Al-Baqarah
سورہٴ بقرہ
یہ سوره مدینہ میں نازل ہوئی اس میں ۲٨٦ آیات ہیں
سورہٴ بقرہ کے موضوعات
یہ سوره جو قرآن مجیدکی طویل ترین سورتوں میں سے ہے, مسلما تمام کی تمام ایک دم نازل نہیں ہوئی بلکہ مختلف وقفوں سے مدینہ میں اسلامی معاشرے کی گوناگوں ضروریات کے مطابق نازل ہوئی ۔ اس کے باوجود اسلام کے اصول اعتقاد اور بہت سے عملی مسائل کی رو سے (جن میں عبادتی، اجتماعی، سیاسی اور اقتصادی مسائل شامل ہیں) اس کی جامعیت ناقابل انکار ہے۔ اس کے موضوعات ایک نظر میں یہ ہیں: ۱۔ توحید اور خدا شناسی کے متعلق بحثیں۔ خصوصا وہ جو اسرار آفرینش کے موضوع سے متعلق ہیں۔ ۲۔ قیامت اور موت کے بعد سے متعلق بحثیں۔ بالخصوص حسی مثالیں، جیسے حضرت ابراہیم کا واقعہ، پرندوں کا مرنے کے بعد زندہ ہونا اور حضرت عزیر کا واقعہ۔ ۳۔ قرآن کے معجزہ ہونے کی بحثیں اور اس آسمانی کتاب کی اہمیت ۔ ۴۔ یہودیوں اور منافقین کے بارے میں مفصل اور طویل بحثیں۔ اسلام اور قرآن کے بارے میں ان کے مخصوص اعتراضات اوراس سلسلے میں ان کی کارستانیاں اور رکاوٹیں۔ ۵۔ بڑے بڑے انبیاء خصوصا حضرت ابراہیم(علیہ السلام) اور حضرت موسی(علیہ السلام) کی تاریخ کے سلسلے کی بحثیں۔ ۶۔ اسلام کے مختلف احکام سے متعلق ابحاث۔ جن میں نماز، روزہ، جہاد فی سبیل اللہ، حج،تغیر قبلہ، نکاح، طلاق، احکام، تجارت وقرض، سود کے بعض اہم احکام اور بہت سی دیگر مخصوص بحثیں شامل ہیں۔ راہ خدا میں خرچ، مسئلہ قصاص، کئی ایک حرام گوشت، قمار، حرمت شراب، بعض احکام وصیت وغیرہ بھی اس کے موضوعات میں سے ہیں۔ اس کے نام۔ البقرة۔ کی بناء ایک واقعہ ہے جو بنی اسرائیل میں ایک گائے کے سلسلے میں ہے جس کی تفصیل آیت ۶۷ تا ۷۳ میں انشاء اللہ آئے گی۔
فضیلت سوره بقره
اس سورت کی فضیلت سے متعلق کتب اسلامی میں بہت سی روایات موجود ہیں۔ اس سلسلے میں مرحوم طبرسی نے ایک روایت رسول اکرم(ﷺ) سے مجمع البیان میں نقل کی ہے۔ آپ سے پوچھا گیا : ایّ سورة القرآن افضل؟ قرآن کی کونسی آیت افضل ہے؟ قال البقرة ۔ فرمایا : سورہ بقرہ۔ قیل ایّ آیۃ البقرۃ افضل؟ عرض کیا گیا: سورہ بقرہ کی کون سی آیت افضل ہے؟ قال آیة الکرسی۔ فرمایا : آیة الکرسی۔ ) بحوالہ: نور الثقلین، ج۱، ص۲۶ و مجمع البیان، ج۱، ص۳۲( ظاہرا اس سورت کی افضلیت اس کی جامعیت کی وجہ سے ہے اور آیة الکرسی کی افضلیت اس بناء پر ہے کہ اس میں توحید کے بارے میں بعض اہم امور بیان ہوئے ہیں جس کی تفصیل انشاء اللہ اس کی تفسیر میں آئے گی۔ یہ بات اس سے اختلاف نہیں رکھتی کہ قرآن کی بعض دیگر سورتوں کی کئی ایک جہات کی وجہ سے برتری بیان ہوئی ہے کیونکہ ان کی یہ فضیلت دیگر وجوہ کے پیش نظر ہے۔ حضرت علی بن الحسین (علیہ السلام) کی وساطت سے رسول اکرم (ﷺ) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : جو شخص سورہ بقرہ کی پہلی چار آیات، آیة الکرسی اور اس کے بعد کی دو آیتیں اور اس سورہ کی آخری تین آیات پڑھے وہ کبھی بھی اپنی جان و مال میں ناخوشگواری نہ پائے گا۔ شیطان اس کے نزیک نہیں آئے گا اور وہ قرآن کو نہیں بھولے گا۔ )بحوالہ: نورالثقلین، ج ۱ ص ۲۶ بحوالہ کتاب، ثواب الاعمال(۔ ہم یہاں اس اہم حقیقت کا تکرار ضروری سمجھتے ہیں کہ تلاوت قرآن یا سورتوں اور مخصوص آیات کے لئے جو ثواب، فضیلتیں اور اہم قائدے بیان ہوئے ہیں، ان کا یہ مفہوم ہرگز نہیں کہ انسان انہیں بطور ورد پڑھے اور صرف زبان چلانے پر اکتفاء کرے بلکہ قرآن کا پڑھنا سمجھنے کے لئے اور سمجھنا غور و فکر کے لئے ہے اور غور و فکر عمل کرنے کے لئے ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ جو فضیلت کسی سورت یا آیت کے متعلق ذکر ہوئی ہے وہ اس سورت یا آیت کے موضوع سے بہت زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔ مثلا ہم سورہٴ نور کی فضیلت کے بارے میں پڑھتے ہیں کہ جو اسے پڑھے گا خدا وند عالم اسے اور اس کی اولاد کو زنا کی آلودگی سے محفوظ رکھے گا۔ تو یہ اس بناء پر ہے کہ سورہ نور کے مضامین میں جنسی کجرویوں سے مقابلے کے لئے اہم رہنمائی موجود ہے۔ مجرد اشخاص کو جلد شادی کرنے کا حکم ہے، پردے کا حکم ہے، بری نگاہ اور ہوس رانی کی نگاہ ترک کرنے کا حکم ہے، ناروا اور غلط نسبتوں کی ممانعت ہے اور آخر میں زنا کار مردوں اور عورتوں کے لئے حد شرعی کے اجراء کا حکم دیا گیا ہے۔ واضح ہے کہ سورہ نور کے مفاہیم و موضوعات کسی معاشرے یا خاندان میں عملی جامہ پہن لیں تو وہ زنا سے آلودہ نہیں ہوگا۔ اسی طرح سورہ بقرة کی وہ آیات جن کی طرف اوپر اشارہ ہوچکا ہے، سب توحید، ایمان بالغیب، خدا شناسی اور شیطانی وسوسوں سے پرہیز کے بارے میں ہیں۔ اب اگر کوئی شخص دل و جان سے ان پر عمل پیرا ہو تو یقینا سب فضائل مذکور اسے حاصل ہوں گے۔ یہ درست ہے کہ قرآن کا پڑھنا بہرحال باعث ثواب ہے لیکن اصلی، اساسی اور آثار چھوڑنے والا ثواب اسی وقت ملے گا جب تلاوت غور و فکر اورعمل کے لئے مقدمہ و تمہید ہو۔
قرآن کے جروف مقطعات کے متعلق تحقیق
Tafsīr Nemūna · Vol. 1قرآن کے حروف مقطعات کے متعلق تحقیق انیس سورتوں کی ابتداء میں ہمیں حروف مقطعات دکھائی دیتے ہیں ۔ جیسا کہ ان کے نام سے ظاہر ہے، یہ حروف ایک دوسرے سے منقطع اور الگ الگ ہیں اور ان سے کوئی ایسا لفظ نہیں بنتا جو سمجھ میں آ سکے۔ قرآن کے حروف مقطعات ہمیشہ قرآن کے اسرار آمیز کلمات میں شمار ہوتے رہے ہیں۔ مفسرین نے ان کی کئی ایک تفاسیر بیان کی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ اور علماء کی جدید تحقیقات سے ان کی نئی تفسیریں سامنے آئیں گی۔ قابل غور بات یہ ہے کہ ہم نے کسی تاریخ میں نہیں دیکھا کہ جہاں عرب اور مشرکین نے قرآن کی کئی ایک سورتوں کی ابتداء میں موجود ان حروف مقطعات کی وجہ سے رسول اکرم)ﷺ( پر اعتراض کیا ہو یا ان کے باعث استہزاء و تمسخر کیا ہو۔ یہ امر اس بات کی خبر دیتا ہے کہ گویا وہ لوگ بھی حروف مقطعات کے وجود کے اسرار سے بالکل بے خبر نہ تھے۔ بہرحال تفاسیر مذکورہ میں سے چند ایک ایسی ہیں جو زیادہ اہم اور معتبر لگتی ہیں اور وہ اس سلسلے کی آخری تحقیقات سے ہم آہنگ ہیں۔ ہم چند ایک کو تدریجا اس سورت، آل عمران اور سورہ اعراف کے آغاز میں انشاء اللہ بیان کریں گے۔ اس وقت ان میں سے اہم ترین کا ذکر کیا جا رہا ہے : یہ حروف اس چیز کی طرف اشارہ ہے کہ یہ آسمانی کتاب اس عظمت و اہمیت کے باوجود کہ اس نے عرب و عجم کے تمام سخنوروں کو حیران کر دیا ہے اور علماء و محققین کو عاجز کر دیا ہے، انہی حروف کا مجموعہ و نمونہ ہے جن کا استعمال سب کے اختیار میں ہے۔ باوجودیکہ قرآن انہی حروف الف با اور عام کلمات سے مرکب ہے لیکن یہ ایسے موزوں کلمات اور عظیم معانی کا حامل ہے جو انسان کے دل وجان کی گہرائیوں میں اترجاتے ہیں۔ انسان کی روح تحیر اور تحسین کی کیفیات سے دوچار ہوجاتی ہے اور ان کے مطالعے سے افکار و عقول ان کی تعظیم و تکریم پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ قرآن کی جملہ بندی مرتب ہے، اس کے کلمات بلند ترین بنیادوں کے حامل ہیں اور اس میں بلند معانی زیبا ترین الفاظ کے قالب میں اس طرح سے ڈھلے ہوئے ہیں جس کی کوئی مثل و نظیر نہیں ملتی۔ قرآن کی فصاحت و بلاغت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ یہ بات صرف دعوی نہیں کیونکہ خالق کائنات، جس نے اس کتاب کو اپنے رسول پرنازل کیا ہے، اس نے تمام انسانوں کو اس کی مثل پیش کرنے کی دعوت دی ہے اور ان سے کہا ہے کہ اس جیسا قرآن یا اس جیسی ایک سورت ہی لے آو۔ اس نے دعوت دی ہے کہ تمام جہانوں کے باسی(جن و انس)ہم گام و ہم فکر ہو کراس کی نظیر پیش کریں لیکن سب کے سب عاجز و ناتواں رہ گئے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ قرآن فکر انسانی کی تخلیق نہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے خدا وند عظیم نے اس مٹی سے انسان کو اس تعجب خیز جسم کے ساتھ تخلیق کیا، قسم قسم کے خوبصورت پرندے اورجانور پیدا کئے، طرح طرح کے سبزے اور رنگ برنگے پھول بنائے اور انہی کی طرح اور موجودات کو پیدا کیا اور ہم اس مٹی سے پیالے، کوزے اور اسی قسم کی چیزیں بناتے ہیں۔ ایسے ہی خدا وند تعالی حروف الف باء اور معمولی کلمات سے بلند ترین مطالب و معانی کو خوبصورت الفاظ اور موزوں کلمات کے سانچے میں ڈھالتا ہے اور انہیں ایسا اسلوب دیتا ہے جس سے تمام انگشت بدنداں ہیں۔ بیشک یہی حروف انسانوں کے اختیار میں بھی ہیں لیکن ان میں یہ طاقت نہیں کہ قرآن جیسی تراکیب اور جملہ بندی ایجاد کرسکیں۔
ادبیات عرب کا عہد زریں
یہ بات قابل غور ہے کہ زمانہ ٴ جاہلیت اور ادبیات کے لحاظ سےایک عہد زریں تھا۔ وہی پا برہنہ اور نیم وحشی بادیہ نشین بدو تمام تر اقتصادی و معاشرتی محرو میوں کے باویہ بات قابل غور ہے کہ زمانہ ٴ جاہلیت اور ادبیات کے لحاظ سےایک عہد زریں تھا۔ وہی پا برہنہ اور نیم وحشی بادیہ نشین بدو تمام تر اقتصادی و معاشرتی محرو میوں کے باوجود ادبی ذوق اور سخن سنجی سے سرشار تھے۔یہاں تک کہ آج بھی ان کے اشعار ان کے سنہری زمانے کی یاد دلاتے ہیں۔ ان کے بہترین اور قیمتی اشعار ادبیات عرب کا سرمایہ ہیں اور حقیقی عربی ادب کے متلاشیوں کے لئے ایک گراں بہا ذخیرہ ہیں۔ یہ بات اس وقت کے عربوں کے تفوق ادبی اور ذوق سخن پروری کی بہترین دلیل ہے۔ عربوں کے زمانہ جاہلیت میں ایک سالانہ میلہ لگتا تھا جو بازار عکاظ کے نام سے مشہور تھا۔ یہ ایک ادبی اجتماع کے ساتھ ساتھ سیاسی و عدالتی کانفرنس بھی تھی۔ اسی بازار میں بڑے بڑے اقتصادی سودے بھی ہوتے، شعراء اور سخنور اپنی اپنی تخلیقات اس کانفرنس میں پیش کرتے۔ ان میں سے بہترین کا انتخاب ہوتا۔ جسے شعر سال کا اعزاز حاصل ہوتا۔ ان میں سے سات یا دس قصیدے سبعہ یا عشرہ معلقہ کے نام سے مشہور ہیں۔ اس عظیم الشان ادبی مقابلے میں کامیابی، شاعر اور اس کے قبیلے کے لئے ایک بہت بڑا اعزاز تصور کی جاتی تھی۔ ایسے زمانے میں قرآن نے اپنی مثل لانے کی دعوت انہی لوگوں کو دی اور سب نے اظہار عجز کیا اور اس کے سامنے سرجھکا لئے ۔ اس کی مزید تشریح، اس سورہ کی آیت ۲۳ کے ذیل میں آئے گی جہاں قرآن کے چیلنج اور عرب سخنوروں کے عجز کا تذکرہ ہے۔
واضح گواہ
حروف مقطعہ کی اس تفسیر کا زندہ ثبوت وہ حدیث ہے جو امام سجاد علی بن الحسین )علیہما السلام( سے منقول ہے ۔ آپ فرماتے ہیں : کذب قریش والیہود بالقرآن و قالوا ہذا سحر مبین تقولہ فقال تعالی اللہ : الم۔ ذلک الکتاب ای یا محمد ھذا الکتاب الذی انزلتہ الیک الحروف المقطعة التی منھا الف و لام و م وھو بلغتکم تاتوا بمثلہ ان کنتم صادقین۔ قریش اور یہودیوں نے یہ کہہ کر قرآن کی طرف غلط نسبت دی کہ قرآن جادو ہے، یہ خود ساختہ ہے اور اسے خدا سے منسوب کر دیا گیا ہے۔ خدا نے انہیں خبردار کیا اور فرمایا الم ذلک الکتاب یعنی اے محمد جو کتاب ہم نے آپ پر نازل کی ہے وہ انہی حروف مقطعہ (الف، لام، م) وغیرہ پر مشتمل ہے جو تمہارے زیر استعمال ہے اور اگر تم سچے ہو تو اس کی مثل پیش کرو۔(بحوالہ: تفسیر برہان ، جلد اول، ص ۵۴)۔ دوسری شہادت وہ حدیث ہے جو امام علی بن موسی الرضا)علیہ السلام( سے مروی ہے۔ آپ فرماتے ہیں : ثم قال : ان اللہ تبارک و تعالی انزل ھذا القرآن بھذہ الحروف التی تید اولھا جمیع العرب ثم قال : قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاتوا بمثل ھذا القرآن۔ خداوند تعالی نے قرآن کو انہی حروف میں نازل فرمایا جنہیں تمام اہل عرب بولتے ہیں۔ پھر فرمایا : ان سے کہئے کہ اگر انس و جن قرآن کی مثل لانے کے لئے مجتمع ہوجائیں تب بھی وہ اس کی مثل نہیں لا سکتے۔)بحوالہ: توحید صدوق، ص۱۶۲، طبع ۱۳۷۵ھ(۔ ایک اور نکتہ جو قرآن کے حروف مقطعہ کے بارے میں اس نظریے کی تائید کرتا ہے یہ ہے کہ قرآن میں ۲۴ مقامات ایسے ہیں جہاں سورتوں کی ابتداء جب ان حروف سے ہوتی ہے تو بلا فاصلہ قرآن اور اس کی عظمت سے متعلق گفتگو شروع ہوجاتی ہے۔ یہ بات خود نشاندہی کرتی ہے کہ حروف مقطعہ اور قرآن میں ربط موجود ہے۔ ایسے چند ایک مقامات یہ ہیں : ۱۔ الر، کتاب احکمت آیاتہ ثم فصلت من لدن حکیم خبیر۔ ۲۔ طس، تلک آیات القرآن و کتاب مبین۔ ۳۔ الم ، تلک آیات الکتاب الحکیم۔ ۴۔ المص، کتاب انزل الیک ان موارد میں قرآن کی دیگر سورتوں کے آغاز میں بہت سے مواقع پر حروف مقطعہ کے ذکر کے بعد قرآن سے متعلق بات کی گئی ہے اور اس کی عظمت بیان ہوئی ہے۔ اس سورہ (بقرہ) کے آغاز میں بھی حروف مقطعہ کو بیان کرنے کے بعد آسمانی کتب کی عظمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ یہ وہی با عظمت کتاب ہے جس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں۔ (ذالک الکتاب لا ریب فیہ) یہ تعبیر ممکن ہے اس طرف اشارہ ہو کہ خد انے اپنے رسول سے وعدہ کیا ہو کہ وہ انسانوں کی رہنمائی کے لئے اس پر ایسی کتاب نازل کرے گا جو تمام طالبان حق کے لئے باعث ہدایت ہوگی اور حقیقت کے متلاشیوں کے لئے اس میں کوئی شک و شبہ نہ ہوگا۔ اور اب اس نے اپنے اس وعدے کو ایفاء کیا ہو۔ یہ جو فرمایا گیا ہے کہ اس میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں صرف ایک دعوی نہیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ جو کچھ اس قرآن میں ہے وہ خود اپنی حقانیت پر گواہی دیتا ہے۔ گویا عطار کے صندوقچہ کی طرح ہے،خاموش ہے مگر اپنا کمال دکھا رہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس طرح سے آثار صدق و عظمت، نظم و استحکام، معانی کی گہرائی، الفاظ و تعبیرات کی مٹھاس اور فصاحت اس میں نمایاں ہے کہ ہر قسم کا وسوسہ اور شک دور ہوتا چلا جاتا ہے اور آنجا کہ عیاں است چہ حاجت بیان است، کا مصداق ہے۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ رفتار زمانہ نہ فقط اس شگفتگی و تازگی کو کم نہیں کر سکی بلکہ علوم کی پیش رفت اور اسرار کائنات کے آشکارا ہونے سے اس کے حقائق روشن تر ہوتے جارہے ہیں اور علم جتنا مائل بہ کمال ہے، اس کی آیات زیادہ واضح ہوتی جارہی ہیں۔ یہ دعوی ہی نہیں بلکہ ایسی حقیقت ہے جس سے ہم انشاء اللہ اسی تفسیر میں آگا ہ ہوں گے۔
چند اہم نکات دور کا اشارہ کیوں
ہمیں معلوم ہے کہ فقط "ذلک" لغت عرب میں دور کے لئے اسم اشارہ ہے۔ اس بناء پر "ذلک الکتاب" کا مفہوم ہے"وہ کتاب"۔ حالانکہ یہاں نزدیک کے اسم اشارہ سے استفادہ کیا جانا چاہئے تھا اور"ھذا الکتاب" ہونا چاہئے تھا کیونکہ قرآن لوگوں کی دسترس میں تھا۔ یہ اس لئے ہوا کہ کبھی بعید کا اسم اشارہ کسی چیز یا شخص کی عظمت کے پیش نظر استعمال کیا جاتا ہے۔ گویا اس کا مقام اتنا بلند ہے کہ آسمانوں کی بلندی کا حامل ہے۔ فارسی میں بھی ایسی تعبیرات موجود ہیں۔ مثلا کسی عظیم شخصیت کے حضور میں ہم کہتے ہیں : "اگر آن سرور اجازہ دھند" یعنی ”"اگر وہ سردار اجازت دیں"۔ حالانکہ یہاں "این سرور" یعنی یہ سردار کہنا چاہئے۔ یہ صرف بیان عظمت اور مقام بلند کے باعث ہے۔ کئی ایک دوسری آیات میں بھی تلک کا استعمال ہوا ہے اور یہ بھی اشارہ بعید ہے مثلا : تلک آیات الکتاب الحکیم . (لقمان، ۱ ۲)
معنی ”کتاب“
کتاب بمعنی مکتوب ہے یعنی لکھی ہوئی ۔ ا س میں کوئی شک نہیں کہ اس آیت میں کتاب سے مراد قرآن مجید ہے۔ اب یہاں یہ سوال سامنے آئے گا کہ کیا اس وقت تمام قرآن لکھا ہوا تھا۔ اس سوال کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ تمام قرآن کا لکھا ہونا ضروری نہیں کیونکہ قرآن جس طرح اس پوری کتاب کو کہا جاتا ہے، اس کے اجزاء کو بھی کہا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں لفظ کتاب بعض اوقات اس سے زیادہ وسیع معنی میں بولا جاتا ہے ۔و ہ مطالب جو لکھنے کے قابل ہیں اور جنہیں لکھا جاتا ہے، چاہے اس وقت نہ لکھے گئے ہوں۔ سورہ ص آیہ ۲۹ میں ہے: کتاب انزلناہ الیک مبارک لیدبروا۔ یعنی: یہ کتاب جسے ہم نے آپ پر نازل کیا بابرکت ہے تا کہ لوگ اس کی آیات میں تدبر و تفکر کریں۔ یہ احتمال بھی ہے کہ کتاب سے تعبیر کرنا قرآن کے لوح محفوظ میں لکھے ہونے کی طرف اشارہ ہو(لوح محفوظ کے بارے میں بحث ہم اس کی جگہ پر کریں گے: ذیل آیت۳۹، سورہ رعد، تفسیر نمونہ)۔
ہدایت کیا ہے ؟
لفظ ہدایت قرآن میں کثرت سے استعمال ہوا ہے۔ اس کی بنیاد دو معانی ہیں : الف ۔ ہدایت تکوینی__ جو تمام موجودات عالم میں پائی جاتی ہے( اس سے مراد وہ ہدایت ہے جو تمام موجودات نظام خلقت کے تحت عالم ہستی کے قوانین کی پابندی کے ساتھ پروردگار عالم سے حاصل کرتی ہیں)۔ قرآن مجید اس ضمن میں حضرت موسی(علیہ السلام) کا قول بیان کرتا ہے : قال ربنا الذی اعطی کل شئی خلقہ ثم ھدیٰ۔ (طہ، ۵۰) حضرت موسی نے کہا : ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور پھر اس کی ہدایت کی۔ ب ۔ ہدایت تشریعی __ جو انبیاء اور کتب آسمانی کے ذریعے انجام پذیر ہوتی ہے اور نوع انسانی کی تعلیم و تربیت سے ترقی کی راہیں طے کرتی ہے۔ اس کے شواہد بھی قرآن میں بہت سے ہیں۔ ان میں سے ایک آیت یہ ہے : و جعلناھم ائمة یھدون بامرنا۔ (انبیاء ۷۳) انہیں ہم نے رہنما قرار دیا تا کہ ہمارے فرمان کے مطابق لوگوں کو ہدایت کریں۔
قرآنی ہدایت پرہیزگاروں کے ساتھ کیوں مخصوص ہے؟
یہ مسلم ہے کہ قرآن تمام دنیا کی ہدایت کے لئے نازل ہوا ہے۔ لیکن مندرجہ بالا آیت میں اس کی ہدایت کو پرہیزگاروں کے ساتھ کیوں مخصوص قرار دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تک تقوی کا کچھ حصہ انسان میں موجود نہ ہو، اس کے لئے آسمانی کتابوں اور انبیاء کی دعوت سے ہدایت کا حصول محال ہے(تقوی کے کچھ حصے سے مراد یہ ہے کہ انسان عقل و فطرت کی روشنی میں حق کو پہچان سکے اور پھر اس کے سامنے سر تسلیم خم بھی کردے۔( باالفاظ دیگر جن لوگوں کے پاس ایمان نہیں، انہیں دوحصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔ ایک وہ جو حق کی تلاش میں ہیں اور اس قدر تقوی ان میں موجود ہے کہ جاں کہیں حق کوپائیں گے اسے قبول کرلیں گے اور دوسرا حصہ وہ جو لجوج، متعصب اور ہوا پرست لوگوں پر مشتمل ہے جو نہ صرف یہ کہ تلاش حق نہیں کرتے بلکہ جہاں کہیں اسے دیکھیں گے اسے ختم کردینے کے در پے ہوں گے۔ اب یہ مسلم ہے کہ قرآن اور دوسری کتب صرف پہلے گروہ کے لئے مفید تھیں اور ہیں اور دوسرا گروہ ان کی ہدایت سے بہرہ ور نہیں ہوسکتا۔ گویا فاعل کی فاعلیت کے علاوہ قبول کرنے والے میں قبولیت کی شرط بھی ہے۔ فرق نہیں کہ ہدایت تکوینی ہو یا ہدایت تشریعی۔ زمین شورہ زار ہرگز سنبل بر نیارد اگر چہ ہزاران مرتبہ باران بر آن بیارد یعنی: شوردار زمین سے فصل نہیں اگتی چاہے ہزاروں مرتبہ اس پر بارش برسے۔ بلکہ ضروری ہے کہ زمین آمادہ ہو تا کہ وہ بارش کے حیات بخش قطروں سے بہرہ ور ہو سکے۔ وجود انسانی کی سرزمین بھی جب تک ہٹ دھرمی، عناد اور تعصب سے پاک نہ ہو، ہدایت کے بیج کو قبول نہیں کرے گی۔ اسی بناء پر ارشاد الہی ہے کہ: قرآن متقی لوگوں کے لئے ہادی و رہنما ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
روح و جسم انسانی میں آثار تقوی
Tafsīr Nemūna · Vol. 1قرآن اس سورہ کی ابتداء میں اسلامی آئین اور پروگرام سے مربوط ہونے کے لحاظ سے لوگوں کو تین مختلف گروہوں میں تقسیم کرتا ہے۔ ۱۔ متقین(پرہیزگار)__ جو اسلام کو مکمل طور پر قبول کرتے ہیں۔ ۲۔ کافرین__ جو پہلے گروہ کے مد مقابل کھڑے ہیں، اپنے کفر کے معترف ہیں اور اسلام کے مقابلے میں دشمنی کی گفتار و رفتار سے انکاری نہیں ہیں۔ ۳۔ منافقین__ جو دو رخ اور دو چہرے رکھتے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ ظاہرا مسلمان ہیں اور گروہ مخالف کے ساتھ ہوں تو مخالف اسلام۔ البتہ ان کا اصلی چہرہ وہی کفر والا ہے تاہم اسلام کی ظاہری چیزیں بھی اپناتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ یہ گروہ اسلام کے لئے دوسرے گروہ کی نسبت زیادہ خطرناک ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ اسی بناء پر قرآن ان پر بہت زیادہ نکتہ چینی کرتاہے۔ البتہ یہ موضوع اسلام ہی سے مخصوص نہیں بلکہ تمام مکاتب و مذاہب عالم ان تین گروہوں سے واسطہ رکھتے ہیں کیونکہ کوئی شخص کسی مکتب کا مومن ہے یا واضح طور پر اس کا مخالف یا پھر منافق جسے اپنے کام سے کام ہے۔ نیز یہ مسئلہ کسی خاص زمانے سے بھی تعلق نہیں رکھتا بلکہ تمام ادوار عالم میں ایسا ہی رہا ہے۔ زیر بحث آیات میں پہلے گروہ کے متعلق گفتگو ہے۔ ان کی خصوصیات کو ایمان و عمل کے لحاظ سے پانچ عنوانات کے ساتھ بیان کیا گیاہے۔
غیب پر ایمان
سب سے پہلے قرآن کہتا ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں (الذین یومنون بالغیب)۔ غیب و شہود ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں۔ عالم شہود عالم محسوسات ہے اور عالم غیب، ماورائے حس ہے۔ کیونکہ غیب کے معنی اصل میں پوشیدہ و پنہاں چیز کے ہیں۔ کیونکہ محسوسات سے ماوراء کی دنیا ہماری حس سے پوشیدہ ہے لہذا اسے غیب کہا جاتا ہے۔ قرآن حکیم میں ہے : عالم الغیب والشھادة، ھو الرحمن الرحیم۔ وہ خدا جو غیب و شہود سے واقف ہے وہی مہربان (اور ) رحیم ہے۔ غیب پر ایمان رکھنا در اصل وہ پہلا نقطہ ہے جو مومنین کو دوسروں سے جدا کرتاہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جو آسمانی ادیان کے پیروکاروں کو خدا، وحی اور قیامت کے منکروں کے مقابلے میں کھڑا کرتاہے۔ اسی بناء پر پرہیزگاروں کی پہلی خصوصیت کے طور پر ایمان بالغیب کا ذکر کیا گیاہے۔ مومنین سرحد مادہ کو توڑ کر، اس محدود چاردیواری سے نکال لئے گئے ہیں اور وہ اس وسعت فکر و نظر کے باعث ایک بہت بڑے فوق العادہ جہان سے مربوط ہوگئے ہیں جبکہ ان کے مخالف مصر ہیں کہ انسان کو مادہ کی چار دیواری میں جانوروں کی طرح محدود رکھیں اور اس الٹی چال کو وہ تمدن کی پیش رفت اور ترقی کا نام دیتے ہیں۔ ان دونوں نقطہ ہائے نظر کے ادراک و فکر کا مقابلہ کریں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ غیب پر ایمان رکھنے والے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جہان ہستی اس دنیا سے کہیں وسیع تر ہے جسے ہمارے حواس درک کرتے ہیں۔ اس جہان کے پیدا کرنے والے کا علم اور قدرت بے انتہا ہے اور اس کی عظمت و ادراک کی کوئی حد نہیں۔ وہ ازلی و ابدی ہے ۔ اس نے عالم ایک بہت بڑے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بنایا ہے۔ روح انسانی اور باقی حیوانات میں بہت بڑا فرق ہے ۔ موت کے معنی نابود ہونا اور فنا ہونا نہیں بلکہ یہ انسان کی تکمیل کا ایک مرحلہ و منزل ہے۔ یہ ایک وسیع تر جہان دیکھنے کے لئے ایک دریچہ ہے۔ جب کہ ایک مادی شخص اعتقاد رکھتا ہے کہ جہان ہستی اسی میں محدود ہے جسے ہم دیکھ رہے ہیں۔ جتنا علوم طبیعی نے ہمارے لئے ثابت کیا ہے وہی کچھ کائنات ہے۔ قوانین طبیعت جبری قوانین کا ایک سلسلہ ہے جو بغیر کسی پروگرام یا منصوبے کے ظاہر ہو گیا۔ اس عالم کے پیدا کرنے والی قوت و طاقت ایک چھوٹے سے بچے جتنی عقل و شعور بھی نہیں رکھتی۔ انسان بھی اس طبیعت کا ایک جزء ہے اور موت کے بعد اس کی ہر چیز ختم ہو جائے گی۔اس کا بدن منتشر ہوجائے گا اور اس کے اجزاء دوبارہ طبیعی مواد سے مل جائیں گے۔ انسان کے لئے بقاء نہیں ہے۔ اس کے اور عام حیوانات کے درمیان کوئی خاص فرق نہیں۔( اقتباس از قرآن و آخرین پیامبر)۔ کیا انسانوں کا ان دو متضاد طرز فکر کے ہوتے ہوئے ایک دوسرے پر قیاس کیا جاسکتا ہے۔ آیا معاشرے میں ان کا طرز زندگی اور طریق کار ایک جیسا ہوسکتا ہے۔ پہلا شخص(مومن) حق و عدالت، خیرخواہی اور دوسروں کی مدد سے چشم پوشی نہیں کر سکتا لیکن دوسرے (مادی) شخص کے پاس ان امور کے لئے کوئی دلیل موجود نہیں مگر جتنا اس کی آج یا کل کی مادی زندگی کا تقاضا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ مومنین کے درمیان سچا بھائی چارہ، پاکیزہ افہام و تفہیم اور تعاون ہوتا ہے جب کہ جہاں پرمادی فکر کے حامل شخص کی حکمرانی ہے وہاں استعمار، استشمار، خونریزی، غارت گری اور تاراجی ہے۔ واضح ہوا کہ قرآن نے تقوی کا پہلا نقطہ ایمان بالغیب کو قرار دیا ہے تو اس کی یہی وجہ ہے جو بیان کی گئی ہے۔ کیا ایمان بالغیب سے مراد صرف ذات پاک پروردگار پر ایمان لانا ہے یا غیب یہاں ایک وسیع معنی رکھتا ہے یعنی وحی، قیامت، فرشتے اور عالم حس سے ماوراء سب کچھ اس کے مفہوم میں شامل ہیں۔ مفسرین کے درمیان اس سلسلے میں اختلاف ہے لیکن ہم نے ابھی کہا ہے کہ جہانِ ماورائے جس پر ایمان رکھنا مومنین اور کافرین میں نقطہ اختلاف اور علیحدگی کا سبب ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ غیب یہاں ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں آیت کی تعبیر بھی مطلق ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی قید موجود نہیں جو اسے کسی خاص معنی میں محدود کردے۔ اب اگر ہم اہلبیت (علیہم السلام) کی بعض روایات میں دیکھتے ہیں کہ اس آیت میں غیب سے مراد امام غائب حضرت مہدی سلام اللہ علیہ لئے گئے ہیں (نور الثقلین جلد اول ص۳۱۔) تو یہ بات ہماری گذشتہ گفتگو سے اختلاف نہیں رکھتی۔ امام مہدی علیہ السلام ہمارے عقیدے کی بناء پر زندہ و سلامت ہیں اور نگاہوں سے پوشیدہ ہیں۔ آیات کی تفسیر کے سلسلے کی روایات جن کے بہت سے نمونے آپ ملاحظہ کریں گے، زیادہ تر مخصوص مصادیق کے لئے بیان ہوئی ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں ان مصادیق میں محدود کردیا گیا ہے بلکہ مذکورہ روایات حقیقت میں ایمان بالغیب کی وسعت اور اس کے امام غائب تک کے شمول کو بیان کرتی ہے یہاں تک کہ کہا جاسکتا ہے کہ ایمان بالغیب ممکن ہے زمانے کے گذرنے کے ساتھ ساتھ نئے مصداق بھی پیدا کرے۔
خدا سے رابطہ
پرہیز گاروں کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں(ویقیمون الصلوة) ۔ نماز، خدا سے رابطے کی ایک رمز ہے۔ مومنین جو جہان ماورائے طبیعت تک رسائی حاصل کر چکے ہیں، نماز ان کا دائمی و ہمیشگی رابطہ مبداء عظیم آفرینش سے برقرار رکھنے کا ذریعہ ہے۔ وہ صرف خدا کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں۔وہ فقط جہان ہستی کے خالق کے سامنے جھکتے ہیں۔ لہذا بتوں کے سامنے خضوع کرنا یا جباروں اور ستم گروں کے سامنے جھکنا، ان کی زندگی میں کیسے حائل ہو سکتا ہے۔ ایسا انسان احساس کرتا ہے کہ میں تمام مخلوقات سے آگے بڑھ گیا ہوں اور مجھے اس مقام تک رسائی حاصل ہوگئی ہے کہ خدا سے گفتگو کروں۔ یہ احساس اس کی تربیت کےلئے بہترین عامل ہے۔ جو شخص روزانہ کم از کم پانچ مرتبہ خدا کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور اس سے راز و نیاز کی باتیں کرتا ہے، اس کی فکر ، اس کا عمل اور اس کی گفتار سب خدائی ہوجاتی ہیں، کس طرح ممکن ہے کہ وہ اس کی خواہش کے برخلاف قدم اٹھائے(لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ درگاہ حق میں اس کاراز و نیاز دل و جان کے ساتھ ہو اور مکمل دلجمعی کے ساتھ اس کی بارگاہ کا رخ کرے(۔(اہمیت نماز اور اس کے بے شمار تربیتی آثار کے متعلق اسی تفسیر میں سورہ ہود کی آیة ۱۱۴ کے ذیل میں بحث کی گئی ہے)
انسانوں سے رابطہ
مومنین وہ لوگ ہیں جو پروردگار کے ساتھ دائمی رابطے کے علاوہ خلق خدا سے بھی مسلسل رابطہ رکھتے ہیں۔ اسی لئے قرآن ان کی تیسری خصوصیت یہ بیان کرتا ہے کہ ہم نے جو نعمتیں انہیں روزی کے طور پر عطا کی ہیں، انہیں خرچ کرتے ہیں (و مما رزقناھم ینفقون)۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ قرآن یہ نہیں کہتا کہ "من اموالھم ینفقون" ( اپنے مال میں سے خرچ کرتے ہیں) بلکہ کہتا ہے مما رزقناھم__ جو ہم نے انہیں رزق دیا ہے__ اس طرح مسئلہ انفاق اور خرچ کرنے کو عمومیت دے دی گئی ہے۔ گویا اس میں خدا کی مادی اور معنوی سب عنایتیں شامل ہیں۔ اس بناء پر پرہیزگار وہ ہیں جو نہ صرف اپنا مال بلکہ علم ، عقل، دانش، جسمانی قوتیں، مقام اور منصب اجتماعی، غرض اپنا ہر قسم کا سرمایہ صاحبان حاجت پر خرچ کرتے ہیں اور اس خواہش کے بغیر کہ ان لوگوں سے اس کا کچھ عوض ملے گا۔ ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ انفاق اور خرچ کرنا جہان آفرینش کا ایک عمومی قانون ہے یہ قانون خاص طور پر موجودات زندہ میں نظر آتا ہے۔ مثلا انسان کا دل صرف اپنے لئے کام نہیں کرتا بلکہ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ بدن کے تمام خلیوں پر خرچ کرتا ہے۔ مغز، جگر اور بدن انسانی کے کارخانے کا ہر جزء اپنے کام کے ماحصل کو ہمیشہ خرچ کرتا ہے۔ اصولی طور پر جو مل جل کر رہتے ہیں، انفاق کے بغیر ان کی زندگی کا کوئی مفہوم نہیں۔( انفاق، اس کی اہمیت اور اس کے اثرات کی بحث اسی تفسیر کی جلد۲ ص ۱۸۱ تا ۲۰۸ آیات ۲۶۱ تا ۲۷۴ پر ملاحظہ فرمائیں) ۔ دوسرے انسانوں سے رابطہ در حقیقت خدا سے ربط و تعلق کا نتیجہ ہے۔ جس انسان کا خدا سے تعلق ہے اور جو و مما رزقناھم کے مطابق روزی کو خدا کی عطا سمجھتا ہے، اسے اپنی پیدا کردہ نہیں سمجھتا بلکہ خدا تعالی کا عطیہ سمجھتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ سب کچھ چند دن کے لئے اس کے پاس بطور امانت ہے۔ وہ انفاق و بخشش سے تکلیف نہیں بلکہ راحت محسوس کرے گا کیونکہ اس نے خدا کی عطا خدا کے بندوں کو دی ہے۔ البتہ اس کے مادی و معنوی نتائج و برکات خود حاصل کئے ہیں، یہ طرز فکر روح انسانی کو بخل و حسد سے پاک کردیتا ہے اور تنازعہ کی دنیا کو تعاون کی دنیا میں بدل دیتا ہے۔ ایسی دنیا کہ جس میں ہر شخص اپنے آپ کو مقروض سمجھتے ہوئے وہ نعمات جو اس کے پاس ہیں حاجت مندوں کے سپرد کردیتاہے۔ وہ آفتاب کی طرف نور افشانی کرتا ہے اور کسی عوض کا خواہاں نہیں ہوتا۔ یہ امر قابل غور ہے کہ امام صادق (علیہ السلام) نے مما رزقناھم کی تفسیر میں ارشاد فرمایا : ان معناہ و مما علمناھم یبثون۔ یعنی: جن علوم و احکام کی ہم نے انہیں تعلیم دی ہے، وہ ان کی نشر واشاعت کرتے ہیں اور جو ان کی احتیاج رکھتے ہیں، انہیں تعلیم دیتے ہیں۔(بحوالہ: نور الثقلین و مجمع البیان ذیل آیہ مذکورہ۔) واضح ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انفاق اور خرچ کرنا علم کے ساتھ مخصوص ہے بلکہ مسئلہ انفاق میں نگاہیں چونکہ مالی انفاق کی طرف متوجہ تھیں لہذا امام نے معنوی انفاق کا ذکر فرماکر اس مفہوم کی وسعت کو روشن کردیا۔ ضمنی طور پر یہاں یہ بھی پورے طور پر واضح ہو گیا کہ زیر بحث آیت میں انفاق اورخرچ کرنے سے مراد فقط زکوة واجب یا واجب و مستحب دونوں نہیں بلکہ اس کا مفہوم وسیع تر ہے جو ہر قسم کی بلا عوض مدد پر محیط ہے۔
پرہیزگاروں کی ایک اور خصوصیت
متقی انسانوں کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ وہ تمام انبیاء اور خدائی پروگراموں پر ایمان رکھتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے وہ ایسے لوگ ہیں کہ جو کچھ آپ (ﷺ) پر اور آپ سے پہلے نازل ہوا ہے، اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ والذین یومنون بما انزل الیک و ما انزل من قبلک۔ اس لحاظ سے قرآن نہ صرف یہ کہ اصول و اسا کی نظر سے دعوتِ انبیاء میں اختلاف نہیں سمجھتا بلکہ انہیں ایک ایسا معلم و مربی سمجھتا ہے جن میں سے ہر کوئی جہانِ انسانیت کی عظیم درسگاہ میں انسانوں کی تکمیل کے لیے قدم بڑھاتا ہے۔ انبیاء نہ صرف یہ کہ ادیانِ آسمانی کو فرقہ بندی اور نفاق کا ذریعہ نہیں سمجھتے بلکہ انسانوں کے درمیان ربط و تعلق کے لیے انہیں وسیلہ سمجھتے ہیں۔ جو لوگ اس فکر و نظر کے حامل ہیں، وہ اپنی روح کو تعصب سے پاک کر لیتے ہیں۔ پیغمبرانِ خدا جو کچھ انسانی ہدایت و تکمیل کے لیے لے کر آتے ہیں، اس پر ایمان رکھتے ہیں اور راہِ توحید کے سب ہادیوں اور رہنماوں کو قابلِ احترام سمجھتے ہیں۔ البتہ گذشتہ انبیاء کے دستورات پر ایمان انہیں اپنے فکر و عمل کو آخری نبی کے آئین سے منطبق کرنے سے نہیں روکتا کیونکہ آخری نبی کا لایا ہوا آئینِ تکامل، ادیان کے سلسلے کا آخری حلقہ ہے، اگر وہ ایس انہ کریں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انہوں نے مرحلہ تکمیل میں قدم بڑھانے کی بجائے ہٹایا ہے۔
قیامت پر ایمان
یہ وہ آخری صفت ہے جو پرہیزگاروں کی صفات کے سلسلے میں بیان ہوئی ہے۔ فرمایا گیا ہے کہ وہ آخرت پر یقینا ایمان رکھتے ہیں (و بالآخرة ھم یوقنون)۔ وہ یقین رکھتے ہیں کہ انسان مہمل، عبث اور بے مقصد پیدا نہیں ہوا ۔ اس کی تخلیق، اس کے آگے بڑھنے کے لئے ہے اور اس کا سفر موت کے بعد ختم نہیں ہو جاتا کیونکہ اگر معاملہ یہیں پر ختم ہو جاتا تو یقینا چند دن کی زندگی کے لئے یہ شور و غل فضول اور بیکار تھا۔ وہ اقرار کرتا ہے کہ پروردگار کی عدالت مطلقہ سب کے انتظار میں ہے اور یہ نہیں کہ اس دنیا میں ہمارے اعمال بے حساب اور بغیر جزا و سزا کے رہ جائیں۔ جب وہ اپنی ذمہ داریوں کو انجام دے رہا ہوتا ہے تو قیامت کا اعتقاد اس میں اطمینان کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے اور کام کا بوجھ اس کے لئے باعث تکلیف نہیں رہتا بلکہ وہ ان ذمہ داریوں کا استقبال کر تا ہے، حوادث کے مقابلے میں کوہ گراں کی مانند کھڑا ہو جاتا ہے، غیرعادلانہ سلوک کے مقابلے میں سر نہیں جھکاتا ، وہ مطمئن ہے کہ چھوٹے سے چھوٹے نیک و بد کام کی جزا و سزا ہے، موت کے بعد ایک زیادہ وسیع جہان کی طرف منتقل ہونا ہے اور رحمت وسیع اور الطاف پروردگار سے بہرہ ور ہونا ہے۔ آخرت پر ایمان کا مطلب ہے عالم مادہ کی سرحد سے باہر نکل آنا اور ایک بلند تر عالم میں قدم رکھنا جو ایسا جہان ہے کہ ہماری دنیا اس کے لئے کھیتی ہے۔ وہاں کی زندگی کے لئے زیادہ آمادہ ہونے کے لئے یہ ایک تربیت گاہ ہے۔ ا س دنیا کی زندگی، آخری ہدف اور مقصد نہیں بلکہ یہ حقیقی زندگی کے لئے تمہید کی حیثیت رکھتی ہے ۔ دوسرے جہان کی زندگی کو سازگار بنانے کے لئے اس جہان کی زندگی، رحم مادر میں بچے کی زندگی کی طرح ہے۔ انسان کی خلقت کا مقصد کبھی بھی یہ زندگی نہیں رہا بلکہ یہ ایک زندگی کے لئے دور تکامل ہے۔ جب تک انسان جنین سے صحیح و سالم اور ہر قسم کے عیب سے پاک متولد نہ ہو بعد والی زندگی میں خوش بخت اور سعادت مند نہیں ہو سکتا۔ قیامت کا عقیدہ رکھنا انسان کی زندگی پر گہرا اثر پیدا کرتا ہے۔ یہ عقیدہ انسان کو شہامت و شجاعت بخشتا ہے کیونکہ اس کی بنیاد پر انسان اس جہان کی زندگی میں افتخار کی بلندیوں تک پہنچتا ہے جو اسے خدا وند عالم کی مقدس راہ میں "شہادت" سے حاصل ہوتا ہے اور یہ شہادت ایک صاحب ایمان انسان کے لئے محبوب ترین چیز ہے کیونکہ یہ دراصل ایک ابدی و جاودانی زندگی کی ابتداء ہے۔ قیامت پر ایمان انسان کو گناہ سے روکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہمارے گناہ خدا اور آخرت پر ایمان سے نسبت معکوسی رکھتے ہیں۔ یہ ایمان جتنا قوی ہوگا، گناہ اتنے کم ہوں گے ۔ سورہ ص آیة ۲۶ میں حضرت داؤد سے خطاب الہی ہے : و لا یتبع الھوی فیضلک عن سبیل اللہ ، ان الذین یضلون عن سبیل اللہ لھم عذاب شدید بما نسوا یوم الحساب۔ خواہشات نفس کی پیروی نہ کرنا کیونکہ وہ تمہیں خدائی راستے سے گمراہ کر دیں گی وہ لوگ جو راہ خدا سے گمراہ ہو جاتے ہیں، ان کے لئے دردناک عذاب ہے کیونکہ انہوں نے روز قیامت کو فراموش کردیا ہے۔ گویا روز جزا کو بھول جانا قسم قسم کی سرکشی ظلم وستم اور گناہوں کا پیش خیمہ ہے اور یہی چیزیں عذاب شدید کا سرچشمہ ہیں۔ زیر نظر آیات میں سے آخری ان لوگوں کے نتیجے اور انجام کار کی خبر دیتی ہے جن کی صفات گذشتہ پانچ آیات میں بیان کی گئی ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ یہ لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے ہدایت پر ہیں (اولئک علی ھدی من ربھم) اور یہی کامیاب ہیں (و اولئک ھم المفلحون)۔ حقیقت میں ان کی ہدایت اور کامیابی کی ضمانت خدا کی طرف سے ہے۔"من ربھم" کی تعبیر اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ یہ امر قابل غور ہے کہ قرآن کہتا ہے "علی ھدی من ربھم"، یہ ایسے ہے گویا ہدایت خداوندی ایک رہوار ہے جس پر وہ سوار ہیں اور اس سواری کی مدد سے وہ کامیابی اور سعادت کی طرف رواں دواں ہیں۔ کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ لفظ "علیٰ" عموما تسلط علو او رغلبہ کے مفہوم میں استعمال کیاجاتا ہے۔ "ھدی" ( بصورت نکرہ)ضمنا اس ہدایت کی عظمت کی طرف اشارہ ہے جو خدا کی طرف سے ان کے شامل حال ہے یعنی وہ بہت عظیم ہدایت پر فائز ہیں۔ ھم المفلحون کی تعبیر علم معانی و بیان کے اصول کے پیش نظر دلیل حصر ہے یعنی کامیابی کا راستہ صرف انہی لوگوں کا راستہ ہے کیونکہ یہ لوگ پانچ مخصوص صفات اپنا کر ہدایت الہی سے سرفراز ہوئے ہیں۔[ صاحب تفسیر المنار مصر ہیں کہ اولئک دو گروہوں کی طرف اشارہ ہے۔ پہلا وہ جس میں ایمان بالغیب،قیام نماز اور انفاق کی صفات پائی جاتی ہیں اور دوسراوہ جو آسمانی وحی اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے۔ لیکن یہ تفسیر بہت بعید نظر آتی ہے کیونکہ یہ پانچ صفات ایک گروہ سے مخصوص ہیں اور ایک دوسرے سے متصل ہیں اور اس کے دو حصے کرنا درست نہیں۔]
چند اہم نکات ایمان و عمل کی راہ میں تسلسل
گذشتہ آیات میں تمام جگہوں پر فعل مضارع سے استفادہ کیا گیا ہے جو عموما استمرار و تسلسل کی نشاندہی کرتا ہے۔ یوٴمنون با لغیب، یقیمون الصلوة، ینفقون، و بالآخرة ھم یوقنون، یہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پرہیز گار اور سچے مومن وہ ہیں جو اپنے پروگرام میں ثبات و استمرار رکھتے ہیں۔ زندگی کے نشیب و فراز ان کی روح و فکر پر اثرانداز نہیں ہوتے اور ان سے ان کے انسان ساز پروگراموں میں خلل پیدا نہیں ہوتا۔ وہ ابتداء ہی سے حق طلبی کی روح رکھتے ہیں جو اس کا باعث بنتی ہے کہ وہ دعوت قرآن کے پیچھے جائیں اور پھر دعوت قرآن ان میں یہ پانچ صفات پیدا کر دیتی ہے۔
حقیقت تقوی کیا ہے
تقوی کا مادہ ہے "وقایة"، جس کے معنی ہیں نگہداری یا خود داری۔( راغب نے "مفردات" میں لکھا ہے "وقایہ" کے معنی ہیں چیزوں کو ان امور سے محفوظ کرنا جو انہیں نقصان یا تکلیف پہنچائیں اور تقوی کے معنی ہیں "خطرات سے بچا کر روح کو ایک حفاظتی پردے میں رکھنا"۔ تقوی کے معنی کبھی خوف بھی کئے جاتے ہیں حالانکہ خوف تو تقوی کا سبب ہے۔ عرف شریعت میں تقوی کا مطلب ہے اپنے آپ کو گناہوں سے بچا کر رکھنا اور کمال تقوی یہ ہے کہ مشتبہ چیزوں سے بھی اجتناب کیا جائے۔) دوسرے لفظوں میں نظم و ضبط کی ایک ایسی اندرونی طاقت کا نام تقوی ہے جو سرکشی و شہوت کے مقابلے میں انسان کی حفاظت کرتی ہے۔ حقیقت میں یہ قوت ایک ایسے مضبوط ہینڈل کا کام دیتی ہے جو وجود انسانی کی مشینری کو الٹ جانے کی جگہوں پر محفوظ رکھتا ہے اور خطرناک تیزیوں سے روکتا ہے۔ اسی لئے امیرالمومنین علی(علیہ السلام) تقوی کو خطرات گناہ کے مقابلے میں ایک مضبوط قلعے کا عنوان دیتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں: اعلموا عباداللہ ان التقوی دار حصن عزیز۔ اے اللہ کے بندو! جان لو کہ تقوی ایسا مضبوط قلعہ ہے جسے تسخیر نہیں کیا جا سکتا(بحوالہ: نہج البلاغہ خطبہ ۱۵۷۔) اسلامی احادیث اور علماء اسلام کے کلمات میں حالت تقوی کے لئے بہت سی تشبیہات بیان ہوئی ہیں۔ امیرالمومنین حضرت علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں: الا و ان التقوی مطایا ذلل حمل علیھا اھلھا و اعطوا ارمتھا فاوردتھم الجنة۔ تقوی ایسے راہوار کی مانند ہے جس پر اس کا مالک سوار ہو، اس کی باگ ڈور بھی اس کے ہاتھ میں ہو اور وہ اسے بہشت کے اندر پہنچا دے۔( بحوالہ: نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۶)۔ بعض نے تقوی کو اس شخص کی حالت سے تشبیہ دی ہے جو کانٹوں بھری زمین سے گذر رہا ہو اور اس کی کوشش میں ہو کہ اپنا دامن بھی سنبھالے رکھے اور قدم بھی احتیاط سے اٹھائے تا کہ کوئی کانٹا اس کے دامن سے نہ الجھ جائے اور نہ ہی کوئی خار اس کے پاؤں میں چبھے۔ عبداللہ معتز نے اس کیفیت کو اپنے اشعار میں یوں بیان کیا ہے : ۱۔ خل الذنوب صغیرھا و کبیر ھا فھو التقی ۲۔ واضع کماش فوق ار ض الشوک یحذر ما یری ۳۔ لا تحقرون صغیرة ان الجبال من الحصی ۱۔ سب چھوٹے بڑے گناہوں کو چھوڑ دے کہ حقیقت تقوی یہی ہے۔ ۲۔ اس شخص کی طرح ہو جا جو خاردار زمین پر انتہائی احتیاط سے قدم اٹھاتا ہے۔ ۳۔ چھوٹے گناہوں کو چھوٹا نہ سمجھ کہ پہاڑ سنگریزوں ہی سے بنتا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر ابوالفتوح رازی، جلد اول ص ۶۲) ضمنا اس تشبیہ سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ تقوی یہ نہیں کہ انسان گوشہ نشین ہو جائے اور لوگوں سے میل جول ترک کر دے بلکہ معاشرے میں رہتے ہوئے اگرچہ وہ غلیظ معاشرہ ہی کیوں نہ ہو، اپنی حفاظت کرے۔ اسلام میں کسی کی شخصیت کے لئے معیار فضیلت و افتخار یہی تقوی ہے اور اسلام کا شعار زندہ ہے : ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم۔ (حجرات، ۱۳) یعنی: یقینا خدا کے یہاں تم میں سے زیادہ صاحب عزت و تکریم وہی ہے جو تقوی میں سب سے بڑھ کر ہے۔ حضرت علی)علیہ السلام( فرماتے ہیں: ان تقوی اللہ مفتاح سداد و ذخیرة معاد و عتق من کل ملکة ونجاة من کل ھلکة۔ تقوی او رخوف خدا ہر بند دروازے کی کلید ہے، قیامت کے لئے ذخیرہ ہے، شیطان کی بندگی سے آزادی کا سبب ہے اور ہر ہلاکت سے باعث نجات ہے (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ۲۳۰)۔ ضمنا متوجہ رہئے گا کہ تقوی کی کئی ایک شاخیں اورشعبے ہیں مثلا تقوی مالی، تقوی اقتصادی، تقوی جنسی، تقوی اجتماعی اور تقوی سیاسی وغیرہ۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔
دوسرا گروہ سر کش کفار کا ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1یہ گروہ ان پرہیزگار انسانوں کے بالکل برعکس ہے جن کی صفات گذشتہ دو آیات میں پوری و ضاحت سے بیان ہوئی ہیں۔ ان دو آیات میں سے پہلی میں ہے کہ جو کافر ہیں(اور ساتھ اپنے کفر و بے ایمانی پر مصر ہیں)، ان کے لئے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ انہیں عذاب الہی سے ڈرائیں یا نہ ڈرائیں کیونکہ وہ تو ایمان لانے کے نہیں ( ان الذین کفروا سواء علیھم ءانذرتھم ام لم تنذرھم لا یوٴمنون)۔ پہلا گروہ حواس و ادراک کے ساتھ پوری طرح تیار تھا کہ وہ حق کوپہچانے اور پھر اسے قبول کرکے اس کی پیروی کرے۔ لیکن اس گروہ کے افراد اپنی گمراہی میں اتنے کٹر ہیں کہ حق جتنا بھی ان کے سامنے واضح ہو جائے وہ اسے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ وہ قرآن جو متقین کے لئے ہادی اور راہنما ہے، ان کے لئے بالکل بے اثر ہے۔ کچھ کہیں نہ کہیں، ڈرائیں یا نہ ڈرائیں، کوئی بشارت دیں یا نہ دیں، ان پر کسی چیز کا کچھ اثر نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ حق کی پیروی اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے لئے روحانی طور پر آمادہ ہی نہیں۔ دوسری آیت میں اس تعصب و ڈھٹائی کی دلیل پیش کی گئی ہے اور وہ یہ کہ یہ کفر و عناد میں اس طرح ڈوبے ہوئے ہیں کہ حس شناخت کھو بیٹھے ہیں "خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا گیا ہے" (خَتَمَ اللهُ عَلَی قُلُوبِہِمْ وَعَلَی سَمْعِہِمْ وَعَلَی آبْصَارِہِمْ غِشَاوَةٌ)۔اسی بناء پر ان کا انجام یہ ہے کہ ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے (وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِیمٌ)۔ اس لحاظ سے وہ آنکھ پرہیزگار جس سے آیات خدا کو دیکھتے تھے، وہ کان پرہیزگار جس سے حق کی باتیں سنتے تھے اور وہ دل پرہیزگار جس سے حقائق کا ادراک کرتے تھے کفار کے لئے بے کار ہیں۔ عقل ، آنکھ اور کان ان کے پاس ہیں لیکن سمجھنے، دیکھنے اور سننے کی قوت ان میں نہیں رہی کیونکہ ان کے برے اعمال، ان کا عناد اور ہٹ دھرمی ان کی شناخت کی قوت کے سامنے پردہ بن گئے ہیں۔ یہ مسلم ہے کہ جب تک انسان اس مرحلے تک نہ پہنچے، کتنا ہی گمراہ کیوں نہ ہو، قابل ہدایت ہوتا ہے لیکن جب وہ اعمال بد کی وجہ سے حس تشخیص ہی کھو بیٹھتا ہے تو پھر اس کے لئے راہ نجات نہیں ہے کیونکہ اس کے پاس پہچان کی قوت ہی نہیں لہذا یقینی طور پر عذاب عظیم اس کے انتظار میں ہے۔
تشخیص کی قدرت کا چھن جانا دلیل جبر نہیں
۱۔ تشخیص کی قدرت کا چھن جانا دلیل جبر نہیں: پہلا سوال جو یہاں پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ گذشتہ آیت کے مطابق اگر خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے تو پھر وہ مجبور ہیں کہ کفر پر باقی رہ جائیں تو کیا یہ جبر نہیں؟ قرآن میں اس آیت کی طرح اور بھی ایسی ہی آیات موجود ہیں، ان حالات میں انہیں سزا دینے کے کیا معنی ہیں؟ اس سوال کا جواب خود قرآن نے دیا ہے اور وہ یہ کہ حق کے مقابلے میں ان لوگوں کا اصرار اور ہٹ دھرمی، ان کی طرف سے ظلم و ستم اور کفر کا استمرار و دوام، ان کی حس شناخت پر پردہ پڑ جانے کا باعث بنتا ہے۔ سورہ نساء آیت ۱۵۵ میں ہے: بل طبع اللہ علیھا بکفرھم۔ خداوند عالم نے ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔ سورہ مومن، آیت ۳۵ میں ہے: کذلک یطبع اللہ علی کل قلب متکبر جبار۔ اس طرح خدا ہر متکبر اور ستم گر کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔ اسی طرح سورہ جاثیہ، آیت ۲۳ میں ہے: افرایت من اتخذ الھہ ھواہ و اضلہ اللہ علی علم و ختم علی سمعہ و قلبہ و جعل علی بصرہ غشاوة۔ کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے ہوائے نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہے لہذا وہ گمراہ ہوگیا ہے اور خدا نے اس کے گوش و دل پر مہر لگا دی ہے اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ انسان کی حس تشخیص کا سلب ہو جانا اور آلات تمیز و معرفت کا بے کار جانا، ان آیات میں چند ایک علل کا معلول شمار ہوا ہے۔ کفر ، تکبر، ستم، پیروی ہوا و ہوس سرکش، تعصب اور حق کے مقابلے میں اصرار، حقیقت میں یہ حالت انسان کے اعمال کا عکس العمل اور بازگشت ہے، کوئی اور چیز نہیں۔ اصولا یہ ایک فطری امر ہے کہ اگر انسان ایک غلط کام کو مسلسل کرتا رہے تو آہستہ آہستہ اس سے مانوس ہو جاتا ہے۔ پہلے ایک حالت ہے پھر وہ ایک عادت بن جاتی ہے۔ گویا وہ روح انسانی کا جزو ہو جاتی ہے اور کبھی معاملہ یہاں تک پہنچ جاتا ہے کہ انسان کا پلٹ آنا ممکن نہیں رہتا لیکن اس نے جان بوجھ کر یہ راستہ اختیار کیا تھا لہذا عواقب و انجام کا بھی خود ذمہ دار ہے۔اوراس میں جبر کی کوئی بات نہیں، بالکل اس شخص کی طرح جو خود اپنی آنکھ پھوڑے اور کان ضائع کر دے کہ نہ دیکھ سکے نہ سن سکے۔ اب اگر آپ دیکھیں کہ ان افعال کی نسبت خدا کی طرف دی گئی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا نے اس قسم کے افعال میں ایسی خاصیت رکھی ہے (یہ بات خاص طور پر غور طلب ہے)۔ قوانین آفرینش سے اسی مفہوم کی پورے طور پرعکاسی ہوتی ہے۔ جو شخص صحیح اور سچے تقوی اور پاکیزگی کو اپنا پیشہ بنا لے، خداوند عالم اس کی حس تمیز کو زیادہ قوی کر دیتا ہے اور اسے خاص ادارک نظر اور روشن فکری عطا کرتا ہے۔ جیسے سورہ ٴ انفال آیة ۲۹ میں ہے: یایھا الذین آمنوا ان تتقواللہ یجعل لکم فرقانا۔ اے ایمان والو! اگر تم تقوی کو اپنا پیشہ قرار دو تو خداوند عالم تمہیں فرقان (یعنی وسیلہٴ ادراک حق و باطل) عطا کرے گا۔ اس حقیقت کو ہم نے روز مرہ کی زندگی میں بھی آزمایا ہے۔ بعض ایسے اشخاص ہیں جو غلط کام شروع کرتے ہیں اور ابتداء میں خود معترف بھی ہوتے ہیں کہ سو فی صد غلط کاری او ربرائی کا ارتکاب کر رہے ہیں اور اسی بناء پر وہ اس کام سے دکھی ہیں۔ لیکن آہستہ آہستہ اس سے مانوس ہو جاتے ہیں تو وہ دکھ ان سے دور ہو جاتا ہے اور رفتہ رفتہ معاملہ یہاں تک پہنچتا ہے کہ نہ صرف انہیں اس کام سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی بلکہ وہ اس پر خوش ہوتے ہیں۔ حتی کہ اسے انسانی یا دینی ذمہ داری سمجھنے لگتے ہیں۔ حجاج ابن یوسف جودنیا کا سب سے بڑا سفاک اور ظالم انسان تھا، اس کے حالات میں لکھا ہے کہ وہ اپنے ہولناک مظالم اور سفاکیوں کی توجیہہ میں کہتا تھا : "یہ لوگ گناہگار ہیں لہذا مجھ جیسا شخص ان پر مسلط رہنا چاہئے تاکہ ان پر ظلم کرے کیونکہ یہ اس کے مستحق ہیں۔" گویا وہ جس قدر قتل، خونریزی اور ظلم کرتا تھا، اس کے لئے اپنے آپ کو خدا کی طرف سے مامور سمجھتا تھا۔ کہتے ہیں چنگیز خاں کے ایک سپاہی نے ایران کے ایک سرحدی شہر میں تقریر کی اور کہنے لگا : " کیا تمہارا یہ اعتقاد نہیں کہ خدا گنہگاروں پر عذاب نازل کرتا ہے ۔ ہم وہی عذاب الہی ہیں لہذا کسی قسم کے مقابلے کی کوشش نہ کرنا۔"
ایسے لوگ قابل ہدایت نہیں تو انبیاء کا تقاضا کیوں
۲۔ ایسے لوگ قابل ہدایت نہیں تو انبیاء کا تقاضا کیوں: یہ دوسرا سوال ہے جو زیر نظر آیات کے سلسلے میں سامنے آتا ہے ۔ اگر ہم ایک نکتے کی طرف توجہ دیں تو جواب واضح ہو جائے گا۔ وہ یہ کہ سزا اور عذاب الہی ہمیشہ انسان کے اعمال و کردار سے مربوط ہے۔ صرف اس بناء پر کسی شخص کو سزا نہیں دی جا سکتی کہ وہ دلی طور پر برا شخص ہے بلکہ ضروری ہے کہ پہلے اسے حق کی دعوت دی جائے۔ اگر اس نے پیروی نہ کی اور اپنے اندرونی خبائث کو اپنے اعمال و کردار سے ظاہر کیا تو اس وقت وہ سزا و عذاب کا مستحق ہے ورنہ وہ ظلم سے پہلے قصاص کا مصداق قر ار پائے گا۔ یہ وہی چیز ہے جسے ہم اتمام حجت کا نام دیتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ جزا اور عمل کا بدلہ یقینا انجام عمل کے بعد ہونا چاہئے، صرف ارادہ یا روحانی و فکری آمادگی اس کے لئے کافی نہیں ۔ علاوہ ازیں انبیاء صرف ان کی ہدایت کے لئے نہیں آتے رہے۔ ایسے لوگ اقلیت میں ہیں، زیادہ تعداد تو ان گمراہ لوگوں کی ہے جو صحیح تعلیم و تربیت کے تحت قابل ہدایت ہیں۔
دلوں پر مہر لگانا
۳۔ دلوں پر مہر لگانا: زیر بحث آیات اور دیگر بہت سی آیات قرآن مجید میں بعض اشخاص سے حس تمیز اور ادراک واقعی کے چھن جانے کو "ختم" سے تعبیر کیا گیا ہے اور بعض اوقات "طبع" یا "رین" قرار دیا گیا ہے۔ یہ معنی یہاں سے لئے گئے کہ لوگوں میں رسم تھی کہ وہ جب کچھ چیزیں تھیلوں یا مخصوص برتنوں میں رکھتے یاکسی اہم خط کو کسی لفافے میں رکھتے تو اس بناء پر کہ کوئی اسے کھولے نہیں اور اسے ہاتھ نہ لگائے، اسے باندھ دیتے اور گرہ لگا دیتے پھر گرہ کے اوپر مہر لگاتے تھے۔ آج بھی یہی معمول ہے۔ جائیدادوں کی رجسٹریوں کو اسی بناء پر خاص قسم کی رسی سے باندھتے ہیں۔ اس کے اوپر لاک (خاص قسم کی دھات) ڈال دی جاتی ہے اور اس کے اوپر مہر لگادیتے ہیں تاکہ اگر اس کے صفحوں میں کوئی کمی بیشی کی جائے تو معلوم ہوجائے۔ تاریخ میں بہت سے شواہد ملتے ہیں کہ سربراہان حکومت، درہم و دینار کے توڑوں پر اپنی مہر لگا دیتے تھے اور خاص خاص اشخاص کی طرف بھیجتے تھے۔ یہ اس لئے ہوتا تھا کہ اس میں کسی قسم کا تصرف نہ ہونے پائے اور یونہی اس خاص شخص تک پہنچ جائے کیونکہ اس میں تصرف مہر توڑے بغیر ممکن نہ تھا۔ آج کل بھی ڈاک کے تھیلوں پر مہر کا طریقہ رائج ہے۔ عربی زبان میں اس مفہوم کی ادائیگی کے لئے لفظ "ختم" استعمال کیا جاتا ہے۔ البتہ یہ تعبیر صرف ان اشخاص کے لئے ہے جو بے ایمان اورہٹ دھرم ہیں، جو کثرت گناہ کے باعث عوامل ہدایت کا اثر قبول نہیں کرتے اوراہل حق کے مقابلے میں ان کے دلوں میں بغض و عناد اتنا راسخ ہوتا ہے کہ گویااس تھیلے کی طرح ان پر مہر لگ چکی ہے اور اب ان میں کسی قسم کا تصرف نہیں ہوسکتا۔ "طبع" بھی لغت میں اسی معنی کے لئے آیا ہے اور طابع و خاتم ہر دو کے ایک ہی معنی ہیں یعنی وہ چیز جس سے مہر لگاتے ہیں۔ باقی رہا "رین" یعنی زنگ، غبار یا سخت قسم کی مٹی جو قیمتی چیزوں سے چپک جائے۔ یہ تعبیر بھی قرآن میں ان اشخاص کے لئے آئی ہے جو کثرت گناہ کی وجہ سے اس عالم کو پہنچ چکے ہیں کہ ان کے دل نفوذ حق کے قابل نہیں رہے۔ کلا بل ران علی قلوبھم ما کانوا یکسبون۔ (مطففین، ۱۴) ایسا ہرگز نہیں بلکہ جرائم پیشہ ہونے اور مسلسل برے اعمال کرتے رہنے کی وجہ سے ان کے دل زنگ آلود ہوگئے ہیں۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ انسان ہمیشہ متوجہ رہے اگر خدانخواستہ اس سے کوئی گناہ سر زد ہو جائے تو بہت جلد اسے توبہ کے پانی اور نیک عمل سے دھو ڈالنا چاہئے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ دل پر زنگ کی شکل اختیار کر جائے اور اس پر مہر لگا دے۔ امام باقر (علیہ السلام) سے ایک روایت ہے: ما من عبد مومن الا وفی قلبہ نکتة بضاء فاذا اذنب ذنبا خرج فی تلک النکتة سودا فان تاب ذھب ذلک السواد فان تماری فی الذنوب زادذلک السواد حتی یغطی البیاض فاذا غطی البیاض لم یرجع صاحبہ الی خیر ابدا و ھو قول اللہ عزوجل : کلا بل ران علی قلوبھم ما کانوا یکسبون۔ کوئی بندہ مومن ایسا نہیں ہے جس کے دل میں ایک وسیع سفید اور چمکدار نقطہ نہ ہو۔ جب اس سے گناہ سرزد ہوجاتا ہے تو اس نقطہ سفید کے درمیان ایک سیاہ نقطہ پیدا ہوجاتا ہے۔ اب اگر توبہ کرلے تو وہ سیاہی برطرف ہو جاتی ہے اوراگر مسلسل گناہ کرتا رہے تو سیاہی پھیلتی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ تمام سفیدی پر محیط ہو جاتی ہے اور جب سفیدی بالکل ختم ہوجائے تو پھر ایسے دل والا کبھی بھی خیر وبرکت کی طرف نہیں پلٹ سکتا اور اس ارشاد الہی کا یہی مفہوم ہے جب فرماتا ہے: کلا بل ران علی قلوبھم ما کانوا یکسبون۔(بحوالہ: اصول کافی ، جلد ۲، باب الذنوب، حدیث ۲۰، ص ۲۰۹)۔
قرآن میں قلب سے مراد کیا ہے
۲۔ قرآن میں قلب سے مراد کیا ہے: قرآن مجید میں ادراک حقائق کی نسبت دل کی طرف کیوں دی گئی ہے جب کہ یہ بات واضح ہے کہ دل، ادراکات کا مرکز نہیں۔ وہ تو بدن میں گردش خون کا ایک آلہ ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ لفط قلب، قرآن میں کئی معانی کے لئے ہے جن میں سے بعض یہ ہیں: i. ادراک وعقل ___ جیسا کہ سورہ ق، آیہ ۳۷ میں ہے: ان فی ذلک لذکری لمن کان لہ قلب۔ ان مطالب میں تذکرہ و یاد دھانی ان لوگوں کے لئے ہے جو عقل و ادراک کی قوت رکھتے ہیں۔ ii. روح و جان___ جیسا کہ سورہ احزاب،آیہ ۱۰ میں ہے: و اذ زاغت الابصار و بلغت القلوب الحناجر۔ جب آنکھیں دھنس گئیں او رمارے دہشت کے روح و جان لبوں تک آپہنچی۔ iii. مرکز عواطف و مہربانی ___ سورہٴ انفال، آیہ ۱۲ میں ہے: سالقی فی قلوب الذین کفروا الرعب۔ بہت جلد کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے۔ ایک اور جگہ سورہ آل عمران، آیة ۱۵۹ میں ہے: فبما رحمة من اللہ لنت لھم، و لو کنت فظا غلیظ القلب لا نفضوا من حولک۔ یہ رحمت الہی ہے کہ آپ لوگوں کے لئے نرم خو ہیں اور اگر آپ تند خو اور سنگدل ہوتے تو آپ کے گرد و پیش سے منتشر ہو جاتے۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ انسانی وجود میں دو قوی مرکز ہیں جو یہ ہیں: i. مرکزِ ادراک___ جو مغز اور کارخانہ اعصاب ہے۔ اسی لیے جب کوئی فکری کام درپیش ہو تو ہم احساس کرتے ہیں اور اپنے مغز کو اس کے تجزیہ و تحلیل کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ مغز اور سلسلہ اعصاب، حقیقت میں روح کے لئے وسیلہ اور آلت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ii. مرکز عواطف___ جس سے مراد وہی چلغوزہ نما دل ہے جو سینے کے بائیں حصے میں ہے او رمسائل عواطف (مہربانی و رحم) پہلے پہل اسی مرکز پر اثرانداز ہوتے ہیں اور پہلی چنگاری دل سے شروع ہوتی ہے۔ ہم وجدانی طور پر جب کسی مصیبت سے دوچار ہوتے ہیں تو اس کا بوجھ اسی دل پر محسوس کرتے ہیں۔ اسی طرح جب کسی سرور انگیز اور مسرت آراء امر کا سامنا کرتے ہیں تو اسی مرکز میں فرحت و انبساط کا احساس کرتے ہیں(یہ بات غورطلب ہے)۔ یہ صحیح ہے کہ سب ادراکات و عواطف کا اصلی مرکز انسان کی روح رواں ہے لیکن ان کا مظاہرہ اور جسمی عکس العمل مختلف ہوتا رہتا ہے۔ ادراک و فہم کا عکس العمل پہلی دفعہ کا ر خانہ مغز میں ظاہر ہوتا ہے لیکن مسائل عواطف مثلا محبت، عداوت، خوف، اطمینان، خوشی او رغمی کا عکس العمل انسان کے دل میں ظاہر ہوتا ہے۔ ان امور کے پیدا ہوتے ہی واضح طور پر ان کا اثر ہم اپنے د ل میں محسوس کرتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ اگر قرآن میں مسائل عواطف کو اسی دل کی طرف اور مسائل عقلی کو قلب بمعنی عقل یا مغز کی طرف نسبت دی گئی ہے تو توقف بھی تباہی اور نابودی کا سبب ہے۔ اس بناء پر کیا مضائقہ ہے کہ فکری و عاطفی تحریکوں اور فعالیتوں کو نسبت اس کی طرف دی جائے۔
قلب و بصر صیغہ جمع اور سمع مفرد میں کیوں
۵۔ قلب و بصر صیغہ جمع اور سمع مفرد میں کیوں: زیر مطالعہ آیت میں اور بہت سی آیات قرآنی کی طرح قلب و بصر صورت جمع(قلوب و ابصار) آئے ہیں جب کہ سمع قرآن میں ہر جگہ مفرد کی صورت میں ذکر ہوا ہے تو اس فرق میں کوئی نکتہ ہونا چاہئے۔ بات یہ ہے کہ لفظ سمع، قرآن مجید میں ہر جگہ مفرد آیا ہے اور کہیں بھی جمع (اسماع (نہیں آیا لیکن قلب و بصر کبھی جمع کی صورت میں جیسا کہ زیر نظر آیت میں اور کبھی بصورت مفرد جیسے سورہ ٴ جاثیہ آیہ ۲۲ اور سورہ اعراف آیہ ۴۳ میں آیا ہے: و ختم علی سمعہ و قلبہ و جعل علی بصرہ غشاوة۔ (جاثیہ، ۲۳) عالم بزرگوار مرحوم شیخ طوسی تفسیر تبیان میں ایک مشہور ادیب کے حوالے سے رقمطراز ہیں: ممکن ہے سمع کے مفرد آنے کی ان دو میں سے ایک وجہ ہو: ۱۔ سمع کبھی تو اسم جمع کے عنوان سے استعمال ہوتا ہے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسم جمع میں جمع کے معنی ہوتے ہیں۔ لہذا صیغہ جمع لانے کی ضرورت نہیں۔ ۲۔ سمع میں یہ گنجائش ہے کہ وہ مصدری معنی رکھتا ہو اور ہم جانتے ہیں کہ مصدر کم یازیادہ ہو، دو پر دلالت ہے۔ لہذا جمع لانے کی ضرورت نہیں۔ اس کے علاوہ ایک وجہ ذوق و علم کے اختیار سے بھی بیان کی جا سکتی ہے اور وہ یہ کہ ادراکات قلبی اور مشاہدات چشم ان امور کی نسبت زیادہ ہیں جو سماعت میں آتے ہیں۔ اس اختلاف کی بناء پر قلوب و ابصار جمع کی شکل میں آیا ہے لیکن سمع مفرد کی صورت میں۔ ماڈرن فزکس کے مطابق امواج صوتی جو قابل سماعت ہیں نسبتا تعداد میں محدود ہیں اور وہ چند ہزار سے زیادہ نہیں جبکہ امواج نور و رنگ جو قابل رویت ہیں، کئی ملین سے زیادہ ہیں ( یہ بات غور طلب ہے)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تیسرا گروہ ۔ منافقین
Tafsīr Nemūna · Vol. 1زیر نظر آیات منافقین کے سلسلے میں مکمل اور بہت پر مغز تشریح کی حامل ہیں۔ ان میں ان کی روحانی شخصیات اور اعمال کو بیان کیا گیا ہے۔ اس کی کچھ وضاحت پیش کی جاتی ہے۔ تاریخ کے ایک خاص موڑ پر اسلام کو ایک ایسے گروہ کا سامنا کرنا پڑا جو ایمان لانے کے لئے جذبہ و خلوص رکھتے تھے نہ صریح مخالفت کی جرات کرتے تھے۔ قرآن اس گروہ کو "منافقین" کے نام سے یاد کرتا ہے ۔ فارسی میں ہم دورو یا دو چہرہ کہتے ہیں۔ یہ لوگ حقیقی مسلمانوں کی صفوں میں داخل ہو چکے تھے۔ یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں کے لئے بہت بڑا خطرہ شمار ہوتے تھے۔ چونکہ ان کا ظاہر اسلامی تھا لہذا ان کی شناخت مشکل تھی لیکن قرآن ان کی باریک اور زندہ علامت بیان کرتا ہے تاکہ ان کی باطنی کیفیت کو مشخص کردے۔ اس سلسلے میں قرآن ہرزمانے اور قرن کے مسلمانوں کو ایک نمونہ دے رہا ہے۔ پہلے تو نفاق کی تفسیر بیان کی گئی ہے کہ بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا اور قیامت پر ایمان لائے ہیں حالانکہ ان میں ایمان نہیں ہے۔ (و من الناس من یقول آمنا باللہ و بالیوم الآخر و ماھم بموٴمنین)۔ وہ اپنے اس عمل کو ایک قسم کی چالاکی او رعمدہ تکنیک سمجھتے ہیں او رچاہتے ہیں کہ اپنے اس عمل سے خدا اور مومنین کو دھوکہ دیں (یخدعون اللہ والذین آمنوا)۔ حالانکہ وہ صرف اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں لیکن سمجھتے نہیں (و مایخدعون الا انفسھم و ما یشعرون)۔ وہ صحیح راستے اور صراط مستقیم سے ہٹ کر عمر کا ایک حصہ بے راہ روی میں گذار دیتے ہیں، اپنی تمام قوتوں اور صلاحیتوں کو برباد کر دیتے ہیں اور ناکامی و بدنامی اور عذاب الہی کے علاوہ انہیں کچھ نہیں ملتا۔ اس کے بعد اگلی آیت میں قرآن اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ نفاق در حقیقت ایک قسم کی بیمار ی ہے کیونکہ صحیح و سالم انسان کا صرف ایک چہرہ ہوتا ہے۔ اس کے جسم و روح میں ہم آہنگی ہوتی ہے کیونکہ ظاہر و باطن، جسم وروح ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں ۔ اگر کوئی مومن ہے تو اس کا پورا و جود ایمان کی صدا بلند کرتاہے اور اگر ایمان سے منحرف ہے تب بھی اس کا ظاہر و باطن انحراف کی نشاندہی کرتا ہے ۔یہ جسم و روح میں دوئی ایک درد نو اور اضافی بیماری ہے یہ ایک طرح کا تضاد، ناہم آہنگی اور ایک دوسرے سے دوری ہے جو وجود انسانی پر حکمران ہے۔ قرآن کہتا ہے ان کے دلوں میں ایک خاص بیماری ہے (و فی قلوبھم مرض)۔ نظام آفرینش میں جوشخص کسی راستے پر چلتا ہے اور اس کے لئے زاد راہ فراہم کئے رکھتا ہے، تو وہ یقینا آگے بڑھتا رہتا ہے یا بہ الفاظ دیگر ایک ہی راستے پر چلنے والے انسان کے اعمال و افکار کا ہجوم اس میں زیادہ رنگ بھرتا ہے اور اسے زیادہ راسخ کرتا ہے۔ قرآن مزید کہتا ہے: خدا وند عالم ان کی بیماری میں اضافہ کرتا ہے ( فزادھم اللہ مرضا)۔ چونکہ منافقین کا اصل سرمایہ جھوٹ ہے لہذا ان کی زندگی میں جو تناقضات رونما ہوتے ہیں وہ ان کی توجیہہ کرتے رہتے ہیں۔ آیت کے آخر میں بتایا گیا ہے: ان کی ان دروغ گوئیوں کی وجہ سے ان کے لئے دردناک عذاب ہے (و لھم عذاب الیم بما کانوا یکذبون)۔ ا س کے بعد ان کی خصوصیات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن میں سے پہلی اصلاح طلبی کا دعوی کرنا ہے حالانکہ حقیقی فسادی وہی ہیں "جب ان سے کہا جائے کہ روئے زمین پر فساد نہ کرو تو وہ اپنے تئیں مصلح بتاتے ہیں" (و اذا قیل لھم لا تفسدوا فی الارض قالوا انما نحن مصلحون) اور وہ دعوی کرتے ہیں کہ ہمارا تو زندگی میں اصلاح کے علاوہ کوئی مقصد رہا ہے نہ اب ہے۔ اگلی آیت میں قرآن کہتا ہے: جان لو کہ یہ سب مفسد ہیں اور ان کا پروگرام فساد کے سوا کچھ نہیں۔ لیکن وہ خود بھی شعور سے تہی دامن ہیں (الا انھم ھم المفسدون ولکن لا یشعرون)۔ ان کے اصرار نفاق میں پختگی اور اس باعث ننگ و عار کام کی عادت کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ رفتہ رفتہ وہ گمان کرنے لگے ہیں کہ یہی پروگرام تربیت و اصلاح کے لئے مفید ہے جیسے پہلے اشارہ کیا جا چکا ہے کہ اگر گناہ ایک حد سے بڑھ جائے تو پھر انسان سے حس تشخیص چھن جاتی ہے بلکہ اس کی تشخیص برعکس ہو جاتی ہے اور ناپاکی و آلودگی اس کی طبیعت ثانوی بن جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کی دوسری نشانی یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو عاقل و ہوشیار او رمومنین کو بیوقوف ،سادہ لوح اورجلد دھوکہ کھانے والے سمجھتے ہیں۔ جیسے قرآن کہتا ہے کہ جب ان سے کہا جائے کہ ایمان لے آوٴ جس طرح باقی لوگ ایمان لائے ہیں تو وہ کہتے ہیں کیا ہم ان بے وقوفوں کی طرح ایمان لے آئیں (و اذا قیل لھم آمنوا کما آمن الناس قالوا انوٴمن کما آمن السفھاء)۔ اس طرح وہ ان پاک دل ، حق طلب اور حقیقت کے متلاشی افراد کو حماقت و بیوقوفی سے متہم کرتے ہیں جو دعوت پیغمبر اور ان کی تعلیمات میں آثار حقانیت کامشاہدہ کرکے سرتسلیم خم کر چکے ہیں۔ اپنی شیطنت، دو رخی اور نفاق کو ہوش و عقل اور درایت کی دلیل سمجھتے ہیں۔ گویا ان کی منطق میں عقل نے بے عقلی کی جگہ لے لی ہے۔ اسی لئے قرآن کے جواب میں کہتا ہے: جان لو کہ واقعی بیوقوف یہی لوگ ہیں لیکن وہ جانتے نہیں (الا انھم ھم السفھاء ولکن لا یعلمون)۔ کیا یہ بیوقوفی نہیں کہ انسان اپنی زندگی کے مقصد کا تعین نہ کر سکے اور ہر گروہ میں اس گروہ کا رنگ اختیار کرکے داخل ہو اور یکسانیت و شخصی وحدت کی بجائے دوگانگی یاکئی ایک بہروپ قبول کر کے اپنی استعداد اور قوت کو شیطنت ، سازش اور تخریب کا ری کی راہ میں صرف کرے اور اس کے باوجود اپنے آپ کو عقلمند سمجھے۔ ان کی تیسری نشانی یہ ہے کہ ہر روز کسی نئے رنگ میں نکلتے ہیں او رہر گروہ کے ساتھ ہم صدا ہوتے ہیں جس طرح قرآن کہتا ہے: جب وہ اہل ایمان سے ملاقات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان قبول کرچکے ہیں اور تمہیں غیر نہیں سمجھتے۔ لیکن جب اپنے شیطان صفت دوستوں کی خلوت گاہ میں جاتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تو آپ کے ساتھ ہیں ( وا ذا خلوا الی شیاطینھم قالوا انا معکم) اور یہ جو ہم مومنین سے ایمان کا اظہار کرتے ہیں، یہ تو تمسخر و استہزاء ہے (انما نحن مستھزون)۔ ان کے افکار و اعمال پر دل میں تو ہم ہنستے ہیں، یہ سب ان سے مذاق ہے ورنہ ہمارے دوست، ہمارے محرم راز اور ہمارا سب کچھ تو آپ لوگ ہیں۔ اس کے بعد قرآن ایک سخت اور دو ٹوک لب ولہجہ کے ساتھ کہتا ہے: خدا ان سے تمسخر کرتا ہے ( اللہ یستھزی بھم) اور خدا انہیں ان کے طغیان و سرکشی میں رکھے گا تا کہ وہ کاملا سرگرداں رہیں (و یمدھم فی طغیانھم یعمھون)۔ (یعمھون مادہ "عمہ" سے ہے (بروزن ہمہ) جو تردد یا کسی کام میں متحیر ہونے کے لئے استعمال ہوتا ہے او رکور دلی، تاریکی بصیرت کے معنی میں بھی مستعمل ہے جس کا اثر سرگردانی ہے۔ مفردات راغب، تفسیر منار اور قاموس اللغة کی طرف رجوع کیا جائے۔) مورد بحث آیات میں سے آخری ان کی آخری سر نوشت ہے جو بہت غم انگیز اور تاریک ہے۔ اس میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اس تجارت خانہ عالم میں ہدایت کے لئے گمراہی کو خریدلیا ہے (اولئک الذین اشتروا الضلالة بالھدی)۔ اسی وجہ سے ان کی تجارت نفع مند نہیں بلکہ سرمایہ بھی ہاتھ سے دے بیٹھے ہیں (فما ربحت تجارتھم) اور کبھی بھی انہوں نے ہدایت کا چہرہ نہیں دیکھا (( وما کانوا مھتدین)۔
دلوں پر مہر لگانا
جب کسی علاقے میں کوئی انقلاب آتا ہے، خصوصا اسلام جیسا انقلاب جس کی بنیاد حق وعدالت پر ہے تو مسلما غارت گروں، ظالموں اور خودسروں کے منافع کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے تو وہ پہلے تمسخر سے پھر مسلح قوت، اقتصادی دباؤ اور مسلسل اجتماعی پراپیگنڈہ سے کام لیتے ہوئے کوشش کرتے ہیں کہ انقلاب کو درہم و برہم کر دیں۔ جب انقلاب کی کامیابی کا پرچم علاقے کی قوتوں کو سربلند نظر آتا ہے تو مخالفین کا ایک گروہ اپنی تکنیک اور روش ظاہری کو بدل دیتا ہے اور ظاہرا انقلاب کے سامنے جھک جاتا ہے لیکن وہ زیر زمین مخالفت کا پروگرام تشکیل دیتا ہے۔ یہ لوگ جو دو مختلف چہروں کی وجہ سے منافق کہلاتے ہیں، انقلاب کے خطرناک ترین دشمن ہیں(منافق کا مادہ نفق ہے۔ یہ بروزن شفق ہے جس کے معنی زیر زمین نقب اور سرنگ کے ہیں جس سے چھپنے یابھاگنے کا کام لیا جاتا ہے)۔ ان کا موقف پورے طور پر مشخص نہیں ہوتا لہذا انقلابی انہیں پہچان نہیں پاتے کہ خود سے انہیں دور کر دیں۔ وہ لوگ پاک باز اور سچے لوگوں میں گھس جاتے ہیں یہاں تک کہ کبھی کبھی اہم ترین پوسٹ پر جا پہنچتے ہیں۔ جب تک پیغمبر اسلام (ﷺ) نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت نہیں کی تھی اور مسلمانوں کی حکومت تشکیل نہیں پائی تھی، ایسا گروہ سرگرم عمل نہیں ہوا لیکن نبی اکرم (ﷺ) جب مدینہ میں آ گئے تو حکومت اسلامی کی بنیاد رکھی گئی اور جنگ بدر کی کامیابی کے بعد یہ معاملہ زیادہ واضح ہوگیایعنی رسمی طور پر ایک چھوٹی سی حکومت جوقابل رشد تھی، قائم ہو گئی۔ یہ وہ موقع تھا کہ مدینہ کے گدی نشینوں خصوصا یہودیوں کے (جو اس زمانے میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے) بہت سے منافع خطرے میں پڑ گئے۔ اس زمانے میں یہودیوں کا زیادہ احترام اس وجہ سے تھا کہ وہ اہل کتاب او رنسبتا پڑھے لکھے لوگ تھے اورو ہ اقتصادی طور پر بھی آگے تھے حالانکہ یہی لوگ ظہور پیغمبر (ﷺ) سے پہلے اس قسم کے امور کی خوش خبری دیتے تھے۔ مدینہ میں کچھ اور لوگ بھی تھے جن کے سر میں لوگوں کی سرداری کا سودا سمایا ہوا تھا۔ لیکن رسول خدا کی ہجرت سے ان کے خواب دھرے کے دھرے رہ گئے۔ ظالم سرداروں، سرکشوں اور ان غارت گروں کے حمایتیوں نے دیکھا کہ عوام تیزی سے نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا رہے ہیں ۔ ان کے عزیز و اقارب بھی ایک عرصے تک مقابلہ کرتے رہے لیکن آخرکار انہیں بھی اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ ظاہرا مسلمان ہو جائیں کیونکہ علم مخالفت بلند کرنے میں جنگی مشکلات اور اقتصادی صدمات کے علاوہ ان کی نابودی کا خطرہ تھا خصوصا عرب کی پوری قوت بھی آپ(ﷺ) کے ساتھ تھی اور ان لوگوں کے قبیلے بھی ان سے جدا ہو چکے تھے۔ اس بناء پر انہوں نے تیسرا راستہ اختیار کیا اور وہ یہ کہ ظاہرا مسلمان ہو جائیں اور مخفی طور پر اسلام کو برباد کرنے کا منصوبہ بنائیں۔ خلاصہ یہ کہ کسی معاشرے میں نفاق کے ظہور کی ان دو وجوہ میں سے ایک ہوتی ہے: i. کسی انقلاب کی کامیابی اور معاشرے پر اس کا تسلط ii. نفسیاتی کمزوری اور سخت حوادث کے مقابلے میں جرات و ہمت کا فقدان
ہر معاشرے میں منافقین کی پہچان ضروری ہے
۲۔ ہر معاشرے میں منافقین کی پہچان ضروری ہے: اس میں شک و شبہ نہیں کہ نفاق اور منافق زمانہٴ پیغمبر(ﷺ) سے مخصوص نہ تھے بلکہ ہر معاشرے میں اس گروہ کا وجود ہوتا ہے۔ البتہ ضروری ہے کہ قرآن کے دئیے ہوئے معیار کی بنیاد پر ان کی پہچان کی جائے تا کہ وہ کوئی نقصان یا خطرہ پیدا نہ کر سکیں ۔ زیر مطالعہ آیات کے علاوہ سورہٴ منافقین اور روایات اسلامی میں ان کی مختلف نشانیاں بیان ہوئی ہیں جن میں سے بعض یہ ہیں: i. زیادہ شور شرابہ اور بڑے بڑے دعوے___ باتیں بہت ،عمل کم اور قول و فعل میں تضاد ہونا۔ ii. ہر جگہ کے رنگ کو اپنا لینا اور ہر گروہ کے ساتھ ان کے ذوق کے مطابق گفتگو کرنا۔ مومنین سے "آمنا" کہنا اور مخالفین سے "انا معکم"۔ iii. عوام سے اپنے آپ کو الگ رکھنا ،خفیہ انجمنیں قائم کرنا اور پوشیدہ منصوبے بنانا۔ iv. دھوکہ دہی، مکر و فریب ، جھوٹ، تملق ، چاپلوسی، پیمان شکنی اور خیانت کی راہ چلنا۔ v. اپنے تئیں بڑا سمجھدار گرداننا اور دوسروں کو ناسمجھ، بیوقوف اور نادان قرار دینا۔ خلاصہ یہ کہ دو رخی اور اندرونی تضاد، منافقین کی واضح صفت ہے۔ ان کا انفرادی و اجتماعی چال چلن ایسا ہوتا ہے جس سے انہیں واضح طور پر پہچانا جا سکتا ہے۔ قرآن حکیم کی یہ تعبیر کتنی عمدہ ہے کہ "ان کے دل بیمار ہیں " ( فی قلوبھم مرض)۔ کون سی بیماری ظاہر و باطن کے تضاد سے بدتر ہے اور کون سی بیماری اپنے آپ کو بڑا سمجھنے اور سخت حوادث کے مقابلے سے فرار سے بڑھ کرہے۔ جیسے دل کی بیماری جتنی بھی پوشیدہ ہو اسے کاملا مخفی نہیں رکھا جا سکتا بلکہ اس کی علامت انسان کے چہرے اور تمام اعضاء بدن سے آشکار ہوتی ہیں۔ نفاق کی بیماری بھی اسی طرح ہے جو مختلف مظاہر کے ساتھ قابل شناخت ہے اور اندرونی نفاق کی بیماری کو معلوم کیا جا سکتا ہے۔ تفسیر نمونہ سورہٴ نساء آیت ۱۴۱ تا ۳۴۱ میں بھی صفات منافقین کے بارے میں بحث کی گئی ہے۔ نیز سورہ توبہ آیت ۴۹ تا ۵۷ کے ذیل میں بھی اس سلسلے میں کافی بحث ہے اور سورہ توبہ آیت ۶۲ تا ۸۵ کے ذیل میں بھی ایسی ابحاث موجود ہیں۔
معنی ٴ نفاق کی وسعت
اگرچہ نفاق اپنے خاص مفہوم کے لحاظ سے ان بے ایمان لوگوں کے لئے ہے جو ظاہرا مسلمانوں کی صف میں داخل ہوں لیکن باطنی طور پر کفر کے دلدادہ ہوں لیکن نفاق کا ایک وسیع مفہوم ہے جو ہر قسم کے ظاہر و باطن اور گفتار و کردار کے تضاد پر محیط ہے چاہے یہ چیز مومن افراد میں پائی جائے جنہیں ہم "دور گہ ہائے نفاق" (یعنی : ایسے انسان یا حیوان جن کے ماں باپ مختلف نسل سے ہوں) کہتے ہیں۔ مثلا حدیث میں ہے: ثلاث من کن فیہ کان منافقا و ان صام و صلی و زعم انہ مسلم من اذا ائتمن خان و اذا حدث کذب و اذا وعدا خلف۔ تین صفات ایسی ہیں کہ جس شخص میں پائی جائیں وہ منافق ہے چاہے وہ روزے رکھے، نماز پڑھے اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھے ( اور وہ صفات یہ ہیں) جب امانت رکھی جائے تو وہ خیانت کرتا ہے، بات کرتے وقت جھوٹ بولتا ہے اور وعدے کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ )بحوالہ: سفینة البحار، جلد ۲ ص ۶۰۵( مسلم ہے کہ ایسے اشخاص اس خاص معنی کے لحاظ سے منافق نہیں تا ہم نفاق کی جڑیں ان میں پائی جاتی ہیں، خصوصا ریاکاروں کے بارے میں امام صادق )علیہ السلام( کا ارشاد ہے: الریاء شجرة لا تثمر الا الشرک الخفی و اصلھا النفاق۔ یعنی: ریاکاری و دکھاوا ایسا (تلخ) درخت ہے جس کا پھل شرک خفی کے علاوہ کچھ نہیں اور اس کی اصل اور جڑ نفاق ہے۔)بحوالہ: سفینة البحار، جلد۱، مادہ رئی( یہاں پر ہم آپ کی توجہ امیرالمومنین علی(علیہ السلام) کے ایک ارشاد کی طرف دلاتے ہیں جو منافقین کے متعلق ہے۔ آپ نے فرمایا: اے خدا کے بندو ! تمہیں تقوی و پرہیزگاری کی وصیت کرتا ہوں اور منافقین سے ڈراتا ہوں کیونکہ وہ خود گمراہ ہیں اور دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں، خود خطاکار ہیں اور دوسروں کو خطا ؤں میں ڈالتے ہیں، مختلف رنگ اختیار کرتے ہیں، مختلف چہروں اور زبانوں سے خود نمائی کرتے ہیں، ہر طریقے سے تمہیں پھانسنے اور برباد کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہر کمین گاہ میں تمہارے شکار کے لئے بیٹھے رہتے ہیں۔ ان کا ظاہر اچھا اور باطن خراب ہے۔ لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے خفیہ چال چلتے ہیں۔ ان کی گفتگو ظاہرا تو شفا بخش ہے لیکن ان کا کردا ایسی بیماری ہے جس کا کوئی علاج نہیں۔ لوگوں کی خوش حالی اور آسائش پر حسد کرتے ہیں اور اگر کسی پر مصیبت آن پڑے تو خوش ہوتے ہیں۔ امید رکھنے والوں کو مایوس کر دیتے ہیں۔ ہر راستے میں ان کا کوئی نہ کوئی مقتول ہے۔ ہر دل میں ان کی راہ ہے اور ہر مصیبت پر ٹسوے بہاتے ہیں۔ مدح و ثنا ایک دوسرے کو بطور قرض دیتے ہیں اور جزا و عوض کے منتظر رہتے ہیں۔ اگر کوئی چیز لینی ہو تو اصرار کرتے ہیں اور اگر کسی کو ملامت کریں تو اس کی پردہ دری کرتے ہیں۔)بحوالہ: نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۹۴(۔
منافقین کی حوصلہ شکنیاں
۴۔ منافقین کی حوصلہ شکنیاں: نہ صرف اسلام بلکہ ہر انقلابی اور ارتقاء پسند آئین و دین کے لئے منافقین خطرناک ترین گروہ ہے۔ وہ مسلمانوں کی صفوں میں گھس جاتے ہیں اور حوصلہ شکنی کےلئے ہر موقع غنیمت سمجھتے ہیں ۔ کبھی سچے مومنین کا اس پر بھی تمسخر اڑاتے ہیں کہ انہوں نے اپنا مختصر سرمایہ راہ خدا میں خرچ کیا ہے۔ جیسے قرآن کہتا ہے: الذین یلمزون المطوعین من المومنین فی الصدقات والذین لا یجدون الا جھدھم فیسخرون منھم سخر اللہ منھم و لھم عذاب الیم۔ (توبہ ۷۹) وہ مخلصین مومنین کا تمسخر اڑاتے ہیں کہ انہوں نے (اپنے مختصر سرمایہ کو بے ریا راہ خدا میں) خرچ کیا ۔ خدا ان سے استہزاء کرتا ہے اور دردناک عذاب ان کے انتظار میں ہے ۔ کبھی وہ اپنی خفیہ میٹنگوں میں فیصلہ کرتے کہ رسول خدا (ﷺ) کے اصحاب سے مالی امداد کلی طور پر منقطع کر دیں اور آپ سے الگ ہو جائیں جیسے سورہ منافقون میں ہے: ھم الذین یقولون لا تنفقوا علی من عند رسول اللہ حتی ینفضوا واللہ خزائن السموات والارض و لکن المنافقین لا یفقھون۔ (منافقون، ۷) وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ کے ساتھ جو لوگ ہیں ان سے مالی امداد منقطع کر لو تا کہ وہ آپ کے گرد و پیش سے منتشر ہو جائیں ۔ جان لو کہ آسمان و زمین کے خزانے خدا کے لئے ہیں لیکن منافق نہیں جانتے۔ کبھی یہ فیصلہ کرتے تھے کہ جنگ سے مدینہ واپس پہنچنے پر متحد ہو کر مناسب موقع پر مومنین کو مدینہ سے نکال دیں گے اور کہتے تھے: لئن رجعنا الی المدینة لیخرجن الاعز منھا الاذل۔ (منافقون، ۸) اگر ہم مدینہ کی طرف پلٹ گئے تو عزت والے ذلیلوں کو باہر نکال دیں گے۔ کبھی مختلف بہانے بنا کر (مثلا فصل کے محصولات کی جمع آوری کا بہانہ) جہاد کے پروگرام میں شریک نہ ہوتے تھے اور سخت مشکلات کے وقت نبی اکرم (ﷺ) کو تنہا چھوڑ دیتے تھے اور ساتھ ساتھ انہیں یہ بھی ڈر رہتا تھا کہ کہیں ان کا راز فاش نہ ہو جائے۔ مبادا اس طرح انہیں رسوائی کا سامنا کرنا پڑے۔ ان کی معاندانہ حوصلہ شکنیوں کی وجہ سے قرآن مجید نے ان پر سخت وار کئے ہیں اور قرآن مجید کی ایک سورت (منافقون) ان کے طور طریقوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ توبہ،حشر اور بعض دوسری سورتوں میں بھی انہیں ملامت کی گئی ہے اور اسی سورہ بقرہ کی تیرہ آیات انہی کی صفات اور انجام بد سے متعلق ہیں۔
وجدان کو دھوکا دینا
۵۔ وجدان کو دھوکا دینا: مسلمانوں کے لئے سب سے بڑی مشکل منافقین سے رابطے کے سلسلے میں تھی کیونکہ ایک طرف تو وہ مامور تھے کہ جو شخص اظہار اسلام کرے، کشادہ روئی سے استقبال کیا جائے اور ان کے عقائد کے سلسلے میں جستجو اور تفتیش نہ کی جائے اور دوسری طرف منافقین کے منصوبوں کی نگرانی کا کام تھا۔ منافق اپنے تئیں جب حق کا ساتھی اور ایک فرد مسلمان کی حیثیت سے متعارف کرواتا تو ا س کی بات قبول کرنا پڑتی جب کہ باطنی طور پر وہ اسلام کے لئے سد راہ ہوتا اور اس کے خلاف سوگند کھائے ہوئے دشمنوں میں سے ہوتا۔ یہ گروہ اس راہ کو اپنا کر اس زعم میں تھا کہ خدا اور مومنین کو ہمیشہ دھوکہ دے سکے گا۔ حالانکہ یہ لوگ لا شعوری طور پر اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے تھے۔ یخادعون اللہ و الذین آمنوا کی تعبیر دقیق معنی دیتی ہے (مخدوعہ کے معنی ہیں دونوں طرف سے دھوکہ دینا)یہ لوگ ایک طرف تو کور باطنی کی وجہ سے اعتقاد رکھتے تھے کہ نبی اکرم(ﷺ) دھوکہ باز ہیں اور انہوں نے حکومت کے لئے دین و نبوت کا ڈھونگ رچا رکھا ہے اور سادہ لوح لوگ ان کے گرد جمع ہو گئے ہیں لہذا ان کا مقابلے میں دھوکا ہی کرنا چاہئے۔ اس بناء پر ان منافقین کا کام ایک طرف تو دھوکا و فریب تھا، دوسری طرف نبی اکرم(ﷺ) کے بارے میں اس قسم کا غلط اعتقاد رکھتے تھے لیکن جملہ "و ما یخدعون الا انفسھم و ما یشعرون"، ان کے دونوں ارادوں کو خاک میں ملاتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ جملہ ایک طرف تو یہ ثابت کرتا ہے کہ دھوکہ و فریب صرف انہی کی طرف سے ہے ۔ دوسری طرف کہتا ہے کہ اس فریب کی باز گشت بھی انہی کی طرف ہے لیکن وہ سمجھتے نہیں۔ ان کا اصلی سرمایہ جو حصول سعادت کے لئے خدا نے ان کے وجود میں پیدا کیا ہے، وہ اسے دھوکہ و فریب کی راہ میں برباد کر رہے ہیں اور ہر خیر و نیکی سے تہی دامن اور گناہوں کا بھاری بوجھ اٹھائے دنیا سے جا رہے ہیں۔ کوئی شخص بھی خدا کو دھوکہ نہیں دے سکتا کیونکہ وہ ظاہر و باطن سے باخبر ہے۔ اس بناء پر یخادعون اللہ سے تعبیر کرنا اس لحاظ سے ہے کہ رسول خدا (ﷺ) اور مومنین کو دھوکہ دینا خدا کو دھوکہ دینے کی طرح ہے (دوسرے مواقع پر بھی قرآن میں ہے کہ خدا وند عالم، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور مومنین کی تعظیم کے لئے خود کو ان کی صف میں بیان کرتا ہے)، یا پھر یہ لوگ صفات خدا کو نہ پہچاننے کی وجہ سے اپنی کوتاہ و ناقص فکر سے واقعا یہ سمجھتے تھے کہ ہو سکتا ہے کوئی چیز خدا سے پوشیدہ ہو۔ ایسی نظیر قرآن مجید کی دیگر آیات میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ بہرحال زیر نظر آیت وجدان کو دھوکہ دینے کی طرف واضح اشارہ ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ گمراہ اور گناہ سے آلودہ انسان، برے اور غلط اعمال کے مقابلے میں وجدان کی سزا و سرزنش سے بچنے کے لئے اسے دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہے اور آہستہ آہستہ اپنے تئیں مطمئن کر لیتا ہے کہ نہ صرف اس کا عمل برا اور قبیح نہیں بلکہ باعث اصلاح ہے اور فساد کے مقابلے میں (انما نحن مصلحون)۔ یہ اس لئے کہ وجدان کو دھوکہ دے کر اطمینان سے غلط کام کو جاری رکھ سکے۔ امریکہ کے ایک صدر کے بارے میں کہتے ہیں کہ جب اس سے سوال کیا گیا کہ اس نے جاپان کے دو بڑے شہروں( ہیرو شیما اور ناگا ساکی) کو ایٹم بم سے تباہ کرنے کا حکم کیوں دیا تھا جب کہ اس سے دو لاکھ افراد بچے، بوڑھے اور جوان، ہلاک یا ناقص الاعضاء ہو گئے تو اس نے جواب دیا تھا کہ اگر ہم یہ کام نہ کرتے تو جنگ طویل ہو جاتی اور پھر زیادہ افراد کو قتل کرنا پڑتا۔ گویا ہمارے زمانے کے منافق بھی اپنے وجدان یا لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے ایسی باتیں اور ایسے بہت سے کام کرتے ہیں حالانکہ جنگ جاری رکھنے یا شہر کو ایٹم بم سے اڑانے کے علاوہ تیسری واضح راہ بھی تھی۔ وہ یہ کہ توسیع پسندی سے ہاتھ اٹھا لیں اور قوموں کو ان کے ملکوں کے سرمائے کے ساتھ آزادا رہنے دیں۔ نفاق، حقیقت میں وجدان کو فریب دینے کا وسیلہ ہے۔ کس قدر دکھ کی بات ہے کہ انسان اس اندرونی واعظ ، ہمیشہ بیدار و پہریدار اور خدا کے باطنی نمائندے کا گلا گھونٹ دے یا اس کے چہرے پر اس طرح پردہ ڈال دے کہ اس کی آواز کان تک نہ پہنچے۔
نقصان زدہ تجارت
۵۔ نقصان زدہ تجارت: اس دنیا میں انسان کی کار گزاریوں کو قرآن مجید میں بارہا ایک قسم کی تجارت سے تشبیہ دی گئی ہے اور حقیقت میں ہم سب اس جہان میں تاجر ہیں اور خدا نے ہمیں عقل،فطرت، احساسات، مختلف جسمانی قوی، نعمات دنیا, طبیعت اور سب سے آخر میں انبیاء کی رہبری کا عظیم سرمایہ عطا فرما کر تجارت کی منڈی میں بھیجا ہے۔ ایک گروہ نفع اٹھاتا ہے اور کامیاب و سعادت مند ہو جاتا ہے جب کہ دوسرا گروہ نہ صرف یہ کہ نفع حاصل نہیں کرتا بلکہ اصل سرمایہ بھی ہاتھ سے دے بیٹھتا ہے اور مکمل دیوالیہ ہو جاتا ہے ۔ پہلے گروہ کا کامل نمونہ مجاہدین راہ خدا ہیں۔ جیسا کہ قرآن ان کے بارے میں کہتا ہے: یا ایھا الذین آمنوا ھل ادلکم علی تجارة تنجیکم من عذاب الیم، تومنون باللہ و رسولہ و تجاہدون فی سبیل اللہ باموالکم و انفسکم۔ (صف ، ۱۰،۱۱) اے ایمان والو ! کیا تمہیں ایسی تجارت کی راہنمائی نہ کروں جو تمہیں دردناک عذاب سے نجات دے اور سعادت ابدی کا ذریعہ ہو۔ خدا اور اس کے سول پر ایمان لے آؤ اور اس کی راہ میں مال و جان سے جہاد کرو۔ دوسرے گروہ کا واضح نمونہ منافقین ہیں۔ منافقین جو مخرب اور مفسد کام اصلاح و عقل کے لباس میں انجام دیتے تھے۔ قرآن گذشتہ آیات میں ان کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے "وہ ایسے لوگ جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی کو خرید لیا ہے اور یہ تجارت ان کے لئے نفع بخش ہے نہ ہی باعث ہدایت"۔ وہ لوگ ایسی پوزیشن میں تھے کہ بہترین راہ انتخاب کرتے۔ وہ وحی کے خوشگوار او رمیٹھے چشمے کے کنارے موجود تھے اور ایسے ماحول میں رہتے تھے جو صدق و صفا اور ایمان سے لبریز تھا۔ بجائے اس کے کہ وہ ا س خاص موقع سے بڑا فائدہ اٹھاتے جو طویل صدیوں میں ایک چھوٹے سے گروہ کو نصیب ہوا، انہوں نے ایسی ہدایت کھو کر گمراہی خرید لی جو ان کی فطرت میں تھی اور وہ ہدایت جو وحی کے ماحول میں موجزن تھی، ان تمام سہولتوں کو وہ اس گمان میں ہاتھ سے دے بیٹھے کہ اس سے وہ مسلمانوں کو شکست دے سکیں گے اور خود ان کے گندے دماغوں میں پرورش پانے والے برے خواب شرمندہ تعبیر ہو سکیں گے جبکہ اس معاملے اور غلط انتخاب میں انہیں دو بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا : ایک، یہ کہ ان کا مادی اور معنوی دونوں قسم کا سرمایہ تباہ ہو گیا اور اس سے انہیں کوئی فائدہ بھی نہ پہنچا۔ دوسرا، یہ کہ وہ اپنے غلط مطمع نظر کو پا بھی نہ سکے کیونکہ اسلام تیزی کے ساتھ آگے بڑھ گیا اور صفحہ ہستی پر محیط ہو گیا اور یہ منافقین بھی رسوا ہو گئے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔
منافقین کے حالات واضح کرنے کے لئے دو مثالیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 1منافقین کے حالات واضح کرنے کے لئے دو مثالیں منافقین کی صفات و خصوصیات بیان کرنے کے بعد قرآن مجید ان کی کیفیت کی تصویر کشی کے لئے زیر نظر آیات میں دو واضح مثالیں اور تشبیہیں بیان کرتا ہے: ۱۔ پہلی مثال میں ہے کہ وہ اس شخص کی مانند ہیں جس نے (سخت تاریک رات میں) آگ روشن کی ہو (تاکہ اس کی روشنی میں سیدھے اور ٹیڑھے راستے کی پہچان کر سکے اور منزل مقصود تک پہنچ جائے)( مثلھم کمثل الذی استوقد نارا)۔ مگر جب آگ کے شعلوں نے گرد و پیش کو روشن کر دیا تو خداوند عالم نے اسے بجھا دیا اور انہیں تاریکیوں میں چھوڑ دیا۔ اس عالم میں کہ وہ کسی چیز کو نہیں دیکھ سکتے (فَلَمَّا آضَائَتْ مَا حَوْلَہُ ذَہَبَ اللهُ بِنُورِہِمْ وَتَرَکَہُمْ فِی ظُلُمَاتٍ لاَیُبْصِرُونَ)۔وہ سمجھتے تھے کہ اس تھوڑی سی آگ اور اس کی روشنی سے تاریکیوں کے ساتھ بر سرپیکار رہ سکیں گے مگر اچانک آندھی اٹھی یا سخت بارش برسی یا ایندھن ختم ہو گیا اور آگ، سردی اور خاموشی میں بدل گئی۔ یوں وہ دوبارہ وحشت ناک تاریکی میں سر گرداں ہو گئے۔ اس کے بعد قرآن کہتا ہے کہ وہ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں اور چونکہ ادراک حقائق کا کوئی وسیلہ ان کے پاس نہیں رہا لہذا وہ اپنے راستے سے پلٹیں گے نہیں (صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ فَہُمْ لاَیَرْجِعُونَ)۔ یہ کس قدر باریک اور واضح مثال ہے۔ انسانی زندگی میں ٹیڑھے راستے تو بہت ہیں لیکن خط مستقیم جو منزل مقصود تک پہنچتا ہے وہ ایک سے زیادہ نہیں۔ لیکن ٹیڑھے خط تو بہت ہیں۔ علاوہ از ایں اس راستے میں تاریکیوں کے پردے، وحشتناک طوفان اور قسم قسم کے حوادث ہیں لہذا ایک ایسے روشن چراغ کی ضرورت ہے جو ان حوادث سے محفوظ رہ سکے۔ وہ تاریکی کے پردوں کو چاک کر سکے اور طوفانوں کا مقابلہ کر سکے اور ایسا چراغ سوائے چراغ عقل و ایمان اور خورشید وحی کے کوئی اور نہیں۔ مختصر شعلہ جو انسان وقتی طور پر روشن کرتا ہے، وہ اس طویل مسافت میں جس میں طوفان ہی طوفان ہیں کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔ منافقین نفاق کی راہ انتخاب کر کے یہ سمجھتے تھے کہ وہ ہر حال میں اپنی حیثیت و وجاہت کی حفاظت کر سکیں گے اور ہر احتمالی خطرے سے محفوظ رہ سکیں گے اور دونوں طرف سے منافع سمیٹ لیں گے اور جو گروہ بھی غالب ہوگا، ہمیں اپنے میں سے سمجھے گا۔ اگر مومن کامیاب ہوئے تو مومنین کی صف میں او راگر کافر غالب رہے تو ان کے ساتھ۔ وہ اپنے آپ کو چالاک اور ہوشیار سمجھتے تھے اور اس کمزور و ناپائیدار شعلے کی روشنی میں اپنی رہ حیات پر ہمیشہ کے لئے چلنا چاہتے تھے تاکہ خوشحالی تک جا پہنچیں لیکن قرآن نے انہیں بے نقاب کر دیا اور ان کے جھوٹ کو آشکار کر دیا۔ جیسا کہ قرآن میں ہے: اذا جائک المنافقون قالوا نشھد انک لرسول اللہ و اللہ یعلم انک لرسولہ و اللہ یشھد ان المنافقین لکاذبون۔ (منافقون ۱) جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو کہنے لگتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ خدا کے بھیجے ہوئے پیغمبر ہیں۔ خدا جانتا ہے کہ آپ اسی کے بھیجے ہوئے ہیں مگر خدا جانتا ہے کہ منافق اپنے اظہارات میں جھوٹے ہیں۔ یہاں تک کہ قرآن کفار کو بھی واضح کرتا ہے کہ یہ لوگ تمہارے ساتھ بھی نہیں ہیں، وہ جو بھی وعدے کرتے ہیں اس پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔ آلَمْ تَری إِلَی الَّذِینَ نَافَقُوا یَقُولُونَ لِإِخْوَانِہِمْ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ آہْلِ الْکِتَابِ لَئِنْ آخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَکُمْ وَلاَنُطِیعُ فِیکُمْ آحَدًا آبَدًا وَإِنْ قُوتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّکُمْ وَاللهُ یَشْہَدُ إِنَّہُمْ لَکَاذِبُونَ (۱۱) لَئِنْ آخْرِجُوا لاَیَخْرُجُونَ مَعَہُمْ وَلَئِنْ قُوتِلُوا لاَیَنْصُرُونَہُمْ وَلَئِنْ نَصَرُوہُمْ لَیُوَلُّنَّ الْآدْبَارَ ثُمَّ لاَیُنْصَرُونَ ۔ (حشر ۱۱، ۱۲) منافق اہل کتاب میں سے اپنے کافر بھائیوں سے وعدہ کرتے ہیں کہ اگر تمہیں مدینہ سے باہر نکالا گیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکلیں گے اور تمہارے بارے میں کسی بات پر کان نہیں دھریں گے اور اگر تمہارے ساتھ جنگ ہوئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے لیکن خدا گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹ بولتے ہیں، اگر انہیں باہر کیا گیا تو یہ ان کے ساتھ باہر نہیں جائیں گے۔ اور اگر ان (کافروں) سے جنگ ہوئی تو یہ ان کی مدد نہیں کریں گے۔ یہ تو (محاذ جنگ سے) بھاگ جائیں گے اور ثابت قدم نہیں رہیں گے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ قرآن نے جملہ "استوقد نارا" سے استفادہ کیا ہے یعنی وہ نور تک پہنچنے کے لئے نار کا سہارا لیں گے۔ وہ آگ کہ جس میں دھواں، خاکستر اور سوزش ہے جب کہ مومنین خالص نور اور ایمان کے روشن و پرفروغ چراغ سے بہرہ ور ہیں۔ منافقین اگرچہ نور ایمان کا اظہار کرتے ہیں لیکن ان کا باطن نار سے پر ہے او راگر نور ہو بھی تو کمزور اور تھوڑی مدت کا ہے۔ یہ مختصر نور وجدان و فطرت توحیدی کی روشنی کی طرف اشارہ ہے یا ان کے ابتدائی ایمان کی طرف جو بعد میں کورانہ تقلید ، غلط تعصب، ڈھٹائی اور عدوات کے نتیجے میں تاریک پردوں کی اوٹ میں چھپ گیا۔ قرآن کی نظروں میں یہ سیاہ پردے ظلمت نہیں بلکہ ظلمات ہیں۔ یہی چیزیں ہیں جو بالآخر ان سے دیکھنے والی آنکھ، سننے والا کان اور بولنے والی زبان چھین لیتی ہیں کیونکہ (جیسا پہلے بھی کہا جا چکا ہے) غلط راستے پر چلتے رہنا رفتہ رفتہ قوت تشخیص اور ادراک انسانی کو کمزور کر دیتا ہے یہاں تک کہ بعض اوقات اسے حقائق الٹ نظر آتے ہیں، اس کی نگاہ میں نیک بد ہو جاتا ہے، فرشتہ اسے جن نظر آنے لگتا ہے۔ بہرحال یہ تشبیہ در حقیقت نفاق کے سلسلے میں ایک واقعیت کو واضح کرتی ہے اور وہ یہ کہ نفاق و دو رخی طویل مدت کے لئے موثر نہیں ہو سکتی۔ منافق تھوڑی مدت تک اسلام کی خوبیوں اور مومنین کی معنویت و حفاظت سے سرفراز رہیں اور کفار سے پوشیدہ دوستی سے بھی بہرہ مند ہوں لیکن یہ ایک شعلہ ضعیف کی طرح ہے جو بیابان تاریک اور ظلمانی طوفانوں کی رد میں ہے۔ زیادہ دیر نہیں لگتی کہ ان کا حقیقی چہرہ آشکار ہو جاتا ہے اور کسب مقام و محبوبیت کی بجائے لوگ ان سے نفرت کرتے ہیں اور انہیں دور پھینک دیتے ہیں اور ان کی حالت اس شخص کی سی ہوتی ہے جو سرگرداں ہو، جس نے بیابان میں راستہ کھو دیا ہو اور چراغ بھی اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا ہو۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ آیہ ھو الذی جعل الشمس ضیاء والقمر نورا ( وہ خدا ہے جس نے سورج کو روشنی اور چاند کو نور بخشا ہے) کی تفسیر میں امام باقر(علیہ السلام) سے اس طرح منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: اضاء ت الارض بنور محمد کما تضیئی الشمس فضرب اللہ مثل محمد الشمس و مثل الوصی القمر۔ خداوند عالم نے روئے زمین کو محمد (ﷺ) کے وجود سے روشنی بخشی جس طرح آفتاب سے ۔ لہذا محمد(ﷺ) کو آفتاب سے اور ان کے وصی (علی علیہ السلام) کو چاند سے تشبیہ دی۔ یعنی نور ایمان وحی عالمگیر ہے جب کہ نفاق کا کوئی پرتو ہو بھی تو وہ اپنے گرد کے ایک چھوٹے سے دائرے میں اور بہت تھوڑی مدت کے لئے روشنی دیتا ہے (ما حولہ)۔ ۲۔ دوسری مثال میں قرآن ان کی زندگی کو ایک دوسری شکل میں پیش کرتا ہے: تاریک و سیاہ اور پرخوف و خطر رات ہے جس میں شدید بارش ہو رہی ہے۔ افق کے کناروں سے پرنور بجلی چمکتی ہے، بادلوں کی گرج اور بجلی کی کڑک اتنی وحشت ناک او رمہیب ہے کہ کانوں کے پردے چاک کئے دیتی ہے۔ وہ انسان جس کی کوئی پناہ گاہ نہیں، وسیع و تاریک اور خطرناک دشت و بیابان کے وسط میں حیران و سرگرداں کھڑا ہے، موسلا دھار بارش نے اس کی پشت کو تر کر دیا ہے۔ نہ کوئی جائے امان ہے اور نہ تاریکی چھٹتی ہے کہ قدم اٹھائے۔ مختصر سی عبارت میں قرآن یسے مسافر کی نقشہ کشی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ منافقین کی حالت یا ایسی ہے جیسے تاریک رات میں سخت بارش، گرج چمک اور بجلیوں کے ساتھ (رہگذروں کے سروں پر) برس رہی ہو (او کصیب من السماء فیہ ظلمات و رعد و برق)۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے کہ وہ اپنے کانوں میں انگلیاں رکھ لیتے ہیں تا کہ وحشت ناک بجلیوں کی آواز نہ سنیں (یجعلون اصابعھم فی آذانھم من الصواعق حذر الموت)۔ اور آخر میں فرماتا ہے: خداوند عالم کی قدرت کافروں پر محیط ہے، وہ جہاں جائیں اس کے قبضہ ٴ قدرت میں ہیں (واللہ محیط بالکافرین)۔ پے در پے بجلیاں صفحہ ٴ آسمان پر کوندتی ہیں۔ بجلیوں کی روشنی آنکھوں کو یوں خیرہ کئے دیتی ہے کہ قریب ہے کہ آنکھوں کو اچک لے (یکاد البرق یخطف ابصارھم)۔ جب بجلی چمکتی ہے اور صفحہ بیابان روشن ہو جاتا ہے تو مسافر چند قدم چل لیتے ہیں لیکن فورا تاریکی ان پر مسلط ہو جاتی اور وہ اپنی جگہ پر رک جاتے ہیں ( کُلَّمَا آضَاءَ لَہُمْ مَشَوْا فِیہِ وَإِذَا آظْلَمَ عَلَیْہِمْ قَامُوا)۔ وہ ہر لحظہ خطرہ محسوس کرتے ہیں کیونکہ اس وسط بیابان میں کوئی پہاڑ دکھائی دیتا ہے، نہ درخت نظر آتا ہے جو رعد اور برق و صاعقہ کے خطرے کو روک سکے۔ ہر وقت یہ خطرہ ہے کہ بجلی ان پر گرے اور وہ فورا خاکستر ہو جائیں۔ ہم جانتے ہیں کہ صواعق (آسمانی بجلیاں)زمین سے ابھر ی ہوئی چیز پر جملہ کرتی ہیں لیکن وسط بیابان میں سوائے ان اشخاص کے کوئی ابھری ہوئی چیز بھی نہیں کہ بجلی اس طرف متوجہ ہو لہذا خطرہ یقینی اور حتمی ہے یہ ذہن میں رکھتے ہوئے کہ کوہستانی علاقوں کی نسبت حجاز کے بیابانوں میں آسمانی بجلی کے انسانوں پر گرنے کا خطرہ نسبتا کئی گنا زیادہ ہے۔ اس مثال کی اہمیت اس علاقے کے لوگوں کے لئے زیادہ روشن ہوجاتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ وہ نہیں جانتے کہ کیا کریں، مضطرب و پریشان اور حیران و سرگرداں اپنی جگہ کھڑے ہیں۔ بیابان و ریگستان میں نہ راہ سجھائی دیتی ہے نہ کوئی راہنما نظر آتاہے جس کی راہنمائی میں قدم آگے بڑھا سکیں۔ یہ خطرہ بھی ہے کہ بادلوں کی گرج ان کے کانوں کے پردے پھاڑ دے اور آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی بجلی، بصارت چھین لے جائے اور ہاں خدا چاہے تو ان کے کان اور آنکھ کو ختم کر دے کیونکہ خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ( وَلَوْ شَاءَ اللهُ لَذَہَبَ بِسَمْعِہِمْ وَآبْصَارِہِمْ إِنَّ اللهَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیر)۔ منافقین بعینہ ان مسافروں کی طرح ہیں۔ مومنین کی تعداد میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے اور وہ سخت سیلاب او رموسلا دھار بارش کی طرح ہر طرف سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کے درمیان منافق موجود ہیں۔ افسوس کہ انہوں نے قابل اطمینان پناہ گاہ، "ایمان" سے پناہ نہیں لی تا کہ عذاب الہی کی فنا کر دینے والی بجلیوں سے نجات پا سکیں۔ مسلمانوں کا مسلح جہاد دشمنوں کے مقابلے میں رعد وصاعقہ کی سخت آواز کی طرح ان کے سر پر آ پڑتا ہے۔ کبھی کبھی راہ حق پیدا کرنے کے مواقع انہیں نصیب ہوتے ہیں کہ کچھ افکار بیدار ہوں مگر افسوس کہ یہ بیداری آسمانی بجلی کی طرح دیرپا نہ رہتی۔ چند ہی قدم چلتے تو بجھ جاتی اور غفلت کی تاریکی پھر توقف و سرگردانی کی جگہ لے لیتی۔ اسلام کی تیز پیش رفت، آسمانی بجلی کی طرح ان کی آنکھوں کو خیرہ کر چکی تھی اور آیات قرآنی ان کے پوشیدہ رازوں سے پردہ اٹھا دیتی تھیں اور بجلیوں کی طرح انہیں اپنا ہدف بناتی تھیں۔ انہیں ہر وقت احتمال ہوتا کہ کہیں کوئی آیت نازل ہو کر ان کے کسی اور راز سے پردہ نہ اٹھا دے اور وہ زیادہ رسوا نہ ہو جائیں۔ جیسا کہ قرآن سورہ توبہ، آیت ۶۴ میں فرماتا ہے: یحذر المنافقون ان تنزل علیھم سورة تنبئھم بما فی قلوبھم قل استھزء وا ان اللہ مخرج ما تحذرون۔ منافق اس سے ڈرتے ہیں کہ مبادا کوئی سورہ ان کے برخلاف نازل ہو او رجو کچھ وہ اپنے اندر چھپائے ہوئے ہیں وہ فاش ہو جائے۔ کہیے جتنا چاہتے ہو استہزاء کر لو، جس سے ڈرتے ہو خدا اسے ظاہر کر کے رہے گا۔ منافق اس سے بھی ترساں تھے کہ ان کے اسرار ظاہر ہو جانے کے بعد کہیں خدا کی طرف سے ان اندرونی خائن دشمنوں کے خلاف فرمان جنگ جاری نہ ہو جائے اور مسلمان جو اس وقت قوی اور طاقت ور ہو چکے ہیں ان پر حملہ نہ کردیں۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے: لَئِنْ لَمْ یَنْتَہِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ مَرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِی الْمَدِینَةِ لَنُغْرِیَنَّکَ بِہِمْ ثُمَّ لاَیُجَاوِرُونَکَ فِیہَا إِلاَّ قَلِیلًا۔ مَلْعُونِینَ آیْنَمَا ثُقِفُوا آخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِیلًا۔ (احزاب ۶۰، ۶۱) اگر منافقین اور وہ جن کے دل بیمار ہیں اور جھوٹی خبریں اڑا کر خوف، دہشت اور مایوسی پیدا کرتے ہیں اپنے برے کردار سے باز نہ آئے تو ہم ضرور ان کے خلاف تمہیں قیام کا حکم دیں گے تا کہ وہ تمہارے پڑوس میں نہ رہ سکیں اور وہ جہاں مل جائیں انہیں قابل نفرت افراد کی طرح گرفتار کر کے قتل کر دیا جائے۔ ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ منافق مدینہ میں انتہائی وحشت و سرگردانی میں مبتلا تھے۔ سخت لہجہ اور دو ٹوک آیات پے در پے رعد و برق آسمانی کی طرح ان کے خلاف نازل ہوتی تھیں اور انہیں ہر وقت احتمال رہتا تھا کہ ان کی سرکوبی یا کم از کم انہیں مدینہ سے نکل جانے کا حکم صادر نہ ہو جائے۔ اگرچہ ان آیات کی شان نزول زمانہٴ پیغمبر کے منافقین سے متعلق ہے لیکن چونکہ منافقین ہر عہد کے سچے اور حقیقی انقلابوں کے مقابلے میں موجود رہتے ہیں، اس لئے ہر عصر و قرن کے منافقین کے لئے یہ آیات وسعت رکھتی ہیں۔ ہم اپنی آنکھوں سے ایک ایک کرکے یہ تمام نشانیاں سر مو فرق کے بغیر اپنے زمانے کے منافقین میں دیکھ رہے ہیں۔ ان کی سرگردانی، ان کا اضطراب، غرضیکہ ان کی بیچارگی، بدبختی اور رسوائی بالکل اس مسافر کی طرح نظر آتی ہے جس کی قرآن نے نہایت وضاحت اور خوبصورتی سے تصویر کشی کی ہے۔ دونوں مثالوں کا فرق: زیر نظر آیات میں پہلی او ردوسری مثال ایک دوسرے سے کیا فرق رکھتی ہے۔ اس سلسلے میں دو تفسیریں موجو د ہیں: i. پہلی یہ کہ پہلی آیت (مثلھم کمثل الذی)، ان منافقین کی طرف اشارہ کرتی ہے جو ابتداء میں سچے مومنین کی صف میں داخل ہوئے اور حقیقتا ایمان لائے تھے لیکن یہ ایمان مستقر اور مستحکم نہ تھا لہذا وہ نفاق کی طرف جھک گئے۔ باقی رہی دوسری مثال (او کصیب من السماء) تو وہ ان منافقین کی حالت بیان کرتی ہے جو ابتداء ہی سے منافقین کی صف میں تھے اور ایک لحظہ کے لئے بھی ایمان نہیں لا ئے۔ ii. دوسری تفسیر یہ ہے کہ پہلی مثال افراد کی حالت کو واضح کرتی ہے اور دوسری مثال معاشرے کی کیفیت بیان کرتی ہے۔ لہذا پہلی مثال میں ہے "مثلھم کمثل الذی" ان لوگوں کی مثال اس شخص جیسی ہے اور دوسری مثال میں ہے "او کصیب من السماء فیہ ظلمت و رعد و برق" یا ان کی مثال ایسی ہے کہ موسلا دھار بارش جو آسمان سے برستی ہے اور اس میں تاریکیاں ، رعد اور برق ہے، جو وحشت نا ک ہے اور خوف و خطر سے بھر پور ہے کہ جس میں منافق زندگی گزارتے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔
اس خدا کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا
Tafsīr Nemūna · Vol. 1گذشتہ آیات میں خداوند عالم نے تین گروہوں (پرہیز گار، کفار اور منافقین) کی تفصیل بیان کی ہے اور بتایا ہے کہ پرہیزگار ہدایت الہی سے نوازے گئے ہیں اور قرآن ان کا راہنما ہے جب کہ کفار کے دلوں پر جہل و نادانی کی مہر لگا دی ہے اور ان کے برے اعمال کی وجہ سے ان کی آنکھوں پرغفلت کا پردہ ڈال دیا ہے اور ان سے حس تمیز چھین لی ہے اور منافق ایسے بیمار دل ہیں کہ ان کے برے عمل کے نتیجے میں ان کی بیماری بڑھا دی ہے۔ زیر بحث آیات میں تقابل کے بعد سعادت و نجات کی راہ جو پہلے گروہ کے لئے ہے، واضح طور پر مشخص کرتے ہوئے فرماتا ہے: اے لوگو! اپنے پروردگار کی پرستش و عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تا کہ تم پرہیزگار بن جاؤ(یَااٴَیُّہَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّکُمْ الَّذِی خَلَقَکُمْ وَالَّذِینَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُون)۔ چند اہم نکات ۱۔ یایھا الناس کا خطاب: اس کا مطلب ہے "اے لوگو"۔ اس خطاب کی قرآن میں تقریبا بیس مرتبہ تکرار ہے۔ یہ جامع اور عمومی خطاب ہے جو نشاندہی کرتا ہے کہ قرآن کسی قبیلے یا گروہ سے مخصوص نہیں بلکہ اس کی دعوت عام ہے اور یہ سب کو ایک یگانہ خدا کی دعوت دیتا ہے اور ہر قسم کے شرک اور راہ توحید سے انحراف کا مقابلہ کرتا ہے۔ ۲۔ خلقت انسان نعمت خداوندی ہے: انسان کے جذبہ ٴ تفکر کو ابھارنے کے لئے اور اسے عبادت پروردگار کی طرف مائل کرنے کے لئے قرآن اپنی گفتگو کا آغاز انسانوں کی خلقت و آفرینش سے کرتا ہے جو ایک اہم ترین نعمت ہے۔ یہ وہ نعمت ہے جو خدا کی قدرت، علم و حکمت اور رحمت خاص و عام کی نشانی ہے کیونکہ انسان جو عالم ہستی کا مکمل نمونہ ہے۔ اس کی خلقت میں خدا کے غیر متناہی علم و قدرت اور اس کی وسیع نعمتیں مکمل طور پر نظر آتی ہیں۔ جو لوگ خدا کے سامنے نہیں جھکتے اور اس کی عبادت نہیں کرتے، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی اور اپنے سے پہلے لوگوں کی خلقت میں غور نہیں کرتے۔ وہ نکتے کی طرف متوجہ نہیں ہیں کہ اس عظیم خلقت کو گونگی اور بہری طبیعت کے عوامل سے منسوب نہیں کیا جا سکتا اور ان بے حساب و بینظیر نعمتوں کو جو انسانی جسم و جان میں نمایاں ہیں، سوائے اس مبداء کے نہیں سمجھا جا سکتا جس کا علم اور قدرت لامتناہی ہے۔ اس بناء پر ذکر نعمت ایک تو خدا شناسی کے لئے دلیل ہے اور دوسرا شکر گزاری اور عبادت کے لئے محرک ہے۔ ۳۔ عبادت کا نتیجہ__ تقوی و پرہیزگاری (لعلکم تتقون): ہماری عبادتیں اور تسلیمات خدا کے جاہ وجلال میں اضافے کا باعث نہیں۔ اسی طرح ان کا ترک کرنا اس کے مقام کی عظمت میں کمی کا باعث نہیں۔ یہ عبادت تو "تقوی" کا سبق حاصل کرنے کے لئے تربیتی کلاسیں ہیں اور تقوی وہی احساس ذمہ داری اور انسان کے جذبہٴ باطن کا نام ہے جو انسان کی قیمت کا معیار اور مقام شخصیت کا میزان و ترازو ہے۔ ۳۔ الذین من قبلکم: یہ شاید اس طرف اشارہ ہے کہ اگر تم بتوں کی پرستش میں اپنے آباؤ و اجداد کی سنت سے استدلال کرو تو خدا جو تمہیں پیدا کرنے والا ہے، وہی تمہارے آباؤ اجداد کا مالک و پروردگار ہے۔ اس بناء پر بتوں کی پرستش تمہاری طرف سے ہو چاہے ان کی طرف سے کجروی کے سوا کچھ نہیں۔
نعمت آسمان و زمین
زیر نظر دوسری آیت میں خدا کی عظیم نعمتوں کے ایک اور پہلو کی طرف اشارہ ہے جو ہمارے لئے شکر گزاری کا سبب ہو سکتا ہے۔ پہلے زمین کی پیدائش کے بارے میں گفتگو ہے۔ کہتا ہے "وہی خدا جس نے زمین کو تمہارے لئے آرام دہ بچھونا قرار دیا"۔ الذی جعل لکم الارض فراشا۔ یہ رہوار جس نے تمہیں اپنی پشت پر سوار کر رکھا ہے،اس فضا میں بڑی تیزی کے ساتھ اپنی مختلف حرکات جاری رکھے ہوئے ہے جب کہ اس سے تمہارے وجود میں کوئی حرکت و لرزش پیدا نہیں ہوتی۔ یہ اس کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے۔ اس زمین کی کشش ثقل کی وجہ سے تمہیں حرکت اور استراحت، گھر اور آشیانہ،باغ اور کھیتی اور قسم قسم کے وسائل زندگی میسر ہیں۔ کبھی آپ نے غور کیا کہ زمین کی کشش ثقل بھی ایک نعمت ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو چشم زدن میں ہم سب اور ہماری زندگی کے سب وسائل زمین کی دورانی حرکت کے نتیجے میں فضا میں جا پڑیں اور سر گرداں پھرتے رہیں۔ زمین بچھونا ہے: زمین کو بستر استراحت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ کس قدر خوبصورت تعبیر ہے۔ بستر میں نہ صرف اطمینان، آسودگی خاطر اور استراحت کا مفہوم پنہاں ہے بلکہ گرم و نرم ہونا اور حداعتدال میں رہنے کے معنی بھی اس میں پوشیدہ ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ عالم تشیع کے چوتھے پیشوا امام سجاد علی بن الحسین )علیہ السلام(نے اپنے ایک بہترین بیان میں اس آیت کی تفسیر میں اس حقیقت کی تشریح فرمائی ہے: جعلھا ملائمةلطباعکم موافقة لاجساکم و لم یجعلھا شدید الحمی و الحرارة فتحرقکم ولا شدیدة البرد فتحمدکم و لا شدیدة طیب الریح فتصک ہا ما تکم و لا شدیدة النتن فتعتبکم و لا شدیدة اللین کالماء فتغرقکم و لا شدیدة الصلابة فتمنح علیکم فی دورکم و ابنیتکم و قبور موتاکم فلذا جعل الارض فراشا لکم۔ خدا نے زمین کو تمہاری طبیعت اور مزاج کے مطابق بنایا اور تمہارے جسم کی موافقت کے لئے اسے گرم اور جلانے والی نہیں بنایا کہ اس کی حرارت سے تم جل جاؤ اور اسے زیادہ ٹھنڈا بھی پیدا نہیں کیا کہ کہیں تم منجمد ہو جاؤ۔ اسے اس قدر معطر اور خوشبودار پیدا نہیں کیا کہ اس کی تیز خوشبو تمہارے دماغ کو تکلیف پہنچائے اور اسے بدبودار بھی پیدا نہیں کیا کہ کہیں تمہار ہلاکت کا ہی سبب بن جائے۔ ایسے پانی کی طرح نہیں بنایا کہ تم اس میں غرق ہو جاؤ اور اتنا سخت بھی نہیں بنایا تاکہ تم اس میں گھراور مکانات بنا سکو اور مردوں کو (جن کا سطح زمین پر رہ جانا گوناگوں پریشانیوں کا باعث ہوتا) اس میں دفن کر سکو۔ ہاں خدا ہی نے زمین کو تمہارے لئے ایسا بستر استراحت قرار دیا ہے۔)بحوالہ: نور الثقلین، ج ۱ ص۴۱(۔ پھر نعمت آسمان کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: آسمان کو تمہارے سروں پر چھت جیسا بنایا ہے (والسماء بناء)۔ لفظ "بناء" اور لفظ علیکم کی طرف توجہ کریں تو یہ بیان ہوتا ہے کہ آسمان تمہارے سر کے اوپر بالکل چھت کی طرح بنا ہوا ہے۔ یہی معنی زیادہ صراحت کے ساتھ قرآن میں ایک اورجگہ بھی ہے: و جعلنا السماء سقفا محفوظا۔ (انبیاء ۳۲) اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنایا ہے۔ شاید یہ تعبیر بعض ایسے افراد کے لئے عجیب و غریب ہو جو آسمان و زمین کی عمارت کی کیفیت کو آج کے علم ہئیت کی نظر سے جانتے ہیں۔ یعنی یہ چھت کیونکر ہے اور کہاں ہے۔ بطلیموس کی فرضی ہئیت جس کے مطابق افلاک ایک دوسرے پر پیاز کے چھلکوں کی طرح ہیں، کیا یہ تعبیر اس مفہوم کو تو ہمارے دلوں میں بٹھانا نہیں چاہتی ؟ مندرجہ ذیل توضیح کی طرف توجہ کرنے سے مطلب پورے طور پر واضح ہوجاتا ہے: لفظ "سماء" قرآن میں مختلف معانی کے لئے آیا ہے جس میں مشترک قدر وہ چیز ہے جو مندرجہ بالا جہت میں ہے۔ ان میں سے ایک معنی جس کی طرف اس آیت میں ارشاد ہوا ہے، وہ وہی فضائے زمین ہے۔ یعنی ہوائے متراکم کا چھلکا اور چمڑا جس نے ہر طرف سے کرہٴ ارض کو چھپایا ہو اہے اور علماء و دانشوروں کے نظریے کے مطابق اس کی ضخامت کئی سو کلومیٹر ہے۔ اب اگر ہم اس ہوا کے قشر ضخیم کے اساسی اور حیاتی نقش کے بارے میں جس نے زمین کو ہر طرف سے گھیرا اور احاطہ کیا ہوا ہے، غور کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ چھت انسانوں کی حفاظت کے لئے کس قدر محکم اور موثر ہے۔ یہ مخصوص ہوائی جلد جو بلوریں چھت کی طرح ہمارے گرد احاطہ کئے ہوئے ہے، سورج کی حیات بخش شعاعوں کے پہنچنے سے مانع بھی نہیں اور محکم و مضبوط بھی ہے بلکہ کئی میٹر ضخیم فولادی تہوں سے زیادہ مضبوط ہے۔ اگر یہ چھت نہ ہوتی تو زمین ہمیشہ پراکندہ آسمانی پتھروں کی بارش کی زد میں رہتی اور عملی طور پر لوگوں سے راحت و اطمینان چھن جاتا لیکن یہ سخت جلد جو کئی سو کلومیٹر ہے۔) بہت سی کتب میں اس ہوائی جلد کی ضخامت ایک سو کلو میٹر لکھی ہوئی ہے لیکن بظاہر ان کا مقصود وہ جگہ ہے جہاں ہوا کے سالمے(Molecules) نسبتا زیادہ نزدیک ہیں لیکن موجودہ سائنس نے ثابت کیا ہے کہ چند سو کلو میٹر کی ضخامت میں ہوا کے سالمے پراکندہ حالت میں موجود ہیں۔( تمام آسمانی پتھروں کو زمین کی سطح تک پہنچنے سے پہلے جلا کر نابود کر دیتی ہے اور بہت کم مقدار میں ایسے پتھر ہیں جو اس جلد کو عبور کرکے خطرے کی گھنٹی کے عنوان سے گوشہ و کنار میں آ گرتے ہیں لیکن یہ قلیل تعداد اہل زمین کے اطمینان میں رخنہ انداز نہیں ہو سکتی۔ منجملہ شواہد کے جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آسمان کے ایک معنی فضائے زمین ہے، وہ حدیث ہے جو ہمارے بزرگ پیشوا امام صادق (علیہ السلام) سے آسمان کے رنگ کے بارے میں منقول ہے ۔ آپ (علیہ السلام) فرماتے ہیں: اے مفضل! آسمان کے رنگ میں غور و فکر کرو کہ خدا نے اسے نیلے رنگ کا پیدا کیا ہے جو انسانی آنکھ کے لئے سب سے زیادہ موافق ہے۔ یہاں تک کہ اسے دیکھنا بینائی کو تقویت پہنچا تا ہے۔)بحوالہ: توحید مفضل (۔ آج اس چیز کو ہم سب جانتے ہیں کہ آسمان کا نیلا رنگ دراصل اس متراکم ہوا کا رنگ ہے جو زمین کو گھیرے ہوئے ہے۔ اس بناء پر اس حدیث میں آسمان سے مراد یہی فضائے زمینی ہے۔ سورہ نحل کی آیة ۷۹ میں ہے: الم یروا الی الطیر مسخرات فی جو ا لسماء۔ آیا وہ ان پرندوں کو نہیں دیکھتے جو وسط آسمان میں تسخیر شدہ ہیں۔ آسمان کے دوسرے معانی کے سلسلے میں اس سورت کی آیت ۲۹ میں آپ مزید صراحت سے مطالعہ کریں گے۔ اس کے بعد بارش کی نعمت کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے "اور آسمان سے پانی نازل کیا (وانزل من السماء ماء)۔ کیسا پانی__ جو حیات بخش، تمام آبادیوں کا سبب اور تمام مادی نعمتوں کا جامع ہے۔ جملہ "انزلنا من السماء" دوبارہ اس حقیقت کی تاکید کرتا ہے کہ سماء سے مراد یہاں وہی فضائے آسمانی ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ بارش بادلوں سے برستی ہے اور بادل فضائے زمین میں موجود بخارات سے پیدا ہوتے ہیں۔ امام سجاد علی بن الحسین (علیہ السلام) اس آیة کے ذیل میں بارش کے آسمان سے نازل ہونے کے بارے میں ایک جاذب نظر بیان میں ارشاد فرماتے ہیں: "خداوند عالم بارش کو آسمان سے نازل کرتا ہے تا کہ وہ پہاڑوں کی تمام چوٹیوں، ٹیلوں اور گڑھوں غرض تمام بلند و ہموار جگہوں تک پہنچ جائے(اور سب بغیر استثناء کے سیراب ہوں)اور یہ نرم زمین کے اندر چلی جائے۔ اور زمین اس سے سیراب ہو ۔ اسے سیلاب کی صورت میں نہیں بھیجا کہ مبادا زمینوں، درختوں، کھیتوں اور تمہارے پھلوں کو بہا لے جائے اور انہیں ویران کردے۔ " ( تفسیر نور الثقلین، جلد اول، ص ۲۱ کے مطابق حدیث کی عبارت اس طرح ہے: ینزلہ من اعلی لیبلغ قلل جبالکم و تلالکم و ھضابکم و اوھادکم ثم فرقة رذاذا و ابلا وھطلا لتنسشفہ ارضوکم و لم یجعل ذلک المطر نازلا قطعة و احدة فیفسد ارضیکم و اشجارکم و زروعکم و ثمارکم) اس کے بعد قرآن بارش کی برکت سے پیدا ہونے والے قسم قسم کے پھلوں اور ان روزیوں کی طرف جو انسانوں کا نصیب ہیں، اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے "خداوند عالم نے بارش کے سبب میوہ جات کو تمہاری روزی کے عنوان سے نکالا (فاخرج بہ من الثمرات رزقا لکم)"۔ یہ خدائی پروگرام ایک طرف خدا کی وسیع اور پھیلی ہوئی رحمت کو جو اس کے بندوں پر ہے مشخص کرتا ہے اور دوسری طرف اس کی قدرت کو بیان کرتا ہے۔ اس نے کس طرح بے رنگ پانی سے ہزاروں رنگوں کے میوے جو انسانی غذا کے لئے مختلف خصوصیات کے حامل ہیں اور اسی طرح دوسرے جاندار پیدا کئے جو اس کے وجود کے زندہ ترین دلائل میں سے ہیں۔ لہذا بلافاصلہ مزید کہتا ہے "جب ایسا ہی ہے تو پھر خدا کے شریک نہ بناؤ، جب کہ تمہیں معلوم ہے (فلا تجعلوا للہ اندادا وانتم تعلمون)"۔ تم سب جانتے ہو کہ ان بتوں اور خود ساختہ شرکاء نے تمہیں پیدا نہیں کیا اور نہ یہ روزی دیتے ہیں ۔ تمہارے پاس کوئی کم ترین نعمت بھی ان کی طرف سے نہیں پس کس طرح انہیں خدا کا شبیہ و نظیر قرار دیتے ہو۔ "انداد" جمع ہے "ند"(بروزن ضد) کی۔ اس کے معنی ہیں شریک و شبیہ۔ ظاہر ہے کہ یہ شباہت و شرکت بت پرستوں کے گمان میں تھی نہ یہ کہ اس کی کوئی حقیقت و واقعیت ہے یا زیادہ دقیق تعبیر کی بناء پر جیسے راغب نے مفردات میں کہا ہے "ند" و "ندید" وہ چیز ہے جو گوہر ذات میں کسی دوسری چیز کی شریک اور شبیہ ہو، اسی بناء پر ایک خاص قسم کی شباہت کے لئے یہ لفظ بولا جاتا ہے یعنی گوہر ذات میں ایک جیسا ہونا۔
بت پرستی مختلف شکلوںمیں
یہاں اس حقیقت کی طرف متوجہ ہونا ضرور ی ہے کہ خدا کا شریک قرار دینا یہی نہیں کہ پتھر اور لکڑی کے بت بنا لئے جائیں یا اس سے بڑھ کر انسان کو مثلا مسیح کو تین میں سے ایک خدا سمجھا جائے بلکہ اس کے وسیع تر معنی ہیں جو زیادہ اور پنہاں صورتوں پر بھی مشتمل ہیں۔ کلی قاعدہ یہ ہے کہ زندگی میں جس چیز کو بھی خدا کے ساتھ ساتھ سمجھا جائے__ وہ ایک قسم کا شرک ہے ۔ اس مو قع پر ابن عباس کی ایک عجیب تفسیر ہے۔ وہ کہتے ہیں: الانداد ھو الشرک الخفی من دبیب النمل علی صفاة سوداء فی ظلمة اللیل وھو ان یقول واللہ حیاتک یافلان ِوحیاتی… ویقول لو لا کلیہ ھذا لاتانا اللصوص البارحة… وقول الرجل لصاحبہ ماشاء اللہ وشئت ھذا کلہ بہ شرک۔ یعنی__ انداد وہی شرک ہے کبھی تاریک رات میں سیاہ پتھر پر ایک چیونٹی کی حرکت سے زیادہ مخفی ہوتا ہے ۔انسان کا یہ کہنا کہ خدا کی قسم اور تیری جان کی قسم ،یا خدا کی قسم اور مجھے میری جان کی قسم (یعنی خدا اور دوست کی جان یا خدا اور اپنی جان کو ایک ہی لائن میں قرار دینا)یا یوں کہنا کہ اگر یہ کتیا کل رات نہ ہوتی تو چور آ گئے تھے (لہذاچوروں سے نجات دلانے والی یہ کتیا ہے )یا پھر اپنے دوست سے کہے جو کچھ خدا چاہے اور تم پسند کرو__ ان سب میں شرک کی بو ہے۔)بحوالہ: فی ضلال سید قطب ،جلد اول ص۵۳(۔ ایک حدیث میں ہے: ایک شخص نے نبی اکرم )ﷺ( کے سامنے یہ جملہ کہا: ماشاء اللّہ ہ وشئت۔ )جو کچھ خدا اور آپ چاہتے ہیں ) آنحضرت )ﷺ( نے فرمایا: "اجعلنی للّہ ندا" (کیا تو نے مجھے اللہ کا شریک و ردیف قرار دیا )۔ عام لوگ روزانہ ایسی بہت سی باتیں کرتے رہتے ہیں مثلاً "پہلے خدا پھرتم "،باور کیجیے کہ ایک کامل موحد انسان کے لئے یہ تعبیرات بھی مناسب نہیں ہیں۔ سورہ یوسف آیت ۱۰۶ __ وما یومن اکثرھم بااللہ الا وھم مشرکون کی تفسیرکے ذیل میں امام صادق )علیہ السلام( سے ایک روایت ہے۔ آپ نے (شرک ِخفی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے )فرمایا: جیسے ایک انسان دوسرے سے کہتا ہے اگر تو نہ ہوتاتو میں نابود ہو جاتا یا میری زندگی تباہ ہو جاتی۔)بحوالہ: سفینةالبحار ،جلد اول ،ص۶۹۷(۔ اس کی مزید وضاحت اسی تفسیر میں سورہ یوسف ،آیت ۱۰۶کے ذیل میں ملاحظہ کیجئے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔
قرآن ہمیشہ رہنے والا معجزہ ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1قرآن ہمیشہ رہنے والا معجزہ ہے گزشتہ آیات کا موضوع سخن کفر و نفاق کبھی نبوت اور اعجاز پیغمبر)ﷺ( کے عدم ادراک کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ۔ لہذا زیر بحث آیات میں اسے بیان کیا گیا ہے ۔ خصوصیت کے ساتھ انگشت قرآن پر رکھ دی گئی ہے جو ہمیشہ رہنے والا معجزہ ہے ۔ یہ اس لئے کہ رسول اسلام)ﷺ( کی رسالت کے بارے میں ہر قسم کا شک و شبہ دور ہو سکے ۔ قرآن کہتا ہے: "اگر تمہیں اس چیز کے بارے میں جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کی ہے کوئی شک و شبہ ہے تو ایک سورت ہی اس جیسی لے آو" (ان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتوا بسورة من مثلہ )۔ ) بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ ضمیر "مثلہ"رسول اکرم)ﷺ( کے بارے میں ہے جنہیں قبل کے جملے میں "عبدنا"سے یاد کیا گیا۔ یعنی اگر اس وحی آسمانی کے حقیقی ہونے میں تمہیں شک ہے تو کوئی شخص محمد)ﷺ( جیسا پیش کرو جس نے بالکل تعلم حاصل نہ کی ہو اور نہ خط و کتابت سیکھی ہو، جو ایسا کلام پیش کر سکے ۔لیکن یہ بعید نظر آتا ہے کیونکہ قرآن میں دوسری جگہ یوں آیا ہے : فلیاتو بحدیث مثلہ۔ (طور-۳۴) ایک اور مقام پر ہے: فاتو بسورة مثلہ۔ (یونس ۳۸) اس سے یہ ظاہر ہو تا ہے کہ "مثلہ"قرآن کے لئے ہے، پیغمبر)ﷺ( کے لئے نہیں ۔( مقابلے کی دعوت اور چیلنج کو قطعی ہونا چاہئے اور دشمن کو پوری طرح تحریک پیدا کرنی چا ہیے اور اصطلاحاََ غیرت دلانی چاہیے تا کہ وہ پوری طاقت استعمال کر سکے۔ اس طرح جب عجز و ناتوانی ثابت ہو جائے گی تو وہ مسلم طور پر جان لے گا کہ جس چیز کے وہ مد مقابل ہے، وہ کار بشر نہیں بلکہ خدائی کام ہے۔ لہذا بعد والی آیت میں مختلف تعبیروں سے اسے بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے: "اگر تم اس کام کو انجام نہ دے سکے اور ہرگز نہ دے سکو گے لہذا اس آگ سے ڈرو کہ جس کا ایندھن بے ایمان آدمیوں کے بدن اور پتھر ہیں (فان لم تفعلوا و لن تفعلوا فاتقوا النار التی وقودھا الناس والحجارة)یعنی آگ ابھی سے کافروں کے لئے تیار ہے اور اس میں تاخیر نہ ہوگی (اعدت للکافرین)۔ "وقود" کے معنی ہیں وہ چیز جسے آگ پکڑ لے یعنی وہ مادہ جو جلنے کے قابل ہے جیسے لکڑیا ں۔ اس سے مراد وہ چیز نہیں جس سے آگ نکلے مثلا ماچس یا وہ خاص پتھر جن سے آگ کے شعلے نکلتے ہیں۔ مفسرین کا ایک گروہ کہتا ہے کہ"حجارة"سے وہ بت مراد ہیں جنہیں پتھر سے بنایا گیا تھا اور سورہ انبیا ء کی آیت ۹۸ کو اس کا شاہد قرار دیتا ہے: انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم۔ تم اور جن کی تم خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے، جہنم کا ایندھن ہیں۔ ایک اور گروہ کہتا ہے کہ "حجارة"سے مراد گندھک کے پتھر ہیں جن کی حرارت دوسرے پتھروں سے زیادہ ہے ۔لیکن بعض مفسرین کا نظر یہ ہے کہ اس تعبیر کا مقصد جہنم کی شدت حرارت کی طرف متوجہ کرنا ہے یعنی اس میں ایسی حرارت و تپش ہوگی جو پتھروں اور انسانوں کو بھی شعلہ ور کر دے گی ۔ گزشتہ آیات کے پیش ِنظر جو بات زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے، یہ ہے کہ جہنم کی آگ خود انسانوں اور پتھروں کے اندر سے نکلے گی اور یہ حقیقت آج ثابت ہو چکی ہے کہ جسموں کے اندر ایک عظیم آگ چھپی ہو ئی ہے (دوسرے لفظوں میں ایسی قوتیں موجود ہیں جوآگ میں تبدیل ہو سکتی ہیں)۔ یہ مفہوم سمجھنا مشکل نہیں اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ا س جلانے والی آگ کو اس دنیا کی عمومی آگ کی طرح سمجھا جائے ۔ سورہٴ ہمزہ آیہ ۶، ۷میں ہے : نار اللہ الموقدة التی تطلع علی الافئدة۔ خداکی جلا نے والی آگ، جس کا سرچشمہ دل ہیں اور جو اندر سے باہر کی طرف سرایت کر تی ہے (اس جہان کی آگ کے برعکس جو باہر سے اندر تک پہنچتی ہے )۔
انبیاء کے لئے معجزے کی ضرورت
ہم جانتے ہیں کہ نبوت و رسالت ایک عظیم ترین منصب ہے جو پاک لوگوں کے ایک گروہ کو عطا ہوا ہے کیونکہ دوسرے منصب و مقام جسموں پر حکمرانی کرتے ہیں لیکن نبوت وہ منصب ہے جو معاشرے کی روح اور دل پر حکومت کرتا ہے۔ جھوٹے مدعی اوربہت سے برے افراد اس کی رفعت و سربلندی کے ہی پیش نظر اس منصب کا دعویٰ کرتے ہیں اور اس سے غلط مفاد اٹھاتے ہیں ۔ لوگ یا تو ہر مدعی کے دعوی کو قبول کر لیں یا سب کی دعوت کو رد کر دیں ۔سب کو قبول کر لیں تو واضح ہے کہ کس قدر ہرج و مرج لازم آئے گا اور دین خدا کی کیا صورت بنے گی اور اگر کسی کو بھی قبول نہ کریں تو اس کا نتیجہ بھی گمراہی اور پسماندگی ہے۔ اس بناء پر جس دلیل کی رو سے انبیاء کا وجود ضروری ہے، اسی دلیل کی روشنی میں سچے انبیاء کے پاس ایسی نشانی ہونی چاہیے جو جھوٹے دعویدار وں سے انہیں ممتاز قرار دے اور وہ ان کی حقانیت کی سند ہو ۔ اس اصل کی بناء پر ضروری ہے کہ نبی معجزہ لے کر آئے جو اسکی رسالت کی صداقت کا شاہد ہو سکے اور جیسا کہ لفظ معجزہ سے واضح ہے، نبی خارق العادہ اعمال (و ہ کام جو عموما نہ ہو ئے ہوں )انجام دینے کی قدرت رکھتا ہو، جن کی انجام دہی سے دوسرے لوگ عاجز ہوں۔ نبی جو صاحب معجزہ ہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ لوگوں کو مقابلہ بمثل دعوت دے (یعنی کہے کہ ایسا کام تم بھی کر دکھاوٴ)اور اپنی گفتار کی سچائی کی علامت و نشانی کو اپنا معجزہ قرار دے تا کہ اگر دوسرے بھی ویسا کام کر سکتے ہیں تو بجا لائیں۔ اس کام کو اصطلاح میں تحدی (چیلنج)کہتے ہیں۔
قرآن رسول اسلام کا دائمی ومعجزہ
جو معجزات اور خار ق عادات پیغمبر اسلام)ﷺ( سے صادر ہوئے، قرآن ان میں سے آپکی حقانیت کی بلند ترین اور زندہ ترین سند ہے۔ قرآن، افکار بشرسے بلند تر کتاب ہے۔ کوئی اب تک ایسی کتاب نہیں لا سکا ۔یہ ایک ایسا عظیم آسمانی معجزہ ہے۔ گزشتہ انبیاء کے لئے ضروری تھا کہ وہ اپنے معجزات کے ساتھ ہوں اور ان کے اعجاز کو ثابت کرنے کے لئے مخالفین کو مقابلہ بمثل کی دعوت دیں۔در حقیقت ان کے معجزات کی اپنی کوئی زبان نہ تھی بلکہ انبیا کی گفتار ان کی تکمیل کرتی تھی ۔یہی بات قرآن کے علاوہ پیغمبر اسلام)ﷺ( کے دیگر معجزات پر بھی صادق آتی ہے۔ لیکن قرآن ایک بولنے والا معجزہ ہے۔ وہ تعار ف کرانے والے کا محتاج نہیں۔ وہ خود اپنی طرف دعوت دیتا ہے اور مخالفین کو مقابلے کے لئے پکارتا ہے ۔ انہیں مغلوب کرتاہے اور خود میدان مقابلہ سے کامیابی کے ساتھ نکلتا ہے۔ لہذا وفات نبی)ﷺ( کو صدیاں بیت گئیں مگر قرآن آپ کے زمانہ ٴحیات کی طرح آج بھی اپنا دعوی پیش کر رہا ہے ۔قرآن خود دین بھی ہے اور معجزہ بھی ،قانون بھی اور سند قانون بھی ،قرآن زمان و مکان کی سرحد سے مافوق ہے۔
گذشتہ انبیاء کے معجزات
بلکہ قرآن کے علاوہ آنحضرت)ﷺ( کے دیگر معجزات بھی معین و مشخص زمان و مکان اور مخصوص افراد کے سامنے ظہور پذیر ہوتے تھے ۔مثلا حضرت مریم کے نومولود بچے کی گفتگو ،مردوں کو زندہ کرنا اور حضرت مسیح کے ایسے دوسرے معجزات مخصوص زمان و مکان اور معین اشخاص کے لئے تھے ۔ہم جانتے ہیں کہ جو امور زمان و مکان کے رنگ سے ہم آہنگ ہوں گے، وہ اس زمان ومکان سے جتنا دور ہوں گے، ان کے رنگ روپ میں کمی واقع ہوگی اور یہ چیز امور زمانی کے خواص میں سے ہے۔ لیکن قرآن کسی خاص زمان و مکان سے وابستہ نہیں۔یہ جس طرح جس حالت میں چودہ سو سال قبل حجازکے تاریک ماحول میں جلوہ گر تھا، اسی طرح آج بھی ہم پر ضوفشاں ہے بلکہ رفتار زمانہ اور دانش کی پیش رفت کی وجہ سے ہم میں اس کی استعداد بڑھ گئی ہے کہ دور حاضر کے لوگوں کے لئے اس سے زیادہ استفادہ کر سکیں ۔یہ واضح ہے کہ جس پر اپنے زمان و مکان کا رنگ نہ ہو، وہ بعد تک اور سارے جہان تک رسائی حاصل کر سکے گا اور یہ ہے بھی واضح کہ ایک عالمی دین کےلئے ضروری ہے کہ وہ عالمی وابدی سند حقانیت رکھتا ہو ۔
قرآن روحانی کیوں ہے ؟
گذشتہ انبیاء سے جو خارق عادت امور ان کی گفتار کے سچے گواہ کے طور پر دیکھنے میں آتے ہیں، وہ عموما جسمانی پہلو رکھتے تھے ۔ ناقابل علاج بیماروں کو شفا دینا ، مردوں کو زندہ کرنا ،نوزائیدہ بچے کا گہوارے میں باتیں کرنا وغیرہ سب جسمانی پہلو رکھتے تھے اور انسان کی آنکھ اور کان کو مسخر کرتے تھے لیکن قرآنی الفاظ جو انہی عام حروف و کلمات سے مرکب ہیں، انسان کے دل و جان کی گہرائیوں میں اتر جاتے ہیں ، انسان کی روح انہیں عجیب و غریب سمجھتے ہوئے ان کےلئے احساسات تحسین سے معمور ہو جاتی ہے اور افکار و عقول کی تعظیم پر مجبور نظر آتی ہیں ۔یہ ایک ایسا معجزہ ہے جو صرف اذہان ،افکار اور روح سے سروکار رکھتا ہے۔ جسمانی معجزات پر ایسے معجزے کی برتری کسی وضاحت کی محتا ج نہیں۔
کیا قرآن نے مقابلے کے لئے چیلنج کیا ہے ؟
قرآن نے چند ایک سورتوں میں اپنی مثال لانے کے لئے چیلنج کیا ہے ۔اس کی کچھ مثالیں حسب ذیل ہیں : 1۔ سورہ اسراء آیہ ۸۸(یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی ) ہے: قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاتوا بمثل ھذا القرآن لا یاتون بمثلہ ولو کان بعضھم لبعض ظھیرا۔ کہیے کہ اگر تمام انسان اور جن جمع ہو جائیں تا کہ قرآن جیسی کتاب لے آئیں تو وہ ایسا نہیں کر سکتے اگرچہ خوب ہم فکر و ہم کا ر بھی ہو جائیں۔ 2۔ سورہ ہود (یہ بھی مکہ میں نازل ہوئی ) کی آیات ۱۳ اور ۱۴ میں یوں ہے: ام یقولون افتراہ قل فاتوا بعشر سور مثلہ مفتریت وادعوا من استطعتم من دون اللہ ان کنتم صدقین فالم یستجیبو لکم فاعلموا انما انزل بعلم اللہ۔ کیا وہ کہتے ہیں کہ یہ آیات خدا پر افتراء ہیں کہہ دے کہ اگر تم سچے ہو تو ایسی دس سورتیں گڑھ کے لے آؤ اور بدون خدا جسے مدد کی دعوت دے سکتے ہو دے لو --اور اگر انہوں نے اس دعوت کو قبول نہ کیا تو جان لو کہ یہ آیات خدا کی طرف سے ہیں ۔ 3۔ سورہ یونس ( جو مکہ میں نازل ہوئی ) کی آیت ۳۸ میں اس طرح ہے : ام یقولون افتراہ قل فاتوا بسورة مثلہ و ادعوا من استطعتم من دون اللہ ان کنتم صدقین۔ کیا وہ کہتے ہیں کہ خدا پر افتراء باندھا گیا ہے آپ کہیے کہ اس جیسی ایک سورت لا دکھاؤ اور خدا کے علاوہ ہر کسی کو مدد کے لئے طلب کر لو اگر تم سچے ہو۔ 4۔ چوتھی مثال یہی زیر بحث آیت ہے جو مدینہ میں نازل ہوئی۔ جیسا کہ واضح ہے کہ قرآن صراحت اور بے نظیر قاطعیت اور یقین کے ساتھ مقابلے کی دعوت دے رہا ہے۔ ایسی صراحت و قاطعیت جو حقانیت کی زندہ نشانی ہے۔ قرآن نے بہت قاطع اور صریح بیان کے ساتھ تمام جہانوں اور تمام انسانوں کو مقابلہ بمثل کی دعوت دی ہے جو قرآن کے مبداء جہان آفرینش کے ساتھ ربط میں شک رکھتے ہیں ۔صرف دعوت ہی نہیں دی بلکہ مقابلہ کا شوق بھی دلایا ہے اور اس کے لئے تحریک پیدا کی ہے اور ان آیات میں ایسے الفاظ صرف کئے ہیں جو ان کی غیرت کو ابھارتے ہیں ۔مثلا: ان کنتم صادقین۔ اگر تم سچے ہو ۔ فاتوا بعشر سور مثلہ مفتریت۔ ایسی دس سورتیں گڑھ لاؤ۔ قل فاتوا بسورة مثلہ ان کنتم صادقین۔ اگر تم سچے ہو تو ایسی ایک سورت ہی بنا لاؤ۔ وادعوا من استطعتم من دون اللہ۔ بدون خداجسے چاہو دعوت دو ۔ قل لئن اجتمعت الانس والجن۔ اگر تم جن و انس بھی ایکا کر لو ۔ لا یاتون بمثلہ۔ اس کی مثل نہیں لا سکتے۔ فاتقوا النار التی وقودھا الناس والحجارة ۔ اس آگ سے ڈروجس کا ایندھن (گنہگار)لوگوں کے بدن اور پتھر ہیں ۔ فان لم تفعلوا ولن تفعلوا۔ اگر اس کی مثل نہ لائے اور نہ ہی تم لا سکتے ہو ۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ صرف ادبی یا مذہبی مقابلہ نہ تھا بلکہ ایک سیاسی، اقتصادی اور اجتماعی مقابلہ تھا۔ تمام چیزیں یہاں تک کہ خود ان کے وجود کی بقا کا انحصار بھی اس مقابلے میں کامیابی پر نہ تھا۔ بہ الفاظ دیگر ایک مکمل مقابلہ تھا جو ان کی زندگی اور موت کی راہ اور سرنوشت کو روشن کر دیتا۔ اگر کامیاب ہو جاتے تو سب کچھ ان کے پاس ہوتا اور اگر مغلوب ہو جاتے تو اپنی بھی ہر چیز سے ہاتھ دھو بیٹھتے۔ اس سب کے باوجود تحریک و تشویق کا یہ عالم ہے۔ اس کے باوصف اگر ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے قرآن کے مقابلے میں گھٹنے ٹیک د یئے اور اس کا مثل نہ لا سکے تو قرآن کا معجزہ ہونا زیادہ واضح اور روشن تر ہو جاتا ہے۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ یہ آیات کسی خاص زمانے یا جگہ سے مخصوص نہیں بلکہ تمام جہانوں اور تمام علمی مراکز کو مقابلے کی دعوت دے رہی ہیں اور کسی قسم کا استثناء نہیں ہے اور یہ چیلنج آج بھی برقرار ہے۔
یہ کیسے معلوم ہوا کہ قرآن کی مثل نہ لائی جاسکی؟
تاریخ اسلام پر غور کرنے سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے کیونکہ اسلامی ممالک کے اندر رسول اکرم)ﷺ( کے زمانے میں اور آپ کے بعد یہاں تک کہ خود مکہ اور مدینہ میں کٹر اور متعصب عیسائی اور یہودی بستے تھے جو مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لئے ہر موقع کو غنیمت جانتے تھے ۔خود مسلمانوں میں بھی ایک "مسلمان نما "گروہ موجود تھا۔ قرآن نے ان کا نام منافق رکھا ہے۔ ان کے ذمہ مسلمانوں کے جاسوس کا رول ادا کرتا تھا جیسے ابوعامر، راہب اور مدینہ میں اس کے منافق ساتھی جن کے بادشاہ روم سے مخصوص روابط کا تاریخ میں تذکرہ موجود ہے ۔ مدینہ میں مسجد ضرار انہی لوگوں نے بنائی تھی جہاں سے وہ عجیب سازش وجود پذیر ہوئی جس کا قرآن نے سورہ توبہ میں ذکر کیا ہے۔ یہ طے شدہ بات ہے کہ منافقین کا یہ گروہ اور وہ متعصب اور کٹر دشمن گہری نظر سے مسلمانوں کے حالات کی تاک میں رہتے تھے اور وہ ہر چیز جو مسلمانوں کے نقصان کا باعث ہوتی اسے خوش آمدید کہتے تھے۔ اگر ان لوگوں کو اس قسم کی کتاب مل جاتی تو مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنے کے لئے اس کی ہر ممکن نشر واشاعت کرتے یا کم از کم اس کی حفاظت و نگہداشت کی کوشش کرتے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ا فراد جن کے متعلق نہایت کم احتمال بھی ہے کہ وہ قرآن کے مقابلہ میں کھڑے ہوئے ،تاریخ نے ان کے نام ریکارڈ کئے ہیں۔ ان میں سے بعض یہ ہیں: عبداللہ بن مفقع: اس نے اسی مقصد کے لئے کتاب "الدرة الیتیمة" تصنیف کی۔ کتاب ابھی موجود ہے اور کئی مرتبہ طبع ہو چکی ہے۔ اس کتاب میں اس بات کا چھوٹے سے چھوٹا بھی اشارہ نہیں کہ یہ قرآن کے مقابلہ میں لکھی گئی ہے۔ اس کے باوجود ہم نہیں جانتے کہ اس کی طرف نسبت کیوں دی گئی ہے۔ متنبی احمد بن حسین کوفی: یہ شاعر تھا ۔ اس کا نام بھی اس زمرے میں آتا ہے کہ اس نے دعویٰ نبوت کیا تھا جبکہ بہت سے قرائن نشاندہی کرتے ہیں کہ گھریلو ناکامیوں اور جاہ طلبی کی خواہش کے پیش نظر اس نے بلند پردازی کا یہ پروگرام بنایا تھا۔ ابوالعلای معری:اس کا نام بھی اس امر میں داخل ہے اگرچہ اسلام کے بارے میں اس سے منسوب سخت باتیں بیان کی گئی ہیں لیکن وہ قرآن کے مقابلہ کا ارادہ کبھی بھی نہ رکھتا تھا بلکہ اس نے قرآن کی عظمت کے متعلق بہت عمدہ جملے کہے ہیں جن میں بعض کی طرف اشارہ کیا جائے گا ۔ مسیلمہ کذاب: یہ یمامہ کا رہنے والا تھا اور یقینا ان اشخاص میں سے ہے جو قرآن کے مقابلہ میں کھڑے ہوئے اور بقول اس کے کچھ آیات لایا جن میں تفریع طبع کا پہلو زیادہ ہے۔ حرج نہیں کہ ان میں سے چند جملے ہم یہاں نقل کر دیں : سورہ الذاریات کے مقابلہ میں اس نے یہ جملے پیش کیے: i. والمبذرات بذرا والحاصدات حصدا والذاریات تمحا والطاحنات طحنا والعجنات عجنا والخابذات والثاردات ثردا والاقمات لقما اھا لة وسمنا۔)بحوالہ: اعجازلقرآن رافعی( یعنی __ قسم ہے کسانوں کی،قسم ہے بیج ڈالنے والوں کی اور قسم ہے گھاس کو گندم سے جدا کرنے والوں کی اور قسم ہے گندم کو گھاس سے الگ کرنے والوں کی۔ قسم ہے آٹاگوندھنے والیوں کی اور قسم ہے روٹی پکانے والوں کی اور قسم ہے ثرید بنانے والوں کی اور قسم ہے ان کی جو چرب و نرم لقمہ اٹھاتے ہیں۔ ii. یاضفدع بنت ضفدع نقی ماتنقین نصفک فی الما ء ونصفک فی الطین لا لماء مکدرین ولا الشاربین تمنعین۔)بحوالہ: قرآن و آخرین پیامبر( یعنی__ اے مینڈک!مینڈک کی بیٹی !جتنا چاہتی ہے آواز نکال۔ تیرا آدھا حصہ پانی میں ہے اور آدھا کیچڑ میں ۔پانی کو گدلا کرتی ہے اور نہ کسی کو پینے سے روکتی ہے ۔
قرآن کی عظمت کے بارے میں بڑے لوگوں کے چند جملے
یہاں ضروری ہے چند جملے بڑے لوگوں کے___ یہاں تک کہ جوقرآن کا مقابلہ کرنے میں متہم ہیں، نقل کئے جائیں تا کہ عظمت قرآن ظاہر ہو: ابوالعلای مصری:یہ قرآن کا مقابلہ کرنے میں متہم ہے ،کہتا ہے: "یہ بات تمام لوگوں میں چاہے مسلمان ہوں یا غیر مسلم، مورد اتفاق ہے کہ وہ کتاب جو محمد لے کر آیاہے، اس نے اپنے مقابلے میں عقلوں کو مغلوب کر دیا ہے اور آج تک کوئی ایسی کتاب نہیں لا سکا ۔اس کا طرز اسلوب عربوں کے معمول کے اسلوبوں، خطابہ، رجز، شعر اور کاہنوں کے مسجع کسی سے بھی مشابہت نہیں رکھتا ۔ کتاب میں اس قدر امتیاز اور کشش ہے کہ اگر اس کی ایک آیت کسی دوسرے کلمات میں موجود ہو تو شب تاریک میں چمکے ہوئے ستاروں کی طرح روشن ہوگی۔" ولید بن مغیرہ مخزومی:یہ ایسا شخص ہے جو حسن تدبیر کے باعث عربو ں میں شہرت رکھتا تھا۔ زمانہ ٴجاہلیت میں حل مشکلات کے لئے اس کے فکر و تدبر سے استفادہ کیا جاتا تھا ۔اسی لئے اسے "ریحانہٴ قریش "(قریش کا گلدستہ )کہا جاتا تھا ۔کہتے ہیں جب اس نے نبی کریم)ﷺ( سے سورہ غافر کی چند ابتدائی آیات سنیں تو بنی مخزوم کی ایک محفل میں آیا اور کہنے لگا: "خدا کی قسم میں نے محمد سے ایسی گفتگو سنی ہے جو کلام انسان سے شباہت رکھتی ہے نہ جنوں کی گفتگو ہے ۔" اس نے مزید کہا: وانّ لہ لحلاوة، ان علیہ لطلاوة وان اعلاہ لمثمر وان اسفلہ لمغدق، وانہ یعلو ولایعلٰی علیہ۔ اس کی گفتگو میں خاص مٹھاس اور حسن ہے ۔اس کا اوپر کا حصہ (بارآور درختوں کی طرح)پھلدار ہے اور نیچے کا حصہ (پرانے درختو ں کی جڑوں کی طر ح)بنیاد پر استوار ہے ۔یہ ایسی گفتگو ہے جو ہر ایک پر غالب ہے اور کوئی اس پر غالب نہیں آ سکتا ۔)بحوالہ: مجمع البیان ،جلد ۱۰،سورہٴ مدثر( کارلائل: یہ انگلستان کا مشہور موٴرخ اور محقق ہے جوقرآن کے بارے میں کہتا ہے: "اگر اس مقدس کتاب پرنظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ برجستہ حقائق اور وجود کے اسرار و خصائص نے اس کے جوہر دار مضامین میں ایسے پرورش پائی ہے جس سے قرآن کی عظمت و حقیقت وضاحت سے نمایاں ہوتی ہے۔ یہ خود ایک ایسی خوبی ہے جو صرف قرآن سے مخصوص ہے اور کسی دوسری علمی ،سیاسی اور اقتصادی کتاب میں نہیں دیکھی جا سکتی ۔یقینا بعض کتابیں ایسی ہیں جن کامطالعہ، ذہن انسانی پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے لیکن ان کا قرآن سے کبھی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس بناء پر کہنا چاہیئے کہ قرآن کی ابتدائی خوبیاں اور بنیادی دستاویزات جن کا تعلق حقیقت، پاکیزہ احساسات، برجستہ عنوانات اور اس مضامین سے ہے، ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہے ۔وہ فضائل جو تکمیل انسانیت اور سعادت بشر میں ہیں، اس میں ان کی انتہا ہے اور قرآن سے وضاحت ان فضائل کی نشان دہی کرتا ہے۔"(بحوالہ: سازمانہائے تمدن امپرطوری ا سلام) جان ڈیون پورٹ:یہ کتاب "عذر تقصیر بہ پیش گاہ محمد ی و قرآن " کا مصنف ہے ۔قرآن کے بارے میں لکھتا ہے: "قرآن، نقائص سے اس قدر مبرا و منزہ ہے کہ چھوٹی سی چھوٹی تصحیح اور اصلاح کا بھی محتاج نہیں ۔ممکن ہے کہ انسان اسے اول سے آخر تک پڑھتا جائے اور معمولی سی ملامت وافسردگی بھی محسوس نہ کرے۔" اس کے بعد مزید لکھتا ہے: "سب اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ قرآن سب سے زیادہ فصیح و بلیغ زبان اور عرب کے سب سے زیادہ نجیب اور ادیب قبیلے قریش کے لب و لہجے میں نازل ہوا اور یہ روشن ترین صورتوں اور محکم ترین تشبیہات سے معمورہے۔") مقدمہ کتاب "عذر تقصیر بہ پیش گاہ محمد و قرآن۔"(یہ اصل کتاب کے فارسی ترجمہ کا حوالہ ہے ۔مترجم) گوئٹے:یہ جرمن شاعر اور عالم ہے،کہتا ہے: "قرآن ایسی کتاب ہے کہ ابتدا میں قاری اس کی وزنی عبارت کی وجہ سے رو گردانی کرنے لگتا ہے لیکن اس کے بعد اس کی کشش کا فریفتہ ہو جاتا ہے اور پھر بے اختیار اس کی متعدد خوبیوں کا عاشق ہو جاتا ہے۔" یہی گوئٹے ایک اور جگہ لکھتا ہے: "سالہا سال تک خدا سے ناآشنا پوپ ہمیں قرآن اور اس کے لانے والے محمد کی عظمت سے دور رکھے رہے مگر علم و دانش کی شاہراہ پر جتنا ہم نے قدم آگے بڑھایا، جہالت و تعصب کے ناروا پردے ہٹتے گئے اور بہت جلد اس کتاب نے جس کی تعریف و توصیف نہیں ہو سکتی دنیا کو اپنی طرف کھینچ لیا ہے اور اس نے دنیا کے علم و دانش پر گہرا اثر کیا ہے اور آخر کار یہ کتاب دنیا بھر کے لوگوں کے افکار کا محور قرار پائے گی۔" مزید لکھتا ہے: "ہم ابتدا میں قرآن سے روگردان تھے لیکن زیادہ وقت نہیں گزرا کہ اس کتاب نے ہماری توجہ اپنی طرف کھینچ لی اور ہمیں حیران کردیا یہاں تک کہ اس کے اصول اور عظیم علمی قوانین کے سامنے ہم نے سر تسلیم خم کردیا۔"(سابقہ حوالہ) ول ڈیوران: یہ ایک مشہور مورخ ہے ، لکھتا ہے: "قرآن نے مسلمانوں میں اس طرح کی عزت نفس ،عدالت اور تقوی پیدا کیا ہے جس کی نظیر و مثال دنیا کے دوسرے ممالک میں نہیں ملتی۔" ژول لابوم: یہ ایک فرانسیسی مفکر ہے ۔ اپنی کتاب "تفصیل الآیات " میں کہتا ہے: "دنیا نے علم و دانش مسلمانون سے لی ہے اور مسلمانوں نے یہ علوم اس قرآن سے لئے ہیں جو علم و دانش کا دریا ہے اور اس سے عالم بشریت کے لئے کئی نہریں جاری ہوئی ہیں۔" دینورٹ: یہ ایک اور مستشرق ہے ، لکھتا ہے: "ضروری ہے کہ ہم اعتراف کر لیں کہ علوم طبیعی و فلکی اور فلسفہ و ریاضیات جو یورپ میں رواج پذیر ہیں، زیادہ تر تعلیمات قرآن کی برکت سے ہیں اور ہم مسلمانوں کے مقروض ہیں بلکہ اس لحاظ سے یورپ ایک اسلامی شہر ہے۔"(بحوالہ: قرآن برفراز اعصار بحوالہ المعجزہ الخالدة)۔ ڈاکٹر مسز لورا واکسیا گلیری:یہ ناٹل یونیورسٹی کی پروفیسر ہیں ۔"پیش رفت سریع اسلام " میں لکھتی ہیں: "اسلام کی کتاب آسمانی، اعجاز کا ایک نمونہ ہے۔ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس کی نظیر پیش نہیں کی جا سکتی ، قرآن کے اسلوب اور طرز کا نمونہ گذشتہ ادبیات میں نہیں پایا جاتا اور یہ طرز روح انسانی میں جو تاثیر پیدا کرتی ہے، وہ اس کے امتیاز ات اور بلند یوں سے پیدا ہوتی ہے۔ کس طرح ممکن ہے کہ یہ اعجاز آمیز کتاب محمد، خود ساختہ ہو جب کہ وہ ایک ایسا عرب تھا جس نے تعلیم حاصل نہیں کی ۔ ہمیں اس کتاب میں علوم کے خزینے اور ذخیرے نظر آتے ہیں جو نہایت ہوش مند اشخاص ، بزرگ ترین فلاسفہ اور قوی ترین سیاست دان اور قانون دان لوگوں کی استعداد اور ظرفیت سے بلند ہیں۔ اسی بنا ء پر قرآن کسی تعلیم یافتہ مفکر و عالم کا کلام نہیں ہو سکتا۔")بحوالہ: پیشرفت سریع اسلام ۔( یہ بھی اصل کتاب کے فارسی ترجمے کا حوالہ ہے ۔مترجم)
بہشتی نعمات کی خصوصیات
Tafsīr Nemūna · Vol. 1چونکہ گذشتہ بحث کی آخری آیت میں کفار اور منکرین قرآن کو دردناک عذاب کی تہدید کی گئی ہے لہذا زیر نظر آیت میں مومنین کی سرنوشت کا تذکرہ ہے تا کہ قرآن کے روش اور طریقہ کے مطابق دونوں کے مدمقابل ہونے سے حقیقت زیادہ روشن ہوتی رہے۔ پہلے کہتا ہے کہ ان افراد کو جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے اعمال صالح انجام دیئے ہیں بشارت دے دو کہ ان کے لئے بہشت کے باغ ہیں جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں (وبشر الذین امنوا وعملوا الصالحات ان لھم جنات تجری من تحتھا الانھار )۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ باغات جہاں ہمیشہ پانی نہیں ہوتا بلکہ باہر سے پانی لا کر انہیں سیراب کیا جاتا ہے، ان میں زیادہ طراوت نہیں ہوتی ۔ تر و تازگی تو اس باغ میں ہوتی ہے جس کے لئے پانی کا اپنا انتظام ہو اور پانی اس سے کبھی منقطع نہ ہوتا ہو ،ایسے باغ کو خشک سالی اور پانی کی کمی کا خطرہ نہیں ہوتا اور بہشت کے باغات اسی طرح کے ہیں ۔ اس کے بعد باغوں کے گوناگوں پھلوں کے بارے میں کہا ہے ہر زمانے میں ان باغوں کے پھل انہیں دیئے جائیں گے تو وہ کہیں گے یہ تو وہی ہے جو اس سے پہلے دیا گیا ہے (کلما رزقوا منھامن ثمرة رزقا قالوا ھذا الذی رزقنا من قبل)۔ مفسرین نے اس جملہ کی کئی تفسیریں بیان کی ہیں۔بعض کہتے ہیں اس کا مقصد یہ ہے کہ نعمات ان اعمال کی جزا ہیں جنہیں ہم پہلے دنیا میں انجام دے چکے ہیں اور یہ موضوع پہلے سے فراہم شدہ ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ جس وقت جنت کے پھل دوبارہ ان کے لئے لائیں جائیں گے تو وہ کہیں گے کہ یہ تو وہی میوہ ہے جو ہم پہلے کھا چکے ہیں لیکن جب اسے کھائیں گے تو وہ دیکھیں گے کہ ان کا ذائقہ نیا اور لذت تازہ ہے ۔مثلا سیب اور انگور جو اس دنیا میں کھاتے ہیں، ہر دفعہ وہی پہلے والا ذائقہ محسوس کرتے ہیں لیکن جنت کے میوے جس قدر بھی ظاہرا ایک قسم کے ہوں، ہر دفعہ ایک نیا ذائقہ دیں گے اور یہ اس جہاں کی خصوصیات میں سے ہے گویا وہاں تکرار نہیں ہے۔ کچھ اور حضرات کے نزدیک اسکا مقصد یہ ہے کہ جنت کے میووں کو دیکھیں گے تو انہیں دنیا کے میووں سے مشابہ پائیں گے تا کہ نامانوسی کا احساس نہ ہو لیکن جب کھائیں گے تو ان میں تازگی اور بہترین ذائقہ محسوس کریں گے ۔ بعید نہیں کہ آیت میں ان تمام مفاہیم و تفاسیر کی طرف اشارہ ہو کیونکہ قرآ ن کے الفاظ بعض اوقات کئی معنی کے حامل ہو تے ہیں۔) الفاظ کے ایک سے زیادہ معانی میں استعمال کی بحث میں ہم نے ثابت کیا ہے کہ اس میں کوئی اشکال نہیں ہے(۔ اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے ان کے لئے ایسے پھل پیش کئے جائیں گے جو ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہوں گے (و اتوا بہ متاشابہا) یعنی وہ سب خوبی اور زیبائی میں ایک جیسے ہوں گے۔ وہ ایسے اعلی درجہ کے ہوں گے کہ انہیں ایک دوسرے پر ترجیح نہ دی جا سکے گی ۔یہ اس دنیا کے میووں سے برعکس بات ہوگی جہاں بعض کچے ہوتے ہیں اور بعض زیادہ پک جاتے ہیں ۔بعض کم رنگ اور کم خو شبو ہوتے ہیں اور بعض خوش رنگ ،خوشبو دار اور معطر ہوتے ہیں ۔لیکن جنت کے باغات کے میوے ایک سے بڑھ کر ایک خوشبودار ،ایک سے ایک میٹھا اور ایک سے ایک بڑھ کر جاذب نظر اور زیبا ہوگا ۔ اور آخر میں جنت کی جس نعمت کا ذکر کیا گیا ہے وہ پاک پاکیزہ بیویاں ہیں ۔فرمایا:ان کے لئے جنت میں مطہر و پاک بیویاں ہیں (ولہم فیھا ازواج مطھرۃ)۔یہ ان تمام آلا ئشوں سے پاک ہوگی جو اس جہان میں ممکن ہے ان میں ہوں ۔گویا روح و دل پر نگاہ کریں تو پاک اور جسم و بدن پر نگاہ ڈالیں تو پاک۔ دنیا کی نعمات جو مشکلات ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ جس وقت انسان کسی نعمت سے سرفراز ہوتا ہے، اس وقت اس کے زوال کی فکر بھی لاحق رہتی ہے اور اس کا دل پریشان ہو جاتا ہے ،اسی بناء پر یہ نعمتیں کبھی بھی اطمینان بخش نہیں رہتیں ۔لیکن جنت کی نعمتیں چونکہ ابدی اور جاودانی ہیں، ان کے لئے فنا اور زوال نہیں ہے ۔لہذا وہ ہر جہت سے کامل اور اطمینان بخش ہیں۔ اس کے آخر میں فرمایا: موٴمنین ہمیشہ ہمیشہ ان باغات بہشت میں رہیں گے ۔(وہم فیہا خلدون )۔
(۱) ایمان وعمل
قرآن کی بہت سی آیات میں ایمان اور عمل ِصالح ایک ساتھ بیان کئے گئے ہیں ۔ یہ ایک طرح کی اس بات کی نشان دہی ہے کہ ان میں جدائی نہیں ہو سکتی اور حقیقتا ایسا ہی ہے کیونکہ ایمان و عمل صالح ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ اگر ایمان روح کی گہرائیوں میں اتر جائے تو یقینا اس کی شعاع انسان کے اعمال کو بھی روشن کرے گی اور اسکے عمل کو عمل ِصالح بنا دے گی ۔جیسے کوئی چراغ پر نور کسی کمرے میں جلا دیں تو روشندان اور دریچوں سے باہر بھی اس کی کرنیں دکھائی دیتی ہیں ۔ سورہ طلاق آیت ۱۱میں ہے: ومن یومن بااللہ ویعمل صالحا یدخلہ جنٰت تجری من تحتھا الانھار خلدین فیھا ابدا۔ جو خدا پر ایمان لے آئے اور عمل صالح انجام دے اسے خدا باغات بہشت میں داخل کرے گا جہاں درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں اورجہا ں جانے والے ہمیشہ اس میں رہیں گے ۔ سورہٴ نور آیت ۵۵میں ہے: وعد اللہ الذین آمنوا منکم وعملوا الصالحات لیستخلفنہم فی الارض۔ جو افراد ایمان لے آئیں اور اعمال صالح انجام دیں خدا کا ان سے وعدہ ہے کہ وہ انہیں روئے زمین کا خلیفہ بنائے گا ۔ اصلی طور پر ایمان جڑ ہے اورعمل صالح اس کا پھل اور میٹھے پھل کا وجود جڑ کی سلامتی کی دلیل ہے اور جڑ کی سلامتی مفید پھل کی پرورش کا سبب ہے۔ ممکن ہے بے ایمان لوگ کبھی کبھی عمل صالح انجام دیں لیکن یہ مسلم ہے کہ اس میں دوام اور ہمیشگی نہیں ہوگی۔ ایمان جو عمل صالح کا ضامن ہے ایسا ایمان ہے جس کی جڑیں وجود انسانی کی گہرائیوں میں پہنچی ہوئی ہوں اور ان کی وجہ سے انسان میں احساس مسوٴلیت پیدا ہو۔
(۲) پاکیزہ بیویاں
یہ امر قابل غور ہے کہ جنت کی بیویوں کی اس آیت سے صرف ایک صفت "مطھرة" بیان کی گئی ہے ۔ صفت مطہرة (یعنی پاک و پاکیزہ ) کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بیوی کے لئے سب سے پہلی اور اہم ترین شرط پاکیزگی ہے۔ باقی صفات سب اس کے ماتحت ہیں۔ پیغمبر اکرم)ﷺ( کی ایک مشہور حدیث اس حقیقت کو روشن کرتی ہے ۔آپ نے فرمایا: ایاکم وخضراء الدمن ،قیل :یا رسول اللہ وما خضراء الدمن ،قال المرئة الحسناء فی منبت السوء۔)بحوالہ: وسائل الشیعہ ، جلد ۱ ،ص۱۹ (۔ ان سبزیوں سے پرہیز کرو جو کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر اگیں ۔عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول آپ کا مقصد اس سبزی سے کیا ہے ۔آپ نے فرمایا : خوبصورت عورت جس نے گندے خاندان میں پرورش پائی ہو۔
جنت کی مادی و معنوی نعمات
اگرچہ بہت سی آیات قرآنی میں مادی نعمتوں سے متعلق گفتگو ہوئی ہے مثلا باغات جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں، قصر و محلات پاکیزہ بیویاں،رنگ برنگے پھل اور میوے اور ہم مزاج دوست وغیرہ مگر ان کے ساتھ ساتھ اہم ترین معنوی نعمات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جن کی عظمت و رفعت کو ہمارے پیمانوں سے ناپنا ممکن نہیں ۔ مثلا سورہ توبہ آیہ ۷۲میں ہے: وعد اللہ المومنین والمومنٰت جنٰت تجری من تحتھا الانھٰر خالدین فیھا ومسٰکن طیبة فی جنٰت عدن و رضوان من اللہ اکبر ذلک ھو الفوز العظیم۔ خداوند عالم نے ایماندار مردوں اور عورتوں سے باغات جنت کا وعدہ کیا ہے جن کے درختوں تلے نہریں جاری ہیں اور وہ ہمیشہ وہیں رہیں گے اور ان کے لئے دائمی بہشتوں میں پاکیزہ مکانات ہیں اور اسی طرح پروردگار کی خوشنودی بھی جو ان سب سے بالاتر ہے اور یہ عظیم کامیابی ہے۔ سورہ بینہ کی آیہ ۸ میں جنت کی مادی نعمتوں کے تذکرے کے بعد فرمایا گیا ہے؛ رضی اللہ عنھم و رضوا عنہ۔ خداوند عالم ان سے خوش ہے اور وہ بھی خدا سے خوش ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اس مقام پر پہنچ جائے کہ اسے احساس ہو کہ خدا اس سے راضی ہے اور وہ بھی خدا سے راضی ہے تو وہ تمام لذات کو بھلا دیتا ہے، صرف اسی سے دل لگا لیتا ہے، اس کے علاوہ اپنی فکر میں کچھ نہیں لاتا اور یہ ایسی روحانی لذت ہے ۔کسی طرح بھی زبان و بیاں سے ادا نہیں کی جا سکتی۔ خلاصہٴ کلام یہ کہ چو نکہ قیامت و معاد میں روحانی پہلو بھی ہے اور جسمانی بھی لہذا جنت کی نعمات بھی دونوں پہلو رکھتی ہیں تا کہ انہیں جامعیت حاصل ہو اور ہر شخص اپنی استعداد اور شائستگی کے مطابق بہرہ ور ہو سکے۔
کیا خدا بھی مثال دیتا ہے؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 1مندرجہ بالا میں سے پہلی آیت کہتی ہے کہ خداوند عالم اس سے نہیں شرماتا کہ وہ اپنی موجودات میں سے جسے چاہے ظاہراً وہ چھوٹی سی ہوجیسے مچھر یا اس سے بھی بڑھ کر کسی چیز کی مثال دے (ان اللہ لایستحی ان یضرب مثلاً ما بعوضة فما فوقھا)کیونکہ مثال کے لئے ضروری ہے کہ وہ مقصد کے مطابق ہو۔ بہ الفاظ دیگر، مثال حقیقت کی تصویر کشی کا ذریعہ ہے۔ بعض اوقات کہنے والا مدعیان کی تحقیر اور ان کے کمزور پہلو کو بیان کر رہا ہو تو کسی کمزور چیز کو مثال کے لئے منتخب کرتا ہے۔ مثلا ًسورہ حج آیت ۷۳ میں ہے: ان الذین تدعون من دون اللہ لن یخلقوا ذبابا ولواجتمعو لہط و ان یسلبھم الذباب شیئا لا یستنقذوہ منہط ضعف الطالب والمطلوب۔ خدا کو چھوڑ کر جن کی تم عبادت کرتے ہو وہ تو ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے چاہے وہ سب مل کر اس کی کوشش کریں بلکہ اگر مکھی کوئی چیز ان سے چھین کر لے جائے تو وہ اس سے واپس لینے کی قدرت نہیں رکھتے ۔ طلب کرنے والا اور جس سے طلب کی جا رہی ہے دونوں کمزور ہیں ۔ آپ نے دیکھا کہ یہاں مکھی یا اس جیسی کسی چیز کی مثال سے بہتر کسی چیز کی مثال پیش نہیں کی جا سکتی جو ان کی کمزوری اور ناتوانی کی تصویرکشی کرے۔ سورہ عنکبوت میں جب اس نے چاہا کہ بت پرستوں کے سہاروں کی کمزوری کی تصویرکشی کرے تو انہیں مکڑی سے تشبیہ دی جس نے اپنے لئے کمزور سے گھر کا انتخاب کیا ہے کیونکہ دنیا میں کمزورترین گھر عنکبوت ہی کا ہے: مثل الذی اتخذوا من دون اللہ اولیاء کمثل العنکبوتصلے اتخذت بیتاط وان اوھن البیوت لبیت العنکبوت لو کانوا یعلمون۔ (عنکبوت۴۱) یہ بات مسلم ہے کہ اگر ان مواقع پر ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کی مثال کے بجائے عالم خلقت کی بڑی سے بڑی چیزوں مثلا ستاروں اور وسیع آسمانوں کی مثال پیش کی جائے تو بہت ہی نامناسب ہو گا اور اصول فصاحت و بلاغت کے بالکل مطابق نہ ہوگا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خداوند عالم فرماتا ہے کہ ہمیں انکار نہیں کہ ہم مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز کی مثال دیں تا کہ حقائق عقلی کو حسی مثالوں کے لباس میں پیش کیا جا سکے اور پھر انہیں بندوں کے اختیار میں دے دیں۔ خلاصہ یہ کہ غرض تو مقصد پہنچانا ہے مثالیں ایسی قبا کی مانند ہونا چاہئے جو قامت مطالب پر فٹ آسکیں ۔ "فما فوقہا" کا مقصود کیا ہے۔ اس کی مفسرین نے دو قسم کی تفسیریں کی ہیں: ایک گروہ کے مطابق اس سے مراد "چھوٹے ہونے میں بڑھ کر" ہے کیونکہ مثال چھوٹے ہونے کا بیان کر رہی ہے لہذا اس سے بڑھ کر یا اس سے اوپر ہونا بھی اسی نظر سے ہے ۔یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ہم کسی سے کہیں کہ ایک روپیہ کے لئے کیوں اتنی زحمت اٹھا رہے ہو، تمہیں شرم نہیں آتی اور وہ جواب دے کہ میں تو اس سے اوپر کے لئے بھی تکلیف اٹھاتا ہوں یہاں تک کہ ایک آنے کے لئے بھی ۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد اوپر سے بڑے ہونے کے لحاظ سے ہے یعنی خداوند عالم چھوٹی چیزوں کی مثالیں بھی دیتا ہے اور بڑی کی بھی، مقتضائے حال کے مطابق ۔ پہلی تفسیر زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے ۔ اس گفتگو کے بعد فرماتا ہے:رہے وہ لوگ جو ایمان لے آئے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ یہ بات ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہے(فاما الذین آمنوا فیعلمون انہ الحق من ربھم) وہ ایمان اور تقوی کی روشنی میں تعصب، عناد اور حق سے کینہ پروری سے دور ہیں اور وہ حق کے چہرے کو پوری طور سے دیکھ سکتے ہیں اور خدا کی دی ہوئی مثالوں کی منطق کا ادراک کر سکتے ہیں ۔ لیکن جو لوگ کافر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ خدا کا اس مثال سے کیا مقصد تھا جو تفرقہ اور اختلاف کا سبب بن گئی۔ ایک گروہ کی اس وجہ سے ہدایت کی ہے اور دوسرے کو گمراہ کیا ہے (و اما الذین کفروا فیقولون ماذا اراد اللہ بھٰذا مثلا یضل بہ کثیرا و یھدی بہ کثیرا)۔ ان کے نزدیک یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہ مثالیں خدا کی طرف سے نہیں ہیں کیونکہ خدا کی طرف سے ہوتیں تو سب لوگ اسے قبول کر لیتے ۔ مگر خدا انہیں ایک مختصر اور دو ٹوک جواب دیتا ہے کہ وہ اس کے ذریعہ صرف فاسقوں اور گنہگاروں کو جو حق کے دشمن ہیں، گمراہ کرتا ہے (وما یضل بہ الا الفاسقین)۔ اس بناء پر یہ ساری گفتگو خدا کی ہے اور نور و ہدایت ہے البتہ چشم بینا کی ضرورت ہے جو استفتاء کرے اب اگر یہ دلوں کے اندھے مخالفت اور ڈھٹائی پر اتر آئے ہیں تو اس میں ان کا اپنا ہی نقصان اور خسارہ ہے ورنہ ان آیات الہی میں کوئی نقص نہیں۔ (بعض مفسرین کہتے ہیں کہ جملہ یضل بہ کثیرا۔۔۔ خدا کا کلام ہے نہ کہ کفار کا ۔اس صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ان مثالوں کا کیا مقصد ہے ان کے جواب میں خدا فرماتا ہے کہ مقصد یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو ہدایت کرے اور بہت سوں کو گمراہ کر دے )فاسقین کے علاوہ کوئی گمراہ نہیں ہوتا لیکن پہلی تفسیر صحیح معلوم ہوتی ہے)۔
(۱) حقائق کے بیان کرنے میں مثال کی اہمیت
حقائق واضح کرنے اور مطالب کو دل نشیں بنانے کے لئے مختلف مثالیں پیش کی جاتی ہیں اور ان کی اثر آفرینی ناقابل انکار ہے۔ بعض اوقات ایک مثال کا تذکرہ راستے کو اتنا کم کر دیتا ہے کہ زیادہ فلسفیانہ استدلال کی زحمت و تکلیف سے کہنے اور سننے والے دونوں کو نجات مل جاتی ہے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ پیچیدہ علمی مطالب کو عمومی سطح تک عام اور وسیع کرنے کے لئے مناسب مثالوں سے استفادہ کرنے کے علاوہ کوئی راستہ ہی نہیں ہے ۔ ڈھٹائی پسند اور حیلہ ساز لوگوں کو خاموش کرنے کے لئے مثال کی تاثیر کا انکار بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ بہرحال معقول کو محسوس سے تشبیہ دینا مسائل علمی عقلی کو سمجھانے کے لئے ایک موثر طریقہ ہے ( البتہ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں مثال مناسب ہونی چاہیے ورنہ گمراہ کن ،اتنی ہی خطرناک اور مقصد سے دور کرنے والی ہوگی )۔ اسی بنا ء پر قرآن میں ہمیں بہت سی مثالیں ملتی ہیں جن میں سے ہر ایک بہت پر کشش ، بہت میٹھی اور بہت پرتاثیر ہے کیونکہ تمام انسانوں، ہر سطح کے افراد اور فکر ومعلومات کے لحاظ سے ہر درجہ کے لوگوں کے لئے یہ کتاب انتہائی فصیح و بلیغ ہے۔ (انسانی زندگی میں مثال کی تاثیر کس قدر ہے، اس سلسلے میں سورہ رعد کی آیہ ۱۷ میں تفصیل سے بحث کی گئی ہے جسے تفسیر نمونہ کی جلد دہم میں ملاحظہ کیجئے۔)
(۲) مچھر کی مثال کیوں
بہانہ سازوں نے اگرچہ مچھر اور مکھی کے چھوٹے پن کو آیات قرآن سے استہزا اور اعتراضات کا ذریعہ بنا لیا ہے لیکن اگر ان میں انصاف ،ادراک اور شعور ہوتا اور اس چھوٹے سے جانور کی ساخت اور بناوٹ پر غور و فکر کرتے تو سمجھ لیتے کہ اس کے بنانے میں باریک بینی اور عمدگی کی ایک دنیا صرف ہوئی ہے کہ جس سے عقل حیران رہ جاتی ہے ۔امام جعفر صادق )علیہ السلام( اس چھوٹے سے حیوان کی خلقت کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں: خداوند عالم نے مچھر کی مثال دی ہے حالانکہ وہ جسامت کے لحاظ سے بہت چھوٹا ہے لیکن اس کے جسم میں وہ تمام آلات اور اعضاء و جوارح ہیں جو خشکی کے سب سے بڑے جانور کے جسم میں ہیں ۔ یعنی ہاتھی اور اس کے علاوہ بھی اس کے دو عضو( سینگ اور پر ) ہیں جو ہاتھی کے پاس نہیں ہیں ۔ خدا وند عالم یہ چاہتا ہے کہ مومنین کو اس مثال سے خلقت و آفرینش کی خوبی اور عمدگی بیان کرے ، یہ ظاہرا کمزور سا جانور جسے خدا نے ہاتھی کی طرح پیدا کیا ہے، اس میں غور و فکر انسان کو پیدا کرنے والے کی عظمت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ خصوصا اس کی سونڈ جو ہاتھی کی سونڈ کی طرح ہے، اندر سے خالی ہے اور وہ مخصوص قوت سے خون کو اپنی طرف کھینچتی ہے ۔اس کی یہ ٹونٹی دنیا کی عمدہ ترین سرنگ ہے اور اس کا اندرونی سوراخ بہت باریک ہے۔ خدا نے مچھر کو قوت جذب و دفع اور ہاضمے کی قوت دی ہے۔ اسی طرح اسے مناسب طور پر ہاتھ، پاؤں اور کان دیئے ہیں ،اسے پر دیئے ہیں تاکہ غذا کی تلاش کر سکے اور پر اس تیزی سے اوپر نیچے حرکت کرتے ہیں کہ آنکھ سے ان کی یہ حرکت دیکھی نہیں جا سکتی ۔ یہ جانور اتنا حساس ہے کہ صرف کسی چیز کے اٹھنے سے خطرہ محسوس کر لیتا ہے اور بڑی تیزی سے اپنے آپ کو خطرے کی جگہ سے دور لے جاتا ہے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ انتہائی کمزور ہونے کے باوجود بڑے سے بڑے جانور کو عاجز کر دیتا ہے۔ حضرت امیرالمومنین علی)علیہ السلام( کا اس سلسلہ میں ایک عجیب و غریب خطبہ نہج البلاغہ میں ہے۔آپ نے فرمایا: اگر دنیا جہاں کے سب زندہ موجودات جمع ہو جائیں اور باہم مل کے کوشش کریں کہ ایک مچھر بنا لیں تو وہ ہرگز ایسا نہیں کر سکتے بلکہ اس جاندار کی خلقت کے اسرار پر ان کی عقلیں دنگ رہ جا ئیں گی۔ ان کے قویٰ عاجز آجائیں گے اور وہ تھک کر انجام کو پہنچ جائیں گے ۔ تلاش بسیار کے بعد با لا ٓخر شکست خوردہ ہوکر اعتراف کریں گے کہ وہ مچھر کی خلقت کے معاملے میں عاجز ہیں اور اپنے عجز کا اقرار کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ اسے نابود کرنے سے بھی عاجز ہیں۔( نہج البلاغہ۱۸۶)
(۳) خداکی طرف سے ہدایت وگمراہی
گذشتہ آیت کا ظاہری مفہوم ممکن ہے یہ شک پیدا کرے کہ ہدایت اور گمراہی میں جبر کا پہلو ہے اور اس کا دارومدار خدا کی چاہت پر ہے جب کہ اس آیت کا آخری جملہ اس حقیقت کو آشکا ر کرتا ہے کہ ہدایت و ضلالت کا سرچشمہ انسان کے اپنے اعمال ہیں ۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ انسان کے اعمال و کردار کے ہمیشہ خاص نتائج و ثمرات ہوتے ہیں۔ ان میں سے اگر عمل نیک ہو تو اس کا نتیجہ روشن ضمیری ،توفیق الہی،خداکی طرف سے ہدایت اور بہتر انجام کارہے ۔ سورہ انفال کی آیت ۲۹اس بات کی گواہ ہے ۔ارشاد ہے: یا ایھا الذین امنوا ان تتقوا اللہ یجعل لکم فرقانا۔ اے ایمان والو!اگر پرہیزگاری کو اپنالو تو خدا تمہیں تمیز حق و باطل اور روشن ضمیری عطا کرے گا۔ اور اگر انسان برے کاموں کے پیچھے لگا رہے تو اس کے دل کی تیرگی اور بڑھ جائے گی اور گناہ کی طرف اس کا رجحان زیادہ ہوگا بلکہ بعض اوقات انکار خدا کی سرحد تک پہنچ جائے گا ۔ اس کی شاہد سورہ روم کی آیت ۱۰ ہے جس میں فرمایا ہے: ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِينَ أَسَاؤُوا السُّوأَى أَن كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللَّهِ وَكَانُوا بِهَا يَسْتَهْزِؤُون برے اعمال انجام دینے والے اس مقام پر جا پہنچے ہیں کہ اب آیات الہی کا مذاق اڑانے لگے ہیں ۔ ایک اور آیت میں ہے: فلما زاغوا ازاغ اللہ قلوبھم۔ (صف ۵۰) جب وہ حق سے پھر گئے تو خدا نے بھی ان کے دلوں کو پھیر دیا۔ زیر بحث آیت بھی اسی مفہوم کی شاہد ہے کہ جب وہ فرماتا ہے وما یضل بہ الاالفٰسقین یعنی خدا فاسقین ہی کو گمراہ کرتا ہے۔ اس بنا ء پراچھے یا برے راستے کا انتخاب پہلے ہی سے خود ہمارے اختیار میں ہے۔ ا س حقیقت کو ہر شخص کا وجدان قبول کرتا ہے ۔انتخاب کے بعد اس کے قہری نتائج کا ہمیں سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مختصر یہ کہ قرآن کے مطابق ہدایت و ضلالت اچھے یا برے راستے کے جبری اختیار کا نام نہیں بلکہ قرآن کی متعدد آیات شہادت دیتی ہیں کہ ہدایت کے معنی ہیں سعادت کے وسائل فراہم ہونا اور ضلالت کا مطلب ہے مساعد حالات کا ختم ہو جانا، لیکن اس میں جبر کا پہلونہیں ہے اور یہ اسباب کا فراہم کرنا ( جس کا نام ہمارے نزدیک توفیق ہے ) یا اسباب ختم کر دینا (جسے ہم سلب توفیق کہتے ہیں ) انسان کے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہے ۔ اس حقیقت کو ہم ایک سادہ سی مثال سے پیش کر سکتے ہیں ۔ جب انسان کسی گرنے کی جگہ یا کسی خطرناک بڑی نہر سے گزرتا ہے تو وہ جتنا اپنے آپ کو نہر سے قریب تر کرتا ہے اس کے پاؤں کی جگہ زیادہ پھسلنے والی ہوتی ہے۔۔ ایسے میں گرنے کا احتما ل زیادہ اور نجات پانے کا کم ہو جاتا ہے اور انسان جتنا اپنے آپ کو اس سے دور رکھے گا اس کے پاؤں رکھنے کی جگہ زیادہ محکم اور اطمینان بخش ہوگی اور گرنے کا احتمال کم ہوگا ، ان میں سے ایک کا نام ہدایت اور دوسرے کا ضلالت ہے ۔ اس گفتگو سے ان لوگوں کی بات کا جواب پورے طور پر واضح ہو جائے گا جو آیات ہدایت و ضلالت پر اعتراض کرتے ہیں ۔
(۴) فاسقین
فاسقین سے مراد وہ لوگ ہیں جو عبودیت و بندگی کے دستور سے پاؤں باہر نکالیں کیونکہ اصل لغت میں فسق گٹھلی کے کھجور سے باہر نکلنے کو کہتے ہیں ۔اس کے معنی کو وسعت دے کر ان لوگوں کے لئے یہ لفظ بولا گیا ہے جو خدا کی بندگی کی شاہراہ سے الگ ہو جائیں۔
حقیقی زیاں کار
Tafsīr Nemūna · Vol. 1گذشتہ آیت کے آخر میں چونکہ فاسقین کے گمراہ ہونے سے متعلق گفتگو تھی لہذا اس آیت میں ان کی تین صفات بیان کر کے انہیں مکمل طور پر مشخص کردیا گیا ہے۔ ذیل میں ان علامات و صفات کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے ۔ (۱) فاسق وہ ہیں جوخدا سے محکم عہد وپیمان باندھ کر توڑ دیتے ہیں( الذین ینقضون عھد اللہ من بعد میثاقہ)۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانوں نے خدا سے مختلف پیمان باند ھ رکھے ہیں۔ توحید و خدا شناسی کا پیغام اور شیطان اور نفسانی خواہشات کی پیروی کرنے کا پیمان ۔فاسق ان تمام پیمانوں کو توڑ دیتا ہے۔ وہ فرمان حق سے سرتابی کرتا ہے اور شیطان اور خواہشات نفسانی کی پیروی کرتا ہے۔ یہ پیمان کہاں اور کس طرح باندھا گیا تھا:یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ پیمان تو دو طرفہ معاملہ ہے۔ ہمیں بالکل یاد نہیں کہ ہم نے گزشتہ زمانے میں اس سلسلہ میں اپنے پروردگارسے کوئی عہد وپیمان کیا ہو۔ ایک نکتہ کی طرف متوجہ ہونے سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ روح کی گہرائی اور سرشت انسا ن کے باطن میں ایک مخصوص شعور اور کچھ خاص قسم کی قوتیں پائی جاتی ہیں جن کی ہدایت کے ذریعہ انسان سیدھی راہ اختیار کر سکتا ہے اور اسی ذریعہ سے وہ خواہش نفس کی پیروی سے بچتے ہوئے رہبران الہی کی دعوت کا مثبت جواب دے سکتا ہے اور خود کو اس دعوت سے ہم آہنگ کر سکتا ہے۔ قرآن اس مخصوص فطرت کو عہد و پیمان الہی قرار دیتا ہے۔ حقیقت میں یہ ایک تکوینی پیغام ہے نہ کہ تشریعی و قانونی ۔ قرآن کہتا ہے: الم اعھد الیکم یا بنی آدم ان لا تعبدوا الشیطان ج انہ لکم عدو مبین و ان اعبدونی ھذا صراط مستقیم۔ (یسین ،۶۰، ۶۱) اے اولاد آدم!کیا ہم نے تم سے یہ عہد و پیمان نہیں لیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا جو تمہارا واضح دشمن ہے اور میری ہی عبادت کرنا جو سیدھا راستہ ہے۔ واضح ہے کہ یہ اسی فطرت توحید و خدا شناسی کی طرف اشارہ ہے اور انسان میں راہ تکامل طے کرنے کا جو عشق ہے، اس کی نشاندہی ہے ۔ اس بات کے لئے دوسرا شاہد وہ جملہ ہے جو نہج البلاغہ کے پہلے خطبہ میں موجود ہے: وبعث فیھم رسلہ وواتر الیہ انبیائہ یستادوہ میثاق فطرتہ۔ خداوند عالم نے یکے بعد دیگرے لوگوں کی طرف اپنے رسول بھیجے تا کہ ان سے یہ خواہش کریں کہ وہ اپنے فطری پیمان پر عمل کریں ۔ مزید واضح الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ خدا نے انسان کو ہر نعمت وافر دی ہے اور اس کے ساتھ عملی طور پر اس سے زبان آفرینش میں عہد و پیمان لیا ہے۔ اسے آنکھ دی ہے تا کہ اس سے حقائق کو دیکھ سکے، کان دیا تا کہ حق کی آواز سن سکے اور اسی طرح دیگر نعمات ہیں۔ جب انسان اپنی فطرت کے مطابق عمل پیرا نہ ہو یا خدا داد قوتوں کا غلط استعمال کرے تو گویا اس نے عہد و پیمان خدا کو توڑ دیا ۔فاسق تمام کے تمام یا ان میں سے بعض فطری پیمانوں کو پاؤں تلے روند ڈالتے ہیں۔ (۲) اس کے بعد قرآن فاسقین کی دوسری علامت کی نشاندہی یوں فرماتا ہے: جو تعلق خدا نے قائم رکھنے کو کہا ہے وہ انہیں منقطع کردیتے ہیں (ویقطعون ما امر اللہ بہ ان یوصل)۔ بہت سے مفسرین نے اگرچہ اس آیت کو قطع رحمی اور عزیزداری کے رشتے کو منقطع کرنے سے مخصوص سمجھا ہے لیکن مفہوم آیت پر گہرا غور نشاندہی کرتا ہے کہ اس کے معنی زیادہ وسعت اور زیادہ عمومیت رکھتے ہیں جس کی بنا پر قطع رحم اس کا ایک مصداق ہے کیونکہ آیت کہتی ہے کہ فاسقین ان رشتوں اور تعلقات کو منقطع کر دیتے ہیں جنہیں خدا نے برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔ اب یہ پیوند ، رشتہ داری کے ناتے اور دوستی کے ناتے ، معاشرے کے ناتے ، خدائی رہبروں سے ربط و پیوند اور خدا سے رابطہ سب پر محیط ہیں لہذا آیت کو قطع رحمی اور رشتہ داری کے رابطوں کو روندنے کے معنی میں منحصر نہیں کرنا چاہیئے۔ یہی وجہ ہے کہ مفسرین کے نزدیک اس آیت سے مراد انبیاء و موٴمنین سے رابطہ منقطع کرنا ہے۔بعض کے نزدیک اس کامفہو م انبیا ء اور آسمانی کتابوں سے رابطہ قطع کرنا ہے کیونکہ خدانے ان سے رابطہ استوار رکھنے کا حکم دیا ہے۔ واضح ہے کہ یہ تفسیریں بھی آیت کے مفہوم کا جز ہیں۔ بعض روایات میں "ما امر اللہ بہ ان یوصل " کی تفسیر امیرالموٴمنین اور اہلبیت سے مربوط کی گئی ہے۔[بحوالہ: نورالثقلین ،جلد ۵۴۔ (مزید توضیح کے سلسلے میں نیز ان روایات کے لئے جو ان پیوندوں کے مفہوم کی وسعت سے متعلق ہیں، اسی تفسیر (نمونہ)میں سورہٴرعد کی آیہ۲۱ کے ذیل میں ملاحظہ کیجئے۔)] (۳)فاسقین کی ایک اورعلامت زمین میں فساد پیدا کرنا ہے جس کی آخری مرحلے میں نشان دہی کی گئی ہے ۔وہ زمین میں فساد پیدا کرتے ہیں (ویفسدون فی الارض)۔ یہ واضح ہے کہ جنہوں نے خداکو بھلا دیا ہے، اس کی اطاعت سے رخ موڑ لیا ہے اور اپنے رشتہ داروں سے رحم اور شفقت کا برتاوٴ نہیں کرتے وہ دوسروں سے کیسا معاملہ کریں گے۔وہ اپنے مقصد براری ،اپنی لذتوں اورذاتی فائدوں کی فکرمیں رہیں گے۔ معاشرے کی حالت کچھ بھی ہو انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان کا ہدف تو یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جائے اور اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کی جائے۔اس ہدف و غرض تک پہنچنے کے لئے وہ کسی بھی غلطی کی پرواہ نہیں کرتے۔ واضح ہے کہ اس طرز فکر و عمل سے معاشرے میں کیسے کیسے فسادات پیدا ہوتے ہیں۔ زیر بحث آیت کے آخر میں ہے کہ یہی لوگ زیاں کار اور خسارہ اٹھانے والے ہیں (اولئک ھم الخاسرون)۔ واقعا ایسا ہی ہے۔اس سے بدتر کیا خسارہ ہوگا کہ وہ تمام مادی اور روحانی سرمایہ جس سے انسان بڑے بڑے اعزاز اور سعادتیں حاصل کر سکتا ہے، اسے اپنی فنا و نابودی، بدبختی اور سیاہ کاری کی راہ میں خرچ کر دے اور جو لوگ مفہوم فسق کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اطاعت کےمرکز سے خارج ہو گئے ہیں، ان کی قسمت میں اس کے علاوہ کیا ہو سکتا ہے۔
(۱) اسلام میں صلہ رحمی کی اہمیت
گذشتہ آیت اگرچہ تمام خدائی ناتوں کے احترام کے متعلق گفتگو کرتی ہے لیکن بلا شک وتردد رشتہ داری کاناتا اور تعلق اس کا واضح اور روشن مصداق ہے ۔ اسلام صلہ ٴرحمی، عزیزوں کی مدد و حمایت اور ان سے محبت کرنے کی بہت زیادہ اہمیت کا قائل ہے اور قطع رحمی اور رشتہ داروں اور عزیزوں سے رابطہ منقطع کرنے کو سختی سے منع کرتا ہے ۔ صلہٴ رحمی کی اتنی اہمیت ہے کہ رسول اکرم ﷺ فرماتے ہیں: صلة الرحم تعمر الدیار وتزید فی الاعمار و ان کان اھلھا غیر اخیار۔ [سفینةالبحار،جلد ۱،ص۵۱۴] رشتہ داروں سے صلہ رحمی شہروں کی آبادی کاباعث ہے اور زندگیاں اس سے بڑھتی ہیں اگر چہ صلہ رحمی کرنے والے لوگ اچھے نہ ہوں۔ امام صادق علیہ السلام کے ارشادات میں سے ہے : صل رحمک ولو بشربة من ماء وافضل ما یوصل بہ الرحم کف الاذی عنھا۔[ سفینة البحار ،جلد ۱ ،ص۵۱۴] رشتہ داری کی گرہ اور ناطے کو مضبوط کرو چاہے پانی کے ایک گھونٹ سے ہو سکے اور ان کی خدمت کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ (کم ازکم)تم سے انہیں کوئی تکلیف و اذیت نہ پہنچے۔ قطع رحمی کی قباحت اور گناہ اس قدر ہے کہ امام سجاد علیہ السلام نے اپنے فرزندکو نصیحت کی کہ وہ پانچ گروہوں کی صحبت سے پرہیز کرے اور ان پانچ گروہوں میں سے ایک قطع رحمی کرنے والے ہیں: وایاک ومصاحبة القاطع لرحمہ فانی وجدتہ ملعونا فی کتاب اللہ۔[ سفینة البحار ،جلد ۱ ص۵۱۶ (مادہ رحم )] قطع رحمی کرنے والے کی معاشرت سے پرہیزکرو کیونکہ قرآن نے ا سے ملعون اور خدا کی رحمت سے دور قرار دیا ہے۔ سورہ محمدآیہ ۲۲،۲۳ میں ارشاد ہے: فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحامکم اولئک الذین لعنھم اللہ۔ پس اس کے سوا تم سے کیا امید کی جا سکتی ہے کہ اگر اقتدار تمہارے ہاتھ آجائے تو زمین میں فساد بر پا کر دو اور قطع رحمی کرو۔ ایسے ہی لوگ خداکی لعنت کے سزاوار ہیں۔ خلاصہ یہ کہ قر آن میں قطع رحمی کرنے والو ں اور رشتے داری کے پیوندکوتوڑنے والوں کے لئے سخت احکامات ہیں اور احادیث اسلامی بھی ان کی شدید مذمت کرتی ہیں ۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ خدا کی بارگاہ میں سب سے زیادہ مغضوب کون سا عمل ہے تو آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا: خدا سے شرک کرنا۔ پوچھا اس کے بعد کون سا عمل زیادہ باعث غضب الہی ہے؟ تو فرمایا:قطع رحمی۔[ سفینة البحار (مادہٴ رحم )] اسلام نے جو رشتہ داری کی اس قدر حفاظت و نگہداری کی تاکید کی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک عظیم معاشرے کا استحکام، ترقی ، تکامل اور اسے عظیم تر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ کام چھوٹی اکائیوں سے شروع کیا جائے۔ یہ عظمت، اقتصادی اور فوجی لحاظ سے درکار ہویا روحانی و اخلاقی لحاظ سے،جب چھوٹی سے چھوٹی اکائیوں میں پیش رفت اور استحکام پیدا ہوگا تو بڑا معاشرہ خود بخود اصلاح پذیر ہو جائے گا۔ اسلام نے مسلمانوں کی عظمت کے لئے اس روش سے پورے طور پر فائدہ اٹھایا ہے۔ اس نے اکائیوں کی اصلاح کا حکم دیا ہے اور عموما لوگ ان کی مدد ،اعانت اور انہیں عظمت بخشنے سے روگردانی نہیں کرتے کیونکہ وہ ایسے افراد کی بنیادوں کو تقویت پہنچانے کی نصیحت کرتا ہے جن کا خون ان کے رگ وریشہ میں گردش کر رہا ہے اور جو ایک خاندان کے ارکان ہیں۔واضح ہے کہ جب رشتہ داری کے چھوٹے گروپ کامیابی سے ہمکنار ہوئے تو بڑا گروپ بھی عظمت حاصل کرے گا اور ہر لحاظ سے قوی ہو گا، وہ حدیث جس میں ہے کہ "صلہ رحمی شہروں کی آبادی کا باعث ہے"غالبا اسی طرف اشارہ کرتی ہے۔
(۲) جوڑنے کی بجائے توڑنا
یہ بات قابل غور ہے کہ آیت کی تعبیر میں اس طرح ہے کہ خدانے جس چیز کو جوڑنے کا حکم دیا ہے، فاسق اسے توڑتے ہیں ۔یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ کیا قطع کرنا، وصل سے پہلے ممکن ہے؟ جواب میں ہم کہتے ہیں کہ وصل سے مقصد ان روابط کو جاری رکھنا ہے جو خداوند عالم نے اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان یا بندوں میں سے ایک دوسرے کے درمیان طبعی طور پرا ور فطری طور پر قائم کئے ہیں۔دوسرے لفظوں میں خدا نے حکم دیا ہے کہ ان فطری اور طبعی رابطوں کی محافظت و پاسداری کی جائے لیکن گنہگار انہیں قطع کر دیتے ہیں(اس پر خصوصی غور کیجئے)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔
زندگی ایک اسرار آمیز نعمت ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1مندرجہ بالا دو آیا ت میں قر آن نے نعمات الہی کے ایک سلسلے اور تعجب انگیز خلقت کا ذکر کے انسان کو پروردگار اور اس کی عظمت کی طرف متوجہ کر دیا ہے اور خدا شناسی کے سلسلے میں جو دلائل گزشتہ آیات (۲۱و۲۲)میں بیان کئے گئے ہیں، ان کی تکمیل کر رہا ہے ۔ قرآن یہاں وجود خدا کے اثبات کو ایسے نکتے سے شروع کر رہا ہے جس کاکو ئی انکار نہیں کر سکتا اور وہ ہے زندگی کا پر اسرار مسئلہ۔ پہلے کہتا ہے تم خدا کا کس طرح انکار کرتے ہو حالانکہ تم بے روح جسم تھے، اس نے تمہیں زندہ کیا اور تمہارے بدن پر زندگی کا لباس پہنایا(کیف تکفرون باللہ وکنتم امواتا فاحیاکم)۔ قرآن ہم سب کو یاددہانی کرواتا ہے کہ اس سے پہلے تم پتھروں،لکڑیوں اور بےجان موجودات کی طرح مردہ تھے اور نسیم زندگی کا تمہارے کوچے سے گزر نہ تھا لیکن اب تم نعمت حیات و ہستی کے مالک ہو۔ تمہیں اعضاء، حواس اور ادراک کے کارخانے عطا کئے گئے ہیں۔ یہ وجود حیات تمہیں کس نے عطا کیا ہے۔ کیا یہ سب کچھ خود تم نے اپنے آپ کو دیا ہے۔واضح ہے کہ ہر منصف مزاج انسان بغیر کسی تردد کے اعتراف کرتا ہے کہ یہ نعمت خود اس کی اپنی طرف سے نہیں ہے بلکہ ایک مبداءاعالم و قادر کی طرف سے اسے ملی ہے جو زندگی کے تمام رموز اور پیچیدہ قوانین سے واقف تھا، انہیں منظم کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر کیوں حیات و ہستی بخشنے والے خدا کا انکار کرتے ہیں۔ آج کے زمانے میں تمام علماء و محققین پر یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ہمارے پاس اس دنیا میں حیات وہستی سے زیادہ پیچیدہ کو ئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ تمام تر عجیب وغریب ترقی کے باوجود جو طبعی علوم فنون کے سلسلے میں انسان کو نصیب ہوئی ہے، ابھی تک حیات کا معمہ حل نہیں ہو سکا۔یہ مسئلہ اس قدر اسرار آمیز ہے کہ ں علماء، افکار اور کوششیں اب تک اس مسئلے کے ادراک سے عاجز ہو چکی ہیں ۔ہو سکتا ہے کہ انتھک کوششوں کے سائے میں آئندہ تدریجا انسان رموز حیات سے آگاہ ہو سکے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کیا کوئی شخص اس معاملے کو جو بہت گہرے غور و فکر کا نتیجہ ہے، اسرارانگیز ہے اور بہت زیادہ علم وقدرت کا محتاج ہے۔ بے شعور طبیعت کی طرف نسبت دے سکتا ہے ،وہ طبیعت جو خود حیات و زندگی سے عاری ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ہم کہتے ہیں کہ اس جہان طبیعت میں حیات و زندگی کا ظہو ر وجود خدا کے اثبات کی سب سے بڑی سند ہے اور اس موضوع پربہت سی کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ قرآن اوپر والی آیت میں خصوصیت کے ساتھ اسی مسئلے کا سہارا لیتا ہے۔ ہم سر دست اسی مختصر اشارے سے گزر جاتے ہیں ۔قرآن اس نعمت کی یاددہانی کے بعد ایک واضح دلیل پیش کرتا ہے اور وہ ہے مسئلہٴ موت،قرآن کہتا ہے:پھر خدا تمہیں مارے گا(ثم یمیتکم)۔ انسان دیکھتا ہے کہ اس کے اعزاء و اقربا اور دوست و احباب یکے بعد دیگرے مرتے رہتے ہیں اور ان کا بے جان جسم مٹی کے نیچے دفن ہو جاتا ہے۔یہ مقام بھی غوروفکر کا ہے کہ آخر کس نے ان سے وجود کو چھین لیا ہے۔ اگر ان کی زندگی اپنی طرف سے تھی توہمیشہ رہتی یہ جو لے لی گئی ہے اس کی دلیل ہے کہ کسی دوسرے نے انہیں دی تھی۔ زندگی پیدا کرنے والا وہی موت پیدا کرنے والا ہے۔ چنانچہ سورہ ملک کی آیت ۲میں ہے: الذی خلق الموت والحیٰوة لیبکوکم ایّکم احسن عملاَ۔ خدا وہ ہے جس نے موت و حیات کو پیدا کیا تا کہ تمہیں حسن عمل کے میدان میں آزمائے ۔ قرآن نے وجود خدا پر ان دو و اضح دلیلوں کو پیش کیا ہے۔ دوسرے مسائل کے لئے روح انسانی کو آمادہ کیا ہے اور اس بحث سے مسئلہ معاد اور موت کے بعد زندگی کو بیان کیا ہے۔پھر کہتا ہے:اس کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا (ثم یحییکم)۔ البتہ موت کے بعد یہ زندگی کسی طرح تعجب خیز نہیں کیونکہ پہلے بھی انسان اسی طرح تھا۔ پہلی دلیل (یعنی بے جان کو زندگی عطا کرنا)کی طرف متوجہ ہونے کے بعد دوسری مرتبہ اجزاء بدن کے منتشر ہونے کے بعد زندگی ملنے کے مسئلے کو قبو ل کرنامشکل نہیں بلکہ پہلی دفعہ کی نسبت آسان ہے اگرچہ جس ذات کی قدرت لامتناہی ہو اس کے لئے تسہیل ومشکل کو ئی مفہوم نہیں رکھتا)۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہیں انسانوں کی زندگی میں شک اور تردد تھا حالانکہ پہلی زندگی جو بے جان مو جو دات سے صورت پذیر ہو ئی ہے اسے جانتے ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ قرآن آغاز سے اختتام تک دفتر حیات کو انسان کے سامنے کھولتاہے اور ایک مختصرسے بیان میں زندگی کی ابتداء وانتہا اورمسئلہ معاد و قیامت کی اس کے سامنے تصویر کشی کرتا ہے۔ اس آیت کے آخر میں کہتا ہے:پھر اس کی طرف تمہاری بازگشت ہوگی (ثم الیہ ترجعون )۔خدا کی طرف رجوع کرنے کے معنی وہی خدا کی نعمتوں کی طرف رجوع کرنا کے ہیں۔ یعنی قیامت اور دوبارہ قبروں سے اٹھنے والے دن کی نعمتوں کی طرف رجوع کرو گے۔ اسکی شاہد سورہ انعام کی آیت ۳۶ہے، جہاں فرماتا ہے: والموتی یبعثھم اللہ ثم الیہ یرجعون۔ خدا مردوں کو قبروں سے اٹھائے گا اور اسی کی طرف ان کی بازگشت ہوگی۔ ممکن ہے خدا کی طرف رجوع کرنے سے مقصود کوئی ایسی حقیقت ہو جو اس سے زیادہ دقیق وباریک ہو اور وہ یہ کہ تمام موجودات نے اپنا سفر نقطہٴ عدم جو نقطہٴ صفر ہے، سے شروع کیا ہے اور تمام موجودات سیر تکامل میں ہیں اور لامتناہی کی طر ف بڑھ رہے ہیں جوذات پروردگار ہے۔ لہذا مرنے سے سیر تکامل کا سلسلہ معطل نہیں ہوتا اور دوسری مرتبہ قیامت میں زندگی کی زیادہ بلند سطح کی طرف یہ تکامل جاری و ساری رہے گی۔ نعمت حیات اور مسئلہ مبداء و معاد کے ذکر کے بعد خدا ایک وسیع نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے:خدا وہ ہے جس نے زمین میں جو کچھ ہے، تمہارے لئے پیدا کیا ہے (ھو الذی خلق لکم ما فی الارض جمیعا )۔ اس تربیت سے انسانوں کی وجودی قدروقیمت اور زمین کے تمام موجودات پر ان کی سرداری کو مشخص کیا گیا ہے۔اسی سے ہم سمجھتے ہیں کہ خدا نے انسان کو بہت بڑے قیمتی اور عظیم مقصد کے لئے پیدا کیا ہے۔ تمام چیزوں کو تو اس کے لئے پیدا کیا ہے ۔اب اسے کس لئے پیدا کیا ہے۔انسان اس صحن عالم میں عالی ترین وجود ہے اور صحن عالم میں سب سے زیادہ قدر و قیمت رکھتا ہے۔ صرف یہی آیت نہیں جس میں انسان کے بلند ترین مقام کو بیان کیا گیا ہے بلکہ قرآن میں بہت سی ایسی آیات ملتی ہیں جو انسان کا تعارف تمام تر موجودات کا مقصود اصلی کی حیثیت سے کراتی ہیں جیسا کہ سورہ جاثیہ کی آیہ ۱۳ میں آیا ہے: وسخّر لکم ما فی السمٰوات وما فی الارض۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب کو تمہارے لئے مسخر قرار دیا ہے۔ دوسری جگہ اس سے زیادہ تفصیل بیان ہوئی ہے: وسخر لکم الفلک ۔۔۔و سخر لکم الانھار ( ابراہیم ، آیہ ۳۲ ) وسخر لکم اللیل والنھار (ابراہیم، آیہ ۳۳) ۔۔۔ وسخر البحر ( نحل ، آیہ ۱۴)۔۔۔و سخر الشمس والقمر۔(ابراہیم، آیہ ۳۳) کشتیوں کو تمہارے لئے مسخر کیا گیا ۔۔۔ اور دریاؤں کو تمہارے لئے مسخر کیا ۔۔۔ دن اور رات کو تمہارے لئے مسخر کیا ۔۔۔ اور سمندروں کو مسخر کیا ۔۔۔ اور آفتاب و ماہتاب کو بھی تمہارا فرماں بردار اور خدمت گزار قرار دیا۔) اس سلسلہ میں زیادہ تر بحث اسی تفسیر میں سورہ رعد آیہ ۲ اور سورہ ابراہیم آیات ۳۲ اور۳۳ میں کی گئی ہے(۔ دوبارہ توحید کے دلائل کی طرف لوٹتے ہوئے کہتا ہے:پھر خداوند عالم آسمانوں کی طرف متوجہ ہوا اور انہیں سات آسمانوں کی صورت میں مرتب کیا اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے (ثم استوی الی السماء فسواھن سبع سمٰوٰت و ھو بکل شیء علیم)۔ لفظ "استوی" مادہ "استواء"سے لیا گیا ہے۔ لغت میں اس کے معنی ہیں احاطہٴ کامل، تسلط اور خلقت و تدبیر پر مکمل قدرت۔لفظ "ثم" جملہ "ثم استوی الی السماء" میں ضروری نہیں کہ تاخیر زمانی کے معنی میں ہو بلکہ ہو سکتا ہے اس کے معنی تاخیر بیان اور حقائق کو ایک دوسرے کے بعد لانا ہو۔
(۱) تناسخ ا ور ارواح کا پلٹ آنا
اوپر والی آیت ان میں سے ہے جو عقیدہ تناسخ کی صریحا نفی کرتی ہیں کیونکہ تناسخ کا عقیدہ رکھنے والوں کا خیال ہے کہ انسان مرنے کے بعد دوسری دفعہ اسی زندگی کی طرف لوٹ آتا ہے البتہ ہوتا یہ ہے کہ اس کی روح دوسرے جسم اور دوسرے نطفے میں حلول کرکے نئے سرے سے اسی دنیا میں زندگی کا آغاز کرتی ہے اور ممکن ہے اسی سلسلہ کا بارہا تکرار ہو۔اس جہان میں اس مکرر زندگی کو تناسخ یا عود ارواح کہتے ہیں۔ مندرجہ بالا آیت صراحت سے بیان کرتی ہے کہ موت کے بعد ایک سے زیادہ زندگی نہیں ہے۔ معلوم ہے کہ یہ حیات وہی معاد و قیامت کی حیات ہے۔بہ الفاظ دیگر آیت کہتی ہے کہ مجموعی طور پر تمہاری دو زندگیاں اور دو اموات تھیں اور ہیں۔ پہلے مردہ تھے (بے جان عالم موجودات میں تھے)۔ خداوند عالم نے تمہیں زندہ کیا، پھر وہ مارے گا اور دوبارہ زندہ کرے گا۔ اگر تناسخ صحیح ہوتا تو انسان کی حیات اور موت کی تعداد دو دو سے زیادہ ہوتی۔ یہی مضمون قرآن کی اور متعدد آیات میں بھی نظر آتا ہے جن کی طرف اپنی اپنی جگہ اشارہ ہوگا۔[ موضوع رجعت کی وجہ سے اس مسئلے پر کوئی اعتر اض نہیں ہو سکتا۔ رجعت اول تو ایک مخصوص طبقہ کے لئے ہے، اس میں عمومیت نہیں ہے جب کہ زیر نظرآیت ایک حکم کلی بیان کر رہی ہے۔ پھر نتائج میں اجسام اور ان کے اجزاء الگ الگ ہوتے ہیں جب کہ رجعت میں ایسا نہیں ہے]۔ اس بنا ء پر تناسخ کا عقیدہ جسے عود ارواح بھی کہا جاتا ہے، قرآن کی نظر میں باطل اور بے اساس ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس روشن عقلی دلیلیں بھی موجود ہیں جو اس عقیدہ کی نفی کرتی ہیں جن سے یہ ایک قسم کا دقیانوسی اور قانون تکامل کی رجعت قہقری کا عقیدہ ثابت ہوتا ہے ۔ اس کے متعلق اس کی اپنی جگہ گفتگو کی گئی ہے۔[کتاب "عود ارواح و ارتباط ارواح" کی طرف رجوع فرمائیں]۔ اس نکتے کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ شاید بعض لوگ مندرجہ بالاآیت کو برزخ کی زندگی کی طرف اشارہ قرار دیں حالانکہ آیت اس پر کسی طرح دلالت نہیں کرتی۔ صرف اتنا کہتی ہے کہ پہلے تم بے جا ن جسم تھے، خداوند عالم نے تمہیں پیدا کیا، دوبارہ وہ تمہیں مارے گا جو اشارہ ہے اس دنیا کی زندگی کے اختتام کی طرف، پھر تمہیں زندہ کرے گا (یہ حیات آخرت کی طرف اشارہ ہے) اور اسی کی طرف تم اپنی سیر تکامل جاری رکھو گے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔
( ۲ )سات آسمان
Tafsīr Nemūna · Vol. 1لفظ "سما" لغت میں "اوپر" کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے اور ایک جامع مفہوم ہے جس کے مختلف مصادیق ہیں لہذاہم دیکھتے ہیں کہ یہ لفظ قرآن میں گوناگوں موقعوں پر صرف ہوا ہے۔ i. کبھی زمین کے پڑوس میں "اوپر" والی جہت پر بولا جاتا ہے جیسے کہ ارشاد ہے: الم تر کیف ضرب اللہ مثلا کلمة طیبةکشجرة طیبة اصلھا ثابت وفرعھا فی السماء۔ (ابراہیم ۔۲۴) کیا تو نے دیکھا نہیں کہ خداوند عالم نے پاک گفتگو کو کس طرح ایک ایسے پاکیزہ درخت سے تشبیہ دی ہے جس کی جڑ مضبوط و ثابت ہے اور شاخیں آسمان میں ہیں۔ ii. کبھی لفظ "سماء" سطح زمین سے بہت دور (بادلو ں کی جگہ )کے لئے بولا جاتا ہے۔جیسے کہ فرمایا: ونزلنا من السمآء مآء مبرکا۔ (ق۔۹) ہم آسمان سے برکتوں والا پانی نازل کرتے ہیں۔ iii. کبھی اطراف زمین کی متراکم ہَوا کی جلد کو آسمان کہا جاتا ہے۔جیسا کہ ارشاد ہے: وجعلنا السماء سقفا محفوظا ۔ (انبیاء۔ ۳۲) ہم نے آسمان کو محکم و مضبوط چھت قرار دیا ہے۔ یہ اس لئے کہ ہم جانتے ہیں کہ زمین کی فضا جو چھت کی طرح ہمارے سروں پر برقرار ہے وہ اتنی مضبوط ہے کہ کرہٴ ارض کو آسمانی پتھروں کے گرنے سے محفوظ رکھتی ہے ۔یہ پتھر جو مسلسل شب و روز کششِ زمین کے مرکزمیں آتے ہیں اور اس کی طرف کھچے آتے ہیں، اگر ہوائے متراکم کی جلد نہ ہو تو ہمیشہ ان خطرناک پتھروں کی زد میں رہیں لیکن اس جلد کا وجود اس بات کا سبب بنتا ہے کہ یہ پتھر فضائے زمین ہی میں جل کر خاکستر ہو جاتے ہیں۔ iv. اور کبھی اوپر کے کروں کے لئے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے: ثم استوی الی السماء وھی دخان۔ (فصلت۔ ۰اا)(حم سجدہ) پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جب کہ وہ دھواں اور بخارات تھے۔ )پہلی گیس سے کرات کو پیدا کیا۔( اب اصل بات کی طرف لوٹتے ہیں کہ سات آسمانوں سے کیا مراد ہے۔اس سلسلے میں مفسرین اور علماء اسلام کے گوناگوں بیانات اور مختلف تفاسیر ہیں۔ (ا) بعض سات آسمانوں سے وہی سبع سیارات (سات ستارے (یعنی عطارد، زہرہ، مریخ، مشتری، زحل، چاند اور سورج) مراد لیتے ہیں۔علماء ہئیت قدیم کے نزدیک چاند اور سورج بھی سیارات میں داخل تھے۔[ بعض علماء نے نظام شمسی کے دس کرات (نو سیارے مشہور ہیں۔ ایک اور سیارہ بھی ہے جو مریخ اور مشتری کے درمیان تھا لیکن وہ منتشر ہو گیا اس کا کچھ حصہ اسی طرح اسی مدار زمیں محو گر دش ہے)کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک گروہ وہ ہے جو مدار زمین میں گردش کر رہے ہیں(جن میں عطارد اور زہرہ شامل ہیں )اور ایک گروہ مدار زمین سے باہر اور اس کے اوپر کی طرف ہے ۔شاید اسی تفسیر سے یہی باہر کے سات سیارے مراد ہیں]۔ (ب)بعض کا نظریہ ہے کہ اس سے مراد زمین کے گرد متراکم ہَوا کے طبقات ہیں اور وہ مختلف تہیں جو ایک دوسرے کے اوپر ہیں۔ (ج)بعض کہتے ہیں یہاں سات کا عدد تعدادی عدد(عدد مخصوص )کے معنی میں نہیں بلکہ عدد تکثیری ہے جس کے معنیٰ ہیں زیادہ اور تعداد فراواں۔ کلام عرب اور خود قرآن میں کئی جگہ اس کی نظیریں موجود ہیں مثلا سورہ لقمان آیت ۲۷ میں ہے: ولو ان ما فی الارض من شجرة اقلام والبحر یمدّہ من بعدہ سبعة ابحر ما نفدت کلمٰت اللہ۔ اگر زمین کے درخت قلمیں بن جائیں اور سمندر سیاہی بن جائیں اور سات سمندر مزید مل جائیں تو بھی کلمات خدا کو لکھا نہیں جا سکتا۔ بالکل واضح ہے کہ اس آیت میں سات سے مراد عدد مخصوص سات نہیں بلکہ اگر ہزار سمندر بھی سیاہی بن جائیں تو اس سے خدا کے لامتناہی علم کو نہیں لکھا جا سکتا۔اس بناء پر کہا جا سکتا ہے کہ سات آسمانوں سے متعدد آسمان اور عالم بالا کے بہت سے کرات مراد ہیں اور اس سے کوئی عدد مخصوص مراد نہیں۔ (د) جو بات زیادہ صحیح دکھائی دیتی ہے وہ یہ کہ "سمو ات سبع" سے مرادآسمان ہی ہے جو اس کے حقیقی معنی ہیں۔مختلف آیات ِقرآن میں اس عبارت کا تکرار ظاہر کرتا ہے کہ سات کا عدد یہاں کثرت کے معنی میں نہیں بلکہ کسی خاص عدد کی طرف اشارہ ہے البتہ آیات ِ قرآن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تمام کرات، ثوابت اور سیارات جو ہم دیکھ رہے ہیں پہلے آسمان کا جزء ہیں اور چھ عالم اس کے علاوہ موجود ہیں جو ہماری نگاہ اور آج کے علمی آلات کی دسترس سے باہر ہیں اور مجموعی طور پر سات آسمانوں سے سات عالم تشکیل پذیر ہیں۔ قرآن اس گفتگو کا شاہد ہے: وزینا السماء الدنیا بمصابیح۔ (فصلت ،۱۲) ہم نے نچلے آسمان کو ستاروں کے چراغوں سے سجایا۔ دوسری جگہ پر یوں ہے: انا زینا السماء الدنیا بزینةن الکواکب۔ (الصفت ۔۶) یقینا ہم نے نچلے آسما ن کو ستاروں سے زینت بخشی۔ ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں جسے ستاروں کی دنیا کہتے ہیں، سب آسمان اول ہے اسکے علاوہ چھ آسمان اور موجود ہیں جن کی جزئیات کے متعلق ہمیں کوئی اطلاع نہیں۔ یہ جو کچھ ہم نے کہا ہے کہ چھ اور آسمان ہیں جو ہمارے لئے مجہول ہیں اور ممکن ہے کہ آئند ہ علوم ان سے پردہ اٹھائیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کے ناقص علوم جتنے آ گے بڑھتے ہیں خلقت کے نئے عجائبات تک دسترس حاصل کرتے ہیں مثلا علم ہیئت ابھی وہاں تک پہنچا ہے جہاں سے آگے ٹیلی سکوپ telescope)) دیکھنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ بڑی بڑی رصدگاہو ں کے انکشافات ایک عرب نوری سال کے فاصلے تک پہنچ چکے ہیں اور سائنس دان معترف ہیں کہ یہ تو آغاز عالم ہے، اختتام نہیں لہذا اس میں کیا مانع ہے کہ آئندہ علم ہیئت کی ترقی سے مزید آسمان،کہکشائیں اور دوسرے عوالم کا انکشاف ہو جائے۔بہتر ہے کہ یہ گفتگو دنیا کی ایک بہت بڑی رصدگاہ سے سنی جائے۔
(۳)عظمت کا ئنات
پالومار کی رصدگاہ نے جہانِ بالا کی اس طرح توصیف کی ہے: "جب تک پالومار کی رصدگاہ کی دوربین نہیں بنی تھی، دنیا کی وسعت جو ہمیں نظر آتی تھی پانچ سو نوری سال سے زیادہ نہیں تھی لیکن اب اس دوربین نے ہماری دنیا کی وسعت ایک عرب نوری سال تک پہنچا دی ہے۔ اس کے نتیجے میں کئی ملین نئی کہکشاؤں کا انکشاف ہوا ہے جن میں سے بعض ہم سے ایک عرب نوری سال کے فاصلہ پر واقع ہیں لیکن ایک عرب نوری سال کے فاصلہ کے بعد ایک عظیم مہیب اور تاریک فضا نظر آتی ہے جس کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی یعنی روشنی وہاں سے عبور نہیں کر سکتی کہ رصدگاہ کی دوربین کے صفحہ عکاسی کو متاثر کرے لیکن بلاشک اس مہیب و تاریک فضا میں کئی سو ملین کہکشائیں موجود ہیں لیکن ہماری دنیا ان کہکشاؤں کی کشش سے محفوظ ہے۔ یہ عظیم دنیا جو نظر آرہی ہے جس میں کئی سو ملین کہکشائیں موجود ہیں، ایک عظیم تر جہان کا چھوٹا سا ذرہٴ بے مقدار ہے اور ابھی ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اس دوسری دنیا کے اوپر بھی کوئی اور دنیا ہے۔")بحوالہ: مجلہ "فضا"شمارہ فروردین، ۲۳۵۱ہجری شمسی(۔ اس گفتگو سے واضح طور پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ دنیائے علم آسمانوں کے بارے میں اپنی حیرت انگیز ترقی کے باوجود اپنے انکشافات کو آغاز جہاں سمجھتی ہے نہ کہ اس کا اختتام بلکہ ایک عظیم جہان کے مقابلے میں اسے ایک چھوٹا سا ذرہ خیال کرتی ہے۔
انسان زمین میں خدا کا نمائندہ
گذشتہ آیات میں پڑھ چکے ہیں کہ خدا نے زمین کی تمام نعمتیں انسان کے لئے پیدا کی ہیں اور ان آیات میں رسمی طور پر انسان کی رہبری اور خلافت کی تشریح کی گئی ہے اور اس روحانی حیثیت کو واضح کیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ ان تمام احسانات کے لائق تھا۔ ان آیات میں آدم ( پہلے انسان) کی خلقت کی کیفیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور آیات کے اس سلسلہ میں جو آیہ ۳۰ سے شروع ہو کر ۳۹ تک پہنچتا ہے، تین بنیادی مسائل کو بیان کیا گیا ہے: (۱) پروردگار عالم کا فرشتوں کو زمین میں انسان کی خلافت و سرپرستی کے بارے میں خبر دینا اور وہ گفتگو جو فرشتوں نے اس سلسلے میں خدا سے کی۔ (۲)پہلے انسان کے لئے فرشتوں کو خضوع و تعظیم کا حکم جس کا ذکر مختلف مناسبات سے قرآن کی مختلف آیات میں کیا گیا ہے۔ (۳) بہشت میں آدم کی کیفیت اور رہنے کی تشریح، وہ حوادث جو جنت سے ان کے نکلنے کا سبب بنے، آدم کا توبہ کرنا اور پھر آدم اور اولاد آدم کا زمین میں آکر آباد ہونا۔ زیر بحث آیات ان میں سے پہلی منزل کی بات کرتی ہیں۔ خدا کی خواہش یہ تھی کہ روئے زمین پر ایک ایسا موجود خلق فرمائے جو اس کا نمائندہ ہو، اس کی صفات، صفات خداوندی کا پرتو ہوں اور اس کا مرتبہ و مقام فرشتوں سے بالا تر ہو۔ خدا کی خو اہش اور ارادہ یہ تھا کہ ساری زمین اور اس کی نعمتیں، تمام قوتیں، سب خزانے، تمام کانیں اور سارے وسائل بھی اس کے سپرد کر دیئے جائیں۔ ضروری ہے کہ ایسا شخص عقل وشعور، ادراک کے وافر حصے استعداد کا حامل ہو جس کی بناء پر موجودات ارضی کی رہبری اور پیشوائی کا منصب سنبھال سکے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلی آیت کہتی ہے یاد کریں اس وقت کو جب آپ کے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں روئے زمین پر جانشین مقرر کرنے والا ہوں ( واذ قال ربک للملٰکة انی جاعل فی الارض خلیفة )۔ "خلیفہ" کے معنی ہیں جانشین۔ لیکن یہاں اس سے کس کا جانشین مراد ہے اور کس چیز میں جانشین ہے۔ مفسرین نے اس کی مختلف تفسیریں کی ہیں: بعض کہتے ہیں انسان یا اور موجودات کا جانشین جو زمین میں پہلے زندگی گزارتے تھے۔ بعض نے اس سے یہ سمجھا ہے کہ انسان کی دوسری نسلیں ایک دوسرے کا جانشین ہوں گی۔ لیکن انصاف یہ ہے جسے بہت سے محققین نے بھی قبول کیا ہے کہ اس سے مراد خلافت الہی اور زمین میں خدا کی نمائندگی ہے کیونکہ اس کے بعد فرشتوں کا سوال اور ان کا کہنا کہ ممکن ہے نسل آدم مبداء فساد و خونریزی ہو جب کہ ہم تیری تسبیح و تقدیس کرتے ہیں، اسی معنی سے مناسبت رکھتا ہے کیونکہ زمین میں خدا کی نمائندگی ان کاموں کے ساتھ سازگار نہیں۔ اسی طرح آدم کو "اسماء" کی تعلیم دینا جس کی تفصیل بعد میں آئے گی، اس دعوے پر ایک او رواضح قرینہ ہے اور آدم کے سامنے سجدہ بھی اسی مقصد کا شاہد ہے۔ بہرحال خد ا چاہتا تھا کہ ایسے وجود کو پیدا کرے جو عالم وجود کا گلدستہ ہو اور خلافت الہی کے مقام کی اہلیت رکھتا ہو اور زمین میں اللہ کا نمائندہ ہو۔ ان آیات کی تفسیر میں ایک حدیث جو امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے وہ بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ فرشتے مقام آدم پہچاننے کے بعد سمجھ گئے کہ آدم اور ان کی اولاد زیادہ حقدار ہیں کہ وہ روئے زمین میں خلفاء الہی ہوں اور مخلوق پر ان کی حجت ہوں۔)بحوالہ: معانی الاخبار بحوالہ المیزان، جلد ۱، ص ۱۲۱۔ اس حدیث سے اگرچہ زیادہ تر انبیاء اور ائمہ کا مقام ظاہر ہوتا ہے لیکن معلوم ہے کہ یہ انہی میں منحصر نہیں، وہ تو اس موضوع کے اتم و اکمل مصداق ہیں(۔ زیر بحث آیت مزید بیان کرتی ہے کہ فرشتوں نے حقیقت کا ادراک کرنے کے لئے نہ کہ اعتراض کی غرض سے عرض کیا: کیا زمین میں اسے (جانشین) قرار دے گا جو فساد کرے گا اور خون بہائے گا (قالوا اتجعل فیھا من یفسد فیھا ویسفک الدماء)۔ جبکہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں، تیری تسبیح و حمد کرتے ہیں اور جس چیز کی تیری ذات لائق نہیں اس سے تجھے پاک سمجھتے ہیں ( ونحن نسبح بحمدک ونقدس لک)۔ مگر یہاں خدا نے انہیں سربستہ و مجمل جواب دیا جس کی وضاحت کے بعد کے مراحل میں آشکار ہوئی۔ فرمایا: میں ایسی چیزوں کو جانتا ہوں جنہیں تم نہیں جانتے ( قال انی اعلم ما لا تعلمون)۔ جیسے کہ ان کی گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے سمجھ گئے تھے کہ یہ انسان سربراہی نہیں بلکہ فساد کرے گا، خون بہائے گا اور خرابیاں کرے گا لیکن دیکھنا یہ ہے کہ آخر وہ کس طرح سمجھے تھے۔ بعض کہتے ہیں خدا نے انسان کے آئندہ حالات بطور اجمال انہیں بتائے تھے جب کہ بعض کا احتمال ہے کہ ملائکہ اس مطلب کو لفظ فی الارض (زمین میں) سے سمجھ گئے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے انسان مٹی سے پیدا ہوگا اور مادہ اپنی محدودیت کی وجہ سے طبعا مرکز نزاع و تزاحم ہے کیونکہ محدود مادی زمانہ انسانوں کی طبعیت کو سیر و سیراب نہیں کر سکتا جو زیادہ کی طلب رکھتی ہے یہاں تک کہ اگر ساری دنیا ایک فرد کو دے دی جائے تو ممکن ہے وہ پھر بھی سیر نہ ہو۔ اگر کافی احساس ذمہ داری نہ ہو تو یہ کیفیت فساد اور خونریزی کا سبب بنتی ہے۔ بعض دوسرے مفسرین معتقد ہیں کہ فرشتوں کی پیشین گوئی اس وجہ سے تھی کہ آدم روئے زمین کی پہلی مخلوق نہیں تھا بلکہ اس سے قبل بھی دیگر مخلوقات تھیں جنہوں نے نزاع، جھگڑا اور خونریزی کی تھی۔ان سے پہلے کی مخلوق کی بری فائل نسل آدم کے بارے میں فرشتوں کی بدگمانی کا باعث بنی۔ یہ تین تفاسیر ایک دوسرے سے کچھ زیادہ اختلاف نہیں رکھتیں یعنی ممکن ہے یہ تمام امور فرشتوں کی اس توجہ کا سبب بنے ہوں اور دراصل یہ ایک حقیقت بھی تھی جسے انہوں نے بیان کیا تھا۔ یہ وجہ ہے کہ خدا نے جواب میں کہیں بھی اس کا انکار نہیں کیا بلکہ اس حقیقت کے ساتھ ساتھ ایسی مزید حقیقتیں انسان اوراس کے مقام کے بارے میں موجود ہیں جن سے فرشتے آگاہ نہیں تھے۔ فرشتے سمجھتے تھے اگر مقصد، عبودیت اور بندگی ہے تو ہم اس کے مصداق کامل ہیں۔ ہمیشہ عبادت میں ڈوبے رہتے ہیں لہٰذا سب سے زیادہ ہم خلافت کے لائق ہیں لیکن وہ اس سے بے خبر تھے کہ ان کے وجود میں شہوت و غضب اور قسم قسم کی خواہشات موجود نہیں جب کہ انسان کو میلانات و شہوات نے گھیر رکھا ہے اور شیطان ہر طرف سے اسے وسوسے ڈالتا رہتا ہے لہذا ان کی عبادت انسان کی عبادت سے بہت زیادہ تفاوت رکھتی ہے۔ کہاں اطاعت اور فرمانبرداری ایک طوفان زدہ کی اور کہاں عبادت ان ساحل نشینوں کی جو مطمئن، خالی ہاتھ اور سبک بار ہیں۔ انہیں کب معلوم تھا کہ آدم کی نسل سے محمد، ابراہیم،نوح، موسیٰ اور عیسی ٰ علیھم السلام جیسے انبیاء اور ائمہ اہل بیت جیسے امام اور صالح بندے اور جانباز شہید مرد اور عورتیں عرصہ وجود میں قدم رکھیں گے جو پروانہ وار اپنے آپ کو خدا کی راہ میں پیش کریں گے۔ ایسے افراد جن کے غور و فکر کی ایک گھڑی فرشتوں کی سالہا سال کی عبادت کے برابر ہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ فرشتوں نے اپنی صفات کے بارے میں تین چیزوں کا سہارا لیا تسبیح، حمد اور تقدیس۔ اس میں شک نہیں کہ تسبیح اور حمد کے معنی ہیں خدا کو ہر قسم کے نقص سے پاک اور ہر قسم کے کمال کا اہل سمجھنا لیکن کہ تقدیس سے کیا مقصود ہے۔ بعض نے تقدیس کے معنی "پروردگار کو ہر قسم کے نقصان سے پاک شمار کرنا " بیان کئے ہیں جو کہ دراصل تسبیح کے معنی کی تاکید ہے۔ لیکن بعض معتقد ہیں کہ تقدیس مادہ "قدس" سے ہے جس کے معنی ہیں روئے زمین کو فاسد اور مفسد لوگوں سے پاک کرنا یا اپنے آپ کو ہر قسم کی بری اور مذموم صفات سے پاک کرنا اور جسم وجان کو خدا کے لئے پاک کرنا۔ لفظ "لک" کو جملہ "نقدس لک" میں اس مقصود کے لئے شاہد قرار دیتے ہیں کیونکہ فرشتوں نے یہ نہیں کہا کہ "نقدسک" یعنی ہم تجھے پاک سمجھیں گے بلکہ انہوں نے کہا "نقدس لک" یعنی تیرے لئے معاشرے کو پاک کریں گے۔ در حقیقت وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر ہدف اور غرض، اطاعت اور بندگی ہے تو ہم فرمانبردار ہیں اور اگر عبادت ہے تو ہم ہر وقت اس میں مشغول ہیں اور اگر اپنے آپ کو پاک رکھنا یا صفحہ ارضی کو پاک رکھنا ہے تو ہم ایسا کریں گے جب کہ یہ مادی انسان خود بھی فاسد ہے اور روئے زمین کو بھی فاسد کردے گا۔ حقائق کو تفصیل سے ان کے سامنے واضح کرنے کے لئے خداوند عالم نے ان کی آزمائش کے لئے اقدام کیا تاکہ وہ خود اعتراف کریں کہ ان کے اور اولاد آدم کے درمیان زمین وآسمان کا فرق ہے۔
فرشتے امتحان کے سانچے میں
پروردگار کے لطف و کرم سے آدم حقائق عالم کے ادراک کی کافی استعداد رکھتے تھے۔ خدا نے ان کی اس استعداد کو فعلیت کے درجہ تک پہنچایا اور قرآن کے ارشاد کے مطابق آدم کو تمام اسماء (عالم وجود کے حقائق و اسرار) کی تعلیم دی (وعلم اٰدم الاسماء کلھا)۔ مفسرین نے اگر چہ "علم اسماء" کی تفسیر میں قسم قسم کے بیانات دیئے ہیں لیکن مسلم ہے کہ آدم کو کلمات و اسماء کی تعلیم بغیر معنی کے نہیں دی تھی کیونکہ یہ کوئی قابل فخر بات نہیں بلکہ مقصد یہ تھاکہ ان اسماء کے معنی و مفاہیم اور جن چیزوں کے وہ نام تھے ان سب کی تعلیم ہو۔ البتہ جہان خلقت اور عالم ہستی کے مختلف موجودات کے اسماء و خواص سے مربوط علوم سے باخبر وآگاہ کیا جانا حضرت آدم کے لئے بہت بڑا اعزاز تھا۔ ایک حدیث میں ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس آیت کے متعلق سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: الارضین والجبال والشعاب والاودیہ ثم نظر الی بساط تحتہ فقال وھذا البساط مما علمہ۔ اسماء سے مراد زمینیں، پہاڑ،درے،وادیاں (غرض یہ کہ تمام موجودات)تھے۔ اس کے بعد امام نے اس فرش کی طرف نگاہ کی جو آپ کے نیچے بچھا ہوا تھا اور فرمایا: یہا ں تک کہ یہ فرش بھی ان امور میں سے ہے کہ خد انے جن کی آدم کو تعلیم دی۔(بحوالہ: مجمع البیان،زیر نظر آیات کے ضمن میں)۔ اس سے ظاہر ہوا کہ علم اسماء علم لغت کے مشابہ نہ تھا بلکہ اس کا تعلق فلسفہ،اسرار اور کیفیات و خواص کا ساتھ تھا۔ خداوند عالم نے آدم کو اس علم کی تعلیم دی تا کہ وہ اپنی سیر تکامل میں اس جہان کی مادی اور روحانی نعمتوں سے بہرہ ور ہو سکیں۔اسی طرح چیزوں کے نام رکھنے کی استعداد بھی انہیں دی تا کہ وہ چیزوں کے نام رکھ سکیں اور ضرورت کے وقت ان کا نام لے کر انہیں بلا سکیں یا منگوا سکیں اور یہ ضروری نہ ہو کہ اس کے لئے ویسی چیز دکھا نی پڑے۔یہ خود ایک بہت بڑ ی نعمت ہے۔اس موضوع کی اہمیت ہم اس وقت سمجھتے ہیں جب دیکھتے ہیں کہ انسان کے پاس اس وقت جو کچھ ہے کتاب اور لکھنے کی وجہ سے ہے اور گزرے ہوئے لوگوں کے سب علمی ذخائر ان کی تحریروں میں جمع ہیں اور یہ سب کچھ چیزوں کے نام رکھنے اور ان کے خواص کی وجہ سے ہے ورنہ کبھی بھی ممکن نہ تھا کہ ہم گذشتہ لوگوں کے علوم آنے والوں تک منتقل کر سکتے۔ پھر خداوند عالم نے فرشتوں سے فرمایا: اگر سچ کہتے ہو تو ان اشیاء اور موجودات کے نام بتاو ٴجنہیں دیکھ رہے ہو اور ان کے اسرار و کیفیات کو بیان کرو (ثم عرضھم علی الملائکةف قال انبئونی باسماء ھوٴلاء ان کنتم صدقین)۔لیکن فرشتے جو اتنا علم نہ رکھتے تھے اس امتحا ن میں رہ گئےلہذا جواب میں کہنے لگے خداوندا!تو منزہ ہے تو نے ہمیں جو تعلیم دی ہے ہم اس کے علاوہ کچھ نہیں جانتے (قالوا سبحنک لا علم لنا الا ما علمتنا) توخود ہی علیم و حکیم ہے (انک انت العلیم الحکیم)۔ اگر ہم نے اس سلسلے میں سوال کیا ہے تو یہ ہماری نا آگاہی کی بناء پر تھا، ہم نے یہ مطلب نہیں پڑھا تھا اور آدم کی اس عجیب استعداد اور قدرت سے بےخبر تھے جو ہمارے مقابلے میں اسکا بہت بڑا امتیاز ہے۔ بے شک وہ تیری خلافت و جانشینی کی اہلیت رکھتا ہے۔ جہان ہستی کی سرزمین اس کے وجود کے بغیر ناقص تھی۔ اب آدم کی باری آ ئی کہ ملائکہ کے سامنے موجودات کا نام لیں اور ان کے اسرار بیان کریں۔ خداوند عالم نے فرمایا: اے آدم! فرشتوں کو ان موجودات کے ناموں سے آگاہ کرو (قال یا آدم انبئھم باسمائھم قال الم اقل لکم انی اعلم غیب السماوات والارض واعلم ما تبدون وما کنتم تکتمون)۔ اس مقام پر ملائکہ نے اس انسان کی وسیع معلومات اور فراواں حکمت و دانائی کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا اور ان پر واضح ہو گیا کہ صرف یہی زمین پر خلافت کی اہلیت رکھتا ہے۔ جملہ "ما کنتم تکتمون" (جو کچھ تم اپنے اندر چھپائے ہوئے ہو)، اس بات کی نشاندہی ہے کہ فرشتوں نے جو کچھ ظاہر کیا تھا اس کے علاوہ کچھ دل میں چھپائے ہوئے تھے۔ بعض کہتے ہیں یہ ابلیس کے غرور و تکبر کی طرف اشارہ ہے جو ان دنوں ملائکہ کی صف میں رہتا تھا لہذا وہ بھی ساتھ ہی مخاطب تھا۔اس نے دل میں پختہ ارادہ کر رکھا تھا کہ وہ آدم کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گا۔ یہ بھی احتمال ہے فرشتے در حقیقت اپنے آپ کو روئے زمین پر خلافت الہی کے لئے ہر کس و ناکس سے زیادہ اہل سمجھتے تھے اگرچہ اس مطلب کی طرف اشارہ تو کر چکے تھے لیکن صراحت سے یہ بیان نہ کیا تھا۔
دوسوال اور ان کا جواب
دو سوال اس موقع پر باقی رہ جاتے ہیں۔ پہلا یہ کہ خداوند عالم نے حضرت آدم علیہ السلام کو کس طرح ان علوم کی تعلیم دی تھی اور دوسرا یہ کہ اگر ان علوم کی فرشتوں کو بھی تعلیم دے دیتا تو وہ بھی آدم والی فضیلت حاصل کر لیتے۔ یہ آدم کے لئے کون سا افتخار و اعزاز ہے جو فرشتوں کے لئے نہیں۔ پہلے سوال کے جواب میں اس نکتے کی طرف توجہ کرنی چاہیئے کہ یہاں تعلیم جنبہ تکوینی رکھتی ہے یعنی خدا نے یہ آگاہی آدم کی طبیعت و سرشت میں قرار دی تھی اور تھوڑی سی مدت میں اسے بار آور کر دیا تھا۔ لفظ تعلیم کا اطلاق تعلیم تکوینی پر قرآن میں ایک جگہ اور بھی آیا ہے۔ سورہ رحمٰن آیہ ۴ میں ہے: علمہ البیان۔ خداوند عالم نے انسان کو بیان کی تعلیم دی ہے۔ واضح ہے کہ یہ تعلیم خداوند عالم نے انسان کو مکتب آفرینش و خلقت میں دی ہے اور اس سے مراد وہی استعداد و خصوصیت فطری ہے جو انسانوں کے مزاج میں رکھ دی گئی ہے تاکہ وہ بات کر سکیں۔ دوسرے سوال کے جواب میں اس طرف توجہ رکھنی چا ہئیے کہ ملائکہ کی خلقت ایک خاص قسم کی ہے جس میں یہ تمام علوم حاصل کرنے کی استعداد نہیں ہے۔ وہ ایک اور مقصد کے لئے پیدا کئے گئے ہیں، اس مقصد کے لئے ان کی تخلیق نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ اس امتحان کے بعد ملائکہ حقیقت حال سمجھ گئے اور انہوں نے قبول کر لیا۔ پہلے شاید وہ سو چتے تھے کہ اس مقصد کی اہلیت بھی ان میں ہے مگر خدا نے علم اسماء کے امتحان سے آدم اور ان کی استعداد کا فرق واضح کر دیا۔ یہاں ایک اور سوال بھی سامنے آتا ہے کہ اگر مقصود علم اسرار خلقت اور تمام موجودات کے خواص جاننا تھا تو پھر ضمیر "ھم"، لفظ "اسمائھم" اور لفظ "ھٰؤلاء" کیوں استعمال ہوئے جو عموما افراد عاقل کے لئے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا نہیں کہ ضمیر "ھم" اور لفظ "ھٰولاء" صرف ذوی العقول کے لئے استعمال ہوتے ہیں بلکہ بعض اوقات عاقل اور غیر عاقل کے مجموعے پر یا یہاں تک کہ افراد غیر عاقل کے مجموعے کے لئے بھی بولے جاتے ہیں جیسے حضرت یوسف ستاروں، سورج اور چاند کے بارے میں کہتے ہیں۔ قرآن میں ہے: رئیتھم لی ساجدین۔ (یوسف ۔۴) میں نے خواب میں دیکھا یہ سب مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔
آدم جنت میں
Tafsīr Nemūna · Vol. 1گذشتہ بحثیں جو انسان کے مقام و عظمت کے بارے میں تھیں، ان کے ساتھ قرآن نے ایک اور فصل بیان کی ہے۔ پہلے کہتا ہے: یاد کرو وہ وقت جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کے لئے سجدہ و خضوع کرو (و اذ قلنا للملائکة اسجدو الادم) ان سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے جس نے انکار کیا اور تکبر اختیار کیا (فسجدوا الا ابلیس ابی واستکبر) اس نے تکبر کیا اور اسی تکبر و نافرمانی کی وجہ سے کافروں میں داخل ہو گیا (وکان من الکافرین)۔ پہلے پہل یوں لگتا ہے کہ آدم کو سجدہ کرنے کا مرحلہ فرشتوں کے امتحان اور تعلیم اسماء کے بعد آیا لیکن قرآن کی دوسری آیات میں غور کرنے سے یہ موضوع آفرینش انسان اور اس کی خلقت کی تکمیل کے ساتھ ہے اور ملائکہ کے امتحان سے پہلے در پیش ہوا۔ سورہ حجر آیہ ۲۹ میں ہے: فاذا سویتہ ونفخت فیہ من روحی فقعوا لہ سجدین۔ جب خلقت آدم کو منظم کر لوں اور اپنی روح میں سے (ایک شائستہ روح جومیری مخلو ق ہے)اس میں پھونک دوں تو اس کے لئے سجدہ کرو۔ یہی مفہوم سورہ ص آیہ۷۲ میں بھی ہے۔(آلوسی نے روح المعانی میں اور رازی نے تفسیر کبیر میں بھی اس معنی کی طرف اشارہ کیا ہے)۔ اس موضوع کی شاہد یہ بات بھی ہے کہ اگر سجدہ کا حکم مقام ِآدم کے واضح ہونے کے بعد ہوتا تو ملائکہ کے لئے زیادہ افتخار کا باعث نہ ہوتا چو نکہ اس وقت تو آ دم کاافتخار سب پر واضح ہوچکا تھا۔ بہرحال مندرجہ بالاآیت انسانی شرافت اور اسکی عظمت مقام کی زندہ اور واضح گواہ ہے کہ اسکی تکمیل خلقت کے بعدتمام ملائکہ کوحکم ملتا ہے کہ اس عظیم مخلوق کے سامنے سر تسلیم خم کرو۔ واقعا وہ شخص جو مقام خلافت الہٰی اور زمین پر خدا کی نمائندگی کا منصب حاصل کر ،تمام تر تکامل و کمال پر فائز ہو اور بلند مرتبہ فرزندوں کی پرورش کا ذمہ دار ہو جن میں انبیاء اور خصوصا پیامبر اسلام اور ان کے جانشین شامل ہوں،ایسا انسان ہر قسم کے احترام کے لائق ہے۔ ہم اس انسان کا کتنا احترام کرتے ہیں اور اس کے سامنے جھکتے ہیں جو علم کے چند فارمولے جانتا ہو۔تو پھر وہ پہلا انسان جو جہان ہستی کی بھرپور معلومات رکھتا تھا اس کے ساتھ کیا کچھ ہونا چاہیے تھا۔
(۱) ابلیس نے مخالفت کیوں کی
ہم جانتے ہیں کہ لفظ "شیطان" اسم جنس ہے جس میں پہلا شیطان اور دیگر تمام شیطان شامل ہیں لیکن ابلیس مخصوص نام ہے اور یہ اسی شیطان کی طرف اشارہ ہے جس نے آدم کو ورغلایا تھا۔ وہ صریح آیات قرآن کے مطابق ملائکہ کی نوع سے نہیں تھا، صرف ان کی صفوں میں رہتا تھا۔ وہ گروہ جن میں سے تھا جو ایک مادی مخلوق ہے۔ سورہ کہف آیہ ۵۰ میں ہے : فسجدوا الا ابلیس ط کان من الجن۔ ابلیس کے سوا سب سجدے میں گر پڑے (اور) یہ گروہ جن میں سے تھا۔ اس مخالفت کا سبب کبر و غرور اور خاص تعصب تھا جو اس کی فکر پر مسلط تھا۔وہ یہ سوچتا تھا کہ میں آدم سے بہتر ہوں لہٰذا اسے آدم کو سجدہ کرنے کا حکم نہیں دیا جانا چاہیئے بلکہ آدم کو سجدہ کرنا چاہیئے او ر اسے مسجود ہونا چاہیئے تھا۔ اس کی تفصیل سورہ اعراف کی آیہ ۱۲ کے ذیل میں آئے گی۔( تفسیر نمونہ،سورہ ٴاعراف کی آیہ ۱۲کی تفسیر سے رجوع کیجئے )۔ شیطان کے کفر کی علت بھی یہی تھی کہ اس نے خداوند عالم کے حکیمانہ حکم کو ناروا سمجھا۔ نہ صرف یہ کہ عملی طور پر اس نے نافرمانی کی بلکہ اعتقادکی نظر سے بھی معترض ہوا اور خودبینی و خودخواہی نے یوں ایک عمر کے ایمان و عبادت کے ماحصل کو برباد کر دیا اور اس کے خرمن ہستی میں آگ لگا دی۔ کبر و غرور کے آثار بد اس سے بھی زیادہ ہیں۔ کان من الکافرین کی تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ وہ پہلے ہی میرِ ملائکہ اور فرمان خدا کی اطاعت سے اپنا حساب الگ کر چکا تھا اور اس کے سر میں استکبار کی فکر پرورش پا رہی تھی اور شاید وہ خود سے کہتا تھا کہ اگر مجھے آدم کو سجدہ اور خضوع کرنے کا حکم دیا گیا تو میں قطعا اطاعت نہیں کروں گا۔ ممکن ہے جملہ ماکنتم تکتمون (جو کچھ تم چھپاتے تھے) اسی طرف اشارہ ہو۔ تفسیر قمی میں جو حدیث امام حسن عسکری علیہ السلام سے روایت کی گئی ہے اس میں بھی یہی معنی بیان ہوا ہے۔(بحوالہ: تفسیرالمیزان، ج۱ ، ص۱۲۶)۔
(۲)سجدہ خدا کے لئے تھا یا آدم کے لئے
اس میں کوئی شک نہیں کہ :"سجدہ" جس کا معنی عبادت و پرستش ہے صرف خدا کے لئے ہے کیونکہ عالم میں خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور توحید عبادت کے معنی یہی ہیں کہ خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں لہذا اس میں شک و شبہ نہیں کہ ملائکہ نے آدم کے لئے سجدہٴ عبادت نہیں کیا بلکہ یہ سجدہ خدا کے لئے تھا لیکن اس عجیب و غریب مخلوق کی وجہ سے یا یہ کہ سجدہ آدم کے لئے تھا لیکن وہ خضوع و تعظیم کا سجدہ تھا نہ کہ عبادت و پرستش کا۔ کتاب عیون الاخبار میں امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام سے اسی طرح روایت ہے: کان سجودھم للہ تعالی عبودیة ولادم اکراما و طاعة لکوننا فی صلبہ۔(بحوالہ: نور الثقلین ، جلد ۱، ص ۵۸)۔ فرشتوں کا سجدہ ایک طرف سے خدا کی عبادت تھا اور دوسری طرف آدم کا اکرام و احترام کیونکہ ہم صلب آدم میں موجود تھے۔ بہرحال اس واقعہ اور فرشتوں کے امتحان کے بعد آدم اور اس کی بیوی کو حکم دیا گیا کہ وہ بہشت میں سکونت اختیار کریں۔ چنانچہ قرآن کہتا ہے: ہم نے آدم سے کہا کہ تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور اس کی فراواں نعمتوں میں سے جو چاہو کھاؤ (وقلنا یا آٰدم اسکن انت وزوجک الجنة وکلا منھا رغدا َحیث شئتما) ("رغد" بروزن "صمد" ہے جس کے معنی ہیں فراواں، وسیع اور گوارا۔ "حیث شئتما" اشارہ ہے ہر جگہ اور ہر قسم کے میوے کی طرف)۔ لیکن اس مخصوص درخت کے نزدیک نہ جانا ورنہ ظالموں میں سے ہو جاؤ گے (ولا تقربا ھٰذہ الشجرة فتکونا من الظالمین)۔ آیات قرآنی سے ظاہر ہوتا ہے کہ آدم زندگی گزارنے کے لئے اسی عام زمین پر پیدا ہوئے تھے لیکن ابتدا میں خداوند عالم نے انہیں بہشت میں سکونت دی جو اسی جہان کا ایک سرسبز وشاداب اور نعمتوں سے مالامال باغ تھا۔ وہ ایسی جگہ تھی جہاں آدم نے کسی قسم کی تکلیف نہیں دیکھی۔ شاید اس کا سبب یہ ہو کہ آدم زمین میں زندگی گزارنے سے آشنائی نہیں رکھتے تھے اور بغیر کسی تمہید کے زحمات و تکالیف اٹھانا ان کے لئے مشکل تھا اور زمین میں زندگی گزارنے کے لئے یہاں کے کردار و رفتار کی کیفیت سے آگاہی ضروری تھی لہذا مختصر مدت کے لئے بہشت کے اندر ضروری تعلیمات حاصل کر لیں کیونکہ زمین کی زندگی پروگراموں، تکلیفوں اور ذمہ داریوں سے معمور ہے جس کا انجام صحیح سعادت،تکامل اور بقائے نعمت کا سبب ہے اور ان سے روگردانی کرنا رنج و مصیبت کا باعث ہے اور یہ پہچان لیں کہ اگرچہ انہیں آزاد پیدا کیا گیا ہے لیکن یہ مطلق و لامحدود آزادی نہیں ہے کہ جو کچھ چاہیں انجام دیں بلکہ انہیں چاہئے کہ زمین کی کچھ چیزوں سے چشم پوشی کریں۔ نیز یہ جان لینا بھی تھا کہ اگر خطا و لغزش دامن گیر ہو تو ایسا نہیں کہ سعادت و خوش بختی کے دروازے ہمیشہ کے لئے بند ہو جائیں گے بلکہ انہیں پلٹ کر دوبارہ عہد وپیمان کرنا چاہیئے کہ وہ حکم خدا کے خلاف کوئی کام انجام نہیں دیں گے تاکہ دوبارہ نعمات الہٰی سے مستفید ہو سکیں۔ یہ بھی تھا کہ وہ اس ماحول میں رہ کر کچھ پختہ ہو جائیں اور اپنے دوست اور دشمن کو پہچان لیں اور زمین میں زندگی گزارنے کی کیفیت سے آشنا ہو جائیں۔ یقینایہ سلسلہ تعلیمات ضروری تھا تا کہ وہ اسے یاد رکھیں اور اس تیاری کے ساتھ روئے زمین پر قدم رکھیں۔ یہ ایسے مطالب تھے کہ حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد آئندہ زندگی میں ان کی محتاج تھی لہذا باوجودیکہ آدم کو زمین کی خلافت کے لئے پیدا کیا گیا تھا، ایک مدت تک بہشت میں قیام کرتے ہیں اور انہیں کئی ایک حکم دیے جاتے ہیں۔ شاید یہ سب تمرین و تعلیم کے پہلو سے تھا۔ اس مقام پر آدم نے اس فرمان الٰہی کو دیکھا جس میں آپ کو ایک درخت کے بارے میں منع کیا گیا تھا۔ ادھر شیطان نے بھی قسم کھا رکھی تھی کہ آدم اور اولاد آدم کو گمراہ کرنے سے باز نہ آئے گا۔ وہ وسوسے پیدا کرنے میں مشغول ہو گیا۔ جیسا کہ باقی آیات قرآنی سے ظاہر ہوتا ہے اس نے آدم کو اطمینان دلایا کہ اگر اس درخت سے کچھ کھا لیں تو وہ اور ان کی بیوی فرشتے بن جائیں گے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جنت میں رہیں گے یہاں تک کہ اس نے قسم کھائی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔( سورہ اعراف آیہ ۲۰ ،۲۱) بالآ خر شیطان نے ان دونوں کو پھسلا دیا اور جس بہشت میں وہ رہتے تھے اس سے باہر نکال دیا۔ قرآن کے الفاظ میں: فازلھما الشیطٰن عنھا فاخرجھما مما کانا فیہ۔( ضمیر "عنہا" کے مرجع میں دو احتمال ہیں۔ ۱۔ یہ جنت کے لئے ہو اس صورت میں "مما کانا فیہ" کا جملہ مقام و مرتبہ کے لئے ہو تو معنی یہ ہوگا کہ شیطان نے ان کے دلوں کو جنت میں پھسلایا اور جس مقام کے وہ حامل تھے اس سے باہر نکالا۔ ۲ ۔یہ مرجع "شجرہ" ہو یعنی شیطان نے اس درخت ممنوع کی وجہ سے انہیں پھسلایا اور جس بہشت میں وہ تھے اس سے باہر نکالا)۔ اس بہشت سے جو اطمینان و آسائش کا مرکز تھی اور رنج و غم سے دور تھی شیطان کے دھوکے میں آکر نکالے گئے۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے: وقلنا اھبطوا بعضکم لبعض عدو۔ اور ہم نے انہیں حکم دیا کہ زمین پر اتر آؤ جہاں تم ایک دوسرے کے دشمن ہو جاؤ گے (آدم و حوا ایک طرف اور شیطان ایک طرف)۔ مزید فرمایا گیا کہ تمہارے لئے ایک مدت معین تک زمین میں قرارگاہ ہے جہاں سے تم نفع اندوز ہو سکتے ہو (ولکم فی الارض مستقر ومتاع الی حین)۔ یہ وہ مقام تھا کہ آدم متوجہ ہوئے کہ انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور بہشت کے آرام دہ اور نعمتوں سے مالامال ماحول سے وسوسے کے سامنے سر جھکانے کے نتیجے میں باہر نکالے جا رہے ہیں اور اب زحمت و مشقت کے ماحول میں جا کر رہیں گے۔یہ صحیح ہے کہ آدم نبی تھے اور گناہ سے معصوم تھے لیکن جیسا کہ ہم آئندہ چل کر بتائیں گے کہ کسی پیغمبر سے جب ترک اولی سرزد ہو جاتا ہے تو خداوند عالم اس سے اس طرح سخت گیری کرتا ہے جیسے کسی عام انسان سے گناہ سرزد ہو۔
(۱) آدم کس جنت میں تھے
اس سوال کے جواب میں اس نکتے کی طرف متوجہ رہنا چاہیئے کہ اگرچہ بعض نے کہا ہے کہ یہ وہی جنت تھی جو نیک اور پاک لوگوں کی وعدہ گاہ ہے لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ وہ بہشت نہ تھی بلکہ زمین کے سرسبز علاقوں میں نعمات سے مالامال ایک روح پرور مقام تھا۔ اول تو وہ بہشت جس کا وعدہ قیامت کے ساتھ ہے، وہ ہمیشگی اور جاودانی نعمت ہے جس کے دوام کی نشاندہی بہت سی آیات میں کی گئی ہے اور اس سے باہر نکلنا ممکن نہیں۔ دوم یہ کہ غلط اور بے ایمان ابلیس کے لئے اس بہشت میں جانے کی کوئی راہ نہ تھی۔ وہاں نہ وسوسہ شیطانی ہے اور نہ خدا کی نافرمانی۔ سوم یہ کہ اہل بیت سے منقول روایات میں یہ موضوع صراحت سے نقل ہوا ہے۔ ایک راوی کہتا ہے: میں نے امام صادق علیہ السلام سے آدم کی بہشت کے متعلق سوال کیا۔ امام نے جواب میں فرمایا: جنة من جنات الدنیا یطلع فیھا الشمس والقمر ولو کان من جنان ا لاٰخرة ماخرج منھا ابدا۔ دنیا کے باغوں میں سے ایک باغ تھا جس پر آفتاب و ماہتاب کی روشنی پڑتی تھی۔ اگر آخرت کی جنتوں میں سے ہوتی تو کبھی بھی اس سے باہر نہ نکالے جاتے۔( نور الثقلین جلد ۱، ص ۶۲ ، بحوالہ کتاب کافی) یہاں سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ آدم کے ہبوط و نزول سے مراد نزول مقام ہے نہ کہ نزول مکان یعنی اپنے اس بلند مقام اور سرسبز جنت سے نیچے آئے۔ بعض لوگوں کے نزدیک یہ احتمال بھی ہے کہ یہ جنت کسی آسمانی کرہ میں تھی اگرچہ وہ ابدی جنت نہ تھی۔ بعض اسلامی روایات میں بھی اس طرف اشارہ ہے کہ یہ جنت آسمان میں تھی لیکن ممکن ہے لفظ "سماء" (آسمان) ان روایات میں مقام بلند کی طرف اشارہ ہ ۔ تاہم بے شمار شواہد نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ جنت آخرت والی جنت نہ تھی کیونکہ وہ تو انسان کی سیر تکامل کی آخری منزل ہے اور یہ اس کے سفر کی ابتدا تھی اور اس کے اعمال اور پروگرام کی ابتدا تھی اور وہ جنت اس کے اعمال اور پروگرام کا نتیجہ ہے۔
(۲) آدم کا گناہ کیا تھا
واضح ہے کہ آدم اس مقام کے علاوہ جو خدا نے گذشتہ آیات میں ان کے لئے بیان کیا ہے معرفت و تقوی کے لحاظ سے بھی بلند مقام پر فائز تھے۔ وہ زمین میں خدا کے نمائندہ تھے، وہ فرشتوں کے معلم تھے، وہ عظیم ملائکہ الٰہی کے مسجود تھے اور یہ مسلم ہے کہ آدم ان امتیازات و خصوصیات کے ہوتے ہوئے گناہ نہیں کر سکتے تھے، علاوہ ازیں ہمیں معلوم ہے کہ وہ پیغمبر تھے اور ہر پیغمبر معصوم ہوتا ہے۔ لہذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آدم سے جو کچھ سرزد ہوا وہ کیا تھا۔ یہاں تین تفاسیر موجود ہیں۔ 1. آدم سے جو کچھ سرزد ہوا ترک اولی تھا۔ دوسرے لفظوں میں ان کی حیثیت اور نسبت سے وہ گناہ تھا لیکن گناہ مطلق نہ تھا۔ گناہ مطلق وہ گناہ ہوتا ہے جو کسی سے سرزد ہو اور اس کے لئے سزا ہے (مثلا َشرک، کفر،ظلم اور تجاوز وغیرہ) اور نسبت کے اعتبار سے گناہ کا مفہوم یہ ہے کہ بعض اوقات بعض مباح اعمال بلکہ مستحب بھی بڑے لوگوں کے مقام کے لحاظ سے مناسب نہیں۔ انہیں چاہیئے کہ وہ ان اعمال سے گریز کریں اور اہم کام بجا لائیں ورنہ کہا جائے گا کہ انہوں نے ترک اولی کیا ہے۔ مثلاَ ہم جو نماز پڑھتے ہیں اس کا کچھ حصہ حضور قلب سے ہوتا ہے اور کچھ بغیر اس کے۔ یہ امر ہمارے مقام کے لئے تو مناسب ہے لیکن حضرت رسولخداﷺ اور حضرت علی علیہ السلام کے شایان شان نہیں۔ ان کی ساری نماز خدا کے حضور میں ہونی چاہیئے اور اگر اس کے علاوہ کچھ ہو تو کسی فعل حرام کا ارتکاب تو نہیں تاہم ترک اولی ہے۔ 2. خدا کی نہی یہاں "نہی ارشادی" ہے جیسے ڈاکٹر کہتا ہے فلاں غذا کھاؤ ورنہ بیمار پڑ جاؤ گے۔ خدا نے بھی آدم سے فرمایا کہ اگر اس درخت ممنوع سے کچھ کھا لیا تو بہشت سے باہر جانا پڑے گا اور رنج و تکالیف میں مبتلا ہونا پڑے گا لہذا آدم نے حکم خدا کی مخالفت نہیں کی بلکہ "نہی ارشادی" کی مخالفت کی ہے۔ 3. جنت بنیادی طور پر جائے تکلیف نہ تھی بلکہ وہ آدم کے زمین کی طرف آنے کے لئے ایک آزمائش اور تیاری کا زمانہ تھا اور نہی صرف آزمائش کا پہلو رکھتی تھی۔(مزید وضاحت کے لئے جلد۴،سورہ اعراف ۱۹ تا ۲۲ اور جلد ۷ آیات ۱۲۱ اور اس کے بعد کی طرف رجوع کریں)۔
(۳) تورات سے معارف قرآن کا مقابلہ
مندرجہ بالا آیات کے مطابق وجود آدم میں سب سے بڑا افتخار اور نقطہ قوت جس کی وجہ سے وہ مخلوق میں منتخب ہے اور جس کی وجہ سے وہ مسجود ملائکہ ہے وہی "علم الاسماء" سے آگاہی اور حقائق اسرار خلقت و جہان ہستی سے واقفیت ہے۔ یہ واضح ہے کہ آدم انہی علوم کے لئے پیدا کیے گئے تھے اور اولاد آدم اگر کمال حاصل کرنا چاہے تو اسے چاہیئے کہ وہ علوم سے زیادہ استفادہ کرے۔ اولاد آدم میں سے ہر ایک کا کمال و تکامل اسرار خلقت کی آگاہی سے سیدھی نسبت رکھتا ہے۔ قرآن پوری صراحت سے آدم کے مقام کی عظمت ان چیزوں میں سمجھتا ہے لیکن توریت میں آدم کے بہشت سے باہر نکالے جانے کا جواز اور بہت بڑا گناہ بیان کیا گیا ہے۔ وہ ان کی علم و دانش کی طرف توجہ اور نیک و بد جاننے کی خواہش ہے۔ تورات فصل دوم سفر تکوین میں ہے: "پس خداوند عالم نے آدم کو خاک ِ زمین سے صورت دی اور تسلیم حیات اس کے دماغ میں پھونکی اور آدم زندہ جان ہو گیا اور خداوند خدا نے ہر خوشنما درخت اور جو کھانے کے لئے اچھا تھا، زمین سے اُگایا نیز شجر حیات کو وسط ِ باغ میں لگایا اور نیک و بد جاننے کے درخت کو۔۔۔۔ اور خداوند نے آدم کو حکم دیا اور کہا کہ باغ کے تمام درختوں سے تمہیں کھانے کا اختیار ہے لیکن "نیک و بد جاننے" کے درخت سے نہ کھانا جس دن تو اسے کھائے گا موت کا مستحق ہو جائے گا۔" فصل سوم میں یوں آیا ہے: "اور خداوند کی آواز کو سنا جو دن کو نسیم کے وقت باغ میں خراماں خراماں چلتا تھا۔ آدم اور اس کی بیوی اپنے آپ کو خداوند کے حضور سے باغ کے درختوں کے در میان چھپاتے تھے۔" "اور خداوند نے آدم کو آواز دی۔اُسے کہا کہ تو کہا ں ہے۔" "اس نے جواب میں کہا کہ میں نے تیری آواز سنی اور میں ڈر گیا کیونکہ میں برہنہ ہوں اس وجہ سے چھپا بیٹھا ہو ں۔" "خدا نے اس سے کہا:تجھے کس نے کہا کہ تو برہنہ ہے۔ کیا جس درخت سے تمہیں نہ کھانے کے لئے کہا تھا تم نے کچھ کھایا۔" "آدم نے کہا جو عورت تو نے مجھے میرے ساتھ رہنے کے لئے دی ہے اس نے اس د رخت سے مجھے دیا ہے جسے میں نے کھالیا ہے۔" "اور خداوند نے کہا آ دم تم تو 'نیک وبد جاننے' کی وجہ سے چونکہ ہم میں سے ایک ہو گیا ہے لہٰذا اب ایسا نہ ہو کہ اپنا ہاتھ دراز کرے اور 'درخت حیات' سے بھی کچھ لے لے اور کھا لے اور کھا کر ہمیشہ کے لئے زندہ رہے۔" "پس اس سبب سے خداوند نے باغ عدن سے نکال دیا تا کہ اس زمین میں جو اس سے لے لی گئی تھی زراعت کرے۔" جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا یہ تکلیف دہ افسانہ جو آج تورات میں ایک تاریخی حیثیت سے موجود ہے اس کے مطابق آدم کو بہشت سے نکلنے اور ان کے عظیم گناہ کی اصلی علت و سبب علم و دانش کی طرف ان کی توجہ اور نیک و بد سے آگاہی کے لئے ا ن کی تمنا ہے۔ چنانچہ "شجرہٴ نیک و بد" کی طرف ہاتھ نہ پھیلاتے تو ابد تک جہالت میں باقی رہ جاتے یہاں تک وہ یہ بھی نہ جا نتے کہ برہنہ ہونا قبیح اور ناپسندیدہ فعل ہے اور ہمیشہ کے لئے بہشت میں باقی ر ہ جاتے۔ اس لحاظ سے تو آدم کو اپنے کام پر پشیمان نہیں ہونا چاہیئے تھا کیونکہ ایسی جنت کو ہاتھ سے دینا جہاں رہنے کی شرط نیک و بد سے عدم آگاہی ہو،اس کے مقابلے میں علم و دانش حاصل کرنا نفع مند تجارت ہے۔ اس تجارت کے بعد آدم کیو ں حیران و پریشان ہوں۔ اس بناء پر تورات کا یہ افسانہ ٹھیک قرآن کے مد مقابل قرار پایا ہے جس کے نزدیک انسان کا مقام عظمت اور اس کی خلقت کا راز علم الاسماء سے آگاہی ہے۔ اس کے علاوہ مذکورہ افسانے میں خداوند عالم اور مخلوقات کے بارے میں عجیب و غریب باتیں بیان کی گئیں ہیں۔مثلا: 1. خداکی طرف جھوٹ کی نسبت ___ جیسے فصل دوم کا جملہ ۱۷: "خداوند خدا نے کہا کہ اس درخت سے مت کھانا ورنہ مرجاوٴگے۔" حالانکہ انہوں نے مرنا نہیں تھا بلکہ دانا و عقلمند ہونا تھا۔ 2. خداوند عالم کی طرف بخل کی نسبت___ جیسے فصل سوم کا جملہ ۲۲جس کے مطابق خدا نہیں چاہتا تھا کہ آدم و حوا علم و حیات کے درخت سے کھائیں اور دانا و عقل مند ہو جائیں نیز ابدی زندگی حاصل کریں۔ 3. خداوند عالم کے لئے شریک کے وجود کا امکان ___ جیسے یہ جملہ: "آدم شجرِ نیک و بد کھانے کے بعد ہم(خداوٴں)میں سے ایک کی طرح ہو گیا ہے۔" 4. خدا کی طرف حسد کی نسبت ____ جیسے اس جملہ سے ظاہر ہے: "خداوند عالم نے اس و علم و دانش کی وجہ سے جو آدم میں پیدا ہو گئی تھی اس پر رشک و حسد کیا۔" 5. خداوند عالم کی طرف جسم کی نسبت ____جیسے فصل سوم میں ہے: "خداوند صبح کے وقت بہشت کی سڑکوں پر خراماں خراماں چل رہاتھا۔" 6. خداوند عالم کی ان حوادث سے بےخبری جو اس کے قریب واقع ہوتے ہیں ____ جیسے جملہ ۹ میں ہے: "آواز دی اے آدم!کہاں ہو۔ انہوں نے درختوں کے درمیان اپنے آپ کوخداوند کی آنکھ سے چھپا رکھا تھا۔"( کتاب "قرآن وآخرین پیامبر" ص ۱۲۷تا۱۳۲)۔ )یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ یہ جھوٹے افسانے پہلے تورات میں نہ تھے بعد میں ملا دیئے گئے۔)
(۴)قرآن میں شیطان سے کیا مراد ہے
لفظ "شیطان" مادہ "شطن" سے ہے اور "شاطن" کے معنی ہیں "خبیث و پست" اور شیطان وجود سرکش و متمرد کو کہا جاتا ہے چاہے وہ انسان ہو یا جن یا کوئی اور حرکت کرنے والی چیز۔ روح شریر اور حق سے دور کو بھی شیطان کہتے ہیں جو حقیقت میں ایک قدر مشترک رکھتے ہیں۔ یہ بھی جاننا چاہیئے کہ شیطان اسم عام (اسم جنس)ہے جب کہ ابلیس اسم خاص (علم)ہے۔ دوسرے لفظوں میں شیطان ہر موذی،گمراہ،باغی اور سرکش کو کہتے ہیں۔ وہ انسان ہو یا غیر انسان لیکن ابلیس اس شیطان کانام ہے جس نے آدم کو ورغلایا تھا اور اس وقت بھی وہ اپنے لاوٴ لشکرکے ساتھ اولاد آدم کے شکار کے لئے کمین گاہ میں ہے۔ قرآن میں اس لفظ کے استعمال کے مواقع سے معلوم ہو جاتا ہے کہ شیطان موذی و مضر چیز کو کہتے ہیں جو راہ راست سے ہٹ چکاہو، جو دوسروں کو آزار پہنچانے کے درپے ہو، اختلاف اور تفرقہ پیدا کرنا جس کی کوشش ہو اور جو اختلاف و فساد کو ہوا دیتا ہو۔ جیسا کہ قرآن میں ہے: انما یرید الشیطان ان یوقع بینکم العداوة والبغضآء۔ (مائدہ،۹۱) شیطان چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان دشمنی، بغض اور کینہ پیدا کرے۔ اگر ہم دیکھیں گے کہ لفظ "یرید" فعل مضارع کا صیغہ ہے اور استمرار اور تسلسل پر دلالت کرتا ہے تواس سے یہ معنی بھی پیدا ہوتے ہیں کہ یہ شیطان کاہمیشہ کا ارادہ ہے۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن میں لفظ شیطان کسی خاص موجود کے لئے نہیں بولا گیا بلکہ مفسد اور شریر انسانوں تک کو شیطان کہا گیا ہے جیسے: وکذٰلک جعلنا لکل نبی عدواَ شیٰطین الانس والجن۔ (انعام ،۱۱۲) اسی طرح ہر نبی کے لئے ہم نے انسانوں اور جنوں میں سے شیطانوں کو دشمن قرار دیا ہے۔ یہ جو ابلیس کو بھی شیطان کہا گیا ہے وہ اس کی شرارت اورفساد کے با عث ہے۔ اس کے علاوہ بعض اوقات لفظ شیطان جراثیم کے لئے بھی استعمال کیا جا تا ہے۔ مثلاَ حضرت امیرالموٴمنین علیہ السلام فرماتے ہیں: لاتشرب الماء من ثلمة الاناء ولامن عروتہ فان الشیطان یعقد علی العروة والثلمة۔ برتن کے ٹوٹے ہوئے حصے اور دستے کی جگہ سے پانی نہ پیو کیونکہ دستے کی جگہ اور ٹوٹے ہوئے حصے پر شیطان بیٹھا ہوتا ہے۔[ بحوالہ: کافی جلد ۶، کتاب الاطعمۃ والاشربۃ باب الاولی] نیز امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ولا یشرب من اذن الکوزولامن کسرہ فان کان فیہ فانہ مشرب الشیاطین۔ دستے اور کوزے کے ٹوٹے ہوئے مقام سے پانی نہ پیو کیونکہ یہ شیطان کے پینے کی جگہ ہے۔[ سابقہ حوالہ] رسول اسلامﷺ کا ارشاد ہے: مونچھوں کے بال بڑے نہ رکھو کیونکہ شیطان اسے اپنی زندگی کے لئے جائے امن سمجھتا ہے اور اس میں چھپ کر بیٹھتا ہے۔ [سابقہ حوالہ] اس سے ظاہر ہوا کہ شیطان کے ایک معنی نقصان دہ اور مضر جراثیم بھی ہیں لیکن واضح ہے کہ مقصد یہ نہیں لفظ شیطان تمام مقامات پر اس معنی میں ہو بلکہ غرض یہ ہے کہ شیطان کے مختلف معانی ہیں۔ان روشن و واضح مصادیق میں سے ایک ابلیس،اس کا لشکر اور اس کے اعوان و مددگار بھی ہیں اور اس کا دوسرا مصداق مفسد،حق سے منحرف کرنے والے انسان ہیں اور بعض اوقات اذیت دینے والے جراثیم کے لئے بھی یہ لفظ آیا ہے۔ (اس میں خوب غور کیجئے)
(۵)خدا نے شیطان کو کیو ں پیدا کیا ہے
بہت سے لوگ پوچھتے ہیں کہ شیطان جس کا کا م ہی گمراہ کرنا ہے آخر اسے کیو ں پیدا کیا گیا اور اس کے وجود کا فلسفہ کیا ہے۔اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں: اول تو خدا نے شیطان کو شیطان نہیں پیدا کیا یہی وجہ ہے سالہا سال تک وہ ملائکہ کا ہم نشین رہا اور پاک فطرت پر رہا لیکن پھر اس نے اپنی آز ادی سے غلط فائد ہ اٹھایا اور بغاوت و سرکشی کی بنیاد رکھی لہٰذ ا وہ ابتداء میں پاک و پاکیزہ پیدا کیا گیا۔ اس کی کجروی اس کی اپنی خواہش پر ہوئی۔ دوم یہ کہ نظام خلقت کو دیکھتے ہوئے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صاحبان ایمان اور وہ لوگ جو راہ حق پر گامزن رہنا چاہتے ہیں، ان کے لئے نہ صرف یہ کہ شیطان کا وجود مضر اور نقصان دہ نہیں بلکہ ان کی پیش رفت اور تکامل کاذریعہ ہے۔کیونکہ ترقی اور کمال ہمیشہ متضاد چیزوں کے درمیان ہی صورت پذیر ہوتے ہیں۔ زیادہ واضح الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب تک انسان طاقت ور دشمن کے مقابلے میں کھڑا نہ ہو، کبھی بھی اپنی قوت و استعداد اور مہارت کو پیش نہیں کر سکتا اور نہ اسے کا م میں لا سکتا ہے۔ یہی طاقت ور دشمن کا وجود انسان کے زیادہ تحرک اور جنبش کا سبب بنتا ہے اوراس کے نتیجے میں اسے ترقی اور کمال نصیب ہوتا ہے۔ معاصرین میں سے ایک بہت بڑا فلسفی، "ٹو آئن بی"کہتاہے: "دنیا میں کوئی روشن تمدن اس وقت تک پیدا نہیں ہوا جب تک کوئی ملت کسی خارجی طاقت کے حملے کا شکار نہیں ہوئی۔اس حملے اور یلغار کے مقابلے میں وہ اپنی مہارت اور استعداد کو بروئے کار لائی اور پھر کسی درخشاں تمدن کی د اغ بیل پڑی۔"
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 39 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 39 کے تحت ملاحظہ کریں۔
خدا کی طرف آدم کی بازگشت
Tafsīr Nemūna · Vol. 1وسوسہٴ ابلیس اور آدم کے جنت سے نکلنے کے حکم جیسے واقعات کے بعدآدم متوجہ ہوئے کہ واقعاَ انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور اس اطمینان بخش اور نعمتوں سے مالامال جنت سے شیطانی فریب کی وجہ سے نکلنا پڑا اور اب زحمت اور مشقت سے بھری ہوئی زمین میں رہیں گے۔اس وقت آدم اپنی غلطی کی تلافی کی فکر میں پڑے اور مکمل جان و دل سے پروردگار کی طرف متوجہ ہوئے۔ ایسی توجہ جو ندامت و حسرت کا ایک پہاڑ ساتھ لئے ہوئے تھی۔اس وقت خدا کا لطف و کرم بھی ان کی مدد کے لئے آگے بڑھا اور جیسا کہ قرآن مندرجہ بالا آیات میں کہتا ہے: آدم نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات حاصل کئے جو بہت موٴثر اور انقلاب خیز ان کے ساتھ توبہ کی اور خدا نے بھی ان کی توبہ قبول کرلی۔(فتلقیٰ آدم من ربہ کلمات فتاب علیہ) کیونکہ وہ تواب اور رحیم ہے۔ "توبہ" کے اصلی معنی ہیں "بازگشت" اور قر آن کی زبان میں گناہ سے واپسی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔یہ اس صورت میں ہے جب توبہ کا لفظ کسی شخص گنہگار کے لئے استعمال کیا جائے لیکن کبھی کبھی یہ لفظ اللہ کی طرف بھی منسوب ہوتا ہے۔ وہاں اس کا مفہوم ہے رحمت کی طرف بازگشت،یعنی وہ رحمت جو ارتکاب گناہ کی وجہ سے بندے سے سلب کر لی گئی تھی۔اب اطاعت و بندگی کے راستے کی طرف اس کی واپسی کی وجہ سے اسے لوٹا دی جاتی ہے۔ اسی لئے خدا کے لئے تواب (بہت زیادہ رحمت کی طرف لوٹنے والا)کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ بہ الفاط دیگر توبہ خدا اور بندے کے درمیان ایک لفظ مشترک ہے۔جب یہ صفت بندوں کے لئے ہو تو اس کامفہوم ہوتا ہے کہ وہ خدا کی طرف پلٹتے ہیں کیونکہ ہر گناہ کرنے والا دراصل اپنے پروردگار سے بھاگتا ہے اور پھر جب وہ توبہ کرتا ہے تو اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔گناہ کے وقت خدا بھی ان سے منہ موڑ لیتا ہے اور جب یہ صفت خد اکے لئے استعمال ہو تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ وہ ا پنے لطف و رحمت اور محبت کی نظر ان کی طرف لوٹا دیتا ہے۔[ یہی وجہ ہے کہ لفظ توبہ جب بندے کی طرف منسوب ہوتو لفظ "الی"آتا ہے اور خدا کی طرف منسوب ہو تو "علی" آتا ہے۔ پہلی صورت میں "تاب الیہ" اور دوسری صورت میں "تاب علیہ" کہا جاتا ہے۔ )تفسیر کبیر اور تفسیر صافی زیر نظر آیت کے ذیل میں۔] یہ صحیح ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے حقیقت میں کوئی فعل حرام انجام نہیں دیا تھا لیکن یہی ترک ِاولی ٰان کے لئے نافرمانی شمار ہوتا ہے۔وہ حضرت فورا اپنی کیفیت و حالت کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنے پروردگار کی طرف پلٹے۔ "کلمات" سے کیا مراد ہے ۔ اس کے بارے میں اس بحث کے اختتام پر گفتگو کریں گے۔ بہرحال، جو کچھ نہیں ہونا چاہیئے تھا وہ ہوا اور با وجودیکہ آدم کی توبہ قبول ہو گئی لیکن اس کا اثر وضعی یعنی زمین کی طرف اترنا یہ متغیر نہ ہوا۔جیسا کہ مندرجہ بالا آیا ت کہتی ہیں:ہم نے ان سے کہا کہ تم سب (آدم وحوا)زمین کی طرف اتر جاوٴ۔جب تمہیں ہماری طرف سے ہدایت پہنچے اس وقت جو لوگ اس کی پیروی کریں گے ان کے لئے خوف ہے نہ وہ غمگین ہوں گے (وقلنا اھبطوامنھا جمیعا فاما یاتینکم منی ھدی فمن اتبع ھدای فلا خوف علیھم ولا ھم یحزنون)۔ لیکن جو لوگ کافر ہو گئے اور انہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم کی آگ میں رہیں گے (والذین کفروا وکذّبوا باٰیاٰتنا اولٰئک اصحاب النار ھُم فیھا خٰلدون)۔
(۱)خدا نے جو کلما ت آدم پر القا کئے وہ کیا تھے
توبہ کے لئے جو کلمات خدا نے آدم کو تعلیم فرمائے تھے اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ مشہور ہے کہ وہ جملے یہ تھے جو سورہ اعراف آیہ ۲۳ میں ہیں: قالا ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفر لنا وترحمنا لنکونن من الخاسرین۔ ان دونو ں نے کہا خدایا! ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اگر تو نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم زیاں کاروں اور خسارے میں رہنے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ بعض کہتے ہیں کلمات سے مراد یہ دعا و زاری تھی: اللھم لا الٰہ الا انت سبحٰنک وبحمدک رب انی ظلمت نفسی فاغفر لی انک خیر الغافرین۔ اللہم لا الٰہ الا انت سبحٰنک وبحمدک رب انی ظلمت نفسی فارحمنی انک خیر الراحمین۔ اللہم لا الٰہ الا انت سبحنک وبحمدک رب انی ظلمت نفسی فتب علی انک انت التواب الرحیم۔ پروردگارا ! تیرے سوا کوئی معبود نہیں،تو پاک و منزہ ہے۔ میں تیری تعریف کرتا ہوں۔ میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے مجھے بخش دے کہ تو بہترین بخشنے والا ہے۔ خدایا ! تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، توپاک و منزہ ہے،میں تیری تعریف کرتا ہوں۔ میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے،تو مجھ پر رحم فرما کہ تو بہترین رحم کرنے والا ہے۔ بارالٰہا ! تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک و منزہ ہے میں تیری حمد کرتا ہوں،میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔ اپنی رحمت کو میرے شامل حال قرار دے اور میری توبہ قبول کر لے کہ تُو تواب و رحیم ہے۔ امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں بھی یہ موضوع اسی طرح وارد ہوا ہے۔[مجمع البیان، آیات زیر بحث کے ذیل میں] اسی قسم کی تعبیرات قرآن کی دوسری آیات میں حضرت یونس و موسی کے بارے میں بھی ہیں: حضرت یونس خدا سے بخشش کی درخواست کرتے ہوئے کہتے ہیں: سبحٰنک انی کنت من الظالمین۔ (انبیاء ۔۸۷) خدایا! تو پاک ہے،میں ان میں سے ہوں جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔ حضرت موسٰی کے بارے میں ہے: قال رب انی ظلمت نفسی فاغفرلی فغفر لہ۔ (القصص۔۱۶) انہوں (حضرت موسٰی) نے عرض کیا:پروردگارا! میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے مجھے بخش دے اور خدا نے انہیں بخش دیا۔ کئی ایک روایات جو طرق اہل بیت علیہم السلام سے منقول ہیں، میں ہے کہ کلمات سے مراد خدا کی بہترین مخلوق کے ناموں کی تعلیم تھی یعنی محمد،علی، فاطمہ،حسن،حسین علیھم السلام اور آدم نے ان کلمات کے وسیلے سے درسگاہ الٰہی سے بخشش چاہی اور خدا نے انہیں بخش دیا۔ یہ تین قسم کی تفاسیر ایک دوسرے سے اختلاف نہیں رکھتیں کیونکہ ممکن ہے کہ حضرت آدم کو ان سب کلمات کی تعلیم دی گئی ہو تا کہ ان کلمات کی حقیقت اور باطنی گہر ائی پر غور کرنے سے آدم میں مکمل طور پر انقلاب روحانی پیدا ہو اور خدا انہیں اپنے لطف و ہدایت سے نوازے۔
(۲) لفظ اھبطوا کا تکرار کیوں
زیر بحث اور ان سے پہلی آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ توبہ سے پہلے اور بعد بھی حضرت آدم اور ان کی زوجہ حوا کو خطاب ہوا کہ زمین کی طرف اتر جاوٴ۔یہ تکرار آیا تا کید کے لئے ہے یا کسی اور مقصد کی طرف اشارہ ہے۔اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ دوسری مرتبہ یہ لفظ اس واقعیت و حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ کہیں آدم یہ گمان نہ کریں کہ ان کی توبہ قبول ہو جانے کے بعد زمین کی طرف اترنے کا حکم بھی واپس لے لیا گیا ہے بلکہ انہیں اس راستے کی طرف ہر حال میں جانا ہے یا اس لحاظ سے کہ دراصل وہ پیدا ہی اس مقصد کے لئے ہوئے تھے یا پھر اس نظر سے کہ یہ اترنا اس عمل کا وضعی ہے اور یہ توبہ سے نہیں بدلا۔
(۳)”اھبطوا“ میں کون مخاطب ہیں
"اھبطوا" صیغہ جمع کے ساتھ آیا ہے جبکہ آدم و حوا جو اس گفتگو کے اصلی مخاطب ہیں وہ دو سے زیادہ نہیں تھے لہذا ان کے لیے تثنیہ کا صیغہ آنا چاہیے تھا لیکن اس بناء پر جمع کا صیغہ آیا کہ آدم و حوا کے زمین پر اترنے کا نتیجہ یہ تھا کہ ان کی اولاد اور نسل کو بھی زمین میں رہنا تھا لہذا جمع کا صیغہ لایا گیا۔
خدا کی نعمتوں کو یاد کرو
Tafsīr Nemūna · Vol. 1زمین پر خلافت آدم کی داستان، ملائکہ کی طرف سے ان کی تعظیم کا واقعہ،آدم کا عہد و پیمان الٰہی کو بھول جانے کا ذکر اور پھر ان کی توبہ کا تذکرہ، یہ سب کچھ ہم گذشتہ آیا ت میں پڑھ چکے ہیں۔ اس واقعے سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ اس دنیا میں ہمیشہ دو مختلف طاقتیں،حق و باطل ایک دوسرے سے بر سر پیکار ہیں۔ جس شخص نے شیطان کی پیروی کی اس نے باطل کی راہ کو انتخاب کیا جس کا انجام ہے جنت و سعادت سے دوری اور رنج و تکلیف میں مبتلا ہونا اور اس کے بعد پشیمانی ہے۔ اس کے خلاف جو فرمان خداوندی کی راہ پر چلتا رہا اور اس نے شیاطین اور باطل پرستوں کے وسوسوں کی پرواہ نہ کی وہ پاک و پاکیزہ اور رنج و غم سے آسودہ زندگی بسر کرے گا۔ بنی اسرئیل نے فرعونیوں کے چنگل سے نجات پائی، زمین میں خلیفہ ہوئے پھر پیمان الٰہی کو بھول گئے اور دوبارہ رنج و بدبختی میں پھنس گئے چونکہ یہ واقعہ حضرت آدم کے واقعے سے بہت زیادہ مشابہت رکھتا ہے اسی اصل کی ایک فرع شمار ہوتا ہے لہٰذا خداوند عالم زیر بحث اور اسکے بعد دسویں آیت میں بنی اسرائیل کے مختلف نشیب و فراز اور ان کی سرنوشت بیان کرتا ہے تا کہ وہ ترتیبی درس جو سرنوشت آدم سے شروع ہو اتھا، ان مباحث میں مکمل ہو جائے۔ بنی اسرائیل کی طرف اس طرح روئے سخن ہے: اے بنی اسرائیل!ہماری ان نعمتوں کو یاد کرو جو ہم نے تمہیں بخشی ہیں اور مجھ سے کیا ہوا عہد پورا کرو تا کہ میں بھی تم سے کئے ہوئے عہد سے وفا کروں اور صرف مجھ سے ڈرو (یا بنی اسرائیل اذکروا نعمتی التی انعمت علیکم واوفوا بعہدی اوف بعہدکم وایای فارھبون)۔ در حقیقت یہ تین دستور اور احکام کی (خدا کی عظیم نعمتوں کو یاد کرنا،عہد پروردگار کو پورا کرنا اور اس کی نافرمانی سے ڈرنا) خدا کے تمام پروگراموں کی تشکیل کرتے ہیں۔ اس کی نعمتوں کو یاد کرنا ، انسان کو اس کی معرفت کی دعوت دیتا ہے اور انسان میں شکر گزاری کا احساس ابھارتا ہے۔ اس کے بعد اس نکتے کی طرف توجہ کہ یہ نعمتیں بغیر کسی شرط و قید کے نہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ خدا نے عہد و پیمان لیا ہے۔ یہ انسان کو اس کی الٰہی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتاہے اور اس کا انجام یہ ہے کہ انسان ذمہ داری کی راہ میں کسی شخص یا ہستی سے نہ ڈرے۔یہ سبب بنتا ہے کہ انسان اس راستے کی تمام رکاوٹوں کو دور کر دے اور اپنی ذمہ داریوں اور عہد و پیمان کو پورا کرے کیونکہ اس راستے کی اہم رکاوٹوں میں سے ایک بلا وجہ اِس سے اور اس سے ڈرنا ہے، خصوصا بنی اسرئیل جو سالہا سال تک فرعون کے زیر تسلط رہے تھے۔خوف ان کے بدن کا جزء بن چکا تھا۔
(۱) یہودی مدینہ میں
ہ بات قابل غور ہے کہ بعض مورخین ِ قرآن کی تصریح یہ ہے کہ سورہ بقرہ پہلی سورت ہے جو مدینہ میں نازل ہوئی۔ اس کا اہم حصہ یہودیوں کے بارے میں ہے کیونکہ اہل کتاب کے پیروکاروں کی زیادہ مشہور جماعت وہاں پر یہودیوں ہی کی تھی۔ وہ ظہور پیغمبر سے پہلے اپنی مذہبی کتب کی روشنی میں اس قسم کے ظہور کے منتظر تھے اور دوسرں کو بھی اس کی بشارت دیتے تھے۔ اقتصادی حالت بھی ان کی بہت اچھی تھی۔ خلاصہ یہ کہ مدینہ میں ان کا گہرا اثر و رسوخ تھا۔ جب اسلام کا ظہور ہوا تو اسلام ان کے غیر شرعی منافع کے راستوں کو بند کرتا تھا اور ان کے غلط رویوں او رخودسری کو روکتا تھا۔ ان میں اکثر نے نہ صرف یہ کہ اسلام کی دعوت کو قبول کیا بلکہ علی الاعلان اور پوشیدہ طور پر اس کے خلاف صف آراء ہو گئے۔ چودہ سو سال گزرنے کے باوجود اسلام سے ان کا یہ مقابلہ ابھی تک جاری ہے۔ مندرجہ بالا اور اس کے بعد کی آیات نازل ہوئیں اور سخت ترین سرزنشوں کے تیر یہودیو ں پر چلائے گئے اور ان کی تاریخ کے حساس حصو ں کو اس باریکی کے ساتھ ذکر کیا گیا کہ جس نے ان کو ہلا کر رکھ دیا۔ ان میں سے جو بھی تھوڑی سی حق جوئی کی روح رکھتا تھا وہ بیدار ہو کر اسلام کی طرف آگیا۔ علاوہ ازیں مسلمانوں کے لئے بھی یہ ایک ترتیبی درس تھا۔ انشاء اللہ آنے والی آیات میں آپ بنی اسرائیل کے نشیب و فراز پڑھیں گے جس میں ان کا فرعون کے چنگل سے نجات پانا،دریا کا شق ہونا،فرعون اور فرعونیوں کا غرق ہونا،کوہِ طور حضرت موسی ٰکی وعدہ گاہ،حضرت موسیٰ کی غیبت کے زمانے میں بنی اسرائیل کی گوسالہ پرستی،خونی توبہ کا حکم، خدا کی مخصوص نعمتوں کا ان پر نزول اور اس کے دیگر واقعات جن میں سے ہر ایک واقعہ اپنے اندر ایک یا کئی عبرتناک درس لئے ہوئے ہے۔
(۲)یہودیوں سے خدا کے بارہ معاہدے
جس طرح آیات قر آنی سے ظاہر ہوتا ہے وہ معاہدے یہ تھے:ایک اکیلے خدا کی عبادت کرنا، ماں باپ،عزیز و اقارب،یتیموں اور مدد طلب کرنے والوں سے نیکی کرنا،لوگوں سے اچھا سلوک کرنا،نماز قائم کرنا،زکوٰة دینا اور اذیت و آزار اور خون ریزی سے دور رہنا۔ اس بات کی شاہد اسی سورہ کی آیت ۸۳ اور ۸۴ ہے: واذ اخذنا میثاق بنی اسرائیل لاتعبدون الا اللہ وباالٰولدین احسانا وذی القربیٰ والیتٰمیٰ والمساکین وقولوا للناس حسنا واقیموا الصلٰوة واٰتوا الزکٰوة۔۔۔واذا اخذنا میثاقکم لاتسفکون دماءکم ولاتخرجون انفسکم من دیارکم ثم اقررتم وانتم تشہدون۔ دراصل، یہ دو آیات دس معاہدوں کی نشان دہی کرتی ہیں جو خدا نے یہودیوں سے کئے تھے اور سورہ مائدہ کی آیت ۱۲ جو یہ ہے: ولقد اخذ اللہ میثاق بنی اسرائیل ۔۔۔۔۔وقال اللہ انی معکم لئن اقمتم الصلٰوة واٰتیتم الزکٰوة واٰمنتم برسلی وعزرتموھم۔ اس میں سے دوسرے عہد و پیمان جن میں انبیاء پر ایمان لانا اور انہیں تقویت پہنچانا شامل ہیں ظاہر ہوتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے خدا کی بڑی بڑی نعمتیں کچھ معاہدوں کی بنیاد پر حاصل کی تھیں اور ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اگر ان معاہدوں کے وفادار ہوگے تو تمہیں جنت کے باغوں میں بھی جگہ دی جا ئے گی جس کی نہریں اس کے قصروں اور درختوں کے نیچے جاری ہوں گی: لادخلنکم جنات تجری من تحتھا الانھٰر۔ بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ انہوں نے آخرکار یہ عہد و پیمان پاؤں تلے روند ڈالے اور اب اس زمانے میں بھی اپنی پیمان شکنی جاری رکھے ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں وہ منتشر و پراگندہ ہیں اور در در کی ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں اور جب تک ان کی یہ پیمان شکنیاں جاری رہیں گی، ان کی یہ کیفیت بھی جاری رہے گی۔ یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ دوسروں کی پناہ میں نشوونما پا رہے ہیں، تو یہ ہرگز ان کی کامیابی کی دلیل نہیں اور ہم اچھی طرح سے دیکھ رہے ہیں کہ جس دن اسلام کے غیور بیٹے اور قومی رجحانات و میلانات سے دور ہو کر صرف قرآن کے سائے میں اٹھ کھڑے ہوئے وہ اس شور اور ہنگامے کو ختم کر کے رکھ دیں گے۔
(۴) خدا بھی اپنے عہد کو پورا کرے گا
خدا کی نعمتیں کبھی قید اور شرط کے بغیر نہیں ہوتیں اور ہر نعمت کے پہلو میں ایک ذمہ دار ی اور شرط پنہاں ہے۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: اوف بعھدکم سے مراد یہ ہے کہ اپنے عہد کو پورا کروں گا اور تمہیں جنت میں لے جاؤں گا۔(بحوالہ: نورالثقلین، ج ۱، ص۷۲)۔ اس حدیث کے ایک حصے میں ولایت علی پر ایمان لانا بھی اس عہد کا حصہ قرار دیا گیا ہے اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ بنی اسرائیل کے عہد و پیمان کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ وہ انبیاء خدا کی رسالت پر ایمان لائیں گے اور ان کو تقویت پہنچائیں گے۔ ہم جانتے ہیں کہ ان کے جانشینوں کو بھی ماننا اسی مسئلہ رہبری و ولایت کا ضمیمہ ہے جو ہر زمانے میں اس کی مناسبت سے تحقق پذیر ہوتا رہا ہے۔ حضرت مو سیٰ کے زمانے میں اس منصب پر فائز خود حضرت موسیٰ تھے اور نبی اکرمﷺ کے زمانے میں خود آنحضرت ہی تھے اور بعد والے زمانے میں حضرت علی علیہ السلام۔ ضمنی طور پر جملہ ایای فارھبون (صرف میری سزا سے ڈرو)، اس امر کی تاکید ہے کہ خدا سے ایفائے عہد اور اطاعت ِ احکام کی راہ میں کسی چیز اور کسی شخص سے خوف و وحشت نہیں ہونی چاہیئے۔ لفظ ایای فارھبون سے مقدم ہے سے یہ مطلب حاصل ہوتا ہے۔
(۵) حضرت یعقوب کی اولاد کو بنی اسرائیل کیوں کہتے ہیں
حضرت یعقوب علیہ السلام جو حضرت یوسف علیہ السلام کے والد تھے، ان کا ایک نام "اسرائیل" بھی ہے۔حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنا یہ نام کیوں رکھا تھا۔ اس سلسلہ میں غیر مسلم مورخین نے ایسی باتیں لکھی ہیں جو خرافات کا پلندہ ہیں۔ جیسے "کتاب مقدس" میں لکھا ہے: "اسرائیل کا معنی وہ شخص ہے جو خدا پر غالب اور کامیاب ہو گیا ہو۔" وہ مزید لکھتا ہے: "یہ لفظ یعقوب بن اسحاق کا لقب ہے جنہیں خدا کے فرشتوں نے کشتی لڑتے وقت یہ لقب ملا تھا۔" اسی کتاب میں لفظ یعقوب کے نیچے لکھا ہے: "جب انہوں نے اپنے اثبات و استقامت ایمان کو ظاہر کیا تو خداوند نے اس کا نام بدل کر اسرائیل رکھ دیا اور وعدہ کیا کہ وہ عوام کے گروہوں کے باپ ہوں گے۔ خلاصہ یہ کہ وہ انتہائی کمال کے ساتھ اس دنیا سے گئے اور دنیا کے کسی بادشاہ کی طرح دفن نہ ہوئے اور اسم یعقوب و اسرائیل ان کی پوری قوم کے لئے بولا جاتا ہے۔" لفظ "اسرائیل" کے ذیل میں لکھتاہے: "اس نام کے بہت سے موارد ہیں چنانچہ کبھی اس سے مراد نسل اسرائیل و نسل یعقوب بھی ہوتی ہے۔" علماء اسلام اس سلسلے میں اختلاف رکھتے ہیں۔ مثلا مشہور مفسر طبرسی مجمع البیان میں لکھتے ہیں: "اسرائیل وہی فرزند اسحاق بن ابراہیم ہیں۔" وہ لکھتے ہیں: "اس کے معنی 'عبد'، اور 'ئیل' کے معنی اللہ لہذا اسرائیل کے معنی 'عبداللہ' یعنی اللہ کا بندہ ہیں۔"(بحوالہ: قاموس کتاب مقدس ص ۵۳، و ۹۵۷)۔ واضح ہے کہ اسرائیل کی فرشتوں سے کشتی لڑنے کی داستان جیسے کہ تحر یف شدہ تورات میں اب بھی موجود ہے، ایک خود ساختہ اور بچگانہ کہانی ہے جو آسمانی کتاب کی شان سے بعید ہے اور یہی داستان موجودہ تورات کے تحریف شدہ ہونے کی دلیل و مدرک ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 43 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 43 کے تحت ملاحظہ کریں۔
یہودیوں کی دولت پرستی
Tafsīr Nemūna · Vol. 1خدا نے یہودیوں سے جو پیمان لئے تھے ان میں انبیاء الٰہی پر ایمان لانا اور ان کے فرامین کی اطاعت کرنا بھی شامل تھا۔ زیر نظر تین آیات میں ان احکام و قوانین کے نو حصوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو یہودیوں کو دیئے گئے تھے۔ پہلا یہ کہ ان آیات پر ایمان لاؤ جو پیغمبر اسلامﷺ پر نازل ہوئی ہیں جب کہ یہ آیات ان اوصاف سے ہم آہنگ ہیں جو تمہاری توریت میں موجود ہیں (وآمنوا بما انزلت مصدقا لما معکم)۔ قرآن اس کتاب کی تصدیق کرتا ہے جو تمہارے پاس موجود ہے یعنی وہی بشارتیں جو تورات اور گذشتہ انبیاء نے اپنے پیروکاروں کو دی ہیں اور بتایا ہے کہ ان اوصاف کا نبی ظہور کرے گا اور اس کی آسمانی کتاب ان خصوصیات کی حامل ہوگی۔ اب تم دیکھ رہے ہو کہ اس پیغمبر کی صفات اور قرآن پاک کی خصوصیات ان بشارتوں سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں جو تمہاری کتب میں موجود ہیں۔ اس ہر قسم کی مطابقت کے بعد اب تم کیوں اس پر ایمان نہیں لاتے۔ پھر کہا گیا ہے کہ تم آسمانی کتاب کا انکار کرنے والوں میں پہل نہ کرو( ولا تکونوا اوّل کافر بہ)۔ اگر مشرک اور عرب کے بت پرست کافر ہو جائیں تو زیادہ تعجب کی بات نہیں۔ تعجب تو تمہارے کفر و انکار پر ہے اور مخالفت میں پہل کے لحاظ سے تم پیش پیش بھی ہو جب کہ تم ان کی زیادہ اطلاعات رکھتے ہو اور اہل کتاب بھی ہو۔اس قسم کے پیغمبر کے بارے میں تمہاری آسمانی کتب میں سب بشارتیں دی جا چکی ہیں۔ اسی بناء پر تو تم ان کے ظہور سے پہلے ان کے بارے میں منادی کیا کرتے تھے۔ اب کیا ہو گیا ہے کہ بجائے اس کے کہ ان کے ظہور کے بعد تم ان پر ایمان لانے والوں میں پہل کرتے، تم نے کفر میں پہل کی ہے۔ بہت سے یہودی اصولی طور پر لیچڑ قسم کے تھے اور اگر ان میں یہ ضدی پن نہ ہوتا تو بظاہر انہیں دوسروں کی نسبت پہلے ایمان لانا چاہیئے تھا۔ تیسری بات یہ ہے کہ تم میری آیات کو کم قیمت پر فروخت نہ کرو اور ایک سالانہ دعوت سے اس کا تقابل نہ کرو (ولا تشتروا با ٰیتیٰ ثمنا قلیلا)۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا کی آیات کو کسی قیمت پر بھی نہیں بیچنا چاہیئے چاہے کم ہو یا زیادہ لیکن یہ جملہ حقیقت میں ان یہودیوں کی کم ظرفی کی نشاندہی کرتا ہے جنہوں نے چھوٹے چھوٹے منافع کے لئے ہر چیز کو بھلا دیا اور وہ لوگ جو پیغمبر اسلامﷺ کے قیام اور ان کی آسمانی کتا ب کے بارے میں بشارت دیا کرتا تھے، جب اپنے منافع کو خطرے میں دیکھا تو سب بشارتوں کا انکار کرنے لگے اور آیات تورات میں تحریف کر دی کیونکہ وہ سمجھنے لگے تھے کہ اگر لوگوں کو حقیقت حال کا علم ہو گیا تو ان کی سرداری کا محل زمین بوس ہو جائے گا۔ اصولا یہ پوری دنیا بھی اگر کسی کو ایک آیت الہٰی کے انکار کے بدلے دے دی جائے تو واقعا یہ قیمت بہت تھوڑی ہے۔ کیونکہ یہ زندگی تو بہرحال نابود ہونے والی ہے اور آخرت ابدی اور دائمی ہے لہذا ایک انسان کس طرح ان آیات الہٰی کو حقیر فوائد پر قربان کر دے۔ چوتھا حکم ہے کہ صرف مجھ سے ڈرو (و ایّای فاتقون)۔ اس بات سے نہ ڈرو کہ تمہاری روزی منقطع ہو جائے گی اور اس سے بھی نہ ڈرو کہ یہودیوں کی متعصب جماعت تم سرداروں کے خلاف قیام کرے گی بلکہ صرف مجھ سے یعنی میرے حکم کی مخالفت سے ڈرو۔ پانچواں حکم ہے کہ حق کو باطل سے مخلوط نہ کرو تا کہ کہیں لوگ اشتباہ میں نہ پڑ جائیں (ولاتلبسوا الحق بالباطل)۔ چھٹے فرمان میں حق کو چھپانے سے منع کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حق کو نہ چھپاؤ جب کہ تم اسے جانتے اور اس سے آگاہ ہو(وتکتمو ا الحق و انتم تعلمون)۔ جس طرح حق کو چھپانا جرم اور گناہ ہے اسی طرح حق کو باطل سے ملانا اور ایک دوسرے سے مخلوط کرنا بھی حرام اور گناہ ہے کیونکہ نتیجے کے اعتبار سے دونوں عمل برابر ہیں۔ حق بات کرو چاہے تمہارے لئے نقصان دہ ہو اور باطل کو حق سے نہ ملاؤ چاہے تمہارے جلد ضائع ہو جانے والے منافع خطرے میں پڑ جائیں۔ آخر میں ساتویں، آٹھویں اور نویں حکم کو اس طرح سے بیان کیا گیا ہے: نماز قائم کرو، زکوٰة ادا کرو اور خصوصا اجتماعی عبادت کو فراموش نہ کرتے ہوئے رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو(واقیموا الصلوٰة و آتوا الزکوٰة وارکعوا مع الراکعین)۔ آخری حکم اگرچہ باجماعت نماز کے بارے میں ہے لیکن نماز کے تمام افعال میں سے صرف رکوع کو بیان کرتے ہوئے کہنا کہ رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ، شاید اس بناء پر کہ یہودیوں کی نماز میں رکوع بالکل نہیں، یہ صرف مسلمانوں کی نماز ہے جس کے بنیادی ارکان میں رکوع شامل ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ یہ نہیں کہا گیا کہ نماز پڑھو بلکہ فرمایا: اقیموا الصلوٰة(نماز قائم کرو) یعنی فقط یہ نہ ہو کہ تم نماز پڑھتے رہو بلکہ ایسا کرو کہ آئین نماز معاشرے میں قائم ہو جائے اور لوگ عشق و وارفتگی کے ساتھ اس کی طرف جائیں۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ "اقیموا" اس طرف اشارہ ہے کہ تمہاری نماز صرف اذکار و اوراد ہی نہ ہو بلکہ اسے پورے طور پر قائم کرو جس میں سے سب سے اہم قلبی توجہ، دل کا بارگاہ خدا میں حاضر ہونا اور نماز کا انسان کی روح اور جان پر اثر انداز ہونا ہے۔[بحوالہ: المنار، ج ۲، ص ۲۹۳ و مفردات ِ راغب، مادہ "قوم"] درحقیقت ان آخری تین احکام کی ترتیب کچھ یوں ہے کہ پہلا فرد کا خالق سے رشتہ بیان کرتا ہے (یعنی نماز)، دوسرا مخلوق کا مخلوق سے ناتا قائم کرتا ہے (یعنی زکٰوة) اور تیسرا سب لوگوں کا خدا سے تعلق ظاہر کرتا ہے۔
(۱) کیا قرآن تورات اور انجیل کے مندرجات کی تصدیق کرتا ہے
قرآن مجید کی متعدد آیات میں یہ بات نظر سے گزرتی ہے کہ قرآن گذشتہ کتب کے مندرجات کی تصدیق کرتا ہے۔ محل بحث آیات میں ہے "مصدقا لما معکم" اور سورہ کی آیات ۸۹ اور ۱۰۱ میں ہے: مصدق لما معھم۔ نیز سورہ مائدہ کی آیت ۴۸ میں ہے: و انزلنا الیک الکتاب بالحق مصدقا لما بین یدیہ من الکتاب۔ ہم نے آپ پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی یہ کتاب اپنے سے پہلے والی آسمانی کتب کی تصدیق کرتی ہے۔ ان آیات کو علماء یہود و نصاریٰ کی ایک جماعت تورات اور انجیل کے عدم تحریف کی سند قرار دیتی ہے۔ وہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر اسلامﷺ کے زمانے کی تورات اور انجیل میں اور موجودہ تورات اور انجیل میں مسلما کوئی فرق نہیں۔ اگر تورات اور انجیل میں تحریف ہوئی ہوتی تو یہ زمانہ پیغمبرﷺ سے پہلے کی بات ہوتی لیکن قرآن نے چونکہ اس تورات اور انجیل کے صحیح ہونے کی تصدیق کی ہے جو آنحضرتﷺ کے زمانے میں موجود تھی لہذا ہمیں چاہیئے کہ ان کتب کو غیر محرف آسمانی کتب کی حیثیت سے رسمی طور پر قبول کر لیں۔
اس کا جواب یہ ہے
قرآن مجید کی مختلف آیات گواہی دیتی ہیں کہ انہی تحریف شدہ کتابوں میں جو اس وقت یہود و نصاریٰ کے پاس تھیں پیغمبر اسلامﷺ اور ان کے دین کے متعلق نشانیاں موجود تھیں۔ یہ مسلم ہے کہ ان آسمانی کتب میں تحریف کا مطلب یہ نہیں کہ موجودہ کتب پوری کی پوری باطل اور خلاف واقع ہیں بلکہ یقینی طور پر ان سب میں حقیقی تورات اور انجیل کاکچھ حصہ موجود تھا اور موجود ہے اور پیغمبر اسلامﷺ کے بارے میں انہی یا دیگر مذہبی کتب میں نشانیاں موجود تھیں جو یہود و نصاریٰ کے پاس تھیں (آج بھی ان میں کچھ ایسے ارشادات موجود ہیں)۔ اس لحاظ سے پیغمبرﷺ کا قیام، آپ کی دعوت اور آپ کی آسمانی کتاب عملی طور ان تمام نشانیوں کی تصدیق کرتے تھے کیونکہ ان کے مطابق تھے۔ لہذا قرآن کی تورات اور انجیل کی تصدیق کرنا ان معنی میں ہے کہ نبی اکرمﷺ کی نشانیاں، آپ کی دعوت اور آپ کا قیام جو قرآن میں موجود ہے ان نشانیوں کے مطابق ہے جو تورات اور انجیل میں ہیں۔ تصدیق مطابقت کے معنی میں قرآن مجید کے دیگر مقامات پر بھی استعمال ہوا ہے۔ مثلا سورہ الصٰفٰت، آیہ ۱۰۵ میں ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا گیا ہے: قد صدقت الرء یا۔ آپ نے اپنے خواب کی تصدیق کر دی۔ یعنی آپ کا عمل اس خواب کے مطابق ہے جو آپ نے دیکھا تھا۔ سورہ اعراف، آیہ ۱۵۷ میں ہے: الذین یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجدونہ مکتوبا عند ھم فی التوراة والانجیل۔ یہاں یہ حقیقت صراحت سے بیان ہوئی ہے یعنی "جو اوصاف وہ دیکھ رہے ہیں وہ اس کے مطابق ہیں جو انہوں نے تورات اور انجیل میں پائے ہیں۔" دوسری آیات میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ آنحضرتﷺ کی نشانیاں ان گذشتہ کتب میں دیکھی گئی ہیں اور زیر بحث آیت جس کی تفسیر ہم پڑھ چکے ہیں یہ بھی اس حقیقت کی شاہد ہے اور وہاں ہم بتا چکے ہیں کہ تھوڑی سی چیز کی خاطر یہاں تک کہ ایک دعوت کے لئے انہوں نے صفات پیغمبرﷺ کے بارے میں تحریف کر دی۔ بہرحال مندرجہ بالا آیات میں اس کے سوا کچھ نہیں کہ قرآن اور رسول نے عملی طور پر اپنی حقانیت کی ان نشانیوں کی تصدیق کی جو گذشتہ کتب میں موجود تھیں اور اس کے لئے کوئی معمولی سی دلیل بھی موجود نہیں کہ ان آیات نے تورات اور انجیل کے تمام مندرجات کی تصدیق کر دی ہے جبکہ اس کے بر خلاف قرآن مجید کی کئی آیات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ان لوگوں نے تورات اور انجیل میں تحریف کر دی تھی اور یہ خود ہماری گذشتہ گفتگو کا ایک زندہ شاہد ہے۔ فخر الاسلام جو کتاب انیس الاعلام کے موٴلف ہیں علماء نصاریٰ میں سے تھے۔ انہوں نے اپنی تعلیم عیسائی پادریوں اور علماء ہی میں مکمل کی تھی اور ان کے ہاں ایک بلند مقام پیدا کیا تھا۔ وہ اس کتاب کے مقدمے میں اپنے مسلمان ہونے کے عجیب و غریب واقعے کو اس طرح بیان کرتے ہیں: "بڑی جستجو، زحمتوں اور کئی ایک شہر وں میں گردش کے بعد میں ایک عظیم پادری کے پاس پہنچا جو زہد و تقویٰ میں ممتاز تھا۔ کیتھولک فرقے کے بادشاہ وغیرہ اپنے مسائل کے لئے اس سے رجوع کرتے تھے۔ ایک مدت تک میں اس کے پاس نصاری کے مختلف مذاہب کی تعلیم حاصل کرتا رہا۔ اس کے بہت سے شاگرد تھے لیکن اتفاقا مجھ سے اسے خاص ہی لگاؤ تھا۔ اس کے گھر کی سب چابیاں میرے ہاتھ میں تھیں، صرف ایک صندوق خانے کی چابی اس کے اپنے پاس ہوا کرتی تھی۔ اس دوران میں ایک دن اس پادری کو کوئی بیماری پیش آئی تو مجھ سے کہا کہ شاگردوں سے جاکر کہہ دو کہ آج میں درس نہیں دے سکتا۔ جب میں طالب علموں کے پاس آیا تو دیکھا کہ وہ بحث مباحثہ میں مصروف ہیں۔ یہ بحث سریانی کے لفظ "فار قلیطا" اور یونانی زبان کے لفظ "ہریکلتوس" کے معنی تک جا پہنچی اور وہ کافی دیر تک جھگڑتے رہے۔ ہر کسی کی الگ رائے تھی۔ واپس آنے پر استاد نے مجھ سے پوچھا آج کیا مباحثہ کرتے رہے ہو تو میں نے لفظ فارقلیطا کا اختلاف اس کے سامنے بیان کیا۔ وہ کہنے لگا: تو نے ان میں کس قول کا انتخاب کیا ہے۔ میں نے کہا فلاں مفسر کے قول کا جس نے اس کا معنی "مختار" بیان کیا ہے میں نے پسند کیا۔ استاد پادری کہنے لگا تو نے کوتاہی تو نہیں کی لیکن حق اور واقعہ ان تمام کے خلاف ہے کیونکہ اس کی حقیقت کو راسخون فی العلم کے علاوہ دوسرے لوگ نہیں جانتے اور ان میں سے بھی بہت کم اس حقیقت سے آشنا ہیں۔ میں نے اصرار کیا کہ اس کے معنی مجھے بتلائیے۔ وہ بہت رویا اور کہنے لگا: میں کوئی چیز تم سے نہیں چھپاتا۔لیکن اس نام کے معنی معلوم ہونے کا نتیجہ تو بہت سخت ہوگا کیونکہ اس کے معلوم ہونے کے ساتھ ہی مجھے اور تمہیں قتل کر دیا جائے گا۔ اب اگر تم وعدہ کرو کہ کسی سے نہیں کہو گے تو میں اسے ظاہر کر دیتا ہوں۔ میں نے تمام مقدسات مذہبی کی قسم کھائی کہ اسے فاش نہیں کروں گا تو اس نے کہا کہ مسلمانوں کے پیغمبر کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور اس کے معنی "احمد" اور "محمد" ہیں۔ اس کے بعد اس نے اس چھوٹے کمرے کی چابی مجھے دے دی اور کہا کہ فلاں کا دروازہ کھولو اور فلاں فلاں کتاب لے آؤ۔ میں کتابیں اس کے پاس لے آیا۔ یہ دونوں کتابیں رسول اسلامﷺ کے ظہور سے پہلے کی تھیں اور چمڑے پر لکھی ہوئی تھیں۔دونوں کتب میں "فارقلیطا" کا ترجمہ "احمد" اور "محمد"کیا گیا تھا۔ اس کے بعد استاد نے مزید کہا کہ آنحضرتﷺ کے ظہور سے پہلے علماء نصاریٰ میں کوئی اختلاف نہ تھا کہ فارقلیطا کے معنی احمد اور محمد ہیں لیکن ظہور محمد کے بعد اپنی سرداری اور مادی فوائد کی بقا کے لئے اس کی تاویل کر دی اور اس کے لئے دوسرے معنی گھڑ لئے حالانکہ وہ معنی یقینا صاحب انجیل کی مراد نہیں۔ میں نے سوال کیا کہ دین نصاریٰ کے متعلق آپ کیا کہتے ہیں۔ اس نے کہا دین اسلام کے آ نے سے منسوخ ہو گیا ہے۔ اس جملے کا اس نے تین مرتبہ تکرار کیا۔ پس میں نے کہا کہ اس زمانے میں طریق نجات اور صراط مستقیم کون سا ہے۔ اس نے کہا منحصر ہے محمد کی پیروی و اتباع میں۔ میں نے کہا کیا اس کی پیروی کرنے والے اہل نجات ہیں۔ اس نے کہا ہاں خدا کی قسم (اور تین مرتبہ قسم کھائی)۔ پھر استاد نے گریہ کیا اور میں بھی بہت رویا اور اس نے کہا آخرت اور نجات چاہتے ہو تو ضرور دین حق قبول کر لو۔ میں ہمیشہ تمہارے لئے دعا کروں گا اس شرط کے ساتھ کہ قیامت کے دن گواہی دو کہ میں باطن میں مسلمان اور حضرت محمدﷺ کا پیروکار ہوں اور علماء نصاریٰ کے ایک گروہ کی باطن میں مجھ جیسی حالت ہے اور میری طرح ظاہرا اپنے دنیاوی مقام سے دست کش نہیں ہو سکتے ورنہ کوئی شک و شبہ نہیں کہ اس وقت روئے زمین پر دین خدا دین اسلام ہی ہے۔"( اقتباس و اختصار از ہدایت ِ دوم مقدمہ "انیس الاعلام") آپ دیکھیں گے کہ علماء اہل کتاب نے پیغمبر اسلامﷺ کے ظہور کے بعد اپنے شخصی منافع کی خاطر آنحضرت کے نام اور نشانیوں کی اور توجیہات کر دی ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 46 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 46 کے تحت ملاحظہ کریں۔
دوسروں کو نصیحت خود میاں فضیحت
Tafsīr Nemūna · Vol. 1اگرچہ مندرجہ بالا آیات، اسی طرح گذشتہ اور آئندہ آیات میں روئے سخن بنی اسرائیل کی طرف ہے لیکن مسلما اس کا مفہوم، وسعت کے اعتبار سے دوسروں کے بھی شامل حال ہے۔ مشہور مفسر، صاحب مجمع البیان، طبرسی کے بقول یہود کے علماء و فضلاء حضرت محمدﷺ کی بعثت سے پہلے آپ پر ایمان لانے کی دعوت اور آپ کے ظہور کی بشارت دیا کرتے تھے لیکن خود انہی نے آنحضرتﷺ کے ظہور کے وقت ایمان لانے سے انکار کر دیا۔ یہی عظیم مفسر نقل کرتے ہیں کہ علماء یہود اپنے ان وابستگان کو جو اسلام لا چکے تھے نصیحت کیا کرتے تھے کہ اپنے ایمان پر باقی اور ثابت قدم رہنا لیکن خود ایمان نہ لاتے تھے۔ یہ وجہ ہے کہ زیر بحث آیات میں سے پہلی آیت میں ان کے اس طرز عمل کی مذمت کی گئی ہے۔ کہا گیا ہے:کیا تم لوگوں کو نیکی کی دعوت دیتے ہو اور اپنے نفسوں کو بھول جاتے ہو(اتامرون الناس بالبر وتنسون انفسکم)۔ باوجودیکہ آسمانی کتاب (تورات) کا مطالعہ کرتے ہو لیکن کیا کچھ بھی عقل و فکر سے کام نہیں لیتے ہو (و انتم تتلون الکتاب افلا تعقلون)۔ اسی طرح قرآن انہیں سرزنش کرتا ہے۔ دوسروں کو ایمان کی وصیت کیوں کرتے ہو جب خود ایمان نہیں لاتے ہو حالانکہ پیغمبرﷺ کی نشانیاں اور خصوصیات توریت میں پڑھ چکے ہو۔ علماء مبلغین اور راہ حق کی طرف دعوت دینے والوں کے لئے خاص طور پر یہ بنیادی بات ہے کہ وہ باقی لوگوں کی نسبت زیادہ تر اپنے عمل سے تبلیغ کریں جیسے کہ حضرت امام صادق علیہ السلام سے ایک مشہور روایت ہے: کونوا دعاة الناس باعمالکم ولا تکونوا دعاة بالسنتکم۔ لوگوں کو عمل سے دعوت دو نہ کہ زبان سے۔(بحوالہ: سفینہ، مادہ "عمل")۔ عملی دعوت کی گہری تاثیر کا سرچشمہ یہ ہے کہ اگر سننے والے کو معلوم ہو جائے کہ کہنے والا دل سے بات کر رہا ہے اور خود اپنے قول پر سو فی صد ایمان رکھتا ہے تو وہ اپنے دل کے کانوں سے اس کی بات سنے گا۔ پھر اس کی باتیں بدن سے گزر کر نفس پر اثر کریں گی۔ کہنے والا اپنی بات پر ایمان رکھتا ہے، اس کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ خود اس پر دوسروں سے پہلے عمل کرتا ہے۔ جیسے کہ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ایھا الناس انی واللہ ما احثکم علی طاعة الا و اسبقکم الیھا ولا انھاکم عن معصیتہ الا و اتنھاھا قبلکم عنھا۔ اے لوگو! خدا کی قسم میں تمہیں کسی اطاعت کا شوق نہیں دلاتا جب تک پہلے خود اسے انجام نہ دے لوں اور کسی غلط کام سے تمہیں منع نہیں کرتا مگر یہ کہ پہلے خود اس سے رکتا ہوں۔(بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ۱۵۷) امام صادق علیہ السلام سے ایک روایت میں ہے: من اشد الناس عذابا یوم القیامة من وصف عدلا و عمل بغیرہ۔ وہ لوگ جن پر قیامت کے دن سخت عذاب ہوگا ان میں سے ایک وہ ہوگا جو حق اور عدل کی بات کرتا ہے لیکن خود اس کے خلاف عمل کرتا ہے۔(بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، ج۱، ص ۷۵)۔ یہودی علماء اس بات سے ڈرتے تھے کہ اگر پیغمبر اسلامﷺ کی رسالت کا اعتراف کر لیں گے تو ان کی مادی امداد منقطع ہو جائے گی اور یہودی عوام ان کی پرواہ نہیں کریں گے لہذا تورات میں پیغمبر اسلامﷺ کی جو صفات آئی تھیں، انہوں نے ان میں رد و بدل کر دیا۔ اس مقصد کے لئے کہ وہ اپنے دلی میلان کی طرف قدم بڑھائیں اور سربراہی و سرداری کو دماغ سے نکال دیں۔ قرآن کہتا ہے: صبر اور نماز سے استعانت حاصل کرو یعنی استقامت اور اپنی نفسانی خواہشات پر کنٹرول کے ذریعہ کامیابی حاصل کرو (واستعینوا بالصبر والصلوٰة)۔ اس کے بعد کہتا ہے کہ یہ کام خاشعین کے علاوہ دوسروں پر گراں ہے (و انھا لکبیرة الا علی الخاشعین)۔ زیر بحث آیات میں سے آخری آیت خاشعین کا یوں تعارف کراتا ہے (الذین یظنون انھم ملٰقو ا ربھم و انھم الیہ را جعون(۔(راغب نے مفردات میں کہا ہے :ظن" نام ہے اس اعتقاد کا جو دلیل اور قرینہ سے حاصل ہو۔ یہ اعتقاد کبھی قوی ہوتا ہے اور درجہ یقین تک پہنچ جاتا ہے اور کبھی کمزور ہوتا ہے جو گمان کی حد سے آگے نہیں بڑھتا)۔ "یظنون" جس کا مادہ "ظن" ہے کبھی "گمان" اور کبھی "یقین" کے معنی میں آتا ہے۔اس مقام پر یقینا ایمان اور قطعی یقین کے معنی میں ہے کیونکہ لقاء اللہ اور اس کی طرف باز گشت پر ایمان رکھنا انسان کے دل میں خشوع، خدا ترسی اور ذمہ داری کا احساس زندہ کر دیتا ہے اور یہ ایک ایسے معاد پر ایمان رکھنے کا نتیجہ ہے جو تربیت اور نشو ونما کا باعث ہے۔ جو ہر جگہ انسان کے سامنے اس بڑی عدالت کے دربار کی تصویرکشی کرتا ہے اور یہ ذ مہ داریوں کو ادا کرنے اور حق و عدالت کی راہ اختیار کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ یہاں "ظن" گمان کے معنی میں ہو اور در حقیقت ایک قسم کا مبالغہ اور تاکید ہو کہ اگر بالفرض انسان اس عدالت عظمٰی پر ایمان نہیں رکھتا اور صرف اس کے ہونے کا گمان رکھتا ہے تو بھی اس کے لئے کافی ہے کہ ہر قسم کی غلط کاری سے پرہیز کرے۔ در حقیقت یہ علماء یہود کو ایک قسم کی سرزنش ہے کہ تمہارا ایمان صرف ظن و گمان کے درجہ تک بھی ہو پھر بھی تمہیں ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اس قسم کی تحریف سے دست کش ہو جانا چاہیے۔
(۱) لقاء اللہ سے کیا مراد ہے
لقاء اللہ کی تعبیر قرآن میں متعدد بار آئی ہے اور ہر بار اس سے مراد صحن ِقیامت کی حاضری ہے۔ یہ تو واضح ہے کہ خدا سے ملاقات اس طرح سے حسی تو نہیں جیسے افراد بشر ایک دوسرے سے ملتے ہیں کیونکہ خدا جسم ہے نہ رنگ و مکان رکھتا ہے کہ ظاہری آنکھ سے اسے دیکھا جا سکے بلکہ مقصود، میدان ِ قیامت میں آثار قدرت، جزا و سزا، نعمات اور عذاب الٰہی کا مشاہدہ ہے۔ جیسا کہ مفسرین کی ایک جماعت نے کہا ہے یا اس کا معنی ایک قسم کا شہود باطنی و قلبی ہے کیونکہ انسان بعض اوقات ایسے مقام و مرتبہ پر پہنچ جاتا ہے کہ وہ خدا کو دل کی آنکھ سے اپنے سامنے دیکھتا ہے، اس طرح کہ کوئی شک و تردد باقی نہیں رہتا۔(بحوالہ: المنار، جلد ۱، ص ۳۰۲۔ المیزان جلد ۱، ص ۱۵۴۔ روح الماعانی جلد ۱، ص ۲۲۸۔ دوسری آیات میں بھی اس معنی کی طرف اشارہ ہے۔ مثلا: فمن کان یرجو لقاء ربہ فلیعمل عملاصالحا۔ (کہف ۔۱۱۰ )؛ نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۷۹ )۔ پاکیزگی، تقویٰ، عبادت اور تہذیب نفس کے نتیجے میں یہ حالت اس دنیا میں بھی بعض لوگوں کے لئے ممکن ہے۔ جیسا کہ نہج البلاغہ میں ہے کہ ذعلب یمانی نے جو حضرت علی علیہ السلام کے دوستوں میں سے ایک دانشمند تھے، آپ سے پوچھا: ھل رائیت ربک۔ کیا آپ نے اپنے خدا کو دیکھا ہے۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: افاعبد مالا اری۔ کیا میں اس کی عبادت کروں گا جسے میں نے دیکھا ہی نہیں۔ اس نے وضاحت چاہی تو امام علیہ السلام نے مزید فرمایا: لا تدرکہ العیون بمشاہدہ ولکن تدرکہ القلوب بحقائق الایمان۔ ظاہری آنکھیں تو اسے دیکھ نہیں سکتیں البتہ دل نور ِ ایمان کے وسیلے سے اس کا ادراک کر سکتے ہیں۔۲ باطنی شہود کی طاقت قیامت کے دن سب کو میسر ہوگی کیونکہ خدا کی عظمت و قدرت کے آثار اور نشانیاں اس وقت اس قدر عیاں ہوں گی کہ دل کا اندھا بھی اس پر قطعی ایمان لے آئے گا۔
مشکلات میں کامیابی کا راستہ
ترقی کرنے اور مشکلات پر قابو پانے کے لئے دو بنیادی ارکان کی ضرورت ہے، ایک طاقت ور اور مضبوط اندرونی قلعہ اور دوسرا بیرونی محکم سہارا۔مندرجہ بالا آیات میں ان دونوں اساسی ارکان کو صبر اور صلوٰة سے تعبیر کیا گیا ہے۔ صبر، استقامت اور بردباری کے ساتھ مشکلات کے محاظ پر ڈٹ جانے کا نام ہے اور نماز، خدا سے رابطے اور تعلق کا وسیلہ ہے جو ایک محکم اور مضبوط سہارا ہے۔ بہت سے مفسرین نے اگرچہ صبر سے روزہ مراد لیا ہے لیکن مسلم ہے کہ صبر روزے ہی میں منحصر نہیں بلکہ یہاں روزے کا ذکر ایک واضح اور روشن مصداق کی حیثیت سے ہے کیونکہ یہ وہ عبادت ہے جس کے نتیجے میں انسان کے اندر قوی ارادہ اور پختہ ایمان پیدا ہوتا ہے اور ہوسرانیوں پر اس کی عقل کی حاکمیت مسلم ہو جاتی ہے۔لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ مفسرین اس آیت کے ذیل میں نقل کرتے ہیں کہ رسول اسلامﷺ جب کسی ایسی مشکل سے دو چار ہوتے جو آپ کو بے آرام کر دے تو آپ رونے سے مدد لیتے۔ امام صادق علیہ السلام سے ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: جب دنیا کے غموں میں سے کسی کا سامنا کرو تو وضو کرو اور مسجد میں جاکر نماز پڑھو اور پھر دعا کرو کیونکہ خدا نے خود ہی حکم دیا ہے: واستعینوا بالصبر والصلوٰۃ۔[بحوالہ: مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں۔] نماز کی طرف توجہ اور پروردگار سے راز و نیاز انسان میں نئی قوت پیدا کر دیتا ہے۔ کتاب کافی میں امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے: کان علی اذا اھالہ امر فزع قام الی الصلوٰة ثم تلا ھذہ الآیة "واستعینوا بالصبر والصلوٰة"۔ جب حضرت علی علیہ السلام کو کوئی سخت مشکل در پیش ہوتی تو نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے اور پھر اس آیت کی تلاوت فرماتے: واستعینوا بالصبر والصلوٰة۔ واقعا نماز انسان کو قدرت لایزال سے مربوط کر دیتی ہے جس کے ہاں مشکلات سہل و آسان ہیں اور یہی احساس باعث بنتا ہے کہ انسان حوادث کے مقابلے میں طاقتور اور مضبوط ہو جاتا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 48 کے تحت ملاحظہ کریں۔
یہودیوں کے باطل خیالات
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ان آیات میں خدا نے دوبارہ روئے سخن بنی اسرائیل کی طرف کیا ہے۔ انہیں اپنی نعمتیں یاد دلاتے ہوئے کہتا ہے: اے بنی اسرائیل! جو نعمتیں میں نے تمہیں عطا کی ہیں ان کے بارے میں سوچو (یا بنی اسرائیل اذکروا نعمتی التی انعمت علیکم) ان نعمتوں کا دامن بڑا وسیع ہے۔ ہدایت و ایمان سے لے کر فرعونیوں کے چنگل سے رہائی اور عظمت و استقلال کے دوبارہ حصول تک سب نعمتیں اس میں شامل ہیں۔ پھر یہ نعمت بھی کہ انہوں نے اپنے زمانے کے لوگوں پر فضیلت حاصل کی جو دراصل مختلف نعمتوں کا مرکب ہے۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:میں نے تمہیں جہانوں پر فضیلت عطا کی (و انی فضلتکم علی العالمین)۔ شاید بعض لوگوں کا احتمال ہو کہ ’فضلنکم علی العالمین ‘ کا مقصود یہ ہے کہ انہیں تمام جہانوں اور تمام ادوار میں برتری اور فضیلت دی گئی ہے لیکن قرآن کی دیگر آیات کی طرف توجہ کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہاں ان سرزمین اور ان کے زمانے کے لوگوں پر فضیلت و برتری مراد ہے کیونکہ قرآن میں ہے: کنتم خیر امة اخرجت للناس۔ )آل عمران ، ۱۱۰) تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے فائدے کے لئے پیدا کیے گیے ہو۔ اس آیت کے مطابق پیامبر اسلامﷺ کی ا مت بہترین اور افضل ترین ہے۔ ایک اور جگہ بنی اسرائیل کے بارے میں ہے: و اورثنا القوم الذین کانو ا یستضعفون مشارق الارض و مغاربھا۔ (اعراف۔ ۱۳۷) بنی اسرائیل جو کمزور سمجھے جاتے تھے، انہیں ہم نے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ واضح ہے کہ اس زمانے میں بنی اسرائیل پوری دنیا کے وارث نہ تھے لہذا مقصود یہ ہے کہ اپنے علاقے میں مشرق و مغرب کے وارث ہوئے لہذا عالمین پر ان کی فضیلت بھی اسی علاقہ کے افراد کی مناسبت سے ہے۔ اگلی آیت میں قرآن نے یہودیوں کے باطل خیالات پر خط بطلان کھینچا ہ۔ ان کا اعتقاد تھا کہ ہمارے آباؤ اجداد چونکہ پیغمبر تھے لہذا وہ ہماری شفاعت کریں گے یا یہ گمان کرتے تھے کہ گناہوں کا معاوضہ ادا کریں گے جیسے اس دنیا کا طریق کار ہے۔ قرآن کہتا ہے اس دن سے ڈرو جب کوئی شخص دوسرے کی جگہ جزا نہیں پائے گا (و اتقو ا یوما لا تجزی نفس عن نفس شیئا) )اور نہ ہی اذن پروردگار کے بغیر) کوئی سفارش و شفاعت قبول ہوگی (ولا یقبل منھا شفاعة) نہ ہی تاوان و بدل قبول ہوگا (ولا یوخذ منھا عدل) اور نہ ہی کوئی شخص ان کی مدد کے لئے کھڑا ہوگا (و لا ھم ینصرون)۔ خلاصہ یہ کہ اس عدالت کا قاضی و حاکم وہ ہوگا جو پاک علم کے سوا کچھ قبول نہیں کرے گا۔ سورہ شعراء آیت ۸۸اور ۸۹ میں ہے: یوم لا ینفع مال و لا بنون الا من اتی اللہ بقلب سلیم۔ وہ دن جب نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد ہاں مگر وہ لوگ جو قلب سلیم لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوں گے۔ در حقیقت زیر بحث آیت اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ اس دنیا میں اس طرح معمول ہے کہ مجرم سزا سے نجات پانے کے لئے مختلف طریقہ استعمال کرتے ہیں۔ کبھی ایک شخص دوسرے کا جرمانہ اپنے ذمہ لے لیتا ہے اور اسے ادا کر دیتا ہے، کبھی سفارش کو وسیلہ بنایا جاتا ہے اور ایسے شخص کو تیار کیا جاتا ہے جو اس کے گناہ کے سلسلہ میں سفارش کریں اور اگر ایسا بھی نہ ہو سکے تو مجرم کوشش کرتا ہے کہ تاوان ادا کر کے اپنے آپ کو سزا سے بچا لے۔ کچھ بھی نہ ہو سکے تو دوستوں کی مدد سے دفاع کے لئے تیار ہو جاتا ہے تاکہ سزا کے چنگل سے چھٹکارا حاصل کر سکے۔ دنیا میں سزا سے بچنے کے لئے یہ مختلف طریقے ہیں لیکن قرآن کہتا ہے کہ عالم قیامت میں سزاؤں کے اصول دنیا سے بالکل مختلف ہیں اور ان میں سے کوئی چیز بھی وہاں کار آمد نہیں ہوگی۔ راہ نجات صرف یہ ہے کہ انسان تقوی کے سایہ میں پناہ لے اور پھر لطف ِ پروردگار ہے۔ بت پرستوں اور اہل کتاب میں سے کجرو لوگوں کے عقائد دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کے خرافاتی عقائد ان کے درمیان کم نہیں تھے۔مثلا تفسیر المنار کے مولف نقل کرتے ہیں: مصر کے بعض علاقوں کے فضول لوگ میت کو غسل دینے والے کو کچھ رقم دیتے تھے اور اسے بہشت میں نقل و انتقال کی اجرت کہتے تھے۔ [بحوالہ: المنار، ج ۱، ص ۳۰۶۔] یہودیوں کے حالات میں لکھا ہے کہ وہ اپنے گناہوں کے کفارے کے لئے قربانی کرتے تھے اور اگر قربانی میسر نہ ہوتی تو کبوتروں کے ایک جوڑے کی قربانی کر دیتے تھے۔[سابقہ حوالہ] گذشتہ قوموں (احتمالا َ ما قبل تاریخ کی) کے حالات میں ہے کہ وہ زبور، آلات اور میت کا اسلحہ اس کے ساتھ دفن کر دیتے تھے تا کہ وہ آئندہ زندگی میں ان سے فائدہ اٹھا سکے۔[بحوالہ: المیزان ،ج ۱، ص ۱۵۶]
قرآن اور مسئلہ شفاعت
اس میں شک نہیں کہ خدائی سزائیں اس جہان میں ہوں یا قیامت میں، ان میں انتقال کا پہلو نہیں ہے۔ وہ سب در حقیقت قوانین کے اجراء اور اطاعت کی ضمانت ہیں اور نتیجے کے طور پر تمام پہلوؤں میں ترقی اور تکامل ہے۔لہذا جو چیز اس ضامن اجراء کو کمزور کرے اس سے احتراز و اجتناب ضروری ہے تا کہ لوگوں میں گناہ کی جراٴت پیدا نہ ہو۔ لیکن دوسری طرف واپس لوٹنے اور اصلاح کرنے کے راستے، گناہگاروں کے لئے کلی طور پر بند نہیں ہونے چاہئیں۔ شفاعت صحیح معنی کے لحاظ سے تعمیر اور اصلاح کے لئے ہے اور گناہگاروں اور ناپاکیوں سے آلودہ افراد کی واپسی کا وسیلہ ہے لیکن غلط مفہوم کے اعتبار سے گناہ کا شوق پیدا کرنے اور جراٴت دلانے کا سبب بنتی ہے۔ جو لوگ شفاعت کے مختلف پہلوؤں اور اس کے صحیح مفاہیم کو ایک دوسرے سے جدا نہیں سمجھ سکے وہ بعض اوقات مسئلہ شفاعت کے سرے سے منکر ہو گئے ہیں اور شفاعت کو سلاطین اور ظالم حکام کے سامنے ایک دوسرے کی سفارش اور پارٹی بازی کے برابر سمجھتے ہیں اور بعض اوقات وہابیوں کی طرح مندرجہ بالا آیت کے الفاظ "لا یقبل منھا شفاعة" سے مراد لیتے ہیں کہ قیامت میں کسی کی سفارش قبول نہ ہوگی۔ دوسری آیات کی طرف توجہ کیے بغیر اسے دستاویز قرار دے کر شفاعت کا مکمل انکار کر دیتے ہیں۔ مخالفین شفاعت کے اعتراضات کا خلاصہ یہ ہے: (۱) شفاعت کا عقیدہ کوشش اور جستجو کی روح کو کمزور کر دیتا ہے۔ (۲) شفاعت کا عقیدہ پسماندہ اور طوائف الملوک کے شکار معاشرے کی عکاسی کرتا ہے۔ (۳) شفاعت کا عقیدہ ایک قسم کا شرک ہے اور چند اشخاص کی پرستش کے مترادف ہے۔ (۴)شفاعت کا عقیدہ گناہ کا شوق دلاتا ہے اور ذمہ د اریوں سے غفلت کا سبب بنتا ہے۔ (۵)شفاعت کے عقیدہ کا مفہو م یہ ہے کہ خدا کے احکام بدل جائیں اور خدا کا ارادہ و فرمان متغیر ہو جائے۔ لیکن جیسا کہ ہم بتائیں گے کہ یہ اعتراضات اس لئے پیدا ہو ئے ہیں کہ شفاعت کے قر آنی مفہو م کو عوام میں رائج کجرو سفارشوں کی طرح سمجھ لیا گیا ہے۔ یہ مسئلہ چونکہ منفی اور مثبت جہات کے لحاظ سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے لہذا ضروری ہے کہ مفہوم شفاعت، فلسفہ شفاعت، عالم تکوین میں شفاعت، قرآن و حدیث میں شفاعت اور شفاعت اور توحید و شرک کے متعلق بحث کی جائے تا کہ ہر قسم کا ابہام جو مندرجہ بالا اور دیگر آیات میں اس سلسلے میں دکھائی دیتا ہے دور ہو سکے۔
(۱) شفاعت کا حقیقی مفہوم
لفظ شفاعت "شفع" سے ہے جس کے معنی ہیں جفت اور "ضم الشی الی مثلہ"۔ ایک چیز کو اس جیسی دوسری چیز سے ملحق کرنا۔ اس کے مقابل ہے"وتر" جس کے معنی تاک اور تنہا ہیں۔ کسی برتر و قوی فرد کے ضعیف فرد کے ساتھ مدد کی خاطر مل جانے کے لئے بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ یہ لفظ عرف اور شرع میں دو مختلف معانی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ الف۔ عرف عام میں شفاعت کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ شفاعت کرنے والا اپنی شخصیت اور اثر و رسوخ سے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ماتحت لوگوں کی سزا کے بارے میں صاحب قدرت شخص کا نظریہ بدل دے۔ اسی طرح اپنے اثر و رسوخ سے کام لینا جب کہ اس کا لحاظ رکھا جاتا ہو یا جب لوگ اس سے خوف زدہ ہوں یا پھر کسی پر نوازشات کے ذریعہ سے اثر ڈالنا یا کبھی مجرم کے گناہ اور استحقاق ِ سزا سے متعلق فکری بنیادوں کو بدل دینا وغیرہ۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس شفاعت سے مجرم یا ملزم کی روح یا فکر میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوتی بلکہ سب اثرات اور تبدیلیوں کا تعلق اس شخص سے ہوتا ہے جس کے پاس شفاعت و سفارش کی جاتی ہے(غورکیجیے گا)۔ مذہبی نقطہ نظر سے ایسی شفاعت کوئی معنی نہیں رکھتی کیونکہ خدا کو تو اشتباہ نہیں ہوتا کہ اس کے نظریئے کو بدلا جا سکے نہ ہی وہ انسان جیسے میلانات رکھتا ہے کہ انہیں ابھارا جا سکے نہ کسی کے اثر و رسوخ سے وہ خوف زدہ ہوتا ہے اور نہ ہی اس کی سزا اور عذاب عدالت کے علاوہ کسی محور پر گردش کرتی ہے۔ ب۔ شفاعت کا دوسرا مفہوم وہ ہے جو مذہبی منابع اور مصادر میں موجود ہے جس کا مقصد اس شخص میں تبدیلی پیدا کرنا ہے جس کی سفارش کی جارہی ہے۔ یعنی جس شخص کی شفاعت ہو رہی ہے، اس نے ایسے اسباب فراہم کئے ہیں کہ وہ اس ناپسندیدہ کیفیت سے باہر نکل آیا ہے جس کی وجہ سے وہ سزا کا مستحق ہو گیا ہے کہ اسے بخش دیا جائے۔ جیسا کہ ہم دیکھیں گے کہ ایسی شفاعت پر ایمان رکھنا ایک مکتب ِ تربیت ہے۔ گناہگاروں اور آلودہ افراد کی اصلاح، بیداری اور آگاہی کا وسیلہ ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ تمام اعتراضات، نکتہ چینیاں اور حملے شفاعت کی پہلی تفسیر پر ہوتے ہیں، دوسری پر نہیں جو کہ ایک منطقی، معقول اور تربیت کرنے والا مفہوم ہے۔ شفاعت کی دو شکلوں کی یہ اجمالی تفسیر تھی جن میں سے ایک گناہ پر پردہ ڈالنا اور دوسری انسان کی اصلاح و تربیت کرنا ہے۔
(۱۱) عالم تکوین میں شفاعت
جو کچھ ہم نے صحیح اور منطقی شفاعت کے بارے میں کہا ہے اس کا مشاہدہ عالم تشریع کے علاوہ تکوین و خلقت کی دنیا میں بہت کیا جا سکتا ہے۔ اس دنیا کی طاقت ور قوتیں ضعیف قوتوں سے مل جاتی ہیں اور انہیں اصلاحی اغراض کے راستوں پر آگے لے چلتی ہیں۔ سورج چمکتا ہے۔ بارش برستی ہے، بیج زمین کے دل میں رکھا جاتا ہے تا کہ وہ اپنی اندرونی استعداد کو بروئے کار لائے اور پہلی زندگی کی کونپلوں کو زمین سے باہر بھیجے، اس طرح کہ دانے کے چھلکے کا زندان چاک کیا جائے۔ظلمت کدہٴ خاک سے سر باہر نکالا جائے اور آسمان کی طرف آگے بڑھا جائے جس سے اس نے قو ت حاصل کی تھی۔ زندگی کی اٹھان میں یہ سب بہاریں در حقیقت، شفاعت تکوینی کی ایک قسم ہیں۔ اگر اس قسم کی شفاعت کے مشاہدے سے ہم عالم تشریع میں بھی اس کے قائل ہو جائیں تو ہم نے راہ مستقیم اختیار کی ہے جس کی وضاحت ہم عنقریب کریں گے۔
مدارک شفاعت
اب ہم مسئلہ شفاعت کے اصلی مدارک اور اولین دلائل کا ذکر کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں مسئلہ شفاعت کے بارے میں اس عنوان سے تقریبا تیس مقامات پر گفتگو ہوئی ہے۔ البتہ اس عنوان کے بغیر بھی اس کی بحثیں اور اس طرف ارشادات موجود ہیں۔ وہ آیات جو قرآن میں اس مسئلے کے بارے میں ہیں چند شعبوں میں تقسیم ہوتی ہیں۔ ا۔ وہ آیات جو بطور مطلق شفاعت کی نفی کرتی ہیں۔ مثلا: انفقوا مما رزقنٰکم من قبل ان یاتی یوم لا بیع فیہ ولا خلة و لا شفاعة۔ اور ولا یقبل منھا شفاعة۔ ان آیات میں مجرمین کے لئے ایمان و عمل صالح کے بغیر راہ نجات کی نفی کی گئی ہے۔ وہ چاہے مادی عوض سے ہو یا تعلق کی بنیاد پر سابقہ دوستی کی وجہ سے ہو یا مسئلہ شفاعت کے حوالے سے بلکہ بعض مجرمین کے بارے میں تو ہے کہ: فما تنفعھم شفاعة الشافعین۔ (مدثر ۔ ۴۸) شفاعت کرنے والوں کی شفاعت انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گی۔ ب۔ وہ آیات جو شفیع کو صرف خدا میں منحصر قرار دیتی ہیں۔مثلا: مالکم من دونہ من ولی ولا شفیع۔ (سجدہ ۔۴) اس (خدا) کے سوا تمہارا کوئی ولی اور شفیع نہیں ہے۔ اور قل للہ الشفاعة جمیعا۔ )زمر ۔ ۴۴) کہیے کہ تمام شفاعتیں اللہ کے لئے مخصوص ہیں۔ ج ۔وہ آیات جو شفاعت کو اذن و فرمان خدا کے ساتھ مشروط قرار دیتی ہیں۔ مثلا: من ذالذی یشفع عندہ الا باذنہ۔ )بقرہ ۔ ۲۵۵) کون ہے جو خدا کے حضور اس کے اذن کے بغیر شفاعت کرے۔ اور ولا تنفع الشفاعة عندہ الا لمن اذن لہ۔ (سبا ، ۲۳) اس کی بارگاہ میں کسی کو شفاعت سے فائدہ نہیں پہنچے گا مگر اسے جس کے لئے اجازت دی جائے گی۔ د۔ وہ آیات ہیں جن میں اس شخص کے لئے شرائط بیان کی گئی ہیں جس کی شفاعت کی جانا ہے۔ بعض اوقات رضا و خوشنودیٴ خدا کو شرط قرار دیا گیا ہے: ولا یشفعون الا لمن ارتضی۔ (انبیاء ، ۲۸) اس آیت کے مطابق شفاعت کرنے والے صرف ان کی شفاعت کر سکتے ہیں جو مقام ارتضی کے حامل ہوں۔ یعنی درگاہ خداوندی میں قبولیت کے درجے کو پہنچے ہوئے ہوں۔ کبھی خدا کے ہاں عہد و پیمان کو شرط قرار دیا گیا ہے (یعنی توحید پر ایمان اور انبیاء کو صحیح طور پر پہچاننا)۔مثلا: لا یملکون الشفاعة الا من اتخذ عند الرحمٰن عھدا۔ (مریم ۔ ۸۷) بعض اوقات شفاعت کے حصول کی صلاحیت کو بعض مجرمین سے سلب کر لینے کا اعلان کیا گیا ہے۔مثلا ذیل کی آیت میں ظالمین سے شفاعت سلب کئے جانے کا اعلان ہے: ماللظالمین من حمیم و لا شفیع یطاع۔ (مو من۔ ۱۸) اس لحاظ سے عہد و پیمان الہٰی کا حامل ہونا یعنی ایمان اور مقام خوشنودی خدا تک پہنچنا، اس کے نزدیک قابل قبول ہونا اور گناہوں مثلاَ ظلم و ستم سے بچنا، یہ شفاعت کی حتمی شرائط ہیں۔
شرائط شفاعت
i. خلاصہ یہ ہے کہ آیات شفاعت وضاحت سے نشان دہی کرتی ہیں کہ اسلام کی نظرمیں مسئلہ شفاعت کوئی بے ضابطہ اور بلا شرط موضوع نہیں ہے بلکہ اس کی قیود و شرائط ہیں۔ ایک طرف یہ اس کے جرم کے لحاظ سے ہیں جس کے بارے میں شفاعت ہونی ہے اور دوسری طرف اس شخص کے بارے میں جس کی شفاعت کی جانی ہے، تیسر ے اس شخص کے بارے میں شرائط ہیں جس نے شفاعت کرنی ہے۔ یہ سب چیزیں مل کر شفاعت کے اصلی رخ اور اس کے فلسفہ کو واضح کرتی ہیں۔ مثلا ظلم و ستم جیسے گناہ شفاعت کے دائرے سے بالکل خارج کر دیئے گئے ہیں اور قر آن کہتا ہے کہ ظالمو ں کے لئے کو ئی شفیع مطاع نہیں ہے۔ اب اگر ظلم اس کے وسیع معنی ٰکے لحاظ سے تفسیر کی جائے تو پھر شفاعت ان مجرمین کے لئے منحصر ہوگی جو اپنے جرم پر نادم و پشیمان ہوں اور اس کے ازالے اور اصلاح کی راہ پر گامزن ہوں جیسا کہ بعض احادیث کے حوالے سے بیان ہوگا۔اس صورت میں شفاعت توبہ اور گناہ پر ندامت کے عمل میں ایک مددگار کا کردار ادا کرے گی (اور یہ جو بعض تصور کرتے ہیں کہ ندامت اور توبہ کے ہوتے ہوئے شفاعت کی ضرورت نہیں، یہ ان کا اشتباہ ہے جس کی وضاحت ہم عنقریب کریں گے)۔ ایک سورہ انبیا ء آیہ ۲۸کے مطابق صرف وہ لوگ شفاعت کے ذریعہ بخشے جا ئیں گے جو مقام ارتضی تک پہنچے ہوں گے اور دوسری طرف سورہ مریم آیہ ۸۷کے مطابق جو عہد الٰہی کے حامل ہوں گے۔ یہ دوعناوین جیسا کہ ان کے لغوی مفہوم سے اجمالا اور اس سلسلے کی روایت سے تفصیلا ظاہر ہوتا ہے یہ معنیٰ رکھتے ہیں کہ انسان کا خدا، حساب و میزان اور سزا و عذاب پر ایمان ہو، نیک اعمال کو اچھا اور برے اعمال کو برا سمجھتا ہو اور تمام کے درست یعنی من اللہ ہونے کی گواہی دیتا ہو۔ اگر ایسا ایمان انسان کی فکر و نظر اور زندگی سے ظاہر ہوتا ہوجس کی نشانی یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو ان ظالمین اور سرکش لوگوں سے ممتاز کرے جو اسلام کی کسی مقدس اصل پرایمان نہیں رکھتے اور اپنے پروگراموں پر تجدید نظر کرے تو پھر وہ شفاعت کا اہل ہوتا ہے۔ سورہ نساء کی ۶۴ میں شفاعت کرنے کے زیر سایہ گناہوں کی بخشش کے بارے میں یوں ارشاد ہوتا ہے: ولو انھم اذظلمواانفسھم جاء وک فاستغفرااللہ واستغفرلھم الرسول لوجدواللہ توابارحیما۔ اور اگر وہ اپنے آپ پر ظلم کر بیٹھے تھے تو آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے،بارگاہ الٰہی میں توبہ و استغفار کرتے اور پھر ہمارا رسول بھی ان کے لئے عفو و درگزر کی سفارش کرتا توو ہ دیکھتے کہ اللہ توبہ قبول کرکے رحم فرمانے والاہے۔ اس آیت میں خود مجرمین کی توبہ استغفار کو پیغمبرکی طرف سے مغفرت کی سفارش کا مقدمہ قرار دیا گیا ہے۔ سورہ یوسف کی آیت ۹۷ و۹۸ میں ہے: قالوا یا ابانا استغفر لنا ذنوبنا انا کنا خاطئین۔ قال سوف استغفر لکم ربی ط انہ ھو الغفور الرحیم۔ انہوں نے اپنے باپ کی خدمت میں عر ض کی کہ اللہ کے حضور ہماری مغفرت کی دعا کریں اور ہم اپنے خطاکار ہونے کے معترف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں جلدی ہی اپنے پروردگار سے تمہاری مغفرت طلب کروں گا، بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔ ان آیات میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ برادران یوسف نے باپ سے سفارش کے تقاضے سے قبل گناہ پر ندامت و پشیمانی کا اظہار کیا۔ سورہ مومن، آیہ ۷ فرشتوں کی شفاعت کے بارے میں ہے کہ ان کی استغفار اور شفاعت صرف با ایمان، راہ خدا کے پیروکار اور حق کی اتباع کرنے والے لوگوں کے لئے ہے: و یستغفرون للذین آمنوا ربنا وسعت کل شیء رحمة و علما فاغفر للذین تابوا و اتبعوا سبیلک وقھم عذاب الجحیم۔ اب پھر یہاں یہ سوال پیدا ہوگا کہ توبہ کرنے، سبیل الٰہی کی اتباع کرنے اور اس راہ پر قدم رکھنے کے باوجود شفاعت کی کیا ضرورت ہے۔اس سوال کا جواب ہم حقیقت ِ شفاعت کی بحث میں دیں گے۔ شفاعت کرنے والوں کے لئے بھی اس شرط کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ حق کے گواہ ہونے چاہیئیں: الا من شھد بالحق۔ (زخرف۔ ۸۶) اس لحاظ سے ضروری ہے کہ جن کی شفاعت ہونا ہے، وہ شفاعت کرنے والے سے ربط اور تعلق برقرار رکھیں اور وہ ربط ہے قول و فعل سے حق کی طرف متوجہ ہونا جو خود اصلا َ اور راہ حق میں تمام صلاحیتیں صرف کرنے کے لئے ایک عامل ہے۔
احادیث اسلامی اور شفاعت
روایاتِ اسلامی میں شفاعت کے سلسلے میں بہت سے تعبیرات موجود ہیں جو مندرجہ بالا آیاتِ قرآنی کے مفہوم کی تکمیل کرتی ہیں اور بعض اوقات بہت صریح ہیں۔ ان میں سے بعض یہ ہیں: ا۔ تفسیر برہان میں امام کاظم علیہ السلام کے واسطے حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا: شفاعتی لاھل الکبائر من امتی۔ میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لئے ہے۔ ابن عمیر جو راوی حدیث ہے کہتا ہے: میں نے امام کاظم علیہ السلام سے پوچھا کہ گناہان کبیرہ کا ارتکاب کرنے والوں کی شفاعت کیسے ممکن ہے حالانکہ خداوند عالم فرماتا ہے "ولا یشفعون الا لمن ارتضی" مسلم ہے کہ جو شخص کبائر کا مرتکب ہوتا ہے، وہ ارتضی اور خوشنودی خدا سے دور ہو جاتا ہے۔ امام نے جواب دیا: جو باایمان شخص گناہ کا مرتکب ہوتا ہے وہ طبعا پشیمان ہوتا ہے اور نبی اکرمﷺ نے فرمایا ہے کہ گناہ سے پشیمانی توبہ ہے اور جو شخص پشیمان نہ ہو وہ حقیقی مومن نہیں اور اس کے لئے شفاعت بھی نہیں ہے اور ایک گناہ ایک ظلم ہے۔ خداوند عالم فرماتا ہ : ظالموں کے لئے دوست اور شفاعت کرنے والے نہیں ہیں۔(بحوالہ: تفسیر برہان، ج۳ ، ص ۵۳)۔ صدر حدیث کا مضمون یہ ہے کہ شفاعت کبائر کے مرتکب لوگوں کے لئے ہے لیکن حدیث کا ذیل یہ واضح کرتا ہے کہ شفاعت کے قبول ہونے کی اصلی شرط یہ ہے کہ جس کی شفاعت کی جا رہی ہے اس میں ایسا ایمان ہو جو مجرم کو ندامت، خود سازی، ازالہ ء گناہ اور اصلاح کے مرحلے تک پہنچا دے اور ظلم، طغیان اور قانون شکنی سے اپنے آپ کو نکال لے اور اس کے بغیر شفاعت ممکن ہی نہیں ہے (غور کیجیے گا)۔ ب ۔ کتاب کافی میں امام صادق علیہ السلام سے اس خط میں جو آپ نے متحد المال کی صورت میں اپنے اصحاب کو لکھاہے، منقول ہے: من سرہ ا ن ینفعہ شفاعة الشافعین عند اللہ فلیطلب الی الللہ ان یر ضی عنہ۔ (بحوالہ: نقل از بحار، ج۳، ڈ۳۰۴ -قدیم اشاعت)۔ اس روایت کا لب و لہجہ نشاندہی کرتا ہے کہ یہ اشتباہات کے ازالے کے لئے ہے جو شفاعت کے سلسلے میں حضرت صادق علیہ السلام کے بعض اصحاب کو خصوصا اور مسلمانوں کی ایک جماعت کو عموما ہو گئے تھے۔ اس میں صراحت کے ساتھ گناہ کا شوق دلانے والی شفاعتوں کی نفی کی گئی ہے۔ روایت کے مطابق "جو شخص پسند کرتا ہے کہ اسے شفاعت نصیب ہو اسے چاہیئے کہ خدا کی خو شنودی حاصل کرے"۔ ج۔ ایک اور پر معنی حدیث حضرت صادق علیہ السلام سے یوں مروی ہے: اذا کان یوم القیامة بعث اللہ العالم والعابد فاذا وقفا بین ید ی اللہ عز وجل قیل اللعابد انطق الی الجنةو قیل اللعالم قف تشفع للناس بحسن تادیبک لھم۔ قیامت کے دن خداوند تعالیٰ عالم اور عابد کو قبر سے اٹھائے گا، عابد سے کہے گا اکیلے بہشت میں چلے جاؤ لیکن عالم سے کہے گا جن لوگوں کی اچھی تربیت کی ہے ان کی شفاعت کرو۔(بحوالہ: بحار، ج۳ ، ص ۳۰۵ بحوالہ اختصاص مفید)۔ اس حدیث میں عالم نے جو ادب و اخلاق کی تعلیم دی ہے اور اس کے شاگرد جہنوں نے اس سے سبق حاصل کیا ہے کی شفاعت کے درمیان ایک ربط و تعلق نظر آ تا ہے۔ اس سے اس بحث کے تاریک پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے۔ علاوہ ازایں، شفاعت کا عالم سے مخصوص ہونا اور عابد سے اس کی نفی اس بات کی نشاندہی ہے کہ منطق اسلام کی رو سے شفاعت کسی عہد و پیمان اور پارٹی بازی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکتب تربیت ہے اور اس جہان میں تربیت کی تصو یر کشی ہے۔
شفاعت کی معنوی تا ثیر
i. اس مقام پر شفاعت سے متعلق جو روایات ہم نے بیان کی ہیں وہ اس سلسلے کی روایات کا ایک تھوڑا سا حصہ ہے جنہیں ہم نے اپنی بحث کی مناسبت سے انتخاب کیا ہے ورنہ شفاعت سے متعلق روایات تو حد تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں۔ نووی شافعی، [ان کا نام یحیی بن شرف ہے۔ سات سو ہجری کے علماء میں سے ہیں چونکہ نوی شہر جو دمشق کے پاس ہے میں پیدا ہوئے، اس لئے نوی مشہور ہوئے۔] شرح صحیح مسلم میں قاضی عیاض جو اہل سنت کے مشہور عالم ہیں کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ شفاعت متواترات میں سے ہے۔[بحوالہ: بحار، ج ۳، ص۳۰۷] یہاں تک کہ ابن تیمیہ (متوفی ۷۲۸ھ) اور محمد بن عبد الوہاب (متوفی ۱۲۰۶ھ) کے پیرو جو اس سلسلے میں سخت رویہ اختیار کرتے ہیں اور بہت متعصب ہیں، ان روایات کے تواتر کے معترف ہیں۔ کتاب "فتح المجید" شیخ عبدالرحمٰن بن حسن کی تالیف ہے، وہابیوں کی ایک مشہور کتاب ہے اور ابھی حجاز کے بہت سے دینی مدارس میں درسی کتب کی حیثیت سے موجود ہے۔ اس میں ابن قیم سے اس طرح منقول ہے: شفاعت ِ مجرمین کے بارے میں نبی اکرمﷺ سے احادیث متواتر ہیں۔ آپ کے اصحاب اور اہل سنت کا عموما اس پر اجماع ہے اور وہ اس کے منکر کو بدعتی سمجھتے ہیں، اس پر تنقید کرتے ہیں اور اسے گمراہ شمار کرتے ہیں۔[بحوالہ: فتح المجید، ص ۲۱۱] اس سے قبل کہ اب ہم شفاعت کے اجتماعی اور روحانی اثرات پر بحث کریں اور چاروں اعتراضات کو فلسفہء شفاعت کی روشنی میں حل کریں، خدا پرستوں اور معتقدین شفاعت کی منطق کی نظر سے اس کے معنوی آثار دیکھتے ہیں کیونکہ یہ نظراس مسئلے کے اجتماعی اور معنوی عکس العمل کے سلسلے میں آئندہ آنے والی بحث کو زیادہ واضح کر دیتی ہے۔[ توجہ رہے کہ یہاں پر ہم خاص طور پر علماء عقائد کی منطق سے بحث کر رہے ہیں۔] عقائد اسلامی کے علماء کے درمیان شفاعت کی تاثیر معنوی کے سلسلے میں کچھ یوں ہے: ایک گروہ "وعیدیہ" کے نام سے مشہور ہے )جن کا عقیدہ ہے کہ گناہان کبیرہ کے مرتکب افراد ہمیشہ جہنم میں رہیں گے)۔ ان کا اعتقاد ہے کہ گناہ کے آثار کو کم کرنے میں شفاعت اثر انداز نہیں ہوتی بلکہ اس کی تاثیر پیش رفت، تکامل معنوی اور جزاء و ثواب کی زیادتی ہے۔ تفضیلیہ (جو اعتقاد رکھتے ہیں کہ کبیرہ گناہ کرنے والے لوگ جہنم میں نہیں رہیں گے)، معتقد ہیں کہ شفاعت گناہگاروں کے لئے ہے اور نتیجے میں سزا اور عذاب ختم ہو جاتا ہے۔ نہایت مشہور محقق نصیر الدین طوسی کتاب تجرید الاعتقادات میں دونوں کو بر حق سمجھتے ہیں اور وہ دونوں آثار کے معتقد ہیں۔ علامہ حلی بھی محقق طوسی کی عبارت کی شرح میں کتاب کشف المراد میں اس عقیدے کا انکار نہیں کرتے بلکہ اس کے لئے شواہد پیش کرتے ہیں۔ شفاعت کے معنی اصل لغت کے اعتبار سے بیان کیے گئے ہیں اور اسی طرح شفاعت تکوینی کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔ ان دونوں کی طرف توجہ کرتے ہوئے اب کسی تردید و شک کی گنجائش نہیں رہ جاتی کہ محقق طوسی کا عقیدہ حقیقت و واقعیت سے نزدیک ہے۔ کیونکہ ایک طرف امام صادق علیہ السلام سے منقول مشہور روایت ہے: ما من احد من الاولین والاًخرین الا ھو محتاج الی شفاعة محمد یوم القیامہ۔[ بحار اور دیگر کتب۔] اولین و آخرین میں کوئی بھی نہیں جو آنحضرتﷺ کی شفاعت کا محتاج نہ ہو۔ اس حدیث کی رو سے تو وہ اشخاص بھی جو گناہ سے توبہ کر چکے ہیں اور ان کا جرم بخشا گیا ہے، شفاعت کے محتاج ہیں اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب شفاعت کی تاثیر ہر دو پہلوؤں کے لئے ہو اور مقام و مرتبے کی بلندی کے لئے بھی کار آمد ہو۔ لہذا اگر بعض روایات میں ہے کہ نیک لوگوں کی شفاعت کی ضرورت نہیں تو اس سے مقصود ویسی شفاعت کی نفی ہے جو مجرمین اور گناہگاروں کے لئے ہے۔ دوسری طرف___ ہم کہہ چکے ہیں کہ شفاعت کی حقیقت یہ ہے کہ قوی تر موجود کی مدد کے لئے اس سے مربوط و منظم ہو جائے۔ ممکن ہے یہ مدد نقاط قوت کی زیادتی یا نقاط ضعف کی کمی کے لئے ہو۔ جیسا کہ شفاعت تکوینی اور وہ موجودات جو سیر تکامل و پرورش میں ہیں، میں یہ دو جنبے دیکھے جا سکتے ہیں۔ بعض ا وقات پست تر موجودات کو قوی تر موجودات کی ضرورت اس لئے ہوتی ہے کہ وہ عوامل تخریب کو دور کریں جیسے(گھاس کو آفتاب کی روشنی کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اس کی آفات و بلیات دور کرے)۔ کبھی ان کی ضرورت قوت کی زیادتی اور پیش رفت کے لئے ہوتی ہے )جیسے گھاس کو رشد و نمود کے لئے بھی سورج کی روشنی درکار ہوتی ہے)۔ اسی طرح درس پڑھنے والا شاگرد اپنے اشتباہات کی اصلاح کے لئے بھی استاد کی احتیاج رکھتا ہے اور اپنی معلومات بڑھانے کے لئے بھی۔ لہذا مختلف دلائل کے پیش نظر شفاعت دونوں قسم کے آثار رکھتی ہے اور صرف گناہ و جرم کے آثار کرنے میں منحصر نہیں ہے (غور کیجئے گا)۔
توبہ کرنے والوں کو شفاعت کی ضرورت
جو کچھ کہا گیا ہے اس پر غور کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ توبہ کرنے والوں کو شفاعت کی ضرورت کیوں ہے جب کہ مسلم مذہبی عقائد کے مطابق گناہ سے ندامت اور توبہ، تنہا گناہ کی بخشش کا موجب ہے۔ اس موضوع کی دو دلیلیں ہیں: ۱۔ توبہ کرنے والے بھی معنوی مقامات کی بلندی، پرورش اور ارتقاء کے لئے شفاعت کے محتاج ہیں۔ ۲۔ بہت سے علماء کو ایک بہت بڑا اشتباہ تاثیر توبہ کے مسئلے میں پیش آتا ہے جو ایسے اشکالات کا سبب بنتا ہے۔ وہ یہ کہ ان کا تصور یہ ہے کہ توبہ ندامت اور گناہ سے پشیمانی، انسان کو گناہ سے قبل والی حالت کی طرف پلٹا دیتی ہے حالانکہ ہم اپنے مقام پر کہہ چکے ہیں کہ کئے ہوئے گناہ پر ندامت اور آئندہ کے لئے گناہ نہ کرنے کا عزم مصمم، توبہ کا صرف پہلا مرحلہ ہے اور وہ بالکل اس دوا کی طرح ہے جو بیماری کو ختم کر دیتی ہے۔ واضح ہے بخار دور ہو جانے اور بیماری کے جڑ سے ختم ہو جانے سے اگرچہ بیمار اچھا ہو جاتا ہے لیکن پھر بھی وہ ایک عام آدمی کی حالت میں ہر گز نہیں آتا بلکہ اسے اپنے جسم کو پھر سے توانا بنانے کے لئے ایک مدت تک کوشش درکار ہے۔ پھر کہیں وہ بیماری سے پہلے والی حالت پر پہنچ پائے گا۔ بہ الفاظ دیگر توبہ کے کئی مرحلے ہیں، گناہ پر نادم ہونا اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرنا، یہ تو صرف پہلا مرحلہ ہے۔ اس کا آخری مرحلہ یہ ہے کہ توبہ کرنے والا ہر لحاظ سے گناہ سے پہلے کی روحانی حالت میں لوٹ آئے۔ یہ وہ مرحلہ ہے کہ جہاں شفاعت کرنے والوں کی شفاعت اور ان سے ربط و تعلق اثر بخش ہو سکتا ہے۔ اس کے لئے زندہ شاہد استغفار سے متعلق وہی آیات ہیں جن کی ہم پہلے ہی نشاندہی کر چکے ہیں کہ مجرم کی توبہ کے علاوہ پیامبر کی استغفار بھی قبولیت توبہ کی شرط قرار دی گئی ہے۔ اسی طرح برادران یوسف کی توبہ کے ضمن میں حضرت یعقوب کا ان کے لئے استغفار کرنا، سب سے واضح تو ملائکہ کا ان لوگوں کے لئے استغفار کرنا ہے جو صالح اور مصلح ہیں اور توبہ کرنے میں جن کے متعلق آیات پیش کی جا چکی ہیں۔
فلسفہ شفاعت
مدارک شفاعت اور شفاعت کے سلسلے کی بحث سے ہم پر اس کا مفہوم واضح ہو چکا ہے۔ اب اس کے اجتماعی اور نفسیاتی فلسفوں کا سمجھنا مشکل نہیں رہا۔ شفاعت کی حقیقت کی طرف مکمل توجہ سے اس کے معتقدین پر مندرجہ ذیل اثرات کے مرتب ہونے کا امکان ہے۔ ۱۔ مایوسی کی روح سے مقابلہ: جو لوگ سخت جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں، وہ ایک طرف تو وجدانی تکلیف میں مبتلا ء ہو تے ہیں اور دوسری طرف درگاہ خداسے بخشش سے مایوس ہو جاتے ہیں کیونکہ اس طرح گناہوں کی زندگی سے واپسی کا راستہ نہیں پاتے لہٰذاعملی طور پر کسی تجدیدنظرکے لئے تیار نہیں ہوتے اور مستقبل کے افق کی تیرگی کو دیکھ کر وہ طغیان و سرکشی میں زیادہ ہاتھ پاوٴں مارنے لگتے ہیں۔ اسی طرح اسی عملی زندگی کے عنوان سے مقررات الٰہی کے بے سود ہونے کے قائل ہو جاتے ہیں، با لکل اس بیمار کی طرح جو تندرستی سے مایو س ہوکر ہر چیز کی بندشو ں سے بے پرواہ ہو جائے چونکہ اب وہ بےدلیل اور بے اثر سمجھتاہے۔ بعض اوقات وجدانی درد و تکلیف جو ایسے جرائم سے پیدا ہوتی ہے، نفسیاتی خلل یا معاشرے سے دوری کی تحریک کا سبب بن جاتی ہے کیونکہ اسی معاشرے نے اسے اس طرح آلودہ کیا ہے۔ اس طرح گنہگار ایک خطرناک عنصر میں تبدیل ہو کر معاشرے کے لئے دکھ اور تکلیف کا مرکز بن جاتا ہے۔ ایسے عالم میں شفاعت پر ایمان اس کے سامنے روشنی کا ایک دریچہ کھول دیتا ہے اور بخشے جانے کی امید دلا کر اسے اپنے کنٹرول میں لے لیتا ہے۔ تجدید نظر اور گذشتہ کردار کے ازالے اور اصلاح کے لئے اسے شوق دلاتا ہے۔ اس طرح معاشرے سے قطع تعلق کی تحریک پیدا نہیں ہوتی اور نفسیاتی اطمینان اسے ایک سالم اور صالح عنصر میں تبدیل ہونے کا امکان مہیا کرتا ہے۔ اس بناء پر اگر ہم یہ کہیں کہ صحیح معنیٰ والی شفاعت کی طرف توجہ ایک اصلاح کنندہ عامل ہے اور برائی سے روکنے کا سبب ہے اور ایک مجرم گنہگار فرد کو صالح بنا دیتا ہے تو یہ فضول بات نہیں ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں عمر قید کے قیدیوں کے لئے بھی سفارش اور بخشش کا دریچہ دنیا کے مختلف قوانین میں کھلاہے تا کہ کہیں یاس و ناامیدی انہیں قیدخانوں میں کسی خطرناک اقدام کی طرف نہ لے جائے یا نفسیاتی خلل میں مبتلا نہ کرے۔
شفاعت کی شرئط تعمیری اور اصلاح کنندہ ہیں:
اس طر ف متوجہ رکھتے ہوئے کہ شفاعت اپنے حقیقی اعتبار سے کئی پہلووٴں سے متعدد قیود و شرائط کی حامل ہے، جو اصل و بنیاد کا عقیدہ رکھتے ہیں وہ مجبور ہیں کہ ان شرائط پر عملدرآمد کریں اور ظلم جیسے گناہوں سے جن کی وجہ سے شفاعت کی امیدختم ہو جاتی ہے، پرہیز کریں اور اپنے پروگرام کو تبدیل کر کے اور جامع تر بنا کر شروع کریں۔ایسے لوگ مقام ارتضی تک رسائی اور عہد الٰہی کی پاسداری کے لئے (جس کی تفسیر بیان کی جا چکی ہے) اپنے گناہوں سے باقاعدہ توبہ کرتے ہیں یا کم از کم توبہ کی منزل پر قیام کرتے ہوئے غلط کاری اور قوانین الٰہی کی بندشوں کو توڑنے سے باز رہتے ہیں یاکم از کم ایسے افعال میں کمی کر دیتے ہیں اور اپنے اندر خدا اور بڑی عدالت پر ایمان کو زندہ رکھتے ہیں اور اس کے قوانین اور مقررات کا احترام کرتے ہیں۔ ایسے افراد اپنے اور شفاعت کرنے والے کے درمیان اپنے رشتے اور تعلق کو برقرار رکھنے کے لئے اس کی صفات اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک قسم کا رابطہ چاہے کمزور ہی کیوں نہ ہو اپنے اور ان کے درمیان برقرار رکھتے ہیں یعنی جس طرح شفاعت تکوینی میں تاثیر تکامل کے لئے آمادگی،ربط اور تسلیم ضروری ہے۔ شفاعت تشریعی میں نتیجے تک پہنچنے کے لئے بھی اس قسم کی آمادگی اور تیاری ضروری ہے (غور کیجئے)۔ اس طرح کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا کہ شفاعت اپنے صحیح مفہوم کے اعتبار سے مجرمین کے حالات کی تبدیلی اور اصلاح کے لئے نقش موٴثر ہے۔
اعتراضات کے جوابات
جیسے کہ پہلے کہا جا چکا ہے کہ عرف عام کی شفاعت اور منطق اسلام کی شفاعت میں بہت فرق ہے۔ ایک کی بنیاد اس کی فکر کو تبدیل کرنا ہے، جس کے پاس شفاعت ہونی ہے اور دوسرے کی بنیاد اس شخص میں گوناگوں تبدیلیاں پیدا کرنا ہیں جس کی شفاعت ہو رہی ہے۔ واضح ہے کہ پہلے معنٰی والی شفاعت تمام تر اعتراضات کا موجب ہے۔ اسی سے سعی و طلب کی روح مضمحل ہوتی ہے اور وہی گناہ کی طرف رغبت کا باعث بنتی ہے اور پسماندہ اور طوائف الملوکی کے شکار معاشرے کی انعکاسی کرتی ہے نیز ایک قسم کے شرک یا انحراف کا شکار پاتی ہے کیونکہ اگر ہمارا اعتقاد ہو کہ خدا کے علم میں تغیرآسکتا ہے اور جس کی شفاعت کی جا رہی ہے اس کی کسی ایسی بات کو خدا کے سامنے واضح کیا جا سکتا ہے جسے وہ نہیں جانتا اور اس کے علاوہ کوئی اور ایسا مبداء ہے جس پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے اور اس کے وسیلے سے خد اکے غضب کو ٹھنڈا کیا جا سکتا ہے یا اس کی محبت کو اس کے ذریعہ اپنی طرف جذب کیا جا سکتا ہے یا پھر یہ اعتقاد رکھیں کہ خدا کے لئے ممکن ہے وہ اپنے بعض بندوں کے مقام و اہمیت کا محتاج ہو اور اس اختیار کی وجہ سے کسی مجرم کے بارے میں ان کی شفاعت قبول کرے یا پھر ہمارا اعتقاد ہو کہ ممکن ہے وہ وسائط کے اثر و رسوخ سے ڈر جائے اور ان کی شفاعت قبول کرے تو یہ تمام امور ہمیں اصل توحید اور صفات خدا سے دور کر دیتے ہیں اور شرک و بت پرستی کے گڑھے میں پھینک دیتے ہیں۔یہ سب عرف عام والی شفاعت کی خصوصیات ہیں جو دراصل اس کے غلط معانی ہیں۔ مگر صحیح شفاعت کہ جس میں وہ شرائط،کوائف اور خصوصیات موجود ہیں جن کی طرف ابھی ہم نے اشارہ کیا ہے تو اس میں ان عیوب میں سے کسی کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے، وہ شفاعت گناہ کی ترغیب نہیں دلاتی بلکہ ترک گناہ کا وسیلہ ہے۔وہ سستی اور کاہلی کی دعوت نہیں دیتی بلکہ روح امید پیدا کر کے انسانی قویٰ کو گذشتہ غلطیوں اور خطاوٴں کی تلافی کے لئے مجتمع کر دیتی ہے،وہ گذشتہ کردار سے کسی قسم کا رابطہ نہیں رکھنے دیتی بلکہ مجرموں،گناہگاروں اور زیادتی کرنے والوں کی اصلاح کا ایک تربیتی وسیلہ ہے۔نہ صرف یہ کہ ایسی شفاعت شرک نہیں ہے بلکہ عین توحید ہے اور خدا کی طرف اور اس کی صفات کی طرف توجہ کا باعث ہے کیونکہ یہ در اصل اس کے اذن اور فرمان سے مدد طلب کرنا ہے (پھر بھی غور کیجئےگا)۔
شفاعت اور مسئلہ توحید
مسئلہ شفاعت کی غلط تفسیروں کی وجہ سے دو گروہ اس کی مخالفت میں نمایاں ہو ئے اور دونوں ایک دوسرے سے متضاد رخ پر ہیں۔ ایک گروہ وہ ہے جو مادیین جیسی فکر رکھتا ہے۔ان لوگوں کے نزدیک مسئلہ شفاعت پردہ پوشی کا عامل ہے اور طلب و سعی کو ختم کر دیتا ہے۔ان کا جواب تفصیل سے گزر چکا ہے۔ دوسرا گروہ افراط کے شکار، کوتاہ نظر مذہبی لوگوں کا ہے (جیسے وہابی حضرات)اور ان کے کچھ اور ہم فکر لوگ بھی ہیں۔ یہ لوگ شفاعت کے اعتقاد کو ایک قسم کا شرک اور آیین توحید سے انحراف سمجھتے ہیں۔ باوجودیکہ اس اشکال کو پیش کرنا موضوع بحث سے خارج ہے (اور اس سے مذہبی اشتعال کا اندیشہ ہو سکتا ہے) تا ہم اس بحث کی تکمیل کے لئے ہم اس کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ پہلے اس موضوع کی طرف توجہ ضروری ہے کہ وہابی حضرات جنہوں نے آخری دو صدیوں میں محمد بن عبدالوہاب بن سلیمان کی رہبری میں سر زمین حجاز کو اپنے افکار کے زیر تسلط کر لیا ہے، وہ اپنے تند و تیز عقائد میں جو زیادہ تر توحید کے سلسلہ میں ہیں نہ صرف یہ کہ شیعوں کے مخالف ہیں بلکہ اکثر اہل تسنن مسلمانوں کے بھی سخت مخالف ہیں۔ محمد بن عبدالوہاب نے اپنے نظریات ابن تیمیہ(احمد بن عبدالحلیم دمشقی متوفی ۷۲۸ ھ، جو اس سے تقریبا چار سو سال ہو گزرے)سے لئے ہیں۔وہ حقیقت میں ابن تیمیہ کے افکار و عقائد کا اجرا کرنے والاتھا۔ محمد بن عبدالوہاب ۱۱۶۰سے اپنے سن وفات ۱۲۰۶ تک وہاں کے حاکموں کا ساتھ دیتے ہوئے حجاز کے بدوٴں اور بیابانوں میں گھومنے والی اقوام میں ساکت تعصب کی آگ بھڑکاتا رہا۔توحید کے دفاع اور شرک کے مقابلے کے نام پر اپنے مخالفین کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کرتا رہا اور اس طرح کاروبار حکومت اور سیاسی قیادت پر الٹے سیدھے طریقے سے تسلط جمانے میں کامیاب ہو گیا اور اس سلسلے میں حجاز اور حجاز سے باہر بہت سے مسلمانوں کا خون بہایا گیا۔ محمد بن عبدالوہاب کے مریدوں کی کشمکش علاقہ ٴحجاز تک محدود نہ تھی بلکہ ۱۲۱۶(یعنی ٹھیک محمد بن عبدالوہاب کے انتقال کے دس سال کے بعد اس کے مرید اور پیروکار حجاز کے بیابانوں کے راستے نکلے اور بےخبری میں اچانک کربلا پر حملہ کر دیا۔ عید غدیر کی مناسبت سے شہر میں چھٹی تھی اور کربلا کے اکثر لوگ عید غدیر کے سلسلے میں نجف اشرف گئے ہوئے تھے۔ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے شہر کی دیوار توڑ دی اور شہر میں لوٹ مار مچا دی۔ حرم امام حسین علیہ السلام اور دوسرے مقدس اسلامی مقامات کوتباہ و برباد کر دیا۔ان مقامات سے تمام ہیرے جواہرات،منقش پردے،نفیس ہدیے اور زینت کی چیزیں (لشکر یزید کی اتباع میں)لوٹ کر لے گئے۔پچاس مسلمان ضریح کے قریب،پانچ سو صحن میں اور کثیر تعداد میں شہر کے دیگر مقامات پر شہید کر دیے جب کہ بعض لوگ اس موقع پر شہدائے کربلا کی پچاس ہزار سے زیادہ کی تعداد بیان کرتے ہیں۔ بہت سے گھروں میں غارت گری کی گئی۔یہاں تک کہ بوڑھے بچے اور عورتیں بھی اس ظلم سے محفوظ نہ رہ سکے۔ ۱۳۴۴ میں فقہائے مدینہ نے جو کاروبار حکومت میں دخل رکھتے تھے، فتویٰ دیا کہ حجاز میں تمام بزرگان دین کی قبریں مسمار کر دی جائیں اور آٹھ شوال کو(متوکل عباسی کی پیروی میں)یہ حکم نافذ کر دیا گیا۔قبر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تو تمام مسلمانوں کی ناراضگی کے خوف سے محفوظ رہ گئی۔ خلاصہ یہ کہ اس مذہب کے پیروکار خود محمد بن عبدالوہاب کی طرح سخت مزاج، رحمدلی سے عاری،خود سر، لکیر کے فقیر اور متعصب ہیں۔ عقل و منطق کے بجائے شدت و سختی پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ دانستہ یا نادانستہ وہ تمام اسلام چند ایک مسائل کے لئے مقابلہ اور جنگ ہی کرنا سمجھتے ہیں۔ مثلا شفاعت، زیارت اور توسل۔عملی طور پر اسلام کے اہم اجتماعی اور معاشرتی مسائل خصوصا جن کا تعلق عدالت اجتماعی اور سامراجی آثا ر کو ختم کرنے اور مادہ پرستی اور مذاہب الحادی کے عقل و منطق کے ساتھ مقابلہ سے لوگوں کو دور رکھے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے فکری دائرہ کار میں ان مسائل کے بارے میں گفتگو نہیں ہوتی اور دور حاضر کے مسائل کو حل کرنے کی بجائے ایک وحشت ناک جہالت اور لاعلمی میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ بہرحال یہ لوگ مسئلہ شفاعت کے بارے میں یوں کہتے ہیں: کوئی شخص حق نہیں رکھتا کہ وہ رسول اسلام ﷺ سے شفاعت طلب کرے۔مثلا وہ کہے یامحمد اشفع لی عند اللہ (اے محمد! اللہ کے ہاں میری شفاعت کیجئے) کہونکہ خدا کہتا ہے "وان المساجد للہ فلاتدعوا مع اللہ احدا۔(جن، ۱۸) رسالہ کشف الشہاب،تالیف محمد بن عبدالوہاب میں یوں ہے: اگر کوئی کہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ خدا نے پیغمبر ﷺکو مقام ِشفاعت بخشا ہے اورآپ خدا کے اذن و فرمان سے شفاعت کر سکتے ہیں تو کیا حرج ہے کہ جو کچھ خدا نے انہیں بخشا ہے ہم اس کا تقاضا کریں۔ تو ہم جواب میں کہیں گے کہ یہ درست ہے کہ خدا نے انہیں مقام شفاعت عطا کیا ہے لیکن اس کے باوجود اس نے نہی کی ہے کہ ہم ان سے شفاعت طلب کریں۔ خدانے کہا ہے: "فلا تدعوا مع اللہ احدا" (اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پکارو)۔ علاوہ ازیں مقام شفاعت نبی کریم ﷺ سے مخصوص نہیں ہے، فرشتے اور دوستان خدا بھی اس مقام کے حامل ہیں تو کیا ہم ان سے بھی شفاعت طلب کر سکتے ہیں۔اگر کوئی اس طرح کہے تو اس نے خدا کے صالح بندوں کی پرستش اور عبادت کی ہے۔ یہی صاحب رسالہ "اربع قواعد" میں گفتگو کرتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے:[بحوالہ:البراہین الجمیلہ،ص۱۷ ، بحوالہ کشف الشبہات۔] شرک سے نجات صرف چار قواعد جاننے سے ممکن ہے: (۱) وہ کفار جن سے نبی اکرم ﷺ بر سر پیکار تھے۔ یہ اقرار کرتے تھے کہ خدا ہی خالق و رازق اور وہی جہان کی تدبیر کرنے والا ہے۔ قل من یرزقکم من السماء والارض و من یدبر الامرط فسیقولون اللہ یعنی ان سے پوچھو کہ آسمان و زمین سے تمہیں رزق کون دیتا ہے اور کون تدبیر امر کرتا ہے تو وہ کہتے ہیں اللہ۔(یونس ۔ ۳۱) لیکن یہ اقرار انہیں ہرگز مسلمانوں کے زمرے میں داخل نہ کر سکا۔ (۲) وہ کہتے تھے بتوں کی طرف ہماری توجہ اور ان کی عبادت صرف قرب خدا اور شفاعت کے لئے ہے۔ ویقولون ھولاء شفعائنا عنداللہ یعنی وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے شفیع ہیں۔ (۳)پیغمبر ﷺ نے ان تمام لوگوں کی جو غیر خدا کی عبادت کرتے ہیں نفی کر دی اور ان کے خلاف حکم دیا چاہے وہ فرشتوں اور انبیاء اور صالحین کی عبادت کرتے تھے یا درختوں، پتھروں، سورج اور چاند کی، آپ ان کے درمیان کسی قسم کے فرق کے قائل نہ تھے۔ (۴) ہمارے زمانے کے مشرکین زمانہ جاہلیت کے مشرکوں سے بدتر ہیں کیونکہ وہ اطمینان و راحت کے وقت بتوں کی عبادت کرتے تھے لیکن تنگی و سختی میں وہ صرف خدا کو پکارتے تھے، جیسا کہ قرآن میں ہے: فاذا رکبوا فی الفلک دعوا اللہ مخلصین لہ الدین۔ )عنکبوت ۔۶۵) لہذا جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خالصتا خدا ہی کو پکارتے ہیں۔ لیکن ہمارے زمانے کے مشرکین راحت و اطمینان اور تنگی و سختی دونوں میں غیر خدا سے متوسل ہوتے ہیں۔
تعجب کی بات یہ ہے
تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ باقی تمام مسلمانوں کو جو ان کے نظریات سے ہم آہنگ نہیں مشرک قرار دیتے ہیں، وہ سنی ہوں یا شیعہ۔ یہ لوگ اس قدر جبر اور جسارت کے عادی ہیں کہ دوسرے مسلمانوں کا خون اور مال اپنے لئے مباح اور حلال سمجھتے ہیں۔ انہیں قتل کرنا بغیر چوں چرا کے جائز سمجھتے ہیں جیسے پیدائش ِ وہابیت سے اب تک انہوں نے بارہا اس کا عملی مظاہرہ کر دکھایا ہے۔ شیخ سلیمان بن لحمان کتاب "الہدیۃ السنیة" میں کہتا ہے : جو شخص فرشتوں، انبیاء یا مثلا ابن عباس اور ابوطالب یا ان جیسے اشخاص کو اپنے اور خدا کے درمیان وسیلہ قرار دے کہ وہ خدا کی بارگاہ میں اس کی شفاعت کریں کیونکہ یہ لوگ مقرب بارگاہ خدا ہیں جیسے کہ (بعض مقربین) بادشاہوں کے پاس شفاعت کرتے ہیں تو ایسے لوگ کافر اور مشرک ہیں اور ان کا خون اور مال مباح ہے اگرچہ وہ یہ کہتے ہیں "اشھد ان لا الہ الا اللہ و اشھد ان محمدا رسول اللہ" اگرچہ وہ نماز پڑھیں اور روزہ رکھیں۔[ البراہین الجلیلہ، ص۸۳، بحوالہ الہدایة السنیة، ص ۶۶] جو سختی، سرکشی اور ڈھٹائی اس گفتگو سے برس رہی ہے وہ کسی شخص پر مخفی نہیں۔
مسئلہ شفاعت کے بارے میں وہابیوں کی
مسئلہ شفاعت کے بارے میں وہابیوں کی جو منطق ان کے مذہب کے بانی محمد بن عبدالوہاب کے اقوال کے حوالے سے پیش کی گئی ہے اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ وہ شفاعت کے طرفدار مسلمانوں کو مشرک قرار دیتے ہوئے دو چیزوں کا سہارا لیتے ہیں۔ ۱۔ انبیاء اور صلحا کی شفاعت پر یقین رکھنے والے مسلمانوں کا قیاس زمانہ جہالت کے مشرکین پر کرتے ہیں۔ ۲۔ قرآن نے غیر خدا کی عبادت و پرستش کی صریح نفی کی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ خدا کے ساتھ کسی کا نام نہ لیں "فلا تدعوا مع اللہ احدا۔" (سورہ جن) اور یہ کہ تقاضائے شفاعت ایک قسم کی عبادت ہے۔ پہلی بات کے بارے میں کہنا چاہئیے کہ اس قیاس میں وہ بہت بڑے اشتباہ کے مرتکب ہوئے ہیں کیونکہ قرآن سے نیک اور صالح انبیاء و ملائکہ کے لئے مقام شفاعت ثابت ہے جیسا کہ گذشتہ بحثوں میں گذر چکا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہ اسے اذن الٰہی پر موقوف قرار دیا ہے۔ یہ بات انتہائی غیر منطقی اور مضحکہ خیز ہے کہ خدا نے انہیں یہ مقام تو دیا ہے لیکن ہمیں منع کیا ہے کہ اس حیثیت و مقام کوعمل میں لانے کا مطالبہ کریں چاہے وہ اذن خدا ہی سے کیوں نہ ہو۔ علاوہ از ایں قرآن میں برادران یوسف کا باپ سے رجوع کرنا یا اسی طرح اصحاب پیغمبر ﷺ کا رجوع اور آپ سے اپنے حق میں استغفار کا مطالبہ کرنا شمار کئے جا چکے ہیں۔ کیا پیغمبر ﷺ سے یہ تقاضا کرنا کہ "اشفع لنا عند اللہ" )اللہ کے حضور ہماری شفاعت کیجئے) شفاعت کے روشن و واضح مصادیق میں سے نہیں ہے جیسے حضرت یوسف کے بھائیوں نے کہا تھا: یا ابانا استغفر لنا۔ اے والد بزرگوار! ہمارے لئے مغفرت طلب کیجئے۔ )یوسف ۹۷) جس چیز کو قرآن صراحت سے جائز سمجھتا ہے یہ لوگ اسے کیونکر شرک شمار کرتے ہیں اور اس کے معتقد کو نیز اس کے خون اور مال کو مباح سمجھتے ہیں۔ اگر یہ چیز شرک ہے تو حضرت یعقوب نے اپنے بیٹوں کو کیوں منع نہیں کیا۔ دوسری بات یہ ہے کہ بت پرستوں اور ان خدا پرستوں میں جو شفاعت باذن اللہ کا اعتقاد رکھتے ہیں کوئی شباہت موجود نہیں ہے کیونکہ بت پرست بتوں کی عبادت کرتے تھے اور انہیں شفیع قرار دیتے تھے جب کہ شفاعت کا عقیدہ رکھنے والے مسلمانوں میں مسئلہ عبادت کا تعلق شفعاء سے بالکل نہیں بلکہ وہ فقط ان سے خدا کے بارے میں شفاعت کی درخواست کرتے ہیں۔ہم اس کی مزید وضاحت کریں گے کہ شفاعت کی درخواست کا مسئلہ عبادت سے کوئی ربط نہیں۔ بت پرست خدائے یگانہ کی پرستش سے وحشت میں تھے اور کہتے تھے: اجعل الالھة الھا واحد ان ھذا لشییء عجاب۔ ( ص، ۵( کیا اس نے کئی خداؤں کو ایک خدا قرار دیا یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔ بت پرست عبادت کے لحاظ سے بتوں کو خدا کے برابر سمجھتے تھے: تاللہ ان کنا لفی ضلٰل مبین اذ نسویکم برب العالمین۔ (شعراء ۹۷، ۹۸( خدا کی قسم ہم واضح گمراہی میں تھے جب کہ تمہیں رب العالمین کے مساوی سمجھتے تھے۔ جیسے کہ تاریخ واضح گواہی دیتی ہے بت پرست اپنی خلقت اور تقدیر میں بتوں کے عمل دخل کا عقیدہ رکھتے تھے اور اس عمل دخل کی مبدائیت کے قائل تھے جب کہ شفاعت کا اعتقاد رکھنے والے مسلمان یہ امور صرف خدا کی طرف سے سمجھتے ہیں اور کسی موجود کے لئے بھی تاثیر میں استقلال کے قائل نہیں ہیں۔ اب مسلمانوں کو بت پرستوں جیسا قرار دینا بہت ہی ظالمانہ اور بعید از عقل و منطق کام ہے۔ باقی رہا دوسرا مطلب تو ہمیں دیکھنا چاہیئے کہ "عبادت" کیا ہے۔ اگر عبادت کا مفہوم "ہر قسم کاخضو ع و احترام کرنا"لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کو ئی شخص کسی دوسرے کے لئے کسی قسم کا خشوع و احترام نہ کرے۔ظاہرہے کہ یہ مفہوم کسی کے لئے قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح اگر عبادت کی تفسیر "ہرقسم کی درخواست و تقاضا کرنا"کی جائے تو ہر شخص سے درخواست و تقاضا کرنا شرک و بت پرستی قرار پا جائے حالانکہ یہ بھی عقل و دین کی واضح راہنمائی کے خلاف ہے۔ لہذا عبادت کا مفہوم ان تمام امور سے الگ اور جدا ہے اور وہ آخری حد کا خضوع اور تواضع ہے جو مطلق تعلق اور وابستگی کے ساتھ، بغیر کسی قیداور شرط کے، تسلیم کے عنوان سے "عابد" کی طرف سے معبود کے سامنے انجام پذیر ہوتا ہے۔ اس لفظ کی اصل "عبد" ہے اور اس کا مفہوم لفظ عبد (بندہ)کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہوتا ہے۔دراصل عبادت کرنے والا اپنی عبادت کے ساتھ نشاندہی کرتا ہے کہ معبود کے سامنے تسلیم محض کے لئے حاضر ہے اور اپنی تقدیر اس کے ہاتھ میں سمجھتا ہے۔یہ وہی مفہوم ہے جو عبادت سے عرف اور شرع میں مراد لیا گیا ہے۔تو کیا شفعاء سے شفاعت کے سوال میں اس مفہوم ِ عبادت کا کوئی اثر موجو د ہے؟ باقی رہا دعا اور غیر خدا کو پکارنا،جس سے کئی ایک آیات میں روکا گیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اسکا مفہوم نہیں کہ کسی کو آوا ز دینے سے منع کیا گیا ہے اور کسی کو اس کے نام سے پکارنا "یاحسن"، "یامحمد"کہنا ممنوع ہے یا شرک ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ کسی کو پکارنا اور اس سے اس کام کی انجام دہی کی درخواست کرنا جو اس کی قد رت و طاقت میں ہو گناہ اور شرک نہیں کیونکہ تعاون اور ایک دوسرے کی مدد کرنا اجتماعی زندگی کا حصہ ہے۔تمام انبیاء اور آئمہ بھی یہی کچھ کیا کرتے تھے(یہاں تک کہ خود وہابی بھی اسے ممنوع نہیں جانتے)۔ قابل اعتراض صورت ممکن ہے وہی جس پر ابن تیمیہ نے رسالہ "زیارة القبور" میں اعتراض کیا ہے: مطلوب العبد ان کان لایقدر علیہ الا اللہ فسائلہ من المخلوق مشرک من جنس عباد اللملائکة والتماثیل ومن اتخذ المسیح وامہ الٰھین مثل ان یقول لمخلوق حی او میت اغفر ذنبی او انصرنی علی عدوی او اشف مریضی ۔۔۔۔۔ وان کا مما یقدر علیہ العبد فیجوز طلبہ منہ فی حال دون حال فانہ مسئلة المخلوق قد تکون جائزہ وقد تکون منھیا عنھا۔ قال اللہ تعالی:فاذا فرغت فانصب والٰی ربک فارغب۔ واوصی النبی(ص) ابن عباس اذا سئلت فاسئل اللہ اذا استعنت فاستعن بااللہ و اوصی طائفة من اصحابہ ان لا یسئل الناس شیئاَ وکان سوط احدھم یسقط من کفہ فلا یقول لاحد ناولنی ایاہ فھٰذا المنھی عنھا والجائزة طلب دعا المومن لاخیہ۔[بحوالہ: کشف ارتباب، ص۲۶۸، بحوالہ زیارة القبور، ص۱۵۲] بندے کی اگر خواہش ایسی ہے جس پر خدا کے علاوہ کوئی قدرت نہیں رکھتا تو ایسی حاجت کو مخلوق سے سوال کرنے والامشرک ہے اور وہ ملائکہ،تماثیل،حضرت مسیح اور ان کی والدہ کو خدا سمجھنے والوں میں سے ہے۔مثلا کسی زندہ یا مردہ مخلوق سے کہنا کہ میرا گناہ بخش دو یا میرے دشمن کے خلاف میری مدد کرو ۔۔۔۔۔ اور وہ اگر حاجت ایسی ہے جس پر بندہ قدرت رکھتا ہے تو بعض اوقات اس سے طلب کرنا جائز ہوتا ہے اور بعض اوقات ناجائز کیونکہ مخلوق سے کبھی سوال جائز ہوتا ہے اور کبھی اس سے روکا گیا ہوتا ہے۔ خداوند عالم فرماتا ہے:جب آپ فارغ ہو جائیں تو نصب کریں اور اپنے رب کی ہی طرف رغبت کریں۔نبی اکرم نے ابن عباس کو وصیت کی کہ جب تمہیں سوال کرنا ہو تو خدا سے سوال کرو یا جب اعانت طلب کرنی ہو تو خدا سے اعانت طلب کرو اور آپ نے اپنے ایک اصحاب کو وصیت کی تھی کہ وہ لوگوں سے کسی بھی چیز کا سوال نہ کریں۔لہٰذا ان میں سے کسی کا کوڑا اس کے ہاتھ سے گر جاتا توکسی سے نہ کہتا کہ مجھے اٹھا کر دے دو تویہ منہی عنہ (وہ ہے جس سے روکا گیا)ہے اور جائز یہ ہے کہ ایک موٴمن اپنے موٴمن بھائی سے دعا کی خواہش کرے۔ اس بناء پر اگر واقعا کوئی خدا کا کام غیر خدا سے چاہے اور اسے اس کی انجام دہی میں مستقل سمجھے تو وہ مشرک ہے لیکن اگر اس سے شفاعت چاہے جو اس بندے ہی کا کام ہے اور خدا نے اسے یہ حق دیا ہے تو اس میں کسی قسم کا کوئی شرک نہیں ہے بلکہ عین ایمان اور تو حید ہے۔ آیت:"فلا تدعوا مع اللہ احدا" میں لفظ "مع" بھی اس کی واضح گواہی دے رہا ہے کہ یہاں مقصود ہے کسی کو خدا کے ہم پلہ سمجھ کر موٴثر مستقل خیال کرنا۔ خلاصہ یہ کہ اس بحث پر اصرار و تاکید کا مقصد یہ ہے کہ مفہوم شفاعت میں تحریف اور اسے مسخ کرنا نہ صرف مذہب پر اعتراض کرنے والوں کو مذہب پرتنقید کا بہانہ فراہم کرتا ہے بلکہ دو عظیم مذہبی گروہوں میں تفرقہ اور اختلاف کا سبب بھی بنا ہوا ہے۔
قرآن ا س آیت میں ایک اور عظیم نعمت کی طرف اشارہ کرتا ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1قرآن اس آیت میں ایک اور عظیم نعمت کی طرف اشارہ کرتا ہے جس سے اللہ نے قوم بنی اسرائیل کو نوازا تھا، وہ ہے ستمگاروں کے چنگل سے آزادی جو خدا کی عظیم نعمتوں میں سے ہے ۔ انہیں یاد دلاتا ہے:وہ زمانہ یاد کرو جب تمہیں ہم نے فرعونیوں سے آزادی دلائی تھی (واذ نجیناکم من اٰل فرعون)۔ جو ہمیشہ شدیدترین طریقہ سے تمہیں آزار دیتے تھے (یسومونکم سوء العذاب)۔ تمہارے بیٹوں کا گلا کاٹ دیتے تھے اور تمہاری عورتوں کو کنیزی اور خدمت کے لئے زندہ رکھتے تھے (یذبحون ابنائکم ویستحیون نسائکم) اور یہ صورت حال تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہاری آزمائش تھی (وفی ذٰلکم بلاء من ربکم عظیم)۔ قرآن نے خصوصیت سے بنی اسرئیل پر فرعونیوں کے ظلم کی تصویر کشی کرتے ہوئے "یسومونکم" کا لفظ استعمال کیا ہے۔ یسومون فعل مضارع ہے اور مادہ سوم سے ہے جس کا اصلی مقصد کسی چیز کے پیچھے جانا ہے۔ ہم جانتے ہیں فعل مضارع عموما دوام اور استمرار ہی کے معنی دیتا ہے۔اس گوسفند اور اونٹ کو "سائمہ" کہتے ہیں جو ہمیشہ جنگل میں چرتے ہیں اور مالک کے گھر سے کبھی گھاس نہیں کھاتے۔ یہاں سے ہم دیکھتے ہیں کہ بنی اسرائیل مسلسل فرعونیوں کے شکنجے میں مبتلا تھے۔ وہ اپنی آنکھ سے دیکھتے کہ ان کے بے گناہ بیٹوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر وہ خود ہمیشہ ان کے ظلم میں گرفتار رہتے۔وہ قبطیوں کے غلام، خدمت گار، خادم اور ساز و سامان کا حصہ شمار ہوتے تھے۔ یہ بات اہم ہے کہ قرآ ن نے اس کارروائی کو بنی اسرائیل کے لئے ایک سخت اور عظیم آزمائش قرار دیا ہے (بلاء کا ایک معنی آزمائش اور امتحان ہے) اور یہ حقیقت ہے کہ ان نامناسب اور خلاف فطرت امور کو برداشت کرنا ایک سخت آزمائش تھی۔ یہ احتمال بھی ہے لفظ "بلاء" یہاں مجازات اور سزا کے معنی میں ہو کیونکہ بنی اسرائیل اس سے پہلے بہت قدرت و نعمت کے حامل تھے اور انہوں نے کفران نعمت کیا لہٰذا خدا نے انہیں سزا دی۔ بعض مفسرین کی طرف سے ایک تیسرا احتمال بھی ذکرہو ا ہے۔ وہ یہ کہ "بلا" نعمت کے معنی میں ہے یعنی فرعونیوں کے چنگل سے نجات تمہارے لئے ایک بہت بڑی نعمت تھی۔["بلا" کے اصلی معنی ہیں کہنگی اور قدرت آزمانے کو بھی "بلا" کہا گیا ہے۔ کیونکہ جس چیز کی کئی مرتبہ آزمائش کی جائے اس میں کہنگی آجاتی ہے۔ غم و اندوہ کو بھی "بلا" کہتے ہیں کیونکہ یہ انسانی جسم و روح کو کہنہ و فرسودہ کر دیتا ہے۔ تکالیف اور مصائب کو بھی بلاء کہتے ہیں کیونکہ یہ انسانی جسم و روح کو کہنہ و فرسودہ کر دیتا ہے۔ شرعی ذمہ داریوں کو بھی بلاء کہتے ہیں کیونکہ وہ انسان کے جسم و جان پر سنگین اثرات پیدا کرتی ہیں۔ آزمائش بعض اوقات نعمت کے ساتھ ہوتی ہے اور کبھی مصیبت کے ساتھ لہذا لفظ بلاء بھی کبھی اس معنی میں اور کبھی اس معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔] بہرحال فرعونیوں کے چنگل سے بنی اسرائیل کی آزادی کا دن ایک اہم تاریخی دن تھا جس کا قرآن نے بارہا تذکرہ کیا ہے۔[ مزید توضیح تفسیر نمونہ کی جلد ۵ میں مطالعہ کیجئے۔]
قرآن نے بیٹیوں کو زندہ رکھنے اور بیٹوں کے سر کاٹنے کو عذاب قرار دیا ہے
قرآن نے بیٹیوں کو زندہ رکھنے اور بیٹوں کے سر کاٹنے کو عذابب قرار دیا ہے اور اس ظلم سے آزادی کو اپنی نعمت شمار کیا ہے۔ گویا وہ انسانوں کو ابھار رہا ہے کہ وہ کوشش کریں کہ ہر قیمت پر اپنی صحیح آزادی حاصل کریں اور اس کی حفاظت کریں۔ جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام اس مفہوم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: الموت فی حیاتکم مقھورین والحیاة فی موتکم قاھرین۔(بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ۵۱)۔ زندہ رہنا اور زیر دست و مغلوب رہنا موت ہے اور آزاد ی حاصل کرنے کے لئے موت انسان کی زندگی ہے۔ آج کی دنیا کا گزشتہ زمانے سے فرق یہ ہے کہ اس زمانے میں فرعون ایک خاص استبداد کے ساتھ مخالف گروہ کے بیٹوں اور مردوں کو قتل کر دیتا تھا اور ان کی بیٹیوں کو چھوڑ دیتا تھا۔ لیکن آج کی دنیا میں دوسرے طریقوں سے افراد ِ انسانی کی روح ِ مردانگی کو قتل کر دیا جاتا ہے اور لڑکیوں کو گناہوں میں غرق لوگوں کی شہوات کی قید میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ آخر کیوں فرعون بنی اسراعیل کے بیٹوں کو قتل کرتا اور بیٹیوں کو زندہ رکھتا تھا؟ یہ ایسا سوال ہے جس کے جواب میں بعض مفسرین اس جرم اور ظلم کا سبب ایک خواب کو قرار دیتے ہیں جو فرعون نے دیکھا تھا لیکن اس کا مفصل جواب سورہ قصص کی آیت ۴ کے تحت پڑھیں گے اور آپ کو پتہ چلے گا کہ بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کرنے کا سبب فقط ایک خواب نہ تھا جو فرعون نے دیکھا تھا بلکہ بنی اسرائیل کے طاقت ور ہونے اور حکومت چھین لینے کی وحشت و خوف بھی اس کا م کا مددگار عنصر تھا۔
فرعونیوں کے چنگل سے بنی اسرائیل کے نجات پانے کا ایک اجمالی اشارہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 1گذشتہ آیت میں فرعونیوں کے چنگل سے بنی اسرائیل کے نجات پانے کا ایک اجمالی اشارہ موجود تھا اور محل بحث آیت در اصل اس کی وضاحت کرتی ہے کہ یہ نجات انہیں کس طرح ملی تھی جو خود ایک نشانی ہے اور پروردگا ر کی بنی اسرائیل پر عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ فرمایا گیا ہے: یاد کرو اس وقت کو جب ہم نے تمہارے لئے دریا کو شق کیا (واذ فرقنا بکم البحر) تمہیں نجات دی اور فرعونیوں کو غرق کیا جب کہ تم دیکھ رہے تھے (فانجیناکم و اغرقنا اٰل فرعون وانتم تنظرون)۔ فرعونیوں کی دریا میں غرقابی اور بنی اسرائیل کی ان کے چنگل سے نجات کا ماجرا قرآن کی متعدد سورتوں میں ہے منجملہ ان کے اعراف آیہ ۱۳۶، انفال آیہ ۵۴، اسراء آیہ ۱۰۳، شعراء آیہ ۶۶، زخرف آیہ ۵۵ اور دخان آیہ ۱۷ سے بعد تک۔ ان سورتوں میں اس واقعے کی تقریبا تمام جزئیات کی تشریح کی گئی ہے لیکن مورد بحث آیت میں بنی اسرائیل پر خدا کی نظر رحمت و لطف کے لئے اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینے کے لئے جو نیا نجات بخش آئین ہے، صرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جیسا کہ تفصیل کے ساتھ اس واقعہ کو آپ ان سورتوں میں پڑھیں گے کہ حضرت موسٰی ایک مدت سے تبلیغ کرنے، فرعون اور فرعونیوں کو دعوت دینے، قسم قسم کے معجزات دکھانے اور ان کے قبول نہ کرنے پر مامور ہوئے کہ آدھی رات کے وقت بنی اسرائیل کو لے کر کوچ کر جائیں۔ جب وہ عظیم دریائے نیل کے کنارے پہنچے تو اچانک دیکھا کہ فرعون اور اس کا لشکر ان کے پیچھے آرہا ہے، بنی اسرائیل اضطراب و وحشت میں گھر گئے۔ ان کے سامنے دریا اور غرقابی تھی اور پشت پر فرعون کا طاقت ور لشکر جس کے مقابلے کی ان میں طاقت نہ تھی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں حضرت موسٰی کو حکم ہوتا ہے کہ وہ عصا دریا پر ماریں۔ دریا میں مختلف راستے پیدا ہو جاتے ہیں اور بنی اسرائیل کی جمعیت دریا کی دوسری طرف پہنچ جاتی ہے۔ ادھر سے لشکر مخالف جو ان کا مسلسل پیچھا کر رہا تھا، سارے کا سارا دریا میں داخل ہو جاتا ہے۔ دریا کا پانی مل جاتا ہے اور وہ سب کے سب ہلاک ہو جاتے ہیں۔ لشکر فرعون کے مردوں کے بدن پانی پر تیرنے لگتے ہیں اور بنی اسرائیل اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ دشمن پانی میں غرق ہو گیا۔ وہ حالت اضطراب و وحشت اور یہ نجات ہر دو غور طلب امور ہیں کہ انسان اس راحت و آرام کو جب اضطراب کے بعد دیکھے تو خدا کا شکر ادا کرے۔ قرآن کہتا ہے کہ یہودیوں سے کہے کہ ہم نے جو تم پر اس قدر لطف و کرم کیا ہے اور تم کو اس وحشت و اضطراب سے رہائی بخشی ہے تو کیوں تم رسول اسلام اور ہمارے دستور احکام کی مخالفت کرتے ہو۔ اس آیت میں انسانوں کے لئے درس ہے کہ وہ زندگی میں خدا پر بھروسہ کریں اور اس قوت لازوال پر اعتماد رکھیں اور صراط مستقیم میں کسی سعی و جستجو سے پیچھے نہ رہیں تو سخت ترین مواقع اور مشکلات میں خداوند عالم ان کا یار و مددگار ہوگا اور انہیں نجات دے گا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 54 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 54 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 54 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تاریخ بنی اسرائیل کے ایک بھر پور واقعے کے ایک پہلو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ان چار آیات میں تاریخ بنی اسرائیل کے ایک بھرپور واقعے کے ایک پہلو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور یہودیوں کو اس کی یاددہانی کرائی گئی ہے۔ یہ آیات یہودیوں کی طویل تاریخ میں ان کی بہت بڑی کجروی کے متعلق گفتگو کرتی ہیں اور وہ ہے اصل توحید سے شرک اور بچھڑا پرستی کے ٹیڑھے راستے کی طرف ان کا سفر۔ انہیں تنبیہ کی گئی ہے کہ تم تاریخ میں ایک مرتبہ فاسدین کے گمراہ کرنے کے باعث ایسی سخت سرنوشت سے دوچار ہوئے تھے، اب بیدار اور خالص توحید کا راستہ اسلام اور قرآن کے ذریعہ تمہارے سامنے کھولا گیا ہے، اسے فراموش نہ کرو۔ یہ آ یا ت حضرت موسٰی کے کوہ طور کی طرف جانے کے واقعے کی جانب اشارہ کرتی ہے جو چالیس شب و روز میں انجام پزیر ہوا اور یہ آیات بتاتی ہیں کہ ان کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کیسے گاؤ پرستی میں پڑ گئے۔ نیز حضرت موسٰی کی کتاب ہدایت کے ساتھ واپسی، بنی اسرائیل کی نئے رنگ کی توبہ کا مسئلہ اور خدا کی طرف سے اس کی قبولیت کو بیان کرتی ہیں۔ پہلے کہتا ہے کہ یاد کرو اس زمانے کو جب ہم نے موسٰی کے ساتھ چالیس راتوں کا وعدہ کیا (و اذ وٰعدنا موسی ٰ اربعین لیلة)۔ جب وہ تم سے جدا ہوئے اور اور تیس راتوں کی میعاد چالیس ہو گئی تو ان کے جانے کے بعد تم نے بچھڑے کو اپنے معبود کی حیثیت سے منتخب کر لیا حالانکہ اس عمل سے تم اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے (ثم اتخذ تم العجل من بعد ہ و انتم ظٰالمون)۔ اس ماجرے کی تفصیل سورہ اعراف کی آیت ۱۴۲ سے بعد تک اور سورہ طٰہ کی آیت ۸۶ سے بعد تک آپ پڑھیں گے جس کا خلاصہ یہ ہے۔ اس کے بعد کہ بنی اسرائیل فرعونیوں کے چنگل سے نجات پا چکے اور فرعون اور اس کے پیروکار غرق ہو گئے تو حضرت موسٰی کو حکم ہوا کہ تورات کی تختیاں لینے تیس راتوں کے لئے کوہ طور پر جائیں لیکن بعد میں لوگوں کی آزمائش کے لئے دس راتوں کا اضافہ کر دیا گیا۔ سامری جو ایک مکار اور فریب کار آدمی تھا، اس نے اس موقع کو غنیمت جانا اور بنی اسرائیل کے پاس جو سونا اور جواہرات فرعونیوں کی یادگار کے طور پر موجود تھے، ان سے ایک بچھڑا بنایا جس سے ایک خاص قسم کی آواز سنائی دیتی تھی۔ وہ بنی اسرائیل کو اس کی عبادت و پرستش کی دعوت دیتا تھا۔بنی اسرائیل کی ایک بڑی اکثریت اس سے مل گئی۔ حضرت ہارون جو حضرت موسٰی کے جانشین اور بھائی تھے، ایک اقلیت کے ساتھ آئین توحید پر باقی رہے۔ انہو ں نے جس قدر کوشش کی کہ انہیں اس غلط راستے سے روکیں وہ نہ رک سکے بلکہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ حضرت ہارون کو ختم کرنے پر تیار ہو گئے۔ حضرت موسی جب کوہ طور سے واپس آئے اور اس عجیب صورت حال کو دیکھا تو انہیں سخت تکلیف اور دکھ پہنچا۔ انہوں نے ان لوگوں پر بہت لعنت ملامت کی چنانچہ وہ اپنے برے کام کی برائی کی طرف متوجہ ہوئے اور توبہ کرنے لگے۔ حضرت موسٰی نے خدا کی طرف سے ایک نئے رنگ کی توبہ ان کے سامنے پیش کی جس کی تفصیل بعد کی آیات میں آئے گی۔ اگلی آیت میں خدا کہتا ہے کہ اس بڑے گناہ کے باوجود ہم نے تمہیں معاف کر دیا کہ شاید ہماری نعمتوں کا شکر ادا کرو (ثم عفونا عنکم من بعد ذٰلک لعلکم تشکرون)۔ اس بحث کو جاری رکھتے ہوئے کہتاہے: نیز یاد کرو اس وقت کو جب ہم نے موسٰی کو کتاب اور حق و باطل کی پہچان کا وسیلہ عطا کیا تا کہ تمہاری ہدایت ہو جائے (و اذاٰتینا موس الکتاب والفرقان لعلک م تھتدون)۔ ممکن ہے کتاب و فرقان دونوں سے مراد تورات ہی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ کتاب تورات کی طرف اشارہ ہو اور فرقان ان معجزات کی طرف اشارہ ہو جو اللہ تعالی نے حضرت موسٰی کے اختیار میں دیئے تھے (کیونکہ فرقان کا اصلی معنی ہے وہ چیز جو حق کو باطل سے انسان کے لئے ممتاز کر دے)۔ اس کے بعد اس گناہ سے توبہ کے سلسلہ میں کہتا ہے: اور یاد کرو اس وقت کو جب موسی نے اپنی قوم سے کہا اے قوم تم نے بچھڑے کو منتخب کر کے اپنے اوپر ظلم کیا ہے (و اذ قال موسٰی لقومہ یا قوم انکم ظلمتم انفسکم باتخاذکم العجل)۔ اب جو ایسا ہو گیا ہے تو توبہ کرو اور اپنے پیدا کرنے والے کی طرف پلٹ جاؤ (فتوبو الی بارئکم)۔ باری کے معنی ہیں خالق، دراصل اس کے معنی ہیں ایک چیز کو دوسری چیز سے جدا کرنا۔ خالق چونکہ مخلوق کو مواد اصلی اور ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے لہذا اس کی طرف اشارہ ہے کہ اس سخت توبہ کا حکم وہی ذات دے رہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ تمہاری توبہ اس طرح ہونی چاہئے کہ تم ایک دوسرے کو قتل کرو (فاقتلو انفسکم)۔ یہ کام تمہارے لئے تمہارے خالق کی بارگاہ میں بہتر ہے (ذٰلکم خیر لکم عند بارئکم)۔ اس ماجرے کے بعد خدا نے تمہاری توبہ قبول کر لی جو تواب و رحیم ہے (فتاب علیکم ط انہ ھو التوب الرحیم)۔
عظیم گناہ اور سخت سزا
اس میں شک نہیں کہ سامری کے بچھڑے کی پرستش و عبادت کوئی معمولی بات نہ تھی۔ وہ قوم جو خدا کی یہ تمام آیات دیکھ چکی تھی اور اپنے عظیم پیغمبر کے معجزات کا مشاہدہ کر چکی تھی، ان سب کو بھول کر پیغمبر کی ایک مختصر سی غیبت میں اصل توحید اور آئین خداوندی کو پورے طور پر پاؤں تلے روندے اور بت پرست ہو جائے، اب اگر یہ بات ان کے دماغ سے ہمیشہ کے لئے جڑ سے نہ نکالی جاتی تو خطرناک حالت پیدا ہونے کا اندیشہ تھا اور ہر موقع کے بعد اور خصوصا حضرت موسٰی کی زندگی کے بعد ممکن تھا ان کی دعوت کی تمام آیات ختم کر دی جاتیں اور عظیم قوم کی تقدیر مکمل طور پر خطرے سے دو چار ہو جاتی۔ لہذا یہاں شدت عمل سے کام لیا گیا اور صرف پشیمانی اور زبان سے اظہار توبہ پر ہرگز قناعت نہ کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ خدا کی طرف سے ایسا سخت حکم صادر ہوا جس کی مثال تمام انبیاء کی طویل تاریخ میں کہیں نہیں ملتی اور وہ یہ کہ توبہ اور توحید کی طرف بازگشت کے سلسلہ میں گناہگاروں کے کثیر گروہ کے لئے اکٹھا قتل کرنے کا حکم دیا گیا۔ یہ فرمان بھی ایک خاص طریقہ سے جاری ہونا چاہیے تھا اور وہ یہ ہوا کہ وہ لوگ خود تلواریں لیکر ایک دوسرے کو قتل کریں کہ ایک اس کا اپنا مارا جانا عذاب ہے اور دوسرا دوستوں اور شناساؤں کا قتل کرنا۔ بعض روایات کے مطابق حضرت موسٰی نے حکم دیا کہ ایک تاریک رات میں وہ تمام لوگ جنہوں نے بچھڑے کی عبادت کی تھی، غسل کریں، کفن پہنیں اور صفیں باندھ کر ایک دوسرے پر تلوار چلائیں۔ ممکن ہے یہ تصور کیا جائے کہ یہ توبہ کیوں اس سختی سے انجام پذیر ہوئی۔ کیا یہ ممکن نہ تھا کہ خدا ان کی توبہ کو بغیراس خونریزی کے قبول کر لیتا۔ اس سوال کا جواب گذشتہ گفتگو سے واضح ہو جاتا ہے کیونکہ اصل توحید سے انحراف اور بت پرستی کی طرف جھکا ؤ کا مسئلہ اتنا سادہ اور آسان نہ تھا کہ اتنی آسانی سے در گزر کر دیا جاتا اور وہ بھی ان معجزات اور خدا کی بڑی بڑی نعمتوں کے مشاہدے کے بعد۔ در حقیقت ادیان آسمانی کے تمام اصولوں کو توحید اور یگانہ پرستی میں جمع کیا جا سکتا ہے۔ اس اصل کا متزلزل ہونا، دین کی تمام بنیادوں کے خاتمے کے برابر ہے۔ اگر گاؤ پرستی کے مسئلے کو آسان سمجھ لیا جاتا تو شاید آنے والے لوگوں کے لئے سنت بن جاتا۔ خصوصا بنی اسرائیل کےلئے جن کے بارے میں تاریخ شاہد ہے کہ ضدی اور بہانہ ساز لوگ تھے لہذا چاہیئے کہ ان کی ایسی گوشمالی کی جائے کہ اس کی چبھن تمام صدیوں اور زمانوں تک باقی رہ جائے کہ اس کے بعد کوئی شخص بت پرستی کی فکر میں نہ پڑے اور شاید یہ جملہ "ذلکم خیر لکم عند بارئکم" یعنی یہ قتل و کشتار تمہارے خالق کے یہاں تمہاری بہتری کے لئے ہے، اسی طرف اشارہ ہو۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 56 کے تحت ملاحظہ کریں۔
یہ دو آیات خدا کی ایک بہت بڑی نعمت کی یاد دلاتی ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 1یہ دو آیات خدا کی ایک اور بہت بڑی نعمت کی یاد دلاتی ہیں۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ وہ لوگ کس قدر ہٹ دھرم اور بہانہ ساز تھے اور کیسے خدا کے سخت عذاب نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا لیکن پھر خد ا کا لطف و کرم ان کے شامل حال ہوا۔ فرماتا ہے: نیز یاد کرو اس وقت کو جب تم نے کہا: اے موسٰی ہم اس وقت تک تم پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک خدا کو ظاہر بظاہر اپنی آنکھ سے دیکھ نہ لیں (و اذ قلتم یٰموسی ٰ لن نو من لک حتی نر ی اللہ جھرة)۔ ممکن ہے یہ خواہش ان کی جہالت کی وجہ سے ہو کیونکہ نادان لوگ اپنے محسوسات سے زیادہ کسی چیز کا شعور نہیں رکھتے یہاں تک کہ وہ چاہتے ہیں کہ خدا کو آنکھ سے دیکھیں یا پھر وہ ہٹ دھرمی اور بہانہ جوئی کی خاطر ایسا کرتے تھے جو اس قوم کی خصوصیت تھی اور اب بھی ہے۔ بہرحال انہوں نے صراحت سے حضرت موسی سے کہا کہ جب تک خدا کوظاہری آنکھ سے دیکھ نہ لیں ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔ یہاں اس کے علاوہ چارہ کا ر نہ تھا کہ خدا کی ایسی مخلوق انہیں دکھائی جاتی جسے دیکھنے کی ان میں تاب نہ ہو اور وہ جان لیں کہ ظاہری آنکھ تواس سے بھی ناتواں ہے کہ خدا کی تمام مخلوقات کو دیکھ سکے۔ چہ جائیکہ ذات پاک پرور دگار کو دیکھے۔چنانچہ چندھیا دینے والی چم ، رعب دار آواز اور زلزلے کے ساتھ بجلی آئی اور پہاڑ پر گری۔اس نے سب کو اس طرح وحشت زدہ کر دیا کہ وہ بے جان ہو کر زمین پر گر پڑے۔ جیسا کہ قرآن مندرجہ بالا جملہ کے بعد کہتا ہے: پھر اس حالت میں صاعقہ نے تمہیں آلیا کہ تم دیکھ رہے تھے (فاخذتکم الصا عقة و انتم تنظرون)۔ حضرت موسی اس واقعے سے بہت پریشان ہوئے کیونکہ بنی اسرئیل کے بہانہ جو لوگوں کے لئے تو ستر افراد کا ختم ہو جانا ایک بڑا بہانہ تھا جس کی بنیاد پر حضرت موسی کی زندگی تیرہ و تار کر سکتے تھے۔لہذا آپ نے خدا سے دوبارہ زندگی کی درخواست کی جسے اس نے قبول کر لیا۔ جیسا کہ قرآن کی بعد والی آیت میں کہتا ہے:پھر تمہاری موت کے بعد ہم نے تمہیں نئی زندگی بخشی کہ شاید تم خدا کی نعمت کا شکریہ ادا کرو (ثم بعثناکم من بعد موتکم لعلکم تشکرون)۔ اجمالی طور پر ان دو آیات میں جو کچھ بیان ہوا ہے، سورہ اعراف آ یہ ۵۵ اور سورہ نساء ۵۳ میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔( زیادہ وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ جلد ۴کی طرف رجوع فرمایئے)۔ بہرحال یہ داستان نشاندہی کرتی ہے کہ خدا کے عظیم انبیاء، جاہل اور بے خبر لوگوں کو دعوت دینے کی راہ میں کن عظیم مشکلات سے دوچار ہوتے تھے۔کبھی تو وہ لوگ قسم قسم کے معجزات کا مطالبہ کرتے تھے اورکبھی اس سے بھی آگے قدم رکھتے تھے اور اس ظاہری آنکھ سے خدا کو دیکھنے کی خواہش کرتے اور قطعا کہتے کہ جب تک ہماری یہ تمنا انجام پذیر نہ ہو، ہمارا ایمان لانا محال ہے اور جب خدا کی طرف سے کسی شدید ردعمل سے دوچار ہوتے، پھر بھی ایک نئی مشکل درپیش ہوتی۔اگر لطف خدا شامل حال نہ ہوتا تو ان بہانہ سازیوں کا مقابلہ ممکن نہ تھا۔ ضمنی طور پر آیت امکان رجعت اور اس دنیا میں دوبارہ زندگی گزارنے پردلالت کرتی ہے کیونکہ ایک مقام پر اس کا واقع ہونا، دوسرے مواقع پر بھی اس کے ممکن اور واقع ہونے کے لئے دلیل ہے۔ بعض اہل سنت مفسرین جو یہ چاہتے ہیں کہ رجعت اور دوبارہ زندگی کو قبول نہ کیا جائے، انہوں نے مندرجہ بالاآیت کی توجیہ کی ہے اور کہا ہے کہ تم میں سے ایک گروہ کے واقعہ "صاعقہ" میں مر جانے کے بعد خدا نے تمہیں بہت سی اولاد اور افزائش نسل دی ہے تا کہ تمہارا خاندان ختم نہ ہو۔ لیکن یہ تو کہے بغیر بھی واضح ہے کہ یہ تفسیر مندرجہ بالا آیت کے ظاہری مفہوم کے بالکل برخلاف ہے کیونکہ خدا تو فرما رہا ہے: وبعثناکم من بعد موتکم (تمہیں تمہاری موت کے بعد ہم نے اٹھایا( ۔( بعض مفسرین مثلا آلوسی نے روح المعانی میں نقل کیا ہے کہ موت سے یہاں مراد بےہوشی ہے یعنی بنی اسرائیل صاعقہٴ عظیم دیکھنے سے بےہوش ہو گئے تھے پھر حکم خدا سے ہوش میں آئے۔ بعض مفسرین نے توجیہ کرنے میں قدم کچھ اور آگے بڑھایا ہے اور "موت" کے معنی جہالت اور "بعث" کے معنی تعلیم کئے ہیں لیکن یہ آیات اور ان کے مثل دیگر آیات جو سورہ اعراف میں ہیں، ان پر غور و فکر کرنے سے واضح نشاندہی ہوتی ہے کہ ان میں سے کوئی توجیہ بھی ایک حقیقت پسند مفسر کو زیب نہیں دیتی)۔
بنی اسرائیل جب فرعونیوں کے چنگل سے نجات پاچکے تو خداو ند عا لم نے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1جیسے سورہ مائدہ کی۲۰ تا ۲۲ آیات سے ظاہر ہوتا ہے بنی اسرائیل جب فرعونیوں کے چنگل سے نجات پا چکے تو خداوند عالم نے انہیں حکم دیا کہ وہ فلسطین کی مقدس سرزمین کی طرف جائیں اور اس میں داخل ہو جائیں لیکن بنی اسرائیل اس فرمان کے مطابق نہ گئے اور کہنے لگے جب تک ستمگار (قوم عمالقہ) وہاں سے باہر نہ چلے جائیں، ہم اس زمین میں داخل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے اسی پر اکتفا نہ کی بلکہ وہ حضرت موسی سے کہنے لگے کہ تو اور تیرا خدا ان سے جنگ کرنے جاوٴ، جب تم کامیاب ہو جاوٴ گے تو ہم اس میں داخل ہو جائیں گے۔ حضرت موسی ان کی اس بات سے بہت رنجیدہ خاطر ہوئے اور انہوں نے درگاہ الٰہی میں شکایت کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ چالیس سال تک بیاباں (صحرائے سینا) میں اسی طرح سرگرداں رہے۔ ان میں سے ایک گروہ اپنے کئے پر سخت پشیمان ہوا۔انہوں نے بارگاہ خدا کا رخ کیا۔ خدا نے دوسری مرتبہ بنی اسرائیل کو اپنی نعمتوں سے نوازا۔ جن میں بعض کی طرف زیر بحث آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔ ہم نے تمہارے سر پر بادل سے سایہ کیا (ظللنا علیکم الغمام)۔ واضح ہے کہ وہ مسافر جو روزانہ صبح سے غروب تک سورج کی گرمی میں بیابان میں چلتا ہے، وہ ایک لطیف سایہ سے کیسی راحت پائے گا (وہ سایہ جو بادل کا ہو، جس سے انسان کے لئے نہ تو فضا محدود ہوتی ہو اور نہ جو ہوا چلنے سے مانع ہو)۔ یہ صحیح ہے کہ بادل کے سایہ فگن ٹکڑوں کا احتمال ہمیشہ بیابان میں ہوتا ہے لیکن آیت واضح طور پر کہہ رہی ہے کہ بنی اسرائیل کے ساتھ ایسا عام حالات کی طرح نہ تھا بلکہ وہ لطف خدا سے اکثر اس عظیم نعمت سے بہرہ ورہوتے تھے۔ دوسری طرف اس خشک اور جلا دینے والے بیابان میں چالیس سال کی طویل مدت سرگرداں رہنے والوں کے لئے غذا کی کافی و وافی ضرورت تھی۔ اس مشکل کو بھی خداوند عالم نے ان کے لئے حل کر دیا جیسا کہ اس آیت کے آخر میں کہتا ہے: ہم نے من و سلوی ٰجو لذیذ اور طاقت بخش غذا ہے، تم پر نازل کیا (وانزلنا علیکم المن والسلویٰ)۔ ان پاکیزہ غذاوں سے جو تمہیں روزی کے طور پر دی گئی ہیں کھاوٴ (اور حکم خدا کی نافرمانی نہ کرو اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرو) ( کلوا من طیبٰت مارزقنٰکم) لیکن وہ پھر بھی شکرگزاری کے دروازہ میں داخل نہ ہوئے (تاہم) انہوں نے ہم پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ اپنے اوپر ہی ظلم کیا ہے (وما ظلمونا ولٰکن کانوا انفسھم یظلمون( ۔ من و سلویٰ کی تفسیر مندرجہ ذیل نکات میں تفصیل سے بیان کی جائے گی۔
آزاد ماحو ل کی زندگی
۔ آزاد ماحول کی زندگی: اس سے قطع نظر کہ بادل ان پر کیسے سایہ کرتا تھا اور من و سلوی کیا تھے، اس نکتے کی طرف توجہ ضروری ہے کہ ایک بہت بڑی قوم کے لوگ سالہا سال سے کمزوری، ذلت اور زبوں حالی میں بغیر ارادہ و خواہش کے مجبورا فرعونیوں کے محلات میں خدمت کرتے تھے یا ان کے کھیتوں اور باغوں میں زحمت اور تکلیف اٹھاتے تھے۔ طبعی بات ہے کہ وہ اس قابل نہ تھے کہ فورا تمام گذشتہ اخلاق و عادات سے آزاد ہو کر انقلابی بنیاد پر ایک مستقل خدائی حکومت قائم کریں۔ بہرصورت اس قوم کے لئے ضروری تھا کہ گذشتہ رسومات کے خاتمے اور قابل افتخار زندگی گزارنے کی تیاری کے لئے برزخ کا ایک زمانہ گزارے چاہے یہ زمانہ چالیس سال یا اس سے کم و بیش ہو۔ اگر قرآن اس کا سزا کے طور پر تعارف کراتا ہے تو بھی یہ اصلاح کرنے والی اور بیدار کرنے والی سزا ہے کیونکہ خدا کی طرف سے جتنی بھی سزائیں ہیں، ان میں انتقام کا جذبہ کارفرما نہیں ہوتا۔ چاہئیے تھا کہ وہ سالہاسال اس بیابان جسے ان کی سرگردانی کی وجہ سے "قید" کہا جانے لگا تھا، میں رہیں تا کہ ستمگروں کے ہر قسم کے تسلط سے دور رہیں اور ان کی نئی نسل توحیدی و انقلابی خصوصیات کے ساتھ پرورش پائے اور مقدس سرزمینوں پر حکومت کرنے کے لئے تیار ہو جائے۔
من وسلوی ٰکیا ہے
: مفسرین نے ان دو الفاظ کی تفسیر میں بہت سی باتیں کہی ہیں جن سب کے ذکر کرنے کی یہاں ضرورت نہیں ہے۔ بہتر یہ ہے کہ پہلے ان کے لغوی معنی اور وہ تفسیر جو زیادہ فصیح نظر آتی ہے اور آیات کے قرائن سے زیادہ ہم آہنگ ہے، بیان کریں۔ بعض کے بقول لغت میں "من" شبنم کی طرح کے ان چھوٹے چھوٹے قطرات کو کہتے ہیں جو درختوں پر گرتے ہیں اور میٹھا ذائقہ رکھتے ہیں۔( مفردات راغب، مادہ من )۔ یا بعض کے بقول ایک قسم کا صمغ (درخت کا شیرہ)ہے جس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ اس کا ذائقہ میٹھا لیکن ترشی سے ملا ہوتا ہے۔ (سلویٰ) کے اصل معنی تو ہیں اطمینان اور تسلی۔ بعض ارباب لغت اور بہت سے مفسرین نے اسے ایک قسم کا پرندہ (بٹیر یا تیتر)قرار دیا ہے۔ لیکن نبی اکرمﷺ سے منقول ایک روایت کے مطابق، آپ نے فرمایا: الکماةمن المن۔ کھمبی کی قسم کی ایک چیز تھی جو اس زمین میں اگتی تھی۔ بعض نے کہا ہے کہ من سے مراد ہے وہ تمام نعمتیں جو خدا نے بنی اسرائیل کو عطا فرمائی تھیں اور سلوی وہ تمام عطیات ہیں جو ان کی راحت وآرام اور اطمینان کا سبب تھے۔ تورات میں ہے کہ "من" دھنیے کے دانوں جیسی کوئی چیز ہے جو رات کو اس زمین پر آگر تی ہے۔ بنی اسرائیل اسے اکٹھا کر کے پیس لیتے اور اس سے روٹی پکاتے تھے جس کا ذائقہ روغنی روٹی جیسا ہوتا تھا۔ ایک احتمال اور بھی ہے کہ بنی اسرائیل کی سرگردانی کے زمانے میں خدا کے لطف و کرم سے جو نفع بخش بارشیں برستی تھیں، ان کے نتیجے میں درختوں سے کوئی خاص قسم کا صمغ اور شیرہ نکلتا تھا اور بنی اسرائیل اس سے مستفید ہوتے تھے۔ بعض دیگر حضرات کے نزدیک "من" ایک قسم کا طبیعی شہد ہے اور بنی اسرائیل اس بیابان میں اس طویل مدت تک چلتے پھرتے رہنے سے شہد کے مخزنوں تک پہنچ جاتے تھے کیونکہ بیابان تیہ کے کناروں پر پہاڑ اور سنگلاخ علاقہ تھا جس میں کافی طبیعی شہد نظر آجاتا تھا۔ عہدین (توریت اور انجیل) پر لکھی گئی تفسیر سے اس تفسیر کی تائید ہوتی ہے جس میں ہے کہ مقدس سرزمین، قسم قسم کے پھولوں اور شگوفوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ اسی لئے شہد کی مکھیوں کے جتھے ہمیشہ پتھروں کے سوراخوں، درختوں کی شاخوں اور لوگوں کے گھروں پر جا بیٹھتے ہیں۔ اس طرح سے بہت فقیر و مسکین لوگ بھی شہد کھا سکتے ہیں۔(بحوالہ: قاموس کتاب مقدس، ص۶۱۲)۔ اب ہم سلویٰ کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔ اگرچہ مفسرین نے اسے شہد کے ہم معنی لیا ہے لیکن دوسرے تقریبا مفسرین نے اسے پرندہ کی ایک قسم قرار دیا ہے۔ یہ پرندہ اطراف اور مختلف علاقوں سے کثرت سے اس علاقے میں آتا ہے اور بنی اسرائیل اس کے گوشت سے استفادہ کرتے ہیں۔ عہدین پرلکھی گئی تفسیر میں بھی اس نظریے کی تائید دکھائی دیتی ہے۔ اس میں لکھاہے: معلوم ہونا چاہیئے کہ بہت بڑی تعداد میں سلوی افریقہ سے چل کر شمال کو جاتے ہیں۔ جزیرہ ٴکاپری میں ایک فصل میں ۱۶ہزار کی تعداد میں ان کا شکار کیا گیا۔ یہ پرندہ بحیرہٴ قلزم کے راستے سے آتاہے، خلیج عقبہ اور سویز کو عبور کرتا ہے۔ ہفتے کو جزیرہ سینا میں داخل ہوتا ہے اور راستے میں اس قدر تکان و تکلیف جھیلنے کی وجہ سے آسانی سے ہاتھ سے پکڑا جا سکتا ہے اور جب پرواز کرتا ہے تو زیادہ تر زمین کے قریب ہوتا ہے۔ اس حصے کے متعلق (تورات کے) سفر خروج اور سفر اعداد میں گفتگو ہوئی ہے۔(بحوالہ: قاموس کتاب مقدس،ص۴۸۳)۔ اس تحریر سے بھی واضح ہوتا ہے کہ سلوی سے مراد وہی پرگوشت پرندہ ہے جو کبوتر کے مشابہ اور اس کے ہم وزن ہوتا ہے اور یہ پرندہ اس سرزمین میں مشہور ہے۔البتہ بنی اسرائیل کی سرگردانی کے دنوں میں ان پر یہ خدا کا خاص لطف و کرم تھا کہ یہ پرندہ وہاں کثرت سے ہوتا تھا تا کہ وہ اس سے استفادہ کر سکیں۔
”انزلنا“کیوں کہا گیا
"انزلنا" کیوں کہا گیا: توجہ رہے کہ انزلنا سے مراد ہمیشہ اوپر سے نازل کرنا نہیں ہوتا جیسا کہ سورہٴ زمر کی آیت ۶ میں ہے: انزل لکم من الانعام ثمٰنیة ازواج۔ چوپایوں کے آٹھ جوڑے تمہارے لئے نازل کئے۔ ہم جانتے ہیں کہ چوپائے آسمان سے نہیں اترے۔ اس بناء پر ایسے موقع پر یہ نزول مقامی کے معنی میں ہے یعنی وہ نعمت جو ایک برتر مقام سے پست مقام کو دی جائے اور چونکہ یہ تمام نعمتیں خدا کی طرف سے ہیں لہذا انہیں نزول سے تعبیر کیا گیا ہے اور یا پھر مادہٴ انزال سے مہمان نوازی کے معنی میں لیا گیا ہے کیونکہ بعض اوقات انزال و نزول (بروزن رسل) پذیرائی کرنے کے لئے بھی آتا ہے۔ جیسا کہ سورہ واقعہ آیت ۹۳ میں درختوں کے دو گروہوں میں سے ایک کے بارے میں ہے: فنزل من حمیم۔ لہذا حمیم (دوزخ کا جلانے والا مشروب) ان کی پذیرائی کے لئے پیش کیا جائے گا۔ نیز سورہ آل عمران آیہ ۱۹۸ میں اہل بہشت کے بارے میں ہے: خلدین فیھا نزلا من عند اللہ۔ وہ ہمیشہ بہشت میں خدا کے مہمان ہوں گے۔ بنی اسرائیل در حقیقت اس سرزمین میں خدا کے مہمان تھے لہذا من و سلوی کے لئے نزول کی تعبیر ہی ان کے بارے میں منطبق ہوتی ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ یہاں نزول اپنے اسی مشہور معنی میں ہو کیونکہ یہ نعمتیں خصوصا (سلوی) پرندے اوپر ہی سے ان کی طرف آتے تھے۔
غمام کیا ہے
بعض غمام اور سحاب دونوں کو بادل کے ہم معنی سمجھتے ہیں اور ان کے درمیان کسی قسم کے فرق کے قائل نہیں لیکن بعض کا نقطہ نظر یہ ہے کہ غمام سفید رنگ کے بادل کو کہا جاتا ہے اور بعض اس کی تعریف میں کہتے ہیں کہ غمام وہ بادل ہے جو زیادہ سرد اور نازک ہوتا ہے جبکہ سحاب، بادل کے ایسے اکٹھ کو کہتے ہیں جو غمام کے مدمقابل ہے۔غمام اصل میں مادہ غم سے ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کو چھپانا۔ بادل کو غمام کہنے کی وجہ یہی ہے کہ وہ صفحہ آ سمان کو چھپا دیتا ہے۔ اندوہ کو بھی غم کہنے کی وجہ یہی ہے کہ انسان کے دل کو پردہ میں چھپا لیتا ہے۔( روح المعانی، زیر نظر آیات کے ذیل میں و مفردات ِراغب، مادہ "غم")۔ بہرحال ممکن ہے یہ تعبیر اس لئے ہو کہ بنی اسرائیل بادل کے سائے میں مستفید ہو رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ بادلوں کی سفیدی کی وجہ سے روشنی بھی ان تک چھن چھن کر پہنچ رہی تھی۔
من وسلوی کی ایک اور تفسیر
بعض مفسرین نے من و سلوی کی معروف تفسیر کی بجائے ایک اور تفسیر کی ہے۔ وہ کہتے ہیں "من" سے مراد ناشکرگزاروں پر احسان مطلق اور بے شمار خدائی نعمت ہے اور سلوی سے مراد دل کا وہ اطمینان ہے جو خداوند عالم نے بنی اسرائیل کے چنگل سے نجات عطا کر کے مرحمت فرمایا ہے۔(بحوالہ: پرتوی از قرآن، ج۱، ص۱۶۵)۔ یہ تفسیر تقریبا تمام مفسرین، اسلامی روایات اور کتب عہدین کے خلاف ہونے کے علاوہ آیت کے متن سے بھی میل نہیں کھاتی کیونکہ قرآن من و سلوی کے ذکر کے فورا بعد بلافاصلہ کہتا ہے "کلوامن طیباتمارزقناکم"۔ یہ چیز نشاندہی کرتی ہے کہ من و سلوی کھانے والی چیزوں میں ہے۔ یہ تعبیر نہ صرف اس آیت میں ہے بلکہ بعینہ سورہ اعراف آیہ ۱۶۰میں بھی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 59 کے تحت ملاحظہ کریں۔
اس مقام پر ہمارا سابقہ بنی اسرائیل
Tafsīr Nemūna · Vol. 1اس مقام پر ہمارا سابقہ بنی اسرائیل کی زندگی کے ایک اور مرحلے سے پڑتا ہے جو سرزمین مقدس میں ان کے داخلے سے مربوط ہے۔ پہلی آ یت کہتی ہے کہ اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے ان سے کہا کہ اس بستی (سر زمین قدس) میں داخل ہو جاوٴ (واذ قلنا ادخلواھٰذہ القریہ)۔ لفظ قریہ اگرچہ روزمرہ میں بستی کے معنی میں ہے لیکن قرآن اور لغت عرب میں ہر اس محل و مقام کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جہاں لوگ جمع ہوں، چاہے وہ بڑے شہر ہوں یا بستیاں۔ یہاں مراد بیت المقدس اور قدس کی سرزمین ہے۔ قرآن مزید کہتا ہے: اس کی فراوان نعمتوں میں سے جتنا چاہو کھاؤ (فکلوا منھا حیث شئتم رغدا) اور بیت المقدس کے دروازے سے خضوع و خشوع کے ساتھ گزر جاؤ (وادخلو الباب سجدا) اور کہو: خدایا ہمارے گناہوں کو بخش دے (و قولو احطة) تا کہ ہم تمہاری خطاؤں کو بخش دیں اور ہم نیک لوگوں کو زیادہ بدلہ دیں گے (نغفر لکم خطٰیٰکم و سنزید المحسنین)۔ متوجہ رہنا چاہیئے کہ لفظ حطہ لغوی لحاظ سے جھاڑنے اور نیچے گرانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ یہاں اس کا معنی یہ ہوگا کہ خدایا ہم تجھ سے اپنے گناہوں کے گرنے کی خواہش کرتے ہیں۔ خدا نے انہیں حکم دیا کہ اپنے گناہوں سے توبہ کرنے کے لئے یہ جملہ سچے دل سے زبان پر جاری کریں اور ان سے وعدہ کیا کہ اس حکم پر عمل در آمد کی صورت میں ان کی غلطیوں سے صرف ِ نظر کیا جائے گا۔ شاید اسی مناسبت سے بیت المقدس کے ایک درواذے کا نام باب الحطہ رکھا گیا ہے جیسا کہ ابوحیان اندلسی نے بیان کیا ہے: باب سے مراد بیت المقدس کا ایک دروازہ ہے جو باب حطہ کے نام سے مشہور ہے۔[بحوالہ: صاحب تفسیر الکاشف نے زیر نظر آیت کے ذیل میں ابوحیان کی یہ عبارت نقل کی ہے۔] آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے کہ نیک لوگوں کے لئے مغفرت اور گناہوں کی بخشش کے ساتھ ساتھ ہم اجر میں مزید اضافہ کریں گے )و سنزید المحسنین)۔ بہرحال خداوند عالم نے انہیں حکم دیا تھا کہ وہ گناہوں سے توبہ کے لئے خدا کی بارگاہ میں خضوع کے طور پر یہ جملہ بھی سچے دل سے زبان پر جاری کریں جو توبہ اور تقاضائے عفو کی دلیل ہے اور ان سے وعدہ کیا کہ اس حکم پر عمل پیرا ہونے کی صورت میں ان کے گناہوں کو بخش دے گا بلکہ یہاں تک کہ ان کے پاک اور نیک کار لوگوں کو گناہوں کی بخشش کے علاوہ دوسرا اجر بھی دے گا۔ لیکن جیسا کہ ہم بنی اسرائیل کی ہٹ دھرمی اور سرکشی کو جانتے ہیں، ان میں سے ایک گروہ نے یہ لفظ ادا کرنے کے حکم کی خلاف ورزی کی اور اس کے بجائے استہزا کے طور پر ایک نامناسب لفظ کہنے لگے لہذا قرآن کہتا ہے: رہے وہ لوگ جو ظالم و ستمگار تھے، انہوں نے اس لفظ کو کسی اور لفظ سے بدل دیا (فبدل الذین ظلموا قولا غیر الذی قیل لھم)۔ ہم نے بھی ستمگروں پر ان کے فسق و گناہ کی وجہ سے آسمان سے عذاب اتارا (فانز لنا علی الذین ظلموا رجزاََ من السماء بما کانوا یفسقون)۔ جیسا کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے "رجز" دراصل اضطراب، انحراف اور بدنظمی کے معنی میں ہے۔ یہ تعبیر خصوصا اونٹ کے لئے اس وقت استعمال ہوتی ہے جب وہ اپنے پاؤں کمزور اور ناتوانی کی وجہ سے ایک دوسرے کے قریب نامنظم طور پر رکھے۔ مرحوم طبرسی مجمع البیان میں کہتے ہیں: "رجز" دراصل حجاز کی لغت میں عذاب کے معنی میں ہے۔ وہ نبی اکرمﷺ سے ایک حدیث نقل کرتے ہیں جو طاعون کے موقع پر آپ نے ارشاد فرمائی: انہ رجز عذب بہ بعض الامم من قبلکم۔ یہ ایک قسم کا عذاب ہے جو تم سے پہلے کی بعض امتوں پر نازل ہوا۔[ تفسیر نمونہ جلد ۴ میں بھی لفظ رجز کے معنی میں بحث کی گئی ہے۔] اس سے واضح ہوتا ہے کہ بعض روایات میں زیر بحث آیت میں لفظ رجز کو ایک قسم کا طاعون کیوں قرار دیا گیا ہے، جو تیزی سے بنی اسرائیل میں پھیلا اور اس نے ایک گروہ کو ختم کر دیا۔ ممکن ہے کہا جائے کہ طاعون کی بیماری ایسی چیز نہیں ہے جو آسمان سے نازل ہو سکتا ہے۔ بنی اسرائیل کی طرف طاعون کے جراثیم ان کے گرد چلنے والی ہوا میں موجود غلیظ گرد و غبار میں شامل ہوں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ طاعون کے دردناک عوارض میں سے یہ بھی ہے کہ اس بیماری کے عالم میں لوگ، گفتگو اور چلنے پھرنے میں بدنظمی اور اضطراب کا شکار ہو جاتے ہیں جو اس لفظ کے اصلی معنی کے ساتھ پوری مناسبت رکھتا ہے۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ قرآن مندرجہ بالا آیات میں "فانزلنا علیھم" کی بجائے "فانزلنا علی الذین ظلموا" )جنہوں نے ظلم کیا، ہم نے ان پر عذاب نازل کیا) کہہ کر یہ واضح کرتا ہے کہ اس عذاب اور خدائی سزا نے صرف بنی اسرائیل کے ستمگاروں کو ہی اپنی گرفت میں لیا اور سب خشک و تر اس میں نہیں جکڑے گئے۔ اس کے علاوہ آخرآیت میں جملہ "بما کانو ا یفسقون" آیا ہے تا کہ اس موضوع کی مزید تاکید ہو جائے کہ ان کا ظلم و فسق ہی ان پر سزا اور عذاب کی علت اور سبب ہے۔ اس طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہ اس جملہ کے مذکورہ حصے نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ برے اعمال میں مصروف تھے اور ہمیشہ کے لئے ان پر کار بند تھے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گناہ جب عادت کی شکل اختیار کر لے اور حالت و کیفیت کے طور پر معاشرے میں مرتکز ہو جائے تو اس وقت عذاب الہی نازل ہونے کا احتمال بہت زیادہ ہوتا ہے۔
بنی اسرائیل کے قبائیل کی تعداد کے عین مطابق جب یہ چشمے جاری ہوئے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1اس آیت میں بنی اسرائیل پر کی گئی ایک اور نعمت کی نشاندہی کرتے ہوئے اللہ فرماتا ہے: یاد کرو اس وقت کو جب موسیٰ نے (اس خشک اور جلانے والے بیابان میں، جس وقت بنی اسرائیل پانی کی وجہ سے سخت تنگی میں مبتلا تھے) پانی کی درخواست کی )و اذ استسقیٰ موسی ٰ لقومہ) تو خدا نے اس درخواست کو قبول کیا۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے: ہم نے اسے حکم دیا کہ اپنا عصا مخصوص پتھر پر مارو (فقلنا اضرب بعصاک الحجر)۔ اس پر اچانک پانی ابلنے لگا اور پانی کے بارہ چشمے زور و شور سے جاری ہو گئے )فانفجرت منہ اثنتا عشرة عینا)۔ بنی اسرائیل کے قبائل کی تعداد کے عین مطابق جب یہ چشمے جاری ہوئے تو ایک چشمہ ایک قبیلہ کی طرف جھک جاتا تھا جس پر بنی اسرائیل کے لوگوں اور قبیلوں میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا، )قد علم کل اناس مشربھم)۔ یہ پتھر کس قسم کا تھا، حضرت موسیٰ کس طرح اس پر عصا مارتے تھے اور پانی اس میں سے کیسے جاری ہو جاتا تھا۔ اس سلسلے میں بہت کچھ گفتگو کی گئی ہے۔ جوکچھ قرآن اس بارے میں کہتا ہے وہ اس سے زیادہ نہیں کہ موسیٰ نے اس پر عصا مارا تو اس سے بارہ چشمے جاری ہو گئے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ پتھر ایک کوہستانی علاقہ کے ایک حصے میں واقع تھا جو اس بیابان کی طرف جھکا ہوا تھا۔ سورہ اعراف آیہ ۱۶۰ کی تعبیر "انجست" اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ابتداء میں اس پتھر سے تھوڑا تھوڑا پانی نکلا اور بعد میں زیادہ ہو گیا۔ یہاں تک کہ بنی اسرائیل کا ہر قبیلہ، ان کے جانور جو ان کے ساتھ تھے اور وہ کھیتی جو انہوں نے احتمالا اس بیابا ن کے ایک حصے میں تیار کی تھی، سب اس سے سیراب ہو گئے۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ کوہستانی علاقہ میں پتھر کے ایک حصہ سے پانی جاری ہوا البتہ یہ مسلم ہے کہ یہ سب معجزے سے رونما ہوا۔ رہا ان کا قول جو کہتے ہیں کہ یہ پتھر ایک مخصوص قسم کا تھا جسے بنی اسرائیل اپنے ساتھ اٹھائے پھرتے تھے۔ جہاں انہیں پانی کی ضرورت ہوتی، اسے زمین پر رکھ دیتے اور حضرت موسی اپنا عصا اس پر مارتے اور اس سے پانی جاری ہو جاتا تو قرآن کی آیات میں اس پر کوئی دلیل نہیں ہے اگرچہ بعض روایات میں اس طرف اشارہ موجود ہے۔ تورات کی سترہویں فصل میں سفر خروج کے ذیل میں بھی یوں لکھا ہے: خدا نے موسیٰ سے کہا: قوم کے آگے آگے رہو اور اسرائیل کے بعض بزرگوں کو ساتھ لے لو اور وہ عصا جسے نہر پر مارا تھا، ہاتھ میں لے کر روانہ ہو جاؤ۔ میں وہاں تمہارے سامنے کوہ حوریب پر کھڑا ہو جاؤں گا اور اسے پتھر پر مارو۔ اس سے پانی جاری ہو جائے گا۔ تا کہ قوم پی لے اور موسیٰ نے اسرائیل کے مشائخ اور بزرگوں کے سامنے ایسا ہی کیا۔ بہرحال ایک طرف خداوند عالم نے ان پر من و سلویٰ نازل کیا اور دوسری طرف انہیں فراواں پانی عطا کیا اور ان سے فرمایا: خدا کی دی ہوئی روزی سے کھاؤ پیو لیکن زمین میں خرابی اور فساد نہ کرو (کلوا و اشربوا من رزق اللہ ولا تعثوا فی الارض مفسدین)۔ گویا یہ آیت انہیں متوجہ کرتی ہے کہ کم از کم ان عظیم نعمتوں کی شکرگزاری کے طور پرضدی پن، ستمگری، انبیاء کو ایذا رسانی اور بہانہ سازی ترک کر دو۔
تعثوا“اور مفسدین میں فرق
"تعثوا" کا مادہ "عثی" (بروزن مسی ہے) جس کے معنی ہیں شدید فساد۔ البتہ یہ لفظ زیادہ تر اخلاقی اور روحانی مفاسد کے لئے استعمال ہوتا ہے جب کہ مادہ "عیث" جو معنی کے طور پر اس کے مشابہ ہے، زیادہ تر حسی مفا سد کے لئے بولا جاتا ہے۔ لہذا "لاتعثوا " کے معنی بھی "مفسدین" کے ہیں لیکن تاکید اور زیادہ شدت کے ساتھ۔ یہ بھی احتمال ہے کہ پورا جملہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہو کہ فساد ابتدا میں ایک چھوٹے سے نقطے سے شروع ہوتا ہے پھر اس میں وسعت اور پھیلاؤ آجاتا ہے اور اس میں شدت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ ٹھیک وہی چیز ہے جو لفظ "تعثوا" سے معلوم ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں "مفسدین" فساد انگیز پروگرام کے آغاز کی طرف اور "تعثوا" اس کے دوام اور استمرار اور اسے وسعت دینے کی طرف اشارہ ہے۔
بنی اسرائیل کی زندگی میں خلاف معمول واقعات
بعض لوگ جو منطق اعجاز سے واقف نہیں وہ اتنے پانی اور اتنے چشموں کے ایک پتھر سے ابلنے اور جاری ہونے کو بعید شمار کرتے ہیں حالانکہ اس قسم کے مسائل جن کا اہم تر حصہ معجزات انبیاء پر مشتمل ہے جیسا کہ ہم اسے اپنے مقام پر بیان کر چکے ہیں۔ کوئی امر محال یا علت و معلول کے قانون میں کوئی استثناء نہیں ہے بلکہ یہ صرف خارق عادت چیز ہے یعنی اس علت و معلول کے خلاف ہے جس کے ہم عادی ہو چکے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ عالم ہستی اور نظام علت و معلول کو پیدا کرنے والا اس پر حاکم ہے نہ کہ اس کا محکوم۔ خود ہماری روز مرہ کی زندگی میں موجودہ علت و معلول کے نظام کے استثنائی واقعا ت تھوڑے نہیں ہیں۔ (زیادہ وضاحت کے لئے کتاب "رہبران بزرگ" کی طرف رجوع فرمائیں)۔
انفجرت اور انبجست میں فرق
زیر بحث آیت میں "انفجرت" استعمال ہوا ہے جب کہ سورہ اعراف آیہ ۱۶ میں اس کی جگہ "انبجست" آیا ہے۔ پہلے کا معنی ہے پانی کا سخت بہاؤ اور دوسرے کا معنی ہے تھوڑا تھوڑا اور آرام سے جاری ہونا۔ ممکن ہے دوسری آیت اس پانی کے جاری ہونے کے ابتدائی مرحلہ کی طرف اشارہ ہو تا کہ پریشانی کا سبب نہ بنے اور بنی اسرائیل اسے اپنے کنٹرول میں کر سکیں اور "انفجرت" اس کے آخری مرحلہ کی طرف اشارہ ہو جس سے مراد تیز بہاؤ ہے۔ کتاب مفردات راغب میں آیا ہے کہ "انبجاس" وہاں بولا جاتا ہے جہاں پانی چھوٹے سے سوراخ سے نکل رہا ہو اور انفجار اس وقت کہتے ہیں جب پانی وسیع جگہ سے باہر آرہا ہو۔ جو کچھ ہم کہہ چکے ہیں، یہ تعبیر اس سے پوری طرح سازگار ہے۔
ان نعمات فراواں کی تفصیل کے بعد جن سے خدا نے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ان نعمات فراواں کی تفصیل کے بعد جن سے خدا نے بنی اسرائیل کو نوازا تھا۔ زیر نظر آیت میں ان عظیم نعمتوں پر ان کے کفران اور ناشکرگزاری کی حالت کو منعکس کیا گیا ہے۔ اس میں اس بات کی نشاندہی ہے کہ وہ کس قسم کے ہٹ دھرم لوگ تھے۔ شاید تاریک دنیا میں ایسی کوئی مثال نہ ملے گی کہ کچھ لوگوں پر اس طرح سے الطاف الہٰی ہو لیکن انہوں نے اس طرح سے اس مقابلے میں ناشکرگزاری اور نافرمانی کی ہو۔ پہلے فرمایا گیا ہے: یاد کرو اس وقت کو جب تم نے کہا اے موسٰی ہم سے ہر گز یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک ہی غذا پر قناعت کر لیں (من و سلویٰ کتنی ہی اچھی اور لذیذ غذا ہو، ہم مختلف قسم کی غذا چاہتے ہیں) (و اذ قلتم یٰموسٰی لن نصبر علی طعام واحد)۔ لہذا خدا سے خواہش کرو کہ وہ زمین سے جو کچھ اگایا کرتا ہے، ہمارے لئے بھی اگائے سبزیوں میں سے، ککڑی، لہسن، مسور اور پیاز (فادع لنا ربک یخرج لنا مما تنبت الارض من بقلھا و قثائھا و فومھا و عدسھا وبصلھا( لیکن موسٰی نے ان سے کہا: کیا تم بہتر کے بجائے پست غذا پسند کرتے ہو(قال اتستبدلون الذی ھو ادنیٰ با الذی ھو خیر)۔ جب معاملہ ایسا ہی ہے تو پھر اس بیابان سے نکلو اور کسی شہر میں داخل ہونے کی کوشش کرو کیونکہ جو کچھ تم چاہتے ہو وہ وہاں ہے (اھبطو امصرا فان لکم ما سئالتم)۔ اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے کہ خدا نے ان کی پیشانی پر ذلت و فقر کی مہر لگا دی (و ضربت علیھم الذلة و المسکنة) اور وہ دوبارہ غضب الہٰی میں گرفتار ہو گئے(و با ؤا بغضب من اللہ)۔ یہ اس لئے ہوا کہ وہ آیات الٰہی کا انکار کرتے تھے اور ناحق انبیاء کو قتل کرتے تھے (ذٰلک بانھم کانوا یکفرون بایات اللہ ویقتلون النبیین بغیر الحق)۔ یہ سب اس لئے تھا کہ وہ گناہ، سرکشی اور تجاوز کے مرتکب ہوتے تھے (ذٰلک بما عصوا و کانو ا یعتدون)۔
یہاں مصر سے کون سی جگہ مراد ہے
بعض مفسرین کا نظریہ ہے لفظ مصر اس آیت میں اپنے کلی مفہوم کی طرف اشارہ ہے یعنی تم اس وقت بیابان میں ایک خودسازی کے اور آزمائشی پروگرام میں شریک تھے۔یہاں قسم قسم کی غذائیں نہیں ہیں لہذا شہروں میں جاوٴ،وہاں چلو پھرو، وہا ں ہر چیز موجود ہے لیکن یہ خود سازی اور اصلاحی پروگرام وہاں نہیں ہے۔ وہ اس کی دلیل پیش کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل نے کبھی شہر مصر کی طرف جانے کا تقاضا کیا اور نہ کبھی اس کی طرف واپس گئے۔ (علاوہ ازیں لفظ "مصر" کی تنوین اس کے نکرہ ہونے کی دلیل ہے لہذا اس سے شہر مصر مراد نہیں ہو سکتا )۔ بعض دوسرے مفسرین نے بھی یہی تفسیر کی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ مقصد یہ ہے کہ تمہارا اس بیابان میں رہنا اور اس ایک قسم کی غذا سے استفادہ کرنا تمہاری کمزوری، ناتوانی اور زبوں حالی کی وجہ سے ہے۔تم طاقتور بنو، دشمنوں کے ساتھ جنگ کرو، شام کے شہر اور سرزمین مقدس ان سے چھین لو تا کہ تمہیں تمام چیزیں میسر آسکیں۔(بحوالہ: تفسیر المنار، آیہ مذکورہ کے ذیل میں)۔ اس آیت کی تیسری تفسیر یہ کی گئی ہے کہ مراد وہی ملک مصر ہے یعنی اگر تم ایک قسم کی غذا سے اس بیابان میں تم فائدہ اٹھاتے ہو تو اس کے بدلے تمہارے پاس ایمان ہے اور تم خود آزاد اور مختار ہو اور اگر یہ چیزیں نہیں چاہتے تو پلٹ جاوٴ اور دوبارہ فرعونیوں یا ان جیسے لوگوں کے غلام اور قیدی بن جاوٴ تا کہ ان کے دسترخوان سے بچی ہوئی قسم قسم کی غذائیں کھا سکو۔ تم شکم سیری اور کھانے کے پیچھے لگے ہوئے ہو، یہ نہیں سوچتے کہ اس وقت تم غلام اور قیدی تھے اورآج آزاد اور سربلند ہو۔اب اگر حقیقت میں تم کچھ چیزوں سے محروم بھی ہو تو یہ آزادی کی قیمت ہے جو ادا کر رہے ہو۔(بحوالہ: تفسیر فی ضلال)۔ لیکن اس سلسلے میں پہلی تفسیر ہی سب سے زیادہ مناسب ہے۔اس دلیل کی بناء پر جو ہم اوپر بیان کر چکے ہیں۔
کیا نت نئی چیز کی خواہش انسانی مزاج کا خاصہ نہیں
اس میں شک نہیں کہ نت نئی چیز کی خواہش انسان کی زندگی کے لوازمات اور خصوصیات میں سے ہے۔ یہ بات انسانی زندگی کا حصہ ہے کہ وہ ایک قسم کی غذا سے اکتا جاتا ہے لہذا یہ کوئی غلط نہیں پھر آخر بنی اسرائیل کیوں تنوع کی درخواست پر لائق سرزنش قرار پائے۔ اس سوال کا جواب ایک نکتے کے ذکر سے واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ انسانی زندگی میں کھانا، سونا، شہوت اور طرح طرح کی لذتیں بنیادی چیز نہیں ہیں۔ ایسے اوقات بھی آتے ہیں کہ ان امور کی طرف توجہ، انسان کو اس کی اصل غرض اور اولین مقصد سے دور کر دیتی ہے جو در اصل ایمان، پاکیزگی، تقوی اور اصلاح ذات ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں پر انسان ان تمام چیزوں کو ٹھوکر مار دیتا ہے۔نت نئی چیز کی خواہش در حقیقت کل کے اور آج کے استعمار گروں کا ایک بہت بڑا جال ہے اور خصوصا آج کے زمانے میں اس تنوع طلبی سے استفادہ کیا جاتا ہے اور انسان کو قسم قسم کی غذاوٴں، لباس، سواری اور مکان کی خواہش کا اسیر بنا دیا جاتا ہے اور وہ اپنے آپ کو بالکل بھول جاتا ہے اور ان چیزوں کی قید کا طوق اپنی گردن میں ڈال لیتا ہے۔
کیامن وسلوی ٰہر غذاسے بہتر وبر تر تھا
اس میں شک نہیں کہ مختلف سبزیوں کی غذا جس کا بنی اسرائیل حضرت موسی ٰ سے تقاضا کرتے تھے، انتہائی قیمتی تھی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ زندگی کو صرف ایک پہلو سے نہیں دیکھنا چاہیئے۔ کیا یہ درست ہے کہ انسان مختلف قسم کی غذاوٴں کو حاصل کرنے کے لئے اپنے آپ کو قیدی بنا لے۔ جب کہ ایک قول کے مطابق "من" ایک پہاڑی شہد ہے یا شہد کی طرح کی ایک طاقت بخش اور مفید میٹھی چیز ہے۔ یہ ایک مفید ترین اور طاقت سے بھرپور غذا تھی۔ اس میں تازہ گوشت میں موجود پروٹین کے اجزا ء بھی ایک خاص پرندے سلویٰ کی صورت میں موجود تھے بلکہ وہ کئی جہت سے عام طور پر موجود پروٹین کے اجزاء سے بہتر تھے کیو نکہ "من" کا ہضم ہونا بہت آسا ن ہے جب کہ سلویٰ کے ہضم کے لئے معدے کو تھکا دینے والی فعالیت کی ضرورت ہے۔(بحوالہ: قرآن بر فراز قرون و اعصار، ص۱۱۲)۔ اس ضمن میں متوجہ رہنا چاہیئے کہ لفظ "فوم" جو بنی اسرائیل کے تقاضوں میں سے ہے، بعض نے اس کے معنی گندم اور بعض نے لہسن بیان کئے ہیں۔ البتہ ان میں سے ہر ایک خصوصی امتیاز رکھتا تھا لیکن بعض کا نظریہ ہے کہ گندم زیادہ صحیح ہے کیونکہ بعید ہے کہ انہوں نے ایسی غذا طلب کی ہو جس میں گندم نہ ہو۔(بحوالہ: تفسیر قرطبی، زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔
ذلت کی مہر بنی اسرائیل کی پیشانی پر
مندرجہ بالا آیت سے ظاہر ہوتاہے کہ وہ دو لحاظ سے ذلت و خواری میں گرفتار ہوئے۔ ایک تو ہے ان کا کفر اختیار کرنا، احکام خدا کی خلاف ورزی کرنا اور توحید سے شرک کی طرف منحرف ہونا اور دوسرا یہ کہ وہ حق والوں اور خدا کے بھیجے ہوئے نمائندوں کو قتل کرتے تھے۔ یہ سنگدلی، قساوت اور قوانین الٰہی بلکہ نوع انسانی میں موجود تمام قوانین سے بےاعتنائی دلیل ہے جب کہ آج بھی یہودیوں کے ایک گروہ کے پاس وہ قوانین وضاحت کے ساتھ موجود ہیں۔ یہی ان کی ذلت اور بدبختی کا سبب ہے۔ (اس وقت جب کہ ہم یہ سطور لکھ رہے ہیں، لبنان کی اسلامی سرزمین یہودیوں کی وحشت انگیزیوں اور برباد کن مظالم کی زد میں ہے۔ ہزاروں عورتیں، بچے، بوڑھے اور جوان یہاں تک کہ ہسپتالوں کے بیمار، دردانگیز طریقے سے جام شہادت نوش کر چکے ہیں اور ان کی لاشیں زمین پر پڑی ہیں۔ البتہ اس سنگدلی کا کفارہ انہیں عنقریب اسی دنیا میں ادا کرنا پڑے گا)۔ یہودیوں کی سرنوشت اور ان کی ذلت آمیز زندگی کے بارے میں سورہ آل عمران آیہ۱۱۲ کے ذیل میں ہم تفصیلی بحث کریں گے۔( تفسیر نمونہ، ج ۳)۔
ایک کلی اصول اور عمومی قانون
Tafsīr Nemūna · Vol. 1بنی اسرائیل سے مربوط ابحاث میں دراصل قرآن ایک کلی اصول اور عمومی قانون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ قدر و قیمت حقیقت و واقعیت کی ہے نہ کہ ظاہریت کی۔ خداوند عالم کی بارگاہ میں ایمان خالص اور عمل صالح قابل قبول ہے۔ جو لوگ ایمان لے آئے ہیں (مسلمان) اسی طرح یہودی، عیسائی اور صائبین (حضرت یحیی، حضرت نوح، حضرت ابراہیم کے پیروکار) جو بھی خدا اور قیامت کے دن پر ایمان لے آئیں اور نیک عمل انجام دیں، ان کا اجر و عوض پروردگار کے پاس مسلم ہے (ان الذین آمنوا والذین ھادوا والنصٰر والصٰبئین من آمن بااللہ والیوم الآخر وعمل صالحا فلھم اجرھم عند ربھم) لہذا انہیں آئندہ کا خوف ہے نہ گزشتہ کا غم (ولا خوف علیھم ولا ھم یحزنون)۔ یہ آیت تقریبا اسی عبارت کے ساتھ سورہ مائدہ کی آیہ ۶۹ میں آئی ہے اور کافی فرق کے ساتھ سورہ حج آیہ ۱۷ میں اس مفہوم کا ذکر ہوا ہے۔سورہ مائدہ کی مذکورہ آیت کے بعد کی آیات نشاندہی کرتی ہیں کہ یہودی و عیسائی اتراتے تھے کہ ہمارا دین دیگر ادیان سے بہتر ہے اور وہ جنت کو بلاشرکت غیر اپنے لئے مخصوص سمجھتے تھے اور شاید یہی فخر مسلمانوں کی ایک جماعت میں بھی تھا۔ زیر بحث آیت کہتی ہے کہ ظاہری ایمان (اسلام)عمل صالح کے بغیر چاہے مسلمانوں کا ہو یا یہود و نصاری یا کسی اور دین کے پیروکاروں کا، کوئی قدر و قیمت نہیں رکھتا۔ خدا اور قیامت کے دن کی بڑی عدالت پر حقیقی اورخالص ایمان جو نیکی اور عمل صالح کے ساتھ ہو، وہی خدا کی بارگاہ میں قدر و قیمت کا حامل ہے۔صرف یہی پروگرام جزا اور اطمینان کا باعث ہے۔
ایک اہم سوال
بعض بہانہ ساز مذکورہ بالا آیت کو غلط افکار کے لئے دستاویز کے طور پرپیش کرتے ہیں۔ وہ اسے صلح کل کے عنوان سے پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہر مذہب کے پیرو کو اپنے ہی مذہب پر عمل کرنا چاہیئے لہذا ان کے نزدیک ضروری نہیں کہ یہودی، عیسائی یا دوسرے مذہب کے پیروکار آج مسلمان ہو جائیں بلکہ اگر وہ خدا اور آخرت پر ایمان رکھتے ہوں اور عمل صالح انجام دیں تو کافی ہے۔
اس کا جواب یہ ہے
ہم واضح طور پر جانتے ہیں کہ قرآنی آیات ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں۔ قرآن سورہ آل عمران آیہ ۸۵ میں کہتا ہے: و من یبتغ غیرالاسلام دینا فلن یقبل منہ۔ اگر کوئی شخص اسلام کے علاوہ کوئی دین اپنے لئے انتخاب کرے تو وہ ہرگز قابل قبول نہ ہوگا۔ علاوہ ازیں، قرآن یہود و نصاریٰ اور باقی ادیان کے ماننے والوں کو دعوت اسلام دینے والی آیات سے بھرا پڑا ہے۔ اگر مندرجہ بالا تفسیر صحیح ہو تو یہ قرآن کی بہت سی آیات سے صریح تضاد ہوگا لہذا ضروری ہے کہ اس آیت کے واقعی اور حقیقی معنی تلاش کئے جائیں۔ اس مقام پر دو تفسیریں سب سے زیادہ واضح اور مناسب نظر آتی ہیں۔ پہلی یہ کہ اگر یہود و نصاریٰ اور ان جیسے گروہ اپنی کتب کے مضامین پر عمل کریں تو مسلما رسول اسلامﷺ پر ایمان لے آئیں کیونکہ ان کتب ِ آسمانی میں مختلف صفات و علامات کے ساتھ آپ کے ظہور کی بشارت موجود ہے جس کی تفصیل سورہ بقرہ کی آیت ۱۴۶ کے ذیل میں آئے گی۔ سورہ مائدہ آیہ ۶۸ میں ہے: قل یا اھل الکتاب لستم علی شیء حتی ٰ تقیمو ا التوراة و الانجیل وما انزل الیکم۔ کہیے کہ اے اہل کتاب! تمہاری اس وقت تک کوئی قدر و قیمت نہیں جب تک تم تورات، انجیل اور جو کچھ پروردگار کی طرف سے تمہاری طرف نازل ہوا ہے، اسے قائم اور برقرار نہ رکھو (اور اس میں سے ایک رسول اسلام پر ایمان لانا ہے جن کے ظہور کی بشارت تمہاری کتب میں آچکی ہے)۔ (۲) دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس آیت کی نظر ایک سوال کی طرف ہے جو ابتدائے اسلام میں بہت سے مسلمانوں کو مدینہ میں درپیش تھا۔ وہ اس فکر میں رہتے تھے کہ اگر راہ حق و نجات فقط اسلام ہے تو ہمارے آباؤ اجداد کا کیا بنے گا۔ کیا پیغمبر اسلامﷺ کو نہ پہچاننے اور ان پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے انہیں سزا و عذاب کا سامنا ہوگا۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی اور اس نے خبر دی کہ جو شخص اپنے زمانے میں اس وقت کے برحق نبی اور کتاب آسمانی پر ایمان لے آیا ہو اور اس نے عمل صالح انجام دیا ہو، وہ نجات یافتہ لوگوں میں ہے اور اس کے لئے فکر و تردد کی کوئی بات نہیں۔ لہذا ظہور مسیح سے پہلے کے مومنین اور عمل صالح انجام دینے والے یہودی، نجات یافتہ ہیں اور یہی صورت ظہور رسول اسلامﷺ سے پہلے کے عیسائی مومنین کی ہے۔ یہی مفہوم مذکورہ آیت کی شان نزول سے ظاہر ہوتا ہے جس کی طرف ہم بعد میں اشارہ کریں گے۔
چند اہم نکات
اس آیت کی تفسیر میں جو شان نزول بیان ہوا ہے، اسے یہاں ذکر کیا جائے تو نامناسب نہ ہوگا۔ تفسیر جامع البیان (طبری) جلد اول میں منقول ہے: سلمان اہل جندیشا پور میں سے تھے۔ حاکم وقت کے بیٹے سے ان کی پکی اور نہ ٹوٹنے والی دوستی تھی۔ ایک دن اکٹھے شکار کے لئے جنگل کی طرف گئے۔ اچانک ان کی نگاہ ایک شخص پر پڑی جو کتاب پڑھنے میں مشغول تھا۔ انہوں نے اس شخص سے اس کتاب کے متعلق کچھ سوالات کئے تو راہب نے ان کے جواب میں کہا: یہ کتاب خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور اس کتاب میں زنا، چوری اور لوگوں کا مال ناحق کھانے سے روکا گیا ہے۔ یہ وہی انجیل ہے جو عیسیٰ مسیح پر نازل ہوئی ہے۔ راہب کی گفتگو نے ان کے دل پر اثر کیا اور بہت تحقیق کے بعد وہ دونوں اس کے دین کے پیرو ہو گئے۔ اس نے انہیں حکم دیا کہ اس سرزمین کے لوگوں کی ذبح کی ہوئی بھیڑ بکریوں کا گوشت حرام ہے۔ سلمان اور حاکم وقت کا بیٹا روزانہ اس سے مذہبی مسائل سیکھتے تھے۔ عید کا دن آگیا۔ حاکم نے ایک دعوت کا احتمام کیا جس میں اشرا ف اور بزرگان شہر کو دعوت دی گئی اور اس سلسلے میں اس نے اپنے بیٹے سے بھی خواہش کی کہ وہ اس دعوت میں شرکت کرے لیکن اس نے قبول نہ کی۔ اس نے بہت اصرار کیا تو لڑکے نے بتایا کہ یہ غذا میرے لئے حرام ہے۔ اس نے پوچھا تمہیں یہ حکم کس نے دیا ہے۔ اس پر اس نے راہب کا تعارف کرایا۔ حاکم نے راہب کو بلوایا اور اس سے کہا: چونکہ قتل ہماری نگاہ میں ایک بہت بڑا اور برا کام ہے لہذا ہم تمہیں قتل نہیں کرتے لیکن تم ہمارے علاقہ سے نکل جاؤ۔ سلمان اور ان کے دوست نے اس موقع پر اس راہب سے ملاقات کی اور دوسری ملاقات کا پروگرام "دیر موصل" میں طے پایا۔ راہب کے چلے جانے کے بعد سلمان چند روز تو اپنے باوفا دوست کے منتظر رہے اور وہ بھی سفر کی تیاری میں سرگرم تھا لیکن سلمان آخر کار زیادہ صبر نہ کر سکے اور چل پڑے۔ موصل کے گرجے میں سلمان بہت زیادہ عبادت کرتے تھے۔ راہب مذکور جو اس گرجے کا مالک تھا، اس نے سلمان کو زیادہ عبادت سے روکنا چاہا اور کہا: تم ناکارہ ہی نہ ہو جاؤ لیکن سلمان نے اس سے سوال کیا کہ زیادہ عبادت کی فضیلت زیادہ ہے یا کم عبادت کی؟ تو اس نے کہا فضیلت تو زیادہ عبادت ہی کی زیادہ ہے۔ اس کے بعد وہ راہب جو گرجے کا مالک تھا اور وہاں پر موجود دوسرے راہبوں جتنی عبادت نہیں کر سکتا تھا، اس گرجے سے دوسری جگہ چلا گیا اور گرجے کے عالم کو سلمان کے بارے میں سفارش کر گیا۔ کچھ عرصہ بعد گرجے کا وہ عالم بیت المقدس کی زیارت کے ارادے سے چلا اور سلمان کو بھی اپنے ہمراہ لے گیا۔ وہاں اس نے سلمان کو حکم دیا کہ دن میں علمائے نصاریٰ کے درس میں جائیں اور تحصیل علم و دانش کریں۔ وہ درس وہیں مسجد میں منعقد ہوتے تھے۔ ایک دن اس عالم نے سلمان کو رنجیدہ پایا تو اس کا سبب دریافت کرنے لگا۔ سلمان نے جواب میں کہا: نیکیاں تو گزشتہ لوگوں کے نصیب میں تھیں جو پیغمبران خدا کی خدمت میں رہتے تھے۔ عالم دیر نے اسے بشارت دی کہ انہی دنوں ملت عرب میں ایک پیغمبر ظہور کرنے والا ہے جو تمام انبیاء سے برتر و بالا ہے۔ عالم مذکور نے مزید کہا: میں بوڑھا ہو گیا ہوں، مجھے امید نہیں کہ میں انہیں مل سکوں لیکن تم جوان ہو، تم انہیں پا سکو گے۔ مزید کہنے لگا: اس پیغمبر کی کئی ایک نشانیاں ہیں۔ ان میں سے خاص نشانی اس کے کندھے پر ہے۔ وہ صدقہ نہیں لیتا اور ہدیہ قبول کرتا ہے۔ موصل کی طرف واپسی کے دوران ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آنے کے نتیجے میں سلمان سے عالم دیر کہیں بیابان میں کھو گیا۔ حلب کے دو عرب قبیلے وہاں پہنچے۔ انہوں نے سلمان کو قید کر لیا اور اونٹ پر سوار کرکے مدینہ لے آئے اور انہیں قبیلہ "جرینہ" کی ایک عورت کے ہاتھ بیچ دیا۔ سلمان اور اس عورت کا ایک غلام باری باری اس عورت کا گلہ روزانہ چرانے کے لئے جاتے تھے۔ سلمان نے اس مدت میں کچھ رقم جمع کر لی اور پیغمبر اسلامﷺ کی بعثت کا انتظار کرنے لگے۔ ایک روز وہ ریوڑ چرانے میں مشغول تھے کہ ان کا ساتھی آیا اور کہنے لگاَ: تمہیں معلوم ہے آج ایک شخص مدینہ میں آیا ہے جس کا خیال ہے کہ وہ پیغمبر ہے اور خدا کا بھیجا ہوا ہے۔ سلمان نے اپنے ساتھی سے کہا: تم یہاں رہو، میں ہو کر آتا ہوں۔ سلمان شہر میں داخل ہوئے۔ پیغمبر اکرمﷺ کی مجلس میں حاضر ہوئے۔ آنحضرتﷺ کے گرد چکر لگا رہے تھے اور منتظر تھے کہ پیغمبر کا کرتہ آپ کے کندھے سے کسی طرح ہٹے اور آپ کے کندھے کے درمیان مخصوص نشان دیکھ سکیں۔ پیغمبر ان کی خواہش کی طرف متوجہ ہوئے، آپ نے کرتہ اٹھایا تو سلمان نے وہ نشان (مہر نبوت) دیکھا۔ یعنی پہلی نشانی دیکھ لی۔ پھر وہ بازار چلے گئے۔ کچھ گوشت اور روٹی خریدی اور رسول اللہﷺ کی خدمت میں لے آئے۔ پیغمبر نے پوچھا کیا ہے۔ سلمان نے جواب دیا صدقہ ہے۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ غریب مسلمانوں کو دے دو تا کہ وہ اسے استعمال کر لیں۔ سلمان دوبارہ بازار گئے پھر کچھ گوشت اور روٹی خریدی اور پیغمبر اکرمﷺ کی خدمت میں لے آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا کیا ہے۔ سلمان نے جواب دیا ہدیہ ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: بیٹھ جاؤ۔ آنحضرتﷺ اور حاضرین نے اس ہدیہ میں سے کھایا۔ سلمان پر مقصد واضح ہو گیا کیونکہ اسے اپنی تینوں نشانیاں مل گئیں۔ دوران گفتگو سلمان نے اپنے دوستوں اور ساتھیوں اور دیر موصل کے راہبوں کے متعلق باتیں کیں۔ ان کی نماز، روزہ، پیغمبر پر ایمان اور آپ کی بعثت کے بارے میں ان کے انتظار کا حال سنایا۔ کسی نے سلمان سے کہا کہ اگر وہ پیغمبر کو پا لیتے تو آپ کی پیروی کرتے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں نبی کریم ﷺ پرزیر بحث آیت نازل ہوئی جس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ ادیان حق پر حقیقی ایمان رکھتے ہیں لیکن وہ پیغمبر اسلام کو نہیں پا سکے، انہیں کیا اجر ملے گا۔
(۲) صائبین کون ہیں ؟
مشہور عالم راغب مفردات میں لکھتا ہے: یہ ایک گروہ ہے جو حضرت نوح کا پیروکار تھا۔ ان کا ذکر یہود و نصاری ٰ کے ساتھ ساتھ کرنا بھی اس امر کی دلیل ہے کہ یہ لوگ کسی آسمانی دین کے پیرو تھے اور خدا و قیامت پر ایمان رکھتے تھے۔ رہا کہ بعض لوگ انہیں مشرک اور ستارہ پرست کہتے ہیں یا بعض اور لوگ انہیں مجوسی کہتے ہیں تو یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ سورہ حج کی آیت ۱۷ مشرکین اور مجوسیوں کو صائبین کے مد مقابل قرار دیتی ہے۔ قرآن کے الفاظ یوں ہیں۔ ان الذین آمنوا والذین ھادوا والصٰبئین والنصٰری والمجوس والذین اشرکوا۔ لہذا یہ مجوس اور مشرکین کے علاوہ ایک مستقل گروہ ہے۔ صائبین کون لوگ ہیں___ اس بارے میں مفسرین اور ادیان شناس لوگوں کے مختلف اقوال ہیں اور اس لفظ (صائبین) کا اصلی مادہ کیا ہے۔ اس بارے میں بھی بحث ہے۔ شہرستانی نے کتاب "ملل و نحل" میں لکھا ہے کہ صائبہ "صباء" سے لیا گیا ہے کیونکہ یہ گروہ حق سے ٹیڑھا ہو گیا تھا اور یہ لوگ راہ انبیاء سے منحرف ہو گئے تھے۔ اس بناء پر انہیں "صائبہ" کہا گیا ہے۔ فیومی کی مصباح المنیر میں ہے کہ کہ صباء کا معنی ہے: وہ شخص جو ایک دین سے نکل کر دوسرے دین کی طرف مائل ہو جائے۔ "فرہنگ دہخدا" میں اس بات کی تائید کی گئی ہے کہ کلمہ عبری ہے۔ اس کے بعد لکھا ہے کہ "صائبین" جمع ہے "صابی" عبری کی اور اصل عبری (ص ب ع) سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں پانی میں ڈوب جانا یعنی تعمید کرنے والے۔[ غسل تعمید عیسائیوں کے ہاں بچوں اور نئے عیسائی ہونے والے کو دیتے ہیں۔ مترجم] جب اس لفظ کو عربی بنایا گیا تو اس کی "ع" ساقط ہو گئی اور "مفتسلہ" جو ایک عرصے سے اس آئین کے پیروکاروں کے ایک مقام کا نام تھا جو خوزستان میں ہے وہ کلمہ "صابی" کا جامع اور صحیح ترجمہ ہے۔ جدید اور معاصر محققین بھی اسے عبری لفظ سمجھتے ہیں۔ "دائرة المعارف" فرانسیسی، جلد چھارم، صفحہ ۲۳ میں اس لفظ کو عبری قرار دیا گیا ہے اور اس میں اس لفظ کے معنی پانی کے اندر جانا یا تعمید بیان کئے گئے ہیں۔ ژسینوس سلمانی کہتا ہے: یہ لفظ اگرچہ عبری ہے تاہم احتمال ہے کہ ایسی اصل سے مشتق ہو جس کا معنی ستارہ ہے۔ "کشاف اصطلاح الفنون" کا موٴلف کہتا ہے صائبین ایک گروہ ہے جس کے لوگ فرشتوں کی عبادت کرتے تھے، زبور پڑھتے تھے اور قبلہ کی طرف منہ کرتے تھے۔ کتاب "التنبیہ والاشراف" ص ۱۶۶۶ پر امثال و حکم کا تذکرہ کرتے ہوئے ابتدا میں کہا گیا ہے کہ زرتشت نے جب مجوس آئین و دین گشتاسب کے سامنے پیش کیا اور اس نے قبول کیا، اس سے قبل اس ملک کے لوگ "صفا" مذہب کے پیرو تھے اور وہ صائبین تھے۔ یہ وہ مذہب ہے جسے "بوذاسب" نے "طہورس" کے زمانے میں پیش کیا تھا۔ اس گروہ کے بارے میں اختلافات اور ایسی گفتگو کی وجہ یہ ہے کہ ان کی جمعیت تھوڑی تھی اور وہ اپنے مذہب کو پوشیدہ رکھنے پر مصر تھے اور اس کی دعوت و تبلیغ سے منع کرتے تھے۔ ان کا اعتقاد تھا کہ ان کا مذہب خصوصی ہے، عمومی نہیں اور ان کا پیغمبر انہی کی نجات کے لئے مبعوث ہوا ہے اور بس۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی حالت ایک بھیدہی رہی اور ان کی جمعیت بھی روز بروز ختم ہوتی گئی اور یہ بھی کہ ان کے ہاں مفصل غسل اور طولانی تعمیدوں جیسے خاص احکام تھے۔ یہ انہیں سردیوں اور گرمیوں میں انجام دینا پڑتے تھے۔ وہ اپنے مذہب کے علاوہ کسی سے شادی حرام سمجھتے تھے۔ ان کے ہاں حتی الامکان رہبانیت اور عورتوں سے ترک ِمباشرت کا تاکیدی حکم تھا اور مسلمانوں سے زیادہ میل جول کی وجہ سے اپنے مذہب کو بدل دیتے تھے۔
(۳)صائبین کے عقائد
ان کے ،مندرجہ ذیل اہم عقائد تھے: ان کا اعتقاد تھا کہ پہلی مقدس آسمانی کتاب حضرت آدم پر نازل ہوئی پھر حضرت نوح پر، ان کے بعد سام پر، پھر رام پر، اس کے بعد ابراہیم خلیل اللہ پر، پھر حضرت موسی ٰ اور اس کے بعد یحییٰ بن زکریا پر نازل ہوئی۔ وہ مقدس کتابیں جو ان کی نگاہ میں اہمیت رکھتی ہیں، یہ ہیں: ۱ ۔"کنیزاربا" اس کتاب کو "سدرہ" یا "صحف آدم" بھی کہتے ہیں۔ یہ کتا ب خلقت کی کیفیت اور موجودات کی پیدائش کے بارے میں بحث کرتی ہے۔ ۲ ۔ کتاب "اورافشادہی" یا "سدرادہی"۔ یہ حضرت یحیی ٰکی زندگی، ان کے احکامات اور تعلیمات کے بارے میں ہے۔ ان کا اعتقاد ہے کہ یہ کتاب جبریل کے ذریعہ حضرت یحیی پر وحی و الہام ہوئی۔ ۳۔ کتاب "قلستا"۔ یہ شادی بیاہ کے مراسم کے بارے میں ہے۔ ان کے پاس اور بھی بہت سی کتابیں ہیں۔ اختصار کے لئے ان سے صرِ ف نظر کیا جا رہا ہے۔ محققین کے نزدیک اس دین کے پیروکاروں کی کیفیت دیکھ کر یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ یہ لوگ حضرت یحیی ٰ بن زکریا کے پیرو ہیں۔ اس وقت اس مذہب کے پیرو تقریبا پانچ ہزار افراد خوزستان (دریائے کارون کے کنارے) اہواز، خرم شہر، آبادان اور شادگان وغیرہ میں رہتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے مذہب کو حضرت یحیی بن زکریا سے منسوب کرتے ہیں۔ مسیحی جنہیں "یحیی تعمید دہندہ" یا "یوحنای معمد" کہتے ہیں۔( مزید تفصیلات کے لئے کتاب "آراء و عقائد بشری" کی طرف رجوع کریں)۔ کتاب بلوغ الادب کا مولف کہتا ہے۔ صائبین ایک بہت بڑی قوم ہے۔ ان کے بارے میں اختلاف اس مذہب کے افراد کی معرفت کے لحاظ سے ہے۔ سورہ بقرہ کی زیر بحث آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جمعیت دو گروہوں مومن اور کافر میں تقسیم ہوتی ہے۔ یہ حضرت ابراہیم خلیل کی وہی قوم ہے جس کی دعوت پر آپ مامور تھے۔ یہ لوگ "حران" میں جو صائبین کی سرزمین ہے، زندگی گزارتے تھے اور دو طرح کے تھے، صائبین حنیف اور صائبین مشرک۔ مشرک، ستاروں، آفتاب، ماہتاب کا احترام کرتے تھے۔ ان میں سے کچھ لوگ نماز روزہ کو بھی انجام دیتے تھے، کعبہ کو محترم سمجھتے تھے اور حج بھی بجا لاتے تھے۔ یہ لوگ مردار، خون اور خنزیر کے گوشت نیز محارم سے نکاح کو مسلمانوں کی طرح حرام سمجھتے تھے۔ اس مذہب کے پیروکاروں میں سے کچھ لوگ بغداد میں حکومت کے اہم مناصب پر فائز تھے جن میں ایک ہلال بن محسن صابی بھی تھا۔ ان لوگوں نے اپنے گمان کے مطابق اپنے دین کی بنیاد اس پر رکھی ہے کہ دنیا کے ہر مذہب کی اچھائی لے لو اور اس کی برائی سے دور رہو۔ انہیں اسی بناء پر صائبین کہتے ہیں یعنی وہ لوگ جو کسی دین کے تمام احکام کی انجام دہی کی قید سے سرکشی کرتے ہیں۔ لہذا یہ لوگ ایک لحاظ سے تمام ادیان کے موافق اور تمام ادیان کے مخالف ہیں۔ صائبین حنیف کا ایک گروہ مسلمانوں سے ہم آہنگ ہو گیا ہے اور ان کے مشرک بت پرستوں کے ساتھ ہو گئے ہیں۔ آخر بحث میں ہم دوبارہ ذکر کر دیں کہ اس گروہ کی دو قسمیں ہیں۔ صائبین مشرک اور صائبین حنیف۔ ان دونوں کے درمیان بہت مناظرے اور مباحثے ہوتے رہے ہیں۔( اقتباس از بلوغ الادب، ج۲ ، ص ۲۲۸ و ۲۳۳)۔ مندرجہ بالا بحث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ بنیادی طور پر کسی پیغمبر خدا کے پیرو تھے اگرچہ جس سے وہ اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں۔ اس پیغمبر کے تعین میں اختلاف ہے۔ اسی طرح یہ بھی واضح ہوا کہ وہ بہت کم لوگ ہیں جو ختم ہونے کے قریب ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔
ان آیات میں بنی اسرائیل سے تورات میں شامل احکامات پر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ان آیات میں بنی اسرائیل سے تورات میں شامل احکامات پر عمل کرنے کے عہد و پیمان اور پھر ان کی طرف سے اس پیمان کی خلاف ورزی کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ کہا گیا ہے: یاد کرو اس وقت کو جب ہم نے تم سے عہد و پیمان لیا (و اذ اخذنا میثاقکم) اور کوہ طور کو تمہارے سروں پر مسلط کر دیا ہے (ورفعنا فوقکم الطور) اور تمہیں کہا گیا ہے کہ جو آیات الہٰی تمہیں دی گئی ہیں، انہیں قدرت و قوت سے تھامو (خذ و ا ما اٰتینٰکم بقوة) اور اس میں جو کچھ ہے، اسے غور و فکر سے دل میں یاد رکھو اور اس پر عمل کرو ) تا کہ پرہیزگار ہو جاؤ (و اذ کرو ا مافیہ لعلکم تتقون)۔ لیکن تم نے اپنے عہد و پیمان کو طاق نسیان کر دیا اور اس واقعے کے بعد روگرداں ہو گئے (ثم تولیتم من بعد ذٰلک) اور اگر خدا کا فضل و رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتا تو تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوتے۔
(۱) عہد و پیمان سے مراد
یہاں عہد وپیمان سے مراد مقصود وہی ہے جس پر اس سورہ کی چالیسویں آیت میں بحث ہو چکی ہے اور آیت ۸۳ اور ۸۴ میں بھی شامل ہوگی۔ اس عہد و پیمان میں یہ چیز یں شامل تھیں: پروردگار کی توحید پر ایمان رکھنا، ماں باپ، عزیز و اقارب، یتیم اور حاجتمندوں سے نیکی کرنا اور خونریزی سے پرہیز کرنا۔ یہ کلی طور پر ان صحیح عقائد اور خدائی پروگراموں کے بارے میں عہد و پیمان تھا جن کا تورات میں ذکر کیا گیا تھا۔ سورہ مائدہ کی آیت ۱۲ سے استفادہ ہوتا ہے کہ خدا نے یہودیوں سے عہد و پیمان لیا کہ وہ تمام انبیاء پر ایمان رکھیں گے اور ان کی کمک کریں گے اور راہ خدا میں صدقہ اور خرچ کریں گے نیز اس آیت کے آخر میں ضمانت دی گئی ہے کہ اس عہد پر عمل کریں گے تو اہل بہشت میں سے ہو جائیں گے۔
(۲) کوہ طور ان کے سروں پر مسلط کرنے سے کیا مقصود تھا
: عظیم اسلامی مفسر مرحوم طبرسی، ابن زید کا قول اس طرح نقل کرتے ہیں: جس وقت حضرت موسی کوہ طور سے واپس آئے اور اپنے ساتھ تورات لائے تو اپنی قوم کو بتایا کہ میں آسمانی کتاب لے کر آیا ہوں جو دینی احکام اور حلال و حرام پر مشتمل ہے۔ یہ وہ احکام ہیں جنہیں خدا نے تمہارے لئے عملی پروگرام قطع قرار دیا ہے ۔ اسے لے کر اس کے احکام پر عمل کرو۔ اس بہانے سے کہ یہ ان کے لئے مشکل احکام ہیں۔ یہودی نافرمانی اور سرکشی پر تل گئے۔ خدا نے بھی فرشتوں کو مامور کیا کہ وہ کوہ طور کا ایک بہت بڑا ٹکڑا ان کے سروں پر لا کر کھڑا کر دیں۔ اسی اثناء میں حضرت موسٰی نے انہیں خبر دی کہ عہد و پیمان باندھ لو، احکام خدا پر عمل کرو، سرکشی و بغاوت سے توبہ کرو تو تم سے عذاب ٹل جائے گا ورنہ سب ہلاک ہو جاؤ گے۔ اس پر انہوں نے سر تسلیم خم کر دیا۔ تورات کو قبول کیا اور خدا کے حضور سجدہ کیا جب کہ ہر لحظہ وہ کوہ طور کے اپنے سروں پر گرنے کے منتطر تھے لیکن بالآ خر ان کی توبہ کی وجہ سے عذاب الٰہی ٹل گیا۔ یہی مضمون سورہ بقرہ آیة ۹۳ میں سورہ نساء آیہ ۱۵۴ میں اور سورہ اعراف آیہ ۱۷۱ میں تھوڑے سے فرق کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ یہ نکتہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ کوہ طور کے بنی اسرائیل کے سروں پر مسلط ہونے کی کیفیت کے سلسلے میں مفسرین کی ایک جماعت کا اعتقاد ہے کہ حکم خداسے کوہ طور اپنی جگہ سے اکھڑ گیا اور سائبان کی طرح ان کے سروں پر مسلط ہو گیا۔(اعراف۔ ۱۷۱۔ بحوالہ: مجمع البیان اور بعض دیگر تفاسیر (۔ جب کہ بعض دوسرے مفسرین یہ کہتے ہیں کہ پہاڑ میں سخت قسم کا زلزلہ آ یا، پہاڑ اس طرح لرزنے اور حرکت کرنے لگا کہ جو لوگ پہاڑ کے دامن میں تھے انہوں نے پہاڑ کے ایک حصے کا سایہ اپنے سروں پر واضح طور پر دیکھا۔ ایسا لگتا تھا کہ کسی بھی وقت وہ ان کے سروں پر آگرے گا لیکن خدا کے لطف و کرم سے زلزلہ رک گیا اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم ہو گیا۔ (بحوالہ: المنار، زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ پہاڑ کا ایک بہت بڑا ٹکڑا زلزلے اور شدید بجلی کے زیر اثر اپنی جگہ سے اکھڑ کر ان کے سروں کے اوپر سے بحکم خدا اس طرح گزرا ہو کہ چند لحظے انہوں نے اسے اپنے سروں پر دیکھا ہو اور یہ خیال کیا ہو کہ وہ ان پر گرنا چاہتا ہے لیکن یہ عذاب ان سے ٹل گیا اور وہ ٹکڑا کہیں دور جا کر گرا۔
(۳) کیا اس عہد وپیمان میں جبر کا پہلو ہے
اس سوال کے جواب میں بعض کہتے ہیں کہ ان کے سروں پر پہاڑ کا مسلط ہونا، ڈرانے اور دھمکانے کے طور پر تھا نہ کہ جبر و اضطرار کے طور پر ورنہ جبری عہد و پیمان کی تو کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ لیکن زیادہ صحیح یہی ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ سرکش اور باغی افراد کو تہدید و سزا کے ذریعہ حق کے سامنے جھکایا جائے۔ یہ تہدید اور سختی وقتی طور پر ہے۔ ان کے غرور کو توڑ دے گی۔ انہیں صحیح غور و فکر پر ابھارے گی اور اس راستے پر چلتے چلتے وہ اپنے ارادہ و اختیار سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے لگیں گے۔ بہرحال یہ پیمان زیادہ تر عملی پہلوؤں سے مربوط تھا ورنہ عقائد کو تو جبر و اکراہ سے نہیں بدلا جا سکتا۔
(۴) کوہ طور
طور سے مراد یہاں اسم ِ جنس ہے یا یہ مخصوص پہاڑ ہے۔ اس سلسلے میں دو تفسیریں موجود ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ طور اسی مشہور پہاڑ کی طرف اشارہ ہے جہاں حضرت موسیٰ پر وحی نازل ہوئی۔ لیکن بعض کے نزدیک یہ احتمال بھی ہے کہ طور لغوی معنی کے لحاظ سے مطلق پہاڑ ہے۔ یہ وہی چیز ہے جسے سورہ اعراف کی آیہ ۱۷۱ میں "جبل" سے تعبیر کیا گیا ہے: و اذ نتقنا الجبل فوقھم۔ ۵۔ خذوا ما اتیناکم بقوة کا مفہوم: اس جملے کی تفسیر میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آنجناب سے لوگوں نے پوچھا: قوة الابدان او قوة القلب۔ قوت و طاقت آیات الہٰی تھامنے سے مراد قوت جسمانی ہے یا قوت معنوی۔ امام نے جواب میں فرمایا: فیھا جمیعا۔ جسمانی و معنوی سب طاقتیں مراد ہیں۔( بحوالہ: تفسیر المیزان، زیر بحث آیت کے ذیل میں؛ بحوالہ: محاسن برقی)۔ یہ حکم تمام آسمانی ادیان کے پیروکاروں کے لئے ہے کہ ہر زمانے میں ان تعلیمات کی حفاظت و اجراء کے لئے مادی و روحانی دونوں قوتوں اور توانائیوں کے ساتھ تیار رہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 66 کے تحت ملاحظہ کریں۔
یہ دو آیات بھی گذشتہ آیات کی طرح
Tafsīr Nemūna · Vol. 1یہ دو آیات بھی گزشتہ آیات کی طرح یہودیوں کی عصیان و نافرمانی کی روح اور مادی امور کی طرف ان کی شدید رغبت اور وابستگی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ پہلے کہا گیا ہے: تم ان کی حالت کو تو جانتے ہو جنہوں نے تم میں سے ہفتہ کے دن کے بارے میں نافرمانی اور گناہ کیا تھا (ولقد علمتم الذین اعتدو ا منکم فی السبت)۔ نیز تمہیں یہ بھی علم ہے کہ ہم نے ان کو کہا کہ دھتکارے ہوئے بندروں کی طرح ہو جاؤ (فقلنا لھم کونو ا قردة خٰسئین)۔ ہم نے اس واقعہ کو اس زمانہ کے لوگوں کے لئے اور بعد کے زمانے کے لوگوں کے لئے بھی درس عبرت قرار دیا ہے (فجعلنٰھا نکالا لما بین یدیھا و ما خلفھا)۔ اور اسی طرح پرہیزگاروں کے لئے بھی پند و نصیحت قرار دیا ہے (وموعظة للمتقین)۔ اس واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا نے یہودیوں کو یہ حکم دے رکھا تھاکہ وہ ہفتہ کے دن تعطیل کیا کریں۔ ان میں سے کچھ لوگ دریا کے کنارے رہتے تھے اور آزمائش و امتحان کے طور پر انہیں حکم ملا کہ اس دن مچھلیاں نہ پکڑا کریں لیکن دوسرے دنوں کے برعکس ہفتہ کے دن مچھلیاں بڑی کثرت سے پانی کی اوپر والی سطح پر ظاہر ہو جاتی تھیں لہٰذا وہ کوئی حیلہ سوچنے لگے اور ایک قسم کے شرعی بہانے سے انہوں نے ہفتہ کے دن مچھلیاں پکڑ لیں۔ خدا تعالی نے اس جرم کی سزا دی اور ان کے انسانی چہرے حیوانی شکل میں بدل گئے۔ ان کے چہروں کا مسخ اور تبدیل ہونا جسمانی طور پر تھا یا نفسیاتی و اخلاقی طور پر، نیز یہ کہ یہ لوگ کہاں رہتے تھے اور کون سے بہانے کے ذریعہ انہوں نے مچھلیاں پکڑی تھیں۔ ان تمام سوالات کے جوابات اور اس سلسلے کے دوسرے مسائل اسی تفسیر کی چھٹی جلد میں سورہ اعراف کی آیات ۱۶۳ سے ۱۶۶ تک کے ذیل میں آئیں گے۔ جملہ کونو اقردة خاسئین(خاسی "خسارہ" مادہ سے ہے جس کے معنی ذلت کے ساتھ دھکیلنا ہے۔ یہ لفظ اصل میں کتے کو دور کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یہاں اس سے دھتکارنے کا وسیع تر معنی لیا گیا ہے جس میں حقارت شامل ہے لہذا یہ لفظ دوسرے مواقع پر بھی استعمال ہونے لگا)۔سرعت عمل سے کنایہ ہے یعنی ایک اشارے اور فرمان سے تمام نافرمانوں کے چہرے بدل گئے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ امام باقر اور امام صادق علیہماالسلام سے اس آیت کے مفہوم کے بارے میں یوں منقول ہے: ما بین یدیھا سے اس زمانے کی نسل اور ماخلفھا سے مراد ہم مسلمان ہیں یعنی یہ درس عبرت بنی اسرائیل سے مخصوص نہیں بلکہ یہ تمام انسانوں کے لئے ہے۔(بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 74 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 74 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 74 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 74 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 74 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 74 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 74 کے تحت ملاحظہ کریں۔
بنی اسرائیل کی گائے کا واقعہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 1سورہ بقرہ میں بنی اسرائیل کے بارے میں ہم مختصر طور پر جو دیگر واقعات پڑھ چکے ہیں، ان کے برعکس ان آیات میں یہ واقعہ تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ شاید اس کی یہ وجہ ہو کہ یہ واقعہ قرآن میں صرف ایک ہی دفعہ ذکر ہوا ہے۔ علاوہ ازیں اس میں ایسے بہت سے نکات بھی نظر آتے ہیں جو بہت کچھ سکھاتے ہیں۔ ان میں سے بنی اسرائیل کی بہانہ سازی اس ساری داستان میں واضح ہے نیز حضرت موسیٰ کی گفتگو سے ان کے ایمان کے درجات بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ تمام چیزوں سے قطع نظر یہ واقعہ مسئلہ معاد و قیامت کی زندہ سند اور گواہ ہے۔ پہلے ہم اس واقعے کی تشریح اور آیات کی تفسیر بیان کرتے ہیں بعد ازاں اس کے نکات کی طرف جائیں گے۔ جیسا کہ آیات قرآن اور اقوال مفسرین سے ظاہر ہوتا ہے، بنی اسرائیل میں سے ایک شخص نامعلوم طور پر قتل ہو جاتا ہے۔ اس کے قاتل کا کسی طرح پتہ نہیں چلتا۔ بنی اسرائیل کے قبائل کے درمیان جھگڑا اور نزاع شروع ہو جاتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک، دوسرے قبیلے اور دیگر لوگوں کو اس کاذمہ دار گردانتا ہے اور اپنے تئیں بری الذمہ قرار دیتا ہے۔ جھگڑا ختم کرنے کے لئے مقدمہ حضرت موسیٰ کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے اور لوگ آپ سے اس موقع پر مشکل کشائی کی درخواست کرتے ہیں اور اس کا حل چاہتے ہیں۔ چونکہ عام اور معروف طریقوں سے اس فیصلے کا فیصلہ ممکن نہ تھا اور دوسری طرف اس کشمکش کے جاری رہنے سے ممکن تھا بنی اسرائیل میں ایک عظیم فتنہ کھڑا ہو جاتا لہذا جیسا کہ آپ ان آیات کی تفسیر میں پڑھیں گے، حضرت موسیٰ پروردگار سے مدد لے کر اعجاز کے راستے اس مشکل کو حل کرتے ہیں۔ [اس طرف توجہ ضروری ہے کہ موجودہ تورات کی فصل ۲۱ سفر تثنیہ میں بھی اس واقعے کی طرف اشارہ موجود ہے البتہ موجودہ تورات میں جو کچھ ہے وہ ایک حکم کی صورت میں ہے جب کہ قرآن میں جو کچھ ہے وہ ایک واقعے کی صورت میں ہے۔ بہرحال فصل ۲۱ میں پہلے جملے سے لے کر نویں جملے تک کی عبارت کچھ یوں ہے: اگر کسی مقتول کو ایسی زمین میں جو خداوند عالم نے تجھے میراث دی ہے، صحرا میں پڑا دیکھو اور معلوم نہ ہو سکے کہ اس کا قاتل کون ہے ۔ اس وقت تیرے مشائخ اور قاضی باہر جا کر ان شہروں کے فاصلے کی پیمائش کریں جو مقتول کے اردگرد ہیں اور وہی شہر مقرر ہے جو مقتول کے زیادہ قریب ہے۔ اس شہر کے مشائخ ہی اس گائے کو درہ ناہموار میں ایسی جگہ لے جائیں جہاں کوئی کھیتی باڑی نہ ہوئی ہو۔ وہی درہ کے دروازے پر گائے کی گردن کاٹ دیں۔ بنی لیوی کے کاہن حضرات نزدیک آئیں۔ خداوند تیرے خدا نے انہیں منتخب کیا ہے تا کہ وہ اس کی خدمت کریں اور خدا کے نام کے ساتھ دعائے خیر کریں اور نزاع اور جھگڑے کا فیصلہ ان کے حکم کے مطابق ہو اور وہ شہر جو قتل کے نزدیک ہے، اس کے تمام مشائخ اپنے ہاتھ اس گائے پر دھوئیں جو درہ کے دروازے پر ذبح ہوئی ہے اور بآواز کہیں کہ یہ خون ہمارے ہاتھوں نے نہیں بہایا اور ہماری آنکھوں نے نہیں دیکھا۔ اے خداوند! اپنی قوم اسرائیل کو کہ جسے دوبارہ تو نے خرید کیا ہے، بخش دے اور اپنی قوم اسرائیل کو ناحق سے منسوب نہ کر اور وہ خون ان کے لئے معاف ہو جائے۔ اس طریقہ سے خون ناحق اپنے درمیان سے رفع کرے گا۔ کیونکہ خداوند کی نظر میں وہی درست ہے جسے تو عمل میں لائے گا۔ (عہد قدیم، مطبوعہ ۱۸۷۸ (] فرمایا: یاد کرو اس وقت کو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا (قاتل کو تلاش کرنے کے لئے) پہلی گائے (جو تمہیں مل جائے( اس کو ذبح کرو )و اذ قال موسیٰ لقومہ ان اللہ یا مرکم ان تذبحوا بقرة)۔ انہوں نے بطور تعجب کہا: کیا تم ہم سے تمسخر کرتے ہو )قالوا اتتخذنا ھزوا(۔ موسی نے ان کے جواب میں کہا: میں خدا سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں جاہلوں میں سے ہو جاؤں (قال اعوذ با اللہ ان اکون من الجٰھلین)۔ یعنی استہزاء اور تمسخر کرنا نادان اور جاہل افراد کا کام ہے اور خدا کا رسول یقینا ایسا نہیں ہے۔ اس کے بعد انہیں اطمینان ہو گیا کہ استہزاء و مذاق نہیں بلکہ سنجیدہ گفتگو ہے تو کہنے لگے: اب اگر ایسا ہی ہے تو اپنے پروردگار سے کہیے کہ ہمارے لیے مشخص و معین کر دے کہ وہ گائے کس قسم کی ہو (قالوا ادع لنا ربک یبین لنا ماھی)۔ "اپنے خدا سے کہو" ان کے سوالات میں یہ جملہ بتکرار آیا ہے۔ اس میں ایک طرح کا سوئے ادب یا سربستہ استہزاء و مذاق پایا جاتا ہے۔یہ کیوں نہیں کہتے تھے "ہمارے خدا سے دعا کیجئے" کیا وہ حضرت موسیٰ کے خدا کو اپنے خدا سے جدا سمجھتے تھے۔ بہرحال حضرت موسیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا: خدا فرماتا ہے ایسی گائے ہو جو نہ بوڑھی ہو اور بےکار ہو چکی ہو اور نہ ہی جوان بلکہ ان کے درمیان ہو (قال انہ یقول انھا بقرة لا فارض ولا بکر عوان بین ذٰلک)۔[ "فارض" کے متعلق راغب مفردات میں کہتا ہے کہ یہ سن رسید ہ گائے کے معنی میں ہے۔ لیکن بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ایسی بوڑھی جس سے بچہ نہ ہو سکے اور "عوان" کا معنی ہے درمیانی۔] اس مقصد کے لئے کہ وہ اس سے زیادہ اس مسئلے کو طول نہ دیں اور بہانہ تراشی سے حکم ِ خدا میں تاخیر نہ کریں، اپنے کلام کے آخر میں مزید کہا: جو تمہیں حکم دیا گیا ہے (جتنی جلدی ہو سکے) اسے انجام دو )فافعلوا ما توءمرون)۔ لیکن انہوں نے پھر بھی زیادہ باتیں بنانے اور ڈھٹائی دکھانے سے ہاتھ نہیں اٹھایا اور کہنے لگے: اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ وہ ہمارے لئے واضح کرے کہ اس کا رنگ کیسا ہو (قالوا ادع لنا ربک یبین لنا ما لونھا)۔ موسیٰ نے جواب میں کہا: وہ گائے ساری کی ساری زرد رنگ کی ہو جس کارنگ دیکھنے والوں کو بھلا لگے (و قال انہ یقول انھا بقرة صفراء فاقع لونھا تسر النٰظرین(۔ ["فاقع" کا معنی ہے خالص، ایک جیسا زرد رنگ۔] خلاصہ یہ کہ وہ گائے مکمل طور پر خوش رنگ اور چمکیلی ہو۔ ایسی دیدہ زیب کہ دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈال دے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ انہوں نے اس پر اکتفاء نہ کیا اور اسی طرح ہر مرتبہ بہانہ جوئی سے کام لے کر اپنے آپ کو اور مشکل میں ڈالتے گئے۔ پھر کہنے لگے: اپنے پروردگار سے کہیے کہ ہمیں واضح کرے کہ یہ گائے (کام کرنے کے لحاظ سے) کیسی ہونی چاہیئے (قالوا ادع لنا یبین لنا ماھی)۔ کیونکہ یہ گائے ہمارے لئے مبہم ہو گئی ہے (ان البقرہ تشابہ علینا) اور اگر خدا نے چاہا تو ہم ہدایت پا لیں گے (و انا ان شاء اللہ لمھتدون)۔ حضرت موسیٰ نے پھر سے کہا: خدا فرماتا ہے وہ ایسی گائے ہو جو اتنی سدھائی ہوئی نہ ہو کہ زمین جوتے اور کھیتی سینچے (قال انہ یقول انھا بقرة لا ذلول تثیر الارض ولا تسقی الحرث) ہر عیب سے پاک ہو (مسلمة) حتی کہ اس میں کسی قسم کا دوسرا رنگ نہ ہو (لاشیة فیھا)۔ اب کہ بہانہ سازی کے لئے ان کے پاس کوئی سوال باقی نہ تھا، جتنے سوالات وہ کر سکتے تھے سب ختم ہو گئے تو کہنے لگے: اب تو نے حق بات کہی ہے (قالوا الان جئت بالحق)۔ پھر جس طرح ہو سکا انہوں نے وہ گائے مہیا کی اور اسے ذبح کیا لیکن دراصل وہ یہ کام کرنا نہ چاہتے تھے (فذبحوھا و ما کادوا یفعلون)۔ اس واقعے کی جزئیات بیان کرنے کے بعد قرآن دوبارہ یہ تمام واقعہ بعد کی دو آیات میں مختصرا بیان کرتا ہے: یاد کرو اس وقت کو جب تم نے ایک آدمی کو قتل کر دیا پھر اس کے قاتل کے بارے میں جھگڑ نے لگے اور خدا نے )ایک حکم کے ذریعہ جو مندرجہ بالا آیات میں آیا ہے) جس چیز کو تم چھپائے ہوئے تھے، آشکار کر دیا (و اذقتلتم نفساََ فاد ارئتم فیھا واللہ مخرج ماکنتم تکتمون)۔ پھر ہم نے کہا اس گائے کا ایک حصہ مقتول پر مارو (تا کہ وہ زندہ ہو کر اپنے قاتل کا تعارف کرائے( (فقلنا اضربوہ ببعضھا)۔ بیشک خدا اسی طرح مردوں کو زندہ کرتا ہے (کذٰلک یحی اللہ الموتیٰ)۔ اور وہ تمہیں اپنی اس قسم کی آیات دکھاتا ہے تا کہ تم حقیقت کو پا سکو (و یریکم آیاتہ لعلکم تعقلون)۔ زیر بحث آیات میں سے آخری میں بنی اسرائیل کی قساوت اور سنگدلی کو بیان کیا گیا ہے: ان تمام واقعات کے بعد اور اس قسم کے آیا ت و معجزات دیکھنے کے باوجود تمہارے دل پتھر کی طرح سخت ہیں اور اس سے بھی زیادہ (ثم قست قلوبکم من بعد ذٰلک فھی کالحجارة او اشد قسوة) کیونکہ کچھ پتھر تو ایسے ہیں جن میں دراڑ پڑ جاتی ہے اور ان سے نہریں جاری ہو جاتی ہیں ( و انّ من الحجارة لما یتفجر منہ الانھار) یا پھر بعض وہ ہیں جن میں شگاف پڑ جاتا ہے اور ان میں سے پانی کے قطرات ٹپکنے لگتے ہیں (و ان منھا لما یشقق فیخرج منہ الماء) اور کبھی ان میں سے کچھ پتھر (پہاڑ کی بلندی سے) خوفِ خدا کے باعث گر پڑتے ہیں (و ان منھا لما یھبط من خشیة اللہ) لیکن تمہارے دل تو ان پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہیں۔ ان سے علم و عواطف کا سرچشمہ مارتا ہے نہ محبت کے قطرات ٹپکتے ہیں اور نہ ہی یہ کبھی خوف ِ خدا سے دھڑکتے ہیں۔ آخر ی جملے میں ہے: جو کچھ تم انجام دے رہے ہو خدا اس سے غافل نہیں ہے (و ما اللہ بغافل عما تعملون)۔ یہ دراصل اس گروہ بنی اسرائیل اور ان کے خطوط پر چلنے والے تمام لوگوں کے لئے تہدید ہے۔
( ۱) زیادہ اور غیر مناسب سوالات
اس میں شک نہیں کہ سوالات مشکلات کے حل کی کلید ہیں اور جہل و نادانی کو دور کرنے کا نسخہ ہیں لیکن ہر چیز کی طرح اگر یہ بھی حد سے تجاوز کر جائیں یا بے موقع کئے جائیں تو کجروی کی علامت ہیں اور نقصان دہ ہیں۔ جیسے اس داستان میں ہم اس کا نمونہ دیکھ رہے ہیں۔ بنی اسرائیل کو حکم تھا کہ وہ ایک گائے ذبح کریں۔ اس میں شک نہیں کہ اگر اس گائے کی قید یا خاص شرط ہوتی توخدائے حکیم و دانا جب انہیں حکم دے رہا تھا، اسی وقت بیان کر دیتا لہذا معلوم ہوا کہ اس حکم کو بجا لانے کے لئے کوئی اور شرط نہ تھی۔ اسی لئے لفظ "بقرة" اس مقام پر نکرہ کی شکل میں ہے لیکن وہ اس مسلمہ بنیاد سے بےپرواہ ہو کر طرح طرح کے سوالات کرنے لگے۔ شاید وہ یہ چاہتے ہوں کہ حقیقت مشتبہ ہو جائے اورقاتل کا پتہ نہ چل سکے اور یہ اختلاف اسی طرح بنی اسرائیل میں رہے اور قرآن کا یہ جملہ "فذبحوھا وما کادو یفعلون" بھی اسی مفہوم کی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی "انہوں نے گائے ذبح کر تو دی لیکن وہ چاہتے نہ تھے کہ یہ کام انجام پائے"۔ اس داستان کے سلسلے کی آیت ۷۲ سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے کم از کم ایک گروہ قاتل کو جانتا تھا اور اصل واقعے سے مطلع تھا۔ شاید یہ قتل ان کے سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق کیا گیا تھا کیونکہ اس آیت میں ہے "واللہ مخرج ما کنتم تکتمون" یعنی تم جسے چھپاتے ہو خدا اسے آشکار کر دے گا۔ ان سب سے قطع نظر ہٹ دھرم اور خود پسند قسم کے لوگ باتیں بنایا کرتے ہیں اور زیادہ سولات کرتے ہیں اور ہر چیز کے لئے بہانہ سازی کیا کرتے ہیں۔ قرائن نشاندہی کرتے ہیں کہ اصولی طور پر وہ خدا کے متعلق معرفت رکھتے تھے اور نہ ہی حضرت موسی ٰ کے مقام کو سمجھتے تھے اسی لئے تو ان سب سوالوں کے بعد یہ کہنے لگے "اٰلان جئت بالحق" یعنی اب تم حق بات لائے ہو گویا اس سے پہلے جو کچھ تھا باطل تھا۔ بہرحال انہوں نے جتنے سوالات کئے خدا نے ان کی ذمہ داری کو اتنا ہی سخت تر کر دیا کیونکہ ایسے لوگ اسی قسم کے بدلے کے مستحق ہوتے ہیں۔ اسی لئے روایات میں ہے کہ جس مقام پرخدا نے خاموشی اختیار کی ہے وہاں پوچھ گچھ اور سوال نہ کرو کیونکہ اس میں ضرور کوئی حکمت ہوگی۔ اسی بناء پر امام علی بن موسی ٰ الرضا سے روایت ہے: اگر انہوں نے ابتداء ہی میں کوئی گائے منتخب کر لی ہوتی اور اسے ذبح کر دیتے تو کافی تھا۔ ولکن شددوا فشد اللہ علیھم لیکن انہوں نے سختی کی تو خدا نے بھی سخت رویہ اختیار کیا۔[بحوالہ: المیزان، زیر بحث آیت کے ذیل میں بحوالہ تفسیر عیاشی۔]
(۲) یہ تمام اوصاف کس لئے تھے
جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں ابتداء میں بنی اسرائیل کی ذمہ داری مطلق تھی اور اس میں کوئی قید و شرط نہ تھی لیکن ان کی شدت اور ذمہ داری ادا کرنے میں پس و پیش نے ان کے لئے حکم کو بدل دیا اور زیادہ سخت ہو گیا۔ لیکن اس کے باوجود یہ بھی ممکن ہے کہ بعد میں جو شرائط اور قیود لگائی گئیں، وہ انسانی برادری کی اجتماعی زندگی کی کسی حقیقت کی طرف اشارہ ہوں۔ گویا قرآن اس نکتے کو بیان کرنا چاہتا ہے کہ ایک ایسی حیات بخش صورت کی ضرورت ہے جو ذلول نہ ہو یعنی بلاشرط تسلیم ہو اور قید و شرط کی وجہ سے بوجھل، اسیر اور زبردست نہ ہو اور یو نہی اس میں مختلف رنگ بھی نظر نہیں آنے چاہئیں بلکہ یک رنگ اور خالص ہو۔ جو لوگ رہبری اور معاشرے کو زندہ کرنے کے لئے اٹھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ مردہ افکار کو زندہ کیا جائے، انہیں دوسروں کا مطیع نہیں ہونا چاہئے۔ مال و ثروت، فقر و تونگری، طاقت اور افرادی قوت، یہ چیزیں ان کے مقصد پر اثر انداز نہ ہوں۔ خدا کے علاوہ کوئی چیز ان کے دل میں جاگزیں نہ ہو۔ وہ صرف حق کے لئے سرتسلیم خم کریں۔ وہ دین و آئین کے پابند ہوں۔ ان کے وجود پر خدائی رنگ کے علاوہ کوئی رنگ اثر پذیر نہ ہو۔ ایسے ہی لوگ اضطراب اور تشویش کے بغیر لوگوں کے کام آسکتے ہیں لیکن اگر دل دنیا کی طرف مائل ہو اور دنیا کا غلام ہو، اس پر مادیت کا رنگ چڑھ گیا ہو اور اس رنگ کی وجہ سے وہ عیب دار ہو جائے تو ایسا شخص اس عیب اور نقص کی وجہ سے مردہ دلوں کو زندہ نہیں کر سکتا اور نہ حیات بخش صورت پیدا کر سکتا ہے۔( اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمل سے پہلے نسخ حکم مصالح کے پیش نظر جائز ہے اور شریعت موسیٰ میں نسخ احکام ہوتا تھا۔ یہ بات اس چیز کی نشاندہی کرتی ہے کہ کبھی سخت حکم سزا کے لئے بھی ہوتا ہے۔ اس سلسلے کی دیگر بحثیں اپنے اپنے مقام پر موجود ہیں)۔
قتل کا سبب کیا تھا
تواریخ ا ور تفاسیرسے جو کچھ ظاہر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ قتل کا سبب مال تھا یا شادی۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ایک ثروت مند شخص تھا جس کے پاس بے پناہ دولت تھی۔ اس دولت کا وارث اس کے چچازاد بھائی کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ وہ دولت مند کافی عمر رسید ہ ہو چکا تھا۔ اس کے چچازاد بھائی نے بہت انتظار کیا کہ وہ دنیا سے چلا جائے تا کہ اس کا وارث بن سکے لیکن اس کا انتظار بے نتیجہ رہا لہذا اس نے اسے ختم کر دینے کا تہیہ کر لیا اور بالآخر اسے تنہائی میں پا کر قتل کر دیا اور اس کی لاش سڑک پر رکھ دی اور گریہ و زاری کرنے لگا اور حضرت موسیٰ کی بارگاہ میں مقدمہ پیش کیا کہ بعض لوگوں نے میرے چچازاد بھائی کو قتل کر دیا ہے۔ بعض دیگر مفسرین کہتے ہیں کہ قتل کا سبب یہ تھا کہ اپنے چچازاد بھائی کو قتل کرنے والے نے اس سے اس کی بیٹی کا رشتہ مانگا تھا لیکن اس نے یہ درخواست رد کر دی اور لڑکی کو بنی اسرائیل کے ایک پاکباز جوان سے بیاہ دیا۔ شکست خوردہ چچازاد نے لڑکی کے باپ کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا اور چھپ کر اسے قتل کر دیا اور حضرت موسی ٰ کے پاس شکایت لے کر آیا کہ اس کا چچازاد بھائی قتل ہو گیا اور اس کے قاتل کو تلاش کیا جائے۔ چونکہ قرآن کا طریق کار ہے کہ گذشتہ واقعات کو ہمہ گیر حیثیت سے اور قاعدہ کلیہ کے طور پر تربیتی نقطہ نظر سے بیان کرے لہذا ضمنا یہ بھی ممکن ہے اس آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو کہ مفاسد کا سرچشمہ اور قتل و غارت کی وجہ دو موضوعات ہوتے ہیں، ایک ثروت و دولت اور دوسرا بے قید جنسی خواہشات۔
(۴) اس داستان کے عبرت خیز نکات
یہ عجیب داستان خدا کی ہر چیز پر لامتناہی قدرت کی دلیل کے علاوہ مسئلہ معاد پر بھی دلالت کرتی ہے۔ اسی لئے آیہ ۷۳ میں ہے: "کذٰلک یحی اللہ الموتیٰ" یعنی اسی طرح خدا مردوں کو زندہ کرتا ہے۔ یہ مسئلہ معاد کی طرف اشارہ ہے اور "ویریکم آیاتہ" وہ اپنی آیات تمہیں دکھاتا ہے، پروردگار کی قدرت و عظمت کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے علاوہ یہ آیت اس بات کی نشاندہی بھی کرتی ہے کہ اگر خدا کسی گروہ پر غضبناک ہوتا ہے تو ایسا بغیر وجہ اور دلیل کے نہیں ہوتا کیونکہ اس واقعے میں بنی اسرائیل حضرت موسیٰ کے سامنے جو باتیں کرتے تھے، وہ نہ صرف حضرت کے ساتھ انتہائی جسارت آمیز سلوک تھا بلکہ خدا تعالی کی مقدس بارگاہ کے لحاظ سے بھی بے ادبی اور جسارت تھی۔ ابتداء میں کہتے ہیں "کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو؟" گویا خدا کے عظیم پیغمبر کو مذاق کا الزام دے رہے تھے۔ بعض اوقات کہتے "اپنے خدا سے خواہش کرو" تو کیا موسیٰ کا خدا ان کے خدا کے علاوہ کوئی اور تھا۔ جب کہ حضرت موسیٰ انہیں صراحت سے کہہ چکے تھے کہ "خدا نے تمہیں حکم دیا ہے"۔ ایک جگہ کہتے ہیں "اگر اس سوال کا جواب دے دو تو ہم ہدایت حاصل کر لیں گے۔" اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارا بیان نامکمل اور گمراہی کا سبب ہے اور آخر میں کہتے ہیں "اب حق بات لے آئے ہو"۔ یہ سب باتیں ان کی جہالت، نادانی، خود خواہی اور ہٹ دھرمی پر دلالت کرتی ہیں۔ علاوہ ازیں یہ داستان ہمیں درس دیتی ہے کہ ہمیں سخت گیر نہیں ہونا چاہیئے تا کہ خدا بھی ہم پر سختی نہ کرے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ہے کہ شاید گائے کو ذبح کرنے کے لئے اس لیے منتخب کیا گیا ہو کہ بچی کھچی گاؤ پرستی اور بت پرستی کی فکر ان کے دماغ سے نکل جائے۔
باپ سے نیکی
اس موقع پر مفسرین بیان کرتے ہیں کہ اس قسم کی گائے اس علاقے میں ایک ہی تھی۔ بنی اسرائیل نے اسے بہت مہنگے داموں خریدا۔ کہتے ہیں اس گائے کا مالک ایک انتہائی نیک آدمی تھا جو اپنے باپ کا بہت احترام کرتا تھا۔ ایک دن جب اس کا باپ سویا ہوا تھا، اسے ایک نہایت نفع بخش معاملہ پیش آیا، صندوق کی چابی اس کے باپ کے پاس تھی لیکن اس خیال سے کہ تکلیف اور بے آرامی نہ ہو، اس نے اسے بیدار نہ کیا لہذا اس معاملے سے صرف نظر کر لیا۔ بعض مفسرین کے نزدیک بیچنے والا ایک جنس ستر ہزار میں اس شرط پر بیچنے کو تیار تھا کہ قیمت فورا ادا کی جائے اور قیمت کی ادائیگی اس بات پر موقوف تھی کہ خریدنے کے لئے اپنے باپ کو بیدار کر کے صندوقوں کی چابیاں اس سے حاصل کرے۔وہ ستر ہزار میں خریدنے کو تیار تھا لیکن کہتا تھا کہ قیمت باپ کے بیدار ہونے پر ہی دوں گا۔ خلاصہ یہ کہ سودا نہ ہو سکا۔ خداوند عالم نے اس نقصان اور کمی کو اس طرح پورا کیا کہ اس جوان کے لئے گائے کی فروخت کا یہ نفع بخش موقع فراہم کیا۔ بعض مفسرین یہ کہتے ہیں کہ باپ بیدار ہوا تو اسے واقعے سے آگاہی ہوئی۔ اس نیکی کی وجہ سے اس نے وہ گائے اپنے بیٹے کو بخش دی۔ اس طرح اسے وہ بے پناہ نفع میسر آیا۔(بحوالہ: تفسیر ابن کثیر، ج اول)۔ رسول اسلامﷺ اس موقع پر فرماتے ہیں: انظرو الی البر ما بلغ باھلہ۔ نیکی کو دیکھو وہ نیکوکار سے کیا کرتی ہے۔(بحوالہ: تفسیر الثقلین، ج اول، ص ۸۸)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 77 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 77 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1بعض مفسرین مندرجہ بالا آخری دو آیات کے شان ِ نزول کے سلسلے میں امام باقر علیہ السلام سے اس طرح نقل کرتے ہیں: یہودیوں کے ایک گروہ کے لوگ جو حقیقت کے دشمن نہ تھے، جب مسلمانوں سے ملاقات کرتے تو جو تورات میں پیغمبر اسلام ﷺ کی صفات کے متعلق آیا تھا انہیں سنا دیتے تھے۔ یہودیوں کے بڑے لوگ اس سے آگاہ ہوئے اور انہیں منع کیا اور کہا کہ محمد کی وہ صفات جو تورات میں آئی ہیں، تم انہیں ان کے سامنے بیان نہ کرو کہ کہیں خدا کے سامنے ان کے پاس تمہارے خلاف کوئی دلیل نہ بن جائیں۔ یہ آیات نازل ہوئیں اور انہیں جواب دیا گیا۔
بےجا توقع
جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں ان آیات میں خدا بنی اسرائیل کا واقعہ چھوڑ کر مسلمانوں سے خطاب کر رہا ہے اور ایک سبق آموز نتیجہ پیش کرتا ہے۔ کہتا ہے: تم کس طرح یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ قوم تم پر (یعنی تمہارے دین کے احکامات پر) ایمان لے آئے گی حالانکہ ان میں سے ایک گروہ خدا کی باتیں سننے، سمجھنے اور ادراک کرنے کے بعد ان میں تحریف کر دیتا ہے۔ جب کہ ان لوگوں کو علم و اطلاع بھی ہے (افتطمعون ان یومنوا لکم وقد کان فریق منھم یسمعون کلٰم اللہ ثم یحرفونہ من بعد ما عقلوہ ھم یعلمون)۔ اگر تم دیکھتے ہو کہ یہ قرآن کے زندہ بیانات اور پیغمبر اسلام ﷺ کے اعجاز کے سامنے سرنگوں نہیں ہوتے تو اسے اہمیت نہ دو کیونکہ یہ انہی لوگوں کی اولاد ہیں جو قوم کے منتخب افراد کی حیثیت سے موسیٰ بن عمران کے ساتھ کوہ طور پر گئے تھے، انہوں نے خدا کی باتیں سنی تھیں اور اس کے احکام کو سمجھا تھا لیکن ان میں سے بعض جب لوٹ کر آئے تو کلام ِ خدا میں تحریف کر دی۔ "قد کان فریق منھم" سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سب تحریف کرنے والے نہ تھے۔ پھر بھی یہ اس بات کے لئے کافی تعداد تھی کہ پیغمبر اسلام ﷺ کے ہم عصر یہودیوں کے عناد و دشمنی پر تعجب نہ کیا جائے۔ اسباب النزول میں ہے کہ یہودیوں کا ایک گروہ جب کوہ طور سے واپس آیا تو لوگوں سے کہنے لگا کہ ہم نے خود سنا ہے کہ خدا نے موسیٰ کو یہ حکم دیا ہے کہ ہمارے فرامین کو جتنا بجا لا سکتے ہو انجام دو اور جنہیں بجا نہیں لا سکتے انہیں چھوڑ دو۔ بہرحال ابتداء میں یہ توقع بجا تھی کہ قوم یہود دوسرے سے پہلے اسلام کی آواز پر لبیک کہے گی کیونکہ (مشرکین کے برخلاف) وہ لوگ اہل کتاب تھے۔ علاوہ ازیں انہوں نے رسول اسلام ﷺ کی صفات بھی اپنی کتاب میں پڑھی تھیں لیکن قرآن کہتا ہے ان کے ماضی پر نظر کرتے ہوئے ان سے توقع کا محل نہیں کیونکہ بعض اوقات کسی گروہ کی صفات اور مزاج کی کجروی اس بات کا سبب بنتی ہے کہ حق سے انتہائی قرب کے باوجود اس سے دور رہے۔ بعد کی آیت اس حیلہ گر اور منافق گروہ کے متعلق ایک اور حقیقت کی نقاب کشائی کرتی ہے۔ قرآن کہتا ہے: ان میں سے پاک دل لوگ جب مومنین سے ملاقات کرتے ہیں تو اظہار ایمان کرتے ہیں (اور پیغمبر ﷺ کی وہ صفات جو ان کی کتب میں موجود ہیں، ان کی خبر دیتے ہیں) (و اذا لقوا لذین اٰمنوا قالوا اٰمنا) لیکن علیحدگی اور خلوت میں ان سے ایک گروہ کہتا ہے تم ان مطالب کو جو خدا نے تورات میں تمہارے لئے بیان کئے ہیں، مسلمانوں کو کیوں بتاتے ہو (و اذا خلا بعضھم الی بعض قالوا اتحدثونھم بما فتح اللہ علیکم)کہ کہیں قیامت کے دن خدا کے سامنے تمہارے خلاف ان سے استدلال کریں۔ کیا تم یہ سمجھتے نہیں (لیحاجوکم بہ عند ربکم ط افلا تعقلون)۔ اس آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ آیت کی ابتداء یہودی منافقین کے سلسلے میں گفتگو کر رہی ہو، جو مسلمانوں کے سامنے ایمان کا دم بھرتے ہیں اور تنہائی میں انکا ر کر دیتے ہیں یہاں تک کہ یہودیوں میں سے پاک دل لوگوں کو بھی سرزنش کرتے ہیں کہ تم نے کتب مقدس کے اسرار سے مسلمانوں کو کیوں آگاہ کیا ہے۔ بہرحال یہ پہلی آیت کے بیان کی تائید کرتی ہے یعنی جس گروہ کے ذہنوں پر ایسے خیالات کا قبضہ ہے ان سے ایمان کی اتنی توقع نہ رکھا کرو۔ "فتح اللہ علیکم" سے مراد ممکن ہے خدا کا وہ فرمان و حکم ہو جو بنی اسرائیل کے پاس تھا اوریہ بھی ممکن ہے کہ یہ ان کے لئے نئی شریعت سے متعلق خبروں کے دروازں کے کھلنے کی طرف اشارہ ہو۔ اس آیت سے ضمنی طور پر یہ بھی بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ اس منافق گروہ کا اللہ کے بارے میں ایمان اس قدر کمزور تھا کہ وہ اسے ایک مادی انسان کی طرح سمجھتے تھے اور تصور کرتے تھے کہ اگر کوئی حقیقت مسلمانوں سے چھپا لیں تو وہ خدا سے بھی چھپی رہے گی لہذا بعد کی آیت صراحت سے کہتی ہے: کیا یہ نہیں جانتے کہ خدا ان کے اندرونی اور بیرونی اسرار سے آگاہ ہے (ولا یعلمون ان اللہ یعلم مایسرون وما یعلنون)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 79 کے تحت ملاحظہ کریں۔
عوام کو لوٹنے کی یہودی سازش
Tafsīr Nemūna · Vol. 1گذشتہ آیات کے بعد محل بحث آیات یہودیوں کو واضح گروہوں میں تقسیم کرتی ہیں۔ عوام اور حیلہ ساز علماء (البتہ ان میں سے کچھ علماء ایسے بھی تھے جو ایمان لے آئے اور انہوں نے حق کو قبول کر لیا اور مسلمانوں کی صفوں میں داخل ہو گئے)۔ قرآن کہتا ہے: ان میں سے ایک گروہ میں ایسے افراد ہیں جو علم نہیں رکھتے اور کتاب خدا میں سے چند ایک خیالات اور آرزوئیں اخذ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں جانتے اور انہوں نے صرف اپنے ظن و گمان سے وابستگی اختیار کر لی ہے (و منھم امیون لا یعلمون الکتاب الا امانی و ان ھم الا یظنون)۔ امیون "امی" کی جمع ہے۔ یہاں یہ لفظ ان پڑھ اور لاعلم کے معنی میں استعمال ہوا یعنی جس حالت میں شکم مادر سے پیدا ہوا، اسی طرح رہ گیا اور کسی استاد کے مدرسے کو نہیں دیکھا۔ ہو سکتا ہے یہ لفظ اس طرف اشارہ کر رہا ہو کہ کچھ مائیں جاہلانہ محبت اور الفت کی وجہ سے اپنی اولاد کو جدا نہیں کرتی تھیں اور اسے مدرسہ جانے کی اجازت نہیں دیتی تھیں لہذا وہ لوگ بے علم رہ جاتے تھے۔["امی" کے معنی جلد ۴ (تفسیر نمونہ) میں سورہ اعراف آیہ ۱۵۷ کے ذیل میں تفصیل کے ساتھ زیر بحث آئے ہیں۔] امانی "امنیہ" کی جمع ہے جس کا معنی "آرزو" ہے۔ ممکن ہے یہاں ان موہوم خیالات اور امتیازات کی طرف اشارہ ہو۔ یہودی اپنے بارے میں جن کے قائل تھے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ کہا کرتے تھے ہم خدا کی اولاد اور اس کے خاص دوست ہیں۔ نحن ابنٰؤا اللہ و احباؤہ۔ (مائدہ ۔ ۱۸ ( اور یہ بھی کہ کہا کرتے تھے کہ چند دن کے سوا جہنم کی آگ ہم تک ہرگز نہیں پہنچے گی (بعد کی آیات میں یہودیوں کی اس گفتگو پر بحث ہوگی)۔ یہ بھی احتمال ہے کہ "امانی" سے مقصود وہ تحریف شدہ آ یات ہوں جو علماء یہود عوام کے ہاتھوں میں دے دیتے تھے اور شاید جملہ "لا یعلمون الکتاب" اس مفہوم کے ساتھ زیادہ مناسب ہے۔ بہرحال اس آیت کا آخری حصہ"ان ھم الا یظنون"، اس بات کی دلیل ہے کہ اساس و اصول دین اور مکتب ِ وحی کو پہچاننے کے لئے ظن و گمان کی پیروی صحیح کام نہیں بلکہ لائق سرزنش ہے چاہیئے کہ ہر شخص اس سلسلے میں تحقیق کے ساتھ کافی قدم اٹھائے، علمائے یہود کا ایک اور گروہ تھا جو اپنے فائدے کے لئے حقائق میں تحریف کر دیتا تھا جیسا کہ قرآن بعد کی آیت میں کہتا ہے: افسوس ہے ان لوگوں پر جو کچھ مطالب اپنے ہاتھ سے لکھ دیتے ہیں پھر کہتے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہیں (فویل للذین یکتبون الکتاب بایدیھم ثم یقولون ھذا من عند اللہ) اور ان کی غرض یہ ہے کہ اس کا م سے تھوڑی سی قیمت وصول کریں (لیشتروا بہ ثمنا قلیلا)۔ افسوس ہے ان پر اس سے جو اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں (فویل لھم مما کتبت ایدیھم) اور افسوس ہے ان پر اس سے جسے وہ خیانتوں کے ذریعہ کماتے ہیں (وویل لھم مما یکسبون)۔ اس آیت کے آخر ی الفاظ سے واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے وسیلہ بھی ناپاک اختیار کیا اور اس سے نتیجہ بھی غلط حاصل کرتے تھے۔ بہ الفاظ دیگر جب کام حرام ہے تو کمائی حرام ہوگی: ان اللہ اذا حرم شیئا حرم ثمنہ۔ یقینا جب اللہ نے کوئی چیز حرام قرار دی ہے تو اس کا مول بھی حرام کیا ہے۔ بعض مفسرین نے زیر بحث آیت کے ضمن میں حضرت صادق علیہ اللسلام سے ایک حدیث نقل کی ہے جو قابل غور نکات کی حامل ہے۔ حدیث اس طرح ہے: ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: یہودی عوام جب اپنے علماء کے بغیر اپنی آسمانی کتاب کے متعلق کوئی اطلاع نہ رکھتے تھے پھر علماء کی تقلید اور ان کے قول کو قبول کرنے پر خدا ان کی مذمت کیوں کرتا ہے اور کیا یہودی عوام اور ہمارے عوام میں جو اپنے علماء کی تقلید کرتے ہیں، کوئی فرق ہے؟ امام نے فرمایا: ہمارے عوام اور یہود ی عوام کے درمیان ایک لحاظ سے فرق ہے اور ایک لحاظ سے مساوات۔ جس لحاظ سے دونوں مساوی ہیں، اس جہت سے خدا نے ہمارے عوام کی بھی اسی طرح مذمت کی ہے۔ رہی وہ جہت جس میں وہ ان سے مختلف ہیں وہ یہ کہ یہودی عوام اپنے علماء کی حالت سے آشنا تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ان کے علماء جان بوجھ کر جھوٹ بولتے ہیں، حرام اور رشوت کھاتے ہیں اور احکام الہٰی میں تغیر و تبدل کرتے ہیں۔ اپنی فطرت سے وہ یہ حقیقت جانتے تھے کہ ایسے لوگ فاسق ہیں اور یہ جائز نہیں کہ خدا اور اس کے احکام کے بارے میں ان کی باتیں قبول کی جائیں اور یہ بھی جانتے تھے کہ انبیاء و مرسلین کے بارے میں ان کی شہادت قبول کرنا مناسب نہیں۔ اسی بناء پر خدا نے ان کی مذمت کی ہے۔ اسی طرح اگر ہمارے عوام بھی اپنے علماء سے ظاہر بہ ظاہر فسق و فجور اور سخت تعصب دیکھیں اور انہیں دنیا و مال حرام پر حریص ہوتا دیکھیں، پھر بھی جو شخص ان کی پیروی کرے وہ یہودیوں کی طرح ہے۔ خداوند عالم نے فاسق علماء کی پیروی کی وجہ سے ان کی مذمت کی ہے۔ فاما من کان من الفقھا صائناَ لنفسہ حافظا لدینہ مخالفا علی ھواہ مطیعاَ لامر مولاہ فللعوام ان یقلدوہ۔ باقی رہے وہ علماء و فقہاء جو اپنی روح کی پاکیزگی کی حفاظت کریں، اپنے دین کی نگہداری کریں، ہوا وہوس کے مخالف ہوں اور اپنے مولا و آقا کے فرمان کے مطیع ہوں، عوام کو چاہیئے کہ ان کی تقلید کریں۔ واضح ہے کہ حدیث، احکام میں اندھی تقلید کی طرف اشارہ نہیں کرتی ہے بلکہ اس کا مقصود یہ ہے کہ عوام علماء کی رہنمائی میں علم و یقین کے حصول کے لئے پیروی کریں کیونکہ یہ حدیث پیغمبر ﷺ کی پہچان کے ضمن میں ہے جو مسلما اصول دین میں سے ہے، اس میں اندھی تقلید جائز نہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔
بلند پردازی اور کھوکھلے دعوے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1اس مقام پر قرآن یہودیوں کے بے بنیاد دعووں میں سے ایک کی طرف اشارہ کرتا ہے جس نے انہیں مغرور کر رکھا تھا اور جو ان کی کجرویوں کا سرچشمہ تھا۔ قرآن نے یہاں اس کا جواب دیا ہے۔ پہلے فرماتا ہے: وہ کہتے ہیں جہنم کی آگ چند روز کے سوا ہمیں ہرگز نہیں چھوئے گی (وقالو ا لن تمسنا النار الا ایاما معدودة)۔ کہیے: کیا خدا نے تم سے کوئی عہد و پیمان کر رکھا ہے کہ خدا جس کی ہرگز خلاف ورزی نہیں کرے گا یا پھر بغیر جانے کسی چیز کی خدا کی طرف نسبت دیتے ہو (قل اتخذتم عند اللہ عھدا فلن یخلف اللہ عھدہ ام تقولون علی اللہ مالا تعلمون)۔ ملت یہود کو اپنے بارے میں نسلی برتری کا زعم تھا اور یہ قوم سمجھتی تھی کہ جو وہ ہے وہی ہے۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ ان میں سے جو گنہگار ہیں انہیں فقط چند دن عذاب ہوگا، اس کے بعد انہیں ہمیشہ کی جنت ملے گی۔ یہ ان کی خود خواہی و خود پرستی کی واضح دلیل ہے۔ یہ امتیاز طلبی کسی بھی منطق کی رو سے روا نہیں اور بارگاہ الہٰی میں اعمال پر جزا و سزا کے سلسلے میں تمام انسانوں میں کوئی فرق نہیں۔ یہودیوں نے کون سا کارنامہ انجام دیا تھا جس کی بناء پر ان کے لئے جزا وسزا کے کلی قانون میں استثناء ہو جائے۔ بہرحال مندرجہ بالا آیت ایک منطقی بیان کے ذریعہ اس غلط خیال کو باطل کر دیتی ہے۔ فرمایا گیا ہے: تمہاری یہ گفتگو دو صورتوں میں سے ایک کی مظہر ہے یا تو اس سلسلے میں خدا کی طرف سے کوئی خاص عہد و پیمان ہوا ہے جب کہ ایسا پیمان تم سے ہوا نہیں یا پھر تم جھوٹ بولتے ہو اور خدا پر تہمت لگاتے ہو۔ بعد کی آیت ایک کلی و عمومی قانون بیان کرتی ہے جو ہر لحاظ سے عقلی و منطقی بھی ہے۔ فرمایا گیا ہے: ہاں وہ لوگ جو کسب گناہ کریں اور آثار گناہ ان کے سارے وجود کو ڈھانپ لیں وہ اہل دوزخ ہیں اور وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے (بلی من کسب سیئة و احاطت بہ خطیئتہ فا ٰوٰلئک اصحٰب النار ھم فیھا خٰلدون)۔ یہ ایک کلی قانون ہے، کسی قوم و ملت اور کسی گروہ و جمعیت کے گنہگاروں میں اور دیگر انسانوں میں موجود گنہگاروں میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں۔ رہے پرہیزگار مومنین تو ان کے بارے میں بھی ایک کلی قانون ہے جو سب کے لئے یکساں ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے عمل صالح انجام دیا ہے، وہ اہل بہشت ہیں اور اہل بہشت ہمیشہ وہیں رہیں گے (و الذین اٰمنو ا وعملوا الصالحات اوٰلئک اصحٰب الجنة ھم فیھا خٰلدون)۔
(۱) غلط کمائی
کسب اور اکتساب کا معنی ہے جان بوجھ کر اپنے اختیار سے کوئی چیز حاصل کرنا۔ اس لحاظ سے"بلی من کسب سیئة " ایسے اشخاص کی طرف اشارہ ہے جو علم، ارادہ اور اختیار سے گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں اور "کسب" شاید اس لئے ہے کہ سرسری نظر میں گنہگار گناہ کو اپنے نفع میں اور اس کے ترک کرنے کو اپنے نقصان میں سمجھتا ہے۔ ایسے لوگوں ہی کے بارے میں چند آیات کے بعد اشارہ ہوگا جہاں فرمایا گیا ہے: انہوں نے آخرت کو اس دنیا کی زندگی کے لئے بیچ ڈالا اور ان کی سزا میں کسی قسم کی تخفیف نہیں ہے۔
آثار گناہ کے احاطہ کرنے سے کیا مراد ہے
لفظ خطیئۃ بہت سے مواقع پر ان گناہوں کو کہا جاتا ہے جو جان بوجھ کر سرزد نہ ہوئے ہوں لیکن محل بحث آیت میں گناہ کبیرہ کے معنی میں ہے(بحوالہ: تفسیر کبیر از فخر الدین رازی، آیہ مذکورہ کے ذیل میں)۔ یا اس سے مراد ہے آثار گناہ جو انسان کے دل و جان پر مسلط ہو جاتے ہیں(بحوالہ: تفسیر المیزان، آیہ مذکورہ کے ذیل میں)۔ بہرحال احاطہ گناہ کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اس قدر گناہوں میں ڈوب جائے کہ اپنے لئے ایک ایسا قید خانہ بنا لے جس کے سب سوراخ بند ہوں۔ اس کی توضیح یوں ہے کہ گناہ چھوٹا ہو یا بڑا، ابتدا ء میں ایک عمل ہوتا ہے۔ پھر وہ ایک حالت و کیفیت میں بدل جاتا ہے، اس کا دوام و تسلسل ملکہ و عادت کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور جب وہ شدید ترین ہو جاتا ہے تو انسان کا وجود گناہ کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ یہ وہ حالت ہے جب کسی قسم کا پند و نصیحت، موعظہ اور رہنماؤں کی رہنمائی اس کے وجود پر اثر انداز نہیں ہوتی اور حقیقت میں اپنے ہاتھوں اپنی یہ حالت بناتا ہے۔ ایسے اشخاص ان کیڑوں کی مانند ہیں جو اپنے گرد جال تن لیتے ہیں، جو انہیں قیدی بنا کر بالآخر ان کا گلا گھونٹ دیتا ہے۔ واضح ہے کہ ایسے لوگوں کا انجام ہمیشہ جہنم میں رہنے کے علاوہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ کچھ آیات ہیں جن کے مطابق خدا صرف مشرکین کو نہیں بخشے گا لیکن غیر مشرک قابل بخشش ہیں مثلا: ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ و یغفر ما دون ذٰلک لمن یشاٰء۔ [نساء۔۴۸ ] ایسی آیا ت اور زیر بحث آیات جن میں ہمیشہ جہنم میں رہنے کا تذکرہ ہے اگر ان دونوں طرح کی آیات کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ اسطرح کے گنہگار آخر کار گوہر ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور وہ مشرک و بے ایمان ہو کر دنیا سے جاتے ہیں۔
نسل پرستی ک ممانعت
زیر بحث آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نسل پرستی کی روح جو آج کی دنیا میں بھی بہت سی بدبختیوں کا سرچشمہ ہے، اس زمانے میں یہودیوں میں موجود تھی اور وہ اپنے لئے بہت سے خیالی امتیازات کے قائل تھے۔ کتنے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کئی سال گزرنے کے باوجود ابھی تک یہ نفسیاتی بیماری ان میں موجود ہے اور در حقیقت غاصب اسرائیلی حکومت کی پیدائش کا سبب بھی یہی نسل پرستی ہے۔ یہودی نہ صرف دنیا میں اپنی برتری کے قائل ہیں بلکہ ان کا اعتقاد ہے کہ یہ نسل امتیاز آخرت میں بھی ان کی مددکرے گا اور ان کے گنہگار لوگ دوسری قوموں کے گنہگاروں کے برعکس صرف تھوڑی سی مدت کے لئے خفیف سی سزا پائیں گے۔ انہی غلط خیالات نے انہیں طرح طرح کے جرائم، بدبختیوں اور سیہ کاریوں میں مبتلا کیے رکھا ہے۔( سورہ نساء آیہ ۱۳۲ کے ذیل میں بھی چھوٹے امتیازات کی بحث تفسیر نمونہ جلد ۲ میں آئے گی)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 86 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 86 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 86 کے تحت ملاحظہ کریں۔
عہد و پیمان کا ذکر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1گذشتہ آیات میں بنی اسرائیل کے عہد و پیمان کا ذکر تو کہیں آیاہے لیکن اس بارے میں تفصیل بیان نہیں ہوئی لیکن محل بحث آیت میں اس عہد و پیمان کی شقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر یا تمام کی تمام ان امور میں سے ہیں جنہیں ادیان الہی کے ثابت شدہ احکام کا نام دینا چاہئے کیونکہ تمام آسمانی ادیان میں یہ پیمان اور احکام موجود ہیں۔ ان آیات میں قرآن یہودیوں کو شدید سرزنش کر رہا ہے کہ تم نے اس پیمان کو کیوں توڑ دیا۔ قرآن انہیں یہ پیمان توڑنے کی پاداش میں اس جہان کی رسوائی اور اس جہان کے شدید عذاب سے ڈرا رہا ہے۔ یہ پیمان جس کے بنی اسرائیل خود شاہد تھے اور اس کا اقرار کرتے تھے، ان امور پر مشتمل ہے۔ ۱۔ اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدائے یکتا کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرو گے اور کسی بت کے سامنے سر تعظیم نہیں جھکاؤ گے (و اذ اخذنا میثاق بنی اسرائیل لا تعبدون الا اللہ)۔ ۲۔ ماں باپ سے نیکی کرو گے (وبالوالدین احسانا)۔ ۳۔ اپنے رشتہ داروں یتیموں اور مدد طلب کرنے والے محتاجوں سے بھی نیکی کرو گے (و ذی القربی و الیتمی و المساکین)۔ ۴۔ اجتماعی طور پر لوگوں کے ساتھ تمہارا سلوک اچھا ہوگا اور لوگوں سے اچھے پیرائے میں بات کرو گے (و قولوا للناس حسنا)۔ ۵۔ نماز قائم کرو گے اور ہر حالت میں خدا کی طرف متوجہ رہو گے (و اقیموا الصلاة)۔ ۶۔ زکوة ادا کرنے اور محروم لوگوں کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی نہیں کرو گے(واتوالزکوة)۔ لیکن تم میں سے مختصر سے گروہ کے علاوہ سب نے اپنے عہد سے منہ موڑ لیا اور اپنے پیمان کو ایفا کرنے سے روگردانی کی (ثم تولیتم الا قلیلا منکم و انتم معرضون)۔ ۷۔ یاد کرو اس وقت کو جب تم سے ہم نے عہد لیا کہ ایک دوسرے کاخون نہیں بہاؤ گے (و اخذنا میثاقکم اد تسفکون دماء کم)۔ ۸۔ ایک دوسرے کو اپنی بستیوں سے باہر نہیں نکالو گے (و لا تخرجون انفسکم من دیارکم)۔ ۹۔ اگر کوئی شخص تم میں سے جنگ کے دوران قید ہو جائے تو سب اس کی آزادی کے لئے مدد کرو گے، فدیہ دو گے اور اسے آزاد کراؤ گے (پیمان کا یہ مفہوم "افتومنون ببعض الکتاب و تکفرون ببعض" سے حاصل کیا گیا ہے جو بعد میں آئے گا)۔ پھر تم نے ان سب شرائط کا اقرار کیا اور اس پیمان پر خود گواہ ہوئے (ثم اقررتم و انتم تشہدون)۔ لیکن تم نے ان میں سے بہت ہی شرائط کو پاؤں تلے روند ڈالا۔ تم وہی تھے جو ایک دوسرے کو قتل کرتے تھے اور اپنے میں سے کچھ لوگوں کو ان کی زمین سے نکال دیتے تھے (ثم انتم ھولاء تقتلون انفسکم و تخرجون فریقا منکم من دیارھم)۔ جب کہ اس گناہ اور تجاوز میں تم ایک دوسرے کی مدد بھی کرتے تھے )تظاھرون علیھم بالاثم والعدوان( اور یہ سب کچھ اس عہد و پیمان کے خلاف تھا جو تم خدا سے باندھ چکے تھے۔ اس دوارن میں جب ان میں سے بعض قیدیوں کی صورت میں تمہارے پاس آتے تو تم فدیہ دیتے اور انہیں آزاد کراتے تھے )وان یاتوکم اسری تفادوھم( حالانکہ انہیں پہلے گھر ہی سے نکالنا تم پر حرام تھا )وھو محرم علیکم اخراجھم( اور تعجب کی بات یہ کہ فدیہ دینے اور قیدیوں کو آزاد کرانے میں تم تورات کے حکم اور پیمان الہی سے سند حاصل کرتے تھے۔ کیا کتاب الہی کے بعض احکامات پر ایمان لاتے ہو اور بعض سے کفر اختیار کرتے ہو (اَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْکِتَابِ وَتَکْفُرُونَ بِبَعْضٍ)۔یہ جو تم احکام الہی میں تبعیض و تفریق روا سمجھے ہو اس کی جزا اس جہان کی رسوائی کے علاوہ کچھ نہیں (فَمَا جَزَاءُ مَنْ یَفْعَلُ ذَلِکَ مِنْکُمْ إِلاَّ خِزْیٌ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا) [جملہ "ما جزا" میں لفظ "ما" ممکن ہے نافیہ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ استفہامیہ ہو لیکن نتیجے کے طور پر ہر دو طرح سے کوئی فرق نہیں۔] اور قیامت کے دن ایسے لوگ سخت ترین عذاب کی طرف پلٹیں گے (یوم القیامة یردون الی اشد العذاب) اور خدا تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے (وَمَا اللهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ)۔ بلکہ اس نے تمہارے اعمال کی کلیات و جزئیات کو بڑی باریکی سے شمار کیا ہے اور اس کے مطابق تمہیں بدلا دے گا۔ محل بحث آیت کے آخر میں ان کے ان اعمال کا اصلی سبب بیان کیاہے جو خلاف حقیقت ہیں۔ فرمایا ہے: یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خریدی ہے (اولئک الذین اشتروا الحیوہ الدنیا بالاخرہ)۔ اسی بناء پر ان کے عذاب میں تخفیف نہیں ہوگی اور کوئی ان کی مدد کے لئے کھڑا نہیں ہوگا(فَلاَیُخَفَّفُ عَنْہُمْ الْعَذَابُ وَلاَہُمْ یُنصَرُونَ)۔
آیات کا تاریخی پر منظر
جیسا کہ مفسرین نے نقل کیاہے بنی قریظہ اور بنی نضیر جو یہودیوں کے دو گروہ تھے۔[قریظہ و نضیر، اوس و خزرج کی طرح دو بھائی تھے جن میں سے ہر ایک کی نسل سے ایک گروہ پیدا ہوا] ان کی آپس میں قریبی رشتہ داری تھی تاہم دنیاوی منافع کی خاطر ایک دوسرے کی مخالفت پر کمر بستہ ہو جاتے تھے۔ بنی نضیر، قبیلہ خزرج سے مل گئے تھے جو مدینہ کے مشرکین کا قبیلہ تھا اور بنو قریظہ اوس کے ساتھ مل گئے تھے۔ ان دو قبیلوں کے درمیان جو جنگیں ہوتی تھیں، ہر گروہ اپنے ہم پیمان قبیلے کی مدد کرتاتھا اور اس طرح دوسرے گروہ کے خلاف لڑتا اور جب جنگ کی آگ سرد پڑ جاتی تو تمام یہودی جمع ہو جاتے اور ایک دوسرے سے اتحاد کرتے تا کہ فدیہ ادا کر کے اپنے قیدیوں کو آزاد کرا لیں۔ اس عمل میں وہ تورات کے حکم اور قانون کو سند مانتے حالانکہ اوس و خزرج دونوں مشرک تھے۔ اولا ان کی مدد کرنا ہی جائز نہیں تھا اور دوسرا یہ کہ وہی قانون جو فتنہ کا حکم دیتاہے، قتل کرنے سے بھی روکتا ہے۔[تفسیر مجمع البیان، تفسیر المنار اور تفسیر فی ظلال میں زیر بحث آیات کے پس منظر میں یہی تاریخ بیان کی ہے۔] یہودی دیگر ہٹ دھرم اور نادان قوموں کی طرح ایسے بہت سے اعمال انجام دیتے تھے جو ایک دوسرے کی ضد تھے۔
احکام الہی میں تبعیض، اس کا سبب اور نتیجہ
ہم کہہ چکے ہیں کہ قرآن مجید یہودیوں کی ایک دوسرے کے خلاف اعمال سر انجام دینے اور احکام الہی میں تبعیض و تفریق کرنے کی بناء پر سرزشن کر چکا ہے اور انہیں آخرت کے سخت عذاب سے ڈرایا گیا ہے، خصوصا یہ کہ وہ چھوٹے چھوٹے احکام پر تو عمل کرتے ہیں لیکن اہم ترین احکام ( مثلا ایک دوسرے کا خون بہانے کی حرمت اور اپنے ہم مذہب لوگوں کو گھروں سے بے گھر کرنے کے حکم ) کی مخالفت کرتے تھے۔ دراصل وہ فقط ایسے احکام کی اہمیت کے قائل تھے جو ان کی دنیاوی زندگی کےلئے نفع بخش تھے۔ جہاں ان کے منافع کا تقاضا ہوتا وہ ایک دوسرے کا خون تک بہا دیتے اور جب سب کےلئے خسارے اور نقصان کا احتمال ہوتا تو اپنی آئندہ احتمال قید کے پیش نظر قیدیوں کو فدیہ ادا کر کے آزاد کرا لینے میں بھی مضائقہ نہ سمجھتے۔ اصولی طور پر ایسے قوانین پر انسان کا عمل جو اس کے نفع میں ہیں، فرمان خدا کی اطاعت قرار نہیں پا سکتا کیونکہ اس عمل کا سبب خدا کا فرمان نہیں تھا بلکہ شخصی منافع کی حفاظت اس کا مقصود تھا۔ اطاعت گذار، عاصیی و گنہ گار سے اس وقت ممتاز ہوتا ہے جب قانون کے مطابق عمل شخصی منافع کے خلاف ہو، مگر عوام کے نفع میں ہو۔ جو لوگ ایسے قوانین کی پیروی کرتے ہیں وہی صحیح لوگ ہیں۔ اور جو تبعیض کرتے ہیں وہ واقعی سرکش ہیں۔ لہذا اجرائے قوانین میں تبعیض (بعض پر عمل کرنا اور بعض پر نہ کرنا) بغاوت و سرکشی کی روح کی غماز ہے اور بعض اوقار ایمان نہ ہونے کی نشانی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایمان کا اثر وہاں ظآہر ہوتا ہے جہاں قانون کسی شخص کے شخصی منافع کے خلاف ہو؛ ورنہ ان احکام الہی پر عمل کرنا جو انسان کے منافع کی حفاظت کرتے ہیں قابل فخر ہے، نہ ایمان کی نشانی۔ لہذا مومنین اور منافقین کے درمیان ہمیشہ ایسے مواقع پر امتیاز کیا جاتا ہے۔ مومنین خدا کے تمام قوانین کے سامنے یکساں طور پر سر تسلیم خم کرتے تھے لیکن منافقین تبعیض کے طرف دار ہوتے ہیں اور احکام خڈا میں فرق کا یہ سبب ہے۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے ایسے عمل کا نتیجہ رسوائی، ذلت اور بربادی ہے۔ وہ قوم جو مادی پہلو وہ بھی خاص شخصی فائدے کے حصول کے علاوہ اپنی فکر کا کوئی دریچہ کھلا نہیں رکھتی وہ جلد یا دیر سے کسی طاقت ور قوم کے چنگل میں گرفتار ہو جائے گی، عزت کی بلندی سے ذلت و پستی کے گڑھے میں جا گرے گی اور انسانای معاشروں میں رسوا ہو جائے گی۔ یہ تو ہے دنیاوی نظر سے۔ رہا آخرت کی نظڑ سے تو جس طرح قرآن کہتا ہے ایسے تبعیض گروں کےلئے سخت ترین سزا منتظر کھڑی ہے۔ ہم دوبارہ تاکید کرتے ہیں کہ یہ قانون بنی اسرائیل کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ تمام لوگوں کےلئے اور آج ہم مسلمانوں کےلئے بھی اسی طرح موثر ہے۔
قوموں کی زندگی کے لئے بنیادی احکام
یہ آیات اگرچہ بنی اسرائیل کے بارے میں نازل ہوئی ہیں تاہم ایسے کلی قوانین کی حامل ہیں جو تمام دنیا کی قوموں کےلئے ہیں۔ قوموں کی زندگی بقا، کامیابی اور شکست کے عوامل ان سے ظاہر ہوتے ہیں۔ ہر ملت کی بقا اور سربلندی اس میں ہے کہ وہ اپنا سہارا خدا کو قرار دے جو سب سے بڑی طاقت و قوت ہے اور ہر حالت مِں اسے مدد لے یہ ایسی قدرت پر بھروسہ ہو گا جس کےلئے فنا و زوال کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ صرف اسی کے سامنے سر تسلیم خم کریں۔ اس طرح انہیں کسی کا خوف اور وحشت نہ ہو گی۔ ظآہر ہے ایسی قدرت و طاقت عظیم خالقِ کائنات کے علاوہ کوئی نہیں ہو سکتی۔ ایسا سہارا فقط خدا ہے ( لاتعبدون الا اللہ)۔ دوسری طرف قوموں کی بقاء اور ہمیشگی کے لئے افراد ملت کے مابین خصوصی وابستگی ضروری ہے۔ ایسا یوں ممکن ہے کہ ہر شخص اپنے ماں باپ سے جن سے زیادہ قریب کی وابستگی ہے، عزیز و اقارب سے جو وابستگی کے اعتبار سے ایک فاصلے پرہیں اور پھر معاشرے کے تمام افراد سے نیکی اور اچھائی کے ساتھ پیش آئے تا کہ سب ایک دوسرے کے دست و بازو بنیں (وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا وَذِی الْقُرْبَی وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنا)۔ قوم کے کمزور و ناتواں افراد کی تقویت روحانی اور مادی طور پر اس ہمیشگی میں کافی حصہ رکھتی ہے اور اس طرح دشمن کے لئے کوئی کمزور جگہ باقی نہیں رہتی اور قوم میں کوئی فرد مشکلات اور سختی میں نہیں رہتا کہ وہ ان مشکلات کے نتیجے میں اپنے آپ کو دشمن کے دامن میں جا گرائے (وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِین)۔ ہر قوم کے زندہ رہنے کے لئے مالی و اقتصادی بنیاد کا استحکام بھی بڑا حصہ ادا کرتاہے جو زکوة کی ادائیگی سے انجام پذیر ہوتاہے ) وَآتُوا الزَّکَاة)۔ ایک طرف کامیابی کے لئے یہ امور ہیں اور دوسری طرف قوموں کی شکست اور بربادی کا راز اس وابستگی کے ٹوٹ جانے اور کشمکشوں اور اندرونی جنگ شروع ہونے میں ہے۔ وہ قوم جس میں داخلی جنگ شروع ہو جائے اور تفرقہ بازی کا پتھر اس میں پھینک دیا جائے، اس کے افراد ایک دوسرے کی مدد کے بجائے ایک دوسرے کی جان کے دشمن بن جائیں، ایک دوسرے کے مال اور زمین پر قبضہ جمانے پر تل جائیں، ایک دوسرے کو قتل کرنے کےلئَ آستینیں الٹائے پھریں اور ہر گروہ دوسرے گروہ کو بے گھر کرنے اور اس کے مال پر تصرف کرنے کےلئے تیار کھڑا ہو تو وہ قوم جلد یا کچھ دیر میں نابود ہو جائے گی اور اس کا ملک ویران ہو جائے گا اور وہ بیچارگی و بدبختی کا شکار ہو جائے گی (لا تسفکون دمائکم و لاتخرجون انفسکم من دیارکم)۔ وہ قوم جو محروم و بے نوا افراد کی مدد اور دستگیری کی بجائے ان کا خون بہانے لگے، ان کی زمین اور مال پر تصرف کرے اور انہیں بے گھر کر دے وہ زندہ رہنے اور سربلند ہونے کی اہلیت نہیں رکھتی (فما جزاء من یفعل ذلک منکم الا خزی فی الحیٰوۃ الدنیا)۔ قوموں کی بربادی اور زوال کے عوامل میں قوانین و احکام میں تبعیض بھی شامل ہے۔ یعنی جس میں ان کا فائدہ ہو بجا لائیں اور جس میں نقصان ہو اسے بھول جائیں( افتومنون ببعض الکتاب و تکفرون ببعض)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 88 کے تحت ملاحظہ کریں۔
مرسلین کے اصلاحی پروگراموں کے مقابلے میں تکبر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ان آیات کے مخاطب تو بنی اسرائیل ہیں لیکن یہ اپنے مفاہیم اور معیار کے اعتبار سے عمومیت کی حامل ہیں اور دوسرے تمام لوگ بھی اس خطاب کا مصداق ہیں۔ قرآن کہتا ہے: ہم نے موسی کو آسمانی کتاب (تورات) دی (و لقد اتینا موسی الکتاب) اور پھر مسلسل یکے بعد دیگرے انبیاء بھیجے (وَقَفَّیْنَا مِنْ بَعْدِہِ بِالرُّسُل)۔ ان پیغمبروں میں داود، سلیمان، یوشع، زکریا اور یحیی شامل ہیں۔ اور عیسی بن مریم کو روشن دلائل دئیے اور روح القدس کے ذریعے اس کی تائید کی (وَآتَیْنَا عِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنَاتِ وَاَیَّدْنَاہُ بِرُوحِ الْقُدُسِ)۔ لیکن ان عظیم مرسلین نے ان اصلاحی پروگراموں کے باوجود جب بھی کوئی بات تمہارے خواہش نفس کے خلاف کہی تو تم نے ان کے مقابلے میں تکبر اختیار کیا اور تم نے ان کی فرمانبرداری نہیں کی (اَفَکُلَّمَا جَائَکُمْ رَسُولٌ بِمَا لاَتَہْوَی اٴَنفُسُکُمْ اسْتَکْبَرْتُم(۔ یہ ہوا و ہوس کی حاکمیت تم پراس قدر غالب تھی کہ ان مرسلین میں سے کچھ کی تم نے تکذیب کی اور کچھ کو تو قتل ہی کر دیا (ْ فَفَرِیقًا کَذَّبْتُمْ وَفَرِیقًا تَقْتُلُونَ)۔ اگر تمہاری طرف سے یہ تکذیب اور جھٹلانا موثر ثابت ہوتا اور تمہارا مقصد اسی سے پورا ہو جاتا تو تم اسی پر اکتفاء کر لیتے اور خدا کے پیغمبروں کے خون سے اپنے ہاتھ نہ رنگتے۔ گذشتہ آیات کی تفسیر میں "احکام الہی میں تبعیض۔۔۔۔" کے ذیل میں ہم یہ حقیقت بیان کر چکے ہیں کہ ایمان کا معیار اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے مواقع تو وہ ہیں جو میلان طبع اور خواہش نفس کے خلاف ہوں ورنہ تو ہر ہوا پرست اور بے ایمان بھی ان احکام کے سامنے ہم آہنگی اور تسلیم کا مظاہرہ کرتاہے جو اس کے میلان طبع اور فائدے کے مطابق ہیں۔ اس آیت سے ضمنا یہ بھی واضح ہوتاہے کہ رہبران الہی اپنی تبلیغ رسالت کی راہ میں ہوا پرستوں کی مخالفت کی پرواہ نہیں کرتے تھے اور ایسا ہی ہونا چاہیے کیونکہ صحیح رہبری اس کے علاوہ کچھ اور ہی نہیں۔ اگر پیغمبر چاہیں کہ خود کو لوگوں کی آزادانہ ہوا و ہوس کے مطابق چلائیں تو پھر ان کا کام کے پیچھے لگنا ہوا نہ کہ رہبری کرنا۔ دل کے اندھے، بے ایمان لوگ ان خدائی رہبروں کی دعوت جس کا مقصد سعادت بشر کے علاوہ کچھ نہ تھا، کا استقبال کرنے کہ بجائے اس قدر مزاحمت کرتے تھے کہ ان میں سے بعض کو قتل ہی کر دیتے تھے۔ بعد کی آیت کہتی ہے کہ یہ لوگ دعوت انبیاء یا آپ کی دعوت کے جواب میں تمسخر اور مذاق کے طور پر کہتے ہیں ہمارے دل تو غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں۔ ان باتوں میں سے کچھ سمجھ نہیں پاتے (وقالو قلوبنا غلف) ["غلف"، اغلف کی جمع ہے جس کا معنی ہے: غلاف دار۔] اور ہے ایسا ہی___ کیونکہ خدا نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کی ہے اور انہیں اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے )اسی بناء پر وہ کسی بات کو سمجھ نہیں پاتے) اور ان میں بہت تھوڑے ایمان لاتے ہیں ( بَلْ لَعَنَہُمْ اللهُ بِکُفْرِہِمْ فَقَلِیلًا مَا یُؤْمِنُون)۔ ہو سکتا ہے کہ اوپر والا جملہ ان یہودیوں کے بارے میں ہو جنہوں نے پیغمبران خدا کی تکذیب کی یا انہیں قتل کیا اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ ان یہودیوں کے متعلق ہو جو پیغمبر خدا کے ہم عصر تھے۔ آنحضرت کی گفتگو کے جواب میں وہ انتہائی ڈھٹائی اور عدم توجہی کا مظاہرہ کرتے تھے۔ تاہم یہ آیت ہر صورت میں اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ انسان ہوا و ہوس کی پیروی کے زیر اثر اس طرح راندہ درگاہ خدا ہو جاتا ہے اور اس کے دل پر ایسے پردے پڑ جاتے ہیں کہ اس راستے میں اسے حقیقت بہت کم نظر آتی ہے۔
مختلف زمانوں میں انبیاء کی پے در پے آمد
جیسا کہ کہا جا چکا ہے جب ہواپرست اور بے ایمان لوگ انبیاء کی دعوت کو اپنی ہوا و ہوس اور ناجائز منافع سے ہم آہنگ نہیں پاتے تھے تو ان کے مقابلے میں کھڑے ہو جاتے خصوصا لوگ کچھ زمانہ گزر جانے کے بعد ان کی تعلیمات کو طاق نسیاں کر دیتے۔ اس بناء پر ضروری تھا کہ یاددہانی کے لئے خدا کی جانب سے یکے بعد دیگرے مرسلین آتے رہیں تا کہ ان کا مکتب اور پیغام پرانا نہ ہونے پائے اور وہ دست فراموشی کے حوالے نہ ہو جائے۔ سورہ مومنون آیہ ۴۴ میں ہے: ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَی کُلَّ مَا جَاءَ اُمَّةً رَسُولُہَا کَذَّبُوہُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَہُمْ بَعْضًا۔ پھرہم نے پے درپے اپنے رسول بھیجے۔ جب کوئی رسول کسی امت کے پاس آتا تو لوگ اس کی تکذیب کرتے (لیکن) ہم تو انہیں یکے بعد دیگرے بھیجتے ہی رہتے تھے۔ نہج البلاغہ کے پہلے خطبے میں جہاں انبیاء کے بھیجنے کی غرض و غایت کی تشریح کی گئی ہے وہاں اس حقیقت کا تکرار کیا گیا ہے: فبعث فیہم رسلہ و واتر الیہم انبیائہ لیستادوہم میثاق فطرتہ و یذکروھم منسی نعمتہ و یحتجوا علیہم بالتبلیغ و یثیروا لہم دفائن العقول۔ خدانے اپنے رسولوں کو ان کے طرف مبعوث کیا اور اپنے انبیاء کو ان کی طرف بھیجا تا کہ وہ لوگوں سے ان کے فطری عہد و پیمان کی ادائیگی کا مطالبہ کریں اور انہیں خدا کی فراموش شدہ نعمتیں یاد دلائیں اور انبیاء تبلیغات کے ذریعے لوگوں پر اتمام حجت کریں اور تا کہ عقول کے مخفی خزانے ان کی تعلیمات کے ذریعے آشکار ہوں۔ لہذا مختلف زمانوں اور صدیوں میں انبیاء خدا کے آنے کا مقصد خدا کی نعمتوں کی یاددہانی کرانا، پیمان فطرت کی ادائیگی کی طرف توجہ دلانا اور گذشتہ انبیاء کی تبلیغات اور دعوتوں کی تجدید کرنا تھا تا کہ ان کی دعوتیں اور ان کے اصلاحی پروگرام متروک اور فراموش نہ ہو جائیں۔ رہا یہ مسئلہ کہ پیغمبر اسلام ﷺ کیونکہ خاتم انبیاء ہیں اور ان کے بعد نبی کی کیوں ضرورت نہیں تو اس پر انشاء اللہ سورہ احزاب کی آیہ ۴۰ کے ذیل میں بحث ہوگی۔
روح القدس کیا ہے؟
بزرگ مفسرین روح القدس کے بارے میں مختلف تفاسیر بیان کرتے ہیں۔ ہم یہاں چند ایک درج کرتے ہیں: ۱۔ بعض کہتے ہیں کہ روح القدس سے مراد جبرائیل ہے۔ اس تفسیر کی بناء پر آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ خدانے جبرائیل کے ذریعے حضرت عیسی کی مدد کی۔ اس تفسیر کی شاہد سورہ نحل کی آیہ ۱۰۲ ہے: قل نزلہ روح القدس من ربک بالحق۔ کہیے! روح القدس نے اسے تم پرحقیقت کے ساتھ نازل کیا۔ رہا یہ سوال کہ جبرائیل کو روح القدس کیوں کہتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ فرشتوں میں روحانیت کا پہلو چونکہ غالب ہے لہذا ان پر روح کا اطلاق بالکل طبیعی اور فطری ہے اور قدس اس فرشتے کے بہت زیادہ تقدس اور پاکیزگی کی طرف اشارہ ہے۔ ۲۔ کچھ دوسرے مفسرین کا عقیدہ ہے کہ روح القدس وہی ایک غیبی طاقت ہے جو حضرت عیسی کی تائید کرتی تھی اور اس مخفی خدائی طاقت سے وہ مردوں کو حکم خدا سے زندہ کرتے تھے۔ البتہ یہ غیبی طاقت ضعیف تر صورت میں تمام مومنین میں درجات ایمان کے تفاوت کے حساب سے موجود ہے اور یہ وہی خدائی امداد ہے جو انسان کو اطاعات اور مشکل کاموں کی انجام دہی میں مدد دیتی ہے اور گناہوں سے باز رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض احادیث میں ایک شاعر اہلبیت کے بارے میں ہے کہ جب وہ امام کے سامنے اشعار پڑھ چکا تو آپ نے فرمایا: انما نفث روح القدس علی لسانک۔ روح القدس نے تیری زبان پر دم کیا ہے اور جو کچھ تونے کہا ہے اسی کی مدد سے ہے۔ [رسول اکرم ص نے حسان بن ثابت سے بھی غدیر خم کے موقع پر یا کسی دوسرے موقع پر فرمایا تھا: لن یزال معل روح القدس ما ذببت عنا یعنی: "جب تک ہمارا دفاع کرو گے روح القدس تہمارے ساتھ رہے گا۔" سفینۃ البحار، جلد ۲، ص ۴۹۵، مادہ کمیت] بعض مفسرین نے روح القدس کا معنی انجیل بیان کیا ہے۔ [بحوالہ: تفسیر المنار، زیر بحث آیت کے ذیل میں] ان میں سے پہلی دو تفاسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہیں۔
روح القدس کے بارے میں عیسائیوں کا عقیدہ
قاموس" کتاب مقدس میں ہے: روح القدس تیسرا اقنوم، اقانیم ثلاثہ الہیہ میں سے شمار ہوتا ہے اور اسے روح کہتے ہیں کیونکہ وہ مبدع اور مخترع حیات ہے اور مقدس اس لئے کہتے ہیں کہ اس کے مخصوص کاموں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ مومنین کے دلوں کی تقدیس کرتاہے۔ حضرت مسیح اور خدا سے اسے جو وابستگی ہے، اس بناء پر اسے روح اللہ اور روح المسیح بھی کہتے ہیں۔ اس کتاب میں ایک اور احتمال بھی آیاہے اور وہ یہ ہے: وہ روح القدس جو ہمیں تسلی دیتاہے ، وہ وہی ہے جو ہمیشہ ہمیں سچائی، ایمان اور اطاعت کے قبول و ادراک کی ترغیب دیتاہے اور وہی ہے جو گناہ و خطاء میں مرجانے والے لوگوں کو زندہ کرتاہے اور انہیں پاک و منزہ کرکے حضرت واجب الوجود کی عظمت و بزرگی کے لائق بناتاہے۔ جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں اس کتاب مقدس قاموس کی عبارت میں دو معانی کی طرف اشارہ ہواہے: (۱( ایک یہ کہ روح القدس تین خداؤں میں سے ایک ہے جو کہ عقیدہ تثلیث کے مطابق ہے اور یہ وہ مشرکانہ عقیدہ ہے جسے ہم ہر لحاظ مردود سمجھتے ہیں۔ (۲) دوسرا مفہوم اوپر بیان کی گئیں تین تفاسیر میں سے دوسری سے ملتا جلتا ہے۔
(۳) بے خبر اور غلاف میں لپٹے دل
مدینہ کے یہودی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تبلیغات کا پوری کوشش سے مقابلہ کرتے اور آپ کی دعوت قبول کرنے سے انکار کرتے اور جب بھی آپ کے بار دعوت سے بچنے کا کوئی بہا نہ ملتا، اس سے پورا فائدہ اٹھاتے۔ اس آیت میں ان کی ایک گفتگو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ وہ کہتے تھے ہمارے دل پردے اور غلاف میں لپٹے ہیں۔ آپ جو کچھ پڑھتے ہیں ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔ یہ بات وہ تمسخر اور استہزاء کے طور پر کہتے لیکن قرآن کہتاہے: بات یہی ہے کہ جو وہ کہہ رہے ہیں کیونکہ کفر و نفاق کے باعث ان کے دل بے خبری، ظلمت، گناہ اور کفر کے پردوں میں لپیٹے جا چکے ہیں اور خدانے انہیں اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں سے بہت کم ایمان لاتے ہیں۔ سورہ نساء آیہ ۱۵۵ میں بھی یہی مفہوم مذکور ہے: وَقَوْلِہِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ بَلْ طَبَعَ اللهُ عَلَیْہَا بِکُفْرِہِمْ فَلاَیُؤْمِنُونَ إِلاَّ قَلِیلًا۔ اور ان کا کہنا ہے کہ ہمارے دل غلاف میں لپٹے ہیں اس لئے تمہاری بات سمجھ نہیں پاتے لیکن یہ تو اس بناء پرہے کہ خدانے ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے لہذا ان میں سے چند ایک کے علاوہ ایمان نہیں لائیں گے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 90 کے تحت ملاحظہ کریں۔
رسول خدا کا مقامِ ہجرت
Tafsīr Nemūna · Vol. 1شان نزول زیر نظر آیت کے بارے میں امام صادق(علیہ السلام) سے روایت ہے: یہودیوں نے اپنی کتب میں دیکھ رکھا تھا کہ پیغمبر اسلام ﷺ کا مقام ہجرت "عیر" اور "احد" کی پہاڑیوں کے درمیان ہوگا۔ (یہ دونوں پہاڑ مدینہ کے ا ردگردہیں)۔ یہودی اپنے علاقے چھوڑ کر رسول ﷺ کی ہجرت کی سرزمین کی تلاش میں نکلے۔ اس دوران وہ (حداد) نامی پہاڑ تک پہنچے اور کہنے لگے (حداد)یہی احد ہے۔ وہیں سے وہ منتشر ہو گئے۔ ہر گروہ نے ایک جگہ کو اپنا مسکن بنا لیا۔ کچھ سرزمین "تیما" میں جا بسے بعض "فدک" میں قیام پذیر ہوئے اور کچھ "خیبر" میں رہنے لگے۔ (کچھ مدت بعد) تیما کے رہنے والوں نے اپنے دوسرے بھائیوں سے ملنا چاہا۔ اس اثنا میں ایک عرب وہاں سے گزرا۔ اس سے انہوں نے سواریاں کرائے پر لیں۔ عرب کہنے لگا میں تمہیں "عیر" اور "احد" کی پہاڑیوں میں سے لے جاوں گا۔ اس سے کہنے لگے جب ان دو پہاڑوں کے درمیان پہنچو تو ہمیں آگاہ کرنا۔ وہ عرب جب سرزمین مدینہ میں پہنچا تو اس نے انہیں بتایا کہ یہ جگہ ہی کوہ عیر اور کوہ احد کے درمیان ہے۔ پھر اس نے اشارے سے بتایا کہ یہ "عیر" ہے اور یہ "احد" ہے۔ یہودی اس کی سواریوں سے اتر پڑے اور کہنے لگے ہم اپنے مقصد تک آپہنچے ہیں۔ اب ہمیں تیری سواریوں کی ضرورت نہیں، اب تو جہاں جانا چاہے جا سکتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے بھائیوں کو خط لکھا کہ ہم نے وہ زمین تلاش کر لی ہے، تم بھی ہماری طرح کوچ کرو۔ انہوں نے جواب میں لکھا کہ ہم چونکہ یہاں سکونت اختیار کر چکے ہیں، گھربار اور مال و منال کا اہتمام کر چکے ہیں اور یہاں سے اس سرزمین کا کوئی زیادہ فاصلہ بھی نہیں۔ جس وقت پیغمبر موعود ہجرت کر کے آئیں گے، ہم بھی تمہارے پاس آجائیں گے۔ وہ سرزمین مدینہ ہی میں رہے اور بہت مال و دولت جمع کر لی۔ یہ خبر "تبع" نامی ایک بادشاہ کو پہنچی۔ اس نے آکر ان سے جنگ کی۔ یہودی اپنے قلعوں میں قلعہ بند ہو گئے۔اس نے ان سب کا محاصرہ کر لیا۔ پھر نہیں امان دے دی۔ وہ بادشاہ کے پاس آئے۔ "تبع" نے کہا مجھے یہ سرزمین پسند آئی ہے اور میں یہاں رہنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے جواب میں کہا: ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ سرزمین ایک پیغمبر کا مقام ہجرت ہے۔ اس کے علاوہ کوئی شخص بادشاہ کی حیثیت سے نہیں رہ سکتا۔ تبع کہنے لگا کہ میں اپنے خاندان میں سے کچھ لوگ یہاں چھوڑ دیتا ہوں تا کہ جب وہ پیغمبر آئے یہ اس کی مدد کریں۔ لہذا اس نے دو مشہور قبائل "اوس" اور "خزرج" کو یہاں ٹھرا دیا۔ جب ان قبیلوں نے خوب مال و دولت جمع کر لیا تو یہودیوں کے مال پرتجاوز کرنے لگے۔ یہودی ان سے کہا کرتے تھے جب محمد ﷺ مبعوث ہوں گے تو تمیں ہمارے علاقے سے نکال دیں گے۔ جب حضرت محمد ﷺ مبعوث ہوئے تو اوس اور خزرج آپ پر ایمان لے آئے جو انصار مشہور ہوئے مگر یہودیوں نے آپ کا انکار کیا۔ آیت (وَکَانُوا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُونَ عَلَی الَّذِینَ کَفَرُوا) کا یہی مفہوم ہے۔ وہی لوگ جو خاص عشق و محبت کی وجہ سے، رسول اللہ ﷺ پرایمان لانے کے لئے آئے تھے جو اوس و خزرج کے مقابلے میں فخر کرتے تھے کہ ایک رسول مبعوث ہوگا اور ہم اس کے یار و مددگار ہوں گے۔ جب رسول اللہ کی ہجرت ہوئی اور آپ نے ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کی، وہی قرآن جو تورات کی تصدیق کرتا تھا، تو وہ اس سے کفر کرنے لگے۔
یہودیوں کی زندگی
ان آیات میں بھی یہودیوں اور ان کی زندگی کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ جیسا کہ شان نزول میں ہے، یہ لوگ رسول خدا ﷺ پر ایمان لانے کے شوق اور دل بستگی کے ساتھ مدینہ میں آکر سکونت پذیر ہوئے تھے۔ تورات میں پیغمبر ﷺ کی نشانیوں کو دیکھتے تھے اور بے چینی سے آپ کے ظہور کا انتظار کرتے تھے۔ لیکن جب خدا کی طرف سے ان کے پاس کتاب (قرآن) آئی جو ان علامتوں کے مطابق تھی جو یہودیوں کے پاس تھیں حالانکہ اس سے پہلے وہ اپنے آپ کو اس پیغمبر ﷺ کے ظہور کی خوشخبری دیتے تھے اور پیغمبر ﷺ کے ظہور کے ذریعے دشمنوں پر فتح پانے کی امید لگائے بیٹھے تھے اور جب کہ وہ کتاب اور پیغمبر ﷺ کو پہلے سے پہچانتے تھے۔ پھر بھی اس سے کفر اختیار کر بیٹھے (وَلَمَّا جَائَہُمْ کِتَابٌ مِنْ عِنْدِ اللهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَہُمْ وَکَانُوا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُونَ عَلَی الَّذِینَ کَفَرُوا فَلَمَّا جَائَہُمْ مَا عَرَفُوا کَفَرُوا بِہ)۔ کافروں پرخدا کی لعنت ہو (فَلَعْنَةُ اللهِ عَلَی الْکَافِرِینَ)۔ بعض اوقات انسان کسی حقیقت کے پیچھے دیوانہ وار دوڑتاہے لیکن اس کے قریب پہنچ کر جب اسے اپنے ذاتی فائدے کے خلاف پاتاہے تو ہوا و ہوس کے نتیجے میں اسے ٹھوکر مار دیتا ہے اور اسے چھوڑ دیتا ہے بلکہ کبھی تو اس کی مخالفت میں کھڑا ہو جاتاہے۔ لیکن یہودیوں نے تو انتہائی خسارے کا سودا کیا۔ جو لوگ پیغمبر موعود ﷺ کی پیروی کے لئے اپنے علاقے کو چھوڑکر، بہت سی مشکلات جھیل کر سرزمین مدینہ میں سکونت پذیر ہوئے تھے تا کہ اپنے مقصود تک پہنچ جائیں، جب موقع آیا تو منکرین اور کافرین کی صف میں کھڑے ہو گئے لہذا اس مقام پر قرآن کہتاہے: کیسی بری قیمت پر انہوں نے اپنے آپ کو فروخت کیا (ِبئْسَمَا اشْتَرَوْا بِہِ اٴَنفُسَہُمْ)۔ وہ حسد کی بناء پر اس چیزسے کافر ہو گئے جو خدانے نازل کی تھی ۔ انہیں اعتراض تھا کہ کیوں خدا اپنے فضل سے جس شخص پر چاہتا ہے، اپنی آیات نازل کر دیتا ہے (اَنْ یَکْفُرُوا بِمَا اَنزَلَ اللهُ بَغْیًا اَنْ یُنَزِّلَ اللهُ مِنْ فَضْلِہِ عَلَی مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِہِ(۔ گویا اس انتظار میں تھے کہ پیغمبر موعود، بنی اسرائیل میں سے اور خود انہی میں سے ہوگا لیکن جب کسی اور پر قرآن نازل ہوا تو انہیں تکلیف پہنچی اور وہ سیخ پا ہو گئے۔ آیت کے آخر میں ارشاد ہے : لہذا خدا کے غضب نے یکے بعد دیگر ے انہیں گھیر لیا اور کافروں کے لئے ذلیل و خوار کرنے والا عذاب ہے(فَبَائُوا بِغَضَبٍ عَلَی غَضَبٍ وَلِلْکَافِرِینَ عَذَابٌ مُہِین)۔
خسارے کا سودا
درحقیقت یہودیوں نے ایک خسارے کا سودا کیاتھا۔ کیونکہ ابتدا میں وہ اسلام اور اسلام کے پیغمبر موعود کے داعی تھے۔ یہاں تک کہ تمام مشکلات جھیل کر مدینہ کی زندگی انہوں نے اسی مقصد کے لئے انتخاب کی تھی۔ لیکن پیغمبر خدا ﷺ کے ظہور کے بعد صرف اس بناء پر کہ آپ بنی اسرائیل میں سے نہیں ہیں یا آپ کی وجہ سے ان کے ذاتی منافع خطرے میں پڑ گئے تھے، وہ آپ کے کافر و منکر ہو گئے اور یہ بہت زیادہ خسارے اور نقصان کا معاملہ ہے کہ انسان نہ صرف یہ کہ اپنے مقصد کو نہ پہنچے بلکہ اپنی تمام قوتیں اور طاقتیں صرف کرکے اس کے برعکس حاصل کرے اور خدا کا غضب اور ناراضی بھی الگ اٹھانی پڑے۔ حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے ارشادات میں ہے: لیس لانفسکم ثمن الا الجنہ فلا تبیعوھا الا بھا۔ تمہارے نفسوں کی قیمت جنت کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں ہو سکتی لہذا اپنے نفسوں کو اس کے علاوہ کسی چیز کے بدلے نہ بیچو۔[نہج البلاغہ، کلمات قصار، کلمہ ۴۵۶] مگر یہودی اس گراں بہا سرمائے کو مفت میں گنوا بیٹھے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ سودا ان کے اصل وجود کا بیان کیا گیاہے یعنی جو حق و حقیقت سے منکر و کافر ہیں وہ اپنی حقیقت ہاتھ سے کھو بیٹھے ہیں۔ کیونکہ کفر کے ساتھ ان کے ساتھ ان کے وجود کی قیمت بالکل گر جاتی ہے گویا اپنی شخصیت گنوا بیٹھے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ان غلاموں کی طرح ہیں جنہوں نے اپنا وجود بیچ کراسے دوسرے کی قید میں دے دیا ہو، بیشک وہ ہوا و ہوس کے قیدی اور شیطان کے بندے ہیں۔ لفظ "اشتروا" اگرچہ عموما خریدنے کے معنی میں استعمال ہوتاہے لیکن کبھی بیچنے کے معنی میں بھی آتا ہے جیسا کہ لغت میں اس کی صراحت موجود ہے۔ مندرجہ بالا آیت میں یہ لفظ بیچنے ہی کے معنی میں ہے لہذا اس کا معنی یہ ہوگا کہ انہوں نے اپنا وجود، مال و متاع کی طرح بیچا ہے اور اس کے بدلے غضب پروردگار یا کفر و حسد خریدا ہے۔
فباء بغضب علی غضب
بنی اسرائیل جب صحرائے سینا میں سرگرداں تھے، اس عالم کی سرگزشت کے سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے قرآن کہتاہے: وبا ء و بغضب من اللہ (وہ غضب خدا کی طرف پلٹے) اس کے بعد مزید کہتا ہے : یہ خدا کا غضب ان پر انبیاء کے قتل اور آیات خدا سے کفر کی وجہ سے تھا۔ سورہ آل عمران آیہ ۱۱۲ کا بھی یہی مفہوم ہے کہ یہودی آیات الہی سے کفر اور قتل انبیاء کی وجہ سے غضب الہی کا شکار ہوئے۔ یہ پہلا غضب ہے جو انہیں دامن گیر ہوا۔ ان کے باقی ماندہ افراد نے پیغمبر اسلام ﷺ کے ظہور کے بعد ان سے اپنے بڑوں والی روش ہی جاری رکھی۔ نہ صرف یہ کہ وہ پیغمبر اسلام ﷺ کے لائے ہوئے آئین کے خلاف تھے بلکہ ان کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان کے اسی طرز عمل کی وجہ سے ایک نئے غضب نے انہیں گھیر لیا۔ اسی لئے فرمایا: فباء و بغضب علی غضب۔ در اصل لفظ "باءو" کا معنی ہے وہ لوٹے اور انہوں نے سکوت اختیار کیا اور یہ کنایہ ہے استحقاق پیدا کرنے سے۔ یعنی انہوں نے غضب پروردگار کو اپنے لئے منزل و مکان کی طرح انتخاب کیا۔ یہ سرکش و باغی گروہ حضرت موسی کے قیام سے پہلے اور پیغمبر اسلام ﷺ کے ظہور سے قبل دونوں مواقع پر ایسے قیام کے سختی سے طرفدار تھے لیکن دونوں قیاموں کے رو بہ عمل ہونے کے بعد وہ اپنے عقیدے سے پھر گئے اور یکے بعد دیگرے اپنی جان کے بدلے غضب خدا خرید لیا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 93 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 93 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تورات کی بشارت کے باوجود یہودیوں کا حسد وغیرہ کی وجہ سے ایمان نہ لانا
Tafsīr Nemūna · Vol. 1گذشتہ آیات کی تفسیر میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ یہودیوں نے ان زحمتوں اور مشکلوں کے باوجود جو انہوں نے تورات کے پیغمبر موعود تک پہنچنے کے لئے جھیلیں، اب حسد کی وجہ سے یا اس بناء پر کہ یہ پیغمبر بنی اسرائیل میں سے نہیں ہے یا اس لئے کہ ان کے ذاتی فائدے خطرے میں پڑ جائیں گے یا پھر اور وجوہات کے باعث اس کی اطاعت اور اس پر ایمان لانے سے منہ پھیر لیا۔ زیر بحث آیات میں سے پہلی میں یہودیوں کے اس تعصب نسلی کی طرف اشارہ کیا گیاہے جو پوری دنیا میں مشہور ہے۔ فرمایا: جس وقت ان سے کہا جائے کہ جو کچھ خدا نے نازل فرمایا ہے اس پر ایمان لے آؤ تو کہتے ہیں ہم تو اس پر ایمان لائیں گے جو ہم پر نازل ہوا ہے (نہ کہ دوسری قوموں پر) اور اس کے علاوہ سے کفر اختیار کریں گے (و اذا قیل لہم امنوا بما انزل اللہ قالوا نومن بما انزل علینا و یکفرون بما ورائہ)۔ وہ انجیل پرایمان لائے ہیں، قرآن پر بلکہ وہ فقط نسلی امتیاز اور اپنے ذاتی فائدے نظر میں رکھے ہوئے ہیں جب کہ قرآن جو محمد ﷺ پر نازل ہوا ہے، وہ حق ہے اور ان نشانیوں اور علامتوں کے مطابق ہے جو پیغمبر موعود کے بار ے میں ہیں۔ وہ اپنی کتاب میں پڑھ چکے ہیں (و ھو الحق مصدقا لما معہم)۔ اس کے بعد قرآن ان کے جھوٹ سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہتاہے: اگر تمہارے ایمان نہ لانے کا بہانہ یہ ہے کہ محمد ﷺ تم میں سے نہیں ہے تو پھر گذشتہ زمانے میں اپنے انبیاء پر ایمان کیوں نہیں لائے ہو اور کیوں انہیں قتل کرتے رہے ہو اگر سچ کہتے ہو اور ایمان دار ہو ( قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُونَ اَنْبِیَاءَ اللهِ مِنْ قَبْلُ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِین) ۔ اگر وہ سچے دل سے ایمان لائے ہوتے تو خدا کے عظیم انبیاء کو قتل نہ کرتے کیونکہ تورات تو انسانی قتل کو بہت بڑا گناہ قرار دیتی ہے۔ علاوہ از یں خود یہ کہنا کہ ہم تو صرف ان قوانین و احکام پر ایمان لائیں گے جو ہم پر نازل ہوتے ہوں، دراصل اصول توحید اور شرک کا مقابلہ کرنے کے مفہوم سے واضح کجروی ہے۔ یہ ایک طرح کی خود خواہی اور خود پرستی ہے، شخصی صورت میں ہو یا نسلی شکل میں۔ توحید اس لئے ہے کہ ایسے خیالات کو وجود انسانی میں سے جڑ سے اکھاڑ پھینکے تا کہ انسان خدا کے قوانین کو صرف اس لئے قبول کرے کہ یہ خدا کی طرف سے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر اگر خدائی احکامات صرف اس شرط پرقبول کئے جائیں کہ وہ خود ہم پر نازل ہوں تو حقیقت میں یہ شرک ہے نہ کہ ایمان اور یہ کفر ہے کہ اسلام اور اس طرح احکامات، قبول کرنا ہرگز ایمان کی دلیل نہیں ہے۔ اسی لئے تو مندرجہ بالا آیت میں ہے: وَإِذَا قِیلَ لَہُمْ آمِنُوا بِمَا اَنزَلَ الله۔ یعنی جب ان سے کہاجاتا ہے کہ جو کچھ خدانے نازل فرمایاہے اس پر ایمان لے آو۔ اس آیت میں نہ محمد ﷺ کا نام ہے نہ موسی و عیسی علیہماالسلام کا۔ ان کے کذب کو ظاہر کرنے کیلئے قرآن صرف اسی بات پر اکتفاء نہیں کرتا بلکہ بعد کی آیت میں ان کے خلاف ایک اور سند پیش کرتاہے۔ قرآن کہتاہے: موسی نے تمام معجزات و دلائل تمہارے سامنے پیش کئے لیکن تم نے اس کے بعد بچھڑے کو منتخب کیا اور اس کام کی وجہ سے تم ظالم و ستم گار ٹھہرے (وَلَقَدْ جَائَکُمْ مُوسَی بِالْبَیِّنَاتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمْ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِہِ وَاَنْتُمْ ظَالِمُونَ)۔ اگر تم سچ کہتے ہو کہ تم اپنے پیغمبر پر ایمان رکھتے ہو تو پھر یہ بچھڑے کی پرستش اور وہ بھی توحید پر واضح دلائل کے بعد کیاہے۔ یہ کیسا ایمان ہے جو صرف موسی کے اوجھل ہونے اور کوہ طور پر جانے سے تمہارے دلوں سے زائل ہو گیا اور کفرنے ایمان کی جگہ اور بچھڑے نے توحید کا مقام حاصل کرلیا۔ بے شک اس کام سے تم نے اپنے اوپر، معاشرے پر اور آئندہ نسلوں پر ظلم کیا ہے۔ زیر بحث تیسری آیت میں ان کے دعوی کے بطلان پر ایک اور سند پیش کی گئی ہے۔ اس ضمن میں کوہ طور کے عہد و پیمان کا ذکر کیا گیا ہے ۔ فرمایا: ہم نے تم سے پیمان لیا اور کوہ طور کو تمہارے سروں پر بلند کیا اور تم سے کہا کہ جو حکم ہم تمہیں دیں، اسے مضبوطی سے تھامے رہو اور صحیح طور سے سنو لیکن تم نے کہا ہم نے سن کر اس کی مخالفت کی (وَإِذْ اَخَذْنَا مِیثَاقَکُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَکُمْ الطُّورَ خُذُوا مَا آتَیْنَاکُمْ بِقُوَّة وَاسْمَعُوا قَالُوا سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا)۔ بے شک ان کے دلوں کی بچھڑے کی محبت سے آبیاری ہوئی اور کفرنے ان پر غلبہ حاصل کر لیا (وَاُشْرِبُوا فِی قُلُوبِہِمْ الْعِجْلَ بِکُفْرِہِم)۔ شرک اور دنیا پرستی نے جس کی مثال سامری کے بنائے سونے کے بچھڑے سے ان کی محبت ہے، ان کے تار و پود میں اثر و نفوذ پیدا کر لیا تھا اور ان کے سارے وجود میں اس کی جڑیں پہنچ گئی تھیں۔ اسی بناء پر وہ خدا کو بھول گئے تھے۔ عجیب مسخرہ پن ہے۔ یہ کیسا ایمان ہے جو خدا کے پیغمبروں کو قتل کرنے کی اجازت دیتاہے، جو بت پرستی اور بچھڑے کی پرستش کو بھی روا جانتا ہے اور خدا سے باندھے ہوئے محکم میثاقوں کو طاق نسیاں کر دیتا ہے۔ اگر تم مومن ہوتو تمہارا ایمان تمہیں کیسے برے احکام دیتاہے (قُلْ بِئْسَمَا یَاْمُرُکُمْ بِہِ إِیمَانُکُمْ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ)۔[بنی اسرائیل کے پیمان، نیز اس کی تشریح اور خصوصیات اسی سورہ کی آیت ۵۱ اور ۶۳ میں بیان ہو چکی ہیں۔]
(قَالُوا سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا) کا مفہوم
: اس کا معنی ہے ہم نے سنا اور معصیت کی ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ زبان سے یہ الفاظ کہتے ہیں بلکہ ظاہرا اس کا مقصود یہ ہے کہ وہ اپنے عمل سے اس واقعیت کی نشاندہی کرتے ہیں اور یہ ایک عمدہ کنایہ ہے جور وزمرہ گفتگو میں دیکھا جا سکتا ہے۔
)وَاٴُشْرِبُوا فِی قُلُوبِہِمْ الْعِجْل )مفہوم
یہ بھی ایک عمدہ کنایہ ہے جو یہودی قوم کی حالت بیان کرتا ہے۔ جیسا کہ مفردات راغب میں ہے کلمہ "اشراب" کے دو معانی ہیں: ۱۔ ایک یہ کہ "اشربت البعیر" کے باب سے ہو یعنی (میں نے اونٹ کی گردن میں رسی باندھی)۔ اس معنی کے لحاظ سے مندرجہ بالا جملہ کا مفہوم یہ ہوگا کہ (محبت و وابستگی کی مضبوط رسی نے ان کے دلوں کو بچھڑے سے باندھ دیا(۔ ۲۔ دوسرا یہ کہ اس کا مادہ شراب سے ہو جس کا معنی ہے "آبیاری کرنا" اور دوسرے کو پانی دینا۔ اس صورت میں لفظ حب مقصود ہوگا۔ یوں مندرجہ بالا جملے کا مفہوم یہ ہوگا "بنی اسرائیل نے اپنے دلوں کی بچھڑے کی محبت سے آبیاری کی"۔ یہ اہل عرب کی عادات کا حصہ ہے کہ جب کسی چیز کے متعلق سخت قسم کا تعلق یا زیادہ کینہ ظاہر کرنا چاہیں تو مندرجہ بالا تعبیر ہی کی طرح کا انداز اختیار کرتے ہیں۔ اس سے ضمنا ایک اور نکتہ بھی نکلا کہ بنی اسرائیل کے ان غلط کاموں پر تعجب نہیں کرنا چاہئے ۔ کیونکہ یہ اعمال ان کے دلوں کی اس سرزمین کا حاصل ہیں جس کی شرک کے پانی سے آبیاری کی گئی ہے اور جو زمین ایسے پانی سے سیراب ہو اس سے خیانت، قتل و ظلم کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس بات کی اہمیت اس وقت اور نمایان ہو جاتی ہے جب دین یہود میں موجود قتل کی قباحت اور انسان کے قتل کی برائی کے احکام پر نظر جاتی ہے جنہیں خاص اہمیت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ یہودیوں کا دین اس ظلم کو اس قدر برا سمجھتا تھا کہ قاموس کتاب مقدس صفحہ ۶۸۷ کی تحریر کے مطابق قتل عمد اور اس کی قباحت اسرائیلیوں کے نزدیک اتنی اہمیت رکھتی تھی کہ مدتیں گزر جانے کے بعد اور مدتوں ایسے شہروں میں پناہ لینے کے بعد بھی جنہیں پناہ گاہ کہا جاتا تھا اور مقامات مقدسہ پر التجا کے با وجود بھی قاتل بری الذمہ نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ اسے ہر صورت میں قصاص لیا جاتا۔ یہ تو کئی عام انسان کے قتل کے بارے میں ہے چہ جائیکہ خدا کے انبیاء کا قتل۔ پس اگر بنی اسرائیل تورات پرایمان رکھتے تو انبیاء کو قتل نہ کرتے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 96 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 96 کے تحت ملاحظہ کریں۔
خود پسند گروہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 1قرآن مجید کی مختلف آیات کے علاوہ بھی یہودیوں کی تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اپنے آپ کو بلند نسل سمجھتے تھے اور یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ وہی انسانی معاشرے کے منتخب پھول ہیں اور بہشت انہی کے لئے بنائی گئی ہے اور جہنم کی آگ ان سے زیادہ سروکار نہیں رکھتی۔ وہ خدا کے بیٹے اور خاص دوست ہیں۔ خلاصہ یہ کہ "آنچہ خوباں ہمہ دارند انہا تنہا دارند" یعنی تمام عالم کی اچھائیاں انہی میں جمع ہیں۔ ان کی یہ خوشبودار، خود خواہی قرآن کی مختلف آیات میں بیان ہوئی ہے جن میں یہودیوں کے متعلق گفتگو کی گئی ہے۔ سورہ مائدہ کی آیت ۱۸ میں ہے: نَحْنُ اَبْنَاءُ اللهِ وَاَحِبَّائہ ہم خدا کے فرزند اور خاص دوست ہیں۔ سورہ بقرہ کی آیہ ۱۱۱ میں ہے: وَقَالُوا لَنْ یَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلاَّ مَنْ کَانَ ہُودًا اَوْ نَصَارَی۔ وہ کہتے ہیں کہ یہودی اور عیسائی کے علاوہ کوئی جنت میں نہیں جا سکتا۔ سورہ بقرہ کی آیہ ۸۰ میں ہے: وَقَالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلاَّ اَیَّامًا مَعْدُودَةً ۔ چند دنوں کے سوا جہنم کی آگ ہمیں نہیں چھو سکتی۔ یہ موہوم خیالات ایک طرف تو انہیں ظلم و زیادتی اور گناہ و طغیان کی طرف مائل کرتے اور دوسری طرف تکبر، خود پسندی اور خود کو سب سے بلند سمجھنے کی دعوت دیتے۔ مندرجہ بالا آیات میں قرآن مجید انہیں دندان شکن جواب دیتاہے اور کہتا ہے: اگر ایسا ہی ہے جیسا کہ تم سمجھتے ہو کہ آخرت کا گھر خدا کے ہاں باقی لوگوں کو چھوڑ کر تمہارے لئے مخصوص ہے تو پھر موت کی تمنا کرو اگر سچ کہتے ہو (قُلْ إِنْ کَانَتْ لَکُمْ الدَّارُ الْآخِرَةُ عِنْدَ اللهِ خَالِصَةً مِنْ دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوْا الْمَوْتَ إِنْ کُنتُمْ صَادِقِین)۔ کیاتم مائل نہیں ہو کہ جوار رحمت خدا میں جاکر پناہ لو اور جنت کی بے شمار نعمتیں تمہارے اختیار میں ہوں۔ کیا تم اپنے محبوب کے دیکھنے کے آرزومند نہیں ہو۔ یہودی چاہتے تھے کہ وہ یہ بات کر کے مسلمانوں کو آزردہ خاطر کریں کہ بہشت تو یہودیوں کے لئے مخصوص ہے یا یہ کہ ہم تو دوزخ میں بس چند دن جلیں گے اور یا کہتے کہ جنت میں صرف وہی جائے گا جو یہودی ہوگا۔ قرآن نے ان کے اس جھوٹ سے پردہ اٹھایاہے کیونکہ جب وہ دنیا کی زندگی کو کسی طرح ترک کرنے کو تیار نہیں تو یہی ان کے جھوٹے ہونے کی محکم دلیل ہے۔ واقعا اگر انسان کا دار آخرت کے بارے میں وہی ایمان ہو جو بزعم خود یہودیوں کا تھا تو وہ اس دنیا سے کیسے لو لگا سکتا ہے اور کیسے اس کے حصول کے لئے ہزاروں گناہوں کا مرتکب ہو سکتا ہے اور وہ موت سے یہاں تک کہ اپنے مقصد کی راہ میں بھی کیسے ڈر سکتا ہے۔ بعد والی آیت میں قرآن مزید کہتاہے: اپنے آگے بھیجے ہوئے برے اعمال کی وجہ سے وہ کبھی موت کی تمنا نہیں کریں گے (وَلَنْ یَتَمَنَّوْہُ اَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیہِمْ) اور خدا ستمگاروں سے واقف ہے (وَاللهُ عَلِیمٌ بِالظَّالِمِین)۔ جی ہاں___ وہ جانتے تھے کہ ان کے اعمال ناموں میں کیسی سیاہیاں موجود ہیں۔ وہ اپنے قبیح اور سنگین گناہوں سے مطلع تھے۔ خدا بھی ان ظالموں کے اعمال سے آگاہ ہے۔ اسی لئے ان کے لئے آخرت کا گھر عذاب، سختی اور رسوائی کا گھر ہے اور اسی بناء پر وہ اس کی خواہش نہیں رکھتے۔ محل بحث آیت مادی چیزوں کے متعلق ان کی شدید حرص کا تذکرہ یوں کرتی ہے: انہیں تم اس زندگی پر سب سے زیادہ حریص پاؤ گے۔ (ولَتَجِدَنَّہُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلَی حَیَاة)۔ یہاں تک کہ مشرکین سے بھی بڑھ کر (وَمِنْ الَّذِینَ اَشْرَکُوا)۔ مال و دولت کی ذخیرہ اندوزی میں حریص ، دنیا پر قبضہ کرنے میں حریص، سب کچھ اپنے لئے سمجھنے میں حریص یہاں تک یہ مشرکین سے بھی بڑھ کر حریص ہیں حالانکہ مشرکین کو فطری طور پر مال جمع کرنے میں سب سے زیادہ حریص ہوناچاہیے۔ ان میں سے ہر کوئی چاہتاہے کہ ہزار سال تک زندہ رہے (یَوَدُّ اَحَدُہُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَةٍ )۔ زیادہ ثروت جمع کرنے کے لئے یا سزا کے خوف سے۔ ہاں___ وہ موت سے ڈرتے ہیں اور ہزار سالہ عمر کی تمنا کرتے ہیں لیکن یہ طولانی عمر بھی انہیں عذاب خدا سے نہیں بچا سکے گی (وَمَا ہُوَ بِمُزَحْزِحِہِ مِنْ الْعَذَابِ اَنْ یُعَمڑ)۔ اگر وہ گمان کرتے ہیں کہ خدا ان کے اعمال سے آگاہ نہیں ہے تو وہ غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ خدا ان کے اعمال کے بارے میں بصیر و بیناہے(وَاللهُ بَصِیرٌ بِمَا یَعْمَلُونَ)۔
ہزار سال عمر کی تمنا
توجہ رہے کہ ہزار سال سے مر اد ہزار سال کا عدد نہیں بلکہ یہ طولانی عمر سے کنایہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ عدد تکثیر ہے نہ کہ عدد تعداد۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ہزار کا عدد اس زمانے میں عربوں کے نزدیک سب سے بڑا عدد تھا اور اس سے بڑے عدد کا ان کے پاس کوئی نام نہیں تھا لہذا سب سے بڑا مبالغہ یہی شمار ہوتا تھا۔[المنار، جلد ۱، ص ۳۳۱]
(عَلَی حَیَاةٍ)
نکرہ کی صورت میں یہ تعبیر کچھ مفسرین کے بقول تحقیر کے لئے ہے یعنی انہوں نے دنیا کی زندگی سے دل وابستہ کر رکھا ہے یہاں تک کہ اس جہان کی پست ترین زندگی کو بھی جو بدبختی سے گزرے وہ آخرت کے گھر پر ترجیح دیتے ہیں۔[المیزان، جلد۱، ص ۲۳۰ و المنار ج ۱، ص ۴۹۰]
یہودیوں کی نسل پرستی
اس میں شک نہیں کہ بہت سی جنگوں اور خونریزیوں کا سرچشمہ نسل پرستی تھی خصوصا دنیا کی پہلی اور دوسری جنگ عظیم جو تاریخ انسانی میں سب سے زیادہ انسانی جانوں کی تباہی اور آبادی کی ویرانی کا باعث ہوئیں، اس میں آلمانیوں (نازیوں) کی نسل پرستی کے جنون سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اگر طے ہو جائے کہ دنیا کے نسل پرستوں کی صف بندی کی جائے یا فہرست مرتب کی جائے تو یہودی پہلی لائن میں ہوں گے۔ اس وقت بھی انہوں نے جو حکومت اسرائیل کے نام سے تشکیل دی ہے، اسی نسلی تفاخر کی بنیاد پر ہے اور اس کی تشکیل میں وہ کیسے مظالم کے مرتکب ہوئے ہیں اور اس کی بقاء کے لئے کیسی کیسی دہشت ناکیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ حالت تو یہ ہے کہ دین موسوی کو بھی اپنی نسل میں محصور سمجھتے ہیں اور نسل یہود کے علاوہ کوئی یہودی مذہب قبول کرے تو یہ ان کیلیے کوئی توجہ طلب بات نہیں۔ اسی لئے تو وہ دیگر اقوام میں اپنے مذہب کی تبلیغ و ترویج نہیں کرتے۔ اسی وجہ سے وہ ساری دنیا میں نفرت کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں کیونکہ دنیا کے لوگ ایسے اشخاص کو ہرگز پسند نہیں کرتے جو دوسروں کے مقابلے میں اپنے نسلی امتیاز کے قائل ہوں۔ اصولی طور پر نسل پرستی شرک کی ایک قسم ہے۔ اسی لئے تو اسلام سختی سے اس کا مقابلہ کرتاہے اور تمام انسانوں کو ایک ماں باپ کی اولاد قرار دیتاہے جن کا امتیاز فقط تقوی و پرہیزگاری ہے۔
موت سے خوف کی بنیاد
زیادہ تر لوگ موت سے ڈرتے ہیں اور اس سے خوف زدہ ہیں۔ تحلیل و تجزیہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی دو میں سے کوئی ایک بنیاد ہے: الف( بہت سے لوگ موت کو فنا، عدم اور ہلاکت سمجھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ انسان فنا اور ہلاکت سے خوف کھاتا ہے اور اگر انسان کےلئے موت کا یہی مفہوم ہو تو یقینا موت سے گریزاں ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی کے بہترین حالات اور کامیابی کے درجہ کمال کے وقت بھی زندگی کے خاتمے کا خیال زندگی کے شہد کو زہر بنا دیتا ہے اور انسان ہمیشہ اس فکر سے پریشان رہتا ہے۔ ب( وہ لوگ جو موت کو وجود کی انتہا نہیں سمجھتے بلکہ اسے ایک وسیع تر اور عالی تر گھر کی زندگی کےلئے تمہدی سمجھتے ہیں لیکن اپنے اعمال کی وضع، تباہ کاریوں اور غلط کاریوں کی وجہ سے موت سے گھبراتے ہیں کیونکہ وہ موت کو اپنے برے اعمال کے نتائج تک پہنچنے کی ابتداء سمجھتے ہیں اسی لئے محاسبہ الہی اور سزا سے بھاگتے ہوئے وہ چاہتے ہیں کہ جتنا ہو سکے موت کو پیچھے دھکیل دیا جائے۔ مندرجہ بالا آیت دوسرے گروہ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ لیکن ---- خدا کے پیغمبر ایک طرف موت کے بعد ہمیشہ کی زندگی کا ایمان لوگوں کے دلوں میں زندہ کرتے ہیں اور موت کا وہ وحشت ناک چہرہ جو فنا و نابودی کی نشاندہی کرتا ہے، اسے بدل کر اس کا حقیقی چہرہ پیش کرتے ہیں جو دراصل عالی ترین زندگی کا دریچہ ہے اور دوسری طرف "پاکیزہ عمل" کی دعوت دیتے ہیں تاکہ اعمال کی سزا کی وجہ سے جو وحشت ہے وہ زائل ہو جائے۔ اسی لئے تو صاحب ایمان لوگ موت سے کسی قسم کا خوف نہیں رکھتے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 98 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1کہتے ہیں جب پیغمبر اکرم مدینہ میں تشریف لائے تو ایک دن ابن صوریا (ایک یہودی عالم) فدک کے یہودیوں کی ایک جماعت کے ساتھ آپ کے پاس آئے اور آنحضرت سے مختلف سوالات کئے اور وہ نشانیوں جو آپ کی نبوت و رسالت کے بارے میں تھیں تلاش کرنے لگا۔ منجملہ ان کے انہوں نے کہا: ائے محمد! تمہیں نیند کس طرح آتی ہے کیونکہ پیغمبر موعود کی نیند کے متعلق اطلاع مل چکی ہے۔ آپ نے فرمایا: تنام عینای و قلب یقظان یعنی: میری آنکھ تو سو جاتی ہے لیکن میرا دل بیدار رہتا ہے۔ وہ کہنے لگے: آپ نے سچ کہا ہے، ائے محمد! پھر بہت سے سوال کیے۔ بعد ازاں ابن صوریا نے کہا: ایک بات رہ گئی ہے اگر اس کا صحیح جواب دے دیں تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے اور آپ کی پیروی کریں گے۔ ذرا بتائیے کہ جو فرشتہ آپ پر وحی لے کر آتا ہے اس کا نام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: جبریل!! ابن صوریا نے کہا: وہ تو ہمارا دشمن ہے وہ تو جہاد اور (دشمنوں سے ) جنگ کے بارے میں سخت احکام لے کر آتا ہے لیکن میکائیل ہمیشہ سادہ اور راحت بخش احکام لاتا ہے! اگر آپ کی وحی کا فرشتہ میکائیل ہوتا تو ہم آپ ایمان لے آتے۔ ( مجمع البیان میں یہ حدیث ابن عباس کے حوالے سے موجود ہے۔ دوسری تفاسیر مثلا فخر الدین رازی کی تفسیر کبیر، المیزان، المنار وغیرہ میں بھی (کچھ اختلاف کے ساتھ ) یہ راویات موجود ہے۔)
بہانہ ساز قوم
آیت کی شان نزول دیکھنے سے دوبارہ اس بہانہ ساز قوم کی یاد تازہ ہو جاتی ہے جس نے پیغمبر معظم ﷺ حضرت موسی کے زمانے سے لے کر آج تک یہی روش اختیار کر رکھی ہے اور ہر زمانے میں حق کے زیر بار آنے کے بجائے بہانے تلاش کئے ہیں۔ یہاں جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں بہانہ صرف یہ ہے کہ چونکہ جبرئیل آپ پر وحی لانے والا فرشتہ ہے جو خدا کے سخت احکام لاتا ہے لہذا ہم ایمان نہیں لائیں گے۔ کیونکہ ہم اس کے دشمن ہیں اگر میکائیل ہوتا تو کوئی حرج نہ تھا اور آسان تھا کہ ہم ایمان لے آئیں۔ ان سے پوچھا جائے کہ کیا خدا کے فرشتے اپنی ڈیوٹی ادا کرنے میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ کیا اصولا وہ خواہش کے مطابق عمل کرتے ہیں اور اپنی طرف سے کچھ کہتے ہیں؟ وہ تو قرآن کے مطابق ایسے ہیں: لا یعصون اللہ ما امرھم۔ جو کچھ خدا حکم دیتا ہے وہ وہی انجام دیتے ہیں۔ (تحریم ۔۶) ان بہانہ سازیوں کا جواب زیر نظر آیات میں اس طرح دیتاہے : ان سے کہہ دو جو شخص جبرئیل کا دشمن ہے وہ در حقیقت خدا کا دشمن ہے کیونکہ اس نے تو خدا کے حکم سے آپ کے دل پر قرآن نازل کیا ہے (قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِیلَ فَإِنَّہُ نَزَّلَہُ عَلَی قَلْبِکَ بِإِذْنِ الله)۔ وہ قرآن جو گزشتہ آسمانی کتب کی تصدیق کرتا ہے اور ان کی نشانیوں سے ہم آہنگ ہے (مصدقا لما بین یدیہ)۔ وہی جو مومنین کے لئے ہدایت و بشارت کا سبب ہے (و ہدی و بشری للمومنین)۔ اس آیت میں دراصل اس گروہ کو تین واضح جواب دئیے گئے ہیں: ایک یہ کہ جبرئیل کوئی چیز اپنی طرف سے نہیں لاتا، جو کچھ ہے (باذن اللہ) ہے۔ دوسرا یہ کہ گزشتہ کتب میں سے صداقت اور روشنی کی نشانیاں اس میں موجود ہیں کیونکہ یہ انہی نشانیوں کے مطابق ہے (مصدق لما بین یدیہ) یعنی اس کا کوئی جواز نہیں کہ تم تورات پر تو ایمان لے آؤلیکن قرآن سے کفر اختیار کرو جو تورات کی نشانیوں کے مطابق ہے۔ خلاصہ یہ کہ ان کے مضامین ہم آہنگ ہیں اور یہ بات قرآن کی سچائی کی ترجمان ہے اور یہ قرآن مومنین کے لئے ہدایت و بشارت کا سبب ہے۔[بحوالہ: المیزان، زیر بحث آیات کے ذیل میں] اگلی آیت میں یہی مضمون مزید تاکید و تہدید کے ساتھ بیان ہواہے۔ فرماتاہے: جو شخص خدا، فرشتوں، خدا کے پیغمبروں، جبرئیل اور میکائیل کا دشمن ہے، خدا اس کا دشمن ہے کہ خدا کافروں کا دشمن ہے (مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِلَّہِ وَمَلاَئِکَتِہِ وَرُسُلِہِ وَجِبْرِیلَ وَمِیکَالَ فَإِنَّ اللهَ عَدُوٌّ لِلْکَافِرِین)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ یہ سب ایک ہی ہیں اور ایک دوسرے سے وابستہ ہیں اور ان میں تشکیک و تفاوت نہیں ہے۔ جو اللہ، فرشتے، خدا کے رسول، جبرئیل و میکائیل بلکہ کسی فرشتے کا دشمن ہے اور جو ان میں تشکیک و تفاوت کا قائل ہے، پر وردگار اس کا دشمن ہے۔ بہ الفاظ دیگر احکام الہی جو نوع انسانی کے لئے سودمند اور تکامل بخش ہیں خدا کی طر ف سے فرشتوں کے ذریعے پیغمبروں پر نازل ہوتے ہیں۔ اب اگر ذمہ داریاں مختلف ہوں تو تقسیم کارکے فرق کو تضاد کار تو نہیں کہا جا سکتا۔ یہ سب ایک ہی راہ مستقیم پر ہیں لہذا ان میں سے کسی ایک کا دشمن خدا کا دشمن ہے۔ یہودی اور دیگر منکرین قرآن یہ جان لیں کہ انہوں نے جبرئیل، دیگر ملائکہ اور پیغمبروں کی دشمنی اختیار کرکے ایک بڑے طاقت ور کی دشمنی مول لی ہے۔ قرآن کہتاہے جو ان سے دشمنی رکھے خدائے بزرگ اس کا دشمن ہے کہ بے شک خدا کافروں کا دشمن ہے۔ رہی "قلب" کی بحث کہ قرآن میں اس سے کیا مراد ہے تو یہ اسی سورہ کی آیت ۷۷ کے ذیل میں آچکی ہے۔
جبرئیل و میکائیل
جبرئیل کا نام تین مرتبہ اور میکال کا نام ایک مرتبہ اسی مقام پر آیاہے۔[جبریل کا نام مورد بحث آیت میں دو مرتبہ اور سورہ تحریم، آیہ ۴ میں ایک مرتبہ مذکور ہے۔] انہی آیات سے اجمالا معلوم ہوتا ہے کہ دونوں فرشتے، بزرگ اور مقرب الہی ہیں۔ مسلمانوں کی عمومی تحریروں میں جبریل، ہمزہ کے ساتھ اور میکال "ہمزہ" اور "یا" کے ساتھ آتاہے لیکن متن قرآن میں جبریل اور میکال ہے۔ ایک گروہ کا نظریہ سے کہ جبریل عبرانی زبان کا لفظ ہے اور اس کی اصل جبرئیل ہے جس کا معنی ہے "مرد خدا" یا "قوت خدا" (جبر کا معنی قوت یا مرد ہے اور ئیل کا معنی خدا ہے)۔ محل بحث آیات کے مطابق جبرئیل پیغمبر کے لئے وحی کا قاصد تھا اور آپ کے قلب مبارک پر قرآن نازل کرنے والا تھا جب کہ سورہ نحل کی آیہ ۱۰۲ کے مطابق روح القدس وحی لاتا تھا اور سورہ شعراء آیہ ۱۹۱ میں ہے کہ روح الامین تدریجا قرآن پیغمبر اکرم ﷺ پر لاتا رہا لیکن جیسا کہ مفسرین نے تصریح کی ہے ر وح القدس اور روح الامین سے مراد جبرئیل ہی ہیں۔ ہمارے پیش نظر ایسی احادیث ہیں جن کے مطابق جبرئیل مختلف شکلوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہوتے رہے اور مدینہ میں جبرئیل زیادہ تر دحیہ قلبی کی شکل میں آنحضرت کے سامنے ظاہر ہوتے تھے جو ایک خوبصورت جوان تھا۔ سورہ نجم سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم ﷺ نے جبرئیل کو دو مرتبہ (اس کی اصل شکل میں) دیکھا ہے۔ [بحوالہ: اعلام قرآن، ص ۲۷۷] اسلامی کتب میں جن چار فرشتوں کا عموما مقرب بارگاہ الہی شمار کیا گیا ہے وہ جبرئیل، میکائیل، اسرافیل اور عزرائیل ہیں۔ جن میں سے جبرئیل بلند مرتبہ ہیں۔ یہودیوں کی کتب میں بھی جبرئیل اور میکائیل کے متعلق گفتگو ہوئی ہے۔ منجملہ ان کی کتاب دانیال میں جبرائیل کو شیطانوں کے سربراہ کو مغلوب کرنے والا اور میکائیل کو قوم اسرائیل کا حامی کہا گیا ہے لیکن بعض کے بقول کوئی ایسی چیز جو جبرئیل کی یہودیوں سے دشمنی پر دلالت کرے دسترس میں نہیں آئی [بحوالہ اعلام قرآن، ص ۶۲۹] اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کے زمانے میں یہودیوں کا جبرئیل سے اظہار دشمنی ایک بہانہ تھا تا کہ اس کے ذریعے اسلام قبول کرنے سے بچ جائیں یہا ں تک کہ ان کی مذہبی کتب میں بھی اس کی کوئی بنیاد موجود نہیں۔
شانِ نزول
مندرجہ بالا پہلی آیت کے سلسلے میں ابن عباس سے شان نزول منقول ہے کہ ابن صوریا نے ڈھٹائی اور عناد کی بناء پر پیغمبر اسلام ﷺ سے کہا: تمہاری لائی ہوئی کوئی چیز ہماری سمجھ میں نہیں آتی اور خدا نے تم پر کوئی واضح نشانی نازل نہیں کی کہ ہم تمہاری اتباع کریں۔ اس پر زیر نظر آیت نازل ہوئی اور اسے صراحت سے جواب دیا۔[بحوالہ: مجمع البیان و تفسیر قرطبی، زیر بحث آیت کے ذیل میں۔] یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ شان نزول آیات کے مفاہیم کو کبھی محدود نہیں کر سکتا اور ان کے کلیت و عمومیت میں کمی نہیں ہوتی اگرچہ ان کے آغاز کا سبب وہی ہوتا تھا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 101 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 101 کے تحت ملاحظہ کریں۔
پیمان شکن یہودی
Tafsīr Nemūna · Vol. 1زیر بحث پہلی آیت میں قرآن اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کافی دلیلیں، روشن نشانیاں اور واضح آیات پیغمبر اکرم کے پاس تھیں۔ جو لوگ انکار کرتے وہ در اصل آپ کی دعوت کی حقانیت کو جان چکتے تھے لیکن مخصوص اغراض کی خاطر مخالفت میں کھڑے ہو جاتے۔ قرآن کہتاہے: ہم نے تم پر آیات بینات نازل کیں اور فاسقین کے سوا کوئی ان سے کفر نہیں کرتا (لَقَدْ اَنزَلْنَا إِلَیْکَ آیَاتٍ بَیِّنَاتٍ وَمَا یَکْفُرُ بِہَا إِلاَّ الْفَاسِقُونَ)۔ آیات قرآن پر غور و فکر کرنے سے ہر پاک دل اور حق جو انسان کے لئے راستے واضح اور و روشن ہو جاتے ہیں اور ہر کوئی ان آیات کے مطالعے سے پیغمبر اسلام کی صداقت اور قرآن کی عظمت کو پا لیتا ہے لیکن اس حقیقت کو صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کا دل گناہ کے اثر سے سیاہ نہ ہو چکا ہو اور تعجب نہیں کہ فاسق لوگ فرمان خدا کی اطاعت سے روگردانی کرتے ہیں اور اپنی صحیح فطرت کو تسلسل گناہ کے باعث گنوا بیٹھتے ہیں، وہ کبھی اس پر ایمان نہیں لائیں گے۔ اس کے بعد یہودیوں کے ایک گروہ کی ایک بہت قبیح صفت یعنی ایفائے عہد کی عدم پاسداری اور پیمان شکنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتاہے: کیا جب کبھی انہوں نے خدا اور پیغمبر سے عہد و پیمان باندھا تو ان میں سے ایک گروہ نے اسے پس پشت نہیں ڈال دیا اور اس کی مخالفت نہیں کی (اَوَکُلَّمَا عَاہَدُوا عَہْدًا نَبَذَہُ فَرِیقٌ مِنْہُمْ بَلْ اَکْثَرُہُمْ لاَیُؤْمِنُونَ) بے شک وہ ایسے ہی ہیں اور ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے (بل اکثرہم لا یومنون)۔ خدانے کوہ طور پر ان سے یہ عہد لیاتھا کہ تورات کے احکام پر عمل کریں گے لیکن انہوں نے یہ عہد توڑ دیا یا اور اس پر عمل نہیں کیا۔ ان سے یہ عہد بھی لیا گیا تھا کہ پغمبر موعود (پیغمبر اسلام جن کے آنے کی بشارت تورات میں موجود تھی) پر ایمان لے آئیں، انہوں نے اس عہد پر بھی عمل نہیں کیا۔ جب پیغمبر اسلام مدینہ میں آئے تو بنی نضیر اور بنی قریظہ کے یہودیوں سے عہد و پیمان ہوا کہ وہ آپ کے دشمن کی مدد نہیں کریں گے لیکن آخر کار انہوں نے یہ عہد بھی توڑ دیا اور جنگ احزاب (خندق میں اسلام کے خلاف مشرکین مکہ کا ساتھ دیا۔ بنیادی طور پر یہودیوں کی اکثریت کا پرانا طریقہ اور سنت ہے کہ وہ اپنے عہد و پیمان کی پابندی نہیں کرتے۔ ہم آج بھی واضح طور پر دیکھ رہے ہیں کہ صہیونیوں اور اسرائیل کا مفاد جہاں خطرے میں بین الاقوامی معاہدوں کو پاؤں تلے روند ڈالتے ہیں ۔ زیر بحث آیات میں سے آخری اس موضوع کو صراحت سے اور گویا تاکید سے بیان کرتی ہے۔ فرمایا: خدا کا بھیجا ہو اان کے پاس آیا جوان نشانیوں کے مطابق تھا جوان کے ہاں موجود تھیں، ان میں سے ایک جماعت جو صاحب کتاب لوگوں (علماء) پر مشتمل تھی اس نے کتاب خدا کو ایسے پس پشت ڈال دیا گویا انہیں علم ہی نہ تھا(وَلَمَّا جَائَہُمْ رَسُولٌ مِنْ عِنْدِ اللهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَہُمْ نَبَذَ فَرِیقٌ مِنْ الَّذِینَ اُوتُوا الْکِتَابَ کِتَابَ اللهِ وَرَاءَ ظُہُورِہِمْ کَاَنَّہُمْ لاَیَعْلَمُونَ )۔ مندرجہ بالا ابحاث میں قرآن نے اپنی دیگر بحثوں کی ایک جمعیت کی اکثریت کے گناہ کی وجہ سے سب کو قابل ملامت قرار نہیں دیا بلکہ (فریق) اور اکثریت کے الفاظ استعمال کرکے اقلیت کے تقوی و ایمان کے حصے کی حفاظت کی ہے اور حق طلبی و حق جوئی کی یہی راہ و رسم ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 103 کے تحت ملاحظہ کریں۔
سلیمان اور بابل کے جادوگر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1احادیث سے ظاہر ہوتاہے کہ پیغمبر حضرت سلیمان کے زمانے میں کچھ لوگ آپ کے ملک میں سحر و جادو کا عمل کرنے لگے۔ حضرت سلیمان نے حکم دیا کہ تمام تحریریں اور اوراق جمع کر کے ایک مخصوص جگہ پر رکھ دو (انہیں محفوظ رکھنا شاید اس بناء پر تھا کہ ان میں سحر و جادو کو باطل کرنے کے لئے مفید مطالب بھی تھے)۔ حضرت سلیمان کی رحلت کے بعد کچھ لوگوں نے انہی تحریروں کو باہر نکالا اور جادو کی ترویج شروع کر دی ۔ بعض نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور کہنے لگے کہ سلیمان بالکل پیغمبر نہ تھے بلکہ وہ اسی سحر اور جادو کی مدد سے ان کے ملک پر قابض تھے اور اسے وہ خارق عادت امور انجام دیتے تھے۔ بنی اسرائیل کے ایک گروہ نے بھی ان کی پیروی کی اور جادوگری کے بہت زیادہ دلدادہ ہو گئے یہاں تک کہ تورات سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ جب پیغمبر اسلام ﷺ نے ظہور فرمایا اور آیات قرآنی کے ذریعے خبر دی کہ سلیمان خدا کے پیغمبروں میں سے تھے تو یہودیوں کے بعض احبار و علماء کہنے لگے: "کیا محمد ﷺ پر حیرت نہیں جو کہتاہے سلیمان پیغمبران خدا میں سے تھا جب کہ وہ تو جادوگر تھا۔" یہودیوں کی یہ گفتگو خدا کے ایک بزرگ پیغمبر پر تہمت و افتراء تھی یہاں تک کہ اس کا لازمی نتیجہ حضرت سلیمان کی تکفیر تھا کیونکہ ان کے کہنے کے مطابق تو سلیمان ایک جادوگر تھے اور غلط طور پر اپنے آپ کو پیغمبر کہتے تھے۔ قرآن انہیں جواب دیتا ہے کہ سلیمان ہرگز کافر نہ تھے بلکہ شیاطین اور لوگوں کو جادو سکھانے والے کافر ہو گئے تھے۔[بحوالہ: سیرۃ ابن ہشام، ج ۲، ص ۱۹۲ اور مجمع البیان زیر نظر آیت کے ذیل میں۔ تھوڑے فرق کے ساتھ] پہلی زیر بحث آیت یہودیوں کی برائیوں کے ایک اور پہلو کا پتہ دیتی ہے۔ وہ یہ کہ انہوں نے خدا کے بزرگ پیغمبر حضرت سلیمان کو جادوگری کا الزام دیاتھا۔ فرمایا: یہ (یہودی) اس کی پیروی کرتے ہیں جو شیاطین سلیمان کے زمانے میں لوگوں کے سامنے پڑھتے تھے (وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّیَاطِینُ عَلَی مُلْکِ سُلَیْمَانَ)۔ ممکن ہے "و اتبعوا" کی ضمیر پیغمبر اسلام ﷺ کے ہم عصر یہودیوں، یا حضرت سلیمان کے زمانے کے یہودیوں یا دونوں کی طرف اشارہ ہو لیکن گذشتہ آیات سے مناسبت کے لحاظ سے یہ پیغمبر اسلام ﷺ کے ہم عصر یہودیوں کی طرف اشارہ ہے۔ شیاطین سے بھی ممکن ہے سرکش انسان یا جن یا دونوں مراد ہوں۔ بہر حال اس گفتگو کے بعد قرآن مزید کہتاہے: سلیمان کبھی کافر نہیں ہوئے (و ما کفر سلیمان)۔ انہوں نے کبھی نہ جادو کو ذریعہ بنایا اور نہ بلاوجہ اپنی رسالت کا دعوی کیا۔ لیکن شیاطین کافر ہوئے ہیں اور انہی نے جادو کی تعلیم دی ہے (وَلَکِنَّ الشَّیَاطِینَ کَفَرُوا یُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْر)۔ پھر وہ مزید کہتا ہے کہ انہوں نے اس کی پیروی کی جو بابل کے دو فرشتوں ہاروت و ماروت پر نازل ہوا ( وَمَا اُنزِلَ عَلَی الْمَلَکَیْنِ بِبَابِلَ ہَارُوتَ وَمَارُوتَ)۔ [بعض مفسرین کہتے ہیں کہ "ما انزل" کا عطف "مایتلوا" پر ہے اور جو تفسیر اوپر بیان ہوئی ہے وہ اسی بنیاد پر ہے لیکن بعض "السحر" پر عطف سمجھتے ہیں اور بعض "ما" کو بھی نافیہ قرار دیتے ہیں۔] گویا انہوں نے دو طرف سے جادو کی طرف ہاتھ بڑھا یا۔ ایک تو شیاطین کی تعلیم سے جو حضرت سلیمان کے زمانے میں تھے اور دوسرا خدا کے دو فرشتوں ہاروت اور ماروت کے ذریعے سے جو لوگوں کو جادو باطل کرنے کی تعلیم دیتے تھے۔ ان دو خدائی فرشتوں کا مقصد تو صرف یہ تھا کہ وہ لوگوں کو جادو کا اثر زائل کرنے کا طریقہ سکھائیں لہذا وہ کسی بھی شخص کو کچھ سکھانے سے پہلے کہہ دیتے تھے کہ ہم تمہاری آزمائش کا ذریعہ ہیں، کافر نہ ہو جانا (اور ان تعلیمات سے غلط فائدہ نہ اٹھانا) (ومَا یُعَلِّمَانِ مِنْ اَحَدٍ حَتَّی یَقُولاَ إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلاَتَکْفُر)۔ یہ دو فرشتے اس زمانے میں لوگوں کے پاس آئے جب جادو کا بازار گرم تھا اور لوگ جادو گروں کے چنگل میں پھنسے ہوئے تھے اور ان فرشتوں نے جادوگروں کے جادو کو باطل کرنے کا طریقہ لوگوں کو سکھایا۔ چونکہ کسی چیز (مثلا بم) کو بےکار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان پہلے سے اس چیز (مثلا بم کی ساخت( سے آگاہ ہوپھر ہی اسے بیکار کرنے کا طریقہ سیکھے لیکن یہودیوں میں سے غلط فائدہ اٹھانے والوں نے اسے زیادہ سے زیادہ جادو پھیلانے کا ذریعہ بنا لیا اور اتنا آگے بڑھے کہ ایک عظیم پیغمبر حضرت سلیمان کو بھی متہم کیا کہ اگر مادی عوامل ان کے زیر فرمان ہیں اور جن و انس ان کی فرمانبرداری کرتے ہیں تو یہ سب جادو کی وجہ سے ہے۔ بدکار لوگوں کا یہی طریقہ ہے کہ وہ اپنے برے مسلک اور پروگرام کی توجیہ کے لئے بزرگوں کو اسی مسلک کا پیرو ہونے کا اتہام دیتے ہیں۔ بہرحال وہ اس خدائی آزمائش میں کامیاب نہ ہو سکے۔ وہ ان دو فرشتوں سے ایسے مطالب سیکھتے تھے جن کے ذریعے مرد اور اس کی بیوی کے در میان جدائی ڈال سکیں ( فَیَتَعَلَّمُونَ مِنْہُمَا مَا یُفَرِّقُونَ بِہِ بَیْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِہ)۔ مگر خدا کی قدرت ان تمام قدرتوں پر حاوی ہے لہذا وہ حکم خدا کے بغیر ہرگز کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے (وَمَا ہُمْ بِضَارِّینَ بِہِ مِنْ اَحَدٍ إِلاَّ بِإِذْنِ اللهِ)۔ انہوں نے اس اصلاحی خدائی پروگرام کی تحریف کر دی اور بجائے اس کے کہ وہ اسے اصلاح اور جادو کے مقابلے کا ذریعہ بناتے، فساد کا ذریعہ بنا ڈالا۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ جو شخص ایسے مال و متاع کا خریدار ہو، اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا ( وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنْ اشْتَرَاہُ مَا لَہُ فِی الْآخِرَةِ مِنْ خَلاَقٍ)۔ ["خلاق" کا اصل معنی تو "خلق و عادت" ہے لیکن کبھی "نصیب" اور "حصہ" کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔] بے شک کتنی بری اور قبیح تھی وہ چیز جس کے بدلے وہ اپنے آپ کو بیچ رہے تھے۔ اے کاش ان میں علم و دانش ہوتی (وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِہِ اَنفُسَہُمْ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ )۔ انہوں نے جان بوجھ کر اپنی اور اپنے معاشرے کی سعادت و نیک بختی کو ٹھکرا دیا اور کفر و گناہ کے گرداب میں غوطہ زن ہو گئے حالانکہ اگر وہ ایمان لے آتے اور تقوی اختیار کرتے تو خدا کے ہاں سے جو بدلہ اور ثواب انہیں ملتا، وہ ان کے لئے ان تمام امور سے بہتر ہوتا۔ اے کاش وہ متوجہ ہوتے (وَلَوْ اَنَّہُمْ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَمَثُوبَةٌ مِنْ عِنْدِ اللهِ خَیْرٌ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ)۔
ہاروت اور ماروت کا واقعہ
بابل میں نازل ہونے والے فرشتوں کے بارے میں لکھنے والوں نے کئی قصے کہانیاں اور افسانے تراشے اور خدا کے ان دو بزرگ فرشتوں کے سر تھوپ دیے حتی کہ انہیں خرافات اور انسانوں کا عنوان بنا دیا گیا اور معاملہ یہاں تک پہنچا کہ کسی دانشمند کے لئے اس تاریخی واقعہ کی تحقیق اور مطالعہ بہت مشکل ہو گیا لیکن جو کچھ زیادہ صحیح نظر آتاہے اور عقلی و تاریخی لحاظ سے صحیح ہے نیز مصادر حدیث کے مطابق ہے، ہم یہاں پیش کرتے ہیں۔ سرزمین بابل پر سحر اور جادوگری اپنے کمال کو پہنچ چکی تھی اور لوگوں کی پریشانی اور تکلیف کا باعث بن چکی تھی۔ خدا نے دو فرشتوں کو انسانی صورت میں مامور کیا کہ وہ جادو کے عوامل اور اسے باطل کرنے کا طریقہ لوگوں کو سکھائیں تا کہ وہ جادوگروں کے فساد اور شر سے محفوظ رہ سکیں۔ لیکن یہ تعلیمات بہرحال غلط مقاصد کے لئے بھی استعمال ہو سکتی ہیں کیونکہ فرشتے مجبور تھے کہ جادوگروں کا جادو باطل کرنے کے لئے پہلے جادو کے طریقے کی تشریح کریں تا کہ لوگ اس طرح اس کی پیش بندی کر سکیں۔ اس وجہ سے ایک گروہ جادو کا طریقہ سیکھنے کے بعد خود جادوگروں کی صف میں شامل ہو گیا اور لوگوں کے لئے نئی زحمت کا سبب بنا حالانکہ وہ فرشتے لوگوں کو تنبیہ کرتے تھے اور ان کے لئے صراحتا کہتے تھے کہ یہ تمہارے لئے ایک طرح کی آزمائش ہے اور یہاں تک کہا کہ اس سے غلط فائدہ اٹھانا ایک طرح کا کفر ہے لیکن پھر بھی وہ لوگ ایسے کاموں میں پڑگئے جو انسانوں کی لئے ضرر اور نقصان کا باعث تھے۔ [بحوالہ: مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں و وسائل ج ۱۲، ص ۱۰۲ و ص ۱۰۷۔] جو کچھ ہم نے اوپر بیان کیاہے وہ بہت سی احادیث اور اسلامی مصادر سے لیا گیا ہے اور عقل و منطق سے بھی اس کی ہم آہنگی آشکار ہے۔ منجملہ ان کی ایک حدیث وہ بھی ہے جو عیون اخبار الرضا میں ہے (ایک طریق سے خود امام علی بن موسی رضا علیہ السلام سے اور دوسرے طریق سے امام حسن عسکری علیہ السلام سے منقول ہے)۔ یہ حدیث واضح طور پر اس مفہوم کی تائید کرتی ہے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ بعض مورخین اور دائرہ المعارف (انسائیکلوپیڈیا) لکھنے والے حضرات یہاں تک کہ بعض مفسرین بھی اس ضمن میں جعلی انسانوں کے زیر اثر آگئے ہیں۔ بعض لوگوں میں خدا کے ان دو معصوم فرشتوں کے بارے میں جو کچھ مشہور ہے۔ انہوں نے بھی ذکر کر دیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ دو فرشتے تھے۔ خدانے انہیں زمین پر اس لئے بھیجا تا کہ انہیں معلوم ہو جائے کہ اگروہ انسانوں کی جگہ ہوتے تو وہ بھی گناہ سے نہ بچ پاتے اور خدا کی نافرمانی کرتے لہذا وہ دونوں بھی زمین پر اترنے کے بعد بڑے بڑے گناہوں کے مرتکب ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی ستارہ زہرہ کے بارے میں بھی افسانہ تراشا گیا ہے۔ یہ تمام چیزیں خرافات اور بے بنیاد بکواس ہیں۔ قرآن ان امور سے پاک ہے۔ اگر مندرجہ بالا آیات کے متن میں ہی غور کیا جائے تو ہم دیکھیں گے کہ قرآن کا بیان ان باتوں سے کوئی ربط نہیں رکھتا۔
ہاروت اور ماروت الفاظ کی حیثیت
ایک لکھنے والے کے نظریے کے مطابق ہاروت اور ماروت ایرانی الاصل نام ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ اس نے ارمنی کتاب میں "ہرروت" کا معنی "زرخیزی" اور "مروت" کا معنی "بے موت" دیکھا ہے۔ اور یہ دونوں لفظ کوہ مازیس (کوہ آرارات) کے دو خداؤں کے نام ہیں۔ اس کا نظریہ ہے کہ ہاروت و ماروت انہی دو الفاظ سے ماخوذ ہیں۔ لیکن اس استنباط کے لئے کوئی واضح علامت و دلیل نہیں ہے۔ اوستا میں ہے: ہرورات جو خرداد ہی ہے اور اسی طرح امروات جس کا معنی بے موت ہے جو کہ مرداد ہے۔ [یاد رہے خرداد اور مرداد دو ایرانی مہینوں کے نام ہونے کے علاوہ دو فرشتوں کے ناموں کی حیثیت سے معروف ہیں۔ مترجم۔] دھخدا نے اپنی لغت میں جو کچھ لکھاہے وہ آخری معنی سے کچھ ملتا ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض کے نزدیک تو ہاروت و ماروت بابل رہنے والے دو مرد تھے۔ بعض نے تو انہیں شیاطین قرار دے دیا ہے حالانکہ مندرجہ بالا آیت واضح طور پر ان مفاہیم کو رد کرتی ہے (مگر یہ کہ آیات کی تفسیر و توجیہ اس کے ظاہری مفہوم کے خلاف کر دی جائے)۔
فرشتہ انسان کا معلم کیونکر ہوسکتا ہے؟
یہاں ایک سوال باقی رہ جاتا ہے کہ قرآن کی آیات کے ظاہری مفہوم اور متعدد روایات کے مطابق جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں ہاروت و ماروت خدا کے دو فرشتے تھے جو جادوگروں کی اذیت و آزار کا مقابلہ کرنے کے لئے لوگوں کو تعلیم دینے آئے تھے، تو کیا فرشتہ انسان کا معلم ہو سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب انہی احادیث میں مذکور ہے اور وہ یہ کہ خدا نے انہیں انسانوں کی شکل و صورت میں بھیجا تھا تا کہ وہ یہ کام انجام دے سکیں۔ یہ حقیقت سورہ انعام کی آیت ۸ سے بھی ظاہر ہوتی ہے جہاں فرمایا گیا ہے: و لو جعلنہ ملکا لجعلنہ رجلا۔ اور اگر ہم فرشتے کو اپنا رسول بناتے تو اسے بھی مرد کی صورت میں بھیجتے۔
کوئی شخص اذن خدا کے بغیر کسی چیز پر قادر نہیں
مندرجہ بالا آیت میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ جادوگر اذن پروردگار کے بغیر کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے۔ اس میں جبر و اجبار کا مفہوم نہیں۔ یہ توحید کے ایک اساسی اصول کی طرف اشارہ ہے اور وہ یہ کہ اس جہان کی تمام قدرتوں کا سرچشمہ قدرت خداہے۔ یہاں تک کہ آگ کا جلانا اور تلوار کا کاٹنا بھی اس کے اذن و فرمان کے بغیر نہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ جادوگر عالم آفرینش میں خدا کے ارادے کے برعکس دخیل ہوں اور یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ خدا کی سلطنت میں کوئی اسے محدود کر دے بلکہ یہ تو خواص و آثار ہیں جو مختلف موجودات میں پیدا کئے گئے ہیں۔ بعض ان سے صحیح فائدہ اٹھاتے ہیں اور بعض غلط اور یہ آزادی و اختیار بھی انسانوں کی آزمائش اور ان کے تکامل کے لئے ایک زمینہ ہے۔
جاد و کیاہے اور کس وقت سے ہے
جادو کسے کہتے ہیں اور یہ کس زمانے سے وجود میں آیا ہے، یہ ایک وسیع بحث ہے۔ اتنا کہا جا سکتا ہے کہ جادو بہت قدیم زمانے سے لوگوں میں رائج ہے۔ اس کی بالکل صحیح تاریخ دستیاب نہیں۔ یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ کس شخص نے پہلی مرتبہ جادوگری کو وجود دیا تھا۔ لیکن سحر کے معنی اور اس کی حقیقت کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ جادو خارق عادت افعال کی ایک قسم ہے۔ یہ اپنی طرف سے انسانی وجود میں کچھ آثار پیدا کر سکتا ہے اور بعض اوقات آنکھوں کا دھوکا اور ہاتھ کی صفائی ہے اور صرف نفسیاتی و خیالی پہلو رکھتاہے۔ لغت میں سحر کے دو معانی مذکور ہیں: ۱۔ فریب، طلسم، شعبدہ اور ہاتھ کی صفائی۔ قاموس میں سحر کردن کا معنی لکھاہے دھوکا دینا۔ ۲۔ (کل ما لطف دق) یعنی وہ جس کے عوامل نظر نہ آتے ہوں اور پوشیدہ ہوں۔ مفردات راغب، جو قرآن کے مفرد الفاظ کے لئے مخصوص ہے، میں تین معانی کی طرف اشارہ ہوا ہے: ۱۔ فریب اور حقیقت و واقعیت کے بغیر خیالات جیسے شعبدہ بازی اور ہاتھ کی صفائی۔ ۲۔ شیاطین کو مخصوص طریقے سے بلانا اور ان سے مدد لینا۔ ۳۔ بعض نے ایک معنی اور بھی کیاہے اور وہ یہ کہ ممکن ہے کچھ وسائل سے بعض اشخاص و موجودات کی ماہیت اور شکل بدل دینا، مثلا انسان کو جادو کے ذریعے حیوانی شکل میں تبدیل کر دینا۔ لیکن یہ بات خواب و خیال سے زیادہ نہیں ہے اور اس کی کوئی حقیقت و واقعیت نہیں ہے۔ قرآن میں لفظ سحر اور اس کے مشتقات مختلف سورتوں مثلا طہ، شعراء یونس، اعراف وغیرہ میں آئے ہیں اور یہ خدا کے پیغمبروں حضرت موسی، حضرت عیسی اور پیغمبر اسلام ﷺ کے حالات کے ضمن میں ہیں۔ ان کے مطالعہ سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ قرآن کی نظر میں سحر دو حصوں میں تقسیم ہوتاہے: ۱۔ وہ مقام جہاں سحر سے مقصود دھوکا، ہاتھ کی صفائی، شعبدہ بازی اور فریب نظر ہے اور کوئی حقیقت نہیں۔ مثلا: فَإِذَا حِبَالُہُمْ وَعِصِیُّہُمْ یُخَیَّلُ إِلَیْہِ مِنْ سِحْرِہِمْ اٴَنَّہَا تَسْعَی۔ یوں لگتا تھا جیسے ان (جادوگروں) کی رسیاں اور لاٹھیاں اس (موسی) کی طرف دوڑ رہی ہوں۔ (طہ۔ ۶۶) ایک اور آیت یوں ہے: فَلَمَّا اٴلْقَوْا سَحَرُوا اٴعْیُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْہَبُوہُمْ وَجَائُوا بِسِحْرٍ عَظِیم۔ جب انہوں نے رسیوں کو پھینکا تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیا، انہیں خوف زدہ کر دیا۔ (اعراف۔۱۱۶) ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ جادو کی کوئی حقیقت و واقعیت نہیں ہے اور یہ نہیں کہ جادوگر چیزوں میں تصرف کر سکیں اور اپنا اثر باقی رکھ سکیں بلکہ یہ تو ان کے ہاتھ کی صفائی اور فریب نظر ہے کہ لوگوں کو حقیقت کے برعکس دکھائی دیتاہے ب۔ قرآن کی بعض آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سحر کی بعض اقسام واقعا اثرانداز ہوتی ہیں۔ مثلا زیر بحث آیت جس میں ہے کہ وہ جادو سیکھتے تھے تا کہ مرد اور اس کی بیوی میں جدائی ڈالیں۔ فیتعلمون منہما ما یفرقون بہ بین المرء و زوجہ۔ ایک اور بات جو مندرجہ بالا آیات میں تھی کہ وہ ایسی چیزیں سیکھتے جو ان کے لئے مضر ہوتیں اور نفع بخش نہ ہوتیں: و یتعلمون ما یضرہم و لا ینفعہم۔ لیکن یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جادو کی تاثیر نفسیاتی پہلو رکھتی ہے یا اس کا جسمانی اور خارجی اثر بھی ممکن ہے۔ زیر بحث آیات میں اس طرف کوئی اشارہ نہیں۔ اسی لئے بعض کا نظریہ ہے کہ جادو کا اپنا اثر صرف خیالی اور نفسیاتی لحاظ سے ہے۔ ایک اور نکتہ جس کا ذکر یہاں ضروری ہے یہ ہے کہ دیکھنے میں آتاہے کہ جادو کی تمام یا بعض قسمیں ایسی ہیں جن میں چیزوں کے کیمیائی اور طبیعائی خواص سے فائدہ اٹھا کر سادہ لوح عوام کو دھوکا دیا جاتا ہے اور انہیں بیوقوف بنایا جاتا ہے ۔ مثلا حضرت موسی کے زمانے کے جادو کی تاریخ میں ہے کہ جادوگر اپنی رسیوں اور چھڑیوں میں کسی مخصوص کیمیائی مواد (مثلا احتمال ہے کہ سیماب وغیرہ ہوگا) کا استعمال کیا کرتے تھے اور پھر یہ چیزیں سورج کی تپش یا کسی اور حرارت کے ذریعے حرکت میں آجاتی تھیں اور تماشائی سمجھتے تھے کہ وہ جاندار ہو گئی ہیں۔ ایسا جادو ہمارے زمانے تک میں نایاب نہیں ہے۔
جادو اسلام کی نظر میں
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جادو سیکھنا اور اس پر عمل کرنا اسلام کی نگاہ میں کوئی اشکال نہیں رکھتا۔ اس سلسلے میں تمام فقہاء اسلام کہتے ہیں جادو سیکھنا اور جادوگری کرنا حرام ہے۔ اس ضمن میں اسلام کے بزرگ رہنماؤں سے احادیث بھی وارد ہوئی ہیں جو ہماری معتبر کتب میں منقول ہیں۔ نمونے کے طور پر ہم یہ حدیث پیش کرتے ہیں: حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: من تعلم شیئا من السحر قلیلا او کثیرا فقد کفر و کان اخر عہدہ بربہ۔ [بحوالہ: وسائل الشیعہ، باب ۲۵، من ابواب ما یکتسب بہ] جو شخص کم یا زیادہ جادو سیکھے وہ کافر ہے اور خدا سے اس کا رابطہ اسی وقت بالکل منقطع ہو جائے گا۔ لیکن اگر جادوگر کے جادو کو باطل کرنے کے لئے سیکھنا پڑے تو اس میں کوئی اشکال نہیں بلکہ بعض اوقات کچھ لوگوں پر اس کا سیکھنا واجب کفائی ہو جاتا ہے تا کہ اگر کوئی جھوٹا مدعی اس کے ذریعے سے لوگوں کو دھوکا دے یا گمراہ کرے تو اس کے جادو کو باطل کیا جا سکے اور اس کا جھوٹ فاش کیا جا سکے۔ جادوگر کا جادو باطل کرنے اور اس کے جھوٹ کی قلعی کھولنے کے لئے جادو سیکھنے میں کوئی حرج نہیں، اس کی شاہد وہ حدیث ہے جو امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے جو یوں ہے: ایک جادوگر، جادو کے عمل کی اجرت اور مزدوری لیتا تھا۔ وہ امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھنے لگا کہ میرا پیشہ جادوگری ہے اور میں اس کے بدلے اجرت لیتا ہوں اور میری زندگی کے اخراجات اسی سے پورے ہوتے ہیں۔ اسی کی آمدنی سے میں نے حج کیا ہے لیکن اب میں توبہ کرتا ہوں تو کیا میرے لئے راہ نجات ہے۔ امام صادق علیہ السلام نے جواب میں ارشاد فرمایا: جادو کی گرہیں کھول دو لیکن گرہیں باندھو نہیں۔[بحوالہ: وسائل الشیعہ باب ۲۵، من باب ما یکتسب بہ، حدیث نمبر ۱]
جادو تورات کی نظر میں
کتب عہد قدیم ( تورات اور اس سے ملحق کتب) کی رو سے بھی جادو گری ناجائز اور بہت ہی قبیح ہے۔ تورات میں ہے: جنّوں کی طرف توجہ نہ کرو اور جادو گروں کے بارے میں جستجو نہ کرو کہ کہیں ان سے ناپاک نہ ہو جاو اور خداوند تمہارا خدا میں ہوں۔ (بحوالہ: لادیان ۱۹:۳۱)۔ تورات میں ایک اور مقام پر ہے: جو شخص جنّوں اور جادوگروں کی طرف توجہ کرے یہاں تک کہ زنا کے راستے سے ان کی پیروی کرے میں اپنے عتاب کا رُخ اس کی طرف پھیرتے ہوئے اُسے اس کی قوم سے منقطع کر دوں گا۔ (بحوالہ: لادیان ۷:۲۰)۔ کتاب مقدس میں اس بارے میں ہے: اور بہت ہی واضح ہے کہ جادو کےلئے شریعت موسوی میں کوئی راستہ نہیں بلکہ شریعت ان اشخاص کو جو جادو کے ذریعے مشورہ طلب کرتے تھے شدید ترین قصاص کے ساتھ منع کرتی ہے۔ لیکن بڑے تعجب کی بات ہے کہ خود قاموص کتاب مقدس اعتراف کرتی ہے کہ اس کے باوجود یہودی جادو سیکھتے تھے اور تورات کے برخلاف اس پر اعتقاد رکھتے تھے کیونکہ گذشتہ تحریر کے بعد عبارت یوں آگے بڑھتی ہے: مگر اس کے باوجود یہ فاسد مادہ یہودی قوم میں داخل ہو گیا اور یہ قوم اس کی معتقد ہو گئی اور لوگ حاجت و ضرورت کے وقت اس کی پناہ حاصل کرتے تھے۔ ( قاموس کتاب مقدس، ص ۴۷۱، تالیف امریکی مولف مسٹر ہاکس)۔ اسی بناء پر قرآن کہتا ہے: یہودی کتابِ خدا کی طرف پشت کرتے ہیں۔
جادو ہمارے زمانےمیں
آج علوم کا ایک سلسلہ موجود ہے۔ گذشتہ زمانے میں جادوگر ان سے استفادہ کر کے اپنے مقاصد حاصل کرتے تھے۔ وہ اجسام کے طبیعاتی اور کیمیائی خواص کو بروئے کار لاتے تھے۔ جیسا کہ حضرت موسی کے زمانے کے جادوگروں کے واقعے کے ذیل میں بیان ہوا ہے کہ وہ اشیاء کے ان خواص سے استفادہ کرتے تھے۔ پہلے انہوں نے کچھ چیزیں سانپ کی شکل کی بنا لیں پھر کسی چیز مثلا پارہ اور اس کی ترکیبات کی مدد سے انہیں حرکت میں لے آئے۔ البتہ اجسام کے طبیعاتی اور کیمیائی خواص سے استفادہ کرنا ہرگز ممنوع نہیں بلکہ جتنا زیادہ ہو سکے ان سے آگاہی حاصل کی جائے اور زندگی میں ان سے استفادہ کیا جائے لیکن آج بھی اگر ان کے مخفی خواص سے دھوکا دینے، بیوقوف بنانے اور غلط راہوں پر چلانے کا کام لیا جائے تو یہ امر جادو ہی کہلائے گا۔ اجسام و عناصر کے خواص کے علاوہ علوم کا ایک اور حصہ ہے جس میں مقناطیسی خواب ہپناٹزم (Hypnotism) مانیہ ٹزم(Maniatism) اور ٹیلی پیتھی (Telepathy) [دور سے افکار منتقل کرنا] بھی ثابت شدہ علوم میں شامل ہیں جن سے زندگی کے بہت سے مراحل میں فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے لیکن جادوگر ان سے غلط فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان علوم کو دھوکا دہی کےلئے استعمال کرتے ہیں۔ آج بھی یہ علوم اگر کوئی بے خبر لوگوں سے غلط فائدہ اٹھانے کےلئے استعمال کرے تو اسے جادو ہی کہیں گے۔ خلاصہ یہ کہ جادو کا ایک وسیع مفہوم ہے اس ضمن میں جو کچھ پہلے اور اب بیان کیا ہے، یہ سب جادو کے مفہوم میں شامل ہے۔ یہ بات بھی ثآبت شدہ ہے کہ انسان کی قوت ارادی بہت مضبوط ہے اور نفسیاتی ریاضتوں کے ذریعے اور قوی ہو جاتی ہے اور یہاں تک جا پہنچتی ہے کہ اپنے گرد و پیش کے موجودات پر اثر انداز ہوتی ہے۔ جیسا کہ سنیاسی اور ریاضت کرنے والے لوگ خارق عادت کام انجام دیتے ہیں۔یہ بھی قابل غور بات ہے کہ کچھ ریاضتین بھی جائز اور کچھ ناجائز ہیں۔ جو ریاضتیں جائز ہیں وہ پاک نفوس میں اصلاحی اور تربیتی قوت پیدا کرتی ہیں۔ جب کہ غیر مشروع اور ناجائز ریاضتیں شیطانی قوت پیدا کرتی ہیں۔ ممکن ہے دونوں خارق عادت چیز کا سبب بنیں جو پہلی صورت میں مثبت اور اصلاحی ہو گی۔ جبکہ دوسری صورت میں مخرّب یا کم از کم فضول و بیہودہ ہو گی۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 105 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1مشہور مفسر ابن عباس سے منقول ہے کہ صدر اسلام کے مسلمان جب آنحضرت سے گفتگو میں مشغول ہوتے اور آپ آیات و احکام الہی بیان کر رہے ہوتو کبھی درخواست کرتے کہ ذرا آہستہ گفتگو فرمائیں تاکہ وہ مطلب اچھی طرح سمجھ سکیں اور اپنے سوالات و معروضات بھی پیش کر سکیں۔ اس درخواست کےلئے وہ لفظ "راعنا" استعمال کرتے۔ اس لفظ کا مادہ "الرعی" ہے جس کا معنی ہے "مہلت دینا" لیکن یہودی اس کا معنی ایک اور مادہ "الرعونہ" کے حوالے سے کرتے جس کا معنی ہے "بیوقوف اور احمق ہونا"۔ (پہلی صورت میں اس کا مفہوم تھا "ہمیں مہلت دیجئے" لیکن دوسری صورت میں اس کا معنی ہوتا ہے "ہمیں بیوقوف بنائیے") یہاں یہودیوں کے ہاتھ بات آ گئی۔ وہ اسی جملہ سے فائدہ اٹھاتے جو مسلمان کہتے اور پیغمبر اور مسلمانوں سے استہزاء اور مذاق کرتے۔ پہلے اوپر والی آیت نازل ہوئی اور غلط فائدہ اٹھانے کا یہ سلسلہ روکنے کےلئے مومنین کو حکم دیا کہ "راعنا" کی بجائے "انظڑنا" استعمال کرو جو وہی مفہوم ادا کرتا ہے لیکن ہٹ دھرم دشمن (یہودی) کےلئے سند نہیں ہے۔ بعض دوسرے مفسرین نے کہا ہے کہ "راعنا" یہودیوں کی زبان میں ایک طرح کی گالی تھی اور اس کا مفہوم تھا "سنو، کہ ہرگز نہیں سنو گے" یہ جملہ کہہ کر وہہنستے تھے۔ کچھ مفسرین نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ یہودی "راعنا" کی بجائے "راعینا" کہتے تھے جس کا معنی ہے "ہمارا چرواہا" اور پیغمبر کےلئے یہ جملہ استعمال کرکے اپنا مقصد پورا کرتے تھے۔ (بحوالہ: تفسیر قرطبی، تفسیر المنار، فخر رازی اور تفسیر الفتوح رازی۔ زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔
دشمن کی ہاتھ بہانہ مت دو
شان نزول میں جو بات بیان کی گئی ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے اے ایمان والو! جب پیغمبر سے آیات قرآن سمجھنے کے لئے مہلت مانگو تو "راعنا" نہ کہو بلکہ "انظرنا" کہو (کیونکہ اس کا بھی مفہوم وہی ہے لیکن دشمن کے لئے سند نہیں بنتا( (اَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انظُرْنَا) اور جو حکم تمہیں دیا جا رہا ہے اسے سنو۔ کافروں اور استہزاء کرنے والوں کے لئے دردناک عذاب ہے (وَاسْمَعُوا وَلِلْکَافِرِینَ عَذَابٌ اَلِیمٌ )۔ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمان اپنے پروگراموں میں دشمن کے ہاتھ کوئی بہانہ نہ آنے دیں یہاں تک کہ ایک چھوٹا سا جملہ غلط مقاصد میں دشمن کے لئے مقام بحث بن سکے اس سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔ قرآن مخالفین کی طرف سے مومنین سے غلط فائدے اٹھانے کی روک تھام کی نصیحت کرتاہے اور چاہتا ہے کہ ایک لفظ تک ایسا نہ کہیں جس کے ایسے مشترک معنی ہوں کہ دشمن جس کے دوسرے معنی کو غلط استعمال کر سکے اور مومنین کی نفسیاتی کمزوری کا باعث بنے۔ جب دامن کلام اور تعبیر سخن وسیع ہے تو کیا ضرورت پڑی ہے کہ انسان ایسے جملے استعمال کرے جو قابل تحریف ہوں اور غلط مفاد کا باعث ہوں۔ جب اسلام اتنی اجازت نہیں دیتا کہ دشمن کے ہاتھ کوئی ایسا بہانہ دیا جائے تو بڑے بڑے مسائل میں مسلمانوں کی ذمہ داری واضح ہو جاتی ہے۔ اب بھی ہم سے کبھی ایسے کام سرزد ہو جاتے ہیں جو داخلی دشمن کے لئے یا بین الاقوامی مجالس میں بری تفسیر کا سبب ہوتے ہیں اور لاوڈ سپیکر پر دشمن کے پراپیگنڈہ کے لئے سودمند ہوتے ہیں۔ ایسے میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسے کاموں سے پرہیز کریں اور بلاوجہ داخلی اور خارجی دشمنوں کے ہاتھ بہانہ نہ دیں۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ لفظ "راعنا" مندرجہ بالا پس منظر کے علاوہ ایک غیر مودبانہ انداز کا بھی حامل ہے کیونکہ "راعنا" مراعات کے مادہ (باب مفاعلہ) سے ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ تم ہماری اعانت کرو، ہم تم سے مراعات کریں چونکہ یہ غیر مودبانہ تعبیر تھی (علاوہ ازیں یہودی بھی اس سے غلط فائدہ اٹھاتے تھے)۔ قرآن نے مسلمانوں کو اس سے منع کر دیا تا کہ ایک تو زیادہ مودبانہ لفظ استعمال کریں اور دوسرا دشمن کے ہاتھ بہانہ نہ دیں۔[تفسیر فخر رازی اور المنار، زیر بحث آیت کے ذیل میں] بعد کی آیت مشرکین اور اہل کتاب کی مومنین سے کینہ پروری اور عداوت سے پردہ اٹھاتی ہے۔ فرمایا: اہل کتاب کفار اور اسی طرح مشرکین پسند نہیں کرتے کہ خدا کی طرف سے کوئی خیر و برکت تم پر نازل ہو ( مَا یَوَدُّ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ اَہْلِ الْکِتَابِ وَلاَالْمُشْرِکِینَ اَنْ یُنَزَّلَ عَلَیْکُمْ مِنْ خَیْرٍ مِنْ رَبِّکُمْ )۔ لیکن یہ تمنا آرزو سے زیادہ کچھ نہیں کیونکہ خداوند عالم اپنی رحمت اور خیر و برکت جس شخص سے چاہتاہے مخصوص کر دیتا ہے (و اللہ یختص برحمتہ من یشاء) اور خدا بخشش اور فضل عظیم کا مالک ہے (واللہ ذو الفضل العظیم)۔ بے شک دشمن اپنے شدید کینہ اور حسد کے باعث پسند نہ کرتے تھے کہ مسلمانوں پر یہ اعزاز اور عطیہ الہی دیکھیں کہ خدا کی طرف سے ایک عظیم پیغمبر ایک بہت عظیم آسمانی کتاب کے ساتھ ان کے نصیب ہو لیکن کیا کوئی فضل و رحمت خدا کوکسی پر نازل ہونے سے روک سکتا ہے۔
یا ایھا الذین امنوا کا دقیق مفہوم
قرآن مجید میں ۸۹ مقامات پر یہ پر اعجاز اور روح پرور خطاب نظر آتا ہے۔ مندرجہ بالا پہلی وہ آیت ہے جس میں اس خطاب سے عزت حاصل ہو رہی ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ یہ تعبیر ان آیات کے ساتھ مخصوص ہے جو مدینہ میں نازل ہوئی ہیں اور مکہ کی آیات میں اس کا نام و نشان تک نہیں ہے ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ پیغمبر اکرم ﷺ کے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے سے مسلمانوں کی حالت میں ثابت قدمی آگئی تھی، وہ ایک مستقل اور با اثر جمعیت کی صورت میں نظر آنے لگے تھے اور انہیں پراگندگی سے نجات مل گئی تھی لہذا خداوند عالم نے انہیں "یا ایھا الذین امنوا" کے خطاب سے نوازا ہے۔ یہ تعبیر ضمنا ایک اور نکتے کی بھی حامل ہے اور وہ یہ کہ اب تم ایمان لے آئے ہو اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کر چکے ہو اور اپنے اللہ سے اطاعت کا عہد و پیمان باندھ چکے ہو لہذا اس کے تقاضے کے مطابق اس جملے کے بعد جو حکم آرہا ہے، اس پر عمل کرو۔ بہ الفاظ دیگر تمہارا ایمان تم پر لازم قرار دیتا ہے کہ ان قوانین کے کاربند رہو۔ توجہ طلب بات یہ ہے کہ بہت سی اسلامی کتب میں جن میں اہل سنت کی کتابیں بھی شامل ہیں، پیغمبر اسلام ﷺ سے یہ ایک حدیث منقول ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ما انزل اللہ آیہ فیہا یا ایہا الذین امنوا الا و علیّ راسہا و امیرہا۔ خدا نے کسی مقام پر قرآن کی کوئی آیت نازل نہیں کی جس میں یا ایھا الذین امنوا ہو مگر یہ کہ اس کے رئیس و امیر حضرت علی ع ہیں۔
هدف از نسخ
ان آیات میں بھی مسلمانوں کے خلاف یہودیوں کی سازشوں اور وسوسوں سے متعلق گفتگو کی گئی ہے۔ کبھی تو مسلمانوں سے وہ کہتے تھے دین تو یہودیوں کا دین ہے اور کبھی کہتے قبلہ تو یہودیوں ہی کا قبلہ ہے اسی لئے تو تمہارا پیغمبر ہمارے قبلہ (بیت المقدس) کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتا ہے لیکن جب قبلہ کا حکم بدل دیا گیا اور اس سورہ کی آیت ۱۴۴ کے مطابق مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ اب وہ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھیں۔ اب یہودیوں کے ہاتھ پہلے والی بات تو نہ رہی لیکن وہ نیاراگ الاپنے لگے اور کہنے لگے: اگر قبلہ اول صحیح تھا تو یہ دوسرا حکم کیا ہے اور اگر دوسرا حکم صحیح ہے تو پھر تمہارے پہلے اعمال باطل ہیں۔ قرآن ان آیات میں ان کے اعتراضات کا جواب دیتا ہے اور مومنین کے دلوں کو روشن کرتا ہے۔[ یہ بھی احتمال ہے کہ مندرجہ بالا آیات کا تعلق قبلہ کی تبدیلی سے نہ ہو بلکہ بعض دیگر احکام اسلام کے تغیر و نسخ سے ہو جیسا کہ فخر رازی نے اپنی تفسیر میں اور سید قطب نے اپنی تفسیر فی ظلال القرآن میں ذکر کیا ہے]۔ قرآن کہتاہے: ہم کسی حکم کو منسوخ نہیں کرتے یا اس کی تنسیخ کو تاخیر میں نہیں ڈالتے مگر اس سے بہتر یا اس جیسے کسی دوسرے حکم کو اس کی جگہ نافذ کر دیتے ہیں (ما ننسخ من ایة او ننسھا نات بخیر منھا او مثلھا) اور خدا کے لئے یہ آسان ہے۔ کیا تم جانتے نہیں ہو کہ خدا ہر چیز پر قدرت رکھتاہے (اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللهَ علی کل شیء قدیر)۔ بعد کی آیت میں اس کی تاکید کی گئی ہے: کیا جانتے نہیں ہو کہ آسمانوں اور زمینوں کی حکومت خدا کے لیے ہے (اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللهَ لَہُ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ)۔ وہ حق رکھتا ہے کہ مصالح کے مطابق اپنے احکام میں ہر قسم کا تغیر و تبدل کرے اور وہ اپنے بندوں کے مصالح سے زیادہ آگاہ اور زیادہ بصیر ہے اور کیا تم جانتے نہیں ہو کہ خدا کے علاوہ تمہارا کوئی سرپرست اور یار و مددگار نہیں ہے (وَمَا لَکُمْ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ وَلِیٍّ وَلاَنَصِیر)۔ حقیقت میں اس آیت کا پہلا جملہ احکام میں خدا کی حاکمیت اور بندوں کے تمام مصالح کی تشخیص میں اس کی قدرت کی طرف اشارہ ہے۔ ان حالات میں مومنین کو نہیں چاہیے کہ وہ ان خود غرض لوگوں کی باتوں کی طرف کان دھریں جو نسخ احکام کے مسئلہ میں شک و تردد کرتے ہیں۔ دوسرا جملہ ان لوگوں کے لئے تنبیہ ہے جو خدا کے علاوہ اپنے لئے سہارے کا انتخاب کرتے ہیں کیونکہ عالم میں اس کے علاوہ کوئی سہارا نہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 107 کے تحت ملاحظہ کریں۔
کیا احکام شریعت میں نسخ جائز ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1لغت کی نظرسے نسخ کا معنی ہے ختم کرنا اور زائل اور شریعت کی منطق میں نسخ ایک حکم بدل کر اس کی جگہ دوسرا حکم نافذ کرنے کو کہتے ہیں، مثلا: ۱۔ ہجرت کے سولہ ماہ بعد تک مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے۔ اس کے بعد قبلہ کی تبدیلی کا حکم صادر ہوا اور انہیں پابند کیا گیا کہ اب نماز کے وقت کعبہ کی طرف رخ کیا کریں۔ ۲۔ سورہ نساء آیہ ۱۵ میں بدکار عورتوں کی سزا کے سلسلے میں حکم دیا گیا تھا کہ چار گواہوں کی شہادت پر انہیں گھر میں بند کر دیا جائے یہاں تک کہ وہ مر جائیں یا خدا ان کے لئے کوئی اور راستہ مقرر کر دے۔ یہ آیت سورہ نور کی آیت سے منسوخ ہو گئی اور اس آیت کی رو سے ان کی سزا سو تازیانے مقرر ہوئی۔ اس مقام پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر پہلا حکم مصلحت کا حامل تھا تو پھر اسے منسوخ کیوں کیا گیا اور اگر اس میں مصلحت نہیں تھی تو ابتدا میں نافذ کیوں کیا گیا۔ بہ الفاظ دیگر کیا تھا اگر ابتداء ہی سے ایسا حکم نازل ہوتا کہ تنسیخ اور تغیر کی ضرورت پیش نہ آتی۔ اس سوال کا جواب علماء اسلام بہت پہلے اپنی کتب میں دے چکے ہیں۔ ہم اس کا خلاصہ کچھ اپنی توضیح کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ زمانے اور علاقے کے لحاظ سے انسان کی ضروریات بدل جاتی ہیں۔ ایک دن ایک پروگرام اس کی سعادت کا ضامن تھا لیکن دوسرے دن ممکن ہے حالات بدل جانے سے وہی پروگرام اس کے راستے کا کانٹا بن جائے۔ ایک دن ایک دوا بیمار کے لئے بہت مفید ہے اور ڈاکٹر اس کے استعمال کا حکم دیتا ہے جب کہ دوسرے دن بیمار کے کچھ صحت مند ہو جانے کی وجہ سے ممکن ہے یہی دوا اس کے لئے نقصان دہ ہو لہذا ڈاکٹر اس دوا کو ترک کرنے اور اس کے بجائے دوسری دوا استعمال کرنے کا حکم دیتاہے۔ ممکن ہے اس سال طالب علم کے لئے کچھ درس اصلاحی اور مفید ہوں لیکن یہی دروس آئندہ سال یا بعد کے چند سال کے لئے بے فائدہ ہوں۔ معلم کو چاہیے کہ ایسا پروگرام اور نصاب مرتب کرے جو ہر سال کی اپنی ضروریات کے مطابق ہو۔ اگر ہم تکامل انسان کی روش اور مختلف معاشروں کی طرف توجہ دیں تو یہ بات زیادہ روشن ہو جاتی ہے کہ کبھی ایک پروگرام مفید اور اصلاحی ہوتاہے اور کبھی وہی نقصان وہ اور لازمی طور پر قابل تغیر ہوتا ہے خصوصا اجتماعی، نظریاتی اور عقائدی انقلابات کے آغاز میں پروگراموں کی تبدیلی کی ضرورت مختلف اوقات میں زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔ البتہ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ احکام الہی کے اساسی ارکان کے اصول بالکل تبدیل نہیں ہوتے، وہ ہر جگہ ایک جیسے رہتے ہیں۔ توحید، عدالت اجتماعی کے اصول اور اس قسم کے سینکڑوں احکام ہیں جو تبدیل نہیں ہوتے۔ تغیر تو جزئیات اور دوسرے درجے کے احکام میں ہوتاہے۔ اس نکتے کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ ممکن ہے مذاہب کا تکامل اس مقام پر پہنچ جائے کہ آخری مذہب خاتم ادیان کے عنوان سے نازل ہو اور اس طرح کہ اب احکام کی تبدیلی کی اس میں کوئی گنجائش نہ ہو۔ (اس موضوع کی پوری تفصیل انشاء اللہ آپ سورہ احزاب کی آیہ ۴۰ کے ذیل میں ملاحظہ فرمائیں گے)۔ مشہور اگرچہ یہی ہے کہ یہودی نسخ کے کلی طور پر منکر ہیں اور وہ اسی بناء پر مسلمانوں کے قبلہ کی تبدیلی پر معترض تھے لیکن وہ مجبور ہیں کہ اپنے مذہب کی بنیادی کتب کی روشنی میں نسخ کو تسلیم کریں کیونکہ تورات کے مطابق جس وقت نوح کشتی کے نیچے اترے تو خدا نے ان کے لئے تمام جانور حلال کر دیے لیکن یہی حکم موسی کی شریعت میں منسوخ ہو گیا اور کچھ حیوانات حرام ہو گئے۔ تورات کے سفر تکوین، فصل ۹، شمارہ ۳ میں ہے: ہر حرکت کرنے والا جو زندہ رہے وہ تمہاری خوراک ہوگا اور یہ سب سبزہ زار کی گھاس کی طرح ہم نے تمہیں دیے ہیں۔
لفظ (آیت ) سے کیا مراد ہے
لغت میں "آیت" نشانی اور علامت کو کہتے ہیں۔ قرآن میں یہ لفظ مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے۔ مثلا: ۱۔ قرآن کے جملے اور فقرے جو خاص علامات کے ساتھ ایک دوسرے سے جدا کئے گئے ہیں، وہ آیت کے نام سے مشہور ہیں۔ جیسا کہ خود قرآن میں ہے: تِلْکَ آیَاتُ اللهِ نَتْلُوہَا عَلَیْکَ بِالْحَقِّ۔ یہ اللہ کی آیات ہیں جنہیں ہم آپ پر تلاوت کرتے ہیں۔ (بقرہ ۲۵۲) ۲۔ معجزات کا ذکر آیت کے عنوان سے ہوا ہے۔ چنانچہ حضرت موسی کے مشہور معجزہ ید بیضا کے بارے میں ہے: وَاضْمُمْ یَدَکَ إِلَی جَنَاحِکَ تَخْرُجْ بَیْضَاءَ مِنْ غَیْرِ سُوءٍ آیَةً اُخْرَی۔ ۔ ہاتھ گریبان میں بغل کے نیچے تک لے جاو جب وہ باہر نکلے گا تو سفید چمکنے والا بے عیب و نقص ہوگا اور یہ ایک اور معجزہ ہے۔ (طہ۔۲۲) ۳۔ خدا شناسی کی دلیل یا قیامت کی نشانی کے لئے بھی لفظ آیات قرآن میں آیاہے۔ ارشاد الہی ہے: و جعلنا الیل و النہار ایتین۔ رات اور دن کو ہم نے (خدا شناسی کے لئے) دو دلیلیں قرار دیا۔ (بنی اسرائیل۔۱۲) قیامت پر استدلال کے موقع پر فرمایا: و من ایتہ انک تری الارض خاشعة فاذا انزلنا علیہا الماء اہتزت و ربت ان الذی احیاھا لمحی الموتی انہ علی کل شی قدیر۔ اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تم دیکھتے ہو کہ زمین خشک اور سونی پڑی ہوئی ہے لیکن جب اس پر (بارش کا) پانی برستا ہے تو وہ حرکت میں آتی ہے اور اس کے سبزے اگنے لگتے ہیں۔ وہی ذات جس نے زمین کو زندہ کیا ہے۔ مردوں کو بھی زندہ کرے گی۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (حم السجدہ۔۳۹) ۴۔ آنکھوں کو متاثر کرنے والی چیزوں کے لئے بھی یہ لفظ آیا ہے۔ مثلا اس آیت میں بلند و عالی محلات کے بارے میں ہے: اتبنون بکل ریع ایة تعبثون۔ کیا ہر بلند جگہ پر عمارتیں بناتے ہو تا کہ ان میں مصروف لہو و لعب رہ سکو۔ (شعراء۔۱۲۸) واضح ہے کہ ان مختلف معانی میں ایک قدر مشترک ہے اور و ہ ہے "نشانی"۔ البتہ زیر بحث آیات میں قرآن نے کہاہے"ہم اگر ایک آیت منسوخ کرتے ہیں تو اس جیسی یا اس سے بہتر لاتے ہیں۔" یہاں آیت سے مراد حکم ہے۔ اگر ایک منسوخ ہوا تو اس سے بہتر نازل ہوگا یا اگر ایک نبی کا معجزہ منسوخ ہوا تو بعد والے نبی کو زیادہ واضح معجزہ دیا جاتا ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ بعض روایات میں مندرجہ بالا آیت کی تفسیر کے ذیل میں ہے کہ نسخ آیت ایک امام کی وفات اور اس کی جگہ دوسرے کی تقرری کی طرف اشارہ ہے۔ تو یہ مفہوم زیر نظر آیت کا ایک مصداق ہے۔
ننسھا کی تفسیر
"ننسھا" کا لفظ محل بحث آیات میں "ننسخ" پر عطف ہے۔ اس کا مادہ "انساء" ہے۔ یہاں یہ لفظ تاخیر کرنے، حذف کرنے اور اذہان سے زائل کرنے کے معنی میں آیا ہے اب یہ سوال پیدا ہوگا کہ "ننسخ" کو سامنے رکھتے ہوئے اس لفظ کا مفہوم کیا ہوگا۔ جواب یہ ہے کہ یہاں مقصد یہ ہے کہ اگر ہم کسی آیت کو منسوخ کریں یا اس کا تنسیخ میں بعض مصالح کے پیش نظر تاخیر کریں تو ہر صورت میں اس سے بہتر یا اس جیسی آیت لے آئیں گے۔ اس بناء پر لفظ "ننسخ" تھوڑی مدت کے نسخ کے لئے اور "ننسہا" دراز مدت کے نسخ کے لئے ہے۔
او مثلہا کی تفسیر
مندرجہ بالا بات کو پیش نظر رکھیں تو فورا سوال پیدا ہوگا کہ "او مثلھا" سے کیا مراد ہے۔ اگر کوئی حکم پہلے جیسے حکم کی طرح کا ہے تو فضول نظر آتا ہے۔ اس کی کیا ضرورت ہے کہ ایک چیز منسوخ کر کے اس جیسی ہی دوسری چیز لائی جائے ناسخ کو منسوخ سے بہتر ہونا چاہیے تا کہ نسخ قابل قبول ہو۔ اس سوال کے جواب میں کہنا چاہیے کہ مثل سے مراد یہ ہے کہ ایسا حکم اور قانون پیش کیا جائے جس کا اثر بھی گزشتہ زمانے میں گزشتہ قانون کا سا ہو۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ ہو سکتا ہے ایک حکم آج کئی آثار و فوائد کا حامل ہو لیکن اس سے یہ آثار کھو جائیں۔ اس صورت میں اسے منسوخ ہو جانا چاہیے اور اس کی جگہ نیا حکم آنا چاہیے جو اگر اس سے بہتر نہ ہو تو کم از کم اس جیسے آثار کا حامل ہو اور یہ چیز زمانے اور حالات سے وابستہ ہے کہ کبھی گذشتہ حکم کی طرح کا قانون چاہیے اور کبھی اس سے بہتر۔ اس طرح کسی قسم کا کوئی اعتراض باقی نہیں رہتا۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1کتب تفاسیر میں اس آیت کی شان نزول کے سلسلہ میں مختلف مطالب نظر آتے ہیں اور نتیجہ کے اعتبار سے ایک جیسے ہیں۔ ۱۔ ابن عباس سے منقول ہے کہ وہب بن زید اور رافع بن حرملہ رسول خدا ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے خدا کی طرف سے کوئی خط ہمارے نام پیش کیجئے تا کہ ہم اسے پڑھ کر ایمان لے آئیں یا ہمارے لئے نہریں جاری کیجئے تا کہ ہم آپ کی پیروی کریں۔ ۲۔ بعض کہتے ہیں کہ عرب کے ایک گروہ نے پیغمبر اسلام ﷺ سے اسی طرح کے تقاضے کیے جیسے یہودیوں نے حضرت موسی سے کئے تھے۔ انہوں نے کہا ہمیں ظاہر بظاہر خدا کی نشاندہی کرو کہ ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اور ایمان لے آئیں۔ ۳۔ بعض نے لکھا ہے کہ ایک گروہ عرب نے پیغمبر اکرم ﷺ سے تقاضا کیا کہ ان کیلئے ذات افراط سے ایک مخصوص درخت مقرر کر دیں تا کہ وہ اس کی پرستش کر سکیں جیسے بنی اسرائیل کے جاہلوں نے حضرت موسی سے کہاتھا: اجعل لنا الھا کما لھم الھة۔ ہمارے لئے ایک بت مقرر کر دیں جیسے بت پرستوں کے پاس ہیں۔ (اعراف ۔۱۳۸) مندرجہ بالا آیت ان کے جواب میں نازل ہوئی۔
بے بنیاد بہانے
اس آیت کے مخاطب اگرچہ یہودی نہیں ہیں بلکہ کمزور ایمان والے مسلمان یا مشرکین ہیں لیکن جیسا کہ ہم دیکھیں گے کہ یہ یہودیوں کی سرگذشت سے غیر متعلق بھی نہیں۔ غالبا قبلہ کی تبدیلی کے بعد کی بات ہے کہ کچھ مسلمانوں اور مشرکین نے یہودیوں کے پراپیگنڈا کے زیر اثر پیغمبر اسلام ﷺ سے چند بے محل اور نامعقول تقاضے کئے جن کے نمونے شان نزول میں بیان ہو چکے ہیں۔ خداوند تعالی انہیں ایسے سوالوں سے منع کرتے ہوئے فرماتاہے: کیاتم چاہتے ہو کہ اپنے پیغمبر سے وہی نامعقول تقاضے کرو جو اس سے پہلے موسی سے کئے گئے ہیں تا کہ ان بہانہ سازیوں سے ایمان سے رخ پھیر سکو (ام تریدون ان تسئلوا رسولکم کما سئل موسی من قبل)۔ چونکہ ایک طرح سے یہ ایمان سے کفر کا تبادل ہے لہذا مزید فرمایا گیاہے: جو شخص ایمان کی بجائے کفر کو قبول کرے وہ راہ مستقیم سے گمراہ ہو گیا ہے (و من یتبدل الکفر بالایمان فقد ضل سواء السبیل)۔ یہ اشتباہ نہیں ہونا چاہیے کہ اسلام علمی اور منطقی سوالات سے منع کرتا ہے یا دعوت نبی کی حقانیت سمجھنے کے لئے معجزہ طلبی سے روکتا ہے کیونکہ فہم و ادراک اور ایمان کے یہی ذرائع ہیں۔ لیکن کچھ لوگ ایسے تھے جو بہانہ سازی اور دعوت پیغمبر ﷺ سے بچنے کے لئے بے بنیاد سوالات کرتے تھے اور خودخواہ معجزات کا ذکر کرتے تھے۔ جبکہ پیغمبر ﷺ کافی دلائل و معجزات ان کے سامنے پیش کر چکے تھے۔ ان میں سے ہر ایک نئے طور سے آتا اور نئی خارق عادت چیز کا تقاضا کرتا۔ حالانکہ معجزہ اور خارق عادت کوئی بازیچہ اطفال تو نہیں ہے۔ وہ اس قدر ضروری ہے کہ جس سے پیغمبروں کے کلام کی سچائی کا اطمینان ہو سکے ورنہ پیغمبر، معجزات کا کاروبار تو نہیں کرتے کہ وہ ایک طرف بیٹھ جائیں اور ہر آنے والا ان سے معجزہ طلب کرتا رہے۔ علاوہ ازیں کبھی تو وہ بالکل نامعقول تقاضے کرتے تھے مثلا خدا کو آنکھ سے دیکھنا یا بت بنا کر دینا۔ در حقیقت قرآن لوگوں کو یہ تنبیہ کرنا چاہتا ہے کہ اگر تم اسی طرح کے نامعقول تقاضے کرتے رہے تو تمہارے سر پر بھی وہی عذاب آئے گا جو قوم موسی کے سر پر آیا تھا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 110 کے تحت ملاحظہ کریں۔
ہٹ دھرم حاسد
Tafsīr Nemūna · Vol. 1بہت سے اہل کتاب ایسے تھے کہ صرف اس پر بس نہ کرتے تھے کہ خود دین اسلام قبول نہ کریں بلکہ انہیں اصرار تھا کہ مومنین بھی اپنے ایمان سے پلٹ آئیں اور اس کا سبب حسد کے سوا کچھ نہ تھا۔ قرآن مجید کی مندرجہ بالا آیات میں اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ فرمایا: بہت سے اہل کتاب حسد کی وجہ سے چاہتے ہیں کہ تمہیں اسلام پر ایمان لانے کے بعد کفر کی طرف پلٹا دیں حالانکہ ان پر حق مکمل طور پر واضح ہو چکا ہے (وهو کثیر من اھل الکتاب لو یردونکم من بعد ایمانکم کفارا حسدا من عند انفسہم من بعد ما تبین لھم الحق)۔ اس مقام پر قرآن مجید مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ ایسے کجرو اور تباہ کن تقاضوں کے مقابلے میں تم انہیں معاف کر دو اور ان سے درگزر کرو یہاں تک کہ خدا خود اپنا فرمان بھیجے کیونکہ خدا ہرچیز پر قدرت رکھتاہے (فاعفوا واصفحوا حتی یاتی اللہ بامرہ ان اللہ علی کل شی قدیر)۔ حقیقت میں مسلمانوں کو ایک تکنیکی حکم دیا گیا ہے کہ ان مخصوص حالات میں عفو و درگزر کے ہتھیار سے استفادہ کریں اور اپنی اور اپنے معاشرے کی اصلاح میں لگے رہیں اور فرمان خدا کا انتظار کرتے رہیں۔ بہت سے مفسرین کے بقول یہاں فرمان خدا سے مراد فرمان جہاد ہے جو اس وقت تک نازل نہیں ہوا تھا ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ لوگ ابھی ہر پہلو سے اس کے لئے تیار نہ ہوں۔ اسی لئے تو بہت سے لوگوں کا نظریہ ہے کہ یہ آیت جہاد کی آیات کی وجہ سے منسوخ ہو گئی۔ جن کی طرف بعد میں اشارہ ہو گا۔ لیکن اسے نسخ قرار دینا شاید صحیح نہ ہو کیونکہ نسخ کا معنی ہے کہ ظاہرا تھوڑی مدت کے لئے کوئی حکم جاری ہوتا ہے اور شریعت قرار پاتا ہے۔ لیکن باطنا موقت ہوتاہے جب کہ یہاں آیت میں عفو و درگزر کا حکم ایک محدود شکل میں آیا ہے۔ وہ اس زمانے تک محدود ہے جب تک جہاد کے متعلق فرمان الہی نہیں آیا۔ بعد کی آیت جس میں مومنین کو دو اہم اصلاحی احکام دیئے گئے ہیں، ایک نماز جو انسان اور خدا کے درمیان مضبوط ربط پیدا کرتی ہے اور دوسرا زکوة جو معاشرے کے افراد کے لئے ایک دوسرے سے وابستگی کی رمز ہے اور یہ دونوں امور دشمن پر کامیابی کے لئے ضروری ہیں۔ فرمایا: نماز قائم کرو اور زکوة ادا کرو اور ان دو ذرائع سے اپنی روح اور جسم کو طاقت بخشو (و اقیموا الصلوة و اتوا الزکوة)۔ مزید فرمایا: یہ خیال نہ کرو کہ جو نیکی کے کام تم کرتے ہو اور جو مال راہ خدا میں خرچ کرتے ہو، وہ ختم ہو جاتا ہیں۔ نہیں ایسا نہیں بلکہ جو نیکیاں تم آگے بھیجتے ہو انہیں خدا کے ہاں (دار آخرت میں) موجود پاو گے (و ما تقدّموا لانفسکم من خیر تجدوہ عند اللہ)۔ خدا تمہارے تمام اعمال کو دیکھتا ہے (ان اللہ بما تعملون بصیر) وہ پورے طور پر جانتا ہے کہ کون سا عمل تم نے خدا کے لئے انجام دیا ہے اور کون سا اس کے غیر کے لیے۔ چند اہم نکات ۱۔ "فاعفوا" اور "اصفحوا": "اصفحوا" کا مادہ "صفح" ہے۔ اس کا معنی ہے دامن کوہ ، تلوار کا عرض اور رخسار اور یہ لفظ عموما پھیرنے اور صرف نظر کرنے کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ لفظ "فاعفوا" کے قرینے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روگردانی، غصہ اور بے اعتنائی کے لئے نہیں بلکہ بزرگانہ درگزر کے طور پر ہے۔ یہ دو تعبیریں ضمنا نشاندہی کرتی ہیں کہ مسلمان اس وقت بھی اس قدر قدرت و طاقت رکھتے تھے کہ عفو و درگزر نہ کرتے اور دشمن کو ضروری سزا دیتے لیکن خداوندتعالی نے ان کو پہلے عفو و درگزر کا حکم دیا ہے تا کہ وہ ہر لحاظ سے تیاری کر لیں یا اس لئے کہ دشمن اگر قابل اصلاح ہیں تو ان کی اصلاح ہو جائے۔ دوسرے لفظوں میں دشمن کے مقابلے میں شروع میں کبھی خشونت اور سخت گیری نہیں ہونی چاہیے۔ بلکہ یہ اخلاق اسلامی کا ضروری حصہ ہے کہ پہلے عفو و درگزر سے کام لیا جائے۔ اگر وہ موثر نہ ہو تو پھر سختی کو بروئے کار لایا جائے۔ ۲۔ "ان اللہ علی کل شیء قدیر" کا جملہ: ہو سکتا ہے یہ جملہ اس مقام پر اس طرف اشارہ ہو کہ خدا ایسا کر سکتا ہے کہ غیر عادی طریقوں سے تمہیں ان پر کامیابی دیدے لیکن انسانی زندگی کا مزاج اور عالم آفرینش کی طبیعت مقتضی ہیں کہ ہر کام تدریجا اور مقدمات فراہم ہونے پر انجام پذیر ہو۔ ۳۔ "حسد من عند انفسہم" کا مفہوم : (یعنی اس کا سبب وہ حسد ہے جو ان کی اپنی طرح سے ہے) ممکن ہے اس طرف اشارہ ہو کہ بعض اوقات حسد کا مقصد تو ذاتی غرض ہوتی ہے لیکن اسے دین کا رنگ دے دیا جاتا ہے۔ یہاں جو حسد ہے اس میں تو یہ پہلو بھی نہیں بلکہ فقط ذاتی غرض پرمبنی ہے۔[ بحوالہ: تفسیر المنار، زیر بحث آیہ کے ذیل میں۔]
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 112 کے تحت ملاحظہ کریں۔
یہودی و نصاری کے علاوہ ہرگز کوئی شخص جنت میں داخل
Tafsīr Nemūna · Vol. 1مندرجہ بالا آیات میں قرآن یہودیوں اور عیسائیوں کے ایک اور فضول اور نامعقول دعوی کی طرف اشارہ کر کے انہیں دندان شکن جواب دیتا ہے۔ کہتاہے: وہ (یہود و نصاری) کہتے ہیں کہ یہودی و نصاری کے علاوہ ہرگز کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا (و قالوا لن یدخل الجنة الا من کان ہودا او نصری)۔ [اگرچہ لفظ "قالوا" بصورت واحد ہے لیکن معلوم ہے کہ دو گروہوں کی حالت بیان کی گئی ہے جن میں سے ہر ایک کا دعوی الگ ہے ۔ یہودی کہتے ہیں جنت ہمارے لئے مخصوص ہے اور عیسائی کہتے ہیں ہمارے لئے مخصوص ہے۔] قرآن دونوں گروہوں کے دعوی کا ایک ہی جگہ جواب دیتاہے۔ پہلے فرماتا ہے: یہ توان کی فقط آرزو ہے جو کبھی پوری نہ ہوگی (تلک امانیّھم)۔ پھر پیغمبر کو مخاطب کر کے فرماتاہے: (قل ھاتوا برھانکم ان کنتم صٰدقین) یعنی اگر تم سچے ہو تو اپنے دعوی پر کوئی دلیل پیش کرو۔ یہ حقیقت ثابت ہونے کے بعد کہ ان کے پاس ان کے دعوی کی کوئی دلیل نہیں اور ان کے لئے اختصاص جنت کا دعوی صرف خواب و خیال ہے جو ان کے سروں پر سوار ہے۔ جنت میں داخل ہونے کا اصلی و حقیقی قانون کلی بیان کرتا ہے۔ فرماتا ہے: ہاں تو جو خدا کے سامنے سر تسلیم خم کر لے اور نیکوکار ہو، اس کا اجر و ثواب اس کے پروردگار کے ہاں مسلم ہے (بلی من اسلم وجہہ اللہ و ھو محسن فلہ اجر عند ربہ)۔ اس لئے ایسے اشخاص کے لئے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے (و لا خوف علیھم و لا ہم یحزنون)۔ لہذا جنت، اجر و ثواب الہی اور سعادت دائمی کا حصول کسی گروہ کے لئے مخصوص نہیں بلکہ یہ سب کچھ ان کے لئے ہے جن میں دو شرطیں پائی جاتی ہوں۔ ۱۔ اول یہ کہ وہ حکم کے سامنے تسلیم محض ہوں، ایمان و توحید ان کے دل پر سایہ فگن ہو اور احکام الہی میں کسی قسم کی تبعیض اور چون و چرا کے قائل نہ ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ جو احکام ان کے فائدے کے ہوں وہ تو قبول کر لیں اور جو ان کے خلاف ہوں انہیں پس پشت ڈال لیں بلکہ وہ مکمل طور پر تسلیم حق ہوں۔ ۲۔ دوسرا یہ کہ ان کے ایمان کے آثار عمل اور کا رخیر کی انجام دہی کی صورت میں ظاہر ہوں۔ وہ سب سے نیکی کریں اور تمام پروگراموں میں نیک ہوں۔ اس بیان سے دراصل قرآن یہودیوں کی نسل پرستی اور عیسائیوں کے نامعقول تعصبات کی نفی کرتاہے اور کسی خاص گروہ میں سعادت و خوش بختی کے منحصر ہونے کو باطل قرار دیتا ہے۔ نیز ضمنا ایمان اور عمل صالح کو نجات کا معیار قرار دیتا ہے۔ چند اہم نکات ۱۔ امانیّھم: یہ امنیہ کی جمع ہے جس کا معنی ہے ایسی آرزو جس تک انسان رسائی حاصل نہ کر سکے لیکن یہاں تو اہل کتاب میں سے مدعین کی صرف ایک آرزو تھی یعنی جنت کی ان کے لئے تخصیص ۔ چونکہ یہ آرزو کئی آرزؤں کا سرچشمہ تھی اور اصطلاحا کئی شاخیں اور پتے رکھتی تھی، اس لئے جمع کی صورت میں ذکر ہوئی ہے۔ ۲۔ اسلم وجہہ: یہ بات قابل توجہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں اسلام کی "وجہ" کی طرف نسبت دی گئی ہے (اپنے چہرے کو خدا کے سامنے خم کرنا)۔ یہ اس سبب سے ہے کہ کسی کے سامنے سپردگی کی واضح ترین دلیل یہ ہے کہ انسان پورے چہرے کے ساتھ اس کے سامنے متوجہ ہو۔ البتہ یہ احتمال بھی ہے کہ "وجہ" کا معنی ذات ہو یعنی اپنے پورے وجود کے ساتھ فرمان پروردگار کے سامنے سر تسلیم خم کریں۔ ۳۔ بے دلیل د عووں سے بےاعتنائی: مندرجہ بالا آیات میں یہ نکتہ بھی ضمنا مسلمانوں کو سمجھایا جا رہا ہے کہ کسی مقام پر بھی بے دلیل باتوں کے پیچھے نہ جائیں۔ اگر کوئی بھی شخص کچھ دعوی کرے تو اس سے دلیل مانگیں اور یوں اندھی تقلید کے سامنے بند باندھ دیں تا کہ ان کے معاشرے میں منطقی فکر کی حکمرانی ہو۔ ۴۔ و ھو محسن: مسئلہ تسلیم کے بعد "وھو محسن" ارشاد فرمایا گیا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب تک ایمان راسخ نہ ہو، نیکی اپنا وسیع مفہوم نہیں پا سکتی۔ یہ جملہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ ایسے انسان کے لئے نیکی ایک جلد گزر جانے والا فعل نہیں بلکہ وہ ان کی صفت بن چکی ہے اوران کی ذات کی گہرائی میں اتر چکی ہے۔ راہ توحید کے راہیوں کے لیے خوف و غم نہیں: اس کی دلیل واضح ہے کیونکہ وہ صرف خدا سے ڈرتے ہیں اور کسی سے گھبراتے نہیں لیکن بیہودہ مشرک ہر چیز سے ڈرتے رہتے ہیں۔ اس کی اور اس کی گفتگو، بدحالی، فضول رسم و رواج اور ایسی ہی بہت سی چیزیں ہیں جن سے وہ خوفزدہ رہتے ہیں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1بعض مفسرین نے ابن عباس سے یوں نقل کیاہے: جب نجران کے عیسائیوں کا ایک گروہ رسول خدا ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو علماء یہود کا ایک گروہ بھی وہاں موجود تھا۔ عیسائیوں اور ان کے در میان آنحضرت کے سامنے ہی جھگڑا شروع ہو گیا۔ رافع بن حرملہ جو ایک یہودی تھا، اس نے عیسائیوں کی طرف منہ کرکے کہا: تمہارے دین کی کوئی اساس نہیں ہے نیز اس نے حضرت عیسی کی نبوت اور انجیل کا انکار کیا۔ نجران کے عیسائیوں میں سے ایک شخص نے بعینہ یہی جملہ اس کے جواب میں کہا۔ کہنے لگا: یہودیوں کے مذہب کی کوئی بنیاد نہیں اور اس نے حضرت موسی کی نبوت اور ان کی کتاب تورات کا انکار کیا۔ اسی اثناء میں مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور دونوں گروہوں کو ان کی غلط اور نادرست گفتگو پر ملامت کی۔ [بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، تفسیر قرطبی اور تفسیر المنار، مندرجہ بالا آیت کے ذیل میں]
بے دلیل دعوی نتیجہ تضاد ہوتا ہے
گذشتہ آیات میں ہم نے یہود و نصاری کی ایک جماعت کے کچھ بے دلیل دعووں کو ملاحظہ کیا۔ زیر بحث آیت نشاندہی کرتی ہے کہ بے دلیل دعوی نتیجہ تضاد ہوتا ہے اور ہر گروہ اپنی اجارہ داری کا خواہشمند ہوتا ہے۔ ارشاد ہے: یہودی کہتے ہیں عیسائیوں کی خدا کے ہاں کوئی اہمیت و حیثیت نہیں اور عیسائی کہتے ہیں یہودیوں کی کوئی وقعت نہیں اور وہ باطل پر ہیں (وَقَالَتْ الْیَہُودُ لَیْسَتْ النَّصَارَی عَلَی شَیْءٍ وَقَالَتْ النَّصَارَی لَیْسَتْ الْیَہُودُ عَلَی شَیْء)۔ "لیست ۔۔۔ علی شیء" ہو سکتا ہے اس طرف اشارہ ہو کہ وہ درگاہ الہی میں کوئی قدر و منزلت نہیں رکھتے یا ان کے مذہب کی کوئی حیثیت نہیں۔ مزید فرمایا: یہ ایسی باتیں کرتے ہیں حالانکہ آسمانی کتاب پڑھتے ہیں (و ھم یتلون الکتب) یعنی کتب خدا جن سے وہ حقائق سمجھ سکتے ہیں، کے حامل ہونے کے باوجود صرف تعصب ، عناد اور ڈھٹائی کی باتیں کرنا تعجب انگیز ہے۔ حضرت موسی نے حضرت مسیح کے آنے کے بارے میں جو بشارتیں دی ہیں، ان کی طرف توجہ کریں تو یہودی بغیر تعصب کے ان کی نبوت قبول کر سکتے ہیں اور عیسائی بھی انجیل کی تعلیمات اور حضرت مسیح کی گفتگو سامنے رکھیں تو تورات اور حضرت موسی کی نبوت پر ایمان لائے بغیر نہیں رہ سکتے کیونکہ حضرت مسیح نے فرمایا ہے کہ میں حضرت موسی کی شریعت کی تکمیل کے لئے آیا ہوں۔ قرآن مزید کہتا ہے: نادان مشرکین بھی ان کی سی باتیں کہتے تھے (حالانکہ یہ اہل کتاب ہیں اور وہ بت پرست ہیں( (کذلک قال الذین لا یعلمون مثل قولھم)۔ درحقیقت اس آیت میں قرآن نے تعصب کے اصل سرچشمہ کا ذکر کیاہے جو جہل و نادانی ہے کیونکہ نادان انسان ہمیشہ اپنی زندگی کے گروہی محصور رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ کسی چیز کو قبول نہیں کرتے اور بچین سے جس مذہب سے آشنا ہوں اپنے دل کو سختی سے اسی کے ساتھ منسلک رکھتے ہیں چاہے وہ فضول اور بے بنیاد ہو اور اس کے علاوہ ہر چیز کا انکار کر دیتے ہیں۔ آیت کے آخر میں ہے: اس اختلاف کا فیصلہ اللہ آخرت میں خود کرے گا (فاللہ یحکم بینھم یوم القیمة فیما کانوا فیہ یختلفون)۔ آخرت وہ مقام ہے جہاں حقائق زیادہ روشن اور واضح ہو جائیں گے۔ ہر چیز کے اسناد و مدارک آشکار ہو جائیں گے اور وہاں کوئی شخص حق کا انکار نہیں کر سکے گا۔ اس وقت تمام اختلافات ختم ہو جائیں گے۔ گویا قیامت کی خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اختلافات باقی نہ رہیں گے۔ مندرجہ بالا آیت میں ضمنا یہ بھی ہے کہ خدا مسلمانوں کو تسلی دیتا ہے کہ اگر ان مذاہب کے پیروکار تمہارے مقابلے میں کھڑے ہو گئے ہیں اور تمارے دین کو جھٹلاتے ہیں تو اس کی ہرگز پرواہ نہ کرو، وہ تو خود کو بھی قبول نہیں کرتے۔ ان میں سے ہر ایک دوسرے پر نفی کی لاٹھی چلاتا ہے۔ اصولی طور پر تعصب کا سرچشمہ جہل و نادانی ہے اور تعصب اجارہ داری خواہش کا منبع ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1کتاب "اسباب النزول" میں ابن عباس سے یوں منقول ہے: یہ آیت مظلوس رومی اور اس کے عیسائی ساتھیوں کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ انہوں نے بنی اسرائیل سے جنگ کی، تورات کو آگ لگائی، ان کی اولاد کو قید کر لیا، بیت المقدس کو ویران کر د یا اور اس میں مردہ چیزیں پھینک دیں۔ مرحوم طبرسی مجمع البیان میں ابن عباس سے ناقل ہیں: بیت المقدس کو خراب کرنے اور تباہ و برباد کرنے کی کوشش مسلسل جاری رہی یہاں تک کہ وہ مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوا۔ امام صادق علیہ السلام سے بھی ایک روایت منقول ہے جس میں ہے: یہ آیت قریش کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی جب وہ پیغمبر اسلام ﷺ کو شہر مکہ اور مسجد الحرام میں داخل ہونے سے منع کر رہے تھے۔ بعض نے اس آیت کی تیسری شان نزول ذکر کی ہے کہ اس سے مراد وہ جگہیں اور مکانات ہیں جو مکہ میں نماز کے لئے مسلمانوں کے پاس تھے اور مشرکین نے پیغمبر اکرم ﷺ کی ہجرت کے وقت انہیں ویران کر دیا تھا۔[بحوالہ: مجمع البیان اور المیزان، زیر نظر آیت کے ذیل میں]۔ کوئی مانع نہیں کہ آیت کا نزول ان تمام حوادث و واقعات کے ضمن میں ہو۔ لہذا ان میں سے ہر شان نزول، مسئلے کے ایک پہلو کی نشاندہی کرتی ہے۔
آیت کا روئے سخن تین گروہ: یہود، نصاری اور مشرکین
مندرجہ بالا شان نزول کے مطالعہ سے ظاہر ہوتاہے کہ اس آیت کا روئے سخن تین گروہوں یہود، نصاری اور مشرکین کی طرف ہے اگرچہ گذشتہ آیات میں زیادہ تر یہودیوں کے بارے میں بحثیں آئی ہیں اور کہیں کہیں نصاری کی طرف بھی اشارہ ہے۔ قبلہ کی تبدیلی کے معاملے کے بارے میں یہودی وسوسہ ڈال کر کوشش کرتے تھے کہ مسلمان بیت المقدس کی طرف نماز پڑھیں تا کہ اس سلسلے میں انہیں برتری حاصل رہے اور اس طرح مسجد الحرام اور کعبہ کی رونق بھی کم ہو سکے۔(بحوالہ: تفسیر فخر رازی، آیہ مذکورہ کے ذیل میں)۔ مشرکین مکہ بھی پیغمبر اور مسلمانوں کو خانہ کعبہ کی زیارت سے روک کر عملا اس خدائی عمارت کی بربادی کی طرف قدم اٹھا رہے تھے۔ عیسائی بھی بیت المقدس پر قبضہ کر کے اس میں وہ ناپسندیدہ اعمال سرانجام دیتے جن کا ذکر ابن عباس کی روایت میں آچکا ہے تا کہ اسے برباد کر سکیں۔ ان تینوں گروہوں اور ایسے تمام اشخاص جو اس راہ پر قدم اٹھاتے ہیں کو مخاطب کر کے قرآن کہتاہے: اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے جو اللہ کی مسجدوں میں خدا کام نام لینے سے روکتے ہیں اور انہیں ویران و برباد کرنے کی کوشش کرتے ہیں (و من اظلم ممن منع مساجد اللہ ان یذکر فیھا اسمہ و سعی فی خرابھا)۔ یوں قرآن ایسی رکاوٹ کو ظلم عظیم اور یہ کام کرنے والوں کو ظالم ترین افراد قرار دیتا ہے۔ اور واقعا اس سے بڑا کیا ظلم ہو سکتا ہے کہ درگاہ توحید کو برباد کرنے کی کوشش کی جائے، لوگوں کو حق تعالی کی یاد سے روکا جائے اور معاشرے میں فساد برپا کیا جائے۔ آیت مزید کہتی ہے: مناسب نہیں کہ یہ لوگ خوف و وحشت کے بغیر ان مکانات میں داخل ہوں (اولئک ما کان لھم ان یدخلوھا الا خائفین)۔ یعنی__ دنیا کے مسلمانوں اور توحید پرستوں کو چاہیے کہ وہ اس مضبوطی سے قیام کریں کہ ان ستمگروں کے ہاتھ ان مقدس مقامات سے دور ہو جائیں اور ان میں سے کوئی بھی علی الاعلان بلاخوف ان مقامات مقدسہ میں داخل نہ ہو سکے۔ مندرجہ بالا جملے کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ستمگران مراکز عبادت کو اپنے قبضے میں نہیں رکھ سکیں گے۔ بلکہ آخر کار ان میں بلاخوف قدم بھی نہیں رکھ سکیں گے جیسا کہ مسجد الحرام کے بارے میں مشرکین مکہ کے ساتھ ہوا۔ آخر میں ایسے عظیم ستمگروں کے لئے دنیا و آخرت میں ہلا دینے والی سزا کا ذکر ہے۔ فرمایا: ان کے لئے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں عذاب عظیم ہے (لھم فی الدنیا خزی و لھم فی الاخرة عذاب عظیم) ۔ وہ لوگ جو خدا اور خدا کے بندوں میں جدائی ڈالنا چاہتے ہیں، ان کا یہی انجام ہے۔
چند اہم نکات: مساجد کی ویرانی کی راہیں
اس میں شک نہیں کہ مندرجہ بالا آیت کا مفہوم وسیع اور کافی پھیلا ہوا ہےاور کسی زمان و مکان سے مخصوص نہیں ہے۔ جیسے دیگر آیات ہیں جو اگرچہ خاص حالات میں نازل ہوئی ہیں لیکن ان کا حکم تمام زمانوں کےلئے مسلم ہے۔ اس بناء پر ہر شخص اور ہر وہ گروہ جو کسی طرح مساجد ِ الہی کی تباہی و ویرانی کی کوشش کرے یا اس میں ذکر خدا اور عبادت سے روکے وہ اسی رسوائی اور عذابِ عظیم کا مستحق ہو گا جس کی طرف آیت میں اشارہ ہوا ہے۔ اس نکتے کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ مساجد میں داخل ہونے اور ان میں ذکر پروردگار کو روکنے اور ان کی ویرانی و بربادی کی کوشش کا صرف یہ مطلب نہیں کہ بیلچے یا ایسے کسی ہتھیار سے مسجد کو تباہ کیا جائے بلکہ ہر وہ عمل جس کا نتیجہ مسجد کی ویرانی اور اس کی رونق میں کمی ہو اس میں شامل ہے۔ آیت "انما یعمر مساجد اللہ ۔۔۔۔" (توبہ- ۱۸) کی تفسیر میں تفصیل سے آئےگا کہ بعض روایات کی تصریح کے مطابق تعمیر اور آبادی سے مراد مساجد کی عمارتیں بنانا ہی نہیں بلکہ مساجد میں جانا اور وہاں کی مذہبی محافل و مجالس جو یادِ خدا کا باعث ہیں کی طرف توجہ رکھنا بھی تعمیر کے مفہوم میں شامل ہے؛ بلکہ یہی اس کا اہم ترین حصہ ہے۔ اس بناء پر جو چیز یاد خدا سے لوگوں کی غفلت کا باعث بنے اور جس سے لوگ مساجد سے دور ہوں وہ بہت بڑا ظلم ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ اس دور میں نادان، خشک مزاج اور عقل و منطق سے عاری متعصبین کا ایک گروہ پید اہو گیا ہے جو چاہتا ہے کہ احیائے توحید کے بہانے ان مساجد اور عمارات کو برباد کر دے جو آئمہ اہل بیت ، بزرگانِ اسلام اور صلحائے دین کی قبور پر واقع ہیں اور ہمیشہ یادِ خدا کا مرکز ہیں۔ زیادہ تعجب تو اس پر ہے کہ یہ بے منطق ستمگر احیائے توحید اور ردِّ شرک کے نام پر یہ افعال انجام دیتے ہوئے بہت سے گناہانِ کبیرہ کا ارتکاب کر جاتے ہیں۔ حالانکہ فرض کریں کہ کسی مرکزِ مقدس پر کوئی غلط کام سرانجام پا رہا ہے تو اس کام کو روکا جانا چاہیے؛ نہ کہ ان مراکزِ توحید کو برباد کرنا چاہیے۔
سب سے بڑا ظلم
دوسرا نکتہ جو اس آیت میں قابل توجہ ہے یہ ہے کہ خداوند عالم ان اشخاص کو ظالم ترین قرار دیتا ہے اور واقعا ایسا ہے کیونکہ مساجد کی بتاہی و بربادی اور مراکز توحید سے لوگوں کو روکنے کی کوشش کا نتیجہ بے دینی کے علاوہ کچھ نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اس کام کا نقصان ہر دوسرے عمل سے زیادہ ہے۔ اور اس کا برا اور غلط انجام بہت دردناک ہے۔ قرآن میں دیگر مقامات پر بھی لفظ (اظلم) (یعنی ۔ زیادہ ظالم) استعمال ہوا ہے۔ ان تمام امور کا نتیجہ شرک ہے اور توحید نفی ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1اس آیت کے شان نزول کے سلسلے میں مختلف روایات منقول ہیں۔ ابن عباس کہتے ہیں: اس آیت کا تعلق قبلہ کی تبدیلی سے ہے۔ مسلمانوں کا قبلہ جب بیت المقدس کی بجائے خانہ کعبہ مقرر ہوا تو یہودیوں نے برا منایا اور مسلمانوں پر اعتراض کیا کہ کیا قبلہ بھی بدلا جاسکتاہے۔ اس آیت میں انہیں جواب دیا گیا کہ دنیا کے مشرق و مغرب کا مالک خدا ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ یہ آیت مستحب نماز کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یعنی جب انسان کسی سواری پر سوار ہو تو سواری کا رخ کچھ بھی ہو (چاہے پشت بہ قبلہ ہو) مستحب نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ کچھ اور حضرات نے جابر سے نقل کیاہے: پیغمبر اکرم نے کچھ مسلمانوں کو ایک جنگ پر بھیجا۔ رات کے وقت جب تاریکی چھاگئی تو وہ سمت قبلہ نہ پہچان سکے اور سب نے مختلف سمتوں کی طرف نماز پڑھ لی۔ طلوع آفتاب پر انہیں معلوم ہوا کہ سب نے سمت قبلہ کے بغیر نماز پڑھی ہے۔ انہوں نے پیغمبر اسلام سے سوال کیا تو یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں بتایا گیا کہ ایسی صورت میں ان کی نماز صحیح ہے (البتہ اس حکم کی کچھ شرائط ہیں جو کتب فقہ میں درج ہیں)۔ کوئی مانع نہیں کہ جتنی شان ہائے نزول اوپر ذکر ہوئی ہیں وہ سب اس آیت کے لئے صحیح ہوں اور یہ آیت قبلہ کی تبدیلی، سواری پر نماز نافلہ کی ادائیگی اور جب قبلہ کی پہچان نہ ہو رہی ہو تو نماز واجب کی ادائیگی کی طرف اشارہ کرتی ہو۔ علاوہ ازیں کوئی آیت شان نزول کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ اس کے مفہوم کو حکم کلی کی صورت میں لیا جانا چاہئیے اور بسا اوقات اس سے مختلف قسم کے احکام حاصل ہو سکتے ہیں۔
جس طرف رخ کر و خدا موجود ہے
گذشتہ آیت میں ان ظالمین سے متعلق گفتگو تھی جو مساجد الہی کی آبادی سے روکتے تھے اور انہیں ویران کرنے میں کوشاں رہتے تھے۔ زیر نظر آیت اس بحث کا تتمہ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: مشرق و مغرب خدا کے ہیں اور جس طرف رخ کرو خدا موجود ہے (وَلِلَّہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَاْینَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْہُ اللهِ)۔ ایسا نہیں کہ اگر تمہیں مساجد اور مراکز توحید میں جانے سے روک دیا جائے تو خدا کی بندگی کی راہ بند ہو جائے گی۔ اس جہان کے مشرق و مغرب اس کی ذا ت پاک سے تعلق رکھتے ہیں اور جس طرف رخ کرو وہ موجود ہے۔ اسی طرح قبلہ کی تبدیلی جو بعض خاص وجوہ کے پیش نظر انجام پائی ہے، اس سلسلے میں کچھ اثر نہیں رکھتی۔ کیا کوئی جگہ ہے جو خدا سے خالی ہو۔ اصولا تو خدا بے عدیل و بے نیاز اور عالم و دانا ہے (ِاِنَّ اللهَ وَاسِعٌ عَلِیمٌ)۔ اس نکتے کی طرف توجہ ضروری ہے کہ اس آیت میں مشرق و مغرب سے مراد دو مخصوص سمتیں نہیں بلکہ یہ تمام اطراف کے لئے کنایہ ہے ۔ جیسے ہم کہا کرتے ہیں کہ دشمنوں نے عداوت سے اور دوستوں نے خوف سے حضرت علی علیہ السلام کے فضائل چھپائے لیکن اس کے باوجود مشرق و مغرب آپ کے فضائل سے بھرے پڑے ہیں (یعنی تمام اطراف اور ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں) اور شاید خصوصیت سے مشرق و مغرب کا ذکر اس لحاظ سے ہے کہ انسان سب سے پہلے انہی سمتوں کو پہچانتا ہے اور باقی جہات ان کے ذریعے پہچانی جاتی ہیں۔ قرآن مجید میں ہے: وَاْورَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِینَ کَانُوا یُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَہَا۔ جنہیں کمزور کرد یا گیا تھا ہم نے انہیں زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا ۔ (اعراف۔۱۳۷)
فلسفہ قبلہ
یہاں سب سے پہلے جو سوال سامنے آتا ہے یہ ہے کہ جدھر رخ کریں اگر ادھر خدا ہے تو پھر قبلہ کے تعین کی کیا ضرورت ہے۔ اس ضمن میں بعد میں گفتگو ہوگی کہ قبلہ کی طرف متوجہ ہونے کا یہ مفہوم ہرگز نہیں کہ خدا کی ذات پاک کو کسی معین سمت میں محدود سمجھا جائے بلکہ انسان چونکہ مادی وجود ہے اور مجبور ہے کہ کسی ایک ہی طرف نماز پڑھے لہذا حکم دیا گیا کہ سب کے سب (استثنائی مقامات کے علاوہ) ایک ہی طرف نماز پڑھیں تا کہ لوگوں کی صفوں میں وحدت اور ہم آہنگی پیدا ہو سکے اور انتشار و پراکندگی کی روک تھام ہو سکے۔ ضمنا یہ بات بھی ہے کہ قبلہ کے لئے جو سمت معین ہوئی ہے، (یعنی کعبہ) وہ ایک مقدس نقطہ ہے اور قدیم ترین مراکز توحید میں سے ہے اور اس کی طرف متوجہ ہونے سے افکار توحید بیدار ہوتے ہیں۔
وجہ اللہ
۲۔ : اس سے مراد خدا کا چہرہ نہیں بلکہ لفظ "وجہ" یہاں ذات کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ۳۔ مختلف روایات میں اس آیت سے ان لوگوں کی نماز صحیح ہونے کے بارے میں استدلال کیا گیا ہے جنہوں نے اشتباہ یا تحقیق نہ ہو سکنے کی وجہ سے خلاف قبلہ نماز پڑھی ہو۔ مزید برآں اس سے سواری پر نماز پڑھنے کے جواز کے لئے بھی استدلال کیا گیا ہے (مزید توضیح اور تفصیل کے لئے وسائل الشیعہ، کتاب الصلوة، ابواب قبلہ کی طرف رجوع کریں)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 117 کے تحت ملاحظہ کریں۔
یہودیوں ، عیسائیوں اور مشرکین کی خرافات
Tafsīr Nemūna · Vol. 1یہودی، عیسائی اور مشرک سب یہ بیہودہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا کا کوئی بیٹا ہے۔ سورہ توبہ کی آیت ۳۰ میں ہے: قَالَتْ الْیَہُودُ عُزَیْرٌ ابْنُ اللهِ وَقَالَتْ النَّصَارَی الْمَسِیحُ ابْنُ اللهِ ذَلِکَ قَوْلُہُمْ بِاَفْوَاہِہِمْ یُضَاہِئُونَ قَوْلَ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ قَبْلُ قَاتَلَہُمْ اللهُ اَنَّی یُؤْفَکُون۔ یہودی کہتے ہیں عزیر خدا کا بیٹا ہے اور عیسائی کہتے ہیں مسیح خدا کا بیٹا ہے، یہ ایسی بات ہے جو وہ اپنی زبان سے کہتے ہیں جو گذشتہ کافروں کی گفتگو جیسی ہے۔ خدا انہیں قتل کرے، کیسے جھوٹ بولتے ہیں۔ سورہ یونس آیہ ۶۸ میں بھی مشرکین کے بارے میں ہے: قالوا اتخذ اللہ ولدا سبحنہ ھو الغنی۔ وہ کہتے ہیں خدا کا بیٹا ہے وہ تو پاک و منزہ ہے۔ اسی طرح قرآن کی دیگر بہت سی آیات میں بھی اس ناروا نسبت کا ذکر موجود ہے۔ زیر نظر پہلی آیت اس بے ہودگی کے خلاف کہتی ہے: وہ کہتے ہیں خدا کا بیٹا ہے، وہ تو ان ناروا نسبتوں سے پاک و منزہ ہے (و قالوا اتخذ ولدا سبحانہ)۔ خدا کو کیا ضرورت پڑ گئی ہے کہ وہ اپنے لئے بیٹے کا انتخاب کرے۔ کیا وہ محتاج ہے، محدود ہے، اسے مدد کی ضرورت ہے یا اسے بقائے نسل کی احتیاج ہے جب کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کے لئے ہیں (بل لہ ما فی السموات و الارض) اور سب کے سب اس کے سامنے سرنگوں ہیں(کل لہ قنتون)۔ وہ نہ صرف عالم ہستی کی موجودات کا مالک ہے بلکہ تمام انسانوں اور زمین کا موجد و خالق بھی وہی ہے (بدیع السموات و الارض)۔ حتی کہ پہلے کی کسی منصوبے کے بغیر اور کسی مادہ کی احتیاج کے بغیر ہی اس نے ان سب کو تخلیق کیا ہے۔ اسے بیٹے کی کیا ضرورت ہے حالانکہ جب کسی چیز کے وجود کا حکم صادر فرماتا ہے تو کہتا ہے ہو جا اور وہ فورا ہو جاتی ہے (و اذا قضی امرا فانما یقول لہ کن فیکون)۔
عدم فرزند کے دلائل
خدا کا بیٹا ہونا، بے شک ان لوگوں کے کمزور افکار کی پیداوار ہے جو تمام امور میں خدا کو اپنے محدود وجود پر قیاس کرتے ہیں۔ مختلف دلائل کی بناء پر انسان بیٹے کا محتاج ہے۔ ایک طرف تو اس کی عمر محدود ہے اور بقائے نسل کے لئے بیٹا ضروری ہے۔ دوسری طرف اس کی قدرت محدود ہے۔ خصوصا بڑھاپے اور ناتوانی کے عالم میں اسے معاون و مددگار کی ضرورت ہے جو بیٹے کے ذریعے پوری ہو سکتی ہے۔ تیسرا یہ کہ انسانی نفسیات میں محبت و انس کی خواہش کے پیش نظر ضروری ہے کہ کوئی اس کا مونس و مددگار ہو۔ یہ مقصد بھی اولاد کے ذریعے پورا ہو جاتا ہے۔ واضح ہے کہ خدا کے ہاں ان میں سے کوئی بھی بات کچھ مفہوم نہیں رکھتی کیونکہ وہ تو عالم ہستی کو پیدا کرنے والا، تمام چیزوں پر قدرت رکھنے والا اور ازلی و ابدی ہے۔ علاوہ ازیں جسم صاحب اولاد ہونے کا لازمہ ہے اور خدا اس سے بھی منزہ ہے۔ (سورہ انبیا ء آیہ ۲۶، تفسیر نمونہ میں اس ضمن میں مزید بحث کی گئی ہے)۔
کن فیکون کی تفسیر
یہ تعبیر قرآن کی بہت سی آیات میں آئی ہے۔ ان میں سورہ آل عمران ۴۷ اور ۵۹، سورہ انعام آیہ ۷۳، سورہ نحل آیہ ۴۰، سورہ مریم آیہ ۳۵ اور سورہ یس آیہ ۸۲ و غیرہ شامل ہیں۔ یہ جملہ خدا کے ارادہ تکوینی اور امر خلقت میں اس کی حاکمیت کے متعلق گفتگو کرتا ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ "کن فیکون" (ہو جا پس وہ فورا ہو جاتا ہے) سے مراد یہ نہیں کہ خدا کوئی لفظی فرمان"ہو جا" کی صورت میں صادر فرماتا ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ جس وقت وہ کسی چیز کو وجود عطا فرمانے کا ارادہ کرتا ہے۔ وہ بڑی ہو یا چھوٹی، پیچیدہ ہو یا سادہ، ایک ایٹم کے برابر ہو یا تمام آسمانوں اور زمین کے برابر ہو، کسی علت کی احتیاج کے بغیر وہ ارادہ خود بخود عملی جامہ پہن لیتا ہے۔ اس ارادہ اور موجود کی پیدائش کے درمیان لحظے کا فاصلہ بھی نہیں ہوتا۔ اصولی طور پر کوئی زمانہ اس کے درمیان نہیں ہو سکتا۔ اسی لئے حرف فا (فیکون میں) جو عموما تاخیر زمانی کے لئے آتا ہے۔ البتہ ایسی تاخیر جو اتصال کی قوام ہو یہاں صرف تاخیر رتبہ کے لحاظ سے ہے (جیسا کہ فلسفہ میں ثابت ہو چکا ہے کہ معلول اپنی علت سے رتبے کے لحاظ سے تو متاخر ہے لیکن زمانے کے لحاظ سے نہیں)۔ یہ اشتباہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ ارادہ الہی آنی الوجود ہے [یعنی ارادہ الہی سے کوئی چیز آنا فانا وجود میں آ جاتی ہے۔ مترجم] بلکہ مراد یہ ہے کہ جیسا وہ ارادہ کرے، موجود اسی طرح وجود پاتا ہے۔ مثلا اگر وہ ارادہ کرے کہ بچہ شکم مادر کی جنین میں نو ماہ اور نو دن میں اپنی تکمیل کے مرحلے طے کرے تو لحظہ بھر کی کمی بیشی کے بغیر یونہی انجام پذیر ہو گا اور اگر ارادہ کرے کہ تکامل کا یہ دور ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے سے بھی کم مقدار میں پورا کرے تو یقینا ایسا ہو گا کیونکہ خلقت کے لئے انکا ارادہ علت تامہ ہے اور علت تامہ و معلول کے درمیان کسی قسم کا فاصلہ نہیں ہو سکتا۔
کوئی چیز کیسے عدم سے وجود میں آتی ہے
: لفظ "بدیع" کا مادہ ہے "بدع" جس کا معنی ہے بغیر کسی سابقہ کے کسی چیز کا وجود میں آنا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کو خدا نے بغیر کسی مادے اور بغیر کسی پہلے نمونے کے وجود بخشا ہے۔ اب یہ سوال ہو گا کہ کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی چیز عدم سے وجود میں آجائے جب کہ عدم وجود کی ضدہے۔ لہذا یہ کیسے علت اور منشاء وجود ہو سکتا ہے۔ کیا واقعا یہ باور کیا جا سکتا ہے کہ نیستی سبب ہستی ہو۔ مسئلہ ابداع پر مادیین کا یہ پرانا اعتراض ہے۔ اس کا جواب پیش خدمت ہے: پہلے مرحلے میں تو یہ اعترا ض خود مادہ پرستوں پر بھی وارد ہوتا ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ ان کا اعتقاد ہے کہ یہ جہان قدیم اور ازلی ہے اور کوئی چیز بھی آج تک اس میں سے کم نہیں ہوئی اور یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ کائنات میں کئی تغیرات آئے ہیں جن سے مادے کی یہ صورت بدلی ہے جو ہمیشہ بدلتی رہتی، گویا صورت بدلتی ہے نہ کہ مادہ۔ اب ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ مادے کی جو موجودہ صورت ہے یقینا وہ پہلے تو نہ تھی۔ اب یہ صورت کیسے وجود میں آئی، کیا عدم سے وجود میں آئی۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر عدم کیسے وجود صورت کا منشاء ہو سکتا ہے۔ مثلا ایک نقاش، قلم اور سیاہی سے کاغذ پر ایک بہترین منظر بناتا ہے۔ مادہ پرست کہتے ہیں کہ اس کا جوہر اور سیاہی تو پہلے سے موجود تھی۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ یہ منظر (صورت) جو پہلے موجود نہ تھا، کس طرح وجود میں آیا۔ جو جواب وہ صورت کے عدم سے پیدا ہو جانے کے متعلق دیں گے وہی جواب ہم مادہ کے سلسلے میں دیں گے۔ دوسرے مرحلہ میں قابل توجہ امر یہ ہے کہ لفظ "سے" کی وجہ سے اشتباہ ہواہے۔ وہ خیال کرتے ہیں کہ عالم نیستی سے ہستی میں آیاہے کا مطلب ایسے ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ میز لکڑی سے بنائی گئی ہے۔ جس میں میز بنانے کے لئے لکڑی کا پہلے موجود ہونا ضروری ہے تا کہ میز بن سکے جب کہ عالم نیستی سے ہستی میں آیا ہے کا معنی یوں نہیں بلکہ اس کا معنی ہے کہ عالم پہلے موجود نہ تھا، بعد میں وجود پذیر ہوا۔ فلسفے کی زبان میں یوں کہنا چاہیے کہ ہر موجود ممکن (جو اپنی ذات سے وجود نہ رکھتا ہو) کو اپنی تشکیل کے لئے دو پہلو درکار ہیں "ماہیت" اور "وجود"۔ "ماہیت "ایک اعتباری معنی ہے کہ جس کی نسبت وجود و عدم کے ساتھ مساوی ہے۔ بہ الفاظ دیگر وہ قدر مشترک جو کسی چیز کے وجود اور عدم کو دیکھنے سے دستیاب ہو اس کا نام ماہیت ہے۔ مثلا یہ درخت پہلے نہیں تھا، اب وجود رکھتا ہے۔ جو چیز وجود و عدم سے ثابت ہو، وہ ماہیت ہے لہذا جب ہم کہتے ہیں کہ خدا عالم کو عدم سے وجود میں لایا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ عالم حالت عدم کے بعد حالت وجود میں آگیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ماہیت کو حالت عدم سے حالت وجود میں لایا گیا ہے۔( مزید وضاحت کے لئے کتاب آفریدگار جہان کی طرف رجوع کریں)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 119 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1مندرجہ بالا آیات کی ابتداء میں یہودیوں کی بہانہ سازیوں کی مناسبت سے ایک اور گروہ کی بہانہ سازیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ ظاہرا یہ مشرکین عرب ہی کے بارے میں ہے۔ فرمایا: بے علم لوگ کہتے ہیں خدا ہمارے ساتھ باتیں کیوں نہیں کرتا اور کیوں آیت اور نشانی خود ہم پر نازل نہیں ہوتی (و قال الذین لا یعلمون لولا یکلمنا اللہ او تاتینا ایة )۔ دراصل یہ لوگ جنہیں قرآن "الذین لا یعلمون" کے عنوان سے یاد کر رہا ہے۔ دو غیر منطقی خواہشیں رکھتے تھے: ۱۔ خدا ہم سے براہ راست بات کیوں نہیں کرتا۔ ۲۔ کیوں آیت اور نشانی خود ہم پر نازل نہیں ہوتی۔ غرور، ہٹ دھرمی اور خود پسندی پر مبنی ان باتوں کے جواب میں قرآن کہتا ہے: ان سے پہلے بھی لوگ اس قسم کی باتیں کرتے تھے، ان کے دل اور افکار ایک دوسرے کے مثابہ ہیں لیکن جو حقیقت کے متلاشی اور اہل یقین ہیں، ان کے لئے ہم نے (کافی مقدار میں) آیات اور نشانیاں واضح کی ہیں (کَذَلِکَ قَالَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِہِمْ مِثْلَ قَوْلِہِمْ تَشَابَہَتْ قُلُوبُہُمْ قَدْ بَیَّنَّا الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یُوقِنُونَ)۔ اگر واقعا ان کا مقصد حقیقت و واقعیت کو سمجھنا ہے تو یہی آیات جو پیغمبر اکرم ﷺ پر ہم نے نازل کی ہیں، روشن نشانی ہیں۔ آپ کے صدق کلام کے لئے اس کی کیا ضرورت ہے کہ ایک ایک شخص پربراہ راست اور مستقلا آیات نازل ہوں اور اس کا کیا مطلب ہے کہ خدا بلاواسطہ مجھ سے باتیں کرے۔ ایسی ہی گفتگو سورہ مدثر آیہ ۵۲ میں بھی ہے: بل یرید کل امری منھم ان یوتی صحفا منشرة۔ ان میں سے ہر ایک یہ آرزو لئے بیٹھاہے کہ چند اوراق آیات اس پر نازل ہوں۔ کیسی نامناسب خواہش ہے؟ اس کے علاوہ کہ اس کی ضرورت نہ تھی بلکہ ان آیات کے ذریعے جو آپ پر نازل ہوئیں پیغمبر اکرم ﷺ کی صداقت کا اثبات سب لوگوں پر ممکن تھا، یہ خود پسند مشرک ایک بنیادی نکتے سے بے خبر تھے اور وہ یہ کہ ہر شخص پر آیات و معجزات نازل نہیں ہو سکتے۔ اس کے لئے خاص قسم کی شائستگی ، آمادگی اور روح کی پاکیزگی ضروری ہے۔ یہ بالکل ایسے ہے کہ شہر میں بچھے ہوئے سب بجلی کے تار (قوی ہوں یا بہت ہی کمزور) یہ آرزو کریں کہ وہی بجلی جو بہت زیادہ طاقتور ہے اور جو سب سے پہلے مضبوط تاروں میں منتقل ہوئی ان کی طرف منتقل ہو جائے۔ یقینا یہ توقع انتہائی غلط اور ناروا ہو گی۔ وہ انجینئر جس نے ان تاروں کو مختلف کاموں کی انجام دہی کے لئے تیار کیا ہے، ان کی صلاحیت معین کی ہے۔ ان میں سے بعض بجلی بننے والے مقام سے بلاواسطہ منسلک ہیں اور بعض بالواسطہ۔ بعد کی آیت کا روئے سخن پیغمبر ﷺ کی طرف ہے جو بتاتی ہے کہ خواہ مخواہ کی معجز ہ طلبیوں اور دیگر بہانہ سازیوں کے سلسلے میں آپ کی ذمہ داری کیا ہے۔ فرمایا: ہم نے تجھے حق کے ساتھ (دنیا کے لوگوں کو) بشارت دینے اور ڈرانے کے لئے بھیجاہے (إِنَّا اَرْسَلْنَاکَ بِالْحَقِّ بَشِیرًا وَنَذِیرًا)۔ تمہاری ذمہ داری ہے ہمارے احکام تمام لوگوں کے سامنے بیان کرنا، ان کے سامنے معجزات پیش کرنا اور عقل و منطق سے حقائق واضح کرنا۔ اس دعوت کے ذریعے نیک لوگوں کو شوق و رغبت دلاؤ اور بدکاروں کو ڈراؤ، تمہارے ذمے فقط یہی ہے۔ یہ پیغام پہنچائے جانے کے بعد اگر اب ان میں سے کوئی گروہ ایمان نہ لائے تو تم اہل جہنم کی گمراہی کے ذمے دار نہیں ہو (و لا تسئل عن اصحاب الجحیم)۔
ان کے دل ایک جیسے ہیں
مندرجہ بالا آیات میں قرآن کہتا ہے کہ بہانہ سازیاں اور حیلہ گریاں کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ پہلی کجرو قومیں بھی یہی کچھ کرتی رہی ہیں گویا ان کے دل بھی ان کے دلوں جیسے ہیں۔ یہ تعبیر اس نکتے کی طرف بھی اشارہ ہے کہ زمانہ گزرنے کا اور انبیاء کی تعلیمات کا یہ اثر تو ہونا چاہیے کہ آنے والی نسلیں آگاہی اور علم کی زیادہ حصہ دار ہوں اور بہانہ سازیاں اور بے بنیاد باتیں جو انتہائی جہالت و نادانی کی نشانی ہیں، انہیں کنارے لگا دیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ ان لوگوں نے اس تکاملی پروگرام سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا اور اسی طرح کی ڈبھلی بجا رہے ہیں۔ گویا ان سے ان کا ہزاروں سالہ تعلق ہے اور زمانہ بیت جانے سے ان کے افکار و نظریات میں ذرا سی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی۔
خوش خبری دینا اور ڈرانا۔ دواہم تربیتی اصول
خوش خبری دینا اور ڈرانا دوسرے لفظوں میں تشویق و تہدید، تمام تربیتی اور معاشرتی پروگراموں کی بنیاد ہیں۔ اچھے کام کی انجام دہی پر جزا کی رغبت اور برے کام کی انجام دہی پر سزا کا خوف ضروری ہے تا کہ راہ خیر پر چلنے کا زیادہ ولولہ و جذبہ پیدا ہو اور قدم برے راستے پر اٹھنے سے باز رہ سکیں۔ صرف شوق دلانا فرد یا معاشرے کے تکامل کے لئے کافی نہیں کیونکہ انسان اگر صرف بشارتوں کا امیدوار ہو اور ان پر مطمئن ہو جائے تو ممکن ہے کہ جرائم کی طرف ہاتھ بڑھائے چونکہ اسے اطمینان ہے اور کوئی خطرہ نہیں ہے۔ مثلا ہم دیکھتے ہیں کہ آج کل عیسائی فدیہ کا عقیدہ رکھتے ہیں یعنی ان کا عقیدہ ہے کہ عیسی ان کے گناہوں کا فدیہ ہو گئے ہیں۔ ان کے رہبر کبھی انہیں جنت کی سند بیچتے ہیں اور کبھی خدا کی طرف سے ان کے گناہ بخش دیتے ہیں۔ مسلم ہے کہ ایسے لوگ آسانی سے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ قاموس کتاب مقدس میں ہے: خدا نیز اشارہ ہے مسیح کے گراں بہا خون کے کفارہ کی طرف جب کہ ہم سب کے گناہ ان پر رکھ دیئے گئے اور ہمارے گناہوں کے ضمن میں انہوں نے اپنے آپ کو صلیب کے لئے پیش کر دیا۔ یہ منطق اس تحریف شدہ مذہب کے پیروکاروں کے لئے گناہوں میں جسارت و جرات کا سبب بنتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ جو سمجھتے ہیں کہ تشویق ہی انسان کے لئے (چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا) کافی ہے اور تنبیہ و تہدید اور سزا و عذاب کا ذکر بالکل ایک طرف رکھ دینا چاہیے، وہ بڑے اشتباہ کا شکار ہیں جیسا کہ وہ لوگ جو تربیت کی بنیاد صرف خوف و تہدید پر رکھتے ہیں اور تشویق کے پہلوؤں سے غافل ہیں وہ بھی گمراہ اور بے خبر ہیں۔ یہ دونوں گروہ انسان کو پہچاننے میں اشتباہ اور غلطی کر گئے ہیں۔ وہ متوجہ نہیں کہ انسان خوف اور امید، ذات کی محبت، زندگی سے عشق اور فنا و نابودی سے نفرت کا مجموعہ ہے۔ وہ کشش منفعت اور دفع ضرر کا مرتکب ہے۔ وہ انسان جوان دونوں پہلووں کا حامل ہے کیسے ممکن ہے کہ اس کی تربیت کی بنیاد صرف ایک پہلو پر رکھی جائے۔ ان دونوں میں ایک توازن ضروری ہے۔ اگر تشویق و امید حد سے بڑھ جائے۔ تو جرات و غفلت کا باعث ہے اور اگر خوف و اندیشہ حدسے گزر جائے تو اس کا نتیجہ یاس و ناامیدی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آیات قرآن میں نذیر و بشیر یا انذار و بشارت کا ایک ساتھ ذکر ہے بلکہ یہ بھی ملحوظ رکھا گیاہے کہ کبھی بشارت کو انذار پر مقدم رکھا گیا ہے اور کبھی انذار کو بشارت پر۔ زیر بحث آیت میں، بشیرا و نذیرا ہے اور سورہ اعراف آیہ ۱۸۸ ہے: إِنْ اَنَا إِلاَّ نَذِیرٌ وَبَشِیرٌ لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ ۔ میں ایمان لانے والے کے لئے نذیر اور بشیر ہوں۔ البتہ اکثر آیات قرآن میں بشیر، بشارت یا مبشر کو مقدم رکھا گیا ہے اور کم آیات میں نذیر مقدم ہے۔ ممکن ہے یہ اس لئے ہو کہ مجموعی طور پر رحمت خدا اس کے عذاب پر سبقت رکھتی ہے: یا من سبقت رحمتہ غضبہ۔ اے وہ کہ جس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 1tafseer for this ayah is linked with ayah below.
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1پہلی آیت کی شان نزول کے بارے میں ابن عباس سے اس طرح منقول ہے: مدینہ کے یہودیوں اور نجران کے عیسائیوں کا خیال تھا کہ قبلہ کے بارے میں پیغمبر اسلام ﷺ ہمیشہ ان سے موافقت رکھیں گے۔ جب خدا نے بیت المقدس کے بجائے کعبہ کو مسلمانوں کا قبلہ قرار دیا تو وہ پیغمبر اکرم ﷺ سے مایوس ہو گئے (اس دوران شاید مسلمانوں میں سے بعض لوگ بھی معترض تھے کہ ایسا کوئی کام نہ کیا جائے جو یہود و نصاری کی رنجش کا باعث ہو) (بحوالہ: تفسیر ابوالفتوح رازی اور تفسیر فخر رازی (کچھ فرق کے ساتھ)۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی جس میں مسلمانوں کو بتایا گیا کہ قبلہ کی ہم آہنگی کا معاملہ ہو یا کوئی اور مسئلہ، یہودیوں اور عیسائیوں کا یہ گروہ تم سے کبھی راضی نہیں ہوگا یہاں تک کے تم ان کے مذہب کو پورے طور پر تسلیم نہ کر لو۔ بعض دوسرے لوگوں نے نقل کیاہے کہ پیغمبر اکرم ﷺ چاہتے تھے کہ ان دونوں گروہوں کو راضی کیا جائے شاید یہ اسلام قبول کر لیں۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی جس میں کہا گیا کہ آپ یہ بات ذہن سے نکال دیں کیونکہ وہ کسی قیمت پر آپ سے راضی نہ ہوں گے جب تک آپ ان کے مذہب کی پیروی نہ کرنے لگیں۔(بحوالہ: تفسیر ابوالفتوح اور مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ دوسری آیت کی شان نزول میں مختلف روایات ہیں۔ مفسرین کا نظریہ ہے کہ یہ آیت ان افراد کے بارے میں ہے جو جناب جعفر ابن ابوطالب کے ساتھ حبشہ سے آئے تھے اور وہ لوگ وہاں جا کر جناب جعفر سے مل گئے تھے۔ ان کی تعداد چالیس تھی۔ بتیس افراد حبشہ سے تھے اور آٹھ افراد شام کے راہب تھے جن میں مشہور راہب بحیرا بھی شامل تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہودیوں میں سے چند افراد کے لئے یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ مثلا عبد اللہ بن سلام، سعید بن عمرو اور تمام بن یہودا وغیرہ جنہوں نے اسلام قبول کیا تھا۔( بحوالہ: مجمع البیان ، زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔
وہ ہرگز راضی نہ ہوں گے
گذشتہ آیت میں پیغمبر اسلام ﷺ کی رسالت کا ذکر ہے۔ جس میں بشارت اور تنبیہ شامل ہے اور بتایا گیا ہے کہ ہٹ دھرم گمراہوں کے بارے میں آپ سے کوئی جواب طلبی نہ ہوگی۔ مندرجہ بالا آیات میں یہی بحث جاری ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ سے فرمایا گیا ہے کہ آپ یہودیوں اور عیسائیوں کی رضامندی حاصل کرنے پر زیادہ اصرار نہ کریں کیونکہ وہ ہرگز آپ سے راضی نہ ہوں گے مگر یہ کہ ان کی خواہشات کو مکمل طور پرتسلیم کر لیا جائے اور ان کے مذہب کی پیروی کی جائے ( لن ترضی عنک الیہود و لا النصری حتی تتبع ملتھم)۔ آپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ ان سے کہیے کہ ہدایت صرف ہدایت الہی ہے (قل ان ہدی اللہ ہو الھدی)۔ وہ ہدایت جس میں خرافات اور پست و نادان افراد کے افکار کی آمیزش نہ ہو یقینا ایسی ہی خالص ہدایت کی پیروی کرناچاہیے۔ مزید فرمایا: اگر آپ ان کے تعصبات، ہوا و ہوس اور تنگ نظریوں کو مان لیں جب کہ وحی الہی کے سائے میں آپ پر حقائق روشن ہو چکے ہیں تو خدا کی طرف سے آپ کا کوئی سرپرست اور یاور و مددگار نہ ہوگا (و لئن اتبعت اھوائھم بعد الذی جاءک من العلم من العلم مالک من اللہ من ولی و لا نصیر)۔ ادھر جب یہود و نصاری میں سے کچھ لوگوں نے جو حق کے متلاشی تھے پیغمبر اسلام ﷺ کی دعوت پر لبیک کہی اور اس آئین و دین کو قبول کر لیا تو سابق گروہ کی مذمت کے بعد قرآن انہیں اچھائی اور نیکی کے حوالے سے یاد کرتاہے اور کہتا ہے: وہ لوگ جنہیں ہم نے آسمانی کتاب دی ہے اور انہوں نے اسے غور سے پڑھا ہے اور اس کی تلاوت کا حق ادا کیا ہے (یعنی فکر و نظر کے بعد اس پر عمل کیاہے) وہ پیغمبر اسلام ﷺ پر ایمان لے آئیں گے (الذین اتینہم الکتاب یتلونہ حق تلاوتہ اولئک یومنون بہ)۔ اور جو ان کے کافر و منکر ہو گئے ہیں انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے وہ خسارہ اٹھانے والے ہیں (و من یکفر بہ فاولئک ھم الخاسرون)۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی آسمانی کتاب کی تلاوت کا واقعا حق ادا کیا ہے اور وہی ان کی ہدایت کا سبب ہے کیونکہ پیغمبر موعود کے ظہور کی جو بشارتیں انہوں نے ان کتب میں پڑھی تھیں وہ پیغمبر اسلام ﷺ پر منطبق دیکھیں اور انہوں نے سر تسلیم خم کر لیا اور خدا نے بھی ان کی قدردانی کی ہے۔
آیا پیغمبر اکرم یہود و نصاری کی خواہشات کی پیروی کر سکتے ہیں؟
اس جملے سے ممکن ہے بعض لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ مقام عصمت پر فائز ہونے کے باوجود کیا ممکن ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کجرو یہودیوں کی خواہشات کی پیروی کریں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآنی آیات میں ایسی تعبیریں بار بار نظر آتی ہیں اور یہ کسی طرح سے بھی انبیاء کے مقام عصمت کی نفی نہیں کرتیں کیونکہ ایک طرف تو ان میں جملہ شرطیہ شرط کے وقوع کی دلیل نہیں دوسری طرف عصمت انبیاء کو گناہ سے جبرا تو نہیں روکتی بلکہ پیغمبر و امام گناہ پر قدرت رکھتے ہیں اور ارادہ و اختیار کے حامل ہوتے ہیں اس کے با وجود ان کے دامن گناہ سے کبھی آلودہ نہیں ہوتے۔ یہ بھی ہے کہ اگرچہ خطاب پیغمبر ﷺ کو ہے لیکن ہو سکتا ہے مراد سب لوگ ہوں۔
دشمن کی رضا کا حصول
انسان کو چاہیے کہ وہ پر کشش اخلاق سے دشمنوں کو بھی حق کی دعوت دے لیکن یہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جن میں کچھ لچک اور حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ہو۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو کبھی حرف حق قبول کرنے کے لئے تیارنہیں ہوتے، ایسے لوگوں کی رضا حاصل کرنے کی فکر نہیں کرنا چاہیے ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں کہا جائے کہ اگر وہ ایمان نہ لائیں تو جہنم میں جائیں اور ان پر فضول وقت ضائع نہ کیا جائے۔
ہدایت صرف ہدایت الہی ہے
مندرجہ بالا آیت سے ضمنی طور پر یہ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ وہ قانون جو انسان کی سعادت کا سبب بن سکتا ہے، فقط قانون و ہدایت الہی ہے (ان ہدی اللہ ہو الہدی) کیونکہ انسان کا علم جتنا بھی ترقی کرے پھر بھی وہ کئی پہلوؤں سے جہالت، شک اور ناپختگی کا حامل ہوگا۔ ایسے ناقص علم کی بنیاد پر جو ہدایت ہوگی وہ کامل نہ ہو سکے گی۔ ہدایت مطلقہ تو اسی کی طرف سے ممکن ہے جو علم مطلق کا حامل ہو اور جہالت و ناپختگی سے ماوراء ہو اور وہ صرف خدا ہے۔
حق تلاوت کیا ہے؟
یہ بہت ہی پر معنی تعبیر ہے جو مندرجہ بالا آیات میں آئی ہے۔ یہ ہمارے لئے قرآن مجید اور دیگر کتب آسمانی کے سلسلے میں واضح راستہ متعین کرتی ہے۔ ان آیات الہی کے مفہوم کے ضمن میں مختلف گروہ ہیں۔ ایک گروہ کو پورا اصرار ہے کہ اس کا مطلب ہے کہ الفاظ و حروف کو صحیح مخارج سے ادا کیا جائے۔ یہ گروہ مضمون اور معانی کو کوئی اہمیت نہیں دیتا چہ جائیکہ اس پر عمل کی طرف توجہ دے۔ قرآن کے مطابق ایسے لوگوں کی مثال اس جانور کی سی ہے جس پر کتا بیں لاد دی جائیں۔ کمثل الحمار یحمل اسفارا (جمعہ ۔۵) دوسرا گروہ وہ ہے جو الفاظ کی سطح سے کچھ اوپر گیا ہے۔ وہ معانی پر بھی غور کرتاہے، قرآن کی باریکیوں اور نکات میں فکر کرتا ہے اور اس کے علوم سے آگاہی حاصل کرتا ہے لیکن عمل کے معاملے میں صفر ہے۔ ایک تیسرا گروہ ہے جو حقیقی مومنین پر مشتمل ہے۔ یہ گروہ قرآن کو کتاب عمل اور زندگی عمل اور زندگی کے مکمل پروگرام کے طور پر قبول کرتا ہے۔ وہ اس کے الفاظ پڑھنے، اس کے معانی پر فکر کرنے اور اس کے مفاہیم سمجھنے کو عمل کرنے کا مقدمہ اور تمہید سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایسے لوگ قرآن پڑھتے ہیں تو ان کے بدن میں ایک نئی روح پیدا ہو جاتی ہے۔ ان میں نیا عزم، نیا ارادہ، نئی آمادگی اور نئے اعمال پیدا ہوتے ہیں اور یہ ہے حق تلاوت۔ امام صادق علیہ السلام سے اس آیت کی تفسیر کے سلسلے میں ایک عمدہ حدیث منقول ہے۔ آپ نے فرمایا: یتلون ایاتہ و یتفقھون بہ و یعملون باحکامہ و یرجون وعدہ و یخافون وعیدہ و یعتبرون بقصصہ و یاتمرون باوامرہ و ینتھون بنواھیہ ما ہو واللہ حفظ ایاتہ و درس حروفہ و تلاوت سورہ و درس اعشارہ و اخماسہ حفظوا حروفہ و اضاعو حدودہ و انما ھوت برایاتہ و العمل بارکانہ قال اللہ تعالی کتاب انزلناہ الیک مبارک لیدبروا ایاتہ۔ مقصود یہ ہے کہ وہ اس کی آیات غور سے پڑھیں۔ اس کے حقائق کو سمجھیں، اس کے احکام پر عمل کریں، اس کے وعدوں کی امید رکھیں، اس کی تنبیہوں سے ڈرتے رہیں، اس کی داستانوں سے عبرت حاصل کریں، اس کے اوامرکی اطاعت کریں، اس کے نواہی سے بچے رہیں۔ خدا کی قسم مقصد آیات حفظ کرنا، حروف پڑھنا، سورتوں کی تلاوت کرنا اور اس کے دسویں اور پانچویں حصوں کو یاد کرنا نہیں۔ ان لوگوں نے حروف قرآن تو یاد رکھے مگر اس کی حدود کو پامال کر دیا ہے۔ مقصود صرف یہ ہے کہ قرآن کی آیات میں غور و فکر کریں اور اس کے احکام پر عمل کریں جیسا کہ قرآن فرماتا ہے: یہ با برکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ پر نازل کیا ہے تا کہ لوگ اس کی آیات میں تدبر کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 124 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 124 کے تحت ملاحظہ کریں۔
قرآن کا روئے سخن پھر بنی اسرائیل کی طرف
Tafsīr Nemūna · Vol. 1قرآن کا روئے سخن پھر بنی اسرائیل کی طرف ہے۔ ان پر جو نعمتیں نازل ہوئیں، قرآن ان کا ذکر کرتا ہے۔ خصوصا وہ فضیلت جو خدا نے ان کے زمانے کے لوگوں پر انہیں عطا کی تھی وہ یاد دلائی گئی ہے۔ فرماتا ہے: اے بنی اسرائیل! ان نعمتوں کو یاد کرو جومیں نے تمہیں عطا کیں او ر یہ بھی یاد کرو میں نے تمہیں تمام جہان والوں پر (اس زمانے میں موجود سب لوگوں پر) فضیلت بخشی (یبنی اسرائیل اذکروا نعمتی التی انعمت علیکم و انی فضلتکم علی العلمین)۔ لیکن کوئی نعمت جواب دہی اور ذمہ داری کے بغیر نہیں ہوتی بلکہ ہر نعمت عطا کرنے کے بعد خدا کسی ذمہ داری اور کسی عہد و پیمان کا بوجھ انسان کے کندھے پر رکھتا ہے لہذا بعد کی آیت میں تنبیہ کرتا ہے اور کہتاہے: اس دن سے ڈرو جب کسی شخص کو دوسرے کی بجائے جزا کا سامنا نہ ہو گا (وَاتَّقُوا یَوْمًا لاَتَجْزِی نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَیْئًا) اور کوئی چیز وہاں فدیہ کے طور پر قبول نہ کی جائے گی (و لا یقبل منھا عدل) اور( اذن خدا کے بغیر) کوئی سفارش سودمند نہ ہوگی (و لا تنفعہا شفاعة) اگر سمجھو کہ خدا کے علاوہ وہاں کوئی انسان کی مدد کر سکتا ہے تو یہ غلط فہمی ہے کیونکہ وہاں کسی شخص کی مدد نہیں کی جا سکے گی (و لا ھم ینصرون) لہذا جنہیں تم نجات کی راہیں سمجھتے ہو وہ سب مسدود ہیں اور شاید دنیا میں تم انہی کا سہارا لیتے ہو۔ صرف اور صرف ایک راستہ کھلاہے اور وہ ایمان و عمل صالح نیز گناہوں پر تو بہ اور اپنی اصلاح کا راستہ ہے۔ چونکہ اس سورہ کی آیہ ۴۷ اور ۴۸ میں بھی بعینہ یہی مسائل بیان ہوئے ہیں (تعبیرات کے کچھ اختلاف کے ساتھ) اور وہاں ہم تفصیل سے بحث کر چکے ہیں لہذا یہاں اسی پر اکتفاء کرتے ہیں۔
در اصل ان آیات کے تین مقاصد ہیں
اس آیت سے لے کر آگے تک (بیت المقدس سے کعبہ کی طرف قبلہ کی تبدیلی کا موضوع شروع ہونے تک) اٹھارہ آیات ہیں جن میں خدا کے پیغمبر عظیم اور علمبردار توحید حضرت ابراہیم خانہ کعبہ کی تعمیر اور توحید و عبادت کے اس مرکز کا تذکرہ ہے۔ دراصل ان آیات کے تین مقاصد ہیں: ۱۔ یہ آیات قبلہ کی تبدیلی کے موضوع کے لئے مقدمہ کا کام دیں۔ مسلمان جان لیں کہ یہ کعبہ حضرت ابراہیم پیغمبر بت شکن کی یادگار ہے۔ اگر مشرکوں اور بت پرستوں نے اسے آج بت خانے میں تبدیل کر رکھا ہے تو یہ ایک سطحی آلودگی ہے۔ اس سے کعبہ کے مقام و منزلت میں کمی واقع نہیں ہوتی۔ ۲۔ یہودی او ر عیسائی یہ دعوی کرتے تھے کہ ہم حضرت ابراہیم اور ان کے دین کے وارث ہیں۔ یہ آیات (دیگر بہت سی آیات سے مل کرجو یہودیوں کے بارے میں گزر چکی ہیں) واضح کر دیتی ہیں کہ وہ لوگ ابراہیمی آئین سے بیگانہ ہیں۔ ۳۔ مشرکین عرب بھی اپنے اور حضرت ابراہیم کے در میان اٹوٹ رشتہ بتاتے تھے۔ انہیں بھی یہ سمجھانا مقصود تھا کہ تمہارے اور اس بت شکن پیغمبر کے پروگرام میں کوئی ربط نہیں۔ زیر بحث آیت میں پہلے فرماتا ہے: وہ وقت یاد کرو جب خدا نے ابراہیم کو مختلف طریقوں سے آزمایا اور وہ ان آزمائشوں میں اچھی طرح کامیاب ہوئے ( و اذ ابتلی ابراہیم ربہ بکلمات فاتمھن)۔ یہ آیت حضرت ابراہیم کی زندگی کے اہم ترین موڑ یعنی ان کی بڑی بڑی آزمائشوں اور ان میں ان کی کامیابی کے متعلق گفتگو کرتی ہیں۔ وہ آزمائشیں جنہوں نے ابراہیم کی عظمت مقام اور شخصیت کو مکمل طور پرنکھار دیا اور ان کی شخصیت کی بلندی کو روشن کر دیا اورجب ابراہیم ان امتحانات سے کامیاب ہو گئے تو وہ منزل آئی کہ خدا انہیں انعام دے تو فرمایا: میں نے تمہیں لوگوں کا امام، رہبر اور پیشوا قرار دیا (قال انی جاعلک للناس اماما)۔ ابراہیم نے در خواست کی: میری اولاد اور خاندان سے بھی آئمہ قرار دے تا کہ یہ رشتہ نبوت و امامت منقطع نہ ہو اور صرف ایک شخص کے ساتھ قائم نہ رہے (قال و من ذریتی)۔ خدا نے اس کے جواب میں فرمایا: میرا عہد یعنی مقام امامت ظالموں تک ہرگز نہیں پہنچے گا (قال لا ینال عھد الظلمین)۔ یعنی ہم نے تمہاری درخواست قبول کر لی ہے لیکن تمہاری ذریت میں سے صرف وہ لوگ اس مقام کے لائق ہیں جو پاک اور معصوم ہیں۔
کلمات سے کیا مراد ہے
اس آیت میں چند ایسے اہم موضوعات ہیں جن کے بارے میں گہری نظر سے تحقیق کی ضرورت ہے: ۱۔ "کلمات" سے کیا مراد ہے: آیات قرآن سے اور ابراہیم کے وہ نظر نواز اعمال جن کی خدا نے تعریف کی ہے، کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ کلمات (وہ جملے جو خدا نے ابراہیم کو سکھائے) دراصل ذمہ داریوں کا ایک گراں اور مشکل سلسلہ تھا جو خدا نے ابراہیم کے ذمے کیا اور اس مخلص پیغمبر نے انہیں بہترین طریقے سے انجام دیا۔ حضرت ابراہیم کے امتحانات میں یہ امور شامل تھے: ۱۔ اپنی بیوی اور بیٹے کو مکہ کی خشک اور بے آب و گیاہ سرزمین میں لے جانا جہاں کوئی انسان نہ بستا تھا۔ ۲۔ بیٹے کو قربان گاہ میں لے جانا اور فرمان خدا سے اسے قربان کرنے کے لئے پر عزم آمادگی کا مظاہرہ کرنا۔ ۳۔ بابل کے بت پرستوں کے مقابلے میں قیام کرنا، بتوں کو توڑنا اور اس تاریخی مقدمے میں پیش ہونا اور نتیجتا آگ میں پھینکا جانا اور ان تمام مراحل میں اطمینان و ایمان کا ثبوت دینا۔ ۴۔ بت پرستوں کی سرزمین سے ہجرت کرنا اور اپنی زندگی کے سرمائے کو ٹھوکر مارنا اور دیگر علاقوں میں جا کر پیغام حق سنانا۔ ایسے اور بھی بہت سے امور ہیں۔ [تفسیر المنار میں این عباس کےحوالے سے منقول ہے کہ انہوں نے قرآن کی چار سورتوں کی مختلف آیات میں حضرت ابراہیم کے لئے گئے امتحانات کو شمار کیا ہے جو تیس بنتے ہیں۔ (المنار۔ زیر نظر آیات کے ذیل میں)] یہ واقعہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک بہت سخت اور مشکل آزمائش تھی لیکن ابراہیم ایمانی قوت کے ذریعے ان تمام میں پورا اترے اور ثابت کیا کہ وہ مقام امامت کی اہلبیت رکھتے تھے۔
امام کسے کہتے ہیں
زیر بحث آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم کو جو مقام امامت بخشا گیا، وہ مقام نبوت و رسالت سے بالاتر تھا۔ اس کی توضیح کے لئے امامت کے مختلف معانی بیان کئے جاتے ہیں۔ ۱۔ امامت کا معنی ہے صرف دنیا وی امور میں لوگوں کی قیادت و پیشوائی (جیسا کہ اہل سنت کہتے ہیں)۔ ۲۔ امامت کا معنی ہے امور دین و دنیا میں پیشوائی (اہل سنت ہی میں بعض اس کے قائل ہیں)۔ ۳۔ امامت کا معنی ہے دینی پروگراموں کا ثابت ہونا جس میں حدود احکام الہی کے اجراء کے لئے حکومت کا وسیع مفہوم شامل ہے۔ اس طرح ظاہری اور باطنی پہلوؤں سے نفوس کی تربیت و پرورش بھی امامت کے مفہوم میں داخل ہے۔ تیسرے معنی کے لحاظ سے یہ مقام رسالت و نبوت سے بلندتر ہے کیونکہ نبوت و رسالت خدا کی طرف سے خبر دینا، اس کا فرمان پہنچانا اور خوشخبری دینا اور تنبیہ کرنا ہے لیکن منصب امامت میں ان امور کے ساتھ ساتھ اجرائے احکام اور نفوس کی ظاہری و باطنی تربیت بھی شامل ہے (البتہ واضح ہے کہ بہت سے پیغمبر مقام امامت پر بھی فائز تھے)۔ در حقیقت مقام امامت دینی منصوبوں کو عملی شکل دینے کا نام ہے۔ یعنی ایصال الی المطلوب، مقصود تک پہنچنا، اجرائے قوانین الہی کے لحاظ سے اور تکوینی ہدایت کے اعتبار سے یعنی تاثیر باطنی اور نفوذ روحانی۔ یہ وہ شعاع نور ہے جو انسانی دلوں کو روشنی بخشتے ہے اور انہیں ہدایت کرتی ہے۔ اس لحاظ سے امام بالکل آفتاب کی طرح ہے جو اپنی شعاعوں سے سبزہ زاروں کی پرورش کرتاہے۔ قرآن مجید میں ہے: ھُوَ الَّذِی یُصَلِّی عَلَیْکُمْ وَمَلَائِکَتُہُ لِیُخْرِجَکُمْ مِنْ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّورِ وَکَانَ بِالْمُؤْمِنِینَ رَحِیمًا۔ وہی ہے جو رحمت بھیجتا ہے اور اس کے ملائکہ رحمت بھیجتے ہیں تا کہ تمہیں تاریکیوں سے نور کی طرف نکال لے جائے اور وہ مومنین پر مہربان ہے۔ (احزاب ۔۴۳) اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ خدا کی خاص رحمتیں اور فرشتوں کی غیبی امداد مومنین کی تاریکیوں سے نور کی طرف رہبری کرتی ہے۔ یہ بات امام پر صادق آتی ہے۔ امام اور مقام امامت کے حامل عظیم پیغمبر مستعد و آمادہ افراد کی تربیت کرتے ہیں اور انہیں جہالت و گمراہی سے نکال کر نور و ہدایت کی طرف لے جاتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ زیر بحث آیت میں امامت کے مذکورہ تیسرے مفہوم ہی کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ قرآن کی متعدد آیات سے ظاہر ہوتاہے کہ امامت کے مفہوم میں ہدایت بھی شامل ہے۔ جیسا کہ سورہ سجدہ کی آیت ۲۴ میں ہے: وَجَعَلْنَا مِنْہُمْ اَئِمَّةً یَہْدُونَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَکَانُوا بِآیَاتِنَا یُوقِنُون۔ ہم نے انہیں امام بنایا تا کہ ہمارے فرمان کے مطابق ہدایت کریں۔ اس لیے کہ وہ صبر و استقامت رکھتے ہیں اور ہماری آیات پر ایمان و یقین رکھتے ہیں۔ یہ ہدایت ارائة الطریق___ راستہ دکھانا___ کے معنی والی نہیں ہے۔ کیونکہ حضرت ابراہیم مرحلہ امامت سے پہلے مقام نبوت و رسالت اور ارائة الطریق کے مفہوم کی ہدایت کے منصب پر تو قطعا و یقینا فائز تھے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جو منصب امامت سخت آزمائشوں سے گزرنے اور یقین، شجاعت اور استقامت کے مراحل طے کرنے کے بعد حضرت ابراہیم کو عطا ہوا وہ بشارت، ابلاغ اور انذار کے معنی سے ماوراء مقام ہدایت حامل ہے۔ لہذا وہ ہدایت جو امامت کے مفہوم میں داخل ہے ایصال الی المطلوب، روح مذہب کو عملی شکل دینا اور نفوس آمادہ کی تربیت کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ان اللہ اتخذ ابراہیم عبدا قبل ان یتخذہ نبیا و ان اللہ اتخذہ نبیا قبل ان یتخذہ رسولا و ان اللہ اتخذہ رسولا قبل ان یتخذہ خلیلا و ان اللہ اتخذہ خلیلا قبل ان یتخذہ اماما فلما جمع الاشیاء قال انی جاعلک للناس اماما فمن عظمھا فی عین ابراھیم قال و من ذریتی قال لا ینال عھدی الظلمین قال لا یکون السفیہ امام التقی۔ خداوند عالم نے نبی بنانے سے قبل ابراہیم کو عہد قرار دیا اور اللہ نے انہیں رسول بنانے سے پہلے نبی قرار دیا اور انہیں خلیل بنانے سے قبل اپنی رسالت کے لئے منتخب کیا اور اس سے پہلے کہ امام بناتا انہیں اپنا خلیل بنایا۔ جب یہ تمام مقامات و مناصب انہیں حاصل ہو چکے تو اللہ نے فرمایا میں تمہیں انسانوں کے لئے امام بناتا ہوں۔ حضرت ابراہیم کو یہ مقام عظیم دیا تو انہوں نے عرض کیا: خدایا میری اولاد سے بھی امام قرار دے۔ ارشاد ہوا: میرا عہد ظالموں تک نہ پہنچے گا۔ بے وقوف شخص متقی لوگوں کا امام نہیں ہو سکتا۔(بحوالہ: اصول کافی، ج۱، باب طبقات الانبیاء و الرسل، ص ۱۳۳)۔
نبوت، رسالت اور امامت میں فرق
آیات میں موجود اشارات اور احادیث میں وارد ہونے والی مختلف تعبیرات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کی طرف سے مامور لوگ مختلف منصبوں پر فائز تھے: ۱۔ مقام نبوت___ یعنی خدا کی طرف سے وحی حاصل کرنا۔ لہذا نبی وہ ہے جس پر وحی نازل ہو اور جو کچھ وحی کے ذریعے معلوم ہو لوگ چاہیں تو انہیں بتا دے۔ ۲۔ مقام رسالت___ یعنی مقام ابلاغ وحی، تبلیغ و نشر احکام الہی اور تعلیم و آگہی سے نفوس کی تربیت۔ لہذا رسول وہ ہے جس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی ماموریت کے خطے میں جستجو اور کوشش کے لئے اٹھ کھڑا ہو اور ہر ممکن ذریعے سے لوگوں کو خدا کی طرف دعوت دے اور لوگوں تک اس کا فرمان پہنچائے۔ ۳۔ مقام امامت___ یعنی رہبری و پیشوائی اور امور مخلوق کی باگ ڈور سنبھالنا۔ در حقیقت امام وہ ہے جو حکومت الہی کی تشکیل کے لئے ضروری توانائیاں حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تا کہ احکام خدا کو عملا جاری اور نافذ کر سکے اور اگر فی الوقت باقاعدہ حکومت کی تشکیل ممکن نہ ہو تو جس قدر ہو سکے اجرائے احکام کی کوشش کرے۔ بہ الفاظ دیگر امام کا کام اور ذمہ داری احکام و قوانین الہی کا اجراء ہے جب کہ رسول کی ذمہ داری احکام الہی کا ابلاغ ہے۔ دو لفظوں میں یوں کہیے کہ رسول کا کام ارائة الطریق ہے اور امام کی ذمہ داری ایصال الی المطلوب ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ رسول اسلام کی طرح بہت سے پیغمبر تینوں عہدوں پر فائز تھے۔ وحی وصول کرتے، فرامین خداوندی کی تبلیغ کرتے نیز تشکیل حکومت اور اجرائے احکام کی کوشش کرتے اور باطنی طور پر بھی نفوس کی تربیت کرتے تھے۔ مختصر یہ کہ امامت ہر جہت سے مقام رہبری کا نام ہے، وہ مادی ہو یا معنوی، جسمانی ہو یا روحانی اور ظاہری یا باطنی ۔امام حکومت کا سربراہ، لوگوں کا پیشوا، مذہبی رہنما، اخلاق کا مربی اور باطنی ہدایت کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اپنی مخفی اور معنوی قوت سے امام اہل افراد کی سیر تکامل [سیر تکامل: ہر چیز کمال کی طرف گامزن ہے۔ اس سفر کو اصطلاح میں سیر تکامل کہتے ہیں۔ (مترجم)]کے لئے باطنی رہبری کرتا ہے، اپنی علمی قدرت کے ذریعے نادان و جاہل افراد کو تعلیم دیتا ہے اور اپنی حکومت کی طاقت سے یا دیگر اجرائی طاقتوں سے اصول عدالت کا اجراء کرتا ہے۔
امامت یا حضرت ابراہیم کی آخری سیرِ تکامل
امامت کی حقیقت کے بارے میں ہم جو کچھ کہہ چکے ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ممکن ہے کوئی شخصیت مقام تبلیغ و رسالت کی حامل ہو لیکن منصب امامت پر فائز نہ ہو۔ کیونکہ اس منصب کے لئے ہر پہلو سے بہت زیادہ اہلیت و لیاقت کی ضرورت ہے اور یہ وہ مقام ہے جسے ابراہیم علیہ السلام تمام امتحانات کے بعد حاصل کر سکے۔ اس سے ضمنا یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ امامت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے سیر تکامل کی آخری منزل تھی۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ امامت کا مطلب ہے کسی شخص کا خود سے اہل اور نمونہ ہونا، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام مسلما آغاز نبوت سے ایسے ہی تھے اور جو سمجھتے ہیں کہ امامت کا مقصد دوسرے کے لئے نمونہ اور ماڈل ہونا ہے تو یہ صفت ابراہیم علیہ السلام بلکہ تمام انبیاء و مرسلین میں ابتدائے نبوت سے موجود ہوتی ہے۔ اسی لئے تو سب کہتے ہیں کہ پیغمبر کو معصوم ہونا چاہیے کیونکہ اس کے اعمال اور کردار دوسروں کے لئے نمونہ قرار پاتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوا کہ مقام امامت ان چیزوں سے کہیں بلند ہے یہاں تک کہ نبوت و رسالت سے بھی بالاتر ہے اور یہ وہ مقام و منصب ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کی اہلبیت کا امتحان دینے کے بعد بارگاہ الہی سے حاصل کیا۔ زیر بحث آیت کے علاوہ مندرجہ ذیل آیات میں بھی ایسے اشارات موجود ہیں جو ہماری بات پرشاہد ہیں: ۱۔ و جعلنھم آئمة یھدون بامرنا۔ اور ہم نے انہیں امام قرار دیا جو ہمارے حکم سے لوگوں کو ہدایت کرتے ہیں۔ (انبیا۔ ۷۳) ۲۔ و جعلنا منھم ائمة یھدون بامرنا لما صبروا۔ جب انہوں نے استقامت دکھائی تو ہم نے انہیں امام قرار دیا جو ہمارے حکم سے لوگوں کو ہدایت کرتے ہیں۔ (سجدہ۔۲۴) پہلی آیت جو بعض انبیاء و مرسلین کی طرف اشارہ کر رہی ہے اور دوسری جس میں بنی اسرائیل کے کچھ انبیاء کا ذکر ہے، نشاندہی کرتی ہیں کہ امامت کا تعلق ہمیشہ سے ایک خاص قسم کی ہدایت سے رہا ہے جو فرمان خدا کے مطابق ہے۔
ظلم کسے کہتے ہیں؟
"لا ینال عھدی الظالمین" میں جس ظلم کا ذکر ہے وہ فقط دوسروں پر ظلم ڈھانا نہیں بلکہ یہاں ظلم کا تذکرہ عدل کے مقابلے میں ہے۔ یہاں یہ لفظ اپنے وسیع معنی میں استعمال ہوا ہے۔ عدالت کا حقیقی معنی ہے "ہر چیز کو اس کی جگہ پر رکھنا"۔ اس بناپرظلم کا مفہوم یہ ہوگا: کسی شخص یا چیز کو ایسے مقام پر رکھنا جس کے وہ اہل نہیں ہے: لہذا ذمہ داری اور عظمت کے لحاظ سے امامت اور مخلوق کی ظاہری و باطنی رہبری ایک بہت بڑا مقام ہے۔ ایک لمحہ کا گناہ اور نافرمانی بلکہ سابقہ غلطی بھی اس مقام کی اہلیت چھن جانے کا باعث بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ائمہ اہل بیت سے مروی احادیث میں حضرت علی کے لئے رسول اسلام ﷺ کے خلیفہ بلافصل ہونے کے ثبوت میں محل بحث آیت سے استدلال کیا گیا ہے اور اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ دوسرے لوگ تو زمانہ جاہلیت میں بت پرست تھے مگر وہ شخص جس نے آنِ واحد کے لئے کسی بت کو سجدہ نہیں کیا وہ صرف حضرت علی علیہ السلام تھے۔ مثلا: ۱۔ ہشام بن سالم، امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: قد کان ابراہیم نبیا و لیس بامام حتی قال اللہ انی جاعلک للناس اماما فقال و من ذریتی قال لا ینال عھدی الظالمین من عبد صنما او وثنا لا یکوں اماما۔ منصب امامت پرفائز ہونے سے پہلے حضرت ابراہیم پیغمبر تھے۔ یہاں تک کہ خدا نے فرمایا: میں تجھے انسانوں کا امام بناتا ہوں۔ انہوں نے کہا: میری اولاد میں سے بھی امام قرار دے۔ فرمایا: میرا عہد ظالموں تک نہیں پہنچے گا۔ لہذا جنہوں نے بتوں کی پرستش کی ہے، وہ امام نہیں ہو سکتے۔( بحوالہ: اصول کافی، ج۱، باب طبقات الانبیاء و الرسل حدیث ۱)۔ ۲۔ایک اور حدیث عبداللہ بن مسعود کے حوالے سے پیغمبر اکرم ﷺ سے منقول ہے۔ آپ نے فرمایا: خداوند عالم نے ابراہیم سے فرمایا: لا اعطیک عھدا للظالم من ذریتک قال یا رب و من الظالم من ولدی الذی لاینال عھدک قال من سجد لصنم من دونی لااجعلہ اماما ابدا و لا یصلح ان یکون اماما۔ میں امامت کا عہدہ تیری اولاد میں سے ظالموں کو نہیں بخشوں گا۔ ابراہیم نے عرض کیا: وہ ظالم کہ جن تک یہ منصب نہیں پہنچ سکتا کون ہیں؟ خدانے فرمایا: وہ شخص ظالم ہے جس نے بت کو سجدہ کیا ہو۔ میں ایسے کو ہرگز امام نہیں بناؤں گا۔ اور نہ ہی وہ امام بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔[امالی از شیخ مفید و مناقب ابن معازلی (جیسا کہ تفسیر المیزان میں زیر بحث آیت کے ذیل میں نقل کیا گیا ہے)]۔
امام کا تعین خدا کی طرف سے ہونا چاہئیے
زیر بحث آیت سے ضمنا یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ امام (ہر لحاظ سے لوگوں کے رہبر کے مفہوم کے اعتبار سے) خدا کی طرف سے معین ہونا چاہیے۔ کیونکہ امامت ایک قسم کا خدائی عہد و پیمان ہے اور واضح ہے کہ جسے خدا معین کرے گا اس پیمان کے ایک طرف خود خدا ہوگا۔ یہ بھی ظاہر ہوا کہ جن لوگوں کے ہاتھ ظلم و ستم سے رنگے ہوئے ہیں اور ان کی زندگی میں کہیں ظلم کا نشان موجود ہے، چاہے اپنے اوپر ظلم ہی کیوں نہ ہو یہاں تک کہ ایک لحظے کے لئے بت پرستی کی ہو، وہ امامت کی اہلیت نہیں رکھتے۔ اصطلاح میں کہتے ہیں کہ امام کو اپنی تمام زندگی میں معصوم ہونا چاہیے۔ کیا خدا کے سوا کوئی صفت عصمت سے آگاہ ہو سکتا ہے: اگر اس معیار پر جانشین پیغمبر کا تعین کیا جائے تو حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ کوئی خلیفہ نہیں ہو سکتا۔ تعجب کی بات ہے کہ المنار کے مولف نے حضرت ابوحنیفہ کا ایک قول نقل کیا ہے جس کے مطابق ان کا اعتقاد تھا کہ خلافت منحصرا اولاد علی علیہ السلام کے شایان شان ہے، اسی بناء پر وہ حاکم وقت (منصور عباسی) کے خلاف مظاہرات کو جائز سمجھتے تھے اور اسی وجہ سے خلفائے بنی عباس کی حکومت میں انہوں نے منصب قضاوت قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ المنار کا مولف اس کے بعد مزید لکھتاہے کہ ائمہ اربع سب کے سب اپنے وقت کی حکومتوں کے مخالف تھے اور انہیں مسلمانوں کی حکمرانی کے لئے اہل نہ سمجھتے تھے کیونکہ وہ ظالم و ستمگر تھے۔( المنار، ج۱، ص۴۵۸، ۴۵۷)۔ لیکن یہ بات باعث تعجب ہے کہ ہمارے زمانے میں بہت سے علماء اہل سنت ظالم و جابر اور خودسر حکومتوں کی تائید کرتے ہیں اور انہیں تقویت پہنچاتے ہیں جب کہ یہ سب پر آشکار ہے کہ ان حکومتوں کے روابط ان دشمنان اسلام سے ہیں جن کا ظلم و فساد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ صرف اتنی سی بات نہیں بلکہ انہیں اولوا الامر واجب الاطاعت سمجھتے ہیں۔
دوسوال اور ان کا جواب
۱۔ امامت کے مفہوم کی وضاحت میں جو کچھ ہم کہہ چکے ہیں اس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر امام کا کام ایصال الی المطلوب اور الہی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا ہے پھر اس مفہوم نے بہت سے انبیاء یہاں تک کہ سرکار رسالت اور ائمہ طاہرین کے ہاتھوں عملی شکل تو اختیار نہیں کی بلکہ ان کے مقابلے میں ہمیشہ گناہگار اور گمراہ لوگ بر سر اقتدار رہے۔ ہم اس کے جواب میں کہیں گے کہ اس کا یہ مفہوم نہیں کہ امام مجبور کر کے لوگوں کو حق تک پہنچاتا ہے بلکہ اپنے اختیار، آمادگی اور اہلیت سے لوگ امام کے ظاہری و باطنی کمالات سے ہدایت حاصل کرتے ہیں۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ آفتاب زندہ موجودات کی نشو و نماکے لئے پیدا کیا گیا ہے یا یہ کہ بارش کا کام مردہ زمینوں کو زندہ کرنا ہے۔ یہ مسلم ہے کہ یہ تاثیر عمومی پہلو رکھتی ہے لیکن صرف ان موجودات کے لئے جو یہ اثرات قبول کرنے کے لئے آمادہ اور نشو و نما حاصل کرنے کے لئے تیار ہوں۔ ۲۔ دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مندرجہ بالا تفسیر امامت کا لازمی نتیجہ ہے کہ ہر امام پہلے نبی اور رسول ہو اس کے بعد مقام امامت پر فائز ہو جب کہ جناب رسالت ماب کے معصوم جانشین تو ایسے نہ تھے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ امام پہلے نبوت و رسالت کے منصب پر فائز ہو بلکہ اگر امام سے پہلے کوئی شخصیت نبوت رسالت اور امامت تمام مناصب کی حامل ہو (جیسا کہ پیغمبر اسلام ﷺ تھے) تو اس کا جانشین منصب امامت میں اس کی ذمہ داریوں کی انجام دہی جاری رکھ سکتا ہے اور یہ اس صورت میں ہے کہ جب نئی رسالت کی ضرورت نہ ہو جیسا کہ پیغمبر اسلام ﷺ کے بعد کیونکہ وہ خاتم انبیاء ہیں۔ بہ الفاظ دیگر وحی الہی کے مرحلہ اور تمام احکام کا ابلاغ انجام کو پہنچ چکا ہو اور صرف نفاذ کی منزل باقی ہو تو جانشین پیغمبر اجرائے احکام کا کام جاری رکھ سکتا ہے اور اس کی ضرورت نہیں کہ وہ خود نبی یا رسول ہو۔( بعض لوگ درجہ بدرجہ مراحل طے کرتے ہیں مثلا پہلے انہیں چھوٹے عہدوں پر لگایا جاتا ہے تا کہ تجربات و امتحانات کے بعد وہ بڑے عہدوں تک پہنچیں لیکن کبھی ایسے ذی استعداد لوگ بھی ہوتے ہیں کہ ان کی صلاحیت و استعداد کو دیکھتے ہوئے انہیں بلندترین منصب پر فائز کر دیا جاتا ہے۔ (مترجم))۔
حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی عظیم شخصیت
: حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نام قرآن مجید میں ۶۹ مقامات پر آیا ہے اور ۲۵ سورتوں میں ان کے متعلق گفتگو ہوئی ہے۔ قرآن میں اس عظیم پیغمبر کی بہت مدح و ثناء کی گئی ہے اور ان کی بلند صفات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ ان کی ذات ہر لحاظ سے راہنما اور اسوہ ہے اور وہ ایک کامل انسان کا نمونہ تھے۔ خدا کے بارے میں ان کی معرفت بت پرستوں کے بارے میں ان کی منطق، جابر و قاہر بادشاہوں کے سامنے ان کا انتھک جہاد، حکم خدا کے سامنے ان کا ایثار اور قربانیاں، طوفان، حوادث اور سخت آزمائشوں میں ان کی بے نظیر استقامت، صبر اور حوصلہ اور ان جیسے دیگر امور۔ ان میں سے ہر ایک مفصل داستان ہے اور ان میں مسلمانوں کے لئے نمونہ عمل ہے۔ قرآنی ارشادات کے مطابق وہ ایک نیک اور صالح[ص: ۴۲]، فروتنی کرنے والے[نحل:۱۲۲]، صدیق[نحل:۱۲۰]، بردبار [مریم:۴۱] اور ایفائے عہد کرنے والے [توبہ: ۱۱۴] تھے۔ وہ ایک بے مثال، شجاع اور بہادر تھے۔ بہت زیادہ سخی تھے۔ سورہ ابراہیم کی تفسیر میں خاص طور پر اس کے آخری حصے میں انشاء اللہ آپ اس سلسلے میں تفصیلی مطالعہ کریں گے۔
خانہ کعبہ کی عظمت
Tafsīr Nemūna · Vol. 1گذشتہ آیت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مقام بلند کا ذکر تھا۔ اب خانہ کعبہ کی عظمت کا تذکرہ ہے جو انہی کے ہاتھوں تعمیر اور تیار ہوا۔ فرمایا: یاد رکھو اس وقت کو جب ہم نے خانہ کعبہ کو مثابہ (لوگوں کے پلٹ آنے کا مقام اور توجہ کا مرکز) اور مقام امن و امان قرار دیا (و اذ جعلنا البیت مثابة للناس و امنا)۔ مثابہ اصل میں ثوب سے ہے جس کا معنی ہے کسی چیز کا اپنی پہلی حالت کی طرف پلٹ آنا۔ چونکہ خانہ کعبہ موحدین کا مرکز تھا۔ وہ ہر سال اس کی طرف آتے تھے جہاں وہ فقط جسمانی طور پرہی نہیں بلکہ روحانی طور پر بھی توحید اور فطرت اول کی طرف پلٹتے تھے اس لئے کعبہ کو مثابہ قرار دیا گیا ہے۔ نیز انسان کا گھر ہمیشہ اس کی بازگشت کا مرکز اور آرام و آسائش کا مقام ہوتا ہے۔ لفظ مثابہ میں ایک قسم کا قلبی آرام و آسائش کا مفہوم بھی داخل ہے۔ لفظ (امنا) جو اس کے بعد آیا ہے، اس مفہوم کی تاکید کرتا ہے۔ خصوصا لفظ (للناس) نشاندہی کرتا ہے کہ یہ مرکز امن و امان تمام جہانوں کے لئے ایک عمومی پناہ گاہ ہے۔ یہ در حقیقت حضرت ابراہیم کی ایک درخواست کی قبولیت کا مظہر ہے جو انہوں نے بارگاہ الہی میں کی تھی جیسا کہ اگلی آیت میں آئے گا (رب اجعل ہذا بلدا امنا۔ پروردگار! اس جگہ کو محل امن و امان قرار دے)۔ اس کے بعد فرمایا: مقام ابراہیم کو اپنی نماز کی جگہ کے طور پر انتخاب کرو (و اتخذوا من مقام ابراھیم مصلی )۔ اس بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے کہ مقام ابراہیم سے کون سی جگہ مراد ہے۔ بعض نے کہا ہے تمام حج مقام ابراہیم ہے۔ بعض عرفہ، مشعر الحرام اور تینوں جمرات کو مقام کا نام دیتے ہیں۔ بعض تمام حرم مکہ کو مقام ابراہیم شمار کرتے ہیں۔ لیکن ظاہر آیت، روایات اسلامی اور بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق یہ اس مشہور مقام ابراہیم کی طرف اشارہ ہے جو خانہ کعبہ کے نزدیک ایک جگہ ہے جس کے پاس طواف کے بعد جا کر حجاج نماز طواف بجا لاتے ہیں۔ اس بناء پر مصلی سے مراد بھی یہی مقام نماز ہے۔ اس کے بعد اس عہد و پیمان کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام سے خانہ کعبہ کی طہارت کے بارے میں لیا گیا تھا۔ فرمایا: ہم نے ابراہیم اور اسمعیل کو حکم دیا اور انہیں وصیت کی کہ میرے گھر کو اس کا طواف کرنے والوں، اس کے پڑوس میں رہنے والوں اور رکوع و سجدہ کرنے والوں (نماز گزاروں) کے لئے پاک رکھو (و عھدنا الی ابراہیم و اسمعیل ان طہرا بیتی للطائفین و العٰکفین و الرکع السجود)۔ یہاں طہارت و پاکیزگی سے کیا مراد ہے۔ اس سوال کے جواب میں بعض کہتے ہیں بتوں کی پلیدگی سے پاک کرنا مقصود ہے۔ بعض کہتے ہیں ظاہری نجاستوں سے پاک رکھنا مراد ہے، خصوصا خون اور قربانی کے جانوروں کی اندرونی غلاظتوں سے کیونکہ بعض جاہل لوگ ایسا کرتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں طہارت کا معنی خانہ توحید کی تعمیر کے وقت خلوص نیت ہے۔ لیکن چونکہ کوئی دلیل موجود نہیں جس کی بناء پر یہاں طہارت کے مفہوم کو کسی ایک چیز میں محدود کریں لہذا یہاں خانہ توحید کو ہر قسم کی ظاہری و باطنی آلودگیوں سے پاک رکھنا مراد لیا جانا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض روایات میں اس آیت کے حوالے سے خانہ خدا کو مشرکین سے پاک رکھنے کا حکم ہے اور بعض میں بدن کی صفائی اور اسے آلودگیوں سے پاک رکھنا مراد لیا گیا ہے۔
امن و امان کی اس پناہ گاہ کے اجتماعی اور تربیتی اثرات
مندرجہ بالا آیت کے مطابق خانہ خدا (خانہ کعبہ) کا تعارف خدا کی طرف سے ایک پناہ گاہ اور مرکز امن و امان کی حیثیت سے کرایا گیا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس سرزمین مقدس میں ہر قسم کے نزاع و کشمکش ، جنگ و جدل اور خونریزی کے بارے میں اسلام میں نہایت سخت احکام موجود ہیں۔ ان احکام کے مطابق نہ صرف انسان چاہے وہ کسی طبقے سے ہوں اور کسی حالت میں ہوں یہاں امن میں رہیں بلکہ جانور اور پرندے بھی امن و امان میں رہیں اور کوئی بھی ان سے مزاحم نہ ہو۔ وہ دنیا جہاں ہمیشہ نزاع اور کشمکش رہتی ہے، وہاں ایک ایسے مرکز کا قیام لوگوں کی مشکلات حل کرنے کے لئے ایک اہم کردار ادا کرنے کی نشاندہی کرتا ہے کیونکہ اس خطہ کا جائے امن ہونا اس بات کا سبب بنتاہے کہ لوگ تمام اختلافات کے باوجود اس کے جوار میں ایک دوسرے کے پاس بیٹھ سکیں، ایک دوسرے سے مذاکرات کر سکیں اور اس طرح اہم ترین مسائل حل کر سکیں۔ دشمنیوں اور جھگڑوں کو نبٹانے کے لئے اس طرح سے مذاکرات کا دروازہ کھولا گیا ہے کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جھگڑنے والے طرفین یا ایک دوسرے کی مخالف حکومتیں چاہتی ہیں کہ جھگڑا ختم کریں اور اس مقصد کے لئے مذاکرات کریں لیکن انہیں کوئی ایسا مشترکہ پلیٹ فارم نظر نہیں آتا جو دونوں کے لئے مقدس و محترم ہو اور مرکز امن و امان ہو لیکن اسلام اور بعض گذشتہ آسمانی مذاہب میں اس کی پیش بندی کی گئی ہے۔ اسلام میں مکہ کو ایسے ہی مرکز کی حیثیت حاصل ہے۔ اس وقت مسلمان جن جان لیوا کشمکشوں اور اختلافات میں مبتلا ہیں اس سرزمین کے تقدس اور امنیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مذکرات کا دروازہ کھول سکتے ہیں اور یہ مقام مقدس جو دلوں میں خاص قسم کی نورانیت اور روحانیت پیدا کرتا ہے، اس سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے اختلافات ختم کر سکتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ ایسا نہیں کیا جا رہا۔( سرزمین مکہ کے جائے امن ہونے کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد ۶ سورہ ابراہیم، آیہ ۳۵ کے ذیل میں تفصیلی بحث کی گئی ہے)۔
خانہ خدا کا نام
مندرجہ بالا آیت میں خانہ کعبہ کو بیتی (میرا گھر) کہا گیا ہے ۔ حالانکہ یہ امر واضح ہے کہ خداوند عالم نہ جسم رکھتا ہے اور نہ اسے گھر کی ضرورت ہے۔ اس اضافت اور نسبت سے مراد نسبت اعزازی ہے۔ کسی چیز کی بزرگی اور عظمت کو بیان کرنے کے لئے اسے خدا سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اسی معنی میں ماہ رمضان کو شہر اللہ اور خانہ کعبہ کو بیت اللہ کہا جاتا ہے۔
بارگاہ خدا میں حضرت ابراہیم کی در خواستیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 1اس آیت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس مقدس سرزمین کے رہنے والوں کے لئے پروردگار سے دو اہم در خواستیں کی ہیں۔ ایک کی طرف گذشتہ آیت کے ذیل میں بھی اشارہ کیا جا چکا ہے۔ قرآن کہتاہے: اس وقت کو یاد کرو جب ابراہیم نے عرض کیا پروردگار! اس سرزمین کو شہر امن قرار دے (و اذ قال ابراھیم رب اجعل ھذا بلدا امنا)۔ جیسا کہ گذشتہ آیت میں ہے کہ ابراہیم کی یہ دونوں دعائیں قبول ہوئیں اور خدا نے اس مقدس سرزمین کو امن و امان کا ایک مرکز بنایا اور اسے ظاہری و باطنی طور پر سلامتی بخشی۔ ان کی دوسری درخواست یہ تھی کہ اس سرزمین کے رہنے والوں کو جو خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، طرح طرح کے ثمرات سے نوازا (وَارْزُقْ اَھْلَہُ مِنْ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْہُمْ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِر)۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ ابراہیم پہلے امنیت کا تقاضا کرتے ہیں اور اس کے بعد اقتصادی عنایات کی درخواست کرتے ہیں۔ یہ بات اس حقیقت کی طرف اشارہ بھی ہے کہ جب تک کسی شہر یا ملک میں امن و سلامتی کا دور دورہ نہ ہو کسی ستھرے اور صحیح اقتصادی ماحول کا امکان نہیں ہو سکتا۔ ثمرات سے کیا مراد ہے۔ اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے لیکن ظاہرا ثمرات ایک وسیع مفہوم کا حامل ہے۔ جس میں ہر قسم کی مادی نعمات شامل ہیں۔ چاہے وپ پھل ہوں یا دیگر غذائی چیزیں بلکہ کئی ایک روایات کے مطابق تو اس کے مفہوم میں معنوی نعمات بھی شامل ہیں۔ امام صادق علیہ السلام سے مردی ایک حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ھی ثمرات القلوب۔ اس سے مراد دلوں کے میوے ہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پروردگار اس سرزمین کے رہنے والوں کے لئے لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کرے ۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ ابراہیم نے یہ تقاضا صرف ان کے لئے کیاہے جو توحید اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ جملہ لا ینال عھدی الظالمین (جو گذشتہ آیات میں گذر چکا ہے) سے شاید وہ یہ حقیقت جان چکے تھے کہ ان کی آنے والی نسلوں میں سے کچھ لوگ شرک اور ظلم و ستم کی راہ اختیار کریں گے لہذا بارگاہ الہی میں ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے انہوں نے ایسے لوگوں کو اپنی دعا سے مستثنی رکھا۔ لیکن___ تعجب کی بات ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کے اس تقاضے کے جواب میں اللہ تعالی نے فرمایا: رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا، ہم انہیں ان ثمرات میں سے تھوڑا سا حصہ دیں گے مگر انہیں بالکل محروم نہیں کیا جائے گا (قال و من کفر فامتعہ قلیلا)۔ آخرت میں انہیں عذاب جہنم کی طرف کھینچ کر لے جایا جائیگا اور یہ کیسا برا انجام ہے (ثم اضطرہ الی عذاب النار و بئس المصیر)۔ حقیقت میں یہ پروردگار کی صفت رحمانیت یعنی رحمت عامہ ہے۔اس کی نعمت کے وسیع دسترخوان اور خزانہ غیب سے یہودی اور عیسائی بھی استفادہ کرتے ہیں لیکن آخرت کا گھر جو رحمت خاص کا گھر ہے، وہاں ان کے لئے رحمت اور نجات نہیں ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 129 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 129 کے تحت ملاحظہ کریں۔
حضرت ابراہیم کے ہاتھوں خانہ کعبہ کی تعبیر نو
Tafsīr Nemūna · Vol. 1قرآن کی مختلف آیات، احادیث اور تواریخ اسلامی سے واضح ہوتا ہے کہ خانہ کعبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پہلے بلکہ حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے میں موجود تھا کیونکہ سورہ ابراہیم کی آیہ ۳۷ میں حضرت ابراہیم جیسے عظیم پیغمبر کی زبانی یوں آیا ہے: رَبَّنَا إِنِّی اَسْکَنتُ مِنْ ذُرِّیَّتِی بِوَادٍ غَیْرِ ذِی زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّم۔ پروردگارا! میں اپنی ذریت میں سے (بعض کو) اس بے آب و گیاہ وادی میں تیرے محترم گھر کے پاس بسا رہا ہوں۔ یہ آیت واضح طور پر گواہی دیتی ہے کہ جب حضرت ابراہیم اپنے شیرخوار بیٹے اسماعیل اور اپنی زوجہ کے ساتھ سرزمین مکہ میں آئے تو خانہ کعبہ کے آثار موجود تھے۔ سورہ آل عمران کی آیہ ۹۶ میں بھی ہے: إِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِی بِبَکَّةَ مُبَارَکًا۔ پہلا گھر جو عبادت خدا کی خاطر انسانوں کے لئے بنایا گیا وہ سرزمین مکہ میں تھا۔ یہ مسلم ہے کہ عبادت خدا اور مرکز عبادت کی بنیاد حضرت ابراہیم کے زمانے سے نہیں پڑی بلکہ حضرت آدم کے زمانے سے یہ سلسلہ جاری تھا۔ اتفاقا زیر بحث آیت کی تعبیر بھی اسی معنی کو تقویت دیتی ہے۔ فرمایا: یاد کرو اس وقت کو جب ابراہیم اور اسماعیل (جب اسماعیل کچھ بڑے ہو گئے تو) خانہ کعبہ کی بنیادوں کو اونچا کر رہے تھے اور کہتے تھے پروردگار! ہم سے قبول فرما، تو سننے والا اور جاننے والا ہے (و اذ یرفع ابراہیم القواعد من البیت و اسماعیل ربنا تقبل منا ط انک انت السمیع العلیم)۔ آیت کا یہ انداز بتاتا ہے کہ خانہ کعبہ کی بنیادیں موجود تھیں اور ابراہیم اور اسمعیل اس کے ستون بلند کر رہے تھے۔ نہج البلاغہ کے مشہور خطبہ قاصعہ میں بھی ہے: الا ترون ان اللہ سبحانہ اختبر الاولین من لدن ادم الی الاخرین من ھذا العالم باحجار فجعلھا بیتہ الحرام ثم امرادم و ولدان یثنو اعطافھم نحوہ۔ کیا دیکھتے نہیں ہو کہ خدا نے آدم سے لے کر آج تک کچھ پتھروں کے ذریعے امتحان لیا (و ہ پتھر کہ) جنہیں اپنا محترم گھر قرار دیا۔ پھر آدم کو حکم دیا کہ اس کے گرد طواف کریں۔( یعنی اسے اپنی توجہات کا مرکز قرار دیں۔ (مترجم)۔ مختصر یہ کہ آیات قرآن اور روایات تاریخ کی اس مشہور بات کی تائید کرتی ہیں کہ خانہ کعبہ پہلے پہل حضرت آدم علیہ السلام کے ہاتھوں بنا۔ پھر طوفان نوح میں گر گیا۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم اور ان کے فرزند حضرت اسماعیل علیہماالسلام کے ہاتھوں اس کی تعمیر نو ہوئی۔( المنار کے مؤلف نے اس بات سے انکار کیا ہے۔ اس کے نزدیک خانہ کعبہ کے بانی حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل ہی ہیں حالانکہ یہ بات نہ فقط یہ کہ روایات و تاریخ سے میل نہیں کھاتی بلکہ خود آیات قرآن سے بھی موافقت نہیں رکھتی)۔ حضرت ابراہیم کی کچھ مزید دعائیں زیر نظر دیگر دو آیات میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل، خدا سے پانچ اہم درخواستیں کرتے ہیں۔ یہ التجائیں جو خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت کی گئیں اس قدر فکر انگیز اور معنوی و مادی زندگی کی ضروریات کی جامع ہیں کہ انسان کو خدا کے ان دو عظیم پیغمبروں کی روحانی عظمت سے آشنا کر دیتی ہیں۔ پہلے عرض کرتے ہیں: پروردگارا! ہمیں ہماری ساری زندگی میں اپنے فرمان کے سامنے سرتسلیم خم کرنے والا قرار دے (ربنا و اجعلنا مسلمین لک)۔ پھر تقاضا کرتے ہیں: ہماری اولاد میں سے بھی ایک مسلمان امت قرار دے جو تیرے احکام کے سامنے سرتسلیم خم کرنے والی ہو( وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَا اُمَّةً مُسْلِمَةً لَکَ)۔ پھر درخواست کرتے ہیں: اپنی پرستش و عبادت کی را ہ ہمیں دکھا اور ہمیں اس سے آگاہ فرما (وَاَرِنَا مَنَاسِکَنَا)۔ پھر خدا کے حضور توبہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: ہماری توبہ قبول کر لے اور اپنی رحمت کا رُخ ہماری طرف فرما کہ تو تواب اور رحیم ہے ( و تب علینا انک انت التواب الرحیم)۔ اس کے بعد دعا کرتے ہیں:پروردگارا! انہی میں سے ایک رسول ان میں مبعوث فرما (ربنَا وَابْعَثْ فِیہِمْ رَسُولًا مِنْہُم) تا کہ وہ تیری آیات ان کے سامنے پڑھے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور انہیں پاک کرے ( یَتْلُوا عَلَیْہِمْ آیَاتِکَ وَیُعَلِّمُہُمْ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَیُزَکِّیہِم)۔ یقینا تو توانا اور حکیم ہے اور ان تمام کاموں کی قدرت رکھتا ہے (إِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ)۔
انبیاء کی غرض بعثت
مندرجہ بالا آیات میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہماالسلام نے پیغمبر اسلام ﷺ کے ظہور کی دعا کے ساتھ ان کی بعثت کے تین مقاصد بیان کئے ہیں: ۱۔ پہلا مقصد لوگوں کے سامنے آیات خدا کی تلاوت ہے۔ یہ دراصل ان آیات کے ذریعے لوگوں کو بیدار کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ یہ آیات عمدہ، جاذب نظر اور دلوں کو بھانے والی ہیں اور وحی کی صورت میں قلب پیغمبر ﷺ پر نازل ہوئی ہیں۔ تلاوت کا مقصد یہ ہے کہ پیغمبران آیات کے ذریعے خوابیدہ نفوس کو بیدار کرے۔ آیت میں لفظ "یتلوا" استعمال ہوا ہے جس کا مادہ تلاوت سے ہے۔ اس کا لغوی معنی ہے پے در پے لانا۔ جب عبارتوں کو ایک دوسرے کے بعد اور صحیح نظم و ترتیب سے پڑھیں تو عرب اسے تلاوت کہتے ہیں۔ لہذا منظم و پے در پے تلاوت دراصل تعلیم و تربیت کے لئے مقدمہ و تمہید کی حیثیت رکھتی ہے۔ ۲۔ دوسرا مقصد تعلیم کتاب و حکمت شمار کیا گیا ہے کیونکہ علم و آگاہی کے بغیر تربیت ممکن نہیں۔ تربیت در اصل تیسرا مرحلہ ہے۔ کتاب و حکمت میں اس لحاظ سے فرق ہو سکتا ہے کہ کتاب سے مراد آسمانی کتاب ہوا در حکمت سے مراد وہ علوم، اسرار و علل اور مقاصد احکام ہوں جن کی پیغمبر ﷺ کی طرف سے تعلیم دی جاتی ہے۔ ۳۔ تیسرا مقصد تزکیہ بیان کیا گیا ہے۔ تزکیہ کا معنی لغت میں نشو و نما بھی بیان کیا گیا ہے۔ یہ نکتہ خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ انسانی علوم محدود ہیں اور ان میں بھی ہزاروں ابہام اور خطائیں موجود ہیں۔ انسان جو کچھ جانتا ہے، اس کی صحت کا کامل یقین نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس سے پیشتر اپنے علوم کی غلطیاں دیکھ چکا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اس ضرورت کا احساس ہوتا ہے کہ پیغمبران خدا صحیح علوم جو ہر قسم کی غلطی سے مبرا ہو، مبداء وحی سے حاصل کر کے لوگوں کے درمیان تشریف لائیں تا کہ لوگوں کی غلطیوں کا ازالہ کریں اور جو باتیں انہیں معلوم نہیں، ان کی انہیں تعلیم دیں اور جو کچھ وہ جانتے ہیں اس کے بارے میں انہیں اطمینان دلائیں۔ دوسری بات جس کا ذکر یہاں ضروری ہے یہ ہے کہ ہماری نصف شخصیت کی تشکیل عقل و خرد سے ہوتی ہے اور نصف شخصیت طبائع، میلانات اور خواہشات سے بنتی ہے۔ اس لئے ہمیں جتنی تعلیم کی ضرورت ہے اتنی ہی تربیت کی احتیاج ہے ہماری عقل و خرد کو بھی تکامل و ترقی کی ضرورت ہے اور ہمارے باطنی طبائع کو بھی صحیح تربیت و پرورش کے لئے رہبری کی ضرورت ہے۔ اسی لئے تو پیغمبر ﷺ معلم بھی ہیں اور مربی بھی۔ تعلیم دینا بھی انہی کا کام ہے اور تربیت کرنا بھی۔
تعلیم مقدم ہے یا تربیت
یہ بات قابل غور ہے کہ قرآن میں چار مقامات پر انبیاء کی غرض بعثت کا ذکر کرتے ہوئے تعلیم و تربیت کا ذکر آیا ہے۔ ان میں سے تین مقامات پر تربیت، تعلیم سے مقدم ہے [بقرہ آیت: ۱۵۱، آل عمران، آیت ۱۶۴ اور جمعہ: آیت ۲] اور صرف ایک جگہ (زیر بحث آیت میں) تعلیم کا ذکر تربیت پر مقدم ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ عموما جب تک تعلیم نہ ہو تربیت نہیں ہوتی۔ اس بناء پر جہاں تعلیم، تربیت سے مقدم ہے وہاں تو اس کی وضع طبیعی کی طرف اشارہ ہے لیکن زیادہ تر مقامات پر جہاں تربیت مقدم ہے گویا اس طرف اشارہ ہے کہ غرض و مقصد تربیت ہے اور باقی سب مقدمات ہیں۔
پیغمبر انہی میں سے ہو
مندرجہ بالا آیت میں لفظ "منہم" اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ انواع انسانی کے رہبر اور مربی کے لئے ضروری ہے کہ اسی کی نوع و جنس سے ہو۔ انہی صفات اور بشری طبائع کا حامل ہو تا کہ وہ عملی پہلوؤں سے ان کے لئے بہترین نمونہ بن سکے کیونکہ واضح ہے کہ اگر ان کے نوع و جنس سے نہ ہو تو نہ وہ ان کی ضروریات، تکالیف، مشکلات اور انسانوں کے مختلف مسائل کو سمجھ پائے گا اور نہ ہی انسان اسے اپنے لئے نمونہ بنا سکیں گے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 132 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 132 کے تحت ملاحظہ کریں۔
حضرت ابراهیم انسان نمونه
Tafsīr Nemūna · Vol. 1گذشتہ آیات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شخصیت کا کچھ تعارف کرایا گیا ہے، ان میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بعض خدمات اور کچھ درخواستیں جو مادی و معنوی پہلوؤں کی جامع تھیں، کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان تمام ابحاث سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اس قابل ہیں کہ عالمین کے تمام طالبان حق انہیں اپنے لئے اسوہ اور نمونہ قرار دیں۔ چاہیے کہ ان کے مکتب کو ایک انسان ساز مکتب تسلیم کر کے اس سے استفادہ کیا جائے۔ اسی بنیاد پر زیر نظر آیات میں گفتگو اس طرح سے آگے بڑھتی ہے: احمق و نادان افراد کے سوا کون شخص ابراہیم کے آئین پاک سے روگردانی کرے گا (وَمَنْ یَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ إِبْرَاہِیمَ إِلاَّ مَنْ سَفِہَ نَفْسَہُ)۔ کیا یہ حماقت اور بیوقوفی نہیں کہ انسان اس پاک و روشن دین کو چھوڑ دے اور کفر اور شرک اور فساد کی کجراہوں میں جا پڑے ۔ وہ آئین جو انسان کی روح و فطرت سے آشنا و سازگار ہو اور عقل و خرد سے ہم آہنگ ہو اور وہ آئین جس میں آخرت بھی ہو اور دنیا بھی، اسے چھوڑ کر ایسے منصوبوں کے پیچھے لگنا جو دشمن عقل، مخالف فطرت اور دین و دنیا کی تباہی کا باعث ہوں حماقت نہیں تو اور کیا ہے۔ مزید فرمایا: ہم نے دنیا میں ابراہیم کو (ان عظیم خصوصیات و امتیازات کی بناء پر) منتخب کیا اور آخرت میں ان کا شمار صالحین میں ہوگا (و لقد اصطفینہ فی الدنیا و انہ فی الاخرة لمن الصلحین)۔ ابراہیم، خدا کے چنے ہوئے اور صالحین کے سردار ہیں۔ اسی بناء پر انہیں اسوہ و نمونہ قرار دیا جانا چاہیے ۔ بعد کی آیت میں اسی مفہوم پر تاکید کرتے ہوئے ابراہیم کی برگزیدہ صفات میں سے ایک خصوصیت جو حقیقت میں ان تمام صفات کی بنیاد ہے، کا تذکرہ کیا گیا ہے: یاد کرو اس وقت کو جب ان کے پروردگار نے ان سے کہا کہ ہمارے فرمان کے سامنے سر تسلیم خم کرو۔ انہوں نے کہا میں عالمین کے پروردگار کے سامنے سر تسلیم خم کئے ہوئے ہوں (إِذْ قَالَ لَہُ رَبُّہُ اَسْلِمْ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِینَ)۔ ہاں، وہ ابراہیم جو فداکاری کا سراپا اور ایثار کا پتلا ہے، جب اپنے ہی اندر سے آواز فطرت سنتا ہے کہ پروردگار اس سے فرما رہا ہے کہ سرتسلیم خم کرو تو وہ کاملا سر تسلیم خم کرتا ہے۔ ابراہیم اپنی فکر و ادراک سے سمجھتے ہیں کہ ستارے، آفتاب اور ماہتاب سب نکلتے ہیں اور ڈوب جاتے ہیں اور قانون آفرینش کے تابع ہیں لہذا کہتے ہیں کہ یہ میرے خدا نہیں ہیں۔ إِنِّی وَجَّہْتُ وَجْہِی لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ حَنِیفًا وَمَا اَنَا مِنْ الْمُشْرِکِینَ۔ میں نے اپنا رخ خدا کی طرف کر لیا ہے، جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور اس عقیدہ کی راہ میں اپنے تئیں خالص کر دیا ہے اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں۔ (انعام۔ ۷۹) گذشتہ آیات میں یہ بھی ہے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل علیہماالسلام جب خانہ کعبہ تعمیر کر چکے تو قبولیت اعمال کی دعا کے بعد جو پہلی درخواست کی وہ یہ تھی کہ واقعا وہ فرمان خدا کے سامنے سرتسلیم خم ہوں اور ان کی اولاد میں سے بھی ایک امت مسلمہ اٹھ کھڑی ہو۔ در حقیقت نوع انسانی بلکہ تمام مخلوق میں پہلی بات جو کسی کی قدر و قیمت بڑھاتی ہے، وہ خلوص اور پاکیزگی ہے۔ اس لئے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کاملا اپنے تئیں فرمان حق کے سامنے سرنگوں کر لیا تو محبوب خدا ہو گئے اور خدانے انہیں چن لیا اور اسی عنوان سے ان کا اور ان کے مکتب کا تعارف کرایا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آغاز زندگی سے آخر تک ایسے ایسے کام کئے ہیں جو کم نظیر ہیں بلکہ بعض تو بے نظیر ہیں۔ بت پرستوں اور ستارہ پرستوں سے ان کا لاجواب جہاد اور ان کا آگ میں کود جانا کہ جس سے ان کا سخت ترین دشمن نمرود تک متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا اور بے اختیار بول اٹھا: من اتخذ الھا فلیتخذ الھا مثل الہ ابراہیم۔ اگر کوئی خدا کا انتخاب کرنا چاہے تو وہ ابراہیم کے خدا جیسا خدا منتخب کرے۔(بحوالہ: نور الثقلین، ج۳، ص۴۳۹)۔ اسی طرح بیوی اور شیرخوار بچے کو اس خشک اور جلا دینے والے بیابان میں سرزمین مقدس میں لا کر چھوڑ دینا، خانہ کعبہ کی تعمیر اور اپنے جو ان بیٹے کو قربان گاہ پرلے جانا، ان میں سے ہر امر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی راہ و روش کو جاننے کے لئے ایک نمونہ ہے۔ جو وصیت اور نصیحت آپ نے اپنی آخری عمر میں اپنے فرزندان گرامی سے کی وہ بھی نمونہ ہے جس کا ذکر زیر نظر آیات میں سے آخر میں آیا ہے۔ جس میں فرمایا گیا ہے کہ ابراہیم اور یعقوب نے عمر کے آخری لمحات میں اپنی اولاد کو توحید کے مکتب مقدس کی وصیت کی (وَوَصَّی بِہَا إِبْرَاہِیمُ بَنِیہِ وَیَعْقُوب)۔ ہر ایک نے اپنی اولاد سے کہا: اے میرے فرزندو! خدا نے اس آئین توحید کو تمہارے لئے منتخب کیا ہے ( یبنی ان اللہ اصطفی لکم الدین)۔ اس وصیت ابراہیمی کا ذکر کرتے ہوئے قرآن گویا اس حقیقت کو بیان کرنا چاہتا کہ اے انسان! تم فقط آج کے لئے اپنی اولاد کے لئے جواب دہ نہیں بلکہ اس کے آئندہ کے بھی جواب دہ ہو۔ اس جہان سے آنکھوں کو بند کرتے وقت اپنی اولاد کی مادی زندگی ہی کے لئے فکر نہ کرو بلکہ ان کی معنوی و روحانی زندگی کے لئے بھی فکر کرو۔ یہ وصیت حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی نے نہیں کی بلکہ ان کے پوتے حضرت یعقوب علیہ السلام نے بھی اپنے دادا کی اس روش کو جاری رکھا اور انہوں نے بھی اپنی آخری عمر میں اپنی اولاد کو سمجھایا کہ دیکھو! تمہاری کامیابی و کامرانی اور سعادت ایک چھوٹے سے جملے میں پوشیدہ ہے اور وہ ہے حق کے سامنے سرتسلیم خم کرنا۔ تمام انبیاء میں یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ صرف حضرت یعقوب علیہ السلام کا ذکر آیا ہے۔ شاید یہ اس مقصد کے لئے ہوکہ یہود و نصاری کہ جن میں سے ہر کوئی کسی نہ کسی طرح اپنے تئیں حضرت یعقوب سے وابستہ کرتے ہیں، انہیں سمجھایا جائے کہ تمہارا یہ شرک آلود طور طریقہ اور حق کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنے کی تمہاری ہٹ اس شخصیت کے طریقے سے نہیں ملتی جس سے اپنا ربط جوڑتے ہو۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 134 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1سب اپنے اپنے اعمال کے جواب دہ ہیں
جیسا کہ شان نزول میں ہے، آیت کے ظاہر سے بھی یہ سمجھ میں آتا ہے کہ کسی گفتگو کے دوران منکرین اسلام کا ایک گروہ حضرت یعقوب سے کوئی غلط بات منسوب کرتا تھا۔ قرآن ان کے اس بے دلیل دعوی کے متعلق کہتاہے: کیا تم یعقوب کی موت کے وقت موجود تھے کہ انہوں نے اپنے بیٹوں کو ایسی وصیت کی تھی ( ام کنتم شھدآء اذا حضر یعقوب الموت)۔ جو بات تم ان سے منسوب کرتے ہو وہ تو نہیں بلکہ جو کچھ انہوں نے اس وقت اپنے بیٹوں سے گفتگو کی یہ تھی کہ انہوں نے پوچھا: میرے بعد کس چیز کی پرستش و عبادت کرو گے (اذقال لبنیہ ما تعبدون من بعدی)۔انہوں نے جواب میں کہا: آپ کے خدا کی اور اس اکیلے خدا کی جو آپ کے آباء ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق کا خدا ہے (قالوا نعبد الہک و الہ ابائک ابراہیم و اسمعیل و اسحق الہا واحد) اور ہم اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں (و نحن لہ مسلمون)۔ یعقوب نے توحید اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے علاوہ کوئی وصیت نہیں کی اور یہی اصول تمام حقائق تسلیم کرنے کی بنیاد ہے۔ زیر بحث آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ موت کے وقت حضرت یعقوب کو اپنی اولاد کی آئندہ زندگی کے بارے میں کچھ پریشانی تھی اور اس فکر کے آثار ان کی پیشانی سے ہویدا تھے جو بت پرست تھے اور کئی ایک چیزوں کے سامنے سجدہ کرتے تھے۔ یعقوب چاہتے تھے کہ وہ جان لیں کہ کیا اس طور طریقے کی طرف تو کسی کا رحجان اس کے دل کی گہرائیوں میں موجود نہیں۔ لیکن بیٹوں کے جواب کے بعد انہیں سکون قلب نصیب ہوا۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ حضرت اسمعیل ، حضرت یعقوب کے باپ یا دادا نہیں تھے بلکہ ان کے چچا تھے۔ یہاں سے واضح ہوتا ہے کہ لغت عرب میں کبھی کبھی لفظ "اب" جس کا معنی باپ ہے، چچا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ قرآن میں اگر یہ لفظ آذر کے لئے استعمال ہوا ہے تو یہ اس مفہوم کے خلاف نہیں کہ آذر، ابراہیم کا والد نہ تھا بلکہ چچا تھا۔ زیر نظر دوسری آیت گویا یہودیوں کے ایک اشتباہ کی نفی کرتی ہے کیونکہ وہ اپنے آباء و اجداد، ان کے اعزازات اور خداکے ہاں ان کی عظمت پر بہت بھر وسہ کرتے تھے اور اپنے بارے میں سمجھتے کہ اگر وہ گناہگار ہوں تو بھی ان بزرگوں کی وجہ سے نجات یافتہ ہیں۔ قرآن کہتاہے: بہرحال وہ ایک امت تھے جو تم کبھی ان کے اعمال کے جواب دہ نہیں (جیسا کہ وہ تمہارے اعمال کے جواب دہ نہیں ہیں) (و لا تسئلون عما کانوا یعملون) لہذا بجائے اس کے کہ تم اپنی توانائی اپنے بزرگوں کے متعلق ایسے فخر و مباہات کی تحقیق میں صرف کرو، اپنے عقیدہ اور عمل کی اصلاح کرو۔ اگرچہ ظاہرا اس آیت کے مخاطب اہل کتاب اور یہودی ہیں لیکن واضح ہے کہ یہ حکم انہی سے مخصوص نہیں بلکہ ہم مسلمان بھی اس کے حقیقی مفہوم کے مخاطب ہیں۔( سادات کرام اس بات کی طرف خاص طور پر توجہ فرمائیں۔ )مترجم))کو دور کرے گا کہ وہ سننے والا اور دانا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 137 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 137 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ان آیات کی شان نزول کے بارے میں ابن عباس سے اس طرح منقول ہے: چند یہودی علماء اور نجران کے کچھ عیسائی علماء، مسلمانوں سے بحث مباحثہ کرتے تھے۔ ان میں سے ہر گروہ اپنے تئیں دین حق پر قرار دیتا اور دوسرے کی نفی کرتا تھا۔ یہودی کہتے کہ ہمارے پیغمبر حضرت موسی دیگر انبیاء سے برتر ہیں اور ہماری کتاب بہترین کتاب ہے۔ اسی طرح عیسائی دعوی کرتے تھے کہ مسیح بہترین رہنما ہیں اور انجیل بہترین کتاب ہے۔ ان دو مذاہب کے پیروکاروں میں سے ہر ایک مسلمانوں کو اپنے مذہب کی طرف دعوت دیتا تھا۔ یہ آیات اس موقع پر ان کے جواب میں نازل ہوئیں۔
صرف ہم حق پر ہیں
خود پرستی اور خود محوری کا اکثر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان حق کو فقط اپنی ذات میں منحصر سمجھتا ہے اور باقی سب کو باطل پرست قرار دیتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ دوسروں کو بھی اپنے رنگ میں رنگ لے جیسا کہ محل بحث پہلی آیت میں قرآن کہتاہے: اہل کتاب کہتے ہیں یہودی ہو جاؤ یا عیسائی بن جاؤ تو ہدایت یافتہ ہو جاؤ گے (و قالوا کونوا ہودا او نصاری تھتدوا)۔ کہیے کہ تحریف شدہ مذاہب اس قابل نہیں کہ وہ ہدایت بشر کا سبب بنیں بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خالص دین کے پیروکار بنو تا کہ ہدایت حاصل کرو۔ وہ ہرگز مشرکین میں سے نہ تھے (قل بل ملة ابراہیم حنیفا و ما کان من المشرکین)۔ صحیح دیندار افراد وہ ہیں جو خالص توحید کے پیروکار ہیں۔ وہ توحید جو کسی قسم کے شرک سے آلودہ نہ ہو اور پاک و صاف دین کو کجرو دین سے ممتاز کرنے والی اہم ترین بنیاد توحید خالص ہی ہے۔ اسلام ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ خدا کے پیغمبروں میں کوئی تفریق نہ کریں اور سب کی تعلیمات کا احترام کریں کیونکہ دین حق کے اصول سب کے ہاں ایک ہی جیسے ہیں۔ موسی و عیسی بھی ابراہیم کے آئین حق کے پیروکار تھے جو شرک سے پاک تھا، اگرچہ ان کے دین میں نادان پیروکاروں نے تحریف کر دی اور اسے شرک آلود کر دیا (یہ گفتگو اس بات کے خلاف نہیں کہ آج ہمیں اپنی شرعی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لئے آخری آسمانی دین کی پیروی کرنا چاہیے یعنی صرف اسلام کی نہ کہ اس کے علاوہ کسی اور کی جیسا کہ اسی سورہ کی آیہ ۶۲ کے ذیل میں بیان کیا جا چکا ہے)۔ اسی لئے بعد کی آیت مسلمانوں کو حکم دیتی ہے کہ وہ اپنے مخالفین سے کہیں کہ ہم خدا پر ایمان لائے ہیں جو اس کی طرف سے ہم پر نازل ہوا ہے اور اس پر جو ابراہیم، اسمعیل، اسحاق، یعقوب اور بنی اسرائیل کے اسباط پیغمبروں پر نازل ہوا ہے اور اسی طرح جو موسی و عیسی اور دوسرے پیغمبروں کو ان کے خدا کی طرف سے دیا گیا ہے (قُولُوا آمَنَّا بِاللهِ وَمَا اُنزِلَ إِلَیْنَا وَمَا اُنزِلَ إِلَی إِبْرَاہِیمَ وَإِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ وَالْاٴَسْبَاطِ وَمَا اُوتِیَ مُوسَی وَعِیسَی وَمَا اُوتِیَ النَّبِیُّونَ مِنْ رَبِّہِمْ)۔ خلاصہ یہ کہ ہم ان کے درمیان کوئی فرق روا نہیں رکھتے اور فرمان حق کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں (لاَنُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِنْہُمْ وَنَحْنُ لَہُ مُسْلِمُونَ)۔ خود محوری ، نسلی تعصبات اور ایسی دیگر چیزیں ہمارے لئے اس بات کا موجب نہیں بنتی کہ ہم کچھ کو مان لیں اور کچھ کا انکار کر دیں۔ وہ سب خدائی معلم ہیں جنہوں نے مختلف تربیتی طریقوں سے انسانوں کی رہنمائی کے لئے قیام کیا۔ لیکن سب کا مقصد ایک ہی تھا اور وہ تھا توحید خالص اور حق و عدالت کے سائے میں نوع بشر کی ہدایت، اگرچہ ان میں سے ہر ایک اپنے خاص زمانے میں بعض مخصوص ذمہ داریوں اور خصوصیات کا حامل تھا۔ اس کے بعد قرآن کہتا ہے: اگر یہ لوگ ان امور پر ایمان لے آئیں جن پر تم ایمان لائے ہو تو ہدایت پا لیں گے (فإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنتُمْ بِہِ فَقَدْ اھْتَدَوا)۔ اگر روگردانی کریں گے تو حق سے جدا ہیں (وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا ہُمْ فِی شِقَاق)۔ اگر وہ نسلی و خاندانی تعصبات اور ایسی دیگر چیزوں کو مذہب میں داخل نہ کریں اور خدا کے تمام پیغمبروں پر بلا ااستثناء ایمان لے آئیں تو ہدایت یافتہ ہو جائیں اور اگر یہ صورت نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انہوں نے حق کو چھوڑ دیا ہے اور باطل کے پیچھے رواں ہیں۔ لفظ "شقاق" دراصل شگاف، نزاع اور جنگ کے معنی میں ہے اور اس مقام پر اس سے مراد کفر، گمراہی، حق سے دوری اور باطل کی طرف توجہ لیا گیا ہے اور ان سب معانی کا نتیجہ ایک ہی ہے۔ بعض مفسرین نے نقل کیا ہے کہ گذشتہ آیت کے نازل ہونے اور حضرت عیسی کا باقی انبیاء کی صف میں ذکر آنے کے بعد عیسائیوں کی ایک جماعت کہنے لگی کہ ہم یہ نہیں مانتے کہ حضرت عیسی دیگر انبیاء کی طرح تھے، وہ تو خدا کے بیٹے تھے لہذا زیر نظر آیات میں سے تیسری آیت نازل ہوئی اور انہیں تنبیہ کی گئی کہ وہ گمراہی اور کفر کا شکار ہیں۔ بہرحال آیت کے آخر میں مسلمانوں کو تسلی دیتے ہوئے کہ وہ دشمن کی سازشوں سے ہراساں نہ ہوں فرمایا: خدا ان کے شرک کو ان سے دور کرے گا کہ وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ ان کی باتیں سنتا ہے اور ان کی سازشوں سے آگاہ ہے ( فَسَیَکْفِیکَہُمْ اللهُ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیم)۔
دعوت انبیاء کی وحدت
آیات قرآنی میں بارہا اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ خدا کے تمام پیغمبر ایک ہی ہدف اور غرض رکھتے تھے۔ ان میں کسی قسم کا فرق نہیں ہے کیونکہ سب ایک ہی منبع وحی و الہام سے فیض حاصل کرتے تھے۔ قرآن مسلمانوں کو نصیحت کرتا ہے کہ خدا کے تمام پیغمبروں کا ایک جیسا احترام کریں۔ لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں، یہ بات اس کی نفی نہیں کرتی کہ خدا کی طرف سے آنے والی نئی شریعت گذشتہ شریعتوں کی ناسخ ہوتی ہے۔ آئین اسلام آخری آئین ہے کیونکہ خدا کے پیغمبر معلمین کی طرح تھے اور ان میں سے ہر ایک انسانی معاشرے کی علیحدہ جماعتوں میں تربیت کے لئے آئے اور واضح ہے کہ جب ایک جماعت کی تعلیم ختم ہو جاتی ہے تو طلباء دوسرے معلم کے پاس اور اوپر کی جماعت میں چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح انسانی معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ ہم آخری پیغمبر کے پروگراموں کو جو دین کے تکامل کا آخری مرحلہ ہے، عملی شکل دیں۔
اسباط کون تھے
سبط، سبط اور انبساط کا معنی ہے کسی چیز کا آسانی سے پھیلاؤ۔ درخت کو کبھی کبھی سبط (برون سبذ) کہتے ہیں کیونکہ اس کی شاخیں آسانی سے پھیل جاتی ہیں۔ اولاد اور خاندان کی شاخوں کو سبط اور اسباط کہتے ہیں اور اس کی وجہ وہ پھیلاؤ اور وسعت ہے جو نسل میں پیدا ہوتی ہے۔ اسباط سے مراد بنی اسرائیل کے خاندان اور قبائل ہیں یا وہ لوگ مراد ہیں جو حضرت یعقوب کے بارہ بیٹوں سے پیدا ہوئے چونکہ ان میں سے بھی انبیاء ہوئے ہیں لہذا مندرجہ بالا آیت میں اسباط کو بھی ان افراد کا ایک حصہ قرار دیا گیا ہے جن پرآیات نازل ہوئیں۔ اس وجہ سے اسباط سے مراد بنی اسرائیل کے قبائل یا اولاد یعقوب یا اولاد یعقوب میں سے وہ قبائل ہیں جن میں انبیاء آئے۔ اس سے مراد خود حضرت یعقوب کے بیٹے نہ تھے کہ جس بناء پر کہا جا سکے کہ وہ سب کے سب نبوت کی اہلیت نہ رکھتے تھے کیونکہ وہ تو اپنے بھائی کے معاملے میں گناہ کے مرتکب ہوئے تھے۔
حنیف کا معنی
حنیف کا مادہ ہے حنف (برو زن ہدف) جس کا معنی ہے گمراہی سے درستی اور راستی کی طرف میلان و رجحان پیدا کرنا۔ اس کے برعکس ہے جنف یعنی راستی سے کجی کی طرف جھکنا۔ توحید خالص کے پیروکار چونکہ شرک سے منہ موڑ کر اس حقیقی اساس کی طرف مائل ہیں، اس لئے انہیں حنیف کہا جاتا ہے۔ اس وجہ سے حنیف کا ایک معنی ہے مستقیم اور صاف۔ یہاں سے واضح ہوتا ہے کہ مفسرین نے "حنیف" کی جو مختلف تفسیریں کی ہیں مثلا بیت اللہ کا حج، حق کی پیروی، حضرت ابراہیم کی پیروی، خلوص عمل وغیرہ سب کی برگشت اسی جامع مفہوم کی طرف ہوتی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 141 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 141 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 141 کے تحت ملاحظہ کریں۔
غیر خدائی رنگ دھو ڈالو
Tafsīr Nemūna · Vol. 1گذشتہ آیات میں مختلف پیروکاروں کو تمام انبیا کے پروگراموں کے سلسلے میں جو دعوت دی گئی تھی اس ضمن میں فرماتاہے: صرف خدائی رنگ قبول کرو (جو ایمان اور توحید کا خالص رنگ ہے) [صبغة اللہ: عرب جس مقام پر "صبغہ اللہ" کہتے ہیں اس سلسلے میں مفسرین نے کئی احتمالات بیان کئے ہیں جن میں سے تین واضح ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے (طبغو صبغة اللہ)؛ دوسرا یہ کہ ملت ابراہیم کی جگہ آیا ہو جو گذشتہ آیات میں گزرچکاہے۔ تیسرا یہ کہ فعل محذوف کا مفعول بہ ہو (اتبعوا صبغة اللہ)] ۱س کے بعد مزید کہتا ہے: کو نسا رنگ خدائی رنگ سے بہتر ہے اور ہم تو فقط اس کی پرستش و عبادت کرتے ہیں (اور اسی کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں) (و من احسن من اللہ صبغة و نحن لہ عبدون)۔ اس طرح قرآن حکم دیتا ہے کہ نسلی ، قبائلی اور ایسے دیگر رنگ جو تفرقہ بازی کا سبب ہیں ختم کردیں اور سب کے سب صرف خدائی رنگ میں رنگ جائیں۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ عیسائیوں کا معمول تھا کہ وہ اپنی اولاد کو غسل تعمید دیتے تھے اور کہتے تھے اس خاص رنگ سے غسل دینے سے نو مولود کے وہ ذاتی گناہ دھل جاتے ہیں جو اسے حضرت آدم سے ورثے میں ملے ہیں۔ قرآن اس بے بنیاد منطق پر خط بطلان کھینچتاہے اور کہتاہے کہ خرافات ، بیہودگی اور تفرقہ اندازی کے ظاہری رنگوں کے بجائے رنگ حقیقت اور رنگ الہی قبول کرو تا کہ تمہاری روح اور نفس ہر قسم کی آلودگی سے پاک ہو۔ واقعا یہ کیسی خوبصورت اور لطیف تعبیر ہے۔ اگر لوگ خدائی رنگ قبول کرلیں یعنی وحدت، عظمت، پاکیزگی اور پرہیزگاری کا رنگ، عدالت مساوات برادری اور برابری کا رنگ اور توحید و اخلاص کا رنگ اختیار کرلیں اور اس سے تمام جھگڑے، کشمکش (جو کئی رنگوں میں اسیر ہونے کا سبب ہیں) ختم کرسکتے ہیں اور شرک ، نفاق اور تفرقہ بازیوں کو دور کرسکتے ہیں۔ امام صادق(ع) سے مروی د متعدد احادیث میں انہی طرح طرح کے رنگوں کو دور کرنے کے بارے میں فرمایا گیاہے۔ یہ روایات اس آیات کی تفسیر میں منقول ہیں۔ آپ نے فرمایا: صبغة اللہ سے مراد اسلام کا پاکیزہ آئین ہے۔(بحوالہ: نور الثقلین، ج۱، ص۱۳۲)۔ یہودی و غیرہ بعض اوقات مسلمانوں سے حجت بازی کرتے اور کہتے کہ پیغمبر ہماری قوم میں مبعوث ہوتے تھے۔ ہمارا دین قدیم ترین ہے اور ہماری کتاب آسمانی کتابوں میں سے زیادہ پرانی ہے اگر محمد بھی پیغمبر ہوتے تو ہم میں سے مبعوث ہوتے اور کبھی کہتے کہ عربوں کی نسبت ہماری نسل ایمان و وحی قبول کرنے کے لئے زیادہ آمادہ ہے کیونکہ عرب تو بت پرست تھے ۔ جب کہ ہم نہ تھے کبھی وہ خود کو خدا کی اولاد کہتے کہ بہشت تو فقط ہمارے لئے ہے۔ قرآن نے مندرجہ بالا آیات میں ان سب خیالات پر خط بطلان کھینچ دیاہے۔ قرآن پہلے پیغمبر سے یوں خطاب کرتاہے: ان سے کہیے کہ خدا کے بارے میں تم ہم سے گفتگو کرتے ہو حالانکہ وہ تمہارا اور ہمارا پروردگار ہے (قل اتحاجوننا فی اللہ دھو ربنا و ربکم)۔ پروردگار کسی نسلی یا قبیلے کے لئے ہی نہیں وہ تو تما م جہانوں اور تمام عالم ہستی کا پروردگار ہے۔ یہ بھی جان لوکہ ہم اپنے اعمال کے جواب دہ ہیں اور تم اپنے اعمال کے جواب دہ ہو اور اعمال کے علاوہ کسی شخص کے لئے کوئی وجہ امتیاز نہیں ( و لنا اعمالنا و لکم اعمالکم)۔فرق یہ ہے کہ ہم خلوص سے اس کی پرستش کرتے ہیں اور خالص موحدہیں لیکن تم میں سے بہت سوں نے توحید کو شرک آلود کر رکھاہے ( و نحن لہ مخلصون)۔ اس کے بعد کی آیت میں ان بے بنیاد دعووں میں سے کچھ کا جواب دیتے ہوئے فرماتاہے: کیا تم کہتے ہو کہ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور اسباط سب یہودی یا عیسائی تھے (اَمْ تَقُولُونَ إِنَّ إِبْرَاہِیمَ وَإِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ وَالْاٴسْبَاطَ کَانُوا ھُودًا اَوْ نَصَارَیٰ)۔کہیے تم بہتر جانتے ہو یا (قل ا انتم اعلم ام اللہ)خدا بہتر جانتاہے کہ وہ یہودی تھے نہ نصرانی۔ تم بھی کم و بیش جانتے ہو کہ حضرت موسی اور حضرت عیسی سے بہت سے پیغمبر دنیا میں آئے اور اگر نہیں جانتے تو پھر بغیر اطلاع کے ان کی طرف ایسی نسبت دنیا تہمت، گناہ اور حقیقت سے پردہ پوشی ہے اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اپنے پاس موجود خدائی شہادت چھپائے (و من اظلم ممن کتم شھادة عندہ من اللہ)۔مگر یہ جان لو کہ خدا تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے (وَمَا اللهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ )۔ تعجب ہے کہ جب انسان ہٹ دھرمی اور تعصب کا شکار ہوجاتاہے تو پھر مسلمات تاریخ تک کا انکار کردیتاہے۔ مثلا یہودی اور عیسائی حضرت ابراہیم، حضرت اسحق اور حضرت یعقوب جیسے پیغمبروں تک کو حضرت موسی اور حضرت عیسی کا پیروکار شمار کرتے ہیں جب کہ وہ ان سے پہلے دنیا میں آئے اور یہاں سے چل بسے۔ وہ بھی واضح حقیقت و واقعیت کو چھپاتے ہیں جس کا تعلق لوگوں کی قسمت اور دین و آئین سے ہے۔ اس لئے قرآن انہیں ظالم ترین افراد قرار دیتاہے کیونکہ اس سے بڑھ کر کوئی ظلم نہیں کہ کچھ لوگ جان بوجھ کر حقائق کو چھپاتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ زیر بحث آیت میں ایسے لوگوں کے نظریات کا ایک اور جواب دیا گیاہے۔ فرمایا: فرض کرو یہ سب دعوے سچے ہیں تو بھی وہ ایسے لوگ تھے جو گزر گئے ہیں ان کا دفتر اعمال بند ہو چکا ہے، ا ن کا زمانہ بیت چکا ہے اور ان کے اعمال انہی سے تعلق رکھتے ہیں (تلک امۃ قد خلت لھا ما کسبت) اور تم اپنے اعمال کے جواب دہ ہو اور ان کے اعمال کی باز پرس تم سے نہ ہوگی (و لکم ما کسبتم و لا تسئلون عما کانوا یعملون)۔ مختصر یہ کہ ایک زندہ قوم کو چاہئیے کہ اپنے اعمال کا سہارا لے اور ان پر بھر و سہ کرے نہ کہ اپنے گزرے ہوئے بزرگوں کی تاریخ کا سہارا لے۔ ایک انسان کو صرف اپنی فضیلت و منقبت پر بھر و سہ کرنا چاہیے کیونکہ باپ کی فضیلت سے اسے کیا حاصل چاہے وہ کتنا ہی صاحب فضل کیوں نہ ہو۔
قبلہ کی تبدیلی کا واقعہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 1اس آیت اور اس کے بعد کی چند آیات میں تاریخ اسلام کی ایک اہم تبدیلی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس سے لوگوں میں ایک عظیم طوفان بر پا ہو گیا تھا۔ اس کی کچھ تفصیل یہ ہے کہ بعثت کے بعد تیرہ سال تک مکہ میں اور چند ماہ تک مدینہ میں پیغمبر اسلام ﷺ حکم خدا سے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے لیکن اس کے بعد قبلہ بدل گیا اور مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ مکہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھیں۔ مدینہ میں کتنے ماہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی جاتی رہی، اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے۔ یہ مدت سات ماہ سے لے کہ سترہ ماہ تک بیان کی گئی ہے لیکن یہ جتنا عرصہ بھی تھا، اس دوران یہودی مسلمانوں کو طعن زنی کرتے رہے کیونکہ بیت المقدس در اصل یہودیوں کا قبلہ تھا، وہ مسلمانوں سے کہتے تھے کہ ان کا اپنا کوئی قبلہ نہیں بلکہ ہمارے قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ہیں اور یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ہم حق پر ہیں۔ یہ باتیں پیغمبر اکرم ﷺ اور مسلمانوں کے لئے ناگوار تھیں۔ ایک طرف وہ فرمان الہی کے مطیع تھے اور دوسری طرف یہودیوں کے طعنے ختم ہونے کو نہ آتے تھے۔ اسی لئے پیغمبر اکرم ﷺ آسمان کی طرف دیکھتے تھے۔ گویا وحی الہی کے منتظر تھے۔ اس انتظار میں ایک عرصہ گزر گیا یہاں تک کہ قبلہ کی تبدیلی کا حکم صادر ہوا۔ ایک روز مسجد بنی سالم میں پیغمبر ﷺ نماز ظہر پڑھا رہے تھے۔ دو رکعتیں پڑھ چکے تھے کہ جبریل کو حکم ہوا کہ پیغمبر ﷺ کا بازو تھام کر ان کا رخ انور کعبہ کی طرف پھیر دیں۔(بحوالہ: مجمع البیان، ج۱، ص۲۲۴)۔ اس واقعے سے یہودی بہت پریشان ہوئے اور اپنے پرانے طریقے کے مطابق ، ڈھٹائی، بہانہ سازی اور طعن بازی کا مظاہرہ کرنے لگے۔ پہلے تو کہتے تھے کہ ہم مسلمانوں سے بہتر ہیں کیونکہ ان کا کوئی اپنا قبلہ نہیں، یہ ہمارے پیروکار ہیں۔ لیکن جب خدا کی طرف سے قبلہ کی تبدیلی کا حکم نازل ہوا تو انہوں نے پھر زبان اعتراض دراز کی۔ چنانکہ محل بحث آیت میں قرآن کہتا ہے: بہت جلد کم عقل لوگ کہیں گے ان (مسلمانوں) کو کس چیز نے اس قبلہ سے پھیر دیا جس پر وہ پہلے تھے (سَیَقُولُ السُّفَہَاءُ مِنْ النَّاسِ مَا وَلاَّہُمْ عَنْ قِبْلَتِہِمْ الَّتِی کَانُوا عَلَیْہَا)۔ مسلمانوں نے اس سے کیوں اعراض کیا ہے جو گزشتہ زمانے میں انبیاء ما سلف کا قبلہ رہا ہے۔ اگر پہلا قبلہ صحیح تھا تو اس تبدیلی کا کیا مقصد اور اگر دوسرا صحیح ہے تو پھر تیرہ سال اور چند ماہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے کیوں نماز پڑھتے رہے ہیں۔ خدا اپنے پیغمبر ﷺ کو حکم دیتاہے: ان سے کہہ دو عالم کے مشرق و مغرب اللہ کے لئے ہیں، وہ جسے چاہتاہے سیدھے راستے کی ہدایت کرتا ہے (قُلْ لِلَّہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ یَہْدِی مَنْ یَشَاءُ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ)۔ ان حیلہ بازوں کے جواب میں یہ ایک قطعی اور واضح دلیل تھی کہ بیت المقدس اور کعبہ سب اللہ کی ملکیت ہیں۔ خدا کا ذاتی طور پر تو کوئی گھر نہیں ہے۔ اہم بات تو یہ ہے کہ فرمان خدا کا پاس کیا جائے۔ جس طرف خدا حکم دے، ادھر نماز پڑھی جائے۔ وہ مقام مقدس و محترم ہے اور کوئی جگہ حکم خدا کے بغیر ذاتی اہمیت نہیں رکھتی۔ حقیقت میں قبلہ کی تبدیلی آزمائش اور تکامل کے مراحل میں سے ہے۔ ان میں سے ہر ایک ہدایت الہی کا مصداق ہے اور وہی ہے جو انسانوں کو صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
سفہاء
سفہاء جمع ہے سفیہ کی۔ اصل میں اس کا معنی وہ شخص ہے جس کا بدن ہلکا پھلکا ہو اور آسانی سے ادھر ادھر ہو جائے۔ اہل عرب جانوروں کی کم وزن رسیوں کو جو ہر طرف حرکت کرتی رہتی ہیں، سفیہ کہتے ہیں۔ لیکن بعد ازاں یہ لفظ کم ذہن شخص کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ یہ کم عقل امور دین میں ہو یا امور دنیا میں۔
نسخ احکام
پہلے کہا جا چکا ہے کہ مختلف زمانوں میں تنسیخ احکام اور تربیتی پروگراموں کی تبدیلی کوئی نیا مسئلہ یا عجیب و غریب چیز نہیں کہ اس پر اعتراض ہو سکے۔ لیکن اس بات کو یہودیوں نے اسلام سے انکار کرنے کے لئے بڑی بات بنا دیا۔ اور اس سلسلے میں بہت پراپیگنڈا کیا۔ قرآن نے انہیں منطقی اور دندان شکن جواب دیے اور وہ مجبور خاموش ہو گئے۔ اس سلسلے کی آیات آپ ابھی ملاحظہ کریں گے۔
امت وسط
Tafsīr Nemūna · Vol. 1زیر نظر آیت میں قبلہ کی تبدیلی کے فلسفے اور اسرار کی طرف کچھ اشارہ کیا گیا ہے۔ پہلے فرمایا: (جس طرح تمہارا قبلہ درمیانی ہے) اس طرح تمہیں ہم نے درمیانی امت قرار دیا ہے (و کذلک جعلنا کم امة وسطا) ایسی امت جو کند رو ہو نہ تندرو، افراط میں ہو نہ تفریط میں بلکہ ایک نمونہ ہو۔ رہا یہ سوال کہ مسلمانوں کا قبلہ کیسے درمیانی قبلہ ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ عیسائی تقریبا مشرق کی طرف کھڑے ہوتے ہیں۔ کیونکہ زیادہ تر عیسائی قومیں مغربی ممالک میں رہتی ہیں اور حضرت عیسی کی جائے ولاد ت (بیت المقدس( میں ہے اس لئے وہ مشرق کی طرف رخ کرنے پر مجبور ہیں۔ اس لحاظ سے مشرقی سمت کلی طور پر ان کا قبلہ شمار ہوتی ہے اور یہودی جو زیادہ تر شامات، بابل اور دیگر ایسے علاقوں میں رہتے تھے کہ انہیں تقریبا مغرب کی طرف رخ کرنا پڑتا تھا، اس لحاظ سے مغربی سمت ان کا قبلہ تھا لیکن اس وقت کے مسلمان جو مدینہ میں رہتے تھے، ان کے لئے کعبہ جنوب کی سمت میں اور مشرق و مغرب کے درمیان بنتا تھا جو ایک درمیانی خط شمار ہو گیا۔ یہ مطالب در اصل لفظ کذلک سے اخذ کئے جاتے ہیں۔ مفسرین نے اس کی دیگر تفاسیر بھی بیان کی ہیں جو بحث و تمحیص کے قابل ہیں۔ بہرحال___ قرآن چاہتا ہے کہ اسلام کے تمام پروگراموں کے باہمی تعلق کا ذکر کرے اور وہ یوں کہ نہ صرف مسلمانوں کا قبلہ درمیانی ہے بلکہ اس کے تمام پروگرام اس خوبی کے حامل ہیں اس کے بعد مزید کہتا ہے: غرض یہ ہے کہ تم ایک ایسی امت جو گواہ اور ایک نمونہ کی حامل ہو قرار پاؤ۔ پیغمبر ﷺ بھی ایک گواہ (اور ایک نمونہ)بن کر تمہارے سامنے موجود ہو (لتکونوا شہدآء علی الناس و علی الناس و یکون الرسول علیکم شہیدا)۔ امت مسلمہ کا ساری دنیا کے لئے گواہ ہونا اور اسی طرح پیغمبر ﷺ کا مسلمانوں پر گواہ ہونا، یہ تعبیر ممکن ہے اسوہ اور نمونہ کی طرف اشارہ ہو کیونکہ گواہوں کا انتخاب ہمیشہ ان لوگوں میں سے کیا جاتا ہے جو نمونہ ہوں یعنی ان عقائد، معارف اور تعلیمات کی وجہ سے کے تم حامل ہو ان کے ذریعے ایک ایسی امت بنو جو نمونہ ہو جیسے پیغمبر ﷺ تمہارے درمیان ایک نمونہ، ماڈل اور اسوہ ہیں۔ یعنی تم اپنے عمل اور پروگرام کے ذریعے گواہی دیتے ہو کہ انسان دیندار بھی ہو سکتا ہے اور دنیا کے ساتھ بھی وابستہ رہ سکتاہے۔ انسان معاشرے کا، فرد ہوتے ہوئے معنوی اور روحانی پہلوؤں کی مکمل حفاظت کر سکتا ہے اور دین و دنیا ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ تم ان عقائد اور پروگراموں کے ذریعے گواہی دیتے ہو کہ دین و علم اور دنیا و آخرت نہ صرف یہ کہ متضاد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کا باعث ہیں۔ اس کے بعد قرآن تبدیلی قبلہ کی ایک اور رمز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتاہے: ہم نے اس قبلہ (بیت المقدس) جس پر تم قبل ازیں تھے، صرف اس لئے مقرر کیا تھا کہ پیغمبر ﷺ کی پیروی کرنے والے جاہلیت کی طرف پلٹ جانے والوں سے ممتاز ہو جائیں (وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِی کُنتَ عَلَیْہَا إِلاَّ لِنَعْلَمَ مَنْ یَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّنْ یَنقَلِبُ عَلَی عَقِبَیْہ)۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ یہ نہیں فرمایا کہ وہ افراد جو آ پ کی پیروی کرتے ہیں بلکہ فرمایا: وہ لوگ جو رسول خدا کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ تم رہبر اور فرستادہ خدا ہو، اس لئے انہیں بغیر کسی قید و شرط کے تمہارے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دینا چاہئیے۔ قبلہ کے سلسلے میں پیروی تو آسان سی بات ہے، اگر اس سے بڑھ کر بھی کوئی حکم ملے تو اس میں چون و چرا کرنا شرک اور بت پرستی کے دور کے عادات و رسوم کے ترک نہ کئے جانے کی دلیل ہے۔ مَّنْ یَنقَلِبُ عَلَی عَقِبَیْہ___ اس کا مطلب ہے پاؤں کے پچھلے حصے پر پلٹ جانا۔ یہ رجعت پسندی اور پسماندگی کی طرف اشارہ ہے۔ مزید فرماتاہے: اگرچہ یہ کام ان لوگوں کے سوا جنہیں خدا نے ہدایت کی تھی، دشوار تھا (وَإِنْ کَانَتْ لَکَبِیرَةً إِلاَّ عَلَی الَّذِینَ ہَدَی اللهُ )۔ واقعا جب تک خدائی ہدایت نہ ہو، اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی روح پیدا ہی نہیں ہوتی۔ یہ بات اہم ہے کہ تسلیم حقیقت اس کا نام ہے کہ ایسے احکام جاری ہوں تو کسی سنگینی و سختی کا احساس تک نہ ہو بلکہ چونکہ حکم اس کی طرف ہے لہذا شہد سے شیریں تر معلوم ہو۔ وسوسہ ڈالنے والے دشمن یا نادان دوست خیال کرتے تھے کہ ہو سکتا ہے قبلہ بدل جانے سے پہلے اعمال باطل ہو جائیں اور اجر و ثواب برباد ہو جائے۔ اس کے لئے آیت کے لئے آیت کے آخر میں مزید کہتاہے: خدا ہرگز تمہارا ایمان (نماز) ضائع نہیں کرے گا۔ کیونکہ خداوند تعالی انسانوں کے لئے رحیم و مہربان ہے (وَمَا کَانَ اللهُ لِیُضِیعَ إِیمَانَکُمْ إِنَّ اللهَ بِالنَّاسِ لَرَئُوفٌ رَحِیم)۔ اس کے احکام طبیب کے نسخوں کی طرح ہیں۔ ایک روز ایک نسخہ نجات بخش ہے اور دوسرے دن دوسرا۔ ہر ایک اپنی جگہ درست اور سعادت و تکامل کا ضامن ہے لہذا قبلہ کی تبدیلی تمہاری گذشتہ یا آئندہ نمازوں کے لئے کسی قسم کی پریشانی کا باعث نہ بنے کیونکہ وہ سب کی سب صحیح تھیں اور صحیح ہیں۔
قبلہ کی تبدیلی کے اسرار
بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی طرف قبلہ کی تبدیلی ان سب کے لئے اعتراض کا موجب بنی جن کا گمان تھا کہ ہر حکم کو مستقل رہنا چاہیے۔ وہ کہتے تھے اگر ہمارے لئے ضروری تھا کہ کعبہ کی طرف نماز پڑھیں تو پہلے دن یہ حکم کیوں نہ دیا گیا اور اگر بیت المقدس مقدم ہے جو گذشتہ انبیاء کا بھی قبلہ شمار ہوتا ہے تو پھر اسے کیوں بدل دیا گیا۔ دشمنوں کے ہاتھ بھی طعن زنی کا میدان آگیا۔ شاید وہ کہتے تھے کہ پہلے تو انبیاء ماسبق کے قبلہ کی طرف نماز پڑھتے تھے لیکن کامیابیوں کے بعد اس پر قبیلہ پرستی نے غلبہ کر لیا ہے لہذا اپنی قوم اور قبیلے کے قبلہ کی طرف پلٹ گیا ہے۔ یا کہتے تھے کہ اس نے دھوکا دینے اور یہود و نصاری کی توجہ اپنی طرف مبذول کرنے کے لئے پہلے بیت المقدس کو قبول کر لیا اور جب یہ بات کارگر نہ ہو سکی تو اب کعبہ کی طرف رخ کر دیا ہے۔ واضح ہے کہ ایسے وسوسے اور وہ بھی ایسے معاشرے میں جہاں ابھی نور علم نہ پھیلا ہو اور جہاں شرک و بت پرستی کی رسمیں موجود ہوں، کیسا تذ بذب و اضطراب پیدا کر دیتے ہیں۔ اسی لئے زیر نظر آیت میں قرآن صراحت سے کہتاہے کہ یہ مومنین اور مشرکین میں امتیاز پیدا کرنے والی ایک عظیم آزمائش تھی۔ خانہ کعبہ اس وقت مشرکین کے بتوں کا مرکز بنا ہوا تھا لہذا حکم دیا گیا کہ مسلمان وقتی طور پربیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لیا کریں تا کہ اس طرح مشرکین سے اپنی صفیں الگ کر سکیں لیکن جب مدینہ کی طرف ہجرت کے بعد اسلامی حکومت و ملت کی تشکیل ہو گئی اور مسلمانوں کی صفیں دوسروں سے مکمل طور پر ممتاز ہو گئیں تو اب یہ کیفیت برقرار رکھنا ضروری نہ رہا۔ لہذا اس وقت کعبہ کی طرف رخ کر لیا گیا جو قدیم ترین مرکز توحید اور انبیاء کا بہت پرانا مرکز تھا۔ ایسے میں ظاہر ہے کہ جو کعبہ کو اپنا خاندانی معنوی اور روحانی سرمایہ سمجھتے تھے، بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنا ان کے لئے مشکل تھا اور اسی طرح بیت المقدس کے بعد کعبہ کی طرف پلٹنا۔ لہذا اس میں مسلمانوں کی سخت آزمائش تھی تا کہ شرک کے جتنے آثار ان میں باقی رہ گئے تھے اس کٹھالی میں پڑ کر جل جائیں اور ان کے گذشتہ شرک آلود رشتے ناتے ٹوٹ جائیں۔ جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں، اصولی طور پر تو خدا کے لئے مکان نہیں ہے۔ قبلہ تو صرف وحدت اور صفوں میں اتحاد کی ایک رمز ہے اور اس کی تبدیلی کسی چیز کو دگرگوں نہیں کر سکتی۔ اہم ترین امر تو خدا کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے اور تعصب اور ضد پرستی کے بتوں کو توڑنا ہے۔
امت اسلامی ایک در میانی امت ہے
لغت میں وسط کا معنی ہے دو چیزوں کے درمیان حد اوسط ۔ اس کا ایک اور معنی ہے جاذب نظر، خوبصورت ، عالی اور شریف۔ ظاہرا ان دونوں معانی کی ایک ہی حقیقت کی طرف بازگشت ہے کیونکہ شرافت، زیبائی اور عظمت عموما اسی چیز میں ہوتی ہے جو افراط و تفریط سے دور ہو اور مقام اعتدال پرہو۔ قرآن نے امت مسلمہ کے لئے اس مقام پر کیسی عمدہ تعبیر بیان کی ہے کہ اسے درمیانی اور معتدل امت کا نام دیا ہے۔ یہ امت معتدل ہے۔ عقیدہ کے لحاظ سے کہ راہ غلو اپناتی ہے نہ تقصیر و شرک کی راہ لیتی ہے، جبر کی طرفدار ہے نہ تفویض کی ، صفات الہی کے بارے میں تشبیہ کا عقیدہ رکھتی ہے نہ تعطیل کا۔ یہ امت معتدل ہے۔ معنوی و مادی قدروں کے لحاظ سے۔ نہ کلی طور پر دنیائے مادہ میں غرق ہے کہ معنویت اور روحانیت کو بھول جائے اور نہ ہی عالم معنویت و روحانیت میں ایسے ڈوبی ہوئی ہے کہ جہان مادہ سے بالکل بےخبر ہو جائے۔ یہ امت معتدل ہے۔ اور یہودیوں کے اکثر گروہوں کی طرح نہیں کہ جو مادی اغراض کے سوا کچھ نہیں جانتے۔ اور نہ عیسائی راہبروں کی طرح جو تارک دنیا ہی بنے رہتے ہیں۔ یہ امت معتدل ہے علم و دانش کی نظر سے۔ اس طرح نہیں کہ اپنی معلومات پر جمود کا شکار ہو جائے اور دوسروں کے علوم کی پزیرائی نہ کرے اور نہ اس طرح احساس کمتری میں مبتلا ہے کہ ہر آواز کے پیچھے لگ جائے۔ یہ امت معتدل ہے۔ روابط اجتماعی کی نظر سے اس طرح سے اپنے گرد حصار بنا کر ساری دنیا سے الگ نہیں ہو جاتی اور نہ اپنی اصالت و استقلال کو ہاتھ سے جانے دیتی ہے کہ مشرق و مغرب کے فریب خوردہ لوگوں کی طرح ان اقوام ہی میں گم ہو جائے۔ یہ امت معتدل ہے۔ اخلاقی طور طریقوں میں، عبادت و تفکر کے لحاظ سے۔ غرض یہ امت ہر جہت سے معتدل ہے۔ ایک حقیقی مسلمان صرف ایک جہت کا انسان نہیں ہوتا بلکہ مختلف جہات سے وہ کمال انسانیت کا نمونہ ہوتا ہے گویا___ صاحب فکر، باایمان، منصف مزاج، مجاہد، شجاع ، بہادر، مہربان، فعال اور غیر حریص ہوتا ہے۔ حد وسط ایسی تعبیر ہے جو ایک طرف امت اسلامی کے گواہ ہونے کا اظہار کرتی ہے کیونکہ خط وسط پر موجود لوگ دائیں بائیں کے تمام منحرف خطوط کو جانتے ہیں اور دوسری طرف اس میں اس مفہوم کی علت و سبب بھی پوشیدہ ہے۔ یعنی فرماتا ہے اگر تم پوری دنیا کی مخلوق کے شاہد ہو تو اس کی دلیل تمہارا اعتدال اور امت وسط ہونا ہے۔(بحوالہ: المنار، زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔
وہ امت جو ہر لحاظ سے نمونہ بن سکتی ہے
وہ تمام چیزیں جو ہم نے اوپر بیان کی ہیں، کسی امت میں جمع ہو جائیں تو یقینا وہ حق و حقیقت کا ہراول دستہ بن جائے کیونکہ اس کے پروگرام حق کو باطل سے ممتاز کرنے کے لئے میزان و معیار ہوں گے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ کئی ایک روایات میں منقول ہے کہ اہل بیت نے فرمایا: نحن الامة الوسطی و نحن شہدآء اللہ علی خلقہ و حججہ فی ارضہ نحن الشہدآء علی الناس الینا یرجع الغالی و بنا یرجع المقصر۔ [ظاہرا یہاں یرجع کی بجائے یلحق ہونا چاہیے۔ (مترجم)] ہم امت وسط ہیں، ہم مخلوق پر شاہد الہی ہیں اور زمین پر اس کی حجت ہیں۔ ہم ہیں لوگوں پر گواہ غلو کرنے والوں کو ہماری طرف پلٹنا چاہیے اور تقصیر کرنے والوں کو چاہیے کہ یہ راہ چھوڑ کر ہم سے آملیں۔ (بحوالہ: نور الثقلین، ج۱، ص۱۳۴)۔ جیسا کہ ہم بارہا کہہ چکے ہیں، ایسی روایات آیت کے وسیع مفہوم کو محدود نہیں کرتیں بلکہ اس امت میں نمونہ و اسوہ کے اکمل مصادیق کا تعارف کراتی ہیں اور ایسے نمونوں کی نشاندہی کرتی ہیں جو پہلی صف میں موجود ہیں۔
لنعلم کی تفسیر
لنعلم (تا کہ ہم جان لیں) اور ایسے دیگر الفاظ جو قرآن میں خدا کے لئے استعمال ہوئے، اس معنی میں نہیں کہ خدا ایک چیز پہلے سے نہیں جانتا اور اس کا عبد اس سے آشنا ہوتا ہے بلکہ اس سے مراد اس چیز کا ثابت ہونا اور خارجی شکل میں ظاہر ہونا ہے۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ خداوند عالم اول سے تمام حوادث و موجودات سے واقف ہے۔ اگرچہ وہ اشیاء تدریجا عالم وجود میں آتی ہیں لہذا ان حوادث و موجودات کا حدوث اس کے علم و دانش میں کسی قسم کی زیادتی کا باعث نہیں بنتا بلکہ وہ جس چیز کو پہلے سے جانتا تھا، اس کے ذریعے سے وہ عملی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اس کی مثال ایسے ہے کہ ایک انجنیر، ایک بلڈنگ کا نقشہ تیار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کام کو اس مقصد کے لئے انجام دیتا ہوں تا کہ جو نتیجہ میری نظر میں ہے اسے دیکھوں یعنی اپنے علمی نقشے کو عملی جامہ پہناؤں (البتہ خدا کا علم انسانی علم سے بہت مختلف ہے لیکن یہ مثال کسی حد تک مسئلے کو واضح کر دیتی ہے)۔ و ان کانت لکبیرة الا علی الذین ہدی اللہ___ البتہ خلاف عادت قدم اٹھانا اور بے جا احساسات کے زیر اثر نہ آنا بہت مشکل ہے مگر ان لوگوں کے لئے جو واقعا خدا پر ایمان رکھتے ہیں۔
قبلہ کا فلسفہ
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر بنیادی طور پر قبلہ کی طرف منہ کرنے کا مقصد کیا ہے۔ کیا خدا زمان و مکاں سے مافوق و بالاتر نہیں۔ کیا قرآن خود نہیں کہتا: فاینما تولوا فثم وجہ اللہ۔ جدھر رخ کرو خدا کو پالو گے۔ اس بناء پر کسی ایک طرف رخ کرنے کا اثر و نتیجہ کیا ہے اور وہ بھی اس اصرار سے کہ جہت قبلہ معلوم نہ ہو سکے تو چاروں طرف نماز پڑھنا چاہیے تا کہ یہ یقین پیدا ہو جائے کہ ہم اپنی ذمہ داری ادا کر چکے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ___ اسلام کے نزدیک اتحاد کی بہت اہمیت ہے اور اسلام ہر ایسے حکم کو واجب یا کم از کم مستحب قرار دیتا ہے جو ہم آہنگی اور وحدت کا سبب بنے۔ اب اگر رخ قبلہ معین نہ ہوتا اور ہر شخص کسی ایک طرف منہ کر کے کھڑا ہو جاتا تو عجیب نقشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ بعض مقامات کا پرستش و عبادت سے بہت پرانا تعلق ہے۔ اس لئے کتنی اچھی بات ہے کہ ایک تو وحدت کی حفاظت کے لئے اور دوسرا عبادت کے اصلی مراکز کی طرف زیادہ توجہ کے لئے ایک ہی نقطے کو قبلہ کے طور پر منتخب کر لیا جائے تا کہ تمام اہل جہان عبادت کے وقت اپنے افکار کو ایک ہی نقطے پر مرکز کر لیں اور اس طرح ایسے لا تعداد دائرے کھینچ دیں کہ جن کا ایک ہی مرکز عبادت ہو تا کہ وہ ان کی وحدت کی رمز بن جائے۔
جہاں کہیں ہو کعبہ کی طرف رخ کر لو
Tafsīr Nemūna · Vol. 1جیسا کہ پہلے اشارہ ہو چکا ہے، بیت المقدس مسلمانوں کا عارضی قبلہ تھا لہذا پیغمبر اسلام ﷺ انتظار میں تھے کہ قبلہ کی تبدیلی کا حکم صادر ہو خصوصا اس بناء پر کہ پیغمبر اکرم ﷺ کے ورود مدینہ کے بعد یہودیوں نے اس بات کو اپنے لئے سند بنا لیا تھا اور ہمیشہ مسلمانوں پر اعتراض کرتے تھے کہ ان کا اپنا کوئی قبلہ نہیں اور ہم سے پہلے یہ قبلہ کے متعلق کچھ جانتے بھی نہ تھے، اب ہمارے قبلہ کو قبول کر لینا ہمارا مذہب قبول کر لینے کی دلیل ہے۔ یہ اور ایسے دیگر اعتراضات کرتے رہے۔ محل بحث آیت میں اس مسئلے کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ قبلہ کی تبدیلی کا حکم صادر کرتے ہوئے فرماتاہے: ہم دیکھتے ہیں کہ تم منتظر نگاہوں سے مرکز نزول وحی، آسمان کی طرف دیکھتے ہو (قَدْ نَرَی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَاءِ)۔ اب ہم تمہیں اس قبلہ کی طرف پھیر دیتے ہیں جس سے تم خوش ہو (فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قبلة ترضھا )۔ ابھی سے اپنا چہرہ مسجد الحرام اور خانہ کعبہ کی طرف پھیر دو (وَحَیْثُ مَا کُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوہَکُمْ شَطْرَہُ )۔ جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے کہ روایات کے مطابق قبلہ کی یہ تبدیلی نماز ظہر کی حالت میں واقع ہوئی جو ایک حساس اور اہم مقام ہے۔ وحی خدا کے قاصد نے پیغمبر ﷺ کے بازوؤں کو پکڑ کر آپ کا رخ بیت المقدس سے کعبہ کی طرف پھیر دیا اور مسلمانوں نے بھی فورا اپنی صفوں کو پھیر لیا یہاں تک کہ ایک روایت میں ہے کہ عورتوں نے اپنی جگہ مردوں کو اور مردوں نے اپنی جگہ عورتوں کودے دی (یاد رہے کہ بیت المقدس شمال کی جانب تھا جب کہ کعبہ جنوب میں واقع تھا)۔ یہ امر قابل غورہے کہ گذشتہ کتب میں پیغمبر اسلام ﷺ کی نشانیوں میں سے ایک قبلہ کی تبدیلی بھی تھی۔ اہل کتاب نے چونکہ پڑھ رکھا تھا کہ وہ دو قبلوں کی طرف نماز پڑھیں گے (یصلی الی القبلتین) اسی لئے مندرجہ بالا آیت میں اس حکم کے بعد مزید فرمایا: وہ کہ جنہیں آسمانی کتاب دی گئی، جانتے ہیں کہ یہ حکم حق ہے اور پروردگار کی طرف سے ہے (وَإِنَّ الَّذِینَ اُوتُوا الْکِتَابَ لَیَعْلَمُونَ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّہِم)۔ علاوہ ازیں یہ امر کہ پیغمبر اسلام ﷺ اپنے گرد و پیش کی عادات سے متاثر نہیں ہوئے اور کعبہ جو بتوں کا مرکز بنا ہوا تھا اور اس علاقے کے تمام عربوں کے احترام کا مرکز تھا، ابتداء میں نظر انداز کر دیا اور ایک محدود اقلیت کا قبلہ اپنا لیا،یہ خود ان کی دعوت کی صداقت اور ان کے پروگراموں کے خدا کی طرف سے ہونے کی دلیل تھا۔ آیت کے آخر میں قرآن کہتا ہے: خدا ان کے اعمال سے غافل نہیں ہے (وَمَا اللهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُونَ)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ بجائے اس کے کہ قبلہ کی تبدیلی کو آپ کی صداقت کی نشانی کے طور پر تسلیم کر لیتے جس کا ذکر گذشتہ کتب میں آچکا تھا، اسے چھپانے لگے اور الٹا پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف ایک محاذ کھڑا کر دیا۔ خدا ان کے اعمال اور نیتوں سے خوب آگاہ ہے۔
نظم آیات
زیر بحث آیت کے مفاہیم واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ پہلی آیت سے قبل نازل ہوئی لیکن قرآن میں اس کے بعد موجود ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آیات قرآن، تاریخ نزول کے مطابق جمع نہیں کی گئیں۔ بلکہ بعض اوقات کچھ ایسی مناسبتیں پیدا ہوتی ہیں کہ وہ آیت جو بعد میں نازل ہوئی تھی پہلے آجاتی ہے (ان وجو ہات میں مطالب کی اولیت اور اہمیت بھی شامل ہے)۔
پیغمبر اکرم کا کعبہ سے خاص لگاؤ
مندرجہ بالا آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم ﷺ خصوصیت سے چاہتے تھے کہ قبلہ، کعبہ کی طرف تبدیل ہو جائے اور آپ انتظار میں رہتے تھے کہ خدا کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی حکم نازل ہو۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ آنحضرت ﷺ کو حضرت ابراہیم اور ان کے آثار سے عشق تھا۔ علاوہ ازیں کعبہ، توحید کا قدیم ترین مرکز تھا۔ آپ جانتے تھے کہ بیت المقدس تو وقتی قبلہ ہے لیکن آپ کی خواہش تھی کہ حقیقی و آخری قبلہ جلد معین ہو جائے۔ آپ چونکہ حکم خدا کے سامنے سر تسلیم خم کئے تھے، یہ تقاضا زبان تک نہ لاتے، صرف منتظر نگاہیں آسمان کی طرف لگائے ہوئے تھے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو کعبہ سے کس قدر عشق اور لگاؤہے۔ آسمان شاید اس لئے کہا گیا ہے کہ وحی کا فرشتہ اوپر سے آپ پر نازل ہوتا تھا ورنہ خدا کے لئے کوئی محل و مقام ہے نہ اس کے وحی کے لئے۔
شطر کا معنی
دوسری بات جو اس مقام پر قابل غورہے یہ کہ مندرجہ بالا آیت میں لفظ کعبہ کی بجائے شطر المسجد الحرام آیا ہے۔ یہ شاید اس بناء پر ہو کہ دور کے علاقوں میں نماز پڑھنے والوں کے لئے خانہ کعبہ کا حقیقی تعین بہت ہی مشکل ہے، لہذا خانہ کعبہ کی بجائے جو اصلی قبلہ ہے، مسجد الحرام کا ذکر کیا گیا ہے جو وسیع جگہ ہے۔ خصوصا لفظ شطر کا انتخاب ہوا جس کا معنی ہے جانب یا سمت۔ یہ اس لئے کہ اسلامی حکم پر عملدر آمد سب لوگوں کے لئے آسان ہو ۔ علاوہ ازیں نماز جماعت کی طویل صفیں اکثر اوقات کعبہ کے طول سے بھی لمبی ہوتی ہیں۔ اس موقع کے لئے بھی شرعی ذمہ داری واضح کی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ دور کے رہنے والوں کے لئے صحیح حدود کعبہ یا مسجد الحرام کا تعین بہت مشکل کام ہے لیکن اس سمت منہ کرکے کھڑا ہونا سب کے لئے آسان ہے۔( بعض مفسرین نے کہا ہے کہ شطر کا ایک معنی نصف ہے اس مفہوم کی بناء پر شطر المسجد الحرام اور وسط المسجد الحرام ہم معنی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ خاص خانہ کعبہ مسجد حرام کے وسط میں ہے (تفسیر کبیر فخر رازی، زیر بحث آیت کے ذیل ہیں)۔
ہمہ گیر خطاب
اس میں شک نہیں کہ قرآن ظاہرا پیغمبر ﷺ سے خطاب کرتا ہے لیکن اس کا مفہوم عام ہے اور سب مسلمانوں کے لئے ہے (سوائے ان چند مواقع کے جن کے پیغمبر ﷺ سے مخصوص ہونے کی دلیل موجود ہے) اس بات سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں پیغمبر اکرم ﷺ کو الگ اور مومنین کو الگ کیوں حکم دیا گیا ہے کہ مسجد حرام کی طرف رخ کر کے نماز پڑھیں۔ ممکن ہے یہ تکرار اس لئے ہوکہ قبلہ کی تبدیلی کا مسئلہ شور و غل کا حامل تھا۔ لہذا مکاں تھا کہ نئے مسلمانوں کے ذہن شور و غل اور زہریلے اعتراضات کی وجہ سے تشویش کا شکار ہوتے اور وہ عذر کرتے کہ (فول وجھک) تو فقط پیغمبر ﷺ سے خطاب ہے اور اس طرح خانہ کعبہ کی طرف نماز پڑھنے سے کتراتے لہذا اس مقام پرایک مخصوص خطاب کے بعد اللہ تعالی نے تمام مسلمانوں سے ایک عمومی خطاب کیا ہے تا کہ انہیں تاکید کرے کہ قبلہ کی تبدیلی کا یہ معاملہ مخصوص نہیں بلکہ یہ حکم سب کے لئے یکساں ہے۔
کیا قبلہ کی تبدیلی پیغمبر کو خوش کرنے کے لئے تھی
قرآن کہتاہے: "قبلة ترضھا" (یعنی وہ قبلہ جس سے تو خوش ہے) ممکن ہے اس سے یہ وہم پیدا ہو کہ یہ تبدیلی پیغمبر ﷺ کو خوش کرنے کے لئے تھی۔ لیکن اگر اس بات کی طرف توجہ کی جائے تو یہ وہم دور ہو جائے گا کہ یہ بیت المقدس تو عارضی قبلہ تھا اور پیغمبر اکرم ﷺ آخری قبلہ کے اعلام کا انتظار کر رہے تھے تا کہ ایک طرف تو یہودیوں کی زبان بندی ہو جائے اور دوسری طرف اہل حجازآئین اسلام کی طرف زیادہ مائل ہوں کیونکہ وہ کعبہ سے خصوصی لگاؤ رکھتے تھے۔ ضمنا یہ بھی کہ یہ پہلا قبلہ تھا لہذا اس طرف رخ کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام کوئی نسلی دین نہیں ہے ادریہ بھی کہ اس سے خانہ کعبہ میں بت پرستوں کے موجود بتوں کا بطلان بھی ظاہر ہو جاتا۔
کعبہ ایک عظیم دائرے کا مرکز ہے
اگر کوئی شخص کرہ زمین سے باہر مسلمان نماز گزاروں کی صفوں کو دیکھے جو کعبہ رخ نماز پڑھ رہے ہیں تو اسے کئی دائرے نظر آئیں گے جن میں ایک دائرہ دوسرے کے اندر ہے یہاں تک کہ دائرے سمٹتے اصل مرکز یعنی کعبہ تک جا پہنچتے ہیں اس سے ایک وحدت و مرکزیت کا اظہار ہوتاہے۔ اسلامی قبلے کا تصور بلا شبہ عیسائیوں کے اس طریقہ کا رسے کہیں معیاری ہے جس کے مطابق تمام عیسائیوں کو حکم ہے کہ وہ جہاں کہیں ہوں مشرق کی طرف رخ کرکے عبادت بجالائیں۔ یہی وجہ ہے کہ علم ہیئت اور علم جغرافیہ ابتدائے اسلام میں مسلمانوں میں تیزی سے ترقی کی کیونکہ زمین کے مختلف حصوں میں قبلہ کا تعین اس علم کے بغیر ممکن نہ تھا۔
وہ کسی قیمت پر سرتسلیم خم نہیں کریں گے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1آپ گذشتہ آیت کی تفسیر میں پڑھ چکے ہیں کہ اہل کتاب جانتے تھے کہ بیت المقدس سے خانہ کعبہ تبدیلی سے نہ صرف یہ کہ پیغمبر اسلام پر کوئی اعتراض نہیں کیاجاسکتا بلکہ یہ آپ کی حقانیت کی دلیل ہے کیونکہ وہ اپنی کتب میں پڑھ چکے تھے کہ پیغمبر موعود د و قبلوں کی طرف نماز پڑھے گا لیکن بے جا تعصب اور سرکشی کے بھوت نے انہیں حق قبول کرنے نہ دیا۔ اصولی طورپر اگر انسان مسائل پر پہلے سے حتمی فیصلہ نہ کرچکا ہو وہ افہام و تفہیم کے قابل ہوتاہے اور دلیل ، منطق یا معجزات کے ذریعے اس کے نظریات میں تبدیلی آسکتی ہے اور اس کے سامنے حقیقت کو ثابت کیاجاسکتاہے لیکن اگر وہ پہلے سے اپنا موقف حتمی طور پرطے کرلے۔ خصوصا لیچڑ متعصب اور نادان لوگوں کو کسی قیمت پر نہیں بدلا جاسکتا۔ اسی لئے قرآن محل بحث آیت میں قطعی طور پر کہہ رہاہے ! قسم ہے کہ اگر تم کوئی آیت اور نشانی ان اہل کتاب کے لئے لے آؤ، یہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے (وَلَئِنْ أَتَيْتَ الَّذِينَ أُوْتُواْ الْكِتَابَ بِكُلِّ آيَةٍ مَّا تَبِعُواْ قِبْلَتَكَ)۔ لہذا تم اس کام کے لیے اپنے آپ کو نہ تھکاؤ اور ان کی ہدایت کے در پے نہ رہو کیونکہ یہ کسی قیمت پر حق کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کریں گے اور ان میں اصلا تلاش حقیقت کی روح ہی مردہ ہوچکی ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ تمام انبیاء کو کم و بیش ایسے افراد کا سامنا کرنا پڑا جو یا اہل ثروت اور با اثر تھے یا پڑھے لکھے منحرف یا کجرو یا جاہل و متصب عوام تھے۔ اس کے بعد مزید فرمایا: تم بھی ہرگز ان کے قبلہ کی پیروی نہیں کروگے (وَمَا أَنتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ)۔ یعنی اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے شعور و غوغا، قیل و قال اور طعن و تشنیع سے دوبارہ مسلمانوں کا قبلہ بدل جائے گا تو یہ ان کی جہالت ہے بلکہ یہ قبلہ اب ہمیشہ کے لئے ہے۔ در حقیقت مخالفین کا شور دغل ختم کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ انسان پختہ ارادے سے کھڑا ہوجائے اور واضح کردے کہ وہ راہ حق میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کرے گا۔ مزید فرمایا: وہ بھی اپنے معاملے میں ایسے متعصب ہیں کہ ان میں سے کوئی ایک بھی دوسرے کے قبلہ کا پیرو اور تابع نہیں (وَمَا بَعْضُهُم بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ) یعنی۔ یہودی عیسائیوں کے قبلہ کی پیروی کرتے ہیں نہ عیسائی یہودیوں کے قبلہ کی۔ پھر بطور تاکید اور زیادہ قطعیت سے پیغمبر سے کہتاہے: اگر علم و آگہی کے بعد، جو خدا کی طرف سے تمہیں پہنچ چکی ہے تم ان کی خواہشات کے سامنے سرنگوں ہوگئے اور ان کی پیروی کرنے لگے تو مسلما ستمگروں اور ظالموں میں سے ہوجاؤگے (وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُم مِّن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ إِنَّكَ إِذاً لَّمِنَ الظَّالِمِينَ)۔ قضیہ و شرطیہ صورت میں پیغمبر سے خطاب، قرآن میں بارہا دیکھنے میں آیاہے۔ در حقیقت ان کے تین مقاصد ہیں: ۱۔ سب لوگ جان لیں کہ قوانین الہی میں کسی قسم کی تبعیض اور فرق و اختلاف قبول نہیں کیاجائے گا۔ عام لوگ تو ایک طرف خود انبیاء بھی ان سے ماوراء نہیں ہیں۔ اس بناء پر اگر بفرض محال پیغمبر بھی حق سے انحراف کرے تو وہ بھی عذاب الہی کا مستحق ہوگا۔ اگر چہ انبیاء کے بارے میں ایسا مفروضہ ان کے ایمان، بے پناہ علم اور مقام تقوی و پرہیزگاری کے پیش نظر ممکن العمل نہیں اور اصطلاح میں اسے یوں کہتے ہیں کہ قضیہ شرطیہ وجود شرط پر دلالت نہیں کرتا۔ ۲۔ تمام لوگ اپنا احتساب کرلیں اور جان لیں کہ جب پیغمبر کے بارے میں یہ معاملہ ہے تو انہیں پوری کوشش سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا چاہئیں اور دشمن کے انحرافی میلانات اور شور و غوغا کے سامنے کبھی ہتھیار نہیں ڈالنا چاہئیں اور شکست تسلیم نہیں کرنا چاہئیے۔ ۳۔ یہ واضح ہوجائے کہ پیغمبر بھی اپنی طرف سے کسی تبدیلی اور الٹ پھیر کا اختیار نہیں رکھتا اور ایسا نہیں کہ وہ جو چاہے کرے بلکہ وہ بھی اللہ کا بندہ ہے اور اس کے فرمان کے تابع ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 147 کے تحت ملاحظہ کریں۔
وہ پیغمبر اکرم کو پوری طور پر پہچانتے ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 1گذشتہ ابحاث کے بعد اہل کتاب میں سے ایک گروہ کی ہٹ دھرمی اور تعصب کے بارے میں زیر نظر آیات میں گفتگو فرمائی گئی ہے۔ ارشاد ہوتاہے: اہل کتاب کے علما پیغمبر کو اپنی اولاد کی مانند اچھی طرح پہچانتے ہیں (الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ) اس پیغمبر کا نام، نشانیاں اور خصوصیات یہ اپنی مذہبی کتب میں پڑھ چکے ہیں لیکن اس کے با وجود ان میں سے بعض کوشش کرتے ہیں کہ جان بوجھ کر حق کو چھپائے رکھیں (وَإِنَّ فَرِيقاً مِّنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ)۔ ان میں سے ایک گر وہ تو اسلام کی واضح نشانیوں کو دیکھ کر اسے قبول کرچکاہے جیسا کہ عبداللہ بن سلام جو علما یہود میں سے تھا اور بعد میں اس نے اسلام قبول کرلیا۔ منقول ہے کہ وہ کہتاتھا: انا اعلم بہ منی بابنی میں پیغمبر اسلام کو اپنے فرزند سے بھی بہتر پہچانتا ہوں۔[بحوالہ: المنار، ج ۲ اور تفسیر کبیر از فخر الدین رازی (ذیل آیت زیر بحث)]۔ یہ آیت ایک عجیب و غریب حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے وہ یہ کہ پیغمبر اسلام کی جسمانی و روحانی صفات اور ان کے علاقے کی نشانیاں گذشتہ کتب میں اس قدر زندہ، روشن اور واضح تھیں کہ جن سے آپ کی پوری تصویر ان لوگوں کے ذہنوں میں موجود تھی جو ان کتب سے وابستہ تھے۔ کیا کسی کو یہ احتمال ہوسکتا ہے کہ ان کتب میں پیغمبر اسلام کا کوئی نام و نشان نہ ہو اور پھر بھی پیغمبر اس صراحت سے ان کے سامنے کہیں کہ میری تمام صفات تمہاری کتب میں موجود ہیں، اگر ایسا ہوتا تو کیا اہل کتاب کے تمام علماء پیغمبر سے شدید اور صریح مقابلے پر نہ آتے اور انہیں یہ نہ کہتے کہ یہ تم ہو اور یہ ہیں ہماری کتابیں، کہاں ہیں تمہارے وہ نام و صفات ۔ کیا یہ ممکن تھا کہ ان کا ایک عالم فقط اس بناء پر آپ کے سامنے سر تسلیم خم کرے ۔ اس لئے ایسی آیات صرف آپ کی سچائی اور حقانیت کی دلیل ہیں۔ اس کے بعد گذشتہ ابحاث کی تاکید کے طور پر قبلہ کی تبدیلی کے متعلق فرمایا: یہ فرمان تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے، پس تم کبھی بھی تردد و شک کرنے والوں میں سے نہ ہونا (الْحَقُّ مِنْ رَبِّکَ فَلاَتَکُونَنَّ مِنْ الْمُمْتَرِین)۔ اس طرح اس جملے میں پیغمبر کی دلجوئی کی گئی ہے اور انہیں تاکید کی گئی ہے کہ وہ دشمن کے زہر یلے پرا پیگنڈا کے سامنے ذرہ برابر بھی تردد و شک کو راہ نہ دیں۔ چاہے قبلہ کی تبدیلی کا مسئلہ ہو یا کوئی اور چاہے دشمن اس کے خلاف اپنی تمام قوتیں جمع کرلیں۔ اس گفتگو میں اگر چہ مخاطب پیغمبر اکر م ہیں لیکن جیسا کہ کہا جاچکاہے کہ واقع میں تمام لوگ مرا د ہیں۔ ور نہ مسلم ہے کہ و ہ پیغمبر جس کا وحی سے دائمی تعلق ہو کبھی کسی شک و شبہ میں مبتلا نہیں ہوتا کیونکہ وحی اس کے لئے شہود، حس اور یقین کا درجہ رکھتی ہے۔
یہودیوں کے قبلہ کی تبدیلی کے بارے میں شور و غل کا جواب
یہ آیت درحقیقت یہودیوں کے جواب میں ہے جو قبلہ کی تبدیلی کے متعلق زیادہ شور و غل بپا کئے تھے۔ فرمایا: ہر گروہ کا ایک قبلہ ہے جسے خدانے معین کیاہے (اور وہ اس کی طرف رخ کرتاہے (وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا)۔ انبیاء کی طویل تاریخ میں کئی ایک قبلہ تھے اور ان کی تبدیلی کوئی عجیب و غریب چیز نہیں۔ قبلہ کوئی اصولی دین نہیں کہ جس میں تبدیلی و تغیر نہیں ہوسکتا اور نہ یہ کہ امور تکوینی کی طرح ہے کہ آگے پیچھے نہ ہوسکے لہذا قبلہ کے بارے میں زیادہ گفتگو نہ کرو اور اس کی بجائے اعمال خیر اور نیکیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاؤ ( فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرَاتِ)۔ بجائے اس کے کہ اس انفرادی مسئلے میں دقت صرف کرتے رہو خوبیوں اور پاکیزگیوں کی تلاش میں نکلو اور ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرو کیونکہ تمہارے وجود کی قدر و قیمت نیک اور پاک اعمال ہیں۔یہ مضمون بعینہ اس سورہ کی آیہ ۱۷۷ کی طرح ہے جس میں فرمایا گیاہے۔ لَیْسَ الْبِرَّ انْ تُوَلُّوا وُجُوہَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَکِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلاَئِکَةِ وَالْکِتَابِ وَالنَّبِیِّین نیکی یہ نہیں اپنے چہرے مشرق و مغرب کی طرف کرلو بلکہ نیکی یہ ہے کہ خدا، روز جزا، ملائکہ، کتاب اور انبیاء پر ایمان لے آؤ (اور نیک اعمال بجالاؤ)۔ اب اگر تم اسلام یا مسلمانوں کو آزمانا چاہتے ہو تو ان پروگراموں میں آزماؤ نہ قبلہ کی تبدیلی کے مسئلہ میں۔ اس کے بعد اعتراض کرنے والوں کو تنبیہ کرنے اور نیک لوگوں کو شوق دلانے کے لئے فرمایا: تم جہاں کہیں ہوگے خدا تم سب کو حاضر کرے گا (اینما تکونوا یات بکم اللہ جمیعا) تا کہ نیک لوگوں کو عمل خیر کی جزا اور برے لوگوں کو عمل بدکی سزادی جاسکے۔ ایسا نہیں کہ ایک گروہ تو بہترین کام انجام دیتاہو اور دوسرا زہر اگلنے ، تخریب کا ری کرنے اور دوسروں کے کاموں کو خراب کرنے کے علاوہ کوئی کام نہ کرتاہو اور پھر دونوں ایک جیسے ہوں اور ان کے لئے کوئی حساب و کتاب اور جزا سزا نہ ہو۔ چونکہ ممکن ہے بعض لوگوں کے لئے یہ جملہ عجیب ہو کہ خدا خاک کے منتشر ذرات کو، وہ جہاں کہیں ہوں جمع کرے گا اور دوبارہ و ہی انسان عرصہ وجود میں قدم رکھے لہذا بلا فاصلہ فرمایا: اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے (ان اللہ علی کل شیی قدیر ) درحقیقت، آیت کے آخر میں یہ جملہ اس سے پہلے والے جملے (اینما تکونوا یات بکم اللہ جمیعا) کی دلیل ہے۔
امام مہدی کے یار و انصار جمع ہوں گے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1آئمہ اہل بیت سے مروی ہے کئی ایک روایات میں (اینما تکونوا یات بکم اللہ جمیعا) سے اصحاب حضرت مہدی مراد لئے گئے ہیں۔ منجملہ ان روایات کے کتاب روضہ کافی میں امام محمد باقر سے روایت ہے کہ آپ نے اس جملہ کا ذکر فرمانے کے بعد ارشاد کیا: یعنی۔ اصحاب القائم الثلاثماة و البضعة عشر رجلاھم و اللہ الامة المعدودة قال یجتمعون و اللہ فی ساعة واحدة قزع کقزع الخریف۔ اس سے مقصود اصحاب امام قائم ہیں جوتین سو تیرہ افراد ہیں۔ خدا کی قسم "امة معدودة " سے وہی مراد ہیں۔ بخدا موسم خریف کے بادلوں کی طرح سب ایک لحظے میں جمع ہوجائیں گے۔ جیسے وہ بادل تیز ہوا کے نتیجے میں جمع ہوکر ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں۔(بحوالہ: نور الثقلین، ج۱، ص۱۳۹)۔ اما م علی بن موسی رضا سے منقول ہے: و ذلک و اللہ ان لوتام قائمنا یجمع اللہ الیہ جمیع شیعتنا من جمیع البلدان۔ بخدا جب حضرت مہدی قیام کریں گے خدا سب شہروں سے ہمارے تمام شیعوں کو ان کے پاس جمع کر دے گا۔(بحوالہ: تفسیر المیزان، ج۱، ص۳۳۱)۔ اگر قبل اور بعد کے قرائن نہ ہوتے تو یہ تفسیر قابل قبول تھی لیکن ان قرائن کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ظاہری مفہوم وہی ہے جو ہم بیان کر چکے ہیں۔[یعنی یہ روایات آیت کی باطنی تفسیرہیں (مترجم)]۔
آیت میں ( ہُوَ مُوَلِّیہَا) کی شباہت
آیت "ھو مولیّھا" کی شباہت (فلنولینک قبلة ترضھا) سے ہے لیکن فرض کریں کہ یہ آیت اسی تفسیر کی طرف اشارہ ہے تو یہ جبری قضاء قدر کے مفہوم میں نہیں ہے بلکہ وہ قضا و قدر ہے جو آزادی کے مفہوم سے موافقت رکھتی ہو۔(مزید وضاحت کےلئے کتاب انگیزہ پیدائش مذہب، فصل قضا و قدر سے رجوع کریں)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 150 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تبدیلی قبلہ کے بعد میں پیش آنے والے امور
Tafsīr Nemūna · Vol. 1یہ آیات تبدیلی قبلہ کے مسئلے اور اس کے بعد پیش آنے والے امور کے بارے میں ہیں۔ پہلی آیت میں ایک تاکید حکم کے طور پر فرماتا ہے: جس جگہ ( شہر اور علاقے) سے نکلو، نماز کے وقت اپنا رخ مسجد الحرام کی طرف کر لو ( و من حیث خرجت فولّ وجھک شطر المسجد الحرام) ۔ پھر تاکیدِ مزیر کے طور پر فرماتا ہے: یہ حکم حق ہے اور تمہارے پروردگار کی طرف سے ہے (وَإِنَّهُ لَلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ) ۔ آیت کے آخر میں تنبیہ اور دھمکی کے طور پر سازش کرنے والوں سے کہتا ہے اور ساتھ ہی مومنین کو خبردار کرتا ہے: "اور جو کچھ تم انجام دیتے ہو خدا اس سے غافل نہیں ہے۔ (وَمَا اللّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ)۔ پے در پے تاکیدوں کا یہ سلسلہ جو اگلی آیت میں بھی جاری رہے گا، اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ قبلہ کی تبدیلی کا مسئلہ اور سابق حکم کی منسوخی ایک تازہ مسلمان گروہ کےلئے بہت گراں اور سنگین تھا۔ نیز لیچڑ اور خشونت پسند دشمن کےلئے بھی زہر اگلنے اور پراپیگنڈا کرنے کا ذریعہ تھا۔ اس مقام پر اور ایسے دیگر تمام تحولات اور تکاملی انقلابات کے موقع پر ایسی قطعی صراحت اور پے در پے تاکیدیں ہی شکوک و شبہات کا ازالہ کر سکتی ہیں۔ کسی گروہ کا قائد و رہبر اگر ایسے حساس مواقع پر اٹل فیصلہ، حتمی ارادہ اور ناقابل تبدیل عزم کے ساتھ اپنا موقف معین کرے تو اس سے دوستوں کا ارادہ بھی مستحکم ہوتا ہے اور دشمن بھی ہمیشہ کےلئے مایوس ہو جاتا ہے۔ قرآن میں یہ نکتہ بار بار وضاحت سے نظر آتا ہے۔ نیز یہ تاکیدات محض تکرار نہیں، بلکہ ان کے ساتھ نئے احکام بھی ہیں۔ جیسے گذشتہ آیت میں شہر مدینہ میں مسلمانوں کی قبلہ کے بارے میں ذمہ داری کا تعین ہوا تھا۔ لیکن اس اور اگلی آیت میں مسافر نمازیوں کے بارے میں حکم دیتے ہوئے ہر مقام اور علاقے کے بارے میں حکم واضح کیا گیا ہے۔ اگلی آیت میں مسجد الحرام کی طرف رُخ کرنے کے بارے میں ہر مقام سے متعلق ایک عمومی حکم ہے۔ فرماتا ہے: جہاں سے نکلو اور جس طرف جاو، نماز کے وقت اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف کر لو(وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ)۔ یہ صحیح ہے کہ اس جملے میں روئے سخن پیغمبر اکرم کی طرف ہے لیکن مسلما اس کے مخاطب سب نماز پڑھنے والے ہیں۔ تاہم بعد کے جملے میں اس کی توضیح و تاکید کےلئے فرماتا ہے: اور تم (مسلمان) جہاں کہیں بھی ہو اپنا رخ اس کی طرف کر لو (وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّواْ وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ)۔ پھر اسی آیت کے ذیل میں تین اہم نکتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے:
مخالفین کو خاموش کرنا
فرماتا ہے: یہ قبلہ کی تبدیلی اس لئے عمل میں آئی ہے تاکہ لوگ تمہارے خلاف حجت نہ لا سکیں(لِئَلاَّ يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ )۔ کیونکہ گذشتہ آسمانی کتب میں پیغمبر کی نشانیوں میں سے ایک یہ تھی کہ وہ دو قبلوں کی طرف نماز پڑھے گا۔ اگر قبلہ کی یہ تبدیلی صورت پذیر نہ ہوتی تو ایک طرف یہودیوں کی زبان مسلمانوں کے خلاف کھل جاتی اور وہ کہتے کہ تورات میں ہم نے پڑھا ہے کہ پیغمبر موعود کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ دو قبلوں کی طرف نماز پڑھے گا لیکن محمدؐ میں یہ نشانی تو موجود نہیں اور دوسری طرف مشرکین اعتراض کرتے کہ اس کا دعوی ہے کہ وہ دین ابراہیم کو زندہ کرنے آیا ہے تو پھر خانہ کعبہ کو کیوں فراموش کر دیا۔ جب کہ اس کی بنیاد ابراہیم ؑنے رکھی ہے۔ لیکن قبلہ کی اس تبدیلی نے ان کے یہ اعتراضات ختم کر دیئے۔ مگر ہمیشہ حیلہ باز اور ستم پیشہ لوگ بھی ہوتے ہیں جو کسی منطق کو نہیں مانتے۔ لہذا قرآن نے ان کے استثناء کو ملحوظ رکھا اور فرمایا: مگر ان میں سے وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا ہے ( إِلاَّ الَّذِينَ ظَلَمُواْ مِنْهُمْ)۔ یہ کسی صراطِ مستقیم پر قائم نہیں ہیں۔ اگر تم بیت المقدس کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھو تو کہتے ہیں یہ تو یہودیوں کا قبلہ ہے تم مسلمان اپنا کوئی مستقل قبلہ نہیں رکھتے اور اگر کعبہ کی طرف پلٹ آو تو کہتے ہیں کہ تم میں ثبات و بقاء نہیں ہے تمہارا دین بھی بہت جلد تبدیل ہو جائے گا۔ یہ بہانہ ساز اور حیلہ گر حق کے نام پر ظلم و ستم کرتے ہیں۔ یہ اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں اور دوسروں پر بھی ظلم روا رکھتے ہیں کیونکہ ان کی ہدایت میں سدِّ راہ بنتے ہیں۔
ان سے نہ ڈرو، مجھ سے ڈرو
قرآن اس لیچڑ اور خشونت پسند گروہ کو ظالم قرار دینے کے بعد فرماتا ہے: ان کی زہریلی اور حوصلہ شکن باتوں سے ہرگز نہ ڈرو اور صرف مجھ سے ڈرو(فَلاَ تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي )۔ یہ اس لئے فرمایا کہ ممکن تھا بعض لوگ ان سے وحشت زدہ ہوں۔ یہ تربیت توحید اسلامی کا ایک کلی اور بنیادی اصول ہے کہ خدا کے علاوہ ( یا پھر نافرمانی حق کے سوا) کسی چیز یا شخص سے نہ ڈرنا ہر صاحبِ ایمان مسلمان کا شعار ہے۔ اگر روح و جان پر اس فکر کی حکمرانی ہو تو اہل ایمان کو کبھی شکست نہ ہو گی۔ لیکن وہ مسلمان نما جو اس حکم کے برعکس کبھی مشرقی طاقت سے خائف ہوں او رکبھی مغربی طاقت سے خوف زدہ، کبھی داخلی منافقین سے لرزاں ہوں کبھی خارجی دشمنوں سے ترساں------ یعنی خدا کے سوا ہر چیز اور ہر شخص سے ڈریں وہ ہمیشہ زبوں حال، ذلیل اور شکست خوردہ رہیں گے۔
تکمیل نعمتِ خدا
قبلہ کی تبدیلی کے ضمن میں آخری دلیل یوں بیان ہوئی ہے: یہ اس لئے ہوا کہ میں تمہاری تربیت کروں، تمہیں تعصب کی قید سے چھڑاوں اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دوں تاکہ تمہاری ہدایت ہو سکے (وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ)۔ قبلہ کی تبدیلی درحقیقت، مسلمانوں کےلئے ایک طرح کی تربیت اور تکمیل نعمت تھی تاکہ وہ نظم و ضبط سے آشنا ہوں اور تقلید و تعصب سے دور ہو جائیں کیونکہ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ خداوند عالم نے ابتداء میں مسلمانوں کی صفوں کو بت پرستوں سے ممتاز کرنے کےلئے حکم دیا کہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھو تاکہ ان کا مقام مشرکین کے مقابلے میں واضح ہو جائے کیونکہ مشرکین کعبہ کو سجدہ کرتے تھے جو اس وقت بہت بڑا بت خانہ بنا ہوا تھا لیکن ہجرت کے بعد جب حکومت اسلامی کی تشکیل ہو چکی کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم صادر ہوا اور مسلمان توحید کے قدیم ترین مرکز کی طرف منہ کرنے لگے اور یوں تکامل و تربیت کا یک مرحلہ طے ہو گیا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 152 کے تحت ملاحظہ کریں۔
رسول خدا کے پروگرام
Tafsīr Nemūna · Vol. 1گذشتہ آیت کے آخری حصے میں خداوند عالم نے قبلہ کی تبدیلی کی ایک دلیل تکمیل نعمت اور ہدایت مخلوق بیان کی ہے۔ زیر بحث آیت میں لفظ ”کما“ اسی طرف اشارہ ہے کہ صرف قبلہ کی تبدیلی تمہارے لئے نعمت خدا نہیں بلکہ خدانے تمہیں اور بھی بہت سی نعمتیں دی ہیں۔ جیسا کہ میں نے تمہاری نوع میں سے تمہارے لئے رسول بھیجاہے۔ لفظ ”منکم“ (یعنی تمہاری جنس سے) ممکن ہے اس طرف اشارہ ہو کہ وہ نوع بشر میں سے ہے اور صرف بشر ہی بشر کے لئے مربی، رہبر اور نمونہ ہو سکتاہے اور وہی اپنی نوع کی تکالیف ، ضروریات ،اور مسائل سے آگاہ ہوتاہے اور یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے یا یہ مقصد ہے کہ وہ تمہارے قبیلہ و خاندان میں سے ہے اور تمہارا ہم وطن ہے کیونکہ شدید نسلی تعصب کی وجہ سے ممکن نہ تھا کہ عرب کسی ایسے پیغمبر کے زیر بار ہوتے جو ان کی نسل وقوم میں سے نہ ہوتا جیسا کہ سورہ شعراء کی آیت ۱۹۸ اور ۱۹۹ میں ہے:۔ وَلَوْ نَزَّلْنَاهُ عَلَى بَعْضِ الْأَعْجَمِينَ فَقَرَأَهُ عَلَيْهِم مَّا كَانُوا بِهِ مُؤْمِنِينَ اگر ہم قرآ ن ایسے شخص پر نازل کرتے جو عرب نہ ہو تا اور وہ ان کے سامنے اسے پڑھتا تو یہ ہرگز ایمان نہ لاتے۔ یہ ان کے لئے بہت اہم نعمت شمار ہوتی تھی کہ پیغمبر خود انہی میں سے تھے البتہ یہ تو ابتدائے کار کی بات تھی لیکن آخر میں قوم، قبیلہ، وطن اور جغرافیائی سرحدوں کا معاملہ اسلامی پروگراموں سے حذف کردیاگیا اور اسلام کے حقیقی اور دائمی قانون کا اعلان کیا گیا جو وطن ، مذہب اور نسل کی بجائے انسانیت کو متعارف کراتاہے۔ اس نعمت کے تذکرے کے بعد چار دوسری نعمتوں کی طرف اشارہ کیاگیاہے جو انہیں پیغمبر کی برکت سے حاصل ہوئی تھیں: ۱۔ وہ ہماری آیا ت تمہارے سامنے تلاوت کرتاہے: (یتلوا علیکم ایتنا)۔ لفظ "یتلوا" لغت میں تلاوت کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے پے در پے لے آنا۔ اسی لئے جب عمارتیں کسی مسلسل صحیح نظام کے تحت بن رہی ہوں تو عرب اسے تلاوت سے تعبیر کرتے ہیں۔ یعنی پیغمبر خدا کی باتیں ایک صحیح اور مناسب نظام کے تحت پے در پے ۔ تمہارے سامنے پڑھتا ہے تا کہ تمہارے دلوں کو تیار کرے کہ وہ انہیں قبول کریں اور ان کے معانی سمجھیں۔ یہ منظم اور مناسب تلاوت تعلیم و تربیت کے لئے آمادگی پیدا کرتی ہے۔ جس کی طرف بعد کے جملوں میں اشارہ ہوگا۔ ۲۔ وہ تمہاری تربیت و پرورش کرتاہے: (و یزکیکم)۔ راغب مفردات میں کہتاہے کہ تزکیہ کا معنی ہے بڑھا نا اور نشو و نما دینا۔ یعنی پیغمبر آیات خدا کے ذریعے تمہارے معنوی و مادی اور انفرادی و اجتماعی کمالات کو بڑھاتاہے اور تمہیں نمو بخشتاہے۔ تمہارے وجود کی شاخوں پر فضیلت کے پھول کھلاتا ہے اور زمانہ جاہلیت کی بری صفات جو تمہارے معاشرے کو آلودہ کئے ہوئے ہیں ان کے زنگ سے تمہارے وجود کو پاک کرتاہے۔ ۳۔ تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتاہے: (و یعلمکم الکتاب و الحکمة)۔اگر چہ تعلیم، تربیت پر مقدم ہے لیکن جیسا کہ پہلے بھی اشارہ کرچکے ہیں کہ اس مقصد کو ثابت کرنے کے لئے کو اصل مقصد تربیت ہے اسے تعلیم سے پہلے بیان فرمایا چونکہ تعلیم تو مقصد کے لئے وسیلہ ہے۔ باقی رہا کتاب و حکمت کا فرق یہ ممکن ہے کہ کتاب قرآن کی آیات اور وحی الہی کی طرف اشارہ ہو جو بصورت اعجاز پیغمبرؐ پر نازل ہوئی اور حکمت سے مراد ہو پیغمبرؐکی گفتگو اور تعلیمات جو حقائق قرآن کی وضاحت اور تفسیر کے لئے ہیں اور اس کے قوانین و احکام کو عملی شکل دینے کے لئے بیان فرمائی جاتی رہی ہیں۔ انہی تعلیمات کو سنت کہتے ہیں جن کا سرچشمہ وحی الہی ہی ہے۔ یہ بھی ہوسکتاہے کہ کتاب احکام و قوانین کی طرف اور حکمت اسرار، فلسفہ، عدل اور اس کے نتائج کی طرف اشارہ ہو۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ حکمت سے مراد وہ حالت اور استعداد ہے جو تعلیمات قرآن سے پیدا ہوتی ہے اور اس کے ہوتے ہوئے انسان تمام امور کا حساب و کتاب رکھتاہے اور ہر ایک کو اس کے مقام پر بجا لاتا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر فی ظلال، ج۱، ص۱۹۴۔)۔ تفسیر المنار کا مؤلف یہ تفسیر ذکر کرکے کہ حکمت سے مراد سنت ہے اسے غیر صحیح قرار دیتا ہے اور اس کے لئے سورہ بنی اسرائیل کی آیت ۳۹ سے استدلال کرتا ہے۔ جس میں فرمایا گیا ہے: ذلک مما اوحی الیک ربک من الحکمة یہ ایسے امور ہیں جنہیں تمہارا پروردگار حکمت میں سے تم پر وحی کرتا ہے۔ ہمارے نزدیک اس اعتراض کا جواب واضح ہے اور وہ یہ کہ حکمت کا مفہوم وسیع ہے لہذا ہوسکتاہے یہاں آیات قرآن اور وہ اسرار مراد ہوں جو وحی کے ذریعے پیغمبر پر نازل ہوئے جہاں حکمت کا ذکر کتاب (قرآن) کے ساتھ آیاہے (جیسے زیر نظر اور ایسی دیگر آیات ) وہاں مسلما ًحکمت سے مراد کتاب کے علاوہ کچھ اور ہے اور وہ سنت کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ہوسکتی۔ ۴۔ تم جو نہیں جانتے وہ تمہیں اس کی تعلیم دیتاہے: (و یعلمکم مالم تکونوا تعلمون)۔ یہ مفہوم اگرچہ گذشتہ جملے میں موجود ہے جس میں کتاب و حکمت کی تعلیم کا ذکر ہے لیکن قرآن اسے خصوصیت سے الگ بیان کررہاہے تا کہ انہیں سمجھائے کہ اگر انبیاء و رسل نہ ہوتے تو بہت سے علوم ہمیشہ کے لئے مخفی رہتے۔ وہ فقط اخلاقی و اجتماعی رہبر نہیں ہیں۔ بلکہ علمی رہنما بھی ہیں ان کی رہنمائی کے بغیر انسانی علوم کے کسی پہلو میں پختگی ممکن نہ تھی۔ جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے ظاہر ہوتاہے کہ زیر نظر آیت میں خدانے اپنی پانچ نعمتوں کی طرف اشارہ کیاہے جو یہ ہیں: پہلی۔۔۔۔ پیغمبر کا نوع بشر میں سے ہونا۔ دوسری۔۔۔۔ لوگوں کے سامنے آیات الہی کی تلاوت کرنا۔ تیسری اور چوتھی۔۔۔۔ تعلیم و تربیت کرنا۔ اور پانچویں۔۔۔۔ لوگوں کو ان امور کی تعلیم دینا جو پیغمبر کے بغیر وہ نہیں جانتے تھے۔ خدا کی نعمتوں کے ذکر کے بعد اگلی آیت میں لوگوں کو بتایاجارہاہے کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان نعمتوں کا شکر ادا کیا جائے اور ہر نعمت سے صحیح طور پر استفادہ کیاجائے جو سپاس گزاری کا طریقہ ہے اور کفرانِ نعمت نہ کیاجائے۔ فرماتاہے: مجھے یاد رکھو تا کہ میں تمہیں یاد رکھوں اور میرا شکر بجالاؤ اور کفران نعمت نہ کرو (فاذکرونی اذکرکم و اشکروا لی و لا تکفرون)۔ واضح ہے کہ (مجھے یاد کرو تا کہ میں تمہیں یاد کروں) یہ جملہ خدا اور بندوں کے در میان کسی ایسے رابطے کی طرف اشارہ نہیں جیسے انسانوں کے در میان ہوتاہے کہ وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں: تم ہمیں یاد کیاکرو ہم تمیں یاد کیاکریں گے بلکہ یہ ایک تربیتی و تکوینی بنیاد کی طرف اشارہ ہے ۔ یعنی مجھے یاد رکھو۔۔۔۔۔ ایسی پاک ذات کی یاد جو تمام خوبیوں اور نیکیوں کا سرچشمہ ہے اور اس طرح اپنی روح اور جان کو پاکیزہ اور روشن رکھو اور رحمت پروردگار کی قبولیت کے لئے آمادہ رہو۔ اس ذات کی طرف متوجہ رہنا اور اسے یاد رکھنا ہر قسم کی فعالیتوں میں زیادہ مصمم ، زیادہ قوی اور زیادہ متحد کردے گا۔ اسی طرح شکر گزاری اور کفران نعمت نہ کرنا کوئی تکلفا نہیں اور یہ فقط کلمات کی زبان سے ادائیگی تھی۔ بلکہ مقصد یہ ہے کہ ہر نعمت کو ٹھیک اس کی جگہ پر صرف کرنا اور اسی مقصد کی راہ میں خرچ کرنا جس کے لئے وہ پیدا کی گئی ہے تا کہ یہ امر خدا تعالی کی نعمت و رحمت میں اضافے کا باعث ہو۔ چند اہم نکات:
فاذکرونی اذکرکم“کی تفسیر
مفسرین نے اس جملے کی تشریح میں بہت سی باتیں کی ہیں۔ بندوں کے یاد کرنے اور خدا کے یاد کرنے سے کیا مراد ہے، اس سلسلے میں بہت سے مفاہیم بیان کئے گئے ہیں۔ جنہیں تفسیر کبیر میں فخر الدین رازی نے دس موضوعات کے تحت جمع کیا ہے: ۱۔ مجھے اطاعت کے ذریعے یاد کرو تا کہ میں اپنی رحمت کے ذریعے تمہیں یاد کروں۔ اس مفہوم کی شاہد سورہ آل عمران کی آیت ۱۳۲ ہے: اطیعوا اللہ و الرسول لعلکم ترحمون۔ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔ ۲۔ مجھے دعا کے ساتھ یاد کرو تا کہ میں تمہیں اجابت کے ساتھ یاد کروں ۔ اس کی شاہد سورہ مومن کی آیت ۶۰ ہے۔ جس میں فرمایا گیا ہے: ادعونی استجب لکم۔ مجھ سے دعا کرو تو میں قبول کروں گا۔ ۳۔ مجھے ثناء و طاعت کے ذریعے یاد کرو تا کہ میں تمہیں ثناء و نعمت سے یاد کروں۔ ۴۔ مجھے دنیا میں یاد کرو تا کہ میں تمہیں آخرت میں یاد کروں۔ ۵۔ مجھے خلوتوں میں یاد کرو تا کہ میں تمہیں اجتماعات میں یاد کروں۔ ۶۔ مجھے نعمتوں کی فراوانی کے وقت یاد کرو میں تمہیں سختیوں میں یاد کروں گا۔ ۷۔ مجھے عبادت کے ذریعے یاد کرو تا کہ میں تمہاری مدد کروں۔ اس کا شاہد سورہ الحمد کا یہ جملہ ہے: ایاک نعبد و ایاک نستعین۔ ۸۔ مجھے مجاہدت و کوشش کے ذریعے یاد کرو تا کہ میں تمہیں ہدایت کے ذریعے یاد کروں۔ اس کی شاہد سورہ عنکبوت کی آیہ ۶۹ ہے جس میں فرمایا گیا ہے: و الذین جاہدوا فینا لنہدینہم سبلنا۔ جو ہماری راہ میں میں کوشش کرتے ہم انہیں اپنے راستوں کی ہدایت کرتے ہیں۔ ۹۔ مجھے صدق و اخلاص سے یاد کرو، میں تمہیں نجات اور مزید خصوصیت سے یاد کروں گا۔ ۱۰۔ میری ربوبیت کا تذکرہ کرو، میں رحمت کے ساتھ یاد کروں گا۔ (ساری سورہ حمد اس معنی کی شاہد بن سکتی ہے)۔ (بحوالہ: تفسیر کبیر از فخر رازی، ج۴، ص۱۴۴ (مختصر تفسیر اور کچھ اضافے کے ساتھ))۔ ان میں سے ہر مفہوم آیت کے وسیع جلووں میں سے ایک جلوہ ہے اور زیر نظر آیت میں یہ تمام مفاہیم بلکہ ان کے علاوہ بھی مطالب شامل ہیں مثلا: مجھے شکر کے ساتھ یاد کرو تا کہ میں تمہیں فراوانی نعمت سے یاد کروں۔ سورہ ابراہیم کی آیہ ۷ میں ہے: لئن شکر تم لا زیدنکم۔ اگر تم شکر کرو تو میں تمہیں زیادہ دوں گا۔ جیسا کہ ہم کہہ چکے، بے شک خدا کی طرف ہر قسم کی توجہ تکوینی و تربیتی اثر رکھتی ہے۔یاد خدا سے یہ اثر انسان تک پہنچتاہے اور ان توجہات کے نتیجہ میں روح و جان ان برکات کے نزول کی استعداد پیدا کر لیتی ہے جن کا تعلق یاد خدا سے ہے۔
ذکر خدا کیا ہے
یہ مسلم ہے کہ ذکر خدا سے مراد صرف زبان سے یاد کرنا نہیں بلکہ زبان تو دل کی ترجمان ہے یعنی دل و جان سے اس کی ذات پاک کی طرف توجہ رکھا کرو۔ وہ توجہ جو انسان کو گناہ سے باز رکھے اور اس کے حکم کی اطاعت کے لئے آمادہ کرے۔ اسی بناء پر متعدد احادیث میں پیشوایان اسلام سے منقول ہے کہ ذکر خد ا سے مرادعملی یادآوری ہے۔ جیسا کہ پیغمبر اکرم ﷺ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ آپ نے حضرت علی علیہ السلام کو وصیت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: ثلاث لاتطیقھا ھذہ الامة: المواساة للحق فی مالہ و انصاف الناس من نفسہ و ذکر اللہ علی کل حال و لیس ھو سبحان اللہ و الحمد للہ و لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر و لکن اذا ورد علی ما یحرم اللہ علیہ خاف اللہ تعالی عندہ و ترکہ۔ تین کام ایسے ہیں جو یہ امت (مکمل طور پر) انجام دینے کی توانائی نہیں رکھتی: اپنے مال میں دینی بھائی کے ساتھ مواسات و برابری، اور اپنے اور دوسروں کے حقوق کے بارے میں عادلانہ فیصلہ اور خدا کو ہر حالت میں یاد رکھنا اور اس سے مراد سبحان اللہ و الحمد اللہ و لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر کہنا نہیں بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ جب کوئی فعل حرام اس کے سامنے آئے تو خدا سے ڈرے اور اسے ترک کر دے۔( تفسیر نور الثقلین، ج۱، ص۱۴۰ بحوالہ کتاب خصال)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 154 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
شہداء
Tafsīr Nemūna · Vol. 1گذشتہ آیات میں تعلیم و تربیت اور ذکر و شکر کے متعلق گفتگو تھی۔ ان کے وسیع تر مفہوم جس میں اکثر دینی احکام شامل ہیں کو سامنے رکھتے ہوئے محل بحث پہلی آیت میں صبر و استقامت کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے جس کے بغیر گذشتہ مفاہیم کبھی عملی شکل اختیار نہیں کر سکتے۔ پہلے فرمایا: اے ایمان والو! صبر و استقامت اور نماز سے مدد حاصل کرو (یا یھا الذین امنوا استعینوا بالصبر و الصلوة) اور ان دو قوتوں (استقامت اور خدا کی طرف توجہ ) کے ساتھ مشکلات و سخت حوادث سے جنگ کے لئے آگے بڑھو تو کامیابی تمہارے قدم چومے گی کیونکہ خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے (ان اللہ مع الصبرین)۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ صبر کا معنی ہے بدبختیوں کو گوارا کرنا۔ اپنے آپ کو ناگوار حوادث کے سپر کرنا اور عوامل شکست کے سامنے ہتھیار ڈال دینا لیکن صبر کا مفہوم اس کے برعکس ہے۔ صبر و شکیبائی کا معنی ہے ہر مشکل اور حادثے کے سامنے استقامت ۔ اسی لئے بعض علماء اخلاق نے صبر کے تین پہلو بیان کئے ہیں۔ ۱۔ اطاعت پر صبر (ان مشکلات کے مقابلے میں صبر کرنا جو اطاعت کی راہ میں پیش آئیں)۔ ۲۔ گناہ پر صبر (سرکش و طغیان خیز گناہ اور شہوات پر ابھارنے والے اسباب کے مقابلے میں قیام کرنا)۔ ۳۔ مصیبت پر صبر (ناگوار حوادث کے مقابلے میں ڈٹے رہنا، پریشان نہ ہونا اور حوصلہ نہ ہارنا)۔ ایسے موضوعات بہت کم ہیں جن کی صبر و استقامت کی طرح قرآن مجید میں تکرار و تاکید ہے۔ قرآن مجید میں تقریبا ستر مرتبہ صبر کے متعلق گفتگو ہوئی جن میں دس مقامات خود پیغمبر اکرم ﷺ کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔ بڑے بڑے جوانمردوں کے حالات زندگی گواہ ہیں کہ ان کی کامیابی کا اہم ترین یا واحد عامل صبر تھا۔ جو لوگ اس خوبی سے بے بہرہ ہیں وہ بہت سے مصائب و آلام میں شکست کھا جاتے ہیں بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ انسان کی پیش رفت اور ترقی میں جس قدر کردار صبر ادا کرتا ہے، اتنا اسباب، استعداد اور ہوشیاری کا عمل دخل نہیں۔ اسی بناء پرقرآن مجید میں نہایت تاکیدی انداز سے اس کا ذکر آیا ہے۔ قرآن ایک مقام پر کہتا ہے: انما یوفی الصبرون اجرہم بغیر حساب۔ صابرین بے حساب اجر و جزا حاصل کریں گے۔ (زمر۔۱۰) ایک اور مقام پر حوادث پر صبر کرنے کے بارے میں ہے: ان ذلک من عزم الامور۔ یہ محکم ترین امور میں سے ہے۔ در اصل استقامت اور پامردی انسان کے بلند ترین فضائل میں سے ہے اور اس کے بغیر باقی فضائل کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔ اسی لئے نہج البلاغہ میں ہے: علیکم بالصبر فان الصبر من الایمان کا الراس من الجسد و لا خیر فی جسد لا راس معہ و لا فی ایمان لا صبر معہ۔ صبر و استقامت تمہارے لئے لازمی ہے کیونکہ ایما ن کے لئے صبر کی وہی اہمیت ہے جو بدن کے لئے سر کی، جیسے سر کے بغیر بدن کا کوئی فائدہ نہیں، ایسے ہی صبر کے بغیر ایمان میں کوئی پائیداری نہیں اور نہ اس کا کوئی نتیجہ ہے۔(بحوالہ: نہج البلاغہ، کلمات قصار۸۲)۔ اسلامی روایات میں صبر کو اس لئے اعلی ترین قرار دیا گیا ہے تا کہ انسان گناہ کے وسائل مہیا ہونے کے باوجود استقامت دکھائے اور لذت گناہ سے آنکھیں بند کر لے ۔ ابتدائی انقلابی مسلمان چاروں طرف سے طاقتور، خونخوار اور بے رحم دشمنوں میں گھرے ہوئے تھے لہذا محل بحث آیت میں انہیں خصوصیت سے حکم دیا گیا کہ مختلف حوادث کے مقابلے میں صبر و استقامت سے کام لیں۔ خدا پر ایمان کی صورت میں نتیجہ شخصی استقلال، اعتماد اور اپنی مدد آپ کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ تاریخ اسلام نے اس حقیقت کی بڑی وضاحت سے نشاندہی کی ہے کہ یہی تمام کامیابیوں کی حقیقی بنیاد تھی۔ دوسری چیز جو مندرجہ بالا آیت میں صبر کے ساتھ خصوصی اہمیت سے متعارف کرائی گئی ہے، نماز ہے ۔ اسی لئے اسلامی احادیث میں ہے: کان علیؐ اذا اھالہ امر فزع قام الی الصلوة ثم تلی ھذہ الایة و استعینوا بالصبر و الصلوة۔ حضرت علی علیہ السلام کو جب کوئی مشکل در پیش ہوتی تو نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے اور نماز کے بعد اس مشکل کو حل کرنے کے لئے نکلتے اور اس آیت کی تلاوت کرتے و استعینوا بالصبر و الصلوة۔( المیزان ، ج۱، ص۱۵۳، بحوالہ کتاب کافی)۔ اس بات پر بالکل تعجب نہیں ہونا چاہیے کیونکہ جب انسان ایسے سخت حوادث اور ناقابل برداشت مشکلات سے دوچار ہوتو وہ ان کے سامنے اپنی طاقت اور استطاعت کو ناچیز سمجھتاہے اور قہرا وہ ایک ایسے سہارے کا محتاج ہوتا ہے جو ہر جہت سے غیر محدود اور لامتناہی ہو۔ نماز انسان کو ایسے ہی مبداء سے مربوط کر دیتی ہے اور اس کا سہارا پا کر انسان، مطمئن دل سے آسانی کے ساتھ مشکلات کی خوفناک موجوں کو توڑ کر نکل جاتا ہے۔ اسی لئے مندرجہ بالا آیت میں در اصل دو اصول سکھائے گئے ہیں۔ ایک خدا پر بھروسہ کرنا جس کی طرف نماز اشارہ کرتی ہے اور دوسرا اپنی مدد آپ اور اپنے آپ پر اعتماد جسے صبر کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔ پامردی، صبر اور استقامت کے مسئلے کے بعد دوسری آیت میں شہداء کی ابدی اور ہمیشہ کی زندگی کے متعلق گفتگو کی گئی ہے جس کا صبر و استقامت سے قریبی ربط ہے۔ پہلے ان لوگوں (شہداء) کو مردہ کہنے سے منع کیا گیا ہے۔ فرمایا: جو راہ خدا میں قتل ہوں اور شربت شہادت نوش کریں، انہیں کبھی مردہ نہ کہو (و لا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات)۔ اس کے بعد مزید تاکید سے فرمایا: بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم شعور و ادراک نہیں رکھتے (بل احیاء و لکن لا تشعرون)۔ عموما ہر تحریک میں ایک گروہ بزدل اور راحت طلب لوگوں کا ہوتا ہے جو اپنے آپ کو ایک طرف لے جاتا ہے اور کنارہ کش رہتا ہے۔ یہ لوگ اتنا ہی نہیں کرتے کہ خود کام نہ کریں بلکہ دوسروں کو بھی بد دل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب بھی کوئی ناخوشگوار حادثہ رونما ہوتاہے تو یہ لوگ اس پراظہار افسوس کرتے ہیں اور اسے اس تحریک اور قیام کیلئے بے فائدہ اور بے مصر ف ہونے کی دلیل قرار دیتے ہیں حالانکہ وہ اس سے غافل ہیں کہ آج تک کوئی مقدس مقصد اور گراں قدر مشن قربانی یا قربانیوں کے بغیر حاصل نہیں ہوا اور یہ اس دنیا کی ایک سنت رہی ہے۔ قرآن کریم بار ہا ایسے لوگوں کے متعلق بات کرتاہے اور انہیں سخت سرزنش اور ملامت کرتا ہے۔ اس قسم کی لوگوں کا ایک گروہ ابتدائے اسلام میں بھی تھا۔ جب کوئی شخص میدان جہاد میں شہادت کی سعادت حاصل کرتا تو یہ لوگ کہتے فلاں مر گیا اور اس کے مرنے پر اظہار افسوس کر کے دوسروں کے اضطراب کا سامان کرتے۔ خداوند عالم ایسی زہریلی گفتگو کے جواب میں ایک عظیم حقیقت سے پردہ اٹھاتا ہے اور صراحت سے کہتا ہے کہ تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ راہ خدا میں جان دینے والوں کو مردہ کہو۔ وہ زندہ ہیں۔ وہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہیں اور بارگاہ خدا سے معنوی غذا اور روزی حاصل کرتے ہیں، ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہیں اور وہ اپنی کامیاب سرنوشت سے مکمل طور پر خوش و خرم ہیں لیکن تم لوگ جو عالم مادہ کی محدود چار دیواری میں محبوس و مقید ہو، ان حقائق کا ادراک نہیں کر سکتے۔ چند اہم نکات
شہداء کی ابدی زندگی
شہداء کی زندگی کیسی ہے، اس بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ اس میں اختلاف یہ ہے کہ شہداء ایک طرح کی برزخی اور روحانی زندگی رکھتے ہیں کیونکہ ان کا جسم تو عموما منتشر ہو جاتا ہے۔ امام صادق علیہ السلام کے ارشاد کے مطابق ان کی زندگی ایک مثالی جسم کے ساتھ ہے (وہ بدن جو عام مادے سے ماوراء ہے لیکن اس بدن کے مشابہ ہے جس کی تفصیل سورہ مومنون کی آیہ ۱۰۰ کے ذیل میں آئے گی جس میں فرمایا گیاہے: و من وراعھم برزخ الی یوم یبعثون)۔[تفسیر نور الثقلین، ج ۳، ص ۵۵۹۔ سورہ مومنون آیہ ۱۰۰ کے ذیل میں] بعض مفسرین اسے شہداء کے ساتھ مخصوص ایک غیبی زندگی قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اس زندگی کی کیفیت اور انداز کا زیادہ علم نہیں رکھتے۔ کچھ مفسرین اس مقام پر حیات کو ہدایت اور موت کو جہالت کے معنی میں لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آیت کا معنی ہے کہ جو شخص راہ خدا میں قتل ہو جائے، اسے گمراہ نہ کہو بلکہ وہ ہدایت یافتہ ہے۔ بعض شہداء کی دائمی زندگی کا مفہوم یہ قرار دیتے ہیں کہ ان کا نام اور مقصد زندہ رہے گا۔ جو تفسیر ہم بیان کر چکے ہیں اس کی طرف نظر کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ ان میں سے کوئی احتمال بھی قابل قبول نہیں نہ اس کی ضرورت ہے کہ مجازی معنی میں آیت کی تفسیر کی جائے اور نہ برزخ کی زندگی کو شہداء سے مخصوص قرار دینے کی ضرورت ہے بلکہ شہداء ایک خاص قسم کی برزخی اور روحانی زندگی کے حامل ہیں۔ انہیں رحمت پروردگار کی قربت کا امتیاز حاصل ہے اور وہ طرح طرح کی نعمات سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔
مکتب شہید پرور
مسئلہ شہادت کی زیر نظر آیت اور قرآن کی دیگر آیات کے ذریعے اسلام نے ایک نہایت اہم اور تازہ عامل کے لئے میدان تیار کیا ہے ۔ یہ وہ عامل ہے جس سے حق کے لئے باطل کے مقابلے میں جنگ کی سکت پیدا ہوتی ہے ۔ یہ ایسا عامل ہے جس کی کارکردگی ہر قسم کے ہتھیار سے بڑھ کر ہے اور یہ ہر چیز سے زیادہ اثر انگیز ہے۔ یہ عامل ہر دور کے خطرناک ترین اور وحشت ناک ترین ہتھیاروں کو شکست سے دوچار کردیتاہے ۔ یہی حقیقت ہم نے اپنی آنکھوں سے اپنے ملک ایران میں انقلاب اسلامی کی پوری تاریخ میں بڑی وضاحت سے دیکھی ہے کہ عشق شہادت ہر قسم کے ظاہری اسباب کی کمی کے باوجود مجاہدین اسلام کی کامیابی کا عامل بنا۔ اگر ہم تاریخ اسلام اور ہمیشہ رہنے والے انقلابات میں اسلامی جہاد اور مجاہدین کے ایثار و قربانی کی تفصیلات پر غور کریں جنہوں نے اپنے پورے وجود سے اس دین پاک کی سربلندی کے لئے جانفشانی دکھائی ہے، تو ہمیں نظر آئے گا کہ ان تمام کامیابیوں کی ایک اہم وجہ اسلام کا یہ عظیم درس ہے کہ راہ خدا اور طریق حق و عدالت میں شہادت کا معنی فنا، نابودی اور مرنا نہیں بلکہ اس کا مطلب ہمیشہ کی زندگی اور ابدی افتخار و اعزاز ہے۔ جن مجاہدین نے اس مکتب عظیم سے ایسا درس یاد کیا ہے، ان کا مقابلہ کبھی عام جنگجوؤں سے نہیں کیا جا سکتا۔ عام سپاہی اپنی جان کی حفاظت کی فکر میں رہتا ہے لیکن حقیقی مجاہد کا منشاء اپنے مکتب کی حفاظت ہوتا ہے اور وہ پروانہ وار جان دیتا، قربان ہوتا اور فخر کرتا ہے۔
برزخ کی زندگی اور روح کی بقاء
اس آیت سے انسان کی حیات برزخ (موت کے بعد اور قیامت سے پہلے کی زندگی) کا بھی واضح ثبوت ملتا ہے اور یہ ان لوگوں کے لئے جواب ہے جو کہتے ہیں کہ قرآن نے روح کی بقاء اور برزخ کی زندگی کے متعلق کوئی گفتگو نہیں کی۔ اس موضوع کی مزید تشریح، شہدا کی حیات جاوداں، خدا کے ہاں اس کا بدلہ اور راہ خدا میں قتل ہونے والوں کا عظیم مرتبہ تفسیر نمونہ جلد سوم (سورہ آل عمران آیہ ۱۶۹ کے ذیل) میں پڑھیئے گا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 157 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 157 کے تحت ملاحظہ کریں۔
طرح طرح کی خدائی آزمائش
Tafsīr Nemūna · Vol. 1راہ خدا میں شہادت، شہداء کی ابدی زندگی اورصبر و شکر جن میں سے ہر ایک خدائی آزمائش کے مختلف رخ ہیں، کے ذکر کے بعد اس آیت میں بطور کلی آزمائش اور اس کی مختلف صورتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور اس کے یقینی اور غیر مبدل ہونے کا تذکرہ فرمایا گیا ہے۔ ارشاد ہوتاہے: یہ امر مسلم ہے کہ ہم تمہیں چند ایک امور مثلا خوف، بھوک، مالی و جانی نقصان اور پھلوں کی کمی کے ذریعے آزمائیں گے (وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوفْ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ)۔ چونکہ ان امتحانات میں کامیابی صبر و پائیداری کے بغیر ممکن نہیں لہذا آیت کے آخر میں فرمایا: اور بشارت دیجئے صبر و استقامت دکھانے والوں کو (و بشر الصابرین)۔ اور یہ ایسے افراد ہیں جو ان سخت آزمائشوں سے خوبصورتی سے عہدہ برآ ہوتے ہیں۔ انہیں بشارت دینا چاہئیے۔ باقی رہے سست مزاج اور بےاستقامت لوگ تو وہ آزمائشوں کے مقامات سے رو سیاہ ہو کر واپس آتے ہیں۔ بعد کی آیت صابرین کے بارے میں زیادہ تشریح کرتی ہے۔ ارشاد ہوتاہے: وہ ایسے اشخاص ہیں کہ جب کسی مصیبت کا سامنا کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم خدا کے لئے ہیں اور اسی کی طرف پلٹ کر جائیں گے (الذین اذآ اصابتہم مصیبة قالوا انا للہ و انا الیہ راجعون)۔ اس حقیقت کی طرف دیکھتے ہوئے کہ ہم اس کے لئے ہیں ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ نعمات زائل ہونے سے ہمیں کوئی دکھ نہیں ہونا چاہئیے کیونکہ یہ تمام نعمتیں بلکہ خود ہمارا وجود اس سے تعلق رکھتا ہے۔ آج وہ ہمیں کوئی چیز بخشتا ہے اور کل واپس لے لیتا ہے، ان دونوں میں کوئی نہ کوئی مصلحت ضرور ہے۔ اس واقعیت کی طرف توجہ رکھتے ہوئے کہ ہم سب اسی کی بارگاہ میں لوٹ کر جائیں گے، ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ یہ ہمیشہ رہنے کا گھر نہیں ہے۔ ان نعمتوں کا زوال اور ان عطیات کی کمی بیشی سب کچھ بہت جلد گزر جانے والی چیزیں ہیں اور یہ تکامل کا ذریعہ ہیں لہذا ان دو بنیادی اصولوں کی طرف توجہ کرنا صبر و استقامت کے جذبے کو بہت تقویت بخشتا ہے۔ واضح ہے انا للہ و انا الیہ راجعون سے مراد زبانی ذکر نہیں بلکہ اس کی حقیقت اور روح کی طرف متوجہ ہونا ہے۔ اس کے مفہوم میں توحید و ایمان کی ایک دنیا آباد ہے۔ زیر بحث آخری آیت میں عظیم امتحانات میں صبر کرنے والوں اور پامردی دکھانے والوں کے لئے خدا تعالی کے عظیم لطف و کرم کو بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا کا لطف و کرم اور درود و صلوات ہے (أُولَـئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ )۔ [المنار کا مؤلف لکھتا ہے کہ صلوات سے مراد بہت زیادہ تکریم، کامیابیاں، خدا کے یہاں مقام بلند اور بندگان خدا میں سربلندی ہے اور ابن عباس سے منقول ہے کہ اس سے مراد گناہوں کی بخشش ہے (المنار، ج۲، ص۴۰)۔لیکن واضح ہے کہ صلوات کا مفہوم وسیع ہے۔ اس میں یہ تمام امور، رحمت کا سایہ اور نعمات الہی بھی شامل ہیں]۔ یہ الطاف اور رحمتیں انہیں قوت بخشتی ہیں کہ وہ اس پر خوف و خطر راستے میں اشتباہ اور انحراف میں گرفتار نہ ہوں۔ لہذا آیت کے آخر میں فرمایا: اور وہی ہدایت یافتہ ہیں (اٴوْلَئِکَ ہُمْ الْمُہْتَدُونَ)۔ ان چند آیات میں خدا کی طرف سے عظیم امتحان اور اس کے مختلف رخ نیز کامیابی کے عوامل اور امتحان کے نتائج کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ چند اہم نکات
خدا لوگوں کی آزمائش کیوں کرتا ہے
آزمائش اور امتحان کے مسئلے پر بہت گفتگو کی گئی ہے۔ پہلے پہل جو سوال ذہن میں ابھرتا ہے، یہ ہے کہ کیا آزمائش اور امتحان کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ جو چیزیں غیر واضح ہیں، وہ واضح ہو جائیں اور ہماری جہالت و نادانی کے پلڑے میں کمی ہو سکے۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر خداوند عالم جس کا علم تمام چیزوں پر محیط ہے اور جو ہر شخص اور ہر شے کے اندرونی اور بیرونی اسرار سے آگاہ ہے اور زمین و آسمان کے غیوب کو اپنے بے پایاں علم سے جانتاہے، کیوں امتحان لیتا ہے۔ کیا کوئی چیز اس سے مخفی ہے جو امتحان کے ذریعے آشکار ہو جائے گی۔ اس اہم سوال کا جواب تلاش کرنا چاہئیے۔ آزمائش اور امتحان کا مفہوم خدا کے بارے میں اس مفہوم سے بہت مختلف ہے جو ہمارے درمیان مروج ہے۔ ہماری آزمائشوں کا مقصود وہی ہے جو اوپر بیان کیا جا چکا ہے یعنی مزید معلومات حاصل کرنا اور ابہام و جہل کو دور کرنا لیکن خدا کی آزمائش در حقیقت پرورش و تربیت ہی کا دوسرا نام ہے جس کی وضاحت یوں ہے کہ قرآن میں بیس سے زیادہ مقامات پر امتحان کی نسبت خدا تعالی کی طرف دی گئی ہے۔ یہ ایک قانون کلی ہے اور پروردگار کی دائمی سنت ہے کہ وہ پوشیدہ صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے (جسے قوت سے فعل تک پہنچنے کا عمل کہتے ہیں)۔ وہ بندوں کو تربیت دینے کے لئے آزماتا ہے جیسے فولاد کو زیادہ مضبوط بنانے کے لئے بھٹی میں ڈالا جاتا ہے۔ اصطلاح میں اسے آب دینا کہتے ہیں اسی طرح خدا تعالی آدمی کو شدید حوادث کی بھٹی میں پرورش و تربیت کے لئے ڈالتا ہے اور اسے مشکلات کا مقابلہ کرنے لئے تیار کرتا ہے۔ در اصل خدا کا امتحان اس تجربہ کا باغبان کی مانند ہے جو مستعد دانوں کو تیار زمینوں میں ڈالتا ہے۔ یہ دانے طبیعی عطیات سے استفادہ کرتے ہوئے نشو و نما پاتے ہیں اور آہستہ آہستہ مشکلات کا مقابلہ کرتے ہیں، حوادث سے بر سر پیکار رہتے ہیں اور سخت طوفان، کمر توڑ سردی اور جلا دینے والی گرمی کے سامنے کھڑے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی شاخوں پر خوبصورت پھول کھلتے ہیں یا وہ تنومند اور پر ثمر درخت بن جاتے ہیں۔ فوجی جوانوں کو جنگی نقطہ نظر سے طاقت و ربنا نے کے لئے مصنوعی جنگی مشقیں کرائی جاتی ہیں اور انہیں طرح طرح کی مشکلات، بھوک، پیاس ، گرمی، سردی، دشوار حوادث اور سخت مسائل سے گزارا جاتا ہے تا کہ وہ قومی اور پختہ کار ہو جائیں۔ خدا کی آزمائشوں کی رمز بھی یہی ہے۔ قرآن مجید ایک مقام پراس حقیقت کی تصریح کرتے ہوئے کہتا ہے: وَلِیَبْتَلِیَ اللهُ مَا فِی صُدُورِکُمْ وَلِیُمَحِّصَ مَا فِی قُلُوبِکُمْ وَاللهُ عَلِیمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ۔ جو تمہارے سینوں میں ہے، خدا اس کی آزمائش کرتا ہے تا کہ تمہارے دل مکمل طور پر خالص ہو جائیں اور وہ تمہارے سب اندرونی رازوں سے واقف ہے۔ (آل عمران۔ ۱۵۴) حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے امتحانات الہی کی بڑی پر مغز تعریف فرمائی ہے۔ آپ فرماتے ہیں: و ان کان سبحانہ اعلم بہم من انفسہم و لکن لتظہر الافعال التی بہا یستحق الثواب و العقاب۔ اگرچہ بندوں کی نفسیات خود ان سے زیادہ جانتا ہے، پھر بھی انہیں آزماتا ہے تا کہ اچھے اور برے کام ظاہر ہوں جو جزا و سزا کا معیار ہیں۔(بحوالہ: نہج البلاغہ، کلمات قصار، جملہ ۹۳)۔ یعنی انسان کی اندرونی صفات ہی ثواب و عقاب کا معیار نہیں جب تک کہ وہ انسان کے عمل و کردار سے ظاہر نہ ہوں۔ خدا اپنے بندوں کو آزماتا ہے تا کہ جو کچھ ان کی ذات میں پنہاں ہے، وہ عمل میں آ جائے اور استعداد، قوت سے فعل تک پہنچ جائے اور یوں وہ جزا یا سزا کا مستحق ہو جائے۔ اگر خدا کی آزمائش نہ ہوتی تو یہ استعدادیں ظاہر نہ ہوتیں اور انسانی شجر کی شاخوں پر اعمال کے پھل نہ اُگتے۔ اسلامی منطق میں یہی خدائی آزمائش کا فلسفہ ہے۔
خدا کی آزمائش ہمہ گیر ہے
جہان ہستی کا نظام چونکہ تکامل، پرورش اور تربیت کا نظام ہے اور تمام موجودات تکامل کے سفر میں ہیں۔ درخت اپنی مخفی استعداد پھل کے ذریعے ظاہر کرتے ہیں۔ طوفان آتے ہیں تو سمندر کی لہریں طرح طرح کی معدنیات کو ظاہر کرتی ہیں جس سے سمندر کی استعداد کا پتہ چلتا ہے۔ اس عمومی قانون کے مطابق انبیاء سے لے کر عامة الناس تک تمام لوگوں کی آزمائش ہونا چاہئیے تا کہ وہ اپنی استعداد ظاہر کریں۔ خدا کے امتحانات کی مختلف صورتیں ہیں، بعض مشکل ہیں اور بعض آسان ہیں لہذا ان کے نتائج بھی مختلف ہوتے ہیں۔ بہرحال آزمائش اور امتحان سب کے لئے ہے۔ قرآن مجید انسانوں کے عمومی امتحان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: اٴَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُتْرَکُوا اَنْ یَقُولُوا آمَنَّا وَہُمْ لاَیُفْتَنُون۔ کیا لوگوں کا گمان ہے کہ وہ کہیں گے کہ ہم ایمان لائے اور انہیں یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا۔(عنکبوت۔۲) قرآن نے انبیاء کے امتحانات کا بھی ذکر کیا ہے، فرماتا ہے: وَإِذْ ابْتَلَی إِبْرَاہِیمَ رَبُّہُ۔ خدا نے ابراہیم کا امتحان لیا۔ (بقرہ۔ ۱۲۴) ایک اور مقام پر ہے: فَلَمَّا رَآہُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَہُ قَالَ ہَذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّی لِیَبْلُوَنِی اَاَشْکُرُ اَمْ اَکْفُرُ۔ جب سلیمان کے پیروکار نے پلک جھپکنے میں دور کی مسافت سے تخت بلقیس حاضر کر دیا تو سلیمان نے کہا یہ لطف خدا ہے تا کہ میرا امتحان کرے کہ کیامیں اس کا شکر ادا کرتا ہوں کہ کفران نعمت کرتا ہوں۔ (سورہ نمل۔۴۰)
آزمائش کے طریقے
مندرجہ بالا آیت میں ان امور کے چند نمونے بیان ہوئے ہیں جن سے انسان کا امتحان ہوتا ہے۔ ان میں خوف ، بھوک، مالی نقصان، جان دینا شامل ہیں لیکن آزمائش انہی طریقوں میں منحصر نہیں بلکہ ان کے علاوہ بھی قرآن میں الہی آزمائش کے کچھ طریقے بیان کئے گئے ہیں ۔ مثلا اولاد، انبیاء، احکام الہی حتی کہ بعض خواب بھی آزمائش ہی کا ذریعہ ہیں۔ اسی طرح تمام نیکیاں اور برائیاں بھی خدائی آزمائشوں میں شمار ہوتی ہیں: و نبلوکم بالشر و الخیر۔ (انبیاء۔ ۳۵) اس بناء پر زیر نظر آیت میں امتحانات کے جو طریقے بیان کئے گئے ہیں، انہی پر بس نہیں بلکہ یہ خدائی آزمائشوں کے واضح نمونے ہیں۔ ظاہر ہے کہ امتحانا ت کے نتیجے میں لوگ دو حصوں میں تقسیم ہو جائیں گے۔ ایک جو امتحانات میں کامیاب ہو جائے گا اور دوسرا جو رہ جائے گا۔ مثلا اگر کہیں مرحلہ خوف در پیش ہو تو ایک گروہ اپنے تئیں اس سے دور رکھتا ہے تا کہ اسے کوئی تھوڑا سا ضرر بھی نہ پہنچے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مسئولیت اور جواب دہی سے بچتے ہیں۔ دوستی کے وسیلے نکال کر یا بہانے بنا کر جنگوں سے بھاگ جاتے ہیں۔ مثلا قرآن میں ان کی بات نقل کی گئی ہے: نخشی ان تصیبنا دآئرة۔ ہم ڈرتے ہیں کہ ہمیں کوئی ضرر نہ پہنچے۔ (مائدہ۔۵۲) یہ کہہ کر و ہ خدائی ذمہ داری سے روگردانی کر لیتے ہیں۔ کامیاب ہونے والے وہ لوگ ہیں جو خوف کے عالم میں ڈٹے رہتے ہیں اور ایمان و توکل کے ساتھ بڑھ چڑھ کر اپنے آپ کو جان نثاری کے لئے پیش کرتے ہیں۔ قرآن میں آیا ہے: الَّذِینَ قَالَ لَہُمْ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَکُمْ فَاخْشَوْہُمْ فَزَادَہُمْ إِیمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَکِیل۔ جب لوگ اہل ایمان سے کہتے تھے کہ حالات خطرناک ہیں اور تمہارے دشمن تیار ہیں، تم عقب نشین ہو جاؤ تو ان کے ایمان و توکل میں اضافہ ہو جاتا اور وہ کہتے ہمارے لئے خدا کافی ہے اور وہ کیسا اچھا کارساز ہے۔ (آل عمران۔ ۱۷۳) مشکلات اور آزمائشی عوامل جن کا ذکر زیر بحث آیت میں آیا ہے مثلا بھوک اور مالی و جانی نقصان، ان میں بھی سب ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اس سلسلے کے کچھ نمونے متن قرآن میں آئے ہیں جنہیں اپنے مقام پر بیان کیا جائے گا۔
آزمائشوں میں کامیابی کا راز
یہاں ایک اور سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ کہ جب تمام انسان ایک وسیع خدائی امتحان میں شریک ہیں تو ان میں کامیابی کا راستہ کون سا ہے۔ محل بحث آیت اس سوال کا جواب دیتی ہے اور قرآن کی کئی ایک دیگر آیات بھی اس مسئلے کو واضح کرتی ہیں ۔ اس سلسلے میں چند باتیں اہم ہیں جو ذیل میں بیان کی جاتی ہیں۔ ۱۔ امتحانات میں کامیابی کے لئے پہلا قدم وہی ہے جو اس چھوٹے سے پر معنی جملے میں بیان کیا گیا ہے: و بشر الصبرین۔یہ جملہ صراحت کرتا ہے کہ اس راہ میں صبر و استقامت، کامیابی کی رمز ہے اسی لئے صابرین اور با استقامت لوگوں کو کامیابی کی بشارت دی جا رہی ہے۔ ۲۔ اس جہان کے حوادث، سختیاں اور مشکلیں گزر جانے والی ہیں اور یہ دنیا گزرگاہ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ اس امر کی طرف توجہ کامیابی کا دوسرا عامل ہے۔ جسے اس جملہ میں بیان کیا گیا ہے: انا اللہ و انا الیہ راجعون۔ ہم خدا کے لئے ہیں اور ہماری بازگشت اسی کی طرف ہے۔ اصولی طور پر یہ جملہ جسے "کلمہ استرجاع" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، انقطاع الی اللہ یعنی تمام چیزوں اور تمام اوقات میں اس کی ذات پاک پر بھروسہ کرنا، کے عالی ترین دروس کا نچوڑ ہے۔ اگر ہم دیکھتے ہیں کہ بزرگان دین بڑے بڑے مصائب کے وقت قرآن سے الہام لیتے ہوئے یہ جملہ زبان پر جاری کرتے تھے تو یہ اس لئے ہوتا تھا کہ مصائب کی شدت انہیں ہلا نہ سکے اور خدا کی مالکیت اور تمام موجودات کی اس کی طرف بازگشت پر ایمان کے نتیجے میں وہ ان تمام حوادث کو گوارا کر لیں اور با استقامت رہیں۔ امیر المؤمنین علی علیہ السلام اس جملے کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ان قولنا انا اللہ اقرار علی انفسنا بالملک و قولنا و انا الیہ راجعون اقرار علی انفسنا بالہلک۔ یہ جو ہم کہتے ہیں "انا للہ" تو یہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ ہم اس کی ملکیت ہیں اور یہ جو کہتے ہیں "وانا الیہ راجعون"تو یہ اس کا اقرار ہے کہ ہم فنا اور ہلاک ہو جائیں گے۔ ۳۔ قوت الہی اور الطاف الہی سے مدد طلب کرنا ایک اور اہم عامل ہے کیونکہ عام لوگ جب حوادث سے دوچار ہوتے ہیں تو توازن برقرار نہیں رکھ پاتے اور اضطراب میں گرفتار ہو جاتے ہیں لیکن خدا کے دوستوں کا چونکہ واضح پروگرام اور ہدف ہوتا ہے لہذا وہ متحیر اور سرگرداں ہونے کی بجائے اطمینان و آرام سے اپنی راہ چلتے رہتے ہیں اور خدا بھی انہیں زیادہ روشن بینی عطا فرماتا ہے تا کہ انہیں صحیح راستے کے انتخاب میں اشتباہ نہ ہو۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے: و الذین جاہدوا فینا لنہدینہم سبلنا۔ جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں، ہم انہیں اپنے راستوں کی ہدایت کرتے ہیں۔ (عنکبوت۔۶۹) ۴۔ گذشتہ لوگوں کی تاریخ پر نظر رکھنا اور ان کے حالات کو سمجھنا خدائی آزمائشوں میں روح انسانی کی آمادگی اور ان امتحانوں میں کامیابی کے لئے بہت مؤثر ہے۔ انسان در پیش آنے والے مسائل میں اپنے آپ کو تنہا محسوس کرے تو ان سے مقابلے کی قوت کمزور پڑ جاتی ہے لیکن اگر اس حقیقت کی طرف توجہ دی جائے کہ تاریخ کے طویل دور میں سب اقوام کے لئے تمام طاقت فرسا مشکلات اور خداکی سخت آزمائشیں موجود رہی ہیں تو ہر قوم و ملت کے امتحانات کا نتیجہ انسان کی استقامت میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی بناء پر قرآن مجید پیغمبر ﷺ کو رغبت دلانے نیز ان کی اور مؤمنین کی روحانی تقویت کے لئے گذشتہ لوگوں کی تاریخ اور ان کی زندگی کے دردناک حوادث کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مثلا کہتا ہے: و لقد استہزی برسل من قبلک۔ اگر آپ سے طنز و استہزاء کیا جاتا ہے تو گھبرائیے نہیں، گذشتہ پیغمبروں سے بھی جاہل لوگ ایسا کرتے رہے ہیں۔ (انعام ۔۱۰) ایک اور مقام پر فرماتا ہے: و لقد کذبت رسل من قبلک فصبروا علی ما کذبوا و اوذوا حتی آتہم نصرنا۔ اگر آپ کی تکذیب کی جاتی ہے تو تعجب کی بات نہیں۔ گذشتہ انبیاء کی بھی تکذیب کی گئی ہے لیکن انہوں نے مخالفین کی اس تکذیب کے مقابلے میں اور جب انہیں آزار و تکلیف پہنچائی گئی، پامردی و استقامت دکھائی۔ آخر کار ہماری نصرت و مدد ان تک آپہنچی۔ (انعام ۔ ۳۴) ۵۔ اس حقیقت کی طرف متوجہ ہونا کہ یہ تمام حوادث خدا کے سامنے رونما ہو رہے ہیں اور وہ تمام امور سے آگاہ ہے، پائیداری کے لئے ایک اور عامل ہے۔ جو لوگ کسی سخت مقابلے میں شریک ہوں، جب انہیں احساس ہو کہ ہمارے کچھ دوست میدان مقابلہ کے اطراف میں موجود ہیں، مشکلات برداشت کرنا ان کے لئے آسان ہو جاتا ہے اور وہ زیادہ شوق و ذوق سے مشکلات کے مقابلہ کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ جب چند تماشائیوں کا وجود روح انسانی کو اتنا متاثر کر سکتا ہے تو اس حقیقت کی طرف متوجہ ہونا کہ خداوند عالم میدان آزمائش میں میری کاوشوں کو دیکھ رہا ہے، اس جہاد کو جاری رکھنے کے لئے کس قدر عشق و لولہ پیدا کرے گا۔ قرآن کہتاہے : جب حضرت نوح علیہ السلام کو اپنی قوم کی طرف سے نہایت سخت رد عمل کا سامنا ہوا تو انہیں کشتی بنانے کا حکم دیا گیا۔ قرآن کے الفاظ میں: و اصنع الفلک باعیننا۔ ہمارے سامنے کشتی بناؤ۔ (ہود۔ ۳۷) باعیننا(ہمارے علم کی آنکھوں کے سامنے) اس لفظ نے حضرت نوح علیہ السلام کو اس قدر قلبی قوت عطا کی کہ دشمنوں کا سخت رویہ اور استہزاء ان کے پائے استقلال میں ذرا سی بھی لرزش پیدا نہ کر سکا۔ سید الشہداء، مجاہدین راہ خدا کے سردار حضرت امام حسین علیہ السلام سے یہی مفہوم منقول ہے۔ میدان کربلا میں جب آپ کے کچھ عزیز دردناک طریقے سے جام شہادت نوش کر چکے تو آپ نے فرمایا: ھون علی ما نزل بی انہ بعین اللہ۔ میں جانتا ہوں کہ یہ سب کچھ علم خدا کی نگاہوں کے سامنے انجام پا رہا ہے لہذا انہیں برداشت کرنا میرے لئے آسان ہے۔(بحوالہ: بحار الانوار ، ج۴۵، ص۴۶)۔
نعمت و بلاکے ذریعے امتحان
یہ اشتباہ نہیں ہونا چاہئیے کہ خدا کے امتحانات ہمیشہ سخت اور ناگوار حوادث کے ذریعے ہی ہوتے ہیں بلکہ بعض اوقات خدا فراواں نعمتوں اور زیادہ کامیابیوں کے ذریعے بھی اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔ جیسا کہ قرآن کہتاہے: و نبلوکم بالشر و الخیر فتنة۔ اور ہم تمہارا امتحان برائیوں اور اچھائیوں کے ذریعے لیں گے۔ (انبیاء۔ ۳۵) ایک اور مقام پر حضرت سلیمان علیہ السلام کا قول ہے: ہذا من فضل ربی لیبلونی ء اشکر ام اکفر۔ یہ میرے پروردگار کا فضل ہے۔ وہ چاہتا ہے مجھے آزمائے کہ میں اس نعمت پر اس کا شکر بجا لاتا ہوں کہ کفران نعمت کرتا ہوں۔ (نمل۔ ۴۰) چند دیگر نکات بھی اس مقام پرقابل توجہ ہیں: (ا) یہ ضروری نہیں کہ سب لوگوں کو سب طریقوں سے آزمایا جائے بلکہ ممکن ہے ہر گروہ کا ایک چیز سے امتحان ہو کیونکہ انفرادی اور اجتماعی طور پر حالات اور طبائع کا لحاظ ضروری ہے۔ (ب) ہو سکتا ہے کہ ایک انسان کچھ امتحانات سے تو احسن طور پر کامیاب ہو جب کہ کچھ امتحانات میں سخت ناکامی سے دوچار ہو۔ (ج) یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کا امتحان دوسرے شخص کے امتحان کا ذریعہ ہو۔ مثلا خداوند عالم کسی کو اس کے فرزندد لبند کی مصیبت میں ڈال کر آزماتا ہے اور یہی آزمائش دوسروں کو بھی میدان امتحان میں لے آتی ہے کہ وہ اس سے ہمدری کے تقاضے پورے کرتے ہیں یا نہیں اور مصیبت زدہ کے درد و الم میں اس کی کمک کی کوشش کرتے ہیں یا نہیں۔ (د) جیسا کہ اشارہ کیا جا چکا ہے خدائی امتحانات ہمہ گیر ہوتے ہیں یہاں تک کہ انبیاء بھی ان سے مستثنی نہیں بلکہ ان کی آزمائش، ان کی مسئولیت اور جواب دہی کی سنگینی کے پیش نظر دوسروں سے کئی گنا سخت ہوتی ہے۔ قرآن مجید کی کئی سورتوں کی آیات اس حقیقت پر شاہد ہیں کہ انبیاء میں سے ہر کوئی اپنے حصے کے مطابق آزمائشوں کی گرم بھٹی میں ڈالا گیا۔ یہاں تک کہ ان میں بعض تو مقام رسالت پر فائز ہونے سے پہلے ایک طویل عرصہ تک مختلف آزمائشوں میں مبتلا رہے تا کہ مکمل طور پر قوی ہو جائیں اور لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے اپنی تیاری مکمل کر لیں۔( مقام رسالت پر فائز ہونے سے پہلے سے یہاں مراد (اعلان رسالت سے قبل) ہے۔ (مترجم))۔ مکتب انبیاء کے پیروکاروں میں بھی میدان امتحان میں صبر و استقامت کی ایسی درخشاں مثالیں موجود ہیں جو دوسروں کے لئے نمونہ اور اسوہ بن سکتی ہیں۔ ام عقیل ایک دیہاتی مسلمان عورت تھی۔ اس کے پاس دو مہمان آئے۔ اس وقت اس کا بیٹا اونٹوں کے ساتھ صحرا کی طرف گیا ہوا تھا۔ اسی وقت اسے اطلاع ملی کہ ایک غضب ناک اونٹ نے اس کے بیٹے کو کنویں میں پھینک دیا ہے اور وہ مر گیا ہے۔ بیٹے کی موت کی خبر لانے والے شخص کو مومنہ نے کہا سواری سے اتر آؤ اور مہمانوں کی پذیرائی میں میری مدد کرو۔ اس کے پاس ایک بھیڑ تھی۔ اس نے وہ اس شخص کو ذبح کرنے کے لئے دی۔ کھانا تیار ہو گیا اور مہمانوں کے پاس رکھ دیا گیا۔ وہ کھانا کھاتے اور اس کے صبر و استقامت پر تعجب کرتے۔ حاضرین میں سے ایک شخص کہتا ہے، جب ہم کھانا کھانے سے فارغ ہو لئے تو وہ مومنہ ہمارے پاس آئی اور پوچھنے لگی تم میں سے کوئی شخص ہے جو قرآن سے اچھی طرح واقف ہو۔ ایک شخص کہنے لگا: جی ہاں، میں علم رکھتا ہوں ۔ وہ کہنے لگی: قرآن کی کچھ ایسی آیات تلاوت کرو جو میرے بیٹے کی موت پر میرے دل کی تسلی کا باعث بنیں۔ وہ کہتا ہے: میں نے ان آیات کی تلاوت کی: و بشر الصبرین الذین اصابتہم مصیبة قالوآ انا اللہ و انا الیہ راجعون اولئک علیہم صلوات من ربہم رحمة و اولئک ہم المہتدون۔ اس عورت نے ان سے رخصت چاہی اور پھر قبلہ رخ کھڑی ہو گئی اور چند رکعت نماز پڑھی۔ اس کے بعد بارگاہ الہی میں یوں گویا ہوئی۔ اللہم انی فعلت ما امرتنی فانجزلی ما وعدتنی۔ خدایا! میں نے وہ کچھ کیا جس کا تو نے حکم دیا ہے اور صبر کا دامن نہیں چھوڑا اور تونے جس رحمت و صلوات کا وعدہ کیا ہے، وہ مجھے عطا فرما۔ اس کے بعد اس نے مزید کہا: اگر ایسا ہوتا کہ کوئی اس جہاں میں کسی کے لئے زندہ رہ سکتا۔ حاضرین میں سے ایک کہتا ہے: میں نے سوچا کہے گی: میرا بیٹا میرے لئے رہ جاتا۔ لیکن میں نے دیکھا کہ وہ کہہ رہی ہے : پیغمبر اسلام ﷺ اپنی امت کے لئے باقی رہ جاتے۔(بحوالہ: سفینة البحار، ج۲، ص۷ (مادہ صبر))۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ظہور اسلام سے قبل اور اسی طرح بعد تک بت پرست مشرکین مناسک حج ادا کرنے مکہ آتے تھے اور وہ مراسم جن کی بنیاد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے رکھی تھی، ان کے ساتھ کچھ خرافات اور شرک آلود افعال بھی بجا لاتے تھے۔ مراسم حج میں عرفات میں قیام، قربانی، طواف اور صفا و مروہ کے در میان سعی کرنا شامل تھا لیکن ان اعمال کی صورت کافی بگڑ چکی تھی۔ اسلام نے پھر سے اس پروگرام کی اصلاح کی۔ صحیح اور شرک سے پاک مراسم کو تو باقی رکھا لیکن خرافات پر خط بطلان کھینچ دیا۔ ان اعمال و مناسک میں جو انجام دیے جاتے تھے دو مشہور پہاڑیوں صفا و مروہ کے در میان سعی کرنا، یعنی چلنا بھی شامل تھا۔ شیعہ اور اہل تسنن دونوں کی بہت سی روایات میں ہے کہ زمانہ جاہلیت میں مشرکین نے کوہ صفا پر ایک بہت بڑا بت نصب کر رکھا تھا جس کا نام اساف تھا۔ کوہ مروہ پر ایک اور بت گاڑا گیا تھا جس کا نام نائلہ تھا۔ سعی کرتے وقت وہ ان دونوں پہاڑیوں پر چڑھتے اور ان بتوں کو متبرک سمجھتے ہوئے مس کرتے ۔ مسلمان اس وجہ سے صفاء و مروہ کے در میان سعی کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ موجودہ حالات میں صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا کوئی ٹھیک بات نہیں ۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی جس نے بتایا کہ صفا و مروہ اللہ کے شعائر اور نشانیوں میں سے ہیں۔ اگر کچھ نادان اور بیوقوف لوگوں نے انہیں بتوں کی نجاست سے آلودہ کر رکھا ہے تو اس کا یہ معنی نہیں کہ مسلمان سعی جیسے فریضہ کو ترک کر دیں۔ اس بارے میں اختلاف ہے کہ یہ آیت کب نازل ہوئی۔ کچھ روایات کی بناء پر عمرة القضا (سات ہجری) کے وقت نازل ہوئی۔ اس سفر میں پیغمبر ﷺ کی مشرکین کے ساتھ ایک شرط یہ تھی کہ وہ ان دونوں بتوں کو صفا و مروہ سے اٹھالیں گے۔ انہوں نے اس شرط پر عمل کیا لیکن دوبارہ اسی جگہ نصب کر دیا۔ اس وجہ سے بعض مسلمان صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنے سے اجتناب کرتے تھے۔ اس آیہ شریفہ نے انہیں منع کیا۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ آیت حجة الوداع (پیغمبر اکرم ﷺ کے آخری حج سہ ۱۰ ھ) کے موقع پر نازل ہوئی۔ اگر یہ احتمال تسلیم کر لیا جائے تو دوسری طرف یہ بھی مسلم ہے کہ اس وقت نہ صرف یہ کہ صفا و مروہ پرکوئی بت تھا بلکہ مکہ کے گردو پیش کہیں بھی بتوں کا نام و نشان تک باقی نہیں رہا تھا۔ لہذا___ قابل تسلیم بات یہ ہے کہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنے میں مسلمانوں کی یہ ناراضی پہلے کی بات ہے جب۱ساف اور نائلہ بت ان پر رکھے ہوئے تھے۔
جاہلوں کے اعمال تمہارے مثبت اعمال میں حائل نہ ہوں
مخصوص نفسیاتی حالات میں یہ آیت نازل ہوئی، جن کا ذکر کیا جا چکا ہے پہلے تو مسلمانوں کو خبر دی گئی کہ صفا و مروہ خدا کے شعائر اور نشانیوں میں سے ہیں (ان الصفا و المروة من شعائر اللہ)۔ اس مقدمہ اور تمہید کے بعد نتیجہ یوں بیان فرمایا گیا ہے: جو لوگ خانہ خدا کا حج یا عمرہ بجا لائیں،ان کیلئے کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دو پہاڑیوں کے درمیان طواف اور سعی کریں (فمن حج البیت او اعتمر فلا جناح علیہ ان یطوف بہما)۔ مشرکین نے غلط طور پر ان خدائی شعائر کو جو بتوں سے آلودہ کر رکھا ہے، ان سے ان دو مقدس مقامات کی اہمیت میں کمی واقع نہیں ہوتی۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: جو لوگ اطاعت خدا کے لئے نیک کام انجام دیں تو خدا بھی شاکر و علیم ہے (و من تطوع خیرا فان اللہ شاکر علیم)۔ اللہ تعالی اطاعت اور نیک کاموں کی انجام دہی کے بدلے اچھے عوض کے ذریعے بندوں کے اعمال کی قدردانی کرتا ہے اور شکریہ ادا کرتا ہے اور ان کی نیتوں سے اچھی طرح واقف ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کون لوگ بتوں سے وابستگی رکھتے ہیں اور کون ان سے بیزار ہیں۔ چند اہم نکات
صفا و مروہ
صفا و مروہ مکہ کی دو چھوٹی سی پہاڑیوں کے نام ہیں۔ مسجد الحرام کی توسیع کے باعث آج کل یہ مسجد کے مشرقی حصے میں حجر الاسود اور مقام ابراہیم کی سمت میں واقع ہیں۔ یہ دونوں پہاڑیاں ایک دوسرے سے تقریبا ۴۲۰ میڑ کے فاصلے پر ہیں۔ اس وقت یہ فاصلہ ایک چھتے ہوئے بڑے ہال کی شکل میں ہے اور حجاج کرام اس چھت کے نیچے سعی کرتے ہیں۔ صفا پہاڑی کی بلندی پندرہ میٹربہے۔اور مروہ کی بلندی آٹھ میٹر ہے۔ صفا اور مردہ اس وقت دو پہاڑیوں کے نام ہیں (اصطلاح میں علم کو کہتے ہیں) لیکن لغت میں صفا کا معنی ہے مضبوط اور صاف پتھر، جس میں مٹی، ریت اور سنگریزے نہ ہوں۔ اور مردہ کا معنی ہے مضبوط اور درشت پتھر۔ شعائر جمع ہے شعیرہ کی جس کا معنی علامت اور نشانی ہے ۔ شعائراللہ وہ علامات ہیں جو انسان کو خدا کی یاد دلائیں اور کسی مقدس چیز کو نظروں میں نئے سرے سے اجاگر کر دیں۔ اعتمر، عمرہ کے مادہ سے ہے، جس کا معنی ہے کسی عمارت کے وہ اضافی حصے جو اس کے ساتھ ملائے جائیں تو اس کی تکمیل کا سبب بنیں، لیکن اصطلاح شریعت میں عمرہ ان مخصوص اعمال کو کہا جاتا ہے جو حج کے موقع پر اضافے کے طور پر اور کبھی جداگانہ طور پر عمرہ مفردہ کے نام پر انجام دیئے جاتے ہیں۔ عمرہ کئی ایک پہلوؤں سے حج سے مشابہت رکھتا ہے۔
صفا و مروہ کے کچھ اسرار و رموز
یہ صحیح ہے کہ عظیم لوگوں کی زندگی کے حالات پڑھنا اور سننا انسان کو کمال کی طرف لے جاتا ہے لیکن اس سے زیادہ صحیح، زیادہ عمیق اور گہرا طریقہ بھی موجود ہے اور وہ ہے ان مقامات کا مشاہدہ کرنا اور دیکھنا جہاں مردان خدا نے راہ خدا میں قیام کیا اور وہ مراکز جہاں ایسے واقعات عملا رونما ہوئے۔ یہ مقامات و مراکز بذات خود زندہ اور جاندار تاریخ کی کتابیں تو خاموش اور بے جان ہیں۔ ایسے مقاما ت پر انسان کے لئے زمانی فاصلے سمٹ جاتے ہیں اور وہ خود کو اصل واقعہ میں شریک محسوس کرتا ہے اور اسے یوں لگتا ہے کہ وہ واقعات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ ایسے مشاہدات کا تربیتی اثر گفتگو اور مطالعہ کتب سے کہیں بڑھ کر ہے ۔ یہ مقام احساس ہے، منزل ادراک نہیں۔ یہ مرحلہ تصدیق ہے، مقام تصور نہیں اور یہ عینیت ہے ذہنیت نہیں ۔ دوسری طرف ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ عظیم پیغمبروں میں سے بہت کم ایسے ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح جہاد کے مختلف میدانوں اور شدید آزمائشوں سے گزرے ہوں یہاں تک کہ قرآن نے ان کے بارے میں فرمایا: إِنَّ ہَذَا لَہُوَ الْبَلاَءُ الْمُبِینُ۔ یقینا یہ بہت واضح اور عظیم امتحان اور آزمائش ہے۔ (الصفت۔۱۰۶) یہی مبارزات اور سخت آزمائشیں تھیں کہ جنہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایسے تربیت و پرورش کی کہ (امامت) کا تاج افتخار ان کے سر پر رکھا گیا۔ مراسم حج در حقیقت حضرت ابراہیم کے علیہ السلام مبارزات کے میدانوں،توحید، بندگی، فداکاری اور اخلاص کی منازل کی دلوں پر پوری منظر کشی کرتے ہیں۔ ان مناسک کی ادائیگی کے وقت اگر مسلمان ان کی روح اور اسرار سے واقف ہوں اور ان کے مختلف پہلوؤں پر توجہ دیں تو یہ تربیت کی ایک بڑی درس گاہ اور خداشناسی ، پیغمبر شناسی اور انسان شناسی کا ایک مکمل دورہ ہے۔ اب ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعے اور صفا و مروہ کے تاریخی پہلوؤں کی طرف لوٹتے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام بڑھاپے کی منزل کو جا پہنچے تھے مگر ان کی کوئی اولاد نہ تھی۔ انہوں نے خدا سے اولاد کی درخواست کی۔ عالم پیری ہی میں ان کی کنیز ہاجرہ کے بطن سے انہیں فرزند عطا ہوا جس کا نام انہوں نے اسماعیل علیہ السلام رکھا۔ آپ کی پہلی بیوی سارہ کو یہ پسند نہ تھا کہ ان کے علاوہ کسی خاتون کے بطن سے ابراہیم علیہ السلام کو فرزند ملے۔ اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ ماں بیٹے کو مکہ میں جا کر ٹھہرائیں جو اس وقت ایک بے آب و گیاہ بیابان تھا۔ ابراہیم علیہ السلام نے حکم خدا کی اطاعت کی اور انہیں سرزمین مکہ میں لے گئے جو ایسی خشک اور بے آب و گیاہ تھی کہ وہاں کسی پرندے کا بھی نام و نشان نہ تھا۔ جب ابراہیم علیہ السلام انہیں چھوڑ کر تنہا واپس ہو لئے توان کی اہلیہ رونے لگیں کہ ایک عورت اور ایک شیر خوار بچہ اس بے آب و گیاہ بیابان میں کیا کریں گے۔ اس خاتون کے گرم آنسو اور ادھر بچے کا نالہ و زاری۔ اس منظر نے ابراہیم علیہ السلام کا دل ہلا کے رکھ دیا۔ انہوں نے بارگاہ الہی میں ہاتھ اٹھائے اور عرض کیا۔ خداوندا! میں تیرے حکم پر اپنی بیوی اور بچے کو اس جلا دینے والے بے آب و گیاہ بیابان میں تنہا چھوڑ رہا ہوں تا کہ تیرا نام بلند اور تیرا گھر آباد ہو۔ یہ کہہ کہ غم و اندوہ اور شدید محبت کے عالم میں الوداع ہوئے۔ زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ ماں کے پاس آب و غذا کا جو توشہ ختم ہو گیا اور اس کی چھاتی کا دودھ بھی خشک ہو گیا۔ شیرخوار بچے کی بے تابی اور تضرع و زاری نے ماں کو ایسا مضطرب کر دیا کہ وہ اپنی پیاس بھول گئی۔ وہ پانی کی تلاش میں اٹھ کھڑی ہوئی۔ پہلے کوہ صفا کے قریب گئی تو پانی کا کوئی نام و نشان نظر نہ آیا۔ سراب کی چمک نے اسے کوہ مروہ کی طرف کھینچا تو وہ اس کی طرف دوڑی لیکن وہاں بھی پانی نہ ملا۔ وہاں ویسی چمک صفا پر دکھائی دی تو پلٹ کر آئی۔ زندگی کی بقاء اور موت سے مقابلے کے لئے اس نے ایسے سات چکر لگائے ۔ آخر شیرخوار بچہ زندگی کی آخری سانسیں لینے لگا کہ اچانک اس کے پاؤں کے پاس انتہائی تعجب خیز طریقے سے زمزم کا چشمہ ابلنے لگا۔ ماں اور بچے نے پانی پیا اور موت جو یقینی ہو گئی تھی، اس سے بچ نکلے۔ زمزم کا پانی گویا آب حیات تھا۔ ہر طرف سے پرندے اس چشمے کی طرف آنے لگے۔ قافلوں نے پرندوں کی پرواز دیکھی تو اپنے رخ اس طرف موڑ دیے اور ظاہرا ایک چھوٹے سے خاندان کی فداکاری کے صلے میں ایک عظیم مرکز وجود میں آ گیا۔ آج خانہ خدا کے پاس اس خاتون اور اس کے فرزند اسماعیل کا مسکن ہے۔ ہر سال تقریبا ڈیڑھ کروڑ افراد اطراف عالم سے آتے ہیں۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ اس مسکن کو جسے مقام اسماعیل کہتے ہیں، اپنے طواف میں شامل کریں۔ گویا اس خاتون اور اس کے بیٹے کے مدفن کو کعبہ کا جزء سمجھیں۔ صفا و مروہ کی سعی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حق کا نام زندہ کرنے اور عظمت، استقلال اور آبادی کے لئے شیرخوار بچے تک کو جان کی بازی لگا دینا چاہئیے ۔ صفا و مروہ کی سعی میں یہ سبق بھی پنہاں ہے کہ ناامیدیوں کے بعد بھی کئی امیدیں ہیں۔ اسماعیل کی والدہ جناب ہاجرہ نے وہاں پانی کی تلاش جاری رکھی جہاں وہ دکھائی نہ دیتا تھا تو خدانے بھی ایسے راستے سے انہیں سیراب کیا جس کا تصور نہیں ہو سکتا۔ صفا ومروہ ہم سے کہتے ہیں کہ ایک زمانہ تھا جب ہمارے اوپر بت نصب تھے لیکن آج پیغمبر اسلام ﷺ کی مسلسل کوششوں اور جدوجہد سے شب و روز ہمارے پہلو میں لا الہ الا اللہ کی صدا گونج رہی ہے۔ صفا و مروہ کی پہاڑیاں حق رکھتی ہیں کہ وہ فخر کریں کہ ہم پیغمبر اسلام ﷺ کی تبلیغات کی پہلی منزل ہیں۔ جب مکہ شرک کی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا، تو آفتاب ہدایت یہیں سے طلوع ہوا۔ اے صفا و مروہ کی سعی کرنے والو! تمہارے دل میں یہ بات رہے کہ اگر آج ہزاروں افراد اس پہاڑی کے قریب پیغمبر ﷺ کی دعوت پرلبیک کہہ رہے ہیں تو ایک وقت وہ بھی تھا کہ نبی اکرم ﷺ اس پہاڑی کے اوپر کھڑے ہو کر لوگوں کو خدا کی طرف دعوت دے رہے تھے اور کوئی قبول نہیں کرتا تھا۔ تم بھی حق کی راہ میں قدم اٹھاؤ اور اگر ان لوگوں کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہ ملے جن سے مستقبل میں امید کی جا سکتی ہے تو مایوس نہ ہو جاؤ اور اپنے کام کو اسی طرح جاری رکھو۔ صفا ومروہ کی سعی ہمیں درس دیتی ہے کہ توحید کے اس مرکز اور آئین کی قدر و منزلت پہچانو کہ کتنوں نے اپنے آپ کو موت سے ہم کنار کر کے آج اس مرکز توحید کو تمہارے لئے محفوظ رکھا۔ اسی لئے خداوند عالم نے سب زائرین خانہ کعبہ پر واجب قرار دیا کہ مخصوص لباس اور مخصوص وضع قطع کے ساتھ جو ہر قسم کے امتیاز اور تشخص سے پاک ہو، سات مرتبہ ان امور کی تجدید کے لئے ان دو پہاڑیوں کے درمیان چلیں ۔ جو لوگ کبر و غرور کی وجہ سے عام لوگوں کے گزرنے کی جگہ پر ایک قدم اٹھانے کو تیار نہیں اور جو سڑکوں پر تیز رفتاری سے چلنا پسند نہیں کرتے، وہی فرمان خدا کی اطاعت کے لئے کبھی آہستہ اور کبھی تیزی سے دوڑتے ہیں۔ روایات کے مطابق یہ وہ جگہ ہے جہاں کے بارے میں دیے گئے احکامات متکبرین کو بیدار کرنے کے لئے ہیں۔ فمن حج البیت او اعتمر فلا جناح علیہ ان یطوف بہما و۔۔۔ لغت میں حج کا معنی قصد بیان کیا گیا ہے لیکن قرآن اور احادیث میں اس کا مفہوم وہ مخصوص اعمال اور مناسک ہیں جو مسلمان مکہ میں انجام دیتے ہیں۔ جب قرآن یہ بتا چکا کہ ا صفا و مروہ دو عظیم نشانیاں ہیں، لوگوں کی بندگی کا مرکز اور شعائر الہی ہیں۔ مزید کہتاہے: جو شخص خانہ خدا کا حج کرے یا عمرہ انجام دے اس کے لئے کوئی حرج نہیں کہ ان دو پہاڑیوں کے درمیان چکر لگائے۔ یہ عمل طواف کے لغوی معنی کے خلاف نہیں کیونکہ کسی طرح کا بھی چلنا ہو، اگر انسان واپس وہیں آ جائے جہاں سے ابتداء کی تھی تو یہ طواف ہے چاہے وہ حرکت دائرہ کی صورت میں ہو جیسے خانہ کعبہ کے گرد طواف یا دائرہ کی صورت میں نہ ہو جیسے صفاو مروہ کے درمیان۔
ایک سوال کا جواب
یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے کہ فقہ اسلامی کے نقطہ نظر سے صفا و مروہ کے در میان سعی کرنا واجب ہے چاہے حج کے اعمال بجا لانا ہوں یا عمرہ کے ۔ لیکن "لا جناح" کے لفظ کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ صفا و مروہ کے در میان سعی کرنے میں کوئی حرج نہیں اور یہ وجوب پر دلالت نہیں کرتا۔ اس سوال کا جواب ان روایات سے واضح طور پر مل جاتا ہے جو شان نزول کے ضمن میں بیان کی جا چکی ہیں۔ مسلمان یہ گمان کرتے تھے کہ ان دو پہاڑیوں پر ایک عرصہ تک اساف اور نائلہ بت گڑے رہے ہیں اور کفار سعی کرتے وقت انہیں مس کرتے تھے لہذا یہ اس قابل نہیں کہ مسلمان ان کے درمیان سعی کریں۔ اس آیت میں ان سے کہا گیا ہے کہ کوئی حرج نہیں تم سعی کرو چونکہ یہ پہاڑیاں شعائر اللہ میں سے ہیں۔ لہذا "لا جناح" در اصل اس کراہت اور ناپسندیدگی کو واضح طور پر دور کرنے کے لئے آیا ہے تا کہ اس کی اصل شرعی حیثیت واضح کرے ۔ [جناح کا اصل معنی ہے ایک طرف میلان، چونکہ گناہ انسان کو حق سے منحرف اور باطل کی طرف مائل کر دیتا ہے اسی لئے اسے جناح کہا جاتا ہے]۔ علاوہ ازیں قرآن میں بہت سے واجب احکام اس انداز سے بیان ہوئے ہیں۔ مثلا نماز مسافر کے بارے میں ہے: وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوا مِنْ الصَّلاَةِ ۔ اگر سفر میں ہو تو کوئی حرج نہیں کہ نماز قصر کر لو۔ (نساء ۔ ۱۰۱) حالانکہ یہ واضح ہے کہ مسافر پر نماز قصر واجب ہے نہ یہ کہ قصر پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔ قاعدة لفظ "لا جناح" ان مواقع پر بولا جاتا ہے جہاں سننے والے کا ذہن پہلے سے اس چیز کے بارے میں پریشان ہو اور وہ منفی احساسات رکھتا ہو لہذا قرآن کی یہ روش بعض واجب احکام بیان کرنے کے بارے میں بھی ہے۔ امام باقر علیہ السلام نے بھی ایک حدیث میں اس روش کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو کتاب من لا یحضرہ میں منقول ہے۔
تطوع کسے کہتے ہیں
لغت میں تطوع کا معنی ہے اطاعت قبول کرنا اور احکام ماننا۔ عرف فقہاء میں تطوع مستحب اعمال کو کہا جاتا ہے۔ اسی بناء پر اکثر مفسرین اسے مستحب حج، عمرہ یا طواف اور ہر قسم کے نیک مستحب عمل کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں۔ یعنی جو شخص فرمان خدا کے تحت نیک عمل انجام دے تو خدا تعالی اس کے کام سے آگاہ ہے اور اس کے بدلے میں اسے ضرور جزا دے گا۔ احتمال ہے کہ یہ لفظ گذشتہ جملوں کی تکمیل اور تاکید ہو اور تطوع سے مراد ہو وہاں اطاعت کرنا جہاں انسان کے لئے مشکل ہو۔ اس بناء پر اس جملے کا مفہوم یہ ہوگا کہ وہ لوگ جو حج یا عمرہ واجب میں صفا و مروہ کی سعی اس کی پوری زحمت کے ساتھ انجام دیں اور عربوں کے جاہلانہ اعمال کی وجہ سے پیدا شدہ باطنی میلان کے برخلاف اپنا حج مکمل کریں تو خدا انہیں ضرور جزا دے گا۔
خدا شاکر ہے کا مفہوم
ضمنا اس بات پر بھی توجہ رکھنا چاہئیے کہ شاکر کا لفظ پروردگار کے لئے لطیف تعبیر ہے جو خدا کی طرف سے انسان کے نیک اعمال کے انتہائی احترام کی مظہر ہے اور جب خدا بندوں کے اعمال کے پیش نظر شکرگزار ہوتا ہے تو اس سے بندوں کی ایک دوسرے کے بارے میں اور خدا کے بارے میں ذمہ داری کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 160 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1جلال الدین سیوطی نے اسباب النزول میں ابن عباس سے نقل کیاہے کہ مسلمانوں میں سے کچھ افراد جن میں معاذ بن جبل، سعد بن معاذ اور خارجہ بن زید شامل تھے، نے علماء یہود سے تورات کے چند مطالب کے متعلق سوالات کئے جو پیغمبر ﷺ کے ظہور سے مربوط تھے۔ انہوں نے اصل واقعے کو چھپایا اور وضاحت کرنے سے احتراز کیا۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی۔(بحوالہ: لباب النقول فی اسباب النزول ص ۲۲)۔
حقائق چھپانے والوں کی شدید مذمت
ویسے تو روئے سخن علمائے یہود کی طرف ہے لیکن اس سے آیت کا کلی اور عمومی مفہوم محدود نہیں ہوتا اور یہ سب حقائق چھپانے والوں کے لئے عام ہے۔ یہ آیت شریفہ حقائق چھپانے والوں کی شدید مذمت اور سرزنش کرتی ہے۔ ارشاد ہوتاہے: جو لوگ واضح دلائل اور ذرائع ہدایت کو چھپاتے ہیں، جنہیں ہم نے کتاب الہی کے ذریعے نازل کیا ہے اور جو ان لوگوں کے سامنے ہیں، ان پر خدا لعنت بھیجتا ہے اور خدا ہی نہیں بلکہ تمام لعنت کرنے والے انہیں لعنت کرتے ہیں (إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى مِن بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُولَـئِكَ يَلعَنُهُمُ اللّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ)۔ یہ آیت بڑی عمدگی سے واضح کرتی ہے کہ خدا کے تمام بندے اور فرشتے اس کام سے بیزار ہیں۔ دوسرے لفظوں میں حق کو چھپانا ایسا عمل ہے جو حق کے تمام طرف داروں کے غم و غصے کو ابھارتا ہے کیونکہ اس سے بڑھ کر کیا خیانت ہوگی کہ علماء آیات خدا کو اپنے شخصی منافع کے لئے چھپائیں اور لوگوں کو گمراہ کریں جب کہ یہ ان کے پاس خدا کی امانت ہیں۔ من بعد ما بیناہ للناس فی الکتاب اس طرف اشارہ ہے کہ ایسے افراد در حقیقت زحمات انبیاء اور مردان خدا کی فداکاریوں کو برباد کرتے ہیں جو وہ آیات الہی کی نشر و اشاعت اور تبلیغ کے لئے انجام دیتے ہیں اور یہ بہت بڑا گناہ ہے جس سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ لفظ "یلعن" آیت میں دو مرتبہ آیا ہے۔ یہ فعل مضارع ہے اور جیسا کہ ہمیں معلوم ہے فعل مضارع میں استمرار کا معنی شامل ہے۔ اس بناء پر آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ خدا اور مقام لعنت کرنے والے ہمیشہ ایسے لوگوں پر لعنت اور نفرین کرتے رہتے ہیں جو حقائق کو چھپاتے ہیں اور یہ شدید ترین سزا ہے جو کسی انسان کو دی جا سکتی ہے۔ "بینات" اور "ہدی" کا ایک وسیع مفہوم ہے جس سے مراد وہ تمام روشن دلائل اور ہدایت کے وسائل ہیں جو لوگوں کی آگاہی ، بیداری اور نجات کا سبب ہیں۔ قرآن کتاب ہدایت ہے لہذا یہ کبھی لوگوں کے لئے امید اور بازگشت کا دریچہ بند نہیں کرتی۔ اس لئے بعد کی آیت میں راہ نجات اور گناہوں کی تلافی کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور اسے شدید سزا کے مقابلے میں یوں بیان کیا گیا ہے: مگر وہ جو توبہ کریں اور خدا کی طرف پلٹ آئیں، اپنی برائیوں کی تلافی اور اعمال کی اصلاح کریں اور جو حقائق انہوں نے چھپا رکھے تھے، لوگوں کے سامنے آشکار کر دیں۔ بے شک میں ایسے لوگوں کو بخش دوں گا اور ان کے لئے اپنی اس رحمت کی تجدید کر دوں گا جو ان سے منقطع کی جا چکی ہے کیونکہ میں بازگشت کنندہ اور مہربان ہوں (الا الذین تابوا و اصلحوا و بینوا فاولئک اتوب علیہم و انا التواب الرحیم)۔ اگر دیکھا جائے "فاولئک اتوب علیہم" کے بعد "انا التواب الرحیم" کا آنا توبہ کرنے والوں کے لئے پروردگار عالم کی انتہائی محبت اور کمال مہربانی پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی فرماتا ہے: اگر وہ پلٹ آئیں تو میں بھی رحمت کی طرف پلٹ آؤں گا اور اپنی عنایات و نعمات جو ان سے منقطع کر چکا ہوں، پھر سے انہیں عطا کروں گا۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ یوں نہیں کہتا کہ تم توبہ کرو تو میں تمہاری توبہ قبول کر لوں گا بلکہ کہتا ہے: تم توبہ کرو اور پلٹ آو تو میں بھی پلٹ آؤں گا۔ ان دونوں جملوں میں جو فرق ہے، واضح ہے۔ علاوہ ازیں "و انا التواب الرحیم" کے ہر لفظ اور انداز میں اتنی مہربانی اور شفقت پائی جاتی ہے کہ یہ مفہوم کسی اور عبادت میں سما ہی نہیں سکتا تھا۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ "انا"واحد متکلم کی ضمیر ہے جس کا معنی ہے "میں خود"۔ یہ ایسے مقامات پر آتا ہے جہاں کہنے والا براہ راست سننے والے سے ربط رکھتا ہو۔ خصوصا اگر کوئی بزرگ ہستی یہ کہے کہ "میں خود یہ کام تمہارے لئے کروں گا" بجائے اس کے کہ وہ کہے "ہم اس طرح کریں گے " تو اس میں بہت فرق ہے۔ پہلے انداز میں جو لطف و کرم ہے وہ کسی سے مخفی نہیں۔ لفظ "تواب" بھی مبالغے کا صیغہ ہے۔ اس کا معنی ہے بہت زیادہ پلٹ کر آنے والا۔ یہ انداز اس طرح امید کی روح انسان میں پھونک دیتا ہے کہ اس کی زندگی کے آسمان سے یاس و ناامیدی کے سارے پردے ہٹ جاتے ہیں اور جب لفظ "رحیم" بھی ساتھ ہو جو پروردگار کی خصوصی رحمت کی طرف اشارہ ہے۔ چند اہم نکات
حق کو چھپانے کے نقصانات
وہ بات جو قدیم زمانے سے بہت مفاسد اور حق کشی کا باعث بنتی آ رہی ہے اور جس کے مہلک اثرات آج تک جاری و ساری ہیں، وہ ہے حق کو چھپانا۔ زیر بحث آیت اگرچہ ایک خاص واقعے کے متعلق نازل ہوئی لیکن جیسا کہ کہا جا چکا ہے، اس میں شک نہیں کہ اس کا مفہوم ان سب پر محیط ہے جو ایسا کچھ بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ جیسی منحصر بفرد تشدید و تہدید اور مذمت زیر نظر آیت میں حق کو چھپانے والوں کے لئے آئی ہے، کسی اور کے لئے نہیں آئی اور کیوں نہ ہو، کیا ایسا نہیں کہ یہ قبیح عمل قوموں اور نسلوں کو گمراہی میں مبتلا کئے رکھتا ہے۔ جیسا کہ اظہار حق امتوں کی نجات کا باعث بن سکتا ہے۔ انسان فطری طور پر حق کو چاہتا ہے اور جو حق کو چھپاتے ہیں وہ در حقیقت انسانی معاشرے کو فطری کمال تک پہنچنے سے باز رکھتے ہیں۔ ظہور اسلام کے وقت اور اس کے بعد اگر علماء یہود و نصاری دونوں عہدوں (تورات، انجیل اور دیگر کتب مقدسہ) کی بشارتوں کو اظہار حقیقت کے طور پر افشاء کر دیتے اور اس سلسلے میں وہ جو کچھ جانتے تھے لوگوں تک پہنچا دیتے تو ہو سکتا تھا کہ تھوڑی سی مدت میں تینوں ملتیں ایک ہی پرچم تلے جمع ہو جاتیں اور اس وحدت کی برکات حاصل کرتیں اور یہی کام پیغمبر اسلام ﷺ کی وفات کے بعد اہل اسلام کے بعض علماء نے انجام دیا۔ وہ حق کو چھپاتے رہے۔ ان کی وجہ ہے ملت اختلاف کا شکار ہوئی اور اس میں شگاف پڑ گئے ۔ آج تک ہم اسی کے نتیجے میں مصیبتوں میں مبتلا ہیں۔ یقینا حق پوشی صرف اسی کا نام نہیں کہ آیات الہی اور علامات نبوت کو چھپایا جائے بلکہ اس سے مراد ہر وہ چیز چھپانا ہے جس سے لوگ حقیقت و واقعیت تک پہنچ سکتے ہیں۔ لہذا اس کا مفہوم وسیع ہے۔ یہاں تک کہ کبھی وہاں بھی حق پوشی کا اطلاق ہوتا ہے جہاں بات کرنے کی ضرورت ہو اور خاموش رہا جائے۔ یہ اس مقام کے لئے ہے جہاں لوگوں کو سخت ضرورت ہو کہ انہیں حقیقت حال سے باخبر کیا جائے اور علماء اور آگاہ دانشور اس یقینی ضرورت کو پورا کر سکتے ہوں۔ خلاصہ یہ کہ لوگوں کو درپیش مسائل کے بارے میں حقائق کو مخفی رکھنا اس لئے کہ لوگ سوال کریں درست نہیں۔ تفسیر المنار کے مؤلف نے بعض لوگوں کے حوالے سے یہ جو لکھا ہے کہ سوال کی خاطر حقائق کو چھپایا جا سکتا ہے، درست نظر نہیں آتا۔ خصوصا یہ اس بناء پر بھی صحیح نہیں ہے کہ قرآن فقط حق کو چھپانے کے مسئلے کے بارے میں گفتگو نہیں کرتا بلکہ وہ حقائق کے بیان اور اظہار کو ضروری شمار کرتا ہے۔ شاید اسی اشتباہ کی وجہ سے بعض علماء نے حقائق بیان کرنے سے منہ بند کر رکھے ہیں۔ ان کا عذر ہے کہ ان سے تو کسی نے سوال نہیں کیا۔ حالانکہ قرآن کہتا ہے: وَإِذْ اَخَذَ اللهُ مِیثَاقَ الَّذِینَ اُوتُوا الْکِتَابَ لَتُبَیِّنُنَّہُ لِلنَّاسِ وَلاَتَکْتُمُونَہ۔ خدا نے جنہیں کتاب عطا کی ہے ان سے عہد و میثاق لیا ہے کہ وہ اسے ضرور لوگوں کے سامنے بیان کریں گے اور اسے چھپائیں گے نہیں۔ (آل عمران۔۱۸۷) یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ بعض اوقات فرعی مسائل میں سرگرم رہنا جس سے لوگ زندگی کے حقیقی مسائل کو فراموش کر بیٹھیں یہ بھی ایک قسم کی حق پوشی ہے۔ اگرچہ حق پوشی کا معنی یہ نہیں لیکن حقائق کو مخفی رکھنے کا فلسفہ اس پر بھی محیط ہے۔
حق کو چھپانے کی مذمت میں احادیث
احادیث اسلامی میں بھی ان علماء پر شدیدترین حملے کئے گئے ہیں جو حقائق کو چھپاتے ہیں۔ پیغمبر اسلام ﷺ فرماتے ہیں: من سئل عن علم یعلمہ فکتم لجم یوم القیامہ یلجام من النار۔ اگر کسی شخص سے ایسی چیز کے بارے میں پوچھا جائے جسے وہ جانتا ہے اور وہ اسے چھپائے تو قیامت کے دن آتش جہنم کی ایک لگام اس کے منہ میں دی جائے گی۔(بحوالہ: مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ بعض اوقات ضرورت اور لوگوں کا کسی مسئلے میں مبتلا ہونا بذات خود سوال بن جاتا ہے۔ ایک اور حدیث جو امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے مروی ہے، بیان کی جاتی ہے۔ لوگوں نے آپ سے پوچھا: من شر خلق اللہ بعد ابلیس و فرعون۔ ابلیس اور فرعون کے بعد بدترین خلائق کون ہے۔ امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: العلماء اذ افسدوا ھم المظہرون للاباطیل الکاتمون للحقائق و فیہم قال اللہ عزوجل اولئک یلعنہم اللہ و یلعنہم اللعنون۔ وہ بگڑے ہوئے علماء ہیں جو باطل کا اظہار اور حق کا اخفاء کرتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے متعلق خدا فرماتا ہے : ان پر خدا کی لعنت اور تمام لعنت کرنے والوں کی نفرین ہوگی۔(بحوالہ: نور الثقلین، ج۳، ص۱۳۹ بحوالہ احتجاج طبرسی)۔
لعنت کیا چیزہے
لعن کا اصلی معنی ہے غصے سے دھتکارنا اور دور کرنا۔ اس بناء پر خدا کی لعنت کا یہ مطلب ہے کہ وہ بندوں سے اپنی وہ رحمت اور تمام عنایات و برکات دور کر دے جو اس کی جانب سے انہیں پہنچتی ہیں۔ بعض اہل لغت کہتے ہیں کہ لعنے، آخرت میں عذاب و عتاب اور دنیا میں سلبِ توفیق کا نام ہے۔ یہ دراصل لعنت کا ایک مصداق ہے نہ یہ کہ یہ لفظ فقط ان دو معانی میں منحصر ہے۔ "لاعنون" یعنی لعنت کرنے والے۔ اس کا ایک وسیع معنی ہے۔ اس میں نہ صرف فرشتے اور مومنین شامل ہیں بلکہ ان کے علاوہ بھی ہر وہ موجود جو زبان حال یا مقال سے کلام کرتا ہے، اس میں داخل ہے۔ اس سلسلے کی چند روایات میں تو یہاں تک ہے کہ زمین و آسمان کی تمام موجودات حتی کہ دریا کی مچھلیاں بھی طالبان علم و علماء کے لئے دعائے خیر اور استغفار کرتی ہیں: و انہ یستغفر لطالب العلم من فی السماء و من فی الارض حق الحوت فی البحر۔ (بحوالہ: اصول کافی، ج۱، باب "ثواب العالم و المتعلم"، حدیث اول)۔ تو جہاں وہ موجودات طالب علموں کے لئے استغفار کرتے ہیں، وہاں علم کو چھپانے والوں کے لئے یقینا لعنت بھی کرتے ہیں۔
تواب
اس لفظ کے بارے میں ہم بتا چکے ہیں کہ یہ مبالغے کا صیغہ ہے۔ یہ اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اگر انسان شیطانی وسوسوں سے فریب کھا کر توبہ توڑ دے تو بھی اس پر توبہ کا دروازہ بند نہیں کر دیا جاتا۔ چاہئیے کہ وہ پھر توبہ کرے اور خدا کی طرف پلٹے اور حق کو ظاہر کرے۔ کیونکہ خدا بہت زیادہ بازگشت کرنے والاہے۔ اس کی رحمت و بخشش سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہئیے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 163 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 163 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1گذشتہ آیات میں حق کو چھپانے کا نتیجہ دیکھ چکے ہیں۔ زیر نظر آیات میں بھی انہی کفار کی طرف اشارہ ہے جو ہٹ دھرمی، حق پوشی، کفر اور تکذیب حق کا سلسلہ موت آنے تک جاری رکھتے ہیں۔ فرمایا: وہ لوگ جو کافر ہو گئے ہیں اور حالت کفر میں دنیا سے چل بسے ہیں، ان پرخدا، فرشتوں اور سب انسانوں کی لعنت ہوگی (إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا وَمَاتُوا وَہُمْ کُفَّارٌ اُوْلَئِکَ عَلَیْہِمْ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلاَئِکَةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِینَ)۔ یہ گروہ بھی حق کو چھپانے والوں کی طرح خدا، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت میں گرفتار ہو جائے گا۔ فرق یہ ہے کہ ان لوگوں کے لئے واپسی کا کوئی راستہ باقی نہیں رہا کیونکہ یہ آخر عمر تک کفر پر مصر رہے۔ مزید فرمایا: یہ ہمیشہ خدا اور بندگان خدا کی لعنت کے زیر سایہ رہیں گے۔ ان پر عذاب الہی کی تخفیف نہ ہوگی، نہ انہیں کوئی مہلت دی جائے گی ( خَالِدِینَ فِیہَا لاَیُخَفَّفُ عَنْہُمْ الْعَذَابُ وَلاَہُمْ یُنظَرُون)۔ ان بدبختیوں کی وجہ سے چونکہ اصل توحید ختم ہو جاتی ہے۔ زیر نظر آخری آیت میں فرمایا: تمہارا معبود اکیلا خدا ہے (و الہکم الہ واحد)۔ مزید تاکید کے لئے ارشاد ہوتا ہے: اس کے علاوہ کوئی معبود اور لائق پرستش نہیں (لا الہ الا ہو)۔ آیت کے آخر میں دلیل و علت کے طور پر فرماتا ہے: وہ خدا بخشنے والا مہربان ہے (الرحمن الرحیم)۔ بے شک وہ جس کی عام و خاص رحمت سب پر محیط ہے۔ جس نے مومنین کے لئے خصوصی امتیازات قرار دیئے ہیں، یقینا وہی لائق عبادت ہے نہ کوئی اور جو سر تا پا احتیاج ہے۔ چند اہم نکات
حالتِ کفر میں مرنا
قرآن مجید کی بہت سی آیات سے یہ نکتہ ظاہر ہوتا ہے کہ جو لوگ حالت کفر اور حق سے دشمنی کرتے ہوئے دنیا سے جائیں، ان کے لئے کوئی راہ نجا ت نہیں ہے اور ایسا ہی ہونا چاہئیے ، کیونکہ آخرت کی سعادت یا بدبختی تو براہ راست ان ذخائر اور وسائل کا نتیجہ ہے جو ہم اس دنیا سے اپنے ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ جس شخص نے اپنے پر و بال، کفر اور حق دشمنی میں جلا دیے ہیں وہ یقینا اس جہان میں طاقت پرواز نہیں رکھتا اور دوزخ کے گڑھوں میں اس کا گرنا یقینی ہے کیونکہ دوسرے جہاں میں اعمال بجا لانے کا کوئی موقع نہ ہوگا لہذا ایسا شخص ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے کوئی شخص شہوت رانیوں اور ہوس بازیوں کی وجہ سے جان بوجھ کر اپنی آنکھیں کھو بیٹھے اور آخری عمر تک نابینا رہے۔ واضح ہے کہ یہ بات ان کفار سے مخصوص ہے جو جان بوجھ کر کفر اور حق دشمنی کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ مسئلہ خلود کے بارے میں مزید توضیح سورہ ہود کی آیت ۱۰۷ اور ۱۰۸، جلد ۹ کے ذیل میں پڑھیے گا۔
خدا اپنی یکتائی میں یکتا
مندرجہ بالا تیسری آیت میں خدا کی ایسی یکتائی بیان کی گئی ہے جو ہر قسم کے انحراف اور شرک کی نفی کرتی ہے۔ کبھی ایسے موجودات بھی نظر آتے ہیں جو ایسی صفات کے حامل ہیں جو منحصر بفرد ہیں اور اصطلاح کے مطابق یکتا ہیں۔ لیکن کہے بغیر واضح ہے کہ وہ سب موجودات ایک یا چند صفات مخصوصہ میں تو ممکن ہے منحصر بفرد اور یکتا ہوں جب کہ خدا، ذات و صفات اور افعال میں یکتا و اکیلا ہے۔ عقلی طور پر خدا کی یکتائی قابل تعدد نہیں ۔ وہ ازلی و ابدی یکتا ہے۔ وہ ایسا یکتا ہے کہ اس پر حوادث اثر انداز نہیں ہوتے۔ اس کی یکتائی ذہن میں بھی ہے اور خارج از ذہن بھی۔ مختصر یہ کہ وہ اپنی یکتائی میں بھی یکتا ہے۔
کیا خدا کی لعنت کافی نہیں ہے؟
مندرجہ بالا آیات کے مطابق خدا کے علاوہ حق پوشی کرنے والوں پر سب لعنت کرنے والوں کی لعنت پڑتی ہے۔ یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ کیا خدا کی لعنت کافی نہیں ہے۔ اس سوال کا جواب واضح ہے کہ در حقیقت یہ ایک طرح کی تاکید ہے اور ایسے قبیح اور برے افعال انجام دینے والوں کے لئے تمام جہانوں کی طرف سے تنفر و بیزاری کا اظہار ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہاں لفظ "ناس" بطور عموم کیوں استعمال ہوا ہے جب کہ جرم میں شریک لوگ تو کم از کم ایسے ایسے مجرموں پر لعنت نہیں کرتے۔ ہم کہیں گے___ حالت تو یہ ہے کہ وہ خود بھی اپنے اس عمل قبیح سے متنفر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص خود ان کے بارے میں حق پوشی کرے تو یقینا انہیں تکلیف ہوگی اور وہ اس پر نفرین کریں گے لیکن جہاں ان کے اپنے منافع کا معاملہ ہو، وہاں یہ لوگ استثنائی طور پر چشم پوشی کرتے ہیں۔
آسمان و زمین میں اس کی ذات پاک کے جلوے ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 1گذشتہ آیت سے توحید پروردگار کی بحث شروع ہوتی ہے۔ زیر نظر آیت در حقیقت خدا کی توحید کے مسئلے اور اس کی ذات پاک کی یکتائی پر ایک دلیل ہے۔ مقدمہ اور تمہید کے طور پراس بات کی طرف توجہ رہے کہ نظم و ضبط، علم، دانش اور عقل کے وجود کی دلیل ہے۔ خداشناسی کی کتب میں ہم اس بنیاد کی تشریح کر چکے ہیں کہ عالم ہستی میں جب نظم و ضبط کے مظاہر نظر آتے ہیں اور نظام قدرت کی ہم آہنگی اور وحدت عمل پر نگاہ جاتی ہے تو فورا توجہ ایک اکیلے مبداء علم و قدرت کی مائل ہو جاتی ہے کہ یہ سب کچھ اسی کی طرف سے ہے۔ مثلا جب ہم آنکھ کے سات پردوں میں سے کسی ایک بناوٹ پر بھی غور کرتے ہیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ امر کسی بے شعور، اندھی اور بہری فطرت سے محال ہے کہ وہ ایسے اثر کا مبدا ء بن سکے اور جب ان سات پردوں کے باہمی ربط اور ہم آہنگی پھر آنکھ کی ساری مشینری کی انسانی بدن سے ہم آہنگی اور پھر ایک انسان کی دیگر انسانوں سے ہم آہنگی اور پھر پوری انسانی برادری کی پورے نظام ہستی سے ہم آہنگی دیکھتے ہیں تو جان لیتے ہیں کہ ان سب کا ایک ہی سرچشمہ ہے اور یہ سب ایک ہی ذات پاک کے آثار قدرت ہیں۔ ایک عمدہ اور اچھا اور پر معنی شعر کیا ہمیں شاعر کے اعلی ذوق اور سرشار طبیعت کا پتہ نہیں دیتا اور کیا ایک دیوان میں موجود چند قطعات کی کامل ہم آہنگی اس امر کی دلیل نہیں کہ یہ سب ایک قادر الکلام شاعر کی طبیعت اور ذوق کے آثار ہیں۔ اس تمہید کو نظر میں رکھتے ہوئے اب ہم آیت کی تفسیر کی طرف لوٹتے ہیں۔ اس آیت میں جہان ہستی کے نظم و ضبط کے چھ قسم کے آثار کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ان میں سے ہر ایک اس عظیم مبداء کے وجود کی نشانی ہے۔ ۱۔ آسمانوں اور زمین کی خلقت میں (ان فی خلق السموات و الارض) جی ہاں__ اس پر شکوہ اور ستاروں بھرے آسمان کی خلقت، یہ عالم بالا کے کرات جن میں کروڑوں آفتاب درخشاں،کروڑوں ثابت و سیار ستارے جو تاریک رات میں پر معنی اشاروں سے ہم سے بات کرتے ہیں اور وہ جنہیں بڑی بڑی دوربینوں سے دیکھا جائے تو ایک دقیق اور عجیب نظام دکھائی دیتا ہے، ایسا نظام جس نے ایک زنجیر کے حلقوں کی طرف انہیں ایک دوسرے سے پیوست کر رکھا ہے۔ اسی طرح زمین کی خلقت___ جہاں قسم قسم کے مظاہر حیات ہیں۔ جہاں مختلف انواع اور صورتوں میں لاکھوں نباتات اور جانور موجود ہیں۔ یہ سب اس ذات پاک کی نشانیاں اور اس کے علم، قدرت اور یکتائی کے واضح دلائل ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ انسان کا علم و ادراک جتنا بڑھتا جا رہا ہے، اتنی ہی اس عالم کی عظمت و وسعت اس کی نظر میں زیادہ ہوتی جا رہی ہے اور معلوم نہیں یہ وسعت علم کب تک جاری رہے گی۔ اس وقت کے علماء کہتے ہیں کہ عالم بالا میں ہزاروں کہکشائیں موجود ہیں ۔ ہمارا نظام شمسی ایک کہکشاں کا حصہ ہے۔ صرف ہماری کہکشاں میں کروڑوں آفتاب اور چمکتے ستارے موجود ہیں۔ علماء عصر کے اندازے کے مطابق ان میں لاکھوں مسکونی سیارے ہیں جن میں اربوں موجودات ہیں___ کیا ہی عظمت و قدرت ہے۔ ۲۔ رات دن کے آنے جانے میں (و اختلاف اللیل و النہار)۔ جی ہاں___ یہ رات دن کا اختلاف [ لفظ "اختلاف" ممکن ہے آمد و شد (آنے جانے ) کے معنی میں استعمال ہوا ہو کیونکہ یہ "خلف" اور "خلافت" کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے ایک دوسرے کا جانشین ہونا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ اختلاف رات اور دن کی کمی بیشی کی طرف اشارہ ہو اور دونوں معانی بھی مراد ہو سکتے ہیں۔ بہرحال یہ خاص نظام جو بہت سے واضح آثار کا حامل ہے، اتفاقا اور بغیر کسی عالم و قادر ذات کے وجود پذیر نہیں ہو سکتا۔] اور ایک مخصوص تدریجی نظام کے ساتھ یہ روشنی اور تاریکی کی آمد و شد۔ اس سے پھر چار موسم وجود پاتے ہیں۔ نباتات اور دیگر زندہ موجودات اسی نظام کی وجہ سے تدریجی طور پر مراحل تکامل طے کرتے ہیں۔ اس ذات پاک اور اس کی بلند صفات کے لئے یہ ایک اور نشانی ہے۔ ۳۔ انسانوں کے نفع کی چیزیں لے کر کشتیاں دریا میں چلتی ہیں (و الفلک التی تجری فی البحر بما ینفع الناس)۔ چھوٹی بڑی کشتیوں کے ذریعے انسان وسیع سمندروں میں چلتا ہے اور اپنے مقاصد کے لئے ان کے ذریعے زمین کے مختلف حصوں میں جاتا ہے۔ یہ سفر خصوصا بادبانی کشتیوں کا سفر، چند نظاموں کی وجہ سے ہے۔ ا۔ وہ ہوائیں جو ہمیشہ سطح سمندر پر رہتی ہیں۔ یہ ہوائیں عموما زمین کے قطب شمالی اور قطب جنوبی سے خط استواء کی طرف اور خط استوا سے قطب شمالی اور جنوبی کی طرف چلتی ہیں۔ انہیں آلیزہ اور کاؤنٹر آلیزہ کہتے ہیں۔ ب۔ کچھ ہوائیں علاقوں کے لحاظ سے ایک معین پروگرام کے تحت چلتی ہیں اور کشتیوں کو یہ سہولت بہم پہنچاتی ہیں کہ وہ اس فراواں طبیعی دولت سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے مقصد کی طرف آگے بڑھیں ) اسی طرح لکڑی کی خاص طبیعی خاصیت ہے جس کی وجہ سے وہ پانی میں نہیں ڈوبتی۔ یہ بھی پانی پر اجسام کے تیرنے کا سبب بنتی ہے)۔ زمین کے دونوں قطبوں میں غیر مبدل مقناطیسی خاصیت ہے جن کے حساب سے قطب نما کی سوئیاں حرکت کرتی ہیں۔ یہ بھی پانی پر چیزوں کی آمد و رفت میں مددگار ہوتی ہے۔ ان سب کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب تک یہ سب نظام ایک دوسرے سے متحد نہ ہوں، کشتیوں کی حرکت سے وہ بھرپور فوائد حاصل نہیں کئے جا سکتے جو کئے جا رہے ہیں۔[لفظ "فلک" کا معنی ہے کشتی، اس کا واحد اور جمع ایک ہی وزن پر ہے]۔ یہ بات حیران کن ہے کہ دور حاضر میں مشینی کشتیوں کے بننے سے ان امور کی عظمت نہ فقط یہ کہ کم نہیں ہوئی بلکہ ان کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ آج کی دنیا میں دیو ہیکل سمندری جہاز اہم ترین ذریعہ نقل و حمل شمار ہوتے ہیں۔ بعض جہاز تو شہروں کی طرح وسیع ہیں۔ ان میں میدان، سیر و تفریح کے مراکز یہاں تک کہ بازار بھی موجود ہیں۔ ان کے عرشہ پر ہوائی جہازوں کے اترنے کے لئے بڑے بڑے ائیرپورٹ تک موجود ہیں۔ ۴۔پانی جسے خدا آسمان سے نازل کرتاہے، اس کے ذریعے مردہ زمینوں کو زندہ کرتا ہے اور اسی نے ان میں طرح طرح کے جانور پھیلا رکھے ہیں (وَمَا اَنزَلَ اللهُ مِنْ السَّمَاءِ مِنْ مَاءٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِیہَا مِنْ کُلِّ دَابَّة)۔ بارش کے حیات بخش، تازہ اور بابرکت موتی اور اس طبیعی صاف و شفاف پانی کے قطرے ہر جگہ گرتے ہیں اور گویا زندگی کا چھڑکاؤ کرتے ہیں اور اپنے ساتھ حرکت و برکت، آبادی اور نعمتوں کی فراوانی لاتے ہیں۔ یہ پانی جو ایک خاص نظام کے تحت گرتا ہے، تمام موجودات اور جاندار اس بے جان سے جان پاتے ہیں۔ یہ سب اس کی عظمت و قدرت کے پیغام بر ہیں۔ ۵۔ ہواؤں کا ایک منظم طریقے سے چلنا (و تصریف الریاح)۔ ہوائیں نہ صرف سمندروں پرچلتی اور کشتیوں کو چلاتی ہیں بلکہ خشک زمینوں، پہاڑوں، دروں اور جنگلوں کو بھی اپنی جولان گاہ بناتی ہیں۔ کبھی یہ ہوائیں نرگھاس کے چھوٹے چھوٹے دانوں کو مادہ سبزہ زاروں پر چھڑکتی ہیں اور پیوندکاری و بارآوری میں ان کی مدد کرتے ہیں۔ ہمارے لئے پھلوں کا تحفہ لاتی ہیں اور طرح طرح کے بیجوں کو وجود دیتی ہیں۔ بعض اوقات یہ ہوائیں سمندروں کی موجوں کو حرکت دے کر پانیوں کو ایک دوسرے سے اس طرح ملاتی ہیں کہ سمندری موجودات کو حیات نو مل جاتی ہے۔ کبھی ہوائیں گرم علاقوں کی تپش، سرد علاقوں میں کھینچ لاتی ہیں اور کبھی سرد علاقوں کی خنکی گرم علاقوں میں منتقل کر دیتی ہیں اور یوں زمین کی حرارت کو معتدل کرنے میں مؤثر مدد کرتی ہیں۔ گویا ہواؤں کا چلنا جس میں یہ تمام فوائد و برکات ہیں، اس کے بے انتہا لطف و حکمت کی ایک اور نشانی ہے۔ ۶۔ وہ بادل جو زمین و آسمان کے درمیان معلق و مسخر ہیں (وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْاٴَرْضِ)۔ ایک دوسرے سے ٹکرانے والے یہ بادل جو ہمارے سروں کے اوپر گردش میں ہیں۔ اربوں ٹن پانی اٹھائے، کشش ثقل کے قانون کے برعکس آسمان و زمین کے درمیان معلق ہیں اور اس پانی کو بغیر کوئی خطرہ پیدا کئے ادھر ادھر لے جاتے ہیں۔ یہ اس کی عظمت کی ایک اور نشانی ہے۔ علاوہ ازیں پانی کا یہ خزانہ اگر پانی نہ برساتا تو زمین خشک ہوتی، پینے کو ایک قطرہ پانی نہ ہوتا، سبزہ زاروں کے اگنے کے لئے کوئی چشمہ اور نہر نہ ہوتی، ہر جگہ ویران ہوتی اور ہر مقام پر مردہ خاک پھیلی ہوئی ہوتی۔ یہ بھی اس کے علم و قدرت کا ایک اور جلوہ ہے۔ جی ہاں___ یہ سب اس کی ذات پاک کی نشانیاں اور علامتیں ہیں لیکن ایسے لوگوں کے لئے جو عقل و ہوش رکھتے ہیں اور غور و فکر کرتے ہیں (لایت لقوم یعقلون)۔ ان کے لئے نہیں جو بےخبر اور کم ذہن ہیں، نہ ان کے لئے جو آنکھیں رکھتے ہوئے بے بصیرت ہیں اور کان رکھتے ہوئے بہرے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 167 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 167 کے تحت ملاحظہ کریں۔
روئے سخن ان لوگوں کی طرف جنہوں نےقطعی براہین سے چشم پوشی کی
Tafsīr Nemūna · Vol. 1پہلے کی دو آیات میں وجود خدا اور اس کی توحید و یگانگت کو نظام خلقت اور اس کی ہم آہنگی کے دلائل سے ثابت کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے محل بحث آیات میں روئے سخن ان لوگوں کی طرف ہے جنہوں نے ان واضح اور قطعی براہین سے چشم پوشی کی، شرک و بت پرستی اختیار کی اور متعدد خدا قرار دے لئے۔ یہ گفتگو ان لوگوں کے بارے میں ہے جنہوں نے خشک لکڑی کے زوال پذیر معبودوں کے سامنے سر تعظیم خم کیاہے، ان سے ایسا عشق کرتے ہیں جیسا عشق صرف خدا تعالی کے لائق ہے جو تمام کمالات کا منبع و مرکز ہے اور تمام نعمات بخشنے والا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: بعض لوگ اپنے لئے خدا کے علاوہ معبود انتخاب کرتے ہیں (و من الناس من یتخذ من دون اللہ اندادا)۔[ "انداد" جمع ہے"ند" کی جس کا معنی ہے "مثل" لیکن بعض اہل لغت کے بقول اس مثل کو ند کہتے ہیں جو دوسری چیز سے جوہری و اصلی شباہت رکھتی ہو جبکہ مثل کا مفہوم عمومی ہے۔ لہذا آیت کا معنی یوں ہوگا کہ مشرکین کا اعتقاد تھا کہ بت جوہر ذات میں خدا سے شباہت رکھتے ہیں۔ یہ الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ جہالت و نادانی کی وجہ سے ان کے لئے خدائی صفات کے قائل تھے]۔ انہوں نے نہ صرف بتوں کو اپنا معبود قرار دے لیا تھا بلکہ ان کے اس طرح عاشق ہو گئے تھے جیسے خدا سے محبت کی جاتی ہے (یحبونہم کحب اللہ)۔لیکن جو لوگ خدا پر ایمان لا چکے ہیں، وہ اللہ سے زیادہ محبت رکھتے ہیں (و الذین امنوا اشد حبا للہ)کیونکہ وہ فکر و نظر اور علم و دانش کے حامل ہیں اور وہ اس کی ذات پاک کو ہرگز نہیں چھوڑتے جو تمام کمالات کا منبع و مخزن ہے۔ وہ اس کے اور اس کے پیچھے نہیں جاتے۔ ان کے نزدیک خدا کی محبت، عشق اور لگاؤ کے مقابلے میں ہر چیز بے قیمت، ناچیز اور حقیر ہے۔ وہ غیر خدا کو اس محبت کے بالکل لائق نہیں سمجھتے مگر یہ کہ یہ محبت اس کے لئے اور اسی کی راہ میں ہو لہذا وہ عشق کے بحر بیکراں میں اس طرح غوطہ زن ہیں کہ بقول حضرت علی علیہ السلام : فھبنی صبرت علی عذابک فکیف اصبر علی فراقک۔ (دعائے کمیل)۔ پس فرض کیا کہ تیرے عذاب پر صبر کر لوں گا مگر تیرا فراق و جدائی کیسے برداشت کروں گا۔ اصولی طور پر حقیقی عشق و محبت ہمیشہ کسی کمال سے ہوتا ہے ۔ انسان کبھی عدم اور ناقص کا عاشق نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ وجود اور کمال کی جستجو میں رہتا ہے۔ اس لئے وہ ذات جس کا وجود اور کمال سب سے برتر، وسیع اور بے انتہا عشق و محبت کے لئے سب سے زیادہ سزاوار ہے۔ خلاصہ یہ کہ جیسے مندرجہ بالا آیت کہتی ہے صاحبان ایمان کی خدا سے محبت، عشق اور وابستگی، بت پرستوں کی اپنے خیالی معبووں کی نسبت زیادہ حقیقی، گہری اور شدید ہے۔ اور ایسا کیوں نہ ہو کیونکہ جس نے حقیقت کو پا لیا ہے اور اس سے محبت کی ہے، وہ ہرگز اس کے برابر نہیں ہو سکتا جو خرافات و تخیلات میں گرفتار ہو۔ مومنین کے عشق کا سرچشمہ عقل، علم اور معرفت ہے اور کفار کے عشق کی بنیاد جہالت، خرافات اور خواب و خیال ہے۔ اسی لئے پہلی قسم کی محبت کبھی متزلزل نہیں ہو سکتی لیکن مشرکین کے عشق میں ثبات و دوام نہیں۔ لہذا آیت کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا گیا ہے: یہ ظالم جب عذاب خدا کو دیکھیں گے اور جان لیں گے کہ تمام قدرتیں خدا کے ہاتھ میں ہیں اور وہی عذاب شدید کا مالک ہے، اس وقت اپنے اعمال کی پستی و حقارت اور اپنے کرتوتوں کے برے انجام کی طرف متوجہ ہوں گے اور اعتراف و اقرار کریں گے کہ ہم کجرو اور منحرف لوگ تھے (و لو یری الذین ظلموا اذ یرون العذاب ان القوة للہ جمیعا و ان اللہ شدید العذاب)۔[ بعض مفسرین نے لفظ "لو" کو تمنائی سمجھا ہے لیکن بہت سے اسے شرطیہ سمجھتے ہیں اس صورت میں اس کی جزا محذوف ہوگی اور جملہ یوں ہوگا۔ "لراوا سوء فعلہم و سوء عاقبتہم"]۔ بہرحال اس وقت جہالت، غرور اور غفلت کا پردہ ان کی آنکھوں سے اٹھ جائے گا اور وہ اپنے اشتباہ اور غلطی کو جان لیں گے لیکن چونکہ ان کے لئے کوئی پناہ گاہ اور سہارا نہ ہوگا لہذا سخت بے چارگی میں وہ بے اختیار اپنے معبودوں اور رہبروں کے دامن تھامنے کو لپکیں گے مگر اس وقت ان کے گمراہ رہبران، کو پیچھے دھکیل دیں گے اور وہ اپنے پیروکاروں سے اظہار بیزاری کریں گے (إِذْ تَبَرَّاَ الَّذِینَ اتُّبِعُوا مِنْ الَّذِینَ اتَّبَعُوا )۔ اسی حالت میں وہ اپنی آنکھوں سے عذاب الہی دیکھیں گے اور ان کے باہمی تعلقات ٹوٹ جائیں گے (وَرَاَوْا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِہِمْ الْاَسْبَابُ)۔ واضح ہے کہ یہاں معبودوں سے مراد پتھر اور لکڑی کے بت نہیں بلکہ وہ جابر و قاہر انسان اور شیاطین ہیں کہ مشرکین اپنے تئیں دست بستہ جن کے اختیار میں دے چکے ہیں لیکن وہ بھی اپنے پیروکاروں کو دھتکار دیں گے۔ ایسے میں جب یہ گمراہ پیروکار اپنے معبودوں کی یہ کھلی بے وفائی دیکھیں گے تو اپنے آپ کو تسلی دینے کے لئے کہیں گے: کاش ہم دنیا میں پلٹ جائیں تو ان سے بیزاری اختیار کریں گے جیسے وہ آج ہم سے بیزار ہیں(و قال الذین اتبعوا لو ان لنا کرة فنتبرا منہم کما تبراوا منا)۔ لیکن اب کیا فائدہ معاملہ تو ختم ہو چکا ہے ۔ اب دنیا کی طرف پلٹنا ممکن نہیں رہا۔ ایسی ہی گفتگو سورہ زخرف آیہ ۳۸ میں ہے: حتی اذا جائنا قال یالیت بینی و بینک بعد المشرقین فبئس القرین۔ قیامت کے دن جب وہ ہماری بارگاہ میں حاضر ہوں گے تو گمراہ کرنے والے رہبر سے کہیں گے: اے کاش تیرے میرے درمیان مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا۔ آیت کے آخر میں فرماتا ہے: ہاں اسی طرح ان کے اعمال ان سب کے لئے سبب حسرت و یاس بنا کر پیش کرے گا (کذلک یریہم اللہ اعمالہم حسرات علیہم) اور وہ کبھی جہنم کی آگ سے نہیں نکلیں گے (و ما ھو بخارجین من النار)۔ واقعا وہ حسرت و یاس میں گرفتار ہونے کے علاوہ کیا کر سکتے ہیں۔ ان اموال پر حسرت جو انہوں نے جمع کئے اور فائدہ دوسروں نے اٹھایا، ان بے پناہ وسائل پر حسرت جو نجات و کامیابی کیلئے ان کے ہاتھ میں تھے مگر انہوں نے ضائع کر دیے اور ان معبووں کی عبادت پر حسرت خدائے قادر و متعال کی عبادت کے مقابلے میں جن کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی لیکن یہ حسرت کس کام کی کیونکہ اب نہ عمل کا موقع ہوگا اور نہ یہ کمی کو پورا کر سکے گی بلکہ وہ تو سزا اور اعمال کا نتیجہ و ثمرہ دیکھنے کا وقت ہوگا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 169 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ابن عباس سے منقول ہے کہ عرب کے بعض قبیلوں مثلا ثقیف، خزاعہ وغیرہ نے بعض زرعی اجناس اور جانوروں کو بغیر کسی دلیل کے اپنے اوپر حرام قرار دے رکھا تھا (یہاں تک کہ ان کی تحریم کی نسبت خدا کی طرف دیتے تھے)۔ اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں جن میں انہیں اس ناروا عمل سے روکا گیا ہے۔
شرک و بت پرستی کی سخت مذمت
گزشتہ آیات میں شرک و بت پرستی کی سخت مذمت کی گئی تھی۔ شرک کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ انسان خدا کے علاوہ کسی کو قانون ساز سمجھ لے اور نظام تشریع اور حلال و حرام اس کے اختیار میں قرار دیدے۔ محل بحث آیات میں ایسے عمل کو شیطانی فعل قرار دیا گیا ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: اے لوگو! جو کچھ زمین میں حلال اور پاکیزہ ہے اسے کھاؤ (یا ایہا الناس کلو مما فی الارض حللا طیبا)۔ اور شیطان کے نقوش قدم پر نہ چلو کیونکہ وہ تمہارا واضح دشمن ہے (و لا تتبعوا خطوات الشیطان انہ لکم عدو مبین)۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ مختلف غذاؤں سے فائدہ اٹھانے سے مربوط آیات قرآن میں کئی مقام پر ہیں اور عموما ان میں دو قیود کا ذکر ہے حلال اور طیب۔ حلال وہ ہے جس سے روکا نہ گیا ہو اور طیب ان چیزوں کو کہتے ہیں جو پاک و پاکیزہ اور انسان کی طبع سلیم کے مطابق ہوں۔ طیب کے مدمقابل خبیث ہے جس سے مزاج انسانی نفرت کرتا ہے۔ خطوات جمع ہے خطوہ (بر وزن "قربہ") کی ۔ اس کا معنی ہے قدم۔ خطوات الشیطان سے مراد وہ قدم ہیں جو شیطان اپنے مقصد تک پہنچنے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے اٹھاتا ہے۔ "لا تتبعوا خطوات الشیطان" قرآن میں پانچ مقامات پر دکھائی دیتا ہے۔ دو مقامات پرغذا اور خدائی رزق سے استفادہ کرنے کے ضمن میں ہے۔ در اصل انسانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ حلال نعمتوں کو بے محل استعمال نہ کریں اور نعمات الہی کو خدا کی اطاعت و بندگی کا ذریعہ قرار دیں نہ کہ طغیان سرکشی اور فساد کا۔ شیطان کے نقوش پا کی پیروی حقیقت میں وہی بات ہے جو دیگر آیات میں حلال غذاؤں سے استفادہ کرنے کے حکم کے بعد ذکر ہوئی ہے۔ مثلا: کُلُوا وَاشْرَبُوا مِنْ رِزْقِ اللهِ وَلاَتَعْثَوْا فِی الْاٴَرْضِ مُفْسِدِینَ۔ رزق الہی میں سے کھاؤ پیو مگر زمین میں فتنہ و فساد برپا نہ کرو۔ (بقرہ۔۶۰) ایک اور مقام پر ارشاد ہے: کلوا من طیبت ما رزقنکم و لا تطغوا فیہ۔ وہ پاکیزہ رزق جو ہم نے تمہیں عطا کیا ہے، اس میں سے کھاؤ مگر اس میں طغیان و سرکشی نہ کرو۔ (طہ۔۸۱) خلاصہ یہ کہ یہ عطیات اور اسباب اطاعت کے لئے تقویت بخش ہونے چاہئیں گناہ کا ذریعہ نہیں۔ "انہ لکم عدو مبین" قرآن حکیم میں دس سے زیادہ مرتبہ شیطان کے ذکر کے ساتھ آیا ہے۔ یہ اس لئے ہے تا کہ انسان اس واضح دشمن کے مقابلے میں اپنی تمام قوتیں اور صلاحیتیں یکجا کرے۔ شیطان جس کا مقصد انسان کی بدبختی اور شقاوت کے سوا کچھ نہیں، اگلی آیت اس کی انسان سے شدیدترین دشمنی کو بیان کرتی ہے۔ فرمایا: وہ صرف تمہیں طرح طرح کی برائیوں اور قباحتوں کا حکم دیتا ہے (انما یامرکم بالسوء و الفحشا)۔ نیز تمہیں آمادہ کرتا ہے کہ خدا پر افتراء باندھو اور جو چیز تم نہیں جانتے ہو، اس کی خدا کی طرف نسبت دو (وان تقولوا علی اللہ ما لا تعلمون)۔ ان آیات سے ظاہر ہوا کہ شیطان کے پروگراموں کا خلاصہ یہی تین امور ہیں۔ برائیاں، قباحتیں اور ذات پروردگار سے بے بنیاد باتیں منسوب کرنا۔ "فحشاء" کا مادہ ہے "فحش" جس کا مطلب ہر وہ چیز ہے جو حد اعتدال سے خارج ہو کر فاحش کی شکل اختیار کر لے، اس لحاظ سے تمام منکرات اور واضح قباحتیں اس کے مفہوم میں شامل ہیں۔ یہ جو آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ یہ لفظ عفت و پاکدامنی کے منافی افعال کے لئے استعمال ہوتا ہے یا ان گناہوں پر بولا جاتا ہے جو حد شرعی رکھتے ہیں تو یہ لفظ کے کلی مفہوم کے بعض واضح مصادیق ہیں۔ ان تقولوا علی اللہ ما لا تعلمون___ ممکن ہے یہ ان حلال غذاؤں کی طرف اشارہ ہو جنہیں زمانہ جاہلیت کے عربوں نے حرام قرار دے رکھا تھا اور اس کی نسبت خدا کی طرف دیتے تھے بلکہ بعض بزرگ مفسرین کے بقول اس طرز فکر کی رسومات تازہ مسلمانوں کے بعض گروہوں میں بھی باقی رہ گئی تھیں۔( تفسیر المیزان، ج۱، ص۴۲۵)۔ خدا کی طرف شریک شبیہ کی نسبت دینا اس آیت کا زیادہ وسیع معنی ہے اور یہ بھی آیت کے مفاہیم میں شامل ہے۔ بہرحال یہ جملہ اس طرف اشارہ ہے کہ ایسے امور کا مطلب علم کے بغیر بات کرنا ہے اور وہ بھی خدا کے مقابلے میں جب کہ یہ کام کسی منطق اور عقل و خرد کی رو سے صحیح نہیں۔ اگر لوگ اصولی طور پر اس بات کے پابند ہوں کہ وہ وہی بات کریں گے جس کا کوئی قطعی اور یقینی مدرک ہے تو انسانی معاشرے سے بہت سی بدبختیاں اور تکالیف دور ہو سکتی ہیں۔ در حقیقت خدائی مذاہب میں جو خرافات شامل ہو گئے ہیں، وہ اسی طرح بے منطق افراد کے ذریعے ہوئے ہیں۔ بگڑے ہوئے اعتقادات اور اعمال اسی بنیادکو اہمیت نہ دینے کے وجہ سے ہیں لہذا خطوات شیطان کی مستقل عنوان کے تحت مندرجہ بالا آیت میں برائیوں اور قباحتوں کے ساتھ اس عمل کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
اصل حلیت
یہ آیت اس امر کی دلیل ہے کہ روئے زمین پر موجود تمام غذائیں بنیادی طور پر حلال ہیں اور حرام غذائیں صرف استثنائی پہلو رکھتی ہیں لہذا کسی چیز کا حرام ہونا دلیل کا محتاج ہے نہ کہ حلال ہونا۔ دوسری طرف قوانین تشریعی کو چونکہ قوانین سے ہم آہنگ ہونا چاہئیے لہذا آفرینش و خلقت کا تقاضا بھی یہی ہے۔ زیادہ وضاحت سے یوں کہا جا سکتا ہے کہ جو کچھ خدا نے پیدا کیا ہے یقینا اس میں کوئی فائدہ ہے اور وہ بندوں کے استفادہ کے لئے ہے لہذا اس کی کوئی وجہ نہیں کہ کوئی چیز بنیادی طور پر حرام ہو۔ لہذا ہر وہ غذا جس کی حرمت پر کوئی صحیح دلیل موجود نہ ہو، جب تک وہ انفرادی یا اجتماعی طور پر باعث فساد اور ضرر رساں نہ ہو، اس آیت شریفہ کی روشنی میں حلال ہے۔
تدریجی انحرافات
خطوات الشیطان (شیطان کی نقوش پا)___ یہ الفاظ ایک دقیق تربیتی مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور وہ یہ کہ کجرویاں اور تباہ کاریاں آہستہ آہستہ انسان میں نفوذ کرتی ہیں نہ کہ دفعتا۔ مثلا جب کوئی نوجوانوں منشیات، قمار اور شراب سے آلودہ ہوتا ہے تو یہ مقام کئی مراحل کے بعد آتا ہے۔ پہلے وہ ایک تماشائی کے طور پرایسے لوگوں میں شریک ہوتا ہے اور اس کے انجام کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔ دوسرے مرحلے پر وہ قمار بازی میں بغیر نفع یا نقصان کے شریک ہوتا ہے اور اسی طرح منشیات سے تکان دور ہونے یا علاج کے بہانے استفادہ کرتا ہے۔ تیسرے مرحلے میں وہ ان امور سے تھوڑا بہت فائدہ حاصل کرنے لگتا ہے اور سوچتا ہے کہ بہت جلد ان سے صرف نظر کر لوں گا۔ اسی طرح یکے بعد دیگرے قدم اٹھتے ہیں۔ اور بالآخر وہ شخص ایک قمار باز اور نشے کا خطرناک عادی مجرم بن جاتا ہے۔ یہ شیطانی وسوسے عموما آہستہ آہستہ، تدریجا ہلاکت کے گڑھے کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہ کام فقط ایک مشہور شیطان نہیں کرتا بلکہ شیطانی قوتیں اپنے غلط منصوبوں کو اسی طرح عملی جامہ پہناتی ہیں، اسی لئے قرآن کہتا ہے کہ پہلے قدم پرہی ہوش میں آ کر شیطان کی ہمراہی سے کنارہ کش ہو جانا چاہئیے۔ احادیث اسلامی میں بےہودہ خرافات اور بے منطق کاموں کو خطوات شیطان قرار دیا گیا ہے۔ مثلا ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے قسم کھائی کہ وہ اپنے بیٹے کو خدا کے لئے ذبح کرے گا۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ذلک من خطوات الشیطان۔ یہ شیطانی اقدامات میں سے ہے۔ ( تفسیر المیزان، ج۱، ص۴۲۸)۔ ایک اور روایت میں امام صادق علیہ السلام سے مردی ہے، آپ نے فرمایا: جو شخص کسی ایسی چیز کو ترک کرنے کی قسم کھائے کہ جس کا انجام دینا بہتر ہے تو وہ ایسی قسم کی پرواہ نہ کرے اور اس کار خیر کو بجا لائے۔ اس کا کفارہ بھی نہیں ہے اور وہ خطوات شیطان میں سے ہے۔( تفسیر المیزان، ج۱، ص۴۲۸)۔ ایک اور حدیث امام باقر علیہ السلام سے مروی ہے، آپ نے فرمایا: کل یمین بغیر اللہ فہو من خطوت الشیطان۔ جو قسم غیر خدا کی کھائی جائے، وہ خطوات شیطان میں سے ہے۔( تفسیر المیزان، ج۱، ص۴۲۸)۔
شیطان پرانا دشمن ہے
آیت کے آخر میں شیطان کو واضح دشمن قرار دیا گیا ہے۔ یہ یا تو اس دشمنی کی بنا پر ہے جو اسے پہلے دن سے حضرت آدم علیہ السلام سے تھی جب کہ وہ حضرت آدم کو سجدہ کرنے کے حکم نافرمانی کر کے ہر چیز سے ہاتھ دھو بیٹھا یا اس لئے ہے کہ قتل، جارحیت اور تباہ کاری پر مبنی اس کی دعوتیں، کرتوت اور طریقے سب پر واضح ہیں اور سب جانتے ہیں کہ ایسے کام کسی دوست کی طرف سے نہیں ہو سکتے۔ ایسے کام جن کا نتیجہ بدبختی اور پشیمانی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا، ان کی دعوت ایک خطرناک دشمن کی طرف سے ہی ہو سکتی ہے۔ یہ اس طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے کہ اس نے انسا ن سے اپنی دشمنی کا صراحت سے اعلان کیا ہے اور اس نے انسان کی دشمنی پر کمر باندھ رکھی ہے اور اس نے کہہ رکھا ہے کہ: لاغوینہم اجمعین۔ مجھ سے ہو سکا تو سب کو گمراہ کر دوں گا۔(حجر۔۳۹)
شیطانی وسوسوں کی کیفیت
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیت کہتی ہے شیطان تمہیں حکم دیتا ہے کہ برائیوں اور قباحتوں کی طرف جاؤ اور یہ بھی مسلم ہے کہ "امر" سے مراد شیطانی وسوسہ ہی ہے۔ حالانکہ برائی انجام دیتے وقت ہمیں اپنے وجود سے باہر سے کسی امراور تحریک کا احساس نہیں ہوتا اور ہمیں شیطان کے گمراہ کرنے کی کسی کوشش کا داخلی احساس نہیں ہوتا۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جیسے لفظ وسوسہ سے ظاہر ہوتا ہے، یہ ایک طرح کی وجود انسانی میں شیطانی تاثیر ہے جو مخفی اور نامعلوم قسم کی ہے۔ بعض آیات میں اسے "وحی" اور "ایماء" سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جیسا کہ سورہ انعام کی آیت ۱۲۱ میں ہے: و ان الشیطین لیرحون الی اولیئہم۔ شیاطین اپنے دوستوں اور ان لوگوں کو جو ان کے احکام قبول کرنے پر آمادہ کرتے ہیں، وحی کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ وحی مخفی اور مرموز آواز ہے جس کی تاثیرات اکثر نامعلوم طرح کی ہیں۔ البتہ انسان خدائی الہامات اور شیطانی وسوسوں میں واضح تمیز کر سکتا ہے کیونکہ خدائی الہامات کی پہچان کی واضح علامت موجود ہے۔ اور وہ یہ کہ خدائی الہامات چونکہ انسان کی پاک فطرت اور اس کے جسم و روح کی ساخت سے آشنا ہیں، اس لئے جب وہ دل میں پیدا ہوتے ہیں تو انبساط و نشاط کی کیفیت بخشتے ہیں جب کہ شیطانی وسوسے انسانی فطرت سے ہم آہنگ نہیں ہیں، اس لئے جب وہ دل میں پیدا ہوتے ہیں، اس وقت ایک طرح کی گھٹن، تکلیف اور سنگینی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اگر انسان کے رجحا نات یہاں تک جا پہنچیں کہ برا کام انجام دیتے وقت اس میں یہ احساس پیدا نہ ہو تب بھی کام انجام دینے کے فورا بعد یہ احساس پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ ہے فرق شیطانی اور رحمانی الہامات کے درمیان۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 171 کے تحت ملاحظہ کریں۔
آباء و اجداد کی اندھی تقلید
Tafsīr Nemūna · Vol. 1یہاں مشرکین کی کمزور منطق، حلال غذاؤں کی بلا جواز تحریم یا بطور کلی بت پرستی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ خدانے نازل کیا ہے، اس کی پیروی کرو تو کہتے ہم نے جس طریقے پر اپنے آباؤ اجداد کو پایا ہے، اسی کی پیروی کریں گے (وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللّهُ قَالُواْ بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا)۔ ["الفینا" کا معنی ہے "ہم نے پایا اور پیروی کی۔"] قرآن اس بیہودہ اور خرافاتی منطق کی فورا اخبر لیتا ہے جو آباؤ اجداد کی اندھی تقلید ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: کیا ایسا نہیں کہ ان کے آباؤ اجداد کچھ نہیں سمجھتے تھے اور وہ ہدایت یافتہ نہیں تھے (أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لاَ يَعْقِلُونَ شَيْئاً وَلاَ يَهْتَدُونَ)۔یعنی اگر وہ پڑھے لکھے اور ہدایت یافتہ لوگ ہوتے تو گنجائش تھی کہ ان کی پیروی کی جاتی لیکن یہ جاننے کے باوجود کہ وہ ان پڑھ، نادان اور توہم پرست تھے، کیا تک ہے کہ ان کی پیروی کی جائے۔ کیا یہ جاہل کی تقلید کا مصداق نہیں؟ قومیت اور قومی تعصبات کا مسئلہ بالخصوص جو آباؤ اجداد سے مربوط ہو، مشرکین میں خصوصا اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں میں عموما پہلے دن سے موجود تھا اور آج تک جاری و ساری ہے لیکن خدا پرست اور صاحبان ایمان اس منطق کو رد کر دیتے ہیں۔ قرآن مجید نے بہت سے مواقع پر آباؤ اجداد کی اندھی تقلید اور تعصب کی شدید مذمت کی ہے اور اس نے آنکھ کان بند کر کے آباؤ اجداد کی تقلید کو رد کر دیا ہے۔ اصولی طور پر اپنی عقل و فکر کو دست بستہ بڑوں کے سپرد کر دینے کا نتیجہ دقیانوسی رجعت پسندی کے سوا کچھ نہیں کیونکہ عموما بعد والی نسلیں گذشتہ نسلوں سے زیادہ علم و آگہی رکھتی ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ یہ جاہلانہ طرز فکر آج بھی بہت سے افراد اور ملل پر حکمرانی کرتی ہے اور وہ لوگ اپنے بڑوں کی بتوں کی طرح پرستش کرتے ہیں اور بعض خرافاتی آداب و رسوم کو فقط اس لئے بے چون و چرا مان لیتے ہیں کہ یہ بزرگوں کے آثار ہیں اور انہیں دلفریب لباس پہنا دیتے ہیں۔ مثلا قومیت کی حفاظت، تاریخی اسناد کا تحفظ وغیرہ ۔ یہ طرز فکر ایک نسل کی خرافات دوسری نسل میں منتقل ہونے کا ایک ذریعہ ہے۔ البتہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ آنے والی نسلیں گزر جانے والوں کے آداب و سنن کا تجزیہ کریں اور ان میں سے جو عقل و منطق کے مطابق ہوں، ان کی بڑے احترام سے حفاظت کریں اور جوبے بنیاد خرافات و موہومات ہوں، انہیں دور پھینک دیں۔ اس سے بہتر کون سا کام ہو سکتا ہے اور ایسی تنقید گذشتہ لوگوں کے آداب و سنن میں ملی و تاریخی اہمیت کی حامل چیزوں کی حفاظت کہلانے کی اہل ہے لیکن ہر پہلو سے انہیں قبول کر لینا اور اندھی تقلید کرنا سوائے خرافات پرستی اور رجعت پسندی کے کچھ نہیں۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ ان کے آباؤ اجداد کے متعلق مندرجہ بالا آیت میں خدا فرماتا ہے: وہ نہ کسی چیز کو سمجھ سکتے تھے اور نہ ہدایت یافتہ تھے۔ یعنی دو قسم کے افراد کی پیروی کی جا سکتی ہے۔ ایک وہ شخص جو علم اور عقل و دانش رکھتا ہو، دوسرا وہ جو خود صاحب علم نہیں تاہم اس نے کسی عالم کے علم و دانش کو قبول کر لیا ہے۔ لیکن ان کے آباؤ اجداد خود صاحبان علم و دانش تھے نہ ان کا کوئی ہادی و رہبر تھا اور یہ واضح ہے کہ نادان و جاہل جب نادان و جاہل کی تقلید کرتا ہے تو یہی تقلید مخلوق کی بربادی کا باعث بنتی ہے۔ ایسی تقلید پر ہزار لعنت ہے۔ بعد کی آیت کہتی ہے کہ یہ گروہ ان واضح دلائل کے ہوتے ہوئے کیوں حق کی طرف نہیں پلٹتا اور کیوں گمراہی و کفر پر اصرار کرتا ہے۔ فرمایا: اس کافر قوم کو ایمان لانے اور اندھی تقلید چھوڑنے کی دعوت دیتے ہوئے تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہے جو بھیڑوں اور دیگر جانوروں کو (خطرے سے نجات دلانے کے لئے) آواز دیتا ہے لیکن وہ ایک پکار اور صدا کے سوا کچھ نہیں سمجھ پاتے (وَمَثَلُ الَّذِینَ کَفَرُوا کَمَثَلِ الَّذِی یَنْعِقُ بِمَا لاَیَسْمَعُ إِلاَّ دُعَاءً وَنِدَاءً)۔ واقعا وہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں جو خیرخواہ اور دلسوز چرواہے کی داد و فریاد کو ایک نوائے سرد کے علاوہ نہیں سمجھتے جو ان کے لئے ایک وقتی تحریک ہی ہو سکتی ہے۔ آیت کے آخر میں تاکید اور مزید وضاحت کے لئے فرماتا ہے: وہ بہرے ، گونگے اور اندھے ہیں۔ کسی چیز کا ادراک نہیں کر سکتے (صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ فَہُمْ لاَیَعْقِلُونَ)۔ جبھی تو وہ اپنے آباؤ اجداد کی غلط رسموں اور خرافاتی طریقوں سے چمٹے ہوئے ہیں اور ہر اصلاحی دعوت سے انہوں نے منہ موڑ رکھا ہے۔[ اس تفسیر کے مطابق آیت تقدیر کی محتاج ہے۔ گویا اصل میں یوں ہے "مثل الراعی للذین کفروا"۔ یعنی کافروں کو ایمان کی دعوت دینے والے کی مثال اس چرواہے کی سی ہے۔ اس بناء پر صم بکم عمی فہم لا یعقلون ایسے لوگوں کی توصیف ہے جنہوں نے ادراک کے تمام آلات عملا ضائع کر دیئے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کی آنکھ، کان اور زبان نہیں ہے بلکہ وہ اس سے چونکہ فائدہ نہیں اٹھاتے اس لئے گویا نہیں ہے۔] بعض مفسرین نے اس آیت کی ایک اور تفسیر بیان کی ہے۔ ان کے مطابق یہ اس طرح ہے: ان لوگوں کی مثال جو بتوں اور مصنوعی خدا کو پکارتے ہیں، اس شخص کی سی ہے جو بے شعور جانوروں کو آواز دیتا ہے۔ نہ وہ جانور چرواہے کی کسی بات کو سمجھ پاتے ہیں اور نہ یہ مصنوعی معبود اپنے عبادت گزاروں کی باتیں سمجھتے ہیں کیونکہ یہ بت بہرے، گونگے اور اندھے ہیں۔ لیکن اکثر مفسرین نے پہلی تفسیر کو منتخب کیا ہے اور روایات اسلامی بھی اسی کی موید ہیں۔
پہچان کے آلات
اس میں شک نہیں کہ باہر کی دنیا سے انسان کا رابطہ آلات کا محتاج ہے جنہیں پہچان کے آلات کہتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ اہم آنکھ، کان اور زبان ہیں جو دیکھنے، سننے اور بولنے کے کام آتے ہیں۔ اس لئے مندرجہ بالا آیت میں آلات تمیز سے استفادہ نہ کرنے والوں کو بہرا، گونگا اور اندھا قرار دینے کے بعد فاء تفریح کا استعمال نتیجہ اخذ کرنے کے لئے کیا گیا ہے اور بلافاصلہ ارشاد ہوتا ہے: اسی لئے وہ کسی چیز کو نہیں سمجھتے۔ اس طرح قرآن گواہی دیتا ہے کہ بنیادی طور پر علم و دانش کے اسباب آنکھ، کان اور زبان ہیں۔ آنکھ اور کان براہ راست ادراک کے لئے اور زبان دوسروں سے استفادہ کے لئے ہے۔ فلسفے میں بھی یہ حقیقت ثابت ہو چکی ہے کہ غیر حسی علوم کا سرچشمہ بھی ابتدا علوم حسی ہیں۔ یہ ایک وسیع بحث ہے اور یہ مقام اس کی تشریح کا نہیں ہے۔ آلات تمیز کی نعمت کے بارے میں زیادہ وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ کی گیارھویں جلد میں سورہ نحل آیہ ۷۸ کے تفسیر کی طرف رجوع فرمائیں۔
ینعق کا مفہوم
اس کا مادہ "نعق" ہے۔ اصل میں یہ کوے کی اس آواز کو کہتے ہیں جس میں شعور نہ ہو۔ جب کہ "نغق" کوے کی اس آواز کو کہتے ہیں جس میں شور و غل ہو اور کوا گردن بھی بلند کئے ہو۔( بحوالہ: مجمع البیان، آیت محل بحث کے ذیل میں)۔ بعد ازاں "نعق" کے معنی میں وسعت پیدا ہو گئی۔ اب اس کے معنی وہ آوازیں ہیں جو جانوروں کے سامنے نکالی جائیں۔ واضح ہے کہ وہ تو کلمات کے مفاہیم سے آگاہ نہیں ہوتے اور اگر ان پر کبھی کچھ اثر ہوتا ہے تو آواز اور الفاظ کی ادائیگی کے طرز طریقہ سے ہوتا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 173 کے تحت ملاحظہ کریں۔
طیبات وخبائث
Tafsīr Nemūna · Vol. 1وہ کجرویاں جو جڑ پکڑ چکی ہیں، ان کی اصلاح کے لئے قرآن کا اسلوب ہے کہ وہ مختلف طرزوں اور طریقوں کی تاکید و تکرار سے استفادہ کرتا ہے۔ ان آیات میں زمانہ جاہلیت میں مشرکین کی حرام کردہ حلال غذاؤں کے بارے میں دوبارہ گفتگو کرتا ہے ۔ فرق یہ ہے کہ اب روئے سخن مومنین کی طرف ہے جب کہ گذشتہ آیات میں تمام لوگ (یا ایھا الناس) مخاطب تھے۔ فرماتا ہے: اے ایمان والو! ان پاکیزہ نعمتوں میں سے میں نے تمہیں جو روزی دی ہے، اسے کھاؤ (یا ایھا الذین امنوا کلوا من طیبت ما رزقنکم)۔اگر خدا ہی کی عبادت کرتے ہو تو پھر اس کا شکر ادا کرو (و اشکروا للہ ان کنتم ایاہ تعبدون)۔ یہ پاک و حلال نعمتیں جو ممنوع نہیں ہیں، انسان کی فطرت سلیم کے موافق ہیں اور تمہارے لئے پیدا کی گئی ہیں تم ان سے کیوں استفادہ نہیں کرتے۔ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے یہ تمہیں قوت بخشتی ہیں۔ علاوہ ازیں یہ تمہیں شکر و عبادت کے لئے پروردگار کی یاد دلاتی ہیں۔ اسی سورہ کی آیت ۱۶۸__ یا ایھا الناس کلوا مما فی الارض¬¬¬¬ __ کا اگر اس آیت سے تقابل کیا جائے تو وہ لطیف نکتے سمجھ میں آتے ہیں۔ ۱۔ یہاں فرماتا ہے: من طیبت ما رزقنکم (پاک غذاؤں میں سے جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے) جب کہ وہاں فرماتا سے: مما فی الارض (جو کچھ زمین میں ہے)۔ یہ فرق گویا اس طرف اشارہ ہے کہ پاکیزہ نعمتیں اصل میں ایماندار افراد کے لئے پیدا کی گئی ہیں اور بے ایمان لوگ ان کے صدقے میں روزی حاصل کرتے ہیں۔ جیسے باغبان پانی تو پھلوں اور پھولوں کے لئے دیتا ہے لیکن کانٹے اور فضول گھاس پھوس بھی اس سے فائدہ اٹھا لیتی ہے۔ ۲۔ عام لوگوں سے کہتا ہے: کھاؤ لیکن شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ جب کہ مومنین سے زیر نظر آیت میں کہتا ہے: کھاؤ اور خدا کا شکر ادا کرو۔ یعنی صرف نعمتوں سے سوء استفادہ سے نہیں روکتا بلکہ حسن استفادہ کی شرط عاید کرتا ہے۔ درحقیقت، عام لوگوں سے صرف یہ خواہش کی جاتی ہے کہ وہ گناہ نہ کریں لیکن صاحبان ایمان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان نعمتوں کا بہترین استعمال کریں۔ ممکن ہے پاکیزہ غذاؤں سے استفادہ کرنے کے بارے میں متعدد آیات میں بار بار کی تائید بعض لوگوں کے لئے تعجب کا باعث ہو لیکن اگر زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر نظر کی جائے تو یہ حیرت نہیں رہتی۔ ان لوگوں نے بیہودہ رسومات و آداب اختیار کر رکھے تھے۔ بغیر کسی دلیل کے جائز نعمتوں کو اپنے اوپر حرام قرار دے رکھا تھا اور یہ بات ان میں اس طرح راسخ تھی کہ وہ ان امور کو وحی آسمانی کی طرح سمجھتے تھے بلکہ بعض اوقات تو بالصراحت ایسی نسبت خدا کی طرف دیتے تھے۔ اس لئے قرآن نے اتنی تاکید و تکرار کی ہے کیونکہ قرآن یہ بے بنیاد اور بے ہودہ افکار ان کے ذہنوں سے پوری طرح نکال دینا چاہتا ہے۔ طیب غذاؤں کا ذکر سب کو اس اسلامی حکم کی اہمیت کی طرف متوجہ کرتا ہے تا کہ وہ آلودہ اور ناپاک غذاؤں سے پرہیز کریں جن میں سور کا گوشت ،درندے، حشرات الارض اور نشہ آور چیزیں شامل ہیں اور یہ چیزیں اس زمانے کے لوگوں میں شدت و کثرت سے مروج تھیں۔ اس تفسیر کی چھٹی جلد میں سورہ اعراف کی آیہ ۲۲ کے ضمن میں مومنین کے لئے پاکیزہ غذاؤں اور معقول زینتوں سے استفادہ کرنے کے متعلق تفصیلی بحث آئے گی۔ اگلی آیت میں حرام اور ممنوع غذاؤں کو واضح کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں ہر طرح کے بہانوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتاہے : خدا نے مردار کا گوشت، خون، سور کا گوشت اور اس جانور کا گوشت جسے ذبح کرتے ہوئے غیر خدا کا نام لیا جائے، حرام کیا ہے (انما حرم علیکم المیتة و الدم و لحم الخنزیر و ما اہل بہ لغیر اللہ)۔ یہاں پر چار طرح کے گوشت اور خون کی حرمت کا حکم ہے۔ یاد رہے کہ خون ان لوگوں کو بہت مرغوب تھا۔ ان میں سے بعض چیزوں میں تو ظاہری نجاست ہے جیسے مردار، خون اور سور کا گوشت اور بعض میں معنوی نجاست ہے جیسے وہ قربانیاں جو وہ بتوں کے لئے کیا کرتے تھے۔ آیت سے بالعموم اور لفظ "انما" جو کلمہ حصر ہے اور اصطلاحی طور پر حصر اضافی ہے، سے بالخصوص ظاہر ہوتا ہے کہ مقصد تمام محرمات کو بیان کرنا نہیں بلکہ اصل غرض بدعات کی نفی ہے جو بعض حلال غذاؤں کو حرام قرار دے کر انہوں نے جاری کی ہوئی تھیں۔ بہ الفاظ دیگر انہوں نے کچھ پاکیزہ اور حلال گوشت خرافات اور توہمات کے نتیجے میں اپنے اوپر حرام قرار دیئے ہوئے تھے۔ لیکن غذا کی کمی کے وقت وہ مردار، سور کا گوشت اور خون تک استعمال کر لیتے تھے۔ قرآن انہیں بتاتا ہے کہ یہ تمہارے لئے حرام ہیں نہ کہ وہ )اور یہی حصر اضافی کا مطلب ہے)۔ بعض اوقات ایسی ضروریات پیش آتی ہیں کہ انسان بعض حرام چیزوں کے استعمال پر بھی مجبور ہو جاتا ہے لہذا قرآن اس استثنائی پہلو کے بارے میں کہتا ہے: لیکن جو شخص (اپنی جان کے تحفظ کے لئے) مجبور ہو کر انہیں کھا لے تو اس پر کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ و ہ ظالم و متجاوز نہ ہو (فمن اضطر غیر باغ و لا عاد فلا اثم علیہ)۔ اس بناء پر کہ کہیں اضطرار کو بہانہ ہی نہ بنا لیا جائے، ان حرام غذاؤں کے کھانے میں زیادتی اور تجاوز روکنے کے لئے "غیر باغ و لا عاد" فرمایا گیا ہے۔ یعنی یہ اجازت صرف ان افراد کے لئے ہے جو ان محرمات کو لذت کے لئے نہ کھانا چاہیں اور اتنا ہی کھائیں جتنا حفظ جان کے لئے ضروری ہو، اس سے تجاوز نہ کریں۔ باغ ٍاور عادٍ اصل میں باغی اور عادی ہیں۔ باغی کا مادہ ہے "بغی"جس کا معنی ہے طلب کرنا۔ یہاں مقصود طلب لذت ہے اور عادی متجاوز کے معنی میں ہے۔ "غیر باغ و لا عاد" کی ایک اور تفسیر بھی مذکور ہے جو پیش کردہ مفہوم سے متضاد نہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دونوں معانی آیت کے مفہوم میں شامل ہوں۔ وہ تفسیر یہ ہے کہ "بغی" کا ایک معنی ظلم و ستم بھی ہے۔ لہذا مقصد یہ ہوا کہ حرام گوشت کھانے کی اجازت فقط ان لوگوں کے لئے ہے جو ظلم و ستم اور گناہ کا سفر نہ کر رہے ہوں (سفر کا ذکر اس لئے ہے کہ عموما اضطراری کیفیت اور مجبوری کی حالت سفر میں ہی درپیش ہوتی ہے) لہذا اگر سفر گناہ کے لئے ہو اور مسافر حالت مجبوری کو پہنچ جائے کہ حفظ جان کے لئے اسے حرام غذا کھانی پڑے تو اس کا گناہ اس کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں اگرچہ ان ستمگروں کے لئے بحکم عقل واجب ہے کہ جان کی حفاظت کے لئے ایسے حرام گوشت کھائیں لیکن یہ وجوب ان کی مسئولیت اور ذمہ داری میں کمی نہیں کر سکے گا۔ وہ روایات جو یہ کہتی ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے جو امام مسلمین کے خلاف اقدام نہ کریں، دراصل ایسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں جیسے نماز مسافر کے احکام میں آیا ہے کہ نماز قصر صرف ان مسافروں کے لئے ہے جن کا سفر حرام نہ ہو۔ اسی لئے "غیر باغ و لا عاد" سے روایات میں دونوں احکام کے لئے استدلال کیا گیا ہے (یعنی نماز مسافر اور حالت اضطرار میں گوشت کھانے کے احکام)۔[ امام صادق علیہ السلام سے ایک روایت ہے کہ آپ نے مندرجہ بالا آیت کی تفسیر میں فرمایا: باغی سے مراد وہ ہے جو شکار کے پیچھے سیر و تفریح کے طور پر (نہ کہ ضرورت و احتیاج کے لئے( جائے اور عادی سے مراد چور ہے۔ یہ دونوں حق نہیں رکھتے کہ مردار کا گوشت کھائیں، وہ ان کے لئے حرام ہے اور یہ نماز قصر بھی نہیں پڑھ سکتے۔ (وسائل الشیعہ، ج۵، ص۵۰۹)۔] آیت کے آخر میں فرمایا: خدا غفور و رحیم ہے (ان اللہ غفور رحیم)۔ وہی خدا جس نے یہ گوشت حرام قرار دیے ہیں، اسی نے اپنی رحمت خاص سے شدید ضرورت کے وقت ان سے استفادہ کرنے کی اجازت بھی دے دی ہے۔
حرام گوشت کی تحریم کا فلسفہ
اس میں شک نہیں کہ زیر نظر آیت میں جو غذائیں حرام قرار دی گئی ہیں، وہ دیگر خدائی محرمات کی طرح ایک خاص فلسفے کی حامل ہیں۔ انسانی جسم و جان اور اس کی کیفیت اور وضع کی تمام تر خصوصیات کو پیش نظر رکھ کر انہیں حرام قرار دیا گیا ہے۔ روایات اسلامی میں ان میں سے ہر ایک کے نقصانات اور حرمت کے مضرات کو بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ نیز علوم انسانی کی پیش رفت نے بھی ان سے پردہ اٹھایا ہے۔ کتاب کافی میں مردار کے گوشت کے متعلق امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے: اما المیتة فانہ لم ینل منہا احد الاضعف بدنہ و ذہبت قوتہ و انقطع نسلہ و لا یموت اکل المیتة الافجاة۔ (یہ فرمانے کے بعد کہ یہ تمام احکام مصالح بشر کے ماتحت ہیں، امام فرماتے ہیں) باقی رہا مردار کا گوشت تو جو کوئی بھی اسے کھائے گا اس کا بدن کمزور ہوگا اور تکالیف میں مبتلا ہوگا۔ اس کی قوت و طاقت ختم ہو جائے گی اور نسل منقطع ہو جائے گی اور جو ہمیشہ مردار کا گوشت کھاتا رہے گا، سکتے کے عالم میں مرے گا۔(بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۱۶، ص۳۱۰ ۔) ممکن ہے یہ نقصانات اس لئے ہوں کہ مردار سے غذا ہضم کرنے کا نظام صحیح خون نہیں بنا سکتا۔ علاوہ ازیں مردار طرح طرح کے جراثیم کا مرکز ہوتا ہے۔ اسلام نے نہ صرف مردار گوشت کو حرام کہا ہے بلکہ اسے نجس بھی قرار دیا ہے تا کہ مسلمان مکمل طور پراس سے دور رہیں۔ دوسری چیز جو آیت میں حرام قرار دی گئی ہے، خون ہے (والدم)۔ خون کو استعمال کرنا جسم کے لئے بھی نقصان دہ اور اخلاقی طور پر بھی بد اثر ہے کیونکہ ایک طرف تو یہ ایسے مختلف جراثیم کی پرورش کرتا ہے جو پورے بدن میں داخل ہو کر انسانی خون پر حملہ آور ہوتے ہیں اور اسے ہی اپنی کارگزاری کا مرکز بناتے ہیں۔ سفید رنگ کے گلبول[خون کے خیلے (Whiteblood cells) جو جراثیم کو بدن میں داخل ہونے سے روکتے ہیں۔ (مترجم)] جو ملک بدن کے محافظ ہیں، ہمیشہ اس کے خون کے علاقے کی حفاظت کرتے رہتے ہیں تا کہ جراثیم اس حساس علاقے میں نہ پہنچنے پائیں کیونکہ یہ بدن کے تمام حصوں سے قریبی رابطہ رکھتا ہے۔ خصوصا جب جریان خون رک جائے اور اصطلاح کے مطابق مر جائے تو سفید گلبول بھی ختم ہو جاتے ہیں۔ اس وجہ سے جب جراثیم میدان خالی دیکھتے ہیں تو بڑی تیزی سے انڈے دیتے ہیں، بچے پیدا ہوتے ہیں۔ اس طرح ان کی تعداد میں بہت اضافہ ہو جاتا ہے۔ لہذا اگر یہ کہا جائے کہ خون کا جریان رک جائے تو یہ انسان اور حیوان کے بدن کا غلیظ ترین حصہ ہوتا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ دوسری طرف آج علم غذا شناسی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غذائیں غدودوں پر اثر انداز ہونے کے علاوہ انسانی نفسیات اور اخلاق پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں جب کہ خون انسان میں ہارمون پر اثر انداز ہو کر سنگدلی پیدا کرتا ہے۔ یہ بات تو قدیم زمانے سے مسلمہ ہے کہ خونخواری انسان میں قساوت و سنگدلی پیدا کرتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ بات ضرب المثل ہو گئی ہے کہ سنگدل کو خونخوار کہتے ہیں۔ اسی لئے ایک حدیث میں ہے۔ جو لوگ خون پیتے ہیں وہ اس قدر سنگدل ہو جاتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ اور اولاد تک کو قتل کر ڈالیں۔(بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۱۶، ص۳۱۰۔)۔ تیسری چیز جس کا کھانا آیت میں حرام قرار دیا گیا ہے، سور کا گوشت (و لحم الخنزیر) ہے۔ اہل یورپ زیادہ تر خنزیر کا گوشت کھاتے ہیں۔ ان کے لئے یہ گوشت بے غیرتی کا نشان بن گیا ہے۔ یہ ایسا گھٹیا جانور ہے کہ علم جدید کی روشنی میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اس کا کھانا جنسی امور میں بےحیائی اور لاابالی کا باعث ہے اور یہی اس کی نفسیاتی تاثیر ہے جو مشاہدے میں آ چکی ہے۔ شریعت حضرت موسی علیہ السلام میں بھی سور کا گوشت حرام تھا۔ موجودہ اناحیل میں گناہگاروں کو سور سے تشبیہ دی گئی ہے۔ داستانوں میں سور کو مظہر شیطان کے عنوان سے متعارف کرایا گیا ہے۔ بڑے تعجب کی بات ہے کہ انسان اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے کہ سور غلیظ چیزیں کھاتا ہے اور کبھی کبھی تو وہ اپنا ہی پاخانہ کھا جاتا ہے۔ دوسری طرف یہ بھی سب پر واضح ہو چکا ہے کہ اس پلید جانور میں دو قسم کے خطرناک جراثیم پائے جاتے ہیں جن میں سے ایک کو تریشین (trichin) اور دوسرے کو کرم کدو کہتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ اس کا گوشت کھانے پر مصر ہیں۔ صرف ایک تریشین (trichin) ہر ماہ پندرہ ہزار انڈے دیتا ہے اور انسان میں طرح طرح کی بیماریاں پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے مثلا خون کی کمی، سردرد، ایک مخصوص بخار، اسہال، درد رماتیسمی، اعصاب کا تناؤ، جسم میں خارش، بدن میں چربی کی کثرت، تھکن کا احساس، غذا چبانے اور نگلنے میں دشواری ، سانس کا رکنا وغیرہ۔ ایک کلو گوشت میں چالیس کروڑ تک نوزائیدہ تریشین (trichin) ہو سکتے ہیں۔ انہی وجوہ کے پیش نظر چند سال پیشتر حکومت روس نے اپنے ایک علاقے میں سور کا گوشت کھانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ جی ہاں__ روشن بینی کے یہ احکام کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جن کے تازہ جلوے نمایاں ہوتے ہیں، ہمیشہ رہنے والے دین اسلام ہی کا حصہ ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ آج کے جدید وسائل کے ذریعے ان تمام جراثیم کو مارا جا سکتا ہے اور سور کا گوشت ان سے پاک کیا جا سکتا ہے۔ لیکن صحت کے جدید وسائل کے ذریعے یا سور کے گوشت کو زیادہ حرارت دے کرپکانے کے ذریعے یہ کیڑے کاملا ختم بھی کر دیئے جائیں تو بھی سور کے گوشت کا نقصان دہ اور مضر ہونا قابل انکار نہیں ہے کیونکہ بنیادی طور پریہ تو مسلم ہے کہ ہر جانور کا گوشت اس کی صفات کا حامل ہوتا ہے اور غدودوں (glands) اور ہارمونز (hormones) کے ذریعے کھانے والے اشخاص کے اخلاق پر اثر انداز ہوتا ہے۔ لہذا ممکن ہے سور کھانے والے پر سور کی بےلگام جنسی صفات اور بےحیائی جو اس کی واضح خصوصیات میں سے ہے، اثرانداز ہو جائے۔ مغربی ممالک میں جو شدید جنسی بے راہ روی پائی جاتی ہے، اس کا ایک اہم سبب اس گندے جانور کے گوشت کا استعمال بھی ہو سکتا ہے۔ چو تھی چیز جسے زیر نظر آیت میں حرام قرار دیا گیا ہے، وہ گوشت ہیں جن پر ذبح کرتے وقت غیر خدا کا نام لیا جائے (و ما اہل بہ لغیر اللہ)۔وہ گوشت جنہیں کھانے سے منع کیا گیا ہے، ان میں ان جانوروں کا گوشت بھی شامل ہے جو زمانہ جاہلیت کی طرح غیر خدا و بتوں کے نام پر ذبح ہوتے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ذبح کے وقت خدا یا غیر خدا کا نام لینا بھی صحت و سلامتی کے نقطہ نظر سے جانور کے گوشت پر اثرانداز ہوتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ نہیں بھولنا چاہئیے کہ ضروری نہیں کہ خدا یا غیر خدا کا نام صحت کے نقطہ نظر سے گوشت پر اثرانداز ہو کیونکہ اسلام میں جن چیزوں کو حرام قرار دیا گیا ہے، اس کے مختلف پہلو ہیں۔ بعض اوقات کسی چیز کو صحت اور بدن کی حفاظت کے لئے کبھی تہذیب روح کے لئے اور کبھی نظام اجتماعی کے تحفظ کے لئے حرام قرار دیا جاتا ہے۔ اسی طرح بتوں کے نام پر ذبح کیے جانے والے جانوروں کے گوشت کی حرمت در حقیقت معنوی، اخلاقی اور تربیتی پہلو سے ہے۔
تکرار و تاکید
جن چار چیزوں کی حرمت کا ذکر یہاں کیا گیا ہے، قرآن میں چار مقامات پر اسی طرح آیا ہے۔ دو مرتبہ مکہ میں (انعام ۔۱۴۵ اور نحل ۔۱۱۵) اور دو مرتبہ مدینہ میں (بقرہ ۱۷۳ اور مائدہ ۳) یہ حکم نازل ہوا۔ یوں لگتاہے کہ پہلی مرتبہ اوائل بعثت کا زمانہ تھا جب ان کی حرمت کی خبر دی گئی۔ دوسری مرتبہ پیغمبر ﷺ کے مکہ میں قیام کے آخری دن تھے۔ تیسرے مرتبہ ہجرت مدینہ کے ابتدائی ایام تھے اور چوتھی دفعہ پیغمبر ﷺ کی عمر کے آخری دن تھے کہ سورہ مائدہ میں اسے بیان کیا گیا جو قرآن کی آخری سورتوں میں سے ہے۔
بیمار کو خون دینا
شاید وضاحت کی ضرورت نہ ہو کہ مندرجہ بالا آیت میں خون کو حرام قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ خون پینا حرام ہے لہذا اس سے مناسب فائدہ حاصل کرنے میں کوئی اشکال نہیں مثلا کسی مجروح یا بیمار کو موت سے بچانے کے لئے خون دینے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ان مقاصد کے لئے تو خو ن کی خرید و فروخت کی حرمت کے لئے بھی کوئی دلیل موجود نہیں ہے کیونکہ یہ تو عقلی طور پر صحیح ہے اور عمومی احتیاج کے موقع پر فائدہ اٹھانے کے ضمن میں آتا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 176 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 176 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ آیات اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ بیشتر مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ آیات خاص طور پر ان علماء یہود کے بارے میں ہیں جو پیغمبر اسلام ﷺ کے ظہور سے پیشتر لوگوں کو اپنی کتابوں میں سے آپ کی صفات اور نشانیاں بیان کرتے تھے لیکن ظہور پیغمبر ﷺ کے بعد جب انہوں نے لوگوں کو آپ کی طرف مائل و راغب ہوتے ہوئے دیکھا تو خوفزوہ ہو گئے کہ اگر انہوں نے اپنی روش کو برقرار رکھا تو ان کے منافع خطرے میں پڑ جائیں گے اور وہ تحفے اور دعوتیں جو انہیں مہیا ہیں، ختم ہو جائیں گی تو وہ پیغمبر ﷺ کے وہ اوصاف جو تورات میں نازل ہو چکے تھے، چھپانے لگے۔ اس پرمندرجہ بالا آیت نازل ہوئیں اور ان کی سخت مذمت کی گئی۔
دوبارہ حق پوشی کی مذمت
حق کو چھپانے کے بارے میں جو موضوع اسی سورہ کی آیہ ۱۵۹ میں گزر چکا ہے۔ زیر نظر آیات اس کی تاکید میں ہیں اگرچہ ان میں روئے سخن علمائے یہود کی طرف ہے لیکن جیسا بارہا یاد دھانی کرائی جا چکی ہے کہ آیات کا مفہوم کسی مقام پر بھی شان نزول سے مخصوص نہیں ہے۔ شان نزول تو حقیقت میں کلی اور عمومی مفہوم بیان کرنے کا ذریعہ ہے اور آیات کا ایک مصداق ہے۔ لہذا وہ تمام افراد جو احکام خدا اور لوگوں کی ضرورت کے حقائق کو چھپاتے ہیں اور مقام و مرتبہ یا دولت و ثروت کے حصول کے لئے اس عظیم خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں انہیں جان لینا چاہئیے کہ انہوں نے گراں بہا حقیقت ناچیز قیمت کے بدلے بیچ دی ہے کیونکہ حق پوشی کا ساری دنیا سے بھی مقابلہ کیا جائے تو سود اخسارے کا ہی ہو گا۔ زیر نظر پہلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے: وہ لوگ جو خدا کی نازل کردہ کتاب کو چھپاتے ہیں اور اسے معمولی قیمت پر بیچ دیتے ہیں آگ کے علاوہ کچھ نہیں کماتے (إِنَّ الَّذِینَ یَکْتُمُونَ مَا اَنزَلَ اللهُ مِنْ الْکِتَابِ وَیَشْتَرُونَ بِہِ ثَمَنًا قَلِیلًا اُوْلَئِکَ مَا یَاْکُلُونَ فِی بُطُونِہِمْ إِلاَّ النَّارَ)۔ واقعا اس طرح سے جو ہدیے وہ حاصل کرتے ہیں اور مال دمنال کماتے وہ جلانے والی آگ ہے جو ان کے اندر داخل ہوتی ہے۔ ضمنا یہ تعبیر آخرت میں تجسم اعمال کے مسئلے کو دوبارہ واضح کرتی ہے اور نشاندہی کرتی ہے کہ وہ مال حرام جو اس طرح ہاتھ آتا ہے آگ ہے جو ان کے دلوں میں داخل ہوتی ہے اور قیامت میں و ہ حقیقی شکل میں مجسم ہوگی۔ اس کے بعد ان کی ایک معنوی سزا کو بیان کیا گیا ہے جو مادی سزاسے کہیں زیادہ دردناک ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: خدا قیامت کے دن ان سے بات نہیں کرے گا، نہ انہیں پاک کرے گا اور دردناک عذاب ان کے انتظار میں ہے (وَلاَیُکَلِّمُہُمْ اللهُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَلاَیُزَکِّیہِمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیمٌ)۔ سورہ آل عمران کی آیت ۷۷ میں بھی اس جیسی دردناک معنوی سزا کا ذکر ان لوگوں کےلئے کیا گیا ہے جو حقیر منافع کےئے خدائی معاہدوں کو توڑتے ہیں اور اپنے عہد و پیمان کو پاوں تلے روندتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: انَّ الَّذِینَ یَکْتُمُونَ مَا اَنزَلَ اللهُ مِنْ الْکِتَابِ وَیَشْتَرُونَ بِہِ ثَمَنًا قَلِیلًا اُوْلَئِکَ مَا یَاْکُلُونَ فِی بُطُونِہِمْ إِلاَّ النَّارَ وَلاَیُکَلِّمُہُمْ اللهُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَلاَیُزَکِّیہِمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیمٌ جن لوگوں نے عہد الہی اور اپنی قسموں کو تھوڑے سے فائدے کی خاطر توڑ ڈالا ہے۔ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں قیامت کے دن اللہ ان سے بات کرے گا نہ ان پرنگاہ لطف ڈالے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا بلکہ ان کے لئے تو دردناک عذاب ہے۔ اس آیت اور محل بحث آیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بڑی روحانی لذت اور عطائے الہی ہے کہ آخرت میں خدا اہل ایمان سے اپنے لطف و کرم سے بات کرے گا۔ یہ وہ مقام ہے جو اس دنیا میں خدا کے پیغمبروں کوحاصل تھا۔ وہ پروردگار سے ہمکلام ہونے کی لذت سے بہرہ مند تھے۔ اہل ایمان اس جہان میں اس نعمت سے سرفراز ہوں گے۔ علاوہ ازیں، خدا ان پر نظر الطاف فرمائے گا اور عفو و رحمت کے پانی سے ان کے گناہ دھو ڈالے گا اور انہیں پاک و پاکیزہ بنا دے گا۔ اس سے بڑھ کر کیا نعمت ہو سکتی ہے۔ واضح ہے کہ خدا کی گفتگو یہ مفہوم نہیں کہ خدا زبان رکھتا ہے اور اس کا جسم ہے بلکہ وہ اپنی بے پایاں قدرت کے ذریعے فضا میں آواز کی لہریں پیدا کر دے گا جو سمجھنے اور سننے کے قابل ہوں گی (جیسے وادی طور میں حضرت موسی سے گفتگو ہوئی تھی)۔ یہ بھی ممکن ہے کہ الہام کے ذریعے، دل کی زبان سے وہ اپنے مخصوص بندوں سے بات کرے گا۔ بہرحال، پروردگار کا یہ عظیم لطف و کرم اور اہم معنوی او روحانی لذت ان پاکیزہ بندوں کے لئے ہے جو زبان حق گو رکھتے ہیں اور لوگوں کو حقائق سے آگاہ کرتے ہیں۔ اپنے عہد و پیمان کی پاسداری کرتے ہیں اور وہ ان چیزوں کو حقیر مادی فوائد پر قربان نہیں کرتے۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے کہ قرآن کی بعض آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ قیامت کے دن خدا کچھ مجرمین اور کفار سے باتیں کرے گا۔ مثلا: قال احسئوا فیہا و لاتکلمون دور ہو جاؤ، جہنم کی آگ میں دفع ہو جاؤ اور اب مجھ سے بات نہ کرو۔ (مومنون ۔۱۰۸) یہ گفتگو خدا ان لوگوں سے کرے گا جو آتش جہنم سے چھٹکارے کی درخواست کریں گے اور کہیں گے: خداوندا! ہمیں اس سے نکال دے اور اگر ہم دوبارہ پلٹ گئے تو ہم ظالم و ستمگار ہیں(جاثیہ۔۳۰،۳۱)۔ اسی طرح مجرمین کے ساتھ بھی خدا کی گفتگو نظر آتی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ محل بحث آیات میں گفتگو کرنے سے مراد وہ گفتگو ہے جو محبت اور خاص لطف و کرم سے ہو گی۔ اس سے حقارت سے ٹھکرانے اور راندہ درگاہ کرنے اور سزا کے طور پر خطاب مراد نہیں جو بذات خو د ایک دردناک عذاب ہے۔ یہ نکتہ بھی زیادہ وضاحت کا محتاج نہیں کہ یہ جو فرمایا گیا ہے کہ آیات الہی کو کم قیمت پر نہ بیچو تو اس سے یہ مراد نہیں کہ زیاد ہ قیمت پر بیچو؛ بلکہ مقصد یہ ہے کہ حق پوشی کے مقابلے میں جو چیز بھی لی جائے وہ بے قدر و قیمت، ناچیز اور حقیر ہے۔ بعد کی آیت اس گروہ کی کیفیت کو زیادہ واضح طور پر بیان کرتی ہے اور اس کے نقصان دہ انجام اور نتیجہ کا کی خبر دیتی ہے۔ ارشاد ہے: یہ ایسے لوگ ہیں جو گمراہی کو ہدایت کے بدلے اور عذاب کو بخشش کے عوض خرید لیتے ہیں (اُوْلَئِکَ الَّذِینَ اشْتَرَوْا الضَّلاَلَةَ بِالْہُدَی وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ)۔ اس طرح وہ دو طرفہ نقصان اور خسارے میں گرفتار ہوئے ہیں۔ ایک طرف ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی انتخاب کرنا اور دوسری طرف رحمت و بخشش الہی کو ہاتھ سے دے کر اس کی جگہ دردناک عذاب خدا کو حاصل کرنا اور یہ ایسا سودا ہے کہ کوئی عقلمند آدمی اس کے پیچھے نہیں جاتا۔ اسی لئے آیت کے آخر میں مزید فرماتا ہے: واقعا تعجب کی بات ہے کہ (وہ عذاب خدا کے سامنے کتنی بیباکی اور) سرد مہری کا مظاہرہ کرتے ہیں (فما اصبرھم علی النار)۔ زیر بحث آخری آیت میں فرمایا گیا ہے: یہ دھمکیاں اور عذاب کی و عیدیں جو حق کو چھپانے والوں کے لئے بیان کی گئی ہیں اس لئے ہیں کہ خدا نے آسمانی کتاب قرآن کو حقیقت اور واضح دلائل کے ساتھ نازل کیا ہے تا کہ ان خیانت کاروں کےلئے کسی شک اور ابہام کی گنجائش باقی نہ رہے: (ذلک بان اللہ نزل الکتٰب بالحق)۔ اس کے با وجود لوگ نہیں چاہتے کہ اپنے مادی فوائد کی خاطر اس برے عمل سے دست بردار ہوں وہ تو جیہ و تحریف میں مشغول رہتے ہیں اور اپنی آسمانی کتب میں اختلاف پیدا کرتے ہیں تا کہ بزعم خود پانی کو گدلا کر کے اس میں سے مچھلیاں پکڑ سکیں۔ اور ایسے لوگ جو کتاب آسمانی میں اختلاف پیدا کرتے ہیں حقیقت سے کافی دور ہیں: (و ان الذین اختلفوا فی الکتاب لفی شقاق بعید)۔ لفظ شقاق کا معنی ہے شگاف اور جدائی۔ یہ تعبیر شاید اس طرف اشارہ ہو کہ ایمان و تقوی اور اظہار حق انسانی معاشرے میں وحدت و اتحاد کی رمز ہے جب کہ کفر و خیانت اور اخفائے حقائق پراگندگی، جدائی اور شگافتگی کا سبب ہے اور اس سے مراد سطحی جدائی اور شگاف نہیں کہ جس سے صرف نظر کیا جا سکے بلکہ ایسی جدائی، پراگندگی اور شگاف ہے جس میں گہرائی ہو۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1قبلہ کی تبدیلی سے عام لوگوں میں بالعموم اور یہود و نصاری میں بالخصوص شور و غوغا بپا ہو گیا تھا ارو یہودیوں کے نزدیک یہ بڑی سند افتخار تھی (کہ مسلمان ان کے قبلہ کی پیروی کرتے ہیں) اور اب یہ ہاتھ سے جاتی رہی تھی؛ لہذا انہوں نے زبان اعتراض دراز کی۔ قرآن نے اس سورہ کی آیت ۱۴۲۔ سیقول السفھاء۔ میں اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ مندرجہ بالا آیت اس کی تائید میں نازل ہوئی جس میں کہا گیا ہے کہ قبلہ کے مسئلے پر اتنی باتیں بنانا صحیح نہیں ہے بلکہ اس سے اہم تر مسائل ہیں جن کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس آیت میں ان مسائل کی تشریح بھی کی گئی ہے۔
تمام نیکیوں کی اساس
جیسا کہ قبلہ کی تبدیلی سے متعلق آیات کے ذیل میں گزر چکا ہے، عیسائی عبادت کے وقت مشرق کی طرف اور یہودی مغرب کی طرف منہ کیا کرتے تھے لیکن مسلمانوں کے لئے اللہ تعالی نے کعبہ کو قبلہ قرار دیا جو ان دونوں کے دمیان واقع ہے اور اس علاقے میں جنوب کی طرف تھا۔ ہم نے یہ بھی ملاحظہ کیا کہ مخالفین اسلام ایک طرف سے شور بلند کرتے تھے اور نو وارد مسلمان دوسری طرف متحیر تھے۔ مندرجہ بالا آیت کا روئے سخن ان دونوں کی طرف ہے۔ فرمایا: نیکی صرف یہ نہیں کہ نماز کے وقت منہ مشرق یا مغرب کی طرف کر لو اور اپنا سارا وقت اسی مسئلے پر بحث کرتے گزار دو (لیس البر ان تولوا وجوھکم قبل المشرق و المغرب)۔ بِرّ (بر وزن ضد) ___ اس کا اصل معنی وسعت ہے۔ بعد ازاں نیکیوں، خوبیوں اور احسان کے معنی میں استعمال ہونے لگا کیونکہ یہ امور وجود انسانی میں محدود نہیں رہتے بلکہ وسعت پیدا کر کے دوسروں تک پہنچ جاتے ہیں اور دوسرے لوگ بھی ان سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔ لفظ بر (بر وزن نر) وصفی پہلو رکھتا ہے۔ اس کا معنی ہے وہ شخص جو نیکوکار ہو۔ اصل میں اس کا معنی ہے بیابان اور وسیع مکان چونکہ نیکوکار روحانی وسعت اور کھلے دل کا حامل ہوتا ہے۔ اس لئے اس خصوصیت کا اس پر اطلاق ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایمان، اخلاق اور عمل کے لحاظ سے نیکیوں کے اہم ترین اصول چھ عنوانات کے ضمن میں بیان کئے گئے ہیں۔ فرمایا: لیکن نیکی (اور نیک افراد) وہ لوگ ہیں جو خدا،روز قیامت، ملائکہ، آسمانی کتب اور انبیاء پر ایمان لے آئے ہیں (و لکن البر امن بااللہ و الیوم الاخر و الملائکة و الکتب و النبیین)۔ نیکیوں اور خوبیوں کی پہلی بنیاد یہ ہے کہ انسان ایمان لائے مبداء و معاد پر، تمام خدائی پروگراہوں پر، پیغمبروں پر (جو ان پروگراموں کی تبلیغ و اجراء پر مامور تھے) اور فرشتوں پر (جو اس دعوت کی تبلیغ کا واسطہ شمار ہوتے ہیں)۔ یہ وہ اصول ہیں جن پر ایمان لانے سے انسان کا سارا وجود روشن ہو جاتا ہے اور یہی ایمان تمام اصلاحی پروگراموں اور اعمال صالح کی طرف تحریک پیدا کرنے کے لئے قوی عامل ہے۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ یہ نہیں فرمایا کہ نیکوکار وہ لوگ ہیں۔۔۔ بلکہ فرمایا: نیکی__ وہ لوگ ہیں۔۔۔، یہ اس لئے کہ ادبیات عرب میں جب کسی چیز میں مبالغے اور تاکید کے آخری ورجے کو بیان کرنا ہو تو اسے مصدر کی شکل میں لاتے ہیں نہ کہ صفت کے طور پر کہتے ہیں۔ مثلا کہا جاتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام، عالم انسانیت کا عدل ہیں۔ یعنی آپ ایسے عدالت پیشہ تھے کہ گویا سراپا عدل تھے اور سر سے پاؤں تک عدالت میں ڈوبے ہوئے تھے۔ اس طرح کہ اگر آپ کی طرف نگاہ کی جائے تو عدل کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ اسی طرح ان کے مقابل میں کہا جاتا ہے کہ بنی امیہ ذلت اسلام ہیں گویا ان کا پورا وجود ذلت و خواری میں ڈھل چکا تھا۔ اس لئے زیر نظر تعبیر سے ایمان محکم اور ایمان کی بلندتر قوت و طاقت مراد ہے۔ ایمان کے بعد انفاق، ایثار اور مالی بخششوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: چاہت و محبت کے باوجود اپنا مال رشتہ داروں یتیموں، مسکینوں، مسافروں، سائلوں اور غلاموں کو دے دیتے ہیں (و اٰتی المال علی حبہ ذوی القربی و الیتمی و المسکین و ابن السبیل و السائلین و فی الرقاب)۔ اس میں شک نہیں کہ مال و دولت کی پرواہ نہ کرنا سب کے لئے آسان کام نہیں خصوصا جب مقام ایثار ہو۔ کیونکہ اس کی محبت سب دلوں میں ہے۔ "علی حبہ" اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اس دلی خواہش کے باوجود استقامت دکھاتے ہیں اور خدا کے لئے اس خواہش سے صرف نظر کر لیتے ہیں۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ یہاں حاجت مندوں کے چھ طبقے بیان کئے گئے ہیں۔ پہلے درجے میں وابستگان اور آبرومند رشتہ دار ہیں، دوسرے طبقے میں یتیم اور مسکین ہیں۔ اس کے بعد وہ ہیں جن کی ضرورت وقتی ہے۔ مثلا جن کا خرچ سفر میں ختم ہو جائے۔ اس کے بعد سائلین کا تذکرہ ہے۔ اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ تمام ضرورت مند سوال نہیں کیا کرتے بلکہ بعض ایسے غیرت مند ہیں جو ظاہرا اغنیاء کی طرح ہیں جب کہ باطنی طور پر بہت ضرورت مند ہوتے ہیں جیسا کہ قرآن ایک اور مقام پر کہتا ہے: یَحْسَبُہُمْ الْجَاہِلُ اَغْنِیَاءَ مِنْ التَّعَفُّفِ۔ ناواقف لوگ ان کی عفت و پاکدامنی کی وجہ سے انہیں اغنیاء اور تونگر خیال کرتے ہیں۔(بقرہ۔۲۷۳) آخر میں غلاموں کا ذکر ہے کہ اگرچہ ظاہرا ان کی مادی ضروریات ان کے مالک کے ذریعے پوری ہو رہی ہوتی ہیں لیکن وہ آزادی و استقلال کے محتاج ہیں۔ نیکیوں کی تیسری بنیاد قیام نماز شمار کی گئی ہے ( و اقام الصلوة)___ نماز تمام شرائط اور اخلاص و خضوع سے ادا کی جائے تو انسان کو ہر قسم کے گناہ سے باز رکھتی ہے اور خیر و سعادت کا شوق پیدا کرتی ہے۔ چوتھا پروگرام زکوة اور دیگر واجب مالی حقوق کی ادائیگی ہے (و اتی الزکوة) ۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو کئی مقامات پر ضرورت مندوں کی مدد کے لئے تیار ہو جاتے ہیں لیکن واجب حقوق کی ادائیگی میں سہل انگاری سے کام لیتے ہیں۔ ان کے برعکس کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو واجب حقوق کے علاوہ اور کسی قسم کی مدد کو تیار نہیں ہوتے اور وہ ایک پیسہ بھی کسی ضرورت مند کو دینے کے لئے آمادہ نہیں ہوتے۔ زیر بحث ، آیت میں ایک طرف مستحب امور پر خرچ کرنے والوں اور دوسری طرف واجب حقوق اداکرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے دونوں کو نیک لوگوں کی صف سے نکال دیتی ہے اور حقیقی نیک اسے قرار دیتی ہے جو اپنی ذمہ داری دونوں میدانوں میں ادا کرے۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ مستحب خرچ کے سلسلے میں علی حبہ (باوجود یکہ مال و ثروت سے محبت رکھتے ہیں) کا ذکر ہے لیکن واجب زکوة کے ضمن میں یہ بات نہیں کیونکہ واجب مالی حقوق کی ادائیگی ایک الہی و اجتماعی ذمہ داری ہے اور منطق اسلام کے رو سے اصولی طور پر حاجت مند زکوة اور دیگر واجبات کی مقدار کے مطابق دولت مندوں کے اموال میں شریک ہیں اور شریک کو اس کے مال کی ادائیگی کے لئے ایسی تعبیر کی ضرورت نہیں۔ پانچویں خصوصیت ایفائے عہد و پیمان گردانی گئی ہے۔ فرمایا: وہ لوگ جو وعدہ کر لیں تو اپنے عہد و پیمان کو بنھاتے ہیں (و الموفون بعہدھم اذا اعہدوا) کیونکہ باہمی اعتماد اجتماعی زندگی کا سرمایہ ہے۔ وہ گناہ جو اطمینان اور اعتماد کے رشتے کو توڑ پھوڑ دیتے ہیں اور اجتماعی روابط کی بنیاد کو نیچے سے کمزور کر دیتے ہیں، ان میں وعدے کی عدم پاسداری ہے۔ اسی لئے اسلامی روایات میں مسلمانوں کی ذمہ داری بتائی گئی ہے کہ وہ تین امور سب لوگوں کے بارے میں انجام دیں چاہے ان کے سامنے مسلمان ہو یا کافر اور نیک ہو یا بد۔ وہ تین چیزیں یہ ہیں۔ ۱۔ ایفائے عہد ۲۔ ادائے امانت اور ۳۔ ماں باپ کا احترام ان نیک لوگوں کی چھٹی بات یہ بتائی گئی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو محرومیت ، فقر و فاقہ، بیماری اور رنج و مصیبت کے وقت اور اسی طرح جنگ میں دشمن کے مقابلے میں صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ان سخت حوادث کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکتے (و الصابرین فی الباساء و الضراء و حین الباس)۔[ باساء کا مادہ ہے بوس، اس کا معنی ہے فقر و فاقہ، فقراء کا معنی ہے درد و بیماری اور حین الباس کا معنی ہے وقت جنگ ( البیان ، زیر بحث آیت کے ذیل میں)]۔ آیت کے آخر میں بات کو مجتمع کرتے ہوئے اور ان چھ بلند صفات پر تاکید کے طور پر فرماتا ہے: یہ وہ لوگ ہیں جو سچ بات کرتے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں (اولئک الذین صدقوا و اولئک ہم المتقون)۔ ان کی راست گوئی تو یہاں سے واضح ہوتی ہے کہ ان کے اعمال اور ان کا کردار ہر طرح سے ان کے اعتماد اور ان کے ایمان سے ہم آہنگ ہے۔ ان کا تقوی و پرہیزگاری اس بات سے عیاں ہے کہ وہ ضرورتمندوں، محروموں، انسانی معاشرہ اور اپنی ذات کے بارے میں اپنی الہی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوتے ہیں۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ مندرجہ بالا چھ برجستہ صفات اصول اعتقاد و اخلاق اور عملی پروگراموں پر مشتمل ہیں۔ اصول اعتقاد کے سلسلے میں تمام بنیادی امور کا تذکرہ ہے اور عملی پروگراموں میں سے انفاق، نماز اور زکوة کا ذکر ہے جو مخلوق کے خالق ہے اور مخلوق کے مخلوق سے رابطے کا نمونہ ہے۔ اخلاقی امور میں سے ایفائے عہد اور استقامت و پائداری کا تذکرہ ہے جو تمام تر اعلی اخلاق کی بنیاد ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 179 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1زمانہ جاہلیت کے عربوں کی عادت تھی کہ ان کے قبیلے کا ایک آدمی قتل ہو جاتا تو وہ پختہ ارادہ کر لیتے کہ حق المقدور اس کا انتقام لیں گے اور یہ فکر یہاں تک آگے بڑھ چکی تھی کہ وہ تیار رہتے کہ ایک شخص کے بدلے قاتل کا سارا قبیلہ قتل کر ڈالیں۔ مندرجہ بالا آیت کے ذریعے قصاص کا عادلانہ حکم بیان کیا گیا۔ اس زمانے کے دو مختلف دستوروں میں اسلام کا یہ حکم حد وسط تھا۔ اس دور میں بعض لوگ قصاص کو ضروری سم جھتے تھے اور اس کے علاوہ کسی چیز کو جائز اور درست نہ جانتے تھے جب کہ بعض لوگ صرف دیت اور خونبہا کو ضروری خیال کرتے تھے۔ اسلام نے مقتول کے اولیاء کے راضی نہ ہونے کی صورت میں قصاص کا حکم دیا اور طرفین کی رضا اور قصاص کی معافی پر دیت کو ضروری قرار دیا۔
قصاص تمہاری حیات کا سبب ہے
ان آیات سے لے کر آگے کی کچھ آیات تک احکام اسلام کے ایک سلسلے کو واضح کیا گیا ہے ۔ گذشتہ آیات نیکی کے بارے میں تھیں اور ان میں کچھ اسلامی پروگراموں کی وضاحت بھی کی گئی تھی۔ زیر نظر آیات اس سلسلہ بیان کی تکمیل کرتی ہیں۔ سب سے پہلے احترام خون کی حفاظت کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے جو ربط معاشرہ کے ضمن میں بہت اہمیت رکھتاہے۔ اسلام کا یہ حکم جاہلیت کے رسم و رواج پر خط بطلان کھینچتا ہے۔ مومنین کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے: اے ایمان والو! مقتولین کے بارے میں قصاص کا حکم تمہارے لئیے لکھ دیا گیا ہے (یا ایہا الذین امنوا کتب علیکم القصاص فی القتلی)۔ قرآن کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ وہ کبھی کبھی لازم الاجراء قوانین کو "کتب علیکم" (تم پر لکھ دیا گیا ہے) کے الفاظ سے بیان کرتا ہے۔ مندرجہ بالا آیت بھی انہی میں سے ہے۔ آئندہ کی آیات جو وصیت اور روزہ کے بارے میں ہیں، میں بھی یہی تعبیر نظر آتی ہے۔ بہرحال یہ الفاظ اہمیت اور تاکید مطلب کو پورے طور پر ادا کرتے ہیں کیونکہ ہمیشہ ان الفاظ کو رقم کیا جاتا ہے جو نگاہ قدر و قیمت میں قطعیت رکھتے ہوں۔ قصاس مادہ قص (بر وزن سد) سے ہے۔ اس کا معنی ہے جستجو اور کسی چیز کے آثار کی تلاش کرنا اور جو چیز پے در پے اور یکے بعد دیگرے آئے اسے قصہ کہتے ہیں چونکہ قصاص ایسا قتل ہے جو پہلے قتل کے بعد قرار پاتا ہے، اس لئے یہاں یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ جیسا کہ شان نزول میں اشارہ ہو چکا ہے، یہ احکام افراط و تفریط کے ان رویوں کے اعتدال پر لانے کے لئے ہیں جو زمانہ جاہلیت میں کسی قتل کے بعد رونما ہوتے تھے۔ لفظ قصاص اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اولیاء مقتول حق رکھتے ہیں کہ وہ قاتل سے وہی سلوک کریں جس کا وہ ارتکاب کر چکا ہے لیکن آیت یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ آیت کا آخری حصہ مساوات کے مسئلہ کو زیادہ واضح کرتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت (الحر و العبد بالعبد و الانثی بالانثی)۔ بعد میں ہم واضح کریں گے کہ یہ مسئلہ مرد کے خون کی عورت کے خون پر برتری کی دلیل نہیں ہے بلکہ قاتل مردے بھی (خاص شرائط کے ساتھ) مقتول عورت کے بدلے قصاص لیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد یہ واضح کرنے کے لئے کہ قصاص اولیاء مقتول کا ایک حق ہے مگر یہ کوئی الزامی حکم نہیں ہے بلکہ اگر اولیاء مائل ہوں تو قاتل کو بخش سکتے ہیں اور خون بہا لے سکتے ہیں یا چاہیں تو خون بہا بھی نہ لیں ۔ مزید فرمایا کہ اگر کوئی اپنے دینی بھائی کی طرف سے معاف کر دیا جائے (اور قصاص کا حکم طرفین کی رضا سے خون بہا میں بدل جائے) تو اسے چاہئیے کہ پسندیدہ طریقے کی پیروی کرے (اور اس خون بہا کے لینے میں دوسرے پر سختی و تنگی روا نہ رکھے) اور ادا کرنے دالا بھی دیت کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرے (فمن عفی لہ من اخیہ شیئ فاتباع بالمعروف و اداء الیہ باحسان)۔ ایک طرف اولیاء مقتول کو وصیت کی گئی ہے کہ اب اگر اپنے بھائی سے قصاص لینے سے صرف نظر کر چکے ہو تو خونبہا لینے میں زیادتی سے کام نہ لو شائستہ اور اچھے طریقے سے اور عدل کو پیش نظر رکھتے ہوئے جسے اسلام نے ضروری قرار دیا ہے، ایسی اقساط میں جن میں وہ ادائیگی کی قدرت رکھتا ہے وصول کرو۔ دوسری طرف "اداء الیہ باحسان" کے جملے میں قاتل کو بھی وصیت کی گئی ہے کہ وہ خونبہا کی ادائیگی میں نیکی اور اچھائی کی روش اختیار کرے اور بغیر کسی غفلت کے کامل اور بر محل ادا کرے۔ اس طرح دونوں کے لئے ذمہ داری اور راستے کا تعین کر دیا گیا ہے۔ آیت کے آخر میں بطور تاکید اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جس کسی کی طرف سے حد سے تجاوز کیا جائے گا وہ شدید سزا کا مستحق ہوگا۔ فرمایا: تمہارے پروردگار کی طرف سے یہ تخفیف اور رحمت ہے اور اس کے بعد بھی جو شخص حد سے تجاوز کرے، تو دردناک عذاب اس کے انتظار میں ہے (ذالک تخفف من ربکم و رحمة ”فمن اعتدی بعد ذالک فلہ عذاب الیم)۔ انسانی اور منطقی نقطہ نظر سے قصاص اور عفو کا یہ ایک عادلانہ دستور ہے۔ ایک طرف اس حکم سے زمانہ جاہلیت کی فاسد روش کو غلط قرار دیا گیا ہے۔ اس دور میں لوگ قصاص کے لحاظ سے کسی قسم کی برابری کے قائل نہ تھے اور ہمارے زمانے کے جلادوں کی طرح ایک شخص کے بدلے سینکڑوں افراد کو خاک و خون میں لوٹا دیتے تھے۔ دوسری طرف لوگوں کے لئے عفو و بخشش کا راستہ کھول دیا ہے۔ اس حکم میں احترام خون میں کمی نہیں آنے دی گئی اور قاتلوں میں جسارت و بےباکی پیدا نہیں ہونے دی گئی اور اس آیت کا چوتھا پہلو یہ ہے کہ معاف کرنے اور خون بہا لینے کے بعد طرفین میں سے کوئی بھی تجاوز کا حق نہیں رکھتا جب کہ زمانہ جاہلیت میں اولیاء مقتول معاف کر دینے اور خونبہا لینے کے با وجود بعض اوقات قاتل کو قتل کر دیتے تھے۔ بعد کی آیت مختصر اور پر معنی عبارت سے مسئلہ قصاص سے متعلق بہت سے سوالوں کا جواب دیتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اے صاحبان عقل و خرد! قصاص تمہارے لئے حیات بخش ہے ، ہو سکتا ہے تم تقوی و پرہیزگاری اختیار کر لو (و لکم فی القصاص حیاة یا اولی الالباب لعلکم تتقون)۔ دس الفاظ پر مشتمل یہ آیت انتہائی فصیح و بلیغ ہے۔ یہ ایک شعار اسلامی کی صورت میں ذہنوں پر نقش ہو جاتی ہے ۔ یہ بڑی عمدگی سے نشاندہی کرتی ہے کہ اسلامی قصاص میں کسی قسم کا انتقامی پہلو نہیں بلکہ یہ حیات و زندگی کی طرف کھلنے والا ایک دریچہ ہے۔ ایک طرف تو یہ معاشرے کی حیات ہے کیونکہ اگر قصاص کا حکم کسی طور پر بھی موجود نہ ہوتا اور سنگدل لوگ بے پرواہ ہوتے تو بے گناہ لوگوں کی جان خطرے میں رہتی۔ جن ملکوں میں قصاص کا حکم ختم کر دیا گیا ہے، وہاں قتل کی وارداتوں میں تیزی سے اضافہ ہو گیا ہے۔ دوسری طرف یہ حکم قاتل کی زندگی کا سبب ہے کیونکہ قصاص کا تصور اسے قتل انسانی کے ارادے سے کافی حد تک باز رکھے گا اور اسے کنٹرول کرے گا۔ تیسری طرف برابری کا لزوم پے در پے کئی افراد کے قتل کو روکے گا۔ اور زمانہ جاہلیت کے ان طور طریقوں کو ختم کر دے گا جن میں ایک قتل کے بدلے کئی افراد کو قتل کر دیا جاتا تھا اور پھر اس کے نتیجے میں آگے بہت سے افراد قتل ہوتے تھے اور اس طرح سے یہ حکم معاشرے کی زندگی کا سبب ہے۔ اس بات کو پیش نظر رکھا جائے کہ قصاص کا مطلب ہے معاف نہ کرنا۔ یہ خود ایک دریچہ حیات کھلنے کے مترادف ہے نیز لعلکم تتقون ہر قسم کے تجاوز و تعدی سے پرہیز کرنے کے لیے تنبیہ ہے جس سے اسلام کے اس حکیمانہ حکم کی تکمیل ہوتی ہے۔
قصاص و عفو ایک عادلانہ نظام ہے
ہر مقام و محل پر اسلام مسائل کی واقعیت اور ان کی ہر پہلو کی جانچ پڑتال کرتا ہے۔ اس نے بے گناہوں کا خون بہانے کے مسئلے میں ہر طرح سے افراط و تفریط سے بالاتر ہو کر حق مطلب ادا کیا ہے ۔ اس نے یہودیوں کے تحریف شدہ دین کی طرح صرف قصاص کا سہارا نہیں لیا اور نہ ہی ایسی عیسائیت کی طرح صرف عفو و دیت کی راہ دکھائی ہے کیونکہ پہلا حکم انتقام جوئی کا باعث ہے اور دوسرا قاتلوں کی جرات کا سبب ہے۔ فرض کریں قاتل و مقتول ایک دوسرے کے بھائی ہوں یا ان میں دوستی و اجتماعی تعلقات رہے ہوں تو اس صورت میں قصاص پر مجبور کرنا اولیاء مقتول کے لئے ایک نئے زخم کا باعث ہوگا۔ خصوصا ایسے لوگ جو انسانی جذبات سے سرشار ہوں، انہیں قصاص کرنا ایک اور سختی شمار ہوگا جب کہ اس حکم کو عفو و دیت میں محدود و محصور کر دینا بھی ظالموں کو مزید جری و بیباک بنانے کا باعث ہوگا۔ لہذا اسلام نے قصاص کو اصلی حکم قرار دیا ہے اور اسے معتدل بنانے کے لئے اس کے ساتھ عفو کا ذکر بھی کر دیا ہے۔ زیادہ واضح الفاظ میں مقتول کے اولیاکو ان تین راستوں میں سے ایک اختیار کرنے کا حق ہے۔ ۱۔ قصاص لے لیں۔ ۲۔ خون بہا لئے بغیر معاف کر دیں۔ ۳۔ خون بہا لے کر معاف کر دیں (البتہ اس صورت میں ضروری ہے کہ قاتل بھی راضی ہو)۔
قانونِ قصاص پر اٹھائے جانے والے اعتراضات
بعض لوگوں نے غور و فکر کئے بغیر اسلام کے جزا و سزا کے کچھ قوانین پر تنقید کی ہے۔ قصاص کے مسئلے پر خصوصا بہت شور و غل ہے۔ مسئلہ قصاص پر مخالفین کے اعتراضات مندرجہ ذیل ہیں: ۱۔ قاتل کا یہی جرم ہے کہ اس نے ایک انسان کو ختم کر دیا۔ قصاص لیتے وقت اسی عمل کا تکرار کیا جاتا ہے۔ ۲۔ قصاص ایک انتقامی کارروائی اور سنگدلی کے علاوہ کچھ نہیں۔ یہ صفت لوگوں میں سے ختم کی جانا چاہئیے جبکہ قصاص کے طرف دار انتقام جوئی کے اس ناپسندیدہ صفت میں نئی روح پھو نکتے ہیں۔ ۳۔ انسان کشی ایسا گناہ نہیں جسے عام اور صحیح و سالم لوگ انجام دیتے ہیں۔ لہذا قاتل نفسیاتی طور پر کسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے۔ اس لئے چاہئیے کہ اس کا علاج کیا جائے۔ قصاص ایسے مریضوں کا علاج نہیں ہو سکتا۔ ۴۔ وہ مسائل جن کا تعلق اجتماعی نظام سے ہے ان کا رشد اور نشو و نما انسانی معاشرے کے ساتھ ساتھ ضروری ہے۔ وہ قانون جو آج سے چودہ سو سال پہلے جاری ہوا، اسے آج کے ترقی یافتہ معاشرے میں جاری نہیں ہونا چاہئیے۔ ۵۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ قصاص لینے کی بجائے قاتلوں کو قید کر دیا جائے۔ اور قید خانے میں ان کے وجود سے جبرا معاشرے کے فائدے کے لئے کام لیا جائے۔ اس طرح ایک طرف معاشرہ ان کے شر سے محفوظ رہے گا اور دوسری طرف ان سے حتمی المقدور فائدہ اٹھایا جائے گا۔ یہ ان اعتراضات کا خلاصہ ہے جو مسئلہ قصاص پر کئے جاتے ہیں۔ ذیل میں ان کا جواب پیش کیا جاتا ہے۔
جواب
آیات قصاص میں غور و خوض کرنے سے یہ اشکالات دور ہو جاتے ہیں (و لکم فی القصاص حیاة یآ اولی الالباب)۔ ۱۔ بعض اوقات خطرناک افراد کو ختم کر دینا معاشرے کے رشد و تکامل کا ذریعہ ہوتا ہے۔ ایسے مواقع پر مسئلہ قصاص حیات اور بقائے موجودات کا ضامن ہے۔ اس لئے قصاص کا جذبہ انسان اور حیوان کے مزاج اور طبیعت میں رکھ دیا گیا ہے۔ نظام طب ہو یا زراعت، سب اسی عقلی اصول پر مبنی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بدن کی حفاظت کے لئے بعض اوقات فاسد اور خراب عضو کو کاٹ دیتے ہیں۔ اسی طرح درخت کی نشو و نما میں مزاحم شاخوں کو بھی قطع کر دیتے ہیں۔ جو قاتل کے قتل کو ایک شخص کا فقدان سمجھتے ہیں، ان کی نظر انفرادی ہے۔ اگر وہ اجتماعی نظر رکھتے اور یہ جاننے کی کوشش کرتے کہ قانون قصاص باقی افراد کی حفاظت اور تربیت کا باعث ہے تو وہ اپنی گفتگو میں تجدید نظر کرتے ۔ معاشرے میں سے ایسے خونخوار افراد کا خاتمہ مضر عضو اور شاخ کو کاٹنے کی طرح ہے جسے حکم عقل کے مطابق لازما قطع کرنا چاہئیے ۔یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ آج تک مضر اعضا اور شاخوں کو کاٹنے پر کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔ ۲۔ اصولی طور پر تشریع قصاص کا جذبہ انتقام سے کوئی ربط نہیں کیونکہ انتقام کا معنی ہے غضب کی آگ کو کسی شخصی مسئلے کی خاطر ٹھنڈا کرنا جب کہ قصاص کا مقصد معاشرے پرظلم و ستم کے تکرار کو روکنا ہے اور اس کا ہدف اور غرض طلب عدل اور باقی بے گناہ افراد کی حمایت ہے۔ ۳۔ تیسرا اعتراض ہے کہ قاتل یقینا کسی نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہے اور عام لوگ ایسا ظلم نہیں کر سکتے۔ اس بارے میں کہنا چاہئیے کہ بعض اوقات تو یہ بات بالکل صحیح ہے۔ ایسی صورت میں اسلام نے بھی دیوانہ اور ایسے افراد کے لئے قصاص کا حکم نہیں دیا لیکن قاتل کو ہمیشہ بیمار قرار دینا بہت خطرناک ہے کیونکہ ایسے فساد کو ایسی بنیاد فراہم کرنا معاشرے کے ظالموں کو ایسی جرات دلاتا ہے جس کی تردید نہیں کی جا سکتی۔ اگر یہ استدلال کسی صحیح قاتل کے بارے میں ہے تو پھر یہی استدلال سب تجاوز کرنے والوں اور دوسروں کے حقوق چھیننے والوں کے لئے بھی صحیح ہونا چاہئیے کیونکہ عقل کامل رکھنے والا شخص کبھی دوسروں پر تجاوز نہیں کرتا۔ اس طرح تو سزا کے تمام قوانین کو ختم کر دینا چاہئیے اور تجاوز و تعدی کرنے والے سب افرا د کو قید خانوں اور مقامات سزا سے نکال کر نفسیاتی امراض کے ہسپتالوں میں داخل کر دینا چاہیئے۔ ۴۔ رہا یہ سوال کہ معاشرے کی ترقی قانون قصاص کو قبول نہیں کرتی اور قصاص صرف قدیم معاشرے میں اثر رکھتا تھا لیکن اس ترقی کے زمانے میں اقوام عالم قصاص کو خلاف وجدان سمجھتی ہیں۔ اس کا جواب صرف ایک جملے میں یوں دیا جا سکتا ہے کہ یہ دعوی ان وسیع وحشت ناک جرائم اور میدان جنگ وغیرہ کے مقتولین کی تعداد کے مقابلے میں بہت بے وزن ہے اور خیالی پلاؤ کی طرح ہے۔ فرض کیا کہ ایسی دنیا وجود میں آجائے تو اسلام نے بھی قانون عفو کو قصاص کے ساتھ ہی صراحت سے بیان کر دیا ہے اور قصاص ہی کو اس سلسلے میں آخری طریقہ کار قرار نہیں دیا۔ مسلم ہے کہ ترقی یافتہ معاشرے میں لوگ قاتل کو معاف کر دینے کو ہی ترجیح دیں گے لیکن موجودہ دنیا میں جس کے کئی تہوں میں چھپے ہوئے جرائم گذشتہ زمانوں سے زیادہ اور انتہائی وحشیانہ ہیں، اس میں قانون قصاص کے خاتمہ کا مطلب جرائم و مظالم کے دامن کو وسعت دینے کے اور کچھ نہ ہوگا۔ ۵۔ جیسا کہ قرآن کی تصریح موجود ہے۔ قصاص کی غرض و غایت صرف حیات عمومی و اجتماعی اور قتل و فساد کے تکرار سے بچنا اور اسے روکنا ہے۔ یہ مسلم ہے کہ قید خانہ اس سلسلے میں مطلوبہ کردار ادا نہیں کر سکتا (خصوصا موجودہ زمانے کے قید خانے جن میں سے بعض کی کیفیت تو مجرموں کے گھروں سے کہیں بہتر ہے)۔ یہی وجہ ہے کہ جن ممالک میں مجرم کے قتل کا حکم ختم کر دیا گیا ہے، وہاں تھوڑی ہی مدت میں جرائم اور قتل کی وارداتوں میں بہت اضافہ ہو گیا ہے اور قیدیوں کو بخش ہی دیا جائے تو جرائم پیشہ لوگ بڑے اطمینان اور آرام سے اپنے ہاتھ قتل اور ظلم سے رنگین کرتے رہیں۔
کیا مرد کا خون عورت کے خون سے زیادہ قیمتی ہے
ممکن ہے بعض لوگ اعتراض کریں کہ آیات قصاص میں حکم دیا گیا ہے کہ عورت کے قتل کے بدلے مرد سے قصاص نہیں لینا چاہئیے تو کیا مرد کا خون عورت کے خون سے گراں تر اور زیادہ قیمتی ہے۔ آخر ایک ظالم مرد سے عورت کے قتل پر قصاص کیوں نہ لیا جائے جب کہ دنیا کی نصف سے زیادہ انسانی آبادی عورتوں پر ہی مشتمل ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ آیت کا مفہوم یہ نہیں کہ مرد سے عورت کے قتل کے بدلے قصاص نہ لیا جائے بلکہ جیسا کہ فقہ اسلامی میں تفصیل و تشریح سے موجود ہے، عورت کے اولیاء عورت کے قتل کی صورت میں قصاص لے سکتے ہیں بشرطیکہ دیت کی آدھی مقدار ادا کر دیں۔ دوسرے لفظوں میں عورت کے قتل کی صورت میں قصاص نہ لینے سے مراد وہ قصاص ہے جو بلا کسی شرط کی ہو لیکن آدھی دیت ادا کرنے کی صورت میں مرد سے قصاص لینا اور اسے قتل کرنا جائز ہے۔ اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں کہ یہ حکم اس لئے نہیں کہ عورت مرتبہ انسانیت پر فائز نہیں یا اس کا خون کم قیمت ہے۔ یہ ایک بیجا اور غیر منطقی توہم ہے اور شاید یہ مفہوم خون بہا (خون کی قیمت) سے پیدا ہوا ہے۔ آدھی دیت تو صرف اس نقصان کو پورا کرنے کے لئے ہے جو مرد سے قصاص لینے کی صورت میں مرد کے خاندان کو پہنچا ہے (غور کیجئے گا)۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ زیادہ تر مرد ہی خاندان کا اقتصادی عضو مؤثر ہوتا ہے اور مرد ہی خاندان کے اخراجات اٹھاتا ہے اور مرد ہی اپنی اقتصادی کارکردگی سے خاندان کی زندگی کا کارخانہ چلاتا ہے۔ اس بناء پر مرد اور عورت کے ختم ہونے میں اقتصادی پہلو کا جو فرق ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اگر اس فرق کو ملحوظ نہ رکھا جائے تو مقتول مرد کے بیگناہ پسماندگان اور آل اولاد آخر کس جرم میں خسارہ اٹھائیں گے۔ اسلام نے مرد سے عورت کے قتل کا قصاص لینے کی صورت میں آدھی دیت دینے کا قانون معین کر کے سب لوگوں کے حقوق کا لحاظ رکھا ہے اور اس طرح ایک خاندان کو جو ناقابل تلافی نقصان ہو رہا تھا، اس کا ازالہ کیا گیا ہے۔ اسلام اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ لفظ مساوات کے بہانے دوسرے کے حقوق پائمال ہوں۔ جیسے اس شخص کی اولاد کے حقوق جس سے قصاص لیا جا رہا ہے۔
عفو کی تشویق
ایک اور نکتہ جو یہاں اپنی طرف متوجہ کرتا ہے وہ یہاں لفظ اخیہ کا استعمال ہے ۔ قرآن برادری کے رشتے کو انسانی معاشرے میں اتنا محکم سمجھتا ہے کہ اس کے نزدیک خون ناحق بہانے کے باوجود یہ برقرار رہتا ہے۔ لہذا اولیاء مقتول کی انسانی جذبات کو ابھارنے کے لئے انہیں قاتل کو بھائی کہہ کر متعارف کراتا ہے اور اس طرح انہیں عفو و مدارات کا شوق دلاتا ہے۔ البتہ یہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جو ہیجان اور غضب و غصے کی حالت میں ایسے عظیم گناہ کا ارتکاب کرنے کے بعد اس پر پشیمان ہوں لیکن وہ مجرم جو اپنے کا م پر فخر کریں اور نادم نہ ہوں، بھائی کہلانے کے لائق نہیں اور نہ ہی عفو و درگزر کے مستحق ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 182 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 182 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شائستہ اور مناسب وصیتیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 1گذشتہ آیات میں مجرمین کے بارے میں بعض مسائل بیان کرنے کے بعد ان آیات میں ایک لازمی حکم کے طور پر مالی معاملات میں وصیت کے کچھ احکام بیان کئے گئے ہیں۔ فرمایا: تم پر لکھ دیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت قریب آ جائے تو اپنے مال و منال کے سلسلے میں والدین اور رشتہ داروں کے بارے میں مناسب اور شائستہ وصیت کرے (کتب علیکم اذا حضر احدکم الموت ان ترک خیران الوصیة للوالدین و الاقربین بالمعروف)۔ آیت کے آخر میں مزید فرمایا: یہ پرہیزگاروں کے ذمے ایک حق ہے(حقا علی المتقین)۔ جیسا کہ پہلے اشارہ کیا جا چکا ہے "کتب علیکم" ظاہرا وجوب پر دلالت کرتا ہے۔ اس لئے وصیت کے بارے میں مختلف تفاسیر بیان کی گئی ہیں۔ بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ اگرچہ قوانین اسلام کی روسے وصیت ایک عمل مستحب ہے لیکن چونکہ ایسا مستحب ہے جس کی تائید بہت زیادہ ہے لہذا " کتب علیکم"کے جملہ سے اس کا حکم بیان کیا گیا ہے۔ اس لئے آیت کے آخر میں "حقا علی المتقین" آیاہے۔ اگر یہ وجوبی حکم ہوتا تو فرمایا جاتا "حقا علی المومنین"۔ کچھ دوسرے مفسرین کا خیال ہے کہ یہ آیت میراث کے احکام نازل ہونے سے پہلے کی ہے۔ اس وقت اموال کے بارے میں وصیت کرنا واجب تھا تا کہ ورثا میں اختلاف و نزاع نہ ہو لیکن آیات میراث نازل ہونے کے بعد یہ وجوب منسوخ ہو کر ایک مستحبی حکم کی صورت میں باقی رہ گیا۔ حدیث جو تفسیر عیاشی میں اس آیت کی ذیل میں آئی ہے، اسی معنی کی تائید کرتی ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ آیت کا یہ حکم ضرورت کے ان مواقع کے لئے ہو جہاں وصیت کرنا ضروری ہے۔ لیکن ان تمام تفاسیر میں پہلی تفسیر حق و حقیقت کے زیادہ قریب نظر آتی ہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ یہاں مال کی جگہ لفظ خیر استعمال کیا گیا ہے ۔ فرمایا کہ اگر کوئی اچھی چیز اپنے ترکے میں چھوڑے تو وصیت کرے۔ یہ تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ اسلام کی نظر میں وہ دولت و ثروت جو شرعی طریقے سے حاصل کی جائے اور معاشرے کے فائدے کے لئے اچھی راہ پر صرف کی جائے خیر و برکت ہے۔ یہ بات ان لوگوں کے غلط افکار پر خط بطلان کھینچتی ہے جو مال و دولت ہی کو بری چیز سمجھتے ہیں۔ اسلام ان کجرو زاہدوں سے بیزار ہے جو روح اسلام کو نہیں سمجھ سکے اور وہ زہد کو فقر و فاقہ کا دوسرا نام سمجھے ہوئے ہیں اور ان کے افکار اسلامی معاشرے میں جمود اور ذخیرہ اندوزوں کے سر اٹھا نے کا سبب بنتے ہیں۔ ضمنی طور پر یہ تعبیر اس ثروت و دولت کے مشروع اور جائز ہونے کی طرف لطیف اشارہ ہے جس کے بارے میں وصیت کا حکم دیا گیا ہے ورنہ انسان کا چھوڑا ہوا غیر مشروع ناجائز مال تو خیر نہیں بلکہ شر ہی شر ہے۔ بعض روایات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اموال کافی تعداد میں ہوں ورنہ مختصر مال تو وصیت کا محتاج نہیں۔ دوسرے لفظوں میں مختصر مال تو کوئی ایسی چیز نہیں کہ انسان چاہے کہ اس کا تیسرا حصہ وصیت کے ذریعے الگ کر دیا جائے۔ (بحوالہ:تفسیر نور الثقلین، ج۱، ص۱۵۹)۔ ضمنا "اذا حضر احدکم الموت" (جب تم میں سے کسی کے پاس موت آ پہنچے) وصیت کے لئے فرصت کے آخری لمحات کو بیان کرتا ہے۔ اگر تاخیر ہو جائے تو موقع جاتا رہے گا ورنہ کوئی مضائقہ نہیں کہ انسان پہلے سے احتیاط کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنا وصیت نامہ تیار کرے بلکہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمل انتہائی مستحسن ہے۔ یہ انتہائی کوتاہ فکری ہے کہ انسان خیال کرے کہ وصیت کرنا فال بد ہے اور اپنی موت کو سامنے لانے کے مترادف ہے بلکہ وصیت تو ایک دور اندیشی اور ناقابل انکار حقیقت کی پہچان ہے اور اگر یہ طول عمر کا سبب نہ بنے تو عمر میں کمی کا تو ہرگز سبب نہیں ہے۔ زیر نظر آیت میں وصیت کو "بالمعروف" سے مقید کرنا اس طرف اشارہ ہے کہ وصیت ہر لحاظ سے عقل مندانہ ہو، لیکن معروف کا معنی ہے عقل و خرد کی پہچانی ہوئی (عرف عقلا)۔ جس شخص کے لئے وصیت کی جا رہی ہو، اس کے لئے مقدار کے لحاظ سے اور دیگر جہات سے ایسی ہو کہ عقلا اسے مدبرانہ سمجھیں نہ یہ کہ وہ تفریق اور نزاع کا باعث بن جائے۔ جب وصیت تمام مذکورہ صفات کی جامع ہو تو وہ ہر لحاظ سے محترم اور مقدس ہوگی اور اس میں کسی طرح کا تغیر و تبدل حرام ہے۔ اسی لئے بعد والی آیت میں فرمایا گیا ہے: جو کوئی وصیت سننے کے بعد اس میں تبدیلی کرے، اس کا گناہ تبدیلی کرنے والے کے سر ہے (فمن بدلہ بعد ما سمعہ فانما اثمہ علی الذین یبدلونہ) اور اگر ان کا گمان ہے کہ خدا ان کی سازشوں اور مخفی کارروائیوں سے بے خبر ہے تو وہ سخت اشتباہ میں ہیں کیونکہ خدا سننے والا اور جاننے والا ہے (ان اللہ سمیع علیم)۔ ممکن ہے یہ آیت اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو کہ وصی (وہ شخص جو وصیت کرنے والے کی موت کے بعد وصیتوں پر عملدر آمد کے لئے ذمے دار ہے) کی خلاف ورزی کبھی وصیت کرنے والے کے اجر و ثواب کو ختم نہیں کر سکتی۔ وہ اپنا اجر پا چکا ہے ۔ گناہ کا طوق فقط وصی کی گردن کے لئے ہے جس نے وصیت کی مقدار، کیفیت یا اصلی وصیت میں تبدیلی کی ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ مقصد یہ ہو کہ اگر وصی کی خلاف ورزی کی وجہ سے میت کا مال ایسے افراد کو دے دیاجائے جو اس کے مستحق نہیں اور وہ اس سے بےخبر بھی ہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں۔ گناہ صرف وصی کو ہوگا جس نے دانستہ طور پر یہ غلط کام انجام دیا ہے۔ توجہ رہے کہ یہ دونوں تفاسیر ایک دوسرے سے متضاد نہیں اور ممکن ہے آیت ان دونوں مفاہیم کے لئے ہو۔ اب یہ حکم اسلامی واضح ہو گیا کہ وصیتوں میں ہر طرح کا تغیر و تبدل جس صورت میں ہو اور جس قدر ہو، گناہ ہے۔ لیکن ہر قانون میں کچھ استثنائی پہلو ہوتے ہیں۔ لہذا زیر نظر آخری آیت میں فرمایا گیا ہے: جب وصی کو وصیت کرنے والے میں انحراف اور کجروی کا اندیشہ ہو، یہ انحراف چاہے بے خبری سے ہو یا جان بوجھ کر آگاہی کے باوصف ہو اور وہ اس کی اصلاح کرے تو وہ گنہگار نہ ہوگا اور وصیت کی تبدیلی کا قانون اس پر لاگونہ ہوگا۔ خدا بخشنے والا مہربان ہے (فمن خاف من قوص جنفا او اثما فاصلح بینہم فلا اثم علیہ ان اللہ غفور رحیم)۔ اس بناء پر استثناء صرف ان مواقع کے لئے ہے جہاں وصیت شائستہ و مناسب نہ ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں وصی تغیر کا حق رکھتا ہے۔ اگر وصیت کرنے والا زندہ ہے تو اپنا نقطہ نظر اس کے گوش گزار کرے تا کہ وہ خود تبدیلی کر دے اور اگر وہ مر گیا ہو تو خود یہ تبدیلی کرے اور تبدیلی کا یہ اختیار مندرجہ ذیل مواقع کے لئے منحصر ہے۔ ۱۔ اگر وصیت کل ترکے کے ایک تہائی سے زیادہ ہو کیونکہ رسول اکرم ﷺ اور اہل بیت سے بہت سی روایات میں منقول ہے کہ انسان ایک تہائی تک کے مال کی وصیت کرنے کا مجاز ہے اور اس سے زیادہ ممنوع ہے۔ ہمارے فقہا نے بھی فقہی کتب میں یہی فتوی دیا ہے۔ [بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۱۳، ص۲۶۱ (کتاب احکام الوصایا، باب ۱۰)]۔ اس بناء پر جن ناواقف لوگوں کا یہ معمول ہے کہ وہ تمام اموال وصیت کے ذریعے تقسیم کر دیتے ہیں، کسی طرح بھی قوانین اسلام کے رو سے صحیح نہیں اور وصی پر لازم ہے کہ وہ اس کی اصلاح کرے اور ایک تہائی سے زیادہ اس طرح سے تقسیم نہ کرے۔ ۲۔ اگر وصیت ظلم، گناہ اور غلط کام سے متعلق ہو۔ مثلا کوئی وصیت کرے کہ اس کے مال کا کچھ حصہ مراکز فساد کو وسیع کرنے میں صرف کیا جائے اور اسی طرح اگر وہ وصیت کسی ترک واجب کا سبب بنے۔ ۳۔ اگر وصیت پر عمل درآمد، نزاع، فساد اور خون ریزی کا سبب ہو تو یہاں حاکم شرع کے حکم سے اصلاح ہو سکتی ہے۔ جنف (بر وزن کنف) کا معنی ہے حق سے انحراف اور باطل کے طرف میلان۔ یہ وصیت کرنے والے کے جاہلانہ انحرافات اور کجرویوں کی طرف اشارہ ہے۔ اور "اثم" گناہ عمد کی طرف اشارہ ہے۔ جملہ "ان اللہ غفور رحیم" جو اس آیت کے آخر میں آیا ہے، اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اگر وصی وصیت کرنے والے کے غلط کام کی اصلاح کے لئے اقدام کرے اور راہ حق کو کھول دے تو خدا اس کی خطا سے صرف نظر کرے گا۔
و صیت کا فلسفہ
قانون میراث سے صرف کچھ معین رشتے دار بہرہ مند ہوتے ہیں جب کہ ممکن ہے خاندان کے اور افراد یا بعض اوقات قریبی دوست احباب مالی امداد کی سخت احتیاج رکھتے ہوں۔ اسی طرح ورثا میں سے بھی کبھی وراثت کا حصہ کی ضروریات کی کفالت نہیں کر سکتا لہذا قانون اسلام کی جامعیت اس کی اجازت نہیں دیتی کہ یہ خلا پر نہ ہو، اسی لئے اس نے قانون میراث کے ساتھ ساتھ قانون وصیت بھی رکھا ہے اور مسلمانوں کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنے مال کے تیسرے حصے کے متعلق اپنے بعد کے لئے کوئی مستحکم پروگرام بنائیں اور اسے اپنے مقصد میں صرف کریں۔ علاوہ ازیں بعض اوقا ت انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ کوئی اچھا کام انجام دے۔ لیکن وہ اپنی زندگی میں اپنی مالی ضروریات کے پیش نظر ایسا نہیں کر پاتا تو عقلی منطق واجب قرار دیتی ہے کہ وہ اپنے ان اموال سے جن کے حصول کے لئے اس نے زحمت اٹھائی ہے، کار خیر کے انجام دینے سے بالکل محروم نہ ہو۔ ان سب امور کی وجہ سے اسلام میں قانون وصیت رکھا گیا ہے اور اس کی اس حد تک تاکید کی گئی ہے کہ اسے ایک وجوبی اور ضروری حکم کی حد تک پہنچا دیا گیا ہے اور "حقا علی المتقین" کے جملے سے اس کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ وصیت صرف مندرجہ بالا امور میں منحصر نہیں بلکہ انسان کو چاہئیے کہ وہ اپنے قرض اور ان امانتوں کے متعلق جو اسے سپرد کی گئی ہیں اور دیگر امور کے بارے میں اپنی وصیت کو واضح طور پر بیان کرے۔ اس طرح سے کہ حقوق الناس اور حقوق اللہ میں سے اس کی کوئی ذمہ داری مبہم نہ رہ جائے۔ روایات اسلامی میں وصیت کے بارے میں بہت تاکید کی گئی ہے۔ ان میں سے ایک روایت میں پیغمبر اسلام ﷺ سے منقول ہے۔ آپ نے فرمایا: ما ینبغی لامرء مسلم ان یبیت لیلة الا وصیتہ تحت راسہ۔ کسی مسلمان کے لئے مناسب نہیں کہ وہ رات سوئے مگر اس کا وصیت نامہ اس کے سر کے نیچے نہ ہو۔(بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۱۳، ص۳۵۲)۔ سر کے نیچے ہونا، یہاں تاکید کے لئے ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ وصیت نامہ تیار رکھنا چاہئیے۔ ایک اور روایت میں ہے: من مات بغیر وصیة مات میتتہ جاہلیة۔ جو شخص بغیر وصیت کے مر جائے، وہ جاہلیت کی موت مرا۔(بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۱۳، ص۳۵۲)۔
وصیت میں عدالت
مندرجہ بالا آیت میں وصیت میں تعدی و تجاوز نہ کرنے کا حکم آپ نے ملاحظہ کیا۔ اس سلسلے میں اسلامی روایات میں بھی ظلم و جور اور ضرر نہ پہنچانے کے بارے میں بہت تاکید کی گئی ہے۔ ان روایات کے اجتماعی مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے وصیت کرنے کی بہت اہمیت ہے، اسی طرح وصیت میں ظلم روا رکھنا بہت برا عمل ہے اور گناہان کبیرہ میں سے ہے۔ ایک حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام کا ارشاد ہے: من عدل فی وصیة کان کمن تصدق بہا فی حیاتہ و من جار فی وصیتہ لقی اللہ عزوجل یوم القیامة و ہو عنہ معرض۔ جو شخص اپنی وصیت میں عدل کرے وہ ایسے ہے جیسے اس نے اپنی زندگی میں یہ مال راہ خدا میں صدقہ کر دیا ہو اور جو اپنی وصیت میں ظلم و تعدی کرے، قیامت کے دن پروردگار کی طرف سے نگاہ لطف و کرم اس سے اٹھالی جائے گی۔(بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۱۳، ص۳۵۹)۔ وصیت میں ظلم و جور اور ضرر رسانی یہ ہے کہ انسان اپنے ترکے کے تیسرے حصے سے زیادہ وصیت کرے اور ورثاء کو ان کے جائز حق سے محروم کر دے یا بلاوجہ محبت و دشمنی کی بناء پر ایک کو دوسرے پر ترجیح دے۔ اسی لئے اگر ورثاء زیادہ ضرورتمند ہوں تو حکم دیا گیا ہے کہ تیسرے حصے کی بھی وصیت نہ کی جائے اور ایسے مقام پر وصیت میں چوتھے یا پانچویں حصے تک کمی کی جا سکتی ہے۔(بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۱۳، ص۳۶۰)۔ وصیت میں عدالت کے بارے میں اسلام کے پیشواؤں نے اپنے ارشادات میں اس حد تک تاکید کی ہے کہ ایک حدیث میں ہے: انصار میں سے ایک شخص فوت ہو گیا اور اس کے چھوٹے چھوٹے بچے باقی رہ گئے لیکن وہ مرتے وقت سارا مال راہ خدا میں صرف کر گیا یہاں تک کہ کچھ باقی نہ رکھا۔ پیغمبر اسلام ﷺ اس واقعے سے آگاہ ہوئے تو فرمایا: اس شخص سے تم نے کیا سلوک کیا۔ لوگوں نے عرض کیا: ہم نے (اس کی نماز جنازہ پڑھ کر) اسے دفن کر دیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے پہلے معلوم ہو جاتا تو میں اجازت نہ دیتا کہ اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے کیونکہ اس نے اپنے چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ دیے ہیں تا کہ وہ گدائی کرتے پھریں۔(بحوالہ: سفینة البحار، ج۲، ص۶۵۹، مادہ وصیت)۔
واجب اور مستحب وصیت
وصیت ذاتی طور پر مستحب ہے لیکن جیسا کہ پہلے اشارہ کیا گیا ہے، ممکن ہے بعض اوقات وجوب کی شکل اختیار کر لے مثلا کسی نے واجب حقوق اللہ (زکوة و خمس وغیرہ) کی ادائیگی میں کوتاہی کی ہو یا لوگوں کی کچھ امانتیں اس کے پاس پڑی ہوں اور عدم وصیت کی صورت میں احتمال ہو کہ ان کا حق ضائع ہو جائے گا اور ان سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک شخص کا معاشرے میں ایسا مقام ہے کہ اگر وہ وصیت نہ کرے تو ممکن ہے ناقابل تلافی نقصان ہو اور صحیح اجتماعی یا دینی نظام میں سخت نقصان و ضرر کا اندیشہ ہو۔ ایسی تمام صورتوں میں وصیت کرنا واجب ہو جائے گا۔
زندگی میں وصیت کو بدلا جاسکتا ہے
قوانین اسلام کی رو سے، وصیت کرنے والا اپنی پہلے سے کی گئی وصیت کا پابند نہیں بلکہ اپنی زندگی میں وہ اسے بدل بھی سکتا ہے۔ وہ وصیت کی مقدار اور کیفیت اور اپنے وصی کے سلسلے میں نظر ثانی کر سکتا ہے کیونکہ ممکن ہے وقت گزرنے کے ساتھ اس بارے میں مصلحتیں بدل گئی ہوں۔
وصیت۔ اصلاح کا ذریعہ
: اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ انسان کو چاہئیے کہ وہ اپنی وصیت کو اپنی گذشتہ کوتاہیوں کے اصلاح اور ان کے ازالے کا ذریعہ قرار دے۔ یہاں تک کہ اس کے عزیز و اقارب اور وابستگان میں سے اگر کچھ اس کی طرف سے سرد مہری اور بے رغبتی کا شکار تھے تو وصیت کے ذریعے ان سے اظہار محبت کرے۔ روایات میں ہے کہ ہادیان دین اپنے ان رشتہ داروں کے بارے میں خاص طور پر وصیت کرتے تھے جو ان سے سرد مہری سے پیش آتے تھے اور مال کی کچھ مقدار وصیت کے ذریعے ان کے لئے مختص کر دیتے تھے تا کہ ٹوٹے ہوئے رشتے محبت کے ذریعے پھر سے جوڑ دیں۔ اسی طرح اپنے غلاموں کو آزاد کر دیتے یا انہیں آزاد کرنے کی وصیت کر دیتے تھے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 185 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 185 کے تحت ملاحظہ کریں۔
روزہ تقوی کا سرچشمہ ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1چند اہم اسلامی احکام کے بیان کے بعد زیر نظر آیات میں ایک اور حکم بیان کیا گیا ہے جو چند اہم ترین اسلامی عبادات میں شمار ہوتا ہے اور وہ روزہ ہے۔ اسی تاکید سے ارشاد ہوتاہے: اے ایمان والو! روزہ تمہارے لئے اس طرح سے لکھ دیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے کی امتوں کے لئے لکھا گیا تھا (یَااَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمْ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِینَ مِنْ قَبْلِکُمْ)۔ ساتھ ہی اس انسان ساز اور تربیت آفرین عبادت کا فلسفہ چھوٹے سے پر معنی جملے میں یوں بیان کرتا ہے: ہو سکتا ہے تم پرہیزگار بن جاؤ (لعلکم تتقون)۔ جی ہاں__ جیسا کہ اس کی تشریح میں آگے بیان کیا جائے گا کہ روزہ روح تقوی اور پرہیزگاروں کی تربیت کے لئے تمام جہات سے ایک مؤثر عامل ہے۔ اس عبادت کی انجام دہی چونکہ مادی لذائد سے محرومیت اور مشکلات سے وابستہ ہے۔ خصوصا گرمیوں میں یہ زیادہ مشکل ہے اس لئے روح انسانی کو مائل کرنے اور اس حکم کی انجام دہی پرآمادہ کرنے کے لئے مندرجہ بالا آیات میں مختلف تعبیرات کو استعمال کیا گیا ہے۔ پہلے "یا ایہا الذین امنوا" سے خطاب کیا گیا ہے۔ اس کے بعد یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ روزہ تم ہی سے مخصوص نہیں بلکہ گذشتہ امتوں میں بھی تھا اور آخر میں اس کا فلسفہ بیان کیا گیا ہے جس کے مطابق اس پرمنفعت خدائی فریضہ کے اثرات سو فیصد خود انسان کے فائدے میں ہیں۔ اس طرح اسے ایک پسندیدہ اور خوشگوار موضوع بنا دیا گیاہے۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: لذة ما فی النداء ازال تعب العبادة و العناء۔ یعنی___ یا ایہا الذین امنوا کے خطاب کی لذت نے اس عبادت کی تکان، سختی اور مشقت کو ختم کر دیا ہے۔( مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ روزے کی سنگینی اور مشکل میں کمی کے لئے بعد کی آیت میں چند احکام اور بیان کئے گئے ہیں۔ ارشاد فرمایا: چند گنے چن روزہ رکھو (ایاما معدوداة) ایسا نہیں کہ تم پورا سال روزہ رکھنے پر مجبور ہو یا یہ سال کا کوئی بڑا حصہ ہے بلکہ یہ تو سال کے ایک مختصر سے حصے میں تمہیں مشغول رکھتا ہے۔ دوسری بات جو اس آیت میں ہے یہ ہے کہ تم میں سے جو افراد بیمار ہیں یا مسافر ہیں کہ جن کے لئے روزہ باعث مشقت و زحمت ہے، انہیں اس حکم میں رعایت دی گئی ہے کہ وہ ان دنوں کے علاوہ دوسرے دنوں میں روزہ رکھیں (سفر ختم ہو جانے اور بیماری سے صحت یابی کے بعد) (فمن کان منکم مریضا او علی سفر فعدة من ایام اخر)۔ تیسری بات یہ کہ جنہیں روزہ رکھنے میں انتہائی زحمت و تکلیف ہوتی ہے (مثلا بوڑھے مرد، بوڑھی عورتیں اور دائمی مریض جن کے تندرست ہونے کی امید نہیں)، ان کے لئے ضروری نہیں کہ وہ روزہ رکھیں، بلکہ اس کے بجائے کفارہ ادا کرنے کے لئے مسکین کو کھانا کھلا دیں (و علی الذین یطیقونہ فدیة طعام مسکین)[ "یطیقونہ" کا مادہ ہے"طوق" جس کا اصلی معنی ہے وہ حلقہ جو گلے میں ڈالتے ہیں یا جو طبعی طور پر گردن میں ہوتا ہے (جیسے رنگدار حلقہ جو بعض پرندوں کے گلے میں ہوتا ہے)۔ بعد ازاں یہ لفظ انتہائی توانائی اور قوت کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ یطیقونہ کی آخری ضمیر روزے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس طرح اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ جنہیں روزے کے لئے انتہائی قوت اور توانائی خرچ کرنا پڑے اور روزہ رکھنے میں انہیں سخت زحمت اٹھانا پڑے جیسا کہ بڑے بوڑھے اور ناقابل علاج بیمار ہیں، روزہ ان کے لئے معاف ہے اور وہ اس کی جگہ صرف فدیہ ادا کریں۔ لیکن بیمار اگر تندرست ہو جائیں تو ان کی ذمہ داری ہے کہ قضا روزہ رکھیں ۔ بعض نے یہ بھی کہاہے کہ یطیقونہ کا معنی ہے کہ جو گذشتہ زمانے میں قوت و توانائی رکھتے تھے (کا نوا یطیقونہ) اور اب طاقت نہیں رکھتے (بعض روایات میں بھی یہ معنی کیا گیا ہے)۔ بہرحال مندرجہ بالا حکم منسوخ نہیں ہوا اور آج بھی پوری طاقت سے باقی ہے اور یہ جو بعض کہتے ہیں کہ پہلے روزہ واجب تخییری تھا اور لوگوں کو اختیار دیا گیا تھا کہ وہ روزہ رکھیں یا فدیہ ادا کریں، آیت میں موجود قرائن اس کی تائید نہیں کرتے اور اس پر کوئی واضح دلیل بھی موجود نہیں ہے]۔ جو شخص اس سے زیادہ راہ خدا میں کھانا کھلانا چاہے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے (فمن تطوع خیرا فہو خیر لہ)۔[ "من تطوع خیرا" کو بعض نے مستحبی روزوں کی طرف اشارہ قرار دیا ہے۔ بعض دوسرے کہتے ہیں اس کا مفہوم یہ ہے کہ روزے کی اہمیت اور فلسفے کی طرف توجہ رکھتے ہوئے چاہئیے کہ رغبت کے ساتھ روزہ رکھا جائے نہ کہ اکراہ و جبر سے روزہ رکھا جائے]۔ آیت کے آخر میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ روزے کا تمہیں ہی فائدہ پہنچے گا: اور روزہ رکھنا تمہارے لئے بہ تر ہے اگر تم جانو (و ان تصوموا خیروہ لکم ان کنتم تعلمون)۔ بعض چاہتے ہیں کہ اس جملے کو اس امر کی دلیل قرار دیں کہ روزہ ابتداء میں واجب تخییری تھا۔ مسلمانوں کہ یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ روزہ رکھیں یا اس کی بجائے فدیہ دے دیں تا کہ آہستہ آہستہ روزے کی عادت پڑ جائے۔ بعد ازاں یہ حکم منسوخ ہو گیا اور روزے نے وجوب عینی کی شکل اختیار کر لی۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ آیت روزے کے فلسفے کی تاکید کے طور پرآئی ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ عبادت بھی دوسری عبادات کی طرح خدا کے جاہ و جلال میں کوئی اضافہ نہیں کرتی بلکہ اس کا تمام فائدہ خود انسانوں کو ہے۔ اس کی شاہد وہ تعبیرات ہیں جو قرآن کی دیگر آیات میں نظر آتی ہیں۔ مثلا: ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون۔ یہ تمہارے لئے ہی بہتر ہے اگر تم جان سکو۔ (جمعہ ۔۶) یہ آیت نماز جمعہ کے وجوب عینی حکم کے بعد (اجتماع شرائط کی صورت میں) آئی ہے۔ سورہ عنکبوت کی آیت ۱۶ میں ہے: وَإِبْرَاہِیمَ إِذْ قَالَ لِقَوْمِہِ اعْبُدُوا اللهَ وَاتَّقُوہُ ذَلِکُمْ خَیْرٌ لَکُمْ إِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُون۔ اور جب ابراہیم نے بت پرستوں کی طرف رخ کر کے کہا کہ خدا کی عبادت کرو اور اسی سے ڈرو۔ یہی تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جان لو۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ "ان تصوموا خیر لکم" سب روزہ داروں کے لئے خطاب ہے نہ کہ کسی خاص طبقے کے لئے ۔ زیر نظر آخری آیت روزے کے زمانے، اس کے کچھ احکام اور فلسفے کو بیان کرتی ہے۔ فرمایا: وہ چند گنے چنے دن جن میں روزہ رکھنا ہے ماہ رمضان کے ہیں (شہر رمضان) وہی مہینہ جس میں قرآن نازل ہوا ہے (الذی انزل فیہ القرآن)۔ وہی قرآن جو لوگوں کی ہدایت کا سبب ہے جو ہدایت کی نشانیاں اور واضح دلیلیں لئے ہوئے ہے اور جو حق و باطل کے امتیاز اور ان کے ایک دوسرے سے الگ ہونے کا معیار رکھتا ہے (ہدی للناس و بینات من الہدی و الفرقان)۔ اس کے بعد مسافروں اور بیماروں کے بارے میں روزے کے حکم کو دوبارہ تاکیدا بیان کیا گیا ہے: جو لوگ ماہ رمضان میں حاضر ہوں انہیں تو روزہ رکھنا ہوگا مگر جو مسافر یا بیمار ہوں وہ اس کے بدلے بعد کے دنوں میں روزہ رکھیں (فمن شہد منکم الشہر فلیصمہ و من کان مریضا او علی سفر فعدة من ایام اخر)۔[ بعض نے "فمن شہد منکم الشہر" کی رویت ہلال کے ساتھ تفسیر کی ہے یعنی جو چاند دیکھے اس پر روزہ واجب ہے لیکن یہ بات بہت بعید نظر آتی ہے۔ حق وہی ہے جو مندرجہ بالا سطور میں کہا گیا ہے اور جو قبل و بعد کے جملوں سے بھی ہم آہنگ ہے اور روایات اسلامی کے بھی مطابق ہے]۔ مسافر اور بیمار کے حکم کا تکرار اس سے پہلی اور اس آیت میں ممکن ہے اس وجہ سے ہو کہ بعض لوگوں کا گمان ہے کہ مطلقا روزہ نہ رکھنا کوئی اچھا کام نہیں اور ان کا اصرار ہے کہ بیماری اور سفر میں بھی روزہ رکھا جائے لہذا قرآن اس حکم کے تکرار سے لوگوں کہ یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ جیسے صحیح و سالم افراد کے لئے روزہ رکھنا ایک فریضہ الہی ہے۔ ایسے ہی بیماروں اور مسافروں کے لئے افطار کرنا بھی فرمان الہی ہے جس کی مخالفت گناہ ہے۔ آیت کے آخر میں دوبارہ روزے کی تشریح اور فلسفے کا بیان ہے۔ فرمایا: خدا تمہارے لئے راحت و آرا م اور آسانی چاہتا ہے۔ وہ تمہارے لئے زحمت و تکلیف اور تنگی نہیں چاہتا: (یرید اللہ بکم الیسر و لا یرید بکم العسر)۔ یہ اس طرف بھی اشارہ ہے کہ روزہ رکھنا اگرچہ ظاہرا سختی و پابندی ہے لیکن انجام کار انسان کے لئے راحت و آسائش اور آرام کا باعث ہے۔ ممکن ہے یہ جملہ اس نکتے کی طرف بھی اشارہ ہو کہ احکام الہی ستمگر اور ظالم حاکموں کے سے نہیں جنہیں بلا مشروط بجا لانے کے لئے کہا جاتا ہے لیکن جہاں انسان کے لئے کوئی حکم بجا لانا، سخت مشقت کا باعث ہو وہاں حکم الہی کے تحت انسانی ذمہ داری کو سہل تر کر دیا جاتا ہے۔ اسی لئے روزے کا حکم اپنی پوری اہمیت کے باوجود بیماروں اور مسافروں کے لئے اٹھا دیا گیا ہے۔ مزید ارشاد ہوتاہے: غرض اور مقصد یہ ہے کہ تم ان روزوں کی تعداد کو مکمل کرو (و لتکملو العدة) یعنی ہر صحیح و سالم انسان پر لازم ہے کہ وہ سال میں ایک ماہ کے روزے رکھے کیونکہ روزہ اس کے جسم و روح کی پرورش کے لئے ضروری ہے۔ اسی بناء پر ماہ رمضان میں اگر تم بیمار تھے یا سفر میں تھے تو ضروری ہے کہ اتنے ہی دنوں کی بعد میں قضا کرو تا کہ وہ تعداد مکمل ہو جائے۔ یہاں تک کہ عورتوں پر ایام حیض کی نماز کی قضا تو معاف ہے لیکن روزے کی قضا معاف نہیں ہے۔ آخری جملے میں ارشاد ہوتا ہے: تا کہ اس بناء پر کہ خدا نے تمہاری ہدایت کی ہے۔ تم اس کی بزرگی بیان کرو اورشاید اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو (و التکبر و اللہ علی ما ہدکم و لعلکم تشکرون)۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ خدا کی بزرگی بیان کرنے کے مسئلے کا ذکر بطور قاطع ہے (لتکبروا اللہ علی ما ہدکم) جب کہ شکرگذاری کے لئے لعل (شاید) کہا گیا ہے۔ تعبیر کا یہ فرق ممکن ہے اس لیے ہو کہ اس عبادت کی انجام دہی بہرحال مقام پروردگار کی تعظیم ہے لیکن شکر کا مفہوم ہے نعمات الہی کو ان کی جگہ پر صرف کرنا اور روزے کے عملی آثار اور فلسفوں سے فائدہ حاصل کرنا۔ اس کی کئی ایک شرایط ہیں، جب تک وہ پوری نہ ہوں شکر انجام نہیں پاتا اور ان میں سے زیادہ اہم حقیقت روزہ کی پہچان، اس کے فلسفوں سے آگاہی اور خلوص کامل ہے۔
روزے کے تربیتی و اجتماعی اثرات
روزے کے کئی جہات سے گوناگون مادی اور روحانی آثار ہیں۔ جو اس کے ذریعے وجود انسانی میں پیدا ہوتے ہیں۔ ان میں سے سب سے اہم اس کا اخلاقی پہلو اور تربیتی فلسفہ ہے۔ روح انسانی کو لطیف تر بنانا، ارادہ انسانی کو قوی کرنا اور مزاج انسانی میں اعتدال پیدا کرنا روزے کے اہم فوائد میں سے ہے۔ روزے دار کے لئے ضروری ہے کہ حالت روزہ میں آب و غذا کی دستیابی کے باوجود اس کے قریب نہ جائے اور اسی طرح جنسی لذات سے چشم پوشی کرے اور عملی طور پر ثابت کرے کہ وہ جانوروں کی طرح کسی چراگاہ اور گھاس پھوس کی قید میں نہیں ہے۔ سرکش نفس کی لگام اس کے قبضے میں ہے اور ہوا و ہوس اور شہوات و خواہشات اس کے کنڑول میں ہیں۔ حقیقت میں روزے کا سب سے بڑا فلسفہ یہی روحانی اور معنوی اثر ہے۔ وہ انسان کہ جس کے قبضے میں طرح طرح کی غذائیں اور مشروبات ہیں۔ جب اسے بھوک یا پیاس لگتی ہے، وہ ان کے پیچھے جاتا ہے۔ وہ درخت جو باغ کی دیوار کی پناہ میں نہر کے کنارے اگے ہوتے ہیں، ناز پروردہ ہوتے ہیں۔ یہ حوادث کا مقابلہ بہت کم کر سکتے ہیں۔ ان میں باقی رہنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔ اگر انہیں چند دن پانی نہ ملے تو پژمردہ ہو کر خشک ہو جائیں جب کہ وہ درخت جو پتھروں کے درمیان پہاڑوں اور بیابانوں میں اگتے ہیں۔ ان کی شاخیں شروع سے سخت طوفانوں، تمازت آفتاب اور کڑاکے کی سردی کا مقابلہ کرنے کی عادی ہوتی ہیں اور طرح طرح کی محرومیت سے دست و گریباں رہتی ہیں۔ ایسے درخت ہمیشہ مضبوط، سخت کوش اور سخت جان ہوتے ہیں۔ روزہ بھی انسان کی روح اور جان کے ساتھ یہی عمل کرتا ہے۔ یہ وقتی پابندیوں کے ذریعے انسان میں قوت مدافعت اور قوت ارادی پیدا کرتا ہے اور اسے سخت حوادث کے مقابلے کی طاقت بخشتا ہے۔ چونکہ روزہ سرکش طبائع و جذبات پر کنڑول کرتا ہے لہذا اس کے ذریعے انسان کے دل پر نور و ضیاء کی بارش ہوتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ روزہ انسان کو عالم حیوانیت سے بلند کر کے فرشتوں کی صف میں لے جا کھڑا کرتا ہے۔ لعلکم تتقون (ہو سکتا ہے تم پرہیزگار بن جاؤ) ان تمام مطالب کی طرف اشارہ ہے۔ مشہور حدیث ہے: الصوم جنة من النار۔ روزہ جہنم آگ سے بچانے کے لئے ڈھال ہے۔ (بحوالہ: بحار الانوار، ج۹۶، ص۲۵۶)۔ ایک اور حدیث حضرت علی علیہ السلام سے مردی ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ سے پوچھا گیا کہ ہم کون سا کام کریں جس کی وجہ سے شیطان ہم سے دور رہے ۔ آپ نے فرمایا: الصوم یود وجہہ و الصدقہ تکسر ظہرہ و الحب فی اللہ و المواظبة علی العمل الصالح یقطع دابرہ و الاستغفار یقطع و تینہ۔ روزہ شیطان کا منہ کالا کر دیتا ہے۔ راہ خدا میں خرچ کرنے سے اس کی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔ خدا کے لئے محبت اور دوستی نیز عمل صالح کی پابندی سے اس کی دم کٹ جاتی ہے اور استغفار سے اس کی رگ دل قطع ہو جاتی ہے۔( بحوالہ:بحار الانوار، ج۹۶، ص۲۵۵)۔ نہج البلاغہ میں عبادات کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام روزے کے بارے میں فرماتے ہیں: و الصیام ابتلاء لا خلاص الخلق۔ اللہ تعالی نے روزے کو شریعت میں اس لئے شامل کیا تا کہ لوگوں میں روح اخلاص کی پرورش ہو۔(بحوالہ: نہج البلاغہ، کلمات قصار، نمبر ۲۵۲)۔ پیغمبر اکرم ﷺ سے ایک اور حدیث مردی ہے ۔ آپ نے فرمایا: ان للجنة بابا یدعی الریان لا یدخل منہا الا الصائمون۔ بہشت کا ایک دروازہ ہے جس کا نام ہے ریان (یعنی__ سیراب کرنے والا)۔ اس میں سے صرف روزہ دار ہی داخل جنت ہوں گے۔ حضرت صدوق مرحوم نے معافی الاخبار میں اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بہشت میں داخل ہونے کے لئے اس دروازے کا انتخاب اس بناء پر ہے کہ روزہ دار کو چونکہ زیادہ تکلیف پیاس کی وجہ سے ہوتی ہے، جب روزہ دار اس دروازے سے داخل ہوگا تو وہ ایسا سیراب ہوگا کہ اسے پھر کبھی بھی تشنگی کا احساس نہ ہوگا۔( بحوالہ: بحار الانوار، ج۹۶، ص۲۵۲ )۔
روزے کے معاشرتی اثرات
باقی رہا روزے کا اجتماعی اور معاشرتی اثر تو وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ روزہ انسانی معاشرے کے لئے ایک درس مساوات ہے۔ کیونکہ اس مذہبی فریضے کی انجام دہی سے صاحب ثروت لوگ بھوکوں اور معاشرے کی محروم افراد کی کیفیت کا احساس کر سکیں گے اور دوسری طرف شب و روز کی غذا میں بحث کر کے ان کی مدد کے لئے جلدی کریں گے ۔ البتہ ممکن ہے بھوکے اور محروم لوگوں کی توصیف کر کے خداوند عالم صاحب قدرت لوگوں کو ان کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہو اور اگر یہ معاملہ حسی اور عینی پہلو اختیار کر لے تو اس کا دوسرا اثر ہو۔ روزہ اس اہم اجتماعی موضوع کو حسی رنگ دیتا ہے۔ ایک مشہور حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ ہشام بن حکم نے روزے کی علت اور سبب کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: انما فرض اللہ الصیام یستوی بہ الغنی و الفقیر ذلک ان الغنی لم یکن لیجد مس الجوع فریحم الفقیر و ان الغنی کلما اراد شیئا قدر علیہ فاراد اللہ تعالی ان یسوی بین خلقہ و ان یذیق الغنی مس الجوع و الالم لیرق علی الضعیف و یرحم الجائع۔ روزہ اس لئے واجب ہوا ہے کہ فقیر اور غنی کے درمیان مساوات قائم ہو جائے اور یہ اس وجہ سے ہے کہ غنی بھی بھوک کا مزہ چکھ لے اور فقیر کا حق ادا کرے کیونکہ مالدار عموما جو کچھ چاہتے ہیں ان کے لئے فراہم ہوتا ہے۔ خدا چاہتا ہے کہ اس کے بندوں کے درمیان مساوات ہو اور مالداروں کو بھی بھوک او درد و رنج کا ذائقہ چکھائے تا کہ وہ کمزور اور بھوکے افراد پر رحم کریں۔(بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۷، باب اول، کتاب سوم، ص۳)۔
روزے کے طبی اثرات
طب کی جدید اور قدیم تحقیقات کی روشنی میں امساک )کھانے پینے سے پرہیز ) بہت سی بیماریوں کے علاج کے لئے معجزانہ اثر رکھتا ہے جو قابل انکار نہیں۔ شاید ہی کوئی حکیم ہو جس نے اپنی مشروح تالیفات اور تصنیفات میں اس حقیقت کی طرف اشارہ نہ کیا ہو کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ بہت سی بیماریاں زیادہ کھانے سے پیدا ہوتی ہیں۔ چونکہ مواد اضافی بدن میں جذب نہیں ہوتا جس سے مزاحم اور مجتمع چربیاں پیدا ہوتی ہیں یا یہ چربی اور خون میں اضافی شوگر کا باعث بنتی ہے۔ عضلات کا یہ اضافی مواد در حقیقت بدن میں ایک متعفن بیماری کے جراثیم کی پرورش کے لئے گندگی کا ڈھیر بن جاتا ہے۔ ایسے میں ان بیماریوں کا مقابلہ کرنے کے لئے بہترین حل یہ ہے کہ گندگی کے ان ڈھیروں کو امساک اور روزے کے ذریعے ختم کیا جائے۔ روزہ ان اضافی غلاظتوں اور بدن میں جذب نہ ہونے والے مواد کو جلا دیتا ہے۔ در حقیقت روزہ بدن کو صفائی شدہ مکان بنا دیتا ہے۔ علاوہ ازیں روزے سے معدے کو ایک نمایاں آرام ملتا ہے اور اس سے ہا ضمے کی مشینری کی سروس ہو جاتی ہے ۔ چونکہ یہ بدن انسانی کی حساس ترین مشینری ہے جو سارا سال کام کرتی رہتی ہے، لہذا اس کے لئے ایسا آرام بہت ضروری ہے۔ یہ واضح ہے کہ حکم اسلامی کی روسے روزہ دار کو اجازت نہیں کہ وہ سحری اور افطاری کی غذا میں افراط اور زیادتی سے کام لے ۔ یہ اس لئے ہے تا کہ اس حفظان صحت اور علاج سے مکمل نتیجہ حاصل کیا جا سکے ورنہ ممکن ہے کہ مطلوبہ نتیجہ حاصل نہ کیا جا سکے۔ ایک روسی دانشور الکسی سوفرین لکھتا ہے: روزہ ان بیماریوں کے علاج کے لئے خاص طور پر مفید ہے: خون کی کمی، انتڑیوں کی کمزوری، التہاب زائدہ (appendicitis)[ ایک مرض جس میں اندھی آنت سوج جاتی ہے اور اس میں سوزش ہوتی ہے۔ (مترجم)]، خارجی و داخلی قدیم پھوڑے ، تپ دق (t.b )، اسکلیروز، نقرس ، استسقا، جوڑوں کا درد، نورا ستنی، عرق النساء، خراز (جلد کا گرنا)، امراض چشم، شوگر، امراض جلد، امراض گردہ، امراض جگر اور دیگر بیماریاں۔ امساک اور روزے کے ذریعے علاج صرف مندرجہ بالا بیماریوں سے مخصوص نہیں بلکہ وہ بیماریاں جو بدن انسانی کے اصول سے مربوط ہیں اور جسم کے خلیوں سے چمٹی ہوئی ہیں مثلا سرطان، سفلین اور طاعون کے لئے بھی یہ شفا بخش ہے۔ ایک مشہور حدیث پیغمبر اکرم ﷺ سے مروی ہے۔ آپ نے فرمایا: صوموا تصحوا۔ روزہ رکھو تا کہ صحت مند رہو۔ پیغمبر اکرم ﷺ سے ایک اور حدیث مردی ہے جس میں آپ نے فرمایا: المعدة بیت کل داء و الحمیة راس کل دواء۔ معدہ ہر بیماری کا گھر ہے اور امساک و فاقہ، اعلی ترین دوا ہے۔
روزہ گذشتہ امتوں میں
موجود تورات اور انجیل سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ روزہ یہود و نصاری میں بھی تھا جیسا کہ "قاموس کتاب مقدس" میں ہے: روزہ کلیتہ تمام اوقات اور تمام زمانوں میں ہر گروہ، امت اور مذہب میں اندوہ و غم اور اچانک مصیبت کے موقع پر معمول تھا۔(بحوالہ: قاموس کتاب مقدس، ص۴۲۷)۔ تورات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسی نے چالیس دن تک روزہ رکھا۔ جیسا کہ لکھا ہے: جب میں پہاڑ پر گیا تا کہ پتھر کی تختیاں یعنی وہ عہد والی تختیاں جو خدا نے تمہارے ساتھ منسلک کر دی ہیں حاصل کروں، اس وقت میں پہاڑ میں چالیس راتیں رہا۔ وہاں میں نے نہ روٹی کھائی نہ پانی پیا۔(بحوالہ: تورات، سفر تشینہ، فصل ۹، شمارہ۹)۔ یہودی جب توبہ کرتے اور رضائے الہی طلب کرتے تو روزہ رکھتے تھے: اکثر اوقات یہودی جب موقع پاتے کہ خدا کی بارگاہ میں عجز و انکساری اور تواضع کا اظہار کریں تو روزہ رکھتے تا کہ اپنے گناہوں کا اعتراف کر کے روزہ اور توبہ کے ذریعے حضرت اقدس الہی کی رضا و خوشنودی حاصل کریں۔(بحوالہ: قاموس کتاب مقدس، ص۴۲۸)۔ احتمال ہے کہ روزہ "اعظم باکفارہ" سال میں مخصوص ایک دن کے لئے ہو جس کا یہودیوں میں رواج تھا۔ البتہ وہ دوسرے موقتی روزے بھی تھے مثلا اورشلیم کی بربادی کے وقت رکھا گیا روزہ و غیرہ۔ (بحوالہ: قاموس کتاب مقدس، ص۴۲۸)۔ جیسا کہ انجیل سے ظاہر ہوتا ہے، حضرت عیسی علیہ السلام نے بھی چالیس دن روزے رکھے: اس وقت عیسی قوت رو ح کے ساتھ بیابان میں لے جائے گئے تا کہ ابلیس انہیں آزما لے۔ پس انہوں نے چالیس شب و روز روزہ رکھا اور وہ بھوکے رہے۔(بحوالہ: انجیل متی، باب ۴، شمارہ ۱و۲ )۔ انجیل سےیہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسی کے بعد حواریین روزہ رکھتے تھے جیسا کہ انجیل میں ہے: انہوں نے اس سے کہا کہ کیا بات ہے کہ یحیی کے شاگرد ہمیشہ روزہ رکھتے ہیں اور دعاء کرتے رہتے ہیں جب کہ تمہارے شاگرد ہمیشہ کھاتے پیتے رہتے ہیں لیکن ایک زمانہ آئے گا جب داماد ان میں سے اٹھا لیا جائے گا اور وہ اس وقت روزہ رکھیں گے۔ (بحوالہ: انجیل لوقا، باب ۵، شمارہ ۳۳۔۳۵)۔ کتاب مقدس میں یہ بھی ہے: اس بناء پر حواریین اور گذشتہ زمانے کے مومنین کی زندگی انکار لذات، بے شمار زحمات اور روزہ داری سے بھری پڑی تھی۔(بحوالہ: قاموس کتاب مقدس، ص ۴۲۸)۔
رمضان مبارک کی خصوصیت اور امتیاز
: کیا سبب ہے کہ ماہ رمضان روزے رکھنے کے لئے منتخب کیا گیا ہے بلکہ اسی بناء پر اسے دوسرے مہینوں پر برتری حاصل ہے۔ زیر نظر آیت میں اس کی برتری کی وجہ بیان کی گئی ہے۔ وہ یہ کہ قرآن جو ہدایت اور انسانی رہبری کی کتاب ہے، جس نے اپنے احکام اور قوانین کی صحیح روش کو غیر صحیح راستے سے جدا کر دیا ہے اور جو انسانی سعادت کا دستور لے کر آیا ہے، اسی مہینے میں نازل ہوا ہے۔ اسلامی روایات میں ہے کہ تمام عظیم آسمانی کتب تورات ، انجیل ، زبور، صحیفے اور قرآن، اسی مہینے میں نازل ہوئیں۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: تورات چھ رمضان، انجیل بارہ رمضان، زبور اٹھارہ رمضان اور قرآن شب قدر میں نازل ہوا ہے۔(بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۷، ابواب احکام شہر رمضان باب ۱۸، حدیث ۱۶)۔ اس طرح ماہ رمضان عظیم آسمانی کتب کے نزول اور تعلیم و تدریس کا مہینہ ہے کیونکہ صحیح تربیت تعلیم اور کچھ سیکھے بغیر ممکن نہیں ہے۔ روزے کا تربیتی پروگرام زیادہ سے زیادہ اور گہری آگاہی کے ساتھ آسمانی تعلیمات سے ہم آہنگ ہونا چاہئیے تا کہ اس سے انسانی روح و بدن کی آلودگی گناہ دھل جائے۔ ماہ شعبان کے ایک آخری جمعہ کو پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنے اصحاب کو اس ماہ کے استقبال کے لئے آمادہ کرنے کی خاطر خطبہ دیا اور اس کی اہمیت اس طرح ان کے گوش گزار کی: اے لوگو! خدا کی برکت، بخشش اور رحمت کا مہینہ تمہاری جانب آ رہا ہے۔ یہ مہینہ تمام مہینوں سے بہتر ہے۔ اس کے دن دوسرے مہینوں کے دنوں سے اور اس کی راتیں دوسرے مہینوں کی راتوں سے بہتر ہیں۔ اس ماہ کے لحظے اور گھڑیاں دوسرے مہینوں کے لحظوں اور گھڑیوں سے برتر ہیں۔ یہ ایسا مہینہ ہے جس میں تمہیں خدا نے مہمان بننے کی دعوت دی ہے اور تمہیں ان لوگوں میں سے قرار دیا گیا ہے جو خدا کے اکرام و احترام کے زیر نظر ہیں۔ لہذا خالص نیتوں اور پاک دلوں کے ساتھ خدا سے دعاء کرو تا کہ وہ تمہیں روزہ رکھنے اور تلاوت قرآن کی توفیق عطا فرمائے کیونکہ بدبخت ہے وہ شخص جو اس مہینے میں خدا کی بخشش سے محروم رہ جائے۔ اس ماہ میں اپنی بھوک اور پیاس کے ذریعے قیامت کی بھوک اور پیاس کو یاد کرو۔ اپنے فقراء اور مساکین پر احسان کرو۔ اپنے بڑے بوڑھوں کا احترام کرو اور چھوٹوں پر مہربانی کرو۔ رشتہ داری کے ناتوں کو جوڑ دو۔ اپنی زبانیں گناہ سے روکے رکھو۔ اپنی آنکھیں ان چیزوں کو دیکھنے سے بند رکھو جن کا دیکھنا حلال نہیں۔ اپنے کانوں کو ان چیزوں کے سننے سے روکے رکھو جن کا سننا حرام ہے اور لوگوں کے یتیموں پر شفقت و مہربانی کرو تا کہ وہ بھی تمہارے یتیموں سے یہی سلوک کریں۔] یہ وسائل الشیعہ جلد ۷ ابواب احکام شہر رمضان کے باب ۱۸ کی بیسویں حدیث ہے۔ اس کا عربی متن یہ ہے: فقال__ ایھا الناس انہ قد اقبل الیکم شہر اللہ بالبرکة و الرحمة و المغفرة شہر ہو عند اللہ افضل الشہور، و ایامہ افضل الایام و لیالیہ افضل اللیالی، و ساعاتہ افضل الساعات، ہو شہر دعیتم فیہ الی ضیافة اللہ، و جعلتم فی من اھل کرامة اللہ، انفاسکم فیہ تسبیح ، و نومکم فیہ عبادة، و عملکم فیہ مقبول، و دعائکم فیہ مستجاب، فاسئلوا اللہ ربکم بنیات صادقة و قلوب طاہرة: ان یوفقکم لصیامہ و تلاوة کتابہ، فان الشقی من حرم غفر ان اللہ فی ہذا الشہر العظیم، و اذکر و ابجوعکم و عطشکم فیہ جوع القیمة و عطشہ و تصدقوا علی فقرائکم و مساکینکم، و وقروا کبارکم و راحموا اصفارکم و صلوا ارحامکم، و احفظوا السنتکم، و غضوا عما لا یحل النظر الیہ ابصارکم، و عما لا یحل الاستماع الیہ اسماعکم و تحفظوا علی ایتام الناس یتحنن علی ایتامکم]۔
قاعدہ لاحرج
مندرجہ بالا آیات میں اس نکتے کی طرف اشارہ ہوا تھا کہ خدا تمہارے لئے آسانی اور آرام چاہتا ہے، وہ نہیں چاہتا کہ تم زحمت و مشقت میں مبتلا ہو جاو۔ مسلما یہ بات یہاں روزے اور اس کے فوائد نیز مسافر اور بیمار سے متعلق ہے لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ ایک کلی قاعدہ ہے، تمام اسلام احکام کے بارے میں ایک اصول معلوم ہو جاتا ہے اور یہی بات ایک مشہور قاعدہ جسے قاعدہ لاحرج کہتے ہیں، کےلئے ایک ماخذ و مدرک ہے۔ اس قاعدے کے مطابق احکام اسلام کی بنیاد سخت گیری پر نہیں۔ اگر کوئی حکم کسی مقام پر شدید مشقت کا باعث ہو تو وقتی طور پر وہ حکم اٹھ جائے گا۔ جیسا کہ ہمارے فقہاء نے کہا ہے کہ جب کبھی وضو کرنا یا کھڑے ہو کر نماز پڑھنا یا ایسا کوئی اور عمل انسان کےلئے سخت زحمت کا سبب ہو تو وضو کا حکم، تیمم سے اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کا حکم بیٹھ کر نماز پڑھنے سے بدل جائے گا۔ سورہ حج کی آیت ۷۸ میں ہے: ھو اجتباکم و ما جعل علیکم فی الدین من حرج اسی نے تمہیں چن لیا اور تمہارے لئے دین کے سلسلے میں کوئی مشقت نہیں رکھی۔ پیغمبر اکرم کی مشہور حدیث ہے: بعثت علی الشریعۃ السمحۃ السہلۃ میں ایسے دین و شریعت کے ساتھ مبعوث ہوا ہوں جسے انجام دینا اور اس پر عمل کرنا آسان ہے۔ یہ بھی اسی مفہوم کی طرف اشارہ ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1کسی نے نبی اکرم سے سوال کیا کہ ہمارا خدا نزدیک ہے کہ ہم اُس سے آہستہ مناجات کر سکیں یا دور ہے کہ بلند آواز سے پکاریں۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور جواب دیا گیا کہ خدا اپنے بندوں کے نزدیک ہے۔(بحوالہ: مجمع البیان، محل بحث آیت کے ذیل میں(۔
دعا او ر تضرع و زاری
خدا کے ساتھ بندوں کے ارتباط کا ایک وسیلہ دعا اور تضرع و زاری ہے لہذا گذشتہ آیات میں چند اہم اسلامی احکام بیان کرنے کے بعد زیر بحث آ یت میں اس کے متعلق گفتگو کی گئی ہے۔ دعا، خدا سے مناجات کرنے والے سب لوگوں کے لئے اپنے اندر ایک عمومی پردگرام لئے ہو ئے ہے لیکن روزے سے مربوط آیات کے درمیان اس کا ذکر اسے ایک نیا مفہوم عطا کرتا ہے۔ روزہ داروں کی ذمہ داریاں بیان کر نے سے قبل اس آیت کے ذریعے قرآ ن روزے کے ایک اور راز کی طرف اشارہ کرتا ہے جو وہی قرب الہی ہے اور اس سے راز و نیاز کرنا ہے ۔ اس آیت کا رو ئے سخن پیغمبر ﷺ کی طرف ہے۔ فرمایا: جس وقت میرے بندے تم سے میرے بارے میں سوال کریں تو کہہ د و کہ میں نزدیک ہوں (وَإِذَا سَاَلَکَ عِبَادِی عَنِّی فَإِنِّی قَرِیب) ۔ اس سے زیادہ قریب کہ جس کا تم تصور کر سکتے ہو، تم سے تمہاری نسبت بھی زیاد ہ نزدیک اور تمہاری رگ حیات سے بھی زیادہ قریب وَنَحْنُ اَقْرَبُ إِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِید۔ اور ہم انسان سے اس کی رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ (قٓ۔۱۶) اس کے بعد مزید فرمایا: جب دعا کرنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کا جواب دیتا ہوں( اجیب دعوة الداع اذا دعان)۔ اس لئے میرے بندوں کو چاہیئے کہ وہ میری دعوت قبول کریں (فلیستجیبوا لی) اور مجھ پر ایمان لے آئیں (وَلْیُؤْمِنُوا بِی)۔ ہو سکتا ہے وہ اپنی راہ پا لیں اور مقصد تک جا پہنچیں (لعلہم یرشدون)۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ خدا نے اس مختصر سی آیت میں سات مرتبہ ذات پاک کی طرف اور سات ہی مرتبہ بندوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس طرح اللہ نے بندوں سے اپنی انتہائی وابستگی، قربت، ارتباط اور ان سے اپنی محبت کی عکاسی کی ہے۔ عبداللہ بن سنان کہتا ہے میں نے امام صادق (علیہ السلام)سے سنا آپ نے فرمایا: دعا کیا کرو کیو نکہ دہ خدا کی بخشش کی چابی ہے اور ہر حاجت تک پہنچنے کے لیے وسیلہ کی قوت ہے۔ سب نعمتیں اور رحمتیں پروردگار کے پاس ہیں جن تک دعا کے بغیر نہیں پہنچا جا سکتا۔ کسی در وازے کو کھٹکھٹاتے ہو تو بالآخر وہ کھل جائے گا۔(بحوالہ: اصول کافی، ج۲، ۴۶۸)۔ جی ہاں___ وہ ہم سے نزدیک ہے ۔ کیسے ممکن ہے کہ وہ ہم سے دور ہو حالانکہ اس کا مقام ہمارے اور ہمارے دل کے درمیان ہے۔ و اعملوا ان اللہ یحول بین المرء و قلبہ۔ اور جان لو کہ اللہ انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوتا ہے۔ (انفال۔۲۴)
دعا اور زاری کا فلسفہ
جو لوگ دعا کی حقیقت، اس کی روح، اس کے تربیتی و نفسیاتی اثرات کو نہیں سمجھتے، وہ اس پر طرح طرح کے اعتراضات کرتے ہیں۔ کبھی وہ کہتے ہیں کہ یہ اعصاب کو کمزور اور بے حس کر دیتی ہے کیونکہ ان کی نظر میں دعا لوگوں کو فعالیت، کوشش، پیش رفت او رکامیابی کے وسائل کے بجا ئے اسی راہ پرلگا دیتی ہے اور انہیں سبق دیتی ہے کہ کوششوں کے بدلے اسی پر اکتفا کرو۔ معترضین کبھی کہتے ہیں کہ دعا اصولی طور پر خدا کی معاملات میں بے کار دخل اندازی ہے۔ خدا جیسی مصلحت دیکھے گا، اسے انجام د ے گا ۔ وہ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہمارے مصالح کو جانتا ہے پھر کیوں ہر وقت ہم اپنی مرضی اور پسندکے مطابق اس سے سوال کرتے رہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ ان تمام امور کے علاوہ دعا، ارادہ الہی پر راضی رہنے اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے منافی ہے۔ جو لوگ ایسے سوالات کرتے ہیں، وہ دعا اور تضرع و زاری کے نفسیاتی، اجتماعی، تربیتی او ر معنوی و روحانی آثار سے غافل ہیں۔ انسان، ارادے کی تقویت اور د کھ درد کے دور ہونے کے لئے کسی سہارے کا محتاج ہے اور دعا، انسان کے دل میں چراغ و امید روشن کر دیتی ہے۔ جو لوگ دعا کو فراموش کئے ہوئے ہیں، وہ نفسیاتی اور اجتماعی طور پر ناپسندیدہ عکس العمل سے دوچا رہوتے ہیں۔ ایک مشہور ماہر نفسیات کا قول ہے کہ کسی قوم میں دعا و زاری کا فقدان، اس ملت کے تباہی کے برابر ہے۔ وہ قوم جو احتیاج دعا کا گلا گھونٹ دے، وہ عموما فساد اور زوال سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔ البتہ یہ بات بھی فراموش نہیں کرنا چاہئیے کہ صبح کے وقت دعا و زاری کرنا اور باقی سارا دن ایک وحشی جانور کی طرح گزارنا، بےہودہ اور فضول ہے ۔ دعا کو مسلسل جاری رہنا چاہیئے تا کہ کہیں ایسانہ ہو کہ انسان اس کے گہر ے اثر سے ہاتھ دھو بیٹھے۔[ نیائش الکیس کارل]۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ دعا کاہلی و سستی کا سبب بنتی ہے، وہ دعا کا معنی ہی نہیں سمجھے کیونکہ دعا کا یہ مطلب نہیں کہ طبیعی وسائل و اسباب سے ہاتھ کھینچ لیا جائے اور ان کے بجائے بس دست دعا بلند رکھا جائے بلکہ مقصو دیہ ہے کہ تمام موجود وسائل کے ذریعہ اپنی پوری کوشش بروئے کار لائی جائے اور جب معاملہ انسان کے بس میں نہ رہے اور وہ مقصدتک نہ پہنچ پا رہا ہو تو دعا کا سہارا لے، توجہ کے ساتھ خدا پر بھر وسہ کرتے ہوئے اپنے اندر امید اور حرکت کی روح کو بیدار کرے اور اس مبداء عظمی کی بے پناہ نصرتوں میں سے اپنے لئے مدد حاصل کرے ۔ لہذا دعا مقصد تک نہ پہنچ پانے اور رکا وٹوں کی صورت میں ہے نہ کہ یہ طبیعی عوامل کے مقابلے میں کوئی عامل ہے۔ مذکورہ ما ہرنفسیات، مزید لکھتا ہے : "اس کے علاوہ کہ دعا اطمینان پیدا کرتی ہے، یہ انسان کی فکر میں ایک طرح کی شگفتگی پیدا کرتی ہے اور باطنی انبساط کا باعث بنتی ہے۔ بعض اوقات یہ انسان کے لئے بہادری اور دلاوری کی روح کی بیداری کے لئے تحریک کا کام بھی دیتی ہے۔ دعا کے ذریعے انسان پر بہت سے علامات ظاہر ہوتے ہیں ۔ نگاہ کی پاکیزگی،کردار کی متانت ، باطنی انبساط و مسرت، پر اعتماد چہرہ، استعداد ہدایت اور استقبال حوادث سب دعا کے مظاہر ہیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو دعا کرنے والے کی روح کی گہرائی اور اس کے جسم میں چھپے ہوئے ایک خزائے کی ہمیں خبر دیتی ہیں۔ دعا کی قدرت سے پسماندہ اور کم استعداد لوگ بھی اپنی عقلی اور اخلاقی قوت کو بہتر طریقے سے کا رآمد بنا لیتے ہیں اور اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری دنیا میں ایسے لوگ بہت کم ہیں جو دعا کے حقیقی رخ کو پہچان سکیں۔"( بحوالہ: نیائش الکیس کارل)۔ جو کچھ ہم نے بیان کیاہے اس سے اعتراض کا جواب بھی مل جاتا ہے کہ دعا تسلیم و رضا کے منافی ہے کیونکہ جیسا کہ مندرجہ بالا سطور میں ہم تشریح کر چکے ہیں، دعا پروردگار کے فیض بے پایاں سے زیادہ سے زیادہ کسب کمال کا نام ہے۔ دوسرے لفظوں میں انسان دعا کے ذریعے پروردگار کی زیادہ سے زیادہ توجہ اور فیض کے حصول کی اہلیت پیدا کر لیتا ہے اور واضح ہے کہ تکامل کی کوشش اور زیادہ سے زیادہ کسب کمال کی سعی قوانین آفرینش کے سامنے تسلیم و رضا ہے نہ کہ اس کے منافی۔ علاوہ ازیں دعا ایک طرح کی عبادت، خضوع اور بندگی ہے ۔ انسان دعا کے ذریعہ ذات الہی کے ساتھ ایک وابستگی پیدا کر لیتا ہے اور جیسے تمام عبادات تربیتی اثر رکھتی ہیں، دعا بھی ایسے اثر کی حامل ہوتی ہے۔ چاہے قبولیت تک پہنچے یا نہ پہنچے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ دعا امور الہی میں مداخلت ہے اور جو کچھ مصلحت کے مطابق ہو خدا د یتا ہے، وہ اس طرف متوجہ نہیں کہ عطیات خداوندی استعداد اور لیاقت کے مطابق تقسیم ہو تے ہیں۔ جتنی استعداد و لیاقت زیادہ ہوگی، انسان کو عطیات بھی اسی قدر نصیب ہونگے۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ان عند اللہ عزوجل منزلة لا تنال الا بمسالة۔ خدا کے ہاں ایسے مقامات و منازل ہیں جومانگے بغیر نہیں مل سکتے۔(بحوالہ: اصول کافی، ج۲، ص۳۴۸)۔ ایک صاحب علم کا قول ہے : جب ہم دعا کرتے ہیں تو ہم اپنے آپ کو ایک ایسی لا متناہی قوت سے متصل و مربوط کر لیتے ہیں جس نے ساری کائنات کی اشیاء کو ایک دوسرے سے پیوست کر رکھا ہے۔(بحوالہ: آئین زندگی، ص۱۵۶)۔ اسی صاحب علم کا کہنا ہے: آج کا جدید ترین علم یعنی علم نفسیات (psychology) بھی یہی تعلیم دیتا ہے جو انبیا دیا کرتے تھے۔ چنانچہ نفسیات کے ڈاکٹر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ دعا اور نماز اور دین پر محکم ایمان ___ اضطراب، تشویش، ہیجان اور خوف کو دور کر دیتا ہے جو ہمارے دکھ درد کا آدھے سے زیادہ حصہ ہے۔(بحوالہ: آئین زندگی، ص۱۵۶)۔
دعا کا حقیقی مفہوم
ہمیں معلوم ہو چکا ہے کہ دعا کا مقام وہ ہے جہاں قدرت و طاقت جواب دے جائے نہ وہ کہ جہاں طاقت و توانائی کی رسائی ہو۔ دوسرے لفظوں میں اجابت و قبولیت کے قابل وہ دعا ہے جو اٴَمَّنْ یُجِیبُ الْمُضطَرَّ إِذَا دَعَاہُ وَیَکْشِفُ السُّوءَ (نمل۔۶۲) [اس آیت کا مفہوم یہ ہے: کون ہے جو کسی مصیبت زدہ اور بے قرار کی دعا سنتا ہے اور اس کی فریاد رسی کر کے اسے مصیبت سے نجات دلاتاہے۔ )مترجم)]کے مطابق اضطرار اور تمام کوششوں اور مساعی کے بے کار ہو جا نے پر ہو۔ اس سے واضح ہوا کہ دعا ان اسباب و عوامل کی فراہمی کے لئے کی جاتی ہے جو انسانی بساط سے باہر ہوں اور ان کا تقاضا اس کی بارگاہ میں کیا جاتا ہے جس کی قدرت لامتناہی ہے اور جس کے لئے ہر فعل ممکن، آسان ہے۔ لیکن چاہیئے کہ یہ درخواست فقط انسان کی زبان سے نہ نکلے بلکہ اس کے تمام وجود سے نکلے اور زبان اس سلسلے میں تمام ذرات ہستی اور اعضا و جوارح کی نمائندگی کرے اور قلب و روح دعا کے ذریعے اس سے قریبی تعلقات پیدا کر لے ۔ اس قطرے کی طرح جو بےکنار سمندر سے مل جاتا ہے، قدرت کے اس عظیم مبدا کے ساتھ اتصال معنوی حاصل کر لے۔ ہم جلد ہی اس ارتباط اور تعلق کے روحانی اثرات پر بحث کریں گے۔ البتہ متوجہ رہنا چا ہیئے کہ دعا کی ایک قسم وہ بھی ہے جو قدرت و توانائی کے ہوتے ہوئے انجام پاتی ہے تا ہم وہ دعا بھی اسباب ممکنہ کی قائم مقام نہیں ہو سکتی اور وہ دعا وہ ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس جہان کی تمام قدرتیں اور توانائیاں پرودگار عالم کی قدرت کے مقابلے میں استقلال نہیں رکھتیں۔ دوسرے لفظو ں میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس حقیقت کی طرف متوجہ رہا جائے کہ طبیعی عوامل اور اسباب کے پاس جو کچھ بھی ہے، وہ اس ذات بابرکت کی طرف سے ہے اور اس کے حکم و فرمان سے ہے۔ اگر کوئی دوا کے ذریعے شفاء کا خواہاں ہوتا ہے تو وہ بھی اس لئے کہ اس نے دوا کو یہ تاثیر بخشی ہے )یہ بھی ایک قسم کی دعا ہے جس کی طرف احادیث اسلامی میں اشارہ ہوا ہے۔( مختصر یہ کہ یہ دعا کی وہ قسم ہے جسے خودآگاہی اور فکر و نظر اور ول و دماغ کی بیداری کہا جا سکتا ہے۔ یہ اس ذات سے ایک باطنی رشتہ ہے جو تمام نیکیوں اور خو بیوں کا مبدا و مصدر ہے۔ اسی لئے حضرت علی علیہ السلام کے ارشادات میں ہے۔ لا یقبل اللہ عزوجل دعاء قلب لاہ۔ خدا غافل دل کی دعا قبول نہیں کرتا۔(بحوالہ: اصول کافی، ج۲، ص ۷۴۳)۔ ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے یہی مضمون مروی ہے: ان اللہ عزوجل لا یستجیب دعا بظہر قلب ساہ۔(بحوالہ: اصول کافی، ج۲، ص ۷۴۳)۔ یہ خود دعا کے فلسفوں کی ایک اساس ہے جن کی طرف اشارہ ہو چکا ہے۔
دعا کی قبولیت کی شرائط
دعا کی قبولیت کی شرائط کی طرف توجہ کرنے سے بھی بظاہر دعا کے پیچیدہ مسئلے کے سلسلے میں نئے حقائق آشکار ہوتے ہیں اور اس کے اصلاحی اثرات واضح ہوتے ہیں ۔ اس ضمن میں چند احادیث پیش خدمت ہیں: ۱: دعا کی قبولیت کے لئے ہر چیز سے پہلے دل اور روح کی پاکیزگی کی کوشش، گناہ سے توبہ اور اصلاح نفس ضروری ہے ۔ اس سلسلے میں خدا کے بھیجے ہوئے رہنماؤں اور رہبروں کی زندگی سے الہام و ہدایات حاصل کرنا چاہئیں۔ امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے، آپ نے فرمایا: ایاکم ان یسئل احدکم ربہ شیئا من حوائج الدنیا و الاخرة حتی یبدء بالثناء علی اللہ و المدحة و الصلوة علی النبی و الہ ثم الاعتراف بالذنب ثم المسالة۔ جب تم میں سے کوئی اپنے رب سے دنیا و آخرت کی کوئی حاجت طلب کرنا چاہے تو پہلے خدا کی حمد و ثنا اور مدح کرے، پیغمبر اور ان کی آل پردرود بھیجے پھر گناہوں کا اعتراف اور اس کے بعد سوال کرے۔(بحوالہ: سفینة البحار، ج ۱، ۴۴۸ و ص۴۸۹)۔ ۲: اپنی زندگی کی پاکیزگی کے لئے غصبی مال اور ظلم و ستم سے بچنے کی کوشش کرے اور حرام غذا نہ کھائے ۔ پیغمبر اکرم ﷺ سے منقول ہے : من احب ان یستجاب دعائہ فلیطلب مطعمہ و مکسبہ۔ جو چاہتا ہے کہ اس کی دعا قبول ہو، اس کے لیے ضروری ہے اس کی غذا اور کسب و کار پاک و پاکیزہ ہو۔(بحوالہ: سفینة البحار، ج۱، ص ۴۴۸ ،۴۴۹)۔ ۳: فتنہ و فساد کا مقابلہ کرنے اور حق کی دعوت دینے میں کوتاہی نہ کرے کیونکہ جو لوگ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک کر دیتے ہیں، ان کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ جیسا کہ پیغمبر اکرم ﷺ سے منقول ہے: لتامرون بالمروف و ولتنہن عن المنکر ا و یسلطن اللہ شرار کم علی خیارکم و یدعو اخیارکم فلا یستجاب لھم۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ضرور کرو ورنہ خدا تم سے بروں کو تمہارے اچھے لوگوں پر مسلط کر دے گا پھر تمہارے اچھے لوگ دعا کریں گے تو وہ ان کی دعا قبول نہیں کرے گا ۔)شہصمیج: سفینة البحار، ج ۱، ص۴۸۹)۔ حقیقت میں یہ عظیم ذمہ داری جو ملت کی نگہبانی ہے، اسے ترک کرنے سے معاشر ے میں بدنظمی پیدا ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں بد کاروں کے لئے میدان خالی رہ جاتا ہے ۔ اس صورت میں دعا اس کے نتائج کو زائل کرنے کے لئے بے اثر ہے کیونکہ یہ کیفیت ان اعمال کا قطعی اور حتمی نتیجہ ہے۔ ۴: خدائی عہد و پیمان کو وفا کرنا بھی دعا کی قبولیت کی شرائط میں شامل ہے۔ ایمان، عمل صالح، امانت اور صحیح کام اس عہد و پیمان کا حصہ ہیں۔ جو شخص اپنے پروردگار سے کئے گئے عہد کی پاسداری نہیں کرتا، اسے یہ توقع نہیں رکھنی چاہئیے کہ پروردگار کی طرف سے اجابت دعا کا وعدہ اس کے شامل حال ہوگا۔ کسی شخص نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کے سامنے دعا قبول نہ ہونے کی شکایت کی ۔وہ کہنے لگا : خدا کہتا ہے کہ دعا کرو تو میں قبول کرتا ہوں۔ لیکن اس کے باوجود کیا وجہ ہے کہ ہم دعا کرتے ہیں اور وہ قبول نہیں ہوتی۔ اس کے جواب میں آپ نے ارشاد فرمایا: ان قلوبکم خان بثمان خصال : اولہا انکم عرفتم اللہ فلم تؤدو احقہ کما اوجب علیکم فما اغنت عنکم معرفتکم شیئا۔ و الثانیہ انکم امنتم برسولہ ثم خالفتم بسنتہ و امنتم شریعتہ فاین ثمرة ایمانکم۔ و الثالثہ انکم قراتم کتابہ المنزل علیکم تعملو ا بہ و قلتم سمعنا و اطعنا ثم خالفتم۔ و الرابعہ انکم قلتم تخافون من النار و انتم فی کل وقت تقدمون الیھابمعاصیکم فاین خوفکم۔ و الخامسة انکم قلتم ترغبون فی الجنة و انتم فی کل وقت تفعلون ما یبا عد کم منھا فاین رغبتکم فیھا ۔ و السادسة انکم اکلتم نعمة المولی فلم تشکروا علیھا ۔ و السابعة ان اللہ امرکم بعد اوة الشیطان و قال ان الشیطان لکم عدد فاتخذوہ عدوا فعاد تیموہ بلا تول و والیتموہ بلا مخالفتہ۔ و الثامنة انکم جعلتم عیوب الناس نصب اعینکم و عیوبکم و راء ظھور کم تلومون من انتم احق باللوم منہ فای دعا یستجاب لکم مع ھذا و قد سدد تم ابوابہ و طرقہ فتقوا اللہ و اصلحوا اعمالکم و اخلصوا سرائکم و امروا بالمعروف و انھوا عن المنکر فیستجیب لکم دعا ئکم۔ تمہارے دل و دماغ نے آٹھ چیزوں میں خیانت کی ہے جس کی وجہ سے تمہاری دعا قبول نہیں ہوتی: پہلی: تم نے خدا کو پہچان کر اس کا حق ادا نہیں کیا۔ اس لئے تمہاری معرفت نے تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔ دوسری: تم اس کے بھیجے ہوئے پیغمبر پر ایمان تو لے آئے ہو مگر اس کی سنت کی مخالفت کرتے ہو۔ ایسے میں تمہارے ایمان کا کیا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ تیسری: تم اس کی کتاب کو تو پڑ ھتے ہو مگر اس پر عمل نہیں کرتے ۔ زبانی تو کہتے ہو کہ ہم نے سنا او ر اطاعت کی مگر عملا اس کی مخالفت کرتے ہو۔ چوتھی: تم کہتے ہو کہ ہم خدا کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ اس کے باوجود اس کی نافرمانیوں کی طرف قدم بڑھاتے ہو تو پھر خوف کہاں رہا۔ پانچویں: تم کہتے ہو کہ ہم جنت کے شائق ہیں حالانکہ کام ایسے کرتے ہو جو تمہیں اس سے دور لے جاتے ہیں تو پھر رغبت و شوق کہاں رہا۔ چھٹی: خدا کی نعمتیں تو کھاتے ہو مگر شکر کا حق ادا نہیں کرتے ہو۔ ساتویں: اس نے تمہیں حکم دیا کہ شیطان سے دشمنی رکھو___ اور تم اس سے دوستی کی طرح ڈالتے ہو۔ آٹھویں: تم نے لوگوں کے عیوب کو اپنا نصب العین بنا رکھا ہے اور اپنے عیوب پس پشت ڈال دیے ہیں۔ ان حالات میں تم کیسے امید رکھتے ہو کہ تمہاری دعا قبول ہو جب کہ تم نے خود قبولیت کے دروازے بند کر رکھے ہیں۔ تقوی و پرہیزگاری اختیار کرو ۔ اپنے اعمال کی اصلاح کرو۔ امر المعروف اور نہی عن المنکر کرو تا کہ تمہاری دعا قبول ہو سکے۔( بحوالہ: سفینة البحار، ج ۱،ص۴۸۸و ۴۴۹)۔ اس سے ظاہر ہے کہ قبولیت دعا کا وعدہ خدا کی طرف سے مشروط ہے نہ کہ مطلق۔شرط ہے کہ تم اپنے عہد و پیمان کو پورا کرو حالانکہ تم آٹھ طرح سے پیمان شکنی کر چکے ہو ۔ مندرجہ بالا آٹھ احکام جو اجابت دعا کی شرائط ہیں انسان کی تربیت، اس کی توانائیوں کو اصلاح یافتہ بنانے اور ثمر بخش راہ پر ڈالنے کے لئے کافی ہیں۔ ۵: دعا کی قبولیت کی ایک شرط یہ ہے کہ دعا عمل اور کوشش کے ہمراہ ہو۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے کلمات قصارمیں ہے: الداعی بلا عمل کالرامی بلا وتر۔ عمل کے بغیر دعا کرنے والا بغیر کمان کے تیر چلانے والے کی مانند ہے ۔(بحوالہ: نہج البلاغہ، کلمات قصار نمبر ۳۳۷)۔ اس طرف توجہ رکھی جائے کہ چلہ کمان تیر کےلئے عامل حرکت اور ہدف کی طرف پھینکنے کا وسیلہ ہے تو اس سے تاثیرِ دعا کےلئے عمل کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے۔
نتیجه
مندرجہ بالا پانچوں شرائط یہ واضح کر دیتی ہیں کہ نہ صرف یہ کہ طبیعی علل و اسباب کی بجائے دعا نہیں ہوتی بلکہ قبولیتِ دعا کےلئے دعا کرنے والے کی زندگی میں ایک مکمل تبدیلی بھی ضروری ہے۔ اس کی فکر نئے سانچے میں ڈھلنا چاہیے اور اسے اپنے گذشتہ اعمال میں تجدید نظر کرنا چاہیے۔ ان سب کی روشنی میں کیا دعا کو اعصاب کمزور کرنے والی اور کاہلی کا سبب قرار دینا بے خبری نہیں اور کیا یہ بعض مخصوص مقاصد کو بروئے کار لانے کی دلیل نہیں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1روایات اسلامی سے پتہ چلتا ہے کہ جب شروع میں روزے کا حکم نازل ہو اتو مسلمان صرف یہ حق رکھتے تھے کہ رات کو سونے سے پہلے کھانا کھا لیں۔ چنانچہ اگر کوئی شخص کھانا کھائے بغیر سوجا تا اور پھر بیدار ہو تا اس کے لئے کھانا پینا حرام تھا ۔ان دنو ں ماہ رمضان کی راتوں میں ان کے لئے اپنی بیویوں سے ہم بستری کرنا مطلقا حرام تھا ۔ اصحاب پیغمبر میں سے ایک شخص جس کا نام مطعم بن جبیر تھا ایک کمزور انسان تھا ۔ ایک مرتبہ افطار کے وقت گھر گیا ۔ اس کی بیوی اس کے افطار کے لئے کھانا لینے لگی تو تھکان کی وجہ سے وہ سو گیا ۔ جب بیدار ہوا تو کہنے لگا اب افطار کرنے کا مجھے کوئی حق نہیں ۔وہ اسی حالت میں رات کو سوگیا ۔ صبح کو روزے کی حالت میں اطراف مدینہ خندق کھودنے کے لئے (جنگ احزاب کے میدان میں) حاضر ہو گیا ۔ کام کے دوران میں کمزوری اور بھوک کی وجہ سے بے ہوش ہو گیا ۔ پیغمبر اکرم اس کے سرہا نے تشریف لائے اور اس کی حالت دیکھ متاثر ہو ئے ۔ نیز بعض جوان مسلمان جو اپنے آپ پر ضبط نہیں کرسکتے تھے ماہ رمضان کی راتو ں کو اپنی بیویو ں سے ہم بستری کر لیتے تھے ۔ ان حالات میں یہ آیت نازل ہو ئی اور مسلمانوں کو اجازت دے دی گئی کہ رات بھر کھانا بھی کھا سکتے ہیں اور اپنی بیو یوں سے ہم بستری بھی کر سکتے ہیں۔
حکمِ روزہ میں وسعت
جیسا کہ آپ شانِ نزول میں پڑھ چکے ہیں ابتدائے اسلام میں ماہِ رمضان کے دن اور رات دونوں میں مسلمانوں کے لئے اپنی بیویوں سے اختلاط کرنا مطلقا ممنوع تھا اور اسی طرح رات کو ایک مرتبہ سو جانے کے بعد کھانا پینا بھی ناجائز تھا اور شاید یہ اس لئے تھا کہ مسلمانوں کو آزمایا جائے اور انہیں احکام روزہ قبول کرنے کےلئے مائل کیا جائے۔ زیر نظر آیت روزے اور اعتکاف کے سلسلے میں چار اسلامی احکام پر مشتمل ہے۔ پہلے مسلمانوں کےلئے وسعت پیدا کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ماہِ رمضان کی راتوں میں تمہارے لئے اپنی بیویوں سے جنسی میل جول حلال کر دیا گیا ہے (احل لکم لیلۃ الصیام الرفث الی نسائکم) [رفث (بر وزن طبس) کا معنی ہے جنسی مسائل پر گفتگو کرنا۔ اسی مناسبت سے خود جنسیات کےلئے استعمال ہونے لگا۔ یہاں اسی مفہوم میں ہے] اس کے بعد اس موضوع کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: عورتیں تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو (ھنّ لباس لکم و انتم لباس لھنّ) لباس ایک طرف تو انسانی بدن کی سردی گرمی اور خطرناک چیزوں کے اثرات سے حفاظت کرتا ہے۔ دوسری طرف انسان کے عیوب چھپاتا ہے اور پھر یہ انسانی بدن کی زینت ہے۔ مندرجہ بالا آیت میں استعمال ہونے والی تشبیہ ان سب نکات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ میاں بیوی ایک طرف سے ایک دوسرے کو کجرویوں سے بچاتے ہیں۔ ایک دوسرے کے عیوب کی پردہ پوشی کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کے راحت و آرام کا سبب ہیں اور ہر ایک دوسرے کےلئے زیب و زینت بھی بنتا ہے۔ یہ تعبیر میاں بیوی کے انتہائی معنوی و روحانی ربط و قربت کو بیان کرتی ہے اور اس سلسلے میں ان کی برابری کو بھی پورے طور پر واضح کرتی ہے۔ وہ تعبیر جو مرد کےلئے ہے وہی بغیر کسی تبدیلی کے عورت کےلئے بھی ہے۔ اس کے بعد اس قانونِ الہی کی تبدیلی کی علت اور سبب کو بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے۔ خدا جانتا تھا کہ تم اپنے آپ سے خیانت کرتے ہو اور تم میں سے بعض ممنوع کام انجام دیتے تھے۔ خدا نے تمہاری توبہ قبول کی اور تمہیں بخش دیا (علم اللہ انکم کنتم تختانون انفسکم فتاب علیکم و عفا عنکم) ہاں اس بناء پر کہ تم کہیں زیادہ گناہ میں آلودہ نہ ہو جاو خدا نے اپنے لفط و رحمت سے تمہارے لئے اس پروگرام کو آسان بنا دیا ہے۔ اس کی مدت و حدود میں کمی کر دی ہے۔ اب جب کہ ایسا ہے تو تم ان سے مباشرت کر سکتے ہو اور جو کچھ خدا نے تمہارے لئے مقرر کیا ہے وہ طلب کر سکتے ہو۔ (فالئٰن باشروھن و ابتغوا ما کتب اللہ لکم) یہ مسلم ہے کہ اس آیت میں امر کا صیغہ وجوب کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ اجازت ہے اور ممنوعیت جسے اصولیین کی اصطلاح میں "امر عقیب حظر" کہتے ہیں جو جواز کی دلیل ہے۔ وابتغوا ما کتب اللہ لکم اس طرف اشارہ ہے کہ اس کے بعد اس وسعت اور تخفیفِ حکم سے اتفادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ یہ قوانین آفرینش کے مطابق حفظِ نظام اور بقائے نسل کی راہ ہے۔ اس کے بعد دوسرا حکم بیان کیا گیا ہے۔ فرماتا ہے: کھاو اور پیو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری رات کی سیاہ دھاری سے تمہارے لئے نمایاں ہو جائے۔ (و کلوا واشربوا حتی یتبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسود من الفجر)۔ اس طرح اب مسلمان حق رکھتے ہیں کہ وہ تمام رات کھانے پینے کی چیزوں سے استفادہ کریں۔ تیسرے حکم کےلئے ارشاد ہوتا ہے: اس کے بعد روزے کو رات تک مکمل کرو (ثم اتموا الصیام الی الیل) یہ جملہ روزہ داروں کےلئے دن بھر کھانے پینے اور جنسی اختلاط سے باز رہنے کی تاکید کے طور پر ہے۔ نیز یہ جملہ روزے کے آغاز اور انجام کی خبر بھی دیتا ہے اور وہ یہ کہ روزہ طلوع فجر سے شروع ہوتا ہے اور رات کے آنے پر ختم ہوتا ہے۔ آخر میں چوتھا اور آخری حکم بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: مساجد میں اعتکاف کے دوران میں اپنی بیویوں کے ساتھ مباشرت نہ کرو (ولاتباشروھن و انتم عٰکفون فی المسٰجد) اس حکم کا بیان گذشتہ حکم میں استثناء سے مشابہ ہے کیونکہ اعتکاف میں جس کی مدت کم از کم تین دن ہے، روزہ رکھا جاتا ہے۔ اس عرصے میں عورتوں سے نہ دن کو مباشرت کی اجازت ہے، نہ رات کو۔ آخر میں تمام احکام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: یہ خدائی حدود ہیں۔ ان کے نزدیک نہ جانا (تلک حدود اللہ فلاتقربوھا) کیونکہ سرحد کے قریب جانا وسوسے پیدا کرتا ہے اور بعض اوقات سبب بنتا ہے کہ انسان حدود سے تجاوز کر کے مبتلائے گناہ ہو جائے۔ ہاں۔۔ خدا تو اسی طرح لوگوں کےلئے اپنی آیات کو واضح کرتا ہے کہ شاید وہ پرہیزگار ہو جائین (کذلک یبین اللہ اٰیٰتہ للناس لعلھم یتقون)۔
حدود الهی
جیسا کہ مندر جہ بالا آیت میں ہم نے پڑ ھاہے روزے اور اعتکاف کے کچھ احکام بیان کرنے کے بعد انہیں خدائی سر حدیں قرار دیا گیا ہے۔ حلال و حرام کے در میان سر حد، مجاز و ممنوع کے در میان سر حد۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ یہ نہیں کہا گیا کہ سرحدوں کو عبور نہ کرنا، بلکہ کہا گیا ہے ان کے قریب نہ جانا کیونکہ سرحد کے قریب ہونے سے کبھی شہوت کی زیادتی کے باعث اور کبھی شک میں مبتلا ہونے کی وجہ سے انسان ان سے آگے گزر جاتا ہے۔ لہذا فرمایا گیا ہے(فلا تقربوھا) اور شاید اسی بناء پر قوانین اسلامی میں ایسی جگہوں میں قدم رکھنے سے منع کیا گیا ہے جو انسان کی لغرش اور گناہ کا موجب اور سبب ہیں۔ مثلا مجالس گناہ میں شرکت حرام ہے چاہے خود انسان ظاہرا آلودہ گناہ نہ ہو۔ اسی طرح اجنبی عورت سے خلوت کو حرام قرار دیا گیا ہے (کسی اجنبی خاتون کے ساتھ ایسی تنہائی جو مکمل طور پر علیحدہ ہو اور جہاں دو سرے لوگ آجا نہ سکتے ہوں)۔ یہی مفہوم دو سری احادیث میں حمایتِ حمی (ممنوعہ علاقے کی چار دیواری کی حفاظت) کے عنوان سے بیان ہوا ہے۔ پیغمبر اسلام فرماتے ہیں: ان حمی اللہ محارمہ فمن وقع حول الحمی یوشک ان یقع فیہ محرمات الہی اس کی چاردیواریاں ہیں۔ اگر کوئی شخص ان حدودِ خانہ کے گرد اپنی بھیڑ بکریاں لے جائے تو اس کا ڈر ہے کہ وہ ممنوعہ علاقے میں چلی جائیں۔(بحوالہ: تفسیر صافی، زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ اسی لئے اصول تقوی کی پا بند اور پرہیزگار لوگ نہ صرف یہ محرمات کہ کے مرتکب نہیں ہو تے بلکہ حرام کے نزدیک بھی قدم نہیں رکھتے۔
اعتکاف
اعتکاف کا اصل معنی ہے محبوس ہو نا اور کسی چیز کے پاس لمبی مدت تک رہنا شریعت کی اصطلاح میں مساجد میں عبادت کے لئے ٹھہرنے کو اعتکاف کہتے میں جس کی کم از کم مدت تین دن ہے اور اس کی شرط روزہ دار ہونا اور بعض لذائذ کو ترک کرنا ہے۔ یہ عبادت روح کی پاکیزگی اور پروردگار کی طرف خصوصی توجہ کے لئے گہرا اثر رکھتی ہے۔ اس کے آداب و شرائط فقہی کتب میں مذکور ہیں۔ یہ عبادت ذاتی طور پر تو مستحب ہے لیکن چند ایک استثنائی مواقع پر و جوب کی شرط اختیار کر لیتی ہے۔ بہرحال، زیر بحث آیت میں اس کی صرف ایک شرط کی طرف اشارہ ہوا ہے یعنی عورتوں سے مجامعت نہ کر نا۔ (دن اور رات دو نوں میں منع) اور وہ بھی اس لئے کہ اعتکاف کا تعلق بھی روزے کے مسائل سے ہے۔
طلوع فجر
فجر کا اصل معنی ہے شگاف کرنا۔ طلوع صبح کو فجر اس لئے کہتے ،میں کہ گویا رات کا سیاہ پردہ پہلی صبح کی سفیدی سے چاک ہو جا تا ہے۔ زیر بحث آیات میں علاوہ از یں (حتی یتبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسود) کی تعبیر بھی استعمال ہوئی ہے۔ ایک حدیث میں ہے: عدی بن حاتم نے پیغمبر ﷺاکرم کی خدمت میں عرض کیا کہ میں نے سیاہ اور سفید دھا گے رکھے ہوئے تھے اور انہیں دیکھتا تھا تاکہ پہچان کر روزے کے اول دقت کا اندازہ کر سکوں۔پیغمبر اکرم ﷺاس گفتگو سے اتنے ہنسے کہ آپ کے دندان مبارک دکھائی دیئے۔ آپ نے فرمایا: فرزند حاتم! اس سے مراد ہے صبح کی سفید دھاری رات کی سیاہ دھاری سے نمایاں ہو جائے جو کہ وجوب روزہ کی ابتداء ہے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، زیر نظر آیت کے ذیل میں)۔ ضمنا توجہ کرنی چا ہیئے کہ اس تعبیر سے ایک اور نکتہ بھی واضح ہو تا ہے اور وہ ہے صبح صادق کو صبح کاذب سے پہچاننا۔ رات کے آخری حصے میں پہلے ایک بہت کم رنگ کی سفیدی آسمان پر عمودی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ جسے لومڑی کی دم سے تشبیہ وی جاتی ہے۔ اسی کو صبح کاذب کہتے میں۔ اس کے تھوڑی دیر بعد ایک صاف و شفاف سفیدی افق کے طور پر اور وہ بھی طول افق میں ظاہر ہوتی ہے جو سفید دھاری کی طرح ہوتی ہے۔ یہی صبح صادق ہے جو روزے کے وقت کا آغاز اور ابتدا ئے نماز صبح کا وقت ہے۔
ابتداء و انتهاء تقوی ہی تقوی هے
یہ بات قابل توجہ ہے کہ احکام روزہ سے مربوط پہلی آیت میں بھی ہم نے اس کا آخری مقصد تقوی پڑھا ہے اور بعینہ یہی بات آخری آیت کے آخر میں بھی آئی ہے (لعلہم یتقون) یہ بات نشاند ہی کرتی ہے کہ سارا پروگرام روح تقوی کی پرورش، اپنے آپ کو گناہ سے بچانے اور ملکہ پرہیزگاری پیدا کرنے کے لئے ہے۔ اس پروگرام کا مقصد یہ ہے کہ نوع انسانی میں شرعی ذمہ دار یوں کی ادائیگی کا احساس اجاگر کیا جامرئے ۔
رشوت خواری ایک مصیبت
Tafsīr Nemūna · Vol. 1اس آیت میں مسلمانوں کو ایک بہت ناپسندیدہ عمل سے روکا گیا ہے۔ ان سے ارشاد ہوتا ہے: ایک دو سرے کے مال و دولت میں ناحق تصر ف نہ کرو اور غیر صحیح طریقے سے مال پر قبضہ نہ کرو، ایسانہ ہو کہ دوسروں کے مال میں تصرف کرنے اور اسے ناحق کھا نے سے انہیں قاضیوں کے روبرو جانا پڑ ے اور پھر انہیں بھی ہدیہ رشوت کے طور پر کچھ پیش کرنے لگیں تا کہ لوگوں کا مال ظلم سے اپنی ملکیت بنا سکیں اس کام میں وہ دو بڑی خلاف ور زیوں کے مرتکب ہو ئے ہیں ۔ دوسروں کا حق کھانا اور رشوت دینا۔ رشوت کا مسئلہ اسلام کی نظر میں اتنا اہم ہے کہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: و اما الرشا فی الحکم فہو الکفر باللہ العظیم باقی رہا فیصلہ کرنے میں رشوت لینا، تو یہ خدا ئے عظیم سے کفر ہے۔(بحوالہ: وسائل، ج ۱۲، باب ۵ من ابواب ما یکتسبون)۔ رسول اللہ ﷺ سے ایک مشہور حدیث منقول ہے جس کے الفاظ یہ ہیں۔ لعن اللہ الراشی و المرتشی و الساعی بینہما خدا اپنی رحمت سے دور رکھے رشوت لینے والے، رشوت دینے والے اور ان کے در میان واسطہ بننے والے کو سورہ نساء کی آیت ۲۹ میں بھی ایساہی مفہوم بیان ہوا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : جائز اور صحیح تجارت کے بغیر جو کچھ تم اپنے قبضے میں لیتے ہو اس میں تصرف نہ کرو۔ زیر نظر آیت صراحت سے کہتی ہے کہ اگر کچھ لوگ رشوت کے ذریعے عدالت میں کامیاب ہو جائیں تو نزاعی مال ان پر حرام ہوگا اورظاہری طور پر کسی کے حق میں عدالت کے حکم سے وہ مال کا حقیقی مالک نہیں بن سکتا ۔ صراحت سے رسول اکرم ﷺ کی ایک حدیث میں منقول ہے۔آپ نے فرمایا: میں تمہاری طرح کا ایک بشر ہوں (اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ظاہری طریقے سے تمہارے در میان فیصلہ کروں) ہو سکتا ہے بعض لوگ دلیل قائم کرنے میں زیادہ قابل ہوں اور میں ظاہری دلیل کی وجہ ان کے حق میں فیصلہ کروں لیکن یہ جان لوکہ اگر میں کسی کے حق کا دوسرے کے لئے فیصلہ کر بھی دوں پھر بھی وہ جہنم کا ایک ٹکرا ہے؛ اگر اسے حاصل کرنے و الا آگ چاہتا ہے تو اس میں تصرف کر ے ورنہ اسے چھوڑ دے۔(بحوالہ: فی ظلال ،ج۱،ص ۲۵۲ )۔ رشوت خوری ایک عظیم مصیبت ایک عظیم مصیبت جو زمانہ قدیم سے نوع انسانی کودامن گیر ہے اور جو آج کل تو بڑی شدت سے رائج اور جاری و ساری ہے، وہ رشوت ہے ۔ عدالتِ اجتماعی کی راہ میں یہ ایک بہت بڑی رکاوٹ رہی ہے اور آج بھی ہے ۔ اسی کے سبب وہ قوانین جو کمز وروں کے تحفظ کے ضامن تھے، طاقتوروں کے ان مظالم کے حق میں استعمال ہو تےہیں قانون جنہیں محدود کرنا چا ہتا تھا۔ کیونکہ طاقتور اور قوی لوگ تو ہمیشہ اپنی قوت کے بل بوتے پر اپنے منافع کی حفاظت کر سکتے میں یہ تو ضعیف اور کمزور لوگ ہی ہیں جن کے منافع اور حقوق کی حفاظت قانون کو کرنا ہے ۔ واضح ہے کہ اگر رشوت کا دروازہ کھلا رہے تو قوانین کا نتیجہ با لکل بر عکس نکلے گا۔ کیونکہ قوی لوگ تو رشوت دینے کی قدرت رکھتے ہیں، اس کے نتیجے میں ان کے ہا تھوں قوانین کمزور لوگوں کے حقوق پر ظلم و ستم اور تجاوز جاری رکھنے کے لیے ایک کھیل بن کر رہ جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ جس معاشرے میں رشوت نفوذ کرے گی وہاں زندگی کا شیرازہ بکھر کر رہ جائے گا اور ظلم و فساد، نا انصافی او رتبعیض کا دور دورہ ہو گا اور قانون عدالت برائے نام باقی رہ جائے گا۔ اسی لیے اسلام نے رشوت خوری کو پوری شدت کے ساتھ قباحت قرار دیا ہے ، اس کی مذمت کی ہے اور اسے گناہان کبیرہ میں سے قرار دیا ہے ۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ رشوت جیسی برائی اور قباحت دو سرے پر فریب ناموں سے انجام پاتی ہے ۔ رشوت خوار اور رشوت دینے والا اس کے لیے ہدیہ ، حق حساب، حق زحمت اور انعام جیسے الفاظ استعمال کر تے ہیں ۔ لیکن واضح ہے کہ ناموں کی یہ تبدیلی کسی طرح بھی اس کی ماہیت اور حقیقت کو نہیں بدل سکتی۔ ہر صورت میں جو بھی پیسہ اس طریقے سے وصول ہو گا وہ حرام اور ناجائز ہے۔ نہج البلاغہ میں اشعث بن قیس کا ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ ایک مرتبہ وہ حضرت علی کے محکمہ عدل میں اپنے مد مقابل پر کامیابی کے لیے رشوت لے کر آیا۔ ہوا یوں کہ رات کے وقت ایک لذیذ حلو ے سے بھرا ہوا بر تن لے کر حضرت علی کے دروازے پر آیا ۔ وہ اسے ہدیہ قرار دے رہا تھا۔ حضرت علی نے غصے سے فرمایا: ھبلتک الھبول اعن دین اللہ اتیتنی لتخدعنی و اللہ لواعطیت الاقالیم السبعة بما تحت افلاکھا علی ان اعصی اللہ فی نملة اسلبھا جلب شعیرة ما فعلتہ وا نّ دنیاکم عندی لاھون من ورقہ فی فم جرادة تقضمہا ما لعلی و لنعیم یفنی و لذة لا تبقی۔ سوگوار تجھ پر روئیں ۔ کیا تو اس لیے آیا ہے کہ مجھے فریب دے اور مجھے دین حق سے باز رکھے۔ خدا کی قسم! اگر سات اقلیم سب چیزوں کے سمیت جو ان کے آسمانوں کے پنجے ہیں مجھے و ے دی جائیں صرف اس کے بد لے کہ میں چیونٹی کے منہ سے جَو کا ایک چھلکا ظلم سے چھین لوں تو میں ایسا ہرگز نہیں کروں گا۔ یہ دنیا میرے نزدیک ٹڈی کے منہ میں چبا ئے ہو ئے پتے سے بھی زیادہ بے وقعت ہے ۔ علی کو فنا ہو نے والی نعمتوں اور جلد گزر جا نے والی لذتوں سے کیا کام۔ اسلام رشوت کی ہر شکل و صورت کو مذموم سمجھتا ہے۔ پیغمبر اسلام کی تاریخ حیات کا ایک واقعہ ہے کہ آپ کو ایک مرتبہ خبر ملی کہ آپ کی طرف سے معین ایک حاکم نے ہدیہ کے نام پر رشوت قبول کر لی ہے ۔ آنحضرت غضبناک ہو ئے اور اس سے فرمایا: کیف تاخذ مالیس لک بحق؟ تو وہ چیز کیوں لیتا ہے جو تیرا حق نہیں ہے۔ اُس نے جواب میں معذرت کر تے ہو ئے کہا : لقد کانت ہدیہ یا رسول اللہ اے رسول خدا !میں نے جو کچھ لیا وہ تو ہدیہ تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ارایت لو قعد احد کم فی دارہ و لم نولہ عملا اکان الناس یہدونہ شیئا؟ اگر تم گھروں میںبیٹھے رہو اور میری طرف سے کسی جگہ پر عامل و حاکم نہ بنو تو کیا پھر بھی لوگ تمہیں ہدیہ دیتے ہیں۔ اس کے بعد آپ نے حکم دیا اور اس سے وہ ہدیہ لے کر بیت المال میں داخل کر دیا گیا اور اسے آپ نے معزول کر دیا ۔(بحوالہ: الامام علی، جلد ۱، ص۱۵۵،ہ۱۵۶)۔ اسلام نے تو یہاں تک اہتمام کیا ہے کہ قاضی کہیں مخفی رشوتوں میں مبتلا نہ ہو جائے ۔ اسلام نے حکم دیا ہے کہ قاضی خود بازار میں نہ جائے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1منقول ہے کہ : معاذ بن جبل رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو ئے اور عرض کیا کہ ہم سے بار بار یہ سوال کیا جا تا ہے کہ یہ چاند کیسا ہے اور یہ تدریجا بدر کامل کی صورت کیوں اختیار کرتا ہے اور پھر دوبارہ پہلی حالت پر لوٹ آتا ہے؟ منقول ہے کہ: "یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ یہ چاند کس لیے ہے اور اس کا کیا فائدہ ہے؟" ان سوالات کے جواب میں محل نظر آیت نازل ہوئی جس میں بتا یا گیا کہ چاند کی مختلف صوتیں انسانی نظام زندگی کیلئے بہت سے فوائد کی حامل ہیں۔
چاند کے آثار و فوائد
جیسا کہ اس آیت کی شان نزول میں آیا ہے کہ کچھ لوگ پیغمبر اسلام ﷺ سے چاند کے متعلق سوالات کر تے تھے ۔ اس سوال کے جواب میں خداوند عالم نے پیغمبر ﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ چاندکے آثار و فوائد بیان کریں ۔ انہیں بتائیں کہ مہینوں کی ابتداء طلوع ہلال کی صورت میں اور پھر تدریجا اس کی تبدیلی عبادت اور دینی فرائض کی انجام دہی نیز مادی نظام زندگی کے لیے بہت کار آمد ہے۔ یہ اس لیے ہے تا کہ لوگ آسانی سے اپنے تجارتی امور اور دیگر پروگراموں کو ترتیب دے سکیں۔ نیز وعدوں او رعہد و پیمان کے لئے وقت کا تعین کر سکیں ۔ اس طرح روزہ رکھنے اور حج جیسی عظیم عبادت کی انجام دہی کے لیے مخصوص وقت ہے جس کے تعین کے لیے بہترین راستہ چاند کی وضع و کیفیت ہے ۔ چاند دیکھ کرلوگ ہمیشہ ابتداء ، وسط اور آخر ماہ کی تشخیص کر سکتے ہیں اور اپنے امور کو اس کے مطابق ترتیب و ے سکتے ہیں۔ حقیقت میں چاند ایک "طبیعی تقویم "ہے جو تمام افراد بشر کے لیے عام ہے ۔ اس سے تمام لوگ چا ہے وہ پڑ ھے لکھے ہوں یا ان پڑ ھ اور دنیا کے کسی بھی حصے میں آباد ہوں اس سے استفادہ کر سکتے ہیں ۔ اس سے فقط آغاز ،وسط اور آخر ماہ کو نہیں پہچانا جا سکتا بلکہ غورو خوض سے مہینے کے ہر دن کی تشخیص کی جا سکتی ہے ۔ واضح ہے کہ تقویم اور جنتری یعنی لوگوں کے لیے تاریخ کے تعین کا دقیق ذریعہ نہ ہو تو اجتماعی زندگی کا نظام نہیں چل سکتا ۔ اسی بناء پر خدائے بزرگ و برتر نے نظام زندگی کی بقاء کے لئے یہ عالمی تقویم عنایت فرمائی ہے۔
طبیعی اور فطری میزان اور پیمانے
قوانین اسلام کی ایک خصوصیت اور امتیاز یہ ہے کہ انہیں عموما طبیعی اور فطری میزان کے مطابق قرار دیا گیا ہے کیونکہ طبیعی مقیاس ایک ایسا ذریعہ ہے جو سب لوگوں کے ہا تھ میں دیا گیا ہے اور رفتار زمانہ اس پر اثر انداز نہیں ہو تی جبکہ اس کے برعکس، غیر طبیعی نظام ہا ئے مقیاس، سب لوگوں کے اختیار میں نہیں ہیں۔ یہاں تک کہ دور حاضر میں بھی تمام لوگ مصنوعی مقیاسوں سے استفادہ نہیں کر پا تے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام کبھی بالشت کو اور کبھی قدم کو، کبھی انگلی کی گر ہوں کو اور کبھی انسان کے طول قامت کو پیمانہ قرار دیتا ہے ۔ اس طرح وقت کے تعین کے لیے غروب آفتاب ، طلوع فجر ، سورج کے نصف النہار سے گذر جا نے اور چاند دیکھ لینے کو مختلف مواقع پر میزان قرار دیتا ہے۔ " لیس البرّ بان تاتوا البیوت من ظہور ہا یعنی گھر کی پشت سے گھر میں داخل ہونا کوئی اچھی بات نہیں ہے ۔ یہاں حج کے متعلق گفتگو جاری ہے اوربتا یا گیا ہے کہ حج کے اوقات کو چاند کے ذریعے معین کیا جا سکتا ہے۔ اب خداوند عالم نے حج کے موقع پر زمانہ جاہلیت کی ایک رسم کی طرف توجہ دلا تے ہو ئے اس سے منع فرمایا ہے ۔ وہ لوگ جب احرام باند ھ لیتے تو عام راستے اور گھر کی ڈیوڑھی سے گھر میں داخل نہیں ہو تے تھے ۔ ان کا عقیدہ تھا کہ احرام باند ھے ہو ئے شخص کو گھر کے دروازہ ے سے داخل نہیں ہو نا چاہیئے ۔ اس بنا ء پر وہ گھر کی پچھلی طرف نقب لگا تے اور احرام کی حالت میں صرف و ہیں سے داخل ہو تے ۔ وہ اس عمل کو کار نیک سمجھ کر انجام دیتے تھے کیونکہ ان کے نزدیک یہ عمل ایک طرح سے ایک عادت ترک کرنے کا اظہار تھا ۔ احرام چونکہ عادات ترک کر نے کانام ہے لہذا وہ خیال کرتے تھے کہ اس کی تکمیل اس عادت کے ترک کر نے سے ہونا چاہئیے ۔(بحوالہ: تفسیر بیضاوی ۲ )۔ لیکن قرآن صراحت سے کہتا ہے کہ نیکی تقوی میں ہے نہ کہ ایسی بے ہودہ عادات و رسوم میں اور پھر بلافاصلہ حکم دیتا ہے کہ گھروں میں عمومی راستے ہی سے داخل ہوا کرو۔ البتہ آیت کا ایک وسیع تراور زیادہ عام معنی بھی ہے اور وہ یہ جب کسی بھی کام کے لئے ابتداء کی جائے چاہے وہ مذہبی اعمال میں سے ہویا ان کے علاوہ چا ہیئے کہ اس کے صحیح راستے سے اس میں داخل ہوا جا ئے نہ کہ انحرافی ، الٹے اور غیر عادی طریقوں سے۔ یہی مفہوم جابر نے امام باقر کے ارشاد سے نقل کیا ہے ۔(بحوالہ: مجمع البیان)۔ تفاسیر اہل بیت میں اس آیت کے بار ے میں ہے : ہم ابواب خداوندی اور اس تک پہنچے کا راستہ اور جنت الہی کی طرف بلا نے والے ہیں۔(بحوالہ: مجمع البیان)۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اپنے تمام مذہبی امور میں اس کے اصلی راستے سے داخل ہو نا چاہئیے اور نظام حیات اہل بیت سے حاصل کرنا چاہئیے کیونکہ وحی انہی کے گھر میں اتری ہے اور وہ مکتب وحی الہی کے تربیت یافتہ ہیں۔ " لیس البرّ بان ۔۔۔۔" یہ جملہ ہو سکتا ہے ایک اور لطیف نکتے کی طرف بھی اشارہ ہو۔ وہ یہ کہ معارف دینی کے متعلق سوال کرنے کے بجائے مہینے کے چاند کے بار ے میں تمہارا سوال کرنا ایسا ہے گویا کوئی شخص گھر کے اصلی دروازہ ے کو چھوڑ کر اس کی پشت پر نقب زنی کر کے اس میں داخل ہو جو کتنا برا کام ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ابن عباس سے منقول ہے کہ یہ آیت صلح حدیبیہ کے موقع پرنازل ہوئی۔ واقعہ یوں ہے کہ رسول خدا اپنی ۱۴۰۰ اصحاب کے ساتھ عمرہ کے لیے تیار ہو ئے ۔ جب سرزمین حدیبیہ پر (جو مکہ کے قریب ایک جگہ ہے)پہنچے تو مشرکین نے انہیں مکہ میں داخل ہو نے اور مناسک عمرہ بجالا نے سے روکا۔ طویل سلسلہ گفتگو کے بعد انہوں نے پیغمبر اکرم سے صلح کر لی اور طے یہ پایا کہ رسول اللہ ﷺا گلے برس عمرہ ادا کرنے آئیں اور وہ ان کے لیے تیں دن تک مکہ خالی کر دیں گے تا کہ آپ خانہ کعبہ کا طواف کر سکیں۔ اگلے سال جب آپ مکہ کی طرف جانے کے لئے آمادہ ہو ئے تو ڈر تھا کہ شاید مشرکین وعدہ وفا نہ کریں اور رکاوٹ پیدا کریں ۔ یوں جنگ شروع ہو جانے کا امکان تھا ۔ اور آپ ماہ حرام میں جنگ کرنے پر خوش نہ تھے۔ اس موقع پر یہ آیہ نازل ہوئی او رحکم دیا گیا کہ اگر دشمن جنگ شروع کر دے تو تم بھی اس کے مقابلے میں کھڑے ہو جاوٴ
شانِ نزول
اس آیت میں قرآن نے ان لوگوں سے قتال کا حکم صادر فرمایا ہے جو آغاز جنگ کریں اور مسلمانوں کے سامنے تلوار نکال لیں۔ قرآن نے اجازت دی ہے کہ دشمن کو خاموش کر نے کے لیے ہتھیارپر ہا تھ رکھا جا ئے اور ہر قسم کے دفاعی ذرائع سے استفادہ کیا جا ئے اور حقیقت میں اب مسلمانوں کے صبر و تحمل کا زمانہ ختم ہو گیا ہے ۔ اوراب وہ صراحت اور جانبازی سے اپنے حقوق کا دفاع کر سکتے ہیں ۔
جنگ کیوں اور کس سے
اس آیت میں تین بنیادی نکات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو جنگ کے موقع کی اسلامی منطق کو مکمل طور پر واضح کرتے ہیں: ۱۔ جملہ و قاتلوا فی سبیل اللہ (خدا کی راہ میں جنگ کرو) اسلامی جنگوں کے اصلی مقصد اور ہدف کو واضح کرتا ہے۔ انتقام ، جاہ طلبی، حصول اقتدار ، کشور گشایی، مال غنیمت اور دو سروں کی زمینیوں پر قبضہ ان سب مقاصد کے لیے جنگ کرنا اسلام کی نگاہ میں مذموم ہے۔ صرف راہ خدا میں او رقوانین الہی کے پھیلا نے کے لیے جہاد کر نا صحیح ہے یعنی حق، عدالت اور توحید کے لیے اور ظلم ، فساد، انحراف اور کجروی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے جہاد درست ہے۔ ۲۔ جملہ "الذین یقاتلونکم" (ان سے لڑ و جو تم سے جنگ کریں ) صراحت کر تا ہے کہ کن لوگوں سے جنگ کی جا ئے جب تک مد مقابل ہتھیار نہ اٹھا ئے اور جنگ کی لیے کھڑا نہ ہو جا ئے مسلمانوں کو پیش قدمی نہیں کرنا چا ہیئے (سوائے چند استثنایی مواقع پر جن کی بار ے میں دیگر آیات جہاد میں اشارہ کیا جا ئے گا) ۔ اس آیت سے ضمنا یہ بھی معلوم ہو تا ہے کہ فوجیوں کے علاوہ دیگر اشخاص (خصوصا عورتوں اور بچوں ) پر حملہ نہ کیا جا ئے کیونکہ وہ جنگ کےلیے نہیں اٹھے؛ لہذا نہیں محفوظ و مامون رہنا چاہئیے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کی عظیم پیشوا حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام اپنی فوج کو یہ حکم دیتے ہو ئے نظر آتے ہیں: لا تقاتلو ہم حتی یبدؤکم فانکم بحمد اللہ علی حجة و ترککم ایا ہم حجة اخری لکم ۔( نہج البلاغة عبدہ، مطبوعہ بیروت ، ص ۴۵۳ )۔ جب تک وہ حملہ نہ کریں تم جنگ کی ابتداء نہ کرنا کیونکہ تم حق کے پیروکار ہو اوران کے خلاف تمہارے پاس حجت و دلیل موجود ہے ۔ نیز جنگ کی ابتداء نہ کرنا تمہاری حقانیت کی ایک اور دلیل ہے۔ ۳۔ جملہ "و لا تعتدوا "(حد سے تجاوز نہ کرو) سے اس بات کا تعین ہو تا ہے کہ کب تک جنگ کی جا ئے ۔ اسلام میں جنگ خدا کے لیے اور اس کی راہ میں ہوتی ہے اور راہ خداد میں کسی قسم تعدی اور تجاوز نہیں ہونا چا ہئیے۔ اسی لئے دور حاضر کی جنگوں کے برعکس، اسلام جنگی امورکے با ے میں اخلاقی اصولوں کی پاسداری کی بہت تلقین کرتا ہے ۔ مثلا جو لوگ ہتھیار زمین پر رکھ دیں یا جو جنگ کر نے کی قوت کھوبیٹھیں یا جو اصولی طور پر جنگ کر نے کی قدرت نہیں رکھتے ، جیسے بوڑ ھے ، عورتیں اور بچے ان پر حملہ آور نہیں ہونا چا ہیئے۔ باغوں اور درختوں کوتباہ و بر باد نہیں کرنا چا ہیئے اور دشمن کے پینے کے پانیوں کو زہر آلود کرنے کے لیے زہر یلا مواد استعمال نہیں کرنا چا ہیئے (یعنی کیمیاوی اور جرا ثیمی ہتھکنڈوں کے استعمال کے اجازت نہیں ہے ) ۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: فاذا کانت الہزیمة باذن اللہ فلا تقتلوا مدبرا و لا تصیبوا معورا و لا تجہزوا علی جریح و لا تہیجوا النساء باذی و ان شتمن اعراضکم و سبین امرائکم۔(نہج البلاغة، عبدہ ، ص۴۵۳ مطبوعہ بیروت )۔ جب خدا کی مدد سے دشمن کے لشکر کو شکست د ے دو تو جو لوگ بھاگ کھڑ ے ہوں انہیں قتل نہ کرو اور زخمیوں کو نہ مارو۔ عورتوں کو اذیت و تکلیف نہ پہنچاؤ اگر چہ وہ تمہیں برا بھلا کہیں اور تمہار سرداروں کو گالیاں بکیں ۔ اس آیت کی تفسیر میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے جہاد ہا ئے اسلامی کے بار ے میں دشمنان اسلام کے بے بنیاد بے شمار اتہامات اور بہتانوں کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے ۔ قرآن نے صراحت کے ساتھ مقاصد جنگ جن سے جنگ کرنا ہے اور جہاد کے مختلف کو ائف و حالات کے بار ے میں وضاحت کردی ہے ۔ اس سے مخالفین کے اعتراضات کا جواب واضح ہو جاتا ہے ۔ دیگر آیات جہاد میں انشاء اللہ مزید تشریح و توضیح آئے گی۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 192 کے تحت ملاحظہ کریں۔
مسلمان دشمن کو آمادہ پیکار پائیں تو اسے قتل کر ڈالیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 1آیت ۱۹۰ تا ۱۹۵ میں خدا تعالی نے ان کفار مکہ کے با رے میں مسلمانوں کی ذمہ واری کو واضح کیا ہے جنہوں نے مسلمانوں کو گھر سے بے گھر کیا ، انہیں ہر قسم کے اذیت و آزار پہنچائی اور انہیں اسلام سے برگشتہ کرنے کے لیے ہزاروں جتن کئے ۔ زیر نظر پہلی آیت میں اس حکم کے دائر ے کو وسعت دیتے ہو ئے مسلمانوں کو اجازت دی گئی ہے کہ ان دشمنوں کو جہاں بھی آمادہ پیکار دیکھو قتل کر ڈالو اور جیسے انہوں نے اپنے پوری قوت سے مسلمانوں کو مکہ سے با ہر نکالنے اور آوارہ منزل کرنے کے لیے اقدام کئے ہیں، ان سے و ہی سلوک کرو اور انہیں مکہ سے با ہر نکال دو۔ "و الفتنة اشدّ من القتل" "اور فتنہ قتل سے بد تر ہے۔" لغت کے لحاظ سے (فتنہ) کا ایک وسیع معنی ہے۔ اس کے مفہوم میں ہر قسم کا مکرر و فریب، فساد، شرک گناہ اور رسوائی شامل ہے۔ اس آیت میں اس سے مراد و ہی شرک اور بت پرستی ہے جو بہت سے اجتماعی مفاسد، اختلاف ، پراکندگی، گناہ و فساد اور خونریزی کا سرچشمہ ہے۔ اس مفھوم کی شاہد ایک اور آیت ہے: " قاتلوہم حتی لا تکون فتنہ و یکون الدین للہ " ان سے جنگ کرو تا کہ فتنہ جڑسے ختم ہو جائے اور سب واحد و یگانہ پرست ہو جائیں۔" اس بناء پر (الفتنۃ اسد من القتل) والے جملے کا معنی یہ ہوگا کہ بت پرستی کا مذہب اور اس سے پیدا ہو نے والے مکہ میں مروج بہت سے انفرادی و اجتماعی فسادات قتل کر نے اور ماردینے سے بھی سخت تر ہے کیونکہ ان امور نے خدا کے امن والے حرم کو آلودہ کر رکھا ہے ۔ اس لیے خونریزی کے خوف سے شرک و بت پرستی اور اس سے پیدا ہونے والے فتنہ و فساد کی ریشہ کنی، ہونا چاہیئے۔ اس کے بعد مزید فرمایا کہ مسلمانوں کو مسجد الحرام اکا احترام کرنا چا ہئیے۔اس جگہ کااحترام جسے اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم کی دخواست کے مطابق جائے امن قرار دیا ہے ۔ جب تک وہاں خود دشمن ہتھیار نہ اٹھائے اس وقت تک ان سے جنگ کرنے اور قتل کرنے کی اجازت نہیں۔ لیکن اگر وہ مسجد الحرام کا احترام نہ کریں تو پھر مسلمانوں کو حق پہچتا ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے مسجد الحرام کے اندر بھی جنگ کر سکیں۔ البتہ پیش دستی نہیں کر سکتے اور نہ وہ یہ حق رکھتے ہیں کہ خدا نے جسے جائے امن قرار دیا ہے اس کا احترام پامال کریں۔ آیت کے آخر میں تصریح کی گئی ہیں یہ کفار کی سزا ہے کہ اگر وہ کسی مقدس جگہ پر تجاوز روا ر کھیں تو انہیں سخت اور منہ توڑ جواب دیا جائے تا کہ وہ حرم کے تقدس اور احترام سے غلط فائدہ نہ اٹھا سکیں ۔ " فان انتہوا فان اللہ غفور رحیم" اگر وہ رک جائیں تو خدا پردہ پوشی کرنے والا مہربان ہے۔ اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ کفر سے دستبردار ہونے اور بت پرستی اور شرک کے مذہب کو پس پشت ڈال دینے سے خدا ان کی توبہ قبول کر لے گا اور وہ مسلمانوں کے بھائی ہوجائیں گے۔ یہاں تک کہ وہ ان سزاوٴں اور تاوان سے بھی صرف نظر کر لے گا جو مجرموں کے لیے ہوتا ہے۔
اسلامی جہاد کا مقصد
Tafsīr Nemūna · Vol. 1اس آیت میں اسلامی جہاد کا مقصد بیان کیا گیا ہے۔ آیت کے مطابق جنگ کا ہدف وہ اغراض نہیں ہیں جو عموما جنگوںمیں لوگوں کی ہوتی ہیں۔ اسلامی جہاد نہ زمین پر فرماں روائی اور کشور گشائی کے لیے ہے اور نہ غنائم پر قبضہ کر نے کے لیے اس کا مقصد اپنے مال کی فروخت کے لیے منڈیوں کا حصول ہے نہ خام مال پر قبضہ اور نہ ہی یہ جہاد ایک نسل کی دو سری نسل پر فوقیت قائم کر نے کے لیے ہے۔ بلکہ اس کا مقصد ہے فقط پروردگار کی خوشنودی کا حصول ،اجتماعی عدالت کا قیام، ان لوگوں کی حمایت جو مکر و فریب اور گمراہی کی زد میں ہیں ، انسانی معاشر ے سے شرک اور بت پرستی کی بساط الٹنا اور احکام الہی کا نفاذ ۔ اس بناء پر جیسا کہ مشاہدہ بتاتا ہے کہ اسلامی جنگ اس لیے ہوتی ہے کہ انسانی معاشرے میں فتنہ باقی نہ رہے اور توحید پرستی کا دین تمام انسانی معاشروں میں رواج پاجائے ۔ آیت کے ذیل میں مزید ارشاد ہو تا ہے کہ لوٹ آنے اور کفر ، فساد اور بت پرستی سے دست بردار ہو جانے کی صورت میں مسلمانوں کو چاہئیے کہ وہ ان سے متعرض نہ ہوں اور گذشتہ واقعات کا انتقام لینے کے در پے نہ ہوں اور ماضی کو بھول جائیں کیونکہ تعرض اور تجاوز فقط ستمگر اور ظالم لوگ ہی کیا کر تے ہیں۔ اسلامی جہادوں کو حقیقت میں تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
ابتدائی جهاد آزادی
خداوند عالم کے احکام اور پرواگرام نوع انسان کی سعادت، آزادی، تکامل، خوش بختی اور آسایش و آرام کے لیے ہیں اور اس نے اپنے انبیاء و مرسلین کا یہ فریضہ قرار دیا ہے کہ وہ ان احکام کو لوگوں تک پہنچائیں۔ اب اگر کوئی شخص یا گروہ ان احکام کی تبلیغ کو اپنے پست منافع سے مزاحم سمجھتے ہوئے اس کی راہ میں روڑے اٹکائے تو انہیں حق پہچنتا ہے کہ وہ پہلے صلح و آشتی سے اور اگر اس سے ممکن نہ ہو تو قوت و طاقت سے اپنے دعوت کی راہ سے یہ رکاوٹیں ہٹا دیں اور اپنے لیے تبلیغ کی آزادی حاصل کریں۔ دوسرے لفظوں میں تمام معاشروں میں لوگ یہ حق رکھتے ہیں کہ راہ حق کی طرف دعوت دینے والوں کی آواز سنیں اور ان کی دعوت قبول کرنے میں آزاد ہوں اب اگر کچھ لوگ ان کا یہ جائز حق چھیننا چاہیں اور انھیں اجازت نہ دیں کہ وہ راہ حق پکارنے والوں کی پکار گوش دل سے سن سکیں اور فکری و اجتماعی قید و بند سے آزاد ہوں تو پھران پروگراموں کے طرفداروں کو حق پہچتا ہے کہ وہ حصول آزادی کے لیے ہر ذریعہ استعمال کریں۔ یہیں سے اسلام اور دیگر آسمانی ادیان میں ابتدائی جہاد کی ضرورت واضح ہو تی ہے۔ اس طرح اگر کچھ لوگ مومنین پردباد ڈالیں کہ وہ اپنے پرانے مذہب کی طرف جائیں تو یہ دباؤ دور کر نے کے لیے بھی ہر ذریعہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
دفاعی جهاد
بعض اوقات کسی فرد یا گروہ پر جنگ ٹھونسی جاتی ہے اور اس پر تجاوز کیا جا تا ہے یا دشمن اس کی غفلت سے فائدہ اٹھا کر اچانک حملہ کر دیتا ہے۔ ایسی صورت میں حملے کا نشانہ بننے والے فرد یا گروہ کو تمام آسمانی اور انسانی قوانین دفاع کا حق دیتے ہیں۔ اُ سے حق پہنچتا ہے کہ ایسے ہیں جو کچھ اس سے اپنے وجود کی بقاء کے لیے بن پڑ ے کر ے اور اپنی حقاظت کے لیے کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ کرے۔ جہاد کی اس قسم کو دفاعی جہاد کہتے ہیں۔ احد، احزاب، موتہ، تبوک، حنین، اور بعض دیگر اسلامی جنگیں جہاد کے اسی حصے کا جزء ہیں اور یہ سب جنگیں دفاعی پہلو کی حامل ہیں۔
شرک و بت پرستی کے خلاف جهاد
اسلام لوگوں کو یہ آخری اور بلند ترین دین انتخاب کرنے کی دعوت دیتا ہے اس کے با وحود وہ عقیدے کی آزادی کو بھی محترم شمار کرتا ہے۔ اسی لیے آسمانی کتب کی حامل قوموں کو اسلام نے کافی مہلت اور رعایت دی ہے کہ وہ مطالعہ اور غور و فکر سے دین اسلام کو قبول کریں اور اگر وہ اسے قبول نہ کریں تب بھی ان سے اسلام ایک ہم پیمان اقلیت والا معاملہ کرتا ہے اور مخصوص شرائط کے ساتھ جو پیچیدہ ہیں، نہ مشکل، ان سے صلح آشتی سے باہمی زندگی گذار تا ہے۔ لیکن۔۔۔شرک اور بت پرستی کوئی دین اور آئین نہیں اور نہ ہی وہ قابل احترام ہے بلکہ وہ تو ایک قسم کی بے ہودگی، کجروی اور حماقت ہے۔ دراصل، وہ ایک فکری اور اخلاقی بیماری ہے حبس کی ہر قیمت پر ریشہ کنی ضروری ہے دو سروں کی فکر و نظر کی آزادی اور احترام کے الفاظ ان کے لیے استعمال ہو تے ہیں جن کے فکر و عقیدہ کی کم از کم کوئی صحیح بنیاد تو ہو لیکن کجروی، بے ہودگی، گمراہی، اور بیماری تو کوئی ایسی چیز نہیں جسے محترم سمجھا جائے۔ اسی لیے اسلام حکم دیتا ہے کہ جیسے بھی ہو انسانی معاشر ے سے بت پرستی کی ریشہ کنی کی جائے چاہے اس کے لیے جنگ مول لینا پڑے۔ بت خانے اور بت پرستی کے آثار صلح صفائی سے نہ مٹ سکیں تو قوت و طاقت کے بل بوتے پر انہیں ویران و منہدم کیا جانا چا ہئیے۔
مدینه میں جهاد کا حکم کیوں
ہم جانتے ہیں کہ جہاد ہجرت کے دوسرے سال مسلمانوں پر واجب ہوا۔ اس سے پہلے واحب نہ تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مکہ میں ایک تو مسلمانوں کی تعداد اتنی کم تھی کہ مسلح قیام عملا خود کشی کے مترادف تھا اور دسری طرف مکہ میں دشمن بہت زیادہ طاقتور تھا۔ لہذا مکہ کے اندر ان کا مقابلہ کرنا ممکن نہ تھا۔ جب پیغمبر اکرم ﷺ مدینہ میں تشریف لائے تو بہت لوگ آپ پر ایمان لے آئے اور آپ نے اپنی دعوت مدینہ کے اندر اور با ہر ہر طرف پھیلائی۔ اس طرح آپ ایک مختصر سی حکومت کے قیام اور دشمن کے مقابلے میں ضروری وسائل جمع کر نے کے قابل ہو گئے۔ مدینہ چونکہ مکہ سے کافی دور تھا، اس لیے یہ امور آسانی سے انجام پا گئے۔ انقلاب اور آزادی پسند قوتیں دشمن سے مقابلے اور دفاع کے لیے تیار ہو گئیں۔
فتنہ کا قرانی مفہوم
لفظ فتنہ اور اس کے مشتقات قرآن میں مختلف معانی میں استعمال ہوئے ہیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں: ۱۔ آزمائش و امتحان ۔۔۔۔۔جیسے یہ آیت ہے احسب الناس ان یترکوآ ان یقولوا امنا و ھم لا یفتنون عنکبوت آیہ ۲ کیا لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کا یہ کہنا کافی ہے کہ وہ ایمان لے آئے ہیں اور ان کا امتحان اور آزمائش نہیں ہو گی؟ ۲۔ فریب دہی ۔۔۔۔۔ارشاد الہی ہے: یا بنی آدم لا یفتننکم الشیطان اعراف : آیت۲۷ ائے اولاد آدم شیطان تمہیں مکر و فریب نہ دے ۳۔ بلاء اور عذاب ۔۔۔۔۔فرمان الہی ہے: و اتقوا فتنة لا تصیبن الذین ظلموا منکم خاصة انفال آیت ۲۵ اس عذاب سے ڈرو جو فقط ظالموں ہی کے لیے نہیں (بلکہ ان کے لیے بھی ہے جنہوں نے خود تو ظلم نہیں کیا لیکن ظلم ہوتا رہا اور وہ چب سادھے رہے۔ ۴۔ شرک، بت پرستی اور مومنین کی راہ میں رکاوٹ بننا ۔۔۔۔۔۔ارشاد ہوتا ہے: و قاتلوھم حتی لا تکون فتنہ و یکون الدین کلہ للہ انفال آیت۳۹ اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ شرک اور بت پرستی بافی نہ رہے اور دین صرف اللہ سے مخصوص ہو جائے ۵۔ گمراہ کرنا اور گمراہی ۔۔۔۔۔سورہ مائدہ میں ہے: و من یرد اللہ فتنتہ فلن تملک لہ من اللہ شیئا مائدہ آیت ۴۱ اور جسے خدا گمراہ کر دے ( اور اس سے توفیق سلب کرلے تو تم اس کے مقابلے میں کوئی قدرت نہیں رکھتے۔ بعید نہیں کہ ان تمام معانی کی ایک ہی بنیاد ہو(جیسے مشترک الفاظ کی یہی صورت ہوتی ہے) اور وہ بنیاد یہ ہے کہ فتنہ کا اصل لغوی معنی ہے کہ سونے اور چاندی کو آگ کے دباؤ کے نیچے رکھنا تا کہ خالص اور ناخالص حصہ جدا ہو جائے۔ اس لیے جہاں کہیں دباؤ اور سختی ہو یہ لفظ استعمال ہو تا ہے۔ مثلا امتحان کے مواقع پر شدت اور مشکل در پیش ہو تی ہے جو انسان کے امتحان کا باعث بنتی ہے۔ یہی حال کفر اور مخلوق کی ہدایت کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کرنے کا ہے۔ ان میں سے ہر ایک میں ایک قسم کا دباؤ اور شدت پائی جاتی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1مشرکین جانتے تھے اور پیغمبر اکرم سے سن بھی چکے تھے کہ حرمت والے مہینوں(ذی القعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب) میں اسلام کے نقطہ نظر سے جنگ کرنا ناجائز اور خصوصیت سے مسجد الحرام اور مکہ میں تو اور بھی زیادہ غیر درست ہے۔ نیز پیغمبر اسلام اس حکم کا احترام کر تے ہیں اس لیے ان کی خواہش تھی کہ مسلمانوں پر انہی مہینوں میں غفلت کی حالت میں حملہ کر دیں اور وہ خود ان محترم مہینوں کے احترام سے بے پرواہ تھے۔ ان کا خیال تھا کہ مسلمانوں کو اس کی اجازت نہیں کہ وہ مقابلہ کریں اور یوں ہی رہا تو وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔ زیر بحث آیت نے ان کی سازش سے پردہ اٹھا دیا اور کہا کہ حرام مہینوں میں جنگ کا جواب انہی مہینوں میں دیا جا ئے گا۔ حرام مہینوں میں مسلمانوں کی طرف سے مقابلہ درحقیقت ان مہینوں کا احترام لوٹانے کے لیے ہی ہے۔ "و المحرمات قصاص۔۔۔۔" واقع میں ان لوگوں کا دندان شکن جواب ہے جو حرام مہینوں میں جنگ کی اجازت دینے پر پیغمبر اکرمﷺ پر اعتراض کر تے تھے۔ یعنی نگاہ اسلام میں ماہ حرام کا احترام ان لوگوں کے مقابلے میں ہے جو اسے محترم سمجھے لیکن جو اس کے احترام کو پامال کریں ان سے رعایت ضروری نہیں اور ان سے اس ماہ میں بھی جنگ کرنا جائز ہے۔ اسی لیے مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ جنگ کی صورت واضح ہو جائے تو مقابلے کے لیے کھڑ ے ہو جاؤ تاکہ مشرکین دوبارہ حرام مہینوں کا احترام زائل کر نے کی جرات نہ کر سکیں۔ اس کے بعد ایک کلی اور عمومی حکم صادر فرمایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ مقابلہ بمثل ہر مسلمان شخص کا فریضہ ہے۔ تمام لوگوں کو اجازت دی گئی ہے کہ ظالم کے مقابلے میں کھڑ ے ہو جائیں اور جس قدر ظلم و تجاوز ان پر کیا گیا ہے، اتنا ہی اس کا جواب دیں۔ یہ کام فطرت و آفرینش کے قوانین کے مطابق ہے۔ یہاں تک کہ بدن کے خلیے حملہ کرنے والے جرا ثیموں کے مقابلے میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور مملکت بدن پر ان کے تجاوز اور حملے کا دفاع کرتے ہیں۔ نباتات بھی اسی طبیعی اور تکوینی قانون سے استفادہ کرتے ہیں۔ وہ حوادث، طوفان اور مختلف حملہ آوروں کے مقابلے میں استقامت دکھاتے ہیں او ان حملوں کا مقابلہ کرتے ہیں مسیحیت کہتی ہے: اگر کوئی تمہارے دائیں رخسار پر تھپٹر مارے تو بایاں رخسار بھی اس کے سامنے کر دو اور اسے دوسرے تھپڑ کےلیے تیار کرو۔ اس کے برعکس، اسلام کہتا ہے: حس قدر تم پر ظلم و تعدی ہو اس کا جواب اس طرح دو اور تسلیم کا معنی موت اور مقابلے کا معنی زندگی ہے۔ یہ ہے اسلام کی منطق (البتہ یہ امر دوستوں کو معاف کرنے کے منافی نہیں اور یہ ایک الگ بحث ہے) "واتقوا اللہ و اعملوا ان اللہ مع المتقین" اس جملہ میں دوبارہ تاکید کی گئی ہے کہ جواب اور دفاع تجاوز کی مقدار سے زیادہ نہ ہو کیونکہ جواب دینے میں زیادتی حریم تقوی و پرہیزگاری سے بعید ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1جس طرح جہاد میں مخلص، طاقتور اور تجربہ کار مردوں کی ضرورت ہے، اسی طرح مال و دولت کی بھی احتیاج ہے۔ کیونکہ جہاد میں روحانی و جسمانی آمادگی کی ضرورت ہے اور فوج کے لیے مناسب اسلحہ اور سامان جنگ کی بھی احتیاج ہے۔ یہ صحیح ہے کہ پہلے درجے کا عامل سرنوشت اور انجام جنگ کا تعین مجاہدوں اور جانبازوں ہی سے ہو تا ہے۔ لیکن مجاہد کو وسائل کی بھی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آیت تاکید کر رہی ہے کہ اس راہ میں خرچ نہ کرنا گویا اپنے تیئں ہلاکت وتباہی میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ خصوصا اس زمانے میں تو بہت سے مسلمان جذبے اور عشق جہاد سے سرشار تھے لیکن فقیر و محتاج تھے اور اسباب جنگ مہیا کرنے کی سکت نہ رکھتے تھے۔ جیسا کہ قرآن نقل کرتا ہے کہ وہ لوگ پیغمبر اکرم کی خدمت میں آتے اور آپ سے درخواست کرتے تھے کہ ہماے لیے سامان جنگ مہیا فرمائیں اور ہمیں میدان جنگ بھجیں چونکہ اسباب مہیا نہ تھے۔ لہذا وہ افسردہ اور غمگین روتی ہوئی آنکھوں سے پلٹ آتے: " تولوا و اعینہم تفیض من الدمع حزنا الا یجدوا ما ینفقون" آنکھوں میں اشکِ رواں لیے ہوئے لوٹ جاتے اورغم زدہ ہوتے کہ ان کے پاس مال کیوں نہیں جس سے وہ اسباب جنگ مہیا کریں اور میدان جنگ میں حاضر ہوں۔ (توبہ ۔۹۲)
تفسیر
یہ آیت اگرچہ آیات جہاد کے ذیل میں آئی ہے لیکن اس سے ایک کلی و اجتماعی حقیقت معلوم ہوتی ہے وہ یہ کہ خرچ کرنا افراد معاشرہ کو ہلاکت سے پچانے کا باعث بنتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر انفاق اور خرچ کرنے کے عمل کو فراموش کر دیا جائے اور دولت ایک ہی طبقے کے پاس جمع ہوجائے تو ایک محروم اور بے نوا اکثریت وجود میں آ جائے گی۔ زیادہ دیر یہ حالت قائم نہیں رہے گی اور جلد ایک دھماکہ ہو گا جس کے نتیجہ میں انسان اور سرمایہ داروں کامال جل کر خاکستر ہو جائے گا۔ اس سے خرچ کر نے اور ہلاکت سے بچنے کا باہمی ربط بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اس بناء پر انفاق اور خرچ کرنا محروموں اور محتاجوں سے پہلے سرمایہ داروں کے لیے مفید ہے؛ یعنی دولت و ثروت کا اعتدال دولت و ثروت کا محافظ ہے۔ چنانچہ حضرت علی اس حقیقت کی طرف اشارہ فرماتے ہیں: "حصنوا اموالکم بالزکوة" زکوة دے کر اپنے مال کی حفاظت کرو۔ "و احسنوا ان اللہ یحب المحسنین" آیت کے آخر میں احسان اور نیکی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس طرح جہاد و انفاق کے مرحلے سے احسان و نیکی کے مرحلے کی طرف راہنمائی گئی ہے کیونکہ اسلام کی نظر میں احسان انسانیت کے تکامل و ارتقاء کے بلند ترین مرحلے کا نام ہے۔ آیت انفاق میں اس جملے کا آنا اس طرف اشارہ ہے کا انفاق میں نیکی کی مکمل تصویر اور مہربانی کا پور اظہار ہونا چاہئیے اور ہر قسم کے احسان جتلانے اور جن امور سے اس شخص کو رنج پہنچے جس سے نیکی کی گئی ہے، بچنا چاہئیے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1لفظ حج قرآن میں دس مقامات پر آیا ہے۔ ان میں سے ہر موقع پر اس اہم امر سے مربوط کسی نہ کسی حکم یا معاملے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ مثلا ۱۔ نمائندہ توحید حضرت ابراہیم خانہ خدا کی تعمیر کر چکے تو ایک عام اعلان کے ذریعہ آپ نے ساری دینا کے لوگوں کو اس مقدس مقام کی زیارت کی دعوت دی۔ "و اذّن فی الناس بالحج یاتوک رجالا و علی کل ضامر یاتین من کلّ فجّ عمیق" لوگوں کو احکام حج کی انجام دہی کی دعوت دیجئے تا کہ پیادہ اور لاغر اونٹوں پر سوار دور دراز سے لوگ تمہارے پاس آنے لگیں۔ (حج ۲۷) (۲) ۲۔ اسلام میں حج کی تشریح سورہ آل عمران کی آیت ۹۷ کی وساطت سے ہوئی ہے: "وللہ علی الناس حج الببیت من استطاع الیہ سبیلا" ہر وہ شخص جو اپنے پروردگار کی طرف جانے کی استطاعت اور توانائی رکھتا ہے اس پر اس کے گھر کا حج فرض ہے۔ ۳۔ وہ مہینے جن میں یہ عمل انجام پاتے ہیں، اس سلسلے میں ارشاد ہو تا ہے: "الحج اشہر معلومات" مراسم حج کی ادائیگی معین مہینوں میں ہونا چاہئیے۔ ۴۔ حدود و شرائط اور وہ اعمال جو مراسم حج میں انجام دینا چائیں۔ زیر بحث آیت میں بھی ان کی طرف اشارہ ہے۔ "و اتموا الحج و العمرة للہ" ۵۔ فلسفہ اجتماع اور اس کے فوائد ۔۔۔۔۔ ارشاد ہو تا ہے: "لیشہدوا منافع لہم" تاکہ وہ اس میں موجود اپنے لیے فوائد حاصل کریں۔ (حج ۔۸۲) ان میں سے ہر ایک بحث اپنے مقام پر آئے گی۔ زیر بحث آیت میں چند ایک احکام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جنہیں یہاں بیان کیا جا تا ہے۔
عمره اور حج کے اعمال
عام طور پر خانہ خدا کے زائرین پہلے مراسم عمرہ اس ترتیب سے بحا لاتے ہیں: معین نقاط جنہیں میقات کہتے ہیں، وہاں سے احرام باند ھتے ہیں یعنی وہ عہد کرتے ہیں کہ احرام باندھے ہوئے شخص پر جو کام حرام ہیں انہیں ترک کر دیں گے اور احرام کا لباس جو وہ اَن سلے کپڑے کے ٹکروں پر مشتمل ہو تا ہے پہن لیتے ہیں اور لبیک لبیک کہتے ہوئے خانہ خدا کی طرف چل پڑ تے ہیں۔ سب سے پہلے سات مرتبہ خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہیں اور اس کے بعد اس جگہ پر جو مقام ابراہیم کے نام سے مشہور ہے دو رکعت نماز ادا کر تے ہیں۔ اس کے بعد صفا و مروہ کی دو پہاڑیوں کے در میان آتے جاتے ہیں اورپھر اپنے کچھ بال یا ناخن کاٹنے سے احرام سے خارج ہو جاتے ہیں۔ مراسم حج بجا لانے کے لیے مکہ میں احرام باند ھتے ہیں۔ نویں ذی الحج کو مکہ سے چار فرسخ دُور بیابان عرفات کی طرف جاتے ہیں۔ اس دن زوال سے لے کر غروب آفتاب تک وہاں رہتے ہیں۔ یہاں اپنے پروردگار سے دعا و زاری کر تے ہیں۔ غروب آفتاب کے بعد مشعر الحرام کی طرف کوچ کرتے ہیں۔ یہ مقام مکہ سے ڈھائی فرسخ دور ہے۔ رات اس مقدس وادی میں بسر کر تے ہیں اور طلوع آفتاب کے وقت اس سرزمین سے منی کی طرف چل پڑتے ہیں۔ یہ مقام مشعر الحرام سے قریب ہی ہے۔ یہ عید قربان کا دن ہے۔ اسی دن ایک خاص جگہ جمرہ عقبہ پر سات کنکریاں مارتے ہیں۔ اس کے بعد قربانی کرتے ہیں اور پھر سر کے بال منڈوا کر احرام سے خارج ہو جاتے ہیں۔ اسی دن یا اس کے بعد مکہ کی طرف پلٹ آتے ہیں۔ وہاں طواف خانہ خدا۔ نماز طواف صفا و مروہ کے در میان سعی طواف منی اور نماز طواف منی بجا لاتے ہیں۔ گیارہ اور بارہ کی در میانی رات منی میں گزارتے ہیں۔ اس طرح مراسم حج انجام دیتے ہیں۔ یہ حج در اصل، ایک تاریخی واقعہ ہے اور اس کے مراسم تہذیب نفس سے مربوط مسائل اور اجتماعی و معاشرتی فلسفوں کی طرف کنایات و اشارات ہیں (ان میں سے ہر فلسفہ متعلقہ آیات کے ذیل میں تفصیل سے بیان ہو گا) اب اس امر کی طرف توجہ دی جانا چاہئیے کہ آیت کہتی ہے کہ یہ تمام اعمال خدا کےلیے اور اس کے فرمان کے مطابق ہونا چاہئیں اور انہیں ظاہریت، ریاکاری اور بتوں کے لیے نہیں ہونا چاہئیے۔ اس بناء پر آیت کا پہلا جملہ (واتموا الحج و العمرة للہ) یہ بتاتا ہے کہ حج و عمرہ کے اعمال میں تقرب الہی کے سوا کوئی وجہ اور سبب نہیں ہونا چاہئیے۔ "فان احصرتم فما استیسر من الہدی" مزید کہتا ہے کہ اگر احرام باند ھے ہوئے ہو اور پھر کوئی رکاوٹ مثلا یا دشمن کا خوف لاحق ہو جائے اور عمرہ و حج کے اعمال نہ بجا لائے جا سکیں تو ضروری ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق قربانی ذبح کرو۔ توجہ رہے کہ اگر یہ رکاوٹ بیماری و غیرہ کی طرح کی ہو اور عمرہ مفردہ کا احرام باندھ رکھا ہے تو قربانی کو مکہ میں بھیجنا چا ہئیے تاکہ وہاں ذبح کی جائے اور اگر دشمن کی طرف سے ممانعت ہوئی ہے تو جہاں ہیں وہیں قربانی کا فریضہ انجام دینا چاہئیے۔ جیسے پیغمبر اکرم نے حدیبیہ کے مقام پر کیا تھا۔ اگر حج کا احرام باندھ رکھا ہے اور بیماری کا سامنا ہو تو قربانی منی میں بھجینا چاہئیے۔ "و لا تحلقوا ر ؤسکم حتی یبلغ الہدی محلہ" حج میں جن کاموں کو انجام دینا ہے ان میں سے ایک سر کے بالوں کا منڈوانا ہے لیکن توجہ رہے کہ قربان گاہ میں قربانی ذبح ہو نے سے پہلے تم یہ عمل بجا لانے کا حق نہیں رکھتے۔ مگر جس شخص کو کوئی بیماری یا کچھ اور رکاوٹیں درپیش ہیں جن کی وجہ سے اسے وقت سے پہلے سر منڈوانا پڑے اور اس کام کے پیش آنے کی صورت میں ضروری ہے کہ فدیہ دے اور یہ فدیہ تین دن کے روزے یا چھ مساکین کو کھا نا کھلانا اور یا ایک بھیڑ ذبح کرنا ہو سکتا ہے۔ "فاذا امنتم فمن تمتع بالعمرة الی الحج" جب بیماری یا دشمن سے آسودہ خاطر ہو جاؤ اور حج تمتع انجام دینا چا ہو تو اپنی استطاعت کے مطابق اونٹ گائے یا بھیڑ کی قربانی دو۔ قربانی کا جانور نہ مل سکے یا مالی حالت اس کی اجازت نہ دے تو تین دن حج کے ایام میں (ساتویں، آٹھویں اور نویں کا دن) اور سات دن واپس جانے کے بعد کل دس دن روزے رکھو۔ "تلک عشرة کاملة" معلوم ہے کہ تین اور سات کل دس دن بنتے ہیں۔ پھر بھی قرآن کہتا ہے: یہ دس دن کامل ہو جائیں گے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ حرف واؤ اگر چہ عام طور پر جمع کرنے کے لیے آتا ہے نہ کہ تخییر کے لیے تلک عشرة کاملة کا جملہ لایا گیا ہے اور شاید لفظ کاملہ اس طرف بھی اشارہ کرتا ہو کہ دس دن کے روزے بطور کامل قربانی کا قائم مقام بن سکتے ہیں۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ دس کا عدد ایک لحاظ سے کامل ترین عدد ہے کیونکہ اعداد کو جب ایک سے شمار کرتے ہیں تو وہ دس تک اپنی صعودی سیر کی تکمیل کرتے ہیں۔ اس کے بعد تو حقیقت میں دس اور کسی دس سے پہلے والے عدد کی ترکیب ہے۔ مثلا گیارہ (دس اور ایک) اور بارہ (دس اور دو) "ذلک لمن لم یکن اھلہ حاضری المسجد الحرام" یہ حج تمتع کا پرواگرام ان لوگوں کے لیے ہے جو مسجدا الحرام میں موجود یا اس کے قرب و جوار میں نہ ہوں۔ (فقہا میں مشہور یہ ہے کہ جو شخص مکہ سے ۴۸ میل دور رہتا ہے حج تمتع اس کی ذمہ داری ہے لیکن جو مکہ سے اتنا دور نہیں اس کا فریضہ حج قران یا حج افراد ہے۔ اس مسئلے کی تفاصیل اور مآخذ فقہی کتب میں موجود ہیں۔ آیت کے آخر میں حکم دیا گیا ہے کہ تقوی اختیار کرو اور اس سلسلے میں جو احکام دیئے گئے ہیں ان کی تعمیل میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کرو اور پروردگار کے شدید عقاب سے اپنے آپ کو محفوظ رکھو۔ یہ تاکید شاید اس لئے ہے کہ حج ایک اہم اسلامی عبادت ہے اور اگر اس کے مراسم و اعمال پر پوری توجہ نہ دی جائے یا اس کی روح کو فراموش کر دیا جائے تو مسلمانوں کوبہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔ حج وہ عبادت ہے جسے امیر المومنین نے اسلام کا پرچم اور اہم شعار قرار دیا ہے۔ اپنی زندگی کے آخری لمحوں میں آپ نے وصیت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : "اللہ اللہ فی بیت ربکم لا تخلوہ ما بقیتم فانہ ان ترک لم تناظروا" تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں جب تک زندہ ہو خانہ خدا سے دستبر دار نہ ہونا کیونکہ اگر اس کی زیارت متروک ہو گئی تو تمہیں مہلت نہیں دی جائے گی اور تمہارا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ دشمنان اسلام کی طرف سے یہ جملہ بھی مشہور ہے کہ وہ کہتے ہیں جب تک حج کی رونق برقرار ہے ہم ان پر کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔ (بحوالہ: ۔ ۱۔ شبہات حول الا سلام)۔ ایک اور دانشور کہتے ہیں: مسلمانوں کی حالت پر افسوس ہے اگر وہ حج کا معنی اور حقیقت نہ سمجھ سکیں اور دوسروں پر بھی افسوس ہے اگر وہ اس کا معنی سمجھ لیں۔ اس بحث کے آخر میں جس نکتے کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے یہ ہے کہ اس میں شک نہیں کہ حج تمتع ( وہ حج جو پہلے عمرہ سے شروع ہوتا ہے اور اس میں عمرے کے تمام اعمال بجا لانے کے بعد احرام سے نکل جاتے ہیں پھر نئے سرے سے حج کا احرام باندھتے ہیں اور اس کے مراسم بجا لاتے ہیں) شریعت اسلام میں زیر نظر آیت کے مطابق شروع ہے اور اس آیت کی منسوخی کے بارے ہیں ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں۔ نیز اس سلسلے میں شیعہ اور اہل سنت کتب میں بہت سی روایات منقول ہیں۔ ان میں سے اہل سنت کے مشہور محدثین مثلا نسائی نے اپنے سنن میں، احمد نے اپنے مسند میں، ابن ماجہ نے اپنے سنن میں، بیہقی نے اپنے مشہور سنن میں، ترمذی نے اپنی صحیح میں اور مسلم نے بھی اپنی مشہور کتاب میں تاکیدی روایات نقل کی ہیں یہ حکم منسوخ نہیں ہوا اور قیامت تک کےلئے باقی ہے۔ جو مشہور روایت حضرت عمر سے اس حج کی اور نکاح موقت کی حرمت کے بارے میں نقل ہوئی ہے، واضح ہے کہ صریح قرآن کے مقابلے میں وہ کسی طرح بھی قابل اعتبار نہیں ہے؛ قطع نظر اس کے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کے علاوہ کوئی شخص کسی حکم کو منسوخ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ اسی بناپر اہل سنت کے بہت سے علماء نے بھی مذکورہ روایت کو کوئی اہمیت نہیں دی۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1اس آیت میں قرآن یاد دلا تا ہے کہ حج کا عمل معین مہینوں میں انجام پانا چاہیئے اور اسے سال بھر انجام نہیں دیا جا سکتا اور جیسا کہ کتب حدیث، تفسیر اور فقہ میں ہے کہ یہ عظیم عبادت صرف شوال، ذی القعدہ اورذی الحجہ کے پہلے دس دنوں میں انجام دی جا سکتی ہے اور بعض اعمال تو صرف ذی الحجہ کی نویں، دسویں، گیا رھویں اور بارھویں تاریخوں ہی میں انجام دیئے جا سکتے ہیں اور باقی اعمال اس پوری مدت میں انجام پا سکتے ہیں۔ "فمن فرض فیہنّ الحج فلا رفث۔۔۔۔" اس کے بعد قرآن بیان کرتا ہے کہ جو لوگ احرام اور اعمال حج میں مشغول ہو کر اپنے او پر حج واجب کر چکے ہیں انہیں اعمال حج بجا لاتے ہو ئے جنسی ملاپ اور کوئی گناہ انجام دینے سے پرہیز کرنا چاہئیے اور یونہی بےکار گفتگو ، بے فائدہ بحث ومباحثہ اور بے مصرف کشمکش ترک کر دینی چا ہئیے کیوںکہ یہ ماحول اور مقام عبادت، خلوص اور مادی لذات کے ترک کرنے کا ہے۔ یہ وہ ماحول ہے کہ جس سے روح کو قوت لینا چاہئیے اور جہان مادہ سے اسے کاملا جدا ہونا چاہئیے اور عالم مادہ سے ماوراء راستہ پانا چاہئیے اور اس کے ساتھ ساتھ اتحاد و اتفاق اور برادری کے رشتے کو محکم کرنا چاہیئے۔ "و ما تعفلوا من خیر یعلمہ اللہ۔" جیسا بھی نیک عمل تم سے سر زد ہو خدا اسے جانتا ہے اور یہ پہلی جزا اور ثواب ہے جو نیک شخص کو ملتا ہے کیونکہ ایک صاحب ایمان کی پہلی مسرت تو یہی ہے کہ اسے معلوم ہو کہ پروردگار اس عمل کو جانتا ہے جسے اس نے اس کی خاطر انجام دیا ہے اور یہ پہلو بہت ہی لذت بخش ہے۔ "و تزودوا فان خیر الزاد التقوی" آیت کے اس حصے میں زاد راہ مہیا کر نے کا حکم دیا گیا ہے کہتے ہیں کہ اس زمانے میں یمن کے لوگوں میں سے ایک گروہ خانہ خدا کی زیارت کے لیے چل کھڑا ہوتا تھا اور کوئی زاد راہ ساتھ نہ لیتا تھا۔ ان لوگوں کی منطق یہ تھی کہ ہم خدا کے گھر کی زیارت کے لیے جا رہے ہیں تو کیا یہ ممکن ہے کہ وہ ہمیں کھانا نہ دے؛ حالانکہ خدا نے سب کو غذا اور مادی وسائل دئیے ہیں۔ لہذا آیت کے اس حصے میں حکم دیا گیا ہے کہ توشہ راہ مہیا کرو اور غذا اپنے ساتھ اٹھا کر لے جاؤ۔ اس کے علاوہ ایک معنوی مسئلے کی طرف بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ اس توشہ سفر کے علاوہ ایک اور زاد راہ کی بھی بہت ضررت ہے جسے مہیا کرنا ہے اور وہ ہے پرہیزگاری اور تقوی۔ یہ جملہ اس حقیقت کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ سفر حج میں معنوی زاد راہ مہیا کرنے کے بہت مواقع ہیں جن سے غفلت نہیں برتنا چاہئیے وہاں اسلام کی مجسم تاریخ اور ابراہیم جیسے توحید کے علمبردار کی فداکاری کے مناظر اور پروردگار کے مخصوص جلوے یوں نظر آتے ہیں کہ کہیں اور اس طرح سے دکھائی نہیں دیتے۔ جن کی روح بیدار اور فکر زندہ ہے وہ ایک عمر کے لیے اس بے نظیر روحانی سفر سے معنوی اور روحانی توشہ فراہم کر سکتے ہیں۔ "و اتقون یا اولی الالباب" آیت کے اس حصے میں روئے سخن اہل فکر و نظر کی طرف ہے کہ وہ پرہیزگاری اختیار کریں کیونکہ یہی لوگ ان اعلی تربیتی پروگراموں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جب کہ دو سرے لوگوں کی نظر اس کے ظاہری غلاف پر ہی ہوتی ہے
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 199 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1موسم حج میں اقتصادی کارکردگی
زمانہ جاہلیت میں مراسم حج بجا لانے کے موقع پر معاملہ، تجارت، مسافروں کو لے جانا اور سامان لانا لے جانا حرام اور گناہ سمجھا جاتا تھا۔ مسلمان فطری طور پر منتظر تھے کہ انہیں معلوم ہو کہ زمانہ جاہلیت والے احکام جوں کے توں باقی رہیں گے یا یہ کہ اسلام ان کے بے وقعت ہونے کا اعلان کرتا ہے۔ محل بحث آیت نے ان دنوں میں معاملہ یا تجارت کے گناہ ہو نے کو غلط قرار دے دیا ہے اور بتایا ہے کہ موسم حج میں کسی قسم کا معاملہ یا تجارت کرنے میں کوئی مانع اور حرج نہیں اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ لوگ فضل خدا سے بہرہ ور ہوں اور کوئی نفع حاصل کریں اور اپنے ہا تھوں کی کمائی سے فائدہ اٹھائیں۔ اسلامی کتب اور منابع میں حج کے فلسفہ میں جہاں اس کے اخلاقی، سیاسی اور ثقافتی پہلوں کی طرف اشارہ ہوا ہے وہاں اس کے اقتصادی فلسفہ کی طرف بھی اشارہ ہوا سے اور کہا گیا ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں سے خانہ خدا کی طرف مسلمانوں کا سفر اور وہاں عظیم اسلامی کانفراس کی تشکیل اسلامی معاشروں کی عام اقتصادی ترقی کی اساس بھی بن سکتی ہے۔ مسلمانوں کے اقتصادی ماہرین کو چاہئیے کہ مراسم حج سے پہلے یا بعد میں مل بیٹھیں اور ہم فکر اور ہم قدم ہو کر اسلامی معاشروں میں مستحکم اقتصاد کی طرح ڈالیں اور صحیح تجارتی مبادلات کے ساتھ اس طرح کا طاقتور اقتصادی ڈھانچہ وجود میں لائیں کہ جس کے باعث دشمنوں اور غیروں سے بےنیاز ہو جائیں۔ اس بنا پر تجارتی معاملات اور مبادلات بجائے خود دشمنان اسلام کے مقابلے میں اسلامی معاشرے کی تقویت کا ذریعہ ہیں کیونکہ کوئی بھی قوم قوی اقتصاد کے بغیر مکمل استقلال حاصل نہیں کر سکتی لیکن یہ واضح ہے کہ یہ تجارتی کارگزاریاں حج کے عبادتی اور اخلاقی پہلووں کے ماتحت ہونا چاہئیں؛ نہ کہ ان پر مقدم۔ یہ خوش بختی ہے کہ مسلمانوں کے پاس اعمال حج سے پہلے اور بعد اس کام کے لیے کافی وقت ہوتا ہے۔ ہشام بن حکم کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا کہ خدا نے لوگوں کو حج کر نے اور اپنے گھر کا طواف کر نے کا حکم کیوں دیا ہے؟ اس پر آپ نے فرمایا: خدا نے انسانوں کو پیدا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور انہیں ایک ایسے عمل (حج) کا حکم دیا جو اطاعتِ دین اور اُن کے دنیاوی فوائد کا حاصل ہے۔ موسم حج میں مسلمان شرق و غرب سے ایک دو سرے سے ملتے ہیں تاکہ وہ آپس میں شناسائی پیدا کریں اور ہر قوم دوسر ی ا قوام کی تجارتوں اور لائے ہوئے اقتصادی اموال سے استفادہ کرے اور نقل و حمل کرنے والے مسافر کرایہ دے کر اپنے منتقل ہونے والے ذرائع اور اسباب سے بہرہ مند ہوں اور اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ لوگ پیغمبر کے آثار و اخبار سے آشنا ہوں اور یہ آثار اس طرح زندہ رہیں اور فراموش نہ ہو جائیں۔ اگر بناء یہ ہو کہ ہر قوم صرف اپنے علاقے کے متعلق گفتگو کرے تو وہ ہلاک ہو جائیں، شہر ویران ہو جائیں، فوائد اور تجارتی منافع ختم ہو جائیں اور اخبار و آثار پیغمبر نابود ہو جائیں۔۔۔۔۔۔ یہ ہے حج کا فلسفہ۔[ حدیث کا عربی متن یہ ہے: فقلت لہ ما العلة التی لاجلہا کلف اللہ العباد الحج و الطواف بالبیت؟ فقال فجعل فیہ الاجتماع من الشرق و الغرب لیتعارفوا و لینزع کل قوم من التجارات من بلد الی بلد و لینتفع بذلک المکاری و الجمال و لو کان کل قوم انما یتکلمون علی بلادھم و ما فیہا ھلکوا و خربت البلاد و سقطت الجلب و الارباح (بحوالہ: وسائل ج ۸ کتاب الحج ابواب وجوب الحج باب حدیث۱۸)] "فاذا افضتم من عرفات۔۔۔۔" قرآن مجید آیت کے اس حصہ میں یہ حکم دیتا ہے کہ ان ذمہ درایوں اور اعمال کی انجام دہی کے بعد جو عرفات میں انجام دیئے جا تے ہیں مشعر الحرام کی طرف کوچ کریں جو مکہ سے تقریبا اڑھائی فرسخ کے فاصلے پر منی اور عرفات کے درمیان واقع ہے اور وہاں جا کر ذکر و یاد خدا میں مشغول ہو جائیں۔ "و اذکروہ کما ھدا کم و ۔۔۔۔" اس حصے میں قرآن متوجہ کرتا ہے کہ پروردگار کی ہدایت کے شکرانے کے طور پر مشعر الحرام میں اس کی یاد میں رہو ایسی یاد جو اس ہدایت کے مطابق ہے جو خدا کی طرف سے ہے(اس بنا پر ہو سکتا ہے کہ لفظ کما یہاں لما یا مثل کے معنی میں ہو)۔ اس زمانے میں مسلمان اس عظیم نعمت یعنی ہدایت کی قدر و قیمت کو اچھی طرح سمجھ سکتے تھے کیونکہ ان کا فاصلہ اس دور سے زیادہ نہ تھا۔ جب جزیرة العرب ہر طرف سے گمراہی میں گھرا ہوا تھا۔ ان کے سامنے تھا کہ خداوند عالم نے کس طرح انہیں اس پاک دین کی برکت سے ان تمام بدبختیوں، گمراہیوں اور سرگردانیوں سے نجات دی ہے۔ "و ان کنتم من قبلہ لمن الظالین"۔
عرفات کو عرفات کیوں کہتے ہیں
ہم کہہ چکے ہیں کہ عرفات مکہ سے چار فرسخ کے فاصلے پر ایک وسیع و عریض بیابان ہے۔ وہاں حاجی حضرات نویں ذی الحجہ کو زوال آفتاب سے لے کر غروب تک ٹھہرتے ہیں۔ اس سرزمین کانام عرفات کیوں ہے؟ اس بارے میں بہت سے پہلو مذکور ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب خدا کی وحی کا قاصد جبرئیل، حضرت ابراہیم کو مناسک حج کی نشاندہی کروا رہا تھا تو حضرت ابراہیم کہتے: "عرفت"؛ یعنی میں نے پہچان لیا۔ لیکن بعید نہیں کہ یہ نام رکھنا ایک اور حقیقت کی طرف بھی اشارہ ہو اور وہ یہ کہ یہ سرزمین جہاں سے مراحل حج شروع ہوتے ہیں معرفت پروردگار اور اس کی پاک ذات کو پہچاننے کےلیے بہت آمادہ اور تیار ماحول مہیا کرتی ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ وہ روحانی اور معنوی جذبہ جو انسان میں اس سرزمین میں داخل ہوتے وقت پیدا ہوتا ہے اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ سب ایک ہی صورت میں، سب ایک انداز میں، سب بیابان نشیں، شہر کے شوروغل سے دور، مادی دنیا کے ہاو ہوس سے پرے، زرق و برق دنیا سے اوجھل ایک آزاد اور گناہ سے پاک فضا میں آسمان کے سائے تلے اس جگہ جہاں فرشتہ وحی کے پر چھوتے رہے جہاں سے جبرئیل کا زمزمہ، ابراہیم خلیل اللہ کی مردانہ وار پکار، پیغمبر اسلامﷺ اور صدر اول کے مجاہدین کی حیات بخش صدا کی بھنبھناہٹ آج بھی سنائی دیتی ہے۔ وہ مقام جہاں انسان نہ صرف یہ کہ عرفان پروردگار کے نشہ میں سرمست ہو جاتا ہے اور کچھ لمحوں کےلیے ساری مخلوق کی تسبیح کے سرور سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے، بلکہ اپنے وجود کے اندر اپنی کھوئی ذات کو جس کی تلاش میں تھا پا لیتا ہے اور اپنی ذات کا عارف ہو جاتا ہے۔ اس مقام پر وہ جان لیتا ہے کہ وہ، وہ شخص نہیں جو رات دن تلاش معاش میں حریصانہ کوہ و صحرا کی وسعتوں کو اپنے قدموں سے ماپتا رہتا تھا اور جو کچھ ملتا تھا اس سے سیراب نہ ہوتا تھا۔ یہاں وہ جان لیتا ہے کہ ایک اور گوہر اس کی روح کے اندر چھپا ہوا ہے جو دراصل، اس کے وجود کی حقیقت ہے۔ جی ہاں! اس سرزمین کوعرفات کہتے ہیں۔ کس قدر عمدہ اور مناسب نام ہے۔
مشعر الحرام
مشعر الحرام۔۔۔۔۔۔ کے نام کے بارے میں بھی کہا گیا ہے کہ وہ جگہ شعائر حج کا مرکز ہے اور ان عظیم و پرشکوہ آسمانی مراسم کی نشانی ہے۔ لیکن یہ نہیں بھولنا چاہئیے کہ مشعر، شعور کے مادہ سے ہے۔ اس تاریخی رات(دس ذی الحجہ کی رات) جب زائرین خانہ خدا عرفات میں اپنا تربیتی پرواگرام مکمل کرنے کے بعد ادھر کوچ کرتے ہیں، رات ڈھلے سے صبح تک نرم پتھروں پر تاروں بھرے آسمان تلے، ایک ایسی سرزمین پر جو محشر کبری کا نمونہ اور قیامت عظمی کا ایک مظہر ہوتی ہے، لوگ ہر طرف یوں پھیلے ہوتے ہیں جیسے ٹھاٹھیں مارنے والے سمندر کی طوفانی موجیں ہوں۔ صبح تک لوگوں کی آوازیں اس سرزمین پر سنائی دیتی رہتی ہیں۔ جی ہاں، آلائشوں سے پاک اس پاکیزہ اور ہلا دینے والے ماحول میں، احرام کے معصومانہ لباس میں، نرم کنکریو ں پر بیٹھا انسان اپنے اندر یوں محسوس کر تا ہے جیسے فکر و شعور کے تازہ چشمے ابل رہے ہوں اور ان کا پانی دل کی گہرائیوں میں گر رہا ہو اور وہ اپنے اندر سے ان جھرنوں کی آواز صاف طور پر سن رہا ہو۔ ہاں اسی جگہ کو مشعر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
درس یگانگی و اتحاد
"ثم افیضوا من حیث افاض الناس"۔ رب جلیل نے اس آیت میں ایک امتیاز اور خصوصت پر خط بطلان کھینچا ہے جس کے قریش مکہ اپنے بارے میں قائل تھے۔ قریش اپنے تئیں حمس (بروزن خمس) کہتے تھے [حمس کا معنی ہے وہ افراد جو اپنے دین میں مستحکم ہوں] اور وہ اپنے آپ کو اولاد ابراہیم اور سرپرست کعبہ قرار دیتے تھے۔ وہ کسی عرب کو اپنے برابر نہ سمجھتے تھے۔ وہ کہتے تھے حریم مکہ سے با ہر رہنے والوں کے برابر نہیں کرنا چاہئیے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم ایسا کریں گے تو عرب ہماری قدر و قیمت کی قائل نہیں ہوں گے۔ اسی بناء پر انہوں نے عرفات میں ٹھہر نے کو ترک کر دیا تھا کیونکہ وہ محیط حرم سے با ہر تھا؛ حالانکہ انہیں معلوم تھا کہ یہ فرائض حج اور دین ابراہیم کا جزو ہے۔(بحوالہ: سیرت ابن ہشام ج ۱ ص ۲۱۱، ۲۱۲)۔ مندرجہ بالا آیت میں قرآن حکم دیتا ہے کہ مسلمانوں کو چاہئیے کہ وہ سب ایک ہی جگہ عرفات میں وقوف کریں اور وہاں سے سب کے سب مشعر کی طرف آ جائیں اور پھر وہاں سے سرزمین منی کی طرف کوچ کریں۔ "و استغفروا اللہ۔" مزید فرماتا ہے کہ خدا سے طلبِ مغفرت کرو اور زمانۃ جاہلیت کے ان افکار و خیالات سے کنارہ کشی کر لو کیونکہ حج مساوات و برابری کا درس ہے اور یاد دلاتا ہے کہ خدا غفور و رحیم ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 202 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 202 کے تحت ملاحظہ کریں۔
ارتباط ایات
Tafsīr Nemūna · Vol. 1امام باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ زمانہ جاہلیت میں مراسم حج کی انجام دہی کے بعد ایک اجتماع منعقد ہوا کرتا تھا اور لوگ اپنے باپ وادا کی طرف سے ملنے والے موہوم افتخارات خوب بیان کیا کرتے تھے ۔ قرآن متوجہ کرتا ہے کہ اعمال حج بجالا نے کے بعد خدا کو یاد کیا کرو اور اس عظیم اجتماع میں خدا اور اس کی وسیع و بے شمار نعمتوں پر گفتگو کیا کرو اور اپنے دلوں کو اس کی جانب مائل کرو اور اس یاد خدا میں اتنا تو شوق و شغف اور سوز و گداز ہو جتنا زمانہ جاہلیت میں اپنے آباء و اجداد کے فخر و مباہات کے ضمن میں ہوتا تھا بلکہ خدائے بزرگ و برتر کے بارے میں تو زیادہ جوش و خروش اور گہرائی ہونا چاہئیے۔ فا ذکروا اللہ کذ کرکم ابآئ کم او اشد ذکرا۔ ضمنی طور پر اس آیت سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ بزرگی اور عظمت خدا سے مربوط رہنے میں ہے نہ کہ اپنے آباء و اجداد کے موہوم مفاخر و مباہات سے وابستگی ہیں۔ فمن الناس من یقول۔۔۔ اس کے بعد قرآن دو گروہوں کی کیفیت کو واضح کرتا ہے اور ان کے افکار و فہم کا تذکرہ کرتا ہے ۔ ان میں سے ایک گروہ وہ ہے جو مادی منافع کے سوا کچھ نہیں دیکھتا اور ان کے علاوہ خدا سے کسی چیز کی درخواست نہیں کرتا اور وہ کہتا ہے: ربنا اتنا فی الدنیا حسنة۔ (خدا ہمیں دنیا کی نعمتیں بخش دے۔) ایسے لوگوں کی معنویت و روحانیت میں کوئی حصہ نہیں اور آخرت میں ان کے نصیب میں کچھ نہیں ۔ یہ لوگ اس ابدی و باقی اور ہمیشہ رہنے والے جہاں سے بے بہرہ ہیں ۔ جہاں انسان کو ہر چیز کی ضرورت ہوگی۔ دوسرے گروہ میں وہ لوگ ہیں جن کے افکار و نظریات فقط مادی زندگی تک محدود نہیں بلکہ وہ حیات دنیا کو بھی معنوی تکامل و ارتقا کے لیے مقدمہ سمجھتے ہیں اور آخرت کے گھر کی سعادت کے بھی طلب گار ہیں۔ یہ آیت در حقیقت اسلامی منطق کو مادی اور معنوی مسائل میں مشخص کرتی ہے اور جو لوگ صرف مادیات میں ڈوبے ہوئے ہیں، انہیں ان لوگوں کی طرح مذموم قرار دیتی ہے جو دنیاوی زندگی پر کوئی نظر نہیں رکھتے نیز یہ آیت انسانوں کی اس جہان میں دردناک عذاب سے نجات بھی چاہتی ہے۔ و قنا عذاب النار۔ "حسنہ" کا معنی ہے نیکی۔ اس کا ایک وسیع مفہوم ہے۔ اس میں تمام مادی و معنوی نعمتیں شامل ہیں۔ لیکن بعض احادیث میں حسنہ کے مفہوم کے بارے میں پیغمبر اسلام ﷺسے منقول ہے۔ و من اوتی قلبا شاکرا و لسانا ذاکرا و زوجة مومنة تعینة علی امر دنیا و اخرة فقد اوتی فی الدنیا حسنة و فی الاخرة حسنة و وقی عذاب النار۔(بحوالہ: مجمع البیان: آیت مذکورہ کے ذیل ہیں)۔ جسے خدا شکر گزار دل دے، یاد حق میں مشغول زبان بخشے اور صاحب ایمان بیوی عطا کرے جو امور دنیا و آخرت میں اس کی مددگار ہو، اسے دنیاو آخرت کی نیکی بخشی ہے اور آتش جہنم کے عذاب سے بچایا ہے۔ واضح ہے کہ اس حدیث میں عام مفہوم کے بعض خاص امور کے حوالے سے تفسیر کی گئی ہے اور ا س میں بعض واضح مصادیق کی نشاندہی کی گئی ہے نہ کہ منحصرا اس کا بس یہی مفہوم ہے۔ اولئک لہم نصیب مما کسبوا و اللہ سریع الحساب۔ گذشتہ بحث کے بعد اس آیت میں ہے کہ دو نوں گروہ اپنی کاوشوں کے نتیجے سے بہرہ ور ہوتی ہیں، وہ بھی جو خدا سے صرف دنیا چاہتے ہیں اور وہ بھی جو دنیا و آخرت کے خواستگار ہیں ۔ ان میں سے کوئی بھی محروم نہیں ہوتا البتہ ہر ایک کا صلہ اس کی خواہش تک محدود ہے۔ حقیقت میں یہ آیات سورہ اسراء کی آیات ۱۸ اور ۲۰ کی طرح ہیں جن میں فرمایا گیا ہے: جو شخص دنیا کا طالب ہے، جتنی مقدار ہم چاہتے ہیں اسے دے دیتے ہیں اور جو آخرت کو چاہتا ہے اور اس کے لیے کوشش کرتا ہے جبکہ ایمان بھی رکھتا ہے تو اس کی سعی نتیجہ بخش ہوگی اور ہر گروہ کو تیرے پروردگار کی عطا و بخشش پہنچ کے رہے گی۔ خلاصہ یہ کہ انسان وہ کچھ پائے گا جو کچھ چاہے گا۔ جو نکتہ یہاں باقی رہ جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اس آیت میں دعا کو کسب سے تعبیر کیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دعا کو کسب و اکتساب کہا جا سکتا ہے؟
حج رمز وحدت مسلمین جهان
قرآن مجید میں ۶۷ مقامات پر مادہ "کسب" اور اس کے مشتقات کا استعمال کیا گیا ہے۔ ان کے مطالعہ سے نتیجہ نکلتا ہے کہ لفظ کسب جسمانی کاموں کے علاوہ روحانی اور قلبی امور میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ سورہ بقرہ کی آیت ۲۲۵ میں ہے: "ولکن یؤاخذ کم بما کسبت قلوبکم۔" لیکن جو تمہارے دل کسب کرتے ہیں، اس پر ہم تمہارا مواخذہ کریں گے۔ سورہ نساء کی آیہ ۱۱۱ میں ہے۔ "وَمَنْ یَکْسِبْ إِثْمًا فَإِنَّمَا یَکْسِبُہُ عَلَی نَفْسِہِ۔" جو شخص کسب گناہ کرتا ہے وہ اپنے ہی نقصان میں کسب کرتا ہے۔ اس بناء پر دعا اور خواہش بھی ایک طرح کا کسب و اکتساب ہے۔ علاوہ ازیں حقیقی دعا صرف زبان سے نہیں بلکہ پورے وجود انسانی سے ہوتی ہے۔ زیر بحث آیت کی تفسیر میں ایک اور احتمال بھی ہے، وہ یہ کہ لفظ "اولئک" صرف دوسرے گروہ کی طرف اشارہ ہو جو دنیا و آخرت دونوں کے درپے ہے، جو مادیت و معنویت کو ایک دوسرسے ملا دیتا ہے۔ یہ ان لوگوں کا گروہ ہے جو نہ صرف مادی ہیں اور نہ صرف تارک دنیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی مساعی نتیجہ و ثمر تک پہنچتی ہیں اور وہ ان سے بہرہ ور ہوتے ہیں لیکن دوسرے لوگوں کی زحمتیں اور کوششیں رائیگاں جاتی ہیں۔ "واللہ سریع الحساب۔" پروردگار کی جانب سے آیت کے آخری حصے میں سرعت حساب کی یاددہانی کرائی گئی ہے۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ خدا چشم زدن میں سب کا حساب کر دے گا:۔ "ان اللہ تعالی یحاسب الخلائق کلھم فی مقدار لمح البصر۔")مجمع البیان؛ اس آیت کی ذیل میں۔( یہ اس بناء پر ہے کہ خداوند عالم مخلوقات کی طرح نہیں ہے۔ مخلوقات کا وجود اور ہستی چونکہ محدود ہے، اس لیے جب وہ ایک معاملے میں مشغول ہوں تو دوسرے سے غافل ہو جاتی ہیں جب کہ خدا تعالی یوں نہیں ہے۔ علاوہ ازیں محاسبے کے لیے پروردگار کو کسی زمانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئیے کیونکہ ہمارے اعمال کا اثر جسم و جان، ہمارے اردگرد کے موجودات، زمین اور ہوا کی موجوں میں باقی ہے۔ حقیقت میں معاملہ ان خود کار مشینوں کا سا ہے جن کی کارکروگی (Out put)ان کے ساتھ ساتھ گھومنے والے نمبر سے ظاہر ہو جاتی ہے۔
مراسم حج کے بعد ذکر خدا کا پروگرام
Tafsīr Nemūna · Vol. 1یہ آیت مراسم حج کے بعد ذکر خدا کا پروگرام پیش کرتی ہے۔ اس کے مطابق زمانہ جاہلیت کے موہوم مفاخر کی بجائے چند روز یاد الہی میں بسر کرنا چاہئیں۔ یہ مدت کم از کم دو دن اور زیادہ سے زیادہ تین دن ہے۔ سابق آیات کے قرنیہ سے یہ دن عید قربان کے مراسم کے بعد ہیں اور یہ یقینا ذی الحجہ ۱۱، ۱۲، اور ۱۳ تاریخیں ہیں۔ روایات کی زبان میں ان دنوں کو ایام تشریق کہا جاتا ہے اور جیسا کہ ان کے نام سے ظاہر ہے، یہ روشنی بخشنے والے دن ہیں جن میں ان بلند مرتبہ مذہبی مراسم کے ذریعے انسانی روح اور جان روشن ہو جاتی ہے۔ احادیث کے مطابق ۱۵ نمازوں کے فورا بعد (جو عید کے روز نماز ظہر سے لے کر ۱۳ ذی الحجہ نماز صبح تک ہیں)، ان الہام بخش جملوں کا تکرار کیا جاتا ہے: "اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ الکبر، لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر، و للہ الحمد، اللہ اکبر علی ما ہدانا، اللہ اکبر علی ما رزقنا من بہیمة الانعام۔" "فلا اثم علیہ" (اس پر کوئی گناہ نہیں) ہو سکتا ہے یہ جملہ دو اور تین دن کے ذکر خدا میں اختلاف کی طرف اشارہ ہو یعنی اس تعداد میں سے جسے چاہو اختیار کرو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے (اور آیت سے ابتدائی طور پر بھی یہی مفہوم ظاہر ہوتا ہے)۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آیت کے اس حصے میں خانہ خدا کے زائرین سے مطلق گناہ کی نفی ہو یعنی ایمان، خلوص اور توجہ سے مناسک حج انجام دینے سے جو ان اذکار سے مکمل ہوتے ہیں، زائرین کعبہ کے گذشتہ گناہوں کے آثار اور تہ در تہ گناہ و معاصی ان کے قلب و جان سے دھل جائیں گے اور جب وہ اس عظیم تربیتی مکتب سے نکلیں گے تو ان کی روحیں آلائش گناہ سے پاک ہو چکی ہوں گی ۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 206 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 206 کے تحت ملاحظہ کریں۔
اخنس بن شریق، ایک خوبصورت اور خوش بیان شخص
Tafsīr Nemūna · Vol. 1یہ آیات اخنس بن شریق کے متعلق نازل ہوئی ہیں۔ وہ خوبصورت اور خوش بیان شخص تھا۔ و ہ پیغمبر اکرم ﷺ سے دوستی کا اظہار کرتا تھا اور خود کو مسلمان ظاہر کرتا تھا۔ جب پیغمبر اسلام ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا اور آپ کے پاس بیٹھتا تو اظہار ایمان کرتا اور منافق ہونے کے باوجود قسمیں کھاتا کہ میں آپ کو دوست رکھتا ہوں اور خدا پر ایمان رکھتا ہوں ۔ پیغمبر ﷺ بھی (بظاہر) اسے تپاک سے ملتے اور اس سے اظہار لطف و محبت فرماتے۔ ایک مرتبہ اس کے اور قبیلہ ثقیف کے درمیان دشمنی ہو گئی۔ اس نے ان پر شب خون مارا۔ ان کے چوپائے مار ڈالے اور فصلوں کو آگ لگا دی۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے کھیتوں سے گزرا اور انہیں آگ لگا دی اور ان کے چوپایوں کے پاؤں کاٹ دیئے۔ اس طرح اس نے اپنے اندرونی نفاق کو ظاہر کیا۔ اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ بعض نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ مذکورہ آیات سریہ رجیع کے بارے میں ہیں۔ واقعہ یوں ہے کہ مبلغین اسلام کی ایک جماعت پیغمبر اکرم ﷺ کی طرف سے اطراف مدینہ کے لیے روانہ ہوئی تا کہ مختلف گروہوں سے ملاقات کرے۔ ایک نامردانہ سازش کے نتیجے میں وہ سب شہید ہو گئے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ پہلی شان نزول آیات کے مضمون سے زیادہ مطابقت رکھتی ہے ۔ بہرحال آیات سے ملنے والا درس عمومی ہے اور سب کے لیے ہے۔
منافقین کے نفاق کی طرف اشارہ
جیسا کہ شان نزول میں آیا ہے، آیات بعض منافقین کے نفاق کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور ان کا تقاضا ہے کہ پیغمبر اکرم ﷺ اپنے تئیں ان سے بچائے رہیں۔ فرمایا گیا ہے کہ کچھ لوگ اپنی باتوں سے اظہار ایمان کرتے ہیں اور قسم کھا کر یوں ظاہر کرتے ہیں کہ ان کی باتیں ان کے اعتقاد کی مظہر ہیں حالانکہ وہ اسلام کے سخت ترین دشمن ہیں۔ اسی لیے یہ لوگ جب پیغمبر ﷺ کی خدمت سے اٹھکر باہر جاتے ہیں تو زمین میں فساد کرتے ہیں، کھیتوں کو اجاڑ دیتے ہیں اور انسانوں کو تباہ کرنے کے درپے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی ان کے رخ کردار سے پردہ اٹھاتا ہے اور ان کے باطن کو پیغمبر اکرم ﷺ کے سامنے آشکار کرتا ہے اور فتنہ__ اور فساد میں ان کی بڑھتی ہوئی فعالیت کے بارے میں نبی اکرم ﷺ سے کہتاہے: اگر یہ لوگ اپنے اظہارات میں سچے ہوتے تو فساد اور تخریب کاری کی طرف ہاتھ نہ بڑھاتے کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ خدا تعالی فساد کو پسند نہیں کرتا۔ "و اللہ لا یحب الفساد"۔ رہایہ امر کہ پیغمبر اکرم ﷺ ایسے افراد سے کشادہ روئی سے کیوں پیش آتے تھے تو وہ اس لیے کہ آپ مامور تھے کہ لوگوں کے ظواہر کو قبول کریں۔ جب تک کہ ان سے کوئی مخالفت سرزد نہ ہو اور ہونا بھی اس طرح چاہئیے۔ بعض کا احتمال ہے کہ جملہ "اذا تولی" سے مراد "حکومت" ہے کیونکہ لفظ "تولی" مادہ ولایت سے ہے جس کا معنی حکومت ہے۔ اس مفہوم کی بناء پر آیت کی تفسیر یوں ہوگی کہ منافقین جب حکومت حاصل کر لیتے ہیں تو فساد اور تخریب کاری کے ذریعے بندگان خدا پر ظلم و ستم روا رکھتے ہیں۔ آبادیاں، ویرانوں میں بدل جاتی ہیں اور لوگوں کے مال و جان محفوظ نہیں رہتے۔ جب انہیں اس برے عمل سے روکا جاتا ہے تو ان کی ہٹ دھرمی اور تعصب میں اضافہ ہو جاتا ہے اور نہ صرف یہ کہ وہ نصیحت کرنے والوں کے نصائح پر کان نہیں دھرتے بلکہ غرور اور اپنی مخصوص نخوت کے ساتھ حق کے خلاف کاموں میں اضافہ کرتے ہیں۔ ایسے افراد کو جہنم کی آگ کے سوا کوئی چیز رام نہیں کر سکتی "فحسبہ جہنم" یعنی جہنم اس کے لیے کافی ہے اور وہ بری جگہ ہے۔ در حقیقت یہ آیت منافقین کی ایک اور صفت کی طرف اشارہ کر رہی ہے اور وہ ہے خشک تعصب اور درشت ہٹ دھرمی جو انہیں بڑے سے بڑے گناہوں کی سرحد تک پہنچا دیتی ہے۔ "اخذتہ العزة بالاثم" جب کہ صاحبان ایمان حکومت ایمان کی پناہ میں اس بری صفت اور اس کے خطرناک آثار سے دور ہیں۔
حضرت علی عیہ السلام اور شبِ ہجرت
Tafsīr Nemūna · Vol. 1اہل سنت کے مشہور مفسر ثعلبی کہتے ہیں کہ جب پیغمبر اسلامﷺ نے ہجرت کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا تو اپنے قرضوں کی ادائیگی اور موجود امانتوں کی واپسی کے لیے حضرت علی علیہ السلام کو اپنی جگہ مقرر کیا اور جس رات آپ غار ثور کی طرف جانا چاہتے تھے، اس رات مشرکین آپ پر حملہ کرنے کے لیے آپ کے گھر کا چاروں طرف سے محاصرہ کئے ہوئے تھے۔ آپ نے حضرت علی علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ آپ کے بستر پر لیٹ جائیں۔ اپنی مخصوص سبز رنگ کی چادر انہیں اوڑھنے کو دی۔ اس وقت خداوند عالم نے جبرئیل اور میکائیل پر وحی کی کہ میں نے تم دونوں کے درمیان بھائی چارہ اور اخوت قائم کی ہے اور تم میں سے ایک کی عمر کو زیادہ مقرر کیا ہے۔ تم میں سے کون ہے جو ایثار کرتے ہوئے دوسرے کی زندگی کو اپنی حیات پر ترجیح دے؟ ان میں سے کوئی بھی اس کے لیے تیار نہ ہوا تو ان پر وحی ہوئی کہ اس وقت علی میرے پیغمبر کے بستر پر سویا ہوا ہے اور وہ تیار ہے کہ اپنی جان ان پر قربان کر دے، زمین پر جاؤ اور اس کے محافظ و نگہبان بن جاؤ۔ جب جبرئیل حضرت علی علیہ السلام کے سرہانے آئے اور میکائیل پاؤں کی طرف بیٹھے تھے تو جبرئیل کہہ رہے تھے سبحان اللہ، آفرین آپ پر اے علی کہ خدا آپ کے ذریعے فرشتوں پر فخر و مباہات کر رہا ہے۔ اس موقع پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور اسی بناء پر وہ تاریخی رات "لیلة المبیت" کے نام سے مشہور ہو گئی۔ ابن عباس کہتے ہیں: جب پیغمبر مشرکین سے چھپ کر ابوبکر کے ساتھ غار کی طرف جار ہے تھے۔ یہ آیت علی علیہ السلام کے بارے میں نازل ہوئی جو اس وقت بستر رسول پر سوئے ہوئے تھے۔ ابوجعفر اسکافی کہتے ہیں: جیسے ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ، جلد ۳ ص۲۷۰ پر لکھا ہے: حضرت علی علیہ السلام کے پیغمبرﷺ کے بستر پر سونے کا واقعہ تواتر سے ثابت ہے اور اس کا انکار غیر مسلموں اور کم ذہن لوگوں کے علاوہ کوئی نہیں کرتا۔( بحوالہ: الغدیر، جلد ۲، ص ۴۴ و ص۴۵ پر ہے کہ غزالی نے احیاء العلوم ج۳ ص۲۳۹ پر؛ صفوری نے نزھۃ المجالس ج۲، ص۲۰۹ پر؛ ابن صباغ مالکی نے فصول المہمہ میں؛ سبط ابن جوزی نے تذکرہ خواص ص ۲۱ پر؛ امام احمد نے مسند ۳۴۸ پر؛ تاریخ طبری جلد ۲ ص۹۹ پر؛ سیرة ابن مشام ج۲، ص۲۹۱ پر؛ سیرة حلبی ج۱ ص۲۹؛ تاریخ یعقوبی ج ۲ ص۲۹ پر لیلة المبیت کے واقعہ کو نقل کیا ہے)۔
محلِ بحث آیت، حضرت علی علیہ السلام کی بہت بڑی فضیلت
جیسا کہ شان نزول میں بیان ہو چکا ہے یہ آیت ہجرت کی رات حضرت علی کی شان میں نازل ہوئی لیکن اس کا ایک کلی و عمومی مفہوم بھی ہے۔ یہ آیت چونکہ گذشتہ آیت ”و من الناس من یعجبک“کے مقابلے میں آئی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس آیت میں انسانوں کے جس گروہ کی طرف اشارہ ہے سابق گروہ کے مقابلے میں ہے اور ان کے صفات بھی ان کی صفات کے مقابل ہیں۔ وہ لوگ خود غرض، خود پسند ، ہٹ دھرم اور بغض و عناد رکھنے والے تھےاور منافقت کے ذریعے لوگوں میں اپنی عزت و آبرو بناتے تھے۔ وہ اپنے آپ کو دین کا خیرخواہ اور مومن ظاہر کرتے تھے لیکن ان کا کردار اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ زمین میں فساد برپا کرتے تھے اور لوگوں کو ہلاک کرتے تھے جب کہ یہ دوسرا گر وہ صرف خدا سے معاملہ کرتا ہے اور اپنا سب کچھ یہاں تک کہ جان بھی خدا کے پاس بیچ دیتا ہے۔ یہ گروہ اس کی رضا کے سوا کسی چیز کا خریدار نہیں اور خدائی طرز کے علاوہ کسی طریقے سے عزت و آبرو کے حصول کا قائل نہیں۔ انہی انسانوں کی فداکاریاں ہیں جن کی وجہ سے دین و دنیا کے امور کی اصلاح ہوتی ہے، حق و حقیقت زندہ و پائیدار ہے، حیات انسانی خوش گوار ہے اور شجر اسلام بارآور ہے۔ یہیں سے آیت کے صدر و ذیل کی مناسبت یعنی ”و اللہ رؤف بالعباد“ کا مفہوم آشکار ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اس قسم کے انسانوں کا لوگوں میں وجود اپنے بندوں پر خدا کی رافت و مہربانی کا مظہر ہے اس لیے کہ اگر ایسے فداکار، اپنی پرواہ نہ کرنے والے جانباز ان پست عناصر کے مقابلے میں نہ ہوتے تو ارکان دین اور اسلامی معاشرہ پاش پاش ہوجاتا لیکن پروردگار مہربان ہمیشہ ان فداکار اور جانثار دوستوں کے ذریعے دشمنوں کی تباہ کاریوں کا ازالہ اور تلافی کرتا ہے۔ جیسا کہ سورہ حج کی آیہ ۴۰ میں ہے: ”و لولا دفع اللہ الناس بعضہم ببعض لہدمت صوامع و بیع و صلوات و مساجد“ اگر خدا ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعے دفع نہ کرتا تو عبادت خانے، گرجے، یہودیوں کے عبادت خانے (گھر) اور مسجدیں سب ویران ہوجاتیں۔ یہ نفع بخش معاملہ جو خدا والوں نے اپنے پروردگار کے ساتھ کیا ہے۔ قرآن کی دوسری آیات میں بھی مذکور ہے مثلا سورہ توبہ کی آیہ ۱۱۱ میں ارشاد ہوتا ہے: ” ان اللہ اشتری من المومنین انفسہم و اموالہم بان لہم الجنة یقاتلون فی سبیل اللہ فیقتلون و یقتلون۔۔۔“ خدا مومنین سے ان کے نفوس اور مال خریدتا ہے تا کہ اس لے بدلے انہیں جنت دے دے، وہ راہ خدا میں جنگ کرنے، قتل کرتے اور قتل ہوتے ہیں۔۔۔ محل بحث آیت حضرت علی کی ایک بہت بڑی فضیلت ہے جس کا ذکر اکثر اسلامی کتب میں آیا ہے۔ یہ فضیلت اس قدر عظیم اور نگاہوں میں کھبنے والی ہے کہ معاویہ جیسا خاندان رسالت کا سخت ترین دشمن بھی اس پر اتنا بے چین ہوا کہ اس نے سمرہ بن جندب کو چار لاکھ روپے کی پیش کش کرکے کہا کہ اس آیت کو جعلی حدیث کے ذریعے عبد الرحمن ابن ملجم کی فضیلت میں بیان کرو۔ اس ظالم منافق نے بھی ایسا کر دیا لیکن حسب توقع اس بناوٹی حدیث کو ایک شخص نے بھی قبول نہیں کیا۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ اس آیت میں بیچنے والا انسان ہے اور خرید نے والا خدا ہے۔ مال و متاع نفس و جان ہے اور اس کی قیمت خوشنودی پروردگار ہے۔ یہ آیت دیگر ان آیات سے مختلف ہے جن میں لوگوں کی خدا سے تجارت بیان کی گئی ہے۔ وہاں قیمت بہشت اور دوزخ سے نجات ہے لیکن زیر نظر آیت میں مذکور گروہ جنت کو نظر میں لاتے ہیں نہ دوزخ سے خوف زدہ ہیں )اگر چہ یہ دونوں چیزیں بڑی اہم ہیں) بلکہ ان کی پوری توجہ پروردگار کی خوشنودی کے حصول کی طرف ہے اور یہ سب سے بلند معاملہ ہے جو انسان انجام دے سکتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آیت ”من تبعیضیة“ یعنی ”و من الناس“ سے شروع ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ افراد ہی ہیں جو یہ فوق العادہ کام کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ جب کہ دوسری آیات جن میں جان کے معاملے کے سلسلے میں جنت کا حصول یا جہنم سے نجات کا ڈر ہے اور ان میں عمومیت اور ملکیت کے پہلو کو مد نظر رکھا گیاہے۔ اشتری من المؤمنین میں اسی طرف اشارہ ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 209 کے تحت ملاحظہ کریں۔
عالمی و آشتی صرف ایمان کے سائے میں ممکن ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1”سلم“ اور ”سلام“ لغت میں صلح و آشتی کے معنی میں ہے۔ یہ آیت تمام لوگوں کو امن و صلح کی دعوت دیتی ہے۔ آیت کا روئے سخن چونکہ مومنین کی طرف ہے اس لیے اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ صلح و آسائش صرف ایمان کے سائے میں ممکن ہے۔ ایمان کے بغیر یعنی مادی قوانین کے بھروسے پر دنیا سے جنگ و جدال اور پریشانی اور اضطراب کا ہرگز خاتمہ نہیں ہو سکتا۔ ایمان کی معنوی قوت کے ذریعے اس بات کا امکان ہے کہ انسان تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آپس میں بھائیوں کی طرح مل بیٹھیں اور عالمی حکومت تشکیل دیں۔ اس طرح ہر دھرتی پر صلح و آشتی کے ٹھنڈے سائے ڈالے جا سکتے ہیں۔ واضح ہے کہ مادی امور مثلا زبان، نسل و دولت، جغرافیائی حدود اور طبقہ بندی سب کی سب جدائی اور پراگندگی کے سرچشمے ہیں۔ ان کے ذریعے حقیقی عالمی امن قائم نہیں ہو سکتا کیونکہ حقیقی امن تو قلوب انسانی میں کسی محکم رشتے کا محتاج ہے اور یہ محکم رشتہ اتصال صرف خدا پر ایمان کا نام ہے۔ یہی رشتہ تمام اختلافات سے بلند و بالا ہے۔ اسی لیے امن و صلح، ایمان کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ جیسا کہ خود انسانی وجود میں اور اس کی روح میں اطمینان اور آسودگی ایمان کے بغیر میسر نہیں آسکتی۔ ”و لا تتبعوا خطوات الشیطان“ اسی سورہ کی آیہ ۶۷ میں اشارہ ہو چکا ہے کہ کجرویاں اور شیطانی وسوسے تدریجی طور پر رونما ہوتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک قرآنی تعبیر کے مطابق شیطان کے ایک قدم کی پیروی ہے۔ یہاں بھی اسی حقیقت کا تکرار کیا گیا ہے کہ انحراف حق، دشمنی، عداوت، نفاق، جنگ اور خوں ریزی، انسان کے مزاج میں آہستہ آہستہ داخل ہوتے ہیں۔ صاحب ایمان افراد کو پہلے سے بیدار رہنا چاہئیے تاکہ وہ ان برائیوں کا مقابلہ کر سکیں۔ عربوں کی ایک مشہور ضر ب المثل ہے: ”ان بدو القتال اللطام“ یعنی: ”ایک تباہ کن جنگ کی ابتداء، ایک تھپڑ سے ہوتی ہے۔“ ”انہ لکم عدو مبین“ شیطان کی انسان سے دشمنی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ابتدائے آفرینش حضرت آدم علیہ السلام سے وہ انسان کی دشمنی کے لیے کمربستہ ہے اور اس نے سوگند کھا رکھی ہے کہ وہ اس دشمنی کو اپنے حتمی نتیجے تک پہنچانے کے لیے زیادہ سے زیادہ کوشش کرے گا۔ لیکن جیسا کہ اپنے مقام پر ہم کہہ چکے ہیں کہ یہ تضاد اور عداوت باایمان لوگوں کو نقصان نہیں پہنچاسکتی۔ بلکہ یہ ان کے تکامل و ارتقاء کے لیے ایک رمز ہے۔ ”فان زللتم من بعد ما جائتکم البینات“ پروگرام ، راستہ اور مقصد سب واضح ہیں تو پھر لغزشوں اور شیطانی وسوسوں کی گنجائش ہونا چاہئیے لیکن اگر تم ان سب چیزوں کے با وصف راستے سے ہٹ جاؤ۔ کجروی اختیار کر لو تو مسلم ہے کہ اس میں تمہاری ہی کوتاہی ہے اور جان لو کہ خدا بھی عزیز (صاحب قدرت اور توانا) ہے اور کوئی شخص اس کی عدالت سے فرار اختیار نہیں کر سکتا اور وہ حکیم بھی ہے، خلاف عدالت کوئی حکم اور فیصلہ صادر نہیں کرتا۔
کیا خدا اور فرشتے اُن کے پاس آئیں؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 1یہ آیت اگرچہ قرآن کی پیچیدہ آیات میں سے نظر آتی ہے لیکن آیت کی تعبیرات میں دقت نظر اور غور و خوض سے ابہام دور ہو جاتا ہے ۔ اس آیت میں صدائے سخن پیغمبر کی طرف ہے۔ گزشتہ بحث کے بعد خداوند عالم فرماتا ہے کیا یہ سب نشانیاں اور واضح دلائل انسان کو لغزش سے بچانے اور عدو مبین (شیطان) کے چنگل سے نجات دلانے کے لیے کافی نہیں ہیں؟ کیا وہ منتظر ہیں کہ خداوند عالم فرشتوں کی ہمراہی میں سایہ فگن بادلوں کی اوٹ میں ان کی طرف آئے اور انہیں زیادہ واضح دلائل پیش کرے؟ ایسا ہونا تو محال ہے کیونکہ خدا جسم نہیں ہے اور بفرض محال ایسا ہو بھی تو اس کی ضرورت کیا ہے جب کہ تمام چیزیں انجام پا چکی ہیں اور کوئی فروگذاشت واقع نہیں ہوئی (و قضی الامر) اور تمام چیزوں کی بازگشت خدا کی طرف ہے اور سب امور کا سرانجام وہی ہے (وَإِلَی اللهِ تُرْجَعُ الْاٴُمُور)۔ اس بناء پر آیت کی ابتدا میں آنے والا ا ستفہام، استفہام انکاری ہے۔ یعنی ایسا ہونا ممکن نہیں (علاوہ ازیں ہم کہہ چکے ہیں کہ اس کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ انسانی ہدایت کی ضرورت کو پہلے ہی پورا کیا جا چکا ہے)۔ اس تفسیر کی بناء پر آیت میں کسی قسم کی ”تقدیر“ موجود نہیں اور آیت کے اصل الفاظ کی تفسیر یہی ہے لیکن مفسرین کی ایک جماعت نے اس استفہام انکاری کی حیثیت سے تسلیم نہیں کیا اور اسے گناہگاروں اور شیطانی پروگراموں کی پیروی کرنے والوں کے لیے ایک طرح کی تہدید قرار دیا ہے (ان کے نزدیک یہ عذاب دنیا یا عذاب آخرت کی ایک دہمکی ہے)۔ وہ لفظ "اللہ" سے پہلے لفظ ’امر‘ کو مقدر سمجتے ہیں۔ اس سے آیت کا مجموعی مفہوم اور معنی یہ ہوگا: کیا وہ ٹیڑھے اعمال بجا لا کر چاہتے ہیں کہ خدا کا حکم اور فرشتے انہیں سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے آ پہنچیں، وہ دنیا و آخرت کے عذاب میں گرفتار ہو جائیں اور ان کے کام کا خاتمہ ہو جائے۔ جب کہ ان کے اعمال کا اس کے علاوہ اور کوئی نتیجہ بھی نہ ہوگا۔
بنی اسرائیل کی روش اور طور طریقے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1یہ آیت بنی اسرائیل کی روش اور طور طریقوں کے بارے میں ہے کہ وہ واضح آیات اور نعمات الہی کے حصول کے بعد کیسے انہیں بدل دیتے تھے۔ کفران نعمت کرتے تھے اور نتیجے کے طور پر وہ عذاب میں گرفتار ہو گئے۔ نعمت کی تبدیلی___ کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے پاس موجود وسائل، توانائیاں اور مادی و معنوی صلاحتیں تخریبی اور انحرافی راستوں، گناہ اور ظلم و ستم میں استعمال کرے۔ خداوند عالم نے بنی اسرائیل کو روحانی مربی بھی عطا فرمائے، ان میں سے طاقتور سربراہ بنائے اور ہر قسم کے مادی و معنوی اسباب ان کے تصرف میں دیے لیکن وہ نعمت کی تبدیلی میں گرفتار ہو گئے۔ اسی سے ان کی زندگی تباہ و برباد ہو گئی اور قیامت میں بھی دردناک عذاب ان کے انتظار میں ہے۔ نعمت کی تبدیلی کا مسئلہ بنی اسرائیل میں منحصر نہیں۔ اس زمانے میں بھی دنیائے صنعت اس عظیم بدبختی میں مبتلا ہے کیونکہ انسان کے اختیار میں اگرچہ آج بہت سی نعمتیں اور توانائیاں ہیں جو تاریخ کے کسی دور میں بھی انسان کو نصیب نہیں ہوئیں لیکن انبیاء و مرسلین کی آسمانی تعلیمات سے دوری کی وجہ سے وہ تبدیلی نعمت کے عمل میں گرفتار ہے اور ان ہی نعمتوں کو وحشت ناک حد تک اپنی فنا اور نابودی کی راہ میں صرف کر رہا ہے۔ ”سل بنی اسرآئیل“ ۔۔۔ یہ جملہ حقیقت میں اس لیے ہے کہ ان سے نعمات الہی کا اعتراف کروایا جائے اور اس کے بعد انہیں پوچھا جائے کہ ان وسائل و ذرائع کے باوجود ایسا روز سیاہ تمہیں کیوں نصیب ہوا اور کیوں آج تم دنیا میں پراگندہ و منتشر ہو۔
روسائے قریش
Tafsīr Nemūna · Vol. 1مشہور اسلامی مفسر ابن عباس کہتے ہیں کہ یہ آیت اشراف اور روسائے قریش کے ایک مختصر گروہ کے بارے میں نازل ہوئی کہ جن کی زندگی بہت شاہ خرچ اور خوشحال تھی۔ وہ صدر اول کے ثابت قدم عمار اور بلال جیسے مومنین کا تمسخر اڑاتے تھے کیونکہ وہ مادی لحاظ سے فقر اور تہی دست تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اگر پیغمبر کی کوئی شخصیت ہوتی اور وہ خدا کی طرف سے مبعوث ہوتے تو اشراف اور بڑے لوگ ان کی پیروی کرتے۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی جس میں ان کی بے بنیاد باتوں کا جواب دیا گیا ہے۔
کافروں کی نگاہ کا افق، مادی دنیا کی چاردیواری تک محدود ہے
مذکورہ بالا شان نزول کے مطابق آیت قریش کے خودخواہ اور دنیا پرست اشراف کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن یہ امر اس سے مانع نہیں کہ یہ گذشتہ آیت کی بحث کی تکمیل کرتی ہے جو یہودیوں کے بارے میں تھی نیز یہ اس سے بھی مانع نہیں کہ یہ ایک کلیہ قاعدہ کے طور پر ہے اور ایک عمومی حکم جو سب کے لیے ہے، بیان کرتی ہے۔ اس کا عمومی مفہوم یہ ہے کہ کافروں کی نگاہ کا افق مادی دنیا کی چار دیواری سے بالاتر نہیں ہے۔ اس لیے ان کے لیے مادی زندگی بہت دلپذیر، خوبصورت اور زیبا ہے اور یہی زندگی ان کے نزدیک تمام قدروں کی قدر و قیمت کا تعین کرنے کے لیے ایک مقیاس و میزان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی پسماندہ، بیمار اور علیل فکر کے مطابق دولت و ثروت سے تہی افراد کی کوئی حیثیت و شخصیت نہ تھی لہذا وہ ان کا مذاق اڑاتے اور تمسخر کرتے۔ معنوی و انسانی اقدار ان کی نظر میں ہیچ تھیں حالانکہ ان دو طرح کی اقدار میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ان کی کوتاہ نظر ان بلندیوں اور زیبائشوں کو دیکھنے کی قدرت نہ رکھتی تھی۔ ان کے جواب میں قرآن دو نکات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
دوسرے جہان میں روحانی حقائق اپنی اصلی صورت میں
۱۔ دوسرے جہان میں جہاں معنوی اور روحانی حقائق اور کمالات اپنی اصلی اور حقیقی صورت اختیار کر لیں گے، وہاں مومنین ان سے بلند درجات پر فائز ہوں گے کیونکہ یہ زمین کے تہوں میں چل رہے ہوں گے اور وہ آسمان کے اوپر ہوں گے ”وَالَّذِینَ اتَّقَوْا فَوْقَہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ“۔
مادی فواید سے لطف اندوز ہونا ایمانی قدر و قیمت کی علامت نہیں
۲۔علاوہ ازیں مادی فواید سے لطف اندوز ہونا کسی کی منزلت کی نشانی اور ایمانی قدر و قیمت کی علامت نہیں ہے کیونکہ اس جہاں میں روزی کی تقسیم کفر و ایمان اور معنوی و انسانی اقدار کی بنیاد پر نہیں ہے۔ ”وَاللهُ یَرْزُقُ مَنْ یَشَاءُ بِغَیْرِ حِسَاب“۔ آیت کے اس جملے میں ممکن ہے ایک اور معنی کی طرف بھی اشارہ ہو کہ ان محرومیوں کی تلافی خداوند عالم یوں کرتا ہے کہ ان سے محروم افراد گناہ اور حرام سے آلودہ ہونے سے بچ جاتے ہیں یا پھر مخالفوں اور دشمنوں سے پر ماحول میں بھی وہ ایمان لے آتے ہیں جس کے نتیجے میں انہیں آخرت کے گھر میں بے حساب رزق بخشا جائے گا۔ یہاں ایک سوال باقی رہ جاتا ہے۔ وہ یہ کہ زین (زینت دیا گیا) ۔۔۔۔ یہ لفظ فعل مجہول ہے، اس سے یہاں کیا مراد ہے اور اس کا فاعل کون ہے۔ کون ہے جو دنیاوی زندگی کو کافروں کی نگاہ میں زینت دیتا ہے۔ اس سوال کا جواب سورہ آل عمران کی آیہ ۱۴ کے ذیل میں ملاحظہ کیجئے گا۔
وحدت کے حصول کا راستہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ابتداء میں انسان کی زندگی اور معاشرہ سادہ تھا۔ رفتہ رفتہ جب انسانوں کی تعداد بڑھنے لگی ۔ منافع کا تضاد ابھرا اور اختلافات پیدا ہونے لگے۔ یہ مقام وہ تھا کہ راہنما اور قانون کی ضرورت پیدا ہوئی۔ سب سے پہلے ضروری تھا کہ خدا کے بھیجے ہوئے نمائندے لوگوں کو دوسرے جہاں کی زندگی کی طرف متوجہ کریں جو سیر تکامل اور سفر ارتقاء کا آخری مرحلہ ہے۔ ضروری تھا کہ وہ انہیں متنبہ کریں کہ موت کے بعد ایک اور جہاں ہے جس میں لوگ اپنے کردار کی جزا و سزا سے دوچار ہوں گے انبیاء کرام اس ذریعے سے اور ثواب کی بشارت اور بدکاروں کو عذاب سے ڈرانے کے طریقے سے لوگوں کو احکام الہی کی طرف راغب کرتے تھے (فبعث اللہ النبیین مبشرین و منذرین)۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان محسوس کرتاہے کہ اسے ایسے صحیح قوانین کی ضرورت ہے جو اس کی سعادت کا سبب بنیں۔ اسی لیے خداوند الم نے انبیاء کے پاس سعادت بخش قوانین بھیجے تا کہ وہ لوگوں کے اختلافات کو ختم کریں۔ در حقیقت زیر نظر آیت ان مراحل کو بیان کرتی ہے جو انبیاء کی بعثت اور آسمانی احکام کے نزول پر منتھی ہوتے ہیں۔ پہلا مرحلہ:۔ یہ مرحلہ ابتدائی سادہ زندگی پر مشتمل ہے جب انسان اجتماعی زندگی کا عادی نہ ہواتھا اور فطرتا تضاد اور تصادم وقوع پذیر نہ ہوتا تھا۔ قانون فطرت کے مطابق خدا کی پرستش ہوتی تھی اور اس کے آسان و سادہ فرائض اس کی بارگاہ میں انجام دیئے جاتے تھے۔ دوسرا مرحلہ:۔ یہ وہ مرحلہ ہے جب انسانی زندگی اجتماعی شکل اختیار کرلیتی ہے اور ایسا ہی ہونا چاہئیے تھا کیونکہ انسان تکامل و ارتقاء کے لیے پیدا کیاگیاہے اور اس تکامل کے لیے اجتماعی و معاشرتی زندگی ناگزیر ہے۔ تیسرا مرحلہ:۔ یہ تضاد و تصادم کا مرحلہ ہے اور معاشرتی زندگی میں اس سے بچا نہیں جاسکتا۔ اختلاف پیدا ہوتے ہیں اور نوع انسانی کے لیے انبیاء کے قوانین اور تعلیمات کی تشنگی محسوس ہوتی ہے۔ چوتھا مرحلہ:۔ اس مرحلے میں انبیاء خدا کی طرف سے نجات بشر کے لیے مامور کئے جاتے ہیں۔ افکار اور قلوب کو آمادہ کرنے کے لیے سب سے پہلے بشارت و نذارت کا پروگرام پیش کیاجاتاہے ( یہ نیکوکاروں کو جزا کی بشارت دینے اور بدکاروں کو سزا سے ڈرانے کا پروگرام ہے) حب ذات اور خود پرستی کے زیر سایہ جب انسان نے بشارت اور نذارت کا پروگرام تسلیم کرلیا اور اس نے محسوس کرلیا کہ انبیاء کے پاس ایسی تعلیم ہے جو انسانی سرنوشت سے براہ راست مربوط ہے تو آسمانی کتب ، احکام اور قوانین نازل ہونا شروع ہوئے تا کہ تضادات اور مختلف کشمکشیں (جو فکری، اجتماعی، اخلاقی اور نظریاتی بنیادوں پر تھیں ) ختم ہوجائیں۔ ”وَمَا اخْتَلَفَ فِیہِ إِلاَّ الَّذِینَ اٴُوتُوہُ مِنْ بَعْدِ مَا جَائَتْہُمْ الْبَیِّنَاتُ بَغْیًا “ یہ جملہ در اصل تعلیمات انبیاء کے آغاز کے بعد کے مرحلے کی طرف اشارہ کرتاہے۔ اس میں اس اعتراض کا جواب ہے کہ اگر انبیاء فکری ، اجتماعی اور عقائد کے اختلافات کے حل کے لیے آتے ہیں تو ان کے آجانے کے بعد بھی کم و بیش اختلافات کیوں باقی رہتے ہیں۔ آیت کہتی ہے کہ موجودہ اختلاف اور پہلے تضاد میں فرق ہے۔ پہلے اختلافات کا سرچشمہ جہالت، نادانی اور بے خبری تھی اور یہ وجہ بعثت انبیاء سے ختم ہوگئی۔ لیکن بعد ازاں اختلافات کی بنیاد دیگر چیزیں مثلا ”بغی“ یعنی ظلم و ستم، ہٹ دھرمی و غیرہ بن گئیں جن کی وجہ سے بعض لوگوں نے اختلافی راہ پر اپنے سفر کو جاری رکھا ”(مِنْ بَعْدِ مَا جَائَتْہُمْ الْبَیِّنَاتُ بَغْیًا بَیْنَہُم“) یہاں آکر لوگ دو مختلف گروہوں میں بٹ گئے۔ مومنین۔۔۔ جو ہدایت اور حق کی راہ پرچل کھڑے ہوئے۔ انہوں نے اپنے اختلافات کو ختم کردیا (فہدی اللہ الذین امنوا۔۔۔۔۔۔)۔ انہوں نے بحکم خدا صراط مستقیم کو طے کرلیا۔ لیکن ۔۔۔۔ کفار۔۔۔جوں کے توں اپنے اختلافات میں باقی ہیں۔ وَاللهُ یَہْدِی مَنْ یَشَاءُ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیم “ یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ خدا کی مشیت نیک اعمال اور لوگوں کی پاکیزگی کے مطابق ہے یعنی جو افراد حقیقت تک پہنچنا چاہتے ہیں خدا بھی انہیں راہ راست کی ہدایت کرتاہے۔ انکی روشن فکری اور راہ راست کو پالینے کی توفیق میں اضافہ کرتاہے اور انہیں انبیاء کی وساطت سے راہ نجات اور راہ راست دکھاتا ہے
دین اور معاشرہ
مندرجہ بالا آیت سے ضمنی طور پر یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ دین اور انسانی معاشرہ دو ایسی حقیقتیں ہیں جو ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتیں۔ کوئی معاشرہ مذہب اور قیامت پر ایمان رکھے بغیر صحیح زندگی نہیں گزار سکتا۔ ایسے انسانی قوانین جن کا سرچشمہ ایمان نہیں وہ فقط ذاتی ذمہ داریوں کی نشاندہی تک محدود ہیں۔ وہ انسانی وجود پر گہرا اثر مرتب نہیں کرتے۔ ایسے قوانین اختلافات اور منافع کی تضاد کو ختم نہیں کر سکتے۔ ان آخری صدیوں کی آزمائشوں میں انسانی معاشروں میں یہی حقیقت اچھی طرح ثابت ہو چکی ہے۔ ایمان سے بے بہرہ وہ دنیا جسے اصطلاح میں متمدن کہا جاتا ہے، بہت سی ایسی قباحتوں اور گناہوں کی مرتکب ہو رہی ہے جو تھوڑا بہت ایمان رکھنے والے گذشتہ پس ماندہ معاشروں میں دکھائی نہیں دیتے۔ زیر نظر آیت سے ضمنا یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ حقیقی دین و مذہب کی پیدائش انسانی پیدائش کے ساتھ ساتھ نہیں ہوئی بلکہ معاشرے کے وجود کے ساتھ حقیقی دین و مذہب بھی وجود پذیر ہوا۔ ا س بناء پر اس میں کوئی تعجب نہیں کہ سب سے پہلے اولوالعزم اور صاحب دین و شریعت پیغمبر حضرت نوح علیہ السلام تھے نہ کہ حضرت آدم علیہ السلام۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1بعض مفسرین کہتے ہیں جنگ احزاب میں جب مسلمانوں پر ڈر اور شدید خوف غالب آیا اور وہ محاصرے میں آ گئے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ اس میں انہیں صبر و استقامت کی دعوت دی گئی اور نصرت و مدد کا وعدہ کیا گیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنگ احد میں جب مسلمان شکست کھا گئے تو عبداللہ ابن ابی نے ان سے کہا کہ کب تک اپنے آپ کو قتل کرواتے رہو گے۔ اگر محمد پیغمبر ہوتا تو خدا اس کے اصحاب و انصار کو قید و بند اور قتل میں گرفتار نہ کرتا۔ اس موقع پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی۔
سخت حوادث خدائی سنت ہیں
مندرجہ بالا آیت سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ مومنین کا ایک گروہ یہ سمجھتا تھا کہ جنت میں داخل ہونے کا حقیقی عامل اور سبب یہ ہے کہ خدا پر ایمان کا صرف اظہار کر دیا جائے اور اس کے بعدا انہیں کسی قسم کی تکلیف، زحمت اور رنج و الم اٹھانے کی ضرورت نہیں، ان کی کوششوں کے بغیر ہی خدا ان کے امور کو راہ پر ڈال دے گا اور ان کے دشمنوں کو نابود کر دے گا۔ اس غلط طرز فکر کے مقابلے میں قرآن حقیقی سنت اور خدا کی دائمی روش کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ قرآن کے مطابق تمام مومنین کو راہ ایمان میں پیش رفت کے لیے مشکلات اور تکالیف کا استقلال کرنا پڑے گا۔ اس راہ میں فداکاری کرنا پڑے گی۔ یہ مشکلات تو در اصل آزمائش اور امتحان ہیں۔ ان کے ذریعے حقیقی اور غیر حقیقی ایمان میں امتیاز پیدا ہوتا ہے۔ قرآن اس حقیقت کی بھی تصریح کرتا ہے کہ یہ آزمائشیں اور مشکلات عمومی قوانین کے تحت ہیں۔ اسی بناء پر گذشتہ امتیں بھی ان سے دوچار ہوئیں۔ مثلا فرعونیوں کے استعمار سے نجات کے لیے بنی اسرائیل کو خاص طور پر مصر سے نکلنا پڑا۔ وہ دریا اور لشکر فرعون کے درمیان گھر گئے تھے جس کی وجہ سے وہ بہت سی مشکلات اور مصائب میں گرفتار ہوئے۔ یہاں تک کہ ان میں سے بہت سے تو اپنے ہاتھ پاؤں گنوا بیٹھے۔ لیکن سخت لمحات میں خدا کا لطف ان کے شامل حال ہوا۔ انہیں دشمنوں پر کامیابی نصیب ہوئی۔ یہ بات بنی اسرائیل سے مخصوص نہ تھی۔ مندرجہ بالا آیت میں الذین خلوا من قبلکم (وہ جو تم سے پہلے گزرے ہیں)کے الفاظ اسی امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اس نظر سے تو سب کی سرنوشت ایک جیسی تھی۔ گویا یہ ایک سنت الہی ہے جو تکامل ارتقاء اور تربیت کی ایک رمز ہے ۔ تمام امتوں کو حوادث کی سخت بھٹیوں میں ڈالا جانا چاہئیے، انہیں پگھل کر فولاد کی طرح بھٹی سے باہر آنا چاہئیے اور پھر زیادہ اہم اور سخت تر حوادث سے دوچار ہونے کے لیے تیار رہنا چاہئیے تا کہ زیادہ قابل افراد پہچانے جا سکیں اور نااہل لوگ الگ ہو جائیں۔ اس طرح تصفیہ و تطہیر ہو جائے۔ دوسرا نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ دی جانا چاہئیے وہ یہ ہے کہ آیت کے مطابق گذشتہ امتوں کو شدائد اور مشکلات اس طرح گھیر لیتی تھیں کہ اہل ایمان اور انبیاء ہم صدا ہو کر کہتے تھے: خدا کی مدد کہاں ہے؟ واضح ہے کہ ان کی مراد بارگاہ قدرت پر اعتراض کرنا نہ تھی بلکہ یہ تعبیر خود ایک قسم کی دعا اور تقاضا ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1عمرو بن جموع ایک بوڑھا رئیس اور دولت مند تھا۔ اس نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ کس چیز سے اور کس کس کو صدقہ دوں۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔
بہت سی آیات راہ خدا میں خرچ کرنے
قرآن مجید میں بہت سی آیات راہ خدا میں خرچ کرنے کے بارے میں آئی ہیں۔ پروردگار عالم مختلف طریقوں سے مسلمانوں کو خرچ کرنے اور محتاج و بے نوا لوگوں کی مدد کرنے کا شوق دلاتا ہے لیکن محل بحث آیت کی وضع کچھ اور ہی ہے۔ بعض افراد چاہتے تھے کہ انہیں معلوم ہو جائے کہ کس قسم کا مال خرچ کیا جائے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا کچھ خرچ کریں۔ جواب میں اس سوال کی وضاحت کے علاوہ ایک اور اہم مسئلہ کی طرف بھی اشارہ ہوا ہے اور وہ ہے مواقع اور اشخاص جن پر خرچ کرنا چاہئیے۔ آیت کی شان نزول سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں مسئلے (کیا کچھ خرچ کریں اور کن کن پر خرچ کریں) محل سوال تھے۔ پہلے معاملے کے ذیل میں خرچ کرنے کے لیے ”خیر“ کا لفظ استعمال کر کے سوال کا ایک کامل، جامع اور وسیع جواب دیا گیا ہے۔ یعنی ہر قسم کا کام، سرمایہ اور موضوع جو خیر ہو اور لوگوں کے لیے سودمند ہو، خرچ کرنے کے قابل ہے۔ اس میں ہر طرح کا مادی و معنوی سرمایہ شامل ہے۔ سوال کے دوسرے رخ کے ضمن میں یعنی کن کن پر خرچ کیا جائے، فرمایا گیا ہے کہ سب سے پہلے نزدیکی رشتے داروں پر اور ان سے بھی پہلے ماں باپ پر خرچ کیا جائے۔ اس کے بعد یتیم، مساکین اور ابنائے سبیل (وہ مسافر جو دوران سفر میں اپنا زاد راہ خرچ کر بیٹھے ہوں) پر خرچ کیا جائے۔ واضح ہے کہ نزدیکی رشتے داروں پر خرچ کرنا دیگر آثار کے علاوہ صلہ رحمی اور رشتے ناتوں کے استحکام کا بھی باعث بنتا ہے۔ ”وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَیْرٍ فَإِنَّ اللهَ بِہِ عَلِیم۔“ یہ جملہ تو گویا اس مطلب کی طرف اشارہ ہے کہ خرچ کرنے والے اس بات پر اصرار نہ کریں کہ لوگ ان کا کام جان لیں۔ کیا ہی عمدہ ہے کہ زیادہ خلوص کی بنا پر اپنی عنایات اور عطیات کو پنہاں رکھیں کیونکہ وہ ذات جو بدلہ اور ثواب دے گی، ان سب چیزوں سے آگاہ ہے۔ اسی کے ہاتھ میں جزا ہے اور اسی کے پاس سب کا حساب ہے۔
ماہ حرام میں جنگ کرنے کے بارے میں
Tafsīr Nemūna · Vol. 1گذشتہ آیت انفاق اور خرچ کے بارے میں تھی اور یہ آیت خون اور جان کی قربانی پیش کرنے کے بارے میں ہے۔ فداکاری کے میدان میں یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کے دوش بدوش ہیں۔ آیت بیان کرتی ہے کہ دشمن سے جنگ کرنا تمہارے لیے حکما ضروری ہے۔ اس عمل کا بجا لانا تمہارے لیے لکھ دیا گیا ہے اور واجب قرار دے دیا گیا ہے لیکن انسان کو فطری طور پر سختی کے مواقع پر تکلیف ہوتی ہے اور وہ شدائد اور مشکلات کو پسند نہیں کرتا۔ اس کی رغبت خوشی اور راحت و آرام کی طرف زیادہ ہوتی ہے۔ عسی ان تکرھوا شیئا و ہو خیر لکم یہ جملہ اسی انسانی مزاج کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ دشمن سے جنگ اور نبرد آزمائی کا نتیجہ موت، جسمانی تکلیف اور مالی نقصان ہوتا ہے۔ جنگ بد امنی اور بے آرامی کا باعث بنتی ہے۔ اس لیے اصولی طور پر انسان کی نظر میں یہ سخت اور ناپسندیدہ ہے۔ لیکن ہمیشہ کچھ ایسے فداکار ضرور ہوتے ہیں جو مقدس مقاصد کیلئے کسی قسم کی جان کی بازی سے دریغ نہیں کرتے لیکن اکثر لوگ مذکورہ وجوہات کی بنا پر جہاد کو پسند نہیں کرتے۔ پروردگار عالم قطعی لب و لہجہ میں اس طرز فکر کی مذمت کرتا ہے۔ خدا تعالی ان کے سامنے ایک دریچہ نہاں کھولتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ تم کاموں کے مصالح سے باخبر نہیں ہو۔ تمہیں یہ کیسے پتہ چلا کہ تمہاری پسندیدہ چیز کے پیچھے شر اور تمہاری ناپسندیدہ چیز کے پیچھے خیر نہیں ہے۔ خدا ہی اسرار مخفی سے آشنا ہے۔ البتہ مسلم ہے کہ محنتی اور زیرک لوگ (نہ کہ سطحی نظر رکھنے والے) ان احکام کے بعض اسرار سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔ یہ آیت خدا کے تکوینی اور تشریعی قوانین کی ایک بنیاد کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ان قوانین کے پیش نظر، یہ آیت انسان میں انضباط اور تسلیم کی روح کی پرورش کرتی ہے۔ آیت کے مطابق انہیں یہ نہیں چاہئیے کہ انسان اپنی تشخیص و دریافت کا دار و مدار قضاوت اور فیصلے پر رکھے۔ یہ مسلم ہے کہ انسان کا علم ہر لحاظ سے محدود اور ناچیز ہے۔ انسانی مجہولات کے مقابلے میں انسانی علم دریا کے سامنے قطرے کی طرح ہے۔ اس لیے وہ قوانین جن کا سرچشمہ علم الہی ہے اور جو ہر لحاظ سے لامتناہی ہے، انسان کو اس سے کبھی روگردانی نہیں کرنی چاہئیے۔ بلکہ انسان کو جان لینا چاہئیے کہ یہ تمام قوانین اس کے فائدے اور منفعت کے لیے ہیں چاہے وہ تشریعی قوانین و احکام ہوں جیسے جہاد اور زکوة وغیرہ یا تکوینی ہوں جو بلااختیار زندگی میں رونما ہوتے ہیں اور ان سے بچنا ممکن نہیں جیسے موت، دوستوں اور عزیزوں کی مصیبت یا آئندہ کے اسرار کا انسان سے مخفی ہونا وغیرہ۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 218 کے تحت ملاحظہ کریں۔
عبد اللہ بن جحش کا سریہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 1کہتے ہیں یہ آیت عبد اللہ بن حجش کے سریہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔[سریہ اسلامی جنگ کرنے والے اس گروہ کو کہتے ہیں جس میں خود پیغمبر شریک نہ ہوں۔ بعض کے نزدیک پانچ سے تین سو افراد تک کے لشکر کو سریہ کہتے ہیں۔ توجہ رہے کہ ”سریہ“، ”سری“ سے ہے جس کا معنی ہے نفیس اور گراں بہا چیز چونکہ جس لشکر کے ذمے یہ امر ہو وہ خصوصی اور منتخب ہوتا ہے لہذا اسے یہ نام دیا گیا ہے۔ مطرزی کہتا ہے ”سریہ“، ”سری“ سے ہے اور اس کا معنی ہے رات کو چلنا۔ ایسے لشکر چونکہ عموما رات کو چلتے تھے اسے اس لیے ”سریہ“ کہتے ہیں۔ ملتقطات میں اس بات کو قبول کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ”سریہ“ اس دستے کو کہتے ہیں جو رات کے وقت روانہ ہو۔] واقعہ کچھ یوں ہے: جنگ بدر سے پہلے پیغمبر اسلام ﷺ نے عبد اللہ بن جحش کو بلایا۔ اسے ایک خط دیا اور مہاجرین میں سے آٹھ آدمی اس کے ساتھ کئے۔ اُسے حکم دیا کہ دو دن راستہ چلنے کے بعد خط کو کھولنا اور اس کے مطابق عمل کرنا۔ اس نے دو دن کے سفر کے بعد خط کھولا تو اس میں لکھا تھا۔ جب خط کھولو تو نخلہ (مکہ اور طائف کے درمیان ایک جگہ) تک آگے جانا۔ وہاں قریش کے حالات پر نظر رکھنا اور جو کچھ صورت حال ہو ہمیں اُس کی اطلاع دینا۔ عبد اللہ نے اپنے ساتھیوں سے واقعہ بیان کیا اور مزید کہا کہ پیغمبر نے راہ پر چلنے کے لیے تمہیں مجبور کرنے سے منع کیا ہے اس لیے جو شہادت کے لیے تیار ہے وہ میرے ساتھ آئے۔ دوسرے لوگ واپس چلے جائیں۔ سب اس کے ساتھ چل پڑے۔ جب وہ نخلہ پہنچے تو قریش کے ایک قافلے کا سامنا ہوا۔ اس میں عمرو بن حضرمی بھی تھا۔ ماہ رجب (جو ماہ حرام ہے) کا چونکہ آخری دن تھا اس لیے ان پر حملہ کرنے کے سلسلے میں انہوں نے آپس میں مشورہ کیا۔ بعض کہنے لگے کہ اگر آج ہم ان سے دستبردار رہے تو وہ حدود حرم میں داخل ہو جائیں گے اور پھر ہم ان سے تعرض نہیں کر سکیں گے۔ بالآخر انہوں نے ان پر بڑی بہادری سے حملہ کر دیا۔ عمرو بن حضرمی کو قتل کیا اور قافلہ دو قیدیوں کے ساتھ پیغمبر ﷺ کی خدمت میں لے آئے۔ آنحضرت نے فرمایا میں نے تمہیں یہ حکم تو نہیں دیا تھا کہ حرام مہینوں میں جنگ کرو۔ آپ نے مال غنیمت اور قیدیوں میں کوئی تصرف نہ کیا۔ مجاہدین کو بڑا رنج ہوا۔ دیگر مسلمانوں نے بھی انہیں سرزنش کی۔ مشرکوں نے بھی زبان طعن کھولی اور کہنے لگے کہ محمد ﷺ نے حرام مہینوں میں جنگ، خون ریزی اور قید و بند کو حلال شمار کیا ہے۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جب یہ آیت نازل ہو چکی تو عبداللہ بن حجش اور اس کے ساتھیوں نے یہ اظہار کیا کہ انہوں نے اس راستے میں جہاد کا ثواب حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے پیغمبر ﷺ سے پوچھا کہ کیا انہیں مجاہدین کا اجر ملے گا؟ اس پر دوسری آیت نازل ہوئی۔ (ان الذین اٰمنوا و الذین ہاجروا۔۔۔“)( سیرة ابن ھشام، جلد ۲، صفحہ ۲۵۲۔)
حرام مہینوں میں حرمت جنگ کی خبر دیتاہے
جیسا کہ شان نزول سے ظاہر ہے یہ آیت حرام مہینوں میں جہاد کے بارے میں سوالات کا جواب ہے۔ قرآن صراحت سے حرام مہینوں میں حرمت جنگ کی خبر دیتاہے اور اسے بہت بڑا گناہ شمار کرتاہے (”قل قتال فیہ کبیر“) لیکن قرآن تاکید کرتاہے کہ وہ مسلمان دستہ جس نے اشتباہ سے حرام مہینے میں جنگ کی پر اعتراض کا حق ان مشرکین کو نہیں پہنچتا جو ایسے بڑے بڑے گناہوں سے آلودہ ہیں جیسے خدا سے کفر کرنا، راہ راست کی ہدایت سے لوگوں کو روکنا، مکہ میں ٹھہرے ہوئے اور سکونت پذیر افراد کووہاں سے نکال دینا اور خدا کے حرم امن کے احترام کو پاؤں تلے روند نا جب کہ وہاں حیوانات اور گھاس تک کو محفوظ رہنا چاہئیے۔ علاوہ ازیں مشرکین فتنہ برپا کرتے ہیں یعنی فاسد ما حول پیدا کرنے کے در پے ہیں جس میں کفر اور بت پرستی کی آمیزش ہے وہ حقیقت کے متلاشی لوگوں پر دباؤ ڈال کر انہیں دین توحید کی طرف راغب ہونے سے روکنے کا گناہ کرتے ہیں۔ ان کا یہ عمل ماہ حرام میں جنگ کرنے سے بڑھ کرہے (” و الفتنة اکبر من القتل“۔) اس کے بعد قرآن کا روئے سخن مسلمانوں کی طرف ہے۔ مسلمانوں کو مشرکوں کے پرا پیگنڈا سے بچانے کے لیے قرآن انہیں متنبہ کرتاہے کہ مشرک تو ہمیشہ اس کے در پے ہیں کہ اگر ہوسکے تو تمہیں دین اسلام سے پھیرلے جائیں۔ اس سلسلے میں پیشبندی کے طور پر قرآن الارم دیتاہے کہ جو مسلمان دین حق سے پھرگیا اور حالت کفر میں جامرا، کفر کے سبب اس کے تمام نیک اعمال کا اجر اس جہان میں اور اس جہان میں باطل ہوجائے گا۔ کفر ان اعمال کو ختم کردے گا اور انکی خاصیت کو بدل دے گا۔اس بناپر ایسا شخص ہمیشہ ہمیشہ کے لیے عذاب الہی میں مبتلا رہے گا۔اس بناپر ایسا شخص ہمیشہ ہمیشہ کے لیے عذاب الہی میں مبتلا رہے گا۔ یہ آیت اس نکتے کی طرف اشارہ ہے کہ ممکن ہے بعض مجاہدین راہ خدا میں مطلع نہ ہونے کی بناپر یا کافی احتیاط نہ کرنے کی وجہ سے اشتباہات کے مرتکب ہوں۔ عبد اللہ بن جحش کا واقعہ اس کی نظریر ہے لیکن خدا ان کی بڑی خدمات اور صحیح مجاہدات کی بناء پر انہیں بخش دے گا (”و اللہ غفور رحیم“)
حبط، احباط اور تکفیر
۱۔ حبط۔۔۔ کا معنی ہے عمل باطل اور بے اثر ہو جانا جیسا کہ قرآن میں آیا ہے۔ ”و حبط ما صنعوا فیہا و باطل ما کانوا یعملون“۔ ۲۔ احباط۔۔۔ جیسا کہ متکلمین اور علماء عقائد نے کہا ہے، اس کا معنی ہے گذشتہ اعمال کا ثواب بعد کے گناہوں کی وجہ سے جاتا رہنا۔ ۳۔ تکفیر۔۔۔ اس کے بارے میں بھی کہا گیا ہے کہ اسکا مفہوم یہ ہے کہ گذشتہ گناہوں کی سزا نیک اعمال کے اثر سے ختم ہو جاتی ہے۔
کیا حبط صحیح ہے؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ کفر و ارتداد حبط عمل کا سبب ہیں۔ قرآن کی دیگر آیات اور محل بحث آیت بھی اس بات کی گواہ ہیں۔ لہذا اگر کوئی شخص حالت کفر میں دنیا سے چل بسے تو اس کے اعمال ختم ہو جاتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کفر کا گناہ اتنا زیادہ ہے کہ گذشتہ تمام تر ثواب سے بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح اگر ایمان گناہوں کے بعد ہو اور آخر عمر تک باقی رہے تو گذشتہ گناہوں کو ختم کر دیتا ہے لیکن بحث اس بات پر ہے کہ وہ صاحب ایمان افراد جنہوں نے گناہ بھی کئے ہیں اور حکم خدا کی اطاعت بھی کی ہے اور بغیر توبہ کیئے دنیا سے چلے گئے ہیں۔ ان کے برے اعمال ان کے نیک اعمال کے ثواب کو ختم کر سکتے ہیں یا نہیں۔ اس ضمن میں متکلمین اور علمائے عقائد کے درمیان اختلاف ہے۔ کچھ کہتے ہیں کہ احباط باطل ہے۔ اپنے اس نظریے پر علماء عقلی اور نقلی دونوں قسم کی دلیلوں سے استدلال کرتے ہیں۔
عقلی استدلال
جیسا کہ خواجہ نصیر الدین طوسی نے کتاب تجرید العقائد میں کہا ہے کہ احباط ظلم کی ایک قسم ہے۔ کیونکہ کسی انسان کے پاس ثواب کم ہے اور گناہ زیادہ تو احباط کے بعد اس شخص کی طرح ہو جائے گا جس نے بالکل نیک کام نہ کیا ہو اور یہ اس کے لیئے ایک قسم کا ظلم شمار ہوگا۔
نقلی استدلال
قرآن مجید کی بہت سی آیات نشاندہی کرتی ہیں کہ انسان اس جہان میں اپنے ہر نیک و بد عمل کا نتیجہ دیکھے گا۔ جب کہ مسئلہ احباط اس سے مختلف صورت پیش کرتا ہے۔ سورہ زلزال میں آیاہے۔ ”فمن یعمل مثقال ذرة خیرا یرہ و من یعمل مثقال ذرة شرا یرہ“۔ سورة زلزال ”یعنی جو شخص جتنی مقدار نیکی یا بدی کی کرے گا، اسے دیکھے گا“۔ دوسرا گروہ معتزلہ کا ہے۔ یہ لوگ احباط کے قائل ہیں۔ انہوں نے آیات قرآن سے استدلال کیا ہے۔ سورہ جن کی آیت ۲۳ میں ہے۔ ”وَمَنْ یَعْصِ اللهَ وَرَسُولَہُ فَإِنَّ لَہُ نَارَ جَہَنَّمَ خَالِدِینَ فِیہَا اَبَدًا“۔ ”جو شخص خدا اور رسول کی نافرمانی کرے گا، وہ ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ میں معذب ہوگا۔" ابو ہاشم معتزلی نے احباط و تکفیر کو ملا کر موازنہ کیا ہے۔ اس کے نزدیک گناہ اور ثواب کو ملا کر دیکھا جائے گا۔ زیادہ سے کم کو تفریق کرے۔ باقی مقدار دیکھی جائے گی۔ اس سلسلے میں کچھ اور نظریات بھی ہیں جن سے یہاں بحث نہیں ہو سکتی لیکن حق وہی ہے جسے علامہ مجلسی کہتے ہیں۔ ثواب کا سقوط اس کفر کے ذریعے جو آخر عمر تک باقی رہے اور اس طرح سزا کا سقوط اس ایمان کے وسیلے سے جو موت تک ساتھ دے قابل انکار نہیں ہے۔ بہت سی احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ بہت سے ایسے گناہ ہیں جن سے بہت سی اطاعتیں جاتی رہتی ہیں اور بہت سی اطاعتیں ایسی ہیں جو بہت سی برائیوں کو تلف کر دیتی ہیں اور اس سلسلے میں متواتر اخبار و احادیث ہیں۔ توجہ رہے کہ سورہ ہود کی آیت ۱۱۴ بھی اسی مفہوم پر دلالت کرتی ہے۔ وہاں نماز کا حکم دینے کے بعد ایک قانون کلی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ: ”ان الحسنات یذہبن السینات“۔ ”نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں“۔ سورہ حجرات میں آیا ہے: ”و لا تجہروا لہ بالقول کجھر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم“۔ جیسے ایک دوسرے کو بلند آواز سے پکارتے ہو، پیغمبر کو اس طرح سے آواز نہ دو ورنہ تمہارے سارے اعمال حبط ہو جائیں گے۔ (حجرات ۔۲) پیغمبر اسلام ﷺ سے منقول ہے کہ آپ نے ابوذر سے فرمایا۔ ”اتقق اللہ حیث کنت و خالق الناس بخلق حسن و ذا عملت سیئة فاعمل حسنة تمحوہا“۔ جہاں کہیں اور جس حال میں ہو خدا سے ڈرو اور لوگوں سے اچھے اخلاق سے پیش آؤ اور جب کبھی کوئی برا کام انجام دے بیٹھو تو بعد ازاں کوئی اچھا کام بجا لاؤ جو اُسے محو کر دے۔ ( بحار، جلد ۷۱، ص۲۴۲۔) نیک اعمال برے اعمال کے ذریعے نابود ہو جاتے ہیں۔ اس بارے میں بھی پیشوائے اسلام سے روایات پہنچی ہیں مثلا ”ایاکم و الحسد فان الحسد یاکل الحسنات کما تاکل النار الحطب“۔ (بحار، جلد ۷۳، ص۲۵۵) حسد سے ڈرو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔ لیکن یہ تمام گناہوں اور اطاعتوں کے بارے میں کوئی قانوں کلی نہیں صرف ان میں سے بعض سے مخصوص ہے۔ اس طرح سے تمام آیات اور روایات کا مفہوم واضح ہو جاتا ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1اصحاب کا ایک گروہ پیغمبر اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ عرض کرنے لگا کہ شراب اور قمار کے بارے میں حکم بیان فرمایئے کیونکہ یہ عقل کو زائل اور مال کو تباہ کرنے والی چیزیں ہیں۔ اس موقع پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی۔
خمر کا معنی ہے ”ڈھکنا“
خمر کا معنی ہے ”ڈھکنا“ ۔ ہر وہ چیز جو دوسری کو چھپادے اور مخفی کرے اسے خمار کہتے ہیں۔ اصطلاح شریعت میں ہر بہنے والی مسکر (مست کرنے والی) چیز کو خمر کہتے ہیں، چاہے وہ انگور سے لی جائے یا کشمکش اور کھجور سے ۔ بلکہ ہر قسم کا الکحل مشروب اس کے مفہوم میں شامل ہے۔ البتہ لفظ خمر کا استعمال مائعات مسکر (یعنی بہنے والی نشہ آور چیزوں) پر اس کے لغوی معنی کی مناسبت سے ہوتاہے کیونکہ نشہ آور مائعات عقل پر پردہ ڈال دیتی ہیں اور اچھے برے کی تمیز ختم کردیتی ہیں۔ ”میسر“ کا مادہ ہے ”یسر“ اس کا معنی ہے سہل و آسان اور قمار بازی، بظاہر لگتاہے کہ اس کا حقیقی معنی سہل اور آسان ہے ہے اور چونکہ قمار باز شخص چاہتاہے کہ مال و ثروت آسانی سے حاصل کرلے اس بناء پر قمار کو بھی میسر کہاجاتاہے ”قل فیہما اثم کبیر و منافع للناس و اثمہما اکبر من“ خداوند کریم نے آیت کے اس حصے میں حرمت شراب کے حکم کو نرمی اور مدارات کی آمیزش سے بیان فرمایاہے خدا اپنے پیغمبر کو حکم دیتاہے کہ ان کے جواب میں کہویہ دونوں بڑے گناہ ہیں اگرچہ ان میں لوگوں کے لیے منفعت بھی ہے لیکن ان کا فائدہ ان کے نقصان کی نسبت بہت ہی کم ہے اور کوئی عقلمند شخص تھوڑے سے نفع کے لیے اتنا بڑا نقصان اٹھانا گوارا نہیں کرسکتاہے۔ اثم کیاہے ”اثم“ اس حالت کو کہتے ہیں جو انسان کی عقل اور روح میں وجود پذیر ہوتی ہے اور اسے نیکیوں اور کمالات تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ اس نکتے کے پیش نظر آیت کا معنی کچھ یوں بنتاہے کہ شراب اور قمار کی بدولت انسانی جسم اور روح بہت زیادہ نقصانات اور ضرر کا سامنا کرتے ہیں۔ ان دونوں برائیوں کے نقصانات کی طرف مزید توجہ دلانے کے لیے ہم علماء نفسیات اور ڈاکٹروں کی تازہ ترین تحقیق قدرے تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔
اثم کیا ہے
”اثم“ اس حالت کو کہتے ہیں جو انسان کی عقل اور روح میں وجود پذیر ہوتی ہے اور اسے نیکیوں اور کمالات تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ اس نکتے کے پیش نظر آیت کا معنی کچھ یوں بنتا ہے کہ شراب اور قمار کی بدولت انسانی جسم اور روح بہت زیادہ نقصانات اور ضرر کا سامنا کرتے ہیں۔ ان دونوں برائیوں کے نقصانات کی طرف مزید توجہ دلانے کے لیے ہم علماء نفسیات اور ڈاکٹروں کی تازہ ترین تحقیق قدرے تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔
الکحل کے مشروبات کے نقصانات
الکحل کا انسانی عمر پر اثر: مغرب کے ایک مشہور اسکالر کا نظریہ ہے کہ ۲۱ سے ۲۳ سالہ نوجوانوں میں شراب کے عادی ۵۱ مرنے والوں کے مقابلے میں شراب نہ پینے والوں میں سے دس افراد بھی نہیں مرتے۔ ایک اور مشہور اسکالر نے ثابت کیا ہے کہ بیس سالہ نوجوان جن کے بارے میں توقع ہوتی ہے کہ وہ بچاس سال تک زندہ رہیں گے، شراب پینے کی وجہ سے ۳۵ سال سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتے۔ بیمہ کمپنیوں کے تجربات سے ثابت ہو چکا ہے کہ شرابیوں کی عمر دوسروں کی نسبت ۲۵ سے ۳۰ فیصد کم ہوتی ہے۔ شماریات کے ایک ادارے کے مطابق شرابیوں کی اوسط ۳۵ سے ۵۰ سال ہے جبکہ اصول صحت کے تحت یہ اوسط ۶۰ سال سے زیادہ ہے۔ نسل انسانی میں شراب کا اثر: انعقاد نطفہ کے وقت مرد نشے میں ہو تو الکحل (alcoalism) کی ۳۵بیماریاں بچے کی طرف منتقل ہوتی ہیں۔ عورت اور مرد دونوں نشے میں ہوں تو الکحل(alcoalism) کی سو فیصد بیماریاں بچے میں ظاہر ہوتی ہیں۔ اس بناء پر ضروری ہے کہ اولاد کے بارے میں شراب کے اثرات پر زیادہ توجہ دی جائے۔ ہم یہاں کچھ مزید اعداد و شمار پیش کرتے ہیں۔ طبیعی وقت سے پہلے ہونے والے بچوں میں ۴۵ فیصد ماں باپ دونوں کی شراب نوشی کی وجہ سے ہوتے ہیں، ۳۱ فیصد باپ کی شراب نوشی کے باعث ہوتے ہیں۔ پیدائش کے وقت زندگی کی توانائی سے عاری سو بچوں میں ۶ شرابی باپ کی وجہ سے اور ۴۵ شرابی ماں کی وجہ سے اس طرح ہوتے ہیں۔ شرابی ماں کی وجہ سے ۷۵ فیصد اور شرابی باپ کی وجہ سے ۴۵ فیصد بچے کوتاہ قد پیدا ہوتے ہیں۔ شرابی ماؤں کی وجہ سے ۷۵ فیصد اور شرابی باپوں کی وجہ سے بھے ۷۵ فیصد بچے کافی عقلی اور روحانی توانائی سے محروم ہوتے ہیں۔ اخلاق پر شراب کے اثرات: شرابی شخص گھر والوں سے ہمدردی اور محبت کے جذبے سے عاری ہوتا ہے۔ بیوی اور اولاد سے شرابی کی محبت کمزور ہوتی ہے۔ بارہا دیکھا گیا ہے کہ شرابی باپ اپنی اولاد کو قتل کر دیتے ہیں۔ شراب کے اجتماعی نقصانات: ایک انسٹیٹوٹ کے ڈاکٹر کے مہیا کردہ اعداد شمار کے مطابق ۱۹۶۱ میں نیون شہر کے شرابیوں کے اجتماعی جرائم کچھ اس طرح ہیں۔ عام قتل: ۵۰ فیصد مارپیٹ اور زخمی کرنے کے جرائم: :۷۷۰۸ فیصد جنسی جرائم : ۸۸۰۸ فیصد ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے جرائم زیادہ تر حالت نشہ میں انجام پاتے ہیں۔ شراب کے اقتصادی نقصانات: روحی امراض کے ایک ڈاکٹر کا کہنا ہے: افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ حکومتیں شراب کے مالیاتی فوائد اور منافع کا حساب تو کرتی ہیں لیکن ان اخراجات کو نظر میں نہیں رکھتیں جو شراب کے برے اثرات کی روک تھام پر اٹھتے ہیں۔ روحانی بیماریوں کی زیادتی، تنزل پذیر معاشرے کے نقصانات، قیمتی اوقات کا ضیاع، حالت نشہ میں ڈرائیونگ کے حادثات، پاک نسلوں کی تباہی سستی، بے راہ روی، ثقافت و تمدن کی پسماندگی، پولیس کی زحمتیں اور پکڑ دھکڑ، شرابیوں کی اولاد کے لیے پرورش گاہیں، شراب سے متعلقہ جرائم کے لیے عدالتوں کی مصروفات، شرابیوں کے لیے قید خانے اور شراب نوشی سے ہونے والے دیگر نقصانات کو جمع کیا جائے تو حکومتوں کو معلوم ہوگا کہ وہ آمدنی جو شراب سے ہوتی ہے ان نقصانات کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ علاوہ ازیں شراب نوشی کے افسوسناک نتائج کا موازنہ صرف ڈالروں سے نہیں کیا جا سکتا کیونکہ عزیزوں کی موت، گھروں کی تباہی، تمناؤں کی بربادی اور صاحبان فکر انسانوں کی دماغی صلاحتیوں کا نقصان۔ یہ سب کچھ پیسے کے مد مقابل نہیں لائے جا سکتے۔ خلاصہ یہ کہ شراب کے نقصانات اتنے زیادہ ہیں کہ ایک عالم کے بقول اگر حکومتیں یہ ضمانت دیں کہ وہ میخانوں کا آدھا دروازہ بند کر دیں گی تو یہ ضمانت دی جا سکتی ہے کہ ہم آدھے ہسپتالوں اور آدھے پاگل خانوں سے بے نیاز ہو جائیں گے۔ جو کچھ کہا جا چکا ہے اس سے محل بحث آیت کا معنی اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے شراب کی تجارت میں نوع بشر کے لیئے کوئی فائدہ ہو یا فرض کریں تو چند لمحوں کے لیے انسان اس کی وجہ سے اپنے غموں سے بے خبر ہو جاتا ہے۔ تب بھی اس کا نقصان کہیں زیادہ، بہت وسیع اور اس قدر طویل ہے؛ کہ اس کے فائدے اور نقصانات کا آپس میں موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔
قمار بازی کے برے اثرات
ایسے افراد بہت کم ملیں گے جو قمار بازی کے زبر دست نقصانات سے بے خبر ہوں۔ وضاحت کے لیے اس منحوس کاروبار اور گھروں کی بربادی کے باعث کام، کے چند گوشوں کا تذکرہ کیا جاتا ہ۔ قمار بازی ہیجان انگیزی کا بہت بڑا ذریعہ ہے: تمام علماء نفسیات کا یہ نظریہ ہے کہ روحانی ہیجانات اور اضطراب بہت سی بیماریوں کا باعث ہیں۔ مثلا وٹامن کی کمی۔ زخم معدہ، جنون و دیوانگی، کم و بیش اعصابی و روحانی بیماریاں وغیرہ۔ یہ بیماریاں زیادہ تر ہیجان ہی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ قمار بازی ہیجان کا سب سے بڑا عامل ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ کا ایک اسکالر کہتا ہے کہ امریکہ میں ہر سال دو ہزار افراد صرف قمار بازی کے ہیجان سے مرجاتے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ ایک لالو اوسطا ایک پوکرباز )پوکر: یہ قمار بازی کی ایک قسم ہے( کا دل اوسطا ایک منٹ میں سو سے زیادہ مرتبہ دھڑکتا ہ۔ کبھی کبھی قمار بازی سے دل و دماغ پر سکتہ بھی طاری ہو جاتا ہے۔ قمار بازی یقینی طور پر جلد بڑھاپا لانے کا باعث بنتی ہ۔ علاوہ ازیں، علماء کے بقول جو شخص قمار بازی میں مشغول ہے اس کا دل ہی تشنج کا شکار نہیں ہوتا بلکہ اس کے تمام اعضاء جسم سخت حالت سے دوچار ہوتے ہیں۔ اس کے دل کی حرکت بڑھ جاتی ہے۔ شوگر کا مواد اس کے خون میں گرتا ہے، داخلی غدودوں میں خلل واقع ہوتا، چہرے کا رنگ اڑ جاتا ہے اور بھوک ختم ہو جاتی ہے۔ قمار بازی کے ختم ہوںے پر جب جوا باز سوتا ہے تو اس کے اندر اعصابی جنگ جاری ہوتی ہے اور جسم پر بحران کی کیفیت طاری ہوتی ہے۔ جواری اکثر اوقات اعصاب کی تسکین اور بدن کے آرام کے لیے شراب اور دوسری نشہ آور چیزوں کا سہارا لیتا ہے۔ اس طرح شراب اور قمار بازی کے نقصانات جمع ہو کر فزون تر ہو جاتے ہیں۔ بعض محققین کہتے ہیں کہ قمار باز ایک بیمار شخص ہے۔ یہ ہمیشہ روح کی نگرانی کا محتاج ہے۔ اُسے ہمیشہ سمجھانا چاہئیے اورنفسیاتی ذریعوں سے اسے قمار بازی سے روکنے کی کوشش کرنی چاہئیے شاید اس طرح وہ اپنی اصلاح کی طرف مائل ہو سکے۔ قمار بازی کا جرائم سے تعلق: عالمی اعداد و شمار کے ایک بہت بڑے ادارے نے ثابت کیا ہے کہ ۳۰ فیصد جرائم کا تعلق قمار بازی سے ہے اور ۷۰ فیصد دیگر جرائم کے عوامل میں بھی یہ حصہ دار ہے۔ قمار بازی کے اقتصادی نقصانات: ایک سال میں کئی ملین بلکہ کئی ارب ڈالر کی دولت دنیا میں اس راستے سے برباد ہوتی ہے۔ انسانی توانائیوں کا اس راستے میں ضیاع اس پر مستزاد ہے بلکہ یہ عمل تو دوسری مصروفیات میں سے بھی لگن اور دلچسبی چھین لیتا ہے۔ مونٹ کارلو جو دنیا میں قمار بازی کا مشہور مرکز ہے، کے بارے میں اخبارات میں چھپا ہے کہ ایک شخص نے ۱۹ گھنٹے میں قمار بازی میں ۷۵ لاکھ تومان )2تومان ایرانی کرنسی ہے۔ مترجم( ہارے۔ جب قمار خانے کے دروازے بند ہوئے تو وہ سیدھا جنگل کی طرف گیا اور ایک ہی گولی سے اپنا دماغ پاش پاش کر لیا۔ اس طرح اس نے خودکشی کر لی۔ نامہ نگار مزید لکھتا ہے کہ: ”مونٹ کارلو کے جنگل ان پاکبازوں کی کئی خودکشیوں کے شاہد ہیں۔“ قمار بازی کے اجتماعی نقصانات: بہت سے جوا باز جیت بھی جاتے ہیں۔ بعض اوقات ایک ہی گھنٹے میں دوسروں کے ہزاروں روپے ان کی جیب میں چلے جاتے ہیں۔ نتیجتا وہ کوئی پیدا واری اور اقتصادی کام کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ اس طرح اجتماعی پیداوار اور اقتصادی حالت لنگڑی ہوجاتی ہے۔ صحیح غور کیا جائے تو یہ واضح ہو گا کہ قمار باز اور ان کے اہل و عیال معاشرے پر بوجھ ہیں۔ وہ معاشرے کو ذرہ بھر فائدہ پہنچائے بغیر اس کی کمائی کھاتے ہیں اور کبھی ہارنے کی صورت میں جواری چوری اور ڈاکہ زنی سے اپنی ہار کی تلافی کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ قمار بازی کے نقصانات اتنے زیادہ ہیں کہ بعض غیر مسلمان ملکوں کو بھی اسے قانونا ممنوع قرار دینا پڑا اگرچہ وہاں بھی عملا وسیع پیمانے پر جوابازی کا کاروبار جاری ہے۔ مثلا برطانیہ نے ۱۸۵۳ میں، امریکہ نے ۱۸۵۵ میں، روس نے ۱۸۵۴ میں اور جرمنی نے ۱۸۷۳ میں قمار بازی کے ممنوع ہونے کا اعلان کیا۔ اس بحث کے آخر میں بعض محققین کے پیش کر دہ ذیل کے اعداد وشمار پر ایک نظر ڈالنا مفید رہے گا۔ (۱) جیب تراشی کی وارداتیں: ۹۰ فیصد (۲) اخلاقی جرائم: ۱۰ فیصد (۳) دنگا فساد کے واقعات: ۴۰ فیصد (۴) جنسی جرائم: ۱۵ فیصد (۵) طلاقیں: ۳۰ فیصد اور (۶) خودکشی کے واقعات: ۵ فیصد ---قمار بازی ہی کہ بدولت ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ قمار بازی کی جامع تعریف کرنا چاہیں تو یوں ہوگی: • دوسروں کے مال پر دھوکا، فریب اور جھوٹ سے قبضے کے لیئے • تفریح کے نام پر • اور کبھی بلا مقصد • مال، عزت اور آبرو کی قربانی۔ یہاں تک تو ہم نے شراب اور قماربازی کے ناقابل تلافی نقصانات بیان کیے ہیں۔ اب ایک اور نکتے کی طرف توجہ کرنا بھی ضروری ہے اور وہ یہ کہ خداوند عالم نے شراب پرسرزنش کیوں رکھی ہے اور اس کے ذکر کے وقت اس کے فوائد نقصانات کے مقابلے میں کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔ ہو سکتا ہے اس کی وجہ یہ ہوکہ زمانہ جاہلیت میں (ہمارے زمانے کی طرح) شراب اور قماربازی بہت عام تھی اور اگر اس طرح اشارہ نہ ہوتا تو ہو سکتا ہے بعض کوتاہ نظر یہ تصور کرتے کہ مسئلے کے ایک ہی پہلو کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ ضمنا محل بحث آیت ان ڈاکٹروں کے موقف کا جواب بھی ہے جو شراب کو بعض بیماریوں کے لیے مفید سمجھتے ہیں کیونکہ اس قسم کے اجتماعی فوائد کا اس کے نقصانات سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر وہ ایک بیماری کے لیئے مثبتِ اثر ہو بھی تو بہت سی بیماریوں کا سرچشمہ بھی ہو سکتی ہے۔ نیز روایات میں یہ جو آیا ہے کہ: ”خدا تعالی نے شراب میں شفا نہیں رکھی“ شاید اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہو۔“ "و یسئلونک ما ذاینفقون۔۔۔۔“ تفسیر در منثور میں آیت کے اس حصے کی شان نزول کے بارے میں ابن عباس سے منقول ہے کہ جب خدا نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ دین حق کی ترقی کے لیئے خرچ کرو تو بعض اصحاب و انصار پیغمبر نے آپ سے پوچھا کہ ہم نہیں جانتے کہ اپنے مال میں سے کتنی مقدار خرچ کریں۔ کیا سارے کا سارا مال خرچ کریں یا اس کا کچھ حصہ؟ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور انہیں”عفو“ کا حکم دیاگیا۔ اب دیکھتے ہیں کہ عفو سے یہاں کیا مراد ہے۔ ”عفو“ سے کیا مراد ہے ”عفو“ کے لغت میں کئی معانی بیان کیئے گئے ہیں۔ ۔۔۔۔۔ ”بخشش و عنایت“ ۔۔۔۔۔ ۔ ”اثر زائل کرنا“ ۔۔۔۔۔ ”کسی چیز کو پکڑنے کا ارادہ کرنا“ ۔۔۔۔۔”ہر چیز کا وسط اور درمیان“ ۔۔۔۔۔”کسی چیز کی اضافی مقدا“ اور۔۔۔۔۔ ”مال کا بہترین حصہ“ یہ سب عفو کے مختلف معانی ہیں۔ تین پہلے معانی ظاہرا آیت کے مفہوم سے مناسبت نہیں رکھتے بلکہ آخری تین معانی میں سے یہاں کوئی اس کا مفہو م ہے یعنی خرچ کرنے میں حد اوسط اور اعتدال کا خیال رکھنا، یا اپنی ضروریات سے اضافی مقدار خرچ کرنا (یہ دونوں معانی ایک ہی مفہوم کی طرف اشارہ کرتے ہیں، کیونکہ اعتدال کو ملحوظ رکھنے کا معنی یہی ہے کہ اپنی ضرورت سے زیادہ مال خرچ کیاجائے اور اپنی زندگی کو تباہ نہ کیاجائے)۔ اگر آخری معنی مراد لیا جائے تو آیت کا مضمون یہ ہے: خرچ کرتے وقت گھٹیا اور بےقدر و قیمت مال کا انتخاب نہ کرو، بلکہ راہِ خدا میں خرچ کرنے کے لیے اپنے مال کے بہترین حصے کا انتخاب کرو۔ یہ معنی بھی پہلے دو معانی پر پوری طرح سے منطبق ہوتا ہے کیونکہ خرچ کرتے وقت حد وسط اور اعتدال کو بھی مدّٰنظر رکھا جائے اور اچھے مال کا بھی انتخاب کیا جائے تو ان تمام معانی پر عمل ہو سکتا ہے۔ اسی لیے ھادیان اسلام علیہم السلام نے اس لفظ کی تفسیر کرتے ہوئے بعض اوقات لفظ ”وسط“ استعمال کیا ہے جبکہ تفسیر عیاشی اور کتاب کافی میں چھٹے پیشوائے اسلام امام صادق سے منقول ہے، آپ نے فرمایا: ”عفو“ یعنی حد وسط۔ اور کبھی اس کا معنی لفظ ”فضل“ سے کیا گیا ہے جس کا معنی ہے زیادتی، اضافہ۔ جیسا کہ مجمع البیان میں پانچویں پیشوائے اسلام حضرت امام باقر سے منقول، آپ نے فرمایا: ”العفو ما فضل عن قوة السنة“ عفو۔ وہ چیز ہے جو سال کے مخارج سے بچ جائے۔ آیت میں ایک اور احتمال بھی ہے کہ عفو اسی پہلے معنی میں ہو؛ یعنی مغفرت اور دوسروں کی لغزشوں سے در گزر کرنا۔ اگرچہ جہاں تک ہم نے دیکھا ہے یہ احتمال کسی مفسر نے بیان نہیں کیا۔ اس احتمال کے مطابق آیت کا مفہوم یوں ہوگا: کہہ دو کہ بہترین انفاق اور خرچ کرنا یہ ہے کہ عفو در گزر کو خرچ کرو۔ چند امور ایسے ہیں کہ جن کے پیش نظر اس احتمال کا درست ہونا کچھ بعید بھی نہیں۔ مثلا جزیرة العرب کی وضع و کیفیت خصوصا اہل مدینہ کی دشمنی اور کینہ پروری کی قدیم عادت اور ان پست حالات اور افراد میں پیغمبر اکرم کے نزدیک عفو ودر گزر کی اہمیت۔ اور پھر یہ مفہوم ان کے سوال کے بھی منافی نہیں ہے۔ انہوں نے مالی امور کے بارے میں سوال کیا تھا۔ وہ بعض اوقات ایسی چیز کے بارے میں سوال کرتے تھے جس سے زیادہ ضروری چیز کے بارے میں انہیں پوچھنا چاہئیے تھا تو قرآن سوال کے حوالے سے ان کی آمادگی اور پذیرائی سے استفادہ کرتے ہوئے جواب میں اس چیز کا تذکرہ کرتا ہے جو اہم ہوتی ہے؛ یعنی ان کے سوال سے قطع نظر کرتے ہوئے زیادہ اہم بات بیان کرتا ہے۔ یہ نظر نواز انداز قرآن ہی سے مخصوص نہیں، کیونکہ اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص ہم سے ایک مسئلے کے بارے میں سوال کرتا ہے جب کہ وہ اس سے اہم مسائل بھولے ہوئے ہوتا ہے تو ہم بجائے اس کے کہ آسان اور سادہ سوال کا جواب دیں، اس کی ضرورت کے اہم مسائل کو تفصیل سے بیان کر دیتے ہیں۔
قمار بازی کے برے اثرات
ایسے افراد بہت کم ملیں گے جو قمار بازی کے زبر دست نقصانات سے بے خبر ہوں۔ وضاحت کے لیے اس منحوس کاروبار اور گھروں کی بربادی کے باعث کام، کے چند گوشوں کا تذکرہ کیا جاتا ہ۔ قمار بازی ہیجان انگیزی کا بہت بڑا ذریعہ ہے: تمام علماء نفسیات کا یہ نظریہ ہے کہ روحانی ہیجانات اور اضطراب بہت سی بیماریوں کا باعث ہیں۔ مثلا وٹامن کی کمی۔ زخم معدہ، جنون و دیوانگی، کم و بیش اعصابی و روحانی بیماریاں وغیرہ۔ یہ بیماریاں زیادہ تر ہیجان ہی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ قمار بازی ہیجان کا سب سے بڑا عامل ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ کا ایک اسکالر کہتا ہے کہ امریکہ میں ہر سال دو ہزار افراد صرف قمار بازی کے ہیجان سے مرجاتے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ ایک لالو اوسطا ایک پوکرباز )پوکر: یہ قمار بازی کی ایک قسم ہے( کا دل اوسطا ایک منٹ میں سو سے زیادہ مرتبہ دھڑکتا ہ۔ کبھی کبھی قمار بازی سے دل و دماغ پر سکتہ بھی طاری ہو جاتا ہے۔ قمار بازی یقینی طور پر جلد بڑھاپا لانے کا باعث بنتی ہ۔ علاوہ ازیں، علماء کے بقول جو شخص قمار بازی میں مشغول ہے اس کا دل ہی تشنج کا شکار نہیں ہوتا بلکہ اس کے تمام اعضاء جسم سخت حالت سے دوچار ہوتے ہیں۔ اس کے دل کی حرکت بڑھ جاتی ہے۔ شوگر کا مواد اس کے خون میں گرتا ہے، داخلی غدودوں میں خلل واقع ہوتا، چہرے کا رنگ اڑ جاتا ہے اور بھوک ختم ہو جاتی ہے۔ قمار بازی کے ختم ہوںے پر جب جوا باز سوتا ہے تو اس کے اندر اعصابی جنگ جاری ہوتی ہے اور جسم پر بحران کی کیفیت طاری ہوتی ہے۔ جواری اکثر اوقات اعصاب کی تسکین اور بدن کے آرام کے لیے شراب اور دوسری نشہ آور چیزوں کا سہارا لیتا ہے۔ اس طرح شراب اور قمار بازی کے نقصانات جمع ہو کر فزون تر ہو جاتے ہیں۔ بعض محققین کہتے ہیں کہ قمار باز ایک بیمار شخص ہے۔ یہ ہمیشہ روح کی نگرانی کا محتاج ہے۔ اُسے ہمیشہ سمجھانا چاہئیے اورنفسیاتی ذریعوں سے اسے قمار بازی سے روکنے کی کوشش کرنی چاہئیے شاید اس طرح وہ اپنی اصلاح کی طرف مائل ہو سکے۔
قما بازی کا حرائم سے تعلق
عالمی اعداد و شمار کے ایک بہت بڑے ادارے نے ثابت کیا ہے کہ ۳۰ فیصد جرائم کا تعلق قمار بازی سے ہے اور ۷۰ فیصد دیگر جرائم کے عوامل میں بھی یہ حصہ دار ہے۔ قمار بازی کے اقتصادی نقصانات: ایک سال میں کئی ملین بلکہ کئی ارب ڈالر کی دولت دنیا میں اس راستے سے برباد ہوتی ہے۔ انسانی توانائیوں کا اس راستے میں ضیاع اس پر مستزاد ہے بلکہ یہ عمل تو دوسری مصروفیات میں سے بھی لگن اور دلچسبی چھین لیتا ہے۔ مونٹ کارلو جو دنیا میں قمار بازی کا مشہور مرکز ہے، کے بارے میں اخبارات میں چھپا ہے کہ ایک شخص نے ۱۹ گھنٹے میں قمار بازی میں ۷۵ لاکھ تومان )2تومان ایرانی کرنسی ہے۔ مترجم( ہارے۔ جب قمار خانے کے دروازے بند ہوئے تو وہ سیدھا جنگل کی طرف گیا اور ایک ہی گولی سے اپنا دماغ پاش پاش کر لیا۔ اس طرح اس نے خودکشی کر لی۔ نامہ نگار مزید لکھتا ہے کہ: ”مونٹ کارلو کے جنگل ان پاکبازوں کی کئی خودکشیوں کے شاہد ہیں۔“ قمار بازی کے اجتماعی نقصانات: بہت سے جوا باز جیت بھی جاتے ہیں۔ بعض اوقات ایک ہی گھنٹے میں دوسروں کے ہزاروں روپے ان کی جیب میں چلے جاتے ہیں۔ نتیجتا وہ کوئی پیدا واری اور اقتصادی کام کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ اس طرح اجتماعی پیداوار اور اقتصادی حالت لنگڑی ہوجاتی ہے۔ صحیح غور کیا جائے تو یہ واضح ہو گا کہ قمار باز اور ان کے اہل و عیال معاشرے پر بوجھ ہیں۔ وہ معاشرے کو ذرہ بھر فائدہ پہنچائے بغیر اس کی کمائی کھاتے ہیں اور کبھی ہارنے کی صورت میں جواری چوری اور ڈاکہ زنی سے اپنی ہار کی تلافی کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ قمار بازی کے نقصانات اتنے زیادہ ہیں کہ بعض غیر مسلمان ملکوں کو بھی اسے قانونا ممنوع قرار دینا پڑا اگرچہ وہاں بھی عملا وسیع پیمانے پر جوابازی کا کاروبار جاری ہے۔ مثلا برطانیہ نے ۱۸۵۳ میں، امریکہ نے ۱۸۵۵ میں، روس نے ۱۸۵۴ میں اور جرمنی نے ۱۸۷۳ میں قمار بازی کے ممنوع ہونے کا اعلان کیا۔ اس بحث کے آخر میں بعض محققین کے پیش کر دہ ذیل کے اعداد وشمار پر ایک نظر ڈالنا مفید رہے گا۔ (۱) جیب تراشی کی وارداتیں: ۹۰ فیصد (۲) اخلاقی جرائم: ۱۰ فیصد (۳) دنگا فساد کے واقعات: ۴۰ فیصد (۴) جنسی جرائم: ۱۵ فیصد (۵) طلاقیں: ۳۰ فیصد اور (۶) خودکشی کے واقعات: ۵ فیصد ---قمار بازی ہی کہ بدولت ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ قمار بازی کی جامع تعریف کرنا چاہیں تو یوں ہوگی: • دوسروں کے مال پر دھوکا، فریب اور جھوٹ سے قبضے کے لیئے • تفریح کے نام پر • اور کبھی بلا مقصد • مال، عزت اور آبرو کی قربانی۔ یہاں تک تو ہم نے شراب اور قماربازی کے ناقابل تلافی نقصانات بیان کیے ہیں۔ اب ایک اور نکتے کی طرف توجہ کرنا بھی ضروری ہے اور وہ یہ کہ خداوند عالم نے شراب پرسرزنش کیوں رکھی ہے اور اس کے ذکر کے وقت اس کے فوائد نقصانات کے مقابلے میں کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔ ہو سکتا ہے اس کی وجہ یہ ہوکہ زمانہ جاہلیت میں (ہمارے زمانے کی طرح) شراب اور قماربازی بہت عام تھی اور اگر اس طرح اشارہ نہ ہوتا تو ہو سکتا ہے بعض کوتاہ نظر یہ تصور کرتے کہ مسئلے کے ایک ہی پہلو کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ ضمنا محل بحث آیت ان ڈاکٹروں کے موقف کا جواب بھی ہے جو شراب کو بعض بیماریوں کے لیے مفید سمجھتے ہیں کیونکہ اس قسم کے اجتماعی فوائد کا اس کے نقصانات سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر وہ ایک بیماری کے لیئے مثبتِ اثر ہو بھی تو بہت سی بیماریوں کا سرچشمہ بھی ہو سکتی ہے۔ نیز روایات میں یہ جو آیا ہے کہ: ”خدا تعالی نے شراب میں شفا نہیں رکھی“ شاید اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہو۔“ "و یسئلونک ما ذاینفقون۔۔۔۔“ تفسیر در منثور میں آیت کے اس حصے کی شان نزول کے بارے میں ابن عباس سے منقول ہے کہ جب خدا نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ دین حق کی ترقی کے لیئے خرچ کرو تو بعض اصحاب و انصار پیغمبر نے آپ سے پوچھا کہ ہم نہیں جانتے کہ اپنے مال میں سے کتنی مقدار خرچ کریں۔ کیا سارے کا سارا مال خرچ کریں یا اس کا کچھ حصہ؟ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور انہیں”عفو“ کا حکم دیاگیا۔ اب دیکھتے ہیں کہ عفو سے یہاں کیا مراد ہے۔
عفو سے کیا مراد ہے
”عفو“ کے لغت میں کئی معانی بیان کیئے گئے ہیں۔ ۔۔۔۔۔ ”بخشش و عنایت“ ۔۔۔۔۔ ۔ ”اثر زائل کرنا“ ۔۔۔۔۔ ”کسی چیز کو پکڑنے کا ارادہ کرنا“ ۔۔۔۔۔”ہر چیز کا وسط اور درمیان“ ۔۔۔۔۔”کسی چیز کی اضافی مقدا“ اور۔۔۔۔۔ ”مال کا بہترین حصہ“ یہ سب عفو کے مختلف معانی ہیں۔ تین پہلے معانی ظاہرا آیت کے مفہوم سے مناسبت نہیں رکھتے بلکہ آخری تین معانی میں سے یہاں کوئی اس کا مفہو م ہے یعنی خرچ کرنے میں حد اوسط اور اعتدال کا خیال رکھنا، یا اپنی ضروریات سے اضافی مقدار خرچ کرنا (یہ دونوں معانی ایک ہی مفہوم کی طرف اشارہ کرتے ہیں، کیونکہ اعتدال کو ملحوظ رکھنے کا معنی یہی ہے کہ اپنی ضرورت سے زیادہ مال خرچ کیاجائے اور اپنی زندگی کو تباہ نہ کیاجائے)۔ اگر آخری معنی مراد لیا جائے تو آیت کا مضمون یہ ہے: خرچ کرتے وقت گھٹیا اور بےقدر و قیمت مال کا انتخاب نہ کرو، بلکہ راہِ خدا میں خرچ کرنے کے لیے اپنے مال کے بہترین حصے کا انتخاب کرو۔ یہ معنی بھی پہلے دو معانی پر پوری طرح سے منطبق ہوتا ہے کیونکہ خرچ کرتے وقت حد وسط اور اعتدال کو بھی مدّٰنظر رکھا جائے اور اچھے مال کا بھی انتخاب کیا جائے تو ان تمام معانی پر عمل ہو سکتا ہے۔ اسی لیے ھادیان اسلام علیہم السلام نے اس لفظ کی تفسیر کرتے ہوئے بعض اوقات لفظ ”وسط“ استعمال کیا ہے جبکہ تفسیر عیاشی اور کتاب کافی میں چھٹے پیشوائے اسلام امام صادق سے منقول ہے، آپ نے فرمایا: ”عفو“ یعنی حد وسط۔ اور کبھی اس کا معنی لفظ ”فضل“ سے کیا گیا ہے جس کا معنی ہے زیادتی، اضافہ۔ جیسا کہ مجمع البیان میں پانچویں پیشوائے اسلام حضرت امام باقر سے منقول، آپ نے فرمایا: ”العفو ما فضل عن قوة السنة“ عفو۔ وہ چیز ہے جو سال کے مخارج سے بچ جائے۔ آیت میں ایک اور احتمال بھی ہے کہ عفو اسی پہلے معنی میں ہو؛ یعنی مغفرت اور دوسروں کی لغزشوں سے در گزر کرنا۔ اگرچہ جہاں تک ہم نے دیکھا ہے یہ احتمال کسی مفسر نے بیان نہیں کیا۔ اس احتمال کے مطابق آیت کا مفہوم یوں ہوگا: کہہ دو کہ بہترین انفاق اور خرچ کرنا یہ ہے کہ عفو در گزر کو خرچ کرو۔ چند امور ایسے ہیں کہ جن کے پیش نظر اس احتمال کا درست ہونا کچھ بعید بھی نہیں۔ مثلا جزیرة العرب کی وضع و کیفیت خصوصا اہل مدینہ کی دشمنی اور کینہ پروری کی قدیم عادت اور ان پست حالات اور افراد میں پیغمبر اکرم کے نزدیک عفو ودر گزر کی اہمیت۔ اور پھر یہ مفہوم ان کے سوال کے بھی منافی نہیں ہے۔ انہوں نے مالی امور کے بارے میں سوال کیا تھا۔ وہ بعض اوقات ایسی چیز کے بارے میں سوال کرتے تھے جس سے زیادہ ضروری چیز کے بارے میں انہیں پوچھنا چاہئیے تھا تو قرآن سوال کے حوالے سے ان کی آمادگی اور پذیرائی سے استفادہ کرتے ہوئے جواب میں اس چیز کا تذکرہ کرتا ہے جو اہم ہوتی ہے؛ یعنی ان کے سوال سے قطع نظر کرتے ہوئے زیادہ اہم بات بیان کرتا ہے۔ یہ نظر نواز انداز قرآن ہی سے مخصوص نہیں، کیونکہ اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص ہم سے ایک مسئلے کے بارے میں سوال کرتا ہے جب کہ وہ اس سے اہم مسائل بھولے ہوئے ہوتا ہے تو ہم بجائے اس کے کہ آسان اور سادہ سوال کا جواب دیں، اس کی ضرورت کے اہم مسائل کو تفصیل سے بیان کر دیتے ہیں۔
دوقابل غور نکات
آیت کے آخری حصے میں ہے ”کذلک یبین اللہ لکم الایات لعلکم تتفکرون“ ”خدا اپنی آیات کو اسی طرح بیان کرتا ہے شاید تم غور و فکر کرو“ آیت کی ابتدا میں غور و فکر کی وضاحت یوں کی گئی ہے: ”فی الدنیا و الاخرة“ اس تعبیر سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں۔ پہلی یہ کہ انسان مامور ہے کہ خدا اور انبیاء کے سامنے سرتسلیم خم کر دے۔ اس کے باوجود اس کا فرض ہے کہ یہ اطاعت فکر و نظر سے انجام دے، نہ یہ کہ اندھا دھند اور بغیر سوچے سمجھے ان کی پیروی کرے۔ دوسرے لفظوں میں جتنا ہو سکے احکام الہی کے اسرار و رموز سے آگاہی حاصل کرے اور انہیں صحیح شعور سے بجالائے۔ البتہ اس گفتگو کا یہ معنی نہیں ہے کہ احکام الہی کی اطاعت ان کے فلسفے کے سمجھنے سے مشروط ہے بلکہ مقصد یہ ہے کہ ان احکام کی اطاعت کے ساتھ ساتھ ان کی روح اور اسرار کو جاننے کی بھی کوشش کی جانی چاہئیے۔ دوسری بات یہ ہے کہ انسان کو یہ نہیں چاہئیے کہ وہ فقط عالم مادہ یا فقط عالم معنی ہی میں غور وفکر کرے، بلکہ دونوں پر غور و فکر کرے جسم کی ضروریات اور روح کے تقاضے دونوں ملحوظ نظر رہیں دونوں کے تکامل اور پیش رفت کے وسائل کی تلاش کی جانا چاہئیے کیونکہ دنیا و آخرت ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ ایک کی بربادی دوسرے کی ویرانی میں حصہ دار ہوتی ہے، رہی یہ بات کہ شراب اور قماربازی کی حرمت کا حکم اور راہ خدا میں خرچ کرنے کی تشویق میں کیا ربط ہے۔ تو ممکن ہے یہ اس لحاظ سے ہو: ۱۔ جیسا کہ بیان کیاگیاہے ان احکام کا فلسفہ اور ان کے اسرار انسانی فکر و نظر کو متاخر کرتے ہیں۔ ۲۔ انفاق عمومی، مجموعی اور اخروی پہلو رکھتا ہے اور شراب و قماربازی زیادہ تر شخصی اور مادی پہلو رکھتے ہیں۔ لہذا ان احکام کے ذریعے انسان کو دنیا و آخرت کی فلاح کے لیئے غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر قمی میں امام صادق اور تفسیر مجمع البیان میں ابن عباس سے منقول ہے کہ جب آیت ”و لا تقربوا مال الیتیم الا بالتی ھی احسن“ یتیم کے مال کے نزدیک بھی نہ جانا۔ مگر یہ کہ یہ اس کے حق میں بہتر ہو۔ (بنی اسرائیل۔ ۳۴) اور آیہ ”ان الذین یاکلون اموال الیتامی ظلما انما یاکلون فی بطونہم نارا وسیصلون سعیرا“ جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھا جاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں بس انگارے بھرتے ہیں اور عنقریب و اصل جہنم ہوں گے (نساء۔۱۰) نازل ہوئیں کہ جن میں یتیموں کے مال و دولت کے قریب جانے سے منع کیا گیا ہے سوائے اس کے کہ ان کے لیے مفید ہو اور ان کا مال کھانے سے روکا گیا ہے تو جن کے گھروں میں یتیم تھے انہوں نے ان کی کفالت سے ہاتھ اٹھا لیا اور انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے تو انہیں اپنے گھرہی سے نکال دیا اور جنہوں نے ایسا نہ کیا ان کے گھر میں بھی یتیموں کی کیفیت نکالے جانے سے مختلف نہ تھی۔ ان کے مال سے پکایاگیا کھانا اپنے کھانے سے نہ ملاتے ، ان کے لیے الگ کھانا پکتا، یتیم اپنے کمرے کے کو نے میں الگ سے کھانا کھاتا، اس کا بچا ہوا کھانا پڑا رہتا تا کہ پھر بھوک لگنے پر اسی کو کھائے اور کھانا خراب ہو جاتا تو پھینک دیا جاتا۔ یہ سب اہتمام اس لیے کیا جاتا کہ کہیں مال یتیم کھانے کا جرم سرزد نہ ہو۔ یہ صورت حال سرپرستوں اور یتیموں دونوں کے لیے بہت مشکلات کا باعث تھی۔ ان حالات میں متاثر افراد پیغمبر اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضور کی خدمت میں اپنے احوال پیش کیئے۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی۔
یتیموں کی سرپرستی سے دست کشی درست نہیں
قرآن مجید یتیموں کے سرپرستوں کو حکم دیتا ہے کہ یتیموں کی سرپرستی سے دست کش ہو جانا اور انہیں ان کے حال پر چھوڑ دینا درست نہیں۔ بہتر یہی ہے کہ ان کی سرپرستی قبول کر لو اور ان کے کام انجام دو اور جو کام ان کے فائدے میں ہو اور جس میں ان کی اصلاح اور بہتری سمجھو، اسے انجام دو (”قل اصلاح لہم خیر“)۔ اور اگر ان کی زندگی تمہاری زندگی سے مخلوط ہو تو ان سے ایک بھائی کا سا سلوک کرو۔ جب تمہارا مقصد ان کی بھلائی ہو تو ان کے مال اور کھانا تمہارے مال اور کھانے سے مل جائے تو کوئی اشکال نہیں و ان تخالطوہم فاخوانکم“)۔ اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے کہ خدا تمہاری نیتوں سے واقف ہے۔ بھلائی کا اظہار صحت عمل کی دلیل نہیں، بلکہ حقیقت میں اصلاح طلب بنو، تمہاری نیت یتیموں کی خدمت کرنا ہو (”و اللہ یعلم المفسد من المصلح“) آیت کے آخر میں فرماتا ہے: خداوند عالم اگر چاہے تو تم پر معاملہ سخت کر سکتا ہے اور یتیموں کی سرپرستی کو لازمی قرار دینے کے با وجود تمہیں اپنے مال اور کھانے کو ان کے مال اور کھانے سے الگ رکھنے کا حکم دے سکتا ہے لیکن وہ قادر بھی ہے اور حکیم و دانا بھی ہے، کوئی وجہ نہیں کہ وہ اپنے بندوں پر سخت گیری کرے۔ (”و لو شاء اللہ لا عنتکم ان اللہ عزیز حکیم“)۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1”مرثد“ جو ایک بہادر انسان تھا پیغمبر اکرم نے اسے مدینے سے مکے کی طرف بھیجا اور حکم دیا کہ وہاں پر موجود مسلمانوں کی ایک جماعت کو ساتھ لے آئے۔ وہ فرمان پیغمبر کی انجام دہی کے لیے مکہ پہنچا۔ وہاں اس کی ملاقات ایک خوبصورت عورت "عناق" سے ہوگئی۔ اسے وہ زمانہ جاہلیت سے پہچانتا تھا۔ اس عورت نے گذشتہ زمانے کی طرحح اسے گناہ کی دعوت دی لیکن مرثد چونکہ مسلمان ہو چکا تھا، اس کی خواہش کو قبول نہ کر سکا۔ اس عورت نے نکاح کا تقاضا کیا تو مرثد نے کہا کہ یہ معاملہ پیغمبر اکرم کی اجازت پر موقوف ہے۔ وہ اپنی ڈیوٹی ادا کرکے مدینے پلٹ آیا اور وہ واقعہ آنحضرت کے گوش گزار کیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں بیان کیا گیا ہے کہ مشرک اور بت پرست عورتیں مسلمان مردوں کی ہمسری اور تزویج کے لائق نہیں۔
لغت میں لفظِ نکاح
لفظ ”نکاح“ لغت میں جنسی ملاپ اور عقد ازدواج دونوں معنی میں بیان کیا گیا ہے۔ یہاں عقد ازدواج ہی مراد ہے۔ اسلام کی نظر میں ازدواجی زندگی کی بہت اہمیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وراثت کے معاملات اور گھر کے تربیتی ماحول کے اولاد پر اثرات کے پیش نظر اسلام نے بیوی یا شوہر کے انتخاب میں مختلف شرائط معین کی ہیں۔ مشرک عورت مسلمان مرد کی کفو اور بیوی بننے کے اہل نہیں اور بالفرض وہ بیوی بن جائے تو بچے اس کے خیالات اور صفات بھی وراثت میں حاصل کریں گے اور اسی کی گود میں تربیت پائیں گے (جیسا کہ اکثر ہوتا ہے) تو ظاہر ہے کہ اس کا نتیجہ برا ہی نکلے گا۔ لہذا قرآن اس آیت میں مشرک اور بت پرست عورتوں سے شادی کرنے سے منع کرتا ہے۔ اس سے قطع نظر ایک پہلو یہ بھی ہے مشرکین اسلام سے بیگانہ ہوتے ہیں اگر وہ شادی کے ذریعے مسلمانوں کے گھروں میں راہ و رسم پیدا کر لیں تو اسلامی معاشرہ ہرج و مرج اور داخل دشمنوں کا شکار ہو جائے گا۔ اس طرح کفر و اسلام کی صفیں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکیں گی۔ قرآن تو مشرک عورتوں کو صاحب ایمان کنیزوں کا ہم پلہ بھی قرار نہیں دیتا لیکن قرآن نے ان کے لیے دروازہ بند بھی نہیں کیا۔ ان سے جنسی تعلق کے قیام کی صورت وہ یہ بتاتا ہے کہ اگر وہ ایمان لے آئیں تو ان سے شادی بیاہ ہو سکتا ہے۔
مشرکین کون ہیں
قرآن میں ”مشرکین“ کا لفظ زیادہ تر بت پرستوں کے لیے استعمال کیاگیاہے۔ لہذا جہاں کہیں یہ لفظ آئے، یہ تو مسلم ہے کہ اس کے مفہوم میں بت پرست ضرور شامل ہیں، یہی وجہ سے کہ قرآن کی بہت سی آیات میں مشرکیں کا لفظ اہل کتاب (یہود ، نصاری اور مجوس) کے مقابلے میں آیا ہے۔ بعض مفسرین کا اعتماد ہے کہ مشرک کے مفہوم میں یہود، نصاری اور مجوس سمیت سب کفار شامل ہیں۔ کیونکہ ان میں سے ہر فریق خدا کے شریک کا قائل ہے۔ نصاری تثلیث کے قائل ہیں، مجوس تنویت یا دوگانہ پرستی پر اعتماد رکھتے ہیں، اور یہودی عزیر کو خدا کا بیٹا سمجھتے ہیں۔ یہ عقائد اگرچہ شرک آور ہیں لیکن اس طرف دیکھتے ہوئے کہ قرآن کی بہت سی آیات میں مشرک، اہل کتاب کے مقابلے میں آیا ہے، قرآنی اصطلاح میں اس کا مفہوم بت پرست ہی نکلتا ہے۔ پیغمبر اسلام سے منقول ایک مشہور حدیث ہے۔ اس میں آپ نے اپنی وصیتوں میں فرمایا ہے کہ مشرکین کو حتمی طور پر جزیرة العرب سے نکال دو۔ اس میں بھی اسی معنی کی طرف اشارہ ہے کیونکہ یہ مسلم ہے کہ اہل کتاب جزیرة العرب سے نہیں نکالے گئے اور وہ جزیہ ادا کر کے ایک مذہبی اقلیت کے طور پر اسلام کی پناہ میں زندگی بسر کرتے رہے۔ اس بناء پر مندرجہ بالا آیت میں اہل کتاب شامل نہیں ہیں۔ ”و لا تنکحوا المشرکین حتی یؤمنوا و لعبد مؤمن خیر من مشرک و لو اعجبکم۔“ جس طرح مومن مردوں کو مشرک اور بت پرست عورتوں سے شادی کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس جملے میں کافر اور مشرک مردوں سے مسلمان عورتیں بیاہنے سے روکا گیا ہے۔ نیز جس طرح مومن کنیزیں کافر آزاد عورتوں سے شادی کی نسبت بہتر ہیں چاہے کافر عورتیں حسن و جمال اور مال و منال میں بالاتر ہی کیوں نہ ہوں۔ اسی طرح صاحب ایمان غلام، خوبصورت اور بظاہر با حیثیت کافروں سے برتر اور بہتر ہیں لیکن مومن عورتوں کی شادی کافر مردوں سے اس وقت تک منع ہے جب تک وہ کافر ہیں اور اگر وہ ایمان قبول کر لیں تو ان سے شادی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ بازگشت کا ایک راستہ ہے جس کی طرف آیت کی ابتداء میں بھی اشارہ ہوا ہے۔ ”اولئک یدعون الی النار و اللہ یدعوا الی الجنة و المغفرة باذنہ۔“ اس جملے میں اہل ایمان کی مشرک اور بت پرستوں سے شادی کرنے کی حرمت کی وجہ بیان کی گئی ہے۔ وہ یہ کہ مشرک سے شادی کرنا اس لیے حرام ہے کہ مشرک انسان اپنے ساتھی کو بت پرستی اور ایسی ناپسندیدہ صفات کی دعوت دیتا ہے جن کا سرچشمہ بت پرستی ہے، خصوصا بت پرست سے یہ معاشرت زنا کے حوالے سے بہت خطرناک ہے اور اس کے اثرات بہت زیادہ اور بہت گہرے ہیں۔ گویا بت پرست سے معاشرت کا انجام غضب خدا کے آگ کی سوا کچھ نہیں۔ خلاصہ یہ کہ بت پرستوں سے آشنائی خصوصا شادی بیاہ کے دریچے سے خدا سے ناآشنائی کے مترادف ہے اور ان سے نزدیکی خدا سے دوری کا باعث ہے جب کہ مومنین اپنے ایمان اور سرچشمہ ایمان سے پھوٹنے والی بلند صفات کی بدولت اپنے ساتھیوں کو ایمان اور فضیلت کی دعوت دیتے ہیں جس کا انجام جنت، مغفرت اور خدا کی بخشش ہے۔ مومنین کا رابطہ چونکہ خدا سے بہت گہرا ہے، اس لیے آیت میں خدا نے مومنین کے بجائے اپنا نام لیا ہے۔ فرماتا ہے: ” و اللہ یدعو الی الجنة و المغفرة باذنہ۔“ ممکن ہے خدا کی دعوت سے مراد بت پرستوں سے شادی کی حرمت کا حکم ہی ہو، جس کا نتیجہ جنت اور خدا کی مغفرت ہے اور اس میں بھی کوئی مانع نہیں کہہ آیت دونوں مفاہیم کی حامل ہو۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 223 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1عورتیں ہر ماہ میں کم از کم تین اور زیادہ سے زیادہ دس دن نماز، روزہ سے فارغ رہتی ہیں۔ ان دنوں میں فقہی کتب میں درج مخصوص اوصاف کا خون رحم عورت سے خارج ہوتا ہے۔ اس حالت میں عورت کو حائض کہتے ہیں اور اس خون کو خون حیض کہا جاتا ہے۔ یہود و نصاری کا موجودہ دین حائض عورتوں سے مباشرت کے بارے میں ایک دوسرے سے متضاد احکام رکھتا ہے۔ یہ صورت ہر شخص کو سوال کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہودیوں کا ایک گروہ کہتا ہے کہ ایسی عورتوں کے ساتھ مردوں کا رہنا سہنا ہی بالکل حرام ہے۔ یہاں تک کہ ایک دسترخوان پر کھانے اور ایک کمرے میں رہنے تک کی اجازت نہیں ہے۔ ان کے مطابق جس جگہ حیض والی عورت بیٹھی ہو وہاں مرد کو نہیں بیٹھنا چاہئیے اور بیٹھ جائے تو اپنا لباس دھوئے ورنہ وہ نجس ہے اور اگر اس کے بستر پر سو جائے تو لباس بھی دھوئے اور غسل بھی کرے۔ خلاصہ یہ کہ ان ایام میں عورت کو ایک ناپاک شے اور لازم الاجتناب وجود سمجھا جاتا ہے۔ یہودیوں کے اس گروہ کے برعکس عیسائی کہتے ہیں کہ عورت کی حالت حیض اور غیر حیض میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں۔ حالت حیض میں بھی ان سے ہر طرح کی معاشرت، میل جول یہاں تک جنسی ملاپ پر بھی کوئی قدغن نہیں۔ مشرکین عرب، خصوصا اہل مدینہ کم و بیش یہودیوں کے اخلاق و عادات سے مانوس تھے اور حائض عورتوں سے یہودیوں کا سا سلوک روا رکھتے تھے۔ ماہواری کے دنوں میں ان سے الگ رہتے تھے۔ اسی دینی اختلاف اور ناقابل معافی افراط و تفریط کے باعث بعض مسلمانوں نے پیغمبر اکرم ﷺ سے اس بارے میں سوال کیا اور جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔
ماہواری میں جنسی ملاپ کے نقصانات
”یسئلونک عن المحیض قل ہو اذی۔“ ”محیض“ مصدر میمی ہے اور یہاں حیض کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اس لیے اس کا مفہوم یہ ہوگا ”اے پیغمبر! تم سے حیض اور اس کے احکام کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ ان کے جواب میں کہو”ھو اذی“یعنی وہ تکلیف دہ اور ناپاک چیز ہے۔ در حقیقت یہ جملہ ماہواری میں عورت سے جنسی ملاپ کے اجتناب کے حکم کا فلسفہ بیان کرتا ہے کیونکہ اس حالت میں عورتوں سے جنسی ملاپ تنفر کا باعث ہونے کے علاوہ بہت سے نقصانات کا بھی سبب بنتا ہے۔ ان نقصانات کو آج کی میڈیکل کی دنیا نے بھی ثابت کر دیا ہے۔ ان میں سے کچھ یہ ہیں۔ ۱۔ مرد اور عورت دونوں کا بانجھ ہونا۔ ۲۔ آتشک اور سوزاک جیسی آمیزشی بیماریوں کے جراثیم کا پروان چڑھنا۔ ۳۔ عورت کے تناسلی اعضا کی زبر دست گرمی اور مواد حیض کا مرد کے عضو تناسل میں داخل ہونا جب کہ یہ مواد بدن کے داخلی جراثیموں سے بھرا ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ بھی بہت سی بیماریاں اس طرح سے پیدا ہوتی ہیں جن کی تفصیلات میڈیکل کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہیں انہی وجوہ کی بنیاد پر ڈاکٹر حائض عورتوں سے جنسی ملاپ سے منع کرتے ہیں۔ خون حیض کے دنوں میں رحم کی رگیں کھل جاتی ہیں اور ان کا پانی بھی پتلا ہو جاتا ہے۔ اس عمل میں بچہ دانی بھی رحم کی رگوں سے ہم آہنگ ہوتی ہے۔ تقریبا ماہواری کے آغاز پر ہی عورت کا نطفہ (ovum) شیپور نالی (Fallopian tube) سے گزر کر رحم میں داخل ہوتا ہے تا کہ مرد کا نطفہ داخل ہو تو ان کے اشتراک سے بچہ پیدا ہو سکے۔ مذکورہ خون کا ترشح ابتداء میں غیر منظم اور بے رنگ ہوتا ہے لیکن بہت جلد وہ منظم اور سرخ رنگ ہو جاتا ہے، آخر میں یہ پھر کم رنگ اور غیر مرتب ہوتا جاتا ہے۔۱ اصولی طور پر ماہانہ عادت کے وقت نکلنے والا خون ہر ماہ رحم کی داخلی رگوں میں احتمالی بچے کی غذا کے لیے جمع ہو جاتا ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہر ماہ عورت کے رحم میں ایک چھوٹا سا انڈہ پیدا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ رحم کی داخلی رگیں آمادگی کی حالت میں نطفہ کی غذا کے لیے خون سے پر ہو جاتی ہیں۔ اس وقت جب کہ انڈہ شیپور نالی سے گزر کر رحم میں داخل ہوتا ہے اگر اسپر ماؤزئیڈ ۲ یعنی مرد کا نطفہ موجود ہو تو بچہ پیدا ہو جاتا ہے اور وہاں موجود خون، خون حیض کی صورت میں خارج ہو جاتا ہے۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ ان ایام میں جنسی ملاپ کیوں نقصان دہ اور ممنوع ہے۔ کیونکہ اس خون کے اخراج کی حالت میں عورت کے رحم میں نطفہ قبول کرنے کے لیے کوئی طبیعی آمادگی نہیں ہوتی اور اسی بناء پر اس سے تکلیف ہوتی ہے۔ ”فاعتزلوا النساء فی المحیض و لا تقربوہن۔“ اس آیت کا پہلا حصہ جس میں حائض عورتوں سے علیحدگی اعتزال اور جنسی رابطے سے ممانعت ہے۔ پہلی نظر میں یہودی مذہب کے موجودہ احکام سے شباہت رکھتا ہے لیکن ”فاذا تطہرن فاتوہن من حیث امرکم اللہ“کے قرینے سے معلوم ہوتا ہے کہ کنارہ کشی سے مراد فقط جنسی ملاپ ہے کیونکہ اس حصے میں خون حیض پاک ہونے کے بعد عورتوں سے جنسی ملاپ کی اجازت دی گئی ہے۔ دیکھا جائے تو اسلام عورتوں کی ماہواری کے معاملے میں درمیانی راہ اختیار کرتا ہے۔ اسی طرح ہر مقام پر اسلام کی راہ اور روش اعتدال پر مبنی ہے۔ اسلام افراط و تفریط سے پاک ہے۔ یہاں بھی یہودیوں کی تندروی پر اسلام نے گرفت کی ہے۔ اسلام کے مطابق ماہواری کے عالم میں عورتوں سے معاشرت، میل جول اور نشست و برخاست میں کوئی مضائقہ نہیں۔ فقط جنسی ملاپ کی ممانعت ہے۔ اسلام نے اس موقع پر عیسائیوں کے طرز عمل کو بھی اختیار نہیں کیا جن کے نزدیک حیض اور غیر حیض ہر حالت میں عورتوں سے یکساں قسم کے تعلقات رکھنے کی کھلی چھٹی ہے۔ اس طرح اسلام نے عورت کے احترام، اس کی شخصیت کی حفاظت اور اسے حقیر نہ سمجھنے اور دونوں کی صحت کے ضمن میں نقصان دہ امور سے بچنے کے لیئے تدابیر اختیار کی ہیں۔
جنسی ملاپ کی اجازت
”فاذا تطہرن فاتوہن من حیث امرکم اللہ۔“ جب وہ پاک ہو جائیں تو جس راہ سے خدا نے حکم دیا ہے، ان سے ملاپ کرو۔ آیت کا یہ حصہ حقیقت میں عورتوں سے جواز مباشرت کی وضاحت کے لیے ہے۔ ”اذا تطہرن“سے معلوم ہوتا ہے کہ ماہواری سے پاک ہو جانے پر ہی عورتوں سے مباشرت جائز ہے کیونکہ یہ جملہ خون حیض کو آلودگی قرار دینے کے بعد آیا ہے یعنی جب وہ اس ناپاکی اور آلودگی سے پاک ہو جائیں تو حکم امتناعی ختم ہو جاتا ہے۔”تطہرن“کا مفہوم ظاہرا عورتوں کا غسل کر لینا نہیں لیا جا سکتا کیونکہ آیت کی ابتداء میں وجوب غسل کے سلسلے میں کوئی بات نہیں کی گئی۔ دوسرے لفظوں میں حتی یطہرن جو اس سے پہلے آیا ہے کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ ممنوعیت عورت کی ناپاکی کے زمانے میں ہے یعنی پاک ہوںے کے بعد یہ ممنوعیت برطرف ہو جاتی ہے۔ یہی مفہوم ہمارے بزرگ فقہاء نے فقہی مسائل میں لیا ہے۔ انہوں نے فتوی دیا ہے کہ خون سے پاک ہو جانے کے بعد غسل سے پہلے بھی جنسی ملاپ جائز ہے۔ مندرجہ بالا توضیح سے ثابت ہو چکا ہے کہ لفظ "تطہرن“ غسل کرنے پر دلالت نہیں کرتا جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے۔ وجوب غسل تو ایک دوسری دلیل کے ذریعے ثابت ہوا ہے۔ ”من حیث امرکم اللہ“ اس بعد والے حصے میں حکم دیا گیا ہے: جس طریق سے خدا نے حکم دیا ہے مباشرت کرو۔ ہو سکتا ہے یہ حصہ آیت کے گذشتہ حصے کی تاکید ہو یعنی صرف عورت کے پاک ہونے کی حالت میں مجامعت کرو۔ اس کے علاوہ نہ کرو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کا زیادہ وسیع اور کلی مفہوم ہو یعنی پاک ہونے کے بعد بھی مباشرت کا عمل حکم پروردگار کی حدود کے اندر ہونا چاہئیے۔ ہو سکتا ہے اس فرمان میں پروردگار کا تکوینی حکم بھی شامل ہو اور تشریعی بھی کیونکہ خدا نے نوع انسانی کی بقاء کے لیے دو مخالف صنفوں میں ایک دوسرے کے لیے کشش رکھی ہے۔ اس لیے جنسی ملاپ دونوں کے لیے ایک لذت رکھتا ہے لیکن مسلم ہے کہ در حقیقت مقصد بقاء نسل تھا اور کشش اور لذت تو اس مقصد کے حصول کے لیے مقدمہ اور تمہید کی حیثیت سے ہے لہذا لذت جنسی کا حصول بقاء نسل کے حوالے سے ہی ہونا چاہئیے۔ اس بنا پر استمنا یعنی جنسی ملاپ کے علاوہ منی نکالنا اور لواطت یعنی مرد کا مرد سے بدکاری کرنا اور ایسے دیگر افعال جو اس تکوینی حکم سے انحراف قرار پاتے ہیں ممنوع ہیں کیونکہ وہ کسی طرح بھی جنسی ملاپ کے اصلی مقصد کو پورا نہیں کرتے جب کہ اس کے علاوہ بھی ان اعمال کے شدید نقصانات ہیں۔ ”ان اللہ یحب التوابین و یحب المتطہرین۔“ خدا توبہ کرنے والوں اور پاک بازوں کو دوست رکھتا ہے۔ ”توبہ“ کا معنی ہے گناہ سے پلٹنا اور خدا کی نافرمانی سے پشیمان ہونا۔ توبہ کے تین بنیادی ارکان ہیں۔ ۱۔ یہ جاننا کہ میں پہلے خدا کی نافرمانی کر چکا ہوں۔ ۲۔ اس عمل پر پشیمان اور نادم ہونا۔ ۳۔ آئندہ اسے ترک کرنے کا عزم بالجزم کرنا اور جو ہو چکا ہے اس کی تلافی اور ازالہ کرنا۔ کسی شخص میں یہ کیفیت پائی جائے تو اسے تائب کہتے ہیں اور اس کے عمل کو توبہ کہا جاتا ہے (توبہ اور اس کی شرائط کے بارے میں مزید تشریح متعلقہ آیات میں بیان کی جا چکی ہے)۔ اس آیت میں تطہیر سے مراد گناہ سے آلودہ نہ ہونا اور اپنے آپ کو خدا کی نافرمانی سے بچانا ہے۔ آیت کے آخر میں اس جملے کا استعمال ہو سکتا ہے اس لیے کہ بعض لوگ اپنے کمزور مزاج پر ضبط نہ کرتے ہوئے ایام حیض میں عورتیں سے عدم مباشرت کے خدائی حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھیں اور آلودہ گناہ ہو جائیں، بعد ازاں اپنے اس عمل پر اُن کی نظر پڑے تو وہ ناراحت اور افسردہ ہوں اور وہ اپنے تئیں غضب خدا کا حقدار سمجھیں تو ایسے میں یہ نہ ہو کہ انہیں اپنی بازگشت کا کوئی راستہ ہی سجھائی نہ دے اور وہ رحمت الہی سے مایوس ہو جائیں، اللہ تعالی متوجہ کرتا ہے کہ اگر وہ توبہ کر لیں تو کسی حد تک لطف خدا سے بہرہ ور ہو سکتے ہیں۔ البتہ جو لوگ ابتداء ہی سے اپنے نفس پر ضبط برقرار رکھیں اور اس گناہ سے پاک رہیں تو اُن گناہ سے پاک رہیں تو ان کے لیے پروردگار کے اس لطف و محبت کا حصہ زیادہ ہے۔
نوع بشر کی حفاظت کا ذریعہ
”نسآئکم حرث لکم فاتوا حرثکم انی شئتم۔“ اس آیت میں عورتوں کو کھیتی سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ ہو سکتا ہے بعض لوگوں کے نزدیک یہ تشبیہ عورتوں کے بارے میں بوجھل ہو اور وہ سوچیں کہ اسلام نے آدھی انسانیت کے لیئے یہ لفظ کیوں استعمال کیا ہے حالانکہ اس تشبیہ میں ایک باریک سا نکتہ پنہاں ہے۔ در حقیقت قرآن چاہتا ہے کہ اس طرح سے عورت کو متعارف کروا کر انسانی معاشرے میں اُس کے وجود کی ضرورت کو اجاگر کرے اور یہ واضح کرے کہ عورت فقط آتش شہوت کو سرد کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ نوع بشر کی بقا کا وسیلہ ہے۔ جیسے انسان اپنی بقاء کے لیے غذا کا محتاج ہے اور یہ احتیاج کاشتکاری اور زراعت کے بغیر پوری نہیں ہو سکتی، اس طرح بقاء نوع انسانی عورت کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ بات اُن لوگوں کے لیے ایک تنبیہ کی حیثیت رکھتی ہے جو عورت کو ایک کھلونا اور ہوس پرستی کا ہدف سمجھے بیٹھے ہیں۔ ”حرث“ مصدر ہے۔ یہ "بیج ڈالنا“ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ بعض اوقات زراعت کی جگہ مزرعہ کے مفہو م میں بھی بولا جاتا ہے۔ لفظ ”انی“ اسماء شرط میں سے ہے اور زیادہ تر ”متی“ کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے اور ”متی“ کا معنی ہے ”زمانہ“۔ اس صورت میں اسے ”انی زمانیہ “ کہتے ہیں۔ کبھی کبھی یہ ”مکان“ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ جیسا کہ سورہ آل عمران کی آیہ ۳۷ میں ہے۔ ” یَامَرْیَمُ اَنَّی لَکِ ہَذَا قَالَتْ ہُوَ مِنْ عِنْدِ اللهِ۔“ حضرت زکریا جب مریم کے پاس جاتے تو اُن کے پاس تیار شدہ کھانے دیکھتے تو پوچھتے ”انی لک ہذا“ یعنی یہ کھانا تمہارے پاس کہاں سے آیا۔ جناب مریم جواب دیتیں ”من عند اللہ“ یعنی خدا کے ہاں سے (مراد تھی جنت سے)۔ لفظ”انی “ اگر زمانی ہے تو عورتوں سے مباشرت کے وسیع زمانے کا مفہوم حاصل ہوگا۔ یعنی شب و روز، تمام اوقات میں اس کی اجازت دی گئی ہے اور اگر یہ مکانی ہو تو پھر مراد یہ ہوگی یہ مکان، مقام اور کیفیت تمام امور میں وسعت دی گئی ہے۔ ”و قدّموا لانفسکم۔“ یہ جملہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ جنسی ملاپ کا اصل مقصد صرف حصول لذت اور تکمیل خواہش نہیں بلکہ صاحب ایمان افراد کو چاہئیے کہ وہ اس عمل سے لائق اور شائستہ اولاد کے حصول کی خواہش کریں اور پھر اس کی تربیت کی ذمہ داری پوری کریں اور اس مقدس تربیتی خدمت کو ایک معنوی سرمائے کے طور پر اپنے کل کے لیئے آگے بھیجیں۔ اس لیے قرآن تنبیہ کرتا ہے کہ بیوی کے انتخاب میں ایسے اصول پیش نظر رکھیں جن کا نتیجہ اچھی اولاد کی پرورش اور عظیم اجتماعی و انسانی سرمائے کا حصول ہو۔ پیغمبر اکرم ﷺ سے ایک حدیث منقول ہے جس میں آپ نے ارشاد فرمایا ہے۔ ”اذا مات الانسان انقطع عملہ الا عن ثلاث: صدقة جاریة و علم ینتفع بہ و ولد صالح یدعولہ۔“ جب انسان مرجاتا ہے، اس کا دفتر عمل بھی بند ہو جاتا ہے۔ مرنے کے بعد انسان اپنے لیے کوئی بچت مہیا نہیں کر سکتا البتہ تین چیزیں ایسی ہیں جو موت کے بعد بھی اس کے لیے نتیجہ بخش ہوں گی۔ (۱) صدقہ جاریہ، (۲) آثار علمی اور (۳) نیک اولاد کی تربیت۔ صدقہ جاریہ سے مراد ایسے آثار خیر ہیں جو اجتماعی فوائد کے لیئے استعمال ہوتے رہتے ہیں جیسے مسجد، مدرسہ، ہسپتال، لائبریری یا ایسی دیگر چیزیں۔ آثار علمی سے مراد کتاب کی تالیف اور شاگردوں کی تربیت، نیک اولاد جو اپنے مال باپ کے لیے عملی یا زبانی طور پر طلب بخشش کرے ۔ ”و اتقوا اللہ و اعلموا انکم ملا قوہ و بشر المؤمنین۔“ زیر نظر موضوع ۔۔۔ جنسی ملاپ۔۔۔ چونکہ بہت ہی اہم ہے اور انسائی غرائز میں سے سب سے زیادہ پر کشش غریزہ جنسی ہی ہے، اس لیے اس جملے کے ذریعے خدا تعالی انسان کو جنسی ملاپ کے معاملے میں دقت نظر کی دعوت دیتا ہے اور اپنے احکام کی طرف متوجہ کرتا ہے اور فرماتا ہے”و اتقوا اللہ“ یعنی اللہ کی نافرمانی سے ڈرو۔ اس کے بعد متوجہ کرتا ہے کہ تمہیں قیامت کے دن پروردگار سے ملاقات او ر اپنے اعمال کے نتائج کی طرف جانا ہوگا ”و اعلموا انکم ملاقوہ۔“ آخر میں ایمانداروں کو بشارت دیتا ہے کیونکہ صاحبان ایمان اس کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کئے ہوئے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ احکام ان کی مادی اور روحانی زندگی کے لیے مفید ہیں ” بشر المؤمنین“۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 225 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1پیغمبر اکرم ﷺ کے ایک صحابی عبداللہ بن رواحہ کے داماد اور بیٹی میں اختلاف ہو گیا تو اُس نے قسم کھائی کہ اُن میں صلح کے لیے وہ دخل اندازی نہیں کرے گا اور اس بارے میں کوئی قدم نہیں اٹھائے گا۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور ایسی قسموں کو ممنوع اور بے بنیاد قرار دے دیا۔
”قسم“
ایمان“ ”یمین“ کی جمع ہے۔ اس کا معنی ہے ”قسم“ ”عرضة“کا معنی ہے کسی چیز کا معرض قرار دینا۔ مثلا کوئی جنس بازار میں بیچنے کے لیے لاتے ہیں اور اسے معاملے کے معرض میں قرار دیتے ہیں یعنی اسے معاملے کے بیچ میں لاتے ہیں تو اُسے عرضہ کہتے ہیں۔ بعض اوقات موانع اور رکاوٹوں کو بھی عرضہ کہتے ہیں۔ کیونکہ وہ معرض انسان میں واقع ہوتے ہیں اور انسان کے راستے میں حائل ہوتے ہیں ”عرضة“کے مذکورہ مفہوم کو نظر میں رکھتے ہوئے آیت کی تفسیر کچھ اس طرح ہوگی: خدا کو اپنی قسموں کے معرض میں نہ لاؤ اور ہر چھوٹے بڑے کام کے لیے قسم نہ کھاؤ۔ خدا کے نام کو معمولی نہ بنادو۔ اہم مقاصد کے علاوہ یوں قسم کھانا غیر مناسب اور غیر مطلوب کام ہے۔ یہ بات بہت سی احادیث میں بھی بیان کی گئی۔ ان میں سے امام صادق -کا ایک فرمان ملاحظہ کیجئے ، آپ نے فرمایا۔ ”و لا تحلفوا بااللہ صادقین و لا کاذبین فانہ سبحانہ یقول لا تجعلوا اللہ عرضة لایمانکم“ خدا کی قسم کبھی نہ کھانا، چاہے تم سچے ہو یا جھوٹے کیونکہ خدا فرماتاہے کہ خدا اپنی قسموں میں نہ لاؤ۔ اس صورت میں شان نزول کے ساتھ اس کی مناسبت یوں ہوگی کہ اچھے کاموں میں بھی قسم کھانا پسندیدہ عمل نہیں ہے چہ جائیکہ انسان کسی اچھے کام مثلا لوگوں کے در میان صلح صفائی و غیرہ ترک کرنے کے معاملے میں قسم کھائے۔ اس تفسیر کے مطابق ”ان تبروا و تتقوا و تصلحوا بین الناس “اس طرف اشارہ ہے کہ نیک کاموں اور لوگوں کے در میان مصالحت کرانے میں بھی قسم نہ کھاؤ۔ یہ بھی ہوسکتاہے کہ ”عرضة“آیت میں رکاوٹ اور مانع کے معنی میں ہو یعنی خدا کے نام کی قسم کو نیک عمل اور لوگوں کے در میان صلح کروانے میں رکاوٹ نہ بناؤ اور ایسی ہر قسم کی کوئی قیمت اور اعتبار نہیں۔ شان نزول سے اس تفسیر کی مناسبت مکمل طور پر واضح ہے۔ ”لاَیُؤَاخِذُکُمْ اللهُ بِاللَّغْوِ فِی اٴَیْمَانِکُمْ وَلَکِنْ یُؤَاخِذُکُمْ بِمَا کَسَبَتْ قُلُوبُکُمْ “ اس آیت میں اللہ تعالی دو طرح کی قسموں کی طرف اشارہ کرتاہے پہلی قسم۔ لغو قسموں کی ہے، جن کا کوئی اثر نہیں اور جن کی پرواہ نہیں کرنا چاہئیے۔ یہ وہ قسمیں ہیں جو لوگ بغیر توجہ کے کھاتے ہیں۔ بعض لوگ تکیہ کلام اور عادت کے طور پر قسمیں کھاتے ہیں۔ ہر کام میں ”لاو اللہ“ اور ”بلی و اللہ“ یعنی نہ بخدا اور ہاں بخدا کہتے ہیں۔ ایسی قسمیں لغو ہیں ”لغو“ لغت میں ان تمام کاموں اور باتوں کو کہتے ہیں جن کا ھدف اور مقصد معین نہ ہو یا جو قصد و ارادہ سے سرزد نہ ہوں ۔ اس لیے وہ قسمیں لغو کہلائیں گی جو انسان غضب اور غصے کی حالت میں کھاتاہے (جب کہ حالت غضب میں وہ عام حالت میں نہ رہے)۔ مندرجہ بالا آیت کے مطابق ایسی قسمیں جو قصد و ارادہ سے انجام پذیر نہ ہو ان میں مؤاخذہ نہیں ہے اور نہ وہ کوئی اثر رکھتی ہیں۔ البتہ یہ بات اہم ہے کہ انسان اس طرح سے ہونا چاہئیے کہ وہ ایسی قسموں سے بھی سے کنارہ کش رہے۔ دوسری قسم۔ ان قسموں کی ہے جو قصد و ارادہ کی ما تحت ہوں اور قرآن کی تعبیر کی مطابق اس میں ”کسب قلبی “ موثر ہے۔ ایسی قسم معتبر ہے اور اس کی پابندی کرنا چاہیئے اور اس کی مخالفت نہ فقط گناہ ہے بلکہ اس کا کفارہ بھی دینا پڑتاہے۔ مگر اس کی کچھ شرائط ہیں جن کی طرف ہم بعد میں اشارہ کریں گے۔ قسمیں ۔
قسمیں__ جو قابل اعتبار ہیں
اسلام کی نظر میں قسم کھانا اصولی طور پر اچھا نہیں ہے جیسا کہ اوپر بھی بیان کیا جا چکا ہے لیکن یہ فعل حرام بھی نہیں ہے بلکہ بعض اوقات اہم مقاصد کے لیے قسم کھانا مستحب یا واجب بھی ہو جاتا ہے۔ بعض قسمیں تو اسلام کی نگاہ میں بالکل لغو اور بے اعتبار ہیں مثلا وہ قسم جو غیر خدا کے نام کی ہو۔ ایسی قسمیں جن میں خدا کا نام نہیں ہے، بالکل بے اثر ہیں اور ان کے مطابق عمل کرنا ضروری نہیں ہے۔ اس طرح حرام یا مکروہ فعل انجام دینے کے لیے کھائی جانے والی قسمیں بھی بے اثر ہیں۔ مثلا کوئی شخص قسم کھا لے کہ وہ کسی کا قرض ادا نہیں کرے گا یا جہاد سے بھاگ جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ اگر کوئی ایسی قسم کھائے تو اس کی پرواہ نہ کرے اور اپنی ذمہ داری پوری کرے اور اس کے ذمہ ایسی قسم کا کوئی کفارہ بھی نہیں۔ ”لاَیُؤَاخِذُکُمْ اللهُ بِاللَّغْوِ فِی اَیْمَانِکُمْ“ کی تفسیر میں ایک یہی مفہوم مضمر ہے۔ ایسی قسمیں جو خدا کے نام پر کھائی جائیں اور ان کا مقصد کوئی اچھا کام ہو یا کم از کم فعل مباح ہو تو اسے پورا کرنا ضروری ہے اور اس کی مخالفت پر کفارہ دینا پڑے گا۔ سورہ مائدہ آیہ ۸۹ کے مطابق اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا انہیں لباس پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے۔
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 1tafseer for this ayah is linked with ayah below.
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 227 کے تحت ملاحظہ کریں۔
زمانہ جاہلیت کے ایک طرز عمل کا خاتمہ
”ایلاء“ وہ رسم ہے جو زمانہ جاہلیت میں میاں بیوی کے درمیان جدائی کے سلسلے میں عام تھی۔”ایلاء“ کا مفہوم ہے کہ میاں بیوی والے تعلقات ترک کرنے کی قسم کھانا۔ حکم طلاق نازل ہونے سے پہلے نو مسلموں میں بھی یہ رسم باقی تھی۔ زمانہ جاہلیت میں جب کوئی مرد اپنی بیوی سے متنفر ہو جاتا تو بعض اوقات قسم کھا لیتا کہ وہ اس سے ہمبستری نہیں کریگا۔ اس طرح وہ اپنی بیوی کو اپنے اس غیر انسانی سلوک سے ایک شدید عذاب میں مبتلا کر دیتا۔ نہ رسمی طور پر طلاق دیتا کہ وہ آزادی سے اپنے لیئے کسی دوسرے شوہر کا انتخاب کر کے اپنی خواہشات پوری کر سکے نہ اس قسم کے بعد و ہ خود تیار ہوتا کہ اس سے صلح کر کے ایک شوہر کی طرح زندگی بسر کرے۔ زیر نظر آیت میں اس سلسلے میں اسلام کا معین کردہ طریق کار بیان کیا گیا ہے۔ فرمایا گیا ہے کہ شوہر کو چار ماہ کی مہلت دی جاتی ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اس مصیبت اور عذاب سے نجات دے۔ اس عرصے میں وہ اپنی قسم کو ترک کر دے اور اپنی بیوی کے ساتھ زندگی بسر کرے یا اُسے طلاق دے کر آزاد کر دے۔ پہلی راہ کا انتخاب یعنی گھر کے ماحول کو خرابی سے بچانا۔ بلاشبہ عقل و دانش کا تقاضا بھی ہے اور رضائے پروردگار کے حصول کا ذریعہ بھی، اسی لیے آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے۔ ”فان فاءُ فان اللہ غفور رحیم۔“ اگر اپنے ارادے کو ترک کر دیں تو خدا بخشنے والا مہربان ہے۔ (فان اللہ غفور رحیم)___ یہ جملہ دلالت کرتا ہے کہ اس قسم کو ترک کرنا کوئی گناہ نہیں، اگرچہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ قسم کھانا خود بھی ایک پسندیدہ عمل نہیں ہے۔ اگر مرد علیحدگی کا ارادہ کر لے اور طلاق دے دے تو اس صورت میں بخشش و مغفرت مسلم نہیں ہے۔ خدا جو تمام اسرار سے آگاہ ہے، جانتا ہے کہ ہوس پرستی نے شوہر کو قانون طلاق سے غلط فائدہ اٹھانے پر ابھارا ہے یا اس کے حالات کا یہی تقاضا تھا۔ ظاہری طلاق جاری کرنے کے بارے میں، اس کا سبب اور محرک سب کچھ خدا کے علم میں ہے۔ اسی لیے آیت کے آخر میں فرماتا ہے۔ ”وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلاَقَ فَإِنَّ اللهَ سَمِیعٌ عَلِیم۔“ اور اگر وہ طلاق ہی کا ارادہ کر لیں تو اللہ تعالی سننے والا اور جاننے والا ہے۔ توجہ رہے کہ اسلام نے ”ایلا“ کو بالکل تو ختم نہیں کیا البتہ اس کے بُرے آثار کو ختم کر دیا ہے کیونکہ وہ کسی کو اجازت نہیں دیتا کہ ”ایلاء“ یا بیوی سے مباشرت ترک کرنے کی قسم کھانے سے وہ اپنی بیوی سے جدا ہو جائے۔ اسلام نے ایلاء کرنے والے کے لیئے مدت کا تعین اس لیے نہیں کیا کہ واقعا قسم کھانے سے ازدواجی حقوق میں سے کوئی حق باطل ہو جاتا ہے۔ بلکہ یہ اس لیے ہے کہ واجب شرعی ہونے کے لحاظ سے مباشرت چار ماہ میں ایک مرتبہ ضروری ہے (البتہ یہ بھی اس صورت میں ہے کہ عورت طویل مدت کی وجہ سے گناہ کا شکار نہ ہو ورنہ اس صورت کے علاوہ خصوصا جوان عورتوں کے بارے میں کہ جہاں خطرہ ہو کہ وہ گناہ میں مبتلا ہوجائیں گی، ضروری ہے کہ عدم مباشرت کی مدت کم کر دی جائے تا کہ اس کی جنسی ضرورت پوری ہو سکے)۔
حکم اسلام اور دنیائے مغرب کا ایک تقابل
”ایلا“ کی رسم پر اسلام کی گرفت اور زمانہ جاہلیت کی گذشتہ تاریخ میں ایلاء کی طرح سے بدنی علیحدگی (یورپی ممالک میں جس کی تائید کی جا چکی ہے) پر نظر کی جائے تو اسلام اور قرآن میں عورت کے حقوق کی کیفیت سے کافی آگاہی ہو سکتی ہے۔ وضاحت کچھ یوں ہے کہ فرانس کے عظیم انقلاب کے بعد اہل فرانس کو طلاق کے لیے اس صورت کی بھی اجازت دی گئی تھی کہ وہ ایک دوسرے سے بدنی جدائی اختیار کر لیں۔ اس قانون کے مطابق جو عورت مرد ایک دوسرے سے مصالحت نہیں کر سکتے تھے، اُن کے لیے ممکن تھا کہ وقتی طور پر ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں اور علیحدہ گھروں میں زندگی بسر کریں (البتہ روابط اور حقوق برقرار رہتے تھے صرف شوہر کے ذمے اخراجات نہ رہتے اور عزت و پذیرائی عورت کی ذمہ نہ رہتی)۔ لیکن اس قانون کی رو سے مرد دوسری بیوی نہ کر سکتا تھا اور عورت دوسرا شوہر کرنے کی مجاز نہ تھی۔ اس جدائی کی مدت زیادہ سے زیادہ تین سال تھی۔ تین سال کے بعد میاں بیوی مجبور تھے کہ مل جل کر زندگی بسر کریں اور علیحدگی ترک کر دیں۔ اسی طرح سے زمانہ جاہلیت کا ایک طرز عمل اس معاشرے کا حصہ بن گیا۔ دنیائے مغرب نے تو اس علیحدگی کی اجازت تین سال تک کے لیے دی ہے لیکن اسلام چار ماہ سے زیادہ جدائی کی اس کیفیت کو روا نہیں جانتا (جب کہ قسم نہ بھی کھائی جائے تب بھی مباشرت میں اس مدت تک کی تاخیر مباح ہے)۔ اگر اس مدت کے اختتام پر بھی مرد ٹال مٹول سے کام لے اور اپنے پروگرام کو واضح نہ کرے تو حکومت اسلامی اسے طلب کر سکتی ہے اور مخالفت کی صورت میں اسے مجبور کر سکتی ہے کہ وہ معاملے کو طے کرے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1اکثر گھریلو معاملات کی خرابی معاشرتی ڈھانچے کے لیئے ناقابل تلافی نقصانات کا باعث بنتی ہے۔ اس لیے اسلام نے ایسے قوانین اور احکام وضع کئے ہیں کہ امکان کی آخری حد تک گھریلو رشتے ٹوٹنے سے بچ جائیں۔ ایک طرف اسلام نے طلاق کو مباح اور حلال چیزوں میں سب سے زیادہ قابل نفرت قرار دیا ہے اور دوسری طرف گھریلو اختلافات کے لیے خاندانی عدالت کا تصور دیا ہے۔ یہ عدالت رشتہ داروں پر ہی مشتمل ہوتی ہے تا کہ طرفین کے قریبی رشتہ داروں کے ذریعے صلح و آشتی کی کوئی صورت نکل آئے۔ طلاق کے معاملے کو تاخیر و التوا میں ڈالنے اور اس فیصلے کو متزلزل کرنے کے لیئے ”عدت“ مقرر کی گئی ہے جس کی مدت تین ”قرو“ ہے جس کا ذکر زیر نظر آیت میں کیا گیا ہے۔
قروء“ سے کیا مراد ہے
”قروء" کا واحد”قرء“۔ یہ لفظ ”ماہواری کی عادت “ اور اس سے پاک ہونے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اگرچہ بہت سی روایات میں تصریح کی گئی ہے کہ ”ثلاثہ قروء“ عدت کی حد ہے اور اس کا مفہوم ہے عورت کا خون حیض سے تین مرتبہ پاک ہونا، ان روایات سے قطع نظر خود اس آیت کا یہ مفہوم دو طرح سے معلوم ہوتا ہے۔ ۱۔ ”قرء“ کی دو جمع ہیں، ”قروء“ اور ”اقراء“۔ وہ قرء جس کی جمع قروء ہے پاک ہونے کے معنی میں ہے اور جس کی جمع ”اقراء" ہے اس کا مطلب ہے ”حیض“۔ اس لیے زیر بحث آیت میں چونکہ ”قرو“ آیاہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں مراد عورت کے پاک ہونے کے دن ہیں نہ کہ حیض کے ایام۔ ۲۔ لغت میں ”قرو“ کا اصلی معنی ”طہر“ اور بہ معنی پاکی سے ہی زیادہ مناسبت رکھتا ہے کیونکہ یہی وہ موقع ہے جب خون رحم میں جمع ہو جاتا ہے جب کہ عادت کے دنوں میں تو پراگندہ ہو کر باہر نکل آتا ہے۔
عدت___ صلح اور بازگشت کا ذریعہ ہے۔
بعض اوقات مختلف عوامل کی وجہ سے نفسیاتی طور پر حالات ایسے پیدا ہو جاتے ہیں کہ ایک معمولی سا اختلاف اور چھوٹی سی وجہ نزاع جذبہ انتقام بن کر بھڑک اٹھتی ہے اور عقل و وجدان کی روشنی بجھ جاتی ہے۔ گھریلو جدائیاں زیادہ تر ایسے ہی حالات کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس کشمکش کے تھوڑی مدت بعد ہی عور ت اور مرد اپنے کیئے پر پشیمان ہو جاتے ہیں خصوصا جب وہ گھریلو نظام کی ابتری اور گوناگون پریشانیوں کا شکار ہوتے ہیں تو ندامت محسوس کرتے ہیں۔ ایسے ہی موقع کے لیے زیر بحث آیت کہتی ہے کہ عورت کو ایک مدت تک عدت میں رہنا چاہیے اور صبر کرنا چاہئیے تا کہ یہ تیز لہریں گزر جائیں اور نزاع و کش مکش کے سیاہ بادل ان کی زندگی کے فلک سے چھٹ جائیں۔ اس سلسلے میں وہ حکم خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے جو اسلام نے زمانہ عدت میں عورت کو گھر سے باہر جانے پر پابندی کی صورت میں دیا ہے۔ ایسے میں جذبہ فکر برانگیختہ ہوتا ہے اور یہ جذبہ شوہر سے عورت کے روابط کی درستی اور اصلاح میں بہت مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ اسی لیئے سورہ طلاق کی پہلی آیت میں ہے۔ ”لا تخرجوہن من بیوتہن ۔۔۔۔ لا تدری لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا۔“ انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو۔۔۔۔ تمہیں کیا معلوم کہ شاید خدا کوئی کشائش پیدا کر دے اور ان میں صلح ہو جائے۔ طلاق سے پہلے کی زندگی کی گرمئی جذبات اور شیریں لمحات کی یاد اس بات کے لیے کافی ہے کہ دلوں میں خلوص و محبت لوٹ آئے اور کمزور پڑ جانے والا دائرہ محبت قوی ہو جائے۔
عدت ۔ حفاظت نسل کا ذریعہ ہے
عدت کا ایک اور فلسفہ یہ ہے کہ اگر عورت حاملہ ہے تو یہ کیفیت واضح ہو جائے۔ یہ درست ہے کہ ایک مرتبہ ماہواری دیکھنے ہی سے عموما عورت کے حاملہ نہ ہونے کا یقین ہو جاتا ہے لیکن بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ حاملہ ہونے کے باوجود ابتدائے حمل میں عورتوں کو خون حیض آنے لگتا ہے۔ اس لیے اس معاملے کی پوری وضاحت کے لیے حکم دیا گیا ہے کہ عورت تین مرتبہ ماہواری دیکھے اور پاک ہو جائے تا کہ حتمی طور پر پہلے شوہر سے اس کا حاملہ نہ ہونا واضح ہو جائے اور پھر وہ نئے سرے سے کہیں شادی کر سکے۔ ”و لا یحل لہن ان یکتمن ما خلق اللہ فی ارحامہن۔“ قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ عدت کے دنوں کی ابتداء اور انتہا کس طرح معلوم کی جائے۔ اسلام نے اس معاملے میں خود عورت کی بات کو مستند قرار دیا ہے۔ اس لیے مندرجہ بالا آیت کی تفسیر میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ”قد فوض اللہ الی النساء ثلاثة اشیاء الحیض و الظہر و الحمل۔“ یعنی تین باتیں عورت پر چھوڑ دی گئی ہیں۔ ایک ماہواری، دوسرا پاکیزگی، تیسرا حمل۔ یہ بات مندرجہ بالا آیت سے بھی ظاہر ہوتی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ عورت کے لیے جائز نہیں کہ اس حق سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے خلاف واقعہ بات کہے یعنی عورت کی بات سند اور قابل قبول ہے۔ ”ان یکتمن ما خلق اللہ“__ یہ جملہ دو مفاہیم دیتا ہے, ایک بچے کے حمل کو چھپانا اور دوسرا ماہواری کی عادت کو پوشیدہ رکھنا یعنی اگر عورت حاملہ ہے تو اسے اپنا حمل چھپاتے ہوئے عدت کی مدت کم کرنے کے لیے یہ دعوی نہیں کرنا چاہئیے کہ وہ ماہواری کے ایام میں ہے (کیونکہ حاملہ عورت کی عدت تو وضع حمل ہی ہے) اور اس طرح پاک ہونے یا ماہواری کی عادت میں ہونے کے بارے میں بھی غلط بیانی سے کام نہیں لینا چاہئیے۔ ”و بعولتہن احق بردہن فی ذلک ان ارادوا اصلاحا۔“ جب عورت طلاق رجعی کی عدت میں ہو تو شوہر کو رجوع کرنے کا حق ہے تا کہ اگر وہ چاہے تو بلا تکلف اپنی بیوی کے ساتھ اپنی زندگی جاری رکھ سکتا ہے البتہ آیت نے (”ان ارادوا اصلاحا“) کی قید لگائی ہے اور اس سے یہ حقیقت بیان کی ہے کہ حکم یک طرفہ نہ ہو۔ یعنی ایسا نہ ہو کہ مرد آزادانہ بلاشرط حق رجوع رکھتا ہو اور چاہے زمانہ جاہلیت کی طرح اپنی طاقت سے غلط فائدہ اٹھاتا رہے اور عورت پر سختی اور تکلیف روا رکھے لہذا یہ حق اسے اس صورت میں ہے کہ وہ واقعا اپنے طرز و طریقے سے پشیمان ہو اور وہ واقعا اپنی زندگی کا نئے سرے سے آغاز چاہتا ہو۔ تب وہ اصطلاح کے مطابق رجوع کا حق رکھتا ہے، مقصد یہ ہے کہ وہ عورت کو ضرر، دکھ اور تکلیف نہ پہنچانا چاہتا ہو۔ ضمنی طور پر یہ بھی ملحوظ نظر رہنا چاہیے کہ آیت کے آخر میں جو مسئلہ رجوع بیان ہوا ہے آیت کے شروع میں بیان ہونے والے حکم عدت ہی سے مربوط ہے اگرچہ ابتداء میں یہ ایک کلی حکم نظر آتا ہے۔ اس لیے آیت صرف طلاق رجعی کے بارے میں سمجھی جائے گی اور اس کے علاوہ طلاق کے کسی طریقے کے بارے میں یہ خاموشی ہے لہذا یہ امر اس بات کے منافی نہیں کہ عدت اور مدت انتظار کے بارے میں جو کچھ یہاں بیان کیا گیا ہے، طلاق کی کچھ اقسام اس سے مختلف بھی ہیں۔ ”و لہن مثل الذین علیہن بالمعروف و للرجال علیہن درجة۔“ گذشتہ مسائل کے بعد یہ جملہ عورت اور مرد کے باہمی احترام کے بارے میں ہے جسے طلاق اور عدت کے مسئلے سے بالاتر قرار دیا گیا ہے۔ اس میں شخصی اور اجتماعی حقوق کی طرف راہنمائی ہے۔ فرمایا گیا ہے کہ جیسے مرد کے حقوق وضع کئے گئے ہیں تا کہ عورت ان حقوق کا احترام کرے، اسی طرح عورت کے مختلف حقوق بھی مرد کے ذمہ ہیں جن کی ادائیگی کا وہ ذمہ دار ہے۔ ”بالمعروف“کا لفظ اس سلسلہ آیات میں بارہ مرتبہ آیا ہے۔ یہ سب اس لیے ہے کہ کوئی اپنے حقوق سے غلط فائدہ نہ اٹھائے۔ عورت اور مرد دونوں کو مصلحت اندیش ہونا چاہئیے اور باہمی حقوق مناسب طریقے سے ادا کرنے چاہئیں۔
حقوق و فرائض
قرآن یہاں پر ایک بنیادی بات بیان کر رہا ہے اور وہ یہ کہ ہر فرض اور ذمہ داری کے پہلو میں ایک حق بھی ہے یعنی ذمہ داری اور فرض کبھی حق سے جدا نہیں ہوتے۔ مثلا ماں باپ پر اولاد کے بارے میں کچھ فرائض اور ذمہ داریاں عائد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اولاد کے ذمے ان کے کچھ حقوق بھی ہوں گے۔ اس طرح قاضی کی ذمہ داری ہے کہ وہ عدل و انصاف کو عام کرنے کی کوشش کرے، اس کے بدلے قاضی کے لئے بہت سے حقوق بھی مقرر کئے گئے ہیں۔ اس طرح انبیاء اور امتوں کا معاملہ بھی ہے۔ زیر نظر آیت میں اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ جیسے عورتوں کے فرائض اور ذمہ داریاں ہیں اس طرح ان کے لیئے کچھ حقوق بھی مقرر کیئے گئے ہیں۔ ان حقوق و فرائض میں مساوات کی وجہ سے ان میں ”عدالت کا اجر لو“ عملی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی کے لیے کوئی حق مقرر کیا گیا ہے، اس کے مقابلے میں اس پر فرائض بھی عائد کیئے گئے ہوں گے۔ لہذا کوئی ایسا شخص میسر نہیں آ سکتا کہ اس کا کوئی حق ہو اور اس کے کندھے پر کوئی فرض اور ذمہ داری نہ ہو۔ ”و للرجال علیہن درجة و اللہ عزیز حکیم۔“ یہ جملہ گذشتہ قانون کی تکمیل کرتا ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ گذشتہ جملے میں عورت کے بارے میں قانون عدالت مرد کی طرح جاری ہے لیکن کیا یہ ضروری ہے کہ مرد اور عورت تمام فرائض اور ذمہ داریوں میں اور پھر ان کے پس منظر میں تمام حقوق میں سو فیصد برابر اور ہم دوش ہوں۔ عورت اور مرد کی جسمانی و روحانی قوت و استعداد میں جو وسیع فرق ہے، اسے مد نظر رکھتے ہوئے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے چونکہ عورت کے ذمہ ماں کا حساس فریضہ اور معاشرے کے لیے آبرومند نسلوں کی پرورش ہے لہذا اس میں احساسات و جذبات زیادہ پائے جاتے ہیں۔ عورت میں احساسات کی اسی برتری کے پیش نظر ضروری ہے کہ بعض اجتماعی فرائض جن میں زیادہ فکری اور نظری قوت درکار ہے، ان میں مرد بلند مرتبہ کے حامل ہوں۔ کیونکہ ان امور کو جذبات سے بالاتر ہونا چاہئیے۔ حکومت، قضاوت، گھریلو معاملات کی سرپرستی ایسے امور ہی کی مثالیں ہیں۔ البتہ ان امور کی وجہ سے اس میں کوئی رکاوٹ نہیں کہ بعض خواتین اپنے علم و تقوی کے سبب کسی مرحلے میں بہت سے مردوں سے بلند تر ہوں۔ اگر اس پروگرام پر عمل نہ کیا جائے یعنی ہم تمام حقوق اور حالات کے بارے میں ایک ہی قسم کا حکم لاگو کرنے لگیں تو یہ ”الرجال قوامون علی النساء“ کے کلی قانون کی بھی خلاف ورزی ہوگی۔ عدالت کے اس حکم کو ”و لہن مثل الذین علیہن“ کے بھی خلاف ہوگا کیونکہ "ہر شخص کو اپنا حق ملنا چاہئیے“ کا مفہوم یہ ہے کہ عورت اور مرد میں سے ہر ایک اپنی مخصوص استعداد، صلاحیتوں، غرائز اور ساخت کے مطابق اپنی ذمہ داری انجام دے۔ جو کام مرد سے نہیں ہو سکتے، عورت اس کی مدد کرے اور جو کام عورت سے نہیں ہو سکتے، مرد اس کی مدد کے لیے اٹھ کھڑا ہو۔ قانون نظم کا تقاضا ہے کہ احساسات و نرم مزاجی کے حامل افراد زیادہ فکر و نظر رکھنے والے افراد کی سرپرستی میں ہوں لہذا گھر کی سرپرستی مرد کے ذمے ہے اور عورت کے ذمے ہے کہ گھر کا نظام چلانے میں اس کی معاون ہو۔
عورت اور اس کے حقوق کی تاریخ
پوری تاریخ انسانی میں عورت ایک عجیب دردناک داستان رکھتی ہے۔ عورت کی یہ داستان آج انسانی سوسائٹی کی شناخت کی اہم ترین بحث شمار ہوتی ہے۔ مجموعی طور پر عورت کی زندگی کو دو ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا دور:۔ ماقبل تاریخ کا ہے جس کے متعلق آج ہمارے پاس کوئی صحیح اطلاع نہیں کہ اس زمانے میں عورت کے حالات کیا تھے۔ ہو سکتا ہے کہ اس دور میں عورت زیادہ تر طبیعی اور فطری حقوق سے بہرہ ور ہو۔ دوسرا دور:۔ آغاز تاریخ سے شروع ہوتا ہے۔ اس دور کے بعض معاشروں میں عورت تمام اقتصادی، سیاسی اور اجتماعی حقوق میں ایک غیر مستقل شخصیت کے حوالے سے پہچانی جاتی تھی۔ یہی کیفیت بعض ممالک میں آخری صدیوں تک جاری رہی۔ عورت کے بارے میں یہ طرز فکر فرانس کے قانون مدنی جسے ترقی یافتہ کہا جاتا ہے تک میں نظر آتا ہے۔ نمونے کے طور پر شوہر اور بیوی کے مالی روابط کے سلسلے میں بعض ضوابط کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے: آرٹیکل نمبر ۲۱۵ اور ۲۱۷ سے ظاہر ہوتا ہے کہ شوہر دار عورت اپنے شوہر کی اجازت اور دستخط کے بغیر کوئی مالی امور انجام نہیں دے سکتی اور اس کا ہر قسم کا لین دین شوہر کی اجازت کا محتاج ہے۔ البتہ یہ اس صورت میں ہے کہ شوہر اپنے اختیار سے غلط فائدہ نہ اٹھائے اور کسی معقول سبب کے بغیر اجازت دینے سے انکار نہ کرے۔ آرٹیکل نمبر ۱۲۴۳ کے مطابق شوہر حق رکھتا ہے کہ وہ اکیلا مال میں جو عورت اور مرد کے درمیان مشترک ہے، جیسا چاہے تصرف کرے اور اس میں عورت کے اجازت کی بھی ضرورت نہیں۔ البتہ جو کام انتظام و اہتمام کی حدود سے خارج ہے، اس میں عورت کی موافقت ضروری ہے۔ )حقوق زن در اسلام و اروپا( وہ سرزمین جہاں سے اسلام کا آغاز ہوا یعنی حجاز میں بھی پیغمبر اسلام ﷺ کے ظہور سے پہلے عورت کے ساتھ ایک محکوم اور غیر مستقل انسان کا سا سلوک روا تھا۔ ان کا طرز عمل نیم وحشی انسانوں کا سا تھا کیونکہ عورت سے رسوا کن مقاصد حاصل کیے جاتے تھے۔ عورت اس ماحول میں اس قدر بے ارادہ و بے اختیار تھی کہ بعض اوقات اپنے شوہر کے اخراجات کے لیے کرائے پر پیش کی جاتی تھی۔ تمدن سے محرومیت اور فقر و فاقہ کی ابتدا ء نے انہیں عجیب و غریب سختی اور خشونت میں مبتلا کر رکھا تھا جس کے زیر اثر وہ عورت کو زندہ گاڑنے کے مشہور جرم کا ارتکاب کرتے تھے۔
عورت کی زندگی میں نیا مرحلہ
ظہور اسلام اور اس کی مخصوص تعلیمات کے ساتھ عورت کی زندگی ایک نئے مرحلہ میں داخل ہوئی جو پہلے دو مراحل سے بہت مختلف تھا۔ یہ وہ دور تھا جس میں عورت مستقل اور تمام انفرادی، اجتماعی اور انسانی حقوق سے بہرہ ور ہوئی۔ عورت کے بارے میں اسلام کی بنیادی تعلیمات وہی ہیں جن کا تذکرہ زیر بحث آیات میں ہے۔ ”و لھن مثل الذی علیھن بالمعروف“۔ یعنی عورت کے معاشرے میں جس قدر فرائض اہم ہیں، اسی قدر قابل توجہ حقوق کی بھی مالک ہے۔ اسلام عورت کو مرد کی طرح کامل انسانی روح اور ارادہ و اختیار کی حامل سمجھتا ہے اور اسے سیر تکامل اور ارتقاء کے عامل میں دیکھتا ہے جو کہ مقصد خلقت ہے اسی لیے اسلام دونوں کو ایک ہی صف میں قرار دیتا ہے اور دونوں کو "یاایھا الناس“ اور "یا ایھا الذین آمنوا" میں مخاطب کرتا ہے۔ اسلام نے دونوں کے لیے تربیتی، اخلاقی اور عملی پروگرام لازمی قرار دیے ہیں۔ ارشاد الہی ہے: ”و من عمل صالحا من ذکر اور انثی و ہو مومن فاولئک یدخلون الجنة۔“ یعنی جو بھی مرد یا عورت عمل صالح بجا لائے، وہ مومن ہے اور ایسے ہی لوگ جنت میں جائیں گے۔ (مومن۔ ۴۰) ایسی سعادتیں ہر دو اصناف حاصل کر سکتی ہیں۔ قرآن حکیم کہتا ہے: ”مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنثَی وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہُ حَیَاةً طَیِّبَةً وَلَنَجْزِیَنَّہُمْ اَجْرَہُمْ بِاَحْسَنِ مَا کَانُوا یَعْمَلُون۔“ مرد اور عورت میں سے جو بھی نیک کام کرے گا اور وہ ایمان دار بھی ہوگا تو ہم اسے پاک و پاکیزہ زندگی عطا کریں گے اور جو کچھ وہ کرتے رہے ہوں گے، اس کا اچھے سے اچھا اجر و ثواب عطا کریں گے۔ (نحل ۔۹۷) یہ آیات صراحت کرتی ہیں کہ مرد اور عورت میں سے ہر ایک اسلام کے پروگراموں پر عمل درآمد کے ذریعے معنوی اور مادی تکامل کی منزل پا لیتا ہے اور ایک طیب و پاکیزہ زندگی میں قدم رکھتا ہے۔ جو کہ آرام و سکون کی منزل ہے۔ اسلام، عورت کو مرد کی طرح مکمل طور پر آزاد سمجھتا ہے۔ ارشاد الہی ہے: ”کل نفس بما کسبت رہینة۔“ ہر کوئی اپنے اعمال کے بدلے رہن ہے۔ (مدثر ۳۸) سورہ جاثیہ میں ارشاد ہے: ”مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہِ وَمَنْ اَسَاءَ فَعَلَیْہَا۔“ جو بھی اچھا کام کرے تو یہ اس کے اپنے فائدے میں ہے اور جو برا کام کرے وہ بھی اس کا نیتجہ خود بھگتے گا۔ (جاثیہ ۔ ۱۵) یہ آیات بلا تفریق مرد اور عورت سب کے لیئے ہیں۔ اسی لیے سزاؤں کے بارے میں ایک آیت میں ہے۔ ”الزَّانِیَةُ وَالزَّانِی فَاجْلِدُوا کُلَّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ۔“ زانیہ اور زانی میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے مارو۔ (نور۔۲) ایسی دیگر آیات میں بھی دونوں کے لیے ایک جیسے گناہ پر ایک جیسی سزا کا حکم سنایا گیا ہے۔ ارادہ و اختیار سے استقلال پیدا ہوتا ہے۔ یہی استقلال اسلام اقتصادی حقوق میں لاتا ہے۔ اسلام بغیر کسی رکاؤٹ کے ہر قسم کے مالی رابطے عورت کے لیے روا جانتا ہے اور عورت کو اس کی در آمد اور سرمائے کا مالک شمار کرتا ہے۔ سورہ نساء میں ہے۔ ”لِلرِّجَالِ نَصِیبٌ مِمَّا اکْتَسَبُوا وَلِلنِّسَاءِ نَصِیبٌ مِمَّا اکْتَسَبْنَ۔“ مرد جو کمائیں وہ ان کا حصہ ہے اور عورتیں جو کمائیں وہ ان کا حصہ ہے۔ (نساء ۔ ۳۲) لغت میں اکتساب کا کسب کے برعکس ہے۔ اکتساب کا نتیجہ کسب کرنے اور حاصل کرنے والے سے تعلق رکھتا ہے۔ )مفردات راغب دیکھئے، البتہ یہ مفہوم ان مواقع پر ہے جہاں کسب اور اکتساب ایک دوسرے کے مد مقابل ہوں۔( اسی طرح قانون کلی ہے کہ: ”الناس مسلطون علی اموالہم۔“ یعنی__ تمام لوگ اپنے مال پر مسلط ہیں۔ اس قانون کو نظر میں رکھتے ہوئے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح اسلام عورت کے اقتصادی استقلال کا احترام کرتا ہے اور عورت و مرد میں اس نے کوئی فرق نہیں رکھا۔ خلاصہ یہ کہ اسلام کی نظر میں عورت معاشرے کا ایک بنیادی رکن ہے اور اسے ایک بے ارادہ، محکوم اور قیم و نگران کا محتاج وجود ہرگز نہیں سمجھنا چاہئیے۔
مساوات کے مفہوم میں اشتباہ نہ ہو
اسلام نے مساوات کی طرف خاص توجہ دی ہے اور ہمیں بھی متوجہ ہونا چاہئیے لیکن خیال رہے کہ بعض لوگ بے سوچے سمجھے جذبات کی رو میں بہہ کر افراط و تفریط کا شکار ہو جاتے ہیں اور مرد اور عورت کے روحانی و جسمانی فرق اور اُن کی ذمہ داریوں کے اختلاف تک سے انکار کر بیٹھتے ہیں۔ ہم جس چیز کا چاہے انکار کریں تاہم اس حقیقت کا انکار نہیں کر سکتے کہ ان دو صنفوں میں جسمانی و روحانی طور پر بہت فرق ہے۔ مختلف کتب میں اس کی تفصیلات موجود ہیں اور یہاں ہمیں اس کی تکرار کی ضرورت نہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ عورت وجود انسانی کی پیدائش کا ظرف ہے۔ نونہالوں کا رشد اسی کے دامن میں انجام پاتا ہے۔ جیسے وہ جسمانی طور پر آنے والی نسلوں کی پیدائش، تربیت اور پرورش کے لیے پیدا کی گئی ہے، اسی طرح روحانی طور پر بھی اسے عواطف، احساسات اور جذبات کا زیادہ حصہ دیا گیا ہے۔ ان وسیع اختلافات کی موجودگی میں کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ مرد اور عورت کو تمام حالات میں ہم قدم ہونا چاہئیے اور تمام کاموں میں انہیں سو فیصد مساوی ہونا چاہئیے۔ کیا عدالت اور مساوات کے حامیوں کو معاشرے کے تقاضوں کے حوالے سے بات کرنا چاہیے؟ کیا یہ عدالت نہیں کہ ہر شخص اپنی ذمہ داری ادا کرے اور اپنے وجود کی نعمتوں اور خوبیوں سے بہرہ مند ہو؟ اس لیے، کیا عورت کا ایسے کاموں میں دخیل ہونا جو اس کی روح اور جسم سے مناسبت نہیں رکھتے، خلاف عدالت نہیں؟ یہی وہ مقام ہے جہاں ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام جو عدالت کا ہی طرفدار ہے، مرد کو کئی ایک اجتماعی کاموں میں سختی یا زیادہ دقت نظر کی ضرورت ہے مثلا گھرکے معاملات کی سرپرستی وغیرہ میں مقدم رکھتا ہے اور معاونت و کمک کا مقام عورت کے سپرد کر دیتا ہے۔ ایک گھر اور ایک معاشرے کو منتظم کی ضرورت ہے اور نظم و ضبط کا آخری مرحلہ ایک ہی شخص تک انجام پذیر ہونا چاہیے ورنہ کشمکش اور ہرج و مرج پیدا ہوگا۔ اگر تمام تعصبات سے بے نیاز ہو کر غور کیا جائے تو یہ واضح ہوگا کہ مرد کی ساخت کے پیش نظر ضروری ہے کہ گھر کی سرپرستی اس کے ذمے رکھی جائے اور عورت اس کی معاون ہو۔ اگرچہ کچھ لوگ ان حقائق سے چشم پوشی اختیار کرنے پر مصر ہیں۔ آج کی دنیا میں بھی بلکہ ان اقوام میں بھی جو عورتوں کا مکمل آزادی و مساوات دینے کا دعوی کرتے ہیں، خارجی حالات زندگی نشاندہی کرتے ہیں کہ عملی طور پر وہی بات ہے جو ہم بیان کر چکے ہیں اگرچہ باتوں میں اس کے برخلاف کہتے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1گذشتہ آیت کی تفسیر میں کہا جا چکا ہے کہ عدت اور رجوع کا قانون خاندانوں کی اصلاح اور جدائی کو روکنے کے لیئے ہے لیکن اسلام لانے والے نئے مسلمان اس سے غلط فائدہ اٹھاتے تھے اور بیوی کو تکلیف اور سختی پہنچانے کے لیئے پے در پے طلاق دیتے اور عدت ختم ہونے سے قبل رجوع کر لیتے۔ اس طرح وہ عورت پر سختی کرتے اور اُسے مصیبت میں مبتلا رکھتے۔ زیر بحث آیت اس غیر انسانی فعل کو روکتی ہے۔ ارشاد ہے کہ دو مرتبہ تک طلاق اور رجوع صحیح ہے لیکن اگر تیسری مرتبہ طلاق انجام پذیر ہوئی تو پھر رجوع کا حق نہیں ہے۔ اور آخری یہی تیسری طلاق ہے۔ البتہ ”الطلاق مرتان“ سے مراد ہے وہ طلاق جس میں رجوع ممکن ہے اور جس کے بارے میں ”امساک بمعروف“ صادق آتا ہے جو دو سے زیادہ نہیں اور تیسری طلاق میں رجوع نہیں ہے، جیسا کہ آیت گواہی دیتی ہے۔ ”امساک“کا معنی ہے روکے رکھنا اور ”تسریع“کا معنی ہے چھوڑ دینا۔ جب کشمکش، طلاق اور پھر صلح اور رجوع کی نوبت دو مرتبہ ہو گزرے تو پھر مرد کو چاہئیے کہ معاملے کو ایک طرف کرے۔
یہاں دو نکات قابل توجہ ہیں
۱۔ جس طرح رجوع کرنے اور عورت کو روک رکھنے میں ”معروف“ کی شرط ہے۔ یعنی رجوع اور روکے رکھنا صلح و صفائی اور خلوص و محبت کی بنیاد پر ہو، اسی طرح جدائی بھی”احسان“ کے ساتھ مقید ہے۔ یعنی علیحدگی اور جدائی ہر طرح کے ناپسندیدہ امر سے پاک ہو مثلا انتقام، غیض، غضب اور کینہ سے مبرا ہو اور کہا جا سکتا ہے کہ آیت کا یہ حصہ احسان ہی کی وضاحت کے لیے ہے۔ ”لا َیَحِلُّ لَکُمْ اٴَنْ تَاٴْخُذُوا مِمَّا آتَیْتُمُوہُنَّ شَیْئًا ۔“ ۲۔ ”الطلاق مرتان“، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دو یا تین طلاقیں ایک ہی مجلس میں انجام نہیں پا سکتیں اور چاہئیے کہ وہ متعدد مواقع پر واقع ہوں۔ خصوصا جب تعدد طلاق کا مقصد یہ ہے کہ رجوع کا زیادہ موقع مل سکے اور شاید پہلی کشکمش کے بعد صلح و صفائی برقرار ہو جائے اور اگر پہلی مرتبہ صلح و آشتی نہ ہو سکے تو شاید دوسری مرتبہ ہو جائے۔ لیکن ایک ہی موقع پر متعدد طلاقوں سے یہ راستہ بالکل مسدود ہو جاتا ہے اور میاں بیوی ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں اور اس طرح تعدد طلاق عملی طور پر بے اثر ہو کر رہ جاتا ہے۔ مکتب تشیع میں یہ مسئلہ متفق علیہ ہے لیکن اہل سنت کے درمیان اس سلسلے میں اختلاف نظر ہے۔ البتہ زیادہ تر کا عقیدہ یہی ہے کہ تین طلاقیں ایک ہی مجلس میں دی جا سکتی ہیں۔ تفسیر المنار کے مولف مسند احمد ابن حنبل اور صحیح مسلم (جیسی اہل سنت کی بنیادی کتب) سے نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم ﷺ کے زمانے سے لے کر حضرت عمر کی خلافت کے دو سال تک ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی طلاق شمار ہوتی تھیں اور یہ مسئلہ سب اصحاب پیغمبر ﷺ کے نزدیک متفق علیہ تھا لیکن اس وقت خلیفہ دوم نے حکم دیا کہ ایک ہی مجلس میں تیں طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں۔
اہل سنت کہ مفتی اعظم نے شیعہ نظریہ تسلیم کرلیا
خلیفہ دوم کے حکم کے با وجود یہ مسئلہ اہل سنت کے ہاں متفق علیہ نہیں رہا۔ اہل سنت کے بہت سے علماء نے دیگر علماء سے اختلاف کرتے ہوئے شیعہ نقطہ نظر کو انتخاب کیاہے۔ ان میں سے جامعہ الازہر کے سابق رئیس اور اہل سنت کے مفتی اعظم شیخ محمود شلتوت لکھتے ہیں۔ میں ایک عرصہ تک مشرق کے کالج میں مذاہب کی تحقیق اور ان کے در میان موازنہ و مقایسہ میں مصروف رہا۔ کئی مرتبہ ایسا ہوتا کہ میں کئی ایک مسائل میں مختلف مذاہب کی آراء و نظریات کی طرف رجوع کرتا بہت سے مقامات پر میں نے شیعہ مذہب کے استدلالات کو محکم اور استوار دیکھا تو ان کے سامنے جھکا اور میں نے ان میں شیعہ نظریے کو انتخاب کرلیا۔ اس سلسلے میں چند مثالوں کے ذیل میں وہ مزید لکھتے ہیں: ایک ہی مجلس کی تین طلاقیں اہل سنت کے چاروں مذاہب میں تین ہی شمار ہوتی ہیں۔ لیکن شیعہ امامیہ عقیدے کے مطابق وہ ایک سے زیادہ طلاقیں شمار نہیں ہوتیں اور چونکہ واقعا قانوں کی نظر (اور ظاہر آیات قرآن کی نظر) سے اہل سنت کا نظریہ فتوے کی حیثیت سے اپنی قدر و قیمت کھو بیٹھاہے۱ ” و لا یحل لکم ان تاخذوا مما ایتموہن شیئا“ گذشتہ جملے میں کہاجاچکاہے کہ علیحدگی احسان کی بنیاد پر ہونا چاہئیے زیر نظریہ جملہ گذشتہ جملے کی وضاحت بھی ہے اور ایک مستقل حکم بھی نیز یہ ان مواقع کے لیے ایک نمونہ بھی ہے جو احسان کی بنیاد پر علیحدگی کی تشریح کرتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شوہر جو چیز حق مہر کے طور پر بیوی کودے چکاہے وہ واپس نہیں لے سکتا۔ سورہ نساء آیات ۲۰ و ۲۱ میں یہ حکم زیادہ تشریح کے ساتھ بیان کیاگیاہے۔ ”إِلاَّ اٴَنْ یَخَافَا اٴَلاَّ یُقِیمَا حُدُودَ اللهِ فَإِنْ خِفْتُمْ اٴَلاَّ یُقِیمَا حُدُودَ اللهِ فَلاَجُنَاحَ عَلَیْہِمَا فِیمَا افْتَدَتْ بِہِ “ صرف ایک صورت میں حق مہر واپس لینے میں کوئی حرج نہیں اور وہ یہ کہ جب عورت خود ازدواجی زندگی کو جاری رکھنا نہ چاہتی ہو۔ اب اگر اس کے عدم میلان اور نفرت کی وجہ سے اندیشہ ہو کہ عورت اور مرد حدود الہی کی حفاظت نہ کرسکیں گے تو اس صورت میں کوئی حرج نہیں کہ حق مہر (عوض کے طور پر) شوہر کودے دیاجائے تا کہ وہ عورت کو طلاق دے دے ۲ ”تِلْکَ حُدُودُ اللهِ فَلاَتَعْتَدُوہَا وَمَنْ یَتَعَدَّ حُدُودَ اللهِ فَاٴُوْلَئِکَ ہُمْ الظَّالِمُون ”تِلْک“ان احکام کی طرف اشارہ ہے جو گذشتہ جملوں میں بیان کیے جاچکے ہیں۔ حقیقت میں یہ احکام اجتماعی، اخلاقی اور فقہی نکات کا مجموعہ ہیں۔ جنہیں پروردگار نے اجتماعی روابط کے استحکام کے لیے وضع اور بیان فرمایاہے۔ زیر نظر جملے میں کہا گیاہے کہ اگر بعض لوگ افراط کا شکار ہوں اور ناجائز میلانات کی وجہ سے حدود الہی سے بے پرواہ ہوجائیں تو اُن کا شمار ستمگروں اور ظالموں میں ہوگا۔ یہ اشخاص کس پر ظلم کرتے ہیں؟ اس کی وضاحت اس آیت میں موجود نہیں البتہ سورہ طلاق کی پہلی آیت میں فرمایا گیاہے: ”من یتعد حدود اللہ فقد ظلم نفسہ“ جو شخص حدود خدا سے تجاوز کرتاہے و ہ اپنے ہی نفس پر ظلم کرتاہے اور واقعا ایسا ہی ہے کیونکہ قانون خداوندی کی سرحدوں سے تجاوز کرنے کا نقصان سب سے پہلے تجاوز کر نے والوں ہی کو پہنچتاہے۔ کیونکہ اسی قانون کے سائے میں ان کے حقوق کی بھی حفاظت ہونا تھی۔ اب اگر قانون شکنی اور سرحد سے تجاوز کرنا رواج ہوجائے تو اس کا نقصان لوگوں کے دامن کو بھی آلے گا جنہوں نے اس کام میں پیش قدمی کی ہے۔ ۱ رسالة الاسلام شمارہ، سال ۱۱، ص۱۰۸ بحوالہ حاشیہ کنز العرفان جلد ۲ ص۲۷۱ ۲ اس طلاق کو طلاق قطع کہتے ہیں جس کی تفصیلات کتب فقہ میں مذکور ہیں۔
خدائی سرحدیں
اس آیت اور قرآن مجید کی دیگر بہت سی آیات میں قوانین الہی کے بارے میں ایک لطیف تعبیر نظر آتی ہے اور وہ ہے حد اور سرحد۔ اس طرح قوانین کی نافرمانی اور مخالفت سرحد سے تجاوز شمار ہوتا ہے۔ حقیقت میں انسان جو کام انجام دیتا ہے، اس میں ان مقامات ممنوعہ کا ایک سلسلہ موجود ہوتا ہے جہاں داخل ہونا بہت زیادہ خطرناک ہے۔ قوانین و احکام الہی ان مقامات کی نشاندہی کرتے ہیں اور ان مقامات کی پہچان کیلئے ان قوانین میں بہت سی علامات بیان کی گئی ہیں۔ سورہ بقرہ کی آیت ۱۸۷ میں ارشاد فرمایا گیا ہے: ”تِلْکَ حُدُودُ اللهِ فَلاَتَعْتَدُوہَا۔“ یہ خدائی سرحدیں ہیں ان کے قریب نہ جاؤ۔ کیونکہ ان سرحدوں کے قریب جانے والا گرنے کے بھی نزدیک ہو جاتا ہے۔ اہل بیت کے طریقوں سے مروی احادیث میں ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے مشتبہ مقامات پر جانے سے منع فرمایا ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ ایسا کرنا سرحد کے قریب جانے کے مترادف ہے۔ ممکن ہے کہ سرحد کے قریب پہنچ کر انسان قدم اس طرف رکھ لے اور ہلاکت و نابودی کا شکار ہو جائے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1شان نزول ایک عورت پیغمبر اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ کہنے لگی: میں اپنے چچازاد رفاعہ کی بیوی تھی۔ اس نے مجھے تین مرتبہ طلاق دی تو میں نے ایک اور شخص عبد الرحمن سے شادی کر لی۔ اتفاقا اس نے بھی مجھے طلاق دے دی لیکن اس دوران میں اس نے مجھ سے ہم بستری نہیں کی۔ کیا اب میں پہلے شوہر کی طرف لوٹ سکتی ہوں؟ آنحضرت ﷺ نے نفی میں جواب دیا اور فرمایا کہ پہلے شوہر سے تیری شادی اسی صورت میں صحیح ہے جب نئے شوہر نے تجھ سے مباشرت کی ہو۔ اس واقعے کے بعد مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی۔
تفسیر
گذشتہ آیت میں اجمالی طور پر یہ نکتہ بیان کیا جا چکا ہے کہ دوسری طلاق کے بعد عورت اور مرد الفت و صلح کی راہ اپنا لیں یا ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں۔ یہ آیت حقیقت میں ایک تبصرہ ہے جو گذشتہ آیت سے منسلک ہے۔ آیت کہتی ہے کہ جدائی کا حکم ہمیشہ کے لیے ہے لیکن عورت دوسری شادی کر لے، اور دوسرے شوہر سے مباشرت کے بعد طلاق لے لے تو اس صورت میں چاہے تو پہلے شوہر سے صلح کر سکتی ہے اور امید رکھے کہ اگر وہ حالات کو سازگار رکھیں اور حدود الہی کا احترام کریں تو کوئی حرج نہیں۔ اسلام کے عظیم رہبروں سے جو روایات پہنچی ہیں ان میں فرمایا گیا ہے کہ یہ دوسرا نکاح دائمی ہو اور نکاح کے بعد میاں بیوی کے تعلقات بھی عملی طور پر انجام پائیں۔ روایات سے قطع نظریہ دونوں شرطیں خود آیت سے بھی ظاہر ہوتی ہیں کیونکہ لفظ نکاح، جنسی عمل کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور صیغہ عقد کے اجراء کے لیے بھی جیسا کہ آیت کی شان نزول میں اس کی صراحت ہو چکی ہے۔ نیز ”فان طلقھا“ سے دوسری شرط یعنی نکاح کا دائمی ہونا بھی معلوم ہو جاتا ہے کیونکہ نکاح موقت تو طلاق کا محتاج نہیں ہوتا۔
بے راہ روی سے روکنے کا ایک عامل
بعض حیلہ باز محلل کے اس حکم کے اس حکم کو غلط مقاصد کے لیے دستاویز بناتے ہیں اور کچھ بےخبر لوگوں کی جہالت اور جذبات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس بارے میں اسلام پر نامردانہ حملے کرتے ہیں لیکن احکام طلاق میں غور کرنے اور ان کے فلسفے کی طرف متوجہ ہونے سے حقیقت کے متلاشی اس قانون کے ایک عجیب نقش سے آشنا ہوتے ہیں۔ اس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ گذشتہ آیات کی تفسیر میں کہا جا چکا ہے طلاق بھی مخصوص حالات میں شادی کی طرح ایک حیاتی عمل اور ضروری امر شمار ہوتی ہے۔ اسی لیے اسلام نے اسے جائز قرار دیا ہے۔ لیکن خاندانوں میں جدائیاں عموما فرد اور معاشرے دونوں کے لیے ناقابل تلافی نقصان کا باعث ہوا کرتی ہیں۔ لہذا مختلف طریقوں کے ذریعے طلاق عمل سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کرنی چاہئیے۔ محلل کا عمل یا نئی شادی کرنا ان طریقوں میں سے ایک ہے کیونکہ تین طلاقوں کے بعد عورت کا رسمی طور پر نکاح کرنا طلاق کے عمل کو جاری رکھنے کی راہ میں ایک بہت بڑا بند اور رکاوٹ ہے۔ جو شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دینا چاہے گا، جب اس کے ذہن میں یہ خیال آئے گا کہ اس طرح اس کی بیوی ہمیشہ کے لیے اس سے جدا ہو جائے گی تو اس کا ارادہ ضرور متزلزل ہوگا اور جب تک وہ مجبور نہ ہوگا اس قسم کا کام نہیں کرے گا۔ حقیقت میں محلل کا طریقہ جسے زیادہ صحیح لفظوں میں عورت کا دوسرے شوہر سے نیا نکاح کہا جا سکتا ہے، طلاق کے عمل میں ایک رکاوٹ ہے اور یہ ہوس پرست اور فریب کار مردوں کے لیے رکھا گیا ہے تا کہ وہ عورت کو اپنی سرکش ہوس کا کھلونا نہ بنائیں اور قانون طلاق و رجوع سے لامحدود فائدہ نہ اٹھاتے رہیں۔ دوسرے نکاح کی شرائط مثلا اس کا دائمی ہونا یہ واضح کرتا ہے کہ اس نئے رشتے کا مقصد یہ نہیں کہ اس کے ذریعہ پہلے شوہر اور بیوی کی پھر سے ملنے کا ذریعہ بن جائے۔ لہذا اس قانون سے غلط فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا اور نکاح موقت کے ذریعے رکاوٹ دور نہیں کی جا سکتی۔ بعض مفسرین نے ایک روایت نقل کی ہے جو اس مفہوم کو بہت ہی واضح کر دیتی ہے۔ اس روایت کے مطابق جو لوگ اس مسئلے کی انحرافی صورت پر عمل کرتے ہیں یعنی شادی اس مقصد کے لیے کرتے ہیں کہ عورت پہلے شوہر کے پاس واپس جا سکے، وہ رحمت خدا سے دور ہیں۔ ”لعل اللہ المحلل و المحلل لہ۔“ خدا کی لعنت ہر محلل پر اور اُس پر جس کے لیے یہ محلل بنا ہے۔ اس بناء پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مقصد یہ تھا کہ تین طلاقوں کے بعد مرد اور عورت ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں اور پھر اپنی مرضی سے نئی زندگی کی تشکیل کریں اور شادی جو بذات خود ایک مقدس امر ہے، پہلے شوہر کے شیطانی رجحانات کا کھلونا نہ بن جائے۔ البتہ چونکہ اسلام ہمیشہ عاقلانہ خواہشات کا احترام کرتا ہے اور اصلاح کے ہر دریچے سے استفادہ کرتا ہے۔ لہذا ارشاد ہوتا ہے: اگر یہ نیا رشتہ بھی ٹوٹ جائے اور سابق میاں بیوی دوبارہ ایک دوسرے سے تعلق پیدا کریں اور حتمی طور پر گھریلو فرائض کی انجام دہی کا پختہ ارادہ کر لیں تو پھر رجوع کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں اور یہ نیا نکاح تحریم کے حکم کو ختم کر دے گا۔ اسی لیے اسے محلل کا نام دیا گیا ہے۔ یہاں سے واضح ہوتا ہے کہ محلل ایک بنیادی مسئلے اور حکم کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ یہاں نئے نکاح کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ آیت کے علاوہ روایات سے بھی واضح طور پر یہی معنی نکلتا ہے۔ ایک سرسری مطالعے سے یہ نکتہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ یہاں پر بحث ایک حقیقی اور حتمی ازدواج کے بارے میں ہے لیکن اگر کوئی شخص پہلے ہی سے دائمی نکاح کا مقصد نہ رکھتا ہو اور صرف ظاہری طور پر ایسا کرے تا کہ محلل کی صورت پیدا ہو جائے تو یہ نکاح بےاثر ہے کیونکہ اس صورت میں دوسرا نکاح بھی پھر باطل ہوگا اور پہلا شوہر بھی پھر سے عورت کے لیے حلال نہیں ہوگا۔ ہو سکتا ہے مذکورہ حدیث ”لعل اللہ المحلل و المحلل لہ“۔ اسی قسم کے محلل کی طرف اشارہ ہو۔
اسلام کی طلاق کے بارے میں وضع کردہ حدبندیاں
گذشتہ آیات کے بعد اس آیت میں اسلام طلاق کے بارے میں وضع کردہ حد بندیوں کو بیان کرتاہے تا کہ حقوق اور عورت کے احترام سے چشم پوشی نہ کی جاسکے۔ آیت کہتی ہے کہ جب تک عدت کی مدت ختم نہ ہوا اگرچہ اس کا آخری دن باقی ہو مرد کو اجازت ہے کہ وہ اپنی بیوی سے صلح کرلے اور دونوں خلوص و محبت سے زندگی بسر کرنے لگیں” فَاٴَمْسِکُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ“اگر حالات نامساعد ہیں تو اسے چھوڑدے”اٴَوْ سَرِّحُوہُنَّ بِمَعْرُوف“لیکن توجہ رہے کہ رجوع یا علیحدگی ہر صورت میں احسان اور نیکی ملحوظ رہے اور جذبہ انتقام سے یہ کام انجام نہیں پاناچاہئیے۔ ” وَلاَتُمْسِکُوہُنَّ ضِرَارًا لِتَعْتَدُوا وَمَنْ یَفْعَلْ ذَلِکَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہُ“ یہ جملہ ”معروف“ کی تفسیر ہے، یعنی رجوع صدق و صفا اور خلوص و محبت کی بناپر ہو۔ چونکہ زمانہ جاہلیت میں طلاق اور رجوع کو انتقام لینے کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ لہذا آیت قطعی لہجے میں کہتی ہے کہ عورت کو آزار و تعدی کے مقصد سے زوجیت کی قید میں نہ رکھاجائے کیونکہ ایسا کرنا اسی پر نہیں بلکہ خود تمہارے نفس پر بھی ظلم ہے۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ بیوی پر ظلم کرنا کس طرح اپنے نفس پر ظلم کرنے کے مترادف ہے، اس کی وجوہ یہ ہوسکتی ہیں۔ ۱۔ حق کشی کی بنیاد پر کئے جانے والے رجوع میں کوئی سکون و آرام میسر نہیں آسکتا۔ ۲۔ قرآن کی نگاہ میں مرد اور عورت نظام خلقت میں ایک پیکر کے دو جزء ہیں اس بناء پر عورت پر ظلم کرنا اپنے ہی حقوق پامال کرنے کے مترادف ہے۔ ۳۔ جو شخص کسی پر ظلم کرتاہے در اصل وہ خدا کے عذاب کی طرف بڑھ رہاہوتاہے اور حقیقت میں اس طرح وہ اپنے اوپر ہی ظلم کررہاہوتاہے۔
خدا کے قوانین کا مذاق نہ اڑاؤ
Tafsīr Nemūna · Vol. 1”وَلاَتَتَّخِذُوا آیَاتِ اللهِ ہُزُوًا وَاذْکُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَیْکُمْ وَمَا اَنزَلَ عَلَیْکُمْ مِنْ الْکِتَابِ وَالْحِکْمَةِ یَعِظُکُمْ بِہِ۔“ ”ہزو“ اور ”ہزوء“ کا معنی تمسخر کرنا ہے۔ عموما ہزاروں لوگ شرعی احکام کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے وجدانی دباؤ سے بچنے کے لیئے اور (اپنے خیال میں) عذاب الہی سے فرار کے لیئے شرعی حیلے بہانے تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور آیات و احکام کے ظواہر کو اپنے لیئے دستاویز بنا لیتے ہیں۔ اس روش کو قرآن آیات قرآن اور احکام الہی سے استہزاء اور تمسخر قرار دیتا ہے۔ یہ بات باعث افسوس ہے کہ بہت سے احکام کے بارے میں ایسا انحراف عموما نظر سے گزرتا رہتا ہے۔ طلاق کے معاملے میں بھی اس کی مثال ملتی ہے۔ جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے، مرد کے لیے حق رجوع ازدواج اور شادی کو زیادہ سے زیادہ پائدار بنانے کے لیئے ہے لیکن بعض لوگ اس مقصد کے برعکس اقدام کرتے ہیں یعنی رجوع حق کی اجازت کو عورت سے انتقام لینے اور اسے آزار پہنچانے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اس طرح قانون پر عمل کرنے کے پردے میں اپنے حقیقی ظالمانہ چہرے کو چھپاتے ہیں۔ اسی کو قرآن اور قانون کا تمسخر اڑانا کہتے ہیں۔ محل بحث آیت کہتی ہے: آیات خدا کو کھلونا نہ بناؤ اور خدا کی عظیم نعمت دین اور آسمانی کتاب کو یاد رکھو جو تمہاری سعادت کے لیے آئے ہیں۔ دین اور اس کے تمام قوانین و احکام کا سرچشمہ جہان ثابت کا نظام ہے جسے نوع انسانی کے حقیقی مصالح کی روشنی میں بنایا گیا ہے۔ اس لیے مصالح سے چشم پوشی اختیار کرتے ہوئے بعض احکام کے ظاہری طریقوں کو اپنا کر بے روح سانچے نہ بناؤ۔ کہیں یہ طرز عمل خود تمہارے فوائد کو بھی خطرے میں ڈال دے گا اور آیات خدا کے سامنے منہ ٹیڑھا کرنے کا جرم بھی شمار نہ کر لیا جائے۔ ”وَاتَّقُوا اللهَ وَاعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمٌ۔“ آیت کے آخر میں عورت کے حقوق کی حفاظت کے لیے احکام الہی سے غلط فائدہ اٹھانے والوں کی گرفت کی گئی ہے اور ایسے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ خدا سے ڈرو اور جان لو کہ وہ تمہارے کاموں اور اس جہان کے تمام اسرار سے آگاہ ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1معقل بن یسار پیغمبر اکرم ﷺ کا ایک صحابی تھا۔ اس کی ایک بہن جملاء تھی۔ عاصم بن عدی اس کی بہن کا پہلا شوہر تھا۔ وہ عاصم سے اپنی بہن کی دوبارہ شادی کی مخالفت کرتا تھا کیونکہ عاصم نے قبل ازیں اسے طلاق دے دی تھی۔ اس بناء پر آیت نازل ہوئی جس میں اس قسم کی مخالفت سے منع کیا گیا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جابر بن عبداللہ نے اپنی چچازاد کی پہلے شوہر سے دوبارہ شادی کی مخالفت کی تھی شاید زمانہ جاہلیت میں اکثر اوقات قریبی رشتہ داروں کو یہ حق دیا جاتا تھا۔ (اس میں شک نہیں کہ ہماری فقہ میں بھائی اور چچازاد کی بیٹی پر ایسا حق نہیں رکھتے لیکن مندرجہ بالا آیت جیسا کہ ذکر آئے گا ایک کلی مفہوم کی حامل ہے اور اس کے مطابق ولی یا غیر ولی کوئی شخص بھی یعنی باپ، ماں، چچازاد بھائی اور دوسرے لوگوں میں سے کوئی یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ ایسی شادی کی مخالفت کرے)۔
ایک اور زنجیر ٹوٹ گئی
جیسا کہ گذشتہ مباحث میں گزر چکا ہے، زمانہ جاہلیت میں عورتیں پابندیوں اور زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھیں۔ ان کے ارادے، فکر و نظر اور میلان و رغبت کی کوئی حیثیت نہ تھی اور وہ خودسر مردوں کے ارادہ و میلان کے تابع تھیں۔ اس کیفیت کا ایک نمونہ انتخاب شوہر کا مسئلہ بھی تھا جس میں عورتوں کی خواہش و رغبت کا کوئی دخل نہ تھا۔ اس روش میں معاملہ یہاں تک جا پہنچا تھا کہ اگر عورت رسمی نکاح بھی کر لیتی اور اس کے بعد اس شوہر سے علیحدگی ہو جاتی تو نئے سرے سے اس سے وابستگی بھی ولی (یا اولیاء) کے ارادے پر موقوف تھی۔ بعض اوقات اگر میاں بیوی اپنی سابقہ ازدواجی زندگی کو برقرار رکھنا چاہتے تو ان کے اولیاء اپنے منافع کی خاطر یا خیالات و موہومات کی بناء پر اس تعلق میں حائل ہو جاتے۔ قرآن صراحت سے اس روش کو مذموم قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اولیاء اور دیگر افراد ہرگز ایسا کوئی حق نہیں رکھتے کیونکہ جب میاں بیوی جو شادی کے دو اصلی اور بنیادی رکن ہیں، وہ ایک دوسرے سے موافقت رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ علیحدگی کے بعد پھر شادی کر لیں تو دوسروں کی مخالفت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ گذشتہ آیت میں ”بلوغ اجل“ کا معنی ہے عورت کے آخری دنوں تک پہنچنا لیکن اس آیت میں نئے سرے سے ازدواج کے قرینے سے ”بلوغ اجل“ سے مراد آخری دن کا گزر جانا ہے۔ اصطلاح کے مطابق گذشتہ آیت میں غایت ”مغیا“ کا جزء تھی اور یہاں ”مغیا“ سے خارج ہے۔ اس بناء پر آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ شیبہ عورتیں یعنی جنہوں نے ایک دفعہ شادی کر لی ہے وہ دوبارہ شادی کے لیے اولیاء کی تائید حاصل کرنے کی بالکل محتاج نہیں ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی مخالفت بھی بے اثر ہے لیکن کیا باکرہ لڑکیاں ولی کی اجازت کی محتاج ہیں یا نہیں، اس بارے میں آیت خاموش ہے۔ اس کی تشریح کتب فقہ میں موجود ہے۔ آیت کا آخری حصہ کہتا ہے کہ احکام کا یہ سلسلہ جو تمہارے نفع کے لیے بیان ہوا ہے، ایسے لوگوں کے بارے میں ہے جو کائنات کے پیدا کرنے والے اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں۔ جب تک انسان خدا پرستی اختیار کر کے خود پرستی سے نجات حاصل نہ کر لے، اپنے میلانات پر ہرگز کنٹرول نہیں کر سکتا اور کج روی سے بالکل نہیں بچ سکتا۔ ”ذَلِکُمْ اٴَزْکَی لَکُمْ وَاٴَطْہَرُ وَاللهُ یَعْلَمُ وَاٴَنْتُمْ لاَتَعْلَمُونَ۔“ یہ جملہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ان احکام پر عمل کرنے کا نتیجہ سو فیصد تمہارے حق میں ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ اطلاعات کی کمی کی وجہ سے تمہیں احکام کے فلسفہ سے واقفیت حاصل نہ ہو لیکن وہ خدا جو تمام اسرار سے آگاہ ہے اس نے یہ احکام تمہارے منافع کے تحفظ، خاندانوں کی طہارت اور پاکیزگی کے لیے جاری کیے ہیں۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ خداوند عالم نے اس جملے میں ان احکام پر عمل کرنے کا نتیجہ تزکیہ بھی اور طہارت بھی قرار دیا ہے۔ ”لزمی لکم و اطہر“ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ان احکام پر عمل کرنا ایک تو ان مختلف آلودگیوں اور ناپاکیوں کو دور کرتا ہے جو غلط کاموں کے سبب خاندانوں کے دامن گیر ہو جاتی ہیں اور دوسرا اس کا حاصل یہ ہے کہ انہیں نشو و نما، تکامل اور خیر و برکت نصیب ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ تزکیہ کا اصلی لغوی معنی نمو پانا اور بڑھنا ہی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1لغت عرب میں ”والدہ“ ماں کو کہا جاتا ہے لیکن لفظ ”اہم“ بہت وسیع معنی کا حامل ہے۔ یہ لفظ کبھی ماں کے لیے اور کبھی ہر چیز کی جڑا اور بنیاد کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس آیت میں قرآن نو مولود بچوں کو دودھ پلانے کے لیے مختلف طریقے اور اس سلسلے میں مختلف حقوق بیان کرتا ہے۔ ان کا تعلق ماں، بیٹا اور باپ سے ہے۔ اس آیت سے مجموعی طور پر سات احکام حاصل ہوتے ہیں۔
بچوں کو دودھ پلانے کے بارے میں سات احکام
۱۔ دودھ پلانے کے دو سالوں میں دودھ پلانے کا حق ماں سے مخصوص ہے اور وہی اس مدت میں بچے کو دودھ پلا سکتی ہے اور وہی دیکھ بھال بھی کرے گی۔ اگرچہ چھوٹے بچوں کی ولایت باپ کے ذمہ ہے لیکن نوزائیدہ بچے کو ماں کی دیکھ بھال اور سرپرستی میں دے دیا گیا ہے کیونکہ نو مولود کے جسم و روح کی غذا کے طور پر ماں کا دودھ اور شفقت مادری درکار ہے۔ بچے اور ماں کا یہ انمٹ رشتہ ہے۔ ایک پہلو یہ ہے کہ ماں کے جذبات کا بھی لحاظ رکھا جانا چاہئیے کیونکہ ایسے حساس لمحات میں ماں اپنی گود کو خالی نہیں دیکھ سکتی اور وہ بچے کی حالت دیکھ کے آرام سے نہیں رہ سکتی۔ اس لیے اس عرصے میں دیکھ بھال اور دودھ پلانے کا حق ماں کو دیا گیا ہے۔ یہ حکم دو پہلوؤں کا حامل ہے۔ اس میں بچے اور ماں دونوں کی حالت کو ملحوظ رکھا گیا ہے "والوالدات یرضعن اولادھن حولین کاملین۔" ۲۔ ضروری نہیں کہ بچے کو دودھ پلانے کی مدت پورے دو سال ہی ہو۔ دو سال تو اس صورت میں ہے اگر جو وہ دودھ پلانے کے اس دور کو مکمل کرنا چاہیں۔ ”(لِمَنْ اٴَرَادَ اٴَنْ یُتِمَّ الرَّضَاعَةَ“)۔ لیکن مائیں حق رکھتی ہیں کہ نو مولود کی حالت و کیفیت اور سلامتی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس میں کمی کر دیں۔ اہل بیت علیہم السلام سے جو روایات ہم تک پہنچی ہیں ان میں دودھ پلانے کا مکمل دور دو سال بیان فرمایا گیا ہے اور نامکمل دورہ ۲ ماہ بتایا گیا ہے۔ بعید نہیں کہ یہ معنی زیر نظر آیت اور سورہ احقاف کی آیہ ۱۵ کو ایک دوسرے میں ضم کرنے سے پیدا ہوتا ہو۔ کیونکہ سورہ احقاف میں ہے: ”و حملہ و فصالہ ثلثون شہرا۔“ اور اس کا حمل اور دودھ پلانے کی مدت ۳۰ ماہ ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ حمل کی مدت عموما ۹ ماہ ہوتی ہے۔ اس لیے باقی ۲۱ ماہ دودھ پلانے کی عام مدت ہوگی اور چونکہ سورہ احقاف کی مذکورہ آیت میں بھی مسئلہ وجوب کی صورت میں نہیں آیا لہذا مائیں حق رکھتی ہیں کہ بچے کی سلامتی کو نظر میں رکھتے ہوئے چاہیں تو دودھ پلانے کی مدت ۲۱ ماہ سے بھی کم کر دیں۔ ۳۔ ”و علی المولود لہ رزقہن و کسوتہن“: یہاں لفظ ”الاب“ جس کا معنی باپ ہے، استعمال نہیں ہوا بلکہ ”المولود لہ“کی تعبیر استعمال کی گئی ہے جس کا معنی ہے ”وہ شخص جس کا بچہ پیدا ہوا ہے“۔ یہ بات یہاں قابل توجہ ہے یہ تعبیر گویا اس لیے استعمال کی گئی ہے کہ اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے پدری جذبات کو زیادہ سے زیادہ تحریک دی جائے یعنی اگر بچے اور اس کی ماں کے اخراجات مرد کے ذمے رکھے گئے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس کا بیٹا ہے اور اس کے دل کا میوہ ہے نہ کہ ایک اجنبی فرد۔ اس مقام پر ”معروفہ“ کی شرط اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ غذا اور لباس رائج معیار کے مطابق اور شایان شان ہو۔ اس سلسلے میں سختی درست ہے نہ فضول خرچی۔ اس کے بعد اس سلسلے میں ہر قسم کے ابہام کو دور کرنے کے لیے مزید وضاحت فرمائی گئی ہے کہ ہر باپ اپنی طاقت کے مطابق ذمہ دار ہے کیونکہ خداوند عالم کسی کی توانائی سے زیادہ اس پر ذمہ داری نہیں ڈالتا ”لا تکلف نفس الا وسعہا“۔ ۴۔ خدا تعالی چاہتا ہے کہ ماں باپ اپنے بچے کی تقدیر اپنے اختلافات کی بھینٹ نہ چڑھا دیں اور ان اختلافات کے ذریعے نوزائیدہ بچے کی روح رواں پر ناقابل تلافی ضربیں نہ لگا دیں ”لا تضار والدة بولدہا و لا مولود لہ بولدہ“۔ دودھ پلانے کے دوران میں بچوں کی دیکھ بھال کا حق ماؤں کو حاصل ہے۔ مردوں کو چاہئیے کہ اُن سے یہ حق چھین کر پامال نہ کر دیں اور مائیں بھی جنہیں یہ حق دیا گیا ہے، اس سے غلط فائدہ نہ اٹھائیں اور مختلف موہوم بہانوں سے دودھ پلانے سے پہلو تہی نہ کریں اور یونہی مرد کو بچے کی ملاقات سے محروم نہ کر دیں۔ اس جملے کے مفہوم کے بارے میں اور تفسریں بھی کی گئی ہیں لیکن جو کچھ یہاں بیان کیا گیا ہے، وہ گذشتہ جملوں سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ ۵۔ باپ کی موت کے بعد وارثوں کو چاہیئے کہ وہ اس ذمہ داری کو اپنے ذمہ لیں اور بچے کو دودھ پلانے کے دوران میں ماں کی ضرورت کو پورا کریں۔ ۶۔ بچے کو دودھ چھڑوانے کا اختیار ماں باپ کو دیا گیا ہے۔ گذشتہ آیت میں اگرچہ بچے کو دودھ پلانے کی مدت کا تعین ہو چکا ہے لیکن ماں باپ بچے کی جسمانی کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک دوسرے کے صلاح و مشورہ اور باہمی رضامندی سے مناسب موقع پر بچے کا دودھ چھڑوا سکتے ہیں” فان ارادا فصالا عن تراض منہما و تشاور فلاح جناح علیہما“ یعنی اگر ماں باپ باہمی رضامندی اور مشورے سے بچے کا دودھ چھڑوانا چاہیں کوئی حرج نہیں۔ ماں نوزائیدہ بچے کو دودھ پلانے پر مجبور نہیں ہے اور وہ جب چاہے دودھ پلانے سے انکار کر سکتی ہے لیکن کیا خوب ہے کہ بچے کے رشد و تکامل کے لیے وہ اپنی بعض خواہشات کو قربان کر دے اور اس سلسلے میں شوہر کی ہمفکری اور موافقت سے ہاتھ نہ اٹھائے اور تراضی، اور ”تشاور“ یعنی ایک دوسرے کو راضی رکھنے اور آپس میں مشورہ کرنے کے حکم کو عملی جامہ پہنائے۔ ماں کے دودھ پلانے اور دیکھ بھال کرنے کے حق کو ہرگز نہیں روکا جا سکتا۔ لیکن اگر ماں خود انکار کر دے یا اس میں کوئی رکاوٹ حائل ہو جائے تو اس صورت کے لیے ارشاد فرماتا ہے: ”وَإِنْ اَرَدْتُمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوا اَوْلاَدَکُمْ فَلاَجُنَاحَ عَلَیْکُمْ إِذَا سَلَّمْتُمْ مَا آتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوفِ۔“ تمہیں حق پہنچتا ہے کہ بچے کی دیکھ بھال اور اسے دودھ پلانے کا کام کسی مناسب آیا کے سپرد کر دو یا پھر کچھ مدت کے لیے دودھ پلانے کا کام اسے سونپ دو تا تا کہ ماں کے لیے مدد و اعانت ہو سکے۔ (إِذَا سَلَّمْتُمْ مَا آتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوفِ) اس جملے کا معنی ہے کہ ماں کے بجائے دودھ پلانے کے لیئے دوسری عورت کا انتخاب طرفین کی رضامندی اور مشورے کے ساتھ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن شرط یہ ہے کہ ماں کے گذشتہ حقوق اور جتنا دودھ اس نے پلایا ہے، اس کا حق پامال نہ ہو جائے بلکہ جو مروج طریقہ ہے اس کے مطابق ہر حق ادا کیا جائے۔ ” وَاتَّقُوا اللهَ وَاعْلَمُوا اَنَّ اللهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیر۔“ بعض اوقات عورت اور مرد کے مابین اختلافات انتقامی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان کی اپنی یا بے چارے بچوں کی زندگی خطرے سے دوچار ہو جاتی ہے۔ ممکن ہے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف کوئی سازش کر رہے ہوں لہذا ان تمام احکام کے آخر میں فرماتا ہے: خدا سے ڈرو اور پرہیزگاری اختیار کرو اور جان لو کہ خدا تمہارے تمام اعمال کو دیکھتا ہے اور وہ بینا ہے۔
شوہر کی وفات کے بعد دوسری شادی
Tafsīr Nemūna · Vol. 1شوہر کی وفات کے بعد دوسری شادی عورت کے لیے بنیادی اور مشکل مسائل میں سے ہے۔ پہلے شوہر کی وفات کے بعد فوری طور پر دوسری شادی کرنا سابق شوہر کی محبت، دوستی اور احترام کے منافی ہے۔ نیز یہ یقین پیدا کرنا بھی ضروری ہے کہ عورت کا رحم پہلے شوہر کے نطفے سے خالی ہے۔ علاوہ ازیں فوری طور پر دوسری شادی مرنے والے کے لواحقین کے جذبات کے مجروح ہونے کا سبب بھی ہے لہذا مندرجہ بالا آیت میں عورتوں کے لیے یہ شرط عاید کی گئی ہے کہ ننے نکاح کے لیے چار مہینے اور دس دن کی عدت گزاریں۔ شوہر کے مرنے کے بعد بھی ازدواجی زندگی کے حریم کا احترام ایک فطری امر ہے۔ اس لیے مختلف قبائل میں اس مقصد کے لیے طرح طرح کے آداب و رسوم رہے ہیں اگرچہ بعض اوقات یہ بات زیادتی اور افراط کی شکل اختیار کر جاتی ہے اور عملی طور پر عورتیں قید و بند میں ڈال دی جاتی ہیں۔ بعض اوقات تو ایسی عورتوں پر بہت زیادہ ظلم روا رکھا جاتا رہا ہے۔ بعض لوگ تو شوہر کے انتقال کے بعد عورت کو جلا دیتے تھے یا مرد کے ساتھ ہی زندہ دفن کر دیتے تھے۔ لوگوں میں یہ رسم بھی رہی ہے کہ عورت کو نئی شادی سے یکسر محروم کر کے گوشہ نشینی پر مجبور کر دیا جاتا۔ بعض قبائل میں یہ رواج تھا کہ شوہر کے انتقال کے بعد عورت ایک مدت تک سیاہ اور بوسیدہ خیمہ قبر شوہر پر گاڑتی اور اُس میں پھٹے پرانے اور کثیف لباس میں وقت گزارتی، ہر طرح کی آرائش و زیور یہاں تک کہ نہانے دھونے سے بھی دور رہتی اور یونہی اس کے شب و روز گزر جاتے۔ [بحوالہ: اسلام و عقائد بشری ] زیر نظر آیت نے ان تمام خرافات پر خط بطلان کھینچ دیا ہے اور شائستہ طور پر حریم زوجیت کی بنیاد کی حفاظت کے لیے”عدت“ مقرر کر دی ہے۔ ”وَالَّذِینَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُونَ اٴَزْوَاجًا یَتَرَبَّصْنَ بِاٴَنفُسِہِنَّ اٴَرْبَعَةَ اٴَشْہُرٍ وَعَشْرًا۔“ لفظ ”توفی“ قرآن میں بہت سے مواقع پر استعمال ہوا ہے۔ اس کا معنی ہے ”گرفت میں لینا“ لفظ "یذر“ ماضی کا صیغہ نہیں ہے اور اس کا معنی ہے ”چھوڑنا“۔ آیت کہتی ہے: جن عورتوں کے شوہر چل بستے ہیں ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ چار مہینے اور دس دن عدت میں رہیں اور اس عرصے میں نئی شادی سے اجتناب کریں۔ رہبران اسلام سے ہم تک پہنچنے والی روایات کے مطابق عورتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مدت میں حالت سوگواری میں رہیں یعنی آرائش و زیبائش ہرگز نہ کریں اور سادگی میں رہیں۔ عدت مقرر کرنے کا فلسفہ بھی اس بات کو ضروری قرار دیتا ہے۔ اسلام نے عورتوں کو زمانہ جاہلیت کے آداب و رسوم سے اس حد تک نجات بخشی کہ بعض لوگوں نے خیال کیا کہ شاید وہ اس عدت کے دوران میں بھی شادی کر سکتی ہیں۔ جن عورتوں کا یہ خیال تھا انہی میں سے ایک عورت پیغمبر اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ وہ نئی شادی کے لیے اجازت کی طلب گار تھی۔ اس نے پیغمبر اکرم ﷺ سے سوال کیا: ”کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ میں سرمہ لگاؤں اور اپنے آپ کو آراستہ و پیراستہ کروں؟" آنحضرت نے فرمایا: تم عورتیں بھی عجیب و غریب مخلوق ہو۔ اسلام سے پہلے تو وفات شوہر کے بعد مدت عدت سخت ترین حالات میں بھی پورا کرتی تھیں یہاں تک کہ بعض اوقات مرتے دم تک یہ مدت تمہارے ساتھ چلتی تھی۔ اب جب کہ خاندان کے احترام اور حق زوجیت کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے حکم دیا گیا ہے کہ تھوڑی سی مدت صبر کر لو تو اب اسے بھی برداشت نہیں کرتی ہو۔[بحوالہ: المنار ج۲] یہ بات قابل توجہ ہے کہ اسلام میں اس بات کی تصریح کی جا چکی ہے کہ اگر عورت کے لیے عدت کی ابتداء شوہر کی وفات سے نہیں ہوتی بلکہ یہ مدت اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب عورت کو شوہر کی وفات کے بعد عدت پوری کرنا چاہیے۔ اسی لیے عورت کے لیے عدت کی ابتداء شوہر کی وفات سے نہیں ہوتی بلکہ یہ مدت اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب عورت کو شوہر کے انتقال کی خبر ملے۔ چاہے یہ خبر کئی ماہ کے بعد ہی کیوں نہ ملے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس حکم کی تشریع ہر چیز سے پہلے زوجیت کے احترام و حریم کی حفاظت کے لیے ہے اگرچہ احتمالی طور پر عورت کا حاملہ ہونا بھی اس قانون میں مسلم طور پر ملحوظ رکھا گیا ہے۔ ”فَإِذَا بَلَغْنَ اٴَجَلَہُنَّ فَلاَجُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیمَا فَعَلْنَ فِی اٴَنفُسِہِنَّ بِالْمَعْرُوفِ۔“ ”بلوغ اجل“ کا مفہوم ہے “مہلت کا انجام کو پہنچنا“۔ آیت کے اس حصے کے مطابق اس مدت عدت کے خاتمے پر عورتیں اپنی خواہش کے مطابق شادی کر سکتی ہیں۔ بعض اوقات اولیاء خرافات اور موہوم افکار کی بناء پر عورت کے نکاح ثانی میں حائل ہوتے ہیں۔ اس لیے آیت انہیں مخاطب کر کے کہتی ہے: اس سلسلے میں اب تمہاری کوئی ذمہ داری نہیں، تم انہیں چھوڑ دو کہ وہ اپنی پسند کے مردوں سے رشتہ نکاح، صحیح بنیاد پر قائم کر لیں۔ ”وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیر۔“ اور اولاد کے امور کے بارے میں دخل اندازی نہ کریں کیونکہ پروردگار تمام چیزوں سے باخبر ہے اور وہ ہر شخص کو اس کے اچھے اور بُرے اعمال کی جزا دے گا۔
کیا دوران عدت عورتوں سے خواستگاری کی جاسکتی ہے؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 1قرآن یہ چاہتا ہے کہ سابق زوجیت کا احترام بھی زائل نہ ہو اور نہ ہی عورت اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے سے محروم رہے۔ اس بناء پر اس سلسلے میں مندرجہ بالا آیت میں ایک قابل توجہ حکم دیا ہے جو عادلانہ بھی ہے اور اِس میں طرفین کا مکمل احترام بھی ملحوظ رکھا گیا ہے۔ آیت کہتی ہے کہ اگر کوئی شخص دورانِ عدت عورت سے خواستگاری کرنا چاہے تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن وہ پوشیدہ طور پر پر اور کنایہ کی صورت میں ہو؛ نہ کہ آشکار اور صریح (و لاجناح علیکم فیما عرّضتم بہ من خطبۃ النساء) اِس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے کہ بغیر اظہار کے (جس میں صراحت ہو نہ کنایہ) ان سے عدتِ وفات کے بعد نکاح کرنے کے ارادے میں بھی کوئی گناہ نہیں (او اکننتم فی انفسکم) علم اللہ انکم ستذکرونھنّ /ایت کے اس حصے کے مطابق یہ حکماِس بناء پر ہے کہ ان کے شوہروں کے (اِس دنیا سے ) چل بسنے کے بعد یہ فطری امر ہے کہ بعض افراد اُن سے شادی کرنے کی فکر میں پڑ جاتے ہیں اور چونکہ اسلام فطری اور معقول خواہشات کی مخالفت نہیں کرتا، لہذا اِس فکر کو وہ گناہ شمار نہیں کرتا۔ "ولکن لاتواعدوھنّ سرّا الا ان تقولوا قولا معروفا" آیت کے اس حصے میں سمجھایا گیا ہے کہ کھلے بندوں خواستگاروں سے روکنا کافی نہیں بلکہ مخفی طور پر عدت کے دوران میں عورت سے بالصراحت خواستگاری نہیں کرنا چاہیے ۔ البتہ اس سلسلے میں گفتگو واقعاًاس طرح ہو کہ معاشرتی آداب و قوت شدہ شوہر کے احترام سے ہم آنگ ۔ قرآن کی اصطلاح میں ” معروف “ یعنی پسندیدہ ہو ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ پردے اور کنائے سے ہو۔ اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں رہبران اسلام نے سر بستہ خواستگاری او رقول معروف کی وضاحت کے لےے کئی ایک بار مثالیں ارشاد فرمائی ہیں۔ ہم بطور نمونہ درج کرتے ہیں۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں "قول معروف یہ ہے کہ مثلاً مرد جس عورت کو نگاہ میں رکھے ہوئے ہے اس سے کہے کہ میں عورتوں کا احترام کرتا ہوں تم سے دلی لگاؤ رکھتا ہوں اس لیے کسی اور کو مجھ پر ترجیح نہ دینا۔" [بحوالہ: نور الثقلین، ج۱، اس آیت کے ذیل میں]۔
جب تک عدت ختم نہ ہو نکاح نہ کیا جائے۔
”ولا تعزموا عقدة النکاح حتی یبلغ الکتاب الجلہ“ آیت کے اس حصے میں صراحت سے فرمایا گیا ہے کہ جب تک عدت ختم نہ ہو نکاح نہ کیا جائے۔ اس کے بعد مزید ارشاد فرمایا گیا ہے کہ خدا تمہارے مخفی بھیدوں سے آگاہ ہے لہذا اس کے فرمان کی مخالفت سے ڈرتے رہو۔ لیکن خدا یہ بھی نہیں چاہتا کہ جو بندے کبھی کبھار اس کی مخالفت کربیٹھیں وہ بالکل اس کی رحمت سے مایوس ہو جائیں ۔ لہذا جا ن لو کہ خدا بخشنے والا اور بندوں کو سزا دینے میں جلد بازی سے کام نہیں لیتا۔ ” واعلموا ان اللہ یعلم ما فی انفسکم فاحذروہ و اعلموا ان اللہ غفور الرحیم “
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1لغت میں ”مس“ کا معنی ”چھونا “۔ یہاں مباشرت کے عمل سے کنایہ ہے۔ زیر نظر آیت دو نکات پر مشتمل ہے۔ ۱۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ مباشرت اور تعیین حق مہر سے قبل طلاق دینا صحیح نہیں۔ آیت نے ان کے خیال کی تردید کی ہے اور فرمایا ہے کہ اس میں کسی قسم کا کوئی حرج نہیں ہے۔ ” لاجناح علیکم ان طلقتم النساء ما لم تمسوھن او تعرضوا لھن فریضة البتہ اس کی صورت یہ ہے کہ طرفین عقد کے بعد مباشرت سے قبل کئی ایک وجود کی بنیاد پر یہ سمجھیں کہ وہ ایک ساتھ زندگی بسر نہیں کر سکتے ۔ اس موقعہ پر طرفین طلاق کے ذریعہ ایک دوسرے سے جدا ہو سکتے ہیں۔ ۲۔مباشرت سے قبل طلاق کی صورت میں اگر حق مہر معین شدہ نہ ہو تو ایسا ہدیہ جو کہ عورت کے شایان شان ہو اسے ادا کیا جائے۔ ( متعوھن ) حق مہر معین ہو چکا ہو تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیے ، اس کی وضاحت اگلی آیت میں آئیگی ۔ اس بیان کے مطابق لفظ ” او“ واو کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ہدیہ دینے کے بارے میں لوگوں کی طاقت اور استطاعت کو مد نظر رکھتے ہوئے آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے گ ” علی الموسع قدرہ وعلی المقتر قدرہ “ ” موسع “ کامعنی ہے تو” تونگر “ اور ” مقتر “ کا معنی ہے ” تنگدست“۔ ["قتر" کا مادہ بخل کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے؛ جیسے "و کان الانسان قتورا"۔ لیکن یہاں زیر نظر آیت میں یہ معنی مراد نہیں]۔ اس لیے آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ صاحب ثروت اپنی حیثیت کے مطابق اور تنگدست اپنی استطاعت کے مطابق ہدیہ ادا کرے۔ ” متاعاً بالمعروف “ یعنی یہ ہدیہ شائستہ طور پر ہو۔ اسراف و بخل دونوں سے پاک ہو۔ دینے والے اور لینے والے ہر دو حسب حال ہو۔ یہ ہدیہ اہم ناثیر کا حامل ہے۔ جذبہ انتقام کو ختم کرنے اور عورت کوکئی ایک مشکلات سے بچانے کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ( یہ مشکلات اس رشتہ ازدواج کو ٹوٹنے سے پیدا ہو سکتی ہے ) لہذا آیت میں اس عمل کو نیکی اور اس احسان کے جذبے سے وابستہ کر دیا گیا ہے اور فرمایاگیا ہے گ ( حقاً علی المحسنین ) یعنی نیک لوگوں کے لیے یہ عمل ضروری ہے۔ یعنی اسے نیکی اور صلح و صفائی کے جذبے سے شرسار ہونا چاہیے۔ یہ بات بن کہے بھی واضح ہے کہ ” محسنین“ کی تعبیر کا یہ مقصد نہیں کہ مذکورہ ہر حکم الزامی و ضروری نہیں بلکہ اس فریضہ کی ادائیگی کے لےے لوگوں کے جذبات و احساسات کو تحریک دینے کے لیے یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے ورنہ جیسا کہ اشارہ کیا جا چکا ہے یہ حکم بجا لانا لازمی اور ضروری ہے۔ دوسرا اہم نکتہ جو اس آیت سے سامنے آتا ہے یہ ہے کہ مرد کی طرف سے عورت کو دےے جانے والے اس ہدےے کو ” متاع “ کے لفظ سے یا د کیا گیا ہے ۔ لغت میں متاع کا معنی ہے وہ چیزیں جن سے انسان فائدہ اٹھاتا ہے اور ان سے متمتع ہوتا ہے۔ یہ لفظ زیادہ تر نقدی کے علاوہ چیزوں پر بولا جاتا ہے کیونکہ روپے پیسے سے براہ راست فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا بلکہ ضروری ہے کہ وہ متاع میں تبدیل ہو۔ اسی بنا پر قرآن ہدیے کو متاع سے تعبیر کرتا ہے۔ یہ بات نفسیاتی طور پر خاص اثر رکھتی ہے ۔دیکھا گیا ہے کہ وہ ہدیہ جو قابل استعمال اجناس کی صورت میں ہو مثلا خوراک، لباس وغیرہ کتنا ہی کم قیمت کیوں نہ ہو دل و دماغ پر ایسا اثر ڈالتا ہے کہ اگر انہیں نقدی میں تبدیل کر دیا جائے تو وہ ہر گزنہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ائمہ اطہار علیہم السلام سے پہنچنے والی روایات میں زیادہ تر لباس ۔ غذائی اجناس اور زراعی زمین جیسی چیزوں کا ہدیے کے نمونوں کے طور پر ذکر آیا ہے۔ ضمنا آیت سے یہ بھی اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ نکاح دائمی میں پہلے سے حق مہر کا معین ہونا ضروری نہیں اور طرفین میں بعد از آں بھی اس پر اتفاق ہو سکتا ہے۔ [لیکن اگر عقدِ دائمی میں مہر معین نہ کیا گیا ہو تو مہر ساقط نہیں ہو جاتا؛ بلکہ مہرِ مثل (وہ مہر جو اس جیسی عورتوں کو دیا جاتا ہے) ہی مقرر سمجھا جائے گا۔ مباشرت سے پہلے طلاق کی صورت میں اگر مہر معین نہ ہو تو صرف ہدیہ واجب ہو گا جس کی طرف اشارہ کیا جا چکا ہے]۔ آیت سے یہ بھی ظاہر ہو تا ہے کہ مہر معین ہونے اور مباشرت سے پہلے طلاق ہو جائے تو حق مہر واجب نہیں ہوگا اور مذکورہ ہدیہ حق مہر کا قائم مقام ہو جائے گا۔
طلاق کی صورت میں حق مہر کا حکم
Tafsīr Nemūna · Vol. 1اس آیت میں بھی طلاق کے بارے میں حکم بیان کیا گیا ہے ۔ گذشتہ صورت کی طرح اگر مباشرت کا عمل نہیں ہوا لیکن حق مہر ہو چکا ہے تو اس سلسلے میں آیت پہلے قانون اسلام کی نگاہ میں جو حکم ہے اسے بیان کرتی ہے اور وہ یہ کہ مرد کو چاہےے کہ مقر ر شدہ حق مہر سے آدھا ادا کرے (فنصف ما فرضتم) قانونی حکم جو اجتماعی نظام کی حقیقی بنیاد ہے اسے بیان کرنے کے بعد اخلاقی پہلو بیان کئے گئے ہیں ارشاد ہوتا ہے۔ آدھے حق مہر کی ادائیگی کا حکم تو عفو اور بخشش سے صرف نظر کرتے ہوئے ہے لیکن اگر عورت اپنے مسلمہ حق سے در گزر کرے توپھر شوہر پر کچھ واجب نہیں ہے۔ اسی طرح اگر جس کے ہاتھ میں نکاح کا معاملہ ہے وہ حق مہر سے چشم پوشی کرلے تو شوہر پر کوئی چیز واجب نہیں ہو گی۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ ” الذی بیدہ عقدة النکاح“ (یعنی جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے) اس سے کون شخص مراد ہے؟ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس سے مراد شوہر ہے لیکن آیت پر غور و خوض کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس عورت کے اولیاء مراد ہیں۔ ابتداء سے روئے سخن کیونکہ شوہروں کی طرف ہے اس لیے فرماتا ہے: ”و ان طلقتموھن“ (اگر تم انہیں طلاق دے دو) اور آیت کے آخر میں بھی روئے سخن شوہروں کی طرف ”و ان تعفوا اقرب للتقوی“ (اگر تم تعاف کردو تو یہ پرہیزگاری کے نزدیک ہے) اس لیے ”او یعفو الذی بیدہ عقدة النکاح“ کا جملہ فعل غائب کی شکل میں ہے، یقینا شوہروں سے مربوط نہیں ہو سکتا۔ بلکہ اس سے مقصود عورت کے اولیاء ہی ہیں۔ وہی حق مہر کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ مثلا اگر بیوی نادان یا بچی ہو تو اس صورت میں اولیاء حق مہر بخشنے یا لینے کے بارے میں اس کے منافع کو پیش نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کر سکتے ہیں۔ معصوم پیشواؤں سے مروی روایات میں بھی آیت کا یہی مفہوم بیان کیا گیا ہے۔ شیعہ مفسرین نے بھی آیت کے مضمون اور روایات اہل بیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اسی نظیر کو انتخاب کیا ہے اور ان کے نزدیک بھی اس عبارت سے بیوی کے اولیاء مراد ہیں۔ ”و ان تعفوا اقرب للتقوی“ یہ جملہ مراد اس کے انسانی فرائض کے بارے میں ایک اور حکم بیان کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ بہتر ہے کہ مرد درگذر کی راہ اپنائے اور اگر تمام حق مہر ادا کر چکا ہے تو اس میں سے کچھ واپس نہ لے اور اگر ادا نہیں کیا تو سارے کا سارا ادا کر دے اور اپنے آدھے حق سے صرف نظر کر لے۔ آیت کے اس حصے میں بتایا گیا ہے کہ اگر مرد عفو اور در گزر سے کام لے تو یہ پرہیزگاری کے نزدیک ہے۔ عقد کے بعد اور رخصتی سے قبل شوہر سے جدا ہو جانے والی لڑکی اور عورت بہت سی معاشرتی اور نفسیاتی مشکلات سے دوچار ہو جاتی ہے اور مسلم ہے کہ مرد اگر در گذر نہ سے کام نہ لے اور تمام حق مہر ادا کردے تو یہ اس کے زخموں کے لیے ایک طرح کا مرہم ہو سکتا ہے۔ ”ولا تنسوالفضل بینکم ان اللہ بما تعملون بصیر“ اسلام چاہتا ہے کہ جدائی اور علیحدگی کا مرحلہ بھی ”معروف“ اور ”احسان“ کی بنیاد پر انجام پذیر ہو یعنی انتقام ہی سے خالی نہ ہو بلکہ مرد اور عورت دونوں عظمت و بزرگی کی روح کو بھی فراموش نہ کریں فرماتا ہے: اپنے درمیان سے کبھی نیکی عظمت اور احسان کو فراموش نہ کرو۔ کیونکہ خدا تمہارے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 239 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1بعض منافقین نے گرمی کا بہانہ تراشا اور مسلمانوں کی صفوں میں تفرقہ ڈالنے کے لیے وہ نماز با جماعت میں شرکت نہیں کرتے تھے۔ ان کے دیکھا دیکھی اور لوگوں نے بھی جماعت میں شرکت ترک کر دی۔ اس طرح مسلمانوں کی جماعت میں کمی آگئی۔ اس پر پیغمبر اکرم (ص) بہت پریشان تھے۔ آپ نے انہیں سخت سزا کی دھمکی دی۔ زید بن ثابت سے منقول ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) سخت ترین گرمی میں بھی دوپہر ہوتے ہی نماز ظہر جماعت کے ساتھ ادا کرتے تھے۔ یہ عمل آپ کے اصحاب کے لیے بہت گراں تھا۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی جس میں نماز کی اہمیت بالعموم اور نماز ظہر کی اہمیت بالخصوص بیان ہوئی۔
نماز انسان کو خالق کائنات سے مربوط کرنے کا ایک ذریعہ ہے
نماز انسان کو خالق کائنات سے مربوط کرنے کا ایک ذریعہ ہے اور اگر وہ اپنی شرائط کے ساتھ انجام پا جائے تو دل کو عشق خدا سے معمور کردیتی ہے۔ اور کے ذریعہ انسان بہتر طور سے گناہوں، آلودگیوں اور پرور دگار کی نافرمانیوں سے محفوظ ہو سکتا ہے۔ لہذا یہ آیت تاکید کرتی ہے کہ مسلمان اس فریضہ کو قائم کرنے میں کوشاں رہیں اور خشوع و خصوع اور پوری توجہ سے بجا لائیں خصوصا نماز وسطی کی حفاظت کریں۔
صلوٰۃ وسطیٰ کون سی نماز ہے؟
صلاة وسطی کے بارے میں مفسرین نے مختلف آراء پیش کی ہیں لیکن ہمارے پیش نظر جو قرائن ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ اس سے مراد نماز ظہر ہی ہے۔ کیونکہ علاوہ اس کے کہ نماز ظہردن کے وسط اور درمیان میں بجالائی جاتی ہے ۔ آیت کی شان نزول بھی گواہی دیتی ہے کہ نماز ظہر کی تاکید اس لیے ہے کہ لوگ گرمی کی وجہ سے اس میں کوتاہی کرتے تھے ۔ اس سے قطع نظر کئی ایک روایات میں تصریح کی گئی ہے کہ نماز وسطی سے مراد نماز ظہر ہی ہے۔[اس بارے میں مزید تفصیلات کتب فقہ میں ملاحظہ فرمائیں] ”و قوموا للہ قانتین“ قنوت کے دو معنی ہیں ۱۔ پیروی اور اطاعت کرنا ۲۔خشوع و خضوع۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بعض اوقات دونوں معانی مراد ہوں جیسا کہ امام صادق علیہ السلام نے اس جملے کی تفسیر میں دونوں معانی بیان فرمائے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے ” و قوموا للہ قانتین “ کا مفہوم ہے کہ نماز میں خضوع اور پروردگار کی طرف توجہ کرتے ہوئے بجا لاؤ۔ ایک اور حدیث میں ہے: ” وقومو للہ قانتین “ یعنی ” مطیعین “ ( اطاعت کرتے ہوئے) فان خفتم فرجالا او رکباناً ”رجال“ یہاں ”راجل“ کی جمع ہے جس کا معنی ہے پیدل اور ”رکبان“ ”رکب“ کی جمع ہے جس کے معنی ہے سوار، یعنی میدان جنگ یا ایسے کسی اور موقع پر خوف کے عالم میں تم پیدل چلتے ہوئے یا سواری و حرکت کی حالت میں بھی نماز ادا کر سکتے ہو۔ اس آیت میں تاکید کی گئی ہے کہ سخت ترین حالات میں حتی کہ جنگ میں نماز کو ترک نہیں کرناچاہےے۔ البتہ فرق یہ ہے کہ خطرے کی حالت میں نماز کی بہت سی شرائط ساقط ہو جاتی ہیں مثلا قبلہ رو ہونا ۔ متعارف اور معمول کے طریقے سے رکوع و سجود بجالانااور اس قسم کی دیگر چیزیں ایسی حالت میں رکوع و سجود کو اشارے سے بھی بجا لایا جا سکتاہے ۔ منقول ہے کہ حضرت امیر المئومنین علیہ السلام نے حکم دیا تھا کہ جب تک جنگ ہوتی رہے ایماء اور اشارے سے نماز پڑھتے رہو۔ [بحوالہ: تفسیر نور الثقلین]۔ ایک اور حدیث میں ہے: ”ان النبی (ص) صلی یوم الاحزاب ایماناً “ پیغمبر (ص) نے جنگ احزاب میں اشارے سے نماز پڑھی تھی ۔ امام موسی کاظم علیہ السلام سے پوچھا گیا اگر کوئی شخص کسی درندے کی گرفت میں آجائے اور بالکل حرکت نہ کرسکتا ہو اور نماز کا وقت بھی تنگ ہو تو اس کی ذمہ داری کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: جس حالت میں ہے اسی حالت میں نماز پڑھے چاہے قبلہ کی طرف پشت ہی کیوں نہ ہو۔ [بحوالہ: وسائل الشیعہ ج ۵، ابواب صلوٰۃ الخوف۔] اسے نماز خوف کہتے ہیں ۔فقہ میں اس کے بارے میں فقہاء نے مفصل بحث کی ہے۔ آیت کہتی ہے کہ نماز کا پروگرام اور دل ہر حالت میں نماز سے مربوط رہے تاکہ ہر حالت میں خدا سے دل بستگی رہے اور اسی سے انسان کی امید بندھی رہے تاکہ میدان جنگ تک میں نماز اور خدا کی طرف توجہ ترک نہ ہونے پائے۔
نماز روحانی تقویت کا موجب ہے
ہو سکتا ہے کچھ لوگ تصور کریں کہ نماز کے بارے میں اس قدر تاکید اور اصرار ایک طرح کی سخت گیری ہے اور ایسے حالات میں یہ انسان کو اپنے اہم دفاعی فرائض سے غافل کر سکتی ہے۔ دراصل، یہ بہت بڑا اشتباہ ہے کیونکہ عموما ان حالات میں انسان ہر چیز سے زیادہ روحانی تقویت کا محتاج ہوتا ہے اور اگر خوف و ہراس، وحشت اور روحانی کمزوری اس پر غالب آ جائے تو اس کی شکست تقریبا یقینی ہوتی ہے۔ لہذا نماز اور خدا سے رشتہ جوڑنے سے بہتر عمل کونسا ہو سکتا ہے۔ کیونکہ تمام جہان ہستی پر خدا کا حکم کار فرما ہے اور تمام چیزیں اس کے ارادے کے سامنے سہل معمولی اور آسان ہیں۔ وہ طاقت رکھتا ہے کہ مجاہد سپاہیوں اور خطرے میں گھرے ہوئے لوگوں کی روح کو تقویت بخش دے۔ صدر اول کے بہت سے مجاہدات میں پیش آنے والے شواہد سے قطع نظر یہودیوں سے مسلمان کی حالیہ چوتھی جنگ جو اس سال (۱۳۹۳ہجری ) کے ماہ رمضان میں ہوئی کی کی خبروں پر نظر کریں تو معلوم ہوگا کہ نماز اور احکام اسلام کی طرف توجہ نے مسلمانوں کی بہت روحانی تقویت بخشی جو دشمنوں پر کامیابی کے لیے بہت مئوثر رہی۔ ”فاذا امنتم فاذکروا اللہ کما علمکم ما لم تکونوا تعلمون"“ آیت کا یہ حصہ نشاندہی کرتا ہے کہ پیدل چلتے ہوئے اور سواری پر نماز کی ادائیگی حالت خوف وخطرسے مخصوص ہے اور جب امن و امان قائم ہو جائے اور راحت و آرام میسر آجائے تو پھر عام حالت کی طرح نماز ادا کرنا چاہیے۔ ” فاذا امنتم فاذکرواللہ “ اس کے بعد مزید ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم بہت سی چیزوں کو نہیں جانتے تھے اور خدا نے تمہیں ان کی تعلیم دی ہے امن اور خوف میں نماز پڑھنے کا طریقہ بھی اس نے تمہیں سکھایاہے۔ واضح ہے کہ اس تعلیم کا شکرانہ یہی ہے کہ اس کے مطابق عمل کیا جائے اور جیسا حکم دیا جائے ویسا عمل کیا جائے۔ ” کما علمکم مالم تکونوا تعلمون “
متوفی کے مال سے ایک سال تک بیوی کے اخراجات
Tafsīr Nemūna · Vol. 1آیت کے پہلے حصے میں حکم دیا گیا ہے کہ وہ لوگ جو موت کے آستانے تک جا پہنچیں اور اپنی بیویاں پیچھے چھوڑ جائیں تو انہیں وصیت کرناچاہیے کہ ان کے پسماندگان ایک سال تک ان کے مال سے ان کی بیویوں کے اخراجات ادا کریں۔ اِس لیے لفظ”یتوفّون“ مرنے کے معنی میں نہیں بلکہ ذکر وصیت کے قرینہ سے موت کے آستانہ پر جا پہنچنا مراد ہے۔ البتہ اس شرط کے ساتھ کہ عورت بھی شوہر کی موت کے بعد ایک سال تک اس کے گھر میں رہے اور اس سے باہر نہ نکلے۔ ”غیر اخراج“ ”فان خرجن فلا جناح علیکم فیما فعلن فی انفسھن“ یہ جملہ دو معانی پر منطبق ہو سکتا ہے۔ ۱۔ عورت کا حق ہے کہ مرد کے وارث ایک سال تک اس کے مصارف ادا کریں لیکن اگر عورت اپنی خوشی سے ایک سال کا خرچ نہ لے اور شوہر کے گھر میں بھی نہ رہے تو پھر کوئی اس کا جواب دہ نہیں ہے اور اگر عورت دوسری شادی کر لے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔ اس تفسیر کے مطابق آیت میں اجازت دی گئی ہے کہ عورت پہلے سال کے دوران میں نان ونفقہ سے صرف نظر کرکے سابق شوہر کے گھر سے چلی جائے۔ ۲۔ اگر عورت ایک سال تک صبر کرے اور یہ مدت پوری کرنے کے بعد شوہر کے گھر سے نکلے اور پھر نئی شادی کر لے تو کوئی حرج نہیں۔ دوسرے معنی کے مطابق ایک سال تک کی مدت گزارناعورت پر لازمی ہے دوسرے لفظوں میں ایک سال تک مکمل عدت گزارناعورت کے لیے ”حکم“ کی حیثیت رکھتا ہے نہ یہ کہ اس کا حق ہے جیسا کہ پہلے مفہوم میں ظاہر ہوتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان میں سے کون سی تفسیر آیت کے مفہوم سے میل کھاتی ہے اور مناسب ہے۔
کیا یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے؟
بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیت اسی سورہ کی آیت ۲۳۴ کے ذریعے منسوخ ہو گئی ہے۔اس میں عدتِ وفات چار ماہ اور دس دن معین کی گئی ہے۔ اگرچہ وہ آیت تنظیم اور ترتیب کے اعتبار سے پہلے آئی ہے ۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ سورتوں کی آیات کی تنظیم تاریخ نزول کے مطابق نہیں ہے۔بلکہ بغض اوقات وہ آیات جو بعد میں نازل ہوئی ہیں سورہ کے آخر میں ہیں اور ایسا آیات کی مناسبت کے اعتبار سے کیا گیا ہے۔ اور یہ فرمان پیغمبر کے مطابق ہی ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ جیسا آیت ۲۳۴ کی تفسیر میں گذر چکا ہے زمانہ جاہلیت میں عدت وفات ایک سال سمجھی جاتی تھی اور اس مدت میں عورت کے لیے خرافات پر مبنی اور تکلیف دہ رسوم رائج تھیں۔ اسلام نے جاہلیت کی اس رسم کو ختم کر دیا۔ پہلے عدت کو ایک سال کے لیے قرار دیا؛ بعد ازاں اس ایک سال کی مدت کو ختم کر کے چار مہینے اور دس دن کی عدت معین کی اور اس عرصے میں عورت کو صرف زیب و زینت سے منع کیا گیا۔ لیکن آیت کی منسوخی کے بارے میں یہ دلائل قابل قبول نہیں کیونکہ نسخ تو اس وقت ہو سکتا ہے جب ہم آیت کے دوسرے معنی مراد لیں؛ یعنی اس آیت کا مفہوم یہ سمجھیں کہ ایک سال تک گھر سے نہ نکلنا عورت کے ذمے فرض ہے۔ یہ عورت کا حق نہیں ہے۔ اگر پہلا مفہوم مراد لیا جائے جب کہ وہ آیت سے بہت زیادہ مناسبت بھی رکھتا ہے تو پھر نسخ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کیونکہ اس آیت میں اخراجات کے حصول اور امکان سے فائدہ اٹھانے کو ایک سال تک کی عدت سے مشروط کر دیا ہے۔ اس میں عورت کو حق دیا گیا ہے کہ اگر وہ چاہے تو چار ماہ اور دس دن بعد شوہر کے گھر سے چلی جائے اور نئی شادی کرلے۔ لہذا اس صورت میں فطری طور پر اس کی زندگی کے مصارف پہلے شوہر کے مال سے منقطع ہو جائیں گے۔ اصطلاح کی رو سے چار ماہ دس دن کی عدت رکھنا عورت کے لیے ایک حکم الزامی ہے اور اس میں عورت کا انتخاب کوئی اثر نہیں رکھتا۔ البتہ ایک سال تک اسے جاری رکھنا یہ عورت کا حق ہے اور وہ اس حق سے استفادہ کر سکتی ہے اور یہ عدت اختیار کر کے اپنے لیے اخراجات حاصل کر سکتی ہے اور اُسے یہ بھی حق پہنچتا ہے کہ ان سے صرف نظر کرکے شوہر کے گھر چلی جائے اور نئی شادی کر لے۔ ”من معروف“ یہ تعبیر اس بات کی طرف کو اشارہ ہے کہ عورتیں مجاز ہیں کہ ہر شائستہ اور مناسب اقدام کر سکیں۔ ( یہاں اس سے مراد شادی کرنا ہے) اور اس سلسلے میں انہیں مکمل آزادی حاصل ہے۔ ”واللہ عزیز حکیم“ آیت کے آخر میں اس بناء پر کہ ایسی عورتیں اپنی آئندہ کی زندگی سے پریشان نہ ہوں ان کی دلجوئی کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: خدا قادر ہے کہ پہلے شوہر کی وفات کے بعد ان کے لیے کوئی اور راہ کھول دے اور انہیں کوئی مصیبت پہنچی ہے تو اس میں کوئی حکمت تھی۔ خلاصہ یہ کہ اگر خداوند عالم حکمت کی وجہ سے ایک دروازہ بند کرتا ہے تو اپنے لطف و کرم سے دوسرا کھول دیتا ہے اور پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 241 کے تحت ملاحظہ کریں۔
احکام طلاق کا خاتمہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 1جیسا کہ پہلے اشارہ ہو چکا ہے ایسے مواقع پر متاع سے مراد ہدیہ ہے جو مرد عورت کو طلاق کے بعد دیتا ہے۔ یہ آیت احکام طلاق کا خاتمہ ہے۔ اس میں بھی جذبہ انتقام کو زیادہ سے زیادہ ختم کرنے لیے اور بغض و کینہ کے خاتمے کے لیے مطلقہ عورتوں کے بارے میں پھر سفارش کی گئی ہے۔ آیت کہتی ہے کہ مردوں کے فرائض میں داخل ہے کہ جب اپنی بیوی کو طلاق دیں تو انہیں ہدیہ پیش کریں اور یہ فریضہ تمام پرہیزگاروں پر عائد کیا گیا ہے۔ البتہ اس آیت کا ظاہری مفہوم سب عورتوں کے بارے میں ہے لیکن جیسا کہ آیت ۲۳۶ میں کہا جا چکا ہے کہ ہدیہ دینا صرف اس صورت میں واجب ہے کہ حق مہر معین نہ ہوا ہو اور رخصتی بھی نہ ہوئی ہو۔ اس بنا پر یہ حکم باقی صورتوں کے لیے مستحب ہو گا۔ در اصل اسلام کا یہ حکم انسانی پہلو کا حامل ہے۔ ”کذالک یبین اللہ لکم اٰیاتہ لعلکم تعقلون“ آیات اور اسلامی روایات کے مطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ عقل کا ذکر زیادہ تر ایسے مواقع پر آتا ہے جہاں فہم و ادراک کا تعلق عواطف و احساسات سے بھی ہو اور کے بعد عمل کا موقع ہو۔ مثلا قرآن خدا شناسی کے بہت سے مباحث میں عجیب و غریب جہان کے نظام کو بیان کرتا ہے اور اس کے بعد کہتا ہے کہ ہم نے ان آیات اور نشانیوں کو اس لیے بیان کرتے ہیں کہ (”لعلکم تعقلون“) شاید تم تعقل و تفکر کرو تو اس سے مقصود یہ نہیں کہ فقط نظام طبیعت کی معلومات کو دماغ میں جگہ دو۔ کیونکہ طبیعی و مادی علوم کے ساتھ دل اور احساس کا تعلق پیدا نہ ہو اورخالق کائنات کی محبت، دوستی اور آشنائی میں یہ کام نہ آئیں تو پھر مسائل توحید اور خدا شناسی سے ان کا کوئی ربط نہ ہو گا۔ اس طرح عملی پہلو رکھنے والی معلومات بھی ہیں۔ ان پر بھی تعقل کا اطلاق ہوتا ہو گا جب وہ عملی پہلو کی حامل ہوں گی۔ تفسیر المیزان میں کہ تعقل وہاں بولا جاتا ہے جہاں فہم و ادراک کے بعد انسان مرحلہ عمل میں داخل ہو۔ ” و قالو لو کنّا نسمع او نعقل ما کنا فی اصحاب السعیر“ اور دوزخی کہیں گے کہ اگر ہمارے سننے والے کان ہوتے اور تعقل کرتے تو اہل جہنم کی صف میں نہ ہوتے۔ (ملک۔۱۰) ”افلم یسیرو فی الارض فتکون لھم قلوب یعقلون بھا“ کیا انھوں نے زمین میں سیر و سیاحت نہیں کی تاکہ اس کے ذریعے ان کے دل سمجھ لیتے ( حج۔۴۶) ایسی آیات گواہ ہیں کہ اگر مجرم قیامت کے دن دنیا میں تعقل کرنے کی آرزو کریں کے تو اس سے مراد وہ تعقل ہے جس میں عمل شامل ہے۔ اس طرح جب خدا کہتا ہے کہ لوگ سیر و سیاحت کریں اور غور و فکر کے ذریعے اور دنیا کی کیفیت و وضعیت کے مطالعے سے کچھ چیزیں سمجھیں تو اس سے مراد بھی ایسا فہم و ادراک ہے جس کی مدد سے اپنا راستہ بدل لیں اور سیدھی راہ پر کامزن ہوں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1شام کے ایک شہر میں طاعون کی بیماری پیدا ہو گئی۔ بڑی عجیب اور سرسام آور تیزی سے لوگ مرنے لگے۔ کچھ لوگ موت سے بچنے کے لیے وہ شہر اور علاقعہ چھوڑ گئے علاقے سے فرار اور موت سے نجات نے ان میں یہ احساس پیدا کر دیا کہ وہ بہت قدرت و استقلال کے مالک ہیں۔ ارادہ الہی سے بے پروہ ہو کر فقط طبیعی عومل پر نظر رکھتے ہوئے وہ غرور اور فریب میں مبتلا ہوئے۔ لہذا پروردگار نے انہیں اسی بیماری کے ذریعے اسی بیابان میں نیست و نابود کر دیا۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ بیماری در اصل مکافات عمل کا مظہر اور سزا کے طور آئی تھی کیونکہ ان کے پیشوا اور رہبر نے ان سے جہاد کے لیے شہر سے نکلنے کا حکم دیا تو انہوں نے بہانہ کیا کہ جنگی علاقے میں طاعون کی بیماری پھیلی ہوئی ہے اور اس طرح انہوں نے جنگ میں جانے کے حکم سے رو گردانی کی۔ اس پر ہوا یوں کہ جس چیز سے وہ ڈرتے تھے اور جس بہانے سے وہ جنگ سے فرار چاہتے تھے انہیں اسی میں مبتلا کردیا گیا ان میں طاعون کی بیماری پھیل گئی۔ وہ اپنا گھر بار چھوڑ کر طاعون سے نجات کے لیے بھاگ کھڑے ہوئے لیکن سب کے سب بیابان میں پہنچ کر نابود ہو گئے۔ اس واقعے کے ایک عرصے بعد بنی اسرائیل کے ایک نبی حضرت حزقیل (ع)وہاں سے گزرے۔ (بعض روایات کے مطابق حضرت موسی کے بعد حضرت حزقیل بنی اسرائیل کے تیسرے راہنما تھے)۔ انہوں نے خدا سے خواہش کی کہ انہیں زندہ کر دے، خدا نے ان کی دعا قبول کرلی اور وہ دوبارہ زندہ ہو گئے۔
ادبیات عرب میں "الم تر" کا استعمال
ادبیات عرب کا طریقہ ہے کہ جب کسی مفہوم کو زیادہ مجسم انداز میں پیش کرنا چاہیں اور اس کی بہتر تصویر کشی مطلوب ہو تو "الم تر" استعمال کرتے ہیں؛ یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا؟ اس مقام پر بظاہر تو یہ پیغمبر اکرم سے خطاب ہے لیکن در حقیقت، یہ سب لوگوں سے فرمایا جا رہا ہے۔ پیغمبر اکرم کی طرف خطاب کا رخ اس تاکید اور زیادہ اہمیت کے پیش نظر ہے۔ ”الم تر“کے بعد آیت میں ایک گروہ کی کیفیت بیان کی گیی ہے کہ وہ موت کے ڈر سے اپنے گھروں کو چھوڑ گیا اور پھر وہ سب لوگ خدا کے حکم سے مر گئے اور انہیں بھاگ جانے کا کوئی فائدہ نہ ہوا "الم تر الیٰ الذین خرجوا من دیارھم و ھم الوف حذر الموت فقال لہم اللہ موتوا۔۔۔۔" یہ بات واضح ہے کہ لفظ ”الوف“ جس کے معنیٰ ہی "ہزاروں"، یہ یہاں کسی خاص تعداد کی طرف اشارہ نہیں ہے؛ بلکہ اس گروہ کی زیادتی اور کثرت کی طرف اشارہ ہے۔ اس لیے بعض روایات میں ان کی تعداد دس ہزار اور بعض میں ستّر ہزار بیان کی گیی ہے۔ یہ بھی واضح ہے کہ ”موتوا“ یعنی مر جاوٴ سے مراد حکم لفظی نہیں، بلکہ خدا کا امر تکوینی ہے جو تمام عالم ہستی اور جہان حیات پر حکم فرما ہے۔ یعنی خدا نے ان کی موت کے اسباب فراہم کیے اور سب کے سب بڑی تیزی مر گئے۔ یہ امر اس امر کی طرح ہے۔ ”انما امرہ اذا اراد شیئاً ان یقول لہ کن فیکون۔“ اس کا حکم صرف یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کے ہونے کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے کہ ہو جا اور وہ فوراً ہو جاتی ہے (یس ٓ ۸۲) "ثم احیاھم" آیت کے اس حصے مین اس گروہ کی موت کے بعد پھر زندگی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ شان نزول میں بیان کیاجا چکا ہے کہ ایسا حضرت حزقیل (جو پیغمبر تھے) کی دعا سے ہوا۔ ”انّ اللہ لذو فضل علی الناس ولکنّ اکثر الناس لا یشکرون۔“ ان کی دوبارہ زندگی خدا کی ایک واضح دلیل اور نشانی تھی۔ اس لیے آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے صرف یہ ایک نعمت نہ تھی جو خدا نے انہیں عطا فرمائی۔ خدا تمام لوگوں کے لیے بخشنے والا اور مہربان ہے اور سب کو اپنی نعمتوں اور احسانات سے نوازتا رہتا ہے لیکن یہ بات باعث افسوس ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ ان نعمتوں کا شکر نہیں بجا لاتے۔
ایک درس عبرت
آیت در اصل سب لوگو ں کے لیے ایک درس عبرت بیان کرتی ہے تا کہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ ذمہ داریوں سے فرار اور بہانہ سازیوں کے ذریعے وہ مامون ہو سکتے ہیں۔ وہ یہ خیال نہ کریں کہ قدرت پروردگار بلکہ طبیعی و مادی قوانین جو دنیا پر حاکم ہیں، ان سے وہ زیادہ طاقتور ہیں۔ اگر وہ دشمنوں سے جنگ کرنے سے پہلو تہی کریں اور جہاد سے فرار حاصل کریں، جبکہ یہ خود انہی کی سربلندی کا ذریعہ ہے، پھر بھی ممکن ہے خداوند عالم انہیں کسی اور دشمن کے سامنے کر دے چاہے وہ ایسا چھوٹا دشمن ہو جو آنکھوں سے دیکھا بھی نہ جا سکے۔ دوربین سے دیکھے جانے والے یہ چھوٹے دشمن جنہیں جراثیم کہتے ہیں انہی سے طاعون یا کوئی اور وبا پھیل سکتی ہے جو اتنی تیزی اور برق رفتاری سے انہیں مار ڈالتی ہے کہ کوئی خطرناک دشمن بھی میدان جنگ میں ان سے ایسا سلوک نہیں کر سکتا۔ پھر بھی لوگ کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے اور اپنی ذمہ داریوں سے فرار کرتے ہیں۔
یہ تاریخ ہے یا تمثیل
جو داستان یہاں بیان کی گئی ہے کیا یہ ایک تاریخی واقعہ ہے جسکی طرف قرآن نے سربستہ طور پر اشارہ کیا ہے جبکہ روایات میں اسکی تفصیل آئی ہے یا اسے ایک تمثیل کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور عقلی حقائق کی حسی طور پر تصویر کشی کی گئی ہے۔ مذکورہ واقعے میں کئی ایک غیر معمولی پہلو ہیں اور بعض مفسرین کے لیے مشکل تھا کہ اسکو جوں کا توں گوارا کر لیں لہٰذا انہوں نے اسکے وقوع پذیر ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ انکے نزدیک یہ واقعہ بطور تمثیل ذکر ہوا ہے جس میں ایک ایسے گروہ کا تذکرہ ہے جو دشمن سے مقابلے میں سستی کرتا ہے اور نتیجتاً شکست کھا جاتا ہے۔ پھر عبرت حاصل کرتے ہوئے بیدار ہو جاتا ہے۔ قیام اور مقابلہ پھر سے شروع کرتا ہے اور آخرکار کامیاب ہو جاتا ہے۔ اس تفسیر کے مطابق "موتوا" کا لفظ سستی اور تساہل کے نتیجے میں شکست کھانے سے کنایہ ہے اور”احیاھم“ (یعنی خدا نے انہیں زندہ کیا) ان کی آگاہی اور بیداری کے بعد کامیابی کی طرف اشارہ ہے۔ اس تفسیر کے مطابق اس سلسلے میں وارد ہونے والی روایات جعلی ہیں اور اسرائیلیات میں سے ہیں۔ لیکن ___ یہ کہنا پڑے گا کہ سستی اور بیداری کے نتیجے میں شکست و کامیابی کا معاملہ جاذب نظر تو ہے لیکن اسکا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ظاہر آیت ایک تاریخی واقعے کا بیان ہے نہ کہ ایک تمثیل کا ذکر۔ آیت میں گذشتہ لوگوں کے گروہ کی حالت بیان کی گئی ہے۔ یہ لوگ ایک وحشت ناک حادثے کے نتیجے میں مر گئے تھے۔ خداوند عالم نے انہیں پھر سے زندہ کیا۔ کوئی واقعہ غیر عادی یا غیر معمولی ہونے کی وجہ سے توجیہ و تاویل کے قابل سمجھا جائے تو پھر انبیاء کے تمام معجزات سے یہی سلوک کیا جائے۔ خلاصہ یہ کہ اگر ایسی توجیہات اور تفاسیر کو قرآن کی طرف گھسیٹا جانے لگا تو انبیاء کے معجزات کے علاوہ قرآن کے بہت سے تاریخی مباحث کا انکار کرنا پڑے گا اور انہیں تمثیل یا سمبالک ((symbolic قرار دینا پڑے گا۔ مثلاً ہابیل اور قابیل کی سرگذشت کو عدالت و حق کی جستجو اور قساوت و سنگدلی کے مقابلے کی مثال سمجھنا پڑے گا اور اس صورت میں قرآن کے تمام تاریخی مباحث اپنی قدر و قیمت کھو دیں گے۔ علاوہ ازایں اس تعبیر سے یہ نہیں ہو سکتا کہ اس آیت کی تفسیر میں وارد ہونے والی تمام روایات سے چشم پوشی کر لی جائے کیونکہ ان میں بعض تو معتبر اسناد سے منقول ہیں اور انہیں جعلی اور اسرائیلیات قرار نہیں دیا جا سکتا۔
رجعت کی طرف اشارہ
اس آیت میں ایک اور نکتے کی طرف بھی توجہ کرنا چاہئے اور وہ یہ ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رجعت کا امکان ہے۔ گذشتہ لوگوں کی تاریخ میں ایسے بہت سے افراد ہیں جو مرنے کے بعد دوبارہ اس دنیا میں پلٹ آئے، جیسے بنی اسرائیل کی وہ جماعت جس کی طرف زیر بحث آیت میں اشارہ ہوا ہے۔ اس بناء پر کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ کسی دور میں ایسے واقعے کا اعادہ ہوا تو اس میں کیا مضائقہ ہے۔ مشہور شیعہ عالم شیخ صدوق نے اسی آیت سے رجعت کے امکان کے مسئلہ پر استدلال کیا ہے۔ وہ کہتے کہ ہمارے عقائد میں سے ایک عقیدہ رجعت ہے البتہ رجعت کا تناسخ سے کوئی تعلّق نہیں ہے۔ اس مسئلہ کی تفصیل اپنے مقام پر آئے گی۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 245 کے تحت ملاحظہ کریں۔
جان و مال سے جهاد
Tafsīr Nemūna · Vol. 1بنی اسرائیل کے بعض لوگوں کی سرگذشت جو گذشتہ آیت میں بیان ہوئی ہے۔ یہ واضح ہو چکا ہے کہ مو ت و حیات خدا کے ہاتھ میں ہے۔ اگر یہ واقع نظر میں رہے تو انسان یہ سمجھ سکتا ہے کہ جہاد سے بھاگ جانے اور جنگ میں سستی کرنے سے وہ موت سے نہیں بچ سکتا۔ زیر نظر آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ راہ خدا میں جہاد کرو اور جان لو کہ خدائے بزرگ و بر تر تمام چیزوں سے باخبر ہے اور تمہارے باطن سے اٹھنے والے علل و اسباب کو جانتا ہے اور جنگ کے بارے میں تمہاری نیتوں سے آگاہ ہے۔ وہ تمہاری ہر گفتگو سنتا ہے اور کوئی چیز اس کی درگاہ سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی: "من ذاالذی یقرض اللہ قرضا ً حسنا"۔ جیسے معاشرہ اپنے استقلال، ہیش رفت اور سر بلبدی کے لیے مجاہد و مبارز افراد کا محتاج ہے، اس طرح محروم انسانوں کی حمایت، عمومی منافع اور وسائل جہاد کے لیے بھی کمک کی ضرورت ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن راہ خدا میں خرچ کرنے کے معاملے پر خاص طور پر زور دیتا ہے۔
خدا بندوں سے قرض لیتا ہے
یہ امر قابل غور ہے کہ قرآن اس آیت میں اور چند دیگر آیات میں اس اجتماعی ذمہ داری کو قرض سے تعبیر کرتا ہے۔ یہ نکتہ نگاہ میں رہے کہ تمام اموال کا حقیقی مالک پروردگار عالم ہے انسان تو صرف نمائندہٴ خدا ہو نے کی حیثیت سے اس میں تصرف کرتا ہے۔ البتہ اس سر پرستی اور نمائندگی کی شرط یہ ہے کہ اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے علاوہ عام لوگوں کی حاجات و ضروریات کو پورا کرنے کے لیے خرچ کرے۔ جیسا کہ سورہٴ حدید کی آیہ ۷ میں ہے: آمِنُوا بِاللَّہِ وَ رَسُولِہِ وَ اَنْفِقُوا مِمَّا جَعَلَکُمْ مُسْتَخْلَفینَ فیہِ خدا پر ایمان لے آوٴ اور جن اموال میں خدا نے تمہیں اپنا نمائندہ بنایا ہے ان میں سے خرچ کرو لیکن ان تمام چیزوں کے باوجود قرآن کہتا ہے کہ اس مادی کمک کو خدا کو قرض دینے کے حساب میں شمار کرو۔ اس خالق کائنات کو قرض دو کہ جس کی طرف سے تمام چیزیں ہیں اور جب واپس لوگے تو کئی گنا ملے گا (فیضاعفہ لہ اضعافاً کثیرةً) اس سے بندوں پر پروردگار کے انتہائی لطف و کرم کا اظہار ہوتا ہے اور انفاق اور خرچ کرنے کی کمال اہمیت اس سے عیاں ہوتی ہے۔ باوجودیکہ وہی مالک اور بخشنے والا ہے پھر بھی اپنے بندوں سے قرض کی خواہش کرتا ہے اور اور قرض بھی ایسا کہ جس کے ساتھ اس قدر نفع بھی شامل ہو جائے یعنی خدا وند کریم کا کرم بین اور لطف و عنایت ( فیضاعفہ لہ اضعافاً کثیرة) "اضعاف"، "ضعف"،( بروزن شعر) کی جمع ہے۔ اس کا معنی ہے کسی چیز کو دو برابر یا چند برابر کرنا۔ توجہ رہے کہ اضعاف جمع ہے،کثیرة تاکید کے لیے ہے یضاعف تاکید مزید کے لیے ہے کیونکہ باعتبار لغت "یضاعف"، "یضعف"کی نسبت زیادہ تاکید کا حامل ہے۔ان تمام امور سے معلوم ہوتا ہے کہ انفاق اور خرچ کرنے کے مقابلے میں خدا تعالیٰ ایک بڑی مقدار عطا فرماتا ہے جیسے ایک مستعد بیج کو جب زمین میں ڈالا جاتا ہے اور اس کی آبیاری کی جاتی ہے تو نشوونما کے بعد وہ ایک سے بہت زیادہ مقدار میں میسّر آتا ہے۔ جیسا کہ آیہ ۲۶۱میں آئے گا: "و اللہ یقبض ویبصط والیہ ترجعون" آیت کے آخر میں یہ جملہ گویا اس طرف اشارہ کرتا کہ یہ خیال نہ کرنا کہ انفاق اور بخشش تمہارے اموال کو کم کر دیتے ہیں کیونکہ تمہارے سر مائے کی وسعت اور محدودیت خدا کے ہاتھ میں ہے وہی ہے جو آسمان اور زمین برکتوں سے تمہیں مالا مال کر سکتا ہے اورعطا کردہ اموال کی جگہ کئی گنا ثروت تمہیں بخش سکتا بلکہ معاشرتی روابط اور وابستگیوں کے انداز پر نظر کی جائے تو بات واضح ہوتی ہے کہ وہی عطا کردہ اموال آخر کار تمہاری طرف پلٹ آ ئیں گے۔ ان تمام چیزوں سے قطع نظر تمہیں بھولنا نہیں چاہیےٴ کہ تم نے خدا کی طرف پلٹ جانا ہے اور ایک اور جہان تمہارے آگے ہے جہاں تم اپنے ان انفاق اور مصارف کا ثمرہ پاوٴ گے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 252 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 252 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 252 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 252 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 252 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 252 کے تحت ملاحظہ کریں۔
ایک عبرت خیز واقعہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 1خداے بزرگ و برتر ان آیات میں ایک عبرتناک واقعہ بیان کرتا ہے۔ اس میں بنی اسرائیل کے ایک گروہ کی سرگذشت بیان کی گئی ہے جو حضرت موسیٰ کے بعد وقوع پذیر ہوئی۔ جہاد اور حریم دین خدا یعنی حریم انسانیت کے دفاع کا یہ تذکرہ مسلمانوں کی عبرت کے لیے ہے۔ آیات کی تفسیر سے قبل ہم اس داستان کو بیان کرتے ہیں۔ ایک عبرت خیز واقعہ اہل فرعون کے زیر اثر رہ کر بنی اسرائیل کمزور و ناتواں ہو چکے تھے۔ حضر رت موسیٰ کی دانشمندانہ رہبری کے نتیجہ میں انہیں اس افسوسناک حالت سے نجات ملی اور انہوں نے قدرت و عظمت حاصل کر لی۔ اس پیغمبر کی بر کت سے خدا نے انہیں بہت سی نعمات سے نوازا ان نعمات میں سے ایک صندوق عہد بھی تھا (بہت جلد صندوق عہد، اس کی تاریخ اور اس میں موجود چیزوں کے بارے میں بحث کریں گے)۔ یہودی اپنے لشکر کے آگے اسے اٹھائے رکھتے تھے اس اسے یک طرح ان میں سکون قلب اور روحانی طاقت پیدا ہوتی تھی۔ بنی اسرائیل کو یہ قدرت و عظمت حضرت موسیٰ کے بعد ایک مدت تک حاصل رہی لیکن یہی کامیابیاں اور نعمتیں رفتہ رفتہ ان کے غرور و تکبّر کا باعث بن گییں اور وہ قانون شکنی کرنے لگے۔ اس کے نتیجے میں انہیں فلسطینیوں کے ہاتھوں شکست اٹھانا پڑی وہ اپنی قدرت و عظمت کھو بیٹھے اور صندوق عہد بھی گنوا بیٹھے۔ پھر اس قدر پراکندگی اور اختلاف کا شکار ہوئے کہ چھوٹے سے چھوٹے دشمن سے بھی دفاع کے قابل نہ رہے۔ یہا ں تک کے دشمنوں نے ان کے بہت سے لوگوں کو ان کی سر زمین سے نکال دیا اور ان کی اولاد کو غلام اور قیدی بنا لیا۔ کئی برس تک یہ کیفیت رہی یہاں تک کہ خدا وند عالم نے ان کی نجات اور ارشاد و ہدایت کے لیے حضرت اشموئیلکو پیغمبر بنا کر مبعوث فرمایا۔ بنی اسرائیل بھی دشمنوں کے ظلم و جور سے تنگ آ چکے تھے اور کسی پناہ گاہ کی تلاش میں تھے۔ لہٰذا ان کے گرد جمع ہو گیے اور ان سے خواہش کی کہ وہ ان کے لیے کوئی رہبر امیر مقرر کر دیں تاکہ وہ اس کی قیادت میں ہم آواز اور ایک جان ہو کر دشمن سے جنگ کریں اور عزت رفتہ بحال ہو سکے۔ اشموئیل ان کی اندرونی کیفیات اور سست ہمّتی سے پوری طرح واقف تھے انہوں نے کہا مجھے ڈر ہے جب جہاد کا حکم آئے تو تم کہیں امیر کے حکم سے روگردانی نہ کرو اور دشمن سے مقابلے اور پہلو تہی نہ کرو۔ وہ کہنے لگے: یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم امیر کے حکم سے منہ پھیر لیں اور اپنی ذمہ داری بنبھانے سے دریغ کریں حالانکہ دشمن ہمیں ہمارے وطن سے نکال چکا ہے، ہماری زمینوں پر قبضہ کر چکا ہے اور ہماری اولاد کو قیدی بنا کر لے گیا ہے۔ حضرت اشموئیل نے دیکھا کہ وہ اپنی بیماری کی تشخیص کر چکے ہیں اور اب انہیں ایک طبیب کی ضرورتر ہے۔ گویا وہ اپنی پسماندگی کے راز سے واقف ہو چکے ہیں۔ اس پر حجرت اشموئیل نے بار گاہ الٰہی کا رخ کیا اور قوم کی خواہش کو اس کے حضور پیش کیا۔ وحی ہوئی: " میں نے طالوت کو ان کی سر براہی کے لیے منتخب کیا ہے۔" حضرت اشموئیل نے عرض کیا: خدا وندا!میں ابھی تک طالوت کو دیکھا ہے نہ پہچانتا ہوں۔" ارشاد ہوا: ہم اسے تمہاری طرف بھیجیں گے جب وہ تمہارے پاس آئٓے تو فوج کی کمان اس کے حوالے کر دینا اور علم جہاد اس کے ہاتھ میں دے دینا۔
طالوت کون تھے
طالوت ایک بلند قامت، تنومند اور خوبصورت مرد تھے وہ مضبوط اور قوی اعصاب کے مالک تھے روحانی طور پر بھی بہت ہی زیرک اور دانشمند اور صاحب تدبّر تھے بعض لوگوں نے ان کے نام طالوت کو بھی ان کے طولانی قد کا سبب قرار دیا ہے۔ ان تمام صفات کے با وجود مشہور نہیں تھے۔ اپنے والد کے ساتھ دریا کے کنارے ایک بستی میں رہتے تھے والد کے چوپایوں کو چراتے تھے اور زراعت کرتے تھے۔ ایک دن کچھ جانور بیابان میں گم ہو گئے۔ طالوت اپنے دوست کے ساتھ کئی دن تک ان کی تلاش میں سر گرداں رہے۔ انہیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ شہر "صوف" کے قریب پہنچ گئے۔ ان کے دوست نے کہا ہم تو اشموئیل کے شہر صوف میں آپہنچے ہیں آئیے ان کے پاس چلتے ہیں۔ شاید وحی کے سائے میں اور ان کی رائے کی رو شنی میں ہمیں کچھ پتہ چل سکے۔ شہر میں داخل ہوئے تو حضرت اشموئیل سے ملاقات ہو گئی جب اشموئیل اور طالوت نے ایک دوسرے کو دیکھا تو گویا دل مل گئے۔ اشموئیل نے اسی لمحہ طالوت کو پہچان لیا وہ جان گئے کہ یہ وہی نوجوان ہے جسے خدا نے ان لو گوں کی قیادت کے لیے منتخب کیا ہے۔ طالوت نے اپنی کہانی سنائی تو اشموئیل کہنے لگے وہ چو پائے تو اس وقت تمہاری بستی کی راہ پر ہیں اور تمہارے باپ کے باغ کی طرف جا رہے ہیں۔ ان کے بارے میں فکر نہ کرو۔ میں تمہیں اس سے کہیں بڑے کام کی دعوت دیتا ہوں۔ خدا نے تمہیں بنی اسرائیل کی نجات کے لیے مامور کیا ہے۔ طالوت پہلے تو اس پرو گرام پر حیران ہوئے اور پھر اسے سعادت سمجھتے ہوئے قبول کر لیا۔ اشموئیل نے اپنی قوم سے کہا: خدا نے طالوت کو تمہاری قیادت سونپی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ تم اس کی پیروی کرو اب اپنے تئیں دشمن سے مقابلے کے لیے تیار کر لو۔ بنی اسرائیل کے نزدیک تو حسب ونسب اور ثروت کے حوالے سے کئی خصوصیات فرمانروا کے لیے ضروری تھیں اور ان میں سے کویی چیز بھی طالوت میں دکھائی نہ دیتی تھی۔ اس انتخاب و تقرر پر وہ بہت حیران و پریشان ہو گئے۔ انہوں نے دیکھا کہ ان کے عقیدہ کے برخلاف وہ نہ تو لاوی کی اولاد میں سے تھے جن میں سے نبی ہوتے تھے؛ نہ یوسف اور یہودا کے خاندان سے تھے جو گذشتہ زمانے میں حکومت کرتے تھے بلکہ ان کا تعلّق تو بنیامین کے گمنام خاندان سے تھا اور پھر وہ مالی طور پر بھی تہی دست تھے۔ انہوں نے اعتراض کیا: وہ کیسے حکومت کر سکتا ہے جب کہ ہم اس سے زیادہ حقدار ہیں؟ اشموئیل سمجھتے تھے کہ وہ بہت اشتباہ کر رہے ہیں۔ کہنے لگے: انہیں خدا نے تم پر امیر مقرر کیا ہے۔ نیز قیادت کے لیے ان کی اہلیت اور لیاقت کی دلیل یہ ہے کہ وہ جسمانی طور پر زیادہ طاقت ور ہیں اور روحانی طاقت میں بھی سب سے بڑھ کر ہیں۔ اس لحاظ سے وہ تم میں سب پر برتری رکھتے ہیں۔ بنی اسرائیل نے خدا کی طرف سے اس کے تقرر کے لیے کسی علامت یا نشانی کا مطالبہ کر دیا اس پر اشموئیل بولے: انبیا ء بنی اسرائیل کی اہم یادگار تابوت (صندوقِ عہد)جو جنگ میں تمہارے لیے اطمینان اور ولولے کا باعث تھا تمہارے پاس لوٹ ائٓےگا اور اسے تمہارے آگے چند فرشتوں نے اٹھا رکھا ہو گا۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ صندوق عہد ان کے سامنے آگیا۔ یہ نشانی دیکھ کر انہوں نے طالوت کی سربراہی قبول کر لی۔
طالوت نے ملک کی باگ ڈور سنبھال لی
طالوت نے لشکر کی قیادت کا بیڑا اٹھایا۔ انہوں نے تھوڑی ہی مدّت میں امور سلظنت کی انجام دہی اور فوج کی تنظیم نو کے سلسلے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔ پھر آپ نے فوج کو دشمن سے مقابلے کی دعوت دی۔ دشمن نے ان کی ہر چیز کو خطرے سے دوچار کر رکھا تھا۔ طالوت نے تاکید کرتے ہوئے کہا:میرے ساتھ وہ لوگ چلیں جن کی ساری توجہ جہاد پر مرکوز رہ سکے۔ جن کی صحت ناقص ہو اور جو درمیان ہی میں ہی ہمّت ہار بیٹھنے والے ہوں اس جنگ میں شرکت نہ کریں۔ بہت جلد ظاہراً ایک کثیر تعداد اور طاقتور فوج جمع ہو گئی اور وہ دشمن کی طرف چل پڑے۔ سورج کی تپش تھی گرمی میں چلتے چلتے انہیں سخت پیاس لگ گئی۔ طالوت خدا کے حکم سے انہیں آزمانا چاہتے تھے اور ان کی تطہیر بھی کرنا چاہتے تھے انہوں نے کہا :جلد تمہارے راستے میں ایک نہر ائےٴگی۔ اس کے ذریعہ خدا تمہارا امتحان لے گا۔ جو لوگ اس میں سے سیر ہو کر پانی پییں گے ان کا مجھ سے کوئی تعلّق نہیں۔ البتہ جو تھوڑا سا پانی پییں گے وہ میرے ساتھی ہیں۔ ان کی نطر نہر پر پڑی تو بہت خوش ہوئے۔ جلدی سے وہاں پہنچے اور خوب سیر ہو کر پانی پیا۔ تھوڑے سے فوجی اپنے عہد و پیمان پر قائم رہے۔ طالوت نے دیکھا کہ ان کی فوج کی اکثریت بےارادہ اور کمزور عہدو پیمان کی حامل ہے اور اس میں تھوڑے سے صاحب ایمان افراد موجود ہیں۔ انہوں نے بے قاعدہ اور نافرمان اکثریت کو چھوڑ دیا اور انہی کم تعداد صاحب ایمان کو ساتھ لیا اور شہر سے گزر کر میدان جہاد کی طرف پیش قدمی جاری رکھی۔ طالوت کی فوج نے اپنی کم تعداد دیکھی تو پریشان اور وحشت زدہ ہوئی۔ فوجیوں نے ان سے کہا ہم میں تو اس طاقتور فوج کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں ہے۔ لیکن کچھ ایسے بھی تھے جن کا دل خدا کی محبت سے معمور تھا۔ وہ دشمن کی فوجی قوت اور کثرت اور اپنی تھوڑی تعداد پر ہراساں نہ ہوئے اور کمال شجاعت سے طالوت سے کہنے لگے: آپ جو مصلحت سمجھتے ہیں حکم دیجیے ہم ہر مقام پر آپ کا ساتھ دیں گے اور انشاء اللہ کم تعداد کے باوجود دشمن سے جہاد کریں گے کیو نکہ یہ تو کئی مرتبہ ہو چکا ہے کہ کم تعداد خدا کے ارادہ اور مشیّت کے سہارے کثیر تعداد پر غالب آئی ہے اور خدا استقامت اور پامردی دکھانے والوں کے ساتھ ہے۔ طالوت ان کم تعداد اہل ایمان مجاہدین کے ساتھ آمادہٴ کار زار ہو ئے۔ ان لوگوں نے درگاہ الٰہی سے شکیبائی اور کامیابی کی دعا کی۔ جنگ کی آگ بھڑک اٹھی جالوت اپنا لشکر لے کر باہر نکلا۔ لشکروں کے مابین مبارز طلبی ہوئی۔ اس کی بارعب پکار نے دلوں کو لرزا دیا۔ میدان میں جانے کی جرائت کسی میں نہ رہی۔ داوٴد ایک کم سن نوجوان تھا۔ شاید وہ جنگ کے لیے بھی میدان میں نہ آیا تھا بلکہ اپنے جنگجو بڑے بھائیوں اور باپ کی خدمت کے لئے چلا آیا تھا لیکن چا ک و چوبند اور قوی تھا۔ خلدخن اس کے ہاتھ میں تھی اس کے ذریعہ اس نے دو پتھر ایسے ماہرانہ انداز میں پھینکے کہ ٹھیک جالوت کی پیشانی اور سر میں پیوست ہو گئے۔ اس کے سپاہیوں پر وحشت اور تعجّب کا عالم طاری تھا۔ وہ ان کے درمیان گرا اور مر گیا۔ جالوت کے قتل سے اس کی فوج میں عجیب خو ف و ہراس پیدا ہو گیا۔ جالوت کا لشکر بھاگ کھڑا ہوا اور بنی اسرائیل کامیاب اور کامران ہو گئے۔(مجمع البیان، تفسیر الدّر المنثور ،قصص قرآن سے اقتباس کی تلخیص) " الم تر الیٰ الملاء من بنی اسرائیل"۔ لغت میں "ملاء" اس چیز کو کہتے ہیں جس سے آنکھ بھر جائے اور دیکھنے والے کے تعجّب کو برانگیختہ کر دے۔ اس لیے زیادہ جمعیت کو جو ہم رائے اور ہم عقیدہ ہو ملاء کہتے ہیں۔ نیز ہر قوم و ملّت کے بزرگوں کو بھی ملاء کہتے ہیں کیونکہ وہ ایک خاص مقام اور منزلت کے حامل ہونے کی وجہ سے دیکھنے والے کی آنکھ کو بھر دیتے ہیں۔ جیسا کہ اشارہ ہو چکا ہے کہ یہ آیت بنی اسرائیل کی ایک بڑی جمعیت کی طرف اشارہ کرتی ہے ان لوگوں نے بیک آواز اپنے پیغمبر سے امیر و رہبر کا تقاضا کیا تاکہ اس کی قیادت میں جالوت کا مقابلہ کر سکیں جس نے ان کی دینی اقتصادی اور اجتماعی حیثیت کو معرض خطر میں ڈال رکھا تھا۔ یہ واقعہ حضرت موسیٰ کے بعد رونما ہوا۔ " فی سبیل اللہ" بنی اسرائیل اس دشمن کے تجاوز اور زیادتی سے نجات چاہتے تھے جس نے انہیں ان کی سر زمین سے نکال دیا تھا۔ اس کے لیے وہ آمادہٴ جنگ تھے۔ اس کے باوجود اس پرو گرام کو فی سبیل اللہ قرار دیا گیا تھا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ انسانوں کی آزادی، ظلم کی سرکوبی اور تجاوز سے نجات کے لیے مددگار ثابت ہو سکے وہ فی سبیل اللہ میں شمار ہوتی ہے۔ "قال ھل عسیتم ان کتب علیکم القتال الا تقاتلوا" ان کے پیغمبر چونکہ ان کی سستی اور کاہلی سے واقف تھے اس لیے کہنے لگے ممکن جب تمہیں جہاد کا حکم دیا جائے تو تم عمل نہ کرو۔ "قالو وما لنا الا نقاتل فی سبیل اللہ و قد اخرجنا من دیارنا و ابنائنا" وہ کہنے لگے: یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم دشمن کے ساتھ جنگ سے روگردانی کریں؛ حالانکہ اس نے ہمیں ہمارے شہر سے باہر نکال دیا ہے اور ہمارے بچوں کو ہم سے جدا کر دیا ہے۔ اسی طرح ان سے پیمان وفاداری لیا گیا لیکن خدا کا نام اس کا فرمان، اپنے وجود اور استقلال کی حفاظت کا تقاضا اور اولاد کی آزادی کی خواہش کو ئی چیز بھی انہیں عہد شکنی سے نہ روک سکی۔ اس لیے قرآن نے ساتھ ہی یہ فرمایا ہے: "فلماّ کتب علیہم القتال تولوا الا قلیلاً منہم" یعنی جب ان پر جہاد فرض ہوا تو تھوڑے سے افراد کے علاوہ سب لوگ روگرداں ہو گئے اور ان کے قائد نے ایک قلیل سی گوفوج لے کر جنگ کے عظیم میدان میں شرکت کی۔ "واللہ علیم بالظّالمین" خدا ان ظالموں کو جانتا ہے جنہوں نے اپنے آپ پر، معاشرے پر آنے والی نسلوں پر اور اپنی اولاد پر ظلم کیا ہے۔ ان کے حسب حال سزا اب ان کا نتظار کر رہی ہے۔ "و قال لہم نبیہم ان اللہ قد بعث لکم طالوت ملکاً " اس آیت کے مطابق بنی اسرائیل کے لشکر کی بادشاہی اور سر براہی کے لیے خدا تعالیٰ نے طالوت کو منتخب کیا تھا اور شاید بعث کا لفظ اسی طرف اشارہ ہو جو کچھ اس واقعہ کی تفصیل میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی غیر متوقع صورت حال کی وجہ سے طالوت پیغمبر کی مجلس تک آ پہنچے۔ ضمنی طور پر آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ طالوت فقط لشکر کے کمانڈر ہی نہ تھے، ملک کے حکمران بھی تھے۔ "قالو ا انی یکون لہ الملک علینا و نحن احق بالملک منہ ولم یوٴت سعة من المال" بنی اسرائیل کی طرف سے یہ پہلی عہدشکنی ہے کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کے سامنے طالوت کے انتخاب کے بارے میں اعتراض کیا حالانکہ وہ تصریح کر چکے تھے کہ یہ چناوٴ خدا کی طرف سے ہے۔ لیکن وہ خدا کے انتخاب پر اعراض کرنے سے بھی نہ چوکے اور کہنے لگے ہم اس سے زیادہ حقدار ہیں کیونکہ عالی نسبی اور فراوان دولت تو ہمارے پاس ہے جو حکمرانی کی دو لازمی شرطیں ہیں۔ جیسا کہ ہم اس واقعے کی تفصیل میں دیکھ چکے ہیں کہ طالوت بنی اسرائیل کے ایک گمنام قبیلہ سے تعّلق رکھتے تھے اور مالی طور پر ایک عام زراعت پیشہ شخص سے زیادہ حیثیت نہ رکھے تھے۔
قیادت کی شرایط
اس زمانے کے پیغمبر نے معترضین کو جو دندان شکن جواب دیا قرآن نے اسے یوں بیان کیا ہے: خدا نے اسے تم پر حکمرانی کی خاطر اس لیے چنا ہے کہ وہ دانائی و مرادنگی اور علم سے مالا مال ہے اور جسمانی طاقت کے لحاظ سے قوی اور صاحب قدرت ہے۔ یعنی تم اشتباہ کا شکار ہو اور رہبری کی بنیادی شرائط بھولے بیٹھے ہو۔ اس طرح قرآن نے قیادت کے لیے پیش کردہ ان کی شرائط کی نفی کر دی کیونکہ ان کی پیش کردہ دونوں شرائط میں سے کوئی بھی حقیقی امتیاز اور خصوصیت نہیں کہلا سکتی۔ آباء و اجداد کی شخصیت اور دولت و ثروت دونو اعتباری اور خارج از زات امتیازات ہیں لیکن علم و دانش اور جسمانی طاقت ذات میں داخل امتیازات اور خصوصیات ہیں۔ رہبر اپنے علم و دانش سے معاشرہ کے لیے راہ سعادت کی نشاندہی کرتا ہے اور اس کے لیے اصول بتلاتا ہے نیز اپنی طاقت اور قوّت کے ذریعے اس کے اجرا ء کا اہتمام بھی کرتا ہے۔ اسی لیے تو فرمایا گیا ہے: ان اللہ اصطفٰہ علیکم وزادہ بسطة فی العلم والجسم۔ "بسطة" جس کا معنی وسعت ہے ضمنی طور پر علم و قدرت کے سائے میں انسانی وجود کی وسعت کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی علم ودانش اور فرزانگی نیز جسمانی قد رت و طاقت وجود ہستی کے اعتبار سے انسان میں وسعت پیدا کرتی ہے اور جوں جوں یہ صفات وسیع ہوتی ہیں وجود ہستی میں بھی وسعت پیدا ہو تی رہتی ہے: واللہ یوٴتی ملکہ من یشاء۔" ممکن ہے یہ جملہ رہبری کی تیسری شرط کی طرف اشارہ ہو جو یہ ہے کہ رہبر کے لیے مختلف اسباب و ذرایع کی فراہمی بھی درکار ہے؛ کیونکہ ممکن ہے رہبر علم و دانش سے کاملاً مالامال ہو لیکن اس کا سابقہ ایسے حالات و اوقات سے ہو جو اس کے مقدس مقاصد کے لیے سازگار نہ ہو ں۔ یہ طے شدہ بات ہے کہ ایسی رہبری واضح کامیابی حاصل نہیں کر سکتی۔ قرآن کہتا ہے کہ حکومتِ الٰہی جسے خدا چاہتا ہے بخش دیتا ہے؛ یعنی اس ماحول کے لیے جو وسائل و ذرایع ضروری ہوں وہ اس کے لیے فراہم کر دیتا ہے۔ "وللہ واسع علیم۔" یعنی خدا ایک لا متناہی ہستی اس کا فضل اور بخشش بھی اس کے وجود کی طرح لا متناہی ہے لیکن وہ علیم ہے اور جانتا ہے کہ کو ن سا منصب کسے بخشا جانا چاہئے۔ "و قال لہم نبیہم انّ آیة ملکہ ان یاتیکم التابوت۔" یہ آیت نشاندہی کر تی ہے کہ بنی اسرائیل ابھی تک خدا طرف سے طالوت کی ماٴموریت پر مطمئن نہیں ہو ئے تھے حالانکہ ان کے پیغمبر اشموئیل تصریح کر چکے تھے کہ وہ اس کام کے لیے خدا کی طرف سے ماٴمور ہو ئے ہیں۔ انہوں نے اس کی نشانی اور دلیل کا تقاضا کیا جواب میں اشموئیل نے کہا: طالوت کے ماٴمور من اللہ ہونے کی نشانی یہ ہے کہ تابوت (صندوق عہد)تمہاری طرف آئے گا۔ یہ بات بنی اسرائیل کے لیے کافی ہونا چاہیےٴ تھی۔ بہرحال، اب دیکھتے ہیں تابوت کیا چیز تھی؟
تابوت کیا ہے
"تابوت" کا لغوی معنیٰ ہے وہ صندوق جسے لکڑی سے بنایا جائے۔ جنازے کے صندوق کو بھی اسی لیے تابوت کہتے ہیں لیکن تابو ت مردوں سے مخصوص نہیں بلکہ ہر قسم کے لکڑی کے صندوق کے لیے مستعمل ہے۔ بنی اسرائیل کا تابوت یا صندوقِ عہد کیا تھا، وہ کس کے ہاتھ سے بنا تھا اور اس میں کیا چیزیں موجود تھیں، اس سلسلے میں ہماری روایات و تفاسیر میں اس طرح عہد قدیم (تورات) میں بہت کچھ کہا گیا ہے۔ سب سے زیادہ واضح چیز جو احادیث اہل بیت اور بعض مفسّرین مثلاً ابن عباس سے منقول یہ ہے کہ یہ تابوت وہی صندوق تھا جس میں حضرت موسیٰ کی والدہ نے انہیں لپٹا کر دریا میں پھینکا تھا۔ فرعون کے کارندوں نے اسے دریا میں سے پکڑ لیا۔ حضرت موسی کو اس میں سے نکال لیا گیا اور صندوق جوں کا توں فرعون کے پاس محفوظ کر لیا گیا۔ بعد ازاں وہ بنی اسرائیل کے ہاتھ آیا تو وہ اس عجیب صندوق کو محترم شمار کرنے لگے اور اسے متبرّک سمجھنے لگے۔ حضرت موسیٰ نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں وہ الواح مقدسہ جن پر احکام خدا لکھے ہوئے تھے اس میں رکھ دیں۔ نیز اپنی زرہ اور دوسری یادگار چیزوں کو بھی اس میں اضافہ کر دیا۔ صندوق آپ نے اپنے وصی یوشع بن نون کے سپرد کر دیا۔ یوں صندوق کی اہمیت بنی اسرائیل کی نگاہ میں اور بڑھ گئی۔ لہٰذا وہ دشمنوں سے جنگ میں اسے اپنے ہمراہ لے جاتے اور اس کا ان پر نفسیاتی طور پر بہت اثر ہوتا۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جب تک وہ دل انگیز صندوق اُن مقدس چیزوں کے سمیت ان کے ساتھ رہا وہ سر بلند رہے اور آبرو مندانہ زندگی بسر کرتے رہے لیکن رفتہ رفتہ ان کی دینی بنیادیں کمزور پڑ گییں اور دشمن ان پر غلبہ حاصل کرتے رہے۔ وہ صندوق بھی ان سے چھن گیا۔ ان آیات کے مطابق حضرت اشموئیل نے اُن سے وعدہ کیا کہ عنقریب وہ صندوق عہد ان کے قول کی سچائی کا مظہر بن کر واپس آ جائے گا ۔ فیہ سکینة من ربکم و بقیّة مما ترک اٰل موسیٰ و اٰل ھٰرون اس جملہ سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں صندوق عہد وہ ایسے تبرّکات تھے جو حوادث کے موقع پر بنی اسرائیل کے لیے اطمینان بخش تھے اور معنوی اور نفسایتی اثرات کے حامل تھے۔ دوسری بات یہ ہے کہ بعد ازاں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے خاندان کی کچھ یادگاریں بھی اس میں رکھ دی گئی تھیں۔ توجہ رہے کہ "سکینہ" سکون کے مادہ سے ہے اور تسکین و آرام کے معنی میں مستعمل ہے۔ یہاں اس سے مراد جان و دل کا سکون اور اطمینان ہے۔ حضرت اشموئیل نے بنی اسرائیل کو یہ بات دل نشین کرائی کہ صندوق عہد دوبارہ انہیں مل جائےگا اور جو سکون اور اطمینان وہ کھو بیٹھے ہیں دوبارہ حاصل کر لیں گے۔ معنوی و تاریخی کے حامل اس صندوق کی اہمیت در اصل بنی اسرائیل کے لیے ایک پرچم اور شعار سے بڑھ کر تھی اسے دیکھ کر ان کی نظروں میں اپنی عظمت رفتہ کی یاد تازہ ہو جاتی تھی۔ حضرت اشموئیل نے خبر دی کہ وہ صندوق لوٹ ائٓےگا۔ فطری امر یہ کہ یہ بنی اسرائیل کے لیے بہت بڑی بشارت تھی۔
تحملہ الملائکہ۔۔۔۔۔۔فرشتوں نے اٹھا رکھا ہو گا
فرشتے صندوق عہد کیسے لائے؟ اس سلسلے میں مفسرین نے مختلف باتیں کی ہیں۔ ان میں سے زیادہ واضح تواریخ کے حوالے سے یہ ہے کہ جب صندوق عہد فلسطینیوں کے بت پرستوں کے ہاتھ لگا اور وہ اسے اپنے بت خانے میں لے گئے۔ اس کے بعد وہ بہت سی مصیبتوں اور ابتلاؤں کا شکار ہو گئے تو ان میں سے بعض کہنے لگے کہ یہ سب کچھ صندوق عہد کے آثار میں سے ہے۔ لہٰذا انہوں نے طے کر لیا کہ اسے اپنے شہر اور علاقہ سے باہر بھیج دیں گے۔ کوئی شخص اسے باہر لے جانے کو تیار نہ ہوا مجبوراً دو بیل جوتے گئے اور صندوق عہد کو باندھ کر بیابان میں چھوڑ دیا گیا، اتفاق سے یہ واقعہ اس وقت رونما ہوا جب طالوت کو بنی اسرائیل کا فرمانروا بنایا گیا۔ خدا کے فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ وہ ان بیلوں کو اشموئیل کے شہر کی طرف ہانک کر لے جائیں۔ بنی اسرائیل نے صندوق عہد کو دیکھا تو اسے طالوت کے خدا کی طرف سے مامور ہونے کی نشانی کے طور پر قبول کر لیا۔ اس لیے ظاہراً تو دو بیل اسے شہر میں لائے لیکن درحقیقت یہ کام خدا کے فرشتوں کی وجہ سے انجام پذیر ہوا۔ اسی وجہ سے صندوق اٹھا لانے کی نسبت فرشتوں کی طرف دی گئی ہے۔ اصولی طور پر فرشتہ اور ملک قرآن حکیم اور روایات میں ایک وسیع مفہوم کا حامل ہے۔ اس مفہوم میں روحانی عقل رکھنے والے موجودات کے علاوہ اس جہان کی مخفی قوتوں کا ایک سلسہ بھی شامل ہے۔ ان فی ذالک لاٰیة لکم ان کنتم مومنین: آیت کے آخر میں بنی اسرائیل کو یاددہانی کرائی گئی ہے کہ صندوق عہد کی تمہارے پاس واپسی تمہارے لیے ایک واضح نشانی ہے بشرطیکہ تم ایمان دار بنو۔ حقیقت میں یہ جملہ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس روشنی اور نشانی کہ باوجود تم میں ایسے افراد موجود ہیں جو حق کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کریں گے۔ اس واقعے کے آخر میں یہ حقیقت واضح ہو جائےگی۔ فَلَمَّا فَصَلَ طالُوتُ بِالْجُنُودِ قالَ إِنَّ اللَّہَ مُبْتَلیکُمْ بِنَہَرٍ فَمَنْ شَرِبَ مِنْہُ فَلَیْسَ مِنِّی وَ مَنْ لَمْ یَطْعَمْہُ فَإِنَّہُ مِنِّی إِلاَّ مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةً بِیَدِہِ فَشَرِبُوا مِنْہُ إِلاَّ قَلیلاً مِنْہُمْ "فصل" کا معنی ہے علیٰحدہ ہونا اور قطع ہونا، "جنود"، "جند" کی جمع ہے۔ جند دراصل ایسی زمین کو کہتے ہیں جو بڑے بڑے پتھروں سے بھری ہو۔ تاہم ہر ٹکرانے والی اور آنکھوں میں کھبنے والی چیز کے لیے بھی یہ لفظ مستعمل ہے۔ اسی لیے عموماً لشکر کی کثیر تعداد کو جند کہتے ہیں۔ یہ بات وضاحت کی محتاج نہیں کہ ہر گروہ کی کامیابی رہبر اور کمانڈر کے حکم کے مطابق فوج کے نظم و ضبط اور ایمان کی مرہون منّت ہے۔ اگر فوج اپنے کمانڈر کی قابلیت اور حکم پر ایمان رکھتے ہوں تو اپنی ذمہ داری کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں کرتے۔ طالوت جو بنی اسرائیل کو جہاد کے لیے لے جا رہے تھے ان کے لیے یہ جاننا ضروری تھا کہ ان کے اہل لشکر ان کے حکم کی کتنی اطاعت کرتے ہیں؛ خصوصاً جبکہ یہ وہ لشکر تھا جس نے تردد اور بددلی سے ان کی قیادت قبول کی تھی؛ اگر چہ وہ ظاہراً ان کی رہبری کو تسلیم کر چکے تھے لیکن اس بات کا مکان تھا کہ وہ فطرتاً ابھی شک و تردد کے عالم میں ہوں۔ لہٰذا فرمان الٰہی کے ذریعے انہیں حکم دیا گیا کہ انہیں آزمائیں اس پر طالوت نے خبر دی کہ بہت جلد ایک نہر ائٓے گی۔ ساتھ ہی ان سے کہہ دیا کہ وہ پیاس کا مقابلہ کریں اور تھوڑا سا پانی پیئیں تاکہ واضح ہو جائے کہ دشمن کی شمشیر آتش بار کے مقابلے میں جانے والا لشکر پیاس کو برداشت کرنے کی سکت رکھتا ہے یا نہیں؟ اس واقعے کی تفصیل مین یہ بات بیان کی جا چکی ہے کہ اکثریت اس آزمائش کی کٹھالی سے صحیح سالم نہ نکل سکی۔ اس طرح طالوت کا لشکر تطہیر کے دوسرے عمل سے گزرا۔ پہلی تطہیر وہ تھی جب انہوں نے عام لوگوں کی تیاری کے وقت کہا تھا کہ جو لوگ دل جمعی سے ساتھ نہ دے سکیں اور تکمیل مقصد تک قائم نہ رہ سکیں وہ میرے ساتھ نہ آئیں: فلما جاوزہ ھو والذین آمنو معہ قالو لا طاقة لنا الیوم بجالوت وجنودہ۔۔۔ یہ جملہ نشاندہی کرتا ہے کہ وہ تھوڑے سے لوگ جو پیاس کی آزمائش پر پورے اترے وہی طالوت کے ساتھ گئے لیکن جب اس چھوٹے سے گروہ نے غور کیا کہ جلد ہی ان کا دشمن کے عظیم اور طاقتور لشکر سے سامنا ہوگا تو اپنی تعداد کی کمی پر وہ بہت پریشان ہوئے۔ یہ وہ وقت تھا جب آزمائش کا تیسرا مرحلہ شروع ہوا: ”قال الذین یظنون انّہم ملاقوا اللہ کم من فئة قلیلة غلبت فئة کثیرة“ ”فئة“ کا مادّہ ہے ”فئی“، اس کا معنی ہے بازگشت۔ گروہ اور تشکیل شدہ جماعت کو بھی فئة کہتے ہیں کیو نکہ وہ ایک دوسرے کی طرف پلٹ آتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ آیت کہتی ہے کہ اس وقت قیامت پر راسخ ایمان رکھنے والے باقی ساتھیوں کو بیدار اور تنبیہ کرنے لگے کہ کسی جمعیت مقدار اور تعداد پر نگاہ نہیں کرنی چاہئے؛ بلکہ کیفیت اور جذبہ کو دیکھنا چاہئے۔ کیونکہ بہت دفعہ ایسا ہوا ہے کہ ایک کم تعداد مگر با ایمان اور عزم صمیم رکھنے والی جمعیت نے حکم خدا سے اپنے سے کہیں بڑی تعداد پر غلبہ پا لیا۔ توجہ رہے کہ ”یظنون “اس مقام پر ”یعلمون“کے معنی میں ہے؛ یعنی جو قیامت پر یقین رکھتے ہیں نہ کہ قیامت کا گمان رکھتے ہیں۔ کیونکہ ظن بہت سے مقامات پر یقین کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور اگر اسے گمان کے معنیٰ میں بھی لیا جائے تب بھی غیر مناسب نہیں ہے کیونکہ پھر آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ قیامت کا گمان (چہ جائیکہ علم و یقین) بھی کافی ہے کہ وہ انسان کو مقاصد الٰہی کے سامنے راسخ العزم بنا دے۔ کیونکہ زندگی میں کامیابی کا گمان رکھنے والے تمام لوگ مثلاً زراعت، تجارت، صنعت اور سیاست سے وابستہ لوگ صرف گمان کی بنیاد پر اپنا کام پختہ ارادہ سے انجام دیتے ہیں۔ قیامت کے دن لقائے پروردگار کا دن کیوں کہا گیا ہے اس سلسلے میں تفسیر نمونہ کی جلد اول اردو ترجمہ کے صفحہ ۱۷۹پر گفتگو کی جا چکی ہے۔ "باذن اللہ" یعنی حکم خدا سے۔ عزم صمیم رکھنے والے ایمان دار لوگوں کی بہت سے بےایمان گروہوں اور جماعتوں پر کامیابی ایک مسلمہ امر ہے جو روحانی اور نفسیاتی عوامل سے مربوط ہے۔ پھر بھی قرآن اسے فرمان الٰہی سے منسلک قرار دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس عالم میں کسی بھی طرح کے آثار و نتائج ہوں سب آفرینش پروردگار کی برکت سے اس کی طرف سے اور اس کے حسب فرمان ہیں۔ ایسی ہی تعبیر قرآن میں بہت سے مواقع پر نظر آتی ہے۔ ”واللہ مع الصابرین“ یہ جملہ عزم صمیم رکھنے والے اہل ایمان کی طرف سے دوسروں کو صبر واستقامت کی دعوت کا حرف آخر ہے۔ یہ اہل ایمان انہیں دعوت دیتے تھے کہ خدا اہل صبر و استقامت کے ساتھ ہے۔ ”و لما برزوا لجالوت و جنودہ“ ”برزو “کا معنی ہے ظہور؛ یہی وجہ ہے کہ اگرکوئی آمادہٴ جنگ ہو اور میدان جنگ میں نکل آئے تو اس کے عمل کو”براز“کہتے ہیں اور جب کوئی دوسرے کو جنگ کی دعوت دے تو کہتے ہیں کہ وہ مبارزہ طلبی کر رہا ہے۔ یہ آیت کہتی کہ جب طالوت اور ان کا لشکر ایسی جگہ پر پہنچ گئے جہاں جالوتے کا طاقتور لشکر نمایاں طور پر نظر آ رہا تھا تو وہ اس عظیم قوّت کے سامنے صف بستہ ہو گئے۔ انہوں نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اپنے تئیں پروردگا کی لا متناہی قدرت کے سپرد کر دیا اور اس سے استقامت اور صبر کا تقاضا کیا۔ ”ربّنا افرغ علینا صبراً“ ”افراغ“کا مطلب ہے کسی سیال مادے کو برتن سے ایسے گرانا کہ برتن خالی ہو جائے۔ حضرت طالوت کے ہمراہی دعا کے وقت کہتے ہیں کہ خدا وندا ہم پر صبر استقامت انڈیل دے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خدا سے صبر، استقامت اور پامردی کا آخری درجہ طلب کر رہے ہیں؛ جیسے کسی برتن کا سارا پانی کسی پر ڈال دیا جائے اور برتن خالی ہو جائے: ”و ثبّت اقدامنا“ یعنی ہمیں ثابت قدم رکھ تاکہ ہمارے قدم اکھڑ نہ جائیں اور میدان سے بھاگ کھڑے نہ ہوں۔ حقیقت میں پہلی دعا باطنی پہلو کی حامل ہے اور یہ دعا ظاہری پہلو رکھتی ہے اور یہ مسلّم ہے کہ ثابت قدمی صبر و استقامت کی روح کا نتیجہ ہے۔ ”وانصرناعلیٰ القوم الکافرین“ دراصل، یہ جملہ استقامت اور ثبات قدمی کا نتیجہ ہے جو گذشتہ دو جملوںمیں بیان ہو چکی ہے یعنی خدا وندا استقامت اور ثبات قدمی کے زیر سایہ ہمیں کفار پر فتح عطا فرما : ”فھزموہم باذن اللہ و قتل داوٴد جالوت“ اس آیت میں طالوت کی رہبری اور کمان میں بنی اسرائیل کی جالوت جیسے ظالم اور اسکے طاقتور لشکر سے جنگ کے آخری مرحلے کو بیان کیا گیا ہے۔ جالوت کا لشکر آخرکار شکست کھا کر بھاگ کھڑا ہوا۔ خود جالوت بھی حضرت طالوت کے لشکر کے ایک شخص داوٴد کے ہاتھوں قتل ہو گیا۔ داوٴد کے ہاتھوں جالوت کے قتل کی تفصیلات گذشتہ اوراق میں بیان کی جا چکی ہے۔ زیر نظر آیت میں یہ صراحت موجود نہیں ہے کہ یہ داوٴد وہی پیغمبر ہیں جو حضرت سلیمان کے والدِ گرامی ہیں یا کوئی اور شخص ہے۔ لیکن اس آیت سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مقام نبوّت کے حامل ہوئے۔ آیت کا اگلا حصہ یہ ہے: ”واٰتٰہ اللہ الملک والحکمة و علّمہ مما یشاء“ یعنی خدا نے اسے حکومت اور علم عطا کیا اور جو کچھ وہ چاہتا تھا اسے سکھایا۔ ایسی تعبیر عام طور سے انبیاء کے متعلق ہی ہوتی ہے۔ سورہٴ ص آیہ ۲۰ میں حضرت داوٴد پیغمبر کے بارے میں ہے: ”و شددنا ملکہ و اٰتیناہ الحکمة“ اور ہم نے اس کی حکومت کو مظبوط کردیا اور علم و دانش عطا کیا۔ اس آیت کے ذیل میں جو احادیث منقول ہیں ان سے بھی واضح ہوتا ہے کہ یہ وہی مشہور پیغمبر حضرت داوٴد تھے۔ ضمناً”علمہ مما یشاء“ (جو علوم خدا چاہتا تھا اسے سکھائے)سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء و مرسلین کے علوم اور حکمتیں اس محدود مقدار کی حامل ہوتی ہیں جس کا خدا ارادہ کرتا ہے؛ اگرچہ ان کے علم و دانش کا دائرہ بہت ہی وسیع ہوتا ہے پھر بھی وہ اس مقدار میں ہوتا جو خدا چاہتا ہے۔
تنازع بقاء کا مفروضہ
”و لولا دفع اللہ الّناس بعضھم ببعض لفسدت الارض“ اس طرف توجہ رکھتے ہوئے کہ یہ آیت بنی اسرائیل کے مومنین کی ایک جماعت کے ہاتھوں ظالم جالوت اور اس کی فوج کی شکست کے بعد آئی ہے، تفسیر خود باخود واضح ہو جاتی ہے۔ کیونکہ اگر خدا وند عالم بعض اوقات صاحب ایمان و استقامت لوگوں کے ذریعے ستمگروں اور ظالموں کی سرکوبی نہ کرے تو ممکن ہے وہ تمام روئے زمین قدرت حاصل کر لیں۔ پروردگار عالم کی سنت تو یہ ہے کہ دنیا میں ارادہ و اختیار کی آزادی ہو اور لوگ خیر و شر کا راستہ اختیار کرنے میں آزاد ہوں، لیکن جب ستمگروں کی سرکشی عمومی تباہی کا باعث بن رہی ہو تو خدا اپنے بندوں میں سے کسی ایک گروہ کی مدد کرتا ہے جو راہ سرکشی کو روک دیتے ہیں اور یہ پروردگارعالم کا اپنے بندوں پر ایک لطف و کرم ہے۔ اس جملے کی نظیر سورہٴ حج آیت ۴۰ میں موجود ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ” و لولا دفع اللہ الّناس بعضھم ببعض لھدمت صوامع و بیع و صلوات ومساجد“ اگر خدا اپنے بعض بندوں کے ذریعے اپنے بعض دوسروں کو دفع نہ کرے تو گرجے،کلیسے، یہودیوں کے عبادت خانے اور مسلمانوں کی مسجدیں ویران ہو جائیں۔ جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ بعض لوگوں کے گمان کے بر خلاف آیت تنازعِ بقا سے کوئی ربط نہیں رکھتی۔ ان کا خیال ہے کہ محل بحث آیت کہتی ہے کہ انسانوں میں ہمیشہ جنگ و جدال رہنا چاہئے اور اگر ایسا نہ ہوا تو جمود، سستی اور فساد پوری زمین کو اپنی گرفت میں لے لے گا اور نسل انسانی تنزل کا شکار ہو جائے گی۔ لیکن نزاع اور دائمی جنگ و جدل کے باعث زیادہ طاقتور باقی رہ جاتے ہیں اور کمزور پامال ہو کر ختم ہو جاتے ہیں اور یوں زیادہ صلاحیت رکھنے والا منتخب ہو جاتا ہے جسے انتخاب اصلح کہتے ہیں۔ لیکن یہ تفسیر اس صورت میں ہی ممکن ہے ہم آیت کو اس کے ماقبل سے بلکل منقطع کر دیں اور اس کی مشابہ سورہٴ حج کی آیت سے بھی صرف نظر کر لیں۔ لیکن اگر ان پر توجہ رکھیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ یہ ظالم اور سرکش لوگوں سے جنگ کے بارے میں ہے اور ان میں اصولی طور پر جنگ کو مقدس و محترم قرار نہیں دیا گیا۔ علاوہ ازیں، تنازع بقاء کے نام سے جو کچھ کہا جاتا ہے اور جو ڈارون کے چیزوں کے تکامل و ارتقاء کے چار یادگار اصولوں میں شمار ہوتا ہے وہ کوئی مسلمہ علمی قانون نہیں ہے بلکہ ایک باطل شدہ مفروضہ ہے۔ یہاں تک کہ تکامل انواع کہ حامی بھی دنیا میں تکامل بقاء کے قانون کا ہرگز سہارا نہیں لیتے اور جانوروں کے تکامل کو طبیعت اور خلقت کے قانون سے مربوط سمجھتے ہیں (مزید وضاحت کے لئے آخرین فریضہ ہائے تکامل “کا مطالعہ فرمائیں ) ان تمام چیزوں سے قطع نظر اگر تنازع بقاء کے مفروضے کی کوئی علمی بنیاد تسلیم کر لی جائے تب بھی اس سے صرف جانوروں کی زندگی سلسلے میں استفادہ کیا جاسکتا ہے لیکن اسے انسانی زندگی کی بنیاد ہر گز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ کیونکہ انسانی تکامل و ارتقاء تعاون بقاء کے ذریعے ہے نہ کہ تنازع بقاء کے زیر سایہ اس طرح واضح ہوتا ہے کہ تنازع بقاء کے مفروضے میں نوع انسانی کو بھی شامل کرنا ایک طرح کی استعماری اور سامراجی طرز فکر ہے۔ سرمایہ داری کہ بعض حامی اپنی خونی جنگوں اور نفرت انگیز حکومتوں کی توجیح اس طرز فکر سے کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ جنگ و جدل کو ایک فطری تقاضے اور انسانی معاشروں کی ترقی کے زینے کے طور پر متعارف کرائیں اور اپنے جرائم کو ایک علمی لبادہ اوڑھا دیں۔ لہٰذا جن لوگوں نے ان کے انسان دشمن افکار کے زیر اثر زیر بحث آیت کو ان کی فکر پر منطبق کیا وہ یقینی طور پر قرآنی تعلیمات سے بہت دور چلے گئے۔ کیو نکہ قرآن صراحت سے کہتا ہے: ”یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِی السِّلْمِ کَافَّةً“(بقرہ آیت۸۰۲) اے ایمان والو! سب کے سب صلح سلامتی میں داخل ہو جاوٴ۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: ”ولٰکن اللہ ذو فضل علیٰ العالمین“ خدا عالمین پر لطف و رحمت کی نظر رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ روئے زمین فساد و بربادی کے پھیلنے اور لوگوں کو اس کی لپیٹ میں آنے سے روکتا ہے۔ ”تلک اٰیات اللہ نتلوھا علیک بالحق و انّک لمن المرسلین“ ہر آیت میں بنی اسرائیل کے بارے بیان کئے گئے متعدد واقعات کی طرف اشارہ موجود ہے۔ ان میں سے ہر واقعہ پروردگار کی قدرت و عظمت کی نشانی ہے اور یہ واقعات خرافات اور ہر افسانوی رنگ سے پاک ہو کر پیغمبر اسلام پر نازل ہوئے اور یہ بذات خود پیغمبر اکرم کی سچّائی اور نبوت پر ایک علامت ہے: و انک لمن المرسلین
پیغمبران خدا کی عظمت اور ان کا بلند مقام
Tafsīr Nemūna · Vol. 1”تلک“ اشارہٴ بعید کے لئے ہے لیکن جیسا کہ ہم جانتے ہیں کبھی کسی شخص یا چیز کے احترام کے لئے اس کی حیثیت اور مقام کو مدّنظر رکھتے ہوئے اشارہٴ بعید استعمال کیا جاتا ہے۔ یہاں بھی ”رُسل“سے پہلے ”تلک“ پیغمبران خدا کی عظمت اور بلند مقام کی طرف اشارہ ہے۔ ”رسل“ سے مراد یہاں تمام مرسلین اور اور پیغمبر ہیں یا پھر وہ رسول مراد ہیں جن کا ذکر اسی سورہ کی گذشتہ آیات میں آچکا ہے یا جن کے واقعات کی طرف اشارہ ہو چکا ہے۔ مثلاً ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ، داود اور اشموئیل۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد وہ تمام رسول جن کے نام قرآن میں اس آیت کے نزول سے پہلے آچکے تھے۔ اس سلسلے سے مفسرین کے درمیان اختلاف ہے لیکن زیادہ تر یہی معلوم ہوتا کہ اس سے تمام پیغمبر مراد ہیں۔ کیونکہ اصطلاحی طور پر لفظ ”الرّسل“ جمع محلی باللام ہے جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے۔ لہٰذا سب رسولوں کے لئے ہے۔ ”فَضَّلْنا بَعْضَہُمْ عَلی بَعْضٍ“ یہ جملہ وضاحت کرتا ہے کہ اگرچہ نبوت اور رسالت کے لحاظ سے تمام پیغمبر ایک دوسرے کی مثل و نظیر ہیں لیکن مقام و منزلت میں یکساں نہیں ہیں کیو نکہ ان کی ذمہ داریاں مختلف تھیں۔ فداکار تو وہ سب تھے لیکن ان کی فداکاری درجات مختلف ہیں اسی لئے فرمایا گیا ہے کہ ان میں سے بعض کو ہم نے بعض پر فضیلت دی۔ ”منہم من کلّم اللہ“ اس جملے میں پیغمبروں کے بعض فضائیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ خدا نے ان سے بعض کے ساتھ گفتگو کی ہے۔ واضح ہے کہ اس سے مراد حضرت موسیٰ ہیں چونکہ وہی ایسی شخصیت ہی جو کلیم اللہ کے نام سے مشہور ہیں۔ سورہٴ نساء آیت ۱۶۴میں ان کے بارے میں ہے: ”وکلّم اللہ موسیٰ تکلیماً“ یہ خذ کرنا بہت بعید ہے کہ اس سے مراد پیغمبر اسلام ہیں اور (سورہٴ شوریٰ آیت ۵۱کے قرینے سے) اس تکلم سے مراد وحی ہی ہے۔ ”و رفع بعضہم درجٰت“ اس جملے میں بعض پیغمبروں کی درجے اور مرتبے کے اعتبار سے فضیلت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ آیت کی ابتدا میں پیغمبروں کے درجات کے فرق کو بیان کیا گیا ہے۔ اس بات کو سامنے رکھتے ہو ئے کہا جا سکتا ہے کہ زیر نظر جملے سے مراد ایک یا کئی مخصوص افراد ہیں جن کا کامل نمونہ پیغمبر اسلام ہیں کیونکہ آپ کی ذات بابرکات ایسی ہے جس کا لایا ہوا دین وآئین آخری اور کامل ترین تھا جس کی رسالت کامل ترین دینی تبلیغ کے لئے ہے اُسے خود سب سے برتر ہونا چاہئے اورخصوصاً یہ کہ قرآن ان کے بارے میں کہتا ہے: ”و جئنا بک علیٰ ھٰؤلاء شھیداً“ قیامت کے دن ہر پیغمبر اپنی امت پر گواہ ہے اور تم تمام پیغمبروں پر گواہ ہو۔ (نساء۴۱) یہ آیت بھی مذکورہ موقف کی درستی پر دلالت کرتی ہے گذشتہ جملے میں چونکہ حضرت موسیٰ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور بعد کا جملہ حضرت عیسیٰ کے مقام و منزلت کی صراحت کرتا ہے، لہٰذا بحث کی مناسبت سے یہ بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ جملہ بھی پیغمبر اسلام کی عظمت کی طرف اشارہ کرتا ہے کیونکہ یہ تینوں پیغمبر عالمی مذاہب کے پیشوا ہیں اور اگر پیغمبر اسلام کا ذکر ان دونوں کے درمیان آیا ہے تو یہ کوئی تعجّب کی بات نہیں ہے کیونکہ آپ ہی کا دین دیگر ادیان کے لئے حد وسط ہے اور اس میں ہر چیز اعتدال کے ساتھ موجود ہے۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے: و کذٰلک جعلناکم امّة وسطاً“ (بقرہ۱۴۳) اور اس طرح ہم نے تمہیں امت وسط قرار دیا۔ ان تمام چیزوں کے باوجود آیت کے آئندہ جملے نشاندہی کرتے ہیں کہ ”و رفع بعضہم درجٰت“ سے مراد بعض گذشتہ پیغمبر مثلاً حضرت ابراہیم، حضرت نوح اور بعض دیگر ہیں کیونکہ بعد میں فرمایا گیا ہے: "و لو شاء اللہ ما اقتتل الذین من بعدھم" یعنی: اگر خدا چاہتا تو ان پیغمبروں کی امّتیں ان کے بعد میں آپس میں جنگ و جدال نہ کرتیں۔ اس جملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ جملے سابق پیغمبروں کے بارے میں ہیں: ”و اٰتیناہ عیسیٰ ابن مریم البینات و ایّدناہ بروح القدس“ فرمایا گیا ہے کہ ہم نے عیسیٰ کو واضح نشانیاں دیں مثلاً ناقابلِ علاج بیماروں کو شفا دینا، مردوں کو زندہ کرنا، اعلیٰ مذہبی معارف اور روح القدس کے ذریعے انہیں تائید و تقویت بخشی۔ اس بارے میں سورہٴ بقرہ کی آیت ۸۷ میں بحث ہو چکی ہے کہ روح القدس سے مراد وحی الٰہی پہنچانے والے جبرئیل ہیں یا کوئی مخفی معنوی قوّت جو تمام موئمنین میں مختلف درجہ پر موجود ہے۔ ’’و لو شاء اللہ ما اقتتل الذین من بعدھم من بعد ما جائتہم البیّنات“ یہ جملہ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ پیغمبروں کی عظمت ان پیرو کارو ں کے درمیان اختلاف میں رکاوٹ کا سبب نہیں بنی کیونکہ خدا نے انسان کو آزاد پیدا کیا ہے تکامل و ارتقاء کے لئے ضروری ہے کہ انسان حق و فضیلت کے راستے کو اپنے ارادے سے طے کرے۔ اگر خدا چاہتا تو اس میں کوئی رکاوٹ نہ تھی کہ انسان کو حیوانات کی طرح خاص غرائز و طبائع کے ساتھ پیدا کرتا اور ان کے زیر اثر وہ انبیاء کی پیروی کرتا اور صلح صفائی سے رہتا لیکن یہ مسلم ہے کہ ان پیغمبروں کی پیروی کرنا یا صلح و آشتی سے رہنا اور جنگ و جدال سے بچنا فضیلت و فخر کا باعث نہ ہوتا کیو نکہ اس میں جبر و اکراہ کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ”ولٰکن اختلفوا فمنھم من اٰمن و منھم من کفر“ اس اختلاف کا سرچشمہ خود لوگ ہی تھے ورنہ انبیاء و مرسلین میں تو کوئی اختلاف نہ تھا۔ ان سب کا تو ایک ہی ہدف اور مقصد تھا ہوا یہ کہ بعض افراد ان کی تعلیمات پر ایمان لے آئے اور بعض افراد نے مخالفت کی اور یہ امر اختلافات کا باعث بنا۔ ”ولو شاء اللہ ما اقتتلوا ولٰکن اللہ یفعل ما یرید“ دوبارہ تاکید کی گئی ہے کہ یہ کام خدا کے کے لئے آسان تھا کہ جبری طور پر اختلافات کو ختم کر دیتا لیکن خدا اپنے ارادے کے مطابق امور انجام دیتا ہے اور خدا کا ارداہ حکمت اور تکامل انسانی سے ہم آہنگ ہے اس نے انسان کو آزاد اور مختار قرار دیا ہے اگر چہ بعض لوگ اس آزادی سے غلط فائدہ اٹھاتے ہیں۔
کیا مختلف مذاہب اختلاف کا سبب ہیں؟
بعض مغربی مصنفین ادیان و مذاہب پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ انسانوں میں تفرقہ اور نفاق کا باعث ہیں اور مذاہب کی راہ میں بہت زیادہ انسانی خون بہایا گیا ہے۔ تاریخ میں بہت سی مذہبی جنگوں کے تذکرے موجود ہیں۔ اس اعتراض کے ذریعے وہ مذہب کی مذمت کرنا چاہتے ہیں اور اسے جنگ و جدال کا موجب قرار دیتے ہیں اس کے مقابلے میں یہ امور قابل توجہ ہیں: اولاً۔ جیسا کہ مندرجہ بالا آیت نشاندہی کرتی ہے کہ حقیقت میں سچّے پیروکاروں اور حقیقی مذاہب کے درمیان کوئی اختلاف نہ تھا بلکہ اختلاف تو پیروان مذہب اور مخالفین مذہب کے درمیان تھا اور یہ جو مختلف مذاہب کے پیرو کاروں میں جنگ و جدال دکھائی دیتا ہے وہ ان کی مذہبی تعلیمات کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ مذاہب میں تحریف، ناروا تعصبات اور آسمانی مذاہب میں خرافات کی آمیزش ہے۔ ثانیاً۔ آج جبکہ بیشتر انسانی معاشروں میں سے مذہب (یا کم از کم اس کی تاثیر) ختم ہو چکی ہے تو پھر جنگوں میں وحشت ناک ترین صورت میں وسعت کیوں آگئی ہے؟ آج یہ وحشتناک جنگیں دنیا کے وسیع علاقوں میں جاری و ساری ہیں۔ کیا اس کا الزام بھی مذہب کو دیا جائے گا؟ پھر یہ تسلیم کر لیا جائے گا کہ انسانوں کا ایک گروہ کا سرکش نفس ان جنگوں کا حقیقی سرچشمہ ہے۔ ہاں البتہ یہ لوگ کبھی مذہب کا بھیس بدل لیتے ہیں کبھی سیاسی و اقتصادی مکاتب کا لباس پہن لیتے ہیں اور کبھی کسی اور سانچے میں ڈھل کر سامنے آجاتے ہیں۔ اس لئے قصور مذہب کا نہیں ہے۔ یہ سرکش لوگ ہیں جو اصل مجرم ہیں جو حیلے بہانوں سے جنگون کی آگ بھڑکاتے رہتے ہیں۔ ثالثاً۔ آسمانی مذاہب بالخصوص اسلام نسل پرستی اور قوم پرستی کے مخالف ہیں۔ اس لیے انہوں نے بہت سی نسلی، جغرافیائی اور قبائلی سرحدوں کو ختم کر دیا ہے اور جن جنگوں کا سرچشمہ یہ امور تھے وہ فطرتاً ختم ہو گئی ہیں۔ یوں جنگوں کا ایک حصہ انسانی زندگی کے مذہب کے زیر اثر آنے کے باعث تاریخ سے حذف ہو گیا ہے۔ علاوہ ازیں، صلح وسلامتی، اچھے اخلاق و اوصاف تمام آسمانی مذا ہب کی توجہ کا مرکز ہیں اور مختلف قوموں میں دشمنیوں اور نفرتوں کو کم کرنے میں مذاہب کی اس تعلیم نے گہرا اثر مرتب کیا ہے رابعاً۔ مذاہب آسمانی کا ایک پیغام محروم اور ستم رسیدہ طبقات کی آزادی تھا۔ اسی لیے انبیاء اور ان کے پیروکاروں نے جو جنگیں ستمگروں، ظالموں، نمرودوں، اور فرعونوں سے لڑیں وہ دراصل، انسانوں کی آزادی کے لئے جہاد کا مرتبہ رکھتی ہیں اور یہ مذاہب کے لئے کسی عیب یا نقص کا موجب نہیں، بلکہ ان کی قوّت و طاقت کا نقطہ ہیں۔ ایک طرف مشرکین عرب اور مکہ کے سود خواروں اور دوسری طرف کسریٰ و قیصر سے پیغمبر اکرم کی جنگ بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی۔
مسلمانوں کی ذمہ داریاں
Tafsīr Nemūna · Vol. 1گذشتہ آیت میں پہلی امّتوں کی سر نوشت، جہاد اور حکومت کا ذکر تھا۔ اب اس آیت میں مسلمانوں کی ذمہ داریوں کا بیان ہے۔ نیز حکومت اور معاشرہ کے لئے دفاعی بنیادوں کی تقویت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے : اے صاحب ایمان لوگوں! ہم نے جو روزی تمہیں دی ہے اس میں سے خرچ کرو۔ بعید نہیں اس آیت میں انفاق سے مراد انفاق واجب یعنی زکوٰة ہو؛ کیوں کے اس کے بعد اس سے منہ موڑنے والو ں کو روز قیامت سزا کی دھمکی دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں، انفاق واجب ہی در اصل بیت المال اور حکومت کی بنیادوں کو تقویت پہنچاتا ہے۔ ضمنی طور پر ”مما“سے معلوم ہوتا ہے کہ انفاق واجب ہمیشہ مال کے ایک حصہ پر مشتمل ہوتا ہے نہ کے سارے مال پر۔ ”مِنْ قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لاَّ بَيْعٌ فِيهِ وَلاَ خُلَّةٌ وَلاَ شَفَاعَةٌ“ آج جب کہ تم میں توانائی ہے انفاق کر لو اور خرچ کر لو چونکہ دوسرا جہان تو یہاں بوئے گئے کے کانٹے کی جگہ ہے۔ وہاں معاملہ تمہارے ہاتھ سے نکل چکا ہوگا وہاں خرید و فروخت کا معاملہ انجام نہ دے سکو گے کہ جس کے ذریعے اپنے لئے سعادت و نجات خرید سکو اور نہ اس جہان میں سرمایہ کے ذریعے مادی دوستیاں حاصل کی جا سکتی ہیں کہ جو وہاں فائدہ بخش ہو سکیں اور شفاعت بھی تمہارے لئے سودمند نہ ہوگی کیونکہ تم واجب ادائیگیوں سے بھی عہدہ برا نہیں ہوتے اس لئے تم پر نجات کے سارے دروازہ بند ہو جائیں گے۔ ”وَ الْکافِرُونَ ھُمُ الظَّالِمُونَ“ اس جملے میں قرآن یہ حقا ئق واضح کرنا چاہتا ہے: ۱۔کافر اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں کیونکہ انفاق اور واجب مخارج نیز دیگر دینی اور انسانی فرائض ترک کر کے خود کو عظیم ترین سعادتوں سے محروم کر دیتے ہیں۔ ان کے یہی اعمال اس جہان میں ان کے دامن گیر ہوں گے اور یہ خدا کی طرف سے کوئی ظلم نہ ہوگا۔ ۲۔ کافر اپنے معاشرہ پر بھی ظلم کرتے ہیں۔ اصولی طور پر کفر ہی قساوت، سنگ دلی، مادہ پرستی اور دنیاداری کا منبع ہے۔ یہی چیزیں ظلم و ستم کے سرچشمے ہیں۔ یہاں اس نکتہ کی یاد آوری بھی ضروری ہے کہ کفر کا لفظ اس آیت میں حکم انفاق کے بعد آیا ہے لہٰذا یہاں یہ لفظ روگردانی، گناہ اور حکم خدا کی خلاف ورزی کے معنی ہے اور اس معنی میں یہ لفظ قرآن و حدیث میں بہت جگہ پر آیا ہے۔
خدا کے زندہ ہونے کا مفہوم
Tafsīr Nemūna · Vol. 1”اللَّہُ لا إِلہَ إِلاَّ ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوم۔۔۔۔۔“ یعنی وہ ذات جو یگانہ اور تنہا ہے اور تمام صفاتِ کمال کی جامع ہے، وہی عالم ہستی کو پیدا کرنے والی ہے۔ لہٰذا عالم وجود میں کوئی اس کے علاوہ پرستش کے لائق نہیں ہے۔ لا الہ الا اللہ۔ اس ارشاد میں قرآن خلاّقِ عالم کی وحدت و یگانگی کو جو اسلام کی بنیاد ہے بیان کرتا ہے؛ لیکن جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے لفظ ”اللہ“ میں بھی یہ حقیقت پوشیدہ ہے۔ اس بناء پر کہا جا سکتا ہے کہ لا الہ الا اللہ اس حقیقت کی تاکید ہے۔ ”حیّ“کا معنی ہے زندہ اور یہ لفظ ہر صفت مشبہ کی طرح دوام و ہمیشگی پر دلالت کرتا ہے۔ خدا کی حیات حقیقی ہے؛ کیونکہ اس کی حیات عین ذات ہے نہ کہ عارضی یا کسی دوسرے سے لی ہوئی۔ سورہٴ فرقان آیہ ۵۸میں ہے: ”و توکّل علیٰ الحیّ الذی لا یموت“ یعنی اس زندہ ذات پر بھروسہ کرو جسے کبھی موت نہ آئے گی۔ ایک یہ پہلو ہے اور دوسرا یہ ہے کہ حیاتِ کامل وہ زندگی ہے جس میں موت کا تصور نہ ہو۔ اس لئے حقیقی حیات اسی کی ہے جو ازل تا ابد قائم و دائم ہے۔ رہی انسان کی زندگی خصوصاً اس جہان میں جہاں موت بھی ہے، یہ حقیقی حیات نہیں ہو سکتی۔ اسی لئے سورہٴ عنکبوت کی آیت ۶۴ میں ہماری نظر سے یہ عبارت گزرتی ہے: ”وما ھٰذہ الحیاة الدّنیا الاّ لھو و لعب و انّ الدار الآخرہ لھی الحیوان“ اس جہان کی زندگی لھو و لعب کے سوا کچھ نہیں ہے (ایک لحاظ سے) حقیقی زندگی تو دار آخرت کی زندگی ہے۔ ان دو وجوہ کی بناء پر حقیقی زندگی خدا ہی کے لئے مخصوص ہے۔ خدا کے زندہ ہونے کا مفہوم عام طور پر موجود زندہ اس چیز کو کہتے ہیں جو نمو، تغذیہ، تولید مثل، جذب و دفع اور کبھی کبھی حس و حرکت رکھتی ہو لیکن اس نکتہ کی طرف توجہ رہے کہ ممکن ہے کوتاہ نظر افراد خدا کے بارے میں بھی ایسی ہی حیات سمجھتے ہوں۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ میں ایسی کوئی صفت موجود نہیں۔ یہی قیاس انسان کو خدا شناسی کے بارے میں اشتباہ میں مبتلاء کر دیتا ہے۔ کیونکہ وہ خدا کی صفات کو اپنی صفات پر قیاس کرنے لگتا ہے۔ حیات اپنے وسیع اور واقعی معنی کے لحاظ سے علم و قدرت سے عبارت ہے۔ لہٰذا جو وجود لا متناہی علم وقدرت کا حامل ہے وہ حیات کامل رکھتا ہے۔ خدا کی حیات اس کے علم وقدرت کا مجموعہ ہے اور درحقیقت علم و قدرت ہی کے ذریعے موجود زندہ اور غیر زندہ میں امتیاز کیا جا سکتا ہے۔ رہا نمو، حرکت، تغذیہ، تولید مثل اور تو یہ ناقص اور محدود موجودات کے آثار ہیں اور یہ آثار نقائص پر دلالت کرتے ہیں؛ کیونکہ غذا، تولید مثل اور حرکت دراصل، کسی نہ کسی کمی کو پورا کرنے کے لیے ہوتی ہے لیکن وہ ذات جس میں کوئی قص اور کمی نہیں اس میں یہ امور نہیں پائے جاتے۔
کیا خالق کا بھی کوئی خالق ہے؟
مادہ پرستوں کا مشہور اعتراض ہے کہ سب چیزوں کو تو خدا نے پیدا کیا ہے، پھر خدا کو کس نے پیدا کیا ہے؟ مندرجہ بالا بحث سے یہ مسئلہ خود بخود حل ہو جاتا ہے؛ کیونکہ اس بے بنیاد اعتراض کی بنیاد یہ بے بنیاد مفروضہ ہے کہ ہر موجود ایک پیدا کرنے والے کا محتاج ہے۔ حالانکہ مسلماً یہ کوئی کلیہ قاعدہ نہیں ہے؛ کیونکہ وہ موجودات جو پیدا کرنے والے کے محتاج ہیں وہ ایسے ہیں کہ جن کے وجود کا سرچشمہ ان کی ذات سے خارج ہو اصطلاح میں کہا جاتا ہے کہ جن کی حیات اور وجود ان کی ذات کا جزء نہیں یعنی جو ممکن الوجود ہیں۔ لیکن وہ وجود جس کی ہستی اس کی ذات سے ہے یا بہتر الفاظ میں جس کی ہستی اس کا عین وجود ہے ایسی ذات کو پیدا کرنے والے کی کوئی احتیاج نہیں۔ اسے کوئی حیات دینے والا نہیں، وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا، اس کی ذات کے لئے موت کا کوئی تصور ہی نہیں کہ کہا جا سکتا کہ وہ پیدا کرنے والے کی محتاج ہے۔ گویا وہ واجب الوجود ہے ۔ آسان تر عبارت میں کہا جا سکتا ہے کہ جو حقیقت بھی اس جہان میں وجود رکھتی ہے، آخر کار اس کا کوئی سرچشمہ اور منبع ہے۔ مثلاً اگر سوال کیا جاے کہ یہ کمرہ کیوں روشن ہے، ہم جواب دیں گے کہ نور نے اسے روشن کیا ہے۔ اب اگر یہ سوال ہو کہ نور کیوں روشن ہے تو ہم کہیں گے کہ نور کے لئے یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ وہ کیوں روشن کیونکہ یہ تو اس کی خاصیت ہے۔ یہی بات موجودات عالم کی ہستی کے بارے میں بعینہ ثابت ہے۔ انسان سبزہ زار اور تمام جہان خلقت وجود میں آئے ہیں۔ ہم کہیں گے کہ ان سب کو خدا نے پیدا کیا ہے اور ان کی حیات خدا کی طرف سے ہے۔ لیکن اگر یہ سوال ہو کہ خدا نے کس طرح وجود پایا ہے تو ہم کہیں گے کہ ہستی اس کی عین ذات ہے اور وہ جہان ہستی کا سرچشمہ ہے۔(مزید وضاحت کے لئے کتاب جستجوئے خدا کی طرف رجوع فرمائیں۔(
القیّوم
”قیّوم“مبالغہ کا صیغہ ہے؛ اس کا مادہ ”قیام“ہے۔ اسی بناء پر اس کا معنی ہے وہ وجود جس کا قیام اپنی ذات کے ساتھ ہے اور تمام موجودات کا قیام اس کے ساتھ ہے۔ دوسرے لفظوں میں عالم ہستی کے تمام موجودات اسی کے بھروسے اور سہارے پر قائم ہیں۔ واضح ہے کہ قیام کا معنی کھڑا ہونا روزمرّہ میں یہ لفظ اسی مخسوص ہیئت و کیفیت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس معنی کا خدا کے لئے کوئی مفہوم نہیں کیونکہ وہ جسم اور صفات جسمانی سے منزہ ہے۔ اس لئے اس سے مراد تخلیق، تدبیر اور نگہداری کے لئے قیام کرنا ہے صرف وہی ذات ہے جس نے تمام موجودات کو پیدا کیا ہے اور اسی نے ان کی نگہداری و تربیت اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔ وہ کبھی اس کی انجام دہی میں غفلت نہیں کرتا اور وہ ہمیشہ سے بغیر کسی وقفے کے ان امور کو انجام دینے کے لئے قیام کئے ہوئے ہے۔ اس بیان سے واضح ہو جاتا ہے کہ قیوم حقیقت میں تمام صفاتِ فعل کی بنیاد ہے۔ صفات فعل سے مراد وہ صفات ہیں جو کسی موجود سے خدا کے ارتباط کو بیان کرتی ہیں، مثلاً پیدا کرنے والا، روزی دینے والا، زندہ کرنے والا، ہدایت کرنے والا وغیرہ۔ موجوداتِ عالم کی خلقت و تدبیر کے لئے قیام کرنے میں یہ تمام امور شامل ہیں۔ وہی جو روزی دیتا ہے، جو زندہ کرتا ہے، وہی ہے جو مارتا ہے، وہی ہے جو ہدایت کرتا ہے۔ اس لئے خالق، رازق اور محی وغیرہ صفات سب قیوم میں جمع ہیں۔
اُسے نیند آتی ہے، نہ اونگھ
"لا تاخذہ سنة ولا نوم سنة“ "سنة“، مخصوص سستی ہے جو نیند کی ابتداء میں عارض ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اونگھ یا نیند کے جھونکے کو "سنة" کہتے ہیں۔ "نوم“کا معنی ہے نیند؛ یعنی وہ حالت جب انسان کے کچھ حواس طبیعی عوامل کے ذریعے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ "لا تاخذہ سنة ولا نوم" دراصل، خدا کے قیوم ہونے کی تاکید کرتا ہے کیونکہ عالم ہستی کے لئے کامل و مطلق قیام کا تقاضا ہے کہ اک لمحہ بھر کی غفلت نہ ہو یعنی حکو مت مطلقہ اور عالم ہستی کے امور کی تدبیر کے لئے خدا تعالیٰ لمحہ بھر کی غفلت نہیں کرتا۔ لہٰذا ہر وہ چیز جو خدا کی اصل ”قیومیت“کے ساتھ سازگار و مناسب نہیں۔ اس کی خود بخود اللہ کی بارگاہ سے نفی ہو جاتی ہے۔ یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ اونگھ کا ذکر آیت میں نیند سے پہلے کیوں ہے جبکہ قوی چیز کا ذکر پہلے ہونا چاہئے تھا پھر ضعیف کا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کی وجہ فطری ترتیب ہے پہلے اونگھ کی حالت پیدا ہوتی ہے اس کے بعد گہری نیند کا مرحلہ آتا ہے۔ یہ جملہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ خدا کا فیض اور لطف دائمی ہے اور یہ اک لمحہ کے لئے بھی اس کے وجود سے منقطع نہیں ہوتا۔ وہ بندوں کی طرح نہیں ہے کہ نیند یا دیگر عوامل کے زیر اثر دوسروں سے غافل ہو جائے "لا تاخذہ“(یعنی اسے نہیں پکڑ سکتی) یہ بھی ایک جاذب نظر اور مو ثر تعبیر ہے۔ اس سے انسان پر نیند کے تسلط کی کیفیت مجسم ہو کر سامنے آجاتی ہے۔ گویا نیند ایک طاقتور پنجے کی مانند ہے جو انسان کو مضبوطی سے جکڑ لیتا ہے اور اسیر کر لیتا ہے۔ بیداری کے برعکس، نیند کے عالم میں قوی ترین انسانوں کی جو حالت ہوتی ہے اس کا احساس کیا جا سکتا ہے۔
خدا کی مالکیت مطلقہ
"لہ ما فی السمٰوات وما فی الارض“ آسمانوں، زمینوں اور جو کچھ ان میں ہے اس کی ملکیت کے بغیر امور عالم کی تدبیر کے لئے قیام ممکن نہیں۔ اس لئے خدا کی قیومیت کا ذکر کرنے بعد اس حقیقت کی تصریح کی گئی ہے کہ تمام عالم اس کا ملک خاص ہے۔ عالم ہستی میں جو بھی تصرف ہو اسی کی طرف سے ہے۔ اس بناء پر کچھ انسان کے اختیار میں ہے اور جن چیزوں سے وہ استفادہ کرتا ہے وہ اس کی حقیقی ملکیت نہیں ہے۔ انسان ان چیزوں سے مالک حقیقی کی معین کردہ شرائط کے تحط ایک محدود کے لئے حق تصرف رکھتا ہے۔ اس وجہ سے عام مالک کی ذمہ داری ہے کہ مالک حقیقی کی طرف سے جو شرائط معین ہوے ہیں ان کا پورا لحاظ رکھے۔ اگر ایسا نہ کرے تو اس کی ملکیت باطل ہو جاتی ہے اور تصرف جائز نہیں رہتا۔ ملک خدا میں تصرفات کی شرائط وہی ہیں جو قوانین اسلامی کے ذریعے لوگوں تک پہنچی ہیں۔ بناء کہے واضح ہے کہ اس مفہوم کی طرف توجہ کرنا حقیقت میں ایک اہم تربیتی عامل ہے؛ کیو نکہ اگر انسان میں یہ عقیدہ پیدا ہو جائے کہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ در اصل اس کا نہیں ہے، بلکہ چند روز کے لئے اسے عاریتاً ملا ہے تو حقیقتاً یہ عقیدہ اسے دوسروں کے حقوق میں تجاوز، استشمار، ذخیرہ اندوزی، حرص، طمع اور بخل سے باز رکھے گا۔ کیونکہ ممکن ہے شدید دنیا پرستی کی وجہ سے یہ چیزیں انسان میں پیدا ہو جائیں۔ یہ عقیدہ انسان کی یہ تربیت کرتا ہے کہ وہ اپنے شرعی حقوق پر راضی رہے: "من ذاالذی یشفع عندہ الا باذنہ“ اصطلاحی طور پر یہ جملہ استفہام انکاری ہے؛ یعنی کوئی شخص بھی خدا کے حکم کے بغیر اس کی بارگاہ میں سفارش و شفاعت نہیں کر سکتا۔ یہ جملہ درحقیقت، تمام موجودات عالم ہستی پر خدا کی قیومیت اور مالکیت مطلقہ کے مفہوم کی تکمیل کرتا ہے۔ یعنی اگر کچھ لوگ بارگاہ الٰہی میں شفاعت کرتے نظر آتے ہیں تو یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ کسی چیز کے مالک ہیں اور وہ تاثیر میں استقلال رکھتے ہیں؛ بلکہ یہ مقام شفاعت بھی انہیں خدا نے عطا کیا ہے، ان کی شفاعت کیونکہ حکم خدا سے ہے، اس لئے یہ خود خدا کی قیومیت اور مالکیت پر ایک دلیل ہے۔
شفاعت کوئی پارٹی بازی نہیں ہے
”شفاعت“کا مفہوم ہے ایک قوی موجود کا ضعیف تر موجود کی مدد کرنا تاکہ وہ آسانی سے تکامل و ارتقاء کے مراحل طے کر سکے۔ البتہ یہ لفظ عموماً گناہگاروں کی شفاعت کے بارے میں استعمال ہوتا ہے لیکن شفاعت کے وسیع تر معنی میں عالم ہستی کے تمام عوامل اور علل و اسباب شامل ہیں۔ مثلاً زمین، پانی، ہوا اور سورج کی روشنی چار عامل ہیں جو دانے کو ایک مکمل درخت یا مکمل سبزے کے مرحلے تک پہنچانے میں شفاعت اور ہدایت کرتے ہیں۔ اب اگر مذکورہ آیت کو اس وسیع معنی میں دیکھا جائے تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ عالم ہستی کے مختلف عوامل اور اسباب کا وجود خدا کی مالکیت مطلقہ کو ہرگز محدود نہیں کرتا۔ کیونکہ ان تمام اسباب کی تاثیر اس کے حکم سے ہے اور دراصل، اس کی قیومیت اور مالکیت کی نشانی ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں شفاعت بھی بلا وجہ کسی کی سفارش کرنے کی طرح ہے اور ایک طرح کی پارٹی بازی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا مفہوم یوں ہے کہ لوگ جو چاہیں گناہ کریں اور جب سر سے پاوں تک گناہ میں ڈوب جائیں تو شفیع کا دامن پکڑ لیں اور اس طرح کہتے پھریں: ان دم کہ مردمان بہ شفیعی زنند دست مائیم و دست و دامنِ اولاد فاطمہ یعنی جب دوسرے لوگ کسی شفیع کا دامن تھامیں گے تو ہم اولادِ فاطمہ کا ہاتھ اور دامن تھام لیں گے۔ اعتراض کرنے والوں نے شفاعت کے بارے میں دین کی منطق کو نہیں سمجھا اور نہ اس گناہ گار جسور اور بے پروا گروہ نے اسے سمجھا جو ایسی باتیں کرتا ہیں۔ کیونکہ جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے شفاعت جو خدا کے خاص بندے کریں گے شفاعتِ تکوینی کی طرح ہے جو طبیعی عوامل کے ذریعے انجام پاتی ہے۔ جیسے ایک دانے میں اگر عامل حیات اور زندگی کے سیل life cells موجود نہ ہوں تو ہزاروں سال تک سورج کی تپش، باد نسیم اور بارش کے حیات بخش قطرے اسے نشو نما اور رشد نہیں دے سکتے، اسی طرح اولیاء خدا کی شفاعت بھی نالائق افراد کےلئے بےاثر ہے۔ یعنی اصولی طور پر وہ ایسے افراد کی شفاعت نہیں کریں گے۔ شفاعت ایک طرح کے معنوی ربط کی محتاج ہے؛ یہ ربط شفاعت کرنے والے اور جس کی شفاعت ہو رہی ہے اس کے درمیان درکار ہے۔ اس لئے جو شفاعت کی امید رکھتا ہے اس کا فرض ہے کہ اس جہان میں اس شخص سے معنوی رابطہ پیدا کرے جس سے وہ شفاعت کی توقع رکھتا ہے اور حقیقت میں یہ ربط ہی شفاعت حاصل کرنے والے کے لئے تربیت کا ایک ذریعہ ہو گا۔ یہ تعلق اسے شفاعت کرنے والے کے افکار، اعمال اور مکتب کے قریب کرے گا اور اس کے نتیجہ میں وہ شفاعت کے اہل ہو جائے گا۔ اس سے واضح ہوا کہ شفاعت ایک عامل تربیت ہے نہ کہ پارٹی بازی یا فرائض سے فرار کا ذریعہ یہ بھی واضح ہو گیا کہ شفاعت گناہگار کے بارے میں میں پروردگار کے ارادے میں تغیر و تبدیل پیدا نہیں کرتی بلکہ گناہگار ہی شفاعت کرنے والے سے معنوی ربط کے ذریعے ایک تکامل و تربیت حاصل کرتا ہےاور ایسی سر حد میں جا پہنچتا ہے جہاں وہ عفو خدا کے اہل ہو جاتا ہے (غور کیجئے گا )(تفسیر نمونہ جلد اوّل- اردو ترجمہ کے صفحہ ۱۸۳ سے ۲۰۰ تک مسئلہ شفاعت کے تمام پہلووں پر سیر حاصل بحث کی جا چکی ہے)۔ ” یعلم ما بین اید یہم وما خلفہم “ گذشتہ جملے میں بیابن کیا گیاہے کہ شفاعت بار گاہ الٰہی میں حکم خدا ہی سے ممکن ہے۔ زیر نظر جملے میں اس کی دلیل کے طور پر فرمایا گیا ہے کہ خدا شفاعت کرنے والوں کے گذشتہ اور آئندہ حالات سے آگاہ ہے اور جو کچھ ان سے پنہان ہے اسے جانتا ہے۔ اس لئے وہ خدا کے سامنے جن کی شفاعت کر رہے ہیں ان کے بارے میں کوئی ایسی بات پیش نہیں کر سکتے جس سے خدا ناواقف ہو اور جس کی وجہ سے وہ ان کے سلسلے میں اپنے حکم میں نظرثانی کرے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ سفارش کا عام اسلوب یہ ہے کہ سفارش کرنے والا جس کی سفارش کر رہا ہے اس کی اہلیت و لیاقت کا ذکر کرتا ہے یا پھر جس کی سفارش کر رہا ہے اس سے اپنا ارتباط بیان کرتا ہے تاکہ جس سے سفارش کی جارہی ہے وہ سفارش کرنے والے کی خاطر اپنے حکم میں تبدیلی کر سکے۔ واضح ہے کہ دونو ں صورتوں میں سفارش کرنے والا در اصل نئی معلومات فراہم کر رہا ہوتا ہے لیکن جس سے سفارش کی جا رہی ہے اگر وہ ہر چیز اور ہر شخص کے بارے میں پہلے ہی پوری طرح سے آگاہ ہے تو پھر کوئی شخص بھی اس کی بارگاہ میں کسی کی سفارش نہیں کر سکتا کیونکہ وہی سفارش کے لئے اہل لوگوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور وہی شفاعت کی اجازت دینے والا ہے۔ ”یعلم ما بین اید یہم وما خلفہم“ پروردگار کی قدرت کاملہ اور اس کے مقابلے میں دوسروں کا قدرت سے تہی ہونے پر تاکید بھی ہے کیونکہ جو اپنے گذشتہ اور آئندہ سے بے خبر ہے اور آسمانوں اور زمین کے غیب کا علم نہیں رکھتا، اس کی قدرت بہت ہی محدود ہوگی۔ لیکن وہ ذات جو ہر دور میں ہر چیز سے آگاہ ہے اس کی قدرت ہر لحاظ سے لا متناہی ہے اس لئے ہر اقدام یہاں تک کہ شفاعت بھی اس کے فرمان کے تابع ہے۔ اس جملے کا ربط آیت کے گذشتہ جملوں اور مسئلہ شفاعت سے واضح ہے۔ اب یہ سوال باقی ہے کہ "ما بین ایدیہم" (ان کے سامنے) "وما خلفھم" (اور ان کے پیچھے) سے کیا مراد ہے؟ اس سلسلے میں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ دونوں تعبیریں قرآن مجید میں کبھی مکان کے بارے میں اور کبھی زمان کے بارے میں استعمال ہوئی ہیں۔ مثلاً سورہٴ آل عمران آیہ ۱۷۰ میں ہے: ”و یستبشرون بالذین لم یلحقوا بھم من خلفھم“ شہیدانِ راہ خدا انہیں بشارت دیتے ہیں جو ابھی ان سے ملحق نہیں ہوئے۔ واضح ہے کہ یہاں تقدیم و تاخیر زمانی ہے۔ لیکن سورہٴ اعراف آیہ ۱۷ میں ہے: ”ثم لاتینّھم من بین ایدیھم و من خلفھم و عن ایمانھم و عن شمائلھم“ میں اُن کے سامنے سے، ان کے پیچھے سے، ان کی دائیں طرف سے، اور ان کی بائیں طرف سے آوں گا۔ یہ سامنے اور پیچھے مکان کے لحاظ سے ہے۔ البتہ محل بحث آیت میں ہو سکتا ہےجامع معنی ہو جس میں زمان اور مکان دونوں شامل ہوں۔ یعنی خدا وند عالم گذشتہ اور آئندہ سے اسی طرح لوگوں کے سامنے اور پس پشت جو کچھ ہے اگرچہ لوگوں سے پوشیدہ و پنہاں ہے، سب کچھ جانتا ہے اور سب سے آگاہ ہے۔ اس کی بار گاہ علم میں زمان و مکان کی وسعت اور پہنائی واضح ہے اور شفاعت کرنے والے اس کے سامنے کوئی نئی اطلاع پیش نہیں کر سکتے: ”ولا یحیطون بشیء من علمہ الا بما شاء“ یہ جملہ بھی در حقیقت سابقہ جملے کی تاکید کے طور پر ہے اور علم خدا کے مقابلہ میں شفاعت کرنے والوں کے محدود علم کی طرف اشارہ ہے ؛کیونکہ وہ پروردگار کے علم پر احاطہ نہیں رکھتے اور خدا جس قدر چاہے وہ اتنا ہی باخبر ہوتے ہیں۔ اس جملہ سے ضمناً یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شخص بھی اپنی طرف سے کوئی علم نہیں رکھتا اور انسان کے تمام علوم خدا کی طرف سے ہیں۔ وہی ہے جو رفتار زمانہ کے ساتھ ساتھ تدریجاً جہان آفرینش کے حیرت انگیز اسرار سے پردہ اٹھاتا ہے اور نئے حقائق انسان کے ہاتھ میں دیتا ہے اور اس کی معلومات میں وسعت پیدا کرتا ہے۔ اس جملہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ممکن ہے خدا بعض علوم غیب بعض منتخب لوگوں کو دے دے اور کچھ لوگوں کو اسرار غیب سے آگاہ کر دے۔ اس بناء پر یہ بات ان لوگوں کا جواب ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ علم غیب تو انسان کے لئے ممکن ہی نہیں۔ نیز یہ ان آیات کی بھی تفسیر ہے جو بشر کے لئے علم غیب کی نفی کرتی ہیں یعنی انسان ذاتی طور پر اسرار غیب میں سے کسی چیز کو نہیں جانتا مگر یہ کہ خدا علم دے اور جس قدر دے وہ اس قدر جان لیتا ہے (مزید وضاحت ان شاء اللہ غیب سے مربوط آیات کے ذیل میں آئے گی)۔
عرش و کرسی سے کیا مراد ہے؟
عرش و کرسی سے کیا مراد ہے؟ ”وسع کرسیّہ السّمٰوات والارض“ لفظ کرسی اصل لغت کے لحاظ سے ”کرس“ (بر وزن ارث ) سے ہے جس کا معنی ہے اصل، اساس اور بنیاد۔ بعض اوقات ہر اس چیز کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے جو ایک دوسرے سے پیوستہ اور ترکیب شدہ ہو۔ اسی بناء پر چھوٹے تخت کو کرسی کہتے ہیں۔ اس کا نقطہ مقابل عرش ہے جس کا معنی ہے”چھت والی چیز“ یا "چھت" یا ”بلند پایہ تخت"۔ چونکہ استاد اور معلم تدریس کے وقت کرسی پر بیٹھتا ہے، لہٰذا بعض اوقات لفظ کرسی علم کے لئے کنایہ کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ کرسی چونکہ انسان کے اختیار اور کنٹرول میں ہوتی ہے اس لئے کبھی کبھار یہ لفظ حکومت و قدرت و فرمانروائی کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ مندرجہ بالا آیت میں ہے کہ خدا کی کرسی تمام آسمانوں اور زمین کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔ یہاں لفظ کرسی چند معانی میں ممکن ہے: ۱۔ سلطنت اور حکومت کا علاقہ: یعنی خدا تمام آسمانوں اور زمینوں پر حکومت کرتا ہے اور اس کا نفوذ تمام جگہوں پر محیط ہے۔ اس معنی میں خدا کی کرسی سے مراد عالم مادہ کا مجموعہ ہے چاہے وہ زمین ہو یا ستارے، کہکشائیں ہوں یا بادل۔ یہ فطری امر ہے کہ کرسی کا یہ مفہوم ہو تو عرش اس جہان مادہ سے کسی بالاتر اور عالی تر مرحلے کا نام ہونا چاہئے کیو نکہ یہ بات بیان کی جا چکی ہے عرش کا معنی کرسی کے برعکس لغت میں چھت، سائبان اور بلند پایہ تخت ہے۔ اس صورت میں عرش کا معنی عالم ارواح، ملائکہ جہانِ ماوراء طبیعت ہو گا۔ البتہ یہ اس صورت میں ہے جب عرش و کرسی ایک دوسرے کے مدّمقابل ہوں تاکہ ایک عالم مادہ و طبیعت اور دوسرا عالم ماوراء طبیعت کہلا سکے۔ لیکن جیسا کہ سورہٴ اعراف کی آیہ ۵۳ کے ذیل میں آئے گا کہ عرش کے کچھ اور معانی بھی ہیں؛ خصوصاً اگر وہ کرسی کے مقابلہ میں نہ ہو تو پھر ممکن ہے اس کا معنی تمام عالم ہستی ہو۔ ۲۔ وسعت علم کا علاقہ: یعنی خدا کا علم تمام آسمانوں اور زمین پر محیط ہے اور کوئی چیز بھی اس کی حکومتِ علم سے باہر نہیں۔ جیسا کہ کہا جا چکا ہے کہ کرسی بعض اوقات علم کے لئے کنایہ ہوتی ہے کئی ایک روایات میں بھی یہی مفہوم بیان کیا گیا ہے۔ حفص ابن غیاث امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: میں نے آنحضرت سے پوچھا کہ ”وسع کرسیّہ السّمٰوات والارض“ سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: اس سے اس کا علم مراد ہے۔ ۳ ۔آسمانوں اور زمین سے وسیع تر چیز: یعنی ایک ایسا موجود جو آسمانوں اور زمینوں سے زیادہ وسعت رکھتا ہے جو ہر ہر طرف سے ان پر محیط ہے۔ اس طرح آیت کا معنی ہو گا کہ خدا کی کرسی تمام آسمانوں اور زمین کو اٹھائے ہوئے ہے اور ان پر محیط ہے۔ ایک حدیث میں امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے یہی تفسیر منقول ہے۔ آپ فرماتے ہیں: الکرسی محیط بالسّمٰوات والارض وما بینھما وما تحت الثریٰ“ یعنی کرسی زمین آسمان جو کچھ ان میں ہے اور جو کچھ زمین کی گہرایئوں میں ہے سب پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔ یہاں تک کہ کچھ روایات میں معلوم ہوتا ہے کہ کرسی آسمانوں اور زمین سے اس قدر وسیع تر ہے کہ وہ سب کے سب کرسی کے مقابلے میں اس انگوٹھی کی طرح ہیں جو وسط بیابان میں پڑی ہو۔ امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: ما السمٰوات والارض عند الکرسی الا کحلقة خاتم فی فلاة وما الکرسی عند العرش الا کحلقة فی فلاة“ آسمان اور زمین کرسی کے مقابلے میں بیابان میں پڑی ہوئی انگشتری کے حلقہ کی طرح ہیں اور کرسی بھی عرش کے مقابلہ میں بیابان میں پڑی ہوئی انگشتری کے حلقہ کی طرح ہے۔ پہلا اور دوسرا معنی تو قابل فہم اور واضح ہے ہے لیکن تیسرا معنی ایسا ہے کہ ابھی تک علم و دانش بشر اس سے پردہ نہیں اٹھا سکے؛ کیونکہ ایسے عالم کا وجود جو آسمانوں اور زمین پر بھی محیط ہو اور ہمارے جہاں سے کہیں زیادہ وسعت رکھتا ہو ابھی تک مروج علمی ذرائع سے ثابت نہیں ہو سکا؛ اگر چہ اس کی نفی پر بھی کوئی دلیل موجود نہیں۔ جدید علوم کے تمام ماہرین معترف ہیں کہ علوم و مطالعاتِ نجوم کے وسائل اور ذرائع کی ترقی ساتھ ساتھ آسمان و زمین کی وسعت ہماری نظر میں بڑھتی جارہی ہے اور کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ عالم ہستی کی وسعت بس اتنی ہے جتنی آج کے علم نے بتائی ہے؛ بلکہ قوی احتمال ہے کہ بے شمار عالم ایسے ہوں جو آج کے وسائل اور ذرائع کی نگاہ سے اوجھل ہوں۔ یہ بات کہے بغیر نہ رہ جائے کہ مندرجہ بالا تینوں تفاسیر ایک دوسرے سے اختلاف نہیں رکھتیں اور ”وسع کرسیہ السّمٰوات والارض“ان تمام معانی کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے؛ یعنی: ----------- پروردگار کی حکومت مطلقہ اورقدرت کا نفاذ، ----------- علمی نفوذ و احاطہ اور -----------ایسا وسیع تر جہان جو آسمانوں اور زمین پر محیط ہو۔ بہرصورت، یہ جملہ آیت کے پہلے جملوں کی تکمیل کرتا ہے جو پروردگار کے علم کی وسعت کے بارے میں تھے۔ خلاصہ اور نتیجہ یہ کہ پروردگار کا تخت حکومت اورقدرت تمام آسمانوں اور زمین کو گھیرے ہوئے ہے اس کے علم و دانش کی کرسی تمام عالمین پر محیط ہے اور کوئی چیز اس کی حکومت اور علم سے خارج نہیں۔ "ولا یودہ حفظھما “ "یودہ“، "اود" (بر وزن: قول) سے ہے؛ اس کا معنی ہے "سنگینی“ یعنی آسمانوں اور زمین کی نگرانی خدا تعالیٰ کے لئے کسی قسم کی سنگینی، بوجھ اور مشقت کا باعث نہیں کیونکہ وہ اپنی مخلوق اور بندوں کی طرح نہیں کہ جن کی قدرت محدود ہے اور لا محدود قدرت کے لئے اصولی طور پر سنگینی و آسانی، مشقت و راحت کا مفہوم نہیں۔ یہ سب مفاہیم تو محدود قوتو ں پر صادق آتے ہیں اوپر ہم جو کہہ چکے ہیں اس واضح ہوتا ہے کہ ”یودہ“کی ضمیر خدا کی طرف لوٹتی ہے۔ آیت کے سابقہ و لاحقہ جملے بھی اسی کے شاہد ہیں کیونکہ ان کی ضمیریں بھی سب خدا کی طرف لوٹتی ہیں۔ اس بناء پر یہ احتمال بہت ضعیف دکھائی دیتا ہے جس کے مطابق یہ ضمیر کرسی کی طرف لوٹتی ہے اور جس کے مطابق معنی یہ ہوتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی حفاظت کرسی کے لئے سنگین اور بوجھل نہیں۔ ”و ھو العلی العظیم“
دین قبول کرنے میں کو ئی جبر واکراہ نہیں ہے
یہ جملہ در اصل سابقہ جملوں کی دلیل کے طور پر ہے یعنی وہ خدا جو برتر اور بالا ترہے ہر طرح کے شبہ اور شریک سے پاک ہے اور ہر قسم کی کمی، عیب اور نقص سے ماوراء ہے۔ وہ خدا جو عظیم، بزرگ اور لامتناہی ہے اس کے لئے کوئی کام بھی مشکل نہیں ہے اور وہ کسی وقت بھی جہان ہستی کو منظم کرنے اور اس کی تدبیر کرنے سے خستہ، عاجز اور بے خبر نہیں ہو سکتا اور اس کا علم تمام چیزوں پر محیط ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1مشہور مفسر طبرسی نے مجمع البیان میں اس آیت کی شان نزول یہ نقل کی ہے کہ مدینہ میں ایک شخص حصین نامی تھا۔ اس کے دو بیٹے تھے۔ مدینہ میں مال تجارت لانے والے دو تاجروں نے نے ان لڑکوں سے ملاقات کی تو انہیں عیسائیت کی دعوت دی اور وہ بھی اس سے بہت متاثر ہوئے اور نتیجتا عیسائی ہو گئے۔ حصین اس واقعے سے بہت پریشان ہوا اور پیغمبر اسلا م کو اس کی اطلاع دی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں انہیں اپنے مذہب میں واپس لانا چاہتا ہوں۔ اس نے سوال کیا کہ وہ جبری طور پر انہیں اپنے مذ ہب میں واپس لا سکتا ہے تو اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی جس میں یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ کسی مذہب کو اختیا ر کرنے میں جبر واکراہ نہیں ہے۔ تفسیر المنار میں لکھا ہے کہ حصین نے ا پنے دونوں بیٹوں کو جبرا اسلام کی طرف پلٹانے کی کوشش کی تو وہ شکایت لے کر پیغمبر کے پاس آئے۔ حصین نے عرض کیا کہ میں کیسے برداشت کرلوں کہ میرے بیٹے جہنم کی آگ میں جلیں اور میں دیکھتا رہوں۔ اس پر محل بحث آیت نازل ہوئی۔
مذہب جبری نہیں ہو سکتا
”رشد“ لغت میں راستہ پانے اور واقع تک پہنچنے کے معنی میں ہے۔ اس کے برعکس، ”غیّ“ حقیقت سے انحراف اور واقع کے دور ہونے کے معنی میں ہے۔ دین و مذہب کا تعلق چونکہ لوگوں کی فکر اور روح سے ہے اور اس کی اساس وبنیاد ایمان ویقین پر استوار ہے، لہٰذا منطق واستدلال کے علاوہ اس کے لئے کوئی دوسرا راستہ صحیح نہیں۔ جیسا کہ آیت کی شان نزول سے معلوم ہوتا ہے بعض افراد پیغمبر اکرم سے چاہتے تھے کہ آ پ بھی جابر حکمرانو ں کی طرح طاقت اور زور سے لوگوں کے عقائد تبدیل کرنے کے لئے عملی اقدام کریں۔ مندرجہ بالا آیت نے اس پر صراحت سے جواب دیا کہ دین وآئین ایسی چیز نہیں کہ جس کی جبری تبلیغ کی جائے۔ یہ آیت ان لوگو ں کا دندان شکن جواب ہے جو اسلام کو زبردستی اور جبری پہلو کا حامل قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ا س کی ترقی فوج اور تلوار کی مرہون منت ہے۔ جب اسلام باپ کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ اپنے بیٹے کو مذہبی عقیدہ زبردستی بدلنے پر مجبور کرے تو دوسروں کی ذمہ داری اس سے واضح ہو جاتی ہے۔اگر عقیدہ بدلنے کے لئے جبر ممکن اور جائز ہوتا تو ضرور ی تھا کہ سب سے پہلے باپ کو بیٹے کے بارے میں اجازت دی جاتی جبکہ اسے یہ حق نہیں دیا گیا۔ مذہب جبری نہیں ہو سکتا اصولی طور پر اسلام یا کوئی مذہب حق دو وجوہ کی بناء پر جبر واکراہ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ۱۔ ان تمام واضح دلائل منطقی استدلال اور آشکار معجزات کے ہوتے ہوئے اس بات کی ضرورت ہی نہیں کہ جبر واکراہ کا راستہ اختیار کیا جائے۔ جبر و اکراہ تو وہ اختیار کرتے ہیں جومنطق سے عاری ہوتے ہیں نہ کہ اسلام جیسا دین جو واضح اور قوی استدلالات کا حامل ہے۔ ۲۔اصولی طور پر دین جس کی بنیاد قلبی اعتقادات کا ایک سلسلہ ہے ممکن ہی نہیں کہ جبری ہو۔ زور، طاقت، تلوار اور فوجی قوت ہمارے جسمی اعمال وحرکات پر تو اثر انداز ہو سکتے ہیں لیکن ہما رے افکار وعقائد کو تو نہیں بدل سکتے۔ جو کچھ کہا گیا ہے کلیسا کی زہریلی تبلیغ کا واضح جواب ہے کیونکہ قرآن کے ان الفاظ”لااکراہ فی الدین “سے بڑھ کر اس سلسلے میں کوئی بات نہیں کہی جا سکتی۔ البتہ یہ لوگ اسلامی جنگوں کو غلط رنگ دینے کے درپے رہتے ہیں جب کہ ان اسلامی جنگوں کے مطالعے سے پو ری طرح واضح ہو جاتا ہے کہ ان میں سے بعض تو دفاعی تھیں اور بعض ابتدائی جہاد کی حیثیت رکھتی تھیں۔ ان میں کشور کشائی اور لوگوں کو دین اسلام کے لئے مجبور کرنے کا کو ئی پہلو نہ تھا۔ان کا مقصد غلط اور ظالمانہ نظام کو تہ و بالا کرنا تھا تاکہ لوگو ں کو آزدانہ طور پر مذہب اور اجتماعی زندگی کے مطالعے کا موقع فراہم کیا جائے۔ تاریخ شاہد ہے کہ مسلما ن جب کسی شہر کو فتح کرتے تو دوسرے مذہب کے پیروں کاروں کو مسلمانوں کی طرح آزادی دیتے تھے اور جزیہ کے طور پر جو ٹیکس ان سے وصول کیا جاتا وہ در اصل امن وامان بر قرار رکھنے والی قو توں کے اخراجات کی تکمیل کے لئے ہو تا تھا کیونکہ اسلام میں غیر مسلموں کی جان و مال ا ور عزت وناموس محفوظ تھی۔ یہا ں تک کے وہ اپنی مذہبی رسوم بھی آزادانہ بجا لاتے تھے۔ وہ سب لو گ جو تاریخ اسلام سے واقف ہیں اس حقیقت کو جانتے ہیں۔ حتی کہ وہ عیسائی جنہوں نے اسلام کے بارے میں کتابیں لکھی ہیں انہوں نے اس با ت کا اعتراف کیا ہے مثلا کتاب "تمد ن اسلام وعرب" میں ہے: "مسلما نو ں کا دوسرے لوگوں سے سلوک اس قدر محبت بھرا اور نرم تھا کہ ان کے سرداروں نے انہیں اپنی مذہبی تقریبات تک منعقد کرنے کی اجاززت دے رکھی تھی۔" کئی ایک تواریخ میں ہے کہ عیسائیوں کا ایک گروہ جو بعض سوالات اور تحقیقات کے لئے پیغمبر اکرم کی خدمت میں پہنچا تھا اس نے اپنی مذہبی عباد ت مدینہ کی مسجد نبوی میں آزادانہ انجام دی۔
اسلام میں فوجی طاقت کے استعمال کے مواقع
اصولی طور اسلام صرف تین مواقع پر فوجی طاقت کو ذریعہ قرار دیتا ہے ۱۔شرک اور بت پرستی کی بیخ کنی کے لئے: شرک اور بت پرستی کے آثار محو کرنے کے لئے اسلام فوجی طاقت استعمال میں لاتا ہے کیونکہ بت پرستی اسلام کی نظر میں کوئی دین وآئین نہیں ہے بلکہ کجروی، بیماری اور بے ہودہ چیز ہے اور اس کی ہرگز اجازت نہیں دینا چاہیئے کہ لوگ سو فیصد غلط اور بےہودہ راستے پر چلتے رہیں؛ بلکہ اس کی حوصلہ شکنی کی جانا چاہیئے۔ لہذا اسلام نے بت پرستو ں کو تبلیغ کے ذریعے راہ توحید کی طرف دعوت دی لیکن جہا ں انہوں نے مقابلے کا راستہ اختیار کیا اسلام نے طاقت اسعتمال کی، ان کے بت خانہ توڑے گئے اور بت اور بت پرستی کے تمام آثار مٹا دیئے گئے تاکہ اس روحانی اور فکری بیماری کی مکمل ریشہ کنی کی جاسکے۔ مشرکین سے قتال کرنے کی آیات اسی مفہو م کی حامل ہیں۔ سورہ بقرہ کی آیت ۱۹۳میں ہے: ”وقاتلوھم حتی لاتکون فتنة“ مشرکین سے جنگ جاری رکھو یہا ں تک کے شرک کا فتنہ معاشرے سے ختم ہو جائے۔ اس بناء پر محل بحث اور اس قسم کی آیا ت میں کو ئی تضاد نہیں کہ جس کی بنیا د پر نسخ کا ذکر ضروری۔ ۲۔اسلام کے خلاف حملے کی تیاری کر نے والو ں سے: جو لوگ مسلمانوں کی نابودی کے لئے ان پر حملے کی سازش کر رہے ہوں وہاں دفاعی جہاد اور فوجی قوت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام کے زمانے کی اسلامی جنگیں شاید زیادہ اسی قسم کی تھیں۔ مثال کے طور پر احد، احزاب، حنین، موتہ اور تبوک کے غزوات کے نام لئے جاسکتے ہیں۔ ۳۔تبلیغ کی آزادی حاصل کرنے کے لئے: ہر دین حق رکھتا ہے کہ منطقی طریقوں سے اس کا آزادانہ تعارف کروایا جا سکے۔اگر کچھ لوگ اس میں مانع ہوں اور رکاوٹ پیدا کریں تو یہ حق طاقت کے ذریعہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ” فمن یکفر بالطاغوت ویوٴمن باللہ فقد استمسک بالعروة الوثقی“ ”طاغوت“، صیغہ مبالغہ ہے؛ اس کا مادہ ہے ”طغیان“۔ اس کا معنی ہے حد سے تجاوز کرنا اور زیادتی کرنا۔ ہر وہ چیز جو حد سے تجاوز کا ذریعہ بنے اسے طاغوت کہا جاتا ہے۔ اسی بناء پر شیطان،بت، جارح اور ظالم و متکبر حاکم کو طا غوت کہا جاتا ہے۔ حتی کہ پروردگار کے علاوہ ہر معبود اور ہر راستہ جو غیر حق تک پہنچائے اس پر طا غوت کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہ لفظ مفرد اور جمع دونوں معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ آیت کے اس حصے میں قرآن کہتا ہے: جو شخص طاغوت سے کفر کرے اور اس سے منہ پھیر لے اور خدا پر ایما ن لے آئے اس نے گویا مضبوط کڑے پر ہاتھ ڈالا ہے جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں۔ عروة الوثقی اس آلے کو کہتے ہیں جو دروازہ کی پشت پر نصب کرتے ہیں اور دروازہ کھولتے یا بند کرتے وقت اس پر ہا تھ ڈالتے ہیں۔ طاغوت سے یہا ں کیا مراد ہے، اس بارے میں مفسرین نے مختلف باتیں کی ہیں۔ بعض نے بت کہا ہے بعض نے شیطان مراد لیا ہے، بعض نے کاہنو ں کو طاغو ت قرار دیا ہے اور بعض نے جادوگر مراد لئے ہیں۔ لیکن یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس سے وسیع تر مفہوم مراد ہے یعنی ہر سرکش، ٹیڑھے اور غلط مذہب اور راستے کو یہ لفظ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ درحقیقت، یہ حصہ آیت کے سابقہ حصوں کے لئے ایک دلیل ہے۔ دین مذ ہب جبر واکراہ کا محتاج نہیں کیونکہ دین، خدا کی طرف دعوت دیتا ہے جو ہر خیر وبر کت کا منبع ہے؛ جبکہ دوسرے لوگ تباہی، انحراف اور فساد کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ بہرحال، خدا پر ایمان لانا ایسا ہی ہے جیسے کسی محکم کڑے پر ہاتھ ڈالنا کہ جس کے ٹوٹنے کا کوئی امکان نہ ہو۔ آیت کے آخر میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ کفر وایما ن کا ایسا مسئلہ نہیں جو دکھائی دینے سے حل ہو جائے؛ کیونکہ خدا سب کی باتو ں کو سنتا ہے چاہے آشکار ہوں یا بند کمروں اور مخفی اجلاسوں میں۔ اس طرح وہ لوگوں کے دلوں میں چھپی ہو ئی چیزوں اور لوگوں کے ضمیروں کی حالت سے آگاہ ہے۔ یہ جملہ دراصل، حقیقی ایمان لانے والوں کے لئے تشویق اور منافقین کے لئے تہدید اور دھمکی ہے۔
چند اہم نکات
Tafsīr Nemūna · Vol. 1”ولی“کا معنی جیسا کہ بعد میں ”انما ولیّکم اللہ و رسولہ۔۔۔۔۔۔۔“ والی آیت کے ذیل میں آئے گا، اصل میں ”نزدیکی اور عدم جدائی“ ہے۔ اسی بناء پر سرپرست کو ولی کہتے ہیں اور جو شخص تربیت اور سرپرستی کا محتاج ہو، اس کے مربی کو ولی کہا جاتا ہے۔ مخلص دوستوں اور رفقاء کے لئے بھی ولی اور اولیاء کا اطلاق ہوتا ہے۔ لیکن واضح ہے کہ اس آیت میں پہلے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ گذشتہ آیات میں کفر و ایمان، حق وباطل اور راہ راست اور انحرافی راستے کی وضاحت کے بعد اب یہ آیت تکمیل مطلب کے لئے کہتی ہے: موٴمن وکافر، ہر کسی کا رہبر و راہنما اور اپنا مخصوص راستہ ہے۔ مومنین کا رہبر وراہنما خدا ہے، ان کا راستہ تاریکیوں سے جدا ہو کر نور کی طرف جا تا ہے۔لیکن کافروں کا رہبر طاغوت ہے اور ان کی راہ مومنین کے برعکس، نور سے ظلمت کی طرف جاتی ہے اور ان کا انجام بھی واضح ہے۔ کیونکہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آگ میں رہیں گے (اولٰئک اصحٰب النار ھم فیھا خٰلدون) چند اہم نکات ۱۔نور وظلمت کی تشبیہ: ایمان اور کفر کو نور اور ظلمت سے تشبیہ دینا، اس موقع کی مناسب ترین تشبیہ ہے۔ نور۔۔۔۔۔۔زندگی اور تمام برکات وآثار حیات کا منبع ہے۔ اور نور ہی سکون بخش، مطمئن کرنے والا، آگاہ کرنے والا اور نشان دہی کرنے والا ہے؛ جبکہ ظلمت وتاریکی سکوت، موت، خواب، نادانی، گمراہی اور وحشت کی رمز ہے۔ ۲۔نور کے مقابل ظلمات کیوں: اس آیت میں اور مشابہ آیات قرآن میں لفظ ظلمت کی جمع ظلمات استعمال کیا گیا ہے اور نور صیغہ مفرد کے طور پر آیا ہے۔ یہ دراصل، اس طرف اشارہ ہے کہ راہ حق میں کسی قسم کی کوئی پراگندگی اور انتشار نہیں، بلکہ وہ الہام بخش وحدت ویگانگی ہے۔ راہ حق خط مستقیم کی طرح ہے جو دو نقطوں کے درمیان کھینچا جائے تو ہمیشہ ایک ہی ہو گا اور اس میں ایک سے زیادہ کی تعداد ممکن نہیں۔ لیکن اہل باطل اپنے باطل میں ہم آہنگ نہیں ہیں۔ ان میں ہدف اور مقصد کی وحدت نہیں ہے۔ان کی حالت بالکل دو نقطوں کے درمیان کھینچے جانے والے غیرمنظم خطوط کی سی ہے جن کی تعداد خط مستقیم کے دونوں طرف بےشمار ہے۔
حضرت ابراہیم کے متعلق، ایک زندہ اور واضح شاہد
Tafsīr Nemūna · Vol. 1گذشتہ آیت پروردگار کی ولایت اور راہنمائی کے ذریعے مومنین کی ہدایت اور طاغوت کی پیروی کے ذریعے کفار کی گمراہی کے بارے میں تھی۔ اس کے بعد زیر نظر آیت میں خدا ایک زندہ اور واضح شاہد کا ذکر کرتا ہے جو اس عظیم پیغمبر حضرت ابراہیم کے متعلق رونما ہوا۔ ہوا یہ کہ حضرت ابراہیم نے اپنے زمانے کے ایک جابر سے بحث مباحثہ کیا اور اپنے موقف کے حق میں دلائل پیش کئے۔ وہ اپنی حکومت کی وجہ سے بادہٴ غرور میں سرمست تھا، لہٰذا حضرت ابر ہیم سے پوچھنے لگا تیرا خدا کون ہے؟ حضرت ابراہیم نے کہا وہی جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔ حقیقت میں آپ نے عظیم شاہکارِ قدرت کو دلیل کے طور پر پیش کیا۔ مبداء جہان ہستی کے علم وقدرت کی واضح نشانی یہی قانون موت وحیات ہے لیکن اس نے مکر وتزویر کی راہ اختیار کی اور مغالطہ پیدا کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ لوگوں کو اور اپنے حمایتیوں کو غافل رکھنے کے لئے کہا: وہ تو میں زندہ کرتا اور مارتاہوں اور موت وحیات کا قانون میرے ہاتھ میں ہے(انا احی وامیت) قرآن میں اس کے جملے کے بعد واضح نہیں ہے کہ اس نے اپنے پیدا کئے گئے مغالطے کی تائید کے لئے کس طرح عملی اقدام کیا لیکن احادیث وتواریخ میں آیا ہے کہ اس نے فورا دو قیدیوں کو حاضر کرنے کا حکم دیا۔ قیدی لائے گئے تو اس نے فرمان جاری کیا کہ ایک کو آ زاد کر دو اور دوسرے کو قتل کر دو۔ پھر کہنے لگا: تم نے دیکھا کہ موت وحیا ت کس طرح ہمارے قبضہ میں ہے۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی موت وحیا ت سے متعلق دلیل ہر لحاظ سے قوی تھی لیکن دشمن سادہ لوح لوگوں کو جُھل دے سکتا تھا۔ لہذا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دوسرا استدلال پیش فرمایا کہ خدا آفتا ب کو افقِ مشرق سے نکالتا ہے۔ اگر جہان ہستی کی حکومت تیرے ہاتھ میں ہے تو تو اسے مغرب سے نکال کر دکھا۔ یہا ں دشمن خاموش، مبہوت اور عاجز ہو گیا۔ اس میں سکت نہ رہی کہ اس زندہ منطق کے بارے میں کو ئی بات کرسکے۔ ایسے ہٹ دھرم دشمنوں کو لاجواب کرنے کا یہ بہترین طریقہ ہے۔ یہ مسلم ہے کہ موت وحیات کا مسئلہ کئی جہات سے آسمان اور گردش شمس وقمر کی نسبت پروردگار عالم کے علم وقدرت پر زیادہ گواہی دیتا ہے۔ اسی بناء پر حضرت ابراہیم سے پہلے وہی مسئلہ پیش کیا اور یہ فطری امر ہے کہ صاحب فکر اور روشن ضمیر افراد اس مجلس میں ہوں گے تو وہ اسی دلیل سے مطمئن ہو گئے ہوں گے کیو نکہ ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ ایک قیدی کو آزاد کرنا اور دوسرے کو قتل کر دینا یہ قطعی اور طبعی موت وحیا ت سے بالکل ربط نہیں رکھتا۔ لیکن جو لوگ کم عقل تھے اور اس دور کے ظالم حکمران کے پیدا کردہ مغالطے سے متائثر ہو سکتے تھے ان کی فکر راہ حق سے منحرف ہو سکتی تھی۔ لہٰذا آپ نے دوسرا استدلال پیش کیا اور سورج کے طلوع وغروب کا مسئلہ پیش کیا تاکہ حق ہر دو طرح کے افراد کے سامنے واضح ہو جائے۔ چند اہم نکات ۱۔حضرت ابراہیم کے مدّ مقابل کون تھا: سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم کے مدّمقابل اس اجتماع میں کون تھا اور کون آپ سے حجت بازی کر رہا تھا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن میں اس کے نا م کی صراحت نہیں ہے لیکن فرمایا گیا ہے: ”ان اٰتٰہ اللہ الملک“ یعنی:۔۔۔ اس غرور و تکبر کے باعث جو اس نشہٴ حکومت کی وجہ سے پیدا ہو چکا تھا وہ ابراہیم سے حجت بازی کرنے لگا۔ لیکن حضرت علی علیہ السلام سے منقول در منثور کی ایک حدیث میں اور اسی طرح تواریخ میں اس کا نام ”نمرود بن کنعان“ بیان کیا گیا ہے ۲۔یہ مباحثہ کب ہوا؟: زیر آیت میں اس مبا حثہ کا وقت نہیں بتایا گیا۔ لیکن قرائن سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ واقعہ حضرت ابراہیم کی بت شکنی اور آگ کی بھٹی سے نجات کے بعد کا ہے؛ کیونکہ یہ مسلم ہے کہ آگ میں ڈالے جانے سے قبل اس گفتگو کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا اور اصولی طور پر بت پرست آپ کو ایسے مباحثے کا حق نہ دے سکتے تھے۔ وہ حضرت ابراہیم کو ایک ایسا مجرم اور گنہگار سمجھتے تھے جسے ضروری تھا کہ جتنی جلدی ہو سکے اپنے اعما ل اور خدایان مقدس کے خلاف قیام کی سزا ملے۔ وہ تو انہوں نے بت شکنی کے اقدام کا صرف سبب پوچھا تھا اور اس کے بعد انتہائی غصے اور سختی سے انہیں آگ میں جلانے کا حکم صادر ہوا تھا لیکن جب آپ حیرت انگیز طریقے سے آگ سے نجات پاگئے تو پھر اصطلاحی الفاظ میں ”نمرود کے حضور رسائی ہوئی“اور پھر بحث مباحثہ کے لئے بیٹھ سکے۔ ۳۔ بحث سے نمرود کا مقصد: آیت سے اچھی طرح واضح ہوتا ہے کہ اس بحث اور گفتگو کے ذریعہ نمرود کسی حقیقت کی جستجو نہ کر رہا تھا، بلکہ وہ اپنے باطل موقف کو برتر ثابت کر رہا تھا۔ شاید لفظ ”حاجّ“ اسی مقصد کے لئے استعمال ہوا ہے؛ کیونکہ یہ لفظ عموما ایسے ہی مواقع پر استعمال ہوتا ہے۔ ۴۔ نمرود کا دعوائے الوہیت: آیت سے بھی اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ وہ ظالم حکمران اپنے بارے میں الوہیت کا مدعی تھا۔ یہی نہیں کہ وہ اپنی پر ستش کرواتا تھا، بلکہ اپنے آپ کو عالم ہستی کا پیدا کرنے والا بھی بتاتا تھا۔ یعنی اپنے آپ کو معبود بھی سمجھتا تھا اور خالق بھی۔ ایسا ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ جب لوگ پتھر اور لکڑی کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتے ہیں اور ان کی پر ستش کے علاوہ انہیں امور عالم میں موئثر اور سہیم بھی مانتے ہیں تو ایسا موقع ایک مکار اور ظالم حکمران کے لئے پیش آ سکتا ہے کہ وہ سادہ لوح لوگوں سے فائدہ اٹھائے، انہیں اپنی طرف دعوت دے اور اپنے آپ کو ایک خدا بنا کرپیش کرے تاکہ اس کی بھی پرستش ہو اور لوگ اس کی خالقیت کے سامنے سر جھکائیں۔
بت پرستی کی مختصر تاریخ
ہم یہاں بت پرستی کی مختصر تاریخ بیان کرتے ہیں۔ بت پرستی کی ابتداء کا تعین بہت مشکل ہے۔ قدیم ترین زمانے سے جہاں تک ہمیں انسانوں کی تاریخ معلوم ہے، یہ بت پرستی اُن لوگوں میں موجود رہی ہے جو پست فکر اور گھٹیا تھے۔بت پرستی دراصل، خدا پرستی کے عقیدے کی ایک تحریف ہے۔ خدا پرستی دراصل، انسانوں کی فطرت اور سرشت کا جزء ہے اور شروع سے انسان اسی فطرت اور سرشت کا مالک رہا ہے۔ لہذا اس کی تحریف بھی پست افراد میں ہمیشہ رہی ہے۔ لہذا کہا جاسکتا ہے کہ بت پرستی کی تاریخ تقریبا تاریخ انسان کے ساتھ ساتھ شروع ہوتی ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ انسان اپنی سرشت اور خلقت کے تقاضے کی بناء پر طبیعات سے ماوراء ایک قوت کی طرف متوجہ تھا۔ نظام ہستی کے واضح استدلالات اس سرشت کی تائید کرتے تھے اور ایک ایسے مبداء کی نشان دہی کرتے تھے کہ جو عالم وقادر ہے اورانسان سرشت اور عقل کے ان دونوں طریقوں سے کم و بیش ہمیشہ ہی اس مبداء ہستی سے آشنا رہا ہے۔ لیکن۔۔۔ بھو ک کا احساس جو اس بچہ میں موجود ہے اگر بر محل اس کی رہبری نہ کی جائے اور اسے صحیح غذا نہ دی جائے تو پھر وہ کیچڑ اور اس جیسی چیزوں کی طرف ہاتھ بڑھانے لگتا ہے اور آہستہ آہستہ ایسی چیزوں کا عادی ہو جاتا ہے اور اپنی صحت وسلامتی کھو بیٹھتا ہے۔ اسی طرح انسان کی عقل وفطرت کو ملحوظ رکھتے ہوئے بروقت رہنمائی میسر نہ آئے تو وہ مصنو عی خدا اور طرح طرح کے بتوں کا رخ کر لیتا ہے اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کربیٹھتا ہے اور ان کے لئے خدائی صفات کا قائل ہو جاتا ہے۔ یاد دہانی کی ضرورت نہیں کہ کوتاہ فکر اور بے قوف لوگوں کی کوشس ہو تی ہے کہ ہر چیز کو حسی قالب میں دیکھیں۔ بنیادی طور پر ان کی فکر محسوسات کی دنیا سے آگے قدم نہیں رکھتی اس لئے ان دیکھے خدا کی پرستش ان کے لیے مشکل ہے۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ اپنے خدا کو پیکر محسوس میں دیکھیں۔ یہ جہالت ونادانی جب خدا پرستی کی سرشت سے مل جاتی ہے تو بت پرستی اور خدائے حس کی شکل میں رونما ہو تی ہے۔ دوسری طرف کہا جاتا ہے کہ گذشتہ قومیں اور بزرگان دین کے لئے جو خاص احترام رکھتی ہیں اس کے پیش نظر ان کی وفات کے بعد ان کے مجسمے یادگار کے طور پر بنا لیتی تھیں۔کوتا ہ فکر اور کم فکر لوگوں میں جو جعلی فضائل اور غلو کی روح ہوتی ہے وہ انہیں جوش دلاتی اور مجبور کرتی کہ ان مجسموں کے لئے بلند مرتبوں اور معجزوں کے قائل ہو جائیں اور یوں انہیں سرحد الوہیت تک پہنچا دیں۔ یہ انداز بت پرستی کا دوسرا سرچشمہ ہے۔ بت پرستی کا ایک سرچشمہ یہ بھی تھا کہ موجودات کا ایک سلسلہ جو انسانی زندگی کے لئے سودمند تھا، مثلا چاند، سورج، آگ اور پانی وغیرہ۔ لوگ ان کے سامنے سرتعظیم خم کر دیتے اور اپنی فکر کے افق کو وسیع نہ کرتے کہ جس کے نتیجے میں وہاں سے ماوراء سببِ اوّل اور خالق عالم کو دیکھ پاتے۔ احترام اور تعظیم کے اس انداز نے رفتہ رفتہ بت پرستی کی شکل اختیار کر لی۔ بت پرستی کی تمام اشکال کی جڑ اور بنیاد ایک ہی چیز ہے اور وہ ہے فکری پستی اورجہل ونادانی؛ نیز خدا جوئی اور خدا شناسی کے لئے رہبری کا صحیح نہ ہونا۔ مگر جب انبیا ء کی تعلیم وتربیت اور رہنمائی موجود تھی تو پھر یہ عذر قابل گرفت ضرور ہے۔
واقعے کی تفصیلات
Tafsīr Nemūna · Vol. 1یہ آیت ایک گذشتہ نبی کا دوسرا واقعہ بیان کرتی ہے۔ یہ واقعہ معاد اور قیامت پر ایک زندہ گواہ ہے۔ درحقیقت، گذشتہ آیات جن میں حضر ت ابراہیم کی نمرود سے ہونے والی گفتگو کو بیان کیاگیا تھاتوحید اور خدا شناسی کے بارے میں تھیں اور یہ آیت معاد اور موت کے بعد زندگی کے بارے میں ہے۔ پہلے ہم اجمالی طور پر اس واقعے کو دیکھیں گے اور پھر آیت کی تفسیر کریں گے۔ آیت ایک ایسے شخص کی سرگذشت بیان کر رہی ہے جو اثنائے سفر میں تھا، ایک سواری پر سوار تھا۔کھانے پینے کا کچھ سامان اس کے ساتھ تھا اور ایک آبادی سے گذر رہا تھا جو وحشت ناک حالت میں گری پڑی تھی اور ویران ہو چکی تھی اور اس کے باسیوں کے جسم اور بوسیدہ ہڈیاں نظر آ رہی تھیں۔ جب اس نے یہ وحشت ناک منظر دیکھا تو کہنے لگا: خدا ان مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا؟ ہاں البتہ اس کی یہ بات شک اور انکار کے طور پر نہ تھی، بلکہ از روئے تعجب تھی کیونکہ آیت میں موجود قرائن نشان دہی کرتے ہیں کہ وہ ایک بنی تھے۔ جیسا کہ ایک آیت کے مطابق خدا نے اس سے گفتگو کی۔ روایات بھی اس حقیقت کی تائید کرتی ہیں جس کی طرف ہم بعد میں اشارہ کریں گے۔ خدا تعالی نے اسی وقت اس کی روح قبض کر لی اور پھر ایک سو سال کے بعد اسے زندہ کیا۔اب اس سے سوال کیا کہ اس بیابان میں کتنی د یر ٹھہرے رہے ہو؟ وہ تو یہ خیا ل کرتا تھا کہ یہاں تھوڑی ہی دیر توقف کیا ہے۔ فورا جواب دیا ایک دن یا اس سے بھی کم۔اسے خطاب ہوا: تم ایک سوسال یہاں رہے ہو لیکن اپنے کھانے پینے کی چیزوں کی طرف دیکھو کیسے طویل مدت میں حکم خدا کی وجہ سے ان میں تغیر نہیں آیا۔ اب اس دلیل کے لئے کہ تم جان لو تمہیں سو سال موت کے عالم میں گزر گئے ذرا اپنی سواری کی طرف نگاہ کرو اور دیکھو کہ کھانے پینے کی چیزوں کے برعکس وہ ریزہ ریزہ ہو کر بکھر چکی ہیں اور طبیعت کے عام قوانین اسے اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں اور موت نے اس کے جسم کو منتشر کر دیا ہے۔ اب دیکھو کہ ہم اس کے پراگندہ اجزء کو کیسے جمع کر کے اسے زندہ کرتے ہیں۔ اس نے یہ منظر دیکھا تو کہنے لگا: میں جانتا ہوں کہ خدا ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ یعنی میں مطمئن ہو چکا ہوں اور مردوں کے دوبارہ اٹھنے کا معاملہ متشکل ہو کے میرے سامنے آ گیا ہے۔ اس بارے میں کہ وہ پیغمبر کون تھے، مختلف احتمالات دیئے گئے ہیں۔ بعض نے ”ارمیا“کہا ہے اور بعض ”خضر“سمجھتے ہیں لیکن مشہور یہ ہے کہ وہ ”عزیر“تھے۔ امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک حدیث میں بھی حضرت عزیر کے نام کی تائید ہوتی ہے۔ یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ یہ آبادی کہاں تھی؟ بعض اسے بیت المقدس سمجھتے ہیں جو بخت النصر کے حملوں کی وجہ سے ویران اور برباد ہو چکا تھا لیکن یہ احتمال بعید نظر آتا ہے۔ اب آیت کی تفسیر کی طرف لوٹتے ہیں۔ ”او کالذی مرّ علی قریة وھی خاویة علی عروشھا“ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں یہ آیت گذشتہ آیت کی تکمیل کر رہی ہے۔گذشتہ آیت میں توحید کے بارے میں بحث تھی۔یہ اور اس سے گلی آیت معاد اور قیامت کے حسی نمونے پیش کر رہی ہے۔ ابتدا یوں ہوتی ہے: کیا تو نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو ایک ایسی جگہ سے گذر رہا تھا جو بالکل ویران ہو چکی تھی۔ ”عروش“جمع ہے ”عرش“کی۔ یہا ں ”چھت“کے معنی میں ہے ”خاویة“ در اصل ” خالی“کے معنی میں ہے اور یہاں ویران ہونے کے مفہوم کے لئے کنائے کے طور پر آیا ہے؛ کیونکہ گھر عموما سکونتی ہوتے ہیں اور جو گھرخالی ہو تے ہیں، پہلے سے ویران ہوتے ہیں یا خالی رہنے کی وجہ سے ویران ہو جاتے ہیں۔ اس لئے ”وھی خاویة علی عروشھا“کا مطلب ہے کہ اس آبادی کے سب گھر ویران ہو چکے ہیں لیکن اس شکل میں کہ پہلے ان کی چھتیں گری تھیں اور اس کے بعد ان کی دیواریں زمین بوس ہو گئی تھیں۔ ایسی ویرانی ایک مکمل ویرانی ہوتی ہے کیونکہ کسی عمارت کی تباہی کے وقت عموما پہلے چھت تباہ ہوتی ہے اور ایک مدت تک دیواریں کھڑی رہتی ہیں اور پھر وہ بھی تباہ شدہ چھتوں پر آجاتی ہیں۔ ”قال انّٰی یحی ھٰذہ اللہ بعد موتھا“: ظاہرا اس ماجرے میں پیغمبر کے ساتھ اور کوئی نہیں تھا۔ لہذا انہوں نے اپنے آپ سے کہا: خدا اس بستی کو موت کے بعد کیسے زندہ کرےگا؟ ”قریہ“سے مرا د یہاں بستی والے ہیں۔ یہ جملہ نشان دہی کرتا ہے کہ وہ اس حادثہ میں اہل بستی کی بکھری پڑی ہڈیوں کو اپنی آنکھو ں سے دیکھ کر ان کی طرف اشارہ کر کے یہ کہہ رہے تھے۔ ”فاما تہ اللہ مائۃ عام ثم بعثہ“: اکثر مفسرین اس جملے سے یہ سجھتے ہیں کہ خدا نے پیغمبر مذکور کو ایک سو سال کے لئے مار دیا تھا۔ پھر انہیں زندہ کیا۔”اماتہ“کالفظ بھی جو ”موت‘‘ کے مادہ سے ہے، اسی مفہوم کی طرف اشارہ کرتا ہے لیکن تفسیر المنار کا مولف کہتا ہے: "ممکن ہے یہ ایک قسم کی نیند کی طرف اشارہ ہو، جسے آج کے علماء ”سبات“کہتے ہیں۔جس کے مطابق موجود زندہ ایک طویل مدت تک گہری نیند میں مستغرق رہتا ہے؛ لیکن اس میں شعلہ حیات خاموش نہیں ہوتا۔ جیسا کہ ہم نے اصحاب کہف کے بارے میں پڑھ رکھا ہے۔" پھر وہ مزید لکھتا ہے: ”اس طویل نیند کے بارے اب تک جو اتفاق ہو ا ہے وہ چند سال سے زیادہ نہیں۔ لہذا اس کا سو سال تک طویل ہو جانا خلا ف معمول ہے؛ لیکن یہ مسلم ہے کہ جب چند سال کے لئے ایسا ممکن ہے تو سو سال کے لئے بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ خارق عادت امور قبول کر نے کے لئے جو چیز ضروری ہے وہ یہ ہے کام ممکن ہو، محال عقلی نہ ہو۔" اس تفسیر کے لئے ظاہرا آیت میں کوئی دلیل موجود نہیں، بلکہ آیت کا ظہور یہ ہے کہ پیغمبر مذکور دنیا سے چل بسے اور سو سال کے بعد پھر سے زندہ ہوئے۔ ایسی موت البتہ ایک خارق عادت اور غیر معمولی چیز ہے لیکن محال ہرگز نہیں اور پھر خارق عادت واقعات صرف اسی موقع کے لئے منحصر نہیں کہ ہمیں اس کی توجیہ وتاویل کرنا پڑے۔ بہت سے حیوانا ت ایسے ہیں جو سردیوں کے موسم میں سوئے پڑے رہتے ہیں اور جب ہوا گرم ہوتی ہے تو بیدار ہو جاتے ہیں۔ بعض طبیعی طور پر منجمد ہو جاتے ہیں اور انسا ن بھی جانوروں کو مصنوعی طریقے سے منجمد کر سکتا ہے۔ اگر یہاں چند سال تک کی طویل نیند کے امکا ن کے حوالے سے سو سال تک مردہ رہنے کے بعد زندہ ہونے کو بھی ایک امر ممکن شمار کیا جائے تو یہ ایک اچھی بات ہو گی۔ اس کا معنی یہ ہو گا کہ وہ خدا جو جانورں کو سالہا سال تک طویل نیند یا حالت ِانجماد میں رکھ کر پھر انہیں بیدار کر دیتا ہے اور وہ پہلی حالت پر لوٹ آتے ہیں، وہ اس پر بھی قادر ہے کہ مردوں کو موت کے بعد دوبارہ زندہ کرے۔ اصولی طور پر معاد، قیا مت کے دن مردوں کی دوبارہ زندگی، خارق عا دت واقعات اور ا نبیاء کے معجزات تسلیم کر لینے کا فائدہ یہ ہے کہ تمام آیات قر آن کی طبیعی قوانین کی روشنی میں تفسیر کر نے پر اصرار کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی اور نہ ظاہری مفہو م کے خلاف بیان کرنا پڑتا ہے؛ کیونکہ ایسا کرنا نہ تو ضروری ہے اور نہ ہی صحیح ہے۔ ”قال کم لبثت قال لبثت یوما او بعض یوم“: اس جملہ میں خدا تعالی پیغمبر سے پوچھتا ہے: اس جگہ کتنی دیر ٹھہرے رہے ہو؟ وہ جواب میں تردد سے کہتے ہیں: ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔ جواب میں تردد سے معلو م ہوتا ہے کہ ان کے مرنے کا وقت اور زندہ ہونے کا وقت دن کی کوئی ایک معین گھڑی نہ تھی۔ مثلا موت کا وقت ظہر سے پہلے تھا اور زندہ ہو نے کا وقت زوال کے بعد تھا۔لہذا وہ شک میں پڑ گئے کہ کیا ایک شب وروز گذر گئے ہیں یا دن کے چند گھنٹے گزرے ہیں۔اسی لئے ایک دن کہنے کے بعد پھر تردد کے عالم میں کہا:یا دن کا کچھ حصہ۔لیکن فورا خطاب ہو کہ نہیں، بلکہ تم تو یہاں ایک سو سال سے ٹھہرے ہوئے ہو۔ ”بل لبثت مائة عام ِ“ ”فانظر الی طعامک وشرابک لم یتسنہ“: ”یتسنہ“کا مادہ ہے ”سنة“بمعنی ایک سال۔ ”لم یتسنہ“کا معنی ہے ”اسے ایک سال نہیں گزرا“۔ یہ اس بات کے لئے کنایہ ہے کہ یہ متغیر اور خراب نہیں ہوا۔ اس طرح جملے کا مجموعی معنی یہ ہو گا کہ اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ سالہا سال گذر جانے کے بعد یوں لگتا ہے گویا ان پر ایک سال کا عرصہ بھی نہیں گذرا اور ان میں کوئی تغیر بھی نہیں آیا۔ یعنی وہ خدا جو تیری کھانے پینے کی چیزوں کو ان کی اصل حالت میں محفوظ رکھ سکتا ہے جب کہ قاعدة انہیں بہت جلد فاسد اور خراب ہو جانا چاہیئے اسی خدا کے لئے مردو ں کو زندہ کرنا کیا مشکل ہے۔ کھانے پینے کی چیزوں کو اتنی مدت تک خراب ہونے سے بچانا دراصل، حیا ت کو باقی رکھنا ہے کیونکہ ایسی چیزوں کی مدت عمر تو بالعموم بہت کم ہو جاتی ہے جو کہ بذات خود مردوں کو زندہ کرنے سے آسان تر نہیں ہے۔ (توجہ رہے کہ لم یتسنہ کی ضمیر مفرد ہے جب کہ اس کا تعلق ”طعام“سے بھی ہے اور ”شراب“سے بھی؛ اس لئے ضمیر بظاہر تثنیہ کی ہونی چاہیئے تھی لیکن چونکہ یہا ں مراد جنس ہے اور سب ایک چیز شمار ہوتی ہے لہٰذا ضمیر بھی مفرد کی شکل میں ہے( رہا یہ سوال کہ پیغمبر کے پا س کھانے پینے کی چیزیں کیا تھیں، تو آیت میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ کھانے کے لئے انجیر اور پینے کے لئے کسی پھل کا جوس تھا اور یہ معلوم ہے کہ یہ چیزیں جلدی خراب ہو جاتی ہیں اس لیے ایک طویل مدت تک ان کی بقا ایک اہم امر ہے۔ ”وانظر الی حمارک“: یعنی۔۔۔۔اپنے گدھے کو دیکھو۔ قرآن نے ان کی سواری کے متعلق اس سے زیادہ نہیں کہا لیکن بعد کے جملوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی سوا ری وقت گزرنے کے ساتھ بالکل گل سڑ چکی تھی؛ کیونکہ اس کے علاوہ سو سال گزرنے پر کوئی دلیل نہ تھی۔ یہ خود ایک عجیب وغریب چیز ہے کہ جانور جس کے لئے طویل عمر کا امکان ہے اس کے اجزاء اس طرح بکھر جائیں لیکن پھل اور پھلوں کا جوس جسے بہت جلد خراب ہونا چاہیئے، اس میں کوئی تبدیلی نہ آئے؛ یہاں تک کے اس کا ذائقہ اور بو نہ بدلے۔ یہ خدا تعالی کی انتہائی قدرت نمائی ہے۔ ”ولنجعلک اٰیةللناس“: یعنی یہ واقعہ نہ صرف تمہارے لئے قیامت میں اٹھائے جانے کی دلیل ہے، بلکہ تمام لوگوں کے لئے نشانی ہے۔ ”وانظر الی العظام کیف ننشزھا ثم نکسوھا لحما": ”ننشزھا“کا مادہ ہے ”نشوز“؛ اس کا معنی ہے ”ارتفاع“ اور ”بلند ہونا“ یہاں مراد ہے بکھری ہوئی چیزوں کا جمع ہو کر باہم پیوست ہونا۔ اس بناء پر اس جملے کا معنی یوں ہو گا: بکھری ہو ئی ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم انہیں کیسے اٹھا کر ایک دوسر ے سے پیوست کرتے ہیں اور ان پر گوشت(لباس )پہناتے ہیں اور اسے زیادہ کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ بوسیدہ ہڈیو ں سے مراد ان کی سواریوں کے جانوروں کی ہڈیاں ہیں، نہ کہ اہل بستی کی بوسیدہ ہڈیاں؛ کیونکہ یہ امر گذشتہ جملوں سے مناسبت نہیں رکھتا۔ ”فلما تبیّن لہ قال اعلم ان اللہ علی کل شیء قدیر“ یہ مسائل جب پیغمبر پر آشکار ہو گئے تو وہ کہنے لگے: میں جانتا ہوں کہ خدا ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ یہ با ت قابل توجہ ہے کہ وہ یہ نہیں کہتے کہ میں نے اب جان لیا ہے۔ جب کہ زلیخا کی حضرت یوسف سے گفتگو میں اس طرح ہے: ”الان حصحص الحق“ یعنی اب حق واضح ہوا ہے۔
بہت سے مفسرین اور موٴرخین نے اس آیت کے ذیل میں یہ واقعہ لکھا ہے
بہت سے مفسرین اور مورخین نے اس آیت کے ذیل میں یہ واقعہ لکھا ہے: ایک دن حضرت ابراہیم دریا کے کنارے سے گزر رہے تھے۔ آپ نے ایک مردار دریا کے کنارے پڑا ہوا دیکھا۔ اس کا کچھ حصہ دریا کے اند ر اور کچھ حصہ دریا کے باہر تھا۔ دریا اور خشکی کے جانور دونو ں طرف سے اسے کھا رہے تھے بلکہ کھاتے کھاتے ایک دوسرے سے لڑنے لگتے تھے۔اس منظر نے حضرت ابراہیم کو ایک ایسے مسئلے کی فکر میں ڈال دیا جس کی کیفیت سب تفصیل سے جا ننا چاہتے ہیں اور وہ ہے موت کے بعد مردوں کے زندہ ہونے کی کیفیت۔ ابراہیم سوچنے لگے کہ ا گر ایسا ہی انسانی جسم کے ساتھ ہو اور انسا ن کا بدن جانوروں کے بدن کا جز بن جائے تو قیامت میں اٹھنے کا معاملہ کیسے عمل میں آئے گا جب کہ وہاں انسا ن کو اسی بدن کے ساتھ اٹھنا ہے۔ حضرت ابراہیم نے کہا: خدایا! مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا۔اللہ تعالی نے فرمایا: کیا تم اس بات پر ایمان نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا: ایمان تو رکھتا ہوں لیکن چاہتا ہوں ایمان کو تسلی ہو جائے۔ خداتعالی نے حکم دیا: چار پرندے لے لو اور ان کا گوشت ایک دوسرے سے ملا دو۔ پھر اس سارے گوشت کے کئی حصے کر دو اور ہر حصہ ایک پہاڑ پر رکھ دو۔اس کے بعد ان پرندوں کو پکارو تاکہ میدان حشر کا منظر دیکھ سکو۔ انہوں نے ایسا ہی کیا تو انتہائی حیرت کے ساتھ دیکھا پرندوں کے اجزاء مختلف مقامات سے جمع ہو کر ان کے پاس آگئے ہیں اور ان کی ایک نئی زندگی کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس مشہور واقعہ کے مقابلے میں ایک مفسر ابو مسلم نے ایک نظریہ پیش کیا ہے جسے مشہور مفسر فخر رازی نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔ ابو مسلم کا نظریہ باقی مفسرین کے برخلا ف ہے لیکن چونکہ ایک معاصر مفسر مولف المنار نے اس کی تائید کی ہے، لہذا ہم اسے نقل کرتے ہیں۔ موصوف نے کہا ہے کہ آیت اس بات پر ہرگز دلالت نہیں کرتی کہ حضرت ابراہیم نے پرندوں کو ذبح کیا اور پھر حکم خدا سے انہیں زندہ کیا۔ بلکہ آیت میں تو مسئلہ حشرونشر واضح کرنے کے لئے ایک مثال پیش کی گئی ہے۔ یعنی اے ابراہیم! چار پرندے لے لو اور انہیں اپنے ساتھ ایسے مانوس کر لو کہ جب انہیں پکارو تو تمہارے پاس آجائیں۔ اگرچہ ان میں سے ہر ایک کو پہاڑ کی چوٹی پر بٹھا دو تو یہ کام تمہارے لئے کتنا آسان ہے۔ اسی طرح مردوں کو زندہ کرنا اور مختلف مقامات عالم سے ان کے پراگندہ اجزاء جمع کرنا بھی خدا کے لئے آسان ہے۔ اس لئے خدا نے ابراہیم کو جو پرندوں کے بارے میں حکم دیا تھا وہ یہ نہ تھا کہ وہ ایسا کوئی کام کریں؛ صرف ایک مثال اور تشبیہ کے ذریعہ بیان کیا گیا تھا۔یہ بعینہ ایسا ہے جیسے کوئی دوسرے سے کہے کہ میں فلاں کام نہایت آسانی اور تیزی کر سکتا ہوں۔ بس تم پانی کا ایک گھونٹ پیو اور میں یہ کام کئے دیتا ہوں۔ یعنی میرے لئے اس قدر آسان ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوسرے پر پانی کا پینا فرض ہو گیا ہے۔ دوسرے نظریے کے حامی ”صُرھنّ الیک“سے استدلال کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب لفظ ”الی“سے متعدی ہو تو اس کا معنی ہوتا ہے ”مائل“کرنا اور ”مانوس بنانا“۔ اس لئے جملے کا مفہوم ہو گا کہ مذکورہ پرندوں کو اپنے ساتھ مانوس کرو۔ علاوہ ازیں، ”صرھن“ ”منھن“ اور ”ادعھن“ کی ضمیریں پرندو ں کی طرف لوٹتی ہیں اور یہ اسی صورت میں صحیح ہے کہ ہم دوسری تفسیر کو درست مان لیں۔ کیونکہ پہلی تفسیر کے مطابق بعض ضمیریں پرندوں سے متعلق ہیں اور بعض ان کے اجزاء سے متعلق جب کہ یہ مناسب دکھائی نہیں دیتا۔ ان استدلالات کا جواب ہم آیت کی تفسیر میں بیان کریں گے لیکن جس بات کی طرف یہاں اشارہ کرنا ضروری ہے وہ یہ کہ آیت یہ حقیقت وضاحت سے پیش کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم نے حشر ونشر کے محسوس مشاہدے کا تقاضا کیا تھا تاکہ ان کا دل مطمئن ہو جائے اور واضح ہے کہ ایک مثا ل حشر ونشر کی منظرکشی نہیں کرسکتی اور نہ ہی دل کے لئے باعث اطمینان ہو سکتی ہے۔ درحقیقت، عقل ومنطق کے ذریعے تو حضرت ابراہیم پہلے ہی حشرو نشر پر ایمان رکھتے تھے لیکن وہ چاہتے تھے کہ وہ اس کا حسی طور پر مشاہدہ کریں۔ اب ہم آیت کی تفسیر کی طرف لوٹتے ہیں تاکہ واضح ہو جائے کہ کون سا نظر یہ تفسیر سے میل کھاتا ہے۔ ”و اذ قال ابراہیم رب ارنی کیف تحی الموتی“: جیسا کہ پہلے بھی اشارہ ہوچکا ہے کہ حشر ونشر کے بارے میں یہ آیت گذشتہ آیت کے موضوع کی تکمیل کرتی ہے۔ ”ارنی کیف۔۔۔۔۔۔“ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم مشاہدہ، رویت اور شہود کا تقاضا کر رہے تھے اور وہ بھی اصل معاد کا نہیں، بلکہ اس کی کیفیت کا۔ ”قال اولم تومن قال بلی ولٰکن لیطمئن قلبی“: ممکن تھا کہ مذکورہ مطالبے پر لوگ حضرت ابراہیم کے ایمان کے بارے میں تزلزل کا گمان کرتے۔ لہٰذا انہیں وحی ہو ئی: تو کیا تم ایمان نہیں لائے ہو؟ یہ اس لئے تھا تاکہ وضاحت ہو جائے اور اس واقعے سے کسی کو غلط فہمی نہ ہو۔ لہٰذا انہوں نے کہا: جی ہاں، میرا ایمان تو ہے لیکن چاہتا ہوں دل مطمئن ہو جائے۔ ضمنا اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ مسئلے میں علمی اور منطقی دلائل سے یقین پیدا ہو جائے لیکن اطمینان قلب نہ ہو؛ کیونکہ استدلال عقل انسانی کو تو راضی کر لیتا ہے لیکن دل اور جذبا ت انسانی کو نہیں۔ جو دونوں کو سیراب کرتا ہے وہ عینی شہود اور حسی مشاہدات ہی ہیں۔ یہ ایک اہم بات ہے جس کے بارے میں اس کے مقام پر مزید وضاحت کریں گے۔ ”قال فخذ اربعة من الطیر فصرھن الیک ثم اجعل علی کل جبل منھن جزءا“ ”صرھن“کا مادہ ہے”صور“ (بر وزن ”قول“اس کا معنی ہے ”ٹکڑے کرنا“، ”مائل کرنا“اور ”بلند آواز سے پکارنا“۔ یہاں پہلا معنی ہی مناسب ہے۔یعنی چار پرندے انتخاب کر لو، انہیں ذبح کرو اور انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے ایک دوسرے سے ملا دو۔ مقصد یہ تھا کہ حضرت ابراہیم حشرونشر اور مردوں کے اجزاء بدن کے بکھر جانے کے بعد زندہ ہونے کے نمونے کا مشاہدہ کر لیں اور یہ بات پکارنے اور مایل کرنے کے معانی سے حاصل نہیں ہوتی؛ خصوصا جب کہ آیت کا بعد کاحصہ کہتا ہے: پھر ” ہر پہاڑ پر ان میں سے ایک حصہ رکھ دو“۔ آیت کا یہ حصہ واضح گواہی دے رہا ہے کہ پہلے پرندوں کو ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا ہے اور ان کے اجزاء بنے ہیں۔ جو لوگ ”صرھن“کا ترجمہ”مانوس اور مائل کرنا“کرتے ہیں وہ دراصل، ”جزء" کے معنی سے غافل ہیں-
چار پرندے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1۱۔چار پرندے: اس میں شک نہیں کہ مذکورہ چار پرندے مختلف انواع میں سے تھے کیونکہ اس کے بغیر حضرت ابراہیم کا مقصد پورا نہیں ہوتا تھا۔اس کے لئے ضروری تھا کہ ہر ایک کے اجزاء اس کے اصلی بدن میں واپس آئیں اور یہ مختلف انواع ہونے کی صورت میں ہی ظاہر ہو سکتا ہے۔ مشہور روایات کے مطابق وہ چار پرندے مور، مرغ، کبوتر اور کوّا تھے جو کئی پہلووں سے ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں، بعض ان پرندوں کو انسانوں کی مختلف صفات اور جذبات کا مظہر سمجھتے ہیں۔ مور: خود نمائی، زیبائش اور تکبر کا مظہر ہے٫ مرغ: شدید جنسی میلانات کا مظہر ہے۔ کبوتر: لہوولعب اور کھیل کود کا مظہر ہے۔ اور کوّا: لمبی چوڑی آرزووں اور تمناوں کا مظہر ہے۔
پہاڑوں کی تعداد
جن پہاڑوں پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پرندوں کے اجزاء رکھے تھے ان کی تعداد کی صراحت قرآن حکیم میں نہیں ہے لیکن روایا ت اہل بیت میں یہ تعداد دس بتائی گئی ہے۔اسی لئے بعض روایا ت میں آیا ہے کہ کوئی شخص وصیت کر جائے کہ اس کے مال کا ایک جزء فلاں سلسلے میں خرچ کرنا اور اس کی مقدار معین نہ کی جائے تو مال کا دسواں حصہ دینا کافی ہے۔ (بحوالہ: تفسیر نورالثقلین۔ جلد اول ، ص ۲۷۸)۔
واقعہ کب رونما ہوا
یہ واقعہ کب پیش آیا؟ جب حضرت ابراہیم بابل میں تھے یا جب شام چلے آئے تھے؟ یوں لگتا ہے کہ شام میں آنے کے بعد کا واقعہ ہے کیونکہ سرزمین بابل میں پہاڑ نہیں ہیں۔
شام آنے کے بعد کا واقعہ
ثم ادعھن یاتینک سعیا“: ”پھر انہیں پکارو تو وہ تیزی سے تمہاری طرف آئیں گے“ اس موقع پر ایک پرندے کے بکھرے ہوئے اجزاء جمع ہوئے اور آپس میں مل گئے اور پرندے نئے سرے سے زندہ ہو گئے۔ البتہ ایسا ہونا بالکل خارق عادات اور خلاف معمول ہے؛ لیکن اگر ہم خدا کو طبیعی قوانین پر حاکم سمجھیں نہ کہ محکوم، تو پھر مسئلے میں کوئی پچیدگی نہیں رہے گی۔ ضمنا یہ بھی ایک پہلو ہے کہ بعض نے لفظ ”سعیا“سے یہ سمجھا ہے کہ پرندے ز ندہ ہونے کے بعد پرواز نہ کر سکے بلکہ دوڑ کر ابراہیم کے پاس آئے ”سعیا‘‘، عموما لغت میں عرب میں “تیزی سے چلنے کے معنی میں استعمال ہو تا ہے۔ خلیل بن احمد مشہور عربی ادیب سے منقو ل ہے کہ ابراہیم چل رہے تھے کہ پرندے ان کے پاس آئے (یعنی ”سعی“ ابراہیم سے متعلق ہے پرندو ں سے نہیں)۔ بہر حال ان تمام باتو ں کے باوجود کوئی مانع نہیں کہ ”سعیا“ سریع اور تیز پرواز کے لئے کنایہ ہو۔ ”واعلم ان اللہ عزیز حکیم “ جب ابراہیم یہ حیرت انگیز منظر دیکھ چکے تو انہیں وحی ہوئی کہ یہ واقعہ دیکھ کر جان لو کہ خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور اس کے تمام کام حکمت کے ماتحت ہیں اور لامتناہی علم قدرت رکھنے کی وجہ سے اس کے لئے مردوں کے منتشر اجزاء کا جاننا اور انہیں جمع کر نا کوئی مشکل نہیں۔ معاد جسمانی قیامت کے بارے میں قرآن مجید میں آنے والی بہت سی آیات معاد جسمانی کی تو ضیح وتشریح کرتی ہیں۔ اصولی طور پر جن لوگوں کا قرآن میں آیات معاد سے رابطہ ہے وہ جانتے ہیں کہ قرآن میں معاد سے مراد معاد جسمانی کے علاوہ کچھ بھی نہیں اور معاد جسمانی کا یہ مطلب ہے کہ حشر ونشر کے وقت یہ جسم بھی پلٹ آئے گا اور روح بھی اسی لئے تو قرآن میں اسے ”احیاء الموتی“(مردوں کوزندہ کرنا)کہا گیا ہے اور اگر قیامت صر ف روحانی پہلو کی حامل ہو تی تو زندہ کرنے کا کوئی اصلا مفہوم ہی نہ تھا۔ زیر بحث آیت بھی صراحت سے اسی بدن کے منتشر اجز اء کا لوٹنا بیان کر رہی ہے جس کا نمونہ حضرت ابراہیم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
شبہٴ آ کل وماٴکول
مردوں کے زندہ ہونے کا منظر مشاہدہ کرنے کا تقاضا حضرت ابراہیم نے جس وجہ سے کیا تھا اس کی تفصیل بیان ہو چکی ہے اور وہ تھا مردہ جانور کا دریا کے کنارے پڑا ہونے کا واقعہ جسے جانور کھا رہے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم کا تقاضا زیادہ تر یہ تھا کہ ایک جانور کا بدن دوسرے جانور کا جزء بننے کے بعد اپنی اصلی صورت میں کیسے پلٹ سکتا ہے۔علم عقائد میں اسی بحث کو ”شبہٴ“آکل ماکول کہا جاتا ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ قیامت میں خدا انسان کو اسی مادی جسم کے ساتھ پلٹائے گا۔ اصطلاحی الفاظ میں کہا جاسکتا ہے کہ جسم اور روح دونوں پلٹ آئیں گے۔ اس صورت میں یہ اشکال سامنے آتا ہے کہ اگر ایک انسا ن کا بدن خاک ہو جائے اور درختوں کی جڑوں کے ذریعہ کسی سبزی اور پھل کا جزء بن جائے پھر کوئی دوسرا انسان اسے کھا لے اور اب یہ ا س کے بدن کاجزء بن جائے یا مثال کے طور پر قحط سالی میں ایک انسا ن دوسرے انسا ن کا گوشت کھا لے تو میدان حشر میں کھائے ہوئے اجزاء ان دونوں میں سے کس کے بدن کا جزء بنیں گے؟ اگر پہلے بدن کا جزء بنیں تو دوسرا بدن ناقص اور دوسرے کا بنیں تو پہلا بدن ناقص رہ جائے گا۔ اس کا جواب یہ ہے:۔ فلاسفہ اور علم عقائد کے علما ء نے اس قدیم اعتراض کے مختلف جواب دیئے ہیں، یہا ں سب کے بارے میں گفتگو کرنا ضروری نہیں۔بعض علماء ایسے بھی ہیں جو قابل اطمینان جواب نہیں دے سکے اس لئے انہیں معاد جسما نی سے مربوط آیات کی توجیہ وتاٴویل کرنا پڑی اور انہوں نے انسان کی شخصیت کو روح اور روحانی صفات میں منحصر کر دیا۔ حالانکہ انسانی شخصیت صرف روح پر منحصر نہیں اور نہ ہی معاد جسمانی سے مربوط آیا ت ایسی ہیں کہ ان کی تاویل کی جاسکے بلکہ جیسا کہ ہم کہ چکے ہیں وہ کاملا صریح آیات ہیں۔ بعض لوگ ایک ایسی معاد کے بھی قائل ہیں جو ظاہراَ جسمانی ہے لیکن معاد روحانی سے اس کا کوئی خاص فرق نہیں۔ لیکن ہم یہاں قرآنی آیات کے حوالے سے ایک ایسا واضح راستہ اختیار کریں گے جو دور حاضر کے علوم کی نظر میں بھی صحیح ہے۔ البتہ اس کی وضاحت کے لئے چند پہلووں پر غور کی ضروت ہے۔ ۱۔ ہم جانتے ہیں کہ انسا نی بدن کے اجزاء بچپن سے لے کر موت تک بارہا بدلتے رہتے ہیں یہاں تک کہ دماغ کے خلیے اگرچہ تعداد میں کم یا زیادہ نہیں ہوتے پھر بھی اجزاء کے لحاظ سے بدل جاتے ہیں کیو نکہ وہ ایک طرف سے وہ غذاحاصل کرتے ہیں اور دوسری طرف ان کی تحلیل ہوتی رہتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ ایک مکمل تبدیلی واقع ہو جاتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ دس سال سے کم عر صے میں انسانی بدن کے گذشتہ ذرات میں سے کچھ باقی نہیں رہ جاتا لیکن توجہ رہے کہ پہلے ذرات جب موت کی وادی کی طرف روانہ ہوتے ہیں اپنے تمام خواص اور آثار نئے اور تازہ خلیوں کے سپرد کرجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی جسم کی تمام خصوصیات رنگ، شکل اور قیافہ سے لے کر دیگر جسمانی کیفیات تک زمانہ گزرنے کے باوجود اپنی جگہ پر قائم رہتی ہیں اور اس کی و جہ یہی ہے کہ کہ پرانی صفات نئے خلیوں میں منتقل ہو جاتی ہیں (غورر کیجئے گا)۔ اس بنا ء پر ہر انسان کے بدن کے آخری اجزاء جو موت کے بعد خاک میں تبدیل ہوجاتے ہیں وہ سب اس صفات کے حامل ہوتے ہیں جو اس نے پوری عمر میں کسب کئے ہیں اور یہ صفات انسانی جسم کی تمام عمر کی سرگذشت کی بولتی ہوئی تاریخ ہوتی ہیں۔ ۲۔یہ صحیح ہے کہ انسانی شخصیت کی بنیاد روح سے پڑتی ہے لیکن توجہ رہناچاہیئے کہ روح کی پرورش جسم کے ساتھ ہوتی ہے اور جسم ہی ساتھ ہی روح تکامل و ارتقاکی منزل حاصل ہو تی ہے اور دونوں ایک دوسرے کے متقابل تاثیر رکھتے ہیں۔ اسی لئے جیسے دو جسم تمام جہات سے ایک دوسرے سے شباہت نہیں رکھتے، دو روحیں بھی تمام پہلووں سے ایک دوسرے سے مشابہ نہیں ہوتیں۔ اسی بنا ء پر کوئی روح اس جسم کے بغیر مکمل اور وسیع مفاہمت اور کارکردگی باقی نہیں رکھ سکتی جس کے ساتھ اس نے پرورش پائی ہو اور تکامل وارتقاء حاصل کیا ہو۔ لہٰذا ضروری ہے کہ قیا مت میں وہی سابق جسم لوٹ آئے تاکہ اس سے وابستہ ہو کر روح عالی تر مرحلے میں نئے سرے سے اپنی فعالیت کا آغاز کرے اور اپنے انجام دیے ہوئے نتائج سے بہرہ مند ہو۔ ۳۔انسانی بدن کا ہر ذرہ اس کے تمام مشخصات جسمی کا حامل ہو تا ہے۔ یعنی ا گر واقعا ہم بدن کے ہر خلیے (Cell) کی پرورش کر کے اسے ایک مکمل انسان بنا لیں تو وہ انسا ن اس شخص کی تمام صفات کا حامل ہو گا جس کا جزء لیا گیا ہے (یہ امر بھی قابل غور ہے)۔ پہلے دن انسان ایک خلیے سے زیادہ تھا۔ پہلے نطفہ کا خلیہ تھا۔ اسی میں انسا ن کی تمام صفات موجود تھیں۔ تدریجا وہ تقسیم ہو اور دو خلیے بن گئے پھر دو سے چار ہوئے اور رفتہ رفتہ انسانی بدن کے تمام خلیے وجود میں آگئے۔ اسی بناء پر انسانی جسم کے تمام خلیے پہلے خلیے کی طرح پرورش ہو تو ہر ایک لحاظ سے ایک پورا انسان ہو گا جو بعینہ پہلے خلیے سے وجود میں آنے والے انسان کی سی صفات کا حامل ہوگا۔ ان مندرجہ بالا تین مقدمات کو سامنے رکھتے ہوئے اب ہم اصل اعتراض کا جواب پیش کرتے ہیں۔ آیا ت قرآنی صراحت سے کہتی ہیں کہ اُخری ذرات جو موت کے وقت انسا نی بدن میں ہوتے ہیں، قیامت کے دن انسان انہی کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ (ان آیات کا مطالعہ کیجئے جن میں فرمایا گیا ہے کہ لوگ اپنی قبروں سے ز ندہ ہوں گے(۔ اس بناء پر اگر کسی دوسرے انسا ن نے کسی کا گوشت کھایا ہو تو وہ اجزاء اس کے بدن سے خارج ہو کر اصلی بدن میں پلٹ آئیں گے۔ اب یہ سوال رہ جاتا ہے کہ پھر دوسرے کا بدن توضرور ناقص ہو جائے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ناقص نہیں ہو گا بلکہ چھوٹا ہو جائے گا؛ کیونکہ اس کے اجزاء بدن سارے جسم میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اب جب وہ اس سے لے لیے جائیں گے تو اسی نسبت سے دوسرا بدن مجموعی طور پر لاغر ہو جائے گا۔ مثلا ایک انسا ن کا وزن ساٹھ کلو ہے۔اس میں سے چالیس کلو دوسرے کے بدن کا حصہ تھا وہ لے لیا گیا تو باقی بیس کلو کا چھوٹا سا بدن رہ جائے گا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ اس طرح کوئی مشکل تو پیدا نہیں ہو گی؟ جواب یہ ہے کہ یقینا نہیں ہو گی کیونکہ یہ چھوٹا سا بدن بلا کم وکاست دوسرے شخص کی تمام صفات کا حامل ہے۔ روز قیامت ایک چھوٹے بچے کی طرح اس کی پرورش ہو گی اور وہ بڑا ہو کر مکمل انسان کی شکل میں محشور ہو گا، حشرونشر کے موقع پر ایسی پرورش وتکامل میں عقلی اور نقلی طور پر کوئی اشکال نہیں۔ یہ پرورش محشور ہوتے وقت فوری ہوگی یا تدریجی ۔۔۔یہ ہمارے سامنے وا ضح نہیں ہے لیکن ہم اتنا جانتے ہیں کہ جو صورت بھی ہو اس سے کوئی اعتراض پیدا نہیں ہو سکتا اور دونوں صورتوں میں مسئلہ حل شدہ ہے۔ ایک سوال اب یہاں باقی رہ جاتا ہے وہ یہ کہ اگر کسی شخص کا سارا جسم دوسرے کے اجزاء سے تشکیل پایا ہو تو اس صورت میں کیا بنے گا؟ اس سوال کاجواب بھی واضح ہے کہ اصولی طور پر ایسا ہونا محال ہے کیونکہ ماٴکو ل وآکل کے مسئلہ کی بنیاد یہ ہے کہ ایک بدن پہلے موجود ہو اور وہ دوسرے بدن سے کھائے اور یو ں پرورش پائے۔ لہٰذا یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی بدن کے تمام اجزاء دوسرے بدن سے تشکیل پائیں۔ پہلے ایک بدن فرض کرنا ہو گا اس طرح دوسرے بدن کا جزء بنے گا نہ کہ کل (غور کیجئے گا)۔ ہم نے جو کچھ کہا ہے اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ ایسے بدن سے معاد جسمانی کے مسئلے پر کوئی اعتراض پیدا نہیں ہو تا اور جن آیا ت میں اس مفہوم کی صراحت کی گئی ہے، ان کی کسی توجیہ کی کوئی ضرورت نہیں۔
انفاق۔طبقاتی تفاوت کا ایک حل
Tafsīr Nemūna · Vol. 1معاشرے کی ایک مشکل جس سے انسان ہمیشہ دوچار رہتا ہے اور باوجود اتنی صنعتی اور مادی ترقی کے انسان اس میں مبتلا ہے وہ طبقاتی تفاوت ہے۔ ایک طرف فقر،بے چارگی اور تنگدستی ہے اور دوسری طرف مال ودولت کے ڈھیر ہیں۔ کچھ وہ لوگ ہیں کہ انہیں اپنی دولت کا اندازہ نہیں اور کچھ وہ ہیں کہ فقروفاقہ کی ایسی تکلیف دہ حالت سے دوچار ہیں کہ ضروریا ت زندگی مثلا کھانا، رہائش اور سادہ لباس بھی مہیا کرنا ان کے لئے ممکن نہیں۔ واضح ہے کہ جس معاشرے کا ایک حصہ دولت وثروت کے پائے پر اور دوسرا اہم حصہ فقروفاقہ کے پائے پر کھڑا ہو زندہ نہیں رہ سکتا اور ہرگز کسی حقیقی سعادت تک نہیں پہنچ سکتا۔ایسا معاشرہ اضطراب، پریشانی، نفرت اور آخرکار دشمنی کا شکار ہو جاتا ہے اور اس میں جنگ ناگزیر ہوتی ہے۔اگر چہ گذشتہ زمانوں میں بھی انسانی معاشروں میں یہ اختلاف رہا ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے زمانے میں یہ طبقاتی فاصلہ زیادہ ہوگیا ہے اور خطرنا ک ترین صورت اختیار کر چکا ہے۔ حالت یہ ہے کہ ایک طر ف سے حقیقی معنی میں انسانی ہمدردی، تعاون اور مدد کے دروازے بند ہو چکے ہیں۔ سود جوکہ طبقاتی اختلاف کا بہت بڑا سبب ہے اس کا دروازہ کئی مختلف شکلوں میں کھل چکا ہے۔کمیو نزم جیسے نظاموں کی پیدئش،خون ریزیاں، چھوٹی اور بڑی وحشت ناک جنگیں اس صدی کی پیداوار ہیں۔یہ جنگیں ابھی تک دنیا کے مختلف حصوں میں جاری ہیں۔ان سب حالات کی زیادہ تر بنیادیں اقتصادی ہیں اور یہ انسانی معاشروں میں سے اکثریت کی محرومیت کا نتیجہ ہیں۔ دنیا کے اقتصادی ماہرین اور مکاتب اس عظیم اجتماعی مشکل کی چارہ جوئی اور حل کی فکر میں لگے ہوئے ہیں، ہر ایک نے ایک راستہ انتخاب کر لیا ہے۔کمیونزم نے انفرادی ملکیت کو لغو قرار دے دیا ہے اور سرمایہ داری نے بھاری مالیات وصول کر کے عام لوگوں کے فائدہ کے نا م پر ادارے قائم کر دیئے ہیں(جو طبقاتی تفاوت کے حل کے بجائے زیادہ تر دکھاوے پر مبنی ہیں)یہ سب اپنے تئیں طبقاتی فاصلوں کو سمیٹنے کے در پے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ان میں سے کوئی بھی اس راستے میں موثر قدم نہیں اٹھا سکا۔ کیونکہ روح مادہ پرستی جو اس وقت دنیا پرحکمران ہے اس کی موجودگی میں اس مسئلے کا حل ممکن نہیں۔ قرآن مجید کی آیات میں غو ر کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام کا ہدف اور مقصد یہ ہے کہ معاشرے میں سے غیر عادلانہ اختلاف ختم ہو جائیں جو اجتماعی بے انصافی کی وجہ سے غریب اور امیر طبقے میں پائے جاتے ہیں اور جو لو گ دوسروں کی مدد کے بغیر اپنی ضروریات زندگی پوری نہیں کر سکتے ان کی سطح زندگی بلند ہو جائے اور کم ا ز کم لوگوں کے پاس لوازمات زندگی تو ضرور ہونا چاہئیں۔ اس مقصد تک پہنچنے کے لئے اسلام کے پاس ایک وسیع پروگرام ہے۔اسلام نے سود خواری مطلقا حرام قرار دی ہے۔زکوٰة وخمس وغیرہ جو کہ اسلامی مالیات ہیں ان کی ادائیگی واجب قرار دی ہے۔انفاق، خرچ کرنے، وقف کرنے،قرض حسنہ دینے اور مختلف قسم کی مالی امداد دینے کا شوق پیدا کرنا بھی اسی پروگرام کا ایک حصہ ہے اور ان سب سے زیادہ روح ایمانی پیدا کرنا اور انسانی بھائی چارے کو زندہ کرنا اسلامی پروگرام کی عظمت ہے۔ ”مثلالذین ینفقون اموالھم فی سبیل اللہ کمثل حبة“ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس آیت میں انفاق اور خرچ کرنے سے مراد جہاد میں خرچ کرنا ہے۔ اس لئے کہ اس سے قبل آیات میں جہاد کی گفتگو آئی ہے۔لیکن واضح ہے کہ یہ مناسبت تخصیص کاسبب نہیں بنتی کیونکہ ”سبیل اللہ‘‘مطلقاآیا ہے جس میں ہر نیک مصرف شامل ہے۔علاوہ ازیں، بعد کی آیات گواہی دیتی ہیں کہ ان تمام آیات میں جہاد کے علاوہ دوسری بحث ہو رہی ہے اور ”انفاق“اور خرچ کرنے کی بحث کا مستقل طور پر پیچھا کیا گیا ہے۔تفسیر مجمع البیان کے مطابق روایات میں بھی آیت کے عمومی مفہوم کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ اس آیت میں راہ خدا میں خرچ کرنے والے ا شخاص کو پربرکت دانے سے تشبیہ دی گئی ہے جسے مستعد اور قابل زمین میں ڈالا جائے۔چاہیے تو یہ تھا کہ ان اشخاص کو دانے سے تشبیہ نہ دی جا تی بلکہ ان کے ”انفاق“اور خرچ کرنے کو دانے سے تشبیہ دی جاتی یا خود انہیں بیج ڈالنے والے انسان سے تشبیہ دی جاتی۔ اسی لیے بعض مفسرین نے کہا ہے کہ آیت میں کوئی لفظ حذف ہو گیا ہے یا لفظ”صدقات“”الذین “سے پہلے یا لفظ”باذر“”حبۃ“سے قبل فرض کرنا چاہیئے۔ لیکن آیت میں ایسی کوئی دلیل اور قرینہ نہیں کہ حذف یا فرض کرنے کا معاملہ درپیش ہو۔ انفاق اور خرچ کرنے والے افراد کو پر بر کت دانوں سے تشبیہ بڑی جاذب نظر ہے اور یہ ایک عمیق اور گہری بات ہے۔ قرآن یہ کہنا چاہتا ہے کہ ہر شخص کا عمل اس کے وجود کا پرتو ہے اور عمل میں جتنی وسعت پیدا ہو گی دراصل ا تنی ہی وسعت انسانی وجود میں پیدا ہوتی ہے۔کیا ایسا نہیں کہ انسانی اعمال انسانی قوتوں کی تبدیل شدہ صورت ہیں۔ زیادہ واضح الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ قر آن انسان کے عمل کو اس کے وجود سے جدا نہیں سمجھتا اور دونوں کو ایک ہی حقیقت کی مختلف شکلیں قرار دیتا ہے۔ اس بناء پر آیت بغیر کسی حذف اور مفروضے کے قابل تفسیر ہے اور یہ ا یک عقلی حقیقت کی طرف اشارہ ہے یعنی ایسے نیک لوگ ایک پر ثمر بیج کی طرح ہیں جو ہر طرف اپنی جڑیں اور شاخیں پھیلاتا ہے اور تمام جگہیں اس کے پروبال کے سائے میں آجاتی ہیں۔ ”انبتت سبع سنابل فی کل سنبلة مائةحبة“ اس جملے میں قرآن اس پر بر کت دانے کی توصیف یوں کرتا ہے: اس سے سات سنبل اورخوشے اگتے ہیں، ان میں سے ہر ایک خوشے میں سو دانے ہیں۔یوں وہ اپنی اصل سے سات سو گنا ہو جاتے ہیں۔ کیا یہ ایک فرضی تشبیہ ہے کیا ایساکوئی دا نا نہیں ہے جس سے سات سو دانے نکلیں یا پھر اس سے مراد ”ارزن“(باریک دانوں والا ایک غلہ؛ مترجم) کے دانوں جیسے دانے ہیں جن میں ایسی تعداد دیکھی جا سکتی ہے چونکہ کہتے ہیں کہ گندم وغیرہ میں تعداد نظر نہیں آتی۔ لیکن یہ با ت قابل توجہ ہے کہ چند سال پیشتر ایک مرتبہ کثرت سے بارشیں ہوئیں تو اخبارات یہ میں خبر شائع ہوئی کہ بوشہر (ایران کا ایک شہر؛ مترجم) کے گرد ونواح کے بعض کھیتو ں میں گندم کے تنے بہت بلند اور پر خوشہ تھے اور ان میں سے بعض اوقات ایک ہی تنے میں گندم کے چار ہزار تک دانے موجود تھے۔ یہ خود ایک دلیل ہے کہ قرآن کی تشبیہ واقعا ایک مکمل تشبیہ ہے۔ ”واللہ یضاعف لمن یشاء واللہ واسع علیم“: ”یضاعف“کا مادہ ہے ”ضعف “(بروزن ”شعر“)یہ دوگنا یا چند گنا کے معنی میں ہے۔ اس لئے اس جملے کا مفہوم یہ ہو گا کہ خدا جس لے لئے چاہے، اس برکت کو زیادہ کر دے اور دوگنا یا کئی گنا کر دے۔ مندرجہ بالا تحریر کو نظر میں رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ کچھ دانے ایسے بھی ہیں جو سات سو سے یا کئی گنا زیادہ ثمر دیتے ہیں؛ اس بناء پر یہ تشبیہ ایک حقیقت کی حیثیت رکھتی ہے۔
پروردگار کی وسعت
آیت کے آخری حصے میں پروردگار کی وسعتِ قدرت اور تمام چیزوں سے آ گاہی کی نشان دہی کی گئی ہے تاکہ خرچ کرنے والے جا ن لیں کہ وہ ان کے عمل اور نیتوں سے بھی آگاہ ہے اور ہر قسم کی برکت عطا کرنے پر قدرت بھی رکھتا ہے۔
کس انفاق کی قدر وقیمت ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1اس آیت میں بھی انفاق فی سبیل اللہ کا ذکر بطور مطلق آیا ہے اور اس میں ہر وہ نیک کا م شامل ہے جو خدا کے لئے انجام پذیر ہو۔ ثم لا یتبعون ما انفقوا منّا و لا اذی“: اِس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ بارگاہ پروردگار میں خرچ کرنے کی قبولیت تبھی ہے جب اس میں احسان جتلانے کا عمل نہ ہو اور کوئی ایسی چیز نہ ہو جو ضرورت مندوں کے لئے تکلیف و آزار کا باعث ہو۔ اس بناء پر جو لوگ راہ خدا میں مال خرچ کرتے ہیں اور بعد میں احسان جتلاتے ہیں یا کوئی ایسا کام کرتے ہیں جو اذیت اور تکلیف کا باعث ہو تو وہ درحقیقت اس ناپسندیدہ عمل سے اپنا اجر اور صلہ کھو بیٹھتے ہیں۔ اس آیت میں جو بات اپنی طرف زیادہ توجہ مبذول کرواتی ہے یہ ہے کہ قرآن واقع میں انسانی زندگی کے سرمائے کو مادی سرمائے میں منحصر نہیں سمجھتا بلکہ روحانی اور اجتماعی سرمائے کو بھی شمار کرتا ہے۔ جو شخص کوئی چیز کسی کو دیتا ہے اور پھر اسے احسان جتلاتا ہے یا تکلیف پہنچا کر دل شکستہ کرتا ہے حقیقت میں اس نے اسے کوئی چیز نہیں دی؛ کیونکہ اگر کچھ سرمایہ اسے دیا ہے تو کچھ لے بھی لیا ہے۔ اکثر تو ایسا ہوتا ہے کہ وہ تحقیر و ذلیل اور روحانی شکستگی اسے دیے جانے والے مال سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے اگر ایسے شخص کے لیے کوئی اجر اور ثواب نہ ہو تو یہ بالکل فطری اور عادلانہ معاملہ ہوگا بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایسے افراد بہت سے مواقع پر مقروض ہوتے ہیں نہ کہ قرض خواہ کیونکہ انسان کی عزت و آبرو مال سے کئی درجے برتر و بالا ہے۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ احسان جتانے اور اذیت پہنچانے کا ذکر آیت میں لفظ ”ثم“کے ساتھ آیا ہے جو عام طور پر دو واقعات کے درمیان فاصلے اور اصطلاح میں ”تراخی“ کے لیے ہے۔ اس لیے آیت کا معنی یہ ہو گا کہ جو لوگ خرچ کرتے ہیں اور بعد میں منت و احسان جتلاتے ہیں نہ اذیت و تکلیف پہنچاتے ہیں ان کی جزا اور اجر پروردگار کے پاس محفوظ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا مقصد صرف یہ نہیں کہ انفاق ادب و احترام سے اور احسان جتلائے بغیر ہو بلکہ بعد ازاں بھی احسان نہیں جتلایا جانا چاہیے۔ یہ امر اسلام کی انتہائی عمیق نظری اور انسانی خدمات میں خلوص کا پتہ دیتا ہے۔ توجہ رکھنی چاہیے کہ احسان جتلانا اور اذیت پہنچانا جو انفاق کی عدم قبولیت کا سبب ہیں فقراء اور مساکین سے مخصوص نہیں بلکہ عمومی اور اجتماعی کاموں مثلا راہ خدا میں جہاد کرنا یا فلاح و بہبود کے کام جن میں مال خرچ کرنے کی ضرورت پڑتی ہے کے بجالانے میں بھی اس امر کو ملحوظ نظر رکھنا چاہیے۔ ”لھم اجرھم عند ربھم“ یہ جملہ خرچ کرنے والوں کو اطمینان دلاتا ہے کہ ان کی جزا پروردگار کے پاس محفوظ ہے تاکہ وہ دلی اطمینان سے اس راہ میں بڑھ چڑھ کر قدم اٹھائیں کیونکہ جو چیز خدا کے پاس ہے نہ اس کے نابود ہونے کا خطرہ ہے نہ اس کے نقصان کا اندیشہ ہے کیونکہ لفظ ”رب“ کے ساتھ ”ھم“ کی ضمیر (جس کا معنی ہے ان کا پروردگار) یہ گویا اس طرف اشارہ ہے کہ وہ ان کی پرورش کرتا ہے اور اس میں اضافہ کرتا رہتا ہے۔ ” ولا خوف علیھم ولا ھم یحزنون“: پہلے بھی بیان ہوچکا ہے کہ ”خوف“ آئندہ کے امور کے بارے میں ہوتا ہے اور حزن و اندوہ گذشتہ امور کے بارے میں۔ خرچ کرنے والے جانتے ہیں کہ ان کا اجر اور جزا بارگاہ خدا میں محفوظ ہے اس لئے نہ وہ آئندہ اور روز قیامت کا خوف رکھتے ہیں اور نہ راہ خدا میں بخش دیے جانے والے کے بارے میں کوئی ملال کرتے ہیں۔
اچھی بات، انفاق کے بعد اذیت سے بہتر ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1یہ آیت در حقیقت گذشتہ بحث کی تکمیل کرتی ہے۔ جو لوگ حاجت مندوں سے اچھی بات اور خوش کن گفتگو کرتے ہیں اور سخت لب و لہجے میں ان کے اصرار کے باوجود عفو در گزر سے کام لیتے ہیں وہ ان سے بہتر ہیں جو کچھ دینے کے بعد لوگوں کو اذیت اور تکلیف پہنچاتے ہیں۔
اشخاص کی اجتماعی قدر وقیمت
یہ آیت اشخاص کی اجتماعی قدر وقیمت اور وقعت و حیثیت کے بارے میں اسلام کی منطق واضح کرتی ہے۔ جو لوگ انسانیت کے سرمائے کی حفاظت کی کوشش کرتے ہیں، حاجت مندوں سے اچھی گفتگو کرتے ہیں، کبھی ان کی ضروری راہنمائی بھی کرتے ہیں اور ان کے راز کبھی فاش نہیں کرتے وہ ان کے مقابلے میں اسلام کی نظر میں برتر و بالا ہیں جو خود پرست ہیں، کوتاہ نظر ہیں، تھوڑی سی مدد کرکے عزت دار اور آبرو مند لوگوں کو زبان کے ہزار چرکے لگاتے ہیں اور ان کی شخصیت مجروح کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہم اشارہ کرچکے ہیں ایسے افراد درحقیقت جتنا فائدہ پہنچاتے ہیں اس سے زیادہ نقصان دہ اور مضر ہیں اور اگر کچھ سرمایہ دیتے ہیں تو بہت بڑا سرمایہ برباد کر دیتے ہیں۔ جو کچھ اوپر کہا جا چکا ہے اس سے واضح ہوتا ہے ”قول معروف“ایک وسیع مفہوم کا حامل ہے۔ ہر قسم کی اچھی بات دلجوئی اور رہنمائی اس کے مفہوم میں شامل ہے۔ ”مغفرة“ کا مفہوم ہے حاجت مندوں کی سختی کے جواب میں عفو و در گزر کرنا؛ کیونکہ مصائب و آلام کے ہجوم کی وجہ سے کبھی ان کا پیمانہ صبر لبریز بھی ہوجاتا ہے اور بعض اوقات وہ نہ چاہتے ہوئے بھی سخت باتیں کر جاتے ہیں۔ یہ لوگ در اصل اپنا حق غصب کرنے والے ظالم معاشرے سے اس طرح انتقام لینا چاہتے ہیں اور معاشرے اور صاحبا ن استطاعت ان کی محرومیت کی جو کم از کم تلافی کر سکتے ہیں۔یہ ہے کہ ان کی باتیں تحمل سے سنیں کیونکہ یہ ان کے اندر کی لگی ہوئی آگ کی چنگاریاں ہیں۔انہیں نرمی اور محبت سے خاموش کرنا چاہیے۔ واضح ہے کہ ان کی سختی کو برداشت کرنا، ان کی سخت نکتہ چینی پر درگزر کرنا اور ان کے دکھ درد کی گرہوں کو ڈھیلا کرنا ایک اسلامی حکم ہے اور یہ ہدایت اسلامی حکم کی اہمیت کو مزید روشن کر دیتی ہے۔ بعض نے یہاں ”مغفرة “ کو اس کے اصلی معنی میں لیا ہے۔اس کا اصل معنی ہے ”پردہ پوشی“ اس مفہوم میں اس لفط کو حاجت مندوں کے اسرار کی پردہ پوشی کی طرف اشارہ سمجھا گیا ہے لیکن جو کچھ ہم نے کہا ہے یہ تفسیر اس سے تضاد یا اختلاف نہیں رکھتی کیونکہ ”مغفرة “ اپنے وسیع مفہوم میں عفو و در گزر بھی ہے اور حاجت مندوں کے راز وں کی پردہ پوشی بھی ہے۔ تفسیر نور الثقلین میں پیغمبر اسلام کی ایک حدیث یوں منقول ہے: ” اذا سئل السائل فلا تقطعوا علیہ مساءلتہ حتی یفرغ منھا ثم ردوا علیہ بوقار و لین اما یبذل یسیر او رد جمیل فانہ قد یاتکم من لیس بانس ولا جان ینظرونکم کیف صنیعکم فیما خولکم اللہ تعالی۔“ اس حدیث میں پیغمبر اکرم نے خرچ کے آداب کے ایک پہلو کو واضح کرتے ہوئے فرمایا ہے: "جب کوئی حاجت مند تم سے کوئی چیز مانگے تو جب تک وہ اپنا تمام مقصد بیان نہ کر لے اس کی بات قطع نہ کرو۔ اس کے بعد اسے وقار و ادب اور نرمی سے جواب دو۔ جو چیز تمہارے بس میں ہے اسے دے دو یا پھر شائستہ اور خوبصورت طریقہ سے اسے واپس کر دو۔ کیونکہ ممکن ہے سوال کرنے والا کوئی فرشتہ ہو جو تمہاری آزمائش پر مامور ہو تاکہ وہ دیکھے کہ خدا نے جو نعمتیں تمہیں دی ہیں ان کے پیش نظر تم عمل کس طرح کرتے ہو۔(بحوالہ: نورالثقلین ج ۱ ۔ص۳۲۸(
” و اللہ غنی حلیم “
چھوٹے چھوٹے جملے جو عموما آیات کے آخر میں آتے ہیں اور جن میں خدا کی بعض صفات بیان کی گئی ہوتی ہیں آیت کے مضمون سے یقینا مربوط ہوتے ہیں۔ اس نکتے کی طرف توجہ رکھتے ہوئے ”واللہ غنی حلیم“( یعنی خدا بے نیاز اور بردبار ہے) کے جملے سے مراد یہ ہے کہ انسان چونکہ طبعی طور پر سرکش ہے اور کسی مقام و مرتبہ اور ثروت و دولت تک پہنچ جانے کے بعد اپنے آپ کو بے نیاز سمجھنے لگتا ہے اور یہ حالت بعض اوقات اس کی طرف سے فقراء اور مساکین سے گرمی اور بد زبانی کا باعث بن جاتی ہے۔ لہذا فرمایا گیا ہے کہ غنی بالذات صرف خدا ہے۔ حقیقت میں وہی ہے جو تمام چیزوں سے بے نیاز ہے اور انسان کی بے نیازی تو سراب سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی۔ لہذا مقام اور دولت کی وجہ سے اسے فقراء سے بے اعتنائی نہیں برتنا چاہئے۔ علاوہ از ایں، خدا لوگوں کی ناشکری کے مقابلے میں بردبار ہے لہذا صاحب ایمان افراد کو بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مذکورہ جملہ میں اس طرف اشارہ ہو کہ خدا تمہارے انفاق اور خرچ کرنے سے بے نیاز ہے اور جو کچھ تم انجام دیتے ہو تمہارے ہی فائدہ میں ہے۔ اس لیے تمہارا کسی پر احسان نہیں ہے۔ علاوہ از ایں، وہ تمہاری سخت روی اور درشتی کے مقابے میں بردبار ہے اور سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا تاکہ تم بیدار ہو کر اپنی اصلاح کر لو۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 265 کے تحت ملاحظہ کریں۔
راہ خدا میں خرچ کرنے کے اسباب و نتائج
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ان دو آیات میں پہلے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ اہل ایمان کو نہیں چاہیے کہ وہ راہ خدا میں خرچ کیے گئے سرمائے کو احسان جتلا کر اور آزار پہنچا کر ضائع کر دیں۔ اس کے لیے دو عمدہ مثالوں کے ذریعہ دونوں طرح کے انفاق کی حیثیت کو واضح کیا گیا ہے۔ ایک وہ خرچ ہے جس میں احسان جتلانا، آزار پہنچانا، ریا کاری اور خودنمائی کی آمیزش ہے اور دوسرا وہ کہ جس کا سرچشمہ خلوص اور انسانی ہمدردی کے جذبات ہیں۔ پہلی مثال: سخت پتھر کی ہے جس پر مٹی کی باریک سی تہ جمی ہو، اس میں بیج ڈال دیا جائے، اس پر کھلی ہوا چلے اور سورج چمکے، پھر اس پر موٹے موٹے قطرات کی بارش خوب برسے۔ مسلم ہے کہ ایسی بارش مٹی کی پتلی سی تہ کو دھو ڈالے گی اور بیج کو بہا لے جائے گی۔ سخت پتھر جس میں پانی اور بیج نہیں ڈالا جاسکتا اس پر سبز ہ کیسے اگ سکتا ہے اس کی سختی ظاہر ہو جائے گی۔ یہ سب اس لیے نہیں ہوا کہ سورج کی حدت کھلی ہو اور مذکورہ بارش کوئی برا اثر رکھتی ہے؛ بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ بیج کے لئے جوجگہ منتخب کی گئی وہ مناسب نہیں تھی۔ ظاہری طور پر صحیح تھی اندرونی طور پر ناقابل نفوذ تھی۔ اس پر صرف مٹی کی پتلی سی تہ جمی ہوئی تھی جب کہ سبزے اور درخت کی جڑوں کے لئے گہری مٹی درکار ہے تاکہ پودوں کو اس ذریعے سے غذا بھی پہنچتی رہے۔ قرآن نے ریاکاری، احسان جتلانے اور آزار پہنچانے کےلیے کیے گئے خرچ کو جس کا سرچشمہ سخت اور قساوت رکھنے والے دل ہیں، مٹی کی اس نازک تہ سے تشبیپہ دی ہے جس نے سخت پتھر کے بالائی حصہ کو چھپا رکھا ہے اور جس سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا جا سکتا ہو بلکہ وہ باغبان اور کسان کی محنت ضائع کر دے۔ (”صفوان“ جمع ہے۔ اس کا مفر د ”صفوانہ“ ہے؛ اس کا معنی ہے صاف وشفاف پتھر۔ ”وابل“ سخت اور موٹے قطرات والی بارش کو کہتے ہیں۔”صلد“ کا معنی بھی صاف پتھر ہے۔ضعفین”ضعف“ کا تثنیہ ہے اس کا معنی ہے دوگنا اور تثنیہ ہونے کی وجہ سے اس کا معنی چوگنا نہیں ہو جاتا مثلا جیسے زوجین ہے جو کہ دوطرف کی نشاندہی کرتا ہے( غور کیجئے)( دوسری مثال: ایک سرسبز و شاداب باغ کی ہے جو بلند اور زرخیز زمین میں ہے۔ اس پر آزاد ہوا چلے اور وافر دھوپ پڑتی ہے۔ موسلادھار اور نفع بخش بارش ا س پر برسے اورجب موسلادھار بارش نہ برسے تب بھی شبنم اور پھوار کے ذریعہ اس کی زمین ایسی زرخیز ہے کہ شبنم اور پھوار بھی اس کے درختوں کے ثمرآور ہونے کے لئے کافی ہے۔چونکہ وہ بلندی پر ہے اس لئے کھلی ہوا اور دھوپ سے خوب بہرہ مند ہو تا ہے۔ اس کا خوب صورت منظر ہر دیکھنے والے کی آنکھ کے لئے پرکشش ہے؛ یہ سیلاب کے خطرے سے بھی خالی ہے۔جو لوگ اپنا مال خدا کی خوشنودی اور اپنے قلب وروح میں ایما ن ویقین کو استوار کرنے کے لئے خرچ کرتے ہیں وہ ا س باغ کی طرح ہیں جو پر برکت، مفید اور بیش بہا پھل دینے والا ہو۔ چند اہم نکات (۱)بعض اعمال نیک اعمال کے نتائج کو ختم کر دیتے ہیں:۔ ”لا تبطلوا صدقٰتکم بالمن والاذٰی“(یعنی اپنے صدقات کو احسان جتلا کر اور ایذاء رسانی سے باطل نہ کر لو( اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ ممکن ہے کہ کچھ اعمال نیک اعمال کے نتائج کو ختم کر دیں۔ یہ وہی مسئلہ احباط ہے جس کی تفصیل اسی سورہ کی آیت ۲۱۷ کے ذیل میں گزر چکی ہے۔ (۲)ریاکاری کی مشابہت:۔ وہ پتھر جس پر مٹی کی باریک سی تہ ہو اس کی ریا کارانہ عمل سے مشابہت واضح ہے۔ ریا کار لوگ اپنے سخت اور بےثمر باطن کو خیر خواہی اور نیکی کے چہرے سے چھپا لیتے ہیں اور ایسے اعمال بجا لاتے ہیں جن کی جڑیں ان کے وجود میں استوار نہیں ہیں لیکن زندگی کے واقعات وحوادث بہت جلد اس پردے کو ہٹا دیتے ہیں اور ان کے باطن کوآشکار کر دیتے ہیں۔ (۳)انفاق کے اسباب: ”ابتغاء مرضات اللہ و تثبیتا من انفسھم“(یعنی جو اپنا مال خوشنودی خدا اور اپنے آپ میں انسانی فضائل باقی رکھنے کے لئے خرچ کرتے ہیں) سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحیح اور خدا کے لئے خرچ کر نے کے دو اسبا ب ہیں: (۱)خوشنوی خدا (۲)روحِ ایمان کی تقویت اور اطمینانِ قلب اس سے واضح ہو تا ہے کہ راہ خدا میں خرچ کرنے والے در اصل وہ لو گ ہیں جو صرف خدا اور فضائل انسانی کی پرورش اور اپنی روح میں ان صفات کے اثبات واستحکا م کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ اس اضطراب اور دکھ کو دور کرنے کے لئے خرچ کرتے ہیں جو محروم لوگوں کو دیکھ کر احساس ذمہ د اری اور مسئولیت کے پیش نظر ان کے وجدان میں پیدا ہو جاتا ہے (اس بناء پر آیت میں لفظ ”من“، ”فی“کے معنی میں ہو گا)۔ (۴)خدا بصیر ہے: دوسری آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: ” وللہ بماتعملون بصیر“(یعنی تم جو کچھ انجام دیتے ہو خدا اسے دیکھنے والا ہے) یہ جملہ نیک اعمال انجام دینے والوں کے لئے ہے کہ جب بھی وہ کوئی عمل خیر انجام دیں تو توجہ رکھیں کہ نیت یا عمل میں ذرا سی بھی آلودگی پیدا نہ ہو کیونکہ خدا تعالی ان کے اعمال کی نگرانی کر تا ہے۔
ایک اور مثال
”یود احدکم ان تکون لہ الجنة۔۔۔۔۔۔۔“ انسا ن کو روزِ قیامت اعمالِ صالح کی سخت ضرورت ہو گی نیز ریا کاری، احسان جتلانا اور کسی کو تکلیف پہنچانا انفاق اور عمل صالح کو ضائع کر دیتا ہے۔ یہ مطالب واضح کر نے کے لئے زیر نظر آیت میں ایک عمدہ مثال بیان کی گئی ہے۔ یہ ایسے شخص کی مثال ہے جس کا سر سبز وشاداب باغ ہو اس میں کھجوروں اور انگور جیسے طرح طرح کے پھل دار درخت ہوں، درختوں کے نیچے پانی بہتا رہتا ہو اور آبیاری کی احتیا ج نہ ہو۔وہ شخص بوڑھا ہو چکا۔ اس کی اولاد ابھی کمزور وناتواں ہو اور ان کی زندگی کا دار ومدار اسی باغ پر ہو۔ اب اگر یہ باغ اجڑ جائے تو وہ اور اس کی اولاد اسے آبا د نہیں کر سکتے۔اگر اچانک آتش بار آندھی کے گولے اس باغ پر بر سنے لگیں اور اسے جلاکر خا کستر کردیں تو اس وقت وہ بوڑھا شخص جو جوانی کی توانائیاں کھو چکا ہے اور کسی اور ذریعے سے اپنے اخراجا ت بھی پورے نہیں کر سکتا تو اس کی حالت کیا ہو گی اور کیسی حسرت وغم کی کیفیت سے دوچار ہو گا؟ جو لوگ نیک عمل بجا لاتے ہیں اور پھر ریا کاری، احسان دھرنے اور اذیت دینے سے اسے ضائع کر دیتے ہیں اسی شخص کی طرح ہیں جس نے محنت سے باغ تیار کیا ہو اور جب پھل حاصل کرنے کی ضرورت ہو تو اس کے کا م کا نتیجہ بالکل برباد ہو جائے اور اس کے پاس حسرت واندوہ کے علاوہ کوئی چیز باقی نہ رہئے۔ ”کذٰلک یبین اللہ لکم الاٰیٰت لعلکم تتفکرون“۔ تمام بد بختیوں کا سر چشمہ یہ ہے کہ غوروفکر سے کام نہ لیا جائے اس ضمن میں خصوصا ایسے کام ہیں جو بےوقوف لوگ کرتے ہیں۔ مثلا احسان جتلانا، جن کا فائدہ بہت کم اور نقصان بڑی تیزی سے اور بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے آیت کے آخر میں اللہ تعالی لوگوں کو غور فکر کر نے کی دعوت دیتا ہے اور فرماتا ہے: اس طرح خدا تمہارے لیے اپنی آیات کی وضاحت کرتا ہے کہ شاید تم غور و فکر کرو۔ چند اہم نکات: ”واصابہ الکبر لہ ذریة ضعفاء“ یعنی باغ کا مالک بوڑھا ہو چکا ہے اور اس کے بچے ابھی کمزور وناتواں ہیں۔ اس جملے سے معلوم ہو تا ہے کہ راہ خدا میں بخشش کرنا اور ضرورت مندوں کی مدد کر نا کھجور کے باغ کی طرح ہے جس کے پھلو ں سے انسان خود بھی بہرہ مند ہوتا ہے اور اس کی اولاد بھی جب کہ ریاکاری، احسان دھرنا اور ایذاء رسانی خود انسان کی اپنی محرومیت کا سبب بنتی ہیں اور اس کی آئندہ نسلیں بھی اس سے محرومیت کا شکار ہوتی ہیں؛ حالانکہ انہیں تو اس کے نیک اعمال اور ثمرات کا فائدہ پہنچنا چاہیئے تھا۔ یہ بات اس امر کی بھی دلیل ہے کہ آئندہ نسلیں گذشتہ نسلوں کے اعمال نیک کے نتائج میں حصہ دار ہوتی ہیں۔عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے کیو نکہ آباء واجداد اپنے نیک کاموں کی وجہ سے لوگوں کے افکار میں جو ایک محبوبیت اور اعتماد پیدا کر لیتے ہیں وہ ان کے لئے بھی ایک بہت بڑا سرمایہ ہوتا ہے۔ ”اعصار فیہ نار“ :یعنی ۔۔ہوا کا بگولہ جس میں آگ بھی ہو۔ ممکن ہے یہاں بگولوں کی طرف اشارہ ہو جو بادِ سموم جلانے والی اور خشک کرنے والی ہوا ہوتی ہے۔ یا پھر اس سے وہ بگو لہ مراد ہے جو آگ کے الاوٴ سے گزرے اور عام طور پر بگولے کے راستے میں جو چیز آتی ہے و ہ اسے اپنے ساتھ لے اڑتا ہے تو ہو سکتا ہے وہ آگ کو ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ پھینکے۔یہ بھی ممکن ہے کہ یہ صاعقہ کے ساتھ پڑنے والے بگولے کی طرف اشارہ ہو جو تمام چیزوں کو خاکستر کر دے۔بہرحال، یہ فوری اور مکمل نابودی کی طرف اشارہ ہے۔ (لغت میں اعصار کا معنی وہ بگولہ ہے جو ہوا کے چلتے وقت دو مختلف سمتوں سے بنتا ہے اور عمودی شکل میں ہوتا ہے۔اس کا ایک سرا زمین سے لپٹا ہوتا ہے اور دوسرا فضا میں ہوتا ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1امام صادق علیہ السلا م سے منقو ل ہے کہ یہ ایک گروہ کے بارے میں نازل ہوئی جس نے زمانہ جاہلیت میں سود کے طور پر دولت جمع کر رکھی تھی اور اس میں سے راہ خدا میں خرچ کرتا تھا۔ خدا تعالی نے انہیں اس کا م سے روکا اور انہیں حکم دیا کہ وہ پاک اور حلال مال خرچ کریں۔ تفسیر مجمع البیان میں یہ حدیث نقل کرنے کے بعد میں حضرت علی علیہ السلام سے ایک روایت بیان کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا: یہ آیت ایسے لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو خرچ کرتے وقت خشک،کم مادہ اور غیرمرغوب کھجوریں، اچھی کھجوروں میں ملا کر دیتے تھے۔اس میں انہیں حکم ہوا کہ اس کام سے اجتناب کریں۔ دونو ں شان نزول ایک دوسرے سے کوئی اختلاف نہیں رکھتیں۔ممکن ہے یہ آیت دونو ں گروہوں کے بارے میں نازل ہوئی ہو یعنی ایک معنوی پاکیزگی کی طرف اور دوسری ظاہری اور عام مرغوبیت کے بارے میں ہو۔ لیکن خیال رہے کہ سورہ بقرہ کی آیت ۲۷۵ کے مطابق جن لوگوں نے زمانہ جاہلیت میں سود خوری کوجا ری رکھنے سے اجتناب کیا مگر گذشتہ مال ان پر حرام نہیں ہوا تھا یعنی یہ قانون گذشتہ اموال کے لئے نہ تھا اور حقیقت میں ان اموال سے مشابہ تھا جو ناپسندیدہ طریقے سے حاصل کئے گئے ہوں۔
کیسے ما ل کو خرچ کر نا چاہیئے
گذشتہ آیات میں انفاق کے ثمرات وفوائد اور خرچ کرنے والوں کی صفات بیا ن کی گئی ہیں۔ نیز وہ اعمال بھی بتائے گئے ہیں جو انسان اور خدا پسند کاموں کو آلودہ کر سکتے ہیں اور ان کی جزاء اور ثواب ختم کر سکتے ہیں۔ اب اس آیت میں یہ تشریح کی گئی ہے کہ کیسے مال کو خرچ کرنا چاہیئے۔ آیت کے پہلے حصہ میں خدا ایماندار لوگوں کو حکم دیتا ہے کہ اپنے اموال میں سے ” طیبات“کو خرچ کرو۔ ہم جا نتے ہیں کہ ”طیب“کا لغوی معنی "پاکیزہ" اور ”طیبات“ اس کی جمع ہے۔ یہ لفظ جیسے ظاہری اور مادی پاکیزگی کے لئے بولا جاتا ہے، اسی طرح اس کی معنوی اور باطنی پاکیزگی پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ یعنی وہ مال جو عمدہ ۔مفید اور قیمتی بھی ہے اور ساتھ ساتھ ہر قسم کے شبہ اور آلودگی سے بھی مبرا ہے۔ دونوں شان نزول جن کا ذکر کیا گیا ہے آیت کے معنی کی عمومیت کی بھی تائید کرتی ہیں۔ ”لستم باٰخذیہ الا ان تغمضوا فیہ “(یعنی، تم تیار نہیں ہو کہ غیر طیب مال قبول کرو ۔مگر چشم پوشی اور کراہت کے ساتھ ) یہ جملہ اس بات کی دلیل ہے کہ مراد صرف ظاہری پاکیزگی ہو کیو نکہ اہل ایما ن نہ اس کے لئے تیا ر ہوتے ہیں جو مال ظاہر ی طور پر آلودہ اور بے قیمت ہو اسے قبول کرلیں اور نہ شبہ والے، نا پسندیدہ اور مکروہ مال کو قبول کرتے ہیں؛ مگر چشم پوشی اور کراہت کے ساتھ، ”ومما اخرجنا لکم من الار ض“ ”ماکسبتم “ (جو کچھ تم نے کسب کیا ہے) یہ لفظ تجارتی اموال کی طرف اشارہ ہے اور (”مما اخرجنا ۔۔۔۔۔۔۔“)زراعتی، معدنی اور زیر زمین سرچشموں کی دولت کے بارے میں ہے۔ اس بناء پر تمام طرح کے اموال کا ذکر آ گیا ہے کیونکہ تمام انسانی اموال کی بنیاد زمین اور اس کے گوناگوں منابع ہیں۔ یہاں تک کہ صنعتیں، تجارتیں، جانوروں کا کاروبار اور ایسی دیگر چیزوں کی بنیاد یہی ہے۔ ضمنا اس جملے کے تمام منابع انسان کے اختیار میں دے دیے گئے ہیں۔اس لیے راہ خدا میں کسی اچھے مال کو خرچ کر نے میں کو ئی مضائقہ نہیں سمجھنا چا ہیئے۔ ”ولا تیمموا الخبیث منہ تنفقون ولستم باٰخذیہ الا ان تغمضوا فیہ“: بعض لوگوں کی عادت ہے کہ ہمیشہ وہ مال جو بے قیمت ہو اور تقریبا ناقابل استعمال ہو اور خود ان کے لیے کام کا نہ ہو اسے خرچ کرتے ہیں۔ ایسے مخارج نہ انسان کی اپنی تربیت کا باعث بنتے ہیں اور نہ انسانی روح کی پر ورش کا ذریعہ بنتے ہیں اور ضرورت مندوں کے لیے بھی یہ کوئی خاص فائدہ مند نہیں ہوتے؛ بلکہ ایسے ان کی ایک طرح سے تحقیر وتوہین ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ جملہ لوگوں کوصراحت سے اس کا م سے منع کر رہا ہے۔ فرمایا گیا ہے: ایسے مال سے کس طرح خرچ کرتے ہو جب کہ تم خود اسے کراہت ومجبوری کے سوا قبول کرنے کو تیار نہیں ہو۔ تو کیا تمہارے مسلمان بھائی بلکہ اس سے بڑھ کر وہ خدا جس کی راہ میں خرچ کر رہے ہو تمہاری نگاہ میں خود تم سے بھی کمتر ہے۔ آیت در حقیقت ایک با ریک نکتے کی طرف ا شارہ کر رہی ہے اور وہ یہ کہ جو اخراجات اللہ کی راہ میں خرچ ہو تے ہیں ان میں ایک طرف تو حاجت مند، فقراء اور مساکین ہیں اور دوسری طرف خدا ہے؛ جس کے لیے اخراجات کیے جا رہے ہیں، اس حالت میں اگر پست اور بے قیمت مال کا انتخاب کیا گیا تو ایک طرف پروردگار کے مقام بلند کی توہین شمار ہو گی کہ اسے طیب وپاکیزہ اجناس کے لائق نہ سمجھا گیا اور دوسری طرف حاجت مندوں کی تحقیر ہے کیونکہ ممکن ہے تہی دست ہونے کے باوجود وہ ایمان اور انسانیت میں مقام بلند رکھتے ہوں اور وہ ایسے انفاق سے روحانی طور پر آزردہ اور دکھی ہوں۔ ضمنا اس بات کی طرف بھی توجہ رہے کہ ”ولا تیمموا“ (یعنی: قصد نہ کرو) ممکن ہے اس طرف اشارہ ہو کہ اموال انفاق میں اگر نہ جانتے ہوئے کوئی ناپسندیدہ چیز شامل ہو گئی ہے تو اس گفتگو میں اس سے شامل نہیں سمجھنا چاہیئے بلکہ یہ گفتگو ان لوگوں کے بارے میں ہے جو جا ن بوجھ کر ایسا کا م کرتے ہیں۔ ”واعلموا ان اللہ غنی حمید“: ارشاد فرمایا گیا ہے: جان لو کہ خداوند عالم بے نیا زاور لائق تعریف ہے یعنی اس امر کی طرف متوجہ رہو کہ اس خدا کی راہ میں خرچ کرہے ہو جسے تمہارے خرچ کرنے کی ضرورت نہیں اور حمد وستائش کے لائق وہی ہے جس نے یہ تمام نعمتیں تمہارے اختیار میں دی ہیں۔ ممکن ہے ”حمید“کا معنی ”تعریف کرنے والا“یعنی بے نیاز ہونے کے باوجود جب تم خرچ کرتے ہو تو وہ تمہاری تعریف کرتا ہے۔ اس لیے اپنے پاکیزہ اموال سے خرچ کرنے کی کوشش کرو۔
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 1tafseer for this ayah is linked with ayah below.
انفاق کی رکاوٹوں اور شیطانی افکار سے مقابلہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 1آیت کا پہلا حصہ کہتا ہے کہ خرچ کر تے وقت اور زکوٰة دیتے وقت شیطان تمہیں فقر اور تنگی سے ڈراتاہے۔خصوصا جب اچھے اور قابل توجہ اموال خرچ کرنا چاہو جن کی طرف گذشتہ آیت میں اشارہ ہوا ہے اکثر اوقات یہ شیطانی وسوسہ خرچ کرنے میں رکاوٹ پیداکر تا ہے بلکہ زکوٰة وخمس اور دیگر واجب اخراجا ت پر بھی اثر انداز ہوتاہے۔ خدا تعالی انسان کو آگاہ کر ہا ہے کہ تنگدستی کے خوف سے انفاق اور راہ خدا میں خرچ کر نے سے بچنا غلط فکر اور شیطانی وسوسہ ہے اور ممکن ہے انسان کی نظر میں ہو کہ یہ خوف اگر چہ شیطان کی طرف سے ہے پھر بھی ایک منطقی خوف تو ہے۔ لہٰذا بلا فاصلہ فرما تا ہے: ” و یامرکم بالفحشاء“شیطان تمہیں معصیت اور گناہ کا حکم دیتاہے۔ اس لیے فقر وفاقہ اور تہی دستی سے ڈرنا ہر حالت میں غلط ہے؛ کیو نکہ شیطان باطل اور گمراہی کے علا وہ کسی چیز کی دعوت نہیں دیتا۔ اصولی طور پر ہر منفی، مانع اور کوتاہ فکر کی بنیاد فطرت سے انحراف اور شیطانی وسوسوں کے سامنے سرتسلیم خم کرنا ہے؛ لیکن مثبت، اصلاحی، محرک اور بلند فکر کا سرچشمہ خدائی الہامات اور خدا داد پاک فطرت ہے۔ اگر اس با کی طرف توجہ رہے کہ شیطانی وسوسے قوانین فطرت اور سنت الٰہی کے برخلاف ہیں تو یہ واضح ہو جائے گا کہ ان کا نتیجہ منفی اور نقصان وبد بحتی پر مبنی ہو گا۔ اس مقابلے میں پر وردگار عالم لے فرامین خلقت وفطرت سے ہم آہنگ اور اس کے ہم دوش ہیں اور ان کا نتیجہ سعادت بخش زندگی ہے۔ وضاحت یہ ہے کہ پہلی نظر میں انفاق اور مال خرچ کرنا، مال کم کرنے کے سوا کچھ نہیں اور یہی کوتاہ بینی کا شیطانی نظریہ ہے؛ لیکن دقّتِ نظر اور وسعت نگا ہ سے دیکھا جائے تو انفاق معاشرے کی بقا کا ضامن، عدالت اجتماعی کے قیام کا ذریعہ، طبقاتی فاصلوں کو کم کرنے کا سبب اور پورے معاشرے اور عام لوگوں کی پیش رفت کا ذریعہ ہے۔ یہ مسلم ہے کہ معاشرے کی اجتماعی پیش رفت سے افراد کو رفاہیت اور آسائش وآرام میسر آئے گا اور یہی حقیقت شناسی کا الٰہی نظریہ ہے۔ قرآن اس ذریعہ سے انسان کو متوجہ کرتا ہے انفاق اگرچہ ظاہری طور پر تم سے کسی چیز کو کم کردیتا ہے لیکن درحقیقت تمہارے سر مایہ میں معنوی اور مادی ہر دو لحاظ سے بہت سی چیزوں کا اضافہ کر دیتا ہے۔ آج کی دنیا میں طبقاتی کشمکش کے نتیجہ میں اور تقسیم دولت میں عدم اعتدال کی وجہ سے انسانی سرمائے کی پامالی کی جو صورت پیدا ہو چکی ہے اس کے پیش نظر مندرجہ بالا آیت کے معنی کو سمجھنے میں کو ئی مشکل پیش نہیں آتی۔ آیت سے ضمنی طور پر یہ بھی معلو م ہو تا ہے کہ تر ک انفاق اور فحش وقبیح امور کے درمیان ایک خاص ربط ہے؛ البتہ فحشاء سے بخل مراد لیا جائے تو پھر اس کا ترک انفاق سے ربط یوں ظاہر ہو گا کہ اس طرح آہستہ آہستہ انسان میں صفت بخل پیدا ہو جائے گی جو بدترین صفات میں سے ایک ہے اور اگر فحشاء کا معنی مطلق گنا ہ یا جنسی برائیاں لیا جائے، تب بھی ترک انفاق سے اس کا ربط کسی سے پو شیدہ نہیں۔ کیو نکہ بہت سے گناہوں آلودگیوں اور خود فروشیوں کا سرچشمہ فقروفاقہ اور تنگ دستی ہے۔ علاوہ ازیں، انفاق ایک معنوی اثار وبرکا ت کے سلسلے کا بھی حامل ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ”واللہ یعدکم مغفرة منہ وفضلا “: تفسیر”مجمع البیا ن“ میں امام صادق علیہ السلا م سے منقو ل ہے: انفاق کرتے وقت دو چیزیں خدا کی طرف سے ہیں اور دو چیز یں شیطان کی طرف سے ہیں۔ خدا کی طرف سے گناہوں کی بخشش اور مال میں وسعت ہے اور شیطان کی طرف فقروتنگ دستی کا وعدہ اور فحشاء ومنکر کا حکم دینا ہے۔ اس بناء پر مغفرت سے مراد گناہوں کی بخشش ہے اور فضل سے مراد جیسا کہ ابن عباس سے منقو ل ہے انفاق کے ذریعہ سرمائے میں اضافہ ہے۔ ایک بات کی طرف اور توجہ رہے اور وہ یہ کہ حضرت امیر المومین علی علیہ السلام سے منقول ہے۔ آپ نے فرمایا: جب سختی اور تنگدستی میں مبتلا ہو جاو توانفاق کے ذریعہ خدا سے معاملہ کرو ( یعنی انفاق کرو تاکہ تنگدستی سے نجات پا جاو)۔ [نہج البلاغہ] ”واللہ واسع علیم “: اس جملے میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ خدا تعا لی چونکہ وسیع وقدرت اور لا متناہی علم رکھتا ہے اس لیے وہ اپنے وعدہ پر عمل کر سکتا ہے۔ لہٰذا ا س کے وعدے پر یقین کر نا چاہیئے نہ کہ فریب کار اور ناتواں شیطان کے وعدے پر جو انسان کو گناہوں کی طرف کھینچ لے جاتا ہے۔ چونکہ وہ مستقبل سے آگاہ نہیں ہے اور قدرت بھی نہیں رکھتا۔ اس لیے اس کا وعدہ گمراہی اورنادانی کی تشویق کے علاوہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1لفظ ”حکمت“کے بہت سے معانی بیان کئے گئے ہیں مثلا”جہان ہستی کی معرفت وشناخت“، ”حقائق قرآن کا علم“، ”گفتار وکردار کے لحاظ سے حق تک پہنچنا“ اور ”خداکی معرفت و آشنائی“وغیرہ۔ یہ سب معانی ایک و سیع مفہو م میں یک جا ہو جاتے ہیں۔ اس آیت کی گذشتہ آیات سے مناسبت یہ کہ بعض افراد کو خدا تعالی ان کی پاکیزگی اور کو شش کی وجہ سے ایک علم وآگاہی عطاکر تاہے جس کی بنا ء پر وہ نہایت عمدہ طر یقے سے معاشرے میں انفاق کے فوئد وآثا ر اور نقو ش حیا ت کا ادراک کر لیتے ہیں اور خدائی الہامات اور شیطانی وساوس میں فرق کو جان لیتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں گذشتہ آیت میں چونکہ اس بات پر گفتگو تھی کہ خدا تعالی انفاق کے نتیجے میں بخشش وبرکت کا وعدہ کرتا ہے اور شیطان انسان کے دل میں فقر و فاقہ کا وسوسہ پیدا کر تا ہے، اس لیے زیر نظر آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ حکمت ہی ایسی چیز ہے جو خدائی اور شیطانی وعدوں میں فرق کرسکتی ہے اور گمراہ کرنے والے وسوسوں سے نجا ت بخشتی ہے۔ واضح ہے کہ ”من یشاء “ (جسے وہ چاہتا ہے) سے یہ مراد نہیں کہ حکمت ودا نش بغیر کسی وجہ سے اسے یا اسے دی جاتی ہے بلکہ خدا کی مشیت وارادہ تمام امور میں حکمت سے منسلک ہے ۔یعنی جس شخص کو وہ اہل سمجھتا ہے اسے دیتا ہے اور حیات بخش، صاف وشفاف اور شیرین سرچشمے سے سیراب کرتا ہے۔ ”ومن یو تی الحکمة فقد اوتی خیرا کثیرا“: حکمت بخشنے والا اگر چہ خدا ہی ہے لیکن اس جملے میں اس کا نام نہیں لیا گیا، صرف فرمایا گیا ہے: جس کسی کوحکمت دی جاتی ہے اسے بہت سی خیر دی گئی ہے، اور جس طرف سے ملے اس کے خیر ہونے میں کوئی فرق نہیں۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ اس جملے میں فرمایا گیا ہے کہ جسے دانش وحکمت دی گئی ہے، اسے بہت سی خیر وبرکت مل گئی ہے، مطلق ”خیر“نہیں کہا گیا کیو نکہ خیر وسعادت صرف دانش وحکمت میں نہیں ہے بلکہ حکمت اس کا ایک اہم عامل ہے۔ ”وما یذکر الااولواالا لباب“۔: ”تذکر“کا معنی ہے ”یادآوری “اور روح میں علوم اور دانائیوں کی حفاظت“؛ ”الباب“، ”لب“کی جمع ہے۔ اس کا معنی ہے ”مغز“چونکہ ہر چیز کے بہترین اور بنیا دی حصے کو مغز کہتے ہیں اس لیے عقل وخرد کو ”لب“کہا جاتا ہے۔ اس جملے میں کہا گیا ہے کہ صرف صاحبان عقل وخرد ہی ان حقائق کو یاد رکھتے ہیں، دوسروں کو یاد دلاتے ہیں اور ان سے فائد ہ اٹھاتے ہیں۔اگرچہ (دیوانوں کے علاوہ) سب لوگ صاحب عقل ہیں لیکن سب کو ”اولواالباب“نہیں کہا جاتا۔بلکہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو عقل وخرد کو کام میں لاتے ہیں اور اس چراغ پر فروغ کے ذریعہ راہ حیا ت پالیتے ہیں۔
جو چیز خرچ کرتے ہو
Tafsīr Nemūna · Vol. 1آیت کہتی ہے: راہ خدا میں جو کچھ خرچ کر و وہ و اجب ہو یا غیر واجب،کم ہو یا زیادہ ۔۔۔۔۔حلال طریقے سے حاصل شدہ ہو یاحرام سے، خلوص سے ہو یا ریاکاری سے، احسان جتلاکر ہو یا ایذاء پہنچا کر یا اس کے بغیر، ایسے اموال میں جنہیں خرچ کر نے کا خدا نے حکم دیا ہے یا انسان نے نذر کے ذریعہ اپنے اوپر واجب کر لیا ہو۔۔۔ غرض، جس طرح کا بھی ہو، خدا اس کی تمام خصو صیات کو جانتا ہے اور اس کی جزا اچھی ہو یا بری، ضرور دے گا۔ "و ما للظالمین من انصار": یہ جملہ کہتا ہے: ستمگروں اور ظالموں کا کوئی یار و یاور نہیں۔ یعنی جو لوگ راہ خد ا میں خرچ کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ محروموں اور تہی دستوں کو مصیبت سے نجات دلاتے ہیں یا ایسے کا موں میں مال صرف کر تے ہیں جو اجتماعی مفاد میں ہو اور عام لوگوں کی رفاہ وآسائش کے لیے ہو تو ان کے لیے یہ اخراجا ت پشت پناہ اور قو ی مددگار ثابت ہوں گے جب کہ بخیل سرمایہ دار یا ریا کاری ومردم آزاری کے ساتھ خر چ کرنے والے اس یار و یاور سے محروم ہوں گے۔ ممکن ہے اس طرف اشارہ ہو کہ قیامت کے دن کے لیے جو سزائیں ریا کاروں، بخیلوں، احسان دھرنے والوں اور لوگوں کو اذیت پہنچانے والوں کے انتظار میں ہیں ان سے بچانے کے لیے کوئی بھی ان کی حمایت اور شفاعت نہیں کرے گا۔ یہ ظالم وہ ہیں جنہوں نے عوام کے حقوق پامال کیے ہیں اس لیے کوئی اس عظیم عدالت میں ان کا دفاع نہیں کرے گا۔ ہر ظلم اور ہر ستم کا یہی اثر ہے چاہے وہ جس چہرے اور جس شکل میں ہو۔
خرچ کیسے کر نا چاہیئے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1اس میں شک نہیں کہ راہ خدا میں اعلانیہ یامخفی طور پر خرچ کرنے میں سے ہر ایک مفید اثر رکھتا ہے کیو نکہ انسان آشکار اور اعلانیہ اپنا مال راہ خدا میں خرچ کر تا ہے تو اگر وہ واجب خرچ ہے تو قطع نظر اس کے کہ اس سے ایسے نیک کا موں کا لوگوں میں شوق پیدا ہوتا ہے انسان اس تہمت سے بھی بچتا ہے کہ اس نے واجب ذمہ داری پوری نہیں کی اور اگر یہ انفاق مستحب ہے تو حقیقت میں ایک طرح کی عملی تبلیغ ہے جو اچھے کا م کرنے کا مجرموں کا ساتھ دینے اور اجتماعی مفاد کے لیے نیک کا م کرنے کی تشویق کا باعث ہے۔ دوسری طرف اگر انفاق مخفی طور پر ہو تو تو یقینا اِس میں ریاکاری اورخود نمائی کمتر ہو گی اور اس میں خلوص زیادہ ہو گا؛ خصوصا محروم انسانو ں کی مددکے بارے میں یہ طرز عمل بہتر ہے کیونکہ اس طرح ان کی عزت وآبرو بہتر طور پر محفوظ رہ سکے گی۔ انہی پہلووں کے پیش نظر آیت میں ان دو طریقوں کو اپنی جگہ پر اچھا اور شائستہ قر ار دیاگیا ہے۔ مخفی طور پر خرچ کرنے کے بارے میں اس حکم پر بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ صرف مستحب اخراجا ت کے لیے ہے۔ واجب انفاق مثلا زکوٰة وغیرہ کی ادائیگی تو ہمیشہ آشکار اور اعلانیہ ہی بہتر ہے۔ لیکن مسلم ہے کہ دونوں احکام (اظہار اور اخفاء) میں سے کوئی بھی عمومی اورسب کے لیے ایک جیسا پہلو نہیں رکھتے بلکہ حالات مختلف ہو تے ہیں۔ بعض اوقات جب کہ تشویق زیادہ موثر ہو اور خلوص پر زد نہ پڑتی ہو تو اظہار کرنا بہتر ہے۔ بعض اوقات آبرومند افراد سے ایسا معاملہ درپیش ہے کہ ان کی عزت وآبرو کا تقاضا ہے کہ انفاق مخفی طور پر انجام پائے اور ریاکاری اور عدم خلوص کا خوف بھی ہے تو وہا ں اسے مخفی ہی رکھنا چاہیئے۔ امام صادق علیہ السلا م سے منقو ل ہے۔ آپ نے فر مایا: واجب زکوٰة اپنے مال سے آشکا ر طور پر الگ کر لو اور کھلے بند وں خرچ کرو۔ لیکن مستحب انفاق مخفی ہو تو بہتر ہے۔ (الزکوٰة المفروضةتخرج علانیةوتدفع علانیة و غیر الزکوٰة ان دفعہ سرا فھو فضل۔ بحوالہ: تفسیر مجع البیان نقل از علی بن ابراہیم)۔ جو کچھ ہم نے کہا ہے ایسی احادیث اس سے متضاد نہیں کیو نکہ واجبات کی ادائیگی میں ریا کی آمیزش بہت کم ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ذمہ د اری اور فریضہ ہوتی ہے اور اسلا می ماحول میں ہر شخص مجبور ہوتا ہے کہ اسے ادا کرے اور یہ یقینی اموال کی حیثیت سے ادا کرنا ہو تے ہیں۔ اس بنا ء پر اس کا اظہار بہتر ہے اور مستحبی انفاق میں چونکہ لازمی ہو نے کا پہلو نہیں تو ممکن ہے اس کا اظہا ر خلوص نیت کونقصان پہنچائے لہٰذا اسے مخفی طور پر انجا م دینا زیا دہ مناسب ہے۔
”ویکفرعنکم من سیاٰتکم “
”ویکفرعنکم من سیاٰتکم“: اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ راہ خدا میں خرچ کر نا گناہوں کی بخشش کے لیے بہت موثر ہے؛ کیونکہ حکم انفاق کے بعد اس جملے میں فرما یا گیا ہے: اور تمہارے گناہو کو چھپاتا ہے۔ البتہ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ تھوڑے سے انفاق کی وجہ سے گناہ بخش دیے جا ئیں گے؛ بلکہ یہا ں ”من“ استعمال ہو ا ہے جو عام طور پر کچھ حصے کے لیے ”تبعیض“کے مفہو م میں استعمال ہو تا ہے۔ اس سے معلو م ہوتا ہے کہ انفاق کچھ گناہوں کو چھپاتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ انفاق کی مقدار اور خلوص کے معیار سے وابستہ ہے۔ اس بارے میں انفاق کے سبب بخشش ہے، اہل بیت علیہ السلام کے طرق سے بہت سی روایا ت وارد ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک حدیث میں ہے: پوشیدہ طور پر خرچ کرنا غضب خدا کو ٹھنڈا کر دیتا ہے ا ور جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے اس طرح یہ ا نسان کے گنا ہ ختم کر دیتا ہے۔(صدقةالسر تطفی غضب الربوتطفی الخطیئةکما یطفی الماء النار۔) ایک اور روایت میں ہے۔ سات اشخاص ایسے ہیں جن پر قیامت کے دن خدا اپنے لطف کاسایہ کرے گا جب کہ اس دن اس کے سایہ لطف کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گا اور وہ سات اشخاص یہ ہیں: ۱۔ عادل راہنما۔ ۲۔ وہ جوان جواللہ تعالی کی عبادت میں پروان چڑھتا ہے۔ ۳ ۔ وہ شخص جس کا دل مسجد سے پیوستہ ہے۔ ۴۔ وہ اشخاص جو خدا کے لیے ایک دوسرے کو دوست رکھتے ہیں، محبت اور الفت سے ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور محبت ہی سے ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں۔ ۵۔ وہ شخص جسے خوبصورت اور قدر ومنزلت کی حامل عورت دعوت گناہ دے اور وہ کہے: میں تو خدا سے ڈرتا ہوں۔ ۶۔ وہ شخص جو اس طرح مخفی طور پر انفاق کرتا ہے کہ دائیں ہاتھ کو خبر نہیں کہ بائیں ہاتھ نے انفاق کیا ہے۔ ۷۔ وہ شخص جو اکیلا یاد خدا میں محو ہو اور اس کی آنکھو ں کے کنارے سے آنسو گر رہے ہوں۔ )سبعة یظلھم اللہ فی ظلہ یوم لا ظل الا ظلہ الامام العدل والشاب الذی نشا فی عبادة اللہ تعالی، ورجل قلبہ یتعلق بالمساجد حتی یعود الیہا، ورجلان تحابا فی اللہ واجتمعا علیہ وتفرقا علیہ، ورجل دعتہ امراة ذات منصب وجمال فقال انی اخاف اللہ تعالی، ورجل تصدق فاخفاھا حتی لم تعلم یمینہ ما تنفق شمالہ ورجل ذکر اللہ خالیا ففاضت عیناہ(۔ اس جملے کا معنی ہے کہ تم جو کچھ خرچ کرتے ہو ظاہرا ہو یا پوشیدہ، خدا جانتا ہے اسی طرح وہ تمہاری نیتوں سے آگاہ ہے کہ اظہا ر واخفاء کس مقصد کے لیے انجام دیتے ہو۔
انفاق میں جو چیز مو ثر ہے
بہرحال، انفاق میں جو چیز موثر ہے وہ عمل میں پاکیزہ نیت اور خلوص ہے، لوگو ں کا جاننا یانہ جاننا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ اہم چیز خدا کا جاننا ہے کیونکہ اعمال کی جزا د ینے والا وہی ہے۔ وہ اعمال مخفی ہو چاہے آشکار۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر مجمع البیا ن میں ابن عباس سے منقول ہے کہ مسلمان غیر مسلموں پر خرچ کرنے کو تیار نہیں تھے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں اجازت دی گئی کہ ضروری مواقع پر یہ کا م انجا م دیں۔ اس آیت کے بارے میں ایک اور شان نزول منقول ہے جو پہلی شا ن نزول سے غیر مشابہ نہیں ہے اور یہ کہ اسما ء ایک مسلمان عورت تھی ۔ عمرة القضا ء کے سفر میں وہ پیغمبر اکرم کی خدمت میں تھی۔ اس کی ماں اور دادی اسے ڈھونڈھتے ہوئے پہنچیں انہوں نے اس سے مدد مانگی۔ چونکہ وہ دونوں مشرک اور بت پرست تھیں اس لیے اسماء نے ان کی مدد کرنے سے انکار کر دیا اور کہا: ضروری ہے کہ پہلے پیغمبر اکرم سے اجازت حاصل کر لوں۔ کیونکہ تم میرے دین کی پیرو نہیں ہو۔ اس کے بعد وہ آنحضرت کی خدمت میں آئی اور اجازت چاہی۔ اس پر محل بحث آیت نازل ہوئی۔
تم ان کی ہدایت پر مجبور نہیں ہو
لیس علیک ھدٰھم: یعنی تم ان کی ہدایت پر مجبور نہیں ہو۔ اس جملے میں پیغمبر اکرم سے خطاب ہے اور گذشتہ آیات سے اس کا ربط واضح ہے کیونکہ گذشتہ آیت میں کلی طور پر انفاق کا ذکر ہے اور یہ آیت غیر مسلموں پر اس معنی میں خرچ کرنے کی تشریح کرتی ہے کہ غیر مسلم فقراء و مساکین پر اس مقصد کے لیے خرچ نہ کرنا کہ وہ فقر و فاقہ کی سختی سے اکتا کر اسلام قبول کرلیں اور اور ان کی ہدایت ہوجائے، یہ صحیح نہیں ہے۔ جیسے اس دنیا میں خدائی بخشش اور نعمتیں (بلا تفریق دین و آئین) سب انسانوں کے لیے ہیں مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ جب مستحب انفاق کریں اور حاجت مند وں کی حاجت روائی کریں تو ضروری مواقع پر غیر مسلموں کی حالت کا بھی خیال رکھیں۔ البتہ یہ اس صورت میں ہے جب غیر مسلموں پر خرچ کرنا انسانی مدد کے طور پر ہو کفر کی تقویت اور اسلام دشمنوں کی منحوس سازشوں کی پیش رفت کا سبب نہ بنے بلکہ انہیں اسلام کی روحِ انسان دوستی سے آگاہی کا ذریعہ بنے۔ یہ جو پیغمبر اکرم سے کہا گیا ہے کہ تم ان کی ہدایت پر مجبور نہیں ہو، واضح ہے کہ اس کا یہ مقصد نہیں کہ ارشاد و تبلیغ آپ کا فریضہ اور ذمہ داری نہیں۔ کیونکہ ارشاد و تبلیغ تو پیغمبر کے واضح ترین اور بنیاد ترین پروگرام کا حصہ ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ آپ کا فریضہ نہیں کہ ان پر سختی کریں اور انہیں ہدایت پر مجبور کریں۔ دوسرے لفظوں میں مراد جبری ہدایت کی نفی ہے اختیاری ہدایت کی نہیں یا مراد تکوینی کی نفی ہے، ہدایت تشریعی کی نہیں۔ اس کی وضاحت ذیل میں پیش کی جائے گی۔
ہدایت کی اقسام
ہدایت کی بہت سی قسمیں ہیں۔ ۱۔ ہدایت تکوینی:۔ ہدایت تکوینی سے مراد یہ ہے کہ خدا نے مختلف موجودات عالم مثلا انسان اور دیگر جاندار بلکہ بے جان موجودات کے ارتقاء اور تکامل کے لیے عوامل کا ایک سلسلہ پیدا کیا ہے۔ شکم مادر میں بچے کارشد وتکامل مختلف اجناس اور نباتات کے دانو ں کی زمین کے اندر پیش رفت اور نشود ونما، نظام شمسی کے مختلف کرات کی اپنی مدار میں حرکت اور اس قسم کی دیگر چیزیں ہدا یت تکوینی کے مختلف نمونے ہیں۔ ایسی ہدایت خدا سے مخصوص ہے اور اس کے طبیعی وماوراء طبیعی عوامل واسباب ہیں۔ قرآن مجیدکہتا ہے: ”الذی اعطی کل شیء خلقہ ثم ھدیٰ“۔ وہ خدا جس نے ہر موجود و مخلوق کو اس کی مخصوص خلقت عطا کی اور اس کے بعد اسے ہدایت کی۔ (طہ۔۵۰) ۲۔ ہدایت تشریعی:۔ اس ہدایت سے مراد ہے تعلیم و تر بیت، مفید قوانین، عادلانہ حکومت اور پند ونصیحت کے ذریعہ لوگوں کی راہنمائی کرنا، یہ ہدایت انبیاء، مرسلین، آئمہ معصومین، صالحین اور ہمددر مربین کے ذریعہ انجا م پاتی ہے۔ قرآن میں بارہا اس کی طرف اشارہ ہواہے۔قرآن مجید کہتا ہ:ے ”ذالک الکتٰب لا ریب فیہ ھدی للمتقین“۔ اس عظیم کتا ب میں کوئی شک نہیں اور یہ پرہیز گا روں کی ہدیت کا ذریعہ ہے۔ سورہ بقرہ :آیة ۲۔ ۳۔ وسیلے کی فراہمی:۔ہدایت کا ایک معنی وسیلہ اور ذریعہ فراہم کرنا بھی ہے۔ ایسی ہدایت کو کبھی توفیق بھی کہا جا تاہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کو ضروری وسائل فراہم کر دیے جا ئیں تاکہ وہ اپنی رضا ورغبت سے اپنی پیش رفت کے لیے ان سے استفاد ہ کر سکیں۔ مثلا مدرسہ، مسجد اور دیگر تربیتی مراکز قائم کرنا۔ ضروری پروگرام اور کتب مہیا کرنا اور لائق واہل مبلغین اور معلمین کی تر بیت کرنا۔ یہ سب امور ہدایت کی اس قسم میں شامل ہیں۔ دراصل، ہدایت کی یہ قسم ہدایت تکوینی اور ہدایت تشریعی کے درمیان حد فاصل ہے۔ قرآن کہتاہے: ”والذین جاھدو ا فینا لنھدینھم سبلنا“۔ اور جو لوگ ہماری راہ میں جہاد اور کوشش کر تے ہم انہیں اپنے راستوں کی ہدایت کرتے ہیں۔ ( عنکبوت ۔۶۹) ۴۔ ۴۔ نعمتوں اور جزا وثواب کی طرف کی ہدایت : اس ہدیت سے مراد ہے دوسرے جہا ں میں اہل ایمان کو ان کے نیک اعمال کے نتائج سے بہرہ مند کرنا۔ ایسی ہدایت اہل ایمان اور اعمال صالح بجالانے والے افراد سے مخصوص ہے۔ قرآن کہتا ہے: ”سیھدیھم ویصلح با لھم“۔ خدا انہیں ہدایت کرتا ہے اور ان کی حالت کی اصلاح کر تا ہے (محمد :۵) آیت میں یہ جملہ راہ خدامیں شہید ہونے والوں کی فدا کا ری کے ذکر کے بعد آیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ہدایت صرف دوسرے جہان میں ان کے ا پنے عمل کے اچھے نتائج سے بہرہ مند ہونے سے مربوط ہے۔ واقع میں یہ چار قسم کی ہدیت ایک ہی حقیقت کے مختلف مراحل ہیں۔ ان میں سے ہر ایک پہلے کے بعد اگلا مرحلہ ہے۔ سب سے پہلے ہدایت تکوینی ہے جو انسان کی تلا ش میں آتی ہے اور عقل وفکر اور دوسرے قویٰ اس کے اختیار میں دے دیتی ہے۔ پھر انبیا ء کی ہدیت اور راہنمائی شروع ہو جاتی ہے اور وہ لوگوں کو راہ حق کی ہدات کرتے ہیں اس کے بعد جب لوگ اگلے مرحلے میں داخل ہوتے ہیں تو توفیق الٰہی ان کے شامل حال ہوتی ہے۔ ان کے لیے راستے ہموار ہوتے چلے جا تے ہیں اس طرح وہ تیسرے مرحلے کو طے کرتے ہیں۔ آخر میں دار آخرت ہے جہا ں لو گ اپنے اعمال کے نتائج سے بہر ہ مند ہوں گے۔ ان چار اقسام میں سے ارشاد وتبلیغ انبیاء ا ور آئمہ ھد یٰ کے حتمی فرائض میں سے ہے اور تیسری قسم میں یہ جو راستہ ہموار کرنے کو کہا گیا ہے یہ انبیا ء اور آئمہ کی حکومت الٰہی کے پر گراموں کا جزء ہے۔ آخری اور پہلی قسم ذات خدا سے مخصوص ہے۔ اس بناء پر قر آن میں جہاں کہیں پیغبر اکرم سے ہدایت کی نفی کی گئی ہے اس سے مراد دوسری اور تیسری قسم کی ہدایت نہیں ہے۔ ”ولٰکن اللہ یھدی من یشاء“ یعنی خدا جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے لیکن یہ مسلم ہے کہ پر ور دگار عا لم کی طرف سے ہدایت حساب وکتا ب اور حکمت ودانش کے بغیر نہیں یعنی ایسا نہیں کہ وہ کسی کو بلا وجہ ہدا یت دے دے اور دوسرے کو محروم رکھے۔ زیر نظر آیت سے ایک اور حقیقت معلوم ہو تی ہے اور وہ یہ کہ مسلمانوں کو یہ جو ریا کاری، احسان جتلانے اور آزار پہنچانے سے منع رہنے کی بار بار تاکید کی گئی ہے اس کے باوجود اگر کچھ لوگ اپنے آپ کو ان امور سے آلودہ کریں تو تم پریشان نہ ہو نا۔ تمہا ری ذمہ داری فقط احکا م بیان کرنا ہے اور ایک صحیح اجتماعی ماحول پیدا کرنا ہے۔ اس کے تم ہرگز ذمہ دار نہیں ہو کہ انہیں مجبور کرو۔ واضح ہے کہ یہ تفسیر گذشتہ تفسیر سے اختلاف نہیں رکھتی اور یہ ممکن ہے کہ آیت سے دونو ں مفاہیم حاصل کئے جائیں۔
انفاق کرنے والوں پر اس کے اثرات
”وما تنفقوا من خیر فلانفسکم“: آیت کے اس حصے میں فرما یا گیا ہے کہ ا نفاق کے فوائد کی با زگشت خود تمہاری طرف ہے۔ اس میں انفاق کرنے والوں کو اس انسانی عمل کی تشویق دلائی گئی ہے۔ مسلم ہے کہ جب یہ انسان جا ن لیتا ہے کہ اس کے کا م کا نتیجہ اور فائدہ خود اسی کو حاصل ہو گا تو اس کا دل زیادہ اس کا م میں لگے گا۔ ممکن ہے کہ بادی النظر میں یہ معلوم ہو کہ انفاق کے منا فع کی بازگشت سے مراد اس کی اخروی جزا اور اس کے اخروی نتائج ہیں۔ یہ مفہوم اگرچہ صحیح ہے لیکن ایسا نہیں کہ انفاق کا فائدہ فقط آخرت میں حاصل ہو تا ہے، بلکہ اس دنیا میں بھی اس کے مادی اور معنوی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ معنوی لحاظ سے انفاق کرنے والے میں عفو وبخشش، ایثار، دوستی اور اخوت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور حقیقت میں یہ انسان کے تکامل اور اس کی روح کے ارتقاء کے لیے ایک موثر تربیتی ذریعہ ہے۔ مادی لحاظ سے دیکھا جائے تو معاشرے میں محروم اور بےنوا لوگو ں کی موجودگی خطرناک دھماکوں کا سبب بنتی ہے اور یہ دھماکے بعض اوقات اصل ملکیت کو ختم کر دیتے ہی۔ تمام دولت اور سرمائے کو نگل جاتے ہیں اور نابود کردیتے ہیں۔ انفاق اور خرچ کرنے سے مختلف طبقات میں تفاوت میں کمی آتی ہے اور طبقاتی کشمکش کی وجہ سے معاشرے کو جو خطر ات لاحق ہوتے ہیں انفاق کے ذریعہ ٹل جاتے ہیں۔ انفاق غیض وغضب کی آگ کو ٹھنڈا کرتا ہے اور محروم طبقوں کو جلا دینے والے شعلوں کو بجھا دیتا ہے اور ان میں سے انتقا م کے جذبات ختم کر دیتا ہے۔ اس بناء پر انفاق اجتماعی اہمیت، اقتصادی سالمیت اور مختلف دیگر مادی ومعنو ی پہلووں کے پیش نظر خود خرچ کر نے والوں کے فائدے میں ہے۔ ”وما تنفقون الا ابتغاء وجہ اللہ“: یعنی مسلمان اپنے اموال خوشنودیٴ خدا کی طلب کے علاوہ خرچ نہیں کرتے۔ جیسا کہ بعض مفسرین نے کہا ہے، ممکن کہ جملہ خبریہ یہاں نہی کے معنی میں ہو یعنی لوگوں کو انفاق نہیں کرنا چاہیئے مگر یہ کہ خدا کی رضا کے لیے ہو اور انفاق صرف اس صورت میں سود مند اور مفید ہے جب خدا کی خاطر انجام پذیر ہو۔
وجہ اللہ کامفہوم
”وجہ“کا لغوی معنی ہے ”چہرہ۔ بعض اوقات یہ ”ذات“کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس بناء پر ”وجہ اللہ“ کا معنی ہوا ”ذات خدا “۔ انفاق کرنے والوں کی نظر میں پروردگار کی ذات پاک ہونا چاہیے اس سے معلوم ہوا کہ لفظ ”وجہ“ اس آیت میں اور ایسی دیگر آیات میں ایک طرح کی تاکید کا حامل ہے کیونکہ ”ذات خدا کے لیے" میں ”خدا کے لیے“کی نسبت زیادہ تاکید ہے؛ یعنی حتمی طور پر خدا کے لیے ہو کسی اور کے لیے نہ ہو۔ علاوہ ازیں انسان کا چہرہ ا س کے ظاہری بدن کا بہترین حصہ ہوتا ہے۔ قوت بصارت، قوت سماعت، اور قوت گو یائی اسی حصہ میں موجود ہیں۔ اس لیے جب لفظ ”و جہ“استعمال ہو تو وہ اہمیت کی طرف اشارہ کرہا ہوتا ہے۔ یہاں بھی خدا کے بارے میں یہ لفظ بطور کنا یہ استعمال ہو ا ہے اور واقع میں اس سے ایک طرح کا احترام او ر اہمیت ظاہر ہو رہی ہے۔ یہ بدیہی ہے کہ خدا تعالی جسم رکھتا ہے ، نہ اس کا کوئی چہرہ ہے۔ ”وما تنفقوا من خیر یوف الیکم وانتم لا تظلمون“: آیت کے اس حصے میں سابق مفہوم کو زیادہ واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے یہ گمان نہ کرو کہ انفاق سے تمہیں صرف تھوڑا سا فائدہ پہنچے گا بلکہ جو کچھ تم خرچ کرو گے سب تمہاری طرف پلٹ آئے گا اور تم پرتھوڑا سا ظلم بھی نہ ہو گا اس لیے انفاق کرتے وقت ہا تھ او ر دل کھلا رکھو۔ ضمنی طور پر یہ جملہ تجسم اعمال کے مسئلہ پربھی دلیل ہے۔ کیو نکہ ا س کے مطابق: جو تم خرچ کرو گے وہی چیز تمہیں واپس کردی جا ئے گی۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1امام با قرسے منقو ل ہے کہ یہ آیت اصحاب صفہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ )یہ تقریبا چار سو افراد تھے۔ان کا مکہ اور اطراف مدینہ سے تھا۔ مدینہ میں ان کا کوئی گھر اورکوئی رشتے دار نہ تھا۔اس لیے انہوں نے مسجد نبوی میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ انہوں نے ہر اسلامی جہاد میں شرکت کے لیے اپنی آمادگی کا اعلان کر رکھا تھا(۔ مسجد میں ان کی رہائش چونکہ مسجد کے احترامات کے منافی تھی لہٰذا انہیں حکم دیا گیا کہ مسجد سے باہر صفہ (صفہ: بڑے اور وسیع بر آمدے کو کہتے ہیں) میں منتقل ہو جائیں۔ اس صورت حال پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی جس میں مسلمانوں کو اپنے ان بھائیوں کو ہر ممکنہ امداد کر نے کا حکم دیا گیا ہے اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔
انفاق کا بہترین موقع
اس آیت میں خدا تعالی نے انفاق کے لیے بہترین موقع بیا ن کیا ہے۔ جن پرخرچ کیا جا نا چاہیئے ان لوگوں کی صفات بیان کی گئی ہیں: ۱۔ الذین احصروا فی سبیل اللہ: یعنی وہ لوگ جو اہم کا موں مثلاجہاد، دشمن سے مقابلہ، فنون جنگ کی تعلیم اور ضروری علوم کی تحصیل میں مصروف ہیں اور اس وجہ سے اپنی زندگی کے اسباب مہیا نہیں کرسکتے جیسے اصحاب صفہ، جو اس کے واضح مصداق تھے۔ ۲۔ لایستطیعون ضربا فی الارض: وہ اسباب زندگی کی تلاش میں سفر اختیار نہیں کرسکتے۔ ان کے لیے ممکن نہیں کہ وہ شہروں، بستیوں اور ایسے علاقوں میں جائیں جہاں اللہ کی نعمتیں فراواں ہیں۔ اس لیے جو لوگ اسباب زندگی مہیا کرسکتے ہیں وہ سفر کی مشقت اور تکلیف برداشت کریں اور دوسروں کے دست و بازو کی کمائی پر ہرگز نہ بیٹھے رہیں۔ ہاں البتہ کسی زیادہ اہم کام کی وجہ سے وہ لوگ رک جائیں مثلا جہاد جو رضائے الہی کا محل و مقام ہے۔ ۳۔ یحسبھم الجاھل اغنیاء من التعفف: یعنی جو لوگ ان کے حالات سے آگاہ نہیں ہیں وہ ان کی خودداری، عزت نفس اور پاک دامنی کی وجہ سے گمان کرتے ہیں کہ یہ غنی اور کسی کی امداد سے بے نیاز ہیں۔ ۴۔ تعرفھم بسیمٰھم: "سیما" لغت میں "علامت" اور "نشانی" کے معنی میں ہے، یعنی اگرچہ وہ اپنے بارے میں کوئی بات نہیں کہتے لیکن ان کے چہرے پر داخلی دکھ درد کی نشانیاں موجود ہوتی ہیں جو باشعور افراد کے لیے واضح ہوتی ہیں۔ ان کے رخسار وں کا رنگ ان کے اندرونی راز کی خبر دیتا ہے۔ ۵۔ لا یسئلون الناس الحافا: مراد یہ ہے کہ وہ پیشہ ور فقیروں کی طرح کسی سے سوال نہیں کرتے یعنی وہ تو اصولی طور پر سوال کرتے ہی نہیں چہ جائیکہ وہ سوال میں اصرار یا تکرار کریں، دوسرے لفظوں میں پیشہ ور فقیروںکا معمول ہے کہ وہ سوال پر اصرار کرتے ہیں لیکن بالعموم ضرورت مند اور حاجت مند نہیں ہوتے۔ یہ جو قرآن نے کہا ہے کہ وہ اصرار کے ساتھ سوال نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ کہ وہ سوال تو کرتے ہیں مگر اصرار نہیں کرتے بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ پیشہ ور فقیر نہیں ہوتے کہ سوال کرتے پھریں۔ اس بناء پر اس جملے کا آیت کے ابتدائی جملے سے کوئی اختلاف نہیں جس میں فرمایا گیا ہے کہ وہ اپنی علامت سے پہچانے جاتے ہیں نہ کہ سوال کے ذریعے۔ آیت میں ایک احتمال اور بھی ہے اور وہ یہ کہ شدید حالت اضطرار کے باعث وہ سوال پر مجبور بھی ہوجائیں تو کبھی سوال پر اصرار نہیں کرتے بلکہ اپنی حاجت کو نہایت احسن طریقہ سے اپنے مسلمان بھائیوں کے گوش گزارتے ہیں۔ وما تنفقوا من خیر فان اللہ بہ علیم یہ جملہ خرچ کرنے والوں کو شوق دلانے کے لیے ہے، خصوصا ایسے افراد پر خرچ کرنا جو صاحب عزت نفس اور عالی مزاج ہیں کیونکہ جب خرچ کرتے وقت کسی کو یہ خیال ہو کہ جو کچھ وہ راہ خدا میں خرچ کر رہا ہے چاہے مخفی طور پر ہے لیکن خدا تعالی اس سے آگاہ ہے اور اسے اس کے عمل کے ثمرات سے بہر مند کرے گا تو وہ زیادہ لگاؤ اور انہماک سے یہ عظیم خدمت سر انجام دے گا۔
ہر صورت میں خرچ کرنا
Tafsīr Nemūna · Vol. 1بہت سی احادیث میں آیا ہے کہ یہ آیت حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ آپ نے ایک درہم رات کو، ایک دن کو، ایک چھپا کر اور ایک ظاہر بظاہر خرچ کیا تھا۔(نورالثقلین، ج ۱ ص ۲۹۰-۲۹۱؛ اس حدیث کا مضمون اہل سنت کی کتب تفاسیر میں بھی نقل ہوا ہے۔ دُرّ منثور میں یہی حدیث ابن عساکر، طبرانی میں ابو حاطم، ابن جریر اور دیگر بہت سے مفسرین کے حوالے سے نقل کی گئی ہے(۔ لیکن قرآن کا حکم حسب معمول ایک عمومی حیثیت رکھتا ہے۔ اس آیت میں انفاق کے طور طریقوں اور مختلف کیفیات کی تشریح کی گئی ہے اور انفاق کرنے والوں کی ذمہ داری کی وضاحت کی گئی ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ ظاہر یا پوشیدہ طور پر خرچ کرتے وقت اخلاقی و اجتماعی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ جس پر خرچ کیا جا رہا ہے اس کی شخصی حیثیت کو بھی مد نظر رکھا جانا چاہیے۔ جس مقام پر حاجتمند وں کی حفاظت آبرو اور زیادہ خلوص مقتضی ہو کہ انفاق کو پوشیدہ رکھا جائے وہاں پوشیدہ ہی رہنا چاہئے اور جہاں دیگر مصالح مثلا شعائر مذہبی کی تعظیم اور دوسروں کو تشویق و ترغیب دلانا مقصود ہو اور کسی مسلمان کی ہتک حرمت بھی نہ ہوتی ہو وہاں ظاہری طور پر خرچ کرو۔ ایسے افراد کو اجر اور اچھے بدلے کی خوشخبری دیتے ہوئے فرماتا ہے: ان کا اجر و ثواب خدا کے پاس ہے اور ان کے لیے کوئی وحشت و خوف اور غم و اندوہ نہیں ہے۔ ”فلھم اجرھم عند ربھم ولا خوف علیھم ولا ھم یحزنون“: ہم جانتے ہیں کہ انسان اپنی زندگی کو جاری و ساری رکھنے اور اس کو انتظام کرنے کے لیے اپنے آپ کو مال و دولت سے بے نیاز نہیں سمجھت ۔ اس لیے جب اسے ہاتھ سے دے بیٹھتا ہے تو حزن و ملال کا شکار ہوجاتا ہے اور اپنی آئندہ زندگی کے لیے بھی پریشان ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے حالات آئندہ کیسے رہیں گے۔ یہی خیال بہت سے مواقع پر اسے خرچ کرنے سے روک لیتا ہے۔ مگر جو لوگ خدا کے وعدو ں پر ایمان رکھتے ہیں اور خرچ کرنے کے اجتماعی آثار کو بھی سمجھتے ہیں وہ راہ خدا میں خرچ کرنے سے مستقبل کے لیے کسی خوف و وحشت میں مبتلا نہیں ہوتے اور اپنی کچھ دولت خرچ کر دینے پر غمزدہ نہیں ہوتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ اس کے بدلے میں پروردگار کے ہاں کئی مراتب حاصل کریں گے اور اس کے بہت فضل سے بہرہ مند ہون گے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ انہیں اس دنیا میں اور آخرت میں اس عمل کے ذریعہ انفرادی، اجتماعی اور اخلاقی برکات حاصل ہوں گی۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 277 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 277 کے تحت ملاحظہ کریں۔
سود خوری قرآن کی نظر میں
Tafsīr Nemūna · Vol. 1گذشتہ آیات مین حاجت مندوں کے لیے مال خرچ کرنے اور رفاہ عامہ کے کام انجام دینے کے بارے میں گفتگو تھی۔ ان آیات میں سود خوری کا مسئلہ زیر بحث ہے۔ سود خوری کا اثر اور نتیجہ انفاق کے اثر اور نتیجے کی ضد ہے۔ ان آیت کا مقصد در اصل گذشتہ آیات کے سلسلہ کی تکمیل کرنا ہے کیونکہ سود طبقاتی تفاوت میں اضافے، چند لوگوں کے پاس سرمائے کی ریل پیل اور معاشرے کے بیشتر لوگوں کی محرومیت کا سبب بنتا ہے۔ ان آیات میں سختی سے سود کے بارے میں حکم اور اس کی حرمت بیان کی گئی ہے۔ آیت کے لب ولہجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قبل از یں بھی سود کے بارے میں گفتگو ہو چکی ہے۔ قرآنی سورتوں کی تاریخ نزول کی طرف توجہ کرنے سے یہ معاملہ اسی طرح معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کے نزول کی ترتیب کے مطابق سب سے پہلے جس سورة میں سود کے متعلق گفتگو ہوئی ہے وہ سورہ روم ہے کیونکہ سورة روم تیسویں سورت ہے جو مکہ میں نازل ہوئی اس سورت کے علاوہ کسی اور مکی سورت میں سود کے بارے میں کوئی حکم نظر نہیں آتا لیکن اس میں بھی سود کے بارے میں اخلاقی نصیحت کے طور پر گفتگو کی گئی ہے اور فرمایا گیا ہے کہ سود خوری بارگاہ پرو ردگار میں کوئی پسندیدہ کام نہیں ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: "و ما آتیتم من ربا لیربوا فی اموال الناس فلا یربوا عند اللہ“ یعنی ہو سکتا ہے کوتاہ بین افراد کی نظر میں سود خوری سرمائے میں اضافے کا ذریعہ ہو لیکن بارگا ہ خدا میں اس سے کوئی زیادتی نہیں ہوتی۔)روم۔۳۹( پھر ہجرت کے بعد تین مدنی سورتوں میں سود کی بحث آئی ہے۔ ان سورتوں کی ترتیب یہ ہے، سورہ بقرہ، سورہ آل عمران اور سورہ نساء۔ سورہ بقرہ اگرچہ سورہ آل عمران سے قبل نازل ہوئی ہے لیکن بعید نہیں سورہ آل عمران کی آیت۱۳۰ جس میں سود کی حرمت کا حکم ہے۔ سورہ بقرہ اور زیر نظر آیات سے پہلے نازل ہوئی ہو۔ بہر حال، یہ آیت اور سود کے بارے میں دیگر آیات اس وقت نازل ہوئی ہیں جب سود خوری مکہ، مدینہ اور پورے جزیرة العرب میں کمال شدت سے رائج تھی اور طبقاتی زندگی، محنت کش طبقے کی پسماندگی اور اشراف کی سر کشی کا اہم عامل تھی۔ لہذا سود کے خلاف اسلام کی جنگ اجتماعی امور کے بارے میں اس کے اہم معرکوں میں شمار ہوتی ہے۔
خبط “ کا لغوی معنی ہے
الذین یاکلون الربٰوا لایقومون الّا کما یقوم الذی یتخبطہ الشیطان من المس“: ”خبط“ کا لغوی معنی ہے: ”راہ چلتے اور اٹھتے وقت بدن کو اعتدال پر نہ رکھ سکنا “۔ آیت میں سود خور کو آسیب زدہ اور دیوانہ سے تشبیہ دی گئی ہے جو چلتے وقت اپنے بدن کو اعتدال میں نہ رکھ سکے اور صحیح طریقہ سے قدم نہ اٹھا سکے۔ اس سے مراد دنیا میں سود خوروں کا اجتماعی چال چلن ہے کیونکہ ان کا یہ عمل دیوانوں کا سا ہے۔ وہ صحیح اجتماعی فکر نہیں رکھتے یہاں تک کہ وہ اپنے فوائد کو بھی نہیں پہچان پاتے کیونکہ تعاون ، ہمدردی ، انسانی جذبے اور دوستی جیسے مسائل ان کے نزدیک کوئی مفہوم نہیں رکھتے۔ دولت کی پرستش نے ان کی آنکھوں کو ایسا اندھا کر رکھا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ پسے ہوئے طبقوں کا استحصال اور ان کی محنت و زحمت سے حاصل ہونے والے مال کی غارت گری ان کے دلوں میں دشمنی کا بیج بوئے گی اور معاملہ ایسے انقلابات اور تغیرات تک جا پہنچے گا کہ مالکیت کی بنیاد ہی خطرے سے دوچار ہوجائے گی اور ایسی صورت میں معاشرے میں سے امن و امان اور راحت و سکون ہوجائے گا، اس طرح سود خود بھی راحت و آسائش کی زندگی نہیں گزار سکیں گے لہذا ان کا چال چلن دیوانوں کا سا ہے۔ اس سے مراد حشر و نشر کے وقت کھڑا ہونا اور میدان قیامت میں آنا بھی ہوسکتا ہے، یعنی سود خوار اس جہاں ،میں زندہ ہونے کے وقت دیوانوں اور آسیب زد ہ ا فراد کی طرح محشور ہوگا۔ اکثر مفسرین نے دوسرے احتمال کو قبول کیا ہے لیکن بعض نئے مفسرین نے پہلے احتمال کو ترجیح دی ہے لیکن انسان کے اعمال چونکہ اس جہان میں مجسم ہوکر محشور ہونگے لہذا ممکن ہے آیت کا اشارہ دونوں معنی کی طرف ہو یعنی دنیا میں جن لوگوں کا غیر عاقلانہ اور دیوانہ وار سرمایہ ا ندوزی ہے دوسرے جہان میں بھی وہ دیوانوں کی طرح محشور ہوں گے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ روایات میں دونوں مفاہیم کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ آیت کی تفسیر میں ایک روایت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اٰکل الربٰوا لا یخرج من الدنیا حتیٰ یتخبطہ الشیطان“ سود خور جب تک پاگل پن کی ایک قسم میں مبتلا نہ ہوجائے دنیا سے نہیں جاتا۔ )بحوالہ تفسیر نور الثقلین، ج۱، ص ۱۹۲( سود خور جو صرف اپنے منافع کی فکر میں رہتے ہیں اور ان کی دولت ان کے لیے وبال بن جاتی ہے، ایسے لوگون کی حالت ایک روایت میں بیان کی گئی ہے، پیغمبر اکرم سے منقول ہے: ”میں معراج پر گیا تو وہاں ایک گروہ کو اس حال میں دیکھا کہ ان کے پیٹ اتنے بڑے ہیں کہ وہ اٹھ کر چلنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ناکام رہتے ہیں اور اٹھنے کی کوشش میں بار بار زمین پر گر جاتے ہیں۔ میں نے جبرئیل سے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں اور ان کا جرم کیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا: یہ سود خور ہیں۔ )بحوالہ تفسیر نور الثقلین، ج۱، ص ۱۹۱( پہلی حدیث اس دنیا میں سود خور وں کی پریشان حالی کو منعکس کرتی ہے اور دوسری میدان قیامت میں ان کے حالات بیان کرتی ہے دونوں ایک ہی حقیقت سے مربوط ہیں۔ جیسے پیٹو لوگ بہت زیادہ موٹے ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ان میں بے عقلی پیدا ہوتی رہتی ہے۔ سرمایہ دار بھی سود خوری کی وجہ سے موٹے ہوجاتے ہیں ان کی غیر صحیح اقتصادی زندگی ان کے لیے وبال بن جاتی ہے۔
ایک سوال اور اس کا جواب
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جنون اور آسیب کا سر چشمہ شیطان ہے جس کی طرف زیر مطالعہ آیت میں اشارہ ہوا ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ آسیب اور جنون نفسیاتی بیماریوں میں سے ہیں اور ان کے زیادہ تر عوامل کی شناخت ہوچکی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کچھ لوگوں کا اعتقاد ہے کہ ”مس الشیطان“ کی تعبیر نفسیاتی بیما ری اور جنون کے لیے کنایہ ہے اور عربوں کے درمیان یہ تعبیر عام تھی، یہ نہیں کہ واقعا شیطان روح انسانی پر اثر انداز ہوتا ہے لیکن بعید نہیں کہ بعض شیطانی کام اور بے سوچے سمجھے غلط اعمال ایک طرح کے شیطانی جنون کا سبب بنتے ہوں یعنی ان اعمال کے بعد شیطان کسی شخص پر اثر انداز ہو کر اس کے نفسیاتی اعتدال کو درہم و برہم کردیتا ہو۔ علاوہ ازیں، جب غلط اور شیطانی کام پے در پے ہوتے رہیں تو ان کا یہ فطری اثر ہوتا ہے کہ انسان سے صحیح چیز کی تشخیص کا احساس اور منطقی طرز فکر چھن جاتی ہے۔
سود خوروں کی منطق
” ذلک بانھم قالوا انما البیع مثل الربٰوا “ آیت کے اس حصے میں سود خوروں کی یہ منطق بیا ن کی گئی ہے کہ تجارت اور سود خوری میں کوئی فرق نہیں یعنی دونوں ایک ہی طرح کا لین دین ہیں جنہیں طرفین اپنے ارادہ و اختیا ر سے انجام دیتے ہیں۔ قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے: خدا نے بیع اور تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔ یعنی ان دونوں کے درمیان واضح فرق ہے۔ انہیں ایک دوسرے سے مشتبہ نہیں کرنا چاہئے (و احل اللہ البیع و حرم الربٰوا) قرآن نے اس کی مزید تفصیل بیان اس لیے نہیں کی کہ یہ بالکل واضح ہے۔ اس سلسلے میں بعض پہلو یہاں ذکر کیے جاتے ہیں:
خرید وفروخت اور سود خوری کا فرق
۱۔ عام خرید و فروخت میں طرفین نفع و نقصان میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ بعض اوقات دونوں کو نفع ہوتا ہے اور بعض اوقات دونوں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور کبھی ایک کو نفع اور دوسرے کو نقصان ہوتا ہے جبکہ سودی معاملات میں سود خور کو کبھی نقصان نہیں ہوتا اور نقصان کے احتمال کا سارا بوجھ دوسرے کے کندھے پر پڑ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سودی ادارے دن بدن بڑے سرمایہ دار بنتے چلے جاتے ہیں۔ ضعیف نحیف تر ہوتے چلے جاتے ہیں اور دولت مندوں کی ثروت کا حجم ہمیشہ بڑھتا رہتا ہے۔ ۲۔ عام تجارت اور خرید وفروخت میں طرفین تولید مال و مصرف کی راہ میں قدم اٹھاتے ہیں جبکہ سود خور اس سلسلے میں کوئی مثبت عمل سر انجام نہیں دیتا ۳۔ سود خوری کے عام ہوجانے سے سرمایہ غلط اور غیر صحیح راستے پر استعمال ہونے لگتا ہے اور اقتصاد کے ستون جو معاشرے کی بنیاد ہیں متزلزل ہو جاتے ہیں جبکہ تجارت سرمائے کی درست اور صحیح گردش کا سبب ہے۔ ۴ ۔ سود خوری طبقاتی کشمکشوں اور جنگوں کا ذریعہ ہے جب کہ صحیح تجارت اس طرح نہیں ہے وہ معاشرے کو کبھی طبقاتی تقسیم اور اس سے پیدا ہونے والی جنگوں کی طرف نہیں کھنچتی۔ ”فمن جاءہ موعظة من ربہ فانتھیٰ فلہ ماسلف و امرہ الی اللہ“ اس جملے میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں کے پاس سود کی حرمت کے بارے میں خدائی نصیحت پہنچ جائے اور وہ یہ کام چھوڑ دیں، جو سود وہ اس حکم کے نزول سے قبل لے چکے ہیں وہ انہی کی ملکیت ہے۔ یعنی یہ قانون ہر دوسرے قانون کی طرح ماقبل پر لاگو نہیں ہوتا، کیوں کہ ہمیں معلوم ہے کہ اگر قوانین گذشتہ امور پر بھی نافذ ہوجائیں تو بہت سی مشکلات پیدا ہو جائیں اور زندگی شدید اتار چڑھاؤ کا شکار ہو جائے۔ اس لیے قوانین جب بنتے ہیں اس وقت سے نافذ ہوتے ہیں۔ البتہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سود خواروں کے حساب میں اگر کچھ سود لوگوں کے ذمہ ابھی باقی تھا تو اس آیت کے نزول کے بعد بھی و ہ لے سکتے تھے، ایسا نہیں ہے بلکہ جو سود وہ اس وقت لے چکے تھے وہ حلال کردیا گیا ہے۔ مزید فرمایا گیا ہے۔"و امرہ الی اللہ“ یعنی ان کا معاملہ قیامت میں خدا کے سپرد ہو گا۔ اس جملے کا ظاہری مفہوم تو یہ ہے کہ سزا یا معافی کے بارے میں ان لوگوں کا مستقبل واضح ہے لیکن گذشتہ حصے کی طرف توجہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں مراد عفو ہی ہے۔ گویا سود اتنا بڑا گناہ ہے کہ جو لوگ پہلے یہ کام کرتے تھے، ان کی معافی کا ذکر بھی صراحت سے کرنا پڑا ہے تاکہ بات مخفی نہ رہے۔ ”ومن عاد فاولئک اصحٰب النار ھم فیھا خٰلدون“ یعنی جو شخص خداتعالی کی طرف سے اس نصیحت اور بار بار کی تاکید کے باوجود اس عمل سے دستکش نہ ہو اسے چاہیئے کہ پرور دگار کے درد ناک اور دائمی عذاب کا منتظر رہے۔ دائمی عذاب اگر چہ اہل ایمان کے لئے نہیں ہے لیکن آیت میں ایسے سود خوا ر مراد ہیں جو خدا سے جنگ اور دشمنی کرتے ہوئے نہایت ڈھٹائی سے اس گنا ہ کے مرتکب ہو تے ہیں۔ مسلم ہے کہ ایسے لوگوں کا ایمان صحیح نہیں ہے۔اسی لئے آیت میں ان کے لئے دائمی عذاب کی خبر دی گئی ہے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہاں دوام سے مراد طولانی عذاب ہے نہ کہ دائمی اور اس کی مثال سورہ نساء کی آیت ۹۳ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ہمیشہ سود خوری میں مبتلا ر ہنے کی وجہ سے انسان دنیا سے آنکھیں موندلے۔ ”یمحق اللہ الربوا ویربی الصدقٰت“: ”محق“کا معنی ہے ”نقصان“اور ”تدریجا نابود ہونا" اور ”ربا“ ”تدریجی رشد ونمو“کو کہتے ہیں۔ سود خور چو نکہ اپنی دولت کے ذریعے محنت کش طبقے کے پسینے کی کمائی سمیٹتا ہے اور بعض اوقات اس طرح سے ان کے وجود ہی کو ختم کر دیتا ہے یا کم از کم ان کے دل میں دشمنی پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے اور حالت یہاں تک جا پہنچتی ہے کہ وہ آہستہ آہستہ سود خور کے خو ن کے پیا سے ہو جاتے ہیں اور یوں خود سود خور کی جان اور مال خطرے سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے: اللہ سودی سر مائے ونابودی کی طرف لے جاتا ہے، تدریجا َواقع ہونے والی یہ نابودی جیسے سود خوروں کے لیے ہے اسی طرح سود خور معاشرے کے لیے بھی ہے۔ ان کے مقابلے میں جولوگ انسانی جذبوں کا احترام کرتے ہیں اور ہمدردی او رغمخواری کا راستہ اختیار کرتے ہیں، اپنے مال اور سر مائے میں سے خرچ کرتے ہیں اور لوگوں کی احتیاج پوری کرنے کی کو شش کرتے ہیں، انہیں عوام کی طرف سے محبت اور احترام حاصل ہوتا ہے۔ ان کا سرمایا نہ فقط یہ کہ خطرے سے دو چار نہیں ہو تا ہے بلکہ عوام کے تعاون سے طبیعی رشد حاصل کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کہتاہے: انفاق کرنے میں اللہ تعالی اضافہ عطا کرتا ہے یہ حکم فرد اور معاشرہ دونوں کے لیے ایک سا ہے۔ جس معاشرے میں عام لوگو ں کی ضروریات پوری کی جاتی ہیں اس کے محنت کش اور مزدور طبقے کی فکری اور جسمانی صلاحیتیں بہتر طور پر کام کرتی ہیں اور پھر یہی طبقہ معاشرے کی اکثریت ہوتا ہے، اس طرح سے ایک صحیح اقتصادی نظام وجود میں آتا ہے، جس کی بنیاد عوام کا تعاون اور عوام کی ضرورت کی کفالت پر استوار ہوتی ہے۔ ”واللہ لا یحب کل کفّار اثیم“ ”کفار“مادہ ”کفور“(بروزن”فجور“)سے ہے۔کفور اس شخص کو کہتے ہیں جو بہت ہی ناشکرا اور کفران نعمت کرنے والا ہو اور ”اثیم“”زیادہ گناہ کرنے والے کو کہتے ہیں۔ اس جملے میں کہا گیا ہے کہ سو د نہ صرف یہ کہ راہ خدا میں خرچ نہ کرکے، قرضہ حسنہ نہ دیکر اور عام ضرورت مندوں کے کا م نہ آ کر خد اکی عطا کردہ نعمتوں کا شکریہ ادا نہیں کرتے بلکہ اس کے ذریعے ہرقسم کا ظلم وستم اور گناہ و فساد کرتے ہیں اور یہ فطری بات ہے کہ خدا ایسے لوگوں کو دوست نہیں رکھتا۔
اہل ایمان کا اجر خدا پر
”ان الذین آمنوا وعملوا الصٰلحٰت و اقاموا الصلٰوة واٰتوا الزکٰوة لھم اجرھم عند ربھم“: ناشکر گزار گنہ گار سود خوروں کے مقابلے میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ایمان کے زیر سایہ خود پرستی کو ترک کیے ہوئے اپنے فطری جذبوں کو زندہ کیے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ اپنے پرور دگار سے رابطہ قائم رکھے ہوئے ہیں۔ نماز قائم کرتے ہیں، حاجتمندوں کے کا م آتے ہیں اور ان کی حما یت میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ اس طرح وہ سرما یہ کے ارتکاز، طبقاتی کشمکش اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ہزاروں جرائم کی راہ روکے ہوئے ہیں۔ ان کی جزا ان کے پروردگار کے پاس ہے اور وہ دونو ں جہانوں میں اپنے نیک عمل کے نتیجے سے بہرہ مند ہوں گے۔ فطری امر ہے کہ ایسے لوگوں کے لیے اضطراب اور پریشانی کے عوامل پیدا نہیں ہوتے اور جوخطرات مفت خور سرمایہ داروں کو لاحق تھے اور ان پر جو لعن طعن اور نفرین ہوتی تھی ایسے لوگوں پر نہیں ہوتی۔ مختصر یہ کہ وہ مکمل راحت، آرام اور اطمینا ن سے بہرہ یاب ہوں گے اور ان کے لیے کسی قسم کا اضطراب اور غم واندوہ نہیں ہے۔ ”ولا خوف ولا ھم یحزنون “۔اگر تم اس کا م کے فائدے سے) آگا ہ ہو۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 280 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 280 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1علی ا بن ا براہیم کی تفسیر میں ہے کہ سود کی آیات کے نزول کے بعد خالد بن ولید نامی ایک شخص پیغمبر اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ کہنے لگا: میرے باپ کے ثقیف قبیلے سے سودی معاملات تھے اور اس نے مطالبات وصول نہیں کیے تھے اور مجھے وصیت کر گیا تھا کہ اس کا سود ی مال جو اس نے ابھی تک وصول نہیں کیا حاصل کرلوں اور اسے اپنی تحویل میں لے لوں۔ کیا یہ میرے لیے عمل جائز ہے؟ اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں اور لوگوں کو ایسے کام سے سختی سے روکا گیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ پیغمبر اکرم نے یہ آیت نازل ہونے کے بعد فرمایا: ”الاکل ربا من ربا الجا ھلیة موضوع و اول ربا اضعہ ربا العباس ابن عبدالمطلب“: آگا ہ رہو کہ زمانہ جاہلیت کے لوگوں کے تمام سودی مطالب چھوڑ دیے جائیں اور سب سے پہلے میں عباس بن عبدالمطلب کے سودی مطالبات ترک کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔ اس روایت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جب پیغمبر اکرم زمانہ جاہلیت کے سودی مطالبات پر سرخ قلم پھیر رہے تھے توآپ نے یہ کا م اپنے رشتہ داروں سے شروع کیا اور اگر ان میں عباس بن مطلب جیسے دولت مند افراد تھے کہ جو زمانہ جاہلیت میں دیگر سرمایہ داروں کی طرح اس گناہ میں آلودہ تھے تو آپ نے سب سے پہلے انہی کے سودی تقاضوں کو ممنوع قرار دیا۔
سود روح ایمان کے ساتھ سازگار نہیں ہے
پہلی آیت میں خد اتعالی نے ا ہل ایمان کو مخاطب فرمایا ہے۔ انہیں پرہیزگاری کی وصیت کے بعد فرمایا گیا ہے کہ اگر وہ ایمان رکھتے ہیں تو اپنے باقی ماندہ سودی مطالبات کو بھول جائیں، یہ بات قابل توجہ ہے کہ آیت ایمان بااللہ سے شروع ہوتی ہے اور ایمان ہی کے تقاضے پر ختم ہوتی ہے۔ یہ امر اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ سود روح ایمان کے ساتھ سازگار نہیں ہے۔ "فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب من اللہ و رسولہ “: اس آیت میں قرآن نے اپنے لب و لہجہ کو بدل دیا ہے۔ پہلی آیت کی نصیحتوں کے بعد اس آیت میں سود خوروں پر شدید حملہ کیا ہے اور انہیں خطرے کا الارم دیا ہے۔ حکم ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے اپنا کام جاری رکھا اور حق وحقیقت کے سامنے سر خم تسلیم نہ کیا اور اسی طرح محروم لوگوں کا خون چوستے رہے تو پیغمبر مجبور ہیں کہ فوجی طاقت سے انہیں روکیں اور حق کے سامنے جھکا دیں۔حقیقت میں یہ پیغمبر کی طرف سے اعلان جنگ ہے۔ یہ وہی جنگ ہے جو اس قانون کے تحت انجام پاتی ہے: فقاتلو التی تبغی حتی تفی ء الی امر اللہ “(حجرات : آیہ ۹) تجاوز اور بغاوت کرنے والے گروہ سے جنگ کرو تاکہ وہ فرمان خدا کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔ یہی وجہ ہے کہ جب امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس شخص کے بارے میں سنا کہ وہ بڑی جرائت سے سود کھاتا ہے اور اس نے اس کا نام لبنا (دودھ) رکھ رکھا ہے تو فرمایا : ” اگر مجھے اس پر دسترس حاصل ہوجائے تو اسے قتل کردوں۔" اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم ان لوگوں کے لیے جو اسلام میں حرمت سود کے منکر ہوں۔ بہر صورت اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ اسلامی حکومت طاقت کے ذریعہ سود خوری کو روک سکنے کی مجاز ہے۔
نہ ظلم کرو، نہ ظلم سہو
”و ان تبتم فلکم رؤس اموالکم لا تظلمون ولا تظلمون “: ارشاد ہوتا ہے: اگر توبہ کر لو اور سود خوری کی دوکان بڑھا دو تو تہمیں حق پہنچتا ہے کہ لوگوں کے پاس جو تمہارا اصل سرمایا ہے (سود چھوڑ کر) وہ لے لو اور یہ قانون ہر طرح سے عادلانہ ہے؛ کیونکہ یہ قانون ایک طرف تو تہمیں دوسروں پر ظلم کرنے سے روکتا ہے اور دوسری طرف تہمیں ظلم کے وار سے بچاتا ہے۔ اس طرح نہ ظالم بنو گے اور نہ مظلوم۔ ”لا تظلمون ولا تظلمون“ اگر چہ یہ سود خوروں کے بارے میں آ رہا ہے لیکن در حقیقت یہ وسیع مفہوم کا حامل نہایت قیمتی اسلامی شعار ہے جو کہتا ہے کہ جس طرح مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ظلم کرنے سے پرہیز کریں اس طرح اپنے آپ کو ظلم و ستم کے سپرد کرنے سے اجتناب کریں۔اصولی طور پر اگر ستم کش نہ ہوں تو ستمگر بھی کم پیدا ہوں گے اگر مسلمان اپنے حقوق کے دفاع کو پورا حو صلہ اور آمادگی رکھتے ہوں تو کوئی ان پر ظلم نہیں کرسکتا۔ لہذا ظالم کو ظلم سے منع کرنے سے پہلے مظلوم سے کہوکہ ظلم نہ سہے۔
تنگ دست کو مہلت دو
"و ان کان ذو عسرة فنظرة الی میسرة “: قبل از یں بیان کیا جا چکا ہے کہ (سود کے بغیر) اصل سرمایہ طلبگار کا حق ہے۔ اس آیت میں مقروض کا ایک حق بیان کیا گیا ہے کہ اگر وہ اپنا قرض ادا کرنے سے عاجز ہو تو نہ صرف یہ کہ زمانہ جاہلیت کی رسم کے مطابق ان پر نیا سود نہ لگایا جائے اور انہیں ستایا نہ جائے بلکہ اصل قرض کی ادائیگی پر بھی انہیں مہلت دی جانا چاہیے تاکہ جب وہ واپس کر سکنے کے قابل ہوں اس وقت لوٹا سکیں۔ قوانین اسلامی میں جو در اصل اس آیت کے مفہوم کو واضح کرتے ہیں یہ تصریح ہوچکی ہے۔کبھی بھی مقروض افراد کے گھر اور دیگرضر وری وسائل کو فرق کرکے اس سے قرضہ وصول نہیں کیا جاسکتا بلکہ ضروریات زندگی سے زائد مال پر طلبگار اسی سے اپنا حق لے سکتے ہیں اور یہ انسانی معاشرے کے ضعیف اور پسماندہ طبقے کی بہت واضح حمایت ہے۔ "و ان تصدّقوا خیر لکم ان کنتم تعلمون"۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر فرمایا گیا ہے:اگر مقروض اپنا قرضہ ادا کرنے سے واقعابالکل عاجز ہو تو بہتر ہے کہ طلب گار ایک عظیم تر انسانی قدم اٹھائے اور اپنے مال سے صرف نظر کرلے اور یہ اس کے لیے ہر لحاظ سے بہتر اور انسانی ہمدردی کا اچھا مظہر ہے اور جوشخص اس عمل خیر کے فوائد سے آگاہ ہو جائے گا وہ واقعیت کی تصدیق کرے گا۔
جزوی احکام کے بعد کلی اصول بیان کرنا، قرآن مجید کا طریقہ ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1قرآن مجید کا طریقہ ہے کہ جزوی احکا م اور اسلامی پروگرام بیان کرنے کے بعد بہت سے مواقع پرآخر کا رکلی ،عمومی اور جامع اصول بیان کرتاہے تاکہ احکام کی مزید تاکید ہوجائے اور وہ پوری طرح فکر اورروح کی گہرائیوں میں اتر جائیں لہٰذااس آیت میں لوگوں کوقیامت اور بدکا روں کے اعمال کے عذاب کی طرف توجہ دلاتے ہو ئے بیدار کیا گیا ہے ۔مقصد یہ ہے کہ وہ متوجہ رہیں کہ ایک ایسا دن آنے والا ہے کہ انسان کے تمام اعمال بغیر کسی کمی بیشی کے اسے لوٹا دیئے جا ئیں گے اور و ہ تما م چیزیں جو عالم ہستی کے د فتر ضبط وثبت میں محفوظ ہیں، ایک ہی مقام پر اسے دے دی جائیں گی یہ وہ مقام ہوگا جہاں وہ ان اعمال کے برے نتائج سے خوف زدہ ہوگا لیکن یہ تو جو کچھ بویا تھا اس کا حاصل ہو گا او رکسی کی طرف اس پر کوئی ظلم نہ ہو گا بلکہ یہ تو خود انسان ہے جو اپنے اوپر ظلم وستم روا رکھتاہے ۔وھم لا یظلمون ضمنا یہ آیت دوسرے جہان میں انسانی اعمال مجسم ہونے پر ایک اور شاہد ہے۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ تفسیر درمنثور میں کئی طریقو ں سے منقول ہے کہ یہ پیغمبر اسلام پر نازل ہونے والی آخری آیت ہے اس مضمو ن کی طرف توجہ کی جائے تو یہ بات بعید بھی نظر نہیں آتی۔ سورہ بقرہ اگر چہ پیغمبر اکرم پر نازل ہونے والی آخری سورت نہیں ہے تاہم یہ با ت پہلی بات سے کوئی اختلاف نہیں رکھتی کیونکہ ہمیں معلوم ہے بعض اوقات بعد میں نازل ہونے وا لی آیات حکم رسول سے پہلی سورتوں میں شامل کر لی گئی ہیں ۔
سود خوری کے نقصانات
سود خور ی معاشرے کے اقتصادی اعتدال کو تباہ کردیتی ہے اور دولت وثروت کے ارتکاز کا سبب بنتی ہے کیونکہ اس کے ذریعہ فقط ایک طبقہ فائدہ اٹھاتا ہے اور تمام تر اقتصادی نقصان دوسرے طبقے کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یہ جو ہم سنتے ہیں امیر اور غریب ملکوں میں دن بدن فاصلہ بڑھ رہا ہے تو اس کی ایک اہم وجہ سود ہے۔ اس کے بعد خون آشام جنگیں برپا ہوں گی۔ سود خوری ایک قسم کا غیر صحیح مبادلہ ہے جو انسانی جذبوں اور رشتوں کو کمزور کر دیتا ہے اور دلوں میں کینے اور دشمنی کا بیج بوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سود خوری نظام ا س بنیا د پر استوا ر ہے کہ سود خور صرف اپنا مالی مفاد پیش نظر رکھتا ہے اور مقروض کے نقصان پر اس کی قطعا کوئی نظر نہیں ہوتی۔ یہی مقام ہے جہا ں مقروض سمجھتا ہے کہ سود خور پیسے کو اسے اور دوسرے کو بے بس کرنے کا ذریعہ بنائے ہوئے ہے۔ یہ صحیح ہے کہ سود دینے والا اپنی ضرورت کے ماتحت سود دینے پر تیار ہوتا ہے لیکن وہ اس بے انصافی کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔ معاملہ کبھی یہاں جا پہنچتا ہے کہ مقروض سود خور کے پنجوں کی سخت گرفت شدت سے محسوس کرتا ہے کہ ایسے موقع پر اس بے چارے کا سارا وجود سود خور کو لعنت اور نفرین کر تا ہے اور وہ ا س کے خون کا پیاسا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے جو کمائی وہ جا ن کی بازی لگا کر کرتا تھا وہ سود خور کی جیب میں جا رہی ہے۔ ان حالا ت میں ایسا بحران پیدا ہو تا ہے کہ بہت سے وحشت ناک جرائم سا منے آتے ہیں۔کبھی مقروض خود کشی کرلیتا ہے کبھی شدید کرب سے دوچار ہو کر سود خور کو المنا ک طریقے سے قتل کر دیتا ہے اور کبھی نتیجہ اجتماعی بحران، عمومی افراتفری اور عوامی انقلاب کی صورت میں رونما ہوتا ہے۔ تعاون کے رشتوں کی یہی کمزوری سود دینے والے اور سود لینے والے ممالک میں بھی واضح طور پرنظر آتی ہے ، وہ قو میں جو دیکھتیں ہیں کہ ان کا سرما یہ سود کے نام پر دوسری قوم کی جیب میں جا رہا ہے۔ ایک خالص بغض وکینے اور نفرت سے اس قو م کو دیکھیں گی۔ انہیں قر ض کی ضرورت تو ہے لیکن وہ منتظر رہتی ہیں کسی مناسب موقع پر اپنے رد عمل کا مظاہرہ کریں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم کہتے ہیں سود خوری اخلاقی نقطہ نظر سے قرض لینے والے کے دل ودماغ پر بہت برا اثر مرتب کرتی ہے اور اس کے دل میں اس بات کا کینہ ضرور رہ جا تاہے۔ اس سے افراد اور قوموں کے درمیان اجتماعی تعاون کا رشتہ ڈھیلا پڑجاتاہے۔[ کتاب ”ریا خواری یا استعمار اقتصادی “کامطالعہ فرمائیں]۔ اسلامی روایات میں ایک مختصر سے پرمعنی جملے کے ذریعہ سود کے برے اخلاقی اثر کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ کتاب وسائل الشیعہ میں سود کی حرمت کی وجہ کے با رے میں ہے کہ ہشام بن سالم کہتا ہے امام صادق علیہ السلام نے فرما یا :۔ ”انما حرم اللہ عزّوجل الربٰوا لکیلا یمتنع الناس من اصطناع المعروف“۔ خدا تعالی نے سود کو حرام قرار دیا ہے تاکہ لو گ نیک کا م کرنے سے رک نہ جائیں۔[ بحوالہ: "وسائل“ ج ۱۲۔ ابواب ربٰوا۔ باب ۱۔ص ۴۲۲]۔
تجارتی دستاویزات
Tafsīr Nemūna · Vol. 1جیسے قرآن نے سود خوری، ذخیرہ اندوزی اور بخل کے خلاف سخت جنگ کی ہے، اسی طرح تجا رتی ا ور اقتصادی امور کے لیے تفصیلی قواعد بیان کیے ہیں تاکہ جتنا زیادہ ہو سکے سرمایہ طبیعی رشد حاصل کرے اور کسی قسم کا جھگڑا، اختلاف اور نزاع پیدا نہ ہو۔ محل بحث آیت قرآن حکیم کی طویل ترین آیت ہے۔ اس میں مالی لین دین کے قواعد کے سلسلے میں اٹھارہ ا حکام بیا ن کیے گیے ہیں۔ ذیل میں ہم ا ن قوا عد کو ترتیب وار ذکر کرتے ہیں: ۱۔جب کوئی شخص کسی کو قرض دے یا کوئی معاملہ انجام پائے اور طرفین میں سے ایک مقروض ہو جائے تو بعد میں ممکنہ کسی اشتباہ یا نزاع سے بچنے کے لیے معاملہ کی ساری شرائط ضبط تحریر میں آجانا چاہئیں: ”یا ایھا الذین آمنوا اذا تداینتم بدین الی اجل مسمی” فاکتبوہ“: یہ بات قابل توجہ ہے کہ آیت میں لفط ”قرض“ نہیں بلکہ ”دین“ استعمال ہوا۔ قرض صرف وہاں استعمال ہوتا ہے جہاں دو ایسی چیزوں کا تبادلہ ہو جو ایک دوسرے کی مثل ہوں۔ مثلا نقدی یا جنس قرض کے طور پر لی جائے اور اس سے فائدہ اٹھا کر اس کی مثل واپس کر دی جائے لیکن دین کا دامن وسیع تر ہے؛ کیونکہ جیسا معاملہ انجام پائے مثلا صلح، اجارہ، خرید و فروخت و غیرہ۔ پھر اگر ایک طرف سے کچھ دیا جانا ہو تو اسے دین کہتے ہیں، اس بناء پر زیر بحث آیت ان تمام معاملات پر محیط ہے جو "سلف“ یا نسیہ کے طور پر انجام پاتے ہیں یہاں تک کہ قرض بھی اس کے مفہوم میں داخل ہے۔ ۲۔ اطمینان کے حصول کے لیے اور طرفین میں سے کسی کی ممکنہ بے جا مداخلت سے بچنے کے لیے حکم دیا گیا ہے کہ دستاویز کوئی تیسرا شخص لکھے: "و لیکتب بینکم کاتب“: اس جملے کے ظاہری مفہوم سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ دستاویز لکھنا واجب ہے۔ لیکن بعد کی آیت میں فرمایا گیا ہے فان امن بعضکم بعضا فلیود الذی اوتمن امانتہ: اگر تمہیں آپس میں اطمینان ہے کہ جس کے ذمہ حق ہے وہ ادا کردے گا (تو تحریرموجود نہ ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تحریر اس صورت میں ضروری ہے جب آپس میں مکمل اطمینان نہ ہو اور احتمال ہو کہ معاملہ نزاع اور کشمش تک جا پہنچے گا۔ ۳۔ کاتب کو چاہیے کہ دستاویز لکھتے وقت حق کو پیش نظر رکھے اور عین واقع کے مطابق لکھے (بالعدل)۔ ۴۔ جس شخص کو خدائے تعالی نے لکھنے پڑھنے کی قابلیت عطا فرمائی ہے اور وہ معاملہ کے بارے میں احکام و شرائط سے آگاہ ہے اسے چاہیے کہ دستاویز لکھنے میں گریز نہ کرے بلکہ اس اجتماعی امر میں طرفین کی مدد کرے: " ولا یاب کاتب ان یکتب کما علمہ اللہ فلیکتب“: ” کما علمہ اللہ“ مندرجہ بالا تفسیر کی روشنی میں دیکھا جائے تو آیت کا یہ حصہ مزید تاکید اور تشویق کے لیے معلوم ہوتا ہے۔ نیز یہ ایک اور نکتے کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ جیسے خدا نے اسے تعلیم دی ہے، انتہائی حد تک عدل اور ایمان داری کو ملحوظ رکھے اور اصطلاح کے مطابق بینہ و بین اللہ دستاویز کو انتہائی سوچ بچار سے ترتیب دے۔ البتہ دستاویز لکھنے کی دعوت قبول کرنا واجب عینی نہیں جیسا کہ اس جملے سے ظاہر ہوتا ہے: ”ولا تسئموا ان تکتبوہ صغیراَ او کبیراَ”: یعنی کسی چھوٹی بڑی دستاویز لکھنے سے دل تنگ نہ ہوگا۔ ۵۔ چاہیے کہ معاملہ کے دونوں فریق میں سے ایک دستاویز کی املا کروائے یعنی وہ کہتا جائے تاکہ کاتب لکھتا جائے۔ لیکن طرفین میں سے ایسا کون کرے؟اس بارے میں آیت کہتی ہے یعنی مقروض جسے حق ادا کرنا ہے وہ ایسا کرے (”ولیملل الذی علیہ الحق“) ایسی دستاویزات میں ہمیشہ بنیادی اقرار تو مقروض ہی کا ہوتا ہے اور اسی کے دستخط بنیادی حیثیت رکھتے ہیں اور اسی لیے جو متن اس کے اعتراف اور املا کروانے سے تیار ہوگا وہ ایک ایسی بنیاد بن جائے گا جس کا انکار نہیں ہوسکتا۔ ۶۔ جس کے ذمہ حق واجب الا داہے اسے چاہیے کہ املا کرواتے وقت خدا تعالی کوپیش نظر رکھے اور کسی چیز کو فراموش نہ کرے اور تمام چیزیں کہے تاکہ کاتب لکھ لے: ”ولیتق اللہ ربہ ولا یبخس منہ شیئا“ ۷۔ اگر مقروض سفیہ و نادان ہو اپنے مالی امور کی دیکھ بھال نہ کر سکتا ہو اور اپنے نفع و نقصان کو نہ سمجھ سکتا ہو ضعیف و کمزور، کوتاہ فکر کم عقل اور گونگا ہو بات کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہو تو ان صورتوں میں اس کی جگہ اس کا ولی املا کروائے گا اور دستاویز کو ترتیب دینے والا اسے لکھے گا ” فان کان الذی علیہ الحق سفیھا او ضعیفا اولا یستطیع ان یملّ ھو فلیملل ولیہ“: ۸۔ ”ولی“ کو بھی چاہیے کہ املا میں عدالت کو محفوظ رکھے اور حق سے انحراف سے بچے (ولیملل ولیہ بالعدل) ۹۔ طرفین کو دستاویز پر دو گواہ بھی بنانا چاہیے (واستشھدوا شھیدین)۔ ۱۰۔ ۱۱۔ یہ دونوں گواہ بالغ اور مسلمان ہوں (من رجالکم) ”( کم )“ مسلمان ہونے کا معنی دیتا ہے کیونکہ”من رجالکم “ کا لفظی معنی ہے ”ایسے مرد جو تمہاری جماعت میں سے ہوں“ ۱۲۔ ایک مرد اور دو عورتیں بھی گواہ ہوسکتے ہیں: "فان لم یکونا رجلین فرجل و امراتٰن“ ۱۳۔ گواہ قابل اعتماد ہونا چاہییں ("ممن ترضون من الشھدآء --“) اس جملہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ گواہ ہر لحاظ سے پسندیدہ ہو ں اور اس سے مراد ان کی عدالت ہی ہے۔ جیسا کہ روایات میں بھی آیا ہے۔ ۱۴۔ جب گواہ دو ہوں تو ان میں سے ہر ایک مستقل گواہی دے سکتا ہے لیکن جب ایک مرد اور دو عورتیں ہوں تو پھر ان دو عورتوں کو چاہیے کہ ایک دوسرے سے مل کر متفق ہوکر گواہی دیں تاکہ ان میں سے ایک اشتباہ کرے تو دوسری اسے یاد دلا دے۔ رہا یہ سوال کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر کیوں شمار کی گئی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ عورت نرم دل ہوتی ہے اور ممکن ہے کہ بعض اوقات کسی کے زیر اثر آجائے اس لیے اس کے ساتھ ایک اور عورت کو شامل کیا گیا ہے تاکہ وہ اسے کسی کے زیر اثر ہونے سے روک سکے ”ان تضل احدٰھما فتذکر احدٰھما الاخری“ ۱۵۔ قرض تھوڑا ہو یا زیادہ اسے تحریر میں آجانا چاہیے کیونکہ اسلام چاہتا ہے کہ اقتصادی روابط میں کسی قسم کا جھگڑا اور نزاع نہ ہو وہ کہتا ہے قرض کی کمی کی وجہ سے دستاویز لکھنے میں کوتاہی نہیں ہونا چاہیے (”ولا تسئموا ان تکتبوہ صغیرا او کبیراَ الی اجلہ“) مستی اور خستگی کو سامہ کہتے ہیں ”لا تسئموا“ یعنی خستہ و دل تنگ نہ ہوجاؤ۔ یہاں قرآن مندرجہ بالا احکام کے فلسفہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ دستاویزات کی تیاری ایک طرف تو عدل و انصاف کی ضامن ہے اور دوسری طرف گواہوں کے لیے شہادت کے وقت تقویت اور اطمینان کا باعث ہے اور تیسرا پہلو یہ ہے کہ افراد معاشرہ کے مابین نزاع پیدا ہونے میں رکاوٹ کا کام دیتی ہے ”ذٰلکم اقسط عنداللہ و اقوم للشھادة و ادنی الا ترتابوا“ ۱۶۔ جب معاملہ نقد بنقد ہو تو کسی سند یا دستاویز کی ضرورت نہیں ہے ”الا ان تکون تجارة حاضرة تدیرونھا بینکم فلیس علیکم جناح الا تکتبوھا“ ”تجارة حاضرة“ کا معنی ہے "نقد معاملہ“ اور”تدیرونھا“ کا مطلب ہے دست بدست پھیرنا جو کہ نقد معاملہ ہی کی تاکید ہے۔ ”فلا جناح“ یعنی کوئی حرج نہیں۔ یہ لفظ ظاہر کرتا ہے کہ جب نقد معاملہ انجام پا رہا ہو اس وقت بھی دستاویز تیار کرلینا بہتر ہے کیونکہ اس طرح ہر طرح کا ممکنہ اشتباہ اور اعتراض ختم ہوجاتا ہے۔ ۱۷۔ نقد معاملہ میں اگر چہ تحریر ضروری نہیں البتہ گواہ بنا لینا چاہئیں ("واشھدوا اذا تبایعتم“) ۱۸۔ آیت کے آخر میں حکم دیا گیا ہے کہ گواہوں اور کاتبوں پر کسی قسم کا تشدد اور سختی نہیں کی جانی چاہیے تاکہ وہ حق اور عدالت سے اپنا کام سر انجام دیں (”ولا یضارّ کاتب ولا شھید“)۔ جو کچھ ہم نے مندرجہ بالا جملے میں کہا ہے اس سے معلوم ہوا کہ ”یضآرّ “ اصطلاح کے مطابق فعل مجہول ہے؛ یعنی اسے اذیت نہ پہنچائی جائے۔ باقی رہا عدالت کے بارے میں کاتبوں اور گواہوں کے لیے حکم ۔۔۔ تو وہ آیت کی ابتداء میں آچکا ہے۔ اس لیے ضرورت نہیں کہ ”لا یضارّ“ کو فعل معلوم سمجھیں اور اس کے معنی یہ لیں کہ ”وہ اذیت نہ پہنچائیں"۔ مندرجہ بالا حکم کے بعد تاکید ہے کہ اگر کوئی شخص حق گوئی کی بناء پر گواہوں اور کاتبوں کو اذیت پہنچائے تو وہ فسق و گناہ کا مرتکب قرار پائے گا اور ایسا کرنا بندگئی خدا کے تقاضوں کے منافی ہے ("و ان تفعلو ا فانہ فسوق بکم“)۔ یہ تمام احکام بیان کرنے کے بعد آخر میں لوگوں کو تقوی و پرہیز گاری اور اوامر الہی ٰ کی اطاعت کی دعوت دی گئی ہے (”واتقوا اللہ“)۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ جو چیز تمہاری مادی اور معنوی زندگی کے لیے ضروری ہیں، خدا تعالی تمہیں ان کی تعلیم دیتا ہے (”و یعلمکم اللہ“) وہ لوگوں کے فائدے اور نقصان سے آگاہ ہے اور جن چیزوں میں ان کی بہتری اور صلاح ہے وہی ان کے لیے مقرر کرتا ہے (” واللہ بکل شیء علیم“)۔
خدا پرستی ، آگاہی ، روشن فکری اور علم و دانش
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ضمنی طور پر (” و اتقوا اللہ و یعلمکم اللہ “) سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا پرستی، آگاہی، روشن فکری اور علم و دانش میں اضافے پر تقوی اور پرہیز گاری گہرا اثر مرتب کرتی ہے اور جب انسان کا دل پاک ہوجا تا ہے تو وہ آئینہ کی طرح حقائق کو اپنے اندر منعکس کرلیتا ہے
جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1یہ آیت در اصل گذشتہ آیت کے مفاہیم کی تکمیل کرتی ہے۔ اس میں چند ایک احکام مزید بیان فرمائے گئے ہیں ۱۔ اگر لین دین کرتے وقت دستاویز لکھنے والا میسر نہ ہو، جیسا کہ سفر میں پیش آتا ہے تو قرض لینے والا دوسرے کی تسلی کے لیے کوئی چیز گروی کے طور پر دے دے (”و ان کنتم علی سفر و لم تجدوا کاتبا فرھٰن مقبوضہ“)۔ بادی النظر میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ رہن کا قانون سفر سے مخصوص ہے لیکن اگلے جملے ولم تجدوا کاتبا ( کاتب میسر نہ آئے تو) سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفر کا ذکر مثال کے طور پر ایسے موقع کے لیے آیا ہے جب دستاویز لکھنے والا میسر نہ ہو۔ اس بنا پر وطن میں بھی طرفین صرف رہن پر اکتفاء کرسکتے ہیں۔ تفاسیر اہلبیت میں بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ شیعہ و سنی کتب احادیث میں آیا ہے کہ ایک مرتبہ پیغمبر اسلامؐ نے اپنی زرہ ایک غیر مسلم کے پاس قرض لینے کے لیے رہن کے طور پر رکھی تھی۔ ۲۔ رہن حتمی طور پر قرض دینے والے کے پاس رہنا چاہیے تاکہ اسے اطمینان رہے: فرھٰن مقبوضہ تفسیر عیاشی میں ہے کہ امام صادقؑ فرماتے ہیں: ”لا رھن الا مقبوضہ “ رہن ہی نہیں مگر وہ کہ جو طلب گار کی تحویل میں ہو۔ ۳۔ دستاویز لکھنا ۔ گواہ بنانا اور رہن رکھنا سب احکام ایسے مواقع کے لیے مخصوص ہیں جہاں طرفین ایک دوسرے کے بارے میں مکمل طور پر اطمینا ن نہ رکھتے ہوں ورنہ قرض دینے والے کو کسی دستاویز کی کوئی ضرورت نہیں اور مقروض کو بھی چاہیے کہ وہ اس کے اعتماد کا احترام کرے اور بر محل اس کا حق ادا کردے اور تقوی کو فراموش نہ کرے۔ ” فان امن بعضکم بعضا فلیئود الذی اوتمن امانتہ ولیتق اللہ ربہ “ ("اوٴتمن“امن کے مادہ سے ہے۔ اس کا معنی ہے اطمینان خاطر۔ اس سے مراد وہ مقروض ہے جسے امین سمجھا گیا ہے۔ دوسرے جملے میں امانت سے مراد قرض ہے۔ یعنی اس صورت میں قرض امانت والا حکم رکھتا ہے)۔ ۴۔ لین دین کا موقع ہو یا کوئی اور اصولی طور پر جو لوگ جانتے ہیں کہ کس کا کیا حق ہے ان کی ذمہ داری ہے کہ جب انہیں گواہی کے لیے بلایا جایے تو وہ گواہی کو نہ چھپائیں کیونکہ گواہی کو چھپانا عظیم گناہوں میں شمار ہوتا ہے: ”ولا تکتموا الشھادة ط ومن یکتمھا فانہ آثم قلبہ“ یہ واضح ہے کہ گواہی دینا اس صورت میں ہم پر واجب ہے جب دوسرے اپنی شہادت سے حق کو ثابت نہ کریں اگر کچھ لوگ اپنی گواہی سے حق ثابت کردیں تو باقی لوگوں پر سے یہ ذمہ داری ساقط ہوجاتی ہے۔ اصطلاح میں گواہی دینا واجب کفائی ہے۔ شہادت کا مخفی رکھنا اور موقع کے مطابق اس کا اظہار نہ کرنا، یہ عمل چونکہ دل ہی کی مرضی سے انجام پاتا ہے اس لیے مزید تاکید کے طور پر گناہ کی نسبت دل کی طرف دی گئی ہے اور فرمایا گیا ہے: اس کا دل گنہگار ہے۔ آیت کے آخر میں امانت اور دیگر حقوق کے بارے میں زیادہ سے زیادہ توجہ اور بیداری کے لیے فرمایا گیا ہے کہ پروردگار تمہارے کردار سے باخبر ہے(”واللہ بما تعملون علیم “)
انسان سے جو گناہ سرزد ہوتے ہیں
انسان سے جو گناہ سرزد ہوتے ہیں ان میں سے بعض اعمال خارجی پہلو رکھتے ہیں اور بعض داخلی اور قلبی پہلو رکھتے ہیں۔مثلا شہادت کو چھپانا اور شرک کرنا وغیرہ۔مندرجہ بالا آیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خدا تعالی صرف ظاہری گناہوں کا محاسبہ نہیں کرے گا بلکہ باطنی اور قلبی پہلو رکھنے والے گناہ بھی احتساب کے عمل سے گزریں گے کیونکہ کہ اللہ تعالی زمین وآسمان پر حاکم ہے اور کوئی چیز اس سے مخفی نہیں ہے۔ اندرونی اور قلبی محاسبہ نہ کر سکنے والے وہ ہیں جو آسمان وزمین اور دنیا کے ظاہر وباطن سے بے خبر ہیں جب کہ اللہ تعالی تمام چیزوں کا عالم ہے۔ اس تفسیر سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ آیت ان بہت سی احادیث سے کوئی اختلاف نہیں رکھتی جن میں فرمایا گیا ہے کہ گناہ کی نیت گناہ نہیں ہے کیو نکہ یہ احادیث ان نافرمانیوں کے بارے میں ہیں جو خارجی عمل کا پہلو رکھتی ہیں اور نیت ان کا مقدمہ اور تمہید ہے اور یہ احادیث ان گناہوں کے بارے میں نہیں ہیں جو ذاتی طور پر اندرونی اور باطنی پہلو رکھتے ہیں اور قلبی عمل ہیں۔ آیت کا ایک اورمعنی بھی ہے اور وہ یہ کہ ایک عمل کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں۔ مثلا انفاق ممکن ہے خدا کے لیے ہو یا شہرت طلبی کے لیے ہو۔آیت کہتی ہے: تم اپنی نیت ظاہر کرو یا چھپائے رکھو،خدا اس سے آگاہ ہے اور اس کا محاسبہ کرے گا۔ در حقیقت ا س آیت میں ”لا عمل الا بالنیة‘(نیت کے بغیر کوئی عمل نہیں ہے)والی روایت کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: جہاں وہ چاہتا ہے لغزشوں سے در گذر فرماتا ہے اور جہاں اس کا ارادہ ہو سزا دیتا ہے (فیغفر لمن یشاء ویعذب من یشاء)البتہ واضح ہے کہ بخشش وعذاب اور ہدایت وضلالت کے بارے میں خدا کا ارادہ اور مشیت کسی حساب کے بغیر نہیں ہوتے؛ بلکہ وہ اہلیت اورقابلیت کی بناء پر ہی ہیں جنہیں انسان خو د حاصل کرتا ہے اور پروردگار ہر چیز پر طاقت و قدرت رکھنے والا ہے۔
انبیاء کا امتیاز
Tafsīr Nemūna · Vol. 1دیگرانسانی راہنماوں کے مقابلے میں انبیاء کا ایک یہ امتیاز ہے کہ تمام انبیاء اپنے ہدف ومقصد اور دین ومکتب پر قطعی ویقینی ایمان رکھتے تھے اور ان کے عقیدے میں کسی قسم کا تزلزل نہ تھا۔ قرآن حکیم لوگو ں کو ایسے پیغمبر کی طرف دعوت دیتا ہے جو اپنے پورے وجود سے اپنے مطلب ومدعا کا ادراک رکھتا ہے۔ ارشاد الٰہی ہے: فاٰمنوا باللہ ورسولہ النبی الامی الذی یومن باللہ وکلماتہ۔ اللہ اور اس کے اس رسول نبی اُمّی پر ایمان لے آو جو اللہ اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتا ہے۔(اعراف۔۱۵۸) زیر بحث آیت میں یہ نکتہ بیا ن کیا گیا ہے کہ خالق کائنات اور اس کے تمام پروگرام جو پیغمبر پر نازل ہوئے ہیں پیغمبر کا ان پر مستحکم اور غیر متزلزل عقیدہ ہے بلکہ مومنین اور جو مکتب پیغمبرکے تربیت یافتہ ہیں وہ بھی ایسے ہیں۔ ان کے برعکس یہ لوگ ہیں: یریدون ان یفرقوا بین اللہ و رسلہ ویقولون نومن ببعض ونکفر ببعض خدا او راس کے پیغمبروں کے درمیان تفریق اور اختلاف کے قائل ہیں اور چاہتے ہیں کہ بعض پر ایمان لے آئیں اور بعض کا انکار کر دیں۔(سورہ نساء۔۱۵۰) زیر بحث آیت آگے کہتی ہے:وہ ایمان رکھتے ہیں کہ تمام انبیاء ایک ہی ہدف اور مقصد کے حامل ہیں اور ایک ہی مقصود کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ لہٰذا سب زبان حال سے کہتے ہیں:(لا نفرق بین احد من رسلہ)یعنی ہم خدا کے بھیجے ہوئے افراد میں کوئی فرق نہیں کرتے۔ البتہ یہ بات اس امر سے تضاد نہیں رکھتی کہ گذشتہ تمام ادیان منسوخ ہوچکے ہیں؛ کیو نکہ جیسا ہم کہہ چکے ہیں کہ انبیاء کی تعلیمات مختلف کلاسوں کی تعلیم کی طرح ہیں۔ جب اعلی کلاسوں میں ترقی کی جاتی ہے تو پہلی کلاسیں چھوٹ جاتی ہیں؛ حالانکہ ان کا احترام برقرار رہتا ہے۔
بندگی کا اعتراف
اہل ایمان ہمیشہ بندگی اور عبودیت کا احترام کرتے ہوئے کہتے ہیں: پروردگار! تیرے پیغمبر تیری طرف بلانے کے لیے جو دعوت اور ندا دیتے ہیں ہم اسے دل وجا ن سے قبول کر لیتے ہیں اور تیری پیروی اور اطاعت کی منزل میں داخل ہو تے ہیں: ”وقالوا سمعنا واطعنا) (”سمع “بعض اوقات سمجھنے اور تصدیق کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے جس کی ایک مثال یہی آیت ہے۔) لیکن خدایا!آخر ہم انسان ہیں۔ کبھی ہمارے نفوس ہمیں لغزشوں سے بھی دوچار کر دیتے ہیں۔ لہذا ہم تجھ سے بخشش کی امید رکھتے ہیں کیونکہ ہم کو بہرحال تیری ہی طرف پلٹنا ہے: غفرانک ربنا والیک المصیر“ (ادبی لحاظ سے یہا ں ”(نرید غفرانک) (ہم تیری بخشش چاہتے ہیں کا مفہوم بھی دیتا ہے)۔
طاقت کے مطابق ذمہ داری
Tafsīr Nemūna · Vol. 1”وسع“کا لغوی معنی قدرت او رطاقت ہے ، اس بناء پر آیت اس عقلی حقیقت کی تائید کرتی ہے کہ خدا کی طرف سے عائد ذمہ داریاں کبھی بشری طا قت سے ماوراء نہیں ہو سکتیں۔ لہذا کہا جا سکتا ہے کہ یہ آیت تمام احکا م کی تفسیر اور حد بندی کرتی ہے۔ تمام احکا م یہ خصوصیت رکھتے ہیں کہ وہ انسانی قد رت وطاقت کے مطابق ہیں۔ایک حکیم وعادل فقط ایسا ہی قانو ن بنا سکتا ہے۔ ضمنی طور پر اس با ت سے اس حقیقت کی پھر تائید ہو جاتی ہے کہ احکا م شرعی کبھی حکم عقل کے منافی نہیں ہو سکتے۔ حکم شرع اور حکم عقل ہمیشہ دوش بدوش رہتے ہیں: ”لھا ما کسبت وعلیھا ما اکتسبت“۔ دوسرا نکتہ یہ ہے انہی قونین واحکا م پر عمل سے انسانی سرنوشت مربوط ہے۔ اس جملے کے مطابق ہر شخص اپنے نیک وبد عمل کا نتیجہ حاصل کرے گا۔اس جہان میں اور آئندہ جہان میں اپنے کئے کا پھل پائے گا۔ اس طرح لوگوں کو ان کی ذمہ داری اور ان کے اعمال کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔ اس طرح سے قرآن نے ان افسانوں پر خط بطلان کھینچ دیا ہے جن میں لوگوں کے اعمال سے بری قرار دیا گیا ہے یا بلا وجہ کسی کے اعمال کی جوابدہی کاذمہ دار دوسروں کو قرار دیا گیا ہے۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ آیہ شریفہ میں نیک اعمال کے لیے لفظ ”کسب“ اور برے اعمال کے لیے لفظ ”اکتساب“ استعمال کیا ہے۔ تعبیر کا اختلاف شاید اس لیے ہے کہ ”کسب“ان اعمال کے لیے بولا جا تا ہے جو بلا تکلف اور فطرت کے مطابق انجا م دیے جا تے ہیں جب کہ” اکتساب“ان اعمال کے لئیے استعمال ہو تا ہے جو انسانی فطرت کے خلاف ہوں اور یہ خود ا س بات کی دلیل ہے کہ نیک اعمال انسانی فطرت کے مطابق ہیں اور برے اعمال ذاتی طور پر خلا ف فطرت ہیں۔ ان دونوں تعبیروں کے اختلاف کے با رے میں راغب اصفہانی نے ایک اور بات کہی ہے اور وہ بھی قابل غور ہے۔ وہ یہ کہ ”کسب“ان کاموں کے لیے مخصوص ہے جن کا فائدہ فقط انسان کی اپنی ذات تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ دوسروں کو بھی پہنچتا ہے، ان اعمال خیر کی طرح جن کا نتیجہ صرف انجا م دینے والے شخص کو نہیں پہنچتا بلکہ ممکن ہے کہ اس کے عزیزواقارب اور دوست احباب بھی اس میں شریک ہوں جب کہ ”اکتساب “ان مواقع پر بولا جاتا ہے جہاں کام کا اثر صرف کرنے والے تک محدود ہوا اور گناہ میں ایسا ہوتا ہے (البتہ توجہ رہے کہ یہ مفہوم اس وقت لیا جا جا تاہے جب ”کسب‘‘اور ”اکتساب“کو ایک دوسرے کے مدّمقابل استعمال کیا جائے)۔ ”ربنا لاتواخذنا ان نسینا او اخطانا۔“ مومنین چونکہ لھا ما کسبت وعلیھا ما اکتسبت کے قانون کی روشنی میں سمجھتے ہیں کی ان کے مستقبل کا انحصار ان کے اپنے اچھے یا برے کردار پر منحصر ہے لہٰذا بارگاہ الٰہی میں خاص تضرع وزاری کے ساتھ اپنے رب کو پکا رتے ہیں، اس ذات کو پکارتے ہیں جو ان کی پر ورش میں خاص لطف وکرم فرماتا ہے اور کہتے ہیں ( اے ہمارے پروردگار اگر ہم بھو ل اور خطا و اشتبا ہ سے دوچار ہو جائیں تواپنی وسیع رحمت سے تو ہماری لغزش سے در گزر اور ہمیں اس کے عذاب سے رہائی بخش۔
خطا کے بدلے سزا
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ممکن ہے کہ پروردگار کسی کوبھو ل چوک پر سزا دے کہ ا س پر بھی درخوا ست کی گنجائش پیدا ہو۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بعض اوقات بھول چوک انسان کی اپنی سہل انگاری کی وجہ سے ہوتی ہے اور مسلم ہے کہ بھو ل چوک کی وجہ سے انسان سے جوابدہی اور مسوٴلیت ختم نہیں ہو جاتی۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: ”فذوقوا بما نسیتم لقاء یومکم ھٰذا“۔ عذاب خدا کا ذائقہ چکھو کیونکہ تم اس دن کو بھول گئے تھے۔(سجدہ۔۱۴) اس سے معلوم ہو اکہ وہ خطائیں جو اپنی سہل انگاری کی وجہ سے سرزد ہوتی ہیں، قابل سزا ہیں۔ ایک او ربا ت جس کی طرف توجہ کرنا چاہیئے یہ ہے کہ نسیا ن اور خطا ایک دوسرے سے واضح طور پر مختلف ہیں۔ لفظ ”خطا“عام طور پر ایسے کا موں کے لیے استعمال کیا جا تاہے جو غفلت یا انسان کی عدم توجہ کے با عث سر زد ہو تے ہیں۔ مثلا کوئی شخص شکار کے لیے تیر ما رتا ہے اور اس کے ارادے کے بغیر کسی انسان کو جا لگتا ہے اور وہ زخمی ہو جاتا ہے۔لفظ ”نسیان “ایسے کا م کے لیے استعما ل کیاجا تا ہے جو انسان توجہ سے انجا م دے لیکن حقائق سے نا آشنا ہو۔ مثلا کوئی شخص بے گنا ہ کو گناہگار سمجھتے ہوئے سزا دے۔ ”ربنا ولا تحمل علینا ٓاصراَ کما حملتہ علی الذین من قبلنا“۔ ”اصر“کا معنی ہے کسی کو روک رکھنا۔ یہ لفظ ہر اس سنگین اور بھاری کام کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جو انسان کی فعالیت کو روک دے۔ نیز ایسے عہدو پیما ن کے لیے بھی یہ لفظ بولا جا تا ہے جو انسان کو محدود کر دے۔ اسی لیے عذاب اور سزا کو بھی کبھی کبھی ”اصر“کہتے ہیں۔ اس جملے میں مومنین خدا سے دو تقاضے اور کرتے ہیں: پہلا، یہ کہ ان پر دشوا ر ذمہ داریاں عائد نہ ہوں کیو نکہ ایسی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں بعض اوقات اطاعت پروردگار کے خلاف کا م ہو جاتا ہے۔ احکام اسلام کے بارے میں ایسی ہی بات پیغمبر اکرم سے منقول ہے: ”بعثت الی الشریعة السھلة السمحة“ میں ایسے دین کے ساتھ مبعوث ہوا ہوں جس پر عمل کرنا سب کے لیے سہل ہے۔ ممکن ہے اس مو قع پر سوال کیاجائے کہ اگر شریعت کا سہل ہونا اچھی چیز ہے تو پھر یہ گذشتہ اقوام میں کیوں نہیں تھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جیسے آیات قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ امتوں کےلیے شیدی تکالیف اصل شریعت میں نہیں تھیں، بلکہ ان کی نافرما نیوں کے بعد سزا کے طور پر انہیں شدائد کا سامنا کر نا پڑا ہے۔ جیسا کہ بنی اسرائیل پے در پے نا فرمانیوں کی وجہ سے کچھ حلال گوشتوں سے محروم ہو گئے تھے (انعام۱۴۶،نساء ۔ ۱۶۰) دوسرا، یہ کہ وہ طاقت فرسا آزمائشوں اور ناقابل برداشت سزاوں سے محفوظ رہیں: ”ربنا ولاتحملنا ما لاطاقة لنا بہ“۔ ”لا تحمل“ گذشتہ جملے میں اور ”ولا تحمل“ اس جملے میں شاید اسی بناء پر ہے کیونکہ پہلی تعبیر مشکلا ت کے مواقع کے لئے اور دوسری طاقت فرسا مواقع کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ ”واعف عنا واغفرلنا وارحمنا“۔ لغت میں ”عفو“ کا معنی ہے ” کسی چیز کے اثر کو محو کرنا“ اور زیادہ تر یہ لفظ گناہ کے اثرات کو محو کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ان میں طبیعی آثار بھی شامل ہیں اور سزا کے محو ہونے کا مفہوم بھی اس میں شامل ہے۔ ”مغفرت“گناہ کے بدلے میں ملنے والی سزا سے صرف نظر کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس بنا ء پر دونوں لفظوں کے استعمال سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ مومنین پروردگار سے چاہتے ہیں کہ وہ لغزشوں کے طبیعی اور تکوینی آثار ان کی روح سے محو کر دے تاکہ وہ ان کے برے نتائج میں گرفتار نہ ہو ں اور یہ تقاضا کرتے ہیں کہ ان کی معینہ سزاوں سے بھی بچ جائیں اور پھر اس کی وسیع رحمت کی خواہش کرتے ہیں جو تمام چیزو ں پر محیط ہے : ”انت مولٰنا فانصرنا علی القوم الکٰفرین“ پھراپنی دعاوں کے آخری حصے میں خدا کو مولا کہہ کر پکارتے ہیں۔ یعنی ایسی ذات جو ان کی سرپرستی اور پرورش کرتی ہے۔ اور چاہتے ہیں کہ وہ انہیں ہر طرح کے دشمنوں کے مقابلے میں کامیا ب کرے۔ ان دو آیات میں چونکہ سورہ بقرہ کا خلاصہ بیان ہوا ہے اور خدا تعالی کے حضور تسلیم و رضا کے آداب ہمیں سکھائے گئے، یعنی اگر اہل ایمان چاہتے ہیں کہ خدا ان کی لغزشوں سے درگذر کرے اور مختلف قسم کے دشمنوں کے مقابلے میں انہیں کامیاب کرے تو انہیں چاہیے کہ "سمعنا و اطعنا" کے طریقہ کار پر عمل کریں اور کہیں کہ ہم پکارنے والے کی دعوت دل و جان سے قبول کرتے ہیں اور ان کی پیروی کے درپے ہیں اور اس راہ میں کسی جستجو اور کوشش میں کوتاہی نہ کریں گے۔ اس کے بعد اللہ سے رکاوٹوں اور دشمنوں پر کامیابی کی خواہش کریں "رب" کے عنوان سے خدا کے نام کا تکرار اس حقیقت کی تکمیل کرتا ہے۔ کیونکہ اس نام کا استعمال اس حقیقت کا اعتراف بھی ہے کہ وہ، وہ ذات ہے جو ان کی پرورش کرنے میں خاص لطف و کرم رکھتی ہے۔ اسی لیے رہبران اسلام نے کئی ایک احادیث میں ہم مسلمانوں کو ان دو آیات کو خاص طور پر پڑھنے کی ترغیب دی ہے اور اس کی تلاوت کا بہت طرح کا ثواب بیان کیا ہے۔ ان احادیث کے مطابق اگر زبان اور دل ان آیات کی تلاوت میں ہم آہنگ ہوں اور ان کے مفاہیم کو زندگی کا پروگرام بنا لیا جائے صرف یہی آیات مرکزِ دل کو خالقِ کائنات سے منسلک کرنے کا عامل بن جائیں، روح میں پاکیزگی آ جائے اور تحرک و فعالیت پیدا ہو جائے۔