Al-Ghashiyah
سورہ غاشیہ
یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۲۶ آیتیں ہیں۔
سورہ غاشیہ کی مشتملات اور اس کی فضیلت
یہ سورہ جو مکی سورتوں میں سے ہے، زیادہ تر تین محوروں کے گردش کرتا ہے۔ پہلا۔ معاد و قیامت کی بحث، بالخصوص مجرموں کا درد ناک انجام اور مومنوں کو ملنے والا شوق انگیز ثواب۔ دوسرا۔ توحید کی بحث جو آسمان کی خلقت، پہاڑوں اور آسمان کی آفرینش کی طرف اشارہ اور انسان کی تین موضوعات کی طرف توجہ کے بیان سے عبارت ہے۔ تیسرا۔ نبوت کی بحث، پیغمبر اسلامؐ کی فرائض اور ان کی ذمہ داریوں کے بیان پر مبنی ہے۔ یہ سورہ مجموعی طور پر مکّی سورتوں کی مقاصد ہی کو موضوع گفتگو بناتا ہے جن سے ایمان و اعتقاد کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔ اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت کے سلسلہ میں ایک حدیث پیغمبر اسلامؐ سے منقول ہے (من قرأھا حاسبہ اللہ حساباً یسیراً) "جو شخص اس کی تلاوت کرے گا پروردگار عالم بروز قیامت اس کا حساب آسان کر دے گا۔ ایک اور حدیث امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے "جو شخص واجب اور مستحب نمازوں میں اس سورہ کی قرأت کی پابندی کرے گا، خدا اسے دنیا و آخرت میں اپنے سایہ رحمت میں جگہ دے گا۔ یقیناً یہ سب ثواب اسی صورت میں انسان کو حاصل ہو گا جب اس کی تلاوت اس کے لئے فکر و عمل کا محرّک ثابت ہو۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر بد نصیب تھکے ماندے
Tafsīr Nemūna · Vol. 13اس سورہ کے آغاز میں ہمارا سامنا قیامت کے ایک نئے نام سے ہوا ہے جو غاشیہ ہے۔ فرماتا ہے: "کیا غاشیہ کی داستان تجھ تک پہنچی ہے۔" (هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ)۔ "غاشیة"، غشاوة کے مادہ سے ڈھانپنے کے معنوں میں ہے۔ قیامت کے لئے اس کا نام انتخاب اس وجہ سے ہے کہ وحشت ناک حوادث اچانک سب کو ڈھانپ لیں گے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دن اولین و آخرین حساب کے لئے جمع ہوں گے۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ مراد اس طرح کی آگ ہے جو کافروں اور مجرموں کے چہرے کو ڈھانپ لے گی۔ پہلی تفسیر سب سے زیادہ مناسب ہے۔ ظاہر ہے کہ اس آیت میں مخاطب خود پیغمبر کی ذاتِ اقدس ہے۔ اور پیغمبر اسلامؐ سے یہ جملہ استفہام کی شکل میں اس عظیم دن کی اہمیت کے پیش نظر کہا گیا ہے۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی تجویز کیا ہے کہ اس آیت میں مخاطب ہر انسان ہے، لیکن یہ مفہوم بعید نظر آتا ہے۔ ا س کے بعد مجرموں کی حالت کو پیش کیا کرتے ہوئے فرماتا ہے: "چہرے اس دن خاشع اور ذِلّت بار ہوں گے۔" (وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌ) ذِلّت عذاب اور عظیم سزا کے خوف نے اس دن ان کے تمام وجود کو گھیر رکھا ہو گا، اور چونکہ انسان کے باطنی حالات ہر جگہ سے زیادہ اس کے چہرے سے ظاہر ہوتے ہیں، لہٰذا خوف، ذلت اور وحشت کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو اس کے تمام چہرے کو ڈھانپ لیں گے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہاں "وجوہ" سے کفر کے بڑے بڑے لوگ اور سرغنے مراد ہیں، جو ایک گہری ذِلّت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ لیکن پہلے معنی زیادہ مناسب نظر آتے ہیں۔ اس وقت مزید فرماتا ہے: "یہ ایسے لوگ ہیں جو مسلسل کام کر کے تھک چکے ہیں۔" (عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ)۔ زندگانی دنیا میں بہت زیادہ کوشش کرتے ہیں، لیکن تھکن کے علاوہ انہیں کوئی فائدہ نصیب نہیں ہوتا، نہ ان کا بارگاہِ خدا میں کوئی عمل مقبول ہے اور نہ اس دولت و ثروت میں سے وہ کوئی چیز اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں، جسے انہوں نے جمع کر رکھا ہے، نہ اپنے بعد وہ کوئی نیک نامی چھوڑ جاتے ہیں، نہ کوئی اولاد صالح۔ وہ محض تھک جانے والے زحمت کش ہیں۔ کتنی بہترین اور عمدہ تعبیر ہے۔ (عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ)۔ بعض مفسرین نے اس جملہ کی تفسیر میں کہا ہے کہ مراد یہ ہے کہ اس دنیا میں وہ عمل کرتے ہیں لیکن اس کی خستگی و رنج و تکلیف اپنے ساتھ آخرت میں لے جاتے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ مجرموں سے دوزخ میں محنتِ شاقّہ لی جائے گی تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ عذاب جھیلیں۔ لیکن ان تینوں تفسیروں میں سے پہلی تفسیر زیادہ صحیح نظر آتی ہے۔ آخرکار یہ خستہ، تھکے ہوئے اور فضول کام کرنے والے زحمت کش بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے اور اس میں جلیں گے۔ (تَصْلَى نَارًا حَامِيَةً)۔ "تصلیٰ" صلی (بروزن نفی) کے مادہ سے آگ میں داخل ہونے اور اس میں جلنے کے معنی میں ہے (صلی بالنار ای لزمھا و احترق بھا)۔ "آگ میں ہمیشہ رہا اور جلتارہا۔" لیکن ان کا عذاب اسی پر ختم نہیں ہو گا۔ جب وہ آگ کی حرارت کی وجہ سے پیاس میں مبتلا ہوں گے تو حد سے زیادہ کھولتے ہوئے چشمے سے انہیں پلایا جائے گا۔ (تُسْقَى مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ)۔ "اٰنیة" مؤنث ہے اٰنی کے (انی بروزن حلی) مادّہ سے جو تاخیر میں ڈالنے کے معنی میں ہے اور کسی چیز کے بیان کرنے کے وقت کے پہنچ جانے کے لئے بولا جاتا ہے۔ یہاں ایسے جلانے والے پانی کے معنی میں ہے جس کی حرارت اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی ہو۔ سورہٴ کہف کی آیت ۲۹ میں ہم پڑھتے ہیں (وَإِن يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ وَسَاءَتْ مُرْتَفَقًا) اور اگر پانی مانگیں گے تو ان کے لئے ایسا پانی لائیں گے جو کسی پگھلی ہوئی دھات کی طرح ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون دے گا۔ وہ کتنا بُرا مشروب ہے اور وہ محلِ اجتماع کتنا بُرا ہے۔ بعد والی آیت میں ان کی خوراک کے بارے میں، جبکہ وہ بھوکے ہوں گے، مزید فرماتا ہے: "وہ ضریع کے علاوہ کوئی غذا نہیں رکھتے۔" لیس لھم طعام الاَّ من ضریع)۔ یہ ضریع کیا ہے؟ اس سلسلہ میں مفسرین کے پاس مختلف تفسیر ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ ایک قسم کا کانٹا ہے جو زمین سے چمٹ جاتا ہے۔ اگر وہ تر ہوتا تو قریش اسے شبرق کہتے تھے اور جب خشک ہوتا تو ضریع کہتے۔ وہ ایک زہریلی گھاس ہے جسے کوئی جانور منہ نہیں لگاتا۔ (بحوالہ: تفسیر قرطبی، جلد ۱۰، ص۷۱۱۹)۔ علمائے لغت میں سے خلیل کا کہنا ہے کہ ضریع بدبودار اور سبز گھاس ہے جو دریا سے باہر آن گرتی ہے، ابن عباس نے کہا ہے کہ یہ آتشِ جہنم کا ایک درخت ہے جو اگر دنیا میں ہو تو زمین اور جو کچھ اس میں ہے اس سب کو جلا کر فنا کر دے۔ ایک حدیث میں پیغمبر اسلامؐ سے منقول ہے کہ ضریع دوزخ کی آگ میں ایک چیز ہے جو کانٹے کی طرح ہے، حنظل سے زیادہ تلخ اور مردار سے زیادہ بدبودار، آگ سے زیادہ جلانے والی ہے۔ خدا نے اس کا نام ضریع رکھا ہے۔ (الضریع شیء یکون فی النار یشبہ الشوک اشد مرارة من الصبر و انتن من الجیفة و احر من النار سماہ اللہ ضریعاً)۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ ضریع ایک ذیل غذا ہے کہ جہنمی جس سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لئے بارگاہِ خدا میں تضرع کریں گے)۔ (بحوالہ: تفسیر قرطبی، جلد ۱۰، ص۷۱۲۰)۔ (ہم اس بات کو نہ بھول جائیں کہ ضرع کا مادہ ضعف، ذِلّت اور خضوع کے معنی ہے۔ (تشریحی نوٹ: ایک اور بحث دوزخیوں کی غذا کے بارے میں جسے قرآن کبھی ضریع کبھی زقّوم اور کبھی غسلین کے نام سے یاد کرتا ہے اور ان تعبیرات میں فرق ہے۔ یہ سب تفسیر نمونہ کی جلد ۱۴، پر سورہٴ حاقہ کی آیت ۳۶ کے ذیل میں ہم پیش کر چکے ہیں)۔ یہ تفاسیر ایک دوسرے کے ساتھ منافات نہیں رکھتی اور ہو سکتا ہے کہ اس لفظ کے معنی میں یہ سب جمع ہوں۔ اس کے بعد مزید ارشاد ہوتا ہے: "نہ وہ انہیں موٹا کرتا ہے نہ ان کی بھوک کو ختم کرتا ہے۔" (لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٍ)۔ یقیناً اس قسم کی غذا نہ جسم کی تقویت کے لئے اور نہ بھوک کو ختم کرنے کے لئے ہے۔ وہ ایک ایسی غذا ہے جو بجائے خود ایک عذاب ہے۔ جیسا کہ سورہ مزمل کی آیت ۱۳ میں ہم پڑھتے ہیں: (وَطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَعَذَابًا أَلِيمًا) ہمارے پاس گلے میں پھندہ لگانے والی غذائیں ہیں اور وہ دردناک عذاب ہیں وہ لوگ جنہوں نے اس دنیا میں انواع و اقسام کی لذیذ، مرغن اور شیریں غذائیں دوسروں پر ظلم کر کے فراہم کی ہیں اور جنہوں نے محروم لوگوں کو ناگوار غذائیں کھانے کے علاوہ اور کسی غذا کے حاصل کرنے کا موقع نہیں دیا، ضروری ہے کہ وہاں ان کی ایسی غذا ہو جو ان کے لئے عذابِ الیم بنے۔ البتہ جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے جنت کی نعمتیں اور دوزخ کی عذاب دونوں ہم جیسے اسیرونِ زندگی کے لئے ناقابلِ تشریح ہیں۔ یہ سب اشارے ہیں جنہیں ہم سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر بہشت کی روح پرور نعمتوں کے مناظر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13اس تشریح کے بعد جو گزشتہ آیات میں دوسری دنیا میں مجرموں اور بدکاروں کی حالت اور جہنم کے عذاب کے بارے میں آئی تھی، ان آیتوں میں نیکوکار مومنین کی حالت کی تشریح اور جنت کی بےنظیر نعمتوں کی توصیف پیش کرتا ہے تاکہ قہر کو مہر سے ملا دے اور انذار کو بشارت سے مربوط کر دے۔ فرماتا ہے: "چہرے اس دن پُرطراوت اور مسرور ہوں گے" (وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاعِمَةٌ)۔ بدکاروں کے چہروں کے برعکس، جن کی طرف گزشتہ آیات میں اشارہ ہوا ہے کہ وہ ذِلّت و اندوہ میں غرق ہوں گے۔ "ناعمة" نعمت کے مادہ سے یہاں ایسے چہروں کی طرف اشارہ ہے جو نعمت سے سرشار، ترو تازہ، شاداب اور مسرور و نورانی ہوں گے، جیسا کہ سورہ مطففین کی آیت ۲۴ میں آیا ہے کہ جنتیوں کی توصیف میں فرماتا ہے: (تَعْرِفُ فِي وُجُوهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيمِ) "ان کے چہروں میں تجھے طراوت اور نعمت کی شادابی نظر آئے گی۔" یہ چہرے ایسے نظر آئیں گے کہ وہ اپنی سعی و کوشش سے راضی اور خوش ہوں گے (لِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ) دوزخیوں کے برعکس جنہوں نے اپنی سعی و کوشش سے سوائے تھکن اور رنج کے اور کچھ حاصل نہیں کیا۔ (عاملة ناصبة)۔ بہشتی اپنی سعی و کوشش کو احسن وجہ سے دیکھیں گے اور مکمل طور پر راضی اور خوش ہوں گے، ایسی سعی و کوشش جو لطفِ خدا کے پر تَو کے سائے میں کبھی کئی گنا، کبھی دس گنا اور کبھی سات سو گنا اور کبھی اس سے بھی زیادہ بڑھ چکی ہو۔ اور وہ کبھی اس سے بےحد و حساب و جزا حاصل کر چکے ہوں گے (إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ) (زمر۔۱۰)۔ اس کے بعد اس مفہوم کی شرح پیش کرتا ہے اور فرماتا ہے: "وہ بہشت عالی میں قرار پائے ہیں" (فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ) لفظ "عالیة" ممکن ہے کہ علوّ مکانی کی طرف اشارہ ہو، یعنی وہ جنت کے عالی طبقات میں ہیں، یا یہ علوّ مکانی ہے۔ مفسرین نے دونوں احتمال تجویز کئے ہیں، لیکن دوسری تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے، اگرچہ دونوں کے درمیان جمع بھی ممکن ہے۔ اس کے بعد اس جنت کی ایک اور صفت، جو روحانی اور معنوی پہلو رکھتی ہے، بیان فرماتا ہے: "وہاں تو کوئی اور لغو اور بیہودہ بات نہیں سنے گا" (لَّا تَسْمَعُ فِيهَا لَاغِيَةً)۔ (تشریحی نوٹ: "لاغیة" اگرچہ اسم فاعل ہے لیکن اس قسم کے موارد میں اس چیز کے معنی میں ہے جو لغویت لئے ہو۔ اسی لئے مفسرین نے اس کی (ذاتِ لغو) لغو لئے ہوئے تفسیر کی ہے) نہ ایسی بات جو نفاق کا پہلو لئے ہوئے ہو، نہ عداوت و جنگ و جدال کی، نہ کینہ پروری اور حسد کی، نہ جھوٹ نہ تہمت و افترا، نہ غیبت، نہ لغو و بےفائدہ۔ وہ ماحول کیسا آرام دہ ہو گا جو ان فضولیات سے پاک و مبرّا ہو۔ اگر ہم ٹھیک طرح سے غور و فکر کریں تو دنیا میں وہ زندگی کا زیادہ تر حصہ اسی قسم کی باتوں کا سننا ہے جو روح و جان کے سکون اور اجمتاعی نظاموں کو درہم برہم کر دیتا ہے، فتنوں کی آگ بھڑکاتا ہے اور انہیں شعلہ ور کرتا ہے۔ اس روحانی اور آرام و سکون بخش نعمت کے ذکر کے بعد، جو جنتیوں کی روح و جان کو لغو و بیہودہ باتیں نہ ہونے کی وجہ سے حاصل ہے، جنت کی مادی نعمتوں کے ایک حصہ کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اس جنت میں چشمے جاری ہیں" (فِيهَا عَيْنٌ جَارِيَةٌ)۔ اگرچہ عین یہاں نکرہ ہے اور عام طور پر نکرہ ایک فرد کے لئے بھی آتا ہے، لیکن قرآن کی باقی آیات کے قرینہ سے جنس کے معنی رکھتا ہے اور مختلف چشموں کے معنی میں ہے، جیسا کہ سورہ ذاریات کی آیت ۱۵ میں ہے (إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ) پرہیزگار اور متقی لوگ جنت کے باغات اور چشموں کے درمیان قرار پائے ہیں۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے جنتیوں کے محلوں میں سے ہر محل میں ایک چشمہ جاری ہے اور عین کا مفرد ہونا یہاں اس طرف اشارہ کرتا ہے، ایسا چشمہ جو جنت والوں کی خواہش کے مطابق جس طرف چاہیں گے اسی طرف بہے گا اور جنت والے نہر وغیرہ بنانے کے محتاج نہیں ہوں گے۔ البتہ کئی چشموں کا ہونا خوبصورتی و زیبائی و طراوت کے اضافہ کے علاوہ یہ فائدہ بھی رکھتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک مخصوص مشروب ہو اور جنتیوں کے ذائقہ کو انواع و اقسام کی شرابِ طہور سے شیریں و معطر کرتا ہو۔ ان چشموں کے تذکرہ کے بعد جنت کے تخت اور پلنگوں کو موضوع بنا کر فرماتا ہے: "جنت کے ان باغوں میں بلند اور اونچے تخت اور پلنگ ہوں گے" (فِيهَا سُرُرٌ مَّرْفُوعَةٌ)۔ "سرر" جمع ہے سریرکی، "سرور" کے مادہ سے، ایسے تحت اور پلنگوں کے معنی میں کہ جن پر مجالس انس و سرور میں بیٹھتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: مفردات راغب مادہ "سر")۔ ان پلنگوں کا بلند ہونا اس بناء پر ہے کہ جنتی اپنے اطراف کے تمام مناظر اور صحن دیکھ سکیں اور ان کے مشاہدہ سے لذت حاصل کریں۔ ابنِ عباس کہتے ہیں یہ بلند تخت اور پلنگ اس قسم کے ہیں کہ جس وقت ان کے مالک ان پر بیٹھنے کا ارادہ کریں گے تو وہ تواضع و خضوع کریں گے اور نیچے ہو جائیں گے اور بیٹھنے کے بعد اپنی پہلی حالت پر پلٹ جائیں گے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ ان پلنگوں کی مرفوعة کے لفظ کے ساتھ توصیف ان کے قیمتی ہونے کی طرف اشارہ ہو اور، جیسا کہ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ وہ سونے کے ٹکڑوں سے بنے ہوئے ہوں گے اور دُر و یاقوت و زبرجد سے مزیّن ہوں گے۔ دونوں تفسیروں کے مابین جمع بھی ممکن ہے۔ چونکہ ان خوشگوار چشموں اور جنت کی شراب طہور سے فائدہ اٹھانا برتنوں کی احتیاج رکھتا ہے، لہٰذا بعد والی آیت میں فرماتا ہے: "خوبصورت اور جاذب نظر پیالے ان چشموں کے پاس رکھے ہوں گے" (وَأَكْوَابٌ مَّوْضُوعَةٌ)۔ جس وقت وہ ارادہ کریں گے تو پیالے چشموں سے پُر ہو کر ان کے سامنے آ جائیں گے اور وہ تازہ تازہ نوش کریں گے، ایسی لذت جس کا شعور ساکنین دنیا کے لئے ممکن نہیں ہے۔ اکواب جمع کوب (بروزن خوب) جو قدح، پیالے یا ایسے ظرف کے معنی میں ہے جس میں دستہ لگا ہوا ہو۔ اس نکتہ کی طرف توجہ ضروری ہے کہ قرآن میں اہلِ جنت کی شرابِ طہور کے برتنوں کے بارے میں مختلف تعبیریں آئی ہیں یہاں اور بعض دوسری آیت میں اکواب کی تعبیر آئی ہے جبکہ بعض دوسری آیات میں اباریق (ابریق کی جمع) کی تعبیر آئی ہے، جو ایسے ظرف کے معنی میں ہے جس کا دستہ اور ٹونٹی ہو، سیّال چیزوں کو انڈیلنے کی غرض سے۔ یا پھر کأس کا لفظ آیا ہے جس کے معنی شراب سے لبریز جام کے ہیں (يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَo بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ) ان کے گرد ایسے جوان گردش کرتے ہوں گے جو ہمیشہ جوانی کی طراوت و ترو تازگی کے حامل ہوں ۔ جبکہ شرابِ طہور سے لبریز پیالے اور جام ان کے ہاتھ میں ہوں گے اور وہ ان کے سامنے پیش کریں گے۔ (واقعہ ۱۷۔ ۱۸)۔ اس کے بعد جنت کی نعمتوں کے جزئیات کے متعلق مزید نکات پیش کرتے ہوئے اضافہ فرماتا ہے: "وہاں پلنگوں پر تکیے اور گاؤ تکیے ہوں گے جو صف بستہ ہوں گے" (وَنَمَارِقُ مَصْفُوفَةٌ)۔ نمارق نمرقہ (بروزن غلغلہ) کی جمع ہے جس کے معنی چھوٹے تکیے کے ہیں، جس کا سہارا لیتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: صحاح اللغة مادہ غرق) اور عام طور پر مکمل استراحت کے وقت ان سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اور مصفوفہ کی تعبیر اشارہ ہے نظمِ خاص اور تعداد کی طرف جو ان پر حاکم ہے۔ یہ تعبیر بتاتی ہے کہ وہ مجالسِ اُنس تشکیل دیں گے اور یہ مجلسیں جو ہر قسم کی لغویت اور بیہودگی سے پاک ہوں گی۔ ان میں صرف الطافِ الٰہی، اس کی بےپایاں نعمتوں اور دنیا کے درد و رنج اور عذاب سے نجات کے بارے میں گفتگو ہو گی، اس قدر لطف اور لذت رکھتی ہوں گی کہ کوئی چیز ان کی ہمسر نہیں ہو سکتی۔ آخری زیرِ بحث آیت میں جنت کے قیمتی فرشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "وہاں گراں بہا اور خوبصورت فرش بچھے ہوئے ہوں گے۔" (وَزَرَابِيُّ مَبْثُوثَةٌ)۔ "زرابی" جمع ہے زریبہ کی جو ایسے قیمتی فرش کے معنی میں ہے جو نرم، راحت بخش اور بیش قیمت ہوں گے۔ واضح ہے کہ ان آسائش و لذت کے وسائل و ذرائع کے برابر اور بہت سے دوسرے وسائل موجود ہوں گے جبکہ یہ مُشتے نمونہ از خروارے کے مصداق ہیں۔ ان آیتوں میں جنت کی ساتھ اہم نعمتیں بیان ہوئی ہیں جن میں سے ہر ایک دوسری سے زیادہ جاذب تر اور زیبا تر ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ جنت ایک بےنظیر جگہ ہے، جس میں کسی قسم کا لڑائی جھگڑا نہیں ہے۔ وہاں انواع و اقسام کے رنگ برنگ کے پھل، دل خوش کن نغمے، آبِ جاری کے چشمے، شرابِ طہور، سائشتہ خدمتگار، بےمثل بیویاں، مُرصّع پلنگ، قیمتی فرش اور پُرخلوص دوست ہوں گے۔ نیز عمدہ اور خوبصورت پیالے ہوں گے جو چشموں کے پاس رکھے ہوں گے۔ مختصر یہ کہ ایسی نعمتیں وہاں دستیاب ہوں گی جن کی نہ اس دنیا کے الفاظ کے ذریعے تشریح ممکن ہے اور نہ عالمِ خیال ہی اس کی توضیح کر سکتا ہے۔ یہ سب چیزیں ان مومنین کی تشریف آوری کی منتظر ہیں جنہوں نے اپنے اعمالِ صالح کے ذریعہ نعمتِ الہٰی کے اس مرکز میں ورود کی اجازت لے لی ہے۔ مذکورہ بالا مادّی لذتوں کے علاوہ معنوی لذتیں بھی ہیں۔ سب سے بڑھ کر لقا اللہ کی نعمت ہے۔ اس معبودِ حقیقی کے لطف و کرم ہیں کہ اگر ایک لمحے کے لئے مل جائیں تو وہ جنت کی تمام مادہ نعمتوں کے مقابلہ میں بہتر و برتر ہیں۔ بقول شاعر گرم بہ دامن وصل تو دسترس باشد دگر ز طالعِ خویشم چہ ملتمس باشد؟ اگر بہ ہر دو جہاں یک نفس زنم بر دوست مراز ہر دو جہاں حاصل آن نفس باشد اگر مجھے تیرے وصل کے دامن تک دسترس حاصل ہو جائے تو پھر مَیں اپنے مقدر سے اور کیا مانگوں۔ اگر دونوں جہاں کے بدلے دوست کے ساتھ ایک سانس لوں تو ان دونوں جہان کا ماحصل یہی ایک سانس ہو گا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر اونٹ کی طرف دیکھو جو خود ایک آیت ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 13گزشتہ آیات میں بہت زیادہ بحثیں جنت اور اس کی آیتوں کے بارے میں آئی تھیں لیکن زیرِ بحث آیات میں ان نعمتوں تک پہنچنے کی اصل کلید کی گفتگو ہے، جو اللہ کی معرفت ہے۔ خدا کی قدرت کے چار مظاہر بیان کر کے خدا کی نادر خلقت اور انسان کو اس کے مطالعہ کی دعوت کے ساتھ جنت میں داخل ہونے کی راہ بتاتا ہے اور ضمنی طور پر یہ بھی اشارہ کرتا ہے کہ خدا کی قدرت بےپایاں ہے، جو مسئلہ معاد کے حل کرنے کی کلید ہے۔ پہلے فرماتا ہے: "کیا وہ اونٹ کی طرف نہیں دیکھتے کہ وہ کس طرح پیدا کیا گیا ہے۔" (أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ)۔ یہاں ہر چیز سے پہلے اونٹ کی تخلیق کے عنوان کو کیوں منتخب کیا گیا ہے؟ اس سلسلہ میں مفسرین نے بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ لیکن یہ چیز واضح ہے کہ ابتداء میں روئے زمین سخن مکہ کے عربوں کی طرف تھا، جن کی زندگی کے بہت سے کام اونٹ سے وابستہ تھے۔ اس سے قطع نظر یہ جانور عجیب و غریب خصوصیتوں کا حامل ہے، جو اسے دوسرے جانوروں سے ممتاز کرتی ہے، حقیقت یہ ہے کہ وہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ: ۱۔ بعض جانور ایسے ہیں کہ جن کے صرف گوشت سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، بعض ایسے ہیں جن کے صرف دودھ سے استفادہ ہوتا ہے، بعض ایسے ہیں جو صرف سواری کے کام آتے ہیں اور بعض صرف باربرداری کے کام آتے ہیں، لیکن اونٹ ایسا جانور ہے جس میں یہ تمام خصوصیتیں پائی جاتی ہیں۔ اس کا گوشت بھی قابل استعمال ہے اور دودھ بھی۔ یہ سواری کے کام بھی آتا ہے اور باربرداری کے لئے بھی اسے کام میں لایا جاتا ہے۔ ۲۔ اونٹ زیادہ طاقتور اور زیادہ قوت مقاومت رکھنے والا جانور ہے۔ یہ بہت زیادہ سامان اٹھا لیتا ہے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ جس وقت وہ بیٹھا ہوا ہو تو بھاری بوجھ اس پر رکھ دیتے ہیں اور ایک ہی حرکت کے ساتھ اپنے ہاتھوں کے سہارے کھڑا ہو جاتا ہے، جبکہ دوسرے جانور اس قسم کا کام نہیں کر سکتے۔ ۳۔ اونٹ آٹھ دس روز تک پیاسا رہ سکتا ہے، اور اس میں بھوک کو برداشت کرنے کی بھی بہت صلاحیت ہوتی ہے۔ ۴۔ اونٹ ہر روز راستے کی طولانی مسافت طے کر سکتا ہے اور ایسی زمینوں سے، جن میں سے گزرنا مشکل ہو جیسے ریگستان علاقہ، جس کو عبور کرنا مشکل ہوتا ہے، آسانی سے اس بناء پر عرب اسے صحرائی جہاز کہتے ہیں۔ ۵۔ وہ غذا کے اعتبار سے بہت ہی سستا ہے، ہر قسم کے خار و خس و خاشاک کھا لیتا ہے۔ ۶۔ وہ غذا کے نامناسب حالات میں بیابان کے ایسے طوفانوں کے درمیان، جو آنکھ و کان کو بہرا کر دیتے ہیں، اپنے مخصوص وسائل کے ساتھ، جو خدا نے ان کی پلکوں، کانوں اور ناک میں مہیا کئے ہیں، مقابلہ کرتا ہو اپنے سفر کو جاری رکھتا ہے۔ ۷۔وہ اپنی پوری طاقت و قوت کے باوجود نہایت مطیع جانور ہے۔ ایک چھوٹا سا بچہ بھی اونٹ کی قطار کی مہار ہاتھ میں لے کر جدھر اس کا دل چاہے انہیں لے کر جا سکتا ہے۔ مختصر یہ کہ اس جانور کی خصوصیات کچھ اس قسم کی ہیں کہ اس کی خلقت کے بارے میں غور و فکر کیا جائے تو وہ انسان کو خالقِ عظیم کی طرف متوجہ کرتی ہے، جو ایسی مخلوق کا پیدا کرنے والا ہے۔ جی ہاں! قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: "کیا یہ وادیٴ غفلت کے گمشدہ اس مخلوق کے حیران کن اسرار پر غور نہیں کرتے تاکہ انہیں حق کی راہ حاصل ہو اور یہ بےراہ روی سے بچ جائیں؟ "یہ بات بغیر کہے واضح ہے کہ "فَلَا يَنظُرُونَ" کے جملہ میں نگاہ سے مراد عام نگاہ نہیں، بلکہ ایسی نگاہ ہے کہ جس میں غور و فکر و تفکر و تدبر شامل ہو۔ اس کے بعد آسمان کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے فرماتا ہے: "کیا وہ آسمان کی طرف نہیں دیکھتے کہ کس طرح قرار دیا گیا ہے۔" (وَإِلَى السَّمَاءِ كَيْفَ رُفِعَتْ)۔ آسمان اپنی عظمت کے ساتھ اور اپنے ان سب عجائبات کے ساتھ ستاروں اور کہکشاؤں کے ساتھ اور اس سارے جمال و زیبائی و شکوہ کے ساتھ، جس نے انسان کو ورطہٴ حیرت میں ڈال رکھا ہے، جس کی وجہ سے اپنے آپ کو وہ اس عظیم اور نظم و حساب سے پُرجہان کے پیدا کرنے والے کے مقابلہ میں چھوٹا اور ناچیز بلکہ اس لامحدود کے مقابلہ میں صفر کے برابر سمجھتا ہے، کس طرح یہ عظیم کُرّے اپنی اپنی جگہ پر میخ کی طرح گڑے ہوئے ہیں اور بغیر ستون کے اپنی جگہ برقرار ہیں۔ اس نظامِ شمسی کے کُرّوں کو عالم وجود میں آئے ہوئے لاکھوں سال گزر چکے ہیں، لیکن ان کی حرکتِ اصلی کے محور تبدیل نہیں ہوئے آسمان کی خلقت اگرچہ ہمیشہ عجیب تھی لیکن موجودہ زمانہ کے علمی انکشافات کے سائے میں اس کے عجائبات کئی گنا زیادہ ہو گئے ہیں اور بھی نمایاں ہو گئی ہے۔ کیا اس عالم عظیم کے خالق و مدبّر کے بارے میں غور و فکر نہیں کرنا چاہیئے اور اس کے بلند و عظیم مقاصد کے قریب نہیں جانا چاہییے؟ اس کے بعد آسمان سے ہٹ کر زمین کو موضوع گفتگو بناتے ہوئے فرماتا ہے: "کیا وہ پہاڑوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کس طرح اپنی جگہ پر نصب ہوئے ہیں-" (وَإِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ)۔ وہ پہاڑ جن کی جڑیں ایک دوسرے سے متصل ہیں، زمین کے اطراف کو زِرہ کے حلقوں کی مانند گھیرے ہوئے ہیں اور اندرونی پگھلے ہوئے مادہ سے پیدا ہونے والے زلزلوں اور چاند و سورج کی قوت جاذبہ سے پیدا ہونے والے مدّ و جزر کم کرتے ہیں وہ پہاڑ جو ان طوفانوں کے مقابلہ میں قابل اطمینان پناہ گاہ اور ڈھال ثابت ہوتے ہیں، اگر یہ نہ ہوتے تو کرہ زمین ایسے بیابانوں میں تبدیل ہو جاتا جن میں زندگی گزارنا ناممکن ہوتا۔ وہ پہاڑ جو پانی کے ذخیروں کو اپنے اندر محفوظ کیے ہوئے ہیں اور انہیں آہستہ آہستہ پیاسی زمینوں کی طرف روانہ کرتے ہیں اور اپنے چاروں طرف زندگی کی مسرت، ہریالی، خوشی، طراوت اور ترو تازگی پیدا کرتے ہیں غالباً یہی پہلو ہیں جن کی وجہ سے دوسری آیات میں پہاڑوں کو زمین کی میخیں کہا گیا ہے اصولی طور پر پہاڑ عظمت و صلابت کے مظہر ہیں اور ہر جگہ خیر و برکت کا سبب ہیں یہی وجہ ہے کہ انسان پہاڑوں پر تفکر کی زیادہ صلاحیت محسوس کرتا ہے اور یہ بات بلا سبب نہیں ہے کہ پیغمبر اکرمؐ اپنی بعثت سے مدتوں پہلے جبلِ نور اور غارِ حرا میں عبادت میں مشغول رہتے تھے۔ " نصبت" نصب کے مادہ سے ثابت قرار دینے کے معنی میں ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ تعبیر ضمنی طور پر آغاز خلقت میں پہاڑوں کی خلقت کی کیفیت کی طرف اشارہ ہو وہی چیز جس پر سے موجودہ علم نے پردہ اٹھایا ہے، اسے پہاڑوں کی خلقت کے متعدد اسباب و عوامل کی طرف نسبت دی ہے اور ان کے لئے انواع و اقسام کی قائل ہے۔ وہ پہاڑ جو زمین کے گھومنے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں وہ پہاڑ جو آتش فشانیوں کے نتیجے میں وجود میں آتے ہیں، وہ پہاڑ جو بارش سے پیدا ہونے والے جھاگ کا نتیجہ ہیں، وہ پہاڑ جو سمندروں کے اندر بنتے ہیں اور جو سمندر کی کیچڑ اور اس میں پھنس جانے والے جانوروں کا مجموعہ ہیں۔ (مثلاً مرجانی پہاڑ اور جزیرے)۔ جی ہاں! ان پہاڑوں میں سے ہر ایک کی بناوٹ اور اس کے آثار و برکات مشکل سے سمجھ میں آنے والے ہیں، اہمیت کے حامل بھی اور بیدار مغز انسانوں کے لئے قدرتِ حق کی نشانیاں بھی۔ اس کے بعد زمین کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرماتا ہے: "کیا وہ زمین کی طرف نہیں دیکھتے کہ وہ کس طرح مسطح ہوئی ہے۔" (وَإِلَى الْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ)۔ کس طرح مسلسل بارشوں نے پہاڑوں کو غسل دے کر مٹی کے ذرات کو وجود دیا ہے، پھر گڑھوں کو وسعت دے کر ایسی صاف زمین تیار کی ہے جو زراعت کے لئے بھی موزوں ہے اور ہر قسم کی تعمیر کے لئے بھی اور اسے انسانوں کے اختیار میں دے دیا گیا ہے۔ اگر تمام کرّہٴ زمین پہاڑوں اور درّوں پر مشتمل ہوتا تو اس پر زندگی گزارنا کس قدر مشکل اور طاقت رُہا ہوتا۔ وہ کون ہے جس نے ہمارے پیدا ہونے سے پہلے اسے مسطح کر کے قابلِ استفادہ بنایا۔ یہ سب ایسے امور ہیں جن پر غور و فکر کی قرآن ہمیں دعوت دیتا ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان چاروں امور کے درمیان کونسا ربط ہے: اونٹ، آسمان، پہاڑ اور زمین۔ فخر رازی اپنی تفسیر میں کہتے ہیں کہ: یہ اس بنا پر ہے کہ قرآن عربی میں نازل ہوا ہے اور عرب عام طور پر سفر میں رہتے تھے چونکہ ان کے علاقہ میں زراعت اور کھیتی باڑی نہیں تھی اور ان کے سفر زیادہ تر اونٹوں پر ہی ہوتے تھے۔ جب وہ ہولناک بیابانوں اور غیر آباد ریگستانوں میں سفر کرتے تھے تو ان میں تفکر کا مادہ پیدا ہوتا تھا۔ کوئی موجود نہ ہوتا جس سے وہ بات کرتے۔ کوئی چیز ایسی نہ ہوتی جو ان کی آنکھ اور کان کو اپنی طرف متوجہ رکھتی۔ ایسی حالت میں جب وہ غور و فکر کرتے تو سب سے پہلے ان کی نظر اونٹ پر پڑتی جس پر وہ سوار ہوتے تھے۔ وہ اس کا عجیب منظر دیکھتے اور سوچ میں ڈوب جاتے جب وہ سر اٹھا کر اوپر کی طرف دیکھتے تو آسمان کے علاوہ کوئی چیز انہیں نظر نہیں آتی۔ جب دائیں بائیں نگاہ کرتے تو پہاڑوں کے سوا انہیں کچھ نظر نہیں آتا، اور جب اپنے قدموں کی طرف دیکھتے تو زمین کے علاوہ کوئی چیز موجود نہ ہوتی۔ گویا خدا انہیں دعوت فکر دے رہا ہے اور دعوتِ فکر بھی ایسی جو تنہائی کے موقع پر دی جائے اور اس کا دائرہ صرف چار چیزوں تک محدود ہو۔ (بحوالہ: تفسیر فخر رازی، جلد ۳۱، ص۱۰۸)۔ لیکن اگر ہم چاہیں کہ ہم عربوں کے ماحول سے نگاہ ہٹا کر زیادہ وسیع فضا میں غور و فکر کریں تو کہا جا سکتا ہے کہ چاروں امور، اوپر والی آیت میں آئے ہیں، انسانی زندگی کی بنیاد کو تشکیل دیتے ہیں۔ آسمان نور و روشنی کا مرکز ہے اور بارش ہوا کا بھی۔ زمین انواع و اقسام کے موادِ غذائی کی پرورش کا مرکز ہے۔ پہاڑ آرام و سکون کی رمز اور پانی اور معدنیات کا ذخیرہ ہیں۔ اونٹ خانگی جانوروں کا نمونہ ہے جسے انسان کے اختیار میں دیا گیا ہے۔ اس طرح زراعت کے مسائل،جانور رکھنے کے مسائل اور صنعت و کاریگری کے مسائل انہیں چاروں میں پوشیدہ ہیں۔ان گوناں گوں نعمتوں کے بارے میں غور و فکر بہرحال، انسان کو شکرِ منعم حقیقی پر ابھارتا ہے اور شکرِ منعم انہیں اللہ کی معرفت اور خالقِ نعمت کی شناخت کی دعوت دیتا ہے۔ توحید سے متعلق اس بحث کے بعد پیغمبرؐ کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: "اب جبکہ ایسا ہی ہے تو انہیں یاد دلا اور نصیحت کر اور تُو تو صرف یاد دہانی کرانے والا ہی ہے۔" (فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ)۔ تُو ان پر بالکل مسلط نہیں ہے کہ انہیں ایمان لانے پر مجبور کرے۔ (لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ)۔ جی ہاں! آسمان و زمین، پہاڑوں اور جانوروں کی خلقت بتاتی ہے کہ یہ عالمِ ظاہر حساب و کتاب کے بغیر نہیں ہے اور اس کی خلقت کا کوئی ہدف و مقصد ہے۔ اب جبکہ ایسا ہی ہے تو تُو انہیں یاد دہانیوں اور نصیحتوں سے خلقت و آفرینش پر غور کرنے کی تلقین کر، انہیں قربِ خدا کی راہ دکھا اور راہِ تکامل اور ارتقا میں ان کا رہبر و رہنما بن جا۔ البتہ راہ کمال اسی صورت میں طے کی جاتی ہے جب ارادہ و اختیار کے ساتھ میل و رغبت بھی شامل ہو۔ وہ تکامل و ارتقاء جو حالتِ جبر کے نتیجے میں ہو، اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ تُو انہیں مجبور نہیں کر سکتا اور اگر مجبور کر بھی سکتا تو کوئی فائدہ نہیں تھا۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ حکم فرمانِ جہاد کے نزول سے پہلے تھا اور حکم جہاد کے نزول سے یہ حکم منسوخ ہو گیا یہ کہنا بڑا اشتباہ اور غلطی ہے۔ پیغمبرؐ کے تذکر اور تبلیغ کا سلسلہ پہلے دن سے شروع ہوا اور آپؐ کی زندگی کے آخری دن تک جاری رہا۔ آپؐ کے بعد بھی آپ کے معصوم جانشینوں اور علمائے دین کے ذریعہ جاری و ساری رہا اور ہے۔ یہ فسخ ہونے والی چیز نہیں ہے۔ اسی طرح لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور نہ کرنا بھی ایک بنیادی بات ہے۔ جہاد کا مقصد بھی زیادہ تر سرکش افراد سے جنگ کرنا ہے اور حق طلب لوگوں کے راستے سے رکاوٹوں کو دُور کرنا ہے۔ یہ مفہوم اس چیز کے مشابہ ہے جو سورہ نساء کی آیت ۸۰ میں آئی ہے، جس میں فرماتا ہے: (وَمَن تَوَلَّى فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا) "اور جو شخص روگردانی کرے تو ہم نے تجھ کو اس کا ذمہ دار نہیں بنایا"، اور سورہ انعام کی آیت ۱۰۷ اور شوریٰ کی آیت ۴۸ میں انہی معانی کو بیان کرتی ہیں۔ "مصیطر"، سطر کے مادہ سے کتاب کی سطور کے معنی میں ہے اور مسیطر وہ شخص ہے جو سطروں کو مرتب کرتا ہے۔ اس کے بعد ہر وہ شخص جو کسی چیز پر مسلط ہو اور اس کو منظم کرے یا اسے کسی کام کے انجام دینے پر مجبور کرے۔" بعد والی آیت میں ایک استثناء کی شکل میں فرماتا ہے: "مگر وہ شخص جو پشت پھیرے اور کافر ہو جائے" (إِلَّا مَن تَوَلَّى وَكَفَرَ)۔"اسے خدا ایک بہت بڑے عذاب کی سزا دے گا۔" (فَيُعَذِّبُهُ اللَّهُ الْعَذَابَ الْأَكْبَرَ)۔ یہ بات کہ یہ استثناء کس جملے سے متعلق ہے، اس کی مختلف تفسیریں ہیں۔ پہلی یہ کہ فذکر کے جملے کے مفعول سے استشناء ہے۔ یعنی ضروری و لازمی نہیں ہے کہ ان معاند افراد سے روگردانی کرتے ہیں اور پند و نصیحت کو قبول نہیں کرتے تُو نصیحت کر اور یاد دہانی کرا۔ حقیقت میں یہ اس چیز کے مشابہ ہے جو سورہ زخرف کی آیات۸۳ میں آئی ہیں (فَذَرْهُمْ يَخُوضُوا وَيَلْعَبُوا حَتَّى يُلَاقُوا يَوْمَهُمُ الَّذِي يُوعَدُونَ) "انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دے تاکہ وہ اپنے باطل میں الجھے رہیں اور کھیل کود میں لگے رہیں، یہاں تک کہ وہ دن آ جائے جس کا وعدہ کیا گیا ہیں۔" دوسرے یہ کہ ایک محذوف جملے سے استشناء ہے اور معنوی طور پر اس طرح ہے "نصیحت کر اس لئے کہ نصیحت کہ نصیحت سب لوگوں کے لیے نفع بخش ہے، مگر وہ جو حق کے ساتھ دشمنی رکھتے ہیں" اس چیز کے مشابہ جو سورہ اعلی کی آیت ۹ میں آئی ہے (فَذَكِّرْ إِن نَّفَعَتِ الذِّكْرَى) اس بنا پر کہ آیت معنی شرط رکھتی ہو۔ تیسرے یہ کہ "علیہم" کی ضمیر سے استشناء ہے جو گزشتہ آیت میں ہے تُو ان پر کوئی تسلط نہیں رکھتا، مگر وہ لوگ جو روگرداں ہو جائیں اور راہِ عناد اختیار کریں تیری ذمہ داری ہے کہ ان سے مقابلہ کریں۔ (تشریحی نوٹ: ایک حدیث سے جو در المنثور میں پیغمبر اسلامؐ سے منقول ہے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبرؐ کی ذمہ داری تھی کہ بُت برستوں سے جنگ کریں اور اس صورت کے علاوہ باقی حالات میں ان کی ذمہ داری صرف یہ تھی کہ نصیحت کریں)۔ یہ سب تفاسیر اس صورت میں ہیں کہ اگر استثناء اصطلاح کے مطابق متصل ہو، لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ استثناء منقطع ہو، جو تقریباً بلکہ کا مفہوم رکھتا ہے اور جملہ کے معنی اس طرح ہیں"بلکہ وہ لوگ جو روگرداں ہو جائیں اور کافر ہو جائیں تو خدا ان پر مسلط ہے یا خدا انہیں بہت بڑے عذاب کی خبر دے گا۔" ان تفسیروں میں سے دو تفسیریں سب سے زیادہ مناسب ہیں پہلی یہ کہ استثناء متصل ہو اور لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ کے جملے کی طرف لوٹے، جو طاقتوروں کے مقابلہ میں طاقت سے کام لینے کی طرف اشارہ ہو یا استثناء متصل ہو اور ہٹ دھرم کافروں کے لئے عذابِ الٰہی کی خبر کے معنوں میں ہو۔ عذابِ اکبر لے مراد آخرت کا عذاب ہے، دنیا کے عذاب کے مقابلہ میں جو چھوٹا ہے اور کم اہم ہے جیسا کہ سورہ زمر کی آیت۲۶ میں ہم پڑھتے ہیں (فَأَذَاقَهُمُ اللَّهُ الْخِزْيَ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ) خدا نے ذلت و خواری کا مزہ انہیں اس دنیا میں چکھایا اور آخرت کا عذاب اکبر ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ عذابِ اکبر سے مراد عذابِ قیامت و دوزخ کا شدید ترین حصہ ہے اس لئے کہ دوزخ میں تمام مجرموں کا عذاب ایک جیسا نہیں ہے۔ اس سورہ کے آخر میں تہدید آمیز لہجے میں فرماتا ہیں: "یقیناً ان کی بازگشت ہماری طرف ہے" (إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ)۔ اس کے بعد مزید ارشاد ہوتا ہے: "اس کے بعد یقیناً ان کا حساب ہمارے ہاتھ میں ہے" (ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْ)۔ یہ حقیقت میں پیغمبرؐ کے دل کے لئے ایک قسم کی تشفی و تسلی ہے کہ کافروں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے پریشان و غمزدہ نہ ہوں اور اپنے کام کو جاری رکھیں۔ ضمنی طور پر یہ سب ہٹ دھرم کافروں کے لئے دھمکی ہے تاکہ وہ جان لیں کہ ان کا حساب و کتاب کسی کے اختیار میں ہے۔ اس طرح سورہ غاشیہ جو قیامت کے موضوع سے شروع ہو رہا تھا، قیامت ہی کے موضوع پر ختم ہو رہا ہے۔ درمیان میں توحید و نبوت کی طرف جو قیامت کی بنیادوں کو تشکیل دیتے ہیں، اشارہ ہوا ہے۔ اس سورہ کی ابتدائی آیات کے ضمن میں مجرموں کو ملنے والی سنگین سزاؤں کا ایک حصہ اور اس کے بعد مومنین کے روح پرور حساب کا اہم حصہ آیا ہے۔ ضمنی طور پر راستے کے انتخاب کا اختیار دیا گیا ہے اور ساتھ ساتھ انہیں خبردار کیا گیا ہے کہ سب کی بازگشت خدا کی طرف ہے اور اس کو ان سے حساب لینا ہے۔ ساتھ ہی یہ واضح ہو جاتا ہے کہ پیغمبرؐ تبلیغِ رسالت پر مامور ہیں اور لوگوں کے کفر و گناہ کے ذمہ دار ہیں۔ راہِ حق کے تمام مبلغین کی ذمہ داری اسی قسم کی ہوتی ہے۔ خداوندا! جس دن تمام مخلوقات کی بازگشت تیری طرف ہے اور سب کا حساب تجھے لینا ہے، ہم پر اپنا لطف و کرم کییجو۔ پروردگارا! ہمیں اپنی رحمتِ کبریائی سے کام لے کر عذابِ اکبر سے رہائی بخش۔ بارِالہا! تیری جنت کی نعمتیں جن کا ایک گوشہ تُو نے اس سورہ میں بیان کیا ہے، بہت ہی بیش بہا اور شوق انگیز ہیں۔ اگر ہم اپنے اعمال کی وجہ سے اس کے مستحق نہیں ہیں تو تُو ہمیں ان کو اپنے فضل و کرم سے مراحمت فرما۔ آمین یا رب العالمین