہے۔ کلمہ "امر" کے استعمال سے پروردگار کی انتہائی قُدرت مراد ہے کہ اس عظیم و وسیع کائنات کے نظم اور دوام حیات کے لیے اس کا ایک حکم ہی کافی ہے۔ اس آیت کے اخیر میں، معاد کے لیے توحید کو، بنیادی شرط قرار دیتے ہوئے، بحث کا رُخ اسی طرف موڑتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ جب وہ تمہیں زمین میں سے بلائے گا تو تم سب کے سب باہر نکل آو گے: (ثُمَّ إِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِّنَ الْأَرْضِ إِذَا أَنتُمْ تَخْرُجُونَ)۔ قرآن کریم میں یہ بات بتکرار نظر آتی ہے کہ خدا معاد کو زمین و آسمان میں اس کی قدرت کی نشانیوں کی بنیاد پر ثابت کرتا ہے۔ چنانچہ آیت زیر بحث بھی ان ہی آیات میں سے ہے۔ کلمه "دعاکم" سے یہ مُراد ہے کہ جس طرح اس کائنات کی نظم و تدبیر کے لیے اُس کا ایک حکم کافی ہے، اِسی طرح بروز قیامت دوبارہ جی اُٹھنے اور حشر و نشر کے لیے بھی اُس کا ایک دفعہ بلانا ہی کافی بو گا خصوصیت سے جب اِس جملے پر توجہ کی جائے " إِذَا أَنتُمْ تَخْرُجُونَ"۔ عربی زبان میں کلمہ "اذا" مفاجات [ناگہان] کے لیے آتا ہے۔ اِس سے ثابت ہے کہ ایک ہی دفعہ پکارنے سے سب کے سب ناگہانی طور پر قبروں سے باہر نکل آئیں گے۔ اِس ضمن میں "دَعْوَةً مِّنَ الْأَرْضِ" کے الفاظ سے معاد جسمانی ثابت ہوتی ہے کہ بروز قیامت انسان اسی زمین سے اٹھایا جائے گا۔

چند اہم نکات ۱- درسِ خدا شناسی کا ایک مکمل نصاب:

گزشتہ چھ/۶ آیات میں خدا شناسی کے مضمون کو مختلف انداز و عنوانات سے بیان کیا گیا ہے جو درحقیقت، اس درس کے لیے مکمل نصاب ہے۔ اِس مضمون میں آفرینش آسمان سے لے کر مٹی انسان کی تخلیق، اہل خانہ کی باہمی محبت، شب و روز کی راحت بخش نیند، نظام کائنات میں تدبیرالٰہی، نزول باران اور اقوام عالم کی زبانوں اور ان کے رنگوں کا اختلاف، غرض کہ انفس و آفاق میں خدا کی جو بھی آیات ہیں، ان سب ہی کا ذکر ہے۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ ان آیات میں سے ہر ایک میں دلائل توحید کے دو حصے میں ایک حصہ بطور تمہید ہے اور دوسرے میں دعویٰ کا اثبات اور تاکید ہے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے دعویٰ کو ثابت کرنے کے لیے دو عادل گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے چھ آیات میں خدا کی بےپایاں قدرت کے اظہار کے لیے مجموعی طور پر بارہ گواہ ہو گئے۔

٢- کون لوگ اِن آیات سے کسبِ حکمت کرتے ہیں؟

اِن چھ آیات میں سے درمیان کی چار آیات میں تاکیدًا کہا گیا ہے کہ اِن حوادث عالم اور اجزاء کائنات میں علماء، عقلاء، متفکرین اور سننے والوں کے لیے روشن نشانیاں ہیں مگر آیت٢٠ اور ٢٥ میں ہے یہ ذکر نہیں ہے۔ فخر الدین رازی نے اس کی یہ وجہ بتائی ہے کہ آیت ٢٠ میں اِس امر کا ذکر نہ ہونے کی وجہ یہ ہو سکتی ہے۔ آیات بیس اور اکیس ایک دُوسرے کے بعد آئی ہیں اور دونوں میں اُن آیات کا ذکر ہے جو انسان کے عالم انفس میں ہیں۔ اور آخری آیت میں مطلب اس قدر واضح ہے کہ اس پر غور کرنے کے لیے تعقل و تفکر کی ضرورت ہی نہیں۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر کبیر فخر رازی، زیر بحث آیات کے ذیل میں)۔ قابل غور بات یہ ہے کہ پہلے کلمہ "تفکر" استعمال ہوا ہے۔ اُس کے بعد "علم" کا ذکر ہے۔ کیونکہ علم کے لیے فکر کی بُنیادی حیثیت ہے۔ اُس کے بعد سننے والے کان کا ذکر ہے۔ کیونکہ عالم و آگاہی کے طفیل ہی انسان کلمہ حق سننے اور قبول کرنے کے لیے آمادہ ہوتا ہے۔ جس طرح سے کہ قرآن میں مذکورہے: فَبَشِّرْ عِبَادِ الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ میرے اُن بندوں کو بشارت دو جو باتوں کو سنتے ہیں اور اُن میں سے بہترین پر عمل کرتے ہیں۔ (زمر-۱۷-۱۸)۔ آیت ٢۴ میں "عقل" کا ذکر ہے۔ کیونکہ عقل کامل کی منزل پر وہی لوگ پہنچیں گے جو سننے والے کان رکھتے ہیں۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ زیر نظر آیات میں سے آیت ٢٠ میں انسان کی خلقت اور اس کی نسل کے زمین پر پھیلنے کا ذکر ہے: ثُمَّ إِذَا أَنتُم بَشَرٌ تَنتَشِرُونَ اور آخری آیت ٢٥ میں بروز قیامت زمین سے جی اٹھنے کا ذکر ہے: إِذَا أَنتُمْ تَخْرُجُونَ- پہلی آیت- ٢٠ میں آغاز انسان کا ذکر ہے اور آخری ٢٥ میں اُس کے انجام کا ذکر ہے۔

٣- عالمِ خواب کے عجائبات:

علما نے خواب اور اس کی خصوصیات کے بارے میں جو بحثیں کی ہیں، ان کے باوجود ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابھی اس پراسرار عالم کے تمام پہلو روشن نہیں ہوئے اور انسان کی اس کی پیچدہ حقیقتوں تک رسائی نہیں ہوئی۔ ابھی اہل علم میں یہ امر زیر بحث ہے کہ انسان کے جسم میں کون سا عمل اور ردِّ عمل ہوتا ہے کہ ناگہانی طور پر اس کے دماغ اور بدن کے عمل کا ایک حصہ معطل ہو جاتا ہے اور اس کی روح اور جسم میں ایک نئی حالت پیدا ہو جاتی ہے۔ بعض علماء کا یہ خیال ہے کہ انسان کے جسم میں تبدیلیاں نیند آنے کا باعث ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب دماغ سے جسم کے دوسرے حصوں میں خون جاتا ہے تو یہ کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ انھوں نے اپنے نظریے کو ثابت کرنے کے لیے ایک آلہ ایجاد کیا ہے جو مغز سے باقی اعضاء کی طرف انتقال خون کو ظاہر کرتا ہے۔ علماء کا ایک اور گروہ جسم میں کیمیائی تبدیلیوں کو نیند کا باعث سمجھتا ہے۔ ان لوگوں کا نظریہ یہ ہے کہ جس وقت انسان محنت مشقت کرتا ہے تو اس کے جسم میں ایک زہر پیدا ہو جاتا ہے جو دماغ کے ایک حصے کو بیکار کر دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں انسان سو جاتا ہے اور جب یہ زہر جزو بدن بن کر زائل ہو جاتا ہے تو انسان بیدار ہو جاتا ہے۔ سائنس دانوں کی ایک اور جماعت کا نظریہ یہ ہے کہ "نیند" کا ایک عامل اعصابی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دماغ میں بھی ایک خاص قسم کا فعال نظام اعصاب موجود ہے۔ جس کی مثال موٹر کے پیٹرول کی سی ہے۔ یہ نظام اعصاب تھک کر بیکار ہو جاتا ہے اور آدمی سو جاتا ہے۔ مگر اِن تمام نظریات پر اعتراضات کیے گئے ہیں جن کے ابھی تک شافی جوابات نہیں دیئے جا سکے۔ اِس لیے ابھی تک" نیند" ایک پراسرار چیز ہی ہے۔ سائنس دانوں نے جن عجابات خواب کا انکشاف کیا ہے، اُن میں سے ایک یہ ہے کہ بوقت خواب جب دماغ کے خلیوں کا اکثر حصہ اپنا کام ترک کر دیتا ہے تو بعض خلیے جنھیں "محافظ خلیے" کہنا چاہیے، بیدار رہتے ہیں اور انسان عالم بیداری میں ان خلیوں کو یہ پیغام بھی دیتا یا جو نصحیت بھی کرتا ہے وہ اسے ہرگز فراموش نہیں کرتے۔ یہاں تک کہ وُہ مغز کو بیدار کر کے اُسے متحرک کر دیتے ہیں۔ مثلاً ـــــ ایک تھکی ماندی ماں جب رات کو سونے لگتی ہے اور اس کا شیر خوار بچے اس کے قریب ہی گہوارے میں محو خواب ہوتا ہے تو وہ لاشعوری طور پر دماغ کے "نگهبان" خلیوں سے (جو رُوح اور جسم کے درمیان رابطے کا کام دیتے ہیں) یہ کہتی ہے کہ میرا بچہ جس وقت بھی روئے تو مجھے جگا دینا۔ ماں کے نزدیک اس کے علاوہ، دوسری آوازوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ہو سکتا ہے کہ بادل کی گرج اس ماں کو نیند سے بیدار نہ کرے۔ لیکن بچے کی ہلکی سی آواز بھی اسے جھگا دیتی ہے اور دماغ کے نگہبان خلیے اس فرض کو ادا کرتے ہیں۔ ہم نے اس بات کو خود اپنے اوپر بارہا آزما کے دیکھا ہے کہ اگر ہم نے اپنے دل میں یہ طے کر لیا ہے کہ صبح سویرے یا آدھی رات کو ہمیں کسی سفر یا کسی اہم پروگرام پر جانا ہے تو عین وقت پر آنکھ کھل جاتی ہے۔ جب کہ دیگر مواقع پہ ہم گھنٹوں پڑے سوتے رہتے ہیں۔ خلاصه گفتگو یہ ہے کہ نیند ایک رُوحانی مظہر ہے اور رُوح ایک پراسرار عالم ہے۔ لہذا ـــ کیا عجب ہے کہ اس مسئلے کے بہت سے پہلو ایسے ہوں جو ابھی انسان پر منکشف نہ ہوئے ہوں۔ مگر انسان اس اسرار کی گرہ کشائی میں جتنا بھی زیادہ غور و فکر کر رہا ہے اتنا ہی اس پر اس مظہر کے خالق کی عظمت واضح ہوتی جاتی ہے۔

۴- میاں بیوی کی باہمی محبت:

اگرچہ ــــــ انسان کا اپنے والدین اور بھائی بہنوں سے رابطہ نسبی ہے جس کی بنیاد رشتہ داری کے گہرے تعلق پر ہے۔ اس کے مقابلے میں زوجین کا باہمی تعلق قانون اور معاہده باہمی پر ہے۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ان دونوں کے درمیان محبت رشتہ داری کے تعلق پر سبقت لے جاتی ہے۔ مذکورہ بالا آیات میں " وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً" میں انسان کی اسی فطرت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جناب رسالتمآبؐ سے ایک حدیث مروی ہے کہ: جنگ اُحد کے یہ آپؐ نے بنت حجش سے فرمایا کہ "تیرے ماموں حمزہ شہید ہو گئے"۔ تو اُس نے جواب دیا :"إنا لله وانا اليه راجعون" میں خدا سے اس مصیبت کا اجر چاہتی ہوں"۔ آپؐ نے پھر اس سے کہا ـــــــــ تیرا بھائی بھی شہید ہو گیا"۔ اُس لڑکی نے پھر "انا للہ" پڑھا اور اس کا اجر خدا سے مانگا۔ مگر جناب رسالت مآبؐ نے جیسے ہی اسے اس کے شوہر کے مرنے کی خبر سنائی، تو، وُہ سر پیٹنے اور فریاد کرنے لگی۔ ہاں ــــــــ یہ قول کتنا سچا ہے": ما یعدل الزوج عند المرأة شيء عورت کے لیے کوئی شے بھی اس کے شوہر کے مانند نہیں ہے۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد۴ صفحہ۱۷۴)۔

26
30:26
وَلَهُۥ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ كُلّٞ لَّهُۥ قَٰنِتُونَ
اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے سب اس کے سامنے جھکے ہوئے ہیں اور سب اسی کے فرمان بردار ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

27
30:27
وَهُوَ ٱلَّذِي يَبۡدَؤُاْ ٱلۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ وَهُوَ أَهۡوَنُ عَلَيۡهِۚ وَلَهُ ٱلۡمَثَلُ ٱلۡأَعۡلَىٰ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ
اور وہی خلقت کا آغاز کرتا ہے،اور پھر اسے لوٹائے گا اور اس کیلئے یہ کام آسان تر ہے اور اس کیلئے آسمانوں اور زمین میں توصیف برتر ہے اور وہ غالب، حکمت والا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

28
30:28
ضَرَبَ لَكُم مَّثَلٗا مِّنۡ أَنفُسِكُمۡۖ هَل لَّكُم مِّن مَّا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُكُم مِّن شُرَكَآءَ فِي مَا رَزَقۡنَٰكُمۡ فَأَنتُمۡ فِيهِ سَوَآءٞ تَخَافُونَهُمۡ كَخِيفَتِكُمۡ أَنفُسَكُمۡۚ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ
خدا تمہارے لئے تمہارے ہی حال کی ایک مثال بیان فرماتاہے۔ کیا تمہارے غلام اور لونڈیاں تمہارے اس مال میں، جو ہم نے تمہیں دیا ہیٗ شریک ہیں، کیاوہ اس میں تمہارے برابر کے حصہ دار ہیں کیا ان سے اجازت لئے بغیر تم اس میں تصرف سے اسی طرح ڈرتے ہو جیسے آزاد حصہ داروں سے ؟ہم اس طرح اپنی آیات کو ان کیلئے جو عقل سے کام لیتے ہیں کھول کر بیان کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

29
30:29
بَلِ ٱتَّبَعَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓاْ أَهۡوَآءَهُم بِغَيۡرِ عِلۡمٖۖ فَمَن يَهۡدِي مَنۡ أَضَلَّ ٱللَّهُۖ وَمَا لَهُم مِّن نَّـٰصِرِينَ
بلکہ ظالم بغیر علم و آگاہی کے اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں اور خدا جسے گمراہ کرے اسے کون ہدایت کر سکتا ہے اور ان کا کوئی یاور و مدد گار نہ ہو گا۔

تفسیر خدائے واحد ہی مالک حقیقی ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

گزشتہ آیات میں "توحید خالقیت" اور "توحید ربوبیت" کے متعلق بحث تھی۔ مگر زیر نظر آیات میں پہلی آیت میں توحید کی ایک اور شاخ یعنی "توحید مالکیت" کا ذکر ہے۔ چنانچہ خدا فرماتا ہے: زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے سب اس کے لیے ہے (وَلَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ)۔ اور چونکہ سب اس کی ملکیت ہیں، اس لیے سب کے سب اس کے سامنے فروتن اور مطیع (كُلٌّ لَّهُ قَانِتُونَ)۔ یہ ظاہر ہے کہ اس مقام پر مالکیت اور مطیع ہونے کا مفہوم مالکیت و اطاعت تکوینی ہے۔ یعنی قانون آفرنیش کے لحاظ سے ہر شے کی زمام امر اُسی کے ہاتھ میں ہے۔ کائنات کا ہر ذرہ خواہ نہ خواہ اُس کے قوانین کا پابند ہے۔ یہاں یہ کہ نافرمان، باغی اور قانون شکن گناہ گار بھی خدا کے قوانین تکوینی کی پابندی پر مجبور ہیں۔ اسی مالکیت کی دلیل، اس کی وہی خالقیت اور ربوبیت ہے۔ وہ ذات جس نے ابتدا میں کائنات کو خلق کیا اور اس کا نظام و تدبیر بھی جس کی قدرت میں ہے، لازمًا اس کا مالک اصلی بھی وہی ہے۔ چونکہ جہان ہستی کی تمام موجودات اس امر میں یکساں ہیں۔ (یعنی جہان تکوین میں جملہ مخلوقات قوانین فطرت کی مطیع ہیں)۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کی مالکیت میں کوئی شریک نہیں ہے۔ یہاں تک کہ مشرکین کے خیالی معبود بھی اسی مالک الملوک کے مملوک اور مطیع فرماں ہیں۔ ضمنًا یہ بھی ملحوظ رہے کہ "قانت" کا مادہ "قنوت" ہے، جس کے معنٰی ہیں ایسی اطاعت جس میں عاجزی اور انکساری بھی شامل ہو۔ مفردات میں راغب اصفہانی کے بقول: جناب رسالت مآبؐ سے ایک حدیث مروی ہے: کل قنوت في القران فھو طاعة قرآن میں جہاں کہیں بھی کلمہ قنوت آیا ہے اس کے معنٰی اطاعت کے ہیں۔ اطاعت بھی دو طرح کی ہے، تکوینی اور تشریعی۔ یہ جو بعض مفسرین نے اس مقام سے قانتون کے معنی "قائمون بالشهادة على وحدانيتهٖ" کیے ہیں، درحقیقت، یہ مفہوم بھی اطاعت کا ایک پہلو ہے۔ کیونکہ وحدانیت خدا کی شهادت دینا بھی ایک قسم کی اطاعت خدا ہی ہے۔ (تشریحی نوٹ: آلوسی نے اپنی کتاب رُوح المعانی میں، اس آیت کے تحت اس رائے کو کسی ماقبل مفسر نقل کیا ہے)۔ آیات گزشتہ اور آیات آئندہ میں مبداء اور معاد کے مسائل تانے بانے کی طرح بنے ہوئے ہیں۔ چنانچہ زیر قلم آیات میں سے آیت ۲۷ میں پھر مسئلہ معاد کا ذکر ہے۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے۔ "اسی کی ذات ہے جس نے آفرنیش کا آغاز کیا اور وہ پھر اسے لوٹائے گا اور یہ کام اس کے لیے آسان تر ہے:" (وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ)۔ (تشریحی نوٹ: فخر رازی نے تفسیر کے حوالہ سے یوں نقل کیا هے کہ: خدا نے جناب مسیح کی بغیر باپ کے پیدائش سے متعلق یہ کہا ہے"هو على هيّن" اور علٰی کا مقدم ہونا حصر کی دلیل ہے۔ یعنی یہ کام صرف میرے لیے آسان ہے نہ کہ میرے غیر کے لیے۔ اور زیر نظرآیت "ھو اهون عليه" کہا ہے۔ یہاں علیه حصر کے معنٰی نہیں دیتا مراد یہ ہے کہ جو شخص کسی کام کا آغاز کر سکتا وہ اس کا اعادہ بھی کر سکتا هے)۔ اِس آیت میں مختصر ترین استدلال کے ساتھ امکان معاد کو ثابت کیا گیا ہے۔ رُوح بیان سے ہے کہ:- جب تم یہ مانتے ہو کہ آغاز آفرینش اسی کی طرف سے ہے۔ تو بعد فنا "تجدید حیات" جو تخلیق اول کے مقابلے میں زیادہ آسان ہے، اُس پر وہ کیوں قادر نہیں ہو سکتا؟ اعادہ تخلیق کے، آغاز تخلیق سے آسان تر ہونے کی دلیل یہ ہے کہ ابتدا میں سرے سے کسی چیز کا وجود ہی نہ تھا اور خدا سے عدم سے وجود میں لایا ہے مگر بعد فنا اعادہ کے لیے کم از کم مواد اصلی تو موجود ہو گا۔ جس کا کچھ حصہ مٹی میں ملا ہو گا اور کچھ حصہ فضا میں پراگندہ ہو گا۔ خدا کا کام تو أن اجزائے منتشر کو صرف منتقل کرنا اور انھیں عورت بخشتا ہی ہو گا۔ اِس مقام پر ایک نکتے کی طرف توجہ ضروری ہے اور وہ یہ کہ کسی کام کا آسان یا سخت ہونا فکر انسانی کے مطابق ہے جب کہ ذات لامحدود کے لیے سخت و آسان میں کوئی تفاوت نہیں ہے۔ کیونکہ کسی کام کا سخت و آسان ہونا اس مقام پر متصور ہوتا ہے جہاں فائل کی قدرت محدود ہو کر وہ ایک کام کرو تو آسانی سے کرسکے اور دوسرے کام کو دشواری سے لیکن جب فاعل کی قدرت لامحدود ہو تو پھر سخت و آسان کے الفاظ بے معنٰی ہیں۔ درحقیقت، کلمات "آسان" اور "دشوار" کا مفہوم اضافی ہے۔ خدا کے لیے عظیم ترین پہاڑ کو اٹھا لینا اتنا ہی آسان ہے جتنا انسان کے لیے گھاس سے تنکے کو۔ شاید اِسی وجہ سے آیت میں بلافاصلہ یہ الفاظ ہیں: (وَلَهُ الْمَثَلُ الْأَعْلَى فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ)- آسمانوں اور زمین میں خدا کے لیے توصیف برتر ہے۔ کیونکہ آسمان و زمین میں کسی وجود کے متعلق بھی جو وصف کمال قصور کیا جائے مثلًا: علم، قدرت، مالکیت، عظمت، جود و کرم تو اس کا مصداق اتم و اکمل خدا ہی ہے۔ کیونکہ صرف ذاتؐ الٰہی ہی لامحدود ہے۔ باقی ما سواللہ محدود ہے۔ علاوہ ازیں، خدا کے اوصات ذاتی ہیں اور دیگر ہر شے کے اضافی اور عارضی ہیں۔ نیز یہ کہ جملہ کمالات کا منبع اصلی وہی ہے۔ ہماری زبان (ہر زبان جو انسان بولتا ہے) روز مرہ کے دنیاوی مطالب کے افہام و تفہیم اور مقصد برآوری کے لیے بے کوئی زبان بھی ماورائی حقائق اور ذات باری تعالٰی کے اوصاف بیان نہیں کر سکتی جس طرح کہ ہم نے کلمہ "اهون" کو دیکھا۔ جملہ مافوق بھی ان جملوں کی مانند ہے جیسے سوره اعراف آیه ۱۸٠ میں ہے: وَلِلّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا خدا کے لیے بہترین نام ہیں اسے ان ناموں سے پکارو۔ یا جیسے سورہ شوریٰ کی آیت ۱۱ میں آیا ہے: لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ کوئی شے بھی دنیا میں اُس کی مثل نہیں ہے۔ آیت کے اختتام پر بہ عنوان تاکید یا بطور دلیل فرمایا گیا ہے: اور وہی عزیز و حکیم ہے (وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ)۔ وہ عزیز اور شکست ناپذیر ہے۔ لیکن قدرت نا محدود کے ہوتے ہوئے بھی وہ کوئی کام بے حساب انجام نہیں دیتا اس کے تمام کام حکمت پر مبنی ہیں۔ گزشتہ آیات میں توحید و معاد کے متعلق کچھ دلائل بیان کرنے کے بعد ایک مثال کی صورت میں نفی شرک کی دلیل دی گئی ہے۔ چنانچہ کہا گیا ہے: خدا خود تمہارے ہی حالات سے تمہارے لیے ایک مثال دیتا ہے (ضَرَبَ لَكُم مَّثَلًا مِنْ أَنفُسِكُمْ)۔ وہ مثال یہ ہے کہ اگر تمہارے غلام اور خادم ہوں تو کیا یہ لوگ اس روزی میں جو ہم نے تمہیں دی ہے، تمهارے شریک ہو جائیں گے؟ (هَل لَّكُم مِّن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن شُرَكَاءَ فِي مَا رَزَقْنَاكُمْ)۔ اِس طرح کی شرکت کہ تم دونوں ہر طرح سے مساوی ہو (فَأَنتُمْ فِيهِ سَوَاءٌ)۔ اور اس طرح بے تکلف شریک ہوں کہ تمہیں یہ ڈر پو کہ وہ تمہاری اجازت کے بغیر تمهارے مال میں تصرف کریں گے جس طرح کہ تم اپنے آزاد شرکا (یعنی رشتہ داروں) سے اپنے مال اور میراث کے متعلق ڈرتے ہو (تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنفُسَكُمْ)۔ یا یہ کہ تمہارا یہ حال ہو جائے کہ تم اپنے مال میں ان کی اجازت کے بغیر تصرف نہ کرسکو۔ (مثال کا نتیجہ یہ ہے کہ) جب کہ تم اپنے غلاموں کی "جو تمہاری مجازی ملکیت ہیں" اپنے کاروبار اور اموال میں اس طرح شرکت کو نادرست سمجھتے ہو تو پھر ان مخلوقات کو جو خدا کی حقیقی ملکیت ہیں اس کا شریک کس طرح سمجھتے ہو؟ یا جب پیغمبروں کو (مثلًا مسیحؑ کو) یا ملائکہ کو، یا ایسی مخلوق کو جیسے جنات ہیں یا پتھر یا لکڑی کے بتوں کو خدا کا شریک سمجھتے ہو تو بتاؤ کہ یہ تمہارا کیسا غیر منطقی اور غلط فیصلہ ہے؟ یہ مجازی غلام جو ممکن ہے کہ بہت جلد آزاد ہو جائیں اور تمہاری ہی صف میں آ کھڑے ہوں (چنانچہ اسلام میں اس مساوات کی بنیاد ڈال دی گئی ہے) جب تک غلام ہیں اپنے مالک کے مساوی نہیں ہو سکتے اور اس کے اختیارات میں دخل دینے کا حق نہیں رکھتے۔ تو ــــــ پھر تم نے ان حقیقی غلاموں کو کیونکر خدا کا شریک سمجھ لیا ہے کہ جو اپنی ذات اور وجود کے لیے خدا کے محتاج ہیں اور خدا کے ساتھ ان کی احتیاج کا تعلق کبھی منقطع نہیں ہو سکتا۔ ان کے پاس جو کچھ ہے اس کا دیا ہوا ہے اور اس کے فضل کے بغیر وہ ہیچ و پوچ ہیں۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس آیت میں ان کلمات کی طرف اشارہ ہے جو مشرکین قریش مراسم حج کے وقت جب "لبیک" کہتے تھے تو کہا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے: لبيك، اللهم لا شريك لك، الا شريكا هولك تملكه وما ملك لبيک، اے خدا! تیرا کوئی شریک نہیں ہے، مگر تیرا ایک شریک ہے جس کا تو مالک ہے اور اُس کی املاک کا مالک بھی ہے۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر المیزان و تفسير مجمع البیان و تفسیر نور الثقلين زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ اس آیت کی یہ شان نزول دیگر آیات کی طرح اس کے معنٰی کو محدود نہیں کرتی۔ ہر حال میں یہ آیت تمام مشرکین کے لیے جواب ہے جو ان ہی کی زندگی سے لیا گیا ہے، جس کا مدار غلامی کے رواج پر تھا۔ اِس آیت میں اس دلیل سے ان پر اتمام حجت کی گئی ہے۔ کلمه "ما رزقناكم" کے استعمال سے مقصود یہ ہے کہ تم درحقیقت، میں نہ تو إن غلاموں کے حقیقی مالک ہو اور نہ اس مال کے جو تمہارے پاس ہے کیونکہ ان سب چیزوں کا مالک حقیقی خدا ہے۔ لیکن اس علم کے باوجود تم اس بات کے لیے تیار نہیں ہو کہ اپنے مجازی مال و دولت کو ایسے افراد کے سپرد کر دو جو بطور مجاز تمهارے مملوک کہلاتے ہیں اور انہیں اپنی دولت میں شریک سمجھو۔ حالانکہ عام فطرت انسان کے نقطہ نگاہ سے یہ امر محال نہیں ہے۔ کیونکہ اگر غلام پر اختیار ہو اُسے مال میں حق تصرف دیا جا سکتا ہے۔ لیکن خدا اور مخلوقات میں خالق اور مخلوق کا ناقابل تغیر فرق ہے۔ یہ امر محال ہے کہ مخلوق، خالق کے اختیارات میں شریک ہو سکے۔ علاوہ بریں، ـــ جب کسی ذات یا شے کی پرستش کی جاتی ہے تو اس کے دو ہی سبب ہوتے ہیں، یا تو اُسے، اس کی کی عظمت کی وجہ سے پوجا جاتا ہے۔ یا بہ تمنائے سُود یا بخوف زیاں (جو اس سے انسان کو پہنچ سکتا ہے) مگر ان خود ساختہ معبودوں میں تو ان میں سے ایک بات بھی نہیں۔ (تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے جملہ "تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنفُسَكُمْ" کی کچھ اور تسفیر کی ہے۔ جس کا ماحصل یہ ہے کہ ان خود ساختہ معبودوں میں اتنی قدرت نہیں ہے کہ تم آُن ڈرو، اتنا بھی نہ ڈرو جتنا ایک دوسرے سے ڈرتے ہو۔ اس سے زیادہ ڈرنے کا کیا موقع ہے، مگر ہم نے جو تفسیر ابتداء میں کی ہے وہ زیادہ بہتر ہے)۔ آیت کے اخیر میں اس مسئلے پر زیادہ غور و خوض کرنے کے لیے بطور تاکید فرمایا گیا ہے: ہم اس طرح ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں اپنی آیات کی تشریح کرتے ہیں (كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ)۔ البتہ ـــــــ تمہاری ہی زندگیوں سے واضح مثالوں کا ذکر کر کے ہم تمہیں بہ تکرار حقائق سمجھاتے ہیں تاکہ تم ان پر غور کرو کم از کم اتنا تو سمجھو کہ جو بات تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے وہ رب العالمین کے لیے بھی پسند نہ کرو۔ مگر یہ آیات بنیات اور اس قسم کی واضح اور روشن مثالیں صاحبان فکر کے لیے ہیں۔ نہ کہ بےدانش نفس پرست ظالموں کے لیے، جن کے دلوں پر جہل و نادانی کے پردے پڑے ہوتے ہیں اور ایام جاہلیت کی خرافات اور تعصبات نے ان کی فضائے فکر کو تیره و تار کر دیا ہے۔ اس لیے آیہ بعد میں یہ اضافہ کرتی ہے: ظالم، علم و آگائی کے بغیر اپنی ہوا و ہوس کی پیروی کرتے ہیں۔ اُن کا عمل کسی دلیل کے تحت نہیں ہے (بَلِ اتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَهْوَاءَهُم بِغَيْرِ عِلْمٍ)۔ خدا نے ایسے لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے وادی ضلالت میں پہنچا دیا ہے۔ بھلا ان لوگوں کی ہدایت کون کر سکتا ہے جنہیں خدا نے گمراہ کیا ہو(فَمَن يَهْدِي مَنْ أَضَلَّ اللَّهُ) آیت نمبر ۲۹ میں "أشركوا" کے بجائے "ظلموا" استعمال ہوا ہے۔ اس میں نکتہ یہ ہے کہ "شرک" بجائے خود بہت بڑا ظلم ہے۔ یہ خالق پر ظلم ہے۔ کیا مشرکین خدا کی مخلوق کو اس کا ہم پایہ بنا دیتے ہیں۔ نیز یہ خلق خدا پر بھی ظلم ہے، کیونکہ مشرکین انھیں راہ توحید سے جو درحقیقت، راہ خیر و سعادت ہے، گمراہ کرتے ہیں۔ "شرک" اپنی ذات پر بھی ظلم ہے۔ کیونکہ مشرک اپنی زندگی کو برباد کر کے گمراہی میں سرگرداں رہتا ہے۔ ضمنًا- کلمه "ظلموا" کا استعمال موخر جملہ کے لیے بطور مقدمہ ہے۔ یعنی اگر خدا نے ان ظالموں کو راہ حق سے گمراہ کر دیا ہے تو یہ ان کے ظلم کا نتیجہ ہے۔ جس طرح کہ ہم سورہ ابراہیم کی آیت ۲۷ میں پڑھتے ہیں: وَيُضِلُّ اللّهُ الظَّالِمِينَ خدا ظالموں کو گمراہ کر دیتا ہے۔ یہ مُسلم ہے کہ خدا جن لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دے تو ان کا کوئی بھی یادر و ناصر نہ ہو گا (وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ)۔ خدا نے اِس عنوان سے گروہ ظالمين و مشرکین کی منحوس سرنوشت کو بیان کیا ہے۔ اور جیسا کہ فرمایا گیا ہے، وہ اسی کے مستحق ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ عظیم ترین مظالم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنی عقل و فکر سے دست کش ہو کر آفتاب علم و دانش کی طرف سے منہ موڑ لیا ہے اور ظلمت ہوا و ہوس کی طرف رخ کر لیا ہے۔ ایسی حالت میں یہ فطری امر ہے کہ خدا ان سے اپنی توفیق سلب کرنے اور انھیں کفر و شرک کی تاریکیوں میں چھوڑ دے جہاں ان کا کوئی یادر و ناصر نہ ہو گا۔

30
30:30
فَأَقِمۡ وَجۡهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفٗاۚ فِطۡرَتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِي فَطَرَ ٱلنَّاسَ عَلَيۡهَاۚ لَا تَبۡدِيلَ لِخَلۡقِ ٱللَّهِۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلۡقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ
تو اپنارخ پروردگار کے خالص دین کی طرف کر لے کیونکہ یہ فطرت ہے کہ جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔خدا کی تخلیق میں کوئی تغیر اور تبدل نہیں ہوتا اور یہی محکم و استوار دین ہے، لیکن اکثر لوگ اس حقیت کو نہیں جانتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔

31
30:31
۞مُنِيبِينَ إِلَيۡهِ وَٱتَّقُوهُ وَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَلَا تَكُونُواْ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ
تم اسی خدا کی طرف رجوع کئے رہو، نماز قائم کرتے رہو اور مشرکین میں سے نہ ہو جاؤ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔

32
30:32
مِنَ ٱلَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمۡ وَكَانُواْ شِيَعٗاۖ كُلُّ حِزۡبِۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ فَرِحُونَ
(نہ ان لوگوں میں ہونا)جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور فرقوں میں بٹ گئے۔ ہر گروہ اسی سے خوش ہے جو کچھ اس کے پاس ہے۔

تفسیر: مشاہدہ نفس اور توحید

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

اس مقام تک، مشاهدہ کائنات سے توحید و خدا شناسی کا سبق حاصل کرنے اور یہ ثابت کرنے کے لیے کہ اس علم مادی کے ماورا ایک ایسی ذات ہے جو مبداء علم و قدرت ہے، بہت سی باتیں ہوئی ہیں اور اس صورت میں جو آیات توحید سے متعلق آئی ہیں اُن سے بھی یہی سبق حاصل کیا ہے۔ اب جو نئی آیات زیر بحث ہیں ان میں سے پہلی آیت میں اس توحید کا ذکر ہے جو عالم فطرت میں موجود ہے۔ یعنی اُسی مسئلہ توحید کو مشاہدہ عالم مظاہر کے بجائے مشاہدہ نفس، مشاہدہ باطن اور کیفیت عالم وجدان کے زاویہ نظر سے بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے: خدا کے پاک اور خالص دین کی طرف رخ کرو (فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا)۔ کیونکہ یہی وہ فطرت ہے جس پر خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ خدا کے عمل تخلیق میں تغیر نہیں ہوتا (فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ)۔ اور یہی محکم و استوار دین و آئین ہے (ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ)۔ مگر اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے (وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ)۔ "وجه" کے لغوی معنٰی میں "صورت" مگر یہاں صورت ظاہری نہیں بلکہ صورت باطنی اور "روئی دل" مراد ہے۔ یعنی یہ مطلب نہیں کہ تم دین کی طرف اپنا منہ کر لو بلکہ قلبی توجہ مطلوب ہے۔ توجه قلبی کو بطور استعارة "وجه" کہا گیا ہے کیونکہ یہ جسم کا سب سے اہم عضو ہے۔ "اقم" کا مادہ "اقامه" ہے جس کے معنی میں صاف اور مستقیم کرنا اور کھڑا کرنا۔ "حنيف" کا ماده "حنف" ہے جس کے معنی میں "باطل سے حق کی طرف میلان" یا "کجی سے راستی کی طرف" اِس کی ضد "جنف" ہے یعنی راستی سے گمراہی کی طرف میلان- "دین حنیف" وہ دین ہے جو تمام انحرافات، خرافات، کجی اور گم راہیوں سے جدا ہوا اور ریاستی اور درستی کی طرف مائل ہوا ہے۔ مجموعی طور پر اس جملہ کے یہ معنی ہیں کہ اپنی توجه دائمًا اس دین کی طرف رکھو جو ہر قسم کی کجی اور ناراستی سے پاک ہے وہی آئین اسلام اور وہی خدا کا پاک اور خالص آئین۔ (تشریحی نوٹ: "الدین" میں الف و لام عمد کے معنی دیتا ہے۔ یعنی وبی دین و آئین جس کی تبلیغ پر پیمبراسلام مامور تھے)۔ اِس آیت میں بطور تاکید یہ سمجھایا گیا ہے کہ "دین حنيف" جو ہر قسم کے شرک سے پاک ہے، وہ دین ہے جو خدا نے تمام بنی نوع انسان کی سرشت میں ودیعت کیا ہے اور فطرت انسان جاودانی اور تغیر ناپذیر ہے لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ اِس آیت میں اور بھی چند حقائق ہیں: ۱- صرف خدا شناسی ہی نہیں بلکہ دین و آئین بطور کلی تمام جہات سے ایک امر فطری ہے اور ہونا بھی ایسا ہی چاہیے کیونکہ جب ہم حقیقت توحید پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اُمور تکوینی اور اُمور تشریعی کے درمیان ہم آہنگی ہونی چاہیے مراد یہ ہے کہ احکام شریعت فطرت انسانی کے مطابق ہوں اور انسان کی فطرت سے بھی شریعت کے قوانین کی تائید ہوتی ہو۔ اِس مطلب کو بالفاظ دیگر یوں ادا کیا جا سکتا ہے کہ "تکوین" (فطرت انسانی) اور "تشریع" (اُمور شرعی) دونوں قوی بازوؤں کی مانند ہیں، جو اعمال انسانی میں ہم آہنگی کے ساتھ شامل رہتے ہیں۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی امر شریعت ایسا ہو جو فطرت انسان کے خلاف ہو۔ بخلاف اس کے یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ انسان کی فطرت سلیم میں کوئی میلان ہو اور شریعت اُس کی مخالفت کرے۔ اِس میں شک نہیں کہ "شریعت" فطرت انسان کی عناں گیر رہتی ہے اور اُسے منحرف راستوں سے روکنے کے لیے اس پر حُدود و قیود اور شرائط عائد کرتی رہتی ہے۔ مگر سلامت رو فطری خواہشات کی ہرگز مخالفت نہیں کرتی بلکہ انہیں مشروع طریقوں سے پورا کرنے کی ہدایت کرتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو "تکوین" اور "تشریع" میں تضاد پیدا ہو جائے، جو اساس توحید سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ زیادہ واضح الفاظ میں یوں کہنا چاہیے کہ خدا ایسے کام نہیں کرتا جو ایک دوسرے کے ضد و نقیض ہوں۔ یعنی ایسا نہیں ہو سکتا کہ اُس کا فرمان تکوینی تو یہ ہو کہ یہ کام کر اور فرمان تشریعی میں ہو کہ نہ کر۔ ۲- دین اپنی خالص اور ہر قسم کی آلودگی سے پاک صورت میں انسان کے تحت الشعور میں موجود ہے۔ انسان کا راہ مستقیم سے منحرف ہونا ایک عارضی امر ہے۔ اِس بنا پر پیمبروں کا فرض یہ ہے کہ وہ انسان کو ان عارضی انخرافات سے روک دیں اور ان کی اصلی فطرت کو اظہار کا موقع فراہم کریں۔ ٣- نیز جمله "لاتبديل لخلق الله" اور اُس کے بعد جملہ "ذالك الدين القيّم" مذہب اور دین کے فطری ہونے اور فطرت الٰہی کے عدم امکان تغیر پر تاکید ہے۔ ہر چند کہ بہت سے لوگ کافی استعداد نہ ہونے کی وجہ سے اس حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ اس نکتے کی طرف بھی توجہ لازم ہے کہ کلمہ " فطرت" کا مادہ " فطر" (بروزن بزر) ہے۔ اس کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے طول سے چیرنا۔ یہ کلمہ مجازی طور پر بمعنی خلقت استعمال ہوتا ہے۔ گویا کہ موجودات عالم کی آفرنیش کے وقت پرده عدم شگافتہ ہوا اور مخلوقات ظاہر ہو گئیں۔ بہرحال، جب انسان روز اول عالم ہستی میں قدم رکھتا ہے تو اُسی دن سے یہ نور الٰہی اس کے دل میں چمکنے لگتا ہے ہم نے جو کچھ سطور بالا میں کہا ہے اس کی وہ متعدد روایات تائید کرتی ہیں جو اس آیت کی تفسیر میں مذکور بوئی ہیں۔ ہم اُن کا اس وقت ذکر کریں گے جب اس آیت کے نکات لکھیں گے۔ اس کے علاوہ، ہم یہ بھی بیان کریں گے کہ "توحید" ایک فطری شے ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں یہ اضافہ ہے کہ دین حنیف یعنی خالص و قطری دین کی بات تمہاری توجہ اس حال میں ہے کہ تم خدا کی طرف لوٹو گے (مُنِيبِينَ إِلَيْهِ)۔ تمہارے وجود کی اصل و اساس توحید پر ہے اور آخر کار تم اسی بنیاد کی طرف لوٹ جاؤ گے۔ کلمه "منيبين " کا مادہ "انابه" ہے جس کے وضعی معنی ہیں "پھر لوٹ آنا"- اس مقام پر اس لفظ کا، فہوم ہے "خدا کی طرف لوٹ آنا" یا "توحید کی فطرت کی طرف لوٹ آنا" یہ بات اس لیے کہی گئی ہے کہ ہمیشہ ایسے اسباب پیدا ہونے کا امکان ہے جو انسان کو عقیدہ و عمل کے لحاظ سے مرکز توحید سے منحرف کر دیں۔ اِس حالت میں انسان کو خدا کی طرف لوٹنا چاہیے اور جتنی مرتبہ بھی اس عمل کی تکرار ہو گی، فطرت توحید محکم و استوار ہوتی جائے گی اور اسباب انحراف کمزور اور ضعیف ہوتے جائیں گے یہاں تک کہ ہمیشہ کے لیے انسان کا عقیدہ توحید کم ہو جائے گا اور وہ "فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا" کا مصداق ہو جائے گا۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ "اقم و جھك" میں صیغہ واحد ہے اور "منيبين" میں صیغہ جمع ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلا حکم اگرچہ مفرد صورت میں ہے اور اس کے مخاطب جناب رسالت مآبؐ ہیں۔ لیکن حقیقت میں اس سے تمام مسلمان اور مومنین مراد ہیں۔ "انابت" اور "بازگشت" کے ذکر کے بعد "تقویٰ" کا حکم ہے کہ جو تمام اوامر و نواہی کا جامع ہے۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے: خدا سے پرہیز کرو (وَاتَّقُوهُ) یعنی اُس کے احکام کی مخالفت سے پرہیز کرو۔ اُس کے بعد تمام اوامر میں سے سب سے زیادہ زور اور تاکید نماز پر ہے۔ فرمایا گیا ہے، نماز قائم کرو (وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ)- کیونکہ نماز ہر جہت سے شرک کے ساتھ مبارزۃ کا بہترین لائحہ عمل ہے اور عقیدہ توحید اور ایمان باللہ کو مستحکم کرنے کا بہترین وسیلہ ہے۔ اِس لیے ذکر صلوة کے بعد بھی شرک کے بارے میں فرمایا گیا ہے: مشرکین میں سے مت ہوجانا (وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ)۔ کیونکہ "شرک" عظیم ترین گناہ اور اکبر کبائر ہے۔ ممکن ہے روز حساب خدا بر قسم کے گناہوں کو بخش دے مگر وہ گناہ مشرک کو کبھی نہ بخشے گا جیسا کہ سورہ نساء کی آیت ۴۸ میں مذکور ہے: إِنَّ اللّهَ لاَ يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَن يَشَاءُ خدا گناہ شرک کو ہرگز نہیں بخشے گا، لیکن اگر وہ چاہے گا تو اس سے کمتر گناہوں کو بخش دے گا۔ یہ واضح ہے کہ اس آیت میں چار احکام آئے ہیں (یعنی تو و بازگشت بسوی خدا، تقویٰ، اقامت نماز اور پرہیز از شرک): یہ سب مسئلہ توحید اور اس کے آثار عملی پر تاکید کے لیے ہیں۔ زیر نظر آیت میں علامات و نتائج شرک میں سے ایک کو نہایت مختصر اور پُر معنی عبارت میں بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے تم مشرکین میں سے نہ ہو جانا۔ وہی لوگ جنہوں نے اپنے دین کو پارہ پارہ کر لیا ہے اور مختلف فرقوں اور جماعتوں میں تقسیم ہو گئے ہیں: (مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا)۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ اُن فرقوں میں باہم جو تضاد و اختلاف ہے، اس کے باوجود ہر گروہ اپنے عقاید اور مسلمات سے خوش ہے: (كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ)- یہ مُسلم ہے کہ علامات شرک میں سے ایک پراگندگی اور باہمی تفرقہ بھی ہے کیونکہ مختلف مُعبودوں کی پرستش سے متفاوت عقائد اور منتشر روش فکر پیدا ہوتی ہے اور یہ چیزیں باہمی تفرقہ اور پراگندگی کا موجب ہو جاتی ہیں۔ شرک کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ ہوائے نفس، تعصب، کبر، خود خواہی اور خود پسندی اس کے سایہ بہ سایہ رہتی ہے۔ اِس لیے کسی قوم میں اتحاد و حدت صرف خدا پرستی، تواضع و ایثار اور عقلی روش ہی کے تحت باقی رہ سکتی ہے۔ منطق استخراجی کے اصول سے ہمیں جہاں بھی اختلاف اور پراگندگی نظر آئے تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہاں کسی نہ کسی قسم کا شرک ضرور موجود ہے۔ اخذ نتائج کے اعتبار سے اس مضمون کو بصُورت تکرار یوں کہا جا سکتا ہے کہ شرک کا نتیجہ کسی قوم میں تفرقہ تضاد ذہنی توانائیوں کا ضیاع اور آخر کار اُس قوم کا ضعف و ناتوانی اور تباہی ہے۔ لیکن یہ کہ مشرکین اور منحرفین راه راست میں سے ہر گروہ نے اپنے لیے جو راه انتخاب کر لی وہ اسی کو حق سمجھتا ہے اور اور اُسی سے خوش ہے۔ ان کی یہ روش کسی دلیل کی محتاج نہیں ہے۔ کیونکہ ہوا و ہوس انسان کی دلی خواہشات کو اس کی نظر میں مزین کر کے جلوہ گر کرتی ہے اور خواہشات کی اس جلوہ آرائی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کو اس طریق حیات سے جو اس نے اختیار کر لی ہے زیادہ دل بستگی اور راحت قلب محسوس ہونے لگتی ہے۔ خواہ وہ راہ عمل قطعی گمراہی ہی کیوں نہ ہو۔ جب انسان کی چشم بصیرت پر خواہشات نفس کا پردہ پڑ جاتا ہے تو وہ چہرہ حقیقت کو اس کی اصل شکل میں نہیں دیکھ سکتا اور حب و بغض سے غیر جانبدار ہو کر کر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا۔ سورة فاطر آیت ۸ میں یوں مذکور ہے: أَفَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ فَرَآهُ حَسَنًا وہ شخص جس کی نظر میں اُس کے اعمال قبیح مزین ہو گئے ہیں اور وہ اسے حسیں نظر آتے ہیں، کیا وہ اُس شخص کی مانند ہے جو راہ خدا میں قدم اٹھاتا ہے اور حقائق کو اصل صورت میں بےنقاب دیکھتا ہے؟

چند نکات: ۱- توحید انسان کی داخلی قوی قوتِ جاذبہ ہے

جس طرح عقلی اور منطقی دلائل انسان کے طرز عمل کو معین کرتے ہیں، اسی طرح اس کے نفس میں ایسے جذبات اور تمایلات بھی موجود ہیں کہ جو کبھی تو شعوری اور کبھی غیر شعوری طور پر اس کے طرز عمل کا تعین کرتے ہیں۔ نسلِ انسانی کی بقا کا راز ہی یہ ہے کہ انسان مسائل حیات میں ہمیشہ دلائل عقلی و منطقی سے کام نہیں لیتا۔ کیونکہ اگر وہ ایسا کرنے لگے تو بہت سے مقاصد زندگی معطل ہو کے رہ جائیں۔ مثلا اگر انسان غذا کھانے یا آمیزش جنسی کے لیے طبی اور منطقی دلائل دینے لگ جاتا؛ یعنی یہ کہ غذا کھانے سے بدن کی تحلیل شدہ توانائی کا نعم البدل میسر ہوتا ہے اور توالد و تناسل انسانی نسل کی بقا کا باعث ہے، تو اس کی نوع اب سے پہلے کبھی کی ختم ہو چکی ہوتی۔ لیکن جنسی جذبہ و جبلت اور غذا کھانے کی خواہش خواہ نہ خواہ اس سے یہ اعمال سرزد کراتی ہے اور یہ مقاصد جس قدر ایک فرد کی زندگی کی بقا اور نوع کی بقا کے لیے زیادہ مفید ہوتے ہیں یہ جذبات بھی اتنے ہی زیاده قوی ہوتے ہیں۔ لیکن یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ کشش اور میلان دو قسم کا ہے۔ کبھی تو غیر شعوری ہوتا ہے۔ جیسے کہ حیوانات عقل و فکر کے بغیر ہی غذا اور جنس مخالف کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ اور کبھی یہ میلان شعوری ہوتا ہے یعنی یہ جبلت عقل و شعور سے کام لے کر اپنا عمل کرتی ہے۔ قسم اوّل کے جذبات کو "جبلت" اور قسم دوم کو "فطرت" کہتے ہیں۔ خدا پرستی اور اس کی ذات کی طرف میلان قلب ہر شخص کی فطرت اصلیہ ہے۔ ممکن ہے کہ بعض حضرات ہماری اس بات کو ایسا مدعا سمجھیں جو خدا پرست لوگوں کی طرف سے تراش لیا گیا ہے؛ مگر ہمارے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن سے نہ صرف انسان کا میلان ذات الٰہی کی طرف فطری ثابت ہوتا ہے بلکہ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مذہب اپنے تمام اصولوں کے ساتھ ایک فطری امر ہے، مثلًا: (۱) انسان کی پُر ہنگامہ طویل تاریخ میں ہمیشہ کسی نہ کسی کا مذہبی اعتقاد اور ماورائے فطرت طاقت پر ایمان ضرور رہا ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ فطرت انسان ہے کیونکہ اگر اعتقاد و ایمان بااللہ صرف انفرادی رجحان اور عادت ہوتا اور یہ جذبہ عمومیت نہ رکھتا اور نہ دائمی اور ہمیشگی ہوتا تو یہ نتیجہ نکالا جا سکتا تھا کہ یہ عارضی واقع ہے مگر اس کی عمومیت اور دوام اس کے فطری ہونے کی دلیل ہے۔ بڑے بڑے مورّخین کی رائے ہے کہ انھوں نے جہاں تک انسانی تارین کا کھوج لگایا ہے اور زمانہ ماقبل تاریخ کا جس حد تک انکشاف ہوا ہے، انھوں نے انسانی معاشرے میں "لإدینیت" کا بجز استثنائی صورت کے کہیں نشان نہیں پایا۔ عصر حاضر کا مشہور مورخ ویل ڈیورنٹ کہتا ہے: اگر ہم مذہب کی یہ تعریف کریں کہ وہ "مافوق الطبيعت" قوتوں کی پرستش کا نام ہے۔ تو ابتدائے بحث ہی سے یہ نکتہ ملحوظ رکھنا چاہیے کہ بعض ابتدائی اقوام کے ظاہر کوئی مذہب نہ تھا۔ اس کے بعد وہ اس قسم کی اقوام کی مثالیں دے کر لکھتا ہے کہ یہ مثالیں نادرات میں سے ہیں۔ اور یہ قدیم اعتقاد مطابق حقیقت ہے کہ:- "دین ایک ایسا مظہر ہے جو ہر انسان کی فطرت سے ابھرتا ہے"۔ اِس کے بعد وہ یہ اضافہ کرتا ہے کہ ایک فلاسفر کی نظر میں مذہب کے وجود کا مسئلہ، نفسیات اور تاریخ کے بنیادی مسائل میں سے ہے۔ وہ اس پہلو کی طرف توجہ نہیں کرتا کہ تمام ادیان میں لغو اور خلاف عقل عقائد موجود ہیں۔ بلکہ وہ اس حقیقت پر غور کرتا ہے کہ جب سے تاریخ انسانی شروع ہوتی ہے، اُسی وقت سے "دین" بھی کسی نہ کسی صورت میں موجود رہا ہے۔ اختتام کلام پر وہ اپنی گفتگو کو اس پر معنٰی سوال ختم کر دیتا ہے۔ "یہ تقویٰ جسے کسی طرح بھی انسان کے دل سے محو نہیں کیا جا سکتا اس کا منبع کہاں ہے؟" (بحوالہ: تاریخ تمدن، جلد اوّل صفحہ ۸۷ تا ۸۹)۔ یہی مورخ اپنی ایک اور تحقیق میں (جو اُس نے ادیان ماقبل تاریخ کے متعلق کی ہے) یوں لکھتا بے: اگر ہم ماقبل تاریخ میں وجود مذہب کا تصور پیش نظر نہ رکھیں تو ہم اس کے وجود کو موجودہ تاریخی دور میں کبھی نہیں سمجھ سکتے۔ (بحوالہ: تاریخ تمدن، جلد اوّل صفحہ ۱٥۶)۔ ماقبل تاریخ انسانوں کے متعلق آثار قدیمہ کی کھدائی سے جو حالات معلوم ہوتے ہیں، اُن سے بھی اس امر کی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ مشہور عالم علم معاشرت sociologist سموایل کینگ اپنی کتاب بنام "جامعہ شناسی" میں لکھتا ہے: موجودہ نسل انسانی کے اسلاف بھی یقینًا کسی مذہب کے معتقد تھے۔ وہ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں ان آثار کو پیش کرتا ہے جو آثار قدیمہ کی کھدائی سے منکشف ہوئے ہیں کہ وہ:- اپنے مردوں کو ایک مخصوص وضع سے دفن کرتے تھے اور اُن کے ساتھ ایسی اشیا بھی رکھتے تھے جو ان کے عقیدے کے مطابق بروز قیامت کام آئیں۔ (بحوالہ: جامعه شناسی، صفحہ ۱۹۲)۔ بہرحال، کوئی محقق بھی مذہب کو انسان کی تاریخ حیات سے جدا کرنا قبول نہیں کرتا۔ (۲) آج کی دنیا کے مشاہدے سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس زمانے کی بعض مستبد طاقتوں نے اپنی پوری کوشش اور طاقت صرف کر کے لوگوں کے دلوں سے مذہب کو محو کرنا چاہا۔ لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئیں۔ چنانچہ ہم خُوب جانتے ہیں کہ روس کی برسر اقتدار پارٹی، ساٹھ برس سے بغیر کسی وقفے کے مسلسل پروپیگنڈے اور معاشرے ساتھ رابطہ پیدا کرنے کے جملہ وسائل سے کام لے کر یہ کوشش کر رہی ہے کہ لوگوں کے دلوں اور دماغوں سے مذہبی اعتقادات کو بالکل ختم کر دے۔ لیکن اس آہنی پردے سے کبھی کبھی جو خبریں پھوٹ نکلتی ہیں اُن سے معلوم ہوتا سے کہ تمام پروپیگنڈے اور سخت گیری کے باوجود وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ حالیہ دنوں میں روس کی بعض ریاستوں میں مذہبی جوش و خروش زیادہ نظر آنے لگا ہے۔ جس نے حکومت کے حکام بالا کو حیران کر دیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کسی روز یہ سختی اور گلوگیری ختم ہو گئی تو مذہب پھر اپنی جگہ لے لے گا۔ یہ امر اس بات کا شاہد ہے کہ مذہب ایک فطری چیز ہے۔ (٣) علاوہ بریں، ماہرین نفسیات اور ماہرین تجزیہ نفسی PSYCHO ANALYSTS نے ابعاد رُوحِ انسانی PSYCHO DIMENSIONS کے بارے میں جو انکشافات کیے ہیں وہ بھی مذہب کے فطری ہونے پر شاہد ہیں۔ وہ کہتے ہیں نفس انسانی سے مختلت bعاد کے متعلق تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ اس میں ایک جوہر قدسی یا یزدانی بھی ہے جسے جبلت مذہبی کہنا چاہیے. بعض ماہرین نفسیات اس امر کے قائل ہیں کہ انسان میں سچائی، علم، نیکی اور زیبائی کے جذبات کا سرچشمہ یہی جوہر قدسی ہے۔ علمائے نفسیات کا قول ہے کہ نفس انسانی میں اصولی اور اساسی محرکات حسب ذیل ہیں: ۱- تحقیق کی حِسِّ: انسان میں یہ حِس ہر قسم کے علوم و فنون کا سرچشمہ ہے۔ یہی انسان کو رموزِ کائنات کی تحقیق اور انکشاف پر آمادہ کرتی ہے۔ ۲- نیکی کی حسّ: ETHICAL INSTINCT یہ حِس انسان کو فضائل اخلاقی مثلاً عدالت، شجاعت، قربانی اور ان جیسے دیگر امور کی طرف مائل کرتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر انسان میں بذات خود یہ صفات نہ ہوں تو وہ ایسے فضائل کے حاملین کو ہیرو سمجھنے لگتا ہے۔ اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان طینت میں نیکی کا میلان موجود ہے۔ ٣- حِس زیبائی (جبلّتِ حُسن) AESTHETIC INSTINCT جلّبت انسان کو فنون لطیفے، جمالیات، ادبیات ذوقی اور وجدانی اشواق کی طرف مائل کرتی ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ فرد اور معاشرے کو متغیر کر دیتی ہے۔ ۴- مذہبی حسِّ RELIGIOUS INSTINCT یعنی یہ ایمان رکھنا کہ اس کائنات کا ایک خالق اور اس کی عبادت اور حمد و ثنا کرنا۔ اس موضوع پر کُووِن ٹایم نے جو مقالہ سپرد قلم کیا ہے اس میں وہ لکھتا ہے: سگمنڈ فرائڈ نے انسان کے لاشعور کے متعلق جو تحقیقات شروع کی تھیں (جسے الفرڈ ایڈالر اور جُنگ نے ترقی دی) اس سے علم نفسیات کے دائرہ علم میں ایسی قوتیں آئی ہیں جو انسان کے نفس کی گہرائیوں میں مستور ہیں، جبر ادراک حقائق کرتی اور ماوراء عقل رمُوز کی معرفت حاصل کرتی ہیں۔ ممکن ہے کہ ان تحقیقات سے یہ بھی ثابت ہو جائے کہ انسان میں "دینی حِس " موجود ہے اور اس کا راز کیا ہے۔ ہر چند کہ ابھی اس (حِس دینی) کے متعلق ماہرین نفسیات میں اتفاق نہیں ہے، تاہم اس مسئلے پر غور و فکر کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف مکاتب فکر کے علمائے نفسیات میں "حِس دینی" کی اس تعریف پر متفق ہیں جو ہم ذیل میں درج کرتے ہیں:- "دینی حس" نفس انسانی کے فطری اور مستقل عناصر اولیہ میں سے ہے۔ یہ احساس نفس کا حقیقی اور زیبا ترین حصہ ہے۔ نفس پر جو دوسری کیفبات طاری ہوتی ہیں یہ ان میں سے کسی سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔ اس احساس کا چمشہ لاشعور کی گہرائی سے پھوٹتا ہے۔ انسان کے اندر جو ذوق جمال، نیکی اور راستی کا رجحان موجود ہے اس کی علت بھی یہی احساس ہے جسے مفہوم دینی یا زیادہ صحیح الفاظ میں مفہوم مقدس کہنا چاہیے۔ اگر ان چاروں احساساتِ بالا کو "مقولات اربعہ" کہا جائے تو دینی حس ہی ایک ایسا مقولہ ہے جس میں باقی تینوں احساسات مع اپنی خصوصیات شامل ہیں۔ (بحوالہ: مقالہ کودل ٹائم، ترجمہ مہندس بیانی در کتاب۔ حس مذہبی یا بعد چہارم روح انسانی")۔ تانہ گی۔ دو کینٹین کے محققانہ مقالہ کا جو تلخیص اور ترجمہ کیا گیا ہے، اُس میں مذکور ہے: (تشریحی نوٹ: ایرانی اہل قلم انگریزی، فرانسیسی اور جرمن ناموں کے املاء کو اس طرح بگاڑ دیتے ہیں کہ ان کی اصلیت کا پتا چلانا دشوار کیا امر محال ہو جاتا ہے مذکورہ نام "تانہ گی۔ دو کینٹین" کا آخری حصہ تو KANTAIN ہے۔ اول کے دو لفظوں کی تحقیق نہ ہو سکی)۔ جس طرح کہ عصر حاضر کی امتیازی خصوصیات میں سے ہے کہ عالم مادی میں طول، عرض و عمق کے علاوہ، ایک چوتھا بعد "زمان" یا "مکان" بھی بیان کیا جاتا ہے؟ (تشریحی نوٹ: بعد چہارم کا محقق البرٹ آئن اسٹائن ہے ۱۹٥٥- ۱۸۷۹ یہ محقق ماہر ریاضیات تھا۔ اُس کا نظریہ ہے کہ کسی شے کی مکان و زمان میں پوزیشن چوتھا بعد ہے۔ POSITIONN IN SPACE AND TIME)۔ جو قضا کے ابعاد ثلاثہ سے منفرد ہوتے ہوئے اُن تین ابعاد کا جامع بھی ہے۔ اسی طرح اس زمانے کے ماہرین نفسیات نے نفس انسانی میں حس جمال، حس خیر اور تجسس کی حس کے علاوہ، ایک قدسی یا یزدانی حس (کہ جسے حقیقت میں نفس انسانی کا بعد چہارم کہنا چاہیے) کو دوباره ثابت کیا ہے۔ (تشریحی نوٹ: مصنف نے جملے میں کلمہ دوبارہ اس لیے اضافہ کیا ہے رہبران دین تو نفس کی اس قوت کو پہلے ہی بتا چکے تھے جیسے کہ قرآن میں ہر مقام پر خطاب "نفس" سے ہے)۔ نفس کا بعدِ چہارم (یعنی حِس قدسی) باقی احساسات سے منفرد ہے۔ ممکن ہے احساسات سہ گانہ اسی سے پیدا ہوئے ہوں۔ (۴) انسان کی یہ جبلت بھی کہ وہ مصائب کے طوفان میں اپنی مشکلات کے حل اور شدائد زندگی سے نجات حاصل کرنے کے لیے کسی نادیدہ اور ماورائی طاقت سے لو لگاتا ہے۔ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ اس کے اندر ایک اندرونی جذبہ اور فطری الہام موجود ہے، جو اسے وجود خدا کا یقین دلاتا ہے۔ ممکن ہے کہ بعض حضرات انسان کے اس میلان کو اس مذہبی پروپیگنڈے کا ردعمل سمجھیں جو ہمیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے اور ہم عمر بھر اس سے متاثر ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس جذبے کے مظاہر تمام انسانوں، یہاں تک کہ ان لوگوں میں بھی موجود ہیں جو عام طور پر مذہبی ذوق نہیں رکھتے۔ تو ثابت ہوتا ہے کہ یہ شک و اعتراض غلط ہے۔بلکہ کسی ماورائی طاقت پر اعتقاد رکھنا انسان کے نفس کی گہرائی میں موجود ہے، جو کہ کسی پروپیگنڈے کا نتیجہ نہیں ہے۔ (٥) انسان کی زندگی میں ایسے واقعات بھی نظر آتے ہیں جن کی حِّس مذہبی کے منہاج کے سوا اور کوئی تاویل و تفسیر نہیں ہو سکتی۔ مثلًا ـــــــ ہم ایسے انسانوں کو دیکھتے ہیں کہ جو نہایت جوش کے ساتھ اپنے تمام مالی وسائل کسی مذہبی مقصد نظریے پر قربان کر دیتے ہیں۔ اُن کے پاس جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ بے نظیر طور پر مذہب پر نثار کر دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اس راہ میں جان دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ وہ شہداء جنہوں نے مقاصد الٰہی کو پورا کرنے کے لیے میدان جنگ میں ذوق و شوق سے شربت شہادت نوش کیا ، صرف اسلامی تاریخ ہی میں ایسے افراد کی مثالیں بکثرت نہیں پائی جاتیں بلکہ دوسری اقوام اور ملتوں کی تاریخ میں بھی کم نہیں ہیں یہ مثالیں اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ انسان کے نفس کی گہرائیوں میں مذہبی حس موجود ہے۔ ممکن ہے کہ اس موقع پر یہ سوال بھی اٹھایا جائے کہ کمیونسٹ لوگ جو اپنے الحاد اور مذہبی مخالفت کو چھپاتے تک نہیں اُن میں بھی اپنے معتقدات اور افکار کے لیے ایسا ہی قربانی کا جذبہ موجود ہے۔ لیکن اگر قدرے غور کیا جائے تو یہ اعتراض پابر ہوا ثابت ہوتا ہے۔ وہ یوں کہ کمیونسٹ حضرات جو مذہب کی کلیتا نفی کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ مذہب اساطیر الاولین میں سے ہے اور انسان کی ابتدائی سرگذشت کی یادگار ہے، جب کہ وہ عالم طفلی تھا۔ اس لیے کمیونسٹ معاشرے میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے لاشعوری طور پر اپنے اس عقیدے کو مذہب بنا لیا ہے۔ وہ لوگ اپنے قومی رہنماؤں کو اسی نظر عقیدت سے دیکھتے ہیں جیسا کہ مصر کے بت پرست اپنے بتوں کو دیکھتے تھے۔ چنانچہ لینن کی قبر کی زیارت کے آئے دن جو اوصاف وضع کیے جاتے ہیں وہ اس کا ثبوت ہیں۔ وہ لوگ "مارکس ازم" کے اصولوں کو مثل وحی آسمانی اور نقص سے پاک اور مقدس سمجھتے ہیں۔ وہ مارکس اور لینن کو معصومین کی طرح منزه عن الخطا تصور کرتے ہیں، یہاں تک کہ ان اصولوں میں اصلاح اور تجدید نظر ناقابل معافی گناہ سمجھتے ہیں۔ نیز اپنے مخالفین کو اہل دین ہی کی اصطلاح میں "مُرتد" کہتے ہیں۔ گویا کہ اُن کے لیے لادینی (منحرف شکل میں) ایک دین بن گئی ہے اور اُن کے افکار، مراسم اور اعتقادات مذہبی رنگ اختیار کر گئے ہیں۔

۲- احادیث اسلامی میں فطرتِ خُدا شناسی کا ذکر:

صرف قرآن ہی میں نہیں بلکہ احادیث اسلامی میں بھی "معرفت الٰہی" اور توحید کے ایک امر فطری ہونے کے بارے میں خوب بحث کی گئی ہے۔ ان میں سے بعض احادیث میں "فطرت توحیدی" اور بعض میں عنوان "معرفت" کے تحت، بعض میں " فطرت اسلامی" یہاں تک کہ بعض میں اس جذبے کو "ولایت" کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ مُحدّث بزرگوار جناب کلینی نے " اصول کافی" میں ہشام ابن سالم کے واسطے سے ایک نہایت معتبر حدیث نقل کی ہے۔ ہشام کا قول ہے کہ اس نے امام جعفر صادقؑ سے دریافت کیا کہ: "فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا" میں فطرت سے کیا مراد ہے؟ آپؐ فرمایا کہ "توحید" مراد ہے۔ (بحوالہ: اصول کافی، جلد۲ صفحہ۱٠ (باب فطرة الخلق على التوحيد)۔ نیز اسی کتاب "کافی" میں امام جعفر صادق کے ایک صحابی سے ایک اور حدیث منقول ہے کہ اس صحابی نے جب آیت مذکور کی تفسیر دریافت کی تو آپؑ نے فرمایا کہ " فطرت" سے مراد " اسلام" ہے۔ (بحوالہ: کافی، ص۱٠)۔ امام باقر علیہ السلام سے ایک اور حدیث اسی کے مشابہ منقول ہے کہ آپؑ کے ایک صاحب علم صحابی زرارہ نے جب اس آیت کی تفسیر دریافت کی تو آپؑ نے فرمایا کہ:- فطرهم على المعرفة به خدا نے فطرت انسانی میں اپنی معرفت و شناخت کا جذبہ رکھا ہے۔ (بحوالہ: کافی، ص۱٠)۔ جناب رسالت مآب صلی الله علیہ و آلہ وسلم سے ایک حدیث منقول ہے جو مشہور ہے: كُل مولود يولد على فطرة الاسلام حتى لیكون ابواہ هما اللذان يهودانه و ینصرانه ہر بچہ نوزاد فطرت اسلام اور شرک سے خالی دین پر پیدا ہوتا ہے۔ بعد میں اُس کے ماں باپ اس پر یہودیت یا نصرانیت سے انحرافی عقائد کا رنگ چڑھا دیتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر جمع الجوامع از مرحوم طبرسی ذیل آیت مورد بحث)۔ اصولِ کافی میں امام جعفر صادقؑ سے ایک حدیث اسی آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ آپؑ سے جب آیت مذکور تفسیر دریافت کی گئی تو جواب میں فرمایا کہ "فطرت" سے مراد ولایت اور اولیائے الٰہی کی رہبری کو قبول کرنا ہے۔ (بحوالہ: تفسير نورالثقلين، جلد ۴ صفحہ۱۸۴)۔ امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے اپنے ایک خطبہ میں (جو کہ نہج البلاغہ میں مندرج ہے) مختصر مگر بلیغ الفاظ میں یوں ارشاد فرمایا ہے: فبعث فیهم رسله و واتر اليهم انبيائه لیستادوھم میثاق فطرته ويذكروهم مسنی نعمته ويحتجوا عليهم بالتبلیغ ویثیروا لھم دفائن العقول خدا نے انسانوں کی طرف اپنے رسول بھیجے اور یکے بعد دیگرے انبیا کو مامور کیا تاکہ وہ اُن سے پیمان فطرت کے ایفا کا مطالبہ کریں اور انھیں خُدا کی وہ نعمتیں یاد دلائیں جھنیں وہ بھول گئے ہیں اور بذریعہ تبلیغ ان پر اتمام حجت کریں اور اُن کے لیے عقل کے خزانوں کو فاش کر دیں۔ مذکورہ روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ سرشت انسانی میں صرف "معرفت الٰہی" ہی نہیں بلکہ کل اسلام بصورت ایجاز و دیعت ان کیا گیا ہے۔ جس میں توحید سے لے کر پیشوایان الٰہی کی رہنمائی، پیغمبر کے سپچے جانشین یہاں تک کہ فروعات دین سب کو شامل ہے۔ نہج البلاغہ سے جناب امیر المومنینؑ کا جو قول سطور بالا میں نقل کیا گیا ہے، اس کی اساس پر پیغمبروں کا فرض فطرت انسانی کی گره کشائی خدا کی فراموش کردہ نعمتوں کو یاد دلانا، انسان کی فطرت توحیدی کو بیدار کرنا اور نفس انسانی کے لاشعور میں معرفت الٰہی کے جو خزینے مخفی ومستور ہیں، انھیں واشگاف کر کے حالت شعور میں لانا ہے۔ یہ نکته مستحق توجہ ہے کہ دنیاوی زندگی میں انسان کو جو مشکلات، تکالیف اور دردناک حادثات پیش آتے ہیں، قرآن شریف میں ان امور کا اس پہلو سے ذکر کیا گیا ہے کہ یہ انسان کے اندر حس مذہبی کو بیدار کرنے کے وسائل ہیں۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے: فَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَo جس وقت وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں اور سمندر میں خطرات میں گھر جاتے ہیں تو بڑے خلوص خدا کو پکارتے ہیں۔ مگر جب اُنھیں خدا سلامتی کے ساتھ خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو وہ پھر مشرک ہو جاتے ہیں۔ (سورہ عنکوبت- ۶٥) اس مضمون کے متعلق اسی سورۃ کی (جو کہ سورہ عنکبوت سے مشابہ ہے) آیات مابعد کی تفسیر کرتے ہوئے اور باتوں کا بھی ذکر کیا جائے گا۔

33
30:33
وَإِذَا مَسَّ ٱلنَّاسَ ضُرّٞ دَعَوۡاْ رَبَّهُم مُّنِيبِينَ إِلَيۡهِ ثُمَّ إِذَآ أَذَاقَهُم مِّنۡهُ رَحۡمَةً إِذَا فَرِيقٞ مِّنۡهُم بِرَبِّهِمۡ يُشۡرِكُونَ
جس وقت لوگوں کو ضرر پہنچتا ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتے اور اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ پھر جب وہ انہیں اپنی رحمت کا مزہ چکھاتا ہے تو ان میں سے ایک فریق اپنے پروردگار کی طرف سے مشرک ہو جاتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

34
30:34
لِيَكۡفُرُواْ بِمَآ ءَاتَيۡنَٰهُمۡۚ فَتَمَتَّعُواْ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُونَ
تاکہ ہماری نعمتوں کا انکارکرے۔تم فائدہ اٹھا لو مگر جلد ہی تمہیں معلوم ہو جائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

35
30:35
أَمۡ أَنزَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ سُلۡطَٰنٗا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُواْ بِهِۦ يُشۡرِكُونَ
کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی محکم دلیل نازل کی ہے جو انہیں شرک کرنا سکھاتی ہے اور اس کی توجیہ کرتی ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

36
30:36
وَإِذَآ أَذَقۡنَا ٱلنَّاسَ رَحۡمَةٗ فَرِحُواْ بِهَاۖ وَإِن تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةُۢ بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيهِمۡ إِذَا هُمۡ يَقۡنَطُونَ
اور جب ہم لوگوں کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس سے خوش ہو جاتے ہیں اور جب ان کے اعمال کے سبب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اچانک مایوس ہو جاتے ہیں۔

تفسیر: تصوّرِ توحید، ایک فطری امر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

زیر نظر آیات میں سے پہلی آیت گزشتہ آیات کے مضمون پر استدلال اور تاکید ہے یعنی تصور توحید ایک فطری امر ہے اور مصائب اور شدائد کے وقت یہ نور الہی دل میں چمکتا ہے۔ چنانچہ خداوند عالم فرماتا ہے: جب انسانوں کو کوئی ضرر پہنچتا ہے تووہ خدا کو یاد کرتے ہیں اور اُس کی طرف رجوع کرتے ہیں: (وَإِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُم مُّنِيبِينَ إِلَيْهِ)۔ لیکن یہ لوگ اس قدر کم ظرف، کوتاہ فکر، اسیر تعصب اور اپنے بزرگوں کے ایسے اندھے مُقلٗد ہیں کہ جیسے ہی اُن کے اُوپر سے سخت حادثات گزر جاتے ہیں اور نسیم راحت و آرام چلتی ہے اور خدا ان پر اپنی طرف سے رحمت کی بارش کرتا ہے تو ان میں سے ایک گروہ اپنے پروردگار کے معاملے میں مُشرک ہو جاتا ہے: (ثُمَّ إِذَا أَذَاقَهُم مِّنْهُ رَحْمَةً إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُم بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ)۔ اِس مقام پر " مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ"سے مُراد معمولی تکلیف ہے۔ اِسی طرح " أَذَاقَهُم مِّنْهُ رَحْمَةً"۔ (جب وہ اپنی طرف سے رحمت چکھاتا ہے) سے بھی اشارہ نعمت کی مقدار قلیل ہے۔ کیونکہ ایسے موقعوں پر کلمہ "أَذَاقَ" (چکھانا) کا استعمال کسی شے کی مقدار قلیل کے لیے ہوتا ہے۔ بالخصوص جب کہ کلمات "ضر" اور "رحمۃ" ہر دو اسم نکرہ استعمال ہوئے ہیں۔ اس گفتگو کا ماحصل یہ ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں کہ جب اُنہیں کوئی معمولی مشکل بھی پیش آتی ہے تو اُن کی فطرۃ توحید پر سے پردہ اُٹھ جاتا ہے۔ مگر مختصر سی نعمت پا کر اُن کی راہ فکر مُتغیّر ہو جاتی ہے اور وہ غافل ہو جاتے ہیں اور سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ پہلی حالت کے متعلق بطور کلی یہ کہا گیا ہے کہ تمام انسانوں کا یہ حال ہے کہ وہ مشکلات کے وقت خدا کو یاد کرتے ہیں کیونکہ "فطرۃ توحیدی" کا وجود سب کے اندر یکساں ہے۔ لیکن ____ دُوسری صورت (یعنی نعمت پا کر غافل ہو جانا) میں صرف ان لوگوں کا ذکر ہے جنہوں نے راہِ شرک کو اختیار کیا ہے۔ کیونکہ دُنیا میں اس کے ایسے بندے بھی ہیں کہ راحت وزحمت ہر حال میں شکر خدا کرتے ہیں اور زندگی کے عارضی تغیرات اُنہیں یادِ حق سے غافل نہیں کرتے۔ "مُّنِيبِينَ إِلَيْهِ" کا مفہوم جیسا کہ ہم نے سابقاً ذکر کیا توجہ طلب ہے۔ کیونکہ "انابۃ" مادّہ "نوب" سےبنا ہے۔ اِس کے معنی ہیں، کسی چیزکی طرف پھر لوٹ جانا۔ اس سے اس معنی کی طرف لطیف اشارہ ہے کہ انسان کی فطرت میں جذبہ توحید و خدا پرستی بنیادی طور پر موجود ہے اور شرک ایک عارضی صورت ہے کہ انسان کسی وقت خدا سے امید منقطع کر لیتا ہے۔ مگر پھر خواہ نہ خواہ ایمان باللہ اور توحید کی طرف لوٹتا ہے۔ یہ امر توجہ طلب ہے کہ آیت بالا میں "رحمت" کا انتساب خدا کی طرف ہے۔ لیکن "ضُر" یعنی زحمت و تکلیف کو اس کی طرف منسوب نہیں کیا گیا۔/ کیونکہ بہت سے سختیاں اور تکلیفیں خود ہمارے ہی اعمال اور گناہوں کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ مگر تمام رحمتیں من جانب اللہ ہیں خواہ وہ عارضی ہوں یا مستقل ہوں۔ اس آیت میں کلمہ "رَبَّهُم" دو بار آیا ہے۔ یہ اس حقیقت کی تاکید کے لیے ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی ربوہیت اور اُس کی تدبیر کو اپنے نفس میں محسوس کرتا ہے بشرطیکہ غلط تعلیم و تربیت اُس کا راستہ شرک کی طرف نہ موڑ دے۔ اس مقام پر اس نکتے کا ذکر بھی لازم ہے کہ "أَذَاقَهُم مِّنْهُ" میں ضمیر "مِّنْهُ" کا مرجع ذاتِ الہٰی ہے۔ اس سے اس حقیقت کا اظہار مقصود ہے کہ تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں۔ بہت سے مفسرین نے (مثلاً مصنفین، المیزان، تبیان، ابوالفتوح رازی) اِس ضمیر کا یہی مفہوم لیا ہے۔ اگرچہ بعض دیگر مفسرین نے (جیسے کہ فخر رازی) اس ضمیر کا مرجع "ضُر" بتایا ہے۔ اور آیت کے یہ معنی سمجھے ہیں:۔ "خدا جس وقت مضرت اور تکلیف کے بعد اُن کی طرف اپنی رحمت بھیجتا ہے۔ تو ایک گروہ مُشرک ہو جاتا ہے"۔ اگر آیت کا یہ مفہوم سمجھا جائے تو اس مقام پر صرف "من" بدلیت کے معنی دیتا ہے۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ آیت کے ظاہری معنی کے لحاظ سے پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔ اَس کے بعد کی آیت میں ان کم ظرف مشرکین کی تنبیہہ و تہدید کے لیے کہ جو نعمات الہٰی کے حصول کے بعد، اللہ کو بھول جاتے ہیں، فرمایا گیا ہے: اُنہیں ہماری نعمتوں کا انکار کرنے دو اور جو کچھ ان کے امکان میں ہے انہیں کرنے دو۔ (لِيَكْفُرُوا بِمَا آتَيْنَاهُمْ)۔ جتنا بھی تمہارے امکان میں ہے اس دنیا کی زدو گزر نعمتوں سے فائدہ اٹھا لو: (فَتَمَتَّعُوا)۔ مگر تم جلد ہی اپنے بُرے اعمال کا نتیجہ دیکھ لو گے: (فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: آیت ٣۴۔ "لِيَكْفُرُوا" کی ابتداء میں لام "امر" کا ہے اور یہ امر تہدید کے لیے ہوتا ہے اور "تَمَتَّعُوا" بھی دوسرا امر ہے۔ اس میں بھی تہدید کا پہلو موجود ہے۔ ہر چند کہ اوّل (یعنی "لِيَكْفُرُوا") امر غائب کی صورت میں ہے اور دوسرا یعنی "تَمَتَّعُوا") امر حاضر کی صورت میں ہے۔ گویا کہ خدا نے مشرکین کو ابتداء میں غائب فرض کیا۔ اُس کے بعد تہدید شدید کے لیے انہیں حاضر قرار دے کر مخاطب کرتا ہے۔ مگر بعض مفسرین نے اس لام کو لام عاقبت سمجھا ہے۔ یعنی آخرکار اُنہوں نے خدا کی نعمتوں کا انکار کیا۔ مگر پہلے معنی زیادہ موزوں ہیں)۔ اگرچہ بظاہر آیت کے مخاطب مشرکین ہی ہیں۔ لیکن اگر آیت کا مفہوم وسیع ہو تو کچھ بعید نہیں کہ اس میں وہ سب لوگ شامل ہوں جو نعمات الہٰی سے فائدہ اور لطف تو اٹھاتے ہیں، مگر ان نعمتوں کے منعم اور بخشنے والے کو بھول جاتے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ اس موقع پر فعل امر کا استعمال تہدید کے لیے ہے۔ آیت مابعد میں گروہ مشرکین کو قصور وار ثابت کرنے کے لئے ان کے خلاف سرزنش کو سوال کے پیرائے میں ادا کیا گیا ہے: کیا ہم نے ان پر کوئی دلیل محکم نازل کی ہے، جو اُنہیں راہِ شرک پر چلنے کی لفظاً ترغیب دیتی ہے۔ (أَمْ أَنزَلْنَا عَلَيْهِمْ سُلْطَانًا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوا بِهِ يُشْرِكُونَ)۔ کلمہ "أَمْ" یہاں استفہام کے لیے ہے۔ یہ استفہام انکاری برائے توبیخ ہے۔ یعنی انسان راہ و رسم شرک کا اتّباع یا تو ندائے فطرت کی وجہ سے کرتا ہے یا بحکم عقل، یا ہدایت الہٰی کی وجہ سے، اور یہ تینوں باتیں محال اور انہونی ہیں کیونکہ جب وہ مصائب میں مبتلا ہوتے ہیں تو ان کی فطرت اصلیہ ظاہر کرتی ہے اور وہ خدائے واحد کو پکارتی ہے۔ نیز عقل بھی انہیں سلامت روی کا مشورہ دیتی ہے کہ اس کا سہارا تلاش کرو کہ جو "واھب النعم" ہے۔ (بدون احسان نعمتیں بخشنے والا ہے)۔ آخر میں حکم الہٰی کا معاملہ رہ جاتا ہے۔ سو اس آیت میں اس کی بھی نفی کی گئی ہے کہ ہم نے انہیں ہرگز ایسا حکم نہیں دیا۔ اس بنا پر اعتقاد شرک کے لیے ان کے پاس کوئی قابل قبول بنیاد نہیں ہے! کلمہ "سُلطان" کا معنی وہ شے ہے جو فتح مندی اور تسلط کا موجب ہو مگر اس مقام پر یہ کلمہ ایسی دلیل کے لیے استعمال ہوا ہے جو محکم اور قلب کو مطمئن کرنے والی ہو۔ کلمہ " يَتَكَلَّمُ" (یعنی کلام کرتی ہے) ایک مجازی اسلوب ہے۔ جو کسی دلیل کے واضح ہونے کے لیے بالا جاتا ہے۔ یعنی یہ ایک ایسی دلیل ہے جو انسان سے کلام کرتی ہے۔ بعض مفسرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ اس مقام پر کلمہ "سلطان" کے معنی فرشتہ ہیں۔ اگر یہ معنی درست سمجھے جائیں تو "تَكَلَّمُ" کے مجازی نہیں بلکہ حقیقی معنی لیے جائیں گے یعنی ہم نے ان کی طرف کوئی ایسا فرشتہ نہیں بھیجا جو شرک کا پیغام لے کر گیا ہو اور اس موضوع پر اس نے ان سے گفتگو کی ہو۔ مگر پہلی تفسیر زیادہ واضح ہے۔ زیر نظر آیات میں سے آخری آیت (٣۶) (جس میں اِن (مُشرک) کم ظرف جہلاء کی طرز فکر اور نفسیاتی کیفیت کا نقشہ کھینچا گیا ہے) کے الفاظ یہ ہیں کہ: ہم جس وقت لوگوں کو اپنی رحمت سے سرفراز کرتے ہیں تو وہ خوش اور مغرور ہو جاتے ہیں۔ مگر جب، انہوں نے جو اعمال انجام دیئے ہیں ان کے نتیجے میں انہیں رنج اور تکلیف پہنچتی ہے تو وہ مایوس اور ناامید ہو جاتے ہیں: (وَإِذَا أَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوا بِهَا وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ إِذَا هُمْ يَقْنَطُونَ) جب کہ راست باز مومنین وہ ہیں کہ نہ وہ نعمت و غناء کے وقت غرور و غفلت میں مبتلا ہوتے ہیں اور نہ مصیبت کے وقت ان پر یاس و نااُمیدی ہوتی ہے۔ وہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ نعمت عطیہ الہٰی ہے۔ اس لیے وہ اس کے لیے خدا کا شکر کرتے ہیں اور مصیبت کو وہ آزمائش و امتحان یا اپنے اعمال کو نتیجہ سمجھتے ہیں لہذا وہ صبر کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتے ہیں۔ جب کہ بے ایمان لوگ "غرور" اور "یاس" کے درمیان بےقرار ہوتے ہیں تو باایمان افراد "شکر اور صبر" کے درمیان مطمئن ہوتے ہیں۔ اس آیت سے یہ بھی نتیجہ نکلتا ہے کہ کم از کم انسان کو پیش آنے والی مصیبتوں اور پریشانیوں کا ایک حصہ اس کے اعمال اور گناہوں کا نتیجہ ہوتا ہے اور خدا اس ذریعے سے ان کی اصلاح اور ان معصیب سے پاک کرکے اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہے۔ اس مقام پر یہ نکتہ بھی قابل ذکر ہے کہ جملہ "فَرِحُوا بِهَا" صرف نعمت پا کر شادمان ہونے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ ایسی خوشی مراد ہے جس میں ایک قسم کی مستی اور بےخبری بھی شامل ہو جیسے کہ ان کم سایہ لوگوں کی حالت ہوتی ہے جن کے پاس اچانک دولت آ جاتے۔ وگرنہ ایسی خوشی اور مسرت جس میں شکر خدا اور توبہ الی اللہ بھی شامل ہو بُری چیز نہیں ہے بلکہ اس کا تو حکم دیا گیا ہے۔ قُلْ بِفَضْلِ اللّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُواْ (یونس۔ ٥۸) اس کے بعد "بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ" کہہ کر گناہوں کو ہاتھوں کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان اکثر کام ہاتھ ہی سے انجام دیتا ہے۔ اگرچہ دل، آنکھ اور زبان سے بھی گناہ ہوتے ہیں۔ لیکن ان اعمال کی کثرت ہے جو ہاتھوں سے کیے جاتے ہیں۔ اس لیے کلمہ "أَيْدِي" کو منتخب کیا گیا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس آیت اور آیت ٣٣ کے مضمون میں تضاد نہیں ہے؟ کیونکہ اس آیت میں مشرکین کی مایوسی کاذکر اس حالت میں ہے، جب کہ وہ مصائب میں مبتلا ہوں۔ جب کہ آیت گزشتہ (٣٣) میں یہ بیان ہے کہ وہ سختیوں اور مشکلات کے وقت خدا کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ ایک ہی کیفیت حال کا نتیجہ اس آیت (٣٣) میں ذات الہٰی سے امید درجا ہے اور اس آیت میں مایوسی ہے۔ لیکن اگر ایک نکتے پر غور کیا جائے تو سوال کا جواب مل جاتا ہے۔ وہ یہ کہ گزشتہ آیت م،یں تمام زیاں رساں امور شامل ہیں مثلاً، طوفان، زلزلہ یا اور قسم کی آفات ارضی و سماوی کہ ان کے نزول کے وقت عامل آدمی خواہ وہ موحد ہوں یا مشرک خدا کو پکارتے ہیں اور یہ فطرت توحیدی کی ایک علامت ہے۔ زیر بحث آیت میں یہ مذکور ہے کہ گناہوں کا انسان کے ضمیر پر کیا ردّعمل ہوتا ہے اور اُس سے مایوسی پیدا ہوتی ہے کیونکہ بعض افراد ایسے بھی ہیں کہ اگر اُن سے عمل خیر سرزد ہوتا ہے تو مغرور ہو جاتے ہیں اور اپنے آپ کو عذاب الہٰی سے محفوظ سمجھنے لگتے ہیں اور جب وہ کوئی عمل بد انجا،م دیتے ہیں تو اُن کے جذبات اس کے برعکس ہوتے ہیں اور اُن پر سرتاسر رحمتِ خدا سے مایوسی چھا جاتی ہے۔ جب کہ وہ عجب اور غرور بھی مذموم ہے اور رحمتِ خدا سے یہ یاس اور نااُمیدی بھی نازیبا ہے۔ اس لیے دونوں آیات میں جو مضامین ادا کیے گئے وہ مختلف پہلوؤں کو بیان کرتے ہیں۔

37
30:37
أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّ ٱللَّهَ يَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقۡدِرُۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ
کیا انہوں نے دیکھا کہ خدا جس کیلئے چاہتا ہے روزی کو فراخ(اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ) کر دیتا ہے ؟بے شک اس میں ایماندار لوگوں کیلئے نشانیاں ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

38
30:38
فَـَٔاتِ ذَا ٱلۡقُرۡبَىٰ حَقَّهُۥ وَٱلۡمِسۡكِينَ وَٱبۡنَ ٱلسَّبِيلِۚ ذَٰلِكَ خَيۡرٞ لِّلَّذِينَ يُرِيدُونَ وَجۡهَ ٱللَّهِۖ وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ
پس تو قریبیوں، مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کردو۔ یہ امر ان لوگوں کیلئے جو رضائے خدا کے طالب ہیں بہتر ہے اور ایسے ہی لوگ نجات پانے والے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

39
30:39
وَمَآ ءَاتَيۡتُم مِّن رِّبٗا لِّيَرۡبُوَاْ فِيٓ أَمۡوَٰلِ ٱلنَّاسِ فَلَا يَرۡبُواْ عِندَ ٱللَّهِۖ وَمَآ ءَاتَيۡتُم مِّن زَكَوٰةٖ تُرِيدُونَ وَجۡهَ ٱللَّهِ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُضۡعِفُونَ
اور تم جو سود دیتے ہو تاکہ لوگوں کے لئے مال میں افزائش ہو تو خدا کے نزدیک اس میں افزائش نہیں ہوتی البتہ تم جو بطور زکوۃ صرف رضائے الٰہی کے لئے دیتے ہو ایسے لوگ دو گنا اجر پانے والے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

40
30:40
ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَكُمۡ ثُمَّ رَزَقَكُمۡ ثُمَّ يُمِيتُكُمۡ ثُمَّ يُحۡيِيكُمۡۖ هَلۡ مِن شُرَكَآئِكُم مَّن يَفۡعَلُ مِن ذَٰلِكُم مِّن شَيۡءٖۚ سُبۡحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ
خدا ہی کی ذات وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ٗپھررزق دیا پھر وہ تمہیں موت دے گا اور پھر زندہ کرے گا۔ تم نے خدا کے لئے جو شریک قرار دیئے ہیں ان میں سے کوئی ایسا ہے کہ ان کاموں میں سے کوئی کام کر سکے ؟ اللہ کی ذات ان شرکاء سیٗ جو تم قراردیتے ہو، منزہ و برتر ہے۔

تفسیر: توحیدِ ربوبیّت کا تذکرہ

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

پہلی زیر بحث آیت میں بھی گزشتہ مقامات کی طرح "توحید ربوبیت" کا تذکرہ ہے۔ اور جیسا کہ آیات ماقبل میں آ چکا ہے بعض کم ظرف لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب ہم اُنہیں اپنی نعمتیں عطا کرتے ہیں تو وہ مغرور ہو جاتے ہیں اور جب وہ کسی بلا یا مصیبت سے دوچار ہو جاتے ہیں تو مایوس ہو جاتے ہیں۔ اسی نسبت سے اس آیت میں فرمایا گیا ہے: کیا وہ یہ نہیں جانتے کہ خدا جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کر دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔ (أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاءُ وَيَقْدِرُ)۔ جب انسان نعمتوں سے غنی ہو جائے تو یہ حالت اس کے لیے غرور، سرکشی اور یاد الہی کی فراموشی کا باعث نہ ہو جائیں اور سلب نعمات یاس اور ناامیدی کا باعث نہ ہو جائے کیونکہ: روزی کی وسعت اور تنگی خدا کے ہاتھ میں ہے۔ کبھی اس کی مصحلت فراخی میں ہوتی ہے اور کبھی تنگی میں۔ یہ درست ہے کہ یہ عالم عالم اسباب ہے، جو لوگ محنتی اور سخت کوش ہیں، عام طور پر وہ زیادہ کماتے ہیں اور خوش حال ہیں۔ اس کے برخلاف، کاہل اور کم کوش لوگ عسرت میں رہتے ہیں۔ لیکن یہ کوئی قاعدہ کلیہ نہیں ہے۔ کیونکہ کبھی ایسا بھی دیکھنے آتا ہے کہ نہایت لائق اور جدوجہد کرنے والے لوگ جتنی بھی زیادہ کوشش کرتے ہیں، کامیاب نہیں ہوتے۔ اس کے بالعکس ایسے لوگ بھی نظر آتے ہیں جو کسب معاش میں بہت کوشش نہیں کرتے، مگر ان کے لیے ہر طرف سے روزی کے دروازے کھلے ہوتے ہیں۔ یہ مستثنیات اِس لیے ہیں تاکہ خدا یہ بتا دے کہ اس عالم اسباب میں جو ترغیبات TEMPTATIONS ہیں ان کا نتیجہ یہ نہ ہو کہ انسان عالم اسباب میں ہی گم ہو جائے۔ انسان کو یہ نہ بھولنا چاہیے کہ اس کارخانے کی پشت پر ایک قوی ہاتھ ہے جو اسے چلا رہا ہے۔ اِس عالم نیرنگ میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کبھی تو ایسا بوتا ہے کہ انسان کسی مقصد کے لیے خواہ کتنی ہی کوشش کر لے اور ہر دروازے پر دستک دے لے مگر اس کے لیے ہر راستہ بند ہوتا ہے اور کبھی اس کے لیے اتنی آسانی پیدا ہو جاتی ہے کہ ہنوز وہ کسی دروازے کے قریب بھی نہیں آتا کہ اس کے لیے کھل جاتا ہے۔ ہم اپنی زندگی میں اس قسم کے واقعات دیکھتے رہتے ہیں کہ ایک شخص کو نعمت کا غرور ہے اور دوسرا آدمی غربت اور افلاس کی وجہ سے مایوس ہے۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ہمارے ارادوں اور خواہشات کے پیچھے ایک قوی ہاتھ ہے جو کام کر رہا ہے۔ اس لیے آیت کے آخر میں قرآن فرماتا ہے: ان معاملات میں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں خدا کی قدرت اور عظمت کی نشانیاں ہیں۔ (إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ)۔ بعض مفسرین نے اس مضمون کی ایک حکایت بیان کی ہے: کسی نے ایک عالم سے سوال کیا: ما الدليل على أن للعالم صانعًا واحدًا اِس امر کی کیا دلیل ہے کہ اس عالم کا ایک صانع یکتا ہے؟ اُس عالم نے جواب دیا: تین دلیلیں ہیں۔ ذل اللبيب، وفقر الاديب، وسقم الطبيب اوّل یہ کہ اہل خرد و حکمت دنیا میں ذلیل ہیں۔ دوم یہ کہ اہل علم و ادب فقر و فاقہ میں مبتلا ہیں۔ سوم یہ کہ طبیب بھی بیمار ہوتے ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر روح البیان جلد، ۷ ص٣۹ زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ بےشک ان مستثنیات کا وجود اس امر کی دلیل ہے کہ چارہ کار کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ چنانچہ امیر المومنین حضرت علی سے ایک حدیث مروی ہے: عرفت الله سبحانه بفسخ العزائم وحل العقود ونقض الهمم میں نے اپنے خدا کو اس بات سے پہچانا کر عزائم محکم فسخ ہو جاتے ہیں اور کبھی گرہیں کھل جاتی ہیں اور کبھی قوی ارادے ٹوٹ جاتے ہیں اور ناکام ہو جاتے ہیں۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، کلمات قصار جملہ ۲٥٠) اور چونکہ ہر نعمت الٰہی اپنے ساتھ ذمہ داریاں اور فرائض بھی لاتی ہے، اس لیے آیت مابعد میں روئے سخن پیغمبرؐ کی طرف کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جب کہ ایسا ہے تو تم اپنے اعزا و اقارب کا حق ادا کرو۔ اسی طرح مسکینوں اور مسافروں کی مدد کرو: (فَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ)۔ جب تمہارا رزق وسیع ہو تو یہ نہ سمجھو کہ جو کچھ تمہارے پاس سے وہ بلا شرکت غیرے تمهارا ہی ہے۔ بلکہ تمهارے مال میں دوسروں کے بھی حقوق ہیں۔ ان میں سے تمہارے اعزاہیں اور وہ حاجت مند لوگ ہیں جو شدت فقر سے ناتوان ہو گئے ہیں، اسی طرح وہ آبرومند لوگ ہیں جو وطن سے دور حالت مسافرت میں حادثات پیش آنے کی وجہ سے محتاج ہو سفر جاری نہیں رکھ سکتے۔ کلمہ "حصہ" سے اس واقعیت کا اظہار مقصود ہے کہ مذکورہ بالا لوگ انسان کے مال و دولت میں شریک ہیں۔ اگر انسان انہیں کچھ بطور امداد دیتا ہے تو درحقیقت، وہ ان کا حق ادا کر رہا ہے اور ان پر کچھ احسان نہیں کر رہا۔ مفسرین کی ایک جماعت نے اس آیت کا مخاطب خصوصیت سے جناب رسالت مآب اور ان کے اعزا و اقارب ہی کو سمجھا ہے۔ جناب ابو سعید خدری اور دوسرے اصحاب سے ایک مشہور روایت میں یہ نقل ہوا ہے: جس وقت آیه نازل ہوئی تو رسول اللہؐ نے "فدک" جناب فاطمہؑ کو بخش دیا۔ روایت ک الفاظ یہ ہیں: لما نزلت هذه الاية على النبي اعطى فاطمة فدكا و سلمہ اليها۔ (بحوالہ: نورالثقلين جلد، ۴ ص ۱۸۶ تفسیر علی بن ابراہیم) امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ نے بھی اس مضمون کو بعینہ بیان کیا ہے۔ (بحوالہ: نورالثقلين جلد، ۴ ص ۱۸۶ تفسیر علی بن ابراہیم)۔ امام جعفرصادقؑ کی زبانی ایک روایت جس میں اس گفتگو کا ذکر ہے جو بانوئے اسلام حضرت فاطمہ زہراؑ اور حضرت ابوبکر کے درمیان ہوئی تھی۔ اس میں یہ مضمون نہایت تفصیل سے مذکور ہے۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ مگر مفسرین کی ایک اور جماعت نے اس آیت میں خطاب کے عمومی معنی مراد لیے ہیں۔ جس میں جناب رسول اللہؐ اور ان کے علاوہ، سب لوگ شامل ہیں۔ اس تفسیر کے مطابق ہر شخص کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے اعزا و اقارب کے حق کو فراموش نہ کرے۔ مگر ان دونوں تفاسیر میں باہم کوئی تضاد نہیں ہے، بلکہ دونوں قابل تسلیم اور اپنے مقام پر درست ہیں۔ باین وجہ کہ آیت کا مفہوم وسیع ہے اور جناب پیغمبرؐ، ان کے اقربا، بالخصوص جناب فاطمہ زہراؑ اس کی مصداق کامل ہیں۔ یہ امر واضح ہے کہ مذکورہ بالا تفاسیر میں سے کوئی بھی اس آیت کے مکی ہونے کی تردید نہیں کرتی۔ کیونکہ آیت کا مفہوم جامع ہے جس پر مکہ میں بھی عمل ہو سکتا تھا اور مدینہ میں بھی یہاں تک کہ جناب فاطمہ سلام الله علیہا کو اس آیت کی اساس پر فدک جاگیر عطا کرنا کاملًا قابل قبول ہے- اِس مقام پر صرف "لما نزلت هذه الاية" کے مفہوم کی وضاحت باقی رہ جاتی ہے۔ جناب ابو سعید خدری کی روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہؐ نے فدک کی جاگیر جناب فاطمہؑ کو اِس آیت کے نازل ہونے کے بعد عطا کی لیکن اگر اس مقام پر (لَمّا) کے معنی علت کے لیے جائیں تو نہ کہ زمانہ خاص کے لیے تو مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے اور روایت کا یہ مفہوم تو جائے گا کہ: پیغمبرؐ نے خدا کے اس حکم کے مطابق فدک جناب فاطمہؐ کو عطا کر دیا۔ علاوہ ازیں، بعض آیات کبھی دو دفعہ میں نازل ہوئی ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہر قسم کے مستحق اور نیازمند افراد میں سے صرف ان تین قسم کے لوگوں کا ذکر ہی کیوں ہوا ہے؟ ممکن ہے کہ یہ اس وجہ سے ہو کہ ان تین قسم کے افراد کی اہمیت زیادہ ہے، کیونکہ رشتہ داروں کا حق تو سب سے فائق ہے اور محروم اور حاجت مند لوگوں میں سے مساکین اور راہ سفر میں درماندہ لوگ سب سے زیاده مستحق ہیں۔ فخر رازی نے اس سوال کی توجیہ میں ایک نکتہ بیان کیا ہے۔ وہ یہ کہ وہ آٹھ قسم کے لوگ انہیں زکوة کی رقم دینی چاہیے، انھیں اسی صورت میں دی جا سکتی ہے جب کہ صاحب مال پر ادائے زکوة واجب ہو، مگر آیت میں جن تین قسم کے لوگوں کا ذکر ہوا ہے، ہر حالت میں ان کی مدد کرنا لازم ہے۔ کیونکہ بعض رشتہ دار تو واجب النفقہ ہوتے ہیں اور "مسکین" وہ محروم فقیر ہے کہ اگر اس کی مدد نہ کی جائے تو اکثر اوقات اس کی جان کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ممکن ہے کہ کوئی مسافر ایسے حالات میں گرفتار ہو کہ مدد نہ پہنچنے کی صورت میں اس کی جان پر بن جائے۔ علاوہ بریں، آیت میں ان تین قسم کے لوگوں کا جس ترتیب سے ذکر کیا گیا ہے وہ ان کے رتبہ کی اہمیت کی مناسبت سے ہے۔ بہرحال، آیت کے اخیر میں نیکو کار لوگوں کی تشویق اور ضمنًا اس بخشش کی شرط قبولیت کے طور پر فرمایا گیا ہے : یہ کام ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو صرف رضائے الہی کے طالب ہیں۔ (ذَلِكَ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ)۔ اور جو لوگ کہ ایسے کارہائے خیر انجام دیتے ہیں وہ نجات یافتہ ہیں۔ (وَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ)۔ وہ اِس جہان میں نجات یافتہ ہوں گے۔ کیونکہ "انفاق" دنیاوی زندگی میں ابھی عجیب برکات کا موجب ہوتا ہے اور آخرت میں خدا کی ترازو میں انفاق وزنی ترین اعمال میں سے ہو گا۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ آیت بالا میں کلمہ "وجه الله" سے خدا کی جسمانی صورت مراد نہیں ہے کیونکہ وہ صورت جسمانی نہیں رکھتا بلکہ اس کلمہ سے مراد خدا کی ذات ہے۔ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ صرت انفاق اور رشتہ داروں اور دیگر صاحبان حقوق کا حق ادا کرنا ہی کافی نہیں ہے۔ بلکہ یہ سب کچھ اخلاص اور پاک نیت کے ساتھ ہو۔ اُس میں کسی قسم کی ریاکاری اور خود نمائی نہ ہو اور نہ احسان و تحقیر کا جذبہ ہو۔ دینے والا کسی قسم کے بدلے کا منتظر بھی نہ رہے۔ اس مقام پر یہ نکتہ بھی قابل ذکر ہے کہ بعض مفسرین کے قول کے خلاف جنھوں نے یہ لکھا ہے کہ داخل بہشت ہونے کے لیے "انفاق"، "وجه الله" کا مصداق نہیں ہے، حقیقت امر یہ ہے کہ انسان جو کام بھی انجام دیتا ہے اس کا اُس کی جان پر بن جاتے کسی نہ کسی طرح خدا سے کچھ تعلق ہوتا ہے۔ وہ کام خواہ اس کی رضا کے لیے ہو یا حصول اجرو ثواب یا اس کے عذاب سے نجات پانے کے لیے ہو۔ یہ سب کام وجه الله ہیں۔ اگرچہ انسان کے لئے مرحلہ عالی و کامل یہ ہے کہ ہر کام کرتے وقت اس کی نظر میں خدا کی عبودیت اور اطاعت کے سوا کوئی اور مقصد نہ ہو۔ آیت مابعد میں اُس بحث کی مناسبت سے جو انفاق خالص کے متعلق جاری تھی، انفاق کی دو صورتوں کا ذکر ہے۔ اول تو وہ انفاق ہے جو محض لوجه الله کیا جائے اور دوسرے وہ جو حصول مال دنیا کے لیے کیا جائے۔ اس سلسلے میں خدا فرماتا ہے : تم جو مال اس مقصد سے خرچ کرتے ہو کہ اس سے افزائش ہو اور لوگوں کے اموال میں اضافہ ہو جائے تو خدا کے نزدیک اس میں کچھ اضافہ نہ ہو گا۔ البتہ تم جو بطور زکوۃ کو صرف رضائے الہی کے لیے دیتے ہو، اس قسم کے لوگ کئی گنا اجر و ثواب کے مستحق ہیں۔ (وَمَا آتَيْتُم مِّن رِّبًا لِّيَرْبُوَاْ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُوا عِندَ اللَّهِ وَمَا آتَيْتُم مِّن زَكَاةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ)۔ اس آیت میں جمله دوم کا مفہوم "یعنی زکوة دینا اور راہ خدا میں انفاق کرنا اجر و ثواب کثیر کا موجب ہے" واضح ہے لیکن جملہ اول کے مفہوم کی کہ "ربا" درحقیقت، بمعنی افزائش ہے۔ مفسرین نے گونا گوں تفاسیر کی ہیں۔ اُن میں سے پہلی تفسیر جو سب سے زیادہ واضح اور آیت کے مفہوم سے ہم آہنگ تر، اور ان روایات سے ہم ساز ہے جو اہل بیتؑ سے منقول ہیں، یہ ہے کہ اس مقام پر "ربا" سے مراد وہ تحائف ہیں جو بعض لوگ دوسروں کے لیے بالخصوص صاحبان دولت و ثروت کے لیے لے جاتے ہیں اور ان کا مقصد سے ہوتا ہے کہ اُن اہل دولت سے زیادہ سے زیادہ اور بہتر سے بہتر منفعت حاصل کریں۔ یہ امر بدیہی ہے کہ امراء کو جو ہدیے پیش کیے جاتے ہیں انھیں مستحق امداد سمجھ کر تو نہیں پیش کیے جاتے اور نہ یہ خیال ہوتا ہے کہ یہ لوگ حاجت مند ہیں اس لیے پہلے ان کی مدد کرنی چاہئے بلکہ مد نظریہ ہوتا ہے کہ یہ ہدیہ ایسی جگہ دیا جائے جہاں سے زر کثیر حاصل ہو سکے۔ یہ فطری امر ہے کہ اس طور کے تحائف جن میں شائبہ اخلاص نہیں ہوتا، اخلاقی نقط نگاہ سے ان کی کوئی قدر نہیں ہے۔ اس بنا پر اس آیت میں "ربا" سے مراد ہدیہ اور عطیہ ہی ہے اور جملہ"لِّيَرْبُوَاْ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ" کا مفہوم لوگوں سے زیادہ فائده اٹھانا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اس قسم کا فائدہ حاصل کرنا حرام تو نہیں ہے کیونکہ اس معاملے میں (ہدیہ دینے اور لینے والے کے درمیان) کوئی شرط اور قرارداد نہیں ہوتی۔ مگر اخلاقًا اس کی کوئی قدر نہیں ہے۔ امام جعفر صادقؑ سے متعدد احادیث میں مروی ہے کہ اس ربا سے مراد "ربائے حلال" ہے۔ بمقابلہ "ربائے حرام" کیونکہ اس میں شروط و قرار داد ہوتی ہے۔ آیت بالا کی تفسیر میں ایک حدیث کتاب تہذیب الاحکام میں امام جعفر صادقؑ سے یوں منقول ہے: هو هديتك الى الرجل تطلب منه الثواب افضل منها فذالك ربي يؤكل۔ اگر کسی کو ہدیہ دینے کا مقصد یہ ہے کہ تم اس آدمی سے زیادہ منفعت حاصل کرو تو یہ ربائے حلال ہے۔ امام جعفر صادقؑ ہی سے ایک اور حدیث یوں منقول ہے: الرّبا ربائان احدهما حلال، والاخر حرام؛ فاما الحلال فھوان یقرض الرجل اخاه قرضا يريد ان يزیدہ و يعوضه باكثر مما يأخذه بلا شرط بینهما، فان اعطاہ اكثر مما أخذه على غير شرط بينهما فهو مباح له وليس له عنداللہ ثواب فيما اقرضه، و هو قوله فلا يربوا عند الله، واما الحرام فالرجل يقرض قرضا و يشترط ان يرد اكثر مما اخذه فهذا هو الحرام۔ "ربا" دو طرح کا ہے۔ ایک حلال اور دوسرا حرام- حلال وہ ہے کہ انسان اپنے کسی مسلمان بھائی کو اس امید پر قرض دے کہ جب وہ یہ رقم واپس دے گا تو اصل پر کچھ اضافہ کر دے گا۔ مگر قرض دہندہ اور مقروض کے درمیان اس قسم کی کوئی شرط نہ ہو۔ اس صورت میں آکر قرض لینے والا غیر مشروط طور پر اصل زر پر کچھ اضافہ کر کے واپس کرتا ہے تو فاضل رقم قرض دہندہ کے لیے حلال ہے۔ لیکن اس صورت میں اُسے وہ ثواب نہیں ملے گا جو ایک مسلمان بھائی کی بوقت ضرورت مدد کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ چنانہ آیہ قرآني "فَلَا يَرْبُوا عِندَ اللَّهِ" کا یہی مفہوم ہے مگر ــ حرام ربا وہ ہے کہ انسان کسی کو اس شرط پر قرض دے کہ وہ اصل زر پر اتنی رقم اضافہ کر کے واپس کرے گا۔ یہ "ربا" حرام ہے۔ اِس آیت کی ایک اور تفسیر بھی بیان کی گئی ہے کہ یہاں "ربا" سے مراد ربائے حرام ہے۔ اِس تفسیر کے مطابق مفهوم قرآنی ہی ہے کہ "ربا" - اور مخلصان انفاق میں موازن و مقابلہ کیا جائے۔ وہ یہ کہ "ربا" اگرچہ بظاہر افزائش مال کا موجب ہے مگر یہ افزائش خدا کے نزدیک بےقدر ہے۔ حقیقی قدر و منزلت انفاق فی سبیل کی ہے۔ اِن مطالب کو ذہن میں رکھتے ہوتے اس آیت کو حرمت سود کے مسئلے کی تمہید یا مقدمہ سمجھا جاتا ہے کہ پیغمبرؐ کی تجارت سے قبل وہ صرف ایک اخلاقی نصیحت کے طور پر بیان ہوا تھا۔ مگر ہجرت کے بعد قرآن کی تین سورتوں (سوره بقره، آل عمران و نساء میں بتدریج اس کی حرمت بیان ہوئی ہے۔ (اسی بناء پر ہم نے بھی تفسیر نمونہ کی جلد اوّل صفحہ ۶۴٩ (اُردو ترجمہ) پر اس کا ذکر کیا ہے)۔ لیکن ان دو معانی میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ البتہ آیت مذکور کی تعمیر ایسے وسیع معنی میں کی جا سکتی ہے کہ جس میں ربائے حلال اور ربائے حرام ہر دو شامل ہیں اور یہ دونوں "انفاق فی سبیل اللہ" کے مقابلے میں رکھے جا سکیں لیکن آیت کے الفاظ پر نظر کرنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تفسیر اوّل ہی زیادہ مناسب ہے کیونکہ آیت کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ ایسا کام کیا گیا ہے جس کا کوئی ثواب تو نہیں مگر وہ مباح ہے۔ کیونکہ یہ کہا گیا ہے کہ خدا کے نزدیک اس عمل کی پاداش نہیں ہے۔ اِس کلام کی رُوح سے روشن ہے کہ میں ربائے حلال ہی کے متعلق کہا جا سکتا ہے، جس میں نہ کوئی ثواب ہے نہ گناہ اور اس میں کوئی ایسی بات بھی نہیں ہے جو خدا کے خشم و غضب کا باعث ہو۔ روایاتِ اسلامی میں اس قسم کے معاملات کی مثالیں موجود ہیں۔ اِس مقام پر اس نکتے کا ذکر بھی لازم ہے کہ آیت میں جو کلمہ "مضعفون" استعمال ہوا ہے۔ اگرچہ اسم فاعل ہے لیکن اس مقام پر "مضاعف کننده" یعنی "بڑھانے والا" کے معنی میں استعمال نہیں ہوا۔ بلکہ اُس فرد کے معنی میں ہے جو مضاعف اور کئی گنا اجر پانے والا ہے۔ کیونکہ زبان عربی میں بعض اوقات اسم فاعل "مالک شے" کے معنی میں بھی استعمال بوتا ہے، جیسے "موسر" وہ شخص جس کے پاس مال بکثرت ہو۔ یہ امر بھی نظر سے پس پردہ نہ رہے کہ کلمہ "ضعف و مضاعف" عربی زبان میں صرف دو چند کے معنی میں نہیں ہے؛ بلکہ دوگنا کے علاوہ، کئی گنا بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے اور بسند آیت کم از کم دس گنا مفہوم ہے۔ جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا ہے: مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا (انعام- ۱۶٠)۔ اور یہ اجر صورت قرض اٹھارہ گنا تک ملتا ہے۔ چنانچہ امام جعفر صادقؑ سے ایک حدیث منقول ہے: على باب الجنة مكتوب القرض بثمانية عشر و الصدقة بعشر بہشت کے دروانے پر تحریر ہے کہ قرض کا اجر اٹھاره گنا ہے اور صدقے کا دس گناہ ہے۔ (بحوالہ: نورالثقلين جلد، ۴ ص۱٩٠)۔ اور یہ اجر انفاق فی سبیل اللہ کی صورت میں سات سو گنا تک پہنچ جاتا ہے۔ جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت ۲۶۱ سے یہ ثابت ہے۔ زیر بحث آخری آیت میں بار دیگر مبدأ و معاد کا ذکر ہے جو کہ اس سورہ کی بہت سی آیات کا بنیادی موضوع ہے۔ اس آیت میں خدا کو چار اوصاف سے متصف کیا گیا ہے تاکہ شرک کی نفی اور توحید کا اثبات ہو اور وقوع معاد پر بھی دلیل قائم ہو۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے: خدا ہی کی وہ ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، اس کے بعد تمہارے لیے رزق مہيا کیا پھر تمہیں وہ مار دے گا اور پھر زندہ کرے گا۔ (اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ)- جن کو تم نے خدا کا شریک قرار دیا ہے کیا اُن میں سے کسی میں بھی یہ قدرت ہے کہ وہ یہ کام کرسکے: (هَلْ مِن شُرَكَائِكُم مَّن يَفْعَلُ مِن ذَلِكُم مِّن شَيْءٍ)۔ خدا کی ذات اُن شرکا سے جو تم اس کے لیے تجویز کرتے ہو منزه اور برترہے: (سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ)۔ یہ امر مُسلّم ہے کہ مشرکین میں سے کسی کا بھی یہ اعتقاد نہ تھا کہ فاعل تخلیق بت ہیں، وہ یہ کہ اُنھیں رزق پہچانا بتوں کے اختیار میں ہے یا ان کی حیات و مرگ کے مختار وہ ہیں کیونکہ وہ ان خود ساختہ معبودوں کو اپنے اور خدا کے درمیان واسطہ اور شفاعت کننده سمجھتے تھے، نہ کہ خالق آسمان و زمین اور نہ روزی دہنده۔ اِس لیے قرآن میں یہ سوالات استفہام انکاری ہیں اور سوالات کی رُوح جواب میں نفی کی متقاضی ہے۔ اِس مقام پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس عہد کے مشرکین جن سے یہ خطاب ہے وہ حیات بعد الموت کے معتقد نہ تھے پھر قرآن کی اس آیت میں خدا تین صفات بیان کر کے حیات بعد الموت کا ذکر کیوں کیا گیا ہے؟ ممکن ہے کہ یہ اسلوب بیان اس وجہ سے ہو کہ (ہم نے مسئلہ معاد کی بحثوں میں ثابت کیا ہے) معاد اور حیات بعد از مرگ ایک فطری امر ہے۔ اس لیے قرآن نے ان مشرکین کے معتقدات کو ملحوظ نہیں رکھا بلکہ فطرت انسانی کو پیش نظر رکھا ہے۔ علاوہ بریں، کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک ماہر خطیب جب کسی ایسے شخص سے ہم کلام ہوتا ہے جو کسی مسئلے کا منکر ہے تو وہ اثبات حق کے لیے اس مسلے کو دوسرے اسے حقائق کے ساتھ ملا کر ذکر کرتا ہے جو مدمقابل کے لیے قابل قبول ہوتے ہیں اور جب وہ دیکھتا ہے کہ اس کا نفس اثر پذیری کے لیے آمادہ ہو چکا ہے تو پھر وہ اس اثبات طلب مسئلے پر قاطعیت کے ساتھ گفتگو کرتا ہے۔ اگر وہ مخاطب کے ذہن نشین ہو جائے اور اس سے انکار بن نہ پڑے۔ اِن سب اُمور کے علاوہ، خدا کی اس قدرت خلاقی میں جس نے بار اول زندگی بخشی ہے اور اس اختیار میں جس سے وہ بعد از مرگ زندگی عطا کرے گا ناقابل انقطاع تعلق ہے اور اسی منطقی رابطے کی وجہ سے دونوں زندگیوں کا ایک ہی جگہ ذکر کیا گیا ہے۔ بہرحال، قرآن کہتا ہے: جب کہ (تخلیق رزق، حیات و موت) یہ جملہ اُمور خدا کے اختیار میں ہیں تو عبادت و پرستش بھی صرف اسی کی ہونی چاہیئے۔ نیز "سبحانه و تعالى عما يشركون" سے یہ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ ان مشرکین نے ذاتَ احدیت کے مرتبے کو غیر معمولی طور پر اس کے مقام ارفع سے نیچے گرا دیا تھا اور اس ذات کو اپنے خود ساختہ معبودوں کی صف میں جگہ دے دی تھی۔

41
30:41
ظَهَرَ ٱلۡفَسَادُ فِي ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِ بِمَا كَسَبَتۡ أَيۡدِي ٱلنَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعۡضَ ٱلَّذِي عَمِلُواْ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ
لوگوں کے اعمال کے باعث خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا ہے۔ خدا چاہتا ہے کہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے۔شاید کہ وہ خدا کی طرف رجوع کریں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔

42
30:42
قُلۡ سِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَٱنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلُۚ كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّشۡرِكِينَ
ان سے کہہ دو زمین میں چل پھر کر دیکھیں ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو ان سے پہلے تھے ان میں سے اکثر مشرک تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔

43
30:43
فَأَقِمۡ وَجۡهَكَ لِلدِّينِ ٱلۡقَيِّمِ مِن قَبۡلِ أَن يَأۡتِيَ يَوۡمٞ لَّا مَرَدَّ لَهُۥ مِنَ ٱللَّهِۖ يَوۡمَئِذٖ يَصَّدَّعُونَ
(ا ے پیغمبرؐ) تم پنا رخ مستقیم اور پائیدار دین کی طرف کئے رہو اس دن کے آنے سے پہلے جسے ارادئہ الٰہی سے کوئی روک نہیں سکتا۔اس روز لوگ جماعتوں میں بٹ جائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔

44
30:44
مَن كَفَرَ فَعَلَيۡهِ كُفۡرُهُۥۖ وَمَنۡ عَمِلَ صَٰلِحٗا فَلِأَنفُسِهِمۡ يَمۡهَدُونَ
جس شخص نے کفر کیا اس کا کفر اسی کیلئے ضرررساں ہے اور جو لوگ کہ اعمال صالح بجالاتے ہیں وہ (اجرالٰہی کو) اپنے ہی فائدے کیلئے مہیا کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔

45
30:45
لِيَجۡزِيَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ مِن فَضۡلِهِۦٓۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡكَٰفِرِينَ
یہ اس لئے ہے کہ خدا ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اور اعمال صالح انجام دیتے ہیں اپنے فضل سے جزا دے یقیناً وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا۔

تفسیر لوگوں کے اعمال ہی سرچشمہ فساد ہیں:

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

گزشتہ آیات میں شرک کا ذکر تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ مفاسد کی جڑ توحید کو فراموش کر دینا اور شرک اختیار کرنا ہے۔ اس لیے زیر نظر آیات میں اول یہ کہا گیا ہے کہ لوگوں کے اعمال کے نتیجے میں خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہو گیا ہے۔ (ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ)۔ خدا چاہتا ہے کہ لوگ اپنے اعمال کا ردعمل دیکھیں اور جو کام انھوں نے کیے ہیں ان میں سے بعض کا نتیجہ چکھیں۔ (اس طرح) شاید اُن کی آنکھیں کھلیں اور اللہ کی طرف رجوع ہوں: (لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ)۔ یہ آیت فساد اور گناہ کے باہمی رابط کے متعلق ایک وسیع معنی کی حامل ہے۔ انسانوں کے گناہ اور بداعمالیوں کا یہ نتیجہ نہ تو سرزمین مکہ و حجاز کے لیے مخصوص اور نہ عصر پیغمبرؐ کے لیے بلکہ منطقی اصطلاح میں "قضیہ حقیقیہ" ہے جس میں محمول کا موضوع سے رابط و تعلق بیان کیا جاتا ہے۔ بہ الفاظ دیگر زمین پر جہاں بھی فساد ظاہر ہوتا ہے، وہ لوگوں کی بداعمالیوں کا ردعمل ہوتا ہے۔ اگر انسان غور کرے تو اس نتیجے میں بھی تربیت کا ایک پہلو ہے تاکہ لوگ اپنی بداعمالیوں کا نتیجہ دیکھ کر ہوش میں آئیں اور خدا کی طرف رجوع کریں۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس آیت کا پس منظر وہ قحط اور خشک سالی ہے جو پانی کی بد دعا کے نتیجے میں مشرکین مکہ کو پیش آئی تھی۔ اس وقت بارش ہونا بند ہو گئی تھی، بیابان خشک سے خشک تر ہو گئے تھے یہاں تک کہ انھیں بحیره احمر میں مچھلی کا شکار بھی نہیں ملتا تھا۔ بالفرض اگر یہ واقعہ تاریخی طور پر صحیح بھی ہو، تب بھی ایک جزوی واقعہ ہے جس پر آیت صادق آتی ہے اور یہ واقعہ اس آیت کو کسی مخصوص قوم یا جماعت کے فساد و گناہ تک محدود نہیں کرتا، نہ اس کا مصداق کسی خاص زمان و مکان تک ہے اور نہ امساک باران اور خشک سالی محدود ہے۔ اس آیت کے متعلق جو نقطہ نگاہ ہم نے سطور بالا میں بیان کیا ہے اس سے آشکار ہے کہ اس آیت کی تفسیر کے تحت اہل قلم نے جن محدود اور مقامی واقعات کو اس کا مصداق قرار دیا ہے وہ قابل قبول نہیں ہے۔ مثلًا یہ کہ بعض مفسرین نے زمین پر فساد ("فساد في البر) سے مراد قابیل کے ہاتھوں کا ہابیل کا قتل مراد لیا ہے اور سمندر میں فساد (فساد فی البحر) سے وہ واقعہ مراد لیا ہے جو حضرت موسٰیؑ اور خضرؑ میں ہوا کہ ایک بادشاہ نے ملاحوں کی کشتیاں ضبط کر لی تھیں۔ یا یہ کہ بعض مفسران نے "فساد في الارض وفساد في البحر" کے معنی لکھتے ہوئے بانیان فساد کا ذکر کر دیا ہے اور ایسے حکمران مراد لیے ہیں جو اپنی اغراض کے لیے زمین اور سمندر کو فساد سے بھر ديتے ہیں۔ اس مقام پر یہ امکان ہے کہ اس قسم کے افراد موجب فساد ہوں، جو دنیا پرست اور خوشامد پسند ہوں اور ان کے زور کی وجہ سے لوگ ان کی اطاعت اور فرماں برداری کی ذلت کو قبول کر لیں۔ لیکن حقیقت امر یہ ہے کہ آیت کا احاطہ مصداق اتنا محدود نہیں ہے۔ مفسرین کی ایک جماعت نے "فساد في البحر" کے معنی میں بھی اختلاف کیا ہے۔ اُن میں سے بعض کا یہ قول ہے کہ بحر سے مراد وہ شہر ہیں۔ جو سمندر کے کنارے واقع ہیں۔ اور بعض کا خیال ہے کہ "بحر" سے مراد حاصل خیز پر باغ و زراعت کے علاقے ہیں۔ ہمارے نزدیک کلمہ "بحر" کے معنی میں یہ تکلفات بلا دلیل ہیں کیونکہ اس کلمہ کے معنی مشہور ہیں۔ "بحر" سمندر کو کہتے ہیں سمندروں میں کئی طرح سے فساد رُونما ہو سکتا ہے۔ اول یہ کہ سمندر سے جو فوائد پہنچتے ہیں وہ کم ہو جائیں، دُوم یہ کہ اس کے طوفان و تلاطم سے نقصان پہنچے۔ سوم یہ کہ سمندر لڑائیاں ہوں جیسا کے آج کل جنگی بحری بیڑے لڑتے ہیں۔ آبدوزیں ہیں جو تباہی لاتی ہیں۔ جناب امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک حدیث منقول ہے: حیات دواب البحر بالمطر فاذا كف المطر ظهر الفساد في البحر و البر و ذالك اذا كثرت الذنوب و المعاصي۔ سمندر میں رہنے والی مخلوق کی زندگی کا مدار بارش پر ہے۔ جب بارش نہیں ہوتي سمندر اور خشکی دونوں میں فساد برپا ہو جاتا ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب لوگوں کے گناہ کثیر ہو جاتے ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر قمی طبق نقل تفسیر المیزان، جلد ۱۶ ص ۲۱٠)۔ حدیث مذکورہ بالا میں سمندری حیوانات کی زندگی کا جو ربط نزول باراں سے بیان کیا گیا ہے وہ تجربے سے ثابت ہو چکا ہے کہ جب بارش کم ہوتی ہے تو سمندر میں مچھلیوں کی تعداد بھی کم ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ہم نے بعض ساحل نشینوں کو کہتے سنا ہے کہ:- بارش کا فائده صحرا سے زیاده سمندر کو پہنچتا ہے۔ یہ امر کہ برو بحر میں فساد رُونما ہونے کا انسانوں کے گناہوں سے کیا ربط ہے، ہمارے پاس اس کی اور توجہیات بھی ہیں۔ جن کا ان شاءاللہ نکات کی بحث میں ذکر آئے گا۔ آیت مابعد میں زمین پر سیر کا حکم بایں مصلحت دیا گیا ہے کہ قوموں کے ارتکاب گناہ کی وجہ سے زمین پر ظہور فساد سے جو نتائج رونما ہوئے اس کے شواہد اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ اِس ضمن میں پیغمبر اکرمؐ کو حکم دیا گیا ہے کہ ان لوگوں سے کہہ دو: تم زمین میں سفر کرو اور گزشتہ امتوں کے حالات کی تحقیق کرو اور ان کے اعمال اور ان کے نتائج کی تفتیش کرو تو تمہیں معلوم ہو گا کہ تم سے پہلے جو قومیں ان مقامات میں آباد تھیں اور شرک و انکار مصر تھیں ان کا انجام کیا ہوا: (قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلُ كَانَ أَكْثَرُهُم مُّشْرِكِينَ)۔ ان کے ویران شده قصر و محلات کو بہ نظر عبرت دیکھو اور دیکھو کہ انھوں نے جو خدا خزانے جمع کیے تھے وہ لٹ چکے ہیں۔ مشاہدہ کرو کہ ان کی وہ جماعت جسے اپنی قوت اور توانائی پر ناز تھا پراگندہ ہو گئی ہے اور دیکھو کہ ان کی قبر ٹوٹ پھوٹ کر ویران ہو گئی ہیں اور ان کی ہڈیاں گل سڑگئی ہیں۔ ذرا دیکھو اور غور کرو کہ ان قوموں کے شرک اور ظلم و ستم کا انجام کیا ہوا۔ جائے عبرت ہے کہ اگر وہ پرندوں کے آشیانے جلاتے تھے تو إن صیادوں کے گھر بھی کیسے برباد ہوئے ہیں۔ البتہ ان میں سے اکثر افراد مشرک تھے: (كَانَ أَكْثَرُهُم مُّشْرِكِينَ) اور شرک ام الفساد اور اُن کی تباہی کا باعث ہوا۔ اِس مقام پر یہ امر توجہ طلب ہے کہ آیات ماقبل میں جہاں خدا کی نعمتوں کا ذکر تھا اس وقت ترتیب یہ تھی کہ پہلے انسان کی تخلیق کو بیان کیا، پھر اسے روزی دینے کا ذکر کیا (اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ) مگر آیات زیر نظر میں جب خدا کے عذاب و سزا کا ذکر ہو رہا ہے تو پہلی تنبیہ یہ ہے کہ خدا قوموں کے گناہوں کی سزا میں پہلے تو ان سے اپنی نعمتیں سلب کر لیتا ہے۔ اس کے بعد ان کے شرک کی وجہ سے انھیں بلاک اور نابود کر دیتا ہے۔ یہ ترتیب بایں معنی ہے کہ نعمت الہی کی پہلی منزل تخلیق ہے۔ اس کے بعد اپنے بندوں کو روزی رسانی ہے مگر جب وه اپنی بخشش کو واپس لیتا ہے تو پہلے ان سے وہ نعمات جو وجہ حیات ہیں سلب کر لیتا ہے۔ اس کے بعد ان سرکش اور گمراہ اقوام کو بلاک کر دیتا ہے۔ اِس آیت میں "أَكْثَرُهُم مُّشْرِكِينَ" کہا گیا ہے۔ اِن الفاظ کی وجہ یہ ہے کہ یہ سورہ مکی ہے اور اُس زمانے میں مسلمان بحیثیت تعداد و شمار اقلیت میں تھے۔ اس لیے اكثر هم مشرکین کہہ کر مسلمانوں میں اطمینان و قلب پیدا کرنا مقصود تھا کہ مشرکین کی کثرت سے ہراساں نہ ہوں۔ کیونکہ خدا نے گزشتہ زمانوں میں ان جیسے مشرکین کی بڑی بڑی جماعتوں کو تباہ و نابود کر دیا ہے۔ نیز ان الفاظ میں اس عہد کے اہل طغیان کے لیے تنبیہ بھی ہے کہ جاؤ زمین میں چل کر دیکھو کہ تمہاری ہم مسلک ما قبل قوموں کا کیا انجام ہوا۔ چونکہ نصیحت حاصل کرنا، خواب غفلت سے بیدار ہونا اور پھر خدا کی طرف رجوع کرنا ہی کافی نہیں ہوتا۔ اس لیے آیت مابعد میں خدا پیمغبر اکرمؐ کی طرف روئے سخن کر کے یہ فرماتا ہے: تم اپنا رخ مستقیم اور پائیدار دین (وہ دین جو توحید خالص کی تعلیم دیتا ہے) کی طرف کیے رہو، اس دن کے آنے سے قبل جسے ارادہ الہی سے کوئی روک نہیں سکتا اور نہ خدا کا پروگرام معطل ہو سکتا ہے۔ اس روز لوگ پراگندہ اور گرده در گردہ ہو جائیں گے۔ ایک گروہ بہشت میں اور دوسرا گروه دوزخ میں جائے گا: (فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ الْقَيِّمِ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهُ مِنَ اللَّهِ يَوْمَئِذٍ يَصَّدَّعُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: اس آیت کے جز "لامرد له من الله" میں کلمہ "مرد" مصدر میمی ہے مگر اس جگہ معنی اسم فاعل استعمال ہوا ہے اس لیے کا اس کے یہ معنی ہوں گے "لا راد له من الله" اس مقام پر ضمیر "له" کا مرجع "یوم" ہے لہذا اجمالًا جملے کا مفہوم ہے کوئی شخص بھی اگر اس دن کے برپا کرنے سے روک نہیں سکتا۔ یعنی خدا کو بروز قیامت کوئی بھی داد رسی اعمال کی جزا و سزا دینے سے روک نہیں سکتا۔ خلاصہ یہ ہے کہ نہ تو خدا ہی اپنے وعدہ سے پھرنے والا ہے کہ اس روز حساب کو موقوف کر دے اور نہ کسی غیر ہی میں یہ طاقت۔ پس اُس روز کا آنا حتمی ہے۔ (غور کیجیئے گا)۔ اِس آیت میں دین کی صفت "قیم" بیان کی گئی ہے۔ "قیم" کے معنی ثابت اور استوار کے ہیں۔ لہذا "فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ الْقَيِّمِ" جملۂ تاکیدی ہے جس سے مراد یہ ہے کہ چونکہ آئین اسلام اہل عالم کے نظام حیات کو استوار اور ان کی مادی اور رُوحانی حوائج کو پورا کرنے والا ہے۔ لہذا اس سے منحرف نہ ہونا۔ نیز یہ کہ آیت کے مخاطب جناب رسالت مآبؐ ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب پیغمبرؐ کو یہ تاکید ہے تو دوسرے سمجھ لیں کہ پھر ان کی کیا حیثیت ہے۔ نیز یہ کہ آیت فوق میں کلمه "يَصَّدَّعُونَ" استعمال ہوا ہے۔ یہ فعل مضارع ہے جس کا مادہ "صدع" ہے جس کے وضعی معنی برتن کو توڑنے اور پھاڑنے کے ہیں۔ مگر رفتہ رفتہ یہ کلمہ ہر قسم کی پراگندگی اور تفرقہ کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ اس آیت میں اس کلمہ کا مفہوم یہ ہے کہ بروز قیامت اہل بہشت اور مستحق النار لوگوں کے گروہ الگ الگ ہو جائیں گے۔ پھر ان دونوں جماعتوں کی بھی بہشت کے اور دوزخ کے درجات کے لحاظ سے درجہ بندی ہو جائے گی۔ اس کے بعد آنے والی آیت میں اس امر کی تشریح ہے کہ بروز قیامت لوگ کس طرح جماعتوں میں تقسیم ہو جائیں گے۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے: جس نے کفر کیا اس کا نقصان کود اسی کو پہنچے گا: (مَن كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُ)۔ لیکن وہ لوگ جو اعمال صالح انجام دیتے ہیں، وہ اِن اعمال کے ذریے اجر الٰہی کو اپنے لیے مہیا کرتے ہیں: (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِأَنفُسِهِمْ يَمْهَدُونَ)۔ راغب نے مفردات میں لکھا ہے کہ "يمهدون" کا مادہ "مھد" (بروزن "عہد") ہے۔ یہ اسم ہے۔ گہوارہ اور جھولے کو یا شیر خوار بچہ کے سلانے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ بعد ازاں اس کے معنی وسیع ہو گئے اور مھد و مھاد بر آرام دہ اور آسائش بخش جگہ کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ اسی جہت سے مومنین صالح اور اہل بہشت کے لیے یہ کلمہ استعمال کیا گیا ہے۔ خلاصہ گفتگو یہ ہے کہ انسان یہ گمان نہ کرے کہ اس کے ایمان و کفر یا اعمال زشت و زیبا کا خدا پر کچھ اثر ہوتا ہے۔ بلکہ وہ خود ہی اپنے اعمال صالح سے شاد و خوشنود اور اعمال سیہ غمگین ہوتا اور تکلیف اٹھاتا ہے۔ یہ امر توجہ طلب ہے کہ جہاں کفار کا ذکر ہے، جملہ "مَن كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُ" پر ہی اکتفا کی گئی ہے لیکن جب اہل ایمان کا ذکر آتا ہے تو آیت مابعد میں بالوضاحت یہ بیان ہے کہ انھیں صرف بوزن اعمال ہی جزا نہیں ملے گی بلکہ خدا نہیں ایسی نعمات کثیر عطا فرمائے گا جو اس کے فضل و کرم کے شایان شان ہیں۔ مقصود یہ ہے کہ خدا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور اعمال صالح انجام دیتے ہیں اپنے فضل و کرم سے جزائے خیر دے گا: (لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِن فَضْلِهِ)- یہ امر مسلم ہے کہ خدا کے اس فضل سے کفار مستفید نہ ہو سکیں گے۔ کیونکہ خدا کفار کو دوست نہیں رکھتا: (إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ)۔ بہرکیف، یہ امر بدیہی ہے کہ خدا عادل ہے اس لیے وہ کفار اور مشرکین کے ساتھ بھی عدل کے ساتھ سلوک کرے گا۔ اور انھیں اتنی ہی سزا ملے گی جتنی کے کے وہ مستحق ہیں مگر وہ خدا کے فضل اور اس کی نعمات سے محروم رہیں گے۔

چند اہم نکات ۱- گناه و فساد کا باہمی ربط:

انسان سے جو بداخلاقی یا بداعمالی بھی سرزد ہوتی ہے اس کا معاشرے کی حالت پر اور اس ذریعے سے افراد کی حالت پر اثر پڑتا ہے اور بے اثر معاشرے کے اجتماعی نظام میں فساد کا باعث ہوتا ہے۔ اخلاقی گناه، بد اعمالی اور قانون شکنی غیر صحت بخش اور مسموم غذا کی مانند ہے جس کا انسان کے نظام جسمانی پر مضر اثر پڑتا ہے اور اس کے ردّعمل سے کسالت صحت میں مُبتلا ہو جاتا ہے۔ مثلًا: دروغ گوئی سے انسان کا اعتماد جاتا رہتا ہے۔ امانت میں خیانت سے معاشرتی تعلقات خراب ہو جاتے ہیں۔ آزادی سے ناجائز فائدہ اٹھانا اس سے انسان میں استبداد اور خودسری کا مادہ پیدا ہو جاتا ہے جو آخرکار رنگ لاتا ہے۔ انسان اپنے فرض کو فراموش کر دیتا ہے اور کمزوروں اور قریبی دوستوں کے حقوق سلب کرتا ہے۔ اس کے میں لوگوں کے دلوں میں اس کے خلاف کینہ اور عداوت کے جذبات ابھرتے ہیں اور جس معاشرے میں ہر طرف کینہ اور عداوت مسلط ہو اس کی بنیاد متزلزل ہو جاتی ہے۔ خلاصہ تحریر ہے کہ: ہر بدعملی خواہ وہ قلیل ہو یا کثیر، أس کا ردّعمل معاشرہ اور فرد دونوں کے حق میں مضر ہوتا ہے۔ اِسی لیے آیت "ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ" کی ایک تفسیر یہ بھی کی گئی بے ("گناہ اور فساد میں یہی فطری ربط ہے")۔ لیکن اسلامی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے گناہ ایسے ہیں جو مذکورہ بالا مضرتوں کے علاوہ، ایسے زیاں آور اثرات کا سلسلہ بھی اپنے ساتھ لاتے ہیں کہ نگاہ ظاہر میں یہ پہنچان بھی نہیں ہو سکتی کہ ان اثرات کا گناہوں سے کیا ربط ہے۔ مثلًا: روایات میں مذکور ہے کہ "قطع رحم" عمر کو گھٹا دیتا ہے۔ مال حرام کھانا قلب کو سیاہ اور زنا کاری اور فحاشی کا چلن انسانوں کی فنا کا باعث ہوتا ہے اور روزی کو کم کر دیتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: رسول اللہؐ سے ایک حدیث منقول ہے کہ:- زنا کی چھ سزائیں ہیں جن میں سے تین دنیا میں ملتی ہیں اور تین آخرت میں۔ دنیاوی سزائیں یہ ہیں کہ انسان سے نورانیت سلب ہو جاتی ہے، اسے موت جلد آ جاتی ہے۔ نیز اس کی روزی منقطع ہو جاتی ہے۔ اور آخرت کی سزا میں سے ہیں کہ اس سے حساب میں سختی ہو گی، اس پر خدا کا غضب نازل ہو گا اور وہ ہمیشہ سے دوزخ میں رہے گا (سفینۃ البحار مادہ زنی)۔ اس سلسلے میں امام جعفر صادقؑ سے ایک حدیث منقول ہے کہ آپؑ نے فرمایا: من يموت بالذنوب اكثر ممن يموت بالاجال جو لوگ بسب گناہ مرتے ہیں ان کا شمار ان سے زیادہ ہے جو طبعی موت سے مرتے ہیں۔ (بحوالہ: سفینۃ البحار (ماده ذنب)۔ قران شریف میں ایک اور مقام ہے اس مضمون کو ایک اور پہلو سے بیان کیا گیا ہے: وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُواْ وَاتَّقَواْ لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَـكِن كَذَّبُواْ فَأَخَذْنَاهُم بِمَا كَانُواْ يَكْسِبُونَ اگر وہ لوگ جو شہروں اور آبادیوں میں بستے ہیں ایمان لاتے اور تقوی اختیار کرتے تو ہم اُن کے لیے آسمانوں اور زمین کی برکات کھول دیتے لیکن اُنھوں نے تو ہماری آیات کی تکذیب کی تو ہم نے بھی اُنھیں اُن کے اعمال کی سزا دی۔ ( اعراف-٩۶) زیر بحث آیت میں "کلمہ"، "فساد" میں مفاسد اجتماعی، بلائیں اور سلب برکات، تمام چیزیں شامل ہیں۔ اس مقام پر ایک اور نکته قابل توجہ ہے۔ وہ یہ کہ زیر بحث آیت سے ضمنًا یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آفات اور بلاؤں کے نزول سےانسانوں کی تربیت بھی ہوتی ہے۔ اس طرح کہ وہ جب اپنے اعمال کے نتائج کو دیکھیں گے تو خواب غفلت سے بیدار ہوں گئے اور تقوٰی و طہارت اختیار کریں گے۔ ہمارا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ جملہ آفات و مصائب اسی قسم کے ہیں۔ لیکن ان میں کچھ اس قسم کے فلسفے کے حامل ہے۔ البتہ ان کے دیگر پہلو بھی ہیں جن کے بارے میں ہم نے متعلقہ مقام پر بحث کی ہے۔ (دیکھیں: آفريد گار جہان- بحث آفات بلاہا)

۲- زمین پر سیاحت میں پوشیدہ حکمتیں:

قرآن مجید میں زمین پر سیاحت کا چھ مقام پر ذکر ہے اور وہ ہے سوره آل عمران، انعام، نحل، نمل، عنکبوت اور سورہ رُوم میں۔ اِن میں ایک مقام پر یعنی سورہ عنکبوت کی آیہ بیسں میں تو انسانوں کو سیاحت کا اس لیے حکم دیا گیا ہے تاکہ وہ أُن اسرار و رموز کا مشاہدہ کریں جو اللہ کی مخلوقات میں پنہاں ہیں۔ اور ــــــــــ دیگر پانچ مقامات پر یہ ہدایت اس لیے کی گئی ہے تاکہ لوگ دنیا کی جابر، ستم شعار اور عصیاں کوش اقوام کے دردناک اور بلازده انجام کو دیکھ کر عبرت حاصل کریں۔ انسانوں کی رُوحانی اور اخلاقی تربیت کے لیے قرآن میں خصوصیت سے کائنات کی محسوسات ملوسات کا ذکر کیا گیا ہے۔ قرآن مسلمانوں کو خصوصًا یہ حکم دیتا ہے کہ اپنی زندگی کے محدود دائرے سے باہر نکل کے اس وسیع دنیا کی سیر و سیاحت کریں۔ وہ دوسری قوموں کے اعمال، اسلوب حیات اور رفتار زندگی کو دیکھیں اور اس پر بھی غور کر کے عبرت حاصل کریں کہ اقوام و ملل کی کج رفتاری اور عصیاں کوشی کا انجام کیا ہوتا ہے۔ عصر حاضر میں شیطانی طاقتوں (طاقتور اقوام) نے اپنے نفع اندوزی کے دامن حرص کو پھیلانے کے لیے دنیا کی تمام اقوام، تمام مالک اور زمین کے ہر حصے کی تحقیق کی ہے اور ان کی تہذیب و تمدان، مادی ذرائع، صنعت و حرفت اور عسکری صنعت و قوت غرض ہر پہلو سے تفتیش کی ہے اور پھر ان کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا ہے۔ قرآن یہ درس دیتا ہے کہ ان جبار اور خون آشام قوموں کے بجائے (اے مسلمانو!) تم زمین پر پھیل جاؤ اور ان کے شیطانی منصوبوں کے بجائے رحمانی درس حاصل کرو۔ دوسروں کی زندگی سے عبرت حاصل کرنا شخصی تجربے سے زیادہ اہم اور زیادہ قدر رکھتا ہے۔ کیونکہ شخصی تجربہ تو نقصان اٹھا کر ہی حاصل ہوتا ہے مگر دوسروں کی زندگی سے زبان و نقصان برداشت کیے بغیر عبرت حاصل ہوتی ہے۔ زمین پر سیاحت کے بارے میں قرآن کا حکم عین ان اصولوں کے مطابق ہے جو آج کل علمائے علم الانسان نے اختیار کیے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ کتاب میں اصولی مسائل پڑھانے کے بعد طلبا کو سیاحت کے لیے سے جاتے ہیں تاکہ وہ بچشم خود مطالعہ کریں۔ البتہ آج کل ایک اور قسم کی سیاحت کا رواج ہوا ہے۔ اس کا نام ٹورزم TOURISM رکھا ہے۔ اِس سیاحت کا رواج شیطانی تہذیب کی مالک قوموں کی طرف سے کسب دولت اور ثروت حرام کمانے کے لیے ہوا ہے۔ ان کے زیادہ ترمقاصد غیر اخلاقی ہوتے ہیں۔ مثلًا نازیبا و ناشائستہ ثقافت کی ترویج، عیاشی، ہوس رانی، عادات کی بے لگامی اور دوسرے ناشائستہ مشاغل۔ اس قسم کی سیاحت تباہ کن ہے۔ اس کے برخلاف اسلام اس قسم کی سیاحت کا حامی ہے جس کا مقصد صحت مند تہذیب کی اشاعت، تجربات سے باہمی استفاده، جہان انسانیت میں اسرار تخلیق کی جستجو، عالم طبیعی کی تحقیق اور فاسد و ستمگر اقوام کے دردناک انجام سے عبرت حاصل کرنا ہو۔ اس مقام پر اس نکتے کا ذکر ہے محمل نہیں ہے کہ اسلام میں ایک اور قسم کی "سیاحت" اور جہاں گردی کی ممانعت ہے۔ جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے: لا سیاحۃ فی الاسلام اسلام میں سیاحت نہیں ہے۔ (بحوالہ: مجمع البحرین تحت ماده سیح۔ رسول اللہؐ سے ایک اور حدیث منقول ہے: سياحة امتي الغزو والجهاد یعنی اگر میری امت مادی زندگی سے منہ موڑنا چاہتی ہے تو پھر کیوں جہاد کی طرف نہ جائے اور کیوں بیابانوں میں فضول مرتی پھرے)۔ اِس حدیث کا اطلاق ان لوگوں پر ہوتا ہے کہ جو تمام عمر یا زندگی کے ایک حصے کے لیے معاشرتی زندگی سے منقطع ہو جاتے تھے اور کوئی حاصل خیز مشغلہ اختیار نہ کرتے تھے۔ بلکہ شہر بہ شہر اور قریہ بہ قریہ مارے مارے پھرتے تھے، رہبانوں کی طرح زندگی بسر کرتے تھے اور معاشرے پر بوجھ بنے رہتے تھے۔ بہ الفاظ دیگر یہ لوگ "چلتے پھرتے راہب" تھے۔ اُن راہبوں کے بالعکس جو گرجوں میں مقیم رہ کر معاشرتی تعلقات ترک کر کے گوشہ نشینی کی زندگی بسر کرتے تھے، جنہیں "راہیان ثابت" کہا جا سکتا ہے۔ مگر اسلام ایک عملی دین ہے وہ رہبانیت اور ترک دنیا کا مخالف ہے۔ اس لیے وہ اس قسم کی سیاحت کی اجازت بھی نہیں دیتا۔

٣- دین قیم اور آئین محکم:

زیر بحث آیات میں پیغمبر اکرامؐ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی کلی توجہ اس آئین کی طرف رکھیں جو مستقیم، محکم اور استوار ہے۔ اور جس میں کسی قسم کجروی اور راہ راست سے منحرف ہونے کا احتمال نہیں ہے۔ نیز اُس کی بنیادیں غیر متزلزل ہیں۔ یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ قرآن کی دوسری آیات میں "دین" کے اور اوصاف بھی بیان ہوئے ہیں مثلاً: سورہ یونس کی آیہ ۱٠٥ میں دین کو کلمہ "حنیف" سے متصف کیا گیا ہے۔ (یعنی وہ دین جس میں کسی قسم کی کج روی نہیں ہے)۔ سوره زمر کی آیت ٣ میں اسے "خالص" کہا گیا ہے۔ أَلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ سورہ نحل کی آیت ٥۲ میں کلمہ "واصب" استعمال ہوا ہے جس کے معنی میں وہ آئین بر تغیر نا پذیر اور فنا و زوال سے بری ہے۔ (وَلَهُ الدِّينُ وَاصِبًا)۔ سورہ حج کی آیت ۷۸ میں اسلام کو ایسا آئین بتایا گیا ہے۔ جس میں کسی قسم کی سخت گیری نہیں ہے: وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ اِن صفات مذکورہ میں سے ہر صفت جسم اسلام کا ایک پہلو ہے۔ یہ تمام پہلو ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ اس لیے تتبع کے لیے ایسے ہی دین کو منتخب کرنا چاہیے اور اس کی تعلیمات کی تحصیل میں سعی کرنی چاہیے اور اُس کے تحفظ میں جان لڑا دینی چاہیے۔

۴- روز قیامت ٹل نہیں سکتا:

آیات مذکورہ بالا میں روز قیامت کے متعلق یہ ذکر آیا ہے کہ " يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهُ مِنَ اللَّهِ "وہ ایسا دن ہے کہ خدا کو اس کے برپا کرنے سے کوئی روک نہیں سکتا اور نہ اس کے عمل وقوع میں کوئی حائل ہو سکتا ہے۔ اور نہ کسی میں یہ قدرت ہو گی کہ اس روز کے محاسبے سے فرار ہو کر پھر دنیا میں آ جائے۔ قران کی دوسری آیت میں بھی روز قیامت کا حال بیان کیا گیا ہے، چناچہ سوره شوریٰ آیت ۴۴ مذکور ہے کہ: جب ظالم خدا کے دردناک عذاب کو دیکھیں گے تو کہیں گے: هَلْ إِلَى مَرَدٍّ مِّن سَبِيلٍ کیا کوئی ایسی راہ ہے کہ ہم پھر دنیا کی طرف لوٹ جائیں؟ اسی طرح سورہ شوریٰ کی آیت ۴۷ میں قیامت کی تعریف میں " يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهُ مِنَ اللَّهِ" كہا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عالم ہستی میں انسان متعدد مراحل سے گزرتا ہے اور یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ مرحله مابعد سے مرحلہ ماقبل کی طرف عود کر جائے، نہ صرف انسان بلکہ جملہ کائنات کے لیے یہ خدا کی تخلف نا پذیر کی سنت ہے۔ مثلًا : ایک بچہ جو شکم مادر سے عالم وجود میں آیا ہے خواہ وہ باعتبار ترکیب جسمانی کامل ہو یا ناقص، کیا یہ ممکن ہے۔ کہ وہ پھر بصورت جنین واپس لوٹ جائے؟ یا وہ میوہ جو شاخ درخت سے ٹوٹ کر گر گیا ہے، خواہ پختہ ہو یا خام، کیا وہ پھر واپس ہو کر اسی شاخ سے متوصل ہو سکتا ہے؟ انسان کا اِس جہان فانی سے اُس جہان فانی کی طرف منتقل ہونا بھی ایسا ہی ہے۔ یعنی یہاں سے انتقال کے بعد پھر کسی طرح بھی اس کی بازگشت نہیں ہو سکتی اور یہی وہ حقیقت ہے کہ انسان اس پر غور کرے تو وہ لرزہ براندام ہو جاتا ہے اور یہی حقیقت سے خواب غفلت سے بیدار کرتی ہے۔

46
30:46
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦٓ أَن يُرۡسِلَ ٱلرِّيَاحَ مُبَشِّرَٰتٖ وَلِيُذِيقَكُم مِّن رَّحۡمَتِهِۦ وَلِتَجۡرِيَ ٱلۡفُلۡكُ بِأَمۡرِهِۦ وَلِتَبۡتَغُواْ مِن فَضۡلِهِۦ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ
اس کی (عظمت و قدرت کی) نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ ہواؤں کو بشارت دہندہ بنا کر بھیجتا ہے تاکہ تمہیں اپنی رحمت سے سیراب کرے اور اسی کے حکم سے کشتیاں چلیں تم اس کے(فضل سے) استفادہ کرو۔ ممکن ہے کہ تم اس کا شکر(بھی) ادا کرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 51 کے تحت ملاحظہ کریں۔

47
30:47
وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ رُسُلًا إِلَىٰ قَوۡمِهِمۡ فَجَآءُوهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ فَٱنتَقَمۡنَا مِنَ ٱلَّذِينَ أَجۡرَمُواْۖ وَكَانَ حَقًّا عَلَيۡنَا نَصۡرُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
ہم نے تم سے پہلے ان کی قوم کی طرف رسول بھیجے۔ وہ ان کے پاس ہماری روشن دلیلیں لے کر گئے (مگر جب پندو نصائح سے کوئی فائدہ نہ ہواتو) تو ہم نے مجرمین سے انتقام لیا (اور ہم نے مومنین کی مدد کی) اور مومنین کی مدد کرنا ہم پر ہمیشہ فرض ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 51 کے تحت ملاحظہ کریں۔

48
30:48
ٱللَّهُ ٱلَّذِي يُرۡسِلُ ٱلرِّيَٰحَ فَتُثِيرُ سَحَابٗا فَيَبۡسُطُهُۥ فِي ٱلسَّمَآءِ كَيۡفَ يَشَآءُ وَيَجۡعَلُهُۥ كِسَفٗا فَتَرَى ٱلۡوَدۡقَ يَخۡرُجُ مِنۡ خِلَٰلِهِۦۖ فَإِذَآ أَصَابَ بِهِۦ مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦٓ إِذَا هُمۡ يَسۡتَبۡشِرُونَ
وہ خدا ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے تاکہ وہ بادلوں کو حرکت میں لے آئیں،پھر انہیں آسمان کی وسعت میں جس طرح چاہتا ہے پھیلا دیتا ہے اور پھر انہیں تہ در تہ کر دیتا ہے۔پھر تم دیکھتے ہو کہ ان بادلوں کے بیچ میں سے بارش کے قطرے گرنے لگتے ہیں۔ جب خدا(اس حیات بخش بارش کو) اپنے بندوں پر (جنہیں وہ چاہتا ہے) برساتا ہے تو وہ خوش ہو جاتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 51 کے تحت ملاحظہ کریں۔

49
30:49
وَإِن كَانُواْ مِن قَبۡلِ أَن يُنَزَّلَ عَلَيۡهِم مِّن قَبۡلِهِۦ لَمُبۡلِسِينَ
اورہر چند کہ، وہ اس سے قبل کہ ان پر بارش نازل ہو،مایوس تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 51 کے تحت ملاحظہ کریں۔

50
30:50
فَٱنظُرۡ إِلَىٰٓ ءَاثَٰرِ رَحۡمَتِ ٱللَّهِ كَيۡفَ يُحۡيِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَآۚ إِنَّ ذَٰلِكَ لَمُحۡيِ ٱلۡمَوۡتَىٰۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ
رحمت الٰہی کے آثار دیکھو کہ اللہ زمین کو اس کی موت کے بعد کس طرح زندہ کر دیتا ہے،اور وہی ذات مردوں کو زندہ کرے گی اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

51
30:51
وَلَئِنۡ أَرۡسَلۡنَا رِيحٗا فَرَأَوۡهُ مُصۡفَرّٗا لَّظَلُّواْ مِنۢ بَعۡدِهِۦ يَكۡفُرُونَ
اگر ہم (گرم اور جلانے والی)ہوا بھیجیں کہ اس کے اثر سے وہ اپنی زراعت اور باغات کو زرد اور پژ مردہ دیکھیں تو وہ نا شکری کرنے لگتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 54 کے تحت ملاحظہ کریں۔

تفسیر خدا کے آثارِ رحمت کو دیکھو:

ہم کہہ چکے ہیں کہ اس سورہ میں دلائل توحید باری تعالیٰ کا قابل لحاظ حصہ سات آیتوں میں بیان ہوا ہے۔ اٗن میں سے ہر آیت "ومن آیاتہ" کے الفاظ سے شروع ہوتی ہے۔ ان آیات میں سے چھ پر صفحات ماقبل میں گفتگو ہو چکی ہے۔ اب آخر میں ہم سب سے آخری ساتویں آیت پر غور کرتے ہیں۔ آیت ماقبل الذکر میں ایمان اور عمل صالح کا بیان تھا۔ دلائل توحید بھی اس سلسلے میں برائے تاکید ہوں گے۔ خداوند کریم فرماتا ہے کہ: خدا کی عظمت و قدرت کی علامات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ ہواؤں کو بشارت دہندہ بنا کر بھیجتا ہے۔ (وَمِنْ آيَاتِهِ أَن يُرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرَاتٍ)۔ وہ ہوائیں بارش کے جلو میں حرکت کرتی ہیں، بادل کے ٹکڑوں کو گھیر کر لاتی ہیں اور باہم پیوست کرتی ہیں۔ پھر اُنہیں خشک اور پیاسی زمینوں کی طرف لے جاتی ہیں۔ یہ بادل صفحہ آسمان پر چھا جاتے ہیں اور فضا کا درجہ حرارت تبدیل ہو جاتا ہے پھر بارش ہونے لگتی ہے۔ ممکن ہے کہ شہروں میں رہنے والے امیر لوگوں کے لئے بشارت دہندہ ہواؤں کی پیش قدمی زیادہ اہمیت نہ رکھتی ہو۔ لیکن بیاباں گردتشنہ کام لوگ جو قطراتِ باراں کے منتظر اور نیاز مند رہتے ہیں اُن کی ذہنی کیفیت مختلف ہے۔ جیسے ہی ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں اور بادلوں کو اپنے ہمراہ ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی ہیں۔ اور دوسرے مقامات کی نباتا پر جو بارش ہو چکی ہے، اس کی خوشبو اپنے ساتھ لاتی ہیں تو اُن ساکنان بیابان کے دل میں برق اُمید چمکنے لگتی ہے۔ اگرچہ آیاتِ قرآنی میں ہواؤں کے عملِ بشارت کو اکثر مقامات پر محض نزول باراں سے مختص کیا گیا ہے۔ لیکن ____کلمہ "مبشرات" کو صرف ان ہی معانی میں محدود نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہوائیں اپنے ساتھ دیگر خوش خبریاں بھی لاتی ہیں۔ مثلاً ہوائیں ___ فضا کی گرمی اور سردی کو معتدل کر دیتی ہیں۔ ہوائیں ___ فضا میں پھیلے ہوئے تعفن کو وسیع فضا میں بکھیر کر فضا کو صاف کر دیتی ہیں۔ علاوہ بریں ہوائیں ___ سورج کی تپش کو کم کر دیتی ہیں اور نباتات کو شدَت حرارت سے جلنے سے محفوظ رکھتی ہیں۔ درختوں سے جو آکسیجن گیس خارج ہوتی ہے، ہوا اُسے انسانوں تک سوغات کی صورت میں پہنچاتی ہے۔ اور ___ انسان اپنی سانسسے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس خارج کرتے ہیں اسے نباتات کی خوراک بنا دیتی ہے۔ ہوائیں بہت سی نباتات میں مادّہ تولید کو داخل کرتی ہیں۔ یعنی نر و مادّہ کے نطفوں کوباہم محلول کر دیتی ہیں۔ ہوائیں چکیاں چلاتی ہیں اور کاشتکار اُن کے وسیلے سے گندم کو بھوسے سے صاف کرتے ہیں۔ ہوائیں قدرتی نباتات کے بیجوں کو ایک جگہسے دُوسری جگہ اُڑا کے لے جاتی ہیں اور اُنہیں بیابانوں میں پھیلا دیتی ہیں۔ ہوائیں ___ بادبانی کشتیوں کو مسافروں اور بارگراں سمیت ایک مقام سے دوسرے مقام تک لے جاتی ہیں۔ ___ یہاں تک کہ اِس زمانے میں جب کہ بحری جہاز مشینی ذرائع سے چلنے گئے ہیں، جہازوںکی رفتار پر بادشُرط یابادِ مخالفکا اثرپڑتا ہے۔ دریں صُورت ہوائیں مختلف جہات سے انسان کے لیے بشارت آور ہیں۔ آیت کےآخری الفاظ یہ ہیں: خدا چاہتا ہے کہ وہ تمیہں اپنی رحمت کا ذائقہ چکھائے اور یہ کہ کشتیاں اُسی کے حکم سے چلیں اور تم اُس کے فضل سے بہرہ یاب ہو ممکن ہے کہ اس طرح تم اُس کا شکر ادا کرو۔ (وَلِيُذِيقَكُم مِّن رَّحْمَتِهِ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِأَمْرِهِ وَلِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ)۔ ہوائیں مویشیوں کی پرورش اور کاشتکاری کے لیے گوناں گوں نعمات کا باعث ہیں، نیز وہ حمل و نقل کا وسیلہ بھی ہیں۔ نتیجۃً تجارتی امور میں پیش رفت کا سبب ہوتی ہیں۔ قرآن میں اِن فوائد کی طرف تین جملوں سے اشارہ کیا گیا ہے۔ اوّل: لِيُذِيقَكُم مِّن رَّحْمَتِهِ دوم: لِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِأَمْرِهِ سوم: لِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِهِ توجہ طلب یہ امر ہے کہ یہ سب برکات اُس وقت نمودار ہوتی ہیں جب ہوا کرہ زمین پر حرکت کرتی ہے۔ مگر انسان کسی نعمت کی بھی اُس وقت تک قدر نہیں کرتا جب تک وہ اس سے سلب نہ ہو جائے۔ جب تک ہوا بند نہیں ہو جاتی تو اُس وقت تک انسان کو شعور نہیں ہو تاکہ اُس پر کون سی نعمت نازل ہو رہی ہے۔ اگر انسان خوبصورت ترین باغ میں بھی بیٹھا ہوا اور ہوا چلنی بند ہو جائے تو وہ جگہ اُس کے لیے نمونہ زنداں بن جاتی ہے۔ اور اگر قید خانے میں بھی نسیم جاں بخش چلے تو وہ جگہ راحت بخش ہو جاتی ہے۔ قید خانے میں تکلیف کا ایک سبب یہ بھی ہوتا ہے کہ وہاں تازہ ہوا کا گزر نہیں ہوتا۔ اگر سمندروں کی سطح پر ہوا بند ہو جائے اور تموج بحرساکت ہو جائے تو سمندری مخلوق کی زندگی آکسیجن کی کمی کی وجہ سے خطرے میں پڑ جائے۔ اور سمندر ایک گندے پانی کا تالاب بن جائے۔ فخر الدین رازی کہتے ہیں کہ "وَلِيُذِيقَكُم مِّن رَّحْمَتِهِ" میں نکتہ یہ ہے کہ چکھائی تھوڑی سی چیز جاتی ہے۔ جس سے مراد یہ ہے کہ خدا کے نزدیک یہ تمام دنیا اور اس کی نعمتیں نہایت قلیل ہیں اور خدا کی رحمت واسعہ دوسری دُنیا کے لیے مخصوص ہے۔ اِس کے بعد کی آیت میں پیمبرانِ الہٰی کی بعثت کا ذکر ہے۔ مگر آیت ۴۸ میں پھر ہواؤں کے چلنے کا بیان آ جاتا ہے۔ ممکن ہے کہ آیت ۴۷ کا ایسی دو آیات کے درمیان واقع ہونا جن میں ہواؤں کی نعمت کا ذکر کیا گیا ہے، محض جملہ معترضہ کے طور پر ہو۔ جیسا کہ اس کے متعلق بعض مفسرین کی بھی یہی رائے ہے۔ علاوہ بریں، یہ بھی ممکن ہے کہ اِن مباحث کے ساتھ مسئلہ نبوت کا ذکر مبداء و معاد کے مسائل کی تکمیل کے نقطہ نظر سے ہو۔ جن کا اِس سورہ میں مکرر ذکر ہوا ہے (جیسا کہ بعض دیگر مفسرین کی رائے بھی ہے)۔ نیز یہ امکان بھی ہے کہ یہ ذکر اُن لوگوں کی تنبیہہ کے لیے ہو جو خدا کی نعمات سے بہرہ اندوز ہوتے ہوئے بھی کفرانِ نعمت کرتے ہیں۔ بہرحال، آیت ۴۷ میں فرمایا گیا ہے، ہم نے تم سے پہلے بھی اُن کی قوم کی طرف رسول بھیجے۔ (وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ رُسُلًا إِلَى قَوْمِهِمْ)۔ اور یہ رسول اُن اقوام کے پاس معجزات اور روشن و آشکار عقلی دلائل لے کر آئے۔ (فَجَاؤُوهُم بِالْبَيِّنَاتِ)۔ اُن اقوام میں سے ایک جماعت تو ایمان لائی اور ایک گروہ مخالفت پر آمادہ ہو گیا۔ لیکن جب اِن کفٗار پر پند و نصائح اور تنیہات کا کچھ اثر نہ ہوا تو پھر ہم نے مجرموں سے انتقام لیا: (فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِينَ أَجْرَمُوا)۔ مگر ہم نے مومنین کی مدد کی اور مومنین کی مدد کرنے کا فرض ہم پر ہمیشہ عائد ہوتا ہے: (وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ)۔ جملہ بالا میں کلمہ "کان" استعمال ہوا ہے جو اس سُنّتِ الہٰی کے محکم ہونے کی علامت ہے۔ اس کے بعد کلمہ "حق" استعمال ہا ہے اور پھر "علینا" جو کہ حق کی توضیح کرتا ہے۔ کلمات کی یہ ترتیب درحقیقت، اِس موضوع کے لیے پے در پے تاکیدات ہیں۔ ترتیب الفاظ میں "حَقًّا عَلَيْنَا" __ نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ" پر مُقدّم ہے۔ جو حصر کی دلیل ہے اور تاکید موکدّ ہے۔ اِس مقام پر حصر و تاکید سے مراد یہ ہے کہ بطور مسلم ہم نے مومنین کی مدد کرنا اپنا فرض قرار دیا ہے اور مومنین کے لیے کسی اور کی مدد کی احتیاج کے بغیر ہم اپنے وعدے کو عملی جامہ پہنائیں گے۔ یہ جملہ ضمنی طور پر اُن مسلمانوں کی دلجوئی اور تسلی کے لیے ہے جو اُس زمانے میں کفّارِ مکہ کی ایذا رسانیوں کے تحت سخت مبتلائے مصائب تھے۔ یہ کفار تعداد اور وسائل میں بہت آگے تھے۔ اگر نفسیاتی نتائج کے اعتبار سے دیکھا جائے تو دُشمنان خدا کا گناہ و عصیان میں مبتلا ہونا ہی مومنین کی فتح و نصرت کی دلیل ہے۔ کیونکہ یہی گناہ اور انحراف از راہ راست بطور کیفر کردار اُن کفار کے وجود کا استیصال کر دے گا یعنی اُن کا گناہ ہی اُن کی نابودی کے اسباب مہیا کر دے گا اور اُن پر خدا کا عذاب نازل ہو گا۔ اس کے بعد آیت ۴۸ میں پھر ہوا چلنے کی نعمت کا ذکر کیا گیا ہے۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے: وہ خدا ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے تاکہ وہ بادلوں کو حرکت میں لائیں: (اللَّهُ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا)۔ پھر وہ بادلوں کو آسمان کی وسعت میں اپنی مصلحت کے مطابق پھیلا دیتا ہے: (فَيَبْسُطُهُ فِي السَّمَاءِ كَيْفَ يَشَاءُ)۔ پھر اُن بادلوں کے ٹکڑوں کو مجتمع کرکے تہ بہ تہ کر دیتا ہے: (وَيَجْعَلُهُ كِسَفًا)۔ (تشریحی نوٹ: کسف جمع کسفہ (بروزنِ جملہ) بہ معنی قطعہ اس مقام پر بادل کے وہ ٹکڑے مراد ہیں جو تہ در تہ ہوتے ہیں۔ جن کی وجہ سے بادل بھاری ہو کر برسنے لگتا ہے)۔ تم دیکھتے ہو کہ اُس بادل کے ہجوم میں سے قطراتِ باراں خارج ہوتے ہیں: (فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ)۔ (تشریحی نوٹؒ: وَدْقَ (بروزن حلق) پانی کے غبار کی مانند چھوٹے چھوٹے ذرّات۔ یا بارش کے پراگندہ قطرات)۔ قدرت نے نزول باراں کے لیے ہوا کو ایک پورا منصوبہ سونپ دیا ہے۔ اس پر یہ فرض عائد کیا ہے کہ وہ سمندر سے بادلوں کے ٹکڑوں کو خشک اور پیاسی زمین کی طرف لاتی ہے۔ پھر اُنہیں صفحہ آسمان پر پھیلا دیتی ہے۔ بعد ازاں اُن کو الگ الگ تہ در تہ جمع کر دیتی ہے۔ پھر بادلوں کے اطراف کے ماحول کو سرد کرکے بادلوں کو برسنے کے قابل بنا دیتی ہے۔ بادلوں کی مثال تجربہ کار "چوپانوں" کی سی ہے کہ وہ جنگل میں پھرنے والی بھیڑوں کو اِدھر اُدھر سے جمع کرتے ہیں۔ پھر اُنہیں معین راستے پر ہانکتے ہیں پھر بآڑے میں لا کر اُن کا دُودھ دوہتے ہیں۔ جملہ ____ فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ جس کے معنی یہ ہیں کہ "تو بارش کے ضروترین قطرات کو دیکھتا ہے جو گھنگور گھٹا سے برستے ہیں"۔ ممکن ہے کہ اِس بیان سے اس حقیقت کا اظہارِ مقصود ہو کر بادلوں کا حجم اور ہوا کی شدّتِ حرکت اس حد تک نہیں ہے کہ وہ قطرات باراں کو ٹپکنے اور زمین پر آنے سے روک لیں۔ بلکہ پانی کے یہ چھوٹے چھوٹے ذرّات اُس طوفان اَبردباد کے باوجود جس نے فضائے آسمان کو گھیر رکھا ہے، زمین پر آنے کے لیے اپنا راستہ بنا لیتے ہیں۔ یہ قطرات باراں پیاسی زمین پر آہستہ آہستہ اس طرح گرتے ہیں کہ زمین سیراب ہو جاتی ہے اور کسی طرح کا نقصان نہیں پہنچتا۔ ہوا کا وہ طوفان جو بڑے بڑے درختوں کو اُکھاڑ پھینکنا اور پہاڑوں کی چٹانوں کو ہلا دیتا ہے، وہ بارش کے لطیف اور ننھے ذرّات کو اپنے درمیان سے گزرنے دیتا ہے تاکہ وہ زمین تک پہنچ جائیں۔ اِس مقام پر یہ نکتہ بھی توجہ طلب ہے کہ جب آسمان پر بادل چھائے ہوئے ہوں تو آنکھ کو یہ محسوس نہیں ہوتا کہ یہ الگ الگ ٹکڑے ہیں۔ لیکن ____ جس وقت ہم ہوائی جہاز کے ذریعے بادلوں کے بیج میں سے گزرتے ہیں یا اُن کے اُوپر پہنچ جاتے ہیں تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ اِن کے ٹکڑے الگ الگ ہیں۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: خدا اس حیات بخش بارش کو اُن بندوں تک پہنچاتا ہے (جنہیں وہ یہ نعمت بخشنا چاہتا ہے تو وہ خوش ہو جاتے ہیں: (فَإِذَا أَصَابَ بِهِ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ)۔ ہر چند کہ وہ لوگ نزول باراں سے قبل مایوس اور نااُمید تھے: (وَإِن كَانُوا مِن قَبْلِ أَن يُنَزَّلَ عَلَيْهِم مِّن قَبْلِهِ لَمُبْلِسِينَ)۔ (تشریحی نوٹ: مبلس مادہ "ابلاس" بمعنی یاس و نوامیدی)۔ اس مایوسی اور اس بشارت کا وہی لوگ اچھی طرح ادراک کر سکتے ہیں کہ جن کی زندگیوں کا انحصار بیاباں گرد عربوں کی طرح اِن قطرات باراں ہی پر ہے۔ جس وقت یاس اور نااُمیدی نے ایسے لوگوں پر اپنا منحوس سایہ ڈالا ہوا ہوتا ہے اور وہ خود، اُن کے پالتو جانور اور مزروعہ زمین بوجہ قحط آب تشنہ ہوتی ہیں کہ اتنے میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا چلتا ہے جو بارش کا پیش رو ہوتا ہے۔ وہ ہوائیں بارش کی خوشبو اپنے ساتھ لاتی ہیں۔ چند لمحے ہی گزرتے ہیں کہ آسمان پر بادل پھیل جاتے ہیں۔ وہ گھنگور اور بھاری ہو جاتے ہیں اور برسنے لگتے ہیں۔ گڑھے صاف پانی سے بھر جاتے ہیں۔ چھوٹی بڑی ندیاں اس نعمتِ سماوی سے لبریز ہو جاتی ہیں۔ خشک زمینوں اور ان بیابان گرد لوگوں کے دلوں میں تازہ زندگی کی کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں، دلوں میں اُمید کی بجلی چمکنے لگتی ہے۔ دلوں سے نااُمیدی اور مایوسی دُھل جاتی ہے۔ اِس آیت میں کلمہ "قبل" کی تکرار غالباً تاکید کے لیے ہے۔ منشائے یہ ہے کہ بارش سے چند لمحے پہلے جی ہاں چند لمحے پہلے چہرے اُترے ہوئے تھے۔ لیکن جیسے ہی بارش ہوتی ہے، اُن خشک لبوں پر مسکراہٹ کےکھیلنے لگتی ہے۔ دیکھئے انسان کتنا کمزور موجود ہے اور اس کا خدا کس قدر مہربان ہے۔ فارسی زبان میں تاکید کے لیے زمانے کا مکّرر ذکر کرتے ہیں۔ مثلاً _ _ہم کہتے ہیں کہ "کل تک" جی ہاں کل ہی تک فلاح شخص میرا دوست تھا۔ مگر اب سخت دشمن ہو گیا ہے۔ اس تکرار سے انسان کی تغیر حالت کا اظہار منظور ہوتا ہے۔ زیر نظر آیات میں سے آخری آیت میں پیمبرِ اسلامِٓؐ کو خطاب کرکے فرمایا گیا ہےکہ: رحمتِ الہٰی کے آثار کو دیکھو کہ وہ زمین کو اُس کی موت کے بعد کس طرح زندہ کرتا ہے۔ (فَانظُرْ إِلَى آثَارِ رَحْمَتِ اللَّهِ كَيْفَ يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا)۔ کلمہ "فَانظُرْ" استعمال کرنے میں یہ مصلحت ہے کہ نزول باراں کے سبب سے جب مُردہ زمین زندہ ہوتی ہے تو اُس میں رحمتِ الہٰی کے آثار اس قدر نمایاں اور آشکار ہیں کہ انسان کو بغیر جستجو سرسری نظر سے دیکھ کر ہی معلوم ہو جاتے ہیں۔ نیز یہ کہ بارش کو "رحمت الہٰی" کہا گیا ہے۔ یہ باعتبار نتیجہ ہے کیونکہ وہ مختلف جہات سے باعثِ برکت ہے۔ مثلاً بارش ___ خشک زمین کی آبیاری کرتی اور نباتات کے بیجوں کی پرورش کرتی ہے۔ بارش ___ درختوں کو حیات تازہ بخشتی ہے۔ بارش ___ ہوا کو گردو غبار سے پاک کر دیتی ہے اور انسان جس ماحول میں جیتا ہے اُسے دھوکہ صاف کر دیتی ہے۔ بارش ___ نباتات کو دھو کر اُنہیں طراوت بخشتی ہے۔ بارش ___ ہوا کو مرطوب و ملائم اور ہلکا کرکے انسان کے سانس لینے کے قابل بنا دیتی ہے۔ بارش کا پانی زمن میں جذب ہو جاتا ہے اور پھر کچھ عرصہ بعد چشموں اور کاریز کی صورت میں زمین پر بہنے لگتا ہے۔ بارش سے سیلاب آتا ہے۔ نہریں جاری ہو جاتی ہیں۔ یہ پانی جب ڈیم میں جمع ہو جاتا ہے تو اُس سے بجلی پیدا کی جاتی ہے جس سے روشنی حاصل ہوتی ہے اور مشینوں کو حرکت دی جاتی ہے۔ قرآن کی دوسری آیات میں بھی بارش کو "رحمت" سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ان مقامات میں سے سُورہ فرقان کی آیت ۴۸ اور سورہ نمل کی آیت۶٣ ہے۔ سورہ شوریٰ کی آیت ۲۸ میں مذکور ہے:۔ وَهُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِن بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَيَنشُرُ رَحْمَتَهُ وہ خدا ہی کی ذات ہے جو بارش کو نازل کرتی ہے۔ اس کے بعد کہ لوگ نااُمید ہو گئے ہوتے ہیں اور اپنی رحمت کو پھیلا دیتا ہے۔ اس کے بعد اس تعلق کی جہت سے جو مبداء و معاد کا اس قسم کے مسائل سے ہے، آیت کے آخر میں اس بات لا اضافہ کیا گیا ہے: جس ذات نے مردہ زمین کو نزول باراں سے زندہ کر دیا وہی بروز قیامت مردوں کو بھی زندہ کرے گا۔ اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔ (إِنَّ ذَلِكَ لَمُحْيِي الْمَوْتَى وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ)۔ اس مقام پر فعل مضارع کے بجائے "مُحْيِي" اسم فاعل استعمال ہوا ہے۔ جس کے پہلے لام تاکید ہے۔ اس سے انتہائی تاکید مقصود ہے۔ آیاتِ قرآنی میں ایسا بارہا نظر سے گزرا ہے ک مسئلہ معاد کو ثابت کرنے کے لئے یہ واقعہ بطور شہادت پیش کیا گیا ہے کہ مُردہ زمین نزول باراں کے بعد زندہ ہو جاتی ہے _____ چنانچہ ___ سورہ ق کی آیت ۱۱ میں مُردہ زمینوں کی زندگی کے ذکر کے بعد فرمایا گیا ہے: كَذَلِكَ الْخُرُوجُ بروز قیامت مردوں کا زندہ ہونا بھی اسی کی مانند ہے۔ نیز سورہ "فاطر" کی آیت ٩ میں بھی اسی قسم کا مضمون ہے: كَذَلِكَ النُّشُورُ بروز قیامت نشور اسی طرح ہو گا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ قانونِ حیات و مرگ ہر مقام پر یکساں ہے۔ اللہ کی ذاتِ پاک جو بارش کے چند قطرات سے مردہ زمین کو زندہ کر دیتی ہے اور اُس میں جوشِ نمو اور حرکتِ بالیدگی پیدا کر دیتی ہے۔ قدرت کے اس عمل کی ہر سال اور کبھی ہروز تکرار ہوتی رہتی ہے۔ اُسی ذات میں یہ قدرت ہے کہ موت کے بعد انسانوں کو بھی زندہ کر دے۔ حق یہ ہے کہ ہر شکل میں موت و حیات اُسی کے اختیار میں ہے۔ یہ درست ہے کہ ظاہراً زمین زندہ نہیں ہوتی بلکہ "حیاتِ ارض" کا مفہوم یہ ہے کہ نباتات کے جو بیج زمین میں پنہاں ہوتے ہیں وہ پرورش پاتے ہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے بیج زمین کے اجزاء کو اپنے اندر جذبن کر لیتے ہیں اور یہ اجزاء رُوح نباتی بن کر زندہ ہو جاتے ہیں۔ نیز ان ہی نباتات کے منتشر اور پاشیدہ اجزاء از سر نور زمین کو قوّتِ حیات بخشتے یہں۔ درحقیقت، منکرین معاد کے پاس بجز استبعاد کے اور کوئی دلیل نہ تھی اور قرآن مجید میں ان کے استبعاد کی نفی اور شکست کے لیے ایسی مثالیں دی گئی ہیں۔

52
30:52
فَإِنَّكَ لَا تُسۡمِعُ ٱلۡمَوۡتَىٰ وَلَا تُسۡمِعُ ٱلصُّمَّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوۡاْ مُدۡبِرِينَ
اورتم مردوں کو اپنی بات نہیں سنا سکتے اور نہ ہی بہروں کو جب وہ منہ موڑ لیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 54 کے تحت ملاحظہ کریں۔

53
30:53
وَمَآ أَنتَ بِهَٰدِ ٱلۡعُمۡيِ عَن ضَلَٰلَتِهِمۡۖ إِن تُسۡمِعُ إِلَّا مَن يُؤۡمِنُ بِـَٔايَٰتِنَا فَهُم مُّسۡلِمُونَ
نیزتم اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کر ہدایت نہیں کر سکتے۔ تم تو صرف ان ہی لوگوں کو اپنی بات سنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور حق کے سامنے سرتسلیم خم کئے ہوئے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 54 کے تحت ملاحظہ کریں۔

54
30:54
۞ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَكُم مِّن ضَعۡفٖ ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعۡدِ ضَعۡفٖ قُوَّةٗ ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعۡدِ قُوَّةٖ ضَعۡفٗا وَشَيۡبَةٗۚ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُۚ وَهُوَ ٱلۡعَلِيمُ ٱلۡقَدِيرُ
خدا ہی نے تمہیں کمزور حالت میں پیدا کیا، پھر کمزوری کے بعد اس نے قوت عنایت فرمائی۔ پھر قوت کے بعد کمزوری اور پیری کا وقت دیا۔ خدا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ جاننے والااورقدرت رکھنے والاہے۔

تفسیر مُردے اور بہرے تیری بات نہیں سُنتے:

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

گزشتہ آیات میں بابرکت ہواؤں کا ذکر تھا جو پُر برکت بارشوں کا پیش خیمہ ہوتی ہیں مگر زیر نظر آیات میں سے پہلی آیت میں زیاں رساں ہواؤں کا ذکر ہے۔ اِس ضمن میں خدا فرماتا ہے اگر ہم ہوا بھیجیں (کہ جو گرم اور جلا دینے والی اور جھلسا دینے والی ہو یا سرد خشک ہو) اور اس کے اثر سے یہ لوگ اپنے باغات اور زراعت کو زرد اور پژمردہ دیکھیں تو ناشکر گزاری کرنے لگتے ہیں اور اس روش پر قائم رہتے ہیں: (وَلَئِنْ أَرْسَلْنَا رِيحًا فَرَأَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوا مِن بَعْدِهِ يَكْفُرُونَ)۔ یہ لوگ کم ظرف ہیں۔ ان کا حال یہ ہے کہ نزول باراں تے قبل مایوس اور شکستہ خاطر ہوتے ہیں اور جب مینہ برس جاتا ہے تو بہت خوش ہوتے ہیں۔ اور اگر کسی دن تو چلنے لگے اور وقتی طور پر وہ اذیت میں مبتلا ہو جائیں تو فریاد کرنے لگتے ہیں اور خدا کی شکایت کرنے لگتے ہیں۔ اس کے برعکس، راست باز مومنین کا یہ حال ہے کہ جب انہیں خدا کی کوئی نعمت ملتی ہے تو شکر کرتے ہیں اور مصیبتوں میں صبر کرتے ہیں۔ مادی زندگی کے نشیب و فراز سے ان کے ایمان میں ذره بھر خلل نہیں پڑتا۔ اور ضعیف الایمان کو دلوں کی طرح ہوا کے ایک موافق جھونکے سے مومن اور دوسرے مخالف جھونکے سے کافر نہیں ہو جاتے۔ کلمہ "مصفرا" کا مادہ "صفره" (بر وزن "سفرہ") ہے۔ اس کے معنی زرد رنگ کے ہیں۔ بعض مفسرین کے نزدیک "راؤہ" کی ضمیر کا مرجع درخت اور گھاسیں ہیں جو مضرت رساں ہوائیں چلنے سے بہت جلد پژمردہ اور ذرد ہو جاتی ہیں۔ بعض مفسرین یہ خیال ہے کہ "رأوه" کی ضمیر کا مرجع اَبر ہے کیونکہ زرد رنگ کے بادل نازک ہوتے ہیں تو برستے نہیں ہیں۔ ان کے برخلاف کالے اور گھنے بال خوب برستے ہیں۔ بعض مفسرین اس ضمیر کا مرجع "ريح" (ہوا) کرتے ہیں کیونکہ معمول کی ہوئیں تو بےرنگ ہوتی ہیں لیکن باد سموم جو بیابان کے گرد و غبار بھی اپنے ساتھ اڑا لاتی ہے، زرد رنگ کی ہوتی ہے۔ اِس مقام پر ایک اور احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ کلمہ "مصفر" کے معنی "خالی" بھی ہیں۔ جیسا کہ راغب اصفہانی نے مفردات میں لکھا ہے کہ خالی برتن، غذا سے خالی پیٹ، خون سے خالی رگوں کو "صفر" (بروزن "سفر") کہتے ہیں۔ بنا برایں "مصفر" کا معنی وہ وائیں جو بارش سے خالی ہوں۔ اِس صورت میں "رأوه" کی ضمیر کا مرجع "ریح" (ہوا) ہے (یہ مقام غور طلب ہے)۔ ہمارے خیال میں تفسیر اول سب سے زیادہ مشہور ہے۔ اس مقام پر یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ برسنے والی اور مفید ہواؤں کے لیے "ریاح" کلمہ جمع استعمال ہوا ہے۔ لیکن زیاں رساں ہوا کے لیے کلمہ مفرد "ریح" آیا ہے۔ اِس کی یہ وجہ ہے کہ اکثر ہوائیں مفید ہی ہوتی ہیں اور باد سموم کبھی کبھی مہینوں یا سالوں میں ایک مرتبہ چلتی ہے۔ لیکن مفید ہوائیں تو ہمیشہ چلتی ہی رہتی ہیں۔ یا ممکن ہے کہ "ریاح" بصورت جمع اس لیے استعمال کیا گیا ہو کہ مفید ہواؤں کا اس صورت میں منفی اثر ہوتا ہے کہ پے در پے چلتی رہتی ہیں۔ جب کہ مضر ہوا ایک ہی مرتبہ چل کر اپنا تباہ کن اثر چھوڑ جاتی ہے۔ اِس آیت کے ذیل میں ایک آخری نکته قابل ذکر یہ ہے کہ آیت نمبر ۴۸ میں کلمہ "يَسْتَبْشِرُونَ" جو نفع بخش ہواؤں کے ذکر میں استعمال ہوا ہے اور جملہ "لَّظَلُّوا مِن بَعْدِهِ يَكْفُرُونَ" (اس کے بعد وہ اپنے کفر پر قائم رہتے ہیں) اس آیت میں آیا ہے۔ ان دونوں کا فرق قابل لحاظ ہے۔ ان کلمات کے استعمال میں جو تفاوت ہے اس سے ثابت ہے کہ ایسے بندے بھی ہیں کہ جب وہ خدا کی پے در پے نعمتوں کو دیکھتے ہیں تو خوش ہو جاتے ہیں لیکن اگر وہ ایک دن کے لیے یا صرف ایک بار کسی مصیبت میں مبتلا ہو جائیں تو شکایت کرنے اور رونے دھونے لگتے ہیں اور کفر کی طرف اس طرح مائل ہو جاتے ہیں۔ گویا اُنھوں نے کبھی اُسے چھوڑا ہی نہ تھا۔ اِن لوگوں کی مثال ایسے افراد کی سی ہے کہ جو ساری عمر صحت مند اور سلامتی سے رہتے ہیں۔ مگر ــــ کبھی خدا کا شکر ادا نہیں کرتے۔ لیکن ـــــــ اگر کبھی ایک رات کے تیز بخار میں مبتلا ہو جائیں تو جو کفر اور ان کی بھی ان کی زبان پر آتی ہے، بکتے رہتے ہیں اور بےدانش اور ضعیف الایمان لوگوں کا یہی حال ہے۔ اِس موضوع پر ہم نے اسی سورہ کی آیت ٣٥ اور سورہ ہود کی آیت ٩، ۱٠ اور سورہ حج کی آیت ۱۱ کے ذیل میں بھی بحث کی ہے۔ اِس کے بعد کی دو آیات میں آیت ماقبل کے مضمون کی مناسبت سے انسانوں کو چار گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اوّل: وہ لوگ جو اگرچہ جسمانی اعتبار سے زندہ نہیں لیکن باعتبار قلب و روح مردہ ہیں کہ وه اور ادراک حقائق سے قاصر ہیں۔ دوم: وہ لوگ کہ اُن کے کان تو ہیں مگر وہ کلمۃ الحق سننا نہیں چاہتے۔ سوم: وہ گروہ جن کی آنکھیں چہرہ حق کو دیکھنے سے محروم ہیں۔ چهارم: راست باز مومنین کا گروه جو دلہائے دانا، گوشہائے شنوا اور چشم ہائے بینا رکھتے ہیں۔ پہلی بات یہ کہی ہے کہ: اپنی حق باتیں مردوں کو نہیں سنا سکتے اور جن کے قلب مردہ ہو چکے ہیں ان پر تمہاری نصیحتوں کا کچھ اثر نہیں ہو سکتا۔ (فَإِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى)۔ نیز یہ کہ "تم اپنی بات بہروں کو بھی نہیں سنا سکتے۔ بالخصوص اُس وقت کہ جب وہ کلمہ حق سننے سے پشت پھیر لیں" (وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ)۔ اسی طرح تمهارے امکان میں یہ بھی نہیں کہ تم اندھوں کو گمراہی سے نکال کر راه راست کی ہدایت کرو (وَمَا أَنتَ بِهَادِي الْعُمْيِ عَن ضَلَالَتِهِمْ)۔ تم اپنے کلمات حق صرف ان لوگوں کے کانوں تک پہنچا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور حق کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہیں: (إِن تُسْمِعُ إِلَّا مَن يُؤْمِنُ بِآيَاتِنَا فَهُم مُّسْلِمُونَ)۔ جس طرح کہ ہم نے اس سے قبل بھی کسی مقام پر کہا ہے کہ قرآن مادی حیات و مرگ اور ــــــــ ظاہری بینائی اور سماعت کے علاوہ، ایک برتر حیات و مرگ اور دید و شنید کا قائل ہے کہ انسان کی سعادت اور بدبختی کا انحصار ان آخر الذکر حواس باطنی پر ہے۔ جس شخص کا دل بیدار ہے اس کی نظر مادی اور جسمانی فوائد پر نہیں رہتی بلکہ اس کا نقطہ نگاہ روحانی اور معنوی ہوتا ہے۔ ادراک حقیقت کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ انسان کا قلب آماده تر اور اس کی آنکھ بینا اور کان سننے والے ہوں۔ اگر کسی شخص کا دل کثرت گناه، دماغ کی سنگینی اور غرور کی وجہ سے مردہ اور اس کی روح خوابیدہ ہو چکی ہے اور اس میں ادراک حقیقت اور امتیاز حق و باطل کی استعداد ہی نہیں رہی، تو اگر تمام انبیاء اور اولیاء بھی جمع ہو کر تمام آیات الٰہی اسے سنائیں تو اس پر کچھ بھی اثر ہو گا۔ اگر قرآن میں حواس خمسہ میں سے صرف دو حواس ظاہر کا اور قوت ادراک کا ذکر ہوا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان عالم خارجی سے جو معلومات حاصل کرتا ہے ان کا بیشتر حصہ ان ہی دو حواس (بصارت و سماعت) یا وجدان اور تحلیل عقل کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ یہ امر توجہ طلب ہے کہ آیات بالا میں راہ راست سے انحراف اور عدم ادراک حقیقت کے تین مراحل بیان کیے گئے ہیں جن میں سے مرحله اول یعنی حالت مرگ شدید ہے اور مرحله سوم یعنی نابینائی خفیف ہے۔ مرحله اوّل: "دل کی موت" ہے کہ قرآن میں مردہ دل لوگوں کو "موتی" کہا گیا ہے کہ ان کے اندر حق کا کوئی امکان ہی نہیں ہے۔ مرحله دوم: "عدم سماعت" ہے۔ بالخصوص وہ بہرے کہ جنھوں نے کلمۃ الحق سے روگردانی کر لی ہے اور دور بھاگ رہے ہیں۔ اُن کی گراں کوشی کا یہ حال ہے کہ نزدیک کی شدید چیخ پکار ان کے کانوں پر جس کے اثر ہونے کا امکان ہو سکتا تھا ان پر اس کا بھی اثر نہیں ہوتا۔ البتہ ان بہروں کا گروہ مردوں کے مانند نہیں ہے کیونکہ ممکن ہے کہ کبھی علامت یا اشارے سے انھیں کوئی بات سمجھائی جا سکے۔ اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ بہت سے حقائق ایسے ہیں کہ انھیں ایما و اشارہ سے سمجھایا نہیں جا سکتا۔ بالخصوص اس حالت میں کہ مخاطب پشت پھیر لے۔ مرحله سوم: عدم ابصارت (نابینائی) ہے۔ یہ ملحوظ رہے کہ اندھوں کے ساتھ، مردوں کی نسبت، زندگی بسر کرنا آسان تر ہے کیونکہ کم از کم ان کے کان تو کھلے ہوتے ہیں اور ان کے سامنے بہت سے مطالب بیان کیے جا سکتے ہیں۔ مگر ـــــــــــ پھر بھی: دیکھنا اور سنا برابر تو نہیں۔ علاوہ بریں، اندھے کے سامنے کسی شے کی کیفیت کا بیان کر دینا ہی کافی نہیں کیونکہ مادی اشیا کی حقیقت ان کے دیکھے بغیر سمجھ میں نہیں آتی۔ بعض بسيط تصورات کا بھی یہی حال ہے۔ مثلا اندھے سے کہا جائے کہ دائیں نہیں یا بائیں طرف چلو تو اس حکم پر عمل کرنا آسان نہیں ہے کیونکہ بعض اوقات معمولی سی غلطی سے وہ کسی گڑھے میں جا گرے گا۔ قرآن مجید میں "موت و حیات" کا جو تصور ہے نے اسے سورہ نحل کی آیات ۸٠ اور ۸۱ کے تحت بالتشریح بیان کیا ہے۔ اور وہابیوں کے اس کمزور اعتراض کا ذکر بھی کیا ہے۔ جو وه پیغمبراکرمؐ اور آئمہؑ سے توسل کے خلاف ان آیات زیر بحث اور دیگر آیات کے حوالے سے کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان آیات سے ثابت ہے کہ مردے مطلقًا کچھ نہیں سمجھتے مگر ہم نے ثابت کیا ہے کہ انسان اور خصوصًا پیشوایان بزرگ اس دنیا سے سفر کرنے کے ایک "برزخی زندگی" گزرتے ہیں۔ قرآن اور احادیث کی بہت سی اسناد اس پر گواہ ہیں اور حیات برزخی میں اُن کی استعداد ادراک و بصیرت حیات دنیاوی کی نسبت وسیع تر ہو جاتی ہے۔ (مزید توضیح کے لیے جلد ۸ میں آیات مذکورہ کے ذیل میں ملاحظہ فرمایئے)۔ اس مقام پر ہمیں اس جملے کا اضافہ بھی کرنا چاہیے کہ تمام مسلمان اپنی نمازوں میں تشہد پڑھتے وقت پیغمبرگرامیؐ کو مخاطب کر کے اُن پر ان الفاظ سے سلام کہتے ہیں: السّلام عليك ايها النّبي ورحمة الله و بركاته"۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ تخاطب حقیقی سے نہ کہ مجازی اور سلام اس ذات کے لیے ہے جو سنتی اور ادراک کرتی ہے۔ اس لیے پیمبر اکرمؐ کو بصورت خطاب سلام کرنا اس امر کی دلیل ہے کہ آنحضرتؐ کی رُوح مقدس ہم سب کے سلاموں کو سنتی ہے۔ اور کسی جہت سے بھی ہم ان خطابوں کو مجاز پر محول نہیں کر سکتے۔ زیر بحث آیات میں سے آخری آیت جس میں توحید باری تعالٰی کی دلیل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جو دلیل فقر و غنا کہلاتي ہے اس دلیل سے خدا ان تمام دلائل کی جو اثباتِ توحید کے لیے اس سورۃ میں بیان ہوئے ہیں تکمیل کرتا ہے ارشاد ہوتا ہے: ذات الٰہی وہی ہے جس نے تم کو جب پیدا کیا تو تم ضعیف و ناتوان تھے۔ اسی نے تمہیں اس ضعف و ناتوانی کے عرصے کے بعد قوت اور توانائی عطا کی کہ تمہارے شباب اور جوانی کا زمانہ آ گیا۔ اِس دور کے بعد پھر اضمحلال قوی کا زمانہ آیا اور تم پر ضعف پیری غالب آ گیا۔ (اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا وَشَيْبَةً)۔ وہی خدا ہے کہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ اور وہی عالم و قادرہے۔ (يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْقَدِيرُ)۔ تم آغاز حیات میں اپنے ضیعف و ناتوان تھے کہ اپنے اوپر سے مکھی بھی بنہیں اڑا سکتے تھے اور نہ اپنے منہ کی رال کو صاف کر سکتے تھے اور تمہاری یہ حالت جسمانی اور فکری لحاظ سے "لا تعلمون شيئًا" کے مصداق تھی (یعنی تم کچھ نہیں جانتے) یہاں تک کہ تم اپنے ماں باپ کو جو دائمًا تمهاری نگہداشت کرتے تھے نہیں پہنچانتے تھے۔ لیکن ــــ رفتہ رفتہ تم میں نمو، بالیدگی اور توانائی پیدا ہو گئی- تمهارا جسم قوی ہو گیا۔ اور ۔ تم میں عقل، قوت متفکرہ اور وسیع ادراک پیدا ہو گیا۔ تاہم ـــــ تم اس طاقت و توانائی کا تحفظ نہیں کر سکتے تھے۔ تمہاری مثال ایسی ہے کہ ایک آدمی دامن کوہ سے پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جائے اور وہ پھر وہاں سے نیچے آ جائے۔ تمہارا حال بھی ایسا ہی ہے کہ عہد طفلی کے ضعف و ناتوانی سے جوانی کی توانائی تک ترقی کرتے ہو۔ پھر زوال شروع ہو جاتا ہے اور جسمانی و روحانی ضعف و ناتوانی کے قعر میں گر پڑتے ہو۔ زندگی میں یہ تغیرات اور نشیب و فراز اس حقیقت کی روشن دلیل ہیں کہ نہ تو وه قوت و توانائی تم نے اپنے ارادے سے پیدا کی تھی اور نہ إس ضعف و ناتواني پر تمہیں اختیار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان جملہ تغیرات کا منبع کوئی اور ہی ذات ہے۔ اور تمہاری بہر جہت بےبسی اس امر کی دلیل ہے کہ تمہارے وجود کے پہیے کو کوئی اور رات ہی گھماتی ہے اور تمہاری بر کیفیت حیات عارضی ہے۔ امیرالمومنین علی ابن ابی طالبؑ نے اپنے ان اقوال میں اس مضمون کی طرف اشارہ کیا ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں: عرفت الله سبحانہ بفسخ العزائم وحل العقودِ ونقض الهمم۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، كلمات قصار جملہ ۲٥٠)۔ میں نے اپنے خدا کو محکم ارادوں کے فتح ہونے، مشکلات کے حل ہونے اور قوی ارادوں کے ٹوٹنے اور ناکام ہونے سے پہچانا۔ میں ان تغیرات سے سمجھ گیا کہ اختیار مطلق کسی اور ہی ذات کے اختیار میں ہے۔ ہمیں اپنے معاملات میں کچھ اختیار نہیں۔ مگر اتنا ہی جتنا اس نے بخشا ہے۔ یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ ـــــــــ آیت ٥۴ میں جب بار دوم کلمہ ضعف آیا ہے تو اس کے ساتھ کلمہ "شيبة" کا اضافہ بھی ہے جس کے معنی پیری ہیں۔ لیکن جب بار اول "ضعف" کہا تھا تو وہاں طفرلیت کا ذکر نہیں ہے۔ غالبًا اس ترتیب میں یہ مصلحت ہے کہ ضعف پیری بہت اذیت رساں ہے۔ کیونکہ بچپن کے برعکس ضعف پیری کا انجام مرگ و فنا۔ دوم یہ کے تجربہ کار اور سال خورده لوگوں سے جو توقعات وابستہ ہوتی ہیں وہ بچوں سے نہیں ہوتیں۔ حالانکہ بعض اوقات بلحاظ ضعف و ناتوانی ان کی حالت یکساں ہوتی ہے۔ یہ مقام بہت عبرت انگیز ہے۔ آیت ٥۴ کا آخری جملہ، جس میں خدا کے علم اور قدرت کا ذکر ہے وہ معنًا بشارت بھی ہے اور تنبیہ بھی۔ تنبیہ اس جہت سے ہے کہ خدا تمہارے جملہ اعمال اور نیتوں سے آگاہ ہے اور اُن اعمال کی جزا و سزا دینے پر قادر ہے۔

55
30:55
وَيَوۡمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ يُقۡسِمُ ٱلۡمُجۡرِمُونَ مَا لَبِثُواْ غَيۡرَ سَاعَةٖۚ كَذَٰلِكَ كَانُواْ يُؤۡفَكُونَ
اور جس روز قیامت برپا ہو گی تو گناہ گار قسمیں کھائیں گے کہ وہ(عالم برزخ میں ) ایک ساعت سے زیادہ نہیں ٹھہرے۔وہ اسی طرح ادراک حقیقت سے محروم رہے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔

56
30:56
وَقَالَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ وَٱلۡإِيمَٰنَ لَقَدۡ لَبِثۡتُمۡ فِي كِتَٰبِ ٱللَّهِ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡبَعۡثِۖ فَهَٰذَا يَوۡمُ ٱلۡبَعۡثِ وَلَٰكِنَّكُمۡ كُنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ
اور جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا ہے وہ کہیں گے کہ تم فرمان خدا کے مطابق رو ز قیامت تک (عالم برزخ میں ) رہے ہو اور اب یہ اٹھنے کا دن ہے،مگر تم جانتے نہ تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔

57
30:57
فَيَوۡمَئِذٖ لَّا يَنفَعُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ مَعۡذِرَتُهُمۡ وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُونَ
اس روز ظالموں کا عذر کچھ فائدہ نہ دے گا اور ان کی توبہ بھی قبول نہ کی جائے گی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔

58
30:58
وَلَقَدۡ ضَرَبۡنَا لِلنَّاسِ فِي هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ مِن كُلِّ مَثَلٖۚ وَلَئِن جِئۡتَهُم بِـَٔايَةٖ لَّيَقُولَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِنۡ أَنتُمۡ إِلَّا مُبۡطِلُونَ
ہم نے لوگوں کیلئے اس قرآن میں ہر قسم کی مثالیں بیان کردی ہیں۔ اگر تم ان کے سامنے کوئی آیت پیش کرتے ہو تو یہ کافر کہتے ہیں کہ تم تو جھوٹے ہو (اور یہ سب جادو ہے)۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔

59
30:59
كَذَٰلِكَ يَطۡبَعُ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ ٱلَّذِينَ لَا يَعۡلَمُونَ
اس طرح خدا ان لوگوں کے دلوں پرٗ جو علم نہیں رکھتے مہر لگا دیتا ہے،

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔

60
30:60
فَٱصۡبِرۡ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞۖ وَلَا يَسۡتَخِفَّنَّكَ ٱلَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ
جب کہ حالت یہ ہے تو تم صبر کرو کیوں کہ خدا کا وعدہ حق ہے، اور جو لوگ ایمان نہیں رکھتے وہ تمہیں غضب ناک نہ کریں۔

تفسیر: وہ دن جب کہ عذر خواہی بےسُود ہو گی:

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

ہم اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ اس سورہ میں "مبداء و معاد" کی بحثیں کپڑے کے تانے بانے کی طرح باہم مربوط ہیں۔ زیر نظر آیات میں مبداء و معاد کی اُن بحثوں پر جو قبل ازیں گزر چکی ہیں، مسئلہ قیامت کا مزید اضافہ کیا گیا ہے اور اس روز مجرموں کا جو دردناک حال ہو گا، اُس کی منظر کشی کی گئی ہے۔ چنانچہ خدا فرماتا ہے کہ: جس روز قیامت برپا ہو گی۔ مجرمین قسمیں کھائیں گے کہ ہم تو عالم برزخ میں فقط ایک گھنٹہ ہی ربے ہیں: (وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةٍ)۔ البتہ وہ اپنی گزشتہ زندگی میں بھی اسی طرح ادراک حقیقت سے محروم رہے تھے۔ (كَذَلِكَ كَانُوا يُؤْفَكُونَ)۔ روز قیامت کو قرآن میں "ساعة" کہا گیا ہے۔ جیسا کہ ہم نے کسی ماقبل مقام پر کہا ہے کہ یہ کلمہ یا تو اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ قیامت ایک لحظے میں ناگہانی طور پر آ جائے گی۔ یا یہ مراد کہ بندوں کے اعمال کا حساب سریح الوقوع ہو گا کیونکہ خدا جلد حساب لینے والا ہے۔ کلمہ "ساعت " عربي زبان میں زمانے کے ایک خفیف جزء کے لیے بولا جاتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: اس مضمون کے متعلق مفصل بحث اسی سورہ روم کی آیت ۱۴ کے تحت کی گئی ہے)۔ "مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةٍ" میں مقام توقف کا ذکر نہیں ہے۔ اس لیے بعض مفسرین کا یہ خیال ہے کہ "توقف در دنیا" مراد ہے کہ حقیقت میں یہاں کی زندگی ایک لخطہ زود گزر سے زیادہ نہیں ہے۔ لیکن آیہ مابعد اس امر کی روشن دلیل ہے کہ "توقف" سے مراد جہان برزخ میں ٹھرنا ہے یعنی وہ عالم مراد ہے جو موت کے بعد اور یوم قیامت کے درمیان ہو گا کیونکہ "لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْبَعْثِ" سے ثابت ہے کہ مقیم اور مقام دونوں کی انتہا روز قیامت تک ہے۔ اِس لیے برزخ ہی صحیح ہے۔ (غور کیجیئے گا)۔ یہ بھی ملحوظ رہے کہ عالم برزخ سب کے لیے یکساں نہ ہو گا۔ ایک گروہ ایسا ہے جو برزخ میں باشعور زندگی بسر کرتا ہے۔ لیکن دوسرا گروہ ایسا ہے کہ گویا سو رہا ہے اور قیامت میں خواب سے بیدار ہو گا اور ہزارہا سال کو ایک ساعت سمجھے گا۔ (تشریحی نوٹ: "برزخ" کے متعلق جلد چودہ سورہ مؤمنون آیت نمبر ۱۰۰ کے تحت مفصل بحث کی گئی ہے اور اسی آیت جو نکتہ ہے وہ بھی تشریح سے بیان کیا گیا ہے)۔ اِس مقام پر دو باتوں کا ذکر اور ضروری ہے۔ اول یہ کہ مجرمین ایسی جھوٹی قسم کیونکر کھا لیں گے؟ اس کا جواب بالكل واضح ہے۔ وہ یہ کہ :- وہ مجرمین درحقیقت، یہی سمجھیں گے کہ زمانہ قیام برزخ بہت قلیل تھا کیونکہ اس مقام پر ان کی حالت محو خواب کی طرح ہو گی۔ مثلًا: کیا اصحاب کہف نے جو مومنین اور صالح لوگ تھے طویل خواب سے بیداری کے بعد یہ تصور نہیں کیا تھا کہ وہ ایک دن یا اس کا کچھ حصہ سوتے رہے ہیں؟ نیز یہ کہ انبیائے ماسلف میں سے ایک نبی (جن کا حال سورہ بقرہ کی آیت ۲٥٩ میں آیا ہے) جو دنیا سے سفر کرنے کے بعد ایک سو سال کے بعد پھر زندہ ہو گئے تھے، کیا انھوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ ان دونوں زندگانیوں کے درمیان فاصلہ ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ہے۔ اندریں حال، اس میں کوئی مانع نہیں ہے کہ برزخ کی مخصوص حالت کے پیش نظر مجرموں کا تصور بھی بوجہ ناواقفیت ایسا ہی ہو۔ اِسی لیے آیت مابعد میں یہ مضمون ہے کہ مومنین آگاہ اُن سے کہیں گے کہ تمہیں غلط فہمی ہے۔ تم تو برزخ میں روز قیامت تک رہے ہو اور آج ہی وہ روز قیامت ہے۔ دُوسری بات یہ ہے کہ نکتہ بالا کو پیش نظر رکھتے ہوئے جملہ "كَذَلِكَ كَانُوا يُؤْفَكُونَ" کی تفسیر بھی واضح ہو جاتی ہے۔ کیونکہ کلمہ "افک" کے وضعی معنی حقیقت کو دگرگوں کرنا اور حق سے منحرف ہونے کے ہیں۔ یہ مجرمین بھی برزخ میں اپنی وضع کی وجہ سے، حقیقت کا ادراک نہ کر سکیں گے اور انھیں اس مقام پر مدت قیام کا اندازہ ہی نہ ہو گا۔ وہ مطالب جو ہم ہے سطور بالا میں بیان کیے ان کو نظر میں رکھا جائے تو ان طولانی بحثوں نے اعتنا کی ضرورت نہیں ہے۔ جو اُنھوں نے اس امر کو موضوع قرار دے کر کی ہیں کہ "مجرمین بروز قیامت عمدًا جھوٹ کیوں بولیں گے"؟ کیونکہ آیت میں کوئی ایسی دلیل نہیں جس سے "دروغ عمدی" ثابت ہو۔ البتہ قرآن میں بروز قیامت مجرمین کے دروغ و کذب کا ذکر بھی نظر آتا ہے۔ جس کا مفصل جواب ہم نے جلد ٣ میں سورہ انعام کی آیت ۲٣ کے تحت دیا ہے۔ دیگر یہ کہ اس بحث کا ان آیات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ آیت مابعد میں اس جواب کا ذکر ہے جو حق آگاہ مومنین آن مجرمین کو دیں گے جو عالم برزخ اور قیامت کی حقیقت سے آگاہ نہیں ہیں۔ چنانچہ خدا فرماتا ہے، وہ لوگ کہ جنھیں علم و ایمان دیا گیا ہے کہیں گے کہ تم لوگ کہ خدا کے مطابق روز قيامت عالم برزخ میں رہے ہو اور آج روز قیامت اور قبروں سے اٹھنے کا دن ہے مگر تم اس حقیقت کو جانتے تھے۔ (وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَالْإِيْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْبَعْثِ فَهَذَا يَوْمُ الْبَعْثِ وَلَكِنَّكُمْ كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ)۔ اِس آیت میں کلمہ "علم" کو "ایمان" پر مقدم رکھا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ علم ہی اساس ایمان بے۔ دیگر یہ کہ "فِي كِتَابِ اللَّه" سے ممکن ہے کہ "کتاب تکوینی" مراد ہو یا کتب آسمانی مراد ہوں یا دونوں مراد ہوں۔ یعنی خدا کے تکوینی اور تشریعی حکم کے مطابق یہ مقدر تھا کہ تم اتنی مدت برزخ میں رہو۔ اس کے بعد تم بروز قیامت محشور ہو۔ (تشریحی نوٹ: آیا اس آیت کے کلمات کی نسبت میں تقدیم و تاخیر ہے؟ اس بارے میں اہل علم میں اختلاف ہے۔ بعض حضرات کا خیال ہے کہ في كتاب الله جملہ " أُوتُوا الْعِلْمَ وَالْإِيْمَانَ" سے متعلق ہے، تب معنی یہ ہوں گے کہ: جو لوگ کہ کتاب اللہ کا علم رکھتے ہیں، اور اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ یہ بات کہتے ہیں مگر بعض مفسرین جملہ مذکور کو "لبنم" متعلق سمجھتے ہیں، ہم نے بھی سطور بالا میں یہی مفہوم مراد لیا ہے۔ کیونکہ تقتدیم و تاخیر کے لیے کوئی واضح قرینہ ہونا چاہیے اور اس مقام پر کوئی قرینہ موجود نہیں ہے)۔ اِس مقام پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ "الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَالْإِيْمَانَ" کا مصداق کون لوگ ہیں؟ بعض مفسرین نے اس سے فرشتے مراد لیے ہیں۔ جو مسلم اور ایمان دونوں رکھتے ہیں اور ایک دوسری جماعت نے مومنین حق آگاه مراد لیےہیں۔ ہمارے نزدیک دوسرے معنی زیادہ واضح ہیں۔ بعض روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ "الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَالْإِيْمَانَ" سے امیرالمونین حضرت علی علیہ السلام اور آئمہ طاہرین مراد ہیں۔ اس تفسیر میں جن ذوات کو آیت کا مصداق ٹھہرایا گیا ہے وہ اس کا روشن مصداق ہیں۔ مگر اس سے آیت کا وسیع مفہوم و مخدود نہیں ہو جاتا۔ اس مقام پر یہ نکتہ بھی قابل ذکر ہے کہ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ عالم برزخ کے متعلیق دو گروہوں میں وجہ اختلاف کا سبب یہ ہے کہ گروہ اول جو عالم برزخ میں وقت قیام کو صرف ایک ساعت سمجھتا ہے، وہ عذاب الٰہی کا خوف ہے اور یہ خواہش رکھتا ہے کہ جتنی بھی زیادہ دیر ہو جائے اچھا ہے اور دوسرا گروہ جو طول وقت کی حقیقت سے آگاہ ہے وه چونکہ بہشت اور اُس کی جادوانی نعمتوں کا منتظر ہے اسے یہ مدت قیام بہت طویل معلوم ہوتی ہے۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر فخررازی، زیر بحث آیات کے ذیل میں)۔ بہرحال، جس وقت مجرمین یہ دیکھیں گے کہ روز قیامت کے درد ناک عواقب اُن کے رو برو ہیں تو وہ عذر خواہی اور توبہ کرنے لگیں گے۔ لیکن ـــــ قرآن کا فیصلہ یہ ہے کہ: اُس روز ظالموں کو ان کی عذر خواہی کچھ فائدہ نہ دے گی اور ان کی توبہ بھی قبول نہ ہوگی۔ (فَيَوْمَئِذٍ لَّا يَنفَعُ الَّذِينَ ظَلَمُوا مَعْذِرَتُهُمْ وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: "يستعنبون" کا ماده عتب" (بروزن "حتم" ہے۔ اس کے وضعی معنی ولی بے چینی کے ہیں۔ جب یہ میں کلمہ باب افعال میں آتا ہے (الحتاب) تو اس معنی بے چینی کو دور کرنے کے ہو جاتے ہیں "لسان العرب" میں یہ تصریح ہے کہ جب یہ کلمہ استفعال (استعتاب) میں جائے تب بھی اس کے معنی ولی بےچینی کو دُور کرتے ہی ہیں اس کے مجازی معنی "استرضا " یعنی کسی کی رضا طلب کرنے اور توبہ کرنے کے ہیں اور آیت زیر بحث میں انہی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی مجرمین قیامت میں توبہ نہ کر سکیں گے)۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ قرآن کی بعض آیات میں بہ تصریح بیان کیا گیا ہے کہ مجرموں کو عذر خواہی کی اجازت پر ہرگز نہیں دی جائے گی: وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ (مرسلات-٣۶) لیکن اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے: اُن کی عزر خواہی کچھ مفید نہ ہو گی۔ اِس جملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عذر خواہی تو کریں گے مگر میں اس کا کچھ فائدہ نہ ہو گا۔ ان آیات میں کچھ تضاد نہیں ہے۔ کیونکہ قیامت کے مختلف مراحل ہوں گے۔ کسی ایک مرحلے میں ان مجرمین کو عذر خواہی اور بولنے کی ہرگز اجازت نہ ہو گی اور ان کے منہ مہر لگا دی جائے گی۔ البتہ اُن کے دست و پا، اعضا و جوارح اور وه زمین جس پر انھوں نے گناہ کیا ہے ان کے اعمال کا حال بیان کریں گے۔ لیکن دوسرے مرحلے میں ان کی زبان کھل جائے گی اور عذرخواہی کرنے لگیں گے۔ مگر بے سود ۔ ان کا عذر یہ ہوگا کہ اپنے گناہوں کو کفر و نفاق کے آئمہ ضلالت کے سر تھوپیں گے اور ان سے کہیں گے کہ "اگر تم نہ ہوتے تو ہم مؤمن ہوتے"۔ سورۂ سبا آیت ٣۱: لَوْلَا أَنتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ لیکن وہ آئمہ ضلالت ان کے جواب میں کہیں گے: أَنَحْنُ صَدَدْنَاكُمْ عَنِ الْهُدَى بَعْدَ إِذْ جَاءَكُم کیا ہم نے تمہیں اُس وقت ہدایت سے روک دیا تھا جب وہ تمہارے قریب آ گئی تھی اور تم اُسے کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے؟ (سبا- ٣۲) یہ مجرمین کبھی اپنی عذر خواہی میں کوشش کرتے ہوئے راہ راست سے اپنے انحراف کو شیطان کے سرتھوپیں گے اور اس نے ان کے دل میں جو وسوسے ڈالے ہیں ان پر اسے ملامت کریں گے۔ مگر ابلیس میں انھیں یہ جواب دے گا: فَلاَ تَلُومُونِي وَلُومُواْ أَنفُسَكُم تم مجھے نہیں بلکہ اپنے نفوس کو ملامت کرو۔ (ابراہیم - ۲۲) میں نے تمہیں کسی کام پر مجبور تو نہیں کیا تھا۔ میں نے تو تمہیں صرف دوستانہ دعوت دی تھی۔ اور۔ تم نے اسے قبول کر لیا۔ اگلی آیت میں ان تمام - مطالب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اس سورۃ میں بیان ہوئے ہیں۔ چنانچہ خدا وند عالم فرماتا ہے: ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر قسم کی مثالیں بیان کی ہیں (مثلًا وعده و وعید، امرونہي، بشارت و انذار، آیات آفاق و انفس، دلائل مبدا و معاد اور غیب کی خبریں حاصل کلام یہ کہ قران میں ہر اس بات کا ذکر ہے جس کا انساني نفوس پر اثر ہو سکتا ہے) (وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِي هَذَا الْقُرْآنِ مِن كُلِّ مَثَلٍ)۔ درحقیقت، قران كليةً اور بالخصوص سورۃ روم کہ ہم جس کی تفسیر اختتام کے مرحلے میں ہیں، ایسے مائل کا مجموعہ ہے جو انسانوں کے ہر طبقہ اور ہر گروہ اور ہر طرز فکر اور ہر عقیدے کے لوگوں کو بیدار کرنے والے ہیں۔ قرآن ــــــــ درس ہائے عبرت، مسائل اخلاقی عملی پروگرام اور امور اعتقادی کا ایسا مجموعہ ہے جس میں ہی مسائل اس اسلوب سے بیان کیے گئے ہیں ٓکہ وہ ہر ممکن طریقے سے فکر انسانی میں نفوذ کر جائیں اور انھیں راہ سعادت پر گامزن کر دیں۔ مگر اس کے باوجود اس گروہ ایسا ہے کہ ان تاریک اور سیاه دلوں پر کسی بات کا اثر ہی نہیں ہوتا۔ لہذا تم ان کے سامنے جو آیت اور حق کی نشانی بھی پیش کرو گے تو یہ کفار کہیں گے کہ تم اہل باطل ہو اور تم جو کچھ کہتے ہو بےبنیاد باتیں ہیں: (وَلَئِن جِئْتَهُم بِآيَةٍ لَّيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ أَنتُمْ إِلَّا مُبْطِلُونَ)۔ آیت میں کلمہ "مبطلون" ایک جامع لفظ ہے جس میں مشرکین کے تمام ناروا الزامات، تہمتیں اور لیبل شامل ہیں مثلاً : دروغ، سحر اور جنون کا اتہام، کلام الٰہی کو خرافاتی افسانے اور اساطیر الاولین کہنا۔ یہ جملہ امور باطل اس ایک کلمہ میں جمع ہیں۔ یہ مسلم ہے کفار کی یہ عادت رہی ہے کہ وہ پیمبران خدا کو ان اتہامات میں سے کسی ایک سے متہم کرتے رہے ہیں تاکہ چند روز میں اس وسیلے سے پاک دل لوگوں کو حق سے غافل رکھ سکیں۔ آیت میں کلمہ "انتم" ضمیر جمع استعمال ہوئی ہے۔ ممکن ہے کہ اس سے پیمبر اور راست باز مومنین ہر دو مراد ہوں اور ممکن ہے کہ جملہ انبیاء، پیشوایان الٰہی اور طرفداران حق مراد ہوں، کیونکہ کفار کا ہٹ دھرم گروه تو مکتب دین کے تمام طرف داروں ہی کا مخالف تھا۔ آیہ مابعد میں اس گروہ کی مخالفت حق کی وجہ بالوضاحت بیان کی گئی ہے۔ گروہ کفار کی خیرہ سری۔ اُن کے قلب کا قبول حق سے گریز اور ہر حقیقت دشمنی اس وجہ سے ہے کہ کثرت گناہ اور کج فکری کی وجہ سے ان کی حس قبول حق و امتیاز مردہ ہو گئی ہے، اب ان کو کسی طرح بھی ادراک حقیقت ہوتا ہی نہیں ہے۔ خدا ایسے لوگوں کے دلوں پر جو علم و آگاہی نہیں رکھتے مہر لگا دیتا ہے، (كَذَلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ)۔ کلمہ "يطبع" کا مادہ "طبع " ہے۔ اس کے معنی ہیں مہر لگانا۔ یہ دستور پہلے بھی تھا اور اب بھی ہے کہ ہم کسی شے کو اس طرح محفوظ کرنا چاہتے ہیں کہ کوئی اسے نہ چھوے اور اس میں مطلقًا تصرف نہ کرے تو اگر اسے کسی کپڑے میں سیے یا کاغذ میں لپیٹتے ہیں تو اس کے جوڑ پر اور اگر صندوق میں بند کرتے ہیں تو قفل پر لاکھ سے مہر لگا دیتے ہیں۔ یہ امر بدیہی ہے کہ اس بنڈل یا صندوق کو بغبر مہر توڑے کھولنا ممکن نہیں ہے۔ اور اگر مہر توڑی جائے گی تو فورًا بات کھل جائے گی۔ قرآن میں ایسے قلوب کی حالت کو جن میں قبول حق کی صلاحیت ہی نہیں رہی اور ایسے لوگوں کی کیفیت ہے جن میں نہ عقل ہے، نہ علم، نہ وجدان نیز جن کے ہدایت یافتہ ہونے کی کوئی توقع ہی نہیں رہی بطور کنایہ مہر کردہ ہونے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ آیات گزشتہ میں علم کو ایمان کی اساس کام کہا گیا ہے اور اس آیت میں جہل کو کفر اور عدم قبول حق کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ سورہ رُوم کی آخری آیت میں(جو زیر بحث آیات میں سے آخری آیت بھی ہے) پیمبر گرامی اسلامؐ کو دو اہم احکام اور ایک عظیم بشارت دی گئی۔ تاکہ آں جناب کو اس جنگ و پیکار میں جو اس زمانہ میں جاہل، بےخرو اور سنگ دماغ کفار سے مسلسل جاری تھی، استقامت اور استقلال عطا ہو۔ پہلا حکم یہ ہے کہ آپ جملہ حوادث، تمام آزار و زحمات اور ہر قسم کی ناروا تہمتوں کے مقابلے میں صبر کیجئے (فاصبر)۔ کیونکہ صبر و شکیبائی اور استقامت ہی کامیابی کی اصلی کلید ہے۔ اور اس غرض سے کہ پیمبر اکرمؐ تبلیغ اسلام کی راہ میں زیادہ سرگرم ہو جائیں اضافہ کیا گیا ہے: خدا کا وعدہ یقینًا حق ہے (إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ)۔ خدا فرماتا ہے کہ ہم نے آپ سے اور مومنین سے فتح و کامرانی، زمین کی خلافت اور کفر پر اسلام کے غلبے کا وعدہ کیا ہےاور یہ کہا ہے کہ نور کو ظلمت پر اور علم کو جہل پر غلبہ حاصل ہو گا۔ اِس مقام پر کلمہ "وعدہ" سے مراد وہ وعدے ہیں تو قرآن میں مومنین کیفیت کی فتح یابی کے بارے میں بار بار کیے گئے ہیں۔ من جملہ ان کے ہم اسی سورہ کی آیت ۴۷ میں پڑھتے ہیں: وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ مومنین کی مدد کرنا ہمیشہ ہم پر فرض رہا ہے اور ہے۔ اسی طرح سوره مومن کی آیت ٥۱ میں ہے:- إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ ہم اپنے رسولوں اور مومنین کی اس دنیا کی زندگی میں اور روز قیامت جب کہ گواہ پیش ہوں گے مدد کریں گے۔ نیز سورہ مائدہ کی آیت ٥۶ میں ہے: فَإِنَّ حِزْبَ اللّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ بہ تحقیق حزب خدا ہی فتح مند ہے۔ دُوسرا حکم الٰہی یہ ہے کہ آپ کفار سے اس سخت اور مسلسل جنگ میں اپنے اعصاب پر قابو رکھیں اور طبیعت کی متانت اور اطمینان قلب کو کبھی ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے: جو لوگ ایمان نہیں رکھتے وہ تمیں غصہ ور اور تند خود نہ بنا دیں۔ (وَلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ)- اس قسم کے لوگوں کے مقابلے میں آپ کا فرض بردباری، تحمل، حوصلہ اور حفظ متانت ہے کہ جو ایک پیمبر کے شایان شان ہے۔ "لَا يَسْتَخِفَّنَّكَ" کا مادہ خفت ہے بمعنی "بے وقعت"۔ رسول کریمؐ کو ہدایت ہے کہ آپ اس قدر ثابت قدم اور خود دار رہیں کہ یہ لوگ آپ کو بے وقعت نہ سمجھنے لگیں اور آپ کو اپنے کا مقصد کی راہ سے ہٹا نہ سکیں۔ آپ اپنی راہ نصب العین میں محکم اور استوار رہیئے۔ کیونکہ وہ لوگ تو یقین نہیں رکھتے اور آپ یقین و ایمان کا مرکز ہیں۔ اس سورہ کے مومنین کی دشمنوں پر فتح کے وعدے سے آغاز ہوا تھا اور کامیابی کے وعدے ہی پر اس کا اختتام ہوتا ہے مگر اس فتح مبین کی شرط اصلی رسولؐ اور مومنین کا صبر و استقامت بیان کی گئی ہے۔ پروردگارا تو ہمیں بھی ایسا صبر اور استقامت عطا کر کہ مشکلات و حوادث کے طوفان ہمارے استقلال میں خلل انداز نہ ہو سکیں۔ خدا وندا- ہم تیری ہی ذات پاک کے دامن تحفظ میں پناہ لیتے ہیں۔ تاکہ ایسا نہ ہو کہ ہمارا شمار ان لوگوں میں ہو جن پر کسی وعظ، نصیحت، عبرت اور خولیت کا اثر ہی نہیں ہوتا۔ بارالها ـــــــ دشمن باہم مربوط اور متحد ہیں اور طرح طرح کے شیطانی اسلحے سے مسلح ہیں۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ تو ہمیں بیرونی دشمنوں اور اندرون شیطانوں پر فتح عنایت کر۔ آمین- یارب العالمین! سورہ روم کی تفسیر کا اختتام ہوتا ہے۔ تفسیر نمونہ ____________ جلد ۱۶ کے ترجمے کا اختتام____________ اس حقیر پُر تقصیر ــــــــــــــــــــــــــــ سید صفدر حسین نجفی فرزند سید غلام سرور نقوی مرحوم کے ہاتھوں اختتام پذیر ہوا۔ بروز ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــجمعہ بوقت ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ساڑھے دس بجے صبح بتاریخ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ۸رببع الثانی ۱۴٠۶ ہجری بمطابق ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ۲۰ دسمبر۱٩۸٥ عیسوی برمکان ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ سیٹھ نوازش علی- ۸۱- ای (ان کے بیٹے رضا موسٰی کی شادی خاتہ آبادی کے روز) والحمد لله اولا و أخرا و الصّلٰوة على النبي واله سرمدًا ابدًا سید صفدر حسین نجفی

end of chapter