Ar-Ra'd
سوره رعد
یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۴۳ آیات ہیں۔
سورہ رعد کے مضامین و مشتملات
جیسا کہ پہلے بھی کہا جا چکا ہے کہ مکی سورتیں چونکہ دعوت پیغمبرؐ کے آغاز میں اور مشرکین کے ساتھ سخت اور شدید مقابلے کے موقع پر نازل ہوئی ہیں لہذا زیادہ تر عقائد کے مسائل ان میں موجود ہیں خصوصا توحید کی دعوت، شرک سے مقابلہ اور معاد و قیامت کے اثبات ان میں موجود ہیں۔ جبکہ مدنی سورتیں کہ جو اسلام کی وسعت اور اسلامی حکومت کی تشکیل کے بعد نازل ہوئی ہیں وہ معاشرے کی ضروریات کے مطابق اجتماعی نظام سے احکام و مسائل کے متعلق بحث کرتی ہیں۔ زیر بحث سورہ ـ سورہ رعد کہ جو مکی سورتیں میں سے ہے، اسی پروگرام کے ذیل میں ہے اس میں قرآن کی حقانیت و عظمت کی طرف اشارہ کرنے کے بعد توحید سے متعلق آیات ہیں۔ اسرارِ خلقت و آفرینش کا ذکر ہے کہ جو خدا کی ذاتِ پاک کی نشانیاں ہیں۔ کبھی بغیر ستون کے کھڑے آسمان کا ذکر ہے،کبھی حکمِ خدا سے آفتاب و ماہتاب کے تسخیر کے بارے میں تذکرہ ہے، کبھی زمین بچھانے کی بات ہے، کبھی پہاڑوں، نہروں، درختوں اور پھلوں کی خلقت کا ذکر ہے اور کبھی رات کے آرام بخش پردوں کا تذکرہ ہے کہ کو دن کو چھپا دیتے ہیں۔ قرآ ن کبھی لوگوں کا ہاتھ پکڑ کر انگور کے باغوں، نخلستانوں اور لہلہاتی کھیتیوں میں لے جا تا ہے اور ان کے عجائب و غرائب شمار کرتا ہے اور پھر معاد و قیامت، انسا ن کی نئی زندگی اور پروردگار کی داد گاہِ عدل کے بارے میں بحث کرتا ہے اور یہ بحث مبدا ء و معاد کے تعارف، لوگوں کی ذمہ داریوں کے بیان اور یہ کہ ان کی سرنوشت میں ہر طرح کا تغیر ان کے اپنے ہاتھ میں ہے، کے اصول کے تذکرے پر مکمل ہوتی ہے۔ قرآن دوبارہ مسئلہ توحید کی طرف لوٹتا ہے۔ رعد کی سنگین آواز اور برق کی وحشت انگیز کڑک کے بارے میں گفتگو ہے اور پھر آسمانوں اور زمین کے رہنے والوں کے عظمتِ پروردگار کےسامنے سجدہ کرنے کی بات کرتا ہے۔ پھر آنکھوں اور کانوں کو کھولنے اور بینائی و دانائی کی بیداری کے لیے انسان کے اپنے ہاتھوں بنائے گئے بتوں کی بے وقعتی کا تذکرہ کرتا ہے، انسانوں کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اور حق و باطل میں تمیز کے لیے مثالیں پیش کرتا ہے۔ زندہ اور محسوس مثالیں سب کے لیے قابل ادراک مثالیں۔ اور چونکہ توحید و معاد کاآخری اور اصلی ثمرہ وہی اصلاحی و عملی پروگرام ۔ لیذا ان تمام مباحث کے بعد قرآن اس سورہ میں ایفائے عہد، صلہ رحمی، صبر استقامت، آشکار و پنہاں انفاق اور ترک انتقام جوئی کی دعوت دیتا ہے۔ پھر دوبارہ نشا ندہی کرتا ہے کہ دنیا کی زندگی ناپائیدار ہے اور سکون و اطمنان خدا پر ایمان کے سائے کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔ آخر میں لوگوں کا ہاتھ پکڑ کر تا ریخ کی پہنایہوں کی طرف کھینچ لے جاتا ہے اور گزر جانے والی باغی اور سرکش قومو ں، کہ جنہوں نے حق پوشی کی یا لوگوں کو حق سے دور روکا، کے انجام کی نشاندہی کرتا ہے اور ہلا دینے والے الفاظ میں کافروں کو تہدید کرتے ہوئے یہ سورہ اختتام کو پہنچتا ہے۔ لہذا ـــــــــــــ سورہ رعد عقائد و ایمان سے شروع ہوتی ہے ـــــــ اور اعمال و کردار اور انسان ساز پروگراموں کے ذکر پر تمام ہو جاتی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 4 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 4 کے تحت ملاحظہ کریں۔
آسمان و زمین اورسبزہ زار خدا کی نشانیاں ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 2اس سورہ کے آغاز میں ہم پھر قرآ ن کے حروف مقطعات کا سامنا کررہے ہیں۔ ایسے الفاظ قرآن کی ۲۹ سورتوں کی ابتداے میں آئے ہیں۔ البتہ یہاں آنے والے حروف دراصل ”الم“ اور ”الر“ کا مرکب ہیں جو چند دیگر سورتوں کی ابتداء میں الگ الگ آئے ہیں۔ درحقیقت یہ وہ واحد سورة ہے جس کی ابتداء میں ”المر“ نظر آتا ہے اور چونکہ ہر سورہ کی ابتداء میں جو حروف مقطعات آتے ہیں وہ اس سورہ کے مضامین کے ساتھ براہ راست تعلق رکھتے ہیں لہٰذا احتمال ہے کہ یہ ترکیب جو سورہ رعد کی ابتداء میں آئی ہے اس طرف اشارہ ہے کہ سورہ رعد کے مضامین ان دونوں قسم سورتوں کے مضامین کے جامع ہیں جن کی ابتداء میں ”الم“ اور الر“ آیا ہے اور اتفاق کی بات ہے کہ ان سورتوں کے مضامین میں غورو خوض کرنے سے اس امر کی تائید ہو تی ہے۔ قرآن کے حروف مقطعات کی تفسیر کے بارے میں اب تک ہم نے سورہٴ بقرہ، سورہ آل عمران، اور سورہٴ اعراف کے آغاز میں تفصلی بحث کی ہے کہ جس کی تکرار کی ہم ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ بہرحال اس سورہ کی سب سے پہلی آیت عظمت قرآن کے بارے میں گفتگو کرتی ہے۔ ”یہ عظیم آسمانی کتاب کی آیات ہیں ”تِلْکَ آیَاتُ الْکِتَابِ“۔(تشریحی نوٹ: جیسا کہ ہم نے پہلے بھی ذکر کیا کہ ”تلک“ اسم اشارہ بعید ہے، اس کا انتخاب قریب کے اشارہ ”ھٰذہ“ کی بجائے قرآنی آیات کی عظمت و رفعت کے لیے کنایہ ہے)۔اور جو کچھ تیرے پروردگار کی طرف سے تجھ پر نازل ہوا ہے وہ حق ہے“ (وَالَّذِی اُنزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ الْحَقُّ)۔اور اس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ حقائق عینی بیان کرنے والا جہاں ِ آفرینش اور اس کے انسان سے روابط عینی کا شاہد ہے۔ یہ ایسا حق ہے جو باطل میں ملا ہو انہیں ہے۔ اسی لیے اس کی حقانیت کی نشانیاں اس کے چہرے سے ہویدار ہیں اور یہ مزید استدلال کی ضرورت نہیں رکھتا۔ لیکن اس کے باوجود بوالہوس اور نادان لوگ، کہ جن کی اکثریت ہے، ان آیات پر ایمان نہیں لاتے (وَلَکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لاَیُؤْمِنُونَ)۔ کیونکہ اگر انسان کو اس کی اپنی حالت پر چھوڑ دیا جائے اور وہ پاک دل معلم کی پیروی نہ کرے کہ جو راہِ حیات میں اس کی ہدایت اور تربیت کرے اور اس طرح ہوا و ہوس کی پیروی کرنے میں بھی آزاد ہو تو اکثر وہ اپنے آپ کو ان کے اختیار میں دے دیں تو پھر اکثریت راہِ حق پر چلے گی۔ اس کے بعد تو حید اور عالم آفرینش میں خدا کی نشانیوں کے اہم دلائل کی تشریح کی گئی ہے اور خاکی انسان کو آسمانوں کی وسعت میں گردش کرنے پر ابھارا گیا ہے اور اس کے لیے ان عظیم کروں، ان کے نظام ِ حرکت اور ان کے اسرار کی نشاندہی کی گئی ہے تاکہ وہ اس کی لامتناہی اور بے پایاں قدرت و حکمت کو جان سکے، کس قدر خوبصورتی سے فرمایا گیا ہے: خدا وہی ہے جو آسمانوں کو جیسا تم دیکھتے ہو بغیر ستون کے قائم کیےہوئے ہے یا وہ انہیں غیر مرئی ستونوں کے ساتھ بلند کیےہوئے ہے (اللهُ الَّذِی رَفَعَ السَّمَاوَاتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَھَا)۔ (تشریحی نوٹ:”عمد“ (بر وزن ”صمد“) اور ”عمد“ (بروزن ”دھل“) دونوں عمود بمعنی ”ستون“ کی جمع ہیں اگرچہ ادبی لحاظ سے پہلے جمع اور دوسرے کو اسم جمع سمجھا جا تا ہے۔ بحوالہ: مجمع البیان۔ زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ ”بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَھَا“کے بارے میں دو تفسریں بیان کی ہیں: پہلی یہ کہ ”جس طرح تم دیکھتے ہو آسمان بغیر ستون کے ہے (گویا اصل میں ایسے تھا:ترونھا بغیر عمد)۔ دوسری یہ کہ ”ترونھا“ صفت ہے ”عمد“ کے لیے کہ جس کا معنی یہ ہے کہ آسمانون کو بغیر کسی مرئی ستون کے بلند کیا گیا، جس کا لازمہ ہے کہ آسمان کے لیے ستون ہے لیکن ایسا ستون جو غیر مرئی ہے۔ پہلی بات امام علی بن موسیٰ رضا (ع) سے حسین بن خالد کی حدیث میں آئی ہے، وہ کہتا ہے: میں نے امام ابو الحسن (ع) رضا (ع) سے پوچھا: یہ خدا کہتا ہے ”والسماء ذات الحبک“ (اس آسمان کی قسم جو راستوں کا حامل ہے) اس سے کیا مراد ہے؟ امام (ع) نے فرمایا: اس آسمان کے زمین کی طرف راستے ہیں۔ حسین بن خالد کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آسمان زمین کے ساتھ ارتباطی راستہ رکھتا ہو حالانکہ خدا فرماتا ہے: آسمان ستون کے بغیر ہیں۔ اس پر امام نے فرمایا: سبحان اللہ ! لیس اللہ یقوم: بغیر عمد ترونھا سبحان اللہ ! کیا خدا نے نہیں فرمایا: بغیر ایسے ستون کے جو قابل مشاہدہ ہو؟ فقلت بلیٰ راوی کہتا ہے: میں نے کہا جی ہاں فقال ثم عمد ولٰکن لاترونھا فرمایا: پس ستون تو ہیں لیکن تم انہیں نہیں دیکھ پاتے۔ (تشریحی نوٹ: یہ حدیث تفسیر بر ہان میں تفسیر علی بن ابراہیم اور تفسیر عیاشی کے حوالے سے نقل کی گئی ہے۔ بحوالہ برہان جلد ۲ص۲۷۸) اس حدیث کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ جو زیر بحث آیت کی تفسیر میں آئی ہے، اس آیت نے ایک سائنسی حقیقت کے چہرے سے پردہ اٹھا یا ہے کہ جو نزول آیات کے وقت کسی پر آشکار نہیں تھی کیونکہ اس نے زمانے میں بطلیموس کی ہیئت اپنی پوری طاقت کے ساتھ دنیا کے سائنسی مسائل اور لوگوں کے افکار و نظر یات پر حکمران تھی اور اس کے مطابق آسمان ایک دوسرے پر پیاز کے چھلکے کی طر ح کرات کی شکل میں تھے۔ ظاہر ہے اس طرح تو ان میں کوئی بھی معلق اور ستون کے بغیر نہ تھا بلکہ ہر ایک دوسرے کا سہارا لیئے ہو ئے تھا لیکن ان آیات کے نزول کے تقریباً ایک ہزار سال بعد انسانی علم اس مقام پر پہنچا ہے کہ پیاز کے چھلکوں والے افلاک کی بات موہومی ہے۔ واقعیت یہ ہے کہ آسمانی کرات میں سے ہر ایک اپنے مدار اور جگہ سے بغیر کسی سہارے کے ثابت اور معلق ہے اور وہ واحد چیز جو انہیں اپنی جگہ پر قائم رکھے ہوئے ہے وہ قوت جاذبہ اور دافعہ کا اعتدا ل ہے کہ جن میں سے ایک ان کے کرات کے جرم سے تعلق رکھتی ہے اور دوسری ان کی حر کت کے ساتھ مربوط ہے۔ جاذبہ و دافعہ کا یہ اعتدال غیر مرئی ستون کی شکل میں آسمانی کرات کو اپنی جگہ پر قائم رکھے ہوئے ہے۔ اس سلسلے میں ایک حدیث جو امیر المومنین علی (ع) سے نقل ہوئی ہے بہت ہی جاذب نظر ہے۔ اس حدیث کے مطابق امام علیہ السلام نے فرمایا: ھٰذہ النجوم التی فی السماء مدائن مثل مدائن فی الارض مربوطة کل مدینة الیٰ عمود من نور.(بحوالہ سفینة البحار جلد ۲ ص ۵۷۴ منقول از تفسیر علی بن ابراہیم قمی)۔ یہ ستارے جو آسمان میں ہیں یہ زمین کے شہروں کی طرح شہر ہیں کہ جن میں سے ہر شہر دوسرے شہر کے ساتھ (ہر ستارہ دوسرے ستارے کے ساتھ) نور کے ایک ستون کے ذریعے مربوط ہے۔ کیا اس زمانے کے افق ادبیات میں قوت جاذبہ کی امواج اور ان کے قوتِ دافعہ میں اعتدال کے لیے ”غیر مرئی ستون“ اور ”نورانی ستو ن“ سے بڑھ کر روشن اور رسا تعبیر ہو سکتی تھی؟ (نوٹ: مزید وضاحت کے لیے کتاب ”قرآن و آخرین پیامبر“ ص ۱۶۶ کے بعد کی طرف رجوع فرمائیں)۔ اس کے بعدفرمایا گیا ہے: خدانے بغیر ستون کے ان آسمانوں کو پیدا کرنے کے بعد کہ جو اس کی لامتناہی عظمت و قدرت کی واضح نشانی ہیں عرش کا کنٹرول سنبھالا، یعنی عالم ہستی کی حکومت اپنے قبضے میں لی (ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ)۔ ”عرش“ کے معنی اور اس پر خدا کے تسلط کے مفہوم کے سلسلے میں سورہ اعراف کی آیہ ۵۴ کے ذیل میں کافی بحث ہو چکی ہے۔(بحوالہ تفسیر نمونہ جلد۶ ص۱۸۰کی طرف رجوع فرمائیں)۔ آسمانوں کی خلقت اور ان پر پروردگار کی حکومت کا ذکرکرنے کے بعد سورج اور چاند کی تسخیر کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ وہی ہے جس نے سورج اور چاند کا مسخر کیااور ا نہیں فرمابر دار اور خدمت گزار قرار دیا (وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ)۔ اس سے بڑھ کر اور کیا تسخیر ہو گی کہ یہ سب اس کے فرمان کے سامنے سر نگوں ہیں نیز انسانوں اور تمام زندہ موجودات کے خدمت گزار ہیں، نور چھڑکتے ہیں۔ ایک عالم کو روشن کرتے ہیں، موجودات کا بستر گرم کرتے ہیں،موجودات زندہ کی پرورش کرتے ہیں اور دریاوں میں مد جزرپیدا کرتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ تمام حرکتوں اور بر کتوں کا سرچشمہ ہیں۔ لیکن جہانِ مادہ کا یہ نظام جاودانی اور ابدی نہیں ہے اور شمس و قمر میں سے ہر ایک، ایک مدت ِ معین تک اپنے راستے پر حرکت جاری رکھے ہوئے ہے (کُلٌّ یَجْرِی لِاَجَلٍ مُسَمًّی)۔ اس کے بعد قرآن مزیدکہتا ہے کہ یہ حرکات، گر دشیں، آمد و شد اور تبدیلیاں بغیر کسی حساب و کتاب کے اور بے نتیجہ و بے فائدہ نہیں ہیں بلکہ ”وہی ہے جو تمام کاموں کا تدبیر کرتا ہے“ اور ہر حرکت کے لیے حساب اور ہر حساب کے لیے ہدف اور مقصد نظر میں رکھتا ہے (یُدَبِّرُ الْاَمْر)۔ ”وہ اپنی آیات تمہارے لیے شمار کرتا ہے اور ان کی باریکیاں تفصیل سے بیان کرتا ہے تاکہ تمہیں لقائے پروردگار اور دوسرے جہان کا یقین پیدا ہو“ (یُفَصِّلُ الآیَاتِ لَعَلَّکُمْ بِلِقَاءِ رَبِّکُمْ تُوقِنُونَ)۔ گذشتہ آیت انسان کو آسمانوں پر لے جاتی ہے اور عالم بالا میں اسے آیات الہٰی کی طر ف متوجہ کرتی ہے۔ دوسری آیت انسان کو تو حیدی آیات کے مطالعے کی دعوت دیتی ہے۔ انسان کو زمین، پہاڑوں، نہروں، انواع و اقسام کے پھلوں اور سورج کے طلو ع و غروب پر غور کرنے کی طرف متوجہ کرتی ہے تاکہ وہ سوچ بچار کرے کہ اس مقام ِ آسایش و آرام پہلے کیا تھا اور وہ اس شکل میں کیسے آیا۔ قرآن کہتا ہے: وہ وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا (وَھُوَ الَّذِی مَدَّ الْاَرْضَ)۔اس نے اسے یوں پھیلایا کہ وہ انسانی زندگی اور نبا تات و حیوانات کی پرورش کے قابل ہو۔ تند اور خطر ناک گڑھوں اور ڈھلوانوں میں پہاڑ داخل کر دیئے اور انہیں پتھروں کو مٹی میں تبدیل کرکے پر کیا اور ان کی سطح کو قابل حیات بنایا حالانکہ ابتداء میں ان کے پیچ و خم ایسے تھے جن میں انسان کے لیے زندگی بسر کرنے کی گنجائش نہیں تھی۔ اس جملے میں ”مد الارض“ سے یہ احتمال بھی ہے کہ جیسا کہ ماہرین ارض بھی کہتے ہیں ابتداء میں ساری زمین پانی کے نیچے ڈھکی ہوئی تھی۔ پھر پانی گڑھوں میں چلا گیا اور خشکیاں تدریجاً پانی سے نما یاں ہو نے لگیں اور دن بدن ان میں وسعت ِ پیدا ئش ہو تی گئی یہاں تک کہ انہوں نے موجوداہ صورت حال اختیار کرلی۔ اس کے بعد پہاڑوں کی پیدائش کے مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: خدا نے زمین میں پہاڑ بنائے (وَجَعَلَ فِیھَا رَوَاسِیَ)۔ وہی پہاڑ....کہ جن کا قرآن کی دوسری آیات میں ”اوتاد“ (یعنی ”اونچی میخیں“) کے طور پر تعارف کروایا گیا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ نیچے سے پہاڑوں نے ایک دوسرے میں پنجے ڈالے ہوئے ہیں اور زرہ کی طرح ساری سطح زمین کوڈھانپا ہوا ہے تاکہ اندرونی دباوٴ بھی ختم کر سکیں اور باہر سے چاند کی بہت زیادہ قوت جاذبہ اور مد جزر کو بھی روکے رکھیں۔ اس طرح سے تزلزل اور دائمی زلزلون کو ختم کر سکیں اور کرہٴ زمین کو انسانی زندگی کے آرام و سکون کے لیے بر قرار رکھیں۔ زمین کے پھیلانے اور بچھانے کے بعد پہاڑوں کا ذکر گویا اس طرف اشارہ ہے کہ زمین نہ اس طرح سے پھیلائی گئی ہے کہ اس میں کوئی پستی و بلندی نہ ہو کیونکہ اس صورت میں بارشیں اور پانی اس پر نہ ہوتے اور یا ہر جگہ ایک جوہڑ کی صورت میں تبدیل ہو جاتی اور اس کی سطح پر دائمی طوفان جاری رہتے لیکن پہاڑوں کی پیدا ئش سے ان دونوں صورتوں میں امان مل گئی ہے او رنہ ساری زمین پہاڑوں اور در وں پر مشتمل ہے کہ زندگی کے قابل ہی نہ ہو یہ زمین مجموعی طور پر ہموار بھی ہے اور اس میں پہاڑ اور درے بھی ہیں جو نوع بشر اور دیگر زندہ موجودات کی زندگی کے لیے بہترین ترکیب ہے۔ اس کے بعد ان پانیوں اور دریاوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جو روئے زمین پر چلتے ہیں۔ فرمایا گیا ہے: اور اس میں دریا جاری ہیں (وَاَنْھَارًا)۔ زمین کی آبیاری کا نظام پہاڑوں سے ارتباط کا دریا وں سے تعلق بہت جاذبِِ نظر ہے کیونکہ زمین کے بہت سے پہاڑوں کی چوٹیوں اور درّوں کے شگافوں میں برف کی صورت میں یہ دریا سٹور ہوتے ہیں جو تدریجا ً پانی کی شکل اختیار کرتے ہیں اور قانون جاذبہ کے مطابق بلند ترین مقامات سے زیر یں اور کشادہ علاقوں کی طرف سفر کرتے ہیں او ربغیر کسی قوت کی احتیاج کے سال بھر طبیعی طور پر بہت وسیع زمینوں کی آبیاری کرتے ہیں اور انہیں سیراب کرتے ہیں اگر زمینون میں مناسب ڈھلوان نہ ہوتی اور پانی اس شکل میں پہاڑوں پر ذخیرہ نہ ہوتا تو زیادہ تر خشک علاقوں کی آبیاری کا امکان نہ ہوتا اور اگر آبیاری ممکن بھی ہوتی تو بہت زیادہ مخارج کی ضرورت پڑتی۔ اس کے بعد غذائی مواد اور ان پھلوں کا ذکر ہے کہ جو زمین، پانی اور سورج کی روشنی سے وجود میں آتے ہیں اور انسانی غذا کا بہترین وسیلہ ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: اور تمام پھلوں میں سے جوڑا جوڑا زمین پر قرار دئیے گئے ہیں (وَمِنْ کُلِّ الثَّمَرَاتِ جَعَلَ فِیھَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ پھل بھی زندہ موجودات ہیں اور ان میں بھی نر اور مادہ نطفے موجود ہوتے ہیں کہ جو تلقیح سے بارآور ہوے ہیں۔ دانش مند ”لینہ“ اور مشہور ماہر نباتات ”سوئنڈی“ اٹھارھویں صدی عیسوی کے اواسط میں یہ بات معلوم کرنے میں کامیاب ہوئے کہ عالم نباتات میں زوجیت اور جفت کا معاملہ تقریباً عمومی اور کلی قانون ہے اور نباتات بھی حیوانات کی طرح نر اور مادہ کے نطفہ کی آمیزش سے بارآور ہوتے ہیں اور پھل دیتے ہیں جب کہ قرآن مجید نے اس سے گیارہ سو سال پہلے اس حقیقت کو فاش کر دیا تھا۔ یہ خود قرآن مجید کا ایک علمی معجزہ ہے کہ جس سے اس عظیم آسمانی کتاب کی عظمت ظاہر ہوتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ لینہ سے پہلے بہت سے ماہرین اجمالی طور پر بعض نباتات میں نر اور مادہ کا وجود معلوم کرچکے تھے یہاں تک کہ عام لوگ بھی جانتے تھے کہ اگر کھجور کے درخت بور نہ دیں یعنی نر کا نطفہ مادہ حصوں پر نہ چھڑ کا جائے تو وہ پھل نہیں دے گا لیکن کوئی شخص ٹھیک طرح سے یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ قانون تقریباً سب کے لیے ہے۔ یہاں تک کہ لینہ اسے معلوم کرنے میں کامیاب ہوا مگر جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ قرآن صدیوں پہلے اس حقیقت کے چہرے سے پر دہ ہٹا چکا تھا۔ انسان اور دیگر تمام زندہ موجودات کی زندگی، بالخصوص نباتات، گیاہ پھلوں کی زندگی رات و دن کے دقیق نظام کے بغیر ممکن نہیں لہٰذا آیت کے دوسرے حصے میں اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: خدا را ت کے ذریعے دن کو ڈھانپ دیتا ہے اور اس پر پردہ ڈال دیتا ہے (یُغْشِی اللَّیْلَ النَھَارَ)۔ کیونکہ اگر رات کا سکون بخش پر دہ نہ ہوتو سورج کا دائمی نور تمام سبزوں اور نبا تات کو جلا دے اور صفحہ زمین پر پھلوں کا بلکہ تمام زندہ موجودات کا کوئی نام و نشان باقی نہ رہے۔ کرہ مہتاب میں اگرچہ دن ہمیشہ نہیں رہتا لیکن وہاں دنون کی لمبائی کرہٴ زمین کے پندرہ رات دن کے برا بر اور دن کے وسط میں کرہٴ ماہتاب کا درجہ حرارت اتنا زیادہ ہوجاتا ہے کہ اگر پانی یا کوئی دوسری بہنے والی چیز ہو تو ابلنے لگے بلکہ اس کا درجہ حرارت اس سے بھی بڑھ جائے۔ کوئی زندہ موجود کہ جسے ہم زمین پر پہچانتے ہیں عام حالات میں یہ گرمی بر داشت نہیں کر سکتا۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا: جو امور بیان کیےگئے ہیں ان میں آیات اور نشانیاں ہیں، ان کے لیے جو غور و فکر کر تے ہیں (إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ)۔ وہ لوگ جو اس بدیع اور تعجب خیز نظام میں سوچ بچار کرتے ہیں .... نور و ظلمت کے نظام میں، آسمانی کرات اور ان کی گردش کے نظام میں، آفتاب و مہتاب کی نور افشانی اور ان کی انسانو ں کے لیے خد مت گزاری کے نظام میں، زمین بچھانے کے نظام میں، پہاڑوں اور دریاوں کی پیدائش کے اسرار میں اور نباتات اور پھلوں کے نظام میں .... جی ہاں ! جو لوگ اس نظام میں غور و فکر کرتے ہیں وہ ان میں قدر تِ لایزال کی آیات اور پروردگار کی حکمت ِ بے پایاں واضح اور روشن طور پر دیکھتے ہیں۔ زیر بحث آخری آیت میں زمین شناسی اور نباتات شناسی کے جاذب ِ نظر نکات کے ایک سلسلے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ان میں سے ہر ایک، ایک حساب شدہ نظامِ خلقت کی نشانی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ زمین میں مختلف قطعے اور ٹکڑے موجود ہیں کہ ایک دوسرے کے پاس ہمسائیگی میں ہیں (وَفِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُتَجَاوِرَاتٌ)[ تشریحی نوٹ: "متجاور"، "جار" کے مادے سے ہے اور "نزدیک" کے معنی میں ہے۔لیکن جب "قطع متجاوارات" فرمایا گیا ہے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ مختلف قطعے ہیں جو ایک دوسرے کے پاس پاس ہیں۔ اور اگر وہ سب کے سب یکساں ہوتے تو اس تعبیر کا کوئی معنی نہ ہوتا۔] باوجودیکہ یہ سب قطعے ایک دوسرے سے متصل او رمر بوط ہیں، ہر ایک کی ساخت اور استعداد خود اسی کے ساتھ مخصوص ہے۔ بعض محکم ہیں اور بعض نرم، بعض نمکین ہیں اور بعض شرین اور ان میں سے ہر ایک خاص نبا تات، درختوں، پھلوں اور زراعتوں کی پرورش کی استعداد رکھتا ہے۔ انسان او رزمین میں رہنے والے جانداروں کی ضروریات چونکہ بہت زیادہ اور مختلف ہیں لہٰذا زمین کا ہر قطعہ گویا ان میں سے ایک ضرورت کو پورا کرنے کی مامور یت رکھتا ہے اور اگر سب قطعے ایک ہی طرح کے ہوتے یا یہ استعدادیں ان میں صحیح طور پر تقسیم نہ ہوتیں تو انسان غذائی مواد، دواوں اور دیگر ضروریات کے لحاظ سے کیسی کیسی کمیابیوں میں گرفتار ہوتا لیکن ماموریت کی اس حساب شدہ تقسیم کی وجہ سے مختلف قطعے زمین کو پر ورش کی مختلف استعدادیں دئے جانے کے باعث یہ ضروریات مکمل طور پر پوری ہو جاتی ہیں۔ نیز یہ کہ ”اسی زمین میں انواع و اقسام کے انگوروں، اور زراعتوں اور کھجوروں کے باغات اور پودے موجود ہیں“ (وَجَنَّاتٌ مِنْ اَعْنَابٍ وَزَرْعٌ وَنَخِیلٌ (تشریحی نوٹ: ”اعناب“ ”عنب“ کی جمع ہے اور ”نخٰل“ ”نخل“ کی جمع ہے اور شاید جمع کا صیغہ یہاں انگور او رکھجور کی مختلف انواع کی طرف اشارہ ہو کیونکہ ان دو قسمو ں کے پھلوں میں سے ہر ایک کی شاہد مثال ہیں ذائقے اور رنگ کے اعتبار سے کئی سو اقسام ہیں)۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ درخت اور ان کی مختلف انواع و اقسام کبھی تو ایک ہی پایہ و بنیاد پر اگتی ہیں او رکبھی مختلف پایوں اور بنیادوں پر (صِنْوَانٌ وَغَیْرُ صِنْوَانٍ)۔ (”صنو“ کے لیے ایک او رمعنی بھی ذکر ہوا ہے او روہ ہے ”شبیہ“ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ معنی بھی مذکورہ بالا معنی سے لیا گیا ہے)۔ ”صنوان“ جمع ہے ”صنو“ کی کہ جو دراصل شاخ کے معنی میں ہے کہ جو درخت کے اصلی تنے سے نکلتی ہے اس بنا ء پر ”صنوان“ کا معنی ہے ”ایک تنے سے پھوٹنے والی مختلف شاخیں۔ یہ بات جاذب نظر ہے کہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ان شاخوں میں سے ہر ایک پھل کی ایک خاص قسم دیتی ہے۔ یہ جملہ درختوں کی پیوند کی استعداد کے مسئلے کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔ کبھی ایک ہی پایہ اور شاخ پر چند مختلف پیوند لگائے جاتے ہیں اور ان پیوندوں میں سے ایک نشو و نما حاصل کرتا ہے اور اس سے پھل کی ایک خاص قسم حاصل ہو تی ہے ـــــــــ مٹی ایک، جڑ ایک اور شاخ ایک لیکن اس کا پھل اور محصول مختلف ہوتا ہے۔ زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ ”وہ سب ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں (یُسْقَی بِمَاءٍ وَاحِدٍ)۔ ان تمام چیزوں کے باوجود ”ہم ان میں سے بعض درختوں کو بعض دوسرے درختوں پر پھل کے لحاظ سے بر تری اور فضیلت دیتے ہیں“(وَنُفَضِّلُ بَعْضَھَا عَلَی بَعْضٍ فِی الْاُکُل)۔ یہاں تک کہ ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ ایک ہی درخت میں ایک ہی شاخ میں ایک ہی جنس کے پھل لگتے ہیں مگر ان کا ذائقہ اور رنگ مختلف ہوتا ہے۔ اسی طرح پھلوں میں دنیامیں ہم نے بہت دیکھا کہ ایک ہی پودے میں بلکہ ایک ہی شاخ پر بالکل مختلف رنگوں والے پھل اگے ہوتے ہیں۔ یہ کیسی تجربہ گاہ ہے او رکیسی اسرار آمیزلیبارٹری درختوں کی شاخوں میں لگائی جاتی ہے کہ جو بالکل ایک ہی مواد سے بالکل مختلف ترکیبات کو جنم دیتی ہے کہ جن میں سے ہر ایک انسانی ضروریات کے ایک حصے کو پورا کرتی ہے۔ کیا ان اسرار میں سے ہر ایک کسی ایک حکیم و عالم مبداء کے وجود کی دلیل نہیں کہ جو اس نظام کی رہبری کرتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے کہ جہاں آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: ان امور میں عظمتِ خدا کی نشانیاں ہیں، ان کے لیے جو تعقل اور سوچ بچار رکھتے ہیں (اِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ)۔
چند اہم نکات
۱۔ توحید اور قیامت میں تعلق: زیر بحث پہلی آیت کے آغاز میں اسرار خلقت اور توحید کی طرف اشارہ کیا گیا ہے لیکن آیت کے آخر میں ہے: یفصل الآیات لعلکم بلقاء ربکم توقنون خدا تمہارے لیے اپنی آیات کی تشریح کرتا ہے تاکہ تم قیامت اور معاد پر ایمان لے آو۔ یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ مسئلہ توحید اور مسئلہ معاد کے درمیان کونسا تعلق ہے کہ جس کی بناء پر ان کا ذکر ایک دوسرے کے نتیجے کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ اس نکتہ کی طرف توجہ کرنے سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے کہ وہ اس کے اعادہ کی بھی قدرت رکھتا ہے جیسا کہ سورہٴ اعراف کی آیت ۲۹ میں ہے: کما بداٴکم تعودون جیسے اس نے تمہیں ابتداء میں پیدا کیا ہے ویسے ہیں پلٹائے گا۔ اور سورہٴ یٰس کے اواخر میں ہے: کیا وہ خدا کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، ان کی مثل ایجاد کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ثانیاً جیسا کہ ہم معاد و قیامت کی بحث میں کہا ہے کہ اگر عالم آخرت نہ ہو تو اس جہان کی خلقت فضول اور بیہودہ ہو گی کیونکہ یہ زندگی اس وسیع جہان کی خلقت کا مقصد نہیں ہو سکتی۔ قرآن مجید معاد سے مربوط آیات (مثلاً سورہ واقعہ آیہ۶۲) میں کہتا ہے: ولقد علمتم النشاٴة الاولیٰ فلولا تذکرون تم نے جو اس جہان کو دیکھا تو پھر دھیان کیوں نہیں دیتے کہ یقینا اس کے بعد ایک اور جہان ہو گا۔(تشریحی نوٹ: مزید وضاحت کے لیے کتاب ”معاد و جہان پس از مرگ“ کی طرف رجوع کریں)۔ ۲۔قرآن کی سائنسی معجزات: قرآن مجید میں بہت سے آیات ایسی ہیں جو ایسے سائنسی اسرار کے ایک پہلو سے پر دہ اٹھاتی ہیں کہ جو اس زمانے کے ماہرین کی نظروں سے پو شیدہ تھے اور یہ امر خود قرآنی اعجاز اور عظمت کی نشانی ہے۔ وہ محققین کہ جنہوں نے اعجاز قرآن کے سلسلے میں بحث کی ہے اکثر و بیشتر ان آیات کے ایک حصے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ان میں سے ایک آیت سطور با لا میں ذکر ہوئی ہے کہ جو عالم نباتات میں زوجیت اور جفت ہونے کے بارے میں گفتگو کرتی ہے۔ جیسا کہ ہم نےکہا ہے کہ عالم نباتات میں زوجیت کا مسئلہ جزوی طور پر عرصہ قدیم سے جانا پہچانا تھا لیکن ایک کلی اور عمومی قانون کے طور پر پہلی مرتبہ یورپ میں اٹھارھویں صدی کے وسط میں ایک اٹلی سائنسداں ”لینہ“ نے اس کا انکشاف کیا لیکن قرآن مسلمانوں کو ایک ہزار سال بلکہ اس سے بھی قبل اس کی خبر دے چکا تھا۔ یہ مسئلہ سورہ لقمان کی آیہ ۱۰ میں بھی بیان ہوا ہے، ارشاد ہوتا ہے: و انزلنا من السماء ماءً فانبتنا فیھا من کل زوج کریم ہم نے آسمان سے پانی نا زل کیا اور اس کے ذریعے ہم نے زمین پر زوج اور جفت سے مفید گیا ہ اُّگایا۔ بعض دوسری آیات میں بھی اس مسئلے کی طرف اشارہ ہوا ہے ۳۔ سورج اور چاند کی تسخیر: ہم نے مندرجہ بالا آیات میں پڑحا کہ خدانے سورج اور چاند کو مسخر کیا ہے۔ قرآن مجید میں بہت سے ایسی آیات ہیں کہ جو کہتی ہیں کہ آسمانی کرات، زمینی موجودات اور رات دن وغیرہ سب انسان کے لیے مسخر ہیں، ایک موقع پر ہے: و سخر لکم الانھار خدا نے تمہارے لیے دریاوں کو مسخر کیا ہے۔ (براہیم۔ ۳۲) ایک اور موقع پر ہے: و سخر لکم الفلک تمہارے لیے کشتی کو مسخر کیا ہے۔ (ابراہیم۔ ۳۲) ایک اور جگہ ہے: وسخر لکم اللیل و النھار رات اور دن کو تمہارے لیے مسخر کیا ہے۔ (نحل۔۱۲) اور مقام پر ہے: سخر لکم الشمس و القمر سورج اور چاند تمہارے لیے مسخرکیے ہیں۔ (ابراہیم۔۳۲) ایک اور جگہ پرہے: وھو الذی سخر لبحر لتاٴکلو ا منہ لحماً طریاً تمہارے لیے دریا مسخر کیا تاکہ اس سے تازہ گوشت کھا و۔ (نحل۔ ۱۴) ایک اور مقام پر ہے: الم تر ان اللہ سخر لکم ما فی الارض کیا دیکھتے نہیں ہو کہ خدا نے ان تمام چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کر دیا ہے جو روئے زمین پر ہیں (حج۔۶۵) ایک اور موقع پر ہے: وسخر لکم ما فی السمٰوٰت وما فی الارض جمیعاً منہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب کو خدانے تمہارے لیے مسخر کیا ہے (جا ثیہ۔ ۱۳) ان تمام آیات سے مجموعی طور پر اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ: اولاً:انسان اس جہان کا اکمل اور ترقی یافتہ موجود ہے اور اسلام کی جہان بینی کی نظر سے اسے اس قدر مقام دیا گیا ہے کہ دوسرے تمام موجودات کو اس انسان کے لیے مسخر کر دیا گیا ہے کہ جو ”خلیفة اللہ“ ہے اور اس کا دل مقامِ نور خدا ہے۔ ثانیاً:ان آیا ت میں تسخیر ان معنی میں نہیں کہ یہ تمام چیزیں انسان کے تحت فرمان ہیں بلکہ اس قدر ہے کہ یہ اس کے فائدے اور منافع کے لیے اور اس کی خدمت کے لیے حرکت کر رہے ہیں۔ مثلاً آسمانی کرات اس کے لیے نور افشانی کرتے ہیں یا ان سے دیگر فوائد حاصل ہوتے ہیں، وہ اس کی تسخیر میں ہیں۔ کو ئی مکتب و مذہب اس قدر بلند انسانی مقام کا قائل نہیں اور کسی فلسفہ میں انسان یہ حیثیت اور مقام نہیں رکھتا ... اور یہ دین اسلام کی خصوصیت ہے کہ اس نے انسانی وجود کی اہمیت اس حد تک بلند کر دی ہے کہ جس سے آگاہی انسانی تربیت اور ارتقاء کے لیے گہرے اثرات مرتب کرتی ہے کیونکہ جب انسان یہ سوچے کہ خدا نے یہ تمام عظمتیں اسے بخشی ہیں اور۔ "ابر و باد و ماہ و خورشید در کارند" یعنی .. بادل، ہوا، چاند، سورج سب محو کار ہیں اور سب اس کے فرمابر دار اور خدمت گزار ہیں۔ ایسا انسان غفلت اور پستی کے لیے تیار نہیں ہوتا، اپنے آپ کو خواہشات و شہوات کا اسیر نہیں کرتا اور ثروت و مقام اور زرو زور کا غلام، نہیں بنات.... وہ غلامی کی زنجیریں توڑ کر آسمانوں کی اوج پر پر واز کرتا ہے۔ کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ سورج اور چاند انسان کے مسخر نہیں ہیں حالانکہ وہ اپنی نورافشانی سے حیاتِ انسانی کو روشن اور گرم کیےہوئے ہیں۔ اگر سورج کی روشنی نہ ہو تو کرہٴ ارض پر کوئی جنبش و حرکت نہ ہو۔ دوسری طرف سورج کی قوت جاذبہ زمین کی حرکت کو اس کے مدار میں منظم کرتی ہے۔ دریاوں اور سمندروں کا مدو جزر چاند کی مدد سے پیدا ہوتا ہے کہ جو خود بہت سی برکات اور منافع کا سرچشمہ ہے۔ کشتیاں، دریا،نہریں اور دن رات ہر ایک کسی نہ کسی طرح انسان کی خدمت کرتے ہیں اور اس کے فائدے کے لیے رواں دواں ہیں۔ ان تسخیرات اور ان کے حساب شدہ نظام میں غور و فکر کیا جائے تو یہ خالق کی عظمت، قدرت اور حکمت کی واضح دلیل ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
قیامت کے بارے میں کافروں کا تعجب
Tafsīr Nemūna · Vol. 2عظمت الہٰی کی نشانیوں کے بارے میں جو آیات گذری ہیں ان کے بعد زیر بحث پہلی آیت میں مسئلہ معاد پیش کیا گیا ہے اور مسئلہ مبداء و معاد میں جو خاص ربط اور تعلق ہے اس کی بنیاد پر اس بحث کو پختگی دی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے اگر تم کسی چیز پر تعجب کرنا چاہتے ہو تو ان کی اس بات پر تعجب کرو کہ کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مٹی ہو جائیں گے تو ہمیں نئی خلقت دی جائے گی (وَإِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُھُمْ اَئِذَا کُنَّا تُرَابًا اَئِنَّا لَفِی خَلْقٍ جَدِید)۔ (تشریحی نوٹ: ”ان تعجب فعجب قولھم“۔ اس جملے کا درحقیقت یہ معنی ہے کہ اگر تو چاہتا ہے کہ کسی چیز کے بارے میں تعجب کرے تو ا ن کی بات پر تعجب کرو کیونکہ یہ بہت ہی تعجب کی بات ہے اور ”فعجب قولھم“ دراصل جملہ شرطیہ کی جزا ہے۔مندرجہ بالا جملے کے بارے میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس کا مفہوم یہ ہے: اگر بت پرستی پر تعجب کرتے ہو تو صرف یہی باعث تعجب نہیں، بلکہ ان کی طرف سے معاد کا انکار بھی باعث تعجب ہے۔ البتہ پہلا معنی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔) یہ وہی تعجب ہے جو تمام جاہل قوموں کو مسئلہ معاد کے بارے میں تھا۔ وہ موت کے بعد حیات ِ نواور خلقت ِ جدید کو محال سمجھتے تھے حالانکہ گذشتہ آیات میں اور دیگر قرآنی آیات میں اس مسئلے کا اچھی طرح سے جواب دیا گیا ہے اور وہ یہ کہ آغاز ِ خلقت اور تجدید ِ خلقت میں کیا فرق ہے وہ ذات جو آغاز ِ خلقت میں انہیں پیدا کرنے پر قادرتھی وہ اس پر بھی قادر ہے کہ ان کے بدن کو حیات نو عطا کرے۔ گویا یہ اپنی خلقت کی ابتدا کو بھول چکے ہیں تبھی تو اس کی تجدید کے بارے میں بحث کرتے ہیں۔ اس کے بعد قرآن ان لوگوں کی موجودہ کیفیت اور انجام کو تین بحثوں میں بیان کرتا ہے۔ پہلے کہتا ہے: یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کے کافر ہو گئے ہیں (اُوْلَئِکَ الَّذِینَ کَفَرُوا بِرَبِّھِمْ)۔کیونکہ اگریہ لوگ خدا کو اور اس کی ربوبیت کو قبول کرتے توپھر معاد اور تجدید حیاتِ انسانی کے بارے میں شک نہ کرتے لہٰذا مسئلہ معاد میں ان کی خرابی مسئلہ توحید و ربوبیت ِ الہٰی کے بارے میں ان کی خرابی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ دوسرا یہ کہ کفر اور بے ایمانی اختیار کرنے کی وجہ سے اور توحید کے پر چم آزادی کے سائے سے نکل جانے کی وجہ سے انہوں نے اپنے آپ کو طوق و زنجیر میں گرفتار کر لیا ہے۔ انہوں نے بت پرستی، ہوس پرستی، مادہ پرستی اور جہالت و خرافات کے طوق اپنے ہاتھوں اپنی گردن میں ڈالے ہیں ”اور ان کی گردن میں یہ طوق ہیں“ (وَاُوْلَئِکَ الْاَغْلَالُ فِی اَعْنَاقِھمْ)۔ ”اس کیفیت اور کردار کی وجہ سے ایسے لوگ یقینا اہل دوزخ ہیں اور ہمیشہ اس میں رہیں گے“ اور ان کے لیے اس کے سوا کوئی نتیجہ اور توقع نہیں ہے (وَاُوْلَئِکَ اَصْحَابُ النَّارِھُمْ فِیھَا خَالِدُونَ)۔ بعد والی آیت میں مشرکین کی ایک اور غیر منطقی بات پیش کی گئی ہے۔ فرمایا: بجائے اس کے کہ وہ تیرے ذریعے خدا سے رحمت کا تقاضا کرتے عذاب، کیفر کردار اور سزا میں تعجیل کا تقاضا کرتے ہیں (وَیَسْتَعْجِلُونَکَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ)۔ یہ قوم اس قدر ہٹ دھرم اور جاہل کیوں ہے۔ لوگ یہ کیوں نہیں کہتے کہ اگر تو سچ کہتا تو ہم اس طرح یاس رحمت ِ خدا نازل کر، الٹا کہتے ہیں کہ اگر تیری بات سچی ہے تو ہم پر عذابِ خدا نازل کر۔ کیا ان کا خیا ل ہے کہ خدا کی سزا اور عذاب کی بات غلط ہے ”حالانکہ گذشتہ زمانوں میں سر کش امتوں پر عذاب نازل ہو ئے“ جن کی خبریں صفحاتِ تاریخ پر اور زمین کے دل پر ثبت ہیں (وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِھمْ الْمَثُلَاتُ)۔ (تشریحی نوٹ: ”مثلات“مثلة“کی جمع ہے۔ یہ بلاوں اور سزا وں کے معنی میں ہے جو گذشتہ امتوں پر اس طرح سے نازل ہوئیں کہ ضرب المثل ہو گئیں)۔ اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے: لوگوں کی برائیوں، قباحتوں اور ظلم و ستم کے مقابلے میں خدا صاحبِ مغفرت ہے اور شدید العقاب بھی ہے (وَإِنَّ رَبَّکَ لَذُو مَغْفِرَةٍ لِلنَّاسِ عَلَی ظُلْمِھمْ وَإِنَّ رَبَّکَ لَشَدِیدُ الْعِقَابِ)۔ اس کی شدت عقاب و سزا اس کی رحمت ِ عام کے لیے ہرگز رکاوٹ نہیں جیسا کہ اس کی رحمت ِ عام شد ِت عقاب و سزا کا وٹ نہیں ہے۔ یہ اشتباہ نہیں ہو نا چاہئیے کہ وہ ظالموں کو موقع دیتا ہے کہ جو کچھ وہ چاہیں کریں کیونکہ ایسے مواقع پرتو وہ شدید العقاب ہے۔ پروردگار کی یہ دو صفات یعنی ”ذو مغفرة“ اور ”شدید العقاب“ کے آثار کا تعلق خود انسان کے وجود سے ہے۔
چند اہم نکات
۱۔ خلقتِ نو کے بارے میں تعجب کیوں؟ قرآن کی مختلف آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کی مشکلات میں سے ایک مشرک قوموں کے سامنے معادِ جسمانی کے اثبات کا مسئلہ تھا کیونکہ وہ لوگ ہمیشہ اس بات پر تعجب کرتے تھے کہ کس طرح انسان مٹی ہونے کے بعد دوبارہ حیات کی طرف پلٹ آئے گا۔ یہ جو محل بحث آیات میں ہے: ء اذا کنا تراباً ء انّا لفی خلق جدید کیا جب ہم مٹی ہو جائیں تو دوبارہ حیاتِ نو پائیں گے۔ ایسی تعبیرات تھوڑے بہت فرق کے ساتھ قرآن کی سات دیگر آیات میں موجود ہیں، جو یہ ہیں: مومنون ـ ـ۳۵ ۔ مومنون ــــــــــ ۸۲ نمل۔۶۷ صافات ــــــــــ۵۳ ق ۳ اور واقعہ ــــــــــ۴۷ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ اعتراض ان کی نگاہ میں بہت ہی اہم تھا۔ تبھی تو ہر جگہ اسی کا سہارا لیتے تھے لیکن قرآن مجید بہت ہی مختصر عبارتوں میں انہیں دو ٹوک اور قاطع جواب دیتا ہے۔ مثلاً سورہٴ اعراف کی آیہ ۲۹ میں: کمابداء کم تعودون جیسا کہ ابتداء میں تمہیں پیدا کیا گیا ہے اسی طرح پھر لوٹائے جاو گے۔ چند الفاظ میں یہ ایک دندان شکن جواب ہے۔ ایک اور جگہ فرمایا گیا ہے: وھو اھون علیہ تمہاری بازگشت تو تمہارے آغاز سے بھی سادہ اور آسان ہے۔ (روم۔۲۷) کیونکہ ابتداء میں تم کچھ بھی نہیں تھے لیکن اب کم از کم بوسیدہ ہڈی یا مٹی کی صورت میں تو تم موجود ہو۔ بعض مقامات پر قرآن لوگوں کو ہاتھ پکڑ کر وسیع کائنات زمین و آسمان میں عظمت قدرتِ خدا کا مشاہدہ کرواتا ہے اور کہتا ہے: کیا وہ ذات جو یہ سب کرات، کہکشائیں، ثوابت اور سیارے پیدا کرسکتی ہے اس کے اعادہ پر قادر نہیں ہے۔(یٰسٓ۔۸) ۲۔کیا خدا ستمگر وں کو بخش دیتا ہے: مندرجہ بالاآیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ پروردگار لوگوں کے ظلم کے باوجود صاحبِ مغفرت و بخشش ہے۔ مسلم ہے کہ اس سے یہ مراد نہیں کہ خدا اپنی عفو و بخشش ان ظالموں کے شامل حال کرتا ہے جو اپنے ظلم پر اصرار کرتے ہیں بلکہ وہ چاہتا ہے کہ ظالموں کو بھی اس وسیلے سے بازگشت اور اپنی اصلاح کا امکان فراہم کرے ورنہ دوسرے جملے میں ان کے انجام کی طرف اشارہ موجود ہے کہ ”تیرا پروردگار شدید العقاب ہے“۔ ضمناً اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ گناہانِ کبیرہ (کہ جن میں سے ایک ظلم ہے) بھی قابل بخشش ہیں (تمام تر شرائط کے ساتھ) یہ آیت اور اس جیسی دیگر آیات اس غلط بات کا دو ٹوک اور قاطع جواب دیتی ہیں جو قدیم زمانے سے معتزلہ کے حوالے سے نقل ہوئی ہے کہ جو کہتے ہیں کہ گناہاں کبیرہ کبھی بھی نہیں بخشے جائیں گے۔ بہرحال پروردگار کی ”وسیع مغفرت“ اور اس کے ”شدیدعقاب“ کا ذکر درحقیقت سب کو میانہ راہ پر اور خوف و رجا کے درمیان لے آتا ہے کہ جس کا اہم عامل انسان کی تربیت ہے کہ نہ بالکل رحمتِ الہٰی سے مایوس ہو جائے، چاہے اس کا جرم سنگین بھی ہو اور نہ ہی کبھی اپنے آپ کو اس کی سزا سے مامون سمجھے، چاہے اس کا گناہ خفیف ہی کیوں نہ ہو۔ اسی لیے ایک حدیث میں پیغمبر اکرم سے روایت ہے: لولا عفو اللہ وتجا وزہ ما ھنا احد العیش، ولولا وعید اللہ و عقابہ لاتکل کل واحد اگر خدا کی عفو و بخشش نہ ہوتی تو زندگی ہرگز کسی کے حلق میں گوارانہ ہوتی اور اگرخدائی تہدیدیں اور سزائیں نہ ہوتیں تو ہر شخص اس کی رحمت کے نام پر جو چاہتا انجام دیتا۔(بحوالہ۔ مجمع البیان ص ۲۷۸ جلد ۵ و ۶ زیر بحث آیت کے ذیل میں، تفسیر قرطبی جلد ۶ ص ۳۱۴)۔ یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ جو لوگ گناہ انجام دیتے ہوئے بڑے غرور سے کہتے ہیں کہ ”خدا کریم ہے“ درحقیقت ان ہوں نے خدا کے کرم پر بھروسہ نہیں کیا وہ جھوٹ بولتے ہیں اور اصل میں وہ پروردگار کی سزا اور عذاب سے بے اعتنائی کرتے ہیں۔
پھر بہانہ سازی
Tafsīr Nemūna · Vol. 2گذشتہ آیات میں کچھ اشارہ مسئلہٴ توحید کے متعلق کیے گئے ہیں اور ایک اشارہ مسئلہ ”معاد" کی طرف کیا گیا ہے۔ اس کے بعد زیر بحث آیت میں ہٹ دھرم مشرکین کی طرف سے ”نبوت“ کے بارے میں ایک اعتراض بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: کفار کہتے ہیں: اس کے پروردگار کی طرف سے اس پر کیوں کوئی معجزہ اور نشانی نازل نہیں ہوئی(وَیَقُولُ الَّذِینَ کَفَرُوا لَوْلاَاُنزِلَ عَلَیْہِ آیَةٌ مِنْ رَبِّہِ)۔ واضح ہے کہ پیغمبرؐ کی ذمہ داریوں میں سے ایک یہ ہے کہ اپنی حقانیت کی سند کے طور پر اور وحی الہٰی سے اپنے تعلق کے ثبوت میں معجزات پیش کرے اور متلاشیانِ حق نبوت کی دعوت میں شک و تردید کے موقع پر حق رکھتے ہیں کہ معجزے کا مطالبہ کریں لیکن اگر نبوت کے دلائل دوسرے طریقے سے آشکار اور واضح ہوں تو پھر وہ حق نہیں رکھتے لیکن ایک نکتہ کی طرف بھرپور توجہ کرنا چاہئیے کہ مخالفین ِ انبیاء ہمیشہ حسنِ نیت کے حامل نہیں ہوتے تھے۔ معجزات حق معلوم کرنے کے لیے طلب نہیں کرتے تھے بلکہ ہٹ دھرمی اور حق کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنے کے لیے بھی ہر وقت معجزے اور عجیب و غریب خارق ِ عادت کا تقاضا کرتے تھے۔ ایسے معجزات کہ جنہیں ”معجزات ِ اقتراحی“ کہا جاتا ہے ہرگز کشفِ حقیقت کے لیے نہیں تھے۔ اسی لیے انبیاء ان کا تقا ضا تسلیم نہیں کر تے تھے۔ درحقیقت ان ہٹ دھرم کفار کا یہ خیال تھا کہ پیغمبر (ص) کا دعویٰ ہے کہ میں ہر چیز انجام دینے پر قادر ہوں اور معجزہ گر ہوں اور یہاں بیٹھا ہوں جو شخص بھی کسی معجزے کا تقاضا کرے گا وہ پیش کرودوں گا۔ لیکن انبیاء یہ حقیقت بیان کرکے ایسے لوگوں کی خواہشات ٹھکرادیتے تھے کہ معجزات خدا کے ہاتھ میں ہیں اوراس کے حکم سے انجام پاتے ہیں اور ہماری ذمہ داری لوگوں کی تعلیم و تربیت ہے۔ اسی لیے زیر بحث آیت میں ہے کہ خدا تعالیٰ اس گفتگو کے بعد فرماتا ہے: اے پیغمبر تو ُتو صرف ڈرانے والا ہے اور ہر قوم و ملت کے لیے ہادی و رہنما ہوتا ہے (اِنَّمَا اَنْتَ مُنذِرٌ وَلِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ)۔
دو سوال اور ان کے جواب
۱۔ کافروں کا جواب کیسے ہوا؟ سوال پیدا ہوا کہ ”إنَّمَا اَنْتَ مُنذِرٌ وَلِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ“کس طرح کافروں کی معجزہ طلبی کا جواب ہو سکتا ہے۔ جو بات مندرجہ بالا سطور میں کہی گئی ہے اس کی طرف توجہ دینے سے سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے۔ کیونکہ پیغمبر ایک ایسی شخصیت نہیں کہ ہر تقاضے، ہر مقصد اور ہر مراد کے لیے معجزہ ایجاد کر دے۔پہلے تو اس کی ذمہ دای ہے ”انذار“ اور انہیں ڈرانا جو بے راہ چلتے ہیں اور صراط مستقیم کی دعوت دینا۔ البتہ جس مقام پر انذار اور ڈرانے کی تکمیل کے لیے اور گمراہوں کی صراط مستقیم پر لانے کے لیے معجزے کی ضرورت ہو مسلم ہے کہ پیغمبر کوتاہی نہیں کرے گا۔ البتہ ان ہٹ دھرم لوگوں کے جواب میں ہرگز اس کی ایسی کوئی ذمہ داری نہیں جو بالکل راستے پر نہیں آتے۔ دراصل قرآن کہتا ہے کہ یہ کفار پیغمبر کی اصلی ذمہ داری بھول چکے ہیں اور وہ ہے انذار، ڈرانا اور خدا کی طرف دعوت دینا اور انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ اس کی بنیادی ذمہ داری معجزہ دکھانا ہے۔ ۲۔”لکل قوم ھاد“ سے کیا مراد ہے؟ کچھ مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ دونوں صفات”منذر“ ہادی“اور پیغمبر اکرم کی طرف لوٹتی ہیں۔ ان کے خیال میں دراصل یہ جملہ یوں ہے: انت منذر و ھاد لکل قوم تو ہر قوم اور ہر گروہ کے لیے ڈرانے والا اور ہادی ہے۔ لیکن یہی تفسیر مندر جہ بالا آیت کے ظاہرکے خلاف ہے کیونکہ واوٴ نے ”لکل قوم ھاد“ کو”انما انت منذر“سے جدا کر دیا ہے۔ ہا ں البتہ اگر لفظ ”ھاد“ ”لکل قوم“ سے پہلے ہوتا تو یہ معنی پورے طور پر قابلِ قبول تھا لیکن ایسانہیں ہے۔ کچھ مفسرین کا خیال ہے کہ یہاں مقصد یہ تھا حق کی طرف دعوت کرن ے والوں کی دو قسمیں بیان کی جائیں۔ پہلی قسم ان کے دعوت کرنے والوں کی جو انذار کریں اور ڈرائیں اور دوسری قسم ان دعوت کرنے والوں کی جو ہدایت کریں۔ حتماً آپ سوال کریں گے کہ ”انذار“ اور”ہدایت“میں کیا فرق ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ”انذار“ اس لیے کہ گمراہی اور بے راہ روی سے راستے کی طرف پلٹا یا جائے اور صراطِ مسقتیم پر پہنچایا جائے لیکن ”ہدایت“ اس لیے ہے کہ لوگوں کو راستے پر آجانے کے بعد آگے لے جایا جائے۔ حقیقت میں ”منذر“”علت محدثة“ یعنی ایجاد کرنے والے سبب“ کی طرح ہے اور ”ہادی“ ”علت مبقیة“ یعنی باقی رکھنے والے اور آگے لے جانے والے سبب“ کی مانند ہے اور یہ وہی چیز ہے جسے ہم ”رسول“ اور ”امام“ سے تعبیر کرتے ہیں۔ رسول ِ شریعت کی بنیاد رکھتا ہے اور امام شریعت کا محافظ اور نگہبان ہے (اس میں شک نہیں کہ دیگر مواقع پر خود ذاتِ پیغمبرپر لفظ ”ہادی“ کا اطلاق ہوا ہے لیکن زیر بحث آیت میں ”منذر“ کے ذکر کے قرینے سے ہم سمجھتے ہیں کہ ”ہادی“ سے یہاں مراد وہ شخص ہے جو راہ پیغمبر کو جاری وساری رکھے اور اس کی شریعت کا محافظ و نگہبان ہو)۔ متعدد روایات کہ جو پیغمبر اسلامؐ سے مروی ہیں اور شیعہ سنی کتب میں موجود ہیں ان میں آپ نے فرمایا ہے کہ: میں منذر ہوں اور علی ہادی ہیں۔ یہ روایات مندرجہ بالا تفسری کی مکمل طور پر تائید کرتی ہیں۔ چند ایک روایات ذیل میں پیش کی جاتی ہیں۔ اسی آیت کے ذیل میں فخر الدین رازی ابن عباس سے نقل کرتے ہیں: وضع رسول اللہ یدہ علی صدرہ فقال انا المنذر، ثم اوماٴ الی منکب علی (ع) و قال انت الھادی بک یھتدی المھتدون من بعدی رسول اللہ نے اپنا ہاتھ اپنے سینہ پر مارا اور فرمایا: میں منذر ہوں۔ پھر علی کے کندھے کی طرف اشارہ کیا اور فرمایاتو ہادی ہے اور تیرے ذریعے میرے بعد ہدایت پانے والے ہدایت پائیں گے۔:(بحوالہ تفسیر کبیر فخر رازی جلد ۱۹ ص۱۴۔) یہ روایت اہل سنت کے مشہور عالم علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں اسی طرح علامہ ابن صباغ مالکی نے ”فصول المہمہ“ میں، گنجی شافعی نے کفایة الطالب میں، طبری نے اپنے تفسیر میں، ابو حیان اندلسی نے اپنی تفسیر ”بحر المحیط“ میں، علامہ نیشاپوری نے اپنی تفسیر میں اور اسی طرح دیگر بہت سے علماء نے نقل کی ہے ۲)حموینی جو اہل سنت کے مشہور عالم ہیں اپنی کتاب”فرائد السمطین“ میں ابو ہریرہ اسلمی سے اس طرح نقل کرتے ہیں: ان المراد بالھادی علی (ع) ہادی سے مراد حضرت علی (ع) ہیں ۳) ”حبیب السیر“ کے مولف میر غیاث الدین اپنی کتاب کی دوسری جلد ص۱۲ پر اس طرح لکھتے ہیں: قد ثبت بطرق متعددہ انہ لما نزل قولہ تعالیٰ ”انما انت منذر و لکل قوم ھاد“ قال لعلی ”انا المنذر و انت الھادی بک یا علی یھتدی المھتدون من بعدی“۔ متعدد طریق سے نقل ہوا ہے کہ جب آیت ”انما انت منذر و لکل قوم ھاد“ نازل ہوئی تو پیغمبر اکرمؐ نے حضرت علی (ع) سے فرمایا:”میں منذر ہوں اور تو ہادی ہے اور میرے بعد ہدایت پانے والوں کی تیرے ذریعے ہدایت ہو گی۔“ آلوسی نے ”روح المعانی“ میں، شبلنجی نے”نور الابصار“ میں اور شیخ سلیمان قندوزی نے ”ینابع المودة“ میں یہی حدیث انہیں الفاظ میں یا اس کے قریب قریب الفاظ میں نقل کی ہے۔ اکثر روایات میں اس حدیث کے راوی اگرچہ ابن عباس ہیں تا ہم یہ روایت ابن عباس میں منحصر نہیں ہے بلکہ حموینی کی نقل کے مطابق خود حضرت علی (ع) سے بھی مروی ہے، آپ (ع) فرماتے ہیں: المنذر النبی و الھادی رجل من بنی ھاشم یغنی نفسہ منذر پیغمبرؐ ہیں ہادی بنی ہاشم میں سے ایک شخص ہے کہ اس سے مراد خود آپ کی ذات ہے۔ (مزید وضاحت کےلیے "احقاق الحق' جلد ۳، ص ۸۷ سے بعد جیسی نفیس کتاب اور مختلف شیعہ، سنی حضرات کی تفاسیر کی طرف رجوع کریں۔) اس حدیث میں اگرچہ مسئلہ ولایت اور خلافتِ بلا فصل کی تصریح نہیں کی گئی تا ہم اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ہدایت اپنے وسیع معنی کے لحاظ سے حضرت علی (ع) میں منحصر نہ تھی بلکہ تمام سچے علماء اور رسول اللہ کے خاص اصحاب یہ کام انجام دیتے تھے، معلوم ہوتا ہے کہ ”ہادی“ کے طور پر حضرت علی (ع) کی تعارف آپ کے خاص امتیاز اور خصوصیت کی وجہ سے ہے۔ آپ (ع) بہترین اور افضل ترین ہادی کے مصداق ہیں اور اس قسم کامطلب ولایت اور خلافتِ پیغمبر سے جدا نہیں ہو سکتا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
خدا کا بے پایاں علم
Tafsīr Nemūna · Vol. 2ان آیات میں پروردگار کی کچھ صفات بھی ہیں اور یہ آیات توحید اور معاد کی بحث کی تکمیل بھی کرتی ہیں۔ یہاں پروردگار کے وسیع علم اور ہر چیز کے بارے میں اس کی آگاہی کے متعلق گفتگو ہے۔ وہی علم جو نظام آفرینش، عجائباتِ خلقت اور دلائلِ توحید کا سرچشمہ ہے۔ وہی علم جو قیامت اور اس کی عظیم عدالت کی بنیاد ہے۔ ان آیات میں علم کے دونوں پہلووں (نظام آفرینش کا علم اور بندوں کے اعمال کا علم) کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: خدا ان جنینوں (جو بچے شکم مادر میں ہوتے ہیں) سے آگاہ ہے کہ جنہیں ہر عورت اور ہر مادہ جانور(اپنے شکم میں) اٹھائے ہوتا ہے (اللهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ کُلُّ اُنثَی)۔ اور اسی طرح انہیں بھی جانتا ہے جنہیں رحم وقت مقرہ سے پہلے جَن دیتے ہیں (وَمَا تَغِیضُ الْاَرْحَامُ)۔ (تشریحی نوٹ: ”تغیض“، ”غیض“ کے مادہ سے ہے۔ یہ اصل میں بہنے والی چیز کا نگل جانے اور اسے ٹھہرا لینے کے معنی میں ہے اسی لیے یہ لفظ نقصان اور فساد کے معنی میں بھی آیاہے۔”غیض“ ایسے مکان اور جگہ کو کہا جاتا ہے جس میں پانی کھڑا ہو جائے اور اسے نگل جائے ”لیلة غائضة“تاریک رات کے معنی میں ہے (یعنی ایسی رات جو سارا نور نگل گئی ہو)۔ ۱ور یونہی ان سے باخبر ہے جنہیں رحم وقت مقررہ سے زیادہ روک رکھتے ہیں (وَمَا تَزْدَادُ)۔ مندرجہ بالا تین جملوں کی تفسیر کے بارے میں مفسیرن میں بہت اختلاف ہے۔ جیسا کہ ہم نے سطور بالا میں کہا ہے بعض مفسرین حمل کی تین قسموں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں۔ یعنی کبھی وقت مقررہ پر پیدا ہوتا ہے، کبھی وقت مقررہ سے پہلے (گویا درکار وقت کو اپنے اندر جذب کرلیتا ہے) اور کبھی وقت مقررہ کے بعد۔ خدا ان تمام کو جانتا ہے۔ وہ جنین کی تاریخ تولد اور لمحہٴ ولادت سے بے کم و کاست آگاہ ہے اور یہ ایسے امور میں سے ہے جسے کوئی شخص اورکوئی مشینری حتماًمعین نہیں کرسکتی۔ یہ علم پروردگار کی ذات پاک سے مخصوص ہے اور اس کی دلیل بھی واضح ہے کیونکہ رحمتوں اور جنینوں کی استعداد بالکل مختلف ہوتی ہے اور کوئی شخص بھی ان اختلافات سے حتماً اور کاملاً آگاہ نہیں ہے۔ بعض دیگر مفسرین نے کہا ہے کہ یہ تین جملے حمل کی مختلف حالتوں کی طرف اشارہ ہیں۔ پہلا جملہ خود جنین کی طرف اشارہ ہے کہ رحم اسے محفوظ کرلیتا ہے۔ دوسرا جملہ خونِ حیض کی طرف اشارہ ہے جو رحم میں گرتا ہے اور جنین اسے جذب کرلیتا ہے، اسے چوستا ہے اور اسے نگل لیتا ہے اور تیسرا جملہ اضافی خون کی طرف اشارہ ہے جو حمل کے دنوں میں کبھی کبھار باہر گرتا ہے یا ولادت کے وقت یاس کے بعد رحم سے الگ ہوتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر المیزان میں آیت کی اس تفسیر کی تائید کے ضمن میں صاحبِ تفسیر کی تائید کے ضمن میں صاحبِ تفسیر فرماتے ہیں کہ آئمہ اہل بیت (ع) کی بعض روایات اس تفسیر کی تائید کرتی ہیں اور جو کچھ ابن عباس سے نقل ہو اہے وہ بھی حتماً اسی معنی پر منطبق ہوتا ہے۔لیکن جو روایات تفسیر نو ر الثقلین میں اس آیت کے ذیل میں آئمہ اہل بیت (ع) سے نقل ہوئی ہیں وہ زیادہ تر اسی پہلے معنی کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ جو ہم متن میں ذکر کر چکے ہیں) اس آیت کی تفسیر کے سلسلہ میں دیگر احتمالات بھی ذکر کیے گئے ہیں کہ جن میں سے کوئی بھی مختلف ہو نے کے باوجود دوسرے سے متضاد نہیں ہے اور ہو سکتا ہے یہ آیت ان تمام تفاسیر کی طرف اشارہ ہو اگرچہ ظاہری مفہوم وہی ہے جو پہلی تفسیر کے ضمن میں پیش کیا گیا ہے۔ کیونکہ لفظ ”تحمل“ جنین کے اٹھانے کا معنی دیتا ہے اور اس کے قرینہ سے ”تغیض“ اور ”تزداد“ کے الفاظ دورانِ حمل کی کمی اور بیشی کی طرف اشارہ ہیں۔ ایک حدیث جو امام محمد باقرعلیہ السلام یا امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے، اس طرح ہے: الغیض کل حمل دون تسعة اشھر، وما تزداد کل شیء یزداد علی تسعة اشھر۔ ”غیض“ ہر اس حمل کو کہتے ہیں جس کی مدت ۹ ماہ سے کم ہو اور ”ماتزداد“ ہر وہ چیز ہے جو ۹ ماہ سے زیادہ ہو۔ اس حدیث کے آخر میں فرماتے ہیں: کلماراٴت المراة الدم الخالص فی حملھا فانھا تزداد و بعدد الایام التی زاد فیھا فی حملھا من الدم جب عورت حمل کی حالت میں خالص خون دیکھے تو اس خون کے ایام کی تعداد کے برابر حمل کی مدت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔(بحوالہ: نور الثقلین جلد ۲ ص ۴۸)۔ اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے: ہر چیز خداکے ہاں معین مقدار کی حامل ہے (وَکُلُّ شَیْءٍ عِنْدَہُ بِمِقْدَارٍ)۔کہیں یہ خیال نہ ہو کہ مدت حمل کی یہ کمی بیشی بغیر کسی حساب کتاب کے اور بغیر کسی سبب کے ہے بلکہ اس مدت کی ہر گھڑی اور ہر لحظہ نپا تُلا ہے۔ بعد والی آیت درحقیقت گذشتہ آیت میں بیان کی گئی بات کی دلیل ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: خدا غیب و شہود (اور پنہاں و آشکار) سب کو جانتا ہے (عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشّھَادَةِ)۔ غیب و شہود کے بارے میں اس کی آگاہی اس بناء پر کہ ”وہ بزرگ و بر تر ہے، ہر چیز کے لیے متعال ہے اور ہر چیز پر مسلط ہے“ اسی بناء پر وہ ہر جگہ حاضر ہے اور کوئی چیز اس کی نگاہِ علم سے پوشیدہ نہیں ہے (الْکَبِیرُ الْمُتَعَالِ)۔ اس بحث کی تکمیل کے لیے اور اس کے علم بے پایاں کے بارے میں تاکید کے لیے مزید فرمایا گیا ہے ”خدا کے لیے ان لوگوں میں کوئی فرق نہیں کہ جو اپنی بات چھپاتے ہیں اور وہ جو آشکار کرتے ہیں وہ سب کچھ جانتا اور سنتا ہے (سَوَاءٌ مِنْکُمْ مَنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَھَرَ بِہِ)۔ نیز اس کے لیے ان لوگوں میں کچھ فرق نہیں کہ جو خفیہ طور پر رات کی تاریکی میں اور ظلمت کے پردوں میں قدم اٹھاتے ہیں اور وہ کہ جو آشکارا روزِ روشن میں اپنے کارو بار کے لیے نکلتے ہیں (وَمَنْ ھُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّیْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّھَارِ)۔ (تشریحی نوٹ: ”سارب“ اصل میں ”سرب“ (بر وزن”ضرر“) کے مادہ سے ”جاری پانی“ کے معنی میں ہے۔ بعد از اں لفظ اس انسان کے بارے میں استعمال ہونے لگا جو کسی کام کے پیچھے چل رہا ہے)۔ اصولی طور پر اس شخص کے لیے نور و ظلمت، تاریکی و روشنی اور غیب و شہود کوئی مفہوم نہیں رکھتے جو ہر جگہ حاضر و ناضر ہے۔ وہ یکساں طور پر ان سب سے آگاہ اور با خبر ہے۔
چند اہم نکات
۱۔ قرآن اور جنین شناسی: قر آ ن مجید میں بار ہا جنین، اس کے عجائب و غرائب اور نظام کی طرف توحید، خدا شناسی اور حضرتِ حق کے علم بے پایاں کی ایک دلیل کے طور پر اشارہ ہوا ہے۔ البتہ جنین شناسی ایک بالکل نیا علم ہے۔ گذشتہ زمانے میں علماء اور سائنسداں جنین اور اس کے مختلف مراحل کے بارے میں بہت محدود اطلاعات رکھتے تھے لیکن علم اور سائنس کی پیش رفت کے ساتھ اس علم میں تیزی سے غیر معمولی ترقی ہوئی ہے اور اس خاموش اور بے آواز دنیا کے بہت سے اسرار و عجائب منکشف ہوئے ہیں۔ اس طرح سے کہا جا سکتا ہے کہ جنین کی خلقت، اس کے تحول اور تکامل میں خدا شناسی کی ایک دنیا پوشیدہ ہے۔ اس موجود کی کون خبر پا سکتا ہے کہ جو ہر کسی کی دسترس سے باہر ہو قرآنی الفاظ میں جو ”ظلمات ثلاث“ (تین تاریکیوں) میں موجود ہواور جس کی زندگی انتہائی ظریف اور دقیق ہو۔ کو ن اسے ضروری مقدار میں غذا بہم پہنچا سکتا ہے اور کون تمام مراحل میں اس کی ہدایت کر سکتا ہے۔ مندرجہ بالا آیات میں جب خدا فرماتا ہے کہ ”خدا جانتا ہے کہ ہر مادہ جانور کے رحم میں کیا ہے“ تو اس کا یہ مفہوم نہیں کہ صرف اس کی جنسیت (یعنی نر یا مادہ ہونے) کے بارے میں آگاہ ہے بلکہ اس کی تمام مشخصات، استعداد، ذوق اور طاقت کہ جو بالقوہ اس میں پوشیدہ ہے،کے متعلق آگاہ ہے اور یہ وہ امور ہیں جن کے بارے میں کوئی شخص کسی بھی ذریعے سے آگاہی حاصل نہیں کر سکتا۔ اس بناء جنین میں حساب شدہ نظاموں کی موجودگی اور دقیق و پیچیدہ ارتقاء میں اس کی راہبری ایک عالم و قدار مبداء کے بغیر ممکن نہیں۔ ۲۔ ہر چیز کی ایک حد اور مقدار ہے: قرآن مجید کی مختلف آیات میں ہے کہ ہر چیز کی ایک حد ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتی۔ سورہٴ طلاق آیہ ۳ میں ہے: قد جعل اللہ لکل شیء قدراً خدا انے ہر چیز کے لیے ایک مقدار معین کی ہے۔ سورہ حجر آیہ ۲۱ میں ہے: و ان کان من شیء عندہ نا خزائنہ و ما ننزلہ الا بقدر معلوم ہر چیز کے خزانے ہمارے پاس ہیں اور ہم ایک معین مقدار کے سوا نازل نہیں کرتے۔ زیر بحث آیات میں بھی ہم نے پڑھا ہے: وکل شیء عندہ بمقدار اور تمام چیزوں کی اس کے یہاں مقدار ہے۔ یہ سب آیات اس امر کی طرف اشارہ ہیں کہ اس عالم کی کوئی چیزحساب کتا ب کے بغیر نہیں ہے یہاں تک کہ طبیعی دنیا میں جن موجودات کو ہم بغیر حساب کتاب کے فرض کرتے ہیں وہ سب دقیق اور جچا تلا حساب رکھتی ہیں چاہے ہم اس سے جانیں یا نہ جانیں۔ اصولی طو ر پر خدا کے حکیم ہو نے کا بھی اس کے علاوہ کوئی مفہوم نہیں کہ ہر چیز کی خلقت میں ایک پروگرام، حد اور مقدار معین ہوتی ہے۔ جن اسرار ِ خلقت کو ہم نے آج علوم کے ذریعے معلوم کیا ہے وہ اس حقیقت کو پورے طور پر تاکید کرتے ہیں۔ مثلاً انسان کا خون کہ جو اس کے وجود کی زندگی کا سب سے اہم مادہ ہے اور جو تمام ضروری مواد کو انسانی بدن کے تمام خلیوں تک پہنچانے کا ذمہ دار ہے، بیس سے زیادہ عناصر کا مرکب ہے ان عناصر کا تناسب اور کیفیت اس قدر مہم دقیق اور جچی تلی ہے کہ اس میں تھوڑے سے تغیر سے بھی انسانی سلامتی خطرے میں پڑجاتی ہے۔یہی وجہ ہے بدن کی خرابیوں کو پہچاننے کے لیے فوراً خون ٹیسٹ کرتے ہیں اور شوگر، چربی اور اورہ، آئرن اور دیگر اجزائے ترکیبی کا اندازہ لگایا جاتا ہے اور ان اجزا کی کمی بیشی سے فوراً بدن کی بیماریوں کے علل و اسباب معلوم کرلیے جاتے ہیں۔ ان کا خون ہی ایسی دقیق ترکیب نہیں رکھتا بلکہ یہی صورت تمام عالم ہستی کی ہے۔ اس نکتے کی طرف توجہ کرنے سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ کبھی کبھار وہ چیزیں ہم عالم ہستی کی بے نظمیاں خیال کرتے ہیں اور دراصل ہمارے علم کی نارسائی اور ناپختگی سے مربوط ہیں۔ ایک موحد اور سچا خدا پرست عالم کے بارے میں کبھی بھی ایسا تصور نہیں کر سکتا اور علوم کی تدریجی پیش رفت اسی حقیقت کی گواہ ہے۔ اس گفتگو سے ہم یہ سبق بھی سیکھ سکتے کہ انسانی معاشرہ جو پورے نظام ہستی کا ایک حصہ ہے اگر صحیح زندگی بسر کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہئیے کہ ”شیء عندہ بمقدار“ کا اصول اس کے سارے وجود پر حکمران ہو وہ ہر قسم کے افراط و تفریط سے بچے اور ہر اس کام سے پر ہیز کرے جو بغیر کسی حساب کتاب کے ہو اور اسکے تمام اجتماعی اصول جچے تلے ہونے چاہئیں۔ ۳۔ خداکے لیے غیب و شہود برابر ہیں:زیر بحث آیات میں یہ بات ذکر ہوئی ہے کہ غیب و شہود بار گاہ خدا وندی میں واضح اور روشن ہے۔ بنیادی طور پر غیب و شہود دو نسبتی مفہوم ہیں کہ جو ایسے موجود کے بارے میں استعمال ہوتے ہیں جس کا علم اور ہستی محدود ہوں۔ مثلاً ہم جو حواس خمسہ کے حامل ہیں تو جو کچھ ہماری آنکھوں، قوتِ سماعت اور دیگر حواس کی پہنچ کے اندر ہے وہ ہمارے ”شہود“ ہے اور جو کچھ ہماری دید و شنید سے باہر ہے ہمارے لیے وہ ”غیب ہے“۔ فرض کیا اگر ہماری نگاہ کی قدرت لامحدود ہوتی، ہم اشیاء کے ظاہر و باطن کو دیکھ سکتے اور ذرات عالم کے اندے ہماری نظر اتر جاتی تو تمام چیزیں ہمارے لیے شہود“ ہو جاتیں۔ خدا کی ذات پا ک کے علاوہ باقی تمام چیزیں چونکہ محدود ہیں لہٰذا ان تما م چیزوں کے لیے غیب و شہود موجود ہے لیکن ذات الہٰی چونکہ لامحدود ہے اور ہر جگہ موجود ہے لہٰذا اس کے لیے تمام چیزیں شہود ہیں اور اس کی ذاتِ پاک کے برے میں ”غیب“کوئی مفہوم نہیں رکھتا۔ اگر ہم کہتے ہیں کہ خدا ”عالم الغیب و الشہادة“ ہے تو اس کا معنی یہ ہے کہ جو کچھ ہمارے لیے غیب یا شہود ہے اس کے لیے یکساں اور شہود ہے۔ اگر ہم روشنی میں اپنی ہتھیلی کی طرف دیکھیں تو کیا ممکن ہے کہ جو کچھ اس میں ہو ہم اس سے بے خبر رہ جائیں۔ عاللم ہستی علم خدا کے سامنے اس بھی کئی درجے زیادہ واضح و آشکار ہے۔ ۴۔ علمِ خدا کی طرف توجہ کے تربیتی آثار: یہ جو ہم مندرجہ بالا آیات میں پڑھتے ہیں کہ خداپنہاں و آشکار چیزوں کو، رات اور دن کی آمدو رفت کو تمہاری تمام حرکات کو یکسا ں طور پر جانتا ہے اور اس کے علم کی بارگاہ میں یہ سب آشکار ہیں۔ اس حقیقت پر اگر ہم حقیقی ایمان رکھتے ہوں اور یہ احساس رکھتے ہوں کہ وہ ہمارے اوپر ہر وقت نگران ہے تو اس سے ہماری روح، فکر، گفتار اور کردار میں ایک بہت گہرا انقلاب پیدا ہو جائے گا۔ ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نے امام جعفر صا دق علیہ السلام ایک سوال کیا: آپ کی زندگی کا پروگرام کیا ہے؟ آپ نے چند امور بیان فرمانے کے بعد فرمایا: علمت ان اللہ مطلع علی فاستحییت میرا ایک پروگرام یہ ہے کہ میں نے جان لیا ہے کہ خدامیرے تمام کاموں سے آگاہ ہے اور ان کے بارے میں باخبر ہے لہٰذا میں اس کی نافرمانی سے حیا کرتا ہوں۔ تاریخ اسلام میں اور حقیقی مسلمانوں کی روز مرہ زندگی میں ہم اس حقیقت کے بہت سے جلوہ مشاہدہ کرتے ہیں۔ کہتے ہیں ایک باپ بیٹا ایک باغ میں پہنچے۔ باپ باغ کے مالک کی اجازت کے بغیر پھل توڑنے کے لیے درخت پر چڑھ گیا۔ اس کا بیٹا جو با معرفت نوجوان تھا کہنے لگا: ابّا ! نیچے اتر آوٴ۔ باپ پریشان ہوا اور ڈرا۔ اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے فوراً نیچے اتر آیا۔ اس نے پوچھا: مجھے نظر نہیں آیا، کون تھا جو مجھے دیکھ رہا تھا ؟ لڑکے نے کہا تمہارے اوپر سے۔ اس نے اوپر کی کی طرف دیکھا تو اسے کوئی چیز نظر نہیں آئی۔ بیٹے نے کہا، میری مراد خدا ہے، جو ہم سب سے مافوق اور ہم سب پرمحیط ہے، کیسے ممکن ہے کہ ایک انسان کے دیکھنے سے تو تمہیں خوف آتا ہے لیکن خدا جو تمہیں ہر حالت میں دیکھ رہا ہے اس سے تجھے کوئی خوف نہیں آتا۔ یہ کیا ایمان ہے
غیبی محافظ
Tafsīr Nemūna · Vol. 2گذشتہ آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ خدا علم الغیب و الشہادة ہونے کی بناء پر لوگوں کے پنہاں اور آشکار سے باخبر ہے اور وہ ہر جگہ حاضر و ناظر ہے۔ زیر بحث آیت میں مزید اشاد فرمایا گیا ہے: اس کے علاوہ کہ خدا اپنے بندوں کا محافظ اور نگہبان ہے ”کچھ مامورین ہیں کہ جو پے در پے آگے اور پیچھے سے حوادث سے انسان کی حفاظت کرتے ہیں“ (لَہُ مُعَقِّبَاتٌ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہِ یَحْفَظُونَہُ مِنْ اَمْرِ اللهِ)۔ (تشریحی نوٹ: مفسرین میں اس سلسلے میں اختلاف ہے کہ ”لہ“ کی ضمیر کس کی طرف لوٹتی ہے۔ مشہور تفسیر یہی ہے کہ یہ انسان کی طرف لوٹتی ہے جس کی طرف قبل کی آیت میں اشارہ ہوا ہے۔ بعض نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ یہ پیغمبر یا خدا کی طرف لوٹتی ہے لیکن یہ احتمال ذیل کی آیت سے مناسبت نہیں رکھتا۔ غورکیجئے گا)۔ لیکن اس بناء پر کہ کوئی یہ اشتباہ نہ کرے کہ یہ حفاظت و نگہبانی بلا مشروط ہے اور انسان کہیں اپنے آپ کو ہر گڑھے میں نہ گرا دے یاکہیں انسان ہر طرح کے گناہ کا مرتکب نہ ہونے لگے اور اس طرح اپنے آپ کو عذاب کا سزا وار بنا کر بھی توقع رکھے کہ خدا اور اس کے مامور محافظین اس کی حفاظت کریں، مزید فرمایا گیا ہے: خداکسی قوم و ملت کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے آپ میں تبدیلی پیدا نہ کرے (إِنَّ اللهَ لاَیُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی یُغَیِّرُوا مَا بِاَنفُسِھِمْ)۔دوبارہ اس لیے کہ کوئی غلط فہمی نہ ہو کہ انسانی حفاظت کے مامورین ہونے کے باوجود مجازات و سزا اور خدائی امتحانات کا کیا معنی ہے، آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: جس وقت خدا کسی قوم کے لیے برائی کا رادہ کرتا ہے تو پھر دفاع اور بازگشت کی کوئی باگشت کی کوئی صورت نہیں ہے (وَإِذَا اَرَادَ اللهُ بِقَوْمٍ سُواً فَلاَمَرَدَّ لَہُ)۔ ” اور خدا کے علاوہ ان کو کوئی والی و ناصر اور یارو مدد گار نہیں ہو سکتا“ (وَمَا لَھُمْ مِنْ دُونِہِ مِنْ وَالٍ)۔ اسی بناء پر جب کسی قوم کے لیے خدا کی طرف سے عذاب، سزا اور نابودی کا فرمان صادر ہو جاتا ہے تو محافظین اور نگہبان الگ ہو جاتے ہیں اور انسان کو حوادث کے سپرد کر دیتے ہیں۔
چند اہم نکات
۱۔ ”معقبات“ کیا ہیں؟ جیسا کہ طبرسی نے مجمع البیان میں اور بعض دوسرے بزرگ مفسرین نے کہا ہے ”معقبات“ جمع ہے ”معقبہ“کی جب خود ”معقبہ“ بھی ”معقب“ کی جمع ہے اور یہ اس گروہ کو کہتے ہیں جس کے افراد پے در پدے ایک دوسرے کی نیابت میں کسی کا م کے لیے نکلیں۔ اس آیت کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ خدا تعالےٰ نے کچھ فرشتوں کی یہ ڈیوٹی لگائی ہے کہ وہ رات دن باری انسان کے پاس آئیں اور آگے اور پیچھے سے اس کی حفاظت کریں۔ بے شک انسان اپنی زندگی میں بہت سی آفات و بلیات سے دوچار ہے۔ اندرونی و بیرونی حوادث، طرح طرح کی بیماریاں، جرائم اور مختلف قسم کے حادثات و خطرات کہ جو زمین و آسمان سے ابھر تے ہیں انسان کو گھیر ے ہوئے ہیں۔ خصوصاًبچپن کے زمانے میں جب گردو پیش کی کیفیتوں سے انسان بہت کم آگاہ ہوتا ہے، اسے کوئی تجربہ نہیں ہوتا، ہر قدم پر اسے کوئی نہ کوئی خطرہ در پیش ہوتا ہے اور کبھی تو انسان تعجب کرتا ہے کہ ان تمام حوادث سے بچہ کس طرح بچ نکلتا ہے اور بڑا ہو جاتا ہے خصوصاًایسے گھر انوں میں جہاں ماں باپ مسائل سے بالکل آگاہ بھی نہیں ہوتے یا ان کے پاس وسائل نہیں ہوتے۔ خاص طور پر دیہات میں پلنے بڑھنے والے وہ بچے جو محرومیوں کا شکارہوتے ہیں اور بیماری اور خطرات کے عوامل میں گھرےہوتے ہیں۔ اگر ان مسائل پر ہم حقیقی طور پر غور وفکر کریں تو ہم محسوس کریں گے کہ ایک محافظ طاقت ہے کہ جو ان حوادث سے ہماری حفاظت کرتی ہے اور سپر اور ڈھال کی طرح آگے اور پیچھے سے ہماری محافظ و نگہبان ہے۔ بہت سے مواقع پر انسان کو خطر ناک حادثات پیش آتے ہیں اور وہ معجزانہ طور پر ان سے بچ نکلتا ہے اس طرح سے کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ یہ سب چیزیں اتفاقی نہیں ہیں کہ بلکہ ایک محافظ طاقت اس کی نگہبانی کر رہی ہے۔ پیشوایانِ اسلام سے مروی بہت سی روایات بھی اس پر تاکید کرتی ہیں۔ ایک روایت میں امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ زیرِ بحث آیت کی تفسیر میں آپ (ع) نے فرمایا: یحفظ بامر اللہ من ان یقع فی رکی علیہ حائط او یصیبہ شیء حتی اذاجاء القدر خلوا بینہ و بینہ یدفعونہ الیٰ المقادیر و ھما ملکان یحفظانہ باللیل و ملکان من نھار یتعاقبانہ حکم خدا سے انسان کی حفاظت ہوتی ہے، کنویں میں گرنے سے یا دیوار اوپر آپڑ نے سے یا کوئی اور حادثہ سے مگر جب حتمی مقدرات آ پہنچیں تو محافظین ایک طرف ہو جاتے ہیں اور اسے حوادث کے سپرد کر دیتے ہیں۔ اور دو فرشتے انسان کی رات کو حفاظت کرتے ہیں اور (ان کے علاوہ) فر شتے دن کے وقت باری باری ذمہ داری پوری کرتے ہیں۔(بحوالہ تفسیر بر ہان جلد ۲ ص ۳۸۳)۔ ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: مامن عبد الا و معہ ملکان یحفظانہ فاذا جاء الامر من عند اللہ خلیا بینہ و بین امر اللہِ کوئی بھی ایسا بندہ نہیں کہ جس کے ساتھ دو فرشتے نہ ہوں کہ جو اس کی حفاظت کرتے ہوں لیکن جب خدا کا قطعی فرمان آپہنچا ہے تو وہ اسے حوادث کے سپرد کر دیتے ہیں۔ (بحوالہ تفسیر بر ہان جلد ۲ ص ۳۸۳)۔ (اس بناء پر وہ انسان کی حفاظت صرف ان حوادث سے کرتے ہیں جن کے بارے میں خدا کا قطعی حکم نہیں ہوتا)۔ نہج البلاغہ میں بھی حضر ت امیر المومنین علی علیہ السلام نے فرمایا: ان مع کل انسان ملکین یحفظانہ فاذا جاء القدر خلیا بینہ و بینہ یعنی ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے ہوتے ہیں کہ جو اس کی حفاظت کرتے ہیں لیکن جب حتمی مقدرات آپہنچے تو وہ اسے چھوڑ دیتے ہیں۔(بحوالہ نہج البلاغہ، کلمات قصار جملہ ۲۰۱)۔ اسی طرح نہج البلاغہ کے پہلے خطبے میں فرشتوں کی تعریف اور ان کے مختلف گروہوں کے بارے میں ہے: و منھم الحفظة لعبادہ ان میں سے ایک گروہ خداکے بندوں کا محافظ ہے۔ البتہ حسّی ذرائع سے یا طبعی علوم کے ذریعے ان فرشتوں کے وجود کے بارے میں عدم آگاہی ان کے وجود کی نفی کی دلیل نہیں ہو سکتی اور یہ بات زیر بحث آیت میں منحصر نہیں ہے بلکہ قرآن مجید اور اسی طرح دیگر مذاہب بہت سے ایسے امور کی خبر دیتے ہیں جو حس ّ انسانی سے ماوراء ہیں کہ جن کے بارے میں انسان عام ذرائع سے آگاہی حاصل نہیں کر سکتا۔ اس سے قطع نظر جیسا کہ ہم نے مندرجہ بالا سطور میں کہا ہے کہ ہماری روز مرہ کی زندگی میں ہمیں اس محافظ قوت کی واضح نشانیاں نظر آتی ہیں اور ہم محسوس کرتے ہیں کہ بہت سے تباہ کن حوادث سے ہم معجزانہ طور پر نجات حاصل کرتے ہیں کہ جن کی تفسیر عام طریقے سے نہیں ہو سکتی یا جنہیں اتفاق قرار دینا مشکل ہے۔ خود راقم نے اپنی زندگی میں اس کے نمونے دیکھے ہیں کہ جو یقینا حیرت انگیز ہیں کہ جو مجھ جیسے جلدی یقین نہ کرنے والے شخص کے لیے بھی غیر مرئی محافظ کے وجود کے لیے دلیل تھے۔ ۲۔ تبدیلی ہمیشہ خود ہمارے ہاتھو سے آتی ہے:”ان اللہ لایغیر مابقوم حتی یغیروا ما بانفسھم“ یہ جمہ قرآن میں دو مواقع پر مختصر سے فرق کے ساتھ آیاہے اس میں ایک عمومی اور کلی قانون بیان کیا گیا ہے۔ یہ ایک حیات ساز، انقلاب آفریں، اور خبر دار اور ہوشیار کرنے والا قانون ہے۔ یہ قانون اسلام میں جہاں بینی اور معاشرہ شناسی کی بنیاد ہے .....یہ قانون ہم سے کہتا ہے کہ تمہاری تقدیر ہر چیز اور ہر شخص سے پہلے خود تمہارے ہاتھ میں ہے اور قوموں کی خوش بختی و بد بختی کے سلسلے میں تبدیلی اور تغیر پہلے درجے میں خود انہی سے وابستہ ہے۔ قسمت، اقبال اتفاقات اور اوضاعِ فلکی کی تاثیر و غیرہ کوئی بھی بنیاد نہیں رکھتی۔ اساس و بنیاد یہی ہے کہ ہر شخص خود چاہے تو سر بلند اور کامیاب ہو یا اس کے علاوہ خود چاہے تو اپنے آپ کو ذلت، زبوں حالی اور شکست کے سپرد کر دے۔ یہاں تک کہ لطف الہٰی کسی ملت پر بغیر کسی مقدمہ اور تمہید کے نہیں آتا۔ بلکہ یہ ملتوں کا اپنا ارادہ، خواہش اور ان کے اندر ونی تغیرات ہیں کہ جو انہیں لطفِ خدا یا عذابِ خدا کا مستحق بناتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اسلام اجتماعی پروگرام کے ایک اہم ترین گوشے سے آگاہ کرنے والا یہ قانون ہم سے کہتا ہے کہ ہر قسم کے بیرانی تغیرات اور تبدیلیاں ملتوں اور قوموں کے اندرونی تغیرات پر منحصر ہوتی ہیں اور کسی قوم کو پیش آنے والی ہر قسم کی فتح و شکست کا سرچشمہ اس کے اندر ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ لوگ کہ جو اپنا دامن بچانے کے لیے ہر وقت ”بیرونی عوامل“ کے پیچھے پھرتے ہیں اور ہمیشہ اقتدار پرست اور استعماری طاقتوں کو اپنی بد بختی کا عامل شمار کر تے ہیں بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہیں کیونکہ اگر کسی معاشرے کے اندر ان جہنمی طاقتوں کو کوئی مر کز حاصل نہ ہو تو یہ کچھ بھی نہیں کر سکتیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان توسیع پسندوں، استعماری قوتوں اور سپرد طاقتوں کی چھاوٴنیاں اور مراکز اپنے معاشرے سے در ہم برہم کر دیں اور ان کی سر کوبی کریں تاکہ ان کے لیے نفوذ کی کوئی راہ ہی باقی نہ رہے۔ یہ طاقتیں شیطان کی مانند ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ قرآن کے بقول شیطان ان لوگوں پر دسترس حاصل نہیں کر سکتا جو”عباد مخلصین“ ہیں۔ وہ صرف ان لوگوں پر غلبہ حاصل کرتا ہے جنہوں نے اپنے وجود کے اندر شیطان کے لیے کوئی جگہ بنا رکھی ہے۔ قرآن کی اس بنیادی تعلیم کا تقاضا ہے کہ بد بختیوں اور ناکامیوں کو ختم کرنے کے لیے اندرونی انقلاب کی طرف بڑھیں۔ ایک فکری اور ثقافتی انقلاب کی طرف، ایک ایمانی اور اخلاقی انقلاب کی طرف۔ بد بختیوں کے چنگل میں گرفتاری کے وقت اپنے کمزور پہلووں کو فوراً تلاش کرنا چاہئیے۔ ہمیں اپنی روح سے کمزوری کے داغ توبہ اور حق کی طرف باز گشت کے پانی سے دھونے چاہئیں۔اس طرح ہم ایک نیا جنم لیں گے، نیا نور بصیرت ملے گا اور نئی قوتِ حرکت پیدا ہو گی اور اس کے ذریعے ہم اپنی ناکامیوں اور شکستوں کو کامیابی میں بدل سکتے ہیں۔ یہ کامیابی اس طرح سے ممکن نہیں کہ ہم اپنے کمزورپہلووں کو خود خواہی اور خود غرضی کے پردوں میں چھپا دیں اور عوامل شکست کو اپنے معاشرے کے باہر سے تلاش کرتے پھریں۔ پہلے مسلمانوں کی فتح و کامرانی اور بعد والے مسلمانوں کی شکست کے عوامل پر اب تک بہت سی کتا بیں لکھی گئی ہیں۔ ان میں سے بہت سی مباحث سنگلاخ زمین پر ہل چلانے اور بے سمت چلنے کے مترادف ہیں۔ ہمیں چاہئیے کہ کامیابی اور ناکامی کے عوامل خود مسلمانوں کے فکری، اعتقادی اور اخلاقی تغیرات میں تلاش کریں۔ خود مسلمانوں کی عملی زندگی کا مطالعہ کریں نہ کہ اس سے ہٹ کر۔ دور حاضر کے انقلابات کہ جن میں سے ایک ہماری ملت کا انقلاب ہے۔ اسی طرح اگر ہم الجزائر، افغانستان اور دیگر مقامات کی انقلابی جد و جہد کا مطالعہ کریں تو ہم ان میں واضح طور پر اس قرآنی اصل کی حاکمیت کا مشاہدہ کریں گے۔ یعنی ... سامراجی حکومتوں اورتو سیع پسند طاقتوں نے تو اپنی روش نہیں بدلی لیکن جب ہم اندر سے تبدیل ہو گئے تو ہر چیز بدل گئی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ صرف وہی رہبر اور قائد کا میاب ہوئے ہیں کہ جنہوں نے اس بنیادی قانون کے مطابق اپنی ملت کی رہبری کی ہے اور اس میں ایک انقلاب پیدا کیا ہے۔ تاریخ اسلام اور دورِ حاضر کی تاریخ اس اساسی و بنیادی اور جاو دانی و دائمی قانون کی صداقت کے شواہد سے بھری پڑی ہے کہ جن کے تفصیلی ذکر سے ہماری بحث ہمیں اس تفسیر کی روش سے دور لے جائے گی۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
عظمت الہٰی کی کچھ اور نشانیاں
Tafsīr Nemūna · Vol. 2قرآن یہاں ایک مرتبہ پھر آیاتِ توحید، عظمت ِ پروردگار کی نشانیاں اور اسرار آفرینش بیان کررہا ہے۔ عالم طبیعت میں نمودار ہونے والی مختلف قدرتوں کی نشاندہی کی گئی ہے نیز ان کے اسرار کی طرف مختصر اور پر معنی اشارے کرتے ہوئے خدا سے بندوں کو زیادہ قریب کرکے ان دلوں پر ایمان و معرفت کی نور پاشی کی گئی ہے۔ پہلے (بادلوں میں پیدا ہونے والی) بجلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: وہ وہی ہے جو تمہیں وہ بجلی دکھا تا ہے جو خوف اور امید کاباعث ہے (ھُوَ الَّذِی یُرِیکُمْ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا)۔ ایک طرف تو اس کی شعاعِ درخشاں آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے اور رعد دار آواز جو اس سے اٹھتی ہے بعض اوقات تمہیں وحشت زدہ کر دیتی ہے۔ اس سے جو آتش سوزی کے خطرات پید ا ہوتے ہیں وہ خوف و اضطراب پیدا کر دیتا ہے خصوصاً جو لوگ بیابانوں میں زندگی بسر کرتے ہیں بیابانوں سے گزرہے ہوتے ہیں انہیں اس سے بہت وحشت آتی ہے۔ دوسری طرف عموماً چونکہ ساتھ ساتھ موٹے قطروں کی بارش بھی ہوتی ہے جو بیابانوں کے تشنہ کاموں اور پیاسوں کو خوشگوار پانی بخشتی ہے اور اس سے درخت اور زراعت سیراب ہوتے ہیں لہٰذا اس سے ان کے دل میں ایک امید بھی پید اہوتی ہے اور یوں وہ خوف و امید کے حساس لمحے گزارتے ہیں۔ اس کے بعد قرآن مزیدکہتا ہے: وہ وہی ہے جو بوجھل اور پر بار بادل پیدا کرتا ہے کہ جو پیاسی زمینوں کی آبیاری کر سکتے ہیں (وَیُنْشیِءُ السَّحَابَ الثِّقَالَ)۔
رعد و برق کی بر کتیں
ہم جانتے ہیں کہ سائنسی لحاظ سے برق اس طرح سے پید اہوتی ہے کہ بادل کے دو ٹکڑے مختلف بجلی کے لحاظ سے (مثبت اور منفی پول کی صورت میں) ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں اور ان سے بالکل اس طرح سے کرنٹ پیدا ہوتا ہے جیسے بجلی کے دو تار جن میں مختلف (مثبت اور منفی فیز (Phase)کی بجلی آرہی ہو جب ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں تو بہت زیادہ کرنٹ پیدا ہوتا ہے اور اصطلاح کے مطابق ہو جاتے ہیں۔ تاروں کے دو سرے جب آپس میں ملتے ہیں تو ہمارے سامنے معمولی سا کرنٹ اور شعلہ پید اہوتا ہے اور ایک ہلکی سے آواز بھی پیدا ہوتی ہے جب کہ آسمانی بجلی کے ساتھ بادلوں کی وسعت کے اعتبار سے الیکٹرک ڈسچارج شدید ہوتا ہے کہ اس سے ”رعد“ اور گرج پید اہوتی ہے۔ بادل کا ٹکڑا جو مثبت رو ہوتی ہے جب زمین کے نزدیک ہو جائے کہ جس میں ہمیشہ منفی رو ہوتی تو زمین اور بادل کے درمیان کرنٹ پید اہو جاتا ہے جسے ”صاعقہ“ کہتے ہیں۔ یہ برقی رو اس لیے خطر ناک ہوتی ہے کہ اس کا ایک سر زمین کے بلند مقامات ہو تے ہیں۔ اصطلاح کے مطابق یہ بلند جگہیں منفی رو کی حامل تار کے سرے یا نوک میں بدل جاتی ہیں یہاں تک کہ ہو سکتا ہے کہ کسی بیابان میں ایک انسان عملی طور پر اس منفی تا ر کی نوک میں بدل جائے اور بہت وحشت ناک کرنٹ اس کے سر پر آگرے اور مختصر سے لمحہ میں وہ خاکستر ہو جائے۔ لہٰذا بیا بانوں میں رعد اور برق کے موقع پر فوراً درخت، دیوار یا پہاڑ کے دامن میں یا کسی اونچی جگہ کی اوٹ میں پناہ لے لینا چاہئیے یا کسی گڑھے میں لیٹ جانا چاہئیے۔ بہرحال برق جو شاید بعض کی نگاہ میں عالم طبیعت کی شوخی ہے موجودہ سائنسی انکشافات سے ثابت ہو ا ہے کہ اس کے بہت سے فوائد و برکات ہیں۔ ذیل میں ہم ان فوائد کے تین پہلووں کی طرف اشارہ کرتے ہیں: ۱۔ آبیاری: بجلیاں عموماً بہت زیادہ حرارت پید اکرتی ہیں جو بعض اوقات تقریباً ۱۵/ہزار سنتی گریڈ ہوتی ہے۔ یہ حرارت اس مقصد کے لیے کافی ہوتی ہے کہ اطراف کی زیادہ تر ہوا کو جلا دے اور اس کے نتیجہ میں فوراً ہوا کا دباوٴ کم ہو جاتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ کم دباوٴ کی صورت میں ہی بادل برستے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عام طور پر بجلی چمکنے اور گرنے کے بعد ہی اولے پڑنے شروع ہو جاتے ہیں اور بارش کے موٹے موٹے قطرے گرنے لگتے ہیں۔ اس بناء پر درحقیقت، بجلی کی ایک ذمہ داری آبیاری ہے۔ ۲۔ جراثم پر سم پاشی: جس وقت بجلی اپنی اس حرارت کے ساتھ چمکتی ہے تو بارش کے قطرات اضافی آکسیجن کی مقدار میں ترکیب ہوتے ہیں اور یہ بھاری پانی یعنی ہائیڈروجن پر آکسائیڈ پیدا کرتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ بھاری پانی کے آثار میں سے ایک یہ ہے وہ جراثیم کش ہوتا ہے۔ اسی بناء پر طبی مصارف میں اسے زخموں کو دھونے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ بھاری پانی کے یہ قطرات جس وقت زمین پر برستے ہیں تو بناتاتی بیماریوں کے جراثم ختم کر دیتے ہیں۔ گویا پانی جراثیم پر خوب سم پاشی کرتا ہے۔ اسی بنا ء پر ماہرین نے کہا ہے کہ جس سال رعد و برکم ہو نباتاتی آفات اور بیماریاں زیاد ہوتی ہیں۔ ۳۔ تغذیہ اور کھاد رسانی: بجلی، شدید حرارت اور کیمیائی ترکیب سے بارش کے قطرے کار بانک اسیڈ (تشریحی نوٹ: H2CO3) CARBONIC ACID)بے رنگ و بو بھاپ جو کچھ ترش مزہ ہوتی ہے۔ طب میں ہاضمے کی تقویت کے لیے استعمال ہوتی ہے۔مترجم) کی حالت اختیار کر لیتے ہیں یہ جب زمینوں پر چھڑکے جاتے ہیں، تو کیمیائی اثرات کی بدولت نباتات کے لیے ایک موثر کھاد کا کام کرتے ہیں۔ اسی طرح سے نباتات کو غذا ملتی ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق آسمانی بجلیوں کے ذریعے کرہ زمین کو سال بھر میں ملنے والی کھاد سینکڑوں لاکھ ٹن ہے۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ پاوں کے نیچے روندی جانے والی بظاہر ایک بے خاصیت چیز کس قدر پر بار اور پر بر کت ہے، آبیاری بھی کرتی ہے، جراثم پر سمپاشی بھی کرتی ہے اور غذا بھی بنتی ہے۔ یہ عالم ِ ہستی کے عجیب و غریب اور وسیع و عریض اسرار میں خدا شناسی کی طرف واضح راہنمائی کرنے والا ایک چھوٹا سا نمونہ ہے۔ یہ سب ایک طرف بجلی کی برکات ہیں اور دوسری طرف یہ آتش سوزاں کو بھی وجود دیتی ہے کہ جس کی ایک قسم ”صاعقہ“ ہے۔ یہ بجلی ہو سکتا ہے ایک یا کئی انسانوں کو یا درختوں کوجلا ڈالے۔ یہ چیز اگر کم اور ناد رہے اور اس سے بچا بھی جا سکتا ہے تا ہم خوف و ہراس کا عامل بن سکتی ہے۔ اس طرح سے یہ جو ہم نے آیت بالا میں پڑھا کہ برق خوف کا سبب بھی ہے اور امید کا بھی۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ان تمام امور کی طرف اشارہ ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جملہ ”وَیُنْشِیء السَّحَابَ الثِّقَالَ“جو مندر جہ بالا آیت کے آخر میں آیاہے وہ بجلی کی اسی خاصیت کے ساتھ مربوط ہو کہ جو بادلوں کی بارش کے انہی بھری ہوئی پشت والے قطروں سے بوجھل کرتی ہے۔ بعد والی آیت میں”رعد“ کی آواز کا ذکر ہے کہ جو برق سے جدا نہیں ہے۔ فرمایا گیاہے: رعد خدا کی تسبیح اور حمد کرتی ہے“(وَیُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِہِ)۔ جی ہاں !عالم طبیعت کی یہ سخت آواز کہ جو بڑی آواز کے لیے ضرب المثل ہے چونکہ بجلی سے منسلک ہے اور دونوں ایک ہی مقصد کو پورا کرتی ہیں اور بہت اہم اور سوچی سمجھی خدمات انجام دیتی ہیں کہ جن کی طرف سطور بالا میں اشارہ کیا گیا ہے، عملی طور پر خدا کی تسبیح کرتی ہیں دوسری طرف ”رعد“ ”برق“ کی زبان ِ گویا ہے جو نظام آفرینش اور عظمت خلق کی ترجمانی کرتی ہے۔ یہ وہی چیز ہے جسے ”زبان حال“کہتے ہیں۔ ایک جامع کتاب، ایک قصیدہ ٴغرا، ایک خوبصورت اور دل انگیز مصوری کا نمونہ اور ایک مستحکم و منظم عمارت سب اپنی زبان حال سے اپنے لکھنے والے، کہنے والے، نقاش اور معمار کے علم و دانش اور ذوق و مہارت کی بات کرتے ہیں اور انہیں خراج ِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ اس عالم ہستی کا ہر ذرہ اسرار آمیز ہے اور بہت ہی دقیق اور حساب شدہ نظام رکھتا ہے۔ سب ذرات ِ کائنات خدا کی پاکیزگی اور ہرقسم کے نقص و عیب سے اس کے منزہ ہونے کی حکایت کرتے ہیں (کیا”تسبیح“تنزیہ اور پاک جانتے کے علاوہ کچھ اور ہے ؟)اور سب کے سب اس کی قدرت اور علم و حکمت کی خبر دیتے ہیں (کیا”حمد“ صفات ِ کمال بیان کرنے کے علاوہ کچھ اور ہے ؟)(تشریحی نوٹ: ”تسبیح و تقدیس“ کہ جو مودات کرتی ہیں کے بارے میں مزید وضاحت انشا اللہ ”وان من شیء الا یسبح بحمدہ لکن لاتفقھون تسبیحھم“ (بنی اسرائیل ۴۴) کے ذیل میں آئے گی)۔ فلاسفہ کی ایک جماعت نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ اس جہان کے تمام ذرات میں سے ہر ایک ایک قسم کا عقل و شعور رکھتا ہے اور اسی عقل و شعور کی بناء پر خدا کی تسبیح و تقدیس کرتا ہے نہ صرف زبان حال سے اور اپنے وجود سے کہ وجود خدا کی ترجمانی کرتا ہے بلکہ زبان قال سے بھی اس کی تعریف کرتا ہے۔ نہ صرف یہ کہ صدائے رعد اور عالم مادہ کے دیگر اجراء اس کی تسبیح کرتے ہیں بلکہ ”تمام فرشتے بھی خدا کے خوف و خشیت سے اس کی تسبیح میں مشغول ہیں“(وَالْمَلَائِکَةُ مِنْ خِیفَتِہِ)۔ (تشریحی نوٹ: شیخ طوسی تبیان میں فرماتے ہیں: ”خیفة“ اور ”خوف“ کے درمیان فرق یہ ہے کہ”خیفة“حالت کو بیان کرتا ہے اور ”خوف“مصدر ہے۔ یعنی پہلا حالت خوف کے معنی میں ہے اور دوسرا ڈرنے کے معنی میں ہے)۔ وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں فرمان، خدا پر عمل کرنے میں اور نظام ہستی کے بارے میں عائد شدہ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کوتاہی نہ ہو جائے اور اس طرح کہیں وہ عذاب ِ الٰہی میں گرفتار نہ ہو جائیں۔ ہم جانتے ہیں کہ جواحساس ِ مسئولیت رکھتے ہیں ان کے لیے ذمہ داریاں خوف کا باعث ہوتی ہیں ایک اصلاحی خوف کو جو انسان کو سعی و کاوش اور تحریک پر آمادہ کرتا اور ابھارتا ہے۔ ”رعد و برق“ کے بارے میں مزید وضاحت کے لیے ”صواعق“ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: خداصواعق کو بھیجتا ہے اور جسے چاہتا ہے ان کے ذریعے تکلیف پہنچاتا ہے (وَیُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیبُ بِھَا مَنْ یَشَاءُ)۔ لیکن ان سب چیزوں کے باوجود عالم آفرینش، وسیع آسمان و زمین، نباتات، رعد و برق اور اس طرح کی دیگر چیزوں میں عظمت ِ الٰہی کی آیات دیکھنے کے باوجود حوادث یہاں تک کہ ایک آسمانی شعلے کے سامنے انسانی طاقت بے بسی کا مشاہدہ کرنے کے باوجود بے خبروں کا ایک گروہ خدا کے بارے میں مجادلہ اور جنگ کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے (وَھُمْ یُجَادِلُونَ فِی اللهِ)۔ حالانکہ خدا کی قدرت لامتناہی ہے، اس کا عذاب دردناک ہے اور اس کی سزا بڑی سخت ہے (وَھوَ شَدِیدُ الْمِحَال)۔ “محال“ اصل میں ”حیلہ“ سے ہے اور ”حیلہ“ ہر قسم کی مخفی اور پنہان چارہ اندیشی کے معنی میں ہے (غلط کو ششوں اور چارہ جوئیوں کے معنی میں نہیں کہ جس میں یہ لفظ فارسی زبان میں مشہور ہو چکا ہے)۔ یہ بات مسلم ہے ہے کہ جو چارہ جوئی پر بہت زیادہ قدرت رکھتا ہے وہ وہی ہے جو قدرت کے لحاظ سے بھی غیر معمولی ہے اور علم و حکمت کے لحاظ سے بھی اور اس بناء پر وہ اپنے دشمنوں پر مسلط اور کامیاب ہوتا ہے اور کسی کو اس کے مرکز ِ قدرت سے نکل بھاگنے کا یارا نہیں ہے اسی لیے مفسرین نے ہر ایک نے ”شدید المحال“ کی اس طرح تفسیر کی ہے کہ سب نے اس کے مفہوم کی بنیاد مذکورہ معنی کو قرار دیا ہے۔ بعض نے اسے ”شدید القوة“، بعض نے ”شدید العذاب“، بعض نے ”شدید القدرة“ اور بعض نے ”شدید الاخذ“ کے معنی میں اور اس جیسے الفاظ میں اس کی تفسیر کی ہے۔ (تشریحی نوٹ: بعض ”محال“کو ”حیلة“ کے مادہ سے نہیں سمجھتے بلکہ”محل“اور ”ماحل“ کے مادہ سے قرار دیتے ہیں کہ جو مکر و جدال اور عذاب دینے اور سزا دینے کے لیے عزم و صمیم کرنے کے معنی سے لیا گیا ہے لیکن جو کچھ ہم نے تین میں کہا ہے وہ زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے اگرچہ دونوں معانی قریب الافق ہیں)۔ زیربحث آخری آیت دو مطالب کی طرف اشارہ کرتی ہے:۔ پہلا یہ کہ ”دعوتِ حق (اور حقیقی دعا)“ (لَہُ دَعْوَةُ الْحَقِّ)۔ یعنی جس وقت ہم اسے پکاریں تو وہ سنتا ہے اور ہماری پکار کا جواب دیتا ہے اور وہ بندوں کی دعا سے آگاہی بھی رکھتا ہے اور ان کی آرزووں کو پورا کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔ اس لیے اسے پکارنا اور اس کی مقدس ذات سے تقا ضا کرنا حق ہے نہ کہ باطل اور بے اساس و بے بنیاد۔ دوسرا یہ ہے کہ بتوں کو پکارنا اور ان سے درخواست اور دعا کرنا دعائے باطل ہے کیونکہ ”جن لوگوں کو مشرکین خدا کے علاوہ پکارتے ہیں اور اپنی تمناوں کو پورا کرنے کے لیے حق کا سہارا لیتے ہیں وہ ہرگز انہیں جواب نہیں دیں گے اور ان کی دعا قبول نہیں کریں گے“ (وَالَّذِینَ یَدْعُونَ مِنْ دُونِہِ لاَیَسْتَجِیبُونَ لَھُمْ بِشَیْءٍ)۔ جی ہاں ـــــــــــ باطل کو پکارنا ایسا ہی ہے کیونکہ وہ خیالی تصور سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا اور بتوں کے لیے وہ جیسے بھی علم و قدرت کے قائل ہوں سب موہوم، بے پایہ اور بے اساس ہے۔ کیا عینیت، واقعیت اور مایہٴ خیرو برکت کے سوا”حق“ کچھ اور ہے اور خیال، توہم اور مایہٴ شروفساد کے سوا”باطل“ کچھ اور ہے۔ اس کے بعد جیسا کہ قرآن کی روش ہے اس عقلی بات کو ثابت کرنے کے لیے وہ ایک خوبصورت حسی اور رسا مثال پیش کرتے ہوئے کہتا ہے: وہ کہ جو غیر خدا کو پکار تے ہیں، اس شخص کی طر ح ہیں جو ایسے پانی کے کنارے بیٹھا ہو جس کی سطح اس کے دسترس میں نہ ہو اور وہ اس امید سے پانی کی طرف اشارہ کرتا ہو کہ وہ اس کے دہن میں پہنچ جائے حالانکہ وہ ہرگز نہیں پہنچے گا۔ یہ کیسا بے ہودہ اور فضول خواب و خیال ہے (إِلاَّ کَبَاسِطِ کَفَّیْہِ إِلَی الْمَاءِ لِیَبْلُغَ فَاہُ وَمَا ھوَ بِبَالِغِہ)۔ کیا کنویں کے کنارے بیٹھ کر پانی کی طرف ہاتھ پھیلا کر، اشارہ سے پانی منہ تک پہنچا یا جا سکتا ہے ؟ ایسا کام کسی دیوانے اور سادہ لوح شخص کے سوا کوئی نہیں کرسکتا ہے۔ مذکورہ جملہ کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ بت پرستوں کو ایک شخص سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جو اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو پوری طرح کھول کر افقی شکل میں پانی داخل کرتا ہے اور اس انتظار میں ہے کہ پانی ا س کے ہاتھ میں ٹھہر جائے حالانکہ پانی سے نکلتے ہی پانی کے قطرے انگلیوں کی طرف سے نکل جائیں گے اور کچھ باقی نہیں رہے گا۔ مفسرین نے اس جملے کے لیے ایک تیسری تفسیر بھی ذکر کی ہے اور وہ یہ کہ بت پرست جو اپنی مشکلات کے حل کے لیے بتوں کے پاس جاتے ہیں اس شخص کی طرح ہیں جو چاہتا ہے کہ پانی اپنی مٹھی میں بند رکھے۔ کیا کبھی پانی کو مٹھی میں بند رکھا جا سکتا ہے، یہ بات عربوں میں مشہور ضرب المثل سے لی گئی ہے کہ جب وہ اس شخص کے لیے کوئی مثال ذکر کرنا چاہتے ہیں کہ جو بے ہودہ اور فضول کو شش کرتا ہے تو کہتے ہیں: ”ھو کقابض الماء بالید“ وہ اس شخص کی طرح ہے جو پانی کو ہاتھ سے پکڑ نا چاہتا ہے۔ ایک عرب شاعر کہتا ہے: فاصبحت فیما کان بینی و بینھا من الود مثل قابضِ الماء بالید میری حالت تو یہ ہو گئی کہ میں اپنے اور اس کے درمیان محبت بر قرار رکھنے کے لیے اس شخص کی طرح ہو گیا کہ جو پانی کو ہاتھ میں روک رکھے۔(بحوالہ۔ تفسیر قرطبی جلد۵۔ ص ۳۵۲۹)۔ آیت کے آخر میں اس بات کی تاکید کے لیے قرآن کہتا ہے: کافروں کا بتوں سے دعا اور درخواست کرنا گمراہی میں قدم اٹھانے کے علاوہ کچھ نہیں (وَمَا دُعَاءُ الْکَافِرِینَ إِلاَّ فِی ضَلَالٍ)۔ اس سے بڑھ کر کیا گمراہی ہوسکتی ہے کہ انسان اس راستے میں اپنی کاوشیں صرف کرے کہ جو کبھی منزل مقصود تک نہیں پہنچاتا اور اس راستے میں وہ اپنے آپ کو خستہ و بے حال کردے لیکن اسے کوئی نتیجہ اور فائدہ حاصل نہ ہو۔ زیر بحث آخر ی آیت میں یہ نشاندہی کرنے کے لیے کہ بت پرست عالم ہستی کے کارواں سے کس طرح الگ ہو گئے ہیں اور تنہا بے راہ روی میں سر گرداں ہیں فرمایا گیا ہے: آسمانوں اور زمین کے تمام رہنے والے اطاعت و تسلیم سے یا کراہت و ناپسندیدگی سے سر بسجود ہیں اور اسی طرح ان کے سائے بھی صبح و شام سجدہ ریز ہیں (وَلِلَّہِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَکَرْھًا وَظِلَالُھمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ)۔
چند اہم نکات
۱۔ موجودات کے سجدہ کرنے سے کیا مراد ہے: ایسے مواقع پر سجدہ خضوع و خشوع، انتہائی قسم کی تواضع و انکساری اور سر تسلیم خم کرنے کے معنی میں ہے یعنی تمام فرشتے، انسان اور سب صاحبان عقل و فکر خدا کے سامنے متواضع ہیں لیکن کچھ مخلوقات سجود، تکوینی کے علاوہ سجود تشریعی کی بھی حامل ہیں۔ سجود تشریعی ــــــــــــ یعنی اپنے ارادے اور ررضا و رغبت سے کیےجانے والے سجدے۔ جب سجود تکوینی کی مثال یہ ہے کہ جب کوئی مخلوق موت و حیات، نشو ونما رشدتکامل اور سلامتی و بیماری وغیرہ کے سامنے سر تسلیم خم کیے ہوئے ہے تو تسلیم و خضوع کی یہ حالت درحقیقت قوانین آفرینش کے لیے ان کی طرف سے ایک قسم کا سجدہِ تکوینی ہے۔ ۲۔ طوعاً و کرھاً سے کیا مراد ہے: ہو سکتا ہے یہ اس طرف اشارہ ہو کہ مومنین بارگاہ پروردگار میں رضا و رغبت سے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور اس کے سامنے خضوع کرتے ہیں لیکن غیر مومنین اگرچہ ایسے سجدے کے لیے تیار نہیں ہیں تا ہم ان کے وجود کے تمام ذرات قوانینِ آفرینش کے پیش نظر فرمان خدا کے سامنے سر تسلیم خم کیےہوئے ہیں، وہ چاہیں یا نہ چاہیں۔ ضمناً توجہ رہے کہ ”کرہ“ (بر وزن ”جرم“) اس کراہت کے معنی میں ہے جس کا سرچشمہ انسان کا اندر اور باطن ہے اور”کرہ“ (بروزن ”شرح“) اس کراہت کے معنی میں ہے جس عامل بیرونی اور خارجی ہو۔ زیر بحث مقام پر چونکہ غیر مومنین خارج از ذات عوامل کے زیر اثر قوانین ِ آفرینش کے مقہور و مغلوب ہیں اس لیے ”کرہ“ (بر وزن ”شرح“) استعمال ہوا ہے۔ ”طوعاً و کرھاً“ کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ”طوعاً“ سے مراد عالم خلقت کے وہ واقعات ہیں جو ایک موجود کی فطری اور طبیعی رضا و رغبت کے موافق ہیں (مثلاً زندہ رہنے کے لیے موجودِزندہ کی رغبت) اور ”کرھاً“ سے مراد وہ میلان ہے جو ایک وجود کو خارج سے لاحق ہو۔ مثلاً جراثیم کے حملے سے ایک زندہ موجود کی موت۔ ۳۔ ”ظلال“ کامفہوم: ”ظلال“جمع ”ظل“ کی، جو ”سایہ“ کے معنی میں ہے۔ مندرجہ بالا آیت میں اس لفظ کا ذکر نشاندہی کرتا ہے کہ ”سجود“ سے مراد صرف تشریعی سجدہ نہیں کیونکہ موجودات کے سائے تو اپنا کوئی ارادہ و اختیار نہیں رکھتے بلکہ وہ تو روشنی کی چمک کے قوانین کے سامنے سر تسلیم خم کیے ہوئے ہیں۔ اس بناء پر ان کا سجدہ تکوینی ہے یعنی وہ قوانینِ آفرینش کے سامنے سر تسلیم خم کیےہوئے ہیں۔ البتہ لفظ ”ظلال“ کے ذکر کا یہ مطلب نہیں کہ زمین و آسمان کی تمام موجودات کا وجود مادی ہے اور ان سب کا سایہ ہوتا ہے بلکہ یہ صرف ان موجودات کی طرف اشارہ ہے کہ جن کا سایہ ہوتا ہے۔ مثلاً جب کہا جاتا ہے کہ شہر کے علماء اور ان کے فرزندوں نے فلاں مجلس میں شر کت کی تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان کے فرزندوں نے شر کت کی کہ جن کے فرزند تھے۔ اس جملے سے ہرگز یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ شہر کے تمام علماء صاحبِ اولاد ہیں (غورکیجئے گا)۔ بہرحال سایہ اگرچہ ایک عدمی چیز کے علاوہ کچھ نہیں کہ جو روشنی کا فقدان اور نہ ہونا ہی ہے لیکن چونکہ ہر طرف سے نو رکا وجود اس کا احاطہ کیےہوتا ہے۔ لہٰذا اس کی بھی ایک موجودیت ہے اور وہ بھی آثار رکھتا ہے۔ مندر جہ بالا آیت میں اس لفظ کی تصریح شاید تاکید کے لیے ہے کہ موجودات کے سائے تک بار گاہ خداوندی میں سر خمیدہ ہیں۔ ۴۔ ”آصال“اور”غدو“ کا مطلب: یہ ”اصل“(بر وزن ”دھل“) جمع ہے اور ”اصل“بھی اور اصیل“ جمع ہے کہ جو ”اصل“کے مادہ سے لی گئی ہے اور یہ دن کے آخری حصے کو کہتے ہیں اس لیے کہ دن کا یہ حصہ رات کی اصل اور بنیاد شمار ہوتا ہے۔ نیز ”غدو“ جمع ہے ”غداة“ کی کہ جو دن کے پہلے حصے کے معنی میں ہے (اور بعض اوقات یہ مصدری معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے)۔ اگرچہ حکم خدا کے سامنے عالم ِ ہستی کی موجودات کا سجدہ اور خضوع صبح اور عصر کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ ہر وقت ہے پھر بھی ان دو مواقع کا ذکر یاتو اس امر کے دوام کے لیے کنایہ ہے مثلاً کہتے ہیں کہ فلاں شخص صبح و شام تحصیلِ علم میں مشغول ہے یعنی ہمیشہ تحصیل علم میں محو ہے اور یا اس بناء پر ہے کہ گذشتہ جملے میں موجودات کے سایوں کے بارے میں گفتگو ہوئی تھی اور سائے دن کے آغاز اور اختتام پر دیگر اوقات کی نسبت زیادہ ہوتے ہیں۔
بت پرستی کیوں؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 2گذشتہ آیات میں وجودِ خداکی معرفت کے بارے میں بہت سی بحثیں تھیں۔ اس آیت میں بت پرستوں کے اشتباہ کے بارے میں بحث کی گئی ہے اور اس کے بارے میں مختلف پہلووں سے گفتگو کی گئی ہے۔ پہلے پیغمبر کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار اور مدبر کون ہے (قُلْ مَنْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ)۔ اس کے بعد بغیر اس کے کہ پیغمبر ان کے جواب کے انتظار میں رہے حکم دیا گیا ہے کہا اس سوال کا جواب خود دو، کہو: ”اللہ“(قل اللہ)۔ پھر انھیں یوں ملامت کی گئی ہے: ان سے کہو: کیا تم نے غیر خدا کو اپنے لیے اولیاء، سہارا اور معبود قرار دے لیا ہے حالانکہ یہ بت تو اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں (قُلْ اللهُ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِنْ دُونِہِ اَوْلِیَاءَ لاَیَمْلِکُونَ لِاَنفُسِھمْ نَفْعًا وَلاَضَرًّا)۔ درحقیقت پہلے ”خدا کی ربوبیت“ کے حوالے سے بحث کی گئی ہے نیز یہ کہ وہی عالم کا مالک و مدبر ہے ہر خیر و نیکی اسی کی جانب سے ہے اور وہی ہر شر کو دور کرنے کی طاقت رکھتا ہے یعنی جب کہ تم یہ بات قبول کرتے ہو کہ خالق اور پرور دگار وہ ہے تو اب جو مانگنا ہے اسی سے مانگو نہ کہ بتوں سے کہ جو تمہاری کوئی مشکل حل نہیں کر سکتے۔ پھر اس سے بھی پڑھ کر فرمایا گیا ہے کہ وہ تو اپنے نفع و نقصان تک کے مالک نہیں ہیں چہ جائیکہ تمہارے۔ ان حالات میں وہ تمہاری کونسی مشکل آسان کر سکتے ہیں جس کی بناء پر تم ان کی پرستش کرتے ہو جب وہ اپنے لیے بے بس ہیں تو تم ان سے کیا توقع رکھتے ہو۔ اس کے بعد دو واضح اور صریح مثالوں کے ذریعے ”موحد“ اور ”مشرک“ کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: کہو: کیا نابینا اور بینا برابر ہیں (قُلْ ھَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمَی وَالْبَصِیرُ)۔ جس طرح بینا اور نابینا برابر نہیں ہیں اسی طرح کافر اور مون بھی برابر نہیں ہیں اور بتوں کو ”اللہ“ کا شریک قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ دوسرا یہ کہ: کیا ظلمات اور نور برابر ہیں (اَمْ ھَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمَاتُ وَالنُّورُ)۔ وہ ظلمت کہ جو انحراف، گمراہی، اشتباہ اور خوف و خطر کا مر کز ہے اسے اس نور کے برابر کیسے سمجھا جا سکتا ہے جو رہنما اور حیات بخش ہے۔ کس طرح سے بتوں کو کہ جو محض ظلمات ہیں خدا کے ساتھ شریک کیا جا سکتا ہے کہ جو عالم ہستی کا نور مطلق ہے۔ ایمان اور توحید کہ جو روحِ نور ہے اسے شرک و بت پرستی سے کیا نسبت کہ جو ظلمت کہ روحِ رواں ہے۔ اس کے بعد ایک طریقے سے مشرکین کے عقیدے کا بطلان ثابت کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ کہ جنہوں نے خدا کے لیے شریک قرار دئے ہیں کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے بھی خدا کی طرح خلق کیا ہے اور یہ خلق کیا ہے اور یہ خلقت اس کے لیے مشتبہ ہو گئی اور انہیں یہ گمان ہو گیا ہے کہ بت بھی خدا کی طرح عبادت کے مستحق ہیں کیونکہ ان کی نظر میں بت بھی وہی کام کرتے ہیں کہ جو خدا کرتا ہے (اَمْ جَعَلُوا لِلَّہِ شُرَکَاءَ خَلَقُوا کَخَلْقِہِ فَتَشَابَہَ الْخَلْقُ عَلَیْھِمْ)۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ یہاں تک کہ بت پرست بھی بتوں کے بارے میں ایساعقیدہ نہیں رکھتے۔ وہ بھی خدا کو تمام چیزوں کا خالق سمجھتے ہیں اور عالم خلقت کو فقط اس سے مربوط شمار کرتے ہیں۔ اسی لیے فوراً فرمایا گیا ہے: کہہ دو خدا ہر چیز کا خالق ہے اور وہی ہے یکتا و کامیاب (قُلْ اللهُ خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ وَھُوَ الْوَاحِدُ الْقَھَّارُ)۔
چند اہم نکات
۱۔ خالقیت و ربوبیت معبودیت سے مر بوط ہے:زیر نظر آیت سے پہلے تو یہ نکتہ معلوم ہوتا ہے کہ جو خالق ہے وہ رب اور مدبر ہے بھی ہے کیونکہ خلقت ایک دائمی اور مسلسل امر ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ خداوند عالم موجودات کو پیدا کرکے ایک طرف بیٹھ جائے بلکہ فیضِ ہستی خدا کی طرف سے دائمی طور پر ہوتا ہے اور ہر موجود اس کی پاک ذات سے ہستی اور وجود حاصل کرتا رہتا ہے۔ اس بناء پر آفرینش کا پروگرام اور عالم ہستی خدا کی تدبیر ابتدائے خلقت کی طرح خدا کے ہاتھ میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سود زیاں اور نفع و نقصان کامالک وہی ہے اور اس کے علاوہ جس کے پاس جو کچھ بھی ہے اسی کی طرف سے ہے۔ اس کے باوجود کیا خدا کے علاوہ کوئی عبودیت کا اہل ہے۔ ۲۔ خود ہی سوال اور خود ہی جواب: محل بحث آیت سے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ خدا اپنے پیغمبر کو کیونکر حکم دیتا ہے کہ مشرکین سے سوال کریں کہ آسمان و زمین کا پروردگار اور مالک کون ہے اور اس کے بعد بغیر جواب کا انتظار کیےاپنے پیغمبرؐ کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس سوال کا جواب دیں اور اس کے بعد بلا فاصلہ ان مشرکین کو سرزنش کی گئی ہے کہ وہ بتوں کی پر ستش کیوں کرتے ہیں۔ یہ سوا ل و جواب کا کیسا طریقہ ہے ؟ ایک نکتہ کی طرف تو جہ کرنے سے اس سوال کا جوا ب واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ بعض اوقات ایک سوال کا جواب اس قدر واضح ہوتا ہے کہ وہ اس بات کا محتاج نہیں ہوتا کہ مدمقابل کے جواب کا انتظار کیا جائے۔ مثلاً یہ کہ ہم کسی سے سوال کرتے ہیں کہ اس وقت رات یا دن اور پھر بلا فاصلہ ہم خود جواب دیتے ہیں کہ یقینارات ہے۔ یہ دراصل اس امر کے لیے ایک لطیف کنایہ ہے کہ یہ بات اس قدر واضح ہے کہ جواب کے انتظار کرنے کی محتاج نہیں ہے۔ علاوہ ازیں مشرکین خالقیت کو خدا کے ساتھ مخصوص سمجھتے تھے اور وہ ہرگز یہ بات نہیں کہتے تھے کہ بت پرست زمین و آسمان کے خالق ہیں بلکہ ان کا عقیدہ تھا کہ وہ شفیع ہیں اور انسان کو نفع و نقصان پہنچانے پر قادر ہیں اور اسی بناء پر ان کا یہ عقیدہ تھا کہ ان کی عبادت کرنا چاہئیے۔ لیکن چونکہ ”خالقیت“ اور ”ربوبیت“ (عالم ہستی کی تدبیر اور اس کے نظام کو چلانا) ایک دوسرے سے جد انہیں ہے لہٰذا مشرکین پر یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے اور انہیں کہا جا سکتا ہے کہ تم خالقیت کو خدا کے ساتھ مخصوص سمجھتے ہو تو ربوبیت کو بھی اس کے ساتھ مخصوص سمجھو اور اس کے ساتھ عبادت بھی اسی سے مخصوص ہو گئی ہے۔ ۳۔چشم بینا اور روشنی لازم و ملزوم ہیں: آیت میں ”نابینا و بینا“ اور ”ظلمات و نور“ دونوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ گویا یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ایک حقیقتِ عینی کے مشاہدہ کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہے۔ چشم بینا کی بھی اور نور کی شعاعوں کی بھی۔ ان میں سے کوئی ایک نہ ہو تو مشاہدہ ممکن نہیں۔ لہٰذا سوچنا چاہئیے کہ ان لوگوں کی کیا حالت ہو گی کہ جو ان دونوں سے محروم ہوں، بینائی سے بھی اور نور سے بھی۔ اس کا حقیقی مقصداق مشرکین ہیں کہ جن کی چشم بصیرت بھی اندھی ہے اور جن کی زندگی کو بھی کفر و بت پرستی کی تاریکی نے گھیررکھا ہے اسی لیے وہ تاریک گھاٹیوں اور گڑھوں میں سر گرداں ہیں۔ جب ان کے برعکس، مومنین نگاہِ بینا رکھتے ہیں۔ ان کا پروگرام واضح ہے اور انہوں نے نورِ وحی اور تعلیماتِ انبیاء کی مدد سے اپنی زندگی صحیح راستے پر دال لیا ہے۔ ۴۔ کیا خدا کی خالقیت جبر و اکراہ کی دلیل ہے؟ زیر نظر جبر کی بعض طرفداروں نے محل بحث آیت کے جملے ”اللہ خالق کل شیء“ سے اپنا مقصد ثابت کرنے کے لیے استدلال کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کاموں کا خالق بھی خدا ہے یعنی ہمارا اپنا کوئی اختیار نہیں ہے۔ اس بات کو دو طریقوں سے جواب دیا جا سکتا ہے: پہلا یہ کہ اس آیت کے دوسرے جملے اس بات کی پورے طور پر نفی کرتے ہیں کیونکہ ان میں بت پرستوں کی بڑی ملامت کی گئی ہے اگر واقعاً ہم اپنے اعمال میں کوئی اختیار نہیں رکھتے تو پھر تنبیہ اور سرزنش کس بناء پر؟ اگر خدا چاہتا کہ ہم بت پرست رہیں تو پھر وہ کیون سرزنش کرتا ہے اور کیوں ہدایت کے لیے اور راہ بدلنے کے لیے استدلال کرتا ہے۔ یہ سب چیزیں اس بات کی دلیل ہیں کہ لوگ اپنی راہ انتخاب کرنے میں آزاد اور مختار ہیں۔ دوسرا یہ کہ ہر چیز میں خالقیت بالذات خدا کے ساتھ مخصوص ہے لیکن پھر بھی یہ چیز اپنے افعال میں ہمارے مختار ہونے کے منافی نہیں ہے کیونکہ ہماری طاقت اور ہماری عقل بلکہ ہمارے ارادے کی آزادی، سب کے سب اسی کی جانب سے ہیں۔ اس بناء پر ایک لحاظ سے وہ بھی خالق ہے (تمام چیزوں کا خالق حتی کہ ہمارے افعال و اعمال کا خالق) اور ہم بھی فاعل مختار ہیں اور یہ دونوں ایک دوسرے کے طول میں ہیں کہ عرض میں۔ وہ فعل کے تمام وسائل اور ذرائع پیدا کرنے والا ہے اور ہم خیر و شر کے راستے پر ان وسائل سے استفادہ کرنے والے ہیں۔ یہ بالکل اس طرح ہے جس طرح سے کوئی شخص بجلی گھر یا پانی پلائی کا مر کز تیار کرکے ہمارے اختیار میں دے دیتا ہے۔ مسلم ہے کہ ہم اس بجلی سے کسی قریب المرگ بیمار کے لیے آپریشن تھیٹر کو روشن کریں یا ایک برائی کے مرکز کو۔ اسی طرح پانی سے کسی تشنہ لب کو سیراب کریں اور پھولوں کے پودوں کی آبیاری کریں یا کسی بے گناہ کے گھر کی بنیادوں میں پانی ڈال کر اسے تباہ کر دیں۔
حق و باطل کی منظر کشی
Tafsīr Nemūna · Vol. 2قرآن کے جو تعلیم وتربیت کی کتاب ہے اس کی روش ہے کہ وہ مسائل عینی کی بنیا دپر گفتگو کرتا ہے لہٰذا اس میں پیچیدہ مسائل کو ذہن نشین کروا لے کے لیے لوگوں کی روز مرہ زندگی سے عمدہ، خوبصورت اور حسی مثالیں پیش کی گئی ہیں زیر نظر آیت میں بھی توحید و شرک، ایمان و کفر اور حق و باطل کے بارے میں گذشتہ آیات میں ذکر کیے گئے حقائق کو مجسم کرنے کے لیے ایک بہت ہی رسا اور عمدہ مثال بیان کی گئی ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: خدا نے آسمان سے پانی نا زل کیا ہے (اَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً)۔زندگی کی بخش اور حیات آفرین پانیــــــ نشو ونما اور حرکت کا سرچشمہ پانی۔ اس وقت یہ پانی زمین کے دروں،گڑھوں، دریاوں اور نہروں میں ان کی وسعت کے مطابق سما جا تا ہے (فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌ بِقَدَرِھَا)۔ چھوٹی چھوٹی ندیاں ایک دوسرے سے گلے ملتی ہیں۔ تو در یا وجود میں آتے ہیں دریا باہم مل جائیں تو دامن کہسار سے سیلابِ عظیم امنڈ پڑتا ہے پانی کندھوں اور سروں سے بلند ہو جاتا ہے اور جو کچھ اس کی راہ میں آتا ہے اسے بہالے جاتا ہے۔ ایسے میں پانی کی موجیں اور لہریں جب آپس میں ٹکراتی ہیں تو جھاگ پیدا ہوتی ہے۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے: سیلاب کے اوپر جھاگ اٹھتی ہے (فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَابِیًا)۔ ”رابی“ کا مادہ ”ربو“ (بر وزن ”غلو“) ہے۔ یہ بلندی و بر تری کے معنی میں ہے۔ ”ربا“کہ جوسود یا اضافی رقم یا اضافی جنس کے معنی میں ہے وہ بھی اسی مادہ سے اسی معنی میں ہے چونکہ یہ اضافے اور زیادتی کا معنی دیتا ہے۔ جھاگ صرف بارش برسنے سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ جو دھاتیں آگ کے ذریعے پگھلتی ہیں تاکہ ان سے زیوارات یا دیگر اسباب ِ زندگی تیار کیےجائیں ان سے بھی پانی کی جھاگ کی طرح جھاگ نکلتی ہے (وَمِمَّا یُوقِدُونَ عَلَیْہِ فِی النَّارِ ابْتِغَاءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِثْلُہُ)۔ (تشریحی نوٹ: اس جملے کا لفظی مطلب یہ ہے کہ:_____ جس پر زیور اور متاع حاصل کرنے کے لیے آگ روشن کرتے ہیں اس سے پانی کی جھاگ کی طرح جھاگ حاصل ہوتی ہے۔ یہ تعبیر ان کٹھالیوں کی طرف اشارہ ہے جن میں دھاتیں پگھلانے کے لیے ان کے نیچے بھی آگ ہوتی ہے اور اوپر بھی۔ اس طرح سے نیچے آگ ہوتی ہے پھر اس کے اوپر ایسے پتھر کہ جن میں سامواد ہوتا ہے ڈالے جاتے ہیں اور پھر اس کے اوپر بھی آگ ڈالتے ہیں۔ یہ بہترین قسم کی کٹھالی ہے کہ جن میں آگ نے پگھلنے کے قابل مواد کو ہر طرف سے گھیر رکھا ہوتا ہے)۔ یہ ایک ایسی وسیع مثال بیان کی گئی ہے جو صرف پانی سے متعلق نہیں ہے بلکہ دھاتوں کے بارے میں بھی ہے چاہے وہ دھا تیں زیورات بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہوں یا دیگر اسبابِ حیات تیار کرنے کے کام میں آتی ہوں۔ اس کے بعد نتیجہ اخذ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اس طرح خدا حق اور باطل کے لیے مثال بیان کرتا ہے (کَذَلِکَ یَضْرِبُ اللهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ)۔ پھر اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا گیاہے: لیکن جھاگ ایک طرف ہو جاتی ہے اور وہ پانی کہ جو لوگوں کے لیے مفید اور سود مند ہوتا ہے زمین میں باقی رہ جاتا ہے (فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْھَبُ جُفَاءً وَاَمَّا مَا یَنفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِی الْاَرْضِ)۔ فضول شوریلی اور اندر سے خالی جھاگ کہ جو ہمیشہ اوپر ہوتی ہے لیکن کوئی فائدہ بخش نہیں ہوتی اسے ایک طرف پھینک دینا چاہئیے لیکن خاموش، بے صدا، متواضع، مفید اور سود مند پانی باقی رہ جاتا ہے اور اگر زمین کے اوپر نہ ہو تو زمین کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے اور زیادہ وقت نہیں گذرتا کہ رواں چشموں اور کنووں کی صورت میں زمین سے نکل آتا ہے اور تشنہ کاموں کو سیراب کرتا ہے۔ درختوں کو بار آور، گلو کو شگفتہ اور پھلوں کو تیار کرتا ہے اور ہر چیز کو سروسامانِ حیات عطا کرتا ہے۔ آیت کے آخر میں مزید تاکید کے طور پر اور اس آیت میں زیادہ غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اس طرح خدا مثالیں بیان کرتا ہے (کَذَلِکَ یَضْرِبُ اللهُ الْاَمْثَالَ)۔
چند اہم نکات
اس معنی خیز مثال میں نہایت موزوں الفاظ اور جملے استعمال ہوئے ہیں۔ حق و باطل کی منظر کشی نہایت عمدہ گی سے کی گئی ہے۔ اس میں بہت سے حقائق پوشیدہ ہیں۔ ان میں سے بعض کی طرف ہم یہاں اشارہ کرتے ہیں۔ ۱۔ حق و باطل کی شناخت کے لیے علامتیں: حق و باطل کی پہچان کہ جو درحقیقت واقعیت اور حقیقت کو خالی اور جعلی باتوں سے الگ کرنے کا نام ہے بعض اوقات انسان کے لیے اس قدر مشکل اور پیچیدہ ہو جاتی ہے کہ کسی حتمی اور یقینی علامت کو تلاش کرنا پڑتا ہے اور علامتوں کے ذریعے حقائق کو اوہام سے اور حق کو باطل سے جدا کر کے پہچاننا پڑتا ہے۔ قرآن نے مذکورہ مثال میں ان علامتوں کو اس طرح سے بیان کیا ہے: الف: حق ہمیشہ مفید اور سود مند ہوتا ہے، آب شیریں کی طرح کہ جو باعث حیات ہے لیکن باطل بے فائدہ اور فضول ہوتا ہے۔ پانی کے اوپر والی جھاگ کسی کو سیراب کرتی ہے نہ درخت اگاتی ہے۔ کٹھالی میں پگھلنے والی دھاتوں سے نکلنے والی جھاگ بھی نہ زیور بنانے کے کام آتی ہے نہ زندگی کا کوئی اور ساز و سامان۔ اگر اس جھاگ کا کوئی مصرف ہے تو پست اور بے وقعت جو کسی حساب و شمار میں نہیں آتا۔ جیسے خمس و خاشاک کو جلانے کے کام لایا جائے۔ ب:باطل ہمیشہ مستکبر، بالا نشین اور قال و قیل اور شوروغوغا سے پُر لیکن اند سے خالی اور کھوکھلا ہوتا ہے لیکن حق متواضع، کم صدا، باعمل، با مقصد اور وزنی ہوتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: حضرت علی علیہ السلام اپنے متعلق اور اپنے دشمنوں، جیسے اصحاب ِ جمل تھے، کے بارے میں فرماتے ہیں: "وقد ارعدوا و ابرقوا و مع ھٰذین الامرین الفشل ولسنا نرعد حتی نوقع ولانسیل حتی نمطر" یعنی: "وہ رعد بر ق کی سی گرج دکھاتے ہیں لیکن انجام کار سستی اور ناتوانی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا لیکن اس کے برعکس، ہم جب تک کوئی کام انجام نہ دے لیں گرج چمک نہیں دکھاے۔ ہم نہ برسیں تو سیلابِ خروشاں نہیں اٹھاتے (ہمارا پروگرام عمل ہے نہ کہ باتیں کرنا۔بحوالہ: نہج البلاغہ۔ خطبہ ۹)۔ ج:حق ہمیشہ اپنے اوپر تکیہ کرتا ہے لیکن باطل حق کی آبرو کا سہارا لیتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اپنے آپ کو حق کے لباس میں پیش کرے اور اس کے مقام سے استفادہ کرے۔ جیسے کہا جاتا ہے: ”ہر دروغی از راست فروغ می گیرد“ یعنی ــــــــــ ہر دروغ اور جھوٹ سچ سے فروغ حاصل کرتا ہے۔ کیونکہ اگر سچ بات دنیا میں نہ ہوتی تو کوئی شخص کبھی جھوٹ کا اعتبار نہیں کرتا اور اگر خالص جنس دنیا میں نہ ہوتی تو کوئی ملاوٹی اور جعلی چیز سے فریب نہ کھا تا۔ اس بناء پر باطل کا کم عمر فروغ اور وقتی آبرو بھی حق کی وجہ سے ہے لیکن حق ہر جگہ اپنے اوپر بھروسہ کرتا ہے اور اپنی آبرو کا سہارا لیتا ہے۔ ۲۔ ”زبد“ کیا ہے؟ ”زبد“ پانی کے اوپر والی یا ہر قسم کی جھاگ کو کہتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ آبِ شیریں پر بہت کم جھاگ آتی ہے کیونکہ پانی کے خارجی اجسال سے آلودہ ہونے کی وجہ سے جھاگ پیدا ہوتی ہے۔ یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ اگر حق اپنی اصل صفائی اور پاکیزگی پر رہے تو اس کے اطراف میں باطل کی جھاگ کبھی پیدا نہ ہو گی لیکن جب حق آلودہ گندے ماحول میں ہو اور حقیقت خرافات میں کھو جائے، درستی نا درستی سے مل جائے اور پاکیزگی ناپاکی سے خلط ملط ہو جائے تو باطل کی جھاگ اس کے ساتھ ظاہر ہو جاتی ہے۔ اسی امر کی طرف حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے: لو ان الباطل خلص من مزاج الحق لم یخف علی المرتادین ولو ان الحق خلص من لبس الباطل انقطعت عنہ السن المعاندین اگر باطل حق سے مل نہ جائے تو حق متلاشیوں کے لیے مخفی نہ رہے اور اگر حق باطل سے جدا ہو جائے تو بد لوگو ں کی زبان اس سے منقطع ہو جائے گی۔ (بحوالہ:نہج البلاغہ خطبہ۵۰)۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں درحقیقت تین تشبیہیں ہیں۔ ۱۔ آسمان وحی سے آیاتِ قرآن کا نزول ــــــــــ جسے بارش کے حیات بخش قطرات کے برسنے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ ۲۔ انسانوں کے دلوں کو ایسی زمینوں، دروں اور گہرائیوں سے تشبیہ دی گئی ہے جو اپنی وسعت اور ظرف کے لحاظ سے استفادہ کرتے ہیں۔ ۳۔ ”شیطانی وسوسوں“ کو پانی پر پیدا ہونے والی ایسی گندی جھاگ سے تشبیہ دی گئی ہے جو پانی سے پیدا نہیں ہوئی بلکہ پانی کے گرنے کی جگہ کی گندگی سے پیدا ہوئی ہے۔ اسی بناء پر نفس اور شیطان کے وسوسے مومنین کے دلوں سے بر طرف ہو جاتے ہیں اور وحی کا آب شیریں باقی رہ جاتا ہے جو انسانوں کی ہدایت اور حیات کا موجب ہے۔ ۳۔ فائدہ ہمیشہ اہلیت کے اعتبار سے ہوتا ہے: اس آیت سے ضمنی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ خدائی فیض کے مبداء میں کسی قسم کا کوئی بخل، محدودیت اور ممنوعیت نہیں ہے۔ جیسا کہ آسمانی بادل ہر جگہ بغیر کسی قید کے برستے ہیں اور زمین کے مختلف حصے اور درّے اپنے وجود کی وسعت کے اعتبار سے اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔جو زمین چھوٹی ہے اس کا حصہ کم ہے اور جو بڑی ہے اس کا حصہ زیادہ ہے۔ انسانوں کے دل اور روحیں بھی خدائی فیض سے اسی اعتبار سے مستفید ہوتی ہیں۔ ۴۔ باطل سر گرداں ہے: جس وقت سیلِ آب کسی صاف صحرا میں پہنچا ہے اور پانی کا جوش و خروش مدہم پڑ جاتا ہے تو جو چیزیں پانی سے مخلوط ہوئی ہوتی ہیں آہستہ آہستہ تہ نشین ہو جاتی ہیں اور جھاگ ختم ہو جاتی ہے۔ صاف و شیریں پانی نمایاں ہو جاتا ہے۔ باطل بھی اسی طرح پریشاں حال ہے وہ مفاد اٹھانے کے چکر میں ہے لیکن جس وقت سکون آتا ہے اور ہرشخص اپنے مقام پر بیٹھ جاتا ہے حقیقی معیار اور ضابطے معاشرے میں ظاہر ہوتے ہیں تو پھر باطل کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی اور وہ جلدی ہی رفو چکر ہو جا تا ہے۔ ۵۔ باطل صرف ایک لبادہ میں نہیں ہوتا: باطل کی خصوصیت میں سے ہے کہ لمحہ بہ لمحہ شکلیں اور لباس بدلتا رہتا ہے۔ تاکہ اگر اسے ایک بہروپ میں پہچان لیا جائے تو وہ دوسرے میں اپنے تئیں چھپا لے۔ مندرجہ بالا آیت میں بھی اس معالے کی طرف ایک لطیف اشارہ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ جھاگ نہ صرف پانی پر ظاہر ہوتی ہے بلکہ ہر بھٹی، ہر کٹھالی اور سانچے میں سے کہ جس میں دھاتوں کو پگلایا جاتا ہے نئی جھاگ نئی شکل میں اور نئے لباس میں آشکار ہو تی ہے۔ دوسرے لفظوں میں حق و باطل ہر جگہ موجود ہوتا ہے جیسا کہ ہر بہنے والی چیز میں جھاگ نئی اپنی خاص شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم شکلیں بدلنے سے دھوکا نہ کھائیں اور ہر جگہ باطل کو اس کی مخصوص صفات سے پہچان لیں کیونکہ اس کی صفات ہر جگہ ایک ہی طرح کی ہیں اور جیسا کہ اوپر اشارہ کیا جا چکا ہے کہ ان صفات کے حوالے سے باطل کو پہچان کر اسے حق سے الگ کر دینا چاہئیے۔ ۶۔ ہر موجود کی بقا اس کے فائدے سے وابستہ ہے: اس سلسلے میں زیر بحث آیت میں ہے کہ جو چیز لوگوں کو فائدہ پہنچاتی ہے باقی رہ جاتی ہے (واما ما ینفع الناس فیمکث فی الارض)۔ یعنی پانی کہ جو صرف باعث حیات ہے باقی رہ جاتا ہے اور جھاگ ختم ہو جاتی ہے بلکہ دھات بھی چاہے وہ زیور کے لیے ہو چاہے اسباب زندگی تیار کرنے کے لیے اس میں سے بھی خالص دھات جو مفید، سود مند یا صاف و شفاف اور خوبصورت و زیبا ہوتی ہے باقی رہ جاتی ہے اور جھاگ کو دور پھینک دیتی ہے۔ اسی طرح سے انسان، گروہ، مکاتب فکر اور پروگرام جس قدر سود مند ہیں اس قدر بقا و حیات کا حق رکھتے ہیں اور اگر ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی انسان یا باطل مکتب و مذہب ایک مدت تک باقی رہ جاتا ہے تو اس کی وجہ بھی حق کی وہ مقدار ہے جو اس میں ملا ہوا ہے اور وہ اتنی مقدار کے لیے حقِ حیات پیدا کر چکا ہے۔ ۷۔ حق باطل کو کس طرح باہر نکال پھینکتا ہے: لفظ ”جفاء“ جو گر جانے اور با ہر کی طرف جا پڑنے کے معنی میں ہے، اپنے اندر ایک لطیف نکتہ لیے ہوئے ہے اور وہ یہ کہ باطل اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ وہ اپنی حفاظت نہیں کر سکتا اور ہمہ وقت معاشرے سے باہر جا گر نا چاہتا ہے اور یہ اسی وقت ہوتا ہے جب حق جوش میں آتا ہے اور جس وقت حق میں حرکت اور جوش و خروش پیدا ہوتا ہے تو باطل کسی بر تن کی جھاگ کی طرح اچھل کر باہر جا پڑتا ہے اور یہ بات خود اس امر کی دلیل ہے کہ حق کو ہمیشہ جوش اور جنبش و خروش میں رہنا چاہیئے تاکہ باطل کو اپنے سے دو رکھے۔ ۸۔ باطل اپنی بقا میں حق کا مقروض ہے: جیسا کہ ہم نے آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ اگر پانی نہ ہو تو جھاگ کبھی بھی اپنا وجود بر قرار نہیں رکھ سکتی۔ اسی طرح اگر حق نہ ہو تو باطل کے لیے فروغ و ظہو ر ممکن نہیں۔ اگر صالح اور اچھے لوگ نہ ہوتے تو کوئی شخص خائن اور دھو کا باز افراد سے متاثر نہ ہوتا اور ان کے فریب میں نہ آتا لہٰذا باطل کا یہ جھوٹا جولان اور فروغ بھی فروغِ حق سے بہرہ وری ہے: کان دروغ از راست می گیرد فروغ گویا یہ جھوٹ، سچ سے فروغ پاتا ہے۔ ۹۔ حق اور باطل میں ہمیشہ مقابلہ رہتا ہے: قرآن نے یہاں حق و باطل کو مجسم کرنے کے لیے ایک ایسی مثال دی ہے جوکسی مکان و زمان سے مخصوص نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو دنیا کے مختلف علاقوں میں انسانوں کے سامنے آتا رہتا ہے۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ حق و باطل کے مابین جنگ کوئی وقتی اور مقامی جنگ نہیں ہے۔ صاف اور آلودہ پانی کی یہ ندیاں مخلوق پر صور پھونکے جانے تک اسی طرح جاری رہیں گی مگر یہ کہ ایک آئیڈیل معاشرے وجود میں آجائے (مثلاً حضرت مہدی علیہ السلام کے دور قیام کا معاشرہ)۔جو اس مبارزہ کے اختتام کا اعلان ہو گا۔ حق کا لشکر کامیاب ہو جائے گا۔ باطل کی بساط الٹ جائے گی۔ بشریت اپنی تاریخ کے نئے مرحلے میں داخل ہو گی اور جب تک یہ تاریخی مرحلہ نہ آجائے ہر جگہ حق و باطل کے تصادم کی انتظار میں رہنا چاہئیے اور باطل کے مقابلے کے لیے ضروری اہتمام کرنا چاہئیے۔ ۱۰۔ زندگی جہاد و جستجو کے سائے میں: زیر بحث آیت میں دی گئی خوبصورت مثال زندگی کی اس بنیادی حقیقت کو بھی واضح کرتی ہے کہ زندگی بغیر جہاد کے بقا و سر بلندی بغیر سعی و کوشش کے ممکن نہیں ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ لوگ وسائل زندگی یا زیور کی تیاری کے لیے جو کچھ بھٹیوں اور کٹھالیوں میں ڈالتے ہیں اس میں سے ہمیشہ غیر ضروری مواد نکلتا ہے اور جھاگ پیدا ہوتی ہے اور یہ دو قسم کے وسائل یعنی ضروری اور رفاہی وسائل (ابتغاء حلیة او متاع) حاصل کرنے کے لیے اصلی مواد کو جو عالم ِ طبیعت میں اصلی شکل میں نہیں مل سکتا اور ہمیشہ دوسری چیز وں میں ملا ہوتا ہے اسے آگ کی کٹھالی میں ڈالنا پڑتا ہے اور اسے پاک صاف کرنا پڑتا ہے تاکہ خالص دھات میسر آسکے اور یہ کام سعی و جستجو کے بغیر ممکن نہیں۔ اصولی طور پر دنیا وی زندگی کا مزاج یہ ہے کہ گلوں کے ساتھ خار، نوش کے ساتھ نیش، اور کامیابیوں کے ساتھ مشکلات ہوتی ہیں۔ قدیم زمانے کی کہاوت ہے کہ: خزانے ویرانوں میں ہوتے ہیں اور ہر خزانے کے اوپر ایک اژدھا سویا ہوا ہے۔ کیا یہ ویرانے اور اژدھا سوائے مشکلات کے کسی اور چیز کا نام ہے کہ جو کامیابی کے راستے میں موجود ہیں۔ ایرانی داستانوں میں بھی رستم کی داستان میں ہے کہ وہ کامیابی تک پہنچنے کے لیے مجبور تھا کہ سات خوان سے گزرے کہ جن میں سے ہر ایک مشکلات کے انبوہ کی طرف اشارہ ہے کہ جو ہر مثبت کام کے راستے میں در پیش ہوتی ہیں۔ بہر حال قرآن نے یہ حقیقت با رہا بیان فرمائی ہے کہ انسان کوئی کامیابی مشکلات اور تکالیف اٹھائے بغیر حاصل نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے قرآن میں مختلف عبارتیں ہیں۔ سورہ بقرہ کی آیہ ۲۱۴ میں ہے: ”ام حسبتم ان تدخلوا الجنة و لما یاٴتکم مثل الذین خلوا من قبلکم مستھم الباٴساء و الضراء و زلزلوا حتی یقول الرسول و الذین اٰمنوا معہ متی نصر اللہ قریب“ کیا تم نے سمجھ رکھا ہے کہ کہ تمام آسانی سے جنت میں جا پہنچو گے اور تمہیں وہ حوادث پیش نہیں آئیں گے جو گزشتہ لوگوں کو در پیش ہوئے، وہی لوگ کہ جنہیں دشواریاں اور تکلیفیں در پیش ہوئیں اور وہ ایسے دکھ درد میں مبتلا ہوئے کہ پیغمبرؐ اور ان کے ساتھ اہل ایمان کہنے لگے کہ خدا کی مدد کہا ں ہے تو ان بہت ہی سخت اور دردناک لمحات میں خدائی نصرت ان کے پاس آ پہنچی اور ان سے کہا گیا کہ خدا ئی مدد قریب ہے۔
قرآنی مثالیں
مباحث کی توضیح و تفسیر میں مثال کی تاثیر ناقابل انکار ہے۔ اسی بناء پر کسی بھی علم میں حقائق کے اثبات اور توضیح کے لیے انہیں ذہن کے قریب لانے کے لیے ہم مثال پیش کرنے سے بے نیاز نہیں ہیں۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک بر محل مثال کو جو مقصود سے پوری طرح ہم آہنگ ہو اور اس پر منطبق ہو مطلب کو آسمان سے زمین پرلے آتی ہے اور اسے سب کے لیے قابل فہم بنا دیتی ہے۔ بہرحال کہا جا سکتا ہے کہ مختلف علمی، تر تیبی، اجتماعی اور اخلاقی مباحث میں مثال مندرجہ ذیل موثر اثرات رکھتی ہے۔ ۱۔ مثال مسائل کو حسّی بنا دیتی ہے: انسان چونکہ زیادہ تر محسوسات سے مانوس ہے اور پیچیدہ عقلی حقائق نسبتاً افکار کی دسترس سے دور ہوتے ہیں لہٰذا حسّی مثالیں ان دور دراز فاصلوں کو سمیٹ دیتی ہیں اور انہیں محسوسات کے آستانے پر لاکھڑا کرتی ہیں اور ان کے ادراک کو دل چسپ، شیریں اور اطمینان بخش بنادیتی ہیں۔ ۲۔ مثال راستے کو مختصر کر دیتی ہے:بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک گہرا، منطقی اور عقلی مسئلہ ثابت کرنے کے لیے انسان کو مختلف استدلالات کا سہارا لینا پڑتا ہے مگر پھر بھی اس کے گرد ابہام موجود رہتا ہے لیکن ایک واضح اور مقصد سے ہم آہنگ مثال راستہ اس قدر مختصر کر دیتی ہے کہ استدلال کی تاثیر میں اضافہ ہو جاتا ہے اور متعدد استدلالات کی ضرورت بھی نہیں رہتی۔ ۳۔ مثال مسائل کو سب کے لیے یکسان بنا دیتی ہے: بہت سے علمی مسائل کہ جو اپنی اصل صورت میں صرف خواص کے لیے قابل فہم ہیں اور عامة الناس اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا پاتے لیکن جب ساتھ مثال موجود ہو اور اس کے ذریعے وہ قابل فہم ہو جائیں تو ان سے سب لوگ مستفید ہوں گے چاہے وہ علم و دانش کی عمومیت دینے کے اعتبار سے ناقابل انکار کار آمد چیزیں ہیں۔ ۴۔ مثال مسائل کو زیادہ قابل اطمینان بنا دیتی ہے: کلیاتِ عقلی جس قدر بھی مستدل اور منطقی ہوں جب تک ذہن تک رہتے ہیں ان کے بارے مین کافی اطمینان پیدا نہیں ہوتا کیونکہ انسان ہمیشہ اطمینان کو عینیت اور ظاہری وجود میں ڈھونڈتا ہے اور مثال ذہنی مسائل کو عینیت بخشتی ہے اور انہیں عالمِ خارج میں واضح کر دیتی ہے۔ اسی لیے باور کرنے، قبول کرنے اور اطمینان حاصل کرنے کے لیے مثال بہت موثر ہو تی ہے۔ ۵۔مثال ہٹ دھرموں کو خاموش کر دیتی ہے: اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مسائل کلیات مستدل اور منطقی صورت میں پیش کیے جائیں تو ایک ہٹ دھرم شخص ان پر خاموش نہیں ہوتا اور اسی طرح ہاتھ پاوں مارتا رہتا ہے لیکن جب مسئلہ مثال کے قالب میں ڈھالا جائے تو اس کے لیے راستہ بند ہو جاتا ہے اور اس میں بہانہ جوئی کی مجال نہیں رہتی۔ نامناسب نہیں ہو گا اگر ہم اس موضوع کے لیے چند مثالیں پیش کریں تاکہ واضح ہو جائے کہ مثال میں کس قدر اثر ہے۔ جو لوگ یہ اعتراض کرتے تھے کہ حضرت عیسیٰ صرف ماں سے کس طرح پیدا ہو گئے اور کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص بغیر باپ کے پیدا ہو جائے، قرآن ان کے جواب میں فرماتا ہے: ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل اٰدم خلقہ من تراب عیسیٰ کی مثال خدا کے نزدیک آدم کی سی ہے کہ جسے اس نے مٹی سے پید اکیا۔ (آل عمران ۵۹) صحیح طرح سے غور کریں کہ ہم جس قدر بھی ہٹ دھرم لوگوں کے سامنے کہیں کہ یہ کام خدا کی لامتناہی قدرت کے سامنے نہایت معمولی ہے پھر بھی ممکن ہے وہ بہانے ڈھونڈیں لیکن جب ان سے یہ کہیں کہ کیا تم یہ مانتے ہو کہ حضرت آدم کو جو پہلے انسان تھے مٹی سے پیدا ہوئے تھے تو جو خدا ایسی قدرت رکھتا ہے وہ کسی بشر کو بغیرباپ کے پیدا کیوں نہیں کر سکتا۔ جن منافقوں نے اپنے نفاق کے زیر سایہ چند دن ظاہر اً سکون و آرام سے بسر کیے ہیں قرآن مجید ان کے بارے میں ایک خوبصورت مثال پیش کرتا ہے۔ قرآن انہیں ایسے مسافر سے تشبیہ دیتا ہے جو تاریک بیابان سے گزرہا ہے۔ رات اندھیری ہے۔ بادل گرج رہے ہیں۔ مسافر آندھی، طوفان اوربارش میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ وہ اس طرح سے سر گر دان ہے کہ اسے کسی طرف کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتا۔ ایسے میں جب آسمانی بجلی چمکتی ہے تو بیابان کی فضا چند لمحوں کے لیے روشن ہو جاتی ہے اور وہ اراد ہ کرتا ہے کہ کسی طرف جائے تاکہ اسے راستہ مل جائے لیکن جلدی ہی وہ بجلی خاموش ہو تی ہے اور وہ اسی طرح بیابان میں سر گرداں رہ جاتا ہے۔ (بقرہ۔ ۲۰)۔ کیا سرگرداں منافق کی حالت کی تصویر کشی کے لیے کہ جو اپنی روحِ نفاق اور منافقانہ عمل سے اپنی زندگی کا سفر جاری رکھنا چاہتا ہو اس سے زیادہ جاذبِ نظر مثال ہو سکتی ہے ؟ یایہ کہ جب ہم کچھ لوگوں سے کہتے ہیں کہ راہِ خدا میں خرچ کرو تو خدا تمہیں کئی گنازیادہ اجر دے گا تو ہو سکتا ہے کہ عام لوگ اس بات کا مفہوم پوری طرح نہ سمجھ سکیں لیکن جب یہ کہا جا ئے کہ راہ خدامیں خرچ کرنا اس بیج کی مانند ہے جسے زمین میں ڈالا جائے کہ جس سے سات خوشے اگتے ہیں اور ہر خوشے میں ہو سکتا ہے ایک سو دانے ہوں تو پھر یہ مسئلہ پوری طرح سے قابل فہم ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ ارشاد الہٰی ہے: مثل الذین ینفقون اموالھم فی سبیل اللہ کمثل حبة انبتت سبع سنابل فی کل سنبلة مائة حبة (بقرہ ۲۶۱) عام طور پر ہم کہتے ہیں کہ ریا کاری والے اعمال فضول اور بیکار ہیں اور انسان کو ان سے کوئی فائد ہ حاصل نہیں ہوتا ہو سکتا ہے یہ بات کچھ لوگوں کے لیے ناقابل فہم ہو کہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک فائدہ مند عمل مثلاً ایک ہسپتال یا ایک مدرسہ اگرچہ دکھاوے اور ریاکاری کے ارادہ سے ہو بار گاہ قدرت میں بے وقعت ہو لیکن قرآن ایک مثال کے ذریعے اس بات کو پوری طرح قابلِ فہم اور دلچسپ بنا دیتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: فمثلہ کمثل صفوان علیہ تراب فاصابہ وابل فترکہ صلداً ایسے اشخاص کا عمل پتھر کے ایک ٹکڑے کی مانند ہے کہ جس پر کچھ مٹی ڈال دی گئی ہو اور اس پر کچھ بیج چھڑک دیاجائے۔ تو جس وقت بارش برستی ہے تو بجائے کہ یہ بیج بار آور ہو بارش اسے پتھر پر پڑی ہوئی سطحی مٹی کے ساتھ دھو ڈالتی ہے اور اسے ایک طرف پھینک دیتی ہے۔ (بقرہ۔۲۶۴) ریا کاری اور بے بنیاد اعمال کی بھی یہی حالت ہے۔ ہم دور نہ نکل جائیں اسی زیر بحث مثال میں کہ جو حق و باطل کے مابین مقابلے کے بارے میں اس میں معاملے کی کیسی عمدہ تصویر کشی کی گئی ہے اور اسے دقیق طور پر مجسم کیا گیا ہے۔ تمہید، نتائج اور حق و باطل کی مخصوص صفات اور آثار میں سے ہر ایک کو اس مثال میں اس طرح سے منعکس کیا گیا ہے کہ مسئلہ سب لوگوں کے لیے قابل فہم اور اطمینان بخش ہو گیا ہے۔ اس کے پیش کیے گئے حقائق ہٹ دھرم افراد کو خاموش کر دینے والے ہیں نیز تمام چیزوں سے قطع نظر یہ مثال طولانی مباحث کی زحمت سے بچا دیتی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ مادہ پرست امام صا د ق علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا اور عرض کیا: قرآن میں ہے کہ جس وقت دوزخیوں کے جسم کا چمڑاآگ کی شدت سے جل جائے گا تو ہم اسے دوسرا چمڑا پہنادیں گے تاکہ وہ عذاب کا ذائقہ اچھی طرح سے چکھیں۔ اس دوسرے چمڑے کاکیا گناہ ہے کہ اسے سزا اور عذاب دیا جائے۔ اس کے جواب میں امام نے فرمایا: وہ چمڑا بعینہ پہلے والا چمڑا بھی ہے اور اس کا غیر بھی ہے۔ سوال کرنے والے اس جواب سے مطمئن نہ ہو اور اس جواب سے کچھ نہ سمجھ سکا لیکن امام نے ایک ناطق مثال کے ذریعے معاملہ اس طرح سے واضح کر دیا کہ گفتگو کی گنجائش باقی نہ رہی۔ آپ نے فرمایا: دیکھو!تم ایک پرانی اور خراب اینٹ کو زیزہ ریزہ کر دیتے ہو پھر اسی خاک کو بھگو کر سانچے میں ڈالتے ہو اور اس سے ایک نئی اینٹ بناتے ہو۔ یہ وہی پہلے والی اینٹ ہے اور ایک لحاظ سے اس کی غیر بھی ہے۔(اس حدیث کی تشریح تفسیر نمونہ جلد ۲ ص۳۰۸(ار دو ترجمہ) میں ملاحظہ فرمائیں۔ وہاں یہ حدیث مجالس ِ شیخ اور احتجاج طبرسی کے حوالے سے ذکر کی گئی ہے)۔ یہاں ایک نکتہ کا ذکر بہت ضروری ہے اور وہ یہ کہ مثال اپنے ان تمام مفید اور موثر اثرات کے باوجود اپنا بنیادی تقاضا بھی پورا کر سکتی ہے جب وہ اس مطلب سے ہم آہنگ ہو جس کے لیے اسے پیش کیا جا رہا ہے ورنہ مثال خود گمراہ ہو گی یعنی جیسے ایک صحیح اور ہم آہنگ مثال مفید اور موٴثر ہے اسی طرح ایک انحرافی اور غلط مثال گمراہی اور تباہی کا باعث بھی ہو سکتی ہے۔ اسی بناء پر منافقین اور بداندیش افراد ہمیشہ لوگوں کو گمراہ کرنے اور سادہ لوح افراد کو غافل کرنے کے لیے غلط مثالوں کا سہارا لیتے ہیں اور اپنے جھوٹ کے لیے مثال سے مدد لیتے ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ ہم انحرافی اور غلط مثالوں سے فائدہ اٹھانے والے ایسے افراد پر پوری توجہ سے نظر رکھیں۔
جنہوں نے دعوتِ حق کو قبول کر لیا
Tafsīr Nemūna · Vol. 2گذشتہ آیت میں حق و باطل کا چہرہ نمایاں کرنے کے لیے ایک رسا اور فصیح و بلیغ مثال پیش کی گئی تھی۔ اس کے بعد اب اس مقام پر ان لوگوں کے انجام کی طرف اشار ہ کیا گیا ہے جنہوں نے دعوتِ حق کو قبول کر لیا اور اس کے گرویدہ ہو گئے نیز ان افراد کا انجام بیان کیا گیا ہے جنہوں نے حق سے روگردانی کرتے ہوئے باطل کی طرف رخ کیا۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: ان لوگوں کے لیے، جنہوں نے اپنے پروردگار کی دعوت کو قبول کر لیا ہے نیک جزا، سود مند نتیجہ اور عاقبتِ محمود ہے (للَّذِینَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّھِمْ الْحُسْنَی)۔ ”حسنیٰ“ (نیکی) کا ایک وسیع مفہوم ہے جس میں ہر خیر و سعادت شامل ہے۔ نیک خصائل اور اخلاقی فضائل سے لے کر پا ک و پاکیزہ اجتماعی زندگی، دشمن پر کامیابی اور بہشتِ جا وداں تک سب اس کے مفہوم میں شامل ہیں۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے:اور وہ یہ جنہوں نے پروردگار کی یہ دعوت قبول نہیں کی ان کا انجام اس قدر برا اور رقت بار ہے کہ اگر تمام روئے زمین اور حتی کہ اس کی مثل بھی ان کی ملکیت میں ہو اور وہ یہ سب کچھ اسے برے انجام سے نجات کے لیے دینے ہر آمادہ ہوں توبھی ”ان سے یہ سب کچھ قبول نہیں کیا جائے گا (وَالَّذِینَ لَمْ یَسْتَجِیبُوا لَہُ لَوْ اَنَّ لَھُمْ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیعًا وَمِثْلَہُ مَعَہُ لَافْتَدَوْا بِہِ)۔ ان کے لیے عذاب اور سزا کے عظیم ہونے کی تصویر کشی کے لیے اس سے بڑھ کر رسا اور عمدہ تعبیر نہیں ہو سکتی کہ ایک انسان تمام روئے زمین بلکہ اس کے دوگنا کا مالک ہو اور وہ سب کچھ اپنے آپ کو بچانے کے لیے دے دے مگر وہ اس کے لیے فائد ہ مند نہ ہو۔ یہ جملہ درحقیقت اس طرف اشارہ ہے کہ ایک انسان کی آخری آرزو کہ جس سے برتر تصور نہیں ہو سکتا یہ ہے کہ وہ تمام روئے زمین کا مالک ہو لیکن ستمگروں اور دعوتِ حق کے مخالفوں کو دئے جانے والے عذاب کی شدت اس حد تک ہے کہ وہ اس بات پر تیار ہوں کہ یہ آخری دنیاوی ہدف بلکہ اس سے بھی برتر و بالاتر کو فدیہ کے طور پر دے کر آزاد ہو جائیں اور بالفرض اگر ان سے یہ قبول کر بھی لیا جاتا تو یہ صرف عذاب سے نجات ہوتی۔ لیکن دعوتِ حق کو قبول کرنے والوں کے لیے جو انتہائی عظیم اجر ہیں ان کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے واضح ہو جا تا ہے کہ ”مثلہ معہ“ صرف اسی معنی میں نہیں کہ پورے کرہٴ زمین کی مانند ان کے پاس مزید ہو بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ اس سے بڑھ کر جنتی زیادہ دولتِ و سلطنت کے مالک ہو جائیں اور وہ اپنی نجات کے لیے سب کچھ دینے پر تیار ہوں گے۔ اس کی وجہ بھی واضح ہے۔ انسان چونکہ ہر چیز اپنے لیے چاہتا ہے اور جب وہ خود عذاب میں غرق ہو تو پھر تما م دنیا کی مالکیت کا اسے کیا فائدہ۔ اس بدبختی (ساری دنیا دے کر بھی نجات حاصل نہ ہونا)کے بعد ایک اور بدبختی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ان کا حساب کتاب سخت اور برا ہو گا (اُوْلَئِکَ لَھُمْ سُوءُ الْحِسَابِ)۔ ”سوء الحساب“ سے کیا مراد ہے، اس سلسلے میں مفسرین کے مختلف نظر یات ہیں۔ بعض کا نظر یہ ہے اس سے مراد ایسا حساب ہے جو بہت دقیق اور باریک بین ہو اور جس میں کوئی درگذر نہ ہو کیونکہ ”سوء الحساب“ ظلم و ستم کے معنی میں خدا ئے عادل کے بارے میں کوئی مفہوم نہیں رکھتا۔ حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک حدیث بھی اسی تفسیر کی تائید کرتی ہے۔ اس حدیث میں ہے کہ امام نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا: فلاں شخص کو تجھ سے کیوں شکایت ہے۔ اسے یہ شکایت ہے کہ میں نے اپنا حق اس سے آخر تک لیا ہے۔ جب امام نے یہ بات سنی تو غضب ناک ہو کر بیٹھ گئے، پھر فرمایا: کانک اذا استقضیت حقک لم تسبی ارایت ما حکی اللہ عزوجل: و یخافون سوء الحساب، تراھم یخافون اللہ ان یجور علیھم لا واللہ ماخافوا الا الاستقصاء فسماہ اللہ عزّوجل سوء الحساب فمن استقصی فقد اسائہ۔ گویا تیرا گمان ہے کہ اگر تو آخری مرحلہ تک اپنا حق لے لے تو تُو نے کوئی بر انہیں کیا۔ ایسا نہیں ہے۔ کیا تونے خدا کا یہ ارشاد نہیں دیکھا کہ جس میں اس نے فرمایا ہے: و یخافون سوء الحساب (اور بد کار برے حساب سے ڈرتے ہیں)۔ کیا تیرا خیال ہے کہ وہ اس سے ڈرتے ہیں کہ خدا ان پر ظلم کرے گا ؟ بخدا ایسا نہیں وہ تو اس سے ڈرتے ہیں کہ خدا ان کا حساب دقیق طور پر لے اور آخری مرحلے تک پہنچائے۔ خدا نے اس کا نام ”سوء الحساب“ رکھا ہے لہٰذا جس شخص نے حساب کرنے میں سخت گیری کی اس نے برا حساب کیا ہے۔ (بحوالہ تفسیر بر ہان جلد ۲ ص ۲۸۸(یہ حدیث اگرچہ اس سورہ کی آیہ ۲۱ کی تفسیر کے متن میں آئی ہے لیکن واضح ہے کہ یہ لفظ”سوء الحساب“ کا عمومی مفہوم بیان کر رہی ہے)۔ بعض دوسرے مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ ”سوء الحساب“ سے مراد یہ ہے کہ ان کا محاسبہ سرزنش کے ساتھ ہو گا۔ اس سے ایک تو اصل حساب کی وحشت ہو گی اور اس کے علاوہ بھی وہ سرزنش کی تکلیف سے گزریں گے۔ بعض دیگر مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ ”سوء الحساب“ سے مراد ”سوء الجزاء“ (برا بدلہ) ہے یعنی ان کے لیے بری سزا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے ہم کہیں کہ فلاں شخص کا حساب پاک ہے یا فلاں شخص کا حساب تاریک ہے یعنی ان کے حساب کا نتیجہ اچھا یا برا ہے یا یہ کہ ہم کہیں کہ فلاں شخص کا حساب اس کے ہاتھ میں دے دو یعنی اس کے کام کے مطابق اسے سزا یا بدلہ دو۔ یہ تینوں تفاسیر ایک دوسرے کے منافی نہیں اور ہو سکتا ہے کہ یہ سب کی سب آیت کی مراد ہوں یعنی ایسے سخت حساب سے گزرنا ہو گا اور محاسبہ کے ساتھ ساتھ انہیں سرزنش بھی ہو گی اور حساب کے بعد انہیں بے کم وکاست سزا بھی دی جائے گی۔ آیت کے آخر میں ان کے لیے تیسرے عذاب یا سزا کے آخری نتیجے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ فرمایا گیا ہے: ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور یہ کیسا بر اٹھکانا ہے (وَمَاْوَاھُمْ جَھَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِھَادُ)۔ ”مھاد“اصل میں”مھد“کے مادہ سے تیار اور مہیا کرنے کے معنی میں ہے نیز یہ لفظ بستر کے معنی میں بھی آیاہے کہ جس سے انسان آرام اور استراحت کے موقع پر استفادہ کرتا ہے کیونکہ وہ اسے استراحت کرنے کے لیے آمادہ کرتا ہے۔ یہ لفظ اس طرف اشارہ ہے کہ ایسے سر کش افراد بجائے بسترِ استراحت پر آرام کرنے کے آگ کے جلادینے والے شعلوں پر رہیں گے۔
ایک نکتہ
آیات الہٰی سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ قیامت میں لوگ دو گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے۔ ایک وہ گروہ ہے خدا کی بارگاہ میں جن کا حساب اور سہولت آسانی سے ہو گا اور اللہ تعالی ان کے بارے میں کسی قسم کی سخت گیری نہیں کرے گا۔ ارشاد الہٰی ہے: اما من اوتی کتابہ بیمینہ فسوف یحاسب حساباً یسیراً اس دن جسے نامہٴ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اس سے آسان حساب لیاجائے گا۔ (انشقاق۔ ۸۔۷) اس کے برعکس کچھ ایسے لوگ ہیں جن سے ”شدت“ کے ساتھ حساب لیا جائے گا۔ ان سے ذر ہ ذرہ اور مثقال بھر کا حساب نہایت باریک بینی سے لیاجائے گا۔جیسا کہ بعض شہر جن کے لوگ سر کش اور گنہگار تھے، ان کے بارے میں فرمایا گیا ہے: فحاسبنا حساباً شدیداً و عذابنا ھا عذاباً نکراً پس ہم نے ان کا بڑی سختی سے حساب لیا اور انہیں برے عذاب کی سزا دی۔ (طلاق۔٨) اسی طرح زیر بحث آیت میں ہے جس میں ”سوء الحساب“ کی تعبیر استعمال ہوئی ہے۔ یہ اس بناء پر کہ کچھ لوگ دنیا وی زندگی میں دوسروں سے حساب لینے میں بہت زیادہ سختی کرتے ہیں یعنی بال کی کھال اتارنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اپنے حق کا آخری پیسہ تک وصول کر لیں اور جب دوسرے سے کوئی خطا سرزد ہو جاتی ہے تو آخری حد امکان تک اسے سزا دیتے ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو اپنی بیوی، اولاد، بھائیوں اور دوستوں تک سے ذرہ بھر درگذر نہیں کرتے اور چونکہ دوسرے جہان کی زندگی اس جہان کا رد عمل ہے لہٰذا خدا بھی ان کے حساب کتاب میں ایسی سخت گیری کرے گا تاکہ انہوں نے جو کام بھی کیا ہے اس کے جواب دہ ہوں اور ان کے بارے میں کچھ بھی درگذر اور چشم پوشی نہیں کی جائے گی۔ اس کے برعکس کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو آسان گیر ہیں بہت زیادہ درگذر کرنے والے ہیں اور نہایت شفیق و مہربان ہیں۔ خصوصاًدوستوں اور جان پہچان والے افراد یاجن پر ان کا کوئی حق ہے یا جو افراد ضعیف اور کمزور ہیں ان کے لیے ایسے مہر بان اور بزرگوار ہیں کہ کوشش کرتے ہیں کہ ایسے بہت سے مواقع پر اپنے آپ کو غافل ظاہر کریں اور بعض کی غلطیوں اورگناہوں سے چشم پوشی کرلتیے ہیں البتہ یہاں گناہوں سے مراد ایسے گناہ ہیں جو شخصی اور انفرادی پہلو رکھتے ہیں۔ خدا ایسے افراد کے لیے آسانی فراہم کرتا ہے۔ انہیں اپنی عفوِ بے پایاں اور رحمتِ وسیع سے نواز تا ہے اور انہیں آسانی سے حساب کی منزل سے گزار دیتا ہے۔ یہ بات تمام انسانوں کے لیے، خصوصاً ان لوگوں کے لیے جو کسی امر کے سربراہ یا نگران ہوتے ہیں اور لوگوں سے ان کا رابطہ اور تعلق ہوتا ہے ان کے لیے ایک عظیم درس ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔
اہل شعور کا طرز عمل - جنت کے ۸ دروازے
Tafsīr Nemūna · Vol. 2زیر نظر آیات میں حق کے طرفدارون کے اصلاحی طرز عمل کے جزئیات کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ یہ آیات گذشتہ آیات کی بحث کو مکمل کرتی ہیں۔ زیر نظر پہلی آیت میں استفہامِ انکاری کی صورت میں فرمایا گیا ہے: کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ تیرے پروردگار کی طرف سے جو کچھ تجھ پر نازل ہوا ہے حق ہے، اس شخص جیسا ہے جو نابینا ہے (اَفَمَنْ یَعْلَمُ اَنَّمَا اُنزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ الْحَقُّ کَمَنْ ھُوَ اَعْمَی)۔ یہ کیسی عمدہ تعبیر ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ جو شخص جانتا ہے کہ یہ قرآن برحق ہے کیا وہ اس کی مانند ہے کہ جو نہیں جانتا بلکہ فرمایا کیا جو جانتا ہے وہ اندھے کی طرح ہے؟ یہ تعبیر ایک اس امر کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ اس حقیقت کو نہ جاننا کسی بھی طرح ممکن نہیں سوائے اس کے کہ انسان کے دل کی آنکھ بالکل بےکار ہو چکی ہو ورنہ کیسے ممکن ہے کہ چشم بینا رکھنے والا رخ آفتاب نہ دیکھ سکے اور اس قرآن کی عظمت بالکل نورِ آفتاب کی مانند ہے۔ اسی لیے آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے: صرف وہی لوگ نصیحت پاتے ہیں جو اولو الالباب ہیں اور صاحبانِ فکر و نظر ہیں (إِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُوْلُوا الْاَلْبَابِ)۔ ”الباب“ جمع ہے ”لب“ کی جو ہر چیز کے ”مغز“ کے معنی میں ہے۔ اسی بناء پر”اولو الالباب“ کا متضاد بے مغز، کھوکھلے اور وہ افراد ہیں جن کے اندر کچھ نہ ہو۔ بعض عظیم مفسرین کے بقول یہ آیت لوگوں کو حصولِ علم اور جہالت کا زیادہ سے زیادہ مقابلہ کرنے کی تاکید کرتی ہے کیونکہ اس میں بے علم اور دانش سے محروم افراد کو نابینا قرار دیا گیا ہے۔ اس کے بعد ”اولو الالباب“ کی تفسیر کے طور پر صاحبانِ حق کے طرز عمل کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں سب سے پہلے ایفائے عہد کرتے ہیں اور پیمان شکنی نہیں کرتے (الَّذِینَ یُوفُونَ بِعَھْدِ اللهِ وَلاَیَنقُضُونَ الْمِیثَاقَ)۔ اس میں شک نہیں کہ”عہد اللہ“(عہد الہٰی) کا ایک وسیع مفہوم ہے۔ اس میں فطری عہد و پیمان کہ جو خدا نے تقاضائے فطرت کے مطابق انسان سے لیے ہیں وہ بھی شامل ہیں۔ مثلاً توحید اور حق عدالت سے انسان کی فطری محبت کا عہد۔ اسی طرح عقلی عہد پیمان یعنی وہ عہد کہ جو غور و فکر سوچ بچار اور قوتِ عقل کے نتیجے میں ناگزیر ہو جاتے ہیں جیسے عالم ہستی اور مبداء و معاد کے حقائق کا ادراک انہیں غور و فکر کے نتیجے میں کرلیتا ہے۔ اسی طرح اس میں شرعی پیمان شامل ہیں یعنی وہ پیمان جو پیغمبرؐ نے مومنین سے لیا ہے کہ وہ احکامِ خدا وندی کی اطاعت کریں گے اور اس کی نا فرمانی اور گانہ ترک کر دیں گے۔ یونہی وہ پیمان کہ جو انسان دوسرے انسانوں سے باندھتا ہے عہد الہٰی کے مفہوم میں شامل ہیں کیونکہ خدا ہی کا حکم ہے کہ یہ پیمان بھی پورے کیےجائیں بلکہ ایسے پیمان تشریعی بھی ہیں اور عقلی بھی۔ اہل شعور کے لائحہ عمل کا دوسرا حصہ رشتوں ناطوں کی حفاظت اور پاسداری ہے، جیسا کہ فرمایا گیا ہے: یہ وہی لوگ ہیں جو ان رشتوں اور رابطوں کو قائم رکھتے ہیں جن کی حفاظت کرنے کا خدا نے حکم دیا ہے (وَالَّذِینَ یَصِلُونَ مَا اَمَرَ اللهُ بِہِ اَنْ یُوصَلَ)۔ اس سلسلے میں اس سے زیادہ وسیع تعبیر نہیں مل سکتی کیونکہ انسان کا تعلق خدا سے بھی ہے، انبیاء سے بھی ہے، اور رہبروں سے بھی ہے۔ انسان کا رابطہ باقی تمام انسانوں کے ساتھ بھی ہے چاہے وہ دوست ہوں، ہمسائے ہیں، رشتہ دار ہوں، دینی بھائی ہوں یا ہم نوع ہوں۔ اس کا تعلق خود اپنے ساتھ ہے۔ مندرجہ بالا حکم میں تمام رشتہ ناتوں کو محترم شمار کیا گیا ہے۔ سب کا حق ادا کرنا چاہئیے اور ایسا کام انجام نہیں دینا چاہئیے جس سے ان میں سے کسی ایک سے تعلق منقطع ہونے تک جا پہنچے۔ درحقیقت انسان ایک ایسا موجود نہیں جو دوسرے سے کٹ کر اور جدا ہو کررہ سکے بلکہ اس کا وجود سر تا پا رشتے ناتطں، تعلق اور رابطوں سے تشکیل پاتا ہے۔ ایک طرف سے اس کا تعلق پیدا کرنے والے کی بارگاہ سے ایسا ہے کہ اگر یہ اسے منقطع کرلے تو نابود ہو جائے۔ جیسے ایک بلب کا رابطہ اگر بجلی پیدا کرنے والے مبداء سے کٹ جائے۔ لہٰذا جیسے تکوینی لحاظ سے انسان اس عظیم مبداء سے تعلق رکھتا ہے چاہیے کہ تشریعی اعتبار سے بھی اس کے ساتھ اطاعت کا رشتہ برقرار رکھے۔ دوسری طرف اس کا رشتہ پیغمبرؐ اور امامؑ سے رہبر، راہنما اور پیشوا کے حوالے سے ہے اور اگر یہ رشتہ ٹوٹ گیا تو انسان بے راہ رو اور سر گرداں ہو جائے گا۔ تیسری طرف انسان کا ایک رشتہ پورے انسانی معاشرے سے بھی ہے خصوصاً ان افراد سے جو اس پر زیادہ حق رکھتے ہیں جیسے ماں، باپ، رشتہ دار، دوست اور مربی۔ چوتھی طرف اپنی ذات سے بھی اس کا ایک تعلق ہے اس لحاظ سے وہ اپنے مصالح کی حفاظت اور اپنی ترقی اور کمال تک پہنچنے کا ذمہ دار ہے۔ درحقیقت ان تمام رشتوں اور رابطوں کو بر قرار رکھنا ”یصلون ما امر اللہ بہ ان یوصل“ کا مصداق ہے اور ان میں سے کسی کو منقطع کرنا“ ما امر اللہ بہ ان یوصل“ کو منقطع کرنا ہے کیونکہ خدا نے ان تمام کے ”وصل“ کا حکم دیا ہے۔ جو کچھ ہم نے کہا ہے کہ اس سے ان احادیث کا مفہوم واضح ہو جاتا ہے جو آیت کی تفسیر میں کبھی خاندان اور رشتہ داروں سے تعلق کو قائم رکھنے کا کہتی ہیں، کبھی امام اور پیشوائے دین سے مر بوط رہنے کا کہتی ہیں، کبھی آل محمد سے رابطے کا حکم دیتی ہیں اور کبھی تمام اہل ایمان سے تعلق کوکہتی ہیں۔ مثلاً ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے مر وی ہے کہ آپ سے ”الذین یصلون ما امر اللہ بہ ان یوصل“ کی تفسیر کے بارے میں سوا ل کیا گیا تو۔ فقال قرابتک فرمایا: تیرے اپنے قریبی مراد ہیں۔ (بحوالہ نور الثقلین جلد ۲ ص ۴۹۴)۔ ایک اور حدیث میں اما م صادق علیہ السلام ہی سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: نزلت فی رحم اٰل محمد و قد یکون فی قرابتک یہ جملہ آل محمد کے رشتے کے بارے میں ہے نیز تیرے اپنے قریبوں کے بارے میں بھی ہے۔ یہ بات جاذب نظر ہے کہ اس حدیث کے آخر میں ہے کہ امام نے فرمایا: فلاتکونن ممن یقول للشیء انہ فی شیءٍ واحد تو ایسا شخص نہ ہو جا کہ جو آیت کے معنی کو ایک ہی مصداق میں منحصر کر دے۔ (بحوالہ: نور الثقلین جلد ۲ ص ۴۹۴)۔ نیز ایک تیسری حدیث بھی اسی عظیم راہنما سے مروی ہے جس میں آپ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: ھو صلۃ الامام فی کل سنة بما قل او کثر ثم قال وما ارید بذٰلک الا تزکیتکم اس سے مراد مسلمانوں کے امام اور پیشوا سے ہر سال مالی امداد کے ذریعے رشتہ بر قرار رکھنا ہے چاہے وہ کم ہو یا زیادہ۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: اس کام سے میری مراد صرف یہ ہے کہ تمہیں پا ک و پاکیزہ کروں۔ (بحوالہ: نور الثقلین جلد ۲ ص ۴۹۵)۔ حامیان حق کا تیسرا اور چوتھا طرز عمل یہ ہے کہ ”وہ اپنے پر وردگا رسے ڈرتے ہیں اور قیامت کی عدالت کے حساب کی برائی سے خوف کھاتے ہیں (وَیَخْشَو نَ رَبّھُمْ وَیَخَافُونَ سُوءَ الْحِسَابِ)۔ اس سلسلے میں کہ”خشیت“ اور ”خوف“ میں کیا فرق ہے جب کہ دونوں ایک دوسرے کے قریب ہیں، بعض نے کہا ہے کہ ”خشیت“ وہ خوف ہے جو دوسرے کے احترام اور علم ویقین کی بنیاد پر ہو۔ لہٰذا قرآن میں یہ حالت علماء سے مخصوص شمار کی گئی ہے۔ ارشاد الہٰی ہے: انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء بندگان خدا سے صرف علماء اس سے خشیت رکھتے ہیں۔(فاطر۔ ۲۸)۔ لیکن قرآن میں یہ لفظ جہاں جہاں استعمال ہوا ہے ان بہت سے مواقع کی طرف توجہ کرتے ہوئے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ لفظ بالکل ”خوف“ کے مترادف کے طور پر آیا ہے اور اس کا ہم معنی ہے۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ کیا پروردگار سے ڈرنا اس کے حساب و کتاب اور عذاب و سزا سے ڈرنے کے علاوہ کوئی اور خوف ہے، اور اگر ایسا ہے تو پھر ”یخشون ربھم“ اور ”یخافون سوء الحساب“ کے درمیان کیا فرق ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا سے ڈرنا ہمیشہ اور لازماً اس کے عذاب اور حساب کتاب سے ڈرنے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ یہ خوف اس کے مقام کی عظمت کا احساس ہے اور بندگی کی ذمہ دای کے سنگین ہونے کے خیال سے (یہاں تک کہ سزا اور عذاب کی طرف توجہ کے بغیر بھی یہ احساس پیدا ہو سکتا ہے) اہل ایمان کے دلوں میں یہ احساس خود بخود ایک خوف اور وحشت کی حالت پیدا کر دیتا ہے۔ وہ خوف جو ایمان کی پیدا وار ہے، عظمت الہٰی سے آگہی کا نتیجہ ہے اور اس کی بار گاہ میں احساسِ مسئولیت کی بدولت ہے (سورہٴ فاطر کی آیہ ۲۸ ممکن ہے اسی معنی کی طرف اشارہ ہوا)۔ ایک اور سوال یہاں ”سوء الحساب“ کے حوالے سے سامنے آتا ہے اور وہ یہ کہ کیا قیامت میں واقعاً محاسبہ اعمال کے موقع پر بعض افراد کو ”بد حسابی“ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ گذشتہ چند آیات کے ذیل میں ہم اس سوال کا جواب ذکر کر چکے ہیں۔ وہاں بھی بالکل یہی لفظ استعمال ہوا ہے۔ وہاں ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس سے مراد کسی درگذر کے بغیر تمام جزئیات کا باریک بینی سے حساب لیا جانا ہے۔ اصطلاحاً جسے بال کی کھال اتارنا کہتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک جاذب نظر حدیث بھی وارد ہوئی ہے جو وہاں بیان کی جاچکی ہے۔ نیز جیسا کہ ہم نے وہاں کہا ہے کہ یہ احتمال بھی ہے کہ ”سوء الحساب“ سے مراد ایسا محاسبہ ہوکہ جس میں سرزنش بھی شامل ہو۔ بعض نے ”سوء الحساب“ کی تفسیر ”سوء الجزاء“ یعنی بری سزا کے طور پر کی ہے۔ جیسے ہم کہتے ہیں کہ فلاں کا حساب چکا دو یعنی اسے سزا دو۔ ہم نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ ”سوء الحساب“ کا ایک جامع مفہوم ہے اور اس میں یہ تمام معانی شامل ہیں۔ ان کا پانچواں طرزِ عمل تمام مشکلات کے مقابلے میں صبرو استقامت ہے، وہ مشکلات کہ جو اطاعت، ترکِ گناہ دشمن کے خلاف جہاد اور ظلم و سر کشی کے مقابلے کے راستے میں پیش آتی ہیں۔[تشریحی نوٹ: صبر صرف اطاعت، مصیبت سے بچنے کے موقع پر منحصر نہیں ہے، بلکہ نعمت کے موقع پر بھی صبر کرنا چاہیے؛ یعنی وہ انسان کو مغرور اور بے لگام نہ بنا دے۔] وہ صبر و استقامت بھی پروردگار کی رضا اور خوشنودی کی خاطر ہو۔ اسی لیے فرمایا گیا ہے: وہ ایسے لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے صبر و استقامت سے کام لیتے ہیں (وَالَّذِینَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْہِ رَبِّھِمْ)۔ ہم بار ہا صبر کے معنی کہ جو استقامت کے وسیع مفہوم کاحامل ہے، کے بارے میں وضاحت کر چکے ہیں۔ رہا ”وجہ ربھم“ تو اس کے دو میں سے ایک معنی ہیں۔ پہلا یہ کہ ”وجہ“ ایسا مواقع پر ”عظمت“ کے معنی میں ہے جیسے کسی اہم نظرے اور رائے کے بارے میں کہا جاتا ہے: ھٰذا وجہ الراٴی یعنی یہ اہم رائے ہے۔ اور یہ شاید اس بناء پر ہے کہ اصل میں ”وجہ“ کا معنی ہے ”چہرہ“ اور انسان کا چہرہ ظاہری بدن کا اہم ترین حصہ ہے کیونکہ بینائی، شنوائی اور گویائی جیسے اہم اعجاز اس میں موجود ہیں۔ دوسرا یہ کہ ”وجہ رب“ یہاں ”پروردگار کی رضا“ کے معنی میں ہے۔ یعنی وہ لوگ حق تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے تمام مشکلات کے مقابلے میں صبر و استقامت سے کام لیتے ہیں۔ اس معنی میں ”وجہ“ استعمال اس بناء پر ہے کہ جب انسان کسی کی رضا حاصل کرنا چاہتا ہے تو ا س کے چہرے کو اپنی طرف متو جہ کرتا ہے (اس بناء پر ”وجہ“ یہاں کنایتاً ا ٓیا ہے)۔ بہر صورت یہ جملہ اس مر کے لیے واضح دلیل ہے کہ صبر و شکیبائی بلکہ بطور کلی ہر عمل خیر اسی صورت میں قدر و قیمت رکھتا ہے جب ”ابتغاء وجہ اللہ“ اور خد اکے لیے ہو اور اگر اس کے کوئی اور اسباب ہوں مثلاً ریا کاری اورلوگوں کی توجہ حاصل کرنا کہ وہ سمجھیں کہ یہ بڑا صابر اور نیکو کار شخص ہے یا حتی اپنے غرورکے پیش نظر کوئی کام انجام دے تو پھر اس کی کوئی وقعت اور قدر و قیمت نہیں ہے۔ بعض مفسرین کے بقول کبھی انسان نا گوار حوادث پر صبر کرتا ہے تاکہ لوگ کہیں کہ یہ کس قدر صابر اور صاحب ِ استقامت ہے، کبھی اس خوف سے کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ یہ کیسا کم ظرف آدمی ہے، کبھی اس لیے کہ دشمن اسے طعنہ نہ دیں، کبھی اس لیے کہ وہ جانتا ہے کہ بے تابی اور داد فریاد یہاں فضول ہے کبھی اس لیے کہ لوگوں کے سامنے اپنی مظلومیت پیش کرے تاکہ لوگ اس کی مدد کے لیے اٹھ کھڑے ہو ں ان امور میں سے کوئی بھی نفس انسانی کے کمال کی دلیل نہیں ہے۔ لیکن جس وقت حکم خدا کی اطاعت کی بناء پر اور اس لیے کہ زندگی میں رونما ہونے والے ہر حادثے کی کوئی وجہ، حکمت اور مصلحت ہوتی ہے کوئی شخص صبر و استقامت سے کام لیتا ہے اور اس طرح وہ اس حادثے کی عظمت کو ختم کر دیتا ہے، کفر ان میں زبان نہیں کھولتا اور ایسا کوئی کام نہیں کرتاجو جزع و فزع کی دلیل بنے تو یہی وہ صبر ہے کہ جس کی طرف آیت بالامیں اشارہ کیا گیا ہے اور یہی صبر ”ابتغا وجہ اللہ“ شمار ہوتا ہے۔ ان کا چھٹا طرز عمل یہ ہے کہ ”وہ نماز قائم کرتے ہیں“ (وَاَقَامُوا الصَّلَاةَ)۔ نماز قائم کرنا اگر چہ عہد الہٰی کے وفا کرنے کے مصادیق میں سے ہے بلکہ خدائی رشتوں کی حفاظت کا ایک زندہ مصداق ہے اور ایک لحاظ سے صبر واستقامت کے مصادق میں سے ہے لیکن ان کلی مفاہیم کے بعض مصادیق بہت اہم ہیں جو انسانی سر نو شت میں بہت زیادہ موثر ہیں لہذا ان کی خصوصی طور پرنشاند ہی کی گئی ہے۔ اس سے بڑھ کر اہم کیا بات ہوگی کہ انسان ہر صبح شام خدا سے اپنے رابطے اور تعلق کی تجدید کرے، اس کے ساتھ راز و نیاز کے لیے کھڑا ہو، اس کی عظمت اور اپنی ذمہ داریوں کو یاد رکھے اور اس عمل کے ذریعے اپنے قلب و روح سے گناہ کا غبار اور زنگ دھوڈالے اور پانے قطرہ وجود کے ہستی حق کے بیکراں سمندر سے ملحق ہونے کا شرف حاصل کرے،جی ہاں !نماز میں یہ تمام اثرات وبرکات موجود ہیں۔ اس کے بعد حق جو افراد کا ساتواں طرز عمل اسی طرح سے بیان کیاگیا ہے:وہ ایسے لوگ ہیں کہ ہمارے عطا کردہ رزق سے پنہان و آشکار خرچ کرتے ہیں (وَاَنفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاھُمْ سِرًّا وَعَلَانِیَةً)۔ انفاق اور زکوٰة کا مسئلہ صرف اسی آیت میں نماز کے بعد بیان نہیں ہوا بلکہ بہت سی آیات قرآن میں زکوة کو نماز کے پہلو میں رکھا گیا ہے کیونکہ ان میں سے ایک چیز انسان کے رشتے کو”خدا“ سے مستحکم کرتی ہے اور دوسری ”مخلوق“ سے تعلق کو۔ یہاں اگر ہم ”ممارزقناھم“ کی طرف توجہ دیں تو وہ ہر قسم کی عنایت و بخشش کے بارے میں چاہے مال ہو یا علم،طاقت و حیثیت ہو یا اجتماعی اثر و رسوخ ایسا ہونا ضروری بھی ہے کیونکہ انفاق اور خرچ کرنے کا ایک پہلونہیں ہو چاہئیے،بلکہ یہ خرچ تمام پہلووٴں سے اور تمام نعمات سے ہونا چاہئیے۔ ”سرّا و علانة“ (پنہان اور آشکار) یہ تعبیر اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اپنے مصارف میں اس حقیقت کی طرف بھی نظر رکھتے ہیں کیونکہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اگر انفاق مخفی طور پر ہو تو وہ زیادہ موثر ہوتا ہے۔ مثلاًاگر دوسرے کی حیثیت کا تقاضا ہو کہ اسے مخفی رکھا جائے یا انفاق کرنے والا ریا اور دکھا وے سے بچنا چاہتا ہو اور کبھی انفاق آشکار طور پر کیا جائے تو اس کا اثر زیادہ وسیع ہوتا ہے مثلاً ایسے مواقع پر جبکہ ایسا کرنا دوسروں کی تشویق کا باعث بنے اور انہیں اس عمل کی اقتدا کی ترغیب دے اور انفاق کرنے کا ایک عمل ایسے سینکڑوں اور ہزاروں کاموں کا سبب بنے۔ یہاں سے واضح ہوتا ہے کہ ایک مثبت عمل کی انجام دہی کے لیے قرآن کس قدر باریک بینی سے کام لیتا ہے وہ صرف اصل کام کی طرف توجہ نہیں کرتا بلکہ تاکید کرتا ہے کہ اصل عمل بھی خیر ہو اور اس کے انجام پانے کی کیفیت بھی اچھی ہو (ایسے مواقع پر جہاں ایک کام کی انجام دہی مختلف کیفیات سے ممکن ہو)۔ آخر میں اس کا آٹھواں اور آخری طرز عمل بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ وہ ”حسنات“(نیکیوں) کے ذریعے اپنی”سیئات“(برائیوں) کو ختم کر دیتے ہیں (وَیَدْرَئُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ)۔ اس معنی میں کہ وہ ایک گناہ اور لغزش کے ارتکاب پر صرف پشیمان ہونے اور ندامت و استغفار پر قناعت نہیں کرتے بلکہ عملی طور پر تلافی کے لیے قدم اٹھاتے ہیں اور جس قدر ان کا گناہ اور لغزش زیادہ ہو اسی قدر حسنات اور نیکیاں بھی زیادہ انجام دیتے ہیں تاکہ اپنے اور معاشرے کے وجود سے گناہ کی آلودگی کو حسنات کو پانی سے دھو ڈالیں۔ ”یدرؤن“،”درء“ (بروزن ”زرع“)کے مادہ سے دفع کرنے کے معنی میں ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ وہ برائی کی تلافی برائی کے ذریعے نہیں کرتے بلکہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اگر کسی شخص کی طرف سے انہیں برائی پہنچے تو اس کے حق میں نیکی انجام دے کر اسے شرمندہ ہونے اور تجدید نظر پر آمادہ کریں۔جیسا کہ سورہ فصلت کی آیہ ۳۵ میں ہے: ادفع بالتی ھی احسن فاذا الذی بینک و بینہ عداوة کانہ ولیّ حمیم۔ بدی کو اس طریقہ سے اپنے سے دور کرجو زیادہ اچھا ہے کیونکہ اس موقع پر وہ شخص جس کے اور تیرے درمیان عداوت ہے اپنا چہرہ یوں بدل لیتا ہے گویا وہ تیرا مخلص اور پکا دوست ہے۔ بہرحال اس میں کوئی مانع نہیں کہ زیر بحث آیت دونوں مفاہیم لیے ہوئے ہو۔ احادیث اسلامی میں بھی کچھ احادیث دونوں تفاسیر بیان کرتی ہیں۔ ایک حدیث پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے، آپ معاذ بن جبل سے فرماتے ہیں: فاذا عملت سیئة فاعمل بجنبھا حسنة تمحھا۔ جب کوئی برا کام کر بیٹھو توا س کےساتھ ہی کوئی نیک کام انجام دو جو اسے محو کر دے۔ (بحوالہ مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں۔) مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں نہج البلاغہ میں حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: عاتب اخاک بالاحسان الیہ واردد شرہ بالانعام علیہ۔ اپنے بھائی کو کوئی غلط کام انجام دینے پر نیکی کے ذریعے سرزنش کرو اور اس کے شرک و انعام اور احسان کے ذریعے اس کی طرف پلٹا دو۔(بحوالہ: نہج البلاغہ کلمات قصا ر جملہ ۵۸)۔ البتہ اس طرف توجہ رہے کہ یہ ایک اخلاقی حکم ہے جو بعض مواضع سے مخصوص ہے کہ جہاں اس قسم کی طرز عمل موثر ہوتا ہے ورنہ حد جار ی کرنا اور بدکاروں کو سزا دینا اسلام کے قوانین میں سے ہیں اور ان تمام افراد کے لیے یکساں طو پر ہے کہ جواس کے دائرے میں آتے ہیں۔ مختلف طرز عمل کے بعد ”اولو الباب“صاحبان فکر و نظر،طرفداران حق اور ایسے طریقوں پر عمل کرنے والوں کے انجام کار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: دوسرا گھر جو نیک او اچھی عاقبت کا حامل ہے، ان کے لیے (اُوْلَئِکَ لَھُمْ عُقْبَی الدَّارِ)۔ (تشریحی نوٹ: ”عقبیٰ“ عاقبت اور انجام کار کے معنی میں ہے چاہے اچھا ہو یا برا لیکن قرینہ حالیہ اور مقالیہ کی طرف توجہ کی جائے تو مذکورہ آیت میں اس سے مراد عاقبت خیر ہے)۔ بعد والی آیت میں اس نیک انجام اور عاقبتِ خیر کی توضیح کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ان کا انجام کا جنت کے دائمی باغات ہیں کہ جن میں وہ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے صالح اور نیک آباوٴ و اجداد، ازواج اور اولاد بھی (جَنَّاتُ عَدْنٍ یَدْخُلُونَھَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِھِمْ وَاَزْوَاجِھِمْ وَذُرِّیَّاتِھِمْ)۔ اور جو چیز ان عظیم اور بے پایا ں نعمتوں کی تکمیل کرتی ہے یہ ہے کہ ”ہر دروازے سے ان کے لئے فرشتے داخل ہوں گے “(وَالْمَلَائِکَةُ یَدْخُلُونَ عَلَیْھِمْ مِنْ کُلِّ بَابٍ)۔ اور انہیں کہیں گے ”تم پر سلام ہو تمہارے صبر و استقامت کی بناء پر (سَلَامٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ)۔ذمہ داریوں کی انجام دہی میں اور شدائد و مصائب بر داشت کرنے میں تمہارا صبر و استقامت ہے جو اس اسلامتی کا باعث ہوا ہے۔یہاں انتہائی امن، آرام اور چین و سکون سے رہوگے۔ یہاں نہ جنگ و جدال ہے،نہ نزاع ہے، نہ سختی، نہ مخالفت ہے اور نہ جھگڑا، ہر جگہ امن ہی امر ہے اور تمام چیزیں تمہارے سامنے تبسم کناں ہیں اور ایسا آرام و سکون جس میں اضطرابِ قلب کا شائبہ تک نہیں وہ یہیں پر ہے۔ آخر میں ارشاد ہوتا ہے یہ کیسا اچھا انجام اور کیسی اچھی عاقبت ہے (فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ) ۔
چند اہم نکات
۱۔ صرف”صبر“کا ذکر کیوں ہوا ہے ؟ ”سلام علیکم بماصبرتم“ کے جملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرشتے اہل جنت یوں سے کہیں گے:”تم پر تمہارے صبر و استقامت کی وجہ سے سلام ہو“ حالانکہ مندرجہ بالا آیت میں ان کے آٹھ قسم کے اچھے کاموں اور اہم طرز ہائے عمل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے لیکن اس جملے میں آٹھ امور میں سے صرف”صبر“ کی نشاندہی ہی کی گئی ہے۔ اس امر کی وجہ حضرت علی کے ایک زندہ اور پر مغز بیان سے سمجھی جاتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں: ان الصبر من الایمان کالراس من الجسد ولاخیر فی جسد لاراٴس معہ ولا فی ایمان لاصبر معہ۔ صبر کی ایمان سے وہی نسبت ہے جو سر کی جسم سے ہے۔بدن سر کے بغیر باقی نہیں رہ سکتا اور ایمان بی صبر کے بغیر کوئی وقعت نہیں رکھتا۔(بحوالہ: نہج البلاغہ، کلمات قصار،جملہ ٨٢) درحقیقت تمام انفرادی اور اجتماعی اصلاحی پروگراموں کا سہارا صبر و شکیبائی اور استقامت ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو ان میں سے کچھ بھی انجام نہیں پاسکتا کیونکہ ہر مثبت کام کی راہ میں مشکلات اور رکاوٹیں ہوتی ہیں کہ جن پر صبر و استقامت کی قوت کے بغیر کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی نہ ایفائے عہد صبر و استقامت کے بغیر ممکن ہے،نہ خدائی رشتوں کی حفاظت اس کے بغیر ممکن ہو سکتی ہے، نہ اس کے بغیر خدا اور عدالتِ قیامت کاخوف ہوتا ہے، نہ اس کے بنا قیام نماز ممکن ہے،نہ خدائی نعمتوں میں سے اس کے بغیر کرچ ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے بغیر حسنات کے ذریعے خطاوں کی تلافی ہو سکتی ہے۔ ۲۔جنت کے دروازے: آیات قرآن سے بھی اور روایات سے بھی یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ جنت کے دروازے ہیں لیکن یہ متعدد دروازے اس بناء پرنہیں ہیں کہ جنت میں داخل ہونے والوں کی تعداد اس قدر ہے کہ اگر وہ ایک ہی دروازے سے داخل ہونا چاہیں تو زحمت ہو گی، نہ ہی اس کی وجہ یہ ہے کہ طبقات میں اختلاف ہے اور جس کی بناء پر ہرگز گروہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک دروازے سے آئے، نہ ہی اس کی وجہ راستے کی نزدیکی یا دوری ہے اور نہ ہی دروازوں کی کثرت خوبصورتی زیبائی اور تنوع کا باعث ہے اصولی طور پر جنت کے دروازے دنیا کے دروازوں کی طرح نہیں ہیں کہ جوباغات،محلات اور مکانات میں داخل ہو نے کے لیے ہوتے ہیں بلکہ یہ دروازے اعمال و کردار کی طرف اشارہ ہیں کہ جو جنت میں داخل ہونے کاسبب ہوں گے اسی لیے چند ایک احادیث میں ہے کہ جنت کے دروازے کے مختلف نام ہیں۔ ان میں سے ایک کانام ”باب المجاھدین“(مجاہدین کا دروازہ) ہے اور مجاہدین اسی اسلحہ سے مسلح ہو کر اس دوازے سے جنت میں داخل ہوں گے جس کے ساتھ وہ جہاد کر تے تھے اور فرشتے انہیں”خوش آمدید“کہیں گے۔ (بحوالہ: منھاج البراعةفی شرح نہج البلاغہ جلد ۳ ص:۹۹۵)۔ ایک حدیث میں ا مام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: اعلموا ان للجنة ثمانیة ابواب عرض کل باب منھا میسرة اربعین سنة جان لو کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں کہ جن میں ہر دروازے کا عرض چالیس سال کی مسافت کے برابر ہے۔( بحوالہ: خصال صدوق ابواب ثمانیہ)۔ یہ حدیث نشاندہی کرتی ہے کہ ایسے مواقع پر دروازے کا مفہوم ہماری روز مرہ کی گفتگو سے وسیع تر ہے۔ یہ بات جاذب نظر ہے کہ قرآن حکیم میں ہے کہ جہنم کے سات دروازے ہیں:لھا سبعة ابواب (حجر۴۴) اور روایا ت کے مطابق جنت کے اس آٹھ دروازے ہیں۔یہ اس طرف اشارہ ہے کہ جہنم میں پہنچنے کے راستوں کی نسبت سعادت بہشت جاوداں تک پہنچنے کے راستے زیادہ ہیں اور خدا کی رحمت اس کے غضب پر سبقت رکھتی ہے جیسا کہ دعاء جوشن کبیر کے الفاظ ہیں: یا من سبقت رحمتہ غضبہ اس سے بھی زیادہ جاذب نظر امر یہ ہے کہ مندرجہ بالا آیات میں بھی”اولوالالباب“کے طرزہائے عمل کے بارے میں آٹھ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن میں سے ہر ایک دراصل جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اور سعادت جاوداں تک پہنچنے کا راستہ ہے۔ ۳۔اہل جنت سے وابستگی رکھنے والے ان سے جا ملیں گے: نہ صرف مندرجہ بالاآیت بلکہ قرآن کی دوسری آیات بھی یہ بات صراحت سے بیان کرتی ہیں کہ جنت میں اہل بہشت اور ان کے ماں باپ، بیویوں اور اولاد میں سے جو نیک اور صالح ہوں گے داخل ہوں گے۔یہ درحقیقت ان پر خدائی نعمات کی تکمیل ہے تاکہ وہ وہاں کسی قسم کی کمی محسوس نہ کریں یہاں تک کہ جن افراد سے ان کا لگاوٴہے ان کی جدائی بھی نہ ہو۔نیز چونکہ اس دار آخرت میں کہ جو نیا اور کامل گھر ہے ہر چیز تازہ اور نئی ہو جاتی ہے لہٰذا وہ لوگ بھی تازہ اور نئے چہروں کے ساتھ اور زیادہ خلوص و محبت کے ساتھ وہاں داخل ہوں گے، ایسی مہر و محبت کو جو نعماتِ بہشت کی قدر و قیمت کئی گنا کر دے گی۔ مندرجہ بالا آیت میں اگرچہ صرف ماں باپ، اولاد اور ازواج کا ذکر ہے لیکن درحقیقت وہاں تمام وابستگان اکھٹے ہوں گے کیونکہ اولاد اور ماں باپ (یا باپ داد) کی موجودگی بہن بھائیوں کے بغیر بلکہ دیگر وابستگان کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ تھوڑا سا غور وخوض کیا جائے تو یہ مطلب واضح ہو جاتا ہے کیونکہ نیک باپ جنتی ہے لہٰذا اس کے تمام بیٹے اس سے آملیں گے۔ اس طرح بھائی آپس میں مل جائیں گے اور اسی طرح دیگر وابستگان اور عزیز و اقارب اکھٹے ہو جائیں گے (غور کیجئے گا)۔ ۴جناتِ عدن کیا ہے؟ "جنات " کا معنی ہے "باغات" اور "عدن" کا معنی ہے "طولانی توقف" اور یہاں ابدیت اور ہمیشگی کے معنی میں ہے۔ اور یہ جو "معدن"(کان) کو" معدن" کہتے ہیں وہ بھی اس جگہ کسی مواد کے طولانی توقف کی بنا پر ہے۔ قرآن کی مختلف آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت اہل جنت اہل بہشت کے لیے ابدی اور جاودانی گھر ہے لیکن جیسا کہ ہم نے سورہ توبہ کی آیہ ۷۲ کے ذیل میں کہا جاتا ہے، قرآن کی چند ایک آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جناتِ عدن میں ایک مخصوص مقام ہے جو جنت کے دیگر باغات سے امتیاز رکھتا ہے اور اس میں صرف تین طرح کے لوگ رہیں گے انبیاء مر سلین صدقین (یعنی انبیاء کے خاص دوست احباب) اور شہداء۔ ( تشریحی نوٹ: مزید وضاحت کے لیے جلد ۸ ار دو ترجمہ کی طرف رجوع فرمائیں)۔ ۵۔ گناہ کے آثار دھلنا: اجمالی طور پر ”حسنات“ اور ”سیئات“ ایک دوسرے پر متقابل اثررکھتے ہیں اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ حتی کہ ہم اس چیز کے نمونے اپنی روزمرہ زندگی میں بھی مشاہدہ کرتے ہیں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان سالہا سال زحمت اٹھاتا ہے اور بہت زیادہ محنت و مشقت کرکے سرمایہ جمع کرتا ہے لیکن ناسمجھی، ہوا و ہوس کی پیروی یا بے پرواہی سے اسے گنوا بیٹھتا ہے یہ بالکل مادی حسنات کو گنوا بیٹھنے کے اور کچھ نہیں ہے جسے قرآن میں”حبط“ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس، کبھی انسان بہت سی غلطیوں کا مرتکب ہوتا ہے اور ان کے باعث سنگین خسارے کے بوجھ تلے دب جاتا ہے لیکن ایک عقلمندانہ عمل سے یا عاشقانہ جہاد کے ذریعے ان سب نقصانات کی تلافی کر دیتا ہے۔ مثلاًہمارے زمانے کے اسی اسلامی انقلاب میں ہم نے بہت سے افراد دیکھے ہیں کہ وہ سابق ظالم و جابر نظام میں بہت سے گناہوں کے مرتکب ہوئے تھے اور اسی وجہ سے وہ جیل میں تھے لیکن جب ملک کے دشمنوں کے خلاف جہاد شروع ہوا تو اس وقت ان کی فوجی مہارت کی بناء پر انہیں میدانِ جنگ میں آنے کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے بھی بے نظیر شجاعت و فداکاری سے پیکر دشمن پر مہلک ضربیں لگائیں۔ اس دوران ان میں سے بعض شہید ہو گئے اور بعض زندہ ہیں۔ دونوں صورتوں میں انہون نے اپنی گذشتہ غلطیوں کی تلافی کرلی۔ زیر بحث آیات کہ جن میں فرمایا گیا ہے: ویدرء ون بالحسنة السیئة اہل ایمان عقلاء اور اربابِ فکر و نظر اپنی برائیوں کو نیکیوں کے ذریعے دور کرتے ہیں۔ یہ اسی مطلب کی طرف اشارہ ہے کیونکہ غیر معصوم انسان کبھی نہ کبھی غلطیوں اور لغزشوں میں گرفتار ہو جاتا ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس کے بعد وہ ان کی تلافی کی فکر میں رہے نہ صرف گناہ کے اجتماعی آثار جو اپنے اعمالِ خیر کے ساتھ دھو ڈالے بلکہ وہ ظلمتِ گناہ جو انسان کے قلب و روح پر جاپڑتی ہے اسے بھی ”حسنات“ کے ذریعے دور کرے اور اسے فطری نورانیت اور شفافیت کی طرف پلٹائے۔ قرآن کی زبان میں اس کام کو ”تکفیر“ (ڈھانپنا) اور پاک کرنا کہتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: اس سلسلے میں مزید وضاحت کے لیے تفسیر نمونہ جلد ۱ ۵۰۲ (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع کریں)۔ البتہ جیسا کہ ہم مندرجہ بالا آیات کی تفسیر میں کہہ چکے ہیں ہو سکتا ہے ”ویدرء ون بالحسنة“ ایک اور اہم اخلاقی فضیلت کی طرف اشارہ ہو اور وہ یہ کہ ”اولوالالباب“ دوسروں کی برائی کا برائی سے جواب نہیں دیتے اور انتقام لینے کی بجائے نیکی اور اچھائی کرتے ہیں تاکہ دوسرا خود شرمندہ ہو جائے، پاکیزگی کی طرف پلٹ آئے اور اپنی اصلاح کرلے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
دنیا پرست تباہ کار
Tafsīr Nemūna · Vol. 2چونکہ نیک و بد ہمیشہ ایک دوسرے سے موازنہ کرنے سے اچھی طرح واضح ہو جاتے ہیں لہٰذا ”اوالالباب“ اور حق پرست افراد کہ جن کا تفصیلی ذکر گذشتہ آیات میں آیا ہے کہ صفات بیان کرنے کے بعد محل بحث آیات کے کچھ حصوں میں مفسدین اور وہ کہ جو واقعی اپنی عقل وفکر گنوا بیٹھے ہیں، کی چند بنیادی صفات بیان کی گئی ہیں۔ارشاد ہوتا ہے: اور وہ کہ جو عہد خدا وندی کو محکم کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور ان رشتوں کو منقطع کر دیتے ہیں جنہیں قائم رکھنے کا خدانے حکم دیا ہے اور روئے زمیں میں فساد برپا کرتے ہیں ان پر لعنت ہے اور دار آخرت کا عذاب ان کے لیے مخصوص ہے (وَالَّذِینَ یَنقُضُونَ عَھْدَ اللهِ مِنْ بَعْدِ مِیثَاقِہِ وَیَقْطَعُونَ مَا اَمَرَ اللهُ بِہِ اَنْ یُوصَلَ وَیُفْسِدُونَ فِی الْاَرْضِ اُوْلَئِکَ لَھُمُ اللَّعْنَةُ وَلھُمْ سُوءُ الدَّارِ)۔ درحقیقت ان کے تمام اعتقادی و عملی مفاسد کا خلاصہ مذکورہ تین عہد و پیمان میں بیان کر دیا گیا ہے:۔ خدائی عہد و پیمان کو توڑنا جس میں فطری، عقلی اور شرعی عہد و پیمان شامل ہیں۔ (۲)روابط اور رشتوں کو منقطع کرنا۔ خدا سے رابطہ، خدائی رہبروں سے رابطہ، مخلوق سے رابطہ اور اپنے آپ سے رابطہ۔ (۳) آخری حصہ کہ جو پہلے دو حصوں کا نتیجہ ہے روئے زمیں میں فساد کرنا۔ جو شخص پیمان الہٰی توڑتا ہے اور ہر طرف سے رشتوں کو منقطع کر دیتا ہے کیا وہ فتنہ فساد کے علاوہ کوئی کام انجام دے سکتا ہے، یہ کاوشیں ان لوگوں کی جانب سے مادی مقاصد کے لیے حتی کہ خیالی مقاصد کے لیے کی جاتی ہیں اور ان کے نتیجے میں وہ کسی بلند مقصد کے قریب ہونے کی بجائے دو ہو جاتے ہیں کیونکہ ”لعنت“ رحمتِ خدا سے دوری کے معنی میں ہے۔ (تشریحی نوٹ: راغب نے کتاب مفردات میں کہا ہے:"لعن" اس طرح سے دور کرنے کے معنی میں ہے جس میں غصہ ملا ہوا، جب آخرت میں خدا کی طرف اس لفظ کی اضافت ہو تو سزا کے معنی میں ہے اور دنیا میں رحمت منقطع ہو نے کے معنی میں ہے اور اگر لوگوں کی طرف سے ہو تو پھر نفرین کے معنی میں ہے)۔ یہ بات جاذب نظر ہے کہ اس آیت میں اور گذشتہ آیت میں ”دار“(گھر اور سرائے) بصورت مطلق آیا ہے جو اس طرف اشارہ ہے کہ حقیقی گھر آخرت والا گھر ہی ہے کیونکہ دوسرا ہر گھر آخر کار خلل پذیر ہو گا اور ٹوٹ پھوٹ جائے گا۔ بعد والی آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ روزی اور اس کی کمی بیشی خدا کے ہاتھ میں ہے: خدا جسے چاہتا ہے وسیع رزق دیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے اس کی روزی تنگ کر دیتا ہے (اللهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَشَاءُ وَیَقْدِرُ)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ جو لوگ زیادہ سے زیادہ دنیا سمیٹنے کے لیے روئے زمین پر فساد کرتے ہیں وہ خدائی رشتوں کو توڑتے ہیں اور خدا کے ساتھ عہد شکنی کرتے ہیں تاکہ مادی زندگی کے لیے زیادہ سے زیادہ مفادات حاصل کرسکیں لیکن وہ اس حقیقت کی طرف توجہ نہیں دیتے کہ رزق اور اس میں کمی بیشی خدا کے ہاتھ میں ہے۔ علاوہ ازیں یہ جملہ ایک سوال کا جواب بھی ہو سکتا جو آیت میں صراحت سے نہیں آیا اور وہ یہ کہ گذشتہ آیات میں حق و باطل کے طرفداردو گروہوں کے ذکر کے بعد یہ سوال سامنے آتا ہے کہ خدا اپنے رزق اور نعمات سے کس طرح نوازتا ہے تو آیت اس سوال کے جواب میں کہتی ہے کہ روزی اور اس کی کمی بیشی خدا کے ہاتھ میں ہے۔ بہرصورت یہ روزی جلد گذرجانے والی متاع ہے جب کہ وہ چیز جسے اہمیت دی جانا چاہئیے وہ آخرت کا گھر اور ابدی سعادت ہے۔ تاہم اس کے بارے میں اہم نکتہ یہ ہے کہ رزق کے لیے ”مشیتِ الہٰی“ یہ خدا نہیں کہ بغیر حساب کے اور اسباب سے فائدہ اٹھائے بغیر کسی کو رزقِ فراوان دے دے یا اس کی روزی کو کم کر دے بلکہ اس کی مشیت کی بنیاد یہ ہے کہ انسان اسے اس عالم کے اسباب کے اندر تلاش کرے کیونکہ: ”ابیٰ اللہ ان یجری الامور الا باسبابھا“ ــــــ یعنی ـــــــــــ خداچاہتا ہے کہ تمام امور اسباب کے ساتھ ہی روپذیر ہوں۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: عہد شکن اور فساد فی الارض کرنے والے دنیاوی زندگی پر ہی خوش ہیں حالانکہ آخرت کے مقابلے میں دنیا وی زندگی متاعِ ناچیز سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی (وَفَرِحُوا بِالْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَمَا الْحَیَاةُ الدُّنْیَا فِی الْآخِرَةِ إِلاَّ مَتَاعٌ)۔ نکر ہ کی صورت میں ”متاع“ کا ذکر اس کا حقیر ہونا ظاہر کرنے کے لیے۔ جیسا کہ ہم فارسی میں کہتے ہیں: فلاں موضوع ”متاعی“ بیش نیست فلاں چیز”ایک متاع“ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ یعنی بےوقعت متاع ہے۔
چند اہم نکات: ۱۔ مفسد فی الارض کون؟
مفسد فی الارض“کون ہے؟ ”فساد“ کہ جو ”اصلاح“ (درستی)کا متضاد ہے ہر قسم کی تخریب کاری اور تباہ کاری کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ راغب نے مفردات میں کہا ہے: الفساد خروج الشیء عن الاعتدال قلیلا کان او کثیراً و یضادہ الصلاح، و یستعمل ذٰلک فی النفس و البدن و الاشیاء الخارجہ عن الاستقامة۔ چیزیں حالتِ اعتدال سے کس طرح بھی خارج ہو جائیں، کم یا زیادہ، اسے فساد کہتے ہیں۔ اس کا متضاد ”صلاح“ ہے۔ یہ جان و بدن اور ان تمام خرابیاں جو مختلف کاموں میں پیدا ہوتی ہیں اور تمام انفرادی یا اجتماعی مسائل میں ہر قسم کا افراط اور تفریط ”فساد“ کا مصداق ہیں۔قرآن مجید میں بھی بہت سے مواقع پر ”فساد“ اور ”صلاح“ ایک دوسرے کے مقابلے میں آئے ہیں۔ سورہ شعراء کی آیت ۱۵۲میں ہے: الذین یفسدون فی الارض ولایصلحون وہ لوگ جو زمین میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔ سورہ بقرہ کی آیت ۲۲۰ میں ہے: و اللہ یعلم المفسدین من المصلح خدا مفسدین کو مصلحین میں سے پہچانتا ہے۔ سورہ اعراف کی آیت ۱۴۲ میں ہے: واصلح ولاتتبع سبیل المفسدین اصلاح کرو اور مفسدین کی راہ کی پیروی نہ کرو۔ بعض مواقع پر ایمان اور عمل صالح کو فساد کے مقابلہ میں قرار دیا گیا ہے: ام نجعل الذین اٰمنوا و عملو الصالحات کالمفسدین فی الارض کیاہم ایمان لانے والوں اور عمل صالح بجالانے والوں کو مفسدینِ فی الارض کی طرح قرار دیں۔ (ص۔۲۸) دوسری طرف بہت سی آیا تِ قرآن میں لفظ ”فساد“ کو ”فی الارض“ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے کہ جو نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلے کے اجتماعی پہلووں پر نگاہ ہے۔ یہ تعبیر قرآن میں بیس سے زیادہ مواقع پر دکھائی دیتی ہے۔ تیسری طرف قرآن مجید کی مختلف آیات میں ”فساد“ افساد“ ایسے گناہوں کے ساتھ آیا ہے جو شاید زیادہ تر مصداق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں سے بعض گناہ بہت بڑے ہیں اور بعض چھوٹے ہیں۔ کبھی تو خدا اور رسول سے جنگ کے ہم پلہ ہو کر آیا ہے، مثلاً: إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ یحاربون اللہ و رسولہ و یسعون فی الارض فساد اً ان لوگوں کی جزاء کے جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد کے در پے ہیں (مائدہ۔۳۳) کبھی نسال اور زراعت کو تباہ کرنے کے پلہ قرار پآیا ہے ، مثلاً و اذا تولیّ سعیٰ فی الارض لیفسد فیھا ویھلک الحرث و النسل اور جہاں منھ پھیرا تو ادھر دوڑ دھوپ کرنے لگا تاکہ زمین میں فساد پھیلائے اور زراعت اور نسل کا ستیاناس کر دے۔ (بقرہ۔ ۲۰۵) کبھی اس کا ذکر ان رشتوں کو منقطع کرنے کے ساتھ آیا ہے جنہیں قائم رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے، مثلاً: الذین ینقضون عھد اللہ من بعد میثاقہ و یقطعون ما امر اللہ بہ ان یوصل و یفسدون فی الارض وہ لوگ کہ جو اس سے میثاق باندھنے کے بعد عہد الٰہی کو توڑ دیتے ہیں اور جن رشتوں کو خدا نے جوڑنے کاحکم دیا ہے انہیں قطع کر دیتے ہیں اور اور زمین میں فساد کرتے ہیں۔ (بقرہ۔۲۷) کبھی اسے بڑا بننے کی خواہش اور سر کشی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، مثلاً تلک الدار الاٰخرہ نجعلھا للذین لایریدون علواً فی الارض و لا فساداً یہ آخرت کا گھر ہے جو ہم نے ان لوگوں کے لیے قرار دیا ہے جو زمین پر بڑا ہونے کی خواہش اور فساد بر پا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ (قصص۔ ۸۳) کبھی قرآن ”فرعون“ کو مفسد گردانتا ہے اور دریائے نیل میں غرق ہوتے ہیں وقت اس کے توبہ کرنے کے متعلق کہتا ہے: اٰلاٰ و قد عصیت قبل وکنت من المفسدین اب ایمان لاتا ہے حالانکہ پہلے تونے نافرمانی کی اور تو مفسدین میں سے تھا۔ (یونس۔۹۱) کبھی یہی لفظ”فساد فی الارض“ چوری کے لیے استعمال ہوا ہے۔ جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے متعلق ہے کہ انہوں نے چوری کی تہمت لگنے کے بعد کہا: تاللہ لقد علمتم ماجئنا لنفسد فی الارض وما کنا سارقین بخدا تم جاتنے ہو کہ ہم سر زمین مصر میں فساد کرنے نہیں آئے اور ہم کبھی بی چورنہ تھے۔(یوسف۔۷۳) کبھی یہ لفظ کم فروشی کے ہم پلہ ہو کر آیا ہے،جیسا کہ حضرت شعیب علیہ اسلام کے واقعے میں ہے کہ وہ اپنی قوم سے کہتے ہیں: ولا تبخسو االناس اشیاء ھم ولا تعثو ا فی الارض مفسدین کم فروشی نہ کرو اور لوگوں کے حق میں کمی نہ کرو اور زمین پر فساد نہ پھیلاتے پھرو۔ (ہود۔۸۵) اور کبھی نظامِ عالم ہستی اور جہان خلقت کو خراب اور تباہ کرنے کے معنی میں آیا ہے: لو کان فیھما اٰلھة الاالہ لفسد تا اگر زمین و آسمان مین اللہ کہ جو خدائے یگانہ ہے کہ علاوہ اور خدا ہوتے تو یہ فاسد،خراب اور بر باد ہو جاتے۔(انبیاء۔۲۲) ان تمام آیات سے کہ جو قرآن کی مختلف سورتوں میں آئی ہیں اچھی طرح سے معلوم ہوتا ہے کہ ”فساد“بطور کلی“یا”فساد فی الارض“ایک بہت ہی وسیع معنی رکھتا ہے۔اس کے مفہوم میں بڑے بڑے جرائم مثلاَ فرعون اور دوسرے آمروں کے جرائم اور ان سے کم تر کام یہاں تک کہ کم فروشی اور لین دین میں دھوکا بازی جیسے گناہ بھی شامل ہیں۔فساد کے وسیع مفہوم یعنی حد اعتدال سے ہر قسم کا اخراج،کی طرف توجہ رکھی جائے تو یہ وسعت پوری طر ح قا بل فہم ہے۔ نیز اس طر ف تو جہ کرتے ہوئے کہ عذاب اور سزاؤ ں کو میزان جرم کے مطابق ہونا چاہیئے:واضح ہوتا ہے کہ ان ”مفسدین“ میں سے ہر گروہ کو ایک الگ سزا ملنا چاہئیے اور سب کے لیے ایک جیسی سزا نہیں ہے۔ یہاں تک کہ سورہٴ مائدہ کی آیہ ۳۳ کہ جس میں ”مفسد فی الارض“ کا ذکر ”خدا اور رسول کے محارب“ کے ساتھ آیا ہے، ان کے لیے چار قسم کی سزائیں ہیں۔ یقینا حاکم شرع کے ذمہ ہے کہ وہ ان چار سزاوں (قتل کرنا، سولی پر لٹکا نا، ہاتھ پاوں کاٹنا اور جلا وطن کرنا) میں سے جرم کی مقدار کے مطابق ایک سز امنتخب کرے، ہمارے فقہا نے فقہی کتب میں محارب اور مفسد فی الارض کی بحث میں ان سزاوں کی شرائط اور حدود و تفصیل سے بیان کی ہیں۔ (تشریحی نوٹ: ہم نے بھی سورہ مائدہ کی آیہ ۳۳ کے ذیل میں (جلد ۴ پر) اس سلسلے میں ضروری وضاحت کی ہے (اردو ترجمہ دیکھئے)۔ ایسے مفاسد کی بیخ کنی کے لیے ہر موقع پر کسی ذریعے سے متمسک ہونا پڑے گا۔ کبھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا پہلا مرحلہ یعنی پندو نصیحت اور تذکر ہی کافی ہوتا ہے لیکن کبھی ایسا وقت آجاتا ہے کہ شدت عمل کے آخری درجہ یعنی جنگ کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ ضمناً فساد فی الارض کی تعبیر ہمیں انسانوں کی اجتماعی زندگی کی ایک حقیقت کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور وہ یہ کہ اجتماعی مفاسد عام طور کسی خاص مقام سے تعلق نہیں رکھتے اور انہیں کسی ایک علاقے میں محصور نہیں کیا جا سکتا بلکہ ان کی وسعت پورے معاشرے اور پوری زمین تک ہوتی ہے اور ایک گروہ سے دوسرے گروہ کی طرف سرایت کرتے ہیں۔ آیاتِ قرآنی سے یہ نکتہ بھی اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ بعثتِ انبیاء کے عظیم مقاصد سے ایک ”وسیع مفہوم میں“ زمین سے فساد ختم کرنا ہے۔ جیسا کہ خدا کے عظیم پیغمبر حضرت شیعب علیہ السلام کے بارے میں قرآن حکیم میں ہے کہ وہ اپنی سرکش قوم کے فساد کے مقابلے میں کہتے ہیں: ان ارید الا الاصلاح ما استطعت میرا ہدف صرف یہ ہے کہ جتنا استطاعت میں ہے فساد کے خلاف جنگ کروں اور اصلاح کروں۔ (ہود۔۸۸)
۲۔ روزی خدا کے ہاتھ میں لیکن۔۔۔
روزی خدا کے ہاتھ میں ہے لیکن۔۔۔۔: مندرجہ بالا آیات ہی نہیں جو کہتی ہیں کہ روزی کی کمی بیشی خدا کے ہاتھ میں ہے بلکہ قرآن کی مختلف آیات سے واضح طور پر یہی مفہوم حاصل ہوتا ہے کہ خدا جس شخص کی چاہتا ہے روزی وسیع کر دیتا ہے اور جس کی چاہتا ہے کم کر دیتا ہے لیکن اس کا وہ مطلب نہیں جو بعض جاہل لوگ خیال کرتے ہیں کہ کوشش و کار کردگی سے ہاتھ کھینچ لینا چاہئیے اور گوشہ نشین ہو جانا چاہئیے تاکہ جو کچھ مقدر میں ہے خدا دے دے۔ ان لوگوں کی منفی سوچ مذاہب کو افیون قراردینے والوں کے لیے بڑی اہم سند ہے۔ یہ لوگ دو بنیادی نکتوں سے غافل ہیں: پہلا یہ کہ خدا کا چاہنا اور اس کی مشیت و ارادہ جس کی طرف ان آیات میں اشارہ ہوا ہے وہ کوئی من پسند اور بغیر کسی کلیہ قاعدہ والا معاملہ نہیں بلکہ اسی طرح ہے جس طرح ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ خداکی مشیت و ارادہ اس کی حکمت سے جد انہیں ہے بلکہ ہمیشہ لیاقت اور اہلیت پر موقوف ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ مسئلہ عالم اسباب کی نفی میں نہیں ہے کیونکہ عالمِ اسباب یعنی جہان تکوینی بھی اس کی مشیت ِ تکوینی ہے اور وہ کبھی بھی اس مشیت تشریعی سے جدا نہیں ہوئی۔ زیادہ واضح الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ رزق کی وسعت و تنگی کے بارے میں خدا کا ارادہ کچھ شرائط کے ساتھ مشروط ہے کہ جو انسانون کی زندگی پر حکمفرما ہیں۔ کوشش، ہمت اور اخلاص اور اس کے برعکس، سستی، تن آسانی، بخل اور زمینوں کی آلودگی اس میں نتیجہ خیز اثر رکھتی ہے۔ اسی بناء پر قرآن مجید نے بارہا انسان کو اس کی سعی و کوشش اور جہد و فعالیت کا مر ہونِ منت شمار کیا ہے اور زندگی میں اس کے حصہ کو سعی و کوشش کی میزان پر تَولا ہے۔ اسی لیے وسائل الشیعہ کی کتابِ تجارت میں ایک باب حصولِ رزق کے لیے کوشش سے متعلق ہے نیز کچھ ابواب بیکاری، زیادہ سونے اور ضروریاتِ زندگی کے حصول میں سستی کی مذمت کے بارے میں بھی ہیں۔ ان ابواب میں منقول احادیث میں سے ایک حدیث جو امیر المومنین علیہ السلام سے مروی ہے، میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ان الاشیاء لما ازدوجت ازدوج الکسل و العجز فنتجا بینھما الفقر جب شروع شروع میں موجودات نے ایک دوسرے سے ازدواج کیا تو سستی اور عجز ناتوانی نے آپس میں شادی رچائی اور ان سے جو بچہ پیدا ہوا وہ ”فقر“ تھا۔ "( بحوالہ: وسائل الشیعہ جلد ۱۲۔ ص۳۸)۔ ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: لاتکسلوا فی طلب معایشکم فان اٰبائنا کانوا یرکضون فیھا ویطلبونھا حصول رزق میں ضرورت ِ زندگی مہیا کرنے میں سستی سے کام نہ لو کیونکہ ہمارے آباوٴ اجداد ان کے حصول میں دوڑا کرتے تھے اور ان کے لیے تلاش و جستجو کرتے تھے۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ جلد ۱۲۔ ص)۳۸۔ ایک اور حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے: انی لابغض الرجل ان یکون کسلاناً عن امر دنیاہ، ومن کسل عن امر دنیاہ فھو عن امر اٰخرتہ اکسل۔ میں ایسے شخص سے ناراض ہوں جو اپنے کارِ دنیا میں سست ہو کہ کیونکہ جو کارِ دنیا میں سست ہے (اگر چہ وہ اس کا نتیجہ جلد بھگتے گا تاہم) وہ آخرت کے معاملے میں زیادہ سست ہو گا۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ جلد ۱۲۔ ص۳۸)۔ نیز امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام سے منقول ہے، آپ نے فرمایا: ان اللہ تعالیٰ لیبغض العبد النوّام، ان اللہ لیبغض العبد الفارغ یقینا خدا تعالیٰ زیادہ سونے والے اور بیکار شخص سے ناراض ہے۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ جلد ۱۲۔ ص۳۷)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔
یاد الٰہی باعثِ تسکین دل ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 2اس سورت میں چونکہ توحید، معاد اور رسالتِ پیغمبرؐ کے بارے میں بہت سی مباحث ہیں لہٰذا زیر بحث پہلی آیت دوبارہ پیغمبر اسلام ؐکی دعوت کے مسئلے کی طرف لے جاتی ہے۔ اس میں ہٹ دھرم منکرین کا ایک اعتراض بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: کافرین کہتے ہیں کہ اس کے پروردگار کی طرف سے اس پر معجزہ نازل کیوں نہیں ہوتا (وَیَقُولُ الَّذِینَ کَفَرُوا لَوْلاَاُنزِلَ عَلَیْہِ آیَةٌ مِنْ رَبِّہ ِ)۔ لفظ ”یقول“ فعل مضارع ہے اور اس بات کی دلیل ہے کہ وہ بار بار اعتراض کرتے تھے اور باوجودیکہ انہوں نے رسول اللہ سے بارہا معجزات دیکھے تھے (اور ہر پیغمبر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی حقانیت کے ثبوت میں کچھ معجزات پیش کرے) پھر بھی وہ بہانے تراشتے تھے اور گذشتہ معجزات کو نظر انداز کر دیتے تھے اور اپنی من پسند کے نئے معجزے کا تقاضا کرتے تھے۔ دوسرے لفظوں میں یہ لوگ اور تمام ہٹ دھرم منکرین ہمیشہ اپنی مرضی کے معجزات ڈھونڈتے رہتے تھے اور توقع رکھتے تھے کہ پیغمبر ایک جادو گر کی طرح کہیں بیٹھ جائیں اور ان میں سے ہر کوئی جائے اور جو معجزہ طلب کرے وہ فوراً پیش کر دیں اور اگر پھر بھی یہ نہ چاہیں تو ایمان نہ لائیں۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ پہلے درجے میں انبیاء کی ذمہ داری ہے کہ تبلیغ، تعلیم اور تنبیہ کا ذریعہ اختیار کریں۔ معجزات تو استثنائی امور ہیں کہ جس حسب ِ ضرورت وہ بھی حکم خداسے (نہ پیغمبر کی خواہش کے مطابق) انجام پاتے ہیں لیکن ہم بارہا آیاتِ قرآنی میں پڑھتے ہیں کہ دشمنوں کے کئی گروہ اس حقیقت کی پروا کیے بغیر ہمیشہ انبیاء کے خلاف مزاحمت کرتے رہے ہیں اور اس قسم کی فرمائشیں کرتے رہے ہیں۔ قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے: اے پیغمبرؐ ان سے کہہ دو خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جو شخص اس کی طرف لوٹے اسے ہدایت کرتا ہے، (قُلْ إِنَّ اللهَ یُضِلُّ مَنْ یَشَاءُ وَیَھْدِی إِلَیْہِ مَنْ اَنَابَ)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ تمہارے لیے معجزے کے لحاظ سے کوئی کمی نہیں کیونکہ پیغمبرؐ نے کافی مقدار میں معجزات دکھائے ہیں کمی خود تمہارے وجود اند ر ہے۔ ہٹ دھرمیاں، تعصبات، جہالتیں وہ گناہ کہ جو توفیق کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں تمہارے ایمان لانے میں حائل ہیں لہٰذا خدا کی طرف لوٹ آوٴ، توبہ کرو، جہالت و غرور اور خود خواہی کے پردے اپنی نگاہِ فکر سے ہٹاو تاکہ واضح طور پر جمالِ حق کا مشاہدہ کر سکو، کیونکہ: جمال یار ندارد نقاب و پردہ ولی غبار رہ بنشان تا نظر توانی کرد جمالِ دوست پر تو کوئی نقاب نہیں ہے لیکن راستے کا غبار ہٹا دو تاکہ تم اسے دیکھ سکو۔ بعد والی آیت میں ”من اناب“ (جو خدا کی طرف پلٹ آئے ہیں) کی بہت عمدہ تفسیر بیان ہوئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: یہ وہی لوگ ہیں جو ایمان لائے ہیں اور ان کے دل ذکر الٰہی سے مطمئن اور پر سکون ہیں (الَّذِینَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُھُمْ بِذِکْرِ اللهِ)۔ اس کے بعد ایک دائمی وسیع اصول کے طور پر بیان فرمایا گیا ہے: آگاہ ہو کہ یاد الٰہی سے دل مطمئن ہوتے ہیں اور قرار پاتے ہیں (اَلاَبِذِکْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ)۔ زیر بحث آخری آیت میں اہل ایمان کا انجام کار بیان کرکے گذشتہ آیت کا مضمون یوں مکمل کیا گیا ہے: وہ لوگ کہ جو ایمان لائے اور انہوں نے صالح اعمال انجام دئے ان کے لیے بہترین زندگی ہے اور ان کا انجام کار بہترین ہو گا (الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ طُوبَی لَھُمْ وَحُسْنُ مَآب)۔ بہت سے بزرگ مفسرین نے لفظ ”طوبیٰ“ کو ”اطیب“ کامونث سمجھا ہے جس کا مفہوم ہے بہتر، پاکیزہ تر یا بہترین اور پاکیزہ ترین۔ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ اس کا متعلق محذوف ہے اس لفظ کا مفہوم ہر لحاظ سے وسیع اور غیر محدود ہو گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ”طوبیٰ لھم“ کے ذریعے ان کے لیے تمام سعادتوں اور پاکیزگیوں کی پیش بینی کی گئی ہے۔ ان کے لیے تمام چیزوں میں سے بہترین مہیا ہوں گی۔ بہترین زندگی، بہترین نعمتیں، بہترین آرام اور سکوں، بہترین دوست و احباب اور پروردگار کی بہترین اور خاص مہربانیاں یہ سب کی سب ایمان اور عمل صالح کی مرہونِ منت ہیں اور یہ ان کے لیے اجر ہے جو عقیدے کے لحاظ سے محکم اور عمل کے لحاظ سے پاک، فعال، درست کار اور خدمت گزار ہیں۔ لہٰذا اس لفظ کی مختلف مفسرین کی طرف جو مختلف تفسیریں ہوئی ہیں وہ سب اس کی مصداق ہیں۔ یہاں تک کہ مجمع البیان میں اس کے دس معانی ذکر ہوئے ہیں جو حقیقت میں اس کے وسیع معنی کے مختلف مصادیق ہیں۔ کئی ایک روایات میں بھی ہے کہ ”طوبیٰ“ ایک درخت ہے جس کی جڑیں جنت میں رسول اللہ یا حضرت علی کے گھر میں ہیں اور اس کی شاخیں ہر جگہ تمام مومنین اور ان کے گھروں پر سایہ فگن ہیں۔ ہو سکتا یہ روایات ان عظیم پیشواوں اور ان کے پیروکار وں کے درمیان ان کے مقامِ رہبری اور نہ ٹوٹنے والے رشتوں کی تصویر کشی کرتی ہوں جن کا نتیجہ ایسی طرح طرح کی نعمات ہیں۔ یہ جو ہم دیکھتے ہیں لفظ”طوبیٰ“ مونث کے طور پر آیا ہے اور ”اطیب“ نہیں آیا کہ جو مذکر ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حیات یا نعمت کی صفت ہے اور یہ دونوں الفاظ مونث ہیں۔
چند اہم نکات: ۱۔ یادِ الہی سے دل کو سکون
۱۔ یا د الہٰی سے دل کو کیسے سکون ملتا ہے؟ انسانوں کی زندگی میں اضطراب اور پریشانی ہمیشہ سے ایک بڑی مصیبت کے طور پر موجود ہے۔ انفرادی اور اجتماعی زندگی پر اس کے اثرات پوری طرح محسوس ہوتے ہیں۔ سکون و قرار ہمیشہ سے انسان کی زندگی کی ایک قیمتی گمشدہ چیز رہی ہے۔ اس کی تلاش میں انسان ہر دروازہ کھٹکھٹا تا ہے۔ اگر ہم پوری تاریخ بشر میں صحیح یا غلط طریقے سے کی گئی ان کوششوں کا ذکر کریں کہ جو سکون قرار حاصل کرنے کے لیے کی گئیں تو بہت ہی ضخیم کتاب بن جائے۔ بعض ماہرین اور علماء کہتے ہیں کہ بعض ہمہ گیر بیماریاں جب پھیلتی ہیں اور وباء کی صورت اختیار کر لیتی ہیں تو جو افراد ظاہراً اس وبائی بیماری کی وجہ سے مرتے ہیں ان میں سے اکثر خوف اور پریشانی کی وجہ سے دم توڑ دیتے تھوڑے ہی افراد ایسے ہوتے ہیں جو حقیقتاً اس بیماری میں مبتلا ہو کر ختم ہوتے ہیں۔ اصولی طور پر سکون و پریشانی فرد اور معاشرے کی سلامتی وبیماری اور سعادت و بد بختی میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے اور یہ ایسی چیز نہیں ہے جس سے آسانی سے گزر جایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک بہت سی کتابیں پریشانی اور اضطرابِ قلب پر قابو پانے اور آرام و سکون حاصل کرنے کے طریقوں پر لکھی گئی ہیں۔ تاریخ بشر ایسے غم انگیز مناظر سے بھری پڑی ہے کہ انسان نے تلاش سکون میں ہر چیز کی طرف ہاتھ بڑھایا، وادی وادی پھرا اور طرح طرح کی عادتیں اپنائیں۔ لیکن قرآن نے ایک مختصر اور پرمغز جملے میں انتہائی اطمینان کے لیے نزدیک ترین راستے کی نشاندہی کی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: جان لو کہ یادِ خدا دلوں کے لیے آرام بخش اور باعثِ سکون ہے۔ اس قرآنی حقیقت کی وضاحت کے لیے________ مندرجہ ذیل توضیح کی طرف توجہ کیجئے:۔ ٭٭٭٭٭٭٭٭ پریشانی اور اضطراب کے عوامل ۱۔ اضطراب و پریشانی کبھی تاریک اور مبہم مستقبل کی فکر کی بناء پر ہوتی ہے۔ نعمتوں کا زوال، دشمن کے چنگل میں گرفتاری، ضعف کمزوری، بیماری، ناتوانی، درماندگی اور حاجتمندی کا احتمال یہ سب چیزیں انسان کو پریشان کر دیتی ہیں لیکن قادر و متعال اور رحیم و مہر بان خدا پر ایمان وہ خدا کہ جو ہمیشہ سے اپنے بندوں کی کفالت اپنے ذمہ لیے ہوئے ہے۔ ایسی پریشانیوں کو دور کر سکتا ہے اور اسے سکون دے سکتا ہے۔ اس کی یاد یہ حوصلہ دے سکتی ہے کہ آنے والے حوادث کے مقابلے میں تو درماندہ اور بے یار و مددگار نہیں ہے تو توانا، قادر اور مہر بان خدا رکھتا ہے۔ ۲۔ کبھی ماضی کی تاریک زندگی فکرِ انسانی کو اپنی طرف مشغول رکھتی ہے اور ہمیشہ اسے پریشان کیےرہتی ہے ان گناہوں پر پریشانی کہ جو اس نے انجام دئیے ہیں اور وہ کوتاہیاں اور لغزشیں جو اس سے سرزد ہوئی ہیں اسے ستاتی رہتی ہیں۔لیکن اس طرف توجہ کہ خدا غفار، توبہ قبول کرنے والا، رحیم اور غفور ہے، اسے سکون دیتی ہے اور اسے کہتی ہے کہ اس کی بارگاہ میں تقصیر و کوتاہی پر معذرت چاہو، گذشتہ گناہوں پر عذر خواہی کرو اور ان کی تلافی کی کوشش کرو کیونکہ وہ بخشنے والا ہے اور تلافی ممکن ہے۔ ۳۔ کبھی طبعی اور مادی عوامل کے مقابلے میں انسان کی کمزوری وناتوانی اور کبھی داخلی و خارجی دشمنوں کی کثرت اسے پریشان کر دیتی ہے کہ میں طاقتور دشمنوں کے مقابلے میں میدانِ جہاد میں کیا کروں یا ان سے دیگر مقابلوں میں میں کیا کر سکتا ہوں لیکن جب وہ خدا کو یاد کرتا ہے اور اس کی قدرت و رحمت پر بھروسہ کرتا ہے وہ قدرت جو تمام طاقتوں سے برتر ہے اور کوئی اس کے مقابلے کی ہمت نہیں رکھتا تو اس کے دل کو سکون آجاتا ہے اور وہ اپنے آپ سے کہتا ہے: وہاں ! میں اکیلا نہیں ہوں،خدا کے سائے میں میری طاقت لامتناہی ہے۔ جنگوں میں مجاہدینِ راہ خدا کا جذبہ گذشتہ زمانہ ہو یا موجودہ ان کی تعجب انگیز اور خیرہ کن جنگیں یہاں تک کہ ان مواقع پر بھی جب وہ یک و تنہا ہوتے ہیں ان سے وہ سکون و اطمینان واضح ہوتا ہے کہ جو صرف سایہ ایمان میں پیدا ہوتا ہے۔ جب ہم اپنی آنکھ سے دیکھتے ہیں یا کان سے سنتے ہیں کہ ایک افسرِ رشید خیرہ کن معرکے میں اپنی بینائی بالکل کھو بیٹھتا ہے اور وہ مجروح بدن کے ساتھ ہسپتال میں چارپائی پر پڑا ہوتا ہے لیکن ایسے سکونِ دل اور اطمینان قلب سے گفتگو کر رہا ہوتا ہے گویا اس کے بدن پر کوئی خراش تک نہیں آئی اس سے ہم ذکر، خدا کے زیر سایہ پر اعجاز سکون کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: ایسے واقعات ہم پر دشمنوں کی مسلط کردہ ایران عراق جنگ میں ایک نہیں بلکہ سینکڑوں اور ہزاروں ہیں۔ یہ واقعات مجاہدین بد اور دیگر اسلامی جنگوں کے مجاہدین کی تازی کرتے ہیں)۔ ۴۔ کبھی انسان کی تکلیف دہ پریشانیوں کی بنیاد زندگی کے لیے بے مقصد ہونے کا حساس ہوتا ہے لیکن جو شخص خداپر ایمان رکھتا ہے اور زندگی میں تکامل و کمال حاصل کرنے کو ایک عظیم مقصد کے طور پر اپنائے ہوئے ہے اور زندگی کے تمام امو ر و حوادث کو اسی مقصد کو روشنی میں دیکھتا ہے اسے نہ زندگی کے بے کار ہونے کا احساس ہوتا ہے اور نہ ہی وہ بے ہدف اور ٹھکرائے ہوئے افراد کی طرح مضطرب و سرگرداں ہوتا ہے۔ ۵۔ پریشانی کا ایک اور عامل یہ ہے کہ انسان بعض اوقات ایک ہدف تک پہچنے کے لیے بہت زیادہ زحمت اٹھاتا ہے لیکن اسے کوئی ایسا فرد نظر نہیں آتاجو اسی زحمت و مشقت کا قدر دان ہو۔ یہ ناقدری اسے شدید دکھ دیتی ہے اور اسے ایک عالم اضطراب و پریشانی میں غرق کر دیتی ہے لیکن جب وہ احساس کرتا ہے کہ کوئی ہے جو اس کی تمام مساعی اور کاوشو ں سے آگاہ ہے، وہاں سب کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور وہ ان سب پر اجر و ثواب دے گا تو پھر وہ کیوں پریشان اور بے چین ہو گا۔ ۶۔ بد گمانیاں، تو ہمات اور بے ہودہ خیالات بھی پریشانی کے عوامل میں سے ہیں۔ بہت سے لوگ ان کی وجہ سے اپنی زندگی میں رنج اٹھاتے ہیں لیکن کیونکر انکار کیا جا سکتا ہے کہ خدا کے لطف و کرم کی یاد نیز اس حکم کی طرف توجہ کہ ہر صاحب ایمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ حسنِ ظن سے کام لے اس سے یہ پریشانی جاتی رہتی ہے اور اس کی جگہ سکون و اطمینان لے لیتا ہے۔ ۷۔ دنیا پرستی اور مادی زندگی کی رنگیوں پر دلباختگی انسانوں کے اضطراب و پریشانی کاایک بہت بڑا عامل رہا ہے یہاں تک کہ بعض اوقات لباس، جوتے، ٹوپی یاہزاروں چیزوں میں سے کسی ایک کا خاس رنگ نہ مل سکے تو دنیا پرست کئی گھنٹے، کئی دن یا کئی ہفتے پریشان اور بے آرام رہتے ہیں لیکن خدا پر ایمان اور ایسی چیزوں سے مومن کی آزادی ایسی تمام پریشانیوں کو ختم کر دیتی ہے کیونکہ ایک مومن ہمیشہ اصلاحی زہد کا حامل ہوتا ہے اور وہ مادی زندگی کی رنگینیوں کا قیدی نہیں ہوتا۔ جس وقت انسانی روح اتنی وسعت حاصل کرلے کہ وہ علی علیہ السلام کی طرح کہے: دنیاکم ھذہ اھون عندی من ورقة فی فم جرادة تقضمھا تمہاری دنیا میری نظر میں درخت کے اس پتے سے بھی حقیر ہے کو ایک ٹڈی دَل کے منہ میں ہوجسے وہ چبا رہی ہو۔ (بحوا لہ: نہج البلاغہ ۲۲۴)۔ تو پھر کسی مادی چیز تک ا سکا نہ پہنچنا یا سے کھوبیٹھنا انسانی روح کا سکون کیسے درہم بر ہم کر سکتا ہے اور اس کے دل و دماغ میں کیونکر پریشانی پیدا کر سکتا ہے۔ ۸۔ پریشانی کا ایک اور اہم عامل مو ت کاخوف بھی ہے یہ خوف ہمیشہ انسانوں کی روح کو ستائے رکھتا ہے۔ موت کا امکان چونکہ صرف زیادہ بڑی عمر میں نہیں بلکہ دوسرے سالوں میں بھی ہے، خصوصاً بیماریوں، جنگوں اور بدامنیوں کی حالت میں لہٰذا یہ وحشت اور خوف عمومی ہو سکتا ہے۔ البتہ اگر ہم عالم شناسی کے حوالے سے موت کو فنا اور ہر چیز کے خاتمے کے معنی میں سمجھیں (جیسا کہ مادی نظریہ رکھنے والوں کا خیال ہے) تو پھر یہ اضطراب بالکل بجا ہے۔ ایسی موت سے واقعاً ڈرنا چاہیئے جو انسان کی تمام آرزوں اور کامیابیوں کا آخری نقطہ ہو لیکن اگر خدا پر ایمان کی وجہ سے موت کو ایک وسیع تر اور اعلیٰ تر زندگی کا دریچہ سمجھا جائے اور موت سے گزرنے کو زندان کے دالان سے گزر کر ایک آزاد فضا تک پہنچنا شمار کیا جائے تو پھر یہ پریشانی بے معنی ہے بلکہ ایسی موت اگر ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے آئے تو اسے پسند کیا جانا چاہئیے اور وہ چاہے جانے کے قابل ہے۔ پریشانی کے عوامل انہی میں منحصر نہیں ہیں بلکہ اس کے اور بھی بہت سے عوامل شمار کیےجا سکتے ہیں لیکن یہ بات قابل قبول ہے کہ زیادہ تر پریشانیوں کی بازگشت مذکورہ عوامل ہی کی طرف ہے لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ عوامل خداپر ایمان کے مقابلے میں پگھل جاتے ہیں، بے رنگ ہو جاتے ہیں اور نابود ہو جاتے ہیں تو پھر اس بات کی تصدیق کرنا پڑے گی کہ خدا کی یاد دلوں کے سکون و قرار کا باعث ہے (الابذکر اللہ تطمئن القلوب (مزید وضاحت کے لیے کتاب ”راہ غلبہ پر نگرانیھا“ کی طرف رجوع فرمائیں)۔ ٭٭٭٭٭٭٭٭
۲۔ خوفِ خدا اور اطمینان میں مطابقت
۲۔ کیا خوفِ خدا اور اطمینان باہم مطابقت رکھتے ہیں؟ بعض مفسرین نے یہاں ایک اعتراض اٹھایا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک طرف تو ہم مذکورہ آیت میں پڑھتے ہیں کہ یادِ خدا دلوں کے سکون و اطمینان با عث ہے جب کہ دوسری طرف سورہ انفال کی آیة۲ میں ہے: انما المومنون الذین اذا ذکراللہ وجلت قلوبھم مومن وہ ہیں کہ جس وقت خدا کا ذکر کیا جائے تو ان کا دل دھڑکنے لگتا ہے۔ کیا یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ آرام و سکون سے مراد وہی عوامل کے مقابلے میں سکون ہے کہ جو عام لوگوں ک وپریشان کیے رکھتے ہیں، جن کے واضح نمونے ہم نے سطور بالا میں پیش کیے ہیں لیکن ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ اہل ایمان اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں پریشان نہ ہوں دوسرے لفظوں میں جو چیز ان میں نہیں ہوتی وہ ویرا ن گر پریشانیاں ہیں جو دنیا میں عام طور پر ہوتی ہیں باقی رہی اصلاحی پریشانی کہ جو انسان کو خدا اور مخلوق کے بارے میںاحساس ِذمہ داری پر ہوتی ہے اور جو زندگی میں مثبت کردار اور آمادہ کرتی ہے وہ ان میں موجود ہوتی ہے اور اسے ہونا بھی چاہئیے اور خوف خدا سے مراد بھی یہی ہے۔(تفسیر نمونہ جلد ۸۴(اردو ترجمہ) پر بھی ہم نے اس سلسلے میں وضاحت کی ہے)۔
۳۔ ذکرِ خدا کیا ہے؟
۳۔ ”ذکر خدا“ کیا ہے اور کس طرح ہے؟ جیسا کہ راغب اصفہانی نے مفردات میں کہا ہے ”ذکر“ کبھی مطالب و معارف کے حفظ کے معنی میں آتا ہے، اس فرق کے ساتھ کہ لفظ ”حفظ“ اس کی ابتداء میں بولا جاتا ہے اور لفظ ”ذکر“ اسے جاری رکھتے ہوئے اور کبھی کسی چیز کو زبان سے یا دل میں یا د کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اسی لیے علما ء نے کہا ہے کہ ”ذکر“ دو قسم کاہے ”ذکر قلبی“ ذکر زبابی“۔ ان میں ہر ایک پھر دو طر ح کا ہے یا تو فراموشی کے بعد ذکر یا بغیر فراموش کیے ذکر۔ بہرحال زیر بحث آیت میں ذکر خدا کو کہ جو دلوں کے لیے باعث سکون ہے،سے مراد یہ نہیں کہ اس کا نام زبان پر لایا جائے اور بار بار تسبیح و تحلیل اور تکبیر کہی جائے بلکہ مراد یہ ہے کہ دل کے ساتھ خدا کی طرف اور اس کے عظمت، اس کے علم اور اس کے حاضر و ناظر ہونے کی طرف متوجہ رہا جائے اور یہ تو جہ انسان میں جہاد و کوشش اور نیکیوں کی طرف حرکت کی بنیاد بنے اور اس کے اور گناہ کے درمیان ایک مضبوط بند کا کردار ادا کرے یہ ہے وہ ذکر جس کے لیے روایات اسلامی میں اس قدر آثار و بر کات بیان ہوئی ہیں۔ ایک حدیث میں ہم پڑھتے ہیں کہ پیغمبر اکرمؐ نے حضرت علی سے جو وصیتیں کیں ان میں سے ایک یہ تھی: یا علی ثلاث لاتطیقھا ھٰذہ الامة المواسات للاخ فی مالہ و انصاف الناس من نفسہ و ذکر اللہ علی کل حال، و لیس ھو سبحان اللہ و الحمد للہ ولا الہ الا اللہ و اللہ اکبر و لٰکن اذا ورد علی ما یحرم علیہ خاف اللہ عزو جل عندہ و ترکہ۔ یا علی !تین کام ایسے ہیں جن کی اس امت میں طاقت نہیں ہے (اور ہر شخص یہ کام نہیں کر سکتا): مال میں بھائیوں کے ساتھ مواسات کرنا، اپنی طرف سے لوگوں کا حق ادا کرنا اور ہر حالت میں خدا کو یاد رکھنا لیکن خدا کی یاد(صرف) سبحان اللہ و الحمد للہ ولا الہ الااللہ و اللہ اکبر نہیں ہے، بلکہ یادِ خدا یہ ہے کہ جس وقت انسان کسی فعل حرام کا سامنا کرے تو خدا سے ڈرتے اور اسے ترک کر دے۔ (بحوالہ: سفینة البحار جلد ۱ ص ۴۸۴)۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: الذکر ذکر اللہ عزو جل عند المصیبة و افضل من ذٰلک ذکر اللہ عند ما حرم اللہ علیک فیکون حاجزاً۔ ذکر دو قسم ہے۔ ایک تو خدا کو مصیبت کے وقت رکھنا (اور صبر و استقامت سے کام لینا) اور اس سے افضل و بر تر یہ ہے کہ محرمات کے مقابلے میں خدا کو یاد رکھا جائے اور اس کے اور حرام کام کے درمیان دیوار کھڑی کر دی جائے۔ (سفینة البحار جلد ۱ ص ۴۸۴)۔ یہی وجہ ہے کہ بعض روایات میں ذکر خدا کا تعارف ایک ڈھال اور دفاعی ہتھیار کے طور پر کروایا گیا ہے۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ ایک روز پیغمبر اکرمؐ نے اپنے اصحاب کی طرف رخ کرکے ارشاد فرمایا: اتخذوا جُنّا فقالوا: یا رسول اللہ! امن عدوّ و قد اظلنا؟ قال: لا، ولٰکن من النار قولوا سبحان اللہ و الحمد للہ ولا الہ الا اللہ و اللہ اکبر اپنے لیے ڈھال مہیا کر لو۔ اصحاب نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا دشمن کے مقابلے میں کہ جس نے ہمیں گھیر رکھا ہے اور ہم پرسایہ کیےہوئے ہے؟ فرمایا: نہیں بلکہ جہنم (کی آگ) سے کہو: سبحان اللہ و الحمد للہ و لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر (خدا کی پاکیز گی بیان کرو،اس کی نعمتوں پر شکر ادا کرو اس کے علاوہ کسی کو معبود نہ بناوٴ اور اسے ہر چیز سے بر تر سمجھو)۔ (بحوالہ: سفینة البحار جلد ۱ ص ۴۸۴)۔ جو ہم دیکھتے ہیں کہ ایک احادیث میں پیغمبر اکرمؐ کا تعارف "ذکر اللہ“ کے طور پر ہوا ہے تو وہ بھی اس بناء پر ہے کہ وہ لوگوں کو یاد خدا دلاتے ہیں اور ان کی تربیت کرتے ہیں۔ امام صادق علیہ السلام سے ”الا بذکر اللہ تطمئن القلوب“ کی تفسیر کے ضمن میں نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: بمحمد تطمئن القلوب وھو ذکر اللہ و حجابہ محمد کے ذریعے دلوں کو سکون ہوتا ہے، وہ ہیں خدا کا ذکر اور اس کا حجاب۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شان نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 2مفسرین کا کہنا ہے کہ پہلی آیت صلح حدیبیہ کے بارے میں ہجرت کے چھٹے سال نازل ہوئی۔ جب صلح نامہ لکھا جانے لگا تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ آلہ و سلم نے حضرت علی علیہ السلام سے کہا: لکھو: بسم اللہ الرحمن الرحیم اس پر سہیل بن عمر و اور دیگر مشرکین کہنے لگے: ہم ”رحمان“ کو نہیں پہچانتے۔ ”رحمن“ تو صرف ایک ہی ہے اور وہ یمامہ میں ہے (ان کی مراد مسیلمہٴ کذاب سے تھی کہ جو نبوت کا دعویدار تھا)، بلکہ لکھو: باسمک اللّٰھم۔ زمانہٴ جاہلیت میں اسی طرح لکھا جاتا تھا۔ اس کے بعد آنحضرت نے حضرت علی سے کہا لکھو: یہ صلح نامہ ہے جو محمد رسول اللہ۔۔۔۔ ابھی اتنا ہی لکھتا تھا کہ مشرکین قریش کہنے لگے: اگر تم خدا کے رسول ہوتے اور ہم تم سے جنگ کرتے اور خانہ خدا کا راستہ تم پر بند کرتے تو ہم بڑے ظالم ہوتے (جھگڑا تو تمہاری اس رسالت کا ہی ہے) بلکہ لکھو: ”یہ صلح نامہ محمد بن عبد اللہ کا ہے“۔ اس وقت اصحاب پیغمبرؐ بھڑک اٹھے۔ کہنے لگے: ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم ان سے جنگ کریں۔ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا:نہیں، جس طرح یہ کہتے ہیں ویسے لکھو۔ اس موقع پر مندر جہ بالا آیت نازل ہوئی اور خدا کے نام ”رحمن“ کے سلسلے میں ان کی بہانہ جوئی، ہٹ دھرمی اور مخالفت پر ان کی شدید سرزنش کی گئی کیونکہ یہ تو خداکی قطعی صفات میں سے ہے۔ یہ شان نزول اس صورت میں صحیح ہے جب ہم اس سورہ کو مدنی سمجھیں تاکہ یہ صلح حدیبیہ کے واقعے سے مطابقت اختیار کر سکے لیکن اگر جیسا کہ مشہور ہے کہ اسے مکی سمجھیں تو پھر اس بحث کی نوبت نہیں آئے گی مگر یہ کہ اس آیہ کی شان نزول کو مشرکین کی اس گفتگو کا جواب سمجھا جائے جو سورہ فرقان میں آئی ہے۔ انہوں نے ”رحمن“ کو سجدہ کرنے کی دعوتِ پیغمبر کے جواب میں کہا ہے کہ ہم رحمن کو نہیں پہچانتے: اسجدوا للرحمن قالوا و ما الرحمن (جب ان سے کہا گیا کہ) رحمن کو سجدہ کرو تو کہنے لگے رحمن کون؟ (فرقان۔۶۰) بہرحال، مندرجہ بالا آیت شانِ نزول سے قطع نظر بھی ایک واضح مفہوم رکھتی ہے کہ جو اس کی تفسیر میں بیان کیا جائے گا۔ دوسری آیت کی شان نزول کے بارے میں بھی بعض عظیم مفسرین نے کہا ہے کہ یہ مشرکین مکہ کی ایک جماعت کے جواب میں نازل ہوئی ہے۔ یہ لوگ خانہ کعبہ کی پشت کی طرف بیٹھے تھے۔ انہوں نے پیغمبر اکرمؐ کی طرف کسی کو یہ پیغام دے کر بھیجا: " اگر تو چاہتا ہے کہ ہم تیری پیروی کریں تو مکہ کے ان پہاڑوں کو اپنے قرآن کے ذریعے پیچھے ہٹا دے تاکہ ہماری یہ تنگ زمین کسی حدتک وسیع ہو جائے۔ نیز زمین میں شکاف کرکے اس میں چشمے اور نہریں جاری کر دے تاکہ ہم درخت لگائیں اور زراعت کریں تو اپنے گمان میں داوٴد سے کم نہیں ہے کہ جس کے لیے خدا نے پہاڑوں کو مسخر کر رکھا تھا کہ جو اس سے ہم آواز ہو کر خدا کی تسبیح کرتے تھے یا یہ کہ ہمارے لیے ہوا کو مسخر کر دے تاکہ ہم اس کے دو ش پر سوار ہو کر شام کی طرف جائیں اور اپنی مشکلات حل کریں اپنی ضروریات پوری کریں اور اسی دن واپس لوٹ آئیں جیسا کہ سلیمان کے لیے مسخر تھی اور تو اپنے گمان میں سلیمان سے کم نہیں ہے نیز اپنے دادا ”قصی“ (قبیلہ قریش کے جدِّ اعلیٰ) یا ہمارے مردوں میں سے کسی اور شخص کو جسے چاہے زندہ کر دے تاکہ ہم اس سے سوال کریں کہ کیا جو کچھ تو کہتا ہے حق ہے یا باطل کیونکہ عیسیٰ مردوں کو زندہ کرتا تھا اور تو عیسیٰ سے کم تر نہیں ہے۔" اس پر دوسری زیر بحث آیت نازل ہوئی اور ان سے کہا گیا کہ جو کچھ تم کہتے ہو وہ ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہے نہ کہ ایمان لانے کے لیے کیونکہ ایمان لانے کے لیے درکار کافی معجزات پیش کیے جا چکے ہیں۔
ہٹ دھرم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے
ان آیات میں ہم پھر نبوت کی بحث کی طرف لوٹتے ہیں۔ ان میں مشرکین کی گفتگو کا ایک اور حصہ پیش کیا گیا ہے نیز نبوت کے بارے میں ان کی گفتگو کا واضح جواب دیا گیا ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: جیسے ہم نے گذشتہ انبیاء کو گذشتہ قوموں کی ہدایت کے لیے بھیجا تھا تجھے بھی ایک امت کے درمیان بھیجا ہے کہ جس سے پہلے امتیں آئیں اور چلی گئیں (لتتلوا علیھم الذی اوحینا الیک)حالانکہ وہ ”رحمن“ (وہ خدا کہ جس کی رحمت اور وسیع و عام فیض مومن و کافر اور یہودو نصاریٰ سب پر محیط ہے) کا انکار کرتے ہیں (وھم یکفرون بالرحمن)۔۔کہہ دو: اگر تم انکار کرتے ہو تو رحمن کہ جن کا فیض و رحمت عام ہے، میرا پروردگار ہے (قل ھو ربی) اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، میں اس پر توکل کرتا ہوں اور میری باز گشت اسی طرف ہے (لا الہ الا ھو علیہ توکلت والیہ متاب)۔ اس کے بعد ان بہانہ تراش افراد کے جواب میں کہ جو ہر چیز پر اعتراض کرتے ہیں، فرماتا ہے: یہاں تک کہ اگر قرآن کے ذریعے پہاڑ چلنے لگ جائیں اور زمین ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور اس کے ذریعے مردوں سے گفتگو بھی ہو پھر بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے (وَلَوْ اَنَّ قُرْآنًا سُیِّرَتْ بِہِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِہِ الْاَرْضُ اَوْ کُلِّمَ بِہِ الْمَوْتَی)۔ لیکن یہ تمام کام خداکے اختیار میں ہے اور وہ جتنا ضروری سمجھتا ہے انجام دیتا ہے (بَلْ لِلَّہِ الْاَمْرُ جَمِیعًا)۔ مگر تم لوگ حق کے طالب نہیں ہو، اگر ہو تے تو جس قدر اعجاز کی نشانیاں اس پیغمبر سے صادر ہوئی ہیں ایمان لانے کے لیے کاملاً کافی ہیں، یہ تو سب بہانے ہیں۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: کیا وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں نہیں جانتے کہ اگر خدا چاہے تو تمام لوگوں کو جبراً ہدایت کر دے۔(اَفَلَمْ یَیْئَسْ الَّذِینَ آمَنُوا اَنْ لَوْ یَشَاءُ اللهُ لَھَدَی النَّاسَ جَمِیعًا)۔ (تشریحی نوٹ: "اَفَلَمْ یَیْئَس"، "یاٴس" کے مادہ سے ناامیدی کے معنی میں ہے مگر بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ یہاں علم کے معنی میں ہے لیکن (فخر رازی کے مطابق)”کچھ لوگوں“ کے بقول کہیں نہیں دیکھا گیا کہ ”یئست“ ”علمت“ کے معنی میں ہو۔ مفردات میں راغب کی گفتگو سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ”یاٴس“ یہاں اپنے اسی مشہور معنی میں ہے لیکن ہر مایوسی کے لیے ضروری ہے کہ اس کام کے نہ ہو سکنے کا علم ہو۔ اس بناء پر ان کے یاٴس کے ہونے کا لازمہ ان کا علم ہے لیکن راغب کی اس گفتگو کا ماحصل یہ ہے کہ یہاں یاٴس وجود علم کے معنی میں نہیں بلکہ عدم کے علم کے معنی میں ہے اور یہ مفہوم آیت کے مفہوم سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس بناء پر حق وہی ہے جو مشہور مفسرین نے کہا ہے اور اس کے لیے اقوالِ عرب سے بھی شواہد پیش کیے گئے ہیں اور ان کے نمونے فخر رازی نے اپنی تفسیر میں پیش کیے ہیں۔غور کیجئے)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ خداوند تعالیٰ داخلی یا خارجی طور پر جبری طریقے سے منکرین اور ہٹ دھرم افراد تک کو بھی ایمان لانے پر آمادہ کر سکتا ہے کہ کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے اور اس کی قدرت کے سامنے کوئی کام مشکل نہیں ہے لیکن وہ ہرگز ایسا نہیں کرے گا کیونکہ ایسا جبری ایمان بے وقعت ہے۔ ایسا ایمان اس معنویت اور کمال سے محروم ہے جس کی انسان کو ضرورت ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: اس کے باوجود کفار ہمیشہ اپنے اعمال کے سبب تباہ کن مصائب کے حملے سے دو چار ہیں یہ مصائب مختلف بلاوں کی صورت میں نازل ہوتے ہیں اور کبھی ان پر مجاہدینِ اسلام کے تباہ کن حملوں کی صورت میں آتے ہیں (وَلاَیَزَالُ الَّذِینَ کَفَرُوا تُصِیبُہُمْ بِمَا صَنَعُوا قَارِعَةٌ)۔ یہ مصائب اگر ان کے گھروں پر نازل نہ ہوں تو ان کے گھروں کے آس پاس نازل ہوں گے (اَوْ تَحُلُّ قَرِیبًا مِنْ دَارِھِمْ) تاکہ وہ عبرت حاصل کریں، حرکت میں آئیں اور خدا کی طرف لوٹ آئیں۔ یہ تنبیہیں اسی طرح جاری رہیں گی یہاں تک کہ خدا کا آخری حکم آپہنچے(حتَّی یَاْتِیَ وَعْدُ اللهِ)۔ یہ آخری حکم ہو سکتا ہے موت کی طرف یا روز قیامت کی طرف اشارہ ہو یابقول بعض کے فتح مکہ کی طرف اشارہ ہو کہ جس نے دشمن کی ساری طاقت کو درہم بر ہم کرکے رکھ دیا۔ بہرحال خدا کا وعدہ حتمی ہے ”خدا کبھی بھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا“ (إِنَّ اللهَ لاَیُخْلِفُ الْمِیعَادَ)۔ زیر نظر آخری آیت پیغمبر اکرم کی طرف روئے سخن کیےہوئے کہتی ہے: صرف تمہی نہیں ہو کہ جسے اس کا فر گروہ کے طرح طرح کے تقاضوں اور من پسند معجزوں کی فرمائش کے ذریعے تمسخر اور استہزاء کا سامنا کرنا پڑا ہے بلکہ یہ تو پوری تاریخ انبیاء میں ہوتا رہا ہے ”اور تجھسے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا تمسخر اڑایا گیا ہے“(وَلَقَدْ اسْتُھْزِءَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِکَ)۔ لیکن ہم نے ان کافروں کو فوراً عذاب نہیں کیا بلکہ ”ہم نے انہیں مہلت دی“ (فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِینَ کَفَرُوا)۔ اس لیے کہ شاید بیدار ہو جائیں اور شاید راہ حق کی طرف پلٹ آئیں یا کم از کم ان پر کافی اتمام حجت ہو جائے کیونکہ اگر وہ بد کار اور گنہگار ہیں تو خدا کی مہربانی اور اس کا لطف و کرم اور حکمت بھی تو موجود ہے۔ بہرحال یہ مہلت اور تاخیر اس معنی میں نہیں کہ ان کی سزا اور کیفر کردار کو فراموش کر دیا جائے لہٰذا ”اس مہلت کے بعد ہم نے انہیں گرفت کی اور تونے دیکھا کہ ہم نے انہیں کس طرح سزا دی“ یہ انجام تیری ہٹ دھرم قوم کے بھی انتظار میں ہے (ثُمَّ اَخَذْتُھُمْ فَکَیْفَ کَانَ عِقَابِ)۔
چند اہم نکات
۱۔ لفظ”رحمن“ کیوں استعمال کیا گیا ہے؟ مندرجہ بالا آیات اور ان کے بارے میں مذکورہ شان نزول نشاندہی کرتی ہیں کہ قریش کو لفظ"رحمن" کہ قریش کو لفظ ”رحمن“ سے خدا کی توصیف و تعریف پسند نہیں تھی کیونکہ ایسی کوئی چیز ان کے درمیان رائج نہ تھی لہٰذا وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے حالانکہ مندرجہ بالا آیا ت میں اس کی تاکید کی گئی ہے کیونکہ اس لفظ میں ایک خاص لطف پوشیدہ ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ خدا کی صفتِ رحمانیت اس کے لطفِ عام کی طرف اشارہ ہے کہ جو دوست اور دشمن سب پر محیط ہے اور مومن اور کافر سب کے شاملِ حال ہے جب کہ اس کے مقابلے میں صفتِ رحیمیت خداکی صفتِ خا ص ہے اور صالح اور مومن بندوں کے بارے میں ہے۔ یعنی تم کس طرح اس خدا پر ایمان لاتے ہو کہ جو منبع لطف و کرم ہے یہاں تک کہ اپنے دشمنوں کو بی اپنے لطف و رحمت سے نوازتا ہے۔ یہ تمہاری انتہائی نادانی ہے۔ ۲۔ پیغمبر اکرمؐ نے معجزات کا تقاضا کیوں پورا نہ کیا؟ یہاں ہمیں پھر ان لوگون کی گفتگو کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کہ جو یہ خیال کرتے ہیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سوائے قرآن کے اور کوئی معجزہ رکھتے تھے۔ یہ لوگ زیر نظر آیات اور اس قسم کی دیگر آیات سے مدد لیتے ہیں کیونکہ ان آیات کا ظہور یہ بتاتا ہے کہ نبی اکرمؐ نے مختلف معجزات کی فرمائش کو ٹھکرا دیا۔ وہ لوگ پہاڑوں کو ان کی جگہ سے پیچھے ہٹا نے کا، وہاں کی زمین میں شگاف کرکے چشمے اور نہریں جاری کرنے کا اور مردوں کے زندہ ہو کر گفتگو کرنے کا تقاضا کر رہے تھے لیکن آپ نے ان کی درخواست رد کر دی۔ لیکن ------ ہم بار ہا کہہ چکے ہیں کہ معجزہ ان لوگوں کو کہ جو حقیقت طلب ہیں صرف حقیقت کاچہرہ دکھانے کے لیے ہے نہ یہ کہ پیغمبرؐ ایک معجزہ گر بن جائے اور جو شخص جس عمل فرمائش کرے وہ اسے انجام دیتا جائے چاہے وہ اسے قبول کرنے کے لیے بھی تیار نہ ہو۔ من پسند کے معجزات کی ایسی فرمائش صرف ایسے ہٹ دھرم اور کوتاہ فکر افراد کی طرف سے کی جاتی ہے کہ جو کسی حق کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور اتفاق کی بات ہے کہ اس امر کی نشانیاں مندرجہ بالا آیات مندرجہ بالا آیات میں واضح طور پر دکھائی دیتی ہیں۔ آخری زیر بحث آیت میں ہم نے دیکھا ہے کہ گفتگو ان کی طرف سے پیغمبرؐ کا مذاق اڑانے کے سلسلے میں آئی ہے یعنی وہ لوگ حق کا چہرہ نہیں دیکھناچاہتے تھے بلکہ ایسی فرمائشوں سے ان کا مقصود پیغمبر اکرمؐ کا تمسخر اڑانا تھا۔ علاوہ ازیں، ان آیات کے بارے میں جو شان ہائے نزول ہم نے پڑھی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے پیغمبر اکرمؐ سے تقاضا کیا تھا کہ وہ گذشتہ بزرگوں میں سے کسی ایک کو زندہ کر دیں تاکہ وہ ان سے پوچھیں کہ کیا آپ حق پر ہیں یا باطل پر؛ حالانکہ اگر پیغمبرؐ اس قسم کا معجزہ (مردوں کو زندہ کرنا) پیش کر دیں تو پھر اس بات کے پوچھنے کی گنجائش نہیں رہتی کہ پیغمبرؐ حق پر ہیں یا باطل پر۔ یہی با ت نشاندہی کرتی ہے کہ وہ متعصب، ہٹ دھرم اور معاند افراد تھے اور ان کا مقصد حق کی جستجو نہ تھا۔ وہ ہمیشہ عجیب و غریب فرمائشیں کرتے رہتے تھے اور آخر کار وہ ایمان بھی نہیں لاتے تھے۔ سورہٴبنی اسرائیل کی آیہ ۹۰ کے ذیل میں ہم انشاء اللہ دوبارہ اس مسئلے کی وضاحت کریں گے۔ ۳۔ "قارعة" کیا ہے؟ "قارعة“، ”قرع“ کے مادہ سے ہے جو کہ کھٹکھٹانے کے معنی میں ہے۔ اس بناء پر ”قارعة“ کا معنی ہے ”کھٹکھٹانے والی“ یہاں ایسے امو ر کی طرف کی طرف اشارہ ہے جو انسان کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں اور اسے تنبیہ کرتے ہیں اور اگر بیدار ہونے کے لیے آمادہ ہو تو اسے بیدار کرتے ہیں۔ درحقیقت ”قارعة“ کا ایک وسیع معنی ہے کہ جس میں ہر قسم کی انفرادی یا اجتماعی مصیبتوں، مشکلات اور دردناک حوادث کا مفہوم شامل ہے۔ اسی لیے بعض مفسرین اسے جنگوں، خشک سالیوں، قتل ہونے اور قید ہونے کے معنی میں سمجھتے ہیں کہ جب دوسرے اسے صرف ان جنگوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جو صدر اسلام میں ”سریہ“ کے عنوان سے ہوئیں۔ ”سریہ“ ان جنگوں کو کہا جاتا ہے جن میں پیغمبر اسلام خود شریک نہیں ہوئے بلکہ ان میں آپ نے اپنے اصھاب و انصار کو مامور فرمایا لیکن مسلم ہے کہ ”قارعة“ ان امور میں سے کسی ایک کے لیے مختص نہیں اور اس کے مفہوم میں یہ تمام امور شامل ہیں۔ یہ بات جاذب نظر ہے کہ زیر بحث آیات میں ہے کہ یہ تباہ کن حوادث خود انہیں پہنچتے تھے یا ان کے گھر کے آس پاس رونما ہوتے تھے یعنی اگر وہ خود ان بیدار کرنے والے اور تنبیہ کرنے والے حوادث میں مبتلا نہ ہوں تو بھی یہ ان کے اوس پڑوس یا ان کے نزدیک رونما ہوتے ہیں۔ کیا یہ ان کی بیداری کے لیے کافی نہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 34 کے تحت ملاحظہ کریں۔
کس طرح خدا کو بتوں کا شریک بناتے ہو؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 2ان آیات میں قرآن پھر توحید کی بحث کی جانب لوٹتا ہے اور ان لوگوں کو اس واضح دلیل سے خطاب کرتا ہے: کیا وہ کہ جو تمام عالم ہستی میں ہر چیز کا محافظ اور جس نے سب کو اپنی تدبیر کے زیر پردہ قرار دیا ہے اور تمام لوگوں کے اعمال سے باخبر ہے اس کی طرح ہے کہ جس میں ان صفات میں سے کوئی بھی نہیں(اَفَمَنْ ھوقَائِمٌ عَلَی کُلِّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ)۔ (تشریحی نوٹ: درحقیقت مندرجہ بالا جملہ مبتداء پر مشتمل ہے اور اس کی خبر محذوف ہے، تقدیر میں اس طرح تھا:افمن ھو قائم علی کل نفس بما کسبت کمن لیس کذٰلک یعنی کیا وہ کہ جو اس صفت ک احامل ہے اس جیسا کہ جو اس سے عاری ہے)۔ درحقیقت مندرجہ بالا جملہ وضاحت سے کہتا ہے کہ خدا نے تمام چیزوں کا اس طرح سے احاطہ کر رکھا ہے کہ گویا وہ سب کے سروں پر کھڑا ہے، جو کچھ انجام دیتا ہے وہ اسے دیکھتا ہے، جانتا ہے، اس کا حساب و کتاب رکھتا ہے، اس کی جزا و سزا دیتا ہے اور تصرف و تدبیر کرتا ہے۔ اس بناء پر لفظ”قائم“ایک وسیع رکھتا ہے کہ جس میں یہ تمام امور شامل ہیں اگرچہ بعض مفسرین نے ان میں ایک پہلو لے لیا ہے۔ اس کے بعد گذشتہ بحث کی تکمیل اور آئندہ بحث کی تمہید کے طور پر فرمایا گیا ہے: انہوں نے خدا کے شریک قرار دئیے ہیں (وَجَعَلُوا لِلَّہِ شُرَکَاءَ)۔ فوراً ہی انہیں چند طریقوں سے جواب دیا گیا: پہلا یہ کہ ----فرمایا: ان شریکوں کے نام لو (قُلْ سَمُّوھُم)۔ نام لینے سے یا تو یہ امر مراد ہے کہ ان کی وقعت اور قدر و قیمت اتنی بھی نہیں کہ ان کا نام و نشان بھی ہو یعنی تم چند بے نام و نشان اور بے وقعت موجودات کا قادر و متعال پروردگار کے کس طرح ہم پلہ قرار دیتے ہو؟ یا مراد یہ ہے کہ ان کی صفات بیان کرو تاکہ ہم دیکھیں کہ کیا وہ عبودیت کے لائق ہیں؟ اللہ کے بارے میں ہم کہتے ہیں وہ خالق، رازق،زندگی بخشنے والا، عالم، قادراور بزرگ و بر تر ہے تو کیا تم یہ صفات بتوں کے لیے استعمال کر سکتے ہو یا اس کے برعکس، اگر ان کا ذکر کرنا چاہیں تو ہمیں کہنا پڑے گا کہ، پتھر، لکڑی کے بے حس و حرکت بت جو عقل و شعور سے عاری ہیں اور اپنے عبادت کرنے والوں کے محتاج ہیں۔ مختصر یہ کہ ہر چیز سے عاری بت تو پھر ان دونوں کو کس طرح ایک جیسا قرار دیا جا سکتا ہے۔ کیا اب تک انہوں نے کسی کو کوئی نقصان پہنچا یا ہے یا کسی کو کوئی فائدہ پہنچا یا ہے، یا کسی کو مشکل حل کی ہے یا کسی کام میں مدد کی ہے؟ تو ان حالات میں کون سی عقل اجازت دیتی ہے کہ انہیں خدا کا ہم پلہ قرار دیا جائے کہ جو تمام برکات و نعمات، سودو زیان اور جزا و سزا کا مالک ہے۔ البتہ کوئی مانع نہیں کہ یہ تمام معانی ”سموھم“ (ان کے نام لو) جملے میں جمع ہوں۔ دوسرا یہ کہ اس قسم کا کوئی شریک کیسے ہو سکتا ہے جب کہ وہ خداجو تمہارے خیال میں ان کا شریک ہے ان کے وجود کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں رکھتا جب کہ اس کا علم تمام جہان پر محیط ہے۔”کیا اسے اس چیز کی خبر دیتے ہوجس کے وجود کو وہ زمین میں نہیں جانتا“ (اَمْ تُنَبِّئُونَہُ بِمَا لاَیَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ)۔ یہ تعبیر درحقیقت مد مقابل کے بے ہودہ اور فضول گفتگو ختم کرنے کے لیے بہترین راستہ ہے۔ یہ ایسے ہے جیسے کوئی شخص آپ سے کہتا ہے کہ کل رات فلاں شخص تمہارے گھر میں مہمان تھا اور آپ اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ تم مجھے ایسے مہمان کی خبر دیتے ہو جس کی مجھے اطلاع نہیں ہے یعنی کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص میرامہمان ہو اور میں اس سے بے خبر ہوں اور تم اس سے آگاہ ہو۔ تیسرا یہ کہ دراصل خود تم بھی دل میں ایسی چیز کا ایمان نہیں رکھتے ”صر ف ایک کھوکھلی ظاہری بات کا سہارا لیے ہوئے ہ وکہ جس میں کوئی حقیقی مفہوم موجود نہیں ہے“ (اَمْ بِظَاہِرٍ مِنْ الْقَوْلِ)۔ اسی بناء پر یہ مشرکین جب زندگی کی کسی سخت گھائی میں جو ہر طرف سے بند ہو کر پھنس جاتے ہیں تو ”اللہ“ کی طرف رجوع کرتے ہیں کیونکہ وہ دلی طور پر جانتے ہیں کہ بتوں سے کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ خدا ان کی حالت سورہ عنکبوت کی آیت۶۵ میں بیان فرماتا ہے جب کہ وہ کسی کشتی میں سوار ہوتے ہیں اور سخت طوفان میں گھر جاتے ہیں تو صرف خدا کا رخ کرتے ہیں۔ چوتھا یہ کہ مشرکین صحیح شعور نہیں رکھتے اور چونکہ ہوا و ہوس اورا ندھی تقلید میں گرفتار ہیں لہٰذا عقل مندانہ اور صحیح فیصلہ نہیں کرپاتے۔ اسی بناء پر گماہی میں آن پڑے ہیں۔ ”پیغمبر اور مومنین کے خلاف ان کی سازشوں کو اور ان کے جھوٹ، تہمتوں اور بہتانوں کو (ان کی اندرونی ناپاکی کی بناء پر) مزین کر دیا گیا ہے“یہاں تک کہ انہوں نے ان بےوقعت اور بےنام و نشان موجودات کو خدا کا شریک جان لیا ہے (بل زُیِّنَ لِلَّذِینَ کَفَرُوا مَکْرُھُمْ وَصُدُّوا عَنْ السَّبِیلِ)اور جس شخص کو خدا قرار دے اس کی ہدایت کسی کے بس نہیں ہے (وَمَنْ یُضْلِلْ اللهُ فَمَا لَہُ مِنْ ھَادٍ)۔ ہم نے بار ہا کہا ہے کہ یہ گمراہی جبری معنی میں نہیں ہے اور نہ یہ بغیر کسی شرط اور بنیاد کے من پسند کا مسئلہ ہے بلکہ خدا کی طرف سے گمراہی خود انسان کے غلط کاموں کے عکس العمل کے معنی میں ہے یہ اس کے اپنے اعمال کا ردّ عمل ہے کہ جو اسے گمراہیوں کی طرف کھینچ لے جاتا ہے۔ چونکہ ایسے اعمال میں خدا نے یہ خاصیت پیدا کی ہے لہٰذا اس کی نسبت خدا کی طرف دی جاتی ہے۔ زیر نظر آخری آیت میں دنیا و آخرت میں ان کی دردناک سزاوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ان میں فطرتاً شکست و ناکامی، سیاہ روزی اور ذلت و رسوائی شامل ہیں۔ فرمایا گیا ہے: ان کے لیے دنیا زندگی میں بھی سزا ہے اور آخرت کی سزا زیادہ سخت اور شدید تر ہے (لَھُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ اَشَقُّ)۔ کیونکہ وہ سزا دائمی بھی ہے، جسمانی اور روحانی بھی اور اس میں طرح طرح کا عذاب شامل ہے اور اگر وہ یہ گمان کریں کہ اس سے بچ نکلنے کے لیے ان کے پاس کوئی راستہ یا وسیلہ ہے تو وہ سخت غلط فہی میں مبتلا ہیں کیونکہ ”خدا کے مقابلے میں انہیں کوئی چیز نہیں بچا سکتی“(وَمَا لَھُمْ مِنْ اللهِ مِنْ وَاقٍ)۔
جنت کی نعمتیں اور دوزخ کا عذاب
Tafsīr Nemūna · Vol. 2اس سورہ کی آیات میں توحید، قیامت اور دیگر اسلامی معار ف کا باری باری ذکر آیا ہے۔ اس آیت میں میں معاد کے بارے میں خصوصاً جنت کی نعمتوں اور دوزخ کے عذاب کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: جنت کے وہ باغ کہ جن کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے ایسے ہیں کہ جن کے درختوں کے نیچے جاری پانی کی نہریں رواں دوان ہیں (مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِی وُعِدَ الْمُتَّقُونَ تَجْرِی مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْھَارُ)۔ (تشریحی نوٹ: اس جملے کی تشریح میں مفسرین کی مختلف آراء ہیں۔ بعض "مثل" کو مبتداء اور "تجری" کو اس کی خبر سمجھتے ہیں۔ بعض "مثل" کو مبتداء اور اس کی خبر کو محذوف خیال کرتے ہیں اور اس کی تقدیر یوں ہے: فیما نقصّ علیکم مثل الجنۃ وہ چیزیں کہ جو ہم تم پر بیان کرتے ہیں اُن میں سے جنت کی مثال ہے۔ "مثل" کی تعبیر شاید اس نکتے کی طرف اشارہ ہے کہ آخرت کے گھر کے باغات اور دیگر نعمتوں کی اس محدود جہان میں رہنے والوں کے لیے کسی بیان سے تعریف نہیں کی جا سکتی کیونکہ یہ جہان بعد از موت کے جہان کے مقابلے میں نہایت چھوٹا ہے۔ اس جہان کے لوگوں کے لیے وہاں کی چیزوں کو صرف ”مثل“ اور ارشاداتی گفتگو میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ جیسے ایک بچہ جو عالم جنین میں ہے اگر عقل و شعور رکھتا ہو تو اس کے سامنے اس دنیا کی نعمتوں کی وضاحت ہرگز نہیں ہو سکتی۔ صرف ناقص اور کم رنگ مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ باغات کی دوسری صفت یہ ہے کہ اس کے پھل دائمی ہیں (اُکُلُھَا دَائِمٌ)۔نہ کہ اس جہان کے پھلوں کی طرح جو موسمی ہیں اور ان میں سے ہر ایک کسی خاص موسم میں میں پیدا ہوتا ہے بلکہ کسی آفت کی وجہ سے ممکن ہے کسی سال بالکل نہ ہو لیکن جنت کے پھلوں کو نہ کوئی آفت درپیش ہے اور نہ وہ کسی موسم کے محتاج ہیں بلکہ سچے مومنین کے ایمان کی طرح قائم و دائم ہیں۔ اسی طرح ان درختوں کا سایہ بھی دائمی ہے (وَظِلُّھاَ)۔ان کے سائے دنیا کے درختوں کے سائے کی طرح نہیں ہیں کہ ہو سکتا دن کے وقت جب کہ صبح سورج ایک طرف سے چمکتا ہے ان کے سائے سطح باغ میں گہرے ہوں لیکن جب آفتاب عمودی شکل میں چمکتا ہے تو وہ کم ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح فصلِ بہار میں گر میوں میں جب کہ درخت پتوں سے بھرے ہوتے ہیں ان کا سایہ ہوتا ہے مگر فصل خزاں میں سر دیوں میں جب درخت برہنہ ہو جاتے ہیں ان کا سایہ بھی جاتا رہتا ہے۔ (البتہ دنیا میں کہیں کہیں سدا بہار درختوں کے نمونے بھی موجود ہیں کہ جو ہمیشہ پھل پھول دیتے رہتے ہیں۔یہ درخت ایسے علاقوں میں ہوتے ہیں جہاں خزان کی خنکی اور فصلِ سرما نہیں ہوتی)۔ خلاصہ یہ کہ جنت کے سائے اس کی تمام نعمتوں کی طرح جاودانی ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ باغاتِ بہشت کے لیے خزاں نہیں ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں نورِ آفتاب یا اس جیسی کوئی چیز ہے ورنہ جہاں شعاعِ نور نہ ہو وہاں سائے کا کوئی مفہوم نہیں ہے۔ یہ جو سورہ دہر کی آیہ ۱۳ میں ہے: لایرون فیھا شمساً ولا زمھریراً وہاں شدت کی دھوپ دیکھیں گے اور نہ زیادہ سردی۔ ہو سکتا ہے یہ موسم کے اعتدال کی طرف اشارہ ہو کیونکہ سوزشِ آفتاب اور اسی طرح سخت سردی جنت میں نہیں ہے نہ یہ کہ وہاں سورج بالکل نہیں چمکتا۔ کرہٴ آفتاب کا خاموش ہو جانا اس کے ہمیشہ کے لیے ختم ہو جانے کی دلیل نہیں ہے کیونکہ قرآن کہتا ہے: قیامت میں زمین و آسمان دوسر ے (نئے اور وسیع تر) زمین و آسمان میں تبدیل ہو جائیں گے۔ اور اگر کہا جائے کہ جہاں سورج کی تمازت اور تپش نہیں وہاں پھر سایہ کس لیے ہے ؟ تو اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ سائے کا لطف صرف تمازت ِ آفتاب سے بچنے میں نہیں ہے بلکہ پتوں سے طبعی اور اوپر جانے والی رطوبت کہ جو نشاط بخش آکسیجن سے ملی ہوتی ہے سائے کو ایک خاص قسم کی لطافت اور تازگی بھی دیتی ہے۔ اسی لیے درخت کا سایہ کرے کی چھت کے سائے کی طرح ہرگز خشک اور بے روح نہیں ہوتا۔ جنت کی یہ تین صفات بیان کرنے کے بعد، آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: یہ ہے پرہیزگاروں کا انجام، لیکن کافروں کا انجام آگ ہے (تِلْکَ عُقْبَی الَّذِینَ اتَّقَوا وَعُقْبَی الْکَافِرِینَ النَّارُ)۔ جنت کی نعمتوں کا ذکر اس خوبصورت اور زیبا تعبیر کے ذریعے لطافت اور تفصیل کے ساتھ ہوا ہے لیکن دوزخیوں کے بارے میں ایک مختصر سا خشک اور سخت جملہ ہے کہ ان کا انجام کار جہنم ہے۔
خدا پرست اور دیگر گروہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 2اس آیت میں آیات قرآن کے نزول پر لوگوں کے مختلف ردّ عمل کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ حقیقت کے متلاشی اور حق جو افراد کس طرح جو کچھ پیغمبرؐ پر نازل ہوتا تھا اس پر سر تسلیم خم کرتے تھے اور خوش ہوتے تھے جب کہ مخالف اور ہٹ دھرم افراد اس کی مخالفت کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے:جنہیں ہم نے آسمانی کتاب دے رکھی ہے وہ اس پر خوش ہوتے ہیں جو کچھ تجھ پر نازل ہوتا ہے (و الذین اتیناھم الکتاب یفرحون بما انزل الیک)۔ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ”اٰتیناھم الکتاب“ اور اس قسم کی تعبیر پورے قرآن میں عام طور پر یہود و نصاریٰ اور ان جیسے آسمانی مذاہب کے پیروکاروں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، تو اس میں کوئی شک باقی نہیں رہتا کہ یہاں بھی انہی کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی یہود و نصاریٰ اور ان جیسے دوسرے جویانِ حق تجھ پر ان آیات کے نزول پر مسرور ہوتے ہیں کیونکہ ایک طرف تو وہ انہیں ان نشانیوں سے ہم آہنگ پاتے ہیں جو ان کے پاس ہیں اور دوسری طرف یہ ان کے لیے ان خرافات سے نیز یہود و نصاریٰ اور دیگر مذاہب کے ان عالم نما جاہلوں کے شر سے آزادی اور نجات کا سبب ہیں جنہوں نے انہیں قید و بند میں جکڑ رکھا ہے اور فکری آزادی اور تکامل و ارتقائے انسانی سے محروم رکھا ہے۔ یہ جو بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ”الذین اٰتینا ھم الکتاب“سے مراد حضرت رسول اکرم کے اصحاب و انصار ہیں بہت بعید معلوم ہوتا ہے کیونکہ مسلمانوں کے لیے ایسی تعبیر کا استعمال معمول نہیں ہے۔ علاوہ ازیں یہ با ت”بما انزل الیک“ سے مطابقت نہیں رکھتی۔ (تشریحی نوٹ: کیونکہ اس بات کا لازمہ یہ ہے کہ ”ما انزل الیک“ ”الکتاب“ ہی ہو کیونکہ اس صورت میں دونوں قرآن کی طرف اشارہ ہیں حالانکہ قرینہ مقابلہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ”الکتاب“ سے مراد اور ہے اور ”ماانزل الیک“ سے مراد کچھ اور ہے۔) نیز جو کچھ کہا گیا سورہ رعد کا مکی ہونا اس کے منافی نہیں کیونکہ یہودیوں کا اصلی مرکز اگرچہ مدینہ اور خیبر تھے اور عیسائیوں کا اصلی مرکز نجران وغیرہ تھا پھر بھی اس میں شک نہیں کہ وہ مکہ آتے جاتے تھے اور مکہ میں ان کے افکار و نظر یات اور ثقافت کا تھوڑا بہت اثر تھا۔ اسی بناء پر مکہ کے لوگ ان نشانیوں کے بنا ء پر کہ جو یہودی خداکے آخری پیغمبر کے بارے میں بیان کرتے تھے ان میں سے ایسے پیغمبر کے ظہور کے انتظار میں رہتے تھے۔ (اس سلسلے میں ورقہ بن نوفل اور اس قسم کے دیگر افراد کے واقعا مشہور ہیں)۔ قرآن مجید کی دیگر سورتوں میں بھی اس بات کے شواہد ہیں کہ اہل کتاب میں سے سچ مومنین پیغمبر اسلام پر آیاتِ قرآن کے نزول سے خوش تھے۔ سورہ قصص کی آیہ ۵۲ میں ہے: الذین اتیناھم الکتاب من قبلہ ھم بہ یوٴمنون جنہیں ہم نے اس سے پہلے آسمانی کتاب دی تھی وہ اس قرآن پر ایمان رکھتے تھے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: لیکن احزاب میں سے ایک جماعت ہے کہ جس پر قومی و مذہبی تعصب اور ایسے دوسرے تعصبات کا غلبہ تھا۔ اسی بناء پر قرآن انہیں ”اہل کتاب“ نہیں کہتا کیونکہ وہ اپنی آسمانی کتب کے سامنے بھی سر تسلیم خم نہیں کیےہوئے۔ بلکہ حقیقت میں وہ ”احزاب“ اور مختلف گروہ تھے کہ جو صرف اپنے اپنے گروہ کے راستے پر چلتے تھے۔ یہ گروہ ہر اس چیز کا انکار کر دیتے تھے کہ جو ان کے اپنے میلان، طریقے اور پہلے سے کیے گئے فیصلوں سے ہم آہنگ نہ ہوتی۔ یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ”احزاب“ مشرکین کی طرف اشارہ ہو کیونکہ سورہ احزاب میں بھی ان کا اس لفظ کے ذریعے ذکر کیا گیا ہے۔ اصل میں ان کا کوئی دین و مذہب نہ تھا بلکہ وہ بکھرے ہوئے گروہ اور احزاب تھے کہ جو قرآن اور اسلام کی مخالفت میں متحد تھے۔ عظیم مفسر مرحوم طبرسی اور بعض دوسرے مفسرین نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ مندرجہ بالا آیت صفتِ رحمن کے ساتھ خداوند عالم کی توصیف سے بت پرستوں کے انکار کی طرف اشارہ ہے کہ جب اہل کتاب خصوصاً یہودی اس توصیف سے آشنائی کی بناء پر قرآنی آیات میں لفظ”رحمن“ کی موجودگی پر خوشی کا اظہار کرتے تھے اور مشرکینِ مکہ کہ جو اس صفت سے نا آشنا تھے، اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ آیت کے آخر میں پیغمبر اکرمؐ کو حکم دیا گیا ہے کہ اس کی اور اس کی مخالفت اور ہٹ دھرمی کی پر واہ نہ کرو بلکہ اپنے حقیقی خط اور صراط مستقیم پر قائم رہو اور ”کہو: میں مامور ہوں کہ صرف اللہ کی پرستش کروں کہ جو یکتا و یگانہ خدا ہے اور اس کے لیے کسی شریک کا قائل نہ ہوں میں صرف اس کی طرف دعوت دیتا ہوں اور میری اور سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے“(قل امرت ان اعبد اللہ ولا اشرک بہ الیہ ادعوا و الیہ ماٰب)۔ یہاں اس طرف اشارہ ہے کہ سچے موحد اور حقیقی خدا پرست کا خدا کے فرامین کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے علاوہ کوئی راستہ اور پروگرام نہیں ہے وہ ان تمام امور کے لیے فرماں بردار ہے جو خدا کی طرف سے نازل ہوتے ہیں اور ان کے بار ے میں کچھ ماننے اور کچھ نہ ماننے کا قائل نہیں ہوتا۔ ایسا نہیں ہوتا کہ جس چیز کے بارے میں اس کی رغبت ہو اسے قبول کرلے اور جس کے بارے میں میلان نہ ہو اس کی مخالفت کرے اور انکار کر دے۔
ایک اہم نکتہ
ایمان اور اجتماعی وابستگیاں: زیر نظر آیت میں ہم نے دیکھا ہے کہ خدا کس طرح یہود و نصاری میں سے سچے مسلمان مومنین کو " اہل کتاب " سے تعبیر کیا گیا ہے اور جو لوگ اپنے تعصبات اور ہوا و ہوس کے تابع تھے انہیں " احزاب " قرار دے رہا ہے۔ یہ امر صدر اسلام اور پیغمبر اسلامؐ کے ہم عصر یہود و نصاری میں منحصر نہیں بلکہ حقیقی مومن اور ایمان کے دعویداروں میں ہمیشہ یہی فرق رہاہے کہ سچے مومنین حق کے سامنے تسلیم محض ہوتے ہیں اور ان میں فرق اور تبعیض کے قائل نہیں ہوتے یعنی اپنی خواہش و رغبت کو ان کے تحت رکھتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے اہل کتاب اور ایل ایمان کا لقب سجتا ہے۔ لیکن وہ کہ جو "نومن ببض و نکفر ببعض " کا مصداق ہیں یعنی جو کچھ ان کی ذاتی سوچ، رغبت اور ہوا و ہوس سے ہم آہنگ ہے اسے قبول کر لیتے ہیں اور جو کچھ ایسا نہیں اس کا انکار کر دیتے ہیں یا جو کچھ ان کے فائدے میں ہے اسے مان لیتے ہیں اور جو ان کے ذاتی مفادات کےخلاف ہے، اس کا انکار کر دیتے ہیں وہ نہ حقیقی مسلمان ہیں اور نہ سچے مومن بلکہ وہ تو جماعتی وابستگیاں رکھتے اور اپنے مقاصد دین میں تلاش کرتے ہیں۔ اسی لیے تعلیمات اسلام اور احکامِ دین میں ہمیشہ تبعیض کے قائل ہوتے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
قطعی اور قابلِ تغیر حوادث
Tafsīr Nemūna · Vol. 2ان آیا ت میں بھی نبوت سے مربوط مسائل کا سلسلہ جاری ہے۔ پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: جیسے ہم نے اہل کتاب اور گذشتہ انبیاء پر آسمانی کتاب نازل کی ویسے ہی یہ قرآن بھی تم پر نازل کیا ہے اس حالت میں کہ یہ واضح و آشکار احکام پر مشتمل ہے (وَکَذَلِکَ اَنزَلْنَاہُ حُکْمًا عَرَبِیًّا)۔ جیسا کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے ”عربی“ فصیح اور واضح گفتگو کے معنی میں ہے: الفصیح البین من الکلام لہٰذا جس وقت کہا جاتا ہے:”امراٴة عروبة“تو اس کامفہوم ہے:”جو عورت اپنی عفت و پاکدامنی سے آگاہ ہو“۔ اس کے بعد راغب مزید کہتا ہے: قولہ حکماًعربیاً قیل معناہ مفصحاً یحق الحق ویبطل الباطل یہ جو خدا نے فرمایا ہے ”حکماً عربیاً“ اس کا مفہوم ہے ایسی واضح اور آشکار گفتگو جو حق کو ثابت کرتی ہے اور باطل کا بطلان کرتی ہے۔ یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ”عربی“ یہاں ”شریف“ کے معنی میں ہے کیونکہ لغت میں یہ لفظ اس معنی میں بھی آیاہے۔ اس طرح اس صفت سے قرآن کی توصیف مراد یہ ہے کہ اس کے احکام واضح و آشکار ہیں اور اسے غلط فائدہ اٹھانے اور مختلف تعبیروں کی گنجائش نہیں ہے۔ اسی لیے اس تعبیر کے بعد دیگر آیات میں استقامت، ٹیڑھا پن نہ ہونے اور یاعلم و آگہی کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورہ زمر کی آیت ۲۸ میں ہے: قراٰنا عربیاً غیر ذی عوج یہ آشکار قرآن ہے کہ جو ہر قسم کی کجی اور ٹیڑھے پن سے پاک ہے۔ سورہٴ حمٓ سجدہ کی آیہ ۳ میں ہے: کتاب فصلت اٰیاتہ قراٰناً عربیاً لقوم یعلمون یہ وہ کتاب ہے کہ جس کی آیات تشریح شدہ ہیں اور یہ ان کے لیے واضح و آشکار قرآن ہے کہ جو جانناچاہیں۔ اس طرح اس آیت میں قبل اور بعد کا جملہ تائید کرتا ہے کہ ”عربیت“ سے مراد بیان کا واضح، روشن اور پیچ و خم سے خالی ہونا چاہے۔ یہ تعبیر قرآن کی سات سورتوں میں آئی ہے لیکن چند ایک مواقع پر ”لسان عربی مبین“ اور اس قسم کے دیگر الفاظ بھی آئے ہیں۔ ممکن ہے وہ بھی اسی معنی یعنی بیان کا روشن، واضح اور ابہام سے خالی ہونا، میں ہو۔ البتہ اس خاص موقع پر ہو سکتا ہے عربی زبان کی طرف اشارہ ہو کیونکہ خدا ہر نبی کو اس کی اپنی قوم کی زبان میں مبعوث کرتا تھا تاکہ وہ سب سے پہلے اپنی قوم کو ہدایت کرے اس کے بعد اس انقلاب کا دامن دوسری جگہوں تک پھیلائے۔ اس کے بعد تہدید آمیز اور قاطع لہجے میں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے:جب تک حقیقت تجھ پر آشکار ہو جائے تو اس کے بعد اگر تو ان کی خواہشات کی پیروی کرے تو تمہیں خدائی نتائج کا سامنا کرنا ہو گا اور خدا کے سامنے کوئی تیری حمایت کرنے والا اور بچانے والا نہیں ہو گا۔ (وَلَئِنْ اتَّبَعْتَ اَھْوَائَھُمْ بَعْدَمَا جَائَکَ مِنْ الْعِلْمِ مَا لَکَ مِنْ اللهِ مِنْ وَلِیٍّ وَلاَوَاقٍ)۔ پیغمبر اکرمؐ کے مقام عصمت، معرفت اور علم و آگہی کی وجہ سے اگرچہ ان کے لیے انحراف کا احتمال یقینا نہیں ہے لیکن یہ الفاظ اولاً تو واضح کرتے ہیں کہ خدا کسی شخص کے ساتھ خصوصی ارتباط نہیں رکھتا بالفاظ دیگر اس کی کسی سے کوئی رشتہ داری نہیں ہے یہاں تک کہ اگر پیغمبرؐ کا مقام بلند و بالا ہے تو ان کی تسلیم و عبودیت اور ایمان و استقامت کی بناء پر ہے۔ ثانیاً، یہ بات دوسروں کے لیے تاکید ہے کہ جہاں پیغمبرؐ جیسی ہستی راہِ حق سے انحراف اور باطل راستے کی طرف میلان کی صورت میں خدائی سزا سے بچ نہیں سکتی تو پر دوسروں کی حیثیت واضح ہے۔ یہ بعینہ اس طرح ہے کہ کوئی شخص اپنے اچھے اور نیک بیٹے کو مخاطب کرکے کہے، اگر تو اپنا ہاتھ غلط کاریوں سے آلودہ کرے تو میں تجھے سزا دوں گا تاکہ دوسروں کو اپنا حساب کتاب معلوم ہو جائے۔ یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ”ولی“ (سرپرست و محافظ) اور ”واق“ (نگہدار) اگرچہ معنی کے لحاظ سے ایک دوسرے کے مشابہ ہیں تاہم ان میں فرق یہ ہے کہ ایک مثبت پہلو کو بیان کرتا ہے اور دوسرا منفی پہلو کو۔ ایک نصرت و مدد کرنے والے کے معنی میں ہے اور دوسرا دفاع اور حفاظت کرنے والے کے معنی میں۔ بعد والی آیت درحقیقت ان مختلف اعتراضات کا جواب ہے کہ جو دشمن آپ کر کرتے تھے۔ ان میں سے ایک گروہ کہتا تھا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ پیغمبر نوعِ بشر میں سے ہو اور اس کی بیوی اور بچے ہوں تو مندرجہ بالا آیت انہیں جواب دیتے ہوئے کہتی ہے: یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ہم نے تجھ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے ہیں۔ ان کی بیویاں بھی تھیں اور اولاد بھی (وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِکَ وَجَعَلْنَا لَھُمْ اَزْوَاجًا وَذُرِّیَّةً)۔ (تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے اس آیت کے لیے ایک شان نزول ذکر کی ہے اور کہا ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کا جواب ہے جنہوں نے پیغمبر اکرمؐ کی ایک سے زیادہ ازواج ہونے پر اعتراض کیا تھا حالانکہ سورہ رعد مکی ہے اور مکہ میں تعداد ازواج کا معاملہ درپیش نہیں تھا)۔ ان کے اعتراض سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ یا تو تاریخِ انبیاء سے نا واقف تھے یا اپنے آپ کو نادانی اور جہالت میں رکھے ہوئے تھے ورنہ یہ اعتراض نہ کرتے۔ دوسرا یہ کہ انہیں توقع تھی کہ وہ جو معجزہ بھی تجویز کریں اور جوبھی ان کی خواہشات کا تقاضا ہو آپ اسے انجام دیں (چاہے وہ ایمان لائیں یا نہ لائیں) لیکن انہیں جاننا چاہیئے کہ ”کوئی رسول حکمِ خدا کے بغیر کوئی معجزہ پیش نہیں کر سکتا“ (وَمَا کَانَ لِرَسُولٍ اَنْ یَاْتِیَ بِآیَةٍ إِلاَّ بِإِذْنِ الله ِ)۔ تیسرا اعتراض یہ کیا جاتا تھا کہ پیغمبر اسلامؐ کیوں آئے ہیں اور انہوں نے تورات یا انجیل کے احکام کو کیوں تبدیل کر دیا ہے، کیا یہ آسمانی کتاب نہیں ہیں اور خدا کی طرف سے نازل نہیں ہوئیں؟ کیا یہ ممکن ہے کہ خدا اپنا حکم تبدیل کر دے؟ (یہ اعتراض خصوصاًاس امر سے پوری طرح ہم آہنگ ہے کہ یہودی نسخِ احکام کے ناممکن ہونے کا عقیدہ رکھتے تھے)۔ زیر نظر آیت اپنے آخری جملے میں انہیں جواب دیتی ہے: ہر زمانے کے لیے ایک حکم اور قانون مقرر ہوا ہے (تاکہ بشریت اپنے آخری بلوغ تک پہنچ جائے اور آخری حکم صادر ہو)(لِکُلِّ اَجَلٍ کِتَابٌ)۔ لہٰذا مقام تعجب نہیں کہ ایک دن وہ تورات نازل کرے، دوسرے دن انجیل نازل کرے اور پھر قرآن۔ کیونکہ تکاملِ حیات کے لیے مختلف اور گونا گوں پرو گراموں کی ضرورت ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ ”لکل اجل کتاب“ ان لوگوں کا جواب ہو جو کہتے ہیں کہ اگر پیغمبرؐ سچ کہتا ہے تو پھر کیوں خدائی عذاب اس کے مخالف کا قلع قمع نہیں کرتا۔ قرآن انہیں جواب دیتا ہے کہ ہر چیز کا ایک وقت ہے اور کوئی چیز حساب و کتاب کے بغیر نہیں ہے۔ سزا اور عذاب کا وقت بھی آ پہنچے گا۔ [تشریحی نوٹ: البتہ اس معنی کے مطابق جیسا کہ بعض مفسرین نے کہا ہے مندرجہ بالا جملے میں تقدیم و تاخیر کا قائل ہونا پڑے گا اور یہ کہنا پڑے گا کہ تقدیر میں "لکل کتاب اجل" – غور کیجئے گا۔] جو کچھ گذشتہ آیت کے آخر میں کہا گیا ہے بعد والی آیت اس کے لیے تاکید و استدلال کی حیثیت رکھتی ہے اور وہ یہ کہ ہر حادثے اور حکم کے لیے ایک معین زمانہ ہے جیسا کہ کہا گیا ہے: ان الامور مرھونة باوقاتھا اور اگر دیکھتے ہو کہ بعض آسمانی کتب دیگر کتب کی جگہ لیتی ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ”خدا جو چیز چاہتا ہے محو کر دیتا ہے جیسے وہ اپنے ارادے اور حکمت کے تقاضے سے کچھ امر کا اثبات کرتا ہے نیز کتابِ اصلی اور ام الکتاب اس کے پاس ہے (یَمْحُوا اللهُ مَا یَشَاءُ وَیُثْبِتُ وَعِنْدَہُ اُمُّ الْکِتَابِ)۔ آخر میں مزید تاکید کے طور پر ان عذابوں کا ذکر ہے کہ پیغمبرؐ جن کا وعدہ کرتے تھے اور وہ ان کا انتظار کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اعتراض کرتے تھے کہ تمہارے وعدے نے عملی شکل کیوں اختیار نہیں کی۔ ارشاد ہوتا ہے: اور بعض امور کہ جن کا ہم نے وعدہ کر رکھا ہے (یعنی تیری کامیابی، ان کی شکست، تیرے پیروکاروں کی رہائی اور ان کے پیروکاروں کی اسارت) ہم تجھے تیری زندگی میں دکھائیں یا ان وعدوں پر عمل درآمد سے پہلے تجھے اس دنیا سے لے جائیں تیری ذمہ داری بہرصورت ابلاغ رسالت ہے اور ہماری ذمہ داری ان سے حساب لینا ہے (وَإِنْ مَا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِی نَعِدُھُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَإِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلَاغُ وَعَلَیْنَا الْحِسَابُ)۔
دو اہم نکات: ۱۔لوح محو و اثبات اور ام الکتاب
”یمحو اللہ مایشاء ویثبت“ مندرجہ بالا آیات میں اگرچہ انبیاء پر نزول معجزات یا آسمانی کتب کے نازل ہونے کے بارے میں آیا ہے لیکن اس میں ایک عمومی قانون بیان کیا گیا ہے کہ جس کی طرف مختلف منابعِ اسلامی میں بھی اشارہ ہوا ہے اور وہ یہ کہ تحقق موجو دات اور عالم کے مختلف حوادث کے دو مرحلے ہیں۔ ایک مرحلہ قطعیت ہے کہ جس میں کسی قسم کا کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوتا (مذکورہ بالاآیت میں ”ام الکتاب“ اسی کی طرف اشارہ ہے)۔ دوسرا مرحلہ غیر قطعی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ مشروط ہے کہ اس مرحلے میں تبدیلی ممکن ہے لہٰذا اسے مرحلہٴ محوو اثبات کہتے ہیں۔ کبھی انہیں ”لوح محفوظ“ اور ”لوح محو و اثبات“ بھی کہا جاتا ہے۔ گویا ان میں سے ایک لوح میں جو کچھ لکھا گیا ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی اور وہ بالکل محفوظ ہے لیکن دوسری میں ممکن ہے کوئی چیز لکھی جائے اور پھر محو ہو جائے اور اس کی جگہ دوسری چیز لکھی جائے۔ حقیقتِ امر یہ ہے کہ کبھی ایک حادثہ پر ہم اس کے ناقص اسباب کے ساتھ نظر ڈالتے ہیں۔ مثلاً زہر قاتل کی طبیعت کا تقاضا ہے کہ انسان کو ختم کر دے، اسے نظر میں رکھتے ہوئے ہم کہتے ہیں کہ جو شخص اسے کھائے گا مر جائے گا مگر اس سے بے خبر ہوتے ہیں کہ اس زہر کے لیے ایک ”ضد زہر“ بھی ہے اگر اس کے بعد اسے کھا لیا تو اس کے اثرات ختم ہو جائیں گے (البتہ ممکن ہے ہم بے خبر تو نہ ہوں لیکن اس ”ضد زہر“ کے بارے میں با ت کرنا مناسب نہ سمجھیں)۔ اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ حادثہ زہر کھانے سے موت، قطعی پہلو نہیں رکھتا یعنی اس مقام پر ”لوحِ محو و اثبات“ ہے کہ جس میں دوسرے حوادث پر نظررکھتے ہوئے تغیر ممکن ہے لیکن اگر حادثے کو اس کی علتِ تامہ یعنی مقتضیٰ کے وجود، تمام شرائط کی موجود گی اور تمام موانع کے خاتمے کے ساتھ نظر میں رکھیں (مندرجہ بالا مثال میں زہر کھانے اور ”ضد زہر“ نہ کھانے کے ساتھ نظر میں رکھیں) تو پھر یہاں حادثہ قطعی ہے اور اصطلاح کے مطابق اس کی جگہ لوح محفوظ اور ام الکتاب میں ہے اور اس میں کوئی تغیر نہیں ہوتا۔ یہ بات ایک اور طرح سے بیان کی جاسکتی ہے اور وہ یہ کہ خدا کے علم کے دو مرحلے ہیں۔ ”مقتضیات اور عللِ ناقصہ کا علم“ اور ”علل تامہ کا علم“ جو دوسرے مرحلے سے مربوط ہے اسے علم الکتاب اور لوح محفوظ کہا جا تا ہے اور جو پہلے مرحلے سے مر بوط ہے اسے لوح محو و اثبات سے تعبیر کرتے ہیں ورنہ آسمان کے کسی گوشے میں کوئی لوح اور تختی نہیں رکھی ہوئی کہ جس پر کوئی چیز لکھی جاتی ہو یا مٹا کر اس پر دوسری چیز لکھی جاتی ہو۔ یہاں سے منابع اسلامی کے مطالعہ سے سامنے آنے والے بہت سے سوالات کا جواب دیا جا سکتا ہے کیونکہ کبھی کبھی روایات یا بعض قرآنی آیات میں ہم پڑھتے ہیں کہ فلاں کام فلاں نتیجے کا سبب بنتا ہے لیکن ہم بعض اوقات اس میں ایسا نتیجہ نہیں دیکھے۔ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ اس نتیجہ کا حصول بعض شرائط یا موانع کا حامل ہوتا ہے کہ جو شرط پوری نہ ہونے یا رکاوٹ دور نہ ہونے کی وجہ سے نہیں ہو پاتا۔ نیز بہت سی روایات کہ جو لوحِ محفوظ، لوح محو و اثبات اور انبیاء و آئمہ علیہم السلام کے علم کے بارے میں ہیں ان کا مفہوم اس بحث سے واضح ہو جاتا ہے۔ ان میں سے چند روایات ہم بطور نمونہ پیش کرتے ہیں: (۱) امیر المومنین علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے مندر جہ بالا آیت کے بارے میں رسول اللہ سے سوال کیا تو حضور نے فرمایا: لا قرن عینیک بتفسیرھا ولاقرن عین امتی بعدی بتفسیرھا، الصدقة علی وجھھا وبرّ الوالدین و اصطناع المعروف یحول الشقاء سعادة، ویزید فی العمر، ویقی مصارع السوء۔ اس آیت کی تفسیر میں تیری آنکھوں کو روشن کرون گا اور اسی طرح اپنے بعد اپنی امت کی آنکھوں کو ضرورت مندوں کی صحیح طریقے سے مدد کرنا۔ماں باپ سے نیکی کرنا اور اچھے کام انجام دینا شقاوقت کو سعادت میں دیتا بدل ہے، زندگی کو طولانی کر دیتا ہے اور خطرات سے بچا تا ہے۔ (بحوالہ: المیزان جلد۱۱ ص۴۱۹)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ سعادت و شقاوت کو حتمی اور ناقابل تغیر امر نہیں۔ یہاں تک کہ اگر انسان نے ایسے اعمال انجام دیئے ہوں کہ جن کی وجہ سے بدبختیوں کی صف میں شامل ہو تو وہ اپنی جگہ تبدیل کرکے اور نیکیوں کا رخ کرکے خصوصاًمخلوق خدا کی مدد اور خدمت کرکے اپنی سرنوشت کو بدل سکتا ہے کیونکہ ان امور کا مقام لوحِ محو و اثبات ہے نہ کہ ام الکتاب۔ توجہ رہے کہ جوکچھ مندرجہ حدیث میں آیا ہے وہ مفہوم آیت کا ایک حصہ ہے کہ ایک مثال کے طور پر بیان ہوا ہے۔ (۲) امام باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: من الامور محتومة کائنة لامحالة، ومن الامور امور موقوفة عند اللہ، یقدم فیھا مایشاء و یمحو مایشاء ویثبت منھا مایشاء۔۔۔ کچھ امور حوادث حتمی ہیں کہ جو یقینا رونما ہوتے ہیں اور بعض خدا کے ہاں کچھ شرائط کے ساتھ مشروط ہوتے ہیں وہ جس میں مصلحت دیکھتا ہے اسے مقدم کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ثبت کر دیتا ہے۔ (بحوالہ: المیزان جلد۱۱ ص۴۱۹)۔ نیز مرقوم ہے کہ امام علی بن الحسین زین العابدین علیہ السلام فرمایا کرتے تھے: لولا آیة فی کتاب اللہ لحدثتکم بما کان و مایکون الیٰ یوم القیامة، فقلت لہ ایّۃ اٰیة فقال قال اللہ: یمحوا اللہ مایشاء و عندہ ام الکتاب اگر قرآن میں ایک حدیث نہ ہوتی تو میں گذشتہ اور آئندہ قیامت تک حوادث کی تمہیں خبر دیتا۔ راوی حدیث کہتا ہے: میں نے عرض کیا کہ کونسی آیت ہے تو فرمایا: خدا فرماتا ہے: یمحو ا اللہ مایشاء و یثبت و عند ہ ام الکتاب (بحوالہ: نور الثقلین،جلد ۲ ص ۵۱۲)۔ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ مختلف حوادث کے متعلق دین کے عظیم راہبروں کے کم از کم کچھ علوم لوح محو و اثبات سے مربوط ہیں اور لوح محفوظ اپنی تمام خصوصیات کے ساتھ اسے مخصوص ہے اوروہ اس کے کچھ حصے کی کہ جو میں مصلحت سمجھتا ہے اپنے خاص بندون کو تعلیم دے دیتا ہے۔ و ان کنت من الاشقیاء فامحنی من الاشقاء و اکتبنی من السعداء اگر شقاوت مندوں میں سے ہوں تو ان میں سے خذف کرکے مجھے سعادت مندوں میں لکھ دے (یعنی مجھے اس کام کی توفیق دے)۔ بہرحال جیسا کہ کہا جا چکا ہے محو و اثبات کا ایک جامع مفہوم ہے۔ شرائط کی تبدیلی اور موانع کی موجود گی کے زیر اثر اس میں ہر قسم کی تبدیلی شامل ہے اور یہ جو بعض مفسرین نے کسی خاص مصداق کی نشاندہی کی ہے مثلاً انہوں نے کہا ہے کہ یہ تو بہ کے زیر اثر گناہوں کے محو ہونے یاحالات بدلنے سے روزی کم یا زیادہ ہونے یا اس قسم کے امور کی طرف اشارہ ہے ان میں سے ہر بات اسی صورت میں صحیح ہو سکتی ہے جب مراد ایک مصداق بیان کرنا ہو۔
۲۔ بداء کیا ہے؟
شیعہ اور سنی میں جو ایک پیچیدہ بحث پیدا ہو گئی ہے وہ مسئلہ”بداء“ کے بارے میں ہے۔ فخر رازی اپنی تفسیروں میں زیر بحث آیت کے ذیل میں کہتا ہے:۔ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ خدا کے لیے ”بدا“ جائز ہے اور ان کے نزدیک بدا کی حقیقت یہ ہے کہ ایک شخص ایک چیز کا معتقد ہو پھر ظاہر ہو جائے کہ حقیقت اس کے اعتقاد کے برخلاف ہے اور یہ بات ثابت کرنے کے لیے انہوں نے ”یمحوا اللہ مایشاء و یثبت“ کی آیت کا سہارا لیا ہے۔ فخر رازی مزید کہتا ہے: یہ عقیدہ باطل ہے کیونکہ علمِ خدا اس کی ذات کے لوازم میں سے ہے اور جو ایسا ہو اس میں تغیر و تبدل محال ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مسئلہ بدا کے بارے میں شیعہ عقیدہ سے عدم آگاہی اور لاعلمی کے سبب بہت سے اہل سنت بھائیوں نے شیعوں کی طرف ایسی ناروا نسبتیں دی ہیں۔ اس کی وضاحت یہ ہے: لغت میں لفظ ”بداء“ آشکار ہونے اور پوری طرح واضح ہونے کے معنی میں ہے نیز یہ لفظ پشیمانی کے معنی میں بھی آیا ہے کیونکہ جو شخص پشیمان ہوتا ہے یقینا اسے کوئی نئی چیز پیش آتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اس معنیٰ کے لحاظ سے خدا کے بارے میں بداء کا کوئی مفہوم نہیں اور ممکن نہیں۔ اور کسی عقلمند اور دانا کے لیے ممکن نہیں کہ اسے یہ احتمال ہوکہ کوئی مطلب خدا سے پوشیدہ ہوتا ہے اور پھر وقت گزرنے سے اس پر آشکار ہو جاتا ہے۔اصولی طور پر یہ بات صریح کفر ہے اورکھٹکنے والی ہے۔ اس بات کا لازمی مطلب یہ ہے کہ خدا کی ذاتِ پا ک کی طرف جہالت کی نسبت دی جائے اور اس کی ذات کو محل تغیر اور محل حوادث سمجھا جائے حاشا وکلا ـــــــــــــ شیعہ امامیہ ذات پروردگار اور خدائے لایزال کے بارے میں ایسا احتمال ہرگز نہیں رکھتے۔ جس میں شیعہ کا بداء کا عقیدہ رکھتے ہیں اور اس پر اصرار کرتے ہیں اور جس کے مطابق روایاتِ اہل بیت میں آیا ہے کہ ماعرف اللہ حق معرفتہ من لم یعرفہ بالبداء وہ یہ کہ اکثر ایسا ہوا ہے کہ ہم علل و اسباب کے ظواہر کے مطابق محسوس کرتے ہیں کہ ایک واقعہ و قوع پذیر ہو گا یا کسی پیغمبرؐ کو ایسا واقعہ پیش آنے کی خبر دی گئی حالانکہ ہم بعد میں دیکھتے ہیں ایسا واقع نہیں ہوا تو اس موقع پر ہم کہتے ہیں کہ ”بداء“ واقع ہوا ہے یعنی جس امر کو ہم واقع شدہ سمجھتے تھے اور اس کے رونما ہونے کو یقینی جانتے تھے اس کے خلاف ظاہر ہوا۔ اس بات کی بنیاد اور اصلی علم وہی ہے جو گذشتہ بحث میں بیان ہو چکی ہے اور وہ یہ کہ بعض اوقات ہماری آگاہی کا تعلق صرف علل ناقصہ سے ہوتا ہے اور ہم شرائط و موانع نہیں دیکھ پاتے اور ہم اس کے مطابق فیصلہ کر دیتے ہیں اور اس کے بعد جب شرط کے فقدان یا مانع کے وجود سے سامنا کرنا پڑتا ہے اور جس کی ہم توقع کررہے ہوتے ہیں اس کے خلاف واقع ہو جاتا ہے تو ہم ان کے مسائل کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح کبھی پیغمبرؐ یا امام لوح محوو اثبات سے آگاہی حاصل کر لیتے ہیں جب کہ یہ طبعاً قابل تغیر ہے اور پھر موانع پیش آنے اور شرائط مفقود ہونے کی بناء پر اس طرح رونما نہیں ہوتا۔ اس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے ”نسخ“ اور ”بداء“ کا آپس میں موازنہ کرنا چاہیئے۔ ہم جانتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کے نزدیک نسخِ احکام جائز ہے۔ یعنی ممکن ہے ایک حکم شریعت میں نازل ہو اور لوگ سمجھیں کہ یہ ابدی حکم ہے لیکن پھر وہ ذات ِپیغمبرؐ کے ذریعے منسوخ قرار پاجائے اور اس کی جگہ دوسرا آ جائے (جیسے ہم نے تفسیر، فقہ اور حدیث میں قبلہ کی تبدیلی کے بارے میں پڑھا ہے)۔ یہ درحقیقت ”بداء“ کی ایک قسم ہے لیکن عام طور پر امور تشریعی اور احکام و قوانین میں اسے نسخ کہتے ہیں اور مورد تکوینی میں بداء ایک قسم کا نسخ ہے۔ کیا کوئی شخص ایسے منطقی امر کا انکار کر سکتا ہے سوائے ایسے شخص کے جو علتِ تامہ اور علت ناقصہ کے درمیان فرق نہ کر سکے یا یہ کہ وہ شیعیانِ اہل بیتؑ کے خلاف ہونے والے منحوس پراپیگنڈا کا شکار ہو جائے اور اس کا تعصب اسے اجازت نہ دے کہ شیعہ عقائد کا مطالعہ خود ان کی کتب سے کرے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ فخر الدین رازی نے ”یمحو اللہ مایشاء اللہ و یثبت“ کے ذیل میں بداء کے بارے میں شیعوں کے عقیدے کی با ت تو کی لیکن اس نے اس مسئلے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی کہ بداء اسی ”محو و اثبات“ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ اس نے تو اپنے مخصوص تعصب کی بناء پر شیعوں پر کڑی نکتہ چینی کی ہے کہ وہ بداء کے قائل کیوں نہیں۔ اجازت دیجئے کہ مسئلہ بداء کے بارے میں چند ایسے نمونے پیش کیےجائیں کہ جنہیں سب کے قبول کیا ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام کے واقعہ میں ہم نے پڑھا ہے کہ ان کی قوم کی نافرمانی سبب بنی کہ عذاب الہٰی ان کی طرف آئے اور اس عظیم پیغمبرؐ نے بھی چونکہ انہیں قابل ہدایت نہ سمجھا اور انہیں مستحقِ عذاب جانا تو انہیں چھوڑ کر چلے گئے لیکن اچانک ”بداء واقع ہوا“ اس قوم کے ایک عالم نے جب آثارِ عذاب دیکھے تو انہیں جمع کیا اور توبہ کی دعوت دی۔ سب نے بات مان لی اور وہ عذاب کہ جس کی نشانیاں ظاہر ہو چکی تھیں ٹل گیا۔ فلولا کانت قریة اٰمنت فنفعھا ایمانھا الا قوم یونس لمّا اٰمنوا کشفنا عنھم عذاب الخزی فی الحیٰوة الدنیا و متعناھم الیٰ حین۔ (یونس۔ ۹۸)۔ (۲) اسلامی تواریخ میں ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے ایک دلہن کے بارے میں خبر دی کہ وہ اسی شب زفاف مر جائے گی لیکن وہ آپ کی پیش گوئی کے بر خلاف زندہ رہی جب آپ سے ماجرا پوچھا گیا تو فرمایا: کیا تم نے اس سلسلہ میں کوئی صدقہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا: جی ہاں تو آپ نے فرمایا: صدقہ حتمی بلاوٴں کو دور کر دیتا ہے۔ (بحوالہ: بحار الانوار چاپ قدیم، جلد ۲ ص ۱۳۱ از امالی صدوق)۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے درحقیقت لوحِ محو و اثبات سے ارتباط کی وجہ سے ایسے واقعہ کے رونما ہونے کی خبر دی تھی حالانکہ یہ واقعہ مشروط تھا (شرط یہ تھی کہ اس میں صدقہ کی طرح کو ئی مانع پیدا نہ ہو) لیکن جب مانع پیدا گیا تو نتیجہ کوئی اور نکل آیا۔ (۳) بہادر بت شکن ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں قرآن میں ہے کہ وہ اسماعیل کو ذبح کرنے پر مامور ہوئے اور اس ماموریت کے بعد بیٹے کو قربان گاہ میں لے گئے لیکن جب انہوں نے ثابت کر دیاکہ میں پوری طرح آمادہ ہو تو بداء واقع ہو گیا اور واضح ہو گیا کہ یہ ایک امتحان تھا اس عظیم پیغمبر اور ان کے فرزند ارجمند کی اطاعت و تسلیم کو آزمایا جائے۔ (۴) حضر ت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں ہے کہ پہلے وہ مامور ہوئے کہ اپنی قوم سے تیس دن تک علیحدہ رہیں اور احکام تورات حاصل کرنے کے لیے خدائی وعدہ گاہ کی طرف جائیں لیکن پھر (بنی اسرائیل کی آزمائش کے لیے) اس مدت کو دس دن بڑھا دیا گیا۔ یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ بداء کے ایسے واقعات کا کیا فائدہ؟ اس سوال کا جواب ان کے امور میں توجہ کرنے سے ظاہر اً مشکل نہیں رہتا جن کاسطو ِ بالا میں ذکر کیا گیا ہے کیونکہ بعض اوقات اہم مسائل مثلاً کسی شخص کی آزمائش،کسی قوم کا امتحان، توبہ اور خدائی بازگشت (جیسے داستان یونس میں آیا ہے) صدقہ، حاجتمندوں کی مدد اور نیک کاموں کے زیر اثر دردناک برطرف ہو جاتے ہیں۔ ایسے امور تقاضا کرتے ہیں کہ آئندہ کے واقعات پہلے اس طرح سے منظم ہوں اور پھر شرائط و حالات بدلنے سے وہ بھی بدل جائیں تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ ان کی سرنوشت خود انہی کے ہاتھ ہے اور روش کی تبدیلی سے وہ اپنی تقدیر بدلنے پر قادر ہیں اور یہ بداء کے ساتھ نہیں پہچانا وہ اس کی پوری معرفت نہیں رکھتا، یہ بھی انہی حقائق کی طرف اشارہ ہے۔ اسی لیے ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ما بعث اللہ عزوجل نبیاً حتی یاٴخذ علیہ ثلاث خصال الاقرار بالعبودیة وخلع الانداد، و ان اللہ یقدم ما یشاء و یوٴخر مایشاء خدا نے کسی پیغمبر کو نہیں بھیجا مگر یہ کہ اس سے یہ تین پیمان لیے۔ پر وردگار کی بندگی کا اقرار، ہرقسم کے شرک کی نفی اور یہ کہ خدا جس چیز کو چاہتا ہے مقدم کرتا ہے اور جس چیز کو چاہتا ہے موخر کرتا ہے۔( بحوالہ: اصول کافی، جلد ۱ ص ۱۱۴، سفینة البحار جلد ۱ ص ۶۱)۔ حقیقت میں پہلا پیمان خدا کی اطاعت اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے مربوط ہے دوسرا عہد شرک کے خلاف قیام کرنے سے متعلق ہے اور تیسرا مسئلہ بداء سے مربوط ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کی تقدیر خود اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ حالات تبدیل کرکے اپنے آپ کو لطفِ الہٰی یا عذابِ خدا کا حقدار بنا لیتا ہے۔ آخری بات یہ ہے کہ مندر جہ بالا پہلووٴں کی بناء پر علماء شیعہ نے کہا ہے کہ جب ”بداء“ کی نسبت خدا کی طرف دی جاتی ہے تو یہ ”ابداء“ کے معنی میں ہوتی ہے یعنی کسی ایسی چیز کو ظاہر کر دیتا ہے جو پہلے ظاہر نہ ہو اور جس پیشین گوئی نہ کی جا سکتی ہو۔ لیکن شیعوں کی طرف یہ نسبت دینا کہ ان کا عقیدہ ہے کہ خدا کبھی کبھی اپنے کام پر پشیمان ہو جاتا ہے یا کسی ایسی چیز سے باخبر ہو جاتا ہے کہ جس سے پہلے آگاہ نہ ہو یہ بہت بڑی زیادتی ہے اور ایسی تہمت ہے جسے معاف نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے آئمہ معصومین علیہم السلام سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا: من زعم ان اللہ عزوجل یبدو لہ فی شیء لم یعلمہ امس فابرؤا منہ جو شخص یہ گمان کرے کہ خدا پر کوئی ایسی چیز آج آشکار ہوتی ہے جسے وہ کل نہیں جانتا تھا تو ایسے شخص سے بیزاری اختیار کرو۔(بحوالہ :سفینة البحار جلد ۶۱)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 43 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 43 کے تحت ملاحظہ کریں۔
انسان اور معاشرے ختم ہو جاتے ہیں، خدا باقی رہتا ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 2گذشتہ آیا ت میں روئے سخن رسولؐ اللہ کی رسالت کے منکرین کی طرف تھا۔ ان آیات میں اس بحث کو جاری رکھا گیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ انہیں تنبیہ کی جائے، انہیں بیدار کیا جائے، ان کے سامنے استدلال کیا جائے۔ الغرض مختلف طریقوں سے انہیں عقلی راہ پر لگا کر غور و فکر کرنے اور پھر اپنی حالت کی اصلاح کرنے پر آمادہ کیا جائے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: ان مغرور اور ہٹ دھرم افراد نے دیکھا نہیں کہ ہم مسلسل زمین کے اطراف و جوانب کو کم کرتے رہتے ہیں (اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُھَا مِنْ اَطْرَافِھَا)۔ واضح ہے کہ زمین سے یہاں مراد اہل زمین ہیں۔ یعنی کیا وہ اس واقعیت کی طرف نگاہ نہیں کرتے کہ ہمیشہ اقوام، تمدن اور حکومتیں زوال پذیر ہوتی ہیں۔ وہ قومیں کہ جو ان سے زیادہ قوی تھیں، زیادہ طاقتور تھیں اور زیادہ سرکش تھیں، ان سب نے اپنے اپنے منہ مٹی میں چھپا لیے۔ یہاں تک کہ علماء بزرگ اور دانشور کہ جو زمین کا سہارا تھے انہوں نے بھی اس جہان سے آنکھیں بند کر لیں اور ابدایت کے ساتھ وابستہ ہو گئے۔ کیا یہ ہمہ گیر قانونِحیات کہ جو تمام افراد، تمام انسانی معاشروں اور ہر چھوٹے بڑے پرجاری و ساری ہے ان کے بیدار ہونے کے لیے کا فی نہیں ہے کہ وہ اس چند روزہ زندگی کو ابدی نہ سمجھیں اور اسے غفلت میں نہ گزار دیں۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: حکومت اور فرمان جاری کرنا خدا کے لیے ہے اور کسی شخص میں اس کے فرمان کو رد کرنے اور سے روکنے کا یارا نہیں ہے (وَاللهُ یَحْکُمُ لاَمُعَقِّبَ لِحُکْمِہ)۔اور وہ سریع الحساب ہے (وَھُوَ سَرِیعُ الْحِسَابِ)۔ اس بناء پر ایک طرف تو اس نے تمام افراد اور سب قوموں کو پشیمانی پر قانونِ فنا رقم کر دیا ہے اور دوسری طرف کسی کی مجال نہیں کہ اس فرمان کو یا خدا کے دوسرے فرامین کو بدل سکے اور تیسری طرف وہ بندوں سے بڑی تیزی سے حساب لیتا ہے اور اس طر ح سے اس کی جزاء قطعی ہے۔ کئی ایک روایات کو جو تفسیر برہان، نور ثقلین، دیگر تفاسیر اورکتب حدیث میں آئی ہیں ان میں زیر نظر آیت کی تفسیر علماء اور دانشمندبیان کی گئی ہے کیونکہ ان کا فقدان زمین اوراسلامی معاشرے کمی اور نقصان کا سبب بنتا ہے۔ مفسرِ بزرگ طبرسی اس آیت کی تفسیر میں امام صادق علیہ السلام کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ننقصھا بذھاب علمائھا، وفقھائھا و خیارھا ہم زمین میں اس کے علماء، فقہاء اور نیک لوگوں کے لیے چلے جانے سے کمی واقع کریں گے۔[بحوالہ: تفسیر برہان، جلد ۲، ص ۳۰۱] ایک اور حدیث میں ہے کہ جس وقت حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام شہید ہوئے تو عبد اللہ بن عمر نے یہ آیت پڑھی: انا ناٴتی الارض ننقصھا من اطرافھا اس کے بعدکہا: یا امیر المومنین لقد کنت الطرف الاکبر فی العلم، الیوم نقص علم الاسلام و مضی رکن الایمان اے ا میر المومنین! آپ علم انسانیت میں علم کی بہت بڑی ”طرف“ تھے۔ آپ شہادت سے آج اسلام کا علم و دانش نقصان کی طرف جھگ گیا اور ایمان کا ستون گر گیا۔ [بحوالہ: تفسیر برہان، جلد ۲، ص ۳۰۱]۔ البتہ جیسا کہ ہم نے کہا ہے آیت کا ایک وسیع مفہوم ہے۔ اس میں ہر قسم کا نقصان اور کمی شامل ہیں چاہے وہ افراد ہوں، یا معاشرے یا بطور کلی اہل زمین۔ یہ تمام لوگوں کے لیے جرس بیداری ہے چاہے وہ نیک ہوں یا برے حتی کہ علما ء اور دانشمندوں کے لیے بھی کہ جو انسانی معاشروں کے ستون ہیں جب کہ ان میں سے کبھی ایک کے چلے جانے سے پوری دنیا کو نقصان پہنچتا ہے۔ یہ سب کے لیے بولتی ہوئی ہلادینے والی صدائے ہوشیار باش ہے۔ باقی رہا یہ کہ بعض مفسرین نے احتما ل ظاہر کیا ہے کہ زمین کے نقصان سے مراد کفار کی زمینوں کا کم ہونا اور مسلمان علاقوں میں اضافہ ہونا ہے اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی صحیح معلوم نہیں ہوتا کیونکہ اس وقت تو ایسی فتوحات نہیں تھیں کہ کفار جنہیں اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور قرآن ان کی طرف اشارہ کرتا۔ نیز یہ جو بعض مفسرین کہ جوعلوم طبیعی میں مستغرق ہیں وہ زیر نظر آیت کو قبطین کی طر ف سے زمین کے کم ہونے اور استوائی جانب سے زیادہ ابھرنے کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں، بہت بعید معلوم ہوتا ہے کیونکہ قرآن کی زیر نظر آیت میں یہ چیز بیان کرنے کا موقع نہیں ہے۔ بعد والی آیت میں اسی بحث کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا گیا ہے: صرف یہی گروہ نہیں کہ جو سازشوں اور مکرو فریب کے ساتھ تمہارے خلاف اٹھ کھڑا ہوا ہے بلکہ ”ان سے پہلے والے بھی سازشیں اور مکاریاں کیا کرتے تھے“(وَقَدْ مَکَرَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِھِمْ)۔ لیکن ان کے منصوبے نقش بر آب ہو گئے اور ان کی سازشیں حکم خدا سے بے اثر ہو کر رہ گئیں کیونکہ وہ ہر شخص کے معاملات خود اس سے بہتر جانتا ہے بلکہ ”تمام منصوبے خدا کے لیے ہیں“ (فَلِلَّہِ الْمَکْرُ جَمِیعًا)۔ وہ ہے کہ جو ہر شخص کے کسب و کار سے آگاہ ہے اور ”وہ جانتا ہے کہ ہر شخص کیا انجام دیتا ہے“(یَعْلَمُ مَا تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ)۔ اور پھر تہدید کے لہجے میں انہیں ان کے انجام کار سے ڈرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: کفار بہت ہی جلد جالیں گے کہ انجام ِ کار اور نیک و بد عاقبت دوسرے جہان میں کس کس کے لیے ہے (وَسَیَعْلَمُ الْکُفَّارُ لِمَنْ عُقْبَی الدَّارِ)۔ جس طرح سے یہ سورت قرآن اور کتاب اللہ کے ذکر سے شروع ہوئی تھی اسی طرح زیر بحث آخری آیت میں قرآن کے معجزہ ہونے پر بہت زیادہ تاکید گئی ہے اور اسی پر سورہ رعد ختم ہوتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: یہ کافر کہتے ہیں کہ تو رسول نہیں ہے (وَیَقُولُ الَّذِینَ کَفَرُوا لَسْتَ مُرْسَلًا) یہ لوگ ہر روز ایک نیا بہانہ تراشتے ہیں، ہر وقت معجزہ کا تقاضا کرتے ہیں ا ور پھر بھی آخر کار کہتے ہیں کہ تو پیغمبر نہیں ہے۔ ان کے جواب میں کہو:یہی کافی ہے کہ دو ہستیاں میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہیں ایک اللہ اور دوسرا وہ کہ جس کے پاس کتاب کا علم اور قرآن کی آگاہی موجود ہے(قُلْ کَفَی بِاللهِ شَھِیدًا بَیْنِی وَبَیْنَکُمْ وَمَنْ عِنْدَہُ عِلْمُ الْکِتَابِ)۔ ایک تو خودخدا جانتا ہے میں اس کا بھیجا ہوا ہوں اور دوسرے وہ لوگ کہ جو میری اس آسمانی کتاب یعنی قرآن کے بارے میں کافی آگھی رکھتے ہیں وہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ کتاب انسانی دماغ کی ساختہ نہیں ہے خدایے بزرگ کے سوا یہ کسی اور کی ہو، یہ بھی مختلف پہلووں سے قرآن کے اعجاز ہونے کے بارے میں ایک تاکید ہے۔اس کی تفصیل ہم دیگر خصوصا کتاب،،قرآن و آخرین پیامبر میں بیان کر چکے ہیں۔ جو کچھ ہم نے سطور بالا میں کہا ہے اس کی بنا پر (ومن عندہ علم الکتاب)سے مراد مضامین قرآن مجید سے آگاہ افراد ہیں۔ لیکن بعض مفسرین نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ یہ اہل کتاب کے علماء کی طرف اشارہ ہے۔ بہت سی روایات میں آیا ہے (من عندہ علم الکتاب) سے مراد حضرت علی بن ابی طالب اور دیگر ائمہ ھدی مراد ہیں۔ اس سلسلے کی روایات تفسیر نورالثقلین اور تفسیر برہان میں جمع کر دی گئی ہیں لیکن یہ روایات اس بات کی دلیل نہیں کہ مفہوم آیت اسی پر منحصر نہیں ہے جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے کہ یہ ایک مصداق یا مصادیق تامہ وکاملہ کی طرف اشارہ ہیں۔ بہرحال یہ روایات پہلی تفسیر کہ جسے ہم نے انتخاب کیا ہے کی تایید کرتی ہیں۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلے میں ہم اپنی گفتگو پیغمبر اکرمؐ سے منقول ایک روایت پر ختم کریں۔ ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ میں نے پیغمبر گرامیؐ سے"قال الذی عندہ علم من الکتاب" (تشریحی نوٹ: یہ آیت حضرت سلیمان کے واقعہ کے ضمن میں ہے) اس شخص نے کہا کہ جس کے پاس کتاب میں سے علم تھا کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ذاک وصی اخی سلیمان بن داود وہ میرے بھائی سلیمان بن داوود کا وصی اور جانشین تھا۔ ابو سعید کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا:"قل کفی باللہ شھیدا بینی وبینکم ومن عندہ علم الکتاب" کس کے بارے میں ہے اور کس طرف اشارہ ہے رسول اللہ نے فرمایا: ذاک اخی علی بن ابی طالب وہ میرے بھائی علی بن ابی طالب ہیں۔(بحوالہ: المیزان ج،۱۱ص۴۲۷)