Sūra 112 · 4v
Chapter 1124 verses

Al-Ikhlas

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
الإخلاص
الاخلاص

سُورہ اخلاص

یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۴ آیات ہیں۔

سُورہ "اخلاص" کے مطالب اور اس کی فضیلت

یہ سورہ۔ جیسا کہ اس کے نام سے واضح ہے (سورئہ اخلاص اور سورہ توحید) پروردگار کی توحید اور اس کی یگانگت اور یکتائی کے بارے میں گفتگو کرتا ہے اور چار مختصر سی آیات میں خدا کی وحدانیت کی اس طرح سے توصیف و تعریف کی ہے جس میں اضافہ کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سورہ کی شان نزول کے بارے میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس طرح نقل ہوا ہے: "یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے یہ تقاضا کیا کہ آپ ان کے لیے خدا کی توصیف بیان کریں۔ پیغمبر تین دن تک خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا، یہاں تک کہ یہ سورہ نازل ہوا اور ان کو جواب دیا۔" بعض روایات میں آیا ہے کہ یہ سوال کرنے والا "عبد اللہ بن صوریا" تھا، جو یہودیوں کے مشہور سرداروں میں سے ایک تھا۔ اور دوسری روایت میں یہ آیا ہے کہ اس قسم کا سوال "عبد اللہ بن سلام" نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے مکہّ میں کیا تھا اور اس کے بعد وہ ایمان لے آیا تھا۔ لیکن اپنے ایمان کو اسی طرح سے چھپائے ہوئے تھا۔ دُوسری روایات میں یہ آیا ہے کہ اس قسم کا سوال مشرکین مکہّ نے کیا تھا۔ (بحوالہ: "المیزان" جلد۱۰، ص ۵۴۶)۔ بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ سوال کرنے والا نجران کے عیسائیوں کا ایک گروہ تھا۔ ان روایات کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ یہ سوال ان سب کی طرف سے ہوا ہو۔ اور یہی بات اس سورہ کی حد سے زیادہ عظمت و بزرگی کی ایک دلیل ہے جو مختلف افراد و اقوام کے سوالات کا جواب دیتا ہے۔ اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت کے بارے میں مشہور اسلامی منابع میں بہت سی روایات آئی ہیں، جو اس سورہ کی حد سے زیادہ عظمت کی ترجمان ہیں۔ منجملہ۔ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے آیا ہے کہ آپؑ نے فرمایا: "ایعجز احد کم ان یقرأ ثلث القرآن فی لیلة" "کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات سے عاجز ہے کہ ایک ہی رات میں ایک تہائی قرآن پڑھ لے۔" حاضرین میں سے ایک نے عرض کیا، اے رسول ِخداؐ، ایسا کرنے کی کس میں طاقت ہے؟ پیغمبرؐ نے فرمایا: "اقرءوا قل ھو اللہ احد" "سورہ قل ھو اللہ پڑھا کرو" ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے کہ جب رسول خداؐ نے "سعد بن معاذ" کے جنازے پر نماز پڑھی تو آپ نے فرمایا: "ستر ہزار فرشتوں نے، جن میں جبرئیل بھی تھے، اس کے جنازے پر نماز پڑھی ہے۔ مَیں نے جبرئیل سے پوچھا ہے کہ وہ کس عمل کی بناء پر تمہارے نماز پڑھنے کا مستحق ہوا ہے"؟ جبرئیل نے کہا: "اٹھتے بیٹھتے، پیدل چلتے اور سوار ہوتے اور چلتے پھرتے "قل ھو اللہ احد" پڑھنے کی وجہ سے"۔ (بحوالہ: "مجمع البیان"جلد ۱۰، ص ۵۶۱)۔ ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے آیا ہے کہ آپ نے فرمایا: "جس شخص پر ایک رات اور دن گزر جائے، اور وہ پنجگانہ نمازیں پپڑھے اور ان میں قل ھو اللہ احد کی قرات نہ کرے تو اس سے کہا جائے گا: یا عبد اللہ! لست من المصلین"!: "اے بندہ خدا تو نماز گزاروں میں سے نہیں ہے۔ (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ۱۰، ص ۵۶۱ اور تفسیر و حدیث کی دوسری کتابیں)۔ ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرمؐ سے آیا ہے کہ آپ نے فرمایا: "جو شخص خدا اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتا ہے وہ ہر نماز کے بعد قل ھو اللہ احد کے پڑھنے کو ترک نہ کرے کیونکہ جو شخص اسے پڑھے گا خدا اس کے لیے خیر دنیا و آخرت جمع کر دے گا۔ اور خود اسے اور اس کے ماں باپ اور اس کی اولاد کو بخش دے گا" (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ۱۰، ص ۵۶۱ اور تفسیر و حدیث کی دوسری کتابیں)۔ ایک اور حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ گھر میں داخل ہوتے وقت اس سورہ کا پڑھنا، رزق کو بڑھاتا ہے اور فقر و فاقہ کو دُور کر دیتا ہے۔ (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ۱۰، ص ۵۶۱ اور تفسیر و حدیث کی دوسری کتابیں)۔ اس سُورہ کی فضیلت میں اتنی زیادہ روایات ہیں کہ وہ اس مختصر بیان میں نہیں سما سکتیں اور ہم نے جو کچھ نقل کیا ہے وہ صرف ان کا ایک حصہ ہے۔ اس بارے میں کہ سورہ "قل ھو اللہ" قرآن کی تہائی کے برابر کیسے ہو گیا؟ تو بعض نے تو یہ کہا ہے کہ یہ اس بناء پر ہے کہ قرآن "احکام" و "عقائد" اور "تاریخ" پر مشتمل ہے اور یہ سورہ عقائد کے حصہ کو اختصار کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ بعض دوسرے مفسّرین نے یہ کہا ہے کہ قرآن کے تین حصے ہیں "مبداء" و "معاد" اور "جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے" اور یہ سورہ پہلے حصہ کی تشریح کرتا ہے۔ یہ بات قابل قبول ہے کہ قرآن کی تقریباَ ایک تہائی توحید کے بارے میں بحث کرتی ہے، اور اس کا خلاصہ سورہ توحید میں آیا ہے۔ ہم اس گفتگو کو اس سورہ کی عظمت کے بارے میں ایک دوسری حدیث کے ساتھ ختم کرتے ہیں۔ امام علی بن الحسین علیہ السلام سے لوگوں نے سورئہ توحید کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: "ان اللہ عزّ و جلّ علم انہ یکون فی اٰخر الزمان اقوام متعمقون، فانزل اللہ تعالیٰ قل ھو اللہ احد، والاٰیات من سورة الحدید الی قولہ: "وھو علیم بذات الصدور" فمن رام وراء ذالک فقد ھلک" "خداوند تعالی ٰجانتا تھا کہ آخری زمانہ میں ایسی قومیں آئیں گی جو مسائل میں تعمق اور غور و خوض کرنے والی ہوں گی، لہٰذا اس نے (مباحث توحید اور خدا شناسی کے سلسلہ میں) سورہ قل ھو اللہ احد اور سورئہ حدید کی آیات، علیم بذات الصدور تک نازل فرمائیں۔ جو شخص اس سے زیادہ کا طلب گار ہو گا وہ ہلاک ہو جائے گا۔ (بحوالہ: "اصول کافی" جلد ۱، باب السیئہ، حدیث ۳)۔ جملہ کا "ھو" کی ضمیر کے ساتھ آغاز، جو واحد غائب کی ضمیر ہے اور ایک مبہم مفہوم کو بیان کرتی ہے، حقیقت میں اس واقعیت کی ایک رمز اور اشارہ ہے کہ اس کی ذات اقدس انتہائی خفاء میں ہے اور انسانوں کے محدود افکار کی دسترس سے باہر ہے اگرچہ اس کے آثار نے جہان کو اس طرح سے پُر کر رکھا ہے کہ وہ ہر چیز سے زیادہ ظاہر اور زیادہ آشکار ہے۔ جیسا کہ سورہ حٰم سجدہ کی آیہ ۵۳ میں آیا ہے: "سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ:" "ہم جلدی ہی اطراف جہان اور ان کے نفسوں میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے، تاکہ واضح ہو جائے کہ وہ حق ہے۔" اس کے بعد اس ناشناختہ حقیقت سے پردہ اٹھائے ہوئے کہتا ہے، "وہ یکتا و یگانہ خدا ہے۔" ضمنی طور پر یہاں "قل" (کہہ دے) کا معنی یہ ہے کہ اس حقیقت کا اظہار کرو۔ ایک حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے آیا ہے کہ آپ نے اس بات کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ کفار و بت پرست اسم اشارہ کے ساتھ اپنے بتوں کی طرف اشارہ کرتے تھے اور کہتے تھے: "اے محمّد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم! یہ ہمارے خدا ہیں، تو بھی اپنے خدا کی تعریف و توصیف کر تاکہ ہم اسے دیکھیں اور اس کا ادراک کریں۔ تو خدا نے یہ آیات نازل کیں: قل ھو اللہ احد ۔۔۔۔"ھا"، "ھو" میں، مطلب کو ثابت کرنے اور توجہ دینے کے لیے ہے اور "واو" ضمیر غائب ہے، جو اس ذات کی طرف اشارہ ہے جو آنکھوں کے دیکھنے سے غائب اور حواس کے لمس سے دُور ہے۔" (تشریحی نوٹ: بعض نے ھو کو یہاں "ضمیر شان" لیا ہے، اس بناء پر معنی یہ ہو گا کہ شان و مطلب یہ ہے کہ خدا ایک اکیلا ہے۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ "ھو" اس خدا کی پاک ذات کی طرف اشارہ ہو جو سوال کرنے والوں کے لیے غیر معلوم اور مبہم تھی۔ اس بناء پر "ھو" مبتداء ہے اور "اللہ" اس کی خبر اور "احد" خبر کے بعد کی خبر ہے)۔ ایک اور حدیث میں امیر المومنین علی علیہ السلام سے آیا ہے کہ آپ نے فرمایا: "جنگِ بدر کی رات میں نے "خضر" علیہ السلام کو خواب میں دیکھا اور ان سے کہا کہ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیں جس کی مدد سے میں دشمنوں پر کامیاب ہوں" تو انہوں نے کہا: کہیئے: "یا ھو، یامن لاھو الّا ھو"

1
112:1
قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ
کہہ دیجئے اللہ یکتا ویگانہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 16

تفسیر آیت 4 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
112:2
ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ
اللہ ہی ہے کہ جس کی طرف تمام حاجت مندرخ کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 16

تفسیر آیت 4 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
112:3
لَمۡ يَلِدۡ وَلَمۡ يُولَدۡ
نہ تو اس نے کسی کو جنا ہے اور نہ ہی وہ کسی سے پیدا ہواہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 16

تفسیر آیت 4 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
112:4
وَلَمۡ يَكُن لَّهُۥ كُفُوًا أَحَدُۢ
اور ہر گز اس کا کوئی ہم پلہ اور مانند نہیں ہے۔

تفسیر وہ یکتا اور بےمثال ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 16

اِس سُورہ کی پہلی آیت بار بار کے ان سوالات کے جواب میں ہے جو مختلف اقوام یا افراد کی طرف سے پروردگار کے اوصاف کے سلسلہ میں ہوئے تھے، فرماتا ہے: "کہہ دیجئے وہ یکتا و یگانہ ہے" (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ)۔ (بحوالہ: "بحار الانوار" جلد ۳، ص ۲۲۲)۔ جب صبح ہوئی تو مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی خدمت میں یہ واقعہ بیان کیا تو آپؐ نے فرمایا: "یا علی! عُلّمت الاسم الاعظم" "اے علیؑ آپ کو اسمِ اعظم کی تعلیم دی گئی ہے۔" اس کے بعد جنگِ بدر میں یہی جملہ میرا ورد زبان رہا۔ (بحوالہ: "بحار الانوار" جلد ۳، ص ۲۲۲)۔ "عمّار یا سر" نے جب یہ سُنا کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام صفین کے دن جنگ کے وقت یہی ذکر پڑھ رہے تھے تو عرض کیا: یہ کیا کنایات ہیں؟ تو آپؑ نے فرمایا: یہ خدا کا اسم اعظم اور توحید کا ستون ہے۔ (بحوالہ: "بحار الانوار" جلد ۳، ص ۲۲۲)۔ "اللہ" خدا کا اسم خاص ہے اور امام کی بات کا مفہوم یہ ہے کہ اسی ایک لفظ کے ذریعے اس کے تمام صفات جلال و جمال کی طرف اشارہ ہوا ہے اور اسی بناء پر اس کو اسم اعظم الٰہی کا نام دیا گیا ہے۔ اس نام کا خُدا کے سوا اور کسی پر اطلاق نہیں ہوتا جب کہ خدا کے دوسرے نام پر اس کی کسی صفت جمال و جلال کی طرف اشارہ ہوتے ہیں، مثلاَ: عالم و خالق و رازق، اور عام طور پر اس کے غیر پر بھی اطلاق ہوتے ہیں۔ (مثلاَ رحیم، کریم، عالم، قادر وغیرہ)۔ اس حال میں اس کی اصل اور ریشہ و صفی معنی رکھتا ہے اور اصل میں یہ "ولہ" سے مشتق ہے، جو "تحیر" کے معنی میں ہے کیونکہ اس کی ذاتِ پاک میں عقلیں حیران ہیں، جیسا کہ ایک حدیث میں امیر المومنین علیؑ سے آیا ہے: "اللہ معناہ المعبود الذی یألہ فیہ الخلق ویئولہ الیہ، واللہ ھو المستور عن درک الابصار، المحجوب عن الاوھام والخطرات۔" "اللہ کا معنی ایک ایسا معبود ہے جس میں مخلوق حیران ہے اور اس سے عشق رکھتی ہے۔ اللہ وہی ذات ہے جو آنکھوں کے ادراک سے مستور اور مخلوق کے افکار و عقول سے محجوب ہے۔ (بحوالہ: "بحار الانوار" جلد ۳، ص۲۲۲)۔ بعض اوقات اسے "الاھة" (بروزن و بمعنی عبادت) کی اصل اور ریشہ سے بھی سمجھا گیا ہے اور اصل میں "الالٰہ" ہے جو "تنہا معبود حقیقی" کے معنی میں ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے۔ اس کا ریشہ اور اصل چاہے جو بھی ہو، بعد میں اس نے اسم خاص کی صورت اختیار کر لی ہے اور یہ اسی جامع جمیع صفات کمالیہ اور ہر قسم کے عیب و نقص سے خالی ذات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اِس مقدّس نام کا قرآن مجید میں تقریباَ "ایک ہزار" مرتبہ تکرار ہوا ہے اور خدا کے اسماء مقدسہ میں سے کوئی سا نام بھی اتنی مرتبہ قرآن میں ہیں آیا۔ یہ ایک ایسا نام ہے جو دل کو روشن کرتا ہے اور انسان کو قوت اور توانائی اور سکون و آرام بخشتا ہے اور اسے نور و صفا کے ایک عالم میں غرق کر دیتا ہے۔ لیکن "احد" کا لفظ "وحدت" کے مادّہ سے ہی ہے اور اسی لیے بعض نے "احد" اور "واحد" کی ایک ہی معنی کے ساتھ تفسیر کی ہے۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ دونوں ہی اس ذات کی طرف اشارہ ہیں جو ہر لحاظ سے بےمثل و بےنظیر ہے۔ علم میں یگانہ ہے، قدرت میں بےمثل ہے، رحمانیت اور رحیمیت میں یکتا ہے اور خلاصہ یہ ہے کہ وہ ہر لحاظ سے بےنظیر ہے۔ لیکن بعض کا نظریہ یہ ہے کہ "احد" اور "واحد" میں فرق ہے۔ "احد" اس ذات کو کہا جاتا ہے جو کثرت کو قبول نہیں کرتا، نہ تو خارج میں اور نہ ہی ذہن میں۔ لہٰذا وہ شمار کرنے کے قابل نہیں ہے اور ہرگز عدو میں داخل نہیں ہوتا، "واحد" کے برخلاف کہ اس کے لیے دوسرے اور تیسرے کا تصور ہوتا ہے، چاہے وہ خارج میں ہو یا ذہن میں۔ اسی لیے بعض اوقات ہم یہ کہتے ہیں کہ: احدی ازاں جمعیت نیامد، یعنی ان میں سے کوئی شخص بھی نہیں آیا لیکن جب ہم یہ کہتے ہیں کہ: واحدی نیامد (ایک نہیں آیا) تو ممکن ہے کہ دو یا چند افراد آئے ہوں۔ (بحوالہ: "المیزان" جلد ۲۰، ص ۵۴۳)۔ لیکن یہ فرق قرآن مجید اور احادیث کے موارد استعمال کے ساتھ چنداں سازگار نہیں ہے۔ بعض کا یہ بھی نظریہ ہے کہ "احد" (جنس و فصل اور ماہیت و وجود) کے اجزائے ترکیبیہ خارجیہ یا عقلیہ کے مقابلہ میں خدا کی بساطتِ ذات کی طرف اشارہ ہے کہ جب کہ واحد خارجی کثرتوں کے مقابلہ میں اس کی ذات کی یگانگت کی طرف اشارہ ہے۔ ایک حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے آیا ہے کہ "احد" فرد یگانہ کو کہتے ہیں، اور "احد" اور "واحد" کا ایک ہی مفہوم ہے، اور وہ ایک ایسی منفرد ذات ہے جس کا کوئی مثل و نظیر نہیں ہے۔ اور "توحید" اس کی یگانگت، وحدت اور انفرادیت کا اقرار ہے۔ اسی حدیث کے ذیل میں آیا ہے: "واحد عدد نہیں ہے، بلکہ واحد اعداد کی بنیاد ہے۔ عدد دو سے شروع ہوتا ہے، اس بناء پر اللہ احد" یعنی وہ معبود جس کی ذات کے ادراک سے انسان عاجز ہیں، اور جس کی کیفیت کا احاطہ کرنے سے ناتواں ہیں" کا معنی یہ ہے کہ وہ الٰہیت میں فرد ہے اور مخلوقات کی صفات سے برتر ہے۔ (بحوالہ: "بحار الانوار" جلد ۳، ص ۲۲۲)۔ قرآن مجید میں "واحد" و "احد" دونوں کا خدا کی ذات پاک پر اطلاق ہوا ہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ توحید صدوق میں آیا ہے کہ جنگِ جمل میں ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر عرض کیا اے امیر المومنین! کیا آپ یہ کہتے ہیں کہ خدا واحد ہے؟ تو واحد کا کیا معنٰی ہے؟ اچانک لوگوں نے ہر طرف سے اس پر حملہ کر دیا اور کہنے لگے: "اے اعرابی یہ کیا سوال ہے؟ کیا تو دیکھ نہیں رہا ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام مسئلہ جنگ کی فکر میں کتنے مشغول ہیں؟ ہر سخن جائے و ہر نکتہ مقامی دارد! ہر بات کا ایک موقع اور ہر نکتہ کا ایک مقام ہوتا ہے۔ امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا: "اسے اس کی حالت پر چھوڑ دو کیونکہ جو کچھ وہ چاہتا ہے وہی چیز ہم اس دشمن گروہ سے چاہتے ہیں۔ (وہ توحید کے بارے میں پوچھ رہا ہے، ہم بھی مخالفین کو کلمئہ توحید ہی کی دعوت دے رہے ہیں)۔ "اس کے بعد آپؐ نے فرمایا: "اے اعرابی یہ جو ہم کہتے ہیں کہ خدا "واحد" ہے تو اس کے چار معانی ہو سکتے ہیں جن میں سے دو معانی خدا کے لیے صحیح نہیں ہیں اور اس کے دو معانی صحیح ہیں۔ "اب وہ دو جو صحیح نہیں ہیں، ان میں سے ایک وحدت عددی ہے۔ یہ خدا کے لیے جائز نہیں ہے (یعنی ہم یہ کہیں کہ وہ ایک ہے دو نہیں ہیں) کیونکہ اس بات کا مفہوم یہ ہے کہ اس کے لیے دوسرے کا تصور ہو سکتا ہے لیکن وہ موجود نہیں ہے۔ حالانکہ مسلّمہ طور پر حق تعالیٰ کی غیر متناہی ذات کے لیے دوسرے کا تصور نہیں ہو ہی سکتا۔ کیونکہ جس چیز کا کوئی ثانی ہی نہیں ہے وہ باب اعداد میں داخل نہیں ہوتی۔ کیا تُو دیکھتا نہیں کہ خدا نے ان لوگوں کی، جنہوں نے یہ کہا تھا کہ: "ان اللہ ثالث ثلاثة۔" (خدا تین میں کا تیسرا ہے)، تکفیر کی ہے۔ "واحد کا دوسرا معنی جو خدا کے لیے صحیح نہیں ہے یہ ہے کہ وہ واحد نوعی کے معنی میں ہو، مثلاَ: ہم یہ کہیں کہ فلاں آدمی لوگوں میں سے ایک ہے، یہ بھی خدا کے لیے صحیح نہیں ہے۔ (کیونکہ خدا کی کوئی جنس اور نوع نہیں ہے) اس بات کا مفہوم تشبیہ ہے، اور ہر قسم کی تشبیہ اور نظیر سے برتر و بالاتر ہے۔ "اب رہے وہ دو مفہوم جو خدا کے بارے میں صحیح اور صادق ہیں، ان میں سے پہلا یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ خدا واحد ہے یعنی اشیاء عالم میں کوئی اس کی شبیہ نہیں ہے، ہاں! ہمارا پروردگار ایسا ہی ہے۔ "دوسرے یہ کہ یہ کہا جائے کہ ہمارا پروردگار احدی المعنی ہے، یعنی اس کی ذات ناقابلِ تقسیم ہے، نہ تو خارج میں، نہ تو عقل میں اور نہ ہی وہم میں، ہاں! خدائے بزرگ ایسا ہی ہے۔ (بحوالہ: "بحار الانوار" جلد ۳، ص۳۰۶، حدیث ۱)۔ "خلاصہ یہ ہے کہ خدا واحد و احد ہے اور یگانہ و یکتا ہے۔ واحد عددی یا نوعی و جنسی کے معنی میں نہیں بلکہ وحدت ِذاتی کے معنی میں، زیادہ واضح عبارت میں اس کی وحدانیت کا معنی یہ ہے اس کا کوئی مثل و نظیر اور مانند و شبیہ نہیں ہے۔" اِس بات کی دلیل بھی واضح و روشن ہے: وہ ایک ایسی ذات ہے جو ہر جہت سے غیر متناہی ہے اور مسلّمہ طور پر ہر جہت سے دو غیر متناہی ذاتیں ناقابل تصور ہیں، کیونکہ اگر دو ذاتیں ہوں گی تو وہ دونوں محدود ہو جائیں گی، اس میں اس کے کمالات نہ ہوں گے اور نہ اس میں اس کے کمالات (غور کیجئے)۔ بعد والی آیت میں اس یکتا ذات مقدس کے بارے میں فرماتا ہے: "وہ ایسا خدا ہے کہ تمام حاجت مند اسی کی طرف رخ کرتے ہیں۔" (اللَّهُ الصَّمَدُ)۔ "صمد" کے لیے روایات اور مفسّرین و ارباب لُغت کے کلمات میں بہت زیادہ معنی بیان ہوئے ہیں۔ "راغب"، "مفردات" میں کہتا ہے: صمد اس آقا اور بزرگ کے معنی میں ہے جس کی طرف کاموں کی انجام دہی کے لیے جاتے ہیں۔ اور بعض نے یہ کہا ہے کہ "صمد" اس چیز کے معنی میں ہے جو اندر سے خالی نہ ہو بلکہ پُر ہو۔ "مقاییس اللغۃ" میں آیا ہے کی دو اصلی جڑ بُنیادیں ہیں: ایک قصد کے معنی میں ہے اور دُوسرا صلابت و استحکام کے معنی میں، اور یہ جو خدا کو "صمد" کہا جاتا ہے تو یہ اس بناء پر ہے کہ بندے اس کی بارگاہ کا قصد و ارادہ کرتے ہیں۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ ذیل کے متعدد معانی بھی لُغت کی کتابوں میں "صمد" کے لیے ذکر ہوئے ہیں: ایسی بزرگ ہستی جو انتہائی عظمت ہو، اور ایسی ذات جس کی طرف لوگ اپنی حاجات لے کر جاتے ہیں، ایسی ذات جس سے برتر کوئی چیز نہیں ہے، ایسی ہستی جو مخلوق کے فنا و نابود ہونے کے بعد بھی دائم اور باقی رہنے والی ہے۔ اسی لیے امام حسین بن علی علیہما السّلام نے ایک حدیث میں "صمد" کے لیے پانچ معانی بیان کیے ہیں۔ "صمد" اس ہستی کو کہتے ہیں جو انتہائی سیادت و سرداری میں ہو۔ "صمد" وہ ذات ہے جو دائم اور ازلی و ابدی ہو۔ "صمد" وہ موجود ہے جو جوف (اندر سے خلا) نہ رکھتا ہو۔ "صمد" وہ ہستی جو نہ کھاتی ہو نہ پیتی ہو۔ "صمد" وہ ہستی جو کبھی نہ سوتی ہو۔ (بحوالہ: "بحار الانوار" جلد ۳، ص ۲۲۳)۔ اور دوسری عبارتوں میں آیا ہے کہ: "صمد اس ہستی کو کہتے ہیں جو قائم بہ نفس ہو اور غیر سے بےنیاز ہو۔" "صمد" اس ہستی کو کہتے ہیں جس میں تغیرات اور کون و فساد نہیں ہے۔ امام علی بن الحسین علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ آپؑ نے فرمایا: "صمد" اس ہستی کو کہتے ہیں جس کا کوئی شریک نہ ہو کسی چیز کی حفاظت کرنا اس کے لیے مشکل نہ ہو اور کوئی چیز اس سے مخفی نہیں رہتی۔ (بحوالہ: "بحار الانوار" جلد ۳، ص۲۲۳)۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ "صمد" اس ذات کو کہتے ہیں کہ وہ جب بھی کسی چیز کا ارادہ کرے تو اُسے کہتا ہے ہو جا، تو وہ فوراَ ہو جاتی ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ "اہل ِبصرہ" نے امام حسن علیہ السلام کی خدمت میں ایک خط لکھا اور "صمد" کے معنی دریافت کیے۔ امام علیہ السلام نے ان کے جواب میں فرمایا: "بسم اللہ الرحمان الرحیم، اما بعد قرآن میں آگاہی کے بغیر بحث و گفتگو نہ کرو، کیونکہ میں نے اپنے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے سُنا ہے، آپ فرما رہے تھے: جو شخص علم کے بغیر بات کرے گا اسے آگ میں اس مقام پر رہنا پڑے گا جو اُس کے لیے معین ہے۔ خدا نے خود "صمد" کی تفسیر بیان فرمائی ہے "لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْO وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ" نہ اُسے کسی نے جنا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا، اور نہ ہی کوئی اس کی مانند اور مثل و نظیر ہے۔ ہاں! خداوندِ "صمد" وہ ہے جو کسی چیز سے وجود میں نہیں آیا، اور نہ ہی وُہ کسی چیز کے اندر موجود ہے نہ کسی چیز کے اُوپر قرار پایا ہے، وہ تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا اور ان کا خالق ہے، تمام چیزوں کو وہی اپنی قدرت سے وجود میں لایا ہے۔ جن چیزوں کو اس نے فنا کے لیے پیدا کیا ہے وہ اس کے ارادہ سے متلاشی ہو جائے گی، اور جسے بقاء کے لیے پیدا کیا ہے وہ اس کے علم سے باقی رہے گی۔ یہ ہے خداوند صمد۔۔۔" (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ۱۰، ص ۵۶۵)۔ اور بالآخر ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ "محمد بن حنفیہ" نے امیر المومنین علی علیہ السلام سے "صمد" کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: "صمد" کی تأویل یہ ہے کہ وہ نہ اسم ہے اور نہ جسم ہے، نہ اس کا کوئی مثل ہے نہ کوئی نظیر ہے، نہ صُورت ہے، نہ تمثال ہے، نہ حد ہے، نہ حدود ہے، نہ محل ہے، نہ مکان ہے، نہ حال ہے، نہ یہ ہے، نہ یہاں ہے، نہ وہاں ہے، نہ پُر ہے، نہ خالی ہے، نہ کھڑا ہے، نہ بیٹھا ہے، نہ ساکن ہے، نہ محترک ہے، نہ ظلماتی ہے، نہ نورانی ہے، نہ نفسانی ہے۔ اس کے باوجود کوئی جگہ اس سے خالی نہیں ہے اور کسی مکان میں اس کی گنجائش نہیں ہے۔ نہ وہ رنگ رکھتا ہے، نہ انسان کے دل میں سماتا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی بو ہے۔ یہ سب چیزیں اس کی ذات پاک سے منتقی ہے۔ (بحوالہ: "بحار الانوار" جلد ۳، ص۲۳۰، حدیث ۲۱)۔ یہ حدیث اچھی طرح سے نشان دہی کرتی ہے کہ "صمد" کا ایک بہت ہی جامع اور وسیع مفہوم ہے۔ جو اس کی ساختِ قدس سے مخلوقات کی ہر قسم کی صفات کی نفی کرتا ہے، کیونکہ مشخص اور محدود اسماء اور اسی طرح جسم و رنگ و بو و مکان و سکون و حرکت و کیفیت و حد و حدود اور اسی قسم کی دوسری چیزیں، یہ سب ممکنات و مخلوقات کی صفات ہیں، بلکہ زیادہ تر عالم مادّہ کے اوصاف ہیں، اور ہم جانتے ہیں کہ خدا ان سب سے برتر اور بالاتر ہے۔ آخری انکشافات سے معلوم ہوا ہے کہ جہان مادّہ کی تمام چیزیں بہت ہی چھوٹے چھوٹے ذرّات سے مل کر بنی ہے جنہیں "ایٹم" کہا جاتا ہے۔ اور "ایٹم" خود بھی دو عمدہ حصوں کا مرکّب ہے۔ مرکزی ذرّہ اور وہ الکڑون جو اس کے گرد گردش کر رہے ہیں۔ اور تعجّب کی بات یہ ہے کہ اس ذرہ اور الکڑونوں کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ ہے۔ (البتہ یہ زیادہ ایٹم کے حجم کے اندازہ سے ہے) اس طرح سے کہ اگر یہ فاصلہ اُٹھا دیا جائے تو اجسام اس قدر چھوٹے ہو جائیں گے کہ وہ ہمارے لیے حیرت میں ڈالنے والے ہوں گے۔ مثلاَ اگر ایک انسان کے وجود کے ایٹمی ذرات کے فاصلے ختم کر دیں اور اُسے مکمل طور پر دبا دیں تو ممکن ہے کہ وہ ایک ذرہ کی صورت اختیار کر لے، جس کا آنکھ کے ساتھ دیکھنا مُشکل ہو جائے۔ لیکن اس کے باوجود وہ ایک انسان کے بدن کے سارے وزن کے برابر ہو گا، (مثلاَ: یہی معمولی ذرّہ ۶۰ کلو وزنی ہو گا)۔ بعض نے اس علمی انکشاف سے استفادہ کرتے ہوئے اور اس بات کی طرف توجہ دیتے ہوئے کہ "صمد" کا ایک معنی ایسا وجود ہے جو اندر سے خالی نہیں ہے، یہ نتیجہ نکالا ہے کہ قرآن اس تعبیر سے یہ چاہتا ہے کہ خدا سے ہر قسم کی جسمانیت کی نفی کر دے، کیونکہ تمام اجسام ایٹم سے بنے ہوئے ہیں اور ایٹم اندر سے خالی ہوتے ہیں۔ اور اس طرح یہ آیت قرآن کے علمی معجزات میں سے ایک ہو سکتی ہے۔ لیکن اِس بات کو نہیں بھولنا چاہیئے کہ اہلِ لُغت میں "صمد" ایک ایسی عظیم ہستی کے معنی میں ہے جس کی طرف تمام حاجت مند رخ کرتے ہیں اور وہ ہر لحاظ سے کامل ہو، اور ظاہراَ باقی تمام معانی اور تفاسیر جو اس کے لیے بیان کی گئی ہیں اسی اصل کی طرف لوٹتی ہیں۔ اس کے بعد اگلی آیت میں نصاریٰ، یہود اور مشرکین عرب کے عقائد کی رد پیش کرتے ہوئے___ جو خدا کے لیے بیٹے یا باپ کے لیے قائل تھے۔ فرماتا ہے: "اس نے نہ تو کسی کو جنا ہے اور نہ ہی وہ خود کسی سے پیدا ہوا ہے۔" (لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ)۔ اِس بیان کے مقابلہ میں ان لوگوں کا نظریہ ہے جو تثلیث (تین خداؤں) کا عقیدہ رکھتے تھے، باپ خدا، بیٹا خدا، اور رُوح القدس۔ نصاریٰ "مسیح" کو خدا کا بیٹا کہتے تھے اور یہود "عزیر" کو اس کا بیٹا سمجھتے تھے، وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللّهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللّهِ ذَلِكَ قَوْلُهُم بِأَفْوَاهِهِمْ يُضَاهِؤُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَبْلُ قَاتَلَهُمُ اللّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ: "یہود نے تو یہ کہا کہ عزیر خدا کا بیٹا ہے اور عیسائیوں نے کہا کہ مسیح خدا کا بیٹا ہے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جو وہ اپنی زبان سے کہتے ہیں اور ان کی یہ بات گذشتہ کافروں کے قول کے مانند ہے ان پر خدا کی لعنت ہو، وہ حق سے کیسے منحرف ہو جاتے ہیں، (توبہ ۔۳۰)۔ مشرکینِ عرب کا یہ عقیدہ بھی تھا کہ ملائکہ خدا کی بیٹیاں ہیں، وَخَرَقُواْ لَهُ بَنِينَ وَبَنَاتٍ بِغَيْرِ عِلْمٍ: "انہوں نے جھوٹ اور جہالت کی بناء پر خدا کے لیے بیٹے اور بیٹیاں گھڑ لی تھیں۔" (انعام ۔۱۰۰)۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آیہ "لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ" میں تولد ایک وسیع معنی رکھتا ہے اور اس سے ہر قسم کی مادّی و لیطف چیزوں کے خروج اس ذاتِ مقّدس کے دوسری مادّی و لطیف چیزوں سے خروج کی نفی کرتا ہے۔ جیسا کہ اسی خط میں۔ جو امام حسینؑ نے "اہلِ بصرہ" کے جواب میں صمد کی تفسیر میں لکھا تھا۔ "لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ" کے جملہ کی اس طرح تفسیر کی گئی تھی: (لَمْ يَلِدْ) یعنی کوئی چیز اس سے خارج نہیں ہوئی، نہ تو بیٹے جیسی کوئی مادّی چیز اور نہ ہی وہ تمام چیزیں جو مخلوق سے خارج ہوئی ہیں (جیسے ماں کی چھاتیوں سے دودھ) اور نہ ہی نفس جیسی کوئی لطیف چیز، اور نہ ہی قسم قسم کے حالات، جیسے خواب و خیال حزن و اندوہ، خوشحال ہونا، ہنسنا اور رونا، خوف و رجاء، شوق و ملالت، بھوک اور سیری وغیرہ۔ خدا اس سے برتر و بالاتر ہے کہ کوئی چیز اس سے خارج ہو۔ اور وہ اس بات سے بھی برتر و بالاتر ہے کہ وہ کسی مادّی چیز سے متولّد ہو۔۔۔۔ جیسا کہ کسی زندہ موجود کا کسی دوسرے زندہ موجود سے خارج ہونا اور گھاس کا زمین سے، پانی کا چشمہ سے، پھل کا درختوں سے اور اشیائے لطیف کا اپنے منابع سے، جیسے نگاہ کا آنکھ سے، سماعت کا کان سے، سونگھنے کا ناک سے، چکھنے کا منہ سے، گفتگو کا زبان سے معرفت و شناخت کا دل سے اور آگ کی چنگاری کا پتھر سے نکلنا۔ (بحوالہ: "بحار الانوار" جلد ۳، ص ۲۲۴)۔ اِس حدیث کے مطابق تولد ایک وسیع معنی رکھتا ہے جو ہر قسم کے خروج اور ایک چیز کے کسی دوسری چیز کا نتیجہ ہونے کو شامل ہے، اور یہ حقیقت میں آیت کا دوسرا معنی ہے اور اس کا پہلا اور ظاہری معنی وہی تھا جو ابتداء میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دوسرا معنی پہلے معنی کی تحلیل کرنے سے پورے طور پر قابل ادراک ہے کیونکہ اگر خدا کے بیٹا نہیں ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مادّی عوارض سے پاک و منزّہ ہے۔ یہی معنی تمام مادّی عوارض میں بھی صادق آتا ہے۔ (غور کیجئے)۔ اور آخر میں اس سورہ کی آخری آیت میں خدا کے اوصاف کے بارے میں مطلب کو مرحلہٴ کمال تک پہنچاتے ہوئے فرماتا ہے: اور ہرگز اس کا کوئی شبیہ اور ہمسر نہیں ہے۔ (وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ)۔ (تشریحی نوٹ: "احد"، "کان" کا اسم ہے اور "کفواً" اس کی خبر ہے)۔ "کفواً" اصل میں مقام و منزلت اور قدر میں پلہ کے معنی میں ہے اور اس کے بعد اس کا ہر قسم کے شبیہ اور مانند پر اطلاق ہوا ہے۔ اِس آیت کے مطابق مخلوقات کے تمام عوارض اور موجودات کی صفات اور ہر قسم کا نقص و محدودیت اس کی ذاتِ پاک سے منتفی ہے۔ یہ وہی توحیدِ ذاتی و صفاتی ہے جو اس توحید عددی و نوعی کے مقابلہ میں ہے جس کی طرف اس سورہ کے آغاز میں اشارہ ہوا ہے۔ اس بناء پر نہ تو ذات میں اس کا کوئی شبیہ ہے اور نہ صفات میں کوئی اس کے مانند ہے، اور نہ ہی افعال میں کوئی اس کا مثل و نظیر ہے، وہ ہر لحاظ سے بےمثل و نظیر ہے۔ امیر المومنین علی علیہ السلام نہج البلاغہ کے خطبہ میں فرماتے ہیں: "لم یلد" فیکون مولوداً"، "ولم یولد" فصیر محدوداً۔۔۔ ولا "کفٴ" لہ فیاکفئہ" ولا نظیر لہ فیساویہ۔" اس نے کسی کو نہیں جنا کہ وہ خود بھی مولود ہو۔ اور وہ کسی سے پیدا نہیں ہوا ورنہ وہ محدود ہو جاتا اس کا کوئی مثل و نظیر نہیں ہے کہ وہ اس کا ہم پلہ ہو جائے، اور اس کے لئے کسی شبیہ کا تصور نہیں ہو سکتا کہ وہ اس کے مساوی ہو جائے۔ (بحوالہ: "نہج البلاغہ" خطبہ ۱۸۶)۔ اور یہ ایک ایسی عُمدہ تفسیر ہے جو توحید کے عالیترین دقائق کو بیان کرتی ہے۔ (سلام اللہ علیک یا امیر المومنین)۔

چند نکات: ۱۔ توحید کے دلائل: ۱۔ برھان صرف الوجود

توحید، یعنی ذاتی خدا کا یکتا و یگانہ ہونا اور اس کا کوئی شریک و شبیہ نہ ہونا، دلائل نقلی اور قرآن مجید کی آیات کے علاوہ بہت سے عقلی دلائل سے بھی ثابت ہے جن میں سے ایک حصہ کو ہم مختصر طور پر یہاں نقل کرتے ہیں۔ ۱۔ برہان صرف الوجود۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا وجود مطلق ہے اور اس کے لیے کوئی قید و شرط اور حد نہیں ہے۔ اس قسم کا وجود یقینی طور پر غیر محدود ہو گا، کیونکہ اس میں محدودیت ہو گی تو وہ ضروری طور پر عدم سے آلودہ ہو گا، لیکن وہ ذاتِ مقّدس جس کی ہستی و وجود خود بخود موجود ہے وہ ہرگز عدم و نیستی کا مقتضی نہیں ہو گا، اور وہ خارج میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو عدم کو اس پر ڈال دے۔ اس بناء پر وہ کسی حد کے ساتھ محدود نہیں ہو گا۔ دُوسری طرف سے عالم میں دو غیر محدود ہستیاں تصور میں ہی نہیں آ سکتیں، کیونکہ اگر دو موجود پیدا ہو جائیں تو یقینا ان میں سے ہر ایک دوسرے کے کمالات کا فاقد ہو گا۔ یعنی اس میں دوسرے کے کمالات نہیں ہوں گے۔ اس بناء پر وہ دونوں ہی محدود ہو جائیں گے، اور یہ خود ذات واجب والوجود کی یگانیت اور یکتائی پر ایک واضح دلیل ہے۔ (غور کیجئے)۔

٢۔ برھانِ علمی

۲۔ برھان علمی۔ جب ہم اس وسیع و عریض جہان پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ابتداء میں ہم عالم کو پراگندہ موجودات کی صورت میں دیکھتے ہیں، زمین و آسمان، سورج، چاند، ستارے، انواع و اقسام کی نباتات و حیوانات، لیکن ہم جتنا زیادہ غور کرتے ہیں ہم دیکھتے ہیں کہ اس عالم کے اجزاء و ذرّات اس طرح سے ایک دوسرے کے ساتھ مربوط اور پیوستہ ہیں کہ مجموعی طور پر وہ ایک منظم چیز بناتے ہیں اور اس جہان پر معین قوانین کا ایک سلسلہ حکومت کرتا ہے۔ انسانی علم و دانش کی پیش رفت جس قدر زیادہ ہوتی جاتی ہے اسی قدر اس جہان کے اجزاء کا انسجام و وحدت زیادہ آشکار اور ظاہر ہوتا جا رہا ہے، یہاں تک کہ بعض اوقات ایک چھوٹے سے نمونہ (مثلاَ ایک سیب کے درخت سے گرنے) کی آزمائش اس بات کا سبب بن جاتی ہے کہ ایک بہت بڑا قانون جو سارے عالمِ ہستی پر حکم فرما ہے، منکشف ہو جاتا ہے۔ (جیسا کہ "نیوٹن" اور "قانون جاذبہ" کے بارے میں ہے)۔ نظام ہستی کی یہ وحدت، اس پر حاکم قوانین اور اس کے اجزاء کے درمیان انسجام و یکتائی، اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ اس کا خالق یکتا و یگانہ ہے۔

۳۔ برھانِ تمانع

۳۔ برھانِ تمانع۔ (فلسفی علمی دلیل) دوسری دلیل جو علماء نے خدا کی ذات کی یکتائی اور وحدت کے لیے بیان کی ہے اور قرآن نے سورہ انبیاء کی آیہ ۲۲ میں جس کے بارے میں ہدایت کی ہے، وہ برھان تمانع ہے، فرماتا ہے: ” لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا فَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ" اگر زمین و آسمان میں خدائے واحد و یکتا کے علاوہ اور بھی خدا ہوتے تو آسمان و زمین میں فساد ہو جاتا، اور نظام جہاں درہم و برہم ہو جاتا پس وہ خدا جو عرش کا پروردگار ہے ان کی توصیف سے پاک و منزّہ ہے۔ ہم اس دلیل کی جلد ۱۳ ص۲۸۶ میں "برھان تمانع " کے عنوان کے ماتحت تفصیل کے ساتھ وضاحت کر چکے ہیں۔

۴۔ خداوند یگانہ کی طرف انبیاء کی عمومی دعوت:

اثباتِ توحید کے لیے یہ ایک اور دلیل ہے کیونکہ اگر عالم میں دو واجب الوجود ہوتے تو دونوں کو ہی منبع فیض ہونا چاہیئے تھا، کیونکہ ایک بےنہایت کامل وجود کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنی نور افشانی میں بخل کرے، کیونکہ وجود کامل کے لیے عدم فیض نقص ہے، اور اس کے حکیم ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ وہ سب کو اپنا فیض پہنچائے۔ اِس فیض کی دو شاخیں ہیں۔ (عالم خلقت میں) فیض تکوینی، اور (عالم ہدایت میں) فیض تشریعی۔ اس بناء پر اگر متعدد خدا ہوتے تو ضروری تھا کہ ان کی طرف سے بھی پیغمبر اور رسول آتے، اور ان کے فیض تشریعی سب کو پہنچاتے۔ حضرت علی علیہ السلام اپنے فرزند گرامی امامِ مجتبٰی علیہ السلام کے وصیت نامہ میں فرماتے ہیں: "و اعلم یا بنی انہ لو کان لربک شریک لاتتک رسلہ و لرأیت اٰثار ملکہ و سلطانہ، و لعرفت افعالہ و صفاتہ، و لکنہ الہ واحد کما وصف نفسہ۔" "اے بیٹا! جان لو کہ اگر تیرے پروردگار کا کوئی شریک ہوتا تو اس کے بھیجے ہوئے نمائندے تیرے پاس آتے، اور تو اس کے ملک و سلطنت کے آثار کا بھی مشاہدہ کرتا، اور تو اس کی صفات و افعال سے بھی آشنا ہوتا، لیکن وہ ایک اکیلا معبود ہے، جیسا کہ خود اس نے اپنی توصیف فرمائی ہے۔ (بحوالہ: "نہج البلاغة" وصیت امام مجتبٰی (حصہ خطوط و خط ۳۱)۔ یہ سب اس کی ذات کی یکتائی کے دلائل ہیں۔ باقی رہا اس کی ذات پاک میں ہر قسم کی ترکیب و اجزاء کے نہ ہونے کی دلیل تو وہ روشن و واضح ہے کیونکہ اگر اس کے لیے اجزائے خارجیہ ہوں تو طبعاَ وہ ان کا محتاج ہو گا، اور واجب الوجود کے لیے محتاج ہونا معقول نہیں ہے۔ اور اگر "اجزائے عقیلہ" (ماہیت و وجود یا جنس و فصل کی ترکیبب) مُراد ہو، تو وہ بھی محال ہے، کیونکہ ماہیت و وجود سے ترکیب اس کے محدود ہونے کی فرع ہے۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ اس کا وجود غیر محدود ہے، اور جنس و فصل کی ترکیب ماہیت رکھنے کی فرع ہے، لیکن وہ ذات جس کی کوئی ماہیت نہیں ہے، اس کی جنس و فصل بھی نہیں ہے۔

٢۔ توحید کی اقسام

عام طور پر توحید کی چار اقسام بیان کی جاتی ہیں: ۱۔ توحید ذات: (جس کی اُوپر تشریح کی گئی ہے)۔ ۲۔ توحید صفات: یعنی اس کی صفات اس کی ذات سے الگ نہیں ہے اور ایک دوسرے سے بھی جدا نہیں ہے، مثلاَ ہمارا "علم" و "قدرت" دو الگ الگ صفات ہیں جو ہماری ذات پر عارض ہیں، ہماری ذات ایک الگ چیز ہے اور ہمارا علم و قدرت دوسری چیزیں ہیں جیسا کہ "علم" و "قدرت" بھی ہم میں ایک دوسرے سے جدا ہے۔ ہمارے علم کا مرکز ہماری روح ہے، جب کہ ہماری قدرت جسمانی کا مرکز ہمارے بازو اور عضلات ہیں لیکن خدا میں نہ اس کی صفات اس کی ذات پر زائد ہیں اور نہ ہی وہ ایک دوسرے سے جدا ہیں بلکہ وہ ایک ایسا وجود ہے جو سارا کا سارا علم ہے، سارا کا سارا قدرت ہے اور سب کا سب ازلیت و ابدیت ہے۔ اگر اس کے علاوہ صورت ہو تو اس کا لازمہ ترکیب ہے اور اگر وُہ مرکب ہو گا تو اجزاء کا محتاج ہو گا، اور محتاج چیز ہرگز واجب الوجود نہیں ہوتی۔ ۳۔ تو حید افعالی: یعنی ہر وجود، ہر حرکت، اور ہر حرکت جو دنیا میں ہو رہی ہے اس کی بازگشت خدا کی پاک ذات کی طرف ہے، وہی مسبب الاسباب ہے اور اس کی پاک ذات ہی علت العلل ہے، یہاں تک کہ وہ افعال بھی جو ہم سے سرزد ہوتے ہیں ایک معنی میں اسی کے افعال ہیں، چونکہ اسی نے ہمیں قدرت و اختیار اور ارادہ کی آزادی فرمائی ہے۔ اس بناء پر ہم اپنے افعال کے فاعل اور ان کے مقابلہ میں مسئول و جواب دہ ہونے کے باوجود ایک لحاظ سے فاعل خدا ہی ہے، کیونکہ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے وہ سب اسی کی طرف سے ہے۔ (لا مؤثر فی الوجود الّا اللہ) (عالم وجود میں خدا کے سوا کوئی مؤثر نہیں ہے)۔ ۴۔ توحید در عبادت: یعنی صرف اس کی عبادت کرنا چاہیئے اور اس کا غیر لائق عبادت نہیں ہے، کیونکہ عبادت ایسی ذات کی ہونا چاہیئے جو کمال مطلق اور مطلق کمال ہے، جو سب سے بےنیاز اور تمام نعمتوں کا بخشنے والا، اور تمام موجودات کا پیدا کرنے والا ہے، اور یہ صفات اس کی پاک ذات کے سوا کسی میں جمع نہیں ہو سکتیں۔ عبادت کا اصلی مقصد اس کمال مطلق اور بےپایاں ہستی کا قرب حاصل کرنا اور اس کی صفات جمال و کمال کو اپنی رُوح کے اندر منعکس کرنا ہے، جس کا نتیجہ ہوا و ہوس سے دوری اور تہذیب نفس اور خود سازی کی طرف رُخ کرنا ہے۔ یہ ہدف اور مقصد "اللہ" کی عبادت کے بغیر، جو وہی کمال مطلق ہے، امکان پذیر نہیں ہے۔

۳ ۔توحید افعالی کی 6 اقسام

"پھر توحید افعالی کی بھی بہت سی اقسام ہیں جن میں سے ہم یہاں چھ اہم ترین اقسام کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ۱۔ توحید خالقیت: جیسا کہ قرآن کہتا ہے: قُلِ اللّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ: "کہہ دیجئے خدا ہی ہر چیز کا خالق ہے"(رعد ۔۱۶)۔ اس کی دلیل بھی واضح ہے، جب گزشتہ دلائل سے ثابت ہو گیا کہ واجب الوجود ایک ہی ہے اور اس کے علاوہ ہر چیز ممکن الوجود ہے تو اس بناء پر تمام موجودات کا خالق بھی ایک ہی ہو گا۔ ۲۔ توحید ربوبیّت: یعنی عالم ہستی کا مدبر و مدیر، مربی اور اس کا نظام بخش صرف خدا ہے، جیسا کہ قرآن کہتا ہے:۔ قُلْ أَغَيْرَ اللّهِ أَبْغِي رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ" کہہ دیجئے کیا میں خدا کے سوا کسی اور کو اپنا پروردگار مان لوں حالانکہ ہر چیز کا پروردگار وہی ہے"؟ (انعام ۔۱۶۴)۔ اس کی دلیل بھی واجب الوجود کی وحدت اور عالم ہستی میں خالق کی توحید ہے۔ ۳۔ توحید تشریع و قانون گزاری: جیسا کہ قرآن کہتا ہے: وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ: "جو شخص اس کے مطابق حکم نہیں کرتا، جو خدا نے نازل کیا ہے، وہ کافر ہے۔" (مائدہ ۔۴۴)۔ کیونکہ جب ہم نے یہ ثابت کر دیا کہ مدبر و مدیر وہی ہے، جو مسلّمہ طور پر اس کے غیر میں قانون گزاری کی صلاحیت نہیں ہو سکتی، کیونکہ اس کے غیر کا تدبیر عالم میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ لہٰذا وہ نظام تکوین سے ہم آہنگ قوانین وضع نہیں کر سکتا۔ ۴۔ توحید در مالکیت: چاہے "حقیقی ما لکیت" ہو، یعنی کسی چیز پر تکوینی تسلط، یا "حقوقی مالکیت" ہو، یعنی کسی چیز پر قانونی تسلط، یہ سب اسی کے لیے ہیں جیسا کہ قرآن کہتا ہے: "وَلِلّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ"، "آسمانوں اور زمین کی مالکیت حاکیمیت خدا ہی کے ساتھ مخصوص ہے۔ (آل عمران ۔۱۸۹)۔ اور یہ بھی فرماتا ہے: "وَأَنفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُم مُّسْتَخْلَفِينَ فِيهِ"، "خدا نے جن اموال میں تمہیں اپنا نمایندہ قرار دیا ہے، ان میں سے (راہ خدا) میں خرچ کرو۔" (حدید ۔۷)۔ اس کی دلیل بھی وہی توحید در خالقیت ہے۔ جب تمام اشیاء کا خالق وہی ہے، تو طبعاَ تمام چیزوں کی مالک بھی اسی کی ذات مقدس ہے، اس بناء پر ہر ملکیت کا سرچشمہ اسی کی مالکیت کو ہونا چاہیئے۔ ۵۔ توحید حاکیمیت: یقیناً انسانی معاشرہ حکومت کا محتاج ہے، کیونکہ اجتماعی زندگی حکومت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ذمہ داریوں کی تقسیم، پروگراموں کی تنظیم، مدیریتوں کا اجراء اور تجاوذات کو روکنا، صرف حکومت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ایک طرف تو انسانوں کی اصل آزادی یہ کہتی ہے کہ کوئی شخص کسی شخص پر حق حکومت نہیں رکھتا مگر جسے اصل مالک اور حاکم حقیقی اجازت دے، اور یہی وجہ ہے کہ ہم ہر اس حکومت کو جو حکومت الٰہی پر منتہی نہیں ہوتی مردُود سمجھتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ہم حکومت کی مشروعیت کو صرف پیغمبرؐ کے بعد ائمہ معصومین کے لیے اور ان کے بعد فقیہ جامع الشرائط کے لیے جانتے ہیں۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ لوگ کسی کو یہ اجازت دے دیں کہ وہ ان پر حکومت کرے، لیکن چونکہ پورے معاشرے کے تمام افراد کا اتفاق عادتاَ ممکن نہیں ہے، لہٰذا عملی طور پر اس قسم کی حکومت ممکن نہیں ہے۔ (تشریحی نوٹ: اس بناء پر اگر کوئی حکومت عوام اور اکثریت کی رائے سے معین ہو تو ضروری ہے کہ وہ فقیہ جامع الشرائط کے ذریعے نافذ ہو، تاکہ وہ مشروعیت الہٰیہ پیدا کر سکے)۔ البتہ اس بات کو نہیں بھولنا چاہیئے کہ توحید ربوبیت عالم تکوین کے ساتھ مربوط ہے اور توحید قانون گزاری و حکومت کا تعلق عالم تشریع کے ساتھ ہے۔ قرآن مجید کہتا ہے: "إِنِ الْحُكْمُ إِلاَّ لِلّهِ": "حکم اور حکومت کرنا صرف خدا کے لیے ہے۔" (انعام ۔۵۷)۔ ۶۔ توحید اطاعت: یعنی جہان میں واجب الاطاعت ہونے کا مقام صرف خدا کی ذات پاک کے لیے ہے اور ہر دوسرے مقام کی اطاعت کی مشروعیت کا سرچشمہ یہیں سے ہونا چاہیئے، یعنی اس کی اطاعت بھی خدا ہی کی اطاعت شمار ہو گی۔ اس کی دلیل بھی واضح ہے۔ جب حاکمیت اسی کے ساتھ مخصوص ہے، تو مطاع ہونا بھی اسی کے ساتھ مخصوص ہے۔ اسی لیے ہم انبیاء کی اطاعت، ائمہ معصومین کی اطاعت اور ان کے جانشینوں کی اطاعت کو بھی خدا ہی کی اطاعت کا پر تو شمار کرتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الْأَمْرِ مِنكُمْ: "اے ایمان لانے والو! خدا کی اطاعت کرو اور رسول کی اور صاحبانِ امر (ائمہ معصومین) کی اطاعت کرو۔ (نساء ۵۹)۔ البتہ اُوپر والے مباحث میں سے ہر ایک کے لیے بہت ہی زیادہ شرح و بسط کی ضرورت ہے اور ہم نے اس بناء پر کہ ہم بحث تفسیری سے خارج نہ ہو جائیں، انہیں اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے۔ خداوندا! ہمیں ساری عمر توحید کے راستہ پر ثابت قدم رکھ ۔ پروردگار! شرک کی شاخیں بھی توحید کی شاخوں کی طرح بہت زیادہ ہیں، اور تیرے لطف کے بغیر شرک سے نجات ممکن نہیں ہے۔ تو ہمیں اپنے لطف کا مشمول قرار دے۔ بارالہا! ہمیں توحید کے ساتھ زندہ رکھنا اور توحید کے ساتھ ہی ہمیں موت دینا، اور حقیقت توحید کے ساتھ ہمیں محشور کرنا۔ آمین یا ربّ العالمین۔

end of chapter