Luqman
سورہ لقمان
یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۳۴ آیات ہیں
سورہ لقمان کے مضامین
مفسرین کے درمیان مشہور یہ ہے کہ یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا۔ البتہ بعض علماء نے اس کی چند آیات کے مکی ہونے کا انکار کیا ہے۔ مثلاً شیخ طوسی نے تفسیر تبیان میں اس کی چوتھی آیت جو نماز اور زکات کے بارے میں ہے یا فخر الدین رازی نے اس چوتھی آیت کے علاوہ، ستائیسویں آیت کو بھی مستثنیٰ کیا ہے۔ یہ آیت خداوند عالم کے وسیع علم کے بارے میں بحث کرتی ہے۔ لیکن اس قسم کے استثناء کی کوئی واضح دلیل نہیں ملتی۔ کیونکہ نماز اور (اپنے کلی مفہوم کے لحاظ سے) زکوة مکہ میں بھی موجود تھیں اور خداوند عالم کے وسعت علم کی حقیقت بھی کوئی ایسی چیز نہیں جس سے یہ پتہ چلے کہ یہ آیت مدنی ہے۔ اسی بناء پر سورہ لقمان مکی ہونے کے لحاظ سے دوسری مکی سورتوں کے مضامین پر مشتمل ہے اور اس میں بھی اسلام کے بنیادی عقائد مثلاً "مبدء" و "معاد" اور "نبوت" کے سلسلہ میں بحث کی گئی ہے۔ بطور کلی اس سورة کے مضامین پانچ حصّوں میں تقسیم کیے جا سکتے ہیں: پہلے حصّہ میں حروف مقطعات کے ذکر کے بعد عظمت قرآن اور خاص صفات کے حامل مومنین کے لیے قرآن کا ہدایت اور رحمت ہونے کا اشارہ ملتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں ایسے لوگوں کے بارے میں بھی گفتگو موجود ہے جو ان آیات کے بارے میں سختی اور ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہیں اور جنھیں قرآن نے بہروں سے تشبیہ دی ہے۔ اور ایسے لوگوں کی مذمت کی گئی ہے جو اپنی غلط سرگرمیوں کی بدولت لوگوں کو قرآن سے منحرف کرتے رہتے ہیں۔ دوسرے حصّہ میں آسمانوں کی تخلیق اور انھیں بغیر کسی ستون کے برقرار رکھنے اور زمین میں پہاڑ پیدا کرنے، مختلف جانور معرض وجود میں لانے، بارش نازل کرنے اور بناتات وغیرہ اگانے کا تذکرہ ہے۔ تیسرے حصّہ میں خلاق عالم کی صفات اور قدرت کی مناسبت سے حضرت لقمان کے کچھ حکمت آمیز ارشادات کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ نصیحتیں اس مرد خدا نے اپنے فرزند سے کیں۔ چنانچہ ان نصائح میں توحید کے تذکرے اور شرک کے ساتھ محاذ آرائی کی منزل سے لے کر ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے، امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ بجا لانے، سخت قسم کے حوادث کے مقابلہ میں صبر و شکیبائی کا مظاہرہ کرنے، لوگوں کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آنے، تواضع اور فروتنی اختیار کرنے اور تمام امور میں اعتدال پیدا کرنے کا حکم موجود ہے۔ چوتھے حصّہ میں ایک بار پھر توحید کے دلائل پیش کئے گئے اور آسمان و زمین کی تسخیر اور خداوند عالم کی وافر نعمتوں کا تذکرہ ہے۔ اس میں ایسے بت پرستوں کی منطق کی مذّمت کی گئی ہے جو صرف اپنے بڑوں کی تقلید میں گمراہی کی وادی میں سرگردان ہیں اور انہی سے خداوند عالم کے خلاقیت کا اقرار لینے کا ذکر ہے جو عبودیت کی بنیاد اور اساس ہے۔ نیز اس سلسلے میں قرآن اسی حصّہ میں خداوند عالم کے وسیع اور غیر متناہی علم سے ایک واضح مثال کے ذریعہ پردہ اٹھاتا ہے اور اسی سلسلے میں کائنات کی آفاتی نشانیوں کے علاوہ، توحید فطری کا بھی ذکر موجود ہے جس کی تجلی انسان کے امواج بلا میں گرفتار ہونے کے وقت ہوتی ہے اور اس بارے میں یہاں نہایت عمدہ پیرائے میں بحث کی گئی ہے۔ پانچویں حصّہ میں معاد اور موت کے بعد زندگی کی طرف مختصر لیکن دل ہلا دینے والا اشارہ موجود ہے جو خبردار کر رہا ہے اس دنیاوی زندگی پر مغرور نہیں ہونا چاہیے، بلکہ آخرت کی سرائے جاودانی کی فکر میں رہنا چاہیے۔ یہاں پر پروردگار عالم کے علم غیب کے اس حصّے کو بیان کیا گیا ہے جو انسان کے جملہ امور سے متعلق ہے۔ ان امور میں سے انسان کی موت کا لمحہ ہے اور وہ بچہ بھی جو ابھی شکم مادر میں ہے۔ خدا ان سب کیفیات سے باخبر ہے۔ اسی مطلب پر یہ سورہ پایہٴ تکمیل کو پہنچ جاتا ہے۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ اس کو "سورہ لقمان" سے موسوم کرنے کی وجہ وہی اہم اور پر مغز گفتگو ہے جو حضرت لقمان کی نصیحتوں پر مشتمل ہے اور یہ واحد سورہ ہے جس میں اس مرد دانا کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے۔
سورہ لقمان کی فضیلت:
اس سورہ کی فضیلت میں بہت سی روایات پیغمبر اسلام صلی الله علیہ و آلہ وسلّم اور آئمہ اہلبیت علیہم السلام سے نقل ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ حدیث پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم سے مروی ہے: "من قرء سورة لقمان، کان لقمان لہ رفیقا یوم القیامة، واعطی من الحسنات عشراً بعدد من عمل بالمعروف وعمل بالمنکر" "جو شخص سورہٴ لقمان پڑھے، حضرت لقمان قیامت میں اس کے رفقیق اور دوست ہوں گے اور جن لوگوں نے نیک یا بد اعمال انجام دئے ہیں (امر بالمعروف اور نہی از منکر کے حکم کے بعد) ان کی تعداد کے مطابق دس گنا نیکیاں اسے دی جائیں گی"۔ (بحوالہ: مجمع البیان، ج۸ ص۳۱۲)۔ ایک اور حدیث میں حضرت محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے: "من قرء سورة لقمان فی لیلة وکّل اللّٰہ بہ لیلتہ ثلاثین ملکاً یحفظونہ من ابلیس وجنودہ حتی یصبح فاذا قرئھا بالنھار کل لم یزالوا یحفظونہ من ابلیس وجنودہ حتی یمسی" "جو شخص رات کو سورہٴ لقمان کی تلاوت کرے تو خداوند عالم تیس فرشتوں کو اس کی حفاظت کے لیے صبح تک شیطان اور اس کے لشکر کے مقابلہ کے لیے مامور کر دیتا ہے۔ اور اگر دن کو اس کی تلاوت کرے تو یہ تیس فرشتے غروب آفتاب تک شیطان اور اس کے لشکر سے اس کی حفاظت کرتے ہیں"۔ (بحوالہ: نور الثقلین، ج۴، ص۱۹۳)۔ ہم بارہا عرض کر چکے ہیں اور اب بھی یہی کہتے ہیں کہ قر آن مجید کی ایک سورت پڑھنے کے اس قدر فضائل، اس قدر ثواب اور اعزاز اس بناء پر ہیں کہ چونکہ تلاوت، فکر و نظر اور غور و فکر کا پیش خیمہ ہوتی ہے اور غور و فکر عمل کرنے کا مقدمہ ہے۔ ورنہ محض زبانی فرفر پڑھ لینے سے ان تمام فضیلتوں کی توقع نہیں رکھنا چاہیے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر نیکو کار کون لوگ ہیں؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 5یہ سورہ قرآن مجید کی عظمت و اہمیّت کے ذکر کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور حروف مقطعات کا اس کی ابتداء میں ہونا بھی اس حقیقت کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ یہ آیات جو الف باء جیسے سادہ سے حروف سے مرکب ہیں اس قسم کے عظیم اور اعلیٰ مضامین کی حامل بھی ہیں جو انسانوں کی تقدیر یکسر بدل کر رکھ دیتی ہیں: (الم)۔ لہٰذا حروف مقطعات کے ذکر کے بعد ارشاد ہوتا ہے۔ "یہ کتاب حکیم کی آیات ہیں" : (تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْحَكِيمِ)۔ "تلک" عربی زبان میں دور کے اشارے کے لیے آتا ہے اور جیسا کہ ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ یہ تعبیر خاص طور پر ان آیات کی عظمت و اہمیّت پر دلالت کر رہی ہے۔ گویا یہ آیات آسمان کی سی بلندی اور نہایت ارفع مقام حامل ہیں۔ "کتاب" کو "حکیم" کے ساتھ موصوف کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یا تو اس کے مندرجات کا استحکام ہے کیونکہ باطل ہرگز اس تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔ اور ہر قسم کی خرافات اور بیہودگی اس سے دور ہے۔ یہ کتاب سوائے حق کے کوئی بات نہیں کہتی اور راہ حق کے علاوہ، کسی چیز کی دعوت نہیں دیتی۔ ٹھیک "لَھْوَ الْحَدِیثِ" (لغو اور بیہودہ باتوں) کے مقابلے میں ہے جس کا ذکر بعد میں آئے گا۔ یا پھر اس معنی میں ہے کہ یہ قرآن ایک دانشمند اور حکیم و دانا عالم کی طرح ہے جو خاموش رہ کر بھی بہ ہزار زبان گفتگو کرتا ہے، تعلیم دیتا ہے، پند و نصیحت کرتا ہے، تشویق و ترغیب و دلاتا ہے، عذاب سے ڈراتا ہے اور عبرت انگیز داستانیں بیان کرتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ ہر لحاظ سے حکمت سے لبریز ہے۔ اور یہ آغاز حضرت "لقمان حکیم" کی باتوں سے براہ راست مناسبت رکھتا ہے جن کا اس سورہ میں تذکرہ ہے۔ البتہ اس میں کوئی حرج نہیں مذکورہ بالا آیت میں"حکمت" کے دونوں معانی مراد لیے جائیں۔ بعد والی آیت نزول قرآن کا اصلی مقصد یوں بیان کرتی ہے"یہ کتاب حکیم نیکوکاروں کے لیے سبب ہدایت و رحمت ہے" (هُدًى وَرَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِينَ)۔ "ہدایت" درحقیقت، مقدمہ اور تمہید ہے "رحمت پروردگار" کے لیے کیونکہ انسان پہلے نور قرآن کی روشنی میں حقیقت کو معلوم کرتا ہے اور اس پر عقیدہ رکھتا ہے اور اسے اپنے عمل کا پیش خیمہ بناتا ہے اس کے بعد اپنے پروردگار کی وسیع رحمت اور بےانتہا نعمتوں کا حقدار بنتا ہے۔ یہاں پر یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اس آیہ میں قرآن مجید کو "محسنین" کے لیے ہدایت اور رحمت کا سبب شمار کیا گیا ہے اور سورہ نمل کی ابتدا میں "متقین" کے لیے سبب ہدایت ذکر کیا گیا ہے: (هُدًى وَبُشْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ) اور سورہ بقرہ کی ابتدا میں"متقین" کے لیے سبب ہدایت ذکر کیا گیا ہے: (هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ) ہو سکتا ہے کہ یہ مختلف تعبیریں اس لیے ہوں کہ تقویٰ اور پرہیزگاری کے بغیر حقائق کو قبول اور تسلیم کرنے کی روح انسان میں بیداری نہیں ہوتی اور نہ ہی طبیعی طور پر کوئی ہدایت کارگر ثابت ہوتی ہے۔ اور اگر حق کو قبول کرنے کے اس مرحلہ سے گزر جائیں اور ایمان کا مرحلہ آ جائے تو پھر ہدایت کے علاوہ، نعمات خداوندی کی بشارت بھی موجود ہو گی۔ اور اگر ایمان اور تقویٰ کے مراحل سے گزر کر عمل صالح کی حد تک جا پہنچیں تو وہاں رحمت خدا میں بھی اضافہ ہو گا۔ اسی بناء پر اوپر والی تین آیات بندگان خدا کے تدریحی کمال اور ارتقائی مراحل میں سے سلسلہ وارتین مراحل کو بیان کرتی ہیں۔ حق کو قبول کرنے کا مرحلہ، ایمان کا مرحلہ اور عمل صالح کا مرحلہ۔ اور قرآن ان تینوں مراحل میں بالترتیب "ہدایت" بشارت "رحمت" کا سرمایہ ہے(غور کیجئے)۔ بعد والی آیت محسنین کو تین اوصاف کے ساتھ متصف کرتے ہوئے کہتی ہے "وہ ایسے لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰة ادا کرتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں": (الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُم بِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ)۔ ان کا خالق کے ساتھ نماز کے ذریعہ اور مخلوق کے ساتھ زکوٰة کے ذریعے اٹوٹ رابطہ ہے اور قیامت کی عدالت کے بارے میں یقین ان کا قوی سبب ہے کہ وہ گناہ سے پرہیز اور فرائض کو ادا کرتے ہیں۔ اور محل بحث آخری آیت میں "محسنین" کی عاقبت اور انجام کار کو اس طرح بیان کرتا ہے کہ "وہ اپنے پروردگار کے طریق ہدایت پر ہیں اور وہی رستگاری اور فلاح پانے والے ہیں": (أُوْلَئِكَ عَلَى هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ وَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ)۔ "أُوْلَئِكَ عَلَى هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ" کا جملہ ایک طرف تو اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ پروردگار ان کی ہدایت کا ضامن ہے اور دوسری طرف "علیٰ" کی تعبیر اس بات کی دلیل ہے کہ گویا ہدایت ان کے لیے ایک را ہوار اور مرکب ہے اور وہ اس پر سوار ہو کر مکمّل طور پر اسی پر مسلّط ہیں۔ اور یہاں پر اس "ہدایت" کا فرق اس ہدایت سے جو اس سورہ کے آغاز میں آئی ہے، واضح ہو جاتا ہے کیونکہ پہلی ہدایت حق کے قبول کرنے کی آمادگی ہے اور یہاں پر بیان شدہ ہدایت مقصد تک پہنچنے کا سرنامہ ہے۔ یاد ر ہے کہ "أُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ" کا جملہ جو عربی ادب کے مطابق حصر کی دلیل ہے اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ نجات اور فلاح کی راہ بس یہی ہے یعنی نیک لوگوں کی راہ، ان کی راہ جو خدا اور خلق خدا کے ساتھ قریبی رابطہ رکھتے ہیں، اور ان کی راہ جو مبداء اور معاد پر کامل ایمان رکھتے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 5بعض مفسرین کہتے ہیں کہ زیر بحث پہلی آیات "نضر بن حارث" کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، جو ایک تاجر شخص تھا اور تجارت کی عرض سے ایران کا سفر کیا کرتا تھا اور ساتھ ہی ایرانیوں کی داستانیں قریش کے سامنے بیان کیا کرتا تھا۔ اور کہتا تھا کہ اگر محمد (ص) تمھارے سامنے عاد و ثمودکی داستانیں بیان کرتا ہے تو میں تمھیں رستم اور اسفند یار کے قصے کہانیاں اور کسریٰ اور سلاطین عجم کی خبریں سناتا ہوں۔ چنانچہ وہ اس کے گرد بیٹھ جاتے اور قرآن کو چھوڑ کر اس کی داستانوں کو خوب غور اور کان لگا کر سنتے تھے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ حصّہ اس کے شخص کے بارے میں نازل ہوا ہے جس نے ایک گویّا لونڈی خرید رکھی تھی جو وہ دن رات گانے گا گا کر اسے یاد خدا سے غافل رکھتی تھی۔ عظیم مفسر طبرسی مرحوم اس شان نزول کو ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ وہ حدیث جو پیغمبر اسلام صلی الله علیہ و آلہ وسلّم سے اس سلسلے میں نقل ہوئی ہے وہ اس نظریے کی تائید کرتی ہے کیونکہ آنحضرت فرماتے ہیں: "لایحل تعلیم المغنیات ولابیعھن، واثمانھن حرام وقد نزل تصدیق ذلک فی کتاب الله "وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْتَرِی لَھْوَ الْحَدِیثِ ۔۔۔۔ " گانے والی کنیزوں کو تعلیم دنیا اور ان کی خرید و فروخت کرنا اور اس طریقہ سے حاصل کی ہوئی آمدنی سب کچھ حرام ہے اور یہ آیت اسی مطلب پر شاہد ہے: (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْتَرِی لَھْوَ الْحَدِیثِ ۔۔۔۔)۔
تفسیر: غنا شیاطین کے بڑے جالوں میں سے ایک جال ہے۔
ان آیات میں گفتگو اس گروہ کے بارے میں ہے جو "محسنین" اور "موٴمنین" کے گروہ کے بالکل مدمقابل قرار دیئے گئے جن کا ذکر گزشتہ آیات میں ہو چکا ہے۔ یہاں پر گفتگو ان لوگوں کے بارے میں ہے جو اپنے سرمائے کو بیہودہ اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے خرچ کرتے ہیں اور اپنے لیے دنیا و آخرت کی بدبختی مول لیتے ہیں۔ پہلے فرماتا ہے: "بعض لوگ وہ ہیں جو باطل اور بےہودہ باتیں خرید کرتے ہیں تاکہ خلق خدا کو جہالت اور نادانی کی بناء پر راہ خدا سے گمراہ کر دیں" (وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ)۔ "اور آیات خدا کا مذاق اڑاتے ہیں" (وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا)۔ (تشریحی نوٹ: "یتخذھا" کی ضمیر "آیات الکتاب" کی طرف لوٹ رہی ہے جس کا گزشتہ آیات میں ذکر ہو چکا ہے اور بعض مفسرین کا احتمال یہ ہے کہ یہ لفظ "سبیل" کی طرف لوٹتی ہے جو قرآن مجید میں کبھی مذکر اور کبھی موٴنث استعمال ہوا ہے)۔ اور آیت کے آخرمیں ارشاد فرماتا ہے: "ایسے لوگوں کے لیے رسواکن عذاب ہے" (أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ)۔ باطل اور بےہودہ باتوں کی خریداری یا تو اس طرح ہے کہ وہ واقعاً باطل اور خرافات سے بھرپور داستانیں پیسے دے کر حاصل کرتے ہیں جیسا کہ "نضر بن حارث" کا واقعہ بیان ہو چکا ہے۔ اور یا اس طرح سے ہے کہ لہو و لعب اور راگ و رنگ کی محفلیں گانے والی کنیزیں خرید کر منعقد کرتے ہیں جیسا کہ اسی آیت کے شان نزول کے ضمن میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کی حدیث بیان ہو چکی ہے۔ یا وہ مال و دولت کو اس طرح خرچ کرتے ہیں کہ چاہے کچھ ہو جائے وہ اس غیرشرعی مقصد یعنی باطل اور بےہودہ باتوں تک رسائی ضرور حاصل کر لیں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ دل کے اندھے باطل اور لغویات کو تو گراں ترین قیمت ادا کر کے بھی خرید لیتے ہیں لیکن آیات الٰہی اور حکمت سے بھر پور اقوال جو خداوندعالم نے بلا قیمت انھیں دیئے ہیں، اُن کی پرواہ تک نہیں کرتے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ یہاں پر (اشتراء) یعنی خریداری کو کنایہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہو جس سے مراد اس مقصد تک پہنچنے کے لیے ہر قسم کی سعی و کوشش ہے۔ لیکن "لھوالحدیث" کا ایک وسیع مفہوم ہے جو ہر قسم کی باتوں یا سرگرم رکھنے اور غافل کر نے والی راگ و رنگ کی سُروں اور آہنگوں کو بھی شامل ہے جو انسان کو بےہودگی یا برائی کی طرف کھینچ کر لے جاتی ہیں۔ چائے وہ غنا ہو، گانا ہو، شہوت انگیز و ہوس آلود لحن اور آہنگیں ہوں یا ایسی تقریریں اور تحریریں آہنگ و طرزکے لحاظ سے نہیں بلکہ اپنے مفہوم و مطالب کے لحاظ سے انسان کو برائیوں کی طرف کھیچ کر لے جائیں۔ یا دونوں طریقوں سے جیسا کہ عام گانے والوں کی تصنیفات اور عشقیہ اشعار ہوتے ہیں۔ اور ان کہ مضامین بھی گمراہ ہوتی ہیں اور آہنگین اور سریں بھی۔ یا وہ واہمات اور خرافات قصے کہانیوں اور داستانیں ہوتی ہیں جو لوگوں خدا کے مقرر کردہ "صراط مستقیم" سے انحراف کا سبب بنتی ہیں۔ یا تمسخر آمیز اور ہنسی مذاق پر مبنی باتیں جو حق کا مٹانے اور ایمان کی بنیادوں کو کمزور کرنے کے لیے پیش کی جاتی ہے۔ جیسا کہ ابوجہل اور اس کے احباب کے بارے میں ابھی بیان کر چکے ہیں کہ وہ قریش کی طرف منہ کر کے کہتا تھا: "آیا تم چاہتے ہو کہ تمھیں وہ "زقوّم" کھلاؤں جس سے محمد صلی الله علیہ و آلہ وسلّم تمھیں ڈراتے ہیں؟ "پھر وہ کسی کو بھیج کر"مکھن اور خرما" منگوا لیتا اور کہتا "یہ وہی زقوّم ہے" اور اس طرح سے وہ آیات الٰہی کا مذاق اڑاتا تھا۔ بہرحال، "لھوالحدیث" ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے جو ان تمام مذکورہ اشیاء اور امور کو شامل ہے۔ اور اگر اسلامی روایات اور مفسرین کے اقوال میں ان میں سے کسی ایک کو اختیار کیا جائے تو وہ ہرگز آیت کے مفہوم کے انحصار اور محدودیت کی دلیل نہیں ہے۔ جو احادیث اہل بیت اطہار علیہ اسلام سے ہم تک پہنچی ہیں ان میں ایسی تعبیریں نظر آتی ہیں جو اس لفظ کے مفہوم کی وسعت کو بیان کرتی ہیں، منجملہ ان کے حضرات امام صادق علیہ اسلام کا ارشاد ہے: الغناء مجلس لاینظر اللہ الیٰ اٴھلہ، وھو مما قال الله عزّوجل "وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْتَرِی لَھْوَ الْحَدِیثِ لیضل عن سبیل اللہ۔ غنا اور لہو و لعب کی محفل ایسی محفل ہے ایسی محفل ہے جس کے اہل پر خدا (اپنے لطف و کرم کی نگاہ نہیں ڈالتا۔ اور یہ اسی آیہ کا مصداق ہے کہ خداوند عزوجل فرماتا ہے بعض لوگ ایسے ہیں جو بیہودہ باتوں کو خرید کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو راہ خدا سے گمراہ کر دیں۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۱۲، ۲۲۸ (باب تحریم الغناء)۔ "الْحَدِیث لَھْوَ" کی بجائے "لَھْوَالْحَدِیث" کو بیان کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کا اصل مقصد تو وہی لہو و لعب ہے بات یا گفتگو تو اس تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے۔ "لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیلِ اللهِ" کا جملہ بھی ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے جو اعتقادات کے گمراہ کرنے کو بھی شامل ہے۔ جیسا کہ ابھی نضر بن حارث اور ابوجہل کی داستان میں بیان ہو چکا ہے۔ اور اخلاقی طور پر گمراہ کرنے کو بھی شامل ہے جیسا کہ کہ غنا کے بارے میں مذکور احادیث میں آیا ہے۔ "بِغَیْرِ عِلْمٍ" کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ گمراہ اور منحرف گروہ اپنے باطل مذہب پر بھی ایمان نہیں رکھتا بلکہ صرف جہالت اور اندھی تقلید کی وجہ سے دوسروں کی پیروی کرتے ہیں اور ایسے جاہل ہیں کہ دوسروں کو بھی اپنی جہالت اور نادانی میں پھنساتے ہیں۔ یہ اس صورت میں ہے اگر ہم "بِغَیْرِ عِلْم" کی تعبیر کو گمراہ کرنے والوں کی صفت قرار دیں۔ لیکن بغض مفسرین کا یہ احتمال بھی ہے کہ شاید "گمراہ ہونے والوں" کی صفت ہے۔ یعنی وہ جاہل اور بےخبر لوگوں کا لاشعوری طور پر وادی انحراف و باطل کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں۔ یہ بےخبر لوگ کبھی اس سے بھی آگے چلے جاتے ہیں یعنی وہ صرف ان فضولیات، کھیل کود، اور غافل کرنے والی حرکتوں پر ہی قانع نہیں ہوتے بلکہ اپنی فضول، لایعنی اور بےہودہ باتوں کو آیات الٰہی کے مذاق اور تمسخر کا ذریعہ قرار دیتے ہیں اور یہ وہی چیز ہے جس کی طرف اُوپر والی آیت کے آخر میں اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے "وَیَتَّخِذَھَا ھُزُوًا"۔ باقی رہا "عَذَابٌ" کو "مُھِین" (خوار اور رسوا کرنے والا) کے ساتھ موصوف کرنا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ سزا کو جرم کے مانند ہو جانا چاہیے۔ انھوں نے آیات الٰہی کی توہین کی تو خدا نے بھی ان کے لیے وہی سزا متعین کی ہے جو دردناک ہونے کے علاوہ، ذلّت آمیز بھی ہے۔ بعد والی آیت، آیات الٰہی کے مقابلہ میں اس گروہ کے ردعمل کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ درحقیقت، لہوالحدیث کے مقابلہ میں ان کے ردعمل کا ا ظہار کرتے ہوئے فرماتا ہے "جس وقت ان کے سامنے آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ متکبرانہ انداز میں منہ پھیر لیتا ہے گویا اس نے ہماری آیات کو سُنا ہی نہیں، گویا اس کے کان بہرے ہیں" اور وہ بالکل ہی کوئی بات نہیں سُنتا: (وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِ آيَاتُنَا وَلَّى مُسْتَكْبِرًا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا كَأَنَّ فِي أُذُنَيْهِ وَقْرًا)۔ اور آخرمیں اس شخص کی سزا اور دردناک عذاب کو اس طرح بیان کرتا ہے "اس کو دردناک عذاب کی خوشخبری دے دو" (فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ)۔ "ولیّٰ مستکبرًا" کی تعبیراس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اس کا روگردانی کرنا اس لیے نہیں ہو تاکہ اس کے دنیاوی مفادات اور ہوس رانی پر زو پڑ رہی ہوتی ہے بلکہ معاملہ تو اس سے بھی بالاتر ہے اور وہ یہ کہ خدا و آیات خدا کے مقابلہ میں استکبار و تکّبر جو عظیم ترین گناہ ہیں اس کے عمل میں موجود ہیں۔ توجہ طلب بات یہ ہے کہ پہلے تو یہ کہا ہے کہ "وہ اس طرح آیات الٰہی سے بےاعتنائی کرتے ہیں گویا انھیں سُنا ہی نہیں اور مکمل طور پر بےاعتنائی کے ساتھ ان کے قریب سے گزر جاتے ہیں" پھر مزید کہتا ہے کہ وہ نہ صرف یہ کہ ان آیات کو سنتا ہی نہیں بلکہ گویا بالکل بہرہ ہے اور کوئی بات نہیں سن پاتا۔ اس قسم کے افراد کی سزا بھی ان کے اعمال سے مطابقت رکھتی ہے کہ جس طرح ان کا عمل اہل حق کے لیے دردناک تھا خدا نے اس کی سزا بھی دردناک مقرر کی ہے کہ انھیں دردناک عذاب میں گرفتار کرے گا۔ اس نکتہ کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ "بشر" (خوشخبری دیدو) کی تعبیر خدا کے درد ناک عذاب کے سلسلہ میں ایسے مستکبرین کے کام کے شایان شان ہے جو آیات الٰہی کا مذاق اڑاتے اور ابوجہل جیسے افراد جو "زقوم جہنّم" کی "مکھن اور خرما" سے تفسیر کرتے تھے۔ بعد والی آیات میں سچے مومنین کے حالات کی تفصیل و تشریح کی طرف لوٹتا ہے کہ ابتداء میں جن کے ساتھ یہ تقابل شروع ہوا آخر میں اختتام بھی انھی پر کرتا ہے، فرماتا ہے: "جو لوگ ایمان لائے اور عمل صالح انجام دیا تو نعمت سے بھر پور جنّت کے باغات ان کے لئے ہیں" (إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَهُمْ جَنَّاتُ النَّعِيمِ)۔ جی ہاں! یہ گروہ مومناں، بے ایمان مستکبرین اور دل کے اندھوں کے بالکل بر عکس ہے جو نہ تو دنیا میں خدا کے آثار اور نشانیوں کو دیکھتے ہیں اور نہ ہی خدا کے پیغمبروں کے ارشادات کو دل کے کانوں سے سنتے ہیں بلکہ یہ مومن لوگ بیدار عقل و خرد اور چشم بینا ور گوش شنوا کے حکم جو خدا نے انھیں عطا فرمائے ہیں آیات الٰہی پر ایمان بھی لاتے ہیں اور اپنے اعمال صالحہ میں انھیں استعمال بھی کرتے ہیں۔ پھر مزے کی بات یہ ہے کہ وہ مستکبرین "عَذَاب الیم" کے اور یہ مومنین "جَنَّاتُ النَّعِیم" کے مستحق ہیں۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جنت کے یہ نعمتوں بھرے باغات ان کے لیے جاودانہ اور ہمیشہ کے لیے ہیں "ہمیشہ اسی میں رہیں گے" (خَالِدِینَ فِیھَا)۔ "خدا کا اٹل اور مسلّم وعدہ ہے جس کی خلاف وزری ہرگز نہیں ہو سکتی" (وَعْدَ اللهِ حَقًّا) خدا نہ تو جھوٹا وعدہ کرتا ہے اور نہ ہی وہ اپنے وعدہ کی وفائی سے عاجز ہے کیونکہ "وہ عزیز، صاحب قدرت اور حکیم و آگاہ ہے" (وَھُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ)۔ یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ مستکبرین کے بارے میں "عذاب" بصورت مفرد ذکر ہوا ہے اور صالح العمل مومنین کے بارے میں "جنات" کو جمع کی صورت میں بیان کیا ہے جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا کی رحمت ہمیشہ اس کے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔ خلود اور خدا کے وعدہ حق پر تاکید کرنا بھی "رحمت" کے "غضب" پر زیادہ ہونے کی تاکید ہے "نعیم" جو "نعمت" کے مادہ سے ہے ایک وسیع معنی رکھتا ہے جو ہر قسم کی مادی اور معنوی نعمتوں کو شامل ہے یہاں تک کہ ان نعمتوں کو بھی جو اس دنیا کے زندان بدن میں محبوس و مقید لوگوں کے لیے قابل ادراک ہیں۔ "راغب" اپنی کتاب "مفردات" میں کہتے ہیں کہ "نعیم" "بہت سی نعمتوں" کے معنی میں ہے (النعیم النعمة الکثیرة)۔
چند اہم نکات: ۱۔ غنا کی حرمت
اس میں شک نہیں کہ غنا (گانا) مشہور شیعہ علماء کی نظر میں حرام ہے اور اجماع و اتفاق کی حد تک شہرت رکھتا ہے۔ بہت سے علماء اہل سنّت بھی یہی عقیدہ رکھتے ہیں۔ اگرچہ کچھ لوگ استثناء کے بھی قائل ہوئے ہیں اور شاید ان میں سے بعض استثناء در حقیقت استثناء نہ ہوں بلکہ ان کا شمار غنا کے موضوع سے خارج ہو۔ (جیسے اصطلاح میں "تخصص" کے لحاظ سے خارج کہا جاتا ہے)۔ "قرطبی" زیر بحث آیات کے ذیل میں اس بارے میں یوں کہتے ہیں "بعض لوگوں کے درمیان جو غنا اور گانا معمول ہے وہ وہ ہے جب عورتوں کے بارے میں عشقیہ اشعار، ان کے حسن و جمال کی تعریف اور شراب و کباب اور دوسرے محرمات کا تذکرہ ہو۔ تو ایسی صورت میں تمام علماء اس کی حرمت پر متفق ہیں۔ کیونکہ یہ لہو و لعب اور غنائے مذموم کا مصداق ہے۔ لیکن اگر اُن امور سے خالی ہو تو اس کا کچھ حصہ عید اور شادی کے جشنوں میں جائز ہوتا ہے۔ اور اسی طرح مشکل کاموں کے انجام دینے کے وقت فرحت اور نشاط بخشنے کے لیے گاتے ہیں جیسا کے تاریخ اسلام میں خندق کھودنے کے سلسلہ میں ملتا ہے، یا جو اشعار "انجشہ" نے قافلوں کے مکہ کی طرف چلنے کہ وقت حجةالوداع کے موقعہ پر اونٹوں کے لیے پڑھے تھے۔ لیکن موجودہ زمانہ میں جو کچھ "صوفیا" کے درمیان معمول ہے کہ وہ اس سلسلہ میں انواع و اقسام کے آلات طرب اور نشاط استعمال کرتے ہیں، حرام ہے۔ (بحوالہ: تفسیر قرطبی، ج، صفحہ ٥۱٣۶)۔ قرطبی نے استثناء کی جو صورت بیان کی ہے مثلاً "حُدی خوانی" (مخصوص آواز میں گانا، جو اونٹوں کے چلاتے وقت گایا جاتا ہے) یا وہ مخصوص اشعار جو مسلمان خندق کھودتے وقت خاص طرز میں پڑھتے تھے۔ احتمال قوی یہ ہے کہ یہ نہ تو غنا کی جزء تھے اور نہ ہیں۔ اسی طرح وہ اشعار بھی غنا نہیں جو مخصوص آواز میں مذہبی جلسوں، جشنوں اور عزاداری کے موقع پر پڑھے جاتے ہیں۔ اسلامی مصادر کے لحاظ سے غنا کی حرمت پر ہمارے پاس بہت سے دلائل موجود ہیں جن میں سے ایک تو وہی اوپر والی آیت "وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ۔۔۔۔" ہے نیز اور بھی قرآنی آیات میں جو کم از کم ان روایات کی روسے جو ان آیات کی تفسیر میں وارد ہوئی ہیں غنا اور گانے کی حرمت پر دلالت کرتی ہیں۔ یا ان کی رو سے غنا اور گانا حرام ہوتا ہے۔ ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے: وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ (حج ۳۰) والی آیت کی تفسیر فرمایا: "قول الزور، الغنا"۔ "باطل بات، غنا ہی تو ہے (بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۱۴، ص۲۲۵ تا ۲۲۷ ۔۲۳۱ باب ۹۹ تحریم الغنا)۔ نیز آپ ہی نے آیہ وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّور۔ (فرقان ۔۷۲) کی تفسیر میں فرمایا: "اس سے مراد غنا ہے "((بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۱۴، ص۲۲۵ تا ۲۲۷ ۔۲۳۱ باب ۹۹ تحریم الغنا)۔) اور اسی زیر بحث آیت کی تفسیر میں متعدد روایات امام محمد باقر علیہ السلام امام جعفر صادق علیہ السلام اور امام علی رضا علیہ السلام سے منقول ہیں کہ "لھو الحدیث" کے مصداقوں میں سے ایک مصداق جو "عذاب مہین" کا سبب ہے غنا اور راگ رنگ بتایا گیا ہے (بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۱۴، ص۲۲۵ تا ۲۲۷ ۔۲۳۱ باب ۹۹ تحریم الغنا)۔ علاوہ ازیں، آیات کی تفسیر سے ہٹ کر اور بھی بہت سی روایات اسلامی کتابوں میں ملتی ہیں جو زور دار اندز میں غنا کی حرمت کو بیان کرتی ہیں۔ ایک حدیث جو جابربن عبداللہ انصاری نے پیغمبر اسلام صلی الله علیہ و آلہ وسلّم سے بیان کی ہے آپ فرماتے ہیں: "کان ابلیس اول من تغنی؛ شیطان وہ پہلا شخص ہے جس نے گانا گایا"۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۱۴، ص۲۲۵ تا ۲۲۷ ۔۲۳۱ باب ۹۹ تحریم الغنا)۔ ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے: "بیت الغناء لاتوٴمن فیہ الفجیعة، ولا تجاب فیہ الدعوة، و لایدخلہ الملک" "جس گھر میں گانا گایا جاتا ہو وہ موت اور مصائب و آلام سے محفوظ نہیں ہوتا اور نہ تو اس میں دعا قبول ہوتی ہے اور نہ ہی فرشتے داخل ہوتے ہیں"۔ (وسائل الشیعہ، جلد ۱۲، صفحہ ۲۲۵۔۲۳۰) ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام ہی فرماتے ہیں: "الغناء یورث النفاق و یعقب الفقر" "غنا روح نفاق کو پروان چڑھاتا اور فقر و فاقہ اور بدبختی وجود میں لاتا ہے"۔ (وسائل الشیعہ، جلد ۱۲، صفحہ ۲۲۵۔۲۳۰)۔ امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک حدیث منقول ہے جس میں آپ (علیهم السلام) نے گانے والی عورت اور جو شخص اسے اجرت دیتا ہے اور جو اس کی کمائی کھاتا ہے ان سب کو ملعون اور رحمت خدا سے دور لوگوں کے زمرے میں شمار فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: "المغنیة ملعونة، ومن اداھا ملعون، واٰکل کسبہا ملعون" (بحوالہ: سفینہ البحار جلد ۲ صفحہ ۳۳۸)۔ اہلسنت کے مشہور منابع میں بھی اس بارے میں متعدد روایات نقل ہوئی ہیں۔ منجملہ ان کے وہ روایت ہے جو "در منثور" میں محدّثین کی کثیر جماعت سے ابو امامہ کے ذریعہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ و آلہ وسلّم سے نقل ہوئی ہے۔ جس میں آپ فرماتے ہیں: "لا یحل تعلیم المغنیات ولا بیعہن و اثمانہن حرام"۔ "گانے والی عورتوں کو تعلیم دینا حلال نہیں ہے اور اسی طرح ان کنیزوں کی خرید و فروخت اور وہ چیز جو اس کے مقابلے میں لی جائے نیز حرام ہے"۔ (بحوالہ: در منشور ذیل آیہ زیر بحث) اس سے ملتے جلتے معانی کو موٴلف"التاج" نے ترمذی اور امام احمد سے نقل کیا ہے۔ ملاحضہ ہو، التاج جلد ۵ صفحہ ۲۸۷ "ابن مسعود" نے پیغمبر اسلام صلی الله علیہ و آلہ وسلّم سے نقل کیا ہے آپ نے فرمایا: "الغناء ینبت النفاق فی القلب کما ینبت الماء البقل" "غنا اور راگ رنگ، روح نفاق کو دل میں اس طرح پروان چڑھاتا ہے جس طرح پانی سبزہ جات کو"۔ (بحوالہ: تفسیر روح المعانی اسی آیہ کے ذیل میں)۔ مجموعی طور پر جو روایات اس بارے میں نقل ہوئی ہیں اس قدر زیادہ ہیں کہ تو اتر کی حد تک جا پہنچتی ہیں۔ اسی بنا پر اکثر علماء اسلام نے اس کی حرمت کا فتویٰ دیا ہے۔ علاوہ، شیعہ علماء کے جو تقریباً اس بارے میں متفق القول ہیں، اس کی حرمت ابوحنیفہ سے بھی منقول ہے۔ اور جس وقت اہلسنت کے مشہور امام، احمد سے غنا کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے جواب میں کہا: "ینبت النفاق" انسان کے اندر روح نفاق کو اگاتا ہے۔" اسی طرح اہل سنت کے ایک اور امام، مالک نے اسی سوال کے جواب میں فرمایا: "یفعلہ الفساق" فاسق لوگ ہی اس کے پیچھے جاتے ہیں" اور امام "شافعی" نے تو صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ: "گانے والوں کی شہادت (و گواہی) قابل قبول نہیں ہے اور یہ خود ان کے فسق کی دلیل ہے۔ شافعی کے اصحاب سے بھی نقل ہوا ہے کہ وہ اس بارے میں ان کا فتویٰ حرمت پر مبنی جانتے ہیں، برخلاف اس کے جو بعض لوگوں نے خیال کیا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر روح المعانی اسی آ یہ کے ذیل میں)۔
۲۔ غنا کیا ہے؟
حرمت غنا کے بارے میں تو چنداں مشکل نہیں، مشکل امر تو غنا کے موضوع کی تشخیص ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر اچھی اور خوبصورت آواز غناء ہے؟ یقیناً ایسا نہیں ہے! کیونکہ اسلامی روایات میں بھی ہے اور مسلمانوں کی سیرت بھی اسی بات کو بیان کرتی ہے کہ قرآن، اذان اور اس قسم کی دوسری چیزوں کو اچھی اور زیبا آواز سے پڑھنا چاہیے۔ کیا غنا ہر وہ آواز ہے جس میں"ترجیع ہو" (گلے میں آواز کی الٹ پھیر جسے اصطلاح میں آواز کا پھرنا یا گرگری مارنا کہا جاتا ہے)۔ یہ بھی ثابت نہیں۔ اس بارے میں جو کچھ فقہا اور اہل لغت کے بیانات سے مجموعی طور پر استفادہ کیا جا سکتا ہے یہ ہے کہ غنا، طرب انگیز آہنگوں، سرُوں، لہو اور باطل کو کہتے ہیں۔ زیادہ واضح الفاظ میں آہنگیں اور طرزیں ہیں جو فسق و فجور اور اہل گناہ و فساد کی محفلوں کے لائق اور شایان ہیں۔ غنا میں شامل ہیں۔ باالفاظ دیگر غنا اس آواز کو کہا جاتا ہے جو انسان کے اندر شہوانی طاقتوں کو ہیجان میں لائیں اور انسان اس حالت میں محسوس کرے کہ اگر اس آواز کے ساتھ ساتھ شراب اور جنسی لذات بھی ہو تو مکمل طور پر مناسب ہو گا۔ یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ کبھی ایک "آہنگ" و طرز خود بھی غنا، لہو اور باطل ہے، اور اس کے مشمولات اور مضامین بھی وہ اس لحاظ سے کہ عشقیہ اور فساد انگیز اشعار کو مطربانہ آہنگوں اور طرزوں کے ساتھ پڑھا جائے۔ اور کبھی صرف آہنگ و طرز غناء ہوتی ہے اس طرح سے اچھے مطالب پر مبنی اشعار یا قرآنی آیات، دُعا اور مناجات کو اس طرز کے ساتھ پڑھیں جو عیاش اور بد کار افراد کی محافل کے لایق ہوتی ہیں تو ان دونوں صورتوں میں حرام ہے۔ (غور کیجئے)۔ اس نکتہ کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کے بعض اوقات غناء کے دو معنی کئے جاتے ہیں "عام معنی" اور "خاص معنی" خاص معنی تو وہی ہے جو ہم اوپر بیان کر چکے ہیں یعنی شہوت کو بھڑکانے والی اور فسق و فجور کی محفلوں سے تعلق رکھنے والی آہنگیں، طرزیں اور سریں، لیکن اس کا عام معنی ہر قسم کی اچھی آواز ہے۔ لہٰذا جن لوگوں نے غنا کی عام معنی سے تفسیر کی ہے اس کی دو قسمیں کی ہیں، "حلال غنا" اور "حرام غنا"۔ حرام غنا سے مراد وہی ہے جو ہم اُوپر بیان اور حلال غنا سے مراد زیبا اور اچھی آواز ہے جو فساد انگیز بھی نا ہو اور فسق و فجور کی محفلوں سے بھی اس کا تعلق نہ ہو۔ تو اس بناء پر تقریباً اصل تحریم غنا میں کوئی اختلاف نہیں ہے صرف اس کی تفسیری نوعیت میں اختلاف ہے۔ البتہ (دوسرے مفاہیم کی طرح) غنا کے مشکوک مصداق بھی ہیں جہاں انسان واقعاً نہیں جان سکتا کہ فلاں آواز فسق و فجور کی محافل سے تعلق رکھتی ہے یا نہیں؟ تو اس صورت میں اصل برائت کے حکم کے تحت اس پر حلال ہونے کا حکم لگایا جائے، (البتہ تعریف بالا کے مطابق غنا کے عرفی مفہوم کو اچھی طرح سمجھنے کے بعد)۔ یہاں پر یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ حماسی (یعنی حربی آوازیں، طرزیں اور آہنگین جو جنگ یا ورزش وغیرہ کے میدان سے تعلق رکھتی ہیں) کی حرمت پر کوئی دلیل نہیں ملتی۔ البتہ غنا کے سلسلے میں کوئی ایک مباحث ہیں ازقبیل ان چند مستثنیات کے جن کے بعض علماء قائل نہیں ہیں، اسی طرح کئی اور مسائل جن کا تعلق فقہ سے ہے۔ آخری بات جس کا تذکرہ ہم یہاں پر ضروری سمجھتے ہیں یہ ہے کہ جو کچھ ہم نے اوپر لکھا ہے اس کا تعلق صرف اور صرف غنا اور گانے سے ہے، رہا موسیقی اور اس کے آیات کا استعال وہ ایک علیحدہ بحث ہے جو ہمارے اس موضوع سے باہر ہے۔
۳۔ حرمت غنا کا فلسفہ
"غنا" کے مفہوم میں ان شرائط کے ساتھ مکمل غور و خوض سے کہ جن کی تفصیل و تشریح بیان کر چکے ہیں، اس کی حرمت کا فلسفہ اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے۔ اگر اس میں تھوڑا سا بھی غور اور فکر سے کام کیا جائے تو اس کے مندرجہ ذیل مفاسد اور تباہکاروں کا پتہ چلتا ہے۔ الف: اخلاقی تباہکاریوں کی رغبت: تجربہ بتاتا ہے اور تجربہ ہی بہترین شاہد ہے کہ بہت سے افراد غنا اور راگ کی سروں اور طرزوں سے متاثر ہو کر تقویٰ اور پرہیرگاری کی راہ کو چھوڑ کر خواہشات نفسانیہ کی تکمیل کا رخ کر چکے ہیں۔ عام طور پر مجالس غنا انواع و اقسام کی خرابیوں کا مرکز ہیں اور جو چیز ان خرابیوں کو وسعت بخشتی ہے وہ غنا ہی ہے۔ بعض غیر ملکی اخبارات کی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ راگ اور رنگ کی کسی محفل میں جہاں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اکٹھا تھے وہاں پر غنا کی ایک ایسی طرز لگائی گئی کہ اس سے ان کے جذبات اس قدر بھڑک اٹھے کہ وہ بےقابو ہو کر ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑے اور اس قدر جنسی برائیوں کا ارتکاب کیا کہ قلم ان کے ذکر سے شرماتا ہے۔ تفسیر "روح المعانی" میں "بنی امیہ" کے کسی سردار سے یہ بات نقل کی گئی ہے کے اس نے امویوں سے کہا راگ رنگ اور گانے بجانے سے پرہیز کرو کیونکہ یہ شرم و حیا کو کم، شہوت میں اضافہ اور شخصیت کو بےآبرو کر دیتے ہیں، شراب کے جانشین ہیں اور وہی سب کچھ کر گزرتے ہیں جو مستی کرتی ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر روح المعانی جلد ۲۱ صفحہ۶۰)۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ راگ رنگ اس قدر بری چیزیں ہیں، انھیں یہ لوگ بھی سمجھ چکے تھے۔ اور اگر اسلامی روایات میں ہمیں بارہا یہ چیز نظر آتی ہے کہ غنا اور راگ دل میں روح نفاق کی پرورش کرتا ہے تو اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ روح نفاق وہی فساد سے آلودہ اور تقویٰ اور پرہیز گاری سے کنارہ کشی اختیار کرنے والی روح ہوتی ہے۔ نیز اگر روایات میں آیا ہے کہ جس گھر میں گانا گایا جاتا ہے فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے تو بھی اسی فساد کی آلودگی کی وجہ ہوتی ہے کیونکہ فرشتے خود پاک ہیں اور پاکیزہ چیزوں کے طالب ہوتے ہیں لہٰذا وہ اس قسم کے آلودہ ماحول سے بیزار ہوتے ہیں۔ ب: یاد خدا سے غفلت: بعض اسلامی روایات میں غنا کی تفسیر میں اسے "لہو" بھی کہا گیا ہے، تو یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ غنا انسان کو شہوات میں اس طرح مست کر دیتا ہے کہ وہ یاد خدا سے غافل ہو جاتا ہے۔ اُوپر والی روایات میں ابھی ہم پڑھ چکے ہیں کہ "لھو الحدیث "، "سبیل اللّٰہ" سے "ضلالت" گمراہی کا ایک عامل اور "عذاب الیم" کا موجب ہے۔ ایک حدیث میں حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں: کل ما الھیٰ عن ذکر اللہ فھو من المیسر؛ ہر وہ چیز جو انسان کو یاد خدا سے غافل (اور شہوات نفسانیہ میں داخل) کر دے وہ قمار یا جوئے کے حکم میں ہے۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۱۲، ص۲۳۵)۔ ج۔ اعصاب پر اس کے مضراثرات: غنا اور موسیقی درحقیقت، اعصابی نشے کے اہم عامل ہیں۔ دوسرے لفظوں میں منشیات کبھی تو منہ کے ذریعہ یا پینے کی وجہ سے انسان کے جسم میں داخل ہوتے ہیں (جیسے شراب ہے)۔ کبھی سونگھنے یا قوت شامّہ کے ذریعہ (جیسے ہیروئن ہے)۔ کبھی قوت انجکشن (Injecthon) کے ذریعہ (جیسے مارفین)۔ اور کبھی قوت سامعہ (کانوں) کے ذریعہ (جیسے راگ و رنگ اور غنا و گانا ہے۔ اسی بناء پر کبھی کبھی غنا اور اس کی مخصوص طرزیں انسان کو نشے میں اس قدر غرق کر دیتی ہیں کہ اس میں مستی ایسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے البتہ بعض اوقات اس مرحلے تک نہیں پہنچتا لیکن پھر بھی معمولی سا نشہ ضرور آ ہی جاتا ہے۔ اسی بناء پر غنا میں منشیات کے بہت سے مفاسد پائے جاتے ہیں چاہے وہ خفیف ہوں یا شدید مشہور موسیقی دانوں کے حالات زندگی کا اچھی طرح مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنی عمر کے دوران تدریجاً ایسی روحانی تکالیف اور پریشانیوں سے دوچار ہو جاتے ہیں کہ رفتہ رفتہ اپنے اعصاب کھو بیٹھتے ہیں بلکہ کچھ لوگ تو نفسیاتی بیماریوں میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں اور بعض لوگ اپنے عقل و شعور کو کھو بیٹھتے اور پھر دیار جنون کی طرف اس پار ہو جاتے ہیں۔ کچھ مفلوج، عاجز اور ناتواں ہو جاتے ہیں اور بعض تو موسیقی کے دوران ہی خون کے دباؤ (BLOOD PRESSURE) میں مبتلا ہو کر ناگہانی سکتے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ (بحوالہ: کتاب تاٴثیر موسیقی بر روان واعصاب، ص۲۶) بعض کتب جو انسانی اعصاب پر موسیقی کے مضر اثرات کے سلسلے میں لکھی گئی ہیں، ان میں موسیقی دانوں اور گلوکاروں کی ایک جماعت کے بارے میں آیا ہے کہ وہ اپنا پروگرام پیش کرتے ہوٴے حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے لقمہٴ اجل بن گئے۔ (بحوالہ: تاٴثیر موسیقی بر روان واعصاب، ص۹۲ اور مابعد)۔ خلاصہ یہ کہ اعصاب پر غنا اور موسیقی کے مضر اثرات، جنون کی پیدائش، خون کے دباؤ اور دوسری ناپسندیدہ تحریکات اس کثرت سے ہیں کہ ان پر زیادہ بحث کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ موجودہ دور میں اس قسم کی اموات کے بارے میں جو اعدد و شمار جمع کئے گئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ دور کی نسبت اس زمانہ میں ناگہانی اموات کی تعداد زیادہ ہے اور اس اضافے کے متعدد عوامل ہیں جن میں سے ایک عالمی سطح پر موسیقی اور غنا کی افزائش ہے۔
۴۔ غنا، استعمار کا ایک حربہ ہے:
عالمی استعمار ہمیشہ سے عوام، خاص کر نوجوان نسل کی بیداری سے وحشت زدہ ہے، اس بناء پر وہ اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لیے اپنے وسیع پروگراموں میں معاشرے کو غفلت، لاعلمی اور نا آگاہی اور انواع و اقسام کی غلط سرگرمیوں کو شامل کئے ہوئے ہے تاکہ اس طرح سے وہ ان کا بیڑہ غرق کر دے۔ چنانچہ موجودہ دور میں اشیاء منشیات صرف تجارتی اہمیت کی حامل ہی نہیں رہیں بلکہ استعمار کا ایک اہم سیاسی حربہ بھی ہیں۔ فحاشی کے مراکز کا قیام، جوئے اور قمار بازی کے کلبوں CLUBES کی وسعت اسی طرح کی دوسری غلط سرگرمیاں ہیں جن میں سے غنا اور موسیقی کو رواج عام دینا بھی شامل ہے اور وہ استعمار کے عظیم آلات میں سے ایک ہے جس کے ذریعہ وہ لوگوں کے افکار کو مفلوج کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اسی بناء پر دنیا بھر کے ریڈیوز کے اوقات کا بیشتر حصّہ موسیقی پروگرام پر مشتمل ہوتا ہے اور ذرائج ابلاغ عامہ کا ایک اہم اور عمدہ موضوع ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر دوسروں نے کیا پیدا کیا؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 5اس بحث کے بعد جو گزشتہ آیات میں قرآن اور اس ایمان کے بارے میں تھی موجودہ دو آیات میں توحید کے بارے میں ایک اور دلیل کا ذکر ہے جو عقیدہ کی نہایت بنیادی اصل ہے۔ پہلی آیت میں پروردگار عالم کی آفرینش کے پانچ حصّوں کی طرف اشارہ ہوتا ہے جو آپس میں اٹوٹ رشتہ رکھتے ہیں (آسمان خلقت، کرات کا فضا میں معلق ہونا، زمین کا اپنی جگہ برقرار رہنا، پہاڑوں کی پیدائش اور پھر جانداروں کی تخلیق، اس کے بعد پانی اور نباتات کی پیدائش جوان کی غذا کا ذریعہ ہیں)۔ چنانچہ فرماتا ہے: خدا نے آسمانوں کو ایسے ستونوں کے بغیر پیدا کیا ہے جو قابل رؤیت ہوں: (خَلَقَ السَّمَاوَاتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَھَا)۔ "عمد" (بروزن قَمرَ) عمود کی جع ہے جس کا معنی ہے ستون، اور سے "تَرَوْنَھَا" کے ساتھ مقید کرنا، اس بات کی دلیل ہے کہ آسمان مرئی (دیکھے جانے والے) ستون نہیں رکھتے۔ با الفاظ دیگر اس کے ستون تو ہیں لیکن قابل رؤیت نہیں۔ چنانچہ اس سے پہلے بھی ہم سورہ رعد کی تفسیر میں کہہ چکے ہیں کہ یہ تعبیر قانون جاذبہ و دافعہ (کشش ثقل) کی جانب ایک لطیف اشارہ ہے جو نظر نہ آنے والے بہت ہی قوی ستونوں کی طرح آسمانی کرات کو اپنی جگہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس حدیث میں جسے "حسین بن خالد" نے امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے نقل کیا ہے، اس معنی کی تصریح موجود ہے، امام نے فرمایا: سبحان اللّٰہ الیس اللّٰہ یقول بغیر عمد ترونھا؟ قلت بلیٰ، فقال: ثم عمد ولٰکن لاترونھا "سبحان اللہ! کیا خدا نہیں فرماتا بغیر ستونوں کے کہ جہنیں تم مشاہدہ کرو" ؟ راوی کہتا ہے، میں نے عرض کیا جی ہاں! تو فرمایا: پس ستون ہیں لیکن تم انھیں نہیں دیکھ پاتے۔ (بحوالہ: "تفسیر برہان" جلد ۲ صفحہ ۲۷۸)۔ (تشریحی نوٹ: جو لوگ آیہ بالا کو مطلق ستونوں کی نفی کی دلیل سمجھتے ہیں مجبور ہیں کہ آیت میں تقدیم و تاخیر کے قائل ہوں۔ اور کہیں کہ آیہ دراصل یوں ہے"خلق السماوات ترونھا بغیر عمد" جو یقیناً خلاف ظاہر ہے)۔ بہرحال، اُوپر والا جملہ قرآن مجید کے علمی معجزات میں سے ایک ہے جس کی مزید تفصیل سورہ رعد کی آیہ ۲ کے ذیل میں (جلد۱۰ صفحہ ۱۰۷میں) لائے ہیں۔ اس کے بعد "پہاڑوں کی آفرینش" کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے "خدا نے زمین میں پہاڑ رکھے ہیں تاکہ زمین تمھیں مضطرب اور متزلزل نہ کرے": (وَأَلْقَى فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ)۔ (۳) (تشریحی نوٹ: "تمید"، "مید" بروزن"صید" کے مادہ سے اشیاء عظیم کے تزلزل و اضطراب کے معنی میں ہے اور " أَن تَمِيدَ بِكُمْ" کا جملہ نحوی لحاظ سے (لئلا تَمِيدَ بِكُمْ) ہے)۔ یہ اور اس قسم کی دوسری قرآنی آیات اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ پہاڑ زمین کے ٹھہراؤ اور ثبات کا ذریعہ ہیں۔ موجودہ زمانے میں علمی لحاظ سے بھی یہ حقیقت ثابت ہو چکی ہے کہ پہاڑ متعدد جہات سے ثبات زمین کا سبب ہیں۔ اس لحاظ سے بھی کہ ان کی جڑیں ایک دوسرے سے پیوستہ ہیں جو ایک محکم زرہ کی طرح کرّہُ ارض کو اندرونی حرارت سے پیدا ہونے والے دباؤ کے مقابلہ میں محفوظ رکھتے ہیں۔ اور اگر یہ نہ ہوتے تو نہایت خطرناک اور تباہ کن زلزلے اس قدر ہوتے کہ شاید کسی بھی انسان کو زندگی گزارنے کی مجال ہی نہ ہوتی۔ اور اس لحاظ سے بھی کہ یہ مضبوط اور محکم طبقہ چاند اور سورج کی کشش کے دباؤ کا سختی سے مقابلہ کرتا ہے اور اگر پہاڑ نہ ہوتے تو زمین کی خاکی پوست میں سمندروں جیسے عظیم مدد جزر پیدا ہوتے جو انسان کے لیے زندگی کو نا ممکن بنا دیتے۔ اور اس لحاظ سے بھی کہ آندھی اور طوفان کے دباؤ کو کم کر دیتے ہیں، اور زمین سے ملحق ہوا کے باہمی ملاپ کو زمین کی وضعی حرکت کے موقعہ پر کم سے کم حد تک پہنچا دیتے ہیں، اگر یہ نہ ہوتے تو صفحہ ارضی خشک اور بے آب و گیاہ صحراؤں کے مانند تمام دن رات تباہ کن طوفانوں، آندھیوں اور جھکڑوں کی آماجگاہ ہوتا۔ (تشریحی نوٹ: مزید و فضاحت تفسیر نمونہ کی جلد ٥ صفحہ ۶٣۰ کے بعد کے صفحات کا مطالعہ فرمائیں)۔ اب جبکہ غیر مرئی (دکھائی نہ دینے والے) ستونوں کی وجہ سے آسمان کے سکون اور پہاڑوں کے ذریعہ زمین کے سکون کی نعمتوں کی بات پوری ہو گئی تو زندہ موجودات کی آفرینش اور ان کے آرام و سکون کی نوبت آتی ہے کہ وہ سکون اور آرام دہ ماحول اور عرصہ حیات میں قدم رکھتے ہیں خدا فرماتا ہے "اور روئے زمین میں ہر چلنے والے کو پھیلا دیا" (وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَابَّةٍ) "مِنْ کُلِّ دَابَّة" کی تعبیر چلنے پھرنے والے جانوروں کی زندگی کے مختلف اور گونا گوں پہلوؤں کی طرف اشارہ ہے۔ ان جانداروں سے لے کر جو اس قدر چھوٹے ہیں کہ آنکھ سے نظر نہیں آتے اور ہمارے سارے ماحول کو پُر کر رکھا ہے، غول پیکر اور کوہ پیکر جانوروں تک جو عظیم الجثہ ہوتے ہیں کہ انھیں دیکھ کر انسان وحشت زدہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح وہ جانور جن کے رنگ اور چہرے مختلف ہوتے ہیں کچھ تو فضا میں اڑنے والے پرندے اور زمین پر رینگنے والے اور گونا گوں حشرات کہ جن میں سے ہر ایک کی اپنی علیحدہ دنیا ہے اور مسائل زندگی کو لاکھوں آئینوں میں منعکس کرتے ہیں۔ اور پھر یہ بھی واضح ہے کہ چلنے پھرنے والے یہ جاندار آب و غذا کے محتاج ہیں لہٰذا بعد والے جملوں میں ان دو موضوعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ”ہم نے آسمان سے پانی نازل کیا اور اس کے ذریعہ روئے زمین پر انواع و اقسام کی نباتات کے قیمتی جوڑے اگائے“: (وَاَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَنْبَتْنَا فِیھَا مِنْ کُلِّ زَوْجٍ کَرِیمٍ)۔ اور اس طرح سے تمام چلنے پھرنے والے جانداروں خصوصاً انسان کی زندگی کی بنیاد کو پانی اور نباتات تشکیل دیتے ہیں لہٰذا اسے بیان کر رہا ہے، ایسا دستر خواں جو انواع و اقسام کی غذاؤں کے ساتھ تمام روئے زمین پر بچھا ہوا ہے جس میں سے ہر ایک آفرینش و خلقت کے لحاظ سے پرورگار کی عظمت و قدرت پر دلیل ہے۔ قابل توجہ یہ کہ پہلے تین حصّوں کی آفرینش کے بیان میں افعال کو غیب کے صیغوں کے ساتھ بیان کیا ہے، جب نزول باراں اور نباتات کی پرورش کے مسئلہ پر پہنچا ہے تو افعال کو متکلم کی صورت میں پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "ہم نے آسمان سے پانی نازل کیا اور ہم نے ہی زمین میں نباتات کو اگایا"۔ یہ خود فصاحت کا ایک فن ہے کہ مختلف امور کے ذکر کے وقت انھیں دو یا جن مختلف شکلوں میں بیان کرتے ہیں تاکہ سننے والے کو کسی قسم کی تھکاوٹ یا اکتاہٹ کا احساس نہ ہو۔ علاوہ ازیں، یہ تعبیر نشان دہی کرتی ہے کہ بارش کے نزول اور نباتات کی پرورش پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ یہ آیت ایک بار پھر "عالم نباتات میں زوجیت" کی طرف اشارہ کرتی ہے جو قرآن کے علمی معجزات میں سے ایک ہے کیونکہ اس زمانے میں عالم نباتات میں زوجیت (نر و مادہ کی جنس کا وجود) کا تصور وسیع طور پر ثابت نہیں ہوا تھا اور قرآن ہی نے اس سے پردہ اُٹھایا ہے۔ (اس مسئلہ کے سلسلہ میں مزید تشریح کے سلسلہ میں مزید تشریح کے لیے سورہ شعراء کی آیہ ۷ کے ذیل میں تفسیر نمونہ جلد ۸ کا مطالعہ فرمائیں)۔ یہ بات بھی بتاتے چلیں کہ نباتات کے جفت کی "کریم" کے ساتھ تو صیف، انواع و اقسام کی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے جو ان میں موجود ہیں۔ عالم آفرینش میں خدا کی عظمت اور خلقت کے مختلف پہلووٴں کے ذکر کے بعد روئے سخن مشرکین کی طرف کرتے ہوئے اور ان کو جواب دہ قرار دے کر ان سے جواب طلبی کرتے ہوئے کہتا ہے "یہ خدا کی آفرینش و خلقت ہے لیکن مجھے یہ دکھاوٴ کہ اس کے علاوہ، جو معبود ہیں انھیں نے کسی چیز کو خلق کیا ہے؟ "هَذَا خَلْقُ اللَّهِ فَأَرُونِي مَاذَا خَلَقَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ"۔ یقیناً وہ یہ دعویٰ نہیں کر سکتے تھے کہ اس جہان کی مخلوقات میں سے کوئی بھی چیز بتوں کی تخلیق ہے اسی بناء پر وہ توحید خالقیت کے تو معترف تھے لیکن اس حالت میں وہ کس طرح عبادت میں شرک کی توجیہ کر سکتے تھے؟ کیونکہ خالقیت کی توحید، ربوبیت کی توحید اور مدبر عالم کی یکتائی یہ سب کچھ عبودیت میں توحید کی دلیل ہے۔ لہٰذا آیت کے آخر میں ان کے عمل کو ظلم و گمراہی پر مبنی شمار کرتے کہتا ہے"لیکن ظالم واضح گمراہی میں ہیں" (بَلِ الظَّالِمُونَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ)۔ ہر ایک کو معلوم ہے کہ "ظلم" ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے، جو کسی چیز کو اس کے غیر محل میں قرار دینے کو شامل ہے اور چونکہ مشرکین عبادت کو اور گاہے تدبیر کو بتوں کے اختیار میں قرار دیتے تھے۔ لہٰذا عظیم ترین ظلم و ضلالت کے مرتکب تھے۔ یاد رہے اوپر والی تعبیر"ظلم" و"ضلالت" کے درمیان باہمی رابطے کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کیونکہ انسان جب اس دنیا میں عینی موجودات کی حیثیت اور ان کے مواقع و محل کو نہ پہنچانے یا پہچانے تو سہی لیکن اس کی رعایت نہ کرے اور ہر چیز کو اس کے اپنے مقام میں نہ دیکھے تو یقیناً یہ ظلم اس کی ضلالت و گمراہی کا سبب بن جائے گا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر ماں باپ کا احترام
Tafsīr Nemūna · Vol. 5گزشتہ مباحث، توحید و شرک اور اہمیت و عظمت قرآن اور اس آسمانی کتاب میں استعمال ہونے والی حکمت کے بارے میں تھے۔ اسی مناسبت سے زیر بحث اور چند بعد والی آیات میں"لقمان حکیم" کے بارے میں اور اس مرد خد کے چند نصائح، توحید کی عظمت اور شرک سے برسر بیکار رہنے کے سلسلے میں درمیان میں آئی ہیں۔ اور اہم اخلاقی مسائل کہ جن میں لقمان کی اپنے بیٹے کو پند و نصائح کا بیان ہے۔ یہ دس نصیحتیں جو چھ آیات کے اندر بیان ہوئی ہیں اعتقادی مسائل کو بھی دلکش طور پر بیان کرتی ہیں اور دینی فرائض اور ذمہ داریوں کے اصول اور اخلاقی مباحث کو بھی۔ اس بارے میں کہ "لقمان" کون تھے اور کن خصوصیات کے حامل تھے؟ انشاءالله آگے چل کر نکات کی بحث میں بیان کریں گے۔ یہاں پر تو صرف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ قرائن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پیغمبر نہیں تھے۔ بلکہ وہ ایک سلجھے ہوئے، سنجیدہ اور مہذب انسان تھے جو ہوائے نفس کے میدان مقابلہ میں سرو اور کامیاب ہوئے۔ اور خدا نے ان کے دل پر علم و حکمت کے چشمے جاری کر دیئے، ان کے مقام عظمت کے لیے اتنا کافی ہے کہ خدا نے ان کے پند و نصائح کو اپنے ارشادات کے ساتھ ذکر کیا ہے اور آیات قرآن کے اندر بیان فرمایا ہے۔ جی ہاں!جب انسان کا دل پاگیزہ اور تقویٰ کے زیر اثر نور حکمت سے روشن ہو جائے تو خدا کے ارشادات اس کی زبان پر جاری ہوتے ہیں اور وہی کچھ کہتا ہے جو خدا کہتا ہے، اور وہی سوچتا ہے جو خدا پسند کرتا ہے۔ اس مختصر سی وضاحت کے ساتھ آیات کی تفسیر کی طرف لوٹتے ہیں۔ پہلی آیت میں فرماتا ہے "ہم نے لقمان کو حکمت دی اور انھیں کہا کہ خدا کا شکر ادا کرو کیونکہ جو شخص نعمت کا شکر ادا کرتا ہے وہ اپنے ہی نفع کے لیے کرتا ہے۔ اور جو شخص کفران نعمت کرتا ہے وہ خدا کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ کیونکہ خدا بےنیاز اور لائق تعریف ہے: (وَلَقَدْ آتَيْنَا لُقْمَانَ الْحِكْمَةَ أَنِ اشْكُرْ لِلَّهِ وَمَن يَشْكُرْ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ)۔ (تشریحی نوٹ: "ان اشکر لله" کے جملے میں کوئی چیز مقدر ہے نہیں؟ مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، بعض کا نظریہ یہ ہے کہ "قلنا لہ" کا جملہ اس سے پہلے مقدر ہے، اور بعض کہتے ہیں کہ مقدر کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ "ان اشکر" کے جملہ میں خود "ان" تفسیر یہ ہے کیونکہ شکر گزاری عین حکمت ہے اور حکمت میں شکر گزاری (اور دونوں تفسیریں قابل قبول ہیں))۔ رہا یہ سوال کہ حکمت کیا ہے؟ تو جواب میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ حکمت کے بہت سے معانی بیان ہوئے ہیں مثلاً "عالم ہستی کے اسرار کی پہچان"، "حقایق قرآن سے آگاہی"، "گفتار و عمل کے لحاظ سے حق تک پہنچنا" اور"خدا کی معرفت اور پہچان"۔ لیکن ان تمام معانی کو ایک جگہ پر جمع بھی کیا جا سکتا ہے اور حکمت کی تفسیر میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ جس حکمت کے بارے میں قرآن نے گفتگو کی ہے اور خدا نے لقمان کو عطا فرمائی ہے، وہ مجموعہ ہے"معرفت علم پاکیزہ اخلاق، تقویٰ اور ہدایت کا نور"۔ ایک حدیث میں اسی آیت کی تفسیر کے سلسلے میں حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ہشام بن حکم سے ارشاد فرماتے ہیں کہ"حکمت سے مراد فہم و عقل ہے"۔ (بحوالہ: اصول کافی، ج اوّل، صفحہ۱۳، کتاب العقل و الجہل، حدیث۱۲)۔ ایک اور حدیث میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس آیت میں تفسیر میں فرمایا: "اوتی معرفة امام زمانہ" یعنی حکمت یہ ہے کہ لقمان اپنے زمانے کہ امام اور خدائی رہبر کی معرفت رکھتے تھے۔ (بحوالہ: نور الثقلین، ج۴، ص۱۹۶)۔ ظاہر یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کا حکمت کے وسیع مفہوم میں شمار ہوتا ہے اور آپس میں کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے۔ بہرحال، "لقمان" نے اس حکمت کا حامل ہونے کی بناء پر اپنے پروردگار کا شکر شروع کیا، وہ نعمات الٰہی کے اہداف اور نتائج کو جانتے تھے۔ اور انھیں ٹھیک اسی میں کہ جس کے لیے وہ پیدا ہوئی تھیں استعمال میں لائے۔ اور اصولی طور پر حکمت اسی چیز کا نام ہے۔ "ہر چیز کو اُس کی جگہ پر استعمال کرنا" اس بناء پر"شکر" و"حکمت" کی بازگشت ایک ہی نقطہ کی طرف ہوتی ہیں۔ ضمنی طور پر آیت میں نعمتوں کے"شکر" اور"کفران" کا نتیجہ اسی صورت میں بیان ہوا ہے کہ"شکر نعمت خود انسان کے اپنے فائدہ کے لیے ہے" اور"کفران نعمت اس کے لیے اپنے نقصان میں ہے" کیونکہ خداوند عالم تو تمام دنیا سے بےنیاز ہے اگر کائنات کی ہر چیز شکر گزاری کرے تو اس کی عظمت میں اضافہ نہیں ہو گا اور"اگر تمام کائنات کافر ہو جائے تو اس کے دامن کبریائی پر گرد نہیں بیٹھ سکتی"۔ "ان اشکر الله" کے جملے میں "لام"، "لام اختصاص" ہے اور لنفسہ کی "لام"، "لام نفع" ہے۔ اسی بنا پر شکر گزاری کا نفع اور فائدہ جو کہ آخرت کے ثواب کے علاوہ، دوام نعمت اور اس کا اضافہ ہے، خود انسان کی طرف لوٹتا ہے۔ جیسا کہ "کفران" کا زیان اور نقصان صرف اسی کے دامنگیر ہوتا ہے۔ "غنی حمید" کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عام افراد کا شکر ادا کرنے والا یا تو کوئی چیز نعمت دینے والے کو دیتا ہے یا اگر نہیں دیتا تو اس کا مقام لوگوں کی نگاہ میں ضرر بلند کرتا ہے، لیکن خدا کے بارے میں ان دونوں میں سے کوئی چیز صادق نہیں آتی۔ وہ تو سب سے بےنیاز ہے اور سب تعریف کرنے والوں کی ستایش و تعریف کے لائق اور مستحق ہے۔ فرشتے اس کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور موجودات کے تمام ذرات اس کی حمد و تسبیح میں مشغول ہیں۔ اور اگر کوئی انسان "زبان قال" سے کفران کرے تو اس کا ذرہ برابر بھی اس پر اثر نہیں پڑتا۔ جبکہ اس کے وجود کے تمام ذرات "زبان حال" سے اس کی حمد و ثنا میں مشغول ہیں۔ قابل توجہ یہ نکتہ ہے کہ "شکر"، "مضارع کے صیغہ" کے ساتھ آیا ہے جو کہ دوام اور استمرار کی علامت ہے اور "کفر"، "ماضی کے صیغہ" کے ساتھ جو ایک مرتبہ پر بھی صادق آتا ہے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک بار کا کفران ممکن ہے کہ دردناک انجام کا سبب بن جائے۔ لیکن شکر گزاری ضروری ہے اور اسے ہمیشہ جاری رہنا چاہیے تاکہ انسان ارتقاء کے تدریجی مراحل کو طے کرتا رہے۔ حضرت لقمان اور ان کے مقام علم و حکمت کے تعارف کے بعد ان کی پہلی نصیحت جو ان کے اپنے بیٹے کے لیے ہے وہ اہم ترین وصیت ہے اور اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن فرماتا ہے "اس وقت کو یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے کو موعظہ کرتے ہوئے کہا بیٹا! کسی چیز کو خدا کا شریک قرار نہ دے کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے": (وَإِذْ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ)۔ لقمان کی حکمت اس بات کی متقاضی ہے کہ وہ سب سے پہلے اہم اور دبنیادی اعتقادی مسئلہ کی طرف جائے اور وہ ہے "توحید" کا مسئلہ۔ توحید تمام اطراف اور جہات سے کیونکہ تخریب پر مبنی اور خدا کے خلاف ہر تحریک کا سرچشمہ شرک ہے خواہ وہ دنیا پرستی ہو یا مقام پرستی، ہوا پرستی اور اُن جیسے دوسرے امور جو شرک کا شعبہ شمار ہوتے ہیں جس طرح کہ تمام صحیح، تعمیری اور تربیتی تحریکوں کی اساس توحید ہے یعنی دل کو صرف خدا سے وابستہ رکھنا، اس کے فرمان کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اور اس کے غیر سے ناتا توڑنا اور تمام بتوں کو اس کی کبریائی کے آستان پر چکھنا چور کرنا۔ قابل توجہ یہ بات ہے کہ لقمان حکیم نفی شرک کی دلیل ذکرکرتے ہیں کہ شرک ظلم عظیم ہے اور وہ بھی خدا کے بارے میں ایسی تعبیر کے ساتھ جو کئی لحاظ سے تاکید کی حامل ہے۔ (تشریحی نوٹ: "ان" اور "لام" اور "جملہ کا اسمیہ ہونا" ہر ایک تاکید پر دلالت کرتا ہے)۔ اور اس سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہو سکتا ہے کہ بےقدر و قیمت چیز کو اس کے مقابلہ میں قرار دیا جائے اور مخلوق کے بارے میں یہ کہ اسے گمراہی کی طرف کھینچ کر لے جائیں اور اپنے مجرمانہ اعمال کے ذریعہ انھیں گمراہی کی طرف لائیں، ان پر ظلم و ستم کریں اور اپنے بارے میں یہ کہ پروردگار کی عبودیت کے شرف اور عزّت و عظمت سے ہٹ کر اس کے غیر کی پرستش کر کے خود کو قعر مذلت میں گرا دیں۔ بعد والی دونوں آیات درحقیقت، جملہ معترضہ ہیں جو لقمان کے پند و نصائح کے درمیان خدا کی طرف سے بیان ہوئی ہیں، لیکن بےربط معانی میں نہیں بلکہ خداوند عالم کا کلام ہے جو لقمان کی باتوں سے واضح ربط رکھتا ہے، کیونکہ ان دو آیات میں ماں باپ کے وجود کی نعمت ان کی زحمات، خدمات اور حقوق اور الله کے"شکر" کے ساتھ والدین "شکریہ" کو بھی قرار دیا ہے۔ علاوہ ازیں، لقمان نے اپنے بیٹے کو جو نصیحتیں کی ہیں وہ ان کے پر خلوص ہونے پر بھی دلالت کرتی ہیں کیونکہ اولاد کے ساتھ والدین کو دلی محبّت، قلبی لگاوٴ اور خلوص دل سے پیار ہوتا ہے، قطعاً ناممکن ہے کہ وہ اولاد کی بہتری کے علاوہ، کچھ اور سوچھ بھی سکیں۔ پہلے فرماتا ہے کہ "ہم نے انسان کو ہم ماں باپ کے بارے میں سفارش اور وصیّت کی"۔ (وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ)۔ اس کے بعد ماں کی حد سے زیادہ تکالیف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے۔ "ان کی ماں نے اسے ایسی حالت میں حمل کیا کہ ہر روز اس کے ضعف اور کمزوری پر نئے ضعف کا اضافہ ہوتا: (حَمَلَتْہُ اُمُّہُ وَھْنًا عَلیٰ وَھْن)۔ تشریحی نوٹ: "وَھْنًا عَلیٰ وَھْنٍ" کا جملہ ہو سکتا ہے کہ لفظ "ام" کا حال ہو اور لفظ "ذات" کو مقدر (پوشیدہ) مانا جائے تو اس وقت مکمل جملہ یوں بنے گا "حملتہ امّہ ذات وھن علی وھن" اور یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ "وھن" کے مادہ سے مقدر (پوشیدہ) فعل کا مفعول مطلق ہو تو پھر اس صورت میں "تھن وھناً علیٰ وھن")۔ علمی لحاظ سے بھی اور تجربہ کی رُو سے بھی یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ چکی ہے کہ مائیں ایام حمل کے دوران کمزوری اور سستی میں مبتلا ہو جاتی ہیں کیونکہ اپنی جان کا شیرہ اور ہڈیوں کا گورہ شکم میں موجود اپنے بچہ کی پرورش کے ساتھ مخصوص کر دیتی ہیں اور اپنے وجود کے سارے حیاتیاتی مواد کا بہتریں حصہ اسے پیش کرتی رہتی ہیں۔ اسی بناء پر مائیں حمل کے زمانے میں مختلف قسم کے وٹامنز کی کمی کا شکار ہو جاتی ہیں اور اگر اس کی تلافی نہ کی جائے تو انھیں کئی تکالیف اور پریشانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہاں تک کہ یہی عمل زمانہ رضاعت (یعنی دودھ پلانے) کے دوران میں بھی جاری رہتا ہے کیونکہ دودھ عورت کی جان کا شیرہ ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کے بعد کہتا ہے کہ "اس کے دودھ پلانے کے اختتام کا زمانہ دو سال ہے" (وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ)۔ جیسا کہ قرآن کی ایک دوسری جگہ بھی اشارہ ہوا ہے: "وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلاَدَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ"، "مائیں اپنی اولاد کو پورے دو سال دودھ پلائیں گی۔" (بقرہ ۔ ۲۳۳) البتہ مراد مکّمل دودھ پلانے کی مدّت ہے اگرچہ ممکن ہے کہ اس سے کم مدّت بھی انجام پائے۔ بہرحال، مائیں ان ۳۳ ماہ (حمل اور دودھ پلانے کی مدّت) میں اپنے بچے کے لیے روحانی اور جسمانی ہر طرح سے خدمت کر کے عظیم ترین قربانی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ قابل توجہ یہ بات ہے کہ ابتدا میں تو ماں اور باپ دونوں کے بارے میں وصیت کرتا ہے لیکن تکالیف اور خدمات کے بیان کے موقعہ پر صرف ماں کی زحمات کا ذکر کرتا ہے۔ تاکہ انسان کو ماں کے اثیار و قربانی اور عظیم حق کی طرف متوجہ کیا جائے۔ اس کے بعد کہتا ہے کہ "ہم نے اسے وصیت کی کہ میرا شکر بھی ادا کر اور ماں باپ کا بھی: (أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ)۔ میرا شکر ادا کرو کہ میں تمھارا خالق اور منعم ہوں اور اسی قسم کے مہربان ماں باپ تجھے دیئے ہیں اور اپنے ماں باپ کا بھی شکریہ ادا کرو جو اس فیض کا واسطہ اور تمھاری طرف میری نعمتوں کے منتقل کرنے کا ذریعہ ہیں۔ کس قدر توجہ طلب اور معنی خیز ہے یہ کہ ماں باپ کے شکریہ کو بالکل ہی خدا کے شکر کے ساتھ اور اس کے پہلو میں ذکر فرمایا ہے۔ آیت کے آخر میں جو ایک قسم کی تنبیہ اور عتاب سے خالی نہیں، فرماتا ہے "تم سب کی بازگشت میری طرف ہے۔ (اإِلَيَّ الْمَصِيرُ)۔ جی ہاں! اگر تم نے یہاں کسی قسم کی کوتاہی کی تو وہاں پر ان حقوق، تکالیف اور خدمات کے بارے میں باز پرس کی جائے گی اور ذرے ذرے کا حساب لیا جائے گا جہاں تمہیں خدا کی نعمتوں کے شکر اور اسی طرح ماں باپ کے وجود کی نعمت اور ان کے پاک اور بےآلائش تشکر کے سلسلہ میں خدائی حساب سے عہدہ برآ ہونا ہے۔ بعض مفسرین نے یہاں ایک نکتہ کی طرف توجہ کی کہ قرآن مجید میں والدین کے حقوق کی رعایت پر تو بار بار تاکید کی ہے لیکن اولاد کے بارے میں بہت کم سفارش نظر آتی ہے (سوائے ایک موقعہ پر کہ جس میں اولاد کو قتل کرنے سے روکا گیا ہے جو زمانہ جاہلیت کی ایک منحوس اور بری عادت تھی) تو یہ اس بناء پر ہے کہ اپنے زبردست پیار کی وجہ سے بہت کم ممکن ہوتا ہے کہ والدین اپنی اولاد کو فراموش کر دیں جبکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ والدین جب بہت بوڑھے اور بےکار ہو جاتے ہیں تو اولاد انہیں فراموش کر دیتی ہے اور یہ ان کے لیے درد ناک ترین حالت اور اولاد کے لیے بدترین ناشکری شمار ہوتی ہے۔ (بحوالہ: تفسیر فی ظلال، ج۶، ص۴۸۴)۔ اور ماں باپ کے بارے نیکی کی وصیت سے ہو سکتا ہے کہ بعض لوگوں کے دل میں یہ خیال پیدا ہو جائے کہ عقائد، کفر اور ایمان کے مسئلہ میں بھی ان کی پیروی کی جائے یا نرمی برتی جائے؟ لیکن بعد والی آیت میں فرمایا ہے "جس وقت وہ دونوں سعی و کوشش کریں کہ کسی چیز کو میرا شریک قرار دو کہ جس سے (کم از کم) آگاہی نہیں رکھتے تو ان کی اطاعت نہ کرو (وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَى أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا)۔ کبھی بھی انسان اور اس کے والدین کے رابطے کو خدا کے رابطے پر مقدم نہ کرنا اور نہ ہی رشتہ داری کی محبت اعتقاد پر حاکم ہو۔ "جَاهَدَاكَ " کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے والدین کبھی کبھی اس بنا کہ وہ اپنی اولاد کی سعادت چاہتے ہیں کوشش کرتے ہیں کہ انھیں اپنے غلط عقائد کی طرف گھسیٹیں اور یہ چیز ہر ایک والدین کے بارے میں دکھائی دیتی ہے۔ اولاد کا فرض بنتا ہے کہ کبھی بھی اس قسم کے دباوٴ کے آگے نہ جھکیں اور اپنی فکری استقلال کو محفوظ رکھتے ہوئے عقیدہ توحید کا کسی چیز سے تبادلہ نہ کریں۔ ضمناً ۔ "مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ "(یعنی وہ چیز کہ جس کا تمھیں علم نہیں) کا جملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر بالفرض شرک کے باطل ہونے کو مدنظر نہ بھی رکھا جائے تو کم از کم اتنا تو ضرور ہے ہی کہ اس کے اثبات پر کوئی دلیل بن سکتی اور نہ کوئی بہانہ جو شخص اس کے اثبات پر دلیل قائم کر سکتا ہے۔ علاوہ ازیں، اگر شرک کی کوئی حقیقت ہوتی تو یقیناً اس کے اثبات پر کوئی دلیل ضرور ہوتی اور اس قسم کی کسی دلیل کا نہ ہونا یقینا اس کے بطلان کی دلیل ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس فرمان سے یہ وہم و گمان پیدا ہو کہ مشرک ماں باپ کے سامنے سختی اور بےاحترامی کو استعمال کیا جانا چاہیئے؟ تو فوراً ہی کہتا ہے کہ شرک اور کفرکے مسئلہ میں ان کی پیروی نہ کرنا مطلقاً قطع رابطہ کی دلیل نہیں ہے بلکہ اس کے باوجود "ان کے سات دنیا میں شائستگی کا سلوک کرو"۔ (وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا)۔ دنیا داری اور زندگی میں ان سے مہر و محبت سے پیش آؤ اور نرمی کا سلوک کرو اور مندہبی امور میں ان کے افکار اور نظریات کے سامنے نہ جھکو، یہ ٹھیک اعدال کا نقطئہ اصلی ہے جس میں خدا اور ماں باپ کے حقوق کا حسین امتزج ہے۔ لہٰذ اس کے بعد مزید کہتا ہے "ایسے لوگوں کی پیروی کرو جنھوں نے میری طرف رجوع کیا ہے: (وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ)۔ کیونکہ "اس کے بعد تم سب کی بازگشت میری طرف ہے اور میں تمھیں اس عمل سے آگاہ کروں گا جو تم انجام دیا کرتے تھے" اور اس کے مطا بق ہی جزا اور سزا دوں گا: (ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ)۔ اُوپر والی آیات میں پے در پے کے اثبات و نفی اور امر و نہی اس لیے ہیں تاکہ مسلمان اس قسم کے مسائل کہ جن میں ابتدائی نظر میں دو ضروری فرائض اور ذمہ داریوں کے انجام دینے میں تضاد کا تصور ہوتا ہو، صحیح خطوط کو تلاش کریں اور تھوڑی سی بھی افراط اور تفریظ کے بغیر صحیح راہ پر گامزن ہو جائیں اور قرآن مجید میں اس قسم کی جزئیات کو اس باریک بینی اور ظرافت و لطافت کے ساتھ بیان کرنا اس کی فصاحت و بلاغت کے مختلف پہلووٴں سے ایک پہلو ہے۔ بہر صورت اوپر والی مکمل طور پر سورہ عنکبوت کی آیہ ۸ کے عین مشابہ ہے جس میں خدا کہتا ہے: (وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِن جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ)۔ بعض تفسیروں میں مذ کورہ آیت کا شان نزول منقول ہے جسے ہم سورہ عنکبوت کی آیت ۸ کے ضمن میں بیان کر چکے ہیں۔
چند اہم نکات: ۱۔ لقمان کون تھے؟
حضرت لقمان کا نام قر آن مجید کی اس سورت کی دو آیات میں آیا ہے: آیا وہ پیغمبر تھے یا صرف ایک دانا اور صاحب حکمت انسان تھے؟ قرآن میں اس کی کوئی وضاحت نہیں ملتی، لیکن ان کے بارے میں قر آن کا لب و لہجہ نشان دہی کرتا ہے کہ وہ پیغمبر نہیں تھے کیونکہ عام طور پر پیغمبروں کے بارے میں جو گفتگو ہوتی ہے اس میں رسالت، توحید کی طرف دعوت، اشرف اور ماحول میں موجود بےراہ روی سے نبرد آزمائی، رسالت کی ادائیگی کے سلسلہ میں کسی قسم کی اجرت کا طلب نہ کرنا نیز اُمتوں کو بشارت و انذاز کے مسائل وغیرہ دیکھنے میں آتے ہیں، جبکہ لقمان کے بارے میں ان مسائل میں سے کوئی بھی بیان نہیں ہوا، صرف ان کے پند و نصائح بیان ہوئے ہیں جو اگرچہ خصوصی طور پر تو ان کے اپنے بیٹے کے لیے ہیں لیکن ان کا مفہوم عمومی حیثیت کا حامل ہے اور ہی چیز اس بات پر گواہ ہے کہ وہ صرف ایک مرد حکیم و دانا تھے۔ جو حدیث پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیہ و آلہ وسلّم سے نقل ہوئی ہے: اس طرح درج ہے: "حقًا اقول لم یکن لقمان نبیّاً ولٰکن کان عبداً کثیر التفکر، حسن الیقین، احب ا لله فاحبّہ ومنّ علیہ بالکحمة۔۔۔۔۔ یعنی سچی بات بات یہ ہے کہ لقمان پیغمبر نہیں تھے بلکہ وہ الله کے ایسے بندے تھے جو زیادہ غور و فکر کرتے، ان کا ایمان و یقین اعلیٰ درجے پر تھا، خدا کو دوست رکھتے تھے اور خدا بھی انھیں دوست رکھتا تھا اور الله نے انھیں اپنی نعمتوں سے مالا مال کر دیا تھا۔۔۔ بعض توایخ میں ہے کہ لقمان مصر اور سوڈان کے لوگوں میں سے سیاہ رنگ کے غلام تھے باجودیکہ اُن کا چہرہ خوبصورت نہیں تھا لیکن روشن دل اور مصفا روح کے مالک تھے وہ ابتدائے زندگی سے سچ بولتے اور امانت کو خیانت سے آلودہ نہ کرتے اور جو امور اُن سے تعلق نہیں رکھتے تھے اُن میں دخل اندازی نہیں کرتے تھے۔ (تشریحی نوٹ: "قصص قرآن" (شرح حالات لقمان))۔ بعض مفسرین نے اُن کی نبوت کا احتمال دیا لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں اس پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے بلکہ واضح شواہد اس کے خلاف موجود ہیں۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ ایک شخص نے لقمان سے کہا کیا ایسا نہیں ہے کہ آپ ہمارے ساتھ مل کر جانور چرایا کرتے تھے؟ آپ نے جواب میں کہا ایسا ہی ہے! اس نے کہا تو پھرآپ کو یہ سب علم و حکمت کہاں سے نصیب ہوئے؟ لقمان نے فرمایا: "قدر اللّٰہ واداء الامانة وصدق الحدیث والصمت عما لایعنینی" اللہ کی قدر، امانت کی ادائیگی، بات کی سچائی اور جو چیز مجھ سے تعلق نہیں رکھتی اس کے بارے میں خاموشی اختیار کرنے سے!!۔ (تشریحی نوٹ: مجمع البیان، اسی آیت کے ذیل میں)۔ حدیث بالا کے ذیل میں آنحضرت سے روایت یوں بھی نقل ہوئی ہے کہ: ایک دن حضرت لقمان دوپہر کے وقت آرام فرما رہے تھے کہ اچانک انھوں نے ایک آواز سنی کہ: اے لقمان! کیا آپ چاہتے ہیں کہ خداوند عالم آپ کو زمین میں خلیفہ قرار دے تاکہ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کریں؟ لقمان نے اس کے جواب میں کہا کہ اگر میرا پروردگار مجھے اختیار دے دے تو میں عافیت کی راہ کو قبول کروں گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اگر اس قسم کی ذمہ داری میرے کندھے پر ڈال دے گا تو یقیناً میری مدد بھی کرے گا اور مجھے لغزشوں سے بھی محفوظ رکھے گا۔ فرشتوں نے اس حالت میں کہ لقمان انھیں دیکھ رہے تھے کہا اے لقمان کیوں (ایسا نہیں کرتے)؟ تو انھوں نے کہا اس لیے کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنا سخت ترین منزل اور ہم ترین مرحلہ ہے اور ہر طرف سے ظلم و ستم کی موجیں اس کی طرف متوجہ ہیں اگر خدا انسان کی حفاظت کرے تو وہ نجات پا جائے گا لیکن اگر خطا کی راہ پر چلے تو یقینا جنّت کی راہ سے مخرف ہو جائے گا اور جس شخص کا سر دنیا میں جھکا ہوا اور آخرت میں بلند ہو اس سے بہتر ہے کہ جس کا سر دنیا میں بلند اور آخرت میں جھکا ہوا ہو اور جو شخص دنیا آخرت پر ترجیح دے تو نہ تو وہ دنیا کو پا سکے گا اور نہ ہی آخرت کو حاصل کر سکے گا۔ فرشتے لقمان کی اس دلچپ گفتگو اور منطقی باتوں سے متعجب ہوئے۔ لقمان نے یہ بات کہی اور سو گئے اور خدا نے نور حکمت اُن کے دل میں ڈال دیا جس وقت بیدار ہوئے تو اُن زبان پرحکمت کی باتیں تھیں ۔۔۔(بحوالہ: مجتمع البیان جلد ۸ ص۳۱۷ زیر بحث آیہ کے ضمن میں)۔
۲۔ لقمان کی حکمت کا ایک نمونہ
بعض مفسیرین نے یہاں لقمان کے پند و نصائح کے سلسلہ میں جو سورہ کی آیتوں میں بیان کی گئی ہیں اس مرد خدا کی حکمت آمیز باتوں کا ایک حصہ بیان کی گئی ہے کہ ہم اس کا خلاصہ یہاں پر پیش کرتے ہیں۔ الف۔ لقان اپنے بیٹے سے اس طرح کہتے ہیں۔ یا بنیّ! ان الدنیا بحر عمیق، وقد ھلک فیھا عالم کثیر، فاجعل سفینتک فیھا الایمان بالله، واجعل شراعھا التوکل علی الله، واجعل زادک تقوی الله، فان نجوت فبرحمة الله و ان ھلکت فبذنوبک! بیٹا! دُنیا ایک گہرا اور عمیق سمندر ہے جس میں بہت سی مخلوقات غرق ہو چکی ہیں لہٰذا اس سمندر میں تمھارا سفینہ خدا پر ایمان ہونا چاہیے جس کا باد بان خدا پر توکل، جس کا زاد راہ خدا کا تقویٰ اور پرہیزگاری ہو اگر تم نے اس سمندر سے نجات پا لی تو سمجھو کہ رحمت خدا کی برکتوں سے ہے اور اگر ہلاک ہو گئے تو جانو کہ اپنے گناہوں کی بدولت ہے۔ (تشریحی نوٹ: مجتمع البیان اسی آیت کے ضمن میں)۔ یہی مطلب کتاب کافی میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے ارشادات کے ضمن ہشام بن حکم سے زیاہ مکمل صورت میں لقمان حکیم سے نقل ہوا ہے فرمایا: یا بنی ان الدنیا بحر عمیق، قد غرق فیھا عالم کثیر، فلتکن سفینتک فیھا تقوی اللّٰہ، وحشوھا الایمان وشراعھا التوکل، وقیمھا العقل، ودلیلھا العلم وسکانھا الصبر بیٹا! دنیا ایک عمیق اور گہرا سمندر ہے جس میں بہت بڑی دنیا غرق ہو چکی ہے اس سمندر میں تمھاری کشتی خدا کا تقویٰ ہونا اور زاد و توشہ، ایمان، اس کا بادبان توکل، نا خدا عقل اور راہنما علم اور اس کے ساکن صبر و شکیبائی ہیں۔(۲) (بحوالہ: اصول کافی جلد اول ص۱۳ (کتاب العقل والجہل))۔ ب)۔ ایک اور گفتگو میں اپنے بیٹے سے مسافرت کے آداب میں کہتے ہیں: بیٹا! جب تم سفر کرو اپنے ساتھ اسلحہ، لباس، خیمہ اور پانی اور سینے پرونے کے وسائل اور ضروری دوائیاں کہ جس سے تم خود اور تمھارے ساتھی استفادہ کر سکیں لے لیا کرو۔ اور اپنے ہم سفر لوگوں کے ساتھ خدا کی نا فرمانی کے سوا باقی تمام امور میں ہاتھ بٹایا کرو۔ بیٹا! کسی گروہ کے ساتھ سفر کرو تو اپنے کاموں میں ان سے مشورہ کر لیا کرو، اور ان سے خندہ پیشانی کے ساتھ پیش آیا کرو۔ جو زاد راہ تمھارے پاس ہے، اس میں سے سخاوت کیا کرو۔ تمہارے ساتھی جب بھی تمھیں بلائیں تو فورا ان کو جواب دیا کرو۔ اگر تمھاری امداد کے طالب ہوں تو ان کی مدد بھی کیا کرو۔ جتنا ہو سکے سکوت اختیار کرو۔ نماز زیادہ سے زیادہ پڑھا کرو۔ سواری اور آب و غذا کہ جو تمہارے پاس ہو، اس میں سخاوت سے کام لیا کرو۔ اگر تم سے حق کی گواہی طلب کریں تو گواہی دے دیا کرو۔ اگر مشورہ چاہیں تو صحیح اور صائب نظریہ کو حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ اچھّی طرح غور و فکر اور سوچ بچارکے بغیر جواب نہ دیا کرو۔ اور اپنی ساری فکری قوتوں کو مشورے کے جواب کے لیے استعمال کیا کرو۔ کیونکہ جو شخص مشورہ طلب کرنے والوں کو اپنے خالص ترین نظریہ سے نہ نوازے تو خدا تشخیص اور سوچ بچار کی نعمت اس سے چھین لیتا ہے۔ جب دیکھو کہ تمھارے ساتھی ایک راستے پر چل رہے ہیں اور سعی و کوشش میں مصروف ہیں تو تم بھی کوشش میں لگ جاؤ۔ اپنے سے بڑوں کا کہنا مانو۔ اگر تم سے کوئی شخص جائز اور شرعی تقاضا کرتا ہے تو ہمیشہ اس کا مثبت جواب دیا کرو اور کبھی بھی "نہ" مت کہو، کیونکہ نہ کہنا عجز و توانائی کی نشانی اور ملامت کا سبب ہے۔۔۔ کبھی بھی نماز کو اوّل وقت سے تاخیر کے ساتھ نہ پڑھا کرو، اور اپنے اس قرضے کو فوراً ادا کیا کرو۔ جماعت کے ساتھ نماز پڑھا کرو خواہ تم سخت ترین حالات میں ہو۔ جس غذا کو کھانا چاہتے ہو کھانے سے پہلے امکانی صورت میں اس سے کچھ مقدار راہ خدا میں دیا کرو۔ کتاب خدا کی تلاوت کیا کرو یا خدا سے غافل نہ ہو جاؤ۔ (تشریحی نوٹ: گزشتہ حوالہ)۔ ج۔ یہ داستان بھی لقمان کے بارے میں مشہور ہے۔ جس زمانے میں وہ غلام تھے اور آقا کے لیے کام کر رہے تھے ایک دن آقا نے ان سے کہا کہ ایک گوسفند کو میرے لیے ذبح کرو اس کے اعضاء میں سے دو بہترین عضو میرے لیے لے آؤ چنانچہ انھوں نے گوسفند کو ذبح کیا اور اس کی زبان اور دل اس کے لیے لے آئے چند دن کے بعد ایک اور گوسفند کے ذبح کرنے کا حکم دیا لیکن کہا اس کے برترین عضو میرے لیے لے آؤ تو لقمان نے پھر گوسفند کو ذبح کیا اور وہی زبان اور دل اس کے لیے لے گئے اس نے تعجب کیا اور اس ماجرے کے بارے میں سوال کیا تو لقمان نے جواب میں کہا دل اور زبان اگر پاک رہیں تو وہ ہر چیز سے بہتر ہیں اور اگر ناپاک ہو جائیں تو ہر چیز سے خبیث تر ہیں۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر "بیضاوی" و ثعلبی۔ لیکن تفسیر مجمع البیان نے لقمان کی گفتگو کا صرف پہلا حصّہ نقل کیا ہے)۔ آخر میں ہم اس گفتگو کو امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک حدیث پر ختم کرتے ہیں۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا: خدا کی قسم وہ حکمت جو لقمان کو خدا کی طرف سے عنایت ہوئی تھی ان کے نسب، مال و جمال اور جسم کی بنا پر نہ بھی ۔ بلکہ ایسے مرد تھے جو حکم خدا کی انجام دہی میں قوی اور طاقتور تھے۔ گناہ اور شبہات سے اجتناب کیا کرتے تھے، ساکت اور خاموش رہتے تھے، خوب غور و خوض کے ساتھ دیکھا کرتے تھے، بہت زیادہ سوچا کرتے تھے۔ تیزبین اور دن (کے اول حصےّ) میں کبھی نہیں سوتے تھے اور مجالس میں (مستکبرین کی طرح) تکیہ نہیں لگاتے تھے۔ اور آداب کو پورے طور پر مدنظر رکھتے تھے۔ لعاب دہن نہیں پھینکتے تھے۔ کسی چیز سے نہیں کھیلتے تھے۔ اور کبھی بھی غیر مناسب حالت میں انھیں نہیں دیکھا گیا ۔۔۔۔۔۔۔ جب بھی دو آدمیوں کو لڑتا جھگڑتا دیکھتے ان کے درمیان صلح کرا دیتے اگر کسی سے کوئی اچھی بات سنتے تو ضرور اس کا حوالہ، ماخذ اور تفسیر و تشریح اس سے پوچھتے۔ فقہاء اور علماء کے ساتھ زیادہ تر نشست و برخاست رکھتے۔۔۔۔۔۔۔ ایسے علوم کی طرف جاتے جن کے ذریعہ ہوائے نفس پر غالب آ سکیں، اپنے نفس کا علاج قوت فکر و نظر، سوچ بچار اور عبرت سے کرتے اور صرف ایسے کام کی طرف جاتے جو اس کے (دین یا دنیا کے) لیے سود مند ہوتا۔ جو امور ان سے متعلق نہیں ہوتے تھے ان میں ہرگز دخل اندازی نہ کرتے۔ اس بنا پر خدا نے انھیں حکمت و دانائی عطا فرمائی۔ (تشریحی نوٹ: مجمع البیان، (خلاصہ کے ساتھ))۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر پہاڑ کی طرح ڈٹ جاوٴ اور لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرو:
Tafsīr Nemūna · Vol. 5لقمان کی پہلی نصیحت مسئلہ توحید اور شرک سے نبرد آزمائی کے سلسلہ نصیحت حساب و کتاب اعمال و معاد کے بارے میں ہے"مبداء و معاد" کے حلقہ کی تکمیل کرتا ہے۔ جناب لقمان کہتے ہیں "بیٹھا! اگر نیک و بد اعمال یہاں تک کہ رائی کے دانے کے وزن کے برابر ہوں پتھر کے اندر یا آسمان کے گوشے میں یا زمین کے اندر کسی جگہ بھی خدا ان کو داد گاہ قیامت میں حاضر کرے گا اور اس کا حساب و کتاب کرے گا۔ کیونکہ خدا لطیف، باریک بین اور آگاہ خبردار ہے: (يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ)۔ "خردل" (رائی) ایک پودا ہے جس کے بہت چھوٹے سیاہ دانے ہوتے ہیں جو چھوٹا ہونے کی وجہ سے کمی اور حقارت میں ضرب المثل ہے۔ اس طرف اشارہ ہے کہ نیک اور بدعمل جس قدر چھوٹے اور کم قیمت اور جس قدر مخفی و پنہاں ہیں مثل رائی کے دانے کے جو پتھر کے اندر زمین کی گہرائیوں میں یا آسمان کے گوشہ میں مخفی ہو خداوند لطیف و خبیر جو عالم ہستی کی تمام چھوٹی بڑی موجودات سے آگاہ اُسے حساب و کتاب اور سزا و جزا کے لیے حاضر کرے گا اور کوئی چیز اُس کے ہاں گم نہیں ہوتی! ضمیر"انھا" کی "حسنات و سیّئات، اور نیک و بد اعمال" کی طرف لوٹتی ہے۔ (تشریحی نوٹ: بعض نے احتمال دیا ہے کہ اوپر والی ضمیر یا تو ضمیر شان ہے اور یا مفہوم شرک کی طرف لوٹتی ہے اور دونوں احتمال بعید ہیں)۔ انسا ن کے اعمال سے پروردگار کا آگاہ ہونا اور تمام نیکیوں اور بدیوں کا پروردگار عالم کی کتاب علم میں محفوظ ہونا اور اس کائنات میں کسی چیز کے نابود نہ ہونے کی طرف توجہ، تمام انفرادی و اجتماعی اصلاحات کی اصل و بنیاد اور اچھائیوں کی طرف لے جانے کا طاقتور محرک ہے اور شرور و برائیوں سے روکنے کی بڑی طاقت۔ "سماوات" و"ارض" کا ذکر "صخرہ" کے بعد درحقیقت، خاص کے بعد عالم کے ذکر کرنے کے قبیل سے ہے۔ "اصول کافی" میں امام محمد باقر علیہ السلام سے ایک حدیث نقل ہوئی ہے فرماتے ہیں: "اتقوا المحقرات من الذنوب، فان لھا طالباً، یقول اٴحدکم اٴذنب واستغفر، ان اللّٰہ عز و جل یقول: سنکتب ما قدموا و اٰثارھم و کل شئی احصیناہ فی امام مبین، وقال عزوجل: إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ چھوٹے گناہوں سے بھی پرہیز کرو کیونکہ آخرکار کوئی اس کو بھی دریافت کرے گا۔ عزوجل فرماتا ہے ہم اس کو جو انھوں نے آگے بھیجا ہے اور اسی طرح ان کے تمام آثار غرض کہ سب کچھ کو ہم نے لوحِ محفوظ میں محفوظ کر دیا۔ نیز فرمایا ہے: اگر اچھے اور برے اعمال حتّی کہ رائی کے دانہ کے برابر ہوں پتھر کے اندر یا اسمان کے کسی گوشہ میں یا زمین کے اندر خدا اُن کو حاضر کرے گا۔ کیونکہ خدا لطیف و خبیر ہے۔ (بحوالہ: نور الثقلین جلد ۴ ص۲۰۴)۔ مبداء و معاد جو تمام مکتبی اعتقادات کی اساس ہے کی بنیادوں کو محکم طور پر بیان کرنے کے بعد اہم ترین عمل یعنی مسئلہ نماز کو پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں "بیٹا نماز کو قائم کرو، (يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ)۔ کیونکہ نماز تمھارے خالق کے ساتھ تمھارا اہم ترین رابطہ ہے۔ تمھارے دل کو بیدار اور روح کو صاف و شفاف اور زندگی کو منوّر کرتی ہے۔ تمھاری جان سے گناہوں کے آثار کو دھو ڈالتی ہے، تمھارے دل کے خانہ نور ایمان کی روشنی ڈالتی ہے اور تمھیں فحشاء و منکرات سے روکتی ہے۔ نماز کے پروگرام کے بعد ایک اہم ترین اجتماعی فریضہ امر بمعروف اور نہی از منکر کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں "لوگوں کو نیکیوں اور معروف کی دعوت دو اور منکرات اور برائیوں سے روکو" (وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنكَرِ)۔ ان تین اہم عملی احکام کے بعد ایک ایسے اہم مسئلے کی طرف متوجہ کیا ہے جسے ایمان سے وہی نسبت ہے جو سر کو بدن سے ہوتی ہے، اور وہ ہے صبر و استقامت فرمایا۔ "مصائب و مشکلات کے مقابلے میں جو تم پر نازل ہوتے ہیں صابر و شکبیار ہو کیونکہ یہ چیز ہر انسان کے حمتی فرائض اور بنیادی کاموں سے ہے"۔ (وَاصْبِرْ عَلَى مَا أَصَابَكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ)۔ مسلم ہے کہ تمام اجتماعی کاموں میں خصوصاً امرالمعروف اور نہی از منکر کے پروردگار میں بہت زیادہ مشکلات ہوتی اور مفاد پرست احکام گناہوں سے آلودہ اور متکبر و خود پسند لوگ آسانی کے ساتھ تسلیم نہیں کرتے بلکہ امر بمعروف اور نہی ازمنکر کرنے والوں کے درپے آزار ہو کر متہم کرنے پر اُتر آتے ہیں لہٰذا صبر و استقامت اور شکیبائی کے بغیر ان مشکلات پر کسی وقت بھی قابو نہیں پایا جا سکتا۔ "عزم" محکم ارادے کے معنی میں ہے اور "عزم الامور" کی تعبیر یہاں پر یا تو ان کاموں کے معنی میں ہے جن کے متعلق پروردگار کی طرف سے تاکیدی حکم دیا گیا ہے اور یا ایسے کام جن کے بارے میں انسان کو عزم صمیم اور آہنی ارادہ رکھنا چاہیے معنی خواہ کچھ ہو دونوں میں اہمیّت کی طرف اشارہ ہے یعنی انسان آہنی عزم اور صمیم راسخ رکھتا ہو۔ "ذالک" کی تعبیر صبر و شکیبائی کی طرف اشارہ ہے۔ اور یہ احتمال بھی ہے کہ ان تمام امور کی طرف اشارہ ہو جو اُوپر والی آیت میں ذکر ہوئے ہیں، منجملہ ان کے نماز، امر بمعروف اور نہی ازمنکر ہے۔ لیکن قرآن کی بعض دوسری آیت میں یہ تعبیر صبر کے مسئلہ کے بعد بیان ہو ہے جو پہلے احتمال کو تقویت پہنچاتا ہے۔ اس کے بعد لقمان اپنے اور دوسرے لوگوں سے متعلق اخلاقی مسائل کو بیان کرتے ہیں اور سب سے پہلے تواضع، فروتنی اور خندہ پیشانی سے پیش آنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہتے ہیں "بےاعتنائی کے ساتھ لوگوں سے روگردانی نہ کرو" (وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ)۔ "اور مغرورانہ انداز میں روئے زمین پر نہ چلو" (وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا)۔ "کیونکہ خدا کسی متکبر اور مغرور کو دوست نہیں رکھتا" (إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ)۔ "تصعّر"، "صعر" کے مادہ سے ہے جو دراصل قسم کی بیماری ہے جو اونٹ کو لاحق ہوتی ہے جس سے وہ اپنی گردن ٹیڑھی کرتا ہے۔ "مرح" (بروزن فَرَح) نعمت سے پیدا ہونے والے غرور اور مستی کے معنی میں ہے۔ "مختال"، "خیال" اور "خیلاء" کے مادہ سے ہے۔ ایسے شخص کے معنی میں ہے جو دوسروں پر اپنی بڑائی جتائے۔ فخور، فخر کے مادہ سے اس معنی میں ہے کہ جو شخص دوسرے کے مقابل فخر کرتا ہے ("مختال" اور "فخور" میں فرق یہ ہے کہ پہلے کا تعلق ذہن میں پیدا ہونے والے متکبرانہ خیالات سے ہوتا ہے اور دوسرے کا تعلق تکبر آمیز اعمال سے ہے)۔ اور اس طرح لقمان حکیم یہاں دو بری اور ناپسندیدہ صفات کی طرف جو معاشرہ کے صمیمانہ روابط کے منقطع ہونے کا سبب ہیں‘ اشارہ کرتے ہیں‘ ایک تو تکبر اور بےاعتنائی اور دوسری غرور اور ناپسندی ہے۔ اور اس سلسلہ میں دونوں مشترک ہیں جو انسان کو تو ہم، خیال اور اپنے آپ کو برتر سمجھنے کی دنیا میں غلطاں کر دیتی ہیں اور دوسروں سے اس کے روابط کو منقطع کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ خصوصاً "صعر" کے اصلی اور لغوی مادہ کو مدنظر رکھتے ہوئے واضح ہو جاتا ہے کہ اس طرح کے ناپسندیدہ صفات ایک قسم کی نفسیاتی اور اخلاقی بیماری اور تشخیص و تفکر میں ایک قسم کی بےراہروی ہے۔ ورنہ روح اور نفس کے لحاظ سے ایک صحیح اور سالم انسان کبھی بھی اس قسم کے تصورات اور خیالات میں گرفتار نہیں ہوتا۔ کہے بغیر واضح ہے کہ "لقمان" کی مراد صرف لوگوں سے روگردانی کرنا یا مغرورانہ انداز میں مٹک مٹک کر چلنا ہی نہیں بلکہ تکبر اور غرور کے تمام مصادیق کے ساتھ نبردآزمائی بھی ہے۔ لیکن چونکہ اس قسم کی صفات سب سے پہلے اپنے آپ کے عادی اور روزانہ کی حرکات کی نشان دہی کرتی ہیں لہٰذا ان مخصوص مظاہر کو ہی بیان فرمایا ہے۔ بعد والی آیت میں دو اور اخلاقی پروگرام بیان کیے ہیں جو مثبت پہلو کے حامل ہین، گزشتہ پروگراموں کے مقابلہ میں جو منفی پہلو رکھتے ہیں فرماتا ہے: "بیٹا! چلنے پھرنے میں اعتدال کا راستہ اختیار کرو" (وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ)۔ "اور بات کرنے میں بھی اعتدال کو مدنظر رکھو اور آواز دینے میں بھی آہستگی اختیار کرو، اور شور مچا کر بلند آواز سے نہ پکارو" (وَاغْضُضْ مِن صَوْتِكَ)۔ "کیونکہ بدترین آواز گدھوں کی ہے"____ (إِنَّ أَنكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ)۔ 1(تشریحی نوٹ: "حمیر"، "حمار" کی جمع ہے جس کا معنی ہے گدھا)۔ 2(تشریحی نوٹ: "انکر" افعل التفضیل کا صیغہ ہے، اگرچہ یہ صیغہ عام طور پر مفعول کے معنی میں آتا ہے لیکن عیوب کے باب میں یہ صیغہ شاذو نادر آ ہی جاتا ہے۔ ("انکر"، "منکر" کا افعل تفضیل ہے))۔ درحقیقت، ان دو آیات میں دو صفات سے نہی اور دو صفات کے بارے میں امر ہوا ہے۔ نہی، "اپنے آپ کی برتری" اور "خود پسندی" سے کہ جن میں سے ایک تو اس بات کا سبب بنتی ہے کہ انسان خدا کی مخلوق کے ساتھ تکبر کرے اور دوسری سبب بنتی ہے کہ انسان اپنے آپ کو حد کمال میں تصّور کرے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے لیے تدریجی کمال اور ارتقاء کے دروازے بند کر دیتا ہے۔ اگرچہ وہ اپنا دوسروں سے موازنہ نہ کرے۔ اگرچہ یہ دونوں صفات عام طور پر جڑواں ہوتی ہیں اور ان کی اصل (جڑ) مشترک ہے لیکن کبھی ایک دوسرے سے جدا بھی ہو جاتی ہیں۔ اور امر، "عمل" اور "گفتگو" میں اعتدال کی رعایت کا، چونکہ چلنے پھرنے اور گفتگو کرنے میں اعتدال درحقیقت، مثال کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور جس شخص میں واقعاً یہ چار صفات پائی جاتی ہوں وہ موفق، خوش قسمت اور کامیاب انسان ہوتا ہے جو لوگوں میں محبوب اور بارگاہ خدا میں معزز ہوتا ہے۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ ممکن ہے کہ ہماری زندگی کے ماحول میں گدھے کی آواز سے بھی زیادہ تکلیف دہ آوازیں ہوں (مثلاً جب دھاتوں کے ٹکڑے ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں اور ان سے ایسی آواز نکلتی ہے کہ انسان سمجھتا ہے کہ اس کے بدن کا گوشت گر رہا ہے) لیکن اس میں شک نہیں کہ یہ آوازیں نہ تو عمومی ہوتی ہیں اور نہ ہی ہر موقع و محل پر رونما ہوتی ہیں۔ علادہ ازیں تکلیف دہ ہونے اور زیادہ قبیح ہونے میں بھی فرق ہے۔ اور سچ مچ عالم آوازوں سے جنہیں انسان سنتا ہے سب سے زیادہ قبیح اور بری گدھے کی آواز ہی ہوتی ہے۔ اور مغرور اور بےوقوف لوگوں کے نعرے اور بےوقوف اور شور و غوغا اسی آواز سے مشابہت رکھتے ہیں۔ نہ صرف اونچا اور بےہنگم ہونے کے لحاظ سے قبیح نہیں بلکہ کبھی بلاوجہ ہونے کے لحاظ سے ہے۔ کیونکہ بعض مفسرین کے بقول دوسرے جانوروں کی آواز عام طور پر بوقت ضرورت ہوتی ہے لیکن یہ جانور کبھی بلاوجہ، بغیر کسی کی ضرورت اور کسی تمہید و مقدمہ کے وقت، بےوقت ہینگنا شروع کردیتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بعض روایات میں ذکر ہوا ہے کہ جب گدھے کی آواز بلند ہوتی ہے اس وقت وہ شیطان کو دیکھتا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ ہر جانور کی آواز تسبیح ہوتی ہے سوائے گدھے کی آواز کے۔ بہرحال، ان تمام باتوں سے ہٹ کر جو بات مسلّم ہے وہ یہ کہ تمام آوازوں میں اس کی آوازہی قبیح ہے، اور یہ بات کسی بحث و گفتگو کی محتاج نہیں۔ اگر ہم دیکھتے ہیں کہ بعض روایات میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہوا ہے کہ یہ آیت بلند آواز کے ساتھ چھینکنے یا بولتے وقت شور مچانے سے تفسیر ہوئی ہے تو درحقیقت، اس کے روشن مصداق کا بیان ہے۔ (تشریحی نوٹ: مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔
چند اہم نکات ۱۔ چلنے پھرنے کے آداب:
یہ ٹھیک ہے کہ چلنا پھرنا ایک عام اور سادہ سا مسئلہ لیکن یہی سادہ مسئلہ انسان کے اندرونی حالات اور اخلاق و اطوار اور بسا اوقات اس کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے کیونکہ پہلے بھی ہم کہہ چکے ہیں کہ انسان کے عادات و اطوار اس کے اعمال کے اندر منعکس ہوتے ہیں اور کبھی ایک چھوٹا سا معمولی عمل بھی اس کی گہری عادات کی غمازی کرتا ہے۔ اور چونکہ اسلام زندگی کی تمام جہات کو توجہ کا مرکز قرار دیتا ہے لہٰذا اس سلسلہ میں اس نے کسی بھی چیز کو فرو گذاشت نہیں کیا۔ ایک حدیث میں رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ سلّم سے مروی ہے: "من مشی علی الارض اختیالا لعنہ الارض، ومن تحتھا، ومن فوقھا!" "جو شخص عزور و تکبّر کے ساتھ زمین پر چلتا ہے تو زمین اور زمین کے اندر کی اور اس کے اوپر کی چیزیں سب اس پر لعنت کرتی ہیں۔" (بحوالہ: ثواب الاعمال اور امالی صدوق و بحوالہ نور الثقلین، ج۴، ص۲۰۷)۔ پھر ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم سے روایت ہے: "نھی ان یختال الرجل فی مشیہ و قال من لبس ثوبًا فاختال فیہ خسف اللہ بہ من شفیر جھنم و کان قرین قارون لانّہ اوّل من اختال"۔ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم نے مغرورانہ اور متکبرانہ انداز میں چلنے سے روکا ہے اور فرمایا جو شخص لباس پہنے اور اس کے ساتھ تکبر دکھائے تو خداوند عالم اسے جہنم کے کنارے سے زمین کی تہہ میں بھیجے گا اور وہ قارون کا مقرّب اور ساتھی ہو گا۔ کیونکہ قارون پہلا شخص تھا جس نے کبر و غرور کی بنیاد رکھی۔ (بحوالہ: ثواب الاعمال و امالی صدوق (بحوالہٴ تفسیر نور الثقلین، ج۴، ص۲۰۷)۔ نیز امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک حدیث میں ہم پڑھتے ہیں آپ(علیهم السلام) نے فرمایا: خدا نے ایمان کو انسان کے اعضاء و جوارح پر واجب کیا اور ان کے درمیان اسے تقسیم کیا، منجملہ ان کے انسان کے پاؤں پر واجب کیا ہے کہ گناہ اور معصیّت کی طرف نہ جائیں بلکہ رضائے خدا کی راہ میں اٹھیں، اسی لیے قرآن فرماتا ہے: "زمین میں تکبرّ سے نہ چلو" نیز فرماتا ہے: "چلنے میں اعتدال کی راہ کو پیش نظر رکھو"۔ (بحوالہ: اصول کافی، ج۲، ص۲۸ (باب الایمان مبثوث لجوارح البدن کلھا))۔ ایک دوسری روایت میں یہ ماجرا پیغمبر اسلام صلی الله علیہ و آلہ وسلّم سے نقل ہوا ہے کہ آپ ایک کوچہ سے گزر فرما رہے تھے لوگوں کو دیکھا کہ ایک دیوانے کے گرد جمع ہیں اور اس کی طرف دیکھ رہے ہیں فرمایا: علی ما اجتمع ھٰوٴلآء "یہ لوگ کیوں جمع ہیں؟" عرض کیا گیا کہ علی المجنون یصرع "ایک دیوانے کے لیے جو اعصابی حملہ کا شکار ہے!" پیغمبر اسلام صلی الله علیہ و آلہ وسلّم نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا: "ما ھٰذا بمجنون الا اٴخبر کم بمجنون حق المجنون یہ تو دیوانہ نہیں ہے! تم چاہتے ہو کہ واقعی مجنوں کا تم سے تعارف کراؤں؟ انہوں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ!!تو آپ نے فرمایا: "انّ المجنون: المتبختر فی مشیہ، الناظر فی عطفیہ، المحرک جنبیہ بمنکبیہ فذالک المجنون وھٰذا المبتلی" "حقیقی مجنون تو وہ ہے جو غرور سے شانے جھٹک کر چلتا ہے، ہمیشہ اپنے پہلوؤں کی طرف دیکھتا ہے، اپنے بازوؤں کو اپنے کندھوں کے ساتھ ہلاتا ہے۔ (اور کبر و غرور اس کے سارے وجود سے ٹپکتا ہے) ایسا شخص واقعی دیوانہ ہے جسے تم دیکھ رہے ہو، یہ تو بیمار ہے۔ (بحوالہ: بحارالانوار، ج۷۶، ص۵۷)۔
۲۔ گفتگو کے آداب:
لقمان کے پند و نصائح میں بات کرنے کے آداب کے ضمن میں اشارہ کیا گیا تھا، اور اسلام میں اس مسئلہ کے لیے ایک وسیع باب کھولا گیا ہے۔ منجملہ اس کے یہ ہے کہ جب تک بات کرنا ضروری نہ ہو تو سکوت بہتر ہے۔ ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے: "السکوت راحة للعقل"، "سکوت، فکر کے آرام اور راحت کا باعث ہے"۔(بحوالہ: بحار الانوار جلد۷۶ صفحہ ٥۷) ایک اور حدیث میں امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام سے مروی ہے کہ: من علامات الفقہ العلم و الحلم و الصمت، ان الصمت باب من اٴبواب الحکمة۔ "عقل و فہم کی نشانیوں میں سے آگاہی، بردباری اور خاموشی ہے۔ سکوت اور خاموشی حکمت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے (بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۸، ص۵۳۲)۔ لیکن دوسری روایات میں یہ بات بھی زوردے کر کہی گئی ہے کہ : ”جن مو قعوں پر گفتگو کرنا ضروری ہے موٴ من کو کبھی بھی خاموشی اختیار نہیں کرنا چاہیے۔“ ”پیغمبروں کو بات کرنے کی دعوت دی گئی ہے نہ کہ سکوت کی"۔ جنّت میں پہنچنے اور دوزخ سے نجات حاصل کرنے کا ذریعہ بر محل بات کرنا ہے"۔(بحوالہ" وسائل الشیعہ، ج۸، ص۵۳۲)۔
٣۔ معاشرتی آداب
پیغمبر اسلام صلی الله علیہ و آلہ وسلّم اور آئمہ اہلبیت علیہم السلام کے ذریعہ اسلامی روایات میں جس قدر تواضع، حسن خلق اور بوقت ملاقات نرمی کا مظاہرہ اور رہن سہن میں سختی نہ برتنے کے مسئلے کو اہمیّت دی گئی ہے، اتنی بہت کم چیزوں کو اہمیّت دی گئی ہے۔ بہترین اور ناطق دلیل اس سلسلے میں خود اسلامی روایات ہیں جن کا ایک نمونہ ہم یہاں پر نظر نواز کرتے ہیں: ایک شخص پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: "یا رسول اللّٰہ اٴوصنی فکان فیما اٴوصاہ ان قال الق اخاک بوجہ منبسط"، "مجھے نصیحت کیجئے! تو آپ نے فرمایا: اپنے مسلمان بھائی سے کشادہ روئی کے ساتھ ملاقات کرو"۔ (بحوالہ: بحارالانوار، ج۷۴، ص۱۷۱)۔ ایک دوسری حدیث میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم سے مروی ہے: "ما یوضع فی میزان امرء یوم القیامة اٴفضل من حسن الخلق"، "قیامت کے دن کوئی چیز کسی کے ترازوئے عمل میں حسن خلق سے برتر و بالاتر نہیں رکھی جائے گی۔ (بحوالہ: اصول کافی، ج۲، باب حُسن الخلق ۸۱ و۸۲)۔ ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے مذکور ہے: "البر و حسن الخلق یعمران الدیار ویزیدان فی الاعمار"، "ؔنیکو کاری اور حسن خلق گھروں کو آباد اور عمروں کو زیادہ کرتے ہیں"۔ (بحوالہ: اصول کافی، ج۲، باب حُسن الخلق ۸۱ و۸۲)۔ نیز رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلّم سے منقول ہے: "اکثرما تلج بہ امتی الجنة تقوی اللّٰہ وحسن الخلق"، "جو چیز میری امت کے زیادہ سے زیادہ بہشت میں داخل ہونے کا سبب بنے گی وہ خدا کا تقویٰ اور حسن خلق ہے"۔ (بحوالہ: اصول کافی، ج۲، باب حُسن الخلق ۸۱ و۸۲)۔ تواضع اور فردتنی کے بارے میں حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں: "زینة الشریف التواضع"، "شرافت مآب انسانوں کی زینت فروتنی اور تواضع ہے"۔ (بحوالہ: بحارالانوار، ۷۵، ص۱۲۰)۔ آخر میں ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام بیان فرماتے ہیں: "التواضع اصل کل خیر نفیس، و مرتبة رفیعة، ولوکان للتواضع لغة یفھمھا الخلق عن حقائق مافی مخفیات العواقب۔۔۔۔ ومن تواضع للّٰہ شرفہ اللّٰہ علی کثیر من عبادہ ۔۔۔۔۔ ولیس لِلّٰہ عزّوجل عبادة یقبلھا ویرضاھا الا وبابھا التواضع۔ "فردتنی اور تواضع ہر خیر و سعادت کی جڑ ہے، تواضع ایک بلند مقام و مرتبہ ہے اور اگر تواضع کی کوئی زبان ہوتی کہ جسے لوگ سمجھتے تو بہت سے اسرار نہانی اور کاموں کی عاقبت کو بیان کرتی ۔۔۔۔۔ جو شخص خدا کے لیے فروتنی کرے خدا اس کو اپنے بہت سے بندوں پر برتری بخشے گا۔۔۔۔ کوئی ایسی عبادت نہیں جو مقبول بارگاہ خدا اور اس کی رضا کا موجب ہو مگر یہ کہ وہ فروتنی کی راہ ہی سے داخل ہوتی ہے"۔ (بحوالہ: بحارالانوار، ۷۵، ص۱۲۰)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر قابلِ اطمینان سہارا:
Tafsīr Nemūna · Vol. 5حضرت لقمان کے مبدا ٴو معادا اور راہ و رِسم زندگی اور اجتماعی و اخلاقی پروگراموں کے سلسلہ میں دس نکاتی پند و نصائح کے اختام پر قرآن ان کی تکمیل کے لیے خدائی نعمتوں کے بیان کی طرف جاتا ہے، تاکہ لوگوں کے احساس شکر گزاری کو اجاگر کرے وہ شکر جو "معرفة اللّٰہ" کا منبع اور اس کے فرمان کی اطاعت کا سبب ہے۔ (تشریحی نوٹ: بعض مفسرین مثلاً "آلوسی"، "روح المبانی" اور "فخر رازی"، "تفسیر کبیر" میں زیر بحث آیات کو لقمان کی وصیتوں سے پہلے ذکر شدہ آیات سے مربوط جانتے ہیں جن میں مشرکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے "یہ خدا کی مخلوق ہے تم نشاندہی کرو کہ بتوں نے کیا کچھ بنایا ہے"؟ اور زیر بحث آیات میں کہتا ہے "کیا تم نے دیکھا نہیں ہے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے خدا نے تمھارے لیے مسخر کیا ہے" لیکن اس آیت کا ذیل اور اس کے بعد والی آیات اور روایات جو اس کی مفسرین میں وارد ہوئی ہیں، وہ آیت کے مفہوم کی عمامیت کے ساتھ زیادہ سازگار ہیں)۔ روئے سخن تمام انسانوں کی طرف کرتے ہوئے کہتا ہے "کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمانوں اور زمین میں موجود چیزوں کو تمھارے لیے مسخّر کر دیا تاکہ وہ تمھارے مفادات کے لیے سرگرِم عمل رہیں": (أَلَمْ تَرَوْا أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ)۔ انسان کے لیے آسمانی اور زمینی موجودات کی تسخیر ایک وسیع مفہوم رکہتی ہے جو اُن امور کو بھی شامل ہے جو اس کے قبضہ و اختیار میں ہیں، اور وہ اپنی مرضی اور ارادہ سے انھیں ہیں لیکن اپنے مفادات کی راہ میں استعمال کرتا ہے، جیسے زمین کے بہت سے موجودات۔ یا وہ امور جو انسان کے اختیار میں نہیں ہیں لیکن خدا نے انہیں مامور کیا ہے کہ وہ انسان کی خدمت کریں، جیسے سورج اور چاند وغیرہ۔ اس بناء پر تمام موجودات انسانوں کی منفعت کی راہ میں فرمان خدا کے مطابق مسخّر ہیں، چاہے وہ حکم انسان کے مسخّر ہوں یا نہ ہوں۔ اور اس طرح سے "لکم" میں "لام" اصطلاح کے مطابق "لام منفعت" ہے۔ (تشریحی نوٹ: انسان کے لیے تسخیر موجودات کے بارے میں تفسیر نمونہ کی جلد نمبر٥ سورہٴ رعد کی آیت ۲ کے ذیل میں بھی ہم نے بحث کی ہے)۔ آگے چل کر مزید کہتا ہے: "خدا نے اپنی نعمتوں کو خواہ وہ ظاہری ہوں یا باطنی، وسیع اور زیادہ کیا ہے" (وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً) "اسبغ" مادہ "سبغ" (بروزن صبر) اصل میں کھلی اور کشادہ پیراہن یا ذرہ اور وسیع و کامل کے معنی میں ہے اور پھر وسیع وفراوان نعمت پر بھی بولا جانے لگا ہے۔ یہ کہ یہاں "ظاہری" و "باطنی" نعمتوں سے مراد اس آیت میں کیا ہے؟ اس پر مفسرین نے بہت کچھ گفتگو کی ہے۔ بعض "ظاہری نعمت" اس چیز کو سمجھتے ہیں جو کسی بھی شخص کے لیے قابلِ انکار نہیں ہے۔ جیسے خلق، حیات اور انواع و اقسام کے رزق وغیرہ اور "باطنی" نعمتیں ان امور کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جو غور و فکر اور سوچ بچار اور مطالعہ کے بغیر قابل ادراک نہیں ہیں۔ (جیسے بہت سی روحانی طاقتیں اور تعمیری غریز سے)۔ بعض نے "نعمت ظاہر" اعضاء ظاہر کو اور نعمت "باطن" دل کو شمار کیا ہے۔ بعض دوسروں نے "نعمت ظاہر" چہرہ کی زیبائی اور خوبصورتی، قد و قامت کی راستی اور اعضاء کی سلامتی اور نعمت "باطن"، "معرفة اللہ" کو تسلیم کیا ہے۔ ہم پیغمبر اسلام صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کی ایک حدیث میں پڑھتے ہیں، جبکہ ابن عباس نے آنحضرت صلی الله علیہ و آلہ وسلّم سے اس سلسلے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اے ابنِ عباس! نعمت ظاہر، اسلام اور پروردگار کی طرف سے کامل اور منظم خلقت اور وہ رزق و روزی ہے، جو اس نے تم پر ارزانی کی ہیں۔ اور نعمت باطن تمھارے برُے اعمال پر پردہ پوشی اور لوگوں کے سامنے تمھیں رسوا نہ کرنا ہے۔ (تشریحی نوٹ: ۔مجمع البیان زیرِ بحث آیت کے ذیل میں)۔ ایک اور حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: "نعمت ظاہر پیغمبر، معرفة اللہ اور توحید ہے جسےِ پیغمبر لاتے ہیں۔ اور نعمت باطنی و پوشیدہ ہم اہلِ بیت کی ولایت اور ہماری دوستی کا عہد و پیمان ہے"۔ (تشریحی نوٹ: ۔مجمع البیان زیرِبحث آیت کے ذیل میں)۔ حقیقت یہ ہے کہ ان تفاسیر کے درمیان کسی قسم کا تضاد نہیں ہے۔ کیونکہ آیت کے مفہوم کو محدُدو کیے بغیر ان میں سے ہر ایک ظاہری اور باطنی نعمت کے ہر مصداق کو بیان کرتی ہے۔ اور آیت کے آخر میں قرآن ایسے لوگوں کے بارے میں گفتگو کرتا ہے، جو خدا کی ان عظیم نعمتوں کا انکار کرتے ہیں جو انسان کا اندر اور باہر سے احاطہ کیے ہوئے ہیں اور حق کے ساتھ لڑنے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ فرماتا ہے "بعض ایسے لوگ ہیں جو خدا کے بارے میں بغیر علم و دانش اور ہدایت و واضح کتاب کے، مجادلہ کرتے ہیں": (وَمِنَ النَّاسِ مَن يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَا هُدًى وَلَا كِتَابٍ مُّنِيرٍ)۔ اور بجائے اس کے کہ تمام ظاہری اور باطنی نعمتوں بخشنے والے کو پہچانے، جہالت و سرکشی کی بناء پر شرک اور کفر کا رُخ کرتے ہیں۔ "علم" و"ہدایت" اور "کتاب منیر" کے درمیان کیا فرق ہے؟ شاید بہترین بیان یہ ہو کہ ایسے علم ادراکات کی طرف اشارہ ہے، جنہیں انسان اپنی عقل و خرد کے ذریعہ سے درک کرتا ہے اور "ھدی" ایسے خدائی اور آسمانی معلمین و رہبران اور علماء کی طرف اشارہ ہے جو اس کی راہ میں انسان کا ساتھ پکڑ کر اسے منزل مقصود تک پہنچاتے ہیں۔ اور "کتاب منیر" سے وہ آسمانی کتابیں مراد ہیں جو وحی کے ذریعہ انسان کے دل و جان کو منور کرتی ہیں۔ حقیقت میں یہ ضدی اور ہٹ دھرم گروہ نہ خود علم و دانش رکھتا ہے، نہ کسی راہبر و رہنما کا اتباع کرتا ہے اور نہ ہی وحی الٰہی سے مدد لیتا ہے۔ چونکہ راہ ہدایت ان تینوں چیزوں میں منحصر ہے، لہٰذا ان کے ترک کرنے سے انسان گمراہی اور شیاطین کی وادی میں کھینچ کر چلا جاتا ہے۔ بعد والی آیت میں اس گمراہ گروہ کی بوری اور کمزور منطق کی طرف اشارہ کرتے ہوُئے کہتا ہے: اور جس وقت اُن سے کہا جائے، جو کچھُ خدا نے نازل کیا ہے۔ اس کی پیروی کرو تو وہ کہتے ہیں، نہیں ہم تو اس چیز کی پیروی کریں گے، جس پر ہم نے اپنے آباء (و اجداد) کو پایا ہے: (وَإِذَا قِیلَ لَھُمْ اتَّبِعُوا مَا اَنزَلَ اللهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْہِ آبَائَنَا)۔ اور چونکہ ان کے جاہل و منحرف بزرگوں کی پیروی اوپر والے ہدایت آفرین تین طریقوں میں سے کسی کی بھی جزاء نہیں لہٰذا قرآن اسے راہ شیطان کے عنوان سے ذکر کرتا ہے اور فرماتا ہے: "کیا حتی اگر شیطان انھیں بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلوں کی طرف دعوت دے تو پھر بھی انھیں اس کا اتباع کرنا چاہئیے؟ (أَوَلَوْ كَانَ الشَّيْطَانُ يَدْعُوهُمْ إِلَى عَذَابِ السَّعِيرِ)۔ (تشریحی نوٹ : مفسرین عام طور پر "لو" کو یہاں "لو شرطیہ" کے معنی لیتے ہیں جس کی جزاء محذوف ہے اور جملہ کی تقدیر یوں ہے: "لَوْ كَانَ الشَّيْطَانُ يَدْعُوهُمْ إِلَى عَذَابِ السَّعِيرِیتبعونہ")۔ حقیقت میں قرآن نے یہاں بڑوں کی سنّت اور اُن کے طور و اطوار کی پیروی کے نقاب کو اُلٹ دیا ہے۔ جو ظاہر بظاہر فریب پر بنی ہے اور ان کے عمل کے واقعی چہرہ کو نمایاں کر دیا، یعنی وہی جہنم کی راہ اختیار کرنے میں ہی شیطان کی پیروی ہے۔ جی ہاں! شیطان کی راہبری ہی اس بات کے لیے تہنا کافی ہے کہ انسان اس کی مخالفت کرے، اگرچہ وہ حق کی طرف دعوت کے پردوں میں کیوں نہ لپٹی ہوئی ہو۔ کیونکہ وہ یقینا ایک گمراہ کن نقاب ہے جس کے اندر سے جہنم کی آگ کے لیے دعوت دی جا رہی ہے اور جہنم کی آگ کی طرف دعوت دینا ہی اس بات کے لیے کافی ہے کہ اس کی مخالفت کی جائے۔ اگرچہ دعوت دینے والا مہجول الحال ہو۔ لیکن اگر دعوت دینے والا شیطان ہو اور اس کی دعوت بھی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کی طرف ہو تو بات صاف ظاہر ہے۔ کیا کوئی عقل مند انسان اللہ کے پیغمبروں کی بہشت کی طرف دعوت کو چھوڑ کر شیطانی دعوت کے پیچھے جہنم کی طرف جا سکتا ہے؟ اس کے بعد دو گروہوں یعنی خالص موٴمن اور گناہوں سے آلودہ کفار کے حالات کو بیان کر کے اُن کا آپس میں تقابل کرتا ہے اور اس بارے میں بھی تقابل کرتا ہے کہ جو لوگ شیطان کے پیروکار اور اپنے بزرگوں کی اندھی تقلید کرتے ہیں، محل توجہ قرار دیتے ہوُئے کہتا ہے۔ "جس شخص نے اپنے دل و جان کو خدا کے سپرد کر دیا اور پروردگار عالم کے آستان پر سر تسلیم خم کر دیا۔ جبکہ وہ محسن اور نیکوکار بھی ہے تو اس نے محکم دستے کو پکڑ لیا ہے" (وَمَن يُسْلِمْ وَجْهَهُ إِلَى اللَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى)۔ "خدا کے لیے اپنے چہرے کو تسلیم اور خم کرنے" سے مراد حقیقت میں پروردگار کی ذات پاک کی طرف اپنے تمام وجود کے ساتھ مکمل توجہ کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ "وجھہ " (جس کا معنی چہرہ ہے) چونکہ بدن کا شریف ترین عضو اور حواس انسانی کا اہم ترین مرکز ہے۔ لہٰذا انسان کی ذات سے کنایہ کے طور پر استمال ہئوا ہے۔ "ھو محسن" کی تعبیر ایمان کے بعد عمل صالح کے ذکر کی قسم ہے۔ محکم عروہ اور دستہ کو پکڑنا اس حقیقت کے متعلق ایسی لطیف تشبیہ ہے کہ انسان مادیت کے گہرے کھڈے سے نکلنے اور معرفت، معنویت اور روحانیت کی بلند ترین چوٹی تک پہنچنے کے لیے ایک محکم اور مقابِل اطمینان وسیلہ کا محتاج ہے اور یہ وسیلہ ایمان اور عمل صالح کے علاوہ، کوئی اور چیز نہیں ہو سکتی۔ ان کے علاوہ، باقی سب کچھ فرسودہ، پارہ پارہ ہونے والا، سقود اور موت کا سبب ہیں۔ علاوہ ازیں، صرف وسیلہ ہی کو بقا حاصل ہے۔ اس کے علاوہ، سب کچھ فانی اور نابود، ہونے والا ہے۔ اس لیے آیت کے آخر میں فرماتا ہے" تمام کاموں کی عاقبت خدا کی طرف ہے: " (وَإِلَی اللهِ عَاقِبَةُ الْاُمُورِ)۔ اس حدیث میں جو تفسیر برہان میں اہل سنت کے طریقوں سے امام علی مُوسیٰ رضا علیہ السلام کے ذریعہ پیغمبر اسلام سے نقل ہوئی ہے، اس طرح آیا ہے: "سیکون بعدی فتنة مظلمة، النّاجی منہا من تمسک بالعروةالوثقی فقیل یا رسول الله وما العروة الوثقیٰ؟ قال: ولایة سیّد الوصیین، قیل یا رسول الله ومن سید الوصیین؟ قال: اٴمیر الموٴمنین، قیل یا رسول الله ومن اٴمیر الموٴمنین؟ قال: مولی المسلمین وامامھم بعدی، قیل یا رسول الله ومن مولی المسلمین وامامھم بعدک؟ قال: اٴخی علی بن اٴبی طالب(ع) "میرے بعد تاریک اور ظلمانی فتنہ رونما ہو گا، صرف وہ لوگ اس سے نجات حاصل کریں گے۔ جو عروة الوثقیٰ اور مضبوط دستہ کو پکڑ لیں گے۔ عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول! عروة الوثقیٰ کیا ہے؟ فرمایا سیّد ادصیاء کی ولایت! لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! سیّد اوصیاء کون ہے؟ فرمایا مسلمانوں کا مولیٰ اور میرے بعد ان کا امام پیشوا! پھر انھوں نے اس بناء پر کہ زیادہ صریح جواب حاصل کریں، عرض کیا وہ کون ہے؟ فرمایا میرا بھائی علی بن ابی طالب (ع) (تشریحی نوٹ: تفسیر برہان جلد ۳ صفحہ ۲۷۹۔ زیر بحث آیت کے ذیل ہیں")۔ اور روایات بھی اس سلسلے میں کہ "عروة الوثقی" سے مراد اہل بیت علیہ السلام یا آلِ محمد صلی الله علیہ و آلہ وسلّم یا اولاد حسین علیہ السلام میں سے آئمہ کی دوستی ہے، نقل ہوئی ہے۔ (تشریحی نوٹ: مزید وضاحت کے لئے تفسیر برہان، ص۲۷۸ اور ۲۷۹ کی طرف رجوع فرمائیں")۔ ہم بارہا کہہ چکے ہیں کے اس قسم کی تفسیریں اپنے واضح مصداق کا بیان ہوتی ہیں اور توحید و تقویٰ وغیرہ جیسے دوسرے مصادیق کی متضاد نہیں ہیں۔ اس کے بعد دوسرے گروہ کی حالت بیان کرتے ہوئے کہتا ہے "جو شخص کافر ہو جائے اور ان واضح حقائق کا انکار کرے، اس کا کُفر آپ کو غمگین نہ کر دے" (وَمَن كَفَرَ فَلَا يَحْزُنكَ كُفْرُهُ)۔ کیونکہ آپ نے اپنی ذمہ داری کو اچھی طرح انجام دے دیا۔ اب وہ ہے کہ جو اپنے اوپر ظلم و ستم کرتا ہے۔ اس قسم کی تعبیریں جو قرآن مجید میں بارہا آئی ہیں نشان دہی کرتی ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ و آلہ وسلّم جو مشاہدہ کرتے تھے کہ ایک جاہل، ضدی، ہٹ دھرم اور اکھڑ مزاج گروہ ان واضح و روشن دلائل اور نشانیوں کے باوجود خدا کی راہ کو ترک کر کے بے راہ روی اختیار کرتا ہے تو پیغمبر اسلام صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کو اس سے سخت رنج پہنچتا، اور وہ اس قدر غمگین ہوتے کہ بارہا خدا ان کی دل داری کرتا اور تسلّی دیتا۔ اور دل سوز رہبر کی یہی راہ و رسم تو ہوتی ہے۔ نیز (اے پیغمبر!) آپ اس سے بھی پرشان نہ ہوں کہ اگر ایک گروہ دُنیا میں باوجود یکہ کُفر اختیار کرتا اور ظُلم ڈھاتا ہے، پھر بھی خدائی نعمتوں سے بہرہ ور ہے اور سزا اور عذاب میں مبتلا نھیں، کیونکہ ابھی دیر نہیں ہوئی۔ "ان سب کی بازگشت ہماری طرف ہے اور ہم انھیں ان کے اعمال اور ان کے تلخ اور منحوس نتائج سے آگاہ کریں گے:" (اإِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوا)۔ ہم نہ صرف ان کے اعمال سے آگاہ ہیں بلکہ ان کی نیتوں اور دل کے اندرونی اسرار سے بھی باخبر ہیں: "کیونکہ خدا اس سے جو سینوں کے اندر ہے آگاہ ہے: (ِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُور)۔ یہ تعبیر کہ خدا لوگوں کو قیامت میں ان کے اعمال سے باخبر کرے گا یا جس میں وہ اختلاف کرتے تھے اس سے باخبر کرے گا، قرآن مجید کی بہت سی آیات میں نازل ہوا ہے اور اس طرف توجہ کرتے ہوُئے کہ "ننبئکم"، "نباٴ" کے مادے سے ہے۔ مفردات راغب کی تصریحات کے مطابق "نباٴ" اس خبر کو کہتے ہیں جو اہم مضمون اور فائدہ کی حامل ہو اور صریح و آشکار ہو اور ہر قسم کے جھوٹ سے خالی ہو اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ تعبیرات اس طرف اشارہ ہیں کہ خدا وندِ عالم قیامت میں انسانوں کے اعمال کو اس طرح فاش کرے گا کسی کے لیے بھی کسی قسم کے اعتراض و انکار کی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ لوگ جو کچھ اس دنیا میں انجام دیتے ہیں اور عام طور پر اسے فراموش کر دیتے ہیں، سب کو بعینہ (ہو بہو) ظاہر کرے گا اور حساب و جزا کے لیے حاضر کرے گا۔ یہاں تک کہ جو کچھُ انسان کے دل میں گزرتا ہے اور خدا کے علاوہ، کوئی شخص بھی اس سے آگاہ نہیں ہوتا وہ سب کچھ ان کے گوش گزار کرے گا۔ پھر مزید کہتا ہے کہ ان کا دنیاوی زندگی سے بہرہ ور ہونا آپ کو تعجب اور حیرت میں نہ ڈال دے۔ "ہم تھوڑی سی متاع دُنیا ان کے اختیار میں دے دیتے ہیں۔ اور متاع دُنیا جتنا بھی زیادہ ہو، پھر بھی کم اور نا چیز ہے۔ پھر انھیں جبری طور پر عذابِ شدید کی طرف کھینچ کر لے جائیں گے۔ مسلسل اور درد ناک عذاب کی طرف:" (نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَى عَذَابٍ غَلِيظٍ)۔ ہو سکتا ہے کہ یہ تعبیر اس طرف اشارہ ہو کہ وہ یہ تصور نہ کریں کہ وہ اس جہان میں خدا کے قبضہٴ قدرت سے خارج ہیں۔ بلکہ وہ خود چاہتا ہے کہ انھیں آزمائش، اتمام حجت اور دوسرے مقاصد کے لیے آزاد رکھے اور ان کی یہ متاعِ قلیل بھی اس کی طرف سے ہے اس گروہ کی حالت جو ذِلّت و جواری اور جبرواکراہ کے ساتھ خدا کے شدید اور سخت عذاب کی طرف کھینچا جائے گا، ان لوگوں کی حالت سے کتنی مختلف ہے، جن کا سارا وجود خدا کے اختیار میں ہے اور انہوں نے عروة الوثقیٰ کو پکڑ رکھا ہے اور دنیا میں پاک و پاکیزہ اور نیکی کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ اور آخرت میں رحمتِ خدا کے جوار میں نعمتوں سے بہرہ ور ہوں گے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر پروردگار کی دس صفات:
Tafsīr Nemūna · Vol. 5اوپر والی چھ آیت میں خدا کی صفات کا ایک مجموعہ بیان ہوا ہے جو حقیقت میں دس اچھے صفات یا اسماء حسنیٰ میں سے دس اسماء کو بیان کرتا ہے، غنی، حمید، عزیز، حکیم، سمیع، بسیر، خبیر، حق، علی اور کبیر۔ یہ تو ہوا ایک لحاظ سے، رہا دوسرا پہلو تو پہلی آیت میں خدا کی "خالقیت" کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے اور دوسری آیت میں اس کی"مالکیّت عامہ" سے، تیسری آیت میں اس کے بے انتہا "علم" سے اور چوتھی و پانچویں آیت میں اس کی غیر متناہی قدرت سے۔ اور آخری آیت میں نتیجہ اخذ کرتا ہے۔ جو ذات ان صفات کی حامل ہے، وہ "حق" ہے اور جو اس کے علاوہ، ہے، وہ باطل نا چیز اور حقیر ہے۔ اس اجمالی بحث کو مدِنظر رکھتے ہُوئے ہم آیت کی تشریح کی طرف لوٹتے ہیں۔ پہلے فرماتا ہے:۔ "اگر ان سے سوال کرو کہ کس نے آسمانوں اور زمین کو خلق کیا ہے تو یقینا وہ جواب دیں گے کہ "اللہ" نے: (وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ لَیَقُولُنَّ الله)۔ یہ تعبیر جو دوسری قرآنی آیات میں بھی نظر آتی ہے(جیسے سورہ عنکبوت آیت ۶۱۔تا ۶۳۔ سورہ زمر آیہ ۳۸۔ سورہ زخرف آیات ۹) جہاں ایک طرف اس امر کی دلیل ہے کہ مشرک لوگ خالق کی توحید کے ہرگز منکر نہیں تھے۔ اور بتوں کی خالقیت کے قائل بھی نہیں ہو سکتے تھے۔ صرف عبادت میں شرک اور بتوں کی شفاعت کا عقیدہ رکھتے تھے۔ وہاں دوسری طرف توحید کے فطری ہونے اور تمام انسانوں کی فطرت میں نورِالٰہی کی تجلیّ کی دلیل بھی ہے۔ اس کے بعد کہتا ہے۔ اب جبکہ وہ خالق کی توحید کے معترف ہیں "تو کہہ دے کہ حمد و ستائش اللہ کے ساتھ مخصوص ہے" جو ہر چیز کا خالق ہے نہ کہ بتوں کے ساتھ جو خود مخلوق ہیں۔ لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے اور وہ نہیں سمجھتے کہ عبادت کو خالق عالم کے لیے مخصر ہونا چاہیے:(قُلْ الْحَمْدُ لِلّٰہِ بَلْ اَکْثَرُھُمْ لَایَعْلَمُونَ)۔ اس کے بعد حق تعالیٰ کی "مالکیّت کے ثبوت کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔ فرماتا ہے"خدا کے لیے ہے تمام وہ کچھ جو آسمانوں اور زمین میں ہے:" (لِلّٰہِ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ)۔ واضح رہے کہ وہ ذات جو "خالق" اور "مالک" ہے وہی امور جہاں کی مدبرّ بھی ہے اور اس طرح سے توحید اپنی تینوں قسموں (توحیدِ خالقیّت، توحیدِ مالکیّت اور توحیدِ ربوبیّت) سمیت ثابت ہو جائے گی۔ اور جو ذات ان صفات کی حامل ہے، وہ ہر چیز سے بےنیاز اور ہر قسم کی ستائش کے لائق ہو گی، اسی بناء پر آیت کے آخر میں مزید کہتا ہے۔ "خدا غنی و حمید ہے:" (إِنَّ اللهَ ھُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِید)۔ وہ غنی مطلق اور ہر لحاظ سے حمید ہے۔ کیونکہ جو نعمت و عطا و بخشش جہان میں ہے، اسی کی طرف لوٹتی ہے اور ہر شخص جو کچھ رکھتا ہے اس کی طرف سے ہے اور تمام اچھائیوں کے خزانے اس کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ اور یہی اس کے غنا اور تو نگری کی زندہ دلیل ہے۔ اور چونکہ "ھم" کا معنی کسی اچھے کام کی تعریف و ستائش ہے، جو ارادہ و اختیار کے ساتھ کسی سے انجام پاتا ہے اور اس عالم میں جو اچھائیوں اور نیکی ہمیں نظر آتی ہے وہ چونکہ پروردگار عالم کی طرف سے ہوتی ہے۔ لہٰذا ہر قسم کی تعریف اور ستائش بھی اسی کے لیے ہی ہو گی۔ یہاں تک کہ اگر ہم پھول کی زیبائی اور خوبصورتی کی تعریف کرتے ہیں یا ملکوتی عشق کی کشش کی توصیف کرتے ہیں یا کسی ایثار و قربانی کرنے والے شخص کے کام کن عظمت کو قدر کی نگاہوں سے دیکھتے میں تو درحقیقت، اسی کی ہی ستائش و تعریف کر رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ زبیائی ہو یا وہ قوت جاذبہ اور عظمت سب کچھ اُسی کی طرف سے ہے پس وہی "حمید علی الا طلاق" ہے۔ بعد والی آیت خدا کے غیر متناہی اور بےپایاں علم کی تصویر کشی کرتی ہے۔ جو ایک بہت ہی واضح اور روشن مثال کے ساتھ مجسم ہوتی ہے۔ لیکن پہلے اس نکتے کا ذکر کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ جیسے علی بن ابراہیم کی تفسیر کے مطالق "یہودیوں کے ایک گروہ: نے جس وقت مسئلہ رُوح کے بارے میں پیغمبر صلی الله علیہ و آلہ وسلّم سے سوال کیا اور قرآن نے ان کے جواب میں کہا (قل الروح من امر ربی وما او تیتم من العلم الّا قلیلا) "رُوح میرے پروردگار کا امر اور حکم ہے اور علم سے تمھارا حصّہ بہت ہی تھوڑا ہے"۔ تو یہ گفتگو ان پر گراں گزری اور پیغمبر صلی الله علیہ و آلہ وسلّم سے پوچھا کہ یہ حکم صرف ہمارے بارے میں ہے؟ فرمایا نہیں بلکہ سب کو شامل ہے (یہاں تک کہ ہمیں بھی)۔ لیکن انھوں نے مزید کہا: اے محمد! آپ بھی علم کا تھوڑا سا حِصّہ رکھتے ہیں۔ حالانکہ آپ کو قرآن عطا ہوا ہے اور ہمیں بھی تورات دی گئی ہے۔ آپ کے قرآن میں آیا ہے "جسے حکمت دی گئی اسے خیر کثیر دی گئی ہے"۔ یہ باتیں ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتیں تو اس مقام پر (وَلَوْ اَنَّمَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَام) (زیربحث) آیت نازل ہوئی اور واضح کیا کہ انسان کا علم جتنا بھی وسیع ہو، خدا کے علم کے مقابلہ میں ایک بے مقدار ذرہ سے زیادہ نہیں، جو کچھ تمھارے نزدیک بہت زیادہ ہے، وہ خدا کے ہاں بہت ہی کم ہے۔ (بحوالہ: تفسیر برہان، ج۳، ص۲۷۹)۔ اس طرح ایک اور روایت ایک دوسرے طریق سے ہم نے سورہ کہف کی آیت ۱۰۹ کے ذیل میں بیان کی ہے۔ بہرحال، قرآن مجید خدا کے غیر متناہی علم کی تصویر کشی کرتے ہوئے، اس طرح کہتا ہے: "جتنے کچھ رُوئے زمین پر درخت ہیں، قلم ہو جائیں اور سمندر اس کے لیے سیاہی بن جائیں اور سات سمندروں کا اس پر اضافہ ہو جائے تاکہ وہ علم خدا کو لکھیں۔ یہ سب ختم ہو جائیں گے لیکن کلماتِ خدا ختم نہیں ہوں گے۔ خداوند عالم عزیز و حکیم ہے۔ " (وَالْبَحْرُ یَمُدُّہُ مِنْ بَعْدِہِ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَا نَفِدَتْ کَلِمَاتُ اللهِ إِنَّ اللهَ عَزِیزٌ حَکِیمٌ)۔ "یمدہّ"، "مداء" کے مادہ سے سیاہی یا کوئی دوسرا رنگین مادہ ہوتا ہے، جس کے ساتھ لکھتے ہیں اور اصل "مد" سے جو کشش کے معنی میں ہے لیا گیا ہے، کیونکہ خطوط قلم کی کشش کے ذریعہ کاغذ کے صفحہ پر ظاہر ہوتے ہیں۔ بعض مفسرین نے اس کے لیے ایک اور معنی نقل کیا ہے اور وہ تیل ہے جو چراغ میں ڈالتے ہیں، اور وہ چراغ کی روشنی کا سبب بنتا ہے اور دونوں معنی حقیقت میں ایک ہی اصل کی طرف لوٹتے ہیں۔ "کلمات" جمع ہے "کلمہ" کی اور اصل میں اُن الفاظ کے معنی میں، ہے جن کے ساتھ انسان بات کرتا ہے اور پھر وہ اس سے زیادہ وسیع معنی میں استعمال ہوا ہے اور وہ ہر چیز ہے، جو کسی مطلب کو بیان کر سکے اور چونکہ اس جہان کی گونا گوں مخلوقات میں سے ہر چیز خدا کی پاک ذات اور اس کے علم و قدرت کی بیان کرتی ہے۔ لہٰذا ہر موجود کو "کلمةاللہ" کہا جاتا ہے، خصوصاً صاحبانِ شرافت و عظمت موجودات کے بارے میں یہ تعبیر استعمال ہوئی ہے، جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں سورہ نساء کی آیت ۱۷۱ میں ہم پڑھتے ہیں: (انّما المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللّٰہ وکلمتہ) (اور اس جیسا معنی سُورہ آلِ عمران کی آیت ۴۵ میں آیا ہے)۔ اس کے بعد اسی مناسبت سے "کلمة اللہ" پروردگارِ عالم کے علم و دانش کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے۔ اب ہمیں ٹھیک طرح سے غور و فکر کرنا چاہئیے کہ ایک انسان کی تمام معلومات کو معرض تحریر میں لانے کے لیے کبھی تو ایک قلم سیاہی کی کچھ مقدار کے ساتھ کافی ہو رہتا ہے۔ بلکہ ہو سکتا ہے کہ اُسی ایک قلم سے دوسرے انسان بھی اپنی معلومات کے مجموعہ کو کاغذ کے صفحہ پر لے آئیں۔ لیکن قرآن کہتا ہے۔ اگر روئے زمین کے تمام درخت قلم بن جائیں۔ ظاہر ہے کہ بسا اوقات ایک تنوع مند درخت کے تنوں اور شاخوں سے ہزاروں بلکہ لاکھوں قلم وجود میں آ سکتے ہیں، اگر رُوئے زمین کے تمام عظیم درختوں اور جنگلوں کی تعداد کو مدّنظر رکھتے ہوئے کہ جن سے کائنات کے پہاڑ، دشت اور صحرا اٹے پڑے ہیں۔ پھر ان سے تیار ہونے والے قلم اور اسی طرح اگر رُوئے زمین کے تمام سمندر سیاہی بن جائیں، جو تقریباً کرہ ارض کے تین چوتھائی حصہ پر محیط عمیق اور گہرے ہیں۔ تو لکھنے کے لیے اس وقت کس قدر عجیب و غریب کیفیت رونما ہو گی اور علم و دانش کی کتنی مقدار کو لکھا جا سکے گا: خصوصا اس وقت ان کے ساتھ دوسرے سمندروں کا بھی اضافہ کر دیا جائے کہ جن میں سے ہر ایک سمندر روئے زمین کے تمام سمندروں کے برابر ہو اور خاص کر جب اس امر کو مدّ نظر رکھا جائے کہ یہاں پر سات کا عدد شمار کے معنی میں نہیں، بلکہ کثرت اور زیادتی کے معنی میں ہے اور بےشمار سمندروں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ تو ایسی صورت میں واضح ہو جاتا ہے کہ علم الٰہی کی وسعت کس قدر عظیم اور ناپید کنارہ ہے اور پھر یہ کہ یہ سب تو ختم ہو سکتے ہیں۔ لیکن اس کے علوم پھر بھی ختم ہونے میں نہیں آئیں گے۔ کیا کسی لامتناہی کے لیے اسی سے زیادہ خوبصورت انداز میں تصویر کشی کی جا سکتی ہے؟ ہر عدد اس قدر واضح اور ناطق ہے کہ اس کے ساتھ انسانی فکر کی لہریں بےکراں اور لا محدُود آفاق کی طرف پرواز کر جاتی ہیں اور خود انسان کو حیرت و استعجاب کے سمندر میں ڈبو دیتی ہیں۔ اس واضح ترین بیان کی طرف توجہ کرنے سے انسان محسوس کرتا ہے کہ خدائی علم کے سامنے تو اس کی معلومات ایسی ہیں جیسے کسی لامتناہی کے سامنے ایک صفر کی ہوتی ہے اور اس مقام پر پہنچ کر اسے زیب دیتا ہے کہ کہے "میرا علم و دانش وہاں تک جا پہنچا ہے کہ میں نے اپنی نادانی کو پا لیا ہے۔" یہاں تک کہ اس واقعیت کو بیان کرنے کے لیے قطرہ اور سمندر کی تشبیہ بھی نا کافی نظر آتی ہے۔ منجملہ لطیف نکات کے جو آیت میں نظر آتے ہیں، ایک یہ بھی ہے کہ لفظ "شجرة" مفرد کی شکل میں اور "اقلام" جمع کی صورت میں آیا ہے تاکہ قلموں کی تعداد کی فراوانی کو بیان کرے۔ جو ایک درخت کے تنوں اور شاخوں سے وجود میں آتے ہیں۔ اور نیز "البحر" کی تعبیر مفرد کی صورت میں اور اس پر "الف ولام جنس" اس لیے ہے کہ یہ روئے زمین کے تمام سمندروں کو شامل ہے۔ خصوصاً اس لیے کہ تمام دُنیا کے سمندر آپس میں مربوط و متصل ہیں اور واقع ہیں۔ ایک ہی وسیع و عریض سمندر کے حکم میں ہیں۔ اور مزید اربات یہ ہے کہ "قلموں" کے بارے میں اضافی اور کمک کرنے اور مدد کرنے والے قلموں کی بات نہیں کی۔ بلکہ سمندروں کے بارے میں سات دوسرے سمندروں کی گفتگو درمیان آئی ہے۔ وہ اس لیے کہ لکھتے وقت قلم کا مصرف کم اور سیاہی کا مصرف زیاہ ہوتا ہے۔ لفظ "سبع" (سات) کا انتخاب لغت عرب میں تعداد کی کثرت اور زیادتی کرنے کے لیے ہے اور یہ شاید اس لحاظ سے ہے کہ گذشتہ زمانہ میں لوگ منظومہ شمسی کے کروں کی تعداد کا عدد سات سمجھتے تھے۔ (اور حقیقت میں موجودہ زمانہ میں بھی آلات لگائے بغیر منظومہٴ شمسی میں جو کچھ نظر آتے ہیں وہ سات کروں سے زیادہ نہیں) اور پھر یہ کہ "ہفتہ" سات دنوں کی ایک کامل سیٹ سے زیادہ نہیں ہے اور تمام کرّئہ ارض کو بھی سات حصّوں میں تقسیم کرتے تھے۔ اور اس کا نام سات "اقلیم" رکھا ہوا تھا۔ ان باتوں سے واضح ہو جاتا ہے کہ اکائیوں میں سے سات کا عدد ایک کامل عدد کے عنوان سے اور تعداد کی کثرت بیان کرنے کے لیے کیوں استعمال ہوا ہے؟ (تشریحی نوٹ: "پروردگار کے لامتناہی علم" کے سلسلے میں جلد ۷ سورہٴ کہف کی آیت ۱۰۹ میں ہم نے گفتگو کی ہے)۔ پروردگار کے غیر متناہی علم کے ذکر کے بعد اس کی بےانتہا قدرت کی بات درمیان میں لاتے ہوئے فرماتا ہے۔ تم سب کی خلقت و آفرینش نیز موت کے بعد تم سب کا اُٹھنا ایک فرد کی مثال سے زیادہ نہیں ہے۔ "خدا سننے اور دیکھنے والا ہے:" (مَا خَلْقُکُمْ وَلَابَعْثُکُمْ إِلاَّ کَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ إِنَّ اللهَ سَمِیعٌ بَصِیرٌ)۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ کفار قریش کی ایک جماعت مسئلہ معاد پر تعجّب کرتی اور اسے بعید سمجھتی تھی اور کہتی تھی کہ خدا نے ہمیں مختلف شکلوں میں پیدا کیا ہے اور گونا گوں مرا حل کے اندر، ایک دن ہم نطفہ تھے، پھر علقہ ہوئے۔ اس کے بعد لوتھڑا بنے اور پھر تدریجی طور پر مختلف صورتوں میں اس دُنیا میں آئے تو کس طرح ہم سب کو خدا ایک ہی لمحہ میں نئی خلقت دے گا؟ تو زیرِ بحث آیت نازل ہوئی اور اس کا جواب دیا۔ درحقیقت، وہ اس نکتہ سے غافل تھے کہ "سخت" و"آسان" اور "چھوٹے" اور "بڑے" جیسے لفظوں کے مفہوم ہمارے جیسی موجودات کے لیے ہیں جو محدد و قدرت رکھتی ہے۔ لیکن حق تعالیٰ کی غیر متناہی قدرت کے سامنے میں برابر ہیں۔ خلقت خواہ ایک شخص کی ہو یا کئی اشخاص کی، ایک موجود کی خلقت ایک لمحہ میں ہو یا سالہا سال کے دوران میں، اس کی بارگاہ قدرت میں سب ایک جیسا ہے۔ اگر کفار کا تعجب اس بناء پر ہے کہ یہ مختلف طبعتییں، گونا گوں شکلیں اور انواع و اقسام کی شخصیتیں اور وہ بھی انسان کے خاک اور مٹی ہو جانے اور خاک کے منتشر ہو جانے اور ایک دوسرے سے مل جانے کے بعد کس طرح ممکن ہے کہ وہ ایک دوسرے سے جدا ہوں اور ہر چیز اپنی جگہ کی طرف لوٹ آئے؟ تو اس کا جواب خدا کا غیر متناہی علم اور لازوال قدرت دیتی ہے۔ اس نے موجوداتِ عالم کے درمیان روابط کچھ اس طرح برقرار کیے ہیں کہ ایک اکائی مثل ایک مجموعہ کے، اور ایک مجموعہ مثل ایک اکائی کے ہے۔ اصولی طور پر اس جہان کا باہمی اتّصال و ارتباط کچھ اس طرح ہے کہ کثرت ایک آن میں وحدت کی صورت اختیار کر سکتی ہے اور تمام انسانوں کی خلقت بھی اسی طرح اس اصول اور فارمولے کے تابع ہے، جس طرح ایک انسان کی خلقت۔ اور اگر ان کا تعجب زمانہ کے لحاظ سے ہے کہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ مراحل جو انسان حالتِ نطفہ سے لے کر جوانی کے دور تک کئی برسوں میں طے کرتا ہے، مختصرسے لمحات میں طے کرے؟ تو اس کا جواب بھی پروردگار کی قدرت دیتی ہے۔ جہاں تک ہم جاندار کی دنیا میں انسانی بچوں کو دیکھتے ہیں کہ انھیں ایک طویل مدّت گزارنا چاہیے تاکہ وہ چلنا پھرنا اچھی طرح سیکھ سکیں یا ہر نوع غذا سے استفادہ کر سکیں۔ اس کے برعکس جب پرندوں کے بچّوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ اپنا سر انڈے سے باہر نکالتے ہی اور پیدا ہوتے ہی کھڑے ہو جاتے ہیں اور چلنے پھرنے لگتے ہیں بلکہ غذا کھانے میں وہ اپنی ماں کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے۔ یہ امور نشان دہی کرتے ہیں کہ اس قسم کے مسائل کی خدا کے سامنے کوئی اہمیّت نہیں۔ اس آیت کے آخر میں خدا کے "سمیع و بصیر" ہونے کا ذکر ہے ممکن ہے کہ یہ مشرکین کی طرف سے ہونے والے ایک اور اعتراض کا جواب ہو اور وہ اس طرح، کہ چلو مان لیا کہ تمام انسان اپنی گونا گوں اور مختلف تخلیقی خصوصیات کے باوجود ایک وقت مقررہ پر اپنی قبروں سے باہر آ جائیں گے، لیکن اُن کے اعمال اور اقوال کا کس طرح محاسبہ کیا جائے گا جو وجود میں آنے کے بعد فورًا نیست و نابود ہو جاتے ہیں؟ تو قرآن جواب دیتا ہے کہ خدا سننے اور دیکھنے والا ہے اُس نے ان کی تمام باتیں سُنی ہیں اور اُن کے تمام اعمال دیکھے ہیں (علاوہ، ازیں اس جہان میں مطلق فنا اور نابودی نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے بلکہ ان کے اعمال و اقوال ہمیشہ موجود رہتے ہیں)۔ اس سے قطع نظر اُوپر والا جُملہ ان لوگوں کے لیے تنبیہ ہے جو حیلوں بہانوں سے کام لیتے ہیں کہ یاد رکھو یہ جو تم تمام لوگوں کے افکار کو مسموم کر رہے ہو، خدا تمھاری اس زہریلی گفتگو سے بےخبر نہیں ہے۔ حتی کہ جو کچھ تم دل میں رکھے ہوُئے ہو اور زبان پر نہیں لاتے، خدا اس سے بھی آگاہ ہے۔ بعد والی آیت تاکید اور خدا کی وسیع قدرت کے لیے ایک اور بیان ہے۔ روئے سخن پیغمبر کی طرف کرتے ہوئے کہتا ہے۔ "کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ خدا رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے:" (اَلَمْ تَریٰ اَنَّ اللهَ یُولِجُ اللَّیْلَ فِی النَّھَارِ وَیُولِجُ النَّھَارَ فِی اللَّیْل)۔ نیز کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ "خدا نے سُورج اور چاند کو انسانوں کے لیے مسخر کیا ہے:" (وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَر)"۔ اور ان میں سے ہر ایک مقررہ مدّت تک اپنی حرکت کو جاری رکھے ہوئے ہے: " (کُلٌّ یَجْرِی إِلَی اَجَلٍ مُسَمًّی)"۔ "اور یہ کہ خدا اس سے کہ جو تم انجام دیتے ہو آگاہ ہے:" (وَاَنَّ اللهَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیرٌ)۔ "ولوج" "اصل" "دخول" کے معنی میں ہے۔ اور رات کا دن میں داخل ہونا اور دن رات میں، ہو سکتا ہے کہ تدریجی اضافہ اور سال بھر میں رات دن کے کم اور زیادہ ہونے کی طرف اشارہ ہو۔ کہ تدریجاً ایک میں کمی اور دوسرے میں غیر محسوس شکل میں اضافہ ہوتا ہے تاکہ چاروں موسم اپنی خصوصات اور بابرکت آثار کے ساتھ ظاہر ہوں۔ (صرف رُوئے زمین کے دو خطّے ایسے ہیں کہ جن میں نہ تو یہ تدریجی تبدیل ہوتی ہے اور نہ ہی چار موسم) ایک تو قطبِ شمالی ہے اور دوسرا اقطبِ جنوبی، جہاں سارے سال میں چھ ماہ رات اور چھ ماہ دن ہوتا ہے اور دوسرا باریک خطِ استوار ہے، جہاں سال بھر میں رات دن یکساں ہوتے ہیں) اور یا اس طرف اشارہ ہے کہ زمینی فضا میں رات کا دن میں اور دن کا رات میں تبدیل ہونا ناگہانی شکل میں صورت پذیر نہیں ہوتا تاکہ انسان اور زندہ موجودات کو مختلف خطرات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ بلکہ سوُرج کی شعاعیں طولِ فجر کے وقت پہلے تاریکی کی گہرائیوں میں داخل ہوتی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ بڑھتی جاتی ہیں یہاں تک کہ تمام آسمان کو گھیر لیتی ہیں۔ دن کے اختیار اور رات کے آغاز کے بالکل برعکس۔ یہ تدریجی اور مکمّل منظم سوچا سمجھا انتقال، قدرت خدا کے مظاہر میں سے ہے۔ البتہ ان دونوں تفاسیر کا آپس میں کوئی تضاد نہیں ہے، ہو سکتا ہے دونوں مل کر ہی آیت کا معنی دے رہی ہوں۔ انسانوں کے لیے "شمس" و"قمر" اور باقی آسمانی کرّات کی تسخیر کے بارے میں، جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں، مراد انسان کی خدمت کی راہ میں تسخیر ہوا اور دوسرے لفظوں میں: "سخرلکم" میں "ام" "لام نفع" ہے، نہ کہ"لام اختصاص۔" اور یہ تعبیر قرآن میں سُورج، و چاند، و رات، دن، نہروں اور دریاؤں اور کشتیوں کے بارے میں آئی ہے اور یہ سب انسانی شخصیت کی اور خدا کی نعمتوں کی دسعت کو بیان کرتی ہیں کہ زمین و آسمان کے تمام موجودات حکم خدا کے آگے سر جھکائے فرمانبرداری میں مصروف ہیں جب صورت حال یہ ہو تو پھر انصاف سے بعید ہو گا کہ انسان خدا کا فرمانبردار نہ ہو۔ (تشریحی نوٹ: انسان کے لیے سورج چاند اور دوسرے موجودات کی تسخیر کے بارے میں جلد نمبر٥ سورہ رعد کی آیہ ۲ کے ذیل میں اور سورہٴ ابراہیم کی آیہ ۳۳ (صفحہ۹۴) میں ہم نے تفصیلی بحث کی ہے (اور ترجمہ))۔ "(كُلٌّ يَجْرِي إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى) کا جملہ اس طرف اشارہ ہے کہ یہ جچا تُلا حساب شدہ اور منظم نظام ابد تک جاری و ساری نہیں ہے بلکہ کسی نہ کسی دن اسے ختم ہونا چاہیے اور اس کے خاتمہ کے ساتھ ہی دنیا بھی ختم ہو جائے گی۔ وہی کچھ ہو گا جو "سورہ تکریر" میں کہا گیا ہے: "إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْ" "جس وقت سورج بےنور ہو جائے گا اور ستارے سیاہ اور تاریک ہو جائیں گے" (وَأَنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ) ہماری مندرجہ بالا گفتار کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس جملہ پر غور کیا جائے تو واضح ہو جائے گا کہ اس کا اسی بحث کے ساتھ کیسا تعلق ہے۔ کیونکہ وہ خدا جسں نے با عظمت سورج اور چاند کو اس منظم حساب و کتاب کے ساتھ چلایا ہوا ہے اور رات دن کو مخصوص نظم و ضبط کے ساتھ لاکھوں کروڑوں سال ایک دوسرے میں وارد کرتا آ رہا ہے، اس سے کس طرح ممکن ہے کہ وہ انسانوں کے اعمال سے بےخبر رہ جائے؟ ہاں! وہ ان کے اعمال کو بھی جانتا ہے اور ان کی نیات و افکار اور تصورات کو بھی۔ آیت کے آخر میں بحث کو سمیٹتے ہوئے نتیجے کے طور پر فرماتا ہے "یہ امور اس چیز کی دلیل ہیں کہ خدا حق ہے اور اس کے علاوہ، جنھیں وہ لوگ پکارتے ہیں، باطل ہیں اور خدا بلند مقام اور بزرگ مرتبہ والا ہے" (ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِن دُونِهِ الْبَاطِلُ وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ)۔ (تشریحی نوٹ: "با"، بان اللّٰہ ھو الحق" میں اگرچہ بادی النظر میں "باء سببیت" نظر آتی ہے اور شاید اسی بناء پر بعض مفسرین نے (جیسے آلوسی نے روح المعانی میں) اس آیت کے مضمون کو گذشتہ مطلب کا سبب قرار دیا ہے، لیکن آیات کا سیاق اور گذشتہ صفات کا ذکر یعنی خالقیت و مالکیت و علم و قدرت اور عالم خلقت میں اس کی نشانیاں بظاہر یہ ہے کہ وہ سب اس کے نتیجہ کے گواہ تھے۔ اس بناء پر آیت کا مضمون گذشتہ آیات کا نتیجہ ہے نہ کہ سبب)۔ گذشتہ آیات میں خداوندِ عالم کی خالقیت، مالکیّت اور غیر متناہی علم و قدرت کے بارے میں بحث سے ثابت ہو گیا ہے کہ "حق" صرف وہی ہے اور اس کے علاوہ، سب زائل، باطل، محدود اور حاجت مند و نیاز مند ہے۔ اور "علی وکبیر" کہ جو ہر چیز سے برتر اور توصیف و تعریف سے بالاتر ہے، وہ اسی کی پاک ذات ہے۔ شاعر کے بقول۔ الا کل شیء ماخلا اللّٰہ باطل وکل نعیم لا محالة زائل "آگاہ رہو کہ خدا کے علاوہ، جو کچھ ہے وہ باطل ہے اور ہر نعمت آخرکار زوال پذیر ہے" اس بات کو فلسفی تعبیر میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے: حق اصلی اور پائیدار وجود کی طرف اشارہ ہے اور اس جہان میں وہ وجود حقیقی جو قائم بالذّات اور ثابت، برقرار اور جاودانی ہو وہ صرف وہی ہے اور باقی جو کچھ بھی ہے بالذات کوئی وجود نہیں رکھتا اور عین بطلان ہے کہ جو اپنی ہستی کو اس وجودِ حق سے وابستگی کی بناء پر ظاہر کرتا ہے اور جس لمحہ وہ اپنی نظر لطف ان سے اٹھا لے تو وہ فنا و نیستی کی تاریکیوں میں مٹ کر ناپید ہو جائیں۔ تو اس طرح دوسرے موجودات کا ارتباط حق تعالیٰ کے وجود کے ساتھ جس قدر زیادہ ہو گا، اسی نسبت سے وہ زیادہ حقانیّت کسب کریں گے۔ بہرحال، جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ یہ آیت خدا کی برجستہ صفات میں سے دس صفات کا مجموعہ اور اس کے اسماء حسنیٰ میں سے دس نام ہیں اور ہر قسم کے شرک کی نفی اور تمام مراحل عبودیت میں توحید کے لزوم پر دلائل پر مشمتل ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر گرداب بلا میں!
Tafsīr Nemūna · Vol. 5ایک بار پھر زیرِ بحث دو آیات میں خدا کی نعمتوں اور آفاق و نفس میں توحید کے دلائل کے متعلق گفتگو ہے۔ پہلی آیت میں دلیل نظم کے متعلق ہے اور دوسری آیت میں توحید کے، اور مجموعی طورپر ان مباحث کی تکمیل کرتی ہے جو گزشتہ آیات میں ہو چکی ہیں۔ کہتا ہے "کیا تو نے نہیں دیکھا کہ کشتیاں دریاؤں کے سینے پر خدا کے حکم اور اس کی نعمت کی برکت سے چلتی ہیں۔" (أَلَمْ تَرَ أَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللَّهِ)۔ (تشریحی نوٹ: "بنعمة الله" میں ہو سکتا ہے "باء سببیت" ہو یا "با مصاحبت" ہو لیکن پہلا احتمال زیادہ مناسب ہے)۔ مقصد یہ ہے کہ اپنی عظمت کی آیات کا ایک پہلو تمھیں دکھائے: (لِيُرِيَكُم مِّنْ آيَاتِهِ)۔ جی ہاں "ان میں نشانیاں ہیں، ان کے لیے جو بہت صبر کرنے والے، شکیبا اور شکر گزار ہیں، " (إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ)۔ اس میں شک نہیں کہ کشتیوں کا سمندروں کے سینہ پر چلنا قوانین آفرینش کے ایک مجموعہ کا نتیجہ ہے۔ وہ یوں کہ: ہواؤں کا منظم ہو کر چلنا؛ مخصوص وزن کی لکڑی یا وہ مواد جس سے کشتی بناتے ہیں،؛ خود پانی کا اپنا بوجھ۔؛ پانی پر تیرنے والے اجسام پر پانی کا دباؤ؛ اور جس وقت ان امور میں سے کسی ایک میں خلل پیدا ہو جائے تو کشتی سمندر میں ڈوب جاتی ہے یا الٹ جاتی ہے اور یا وسط سمندر میں حیران سرگرداں رہ جاتی ہے۔ لیکن جس خدا نے سمندروں کو انسان کی مسافرت اور ایک حصے سے دوسرے کی طرف اشیاء کے حمل و نقل کے لیے بہترین شاہراہ قرار دیا ہے، وہی خدا مذکورہ حالات پیدا کرتا ہے، جن میں سے ہر ایک یقیناً خدا کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ سمندروں میں قدرت خدا کی عظمت اور اس کے مقابلے میں انسان کی پستی اس قدر ہے کہ گزشتہ زمانہ میں جب کہ صرف ہوا کی قوت سے کشتی چلانے میں استفادہ ہوتا تھا، اگر ساری دُنیا کے لوگ جمع ہو کر بھی تند ہوا کی حرکت کی مخالف کی سمت میں اسے چلا کر سمندر کے اندر تک لے جانا چاہتے تو نہیں لے جا سکتے تھے۔ موجود زمانہ میں بھی جب کہ بحری جہازوں میں انجن کی طاقت ہوا کی جگہ لے چکی ہے پھر بھی سمندری طوفان اس قدر سخت ہوتے ہیں کہ وہ عظیم ترین جہازوں کو بھی اپنی راہ سے ہٹا دیتے ہیں اور بسا اوقات ان کا ستیاناس کر دیتے ہیں۔ اور یہ جو آیت کے آخر میں "صبّاً" اور "شکور" (بہت زیادہ صبر کرنے والے اور بہت زیادہ شکر گزار) ایسی صفات ہیں کہ وہ عظیم ترین جہازوں کا ذکر ہوا ہے تو یہ اس بناء پر کہ دنیاوی زندگی مجموعہ ہے "بلا" و"نعمت" کا، جن میں سے ہر ایک آزمائش کا ذریعہ ہے۔ سخت حوادث کے مقابلہ میں صبر و استقامت اور نعمتوں کے مقابلہ میں شکرگزاری انسان کے مجموعی فرائض کو تشکیل دیتے ہیں۔ اس لیے ایسی ایک حدیث ہے جسے بہت سے مفسرین نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے نقل کیا ہے کہ: "الایمان نصفان نصف صبر و نصف شکر" "ایمان کے دو حصّے ہیں۔ آدھا صبر اور آدھا شکر ہے" (تشریحی نوٹ: تفسیر مجمع البیان، قرطبی، فخر رازی اور صافی)۔ اور یا اس طرف اشارہ ہے کہ خلقت کے خدا کی باعظمت آیات کے ادراک کرنے لیے کسی سبب کی ضرورت ہے۔ جیسے منعم کا شکر جو زیادہ سے زیادہ غور و فکر کے لیے صبر و شکیبائی کے ساتھ ملا ہوا ہو۔ کشتیوں کے دریا میں چلنے کی نعمت کے بیان کے بعد گزشتہ زمانہ میں بھی اور موجودہ زمانہ میں بھی انسانوں اور مال و اسباب کے حمل و نقل کا عظیم اور مفید ترین وسیلہ ہیں، اسی مسئلہ کے ایک اور پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے۔! "جس وقت وہ کشتی پر سوار ہوں اور سمندوں کے درمیان پہنچ جائیں اور سمندر میں طوفان آ جائے اور کوہ پیکر امواج بادلوں کی طرح ان کے سروں پر چھا جائیں تو وہ خدا کو خلوص کے ساتھ پکارتے ہیں:" (وَإِذَا غَشِیَھُمْ مَوْجٌ کَالظُّلَلِ دَعَوْا اللهَ مُخْلِصِینَ لَہُ الدِّین)۔ "ظلل"، "ظلّہ" (بروزن قلّہ کی جمع ہے، جن کے مفسرین نے کئی معانی بیان کیے ہیں: "راغب" "مفردات" میں کہتے ہیں۔ "ظلّہ" اس بادل کے معنی میں ہے کہ جو سایہ ڈالتا ہے۔ اور زیادہ تر ناخوشگوار واقعات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ بعض نے اسے مادہ "ظل" سے سائباں کے معنی میں لیا ہے۔ اور بعض نے اسے پہاڑ کے معنی میں لیا ہے۔ اگرچہ زیر بحث آیث کے رابطہ میں ان معانی کا آپس میں زیادہ فرق نہیں، لیکن پھر بھی جب دیکھا جاتا ہے کہ قرآن میں بارہا یہ لفظ سایہ فگن بادلوں کے معنی میں آیا ہے اور "غشیھم" (انہیں ڈھانپ لیا) کی تعبیر جو بادل کے معنی سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے لہٰذا یہ تفسیر قریب تر نظر آتی ہے۔ یعنی سمندر کی عظیم موجیں اس طرح اٹھتی اور ان کے اطراف کو یوں گھیر لیتی ہیں گویا بادلوں نے ان کے سر پر سایہ کیا ہوا ہے ایسا سایہ جو وحشت ناک اور ہول انگیز ہے۔ یہ وہ مقام ہے، جہاں انسان اپنی تمام ظاہری طاقتوں کے باوجود اس نے جو اپنے لئے جمع کر رکھی ہیں اپنے آپ کو ضعیف و ناچیز اور ناتواں پاتا ہے، ہر جگہ سے اس کا ہاتھ کٹ چکا ہوتا ہے اور تمام عادی اور مادی وسائل بیکار ہو جاتے ہیں امید کا کوئی پہلو باقی نہیں رہ جاتا، سوائے اس نور کے کہ جو اس کی جان کے اندر اور اس کی فطرت کی گہرائی سے چمکتا ہے۔ یہ غفلت کے پردوں کو ہٹا دیتا ہے اور اس کے دل کو روشن کرتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ کوئی ہے، جو تجھے رہائی اور نجات دے سکے؟ وہی ذات کہ سمندر کی موجیں جس کے تابع فرمان ہیں اور پانی اور مٹی اس کے لئے سرگرداں نہیں۔ یہ وہ مقام ہے، جہاں خالق توحید انسان کے سارے دل کا احاطہ کر لیتی ہے، وہ دین اور عبادت کو صرف اُسی کے ساتھ مخصوص سمجھتا ہے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے "جس وقت خدا نے انھیں اس ہلاکت سے نجات دے دی، موجیں ماند پڑ گئیں اور صحیح و سالم ساحل نجات تک پہنچ گئے تو لوگ دو گروہ ہو گئے۔ بعض نے اعتدال کی راہ اختیار کی اور اس عہد و پیمان کے جو دل میں ان حساس لمحات میں خدا سے کیے پابند و وفادار رہتے ہیں" (فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ)۔ (تشریحی نوٹ: "مقتصد" کے مادہ سے کام میں اعتدال اور وعدہ وفاء کے معنی میں ہے)۔ لیکن دوسرا گروہ ہر چیز کو فراموش کر دیا ہے اور دوبارہ شرک و کفُر کا لٹیرا لشکر اس کے دل کی مملکت پر غلبہ حاصل کر دیتا ہے۔ مفسرین کی ایک جماعت اوپر والی آیت کو "عکرمہ بن ابی جہل" کے اسلام لانے کی طرف اشارہ سمجھتی ہے۔ فتح مکہ کی موقع پر چونکہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم نے چار افراد کے علاوہ، سب لوگوں کے لیے عام معانی کا اعلان کر دیا تھا اور جن چار افراد کے بارے میں سزائے موت کا حکم تھا، ان میں ایک عکرمہ بن ابی جہل تھا۔ ان کے بارے میں حکم تھا کہ جہاں کہیں انھیں پاوٴ ختم کر دو۔ (کیونکہ انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے برخلاف کسی قسم کی ریشہ دوانی، کینہ پروری اور جرم و گناہ کا کوئی لمحہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تھا) یہ حکم سن کر عکرمہ کو مجبوراً مکہ سے بھاگنا پڑا۔ بحیرہ احمر پر پہنچ کر کشتی پر سوار ہو گیا، سمندر میں خطرناک تیر ہوا چلی، اہل کشتی نے ایک دوسرے سے کہا، آوٴ بُتوں سے اپنا ناطہ توڑ کر صرف لطفِ "خدا" کے دامان سے متمسک ہو جائیں۔ کیونکہ ہمارے لیے ان خداوٴں سے کچھ نہیں ہو سکتا۔ "عکرمہ" نے کہا اگر توحید کے علاوہ، ہمیں سمندر سے کوئی نجات دے سکتا تو خشکی پر بھی نہیں دے سکتا۔ بارالٰہا! میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں کہ تو نے اس مصیبت سے نجات دے دی تو میں محمدؐ کے پاس جا کران کے ہاتھ دے دوں گا۔ کیونکہ ایسے میں رحیم اور کریم سمجھتا ہوں۔ آخرکار اس نے نجات پائی اور خدمت پیغمبر میں آ کر مسلمان ہو گیا۔ (تشریحی نوٹ: "مجمع البیان" ذیل آیہ زیر بحث "اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ"جلد ۴ ص۵ میں بھی ماجرا مختصر سے فرق کے ساتھ آیا ہے (عکرمہ عین کے کسرے) زیر کے ہے)۔ آیت کے آخر میں مزید کہتا ہے "ہماری آیات کا سوائے پیمان شکن کفران کرنے والوں کے کوئی انکار نہیں کرتا" (وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُورٍ)۔ "ختار"، "ختر"(بروزن "چتر) کے مادہ سے ہے جو عہد شکنی کے معنی میں ہے۔ یہ لفظ مبالغہ کا صیغہ ہے، کیونکہ مشرکین اور گناہ گار بارہا مصائب میں خدا کی طرف رجوع کرتے اور خدا سے عہد و پیمان باندھتے ہیں اور نذریں مانتے ہیں لیکن جس وقت طوفان حوادث تھم جاتے ہیں تو اپنا عہد و پیمان توڑ دیتے ہیں اور خدا کی نعمتوں کو کفران کے سپرد کر دیتے ہیں اور یہ ان کا بارہا کا معمول ہے۔ حقیقت میں "ختار"، "و کفور" کہ جو اس آیت کے ذیل میں آتے ہیں "صباّر" اور "شکور" کے بالکل مقابل آئے ہیں۔ جو گزشتہ آیت کے ذیل میں آ چکے ہیں (کفران شکر گزاری کے مقابلہ میں، اور"عہد شکنی" شکیبائی اور عہد و پیمان پر باقی رہنے کے مقابلہ میں ہے) جو اپنے اندر فطری ایمان کے جلوہ گر ہونے کے وقت کوشش کرتے ہیں کہ اس نورِ الٰہی کو دوبارہ خاموش نہ ہونے دیں اور اس کے اُوپر حجاب اور پردے نہ پڑنے دیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 34 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر خدا کے علم کی وسعت
Tafsīr Nemūna · Vol. 5ان دو آیات میں جو سورہ لقمان کی آخری آیات میں پہلے مجموعی طور پر اور ایک اجمالی صورت میں گزشتہ پند و نصائح اور توحید و معاد کے دلائل ذریعہ تمام انسانوں کو خدا اور قیامت کے دن کی طرف متوجہ کرتا ہے اور شیطان کی طرف سے پیدا ہونے والے غرور و تکبر سے ڈراتا ہے اور اس کے بعد علمِ خدا کی وسعت اور تمام چیزوں کو اس کی شمولیّت اور اس کی عمومیّت کو بیان کرتا ہے۔ فرماتا ہے"اے لوگوں! خدا سے ڈرو": (يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ)۔ "اور اس دن سے ڈرو کہ جس میں نہ باپ اپنے بیٹے کے کناہ کا بوجھ اپنے کندھے پر اٹھائے گا۔ نہ ہی بیٹا باپ کی ذمہ داری میں سے کسی چیز کا متحمل ہو گا:" (وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِ شَيْئًا)۔ حقیقت میں پہلا فرمان مبداء کی طرف توجہ ہے اور دوسرا معاد کی طرف۔ پہلا حکم انسان میں خبردار رہنے کی قوت کو زندہ کرتا ہے اور دوسرا پاداش و کیفر اور جزاء سزا کے احساس کو، اور اس میں شک نہیں کہ جو شخص یہ جانتا ہو کہ ایک خبیر اور آگاہ ذات اس کے تمام اعمال کو دیکھتی اور جانتی ہے اور اسے محفوظ کرتی جاتی ہے، اور دوسری طرف سے عدل و انصاف کا محکمہ اس کے تمام چھوٹے بڑے اعمال کی چھان بین کرے گا تو اس قسم کا انسان بہت کم گناہ کا اور بےراہ روی کا شکار ہوتا ہے۔ "لایجزی" کا جملہ جزاء کے مادہ سے ہے اور لغوی طور پر "جزاء" دو معنی کے لیے آتا ہے، ایک تو کسی چیز کے مقابلہ پاداش و کیفر یعنی سزا اور جزاء دینے کے معنی میں۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے جزاہ اللّٰہ خیرًا: خدا اسے اچھی پاداش (جزاء) دے۔ اور دوسرا کفایت کرنا جانشین ہونا اور تحمل کرنا جیسا کہ زیرِ بحث آیت میں آیا ہے (لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ) "کوئی باپ اپنے بیٹے کی ذمہ داری اور مسئولیت کو قبول نہیں کرے گا اور اس کی جگہ پر نہیں بیٹھے گا اور اس کی کفایت نہیں کرے گا۔" ہو سکتا ہے کہ دونوں معنی ایک ہی اصل کی طرف پلٹتے ہوں۔ کیونکہ جزاء اور سزاء بھی عمل کی جانشین اور اس کے برابر ہوتی ہیں۔ (غور کیجئے گا) بہرحال، اس دن ہر شخص اس طرح اپنے آپ کے ساتھ معروف و مشغول اور اپنے اعمال کے پیچ و خم میں گرفتار ہو گا کہ دوسرے کی طرف توجہ بھی نہیں کر سکے گا۔ یہاں تک کہ باپ اور بیٹا جو آپس میں نزدیک ترین رابطہ رکھتے ہیں، ان میں سے کسی کو بھی دوسرے کا خیال نہ ہو گا۔ آیت بعینہ اسی آیت کی طرح ہے جو سورہ حج کی ابتداء میں آئی ہے، جس میں قیامت اور اس کے زلزلہ کے بارے میں کہا گیا ہے۔ (يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ) "جس دن تم اسے دیکھو گے کہ دودھ پلانے والی مائیں اپنے شیر خوار بچوں کو بھول جائیں گی"۔ قابل توجہ یہ ہے کہ "باپ" کے بارے میں "لایجزی" (فعل مضارع) کی تعبیر کرتا ہے اور بیٹے کے بارے میں "جاز" (اسم فاعل) کی تعبیر ہے۔ یہ تعبیر کا فرق ہو سکتا ہے۔ گفتگو میں تنوع کے طور پر یا باپ کے مقابلہ میں بیٹے کے فرائض اور ذمہ داری کی طرف اشارہ ہو، کیونکہ اسمِ فاعل زیادہ دوام و استمرار پر دلالت کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں محبت پدری سے یہ توقع ہے کہ کم از کم کچھ صورتوں میں تو بیٹے کے عذاب کو برداشت کرے۔ جیسا کہ دنیا میں اس کی نامناسب چیزوں کو اپنی جان پر لے لیتا تھا۔ لیکن بیٹے کے بارے میں توقع ہے کہ وہ باپ کی زیادہ سے زیادہ ناپسندیدہ باتوں اور سختیوں کو اس کے بےشمار حقوق کی وجہ سے متحمل ہو جائے گا۔ جبکہ ان دونوں میں سے کوئی بھی اس دن ایک دوسرے کم سے کم مشکل بھی حل نہیں کرے گا۔ اور ہر ایک اپنے اعمال میں گرفتار اور اپنے گربیان میں جھانک رہا ہو گا۔ آیت کے آخر میں انسان کو دو چیزوں سے ڈراتے ہوئے فرماتا ہے۔ خدا کا وعدہ حق ہے۔ مبادا کہیں تمھیں زندگی فریب دے اور شیطان دھوکہ دے ڈالے:" (إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِاللَّهِ الْغَرُورُ)۔ واقع میں یہاں پر دو نواہی نظرآتی ہیں جو ان دو اوامر کے مقابلہ میں، جو آیت کے اتبداء میں تھے کیونکہ اگر خدا کی طرف توجہ حساب و کتاب اور جزاء و سزاء کا خوف انسان میں زندہ ہو جائے تو پھر اس کے بارے میں راہ راست سے انحراف اور بےراہ روہی کی رغبت باقی نہیں رہتی، مگر دو راستوں سے ایک تویہ کہ دنیا کی چمک دمک اور رنگینی اس کی نگاہوں میں حقائق اور واقعات کو بالکل برعکس بنا کر پیش کرے اور چھائی اور برائی کے درمیان تمیز کی قدرت اس سے سلب کرے۔ وہی بات کہ دنیا کی محبت تمام گناہوں کی جڑ ہے۔ دوسرا یہ کہ شیطانی وسوسے اسے فریب اور دھوکہ میں مبتلاء کر کے اسے مغرور اور مبدء و معاد سے کوسوں دور کر دیں۔ اگر ارتکاب گناہ کے یہ دونوں راستے بند ہو جائیں تو پھر کوئی خطرہ بھی اسے چیلنج نہیں کر سکتا اور اس طرح سے اوپر والے چار احکام آدمی کی نجات کے پروگرام مکمّل مجموعہ فراہم کر دیتے ہیں۔ گزشتہ آیت میں قیامت کے سلسلہ میں ہونے والی بحث کی مناسبت سے اس سورہ کی آخری آیت میں بھی ایسے علوم کے بارے میں گفتگو کی جا رہی ہے جو پروردگار کے ساتھ مخصوص ہیں۔ کہتا ہے "قیام قیامت کے وقت کی آگاہی خدا کے ساتھ مخصوص ہے:" (إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ)۔ "اور وہی ہے جو بارش کو نازل کرتا" اور اس کے نزول کے تمام جزئیات سے آگاہ ہے (وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ)۔ اور نیز "وہی ہے جو ایسے بچوں سے کہ جو رحم مادر میں ہوتے ہیں (ان کی تمام تفصیلات کے ساتھ) آگاہ ہے": (وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ)۔ اور "کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا؟" (وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا)۔ "اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس سرزمین میں مرے گا" (وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ)۔ "گویا یہ آیت مجموعی طور پر اس سوال کا جواب ہے جو قیامت کے بارے میں پیش ہوا ہے۔ وہی سوال جو مشرکین قریش نے پیغمبر سے بار بار کہا "مَتَى هُوَ" (قیامت کا دن کب ہو گا)"۔ (سورہٴ اسراء۔۵۱) قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے کوئی شخص خدا کے علاوہ، قیامِ قیامت کی گھڑی اور وقت سے آگاہ نہیں ہے اور دوسری صریح آیات کے مطابق خدا نے اس علم کو سب سے مخفی رکھا ہے: (إِنَّ السَّاعَةَ ءَاتِيَةٌ أَكَادُ أُخْفِيهَا) "بےیشک قیامت آئے گی اور میں چاہتا ہوں کہ اس کو مخفی رکھوں"۔ (سوہٴ طٰہٰ۔۱۵) تاکہ غرور و غفلت کبھی بھی افراد بشر کے دامن گیر نہ ہوں۔ اس کے بعد کہتا ہے کہ نہ صرف قیامت کا مسئلہ تم سے پوشیدہ ہے بلکہ تمھاری روز مرّہ کی زندگی اور نزدیک ترین مسائل میں سے جو تمھاری موت و حیات سے سروکار رکھتے ہیں، بہت سے مطالب ایسے ہیں جن سے تم بےخبر ہو۔ بارش کے زندگی عطا کرنے والے قطرات کے نزول کا وقت جن سے تمام جانداروں کی زندگی وابستہ ہے، تم میں سے کسی پر بھی آشکار نہیں اور تم تو صرف اندازے، اٹکل بچو اور وہم و گمان کے ساتھ اس کے بارے میں بحث کرتے ہو۔ اسی طرح شکم مادر میں تمھاری پیدائش کے وقت اور جنین کی خصوصیات سے کوئی آگاہ نہیں ہے۔ اور نیز آئندہ نزدیک یعنی تمھارے نزدیک حوادث نیز موت، زندگی کو الوداع کہنے کا مقام سب سے پوشیدہ ہے۔ جب تم اپنی زندگی سے ان کے نزدیک ترین مسائل کی اطلاع نہیں رکھتے تو کون سے تعجّب کی بات ہے کہ قیام قیامت کے لمحہ سے بےخبر رہو؟ (تشریحی نوٹ: یہ ٹھیک ہے کہ اوپر والی آیات میں "يُنَزِّلُ الْغَيْثَ" (خدا بارش کو نازل کرتا ہے) کے جملہ میں علمِ خدا کے مسئلہ کے بارے میں گفتگو نہیں ہے اسی بناء پر بعض نے اس جملوں کے درمیان کے استثناء کے طور پر قدرتِ خدا کے بیان کے لئے نہ کہ اس کے علم کے لئے سمجھا ہے۔ لیکن ادھر پانچ جملوں کی ایک دوسرے سے ہم آہنگی اور دوسری طرف سے متعدد روایات جو نہج البلاغہ اور دوسری کتب میں آئی ہیں (کہ جن کی طرف عنقریب اشارہ کریں گے) اس چیز پر قرینہ ہیں کہ وہ جُملہ بھی علمِ خدا کے ساتھ مربوط ہے)۔ تفسیر "درّ منثور" میں منقول ہے کہ قبیلہ "بنی مازن" سے "وارث" نامی ایک شخص پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و الہ وسلّم کی خدمت میں آیا اور کہا: "اے محمد! قیامت کب برپا ہو گی؟ علاوہ ازیں، ہمارے شہر خشک سالی کا شکار ہو چکے ہیں، کب نعمت سے مالا مال ہوں گے؟ نیر جس وقت میں آیا ہوں میری بیوی حاملہ تھی، کب اسے بچّہ پیدا ہو گا؟ میں تو یہ جانتا ہوں کہ آج میں نے کیا کام ہے! لیکن یہ بتاؤ کہ کل کیا کروں گا؟ خلاصہ یہ کہ میں جانتا ہوں کہ میں کہاں پیدا ہوا ہوں۔ بتاؤ کہ میں کس سرزمین میں مروں گا؟ تو اوپروالی آیت نازل ہوئی اور کہا ان تمام امور کا علم خدا کے پاس ہے۔ (بحوالہ: تفسیر درّمنثور بحوالہ تفسیر المیزان، ج۱۶، ص۲۵۴)۔
چند اہم نکات: ۱۔ غرور و فریب کی قسمیں:
اوپر والی آیات تنبیہ کرتی کہ دُنیاوی زندگی کی چمک دمک تمھیں فریب میں مبتلا نہ کر دے۔ پھر شیطان کے دھوکہ دینے کی بات ہے اور اس کی نسبت خطرے کا الارم ہے۔ کیونکہ لوگوں کی چند قسمیں ہیں: بعض اتنے ضعیف و ناتواں ہوتے ہیں جن کے فریب اور دھوکے کے لئے صرف دنیا کے رزق و برق کا مشاہدہ ہی کافی ہوتا ہے۔ لیکن بعض دوسرے جو مزاحمت کی طاقت رکھتے ہیں، تو ان کے لئے رزق برق کے علاوہ، شیطانی وسوسوں کا اضافہ بھی ہوتا ہے اور اندرونی اور بیرونی شیطان ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالتے ہیں تاکہ وہ انھیں دھوکہ دے سکیں اور اوپر والی آیت کی تعبیر ایسے سب کے لئے تنبیہ ہے۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کے "غرور" (بروزن جسور) ہر فریب اور دھوکہ دینے والی چیز کو کہتے ہیں۔ اور یہ جو اس کی شیطان کے ساتھ تفسیر کی گئی ہے، درحقیقت، اس کے واضح مصداق کا بیان ہے ورنہ ہر فریب کار انسان، دھوکہ دینے والی کتاب، ہر وسوسہ پیدا کرنے والا مقام و مرتبہ اور ہر وہ چیز جو انسان کو گمراہ کر دے، اس لفظ وسیع مفہوم میں داخل ہے۔ یا یہ کہ شیطان کے مفہوم کو اس قدر وسعت دیں کہ ان تمام امور کو شامل ہو جائے۔ اس لیے راغب مفرات میں کہتے ہیں "غرور" ہر وہ چیز ہے جو انسان کو مغرور کر دے اور فریب میں میں بتلا کر دے خواہ وہ مال ہو یا مقام و مرتبہ یا شہوت اور شیطان۔ اور شیطان کے ساتھ اس کی جو تفسیر ہوئی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ شیطان خبیث ترین فریب کار ہے۔ اور بعض لوگوں نے "غرور کی دُنیا" کے ساتھ جو اس کی تفسیر کی ہے تو دنیا کے فریب اور دھوکہ دینے کی بناء پر ہے۔ جیسا کہ نہج البلاغہ میں ہم پڑھتے ہیں: "تغرّوتضرّ وتمرّ" فریب دیتی ہے، ضرر پہنچاتی ہے اور گزر جاتی ہے (بحوالہ: نہج البلاغہ، کلمات قصار، شمارہ۴۱۵)۔
۲۔ دُنیا کی فریب کاری:
اس میں شک نہیں کہ زندگانی دنیا کے بہت سے مظاہر غرور آمیز ہو تے ہیں اور غفلت پیدا کرتے ہیں اور کبھی کبھار تو اس طرح انسان کو اپنی طرف متوجہ کر لیتے ہیں کہ اپنے ماسوا باقی ہر ایک چیز سے غافل کر دیتے ہیں۔ اسی بناء پر بعض اسلامی روایات میں حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ جس وقت آپ سے لوگوں نے سوال کیا "ای النّاس اثبت راٴیاً" کون شخص تمام لوگوں میں سے صاحب فکر و رائے اور تدبیر کے لحاظ سے زیادہ ثابت قدم ہے تو آپ نے فرمایا "من لم یغرہ النّاس من نفسہ و لم تغرہ الدّنیا بتشویقھا" وہ شخص کہ جسے فریب کار لوگ فریب نہ دے سکیں اور دُنیا کی رغبت اسے دھوکہ نہ دے سکے۔ (بحوالہ: من لایحضرہ الفقیہ (بحوالہٴ نور الثقلین، ج۴، ص۲۱۷)۔ لیکن اس کے باوجود اسی فریب کار دُنیا کے مختلف مناظر کے اندر زبان حال سے بولنے والے کچھ ایسے مناظر بھی ہیں جو اس جہاں کی ناپائیداری اور اس کے کھوکھلے زرق و برق کو واضح ترین انداز میں بیان کرتے ہیں۔ وہ حوادث جو ہر ہوش مند انسان کو بیدار کر سکتے ہیں بلکہ جو ہوش مند نہیں انھیں بھی ہوشیار کر دیتے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے۔ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام نے کسی سے سُنا کہ وہ دنیا کی خدمت کر رہا تھا اور اسے فریب کار بتا رہا تھا تو آپ نے اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ایھا الذام للدنیا المغتر بغرورھا، المخدوع باباطیلھا، اتغتر بالدنیا ثمّ تذمھا؟ اٴنت المتجرم علیھا اٴم ھی المجترمة علیک؟ متیٰ استھوتک؟ اٴم متی غرتک؟ اٴبمصارع اٰبائک من البلیٰ اٴم بمضاجع اٴمھاتک تحت الثریٰ۔۔۔؟ انّ الدّنیا دار صدق لمن صدقھا، و دار عافیة لمن فھم عنھا، و دار غنی لمن تزود منھا، و دار موعظة لمن اتعظ بھا، مسجد احبّاء الله و مصلی ملائکة الله، ومھبط وحی الله، و متجر اٴولیاء الله۔۔۔۔" اے دنیا کی مذمت کرنے والے! اس کی دل فریبیوں کے فریب خوردہ، اس کی رام کہانیوں کا دھوکہ کھائے ہوئے! کیا بات ہے کہ دنیا پر فریفتہ بھی ہو اور اس کی مذمت بھی کر رہے ہو؟ کیا تم اس پر گناہ کی تہمت لگا رہے ہو یا وہ تمھیں مجرم ٹھہرا رہی ہے؟ اس نے تمھیں کب متوالا کیا؟ یا کب تمھارا دل لبھایا؟ کیا اس وقت جب تمھارے آباء سال خوردہ ہو کر ڈھیر ہوئے یا اس وقت جب تمھاری مائیں (منوں) مٹی کے نسچے ہمیشہ کو سو گئیں؟ کتنے ہی بیماروں کی تم نے (روپے سے) خدمت کی۔ اور کتنے ہی مریضوں کی ہاتھوں سے تیمار داری ؟ تم چاہتے تھے کہ وہ شفایاب ہو جائیں اور ان کے علاج کے لیے اطبّاء سے مشورے طلب کرتے پھرتے تھے۔ وہ بھی اس دن جب سے تمھاری دوا ان کے کسی کام نہ آئی۔ نہ ان پر تمہارا رونا دھونا ہی مفید ہوا۔ ان میں سے کسی کو بھی تمہاری مہربانی کا فائدہ نہ پہنچا اور نہ تمہاری مراد ہی بر آئی اور تم اپنا زورلگا بیٹھے، مگر کسی کو (موت سے) نہ بچا سکے۔ اور دنیا نے اس (مرنے والے) کو تمھارے لیے مثال بنا دیا اور اس کی موت کو تمھاری موت کا تقشہ بنا دیا۔ اس میں شک نہیں کہ دنیا نباہ کا گھر ہے۔ مگراس کے لیے جو اس سے نباہ کرے اور دارِ عافیّت ہے اس کے لیے جو اس کی حقیقت کو سمجھ لے اور دولت کدہ ہے اس کا جو اس سے زادِ آخرت حاصل کر سکے۔ اور عبرت کا گھر ہے اس کے لیے جو اس سے سبق سیکھ لے۔ (دنیا) خدا کے دوستوں کی مسجد ہے، اللہ کے ملائکہ کی جائے نماز ہے، وحی خدا کے اترنے کی جگہ ہے اور خدا کے اولیاء کی تجات گاہ ہے"۔
۳۔ یہ پانچ علوم خدا کے ساتھ مخصوص ہیں:
اس سے قطع نظر کہ اوپر والی آیت کا لب و لہجہ حکایت کرتا ہے کہ قیامت، بارش کے نزول، رحمِ مادر میں جنین کی کفیت، وہ امور کہ جنھیں انسان آئندہ انجام دے گا اور اس کی موت کی جگہ سے آگاہی اور اس کا علم خدا کے اختیار میں ہے اور خدا کے علاوہ، کسی اور کو ان تک کوئی رسائی نہیں، وہ روایات بھی جو اس آیت کی تفسیر میں وارد ہوئی ہیں، نیز اس حقیقت کی تاکید کرتی ہیں۔ منجملہ ان کے ایک حدیث میں ہے: "ان مفاتیح الغیب خمس لایعلمھن الا اللّٰہ وقراٴ ھذہ الاٰیة" غیب کی چابیاں پانچ ہیں کہ جنھیں خدا کے علاوہ، کوئی نہیں جانتا۔ پھر آپ نے اوپر والی آیت کی تلاوت فرمائی۔ (تشریحی نوٹ: مجمع البیان، ذیل آیت زیر بحث)۔ نہج البلاغہ کی ایک اور روایت میں ہم پڑھتے کہ جس وقت حضرت علی علیہ السلام آئندہ کے واقعات کے بارے میں خبر دے رہے تھے۔ تو ایک صحابی نے عرض کیا یا امیر المومنین علیہ السلام آپ غیب کی خبر دے رہے ہیں؟ اور آپ علم غیب سے آشنا ہیں؟ امام نے "بنی کلب" کے اس شخص سے مسکرا کر فرمایا: یا اخا کلب! اٴلیس ھو بعلم غیب، و انّما ھو تعلم من ذی علم، و انّما علم الغیب علم الساعة و ما عددہ اللّٰہ سبحانہ بقولہ انّ اللّٰہ عندہ علم الساعة۔۔۔۔۔“ فیعلم اللّٰہ سبحانہ ما فی الار حام، من ذکر اٴو انثی، وقبیح اٴو جمیل، وسخی اٴو بخیل، و شقی اٴو سعید، ومن یکون فی النّار حطباً و فی الجنان للنبیّن مرا فقاً، فھذا علم الغیب الّذی لایعلمہ الّا اللّٰہ، و ماسوی ذلک فعلم علمہ اللّٰہ نبیہ فعلمنیہ ودعالی بان یعیہ صدری وتضطم علیہ جوانحی! اے بھائی کلبی! یہ علم غیب نہیں ہے، بلکہ یہ اس (رسول) سے حاصل کی ہوئی باتیں ہیں جو خزانہ علم (الٰہی) تھے۔ علم غیب تو قیامت کا وقت اور ان چیزوں کے جاننے کا نام ہے، جنھیں خداوندِ عالم نے اپنے ارشاد "انّ اللّٰہ عندہ علم السّاعة۔۔۔۔الخ" میں شمار کیا ہے۔ پس خدا ہی جانتا ہے کہ رحم مادر میں کیا ہے؟ نر ہے یا مادہ؟ بد صورت ہے یا خوبصورت؟ سخی ہے یا بخیل؟ شقی ہے یا نیک اور کون جہنّم کا ایندھن بنے گا؟ اور کون جنت میں نبیوں کے ساتھ، یہ ہے وہ علم غیب جسے خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا، رہا دوسری چیزوں کا علم تو وہ (ہم جانتے ہیں) خدا نے اپنے نبی کو عطا فرمایا اور نبی نے مجھے بتلا دیا اور میرے لیے دعا فرمائی کہ میرا سینہ انھیں اس طرح محفوظ رکھے، جیسے ترکش تیروں کو محفوظ رکھتا ہے اور میری پسلیاں انھیں سمیٹیں رہیں۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہٴ۱۲۸)۔ اس روایت سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ لوگوں کی ان پانچ امور سے عدم آگاہی سے مرادان کی تمام خصوصیات ہیں مثلاً اگر کسی دن ایسے وسائل و ذرائع انسان کے اختیار میں آ جائیں (جب کہ ابھی تک وہ دن نہیں آیا) اور جنین کے لڑکے لڑکی ہونے سے قطعی طور پر آگاہ ہو جائیں تو کوئی نئی بات نہیں ہو گی۔ کیونکہ جنین سے آگاہی یہ ہے کہ اس کے تمام جسمانی خصوصیات بد صورت اور خوبصورتی سلامتی و بیماری اندرونی استعدادیں علمی و فلسفی و ادبیِ ذوق اور دوسرے روحانی اوصاف اور کیفیات جان لیں اور یہ امر خدا کے علاوہ، کسی اور کے بس میں نہیں ہے۔ اسی طرح یہ کہ بارش کب ہو گی؟ اور کون سے علاقہ پر برسے گی؟ اور ٹھیک ٹھیک کتنی مقدار دریا، صحرا، درہ، کوہ و بیاباں میں برسے گی؟ خدا کے علاوہ، کوئی نہیں جانتا! اور کل اور آیندہ دنوں کے حوادث اور ان کی خصوصیات و جزئیات بھی اسی طرح ہیں۔ اور یہاں سے اس سوال کا جواب جو عام طور پر یہاں پیش آتا ہے، اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے۔ یہ جو کہتے ہیں کہ ہم تاریخوں اور متعدد روایات میں پڑھتے ہیں کہ صرف ائمہ اہل بیت علیہم السلام ہی نہیں بلکہ ائمہ علیہم السلام کے علاوہ، دوسرے اولیاء اللہ نے اپنی موت کے متعلق خبر دی یا اپنے مومن کو بیان کیا، جن میں سے کربلا سے تعلق رکھنے والے واقعات بھی ہیں؟ چنانچہ ہم نے کئی روایات میں پڑھا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم حضرت امیر المومنین علیہ السلام اور انبیاء ماسلف نے امام حسین علیہ السلام اور ان کے یار و انصار کی اس سرزمین میں شہادت کی خبر دی ہے۔ اور کتاب اصول کافی میں ایک باب ائمہ کی اپنی وفات کے وقت سے آگاہی کے سلسلہ میں نظرآتا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان بعض امور سے آگاہی علم اجمالی کی صورت میں ہوتی ہے اور وہ بھی تعلم الٰہی کے طریق سے، تو اس کا خدا کی ذات پاک سے مخصوص تفصیلی علم کے ساتھ کسی قسم کا ٹکراؤ نہیں ہے۔ اور پھر یہ کہ جیسا ہم کہہ چکے ہیں کہ ان کا یہ اجمالی علم بھی ذاتی اور استقلالی نہیں۔ بلکہ بالعرض اور خدا کی طرف سے تعلیم کی وجہ سے ہوتا ہے کہ جتنا خدا چاہتا اور مصلحت سمجھتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: اصول کافی، جلد ۱، ص۲۰۲، باب "انّ الائمة یعلمون متی یموتون")۔ اسی لیے ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے آپ کے صحابی نے سوال کیا کہ کیا امام علمِ غیب جانتا ہے؟ "قال لا، ولٰکن اذا اٴراد اٴن یعلم الشیء اٴعلمہ اللّٰہ ذلک" "فرمایا نہیں امام علمِ غیب "ذاتی طور پر" نہیں جانتا۔ لیکن جب بھی کسی چیز کو جاننا چاہتا ہے تو خدا اسے آگاہ کر دیتا ہے"۔ (تشریحی نوٹ: اصول کافی، ج۱، ص۲۰۱، باب نادر فیہ ذکر الغیب)۔ علمِ غیب اور انبیاء و ائمہ کے علم کی کفیّت کے بارے میں بہت سی روایات وارد ہوئی ہیں، جن کے متعلق متعلقہ آیات کے ذیل میں ہم بحث کریں گے۔ لیکن مسلم ہے کہ ان کے درمیان کچھ ایسے علوم ہیں کہ جن سے خدا کے علاوہ، کوئی بھی آگاہ نہیں ہے۔ (تشریحی نوٹ: کتاب "اصول کافی" میں ہمیں متعدد و روایات ملتی ہیں کہ خدا ایسا علم بھی رکھتا ہے، جس سے اس کے علاوہ، کوئی آگاہ نہیں اور کچھ علم ایسا ہے، جس کی ملائکہ انبیاء (علیهم السلام) اور ائمہ (علیهم السلام) کو اس نے تعلیم دی ہے۔ جلد اوّل، ص۱۹۹، باب "انّ الائمة (ع) یعلمون جمیع العلوم التی خرجت الی الملائکة")۔ پروردگارا! ہمارے دل کی آنکھ علم و دانش کے نور سے منور فرما اور اپنے بےپایاں علم کا ایک گوشہ مرحمت فرما۔ خداوندا! ایسا کر کہ اس دُنیا کا زرق و برق ہمیں فریب نہ دے اور دھوکہ باز شیطان اور ہوائے نفس ہمیں مغرور نہ کرے۔ بارِ الٰہا! ایسا کر دے کہ ہم ہمیشہ تیرے احاطہ علمی سے آگاہ رہیں اور تیرے حضور تیری رضا کے خلاف کوئی کام انجام نہ دیں۔