Sūra 103 · 3v
Chapter 1033 verses

Al-Asr

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
العصر
العصر

سُورہٴ والعصر

یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۳ آیات ہیں۔

سُورہ ٴ والعصر کے مطالب اور اس کی فضیلت

مشہور یہ ہے کہ یہ سُورہ مکّہ میں نازل ہوا ہے اگرچہ بعض نے مدنی ہونے کا احتمال بھی ظاہر کیا ہے لیکن سُورہ کی آیات کے چھوٹے چھوٹے مقاطع اور اس کا لب و لہجہ اس کے مکی ہونے کا شاہد ہے۔ بہرحال، اس سُورہ کی جامعیت اس حد تک ہے کہ بعض مفسّرین کے قول کے مطابق قرآن کے تمام علوم و مقاصد کا خلاصہ اس سُورہ میں موجود ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس سُورہ نے مختصر ہونے کے باوجود انسان کی سعادت و خوش بختی کا ایک مکمل اور جامع پروگرام پیش کیا ہے۔ سب سے پہلے "عصر" کی معنی خیز قسم سے شروع ہوتا ہے، جس کی تفسیر عنقریب پیش کی جائے گی۔ اس کے بعد تمام انسانوں کے زیاں کار اور خسارے میں ہونے کی گفتگو ہے جو تدریجی زندگی کی فطرت میں پوشیدہ ہے۔ اس کے بعد صرف ایک گروہ کو اس اصل کلی سے جُدا کرتا ہے، جو ذیل کی چار خصوصیات والے پروگرام کے حامل ہیں: ۱۔ ایمان، ۲ ۔عمل صالح ۳ ۔ ایک دوسرے کے حق کی وصیت کرنے والے۔ ۴۔ ایک دُوسرے کو صبر کی وصیت کرنے والے، اور حقیقتاً یہ چار اصول اسلام کی اعتقادی و عملی، اور انفرادی و اجتماعی پروگراموں کو اپنے اندر لیے ہوئے ہیں۔ اس سُورہ کی فضیلت کے بارے میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک حدیث میں آیا ہے: "من قراٴ "و العصر" فی نوافلہ بعثہ اللہ یوم القیامة مشرفاً وجھہ ضاحکاً سنّة قریرة عینہ حتیٰ یدخل الجنّة" "جو شخص سورہٴ "والعصر" کو نافلہ نمازوں میں پڑھے گا، خدا اُسے قیامت کے دن اس حالت میں اُٹھائے گا کہ اس کا چہرہ نورانی، لب خنداں‘ اور اس کی آنکھ خدا کی نعمتوں سے روشن اور ٹھنڈی ہو گی یہاں تک کہ وہ جنّت میں داخل ہو گا۔ (بحوالہ: "تفسیر مجمع البیان" جلد۱۰، ص ۵۴۵)۔ اور یہ تو آپ کو معلوم ہی ہو گا کہ یہ سب اعزاز و افتخار اور سرور و شادمانی اس شخص کے لیے ہے، جو اپنی زندگی میں ان چار اصولوں پر عمل کرے گا، نہ کہ صرف پڑھنے پر ہی قناعت کرے۔

1
103:1
وَٱلۡعَصۡرِ
قسم ہے عصر کی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 3 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
103:2
إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لَفِي خُسۡرٍ
کہ سب انسان خسارے میں ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 3 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
103:3
إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلۡحَقِّ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلصَّبۡرِ
سوائے ان کے جو ایمان لائے اور انہوں نے اعمال صالح انجام دیئے، ایک دوسرے کو حق کی وصیت و نصیحت کی اور ایک دوسرے کو صبر و استقامت کی وصیت کی۔

تفسیر نجات کی صرف ایک راہ

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

اس سورہ کی ابتداء میں ہم ایک نئی قسم سے رُوبرو ہو رہے ہیں، فرماتا ہے: "عصر کی قسم" (وَالْعَصْرِ)۔ "عصر" کا لفظ اصل میں نچوڑنے کے معنی میں ہے، اس کے بعد اس کا وقت عصر پر اطلاق ہونے لگا کیونکہ اس میں زلزلہ کے پروگراموں کو لپیٹ کر مختصر کر دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد یہ لفظ مطلق "زمانہ" اور تاریخ بشر کے دَور یا زمانے کے ایک حصہ، جیسے ظہورِ اسلام اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے قیام کے زمانے، اور اسی قسم کے دوسرے زمانوں کے معنی میں استعمال ہوا ہے، اسی لیے اس قسم کی تفسیر میں مفسرین نے بہت زیادہ احتمال دیے ہیں۔ ۱۔ بعض اس اسے اسی وقت "عصر" کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں، اس قرینہ سے کہ قرآن کی بعض دوسری آیات میں دن کے آغاز کی قسم کھائی گئی ہے مثلاً: "والضحیٰ" (سُورہ ضحیٰ آیہ۱) یا "والصبح اذا اسفر" (مدثر۔ ۳۴)۔ یہ قسم اس اہمیت کی بناء پر ہے جو دن کے اس موقع کو حاصل ہے کیونکہ یہ وقت انسانوں کی حیات اور نظام زندگی کے خاتمے کا وقت ہوتا ہے، دن کے کام اپنے انجام کو پہنچتے ہیں، پرند و چرند اپنے اپنے آشیانوں اور ٹھکانوں کو لوٹتے ہیں، سورج افق مغرب میں اپنا سر چھپا لیتا ہے اور فضا بتدریج تاریک ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہ اختتام اور تغیّر انسان کو خدا کی لایزال قدرت کی طرف۔۔ جو اس نظام پر حاکم ہے متوجہ کرتا ہے اور حقیقت میں یہ توحید کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور پروردگار کی آیتوں میں سے ایک آیت ہے جو قسم کے لائق ہے۔ ۲۔ بعض دُوسروں نے اسے تمام زمانے اور تاریخ بشریت کی طرف اشارہ سمجھا ہے، جو درسہائے عبرت، ہلا دینے والے حوادث اور بیدار کرنے والے واقعات سے پُر ہے، اور اسی بناء پر ایسی عظمت رکھتا ہے کہ خدا کی قسم کے لائق ہے۔ ۳۔ اور بعض نے زمانہ کے ایک خاص حصہ کو، جیسے پیغمبر اکرم صلی اللہ و آلہٖ وسلم کے قیام کا زمانہ یا مہدی علیہ السلام کے قیام کا زمانہ، جو تاریخِ بشر میں خصوصیت اور مخصوص عظمت کا حامل ہے، مُراد لیا ہے اور قسم کو اسی کے بارے میں سمجھے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے کہ وَالْعَصْرِO إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ کی تفسیر میں فرمایا: العصر عصر خروج القائم عصر سے مُراد حضرت مہدی (عجل اللہ فرجہہ) کے قیام کا زمانہ ہے۔ (نور الثقلین جلد ۵۔ ۶۶۶ حدیث ۵))۔ ۴۔ اور بعض اس لفظ کے لغوی ریشہ اور جڑ بنیاد کی طرف بھی خصوصی توجہ دی ہے اور اس قسم کو ان مشکلات اور دشواریوں کے بارے میں سمجھتے ہیں جو انسانوں کی طویل زندگی میں رونما ہوتے ہیں، انہیں خوابِ غفلت سے بیدار کرتے ہیں، انہیں خدائے عظیم کی یاد دلاتے ہیں اور رُوحِ استقامت کی پرورش کرتے ہیں۔ ۵۔ بعض اسے کامل انسانوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں، جو عالم ہستی اور جہانِ خلقت کا نچوڑ ہیں۔ ۶۔ اور آخر میں بعض اسے "نماز عصر" کے بارے میں سمجھتے ہیں، اسی خصوصی اہمیت کی بناء پر جو اُسے باقی نمازوں میں حاصل ہے کیونکہ وہ "صلاة وسطی" جس کے لیے قرآن میں خاص قسم کی تاکید کی گئی ہے، نماز عصر کو سمجھتے ہیں۔ اگرچہ اُوپر والی تفاسیر آپس میں ایک دوسرے سے کوئی تضاد نہیں رکھتیں، اور ممکن ہے کہ وہ سب ہی آیت کے معنی میں جمع ہوں، اور ان تمام اہم امور کی قسم کھائی ہو، لیکن ان سب میں، سب سے زیادہ مناسب، عصر کو زمانہ اور تاریخ بشر کے معنی میں لینا ہی نظر آتا ہے۔ کیونکہ ہم نے بارہا کہا ہے کہ قرآن کی قسمیں ہمیشہ اس مطلب کے ساتھ مناسبت رکھتی ہیں جس کے لیے قسم کھائی گئی ہے اور مسلمہ طور سے انسانوں کی زندگی میں زیان و خسارہ ان کی عمر کے زمانے کے گزرنے کا نتیجہ ہے، یا پیغمبر خاتمؐ کے قیام کا زمانہ، کیونکہ اس سورہ میں بیان کیے گئے چار اصولوں کا پروگرام اسی زمانہ میں نازل ہوا ہے۔ جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے آیاتِ قرآنی کی عظمت اور اس کے مفاہیم کی وسعت اچھی طرح سے واضح ہو گئی ہے کہ ان میں سے ایک ہی لفظ کس حد تک پر معنی اور عمیق و گوناگوں تفاسیر کے لائق ہے۔ بعد والی آیت میں اس چیز کی طرف اشارہ ہے جس کے لیے یہ اہم قسم کھائی گئی ہے، فرماتا ہے: "یقینی طور پر تمام انسان خسارے میں ہیں" (إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ)۔ وہ اپنے وجودی سرمائے کو، خواہ چاہیں یا نہ چاہیں، کھو بیٹھے ہیں، عمر کی گھڑیاں، دن، مہینے اور سال تیزی کے ساتھ گزرتے چلے جاتے ہیں، معنوی اور مادی قوتیں تحلیل ہو جاتی ہیں اور طاقت و قدرت گھٹتی چلی جاتی ہیں۔ ہاں! انسان اس شخص کے مانند ہے جس کے پاس عظیم سرمایہ ہو اور اس کی مرضی اور خواہش کے بغیر اس سرمایہ کا ایک حصہ ہر روز اس سے لے لیتے ہوں۔ یہ دنیا کی زندگی معین کا مزاج ہے، ہمیشہ کم ہوتے چلے جانے والا مزاج۔ ایک دل میں حرکت کرنے کی ایک میں استعداد ہوتی ہے اور جب وہ استعداد اور طاقت ختم ہو جاتی ہے تو دل خود بخود رک جاتا ہے، حالانکہ اس میں کوئی عجیب، بیماری یا علت نہیں ہوتی، اور یہ اس صورت میں ہوتا ہے جب کہ وہ کسی بیماری کی وجہ سے پہلے ہی فیل نہ ہو جائے۔ انسانی وجود کے باقی کار خانوں، اور اس کی مختلف استعدادوں کے سرمایوں کا بھی یہی حال ہے۔ "خسر" (بروزن عسر) اور "خسران" جیسا کہ راغب "مفردات" میں کہتا ہے: سرمایہ کے کم ہونے کے معنی میں ہے۔ کبھی تو اس کی انسان کی طرف نسبت دی جاتی ہے اور یہ کہتے ہیں کہ فلاں آدمی کو نقصان ہو گیا، اور بعض اوقات خود عمل کی طرف نسبت دی جاتی ہے اور یہ کہتے ہیں کہ اس کی تجارت میں نقصان ہو گیا۔ یہ لفظ عام طور پر خارجی سرمایوں مثلاً مال و مقام کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور بعض اوقات اندرونی سرمایوں، مثلاً صحت و سلامتی، عقل و ایمان اور ثواب کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور یہ وہی چیز ہے جسے خداوند عالم نے "خسران مبین" (واضح خسارہ) کے عنوان سے ذکر کیا ہے، جیسا کہ فرماتا ہے: "إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَلَا ذَلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ" واقعی زیاں کار لوگ تو وہ ہیں جو قیامت میں اپنے وجود اور اپنے گھر والوں کے وجود کا سرمایہ ہاتھ سے دے بیٹھیں گے۔ جان لو کہ خسران مبین (واضح خسارہ) یہی ہے۔ (زمر۔ ۱۵)۔ (تشریحی نوٹ: "مفرداتِ راغب" مادہ "خسر")۔ فخر رازی اس آیات کی تفسیر میں ایک بات نقل کرتا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ گزشتہ بزرگوں میں سے ایک کہتے ہیں کہ اس سورہ کا معنی میں نے ایک برف پوش شخص سے سیکھا ہے جو پکار پکار کر کہہ رہا تھا: ارحموا من یذوب راٴس مالہ ارحموا من یذوب راٴس مالہ!: اس شخص پر رحم کرو جس کا سرمایہ پگھلا جا رہا ہے، اس شخص پر رحم کرو جس کی پونجی پگھل رہی ہے۔ مَیں نے اپنے آپ سے یہ کہا ہے معنی إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ کا: اس پر زمانہ گزرتا چلا جاتا ہے اور اسی عمر ختم ہو جاتی ہے، اور وہ کوئی ثواب حاصل نہیں کرتا، اور وہ اس حال میں خسارے میں ہے۔ (بحوالہ: "تفسیر فخر رازی" جلد ۳۲، ص۸۵)۔ بہرحال، اسلام کی جہان بینی کے لحاظ سے دنیا ایک بازار، تجارت ہے، جیسا کہ ایک حدیث میں امام ہادی علی بن محمد التقی علیہ السلام سے آیا ہے: "الدنیا سوق ربح فیھا قوم و خسر اٰخرون" "دنیا ایک بازار ہے جس میں ایک گروہ نے نفع کمایا اور دوسری جماعت خسارے میں رہی۔" (بحوالہ: "تحف العقول" ص ۳۶۱ (کلمات امام ہادی علیہ السلام ))۔ زیرِ بحث آیت کہتی ہے کہ اس عظیم بازار میں سبھی لوگ خسارے میں رہتے ہیں، سوائے ایک گروہ کے جس کا پروگرام بعد والی آیت میں بیان ہوا ہے۔ ہاں! اس عظیم خسارے اور قہری اور جبری نقصان سے بچنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے، صرف ایک ہی راہ ہے جس کی طرف اس سورہ کی آخری آیت میں اشارہ ہوا ہے، فرماتا ہے: "سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے اعمال صالح انجام دیے ہیں، اور ایک دوسرے کو حق کی وصیت اور صبر و استقامت کی نصیحت کرتے ہیں" (إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ)۔ دوسرے لفظوں میں جو چیز اس عظیم نقصان کو روک سکتی ہے اور اسے عظیم نفع میں تبدیل کر سکتی ہے، یہ ہے کہ اس سرمائے کو ہاتھ سے روک دینے کے مقابلہ میں زیادہ گراں بہا اور قیمتی سرمایہ حاصل کرے، جس سے نہ صرف اس سرمایہ کی خالی جگہ پُر ہو گی بلکہ اس سے سینکڑوں اور ہزاروں گنا زیادہ اور بہتر ہو جائے گی۔ ہر وہ سانس جو انسان لیتا ہے، اس سے موت کے زیادہ قریب ہو جاتا ہے، جیسا کہ امیر المومنین علی علیہ السلام اپنی اس نورانی عبارت میں فرماتے ہیں: "نفس المرء خطاہ الیٰ اجلہ" "انسان کا سانس موت کی طرف اس کا ایک قدم ہے" (بحوالہ: "نہج البلاغہ" کلمات قصار جملہ ۷۴)۔ اس بناء پر انسان کے دل کی ہر حرکت اسے اختتام عمر سے ایک قدم اور زیادہ نزدیک کر دیتی ہے۔ اس طرح سے اس قطعی نقصان کے مقابلہ میں کوئی ایسا کام کرنا چاہئیے جس سے خالی جگہ پُر ہو جائے۔ ایک گروہ عمر اور زندگی کا نفیس سرمایہ ہاتھ سے دے دیتا ہے اور اس کے مقابلہ میں تھوڑا یا زیادہ مال، معمولی گھر یا خوبصورت محل فراہم کر لیتا ہے۔ ایک گروہ اس تمام سرمائے کو، مقام و منصب تک پہچنے کے لیے ضائع کر دیتا ہے۔ اور کچھ لوگ اسے عیش و نوش اور جلدی گزر جانے والی لذتوں میں صرف کر دیتے ہیں۔ مسلّمہ طور سے ان میں سے کوئی سی چیز بھی اس عظیم سرمایہ کی قیمت نہیں ہو سکتی، اس کی قیمت صرف اور صرف خدا کی رضا اور اس مقام کا قرب ہے۔ یا جیسا کہ امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے: "انہ لیس لانفسکم ثمن الا الجنة فلاتبیعوھا الا بھا" "تمہارے وجود کی قیمت جنّت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اس کو اس سے کمتر کسی چیز کے بدلے میں بیچ دو۔" (بحوالہ: "نہج البلاغہ" کلمات قصار جملہ ۴۵۶)۔ یا جیسا کہ ماہِ رجب کی دُعا میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے: "خاب الوافدون علی غیرک و خسر المتعرضون الّا لک" "جو تیرے غیر کے پاس جائیں گے وہ مایوس ہو جائیں گے اور تیرے سوا دوسروں کی طرف رجوع کرنے والے خسارے میں رہیں گے۔" اور قیامت کے ناموں میں سے ایک نام "یوم التغابن" بلاوجہ نہیں ہے جیسا کہ سورہ ٴ تغابن کی آیہ۹ میں آیا ہے: "ذَلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ" اس دن پتہ چل جائے کہ گھاٹے میں کون لوگ ہیں۔" حسنِ مطلب اور لطفِ مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف تو انسانی وجود کے سرمایوں کا خریدار خداوندِ عظیم ہے: "إِنَّ اللّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ۔۔۔" (توبہ۔ ۱۱۱)۔ دوسری طرف وہ تھوڑے سے سرمایوں کو بھی خرید لیتا ہے: فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ، (زلزال ۔۷)۔ اور تیسری طرف اس کے مقابلہ میں وہ بہت زیادہ قیمت لگاتا ہے۔ کبھی دس گناہ کبھی سات سو گنا اور کبھی اس سے بھی زیادہ۔ "فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِّئَةُ حَبَّةٍ وَاللّهُ يُضَاعِفُ لِمَن يَشَاءُ" (بقرہ۔ ۲۶۱) اور جیسا کہ دعا میں وارد ہوا ہے، یا من یقبل الیسیر و یعفو عن الکثیر: "اے وہ خدا جو تھوڑے سے حسنات اور نیکیوں کو بھی قبول کر لیتا ہے اور بہت زیادہ گناہوں کو بخش دیتا ہے۔" اور چوتھی طرف سے، باوجود اس کے کہ یہ تمام سرمائے خود اسی انسان کو دیے جاتے ہیں، وہ اس قدر بزرگوار ہے کہ پلٹ کر انہیں کو زیادہ گراں قیمت پر خرید لیتا ہے۔

ایک نکتہ خوش بختی کا چار نکاتی پروگرام

قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ قرآن نے اس عظیم خسارے کے لیے ایک جامع پروگرام پیش کیا ہے، جس میں چار اصولوں پر تکیہ ہوا ہے۔ پہلی اصل: اس پروگرام میں مسئلہ "ایمان" ہے جو انسان کی تمام کارکردگیوں کی بُنیاد ہے، کیونکہ انسان کی عملی جدوجہد اس کی فکری و اعتقادی بُنیادوں سے سرچشمہ حاصل کرتی ہے۔ وہ حیوانات کے افعال کی طرح نہیں ہوتیں جن کی حرکات فطری و طبعی اسباب کی بناء پر ہوتی ہیں۔ دُوسرے لفظوں میں انسان کے اعمال اس کے عقائد و افکار کی ایک مجسم صورت ہوتے ہیں، اور اسی بناء پر خدا کے تمام انبیاء ہر چیز سے پہلے اُمّتوں کی اعتقادی بنیادوں کی اصلاح کیا کرتے تھے۔ اور وہ خصُوصیّت کے ساتھ شرک سے۔۔ جو انواع و اقسام کے رذائیل، بدبختیوں اور پراگندگیوں کا سرچشمہ ہے__ مبارزہ کرتے تھے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ "ایمان" یہاں مطلق طور پر ذکر ہوا ہے تاکہ ایمان کے تمام کے تمام پہلووٴں کو شامل کیا جائے یعنی خدا اور اس کی صفات پر ایمان سے لے کر قیامت و حساب و کتاب، جزا و سزا، کتبِ آسمانی، خدا کے انبیاء اور ان کے اوصیاء کے ایمان تک۔ دوسری اصل: میں ایمان کے بار آور اور پُر ثمر درخت کے پھل اور نتیجہ کو پیش کرتے ہوئے "اعمال صالح" کی بات کرتا ہے۔ کیسی وسیع اور مطالب سے پُر تعبیر ہے، ہاں! "صالحات" وہی سارے کے سارے شائستہ اعمال، نہ صرف عبادات، نہ صرف انفاق فی سبیل اللہ، نہ صرف راہِ خدا میں جہاد، نہ صرف علم و دانش کا حصول، بلکہ ہر وہ شائستہ کام جو تمام میدانوں میں نفوس کے تکامل و ارتقاء، اخلاق کی پرورش، قربِ الیٰ اللہ اور انسانی معاشرے کی پیش رفت کا وسیلہ ہو۔ یہ تعبیر چھوٹے سے چھوٹے کاموں سے لے کر۔ جیسے لوگوں کے راستہ سے ایک رکاوٹ ڈالنے والے پتھر کو ہٹانا۔ کروڑوں انسانوں کو گمراہی و ضلالت سے نجات دلانے اور دین حق و عدالت کی سارے جہان میں نشر و اشاعت کرنے تک کو شامل ہے۔ اور اگر ایک حدیث میں "اعمالِ صالح" کی امام جعفر صادق علیہ السلام، "مواسات اور دینی بھائیوں سے مساوات کرنے" سے تفسیر ہوئی ہے، تو وہ واضح و روشن مصداق کے قبیل سے ہے۔ ممکن ہے بعض اوقات اعمال صالح بعض غیر مومن انسانوں سے بھی سرزد ہوں، لیکن مسلّمہ طور پر وہ مضبوط و پائیدار اور وسعت رکھنے والے نہیں ہوتے، کیونکہ وہ خدائی عمیق اور گہرے اسباب سے سرچشمہ حاصل نہیں کرتے۔ لہٰذا ان میں جامعیت نہیں ہوتی۔ قرآن نے یہاں "صالحات" کو خصوصیّت کے ساتھ جمع کی صورت میں بیان کیا ہے، ایسی جمع ہو جو "الف و لام" کے ساتھ ہے، اور عموم کے معنی رکھتی ہے۔ اور یہ اس حقیقت کو بیان کر رہی ہے کہ ایمان کے بعد اس طبعی و قہری خسارے سے روکنے والا راستہ تمام اعمال صالح کو انجام دیتا ہے نہ صرف ایک یا چند اعمال صالح پر قناعت کرنا، اور واقعاً اگر ایمان عمیق اور گہرے طور پر انسان کے دل میں جاگزیں ہو جائے تو وہ ایسے ہی آثار ظاہر کیا کرتا ہے۔ ایمان کوئی فکر اور اعتقاد نہیں ہوتا، جو رُوح کے گوشوں میں تو موجود ہو لیکن اس میں کسی قسم کی تاثیر موجود نہ ہو۔ ایمان تو انسان کے سارے وجود کو اپنے رنگ میں رنگ دیتا ہے۔ ایمان اس پُر نور چراغ کے مانند ہے جو کسی کمرے کے اندر روشن ہے، جو نہ صرف اس کمرے کی فضا کو روشن کرتا ہے بلکہ اس کی روشنی اس کمرے کے تمام دریچوں سے باہر نکلتی ہے اور جو شخص اس کے باہر سے گزرے وہ اچھی طرح سے سمجھ لیتا ہے کہ اس میں ایک پُر نور چراغ روشن ہے۔ اسی طرح سے جب ایمان کا چراغ انسان کے دل کی سرائے میں روشن ہوتا ہے تو اس کا نور انسان کی زبان، آنکھ، کان اور ہاتھ پاوٴں سے منعکس ہوتا ہے، ان میں سے ہر ایک کی حرکت بتاتی ہے کہ دل میں ایک نور موجود ہے جس کی شعاعیں باہر نکل رہی ہیں۔ اسی بناء پر قرآن کی آیات میں عام طور پر "عمل صالح"، "ایمان" کے ساتھ "لازم و ملزوم" کے عنوان سے آیا ہے۔ سورہٴ نحل کی آیہ ۹۷ میں آیا ہے: مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً" جو بھی عملِ صالح انجام ، مرد ہو یا عورت، لیکن ہو وہ صاحبِ ایمان، تو ہم اُسے پاکیزہ حیات کے ساتھ زندہ کریں گے۔ اور سُورہٴ مومنون کی آیہ ۹۹۔ ۱۰۰ میں آیا ہے، اس عالم سے جدائی کے بعد بدکاروں کو اس بات پر افسوس ہو گا کہ انہوں نے اعمال صالح کیوں انجام نہیں دیے۔ لہٰذا بہت ہی زیادہ امداد کے ساتھ عملِ صالح کو انجام دینے کے لئے بازگشت کا تقاضا کریں گے: رَبِّ ارْجِعُونِo لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ" اور سُورہٴ مومنون کی آیہ ۵۱ میں آیا ہے کہ خدا اپنے رسولوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ "پاک و پاکیزہ چیزیں کھاوٴ اور عمل صالح بجا لاوٴ۔ "يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا" اور چونکہ ایمان و عملِ صالح سوائے اس صورت کے ہرگز جاری نہیں رہتے کہ ایک طرف تو معاشرے میں حق کی طرف دعوت اور اس کی معرفت کے لیے کام کیا جائے اور دوسری طرف سے اس دعوت کی انجام دہی کی راہ میں صبر و استقامت کی دعوت ہو، اس لیے ان دونوں اصولوں کے بعد دوسرے اصولوں کی طرف اشارہ فرماتا ہے، جو حقیقت میں دو بنیادی اصولوں "ایمان" اور "عملِ صالح" کے اجراء کے ضامن ہیں۔ تیسری اصل میں "تواصی بہ حق" کے مسئلہ یعنی حق کی طرف سب کو عمومی دعوت دینے کی طرف اشارہ کرتا ہے تاکہ سب لوگ حق کو باطل سے اچھی طرح پہچان لیں اور ہرگز اسے فراموش نہ کریں اور زندگی کی راہ میں اس سے منحرف نہ ہوں۔ "تواصوا"، "تواصی" کے مادّہ سے، جیسا کہ "راغب" نے "مفردات" میں بیان کیا ہے، اس معنی میں ہے کہ بعض افراد دوسرے بعض افراد کو نصیحت کریں۔ اور "حق"، "واقعیت" یا واقعیت سے مطابقت کے معنی میں ہے۔ کتاب "وجوہ قرآن" میں قرآن مجید میں اس لفظ کے بارہ معانی اور موارد استعمال ذکر ہوائے ہیں، مثلاً خدا، قرآن، اسلام ، توحید، عدل، آشکار ہونا، اور واجب ہونا وغیرہ، لیکن وُہ سب ہی اسی ریشہ اور جڑ کی طرف لوٹتے ہیں جو ہم نے اُوپر بیان کی ہے۔ بہرحال، "تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ" کا جملہ بہت ہی وسیع معنی رکھتا ہے، جو امر بہ معروف اور نہی از منکر کو بھی شامل ہے، اور جاہل کو تعلیم دینے اور اس کو ہدایت کرنے، غافل کو تنبیہ کرنے، شوق دلانے اور ایمان و عمل صالح کی تبلیغ کرنے کو بھی۔ یہ بات ظاہر و واضح ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرتے ہیں انہیں خود بھی حق کا طرفدار اور اس کا عامل ہونا چاہئیے۔ چوتھی اصل: میں "صبر" و استقامت اور اس کی نصیحت و وصیت کرنے کا مسئلہ پیش ہوا ہے، کیونکہ معرفت اور آگاہی کے بعد ہر شخص عمل کی راہ میں ہر قدم پر موانع سے روبرو ہوتا ہے۔ اگر استقامت اور صبر نہ ہو تو وہ ہرگز احقاقِ حق نہیں کر سکتا اور کوئی عمل صالح انجام نہیں دے سکتا۔ یا اپنے ایمان کی حفاظت نہیں کر سکتا۔ ہاں! احقاقِ حق، اور اجراء حق اور معاشرے میں حق کی ادائیگی، ایک عمومی فعالیت اور پُختہ و عظیم استقامت یعنی موانع کے مقابلہ میں ڈٹ جانے کے سوا ممکن نہیں ہے۔ "صبر" بھی یہاں ایک وسیع معنی رکھتا ہے جو اطاعت پر صبر کرنے کو بھی شامل ہے، گناہ پر اُبھارنے والی چیزوں پر صبر کرنے، اور مصائب اور ناگوار حوادث پر صبر کرنے اور توانائیوں، سرمایوں اور ثمرات کو کھو بیٹھنے کے مقابلہ میں صبر کرنے کو بھی۔ (تشریحی نوٹ: ہم نے "صبر کی حقیقت اور اس کے مراحل اور شعبوں کے بارے میں جلد اوّل میں سُورہ بقرہ کی آیہ۱۵۳ کے ذیل میں مفصل بحث کی ہے)۔ ان چار اصولوں کے بارے میں جو کچھ اُوپر بیان کیا گیا ہے اور جو حقیقت میں انسانوں کی زندگی اور سعادت کا جامع ترین پروگرام ہے اس کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ روایات میں یہ کیوں آیا ہے کہ "جب اصحابِ پیغمبرؐ ایک دوسرے کے پاس جاتے تھے، تو ایک دوسرے سے جُدا ہونے سے پہلے سُورہٴ "والعصر" کی تلاوت کیا کرتے تھے، اور اس چھوٹی سی سورت کے عظیم مطالب کو بیان کیا کرتے تھے اور پھر ایک دوسرے کو خدا حافظ کہتے ہوئے اپنے اپنے کاموں میں لگ جاتے تھے۔ (بحوالہ: "در المنثور" جلد۶، ص ۳۹۲)۔ اور حقیقتاً اگر مسلمان آج بھی اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں ان چار اصولوں پر عمل پَیرا ہو جائیں تو ان کی مشکلات اور بے سروسامانیاں حال ہو جائیں، پس ماندگی کی تلافی ہو جائے، کمزوریاں اور ناکامیاں، کامیابیوں سے بدل جائیں، اور دُنیا جہان کے شریروں کے سر ان سے منطقع ہو جائیں۔ خدا وندا! ہمیں صبر و استقامت اور حق و صبر کی ایک دوسرے کو وصیت کرنے کی توفیق مرحمت فرما۔ پروردگارا! ہم سب خسارے میں ہیں اور اس خسارے کی تلافی تیرے لطف و کرم کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ بار الٰہا! ہم چاروں احکام پر، جو تُو نے اس سُورہ میں دیے ہیں، عمل کرنا چاہتے ہیں۔ تو ہمیں اس کی توفیق عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین

end of chapter