Sūra 100 · 11v
Chapter 10011 verses

Al-Adiyat

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
العاديات
العادیات

سورہ العٰدیٰت

یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۱۱ آیات ہیں۔

سُورہ "و العادیات" کے مطالب اور اس کی فضیلت

اِس بارے میں کہ یہ سُورہ "مکّہ" میں نازل ہوا ہے یا "مدینہ" میں مفسرین کے درمیان شدید اختلاف ہے۔ بہت سوں نے تو اُسے مکّی شمار کیا ہے جب کہ ایک جماعت اسے مدنی سمجھتی ہے۔ آیات کے مقطع کا مختصر اور چھوٹا ہونا اور قسموں پر تکیہ، اور اسی طرح مسئلہ معاد کے بارے میں بیان ایسے قرائن ہیں جو اس کے "مکّی" ہونے کی تاکید کرتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف سے اس سُورہ کی قسموں کا مضمون، جو جہاد کے مسائل سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے، جیسا کہ انشاء اللہ تفصیل کے ساتھ بیان ہو گا، اسی طرح وہ روایات جو کہتی ہیں کہ یہ سُورہ جنگِ "ذات السلاسل" کے بعد نازل ہوا ہے۔ (یہ وہ جنگ ہے جو ہجرت کے آٹھویں سال واقع ہوئی تھی، اور اس میں کفّار کے بہت سے گروہ قیدی بنائے گئے تھے، اور انہیں محکم رسیوں سے باندھا گیا تھا، لہٰذا اس کا نام "ذات السلاسل" ہو گیا، جس کی تفصیل انشاء اللہ آیات کی تفصیل میں آئے گی)۔ یہ اس سُورہ کے مدنی ہونے پر گواہ ہے، یہاں تک کہ اگر ہم اس سُورہ کے آغاز کی قسموں کو حاجیوں کے منیٰ و مشعر کی طرف جانے پر ناظر سجھیں، تب بھی یہ مدینہ ہی کے ساتھ مناسبت رکھتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ مراسمِ حج اپنی اکثر فروعات کے ساتھ زمانہٴ جاہلیت کے عربوں میں بھی___ سُنّتِ ابراہیمی کی اقتداء کرنے کی وجہ سے___ رواج رکھتے تھے لیکن وہ خرافات کے ساتھ ایسے آلودہ ہو چکے تھے کہ یہ بات بعید نظر نہیں آتی ہے کہ قرآن نے ان کی قسم کھائی ہو۔ اِن تمام جہات کی طرف توجہ کرتے ہوئے ہم اس کے "مدنی" ہونے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے اس سے سُورہ کے مطالب بھی واضح ہو گئے ہیں۔ کہ آغاز میں کچھ بیدار کرنے والی قسموں کا ذکر کرتا ہے۔ اور اس کے بعد نوع انسان کی چند کمزوریوں، مثلاً بُخل اور دُنیا پرستی کو درمیان میں لے آتا ہے، اور انجام کار مسئلہ معاد پر ایک مختصر اور گویا اشارے اور بندوں پر خدا کے علمی احاطہ پر سُورہ کو ختم کرتا ہے۔ اس سُورہ کی تلاوت کی فضیلت کے بارے میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے آیا ہے: "من قراٴھا اعطی من الاجر عشر حسنات، بعدد من بات بالمزدفلة، و شہد جمعاً": "جو شخص اس کی تلاوت کرے گا تو ان تمام حاجیوں کی تعداد (جو عید قربان کی رات) "مزدلفہ" میں توقف کرتے ہیں، اور وہاں حاضر رہتے ہیں، دس گنا زیادہ نیکیاں اسے دی جائیں۔ (تشریحی نوٹ: "جمع" و "مشعر الحرام" کے ناموں میں سے ایک نام ہے اس بناء پر کہ لوگ وہاں جمع ہوتے ہیں، یا وہاں نماز مغرب و عشاء فاصلہ کے بغیر پڑھی جاتی ہے)۔ (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ۱۰، ص ۴۲۱)۔ ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام آیا ہے: "من قراٴھا والعادیات و ادمن قرائتھا بعثہ اللہ مع امیر المؤمنین (سلام اللہ علیہ) یوم القیامة خاصہ، و کان فی حجرہ ورفقائہ: "جو شخص سُورہ والعادیات کو پڑھے گا، اور اس کی مداومت کرے گا، تو خدا اُسے قیامت کے دن خصوصیّت کے ساتھ امیر المومنین (سلام اللہ علیہ) کے ہمراہ مبعوث کرے گا، اور وہ آپ کی جماعت میں اور آپ کے دوستوں کے درمیان ہو گا۔ (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ۱۰، ص ۵۲۷)۔ بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سُورہ والعادیات نصف قرآن کے برابر ہے۔ (بحوالہ: "در المنثور" جلد ۶، ص۳۸۳)۔ یہ بات کہے بغیر ظاہر و واضح ہے کہ یہ تمام فضیلتیں ان لوگوں کے لیے ہیں جو اس کو اپنی زندگی کا لائحہ عمل بنا لیں گے، اور اس کے تمام مطالب و مضامین پر ایمان رکھیں گے اور اس پر عمل کریں گے۔

1
100:1
وَٱلۡعَٰدِيَٰتِ ضَبۡحٗا
ان فراٹے بھرتے ہوئے سرپٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
100:2
فَٱلۡمُورِيَٰتِ قَدۡحٗا
اور ان کی قسم جو چنگاریاں نکالتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
100:3
فَٱلۡمُغِيرَٰتِ صُبۡحٗا
اور صبح ہوتے ہی دشمن پر یلغار کر دیتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
100:4
فَأَثَرۡنَ بِهِۦ نَقۡعٗا
اور اس سے ہر طرف گرد و غبار ہی گرد و غبار کر دیتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
100:5
فَوَسَطۡنَ بِهِۦ جَمۡعًا
اور یکایک دشمن کے دل بادل میں گھس جاتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
100:6
إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لِرَبِّهِۦ لَكَنُودٞ
بے شک انسان اپنے پروردگار کی نعمتوں کے سامنے ناشکرا اور بخیل ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
100:7
وَإِنَّهُۥ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٞ
اور وہ خود بھی اس معنی پر گواہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
100:8
وَإِنَّهُۥ لِحُبِّ ٱلۡخَيۡرِ لَشَدِيدٌ
وہ مال کے ساتھ شدید لگاؤ اور محبت رکھتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
100:9
۞أَفَلَا يَعۡلَمُ إِذَا بُعۡثِرَ مَا فِي ٱلۡقُبُورِ
کیا وہ نہیں جانتا کہ اس دن جو بھی قبروں میں ہیں وہ سب زندہ ہو جائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
100:10
وَحُصِّلَ مَا فِي ٱلصُّدُورِ
اور جو کچھ سینوں کے اندر (چھپایا ہوا) ہے، وہ آشکار اور ظاہر ہو جائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
100:11
إِنَّ رَبَّهُم بِهِمۡ يَوۡمَئِذٖ لَّخَبِيرُۢ
اس دن ان کا پروردگار ان (کے اعمال) سے مکمل طور پر باخبر ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

ایک حدیث میں آیا ہے کہ یہ سورہ جنگ "ذات السلاسل" کے بعد نازل ہوا، اور اس کا واقعہ اس طرح ہے۔ ہجرت کے آٹھویں سال پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوخبر ملی کہ بارہ ہزار سوار سر زمین "یا لیس" میں جمع ہیں، اور انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ یہ عہد کیا ہے کہ جب تک پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور علی علیہ السلام کو قتل نہ کر لیں اور مسلمانوں کی جماعت کو منتشر نہ کر دیں آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے اپنے اصحاب کی ایک بہت بڑی جماعت کو بعض صحابہ کی سرگردگی میں اس کی جانب روانہ کیا، لیکن وہ کافی گفتگو کے بعد بغیر کسی نتیجہ کے واپس لوٹ آئے۔ آخرکار پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ نے علی السلام کو مہاجرین و انصار کے ایک گروہ کثیر کے ساتھ ان سے جنگ کرنے کے لیے بھیجا۔ وہ بڑی تیزی کے ساتھ دشمن کے علاقہ کی طرف روانہ ہونے اور رات بھر میں سارا سفر طے کر کے صبحدم دشمن کو اپنے محاصرہ میں لے لیا۔ پہلے تو ان کے سامنے اسلام کو پیش کیا۔ جب انہوں نے قبول نہ کیا تو ابھی فضا تاریک ہی تھی کہ ان پر حملہ کر دیا اور انہیں درہم برہم کر کے رکھ دیا، ان میں سے کچھ کو قتل کیا، ان کی عورتوں کو اسیر کر لیا اور بکثرت مال غنیمت کے طور پر حاصل کیا۔ سُورہ "والعادیات" نازل ہوئی حالانکہ ابھی سربازانِ اسلام مدینہ کی طرف لوٹ کر نہیں آئے تھے۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس دن نماز صبح کے لیے آئے تو اس سورہ کی نماز میں تلاوت کی۔ نماز کے بعد صحابہ نے عرض کیا، یہ تو ایسا سُورہ ہے جسے ہم نے آج تک سُنا نہیں ہے۔ فرمایا: ہاں! علی علیہ السلام دشمنوں پر فتح یاب ہوئے ہیں اور جبرئیل نے گزشتہ رات یہ سورہ لا کر مجھے بشارت دی ہے۔ کچھ دن کے بعد علی علیہ السلام غنائم اور قیدیوں کے ساتھ مدینہ میں وارد ہوئے۔ (بحوالہ: "بحار الانوار" جلد۲۱، ص ۶۶، سے آگے، "مجمع البیان" جلد ۱۰، ص ۵۲۸ اور بعض دوسری کتب تاریخ)۔ بعض کا نظریہ یہ ہے کہ یہ واقعہ اس سورہ کے واضح مصادیق میں سے ایک ہے۔ یہ اس کا شانِ نزول نہیں ہے۔

تفسیر بیدار مُجاہدین کی قسم

ہم بیان کر چکے ہیں کہ یہ سُورہ بیدار کرنے والی قسموں سے شروع ہوا ہے۔ پہلے فرماتا ہے: "ان فراٹے بھرتے ہوئے سَرپٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم (جو میدان جہاد کی طرف پیش رفت کرتے ہیں)۔" (وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا)۔ (تشریحی نوٹ: قاعدہ کی رُو سے "و العادیات عدواً" کہنا چاہئیے، لیکن چونکہ عدو (دوڑنے) کا لازمہ سانس نکالنا ہے، لہٰذا اس کے بجائے "ضبحاً" کہا گیا ہے، بعض نے یہ کہا ہے کہ آیت میں ایک محذوف ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے۔ و العادیات یضبحن ضبحاً)۔ یا حاجیوں کے ان اونٹوں کی قسم جو ہانپتے ہوئے سر زمینِ عرفات سے مشعر الحرام سے مشعر سے منیٰ کی طرف چلتے ہیں۔ "عادیات"، "عادیة" کی جمع ہے، جو "عدو" (بروزن صبر) کے مادہ سے ہے، اصل میں گزرنے اور جدا ہونے کے معنی میں ہے، چاہے دل سے ہو، جسے "عداوت" کہتے ہیں، یا خارجی حرکت اور چلنے سے ہو جسے "عدو" (دوڑنا) کہتے ہیں، اور کبھی یہ معاملات میں ہوتی ہے۔ جسے "عدوان" کہتے ہیں، اور یہاں وہی سرعت اور تیزی کے ساتھ دوڑنا مراد ہے۔ "ضبح" (بروزن مدح) تیزی اور سُرعت کے ساتھ دوڑنے والے کے سانس کی آواز کے معنی میں ہے جو اس کے دوڑنے کے وقت کانوں میں آتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے اُوپر اشارہ کیا ہے اس آیت کی تفسیر میں دو نظریے موجود ہیں۔ پہلا نظریہ یہ ہے کہ اس سے مراد ان گھوڑوں کی قسم ہے جو سرعت اور تیزی کے ساتھ میدانِ جہاد کی طرف آگے بڑھتے ہیں اور چونکہ جہاد ایک مقدس امر ہے اس لیے جو جانور جو بھی اس مقدس راستے میں اس طرح کی قدر و قیمت پیدا کر لیتے ہیں کہ وہ اس قابل ہو جاتے کہ ان کی قسم کھائی جائے۔ دوسری تفسیر ان اُنٹوں کی قسم ہے جو حج جیسے عظیم فریضہ میں موافقت اور اماکنِ مقدس میں سُرعت اور تیزی کے ساتھ چلتے ہیں، اس بناء پر وہ ایک تقدس کے حامل بن جاتے ہیں اور قسم کے لائق ہیں۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ "ابن عباس" سے روایت ہے، کہ انہوں نے فرمایا: "میں خانہ کعبہ کے پاس حجر اسمٰعیل میں تھا کہ ایک شخص آیا اور اس نے آیہ "والعادیات ضبحاً" کے بارے میں میں مجھ سے سوال کیا" مَیں نے کہا: "اس سے مراد وہ گھوڑے ہیں جو راہِ جہاد میں حملہ کرتے ہیں اور رات کو اپنے آرام کرنے کی جگہ پر لوٹ آتے ہیں، اور وہ غازی لڑنے والے مجاہدین ہیں جو آگ روشن کرتے ہیں اور اپنے لیے کھانا پکاتے ہیں۔" وہ شخص میرے پاس سے چلا گیا اور علی علیہ السلام کے پاس پہنچا، آپ اس وقت چاہِ زمزم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اس نے آپ سے بھی اس آیت کے بارے میں سوال کیا۔ آپؑ نے فرمایا: کیا تو نے مجھ سے پہلے بھی کسی شخص سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا ہے؟ اس نے عرض کیا: ہاں! مَیں نے ابن عباس سے پوچھا ہے اور انہوں نے کہا ہے اس سے مراد وہ گھوڑے ہیں جو راہ جہاد میں حملہ کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: جاؤ اور اُسے میرے پاس بلا لاؤ۔ جب مَیں حضرتؑ کی خدمت میں آیا تو آپ نے فرمایا: جو بات تم نہیں جاتنے اس کے بارے میں لوگوں کو فتوے کیوں دیتے ہو۔ اسلام میں سب سے پہلا غزوہ جنگِ بدر تھا، اور ہمارے پاس دو گھوڑوں کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ ایک گھوڑا "زبیر" کے پاس اور دوسرا گھوڑا "مقداد" کے پاس تو "عادیات" سے مراد گھوڑے کیسے ہو سکتے ہیں؟ ایسا نہیں ہے۔ اس سے مراد اُونٹ ہیں جو عرفات سے مشعر کی طرف اور مشعر سے منیٰ کی طرف جاتے ہیں۔ ابن عباسؑ کہتے ہیں: جب میں نے یہ سُنا تو میں نے اپنا نظریہ بدل لیا اور امیر المومنین علی علیہ السلام کے نظریہ کو قبول کر لیا۔" (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد۱۰، ص ۵۲۹۔ اس روایت کو "قرطبی" نے بھی اپنی تفسیر کی جلد ۱۰، ص ۷۲۴۵ میں نقل کیا ہے)۔ یہ احتمال بھی ہے کہ "عادیات" ایک وسیع معنی رکھتا ہے۔ لہٰذا یہ مجاہدوں کے گھوڑوں کو شامل ہے اور حاجیوں کے اونٹوں کو بھی، اور اُوپر والی روایت سے مراد یہ ہو کہ اس کے معنی کو گھوڑوں میں محدود نہیں کرنا چاہئیے کیونکہ یہ معنی تمام مقامات پر صادق آتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ واضح مصداق حاجیوں کے اُونٹ ہیں۔ یہ تفسیر کئی جہات سے زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "قسم ہے ان کی جو آگ کی چنگاریاں نکالتے ہیں۔" (فَالْمُورِيَاتِ قَدْحًا)۔ مجاہدین کے وہ گھوڑے جو میدان جنگ کی طرف اتنی تیزی کے ساتھ جاتے ہیں کہ اُن کے سموں کے پتھروں پر ٹکرانے سے چنگاریاں نکلتی ہیں، یا وہ اُونٹ جو سُرعت کے ساتھ مواقف حج میں دوڑتے ہیں اور ان کے پاؤں کے نیچے سے کنکریاں اور ریت اُڑتی ہے اور ان کے دوسرے سنگریزوں کے ساتھ ٹکرانے کی وجہ سے چنگاریاں نکلتی ہیں۔ یا وہ قبیلے اور گروہ جو مواقفِ حج میں کھانا پکانے کے لئے آگ جلاتے ہیں، یا ان لوگوں سے کنایہ ہے جو جنگ اور جہاد کی آگ بھڑکاتے ہیں یا ان زبانوں کی طرف اشارہ ہے جو اپنے چبھنے والے بیان سے دشمن کے دل میں آگ لگا دیتے ہیں، یا بعض مفسّرین کے قول کے مطابق اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو لوگوں کی حاجات کو انجام دینے کے لیے کوشش کرتے ہیں اور اپنا مقصود حاصل کر لیتے ہیں جیسے کہ آگ چقماق کے پتھر سے باہر آتی ہے۔ لیکن یہ سارے احتمالات بعید نظر آتے ہیں اور آیت کا ظاہر وہی پہلی دو تفاسیر ہیں۔ "موریات"، "ایراء" کے مادہ سے "موریة" کی جمع ہے جو آگ بھڑکانے کے معنی میں ہے اور "قدح" چنگاری نکالنے کے لیے پتھر یا لکڑی یا لوہے یا چقماق کو ایک دوسرے پر مارنے کے معنی میں ہے۔ اس کے بعد تیسری قسم میں فرماتا ہے: "اور صبح ہوتے ہی دشمن پر حملہ کرنے والوں کی قسم" (فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا)۔ عربوں کی عادت۔ جیسا کہ طبرسی نے مجمع البیان میں لکھا ہے۔ یہ تھی کہ وہ رات کے وقت دشمن کے علاقے کے قریب جا کر گھات میں بیٹھ جاتے تھے تاکہ صبح سویرے ان پر حملہ کر دیں۔ اِن آیات کی شانِ نزول (یا اس کے ایک واضح مصداق) میں یہ آیا ہے کہ لشکر اسلام علی علیہ السلام کی کمان میں رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میدانِ کی طرف بڑھتا چلا گیا اور دشمن کے قبیلہ کے قریب پہنچ کر گھات لگا کر بیٹھ گیا اور صبح سویرے بجلی کی سی تیزی کے ساتھ ان پر حملہ کر دیا، اور دشمن کے ردعمل دکھانے سے پہلے پہلے ان کی طاقت کو درہم برہم کر دیا۔ اور اگر ہم ان قسموں کو حاجیوں کے اُونٹوں کی طرف اشارہ سمجھیں تو پھر اس آیہ سے مراد اُونٹوں کے قافلوں کا عید کی صبح مشعر سے منیٰ کی طرف دوڑتے ہوئے آنا ہے۔ "مغیرات"، "اغارة" کے مادّہ سے "مغیرة" کی جمع ہے، جو ہجوم کرنے اور دشمن پر حملہ کرنے کے معنی میں ہے۔ چونکہ بعض اوقات یہ ہجوم اور حملہ مال لوٹنے کی غرض سے ہوتا ہے لہٰذا یہ لفظ بعض اوقات فارسی میں عام معنی یعنی غارت کرنے اور دوسروں کا مال چھیننے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ اس لفظ کے مادّہ میں گھوڑے کے ساتھ ہجوم اور حملہ کرنا چھپا ہوا ہے، لیکن اس کے موارد استعمال اچھی طرح اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ اگر ابتداء میں یہ قید موجود تھی بھی تو تدریجاً اب ختم ہو گئی ہے۔ اور یہ جو بعض نے احتمال دیا ہے کہ یہاں "مغیرات" سے مراد وہ ہجوم کرنے والے طوائف و قبائل ہیں جو میدانِ جنگ کی طرف، یا عجلت اور تیزی کے ساتھ منیٰ کی طرف چلتے ہیں، بعید نظر آتا ہے کیونکہ آیہ "فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا" یقینی طور پر گھوڑوں یا اُونٹوں کی توصیف ہے نہ کہ ان کے سواروں کی، اور یہ آیت بھی اسی مطلب کی جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کے بعد ان مجاہدوں کی سواریوں کی ایک اور خصوصیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید فرماتا ہے: "دشمن پر اس قدر تیزی کے ساتھ دوڑ کر جاتے ہیں کہ جس کی وجہ سے ہر طرف گرد و غبار ہی گرد و غبار کر دیتے ہیں۔" (فَاَثرنَ بِہ نقعا۔ (تشریحی نوٹ: "بہ" کی ضمیر "عدو" (دوڑنے) کی طرف لوٹتی ہے جس کا "والعادیات ضبحاً" کے جملہ سے استفادہ ہوتا ہے۔ اس بناء پر "باء" یہاں "سببیت" کے معنی میں ہے، یعنی اس دوڑنے کے سبب گرد و غبار فضا کو پر کر دیتا ہے۔ بعض نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ یہ اس زمانہ یا مکان کی طرف لوٹتی ہے جس میں یہ تاخت و تاز انجام پائی ہے۔ اس بناء پر "باء" ظرفیت کے معنی میں ہے، لیکن صحیح وہی پہلا معنی ہے)۔ یا یہ کہ حاجیوں کے اونٹوں کے مشعر سے منیٰ کی طرف ہجوم کے زیر اثر ہر طرف سے گرد و غبار اٹھتا ہے۔ "اثرن"، "اثارہ" کے مادّہ سے"غبار" یا "دُھوئیں" کو پراگندہ کرنے کے معنی میں ہے۔ اور بعض اوقات ہیجان میں لانے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، اسی طرح فضا میں آواز کی لہروں کے پھیلنے کے معنی آیا میں ہے۔ "نقع" (بروزن نفع) غبار کے معنی میں ہے اور اِس مادّہ کی اصل پانی کے نیچے چلے جانا، یا کسی کے پانی کے نیچے چلے جانے کے معنی میں ہے اور چونکہ "غبار" میں ڈوب جانا بھی اس سے مشابہت رکھتا ہے لہٰذا اس لفظ کا اس پر اطلاق ہوا ہے "نقیع" ساکن اور کھڑے ہوئے پانی کو کہا جاتا ہے۔ ان کی خصوصیات میں سے آخری خصوصیّت کے بارے میں فرماتا ہے: "وہ اسی صبح دشمن کے درمیان پہنچ گئے۔" (فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا)۔ (تشریحی نوٹ: "بہ" کی ضمیر کے مرجع اور "باء" کے معنی کے سلسلہ میں یہاں وہی بحث ہے جو پہلی آیت میں تھی)۔ انہوں نے غفلت کی حالت میں دشمن پر ایسی برق رفتاری کے ساتھ حملہ کیا کہ چند ہی لمحوں کے اندر صفوں کو درہم برہم کر کے رکھ دیا، ان کے قلب لشکر پر حملہ کر کے ان کی جمیعت کو تتر بتر کر دیا اور یہ اسی سُرعتِ عمل، بیداری، آمادگی، شہامت اور شجاعت کا نتیجہ ہے۔ یا یہ حاجیوں کے "مشعر" سے سے قلبِ "منیٰ" میں درود کی طرف اشارہ ہے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سے مراد دشمن کو محاصرہ میں لے لینا ہے۔ لیکن یہ تفسیر اسی صورت میں صحیح ہو گی جب "فوسطن" کا جملہ "سین" کی تشدید کے ساتھ پڑھا جائے جب کہ مشہور قراٴت اس طرح نہیں ہے۔ اس بناء پر صحیح وہی پہلی معنی ہی ہے۔ مجموعی طور پر اس سارے مضمون کو یکجا کر کے یہ مطلب نکلتا ہے کہ ان مذکورہ گھوڑوں کی قسم جو پہلے تو بڑی سُرعت کے ساتھ فراٹے بھرتے، سانس نکالتے، میدان جہاد کی طرف پیش رفت کرتے ہیں، پھر ان کی سُرعت میں ایسی تیزی آتی ہے کہ پتھروں پر ان کے سموں کی ٹاپوں سے چنگاریاں نکلتی ہیں، جو رات کی تاریکی کو چیر کر رکھ دیتی ہیں اور اس کے بعد جب وہ دشمن کے علاقے میں پہنچ جاتے ہیں تو ابھی وہ غفلت میں ہی ہوتے ہیں کہ فضا کے صاف اور روشن ہوتے ہی ان پر حملہ کر دیتے ہیں، ایسا حملہ، جس سے فضا میں گرد و غبار چھا جاتا ہے، اور انجام کار وہ دشمن کی جمیعت کے قلب میں وارد ہو کر ان کی صفوں کو درہم برہم کر دیتے ہیں۔ ان طاقتور اور پُر قدرت گھوڑوں کی قسم ان شجاع اور بہادر سواروں کی قسم مجاہدین کے گھوڑوں کی فراٹے بھرنے کی قسم ان کی چنگاریوں کی قسم جو ان کے سموں سے نکلتی ہیں۔ غفلت کی حالت میں ان کے حملے کی قسم گرد و غبار کے ان ذرّات کی قسم جو فضا میں پھیل جاتے ہیں۔ اور انجام کار ان کے دشمن کی صفوں کے قلب میں وارد ہو کر انہیں درہم برہم کر کے فتح یاب ہونے کی قسم۔ اگرچہ وہ تمام باتیں جو بیان کی گئی ہیں وہ ان قسموں کے معنی میں نہیں آئی ہیں، لیکن کلام کی ضمنی دلالت میں یہ سب جمع ہیں۔ اور یہیں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جہاد اس قدر عظمت رکھتا ہے کہ مجاہدین کے گھوڑوں کا فراٹے بھرنا اور سانس لینا تک بھی لائق قسم ہے۔ اسی طرح پتھروں پر ان کی ٹاپوں سے نکلنے والی چنگاریاں اور اسی طرح وہ گرد و غبار جو فضا میں آڑاتے ہیں، ہاں! ہاں! میدان جہاد کا گرد و غبار بھی قابل قدر اور باعظمت ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ ان قسموں سے مراد احتمالاً وہ نفوس ہیں جو اپنے کمالات کو دوسروں کی طرف منتقل کر سکیں اور اپنے افکار سے علم و دانش کی چنگاریاں نکالیں اور ہوا و ہوس پر حملہ آور ہوں اور اپنے اندر اور دوسروں میں خدا کا شوق پیدا کریں۔ اور انجام کار ساکنین علیین کے قلب میں مقام حاصل کریں۔ (بحوالہ: "تفسیر بیضاوى"، صفحه ۴۶۵)۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ ان باتوں کو اوپر والی آیات کی تفسیر کے عنوان سے قبول نہیں کیا جا سکتا، بلکہ یہ وہ تشبیہات ہیں جو آیت کی تفسیر سے مناسبت کی وجہ سے ذہن میں آتی ہیں۔ ان عظیم قسموں کے بعد، یعنی وہ چیز جس کے لیے قسمیں کھائی گئی ہیں، پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "بےشک انسان اپنے پروردگار کی نعمتوں کے بارے میں ناشکرا اور بخیل ہے۔" (إِنَّ الْإِنسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ)۔ وہی غیر تربیت یافتہ انسان وہی انسان جس کے دل پر معارفِ الہٰی اور انبیاء کی تعلیمات کے انوار نہیں چمکے،۔۔۔۔۔۔ اور وہی انسان جس نے خُود کو خواہشاتِ نفسانی اور سرکش شہوتوں کا تابع بنا لیا ہے، یقیناً وہ "نا شکرا" اور "بخیل" ہے۔ "کنود" اس زمین کو کہتے ہیں جس میں کوئی چیز نہیں اُگتی۔ ناشکرے اور بخیل انسان پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ مفسّرین نے کنود کے لیے بہت سے معنی بیان کیے ہیں۔ "ابو الفتوح رازی" نے تقریباً پندرہ معانی اس سلسلہ میں نقل کیے ہیں، لیکن ان میں سے اکثر اسی اصل معنیٰ کے شاخ و برگ ہیں جو اُوپر بیان ہوا ہے۔ مزید معانی یہ ہیں: ۱۔ کنود اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنی مصیبتوں کو تو بڑھا چڑھا کر بیان کرے لیکن نعمتوں کو بُھول جائے۔ ۲۔ کنود اس شخص کو کہتے ہیں جو خدا کی نعمتوں کو اکیلا ہی کھاتا ہے اور دوسروں کو روکتا ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیا ہے: "ا تدرون من الکنود" "کیا تم جانتے ہو کہ کنود کسے کہتے ہیں"؟! لوگوں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں، تو آپؐ نے فرمایا: "الکنود الذی یاٴکل وحدہ، ویمنع رفدہ یضرب عبدہ" ۲۔ "کنود اس شخص کو کہتے ہیں جو اکیلے ہی اکیلے کھاتا ہے اور دُوسروں سے عطا و بخشش کو روکتا ہے اور اپنے ماتحت غلاموں کو مارتا ہے۔" (بحوالہ:"مجمع البیان " جلد ۱۰، ص ۵۳)۔ ۳۔ کنود وہ شخص ہے جو مشکلات و مصائب میں اپنے دوستوں کے ساتھ ہمدردی نہیں کرتا۔ ۴۔کنود وہ ہے جس کی نیکیاں بہت ہی کم ہوں۔ ۵۔ کنود وہ شخص ہے کہ جب اسے کوئی نعمت ملتی ہے تو وُہ اسے دوسروں کو نہیں دیتا اور اگر کسی مشکل میں گرفتار ہو جائے تو بےصبری دکھاتا اور بہت گڑگڑاتا ہے۔ ۶۔ کنود وہ شخص ہے جو اللہ کی نعمتوں کو معصیت میں صرف کرتا ہے۔ ۷۔ کنود وہ شخص ہے جو اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتا ہے۔ لیکن جسیا کہ ہم نے بیان کیا ہے، یہ سب معانی اسی ناشکری اور بُخل کی شاخ و برگ اور مصادیق ہیں۔ ایسے موارد میں "انسان" کی تعبیر، بدکار، ہوا پرست، سرکش اور باغی انسانوں کے معنی میں ہے، اور بعض نے اس کی کافر انسان سے تفسیر کی ہے ورنہ یقیناً ہر انسان ایسا نہیں ہے کیونکہ بہت سے انسان ایسے ہیں کہ جن کی رُوح میں شکر گزاری اور عطا و بخشش گندھی ہوئی ہے، اور وہ ناشکری اور بُخل سے بیزار ہیں۔ اسی طرح وہ انسان جنہوں نے اللہ پر ایمان کے سائے میں خود خواہی اور خود پرستی کو چھوڑ دیا ہے، اور پروردگار کے اسماء و صفات کی معرفت اور اخلاقِ الٰہی کی فضا میں آسمان پر بلند پروازی کر رہے ہیں۔ اِس کے بعد مزید کہتا ہے: "اور وُہ خُود بھی اسی معنی پر گواہ ہے۔" (وَإِنَّهُ عَلَى ذَلِكَ لَشَهِيدٌ)۔ کیونکہ انسان اپنے نفس کے بارے میں اچھی طرح آگاہ ہے اور اگر وہ اپنی اندرونی صفات کو ہر شخص سے چھپا سکتا ہو تو خدا اور اپنے وجدان سے مخفی نہیں رہ سکتا، چاہے وہ اس حقیقت کا اعتراف کرے یا نہ کرے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ "انہ" کی ضمیر "خدا" کی طرف لوٹتی ہے، یعنی خدا انسان میں کنود کی صفت کے وجود کا گواہ ہے۔ لیکن قبل و بعد کی آیات کی طرف توجہ کرتے ہوئے، جن میں اس سے مشابہ ضمیریں انسان کی طرف لوٹتی ہیں، یہ احتمال بہت ہی بعید نظر آتا ہے، اگرچہ بہت سے مفسّرین نے اس تفسیر کو ترجیح دی ہے۔ یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ اس سے مراد انسان کی اپنے گناہوں اور عیوب پر قیامت میں گواہی دینا ہے، جیسا کہ قرآن کی بہت سی آیات سے معلوم ہوتا ہے۔ اِس تفسیر کے لیے بھی یہاں کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ آیت ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے جو اس دنیا میں بھی اس کے کفران اور بخل پر گواہی کو شامل ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ بعض اوقات انسان اپنی شناخت سے عاجز ہو جاتا ہے، اور اصطلاح کے مطابق اپنے وجدان کو دھوکا دیتا ہے اور شیطانی آرائش و زیبائش اس کی مذموم صفات کو اس کی نظر میں خوبصورت بنا کر جلوہ گر کر دیتی ہیں۔ لیکن خصوصیت کے ساتھ کفران و بخل کے بارے میں مطلب اس قدر واضح ہے کہ اس کی پردہ پوشی نہیں کی جا سکتی اور اپنے وجدان کو دھوکا نہیں دے سکتا۔ بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے: "وہ مادّی چیزوں اور مال سے شدید لگاؤ اور محبت رکھتا ہے۔" (وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ)۔ (تشریحی نوٹ: "لحب الخیر" کی "لام" ممکن ہے "لام تعدیہ" ہو یا لام علت، پہلے احتمال کی بناء پر اس کی تفسیر وہی ہے جو اُوپر بیان ہو چکی ہے، اور دوسرے احتمال کی بناء پر آیت کا مفہوم اس طرح ہے، انسان مال کی محبت کی وجہ سے بخیل ہے، لیکن مسلمہ طور پر پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے)۔ اور مال و دولت کے ساتھ اس کا یہی شدید اور اکثریت سے لگاؤ اس کے بُخل، ناشکری اور کفران کا سبب بن جاتا ہے۔ البتہ "خیر" ایک ایسا وسیع معنی رکھتا ہے، جو ہر قسم کی نیکی کو شامل ہے۔ اور یقینی طور پر بہت سی نیکیوں اور اچھی چیزوں مثلاً علم و وانش، تقوی اور بہشت و سعادت سے لگاؤ اور محبت کوئی ایسا مذموم مطلب نہیں ہے کہ قرآن اُوپر والی تعبیر کے ساتھ اس کی مذمت کرے۔ اسی لیے مفسیرین اس کی یہاں "مال" کے معنی سے تفسیر کی ہے، جس پر قرینہٴ مقام اور گذشتہ آیت بھی گواہ ہے، اور قرآن کی بعض دوسری آیات بھی، اس کی گواہی دیتی ہیں)۔ مثلاً بقرہ کی آیہ ۱۸۰، جس میں فرماتا ہے:" كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأقْرَبِينَ" تم پر فرض ہے کہ اگر تم میں سے کوئی کچھ مال چھوڑ جائے تو وہ باپ، ماں اور نزدیکیوں کے لئے وصیّت کرے۔ مسلمہ طور پر "مال" پر خیر" کا اطلاق اس بناء پر ہے کہ مال اپنی ذات کی حد تک اچھی چیز ہے۔ اور وہ انواع و اقسام کی نیکیوں کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ لیکن ناشکرا اور بُخیل انسان اس کو اس کے اصلی ہدف سے روک کر خود پسندی اور خود غرضی کی راہ میں استعمال کرتا ہے۔ اس کے بعد ایک استفہام انکاری کی صورت میں، جو تہدید کے ساتھ تواٴم ہے، فرماتا ہے: "کیا یہ ناشکرا، بخیل اور دنیا پرست انسان یہ نہیں جانتا کہ جب وہ سب کے سب جو قبروں میں ہیں، زندہ ہو جائیں گے۔" (أَفَلَا يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُورِ)۔ اور جب وہ تمام چیزیں جو سینوں میں ہیں، جیسے کفر و ایمان، اخلاص و ریا، تکبر و غرور، تواضع و انکسار اور اچھی اور بُری نیتیں، سب آشکار ہو جائیں گی۔" (وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُورِ)۔ "اس دن ان کا پروردگار ان سے اور ان کے اعمال اور نیتوں سے آگاہ ہے۔" اور اس کے مطابق ہی انہیں جزا و سزا دے گا۔ (إِنَّ رَبَّهُم بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّخَبِيرٌ)۔ "بعثر"، "بعثرة" (بروزن منقبة) کے مادّہ سے اصل میں زیر و زبر کرنے، باہر نکالنے اور استخراج کرنے کے معنی میں ہے۔ اور چونکہ مُردوں کو زندہ کرنے کے وقت قبریں زیر و زبر ہوں گی، اور جو کچھ ان میں ہے وہ ظاہر ہو جائے گا، لہٰذا اُوپر والی آیات میں یہ تعبیر قیامت کے بارے میں استعمال ہوئی ہے۔ "ما فی القبور" کی تعبیر (اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ "ما" عام طور پر غیر ذوی العقول کے لیے آیات ہے) یا تو اس بناء پر ہے کہ اس میں یہ بات مدنظر ہے کہ مُردے ابھی مٹی ہیں، یا یہ اُس ابہام کی بناء پر ہے جو اس پر حاکم ہے کہ معلوم نہیں کون سے اشخاص ہیں؟ "قبور" (قبروں) کی تعبیر اس سے کوئی منافات نہیں رکھتی کہ لوگوں کا ایک گروہ اصولاً قبر نہیں رکھتا مثلاً وہ لوگ دریا میں ڈوب جائیں، یا ان کی قبر ایک مدّت کے بعد ختم ہو جاتی ہے اور اُن کی مٹی بکھر جاتی ہے کیونکہ اُن لوگوں کی اکثریت مدنظر ہے جو قبر رکھتے ہیں علاوہ ازیں ممکن ہے کہ قبر یہاں ایک وسیع معنی رکھتی ہو، یعنی وہ جگہ جہاں لوگوں کی مٹی موجود ہو اگرچہ وہ عام قبر کی صُورت میں نہ ہو۔ "حصّل" تحصیل کے مادّہ سے اصل میں "چھلکے" سے "مغز" کو نکالنے کے معنی میں ہے۔ اسی طرح معادن کو صاف کرنے اور سونے وغیرہ کو کان کے پتھر سے نکالنے پر بولا جاتا ہے۔ اس کے بعد یہ ایک وسیع معنی یعنی مطلق استخراج کرنے اور الگ کرنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا، اور زیر بحث آیت میں اس خیر و شر اور نیکی و برائی کو جدا کرنا مراد ہو، جو دلوں میں چُھپی ہوئی ہے چاہے وہ ایمان و کفر ہو، یا صفات حسنہ و رذیلہ، یا اچھی اور بُری نیتیں، وہ سب کی سب اس دن ایک دوسرے سے جدا اور ظاہر و آشکار ہو جائیں گی۔ اور ہر شخص کو ان کے مطابق جزا و سزا ملے گی۔ جیسا کہ سُورہ طارق کی آیہ ۹ میں آیا ہے: يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ: "اس دن سارے اندرونی بھید ظاہر و آشکار ہو جائیں گے۔" "یو مئذٍ" کی تعبیر اور اس معنی پر تکیہ کہ خدا "اس دن" ان کے اعمال اور ان کے دلوں میں چُھپے ہوئے بھبیدوں سے آگاہ ہو گا حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ خدا ہمیشہ ان مسائل سے آگاہ ہے، اس بناء پر ہے کہ وہ دن روزِ جزا ہے، اور وہ انہیں ان کے اعمال و عقائد کی جزا دے گا۔ بعض مفسّرین کے قول کے مطابق اس تعبیر کی مثال اس طرح ہے کہ کوئی شخص دوسرے سے تہدید کے طور پر کہے ساٴعرف لک امرک "میں عنقریب تجھے تیرے عمل کا تعارف کراؤں گا۔" حالانکہ آج بھی اس قسم کا تعارف موجود ہے۔ یہاں مراد یہ ہے کہ اس کا نتیجہ اور بدلہ تجھے دوں گا۔ ہاں! خدا ہمیشہ اور ہر حالت میں اندر اور باہر کے اسرار سے مکمل طور پر آگاہ ہے، لیکن اس آگاہی کا اثر قیامت میں اجر و ثواب اور جزا و سزا کے وقت زیادہ ظاہر اور زیادہ آشکار ہو جائے گا۔ اور یہ تمام انسانوں کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ اگر واقعاً وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں تو یہ چیز ان کے گناہوں کے درمیان ایک طاقتور سد بن جائے گی، چاہے وہ گناہ آشکار ہوں یا پنہاں، اندرونی گناہ ہو یا بیرونی، اور اس اعتقاد کا تربیت پر کیا اثر پڑتا ہے کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔

چند نکات اس سُورہ کی قسموں اور اس کے ہدف کے درمیان ربط

اس سُورہ کے سلسلہ میں جو سوالات سامنے آتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ مجاہدین کے گھوڑوں کی قسم اور " إِنَّ الْإِنسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ" کے جملہ کے درمیان کیا ربط ہے؟ کیونکہ قرآن کی آیات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ قسموں اور مقسم بہ (جس کے لیے قسم کھائی گئی ہے) کے درمیان ایک قسم کا ربط موجود ہوتا ہے، اور اصولی طور پر قرآن کی فصاحت و بلاغت بھی اس قسم کے مطلب کا اقتضا کرتی ہے۔ زیرِ بحث آیات میں ممکن ہے اس طرح کا ربط ہو کہ قرآن یہ کہتا ہے کہ ایسے ایثار کرنے والے انسان بھی موجود ہیں جو جہاد کے راستہ میں بےپرواہ ہو کر پیش رفت کرتے ہیں اور کسی قسم کی فدا کاری میں کوتاہی نہیں کرتے، اور اپنی جان و مال خدا کی راہ میں دے دیتے ہیں لیکن بعض لوگ اتنے بخیل اور ناشکرے کیوں بن جاتے ہیں کہ نہ تو وہ حق تعالیٰ کی نعمتوں کے مقابلہ میں خدا کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور نہ ہی اس کی راہ میں ایثار کرتے ہیں؟ یہ ٹھیک ہے کہ قسم تو گھوڑوں ہی کی کھائی گئی ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ ان کی اہمیّت اس لحاظ سے ہے کہ وہ مجادہدین کے لئے ایک آلہ ہیں، اور حقیقت میں مجاہدین کے جہاد کی قسم کھائی گئی ہے۔ (اور اسی طرح اگر یہ حاجیوں اور خانہ خدا کے زائرین کے اونٹوں کی قسم ہو)۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ ربط اس طرح سے حاصل ہوتا ہے کہ یہ جانور حق تعالیٰ کی راہ میں سُرعت کے ساتھ جاتے ہیں۔ پس اے انسان تو کیوں اس کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کرتا جب کہ تو اشرف المخلوقات ہے اور اس کے لائق ہے؟ لیکن پہلی مناسبت زیادہ واضح ہے۔

۲۔ کیا انسان طبعاً ناشکرا اور بخیل ہے؟

ممکن ہے کہ لوگ إِنَّ الْإِنسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ کے جملہ سے مفہوم لیں کہ "کنود" کی حالت میں ہونا یعنی ناشکری اور بخل کرنا سب انسانوں کی طبیعت کا جزء ہے تو پھر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ یہ امر بیدار وجدان اور فطری شعور کے ساتھ ، انسان کو شکرِ منعم اور ایثار و قربانی کی دعوت دیتا ہے، کیسے سازگار ہو سکتا ہے؟ اس قسم کا سوال، قرآن مجید کی بہت سی آیات میں، جو انسان کی کمزوریوں کے واضح نقاط کو بیان کرتی ہیں، سامنے آتا ہے۔ ایک جگہ انسان کو "ظلوم و جہول" شمار کیا گیا ہے۔ (احزاب۔ ۷۲) دوسری جگہ "ھلوع" (کم ظرف) (معارج۔ ۱۹) ایک دوسری "یؤس کفور" (مایوس ناشکرا) ( ہود۔ ۹) ایک اور مقام پر ظاغی اور سرکش۔ (علق۔ ۶) کے ساتھ متعارف ہوا ہے۔ کیا واقعاً ضعف کمزوری کے یہ نقاط انسان کی طبیعت میں پوشیدہ ہیں، حالانکہ قرآ ن صراحت کے ساتھ کہتا ہے کہ خدا نے آدم کو مکرم بنایا ہے اور سب مخلوق پر اسے برتری دی ہے: وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلاً (اسراء۔ ۷۰)۔ اِس سوال کا جواب ایک نکتہ کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہو جاتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ انسان دو بعد وجہات وجودی رکھتا ہے، اور اسی بناء پر وہ اپنے "قوس صعودی" میں "اعلیٰ علیین" تک پہنچ جاتا ہے اور اپنے "قوس نزولی" میں اسفل سافلین میں گر جاتا ہے۔ اگر وہ مربیانِ الٰہی سے تربیت پائے، عقل کے پیام سے ہدایت حاصل کرے اور اپنی اصلاح کرے تو وہ "فضلنا ھم علٰی کثیر ممن خلقنا تفضیلاً" کا مصداق ہو جاتا ہے۔ اور اگر ایمان تقویٰ سے منہ موڑ لے، اور اولیاء خدا کی راہنمائی سے باہر نکل جائے، تو پھر وہ "ظلوم" و "کفار" یؤس" و "کفور" اور "ھلوع " و "کنود" کی صُورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس طرح ان آیات کے درمیان کسی قسم کا تضاد موجود نہیں ہے، البتہ ان میں سے ہر ایک کا انسان کے ایک بُعد اور جہت کے ساتھ تعلق ہے۔ ہاں! انسان کی فطرت کے اندر تمام نیکیوں، اچھائیوں اور افتخارات و فضائل کی اصلی جڑ پوشیدہ ہے اور اسی طرح انسان ان فضائل کے نقطہٴ مقابل کے لیے بھی آمادگی رکھتا ہے۔ اسی لیے عالمِ آفرینش کی کسی بھی مخلوق کے قوسِ صعودی و نزولی کے درمیان اس قدر فاصلہ اور دوری نہیں ہے، (غور کیجئے)۔

۳۔ جہاد کی عظمت

قرآن مجید میں جہاد اور راہِ خدا کے مجاہدین کی عظمت کے بارے میں بہت ہی زیادہ گفتگو ہوئی ہے۔ لیکن شاید یہ مسئلہ کسی جگہ بھی اس عظمت کے ساتھ بیان نہیں ہوا کہ ان کے گھوڑوں کے پھنکارنے، ان کے سموں سے نکلنے والی چنگاریوں اور ان کے تیز دوڑنے سے اُٹھنے والا گرد و غبار تک بھی اس قدر باعظمت سمجھا جائے، کہ اس کی قسم کھائی جائے۔ خصوصاً ان کے سُرعت عمل پر، جو جنگوں میں کامیابی کا اہم ترین عامل ہے، تکیہ ہوا ہے، اور غفلت کی حالت میں جا لینے پر بھی، جو جنگ میں موفق ہونے کا ایک اور عامل ہے، تکیہ ہوا ہے۔ اور یہ سب جہاد کے پروگرام کے سلسلہ میں ایک تربیت اور تعلیم ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اس سُورہ کے شانِ نزول میں بھی آیا ہے کہ علی علیہ السلام نے یہ حکم دیا تھا کہ رات کی تاریکی میں اپنی سواریوں کو تیار کر لیں، انہیں ضروری خوراک دیں، اُن پر زین کس لیں، اور مکمل طور پر (الرٹ) تیاری کی صُورت میں آ جائیں، جب رات کی تاریکی کا پردہ ہٹا تو آپ نے فوراً اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز صبح ادا کی، اور بلافاصلہ دشمن پر حملہ کر دیا، اور دشمن اس وقت بیدار ہوا جب مجاہدین اِسلام کے گھوڑے ان کے سروں پر پہنچ گئے۔ غفلت کی حالت میں اس سریع حملہ سے تلف ہونے والوں کی تعداد بھی بہت کم رہی، اور جنگ کا خاتمہ بھی مختصر سے وقت میں ہو گیا، اور قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ یہ سب باتیں اس سورہ کی آیات میں بہت ہی عمدہ طریقہ سے بیان ہوئی ہیں۔ یہ بات صاف طور پر ظاہر ہے کہ نہ تو گھوڑوں میں کوئی خصوصیّت ہے اور نہ ہی بیابان کے پتھروں پر سموں کے ٹکرانے سے پیدا ہونے والی چنگاریان کوئی خصوصیت رکھتی ہیں، اور نہ ہی ان کے پاؤں سے اُٹھنے والا گرد و غبار، جو چیز خصوصیت رکھتی ہے وہ مسئلہ جہاد ہے، اور اس کے بعد اس کے آلات ہیں، جو موجودہ زمانہ کے تمام جنگی وسائل کو شامل ہیں، جیسا کہ سُورہ انفال کی آیہ ۹ میں "ریاط الخیل" (قوی اور طاقتور گھوڑوں) کے بیان میں "قوّۃ" اور "طاقت" کے بارے میں کلّی طور پر گفتگو ہوئی ہے۔ خداوندا! ہمیں اپنی رضا اور خوشنودی کی راہ میں جہاد کرنے اور قربانی دینے کی توفیق مرحمت فرما۔ پروردگار! نفس سرکش ناشکری اور کفران کی طرف مائل رہتا ہے، ہمیں اس کے خطرات سے محفوظ فرما۔ بارِالہٰا! تو ہر شخص کے اندرونی اور بیرانی اسرار سے آگاہ ہے اور ہمارے اعمال سے باخبر ہے۔ اپنے لطف و کرم اور عنایت و بخشش سے ہمارے ساتھ سلوک کر۔ آمین یا رب العالمین

end of chapter