Sūra 36 · 83v
Chapter 3683 verses

Ya-Sin

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
يس
یٰس

سورہ یٰس

یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۸۳ آیات ہیں

سورۃ یٰس کے مضامین

جیساكہ ہم جانتے ہیں يہ سورت مكہ میں نازل ہوئی ہے-اس بناء پر ا س كے مضاين بالكل مکی سورتوں کے سے ہیں یعنی توحید، معاد، وحی، قرآن اور نذارت و بشارت سے متعلق گفتگو۔ اسی سورہ میں چار حصے خصوصیت کے ساتھ نمایاں ہیں:

سورہ یٰس کی فضیلت

متعدد احادیث کی گواہی کے مطابق یہ قرآن کی ایک نہایت اہم سورة ہے۔ اس طرح سے کہ احادیث میں اسے "قلبِ قرآن" کہا گیا ہے۔ ایک حدیث میں پیغمبرِ اسلامؐ سے منقول ہے: إن لكل شى‏ء قلبا و قلب القرآن یٰس "ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے اور قرآن کا دل یٰس ہے"۔ [بحوالہ: مجمع البیان آغاز سورہ یٰس]۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے بھی یہی مطلب منقول ہے۔ اس کے ذیل میں امامؑ مزید فرماتے ہیں: فمن قرء يس فى نهاره قبل ان يمسى كان فى نهاره من المحفوظين و المرزوقين حتى يمسى، و من قرأها فى ليله قبل أن ينام و كل به الف ملك يحفظونه من كل شيطان رجيم و من كل آفة۔ "جو شخص سورہ یٰس کو غروب سے پہلے دن میں پڑھے تو سارا دن محفوظ اور روزی سے بھرا رہے گا اور جو اسے رات کو سونے سے قبل پڑھے تو خدا ایک ہزار فرشتے اس پر مامور کرتا ہے جو شیطانِ مردود اور ہر آفت سے اس کی حفاظت کرتے ہیں ...." [بحوالہ: مجمع البیان آغاز سورہ یٰس]۔ اس کے علاوہ پیغمبرِ اکرمؐ کی ایک حدیث میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا: سورة يس تدعى فى التوراة المعمة! قيل و ما المعمة؟ قال تعم صاحبها خير الدنيا و الآخرة..! "سورہ یٰس تورات میں "عمومیت آفرین" کے عنوان سے موسوم ہوئی ہے۔ پوچھا گیا کہ اسے عمومیت آفرین کیوں کہا جاتا ہے؟ فرمایا کہ اس بنا پر کہ جو شخص اس سوره کا ہمدم اور ہمنشیں ہو اسے تمام خیر دنیا و آخرت سے نوازا جاتا ہے ......." [بحوالہ: مجمع البیان آغاز سورہ یٰس]۔ اہلِ تشیع اور اہلِ سنت کی کتابوں میں دوسری روایات بھی اس سلسلے میں وارد ہوئی ہیں اگر ہم ان سب کو نقل کرنا چاہیں تو گفتگو طویل ہو جائے گی۔ اس طرح سے اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ شاید قرآنِ مجید میں بہت کم ایسی سورتیں ہوں گی کہ جو ان تمام فضائل کی حامل ہوں۔ جیسا کہ بارہا بیان کیا گیا ہے، یہ فضیلت ان لوگوں کے لیے نہیں جو صرف الفاظ پڑھتے ہیں اور ان کے مفاہیم کو طاقِ نسیان پر رکھ دیتے ہیں بلکہ یہ عظمت اس سورہ کے عظیم مضامین اور مطالب کی بنا پر ہے۔ بیدار کرنے والے ایمان بخشنے والے، ذمہ داریوں کا احساس دلانے والے اور تقوٰی بیدار کرنے والے مضامین کہ جب انسان ان پر غور و فکر کرتا ہے اور یہ غور و فکر اس کے اعمال میں سایہ فگن ہو جاتا ہے تو پھر دنیا و آخرت کی بھلائی کا سبب بن جاتا ہے۔ مثلًا اس سورہ کی آیہ ۶۰ میں ایک پمیان کے بارے میں ذکر ہے کہ جو خدا نے تمام اولادِ آدم سے لیا ہے کہ شیطان کی پرستش نہ کریں کیونکہ شیطان ایک کھلا دشمن ہے: أَ لَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يا بَنِي آدَمَ أَنْ لا تَعْبُدُوا الشَّيْطانَ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ یہ بات واضح ہے کہ جب انسان اس پیمانِ الٰہی کا پابند ہو گا۔ جیسا کہ مذکورہ بالا احادیث میں بیان ہوا ہےـ ـــ تو وہ ہر شیطانِ رجیم سے امان میں ہو گا لیکن اگر اس آیہ کو سرسری طور پر پڑھے اور عمل میں وہ شیطان کا مخلص دوست اور یارِ وفادار ہے تو پھر وہ اس عظیم افتخار کو حاصل نہیں کر سکتا۔ اسی طرح اس سورہ کی ہر ہر آیت اور کلمے کے پیشِ نظر انسان کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیے۔

1
36:1
يسٓ
یٰسٓ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
36:2
وَٱلۡقُرۡءَانِ ٱلۡحَكِيمِ
قرآن حکیم کی قسم۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
36:3
إِنَّكَ لَمِنَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ
یقیناً تو (خدا کے) رسولوں میں سے ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
36:4
عَلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ
صراط مستقیم پر۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
36:5
تَنزِيلَ ٱلۡعَزِيزِ ٱلرَّحِيمِ
(یہ قرآن) خدائے عزیز ور حیم کی طرف سے نازل ہوا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
36:6
لِتُنذِرَ قَوۡمٗا مَّآ أُنذِرَ ءَابَآؤُهُمۡ فَهُمۡ غَٰفِلُونَ
تاکہ تو اس قوم کو ڈرائے کہ جن کے آباؤ اجداد کو ڈرایا نہیں گیا تھا اسی لیے وہ غافل ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
36:7
لَقَدۡ حَقَّ ٱلۡقَوۡلُ عَلَىٰٓ أَكۡثَرِهِمۡ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ
ان میں سے اکثر کے بارے میں (اللہ کا) فرمان حق ہو کر آچکا ہے اسی بنا پر وہ ایمان نہیں لاتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
36:8
إِنَّا جَعَلۡنَا فِيٓ أَعۡنَٰقِهِمۡ أَغۡلَٰلٗا فَهِيَ إِلَى ٱلۡأَذۡقَانِ فَهُم مُّقۡمَحُونَ
ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں کہ جو ٹھوڑیوں تک پہنچے ہوئے ہیں اور اس لیے انہوں نے سروں کو اوپر رکھا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
36:9
وَجَعَلۡنَا مِنۢ بَيۡنِ أَيۡدِيهِمۡ سَدّٗا وَمِنۡ خَلۡفِهِمۡ سَدّٗا فَأَغۡشَيۡنَٰهُمۡ فَهُمۡ لَا يُبۡصِرُونَ
ہم نے ان کے سامنے ایک دیوار بنا دی ہے اور ان کے پیچھے بھی ایک دیوار بنادی ہے اور ان کی آنکھوں کو ہم نے ڈھانپ دیا ہے۔ اس لیے وہ کچھ نہیں دیکھ سکتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
36:10
وَسَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ ءَأَنذَرۡتَهُمۡ أَمۡ لَمۡ تُنذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ
ان کے لئے یکساں ہے کہ تو انہیں ڈرائے یا نہ ڈرائے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

قلبِ قرآن کا سرآغاز

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

یہ سورت قرآنِ مجید کی دوسری ۲۸ سورتوں کی طرح حروفِ مقطعات کے ساتھ شروع ہوتی ہے (یا اور سین)۔ ہم نے حروفِ مقطعہ کی تفسیر کے بارے میں سورۂ بقرہ، آلِ عمران اور اعراف کی ابتدا میں مفصّل گفتگو کی ہے۔ [بحوالہ: تفسير نمونہ کی جلد اوّل، جلد دوّم اور جلد ششم میں مذکورہ سورتوں کے آغاز کی طرف رجوع فرمائیں]۔ لیکن خصوصیت کے ساتھ سورہ یٰسین میں ان حروف مقطعہ کے لیے کچھ اور تفسیریں بھی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ لفظ مرکب ہے "یا" حرفِ نِدا اور "سین" سے یعنی ذاتِ پیمغبرِ اسلامؐ سے اور ایک طرح سے پیغمبر اکرمؐ کو بعد والے مطالب کے بیان کرنے کے لیے مخاطب کیا گیا ہے۔ مختلف احادیث میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ یہ لفظ پیغمبرِ گرامی اسلامؐ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ [بحوالہ: نور الثقلين، جلد ۴ ص ۳۷۴ و ۳۷۵]۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ یہاں مخاطب انسان ہے "سین" اس کی طرف اشارہ ہے لیکن یہ احتمال بعد والی آیات کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے کیونکہ ان آیات میں روئے سخن صرف پیغمبر اکرمؐ کی طرف اسی لیے ایک روایت میں امام صادق سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: یٰس اسم رسول الله صلى الله عليه واله وسلم و الدليل على ذلك قوله تعالى إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ عَلى‏ صِراطٍ مُسْتَقِيم "یٰسین رسولِ خدا کا نام ہے اور اس پر دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ تو مرسلین میں سے ہے اور صراطِ مستقیم پر ہے" (نور الثقلین جلد ۴ ص ۳۷۵)۔ ان حروف مقطعہ کے بعد بہت سی ان سورتوں کی طرح کہ جو حروفِ مقطعہ سے شروع ہوتی ہیں۔ قرآن مجید کے بارے میں گفتگو ہے۔ البتہ یہاں قرآن کی قسم کھاتے ہوئے فرمایا گیا ہے " (وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ) " (قرآن حکیم کی قسم)۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ "قرآن" کی "حکیم" کے ساتھ توصیف کی گئی ہے جبکہ حکمت عام طور پر زنده اور عاقل شخص کی صفت ہے۔ گویا قرآن کا زنده و عاقل اور رہبر و پیشوا کے طور پر تعارف کروایا جا رہا ہے کہ جو حکمت کے دروازے انسانوں کے سامنے کھول سکتا ہے اور اس صراطِ مستقیم کی طرف کہ جس کی طرف بعد والی آیات میں اشارہ کیا ہے، رہنمائی کر سکتا ہے۔ البتہ خدا قسم کھانے کا محتاج نہیں ہے لیکن قرآن کی قسمیں ہمیشہ دو اہم فوائد کی حامل ہوتی ہیں پہلا کسی مطلب کی تاکید کے لیے اور دوسرا اس چیز کی عظمت بیان کرنے کے لیے کہ جس کی قسم کھائی جا رہی ہے۔ کیونکہ کوئی بھی شخص کم قدر و قیمت موجودات کی قسم نہیں کھاتا۔ بعد والی آیت اس چیز کو کہ جس کی خاطر پہلی آیت میں قسم کھائی گئی تھی بیان کرتی ہے، فرمایا گیا ہے: "یقیناً تو خدا کے رسولوں میں سے ہے" (إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ)۔ "ایسی رسالت کہ جو حقیقت اور تیرے صراطِ مستقیم پر ہونے سے منسلک ہے"۔ (عَلى‏ صِراطٍ مُسْتَقِيم)۔ [تشریحی نوٹ: " عَلى‏ صِراطٍ مُسْتَقِيم " کی ترکیب کے بارے میں مفسرین میں اختلاف ہے۔ بعض "جار و مجرور" کو "مرسلین" سے متعلق جانتے ہیں۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ "تیری رسالت جادۂ مستقیم پر ہے" بعض نے اسے خبر کے بعد خبر جانا ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ تو صراطِ مستقیم پر قائم ہے۔ بعض نے اسے موضع نصب میں "حال" ہونے کے معنی میں لیا ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ تو مرسلین میں سے ہے جبکہ تو صراط مستقیم پر ہے (البتہ معنی کے لحاظ سے ان تینوں احتمالوں میں چنداں فرق نہیں ہے)]۔ پھر مزید ارشاد ہوتا ہے: "یہ وہ قرآن ہے جو خدائے عزیز و رحیم کی طرف سے نازل ہوا ہے"۔ (تَنْزِيلَ الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ)۔ [تشریحی نوٹ: "تنزيل" کا منسوب ہونا اس بناء پر ہے کہ وہ فعل مقدر کا مفعول ہے اور تقدیر میں اس طرح تھا: نزل تَنْزِيلَ الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ اس جملے کی ترکیب کے بارے میں دوسرے احتمال بھی ذکر کیے گئے ہیں]۔ خدا کے "عزیز" ہونے کا ذکر اس حقیقت کو بیان کرنے کے لیے ہے کہ وہ اس قسم کی عظیم اور شکست ناپذیر کتاب پر قدرت رکھتا ہے کہ جو تمام زمانوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایک معجزہ کی صورت میں باقی رہے گی اور کوئی طاقت اس کی عظمت کو دلوں سے محو نہیں کر سکتی۔ خدا کی "رحیمیت" کا ذکر یہ حقیقت بیان کرنے کے لیے ہے کہ اس کی رحمت کا تقاضا ہے کہ اس قسم کی عظیم نعمت انسانوں کو دے۔ بعض مفسرین نے ان دو اوصاف کو دو قسم کے ردِّعمل کا بیان سمجھا ہے جو ممکن ہے، اس کتابِ آسمانی کے نزول اور اس رسول کے بھیجنے پر لوگوں کی طرف سے ظاہر ہو۔ اگر وہ انکار پر تل جائیں تو خدا نے انہیں اپنی عزت و قدرت کے ساتھ تہدید کی ہے اور اگر اسے دل سے تسلیم اور قبول کر لیں تو خدا نے انہیں اپنی رحمت کی بشارت دی ہے۔ [بحوالہ: تفسیر کبیر، فخر رازی زیر بحث آیت کے ذیل میں]۔ اس بناء پر اس نے اپنی عزت و رحمت کو باہم ملا دیا ہے جن میں سے عزت ڈراوے کی مظہر ہے اور رحمت بشارت کی مظہر ہے گویا اس نے اپنی عزت و رحمت کی بنا، پر عظیم آسمانی کتاب انسانوں کو دی ہے۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی پیغمبر یا آسمانی کتاب کی حقانیت کو قسم اور تاکید کے ذریعے ثابت کیا جا سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب خود زیر نظر آیات میں چھپا ہوا ہے کیونکہ ایک طرف تو قرآن کی حکیم ہونے کے ساتھ توصیف کی گئی ہے جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس کی حکمت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اور اپنی حقانیت کی دلیل آپ ہے۔ دوسری طرف یہ کہ پیغمبر کی صراط مستقیم پر گامزن ہونے کے ساتھ توصیف کی گئی ہے یعنی ان کی دعوت کے مطالب خود یہ بات بیان کرتے ہیں کہ ان کی راہ سیدھی ہے۔ ان کی سابقہ زندگی کے حالات بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صراط مستقیم کے سوا ان کا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ ہم نے انبیاء کی حقانیت کے دلائل میں اس مطلب کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان کی حقانیت کو معلوم کرنے کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کی دعوت کے مضامین و مطالب کا بڑے غور کے ساتھ مطالعہ کیا جائے۔ اگر وہ فطرت عقل اور وجدان کے ساتھ ہم آہنگ ہوں اور اسی سطح پر ہوں کہ جو ایک انسان سے بشری قوت کے ساتھ ممکن نہ ہوں، اس کے علاوہ خود پیغمبر کی زندگی کے سابقہ حالات بھی ایسے ہوں کہ جو اس بات کی نشاندہی کریں کہ وہ امین و صادق ہے اور اس میں دروغ و فریب نہیں ہے تو یہ امور اس بات کے زندہ قرائن ہوں گے کہ وہ خدا کا بھیجا ہوا ہے اور زیر بحث آیات حقیقت میں ان ہی دو مطالب کی طرف اشارہ ہیں۔ اس بناء پر یہ قسم اور دعوٰی ہرگز بےدلیل نہیں ہے۔ اس سے قطع نظر، فنِ مناظرہ کے لحاظ سے، ہٹ دھرم منکرین کے دلوں میں نفوذ کے لیے جس قدر زیادہ محکم، زیادہ قاطع اور بیشتر تاکید کے ساتھ عبارتیں آئیں گی اتنا ہی وہ ان پر اثرانداز ہوں گی۔ پھر ایک اور سوال سامنے آتا ہے کہ اس جملے میں ذاتِ پیغمبرؐ کو کیوں مخاطب کیا گیا ہے اور مشرکین اور عام لوگوں کو کیوں نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مقصد یہ تھا کہ اس بات کی تاکید کی جائے کہ تو حق پر اور صراطِ مستقیم پر ہے، چاہے وہ قبول کریں یا نہ کریں۔ بنابریں تو اپنی عظیم ذمہ داری کی ادائیگی میں کوشاں رہ اور مخالفین کے قبول نہ کرنے کی وجہ سے فعالیت میں ہرگز کمی نہ آنے دے۔ بعد والی آیت نزولِ ان کے اصل مقصد کو اس طرح پیش کرتی ہے: "ہم نے تجھ پر قرآن نازل کیا ہے تاکہ تو اس قوم کو خبردار کرے کہ جن کے آباواجداد کو خبردار نہیں کیا گیا۔ اس بناء پر وہ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں"۔ (لِتُنْذِرَ قَوْماً ما أُنْذِرَ آبائهم فهم غافلون)۔ [تشریحی نوٹ: اس بارے میں کہ اوپر والی آیت میں "ما" نافیہ ہے یا کوئی اور مختلف احتمال ذکر کیے گئے ہیں۔ بہت سے مفسرین نے اسے "نافیہ" قرار دیا ہے اور ہم نے بھی مذکورہ بالا تفسیر میں یہی معنی اپنایا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اولاً "فهم غافلون" اس معنی پر گواہ ہے کیونکہ انداز کرنے والے کا نہ ہونا غفلت کا سبب بنتا ہے۔ سورہ سجدہ کی آیہ ۳ بھی اسی کی بات پر شاہد ہے، جہاں قرآن کہتا ہے: لِتُنْذِرَ قَوْماً ما أَتاهُمْ مِنْ نَذِيرٍ مِنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ" مقصد یہ ہے کہ "تُو ایسی قوم کو انذار کرے کہ جس کے لیے تجھ سے پہلے کوئی انذار کرنے والا نہیں آیا، شاید کہ وہ ہدایت حاصل کریں"۔ بعض "ما" کو موصولہ سمجھتے ہیں کہ جس سے اس کا مفہوم یہ ہو گا: "وہ انہیں اسی طرح انذار کرتا ہے کہ جس طرح ان کے آباؤ اجداد کو انذار کیا گیا تھا"۔ بعض نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ "ما" مصدریہ ہے اور اس لحاظ سے اس جملہ کا معنی اس طرح ہو گا: "تاکہ تُو اس قوم کو انذار کرے اسی مقدار میں کہ جتنا ان کے آباؤ اجداد ڈرائے گئے تھے"۔ لیکن یہ دونوں احتمال ضعیف ہیں]۔ یقیناً اس قوم سے مراد وہی مشرکین عرب ہیں ہوسکتا ہے یہ کہا جائے کہ کوئی قوم انذار کرنے والے کے بغیر نہیں تھی اور زمین کبھی بھی حجتِ خدا سے خالی نہیں رہی، اس کے علاوہ سورہ فاطر کی آیہ ۲۴ میں یہ بیان ہوا ہے کہ: وَإِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلا فِيها نَذِيرٌ "کوئی امت ایسی نہیں تھی کہ اس میں کوئی ڈرانے والا نہ آیا ہو"۔ اس کا جواب یہ ہے کہ زیر بحث آیت میں ایسا عظیم اور آشکار ڈرانے والا پیغمبر مراد ہے کہ جس کی شہرت ہر جگہ پہنچی ہوئی ہو۔ ورنہ مشتاق اور طالبانِ حق کے لیے ہر زمانے میں حجت الٰہی موجود ہوتی ہے اور اگر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ حضرت عیسٰیؑ کے دور اور پیغمبر اسلامؐ کے درمیانی عرصہ کو فرت کا زمانہ شمار کرتے ہیں تو یہ اس معنی میں نہیں کہ ان کے لیے حجت خدا مطلقاً موجود ہی نہیں تھی، بلکہ یہ عظیم اور اولوالعزم پیغمبروں کے حال سے فرت کا زمانہ تھا۔ امیر المومنین علیؑ اس سلسلے میں فرماتے ہیں: ان الله بعث محمدا (ص) و ليس احد من العرب يقرأ كتابا و لا يدعى نبوة "خدا نے ایسے وقت میں محمدؐ کو مبعوث فرمایا کہ جس وقت عرب میں کوئی بھی کتاب آسمانی نہیں پڑھتا تھا اور نہ ہی کسی کو دعویٰ نبوت تھا"۔ (نہج البلاغہ خطبہ ۳۳، ۱۰۴)۔ بہرحال نزول قرآن کا مقصد یہ تھا کہ غافل اور سوئے ہوئے لوگوں کو بیدار کیا جائے، جن خطرات نے ان کا احاطہ کیا ہوا ہے انہیں ان کی طرف متوجہ کیا جائے اور جن گناہوں اور شرک و فساد میں وہ آلودہ ہیں انہیں ان سے نکلنے کی دعوت دی جائے۔ ہاں! قرآن تو آگاہی و بیداری کی ایک بنیاد ہے اور قلب و روح کو پاک کر دینے والی کتاب ہے۔ اس کے بعد قرآن کفر و شرک کے سرغنوں کے بارے میں ایک پیشگوئی کے طور پر کہتا ہے: "ان میں سے اکثر کے اوپر وعده الٰہی حق بن کر نافذ ہو چکا ہے، پس وہ ایمان نہیں لائیں گے"۔ (لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلى‏ أَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لا يُؤْمِنُونَ)۔ "قول" سے یہاں کیا مراد ہے، اس ضمن میں مفسرین نے مختلف احتمال ذکر کیے ہیں لیکن ظاہراً اس سے مراد شیطان کے پیروکاروں کے لیے جہنم کے عذاب کا وعدہ ہی ہے۔ جیسا کہ سورہ سجدہ کی آیہ ۱۳ میں ہے کہ: وَلكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ "لیکن میری بات ان کے لیے نافذ ہو چکی ہے کہ میں دوزخ کو جن و انس سے بھر دوں گا"۔ سوره زمر کی آیہ ۷۱ میں بھی ہے: وَلكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذابِ عَلَى الْكافِرِينَ "لیکن عذاب کا حکم اور وعدہ کافروں کے بارے میں حق ہو کر نافذ ہو چکا ہے"۔ بہرحال یہ ایسے افراد کے بارے میں ہے کہ جنہوں نے خدا سے ہر قسم کا ربط منقطع کر لیا تھا، ہر قسم کے رشتے توڑ لیے تھے اور اپنے لیے ہدایت کے تمام دریچے بند کر لیے تھے اور ہٹ دھرمی اور عناد کو آخری حد تک پہنچا دیا تھا۔ ہاں! یہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اور ان کے لیے بازگشت کی کوئی راہ نہیں ہے کیونکہ انہوں نے اپنے پیچھے کے تمام پل خود تباہ کر دیئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اسی صورت میں اصلاح پذیر اورقابلِ ہدایت ہے جبکہ اس نے برے اعمال اور اپنے پست اخلاق کے ذریعے اپنی فطرتِ توحیدی کو بالکل پامال نہ کر دیا ہو۔ ورنہ مطلق تاریکی اس کے دل پر غالب آ جائے گی اور امید کے سارے دریچے اس بند ہو جائیں گے۔ ضمنی طور پر اس بات سے واضح ہو گیا کہ اس اکثریت سے مراد کہ جو ہرگز ایمان نہیں لائے گی شرک و کفر کے سرغنے ہیں کہ جن میں سے کچھ تو اسلامی جنگوں میں شرک اور بت پرستی کی حالت میں مارے گئے اور کچھ جو باقی رہ گئے تھے آخر عمر تک دل سے ایمان نہ لائے ورنہ مشرکین مکہ کی اکثریت تو فتح مکہ کے بعد: يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْواجاً (نصر ۲) کے مطابق گروہ در گروہ اسلام میں داخل ہو گئی تھی۔ اس کے بعد کی آیات کے مطابق ان کے سامنے اور پیچھے دیوار موجود ہے اور وہ نابینا ہیں اور آیہ کی تصریح بھی کرتی ہے کہ ان کے لیے انذار کرنا اور نہ کرنا یکساں ہے۔ یہ آیت بھی اسی مذکورہ معنی کی شاہد ہے۔ [تشریحی نوٹ: جو کچھ بیان ہوا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ "اکثرھم" کی ضمیر "قوم" کی طرف کہ جو اس سے پہلے ہے نہیں لوٹتی بلکہ قوم کے سرغنوں کی طرف لوٹتی ہے اور اس کی شاہد اس کے بعد کی آیات ہیں]۔ بہرحال بعد والی آیت اس اثر ناپذیر گروہ کے تعارف میں ہے۔ ان کے پہلے تعارف میں کہتی ہے: "ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں کہ جو ان کی ٹھوڑیوں تک آئے ہوئے ہیں اور ان کے سروں کو اوپر کیا ہوا ہے"۔ (إِنَّا جَعَلْنا فِي أَعْناقِهِمْ أَغْلالًا فَهِيَ إِلَى الْأَذْقانِ فَهُمْ مُقْمَحُونَ)۔ "اغلال" "غل" کی جمع ہے اور اس میں مادہ "غل" سے ایسی چیز کے معنی میں ہے کہ جو چند چیزوں کے درمیان موجود ہو، مثلاً وہ جاری پانی کہ جو درختوں کے درمیان سے گزرتا ہے اسے "غلل" (بر وزن "عمل") کہتے ہیں اور "غل" وہ حلقہ تھا کہ جسے گردن یا ہاتھ میں ڈالتے تھے پھر اسے زنجیر کے ساتھ باندھ دیتے تھے اور چونکہ گردن یا ہاتھ اس کے درمیان ہوتا تھا لہذا یہ لفظ اس کے بارے میں استعمال ہوا ہے۔ کبھی وہ طوق جو گردن میں ہوتے تھے انہیں علیحده زنجیر کے ساتھ باندھا جاتا تھا اور ہاتھ کے حلقے علیحدہ ہوتے تھے، لیکن کبھی کبھی ہاتھوں کو حلقوں میں ڈال کر اس حلقے کے ساتھ کے جو گردن میں ہوتا تھا باندھ دیتے تھے اور قیدی کو انتہائی اذیت دی جاتی تھی۔ نیز پیاس یا شدت غم اور غصے کی حالت کو "غلہ" (بر وزن "قلہ") کہا جاتا ہے تو یہ بھی اس حالت کے انسان کے دل اور جسم پر اثر انداز ہونے کی وجہ سے ہے ۔ اصولاً ماده "غل" (بر وزن "جد") بھی داخل ہونے اور داخل کرنے کے معنی میں آیا ہے۔ اسی لیے گھر کے اناج اور زراعت وغیرہ کو بھی "غلہ" کہتے ہیں۔ [بحوالہ: مفرداتِ راغب اور قطر المحیط اور مجمع البحرین (مادہ "غلل")]۔ ہر صورت میں جب طوق "غل" گردن میں ڈالا جاتا تھا تو وہ ٹھوڑی تک پہنچا ہوا ہوتا تھا اور سر کو اوپر کر دیتا تھا اور جب قیدی اور اسیر اس کی وجہ سے بہت سختی میں ہوتا تھا تو اپنے گرد و پیش کو بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ ہٹ دھرم بت پرستوں کی حالت کی یہ تشبیہ کتنی عمدہ ہے کہ جو ایسے انسانوں کے سا تھ دی گئی ہے کہ جنہوں نے "تقلید" کا طوق اور بیہودہ عادات و رسوم کی زنجیر و طوق کو اپنی گردن اور ہاتھ پاؤں میں باندھ لیا ہے اور ان کے وہ طوق ایسے ہیں کہ انہوں نے ان کے سروں کو اوپر کر رکھا ہے اور حقائق کو دیکھنے سے محروم کر دیا ہے وہ ایسے قیدی ہیں کہ نہ تو حرکت کر سکتے ہیں اور نہ ہی دیکھ سکتے ہیں۔ [تشریحی نوٹ: ہم نے جو کچھ سطورِ بالا میں بیان کیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ "ھی" کی ضمیر (فَهِيَ إِلَى الْأَذْقان) میں "اغلال" کی طرف لوٹتی ہے کہ وہ ان کی ٹھوڑی تک کھنچے ہوئے ہیں اور "فهم مقمحون" اس پر تفریع ہے اور یہ جو ایک جماعت نے خیال کیا ہے کہ "ھی" کی ضمیر (ایدی) "ہاتھوں" کی فطرت لوٹتی ہے کہ جس کا آیہ میں ذکر نہیں، بہت ہی بعید نظر آتا ہے]۔ بہرحال زیرِ بحث آیت اس سے بےایمان گروہ کے حالاتِ دنیا کی ایک تصویر ہے اور آخرت میں ان کے حالات کا ایک بیان بھی ہے، جو اس جہان کی کیفیت کا ایک مرقع ہے۔ اور اگر یہ لفظ ماضی کی شکل میں ذکر ہوا ہے تو اس سے کوئی مشکل پیدا نہیں ہوتی کیونکہ قرآن مجید کی بہت سی آیات میں آہندہ ہونے والے مسلمہ اور یقینی واقعات صیغہ ماضی میں بیان ہوئے ہیں۔ یہ وہی چیز ہے کہ جو ادبا ء کی زبان میں معروف ہے کہ "متحقق الوقوع مضارع، ماضی کی شکل اختیار کر لیتا ہے" اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دونوں معانی کی طرف اشاره ہو، ان کی اس عالم میں حالت کے بارے میں بھی اور دوسرے جہان کے بارے میں بھی۔ مفسرین کی ایک جماعت نے زیر بحث آیت اور اس کے بعد کی آیت کی نئی شانِ نزول بیان کی ہیں، ان کے مطابق یہ "ابوجہل" کے بارے میں یا قبیلہ بنی مخزوم یا قریش کے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، انہوں نے پیغمبرِ اکرمؐ کے قتل کا بارہا مصمم ارادہ کیا لیکن خدا نے انہیں معجزانہ طور پر اس کام سے باز رکھا اور اس حساس لحمے میں جب کہ وہ پیغمبر اکرم کے نزدیک پہنچ کر یہ چاہتے تھے کہ آپ پر ضرب كاری لگائیں، تو ان کی آنکھیں بےکار ہو گئیں یا حرکت کی طاقت ان سے سلب ہو گئی۔ [بحوالہ: تفسیر آلوسی، جلد ۲۲ ص ۱۹۹]۔ لیکن یہ تمام بیان کردہ شانِ نزول آیت کے مفہوم کی عمومیت اور اس کے معنی کی وسعت سے مانع نہیں ہے اور یہ کفر کے تمام سرغنوں اور ہٹ دھرم متعصب لوگوں کے بارے میں ہے۔ ضمنی طور پر ہم نے جو کچھ " فَهُمْ لا يُؤْمِنُون" کی تفسیر میں بیان کیا ہے یہ اس کی ایک تائید ہے کہ اس سے مراد مشرکین کی اکثریت نہیں ہے بلکہ شرک، کفر اور نفاق کے سرغنوں کی اکثریت مراد ہے۔ بعد والی آیت میں انہیں افراد کی ایک اور صفت بیان کی گئی ہے اور ان کی اثر ناپذیری کے عوامل کی ایک بولتی ہوئی تصویر ہے۔ فرمایا گیا ہے: "ہم نے ایک دیوار تو ان کے سامنے بنا دی ہے اور ایک دیوار اُن کے پیچھے" (و جَعَلْنا مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا)- وہ ان دونوں دیواروں کے درمیان اس طرح سے محصور ہو کر رہ گئے ہیں کہ نہ تو آگے جانے کے لیے ان کے پاس کوئی راستہ ہے اور نہ ہی واپس لوٹنے کے لیے "اور اس حالت میں ہم نے ان کی آنکھوں کو ڈھانپ دیا ہے، لہذا وہ کچھ نہیں دیکھ سکتے" (فَأَغْشَيْناهُمْ فَهُمْ لا يُبْصِرُونَ)۔ کیسی عجیب بولتی ہوئی تصویر ہے۔ ایک طرف سے تو وہ ایسے قیدیوں کی مانند ہیں اور جو طوق و زنجیر میں جکڑے ہوئے ہیں اور دوسری طرف سے گردن میں پڑے ہوئے طوق کا حلقہ اتنا بڑا ہے کہ اس نے ان کے سروں کو آسمان کی طرف اٹھا رکھا ہے اور وہ اپنے اطراف کی کوئی چیز نہیں دیکھ پاتے۔ ایک دیوار نے ان کے آگے سے اور ایک نے پیچھے سے محاصرہ کیا ہوا ہے اور آگے اور پیچھے کا راستہ ان کے لیے بند کر دیا ہے۔ نیز ان کی آنکھیں بھی بند کر دی گئی ہیں اور دیکھنے کی بصارت بےکار ہو گئی ہے۔ خوب غور کریں کہ جو شخص ایسی کیفیت سے دوچار ہو وہ کیا کر سکتا ہے، کیا سمجھ سکتا ہے، کیا دیکھ سکتا ہے اور کس طرح قدم بڑھا سکتا ہے؟ خود غرض و خود بین مستکبرین اندھے، بہرے مقلدین اور ہٹ دھرم متعصبین کی کیفیت حقائق کے سامنے ایسی ہی ہے۔ اسی بناء پر آخری زیر بحث آیت میں صراحت کے ساتھ فرمایا گیا ہے: "ان کے لیے برابر ہے چاہے تو انہیں ڈرائے یا نہ ڈرائے، وہ ایمان نہیں لائیں گے" (وَسَواءٌ عَلَيْهِمْ أَ أَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لا يُؤْمِنُونَ)۔ تیری گفتگو چاہے جتنی بھی پُرتاثیر ہو اور وحی آسمانی چاہے جس قدر بھی مؤثر ہو، جب تک دلوں کی زمین اہل اور تیار نہ ہو اثر نہ کرے گی۔ اگر آفتابِ عالم تاب ہزاروں سال شوره زار پر چمکتا رہے اور پُربرکت بارشیں اس پر برستی رہیں اور نسیم بہار مسلسل اس کے اوپر سے گزرتی رہے، خس و خاشاک کے سوا اس سے کچھ حاصل نہ ہو گا کیونکہ فاعل کی فاعلیت کے ساتھ ساتھ قابل کی قابلیت بھی شرط ہے۔

چند اہم نکات: ۱- آلاتِ شناخت کا بیکار ہو جانا

انسان اس بناء پر کہ اپنے وجود سے باہر کے عالم سے بھی آگاہ ہو سکے کچھ وسائل و آلات سے فائدہ اٹھاتا ہے، جنہیں آلاتِ شناخت کہا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک حصہ تو "ذات کے اندر"ہوتا ہے اور دوسرا حصہ "ذات سے باہر" عقل و خرو اور وجدان و فطرت تو ذات کے اندر والے شناخت کے آلات ہیں اور انسان کے حواس ظاہری۔ جیسے بینائی و شنوائی- ذات سے باہر کے آلات شناخت ہیں۔ ان خداداد وسائل سے اگر صحیح طور پر استفادہ کیا جائے تو روز بروز زیادہ قوی اور زیادہ طاقتور ہوتے جائیں گے اور مزید بہتر اور مزید دقیق حقائق کی شناخت کریں گے۔ لیکن اگر وہ ایک مدت تک انحرانی راہوں میں چلتے رہیں یا ان سے بالکل استفادہ نہ کیا جائے تو آہستہ آہستہ کمزور پڑ جائیں گے یا بالکل بِگڑ جائیں گے اور حقائق کی برعکس نشاندہی کریں گے، ٹھیک ایک صاف و شفاف آئینہ کی مانند کہ جسے ایک دبیز و ضخیم گرد و غبار ڈھانپ لے یا زیادہ اور گہری خراشیں اس پر لگ جائیں تو پھر اس میں کوئی چیز بھی دکھائی نہیں دیتی اور اگر دکھائی دے بھی تو ہرگز حقیقت کے مطابق نہیں ہو گی۔ انسان کے یہی غلط اعمال اور انحرافی فائدے اٹھانا، آلاتِ شناخت کی اس عظیم نعمت کو اس سے چھین لیتے ہیں۔ اس بنا پر قصوروار وہ خود ہے اور اس کا گناہ بھی خود اسی کی گردن پر ہے۔ اوپر والی آیات اس اہم اور سرنوشت ساز مسئلہ کی بولتی ہوئی تصویر میں مستکبر ہوس بازوں اور متعصب خود خواہوں کو ان سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جو طوق و زنجیر میں گرفتار ہیں۔ یہ وہی ہوا و ہوس کبر و غرور اور اندھی تقلید کی زنجیریں ہیں کہ جو خود انہوں نے اپنے ہاتھ اور گردن میں ڈالی ہیں اور یہ ان لوگوں کے مشابہ ہیں کہ جو ایک قوی اور ناقابلِ عبور چاردیواری کے محاصرے میں آ گئے ہیں۔ اور دوسری طرف سے ان کی آنکھیں بند اور نابینا ہیں۔ صرف طوق و زنجیر ہی ان کو حرکت سے روکنے کے لیے کافی ہیں جبکہ دو عظیم دیواریں بھی ان کی فعالیت میں مانع ہیں اور ان کی آنکھیں بھی کچھ دیکھنے کے قابل نہیں ہیں۔ یہ دونوں دیواریں گویا اس قدر بلند اور نزدیک ہیں کہ جو انہیں کچھ دیکھنے نہیں دیتیں اور انہیں حرکت سے بھی محروم کر دیتی ہیں۔ ہم نے بارہا بیان کیا ہے کہ انسان کا ہدایت قبول کرنا اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ اس مرحلے تک نہ پہنچ گیا ہو۔ لیکن جب وہ اس مرحلے تک پہنچ جائے تو پھر تمام انبیاء و اولیاء بھی جمع ہو جائیں اور تمام کتبِ آسمانی اس کے سامنے پڑھی جائیں تو بھی اس پر مؤثر نہ ہوں گی۔ اور یہ جو روایاتِ اسلامی اور اسی طرح آیاتِ قرآنی میں تاکید کی گئی ہے کہ اگر کسی انسان سے کوئی لغزش ہو جائے اور کوئی گناہ اس سے سرزد ہو جائے تو فوراً توبہ کر لے اور خدا کی طرف لوٹ آئے اور لیت و لعل، تاخیر اور اصرار و تکرار سے پرہیز کرے، تو یہ اس لیے ہے کہ معاملہ اس حد تک نہ پہنچ جائے کہ جو زنگ لگ چکا ہے اترنے ہی نہ پائے، چھوٹی چھوٹی رکاوٹوں کو ایک بڑی رکاوٹ میں تبدیل ہونے سے پہلے ہی ختم کر دے اور پیشرفت اور حرکت کی گنجائش باقی رکھے اور غبار کو اپنی آنکھوں سے ہٹا دے تاکہ راستے کو واضح طور پر دیکھ سکے۔

۲- آگے اور پیچھے حائل دیواریں

بعض مفسرین نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ حرکت کو جاری رکھنے میں اصل رکاوٹ تو آگے اور سامنے کی رکاوٹیں ہوتی ہیں، پیچھے کی دیوار کے کیا معنی ہیں؟ بعض نے تو یہ جواب دیا ہے کہ انسان دو قسم کی ہدایت کا حامل ہے: 1- نظری اور استدلالی ہدایت اور 2- فطری و وجدانی ہدايت سامنے کی دیوار اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ ہدایتِ نظری سے محروم ہو گا، وہ چاہے گا کہ پیچھے کی طرف لوٹ جائے اور ہدایت فطری کی طرف نظر کرے تو پیچھے کی دیوار اسے فطرت کی طرف بازگشت سے روکے گی۔ [بحوالہ: تفسیر کبیر، فخر رازی، زیر بحث آیات کے ذیل میں]۔ بعض دوسرے مفسرین نے یہ کہا ہے کہ آگے والی دیوار ان رکاوٹوں کی طرف اشارہ ہے کہ جو اسے آخرت اور سعادتِ جاودانی تک پہنچنے سے روکتی ہیں اور پیچھے والی دیوار وہ چیز ہے کہ جو اسے دنیا کی سعادت اور آرام و سکون تک پہنچنے نہیں دیتی۔ [بحوالہ: تفسیر قرطبی، زیر بحث آیات کے ذیل میں]۔ یہ احتمال بھی آیت کی تفسیر میں موجود ہے کہ انسان جس وقت مقصد تک پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ کا سامنا کرتا ہے تو وہ پیچھے کی طرف لوٹتا ہے تاکہ مقصد تک پہنچنے کے لیے کوئی دوسرا راستہ اختیار کرے لیکن جب دونوں طرف ایک ایک دیوار بن چکی ہو تو وہ ہر حالت میں مقصد کی طرف جانے سے محروم ہو جائے گا۔ ضمنی طور پر اس سوال کا جواب واضح ہو گیا کہ دائیں اور بائیں طرف دیوار کا کوئی بیان کیوں نہیں ہوا کیونکہ دائیں بائیں چلنا کبھی بھی انسان کو مقصد تک نہیں پہنچاتا، اسے تو کوئی راستہ آگے کی طرف ہی نکالنا چاہیے۔ علاوہ ازیں عام طور پر دیوار ایسی جگہ پر بنائی جاتی ہے کہ جب دائیں اور بائیں طرف راستہ بند ہو اور دونوں کے درمیان صرف ایک ہی گزرگاہ موجود ہو تو دیوار تعمیر ہو جانے سے وہ گزرگاہ بھی بند ہو جاتی ہے اور عملی طور پر انسان محاصرے میں آ جاتا ہے۔

۳- انفس و آفاق کی دنیا میں سیر سے محرومی

خدا کی شناخت کے لیے عام طور پر دو راستے موجود ہیں۔ ایک تو خدا کی ان نشانیوں کا مطالعہ کہ جو انسان کے جسم و روح میں موجود ہیں اور انہیں "آیاتِ انفس" کہا جاتا ہے۔ دوسرا ان آیات اور نشانیوں کا مطالعہ کہ جو اس کے وجود سے باہر زمین و آسمان، ثوابت و سیارات اور کوه و دریا میں پائی جاتی ہیں۔ انہیں "آیاتِ آفاق" کہتے ہیں کہ جن کی طرف قرآنِ مجید سوره حم السجده کی آیہ ۵۳ میں اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: سَنُرِيهِمْ آياتِنا فِي الْآفاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ ہم عنقریب انہیں آفاق و انفس میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے تاکہ ان پر ثابت ہو جائے کہ خدا حق ہے۔ جس وقت انسان کی قوّتِ شناخت بےکار ہو جاتی ہے تو آیاتِ انفس کا مشاہدہ بھی اس پر بند ہو جاتا ہے اور آیاتِ آفات کا مشاہدہ بھی۔ زیر بحث آیات میں " إِنَّا جَعَلْنا فِي أَعْناقِهِمْ أَغْلالًا فَهِيَ إِلَى الْأَذْقانِ فَهُمْ مُقْمَحُونَ" کا جملہ پہلے معنی کی طرف اشارہ ہے کیونکہ طوق ان کے سروں کو اسی طرح سے اوپر کیے ہوئے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو بھی دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتے اور آگے اور پیچھے کی دیواریں ان کی آنکھ کو اسی طرح سے اپنے اطراف کے مشاہده سے باز رکھتی ہیں وہ دیکھنے کی جتنی بھی کوشش کرتے ہیں اس دیوار کے سوا انہیں کچھ دکھائی نہیں دیتا اور آفاقی آیات کے مشاہدہ سے بھی محروم رہ جاتے ہیں۔

11
36:11
إِنَّمَا تُنذِرُ مَنِ ٱتَّبَعَ ٱلذِّكۡرَ وَخَشِيَ ٱلرَّحۡمَٰنَ بِٱلۡغَيۡبِۖ فَبَشِّرۡهُ بِمَغۡفِرَةٖ وَأَجۡرٖ كَرِيمٍ
تو تو صرف اس شخص کو ڈراسکتا ہے کہ جو اس خدائی نصیحت کی پیروی کرتا ہے اور خدائے رحمن سے پوشیدہ طور سے ڈرتا ہے۔ ایسے شخص کو بخشش اور بہترین اجر و ثواب کی بشارت دے دے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
36:12
إِنَّا نَحۡنُ نُحۡيِ ٱلۡمَوۡتَىٰ وَنَكۡتُبُ مَا قَدَّمُواْ وَءَاثَٰرَهُمۡۚ وَكُلَّ شَيۡءٍ أَحۡصَيۡنَٰهُ فِيٓ إِمَامٖ مُّبِينٖ
ہم ہی مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور جوکچھ انہوں نے آگے بھیجا ہے اور ان کے تمام آثار کو ہم لکھتے ہیں اور ہم نے ہر چیز کا واضح کتاب میں احصاء کر دیا ہے۔

کس قسم کے لوگ تیری تنبیه کو قبول کرتے ہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

گزشتہ آیات میں ایسے گروہ کے بارے میں گفتگو تھی کہ جو کسی طرح بھی خدائی تنبیہوں کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں تھے اور ان کو ڈرانا نہ ڈرانا برابر ہے۔ زیر بحث آیات ایک اور گروہ کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں۔ یہ لوگ مذکورہ گروہ کے بالکل مدِّ مقابل قرار پاتے ہیں۔ ایسا اس لیے کیا گیا ہے تاکہ ایک کا دوسرے سے موازنہ کر کے مسئلہ زیادہ واضح ہو جائے اور یہی قرآن کا طریق کار ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: "تو تو صرف اسی کو خدا سے ڈرا سکتا ہے جو اس کے ذکر کی پیروی کرے اور خداوندِ رحمان سے پوشیدہ طور پر اور غیب میں ڈرے"۔ (إِنَّما تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَخَشِيَ الرَّحْمنَ بِالْغَيْبِ‏)۔ "اور جو ایسا ہے اسے مغفرت اور بہترین اجر و ثواب کی بشارت دے"۔ (فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّأَجْرٍ كَرِيمٍ)۔

چند قابل توجه نکات

1- اس آیت میں ایسے اشخاص کہ جن پر پیغمبرؐ کا "انذار" اور پند و نصیحت موثر ہے کے دو اوصاف بیان ہوئے ہیں: 1- نصیحت کی پیروی۔ 2- پوشیدہ طور پر خدا سے ڈرنا۔ البتہ ان دو اوصاف سے مراد آمادگی اور صلاحیت ہے یعنی انذار صرف ان افراد پر موثر ہوتا ہے جو سننے والا کان اور آمادہ دل رکھتے ہیں۔ انذار ان میں دو اثر پیدا کرتا ہے پہلا ذکر و قرآن کی پیروی اور دوسرا پروردگار اور اسی کی طرف سے عائد ذمہ داریوں کی ادائیگی کا احساس۔ دوسرے لفظوں میں ان دو اوصاف کی صلاحیت ان میں موجود ہے لیکن انذار کے بعد وہ عملی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ہٹ دھرم، دل کے اندھوں اور غافل لوگوں کے برخلاف کہ جو نہ تو سننے والے کان رکھتے ہیں اور نہ ہی خشیت و خوف الٰہی کے لیے آمادگی۔ یہ آیت سورة بقرہ کی پہلی آیات کے مانند ہے کہ جن میں فرمایا گیا ہے: ذلِكَ الْكِتابُ لا رَيْبَ فِيهِ هُدىً لِلْمُتَّقِينَ "اس کتابِ آسمانی میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے اور یہ پرہیزگاروں کے لیے باعثِ ہدایت ہے"۔ 2۔ بہت سے مفسرین کے نظریہ کے مطابق "ذکر" سے مراد قرآنِ مجید ہے۔ کیونکہ یہ لفظ قرآن میں بارہا اسی شکل میں اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ [بحوالہ: سوره نحل - ۴۴، حٰم السجدہ -۴۱، زخرف -۴۴ اور قمر-۲۵ جبکہ "ذکر" قرآن میں بارہا مطلق ذکر کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے]۔ لیکن اس بات میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ اس سے مراد اس کا لغوی معنی یعنی ہر قسم کا تذکر اور نصیحت اور اس میں آیاتِ قرآن اور پیغمبر اکرمؐ اور خدائی رہبروں کے تمام انذار اور پند و نصائح بھی اس کے مفہوم میں شامل ہوں- 3- "خشیت" جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں، اس خوف کے معنی میں ہے کہ جس کے ساتھ احساسِ عظمت موجود ہو نیز "رحمٰن" کی تعبیر کہ جو خدا کی رحمتِ عامہ کی مظہر ہے، یہاں ایک لطیف نکتے کی حامل ہے اور وہ یہ کہ عظمتِ خدا کے خوف کے ساتھ ساتھ وہ اس کی رحمت کی امید بھی رکھتے ہوں تاکہ خوف و رجاء کے دونوں پلڑے کہ جو تکامل و ارتقار کی طرف مسلسل حرکت کے حامل ہیں متوازن رہیں۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ بعض آیاتِ قرانی میں رجاء و امید کے بارے میں تو "اللہ" کے نام کا ذکر ہوا ہے جو کہ ہیبت و عظمت کا مظہر ہے: لِمَنْ كانَ يَرْجُوا اللهَ وَالْيَوْمَ الْآخِر(احزاب ۔۲۱) یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رجاء بھی خوف کے ساتھ ہونا چاہیے اور خوف رجاء کے ساتھ (غور کیجئے گا)۔ 4- "بالغیب" کی تعبیر یہاں پر استدلال و برہان کے ذریعے خدا کی شناخت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ اس کی پاک ذات انسانی حواس سے پنہاں ہے۔ صرف دل کی آنکھ سے اور اس کے آثار کے ذریعے اس کے اجلال و جمال کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ "غیب" یہاں پر لوگوں کی آنکھ سے پنہاں کے معنی میں ہو یعنی اس کا مقامِ خشیت و خوف، ریا کے پہلو سے اور لوگوں کی موجودگی میں ہی نہ ہو بلکہ وہ تنہائی میں بھی خشیت کا حامل ہو۔ بعض نے اسے "قیامت" کے معنی میں تفسیر کیا ہے کیونکہ اس کے واضح مصادیق میں سے وہ امور بھی ہیں کہ جو ہماری حِس سے پنہاں ہیں لیکن پہلا معنی سب سے زیادہ مناسب نظر آتا ہے۔ 5- "فبشره" کا لفظ درحقیقت "انذار" کی تکمیل ہے کیونکہ خدا کا پیغمبرؐ ابتداء میں انذار کرتا ہے اور جس وقت فرمانِ خدا کی پیروی اور احساسِ عظمت کے ساتھ خوف پیدا ہو جائے اور اس کے اثرات انسان کے قول و فعل میں ظاہر ہوں، تو وہ بشارت دیتا ہے۔ کس بات کی بشارت دیتا ہے؟ پہلے تو اس بات کی کہ جو انسانی فکر اور دوسری چیز سے زیادہ اپنی طرف مشغول رکھتی ہے اور پھر ان لغزشوں کے بارے میں کہ جو کبھی کبھار اس سے سرزد ہوتی ہیں، کہ خدائے بزرگ و برتر نے وہ سب بخش دی ہیں۔ اس کے بعد اور اجرِ کریم اور بہترین جزا کی بشارت دیتا ہے کہ جس کے مختلف پہلوؤں کو سوائے خدا کے اور کوئی نہیں جانتا۔ یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ لفظ "مغفرت" بھی نکرہ کی شکل میں بیان ہوا ہے اور "اجرِ کریم" بھی۔ ہم جانتے ہیں کہ اس قسم کے مواقع پر نکرہ کی صورت میں لفظ کا آنا عظمت کے بیان کے لیے ہے۔ بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ "فبشره" میں "فاء" کہ جو تفریع کے لیے ہے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مغفرت اور اجرِ کریم ترتیب وار نصیحت کی پیروی اور پروردگار کے خوف کا نتیجہ ہیں۔ گزشتہ آیات میں مومنین اور انبیاء کے انذار کو قبول کرنے والوں کے اجر و ثواب کا ذکر ہے، اسی مناسبت سے بعد والی آیت میں مسئلہ معاد و قیامت اور حساب و کتاب اور جزاء کے لیے مثبت اعمال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: "ہم مردوں کو زندہ کرتے ہیں"۔ (إِنَّا نَحْنُ نُحْيِ الْمَوْتى‏)۔ "نخن" (ہم) اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس عظیم قدرت کے ہوتے ہوئے کہ جس کا تم سب کو ہمارے متعلق علم ہے مزید کسی بحث و گفتگو کی ضرورت نہیں ہے کہ بوسیدہ اور گلی سڑی ہڈیاں نئے سرے سے کس طرح زندہ ہوں گی اور لباسِ حیات کس طرح زیب تن کریں گی۔ نہ صرف یہ کہ ہم مردوں کو زندہ کریں گے بلکہ "ہم وه تمام کچھ کہ جو انہوں نے آگے بھیجا ہے اور اس کے تمام اثار بھی لکھ رہے ہیں"۔ (وَنَكْتُبُ ما قَدَّمُوا وَآثارَهُمْ)۔ اس بناء پر کوئی چیز فروگزاشت نہیں ہو گی اور ہر چیز نامۂ اعمال میں روزِ حساب کے لیے محفوظ ہو جائے گی۔ "ماقدموا" (جو کچھ انہوں نے آگے بھیجا ہے) ان اعمال کی طرف اشارہ ہے کہ جو انہوں نے انجام دیئے ہیں اور ان کا کوئی اثر باقی نہیں رہا۔ لیکن "واثارهم" کی تعبیر انسان کے ان اعمال کی طرف اشارہ ہے کہ جو باقی رہ جاتے ہیں اور ان کے آثار معاشرے میں منعکس ہوتے ہیں۔ مثلاً صدقات جاریہ (انسان کی تعمیرات، اوقات اور ایسے مراکز کہ جو بعد ازاں باقی رہ جاتے ہیں اور لوگ ان سے فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں)۔ یہ احتمال بھی آیت کی تفسیر میں موجود ہے کہ "ما قدموا" تو ان اعمال کی طرف اشارہ ہو کہ جو شخصی جنبہ رکھتے ہیں اور "اثارهم" ان کاموں کی طرف کہ جو رواج پا جاتے ہیں اور انسان کے بعد بھی موجب خیر و برکت یا موجب شرّ و زیاں اور سببِ گناہ بنتے ہیں۔ البتہ آیت کا مفہوم وسیع ہے اور ممکن ہے کہ دونوں تفاسیر اس کے مفہوم میں جمع ہوں۔ آیت کے آخر میں مزید تاکید کے لئے اضافہ کیا گیا ہے: "ہم نے تمام چیزوں کا واضح اور آشکار کتاب میں احصاء کر دیا ہے"۔ (وَكُلَّ شَيْ‏ءٍ أَحْصَيْناهُ فِي إِمامٍ مُبِينٍ)۔ اکثر مفسرین نے یہاں "امام مبین" سے "لوحِ محفوظ" مراد لی ہے یعنی وہ کتاب کہ جس میں اس جہان کے تمام موجودات، واقعات اور اعمال ثبت و محفوظ ہیں۔ نیز "امام" کی تعبیر ممکن ہے کہ اس نظر سے ہو کہ یہ کتاب قیامت میں ثواب و عقاب کے تمام مامورین کے لیے رہبر اور پیشوا ہے اور انسانوں کے اعمال کی قدر و قیمت پرکھنے کے لیے ان کی جزا و سزا کا ایک معیار ہے۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ لفظ "امام" قرآن کی بعض دوسری آیات میں "تورات" کے بارے میں استعمال ہوا ہے۔ فرمایا گیا ہے: : أَ فَمَنْ كانَ عَلى‏ بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ وَيَتْلُوهُ شاهِدٌ مِنْهُ وَمِنْ قَبْلِهِ كِتابُ مُوسى‏ إِماماً وَرَحْمَةً (ہود ۱۷)۔ " کیا وہ شخص کہ جو اپنے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل رکھتا ہو اور اسی کی طرف سے اس کے پیچھے ایک شاہد بھی ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب کہ جو امام اور رحمت تھی اس پر گواہی دیتی ہے (اس شخص کی مانند ہے کہ جو ایسا نہیں ہے)۔ اس آیہ میں لفظ "امام" کا اطلاق تورات پر اس کے معارف و احکام کی بناء پر ہے۔ اسی طرح اس میں بیان شده پیغمبرِ اسلامؐ کی ان نشانیوں کی وجہ سے ہے اور ان تمام امور میں وہ مخلوق کے لیے رہبر و پیشوا بن سکتی ہے۔ اس بناء پر مذکورہ لفظ "امام" ہر موقع پر اس موقع کی مناسبت سے مفہوم دیتا ہے۔

چند اہم نکات: ۱- ثبتِ اعمال کی مختلف کتابیں

قرآنِ مجید کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے اعمال چند کتابوں میں ثبت ہوتے ہیں تاکہ حساب و کتاب کے وقت کسی شخص کے لیے بھی کسی قسم کا کوئی عذر باقی نہ رہے۔ پہلی کتاب تو "شخصی نامۂ اعمال" ہے کہ جو ایک فرد کی ساری عمر کے اعمال ثبت کرتی ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ قیامت کے دن ہر شخص سے کہا جائے گا: إِقْرَأْ كِتابَكَ كَفى‏ بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيباً "تو خود ہی اپنا نامۂ اعمال پڑھ لے، تو خود ہی اپنے نفس کا حساب کرنے کے لیے کافی ہے"۔ (بنی اسرائیل - ۱۴) یہ وہ مقام ہے کہ مجرمین کی فریاد بلند ہو گی: يَقُولُونَ يا وَيْلَتَنا ما لِهذَا الْكِتابِ لا يُغادِرُ صَغِيرَةً وَلا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَاهَا۔ "وہ کہیں گے کہ وائے ہو ہم پر کیسی کتاب ہے کہ کوئی بھی چھوٹا یا بڑا گناہ ایسا نہیں ہے کہ جو اس میں ثبت نہ ہو"۔ (کہف ۴۹) "یہ وہی کتاب ہے کہ جو نیکوکاروں کے دائیں ہاتھ میں اور بدکاروں کے بائیں ہاتھ میں ہو گی"۔ (حاقہ ــــــ ۱۹، ۲۵) دوسری کتاب "امتوں کا نامۂ اعمال" ہے اور ان کی اجتماعی زندگی کے اعمال بیان کرتی ہے جیسا کہ قرآن کہتا ہے: كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعى‏ إِلى‏ كِتابِهَا "قیامت کے دن ہر امت کو اس کے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا" (جاثیہ ــــ ۲۸) تیسری کتاب اعمال نامۂ جامع و عمومی یعنی لوحِ محفوظ ہے کہ جس میں نہ اولین و آخرین کے تمام انسانوں کے اعمال بلکہ عالم کے تمام واقعات یکجا ثبت ہیں۔ یہ قیامت کے اس عظیم موقع پر آدمی کے اعمال پر ایک اور گواہ ہے اور حقیقت میں یہ کتاب حساب و کتاب کے فرشتوں اور جزا و سزا کے ملا ئکہ کے لیے امام و رہبر ہے۔ [بحوالہ: "لوح محفوظ" کے بارے میں ہم نے تفسیر نمونہ کی جلد ۵ میں سورہ رعد کی آیت ۳۹ کے ذیل میں اور اسی طرح جن تین میں سورہ انعام کی آیہ ۵۹ کے ذیل میں بحث کی ہے]۔

۲- ہر چیز ثبت ہوتی ہے

ایک گویا اور بیدار کرنے والی حدیث میں امام صادق سے منقول ہے: أن رسول الله نزل بأرض قرعاء فقال لأصحابه: إئتوا بحطب، فقالوا: يا رسول الله نحن بأرض قرعاء! قال فليأت كل انسان بما قدرعليه، فجاءوا به حتی رموا بین یدیه، بعضه على بعض فقال رسول الله (ص) هكذا تجمع الذنوب ثم قال إيّاكم والمحقرات من الذنوب ، فان لكل شيء طالبًا الأوان طالبھا يكتب ما قدموا وأٰثارهم و كل شيء أحصيناه في إمام مبین- رسولِ خدا ایک بےآب و گیاہ علاقے میں پہنچے تو آپؐ نے اپنے اصحاب سے فرمایا: لکڑیاں اور ایندھن اکٹھا کر کے لاؤ۔ انہوں نے عرض کیا: اے خدا کے رسولؐ! یہ خشک سرزمین ہے کہ جس میں کوئی لکڑی اور ایندھن نہیں ہے۔ آپؐ نے فرمایا: تم جاؤ اور تم میں سے جس سے جتنا ہو سکتا ہے جمع کرے۔ ان میں سے ہر ایک تھوڑا سا ایندھن اور خشک لکڑی لے آیا اور اسے پیغمبر خدا کے سامنے ایک دوسرے پر ڈال دیا (اسے آگ لگائی گئی تو اس سے بڑے بڑے شعلے بھڑکنے لگے)۔ اس کے بعد آپؐ نے فرمایا: اس طرح سے (چھوٹے چھوٹے) گناہ ایک دوسرے میں جمع ہوتے جاتے ہیں (اور تم ان کو فرداً فرداً ایک سمجھ کر اہمیت نہیں دیتے)۔ اس کے بعد آپؐ نے فرمایا: چھوٹے چھوئے گناہوں سے ڈرو کیونکہ ہر چیز کا ایک حساب کنندہ ہے اور جو کچھ تم نے آگے بھیجا ہے اور جو کچھ اس کے آثار باقی رہ گئے ہیں اس کا حساب کنندہ اُسے لکھتا ہے اور اس نے ہر چیز کو کتاب مبین میں ثبت کیا ہے۔ [بحوالہ: تفسیر نور الثقلين جلد ۴ ص ۳۷۸]۔ یہ ہلا دینے والی حدیث اس امر کی منہ بولتی تصویر ہے کہ جب چھوٹے چھوٹے گناہ جمع ہوتے ہیں تو ان کا مجموعہ ایک بہت بڑی آگ کا سامان بن جاتا ہے۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ قبیلہ "بنو سلمہ" مدینہ سے کچھ فاصلے پر رہتا تھا۔ انہوں نے مسجدِ نبوی کے قریب نقل مکانی کرنے کا ارادہ کیا تو زیرِ بحث آیت نازل ہوئی (إِنَّا نَحْنُ نُحْيِ الْمَوْتى‏ ......) تو پیغمبر اکرمؐ نے ان سے فرمایا: " ان آثاركم تكتب " تمهارے آثار (مسجد کی طرف آنے کے لئے تمہارے قدم) تمہارے نامہ اعمال میں لکھے جائیں گے (اور ان کا اجر و ثواب نہیں ملے گا) جب بنی مسلمہ نے یہ سنا تو انہوں نے اپنا ارادہ بدل دیا اور اپنی اسی جگہ پر رہ گئے۔ [بحوالہ: تفسیر قرطبی میں یہ حدیث ابو سعید خدری سے صحیح ترمذی سے نقل ہوئی ہے اور اس کے مشابہ حدیث صحیح مسلم میں "جابر بن عبد اللہ انصاری" سے بھی منقول ہے دوسرے مفسرین مثلاً آلوسی فخر رازی، طبرسی اور علامہ طبا طبائی نے بھی اسے کچھ فرق کے ساتھ ذکر کیا ہے]۔ واضح رہے کہ یہ آیت ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے اور ان امور میں سے ہر ایک اس کا ایک مصداق ہے۔ وہ چیز کہ جو ممکن ہے۔ ابتدائی نظر میں اوپر والی تفسیر کے ساتھ ہم آہنگ متصور نہ ہو، اہلِ بیت سے مروی وہ روایات ہیں کہ جن میں "امامِ مبین" سے امیر المومنین مراد لیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک حدیث امام باقرؑ سے مروی ہے۔ آپؐ نے اپنے والدِ گرامی سے اور انہوں نے اپنے دادا سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جس وقت یہ آیہ: " وَكُلَّ شَيْ‏ءٍ أَحْصَيْناهُ فِي إِمامٍ مُبِينٍ " نازل ہوئی تو حضرتِ ابوبکر و عمر کھڑے ہو گئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا اس سے مراد تورات ہے؟ فرمایا نہیں! عرض کیا: انجیل ہے؟ فرمایا نہیں! عرض کیا: قرآن ہے؟ فرمایا نہیں! اسی حالت میں امیر المومنین علیؑ رسول اللہ کی طرف آئے جس وقت آپؐ کی نگاہ ان پر پڑی تو فرمایا: هو هذا! أنه الامام الذى أحصى الله تبارك و تعالى فيه علم كل شى‏ء۔ "امامِ مبین یہ شخص ہے یہی ہے وہ امام کہ جس میں خداوندِ تعالٰے نے ہر چیز کے علم کا احصاء کر دیا ہے"۔ [بحوالہ: "معاني الاخبار صدوق " باب معنی الامام المبین ص ۹۵]۔ تفسیر علی بن ابراہیم میں ابن عباس کے واسطہ سے خود امیر المومنین سے بھی نقل ہوا ہے کہ آپؑ نے فرمایا: انا وَالله الامام المبين، أبين الحق من الباطل ورثته من رسول الله "خدا کی قسم! میں وہ امامِ مبین ہوں کہ جو حق کو باطل سے جدا کرتا ہے۔ یہ علم میں نے رسول اللہؐ سے ورثہ میں حاصل کیا ہے اور ان سے سیکھا ہے"۔ [نور الثقلين جلد ۴ ص ۳۷۹]۔ اگرچہ بعض مفسرین جیسے آلوسی نے شیعہ حوالوں سے ایسی روایات نقل کرنے سے خوف کھایا ہے اور اسے تفسیر آیہ سے بےخبری اور نادانی کی طرف منسوب کیا ہے لیکن تھوڑا سا غور کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس قسم کی روایات "امامِ مبین" کی "لوحِ محفوظ" کے ساتھ تفسیر کے منافی نہیں ہیں کیونکہ پیغمبرؐ کا پاک دل پہلے درجہ میں اور ان کے جانشین کا دل دوسرے درجہ میں ایسے آئینے ہیں جو لوحِ محفوظ کو منعکس کرتے ہیں اور ان علوم کا ایک عظیم حصہ کہ جو "لوحِ محفوظ" میں ہے خدا کی طرف سے ان کی طرف الہام ہوتا ہے، اس طرح سے وہ "لوحِ محفوظ" کا ایک نمونہ ہیں۔ اس بناء پر "امام مبین" کا اطلاق اس مطلب پر کوئی عجیب بات نہیں ہے کیونکہ یہ کہ ایسی شاخ ہے کہ جو اسی کی جڑ لوٹتی ہے۔ اس سے قطع نظر جیسا کہ ہم جانتے ہیں انسان کامل کا وجود ایک "عالم صغیر" ہے کہ جس میں عالم کبیر سمایا ہوا ہے اس سلسلے میں حضرت علی علیہ السلام کی طرف یہ شعر منسوب ہے: أ تزعم أنك جرم صغير؟ وفيك انطوى العالم الاكبر! "کیا تو یہ گمان کرتا ہے کہ تو ایک چھوٹا سا جسم ہے حالانکہ عالم کبیر تجھ میں سمو دیا گیا ہے"۔ نیز ہم بھی جانتے ہیں کہ عالمِ ہستی ایک لحاظ سے علمِ خدا اور لوح محفوظ کا ایک صفحہ ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ آلوسی نے باوجودیکہ مذکورہ روایات کا شدّت سے انکار کیا ہے تاہم آخری تفسیر کو چنداں بعید نہیں سمجھا۔ بہرحال اس بات میں کہ "امامِ مبین" سے مراد "لوحِ محفوظ" ہی ہے کوئی شک و شبہ نہیں ہے، مذکورہ روایات بھی اس پر قابلِ تطبیق ہیں۔ (غورکیجئے گا)۔

13
36:13
وَٱضۡرِبۡ لَهُم مَّثَلًا أَصۡحَٰبَ ٱلۡقَرۡيَةِ إِذۡ جَآءَهَا ٱلۡمُرۡسَلُونَ
ان سے بستی والوں کی مثال بیان کیجئے کہ جس وقت خدا کے رسول ان کی طرف آئے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
36:14
إِذۡ أَرۡسَلۡنَآ إِلَيۡهِمُ ٱثۡنَيۡنِ فَكَذَّبُوهُمَا فَعَزَّزۡنَا بِثَالِثٖ فَقَالُوٓاْ إِنَّآ إِلَيۡكُم مُّرۡسَلُونَ
جبکہ ہم نے دورسول ان کی طرف بھیجے لیکن انہوں نے رسولوں کی تکذیب کی۔ اس لیے ہم نے ان دونوں کی تقویت کے لیے تیسرے کو بھیجا۔ ان سب نے کہا کہ ہم تمہاری طرف(اللہ کے) بھیجے ہوئے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔

15
36:15
قَالُواْ مَآ أَنتُمۡ إِلَّا بَشَرٞ مِّثۡلُنَا وَمَآ أَنزَلَ ٱلرَّحۡمَٰنُ مِن شَيۡءٍ إِنۡ أَنتُمۡ إِلَّا تَكۡذِبُونَ
لیکن انہوں نے (جواب میں ) کہا کہ تم تو ہم جیسے بشر کے سوا اورکچھ نہیں ہو اور خدا وند رحمن نے کوئی چیز نازل نہیں کی تم صرف جھوٹ بولتے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
36:16
قَالُواْ رَبُّنَا يَعۡلَمُ إِنَّآ إِلَيۡكُمۡ لَمُرۡسَلُونَ
انہوں نے کہا ہمارا پرور دگار آگاہ ہے کہ ہم یقینی طور پر تمہاری طرف اس کے بھیجے ہوئے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔

17
36:17
وَمَا عَلَيۡنَآ إِلَّا ٱلۡبَلَٰغُ ٱلۡمُبِينُ
اور ہمارے ذمہ تو واضح طور پر پہنچادینے کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔

18
36:18
قَالُوٓاْ إِنَّا تَطَيَّرۡنَا بِكُمۡۖ لَئِن لَّمۡ تَنتَهُواْ لَنَرۡجُمَنَّكُمۡ وَلَيَمَسَّنَّكُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٞ
انہوں نے کہا کہ ہم تو تمہیں اپنے لیے فال بد سمجھتے ہیں اور اگر تم ان باتوں سے ستبردار نہ ہو گے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور ہماری طرف سے تمہیں دردناک سزا ملے گی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔

19
36:19
قَالُواْ طَـٰٓئِرُكُم مَّعَكُمۡ أَئِن ذُكِّرۡتُمۚ بَلۡ أَنتُمۡ قَوۡمٞ مُّسۡرِفُونَ
انہوں نے کہا کہ تمہاری نحوست توخود تمہاری طرف سے ہے، اگر تم اچھی طرح سے غور کرو، بلکہ تم حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو۔

بستی والوں کی سرگزشت ایک عبرت ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

قبل ازیں قرآن پیغمبر اسلامؐ کی نبوت، سچے مومنین اور ہٹ دھرم منکرین کے بارے میں بحث گزری ہے۔ زیرِ بحث آیات میں اس ضمن میں گزشتہ امتوں کی کیفیت کا ایک نمونہ بیان ہو رہا ہے ان آیات اور بعد والی چند آیات کے ضمن میں کہ جو مجموعی طور پر ۱۸ آیات بنتی ہیں، چند گزشتہ پیغمبروں کی سرگزشت بیان کی گئی ہے۔ یہ انبیاء ایک مشرک اور بت پرست قوم کی ہدایت کے لیے مامور ہوتے تھے قرآن نے انہیں "اصحاب القریہ" کے نام سے یاد کیا ہے۔ یہ لوگ مخالفت کے لیے کھڑے ہو گئے اور انجام کار عذاب میں گرفتار ہوئے۔ یہ سرگزشت اس لیے بیان کی گئی ہے تاکہ مشرکین مکہ کے لیے تنبیہ ہو اور پیغمبر اکرم اور اس وقت کے تھوڑے سے مومنین کے لیے تسلی کا باعث ہو۔ بہرحال اس سورہ کے قلب میں کہ جو خود قرآن کا دل ہے اس سرگزشت کا ذکر اس زمانے کے مسلمانوں سے اس کی کامل شباہت کی بنا پر ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: "تم ان سے بستی والوں کی مثال بیان کرو کہ جس وقت خدا کے رسول ان کی طرف آئے"۔ (وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا أَصْحابَ الْقَرْيَةِ إِذْ جاءَهَا الْمُرْسَلُونَ)۔ [تشریحی نوٹ: بعض کا نظریہ ہے کہ "اصحاب القرية" "اضرب" کا پہلا مفعول ہے اور"مثلاً اس کا دوسرا سوال ہے کہ جو پہلے مفعول پر مقدم ہوا ہے اور بعض نے اسے "مثلاً" کا بدل مراد لیا ہے، لیکن پہلا احتمال زیادہ مناسب نظر آتا ہے]۔ "قرية" اصل میں اس جگہ کو کہتے ہیں کہ جہاں لوگ جمع ہوں اور کبھی خود انسانوں کو بھی "قرية" کہا جاتا ہے۔ اس بنا پر یہ ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے کہ جو شہروں کے لیے بھی ہے اور دیہات کے لیے بھی، اگرچہ فارسی کی زبان میں عام طور پر صرف دیہات کے لیے بولا جاتا ہے لیکن عربی زبان میں اور قرآن مجید میں بارہا اہم شہروں اور علاقوں مثلاً مصر اور مکہ وغیرہ پر اطلاق ہوا ہے۔ اس بارے میں کہ شہروں میں سے یہ کونسا شہر تھا، چنانچہ مفسرین کے درمیان مشہور یہ ہے کہ وہ شامات کے شہروں میں سے "انطاکیہ" تھا اور یہ قدیم روم کے مشہور شہروں میں سے تھا اور اب بھی جغرافیائی لحاظ سے ترکی کا حصہ ہے۔ اس کے بارے میں مزید تفصیل ہم نکات میں بیان کریں گے۔ بہرحال اس سورہ کی آیات سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ اس شہر کے رہنے والے بت پرست تھے اور یہ رسول انہیں توحید کی دعوت دینے اور شرک کے خلاف جدوجہد کرنے کے لیے ان کے پاس آئے تھے۔ قرآن اس اجمالی بیان کے بعد ان کے قصے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: "وہ وقت کہ جب ہم نے دو رسولوں کو ان کی طرف بھیجا لیکن انہوں نے ہمارے رسولوں کی تکذیب کی، لہذا تم نے ان دو کی تقویت کے لیے تیسرا رسول بھیجا، ان تینوں نے کہا کہ ہم تمهاری طرف خدا کے بھیجے ہوئے ہیں"۔ (إِذْ أَرْسَلْنا إِلَيْهِمُ اثْنَيْنِ فَكَذَّبُوهُما فَعَزَّزْنا بِثالِثٍ فَقالُوا إِنَّا إِلَيْكُمْ مُرْسَلُونَ)۔ [تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے لفظ "اذا" کو یہاں "اصحاب القرية" کا بدل مراد لیا ہے اور بعض اسے فعلِ محذوف یعنی "اذکر" سے متعلق سمجھتے ہیں]۔ اس طرح پروردگار کے تین رسول اس گمراہ قوم کی طرف آئے (دو پہلے آئے اور ایک بعد ازاں ان کی تقویت کے لیے)۔ اس بارے میں کہ یہ رسول کون تھے، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے بعض نے کہا ہے کہ ان دو کے نام "شمعون" اور "یوحنا" تھے اور تیسرے کا نام "یولس" تھا اور بعض نے ان کے دوسرے نام ذکر کیے ہیں۔ اس بارے میں بھی مفسرین میں اختلاف ہے کہ وہ خدا کے پیغمبر اور رسول تھے یا حضرت مسیحؑ کے بھیجے ہوئے اور ان کے نمائندے تھے (اور اگر خدا یہ فرماتا ہے کہ تم نے انہیں بھیجا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ مسیح کے بھیجے ہوئے بھی خدا ہی کے رسول ہیں)۔ زیر بحث آیات کا ظاہر پہلی تفسیر کے موافق ہے اگرچہ اس نتیجہ میں کہ جو قرآن لینا چاہتا ہے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ اس گمراہ قوم نے ان رسولوں کی دعوت پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟ قرآن کہتا ہے: انہوں نے بھی وہی بہانہ کیا کہ جو بہت سے سرکش کافروں نے گزشتہ خدائی پیغمبروں کے جواب میں کیا تھا: "انہوں نے کہا، تم تو ہم ہی جیسے بشر ہو اور خدائے رحمٰن نے کوئی چیز نازل نہیں کی ہے، تمہارے پاس جھوٹ کے سوا اور کچھ نہیں ہے"۔ (قالُوا ما أَنْتُمْ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنا وَما أَنْزَلَ الرَّحْمنُ مِنْ شَيْ‏ءٍ إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا تَكْذِبُون)۔ اگر خدا کی طرف سے کوئی بھیجا ہوا ہی آنا تھا تو کوئی مقرب فرشتہ ہونا چاہیے تھا، نہ کہ ہم جیسا انسان اور اسی امر کو انہوں نے رسولوں کی تکذیب اور فرمانِ الٰہی کے نزول کے انکار کی دلیل خیال کیا۔ حالانکہ وہ خود بھی جانتے تھے کہ پوری تاریخ میں سب رسول نسلِ آدمؑ ہی سے ہوئے ہیں ان میں حضرت ابراہیم بھی تھے کہ جن کی رسالت سب مانتے تھے۔ یقیناً وہ انسان ہی تھے۔ اس سے قطع نظر کیا انسانوں کی ضروریات، مشکلات اور تکلیفیں انسان کے علاوہ کوئی اور سمجھ سکتا ہے۔ [بحوالہ: پیغمبروں اور امتوں کے ہم نوع ہونے کے فلسفہ کے بارے میں ہم جلد ۶ ص ۷۰۲ (سورہ بنی اسرائیل کی آیہ ۹۴ کے ذیل میں) تفصیل سے بحث کر چکے ہیں (اردو ترجمہ دیکھیے)]۔ آیت میں خدا کی صفتِ رحمانیت کا ذکر کیوں کیا گیا ہے؟ ممکن ہے کہ یہ اس لحاظ سے ہو کہ خدا ان کی بات کو نقل کرتے ہوئے خصوصیت سے اس صفت کا ذکر کرتا ہے تاکہ ان کا جواب خود ان کی بات ہی سے حل ہو جائے۔ کیونکہ یہ بات کیسے ممکن ہو سکتی ہے کہ وہ خدا کہ جس کی رحمتِ عامہ نے سارے عالم کو گھیر رکھا ہے وہ انسانوں کی تربیت اور رشد و تکامل کی طرف دعوت دینے کے لیے پیغمبر نہ بھیجے؟ یہ احتمال بھی ہے کہ انہوں نے خصوصیت کے ساتھ وصفِ رحمٰن کا اس لیے ذکر کیا ہے کہ وہ یہ کہیں کہ خداوندِ مہربان اپنے بندوں کا کام پیغمبروں کے بھیجنے اور مشکل ذمہ داریاں عائد کرنے سے نہیں کرتا وہ تو آزاد رکھتا ہے، یہ کمزور اور بےبنیاد منطق اس گروہ کے انکار کے ساتھ ہم آہنگ تھی۔ بہرحال یہ اس گمراہ قوم کی شدید اور سخت مخالفت کے باوجود مایوس نہ ہوئے اور انہوں نے کمزوری نہ دکھائی اور ان کے جواب میں کہا: ہمارا پروردگار جانتا ہے کہ یقیناً ہم تمہاری طرف اس کے بھیجے ہوئے ہیں"۔ (قالُوا رَبُّنا يَعْلَمُ إِنَّا إِلَيْكُمْ لَمُرْسَلُونَ)۔ "اور ہمارے ذمہ تو واضح اور آشکار طور پر ابلاغِ رسالت کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں ہے"۔ (وَما عَلَيْنا إِلَّا الْبَلاغُ الْمُبِينُ)۔ مسلمہ طور پر انہوں نے صرف دعوٰی ہی نہیں کیا اور قسم پر ہی قناعت نہیں کی، بلکہ "بلاغِ مبین" کی تعبیر سے اجمالی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی طرف سے دلائل و معجزات بھی پیش کیے تھے ورنہ ان کا ابلاغ "بلاغ مبین" کا مصداق نہ ہوتا کیونکہ "بلاغ مبین" تو اس طرح ہونا چاہیئے کہ حقیقت سب تک پہنچ جائے اور یہ بات یقینی اور محکم دلائل اور واضح معجزات کے سوا ممکن نہیں ہے۔ بعض روایات میں بھی آیا ہے کہ انہوں نے حضرتِ مسیح کی طرح بعض ناقابلِ علاج بیماروں کو حکمِ خدا سے، شفا بخشی۔ لیکن یہ دل کے اندھے واضح منطق اور معجزات کے سامنے نہ صرف جھکے نہیں بلکہ انہوں نے اپنی خشونت اور سختی میں اضافہ کر دیا اور تکذیب کے مرحلے سے قدم آگے بڑھاتے ہوئے تہدید اور شدتِ عمل کے مرحلے میں داخل ہو گئے "انہوں نے کہا: ہم تو تمہیں فال بد سمجھتے ہیں تمہارا وجود منحوس ہے اور تم ہمارے شہر کے لیے بدبختی کا سبب ہو"۔ (قالُوا إِنَّا تَطَيَّرْنا بِكُمْ)۔ [بحوالہ: "تطیّر" کے بارے میں اور فال بد لینے اور اس لفظ کے بنیادی مفہوم کے متعلق ہم نے جلد ۴ میں سورہ اعراف کی آیہ ۱۳۱ کے ذیل میں اور جلد ۸ میں سورہ نمل کی آیہ ۴۷ کے ذیل میں تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے]۔ ممکن ہے کہ ان انبیاءِ الٰہی کے آنے کے ساتھ ہی اس شہر کے لوگوں کی زندگی میں ان کے گناہوں کے زیرِ اثر یا خدائی تنبیہ کے طور پر بعض مشکلات پیش آئی ہوں۔ جیسا کہ بعض مفسرین نے نقل بھی کیا ہے کہ ایک مدّت تک بارش کا نزول منقطع رہا۔ [بحوالہ: تفسير قرطبی زیر بحث آیات کے ذیل میں] لیکن انہوں نے نہ صرف یہ کہ کوئی عبرت حاصل نہیں کی بلکہ اس امر کو پیغمبروں کی دعوت کے ساتھ وابستہ کر دیا۔ پھر اس پر بس نہیں کی بلکہ کھلی دھمکیوں کے ساتھ اپنی قبیح نیتوں کو ظاہر کیا اور کہا: " اگر تم ان باتوں سے دستبردار نہ ہوئے تو ہم یقینی طور پر تمہیں سنگسار کر دیں گے اور ہماری طرف سے تمہیں دردناک سزا ملے گی"(لَئِنْ لَمْ تَنْتَهُوا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَلَيَمَسَّنَّكُمْ مِنَّا عَذابٌ أَلِيمٌ)۔ کیا دردناک سزا (عذابِ اليم) سنگسار کرنے کے بارے میں تاکید ہے یا اس کے علاوہ کوئی اور سزا ہے؟ یہ دو احتمال ہیں۔ دوسرا احتمال ہمیں زیادہ صحیح نظر آتا ہے، کیونکہ سنگسار کرنا سزا کی بدترین قسم ہے جو کبھی کبھی موت پر بھی منتج ہوتی ہے، ممکن ہے کہ "عذابِ الیم" کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ ہم تمہیں یہاں تک سنگسار کریں گے کہ وہ تمہاری موت کا سبب بن جائے یا یہ کہ سنگسار کرنے کے علاوہ دوسری قسم کی سختیاں ہوں کہ جو گزشتہ زمانے کے ظالم لوگ کیا کرتے تھے۔ مثلاً سلائیاں گرم کر کے آنکھوں میں داخل کرنا یا پگھلی ہوئی دھات حلق میں ڈالنا اور اسی قسم کے دوسرے عذاب بھی ہم تمہیں دیں گے۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ سنگسار کرنا تو جسمانی عذاب تھا لیکن "عذابِ اليم" روحانی عذاب تھا۔ [تشریحی نوٹ: اور یہ اس صورت میں ہے کہ "لنرجمنکم" "رجم" کے مادہ سے گالیاں دینے، ناسزا کہنے اور تہمت لگانے کے معنی میں ہو]۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ ہاں! باطل کے طرفدار اور ظلم و فساد کے حامی چونکہ کوئی منطق پیش کرنے کی قابلیت نہیں رکھتے لہذا ہمیشہ دھمکیوں، دباؤ اور تشدد کا سہارا لیتے ہیں، وہ اس بات سے غافل ہیں کہ راہِ خدا سے راہرو اس قسم کی دھمکیوں کے آگے نہیں جھکتے بلکہ ان کی استقامت میں اور اضافہ ہوتا ہے جس دن انہوں نے اس میدان میں قدم رکھا ہے اسی روز اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ایثار و قربانی کے لیے آمادہ ہو گئے ہیں۔ یہ وہ مقام تھا کہ خدا کے پیغمبر اپنی منہ بولتی منطق کے ساتھ ان کی فضول ہذيانی باتوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہو گئے اور انہوں نے کہا: "تمهاری بدبختی اور نحوست خود تمہاری ہی طرف سے ہے اور اگر تم ٹھیک طرح سے غور کرو تو اس حقیقت سے واقف ہو جاؤ گے"۔ (قالُوا طائِرُكُمْ مَعَكُمْ أَ إِنْ ذُكِّرْتُمْ) ۔ اگر بدبختی اور مخوس حوادث تمہارے معاشرے کو گھیرے ہوئے ہیں اور برکاتِ الٰہیہ تمہارے درمیان میں سے اٹھ گئی ہیں تو اس کا عامل اپنے اندر اپنے پست افکار اور قبیح اعمال میں تلاش کرو نہ کہ ہماری دعوت میں۔ یہ تمہی تو ہو کہ جنہوں نے بت پرستی، خود غرضی ظلم اور شہوت پرستی سے اپنی زندگی کی فضا کو تیره و تاریک بنا ڈالا ہے اور خدا کی برکات کو اپنے آپ سے منقطع کر کے رکھ دیا ہے۔ بعض مفسرین نے " أَ إِنْ ذُكِّرْتُم" کو ایک مستقل مطلب کی طرف اشارہ سمجھا ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر خدا کے نبی آئیں اور تمہیں نصیحت کریں اور ڈرائیں تو کیا اس کی جزا یہ ہے کہ تم انہیں عذاب اور سزا کی دھمکیاں دو اور ان کے وجود کو منحوس خیال کرو؟ وہ تو تمہارے لیے نور و ہدایت اور خیر و برکت کا تحفہ لائے ہیں تو کیا اس خدمت کا جواب وہ دھمکیاں اور بدکلامیاں ہیں جو رات دن تم انہیں دیتے رہتے ہو۔ [تشریحی نوٹ: بہرحال جملہ شرطیہ کی جزا محذوف ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے: أ إن ذكرتم قابلتمونا بهذه الامور- يا- أ إن ذكرتم علمتم صدق ما قلنا]۔ آخرکار پروردگار کے ان بھیجے ہوئے افراد کی آخری گفتگو ان سے یہ تھی کہ "تم حد سے بڑھے ہوئے اور تجاوز کرنے والے لوگ ہو"۔ (بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ مُسْرِفُونَ)۔ تمہاری اصلی بیماری وہی تمہارا حد سے تجاوز ہے اگر تم توحید کا انکار کرتے ہوئے شرک کی طرف رخ کرتے ہو تو اس کی وجہ حق سے تجاوز ہے اور اگر تمہارا معاشرہ برے انجام میں گرفتار ہوا ہے تو اس کا سبب بھی گناہ میں زیادتی اور شہوات میں آلودگی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اگر خیر خواہوں کی خیر خواہی کے جواب میں تم انہیں موت کی دھمکی دیتے ہو تو یہ بھی تمہارے تجاوز کی بنا پر ہے۔ ہم ان رسولوں کے تاریخی واقعہ اور ان حوادث کے وقوع کے مقام کے بارے میں اس داستان کی باقی مانده آیات کی تفسیر کے بعد تفصیل سے گفتگو کریں گے۔

20
36:20
وَجَآءَ مِنۡ أَقۡصَا ٱلۡمَدِينَةِ رَجُلٞ يَسۡعَىٰ قَالَ يَٰقَوۡمِ ٱتَّبِعُواْ ٱلۡمُرۡسَلِينَ
ایک (باایمان) شخص شہر کے دور دراز مقام سے دوڑتا ہوا آیا(اور) اس نے کہا : اے میری قوم! خدا کے رسولوں کی پیروی کرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔

21
36:21
ٱتَّبِعُواْ مَن لَّا يَسۡـَٔلُكُمۡ أَجۡرٗا وَهُم مُّهۡتَدُونَ
ایسے لوگوں کی پیروی کرو کہ جو تم سے کوئی اجر نہیں مانگتے اور وہ خود ہدایت یافتہ ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔

22
36:22
وَمَالِيَ لَآ أَعۡبُدُ ٱلَّذِي فَطَرَنِي وَإِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ
میں کیوں اس ہستی کی پرستش نہ کروں کہ جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔

23
36:23
ءَأَتَّخِذُ مِن دُونِهِۦٓ ءَالِهَةً إِن يُرِدۡنِ ٱلرَّحۡمَٰنُ بِضُرّٖ لَّا تُغۡنِ عَنِّي شَفَٰعَتُهُمۡ شَيۡـٔٗا وَلَا يُنقِذُونِ
کیا میں اسے چھوڑ کر دوسرے معبود اپنا لوں جبکہ خدائے رحمن چاہے کہ مجھے نقصان پہنچے تو ان کی شفاعت میرے لیے کچھ بھی فائدہ مند نہ ہو اور نہ ہی وہ مجھے (اس کے عذاب سے) نجات دلاسکیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔

24
36:24
إِنِّيٓ إِذٗا لَّفِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٍ
اگر میں ایسا کروں تو پھر تو میں کھلی گمراہی میں ہوں گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔

25
36:25
إِنِّيٓ ءَامَنتُ بِرَبِّكُمۡ فَٱسۡمَعُونِ
(اسی بنا پر) میں تمہارے رب پر ایمان لایا ہوں، میری باتیں کان لگا کر سنو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔

26
36:26
قِيلَ ٱدۡخُلِ ٱلۡجَنَّةَۖ قَالَ يَٰلَيۡتَ قَوۡمِي يَعۡلَمُونَ
(آخرکار اسے شہید کردیا گیا تو) اس سے کہا گیا کہ جنت میں داخل ہو جا تو اس نے کہا کہ اے کاش میری قوم کو علم ہوتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔

27
36:27
بِمَا غَفَرَ لِي رَبِّي وَجَعَلَنِي مِنَ ٱلۡمُكۡرَمِينَ
کہ میرے پروردگار نے مجھے بخش دیا ہے اور مکرم ومحترم لوگوں میں سے قراردیا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔

28
36:28
۞وَمَآ أَنزَلۡنَا عَلَىٰ قَوۡمِهِۦ مِنۢ بَعۡدِهِۦ مِن جُندٖ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَمَا كُنَّا مُنزِلِينَ
ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر کوئی لشکر آسمان سے نہیں بھیجا اور نہ ہی ہماری یہ سنت تھی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔

29
36:29
إِن كَانَتۡ إِلَّا صَيۡحَةٗ وَٰحِدَةٗ فَإِذَا هُمۡ خَٰمِدُونَ
صرف ایک آسمانی للکار تھی،پس اچانک سب خاموش ہوگئے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔

30
36:30
يَٰحَسۡرَةً عَلَى ٱلۡعِبَادِۚ مَا يَأۡتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ
افسوس ہے ان بندوں پر کہ جن کی ہدایت کے لیے جو بھی پیغمبر آیا وہ اس کا مذاق اڑاتے رہے۔

ایک جان بکف مجاهد

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

زیر بحث آیات میں ان رسولوں کی جدوجہد کا ایک اور حصہ بیان کیا گیا ہے اس حصے میں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے تھوڑے سے مومنین نے بڑی شجاعت سے ان انبیاء کی حمایت کی اور وہ کافر و مشرک اور ہٹ دھرم اکثریت کے مقابلے میں کھڑے ہوئے اور جب تک جان باقی رہی انبیاءِ الٰہی کا ساتھ دیتے رہے۔ ارشاد ہوتا ہے: "ایک (باایمان) مرد شہر کے دور دراز مقام سے بڑی تیزی کے ساتھ بھاگتا ہوا کافر گروہ کے پاس آیا اور کہا: اے میری قوم! مرسلین خدا کی پیروی کرو"۔ (وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى‏ قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ)۔ اس شخص کا نام اکثر مفسرین نے "حبیب نجار" بیان کیا ہے۔ وہ ایسا شخص تھا کہ جو پروردگارکے پیغمبروں کی پہلی ہی ملاقات میں ان کی دعوت کی حقانیت اور ان کی تعلیمات کی گہرائی کو پا گیا تھا وہ ایک ثابت قدم اور مصمم کار مومن ثابت ہوا۔ جس وقت اُسے خبر ملی کہ وسط شہر میں لوگ ان انبیاء الٰہی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور شاید انہیں شہید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس نے خاموش رہنے کو جائز نہ سمجھا۔ چنانچہ "یسعٰی" کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بڑی تیزی اور جلدی کے ساتھ مرکزِ شهر تک پہنچا اور جو کچھ اس کے بس میں تھا حق کی حمایت اور دفاع میں فروگزاشت نہ کی۔ "رجل" کی تعبیر ناشناختہ شکل میں شاید اس نکتے کی طرف اشارہ ہے کہ وہ ایک عام آدمی تھا، کوئی قدرت و شوکت نہیں رکھتا تھا اور اپنی راہ میں یکہ و تنہا تھا لیکن اس کے با وجود ایمان کے نور و حرارت نے اس کا دل اس طرح سے روشن اور مستعد کر رکھا تھا کہ راہِ توحید کے مخالفین کی سخت مخالفت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے میدان میں کود پڑا۔ اس کا واقعہ اس لیے بیان کیا گیا ہے کہ آغازِ اسلام میں مومنین کہ جو بہت تھوڑی سی تعداد میں تھے اسے اپنے لیے نمونہ عمل سمجھیں اور جان لیں کہ تنہا ایک مومن بھی پوری طرح ذمہ دار ہوتا ہے۔ اور اس کے لیے خاموش رہنا جائز نہیں ہے۔ "اقصى المدينة" کی تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ان رسولوں کی دعوت شہر کے دور دراز کے مقامات تک پہنچ گئی تھی اور آماده دلوں میں اثر کر چکی تھی۔ اس سے قطع نظر کہ شہر کے دور دراز کے علاقے ہمیشہ ایسے مستضعفین کے مرکز ہوتے ہیں کہ جو حق کو قبول کرنے کے لیے زیادہ آمادہ و تیار ہوتے ہیں، اس کے برعکس شہروں میں نسبتاً خوشحال لوگ زندگی بسر کرتے ہیں جن کو حق کی طرف راغب کرنا آسانی کے ساتھ ممکن نہیں ہے۔ "یاقوم" (اے میری قوم) کی تعبیر اس شخص کی اہلِ شہر کے بارے میں ہمدردی کو بیان کرتی ہے اور رسولوں کی پیروی کی دعوت ایک مخلصانہ دعوت ہے جس میں اس کی ذات کے لیے کوئی فائده اور نفع نہیں ہے۔ آیئے اب دیکھتے ہیں کہ یہ مومن مجاہد اپنے شہر والوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کسی منطق اور دلیل کو اختیار کرتا ہے۔ اس نے پہلے یہ دلیل اختیار کی کہ "ایسے لوگوں کی پیروی کرو جو تم سے اپنی دعوت کے بدلے میں کوئی اجر طلب نہیں کرتے"۔ (اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْئَلُكُمْ أَجْراً)۔ یہ ان کی صداقت کی پہلی نشانی ہے کہ ان کی دعوت میں کسی قسم کی مادی منفعت نہیں ہے، وہ تم سے کوئی مال چاہتے ہیں اور نہ ہی جاہ و مقام، یہاں تک کہ وہ تو تشکر و سپاس گزاری بھی نہیں چاہتے اور نہ ہی کوئی اور صلہ۔ عظیم انبیاء کے خلوص، بےغرضی اور ان کی صفائے قلب کی نشانی کے طور پر بارہا آیاتِ قرآنی میں اس بات کا ذکر آیا ہے۔ صرف سورہ شعراء میں پانچ مرتبه " وَمَا أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ" کی تکرار ہے۔ [بحوالہ: سورہ شعراء آیہ ۱۰۹، ۱۲۷، ۱۴۵، ۱۶۴، ۱۸۰]۔ اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے: (علاوہ ازیں) یہ رسول جیسا ان کی دعوت کے مطالب اور ان کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے"کہ وہ ہدایت یافتہ افراد ہیں" (وَهُمْ مُهْتَدُونَ). یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ کسی کی دعوت کو قبول نہ کرنا یا تو اس بناء پر ہوتا ہے کہ اس کی دعوت حق نہیں ہے اور وہ بےراہروی اور گمراہی کی طرف کھینچ رہا ہے یا یہ کہ ہے تو حق لیکن اس کو پیش کرنے والے اس کے ذریعے کوئی خاص مفاد حاصل کر رہے ہیں کیونکہ یہ بات خود اس قسم کی دعوت کے بارے میں بدگمانی کا ایک سبب ہے لیکن جب نہ وہ بات ہو اور نہ یہ، تو پھر تامل و تردد کے کیا معنی؟ اس کے بعد قرآن ایک اور دلیل پیش کرتا ہے اور اصلِ توحید کے بارے میں بات کرتا ہے کیونکہ یہی انبیا کی دعوت کا اہم ترین نکتہ ہے کہتا ہے: "میں اس ہستی کی پرستش کیوں نہ کروں کہ جس نے مجھے پیدا کیا ہے"۔ (وَما لِيَ لا أَعْبُدُ الَّذِي فَطَرَنِي)۔ [تشریحی نوٹ: "ومالي لا اعبد .." میں کچھ محذوف ہے اور وہ تقدیر میں اس طرح تھا: اى شى‏ء لى اذا لم اعبد خالقى (مجمع البیان) بعض مفسرین نے "مالی" کو "لم" "کیوں" کے معنی میں لیا ہے۔ (تبیان، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں)]۔ وہ ہستی پرستش کے لائق ہے کہ جو خالق و مالک ہے اور نعمات بخشنے والی ہے، نہ کہ یہ بت کہ جن سے کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ فطرتِ سلیم کہتی ہے کہ خالق کی عبادت کرنا چاہیئے نہ کہ اس بےقدر و قیمت مخلوق کی۔ "فطرنی" (جس نے مجھے پیدا کیا ہے) ممکن ہے اس نکتے کی طرف بھی اشارہ ہو کہ میں جس وقت اپنی فطرتِ اصلی اور سرشتِ حقیقی پر غور کرتا ہوں تو اچھی طرح سے محسوس کرتا ہوں کہ میرے اندر سے ایک ایسی رسا آواز بلند ہوتی ہے کہ جو مجھے میرے خالق کی پرستش کی طرف دعوت دے رہی ہے۔ وہ دعوت کہ جو عقل و خرد کے ساتھ ہم آہنگ ہے، میں "فطرت" اور "عقل و خرد" کی اس دہری دعوت کو کس طرح اہمیت نہ دوں۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ وہ شخص یہ نہیں کہتا کہ " ما لكم لا تعبدون الذى فطركم" (تم اس خدا کی عبادت کیوں نہیں کرتے کہ جس نے تمہیں پیدا کیا ہے) بلکہ کہتا ہے کہ "میں کیوں اس طرح نہ کروں" یعنی خود اپنے آپ سے شروع کرتا ہے تاکہ بات زیادہ موثر ہو۔ اس کے بعد خبردار کرتا ہے کہ یاد رکھو "تم سب کے سب آخر کار اکیلے ہی اس کی طرف لوٹ کر جاؤ گے"۔ (وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ)۔ یعنی نہ صرف تمہارا اس جہان کی زندگی میں اس کے ساتھ تعلق ہے بلکہ دوسرے جہان میں بھی تمهاری ساری سرنوشت اسی کے دستِ قدرت میں ہو گی۔ ہاں! اسی کی طرف رخ کرو کہ دونوں جہانوں میں تمہاری سرنوشت جس کے اختیار میں ہے۔ اپنے تیسرے استدلال میں بتوں کی کیفیت بیان کرتا ہے اور خدا کے لیے عبودیت کے اثبات کو بتوں کی عبودیت کی نفی کے ذریعے تکمیل کرتے ہوئے کہتا ہے: "کیا میں خدا کے سوا اور معبود اپنا لوں، جبکہ خدا رحمٰن مجھے کچھ نقصان پہنچانا چاہے تو ان کی شفاعت مجھے معمولی سا فائدہ بھی نہ دے گی اور وہ مجھے اس کے عذاب سے نہ بچا سکیں گے"۔ (أَ أَتَّخِذُ مِنْ دُونِهِ آلِهَةً إِنْ يُرِدْنِ الرَّحْمنُ بِضُرٍّ لا تُغْنِ عَنِّي شَفاعَتُهُمْ شَيْئاً وَلا يُنْقِذُونِ)۔ اس مقام پر پھر اپنے بارے میں بات کرتا ہے تاکہ تحکم اور آمریت کا لہجہ نہ ہو اور دوسرے اپنا حساب خود کریں۔ وہ بت پرستوں کے بہانے کی نشاندہی کرتا ہے وہ کہتے تھے کہ ہم تو ان کی اسی بناء پر پرستش کرتے ہیں کہ وہ بارگاہ خدا میں ہمارے شفیع ہوں۔ کہتا ہے: کونسی شفاعت اور کونسی مدد و نجات؟ وہ تو خود تمهاری مدد کے محتاج ہیں، حوادث کی تنگنائے میں وہ تمہارا کیا کام دے سکتے ہیں۔ "الرحمن" کی تعبیر یہاں پر خدا کی رحمت کی وسعت اور تمام نعمتوں کی اسی کی طرف بازگشت ہونے کی جانب اشارہ ہے اور یہ خود توحید عبادت کی دلیل ہے اس کے علاوہ یہ اس نکتہ کو بھی بیان کرتی ہے کہ خدائے رحمٰن کسی کے لیے ضرر اور نقصان نہیں چاہتا مگر یہ کہ انسان کی غلط روش اپنے انتہائی درجہ کو پہنچ جائے جو اس کو خدا کی وسیع رحمت سے دور کر کے اس کے غضب کی وادی میں گرفتار کر دے۔ اس کے بعد یہ مجاہد مومن مزید تاکید و توضیح کے لیے کہتا ہے: اگر میں اس قسم کے بتوں کی پرستش کروں اور انہیں پروردگار کا شریک قرار دوں تو میں کھلی گمراہی میں ہوں گا"۔ (إِنِّي إِذاً لَفِي ضَلالٍ مُبِينٍ)۔ اس سے بڑھ کر کھلی گمراہی کیا ہو گی کہ عاقل و باشعور انسان ان بے شعور موجودات کے سامنے گھٹنے ٹیک دے اور انہیں زمین و آسمان کے خالق کے برابر جانے۔ اس مجاہد مومن نے ان استدلالات اور مؤثر و وسیع تبلیغات کے بعد ایک پرتاثیر آواز کے ساتھ سارے مجمع کے سامنے اعلان کیا سب لوگ جان لو کہ میں "ان رسولوں کی دعوت پر ایمان لایا ہوں اور میں نے ان رسولوں کی دعوت کو قبول کر لیا ہے"۔ (إِنِّي آمَنْتُ بِرَبِّكُمْ)۔ اس بناء پر میری باتوں کو سنو "اور جان لو کہ میں ان رسولوں کی دعوت پر ایمان رکھتا ہوں اور تم میری بات پر عمل کرو کہ یہی تمہارے فائدہ کی بات ہے (فَاسْمَعُونِ)۔ اس جملے میں اور اسی طرح " إِنِّي آمَنْتُ بِرَبِّكُم" میں مخاطب کون ہے؟ اس بارے میں عرض ہے کہ گزشتہ آیات کا ظاہر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہی مشرکین اور بت پرستوں کا گروہ ہے کہ جو اس شہر میں رہتا تھا "ربکم" (تمہارا پروردگار) کی تعبیر بھی اس معنی سے تضاد نہیں رکھتی کیونکہ یہ تعبیر قرآنِ مجید کی بہت سی آیات میں استدلالاتِ توحید بیان کرتے ہوئے آئی ہے۔ [بحوالہ: آیه ۳، ۳۲ يونس - ۳ ہود -۵۲ ہود - ۲۴ نحل - ۲۹ کہف وغیرہ کی طرف رجوع کریں]۔ نیز "فَاسْمَعُونِ" (میری بات پر کان دھرو) بھی اس بات کے ساتھ کہ جو بیان ہوئی کوئی مخالفت نہیں رکھتا کیونکہ وہ یہ لفظ انہیں اپنی گفتگو کی پیروی کرنے کی دعوت کے لیے کہتا ہے جیسا کہ مومن، آلِ فرعون کی داستان میں آیا ہے۔ وہ فرعرنیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے: يا قَوْمِ اتَّبِعُونِ أَهْدِكُمْ سَبِيلَ الرَّشاد۔ "اے میری قوم! میری پیروی کرو تاکہ میں تمہیں سیدھے راستے کی ہدایت کروں"۔ (مومن ـــ ۳۸) اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ جو بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس جملے میں وہ رسول مخاطب ہیں کہ جو خدا کی طرف سے اس قوم کو دعوت دینے کے لیے آئے تھے اور "ربکم" کی تعبیر اور فاسمعون کو اس پر قرینہ قرار دیا ہے، اس پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ آیئے اب دیکھتے ہیں کہ اس پاکباز مومن کے جواب میں اس ہٹ دھرم قوم کا ردِّعمل کیا تھا۔ قرآن نے اس سلسلے میں کوئی بات نہیں کہی لیکن بعد والی آیات کے لب و لہجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور اسے شہید کر دیا۔ ہاں! اس کی پرجوش اور ولولہ انگیز گفتگو قوی اور طاقتور استدلالات اور ایسے عمدہ و دلنشین نکات کے ساتھ تھی۔ مگر اس سے نہ صرف یہ کہ ان سیاه دلوں اور مکر و غرور سے بھرے ہوئے سروں پر کوئی مثبت اثر نہیں ہوا بلکہ کینہ و عداوت کی آگ ان کے دلوں میں ایسی بھڑکی کہ وہ اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے اور انتہائی سنگدلی اور بےرحمی سے اس شجاع مردِ مومن کی جان کے پیچھے پڑ گئے۔ ایک روایت کے مطابق انہوں نے اسے پتھر مارنے شروع کیے اور اس کے جسم کو اس طرح سے پتھروں کا نشانہ بنایا کہ وہ زمین پر گر پڑا اور جان، جان آفریں کے سپرد کر دی۔ اس کے لبوں پر مسلسل یہ بات تھی کہ "خداوندا! میری اس قوم کو ہدایت فرما کہ وہ جانتے نہیں ہیں"۔ [بحوالہ: تفسیر قرطبی، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں]۔ ایک اور روایت کے مطابق اسے اس طرح پاؤں کے نیچے روندا کہ اس کی روح پرواز کر گئی۔ [بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، تبیان، تفسير ابو الفتوح رازی وغیره]۔ لیکن قرآن اس حقیقت کو ایک عمدہ اور سربستہ جملہ کے ساتھ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: "اسے کہا گیا کہ جنت میں داخل ہو جا"۔ (قِيلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ)۔ یہ وہی تعبیر ہے کہ جو راہِ خدا کے شہیدوں کے بارے میں قرآن کی دوسری آیات میں بیان ہوئی ہے: وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِم یُرْزَقُوْن۔ "یہ گمان نہ کرو کہ جو لوگ راہِ خدا میں قتل کیے گئے ہیں وہ مردہ ہیں بلکہ وہ تو زنده جاوید ہیں اور اپنے پروردگار سے رزق پاتے ہیں"۔ (آلِ عمران ـــــ ۱۶۹) جاذبِ توجہ بات یہ ہے کہ یہ تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ مردِ مومن شہادت پاتے ہی جنت میں داخل ہو گیا۔ ان دونوں کے درمیان اس قدر کم فاصلہ تھا کہ قرآنِ مجید نے اپنی لطیف تعبیر میں اس کی شہادت کا ذکر کرنے کے بجائے اس کے بہشت میں داخل ہونے کو بیان کیا۔ شہیدوں کی منزل یعنی بہشت و سعادت کس قدر نزدیک ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ یہاں بہشت سے مراد برزخ والی بہشت ہے کیونکہ قرآنی آیات سے بھی اور روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ بہشت جاوداں مومنین کو قیامت میں نصیب ہو گی اور دوزخ بھی بدکاروں کے لیے اسی طرح ہے۔ اس بناء پر عالمِ برزخ میں ایک دوسری جنت و دوزخ ہے کہ جو قیامت کی جنت و دوزخ کا ایک نمونہ ہے جیسا کہ امیر المومنین علیؑ کی ایک روایت میں قبر کے بارے میں منقول ہوا ہے: القبر اما روضة من رياض الجنة أو حفرة من حفر النيران۔ "قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے"۔ [بحوالہ: بحار الانوار، جلد ۲ ص ۲۱۸]۔ بعض مفسرین نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ یہ جملہ اس خطاب کی طرف اشارہ ہے کہ جو قیامت کے دن اس مجاہد اور ایثار پیشہ مومن سے کیا جائے گا اور یہ مستقبل کا پہلو رکھتا ہے نہ کہ حال کا۔ یہ احتمال ظاہر آیہ کے خلاف ہے۔ بہرحال اس شخص کی پاک روح آسمانوں کی طرف رحمتِ الٰہی کے قرب اور بہشتِ نعیم کی طرف پرواز کر گئی اور وہاں اسے صرف یہ آرزو تھی کہ: "اے کاش میری قوم جان لیتی" (قالَ يا لَيْتَ قَوْمِي يَعْلَمُونَ)۔ "اے کاش وہ جان لیتے کہ میرے پروردگار نے مجھے اپنی بخشش اور عفو سے نوازا ہے اور مجھے مکرم لوگوں کی صف میں جگہ دی ہے"۔ (بِما غَفَرَ لِي رَبِّي وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُكْرَمِينَ)۔ [بحوالہ: "ما" " بِما غَفَرَ لِي رَبِّي" میں مصدریہ ہے یا موصولہ ہے یا استفہامیہ؟ تین احتمال ذکر کیے گئے لیکن استفہامیہ والا احتمال بعید نظر آتا ہے۔ دوسرے دو احتمالوں میں سے موصولہ والا احتمال زیادہ تر صحیح معلوم ہوتا ہے اگرچہ معنی کے لحاظ سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑتا]۔ اے کاش ان کی آنکھ حق بین ہوتی۔ ایسی آنکھ کہ جس پر مادی دنیا کے ضخیم پردے پڑے ہوئے نہ ہوتے اور جو کچھ اس پردے کے پیچھے ہے اسے دیکھ لیتے۔ یعنی وہ ان سب نعمتوں اور خدا کے اکرام و الطاف کو دیکھ لیتے اور جان لیتے کہ ان کی اہانتوں کے بدلے خدا نے میرے حق میں کیا لطف فرمایا ہے اے کاش! وہ دیکھتے اور ایمان لے آتے لیکن افسوس! ایک حدیث میں ہے کہ پیغمبر گرامی اسلامؐ نے فرمایا: انه نصح لهم فى حياته و بعد موته- "اس باایمان شخص نے اپنی زندگی میں بھی اپنی قوم کی خیرخواہی کی اور موت کے بعد بھی ان کی ہدایت کی آرزو رکھتا تھا۔ [بحوالہ: تفسير قرطبی جلد ۸ ص ۵۴۶۴]۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ وہ پہلے غفرانِ الٰہی کی نعمت کا ذکر کرتا ہے اور پھر اس کے اکرام کا۔ کیونکہ پہلے انسان کی روح کو گناہوں کی آلودگی سے مغفرت کے پانی کے ساتھ پاک ہونا چاہیے اور جب پاک ہو جائے تو پھر بساطِ قرب اور اکرامِ الٰہی کا مقام پاتا ہے۔ یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ خدا کا اکرام و اعزاز اور بزرگی بہت سے بندوں کو نصیب ہوتی ہے اور اصولاً "تقوٰی" اور "اکرام" دوش بدوش آگے بڑھتے ہیں جیسا کہ فرمایا گیا ہے: إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقاكُم (حجرات ـــــــ ۱۳) لیکن"اکرام" بطورِ کامل اور کسی شرط کے بغیر قرآنِ مجید میں دو گروہوں کے بارے میں آیا ہے۔ پہلا گروہ خدا کے مقرب فرشتے ہیں کہ جن کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ: بَلْ عِبادٌ مُكْرَمُونَ لا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ "وہ خدا کے مکرم بندے ہیں کہ جو بات کرنے میں اس پر سبقت نہیں کرتے اور اس کے فرمان پر کاربند رہتے ہیں"۔ (انبیاء - ۲۶- ۲۷) اور دوسرے کامل الایمان بندے کہ جنہیں قرآن نے "مخلصین" کے نام سے یاد کیا ہے اور ان کے بارے میں کہتا: أُولئِكَ فِي جَنَّاتٍ مُكْرَمُون "وہ جنت کے باغوں میں مکرم ہوں گے قدر ہوں گے"۔ (معارج ــــ ۳۵) [بحوالہ: المیزان، جلد ۱۷ ص ۸۶ زیرِ بحث آیات کے ذیل میں]۔ بہرحال یہ تو اس مردِ مومن اور سچے مجاہد کا انجام تھا کہ جس نے اپنی ذمہ داری کی انجام دہی اور خدا کے پیغمبروں کی حمایت میں کوئی کوتاہی نہیں کی اور آخر کار شربتِ شهادت نوش کیا اور خدا کے جوارِ رحمت میں جگہ پائی۔ لیکن آیئے دیکھیں کہ اس ظالم اور سرکش قوم کا انجام کیا ہوا؟ اگرچہ قرآن میں ان تین پیغمبروں کے انجامِ کار کے متعلق کوئی بات نہیں کی گئی کہ جو اس قوم کی طرف مبعوث ہوئے۔ لیکن بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس قوم نے، اس مرد مومن کو شہید کرنے کے علاوہ اپنے پیغمبروں کو بھی شہید کر دیا جبکہ بعض نے تصریح کی ہے کہ اس مرد مومن نے لوگوں کو اپنے ساتھ مشغول رکھا تاکہ وہ پیغبر اس سازش سے بچ جائیںــ جو ان کے خلاف کی گئی تھی۔ اور کسی پرامن جگہ منتقل ہو جائیں لیکن اس قوم پر خدا کا دردناک عذاب نازل ہوا کہ جس کی طرف بعد والی آیات میں ارشاد ہوا ہے یہ امر پہلے قول کی ترجیح کے لیے قرینہ ہے۔ اگرچہ "من بعده" (اس مرد مومن کی شہادت کے بعد) کی تعبیر نزولِ عذاب کے بارے میں ایک بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دوسرا قول صحیح ہے۔ (غور کیجئے گا) ہم نے دیکھا کہ شہر انطاکیہ کے لوگوں نے خدا کے پیغمبروں کی کیسے مخالفت کی۔ اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ان کا انجام کیا ہوا۔ قرآن اس بارے میں کہتا ہے: "ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر کوئی لشکر آسمان سے نہیں بھیجا اور اصولاً ہمارا طریقہ ہی نہیں ہے کہ ایسی سرکش اقوام کو نابود کرنے کے لیے ان امور سے کام لیں"۔ (وَما أَنْزَلْنا عَلى‏ قَوْمِهِ مِنْ بَعْدِهِ مِنْ جُنْدٍ مِنَ السَّماءِ وَما كُنَّا مُنْزِلِينَ)- ہم ان امور کے محتاج نہیں ہیں صرف ایک اشارہ ہی کافی ہے کہ جس سے ہم ان سب کو خاموش کر دیں اور انہیں دیارِ عدم کی طرف بھیج دیں اور ان کی زندگی کو درہم برہم کر دیں۔ صرف ایک اشارہ ہی کافی ہے کہ ان کے حیات کے عوامل ہی ان کی موت کے عامل میں بدل جائیں اور مختصر سے وقت میں ان کی زندگی کا وقت لپیٹ کر رکھ دیں۔ پھر قرآن مزید کہتا ہے: "صرف ایک آسمانی چیخ پیدا ہوئی، ایسی چیخ کہ جو ہلا دینے والی اور موت کا پیغام تھی اچانک سب پر موت کی خاموشی طاری ہو گئی"۔ (إِنْ كانَتْ إِلَّا صَيْحَةً واحِدَةً فَإِذا هُمْ خامِدُونَ)۔ کیا یہ چیخ بجلی کی کڑک تھی کہ جو بادل سے اٹھی اور زمین پر جا پڑی اور ہر چیز کو لرزه براندام کر دیا اور تمام عمارتوں کو تباہ کر دیا اور وہ سب خوف کی شدت سے موت کی آغوش میں چلے گئے؟ یا یہ ایسی چیخ تھی کہ جو زمین کے اندر سے ایک شدید زلزلے کی صورت میں اٹھی اور فضا میں دھماکہ ہوا اور اس دھماکے کی لہر نے انہیں موت کی آغوش میں سلا دیا۔ ایک چیخ وہ جو کچھ بھی تھی، لمحہ بھر سے زیادہ نہ تھی۔ وہ ایک ایسی آواز تھی کہ جس نے سب آوازوں کو خاموش کر دیا اور ایسی ہلا دینے والی تھی کہ جس نے تمام حرکتوں کو بےحرکت کر دیا اور خدا کی قدرت ایسی ہی ہے اور ایک گمراہ اور بےثمر قوم کا انجام یہی ہوتا ہے۔ بسوزند چوب درختان بى بر سزا خود همين است مربى برى را! "بےثمر درختوں کی لکڑی جلانے ہی کے کام آتی ہے کیونکہ بےثمر چیز کی سزا یہی ہے"۔ آخری زیر بحث آیت میں بہت ہی جامع اور موثر انداز میں تاریخ کے تمام سرکشوں کے دعوتِ انبیاء سے ٹکراؤ کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: "افسوس ہے ان بندوں پر کہ کوئی ایسا پیغمبر ان کی ہدایت کے لیے نہیں آیا جس کا انہوں نے مذاق نہ اڑایا ہو"۔ (يا حَسْرَةً عَلَى الْعِبادِ ما يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كانُوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ)۔ وائے ہے ان لوگوں پر کہ جنہوں نے خدا کی رحمت کا دریچہ خود سے بند کر لیا۔ افسوس ان پر کہ جہنوں نے اپنی ہدایت کے چراغ توڑ ڈالے۔ ہائے سعادت سے محروم وہ لوگ کہ جو نہ صرف پیغمبروں کی نِدا پر کان نہیں دھرتے بلکہ ان کا مذاق اڑانے لگتے ہیں اور پھر انہیں تہ تیغ کر دیتے ہیں حالانکہ گزشتہ بےایمان سرکشوں کا برا انجام دیکھ چکے ہیں اور ان کے دردناک انجام کے بارے میں سن چکے ہیں یا تاریخ کے صفحات میں پڑھ چکے ہیں لیکن انہوں نے کچھ بھی تو عبرت حاصل نہیں کی اور انہوں نے بھی اسی وادی میں قدم رکھ دیا اور اس انجام میں گرفتار ہو گئے۔ واضح رہے کہ یہ جملہ خدا کی گفتار ہے چونکہ یہ تمام آیات اس کی طرف سے بیان ہو رہی ہیں۔ البتہ "حسرت" کا لفظ ان واقعات پر کہ جن کے بارے میں انسان سے کچھ ہو نہ سکے اندرونی پریشانی کے معنی میں ہوتا ہے۔ خدا کے بارے میں یہ لفظ کوئی معنی نہیں رکھتا جیسا کہ "خشم" اور "غضب" اور اس قسم کے دیگر امور بھی اس کے بارے میں کوئی مفہوم نہیں رکھتے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ان بدبختوں کا حال ایسا تھا کہ جو انسان بھی ان کی کیفیت سے آگاہ ہوتا، وہ متاسف و متاثر ہوتا کہ وہ نجات کے ان تمام وسائل کے ہوتے ہوئے اس ہولناک گرداب میں کیوں غرق ہو گئے۔ [تشریحی نوٹ: راغب مفردات میں کہتا ہے کہ "حسرت" اس چیز پر غم کے معنی میں ہے کہ جو انسان کے ہاتھ سے نکل جائے]۔ "عباد" (خدا کے بندے) کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تعجب اس چیز پر ہے کہ خدا کے بندے کہ جو اس کی نعمتوں میں مستغرق ہیں اس قسم کا جرم کرتے ہیں۔

چند اہم نکات: ۱- انطاکیہ کے رسولوں کی داستان

انطاکیہ، شام کے علاقہ کا ایک قدیم شہر ہے بعض کے قول کے مطابق یہ شہر مسیح علیہ السلام سے تین سو سال پہلے تعمیر ہوا۔ یہ شہر قدیم زمانے میں دولت و ثروت اور علم و تجارت کے لحاظ سے مملکتِ روم کے تین بڑے شہروں میں سے ایک شمار ہوتا تھا۔ شہر انطاکیہ حلب سے ایک سو کلومیٹر سے کچھ کم اور اسکندریہ سے تقریباً ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ شہر خلیفہ ثانی کے زمانہ میں ابو عبیدہ جراح کے ہاتھوں فتح ہوا اور رومیوں کے ہاتھوں سے نکل گیا۔ اس میں رہنے والے لوگ عیسائی تھے۔ انہوں نے جزیہ دینا قبول کر لیا اور اپنے مذہب پر باقی رہ گئے۔ [بحوالہ: فرہنگ قصص قرآن ماده "انطاکیہ" ص ۳۲۰]۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد یہ شہر فرانسیسیوں کے قبضہ میں آ گیا۔ اہلِ انطاکیہ زیادہ ترعیسائی اور فرانسیسیوں کے ہم مذہب تھے اس لیے جب فرانسیسیوں نے اسے چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو اس بات کے پیشِ نظر کہ ان کے شام سے نکلنے کے بعد اس ملک میں ہونے والے فتنہ و فساد سے عیسائیوں کو کوئی گزند نہ پہنچے، انہوں نے اسے ترکی کے حوالے کر دیا۔ انطاکیہ عیسائیوں کی نگاہ میں اسی طرح سے دوسرا مذہبی شہر شمار ہوتا ہے جس طرح سے مسلمانوں کی نظرمیں مدینہ ہے اور ان کا پہلا شہر بیت المقدس ہے کہ جس سے حضرت عیسٰیؑ نے اپنی دعوت کی ابتداء کی اور اس کے بعد حضرت عیسٰیؑ پر ایمان لانے والوں میں سے ایک گروہ نے انطاکیہ کی طرف ہجرت کی اور پولس اور برنابا [تشریحی نوٹ: "پولس" مشہور عیسائی مبلغ ہے۔ اس نے حضرت عیسیؑ کے بعد عیسائیت پھیلانے میں بہت کوشش کی ہے اور "برنابا" کا اصلی نام "یوسف" ہے اور وه "پولس" اور "مرقس" کے اصحاب میں سے تھا۔ اس کی ایک انجیل ہے جس میں پیغمبرِ اسلامؐ کے ظہور کی بہت زیادہ بشارتیں نظر آتی ہیں لیکن عیسائی اسے غیرقانونی شمار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ ایک مسلمان نے لکھی ہے] شہروں کی طرف گئے۔ انہوں نے لوگوں کو اس دین کی طرف دعوت دی۔ وہاں سے دین عیسوی نے وسعت حاصل کی۔ اسی بنا پر قرآنِ مجید میں اس شہر کے بارے میں (زیرِ بحث آیات میں) خصوصیت کے ساتھ گفتگو ہوئی ہے۔ [تفسیر ابو الفتوح رازی حاشیہ از مرحوم عالمِ بزرگوار شعرانی]۔ مفسر عالی قدر طبرسی مجمع البیان میں کہتے ہیں: حضرت عیسیؑ نے حواریین میں سے اپنے دو نمائندے انطاکیہ کی طرف بھیجے جس وقت وہ شہر کے پاس پہنچے تو انہوں نے ایک بوڑھے آدمی کو دیکھا کہ جو چند چیزیں چرانے کے لیے لایا تھا۔ یہ "حبیب" صاحبِ یس تھا۔ انہوں نے اسے سلام کیا۔ بوڑھے نے جواب دیا اور پوچھا کہ تم کون ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم عیسٰی کے نمائندے ہیں، ہم اس لیے آئے ہیں کہ تمہیں بتوں کی عبادت کے بجائے خدائے رحمان کی طرف دعوت دیں۔ بوڑھے نے کہا کہ کیا تمہارے پاس کوئی معجزہ یا نشانی بھی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! ہم بیماروں کو شفا دیتے ہیں اور مادر زاد اندھوں اور برص میں مبتلا لوگوں کو حکمِ خدا سے صحت و تندرستی بخشتے ہیں۔ بوڑھے نے کہا: میرا ایک بیمار بیٹا ہے کہ جو سالہا سال سے بستر پر پڑا ہے۔ انہوں نے کہا: ہمارے ساتھ چلو تاکہ ہم تمهارے گھر جا کر اس کا حال معلوم کریں۔ بوڑھا ان کے ساتھ چل پڑا۔ انہوں نے اس کے بیٹے پر ہاتھ پھیرا تو وہ صحیح و سالم اپنی جگہ پر اٹھ ہوا۔ یہ خبر پورے شہر میں پھیل گئی اور خدا نے اس کے بعد بیماروں میں سے ایک کثیر گروہ کو ان کے ہاتھ سے شفا بخشی۔ ان کا بادشاہ بت پرست تھا۔ جب اس تک خبر پہنچی تو اس نے انہیں بلا بھیجا اور ان سے پوچھا کہ تم کون لوگ ہو؟ انہوں نے کہا: کہ ہم عیسٰی کے فرستادہ ہیں، ہم اس لیے آئے ہیں کہ یہ موجودات جو نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں ان کی عبادت کے بجائے ہم تمہیں اسی کی عبادت کی طرف دعوت دیں جو سنتا بھی ہے اور ایسا دیکھتا بھی ہے۔ بادشاہ نے کہا: کیا ہمارے خداؤں کے علاوہ کوئی اور معبود بھی موجود ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! وہی کہ جس نے تجھے اور تیرے معبودوں کو پیدا کیا ہے۔ بادشاہ نے کہا: اٹھ جاؤ کہ میں تمهارے بارے میں کچھ سوچ بچار کروں۔ یہ ان کے لیے ایک دھمکی تھی۔ اس کے بعد لوگوں نے ان دونوں کو بازار میں پکڑ کر مارا پیٹا۔ لیکن ایک دوسری روایت میں ہے کہ عیسٰی کے ان دونوں نمائندوں کو بادشاہ تک رسائی حاصل نہ ہوئی اور ایک مدت تک وہ اس شہر میں رہے۔ ایک دن بادشاہ اپنے محل سے باہر آیا ہوا تھا تو انہوں نے تکبیر کی آواز بلند کی اور "اللہ" کا نام عظمت کے ساتھ لیا- بادشاه غضبناک ہوا اور انہیں قید کرنے کا حکم دے دیا اور ہر ایک کو سو کوڑے مارے۔ جس وقت عیسٰی کے ان دونوں نمائندوں کی تکذیب ہو گئی اور انہیں زد و کوب کیا گیا تو حضرت عیسٰی نے شمعون الصفا کو ان کے پیچھے روانہ کیا وہ حواریوں کے بزرگ تھے۔ شمعون اجنبی صورت میں شہر میں پہنچے اور بادشاہ کے اطرافیوں سے دوستی پیدا کر لی، انہیں ان کی دوستی بہت بھائی اور ان کے بارے میں بادشاہ کو بھی بتایا۔ بادشاہ نے بھی ان کو دعوت دی اور انہیں اپنے ہمنشینوں میں شامل کر لیا۔ بادشاہ ان کا احترام کرنے لگا۔ شمعون نے ایک دن بادشاہ سے کہا: میں نے سنا ہے کہ دو آدمی آپ کی قید میں ہیں اور جس وقت انہوں نے آپ کو آپ کے دین کے بجائے کسی دوسرے دین کی دعوت دی تو آپ نے انہیں مارا پیٹا؟ کیا کبھی آپ نے ان کی باتیں سنی بھی ہیں؟ بادشاہ نے کہا: کہ مجھے ان پر اتنا غصہ آیا کہ میں نے ان کی کوئی بات نہیں سنی۔ شمعون نے کہا: اگر بادشاہ مصلحت سمجھیں تو انہیں بلا لیں تاکہ ہم دیکھیں تو سہی کہ ان کے پلے ہے کیا۔ بادشاہ نے انہیں بلا لیا شمعون نے یوں ظاہر کیا جیسے انہیں پہچانتے ہی نہ ہوں اور ان سے کہا: تمہیں یہاں اس نے بھیجا ہے؟ انہوں نے کہا: "اس خدا نے کہ جس نے سب کو پیدا کیا ہے اور جس کا کوئی شریک نہیں ہے"۔ شمعون نے کہا: تمهارا معجزہ اور نشانی کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جو کچھ تم چاہو! بادشاہ نے حکم دیا اور ایک اندھے غلام کو لایا گیا جسے انہوں نے حکمِ خدا سے شفا بخشی بادشاہ کو بہت تعجب ہوا- اس مقام پر شمعون بول اٹھے اور بادشاہ سے کہا: اگر آپ اس قسم کی درخواست اپنے خداؤں سے کرتے تو کیا وہ بھی اس قسم کے کام کی قدرت رکھتے تھے؟ بادشاہ نے کہا: تم سے کیا چھپا ہوا ہے۔ ہمارے یہ خدا کہ جن کی ہم پرستش کرتے ہیں نہ تو کوئی ضرر پہنچا سکتے ہیں، نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی اور خاصیت رکھتے ہیں۔ اس کے بعد بادشاہ نے ان دونوں سے کہا: اگر تمہارا خدا مردے کو زندہ کر سکتا ہے تو ہم اس پر اور تم پر ایمان لے آئیں گے۔ انہوں نے کہا: ہمارا خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ بادشاہ نے کہا: یہاں ایک مردہ ہے جسے مرے ہوئے سات دن گزر چکے ہیں ابھی تک ہم نے اسے دفن نہیں کیا۔ ہم اس انتظار میں ہیں کہ اس کا باپ سفر سے آ جائے۔ اسے زندہ کر دکھاؤ۔ مردہ کو لایا گیا تو وہ دونوں تو آشکار دعا کر رہے تھے اور شمعون دل ہی دل میں- اچانک مردے میں حرکت پیدا ہوئی اور وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور کہا کہ میں سات روز سے مر چکا ہوں میں نے جہنم کی آگ اپنی آنکھ سے دیکھی ہے اور میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ تم سب خدائے یگانہ پر ایمان لے اؤ۔ بادشاہ نے تعجب کیا۔ جس وقت شمعون کو یقین ہو گیا کہ اس کی باتیں اس پر اثر کر گئی ہیں تو اسے خدائے یگانہ کی طرف دعوت دی اور وہ ایمان لےآیا اور اس کے ملک کے باشندے بھی اس کے ساتھ ایمان لے آئے۔ اگرچہ کچھ لوگ اپنے کفر پر باقی رہے۔ اس روایت کی نظر تفسیر عیاشی میں امام باقرؑ اور امام صادقؑ سے بھی نقل ہوئی ہے، اگرچہ ان کے درمیان کچھ فرق ہے۔ [بحوالہ: تفسير مجمع البیان، جلد ۸ ص ۴۱۹ زیر بحث آیات کے ذیل میں (تلخیص کے ساتھ)]۔ لیکن گزشتہ آیات کے ظاہر کی طرف توجہ کرتے ہوئے اس شہر والوں کا ایمان لانا بہت بعید نظر آتا ہے کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ وہ صیحۂ آسمانی کے ذرایعہ ہلاک ہو گئے۔ ممکن ہے کہ روایت کے اس حصہ میں راوی سے اشتباہ ہوا ہو۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ زیر بحث آیات میں "مرسلون" کی تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ پیغمبر اور خدا کے بھیجے ہوئے تھے۔ علاوہ ازیں قرآن کہتا ہے کہ شہر کے لوگوں نے ان سے کہا کہ تم ہم جیسے بشر ہونے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو اور خدا نے کوئی چیز نازل نہیں فرمائی۔ قرآنِ مجید میں اس قسم کی تعبیرات عام طور پر خدائی پیغمبروں کے بارے میں آئی ہیں، یہ کہنا کہ پیغمبروں کے بھیجے ہوئے بھی تو خدا کے بھیجے ہوئے ہیں تو یہ توجیہ یہاں بعید نظر آتی ہے۔

۲- اس داستان کے تربیتی اور اصلاحی نکات

زیرِ بحث آیات میں اس داستان کے بارے میں جو کچھ بیان ہوا ہے اس سے بہت سے مسائل سیکھے جا سکتے ہیں کہ جن میں سے کچھ حسبِ ذیل ہیں: (ا) صاحبِ ایمان افراد راهِ خدا میں کبھی بھی تنہائی سے نہیں گھبراتے۔ جیسا کہ ایک مردِ مومن حبیب نجار شہر کے مشرکین کے انبوہ سے وحشت زدہ نہیں ہوا۔ علی علیہ السلام فرماتے ہیں: أيّها الناس! لا تستوحشوا فى طريق الهُدى لقلة اهله اے لوگو! ہدایت کی راہ میں افراد کی کمی سے کبھی بھی وحشت نہ کرو۔ [بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ۲۰۱]۔ (ب) مومن لوگوں کی ہدایت کا عاشق ہوتا ہے اور ان کی گمراہی سے اسے دکھ پہنچتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنی شہادت کے بعد بھی یہ آرزو رکھتا ہے کہ اے کاش! دوسرے لوگ اس کے مقامات کو دیکھ لیتے اور ایمان لے آتے۔ (ج) انبیاء کی دعوت کے مطالب خود اس کی ہدایت و حقانیت کے بہترین گواہ ہوتے ہیں (و هم مھتدون)۔ (د) اللہ کی طرف دعوت میں کسی بھی اجر پر نگاہ نہیں ہونی چاہیئے ورنہ وہ اثرانداز نہ ہو سکے گی۔ (ه) بعض اوقات گمراہی کا عامل پوشیدہ نہیں ہوتا بلکہ یہ عامل ضلالِ مبین اور آشکار ہوتا ہے اور بت پرستی و شرک "ضلالِ مبین" اس کا واضح مصداق ہیں۔ (و) مردانِ حق حقیقتوں پر تکیہ کرتے ہیں اور گمراہ لوگ موہومات و خیالات پر۔ (ز) اگر نحوست و بدبختی موجود ہو تو اس کا سرچشمہ خود انسان اور اس کے اعمال ہیں۔ (ح) "اسراف" اور تجاوز بہت سی بدبختیوں اور انحرافات کا عامل ہے۔ (ط) پیغمبروں اور ان کے راستے پر چلنے والوں کا فریضہ "بلاغ مبین" اور ہر میدان میں واضح و آشکار دعوت دینا ہے۔ چاہے لوگ اُسے قبول کریں یا نہ کریں۔ (ی) اجتماع و جمعیت کامیابی، عزت اور قوت کے اہم عوامل میں سے ایک ہے (و عززناهما بثالث)۔ (ک) خدا سرکش لوگوں کی سرکوبی کے لیے آسمان و زمین کے عظیم لشکر جمع نہیں کرتا بلکہ ایک ہی اشارے سے ان کی ہر چیز درہم برہم کر دیتا ہے۔ (ل) شہادت اور بہشت کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہے اور شہید اپنی سواری سے زمین پر آنے سے کی حور العین کی آغوش میں پہنچ جاتا ہے۔ (م) خدا انسان کو پہلے تو گناہ کی آلودگی سے پاک کرتا ہے اور پھر اسے اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دیتا ہے (بِما غَفَرَ لِي رَبِّي وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُكْرَمِينَ)۔ (ن) دشمنانِ حق کی مخالفت اور سختی سے گھبرانا نہیں چاہیئے کیونکہ پوری تاریخ میں یہ ان کا ہمیشہ سے طریقہ رہا ہے۔ (يا حَسْرَةً عَلَى الْعِبادِ ما يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كانُوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ)۔ اس سے بڑھ کر اور کونسی حسرت کی بات ہو گی کہ انسان ہدایت کے دروازوں کو تعصب، ہٹ دھرمی اور غرور کی بناء پر اپنے اوپر بند کر دے اور حق کے آفتاب عالمتاب کو نہ دیکھے۔ (س) انبیاء پر سب سے پہلے ایمان لانے والے معاشرے کے مستضعفین ہوا کرتے تھے (وَجاءَ رَجُلٌ مِنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ)۔ (ع) وہی لوگ تھے کہ جو راہِ طلب میں کبھی تھکے نہیں تھے اور ان کی سعی و کوشش ہمیشہ جاری رہتی تھی (یسعٰی)۔ (ف) تبلیغ کا طریقہ انبیاءِ الٰہی سے ہی سیکھنا چاہیے کہ جو بےخبر دلوں پر تاثیر کرنے کے لیے تمام موثر طریقوں سے استفادہ کرتے تھے کہ جن کا ایک نمونه زیرِ نظر آیات اور ان روایات میں کہ جو ان کی تفسیر میں آئی ہیں، مشاہدے میں آتا ہے۔

۳- برزخ کی سزا و جزاء

زیرِ بحث آیات میں ہے مذکورہ "مومن" نے شہادت کے بعد خدائی بہشت میں جگہ پائی اور وہ یہ آرزو رکھتا تھا کہ اے کاش! پیچھے رہ جانے والے اس کی قسمت سے آگاہ ہو جاتے۔ یقیناً یہ آیات شہداء سے مربوط آیات کی طرح قیامت والی ابدی و جاودانی جنت سے مربوط نہیں ہیں جس میں آیات قرآنی کے مطابق مردوں کے قیامت میں اٹھنے اور محشر کے حساب و کتاب کے بعد داخلہ ہو گا۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ ہمارے لیے برزخ میں بھی ایک طرح کی جنت و دوزخ ہے کہ جس میں شہید تو نعمتوں سے بہرہ ور ہوتے ہیں اور"آلِ فرعون" جیسے سرکش صبح و شام اس کی آگ میں معذب ہوتے ہیں۔ اس مطلب کی طرف توجہ کرتے ہوئے بہت سے ایسے مسائل حل ہو جاتے ہیں کہ جو بہشت و دوزخ کے بارے میں پیدا ہوتے ہیں۔ جیسا کہ معراج کی روایات اور اس جیسے دیگر واقعات کے بارے میں پیدا ہونے والے سوالات۔

۴- امتوں میں سب سے سبقت کرنے والے

تفسیر ثعلبی میں پیغمبرِ گرامی اسلامؐ سے منقول ہے: سباق الامم ثلاثة لم يكفروا بالله طرفة عين علي بن ابي طالب و صاحب یٰس و مؤمن آل فرعون فھم الصديقون وعلى افضلھم۔ "امتوں میں سب سے سبقت کرنے والے تین افراد ہیں کہ جہنوں نے ایک چشمِ زدن کے لیے ہرگز خدا سے کفر نہیں کیا، علی بن ابی طالب اور صاحب یٰس (حبیب نجار) اور مومن آلِ فرعون۔ انہوں نے اپنے زمانے کے پیغمبر کی (قولاً اور عملاً) تصدیق کی ہے اور على ان سب سے افضل و برتر ہیں"۔ [مجمع البیان، تفسیر قرطبی، المیزان اور نور الثقلین]۔ یہی معنی و مفہوم تفسیر درمنثور میں ایک دوسری عبارت سے رسول اللہؐ سے نقل ہوا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: الصديقون ثلاثة: حبيب النجار مؤمن آل يٰس الذى قال يا قوم اتبعوا المرسلين، و حزقيل مؤمن آل فرعون الذى قال أ تقتلون رجلا ان يقول ربى الله، و على بن ابى طالب (ع) و هو افضلهم۔ "انبیاء کی تصدیق کرنے والے تین آدمی تھے حبیب نجار مومن آلِ یٰس (کہ جس نے پکار کر یہ کہا کہ اے میری قوم! خدا کے رسولوں کی پیروی کرو اور حزقیل مومن آلِ فرعون! موسی کا دفاع کیا اور ان کی حمایت کرتے ہوئے ان کے قتل کی سازش کے مقابلے میں جو فرعونیوں کی طرف سے ترتیب دی گئی تھی) کہا: کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے؟ اور علی بن ابی طالب کو جو ان سب سے افضل و برتر ہیں۔ [بحوالہ: المیزان، جلد ۱۷ ص ۸۶ بحوالہ تفسیر درمنثور]۔

31
36:31
أَلَمۡ يَرَوۡاْ كَمۡ أَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُم مِّنَ ٱلۡقُرُونِ أَنَّهُمۡ إِلَيۡهِمۡ لَا يَرۡجِعُونَ
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی اقوام کو (ان کے گناہوں کی بنا پر) ہلاک کیا ہے۔ وہ ہرگز ان کی طرف واپس نہیں لوٹیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔

32
36:32
وَإِن كُلّٞ لَّمَّا جَمِيعٞ لَّدَيۡنَا مُحۡضَرُونَ
اور وہ سب کے سب قیامت کے دن ہمارے پاس حاضر ہوں گے۔

دائمی غفلت

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

گزشتہ آیات زمانۂ ماضی میں دنیا کے لوگوں کے ایک بڑے حصے کی مسلسل غفلت کے بارے میں گزری ہے۔ اب ان آیات میں فرمایا گیا ہے: "کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے پہلی اقوام میں سے بہت سے افراد کو ان کے ظلم اور سرکشی کے سبب ہلاک کر ڈالا"۔ (أَ لَمْ يَرَوْا كَمْ أَهْلَكْنا قَبْلَهُمْ مِنَ الْقُرُونِ)۔ [تشریحی نوٹ: زیرِ نظر آیت میں استفہام، تقریری استفہام ہے اور "كم" خبریہ ہے اور یہاں کثرت کے معنی میں آیا ہے اور (يَرَوْا) کا مفعول ہے اور (مِنَ الْقُرُونِ) اس کا بیان ہے۔ "قرون" جیسا کہ ہم نے پہلے بھی بیان کیا ہے "قرن" کی جمع ہے کہ جو طویل زمانے کے معنی میں بھی بولا گیا ہے اور ایسے لوگوں کے معنی میں بھی کہ جو ایک ہی زمانے میں زندگی بسر کرتے ہیں]۔ یہ کوئی پہلا گروہ نہیں ہے کہ جس نے روئے زمین پر قدم رکھا ہے بلکہ ان سے پہلے دوسری سرکش قومیں بھی اس جہان میں زندگی بسر کرتی رہی ہیں ان کا دردناک انجام کہ جو تاریخ کے صفحات پر ثبت ہے اور ان کے غم انگیز آثار کہ جو ان کے شہروں کے ویرانوں میں باقی رہ گئے ہیں، ان کی آنکھوں کے سامنے موجود ہیں، کیا اتنا کچھ درس عبرت کے لیے کافی نہیں ہے؟ اس بارے میں کہ " أَ لَمْ يَرَوْا " (کیا انہوں نے دیکھا نہیں) میں جمع کی ضمیر کس کی طرف لوٹتی ہے مفسرین نے کئی احتمال ذکر کیے ہیں: پہلا احتمال یہ ہے کہ یہ ضمیر "اصحاب القرية" کی طرف لوٹتی ہے کہ جن کے بارے میں گزشتہ آیات میں گفتگو ہوئی ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد اہلِ مکہ ہیں کہ جنہیں یہ آیات تنبیہ کرنے اور خبردار کرنے کے لیے نازل ہوئی ہیں۔ لیکن گزشتہ آیت (يا حَسْرَةً عَلَى الْعِبادِ....) اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس سے مراد تمام انسان ہیں کیونکہ مذکورہ آیت میں لفظ "عباد" پوری تاریخ کے ان تمام انسانوں کے لیے ہے جو خدا کے بھیجے ہوئے افراد کی تکذیب کرتے اور مذاق اڑاتے تھے بہرحال یہ عالم کے تمام لوگوں کو ایک دعوت ہے کہ وہ گزشتہ لوگوں کی تاریخ کا غور کے ساتھ مطالعہ کریں اور ان کے باقی ماندہ آثار کو دیکھیں اور انہیں عبرت حاصل کرنے کے لیے دل کی نگاہوں سے دیکھیں اور سرکشوں کے ویران محلوں کے ایوانوں کو آئینہ عبرت سمجھیں۔ آیت کے آخر میں قرآن مزید کہتا ہے: "وہ کبھی بھی ان کی طرف نہیں لوٹیں گے"۔ (أَنَّهُمْ إِلَيْهِمْ لا يَرْجِعُونَ)۔ [تشریحی نوٹ: یہ جملہ " كَمْ أَهْلَكْنا " کا بدل ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے: أ لم يروا أنهم إليهم لا يرجعون ۔ بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ یہ جملہ حالیہ ہے (ہلاک ہونے والوں کا حال)]۔ سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ دنیا کی طرف بازگشت اور گزشتہ گناہوں اور بدبختیوں کی تلافی کا امکان باقی نہیں رہا۔ ان کے گزشتہ سفر کے تمام پل تباہ ہو چکے ہیں اور اب ان کا لوٹ کر جانا ممکن ہی نہیں رہا۔ یہ تفسیر اس بات کی مانند ہے کہ جو علی علیہ السلام نے مردوں سے عبرت حاصل کرنے کی دعوت دیتے ہوئے نہج البالاغہ کے ایک خطبہ میں ارشاد فرمائی ہے: لا عن قبيح يستطيعون إنتقالا و لا فى حسن يستطيعون إزديادا "نہ تو اس بات ہی کا امکان ہے کہ وہ اپنے قبیح اعمال سے نکل سکیں گے اور نہ ہی وہ اس بات کی طاقت رکھتے ہیں کہ اپنی نیکیوں میں اضافہ کر سکیں (کیونکہ واپس لوٹنے کی راہ بند ہو چکی ہے اور تلافی کا امکان نہیں رہا)"۔ (نہج البلاغہ خطبہ ۱۸۸) بعد والی آیت میں قرآن مزید کہتا ہے: "وہ سب کے سب بِلا استثناء قیامت کے دن ہمارے پاس حاضر ہوں"۔ (وَإِنْ كُلٌّ لَمَّا جَمِيعٌ لَدَيْنا مُحْضَرُونَ)۔ [تشریحی نوٹ: اس آیت کی ترکیب کے بارے میں مفسرین کے درمیان مشہور ہے کہ "ان" نافیہ ہے (اور بعض نے کہا ہے کہ یہ محففہ ہے۔ اسی بناء پر اس نے اپنے مابعد کو نصب نہیں دیا) اور "لمّا" "الا" کے معنی میں ہے کیونکہ "لمّا" کا "الا" کے معنی میں آنا عرب ادباء کے کلام میں صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ اس بنا پر"کسائی" کی مخالفت سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور "جمیع" "مجموع" کے معنی میں "کل" خبر ہے ("کل" کی تنوین مضاف الیہ محذوف کا بدل ہے اور اصل میں یہ "کلھم" تھا اور "محضرون" یا تو خبر کے بعد خبر ہے یا جمیع کی صفت ہے، اسی طرح سے اس جملے کا معنی کچھ اس طرح ہو گا: و ما كلهم إلا مجموعون يوم القيامه محضرون لدينا۔ "اور نہیں ہیں وہ سب کے سب مگر قیامت کے دن اکٹھے مجموعی طور پر ہمارے پاس حاضر ہوں گے"]۔ یعنی اس طرح نہیں ہے کہ اگر وہ ہلاک ہو گئے اور اس جہان میں واپس نہ پلٹ سکے تو مسئلہ ختم ہو جائے گا۔ موت حقیقت میں نہ تو ابتدائے کار ہے اور نہ ہی انتہائے کار، بلکہ وہ سب کے سب بہت جلد عرصہ محشر میں حساب کتاب کے لیے جمع ہوں گے اور اس کے بعد دردناک عذابِ الٰہی کہ جو ایک مسلسل اور دائمی سزا ہو گی ان کا منتظر ہے۔ تو ان حالات میں کیا ہے یہ عبرت حاصل کرنے کا مقام نہیں ہے؟ کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو ان کے سے انجام میں مبتلا نہ کریں اور جب تک کچھ بھی موقع باقی ہے اس ہولناک گرداب سے دور رہیں۔ ہاں! اگر موت پر ہر چیز کا خاتمہ ہو جانا ہوتا تو یہ بات ممکن تھی کہ وہ کہتے کہ یہ زندگی تو ہمارے سکون و راحت کی ابتدا ہے۔ لیکن افسوس کہ اس طرح نہیں ہے اور بقول شاعر: و لو انا اذا متنا تركنا لكان الموت راحة كل حى‏ و لكنا اذا متنا بعثنا و نسأل بعده عن كل شى‏ء! "اگر ہمیں مر جانے کے بعد اپنی حالت پر چھوڑ دیا جاتا تو موت تمام زندوں کے لیے راحت و آرام کا با عث ہوتی"۔ "لیکن جب ہم مر جائیں گے تو ہم دوبارہ زندہ ہوں گے اور اس کے بعد ہم سے ہر چیز کے متعلق سوال ہو گا"۔

33
36:33
وَءَايَةٞ لَّهُمُ ٱلۡأَرۡضُ ٱلۡمَيۡتَةُ أَحۡيَيۡنَٰهَا وَأَخۡرَجۡنَا مِنۡهَا حَبّٗا فَمِنۡهُ يَأۡكُلُونَ
مردہ زمین بھی ان کے لئے ایک نشانی ہے۔ ہم نے اسے زندہ کیا اور اس سے دانے نکالے۔ اسی میں سے وہ کھاتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

34
36:34
وَجَعَلۡنَا فِيهَا جَنَّـٰتٖ مِّن نَّخِيلٖ وَأَعۡنَٰبٖ وَفَجَّرۡنَا فِيهَا مِنَ ٱلۡعُيُونِ
اور ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغات اگائے اور اس میں چشمے جاری کیے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

35
36:35
لِيَأۡكُلُواْ مِن ثَمَرِهِۦ وَمَا عَمِلَتۡهُ أَيۡدِيهِمۡۚ أَفَلَا يَشۡكُرُونَ
تاکہ وہ اس کے پھل کھائیں جبکہ اس کے بنانے میں ان کے ہاتھ کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ کیا وہ خدا کا شکر ادا نہیں کرتے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

36
36:36
سُبۡحَٰنَ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلۡأَزۡوَٰجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنۢبِتُ ٱلۡأَرۡضُ وَمِنۡ أَنفُسِهِمۡ وَمِمَّا لَا يَعۡلَمُونَ
منزہ ہے وہ ذات کہ جس نے زمین سے اگنے والی چیزوں کے اور خود انہی لوگوں کے اور ان چیزوں کے جنہیں یہ نہیں جانتے سب کے جوڑے پیدا کیے ہیں۔

کچھ اور نشانیاں

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

گزشتہ آیات میں فرستادگانِ الٰہی کی شرک و بت پرستی کے خلاف جدوجہد کے بارے میں گفتگو تھی۔ نیز گزشتہ آخری آیت میں مسئلہ معاد کی طرف اشارہ ہوا تھا۔ اب زیرِ بحث آیات توحید و معاد کی نشانیوں کو یکجا بیان کرتی ہیں تاکہ یہ نشانیاں منکرین کے لئے بیداری اور مبدا و معاد پر ایمان لانے کا ذریعہ بن جائیں۔ ان آیات میں پہلے مردہ زمینوں کے زندہ کرنے اور ان برکات سے کہ جن سے انسان فائده اٹھاتے ہیں بحث کی گئی ہے فرمایا گیا ہے: "مرده زمین بھی ان کے لیے ایک نشانی ہے (مبداء و معاد کی) ہم نے اسے زندہ کیا اور اس سے دانے نکالے اور اسی میں سے وہ کھاتے ہیں"۔ (وَآيَةٌ لَهُمُ الْأَرْضُ الْمَيْتَةُ أَحْيَيْناها وَأَخْرَجْنا مِنْها حَبًّا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ)۔ [تشریحی نوٹ: زیرِ بحث آیت کے سلسلے میں علماء نے بہت سے احتمال ذکر کیے ہیں لیکن جو چیز سب سے زیادہ واضح نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ "أيَةٌ لَهُمْ" خبر مقدم ہے اور "ألأرض الميتة" مبتدائے موخر ہے اور " أَحْيَيْنا" مستانفہ ہے کہ جو گزشتہ لفظ کی توضیح و تفسیر ہے]۔ وجودِ حیات توحید کے اہم ترین دلائل میں سے ہے۔ یہ بہت زیادہ پیچیدہ اور حیرت انگیز مسئلہ ہے کہ جس نے تمام علماء اور دانشوروں کی عقل کو حیرت میں ڈال دیا ہے اور تمام ترقیوں کے باوجود کہ جو علم و دانش میں نوعِ بشر کو نصیب ہوئی ہیں ابھی تک کسی نے اس کے معمے کو حل نہیں کیا۔ ابھی تک کوئی بھی شخص ٹھیک طرح سے نہیں جانتا کہ کن عوامل کے زیرِ اثر پہلے دن بےجان موجودات زنده خلیوں میں تبدیل ہوئیں۔ ابھی تک کوئی نہیں جانتا کہ نباتات کے بیج اور ان کے مختلف طبقات کس طرح بنے ہیں اور کون سے قوانین و رموز ان پر حکم فرما ہیں۔ موافق حالات فراہم ہوتے ہی یہ بیج حرکت میں آ جاتے ہیں اور نشو ونما کا آغاز کر دیتے ہیں اور مردہ زمین کے ذرات کو اپنے وجود میں جذب کر لیتے ہیں اور اس طریقے سے مردہ موجودات کو زندہ موجود کی بافت و بن میں تبدیل کر دیتے ہیں، تاکہ ہر روز حیات کا ایک نیا جلوہ دکھائیں۔ عالمِ نباتات و حیوانات میں حیات کا مسئلہ اور مردہ زمینوں کا زندہ ہونا، ایک طرف تو اس بات کی ایک واضح و روشن دلیل ہے کہ اس جہان کی خلقت میں ایک عظیم علم و دانش سے کام لیا گیا ہے اور دوسری طرف سے یہ قیامت کی ایک واضح نشانی ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ "لَھُمْ" کی ضمیر "عباد" کی طرف لوٹتی ہے کہ جو گزشتہ آیات میں ہے اور یہاں "عباد" سے مراد وہ تمام بندے ہیں جو مبداء و معاد سے مربوط مسائل میں انحراف یا غلط فہمی میں گرفتا ہیں اور قرآن ان کی کیفیت کو حسرت و تاسف کا سبب شمار کرتا ہے۔ "اٰية" کی تعبیر نکرہ کی صورت میں اسی توحیدی نشانی کی عظمت و اہمیت کی طرف اشارہ ہے۔ " فَمِنْهُ يَأْكُلُون" ایک طرف تو اس بات کا اشارہ ہے کہ انسان نباتات کے کچھ دانوں سے غذا حاصل کرتا ہے اور کچھ انسان کی غذا کے قابل نہیں ہیں لیکن ان کے دوسرے فوائد ہیں مثلاً جانوروں کی غذا، رنگ کرنے کے مادے، دوائیاں اور دوسرے امور کہ جن سے انسانی زندگی میں فائده اٹھایا جاتا ہے۔ دوسری طرف "منہ" کو "يأْكلون" پر مقدم رکھنا کہ جو عام طور پر حصرکے لیے آتا ہے، اس نکتے کو بیان کرتا ہے کہ انسان کے لیے زیادہ تر اور بہترین غذا نباتات سے حاصل ہوتی ہے بلکہ بالواسطہ یا بِلا واسطہ تمام تر غذا گویا اس سے حاصل ہوتی ہے۔ بعد والی آیت گزشتہ آیت کی توضیح و تشریح ہے اور مردہ زمینوں کی حیات کی کیفیت بیان کرتی ہے فرمایا گیا ہے: "ہم نے زمین میں کھجوروں اور انگوروں کے باغات اگائے ہیں اور اس میں چشمے نکالے"۔ (وَجَعَلْنا فِيها جَنَّاتٍ مِنْ نَخِيلٍ وَأَعْنابٍ وَفَجَّرْنا فِيها مِنَ الْعُيُونِ)۔ گزشتہ آیت میں اناج کے متعلق گفتگو تھی لیکن یہاں قوت بخش اور غذائی پھلوں کے متعلق بات کی گئی ہے۔ ان کے دو عمدہ اور کامل نمونے "کھجور" اور "انگور" ہیں کہ جن میں سے ہر ایک مکمل غذا شمار ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی مفصّل طور سے بیان کر چکے ہیں کہ ماہرین کے مطالعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ دونوں پھل انواع و اقسام کے ضروری وٹامن اور انسانی بدن کے لیے درکار مختلف حیاتی مواد کے حامل ہیں۔ علاوہ ازیں یہ دونوں پھل سال بھر تازہ اور خشک میں غذا کیلئے محفوظ رکھنے اور استفادہ کرنے کے قابل ہیں۔ [بحوالہ: ان دونوں حیات بخش پھلوں (انگور و خرما) کے بارے میں اور ان کی غذائی اہمیت کے متعلق ماہرین کی گواہی کے سلسلے میں ہم بالترتیب جلد ۶ اور جلد ۷ (سورہ نحل آیہ ۱۱ اور سوره مریم آیہ ۲۶) میں بحث کر چکے ہیں]۔ راغب کے بقول "اعناب" جمع ہے "عنب" کی اور "نخيل" جمع ہے "نخل" کی۔ فرق یہ ہے کہ "عنب" خود انگور کو کہا جاتا ہے اور انگور کے پودے کے لیے یہ لفظ شاذ و نادر ہی استعمال ہوتا ہے لیکن "نخل" اس درخت کا نام ہے اور اس کے پھل کو "رطب" "تمره" (تازہ اور خشک کھجور) کہتے ہیں۔ بعض کا نظریہ ہے کہ تعبیر کا یہ فرق کہ ایک جگہ تو درخت کی بات ہے اور دوسری جگہ پھل کی، اس وجہ سے ہے کہ کھجور کے درخت کی جیسا کہ مشہور ہے ہر چیز قابلِ استفادہ ہے اس کا تنا، شاخیں اور پتے سب مختلف امور میں کام آتے ہیں اور اس کا پھل ان سب کا سردار ہے، جبکہ انگور کا پودا عام طور پر اس کے پھل کی وجہ سے مطلوب ہے اور اس کا تنا، شاخیں اور اس سے جدا شده اجزاء کا کوئی زیاده مصرف نہیں ہے۔ نیز یہ بات کہ یہ دونوں صیفے جمع کی صورت میں آئے ہیں تو ممکن ہے کہ یہ ان دونوں پھلوں کی مختلف انواع و اقسام کی طرف اشارہ ہو کیونکہ ان میں سے ہر ایک کی دسیوں قسمیں ہیں جن کی مختلف خصوصیات اور ذائقے ہیں۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ گزشتہ آیت میں صرف مردہ زمینوں کے زندہ کرنے کا ذکر تھا کہ جو قرآن مجید میں عام طور پر بارش کے نزول کے ساتھ آیا ہے لیکن اس آیت میں جاری پانی کے چشموں کے متعلق گفتگو ہو رہی ہے کیونکہ بہت سی زراعتوں کے لیے تو اکیلا بارش کا پانی ہی کافی ہے جبکہ پھلدار درختوں کو عام طور پر جاری پانی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ "فجرنا" "تفجیر" کے مادہ سے، یہ لفظ وسیع اور کھلا شگاف پیدا کرنے کے معنی میں ہے۔ چشمے چونکہ زمین کو شگافتہ کر کے پھوٹتے ہیں، اس لیے یہ تعبیر چشموں کے زمین سے باہر نکلنے کے بارے میں استعمال ہوئی ہے۔ [تشریحی نوٹ: قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اس کا ثلاثی مجرد کا صیغہ بھی شگاف کرنے کے معنی میں ہے لیکن جب اسے بابِ "تفعیل" کی طرف لے جاتے ہیں جیسا کہ زیرِ بحث آیت میں ہے تو پھر تکثیر اور تشدید کا معنی دیتا ہے]۔ بعد والی آیت ان پربار درختوں کے مقصدِ خلقت کو یوں بیان کرتی ہے: "مقصد یہ ہے کہ وہ اس کے پھل کھائیں، حالانکہ ان کے بنانے میں ان کے ہاتھ کا کوئی عمل نہیں ہے کیا وہ خدا کا شکر بجا نہیں لاتے"۔ (لِيَأْكُلُوا مِنْ ثَمَرِهِ وَما عَمِلَتْهُ أَيْدِيهِمْ أَ فَلا يَشْكُرُونَ)- ہاں! وہ پھل کہ جو درختوں کی شاخوں پر ایک کامل غذا کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں، انہیں پکانے یا دوسری کسی قسم کی تبدیلی کی معمولی سے معمولی ضرورت بھی نہیں ہوتی، وہ درختوں سے توڑتے ہیں قابلِ استعمال ہوتے ہیں اور یہ بات پروردگار کی انسانوں کے لیے انتہائی لطف اور عظمت کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہاں تک کہ اس نے اس تیار اور لذید غذا کی اسی طرح سے پیکنگ کی ہے کہ وہ ایک مدت تک محفوظ رہ سکتی ہے اور ان کی غذائی قدر و قیمت بھی ضائع نہیں ہوتی، ان غذاوں کے برخلاف کہ جنہیں انسان خداداد موادِ غذائی سے اپنے ہاتھ سے بناتا ہے کہ جو زیادہ تر جلدی خراب ہو جاتی ہیں۔ آیت کے معنی میں ایک دوسری تفسیر بھی موجود ہے اور وہ بھی قابلِ ملاحظہ ہے۔ وہ یہ ہے کہ قرآن چاہتا ہے کہ ایسے پھلوں کی طرف بھی اشارہ کرے کہ جو بغیر کسی تبدیلی کے استعمال کے قابل ہوتے ہیں اور ایسی مختلف غذاؤں کی طرف بھی کہ جو ان پھلوں پر کچھ عمل انجام دینے سے حاصل ہوتی ہیں (پہلی تفسیر کی رو سے " وَما عَمِلَتْهُ أَيْدِيهِمْ " میں "ما" نافیہ ہے اور دوسری تفسیر کی رو سے موصولہ)۔ بہر صورت مقصد یہ ہے کہ انسانوں میں حق شناسی اور شکرگزاری کی حِس کو بیدار کیا جائے تا کہ وہ شکرگزاری کے ذریعے معرفت پروردگار کے مرحلے میں قدم رکھیں کیونکہ شکر منعم معرفت کردگار کا پہلا قدم ہے۔ آخری زیر بحث آیت پروردگار کی تسبیح و تنزیہ کے بارے میں بات کرتی ہے اور مشرکین سے شرک پر کہ جس کے بارے میں گزشتہ آیات میں گفتگو تھی خطِ بطلان کھینچتی ہے اور سب کو راہِ توحید اور یکتا پرستی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہتی ہے: "منزہ ہے وہ ذات کہ جس نے زمین سے اگنے والی چیزوں کے اور خود انہی لوگوں کے اور ان چیزوں کے جنہیں یہ نہیں جانتے سب کے جوڑے پیدا کیے ہیں"۔ (سُبْحانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْواجَ كُلَّها مِمَّا تُنْبِتُ الْأَرْضُ وَمِنْ أَنْفُسِهِمْ وَمِمَّا لا يَعْلَمُونَ)۔ [تشریحی نوٹ: بعض مفسرین اور علماء ادب کے قول کے مطابق "سبحان" "علم" ہے "تسبیح" کا کیونکہ علم (مخصوص نام) کبھی تو اشخاص کے لیے ہوتا ہے اور اس کو "علم شخص" کہتے ہیں اور کبھی جنس کے لیے ہوتا ہے اور اسے "علم جنس" کہتے ہیں اور کبھی کسی معنی کے لیے ہوتا ہے اور اس کو "علم معنی" کہتے ہیں۔ اس بناء پر اس کا مفہوم خدا کی تنزیہ اور اسے ہر اس چیز سے پاک شمار کرنا ہے کہ جو عیب و نقص ہو۔ ایسی تتزیہ کہ جو عظمتِ پروردگار کے شایانِ شان ہو اور علم معنی کے سوا "علم" کی کبھی بھی اضافت نہیں ہوتی بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ "سبحان" مصداری معنی رکھتا ہے اور فعلِ مقدر کا مفعول مطلق ہے اور ہر صورت میں خدائی تنزیہ کو نہایت پرزور طریقے سے بیان کرتا ہے]۔ ہاں! وہ خدا کہ جس نے ان تمام جوڑوں کو اس عالمِ ہستی میں پیدا کیا ہے، اس کا علم و قدرت بےانتہا ہے۔ اس میں کوئی نقص اور عیب موجود نہیں ہے، اس لیے اس کا کوئی شریک و شبیہ و نظیر بھی نہیں ہے۔ یہ جو بعض نے بےجان پتھروں، لکڑیوں اور دوسری مخلوقات کو اس کا شبیہ قرار دے رکھا ہے ایسی ناروا نسبتوں سے اس کے دامنِ کبریائی پر کوئی گرد نہیں پڑتی۔ یہ بات واضح ہے کہ خدا اس چیز کا محتاج نہیں ہے کہ وہ خود اپنی تسبیح و تنزیہ کرے، بلکہ یہ تو بندوں کے لیے ایک تعلیم ہے اور تکامل و ارتقاء کا سفر طے کرنے کے لیے ایک دستور العمل ہے۔ اس بارے میں کہ یہاں "ازواج" سے کیا مراد ہے، مفسرین نے بہت اختلاف کیا ہے۔ جو بات مسلّم ہے وہ یہ ہے کہ "ازواج" "زوج" کی جمع ہے۔ یہ لفظ عام طور پر مذکر و مونث دونوں کے لیے بولا جاتا ہے، چاہے وہ حیوانات ہوں یا ان کے علاوہ بعد ازاں اس لفظ کے مفہوم میں وسعت پیدا ہو گئی اور ہر ان دو موجود پر کہ جو ایک دوسرے سے نزریک ہوں یہاں تک کہ ایک دوسرے کی ضد ہی ہوں "زوج" کا اطلاق ہونے لگا۔ یہاں تک کہ ایک گھر کے دو مشابہ کمروں کے لیے یا دروازے کے دو کواڑوں کے لیے یا دو اکھٹے کام کرنے والے ساتھیوں کے لیے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے اور اس طرح سے عالمِ ہستی کے ہر موجود کے لیے ایک زوج (جوڑا) متصور ہوتا ہے۔ بہرحال بعید نہیں ہے کہ یہاں پر "زوجیت" اسی خاص معنی صنفِ مذکر و مؤنث میں ہو اور قرآن مجید اس آیت میں تمام عالم نباتات، انسانوں اور دوسرے موجودات میں کہ جن سے لوگ مطلع نہیں ہیں، زوجیت کی خبر دے رہا ہو۔ ممکن ہے یہ موجودات نباتات ہوں۔ اس زمانہ میں ان میں زوجیت کے دائرے کی وسعت ابھی تک ظاہر نہ ہوئی تھی۔ یا ہو سکتا ہے سمندروں کی گہرائیوں میں پائے جانے والے حیوانات کی طرف اشارہ ہو کہ جن سے اس زمانے میں کوئی آگاہ نہیں تھا اور موجودہ زمانے میں ان کا کچھ حصہ انسان کے لیے ظاہر ہوا ہے۔ یا دوسری موجودات کی طرف اشارہ ہو کہ جو دوسرے آسمانی کرّوں میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ یا خورد بینی زنده و موجودات مراد ہوں، اگرچہ اس زمانے کے ماہرین ان کے نَر اور مادہ کو ابھی تک معلوم نہیں کر سکے، لیکن اس زنده موجودات کی بنا اس قدر پوشیدہ معموں میں سے ہے کہ ممکن ہے کہ انسانوں کے علم و دانش نے ابھی تک اس کے اس عمر تک رسائی حاصل نہ کی ہو، یہاں تک کہ عالمِ نباتات میں نر اور مادہ ہونے کا وجود بھی- جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے قرآن کے نزول کے زمانے میں سوائے خاص خاص مواقع مثلاً کھجور وغیرہ کے درختوں کے پہچانا نہیں گیا تھا اور قرآن نے اس سے پردہ اٹھایا تھا اور آج کے زمانے میں سائنسی طریقوں سے یہ مطلب پایہ ثبوت کو پہنچ گیا ہے کہ عالم نباتات میں مسئلہ زوجیت ایک عمومی اور مشترک امر ہے۔ یہ احتمال بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ یہاں "زوجیت" تمام ایٹموں کے اندر مثبت اور منفی ذرات کے وجود کی طرف اشارہ ہو کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس جہان کی تمام چیزیں ایٹم سے بنی ہیں اور ایٹم حقیقت میں عالم مادہ کے اس عظیم محل کی عظیم تعمیر کے لیے اینٹ کی مانند ہے۔ جس وقت تک "ایٹم" کو توڑا نہیں گیا تھا اس وقت تک اس زوجیت کا کوئی پتہ نہیں تھا لیکن اس کے بعد ایٹم میں اور ان الیکٹرانوں کی صورت میں جو اس کے گرد گھومتے ہیں اور ان پروٹونوں کی صورت میں کہ جو ان کے اندر موجود ہیں ازواج (جوڑوں) کا وجود پایہ ثبوت کو پہنچ چکا ہے۔ بعض نے اسے اشیاء کی مادہ و صورت یا جوہر و عرض سے ترکیب کی طرف اشارہ سمجھا ہے اور بعض دوسرے اسے نباتات، انسانوں، حیوانوں اور دوسری موجودات کی مختلف انواع و اقسام کیلئے کنایہ سمجھتے ہیں۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ جب ہم ان الفاظ کو حقیقی معنی (صنف مذکر و مونث) پر محمول کر سکتے ہیں اور اس کے برخلاف کوئی قرینہ بھی موجود نہیں تو پھر کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم کنائی معانی کی طرف جائیں اور جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ زوجیت کے حقیقی معنی کئی عمده تفاسیر یہاں پر موجود ہیں۔ بہرحال یہ آیت بھی ان آیات میں سے ایک ہے کہ جو انسانی علم کا محدود ہونا بیان کرتی ہیں اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اس جہان میں بہت سے حقائق ایسے ہیں کہ جو ہمارے علم و دانش سے پوشیده ہیں۔ [بحوالہ: موجوداتِ عالم کی زوجیت کے بارے میں اور خصوصاً عالم نباتات میں مذکر و مونث کی موجودگی سے متعلق ہم جلد ۵ ص ۶۲۱ (اردو ترجمہ) اور جلد ۸ سوره شعرا کی آیہ ۷ کے ذیل میں بحث اور کر چکے ہیں]۔

37
36:37
وَءَايَةٞ لَّهُمُ ٱلَّيۡلُ نَسۡلَخُ مِنۡهُ ٱلنَّهَارَ فَإِذَا هُم مُّظۡلِمُونَ
رات بھی ان کے لیے (عظمت خدا کی) ایک نشانی ہے ہم اس سے دن کو لے جاتے ہیں تو اچانک تاریکی انہیں ڈھانپ لیتی ہے

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

38
36:38
وَٱلشَّمۡسُ تَجۡرِي لِمُسۡتَقَرّٖ لَّهَاۚ ذَٰلِكَ تَقۡدِيرُ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡعَلِيمِ
اور سورج (بھی ایک نشانی ہے) کہ جو ہمیشہ اپنے ٹھکانے کی طرف حرکت میں ہے یہ خدائے قادر و دانا کی تقدیر ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

39
36:39
وَٱلۡقَمَرَ قَدَّرۡنَٰهُ مَنَازِلَ حَتَّىٰ عَادَ كَٱلۡعُرۡجُونِ ٱلۡقَدِيمِ
اور چاند کے لیے ہم نے منزلیں قرار دی ہیں (جب وہ ان منازل کو طے کر لیتا ہے تو) آخر کار کھجور کی پرانی شاخ (زرد کمان) کے مانند ہو جاتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

40
36:40
لَا ٱلشَّمۡسُ يَنۢبَغِي لَهَآ أَن تُدۡرِكَ ٱلۡقَمَرَ وَلَا ٱلَّيۡلُ سَابِقُ ٱلنَّهَارِۚ وَكُلّٞ فِي فَلَكٖ يَسۡبَحُونَ
نہ تو سورج چاند تک پہنچ سکتا ہے اور نہ ہی رات دن پر سبقت لے جا سکتی ہے اور ان میں سے ہرا یک اپنے اپنے مدار میں تیر رہا ہے۔

سورج اور چاند بھی آیتِ الٰہی ہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

زیرِ بحث آیات عالم ہستی میں عظمتِ خدا کی نشانیوں کے ایک اور حصے کو بیان کرتی ہیں گزشته آیات میں قیامت، مردہ زمینوں کے زندہ ہونے اور نباتات اور درختوں کی پروش کے بارے میں بات ہوئی تھی۔ اب توحید کا ایک اور پہلو بیان کیا جا رہا ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: "رات بھی ان کے لیے عظمت خدا کی ایک آیت اور نشانی ہے"۔ (وَآيَةٌ لَهُمُ اللَّيْلُ)۔ "جب آفتاب کی روشنی ہر جگہ پھیلی ہوتی ہے اور اس نے تاریکی کے لشکر کو پیچھے دھکیلا ہوتا ہے اس وقت ہم دن کی روشنی کو اٹھا لیتے ہیں اور ان سب کو اچانک تاریکی ڈھانپ لیتی ہے"۔ (نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهارَ فَإِذا هُمْ مُظْلِمُونَ)۔ "نسلخ" کی تعبیر ماده "سلخ" (بر وزن "بلخ") سے ہے۔ اصل میں یہ لفظ جانوروں کا چمڑا اتارنے کے معنی میں ہے، یہ ایک لطیف تعبیر ہے، گویا دن کی روشنی سفید لباس کے مانند ہے کہ جو رات کے بدن پر پہنایا گیا ہے۔ غروبِ آفتاب کے وقت یہ لباس اس سے اتار ليا جاتا ہے تاکہ اس کا باطن اور اندر کا حصہ آشکار ہو جائے۔ اس تعبیر کے بارے میں غور و خوض کرنے سے یہ نکتہ عیاں ہو جاتا ہے کہ کرّه زمین کی اصل فطرت تاریکی اور ظلمت ہے۔ نور اور روشنی اس کی ایک عارضی صفت ہے کہ جو ایک دوسرے منبع سے اسے دی جاتی ہے اس لباس کی طرح کہ جو کسی کے بدن پر پہناتے ہیں کہ جس وقت وہ اس لباس کو اتار دے تو بدن کا فطری اور اصلی رنگ ظاہر ہو جاتا ہے۔ [تشریحی نوٹ: "راغب مفردات میں کہتا ہے کہ "سلخ" کا معنی جانور کی کھال اتارنا ہے اور بدن سے زره اتارنے اور مہینے کے اختتام کے لیے بھی بولا جاتا ہے لیکن بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اسی صورت میں ہے کہ جب سلخ "عن" کے ساتھ متعدی ہو اور اگر "من" کے ساتھ متعدی ہو تو پھر باہر نکالنے کے معنی میں ہے لیکن اس فرق کی کوئی واضح دلیل ہمیں کتبِ لغت میں نہیں ملی اگرچہ لسان العرب میں یہ ہے کہ: انسلخ النهار من الليل خرج منه خروجا دن رات سے نسلخ ہوا یعنی اس سے نکلا۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ پہلے ہی معنی سے لیا گیا ہے]۔ یہاں قرآنِ مجید نے رات کی تاریکی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ گویا گزشتہ آیات میں آیتِ الٰہی کے طور پر مردہ زمینوں کو زندہ کرنے کے ذکر کے بعد دن کی روشنی کے رات کی تاریکی میں تبدیل ہو جانے کو زندگی کے بعد موت کے نمونے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ بہرحال جس وقت انسان رات کی تاریکی میں ڈوب جاتا ہے تو وہ نور اور اس کی برکات، ہیجانات اور اس کے منبع وجود کو یاد کرتا ہے اور ایک موازنے کے ذریعے "نور و ظلمت" کے خالق سے آشنا ہوتا ہے۔ تیسری نشانی کہ جس کی طرف رات کی نشانی کے بعد اشارہ ہوا ہے نور، روشنی اور سورج کی نشانی ہے ۔ قرآن کہتا ہے: "خورشید بھی ان کے لیے ایک نشانی ہے کہ جو ہمیشہ اپنے ٹھکانے کی طرف حرکت میں ہے"۔ (وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَها)۔ [تشریحی نوٹ: اس جملے کی ترکیب میں دو احتمال ہیں پہلا یہ کہ "الیل" پر عطف ہے۔ اس صورت میں معنی اس طرح ہو گا "و آية لهم الشمس" (اور سورج ان کے لیے آیت ہے) اور دوسرا یہ کہ الشمس مبتداء ہے اور تجری اس کی ضمیر ہے۔ ہم نے پہلے احتمال کو اختیار کیا ہے]۔ یہ آیت سورج کی مسلسل اور دائمی حرکت کو وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہے لیکن اس بارے میں کہ اس حرکت سے کیا مراد ہے، مفسرین نے بہت بحث کی ہے۔ بعض اسے زمین کے گرد سورج کی ظاہری حرکت کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں کہ یہ حرکت اس عالم کے اختتام تک جاری و ساری ہے۔ کہ جو درحقیقت سورج کا ٹھکانا اور اس کی زندگی کا اختتام ہے۔ بعض نے گرمیوں اور سردیوں میں زمین کے شمال و جنوب کی طرف، سورج کے جھکنے کی طرف اشارہ سمجھا ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ سورج موسمِ بہار کے آغاز سے خطِ اعتدال سے شمال کی طرف جھنکے لگتا ہے اور ۲۳ درجہ شمال کے مدار تک جاتا ہے اور گرمیوں کے آغاز سے پیچھے کی طرف لوٹتا ہے یہاں تک کہ آ غازِ خزاں تک خطِ اعتدال تک پہنچ جاتا ہے اور اسی خط پر وہ اپنا سفر سردیوں کے آغاز تک جنوب کی طرف جاری رکھتا ہے اور سردیوں کے آغاز سے خطِ اعتدال کی طرف حرکت کرتا ہے اور آغازِ بہار میں وہاں تک پہنچ جاتا ہے۔ البتہ یہ تمام حرکتیں حقیقت میں زمین کی حرکت اور اس کے محور کے اس کے مدار کی نسبت جھکاؤ سے پیدا ہوتی ہیں۔ اگرچہ ظاہر میں سورج کی حرکت محسوس ہوتی ہے۔ بعض دوسروں نے اسے "کرّه آفتاب" کی حرکتِ وضعی کی طرف اشارہ جانا ہے کیونکہ ماہرین اور سائنسدانوں کی تحقیق نے قطعی طور پر ثابت کر دیا ہے کہ سورج خود اپنے محور کے گرد گردش کرتا ہے۔ [تشریحی نوٹ: اس تفسیر کے مطابق "لمستقر لها" میں "لام" "في" کے معنی میں ہے]۔ زیرِ بحث آیت کی آخری اور جدید ترین تفسیر وہی ہے جو ماہرین نے کشف کی ہے اور وہ سورج کا ہماری کہکشاؤں کے وسط میں تمام نظامِ شمسی کے ساتھ ایک معین سمت اور دوردراز کے ستارے کی طرف کہ جسے "وگا" کہتے ہیں، حرکت کرتا ہے۔ یہ سب معانی ایک دوسرے کے ساتھ کوئی تضاد نہیں رکھتے اور ممکن ہے کہ "تجری" ان تمام حرکات اور بعض دوسری حرکات کی طرف بھی اشارہ ہو کہ جن تک ہمارا علم نہیں پہنچا اور شاید آئندہ زمانے میں وہ معلوم ہو جائیں۔ بہرحال سورج کے اتنے بڑے عظیم کرّے کو حرکت دینا کہ جو ہماری زمین سے بارہ لاکھ گنا بڑا ہے اور وہ بھی اس فضائے بیکراں میں پورے حساب کتاب کے ساتھ حرکت دینا کسی کے بس میں نہیں ہے سوائے اس خدا کے کہ جس کی قدرت تمام قدرتوں سے مافوق ہے اور جس کا علم غیرمتناہی ہے۔ اسی بنا پر آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: "یہ خدائے قادر و دانا کی تقدیر ہے"۔ (ذلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ)۔ اس آیہ کے سلسلے میں آخری بات یہ ہے کہ اس کی تعبیرات میں شمسی سال کے پرمعنی نظام کی طرف اشارہ ہے کہ جو مختلف برجوں میں سورج کے حرکت کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ ایسا نظام کہ جو انسانی زندگی کو نظم و ضبط اور پروگرام دیتا ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں کو منظم کرتا ہے۔ اس لیے بعد والی آیت میں اس بجث کی تکمیل کے لیے، چاند کی حرکت اور اس کی منازل کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے کہ جس سے مہینے کے دنوں کا نظام بنتا ہے۔ فرمایا گیا ہے: "ہم نے چاند کے لیے منزلیں قرار دی ہیں اور ایک وقت وہ ان منزلوں کو طے کر لیتا ہے تو آخر کار کھجور کی پرانی شاخ کی مانند کمان کی صورت اور زرد رنگ اختیار کر لیتا ہے"۔ (وَالْقَمَرَ قَدَّرْناهُ مَنازِلَ حَتَّى عادَ كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ)۔ "منازل" سے مراد وہی اٹھائیس منزلیں ہیں کہ جنہیں چاند "محاق" اور مطلق تاریکی سے پہلے طے کرتا ہے کیونکہ جس وقت مہینے کے تیسں دن پورے ہوں تو وہ اٹھائیس راتوں تک آسمان پر دیکھا جا سکتا ہے لیکن اٹھائیسویں رات بہت ہی باریک، زرد رنگ، کم نور اور ہلال کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور باقی دو راتوں میں نظر بھی نہیں آتا۔ کہ جسے "محاق" کا نام دیتے ہیں لیکن وہ مہینے جو انتیس دن کے ہوتے ہیں ان میں ستائیسویں رات تک چاند آسمان پر نظر آتا ہے اور باقی دو راتیں "محاق" کی ہیں۔ یہ منزلیں مکمل طور پر حساب شدہ ہیں اسی طرح سے کہ منجمین سینکڑوں سال پہلے اپنے دقیق حساب کتاب کے مطابق پیش گوئی کر سکتے ہیں۔ یہ عجیب و غریب نظام انسانوں کی زندگی کو نظم و ضبط بخشتا ہے اور یہ ایک طبیعی آسمانی تقویم ہے کہ جسے ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ نجومی پڑھ سکتا ہے۔ اس طرح سے کہ اگر انسان مختلف راتوں میں چاند کی کیفیت میں تھوڑا سا غور کرے تو اسے دیکھنے سے ہی صحیح صحیح یا قریب قریب جان سکتا ہے کہ یہ رات مہینے کی کون سی رات ہے (ہم نے خود اس بات کو آزمایا ہے)۔ کیونکہ ابتدائے ماہ میں چاند کی نوکیں اوپر کی طرف ہوتی ہیں اور پھر رفتہ رفتہ چاند کے حجم میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ساتویں تک پورے چاند کا آدھا دائرہ ظاہر ہو جاتا ہے۔ پھر اس میں اضافہ ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ چودھویں رات کو بدر کامل کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس کے بعد چاند نیچے کی سمت سے گٹھنا اور کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اکیسویں تک (گھٹتے گھٹتے) پھر آدھے دائرے کی شکل میں ہو جاتا ہے اور اسی طرح اس میں کمی ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ اٹھائیسویں شب کو ضعیف اور کم رنگ ہلال کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور اس رات اس کی نوکیں نیچے کی طرف ہوتی ہیں۔ ہاں! انسانوں کی زندگی کی بنیاد تنظیم سے ہی درست رہتی ہے اور نظم و ضبط، زمانہ اور وقت کی دقیق تعین کے بغیر ممکن نہیں ہے، خدا نے آسمان میں ہی ماہانہ اور سالانه دقیق تقویم اسی مقصد کے لیے قرار دی ہے۔ یہیں سے "کالعرجون القدیم" [تشریحی نوٹ: "عرجون" بعض اربابِ لغت کے مطابق "انعراج" کے مادہ سے "اعوجاج" اور "انعطاف" (ٹیڑھ پن اور جھکاؤ) کے معنی میں لیا گیا ہے۔ اس بنا پر اس کی نون زائد ہے اور "فعلون" کے وزن پر ہے لیکن بعض دیگر کے نزدیک یہ لفظ "عرجن" کے مادہ سے لیا گیا ہے اور اس کی نون اصلی ہے اور یہ شاخ کے نچلے حصے کے معنی میں ہے کہ جو ٹیڑھا ہو جاتا ہے اور کھجور کے درخت پر باقی رہ جاتا ہے اور "قدیم" ہر اس کہنہ اور پرانی چیز کے معنی میں ہے کہ جسے ایک زمانہ گزر گیا ہو] کی لطیف تعبیر کا مفہوم واضح ہو جاتا ہے، کیونکہ "عرجون" جیسا کہ مفسرین اور اربابِ لغت نے بیان کیا ہے، کھجور کے خوشے کے اس حصے کو کہتے ہیں کہ جو درخت سے ملا ہوا ہوتا ہے۔ اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ خرمے خوشے کے شکل میں درخت پر ظاہر ہوتے ہیں۔ اس خوشے کا نچلا حصہ زرد رنگ کمان کی شکل میں ہوتا ہے کہ جو درخت کے ساتھ متصل ہوتا ہے اور اس کی نوک جارو کی طرح ہوتی ہے اور خرمے کے دانے انگور کے دانوں کی طرح اس کے دھاگوں کے ساتھ متصل ہوتے ہیں۔ جس وقت کھجور کے خوشے کو کاٹتے ہیں تو وہ قوسی شکل کا نچلا حصہ درخت پر باقی رہ جاتا ہے اور جس وقت وہ خشک اور پژمردہ ہو جاتا ہے تو مکمل طور پر "محاق" سے پہلے والے ہلال کی طرح ہوتا ہے کیونکہ جس طرح آخری ماہ میں ہلالِ آسمان کے مشرق کی طرف صبح کے وقت یوں ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خمیده، پژمردہ اور زرد رنگ ہوتا ہے اور اس کی نوکیں نیچے کی طرف ہوتی ہیں "عرجونِ القديم" بھی اسی طرح ہوتا ہے۔ حقیقت میں یہ مشابہت مختلف جہات میں ظاہر ہوتی ہے، کھجور کے خوشے کی لکڑی کے ہلالی نما ہونے کے لحاظ سے زرد رنگ ہونے کے لحاظ سے، پژمردگی کے لحاظ سے، اس کی قوس کی نوک کے نچلی طرف مائل ہونے کے لحاظ سے اور کھجورکے درخت کی سبز رنگ شاخوں کے درمیان ہونے کے لحاظ سے کہ جو سیاه رنگ آسمان پر آخری رات کے ہلال کے قرار پانے کے ساتھ غیرمشابہ نہیں ہے۔ نیز اسے "قدیم" کہنا اس کی کہنگی کی طرف اشارہ ہے کیونکہ جس قدر یہ شاخیں، زیادہ کہنہ ہو جاتی ہیں اسی قدر زیادہ باریک اور زیادہ زرد رنگ ہو جاتی ہیں۔ آخرِ ماہ کے ہلال سے زیادہ مشابہ ہو جاتی ہیں سبحان اللہ ایک چھوٹی سی تعبیر میں کتنی لطافتیں اور کیسی کیسی زیبائیاں پنہاں ہیں۔ آخری زیر بحث آیت میں سال، ماہ اور شب و روز کے اس نظام کے ثبات و دوام کے بارے میں گفتگو ہے۔ پروردگار نے ان کے لیے اس طرح سے پروگرام منظم کیا ہے کہ ان کی کیفیت میں معمولی سا اختلاف بھی پیدا نہیں ہوتا اور تاریخِ بشر اسی ثبات کی بنا پر مکمل طور منظم رہتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: "نہ تو سورج کے بس میں ہے کہ چاند تک پہنچ جائے اور نہ ہی رات دن پر سبقت لے جا سکتی ہے اور ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں" (لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِي لَها أَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سابِقُ النَّهارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ)۔ ہم جانتے ہیں کہ سورج اپنا دورہ بارہ برجوں میں ایک سال میں مکمل کرتا ہے جبکہ چاند اپنی منزلوں کو ایک مہینے میں طےکرتا ہے۔ اس بنا پر چاند کا اپنے مدار میں گردش کرنا، سورج کی اپنے مدار میں گردش سے بارہ گنا زیادہ تیز ہے۔ لہذا فرمایا گیا ہے کہ سورج اپنی گردش میں ہرگز چاند تک نہیں پہنچتا اور وہ اپنی ایک سالہ حرکت کو ایک ماہ میں انجام نہیں دیتا اور سالانہ نظام درہم برہم نہیں ہوتا۔ اسی طرح رات دن پر سبقت حاصل کر کے اس کا ایک حصہ اپنے اندر داخل نہیں کر لیتی کہ موجودہ نظام ٹوٹ جائے بلکہ یہ سب کے سب اپنا سفر ہزاروں سال سے بغیر کسی تبدیلی کے جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں۔ ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس بحث میں سورج کی حرکات سے مراد اس کی وہ حرکت ہے کہ جو ہماری حِس کے مطابق ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ یہ تعبیر اس امر کے پایہ ثبوت کو پہنچ جانے کے بعد بھی کہ سورج اپنی جگہ پر ساکن ہے اور زمین ایک سال کی مدت میں اس کے گرد چکر لگاتی ہے، کارآمد ہے۔ مثلاً آج بھی ہم یہ کہتے ہیں کہ سورج برج حمل میں داخل ہو گیا ہے یا سورج دائرہ نصف النہار پر پہنچ گیا ہے یا اس کا میل کلی تک پہنچنا ہے (میل کلی سے مراد گرمیوں کی ابتداء میں نصف کرہ شمالی میں سورج کا اپنے آخری نقطہ ارتفاع تک پہنچ جانا یا اس کے برعکس سردیوں کی ابتداء میں آخری نچلی حد تک پہنچنا ہے)۔ یہ سب کی سب تعبیریں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ زمین کے سورج کے گرد گردش کرنے اور سورج کے ساکن ہونے کے انکشاف کے بعد بھی سورج کی حرارت سے متعلق گزشتہ تعبیرات ہی استعمال ہوتی ہیں کیونکہ حسّی طور پر ایسا کیا نظر آتا ہے کہ سورج حرکت میں ہے۔ سورج اور چاند کا اپنے اپنے افلاک میں تیرنے (كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ) کا مفہوم بھی یہیں سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ سورج کے اپنے فلک میں تیرنے سے مراد نظامِ شمسی اور اس کہکشاں کے ساتھ اس کا حرکت کرنا ہے کہ جس میں ہم موجود ہیں کیونکہ موجودہ زمانے میں یہ امرثابت ہو چکا ہے کہ ہمارا نظامِ شمسی اس عظیم کہکشاں کا ایک جز ہے کہ جو خود اپنے گرد گردش کر رہی ہے۔ [تشریحی نوٹ: یہ حرکت اس حرکت کے علاوہ ہے کہ جو پورے نظامِ شمسی کی کہکشاں کے اندر ہے کہ جو ستاره "وگا" کی طرف حرکت میں ہے اور اس کی طرف ہم نے اشارہ بھی کیا ہے]۔ کیونکہ "فلك" جیسا کہ اربابِ لغت نے بیان کیا ہے اصل میں لڑکیوں کے پستان ابھرنے اور گول شکل اختیار کرنے کے معنی میں ہے۔ بعد ازاں یہ لفظ زمین کے ان قطعات کے لیے کہ جو گول ہیں یا دوسری گول چیزوں کے لیے استعمال ہونے لگا۔ اسی بنا پر سیاروں کی گردش کے راستوں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ " كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ" کا جملہ بہت سے مفسرین کے نظریے کے مطابق سورج، چاند اور ستاروں میں سے ہر ایک کی طرف اشارہ ہے کہ جو اپنا اپنا راستہ اور مدار رکھتے ہیں، اگرچہ آیات میں ستاروں کا نام نہیں آیا لیکن "لیل" (رات) کے ذکر کی طرف توجہ کرتے ہوئے اور ستاروں کا چاند اور سورج کے مانند ہونے کو دیکھتے ہوئے مذکورہ جملے سے معنی کو سمجھنا بعید نظر نہیں آتا۔ خاص طور پر جبکہ "یسبحون" صیغہ جمع کی شکل میں بیان ہوا ہے۔ یہ تفسیر بھی موجود ہے کہ ممکن ہے یہ جملہ سورج، چاند اور رات اور دن کی طرف اشارہ ہو کیونکہ رات اور دن میں سے ہر ایک اپنے لیے ایک مدار رکھتے ہیں اور کرّه زمین کے گرد گردش کرتے ہیں، تاریکی کره زمین کے نصف حصہ کو ہمیشہ چھپائے رکھتی ہے اور روشنی دوسرے نصف حصہ پر رہتی ہے اور یہ دونوں چوبیسں گھنٹوں میں ایک پورا دور زمین کے گرد لگاتے ہیں۔ " يَسْبَحُونَ " "سباحت" کے مادہ سے ہے۔ مفردات میں راغب کے مطابق اصل میں یہ لفظ پانی اور ہوا میں سریع اور تیز حرکت کے معنی میں ہے۔ [تشریحی نوٹ: یہ جو خدا کے ذکر اور اس کی عبادت کو" تسبیح" کہتے ہیں تو وہ بھی اسی وجہ سے ہے اور وہ بھی پروردگار کی اطاعت و عبادت کی راہ میں ایک تیز حرکت ہے، (مفرداتِ راغب مادہ "سبح")]۔ یہاں یہ لفظ آسمانی کروں کی سریع حرکت کی طرف اشارہ کر رہا ہے اور انہیں اسی عاقل موجودات سے تشبیہ دے رہا ہے کہ جو تیزی کے ساتھ اپنی گردش جاری رکھے ہوئے ہوں۔ موجودہ زمانے میں بھی یہ حقیقت ثابت ہو چکی ہے کہ اجرام سماوی بہت ہی حیران کن تیزی کے ساتھ اپنے مدار میں حرکت کرتے ہیں۔

چند اہم نکات: ۱- سورج کی "دورانی" اور جریانی حرکت

عربی زبان میں "دوران" دائرہ کی صورت میں حرکت کو کہتے ہیں جبکہ "جریان" طولی حرکت کی طرف اشارہ ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ زیرِ بحث آیات میں قرآن سورج کے لیے جریانی حرکت کا بھی قائل ہے اور دورانی حرکت کا بھی ایک جگہ کہتا ہے: ".. و الشمس تجری ...... " اور دوسری جگہ سورج کے فلک میں تیرنے (دائرے کی صورت میں حرکت) کی بات کرتا ہے: "كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُون"۔ جس زمانے میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں، ہیّت بطلیموس کا مفروضہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ محافلِ علمی میں تسلیم شدہ تھا اس مفروضے کے مطابق اجرام فلکی کی اپنی کوئی حرکت نہیں بلکہ وہ افلاک کے اندر میخوں کی طرح گڑے ہوئے ہیں بلکہ افلاک پیاز کے چھلکوں کے مانند ایک دوسرے کے اوپر تہ بہ تہ بلوریں اجسام کی صورت میں ہیں اور اجرامِ فلکی کی حرکت ان کے افلاک کی حرکت کے تابع ہے۔ اس بناء پر اس زمانے میں نہ سورج کا تیرنا کوئی مفہوم رکھتا تھا اور نہ ہی اس کی طولی و جریانی حرکت۔ لیکن حالیہ صدیوں کے انکشافات نے بطلیموس کے مفروضے کو ختم کر دیا اور اجرامِ آسمانی کے بلوریں افلاک سے آزاد قرار دے دیا۔ اس کے بعد اس نظریے نے قوت پکڑی کہ سورج نظامِ شمسی کے مرکز میں ثابت اور غیرمتحرک ہے اور سارا نظام شمسی پروانہ وار اس کے گرد گھومتا ہے۔ اس مقام پر پہنچ کر بھی زیرِ بحث آیات کی تعبیروں کا مفہوم واضح نہیں تھا کیونکہ یہ تو سورج کی طرف طولی اور جریانی حرکت کی نسبت دے رہی تھیں۔ یہاں تک کہ سائنس نے اپنی پیش رفت مزید جاری رکھی اور آخر کار سورج کی چند ایک حرکات ثابت ہو گئیں: (1) اس کی خود اپنے گرد وضعی حرکت۔ (2) نظامِ شمسی کے ساتھ آسمان کے ایک مشخص نقطے کی طرف اس کی طولی حرکت۔ (3) اس کی دورانی حرکت اس کہکشاں کے مجموعے کے ساتھ کہ جس کا یہ سورج حصہ ہے۔ اس طرح سے قرآن کا ایک اور علمی معجزہ ثبوت کو پہنچ گیا۔ اس مسئلے کو زیادہ واضح کرنے کے لیے ہم اس بحث کا ایک حصہ یہاں پیش کرتے ہیں کہ جو ایک دائرة المعارف میں سورج کی حرکت کے بارے میں بیان ہوا ہے: سورج "ظاہری" حرکات (یومیہ حرکت اور سالانہ حرکت) اور "واقعی" حرکات کا حامل ہے۔ سورج کره آسمانی کی یومیہ اور ظاہری حرکت میں شریک ہے۔ ہمارے آدھے کرہ میں مشرق سے طلوع کرتا ہے، جنوب کی طرف نصف النہار کے مقام سے گزرتا ہے اور مغرب میں غروب کرتا ہے۔ نصف النہار سے اس کا عبور حقیقی ظہر کو مشخص کرتا ہے۔ سورج کی ایک سالانہ "ظاہری" حرکت زمین کے گرد بھی ہے کہ جو اس کو ہر "روز" مغرب سے مشرق کی طرف تقریباً ایک درجہ لے جاتی ہے۔ اس حرکت میں سورج سال میں ایک مرتبہ برجوں کے سامنے سے گزرتا ہے۔ اس حرکت کا مدار "دائرة البروج" میں واقع ہے۔ یہ حرکت علمِ نجوم کی تاریخ میں بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے "اعتدالین" و "انقلاب" اور "میل کلی" اسی کے ساتھ مربوط ہے اور شمسی سال اسی سے وجود پاتا ہے۔ ان ظاہری حرکات کے علاوہ کہکشاں کی حرکت دورانی سورج کو قریباً گیارہ لاکھ تیس ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے ساتھ فضا میں گردش دیتی ہے لیکن کہکشاں کے اندر بھی سورج ثابت و ساکن نہیں ہے بلکہ تقریباً بہتّر ہزار چار سو کلومیٹر کی رفتار سے صورت فلکی (جاثى على ركبتيه) [تشریحی نوٹ: "جاثي على ركبته" ستاروں کا ایک مجموعہ ہے کہ جو ایک فلکی صورت تشکیل دیتا ہے، یہ اس شخص سے مشابہ ہے کہ جو گھٹنوں کے بَل بیٹھا ہو اور کھڑا ہونے کے لیے تیار ہو اور یہ تعبیر اس معنی سے لی گئی ہے] کی جانب حرکت کرتا ہے۔ اور یہ جو ہم فضا میں سورج کی اسی تیز حرکت سے بےخبر ہیں، تو یہ اجرام فلکی کے دوری ہونے کی وجہ سے ہے، کہ جو اس خاص حرکت وضعی کی تشخیص کا ماخذ بھی ہے۔ سورج کی حرکت وضعی اس کے استواء میں تقریباً پچیس دن میں ہوتی ہے۔ [یعنی سورج ہمارے پچیس شب و روز میں ایک مرتبہ اپنے گرد گردش کرتا ہے۔ یہ اَمر ماہرین نے سورج کے سطحی ٹکڑوں کے مطالعے سے اخذ کیا ہے کیونکہ انہوں نے دیکھا ہے کہ یہ ٹکڑے ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں اور پچیسں دنوں کے بعد پھر مکمل طور پر اپنی جگہ پر واپس آ جاتے ہیں]، [بحوالہ: دائرۃ المعارف "دهخدا" مادہ خورشید، جلد ۲۲]۔

۲- "تدرک" اور "سابق" کی تعبیر

قرآنی تعبیرات اس قدر جھچی تلی ہوتی ہیں کہ جن کی باریکیاں شمار نہیں ہو سکتیں۔ زیر بحث آیات میں جس وقت سورج اور چاند کی ماہانہ اور سالانہ گردش کے سلسلے میں ظاہری حرکت کے متعلق گفتگو ہو رہی ہے، تو قرآن یہ کہتا ہے کہ "سورج کے لیے سزاوار نہیں ہے کہ وہ چاند تک پہنچ جائے" (کیونکہ چاند اپنے سفر کو ایک ماہ میں طے کرتا ہے اور سورج ایک سال میں، تیز رفتاری کا یہ فرق اس قدر ہے کہ یہ ہرگز اس تک نہیں پہنچ سکتا) (لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِي لَها أَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ)۔ لیکن دن رات کے بارے میں وہ آپس میں چنداں فاصلہ نہیں رکھتے اور بالکل ایک دوسرے کے پیچھے موجود ہیں۔

۳- انسانی زندگی میں نور و ظلمت کا نظام

آیات زیر بحث میں دو ایسے موضوعات کی طرف اشارہ ہے کہ جو انسانی زندگی میں بہت اہمیت رکھتے ہیں اور انہیں آیاتِ الہٰی قرار دیا گیا ہے اور وہ ہیں رات کی تاریکی اور دوسرا سورج اور اس کی روشنی۔ اس سے پہلے بھی ہم بیان کر چکے ہیں کہ نور، عالمِ مادہ کے موجودات میں سے لطیف ترین اور پربرکت ترین موجود ہے۔ نہ صرف روشنی اور ہماری زندگی بلکہ ہر حرکت سورج کے نور کے ساتھ وابستگی رکھتی ہے۔ بارش کے قطروں کا نزول، نباتات کی نشو ونما، غنچوں کا چٹخنا، پھلوں کا پکنا، ندی نالوں کا زمزمہ، انسانوں کے دسترخوان پر انواع و اقسام کی غذائیں۔ یہاں تک کہ بڑے بڑے کارخانوں کے پہیوں کا چلنا، بجلی اور طرح طرح کی صنعتی پیداوار سب کا تعلق توانائی (ENERGY) کے اس عظیم منبع یعنی سورج کی روشنی سے ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ کرّہ زمین کی تمام توانائیاں (سوائے اس توانائی کے جو ایٹم کے ذرے کو توڑنے سے پیدا ہوتی ہے) سورج کے نور سے مدد لیتی ہیں اور اگر وہ نہ ہوتا تو ہر جگہ خاموشی ہوتی اور ہر چیز بےروح، بےنور، بےحرکت اور مردہ ہوتی۔ رات کی تاریکی اگرچہ موت اور فنا کی بو دیتی ہے لیکن نورِ آفتاب کی تبدیلی کے لحاظ سے اور جسم و روح کے آرام و سکون نیز سورج کی روشنی کی ایک ہی طرح کی تپش کے خطرات سے بچانے میں اس کا کردار انسانوں کے لیے حیات بخش شمار ہوتا ہے کیونکہ اگر رات اور دن باری باری نہ آتے تو کرّه زمین میں حرارت اتنی بڑھ جاتی کہ تمام چیزوں کو آگ لگ جاتی۔ جیسا کہ چاند میں طولانی راتیں اور دن ہیں (ہر ایک کرّه زمین کے پندرہ رات دن کے برابر ہے) اگر یوں ہوتا تو دنوں میں تباہ کن گرمی ہوتی اور راتوں کو ہولناک سردی ہوتی۔ اس بنا پر ان دونوں (نور و ظلمت) میں سے ہر ایک آیاتِ الٰہیہ میں سے ایک عظیم آیت ہے۔ اس سے قطع نظر ایک بہت ہی دقیق نظام کہ جو ان دونوں پر حاکم ہے، انسانوں کی زندگی کی منظم تاریخ کو وجود میں لانے والا ہے۔ ایسی تاریخ کہ اگر وہ نہ ہوتی تو اجتماعی روابط ختم ہو کر رہ جاتے اور انسان کے لیے زندگی بہت مشکل ہو جاتی۔ اس لحاظ سے بھی یہ دونوں آیاتِ الٰہی میں سے ہیں۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ قرآن ان آیات میں کہتا ہے کہ: "رات دن پر سبقت حاصل نہیں کرتی"۔ یہ تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دن کو رات سے پہلے خلق کیا گیا ہے اور رات اس کے بعد میں۔ یہ بات تو ٹھیک ہے کہ اگر کوئی شخص کره زمین کے باہر سے نگاہ کرے تو وہ ان دونوں کو دو سیاه و سفید موجودات کے مانند دیکھے گا کہ مسلسل کره زمین کے گرد گردش کر رہے ہیں اور اس دائرے کی حرکت میں پہلے اور بعد کا تصور نہیں ہو سکتا۔ لیکن ہمیں اس حقیقت پر توجہ دینا چاہیے کہ ہماری زمین کا یہ کرّہ پہلے سورج کا ہی ایک جز تھا اور اسی وقت ہر جگہ دن ہی دن تھا اور رات کا کوئی وجود ہی نہیں تھا، لیکن جونہی زمین اس سے جدا ہوئی تو اس کا مخروطی شکل کا سایہ نورِ آفتاب کی مخالف سمت میں پڑا تو رات پیدا ہو گئی، وہ رات کہ جو دن کے پیچھے حرکت کر رہی ہے۔ اس پہلو پر نظر کرنے سے یہاں اس تعبیر کی دقت و گہرائی اور لطافت واضح ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے، نہ صرف سورج اور چاند اس فضائے بیکراں میں تیر رہے ہیں بلکہ رات اور دن بھی اس فضا میں کرہ زمین کے گرد تیر رہے ہیں اور ان میں سے ہر ایک اپنے لیے ایک مدار اور گردش کی رہگزر رکھتا ہے۔ ایسی بہت سی روایات میں بھی کہ جو اہلِ بیت علیہم السلام سے منقول ہیں، اس معنی کی تصریح ہوئی ہے کہ خدا نے دن کو رات سے پہلے پیدا کیا ہے۔ ایک راوایت میں امام صادق سے منقول ہے کہ آپؑ نے فرمایا: خلق النهار قبل الليل "دن کو رات سے پہلے خلق کیا گیا ہے"۔ [بحوالہ: مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں]۔ ایک دوسری روایت میں امام علی بن موسیٰ رضا سے منقول ہے: النهار خلق قبل الليل "دن رات سے پہلے خلق ہوا"۔ پھر امام نے " لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِي لَها أَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سابِقُ النَّهارِ " کی آیت سے اس سلسلے میں استدلال فرمایا۔ [بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۴ ص ۳۸۷، بحوالہ احتجاج طبرسی]۔ اسی مطلب کی ایک حدیث امام باقر سے بھی بصورتِ ذیل منقول ہے: ان الله عزَّوجلّ خلق الشمس قبل القمر و خلق النور قبل الظلمة "خدائے بزرگ نے سورج کو چاند سے پہلے اور نور کو ظلمت سے پہلے خلق کیا"۔ [بحوالہ: نور الثقلين، جلد ۴ ص ۳۸۷ بحوالہ روضتہ الكافی]۔

41
36:41
وَءَايَةٞ لَّهُمۡ أَنَّا حَمَلۡنَا ذُرِّيَّتَهُمۡ فِي ٱلۡفُلۡكِ ٱلۡمَشۡحُونِ
یہ بھی ان کے لیے (عظمت پروردگار کی) ایک نشانی ہے کہ ہم نے ان کی ذریت کو بھری ہوئی کشتیوں میں سوار کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔

42
36:42
وَخَلَقۡنَا لَهُم مِّن مِّثۡلِهِۦ مَا يَرۡكَبُونَ
اور ہم نے ان کے لیے اس جیسی دوسری سواریاں بھی پیدا کیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔

43
36:43
وَإِن نَّشَأۡ نُغۡرِقۡهُمۡ فَلَا صَرِيخَ لَهُمۡ وَلَا هُمۡ يُنقَذُونَ
اور اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کر دیں، اس طرح سے کہ نہ تو کوئی ان کا فریاد رس ہو اور نہ ہی کوئی انہیں دریا سے نکال سکے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔

44
36:44
إِلَّا رَحۡمَةٗ مِّنَّا وَمَتَٰعًا إِلَىٰ حِينٖ
مگر یہ کہ پھر دوبارہ ہماری رحمت ہی ان کے شامل حال ہو اور ایک معین وقت تک وہ اس زندگی سے بہرہ ور ہوں۔

کشتیوں کا دریاؤں میں چلنا بھی آیت الٰہی ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

اگرچہ قرطبی اور بعض دوسرے مفسرین نے زیرِ بحث پہلی آیت کو اس سورہ کی پیچیده ترین آیت شمار کیا ہے لیکن ان آیات میں غور کرنے اور گزشتہ آیات سے ان کا تعلق دیکھ کر معلوم ہو جاتا ہے کہ ان آیات کی تفسیر میں کوئی خاص پیچیدگی نہیں ہے کیونکہ گزشتہ آیات میں سورج، چاند، رات، دن اور اسی طرح زمین اور زمین کی برکات کی خلقت میں پرودگار کی نشانیوں کے بارے میں گفتگو تھی جبکہ زیر بحث آیات میں دریاؤں اور سمندروں کی نعمتوں یعنی ان میں تجارتی اور مسافر بردار کشتیوں اور جہازوں کے چلنے کے بارے میں گفتگو ہے۔ علاوہ ازیں کشتیوں کا سمندر کے اندر چلنا، آسمانی ستاروں کی فضا کے سمندر میں حرکت کرنے کے ساتھ غیرمشابہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے فرمایا گیا ہے کہ: "یہ بھی ان کے لیے عظمتِ پروردگار کی ایک نشانی ہے کہ ہم ان کی اولاد و ذریت کو ان کشتیوں میں کہ جو وسائلِ زندگی سے پر ہیں سوار کرتے ہیں" (وَآيَةٌ لَهُمْ أَنَّا حَمَلْنا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ)۔ "لهم" کی ضمیر نہ صرف مشرکین مکہ کی طرف بلکہ ان تمام عباد اور بندگانِ خدا کی طرف لوٹتی ہے کہ جن کے بارے میں گزشتہ آیات میں گفتگو تھی۔ "ذريّة" جیسا کہ راغب نے مفردات میں بیان کیا ہے، اصل میں چھوٹی اولاد کے معنی میں ہے، اگرچہ بعض اوقات تمام چھوٹی بڑی اولاد پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہ لفظ مفرد کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور جمع کے معنی میں بھی۔ قرآن کہتا ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو (چھوٹی اولاد کو) ان کشتیوں میں سوار کیا۔ گویا اولاد کے بارے میں گفتگو ہے اور خود ان کے بارے میں کوئی بات نہیں۔ شاید یہ اس مناسبت سے ہے کہ بچے اس سواری کی زیادہ احتیاج رکھتے ہیں کیونکہ بڑی عمر کے لوگ تو دریاؤں کے ساحل کے ساتھ ساتھ چل کر بھی راستہ طے کر لیتے ہیں۔ اس سے قطع نظر یہ تعبیر ان کے احساسات و میلانات کی تحریک کے لیے زیادہ مناسب ہے۔ لفظ "مشحون" (مملو اور پَر) اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نہ وہ خود کشتی میں سوار ہوتے ہیں بلکہ ان کے مالِ تجارت اور ضروریاتِ زندگی کی نقل و حمل بھی اسی کے ذریعے ہوتی ہے۔ بعض نے اس آیت میں "فلك" سے خاص طور پر حضرت نوحؑ کی کشتی مراد لی ہے اور "ذریة" کی آباواجداد کے معنی کے ساتھ تفسیر کی ہے۔ ان کے نزدیک یہ "ذرا" کے مادہ سے خلقت کے معنی میں ہے۔ یہ تفسیر بہت ہی بعید نظر آتی ہے۔ ہاں اگر اس سے مراد ایک واضح مصداق بیان کرنا ہو تو پھر ٹھیک ہے۔ بہرحال کشتیوں کا چلنا کہ جو بشر کے لیے نقل وحمل کا ایک عظیم اور اہم ترین ذریعہ ہے اور ان سے جو کام کیا جاتا ہے وہ دوسرے ذرائع نقل وحمل کی نسبت ہزاروں گنا زیادہ ہے۔ یہ سب نتیجہ ہے پانی کے اپنے خواص کا، ان اجسام کے مخصوص وزن کہ جن سے کشتی بنتی ہے، بادبانی کشتیوں کے لیے ہواؤں کی خاصیت کا، انجن والی کشتیوں کے بخارات کی قوت کا اور ان کشتیوں میں کہ جو ایٹمی طاقت سے کام کرتی ہیں ایٹمی توانائی کا۔ یہ سب ایسی قوتیں اور طاقتیں ہیں کہ جنہیں خدا نے انسان کے لیے مسخر کیا ہے اور ان میں سے ہر ایک (علیحدہ علیحدہ بھی) اور مجموعی طور پر بھی آیاتِ الٰہی میں سے ہیں۔ نیز اس بنا پر کہ یہ وہم نہ ہو کہ خداداد سواریاں صرف کشتیاں ہی ہیں اس کے بعد والی آیت میں قرآن مزید کہتا ہے: "میں نے ان کے لیے دوسری سواریاں بھی ان کے مانند خلق کی ہیں"۔ (وَخَلَقْنا لَهُمْ مِنْ مِثْلِهِ ما يَرْكَبُونَ)- وہ سواریاں کہ جو خشکی یا ہوا اور فضا میں چلتی ہیں اور انسانوں اور ان کے ساز و سامان کو اپنے دوش پر اٹھاتی ہیں۔ اگرچہ بعض نے خصوصیت کے ساتھ یہاں اونٹ مراد لیا ہے جس کا نام "صحرائی کشتی" یا "صحرا کا جہاز" پڑ گیا ہے بعض نے تمام چوپائے مراد لیے ہیں اور بعض نے ہوائی جہاز اور فضائی کشتیاں مراد لی ہیں جو ہمارے زمانے میں بنی ہیں (اور ان کے بارے "خلقنا" کی تعبیر اس لحاظ سے ہے کہ ان کا مواد اور وسائل پہلے سے خلق شدہ ہیں)۔ لیکن آیت کی تعبیر کا اطلاق ایک وسیع مفہوم کی تصویر پیش کرتا ہے کہ جس میں یہ سب اور ان کے علاوہ اور دوسری سواریاں بھی موجود ہیں۔ البتہ قرآن کی متعدد آیات میں "انعام" (چوپائے کا) "فلك" (کشتیوں) کے ساتھ ذکر ہوا ہے۔ مثلاً: وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعامِ ما تَرْكَبُونَ کشتیوں پر بھی اور چوپاؤں میں سے بھی اس نے ایسے پیدا کیے ہیں کہ جن پر تم سوار ہوتے ہو۔ (زخرف - ۱۲) اور سورہ مومن کی آیت ۸۰ میں ہے: وَعَلَيْها وَعَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُونَ اور تم چوپاؤں اور کشتیوں ہے پر بوجھ لادتے (اور سوار ہوتے) ہو۔ لیکن یہ آیات بھی زیر بحث آیت کے مفہوم کی عمومیت کے ساتھ تضاد نہیں رکھتیں۔ بعد والی آیت میں، اس عظیم نعمت کو زیادہ واضح کرنے کے لیے، ایک حالت بیان کی گئی ہے۔ کہ اس نعمت کے دگرگوں ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔ فرمایا گیا ہے: "اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کر دیں اس طرح کہ نہ تو کوئی ان کا فریاد رس ہو اور نہ ہی کوئی ایسا آدمی کہ جو انہیں دریا سے باہر نکال سکے"۔ (وَإِنْ نَشَأْ نُغْرِقْهُمْ فَلا صَرِيخَ لَهُمْ وَلا هُمْ يُنْقَذُونَ)۔ ہم کسی عظیم لہر کو حکم دے دیں گے کہ وہ ان کی کشتی کو الٹ دے یا ایک بھنور کو مامور کر دیں گے کہ وہ انہیں نگل لے یا ایک طوفان کو حکم دیں گے کہ وہ انہیں ایک تنکے کی طرح مٹا کر موجوں کے اندر پھنیک دے۔ اگر ہم چاہیں تو پانی اور کشتی کی خاصیت اور ہوا چلنے کے نظام اور دریا کے سکون کو درہم برہم کر دیں تاکہ ان کی ہر چیز تباہ ہو جائے۔ یہ ہم ہی ہیں کہ جو اس نظام کو دوام بخشتے ہیں تاکہ وہ بہرہ ور ہوں اور اگر ہم کبھی کبھی اس قسم کے حادثات بھیجتے ہیں تو یہ اس بنا پر ہے کہ وہ اس نعمت کی اہمیت کو سمجھیں کہ جس میں وہ مستغرق ہیں۔ "صريخ" "صراخ" کے مادہ سے، فریاد رس کے معنی میں ہے اور "ينقذون"، "انقاذ" کے مادہ سے پکڑ لینے اور نجات دینے کے معنی میں ہے۔ آخر میں آخری زیر بحث آیت اس گفتگو کی تکمیل کے لیے مزید کہتی ہے: "مگر یہ کہ پھر بھی ہماری رحمت ہی ان کے شاملِ حال ہو اور وہ ایک معين زمانے تک اس کی زندگی سے فائده اٹھائیں"۔ (إِلَّا رَحْمَةً مِنَّا وَمَتاعاً إِلى‏ حِينٍ)۔ ہاں! وہ کسی بھی ذریعے سے نجات نہیں پا سکتے مگر یہ کہ ہماری ہی رحمت کی بادِ نیسم چلے اور ہمارا ہی لطف و کرم ان کی مدد کے لیے آئے۔ "حين" وقت کے معنی میں ہے اور اس آیت میں انسان کی زندگی کے اختتام اور اس کی اجل کی طرف اشارہ ہے۔ بعض نے اس سے اس جہان کا اختتام مراد لیا ہے۔ ہاں وہ لوگ کہ جو کشتی پر سوار ہوئے ہیں خواہ وہ قدیم زمانے کی چھوٹی چھوٹی بادبانی کشتیاں ہوں یا موجودہ زمانے کے کوہ پیکر سمندری جہاز انہوں نے اچھی طرح سے اس آیت کی تعبیر کی گہرائی کو سمجھا ہے کہ دنیا بھر کے لیے بحری جہاز دریاؤں کی عظیم موجوں اور سمندروں کے ہولناک طوفانوں کے مقابلے میں ایک تنکے کے مانند ہیں اور اگر رحمتِ الٰہی انسانوں کے شامل حال نہ ہو تو ان کی نجات ممکن نہیں ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس مختصر سے وقفے میں کہ جو موت اور زندگی کے درمیان ہے، اپنی عظیم قدرت کی انسانوں کو نشاندہی کرائے کہ شاید راستے سے بھٹکے ہوئے انسان ہوش میں آ جائیں اور اس طریقے سے اس کے راستے پر آ جائیں۔

45
36:45
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱتَّقُواْ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيكُمۡ وَمَا خَلۡفَكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُونَ
اورجس وقت ان سے یہ کہا جائے کہ جو کچھ (عذاب الٰہی میں سے) تمہارے آگے پیچھے ہے اس سے ڈرو تاکہ رحمت الٰہی تمہارے شامل حال ہو (تو وہ پرواہ نہیں کرتے)۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 47 کے تحت ملاحظہ کریں۔

46
36:46
وَمَا تَأۡتِيهِم مِّنۡ ءَايَةٖ مِّنۡ ءَايَٰتِ رَبِّهِمۡ إِلَّا كَانُواْ عَنۡهَا مُعۡرِضِينَ
اور ان کے پروردگار کی آیات میں سے کوئی آیت نہیں آتی مگر یہ وہ اس سے روگردانی کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 47 کے تحت ملاحظہ کریں۔

47
36:47
وَإِذَا قِيلَ لَهُمۡ أَنفِقُواْ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ قَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لِلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَنُطۡعِمُ مَن لَّوۡ يَشَآءُ ٱللَّهُ أَطۡعَمَهُۥٓ إِنۡ أَنتُمۡ إِلَّا فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ
اور جس وقت ان سے یہ کہا جائے کہ خدا نے جو تمہیں رزق دیا ہے۔اس میں سے(خدا کی راہ میں ) خرچ کرو، تو کفار مومنین سے کہتے ہیں کہ کیا ہم ایسے شخص کو کھانا کھلائیں کہ جسے خدا چاہتا تو کھلادیتا(لہٰذا خدا نے یہی چاہا ہے کہ وہ بھوکا رہے) تم تو محض کھلی گمراہی میں ہو۔

وہ تمام آیاتِ الٰہی کو نظر انداز کر دیتے ہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

گزشتہ آیات میں، وسیع عالمِ ہستی سے متعلق پروردگار کی آیات کے بارے میں گفتگو تھی، اب زیر بحث آیات میں ہٹ دھرم کفار کا طرزِ عمل بیان کیا گیا ہے کہ جو وہ آیات الٰہی اور دعوت پیغمبر اور عذاب الٰہی سے ڈرانے کے جواب میں پیش کرتے ہیں۔ زیر نظر پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: "جس وقت ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ عذاب الٰہی میں سے جو کچھ تمہارے آگے اور تمہارے پیچھے ہے اس سے ڈرو تاکہ رحمتِ الٰہی تمهارے شامل حال ہو تو وہ پہلو تہی کرتے ہیں اور روگردان ہو جاتے ہیں"۔ (وَإِذا قِيلَ لَهُمُ اتَّقُوا مَا بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَمَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ)۔ [تشریحی نوٹ: " وَإِذا قِيلَ لَهُم..." جملہ شرطیہ ہے اور اس کی جزا محذوف ہے کہ جس کے بعد والی آیت سے استفادہ ہوتا ہے اور تقدیر میں اس طرح تھا: واذا قيل لهم اتقوا .... اعرضوا عنه۔ جب ان سے کہا جائے کہ ڈرو تو وه اعراض کرتے ہیں]۔ " مَا بَيْنَ أَيْدِيكُمْ " (جو کچھ تمهارے سامنے ہے) " وَمَا خَلْفَكُمْ " (اور جو کچھ تمہارے پیچھے ہے) سے کیا مراد ہے؟ اس بارے میں مفسرین نے بہت سی تفسیریں بیان کی ہیں۔ ان میں ایک یہ ہے کہ " مَا بَيْنَ أَيْدِيكُمْ " سے مراد دنیا کی سزائیں اور عذاب ہیں کہ جن کا ایک نمونہ گزشتہ آیات میں بیان ہوا ہے اور " وَمَا خَلْفَكُمْ " سے مراد آخرت کے عذاب ہیں کہ جو ان کے پیچھے ہیں- پیچھے کی تعبیر اس بنا پر ہے، کہ ابھی ان کی نوبت نہیں آئی، گویا وہ انسان کے پیچھے چل رہے ہیں اور انجامِ کار کسی دن اس تک پہنچ جائیں گے اور اس کا دامن پکڑ لیں گے اور ان عذابوں سے پرہیز کرنے سے مراد یہ ہے کہ ان کے عوامل مہیا نہ کیے جائیں دوسرے لفظوں میں ایسے کام نہ کیے جائیں کہ جن کی وجہ سے انسان ان عقوبتوں کے مستحق بنیں۔ اس گفتگو کا شاہد یہ ہے کہ آیاتِ قرآنی میں "اتقوا" کی تعبیر یا تو خدا کے بارے میں استعمال ہوتی ہے یا قیامت کے دن اور خدائی عذاب کے متعلق۔ جبکہ حقیقت میں دونوں کی بازگشت ایک ہی معنی کی طرف ہے کیونکہ خدا سے ڈرنا اس کے عذاب سے ڈرنا ہے۔ یہ بات خود اس امر کی دلیل ہے کہ زیر بحث آیت میں بھی اس جہان اور دوسرے جہان میں خدائی عذاب اور سزا سے پرہیز ہی مراد ہے۔ بعض نے اس معنی کے برعکس تعبیر کی ہے۔ انہوں نے "مَا بَيْنَ أَيْدِيكُمْ" سے عذابِ آخرت اور "مَا خَلْفَكُمْ" سے عذابِ دنیا مراد لیا ہے کیونکہ آخرت ہمارے سامنے قرار پائی ہے (یہ تفسیر نتیجے کے لحاظ سے پہلی تفسیر سے چنداں مختلف نہیں)۔ لیکن بعض نے کہا ہے کہ "سامنے" سے مراد وہ گناہ ہیں کہ جو "پہلے" انجام پائے اور ان سے پرہیز توبہ و تلافی کے معنی میں ہے اور "پیچھے" سے مراد وہ گناہ ہیں کہ جو بعد میں انجام پائیں گے۔ بعض دوسرے مفسرین کا نظریہ ہے کہ "سامنے" سے مراد آشکار اور ظاہری گناہ ہیں اور "پیچھے" پوشیده و پنہان گناہوں کے معنی میں ہے۔ بعض دوسرے " مَا بَيْنَ أَيْدِيكُمْ " کو طرح طرح کے عذابِ دنیا کی طرف اشارہ اور "مَا خَلْفَكُمْ" کو موت کی طرف اشاره سمھجتے ہیں (جبکہ موت کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ جس سے پرہیز کیا جا سکے)۔ بعض مفسرین جیسے "فی ظلال" کے مولف نے ان دونوں تعبیروں کو موجباتِ غضب اور عذاب الٰہی کا احاطہ کے لیے کنایہ سمجھا ہے کہ جنہوں نے کافروں کو ہر طرف سے گھیر رکھا ہے۔ آلوسی نے "روح المعانی" میں اور فخر رازی نے "تفسیر کبیر" میں یعنی ہر دو نے متعدد احتمال ذکر کیے ہیں کہ جن میں سے کچھ بیان ہو چکے ہیں- علامہ طباطبائی تفسیر "المیزان" میں "مَا بَيْنَ أَيْدِيكُمْ" کو دنیا کے شرک و معاصی کی طرف اشاره سمجھتے ہیں اور " مَا خَلْفَكُمْ " کو عذاب آخرت کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں۔ [بحوالہ: المیزان جلد ۱۷ ص ۹۲ زیر بحث آیات کے ذیل میں]۔ حالانکہ آیت کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ یہ دونوں جملے ایک ہی چیز کی طرف اشاره ہیں صرف زمانے کا فرق ہے نہ کہ ایک شرک و گناه کی طرف اور دوسرا عذاب و سزا کی طرف اشاره ہو۔ بہرحال اس جملے کی بہترین تفسیر وہی ہے کہ جو ابتداء میں بیان ہو چکی ہے اور قرآن کی مختلف آیات بھی اس پر گواہ ہیں اور وہ یہ کہ " مَا بَيْنَ أَيْدِيكُمْ "، سے مراد دنیا کا عذاب ہے اور "مَا خَلْفَكُمْ " سے مراد آخرت کا عذاب۔ بعد والی آیت میں اسی مطلب پر تاکید کی گئی ہے اور دل کے ان اندھوں کی آیاتِ الٰہی اور پیغمبروں کی تعلیمات کو نظرانداز کرنے میں ہٹ دھرمی کو واضح کیا گیا ہے۔ فرمایا گیا ہے: "ان کے پروردگار کی آیات میں سے کوئی آیت ان کے پاس نہیں آتی مگر یہ کہ وہ اس سے روگردانی کرتے ہیں" (وَما تَأْتِيهِمْ مِنْ آيَةٍ مِنْ آياتِ رَبِّهِمْ إِلَّا كانُوا عَنْها مُعْرِضِينَ)۔ نہ تو آیات انفس کا بیان ان پر موثر ہے اور نہ ہی آیات آفاقی کا ذکر، تہدید و انذار اور نہ ہی رحمتِ الٰہی کی بشارت و نوید۔ نہ ہی وہ عقل و خرد کی منطق کو قبول کرتے ہیں اور نہ ہی فرمانِ فطرت کو۔ وہ ان اندھوں کے مانند ہیں کہ جو اپنے اطراف کی نزدیک ترین چیزوں کو بھی نہیں دیکھ سکتے یہاں تک کہ وہ تو سورج کی روشنی اور رات کی تاریکی میں بھی فرق نہیں کر سکتے۔ اس کے بعد قرآن ان کی ہٹ دھرمی اور روگردانی کی ایک اہم صورتِ حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: "اس وقت ان سے یہ کہا جائے کہ خدا نے تمہیں رزق دیا ہے اس میں سے اس کی راہ میں خرچ کرو تو کفار مومنین سے کہتے ہیں کہ کیا ہم اسے کھانا کھلائیں کہ جسے خدا چاہتا تو سیر کر دیتا تم تو واضح گمراہی میں ہوا"۔ (وَإِذا قِيلَ لَهُمْ أَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللهُ قالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا أَ نُطْعِمُ مَنْ لَوْ يَشاءُ اللهُ أَطْعَمَهُ إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا فِي ضَلالٍ مُبِينٍ)۔ یہ وہی ایک عامیانہ منطق ہے کہ جو ہر زمانے میں خود غرض اور بخیل افراد کی طرف سے پیش ہوتی رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں اگر فلاں شخص فقیر ہے تو ضرور اس نے کوئی ایسا کام کیا ہے جس کی وجہ سے خدا چاہتا ہے کہ وہ فقیر رہے اور اگر ہم تونگر اور مالدار ہیں تو ضرور ہم نے کوئی ایسا عمل انجام دیا ہے کہ ہم لطفِ خداوندی کے حامل ہو گئے ہیں۔ اس بنا پر ان کا فقر اور ہماری تونگری حکمت و مصلحت کے بغیر نہیں ہے۔ وہ اس بات سے غافل ہیں کہ یہ جہان آزمائش و امتحان کا میدان ہے، خدا ایک کی تنگدستی کے ساتھ آزمائش کرتا ہے اور دوسرے کو غنا و تونگری سے اور بعض اوقات ایک ہی انسان کو دو زمانوں میں ان دنوں کے ساتھ امتحان کی بھٹی میں سے گزارتا ہے کہ کیا وہ فقر و فاقہ کے موقع پر امانت، قناعت طبع اور شکرگزاری کے مراتب بجا لاتا ہے یا سب کو پاؤں تلے روند ڈالتا ہے؟ اور تونگری کے موقع پر جو کچھ اس کے پاس ہے اسے اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے یا نہیں؟ اگرچہ بعض نے اس آیت کو کسی مخصوص گروہ پر منطبق کیا ہے مثلاً یہود یا مشرکینِ عرب، یا دین و آئین انبیاء کے منکرین و ملحدين۔ لیكن ظاہر یہ ہے کہ یہ آیت عمومی مفہوم رکھتی ہے کہ جس کے مصداق ہر زمانے میں مل سکتے ہیں اگرچہ نزول آیت کے زمانے میں اس کے مصداق یہود یا مشرکین کے کچھ افراد تھے۔ یہ تو ہمیشہ سے ایک بہانہ تھا اور ہے کہ ایسے اشخاص کھتے ہیں: اگر خدا رازق ہے تو پھر ہم سے کیوں چاہتے ہو کہ ہم فقیروں کو کھانا کھلائیں اور خدا نے یہ چاہا ہے کہ وہ محروم رہیں تو پھر ہم کیوں کسی ایسے کو بہرہ مند کریں جسے خدا نے محروم کر رکھا ہے؟ وہ اس بات سے بےخبر ہیں کہ نظام تکوین ایک چیز کا تقاضا کرتا ہے اور نظام تشریع کسی دوسری چیز کا۔ نظامِ تکوین کا تقاضا ہے کہ خدا زمین کو اس کی تمام نعمتوں کے ساتھ بشر کو دے دے اور اسے تکامل و ارتقاء کی راہ طے کرنے کے لیے ان کے اعمال میں آزاد چھوڑ دے، اس کے ساتھ ہی اس میں کچھ جبلتیں بھی خلق کی ہیں کہ جو اسے اپنے تقاضوں کے مطابق چلنے کو کہتی ہیں۔ نظامِ تشریح کا تقاضا ہے کہ کچھ قوانین، ایثار و قربانی، فداکاری و درگزر اور انفاق کے ذریعے سے انسانوں کی جبلت کو کنٹرول کیا جائے اور اس طریقے سے تہذیب نفوس کی جائے اور انسان کو کہ جو خلیفہ الٰہی کے مقام تک پہنچنے کی استعداد رکھتا ہے، اس طریقہ سے اس بلند مقام تک پہنچایا جائے۔ زکوة کے ذریعے نفوس کی تطہیر کی جائے، راہِ خدا میں خرچ کے ذریعے بخل کو دلوں سے دور کیا جائے اور طبقاتی فاصلہ کہ جو انسان کی زندگی میں ہزارہا مفاسد کے پیدا ہونے کا سبب ہے، اس کو ختم کیا جائے۔ یہ بات بالکل ایسے ہے کہ کچھ افراد یہ کہیں کہ کیا ضرورت ہے جو ہم درس پڑھیں یا دوسرے کو درس پڑھائیں؟ اگر خدا چاہتا تو ہم سب کو علم دیتا تاکہ کسی شخص کو علم حاصل کرنے کی احتیاج نہ رہتی، کیا کوئی بھی عاقل اس منطق کو قبول کر لے گا۔ [تشریحی نوٹ: مفسرین کی ایک جماعت سے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ عرب اس زمانے میں مہمان نوازی میں مشہور تھے اور خرچ کرنے سے دریغ نہیں کرتے تھے کافروں کا مقصد یہ تھا کہ وہ مومنین کا مذاق اڑائیں کیونکہ وہ سب چیزوں کی نسبت خدا کی طرف دیتے تھے۔ انہوں نے بھی استهزاء کے طور پر کہا کہ اگر خدا چاہتا اور اس کی مشیت ہوتی تو فقراء کو بےنیاز کر دیتا لہذا ہمارے خرچ کرنے کی ضرورت نہیں هے لیکن جو تفسیر ہم نے بیان کی ہے وہ زیادہ مناسب نظر آتی ہے (تفسیر تبیان، تفسیر قرطبی، تفسیر روح المعانی کی طرف زیر بحث آیات کے ذیل میں رجوع کریں)]۔ " قالَ الَّذِينَ كَفَرُوا" کا جملہ کہ ان کے کفر کا ذکر کر رہا ہے، حالانکہ اس کے بجائے ضمیر سے بھی استفادہ ہو سکتا تھا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان بہانہ سازوں کی اسی خرافاتی منطق کا سرچشمہ کفر ہے۔ یہ جو مومنین سے کہا گیا ہے کہ " أَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ الله " (انفاق کرو اس رزق سے کہ جو خدا نے تمہیں دیا ہے) اس بات کی طرف اشاره ہے کہ درحققیت اصلی مالک خدا ہے اگرچہ یہ امانت چند دنوں کے لیے انسانوں کے سپرد ہوتی ہے کتنے بخیل ہیں وہ لوگ کہ جو کسی کے مال کو اسی کے حکم سے بھی دوسرے کو دینے کے لیے تیار نہیں ہیں؟ " إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا فِي ضَلالٍ مُبِين " (تم واضح گمراہی میں ہو) کی تفسیر کے بارے میں تین احتمال ہیں: پہلا احتمال: یہ ہے کہ یہ کفار کی مومنین کے ساتھ گفتگو کا تتمہ ہے۔ دوسرا احتمال: یہ ہے کہ یہ خدا کا کفار سے خطاب ہے۔ تیسرا احتمال: یہ ہے کہ یہ کفار کے مقابلے میں مومنین کی گفتگو ہے۔ لیکن پہلی تفسیر سب سے زیادہ مناسب ہے کیونکہ یہ کفار کے کلمات کے ساتھ متصل اور مربوط ہے، درحقیقت وہ یہ چاہتے تھے کہ مومنین کو بالمثل جواب دیں اور ان کی طرف "ضلل مبین" کی نسبت دیں۔

48
36:48
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلۡوَعۡدُ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
وہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچ کہتے ہو تو یہ(قیامت کا) وعدہ کب پورا ہوگا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 53 کے تحت ملاحظہ کریں۔

49
36:49
مَا يَنظُرُونَ إِلَّا صَيۡحَةٗ وَٰحِدَةٗ تَأۡخُذُهُمۡ وَهُمۡ يَخِصِّمُونَ
انہیں اس کے علاوہ اور کوئی انتظار نہیں کہ ایک عظیم (آسمانی)چیخ انہیں آگھیرے جبکہ وہ (دنیاوی امور میں ) جھگڑے رہے ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 53 کے تحت ملاحظہ کریں۔

50
36:50
فَلَا يَسۡتَطِيعُونَ تَوۡصِيَةٗ وَلَآ إِلَىٰٓ أَهۡلِهِمۡ يَرۡجِعُونَ
(وہ ایسے غافل ہوں گے کہ) وہ وصیت بھی نہ کر سکیں گے اور نہ ہی اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ کر جاسکیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 53 کے تحت ملاحظہ کریں۔

51
36:51
وَنُفِخَ فِي ٱلصُّورِ فَإِذَا هُم مِّنَ ٱلۡأَجۡدَاثِ إِلَىٰ رَبِّهِمۡ يَنسِلُونَ
(پھر دوبارہ) صور پھونکا جائے گا تو وہ یکایک (اپنی قبروں سے نکل کر) دوڑتے اپنے پروردگار کی (عدالت کی) طرف جائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 53 کے تحت ملاحظہ کریں۔

52
36:52
قَالُواْ يَٰوَيۡلَنَا مَنۢ بَعَثَنَا مِن مَّرۡقَدِنَاۜۗ هَٰذَا مَا وَعَدَ ٱلرَّحۡمَٰنُ وَصَدَقَ ٱلۡمُرۡسَلُونَ
وہ کہیں گے : وائے ہو ہم پر، ہمیں ہماری خوابگاہوں سے کس نے اٹھادیا؟ (ہاں ) یہ وہی چیز ہے کہ جس کا خدائے رحمن نے وعدہ کیا تھا اور(اس کے) رسولوں نے سچ کہا تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 53 کے تحت ملاحظہ کریں۔

53
36:53
إِن كَانَتۡ إِلَّا صَيۡحَةٗ وَٰحِدَةٗ فَإِذَا هُمۡ جَمِيعٞ لَّدَيۡنَا مُحۡضَرُونَ
وہ ایک چیخ سے زیادہ نہیں ہو گی (ایک زور دار آواز بلند ہو گی) ناگہاں سب کے سب ہمارے پاس حاضر ہو جائیں گے۔

قیامت کی چیخ

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

گزشتہ آیات میں خرچ کرنے کے سلسلے میں کفار کی کمزور اور بہانہ ساز منطق کا ذکر کرنے کے بعد اب زیر بحث آیات میں قیامت کے بارے میں ان کے استهزاء سے بات شروع کی گئی ہے۔ نیز انکار معاد کے بارے میں ان کے بوسیدہ منطق کو دوٹوک جواب کے ساتھ توڑ دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں گزشتہ آیات میں توحید کے بارے میں جو گفتگو آئی ہے معاد کی گفتگو کر کے اس سلسلہ کلام کی تکمیل کی گئی ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: "وہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچ کہتے ہو تو یہ وعدہ جس کا تم ذکر کر رہے ہو کب پورا ہو گا" (وَيَقُولُونَ مَتى‏ هذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صادِقِينَ)۔ یہی بات کہ تم قیامِ قیامت کی تاریخ کا تعین نہیں کر سکتے اس امر کی دلیل ہے کہ تم اپنی گفتگو میں سچے نہیں ہو۔ بعد والی آیت میں استہزاء کے طور پر کئے گئے اس سوال کا ایک محکم اور سنجیدہ جواب دیا گیا ہے، فرمایا گیا ہے: قیامِ قیامت اور اس جہان کا اختتام خدا کے لیے کوئی پیچیدہ مسئلہ اور مشکل کام نہیں ہے۔ "وہ اس کے علاوہ کسی اور چیز کے منتظر نہیں ہیں کہ ایک عظیم صیحۂ آسمانی انہیں اپنی گرفت میں لے لے اور انہیں اچانک اس حالت میں گھیر لے کہ وہ دنیاوی امور کے بارے میں جھگڑ رہے ہوں" (مَا يَنْظُرُونَ إِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً تَأْخُذُهُمْ وَهُمْ يَخِصِّمُونَ). ایک زوردار آسمانی چیخ ہی کافی ہے کہ سب لوگوں کی روح قبض کر لے۔ ایک ہی لمحے میں ہر ایک کو اسی مکان میں اور اسی حالت میں کہ جس میں وہ ہے اچک لے۔ اور ان کی پرغوغا مادی زندگی ایک خاموش اور بےصدا دنیا میں بدل دے وہی دنیا کہ جو ہمیشہ سے ان کا میدانِ جنگ بنا ہوا ہے روایاتِ اسلامی میں پیغمبر گرامی اسلامؐ سے منقول ہے: تقوم الساعة و الرجلان قد نشرا ثوبهما يتبايعانه فما يطويانه حتى تقوم!، و الرجل يرفع اكلته الى فيه فما تصل الى فيه حتى تقوم!، و الرجل يليط حوضه ليسقى ماشيته فما يسقيها حتى تقوم۔ [بحوالہ: "مجمع البیان" زیرِ بحث آیات کے ذیل میں یہی روایت مختصر سے فرق کے ساتھ دوسری تفاسیر مثلاً تفسیر قرطبی اور روح المعانی وغیرہ میں بھی آئی ہے]۔ صیحہ آسمانی اس طرح غفلت کی حالت میں ہو گی کہ دو آدمیوں نے کپٹرے کا تھان کھولا ہو گا اور وہ معاملہ کرنے میں مشغول ہوں گے۔ اس سے پہلےکہ معاملہ ختم ہو اور وہ اس کو لپیٹیں دنیا ختم ہو جائے گی۔ کچھ لوگ ایسے ہوں گے کہ انہوں نے کھانے کا لقمہ پلیٹ سے اٹھایا ہو گا لیکن اس سے پہلے کہ ان کے منہ تک پہنچے صیحہ آسمانی آن پہنچے گی اور دنیا ختم ہو جائے گی۔ کچھ لوگ حوض کی تعمیر میں مشغول ہوں گے کہ چوپایوں کو اس سے سیراب کریں اس سے پہلے کہ چوپائے سیراب ہوں قیامت برپا ہو جائے کی۔ "مَا يَنْظُرُونَ" یہاں "انتظار نہیں کریں گے" کے معنی میں آیا ہے، کیونکه "نظر" کا مادہ "راغب" "مفردات" میں کہتا ہے، کسی چیز کے مشاہدہ یا ادراک کے لیے غور و فکر کرنے کے معنی میں ہے اور کبھی تامل اور جستجو کرنے کے معنی ہیں ۔۔۔۔ اور جستجو کرنے سے حاصل شدہ معرفت کے معنی میں بھی آیا ہے۔ بنیادی طور پر "صیحہ" لکڑی یا کپڑے کو چیرنے یا پھاڑنے سے بلند ہونے والی آواز کے معنی میں ہے بعد ازاں ہر بلند صدا اور چیخ جیسی آواز کے لیے استعمال ہوا ہے بعض اوقات طول قامت کے لیے بھی آیا ہے مثلاً کہا جاتا ہے کہ: بأرض فلأن شجر قد صاح "فلان زمین میں ایک درخت ہے کہ جو چیخ رہا ہے"۔ یعنی اس قدر لمبا ہو گیا ہے کہ گویا چیخ و پکار کر رہا ہے اور لوگوں کو اپنی طرف بلا رہا ہے۔ "يَخِصِّمُونَ" خصومت کے مادہ سے نزاع اور جنگ کے معنی میں ہے۔ لیکن وہ کسی چیز کے بارے میں جنگ و جدال کرتے ہیں، آیت میں اس کا ذکر نہیں ہوا۔ البتہ واضح ہے کہ اس سے مراد امر دینا اور مادی زندگی کے امور میں جدال کرنا ہے البتہ بعض نے اسے امرِ معاد میں جدال کے معنی میں لیا ہے جبکہ پہلا معنی زیادہ مناسب نظر آتا ہے اگرچہ ایسے جامع معنی مراد لینا بھی بعید نہیں جو دونوں معانی پر محیط اور ہر قسم کے جنگ و جدال اور مخاصمت کو اپنے اندر لے لے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ آیت میں موجود تمام ضمیریں مشرکینِ مکّہ کی طرف لوٹتی ہیں کہ جو امر معاد میں شک رکھتے تھے اور اس استہزاء کے طور پر کہتے تھے کہ قیامت کب برپا ہو گی؟ لیکن یہ بات مسلّم ہے کہ اس سے ان کی ذات مراد نہیں ہے بلکہ ان کی نوع ہے (معاد غافل اور بےخبر انسانوں کی نوع) کیونکہ وہ تو مر گئے اور انہوں نے اس صیحہ آسمانی کو ہرگز نہیں سنا۔ (غور کیجیئے گا)۔ بہرحال قرآن اس مختصر اور دوٹوک تعبیر کے ساتھ انہیں تنبیہ کرتا ہے کہ اوّل تو قیامت ناگہانی طور پر اور غفلت کی حالت میں برپا ہو گی اور دوسرے یہ کوئی ایسا پیچیدہ موضوع نہیں ہے کہ وہ اس کے امکان کے بارے میں بحث و مخاصمت کے لیے کھڑے ہو جائیں۔ اس ایک ہی چیخ کے ساتھ ہر چیز ختم ہو جائے گی اور دنیا تمام ہو جائے گی۔ اسی لیے بعد والی آیت میں قرآن کہتا ہے کہ یہ مسئلہ اس قدر تیز رفتار بجلی کی طرح غافلانہ ہو گا کہ "انہیں وصیت کرنے تک کی بھی طاقت نہیں ہو گی اور انہیں اپنے گھر اور گھر والوں کی طرف واپس لوٹنے کی بھی مہلت نہیں ملے گی" (فَلا يَسْتَطِيعُونَ تَوْصِيَةً وَلَا إِلى‏ أَهْلِهِمْ يَرْجِعُونَ)۔ عام طور پر جب کوئی حادثہ انسان کو پیش آتا ہے تو وہ یہ احساس کرتا ہے کہ اس کی زندگی قریب الاختتام ہے لہذا کوشش کرتا ہے کہ وہ جہاں کہیں بھی ہے اپنے گھر اور ٹھکانے تک جا پہنچے اور اپنے بیوی اور بچوں کے پاس چلا جائے اور پھر اپنے ادھورے پڑے ہوئے کاموں اور اپنے پسماندگان کی سرنوشت وصیت کے زریعے کسی نہ کسی کے ذمہ لگائے اور دوسروں کو ان کے بارے میں سفارش کر جائے۔ مگر کیا دنیا کے خاتمہ کی چیخ کسی کو مہلت دے گی یا بالفرض مہلت ہو بھی تو کیا کوئی زندہ بچے گا کہ وہ کسی انسان کی وصیت کو سنے یا کیا مثلاً بیوی اور اولاد اپنے شوہر اور باپ کے سرہانے بیٹھیں گے اور اس کا سر اپنی آغوش میں لیں گے تاکہ وہ آرام و سکون کے ساتھ جان دے دے؟ ان امور میں سے کوئی چیز بھی ممکن نہیں ہے۔ اور یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ لفظ "توصية" نکرہ کی صورت میں آیا ہے، تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انہیں ایک وصیت اور چھوٹی سی سفارش کرنے تک بھی مہلت نہیں ملے گی۔ اس کے بعد ایک دوسرے مرحلےکی طرف اشارہ کیا گیا ہےکہ جو موت کے بعد حیات کا مرحلہ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: "(پھر دوباره) صور پھونکا جائے گا تو وہ یکایک (اپنی) قبروں سے (نکل کر) دوڑتے ہوئے اپنے پروردگار کی (عدالت کی) طرف جائیں گے" (وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَإِذا هُمْ مِنَ الْأَجْداثِ إِلى‏ رَبِّهِمْ يَنْسِلُونَ)۔ مٹی اور بوسیدہ ہڈیاں حکمِ پروردگار سے لباس حیات زیب تن کر لیں گی اور قبر سے نکل آئیں گی اور حساب و کتاب کے لیے سب کے سب اس عجیب عدالت میں حاضر ہو جائیں گے۔ جس طرح سے ایک ہی "صیحہ" کے ساتھ سب مر گئے تھے اسی طرح سے ایک ہی نفخہ (صور پھونکٓنے) سے سب کے سب زندہ ہو جائیں گے۔ نہ ان کا مارنا خدا کے لیے کوئی مشکل کام ہے اور نہ ہی ان کا زندہ کرنا۔ ٹھیک اس بگل کے مانند کہ جو لشکر کو جمع کرنے اور تیار کرنے کے لیے بجایا جاتا ہے اور ایک ہی لمحے میں وہ سب کے سب نیند سے بیدار ہو جاتے ہیں اور خیموں سے باہر دوڑ پڑتے ہیں اور صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ خدا کے لیے مردوں کو زندہ کرنا بھی اسی طرح آسان اور سریع ہے۔ "اجداث" "جدث" (بر وزن "قفس") کی جمع ہے اور قبر کے معنی میں ہے، یہ تعبیر اس بات کی اچھی طرح سے نشاندہی کرتی ہے کہ معاد و قیامت جنبہ روحانی کے علاوہ جنبہ جسمانی بھی رکھتی ہے اور اسی پہلے والے جسم کے مواد سے ہی جدید جسم تیار ہو گا۔ "نفخ" (پھونکا جائے گا) کی تعبیر فعلِ ماضی کی شکل میں اس بنا پر ہے چونکہ عرب آئندہ کے یقینی مسائل کو عام طور پر فعل ماضی کی صورت میں بیان کرتے ہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ اس میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں ہے، گویا یہ کام پہلے سے ہو چکا ہے۔ "ینسلون" "نسل" (بر وزن "فصل") کے مادہ سے سریع اور تیزی کے ساتھ چلنے کے معنی میں ہے۔ راغب مفردات میں کہتا ہے کہ یہ لفظ اس میں کسی چیز سے جدا ہونے کے معنی میں ہے اور یہ جو انسان کی اولاد کو "نسل" کہا جاتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے ماں باپ سے جدا ہوئے ہوتے ہیں (اس بنا پر جب انسان سرعت کے ساتھ دور ہوتا ہے اور جدا ہو جاتا ہے تو یہ تعبیر استعمال ہوتی ہے)۔ "ربھم" (ان کا پروردگار) کی تعبیر گویا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا کی ربوبیت، مالکیت اور پرورش ظاہر کرتی ہے کہ حساب و کتاب اور معاد و قیامت ہونا چاہیئے۔ بہرحال آیاتِ قرآنی سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ اس جہان کا اختتام اور دوسرے جہان کا آ غاز دونوں ایک ہی جنبشِ انقلابی کے ساتھ اچانک صورت پزیر ہو گا اور ان میں سے ہر ایک کو نفخہ (صور پھونکنے) سے تعبیر کیا گیا ہے کہ جس کی مکمل تشریح انشاء اللہ سوره زمر کی آیہ ۶۸ کے ذیل میں آئے گی۔ اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے: "اس وقت قیامت اور معاد کے منکر یہ کہیں گے کہ وائے ہو ہم پر ہمیں کسی نے ہماری خوابگاہ سے اٹھا دیا ہے"۔(قالُوا يا وَيْلَنا مَنْ بَعَثَنا مِنْ مَرْقَدِنا)۔ "یہ تو وہی چیز ہے کہ جس کا خدائے رحمٰن نے وعدہ کیا تھا اور اس کے رسولوں نے سچ کہا تھا"۔ (هذا ما وَعَدَ الرَّحْمنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُونَ) ۔ ہاں! یہ منظر ایسا ہی منہ بولتا اور دہشت انگیز ہو گا کہ انسان تمام باطل اور لغو مسائل کو بھول جائے گا اور حقیقوں کے صریح اعتراف کے سوا اس کے لیے کوئی چارہ نہ ہو گا۔ قبروں کو خوابگاہ سے تشبیہ دے گا اور قیامت کو نیند سے بیدار ہونا قرار دے گا جیسا کہ ایک مشہور حدیث میں بھی آیا ہے: كما تنامون تموتون و كما تستيقظون تبعثون "جس طرح سے تم سوتے ہو اسی طرح مرو گے اور جس طرح نیند سے بیدار ہوتے ہو اسی طرح زندہ ہو جاؤ گے"۔ یہاں وہ پہلے وحشت زدہ ہو کر فریاد کریں گے کہ وائے ہو ہم پر ہمیں کس نے اس کی نیند سے بیدار کر دیا ہے اور کس نے ہماری خوابگاہ سے ہمیں اٹھا دیا ہے۔ لیکن بہت جلد وہ متوجہ ہو جائیں گے اور انہیں یاد آ جائیں گے کہ سچّے پیغمبروں نے خدا کی طرف سے انہیں اسی دن کا وعدہ کیا تھا لہذا وہ خود اپنے آپ کو یہ جواب دیں گے کہ یہ تو خدائے رحمٰن کا وعدہ ہے۔ وہ خدا کہ جس کی رحمتِ عامہ نے سب کو گھیر رکھا ہے اور اس کے پیغمبروں نے سچ کہا ہے اور ہمیں اس دن سے آگاہ کیا ہے لیکن افسوس کہ ہم نے ان سب کا مذاق اور تمسخر اڑایا ہے۔ اس بنا پر "هذا ما وَعَدَ الرَّحْمنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُونَ" کا جملہ قیامت کے انہیں منکرین کی گفتگو کا آخری حصہ ہے لیکن بعض نے اسے فرشتوں یا مومنین کا کلام سمجھا ہے جو کہ آیت کے ظاہر کے برخلاف ہے اور اس کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہے کیونکہ اس دن منکرین کا حقائق کا اعتراف کرنا کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ جو اسی آیت میں آئی ہو جیسا کہ سورہ انبیاء کی آیہ ۹۷ میں بیان ہوا: وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَإِذا هِيَ شاخِصَةٌ أَبْصارُ الَّذِينَ كَفَرُوا يا وَيْلَنا قَدْ كُنَّا فِي غَفْلَةٍ مِنْ هذا بَلْ كُنَّا ظالِمِينَ‏۔ "وعده حق (قیامت کے بارے میں) نزدیک ہو جائے گا، اس وقت کافروں کی آنکھیں شدتِ وحشت سے پتھرا جائیں گی (اور وہ کہیں گے) وائے ہو ہم پر کہ ہم اس امر سے غافل تھے، بلکہ ہم تو ظالم تھے"۔ بہرحال "مرقد" کی تعبیر کہ جو "خوابگاہ" اور "نیند" کے معنی میں آتی ہے [تشریحی نوٹ: پہلی صورت میں اسمِ مکان اور دوسری صورت میں "مصدر میمی" ہے] اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ وہ لوگ عالمِ برزخ میں ایک ایسی حالت میں ہوں گے کہ جو نیند کے مشابہ ہو گی نیز جیسا کہ ہم نے سوره مومنون کی آیہ ۱۰۰ کے ذیل میں بیان کیا ہے کہ جو ایمان و کفر کی ایک درمیانی حالت میں ہوں گے ان کیلئے عالمِ برزخ نیند کی حالت سے غیرمشابہ نہیں ہے، جبکہ اچھے مومنین اور حد سے بڑے ہوئے بدکار کافر وہاں پورے طور پر ایک طرح کی بیداری کے عالم میں ہوں گے اور مومن نعمتوں سے فیض یاب ہوں گے اور کافر طرح طرح کےعذاب میں گرفتار ہوں گے۔[ہم "برزخ" کے بارے میں اور وہاں لوگوں کی کیفیت کے متعلق جلد ۸ میں گفتگو کر چکے ہیں]۔ بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ قیامت کا ہول اور وحشت اس قدر ہے کہ اس کے مقابلے میں برزخ کا عذاب آرام دہ اور نیند سے زیادہ نہیں ہے۔ اس کے بعد اس نے نفخ صور کے وقوع کی سرعت کے بارے میں وضاحت کے لیے فرمایا گیا ہے: "وہ ایک چیخ سے زیادہ کچھ نہیں ہے ایک زوردار آواز بلند ہو گی اور وہ سب کے سب ہمارے پاس حاضر ہو جائیں گے"۔ (إِنْ كانَتْ إِلَّا صَيْحَةً واحِدَةً فَإِذا هُمْ جَمِيعٌ لَدَيْنا مُحْضَرُون) ۔ اس بناء پر مردوں کے زندہ ہونے اور ان کے قبروں سے باہر نکلنے اور پروردگار کی عدالت میں حاضر ہونے کے لیے زیادہ وقت اور زمانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جیسا کہ لوگوں کو مارنے کے لیے زیادہ وقت کی ضرورت نہیں تھی۔ پہلی چیخ موت کی پکار ہے اور دوسری چیخ پھر سے زندگی ملنے اور پروردگار کی عدالت میں حاضر ہونے کی پکار ہے۔ "صيحة" (ایک چیخ) کی تعبیر اور "واحدۃ" کے ساتھ اس کی تاکید اور پھر "اذا" کہ جو اس قسم کے موقعوں پر کسی چیز کے ناگہانی اور اچانک وقوع کی خبر دیتا ہے اور جملہ اسمیہ کی صورت میں "هم جميع لدينا و محضرون" کی تعبیر سب قیامت کے تیزی کے ساتھ واقع ہونے کی دلیل ہیں۔ ان آیات کا دوٹوک لب و لہجہ اور ان کا پرتاثیر انداز انسانوں کے دل میں اس طرح سے اتر جاتا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ اس آواز کو دل کے کانوں سے سن رہے ہیں کہ اے سوئے ہوئے انسانو! اے بکھری ہوئی مٹی! اور اے بوسیدہ ہڈیو! کھڑی ہو جاؤ اور حساب و کتاب اور جزا و سزا کے لیے تیار ہو جاؤ، آپ نے دیکھا کہ کس قدر زیبا ہیں قرآنی آیات اور کس قدر ناطق ہیں اس کی تنبیہیں؟

54
36:54
فَٱلۡيَوۡمَ لَا تُظۡلَمُ نَفۡسٞ شَيۡـٔٗا وَلَا تُجۡزَوۡنَ إِلَّا مَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
آج کے دن کسی پر ظلم نہیں ہوگا اور سوائے اس عمل کے کہ جو تم کیا کرتے تھے تمہیں اور کوئی جزا نہیں دی جائے گی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 58 کے تحت ملاحظہ کریں۔

55
36:55
إِنَّ أَصۡحَٰبَ ٱلۡجَنَّةِ ٱلۡيَوۡمَ فِي شُغُلٖ فَٰكِهُونَ
بہشت والے آج کے دن خدا کی نعمتوں میں مشغول و مسرور ہوں گے (اور بے آرام کرنے والی ہر فکر سے دور ہوں گے)۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 58 کے تحت ملاحظہ کریں۔

56
36:56
هُمۡ وَأَزۡوَٰجُهُمۡ فِي ظِلَٰلٍ عَلَى ٱلۡأَرَآئِكِ مُتَّكِـُٔونَ
وہ اوراس کی بیویاں (بہشت کے محلوں اور درختوں کے) سایوں کے نیچے تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 58 کے تحت ملاحظہ کریں۔

57
36:57
لَهُمۡ فِيهَا فَٰكِهَةٞ وَلَهُم مَّا يَدَّعُونَ
ان کے لئے جنت میں بہت ہی لذت بخش پھل ہیں اور جو کچھ وہ چاہیں گے انہیں میسر ہو گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 58 کے تحت ملاحظہ کریں۔

58
36:58
سَلَٰمٞ قَوۡلٗا مِّن رَّبّٖ رَّحِيمٖ
ان کے لیے (خدائی درود و) سلام ہے یہ قول ہے مہربان پروردگار کی طرف سے۔

اهلِ بہشت مادی و روحانی نعتوں سے سرشار ہوں گے

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

قرآن یہاں میدانِ حشر میں حساب و کتاب کی کیفیت کے بارے میں بحث کو سربستہ چھوڑتے ہوئے گزر جاتا ہے اور صالح مومنین اور بداعمال کافروں کے انجام کار کی وضاحت کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: "آج کے دن کسی پر ظلم نہیں ہو گا"۔ (فَالْيَوْمَ لا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئاً)۔ نہ تو کسی کے اجر و ثواب میں کمی ہو گی اور نہ ہی کسی کی سزا میں اضافہ ہو گا۔ یہاں تک کہ ایک سوئی کی نوک کے برابر بھی کمی، زیادتی، ناانصافی اور ظلم و ستم نہیں ہو گا۔ اس کے بعد ایک ایسے امر کو بیان کیا گیا ہے کہ جو حقیقت میں اس عظیم عدالت میں ظلم و ستم کے نہ ہونے کی ایک واضح اور روشن دلیل ہے۔ فرمایا گیا ہے: "تمہیں سوائے اس عمل کے کہ جو تم کیا کرتے تھے اور کوئی جزا نہیں دی جائے گی"۔ (وَلا تُجْزَوْنَ إِلَّا ما كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ)۔ اس تعبیر کا ظاہر بغیر اس کے کہ اس میں کوئی چیز مقدر ہو یہ ہے کہ تم سب کی جزا وہی تمہارے اعمال ہی ہیں۔ غور کیجئے کونسی عدالت اس سے بہتر و برتر ہو سکتی ہے؟ دوسرے لفظوں میں، جو نیک و بد اعمال تم اس دنیا میں انجام دیتے ہو وہی وہاں تمہارے ہمراہ ہوں گے۔ وہی اعمال مجسم ہو جائیں گے اور محشر کے تمام مواقف میں اور حساب و کتاب کے اختتام کے بعد تمہارے ہمدم و ہمنشیں ہوں گے۔ کیا کسی کے اعمال کا حاصل اس کے حوالے کرنا عدالت کے خلاف ہے اور کیا خود اعمال کو مجسم کرنا اور اس کا ساتھی بنانا ظلم ہے؟ یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ بنیادی طور پر "ظلم" کا اس جگہ کوئی مفہوم ہی نہیں ہے اور اگر ہماری اس دنیا میں انسانوں کے درمیان کبھی عدالت ہوتی ہے اور کبھی ظلم، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ یہ توانائی نہیں رکھتے کہ ہر شخص کے اعمال خود اس کی تحویل میں دے دیں۔ مفسرین کی ایک جماعت نے یہ تصور کر لیا ہے کہ آخری جملہ بد اعمالوں اور کفار کے لیے مخصوص ہے کہ جو اپنے اعمال کے مطابق سزا بھگتیں گے اور مومن اس میں شامل نہیں ہیں کیونکہ خدا انہیں ان کے اعمال سے زیادہ اجر و ثواب دے گا۔ لیکن ایک نکتے کی طرف توجہ کرنے سے یہ اشتباہ دور ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہاں جزا و سزا میں عدالت اور استحقاق کی بنیاد پر صلہ حاصل کرنے سے متعلق گفتگو ہے اور یہ چیز اس سے تضاد نہیں رکھتی کہ خدا مومنین کے لیے اپنے فضل و رحمت سے ہزاروں گنا اضافہ کر دے اور بہ "تفضل" کا مسئلہ ہے اور وہ استحقاق کا مسئلہ ہے۔ اس کے بعد مومنین کی جزا کے ایک گوشے کو بیان کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے سکونِ قلب اور راحت و آرام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: "اہلِ بہشت اس دن خدا کی نعمتوں میں ایسے مشغول ہوں گے کہ ہر قسم کی بےآرام کرنے والی فکر سے دور ہوں گے"۔ (إِنَّ أَصْحابَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ فِي شُغُلٍ)۔ "اور وہ انتہائی خوشی و سرور میں ہوں گے" (فاکھون)۔ "شغل" (بر وزن "شتر") اور "شغل" (بر وزن "قفل") دونوں ایسے امور و حالات کے معنی میں ہیں کہ جو انسان کو پیش آتے ہیں اور اسے اپنے ساتھ مشغول رکھتے ہیں چاہے وہ مسرت بخش ہوں یا غم انگیز۔ لیکن چونکہ اس کے بعد بِلافاصلہ لفظ "فاکھون" لایا گیا ہے اور یہ لفظ "فاکه" کی جمع ہے کہ جو مسرور و شاداب کے معنی میں ہے اس لیے ہو سکتا ہے یہ ایسے امور کی طرف اشارہ ہو کہ جو انسان کو فرطِ مسرت سے اس طرح مشغول رکھتے ہیں کہ جو پریشان کن امور سے بالکل غافل کر دیتے ہیں گویا وہ سرور و نشاط میں اس طرح محو ہو گا کہ اس پر کوئی غم و اندوه غالب نہ آ سکے گا۔ یہاں تک کہ وہ وحشت جو قیامِ قیامت اور عدالتِ الٰہی میں حاضر ہوتے وقت اسے ہوئی تھی وہ بھی بھول جائے گا کیونکہ اگر سچ مچ وہ نہ بھولے تو ہمیشہ پریشانی اور غم و اندوہ کا سایہ اس کے دل پر بوجھ بنا رہےگا۔ اس بنا پر اس اشغالِ ذہنی کا ایک اثر محشر کی ہولناکیوں کو بھول جانا ہے۔ [تشریحی نوٹ: راغب مفردات میں کہتا ہے کہ "فاکھۃ" ہر قسم کے پھل کے معنی میں ہے اور "فکاہ" ان باتوں کو کہا جاتا ہے کہ جو انسان کو مانوس و مشغول رکھیں اور ابن المنظور لسان العرب میں کہتا ہے کہ "فکاہ" مزاج کے معنی میں ہے اور "فاکہ" خواش مزاج انسان کو کہا جاتا ہے]۔ بہرحال اطمینانِ قلب کی نعمت جو تمام نعمتوں کی بنیاد ہے اور تمام نعمتوں سے استفادہ کی شرط ہے اس کے بعد دوسری نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: "وہ اور ان کی بیویاں لذت بخش سایوں کے نیچے (خلوت گاہوں میں) تختوں کے اوپر تکیہ لگائے ہوں گے"۔ (هُمْ وَأَزْواجُهُمْ فِي ظِلالٍ عَلَى الْأَرائِكِ مُتَّكِؤُنَ)۔ [اس آیت کی ترکیب میں علما نے بہت سے احتمال ذکر کیے ہیں لیکن ان سب میں سے زیادہ مناسب یہ ہے کہ "هم" مبتدا اور "مُتَّكِؤُنَ" خبر ہے اور " على الارائك" اس سے متعلق ہے اور "في ظلال" بھی اسی کے متعلق ہے یا ایک محزوف کے متعلق ہے]۔ "ازواج" بہشتی بیویوں یا ان مومن بیویوں کے معنی میں ہے کہ جو اس دنیا میں ان کی شریکِ حیات تھیں بعض نے خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ ہم طراز و ہم فکر افراد کے معنی میں ہے جیسا کہ سورہ صافات کی آیہ ۲۲ میں بیان ہوا ہے: احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْواجَهُم "ظالموں اور ان کے ہم طراز لوگوں کو حاضر کرو"۔ یہ خیال یہاں بعید نظر آتا ہے، خاص طور پر جبکہ مفسرین اور اربابِ لغت کی ایک کثیر جماعت کے مطابق "ارائک" "اریکه" کی جمع ہے کہ جو ان تختوں کے معنی میں ہے جو حجلہ گاہ میں ہوتے ہیں۔ [بحوالہ: لسان العرب، مفردات راغب، مجمع البیان، قرطبی، روح المعانی اور دوسری تفاسیر]۔ "ظلال" (سائے) کی تعبیر جنت کے درختوں کے سایوں کی طرف اشارہ ہے کہ جن کے نیچے اہلِ جنت کے تخت بِچھے ہوں گے یا بہشتی محلول کے سائے کی طرف اشارہ ہے اور یہ سب امور اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہاں بھی ایک سورج ہو گا لیکن اور وہ آزار و تکلیف دینے والا سورج نہیں ہو گا۔ ہاں! انہیں جنت کے دل پسند سایوں میں ایک اور ہی نشاط و سرور حاصل ہو گا۔ علاوہ ازیں "ان کے لیے بہت ہی لذت بخش میوے اور پھل ہوں گے اور وہ جو کچھ چاہیں گے انہیں میسر ہو گا"۔ (لَهُمْ فِيها فاكِهَةٌ وَلَهُمْ ما يَدَّعُونَ) ۔ قرآن مجید کی دوسری آیات سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ جنت کی غذا صرف پھل ہی نہیں ہیں لیکن زیر بحث آیت کی تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس کے پھل بھی جو ایک خاص قسم کے پھل ہیں جو اس جہان کے پھلوں سے ذائقے میں بہت زیادہ لطیف ہیں، بہشت کی افضل ترین غذا ہیں، یہاں تک کہ اس جہان میں بھی غذا شناس ماہریں کی گواہی کے مطابق پھل انسان کے لیے بہترین غذا ہیں۔ "يدعون" "دعایه" کے مادہ سے طلب کرنے کے معنی میں ہے یعنی جو کچھ طلب کریں گے اور جس چیز کی تمنا کریں گے وہ انہیں حاصل ہو جائے گی اور ان کے دل میں کوئی ایسی آرزو نہ ہو گی کہ جو پوری نہ ہو۔ مرحوم طبرسی "مجمع البیان" میں کہتے ہیں کہ عرب یہ تعبیر "تمنّا" کے موقع پر استعمال کرتے ہیں وہ کہتے ہیں: أُدع على مَا شئتَ "جو تیرا دل چاہے مانگ اور مجھ سے تمنٌا کر"۔ اس طرح سے آج جو کچھ انسان سوچ سکتا ہے وہ بھی اور جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہ آئے وہ بھی طرح طرح کی نعمتیں وہاں مہیا ہیں اور خدا اپنے مہمانوں کی بہت اچھی پذیرائی کرے گا۔ لیکن سب نعمتوں سے زیادہ اہم وہی روحانی نعمتیں ہیں کہ جن کی طرف آخری زیر بحث آیت میں اشاره کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: "ان کے لیے اسلام اور خدائی تہنیت ہے، یہ قول ہے ان کے رحیم اور مہربان پروردگار کی طرف سے"۔ (سَلامٌ قَوْلًا مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ) ۔ [تشریحی نوٹ: "قَوْلًا" کے اعراب کے محل کے بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے اور سب سے زیادہ مناسب یہ ہے کہ کہا جائے کہ وه "مفعول مطلق" ہے فعل محذوف کا اور تقدیر میں "يقول قولًا" تھا]۔ اس کی یہ روح افزا و نشاط بخش اور مہر و محبت سے پُرندا، انسان کی روح کو اس طرح سے اپنے اندر جذب کرے گی اور اسے لذت و خوشی اور روحانی سرور بخشے گی کہ کوئی نعمت اس کے برابر نہیں ہو گی۔ ہاں! محبوب کی ندا سننا، ایسی ندا جو محبت بھری ہو اور لطلف و کرم سے پر ہو، اہلِ بہشت کو سر تا پا سرور و خوشی میں غرق کر دے گی کہ جس کا ایک ہی لمحہ دنیا و مافیھا سے برتر ہے۔ ایک روایت میں پیغمبرِ گرامی اسلامؐ سے منقول ہوا ہے کہ جس وقت بہشتی لوگ جنت کی نعمتوں سے متمع ہو رہے ہوں گے تو ایک نور ان کے سروں کے اوپر ظاہر ہو گا۔ یہ لطفِ خدا کا نور ہے کہ جو ان کے اوپر سایہ فگن ہو گا اور اس سے ندا آئے گی کہ سلام ہو تم پر اے بہشت میں رہنے والو اور یہ وہی ہے کہ جو قرآن میں آیا ہے " سَلامٌ قَوْلًا مِنْ رَبٍّ رَحِيم " یہ وہ مقام ہے کہ لطفِ خدا کا احساس انہیں اس طرح مشغول کر دے گا کہ وہ سوائے اس کے ہر چیز سے غافل ہو جائیں گے اور اس حالت میں جنت کی تمام نعمتوں کو فراموش کر دیں گے اور یہ وہ منزل ہے کہ فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر درود هو۔ [بحوالہ: تفسیر روح المعانی جلد ۲۳ ص ۳۵ زیر بحث آیت کے ذیل میں]۔ ہاں! محبوب کے شہود کا جذبہ اور لطف دوست کا دیدار اس قدر لذت بخش اور شوق انگیز ہے کہ اس کا ایک لمحہ بھی کسی نعمت کے یہاں تک کہ سارے جہان کے برابر نہیں ہے۔ اس کے دیدار کے عاشق اس طرح ہیں کہ اگر فیض روحانی ان سے منقطع ہو جائے تو ان کی روح جسم سے پرواز کر جائے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں امیر المومنین سے منقول ہے کہ آپؑ نے فرمایا: لو حجبت عنه ساعة لمت "اگر میں گھڑی بھر کے لیے اس کے دیدار سے محجوب رہ جاؤں تو جان دے دوں"۔ [بحوالہ: روح البیان جلد ۷ ص ۴۱۶]۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ آیت کا ظاہر یہ ہے کہ پروردگار کا یہ سلام کہ جو بہشتی مومنین پر نچھاور ہو گا مستقیم و بِلاواسطہ سلام ہے۔ ایک ایسا سلام کہ جو پالنے والے اور پروردگار کی طرف سے ہے ایسا سلام کہ جو اس کی رحمت خاصیہ یعنی مقام رحیمیت کے سرچشمہ سے حاصل ہوتا ہے جس میں تمام الطاف و کرامات جمع ہیں اور یہ کتنی عمدہ نعمت ہے؟

سلام که جو اھلِ بہشت پر نچھاور ہوں گے

اصولی طور پر بہشت "دارالسلام" ہے جیسا کہ سورہ یونس کی آیہ ۲۵ میں بیان ہوا ہے کہ: وَاللهُ يَدْعُوا إِلى‏ دارِ السَّلامِ "خدا لوگوں کو دارالسلام اور سلامتی و آرام کی طرف دعوت دیتا ہے"۔ بہشتی کہ ہے جو اس سر زمین کے ساکن ہیں کبھی تو انہیں فرشتے سلام کریں گے کہ جو ان کے جنت میں داخل ہونے کے وقت ہر دروازے سے آئیں گے اور کہیں گے: "جو صبر تم نے کیا ہے اس کی وجہ سے تم پر سلام ہو اور یہ گھر کیسا اچھا نیتجہ ہے کہ جو تہمیں نصیب ہوا ہے"۔ وَالْمَلائِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ مِنْ كُلِّ بابٍ سَلامٌ عَلَيْكُمْ بِما صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّار (رعد ۔۲۳، ۲۴) اور کبھی اعراف میں رہنے والے انہیں پکاریں گے اور کہیں گے: "تم پر سلام ہو"۔ وَنادَوْا أَصْحابَ الْجَنَّةِ أَنْ سَلامٌ عَلَيْكُمْ (عراف۔ ۴۶) اور کبھی جنت میں داخل ہونے کے بعد فرشتوں کے سلام و درود پہنچیں گے اور کبھی قبض روح کے وقت یہ سلام موت کے فرشتوں کی جانب سے نذر ہو گا اور وہ کہیں گے: "تم پر سلام ہے جاؤ جنت میں داخل ہو جاؤ ان اعمال کی وجہ سے جو تم انجام دیتے تھے"۔ الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ طَيِّبِينَ يَقُولُونَ سَلامٌ عَلَيْكُمْ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِما كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ۔ (نحل۔ ۳۲) کبھی وہ خود ایک دوسرے پر سلام و درو بھیجیں گے اور اصولاً: "وہاں پر ان کا تحیہ وہی سلام ہے"۔ (تَحِيَّتُهُمْ فِيها سَلامٌ۔ (ابراہیم- ۲۳) بالآخر"ان سب سے برتر اور بالا تر پروردگار کا سلام ہے"۔ (سَلامٌ قَوْلًا مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ)۔ خلاصہ یہ ہے کہ: "نہ تو وہاں پر کوئی لغو بات سنی جائے گی اور نہ ہی کوئی بیہودہ کلام، صرف سلام ہی سلام ہے۔ لا يَسْمَعُونَ فِيها لَغْواً وَلا تَأْثِيماً إِلَّا قِيلًا سَلامًا سَلامًا۔ (واقعہ- ۲۵، ۲۶) لیکن یہ ایسا سلام نہیں ہو گا کہ جو صرف لفظوں ہی سے عبارت ہو، بلکہ یہ ایسا سلام ہو گا کہ اس کا آرام بخش اور سلامت آفرین اثر انسان کی روح اور دل کی گہرائیوں میں اتر جائے گا اور سب کو آرام و سکون اور سلامتی میں شرابور کر دے گا۔

59
36:59
وَٱمۡتَٰزُواْ ٱلۡيَوۡمَ أَيُّهَا ٱلۡمُجۡرِمُونَ
اے گنہگارو! آج کے دن الگ ہو جاؤ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 62 کے تحت ملاحظہ کریں۔

60
36:60
۞أَلَمۡ أَعۡهَدۡ إِلَيۡكُمۡ يَٰبَنِيٓ ءَادَمَ أَن لَّا تَعۡبُدُواْ ٱلشَّيۡطَٰنَۖ إِنَّهُۥ لَكُمۡ عَدُوّٞ مُّبِينٞ
اے اولاد آدم! کیا میں نے تم سے یہ عہد نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی پر ستش نہ کرنا کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 62 کے تحت ملاحظہ کریں۔

61
36:61
وَأَنِ ٱعۡبُدُونِيۚ هَٰذَا صِرَٰطٞ مُّسۡتَقِيمٞ
اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا کیونکہ صراط مستقیم یہی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 62 کے تحت ملاحظہ کریں۔

62
36:62
وَلَقَدۡ أَضَلَّ مِنكُمۡ جِبِلّٗا كَثِيرًاۖ أَفَلَمۡ تَكُونُواْ تَعۡقِلُونَ
اس نے تم میں سے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا ہے، کیاتم سو چتے نہیں ہو ؟

تفسیر: شیطان کی پرستش کیوں کرتے ہو

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

گزشتہ آیات میں اہل بہشت کے شوق انگیز اور پرافتخار انجام کا کچھ ذکر تھا زیر بحث آیات میں اہل دوزخ اور شیطان کے بندوں کے انجام کا کچھ تذکرہ ہے۔ پہلے تو یہ کہ اس دن انہیں تحقیر آمیز انداز سے خطاب کیا جائے گا ان سے کہا جائے گا: "اے گناہگارو! آج کے دن تم الگ ہو جاؤ" (وَامْتازُوا الْيَوْمَ أَيُّهَا الْمُجْرِمُونَ)۔ تمہی تو تھے کہ جو دنیا میں اپنے آپ کو مومنین کی صفوں میں رکھ کر ان کے رنگ میں سامنے آتے تھے اور ان کی حیثیت اور اعتبار سے استفادہ کرتے تھے۔ آج تم ان سے الگ ہو جاؤ اور اپنے اصلی چہرے میں ظاہر ہو جاؤ۔ یہ حقیقت میں اسی وعدہ الہی پر عمل درآمد ہے کہ جو سورۃ ص کی آیہ ۲۸ میں بیان ہوا ہے: أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ "کیا ہم ان لوگوں کو کہ جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے عملِ صالح انجام دیئے ہیں زمین میں فساد کرنے والوں کی طرح قرار دے دیں؟ یا پرہیزگاروں کو بد اعمالوں کی طرح کا قرار دے دیں"؟ بہرحال زیر بحث آیت کا ظاہری مفہوم مجرموں کی صفوں کا مومنین سے جدا کرنا ہی ہے اگرچہ مفسرین نے کئی دوسرے احتمال بھی ذکر کیے ہیں ان میں سے کچھ یہ ہیں: ا۔ مجرموں کی صفوں کا ایک دوسرے سے جدا ہونا اور ان میں سے ہر گروہ کا ایک صنف میں قرار پانا۔ ۲۔ یا ان کا اپنے شفیعوں اور معبودوں سے جدا ہونا۔ ۳۔ یا ان کے ہر فرد کا دوسرے سے جدا ہونا اس طرح سے کہ دوزخ کے عظیم رنج و غم کے علاوہ ہر شخص اور ہر چیز سے جدائی کا غم بھی ان پر اپنا سایہ ڈالے۔ لیکن خطاب چونکہ سب سے ہے لہذا "وامتازوا" کا مفہوم پہلے معنی کو ہی تقویت دیتا ہے کہ جو ہم نے بیان کیا ہے۔ بعد والی آیت قیامت کے دن خدا کی طرف سے مجرموں کے لیے معنی خیز ملامتوں اور سرزنشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے: "اے اولادِ آدم! کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی پرستش اور اطاعت نہ کرنا کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے" (أَ لَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يا بَنِي آدَمَ أَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطانَ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ)۔ یہ خدائی پیمان مختلف طریقوں سے انسان سے لیا گیا ہے اور بارہا یہ مفہوم اسے گوش گزار کرایا گیا ہے۔ سب سے پہلے اُس دن کہ جب آدم کی اولاد نے زمین میں پھلنا پھولنا شروع کیا تو انہیں یہ خطاب ہو: يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ كَما أَخْرَجَ أَبَوَيْكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ يَنْزِعُ عَنْهُما لِباسَهُما لِيُرِيَهُما سَوْآتِهِما إِنَّهُ يَراكُمْ هُوَوَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لا تَرَوْنَهُمْ إِنَّا جَعَلْنَا الشَّياطِينَ أَوْلِياءَ لِلَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ۔ "اے اولادِ آدم! شیطان تمہیں دھوکا نہ دے جس طرح سے کہ اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکلوایا تھا اور ان کا لباس ان کے بدن سے اتروا دیا تھا تا کہ ان کی شرمگاہ کو ان پر ظاہر کر دے۔ وہ اور اس کے پیرو تو تمہیں دیکھتے ہیں لیکن تم انہیں نہیں دیکھتے اچھی طرح جان لو کہ ہم نے شیاطین کو ایسے لوگوں کے (دوست اور) اولیاء قرار دیا ہے کہ جو ایمان نہیں لاتے"۔ (اعراف - ۲۷) اس کے بعد یہی تنبیہ بارہا انبیاء کی زبان پر جاری ہوئی۔ جیسا کہ سورہ زخرف کی آیہ ۶۲ میں ہے: وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ "شیطان تمہیں راہِ حق سے روک نہ دے کیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے"۔ وَلا تَتَّبِعُوا خُطُواتِ الشَّيْطانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ "تم شیطان کی پیروی نہ کرو کیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے"۔ دوسری طرف یہ پیمان عالم "تکوین" میں انسان سے اعطائے عقل کے حوالے سے بھی لیا گیا ہے کیونکہ عقلی دلائل وضاحت کے ساتھ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ انسان کو کبھی ایسے کا حکم نہیں ماننا چاہیے جس نے پہلے ہی دن سے اس کی دشمنی پر کمر باندھ رکھی ہے جس نے اسے جنت سے باہر نکلوایا ہے اور اس کی اولاد کو گمراہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے۔ تیسری طرف تمام انسانوں کو خدا کی دی ہوئی سرشت اور فطرت توحید اور ذات الہی کے لیے اطاعت کہ منحصر ہونے سے بھی عملی طور پر انسان سے یہ عہد لیا ہے کس طرح سے صرف ایک زبان سے نہیں بلکہ یہ خدائی تنبیہ کئی زبانوں سے ہو چکی ہے اور یہ سرشت ساز عہد قبول ہو چکا ہے۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ "لَا تَعبدوا الشیطَانَ" میں "عبادت" "اطاعت" کے معنی میں ہے کیونکہ عبادت ہمیشہ پرستش اور رکوع و سجود کے معنی میں نہیں آتی بلکہ اس کی ایک صورت اطاعت کرنا ہے۔ جیسا کہ سورہ مومنون کی آیہ ۴۷ میں ہے کہ فرعون اور اس کے اطرافیوں نے موسی اور ہارون کے مبعوث ہونے کے بعد کہا: أَ نُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنا وَقَوْمُهُما لَنا عابِدُونَ "کیا ہم ایسے دو انسانوں پر کہ جو ہم ہی جیسے ہیں ایمان لے آئیں حالانکہ ان کی قوم ہماری عبادت (اطاعت) کرتی ہے"۔ نیز سورہ توبہ کی آیہ ۳۱ میں ہے کہ خدا یہود و نصاریٰ کے بارے میں فرماتا ہے: اتَّخَذُوا أَحْبارَهُمْ وَرُهْبانَهُمْ أَرْباباً مِنْ دُونِ الله وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَما أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلهاً واحِدًا۔ "انہوں نے اپنے علماء اور راہبوں کو خدا کے مقابلے میں معبود قرار دے دیا اور اسی طرح مسیح ابن مریم کو بھی۔ حالانکہ انہیں خدائے یگانہ کہ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے کی عبادت کے سوا کسی اور کی عبادت کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا"۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ ایک روایت میں امام باقر اور امام صادق سے اس آیہ کے ذیل میں منقول ہے: اما و الله ما دعوهم الى عبادة أنفسهم، و لو دعوهم ما أجابوهم و لكن احلوا لهم حراما و حرموا عليهم حلالا فعبدوهم من حيث لا يشعرون! خدا کی قسم! انہوں نے )علماء اور راہبوں نے( یہود و نصاری کو اپنی عبادت کی طرف دعوت نہیں دی تھی اور اگر وہ اس بات کی دعوت دیتے تو یہود و نصاری کبھی بھی ان کی اس دعوت کو قبول نہ کرتے لیکن انہوں نے تو ان کے لیے حرام کو حلال اور حلال کو حرام کر دیا تھا )اور انہوں نے اسے قبول کر لیا تھا( اور اسی طرح سے لاشعوری طور پر ان کی عبادت کی تھی۔ [بحوالہ: وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۸۹ )ابواب صفات القاضی باب ۱۰ حدیث۔۱(]۔ اسی مفہوم کی نظیر کچھ فرق کے ساتھ دوسری روآیات میں بھی موجود ہے۔ ان میں سے ایک روایت میں امام صادق سے منقول ہے: من اطاع رجلا فى معصية فقد عبده جس شخص نے کسی انسان کی پروردگار کی معصیت میں اطاعت کی تو اس نے اس کی پرستش کی۔ [بحوالہ: وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۹۱ )ابواب صفات القاضی باب ۱۰، حدیث ۸، ۹)]۔ ایک حدیث میں امام باقر سے منقول ہے: من اصغى الى ناطق فقد عبده، فان كان الناطق يؤدى عن الله فقد عبد الله، و ان كان الناطق يؤدى عن الشيطان فقد عبد الشيطان۔ "جو شخص کسی بولنے والے کی بات پر کان دھرے (اور اس کی باتوں کو قبول کرے) تو اس نے اس کی پرستش کی اگر بولنے والا حکمِ خدا کو بیان کرتا ہے تو اس نے خدا کی عبادت کی ہے اور اگر وہ شیطان کی طرف سے بات کر رہا ہے تو اس نے شیطان کی عبادت کی ہے۔ [بحوالہ: وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۹۱ )ابواب صفات القاضی باب ۱۰) حدیث ۸، ۹)]۔ بعد والی آیت میں مزید تاکید اور اولادِ آدم کی ذمہ داریوں اور فرائض کو بیان کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے کہ کیا مَیں نے تم سے یہ عہد نہیں لیا تھا کہ: "میری ہی عبادت کرنا اور میری اطاعت کرنا کیونکہ سیدھا راستہ یہی ہے" (وَأَنِ اعْبُدُونِي هذا صِراطٌ مُسْتَقِيمٌ)- ایک طرف تو یہ عہد لیا کہ شیطان کی اطاعت نہ کرنا کیونکہ اس نے اپنی دشمنی اور عداوت کو پہلے ہی دن سے آشکار کر دیا تھا لہذا کونسا عقلمند ایسا ہے کہ جو اپنے دیرینہ اور کھلے ہوئے دشمن کا حکم مانے گا۔ اس کے مقابلے میں یہ عہد لیا کہ صرف اسی کی اطاعت کریں اور اس کی دلیل یہ دی گئی ہے کہ صراطِ مستقیم ہی ہے۔ یہ بات حقیقت میں انسانوں کے لیے بہترین محرک ہے کیونکہ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص خشک اور جلا دینے والے بیابان میں پھنس جائے اور اپنی اور اپنے بیوی بچوں کی جان اور اپنے مال و متاع کو چوروں اور بھیڑیوں کے خطرے میں دیکھے تو سب سے اہم چیز کے جس کے بارے میں وہ غور و فکر کرے گا وہ یہ ہے کہ منزل کی طرف سیدھی راہ کونسی ایسی راہ کے جو زیادہ جلدی اور زیادہ آسانی کے ساتھ اسے منزلِ نجات تک پہنچا دے۔ ضمنی طور پر اس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جہان قیام کرنے کا مقام نہیں ہے۔ کیونکہ راستہ ایسے شخص کو دکھایا جاتا ہے کہ جو کسی گزرگاہ سے عبور کر رہا ہو اور اسے کسی منزلِ مقصود پہنچنا ہو۔ اس کے بعد اس دیرینہ خطرناک دشمن سے زیادہ سے زیادہ آگاہی کے لیے مزید فرمایا گیا ہے: "اس نے تم میں سے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا ہے کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے" (وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِيراً أَ فَلَمْ تَكُونُوا تَعْقِلُونَ)۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ شیطان اپنے پیروکاروں پر کیسی کیسی بدبختیاں لایا ہے۔ کیا تم نے گزشتہ لوگوں کی تاریخ کا مطالعہ نہیں کیا تاکہ تم دیکھتے کہ اس کے بندے اور غلام کس برے اور دردناک انجام میں گرفتار ہوئے ہیں؟ اُن کے اَن دیکھے شہروں کے ویرانے تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں اور ان کا غم انگیز انجام ہر اُس شخص کے لیے واضح ہے کہ جو تھوڑی سی بھی عقل رکھتا ہو۔ پھر تم سنجیدگی کے ساتھ اس دشمن کو اپنا دشمن نہیں سمجھتے کہ جو بارہا اپنی عداوت و دشمنی ثابت کر چکا ہے؟ پھر اس سے دوبارہ دوستی گانٹھتے ہو، یہاں تک کہ اسے اپنا رہبر، ولی اور رہنما بناتے ہو۔ مفرداتِ راغب کے مطابق "جِبِلّ" اس جماعت اور گروہ کے معنی میں ہے کہ جو عظمت و بزرگی کے لحاظ سے جبل (بر وزن – "عمل") جو پہاڑ کے معنی میں ہے سے مشابہت رکھتا ہو اور "کثیراً" کی تعبیر شیطان کے پیروکاروں کے بارے میں زیادہ تاکید کے لیے ہے کہ جو ہر معاشرہ کا ایک بہت بڑا حصہ ہوتے ہیں۔ بعض نے "جبل" کی تعداد دس ہزار یا اس سے زیادہ لکھی ہے اور اس سے کمتر کے لیے یہ تعبیر مناسب نہیں سمجھی۔ [بحوالہ: تفسیر روح المعانی و قرطبی زیر بحث آیت کے ذیل میں]۔ لیکن بعض اس تعداد کو ضروری نہیں سمجھتے۔ [بحوالہ: تفسیر فخر رازی، زیر بحث آیات کے ذیل میں]۔ حال عقلِ سلیم کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اس قسم کے خطرناک دشمن سے خوب ڈرتا رہے کہ جو کسی انسان پر رحم نہیں کرتا اور اس کے ہاتھوں برباد ہونے والے ہر جگہ خاکِ ہلاکت پر پڑے ہوئے ہیں۔ ایسے دشمن سے ایک لمحے کے لیے بھی غافل نہیں ہونا چاہیے چنانچہ ہمارے آگاہ و بیدار پیشوا امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام اپنے ایک خطبے میں اس حقیقت کی طرف توجہ دلانے کے لیے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: فاحذروا عباد الله! عدو الله، ان يعديكم بدائم، و ان يستفزكم بندائه، و ان يجلب عليكم بخيله و رجله، فلعمرى لقد فوق لكم سهم الوعيد، و اغرق إليكم بالنزع الشديد، و رماكم من مكان قريب، فقال رب بما أغويتنى لأزينن لهم فى الأرض و لأغوينّهم أجمعين۔ "اے خدا کے بندو! خدا کے اس دشمن سے ڈرتے رہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں اپنی بیماری (غرور و تکبر) میں مبتلا کر دے اور آواز دے کر تمہیں حرکت میں لے آئے اور اپنے سوار اور پیادہ لشکر کے ذریعے تمہیں اپنا بنا لے۔ مجھے اپنی جان کی قسم! اُس نے تمہیں شکار کرنے کے لیے ایک خطرناک تیر کمان میں رکھا ہوا ہے اور اپنی پوری توانائی سے شدت کے ساتھ کھینچا ہوا ہے اور اس نے نزدیک ترین جگہ سے تمہیں نشانہ بنا رکھا ہے۔ اس نے یہ اعلان بھی کر رکھا ہے کہ اے پروردگار! مجھے تو تو نے گمراہ کیا ہی ہے لہذا میں بھی زندگی کے زرق و برق اور ٹھاٹھ باٹھ کی ان کی آنکھوں میں چکا چوند کر دوں گا اور ان سب کو اغوا اور گمراہ کر دوں گا۔ )حالانکہ خدا اس کی گمراہی کا سبب نہیں تھا بلکہ ہوائے نفس نے اسے گمراہ کیا تھا۔ [بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ قاصعہ]۔ واقعاً عجیب بات ہے کہ ہم اس قسم کے دشمن کو اپنا دوست بنائیں۔ بقولِ شاعر: كجا بر سر آيم از اين عار و ننگ كه با او به صلحيم و با حق به جنگ؟ "ہم اس عار و ننگ سے کس طرح باہر نکل سکتے ہیں کہ اس )شیطان( سے تو ہماری صلح ہے اور حق کے خلاف جنگ ہے"۔

63
36:63
هَٰذِهِۦ جَهَنَّمُ ٱلَّتِي كُنتُمۡ تُوعَدُونَ
یہ وہی دوزخ ہے کہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 68 کے تحت ملاحظہ کریں۔

64
36:64
ٱصۡلَوۡهَا ٱلۡيَوۡمَ بِمَا كُنتُمۡ تَكۡفُرُونَ
آج تم اس میں داخل ہو جاؤ اور اس کی آگ میں جلو اس کفر کی بنا پر کہ جو تم کیا کرتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 68 کے تحت ملاحظہ کریں۔

65
36:65
ٱلۡيَوۡمَ نَخۡتِمُ عَلَىٰٓ أَفۡوَٰهِهِمۡ وَتُكَلِّمُنَآ أَيۡدِيهِمۡ وَتَشۡهَدُ أَرۡجُلُهُم بِمَا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ
آج ہم ان کے منہ پر مہر لگادیں گے اور ان کے ہاتھ اور پاؤں ان کے خود کردہ کاموں کی گواہی دیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 68 کے تحت ملاحظہ کریں۔

66
36:66
وَلَوۡ نَشَآءُ لَطَمَسۡنَا عَلَىٰٓ أَعۡيُنِهِمۡ فَٱسۡتَبَقُواْ ٱلصِّرَٰطَ فَأَنَّىٰ يُبۡصِرُونَ
اور اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھیں موند دیں پھر اگروہ چاہیں رستہ طے کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جائیں تو وہ دیکھ کیسے سکیں گے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 68 کے تحت ملاحظہ کریں۔

67
36:67
وَلَوۡ نَشَآءُ لَمَسَخۡنَٰهُمۡ عَلَىٰ مَكَانَتِهِمۡ فَمَا ٱسۡتَطَٰعُواْ مُضِيّٗا وَلَا يَرۡجِعُونَ
اور اگر ہم چاہیں تو انہیں ان کی جگہ پر ہی مسخ کر دیں کہ نہ تو وہ آگے کو سفر جاری رکھ سکیں اور نہ ہی پیچھے کی طرف پلٹ سکیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 68 کے تحت ملاحظہ کریں۔

68
36:68
وَمَن نُّعَمِّرۡهُ نُنَكِّسۡهُ فِي ٱلۡخَلۡقِۚ أَفَلَا يَعۡقِلُونَ
جس شخص کو ہم لمبی عمر دیتے اسے خلقت کے اعتبار سے پلٹ دیتے ہیں کیا وہ عقل سے کام نہیں لیتے؟

جب زبان چپ ہو گی، اعضا گواهی دیں گے

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

گزشتہ آیات میں قیامت میں مجرموں کے لیے خدا کی سرزنش کا ذکر ہے اور اس کے علاوہ ان کے بارے میں کچھ دیگر باتوں کا بیان ہے۔ زیر بحث آیات میں بھی وہی سلسلہ کلام جاری ہے۔ ہاں! اس دن کہ جب کہ جہنم کی جلانے والی بھڑکتی ہوئی آگ مجرموں کی آنکھوں کے سامنے ہو گی، تو اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مجرموں کو مخاطب کیا جائے گا: "یہ وہی دوزخ ہے کہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا"۔ (هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتي‏ كُنْتُمْ تُوعَدُونَ)۔ خدا کے نبی یکے بعد دیگرے آتے رہے اور تمہیں اس دن اور ایسی آگ سے ڈراتے رہے لیکن تم نے ان سب کا تمسخر اڑایا: "آج اس میں داخل ہو جاؤ اور اس کی آگ میں جلو، کیونکہ یہ اس کفر کی جزا ہے کہ جو تم کرتے تھے"۔ (اصْلَوْهَا الْيَوْمَ بِما كُنْتُمْ تَكْفُرُون)۔ [تشریحی نوٹ: "اصلو"، "صلی" کے مادہ سے آگ جلانا یا آگ میں جلانا اور بھوننا، یا آگ میں داخل ہونا اور اس کو لازم کر لینے کے معنی میں ہے]۔ اس کے بعد قیامت کے دن کے گواہوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ وہ گواہ کہ جو خود انسان کے جسم کا حصہ ہیں اور ان کی باتوں کے انکار کی گنجائش نہیں ہے۔ فرمایا گیا ہے: "آج ہم ان کے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پاؤں ان کاموں کی کہ ہے جو انہوں نے انجام دیئے تھے ہمارے حضور شہادت دیں گے"۔ (الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلى‏ أَفْواهِهِمْ وَتُكَلِّمُنا أَيْدِيهِمْ وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُمْ بِما كانُوا يَكْسِبُون)۔ ہاں! اس دن انسان کے اعضاء اس کی مرضی کے تابع نہیں ہوں گے، وہ اپنا حساب انسان کے پورے وجود سے جدا کر کے پروردگار کا حکم مانیں گے اور اس کے آستانہ مقدس پر سر جھکا دیں گے اور اپنی شہادت کے ذریعے حقائق آشکار کر دیں گے۔ وہ کتنی عجیب عدالت ہے کہ جس کے گواہ خود انسان کے بدن کے اعضاء ہیں، وہی آلات کہ جن کے ذریعے اس نے گناہ انجام دیا تھا۔ شاید اعضاء کی گواہی اس بناء پر ہو کہ ان مجرموں کو جس وقت یہ کہا جائے گا کہ جو عمل تم انجام دیا کرتے تھے اس کی سزا جہنم ہے، تو وہ یہ گمان کرتے ہوئے کہ شاید یہ دنیاوی عدالت ہے کہ جس میں حقائق سے پیٹھ پھیر کر انکار کیا جا سکتا ہے، ان کا انکار کر دیں گے۔ اس پر اعضاء کی گواہی شروع ہو جائے گی۔ ایسے میں ان پر تعجب اور وحشت چھا جائے گی اور بھاگنے کے تمام راستے ان پر بند ہو جائیں گے۔ اعضاء کے بولنے کی کیفیت کیا ہو گی، اس بارے میں مفسرین نے کئی احتمال ذکر کیے ہیں: 1- خدا اس دن ایک ایک عضو میں بات کرنے کا ادراک و شعور پیدا کر دے گا اور اعضاء سچ مچ باتیں کریں گے اور اس میں تعجب کی کونسی بات ہے کہ وہی ذات جس نے گوشت کے ایک ٹکڑے کو جسے زبان کہتے ہیں، یا انسان کے دماغ میں سے قدرت پیدا کی ہے، وہ دوسرے اعضاء میں بھی یہ قدرت پیدا کر سکتا ہے۔ 2- وہ ادراک و شعور سے بہرہ مند نہیں ہوں گے، لیکن خدا انہیں بات کرنے کا حکم دے گا اور حقیقت میں اعضاء گفتگو کے ظہور کا محل ہوں گے اور حقائق کو خدا کے فرمان اور حکم سے شکار کریں گے۔ 3- ہر انسان کے بدن کے اعضاء کے ساتھ ان اعمال کے آثار بھی یقینا ہوں گے جو انہوں نے عمر بھر میں انجام دیئے ہیں کیونکہ اس جہان میں کوئی عمل بھی نابود نہیں ہوتا۔ یقینا اس کے آثار بدن کے ایک ایک حصے پر اور فضائے محیط میں باقی رہ جاتے ہیں۔ وہ دن کہ جو ظاہر و آشکار ہونے کا دن ہے یہ آثار بھی ہاتھ پاؤں اور باقی اعضاء پر ظاہر ہو جائیں گے اور ان آثار کا ظہور ان کی شہادت شمار ہو گا۔ یہ تعبیر روزمرہ کی باتوں اور ادباء کی تعبیر میں بھی کثرت سے پائی جاتی ہے۔ مثلاً کہتے ہیں: عينك تشهد بسهرك "تیری آنکھ تیرے جاگتے رہنے کی گواہ ہے"۔ یا ہم کہتے ہیں: الحيطان تبکی علٰی صاحب الدار "دیواریں اس گھر کے مالک پر گریہ کرتی ہیں"۔ ایک فارسی شاعر بھی کہتا ہے: ؎ رنگ رخساره خبری دھد از سر درون "رخسار کا رنگ اندرونی راز کی خبر دے رہا ہے"۔ بہرحال قیامت میں اعضاء کی گواہی مسلم ہے، اب رہی یہ بات کہ کیا ہر خاص عضو اسی کام کو بیان کرے گا کہ جو اس نے انجام دیا ہے یا تمام کاموں کو؟ تو بِلاشک و شبہ احتمالِ اول ہی مناسب ہے۔ لہذا قرآن کی دوسری آیات میں کان، آنکھ اور جلد بدن کے بات کرنے کا ذکر ہوا ہے۔ جیسا کہ سورة حٰم السجدہ کی آیہ ۲۰ میں ہے: حَتَّى إِذا ما جاؤُها شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَأَبْصارُهُمْ وَجُلُودُهُمْ بِما كانُوا يَعْمَلُون۔ "جس وقت وہ جہنم کی آگ کے کنارے آ کھڑے ہوں گے، تو ان کے کان، آنکھ اور بدن کی جلد ان اعمال کی گواہی دے گی کہ جو وہ انجام دیتے تھے"۔ نیز سوره نور کی آیہ ۲۴ میں آیا ہے: يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ بِما كانُوا يَعْمَلُون "اس دن ان کی زبان، ہاتھ اور پاؤں ان اعمال کی گواہی دیں گے کہ جنہیں وہ انجام دیتے تھے"۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ ایک جگہ تو یہ فرمایا گیا ہے: "ان کی زبانیں گواہی دیں گی"۔ جیسا کہ سوره نور میں ہے اور زیر بحث آیات میں فرمایا گیا ہے: "ہم ان کی زبان پر مہر لگا دیں گے"۔ ممکن ہے کہ یہ تعبیر اس بناء پر ہو کہ پہلے تو انسان کی زبان پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے دوسرے اعضاء کلام کریں گے۔ جب وہ دیکھے گا کہ دوسرے اعضاء شهادت دے رہے ہیں تو اس کی زبان کھل جائے گی اور اب انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی لہذا زبان بھی اعتراف کر لے گی۔ یہ احتمال بھی ہے کہ زبان کی شہادت سے مراد عام تکلم نہ ہو بلکہ باقی اعضاء کی طرح کا تکلم ہو کہ جو اس کے اندر سے ابھرے نہ کہ باہر سے (اس عظیم عدالت کے گواہوں کی تعداد اور ان کی گواہی کی کیفیت کے سلسلے میں ہم انشاء اللہ سورہ حم السجدہ اس کی آیات ۱۹-۲۳ کے ذیل میں اس سے زیادہ تفصیلی گفتگو کریں گے)۔ آخری بات یہ ہے کہ اعضاء کی گواہی کفار اور مجرموں کے ساتھ مربوط ہے، ورنہ مومنین کا مسئلہ تو واضح ہے اس لیے امام باقر علیہ السلام کی ایک حدیث میں ہے: " ليست تشهد الجوارح على مؤمن، انما تشهد على من حقت عليه كلمة العذاب، فاما المؤمن فيعطى كتابه بيمينه، قال الله عزّوَجَلّ فَمَنْ أُوتِيَ كِتابَهُ بِيَمِينِهِ فَأُولئِكَ يَقْرَؤُنَ كِتابَهُمْ وَلا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا"– "اعضاء جسمانی مومن کے خلاف گواہی نہیں دیں گے بلکہ اس شخص کے برخلاف گوہی دیں گے جس پر فرمانِ عذاب مسلم ہو چکا ہو گا، باقی رہا مومن تو اس کا نامہ اعمال اس کےدائیں ہاتھ میں ہو گا (اور وہ خود ہی اسے پڑھے گا) جیسا کہ خداوندِ تعالٰی فرماتا ہے: "جن کا نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا ہے (وہ سرفرازی اور افتخار کے ساتھ) اپنا نامۂ اعمال پڑھیں گے اور ان پر معمولی سا ظلم بھی نہیں ہو گا"۔ [بحوالہ: تفسیر صافی زیر بحث آیت کے ذیل میں]۔ بعد والی آیت میں ایک عذاب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ممکن ہے کہ خدا اس مجرم گروہ کو اسی دنیا میں اس عذاب میں مبتلا کر دے ایک ایسا عذاب کہ جو دردناک بھی ہے اور وحشت انگیز بھی ارشاد ہوتا ہے: "اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھیں ملیا میٹ کر دیں"۔ (وَلَوْ نَشاءُ لَطَمَسْنا عَلى‏ أَعْيُنِهِمْ)۔ [تشریحی نوٹ: "طمسنا" "طمس" (بر وزن "شمس") کے مادہ سے محو کرنے اور کسی چیز سے آثار ختم کرنے کے معنی میں ہے اور یہاں آنکھ کے نور یا خود آنکھ کو اس طرح محو کرنے کی طرف اشارہ ہے کہ اس میں سے کوئی چیز باقی نہ رہ جائے اور وہ بالکل محو ہو جائے]۔ اس حالت میں انہیں انتہائی وحشت گھیر لے گی "وہ چاہیں گے کہ جیسے وہ پہلے کیا کرتے تھے اسی طرح ایک دوسرے پر سبقت حاصل کریں لیکن وہ کس طرح سے دیکھ سکتے ہیں" (فَاسْتَبَقُوا الصِّراطَ فَأَنَّى يُبْصِرُون)۔ وہ تو اپنے گھر کا راستہ تک بھی تلاش نہ کر پائیں گے چہ جائیکہ وہ راہِ حق کو تلاش کر سکیں اور صراطِ مستقیم پر چل سکیں۔ دوسری دردناک سزا یہ ہے کہ "اگر ہم چاہیں تو انہیں ان کی اپنی جگہ پر ہی مسخ کر دیں (بےروح اور بےحس و حرکت مجسموں یا مفلوج جانوروں کی طرح) اس طرح سے کہ نہ تو وہ آگے کو سفر جاری رکھ سکیں اور نہ ہی پیچھے کی طرف مڑ سکیں۔ (وَلَوْ نَشاءُ لَمَسَخْناهُمْ عَلى‏ مَكانَتِهِمْ فَمَا اسْتَطاعُوا مُضِيًّا وَلا يَرْجِعُون)۔ [تشریحی نوٹ: "مكانة" "ٹھرنے کی جگہ" کے معنی میں ہے اور یہاں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا انہیں ان کی اسی جائے قیام میں انسانی شکل سے محروم کر دے گا، ان کی شکل بھی بدل جائے گی اور چلنے پھرنے کی توانائی بھی ان میں باقی نہ رہے گی بالکل بےروح مجسموں کی طرح]۔ "فَاسْتَبَقُوا الصِّراطَ" ممکن ہے کہ اس راستے کی تلاش میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کے معنی میں ہو جس پر وہ عام طور پر جایا کرتے تھے۔ یا راستے سے بھٹک جانے اور اسے نہ پا سکنے کے معنی میں ہو۔ کیونکہ جن اربابِ لغت سے کہا ہے کہ "فاستبقوا الصراط" "جاوزوه وتركوه حتى ضلوا" کے معنی میں ہے۔ یعنی راستے سے آگے نکل گئے اور پیچھے چھوڑ دیا۔ یہاں تک کہ وه گمراہ ہو گئے۔ [بحوالہ: لسان العرب، قطر المحيط، المنجد (ماده "سبق")]۔ بہرحال اس تفسیر کے مطابق کہ جسے اکثر مفسرین نے قبول کیا ہے یہ دونوں آیات عذابِ دنیا کے ساتھ مربوط ہیں اور کفار و مجرمین کو اس بات کی تنبیہ و تہدید کرتی ہیں کہ خدا انہیں اس جہان میں ایسے دردناک انجام میں مبتلا کر سکتا ہے لیکن اس نے اپنے لطف و رحمت کی بنا پر ایسا نہیں کیا کہ شاید یہ ہٹ دهرم بیدار ہو جائیں اور راہِ حق کی طرف پلٹ آئیں۔ لیکن ایک احتمال اور بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ آیات روزِ قیامت کے عذاب سے متعلق ہیں نہ کہ دنیا کے درحقیقت گزشتہ آیت کہہ رہی تھی کہ ہم ان کے منہ پر مہر لگا دیں گے۔ ان آیات میں دو دوسری سزاؤں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اگر خدا چاہے تو یہ سزائیں ان پر لاگو کر دے۔ پہلی یہ کہ ان کی آنکھوں کو نابینا کر دے تاکہ وہ "صراط" جنت کے راستے کو نہ پا سکیں اور دوسری یہ کہ ان لوگوں کو کہ جو دنیا میں راهِ سعادت پر نہیں چلتے تھے اس دن انہیں بےروح مجسموں کی صورت میں ظاہر کر دے تاکہ وہ عرصہ محشر میں حیران و پریشان ہو کر رہ جائیں "نہ تو انہیں آگے کی طرف کوئی راستہ سجھائی دے اور نہ ہی پیچھے کی طرف البتہ جو تفسیر ہم نے بیان کی ہے آیات کی مناسبت اس تفسیر کے لیے ایک تائید ہے۔ اگرچہ اکثر مفسرین نے پہلی تفسیر کو قبول کیا ہے۔ [تشریحی نوٹ: اس تفسیر کو "في ظلال" نے اکیلی تفسیر کی صورت میں ذکر کیا ہے جبکہ پہلی تفسیر کو مجع البیان، بتیان، المیزان، صافي، روح المعانی، روح البیان، قرطبی اور تفسیر کبیر از فخر الدین رازی میں اختیار کیا گیا ہے]۔ زیر بحث آخری آیت میں عقل و جسم کے ضعف و ناتوانی کے لحاظ سے، عمر کے آخر میں انسان کی حالت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے تاکہ ان لوگوں کے لیے کہ جو راہِ ہدایت اختیار کرنے میں آج اور کل کرتے رہتے ہیں، ایک تنبیہ بھی ہو اور ان لوگوں کا جواب بھی ہو کہ جو اپنی کوتاہیوں کو عمر کی کمی کے سر ڈال دیتے ہیں اور یہی بات خدا کی قدرت کی دلیل بھی ہو کہ وہ جس طرح ایک قوی اور طاقتور انسان کو ایک نومولود کی ناتوانی کی طرف پلٹا سکتا ہے کچھ ایسے ہی وہ معاد پر بھی قادر ہے اور اسی طرح مجرموں کو نابینا کرنے اور چلنے پھرنے سے باز رکھنے پر بھی قدرت رکھتا ہے۔ فرمایا گیا ہے: "جس شخص کو ہم طولِ عمر دیتے ہیں اسے خلقت کے اعتبار سے پلٹ دیتے ہیں، کیا وہ عقل سے کام نہیں لیتے"۔ (وَمَنْ نُعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ أَ فَلا يَعْقِلُونَ)۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ "ننکّسه" "تنکیس" کے مادہ سے کسی چیز کو اس طرح سرنگوں کر دینا ہے کہ سر پاؤں کی جگہ آ جائیں اور یہاں انسان کے بالکل بچپن کی حالت کی طرف پلٹ جانے کے لیے کنایہ ہے کیونکہ انسان ابتدائے خلقت میں ضیعف ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ رشد و کمال کی طرف جاتا ہے۔ شکمِ مادر کے دور میں ہر روز نئی خلقت اور جدید رُشد سے گزرتا ہے۔ پیدا ہونے کے بعد بھی جسم و روح میں اپنے تکامل و ارتقاء کو تیزی کے ساتھ جاری و ساری رکھتا ہے اور خداداد قوتیں اور صلاحیتیں کہ جو اس کے وجود کے اندر چھپی ہوئی ہیں یکے بعد دیگرے ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔ جوانی کا دور اور اس کے بعد پختگی کا وقت آن پہنچتا ہے اور انسان جسمانی و روحانی تکامل و ارتقاء کی بلندی پر پہنچ جاتا ہے۔ یہاں بعض اوقات جسم و روح اپنے سفر کو ایک دوسرے سے جدا کر لیتے ہیں۔ روح تو اسی طرح سے اپنے تکامل و ارتقًا کو جاری رکھتی ہے۔ جبکہ جسم پیچھے کی طرف پلٹنا شروع کر دیتا ہے لیکن انجامِ کار عقل میں بھی تنزل شروع ہو جاتا ہے اور یہ آہستہ آہستہ اور کبھی تیزی کے ساتھ بچپن کے مراحل کی طرف لوٹ آتی ہے۔ بچوں جیسی حرکتیں، بچوں جیسی سوچ، یہاں تک کے بہانہ تراشیاں بھی بچوں کی طرح ہی ہو جاتی ہیں اور جسمانی کمزوری بھی اس کے ہم آہنگ ہو جاتی ہے، اس فرق کے ساتھ کہ بچوں کی یہ حرکتیں پیاری لگتی ہیں اور امید بخش و مسرت آفریں مستقبل کی خوشخبری ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے بالکل قابلِ برداشت ہوتی ہیں لیکن بوڑھوں کی طرف سے ناپسندیدہ اور کبھی نفرت خیز یا ترحم انگیز ہوتی ہیں۔ سچ مچ ایسے دن آن پہنچتے ہیں کہ جو بہت ہی دردناک ہوتے ہیں اور جن کی تکلیف کی گہرائی کا بڑی مشکل سے تصور کیا جا سکتا ہے۔ قرآنِ مجید سوره حج کی آیہ ۵ میں بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کرتا ہے اور کہتا ہے: وَمِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلى‏ أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلا يَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئاً "تم میں سے بعض اس قدر عمر رسیدہ ہو جاتے ہیں کہ وہ بدترین زندگی اور بڑھاپے کے مرحلے کو پہنچ جاتے ہیں اس طرح سے کہ جو علم انہوں نے حاصل کیا ہے وہ بھی یاد نہیں رہتا (یہاں تک کہ اپنے گھر کے افراد میں سے قریب ترین افراد کو بھی نہیں پہچان سکتے)"۔ لہذا بعض روایات میں ستر سالہ افراد کو " اسير الله فى الارض" (زمین میں خدا کے قیدی) کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ [تشریحی نوٹ: یہ جملہ حدیثِ نبوی (کتاب سفینہ ماده "عمر") میں آیا ہے جبکہ دوسری روایات میں نوّے سال کا ذکر ہے]۔ بہرحال "أفلا يعقلون" اس سلسلے میں ایک عجیب و غریب تنبیہ ہے اور انسانوں سے کہتی ہے کہ اگر یہ قدرت و توانائی کہ جو تم رکھتے ہو عاریتاً نہ ہوتی تو اتنی آسانی کے ساتھ تم سے نہ چھین لی جاتی۔ جان لو کہ کسی اور کا دستِ قدرت تمہارے سر پر ہے کہ جو ہر چیز پر قادر ہے۔ جب تک اس مرحلے تک نہیں پہنچتے اپنی خبر لو اور اس سے پہلے کہ نشاط و زیبائی پژمردگی میں تبدیل ہو اس چمن کے پھول چن لو اور آخرت سے طولانی سفر کا توشہ اس جہان سے لے لو۔ کیونکہ ناتوانی، بڑھاپے اور درماندگی کے وقت تم سے کچھ بھی نہ ہو سکے گا۔ اسی لیے جن پانچ چیزوں کی پیغمبرِ اکرمؐ نے ابوذر کو وصیت کی تھی ان میں سے ایک یہ تھی کہ بڑھاپے سے پہلے دورِ جوانی کو غنیمت جانو: اغتنم خمسا قبل خمس: شبابك قبل هرمك، صحتك قبل سقمك، وغناك قبل فقرك، وفراغك قبل شغلك وحياتك قبل موتك۔ پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، اپنی صحت کو بیماری سے پہلے، اپنی تونگری کو فقر و فاقہ سے پہلے، اپنی فراغت کو مشغولیت سے پہلے اور اپنی زندگی کو موت سے پہلے۔ [بحوالہ: بحار، جلد ۷۷ ص ۷۷]۔ یا بقول شاعر: چنين گفت روزى به پيرى جوانى كه چون است با پيريت زندگانى؟ بگفتا در اين نامه حرفى است مبهم كه معنيش جز وقت پيرى ندانى! تو به كز توانايى خويش گويى چه مى پرسى از دوره ناتوانى‏ متاعى كه من رايگان دادم از كف تو گر مى توانى مده رايگانى! "ایک دن ایک نوجوان نے ایک بوڑھے سے پوچھا کہ تیرے بڑھاپے کے دن کیسے گزر رہے ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ اس خط میں ایک مبہم بات ہے کہ جس کا معنی تو بڑھاپے سے پہلے نہیں جان سکتا۔ بہتر ہے کہ تو اپنی قوت وتوانائی کی بات کرے ناتوانی اور عجز کے دور کے متعلق کیا پوچھتا ہے۔ وہ متاع کہ جو میں اپنے ہاتھ سے مفت میں دے چکا ہوں اگر تجھ سے ہو سکے تو اسے رائیگاں اور مفت میں نہ جانے دے"۔

69
36:69
وَمَا عَلَّمۡنَٰهُ ٱلشِّعۡرَ وَمَا يَنۢبَغِي لَهُۥٓۚ إِنۡ هُوَ إِلَّا ذِكۡرٞ وَقُرۡءَانٞ مُّبِينٞ
ہم نے ہر گز اسے شعر کی تعلیم نہیں دی اور وہ اس کے لائق بھی نہیں ہے (کہ وہ شاعر ہو)۔ یہ (کتاب آسمانی تو) صرف ذکر اور قرآن مبین ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔

70
36:70
لِّيُنذِرَ مَن كَانَ حَيّٗا وَيَحِقَّ ٱلۡقَوۡلُ عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ
مقصد یہ ہے کہ تو ان لوگوں کو ڈرائے کہ جو زندہ ہیں اور کفار پر اتمام حجت ہو جائے اور عذاب کا حکم ان کے لیے مسلم ہوجائے۔

رسول شاعر نہیں بلکہ وہ زندوں کو ڈرانے والا ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

ہم نے بیان کیا تھا کہ اس سورہ میں اصولِ دین میں سے توحید، معاد اور نبوت کے بارے میں زنده اور جامع مباحث بیان کیے گئے ہیں اور گفتگو کے مختلف حصے یکے بعد دیگرے ایک خاص انداز سے آتے چلےجاتے ہیں۔ گزشتہ آیات میں توحید و معاد کے سلسلے میں مختلف بحثیں آتی ہیں۔ زیرِ نظر دونوں آیات میں نبوت کے بارے میں بحث کی گئی ہے۔ پیغمبر اسلامؐ پر جو اتہامات لگائے جاتے تھے ان میں سے جو اتہام سب سے زیادہ تھا اسے عنوان بنا کر انہیں دندان شکن اور سبق آموز جواب دیا گیا ہے اور وہ ہے شعر گوئی کا الزام فرمایا گیا ہے: "ہم نے اسے شعر کی تعلیم نہیں دی اور نہ ہی اس کے لیے مناسب اور لائق ہے کہ وہ شاعر ہو"۔ (وَما عَلَّمْناهُ الشِّعْرَ وَما يَنْبَغِي لَهُ)۔ وہ پیغمبرِ اکرمؐ پر ایسے الزامات کیوں لگاتے تھے حالانکہ آپؐ نے کبھی بھی شعر میں کہا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ سب لوگ دلوں میں قرآن کی تاثیر اور کشش محسوس کرتے تھے اور اس کے لفظ و معنی کی زیبائی اور فصاحت و بلاغت انکار کے قابل نہیں تھی۔ یہاں تک کہ خود مشرکین بھی قرآن کی آواز اور بیان سے اتنے متاثر ہوتے تھے کہ بعض اوقات رات کے وقت میں چھپ چھپ کر پیغمبر اکرامؐ کی منزل کے قریب آتے تھے تاکہ رات کی تاریکی میں آپؐ کی تلاوت کا زمزمہ سن سکیں۔ کتنے ہی لوگ ایسے تھے جو قرآن کی چند آیات سنتے ہی اس کے شیفتہ اور فریفتہ ہو گئے اور ایک ہی مجلس میں اسلام قبول کر لیا اور قرآن کی آغوش میں پناہ لے لی۔ یہی سبب تھا کہ اس عظیم تاثیر کی توجیہ اور اس آسمانی وحی سے لوگوں کو غافل رکھنے کے لیے، انہوں نے ہر جگہ پیغمبر اکرمؐ کی شعرگوئی کا پروپیگیڈہ کیا اور یہ باطنی طور پر قرآن کی انتہائی تاثیر کا ایک اعتراف تھا۔ لیکن شاعر ہونا پیغمبر کی شان کے لائق کیوں نہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ "وحی" کا راستہ شعر کے راستے سے بالکل مختلف ہے، کیونکہ: ۱۔ عام طور پر شعر کا سرچشمہ تخیلات و تصورات ہوتے ہیں، شاعر زیادہ تر خیال کے دوش پر سفر کرتا ہے جبکہ "وحی" کا سرچشمہ مبداء ہستی ہے اور یہ حقیقتوں کے گرد گردش کرتی ہے۔ ۲۔ شعر انسانی تغیر پزیر حالت سے وقوع میں آتا ہے اور ہمیشہ تغیر کی حالت میں ہوتا ہے جبکہ وحی آسمانی ثابت شده حقائق کو بیان کرتی ہے۔ ۳۔ شعر کا لطف اکثر موقعوں پر مبالغہ آرائی میں ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ یہ کہا گیا ہے کہ: احسن الشعر اکذبه "سب سے بہتر شعر وہ ہے کہ جس میں سب سے زیادہ جھوٹ ہو"۔ جبکہ وحی میں صداقت اور سچائی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ۴۔ شاعر بہت سے موقعوں پر لفظ کی زیبائیوں کی خاطر مجبور ہو جاتا ہے کہ خود کو الفاظ کے سپرد کر دے اور اس کے پیچھے پیچھے چلے اور کتنے ہی حقائق ایسے ہوتے ہیں کہ جو ایسی باتوں میں پامال ہو جاتے ہیں۔ ۵۔ ایک مفسر کے خوبصورت خیال میں "شعر" ان آرزوؤں کا مجموعہ ہے کہ جو زمین سے آسمان کی طرف پرواز کرتی ہیں لیکن وحی ایسے حقائق کا مجموعہ ہے جو آسمان سے زمین کی طرف نازل ہوتے ہیں اور یہ دونوں راستے ایک دوسرے سے بالکل جدا ہیں۔ اس مقام پر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم ان شعراء کا حساب جدا سمجھیں کہ جو مقدس مقاصد کے لیے قدم اٹھاتے ہیں اور اپنے شعر کو غیر مطلوب عوارض سے دور رکھتے ہیں۔ چاہیے کہ ایسے شعرا کے مقام اور فن کی قدر و قیمت کو فراموش نہ کریں۔ لیکن بہرحال عام طور پر شعر کا مزاج اور طبیعت یہی ہے جو بیان ہوا ہے۔ اسی بنا پر قرآن مجید سوره شعراء کے آخر میں کہتا ہے: وَالشُّعَراءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغاوُونَ "شعراء تو وہ ہیں جن کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں"۔ (شعراء ۲۲۴) اس کے بعد مختصر اور پرمعنی عبارت میں اس کی دلیل پیش کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: أَ لَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وادٍ يَهِيمُونَ وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ ما لا يَفْعَلُون۔ "کیا تو نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں سرگرداں پھرتے ہیں (ہمیشہ خیالات و تصورات کی دنیا اور اپنی شاعرانہ تشبیہات میں ڈوبے رہتے ہیں) اور ہیجانات کی موجوں اور خیالی تحرکات کے سامنے جھکے ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں دیکھتے نہیں ہو کہ جو باتیں وہ کہتے ہیں ان پر عمل نہیں کرتے"۔ (شعراء - ۲۲۵ - ۲۲۶) البتہ انہی آیات کے آخر میں ان شعراء کو جو صاحبِ ایمان اور نیک و صالح ہیں اور جن کا فن ان کے اہداف و مقاصد کے کام آتا ہے مستثنٰی قرار دیا گیا ہے اور ان کی قدر افزائی کی گئی ہے اور ان کا معاملہ دوسروں سے جدا رکھا گیا ہے۔ لیکن بہرحال پیغمبر شاعر نہیں ہو سکتا اور جس وقت قرآن یہ کہتا ہے کہ "خدا نے اسے شعر کی تعلیم نہیں دی" تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کا پیغام شعر کی حیثیت نہیں رکھتا، کیونکہ اس کی تمام تعلیمات کا منبع خدا ہے۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ تواریخ و روایات میں بارہا نقل ہوا ہے کہ جس وقت پیغمبر اکرمؐ چاہتے تھے کہ کسی شعر کو بطورِ مثال پیش کریں اور اسے اپنے قول کا شاہد قرار دیں تو اسے توڑ کر پیش کرتے تھے تاکہ دشمن کے ہاتھ کوئی بہانہ نہ آ جائے، چنانچہ ایک دن پیغمبرؐ چاہتے تھے کہ عربوں کا مشہور شعر پڑھیں: ستبدى لك الايام ما كنت جاهلا وياتيك بالاخبار من لم تزود "عنقريب زمانہ تیرے لیے ایسے ایسے حقائق آشکار کر دے گا جن سے تو آگاہ نہیں تھا اور ایسے افراد تیرے لیے خبریں لے کر آئیں گے جن کے لیے تو نے زاد و توشہ مہیا نہیں کیا تھا"۔ تو پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا: ياتيك من لم تزود بالاخبار، اور جملے کو آگے پیچھے کر دیا۔ [مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں]۔ قرآن پیغمبر اکرمؐ کے بارے میں شعر کی نفی کرتے ہوئے مزید کہتا ہے کہ: "یہ آیات سوائے بیداری کے وسیلہ اور آشکار قرآن سے اور کچھ نہیں ہیں"۔ (إِنْ هُوَإِلَّا ذِكْرٌ وَقُرْآنٌ مُبِينٌ)- "اس سے مقصد یہ ہے کہ تو ان لوگوں کو ڈرائے جو زندہ ہیں اور کافروں پر اتمام حجت ہو جائے اور حکمِ عذاب ان کے لیے مسلم ہو جائے"۔ (لِيُنْذِرَ مَنْ كانَ حَيًّا وَيَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكافِرِينَ)۔ [تشریحی نوٹ: "لینذر" "ذکر" سے متعلق ہے کہ جو اس سے پہلے کی آیت میں ہے اور بعض نے اسے "علمنا" یا "مزلنا" سے متعلق سمجھا ہے کہ جو مقدر ہے لیکن پہلا احتمال زیادہ مناسب نظر آتا ہے]۔ ہاں! یہ آیات "ذکر" ہیں اور نصحیت و بیداری کا وسیلہ ہیں۔ یہ قرآن مبین کی آیات ہیں کہ جو کسی قسم کی پردہ پوشی کے بغیر بڑی صراحت کے ساتھ حق کو بیان کرتی ہیں اور اسی بنا پر بیداری اور حیات کا موجب ہیں۔ ایک مرتبہ پھر ہم یہاں دیکھتے ہیں کہ قرآن "ایمان" کو "حیات" اور مومنین کو "زندہ" اور بےایمان افراد کو "مردہ" کے نام سے یاد کرتا ہے، ایک طرف تو "حئی" (زندہ) ہے اور اس کے مقابل "کافرین" ہے۔ یہ وہی معنوی حیات و موت ہے جو ظاہری موت و حیات سے کئی درجے بڑھ کر ہے اور اس کے آثار زیادہ وسیع ہیں۔ اگر حیات سانس لینے، کھانا کھانے اور چلنے پھرنے کا نام ہو تو یہ ایسی چیز ہے کہ جس میں تمام جانور شریک ہیں۔ یہ انسانی حیات نہیں ہے۔ حیات انسانی تو، روح انسانی میں، عقل و خرد اور اعلٰی ملکات کے پھول کھلنے، تقویٰ، ایثار، فدا کاری، نفس پر قابو رکھنے اور فضیلت و اخلاق کا نام ہے اور قرآن انسانوں کے وجود میں اس حیات کی پرورش کرتا ہے۔ بہرحال انسان قرآن کی دعوت کے مقابلے میں دو گروہوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں، ایک گروہ زندہ و بیدار افراد کا ہے کہ جو اس کی ہر دعوت پر لبیک کہتا ہے اور اس کی تـنبیوں پر توجہ دیتا ہے، دوسرا گروہ مرده دل کفار کا ہے کہ جو اس کے جواب مثبت ردعمل کا اظہار نہیں کرتا لیکن یہ انزار ان پر تمام حجت اور حکمِ عذاب کے مسلم ہونے کا باعث ہے۔

دلوں کی موت اور زندگی

انسان چند قسموں کی موت و حیات کا حامل ہے۔ پہلی تو "نباتی" موت و حیات ہے جو نشو ونما، غذا کھانے اور تولیدِ نسل کی مظہر ہے۔ اس لحاظ سے انسان تمام نباتات کے مانند ہے۔ دوسری موت و حیات "حیوانی" ہے کہ جس کی واضح نشانی حس و حرکت ہے اور ان دونوں خصوصيات میں انسان تمام حیوانات کے ساتھ شریک ہے۔ البتہ تیسری قسم حیات کی وہ ہے جو انسانوں کے ساتھ مخصوص ہے، جو انہیں نباتات اور دوسرے حیوانات سے جدا کرتی ہے اور وہ ہے حیات انسانی و روحانی۔ یہ وہی چیز ہے جسے اسلامی روایات میں حیات القلوب قرار دیا گیا ہے۔ یہاں پر "قلب" سے مراد وہی روح، عقل اور احساساتِ انسانی ہیں۔ امیر المومنین علی علیہ اسلام کے ارشادات میں نہج البلاغہ کے خطبات اور کلمات قصار میں اس مسئلے کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک خطبے میں آپؑ قرآن کے بارے میں فرماتے ہیں: تفقهوا فيه فإنه ربیع القلوب "قرآن کے بارے میں غور و فکر کرو، کیونکہ اس میں دلوں کو حیات بخشنے والی بہار ہے"۔ [بحوالہ: نہج البلاغہ خطبہ ۱۱۰]۔ دوسری جگہ حکمت و دانش کے متعلق فرماتے ہیں: ھي حيات للقلب الميت "حکمت و دانائی مردہ دلوں کے لیے سببِ حیات ہے"۔ [بحوالہ: نہج البلاغہ خطبہ ۱۳۳]۔ کبھی دل کی بیماری کا بدن کی بیماری سے تقابل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: واشد من مرض البدن مرض القلب "بدن کی بیماری سے دل کی بیماری بدتر ہے"۔ [بحوالہ: نہج البلاغہ، کلمات قصار کلمہ ۳۸۸]۔ کبھی فرماتے ہیں: ومن قل ورعه مات قلبه "جس میں پرہیزگاری کی روح کم ہو جائے اس کا دل مر جاتا ہے"۔ [بحوالہ: نہج البلاغہ، کلمات قصار کلمہ ۳۴۹]۔ دوسری طرف قرآنِ مجید نے انسان کے لیے ظاہری بینائی و شنوائی اور شعور و ادراک کے علاوہ ایک خاص قسم کی بینائی و شنوائی اور شعور و ادراک کا ذکر کیا ہے جیسا کہ کفار کے بارے میں ہے: صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لا يَعْقِلُونَ "وہ بہرے،گونگے اور اندھتے ہیں اور اسی بنا پر عقل و شعور نہیں رکھتے"۔ ( بقره - ۱۷۱) دوسری جگہ منافقین کو دل کے بیماروں کا نام دیا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے: فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَهُمُ اللهُ مَرَضاً "خدا ان کی بیماری میں اضافہ کر دیتا ہے"۔ (بقره ۔۱۰)۔ نیز جن لوگوں کے دلوں میں خدا کا خوف نہیں ہے انہیں قرآن سنگدل قرار دیتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ (مِنْ بَعْدِ ذلِكَ) فَهِيَ كَالْحِجارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً "ان کا دل پتھر سے بھی زیادہ سخت ہے"۔ (بقره ۔۷۴) اور کافروں کو "ناپاک دل والے افراد" کے ساتھ تعارف کراتے ہوئے قرآن کہتا ہے: أُولئِكَ الَّذِينَ لَمْ يُرِدِ اللهُ أَنْ يُطَهِّرَ قُلُوبَهُمْ "وہ ایسے لوگ ہیں کہ خدا ان کے دلوں کو پاک نہیں کرنا چاہتا"۔ (مائده ــــ ۴۱) ایک اور جگہ کہتا ہے: "تیری دعوت کو صرف وہ زندہ لوگ ہی قبول کریں گے کہ جو سننے والے کان رکھتے ہیں، نہ کہ مردہ لوگ"۔ إِنَّما يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ وَ الْمَوْتى‏ يَبْعَثُهُمُ اللهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ ایک اور جگہ ہے: "صرف وہ لوگ ہی کہ جو سننے والے کان رکھتے ہیں تیری دعوت قبول کریں گے۔ باقی رہے مردے تو انہیں خدا قیامت میں اٹھائے گا پھر وہ اس کی طرف پلٹ کر جائیں گے"۔ (انعام ـــــــــ ۳۶) ان تعبیرات کے مجموعے اور ان سے مشابہ بہت سی دوسری تعبیروں سے اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ قرآن موت و حیات کا محور اسی عقل والے انسانی محور کو شمار کرتا ہے کیونکہ انسان کی تمام قدر و قیمت اسی حصے میں چھپی ہوئی ہے۔ حقیقت میں حیات و ادراک، دیکھنا اور سننا وغیرہ انسانی وجود کے اسی حصے میں مجتمع ہوتا ہے۔ اگرچہ بعض مفسرین نے ان تعبیرات کو مجاز سمجھا ہے لیکن وہ اس مقام پر روحِ قرآنی سے ہم آہنگ نہیں ہیں کیونکہ قرآن کی نگاہ میں حقیقت یہی ہے اور حیوانی موت و حیات ایک مجاز سے زیادہ نہیں ہے۔ روحانی موت و حیات کے عوامل و اسباب بہت زیادہ ہیں لیکن قدرِ مسلّم یہ ہے کہ نفاق، تکبر، غرور، تعصب، جہالت اور گناہانِ کبیره دل کو مردہ کر دیتے ہیں جیسا کہ امام زین العابدین علی بن الحسین علیہ السلام کی پندرہ مناجاتوں میں سے تائبین کی مناجات میں بیان ہے: وامات قلبى عظيم جنايتى "میرے بڑے بڑے جرائم نے میرے دل کو مردہ کر دیا ہے"۔ [بحوالہ: امام علی بن الحسینؑ کی پندرہ مناجاتوں میں سے پہلی مناجات (مناجاتِ تائبین)]۔ زیرِ بحث آیات بھی اسی حقیقت پر ایک تاکید ہیں۔ کیا وہ لوگ زندہ ہیں کہ جو زندگی میں صرف اس بات پر قانع ہو گئے ہیں کہ وہ بےخبری کی حالت میں ہمیشہ عیش و نوش میں زندگی بسر کریں، نہ کسی مظلوم کی فریاد سنیں، نہ منادیانِ حق کی ندا پر لبیک کہیں، نہ ظالم کے ظلم سے ناراحت اور پریشان ہوں اور نہ مظلومین کی محرومیت پر ان میں جنبش و حرکت پیدا ہو، صرف اپنے بارے میں سوچیں اور اپنے غیر بلکہ خود اپنے آپ سے بھی بیگانہ ہوں۔ کیا زندگی یہی ہے کہ جس کا ماحصل صرف کچھ غذا کھا لینا، کچھ کپڑے بوسیدہ کر لینا اور سونے اور جاگنے کی تکرار کرتے رہنا؟ اگر زندگی یہی ہے تو پھر حیوان اور عالمِ انسانی میں کیا فرق ہے؟ پس یہ بات قبول کرنی ہی پڑے گی کہ اس ظاہری زندگی کے ماوراء اور پسِ پردہ ایک حقیقت ہے کہ جس کا قرآن ذکر کرتا ہے اور اس کے بارے میں بات کرتا ہے۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ ایسے مرنے والے کہ جن کی موت میں بھی حیاتِ انسانی کے آثار پائے جاتے ہیں قرآن کی نگاہ میں مر کر بھی زندہ ہیں لیکن وہ زندہ کہ جن میں حیاتِ انسانی کے آثار میں سے کوئی نظر نہیں آتا، قرآن کی منطق میں مردہ ہیں۔ ایک جانکاه رقت بار موت۔

71
36:71
أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّا خَلَقۡنَا لَهُم مِّمَّا عَمِلَتۡ أَيۡدِينَآ أَنۡعَٰمٗا فَهُمۡ لَهَا مَٰلِكُونَ
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ جو چیزیں ہم اپنی قدرت سے روبہ عمل لائے ہیں ان میں ہم نے ان کے لیے چو پائے پیدا کیے ہیں کہ جن کے وہ مالک ہیں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 76 کے تحت ملاحظہ کریں۔

72
36:72
وَذَلَّلۡنَٰهَا لَهُمۡ فَمِنۡهَا رَكُوبُهُمۡ وَمِنۡهَا يَأۡكُلُونَ
ہم نے انہیں ان کے لیے یوں رام کر دیا ہے کہ انہی میں سے سواری کا کام بھی لیتے ہیں اور انہیں میں سے غذا بھی حاصل کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 76 کے تحت ملاحظہ کریں۔

73
36:73
وَلَهُمۡ فِيهَا مَنَٰفِعُ وَمَشَارِبُۚ أَفَلَا يَشۡكُرُونَ
نیز ان (حیوانات) میں ان کے لیے دوسرے منافع بھی ہیں اور پینے کی اچھی چیزیں ہیں، کیا وہ اس حالت میں شکر نہیں کرتے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 76 کے تحت ملاحظہ کریں۔

74
36:74
وَٱتَّخَذُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ ءَالِهَةٗ لَّعَلَّهُمۡ يُنصَرُونَ
انہوں نے اپنے لیے خدا کے علاوہ کچھ معبود بنا لیے ہیں۔اس امید پر کہ شاید ان کی مدد کی جاے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 76 کے تحت ملاحظہ کریں۔

75
36:75
لَا يَسۡتَطِيعُونَ نَصۡرَهُمۡ وَهُمۡ لَهُمۡ جُندٞ مُّحۡضَرُونَ
لیکن وہ ان کی مدد پر قادر نہیں ہیں اور یہ آتش جہنم میں حا ضر ہونے والاان کا لشکر ہوں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 76 کے تحت ملاحظہ کریں۔

76
36:76
فَلَا يَحۡزُنكَ قَوۡلُهُمۡۘ إِنَّا نَعۡلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعۡلِنُونَ
لہٰذا ان کی باتیں تمہیں غمگین نہ کریں،ہم ان تمام باتوں کو جانتے ہیں کہ جنہیں وہ پنہاں رکھتے ہیں یا ظاہر کرتے ہیں۔

چوپایوں کے عظیم فائدے

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

ان آیات میں قرآنِ مجید ایک بار پھر توحید و شرک کے مسئلے کی طرف لوٹتا ہے اور انسانوں کی زندگی میں عظمت خدا کی کچھ نشانیوں کا ذکر کرتا ہے۔ ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ خدا ہی اپنے بندوں کی حاجات کو پورا کرتا ہے اور بت اس سلسلے میں بےبس اور ناتواں ہیں اس طرح ایک واضح موازنہ کرتے ہوئے راہِ توحید کی حقانیت اور راہ شرک کے بطلان کو واضح کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: "کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ جو چیزیں ہم اپنی قدرت سے روبہ عمل لائے ہیں ان میں ہم نے ان کے لیے چوپائے بھی پیدا کیے ہیں کہ جن کے وہ مالک ہیں" أَ وَلَمْ يَرَوْا أَنَّا خَلَقْنا لَهُمْ مِمَّا عَمِلَتْ أَيْدِينا أَنْعاماً فَهُمْ لَها مالِكُونَ۔ [تشریحی نوٹ: "اولم یروا۔۔۔" ایک ایسا جملہ ہے کہ جو واؤ عطف کے ساتھ اپنے سے پہلے جملے پر عطف ہوا ہے البتہ چونکہ ہمزہ استفہام ہمیشہ صدر نشین ہوتا ہے اس لیے واؤ عاطفہ سے پہلے آیا ہے اور یہاں ممکن ہے کہ رویت جاننے یا دیکھنے کے معنی میں ہو]۔ اس غرض سے کہ وہ ان چوپائیوں سے اچھی طرح فائدہ اٹھا سکیں "ہم نے انہیں ان کے لیے رام کر دیا ہے" وَذَلَّلْناها لَهُمْ۔ "یہ ان میں سے اپنے لیے سواریاں بھی فراہم کرتے ہیں اور ان سے غذا بھی حاصل کرتے ہیں" فَمِنْها رَكُوبُهُمْ وَمِنْها يَأْكُلُون۔ ان چوپایوں کے فائدے صرف یہی نہیں ہیں بلکہ "ان کے لیے ان حیوانات میں دوسرے فائدے بھی ہیں اور اچھے مشروبات بھی ہیں" وَلَهُمْ فِيها مَنافِعُ وَمَشارِبُ۔ "کیا ان حالات میں بھی وہ ان نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے"۔ وہ شکر کے جو اللہ کی معرفت کا وسیلہ اور ولی نعمت کی شناخت کا ذریعہ ہے (أَ فَلا يَشْكُرُونَ۔

چند قابل توجه نکات

۱۔ مختلف نعمتیں کہ جن میں انسان سر سے پاؤں تک ڈوبا ہوا ہے، ان میں سے یہان چوپایوں کی طرف اشارہ ہو رہا ہے کیونکہ وہ انسان کی روزمرہ کی زندگی میں ہمیشہ حاضر رہتے ہیں، انسانی زندگی ان کے ساتھ اس حد تک وابستہ ہے کہ اگر وہ انسانی زندگی سے حذف ہو جائیں تو واقعاً انسان کی زندگی مشکل اور پیچیدہ ہو جائے۔ ۲۔ "عملت أيدينا" (ہمارے ہاتھوں نے انہیں انجام دیا)۔ یہ جملہ پروردگار کی مستقیم DIRECT قدرت کے اعمال کی طرف اشارہ ہے کیونکہ انسان کا اہم ترین عضو کہ جس کے ساتھ وہ اپنی قدرت کو عمل میں لاتا ہے، اس کے ہاتھ ہیں۔ اسی وجہ سے "ید" (ہاتھ) قدرت کے لیے کنایہ ہے۔ قرآنِ مجید کہتا ہے: يَدُاللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ "خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے"۔ (فتح ـــــــ ۱۰) بہرحال "ایدی" کا ذکر جمع کی شکل میں پروردگار کی قدرت کے گوناں گوں مظاہر کی اشارہ ہے۔ ۳۔ "فَهُمْ لَها مالِكُونَ" (فاء تفریع کے ساتھ) اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہم نے چوپایوں کو اپنی قدرت کے ساتھ پیدا کیا ہے لیکن اس کی مالکیت انسانوں کو بخش دی ہے اور اس سے لطفِ پروردگار کی انتہا ظاہر ہوتی ہے، اس بناء پر وہ اشکال کہ جو بعض مفسرین کے لیے یہاں "فاء تفریع" میں پیدا ہو گیا ہے ختم ہو جاتا ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے کہ ہم کسی سے کہیں کہ یہ باغ ہم نے آباد کیا ہے لیکن تم اس سے فائدہ اٹھاؤ گے اور یہ انتہائی محبت و ایثار کی نشانی ہے۔ ۴- "وَذَلَّلْناها لَهُم" انسانوں کے لیے چوپائے رام ہونے کے اہم مسئلے کی طرف اشارہ ہے یہ طاقتور حیوانات کہ جو کبھی کبھی نادر طور پر خدا کے " ذَلَّلْناها " کے فرمان کو فراموش کرتے ہوئے عصیان و طغيان پر اتر آتے ہیں تو اس قدر خطرناک ہو جاتے ہیں کہ دسیوں افراد ان کے مقابلہ میں عاجز آ جاتے ہیں لیکن عام حالات میں اونٹوں کی ایک قطار کو ایک رسی سے باندھ کر ایک چند سالہ بچے کے ہاتھ میں دے دیا جاتا ہے تو وہ انہیں جہاں اس کا دل چاہے لے جاتا ہے۔ واقعاً عجیب بات ہے، نہ تو انسان اس بات پر قادر ہیں کہ ایک مکھی ہی پیدا کر سکیں اور نہ ہی وہ ایک مکھی کو اپنا میطع و فرمانبردار بنا سکتے ہیں لیکن خدائے قادر و منان نے لاکھوں قسم کے چوپائے پیدا کیے ہیں اور انہیں انسان کے لیے رام اور مطیع کر دیا ہے اور وہ ہمیشہ انسان کی خدمت میں لگے رہتے ہیں۔ ۵- "فَمِنْها رَكُوبُهُمْ وَمِنْها يَأْكُلُونَ" میں "رکوب" صفت مشبہ ہے اور "مرکوب" یعنی وہ جانور کہ جس پر سوار ہوتے ہیں کے معنی میں ہے۔ یہ جملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کچھ حیوانات کو تو مرکب اور سواری کے طور پر استعمال کرتا ہے اور کچھ کو کھانے کے لیے۔ اگرچہ تمام عام جانوروں کا گوشت اسلام کی نظر میں حلال ہے لیکن عملی طور پر ان میں سے کچھ ہی جانور کھانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً گدھے کا گوشت سوائے مجبوری کی حالت کے کوئی نہیں کھاتا۔ البتہ یہ اس صورت میں ہے کہ "منھا" کو دونوں جملوں میں "تبعیض" کے معنی میں لیا جائے لیکن اگر پہلا "منها" تبعیض حیوانات اور دوسرا "تبعیض" اجزاء کے لیے ہو، تو پھر اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ بعض جانوروں کو تم اپنی سواری بناتے ہو اور بعض کے اجزائے بدن سے غذا حاصل کرتے تو (کیونکہ ہڈیاں وغیره غذا کے قابل نہیں ہیں)۔ ۶- "لَهُمْ فِيها مَنافِع" کا جملہ ان دوسرے بہت سے فوائد کی طرف اشارہ ہے کہ جو چوپایوں سے انسان کو حاصل ہوتے ہیں۔ ان کی اون سے طرح طرح کے لباس اور خیمے بنتے ہیں اور ان کا چمڑا لباس، جوتا، ٹوپی اور زندگی کی دوسری مختلف اور ضروریات کے کام آتا ہے۔ یہاں تک کہ موجودہ زمانے میں بھی جبکہ مصنوعات نے انسانی زندگی کا چہرہ ہی بدل کے رکھ دیا ہے پھر بھی انسانوں کی یقینی ضرورت لباس کے لحاظ سے بھی اور باقی وسائل زندگی سے لحاظ سے بھی چوپایوں سے اپنی پوری شد و مد کے ساتھ باقی ہے۔ یہاں تک کہ موجودہ زمانے میں انواع و اقسام کے سیرم (EXTRACT) اور ویکسین (VACCINE) کہ جو بیماریوں کا مقابلہ کرتے یا حفظِ ماتقدم کے لیے موثر ترین ذریعہ ہیں چوپایوں سے ہی حاصل ہوتی کہ جو ان کے خون سے مہیا کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ چوپایوں کی زندگی کی بےقدر و قیمت چیزیں گوبر اور پیشاب سے بھی استفادہ کیا جاتا ہے اور اسے زمینوں اور درختوں کے لیے کھاد کے طور کے استعمال کیا جاتا ہے۔ ۷- "مشارب" کی تعبیر اس دودھ کی طرف اشارہ ہے کہ جو مختلف جانوروں سے حاصل کیا جاتا ہے اور انسان کی غذا کا ایک اہم حصہ اس سے اور اسی سے بنائی ہوئی چیزوں سے حاصل ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ آج دنیا میں دودھ کی پیداوار اور دودھ سے بنی ہوئی صنعتیں مختلف ممالک کی درآمد و برآمد کا ایک اہم حصہ ہیں- وہی دودھ کہ جو انسان کے لیے ایک مکمل غذا ہے اور یہ خوش گوار دودھ گوبر اور خون کے درمیان سے نکلتا ہے کہ جو پینے والے کے لیے باعثِ لذت اور ناتوانوں کے لیے توانائی بخش ہے۔ [تشریحی نوٹ: جانوروں کے پستانوں سے نکلنے والے دودھ میں خدا کی قدرت نمائی اور دودھ کی خوبیوں کے بارے میں ہم تفصیلی بحث میں جلد ۶ میں سورہ نحل کی آیه ۶۶ کے ذیل میں کر چکے ہیں]۔ ۸- "أَ فَلا يَشْكُرُونَ" استفہامِ انکاری کی صورت میں آیا ہے۔ یہ جملہ خدا کی بےپایاں نعمتوں پر احساسِ تشکر ابھارنے کی غرض سے ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں "شکر منعم کا لزوم" "معرفتِ خدا" کے لیے ایک بنیادی چیز ہے۔ کیونکہ شکر، نعمت بخشنے والے کی پہچان کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ علاوہ ازیں ان نعمتوں کا مطالعہ اور اس بات کا شعور کہ بتوں کا ان میں ہرگز کوئی عمل دخل نہیں، شرک کو باطل کرنے کا ایک وسیلہ ہو گا۔ اس لیے بعد والی آیات میں مشرکین کی حالت بیان کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: "انہوں نے خدا کے علاوہ اپنے لیے کچھ معبود بنا لیے ہیں، اس امید پر کہ وہ ان کی مدد کریں گے" (اور انہیں بتوں کی حمایت حاصل ہو گی) (وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللهِ آلِهَةً لَعَلَّهُمْ يُنْصَرُونَ)- کیا خیالِ خام اور باطل نظریہ ہے کہ ان کمزور موجودات کو جو خود اپنے دفاع پر بھی قادر نہیں ہیں، زمین و آسمان کے خالق اور ان تمام نعمتوں کے بخشنے والے کے برابر قرار دے دیا جائے اور زندگی کے مشکل امور میں ان سے مدد طلب کی جائے۔ وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللهِ آلِهَةً لِيَكُونُوا لَهُمْ عِزًّا "ہاں! وہ کبھی اس بنا پر بتوں کے پیچھے جاتے تھے کہ وہ ان کے لیے سرمایہ عزت ہوں گے"۔ (مریم ۔۸۱) اور کبھی انہیں خدا کی بارگاہ میں شفیع خیال کرتے۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ ما لا يَضُرُّهُمْ وَلا يَنْفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللهِ "وہ خدا کے علاوہ کچھ ایسی موجودات کی پرستش کرتے ہیں کہ جو انہیں کوئی ضرر پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی نفع، وہ کہتے ہیں کہ یہ بارگاہِ خدا میں ہمارے شفیع ہیں"۔ (یونس ـــــ ۱۸) بہرحال یہ تمام خیالات نقش بر آب ہیں اور جیسا کہ قرآن سوره اعراف کی آیہ ۱۹۲ میں فرماتا ہے: وَلا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْراً وَلا أَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُونَ "یہ بت نہ تو اپنے عبادت گزاروں کی کوئی مدد کر سکتے ہیں اور نہ ہی خود اپنی کوئی مدد کر سکتے ہیں"۔ بعد والی آیت میں قرآن مزید کہتا ہے: "وہ اپنے عبادت گزاروں کی مدد کرنے پر قادر نہیں ہیں اور یہ عبادت کرنے والے قیامت کے دن ان کا لشکر ہوں گے اور سب کے سب دوزخ میں حاضر ہوں گے"۔ (لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَهُمْ وَهُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُحْضَرُونَ)۔ کتنی دردناک صورتِ حال ہے کہ یہ پیروکار اس دن سپاہیوں کی صورت میں بتوں کے پیچھے کھڑے ہوں گے اور سب کے سب خدا کی عدالت میں حاضر ہوں گے۔ اس کے بعد سب کے سب دوزخ بھیج دیئے جائیں گے بغیر اس کے کہ وہ اپنے لشکر کی کوئی مشکل حل کر سکیں۔ اصولی طور پر "محضرون" کی تعبیر ہر جگہ تحقیر و تذلیل کی علامت ہوتی ہے اور لوگوں کو ان کے مائل ہوئے بغیر حاضر کرنا ان کی حقارت کی نشانی ہے۔ اس تفسیر کے مطابق "وَهُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُحْضَرُون" میں پہلی ضمیر "ھم" عابدوں کی طرف اور دوسری ضمیر معبودوں کی طرف لوٹتی ہے جبکہ بعض مفسرین نے اس کے برخلاف بھی خیال ظاہر کیا ہے۔ وہ یہ کہ معبودوں اور بت اس دن عبادت کرنے والوں کا لشكر ہوں گے اور لشکر ہونے کے باوجود معمولی سی مدد بھی ان سے نہ ہو سکے گی۔ البتہ پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔ بہرحال یہ تعبیریں صرف صاحبِ شعور شیاطین اور سرکش جن و انس جیسے معبودوں کے بارے میں صادق آتی ہیں لیکن یہ احتمال بھی موجود ہے کہ اس دن خدا ان بتوں میں عقل و شعور پیدا کر دے گا جو انہوں نے پتھر اور لکڑی سے بنائے ہوں گے۔ تاکہ وہ اپنے عبادت کرنے والوں کی سرزنش کریں ضمنی طور پر یہی پتھر اور لکڑیاں جہنم کے ایندھن کے طور پر ان کے ساتھ ہوں گی۔ جیسا کہ قرآن مجید سوره انبیا کی آیہ ۹۸ میں کہتا ہے: إِنَّكُمْ وَما تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَها وارِدُونَ "تم بھی اور جن جن کی تم خدا کے سوا عبادت کیا کرتے تھے، جہنم کا ایندھن ہوں گے اور سب کے سب اس میں داخل ہوں گے"۔ آخر کار زیر بحث آخری آیت میں پیغمبر اکرمؐ کی تسلی اور ان مخالفتوں، فتنہ انگیزیوں اور خرافاتی اعمال و افکار کے مقابلے میں ان کی روحانی تقویت کے لیے فرمایا گیا ہے: اب جبکہ ایسا ہے تو "ان کی باتیں تجھے غمگین نہ کریں کہ کبھی وہ تجھے شاعر کہتے ہیں اور کبھی جادوگر اور کبھی دوسری تہمتیں باندھـتے ہیں۔ کیونکہ جس چیز کو وہ دلوں میں مخفی رکھتے ہیں یا زبان کے ساتھ اس کا اظہار کرتے ہیں ہم وہ سب کچھ جانتے ہیں"۔ (فَلا يَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ إِنَّا نَعْلَمُ ما يُسِرُّونَ وَما يُعْلِنُونَ). نہ تو ان کی نیتیں ہم سے پوشیدہ ہیں اور نہ ہی ان کی خفیہ سازشیں اور نہ ہی ان کی آشکارا تکذیبیں اور شیطنتیں۔ ہم سب کچھ جانتے ہیں اور ان کا حساب روزِ حساب کے لیے محفوظ رکھتے ہیں اور تجھے ہم اس جہان میں بھی ان کے شر سے محفوظ رکھیں گے۔ نہ صرف پیغمبرؐ بلکہ ہر مومن اس الٰہی گفتار سے مطمئن ہو سکتا ہے، کیونکہ اس عالم کی ہر چیز خدا کے حضور میں ہے اور دشمنوں کے مکر و فریب میں سے کوئی چیز اس پر مخفی نہیں۔ وہ اپنے دوستوں کو سختی کے لمحات میں اکیلا نہیں چھوڑتا اور ہمیشہ ان کا حامی و محافظ رہتا ہے۔

ایک اهم نکته

خدا پرستوں کے لئے توحید کی بصیرت، زندگی میں ایک خاص راستہ پیدا کر دیتی ہے کہ جو انہیں شرک آلود راستوں سے جدا کر دیتی ہے کہ جو بتوں اور اپنے ہی جیسے کمزور انسانوں کی پناہ لینے کی بنیاد بنتے ہیں ہم اس بات کو اور زیادہ وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں- آج کی دنیا میں جبکہ سارا عالم دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ہے اور مشرق و مغرب کی دو سپر طاقتیں ان پر حکومت کر رہی ہیں تو عام طور پر بہت سے چھوٹے اور درمیانے ممالک یہ سوچتے ہیں کہ اپنی حفاظت کے لیے ان دو طاقتوں یعنی ان دو بتوں میں سے کسی ایک کی پناہ لینی چاہیئے اور اس کی حمایت حاصل کرنی چاہیئے۔ حالانکہ تجربات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سخت حالات، مشکلات اور بحرانوں میں، یہ بظاہر بڑی طاقتیں نہ تو اپنی کوئی مشکل حل کر سکتی ہیں اور نہ ہی اپنے مہروں اور پیروکاروں کی۔ قرآن نے کیا خوب کہا ہے: لَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْراً وَلا أَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُون "نہ تو اپنے عبادت کرنے والوں کی مدد و حمایت کرنے کی قدرت رکھتے ہیں اور نہ ہی خود کو بچا کر رکھ سکتے ہیں"۔ (الاعراف ـــــــ ۱۹۲)۔ یہ تمام مسلمانوں اور توحیدِ خالص کے حامیوں کے لیے ایک تـنبیہ ہے کہ وہ ان تمام بتوں سے الگ ہو جائیں اور لطفِ الٰہی کے سائے میں پناہ لیں۔ صرف اپنے آپ پر اور قوتِ ایمانی اور مسلمانوں کی روحانی قوت پر تکیہ کریں اور ان شرک آلود افکار کو ہرگز ذہن میں جگہ نہ دیں کہ مشکل کے دن ان طاقتوں سے مدد لینا چاہیئے اور اصولی طور پر اسلامی معاشروں کو اس قسم کے افکار سے پاک کرنا چاہیے اور جان لینا چاہیئے کہ انہوں نے اب تک اس طریقے سے قدر مصیبتیں اٹھائی ہیں۔ خواہ غاصب اسرائیل سے مقابلہ ہو یا دوسرے دشمنوں سے حالانکہ قرآن کا اگر یہ بنیادی قانون ان کے درمیان حاکم ہوتا تو کبھی بھی ایسی المناک شکستوں کا سامنا نہ کرتے اس دن کی امید میں کہ جب ہم سب اس قرآنی تعلیم کے سائے میں اپنے لیں افکار کو نئے سرے سے درست کریں اپنے اوپر بھروسہ کریں اور اللہ کے لطف و کرم کے سائے میں پناہ لیں اور سربلند اور آزاد زندگی بسر کریں۔

77
36:77
أَوَلَمۡ يَرَ ٱلۡإِنسَٰنُ أَنَّا خَلَقۡنَٰهُ مِن نُّطۡفَةٖ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٞ مُّبِينٞ
کیا انسان نے دیکھا نہیں (وہ جانتا نہیں ) کہ ہم نے اسے ایک بے وقعت نطفے سے پیدا کیا ہے اور وہ (ایسا جری ہو گیا کہ خدا کے ساتھ) وہ کھلم کھلا جھگڑنے لگا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 79 کے تحت ملاحظہ کریں۔

78
36:78
وَضَرَبَ لَنَا مَثَلٗا وَنَسِيَ خَلۡقَهُۥۖ قَالَ مَن يُحۡيِ ٱلۡعِظَٰمَ وَهِيَ رَمِيمٞ
اور ہمارے لیے مثال دینے لگا ااور اپنی خلقت کو بھول گیا اور کہنے لگا کہ جب یہ ہڈیاں بوسیدہ ہو چکی ہوں گی تو ان کو کون زندہ کرے گا؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 79 کے تحت ملاحظہ کریں۔

79
36:79
قُلۡ يُحۡيِيهَا ٱلَّذِيٓ أَنشَأَهَآ أَوَّلَ مَرَّةٖۖ وَهُوَ بِكُلِّ خَلۡقٍ عَلِيمٌ
کہیے : اسے وہی زندہ کرے گا جس نے اسے پہلی مرتبہ پیدا کیا تھااور وہ ہر مخلوق سے خوب آگاہ ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

اکثر تفاسیر میں نقل ہوا ہے کہ مشرکین میں سے ایک شخص جس کا نام ابی بن خلف یا امیہ بن خلف یا عاص بن وائل تھا بوسیدہ ہڈی کا ایک ٹکڑا تلاش کر کے لایا اور کہا کہ میں اس محکم دلیل کے ساتھ (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے جھگڑا کروں گا اور معاد کے بارے میں اس کی بات کو باطل کر دوں گا، وہ اُسے لے کر پیغمبر اسلامؐ کے پاس آیا (اور شاید اس میں سے کچھ حصہ پیس کر ذرہ ذرہ کیا اور زمین پر پھینک دیا اور کہا کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو ازسر نو کون زندہ کر سکتا ہے (اور کونسی عقل اسے مان سکتی ہے) اس کے جواب میں مذکورہ بالا آیات اور ان سے بعد کی چار آتیں نازل ہوئیں جو مجموعی طور پر سات آیتیں بنتی ہیں۔ ان آیات میں اسے اور اس کے ہم فکر لوگوں کو ایک منطقی اور دندان شکن جواب دیا گیا ہے۔

خلقتِ اول معاد پر ایک دليل قاطع ہے

ہم نے بیان کیا تھا کہ سوره سین میں کہ جو قلبِ قرآن ہے مبداء، معاد اور نبوت سے مربوط گفتگو مختلف حصوں میں آئی ہے۔ یہ سورہ قرآن مجید اور مسئلہ نبوت سے شروع ہوئی تھی اور سات ایسی منظر آیات پر ختم ہو رہی ہے کہ جو معاد کے بارے میں قوی ترین بیانات کی حامل ہیں۔ پہلے تو انسان کو خود اس کی زندگی کے آغاز کی طرف متوجہ کیا گیا ہے جبکہ وہ ایک حقیر نطفے سے زیاده حیثیت نہیں رکھتا تھا۔ یہ بات انسان کو سوچنے پر آمادہ کرتی ہے اور کہتی ہے: "کیا انسان نے دیکھا نہیں کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا ہے اور بڑھتے بڑھتے وہ ایسا جری، باشعور اور ذی نطق ہوا کہ خدا ہی کے ساتھ جھگڑنے کھڑا ہو گیا اور کھلم کھلا جھگڑا کرنے والا ہو گیا"۔ (أَ وَلَمْ يَرَ الْإِنْسانُ أَنَّا خَلَقْناهُ مِنْ نُطْفَةٍ فَإِذا هُوَخَصِيْمٌ مُبِيْنٌ)۔ [تشریحی نوٹ: "خصیم" اس شخص کو کہتے ہیں کہ جو خصومت اور جھگڑے کے درپے ہو اور "رویت" یہاں جاننے کے معنی میں ہے]۔ کیسی عمدہ اور منہ بولتی تعبیر ہے! پہلے انسان کا ذکر کرتا ہے یعنی ہر انسان- چاہے جس اعتقاد اور مکتب سے تعلق رکھتا ہو، جتنی بھی عقل کا مالک ہو، اس حقیقت کو پا سکتا ہے۔ پھر قرآن "نطفہ" کے بارے میں گفتگو کرتا ہے۔ لغت میں "نطفہ" دراصل ناچیز اور بےقدر و قیمت پانی کے معنی میں ہے، یہ ذکر اس لیے ہے کہ مغرور و خود پسند انسان تھوڑا بہت غور و فکر کر کے یہ جان لے کہ پہلے روز وہ کیا تھا؟ دوسری بات ہے کہ پانی کا یہ ناچیز قطرہ بھی مکمل طور پر اس کی نشو ونما کا مبداء نہیں ہے بلکہ ایک بہت ہی چھوٹا سا زندہ خلیہ LIFE CELL کہ جو آنکھ سے دیکھا نہیں جا سکتا۔ وہ ہزاروں خلیے کہ جو پانی کے قطرے میں تیر رہے تھے یہ ان میں سے ایک تھا۔ ایک بہت ہی چھوٹے سے زندہ خلیے کے ساتھ کہ جو عورت کے رحم میں تھا مل کر یہ ایک مرکب بنا اور انسان نے اس خوردبینی موجود سے عالمِ ہستی میں قدم رکھا۔ پھر اس نے تکامل و ارتقاء کے مراحل یکے بعد دیگرے طے کیے۔ جن میں سے قرآن کی سورہ مومنون کے اوائل کے مطابق چھ مرحلے رحم کے اندر تھے (نطلقه، پھر علقہ، اس کے بعد مضغہ، اس کے بعد ہڈیوں کا ظاہر ہونا، پھر ہڈیوں پر گوشت کا چڑھنا اور آخر میں روح یعنی حس و حرکت کا پیدا ہونا)۔ تولد کے موقع پر وہ ایک بہت ہی ضعیت و ناتواں بچہ تھا۔ اس کے بعد تکامل و ارتقاء کے مراحل تیزی کے ساتھ طے کرتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ جسمانی اور عقلی بلوغ و رشد کی حد تک پہنچ گیا۔ ہاں! یہ ضعیف و ناتواں موجود اتنا قوی ہو گیا کہ "اللہ" کی دعوت کے مقابلے میں لڑنے جھگڑنے پر آمادہ ہو گیا اور اس نے اپنے ماضی و مستقبل کو بالکل ہی فراموش کر دیا اور "خصيم مبین" کا واضح مصداق بن گیا۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ "خصيم مبين" (واضح طور پر جھگڑنے والا( کی تعبییر، ایک تو قوّت کے جنبہ کی حامل ہے اور ایک ضعف و کمزوری کے جنبہ کی۔ یہاں پر ظاہراً قرآن کے پیشِ نظر دونوں جہات ہیں۔ ایک طرف تو یہ کام انسان کے سوا کسی اور سے نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ صاحبِ عقل و شعور ہے اور استقلال، اراده، اختیار اور قدرت رکھتا ہے (اور ہم جانتے ہیں کہ انسانی زندگی کا اہم ترین امتیاز یہ ہے کہ وہ صاحبِ نطق ہے) بات کرتا ہے اور ان باتوں کے مضامین و مطالب اس کے دماغ میں پہلے پیدا ہوتے ہیں، پھر جملوں کے قالب میں ڈھلتے ہیں اور پھر یہ باتیں دہن سے یوں نکلتی ہیں جیسے کسی خود کار ہتھیار سے گولیاں کسی ہدف کی طرف مسلسل پھینکی جاتی ہیں اور یہ ایسا کام ہے کہ جو انسان کے علاوہ کسی بھی جاندار سے ممکن نہیں ہے۔ اس طرح سے قرآن خدا کی قدرت نمائی کو اس عظیم قوت میں مجسم کرتا ہے کہ جو اس نے پانی کے اس ناچیز قطرے کو دی ہے۔ لیکن دوسری طرف سے انسان ایک فراموش کار اور مغرور ذات ہے۔ ان نعمتوں کو کہ جو اس کے ولی نعمت نے اُسے بخشی ہیں اسی کے مقابلے میں استعمال کرتا ہے اور لڑنے جھگڑنے کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے اس بےخبری اور خیرہ سری کو کیا کہیے؟ اس کی بےخبری کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اس نے ہمارے لیے مثال دی اور اپنے خیال میں اس نے ایک دندان شکن دلیل پیدا کر لی۔ حالانکہ وہ اپنی ابتدائی خلقت کو بھول گیا اور اس نے کہہ دیا کہ ان ہڈیوں کو کون زندہ کر سکتا ہے، جبکہ یہ بوسیده ہو چکی ہیں (وَضَرَبَ لَنا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قالَ مَنْ يُحْيِ الْعِظامَ وَهِيَ رَمِيمٌ)۔ [بحوالہ: "رمیم" ماده "رم" سے ہے۔ مفردات راغب کے مطابق اصل میں "رم" (بر وزن "ذم") کہنہ اور بوسیدہ موجود کی اصلاح و ترمیم کے معنی میں ہے۔ "رمۃ" (بر وزن ہمت) خصوصیت کے ساتھ بوسیدہ ہڈی کے معنی میں آتا ہے اور "رمہ" (بر وزن "قبہ") بوسیدہ اور پرانی طناب کو کہا جاتا ہے]۔ یہاں ضرب المثل سے مراد عام ضرب المثل اور تشبیہ و کنایہ نہیں ہے بلکہ اس سے مراد بیانِ استدلال ہے اور ایک مطلب کلّی کے اثبات کے لیے مصداق کا ذکر کرنا مراد ہے۔ ہاں! (ابی بن خلف یا امیہ بن خلف یا عاص بن وائل) نے بیابان سے بوسیدہ ہڈی کا ایک ٹکڑا تلاش کیا اور وہ ہڈی جس کے بارے میں یہ معلوم نہیں تھا کہ کسی کی ہے، کیا وہ طبیعی موت سے مرا تھا؟ یا زمانہ جاہلیت کی کسی جنگ میں المناک موت کا شکار ہوا تھا؟ یا بھوک کی وجہ سے مرا تھا؟ بہرصورت وہ سوچتا تھا کہ نفی معاد کے لیے اسے ایک دندان شکن دلیل مل گئی ہے غصے اور خوشی کے ملے جلے جزبات کے ساتھ، ہڈی کے ٹکڑے کو اٹھا کر کہتا ہے: لَأخْصَمَنَّ مُحَمَّدًا "میں اس دلیل کے ساتھ محمد (ص) سے لڑوں گا"، اس طرح سے کہ وہ کوئی جواب نہ دے سکے گا۔ وہ تیزی سے پیغمبر اسلامؐ کے پاس آیا اور چیخ کر کہنے لگا: مجھے بتلاؤ کس میں یہ قدرت ہے کہ اس بوسیدہ ہڈی کو دوبارہ زندہ کر دے۔ اس کے بعد اس نے ہڈی کے کچھ حصے کو پیسں کر زمین پر چھڑک دیا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ پیغمبر اسلامؐ اس دلیل کا کوئی جواب نہ دے سکیں گے۔ یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ قرآن مجید نے ایک ہی مختصر سے جملہ "وَنَسِيَ خَلْقَهُ" سے اس کا جواب دے دیا۔ اگرچہ اس کے بعد مزید وضاحت اور اضافی دلائل بھی بیان کیے۔ قرآن کہتا ہے: اگر تو اپنی خلقت کو بھول نہ گیا ہوتا تو ہرگز ایسا بےہودہ اور کمزور استدلال اختیار نہ کرتا، اے فراموش کار انسان! تو اپنے پیچھے کی طرف مڑ کر دیکھ اور اپنی خلقت پر نگاہ کر۔ تو کس طرح سے ایک ناچیز نطفہ تھا۔ اس خالقِ مطلق نے ہر روز ایک نیا لباسِ حیات تیرے بدن پر پہنایا تُو تو ہمیشہ سے موت و معاد کی حالت میں ہے۔ مردہ جمادات سے تیری بنیاد پڑی پھر مردہ نباتات سے حیوان نے استفادہ کیا۔ اور مردہ حیوانات سے تیری نشو ونما ہوئی اور تو انسان ہو گیا۔ لیکن تو ایسا فراموش کار ہے کہ ان تمام چیزوں کو بھول کر اب پوچھتا ہے کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟ یہ ہڈیاں اگر مکمل طور پر بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہو جائیں تو زیادہ سے زیادہ پھر مٹی ہو جائیں گی تو کیا تو پہلے دن مٹی نہیں تھا؟ لہذا بِلا فاصلہ پیغمبرِ اسلام کو حکم دیا گیا ہے کہ اس خیرہ سر، مغرور اور فراموش کار سے "کہیے کہ اسے وہی زندہ کرے گا جس نے پہلے دن اسے خلق کیا تھا" (قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنْشَأَها أَوَّلَ مَرَّةٍ)۔ اگر آج اس کی ایک یادگار ہڈی باقی رہ گئی ہے تو ایک دن ایسا بھی تھا کہ یہ بوسیدہ ہڈی بھی نہیں تھی بلکہ مٹی تک بھی موجود نہیں تھی۔ ہاں! وہی ذات کہ جس نے اسے عدم سے وجود بخشا ہے اس کے لیے بوسیدہ ہڈی کو نئی زندگی عطا کرنا زیادہ آسان ہے۔ اگر تم یہ سوچتے ہو کہ یہ بوسیدہ ہڈیاں جب مٹی بن جاتی ہیں اور ادھر اُدھر بکھر جاتی ہیں تو ان کے اجزا کو کون پہچان سکتا ہے اور کون انہیں مختلف مقامات سے جمع کر سکتا ہے؟ تو اس کا جواب بھی واضح ہے "وہ ہر مخلوق سے آگاہ ہے" اور ان کی تمام خصوصیات کو جانتا ہے (وَهُوَبِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ). جو ہستی اس قسم کا علم اور اس قسم کی قدرت رکھتی ہو، اس کے لیے مسئلہ معاد اور مُردوں کو زندہ کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اگر ہم مٹی کے ڈھیر میں کہ جس میں لوہے کے چھوٹے چھوٹے ذرات بکھرے ہوں ہیں، مقناطیس کا ایک ٹکڑا گھمائیں تو وہ ان تمام ذرات کو فوراً جمع کر لے گا۔ حالانکہ وہ ایک بےجان موجود سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ خداوندِ تعالٰی ہر انسان کے تمام ذراتِ بدن کو خواہ وہ کرّه زمین کے کسی بھی گوشہ میں ہوں ایک ہی حکم سے آسانی کے ساتھ جمع کر دےگا۔ وہ نہ صرف انسان کی بنیادِ خلقت سے آگاہ ہے بلکہ ان کی نیتوں اور اعمال سے بھی آگاہ ہے اور ان کا حساب و کتاب اسی کے سامنے واضح و روشن ہے۔ اس بنا پر اعمال و نیّات اور اندرونی اعتقادات کا حساب بھی اس کے لیے کوئی مشکل پیدا نہیں کرے گا۔ چنانچہ سورہ بقرہ کی آیه ۲۸۴ میں ہے: "وَإِنْ تُبْدُوا ما فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحاسِبْكُمْ بِهِ اللهُ" "اگر تم اس چیز کو جسے دل میں رکھتے ہو چپاؤ یا ظاہر کرو، خدا اس کا تم سے حساب سے لے لے گا"۔ فرعون مسئلہ معاد میں شک کرتا تھا اور گزشتہ لوگوں کے زندہ ہونے اور ان کے حساب و کتاب سے اظہار تعجب کرتا تھا۔ حضرت موسیٰؑ کو حکم ہوا کہ اس سے یہ "کہیں کہ اس کا علم میرے پروردگار کے پاس ایک کتاب میں ثبت ہے اور میرا پروردگار نہ تو اشتباہ کرتا ہے اور نہ ہی بھولتا ہے"۔ قالَ عِلْمُها عِنْدَ رَبِّي فِي كِتابٍ لا يَضِلُّ رَبِّي وَلا يَنْسىٰ‏ٰ (طٰہٰ ـــــ ۵۲)

80
36:80
ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُم مِّنَ ٱلشَّجَرِ ٱلۡأَخۡضَرِ نَارٗا فَإِذَآ أَنتُم مِّنۡهُ تُوقِدُونَ
وہی ذات کہ جس نے تمہارے لیے سبز درخت سے آگ پیدا کی، اور تم اس کے ذریعے آگ روشن کرتے ہو۔

توانائیوں کی بازگشت

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

گزشتہ آیات میں معاد کے سلسلے میں بحث تھی اور اس میں مسئلہ معاد کے امکان اور ہر قسم کا شک و شبہ رفع کرنے کے لیے معنی خیز اور زندہ اشارے موجود تھے۔ زیر بحث آیات قلبِ قرآن یعنی ہر سورہ یٰسین کی آخری آیات ہیں۔ ان میں بھی اسی مسئلے کی مزید تشریح و توضیح پیش کی گئی ہے اور تین چار اچھے طریقوں سے اسے بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: "وہ خدا کہ جس نے تمہارے لیے سبز درخت سے آگ پیدا کی اور تم اس کے ذریعے آگ روشن کرتے ہو"۔وہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے (الَّذِي جَعَلَ لَكُمْ مِنَ الشَّجَرِ الْأَخْضَرِ ناراً فَإِذا أَنْتُمْ مِنْهُ تُوقِدُونَ)۔ کتنی عجیب اور عمدہ تعبیر ہے۔ ہم اس میں جتنا زیادہ غور و فکر کرتے ہیں اتنے ہی زیادہ عمیق اور گہرے معانی کھلتے چلےجاتے ہیں۔ اصولی طور پر قرآنِ مجید کی بہت سی آیات کئی کئی معنی دیتی ہیں۔ بعض تو ہر زمانے اور ہر جگہ کے لوگوں سے سمجھنے کے لیے سادہ اور عام ہیں اور بعض دوسری آیات ذرا عمیق ہیں جو خواص کے سمجھنے کے لائق ہیں اور بعض آیات بہت عمیق اور گہری ہیں جو خواص میں سے بھی منتخب افراد کو یا دوسرے زمانوں اور مستقبل بعید میں سمجھ میں آنے والی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ معانی آپس میں ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں اور ایک ہی وقت میں ایک ہی پرمعنی تعبیر میں جمع ہیں۔ زیرِ بحث آیت یہی مفہوم بیان کرتی ہے۔ پہلی تفسیر بہت سے گزشتہ مفسرین نے بیان کی ہے اس کا ایک سادہ اور واضح مفہوم ہے کہ جو عام لوگوں کے لیے بھی قابلِ فہم ہے۔ وہ یہ ہے کہ قدیم زمانوں میں عربوں کے اندر یہ بات رائج تھی کہ وہ آگ جلانے کے لیے درختوں کی لکڑی استعمال کرتے تھے خصوصاً "مرخ" اور"عفار" کے درختوں کی لکڑی کہ جو حجاز کے بیابانوں میں عام اگتی تھی۔ "مرخ" (بر وزن "چرخ") اور "عفار" (بر وزن "تبار") دو قسم کی "آگ لگانے والی" لکڑیاں ہیں کہ پہلی کو نیچے رکھ کر دوسری کو اس کے اوپر مارتے تھے اور اس سے آگ لگانے والے پتھر (چقماق) کی طرح شعلہ پیدا ہو جاتا تھا۔ موجودہ زمانے کی ماچس کے بجائے لوگ اسی سے استفادہ کیا کرتے تھے۔ قرآن کہتا ہے: وہ خدا کہ جو ان سبز درختوں سے آگ نکال سکتا ہے، وہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ "پانی" اور "آگ"... دو متضاد چیزیں ہیں۔ جو ہستی ان دونوں کو ایک ساتھ اکٹھا رکھنے پر قادر ہے، وہ اس بات پر بھی قادرہے کہ "زندگی" کو "موت" کے ساتھ اور "موت" کو "زندگی" کے ساتھ جمع کر دے۔ کیا کہنا ہے اس عالمِ ہستی کے خالق کا کہ جس نے آگ کو پانی کے اندر اور پانی کو آگ کے اندر محفوظ کر رکھا ہے مسلمہ طور پر اس کے لیے مردہ انسانوں کے جسموں پر لباسِ زندگی پہنانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اگر ہم اس معنی سے ذرا اور آگے قدم بڑھائیں تو اس سے زیادہ دقیق تفسیر تک پہنچ جائیں گے۔ وہ یہ کہ آگ جلانے کی خاصیت درختوں کی لکڑیوں کے ذریعہ "مرخ" اور "عفار" کی لکڑیوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ خاصیت تمام درختوں میں اور تمام اجسامِ عالم میں موجود ہے (اگرچہ مذکورہ دونوں لکڑیاں اپنے مخصوص مواد اور وضع و کیفیت کے لحاظ سے اس کام کے لیے زیادہ کار آمد ہیں)۔ خلاصہ یہ کہ تمام درختوں کی لکڑیاں اگر زور کے ساتھ ایک دوسرے سے ٹکرائیں تو ان سے شعلہ نکلے گا، یہاں تک کہ "سبز درختوں کی لکڑیوں سے بھی"۔ اسی وجہ سے بعض اوقات جنگلوں میں وسیع اور وحشتناک آگ لگ جاتی ہے کہ جس کا عامل کوئی انسان نہیں ہوتا۔ صرف وہ ہوائیں اور طوفان کہ جن کے چلنے سے درختوں کی شاخیں ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراتی ہیں اور ان کے ٹکرانے سے چنگاری نکل کر خشک پتوں پر جا گرتی ہے، اس کے بعد ہوا کے چلنے سے آگ پھیل جاتی ہے اور یہ سب چیزیں اس کا اصلی عامل ہوتی ہیں۔ یہ وہی بجلی کا شعلہ ہے کہ جو ٹکرانے اور ایک دوسرے کے ساتھ ملنے سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ وہی آگ ہے کہ جو تمام موجودات عالم کے ذرات میں چھپی ہوئی ہے اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرانے اور لگنے سے ظاہر ہوتی ہے اور "شجر اخضر" (سبز درخت) سے "نار" (آگ) پیدا کر دیتی ہے۔ یہ ایک زیادہ وسیع تفسیر ہے کہ جس میں زیادہ وسیع پیمانے پر اجتماع اضداد نظر آتا ہے اور "فنا" میں "بقا" کی زیادہ واضح نشاندہی ہوتی ہے۔ لیکن اس سلسلے میں ایک تیسری تفسیر بھی ہے کہ جو اس سے بھی گہری، عمیق تر ہے اور ہم نے دورِ حاضر کے علوم کی مدد سے اس تک دسترس حاصل کی ہے اور اسے ہم نے "توانائیوں کی بازگشت" قرار دیا ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ نباتات کا ایک اہم کام ہوا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ لینا اور "نباتاتی خلیے" بنانا ہے (یہ سیل کہ جو درختوں کا بنیادی جزو ہیں ان کے بڑے اجزاء کاربن، آکسیجن اور ہائیڈروجن ہیں)۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ خلیے (CELLS) کس طرح بنتے ہیں؟ درختوں اور نباتات کے اجسام ہوا سے "کاربن ڈائی آکسائیڈ" حاصل کر کے اس کا تجزیہ کرتے ہیں اس کی "آکسیجن" کو آزاد چھوڑ دیتے ہیں اور کاربن کو اپنے وجود میں محفوظ کر لیتے ہیں اور اسے پانی کے ساتھ ترکیب دے کر اس سے درختوں کا جسم بناتے ہیں۔ لیکن اہم مسئلہ یہ ہے کہ طبیعی علوم کی گواہی کے مطابق جو بھی کیمیائی ترکیب انجام پاتی ہے وہ بات تو توانائی کو جذب کر کے وجود میں آتی ہے یا اسے آزاد کرنے سے (غور کیجئے)۔ ["توانائی" جذب کرنے کے عمل کو ENDOTHERMIC کہتے ہیں اور خارج کرنے کا عمل EXOTHERMIC کہلاتا ہے۔ (ث ن)]۔ اس بناء پر جب وقت درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ حاصل کرنے کے عمل میں مشغول ہوتے ہیں تو وہ اس قانون کے مطابق ایک انرجی کے وجود کے محتاج ہیں اور یہاں وہ سورج کی کچھ گرمی اور روشنی سے ایک توانائی کے طور پر استفادہ کرتے ہیں۔ اس طرح سے درختوں کا جسم بنتے وقت سورج کی توانائی کی کچھ مقدار بھی ان کے اندر جمع ہو جاتی ہے اور جس وقت ہم لکڑیوں کو جلاتے ہیں تو وہی سورج کی ذخیرہ شدہ توانائی آزاد ہو جاتی ہے کیونکہ کاربن ہوا۔ کی "آکسیجن" کے ساتھ مل کر دوبارہ کاربن ڈائی آکسائیڈ بنا دیتی ہے اور آکسیجن اور ہائیڈروجن (پانی کی کچھ مقدار) آزاد ہو جاتی ہے۔ ان اصطلاحی تعبیروں کو چھوڑتے ہوئے بہت ہی سادہ اور آسان عبارت میں یہ ایک مطبوع نور اور حرارت کہ جو سردیوں میں کسی دیہاتی کی کٹیا یا کسی شہری کی انگیٹھی کو گرم اور روشن کرتی ہے سورج کا وہی نور و حرارت ہے کہ جو چند سالوں یا دسیوں سالوں میں ان درختوں کی لکڑی میں ذخیرہ ہوئی ہے اور جو کچھ درخت نے اس طویل عمر میں تدریجاً اور آہستہ آہستہ سورج سے لیا ہے اور بےکم و کاست اسے واپس دے رہا ہے۔ یہ جو کہتے ہیں کہ کرّه زمین کی تمام توانائیاں سورج کی توانائی کی طرف لوٹتی ہیں، اس کی ایک اس کی صورت یہی ہے۔ یہ وہ منزل ہے کہ جہاں ہم توانائیوں کی بازگشت تک پہنچ جاتے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ وہ نور و حرارت کہ جو اس فضا میں بِکھر جاتی ہے اور درختوں کے پتوں اور ان کی لکڑیوں پر نوازش کرتی اور ان کی پرورش کرتی ہے وہ کبھی بھی نابود نہیں ہوتی بلکہ اس کا چہرہ بدل جاتا ہے اور ہم انسانوں کی آنکھوں سے دور درختوں کے تنوں، شاخوں اور پتوں کے اندر پنہاں ہو گئی ہے اور جس وقت آگ کا ایک شعلہ خشک لکڑی تک پہنچ جاتا ہے تو اس کی قیامت شروع ہو جاتی ہے اور سورج کی وہ تمام توانائی جو درخت میں پنہاں تھی اسی لمحے اس کا حشر و نشر ظاہر ہو جاتا ہے، بغیر اس کے کہ ایک شمع کی روشنی کے برابر بھی اس میں کچھ کمی ہو۔ (پھر غور کیجئے گا)۔ اس میں شک نہیں کہ یہ معنی آیت کے نزول کے زمانہ میں عامة الناس پر واضح نہیں تھا، لیکن جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے اس میں کوئی اشکال نہیں ہے کیونکہ کے قرآنی آیات کے معانی کے کئی مرحلے ہیں اور مختلف سطحوں میں اختلاف استعداد کے لحاظ سے ظاہر ہوتے ہیں۔ ایک دن لوگ اس آیت سے ایک چیز سمجھتے تھے، آج ہم اس سے کہیں زیادہ چیزیں سمجھ رہے ہیں اور شاید آئندہ آنے والے اس سے بھی کچھ آگے بڑھ جائیں اور زیادہ سمجھ سکیں۔ اس کے باوجود یہ تمام معانی صحیح ہیں اور مکمل طور پر قابلِ قبول اور آیت کے معنی میں جمع ہیں۔

چند نکات: ۱- سبز درخت ہی کیوں؟

بعض اوقات ذہن میں آتا ہے کہ قرآن نے یہاں "شجر اخضر" (سبز درخت) کی تعبیر کیوں بیان کی ہے حالانکہ سبز اور گیلی لکڑی سے آگ جلانا بہت ہی مشکل ہے کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس کے بجائے "الشَجَر الیَابس" (خشک درخت) کی تعبیر استعمال ہوتی کہ جو زیادہ برمحل تھی۔ لیکن قابلِ توجہ بات یہی ہے کہ یہ سبز درخت ہی ہیں کہ جو کاربن ڈائی آکسائیڈ حاصل کرتے ہیں اور سورج کی روشنی ذخیرہ کرنے کا عمل انجام دیتے ہیں۔ خشک درخت اگر سینکڑوں سالوں تک سورج کی حرارت اور روشنی کے سامنے رکھے رہیں تو ان کی حرارت کی توانائی کے ذخیرے میں ذره بھر اضافہ نہ ہو گا۔ وہ اسی وقت تک اس کام پر قادر ہیں جب تک کہ وہ سبز اور زندہ ہیں۔ اس بناء پر صرف "شجرِ اخضر" (سبز درخت) ہی ہے کہ جو اپنی سبز و مرطوب لکڑی میں حرارت اور روشنی کو پراسرار طریقے سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ لیکن جس وقت وہ خشک ہو جائے تو کاربن ڈائی آکسائیڈ حاصل کرنے اور سورج کی توانائی کو ذخیرہ کرنے کا عمل ختم ہو جاتا ہے۔ اس اصول کی بناء پر یہ تعبیر توانائیوں کی بازگشت کی خوبصورت تصویرکشی بھی کرتی ہے اور قرآنِ مجید کے ایک جادوانی علمی معجزے کو بھی پیش کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر ہم مذکورہ بالا دیگر تفسیروں کی طرف بھی رجوع کریں تو "شجرِ اخضر" کی تعبیر بھی مناسب و زیبا ہے کیونکہ سبز درختوں کی لکڑیاں جس وقت ایک دوسرے کے ساتھ زور سے ٹکراتی ہیں تو چنگاری پیدا ہوتی ہے ایسی چنگاری کہ جو آگ جلانے کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے کہ جہاں ہم قدرتِ خدا کی عظمت جان سکتے ہیں کہ جس نے آگ کو پانی کے اندر اور پانی کو آگ کے اندر محفوظ کر دیا ہے۔

۲- آتش زنہ اور آتش گیر میں فرق

"توقدون" "وقود" کے مادہ سے (بر وزن "قبور") آگ روشن ہونے کے معنی میں ہے اور "ايقاد" آگ لگانے کے معنی میں ہے اور "وقود" (بر وزن "ثمود") اس ایندھن کے معنی میں ہے کہ جو آگ جلانے کے لیے کام میں لایا جاتا ہے۔ تو اس بناء پر " فَإِذا أَنْتُمْ مِنْهُ تُوقِدُونَ" (تم اس سے آگ روشن کرتے ہو) کا جملہ اس ایندھن کی طرف اشارہ ہے کہ جس سے آگ جلاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں آگ پکڑنے والے (آتش گیرہ) کی طرف اشاره ہے نہ کہ آگ لگانے والے "آتش زنہ" کی طرف۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ ہم فارسی میں ایندھن کو "آتش گیره" (آگ پکڑنے والا) اور ماچس یا لائٹر کو "آتش زنہ" (آگ لگانے والا) کہتے ہیں اور عربی میں ایندھن کو "وقود" اور ماچس یا لائٹر کو "زند" یا "زناد" کہتے ہیں۔ ["زنه" (بر وزن "بند") اصل میں اوپر والی لکڑی کے معنی میں ہے کہ جس سے آگ جلاتے ہیں اور نچلی لکڑی کو "زندہ" اور دونوں کو "زندان کہتے ہیں اور "زند"کی جمع " زناد" ہے]۔ اس بناء پر قرآن کہتا ہے کہ وہ خدا کہ جس نے تمہارے لیے سبز درخت سے آگ فراہم کی ہے اور تم اس سے ایندھن تیار کرتے ہو (آتش زنہ "آگ لگانے والا" نہیں فرماتا)، وہ اس پر بھی قادرہے کہ مردوں کو زندہ کر دے، اور یہ تعبیر کاملاً توانائیوں کی بازگشت پر منطبق ہے۔ (غور کیجئے گا) [مگر یہ کہ ہم "مِنْهُ تُوقِدُونَ" کے جملے میں "من" کو "با" کے معنی میں لیں تاکہ دوسری تفسیروں سے ہم آہنگ ہو جائے]۔ بہرحال درختوں کی لکڑیوں کے ساتھ آگ روشن کرنے کا مسئلہ اگرچہ ہماری نظر میں ایک سادہ مسئلہ ہے لیکن غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عجیب ترین مسائل میں سے ہے کیونکہ وہ مواد کہ جس سے درخت بنتے ہیں اس کا ایک اہم حصہ پانی اور کچھ مقدار زمین کے اجزاء ہیں اور ان میں سے کوئی بھی جل اٹھنے کے قابل نہیں ہے۔ تو یہ کونسی قدرت ہے کہ جس نے پانی، مٹی اور ہوا سے توانائی پیدا کرنے والا یہ مادہ پیدا کیا ہے کہ انسانوں کی زندگی ہزارہا سال سے اس سے قریبی تعلق رکھتی ہے۔

81
36:81
أَوَلَيۡسَ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ بِقَٰدِرٍ عَلَىٰٓ أَن يَخۡلُقَ مِثۡلَهُمۚ بَلَىٰ وَهُوَ ٱلۡخَلَّـٰقُ ٱلۡعَلِيمُ
کیا وہ ذات جس نے آسمانوں اور زمین کو خلق کیا اس بات پر قادر نہیں ہے کہ ان کے مانند (خاک شدہ انسانوں )کو پیدا کر دے۔ہاں وہ آگاہ و دانا خلاق ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 83 کے تحت ملاحظہ کریں۔

82
36:82
إِنَّمَآ أَمۡرُهُۥٓ إِذَآ أَرَادَ شَيۡـًٔا أَن يَقُولَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ
اس کا امر تو صرف یہ ہے کہ جس وقت وہ کسی چیز کے کرنے کا ارادہ کرتا ہے۔ تو اسے کہتا ہے ہو جا تو وہ (بلافاصلہ) ہو جاتی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 83 کے تحت ملاحظہ کریں۔

83
36:83
فَسُبۡحَٰنَ ٱلَّذِي بِيَدِهِۦ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيۡءٖ وَإِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ
پس منزہ ہے وہ خدا کہ جس کے قبضۂ قدرت میں ہر چیز کی مالکیت و حاکمیت ہے اور (سب کے سب) اسی کی طرف لوٹ جائیں گے۔

وه ہر چیز کا مالک و حاکم ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

گزشتہ آیات میں خلقتِ اوّل اور سبز درخت سے آگ پیدا کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے معاد کے دلائل کا ذکر ہے۔ اب پہلی زیر بحث آیت میں ایک اور حوالے سے اس مسئلے کو بیان کیا گیا اور وہ خدا کی بےپایاں قدرت کا بیان ہے۔ ارشار ہوتا ہے: "کیا وہ ہستی کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو ان تمام عظمت، عجائبات اور حیرت انگیز نظاموں کے ساتھ پیدا کیا ہے، اس بات پر قادر نہیں ہے کہ ان خاک شدہ انسانوں کے مانند نئی تخلیق کرے (اور انہیں ایک نئی زندگی کی طرف لوٹا دے) ہاں! وہ ایسا کر سکتا ہے اور وہ آگاہ و دانا خلّاق ہے"۔ (أَ وَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّماواتِ وَالْأَرْضَ بِقادِرٍ عَلى‏ أَنْ يَخْلُقَ مِثْلَهُمْ بَلى‏ وَهُوَالْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ)۔ یہ جملہ کہ جو استفهامِ انکاری سے شروع ہوا ہے، حقیقت میں بیدار عقل و وجدان کے سامنے ایک سوال پیش کرتا ہے کہ کیا تم اس عظیم انسان کی طرف نہیں دیکھتے کہ جو عجیب و غریب ثوابت و سیارات اور منظومات اور کہکشاؤں کا حامل ہے۔ جس کا ہر گوشہ ایک وسیع دنیا ہے۔ تو وہ ذات کہ جو ان عظیم اور منظم عوالم کی خلقت پر قادر ہے، کیسے ممکن ہے کہ مردوں کے زندہ کرنے پر قادر نہ ہو؟ اس سوال کا جواب چونکہ ہر بیدار انسان کے قلب و روح میں موجود ہے، لہذا وہ جواب کا انتظار نہیں کرتا بلکہ بلافاصلہ کہتا ہے: ہاں! وہ اس قسم کی قدرت رکھتا ہے۔ اس کے بعد خدا کی دو عظیم صفات کا ذکر ہے کہ جو اس مسئلے میں قابلِ توجہ ہیں، یعنی صفت خلاقیت اور اس کا بےپایاں علم۔ یہ حقیقت میں گزشتہ بات کی ایک دلیل ہے کہ اگر تمهارا شک و شبہ خلقت کے بارے میں اس کی قدرت کی وجہ سے ہے تو وہ خلاق ہے (توجہ رہے کہ خلاق مبالغے کا صیغہ ہے)۔ نیز اگر ان ذرات کو جمع کرنا علم و دانش کا محتاج ہے تو وہ ہر لحاظ سے عالم و آگاہ ہے۔ "مثلهم" کی ضمیر کا مرجع کیا ہے؟ اس بارے میں مفسرین نے کئی احتمال ذکر کیے ہیں لیکن ان میں سے زیادہ مشہور یہ ہے کہ یہ ضمیر انسانوں کی طرف لوٹتی ہے یعنی آسمانوں اور زمین کا خالق اس بات پر قادر ہے کہ وہ انسانوں کی مثل پیدا کر دے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس نے یہ کیوں نہ فرمایا کہ وہ خود از سرِنو پیدا کرنے پر قادر ہے، بلکہ یہ فرمایا کہ "ان کی مثل" پیدا کر سکتا ہے۔ اس سوال کے بہت سے جواب دیئے گئے ہیں لیکن جو زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے یہ ہے کہ جب انسان کا بدن مٹی میں تبدیل ہو جاتا ہے تو اس کی اپنی شکل و صورت باقی نہیں رہتی اور قیامت کے دن جو کچھ لوٹے گا وہ اس کا پہلا مواد ہی ہو گا کہ جو وہ پہلے کی سی صورت اختیار کر لے گا۔ یعنی مادہ تو وہی ہو گا لیکن شکل و صورت گزشتہ صورت کی مثل ہو گی۔ کیونکہ عین اسی صورت کا خصوصاً قید زمانی کے ساتھ لوٹنا ممکن نہیں ہے خصوصاً جبکہ ہم جانتے ہیں کہ قیامت میں تمام انسان اپنی تمام گزشتہ کیفیات کے ساتھ محشور نہیں ہوں گے۔ مثلاً بوڑھے جوان کی شکل میں اور معلول صحیح و سالم صورت میں ہوں گے۔ دوسرے لفظوں میں انسانوں کا بدن اس اینٹ کے مانند ہے جو ریزہ ریزہ ہو کر پراکَندہ ہو جائے اور اس کی مٹی کو جمع کر لیا جائے اور دوبارہ اس کا گارا بنا کر سانچے میں ڈال لیا جائے اور اس سے نئی اینٹ بنا لی جائے۔ یہ نئی اینٹ ایک حیثیت سے بعینہ وہی ہے اور ایک لحاظ سے اس کی مثل ہے (اس کا مادہ تو وہی ہے لیکن اس کی شکل و صورت پہلی صورت کی مثل و مانند ہے) (غورکیجئےگا)۔ [تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے "مثلھم" کی ضمیر کو آسمانوں اور زمین کی طرف پلٹایا ہے اور کہا ہے کہ ذوی العقول کی ضمیر جمع کا انتخاب اسی بناء پر ہے کہ زمین و آسمان میں بہت سے ذوي العقول موجود ہیں- بعض دوسرے مفسرین نے "مثل" کی تعبیر کو اس بات پر شاہد بنایا ہے کہ عین اسی جسم اور اسی مواد کا لوٹنا کہ جو دنیا میں تھا، ضروری نہیں ہے کیونکہ انسان کی شخصیت اس کی روح کے ساتھ ہے اور یہ روح جس مادہ کے ساتھ بھی تعلق اختیار کرے گی وہ انسان کی مثل ہو گی، لیکن اس بات پر توجہ رکھنی چاہیئے کہ یہ بات آیات قرآنی حتٰی کہ زیر بحث آیات کے ساتھ بھی بالکل ہم آہنگ نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن صراحت کے ساتھ انہیں آیات میں کہتا ہے کہ خدا انہی بوسیدہ ہڈیوں کو زندہ کرے گا اور انہیں لباسِ حیات پہنائے گا نہ کہ دوسرے مواد کو- (غور کیجئے گا)]۔ بعد والی آیت اس حقیقت پر ایک تاکید ہے کہ اس کے ارادہ اور قدرت کے سامنے ہر قسم کی ایجاد سہل و آسان ہے، اس کے لیے عظیم آسمانوں اور کرّه خاکی کا ایجاد کرنا اور ایک چھوٹے سے کیڑے کی ایجاد برابر و یکساں ہے، فرماتا ہے: "اس کا امر یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز (کے پیدا کرنے) کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کہتا ہے کہ ہو جا، تو وہ فوراً ہو جاتی ہے"۔ جیسا کہ خدا نے چاہا ہے (إِنَّما أَمْرُهُ إِذا أَرادَ شَيْئاً أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ)۔ تمام چیزیں اس کے ایک اشارے اور فرمان کے ساتھ وابستہ ہیں تو جو اس قسم کی قدرت کا مالک ہو، کیا اس کے بارے میں اس بات کی کوئی گنجائش ہے کہ اس کے مردوں کو زندہ کرنے کے متعلق اس کی قدرت میں شک کیا جائے؟ یہ بات واضح ہے کہ یہاں امرِ الہٰی لفظی امر کے معنی میں نہیں ہے، اسی طرح لفظ "کن" (ہو جا) بھی ایسا نہیں کہ جسے خدا لفظ کی صورت میں ادا کرے کیونکہ نہ وہ کوئی لفظ بولتا ہے اور نہ ہی وہ الفاظ کا محتاج بلکہ اس سے مراد اس کا کوئی چیز کے ایجاد و تخلیق کرنے کا ارادہ کرنا ہے۔ نیز لفظ "کن" اس بنا پر ہے کہ اس سے زیاد مختصر زیادہ چھوٹی اور زیادہ سریع تعبیر کا تصور نہیں ہو سکتا۔ ہاں! جونہی وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے وہ فوراً موجود ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں جس وقت خدا کسی چیز کا ارادہ کرے، تو وہ بلافاصلہ وجود پا جاتی ہے اس طرح سے کہ اس کے "ارادہ" اور "اشیاء کے وجود" کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہوتا۔ اس بناء پر "امر"، "قول" اور "کن" کے الفاظ سب کے سب خلق و ایجاد کے مسئلے کی ایک توضیح ہیں اور جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے یہاں امر لفظی اور "کاف و نون" کا کوئی لفظ، بات یا قول بیان نہیں ہوا۔ یہ سب کے سب اراده الہٰی کے بعد اشیاء کے تیزی اور سرعت کے ساتھ وجود پانے کو بیان کرتے ہیں، اسے الفاظ و کلمات کی کیا حاجت ہے اصولی طور پر کسی چیز کو ایجاد کرنے کے لیے اس کی مشیت کے بعد الفاظ کی وساطت بےمعنی ہے۔ زیادہ واضح تعبیر میں، خدا کے افعال میں دو مرحلوں سے زیادہ کا وجود نہیں ہے، مرحلہ ارادہ اور مرحلہ ایجاد مذکورہ بالا آیت میں دوسرا مرحلہ امر و قول اور لفظ "کن" کے حوالے سے بیان ہوا ہے۔ بعض قدیم مفسرین کا خیال ہے کہ یہاں قول اور ایک بات ضرور ہے اور اسے وہ ایک ناشناختہ اسرار میں سے سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ حقیقت میں الفاظ کے پیچ و خم میں الجھ گئے ہیں اور ان کے مفہوم و مطلب سے بےخبر رہے ہیں اور انہوں نے خدائی کاموں کو اپنے اوپر قیاس کر لیا ہے۔ امیر المومنین علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ کے ایک خطبہ میں کیا خوب فرمایا ہے: يقول لما أراد لما كونه کن فیکون لا بصوت يقرع، ولا بنداء يسمع و أنما كلامه سبحانه فعل منه انشاه، ومثله لم يكن من قبل ذلك كائنا، و لو كان قديما لكان ثانيا۔ [تشریحی نوٹ: نہج البلاغہ کے بعض نسخوں میں مثلاً "منہاج البرعۃ" میں يقول "لما اراد" کی تعبیر ہے- تفسير نور الثقلین میں بھی نہج البلاغہ سے اسی طرح نقل ہوا ہے لیکن دوسرے نسخوں میں مثلاً ابن ابى الحدید، ابن مبثم اور صبحی صالح کے نسخہ میں "لمن اراد" آیا ہے لیکن مناسب وہی پہلا نسخہ ہے] "وہ جس چیز کا ارادہ کرتا ہے، اس سے کہتا ہے ہو جا تو وہ بِلاتاخیر ہو جاتی ہے لیکن اس کا کلام نہ تو ایسی نِدا ہے کہ جو کانوں سے ٹکرائے اور نہ ہی ایسی نِدا کہ جو سنی جائے بلکہ خدا کی بات وہی اس کا فعل ہے کہ جسے وہ ایجاد کرتا ہے اور اس سے پہلے کوئی بھی چیز موجود نہیں تھی اور اگر ہوتی تو وہ دوسرا خدا شمار ہوتی۔ [بحوالہ: نہج البلاغہ خطبہ ۱۸۶]۔ اس سے قطع نظر اگر کوئی لفظ درمیان میں ہو تو اس کی دو صورتیں ہوں گی: پہلی صورت یہ ہے کہ یہ لفظ خود مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے اور اس کو ایجاد کرنے کے لیے ایک دوسرے "کن" کی ضرورت ہو گی اور اس بات کی اس دوسرے "کن" کے بارے میں بھی تکرار ہو گی اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ہر خطاب کے لیے ایک مخاطب کی ضرورت ہوتی ہے اور جب ابھی تک کوئی چیز موجود ہی نہیں تو خدا "کُن" کہہ کر اسے کس طرح مخاطب کرے گا، کیا معدوم سے خطاب ہو سکتا ہے؟ قرآن کی دوسری آیات میں یہی معنی دوسرے الفاظ میں آیا ہے۔ مثلاً سورۂ بقرہ کی آیہ ۱۱۷ میں ہے: و إِذا قَضى‏ أَمْراً فَإِنَّما يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ "جس وقت اس کی قضا اور حکم کسی چیز کے بارے میں ہوتا ہے تو وہ اسے صرف یہ کہتا ہے کہ ہو جا تو وه بلافاصلہ ہو جاتی ہے"۔ اسی کی مانند سوره نحل کی آیہ ۴۰ میں ہے: إِنَّما قَوْلُنا لِشَيْ‏ءٍ إِذا أَرَدْناهُ أَنْ نَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ‏ "جو چیز ہم ایجاد کرنا چاہتے ہیں اس کے لیے ہمارا قول یہی ہے کہ ہم اسے کہتے ہیں ہو جا تو وہ بلافاصلہ ہو جاتی ہے۔ [بحوالہ: "کن فیکون" کے بارے میں جلد اوّل سورہ بقرہ کی آیہ ۱۱۷ کے ذیل میں بھی بحث کی گئی ہے]۔ زیر بحث آخری آیت کہ جوسورہ یٰسین کی آخری آیت ہے مبداء و معاد کے بارے میں ایک کلی نتیجه نکالنے کے لیے اس بحث کو ایک خوبصورت طریقے سے ختم کرتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: "پس منزہ ہے وہ خدا کہ جس کے قبضہ قدرت میں تمام چیزیں ہیں اور تم سب کے سب اسی کی طرف پلٹ کر جاؤ گے"۔ (فَسُبْحانَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْ‏ءٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُون)۔ "ملکوت" "ملك" (بر وزن "حکم") کے مادہ سے حکومت و مالکیت کے معنی میں ہے اور اس کے ساتھ "واؤ" اور "ت" کا اضافہ تاکید و مبالغہ کے لیے ہے۔ اس لیے آیت کا مفہوم اس طرح ہو گا کہ ہر چیز کی مالکیت و حاکمیت بِلاشرط خدا کے دستِ قدرت میں ہے اور اس قسم کا خدا ہر طرح کے عجز و ناتوانی سے منزه و مبرا ہے، تو اس صورت میں مردوں کو زندہ کرنا اور بوسیدہ ہڈیوں اور پراکندہ مٹی کو لباسِ حیات پہنانا اس کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے، جب یہ بات ہے تو یقینی طور پر تم سب اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے اور معاد حق ہے۔

چند نکات

اس تفسیر میں ہم نے متعدد بار وعدہ کیا ہے کہ سورہ یٰسین کے اختتام پر ہم معاد کے مختلف پہلوؤں پر کچھ تفصیلی گفتگو کریں گے۔ اس وقت ہم اس عہد کو پورا کرتے ہوئے قارئین محترم کی توجہ ذیل کی چھ بحثوں کی طرف دلانا چاہیں گے۔

1- معاد کا اعتقاد ایک فطری امر ہے

اگر انسان فنا کے لیے پیدا کیا گیا ہوتا تو پھر اسے "فنا" کا عاشق ہونا چاہیے اور موت سے لطف اندوز ہونا چاہیئےــــ چاہے موت برمحل اور عمر کے آخری حصہ میں ہو۔ جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ موت (بمعنی نیستی) کا خیال انسان کے لیے کسی زمانے میں بھی خوش آئند نہیں رہا- ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ اپنی پوری قوت کے ساتھ موت سے بھاگ رہا ہے۔ مومیا کر مُردوں کے جسموں کو باقی رکھنے کی کوشش کرنا اور اہرامِ مصر جیسے دائمی مقبرے بنانا اور آبِ حيات، اکسیرِ جوانی اور عمر بڑھانے والی چیزوں کے پیچھے بھاگنا - بقا کے ساتھ انسان کے عشق کی ایک واضح دلیل ہے۔ اگر ہم فنا کے لیے پیدا ہوتے ہیں، تو بقا سے اس لگاؤ کا کیا مفہوم ہو سکتا ہے؟ اس صورت میں تو یہ ایک فضول اور بےمصرف لگاؤ ہو گا۔ یہ مت بھولیے کہ ہم حکیم و دانا خدا کے وجود کو تسلیم کر لینے کے بعد معاد کی بحث کر رہے ہیں۔ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ اس نے جو کچھ ہمارے وجود میں پیدا کیا ہے وہ کسی حساب کے ماتحت ہی ہو گا اور وہ اس عالمِ بقاء کے ساتھ عشق بھی کسی حساب کے ماتحت ہی ہو گا اور وہ اس عالم کے بعد کی خلقت اور جہانِ آخر سے ہم آہنگی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اگر دستگاہِ خلقت نے ہمارے اندر پیاس پیدا کی ہے، تو یہ اس امر کی دلیل ہے کہ خارج میں پانی کا وجود ہے۔ اسی طرح اگر جنسی خواہش اور جنس مخالف سے انسانوں میں لگاؤ موجود ہے تو یہ اس بات کی نشانی ہے کہ خارج میں جنس مخالف کا وجود ہے ورنہ کسی چیز کی عدم موجودگی کی صورت میں اس کی خواہش کا ہونا حکمتِ آفرینش سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ دوسری طرف جب ہم تاریخِ بشر کا قدیم ترین ایام سے مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں موت کے بعد زندگی کے بارے میں انسان کے اس راسخ عقیدے کی بہت سی نشانیاں ملتی ہیں۔ وہ آثار کہ جو گزشتہ انسانوں نے یہاں تک کہ تاریخ سے پہلے کے انسانوں کے آج ہماری دسترس میں ہیں ان سے اس اعتقاد کی شہادت ملتی ہے، خصوصاً مُردوں کے دفن کرنے کا طریقہ، قبریں بنانے کی کیفیت، حتٰی کہ مُردوں کے ساتھ کچھ چیزیں دفن کرنا، اس بات کے گواہ ہیں کہ ان کے ناآگاه وجدان میں موت کے بعد کی زندگی کا اعتقاد چھپا ہوا تھا۔ ایک مشہور ماہرِ نفسیات کہتا ہے: دقیق تحقیقات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پہلے نوعِ بشر کے قبائل ایک قسم کے مذہب کے حامل تھے۔ کیونکہ وہ اپنے مُردوں کو ایک خاص طریقے سے سپردِ خاک کرتے تھے اور ان کے کام کاج کے آلات ان کے ساتھ رکھ دیا کرتے تھے اور اس طریقے سے دوسری دنیا کے لوگوں کو اپنے عقیدے کا ثبوت مہیا کرتے تھے۔ [بحوالہ: جامعہ شناس ساموئیل کینک ص ۱۹۲ (تھوڑی سی تلخیص کے ساتھ)]۔ یہ تمام باتیں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ قومیں حیات بعد از موت کو قبول کرتی تھیں، اگرچہ اس کی تفسیر میں غلط راستے پر چلتی تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ وہ زندگی بعینہ اس زندگی کی طرح ہے۔ بہرحال اس قدیمی بنیادی اعتقاد کو ایک معمولی اور عام خیال یا صرف ایک رواج اور عادت کا نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ تیسری طرف ایک اندرونی عدالت کا وجود جسے "وجدان" کہتے ہیں، معاد کے فطری ہونے کا ایک اور گواہ ہے۔ ہر انسان نیک کام انجام دے کر اپنے وجدان کے اندر ایک سکون و اطمینان محسوس کرتا ہے، ایسا سکون کہ جسے قلم بیان کرنے سے قاصر ہے۔ اس کے برعکس انسان گناہوں خصوصاً بڑے بڑے جرائم کرنے کے بعد پریشانی اور بےسکونی محسوس کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ خودکشی پر تیار ہو جاتا ہے یا خود کو سزا اور سولی کے حوالے کر دیتا ہے اور اسے وجدان کے شکنجے سے رہائی کا سبب سمجھتا ہے۔ اس حالت میں انسان خود سے پوچھتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ مجھ جیسا ایک چھوٹا سا وجود تو اس قسم کی عدالت کا حامل ہو لیکن یہ عظیم عالم اس قسم کے وجدان اور عدالت سے خالی ہو۔ اس طرح مختلف طریقوں سے مرنے کے بعد کی زندگی اور مسئلہ معاد کا فطری ہونا ہم پر واضح ہو جاتا ہے: ٭ انسانوں کے بقاء سے عمومی عشق کے حوالے سے۔ ٭ پوری انسانی تاریخ میں اس ایمان کے وجود حوالے سے اور ٭ انسان کی روح کے اندر اس کے ایک چھوٹے سے نمونے کی موجودگی کے حوالے سے۔

2- ایمان بالقیامت کا اثر انسانی زندگی پر

مرنے کے بعد کے عالم، انسان کے اعمال کے آثار کی بقا اور اس کے اچھے برے کاموں کی ہمیشگی کا اعتقاد انسانوں کی فکر و نظر اور اعصاب اعمال پر بہت ہی گہرا اثر ڈالتا ہے اور نیکیوں کا شوق پیدا کرنے اور برائیوں سے مبارزہ کرنے کے لیے ایک عاملِ موثر ہو سکتا ہے۔ فاسد و منحرف افراد کی اصلاح اور فدا کار و مجاہد اور ایثار کرنے والوں کو شوق دلانے میں حیات بعد از موت پر ایمان جو اثرات ڈال سکتا ہے وہ عام عدالتوں اور سزاؤں کے اثرات سے کہیں زیادہ ہیں۔ چونکہ قیامت و معاد کی عدالت عام عدالتوں سے بہت ہی مختلف ہے، اس عدالت میں نہ تو تجدید نظر کا کوئی وجود ہے اور نہ ہی اس کے ارکان پر زر و مال اور زور و قوت اثر ڈال سکتے ہیں، نہ وہاں جھوٹی باتوں سے کوئی فائدہ ہو گا اور نہ فیصلے کے لیے طویل مدت درکار ہو گی۔ قرآن مجید کہتا ہے: وَاتَّقُوا يَوْماً لا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئاً وَلا يُقْبَلُ مِنْها شَفاعَةٌ وَلا يُؤْخَذُ مِنْها عَدْلٌ وَلا هُمْ يُنْصَرُونَ‏ "اس دن سے ڈرو کہ جس میں کسی شخص کو کسی دوسرے کی جگہ بدل نہیں دیا جائے گا اور نہ ہی اس سے کوئی سفارش قبول کی جائے گی اور نہ ہی کوئی فدیہ یا تاوان ہو گا اور نہ ہی کوئی شخص اس کی مدد کے لیے آئے گا"۔ (بقره ۔۴۸) اس کے علاوہ قرآن حکیم میں ہے: وَلَوْ أَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ ما فِي الْأَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهِ وَأَسَرُّوا النَّدامَةَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذابَ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَهُمْ لا يُظْلَمُونَ "ان میں سے جو ظالم ہیں، اگر تمام روئے زمین بھی ان کے اختیار میں ہو اور اس دن اپنی نجات کے لیے وہ سب کچھ قربان کر ڈالیں (تو بھی ان کی نجات نہیں ہو گی) اور جس وقت وہ عذابِ الہٰی کو دیکھیں گے تو اپنی پشیمانی کو چھپائیں گے (کہ کہیں زیادہ رسوا نہ ہوں) اور ان کے درمیان عدالت کے ساتھ فیصلہ ہو گا اور ان پر ذرا سا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا"۔ (یونس ۔۵۴) اس کے علاوہ قرآنِ مجید میں یہ بھی بیان ہوا ہے: و ليجزى اللهُ كُلَّ نَفْسٍ ما كَسَبَتْ إِنَّ اللهَ سَرِيعُ الْحِسابِ: "مقصد یہ ہے کہ خدا ہر شخص کو جو کچھ اس نے انجام دیا ہے اس کی جزا دے کیونکہ خدا سريع الحساب ہے"۔ (ابراہیم ۔۵۱) اس کا حساب اتنا قطعی اور تیزی کے ساتھ ہو گا کہ بعض روایات کے مطابق: إِنَّ الله تعالى يحاسب الخلائق كلها فى مقدار لمح البصر خدا چشم زدن میں سب مخلوق کا حساب چکا دے گا۔ [بحوالہ: مجمع البیان، سورہ بقرہ کی آیہ ۲۰۲ کے ذیل میں]۔ اسی بناء پر قرآنِ مجید میں بہت سے گناہوں کا سرچشمہ روزِ جزاء کو بھول جانا قرار دیا گیا ہے۔ سوره المّ سجدہ کی آیہ ۱۴ میں ہے: فَذُوقُوا بِما نَسِيتُمْ لِقاءَ يَوْمِكُمْ هٰذا "جہنم کی آگ کا مزہ چکھو کیونکہ تم نے آج کے دن کی ملاقات کو فراموش کر دیا تھا"۔ کچھ تعبیرات سے تو یہاں تک معلوم ہوتا ہے کہ اگر انسان قیامت کے بارے میں کچھ گمان ہی رکھتا ہو تب بھی بہت سے غلط کاموں کو انجام دینے سے رک جائے گا۔ جیسا کہ کم فروشوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے: أَ لَا يَظُنُّ أُولئِكَ أَنَّهُمْ مَبْعُوثُونَ لِيَوْمٍ عَظِيمٍ "کیا وہ یہ گمان نہیں کرتے کہ ایک عظیم دن وہ قبروں سے اٹھائے جائیں گے"۔ (مطففین ۴ - ۵) گزشتہ زمانے میں بھی اور آج بھی مجاہدینِ اسلام، میدانِ جہاد میں رجز خوانی کرتے ہوئے دادِ شجاعت دیتے ہیں اور بہت سے لوگ اسلامی ممالک کے دفاع اور محرومین و مستضعفین کی حمایت کے لیے جو عظیم ایثار و فداکاری دکھاتے ہیں یہ سب دوسرے جادوانی گھر پر اعتقاد کا نتیجہ ہے۔ علماء کے مطالعات اور مختلف تجربات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس قسم کے وسیع مظاہر اس عقیدے کے سوا ممکن نہیں۔ وہ مجاہد کہ جس کی منطق یہ ہو کہ: قُلْ هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنا إِلَّا إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ "کہہ دو کہ اے دشمنو! تم ہمارے بارے میں کیا سوچتے ہو؟ سوائے دو سعادتوں میں سے کسی ایک تک پہنچنے کے (یا تم پر کامیابی یا افتخارِ شہادت)"۔ (توبہ ۔۵۲) یہ مجاہد یقیناً شکست ناپذیر ہے۔ موت کا چہرہ اس جہان کے بہت سے لوگوں کے لیے وحشت انگیز ہے، یہاں تک کہ اس کے نام اور ہر اس چیز سے کہ جو اس کی داعی ہے گریز کرتے ہیں۔ لیکن موت کے بعد زندگی کا عقیدہ رکھنے والوں کے لیے نہ صرف یہ کہ وہ ناپسندہ نہیں ہے بلکہ ایک عظیم جہان کے لیے دریچہ ہے، قفس کا ٹوٹ جانا ہے، انسانی روح کا آزاد ہونا ہے، زندانِ بدن کے دروازوں کا کھلنا ہے اور آزادی مطلق تک پہنچنا ہے۔ اصولی طور پر مبداء کے بعد مسئلہ معاد خدا پرستوں اور مادہ پرستوں کے علم کی حدِّ فاضل ہے کیونکہ اس مقام پر دو مختلف نظریے پائے جاتے ہیں۔ ایک نظریہ تو وہ ہے کہ موت کو جس میں فنا اور نابودی مطلق سمجھا جاتا ہے اور اپنے پورے وجود کے ساتھ اس سے گریز کرتا ہے کیونکہ اس نظریے کے مطابق سب چیزیں اس کے ساتھ ہی ختم ہو جاتی ہیں۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ موت ایک خلقتِ جدید ہے اس سے انسان ایک کشادہ تر اور روشن عالم میں قدم رکھتا ہے۔ اس پر وسیع و عریض آسمان کے سارے دروازے کھل جاتے ہیں۔ یہ فطری بات ہے کہ اس مکتب کے طرفدار نہ صرف یہ کہ ہدف و مقصد کی راہ میں موت و شہادت سے خوف نہیں کھاتے بلکہ امیر المومنین علی علیہ السلام کے مکتب سے ہدایت حاصل کر کے انہی کی طرح کہتے ہیں: "والله لابن ابى طالب آنس بالموت من الطفل بثدى امه" "خدا کی قسم! ابوطالب کے بیٹے کی موت سے محبت اس سے کہیں زیادہ ہے کہ جو ایک شیرخوار بچے کو اپنی ماں کے پستان سے ہوتی ہے"۔ [بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ۵]۔ ایسے لوگ مقصد کی راہ میں موت کا استقبال کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے جب زمانے کے مجرم عبد الرحمن ابن ملجم کی تلوار کی ضرب آپؐ کے سرِ مبارک پر لگی تو آپ نے فرمایا: " فزت وربِّ الكعبه" "کعبہ کے رب کی قسم! میں کامیاب ہو گیا اور مجھے راحت و سکون مل گیا"۔ مختصر بات یہ ہے کہ معاد و قیامت پر ایمان، ڈرپوک اور بےمقصد انسان کو شجاع، بہادر اور بامقصد انسان میں تبدیل کر دیتا ہے کہ جس کی زندگی رجز خوانیوں، قربانیوں، پاکیزگی اور تقوٰی سے معمور ہو جاتی ہے۔

3- معاد کے عقلی دلائل

قرآنِ مجید میں معاد کے بارے میں بہت دلیلیں بیان ہوئی ہیں اور اس سلسلے میں سینکڑوں آیات موجود ہیں۔ ان سے قطع نظر اس امر پر واضح عقلی دلائل بھی موجود ہیں کہ جن میں سے اختصار کے ساتھ بیان کیے جاتے ہیں: ا- برهانِ حکمت: اگر ہم اس جہان کی زندگی کو دوسرے جہان کے بغیر تصور کریں، تو یہ لغو اور بےمعنی ہو کر رہ جائے گی۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہو گی جیسے ہم جنین کی زندگی کو اس دنیا کی زندگی کے بغیر فرض کر لیں۔ اگر قانونِ خلقت یہ ہوتا کہ تمام جنین پیدائش کے وقت گلا گھٹ کر مر جاتے تو جنینی دور کس قدر بےمفهوم ہو جاتا؟ اسی طرح اگر اس جہان کی زندگی کو دوسرے جہان کی زندگی سے الگ تصور کر لیا جائے تو اس کا وجود بھی مہمل ہو جائے گا کیونکہ کیا ضرورت پڑی ہے کہ ہم ستر سال یا اس سے کم و بیش اس دنیا میں مشکلات میں گھرے رہیں، ایک مدت تک خام اور بےتجربہ رہیں اور جب ناپختگی دور ہو تو عمر تمام ہو جائے۔ ایک مدت تک تم علم کے حاصل کرنے میں لگے رہتے ہیں اور جس وقت معلومات کے لحاظ سے ہم کسی مقام تک پہنچتے ہیں تو بڑھاپے کی برف ہمارے سروں پر بیٹھ چکی ہوتی ہے۔ آخر ہم یہ زندگی کس لیے بسر کر رہے ہیں؟ کچھ مقدار غذا کھانے، چند گَز کپڑے پہننے، بار بار سونے اور بیدار ہونے اور اس تھکا دینے والے طرز عمل کو سالہا سال تک دہرانے اور جاری رکھنے کے لیے؟ کیا واقعاً یہ وسیع آسمان، یہ پھیلی ہوئی زمین اور یہ تمام آغاز و انجام، یہ تمام استاد و مربی، یہ تمام عظیم کتب خانے اور یہ تمام باریک بینیاں کہ جو ہماری اور تمام موجودات کی خلقت میں کام میں لائی گئی ہیں، کھانے، پینے، پہنے اور مادی زندگی کے لیے ہیں؟ یہ وہ مقام ہے کہ جہاں پر وہ لوگ کہ جو معاد کو قبول نہیں کرتے، اس زندگی کی لغویت اور بیہودگی کا اعتراف کرتے ہیں اور ان میں سے ایک گروہ خودکشی کرنے اور اس فضول اور بےمعنی زندگی سے نجات کو جائز یا باعثِ افتخار سمجھتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ شخص جو خدا اور اس کی بےپایاں حکمت پر ایمان رکھتا ہے، اس جہان کی زندگی کو دوسرے جہان کی دائمی زندگی کے لیے مقدمہ سمجھے بغیر قابلِ توجہ شمار کرے۔ قرآن کہتا ہے: أَ فَحَسِبْتُمْ أَنَّما خَلَقْناكُمْ عَبَثاً وَأَنَّكُمْ إِلَيْنا لا تُرْجَعُون "کیا تم نے یہ گمان کر لیا ہے کہ تم فضول اور بےکار پیدا ہوئے ہو اور تم ہماری طرف پلٹ کریں آؤ گے"۔ (مومنون ــــــ ۱۱۵) یعنی اگر خدا کی طرف بازگشت نہ ہوتی تو پھر اس جہان کی زندگی عبث اور بیہودہ ہوتی۔ ہاں اس دنیا کی زندگی اسی صورت میں مفہوم رکھتی ہے اور خدا کی حکمت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے جب اس جہان کو دوسرے جہان کے لیے ایک کھیتی (الدنيا مزرعة الآخرة( اور اس وسیع عالم کے لئے ایک گزرگاہ (الدنيا قنطرة) اور تیاری کی ایک کلاس اور دوسرے جہان کے لیے ایک یونیورسٹی اور اُس گھر کے لیے ایک تجارت خانہ سمجھیں۔ جیسا کہ امیر المومنین علی علیہ السالم نے اپنے پُرمعنی کلمات میں فرمایا ہے: إن الدنيا دار صدق لمن صد قھا، وَدَار عافیة لمن فھم عنها، ودار غني لمن تزو منها، وَدار موعظة لمن أَ تَعِظ بها ، مسجد أحباء الله و مصلی ملائكة الله ، ومهبط وحي الله ومتجر اولیاء الله۔ "یہ دنیا اس شخص کے لیے کہ جو سچائی کے ساتھ اس سے پیش آئے سچائی کی جگہ ہے اور اُس شخص کے لیے کہ جو اس سے کچھ فہم حاصل کرے عافیت کا گھر ہے اور اس شخص کے لیے کہ جو اس سے زاد راہ حاصل کرے بےنیازی کا گھر ہے اور اس شخص کے لیے کہ جو اس سے پند و نصحیت حاصل کرے وعظ و نصیحت کا گھر ہے۔ یہ خدا کے دوستوں کی مسجد ہے، پروردگار کے فرشتوں کی جائے نماز ہے، وحی الٰہی کے نزول کا مقام ہے اور اولیاءِ حق کا تجارت خانہ ہے۔ [بحوالہ: نہج البلاغہ، کلمات قصار، کلمہ ۱۳۱]۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس جہان کی کیفیت کا مطالعه خوب اچھی طرح سے اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس عالم کے بعد ایک اور عالم بھی ہے: وَلَقَدْعَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولى‏ فَلَوْ لا تَذَكَّرُونَ "تم اس دنیا میں نشأة اولٰی اور خود اپنی پیدائش کو دیکھ چکے ہو تو پھر تم متوجہ کیوں نہیں ہوتے کہ اس کے بعد ایک اور جہان بھی ہے"؟ (واقعہ ۔۶۲) (ب) برهانِ عدالت: نظامِ ہستی اور قوانینِ خلقت میں غور سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اس کی تمام چیزیں حساب شده اور جچی تلی ہیں۔ ہمارے بدن کی ساخت میں اس قسم کا عادلانہ نظام حکم فرما ہے کہ جب بھی کوئی معمولی سی تبدیلی یا غیرموزوں نیت اس میں ظاہر ہوتی ہے تو وہ بیماری یا موت کا سبب بن جاتی ہے۔ ہمارے دل کی حرکت ہمارے خون کی گردش، ہماری آنکھ کے پردے، ہمارے بدن کے سیل اسی دقیق نظام میں شامل ہیں کہ جو سارے جہان پر حکومت کر رہا ہے: وبالعدل قامت السَّماوَات وَالأرض "تمام آسمان اور زمین عدالت ہی کی وجہ سے قائم ہیں"۔ [بحوالہ: تفسیر صافی، سورہ رحمٰن کی آیہ ۷ کے ذیل میں]۔ تو کیا انسان اس وسیع عالم میں ایک نامطلوب چیز ہو سکتا ہے؟ یہ ٹھیک ہے کہ خدا نے انسان کو ارادہ و اختیار کی آزادی دی ہے تاکہ وہ اسے آزمائے اور وه اس کے سائے میں ارتقائی منزلوں کو طے کرے لیکن اگر انسان آزادی سے غلط فائدہ اٹھائے تو پھر کیا ہو گا؟ اگر ظالم اور ستمگر لوگ، گمراہ اور گمراہ کرنے والے اس خدائی انعام سے سوئے استفادہ کرتے ہوئے گمراہی کا راستہ اختیار کیے رہیں تو پھر عدلِ الٰہی کا تقاضا کیا ہو گا؟ یہ ٹھیک ہے کہ بدکاروں کے ایک گروہ کو اس دنیا میں بھی سزا مل جاتی ہے اور وہ اپنے کیفر کردار کو پہنچ جاتے ہیں یا کم از کم اس کا ایک حصہ بھگت لیتے ہیں لیکن مسلم طور پر ایسا نہیں ہوتا کہ تمام کے تمام مجرم اپنی ساری کی ساری سزا بھگت لیتے ہوں اور سب کے سب پاک اور نیک لوگ اپنے اعمال کا بدلہ پورے کا پورا اسی جہان میں پا لیتے ہوں۔ کیا یہ بات ممکن ہے کہ یہ دونوں گروه پروردگار کی عدالت کے پلڑے میں برابر ہو جائیں؟ قرآنِ مجید کے ارشاد کے مطابق: أَ فَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِمِينَ ما لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ "کیا ان لوگوں کو کہ جو قانونِ خدا کے پیشِ نظر حق و عدالت کے سامنے سرِتسلیم خم کیے ہوئے ہیں ہم مجرمین کی طرح قرار دے دیں گے؟ کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے یہ کس طرح کا فیصلہ کرتے ہو"؟ (قلم ۔۳۵، ۳۶) دوسری جگہ قرآن فرماتا ہے: أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ "کیا یہ ممکن ہے کہ تم پرہیزگاروں کو فاجروں کے مانند قرار دے دیں"؟ (ص ۔۲۸) بہرحال فرمانِ حق کی اطاعت میں انسانوں کے درمیان تفاوت ہونا کوئی شک کی بات نہیں ہے کیونکہ اس جہان کی مکافات اور عدالتِ وجدان اور گناہوں کے نتائج کا کافی نہ ہونا، عدالت کے قیام کے لیے تنہا کافی نظر نہیں آتا۔ اس بناء پر یہ بات قبول کرنی پڑے گی کہ اجرِ الٰہی کے اجراء کے لیے کوئی عدلِ عام کی عدالت ہو کہ جہاں پر سوئی کی نوک کے برابر نیک اور بد کاموں کا حساب ہو۔ ورنہ حقیقی عدالت کیا قائم نہ ہو گی۔ لہذا یہ بات قبول کر لینی چاہیئے کہ عدلِ الٰہی کو قبول کرنا وجودِ معاد و قیامت کے قبول کرنے کے مترادف ہے۔ قرآنِ مجید کہتا ہے: وَنَضَعُ الْمَوازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيامَةِ "ہم قیامت کے دن عدل کے ترازو قائم کریں گے"۔ (انبیاء ۔۴۷) اس کے علاوہ یہ بھی فرماتا ہے: وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَهُمْ لا يُظْلَمُونَ "قیامت کے دن ان کے درمیان عدالت کے مطابق فیصلہ ہو گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں ہو گا"۔ (یونس ۔۵۴) (ج) برهانِ هدف: مادہ پرستوں کے نظریے کے برخلاف الٰہی نظریۂ کائنات کے مطابق انسان کی خلقت میں ایک ہدف اور مقصد کارفرما ہے کہ جسے فلسفی تعبیر میں "تکامل و ارتقاء" کہتے ہیں۔ قرآن و حدیث کی زبان میں کبھی "قربِ خداوندی" اور کبھی "عبادت و بندگی" کہتے ہیں: وَما خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ "میں نے جن و انس کو پیدا نہیں کیا ہے مگر اس مقصد کے لیے کہ وہ میری عبادت کریں" اور عبادت و بندگی کے سائے میں کامل ہوں اور میرے حریم قرب کی طرف راه پائیں- ( ذاریات۔۵۶) اگر موت ہر چیز کا اختتام ہو تو کیا یہ عظیم مقصد پورا ہو گا؟ بِلاشک و شبہ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ ضروری ہے کہ اس جہان کے بعد ایک اور جہان ہو اور انسان کا سفرِ کمال اس میں جاری رہے اور وہ اس (جہان کی) کھیتی کی فصل وہاں کاٹے اور یہاں تک کہ ۔۔۔۔ جیسے ہم کہہ چکے ہیں دوسرے جہان میں بھی یہ سیرِ تکامل جاری رہنی چاہیئے تاکہ اصلی اور آخری ہدف پورا ہو جائے۔ خلاصہ یہ ہے کہ مقصدِ خلقت کی تکمیل معاد کو قبول کیے بغیر ممکن نہیں ہے اور اگر ہم اس زندگی کو موت کے بعد والے جہان سے منقطع کر لیں تو ہر چیز معمہ کی شکل اختیار کر لے اور کئی طرح کے "کیوں" کا ہمارے پاس کوئی جواب نہ رہے۔ (د)- برهان نفی اختلاف: بےشک ہمیں ان اختلافات سے کہ جو اس جہان کے مختلف مکاتب و مذاہب کے درمیان موجود ہیں دکھ ہوتا ہے اور ہم سب یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ایک دن یہ تمام اختلافات ختم ہو جائیں جبکہ تمام قرائن اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ اخلافات اس دنیا کے مزاج میں پوری طرح اتر چکے ہیں۔ یہاں تک کچھ دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کی جو ایک عالمی حکومت قائم کرنے والے ہیں۔ ان کے قیام کے بعد بھی اگرچہ بہت سے اختلافات ختم ہو جائیں گے، لیکن پھر بھی کچھ مکاتب کا اختلاف کلی طور پر ختم نہیں ہو گا اور قرآن کے ارشاد کے مطابق یہود و نصاریٰ دامن قیامت تک اپنے اختلاف پر باقی رہیں گے: فَأَغْرَيْنا بَيْنَهُمُ الْعَداوَةَ وَالْبَغْضاءَ إِلى‏ يَوْمِ الْقِيامَةِ (مائده ۔ ۱۴) لیکن وہ خدا کہ جو ہر چیز کو وحدت کی طرف لے جاتا ہے آخر میں اختلافات کو ختم کرائے گا اور چونکہ عالمِ مادہ کے گہرے پردوں کی موجودگی میں یہ بات اس دنیا میں کلی طور پر امکان پذیر نہیں ہے لہذا ہم جانتے ہیں کہ دوسرے جہان میں کہ جو عالم بروز و ظہور ہے آخرکار یہ مسئلہ عملی شکل اختیار کر لے گا اور حقائق اس طرح سے روشن ہو جائیں گے کہ مکتب و عقیدہ کا اختلاف بالکل ختم ہو جائے گا۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ قرآنِ مجید کی متعدد آیات میں اس مسئلے کا ذکر ہوا ہے۔ ایک جگہ فرماتا ہے: فَاللهُ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ فِيما كانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ "خدا ان چیزوں کے بارے میں قیامت کے دن کہ جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے ان کے درمیان فیصلہ کر دے گا"۔ (البقرة ۔ ۱۱۳) دوسری جگہ فرماتا ہے: وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ لا يَبْعَثُ اللَّهُ مَنْ يَمُوتُ بَلى‏ وَعْداً عَلَيْهِ حَقًّا وَلٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَعْلَمُونَ لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي يَخْتَلِفُونَ فِيهِ وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّهُمْ كانُوا كاذِبِينَ۔ "انہوں نے زوردار قسم کھا کر کہا کہ خدا ان لوگوں کو کہ جو مر جائیں گے کبھی زندہ نہیں کرے گا لیکن ایسا نہیں ہے۔ یہ خدا کا حتمی وعدہ ہے (کہ ان سب کو زندہ کرے گا) لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ جس چیز میں وہ اختلاف رکھتے تھے اسے ان کے لیے واضح کر دے گا کہ جو لوگ منکر ہو گئے تھے وہ یہ جان لیں کہ وہ جھوٹ بولتے تھے"۔ (نحل ۔ ۳۸، ۳۹)

4- قرآن اور مسلہ معاد

مسلہ توحید کہ جو انبیاء کی تعلیمات میں سب سے زیادہ بنیادی مسئلہ ہے اس کے بعد معاد کا مسئلہ اپنی خصوصیات اور اپنے تربیتی و تعلیمی آثار کے ساتھ پہلے درجہ میں قرار پاتا ہے۔ لہذا قرآنی مباحث میں توحید و خدا شناسی کے بعد بہت سی آیات کو اس نے اپنے ساتھ مخصوص کر دیا ہے۔ معاد کے قرآنی مباحث کبھی تو منطقی استدلال کی صورت میں بیان ہوئے ہیں اور کبھی خطابی مباحث اور موثر اور زوردار تلقین کی صورت میں بعض اوقات تو انہیں سن کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور کلام کا صادقانه لب و لہجہ ایسا ہے کہ وہ استدلال کی طرح انسان کی روح اور جان کی گہرائیوں میں اتر جاتے ہیں۔ منطقی استدلال میں قرآن زیادہ تر امکانِ معاد کے موضوع پر بات کرتا ہے۔ کیونکہ منکرین زیادہ تر اُسے محال خیال کرتے تھے۔ ان کا نظریہ یہ تھا کہ معاد وہ بھی معادِ جسمانی کی صورت میں کہ جس میں بوسیدہ اور خاک شده اجسام کا نئی حیات کی طرف لوٹنا ضروری ہے امکان پزیر نہیں۔ اس حصے میں قرآن مختلف طریقوں سے بات کرتا ہے اور یہ سب استدلال جس ایک جگہ جا کر ختم ہو جاتے ہیں وه "معاد کے امکانِ عقلی" کا مسئلہ ہے۔ کبھی تو وہ پہلی زندگی کو انسان کی نظر میں مجسم کرتا ہے اور ایک مختصر، منہ بولتی اور واضح عبارت میں کہتا ہے: كَما بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ "جس طرح سے کہ اس نے تمہیں ابتداء میں پیدا کیا ہے اسی طرح سے تم واپس لوٹو گے"۔ (اعراف - ۲۹) کبھی نباتات کی زندگی اور موت اور ان کی بازگشت کی تصویرکشی کرتا ہے کہ جسے ہم ہر سال اپنی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ اور اس کے آخر میں کہتا ہے کہ تمہاری بازگشت بھی اسی طرح ہو گی: وَنَزَّلْنا مِنَ السَّماءِ ماءً مُبارَكاً فَأَنْبَتْنا بِهِ جَنَّاتٍ وَحَبَّ الْحَصِيدِ ... وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً كَذلِكَ الْخُرُوجُ "ہم نے آسمان سے بابرکت پانی نازل کیا اور اس کے ذریعے سرسبز باغات اگائے اور کٹےہوئے دانے .... اور اس کے ذریعے ہم نے مردہ زمین کو زندہ کیا (تمهاری) بازگشت بھی اسی طرح ہو گی"۔ (ق – ۹ تا ۱۱) دوسری جگہ کہتا ہے: وَاللهُ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّياحَ فَتُثِيرُ سَحاباً فَسُقْناهُ إِلى‏ بَلَدٍ مَيِّتٍ فَأَحْيَيْنا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها كَذلِكَ النُّشُورُ خدا ہی ہے کہ جس نے ہواؤں کو بھیجا تاکہ وہ بادلوں کو چلائیں اور ہم نے انہیں مردہ زمین کی طرف دھکیل دیا اور اس کے ذریعے ہم نے زمین کو اس کی موت کے بعد حیات بخشی قبروں سے اٹھنا بھی اسی طرح ہے"۔ (فاطر - ۹) کبھی آسمانوں اور زمین کی خلقت میں خدا کی قدرت کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: أَ وَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللهَ الَّذِي خَلَقَ السَّماواتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقادِرٍ عَلى‏ أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتى‏ بَلى‏ إِنَّهُ عَلى‏ كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَدِيرٌ "کیا وہ یہ نہیں جانتے کہ وہ خدا کی جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اس تخلیق نے اسے تھکا نہیں دیا، وہ مُردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ ہاں! وہ ہر چیز پر قادر ہے"۔ (احقاف - ۳۳) اور کبھی توانائیوں کی بازگشت اور سبز درخت سے آگے نکلنے کو اس کی قدرت کے نمونے کے طور پر اور آگ کو پانی کے اندر قرار دینے کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: الَّذِي جَعَلَ لَكُمْ مِنَ الشَّجَرِ الْأَخْضَرِ ناراً "وہ خدا مردوں کو لباسِ حیات پہناتا ہے کہ جس نے سبز درخت سے تمہارے لیے آگ پیدا کی"۔ (یٰسین - ۸۰) کبھی جنین کی زندگی کو انسان کی نظر میں مجسم کرتا ہے اور کہتا ہے: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْناكُمْ مِنْ تُرابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُضْغَةٍ مُخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِنُبَيِّنَ لَكُمْ وَنُقِرُّ فِي الْأَرْحامِ ما نَشاءُ إِلى‏ أَجَلٍ مُسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلا۔ "اے لوگو! اگر تم قیامت کے بارے میں شک رکھتے ہو تو یہ بات مت بھولو کہ ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ہے، پھر نطفہ سے، پھر جمے ہوئے خون سے پھر، مضغہ سے (کہ گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جو چبائے ہوئے گوشت کی طرح کا ہے)- اس حالت میں پہنچ کر بعض تو شکل و صورت کے حامل ہوتے ہیں اور بعض بےشکل و صورت مقصد یہ ہے کہ ہم تم پر یہ واضح کر دیں (کہ ہم ہر چیز پر قدرت رکھتے ہیں) اور جن "جنینوں" کو ہم چاہتے ہیں ایک معین مدّت تک ماؤں کے رحم میں روک رکھتے ہیں۔ اس کے بعد بچے کی شکل میں تمہیں عالمِ دنیا میں بھیجتے ہیں"۔ (حج - ۵) وہ نیند کہ جو موت کی بہن ہے بلکہ کئی جہات سے خود موت ہے۔ اُس کے لیے اصحابِ کہف کی تین سو سالہ نیند کی مثال پیش کرتا ہے اور ان کی نیند اور بیداری کے سلسلے میں ایک عمدہ اور مناسب تشریح کرنے کے بعد فرماتا ہے: وَكَذلِكَ أَعْثَرْنا عَلَيْهِمْ لِيَعْلَمُوا أَنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ وَأَنَّ السَّاعَةَ لا رَيْبَ فِيها "اس طرح سے ہم نے لوگوں کو ان کی حالت کی طرف متوجہ کیا تاکہ وہ جان لیں کہ خدا کا قیامت کا وعدہ حق ہے اور قیامِ قیامت میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے"۔ (کہف - ۲۱) یہ چھ استدلال ہیں کہ جو قرآن کی آیات میں امکانِ معاد کے سلسلے میں بیان ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ابراہیم کے چار پرندوں کی داستان (بقره - ۲۶۰)، عزیر کی سرگزشت (بقرہ ۔ ۲۵۹)، بنی اسرائیل کے مقتول کا واقعہ (بقره - ۷۳) بھی بیان کیا گیا ہے، ان میں سے ہر ایک، ایک تاریخی نمونہ ہے یہ سب اس مسئلے کے لیے دوسرے شواہد و دلائل ہیں کہ جو قرآن نے اس سلسلے میں بیان کیے ہیں۔ مختصر بات یہ ہے کہ وه تصویر جو قرآنِ مجید نے معاد، اس کے مختلف پہلوؤں، مقدمات اور نتائج کی کھینچی ہے اور وہ بولتے ہوئے دلائل کہ جو اس نے اس سلسلے میں بیان کیے ہیں، اس قدر زندہ اور اطمینان بخش ہیں کہ جو شخص تھوڑا سا بھی بیدار وجدان رکھتا ہے وہ ان کی گہری تاثیر سے ضرور متاثر ہو گا۔ بعض کے قول کے مطابق قرآن کی ایک ہزار دو سو آیات معاد کے سلسلے میں بحث کرتی ہیں کہ اگر انہیں جمع کیا جائے اور ان کی تفسیر کی جائے تو وہ خود ایک ضخیم کتاب ہو جائے گی۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ اس تفسیر کی تالیف کے اختتام کے بعد، جس وقت ہم ان شاء اللہ تفسیر موضوعی شروع کریں گے تو (معاد کے سلسلہ کی آیات کا) یہ مجموعہ بھی خواہش مندوں کی دسترس میں ہو گا۔

5- معاد جسمانی

معادِ جسمانی سے مراد یہ نہیں ہے کہ صرف جسم دوسرے جہان میں لوٹ آئے گا بلکہ مقصد یہ ہے کہ روح اور جسم اکٹھے مبعوث ہوں گے۔ دوسرے لفظوں میں روح کی بازگشت تو مسلّم ہے بحث جسم کی بازگشت کے بارے میں ہے۔ گزشتہ فلاسفہ کی ایک جماعت صرف معادِ روحانی کی معتقد تھی وہ جسم کو ایک سواری سمجھتے تھے کہ جو صرف اسی جہان میں انسان کے ساتھ ہے اور موت کے بعد وہ اس سے بےنیاز ہو جائے گا اور اسے چھوڑ کر عالمِ ارواح میں چلا جائے گا۔ لیکن اسلام کے بزرگ علماء کا عقیدہ یہ ہے کہ معادِ روحانی اور جسمانی دونوں صورتوں میں ہو گی یہاں پر بعض علماء خصوصیات کے ساتھ سابق جسم کو ضروری نہیں سمجھتے اور وہ یہ کہتے ہیں کہ خدا کسی بھی جسم کو روح کے اختیار میں دے دے گا اور چونکہ انسان کی شخصیت اس کی روح کے ساتھ ہے تو یہ جسم اسی کا جسم شمار ہو گا۔ جبکہ صاحبانِ تحقیق کا عقیدہ یہ ہے کہ وہی جسم کہ جو خاک ہو کر بکھر گیا تھا، خدا کے حکم سے اسی کو جمع کیا جائے گا اور اسی کو نئی زندگی عطا ہو گی اور یہ وہ عقیدہ ہے کہ جو قرآنِ مجید کی آیات سے لیا گیا۔ قرآنِ مجید میں معاد جسمانی کے شواہد اس قدر زیادہ ہیں کہ یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ وہ لوگ جو معاد کو صرف روحانی سمجھتے ہیں انہوں نے معاد والی فراواں آیات کا تھوڑا سا بھی مطالعہ نہیں کیا ہے، ورنہ معاد کا جسمانی ہونا آیاتِ قرآنی میں اس قدر واضح ہے کہ کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ یہی آیات کے جو سورہ یٰسین کے آخر میں بیان ہوئی ہیں اس حقیقت کو وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہیں،کیونکہ عرب کے بیابانی لوگوں کو تعجب اسی بات کا تھا کہ یہ بوسیدہ ہڈی جو ان کے ہاتھ میں ہے اسے کون زندہ کر سکتا ہے؟ قرآن صراحت کے ساتھ اس کے جواب میں کہتا ہے: قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنْشَأَها أَوَّلَ مَرَّةٍ "کہیے کہ وہی خدا اس بوسیده ہڈی کو زندہ کرے گا کہ جس نے پہلی دفعہ اسے پیدا کیا تھا"۔ معاد کے مسئلے میں مشرکین کا سارا تعجب اور ان کی مخالفت اسی امر پر تھی کہ جب ہم خاک ہو جائیں گے اور ہماری خاک زمین میں مل جائے گی تو پھر دوبارہ کیسے زندہ ہوں گے؟ وَقالُوا أَ إِذا ضَلَلْنا فِي الْأَرْضِ أَ إِنَّا لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ (الم سجده - ۱۰) وہ کہتے تھے کہ یہ شخص تم سے کیسے وعدہ کرتا ہے کہ جس وقت تم مر جاؤ گے اور خاک ہو جاؤ گے تو دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے: أَ يَعِدُكُمْ أَنَّكُمْ إِذا مِتُّمْ وَكُنْتُمْ تُراباً وَعِظاماً أَنَّكُمْ مُخْرَجُونَ (مومنون - ۳۵) وہ اس امر پر اس قدر تعجب کرتے تھے کہ اس کے اظہار کو جنون یا خدا پر جھوٹ خیال کرتے تھے: قالَ الَّذِينَ كَفَرُوا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلى‏ رَجُلٍ يُنَبِّئُكُمْ إِذا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّكُمْ لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ۔ "کافروں نے کہا کہ ہم تمہیں ایسا شخص دکھاتے ہیں کہ جو تمہیں یہ خبر دیتا ہے کہ جس وقت تم پوری طرح خاک ہو کر بکھر جاؤ گے تو دوباره زندگی پاؤ گے"۔ (سباء - ۷) یہی وجہ ہے کہ عام طور پر امکانِ معاد کے بارے میں قرآنی استدلال معادِ جسمانی کے گرد ہی گھومتے ہیں اور وہ چھ بیانات کہ جو گزشتہ حصے میں گزرے ہیں سب کے سب اسی مدعا کے گواه ہیں۔ اس کے علاوہ قرآن بار بار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تم قیامت میں قبروں سے نکلو گے۔ (یٰسین - ۵۱، قمر- ۷) تو قبریں معادِ جسمانی کے ساتھ مربوط ہیں۔ ابراہیم کے چاروں پرندوں کی داستان، اسی طرح عزیزؑ کا واقع اور موت کے بعد ان کا زندہ ہونا اور بنی اسرائیل کے مقتول کا قصہ کہ جس کی طرف ہم نے گزشتہ مباحث میں اشارہ کیا ہے، سب کے سب صراحت کے ساتھ معادِ جسمانی کی ہی بات کرتے ہیں۔ قرآنِ مجید نے جنت کی مادی و روحانی نعمتوں کی جتنی بھی تعریف کی ہے سب کی سب اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ معادِ جسمانی طور پر بھی ہو گا اور روحانی طور پر بھی، ورنہ روحانی نعمتوں کے ساتھ ساتھ حور و قصور اور انواع و اقسام کی بہشتی غذاؤں اور مادی لذائذ کے کیا معنی ہیں؟ بہرحال یہ بات ممکن نہیں ہے کہ کوئی شخص قرآنی منطق اور تعلیمات سے تھوڑی سی بھی آگاہی رکھتا ہو اور پھر معادِ جسمانی کا انکار کرے۔ دوسرے لفظوں میں معادِ جسمانی کا انکار قرآن کی نظر میں اصل معاد کے انکار کے مساوی ہے۔ ان دلائل منقولی کے علاوہ اس بارے میں عقلی شواہد بھی موجود ہیں۔ اگر ہم انہیں بیان کرنا شروع کر دیں تو گفتگو لمبی ہو جائے گی۔ البتہ معادِ جسمانی کا اعتقاد چند ایک سوالات و اعتراضات کو ابھارتا ہے مثلاً آکل و ماکول کا شبہ کہ جن کا محققینِ اسلام نے جواب دیا ہے اور ہم اس سلسلے میں ایک مختصر اور جامع تشریح سورہ بقرہ کی آیہ ۲۶۰ کے ذیل میں دوسری جلد میں بیان کر آئے ہیں۔

6- بہشت و دوزخ

بہت سے لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ مرنے کے بعد کا عالم مکمل طور پر اسی جہان کے مشابہ ہے البتہ زیادہ کامل اور زیادہ عمده شکل میں۔ لیکن ہمارے پاس بہت سے ایسے قرائن موجود ہیں کہ جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس جہان اور اس جہان کے درمیان کیفیت و کمیت کے لحاظ سے بہت زیادہ فاصلہ ہے۔ یہاں تک کہ اگر ہم اس فاصلے کو چھوٹے سے جنین کے عالم کی اس وسیع دنیا کے درمیانی فاصلے سے تشبیہ دیں تو پھر بھی کامل موازنہ نہیں ہو گا۔ بعض روایات کی صراحت کے مطابق وہاں ایسی چیزیں ہیں کہ جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے اور نہ کسی کان نے سنا ہے، یہاں تک کہ کسی انسان کے وہم و گمان میں بھی نہ آئی ہوں گی۔ لہذا قرآنِ مجید کہتا ہے: فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ ما أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةُ اَعْيُنٍ۔ "کوئی انسان نہیں جانتا کہ کیسی کیسی چیزیں کہ جو آنکھوں کی ٹھنڈک کا سبب ہیں اس کے لیے پنہاں رکھی گئی ہیں"۔ (الم سجدہ - ۱۷) اس جہان پر حاکم نظام اس عالم پر حاکم نظام سے مکمل طور پر مختلف ہے۔ یہاں افراد بطور گواہ عدالت میں جاتے ہیں لیکن وہاں ہاتھ اور پاؤں یہاں تک کہ بدن کی جلد بھی گواہی دے گی: الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلى‏ أَفْواهِهِمْ وَتُكَلِّمُنا أَيْدِيهِمْ وَ تَشْهَدُ أَرْجُلُهُمْ بِما كانُوا يَكْسِبُونَ (يٰسین- ۶۵) وَقالُوا لِجُلُودِهِمْ لِمَ شَهِدْتُمْ عَلَيْنا قالُوا أَنْطَقَنَا اللهُ الَّذِي أَنْطَقَ كُلَّ شَيْ‏ءٍ (حم سجدہ-۲۱) بہرحال دوسرے جہان کے بارے میں جو کچھ بھی کہا جائے وہ صرف دور کی ایک بات ہے کہ جس قدر ہماری سمجھ میں آتی ہے اور اصولی طور پر ہماری الف باء اور اس جہان میں ہماری فکری صلاحیت اس کی حقیقی تعریف پر قادر نہیں ہے اور اسی سے جنت و دوزخ اور ان کی نعمتوں اور عذابوں کی کیفیت کے بارے میں بھی جواب دیا جا سکے گا۔ ہم تو اسی قدر جانتے ہیں کہ جنت تو انواع و اقسام کی خدائی نعمتوں کا مرکز ہے، چاہے وہ مادی ہوں یا روحانی اور دوزخ دونوں جہات کے شدید ترین عذابوں کا مرکز ہے۔ لیکن ان دونوں کی جزئیات کے بارے میں قرآنِ مجید نے کچھ اشارے بیان کیے ہیں کہ جن پر ہم ایمان رکھتے ہیں لیکن ان کی تفصیلات جب تک کوئی نہ دیکھے، نہیں جانتا۔ جنت و دوزخ کے وجود کے بارے میں اور یہ کہ وہ کہاں ہیں، ہم نے نسبتاً تفصیلی بحث سور آلِ عمران کی آیہ ۱۳۳ کے ذیل میں دوسری جلد میں کی ہے۔ اسی طرح عالمِ قیامت میں جزا و سزا اور "تجسمِ اعمال" اور "نامۂ اعمال" کے مسئلے کے بارے میں ہم جلد دوم سوره آل عمران کی آیہ ۳۰ کے ذیل میں اور جلد ۷ سورہ کہف کی آیہ ۴۹ کے ذیل میں بحث کر چکے ہیں۔ ان تمام باتوں کے علاوہ دوسری مختلف بحثیں متعلقہ آیات کے ذیل میں خصوصاً قرآنِ مجید کی آخری سورتوں میں انشاء اللہ قیامت کی خصوصیات کے بارے میں بیان ہوں گی۔ پروردگارا! اس پر خوف و خطر دن میں، اس عظیم قیامت اور عدالت میں ہمیں اپنے لطف و کرم سے امن و سکون بخشنا۔ خداوندا! اگر فیصلہ اعمال کے معیار پر ہو تو ہمارا ہاتھ خالی ہے۔ اپنے فضل و کرم کے ترازو سے ہماری ناچیز نیکیوں کو تولنا اور اپنی رحمت و غفران سے ہماری برائیوں پر پردہ ڈال دینا۔ بارالٰہا! ایسا کرنا کہ انجامِ کار تو بھی ہم سے خوش ہو اور ہم بھی تیری بارگاہ میں کامیاب و رستگار ہوں، آمین یا رب العالمین۔

end of chapter