Sūra 83 · 36v
Chapter 8336 verses

Al-Mutaffifin

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
المطففين
المطففین

سورہ مطففین

یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۳۶ آیتیں ہیں۔

سورہ مطففین کے مضامین کا دائرہ کار

یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا یا مدینہ میں اس بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ شانِ نزول بتاتی ہے کہ اس سورہ کی ابتدائی آیات جن کا موضوع کم تولنا ہے، ان لوگوں سے متعلق ہیں جو مدینہ میں اس قبیح کام میں مشغول تھے۔ لیکن دوسری آیات کا لب و لہجہ مکی سورتوں کے ساتھ زیادہ مشابہت رکھتا ہے جس میں مختصر اور پُر جلال آیات میں پروردگار عالم قیامت اور حوادث قیامت کی خبر دیتا ہے خصوصاً اس سورہ کی آیات جو مسلمانوں کا مذاق اڑانے کے بارے میں کفار کو موضوع گفتگو بناتی ہیں۔ یہ آیتیں مکہ کے ماحول کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتی ہیں۔ وہاں مومنین اقلیت میں تھے اور کافروں کی قطعی اکثریت تھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بعض مفسرین سورہ کے ایک حصہ کو مکی اور دوسرے حصہ کو مدنی سمجھتے ہیں لیکن مجموعی طور پر یہ سورہ مکی سورتوں سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔ بہرحال، اس سورہ کے مباحث پانچ محوروں کے گرد گھومتے ہیں۔ ۱۔ کم تولنے والوں کے بارے میں شدید تنبیہ و تہدید۔ ۲۔ اس مفہوم کی طرف اشارہ کہ بڑے بڑے گناہوں کا سرچشمہ قیامت کے بارے میں پختہ یقین نہ ہونا ہے۔ ۳۔ اس عظیم دن فجار کی سرنوشت کا ایک حصہ۔ ۴۔ جنت میں نیکوکاروں کو ملنے والی عظیم اور روح پرور نعمتوں کا ایک حصہ۔ ۵۔ کفار کا مومنین سے جاہلانہ مذاق اور اس کے برعکس قیامت کے ہونے کا بیان۔

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت

ایک حدیث میں پیغمبر اسلامؐ سے منقول ہے (من قرأ سورة المطففین سقاہ اللہ من الرحیق المختوم یوم القیامة)۔ جو شخص سورہٴ مطففین پڑھے خدا اسے خالص شراب سے جو کسی کو مسیر نہیں ہوتی قیامت میں سیراب کرے گا۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱۰، ص ۴۵۱)۔ ایک دوسری حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے: من قراٴ فی فرائضہ "ویل للمطففین" اعطاہ الامن یوم القیامة من النار و لم ترہ ولم یرھا۔۔۔ جو شخص اپنی فریضہ نمازوں میں سورہ مطففین پڑھے، خدا قیامت میں اسے عذاب جہنم سے محفوظ رکھے گا نہ جہنم کی آگ اسے دیکھے گی، نہ وہ جہنم کی آگ کو دیکھے گا۔ (بحوالہ: ثواب الاعمال، مطابق نقل از نور الثقلین جلد ۵)۔ یہ سب ثواب فضیلت اور برکت اس شخص کے لئے ہے جو اس کے پڑھنے کو عمل کی تمہید اور مقدمہ قرار دے۔

1
83:1
وَيۡلٞ لِّلۡمُطَفِّفِينَ
وائے ہے کم تولنے والوں پر۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
83:2
ٱلَّذِينَ إِذَا ٱكۡتَالُواْ عَلَى ٱلنَّاسِ يَسۡتَوۡفُونَ
وہ جب خود لیتے ہیں تو اپنا حق پورا لیتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
83:3
وَإِذَا كَالُوهُمۡ أَو وَّزَنُوهُمۡ يُخۡسِرُونَ
لیکن جب چاہتے ہیں کہ دوسروں کے لئے تولیں تو کم تولتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
83:4
أَلَا يَظُنُّ أُوْلَـٰٓئِكَ أَنَّهُم مَّبۡعُوثُونَ
کیا وہ باور نہیں کرتے کہ وہ اٹھائے جائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
83:5
لِيَوۡمٍ عَظِيمٖ
(اس)عظیم دن

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
83:6
يَوۡمَ يَقُومُ ٱلنَّاسُ لِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
جس روز لوگ رب العالمین کی بارگاہ میں کھڑے ہوں گے؟

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

ابن عباس کہتے ہیں جس وقت پیغمبر اکرمؐ مدینہ میں داخل ہوئے تو بہت سے لوگ کم تولنے کے مرض میں مبتلا تھے تو خدا نے ان آیتوں کو نازل کیا اور انہوں نے قبول کیا اور کم تولنا ختم کر دیا۔ دوسری حدیث میں آیا ہے کہ بہت سے اہل مدینہ تاجر تھے اور کم تولنے کے عادی تھے اور وہ بہت سے حرام کام کرتے تھے تو ایسی صورت میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ پیغمبر اسلامؐ نے یہ آیتیں اہل مدینہ کو سنائیں اس کے بعد آپؐ نے فرمایا: (خمس بخمس) پانچ چیزیں پانچ چیزوں کے مقابلہ میں ہیں۔ انہوں نے عرض کیا "اے خدا کے رسول کونسی پانچ چیزیں پانچ چیزوں کے مقابلہ میں ہیں۔" تو آپؐ نے فرمایا: (ما نقض قوم العھد الّا سلط اللہ علیہم عدوھم و ما حکموا بغیر ما انزل اللہ الّا فشا فیھم الفقر وما ظھرت فیھم الفاحشة الاَّ فشا فیھم الموت ولا طففوا الکیل الاَّ منعوا النبات و اخذوا بالسنین و لامنعوا الزکاة الاَّ حبس عنھم المطر) کسی قوم نے عہد شکنی نہیں کی مگر یہ کہ خدا نے اس کے دشمنوں کو اس پر مسلط کر دیا اور کسی جمیعت نے حکم خدا کے خلاف حکم نہیں دیا مگر یہ کہ ان میں فقر و فاقہ زیادہ ہو گیا۔ کسی ملت کے درمیان فحاشی اور برائیاں ظاہر نہیں ہوئیں مگر یہ کہ موت کا وقوع ان میں زیادہ ہو گیا۔ کسی قوم نے کم نہیں تولا مگر یہ کہ ان کی زراعت ختم ہو گئی اور قحط سالی نے انہیں گھیر لیا اور کسی قوم نے زکوٰة نہیں روکی مگر یہ کہ بارش سے محروم ہو گئے۔ (بحوالہ: تفسیر فخر رازی، جلد ۳۱، ص ۸۸)۔ مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں ان آیتوں کی شانِ نزول کے سلسلہ میں نقل کیا ہے کہ مدینہ میں ایک شخص تھا جس کا نام ابو جہنہ تھا جس کے پاس دو چھوٹے بڑے پیمانے تھے۔ خریدتے وقت بڑا پیمانہ استعمال کر کے فائدہ اٹھاتا اور بیچتے وقت چھوٹے پیمانے سے دیتا۔ (تو یہ سورہ نازل ہوا اور اسے خبردار کیا)۔ (بحوالہ: مضمون کو ابو الفتوح اور مراغی نے اپنی اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے۔ مجمع البیان، جلد ۱۰، ص۴۵۲)۔

تفسیر کم تولنے والوں پر وائے ہے

ان آیات میں ہر چیز سے پہلے کم تولنے والوں کو شدید عذاب کا مستحق ٹھہرا کر فرماتا ہے: "وائے ہے کم تولنے والوں پر" (وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ)۔ یہ حقیقت میں خدا کی جانب سے ان ظالم، ستمگر اور گندے لوگوں کے خلاف اعلان جنگ ہے جو بزدلوں کی طرح لوگوں کا حق پامال کرتے ہیں۔ 93"مطففین"، "تطفیف" کے مادّہ سے اصل میں "طف" سے لیا گیا ہے جو کسی چیز کے کناروں کے معنی میں ہے اور یہ جو سر زمین کربلا کو وادیِ طف کہتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فرات کے کنارے پر واقع ہے۔ اس کے بعد ہر کم چیز پر طفیف کا اطلاق ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ پیمانہ جو لبریز نہ ہو، وہاں بھی یہی لفظ بولا جاتا ہے۔ اس کے بعد یہ لفظ کم تولنے کے لئے استعمال ہوا ہے خواہ وہ کسی شکل و صورت کا ہو۔ "ویل" یہاں شر، و غم اندوہ، ہلاکت یا درد ناک عذاب یا جہنم کی سخت جلانے والی وادی کے معنوں میں ہے۔ عام طور پر یہ لفظ نفرین کرنے اور کسی چیز کی قباحت کو بیان کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے، یا یہ کہ ایک مختصر سی تعبیر ہے جو بہت سے مفاہیم کو چاہتی ہے۔ قابل توجہ یہ ہے کہ ایک روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ خدا نے لفظ ویل قرآن میں کسی شخص کے لئے استعمال نہیں کیا مگر یہ کہ اس کو کافر کہا ہے (فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا مِن مَّشْهَدِ يَوْمٍ عَظِيمٍ) "وائے ہے کافروں پر عظیم دن کے مشاہدہ سے" (مریم ۔ ۳۷) ، (بحوالہ: اصول کافی مطابق نقل نور الثقلین، جلد۵، ص۵۲۷)۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ کم تولنے سے کفر کی بُو آتی ہے۔ اس کے بعد مطففین یعنی کم تولنے والوں کے کام کی تشریح کرتے ہوئے فرماتا ہے: "وہ ایسے لوگ ہیں جو اپنے لئے تولتے ہیں تو اپنا حق مکمل طور پر وصول کرتے ہیں" (الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُواْ عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: یہاں علی الناس کی تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ لوگوں پر وہ کوئی حق رکھتے ہیں اور تقدیر اذا کالوا ما علی الناس تھی اور اصولاً کال علیہ وہاں کہا جاتا ہے جہاں کیل کا مقصد حق لینا ہوتا ہے باقی رہا "کالہ" اور "کال لہ" اس جگہ سے مربوط ہے جہاں کیل سے مراد دوسرے کا حق دیتا ہے۔ (غور کیجئے))۔ لیکن جب وہ چاہتے ہیں کہ دوسروں کے لئے تولیں تو کم تولتے ہیں (وَإِذَا كَالُوهُمْ أَو وَّزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ)۔ مفسرین کی ایک جماعت نے مندرجہ بالا آیات سے اس طرح استفادہ کیا ہے کہ مطفف سے مراد وہ شخص ہے جو خریدتے وقت اپنا حق زیادہ لیتا ہے اور بیچتے وقت مقابل کو اس کے حق سے کم دیتا ہے۔ اسی لئے خدا نے دونوں پہلوؤں کے پیش نظر ان پر ویل رکھی ہے۔ لیکن یہ ایک اشارہ ہے اور غلط ہے کیونکہ "یستوفون" کا مفہوم یہ ہے کہ اپنا حق مکمل طور پر وصول کرتے ہیں اور ایسا پہلو جس میں اپنے حق سے زیادہ لینے کی بات ہو اس عبارت میں موجود نہیں ہے اور یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں کہ خدا نے ان کی مذمت کی ہے ان دو حالتوں کے ایک دوسرے سے تقابل کی شکل میں ہے کہ خریدتے وقت پورا پورا حق لیتے ہیں اور بیچتے وقت کمی کرتے ہیں۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح ہم کسی کی مذمت میں کہتے ہیں "جب کسی سے اس کو کوئی چیز لینی ہوتی ہے تو وعدہ کے مطابق (جو وقت مقرر ہو عین اسی وقت) لیتا ہے لیکن کسی کو کچھ دینا ہو تو مہینوں تاخیر کرتا ہے"۔ حالانکہ اپنی طلب کا وعدہ کے مطابق لینا کوئی بُری بات نہیں ہے، لیکن ان دونوں کے تقابل کا جائزہ لینے کے نتیجے میں بُری بات ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ حق لینے کے معاملہ میں گفتگو کیل کے بارے میں ہے لیکن دینے کے معاملہ میں گفتگو کیل و وزن دونوں کے حوالے سے ہے۔ تعبیر کا یہ فرق ہو سکتا ہے کہ، ذیل کی دو وجوہ میں سے کسی ایک کی بنا پر ہو:۔ پہلی وجہ یہ کہ خریدار عام طور پر پہلے زمانے میں کیل سے استفادہ کرتے تھے اس لئے کہ بڑی ترازو جو زیادہ وزن تول سکے اس زمانے میں موجود نہیں تھی لیکن بڑے پیمانہ آسانی سے مل سکتے تھے۔ ("کر" کے بارے میں بھی علماء نے کہا ہے کہ یہ لفظ اصل میں ایک بڑے پیمانے کا نام ہے) بیچتے وقت وہ تھوک کا کاروبار کیل سے کرتے تھے اور وزن کے ذریعہ خوردہ فروشی کرتے تھے۔ دوسرے یہ حق لینے کے وقت پیمانے سے زیادہ استفادہ مناسب ہے کیونکہ اس میں دھوکے کا امکان بہت کم ہے، لیکن کم تولنے کے لئے وزن کا ذریعہ زیادہ مفید ہوتا ہے اس لئے کہ اس میں دھوکہ دینے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ مندرجہ بالا آیات اگرچہ صرف کیل و وزن کے حوالے سے کم تولنے کی بات کرتی ہیں لیکن اس میں شک نہیں کہ آیت کا مفہوم وسیع ہے اور اس کا اطلاق کم تولنے کے سلسلہ میں ان چیزوں پر بھی ہے جن کا لین دین گن کر ہوتا ہے۔ بلکہ یہ بھی بعید نہیں کہ آیت اپنے مفہوم کی گہرائی کے اعتبار سے موعودہ خدمت میں کمی کرنے کو بھی اپنے دامن میں سمیٹ لے۔ مثال کے طور پر کوئی کاریگر یا مزدور اپنا کام صحیح طور پر مکمل نہیں کرتا تو وہ بھی مطففین کا مصداق ہے یعنی کم تولنے والوں کی صف میں ہے، جن کی یہ آیتیں سختی سے مذمت کر رہی ہیں۔ بعض مفسرین اس آیت کو اور زیادہ وسیع معانی کا حامل سمجھتے ہیں اور حدودِ خداوندی سے ہر قسم کا تجاوز اور اجتماعی و اخلاقی روابط میں کمی کو بھی اس کے مفہوم میں شامل سمجھتے ہیں۔ اگرچہ اس آیت کے الفاظ سے ان معانی کا استفادہ واضح نہیں ہے، لیکن غیر مناسب بھی نہیں ہے۔ اس لئے مشہور صحابی رسول عبد اللہ بن مسعود سے منقول ہے کہ نماز میں ایک معقول پیمانہ ہے جو شخص اس کا کیل مکمل طور پر ادا کرے تو خدا اس کو اس کا اجر مکمل دے گا اور جو شخص اس میں کمی کرے تو اس کے بارے میں وہی کچھ جاری ہو گا جو خدا نے مطففین یعنی کم تولنے والوں کے بارے میں فرمایا ہے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱۰، صفحه ٤۵۲)۔ اس کے بعد پروردگار عالم ایسے لوگوں کو تنبیہ یعنی استفہامِ توبیخی کے ذریعہ متنبہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "کیا وہ باور نہیں کرتے کہ قبروں سے اٹھائے جائیں" (أَلَا يَظُنُّ أُولَئِكَ أَنَّهُم مَّبْعُوثُونَ)۔ "عظیم دن" (لِيَوْمٍ عَظِيمٍ)۔ وہ دن جس کا حساب عذاب اور اس کی ہولناکی اور سب عظیم ہیں۔ "وہ دن جب لوگ قبروں سے اٹھیں گے اور رب العالمین کے بارگاہ میں حاضر ہوں گے"۔ (يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ)۔ یعنی وہ اگر قیامت کو باور کرتے اور جانتے کہ حساب کتاب ہونا ہے اور تمام اعمال ایک عظیم عدالت میں محاکمہ کے لئے پیش ہوں گے اور جس شخص نے سوئی کی نوک کے برابر اچھا یا بُرا کام کیا ہے اس کا نتیجہ وہ اس عظیم دن دیکھے گا، پھر وہ کبھی اس قسم کا ظلم و ستم نہ کرتے اور لوگوں کے حقوق پامال نہ کرتے۔ بہت سے مفسرین "لظن" کو جو ظن کے مادہ سے ہے، یہاں یقین کے معنی میں سمجھتے ہیں۔ اس تعبیر نظیر قرآن مجید میں موجود ہے۔ مثلاً سورہ بقرہ کی آیت ۲۴۹ (قَالَ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلاَقُو اللّهِ كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللّهِ) جو مانتے تھے کہ خدا سے ملاقات کریں گے (اور وہ قیامت کے دن پر بھروسہ رکھتے تھے) "انہوں نے کہا کہ چھوٹے گروہ تھے جو حکم خدا سے بڑے گروہ کے مقابلہ میں کامیاب ہوئے" (توجہ رکھیں کہ یہ آیت بنی اسرائیل کے ایک گروہ کے بارے میں ہے جس نے ایمان و استقامت کا مختلف مراحل میں مظاہرہ کیا تھا)۔ اس بات کی شاہد و ناطق وہ حدیث ہے جو امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے آیہ (أَلَا يَظُنُّ أُولَئِكَ أَنَّهُم مَّبْعُوثُونَo لِيَوْمٍ عَظِيمٍ) کی تفسیر میں فرمایا کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ (الیس یوقنون أَنَّهُم مَّبْعُوثُونَ)؟ کیا انھیں یقین نہیں ہے کہ وہ قبروں سے اٹھیں گے؟ (بحوالہ: تفسیر برہان، جلد ۴، ص ۳۸)۔ انہی حضرت سے منقول ہے کہ آپؐ نے فرمایا کہ ظن کی دو قسمیں ہیں، ظنِ تردید اور ظن یقین۔ جو قرآن میں معاد اور قیامت کے بارے میں آیا ہے وہ ظن یقین ہے اور جو کچھ دنیا کے بارے میں آیا ہے وہ ظنِ شک ہے۔ (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۵، ص۵۲۸)۔ ایک جماعت کی طرف سے یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کہ ظن سے یہاں مراد موجودہ دَور کے مشہور معانی گمان کئے گئے ہیں جو اس طرف اشارہ ہے کہ انسان کی جان اور روح میں قیامت کی طرف توجہ کرنا اس طرح اثر کرتا ہے کہ اگر کوئی شخص اس کا گمان بھی کرتا ہو اور اس کو ایک دن کا احتمال بھی ہو تو وہ برے کاموں سے اجتناب کرے، چہ جائیکہ اس کا یقین رکھتا ہو۔ یہ وہی چیز ہے جو علماء کے درمیان دفع غرر مظنون یا دفع ضرر محتمل کے عنوان سے مشہور ہے۔ اب اس بات کا مفہوم یہ ہو گا کہ یہ بےپرواہ اور بےباک گناہگار نہ صرف یہ کہ قیامت کا یقین نہیں رکھتے، بلکہ اس کا گمان بھی نہیں رکھتے، لیکن پہلی تفسیر، اُن وجوہ کی بنا پر، جو بیان کی گئی ہیں مقدم ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ لفظ ظن راغب کے مفردات کی رو سے اصل میں اس حالت کا نام ہے جو چند قرائن کے ہونے کی وجہ سے فکر انسانی کو حاصل ہوتی ہے اگر نشانیاں قوی ہوں تو علم و یقین لے آتی ہے اور اگر نشانیاں کمزور ہوں تو پھر وہ گمان کی حد سے آگے نہیں بڑھتی۔ (تشریحی نوٹ: مفردات، مادہ ظن)۔ اس بنا پر مذکورہ لفظ، اس کے برخلاف جو ہمارے زمانہ میں مشہور ہے، وسیع، مفہوم رکھتا ہے جس میں علم اور گمان دونوں شامل ہیں اور دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

ایک نکتہ کم تولنا فساد فی الارض کا ایک سبب ہے

قرآن مجید کی آیات میں کئی مرتبہ کم تولنے کی مذمت کی گئی۔ کبھی حضرت شعیبؑ کے واقعہ میں جہاں وہ قوم کو خطاب کر کے کہتے ہیں (أَوْفُوا الْكَيْلَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُخْسِرِينَo وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِo وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ)۔ "پیمانے کے حق کو ادا کرو اور دوسروں کو نقصان نہ پہنچاؤ۔ وزن صحیح ترازو میں کرو اور لوگوں کے حق میں کمی نہ کرو اور زمین میں فساد برپا نہ کرو۔" (شعراء۔ ۱۸۱ تا ۱۸۳)۔ اس طرح وزن کرتے وقت اور چیز کو پیمانے سے ناپتے وقت تولنے کو اور انصاف کو نظر انداز کرنے کو فساد فی لارض بتایا گیا ہے اور یہ کام اجتماعی مفاسد میں سے ایک ہے۔ سورہ رحمن کی آیت ۷/۸ میں وزن کرتے وقت انصاف سے کام لینے کو عالم ہستی کے نظام تخلیق میں عدالت کار فرما ہے، اس کے برابر قرار دیا گیا ہے، فرماتا ہے: (وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَo أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ) "خدا نے آسمان کو بلند کیا اور ہر چیز میں میزان و حساب رکھا تاکہ تم وزن و حساب میں طغیان و سرکشی سے کام نہ لو۔" یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ناپ تول میں عدل کی رعایت کا مسئلہ کم اہم نہیں ہے بلکہ حقیقت میں اصل عدالت ہے اور سارے نظام ہستی پر حاکم نظم کلی کا ایک جز ہے۔ اسی بنا پر عظیم آئمہ اسلام نے اس مسئلہ کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے، یہاں تک کہ اصبغ بن نباتہ کی مشہور روایت میں آیا ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی علیہ السلام سے سنا کہ آپ منبر پر فرما رہے تھے: (یامعاشر التجار! الفقہ ثم المتجر) "اے گروہ تجار پہلے فقہ کی تعلیم حاصل کرو اس کے بعد تجارت کرو۔" اس بات کی امام نے تین بار تکرار کی اور اس کلام کے آخر میں فرمایا: (التاجر و الفاجر فی النار الاَّ من اخذ الحق و اعطی الحق) "تجارت کرنے والا فاجر ہے اور فاجر دوزخی ہے سوائے اس کے جو صرف اپنا حق لوگوں سے لے اور لوگوں کا حق ادا کرے۔" (بحوالہ: کافی، جلد۵، باب آداب التجارة، حدیث۱)۔ ایک اور حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ جس وقت امیر المومنین علی علیہ السلام کوفہ میں تھے تو آپ ہر روز صبح کے وقت کوفے کے بازاروں میں آتے اور ایک ایک بازار میں گشت کرتے اور تازیانہ آپ کے کاندھے پر ہوتا ہر بازار کے وسط میں کھڑے ہو جاتے اور بلند آواز سے کہتے اے گروہ تجار! خدا سے ڈرو۔ جس وقت حضرت علی علیہ السلام کی پکار کو سنتے جو کچھ تاجروں کے ہاتھوں میں ہوتا رکھ دیتے اور پورے خلوص کے ساتھ آپ کی باتوں کو سنتے۔ اس کے بعد آپ فرماتے: (قدموا الاستخارة و تبرکوا بالسھولة و اقتربوا من المبتاعین و تزینوا بالحلم و تناھوا عن الیمین و جانبوا الکذب و تجافوا عن الظلم و انصفوا المظلومین و لا تقربوا الربا و اوفوا الکیل و المیزان ولا تبخسوا الناس اشیاءھم و لاتعثوا فی الارض مفسدین) "خدا سے خیر طلب کرو اور لوگوں کے ساتھ معاملہ آسان کر کے برکت چاہو اور خریداروں کے پاس جاؤ، حلم و بردباری کو اپنی زینت قرار دو، قسم کھانے سے پرہیز کرو، جھوٹ بولنے سے اجتناب کرو، ظلم سے بچو اور مظلوموں کا حق ظالموں سے لے کر دو، سود کے قریب نہ جاؤ، پیمانے اور وزن کے معاملہ میں پورے پورے انصاف سے کام لو، لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور زمین میں باعث فساد نہ بنا کرو۔" اس طرح کہ آپ کوفہ کے بازاروں میں گردش کرتے، اس کے بعد دار الامارة کی طرف پلٹ آتے اور لوگوں کی داد خواہی اور ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے بیٹھ جاتے۔ (بحوالہ: کافی، باب آداب التجارة، حدیث ۳ (تھوڑے سے اختصار کے ساتھ))۔ اور جیسا کہ ان آیات کی شان نزول میں بھی آیا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ فرماتے ہیں: "جو گروہ کم تولے گا خدا اس کی زراعت اس سے چھین لے گا اور اسے قحط سالی میں مبتلا کر دے گا، جو کچھ اوپر کہا گیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض گزشتہ اقوال کی بربادی اور ان پر عذاب نازل ہونے کے عوامل میں سے ایک عامل یہ ہے کہ وہ کم تولتے تھے۔ ان کا یہ اقدام ان کی اقتصادی بدحالی اور نزولِ عذاب خدا کا سبب بنا۔ یہاں تک اسلامی روایت میں آدابِ تجارت کے سلسلہ میں آیا ہے کہ مومنین کے لئے بہتر ہے کہ پیمانے بھرتے اور وزن کرتے وقت زیادہ دیں اور لیتے وقت اپنا حق کچھ کم لیں (ان لوگوں کے کام کے بالکل برعکس جن کی طرف مندرجہ بالا آیات میں اشارہ ہوا ہے کہ وہ اپنا حق تو پورا پورا وصول کرتے تھے لیکن دوسروں کا حق کم دیتے تھے)۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، جلد ۱۲، ابواب التجارة، باب ۷، ص ۲۹۰ سے رجوع فرمائیے)۔ دوسرے، جیسا کہ ہم نے اوپر والی آیت کی تفسیر میں اشارہ کیا ہے کم تولنے کا مسئلہ بعض مفسرین کے نظریہ کے مطابق وسیع معانی کا حامل ہے، جو ہر قسم کے اجتماعی و انفرادی اور خدا سے تعلق رکھنے والی ذمہ داریوں کے انجام دینے کے سلسلہ میں کمی ہو سکتی ہے، اس کو بھی اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے۔

7
83:7
كَلَّآ إِنَّ كِتَٰبَ ٱلۡفُجَّارِ لَفِي سِجِّينٖ
اس طرح نہیں ہے یقیناً فاجروں کا نامہ اعمال سجین میں ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
83:8
وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا سِجِّينٞ
تو کیا جانے کہ سجین کیا ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
83:9
كِتَٰبٞ مَّرۡقُومٞ
وہ تحریر شدہ نامہ اور سرنوشت ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
83:10
وَيۡلٞ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُكَذِّبِينَ
وائے ہے اس دن تکذیب کرنے والوں پر۔

تفسیر تُو کیا جانے کہ سِجّین کیا ہے؟

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

اس بحث کے بعد جو گزشتہ آیات میں کم تولنے والوں کے بارے میں اور قیامت کے دن کے بارے میں گناہ اور ایمان راسخ نہ ہونے کے رابطہ کے سلسلہ میں آئی تھی، ان آیتوں میں اس روز بدکاروں اور فاجروں کا جو حال ہو گا، اس کے ایک گوشہ کی طرف اشارہ کرتا ہے، پہلے فرماتا ہے: "اس طرح نہیں جیسا وہ قیامت کے بارے میں خیال کرتے ہیں کہ حساب و کتاب نہیں ہو گا بلکہ فاجروں کا نامہ اعمال سجین میں ہے" (كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الفُجَّارِ لَفِي سِجِّينٍ)۔ "تو کیا جانے سجین کیا ہے۔" (وَمَا أَدْرَاكَ مَا سِجِّينٌ) ایک مُہر زدہ تحریر اور نامہ ہے" (کتاب مرقوم)۔ ان آیات کے سلسلہ میں دو عمدہ نظریے ہیں: ۱۔ کتاب سے مراد انسان کا وہی اعمال نامہ ہے۔ کوئی چھوٹا یا بڑا ایسا کام نہیں ہے جس کا اس میں شمار نہ کیا گیا ہو۔ تمام باتیں بےکم و کاست اس میں درج ہیں۔ اور سجین سے مراد ایک جامع کتاب ہے جس میں تمام انسانوں کے نامہ ہائے اعمال جمع کئے گئے ہیں۔ سادہ اور عام تعبیروں میں وہ ایک ایسے مکمل رجسٹر کے مانند ہے جس میں ہر ایک قرض خواہ مقروض کا حساب علیحدہ اور مستقل صفحہ پر تحریر ہے۔ البتہ ان آیات اور بعد کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام بدکاروں کے اعمال سجین نامی کتاب میں ہیں اور تمام نیک افراد کے اعمال ایک دوسری کتاب میں درج ہیں، جس کا نام علیین ہے۔ "سجین" سجن کے مادہ سے لیا گیا ہے جس کے معنی زندان کے ہیں۔ اس کے مختلف معانی ہیں۔ سخت و شدید زندان، محکم موجود، قعر جہنم میں ایک بہت ہی ہولناک وادی، وہ جگہ جہاں بدکاروں کے اعمال نامے رکھے جاتے ہیں، اور جہنم کی آگ۔ (تشریحی نوٹ: لسان العرب، مادہ سجن)۔ طریحی مجمع البحرین میں سجن کے مادہ کے بارے میں کہتا ہے: (و فی التفسیر ھو کتاب جامع دیوان الشر دوّن اللہ فیہ اعمال الکفرة و الفسقة من الجن و الانس) تفسیر میں آیا ہے کہ سجّین ایک کتاب ہے جو برائیوں کے دیوان کا جامع ہے جس میں خدا نے جن و انس میں سے کافروں اور فاسقوں کے اعمال کو مدون کیا ہے۔ طریحی نے واضح نہیں کیا کہ اس تفسیر سے مراد کونسی تفسیر ہے، آیا معصوم سے منقول ہے یا کسی غیر سے۔

جو قرائن ان معانی کی تائید کرتے ہیں وہ درج ذیل عبارت ہیں۔

۱۔ قرآن مجید میں اس قسم کے مواقع پر کتاب کی تعبیر عام طور پر نامہِ اعمال کے معنوں میں ہے۔ ۲۔ آخری آیت جو سجّین کی تفسیر کی شکل میں بیان ہوئی ہے کہتی ہے: "وہ کتاب ہے جو مُہر زدہ اور یہ جو بعض نے آیات کو سجّین کی تفسیر کے طور پر قبول نہیں کیا، یقیناً ظاہر کے برخلاف ہے۔ ۳۔ بعض نے کہا کہ سجّین اور سجیل کے ایک ہی معنی ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ سجلّ (سین اور جیم کے زیر اور لام پر تشدید کے ساتھ) بہت بڑی کتاب کے معنی میں ہے۔ (بحوالہ: روح المعانی، جلد ۳۰، ص۷۰ اور مجمع البحرین، مادہ سجلّ)۔ ۴۔ قرآن کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے اعمال چند کتابوں میں منضبط ہوتے ہیں، تاکہ حساب کے وقت کسی قسم کا عذر یا بہانہ کسی شخص کے لئے باقی نہ رہے۔ ایک تو شخصی اعمال نامہ ہیں جو قیامت میں متعلقہ افراد کے ہاتھوں میں دیئے جائیں گے۔ نیکوکاروں کو دائیں ہاتھ میں اور بدکاروں کا بائیں ہاتھ میں۔ آیات قرآنی میں اس کی طرف بہت اشارہ ہوا ہے۔ دوسری کتاب وہ ہے جسے امتوں کے نامہ اعمال کا نام دیا جا سکتا ہے، جس کی طرف وہ سورہٴ جاثیہ کی آیت ۲۸ میں اشارہ ہوا ہے۔ (کل امة تدعی الیٰ کتابھا) "قیام کے دن ہر امت کو اس کے نامہٴ اعمال کی طرف پکارا جائے گا۔ تیسرا نامہ اعمال عمومی ہے۔ وہ تمام نیکوکاروں اوربد کاروں کا نامہٴ اعمال ہے جس کا زیر بحث آیات اور آنے والی آیات میں سجّین اور علیّین کے نام سے ذکر کیا گیا ہے۔ خلاصہ یہ کے اس تفسیر کے مطابق سجین وہی دیوان کل ہے جس میں تمام بدکاروں کے نامہ اعمال جمع ہوں گے۔ اس کو سجین اس لئے کہا گیا کہ اس دیوان کے مشتملات ان کے جہنم میں زندانی اور مقید ہونے کا سبب ہوں گے، نیکوکاروں کی کتاب کے برعکس جو اعلیٰ علیینِ بہشت میں ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ سجّین اسی مشہور و معروف معنی، یعنی دوزخ کے لئے استعمال ہوا ہے جو تمام بدکاروں کے لئے بہت بڑا زندان ہے، یا دوزخ میں ایک سخت جگہ ہے۔ اور کتابِ فجار سے مرادہ وہی سرنوشت ہے، جو ان کے لئے تحریر ہوئی ہے اس بنا پر اس آیت میں معنی یہ ہوں گے "مقرر و مسلم سرنوشت بدکاروں کی جہنم میں ہے۔" اور لفظ کتاب کے استعمال قرآن میں اسی معنی میں بہت مقامات پر ہیں۔ مثلاً سورہٴ نساء کی آیت ۲۴، بعد اس کے کہ فرماتا ہے: "شوہر دار عورتیں تم پر حرام ہیں" مزید کہتا ہے: (کتاب اللہ علیکم) یہ حکم (اور اس سے پہلے کے احکام) ایسے ہیں جو خدا نے تمہارے لئے مقرر کر دیئے ہیں۔" اور سورہٴ انفال کی آیت ۷۵ میں ہم پڑھتے ہیں: (وَأُوْلُواْ الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللّهِ) "رشتہ دار ایک دوسرے کی بہ نسبت ان احکام میں، جو خدا کے لئے مقرر کئے ہیں، (دوسروں سے) زیادہ سزاوار اور حقدار ہیں۔" وہ مطلب جو اس تفسیر کی تائید کرتا ہے، یہ کہ سجّین اپنے اسی معنی میں ہیں جو اخبار و آثار اسلامی میں بیان ہوا ہے، یعنی اس کی تفسیر جہنم کی گئی ہے۔ تفسیر علی ابن ابراہیم میں آیا ہے کہ "إِنَّ كِتَابَ الفُجَّارِ لَفِي سِجِّينٍ" کے معنی یہ ہیں کہ جو کچھ ان کے لئے عذاب مقرر کیا گیا ہے وہ سجّین (دوزخ) میں ہے۔ ایک حدیث امام محمد باقر علیہ السلام سے بھی منقول ہے کہ (السجّین الارض السابعة و علیون السماء السابعة) سجّین ساتویں زمین اور علیین ساتواں آسمان ہے (سب سے نچلی اور سب سے اوپر والی جگہ کی طرف اشارہ ہے)۔ (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۵، ص ۵۳۰، حدیث ۱۵)۔ متعدد روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ اعمال جو قربِ خدا کے لائق نہیں ہیں ساقط ہو جائیں گے اور سجّین میں قرار پائیں گے، جیسا کہ ایک حدیث میں پیغمبر اسلامؐ سے منقول ہے: ان الملک لیصعد بعمل العبد مبتھجاً فاذا صعد بحسناتہ یقول اللہ عزوجل اجعلوھا فی سجّین انہ لیس ایای اراد فیھا۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ فرشتہ بندہ کے عمل کو خوشی خوشی آسمان کی طرف لے جاتا ہے تو خداوند عزّوجلّ فرماتا ہے اسے سجّین میں قرار دو، اس لئے کہ اس کا مقصد میری رضا نہیں تھا۔ (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۵، ص ۵۳۰، حدیث ۱۹)۔ ان تمام روایات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ سجّین جہنم میں ایک بہت ہی پست جگہ ہے جس میں بدکاروں کے اعمال یا نامہٴ اعمال رکھے جائیں گے۔ یا ان کی سرنوشت یہ ہے کہ وہ اس زندان میں گرفتار رہیں گے۔ اس تفسیر کے مطابق (کتاب مرقوم) کا جملہ تاکید ہے "إِنَّ كِتَابَ الفُجَّارِ لَفِي سِجِّينٍ" کے جملے کی (نہ یہ کہ سجّین کی تفسیر ہے) یعنی یہ ان کے لئے لکھی ہوئی حتمی اور قطعی سزا ہے۔ "مرقوم" رقم (بر وزن زخم) واضح خط (تحریر) کے معنی میں ہے اور چونکہ خطوط یا تحریریں ابہام سے خالی ہوتی ہیں لہٰذا ممکن ہے کہ یہ تعبیر ابہام سے پاک ہونے کی طرف اشارہ ہو، وہ چیز جو نہ کبھی محو ہوتی ہے نہ فراموش ہو گی۔ یہ دونوں تفسیریں بھی صحیح ہو سکتی ہیں اس لئے کے پہلی تفسیر میں سجّین بدکاروں کے کل اعمال کے دیوان کے معنی میں ہے اور دوسری تفیسر میں دوزخ کی گہرائی اور گڑھے کے معنوں میں ہے اور یہ ظاہر ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کی علت و معلول ہیں۔ یعنی جس وقت انسان کا نامہٴ اعمال بدکاروں کے کل اعمال کا دیوان قرار دیا گیا تو یہی سبب بنے گا کہ اسے پست ترین مقام یعنی دوزخ کے گڑھے میں کھینچ کر لے جائیں گے۔ آخری اور زیر بحث آیت میں ایک دل ہلا دینے والے جملے سے منکرین معاد قیامت کی منحوس عاقبت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "وائے ہے اس دن تکذیب کرنے والوں پر" (وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ)۔ وہ تکذیب جو انواع و اقسام کے گناہوں کا سرچشمہ ہے، جن میں سے ایک کم تولنا ہے۔ پہلی آیت میں فرماتا ہے: (وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ) اور یہاں فرماتا ہے: (وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ)، وہ تعبیر جو مختصر ہونے کے باوجود انواع اقسام کے درد ناک عذابوں اور ہولناک مصائب کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ قابل توجہ یہ کہ پہلی آیت میں گفتگو کم تولنے والوں کے بارے میں ہے اس کے بعد بدکاروں کی بات ہے، اور آخری آیت میں منکرین قیامت کا ذکر ہے اور اچھی طرح بتاتا ہے کہ اس اعتقاد اور ان اعمال کے درمیان قریبی رابطہ ہے جو آنے والی آیات میں زیادہ واضح طور پر منعکس ہوا ہے۔

11
83:11
ٱلَّذِينَ يُكَذِّبُونَ بِيَوۡمِ ٱلدِّينِ
وہی جو قیامت کے دن کا انکار کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
83:12
وَمَا يُكَذِّبُ بِهِۦٓ إِلَّا كُلُّ مُعۡتَدٍ أَثِيمٍ
صرف وہی لوگ اس (قیامت) کا انکار کرتے ہیں جو گنہگار اور تجاوز کرنے والے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
83:13
إِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِ ءَايَٰتُنَا قَالَ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ
وہی شخص کہ جب اسے ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ گذشتہ لوگوں کے افسانے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
83:14
كَلَّاۖ بَلۡۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ
اس طرح نہیں جیسا کہ وہ خیال کرتے ہیں بلکہ ان کے اعمال ان کے دلوں پر زنگ کی طرح ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔

15
83:15
كَلَّآ إِنَّهُمۡ عَن رَّبِّهِمۡ يَوۡمَئِذٖ لَّمَحۡجُوبُونَ
ایسا نہیں ہے جیسا وہ خیال کرتے ہیں بلکہ وہ اس دن اپنے پروردگار سے محجوب ہوں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
83:16
ثُمَّ إِنَّهُمۡ لَصَالُواْ ٱلۡجَحِيمِ
اس کے بعد وہ یقیناً جہنم میں داخل ہوں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔

17
83:17
ثُمَّ يُقَالُ هَٰذَا ٱلَّذِي كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ
پھر ان سے کہا جائے گا یہ وہی جگہ ہے جس کی تم تکذیب کرتے تھے۔

تفسیر گناہ دلوں کا زنگ ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

گزشتہ آیات کی آخری آیت مکذبین اور جھٹلانے والوں کی منحوس سرنوشت کی طرف واضح اشارہ تھا۔ زیر بحث آیات سے پہلے ان افراد کا تعارف کراتی ہیں اور کہتی ہیں وہ ایسے لوگ ہیں جو روز جزا کا انکار کرتے ہیں (الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ بِيَوْمِ الدِّينِ)۔ اور اس کے بعد مزید کہتا ہے: "صرف وہ لوگ جو روز جزا کی تکذیب کرتے ہیں جو متجاوز اور گناہگار ہیں" (وَمَا يُكَذِّبُ بِهِ إِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ)۔ یعنی انکار قیامت کا اصلی سبب منطق، استدلال اور تفکر نہیں ہے، بلکہ جو افراد چاہتے ہیں کہ زیادتیاں کرتے رہیں اور گناہ کرتے رہیں وہ قیامت کا انکار کر دیتے ہیں۔ (توجہ فرمائیں کہ اثیم صفت مشبہ ہے جو استمرار اور گناہ کو جاری رکھنے پر دلالت کرتی ہے)۔ وہ چاہتے ہیں کہ کسی قسم کے احساس ذمہ داری کے بغیر اپنے گمان کے مطابق انتہائی آزادی کے ساتھ اور ہر قسم کے دباؤ اور ذہنی پریشانی کے بغیر اپنی برائیوں اور قباحتوں کو جاری رکھیں اور کسی قانون کو قانون نہ سمجھیں۔ یہ چیز اس چیز کے مانند ہے جو سورہ قیامت کی آیت ۵ میں آئی ہے (بَلْ يُرِيدُ الْإِنسَانُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ) "بلکہ انسان چاہتا ہے کہ اپنی آئندہ عمر میں مسلسل فسق و فجور کی راہ اختیار کئے رہے"، اس لئے وہ قیامت کی تکذیب کرتا ہے۔ جس طرح عقیدہ عمل پر اثر انداز ہوتا ہے اسی طرح غلیظ اعمال عقائد پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ معانی بعد والی آیات کی تفسیر میں زیادہ واضح ہوں گے۔ بعد والی آیات میں قیامت کا انکار کرنے والوں کی تیسری صفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید فرماتا ہے: "جب ہماری آیتیں ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں: "یہ گزشتہ لوگوں کے بےبنیاد مطالب اور افسانے ہیں۔" (إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِ آيَاتُنَا قَالَ أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ)۔ یہ لوگ علاوہ اس کے کہ تجاوز کرنے والے (معتد) اور گناہ گار ہیں، آیات الہٰی کا مذاق اڑاتے ہیں، انہیں کہانیاں اور موہوم قصے بتاتے ہیں، ایسے قصے کو انسان کے نادانی کے زمانے کی یادگار ہیں۔ (تشریحی نوٹ: "اساطیر"، "اسطورہ" کی جمع "سطر" کے مادہ سے عام طور پر موہوم قصوں اور جھوٹی باتوں کے لئے استعمال ہوتا ہے)۔ اور اس بہانے سے چاہتے ہیں کہ اپنے آپ کو ان آیات کی سماعت سے جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اس سے بچا لیں۔ نہ صرف اس سورہ میں بلکہ قرآن مجید کی دوسری آیات میں بھی ہم پڑھتے ہیں کہ جسارت کرنے والے مجرم دعوتِ خداوندی سے منحرف ہونے کا یہی بہانہ کرتے تھے۔ قرآن مجید کی نو آیتوں میں یہی مضمون واضح کیا گیا ہے کہ مشرکین قرآن مجید کی آیتوں کے مقابلہ میں اسی بہانہ سے کام لیتے تھے (وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا) "انہوں نے کہا یہ قرآن گزشتہ لوگوں کے افسانوں اور قصے کہانیوں کا مجموعہ ہے، جسے اس نے لکھا ہے اور صبح و شام اسے لکھایا جاتا ہے۔" (فرقان۔۵)۔ سورہ احقاف کی آیت ۱۷ میں ایک سرکش جوان کی زبانی جو اپنے مہربان اور مومن ماں باپ کے مقابلہ پر کھڑا ہو جاتا ہے ہم اس طرح سنتے ہیں کہ اپنے ماں باپ کی تمام نصیحتوں کا یہ کہہ کر مذاق اڑاتا ہے کہ (مَا هَذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ) یہ باتیں جو تم کرتے ہو گزشتہ لوگوں کی بےبنیاد باتوں اور افسانوں کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ بعض مفسرین نے کہا کہ زیرِ بحث آیت نضر بن حارث بن کلدہ، پیغمبر اسلامؐ کی خالہ کے بیٹے کے بارے میں، جو کفر و ضلالت کے سرغنوں میں سے تھا، نازل ہوئی ہے۔ لیکن واضح رہے کہ آیت کا نزول کسی خاص مورد میں اس سے مانع نہیں کہ دوسروں کے بارے میں بھی صادق آئے، بہرحال، سرکش لوگ وجدان کی تنبیہ سے نجات حاصل کرنے کے لئے اور حق پسند لوگوں کے اعتراضات سے بچنے کے لئے ہمیشہ فضول قسم کے بہانے بناتے رہتے ہیں تاکہ خود اس طرح سکون حاصل کریں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ عام طور پر ایک ہی انداز سے بات کرتے تھے گویا تاریخ کے طویل دور میں ایک دوسرے کے کان میں کہہ جاتے تھے سحر، کہانت، جنون اور افسانہ وغیرہ۔ لیکن قرآن اس کے بعد آنے والی آیت میں ایک مرتبہ پھر ان کی سرکشی کے اصل سبب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: ایسا نہیں ہے جیسا وہ خیال کرتے ہیں بلکہ ان کے بُرے اعمال ان کے دل پر زنگ بن کر لگے ہوئے ہیں اور وہ حقیقت کے ادراک سے محروم ہو گئے ہیں (کلا بل ران علیٰ قلوبھم ما کانوا یکسبون)۔ عجیب دل ہلا دینے والی تعبیر ہے ان کے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ لگا دیا ہے اور وہ نور جو خدا داد فطرت کی بنا پر تھا سلب کر لیا ہے۔ اس وجہ سے حقیقت کا چہرہ جو آفتاب عالمتاب کی درخشاں ہے ان کے دلوں پر ہرگز روشنی نہیں ڈالتا اور انوارِ وحی کا پر تو منعکس نہیں ہوتا۔ "ران"، "رین" (بروزن عین) کے مادہ سے، جیسا کہ راغب نے کہا ہے، وہی زنگ ہے جو قیمتی چیزوں کو لگ جاتا ہے۔ اور بعض دوسرے اربابِ لغت کے بقول سرخ رنگ کا چھلکا ہے جو ہَوَا کی رطوبت کے زیر اثر لوہے اور دوسری اسی قسم کی چیزوں پر چپک جاتا ہے جسے فارسی میں زنگ یا زنگار کہتے ہیں اور عام طور پر وہ اسی دھات کے پرانے اور بوسیدہ ہونے کی نشانی ہے اور طبعی طور پر اس کی شفافیت اور درخشندگی کے ختم ہونے کی علامت ہے۔ کبھی اس لفظ کی ایک چیز سے دوسری چیز پر غلبہ حاصل کرنے، یا کسی چیز میں اس طرح گرنے سے جس سے بچا نہ جا سکے، تفسیر کرتے ہیں۔ اس لئے کہ یہ سب چیزیں ان اصلی معانی کا لازمہ ہیں۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر فخر رازی در ذیل آیہ زیرِ بحث اور المنجد مادہ رین کی طرف رجوع فرمائیں)۔ دل کی نورانیت کو ختم کرنے کے سلسلہ میں گناہ کے تباہ کن اثرات پر ہم بحث کریں گے جسے نکات کے عنوان کے ماتحت ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ اس سے اگلی آیت میں فرماتا ہے: "ایسا نہیں ہے جیسا وہ خیال کرتے ہیں بلکہ اس دن وہ اپنے پروردگار سے محجوب ہوں گے۔" (كَلَّا إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمئِذٍ لَّمَحْجُوبُونَ)۔ اور یہ کہ ان کی زیادہ درد ناک سزا ہے۔ یہ اس بالاتر اور زیادہ لذت بخش نعمت کا بالکل تضاد ہے جو نیک لوگوں کو پروردگار عالم کی معنوی ملاقات اور اس کی بارگاہِ قرب میں حضور سے حاصل ہو گا۔ کلّا عام طور پر اس بات کی نفی کے لئے آتا ہے جو پہلے سے بیان شدہ ہو اور یہاں مفسرین نے کئی احتمال تجویز کئے ہیں۔ پہلا یہ کہ کلّا اس کی تاکید ہے جو گزشتہ آیت میں آیا ہے یعنی اس طرح نہیں ہے کہ جس طرح انہوں نے قیامت کے دن کا افسانے اور کہانی کے طور پر تعارف کرایا ہے۔ یا یہ کہ اس طرح نہیں کہ وہ زنگ جو ان کے دلوں پر لگ چکا ہے وہ اتر جائے۔ وہ اس جہان میں بھی جمالِ حق کے مشاہدہ سے محروم ہیں اور دوسرے جہان میں بھی۔ یا یہ کہ جس طرح قرآن کی دوسری آیات میں آیا ہے کہ وہ مدعی تھے کہ اگر بالفرض قیامت ہو بھی، تب بھی وہ خدا کی انواع و اقسام کی نعمتوں سے بہرہ مند ہوں گے۔ (تشریحی نوٹ: سورہ کہف کی آیت ۳۶ میں آیا ہے (وَمَا أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِن رُّدِدتُّ إِلَى رَبِّي لَأَجِدَنَّ خَيْرًا مِّنْهَا مُنقَلَبًا) میں بالکل باور نہیں کرتا کہ قیامت برپا ہو گی اور اگر مَیں اپنے پروردگار کی طرف لوٹوں بھی اور قیامت بھی ہو پھر بھی اس جگہ سے بہتر جگہ وہاں پاؤں گا (ان معانی کی نظیر سورہٴ فصلت کی آیت ۵۰ میں بھی آئی ہے)۔ اس طرح نہیں ہے جس طرح وہ خیال کرتے ہیں بلکہ وہ قیامت میں شدید ترین عذابوں اور سخت ترین شکنجوں میں گرفتار ہوں گے۔ جی ہاں! آخرت انسان کے اس دنیا کے اعمال کا عکس اور عظیم تجسّم ہے۔ وہ لوگ جو یہاں مشاہدہِ حق سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور ان کے اعمال زنگ بن کر ان کے دلوں پر لگے ہوئے ہیں، وہاں بھی پروردگار سے محجوب ہوں گے اور جمالِ حق کے مشاہدہ کی طاقت ان میں نہیں ہو گی اور وہ محبوبِ حقیقی کے لقائے معنوی سے محروم رہیں گے۔ اس کے بعد وہ یقیناً جہنم کی آگ میں داخل ہوں گے (ثُمَّ إِنَّهُمْ لَصَالُوا الْجَحِيمِ)۔ یہ جہنم میں ورود پروردگار سے محجوب ہونے کا نتیجہ ہے اور ایک ایسا اثر ہے جو اس سے جدا نہیں ہے اور بحیثیتِ مسلّم دیدارِ حق سے محرومیت کی آگ جہنم سے بھی زیادہ جلانے والی ہے۔ اور آخری آیت میں فرماتا ہے: "پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جس کی تم تکذیب کرتے تھے" (ثُمَّ يُقَالُ هَذَا الَّذِي كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ) یہ بات ان سے بطور توبیخ و ملامت و سرزنش کہی جائے گی اور یہ اس بیوقوف اور ہٹ دھرم گروہ کے لئے ایک روحانی عذاب ہے۔

چند نکات ۱۔ دل کے لئے گناہ کیوں زنگ ہے

نہ صرف اس سورہ کی آیت میں دل کو تاریک کرنے پر گناہ کی تاثیر کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے بلکہ قرآن مجید کی بہت سی دوسری آیتوں میں بھی ان معانی کی کئی مرتبہ تکرار کی گئی ہے اور بڑی صراحت کے ساتھ انھیں قابل توجہ قرار دیا گیا ہے۔ ایک جگہ فرماتا ہے: (كَذَلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ) "اسی طرح خدا ہر متکبر جبار اور سرکش کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔" (مومن ۔ ۳۵)۔ ایک دوسری جگہ ہٹ دھرم اور عناد رکھنے والے گناہگاروں کے گروہ کے بارے میں فرماتا ہے: (خَتَمَ اللّهُ عَلَى قُلُوبِهمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَّلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ) "خدا نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور اسی طرح ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔" (بقرہ۔۷)۔ اور سورہ حج کی آیت ۴۶ میں ہم پڑھتے ہیں: (فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ) ظاہری آنکھیں نابینا نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل ہے جو سینوں میں اندھے اور نابینا ہو جاتے ہیں۔ جی ہاں! گناہ اور اس کو جاری رکھنے کا بدترین اثر دل کا تاریک ہو جانا ہے اور نورِ علم اور حِسّ کا ختم ہونا ہے۔ گناہ اعضاء و جوارح سے سرزد ہوتے ہیں لیکن دل کو متاثر کرتے ہیں اور اُسے غلیظ و متعفن کیچڑ میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہان انسان راہ اور چاہ کے درمیان امتیاز نہیں کر سکتا اور عجیب و غریب شہادت کا شکار اور غلطیوں کا مرتکب ہوتا ہے جن سے ہر شخص حیران ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے پیروں پر خود کلہاڑی مارتا ہے اور اپنی خوش بختی کا سرمایہ برباد کر دیتا ہے۔ ایک حدیث میں پیغمبر اسلامؐ سے منقول ہے (کثرة الذنوب مفسدة للقلب) گناہوں کی فراوانی انسان کے دل کو تباہ کر دیتی ہے۔ (بحوالہ: در المنثور، جلد۶، ص ۳۲۶)۔ پیغمبر اسلامؐ کی ایک اور حدیث ہے (ان العبد اذا اذنب ذنبا نکتت فی قلبہ نکتة سوداء فان تاب و نزع و استغفر صقل قلبہ و ان عاد زادت حتی تعلو قلبہ فذالک الرین الذی ذکر اللہ فی القرآن (كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ) جس وقت بندہ گناہ کرے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ پیدا ہو جاتا ہے اگر توبہ کرے اور گناہ سے دستبردار ہو جائے اور استغفار کرے تو اس کا دل صیقل ہو جاتا ہے اور اگر دوبارہ گناہ کی طرف پلٹے تو سیاہی بڑھ جاتی ہے، یہاں تک کہ اس کے پورے دل کو گھیر لیتی ہے اور یہ وہی زنگ ہے جس کی طرف اس آیت (كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ) میں اشارہ ہوا ہے۔ (بحوالہ: در المنثور، جلد ۶، ص ۳۲۵)۔ یہی مفہوم امام محمد باقر علیہ السلام سے بھی اصول کافی میں مختصر سے فرق کے ساتھ منقول ہے۔ (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۵، ص ۵۳۱، حدیث ۲۲،۲۳)۔ نیز اسی اصولی کافی میں رسول خداؐ سے منقول ہے کہ (تذاکروا و تلاقوا و تحدثوا فان الحدیث جلاء للقلوب ان القلوب لترین کما یرین السیف و جلائہ الحدیث) مذاکرہ کرو اور ایک دوسرے سے ملاقات کرو اور (دین کے پیشواؤں کی) احادیث نقل کرو اس لئے کہ حدیث دلوں کی جلا کا سبب ہے۔ دل بھی زنگ آلود ہو جاتے ہیں جس طرح تلوار کو زنگ لگ جاتا ہے اور قلوب کا صیقل حدیث ہے۔ (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۵، ص ۵۳۱، حدیث ۲۲،۲۳)۔ اصول نفسیات کی رُو سے بھی مفہوم ثابت ہو چکا ہے کہ انسان کے اعمال کا ہمیشہ اس کی روح پر اثر ہوتا ہے اور وہ اعمال روح کو آہستہ آہستہ اپنی صورت پر لے آتے ہیں، یہاں تک کہ انسان کے سوچنے کے طریقہ اور فیصلہ کرنے کے انداز پر بھی اپنا اثر ڈالتے ہیں۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ انسان گناہ کو جاری رکھنے کے نتیجے میں رفتہ رفتہ روح کی تاریکی میں ڈوبتا چلا جاتا ہے اور ایسی منزل پر پہنچ جاتا ہے کہ اس کو اپنے گناہ حسنات نظر آتے ہیں یعنی وہ اپنی برائیوں ہی کو اچھائیاں سمجھنے لگتا ہے۔ وہ بعض اوقات اپنے گناہ پر فخر کرتا ہے ایسی منزل پر پہنچ کر اس کے لئے واپسی کا کوئی امکان نہیں رہتا، یہ ایک خطرناک ترین حالت ہے جو ایک انسان کو پیش آتی ہے۔

۲۔ روح و جان کے چہرہ پر عذاب

اگرچہ بہت سے مفسرین نے کوشش کی ہے کہ آیت (كَلَّا إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوبُونَ) میں کسی چیز کو مقدر قرار دیں اور کہیں کہ یہ گناہ گار خدا کی رحمت سے محجوب ہوں گے یا اس کے احسان، کرامت اور ثواب سے محجوب ہوں گے، لیکن بظاہر آیت کسی تقدیر کی محتاج نہیں ہے۔ وہ واقعتاً پروردگار سے محجوب ہوں گے جب کہ نیک اور پاک افراد قربِ خداوندی کی منزل پر فائز ہوں گے اور دیارِ محبوب اور اس کے شہودِ باطنی سے بہرہ مند ہوں گے۔ یہ بےایمان اور گناہگار دوزخی ہیں جو اس فیض عظیم اور نعمتِ بےنظیر سے محروم ہیں۔ بعض پاک دل مومن اس جہان میں بھی اس دیدار سے فیضیاب ہوتے ہیں جبکہ کور دل مجرم اُس جہان میں بھی اس فیض سے محروم ہوں گے۔ پاک دل ہمیشہ حضور خداوندی میں ہیں اور یہ بےبصیر تاریک دل اس سے دور ہیں۔ وہ اس کی مناجات سے اس قدر لذت حاصل کرتے ہیں جو کسی بیان کی محتاج نہیں ہے جبکہ یہ گناہگار اپنے گناہوں کی نحوست میں اس قدر غرق ہیں کہ ان کے لئے کوئی راہ نجات نہیں ہے۔ تو کز سرائے طبیعت نمی روی بیروں کجا بکوئے حقیقت گزر توانی کرد جمالِ یار ندارد حجاب و پردہ ولے غبارِ راہ نشاں تا نظر توانی کرد تُو مادہ کے گھر سے باہر نہیں نکلتا تو پھر حقیقت کے کوچہ میں تیرا گذر کیسے ہو سکتا ہے۔ محبوب کے جمال پر کوئی پردہ نہیں ہے لیکن غبارِ راہ کو بھٹانا کہ تُو دیکھ سکے۔ امیر المومنین حضرت علیؑ مشہور دعائے کمیل میں فرماتے ہیں: ھبنی صبرت علیٰ عذابک فکیف اصبر علیٰ فواقک) بالفرض اگر مَیں تیرے درد ناک عذاب پر صبر کر بھی لوں تو تیرے فراق پر کیسے صبر کروں گا۔

18
83:18
كَلَّآ إِنَّ كِتَٰبَ ٱلۡأَبۡرَارِ لَفِي عِلِّيِّينَ
ایسا نہیں ہے جیسا وہ (قیامت کے بارے میں ) خیال کرتے ہیں بلکہ نیک لوگوں کا نامہ اعمال علیین میں ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔

19
83:19
وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا عِلِّيُّونَ
اور تو کیا جانے علیین کیا ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔

20
83:20
كِتَٰبٞ مَّرۡقُومٞ
یہ نوشتہ ہے لکھا ہوا اور سرنوشت ہے قطعی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔

21
83:21
يَشۡهَدُهُ ٱلۡمُقَرَّبُونَ
جس کے شاہد مقربین ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔

22
83:22
إِنَّ ٱلۡأَبۡرَارَ لَفِي نَعِيمٍ
یقیناً نیک لوگ انواع و اقسام کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔

23
83:23
عَلَى ٱلۡأَرَآئِكِ يَنظُرُونَ
جنت کے خوبصورت پلنگوں اور تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے دیکھ رہے ہوں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔

24
83:24
تَعۡرِفُ فِي وُجُوهِهِمۡ نَضۡرَةَ ٱلنَّعِيمِ
ان کے چہروں پر تو نعمت کی طراوت اور نشاط دیکھے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔

25
83:25
يُسۡقَوۡنَ مِن رَّحِيقٖ مَّخۡتُومٍ
انہیں ایسی پاک و پاکیزہ شراب پلائی جائے گی جس کو کسی نے چھوا نہیں ہو گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔

26
83:26
خِتَٰمُهُۥ مِسۡكٞۚ وَفِي ذَٰلِكَ فَلۡيَتَنَافَسِ ٱلۡمُتَنَٰفِسُونَ
اس پر جو مہر لگائی گئی ہو گی وہ مشک سے ہو گی پس ان جنت کی نعمتوں میں رغبت رکھنے والوں کو ایک دوسرے سے سبقت کرنا چاہئے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔

27
83:27
وَمِزَاجُهُۥ مِن تَسۡنِيمٍ
یہ شراب (طہور) تسنیم سے ملی ہوئی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔

28
83:28
عَيۡنٗا يَشۡرَبُ بِهَا ٱلۡمُقَرَّبُونَ
وہی چشمہ جس سے مقربین پئیں گے۔

تفسیر عِلیّین ابرار کے انتظار میں ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

اس توصیف کے بعد جو گزشتہ آیات میں فاجر لوگوں کے اعمال اور سرنوشت کے بارے میں آئی ہے ان آیات میں اس گروہ کے بارے میں گفتگو ہے جو ان کا مدَمقابل ہے، یعنی ابرار اور نیکوکار لوگ جن کا امتیاز، افتخار اور اعزاز فاجروں کے مقابلہ میں ملاحظہ کرنے سے دونوں کی حیثیت واضح ہو جاتی ہے۔ پہلے فرماتا ہے: "ایسا نہیں ہے جیسا وہ قیامت کے بارے میں خیال کرتے ہیں بلکہ نیک لوگوں کے نامہ ہائے اعمال علیین میں ہوں گے۔" (كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْأَبْرَارِ لَفِي عِلِّيِّينَ)۔ "علیین"، "علی" (بروزن ملی) کی جمع ہے بلند جگہ اور اس پر بیٹھنے والوں کے معنوں میں ہے۔ پہاڑوں کے بلند ترین حصوں پر رہنے والوں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے، یہاں مفسرین کی ایک جماعت نے آسمان کی افضل ترین جگہ یا جنت کی بہترین جگہ کے معنی میں اس کی تفسیر کی ہے اور بعض نے کہا کہ اس کا ذکر صیغہ جمع کے ساتھ جو ہے وہ تاکید کے لئے اور علو فی علو بلندی در بلندی کے معنوں میں ہے۔ بہرحال، وہ تفسیریں جو گزشتہ آیات میں سجّین کے بارے میں ہم کر چکے ہیں انہی سے مشابہ تفسیریں ہیں۔ پہلی یہ کہ کتاب الابرار سے مراد نیک، پاک اور مومنین کا نامہ اعمال ہے اور مقصود کلام یہ ہے کہ ان کا نامہ اعمال ایک ایسے دیوان کل میں موجود ہے جو تمام مومنین اعمال کو بیان کرتا ہے۔ وہ دیوان بہت ہی بلند منزلت رکھتا ہے۔ یا یہ کہ ان نامہ اعمال بلند ترین مکان یا جنت کے فراز پر ہے۔ اور یہ سب معانی بتاتے ہیں کہ خود ان کا مقام بہت ہی بلند و بالا ہے۔ ایک حدیث میں ہمیں ملتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا کہ علیین سے مراد ساتواں آسمان اور عرشِ خدا کا نچلا حصہ ہے۔ (بحوالہ: تفسیر قرطبی، جلد ۱۰، ص۷۰۵۳، و مجمع البحرین، مادہ "علو")۔ اور یہ نقطہ فجار کا عین نقطہِ مقابل ہے جو دوزخ کے طبقوں میں پست ترین جگہ قرار پائی ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ کتاب سے مراد سرنوشت اور حکم قطعی ہے جو نیک لوگوں کو بہشت کے اعلیٰ درجوں میں مقرر کئے ہوئے ہیں۔ ان دونوں تفسیروں میں کوئی تضاد نہیں ہے کہ ان کا نامہ اعمال ایک دیوان کل میں برقرار ہے اور اس دیوان کا مجموعہ آسمانوں کی بلندی پر ہے اور فرمانِ الٰہی بھی یہی قرار پایا ہے کہ وہ خود جنت کے بلند ترین مقامات میں ہوں۔ اس کے بعد علیین کی اہمیت و عظمت کو بیان کرنے کے لئے مزید کہتا ہے: "تو کیا جانے کہ علیین کیا ہے" (وَمَا أَدْرَاكَ مَا عِلِّيُّونَ)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ وہ ایسا مقام ہے جو خیال و قیاس اور وہم و گمان سے بھی برتر ہے، جسے کوئی بھی حتی کہ پیغمبرِ اسلامؐ بھی، اس کی عظمت اور حدودِ اربعہ کا ادراک نہیں کر سکتے۔ اس کے بعد خود قرآن وضاحت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ "علیین ایک لکھی ہوئی کتاب ہے" (كِتَابٌ مَّرْقُومٌ)۔ یہ اس تفسیر کی بناء پر ہے جو علیین کو ابرار کے نامہ اعمال کے دیوان کل کے معنی میں پیش کرتی ہے۔ باقی رہی دوسری تفسیر تو پھر آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ یہ حتمی سرنوشت ہے جس کے بارے میں خدا نے تحریر کیا ہے۔ ان کی جگہ جنت کے افضل ترین درجات میں ہو گی۔ اس بناء پر کتابِ مرقوم کتاب الابرار کی تفسیر ہے نہ کہ علیین کی۔ (غور کیجئے)۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "یہ ایسی کتاب ہے جس کا مقرّبین مشاہدہ کریں گے، یا اس کی گواہی دیں گے" (يَشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُونَ)۔ اگرچہ مفسرین کی ایک جماعت اس آیت میں مقربون سے مراد فرشتے لیتی ہے جو بارگاہِ الہٰی میں مقرب ہیں، وہ فرشتے جو نیک لوگوں کے اعمال کے یا یقینی سرنوشت کے ناظر ہیں لیکن بعد کی آیت بتاتی ہے کہ مقربون خاصان خدا اور برگزیدہ مومنین کا ایک گروہ ہے جس کا مقام بہت اونچا ہے اور دوسرے نیک افراد کے اعمال پر شاہد ہے جیسا کہ سورہٴ واقعہ کی آیت۱۰۔ ۱۱ میں اصحاب المینہ اور اصحاب المشئمہ کے ذکر کے بعد فرماتا ہے: (وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَo أُوْلَئِكَ الْمُ قَرَّبُونَ) اور سبقت کرنے والوں میں سبقت کرنے والے ہی مقربین ہیں۔ اور سورہ نحل کی آیت ۸۹ میں ہم پڑھتے ہیں (وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِي كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا عَلَيْهِم مِّنْ أَنفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيدًا عَلَى هَـؤُلاَءِ) "اور یاد کرو اس دن کو جب ہر امت میں سے ایک گواہ اس پر مقرر کریں گے اور تجھے اس پر گواہ قرار دیں گے۔" اس کے بعد نیک لوگوں کے عظیم ثواب کے ایک حصہ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتا ہے: "یقیناً ابرار انواع و اقسام کی نعمتوں سے بہرہ یاب ہیں" (إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ)۔ "نعیم" کا اصلی مفہوم، جو راغب کے بقول بہت زیادہ نعمت کے معنی میں ہے اور نکرہ کی شکل میں اپنے ذکر کے ساتھ یہاں عظمت و اہمیت کی دلیل ہے، یہ بتاتا ہے کہ ابرار اس قسم کی برکتوں اور نعمتوں کے حامل ہیں جو حدودِ توصیف و تعریف سے باہر ہیں اور یہ جنت کی تمام مادی و معنوی نعمتوں اور برکتوں کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ایک جامع تعبیر ہے۔ اس کے بعد ان میں سے بعض کی تشریح کرتے ہوئے فرماتا ہے: "وہ جنت کے خوبصورت پلنگوں اور تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ان تمام نعمتوں اور مناظر کو دیکھ رہے ہوں گے اور لذت اٹھا رہے ہوں گے" (عَلَى الْأَرَائِكِ يَنظُرُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: اس جملہ میں مبتداء محذوف ہے اور تقدیر میں (ھم عَلَى الْأَرَائِكِ يَنظُرُونَ) ہے اس جملہ ینظرون حال ہے، یا یہ کہ عَلَى الْأَرَائِكِ گزشتہ آیت کے لفظ "ان" کی خبر کے بعد خبر ہے)۔ "ارائک"، "اریکہ" کی جمع ہے اور خوبصورت تخت کے معنی میں ہے، یا پُر زینت پلنگ جو حجلہ عروسی میں رکھتے ہیں، یہاں جنت کے بہت ہی خوبصورت تختوں اور پلنگوں کی طرف اشارہ ہے جن پر نیک اور صالح افراد متمکن ہوں گے۔ بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ اس لفظ کی اصل فارسی ہے اور یہ "ارگ" سے لیا گیا ہے جس کے معنی قصر سلطنت کے ہیں۔ (یہ لفظ اس قلعہ کے معنی میں بھی آیا ہے جو شہر کے اندر ہو، اور چونکہ شہر کے اندر والا قلعہ عام طور پر بادشاہوں کے لئے مخصوص ہوتا ہے، لہٰذا اس پر اطلاق ہوتا ہے)۔ بعض دوسرے مفسرین ارائک کو مفرد اور فارسی لفظ "اراک" یا "ارایک" سے ماخوذ جانتے ہیں جس کے معنی شاہی تخت کے ہیں اور پایہٴ تخت اور اس صوبہ کے معنی میں ہیں جس میں پایہٴ تخت ہو اور عراق کو اراک کا معرب سمجھتے ہیں جو اس قسم کے صوبہ کے معنی میں ہے اور کہتے ہیں کہ لفظ ارائک اوستا (زرتشت کی مقدس کتاب) میں بھی بارگاہ اور تختِ سلطنت کے معنی میں آیا ہے۔ لغت عرب کے بعض علماء اس کی اصل عربی کو سمجھتے ہیں، ان کا نظریہ ہے کہ یہ لفظ اراک سے لیا گیا ہے جو مشہور درخت کا نام ہے جس سے تخت اور سائبان بنائے جاتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: "لغت نامہ"، "وھخدا"، کتاب "دیوان دین"، "مفردات راغب" اور برہان قاطع کی طرف رجوع کیا جائے)۔ لیکن قرآن مجید میں اس کے موارد استعمال سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ اس زیبا خوبصورت اور مزین تخت کے معنوں میں ہے جس سے صاحبانِ قدرت و نعمت استفادہ کرتے ہیں۔ (ینظرون) دیکھیں گے کی تعبیر جو سربستہ شکل میں استعمال ہوئی ہے اس میں یہ نہیں فرماتا کہ کس چیز کی طرف دیکھیں گے تاکہ اس کے مفہوم میں وسعت رہے۔ وہ لطفِ خدا کی طرف دیکھیں گے۔ اس کے بےمثال جمال کی طرف، جنت کی انواع و اقسام کی نعمتوں کی طرف اور نگاہوں کی خیرہ کرنے والی خوبصورتیوں کی طرف دیکھیں گے، جو بہشت بریں میں ہوں گے، اس لئے کہ انسانی لذتوں میں سے اہم ترین لذت دیکھنے کی لذت ہے۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "جب تو ان کے چہروں کی طرف دیکھے تو نعمت کے طراوت خوشی اور نشاط ان میں دیکھے گا" (تعرف فی وجوھھم نضرة النعیم)۔ جو اس طرف اشارہ ہے کہ نشاط، سرور اور خوشی ان کے چہروں پر جھلک رہی ہو گی اور ان سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ اس کے برعکس اگر دوزخیوں کے چہرہ پر نظر کرے تو ان سے غم و رنج اور اندوہ و بدبختی اور بےچارگی نمایاں ہو گی۔ "نضرة" جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کر چکے ہیں، تر و تازگی اور نشاط کے معنی میں ہے جو اچھی زندگی گذارنے والوں کے چہرے سے عیاں ہوتی ہے، تخت، نظارہ، آرام و سکون و نشاط کی نعمتوں کے بعد ایک اور نعمت یعنی بہشتیوں کی شراب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید فرماتا ہے: "انہیں ایسی پاک و پاکیزہ شراب پلائیں گے جس میں کسی کا ہاتھ نہیں لگا ہو گا" (يُسْقَوْنَ مِن رَّحِيقٍ مَّخْتُومٍ)۔ وہ شرابِ طہور جو دنیا کی شرابوں کی طرح گناہ پر آمادہ کرنے والی، جنون پیدا کرنے والی شیطانی شراب کی طرح نہیں ہے بلکہ وہ ہوش و عقل اور نشاط و عشق صفا پیدا کرتی ہے۔ زیادہ مفسرین نے رحیق کو خالص شراب کے معنی میں لیا ہے، ایسی شراب جس میں کسی قسم کی ملاوٹ نہیں ہو گی۔ "مَّخْتُومٍ" کے معنی مہر لگی ہوئی۔ اس سے بھی اس کے خالص اور پاک و صاف ہونے کا اظہار ہے۔ اس کے علاوہ وہ اس قسم کے برتنوں کا استعمال مہمان کے خاص احترام کی علامت ہے۔ ایسا ظرف جس کا منہ بند ہے، اس پر مہر لگی ہوئی ہے اور اس کی مُہر صرف مہمان کی خاطر تھوڑی جاتی ہے۔ (تشریحی نوٹ: گزشتہ زمانے میں معمول تھا اور موجودہ زمانے میں بھی معمول ہے کہ یہ اطمینان کرنے کے لئے کہ اس چیز کو کسی کا ہاتھ نہیں لگا اس کو کسی برتن میں رکھتے اور اس کا منہ بند کرنے کے بعد کسی رسی یا بٹے ہوئے تار سے اس پر گرہ لگا دیتے تھے اور اس گرہ پر سخت مٹی یا لاکھ کو پگھلا کر رکھ دیتے اور اس پر اس طرح سے مہر لگا دیتے کہ برتن کے اندر مہر توڑے بغیر رسائی ممکن نہ ہوتی۔ عرب اس کو مختوم کہتے ہیں)۔ اس کے بعد فرماتا ہے: "اس کی مُہر مشک اور کستوری سے لگائی گئی ہے" (خِتَامُهُ مِسْكٌ)۔ دنیا کے منہ بند برتنوں کی طرح نہیں جن کی مُہر مٹی سے لگائی جاتی ہے تو مشک اور عطر کی خوشبو فضا میں پھیل جاتی ہے۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ مراد یہ ہے کہ آخر میں یعنی اس شرابِ طہور پینے کے اختتام پر انسان کے منہ سے مشک و عنبر کی خوشبو آئے گی، دنیا کی نجس شرابوں کے برخلاف جن کے پینے کے بعد منہ تلخ اور بدبودار ہو جاتا ہے، لیکن اس تعبیر کی طرف توجہ کرتے ہوئے جو گزشتہ آیت میں آئی ہے یہ تفسیر بعید نظر آتی ہے۔ آیت کے آخر میں جنت کی شرابِ طہور کے اوصاف بیان کرنے کے بعد فرماتا ہے: "ان بہشتی نعمتوں میں اور خصوصیت کے ساتھ اس شرابِ طہور کی طرف رغبت کرنے والوں کو ایک دوسرے پر سبقت لے جانی چاہے۔" (وَفِي ذَلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ)۔ مفسر عظیم "طبرسی"، "مجمع البیان" میں کہتے ہیں: "تنافس"کے معنی دو انسانوں کے ایک چیز کے لئے کوشش کرنے کے ہیں جن میں سے دونوں یہ چاہیں کے یہ نفیس چیز میرے پاس ہو۔ مجمع البحرین میں ہے کہ تنافس کے معنی عظمت و عزت کے ساتھ ایک دوسرے پر سبقت لے جانا ہے۔ راغب مفردات میں کہتا ہے "منافسہ" کہ معنی یہ ہیں کہ معزز افراد سے مشابہت پیدا کرنے کے لئے ان سے ملحق ہو جانے کی اس طرح کوشش کرنا کہ دوسرے کو نقصان نہ پہنچے۔ حقیقت میں اِس آیت کا مضمون اُس آیت کے مشابہ ہے جو سورہ حدیدکی آیت ۲۱ میں آئی ہے (سَابِقُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ) "اپنے پروردگار کی مغفرت تک پہنچنے کے لئے اور اس جنت تک پہنچنے کے لئے جس کی وسعت آسمان و زمین جتنی ہے، ایک دوسرے پر سبقت لے جاؤ۔" یا جو کچھ سورہ آل عمران کی آیت ۱۳۳ میں آیا ہے: (وَسَارِعُواْ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ)۔ بہرحال، اس آیت میں جو تعبیر آئی ہے وہ بہت ہی خوبصورت ہے اور جو ایمان و عمل صالح کے ذریعہ ان بےنظیر نعمتوں تک پہنچنے کے سلسلہ میں انسانوں کو شوق دلانے کا سبب سمجھی جاتی ہے اور قرآن کی فصاحت و بلاغت کو عمدہ انداز میں ظاہر کرتی ہے۔ (تشریحی نوٹ۱: جو کچھ آیت کی تفسیر میں کہا گیا ہے اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ ذالک کا اشارہ جنت کی سات نعتموں کی طرف ہے خصوصاً مخصوص شرابِ طہور جس کے پرکشش اوصاف آیت میں آئے ہیں)۔ (تشریحی نوٹ۲: چونکہ "واو" اور "فاء" (وَفِي ذَلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ) کے جملہ میں دونوں عطف کے لئے ہیں تو یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دو حروف یکے بعد دیگرے کیوں آئے ہیں۔ زیادہ مناسب جواب یہ ہے کہ یہاں حرفِ شرط محذوف ہے اور تقدیرِ عبارت اس طرح ہے (و ان ارید تنافس فی شیء فلitنافس فی ذالک المتنافسون)۔ اگر کسی چیز میں رغبت ہے تو رغبت کرنے والے اس میں رغبت محسوس کریں۔ اس طرح حرفِ شرط اور جملہ شرطیہ دونوں محذوف ہیں اور ذالک بھی مقدم رکھا گیا ہے۔ (غور فرمائیے))۔ اس کے بعد آخری نعمت جو اس سلسلہٴ آیات میں آئی ہے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "یہ شرابِ طہور تسنیم میں ملی ہوئی ہے" (وَمِزَاجُهُ مِن تَسْنِيمٍ)۔ "وہی چشمہ جس سے مقربین پیتے ہیں" (عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: یہ کہ عیناً کیوں منصوب ہے اس کے لئے بہت سی وجوہ بیان ہوئی ہیں۔ منجملہ ان کے یہ کہ تسنیم کے لئے حال یا اس کی تمیز ہے، یا مدح و اختصاص کے عنوان کے ماتحت ہے اور تقدیر اعنی (میری مراد ہے) اور "بھا" کی "باء" یا تو زائدہ ہے یا "من" کے معنی میں ہے اور دوسرے معنی زیادہ مناسب ہیں)۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ تسنیم جنت کی افضل ترین شراب طہور ہے جسے خاص طور پر مقربین پیتے ہیں لیکن عام نیک لوگ اس میں سے ایک مقدار رحیقِ مختوم ملا کر پیتے ہیں، جو جنت کی شرابِ طہور کی ایک اور قسم ہے۔ یہ کہ شراب یا یہ چشمہٴ تسنیم کے نام سے کیوں موسوم ہے (اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ تسنیم لغت کے اعتبار سے چشموں کے معنوں میں ہے جو اوپر سے نیچے کی طرف گر رہا ہو)، بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ وہ شراب ہے جو بہشت کے آسمانوں سے گر رہی ہے۔ حقیقت میں جنت کی شراب کی کئی قسم ہے۔ بعض تو نہروں کی صورت میں بہہ رہی ہیں جن کی طرف قرآن کی متعدد آیات میں اشارہ ہوا ہے۔ (بحوالہ: سورہ محمّد، آیت ۱۵)۔ ان میں سے بعض منہ بند برتنوں میں مُہر زدہ صورت میں ہیں جیسا کہ مندرجہ بالا آیت میں آیا ہے۔ سب سے زیادہ اہم وہ شراب ہے جو بہشت کے آسمان یا اور اوپر والے طبقوں سے گرتی ہے اور یہ وہی شرابِ تسنیم ہے کہ جنت کا کوئی مشروب اس کا ہم پلہ نہیں ہے اور جنتیوں کے جسم و جان میں جو تاثیر فطری طور پر وہ کرتی ہے وہ سب سے بہتر پُرکشش اور عمیق ہے۔ اس کے پینے سے جو نشہ حاصل ہوتا ہے وہ تعریف و توصیف سے بالا ہے۔ البتہ اس حقیقت کو ہمیں دوبارہ بیان کرنا چاہئیے کہ یہ سب دھندلے نقوش ہیں جو دُور سے نظر آتے ہیں ورنہ جنت کی گراں قدر اور بےنظیر نعمتوں کی تعریف و توصیف زبان و قلم کے ذریعہ ممکن نہیں ہے۔ حتی کہ خود قرآن کے بقول اس کی طرف کسی شخص کی فکر اور اس کے ذہن میں نہیں آ سکتی۔ (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ) (الم سجدہ ۔ ۱۷)۔ "کوئی نفس نہیں جانتا کہ آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے والی کونسی چیزیں ان کے لئے رکھی گئی ہیں)۔

چند نکات ابرار اور مقربین کون لوگ ہیں؟

قرآن مجید کی آیات میں ابرار، مقربین اور ان کے عظیم اجر و ثواب کے بارے میں بارہا گفتگو ہوئی ہے، یہاں تک کہ سورہٴ آل عمران کی آیت ۱۹۳ کے مطابق اولوالالباب (قوی عقل و فکر والے) تقاضا کرتے ہیں کہ ان کی زندگی کا اختتام ابرار کے ساتھ ہو۔ (وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ) اور سورہٴ دھر کی آیات میں بھی ان کے لئے بہت اجر و ثواب بیان ہوئے ہیں، (دھر آیت ۵ تا ۲۲) اور سورہٴ انفطار کی آیت ۱۳ اور سورہٴ مطففین کے زیر بحث آیت بھی ان کے بارے میں بار بار خدا کی مہربانیوں کو بیان کرتی ہے۔ ابرار، جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں، "بر" کی جمع ہے یہ وہی لوگ ہیں جو وسیع روح، بلند ہمت، اچھے اعتقاد اور نیک عمل کے حامل ہیں اور مقربین وہ ہیں جو بارگاہِ خدا میں قربِ مقام کے حامل ہیں۔ ان دونوں کے درمیان ظاہری طور پر عام و خاص مطلق کی نسبت ہے، یعنی سب مقرب افراد ابرار ہیں، لیکن ابرار مقرب نہیں ہیں۔ ایک حدیث امام حسنؑ مجتبیٰ سے منقول ہے کہ (کلما فی کتاب اللہ عزوجل من قولہ ان الابرار فواللہ ما ارادبہ الا علی ابی طالب و فاطمۃ و انا والحسین) جہاں کہیں قرآن میں انّ الابرار آیا ہے خدا کی قسم اس پروردگار کی مراد علیؑ ابن ابی طالب، فاطمہؑ زہرا، مَیںؑ اور حسینؑ ہیں۔ (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۵، ص۵۳۳، حدیث ۳۳)۔ اس میں شک نہیں کہ خمسہ نجباوہ پانچ مقدس نورِ ابرار و مقربین کے سب سے زیادہ مصداق ہیں اور جیسا کہ ہم نے سورہٴ دھر میں کہا ہے کہ یہ عظیم سورہ امیر المومنین حضرت علیؑ و فاطمہؑ اور حسنؑ و حسینؑ کی طرف اشارہ کرتا ہے اور اس کی اٹھارہ آیات ان کے فضائل کی بحث میں ہیں، اگرچہ ان کے بارے میں آیات کا نزول آیات مفہوم کی وسعت کی راہ میں مانع نہیں ہے۔

۲۔ جنت کی شرابیں

قرآن کی مختلف آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں کئی قسم کی شراب ہائے طہور کئی ناموں اور کیفیتوں کے ساتھ موجود ہیں جو ہر لحاظ سے دنیا کی ناپاک شرابوں سے مختلف ہیں۔ دنیا کی شرابیں عقل کو ختم کرتی ہیں، جنون پیدا کرتی ہیں اور عداوت و خونریزی اور فتنہ و فساد کا سرچشمہ بنتی ہیں۔ بدبودار و بد ذائقہ اور نجس و ناپاک ہوتی ہیں۔ لیکن جنت کی شرابیں عقل، نشاط اور عشق پیدا کرتی ہیں۔ خوشبودار معطر اور پاک ہیں اور جو لوگ انہیں پیتے ہیں وہ ناقابلِ بیان روحانی نشہ سے سرور حاصل کرتے ہیں جس کی دو قسمیں اس سورت میں آ چکی ہیں۔ رحیق مختوم اور تسنیم اور اس کی دوسری اقسام سورہ دھر اور قرآن کی دوسری آایت میں بیان ہوئی ہیں جن میں سے ہر ایک کی اس جگہ ہم نے تصریح کی ہے۔ قابلِ توجہ یہ ہے کہ متعدد روایات میں یہ جنت کی شراب ان لوگوں کا اجر قرار دی گئی ہے جو دنیا کی شراب کی طرف توجہ نہ کریں، پیاسوں کو سیراب کریں اور مومنین کے دلوں میں جو غم و اندوہ کی آگ جل رہی ہے، اسے بجھا دیں۔ پیغمبرِ اسلامؐ نے حضرت علیؑ سے فرمایا: (یا علی من ترک الخمر للہ سقاہ اللہ من الرحیق المختوم) اے علیؑ! جو شخص خدا کی خاطر شراب کو ترک کرے تو خدا اُسے جنت کی منہ بند مُہر شدہ شرابِ زُلال سے سیراب کرے گا۔ (بحوالہ: نور الثقلین، جلد۵، ص۵۳۳، حدیث۳۷، ۴۰)۔ زیادہ جاذب توجہ یہ بات ہے کہ ایک اور حدیث میں انہی جناب سے آیا ہے کہ اگر دنیا کی شراب، خدا نہیں، بلکہ غیر خدا کی خاطر بھی ترک کرے تو بھی خدا اسے اس شراب سے سیراب کرے گا۔ (بحوالہ: نور الثقلین، جلد۵، ص۵۳۳، حدیث۳۷، ۴۰)۔ جی ہاں وہ افراد جو شراب کو اپنی سلامتی کی حفاظت کی خاطر ترک کریں وہ حقیقت میں اولوالالباب ہیں اور جیسا کہ سورہ آلِ عمران کی آیت ۱۹۳ سے معلوم ہوتا ہے۔ اولوالالباب بھی ابرار کے زمرہ میں ہیں جو جنت کی شراب ہائے طہور سے بہرہ مند ہوں گے۔ ایک اور حدیث میں علیؑ بن حسینؑ سے منقول ہے (من سقی مؤمناً من ظمأ سقاہ اللہ من الرحیق المختوم) جو شخص کسی پیاسے مومن کلو سیراب کرے خدا اسے رحیق مختوم سے سیراب کرے گا۔ (بحوالہ: نور الثقلین، جلد۵، ص۵۳۴ (حدیث۳۵))۔ ایک دوسری حدیث میں آیا ہے: (من صام للہ فی یوم صائف سقاہ اللہ من الظمأ من الرحیق المختوم) جو شخص موسم گرما کے دنوں میں روزہ رکھے تو خدا اسے قیامت کی تشنگی کی حالت میں رحیق مختوم سے سیراب کرے گا۔ (بحوالہ: مجمع البیان در ذیل آیات زیر بحث (جلد۱۰، ص۴۵۶))۔

29
83:29
إِنَّ ٱلَّذِينَ أَجۡرَمُواْ كَانُواْ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ يَضۡحَكُونَ
بدکار (لوگ) دنیا میں ہمیشہ مومنین پر ہنستے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

30
83:30
وَإِذَا مَرُّواْ بِهِمۡ يَتَغَامَزُونَ
اور جب مومنین کے پاس سے گزرتے تو اشاروں سے ان کا مذاق اڑاتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

31
83:31
وَإِذَا ٱنقَلَبُوٓاْ إِلَىٰٓ أَهۡلِهِمُ ٱنقَلَبُواْ فَكِهِينَ
اور جب اپنے خاندان کی طرف پلٹتے تو مسرور پلٹتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

32
83:32
وَإِذَا رَأَوۡهُمۡ قَالُوٓاْ إِنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ لَضَآلُّونَ
او رجس وقت مومنین کو دیکھتے تو کہتے یہ گمراہ ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

33
83:33
وَمَآ أُرۡسِلُواْ عَلَيۡهِمۡ حَٰفِظِينَ
حالانکہ وہ مومنین کی نگرانی پر کبھی مامور نہیں رہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

34
83:34
فَٱلۡيَوۡمَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنَ ٱلۡكُفَّارِ يَضۡحَكُونَ
لیکن آج (قیامت کے دن) مومنین کفار پر ہنستے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

35
83:35
عَلَى ٱلۡأَرَآئِكِ يَنظُرُونَ
جبکہ جنت کے مزین تختوں (اور پلنگوں ) پر بیٹھے ہیں اور دیکھ رہے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

36
83:36
هَلۡ ثُوِّبَ ٱلۡكُفَّارُ مَا كَانُواْ يَفۡعَلُونَ
کیا کفار نے اپنے اعمال کا اجر لے لیا ہے؟

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

مفسرین نے ان آیات کے لیے دو شان ہائے نزول نقل کی ہیں۔ پہلی یہ کہ ایک دن حضرت علیؑ اور مومنین کی ایک جماعت کفارِ مکہ کے قریب سے گزری تو وہ حضرت علیؑ اور ان مومنین پر ہنسنے لگے اور ان کا مذاق اڑیا، تو مندرجہ بالا آیتیں نازل ہوئیں اور مذاق اڑانے والے کافروں کی جو قیامت میں حالت ہو گی اس کو واضح کیا۔ حاکم ابوالقاسم حسکانی شواہد التنزیل میں ابن عباس سے اس طرح نقل کرتے ہیں کہ "ان الذین اجرموا" سے مراد قریش کے منافقین ہیں اور "الذین اٰمنوا" سے مراد علیؑ بن ابی طالب اور ان کے یار و انصار ہیں۔ (تشریحی نوٹ: مجمع البیان، جلد۱۰، ص۴۵۷۔ حضرت علیؑ اور مشرکین مکہ کے بارے میں ان آیات کا نازل ہونا بہت سی کتب تفسیر مثلاً قرطبی، روح المعانی، کشاف اور تفسیر فخر رازی میں آیا ہے)۔ دوسری شانِ نزول یہ ہے کہ مندرجہ بالا آیات عمار، صہیب، جناب بلال اور اسی قسم کے دوسرے غریب مومنین کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، جو ابوجہل، ولید بن مغیرہ اور عاص بن وائل جیسے مشرکین قریش کے تمسخر کا نشانہ بنے تھے۔

تفسیر اس دن وہ مومنین کا مذاق اڑاتے تھے لیکن آج۔۔۔

گزشتہ آیات کے بعد، جو نیک لوگوں کے ملنے والی نعمتوں اور ثواب کے بارے میں گفتگو کر رہی تھیں، زیر بحث آیات میں ان مصائب اور زخموں کے ایک گوشہ کی طرف، جس سے اس جہان میں ایمان و تقویٰ کی بنا پر ان کا واسطہ پڑا تھا، اشارہ کرتا ہے تاکہ واضح ہو جائے کہ وہ عظیم اجر و ثواب حساب کتاب کے بغیر نہیں ہے۔ ان آیات میں کفار کی قبیح اور دل دکھانے والی تنقید اور ان سے آمنا سامنا ہونے کے بارے میں گفتگو کرتا ہے اور کفار کے چار قسم کے ردّعمل کو بیان کرتا ہے پہلے فرماتا ہے: "بدکار اور کفار ہمیشہ مومنین پر ہنستے تھے" (إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا كَانُواْ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ)، تمسخر آمیز اور منبی بر حقارت ہنسی، ایسی ہنسی جو سرکشی و تکبر اور غرور و غفلت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اور ہمیشہ چھوٹے دماغ کے مغرور افراد، متقی مومنین کے مقابلہ میں اس قسم کی بےوقوفانہ ہنسی سے کام لیتے ہیں۔ ضمنی طور پر "کفروا" کی بجائے "أَجْرَمُوا" کی تعبیر یہ بتاتی ہے کہ کافر و بےایمان افراد اپنے گناہ آلود اعمال سے پہچانے جاتے ہیں اس لئے کہ کفر ہمیشہ سے عصیان و جرم کا سرچشمہ ہے۔ بعد والی آیت میں ان کے قبیح طرز عمل کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: "جس وقت کفار مومنین کی جماعت کے قریب ہوں تو اشاروں سے ان کا مذاق اڑاتے ہیں" (وَإِذَا مَرُّواْ بِهِمْ يَتَغَامَزُونَ)، اور اشاروں اشاروں میں کہتے ہیں کہ ان بے سروپا افراد کو دیکھتے ہو کہ یہ مقربین بارگاہِ خدا ہو گئے ہیں۔ ان ننگے پاؤں اور بُرے حال لوگوں کو دیکھو کہ یہ اپنے اوپر وحی کے نزول کے مدعی ہیں اور نادان لوگوں کو دیکھو کہ یہ کہتے ہیں کہ بوسیدہ اور خاک شدہ ہڈیاں دوبارہ زندگی کی طرف پلٹ آئیں گی اور یوں وہ اسی قسم کی دوسری کھوکھلی باتیں کرتے ہیں۔ ایسا نظر آتا ہے کہ مشرکین واضح طور پر اس وقت ہنسی اڑاتے تھے جب مومنین کی کوئی جماعت ان کے پاس سے گزرتی تھی اور ان کے تمسخر آمیز اشارے اس وقت ہوتے جب وہ مومنین کی جماعت کے نزدیک سے گزرتے اور چونکہ مومنین کی جماعت کے قریب رہ کر آسانی سے ان کا مذاق نہیں اڑا سکتے تھے، لہٰذا آنکھوں کے اشاروں سے کام لیتے تھے۔ لیکن جہاں خود ان کا جھمگٹا ہوتا اور مومنین ان کے پاس سے گزرتے وہاں وہ زیادہ آزادی اور جسارت سے کام لیتے۔ (تشریحی نوٹ: "مرّوا" اور "بھم" کی ضمیروں کے مرجع کے بارے میں مفسرین نے دو احتمال تجویز کئے ہیں۔ بعض نے پہلی ضمیر پر مشرکین کی طرف اور دوسری مومنین کی طرف پلٹائی ہے اور بعض نے اس کے برعکس کہا ہے۔ لیکن ہم نے جو کچھ اوپر کہا ہے اس کے مطابق پہلا احتمال زیادہ مناسب ہے)۔ "یتغامزون"، "غمز" (بروزن طنز) کے مادہ سے آنکھ اور ہاتھ سے ایسی چیز کی طرف اشارہ کرنے کے معنی میں ہے جس سے عیب جوئی کا پہلو نکلتا ہو اور بعض اوقات یہ لفظ ہر قسم کی عیب جوئی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، خواہ زبان ہی سے کیوں نہ ہو۔ اور تغامز (باب تفاعل سے) کی تعبیر اس بات کی دلیل ہے کہ وہ سب کے سب ایک دوسرے کے ساتھ مل کر یہ حرکت کرتے تھے اور ہر کوئی اشارہ کر کے دوسرے کو کچھ بتاتا، جس میں مذاق کا پہلو ہوتا۔ یہ تو مومنین سے آمنا سامنا ہونے پر ہوتا تھا۔ خصوصی جلسوں میں بھی یہی طریقِ کار اختیار کئے رکھتے اور علیحدگی میں بھی اس سلسلہ کو جاری رکھتے، جیسا کہ بعد والی آیت کہتی ہے: "جس وقت وہ اپنے گھروں کی طرف پلٹ جاتے تو خوش ہوتے اور جو کچھ انجام دیا ہوتا اس پر پھولے نہ سماتے۔" (وَإِذَا انقَلَبُواْ إِلَى أَهْلِهِمُ انقَلَبُواْ فَكِهِينَ)۔ گویا انہیں فتح و کامیابی نصیب ہوئی ہے جس کی وجہ سے فخر و مباہات کر رہے ہیں پھر مومنین سے علیحدگی کی صورت میں بھی اس مذاق کو جاری رکھتے۔ "فکھین" جمع ہے "فکہ" کی، یہ صفت ہے مشبہ (اور بروزن خشن ہے) "فکاھہ" (بروزن قبالہ) مذاق اڑانے کے معنی میں ہے اور اصل میں فاکھہ سے لیا گیا ہے جس کے معنی پھل کے ہیں۔ گویا یہ شوخیاں پھولوں کے مانند ہیں جس سے وہ لذت حاصل کرتے ہیں۔ اور شیریں اور دوستانہ گفتگو کو فکاھہ کہا جاتا ہے۔ اگرچہ اہل کا لفظ عام طور پر خاندان اور قریبی رشتہ داروں کے معنی میں ہے لیکن ممکن ہے کہ یہاں زیادہ وسیع معنی رکھتا ہو اور قریبی دوستوں کا بھی احاطہ کرے۔ مومنین کے مقابلہ میں ان کا چھوتھا شرارت آمیز طرز عمل یہ تھا کہ وہ جب انھیں دیکھتے تو کہتے یہ گمراہ گروہ ہیں (وَإِذَا رَأَوْهُمْ قَالُوا إِنَّ هَؤُلَاءِ لَضَالُّونَ)، اس لئے کہ وہ بت پرستی اور خرافات، جو کفار میں رائج تھیں، انہیں یہ گمراہ راہ ہدایت خیال کرتے تھے جبکہ مومنین نے انہیں چھوڑ دیا تھا اور توحید کی طرف پلٹ آئے تھے اور کفار کے گمان میں نقدِ دنیا کی لذت کو مومنین نے آخرت کی خاطر ادھار بیچ دیا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ تعبیر ان مراحل میں ہو جہاں بات مذاق سے آگے بڑھ چکی ہو اور کفار اپنے آپ کو ناچار و مجبور دیکھتے ہوں کہ زیادہ سے زیادہ شدت عمل دکھائیں اس لئے کہ ہمیشہ عظیم پیغمبروں اور نئے دین و آئین کے ظہور کے وقت دشمنوں اور مخالفوں کا یہی طرز عمل ہوتا ہے کہ وہ مذاق اڑاتے تھے۔ گویا وہ نئے دین کو اس قابل نہ سمجھتے تھے کہ سنجیدگی سے اس کا سامنا کریں۔ لیکن جب دین خدا آمادہ افراد کے دلوں میں نفوذ کر جاتا اور اس کے بہت سے پیروکار ہو جاتے تو کفار خطرہ محسوس کر کے اس پر سنجیدگی سے اپنا ردِعمل ظاہر کرتے اور لڑائی پر شدت سے آمادہ رہتے اور مرحلہ بہ مرحلہ زیادہ شدت اختیار کرتے۔ مندرجہ بالا آیت ان کی انتہائی کوشش کا پہلا مرحلہ ہے جس کی بعد نوبت خوں ریز جنگوں تک پہنچ گئی۔ چونکہ مومنین عام طور پر ایسے افراد میں سے تھے جن کی کوئی اجتماعی حیثیت نہ تھی اور وہ دولت مند بھی نہیں تھے، اس بنا پر کفار انہیں چشم حقارت سے دیکھتے تھے اور ان کے ایمان کو بےقیمت شمار کرتے تھے اور ان کے دین کا مذاق اڑاتے تھے۔ بعد والی آیت میں قرآن کہتا ہے: "یہ گروہ کفار ان کی زندگی کا (مومنین کی) کبھی بھی محافظ و نگہبان اور متکفل نہیں تھا" (وَمَا أُرْسِلُوا عَلَيْهِمْ حَافِظِينَ)، تو پھر کس حق کی بنا پر اور کون سی منطق کی رُو سے ان ہر تنقید و اعتراض کرتے تھے؟ سورہٴ ہود کی آیت ۲۷ میں ہم پڑھتے ہیں کہ قوم نوح کے دولتمند اور متکبر لوگوں نے آپ سے کہا (وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلاَّ الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْيِ) "ہم اُن لوگوں کو جنہوں نے تیرا اتباع کیا ہے ذلیل اور سادہ لوح ہونے علاوہ اور کچھ نہیں دیکھتے۔" تو اُن جناب نے کفار کے جواب میں کہا: (وَلاَ أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِي أَعْيُنُكُمْ لَن يُؤْتِيَهُمُ اللّهُ خَيْرًا اللّهُ أَعْلَمُ بِمَا فِي أَنفُسِهِمْ) "میں بالکل نہیں کہتا کہ وہ لوگ تمہاری نظر میں ذلیل و خوار ہیں۔ خدا انہیں خیر نہیں دے گا، خدا ان کے دلوں سے زیادہ آگاہ ہے۔" (ہود۔ ۳۱)۔ یہ حقیقت میں ان خود پرست اور متکبر افراد کا جواب ہے اور انہیں بتایا جا رہا ہے کہ اس کا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ مومنین کس گروہ سے وابستہ ہیں، تم اپنے طور پر روحِ دعوتِ دین اور پیغمبرِ اسلامؐ کے آئین اور ان کے مجموعہ قوانین کو دیکھو اور سمجھنے کی کوشش کرو۔ قیامت میں صورت حال بالکل برعکس ہو جائے گی جیسا کہ بعد والی آیت میں فرماتا ہے: "آج مومنین کفار پر ہنسیں گے۔" (فَالْيَوْمَ الَّذِينَ آمَنُواْ مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُونَ)۔ چونکہ قیامت انسان کے دنیاوی اعمال کا ردعمل ہے اور وہاں عدالت الہٰی کا اجر ہونا ہے اور عدالت کا تقاضا یہ ہے کہ وہاں پاک دل مومن، ہٹ دھرم اور مذاق اڑانے والے کافروں پر ہنسیں۔ یہ ان مغرور لوگوں پر ایک قسم کا عذاب ہے۔ بعض روایات میں رسول خداؐ سے منقول ہے کہ روز جنت کا ایک در کفارکے سامنے کھلے گا اور وہ اس خیال سے کہ جہنم سے آزادی اور جنت میں ورود کا حکم انہیں دے دیا گیا ہے، اس دروازہ کی طرف چل پڑیں گے۔ جس وقت اس کے قریب پہنچیں گے وہ دروازہ اچانک بند ہو جائے گا۔ اور یہ کئی مرتبہ ہو گا اور مومنین جو جنت سے ان کا نظارہ کر رہے ہوں گے ان پر ہنسیں گے۔ (بحوالہ: در منثور، جلد ۶، ص ۳۲۸ (مختصر سے فرق کے ساتھ))۔ لہٰذا بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے: وہ مزّین پلنگوں اور تختوں پر بیٹھے ہوئے ہوں گے اور ان مناظر کو دیکھیں گے (عَلَى الْأَرَائِكِ يَنظُرُونَ)۔ وہ کن چیزوں کی طرف دیکھیں گے؟ خدا کی لامحدود نعمتوں کی طرف، جی ہاں! بےکراں الطاف و کرم کو دیکھیں گے، اس آرام و سکون و عظمت و احترام کو دیکھیں گے (جو انہیں حاصل ہو گا) اور ان دردناک عذابوں کی طرف دیکھیں گے جن میں مغرور خود پرست کفار انتہائی ذلت اور زبوں حالی کے ساتھ گرفتار ہوں گے۔ اور پھر اس سورہ کی آخری آیت میں ایک استفہامیہ جملے کی شکل میں فرماتا ہے: "کیا کفار نے اپنے اعمال کا اجر اور کاموں کا ثواب لے لیا ہے" (هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: اس آیت میں استفہام تقریری ہے)۔ یہ بات چاہے خدا کی جانب سے ہو، یا فرشتوں کی طرف سے، یا مومنوں کی طرف سے، یہ ایک قسم کا طعن و استہزاء ہے اور مغرور متکبر افراد کے افکار اور دعوؤں پر جنہیں توقع تھی کہ اپنے بُرے اعمال کے بدلے میں خدا کی طرف سے انعام و اکرام انہیں ملے گا۔ اس غلط گمان اور خیالِ خام کے مقابلہ میں فرماتا ہے: "کیا انہوں نے اپنے اعمال کا ثواب اور اجر لے لیا ہے۔" بہت سے مفسرین نے اس جملے کو ایک مستقل جملہ سمجھا ہے جبکہ بعض کا نظریہ ہے کہ یہ گزشتہ آیت کا حصہ ہے یعنی مومنین مزین تختوں پر بیٹھے ہوئے دیکھ رہے ہوں گے کہ کیا کفار نے اپنے غلط اعمال کا اجر لے لیا ہے۔ جی ہاں! وہ اگر اجر لیں تو شیطان سے لیں، کیا وہ بےنوا گرفتار انہیں کوئی اجر دے سکتے ہیں۔ "ثوب" (بروزن جوف) ثوب کے مادہ سے اصل میں کسی چیز کا اپنی پچھلی حالت کی طرف پلٹنا ہے اور ثواب اس اجر کو کہا جاتا ہے جو انسان کو اس کے اعمال کے مقابلہ میں دیتے ہیں، اس لئے کہ اس کے اعمال کا نتیجہ اس کی طرف لوٹتا ہے۔ یہ لفظ اچھی یا بُری جزا کے لئے استعمال ہوتا ہے، اگرچہ عام طور پر موردِ خبر میں استعمال ہوتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: "مفردات" راغب مادہ "ثوب")۔ اس لئے اوپر والی آیت ایک قسم کا کفار پر طنز کرتی ہے اور ہونا بھی ایسا ہی چاہیئے اس لئے کہ وہ ہمیشہ مومنین اور آیاتِ خدا کا مذاق اڑاتے تھے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اس دن اپنے مذاق کی سزا بھگتیں۔

ایک نکتہ دشمنانِ حق کا مذاق اڑانے کا بزدلانہ حربہ

انبیاء کی طویل تاریخ میں ہم بارہا دیکھتے ہیں کہ دشمنانِ خدا کا ایک حربہ مومنین کے مقابلہ میں تمسخر و اسہزاء ہوتا ہے اور آیاتِ قرآنی نے اس موضوع کو بارہا پیش کیا ہے۔ اور چونکہ تمسخر و استہزا عام طور پر ایسے لوگوں سے صادر ہوتا ہے جو مغرور ہوتے ہیں اور خود کو دوسروں سے بہتر و برتر سمجھتے ہیں اور دوسروں کو چشم حقارت سے دیکھتے ہیں اور کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ کافر، ظالم، ہٹ دھرم اور کود پرست اہل ایمان کے مقابلہ میں اس قسم کا حربہ استعمال کریں۔ موجودہ زمانے میں بھی یہی صورتِ حال ہے۔ دنیا کے افسوس ناک گروہی معاملات میں کئی شکلوں میں طعن و طنز اور مذاق کی صورتِ حال کو جاری رکھا جاتا ہے۔ اب بھی کوشش کی جاتی ہے کہ حق کے طرفداروں کو اس قدیمی حربے سے فائدہ اتھاتے ہوئے میدان چھوڑنے پر مجبور کریں۔ لیکن مومنین ان کے مقابلہ میں خدائی دعوؤں کی طرف توجہ کر کے، جن کا ایک نمونہ اوپر والی آیت میں آیا ہے، آرام و سکون محسوس کرتے ہیں اور تاریک دل مخالفوں کے مقابلہ میں مومنین کے دلوں میں روحِ مقاومت پیدا ہوتی ہے۔ اصولی طور پر استہزا، تمسخر، غمز (اشارے) فسحک اور ہنسنا، حق کے مقابلہ میں، جس کی طرف مندرجہ بالا آیت میں اشارہ ہوا ہے، یہ سب گناہان کبیرہ میں سے ہیں اور جہالت و غرور کی علامت ہیں، ایک فہیم، عاقل اور ہشیار انسان بٖفرض محال کسی مکتب فکر سے متعلق نہ بھی ہو، کبھی اپنے آپ کو اجازت نہیں دیتا کہ اس قسم کے حربوں سے کام لے وہ مقابل سے صرف منطقی حربوں سے مقابلہ کرتا ہے۔ خدا وندا! ہم سب کو غرور و جہالت اور کبر و نخوت سے محفوظ فرما۔ پروردگارا! ہمیں حق طلبی، حق جوئی اور تواضح کی روح مرحمت فرما۔ بار الہٰا! ہمارا نامہ اعمال علین میں قرار دے اور سجّینوں کے زمرہ سے خارج کر دے۔ آمین یا رب العالمین

end of chapter
Al-Mutaffifin (83) — Tafseer e Namoona