Sūra 61 · 14v
Chapter 6114 verses

As-Saff

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
الصف
الصف

سوره صف

یہ سورہ مدینہ میں نازل ہوئی اس میں ۱۴ آیات ہیں۔

سوره صف کے مضامین

یہ سورہ درحقیقت دو بنیادی محوروں کے گرد گھومتا ہے: 1. اسلام کی تمام آسمانی ادیان پر برتری اور خدا کی طرف سے اس کی بقاء و دوام کی ضمانت۔ 2. اس دین کی حفاظت اور ترقی کے لیے جہاد کا لازم ہونا۔ لیکن تفصیلی نظر سے اسے سات حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: 1. گفتار کا آغاز، جو خداوندِ عزیز و حکیم کی تسبیح سے ہوا ہے اور بعد کے اُمور و حقائق کو قبول کرنے کے لیے دلوں میں آمادگی پیدا کرتا ہے۔ 2. گفتار و کردار میں ہم آہنگی اور بلاعمل باتوں سے پرہیز کی دعوت۔ 3. عزمِ راسخ اور اتحادِ کامل کے ساتھ جہاد کی دعوت۔ 4. بنی اسرائیل کی پیمان شکنی کی یادآوری اور ظہورِ اسلام کے بارے میں مسیح علیہ السلام کی بشارت۔ 5. دینِ اسلام کی تمام ادیان پر فتح مندی کی ضمانت۔ 6. جہاد کی طرف مؤثر دعوت اور مجاہدینِ راہِ حق کی دنیوی اور اُخروی جزاؤں کا بیان۔ 7. حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کی زندگی کے بارے میں مختصر سا اشارہ اور ان سے ہدایت کا سبق حاصل کرنا۔ لیکن جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں، اس سورہ کا اصلی محور اسلام اور جہاد ہی ہے۔ مشہور قول ہے کہ یہ سارا سورہ مدینہ میں نازل ہوا ہے اور اس سورہ میں آیاتِ جہاد کا ہونا بھی اس معنی کی تائید کرتا ہے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ مکہ میں جہاد کی تشریح قطعاً نہیں ہوئی تھی۔

سوره صف کی تلاوت کی فضیلت

پیغمبر گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے: مَنْ قَرَأَ سُورَةَ عِيسَى كَانَ عِيسَى مُصَلِّيًا عَلَيْهِ، مُسْتَغْفِرًا لَهُ مَا دَامَ فِي الدُّنْيَا، وَهُوَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَفِيقُهُ۔ "جو شخص سورۂ عیسیٰ (سورۂ صفّ) کو پڑھے تو حضرت عیسیٰ اُس کے لیے دعائے رحمت کریں گے جب تک وہ دنیا میں زندہ ہے، اس کے لیے استغفار کریں گے اور قیامت میں وہ ان کا رفیق اور ساتھی ہو گا۔" [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۹، صفحہ ۲۷۷؛ نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ۳۰۹]۔ ایک اور حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے: مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الصَّفِّ، أَوْ مَنْ قَرَأَهَا فِي فَرَائِضِهِ وَنَوَافِلِهِ، صَفَّهُ اللّٰهُ مَعَ مَلَائِكَتِهِ وَأَنْبِيَائِهِ الْمُرْسَلِينَ۔ "جو شخص سورۂ صف کو پڑھے یا واجب اور مستحب نمازوں میں اس کی مداومت کرے، خدا اُسے فرشتوں اور انبیاءِ مرسلین کی صف میں قرار دے گا۔" [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۹، صفحہ ۲۷۷؛ نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ۳۰۹]۔

1
61:1
سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۖ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ
جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، وہ سب اللہ کی تسبیح کرتے ہیں، اور وہ صاحب قدرت اور حکیم و دانا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 4 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
61:2
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفۡعَلُونَ
اے ایمان لانے والو! تم ایسی بات کیوں کرتے ہو جس پر تم خود عمل نہیں کرتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 4 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
61:3
كَبُرَ مَقۡتًا عِندَ ٱللَّهِ أَن تَقُولُواْ مَا لَا تَفۡعَلُونَ
اللہ کے ہاں یہ بات بہت ہی غضب کا موجب ہے کہ تم ایسی بات کرو جس پر تم خود عمل نہیں کرتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 4 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
61:4
إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلَّذِينَ يُقَٰتِلُونَ فِي سَبِيلِهِۦ صَفّٗا كَأَنَّهُم بُنۡيَٰنٞ مَّرۡصُوصٞ
اللہ ان لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر قتال کرتے ہیں جیسے وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

مفسرین نے لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ کی شانِ نزول میں بہت سی روایات بیان کی ہیں جن میں کچھ زیادہ اختلاف نہیں ہے۔ ان میں کچھ یہ ہیں: 1. مومنین کی ایک جماعت یہ کہا کرتی تھی کہ اس کے بعد جب بھی ہم دشمن کے مقابل ہوں گے تو پشت نہیں پھریں گے اور فرار نہیں کریں گے، لیکن انہوں نے اپنے قول کو پورا نہ کیا اور جنگِ اُحد کے دن بھاگ کھڑے ہوئے، یہاں تک کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی زخمی ہو گئی اور آپ کے دو دندانِ مبارک بھی شہید ہو گئے۔ 2. جس وقت خدا نے شہدائے بدر کا ثواب بیان کیا تو صحابہ کی ایک جماعت نے کہا: اب جب کہ معاملہ اس طرح ہے تو ہم آئندہ کی جنگوں میں اپنی تمام توانائیاں صرف کر دیں گے۔ پھر وہ جب احد میں بھاگ کھڑے ہوئے تو اوپر والی آیت نازل ہوئی اور انہیں سرزنش کی گئی۔ 3. مسلمانوں کی ایک جماعت، حکمِ جہاد کے نزول سے پہلے یہ کہا کرتی تھی: اے کاش! خدا ہمیں بہترین اعمال کی نشاندہی کرتا تاکہ ہم ان پر عمل کرتے۔ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ خدا نے انہیں یہ خبر دی کہ افضل الأعمال ایمانِ خالص اور جہاد ہے، لیکن یہ خبر انہیں اچھی نہ لگی اور لیت و لعل کرنے لگے، تو یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں سرزنش کی گئی۔ [ببحوالہ: مجمع البیان، جلد ۹، صفحہ ۲۷۸، کئی مفسرین نے بھی کچھ فرق کے ساتھ یہی روایات بیان کی ہیں]۔

تفسیر: فولادی دیوار کی طرح جم کر لڑنے والے

اس سورہ کی ابتداء بھی خدا کی تسبیح کے ساتھ ہے، اسی بناء پر مفسّرین نے اس سورہ کو بھی مُسبّحات (وہ سورتیں جو تسبیحِ خدا سے شروع ہوتی ہیں) میں شمار کیا ہے، فرماتا ہے: "جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے وہ سب خدا کی تسبیح کرتے ہیں۔" "سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْأَرْضِ" [تشریحی نوٹ: عالم کے تمام موجودات کی تسبیح کی کیفیت کے سلسلہ میں ہم نے اس تفسیر میں بارہا گفتگو کی ہے، ان میں سے سورہ بنی اسرائیل کی آیت ۴۴ کے ذیل میں (تفسیر نمونہ جلد ۶) اور سورہ نور کی آیت ۴۱ کے ذیل میں (جلد ۸) کو ملاحظہ فرمائیں]۔ اس کی تسبیح کیوں نہ کریں اور اُسے ہر عیب و نقص سے منزّہ شمار کیوں نہ کریں، جبکہ "وہ شکست ناپذیر، قادر ہے اور ہر چیز سے آگاہ ہے": "وَهُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔" جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں، یہ سورہ ایمان، توحید اور معرفت کی سورہ ہے۔ موجودات کی عمومی تسبیح کے مسئلہ کی طرف توجہ دلاتی ہے، جو زبانِ حال و قال سے صورت پذیر ہوتی ہے۔ اس میں مؤثر اور شگفت انگیز نظام جو عزیز و حکیم خالق کے وجود پر بہترین دلیل ہے، یہ چیزیں ایمان کی بنیادوں کو دلوں میں مستحکم کرتی ہیں اور فرمانِ جہاد کے لیے راستہ ہموار کرتی ہیں۔ **** اس کے بعد ان افراد سے جو اپنی کہی ہوئی باتوں پر عمل نہیں کرتے، ملامت و سرزنش کے عنوان سے فرماتا ہے: "ائے ایمان والو، تم ایسی بات کیوں کہتے ہو جس پر عمل نہیں کرتے؟" "یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ" [تشریحی نوٹ: "لم" اصل میں "لما" (لام جارّہ اور ما استفہامیہ سے مرکب) تھا، اس کے بعد اس کا "الف" کثرتِ استعمال سے یا "اخبار" و "استفہام" میں فرق رکھنے کے لیے گر گیا ہے]۔ اگرچہ شانِ نزول کے مطابق یہ آیات جہاد کی باتوں اور پھر جنگِ اُحد کے دن فرار کر جانے کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، لیکن ہم جانتے ہیں کہ شانِ نزول آیت کے وسیع مفاہیم کو ہرگز محدود نہیں کرتی۔ لہٰذا ہر قسم کی ایسی گفتگو جس پر عمل نہ ہو، ملامت کے لائق ہے، چاہے وہ میدانِ جہاد میں پامردی کے لحاظ سے ہو یا کسی اور مثبت اور تربیتی عمل سے متعلق ہو۔ بعض مفسرین نے ان آیات میں مخاطب کو ظاہری مومن اور باطنی منافق سمجھا ہے، حالانکہ خطاب "یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا" اور بعد والی آیات کی تعبیرات یہ بتاتی ہیں کہ خطاب حقیقی مومنین ہی سے ہے، لیکن ایسے مومنین جو ابھی تک کمالِ ایمان کی سرحد تک نہیں پہنچے اور ان کی گفتار و کردار ہم آہنگ نہیں ہوئے ہیں۔ **** اس کے بعد اسی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے مزید کہتا ہے: "یہ فعل خدا کے نزدیک عظیم غضب کا موجب ہے کہ تم ایسی باتیں کہو جن پر عمل نہیں کرتے" "کَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللّٰہِ أَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ" [تشریحی نوٹ: بعض مفسّرین نے "کَبُرَ" کو افعالِ مدح و ذم میں سے سمجھا ہے (تفسیر روح البیان میں زیر بحث آیات کے ذیل میں) اور بعض نے اسے تعجب کے معنی میں سمجھا ہے (تفسیر کشّاف)]۔ مجالسِ عمومی میں بیٹھ کر دادِ سخن دیتے ہو، لیکن جب میدانِ عمل کا وقت آتا ہے، تو پھر ہر شخص ایک طرف کو بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ سچے مومنین کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ ان کی گفتار و کردار سو فیصد ہم آہنگ ہو۔ ہاں جس قدر انسان اس اصل سے دور ہوتا ہے، اتنا ہی حقیقتِ ایمان سے دور ہوتا ہے۔ "مقت" اصل میں اس شخص کے لیے شدید بُغض کے معنی میں ہے جس نے کوئی قبیح کام انجام دیا ہو۔ لہٰذا عربِ جاہلی میں جو شخص اپنے باپ کی بیوی کو اپنے نکاح میں لے آتا تھا، اسے "نکاحِ مقت" کہتے تھے۔ "کَبُرَ مَقْتًا" کے جملہ میں لفظ مقت "کَبُرَ" کے ساتھ ملا ہوا ہے جو اور بھی شدت و سنگینی اور عمل سے خالی گفتار کے بارے میں خدا کے عظیم غضب اور غصہ کی دلیل ہے۔ [بحوالہ: المیزان، جلد ١٩، صفحہ ٢٨٧]۔ "علامہ طباطبائی"، "المیزان" میں فرماتے ہیں: "اس بات میں کہ انسان کوئی ایسی بات کہے جسے انجام نہیں دے گا اور اس بات میں کہ کسی ایسے کام کو انجام نہ دے جو وہ کہتا ہے، فرق ہے۔ پہلا عمل نفاق کی دلیل ہے اور دوسرا ضعفِ ارادہ کی دلیل ہے۔" بہرحال، اوپر والی آیت ہر قسم کے عہد و پیمان اور وعدہ سے تخلّف، یہاں تک کہ بعض کے قول کے مطابق نذر کو بھی شامل ہے۔ اسی لیے مالک اشتر والے فرمان میں آیا ہے کہ امام علی علیہ السلام نے اُن سے فرمایا: "إِیَّاکَ ... أَنْ تَعِدَهُمْ فَتَتْبَعَ مَوْعِدَکَ بِخُلْفِکَ... وَالْخُلْفُ یُوجِبُ الْمَقْتَ عِنْدَ اللّٰہِ وَالنَّاسِ، قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی: 'کَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللّٰہِ أَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۔" [بحوالہ: نہج البلاغہ، مکتوب ۵۳ (ص ۴۴۴ صبحی صالح)]۔ "اور یہ کہ تم لوگوں سے کوئی وعدہ کرو اور پھر اس وعدے سے تخلّف کرو — اس بات سے سختی کے ساتھ پرہیز کرنا، کیونکہ یہ بات خدا کے ہاں اور لوگوں کے نزدیک بھی خشمِ عظیم کا موجب ہو گی، جیسا کہ قرآن کہتا ہے:کَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللّٰہِ أَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۔" ایک اور حدیث امام صادق علیہ السلام سے آئی ہے: "عِدَةُ الْمُؤْمِنِ أَخَاهُ نَذْرٌ لَا کَفَّارَةَ فِیْہِ، فَمَنْ أَخْلَفَ فَقَدْ أَخْلَفَ اللّٰہَ، وَ لِمَقْتِہِ تَعَرَّضَ، وَ ذٰلِکَ قَوْلُہُ: 'یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ، کَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللّٰہِ أَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۔" [بحوالہ: اصول کافی، جلد ٢، باب خلف الوعد]۔ "مومن کا اپنے بھائی سے وعدہ کرنا ایک قسم کی نذر ہے، اگرچہ اس کا کوئی کفارہ نہیں ہے۔ جو شخص وعدہ کے خلاف کرے گا اس نے خدا کی مخالفت کی ہے اور خود کو اس کے غضب کا مستحق بنا دیا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کے بارے میں قرآن کہتا ہے: : 'یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ [بحوالہ: اصول کافی، جلد 2، باب خلف الوعد] بعد والی آیت میں اصل مسئلہ کہ جو جہاد ہے، اُسے سامنے لاتے ہوئے فرماتا ہے: "خدا ان لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح سے جہاد کرتے ہیں، جیسے کہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہو۔" (إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِہِ صَفًّا کَأَنَّھُمْ بُنْیَانٌ مَرْصُوصٌ)۔ [تشریحی نوٹ: "صفًّا" یہاں حال کے عنوان سے منصوب ہے]۔ اس بنا پر محض جنگ کرنا اہم نہیں، اہم بات یہ ہے کہ وہ جنگ فی سبیل اللہ ہو اور وہ بھی مکمل اتحاد، نظم و ضبط کے ساتھ، جیسے کہ فولادی دیوار ہو۔ "صفّ" اصل میں مصدری معنی رکھتا ہے اور کسی چیز کو سیدھے خط میں قرار دینے کے معنی میں ہے، لیکن یہاں اسم فاعل کے طور پر آیا ہے۔ "مرصوص"، "رصّ" کے مادّہ سے ہے، جس کے معنی ہیں سیسہ، جو کہ بعض عمارتوں کے استحکام اور مضبوطی کے لیے سیسہ پگھلا کر عمارت کے مختلف حصوں میں اس طرح ڈالتے تھے کہ وہ حد سے زیادہ محکم اور یک جان ہو جاتی تھی۔ اس لیے ہر محکم اور مضبوط عمارت پر مرصوص کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہاں مراد یہ ہے کہ مجاہدین راہِ خدا میں دشمن کے مقابلے میں ایک دل، ایک جان، مستحکم اور استوار کھڑے ہوں، گویا کہ وہ سب آپس میں پیوستہ ہیں جن کے درمیان کوئی شگاف و سوراخ نہیں ہے۔ اسی لیے تفسیر علی بن ابراہیم میں اس آیت کی توضیح میں یہ کہا گیا ہے: "یَصْطَفُوْنَ كَالْبُنْیَانِ الَّذِی لَا یَزُوْلُ۔" "مجاہدین راہِ خدا میں اس دیوار کی طرح صف بستہ ہوتے ہیں جو ہرگز نہیں ڈولتی۔" [بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ٣١١]۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام جب اپنے اصحاب کو جنگ کے لیے میدانِ صفین میں آمادہ کرنا چاہتے تھے تو آپ نے فرمایا: "خدا عزّوجل نے تمہیں اس فریضہ کی طرف رہنمائی کی اور فرمایا ہے: إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِہِ صَفًّا كَأَنَّھُمْ بُنْیَانٌ مَرْصُوصٌ۔" لہٰذا تم اپنی صفوں کو آہنی دیوار کی طرح مستحکم کر لو۔ جو زرہ پوش ہیں وہ آگے رہیں اور جن کے پاس زرہ نہیں ہے وہ اُن کے پیچھے رہیں۔ دانتوں کو مضبوطی کے ساتھ بھینچ کر رکھو اور نیزوں کے آگے پیچ و خم میں رہو، کیونکہ یہ چیز دشمن کے نیزہ کو ردّ کرنے کے لیے زیادہ مؤثر ہے۔ دشمن کے انبوہ کی طرف تیز نگاہ سے دیکھو تاکہ تمہارا دل زیادہ قوی اور تمہاری روح زیادہ سکون و آرام میں رہے۔ باتیں کم کرو کہ یہ چیز سُستی اور کمزوری کو دُور کرتی ہے اور تمہارے وقار کے لیے زیادہ مناسب ہے۔ اپنے پرچم اور جھنڈوں کو خم نہ ہونے دو اور انہیں ان کی جگہ سے نہ ہلاؤ۔ نیز دلیر اور بہادر افراد کے علاوہ خود کو کسی کے سپرد نہ کرو۔ [بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ٣٠١ — اسی کے مشابہ نہج البلاغہ کے خطبہ ۱۲۴ میں بھی آیا ہے]۔

چند نکات: ۱۔ صفوں میں وحدت کی ضرورت

میدانِ جنگ میں نظم و ضبط اور صفوں کا مِلے ہوئے رہنا دشمنوں کے مقابلے میں کامیابی کے اہم عوامل میں سے ہے، نہ صرف فوجوں کی جنگ میں بلکہ سیاسی اور اقتصادی جنگ میں بھی وحدت کے بغیر کوئی کام نہیں بن سکتا۔ حقیقت میں قرآن دشمنوں کو ایسے تباہ کن سیلاب سے تشبیہ دیتا ہے کہ جسے فولادی بند کے ساتھ ہی روکا جا سکتا ہے۔ بُنیان مرصوص ایک عمدہ ترین تعبیر ہے جو اس سلسلے میں بیان کی گئی ہے۔ ایک دیوار یا عظیم بند میں سے ہر ایک کا ایک خاص اثر ہے، لیکن یہ نقش و اثر اسی صورت میں مؤثر ہوتا ہے جب ان کے درمیان کسی قسم کا فاصلہ اور شگاف نہ ہو اور اس کے اجزاء اس طرح سے متحد ہوں کہ گویا وہ سب ایک ہی چیز میں، سب کے سب ایک ہاتھ اور ایک عظیم اور محکم مُٹھی کی طرح ہوں جو دشمن کی سرکوبی کر کے اُسے ریزہ ریزہ کر دے۔ افسوس! اسلام کی یہ عظیم تعلیم بھُلا دی گئی ہے اور اتنا بڑا اسلامی معاشرہ نہ صرف یہ کہ بُنیان مرصوص کی صورت نہیں رکھتا ہے، بلکہ پراگندہ صفوں میں تبدیل ہو چکا ہے، جو ایک دوسرے کے مقابلے میں کھڑی ہوئی ہیں، جن میں سے ہر ایک کے سر میں ہوا اور دل میں ہوس بھری ہوئی ہے۔ اس بات کی طرف توجہ رکھنی چاہیے کہ وحدتِ صفوف باتوں اور نعروں سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے وحدتِ ہدف اور وحدتِ عقیدہ کی ضرورت ہے۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جو خلوصِ نیت، معرفتِ واقعی، صحیح اسلامی تربیت اور قرآنی تہذیب و تمدن کے احیاء کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اگر خدا ان مجاہدین کو دوست رکھتا ہے جو بُنیان مرصوص کی طرح ہیں، تو پھر وہ پراگندہ اور منتشر صفوں کو دشمن رکھتا ہے۔ جیسا کہ اب ہم خدا کے اس غضب کے آثار اس کئی سو ملین معاشرے میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، کہ جس کا ایک نمونہ صیہونیوں کے ایک چھوٹے سے گروہ کا اسلامی سرزمین پر مسلط ہو جانا ہے۔ خدایا! ہمیں قرآن اور اس کی حیات بخش تعلیمات کی آگاہی، بیداری اور آشنائی مرحمت فرما۔ خدایا! ہمیں قرآن اور اس کی حیات بخش تعلیمات کی آگاہی، بیداری اور آشنائی مرحمت فرما۔

٢۔ گفتار بلاعمل

زبان دل کی ترجمان ہوتی ہے، اگر ان دونوں کا راستہ ایک دوسرے سے الگ ہو جائے تو یہ نفاق کی نشانی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ایک منافق کی فکر و روح سلامت نہیں ہوتی۔ بدترین بلاؤں جو کسی معاشرے پر مسلط ہو سکتی ہیں، اُن میں سے ایک سلبِ اطمینان کی بلا ہے اور اس کا اصلی عامل گفتار و کردار سے جدائی ہے۔ وہ لوگ باتیں تو کرتے ہیں لیکن ان پر عمل نہیں کرتے، وہ ہرگز دوسرے پر اعتماد نہیں کر سکتے اور مشکلات کے مقابلے میں ہم آہنگ نہیں ہو سکتے۔ ان کے درمیان اخوت، برادری اور خلوص ہرگز کارفرما نہیں ہو سکتا، ان کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہو گی اور کوئی بھی دشمن ان سے مرعوب نہیں ہو گا۔ جب شام کے لشکر کے غارت گروں نے عراق کی سرحد کو تاخت و تاراج کیا اور یہ خبر امام علی علیہ السلام کے کانوں تک پہنچی تو آپ کو سخت دکھ پہنچا۔ آپ نے ایک خطبہ دیا اور اس میں فرمایا: "اَیُّھَا النَّاسُ الْمُجْتَمِعَةُ اَبْدَانُھُمْ، الْمُخْتَلِفَةُ اَھْوَاؤُھُمْ، کَلَامُکُمْ یُوْھِی الصُّمَّ الصِّلَابَ، وَفِعْلُکُمْ یُطْمِعُ فِیْکُمُ الْاَعْدَاءَ، تَقُوْلُوْنَ فِی الْمَجَالِسِ کَیْتَ وَکَیْتَ، فَاِذَا جَاءَ الْقِتَالُ قُلْتُمْ حِیْدِیْ حِیَادِ!" امام علی علیہ السلام اپنے خطبے میں، جو آپ علیہ السلام کے سوزِ دل کی حکایت بیان کرتا ہے، عراق کے لوگوں سے کہتے ہیں: "اے وہ لوگو! جن کے بدن تو اکٹھے ہیں لیکن افکار و خواہشات مختلف و پراگندہ ہیں، تمہاری گرما گرم باتیں تو سخت پتھروں کو بھی توڑ دیتی ہیں، لیکن تمہارے کمزور اعمال دشمنوں کو طمع دلاتے ہیں۔ مجالس و محافل میں تو تم اِس طرح اور اُس طرح کہتے ہو، لیکن جنگ کے وقت ہائے وائے کرتے ہو کہ اے جنگ! ہم سے دور ہو جا۔" [بحوالہ: "نہج البلاغہ" خطبہ ۲۹]۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: "اِنَّمَا یُعْنَی بِالْعَالِمِ مَنْ صَدَّقَ فِعْلُہٗ قَوْلَہٗ، وَمَنْ لَمْ یُصَدِّقْ فِعْلُہٗ قَوْلَہٗ فَلَیْسَ بِعَالِمٍ۔" "عالم وہ ہے، جس کا عمل اس کے قول کی تصدیق کرے۔ جس کا عمل اُس کے قول کی تصدیق نہیں کرتا، وہ عالم نہیں ہے۔" [بحوالہ: "اصول کافی" جلد اول، (باب صدقہ العلماء، حدیث)]۔ ایسی اقوام و ملل جو اہلِ قول تو ہیں لیکن اہلِ عمل نہیں ہیں، وہ اسی بنیاد پر ہمیشہ دشمنوں کے چُنگل میں اسیر رہتے ہیں۔ ایک معاصر شاعر نے ان کی سرنوشت ایک خوبصورت داستان میں بلبل اور شکاری باز کی زبانی پیش کرتے ہوئے اس کی تصویر کشی کی ہے: دوش می‌گفت بلبُلے با باز کز چہ حال تو خوشتر است از من؟ تو کہ زشتی و بد عبوس و مہیب تو کہ لالی و گنگ و بستہ دہن مست و آزاد روی دستِ شہاں با دو صد ناز می‌کُنی مسکن من بدیں ناطقی و خوش‌خوانی با خوش اندامی و ظریقی تن قفسم مسکن است و روزم شب بہرہ‌ام غصہ است و رنج و محن باز گفت: آری، کہ راست می‌گویی لیک بسِرّش بود روشن و روشن کار تو گفتن است و ناکردن خوئے من کردن است و ناگفتن ترجمہ: کل رات ایک بلبل باز سے کہہ رہی تھی: کہ تیری حالت مجھ سے کیوں بہتر ہے؟ حالانکہ تُو قبیح منظر، ترش رو اور مہیب شکل ہے، تُو بےزبان، گونگا اور تیرا منہ بند ہے۔ تو پھر بھی تُو مست و آزاد بادشاہوں کے ہاتھوں پر سینکڑوں ناز اور نخرے کے ساتھ بیٹھتا ہے۔ لیکن میں اس نطق اور خوش خوانی کے باوجود اور خوش اندام اور عمدہ بدن کے ساتھ، پنجرہ تو میرا مسکن ہے اور میرا روشن دن شب تاریک ہے۔ میرے نصیب میں غم اور رنج و محن برداشت کرنا ہے۔ باز نے کہا: تُو سچ کہتی ہے، لیکن اس کا راز بہت واضح ہے: تیرا طریقہ صرف باتیں کرنا ہے، عمل کرنا نہیں۔ اور میری عادت عمل کرنا ہے، باتیں بنانا نہیں۔

5
61:5
وَإِذۡ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوۡمِهِۦ يَٰقَوۡمِ لِمَ تُؤۡذُونَنِي وَقَد تَّعۡلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيۡكُمۡۖ فَلَمَّا زَاغُوٓاْ أَزَاغَ ٱللَّهُ قُلُوبَهُمۡۚ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡفَٰسِقِينَ
اس وقت کو یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا: ’’اے میری قوم تم مجھے اذیت کیوں دیتے ہو، حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔ جب وہ حق سے منحرف ہوگئے تو اللہ نے بھی ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا۔ اور اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں کرتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
61:6
وَإِذۡ قَالَ عِيسَى ٱبۡنُ مَرۡيَمَ يَٰبَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ إِنِّي رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيۡكُم مُّصَدِّقٗا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيَّ مِنَ ٱلتَّوۡرَىٰةِ وَمُبَشِّرَۢا بِرَسُولٖ يَأۡتِي مِنۢ بَعۡدِي ٱسۡمُهُۥٓ أَحۡمَدُۖ فَلَمَّا جَآءَهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ قَالُواْ هَٰذَا سِحۡرٞ مُّبِينٞ
اور اس وقت کو یاد کرو جب عیسیٰ بن مریم نے کہا: اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔ میں اس کتاب کی جو مجھ سے پہلے بھیجی گئی، یعنی تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں۔ اور ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہے۔ لیکن جب وہ (احمد) معجزات اور واضح دلائل کے ساتھ ان کی طرف آیا تو انہوں نے کہا کہ یہ تو ایک کھلا جادو ہے۔

تفسیر: میں احمد کے ظہور کی بشارت لے کر آیا ہوں

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

ان دو احکام کے بعد، جو گزشتہ آیات میں "گفتار و کردار کی ہم آہنگی" اور "وحدتِ صفوف" کے بارے میں آئے تھے، اس میں ان معنی کی تکمیل کے لیے دو پیغمبروں، موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے ایک گوشہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ کہ افسوس ہے کہ گفتار و عمل کی جدائی اور صفوف کے عدم نظم کے کئی واضح نمونے، ایسی منحوس سرنوشت کے ساتھ جو ان اُمور کے بعد ان میں پیدا ہوئی، ان دونوں کے پیروکاروں کی زندگی میں نظر آتے ہیں۔ پہلے فرماتا ہے: اس وقت کو یاد کرو جب موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا: "اے میری قوم! تم مجھے کیوں تکلیف پہنچاتے ہو، حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف خدا کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔" ( وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ لِمَ تُؤْذُونَنِي وَقَدْ تَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ )۔ یہ آزار و اذیت ممکن ہے ان تمام مخالفتوں اور بہانہ جوئیوں کی طرف اشارہ ہو جو بنی اسرائیل نے موسیٰؑ کی زندگی میں اس عظیم پیغمبر کے ساتھ کی تھیں، یا بیت المقدس کی مانند کسی ماجرے کی طرف اشارہ ہو کہ جس میں انہوں نے موسیٰؑ سے کہا: "ہم اس شہر میں داخل ہونے کے لیے تیار نہیں اور نہ ہی ہم 'عمالقہ' کے ساتھ جنگ پر تیار ہیں، جو ایک طاقتور اور جبار گروہ ہے۔ تم اور تمہارا پروردگار جا کر اس کو فتح کرو، تو پھر ہم اس میں داخل ہوں گے" ( مائدہ، ۲۴)۔ اسی سبب سے وہ سالہا سال تک وادیِ تیہ میں گھومتے رہے اور جہاد کے حکم میں فضول، بیہودہ اور کمزور بہانے بنانے کا تلخ مزہ چکھتے رہے۔ لیکن اس چیز کی طرف توجہ کرتے ہوئے، جو سورۂ احزاب کی آیت ۶۹ میں وارد ہوئی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ اذیت و آزار ان ناروا نسبتوں کی طرف اشارہ ہے جو انہوں نے موسیٰؑ کی طرف دیں اور خدا نے موسیٰؑ کو ان سے مبرّا قرار دیا تھا۔ اس آیت میں آیا ہے: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَىٰ فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا ۚ وَكَانَ عِندَ اللَّهِ وَجِيهًا۔" "اے ایمان لانے والو! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے موسیٰؑ کو اذیت پہنچائی اور خدا نے انہیں ان (بنی اسرائیل کی ناروا باتوں) سے بری قرار دیا۔" یہ نسبتیں بہت سی تھیں۔ کبھی تو وہ انہیں اپنے بھائی ہارونؑ کو قتل کرنے کے ساتھ متہم کرتے، کبھی (نعوذباللہ) ایک بدکار عورت کے ساتھ غیر شرعی روابط کی تہمت لگاتے (وہ سازش جو حیلہ باز قارون نے تیار کی تا کہ وہ زکات سے مستثنیٰ رہے)، کبھی ان پر جادو اور جنون کا اتہام لگاتے تھے، یا انہیں چند جسمانی عیوب کے ساتھ متہم کرتے تھے — جن کی تفصیل سورۂ احزاب کی مذکورہ آیت میں آ چکی ہے۔ [بحوالہ: تفسیر نمونہ جلد ۹ سورۃ احزاب آیت ۶۹ کے ذیل میں دیکھیں]۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص کسی پیغمبر پر ایمان لانے کا دعوے دار ہو اور پھر وہ اس کو ایسی ناروا نسبتیں دے؟ کیا یہ گفتار کے کردار سے جدا ہونے کا واضح ترین نمونہ نہیں ہے؟ اسی لیے تو موسیٰؑ کہتے ہیں: "باوجودیکہ تم اس بات کا یقین رکھتے ہو کہ میں خدا کا رسول ہوں، پھر یہ ناروا باتیں کیوں کرتے ہو"؟ لیکن یہ عمل سزا کے بغیر نہ رہا، جیسا کہ زیرِ بحث آیت کے آخر میں آیا ہے: "جب وہ حق سے منحرف ہو گئے تو خدا نے بھی ان کے دلوں کو منحرف کر دیا اور خدا فاسقوں کو ہدایت نہیں کرتا۔" "فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ ۚ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ۔" اس سے بڑی مصیبت اور کیا ہو گی کہ انسان خدائی ہدایت سے محروم اور اس کا دل حق سے منحرف ہو جائے؟ [تشریحی نوٹ: "ذاغوا" مادہ "زیغ" سے ہے، جو صراطِ مستقیم سے انحراف کے معنی میں ہے]۔ اس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ ہدایت و ضلالت اگرچہ خدا کی طرف سے ہے، لیکن اس کے اسباب اور عوامل خود انسان کی طرف سے ہوتے ہیں۔ کیونکہ ایک طرف تو فرماتا ہے: "جس وقت وہ حق سے منحرف ہو گئے تو خدا نے بھی ان کے دلوں کو منحرف کر دیا"، یعنی پہلا قدم انہوں نے اٹھایا ہے۔ دوسری طرف یہ کہتا ہے: "خدا فاسق قوم کو ہدایت نہیں کرتا۔" پہلے فسق و گناہ سرزد ہوتا ہے، جس سے انسان توفیق و ہدایتِ الٰہی کے سلب ہو جانے کا مستحق ہو جاتا ہے اور اس کے بعد اس عظیم محرومیّت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں تفصیلی بحث سورۂ زمر کی آیت ۳۶ کے ذیل میں آ چکی ہے (تفسیرِ نمونہ، جلد ۱۱ کی طرف رجوع کریں)۔ بعد والی آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رسالت اور اس کے مقابلے میں بنی اسرائیل کی کارشکنی اور تکذیب کے مسئلہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "اس وقت کو یاد کرو جب عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام نے کہا: اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف خدا کا بھیجا ہوا رسول ہوں، جبکہ میں اس کتاب کی جو مجھ سے پہلے بھیجی گئی (یعنی تورات) کی تصدیق کرنے والا ہوں۔" ( وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُم مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ )۔ "اور میں اس رسول کی بشارت دینے والا بھی ہوں جو میرے بعد آئے گا۔ اس کا نام احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے۔" ( وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِن بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ )۔ اس بناء پر میں وہ حلقۂ اتصال ہوں جو امتِ موسیٰؑ اور ان کی کتاب کو آنے والے پیغمبر (پیغمبرِ اسلام) کی امت اور ان کی کتاب سے ملانے والا ہوں۔ اس طرح حضرت عیسیٰؑ کا رسالتِ خداوندی کے سوا اور کوئی دعویٰ نہیں تھا اور وہ بھی ایک خاص زمانہ کے لیے تھا۔ بعد میں ان کی طرف الوہیت یا خدا کا بیٹا ہونے کے بارے میں جو افتراء باندھا گیا، وہ سب جھوٹ اور بہتان ہے۔ اگرچہ بنی اسرائیل کا ایک گروہ اس موعود نبی پر ایمان لے آیا، لیکن ان کی ایک بہت بڑی جمعیت نہایت سختی کے ساتھ اس کے مقابلہ میں کھڑی ہو گئی — یہاں تک کہ انہوں نے اس کے واضح معجزات کا بھی انکار کر دیا۔ اس لیے آیت کے آخر میں مزید کہتا ہے: "جب وہ (احمدؐ) ان کے پاس معجزات اور واضح دلائل کے ساتھ آئے، تو انہوں نے کہا: یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔" ( فَلَمَّا جَاءَهُم بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا هَذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ )۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ گروہِ یہود اور مشرکینِ عرب پہلے سے اس پیغمبر کو پہچانے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اس کے شوقِ دیدار کے لیے ترکِ وطن کیا اور ان کے کئی قبائل سرزمینِ مدینہ میں آ کر آباد ہو گئے۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود بہت سے بت پرستوں نے تو اس موعود پیغمبر کو پہچان لیا اور اس پر ایمان لے آئے، لیکن اکثر یہودی ہٹ دھرمی، عناد اور انکار پر ڈٹے رہے۔ مفسرین کے ایک گروہ نے "فَلَمَّا جَاءَهُم" کی ضمیر کو، جیسا کہ ہم نے اوپر نقل کیا ہے، پیغمبرِ اسلام (احمدؐ) کی طرف لوٹایا ہے۔ لیکن بعض نے یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ یہ ضمیر حضرت عیسیٰؑ کی طرف لوٹتی ہے، یعنی عیسیٰؑ جب بنی اسرائیل کے لیے واضح معجزات لے کر آئے تو انہوں نے اس کا انکار کیا اور جادو قرار دیا۔ لیکن بعد والی آیات بتلاتی ہیں کہ پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے، کیونکہ ان آیات میں اسلام اور پیغمبرِ اسلام کا تذکرہ ہوا ہے۔

چند اهم نکات: ١۔ بشارت اور تکمیلِ دین کا ربط

ظہورِ اسلام کے بارے میں عیسیٰ علیہ السلام کے خبر دینے میں "بشارت" کی تعبیر، گزشتہ ادیان کے مقابلے میں اس دین کی تکمیل کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے۔ آیاتِ قرآنی کا مطالعہ اور اسلامی عقائد، احکام، قوانین اور مسائلِ اخلاقی و اجتماعی کے سلسلے میں قرآن کے معارف و تعلیمات کا، اس کے ساتھ موازنہ کہ جو کتبِ عہدین (تورات و انجیل) میں آیا ہے، اس برتری کی واضح طور پر نشاندہی کرتا ہے۔ اگرچہ اوپر والی آیت میں اس کے بارے میں کوئی ذکر نہیں کہ یہ بشارت مسیح علیہ السلام کی آسمانی کتاب کے متن میں بھی ہے یا نہیں؟ لیکن قرآن کی دوسری آیات، خود انجیل میں اس کے ذکر کی گواہ ہیں۔ سورۂ اعراف، آیت ۵۷ میں آیا ہے: الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالإِنجِيلِ۔۔۔۔۔۔ "وہ لوگ جو خدا کے بھیجے ہوئے پیغمبر اُمّی کی پیروی کرتے ہیں، وہی پیغمبر جس کی صفات کو وہ اپنے پاس تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں..." اور بعض دوسری آیات بھی اس کی تائید کرتی ہیں۔ [بحوالہ: المیزان، جلد ۱۹، صفحہ ۲۹۰]۔

٢۔ عہدین کی بشارتیں اور "فارقلیطا" کی تعبیر

اس میں شک نہیں کہ موجودہ زمانہ میں یہود و نصاریٰ کے پاس جو کچھ تورات و انجیل کے نام سے موجود ہے، وہ خدا کے عظیم پیغمبروں یعنی موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام پر نازل شدہ کتابیں نہیں ہیں، بلکہ یہ ان کتابوں کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو ان کے اصحاب یا ان کے بعد آنے والوں کے ذریعہ تالیف ہوا ہے۔ ان کتابوں کا ایک اجمالی مطالعہ اس بات کا زندہ گواہ ہے اور خود عیسائیوں اور یہودیوں کا بھی اس کے سوا اور کوئی دعویٰ نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس میں بھی شک نہیں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام و عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات اور کتبِ آسمانی کے مضامین و مطالب کا کچھ حصہ ان کے پیروکاروں کے کلام کے ضمن میں منتقل ہو گیا ہے۔ اسی بناء پر جو کچھ عہدِ قدیم (تورات اور اس سے وابستہ کتابوں) اور عہدِ جدید (انجیل اور اس سے وابستہ کتابوں) میں آیا ہے، نہ تو اس سارے کے سارے کو قبول ہی کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی وہ سب کا سب قابلِ انکار ہے، بلکہ یہ دونوں کتابیں ان دو عظیم پیغمبروں کی تعلیمات اور دوسرے لوگوں کے افکار و تصورات سے وجود میں آئی ہیں۔ بہرحال، موجودہ کتب میں بہت سی ایسی تعبیریں نظر آتی ہیں جو ایک عظیم ظہور کی بشارت دیتی ہیں، کہ جس کی نشانیاں سوائے اسلام اور اس کے لانے والے کے اور کسی پر منطبق نہیں ہوتیں۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ وہ پیشگوئیاں جو ان کتابوں میں نظر آتی ہیں اور پیغمبر اسلام کی ذات پر صادق آتی ہیں، ان کے علاوہ انجیل یوحنّا کے تین مقامات پر لفظ "فارقلیط" آیا ہے۔ [بحوالہ: یہ تفسیر عربی انجیل، چاپ لندن، مطبع ولیم وٹس، سال ۱۸۵۷ء میں آئی ہے]۔ اس کا فارسی نسخوں میں "تسلی دینے والا" کے ساتھ ترجمہ ہوا ہے۔ اب آپ انجیل یوحنّا کی طرف رجوع کریں: 1. "میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا تسلی دینے والا دے گا جو ابد تک تمہارے ساتھ رہے گا۔" [بحوالہ: انجیل یوحنّا، باب ۱۵، جملہ ۲۶]۔ بعد والے باب میں آیا ہے: 2. "اور جب وہ تسلی دینے والا آئے گا جسے میں باپ کی طرف سے تمہاری طرف بھیجوں گا، یعنی سچائی کی روح جو باپ کی طرف سے آئے گی، وہ میرے بارے میں شہادت دے گی۔" [بحوالہ: انجیل یوحنّا، باب ۱۶، جملہ ۷]۔ 3. "لیکن میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لیے مفید ہے، کیونکہ اگر میں نہ جاؤں گا تو وہ تسلی دینے والا تمہارے پاس نہیں آئے گا، لیکن اگر میں چلا جاؤں تو اُسے تمہارے پاس بھیج دوں گا۔" [بحوالہ: انجیل یوحنّا، باب ۱۶، جملہ ۷]۔ اہم بات یہ ہے کہ سریانی اناجیل کے متن میں، جو اصل یونانی سے لی گئی ہیں، "تسلی دینے والے" کے بجائے "پارقلیطا" آیا ہے اور یونانی متن میں "پیرکلتوس" آیا ہے، جو یونانی لغت کے لحاظ سے "لائقِ تعریف شخص" کے معنی میں ہے، جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معادل ہے۔ لیکن جب اربابِ کلیسا (عیسائی پادریوں) نے یہ دیکھا کہ اس قسم کے ترجمہ کی نشر و اشاعت اُن کے گھڑے ہوئے نظریات پر ضربِ شدید لگائے گی، تو "پیرکلتوس" کی بجائے "پاراکلتوس" لکھ دیا، جو "تسلی دینے والے" کے معنی میں ہے۔ اس واضح تحریف کے ذریعے انہوں نے اس زندہ سند کو بدل کر رکھ دیا، اگرچہ اس تحریف کے باوجود بھی مستقبل کے عظیم ظہور کی ایک واضح بشارت موجود ہے۔ [بحوالہ: الفرقان فی تفسیر القرآن، جلد ۲۷،۲۸ صفحہ ۳۰۶، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں، وہاں اوپر والے جملوں کے متن کے ساتھ واضح طور پر سریانی متن بھی آیا ہے]۔ ایک مشہور عیسائی پادری، جو بعد میں مسلمان ہو گیا تھا، فخرالاسلام ( مؤلفِ کتاب معروف انیس الاعلام) کی ناطق گواہی، "فارقلیطا" کی تفسیر میں اُس کے عظیم استاد کے حوالے سے ہم تفسیرِ نمونہ کی جلد اول میں نقل کر چکے ہیں۔ وہ اس بات کو واضح کرتی ہے کہ یہ بشارتیں احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نامی شخص کے بارے میں تھیں۔ [بحوالہ: تفسیرِ نمونہ، جلد اوّل، سورۂ بقرہ، آیت ۴۱ کے ذیل میں]۔ یہاں ہم آپ کو اس لفظ کے اس ترجمہ کی طرف متوجہ کرتے ہیں جو اس سلسلہ میں دائرۃ المعارف کے بزرگ نے فرانسہ میں کیا ہے: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مؤسسِ دینِ اسلام، خدا کا بھیجا ہوا اور خاتم النبیین ہے۔ لفظ محمد "بہت زیادہ تعریف کیے گئے" کے معنی میں ہے اور مادّہ "حمد" سے مشتق ہوا ہے، جو "تجلیل" کے معنی میں ہے۔ عجب اتفاق کے زیرِ اثر ایک اور نام ذکر ہوا کہ اس کا مادہ بھی "حمد" ہی ہے اور لفظ "محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)" کا مترادف اور ہم معنی ہے، یعنی "احمد۔" یہاں احتمال قوی یہ ہے کہ عرب کے عیسائی اس لفظ کو "فارقلیط" کے بجائے استعمال کرتے تھے۔ "احمد" یعنی "زیادہ تعریف کیا ہوا" اور لفظ "پیرکلتوس" کا بہت عمدہ ترجمہ ہے، جس کی بجائے غلطی سے لفظ "پاراکلتوس" رکھ دیا گیا ہے۔ مسلمان مذہبی مؤلفین نے یہ بارہا گوش گزار کیا ہے کہ اس لفظ سے مراد پیغمبر اسلام کے ظہور کی بشارت ہے اور قرآن مجید بھی سورۂ صف کی حیرت انگیز آیت میں اس موضوع کی طرف واضح طور پر اشارہ کرتا ہے۔ [بحوالہ: دائرت المعارف بزرگ، فرانسہ، جلد ۲۳، صفحہ ۴۱۷۶]۔ خلاصہ یہ ہے کہ "فارقلیطا" کا معنی روح القدس یا تسلی دینے والا نہیں ہے، بلکہ یہ "احمد" کے معادل مفہوم رکھتا ہے۔ غور کیجیئے۔

۳۔ کیا پیغمبرِ اسلام کا نام احمد (ص) ہے؟

یہاں ایک اہم سوال سامنے آتا ہے کہ پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مشہور نام محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے، جبکہ زیر بحث آیت میں "احمد" (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عنوان سے ذکر ہوا ہے۔ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے کس طرح سازگار ہیں؟ اس سوال کے جواب میں ضروری ہے کہ ذیل کے نکات کی طرف توجہ کی جائے: الف: تواریخ میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بچپن سے ہی دو نام رکھتے تھے، یہاں تک کہ لوگ بھی آپ کو دونوں ہی ناموں سے خطاب کیا کرتے تھے۔ آپ کا ایک نام محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دوسرا احمد تھا۔ پہلا نام آپ کے جدّ امجد عبد المطلب نے اور دوسرا نام آپ کی والدہ محترمہ جنابِ آمنہ نے انتخاب کیا تھا۔ یہ مضمون سیرۃ حلبیہ میں تفصیل کے ساتھ ذکر ہوا ہے۔ ب: جن لوگوں نے پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بارہا اس نام کے ساتھ یاد کیا ہے ان میں سے ایک آپ کے چچا ابو طالب تھے۔ آج بھی وہ کتاب جو دیوانِ ابو طالب کے نام سے ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے، اس میں بہت سے ایسے اشعار نظر آتے ہیں جن میں گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نام سے یاد کیا گیا ہے: مثلاً: أرادوا قتلَ أحمدَ ظلموهم وليس يُقتلهم فيهم زعيمُ "ان کے اوپر ظلم کرنے والے احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قتل کا ارادہ رکھتے تھے، لیکن اس کام کے لیے کوئی رہبر انہیں نہیں مل سکا۔" وإن كان أحمد قد جاءهم بحقّ ولم يأتهم بالكذب "احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قطعی طور پر ایک دینِ حق لے کر ان کے پاس آیا ہے اور وہ ہرگز جھوٹا دین لے کر نہیں آیا۔" [بحوالہ: دیوانِ ابو طالب، صفحہ ۲۵، ۲۹]۔ دیوانِ ابوطالب کے علاوہ بھی جناب ابوطالب کے کچھ اشعار اس سلسلے میں نقل ہوئے ہیں: لقد أكرمَ اللهُ النبيَّ محمدًا فأكرمُ خلقِ اللهِ في الناسِ أحمدُ "خدا نے اپنے پیغمبر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مکرم و محترم قرار دیا ہے، اسی لیے لوگوں کے نزدیک مخلوقِ خدا میں سب سے زیادہ گرامی احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے (۔" [بحوالہ: تاریخ ابن عساکر، جلد ۱، صفحہ ۲۷۵]۔ ج: پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہم عصر مشہور شاعر "حسان بن ثابت" کے اشعار میں بھی یہ تعبیر نظر آتی ہے: مفجعةٌ قد شفّها فقدُ أحمدَ فظلت لآلاءِ الرسولِ تعدّدُ "وہ مصیبت زدہ جسے احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فقدان نے کمزور کر دیا تھا، وہ ہمیشہ رسولِ خدا کے عطایا و مواہب کو شمار کیا کرتا تھا۔" [بحوالہ: دیوان حسان بن ثابت، صفحہ ۵۹، تحقیق: محمد عزّت نصراللہ]۔ ابو طالب یا ان کے علاوہ دوسرے افراد کے وہ اشعار جن میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بجائے احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام آیا ہے، اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کو یہاں نقل کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ ہم اس بحث کو دو اور عمدہ اشعار کے ساتھ ختم کرتے ہیں جو ابوطالب کے فرزند علی علیہ السلام نے کہے ہیں: أتأمرني بالصبرِ في نصرِ أحمدَ ووالله ما قلتُ الذي قلتُ جازعًا سأسعى لوجهِ اللهِ في نصرِ أحمدَ نبيِّ الهدى المحمودِ طفلًا ويافعًا "کیا تُو مجھ سے یہ کہتا ہے کہ میں احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد اور نصرت میں صبر سے کام لوں؟ خدا کی قسم! میں نے جو کچھ کہا ہے وہ جزع و فزع اور بےصبری کی بناء پر نہیں کہا۔ میں تو خدا کے لیے احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نصرت میں کوشش کرتا ہوں۔ وہی پیغمبرِ ہدایت جو بچپن اور جوانی میں ہمیشہ محمود اور قابلِ تعریف تھا۔" [بحوالہ: الغدیر، جلد ۷، صفحہ ۳۵۸]۔ د: جو روایات مسئلہ معراج کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہیں، ان میں یہ کثرت سے آیا ہے کہ خدا نے پیغمبرِ اسلام کو شبِ معراج بارہا احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نام سے خطاب کیا۔ شاید اسی وجہ سے یہ مشہور ہو گیا ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام آسمانوں میں احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور زمین میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے۔ ایک حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے بھی آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دس نام تھے، ان میں سے پانچ نام قرآن میں آئے ہیں: "محمد"، "احمد"، "عبد اللہ"، "يس"، "ن۔" [بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ۳۱۳۔ تفسیر درّ المنثور، جلد ۶، صفحہ ۱۴ میں بھی اس سلسلے میں کئی روایات آئی ہیں]۔ ھ: جب پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورۂ صف کی اوپر والی آیات کو مدینہ اور مکّہ کے لوگوں کے سامنے پڑھا تو یقینی طور پر یہ اہلِ کتاب کے کانوں تک بھی پہنچیں، مگر مشرکین اور اہلِ کتاب میں سے کسی نے یہ اعتراض نہیں کیا کہ انجیل تو احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آنے کی بشارت دیتی ہے اور تمہارا نام محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے۔ یہ سکوت خود اُس ماحول میں اس نام کی شہرت کی دلیل ہے۔ اگر کوئی اعتراض ہوا ہوتا تو وہ ہمارے لیے بھی نقل ہوتا، کیونکہ دشمنوں کے اعتراضات تاریخ میں ثبت ہیں، یہاں تک کہ ایسے موارد میں بھی جو بہت چبھنے والے ہیں۔ اس تمام بحث سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مشہور ناموں میں سے تھا۔ [بحوالہ: اس بحث اور گزشتہ بحث میں کتاب "احمد موعودِ انجیل" اور "تفسیر فرقان" سے بھی استفادہ کیا گیا ہے]۔

7
61:7
وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ وَهُوَ يُدۡعَىٰٓ إِلَى ٱلۡإِسۡلَٰمِۚ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
اس شخص سے بڑھ کر اور کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے حالانکہ اسے اسلام کی دعوت دی جا رہی ہے، اور اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں کرتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
61:8
يُرِيدُونَ لِيُطۡفِـُٔواْ نُورَ ٱللَّهِ بِأَفۡوَٰهِهِمۡ وَٱللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِۦ وَلَوۡ كَرِهَ ٱلۡكَٰفِرُونَ
وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں لیکن اللہ اپنے نور کو مکمل کر کے رہے گا، چاہے کافروں کو پسند نہ آئے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
61:9
هُوَ ٱلَّذِيٓ أَرۡسَلَ رَسُولَهُۥ بِٱلۡهُدَىٰ وَدِينِ ٱلۡحَقِّ لِيُظۡهِرَهُۥ عَلَى ٱلدِّينِ كُلِّهِۦ وَلَوۡ كَرِهَ ٱلۡمُشۡرِكُونَ
وہی تو ہے کہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کردے چاہے مشرکوں کو برا ہی لگے۔

تفسیر: وہ نورِ خدا کو اپنی پھونکوں سے خاموش کرنا چاہتے ہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

گزشتہ آیات میں بیان ہوا تھا کہ مخالف اور ہٹ دھرم کفار، پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت کے باوجود اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کے "بیّنات"، واضح دلائل اور معجزات کے ساتھ قوی ہونے کے باوجود، کس طرح مقابلہ اور انکار کے لیے کھڑے ہو گئے۔ زیرِ بحث آیات میں ان لوگوں کے انجامِ کار اور ان کی سرنوشت کی تشریح کی گئی ہے۔ پہلے فرماتا ہے: "اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو گا جو خدا پر جھوٹ باندھے، حالانکہ اسے اسلام کی دعوت دی جا رہی ہے۔" (وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللّٰہِ الْکَذِبَ وَهُوَ يُدْعَى إِلَى الْإِسْلَامِ)۔ ہاں! ایسا آدمی جو پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کو جھوٹ، ان کے معجزات کو جادو اور ان کے دین کو باطل شمار کرے، وہ سب سے بڑھ کر ظالم ہے، کیونکہ وہ راہِ نجات و ہدایت کو اپنے لیے اور دیگر بندگانِ خدا کے لیے بھی روک دیتا ہے اور انہیں اس خدائی سرچشمۂ فیض سے محروم کر دیتا ہے جو ان کی سعادتِ ابدی کا ضامن ہے۔ آیت کے آخر میں مزید کہتا ہے: "خدا ستمگر قوم کو ہدایت نہیں کرتا۔" (وَاللّٰہُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ)۔ خدا کا کام ہدایت کرنا ہے اور اس کی ذاتِ پاک نور اور معنوی روشنی ہے۔ اللّٰہُ نُورُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ۔ لیکن ہدایت کے لیے استعداد کی ضرورت ہے اور یہ استعداد ان لوگوں میں موجود نہیں ہوتی جو حقیقت کے دشمن ہوتے ہیں۔ یہ آیت ایک مرتبہ پھر اس حقیقت پر زور دیتی ہے کہ ہدایت و ضلالت خدا کی طرف سے ہے، لیکن اس کے مقدمات خود انسان کی طرف سے شروع ہوتے ہیں اور اسی بناء پر اس میں ہرگز جبر لازم نہیں آتا۔ "وَهُوَ يُدْعَى إِلَى الْإِسْلَامِ" کا جملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت انسانوں کو دنیا و آخرت کی سلامتی اور نجات کی جانب بلاتی ہے۔ اس حالت میں انسان کیسے اپنی سعادت کی جڑ کاٹتا ہے؟ "مَنْ أَظْلَمَ" (کون سب سے بڑھ کر ظالم ہے) کی تعبیر قرآن میں پندرہ مرتبہ دہرائی گئی ہے اور ان میں سے زیرِ بحث آیت آخری ہے۔ اگرچہ ان کے موارد ظاہری طور پر مختلف ہیں اور ممکن ہے اسی بات سے یہ سوال پیدا ہو کہ کیا ظالم ترین لوگ ایک گروہ سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں؟ لیکن ان آیات میں غور کرنے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ سب کی بازگشت آیاتِ الٰہی کی تکذیب اور لوگوں کو راہِ حق سے روکنے پر ہے اور واقعی اس سے بڑھ کر کوئی اور ظلم نہیں ہے کہ لوگوں کو اس قسم کے راستے تک پہنچنے سے باز رکھیں جو ان کے تمام کاموں میں کامیابی کی راہ ہے۔ اس کے بعد، یہ بتانے کے لیے کہ دشمنانِ حق اس دین کو ختم کرنے پر قادر نہیں ہیں، ایک عمدہ تشبیہ کے ضمن میں فرماتا ہے: "وہ یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں، لیکن خدا اپنے نور کو کامل کر کے رہے گا، چاہے یہ بات کافروں کو پسند نہ آئے۔" (يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللّٰہِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ)۔ وہ اس شخص کی مانند ہیں جو آفتابِ عالمتاب کے نور کو پھونک مار کر بجھانا چاہتا ہو۔ وہ ایسی چمگادڑیں ہیں جو یہ گمان کرتی ہیں کہ اگر وہ سورج کی طرف سے آنکھیں بند کر لیں اور خود کو رات کی تاریکی کے پردوں میں چھپا لیں، تو اس سے وہ چشمۂ نور کے مقابلہ میں کھڑی ہو سکتی ہیں۔ تاریخِ اسلام قرآن کی اس عظیم پیشین گوئی کے پورا ہونے کی ایک زندہ سند ہے، کیونکہ ظہورِ اسلام کے پہلے دن سے ہی اس کی نابودی کے لیے سازشیں اور منصوبے بنائے جاتے رہے ہیں: کبھی دشمنوں کے تمسخر اور ایذا رسانی کے ذریعے۔ کبھی اقتصادی و اجتماعی مقاطعہ کے ذریعے۔ کبھی اُحد، احزاب، حنین وغیرہ کے میدانوں میں مختلف جنگوں میں الجھانے کے ذریعے۔ کبھی منافقوں کی اندرونی سازشوں کے ذریعے۔ کبھی مسلمانوں کی صفوں میں اختلاف پیدا کرنے کے ذریعے۔ کبھی صلیبی جنگوں کے ذریعے۔ کبھی عظیم اسلامی سلطنت کو چالیس سے زیادہ ملکوں میں تقسیم کرنے کے ذریعے۔ کبھی مذہبی قوانین کو بدل کر اور مسلمان جوانوں کو ان کی پرانی تہذیب و تمدن سے دور کرنے کے ذریعے۔ کبھی جوانوں میں فحشاء و منکر، فسادِ اخلاق اور انحرافِ عقیدہ کے وسائل کی نشر و اشاعت کے ذریعے۔ کبھی فوجی، سیاسی اور اقتصادی تسلط کے ذریعے۔ اور کبھی دوسرے طریقوں سے اسلام کو نابود کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ لیکن جس طرح خدا نے ارادہ کیا تھا، یہ نورِ الٰہی روز بروز پھیل رہا ہے اور ہر زمانے میں اسلام کا دامن پہلے سے وسیع ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اعداد و شمار بتلاتے ہیں کہ مسلمانوں کی جمعیت، صیہونیوں، صلیبیوں اور مشرق کے ماویین کی مشترکہ کوششوں کے باوجود بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ ہاں! وہ ہمیشہ سے چاہتے تو یہی ہیں کہ خدا کے اس نور کو بجھا دیں، لیکن خدا کا ارادہ کچھ اور ہے اور یہ قرآن کا ایک ابدی اور جاودانی معجزہ ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ یہ مضمون قرآن مجید کی آیات میں دو مرتبہ آیا ہے، اس فرق کے ساتھ کہ ایک مقام پر "یُریدونَ أن یُطفِئوا" آیا ہے (توبہ: ۳۲)، لیکن یہاں "یُریدونَ لِیُطفِئوا" ہے۔ راغب "مفردات" میں اس اختلاف اور فرق کی وضاحت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ پہلی آیت میں تو مقدمہ کے بغیر خاموش کرنے کی طرف اشارہ ہے، لیکن دوسری آیت میں مقدمات کے ذریعے سمجھانے کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی چاہے وہ مقدمات فراہم کریں یا نہ کریں، نورِ خدا کو خاموش کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ آخری زیرِ بحث آیت میں مزید تاکید کے لیے صراحت کرتے ہوئے کہتا ہے: "وہی ہے جس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا، تاکہ وہ اسے تمام دینوں پر غالب کر دے، چاہے مشرکین کو بُرا ہی لگے۔" (هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ)۔ "ارسل روسلہ بالھدیٰ ودین الحق" کی تعبیر اسلام کی کامیابی اور غلبہ کی رمز کے بیان کے طور پر ہے، کیونکہ یہ غلبہ اور کامیابی ہدایت اور دینِ حق کی طبیعت میں رکھی ہوئی ہے۔ اسلام اور قرآن نورِ الٰہی ہیں اور جہاں کہیں بھی نور ہو وہ اپنے آثار اور نشانیاں دکھا کر رہتا ہے اور یہی کامیابی کا سبب ہے۔ کافروں اور مشرکوں کی ناپسندیدگی اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کر سکتی۔ ایک خاص بات ہے کہ یہ آیت بھی تھوڑے سے فرق کے ساتھ قرآن مجید میں تین مرتبہ آئی ہے، یعنی سورۂ توبہ (آیت: ۳۳)، سورۂ فتح (آیت: ۳۸) اور اسی سورۂ صف میں بھی ہے۔ لیکن اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ تکرار اور تاکید اس زمانے میں تھی جب اسلام دنیا کے دیگر خطوں میں تو کیا، ابھی جزیرۂ عرب میں اچھی طرح نہیں پھیلا تھا۔ لیکن قرآن نے اسی وقت تاکید کے ساتھ اس مسئلہ کو پیش کیا اور آئندہ کے واقعات نے اس عظیم پیشین گوئی کی صداقت کو سچ کر دکھایا۔ اور انجام کار، اسلام عقل و منطق اور عملی پیش رفت کے لحاظ سے بھی دوسرے ادیان و مذاہب پر غالب آ گیا۔ اُس نے دشمنوں کو دنیا کے وسیع حصوں سے پیچھے دھکیل کر ان کی جگہ لے لی اور اس وقت بھی بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ لیکن اس پیش رفت کا اصلی مرحلہ ہمارے عقیدہ کے مطابق حضرت امام مہدی علیہ السلام (ارواحنا فداء) کے ظہور کے ساتھ پورا ہو گا اور یہ آیت بھی خود اس عظیم ظہور کی ایک دلیل ہے۔ اس آیت کے مضمون کے بارے میں کہ اس سے مراد منطقی غلبہ ہے یا غلبۂ قدرت اور اس کا ربط حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے ساتھ کس طرح ہے، ہم نے سورۂ توبہ کی آیت ۳۳ کے ذیل میں ضروری بحث کی ہے۔ [بحوالہ: تفسیرِ نمونہ، جلد ۴، سورۂ توبہ آیت ۳۳ کی طرف رجوع کریں]۔

10
61:10
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ هَلۡ أَدُلُّكُمۡ عَلَىٰ تِجَٰرَةٖ تُنجِيكُم مِّنۡ عَذَابٍ أَلِيمٖ
اے ایمان لانے والو! کیا میں تمہیں ایسی تجارت کی طرف رہبری نہ کروں جو تمہیں دردناک عذاب سے رہائی بخشے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 13 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
61:11
تُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَتُجَٰهِدُونَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ بِأَمۡوَٰلِكُمۡ وَأَنفُسِكُمۡۚ ذَٰلِكُمۡ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ
اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرو۔ یہ تمہارے لئے ہر چیز سے بہتر ہے اگر تم جانو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 13 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
61:12
يَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوبَكُمۡ وَيُدۡخِلۡكُمۡ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ وَمَسَٰكِنَ طَيِّبَةٗ فِي جَنَّـٰتِ عَدۡنٖۚ ذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ
اگر تم یہ کام کرو گے تو اللہ تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور تمہیں اس جنت کے باغوں میں داخل کرے گا جس کے (درختوں کے) نیچے نہریں جا رہی ہیں اور بہشت جاودانی کے مساکن میں تمہیں جگہ دے گا، اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 13 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
61:13
وَأُخۡرَىٰ تُحِبُّونَهَاۖ نَصۡرٞ مِّنَ ٱللَّهِ وَفَتۡحٞ قَرِيبٞۗ وَبَشِّرِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
اور ایک دوسری نعمت تمہیں بخشے گا جسے تم دوست رکھتے ہو، اور اللہ کی مدد و نصرت اور قریب کی فتح ہے اور مومنین کو بشارت دے دو۔

تفسیر: سودمند اور بےنظیر تجارت

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

جیسا کہ ہم اس سورہ کے آغاز میں بیان کر چکے ہیں کہ اس آیت کے اہم مقاصد میں سے ایک ایمان اور جہاد کی دعوت ہے، زیرِ بحث آیات بھی ان ہی دونوں باتوں کی تاکید ایک ایسی لطیف مثال سے کی گئی ہے جو انسان کے دل و جان میں حرکتِ الٰہی کے جذبے کو وجود میں لاتی ہے، وہ جذبہ جو تمام دینوں پر دینِ اسلام کے غلبے کی شرط ہے، اس کی طرف گزشتہ آیات میں بھی اشارہ ہوا ہے۔ پہلے فرماتا ہے: "اے ایمان لانے والو! کیا میں تمہیں ایسی تجارت کی طرف رہبری نہ کروں جو تمہیں دردناک عذاب سے نجات دے"؟ (یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّکُمْ عَلَی تِجَارَةٍ تُنْجِیکُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِیمٍ)۔ اس کے باوجود کہ ایمان اور جہاد یقینی اور قطعی واجبات میں سے ہیں، مگر یہاں انہیں حکم کی صورت میں نہیں بلکہ تجارت کی پیشکش کی صورت میں بیان کرتا ہے، وہ بھی ایسی تعبیروں کے ساتھ جو خدا کے بےپایاں لطف و کرم کی حکایت بیان کرتی ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ عذابِ الیم سے نجات انسان کی اہم ترین خواہشات میں سے ایک ہے۔ اس لیے یہ سوال کہ کیا تم چاہتے ہو کہ تمہیں ایسی تجارت کی طرف رہنمائی کروں جو تمہیں عذابِ الیم سے رہائی بخشے، سب کے لیے جاذبِ توجہ ہے۔ جب اس سوال کے ساتھ دلوں کو اپنی طرف جذب کر لیا، تو ان کے جواب کا انتظار کیے بغیر اس سودمند تجارت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اور وہ یہ ہے کہ تم خدا اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور خدا کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرو۔" (تُؤْمِنُونَ بِاللّٰہِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاہِدُونَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ بِأَمْوَالِکُمْ وَأَنْفُسِکُمْ)۔ [تشریحی نوٹ: "تُؤْمِنُونَ بِاللّٰہِ" کا جملہ "جملہ استینافیہ" ہے جو تجارت کی تفسیر کرتا ہے اور بعض نے اسے عطفِ بیان سمجھا ہے۔ یہاں یہ "جملہ خبریہ" بمعنی "امر" کی صورت میں ہے]۔ اس میں شک نہیں کہ خدا کو اس سودمند تجارت کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اس کے نفع کا کلی تعلق صرف مومنین کے ساتھ ہے۔ اسی لیے آیت کے آخر میں فرماتا ہے: "یہ تمہارے لیے ہر چیز سے بہتر ہے، اگر تم جانو۔" (ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَکُمْ إِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُونَ)۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ "یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا" کے قرینے سے مخاطب مومنین ہیں اور عین اس حالت میں انہیں ایمان اور جہاد کی دعوت دیتا ہے۔ ممکن ہے یہ تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ سطحی اور نام کا ایمان کافی نہیں، گہرے اور خالص ایمان کی ضرورت ہے، جو ایثار، فداکاری اور جہاد کا سرچشمہ بن سکے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ خدا اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان کا ذکر یہاں اس ایمان کی تشریح ہو جو گزشتہ آیت میں اجمالی طور پر آیا ہے۔ بہرحال پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان، خدا پر ایمان سے الگ نہیں ہے، جیسا کہ جان کے ساتھ جہاد، مال کے ساتھ جہاد سے جدا نہیں ہو سکتا، کیونکہ تمام جنگیں وسائل و امکانات کی محتاج ہوتی ہیں جنہیں مالی امدادوں کے ذریعے پورا کیا جانا چاہیے۔ بعض لوگ دونوں طرح کے جہادوں پر قادر ہوتے ہیں اور بعض صرف میدانِ جنگ سے پیچھے رہ کر مالی جہاد پر ہی قدرت رکھتے ہیں۔ اسی طرح بعض لوگ صرف جان ہی پیش کر سکتے ہیں اور اسے قربان کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ بہرحال دونوں قسم کے جہادوں کو ہر صورت میں ایک دوسرے سے توام ہونا چاہیے تاکہ کامیابی حاصل ہو۔ اگر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ مالی جہاد کو مقدم رکھا گیا ہے، تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ جانی جہاد سے زیادہ اہم ہے، بلکہ یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ اس کا مقدمہ شمار ہوتا ہے، کیونکہ جہاد کے آلات و اسلحہ مالی امدادوں کے ذریعے ہی فراہم ہوتے ہیں۔ یہاں تک اس عظیم اور بےنظیر تجارت کے تین ارکان مشخص ہوئے ہیں: خریدار خدا ہے، بیچنے والے صاحبِ ایمان لوگ ہیں اور متاع ان کی جانیں اور مال ہیں۔ اب چوتھے رکن کی نوبت آتی ہے جو اس بڑے سودے کی قیمت ہے۔ فرماتا ہے: "جب تم ایسا کرو گے تو خدا تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں جنت کے باغوں میں داخل کرے گا جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں اور بہشتِ جاودانی کے پاکیزہ مسکنوں میں جگہ دے گا اور یہ ایک عظیم کامیابی ہے۔" (یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ وَیُدْخِلْکُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ وَمَسَاکِنَ طَیِّبَةً فِی جَنَّاتِ عَدْنٍ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ)۔ [تشریحی نوٹ: "یَغْفِرْ لَكُمْ" کا جملہ محذوف "شرط" کی "جزاء" کے طور پر آیا ہے، جس کا سابقہ جملہ سے استفادہ ہوتا ہے۔ تقدیر میں اس طرح ہے: "إِن تُؤْمِنُوا بِاللّٰہِ وَرَسُولِهٖ وَتُجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ... يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ۔" یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ یہ "امر" کا جواب ہو، جو "تُؤْمِنُونَ" اور "تُجَاهِدُونَ" کے جملہ خبریہ سے معلوم ہوتا ہے]۔ اُخروی اجر کے مرحلہ میں پہلے گناہوں کی بخشش کی بات کرتا ہے، کیونکہ انسان کو زیادہ تر فکر و پریشانی اپنے گناہوں سے ہوتی ہے۔ جب مغفرت اور بخشش یقینی ہو جائے تو پھر فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ تعبیر بتلاتی ہے کہ اس کی راہ میں شہید ہونے والوں کے لیے پہلا ہدیۂ خداوندی یہ ہے کہ وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ اب رہی یہ بات کہ کیا یہ صرف "حقِ خدا" کے بارے میں ہے یا "حق الناس" کو بھی شامل ہے؟ تو آیت کا مطلق ہونا عمومیت کی دلیل ہے، لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ خدا نے حق الناس خود انہیں کے سپرد کیے ہوئے ہیں، لہٰذا بعض نے اس کی عمومیت میں شک کیا ہے۔ اس طرح سے اوپر والی آیات میں دو شاخیں تو ایمان کی ہیں (خدا اور رسول ﷺ پر ایمان) اور دو شاخیں جہاد کی ہیں (مال اور جان کے ساتھ جہاد) اور دو شاخیں اُخروی جزاؤں کی ہیں (گناہوں کی بخشش اور بہشت جاودان میں دخول) اور جیسا کہ ہم دیکھیں گے بعد والی آیت میں دنیا میں مواہبِ الٰہی کی بھی دو شاخیں آئی ہیں۔ **** جہاں فرماتا ہے: "اور دوسری وہ نعمت عنایت کرے گا جسے تم دوست رکھتے ہو اور تمہیں جس سے بہت لگاؤ ہے اور وہ خدا کی مدد و نصرت اور نزدیک کی فتح ہے۔" (وَأُخْرٰی تُحِبُّونَهَا نَصْرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌ) [تشریحی نوٹ: "أُخْرٰی" ایک محذوف موصوف کی صفت ہے، مثلاً نعمت یا خصلت۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ موصوف "تجارت" ہے، لیکن یہ بعید نظر آتا ہے]۔ کتنی سود مند اور برکت والی تجارت ہے جو سراسر فتح و کامیابی اور نعمت و رحمت ہے اور اسی وجہ سے اس کو فوزِ عظیم اور بہت بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ اسی وجہ سے بعد میں مومنین کو اس عظیم تجارت کے بارے میں مبارکباد کے ساتھ بشارت دیتا اور مزید کہتا ہے: "اور مومنین کو بشارت دے دو۔" (وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ)۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب "لیلۃ العقبہ" (جس رات پیغمبر ﷺ نے مکہ کے قریب مدینہ کے کچھ لوگوں سے مخفی طور پر ملاقات کی اور ان سے بیعت لی) رسول اللہ ﷺ اور مدینہ کے مسلمانوں کے درمیان عہد و پیمان ہوا، تو عبداللہ بن رواحہ نے عرض کیا: "اس پیمان کے ضمن میں آپ اپنے لیے اور اپنے پروردگار کے لیے جو شرط چاہیں رکھ لیں۔" پیغمبر ﷺ نے فرمایا: "میرے پروردگار کے لیے تو یہ شرط ہے کہ کسی طرح بھی کسی چیز کو اس کا شریک قرار نہ دو گے اور میرے لیے یہ شرط ہے کہ جس طرح تم اپنی جان و مال کا دفاع کرتے ہو اسی طرح میرا بھی دفاع کرو گے۔" عبداللہ نے کہا: "اس کے مقابلے میں ہمیں کیا دیا جائے گا"؟ پیغمبر ﷺ نے فرمایا: "بہشت"! عبداللہ نے کہا: رَبِحَ الْبَیْعُ، لا نَقِیلُ وَلا نَسْتَقِیلُ۔ "کتنا سود مند اور نفع بخش معاملہ ہے! نہ تو ہم اس معاملہ سے خود پھریں گے اور نہ ہم اس معاملہ سے پھر جانے کو قبول کریں گے (نہ تو فسخ کریں گے اور نہ ہی فسخ کو قبول کریں گے")۔ [بحوالہ: "فی ظلال"، جلد ۸، صفحہ ۸۷]۔

چند نکات: ١۔ فتح قریب کون سی ہے؟

ان آیات میں جس فتح کا وعدہ کیا گیا ہے، وہ مسلمانوں کو منطقی پہلوؤں میں اور جنگ کے میدانوں میں بھی بارہا حاصل ہوئی ہے۔ لیکن اس بارے میں کہ "فتح قریب" سے مراد کون سی فتح ہے؟ مفسرین نے کئی احتمال دیئے ہیں اور بہت سے مفسرین نے تو اس کی فتحِ مکّہ کے ساتھ تفسیر کی ہے، بعض نے ایران و روم کے شہروں کی فتح اور بعض نے تمام اسلامی فتوحات سے تعبیر کیا ہے جو مسلمانوں کے ایمان و جہاد کے بعد تھوڑے سے عرصے میں ہی حاصل ہو گئیں۔ چونکہ مخاطب صرف پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب و انصار ہی نہیں، بلکہ طولِ تاریخ کے تمام مومنین اس خطاب کے مخاطب ہیں، لہٰذا نَصْرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ کا جملہ ایک وسیع و عریض معنی رکھتا ہے اور یہ ان سب کے لیے ایک بشارت ہے، اگرچہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں اور ان آیات کے نزول کے وقت، اس کا واضح مصداق فتحِ مکّہ ہی تھا۔

٢۔ مساکنِ طیّبہ کیا ہیں؟

جنّت کی نعمتوں میں سے یہاں خصوصیّت کے ساتھ پاکیزہ اور شاندار مساکن کا ذکر ہوا ہے، جو جنّت کے ابدی اور جاودانی باغات میں ہوں گے۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ انسان کے آسائش و آرام کے بنیادی شرائط میں سے ایک، یہی مسکن کا مسئلہ ہے، وہ بھی ایسا پاک و پاکیزہ مسکن، جو ہر قسم کی ظاہری و باطنی آلودگی سے پاک ہو، کہ جس میں انسان راحت و آرام کے ساتھ رہ سکے۔ راغب مفردات میں کہتا ہے: "طیّب" کا معنی اصل میں ایک ایسی چیز ہے جس سے ظاہری اور باطنی حواس لذّت حاصل کریں۔ یہ ایک جامع معنی ہے جو ایک مسکن کے تمام مناسب شرائط کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ قرآن میں تین چیزیں آرام و سکون کا سبب شمار کی گئی ہیں: 1. رات کی تاریکی: وَجَعَلَ اللَّیْلَ سَکَناً (الأنعام، ۹۶) 2. سکونت کے لیے گھر: وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمْ مِنْ بُیُوتِکُمْ سَکَناً (النحل، ۸۰) 3. محبت کرنے والی بیویاں: وَمِنْ آیاتِہِ أَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِنْ أَنْفُسِکُمْ أَزْوَاجاً لِتَسْکُنُوا إِلَیْہَا (الروم، ۲۱)

٣۔ دنیا اولیاء خدا کا تجارت خانہ ہے

نہج البلاغہ میں آیا ہے کہ امام علی علیہ السلام نے ایک ایسے دعوٰی کرنے والے شخص سے، جو اصطلاح کے مطابق "جانماز آب می‌کشید" (جائے نماز کو بھی غسل دیتا تھا) اور مسلسل دنیا کی مذمت کیا کرتا تھا، فرمایا: "تجھے غلطی لگی ہے، دنیا ان لوگوں کے لیے جو بیدار و آگاہ ہیں، بہت بڑا سرمایہ ہے۔" اس کے بعد آپ نے دنیا کی تشریح بیان فرمائی۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ: "دنیا متجر اولیاء اللہ" — دوستانِ خدا کا تجارت خانہ ہے۔ [بحوالہ: نہج البلاغہ، کلماتِ قصار، جملہ ۱۳۱ (تلخیص کے ساتھ)]۔ اس بناء پر اگر ایک جگہ دنیا کو "مزرعۃ الآخرۃ" (آخرت کی کھیتی) سے تشبیہ دی گئی ہے تو یہاں اسے تجارت خانہ سے تشبیہ دی گئی ہے کہ انسان نے جو سرمایے خدا سے لیے ہیں، انہیں گراں ترین قیمت میں خود اسی کے ہاتھ بیچ دے اور ناچیز و حقیر مال و متاع کے بدلے میں اس سے عظیم ترین نعمت حاصل کر لے۔ اصولی طور پر تجارت کی تعبیر — اور وہ بھی ایسی فائدہ مند تجارت — انسان کے اہم ترین محرّکات کو تحریک دینے کے لیے ہے، وہ جلبِ منفعت اور دفعِ ضرر کے محرکات ہیں، کیونکہ یہ خُدائی تجارت صرف سودمند ہی نہیں بلکہ عذابِ الیم کو بھی دفع کرتی ہے۔ اسی مطلب کی نظیر سورۂ توبہ کی آیت ۱۱۱ میں بھی آئی ہے: إِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ۔ "خدا مومنین سے ان کی جانوں اور مالوں کو خرید لیتا ہے اور اس کے بدلے میں انہیں جنّت عطا فرماتا ہے۔" ہم نے اس سلسلے میں سورۂ توبہ کی تفسیر میں بھی تشریح کی ہے۔ [بحوالہ: تفسیرِ نمونہ، جلد ۴ (سورہ توبہ کی آیت ۱۱۱ کے ذیل میں)]۔

14
61:14
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُونُوٓاْ أَنصَارَ ٱللَّهِ كَمَا قَالَ عِيسَى ٱبۡنُ مَرۡيَمَ لِلۡحَوَارِيِّـۧنَ مَنۡ أَنصَارِيٓ إِلَى ٱللَّهِۖ قَالَ ٱلۡحَوَارِيُّونَ نَحۡنُ أَنصَارُ ٱللَّهِۖ فَـَٔامَنَت طَّآئِفَةٞ مِّنۢ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ وَكَفَرَت طَّآئِفَةٞۖ فَأَيَّدۡنَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ عَلَىٰ عَدُوِّهِمۡ فَأَصۡبَحُواْ ظَٰهِرِينَ
اے ایمان لانے والو! اللہ کے ناصر و مددگار ہوجاؤ، جیسا کہ عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے کہاتھا۔ اللہ کی طرف کون میرا یارومددگار بنے گا؟ تو حواریوں نے جواب دیا تھا ہم اللہ کے یارومددگار ہیں۔ اس موقع پر بنی اسرائیل کا ایک گروہ تو ایمان لے آیا اور ایک گروہ کافر ہو گیا، ہم نے ان لوگوں کی جو ایمان لائے تھے، ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد کی، اور انجام کار وہ ان پر غالب ہوئے۔

تفسیر: حواریوں کی طرح ہو جائو

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

سُورۂ صفّ کی اس آخری آیت میں امرِ جہاد پر دوسری مرتبہ تاکید کی گئی، جو اس سورۃ کا محورِ اصلی ہے، البتّہ اس مسئلے کو ایک دوسرے طریقے سے بیان کیا اور بہشت اور بہشت کی نعمتوں سے بھی زیادہ ایک اہم مطلب کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اے ایمان لانے والو! خدا کے ناصر و مددگار بن جاؤ" ( یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا كُونُوا أَنْصَارَ اللّٰہِ )۔ ہاں! خدا کے مددگار، وہ خدا جو تمام قدرتوں اور طاقتوں کا سرچشمہ ہے اور سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے، وہ خدا جس کی قدرت بےپایاں اور شکست ناپذیر ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہاں اُس نے بندوں کو اپنی مدد کے لیے پکارا ہے اور یہ ایک ایسا افتخار و اعزاز ہے کہ جس کی کوئی نظیر نہیں ہے، اگرچہ اس کا معنی و مفہوم وہی پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس کے دین کی مدد و نصرت ہے، لیکن اس میں ایک عجیب لطف و رحمت موجود ہے۔ اس کے بعد ایک تاریخی نمونہ کی طرف اشارہ کرتا ہے تاکہ وہ یہ جان لیں کہ یہ راستہ نہ تو راہ نورد کے بغیر تھا اور نہ ہے، فرماتا ہے: جیسا کہ عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) نے حواریوں سے کہا تھا: "خدا کی طرف میری مدد کرنے والا کون ہے"؟ (كَمَا قَالَ عِیسَى ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیِّینَ مَنْ أَنْصَارِی إِلَى اللّٰہِ)۔ اور حواریوں نے بڑے فخر کے ساتھ جواب دیا: "ہم خدا کے انصار ہیں" (قَالَ الْحَوَارِیُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللّٰہِ)۔ اور اسی راہ میں دشمنانِ خدا کے ساتھ مبارزہ کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے، بنی اسرائیل کا ایک گروہ تو ایمان لے آیا (اور حواریوں کے ساتھ مل گیا) اور ایک گروہ کافر ہو گیا۔(فَآمَنَتْ طَائِفَةٌ مِّنۢ بَنِی إِسْرَائِیلَ وَ كَفَرَتْ طَائِفَةٌ)۔ اس موقع پر ہماری نصرت اور مدد ان کی کمک کے لیے آ پہنچی، "ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لا چکے تھے، دشمنوں کے مقابلے میں تقویت دی اور انجامِ کار وہ غالب آ گئے۔" (فَأَیَّدْنَا الَّذِینَ آمَنُوا عَلَىٰ عَدُوِّهِمْ فَأَصْبَحُوا ظَاهِرِینَ)۔ تم بھی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حواری ہو اور اس اعزاز کے ساتھ مفتخر ہو کہ اللہ کے انصار ہو جاؤ، جس طرح عیسیٰ کے حواری دشمنوں پر غالب آ گئے تھے، تم بھی کامیاب ہو جاؤ گے۔ تمہیں اس جہان میں اور دوسرے جہان میں بھی سربلندی اور افتخار نصیب ہو گا۔ یہ موضوع رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے انصار و اصحاب میں ہی منحصر نہیں تھا، بلکہ ہمیشہ جبکہ حق کے طرفدار اہلِ باطل کے مقابلے میں مسلسل ٹکراتے رہیں، تو وہ خدا کے یاور و انصار ہیں اور انجامِ کار انہیں بھی کامیابی نصیب ہو گی۔ رَگ رَگ است ایں آبِ شیریں و آبِ شور بر خلائق می‌رود تا نَفْخِ صُور! یہ میٹھا اور کڑوا پانی (حق و باطل کی کشمکش) لوگوں کی رگ رگ میں نفخِ صور تک دوڑتا رہے گا۔

ایک نکتہ: حواریین کون ہیں؟

قرآن مجید میں پانچ مرتبہ عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کے بارے میں ذکر آیا ہے، ان میں سے دو مرتبہ تو اسی سورہ میں ہے۔ یہ تعبیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مخصوص بارہ اصحاب کی طرف اشارہ ہے کہ جن کے نام موجودہ اناجیل (انجیل متی و لوقا باب ٦) میں ذکر ہوئے ہیں، جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا تھا۔ یہ لفظ مادّہ "حور" سے ہے، دھونے اور سفید کرنے کے معنی میں ہے، چونکہ وہ پاک دل اور باصفا روح رکھتے تھے اور اپنی اور دوسروں کی روح و جان کو پاک و صاف کرنے کی کوشش کرتے تھے، اس لفظ کا ان پر اطلاق ہوا ہے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان میں سے ہر ایک کو اپنی نمائندگی کے عنوان سے دنیا کے مختلف علاقوں کی طرف بھیجا تھا۔ وہ مخلص، ایثار کرنے والے، مجاہد اور مبارزہ کرنے والے افراد تھے اور انہیں حضرت عیسیٰ سے بہت عشق اور محبت تھی۔ لیکن عیسائیوں کی روایات میں آیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان میں سے ایک، کہ جس کا نام "یھوّا اسخریوطی" تھا، آخرکار حضرت عیسیٰ سے خیانت کی اور وہ مطرود و مردود قرار پایا۔ اس سلسلے میں سورۂ آلِ عمران کے ذیل میں بہت سی وضاحتیں پیش کی جا چکی ہیں۔ [بحوالہ: تفسیرِ نمونہ، جلد ٢ (سورۂ آل عمران، آیت ۵۲ کے ذیل میں)]۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب عقبہ میں اہلِ مدینہ کی اُس جماعت سے ملے جو بیعت کے لیے آئی تھی، تو آپ نے فرمایا: "اپنے میں سے بارہ افراد کو منتخب کر کے ان کا مجھ سے تعارف کراؤ تاکہ وہ اپنی قوم کے نمائندے ہوں، جیسا کہ حواریین کی حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام سے نسبت تھی۔" [بحوالہ: الدرّ المنثور، جلد ٦، صفحہ ۲۱۴]۔ یہ بات ان بزرگواروں کے مقام و مرتبہ کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ خداوندا! ہمیں توفیق دے کہ ہم اس سود مند تجارت میں شرکت کریں جو تُو نے اپنے اولیاء کے لیے فراہم کی ہے، تاکہ ہم بھی اس کی عظیم برکتوں سے بہرہ مند ہوں۔ پروردگارا! اختلاف و پراگندگی نے مسلمانوںِ عالم کی صفوں کو دشمنوں کے مقابلے میں متزلزل کر دیا ہے، تُو انہیں ایسی آگاہی اور بیداری مرحمت فرما کہ ساری دنیا کے مسلمان "بنیانِ مرصوص" (سیسہ پلائی دیوار) کی طرح خونخوار دشمن کے مقابلے میں ڈٹ جائیں۔ بارِ الٰہا! تیرا دین بےناصر و مددگار نہیں رہ سکتا، یہ اعزاز و افتخار ہمیں نصیب فرما کہ ہم ان یاورانِ اسلام کے زمرے میں داخل ہوں۔ آمین، یا رب العالمین

end of chapter
As-Saff (61) — Tafseer e Namoona