Al-Furqan
سورہ فرقان
یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۷۷ آیات ہیں
سورہ فرقان کے مضامین
یہ سورت مکّی ہے [بعض مفسرین کا اصرار ہے کہ اس سورت کی تین آیتیں (۶۸ تا ۷۰) مدینہ منورہ میں نازل ہوئیں شاید اس لیے کہ ان میں قتلِ نفس اور زنا کی حرمت جیسے احکام کا تذکرہ ہے لیکن اگر ان کے سیاق وسباق پر غور کیا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ یہ خدا کے خاص بندوں (عباد الرحمٰن) اور ان کی صفات کے ایک سلسلہ بیان سے متصل اور متعلق ہیں۔ لہذا ظاہر یہ ہے کہ یہ ساری سورت مکہ میں نازل ہوئی] لہٰذا اس کی زیادہ تر بحث مبداء و معاد اور پیغمبرِ اسلام صلی الہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کے بارے میں ہے۔ اس کے علاوہ یہ شرک و مشرکین کے ساتھ نبرد آزمائی کرتی ہے اور کفر و بت پرستی اور گناہوں کے خطرناک انجام سے ڈراتی ہے۔ یہ سورت درحقیقت تین حصّوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصّہ جو اس کے آغاز پر مشتمل ہے مشرکین کے دلائل کی سختی کے ساتھ سرکوبی کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی حیلہ سازیوں کو بیان کرتا اور پھر ان کا جواب بھی دیتا ہے اور انہیں خدا کے عذاب، قیامت کے حساب و کتاب اور جہنم کی دردناک سزا سے ڈراتا ہے اور اس کے بعد گزشتہ اقوام کی سرگزشت کو بیان کرتا ہے کہ کس طرح وہ انبیاء کی دعوت کی مخالفت کر کے زبردست عذاب اور بَلا میں گرفتار ہوئے اور ان کی داستانیں حق کے دشمن اور ہٹ دھرم مشرکین کے لیے کس طرح درس عبرت ہیں۔ دوسرے حصّے میں مندرجہ بالا مباحث کی تکمیل کی صورت میں توحید کے کچھ دلائل اور عالم آفرینش میں عظمتِ خداوندی کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں ان نشانیوں میں سورج کی روشنی، رات کی تاریکی، ہواؤں کا چلنا، بارش کا برسنا، مردہ زمینوں کا زندہ ہونا، زمین اور آسمانوں کا چھ دوروں میں پیدا ہونا، سورج اور چاند کی خلقت ان کی آسمانی برجوں میں منظم گردش اور اس قسم کی دوسری چیزیں شامل ہیں درحقیقت پہلا حصہ "لا الہ" اور دوسرا حصہ "الا اللہ" کے مفہوم کو واضح کرتا ہے۔ تیسرے حصّے میں عباد الرحمٰن خدا کے خاص بندوں اور سچے مومنین کے اوصافِ حمیدہ کو مختصر اور جامع انداز میں بیان کیا گیا ہے اور پہلے حصّے میں ذکر شدہ متعصّب، بہانہ جو اور گناہوں سے آلودہ کفار کے ساتھ ان کا موازنہ کیا گیا اور دونوں گروہوں کے مقام اور انجام کو ایک دوسرے سے جدا کر کے نمایاں کیا گیا ہے۔ نیز جیسا کہ آگے چل کر معلوم ہو گا کہ مومنین کی صفات، ان کے اعتقادات، عملِ صالح، خواہشاتِ نفسانی کے خلاف ان کے جہاد، ان کے علم و آگہی اور اجتماعی حوالے سے ان کے احساسِ ذمہ داری کا مجموعہ ہیں۔ اس سورہ کا نام "فرقان" اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ یہ نام اسی سورت کی پہلی آیت میں ذکر ہوا ہے۔ جس کا معنی ہے حق کو باطل سے جدا کرنے والا۔
سورہ فرقان کی فضیلت
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک حدیث میں فرمایا ہے: من قرء سورة الفرقان بعث يوم القيامة وهو مؤمن ان الساعة أتية لا ريب فيها، وان الله يبعث من في القبور۔ جو شخص سورہ فرقان کی تلاوت کرے (اس کے مضامین میں غور وفکر کرے اور اعتقاد و عمل میں اس سے ہدایت لے) تو وہ قیامت کے دن قیامت پر ایمان رکھنے والوں کی صف میں ہو گا اور اس کا حشر و نشر ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جنھیں یقین ہے کہ قیامت آ کر رہے گی اور خدا مردوں کو نئی زندگی کے ساتھ مبعوث کرے گا۔ [تفسیر مجمع البیان اسی آیت کے ضمن میں]۔ ایک اور حدیث میں "اسحاق بن عمّار" نے حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے روایت کی ہے: لا تدع قرائة سورة تبارك الذى نزل الفرقان على عبده فان من قرأها في كل ليلة لم يعذبه ابدا ولم يحاسبه وكان منزله في الفردوس الاعلى۔ سورہ تبارک الّذی (فرقان) کی تلاوت ترک نہ کرو کیونکہ جو شخص ہر رات اس کی تلاوت کرے گا خداوندِ عالم ہرگز اسے عذاب نہیں دے گا اور نہ ہی اس سے حساب لے گا اور اس کی قیام گاہ بہشت بری ہو گی۔ [ثواب الاعمال صدوق منقول از تفسیر نور الثقلین جلد ۴ ص ۲]۔ جیسا کہ آگے چل کر اس سورہ کی تفسیر سے معلوم ہو گا کہ خدا کے خالص بندوں کی صفات کی اس طرح تشریح کی گئی ہے کہ اپنے صدقِ دل کے ساتھ اسے پڑھے اور اپنی سیرت و کردار کو اس کے مندرجات کے مطابق ڈھال لے تو اس کا ٹھکانا یقیناً بہشت ہی میں ہو گا جس کا نام "فردوسِ اعلیٰ" ہے۔
معرفت کا بہترین معیار
Tafsīr Nemūna · Vol. 4یہ سورت "تبارک"کے مبارک کلمہ سے شروع ہوئی ہے جس کا مادہ برکت ہے اور ہر ایک کو معلوم ہے کہ کسی چیز کے با برکت ہونے کا معنیٰ یہ ہوتا ہے کہ اس میں دوام و پائیداری، خیر اور ہر طرح سے نفع پایا جاتا ہے۔ فرمایا گیا ہے: با برکت اور لاوزال ہے وہ خدا جس نے "فرقان" کو اپنے بندے پر نازل کیا ہے تاکہ وہ تمام جہان والوں کو ڈرائے (تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا) [ تشریحی نوٹ: تفسیر نمونہ کی جلد 4 میں سورہٴ اعراف کی آیت نمبر۵۶ کے ذیل میں "برکت" کا مفہوم ذکر کیا گیا ہے]۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ پروردگار کے مبارک ہونے کی تعریف "فرقان" کے ذریعہ بیان کی گئی ہے یعنی وہ قرآن جو حق و باطل میں امتیاز کا وسیلہ ہو۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ لفظ "فرقان" کا معنی کبھی "قرآن" ہوتا ہے اور کبھی وہ معجزات جو حق و باطل میں امتیاز پیدا کرتے ہیں۔ کبھی یہ لفظ "تورات" کے معنٰی میں بھی آیا ہے لیکن اس آیت میں اور بعد کی دوسری آیات میں لفظ"فرقان" سے مراد "قرآن" ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ جب امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ "قرآن" اور" فرقان"میں کیا فرق ہے تو آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: "قرآن اس آسمانی کتاب کے مجموعے کا نام ہے اور فرقان آیات محکمات کی طرف اشارہ ہے"۔[تفسیر برہان جلد۳ ص۱۵۵]۔ آپ کے اس فرمان میں اور تمام قرآنی آیات کے "فرقان" ہونے میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ کیونکہ مراد یہ ہے کہ قرآن کی آیات محکمات حق اور باطل میں تمیز کرنے کے حوالے سے فرقان کا روشن تر، آشکار تر اور واضح تر مصداق شمار ہوتی ہیں۔ فرقان اور شناخت کی نعمت اتنی اہم ہے کہ قرآن مجید نے اسے متقی اور پرہیزگار لوگوں کے لئے بہت بڑے اجر کے عنوان سے ذکر فرمایا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے: یا ایھا الذین اٰمنوا ان تتقوا اللہ یجعل لکم فرقاناً اے ایمان والو!اگرتقویٰ اختیار کرو گے توخدا وند عالم تمہیں فرقان عطا فرمائے گا۔ [سورہٴ انفال آیہ ۲۹]۔ یقینا تقویٰ کے بغیر حق اور باطل میں امتیاز کرنا ناممکن ہے۔ کیونکہ محبت اور نفرت اور گناہ حق کے چہرے پر ضخیم پردے ڈال دیتے ہیں او ر انسان کے ادراک و نگاہ کو اندھا کر دیتے ہیں۔ بہرحال، قرآنِ مجید تمام فرقانوں کا فرقان ہے۔ انسان کے تمام نظامِ زندگی میں حق اور باطل کی پہچان کا بہترین وسیلہ ہے۔ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں حق و باطل میں تمیز کا ذریعہ اور افکار و عقائد، قوانین و احکام اور اخلاق و آداب کے سلسلے میں ایک بہترین معیار اور بہترین کسوٹی ہے۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ فرمایا گیا ہے: "اس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا"۔ جی ہاں مقامِ عبودیت اور خالص بندگی ہی وہ چیز یں ہیں جو فرقان کے نزول کی لیاقت اور حق و باطل کی پہچان کے معیار کو وجود بخشتی ہیں۔ آیت کے آخر میں وہ آخری نکتہ پیش کیا گیا ہے جو فرقان کا اصل مقصد اور اس کا منتہائے مقصود ہے اور وہ ہے عالمین کا انذار کہ جس کا نتیجہ انسان میں ذمہ داری کے احساس کا ابھرنا ہے۔ "للعالمین" کی تعبیر اس بات کو واضح کر رہی ہے کہ اسلام ایک عالمگیر دین ہے جو کسی خاص علاقے، قوم اور قبیلے کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ بعض لوگوں نے تو اس کلمہ سے آنحضرت کی ختم نبوت پر بھی دلیل قائم کی ہے۔ کیونکہ "عالمین" نہ صرف یہ کہ مکانی لحاظ سے محدود نہیں ہے بلکہ زمانی لحاظ سے بھی کسی قید و شرط کا پابند نہیں ہے اور تمام آنے والے ادوار اور افراد اس میں شامل ہیں (غور کیجئے گا)۔ دوسری آیت میں فرقان کے نازل کرنے والے خدا کی چار صفات بیان کی گئی ہیں ان میں درحقیقت ایک تو اصل اور جڑ ہے اور باقی تین اس کی شاخین ہیں۔ پہلے تو کہتا ہے: وہ خدا ایسا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی مالکیت اور حکومت صرف اسی کے لئے ہے (الَّذِی لَہُ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ)۔ [ تشریحی نوٹ: لفظ "ملک" (بر وزن "گرگ") کے بارے میں "راغب"اپنی کتاب "مفرات" میں کہتے ہیں کہ یہ کوئی چیز اختیار میں لینے اور اس پرحاکمیت کے معنی میں ہے جبکہ "ملک"(بروزن "سلک") ہمیشہ اور ہر موقع پر حاکمیت اور مالکانہ تصرف کی دلیل نہیں ہے گویا ہر مُلک، مِلک ہے لیکن ہر مِلک،مُلک نہیں ہے]۔ یقینا وہی تو تمام عالم ہستی اور زمین و آسمان کا حاکم ہے۔ اس کی قلمروِ حکومت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے۔ آیت میں مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ لفظ "لہ" کو "ملک السمٰوات․․․․" پر اس لئے مقدم کیا گیا ہے کیونکہ عربی ادب کے مطابق یہ صورت "حصر" پر دلالت کرتی ہے۔ جس سے یہ پایہ ثبوت تک پہنچ جاتی ہے کہ آسمانوں اور زمین کی واقعی اور حقیقی حکومت اور فرمانروائی صرف اور صرف اس کی ذات میں منحصر ہے کیونکہ اس کی حکومت کلی، جاودانی اور حقیقی ہے بلکہ اس کے غیر کی حکومت کہ جو محدود اور نا پائیدار ہوتی ہے پھر بھی خدا ہی سے وابستہ ہوتی ہے۔ پھر یکے بعد دیگرے مشرکین کے عقائد کی نفی کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ وہ خدا جس نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا:(ولم یتخذ ولداً)۔ [بیٹے کی نفی کے بارے میں دلائل تفسیر نمونہ جلد اول سورہٴبقرہ کی آیت۱۱۶کے ذیل میں گزر چکے ہیں]۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی بتا چکے ہیں اصولی طور پر بیٹے کی ضرورت اس لئے پیش آتی ہے کہ کام کاج میں اس کی طاقت سے فائدہ اٹھایا جائے یا کمزوری، بڑھاپے اور نا توانی کے دنوں میں اس سے امداد لی جائے یا تنہائی میں اسے اپنا انیس و جلیس بنایا جائے یہ ظاہر ہے کہ خدا کی پاک ذات کو ان تینوں میں سے کسی کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ اس طرح سے نصاریٰ کے عقیدے کی نفی ہوتی ہے کہ وہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کو خدا کا بیٹا جانتے ہیں اور یہود کے عقیدے کی بھی نفی ہوتی ہے کیونکہ وہ جناب عزیر علیہ السلام کو خدا کا فرزند جانتے ہیں اسی طرح مشرکین عرب کے عقیدے کی بھی نفی ہوجاتی ہے۔ پھر فرمایا گیا ہے: عالم ہستی پر مالکیت اور حاکمیت میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے (وَلَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ یَکُنْ لَہُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ)۔ مشرکین عرب خدا کے لئے ایک یا کئی شریکوں کا عقیدہ رکھتے تھے، انھیں عبادت میں بھی شریک گردانتے تھے شفاعت میں ان سے متوسل ہوتے تھے اور اپنی حاجات میں ان سے مدد طلب کرتے تھے یہاں تک کہ حج کے موقع پر لبیک کہتے وقت بڑی صراحت کے ساتھ درج ذیل جملہ اور اس قسم کے دوسرے مشرکانہ جملے زبان پر جاری کرتے تھے۔ "لبیک لاشریک لک، الا شریکاً ھو لک، تملکہ و ما ملک" ہم نے تیری دعوت کو قبول کیا اے خدا! جو سوائے ایک شریک کے کوئی اور شریک نہیں رکھتا اور وہ شریک بھی اپنے تمام مملوک سمیت تیری ملکیت میں ہے۔ غرض قرآنِ مجید تمام موہوم چیزوں کی نفی اور مذمت کرتا ہے۔ اور اس آیت کے آخری جملے میں کہتا ہے: اس نے تمام موجودات کو پیدا کیا ہے۔ نہ صرف پیدا کیا ہے بلکہ ان کا صحیح صحیح اندازہ بھی مقرر کیا ہے (وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا)۔ ثنویہ کے عقیدے کی مانند نہیں جو موجودات عالم کی کچھ چیزوں کا خالق "یزدان" کو اور کچھ کا خالق"اہریمن" کو سمجھتے ہیں اور اس طرح سے وہ تخلیق کائنات کا یزدان اور اہریمن میں تقسیم کر دیتے ہیں کیونکہ وہ دنیا کو "خیر" اور "شر" یا نیکی اور بدی کا مجموعہ سمجھتے ہیں۔ جبکہ ایک سچے موحد کے نزدیک عالم ہستی میں خیر کے علاوہ اور کچھ ہے ہی نہیں اور اگر کہیں ہمیں برائی نظر بھی آتی ہے تو یا تو اس کی نسبی حیثیت ہے یا عدمی چیز ہے اور یا پھر ہمارے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہے (خوب غور کیجئے گا)۔
موجوداتِ عالم کا صحیح اندازہ
نہ صرف عالم ہستی کا جچا تلا پختہ نظام، خدا کی توحید اور اس کی معرفت کے محکم دلائل میں سے ایک دلیل ہے بلکہ اس کا صحیح صحیح اندازہ بھی اس کی وحدایت کی ایک اور واضح دلیل ہے ہم کسی بھی صورت میں اس کائنات کی مختلف چیزوں کے اندازے، مقدار اور تعداد کو"اتفاق" کا نتیجہ نہیں مان سکتے کہ یہ کائنات اور اس پر موجود اشیاء بس اتفاقیہ طور پر معرضِ وجود میں آ گئی ہیں نہیں اور ہرگز نہیں، کیونکہ یہ چیز تو "احتمالات کے قاعدہ" سے بھی میل نہیں کھاتی۔ ماہرین نے اس سلسلہ میں بہت مطالعہ کیا ہے اور کئی اسرار و رموز کا انکشاف کیا ہے جس سے انسان ورطہٴحیرت میں پڑ جاتا ہے اور زبان سے بے ساختہ اپنے پروردگار کی قدرت و عظمت کے گیت گانے لگتا ہے۔ ملاحظہ ہو ان تحقیقات کے نتائج کا ایک گوشہ۔ جیالوجی (علمِ ریاضیات) کے ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین کی یہ ظاہری سطح اگر موجودہ حالت میں دس فٹ مزید بلند اور موٹی ہوتی تو زندگی کا اصل مواد یعنی آکسیجن گیس کا وجود ہی عمل میں نہ آتا یا اگر سمندروں کی گہرائی موجودہ حالت سے بیشتر اور کئی گناہ ہوتی تو زمین کی تمام آکسیجن (Oxygen) اور کار بن (Carbon) گیس جذب ہو کر رہ جاتیں اور زمین کی سطح پر کسی حیوانی اور نباتی زندگی کے قطعاً امکانات نہ ہوتے اور قوی احتمال یہ ہے کہ موجودہ تمام آکسیجن کو زمین کی سطح اور سمندروں کا پانی جذب کرلیتے اور انسان کا اپنی نشو و نما کے لئے نباتات کے اگنے اور پروان چڑھنے کا انتظار کرنا پڑتا تا کہ وہ آکسیجن خارج کریں اور انسان اس سے استفادہ کرے۔ صحیح صحیح حساب و کتاب کے بعد اور تحقیقات کے نتیجے میں جو بات سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ انسانی تنفس کو بحال رکھنے کے لئے آکسیجن از حد ضروری ہے اور وہ مختلف ذرائع سے حاصل ہوتی ہے لیکن جو بات زیادہ اہم ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے تنفس کے لئے آکسیجن کی ضروری اور لازمی مقدار اس فضا میں موجود ہے۔ اگر زمین کی ہوا موجودہ حالت سے مزید ہلکی ہوتی تو آسمان سے تعلق رکھنے والے اجرامِ فلکی اور شہابئے جو روزانہ کروڑوں کی تعداد میں ہوا سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جاتے ہیں مسلسل زمین پر گرتے رہتے جس سے یقینا بے حد و حساب نقصان ہوتا۔ یہ شہاب ثاقب چھ سے چالیس میل فی سکینڈ کے حساب سے حرکت کرتے رہتے ہیں اور جس چیز سے بھی ٹکراتے ہیں وہیں پر دھماکہ کے ساتھ پھٹ کر آگ لگا دیتے ہیں چنانچہ ان اجرام کی رفتار موجودہ رفتار سے کم ہوتی ہے مثلاً ایک گولی کی رفتار کے برابر ہوتی تو وہ سب کے سب زمین پر آگرتے اور اس کے نتیجے میں جو تباہی پھیلتی اسے خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ اگر خود انسان ان اجرامِ فلکی میں سے کسی ایک چھوٹے سے چھوٹے جِرم کی راہ میں ہوتا تو اس کی زبردست حرارت اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی جبکہ اس کی رفتار گولی کی رفتار سے نوے گنا زیادہ ہوتی ہے۔ زمین کی فضا میں ہوا کا دباو اس حد تک مناسب اور موزوں ہے کہ یہ ہوا سورج کی شعاعوں کو صرف اس مقدار میں زمین پر آنے دیتی ہے جو نباتات کی نشو و نما کے لئے ضروری ہوتی ہے اور ضرر رساں جراثیموں کو اسی فضا میں نیست و نابود کر دیتی ہے اور مفید وٹامن پیدا کرتی ہے۔ زمین کی گہرائیوں سے صدیوں سے اٹھنے والے مختلف بخارات فضا میں پھیلے ہوئے ہیں اور ان میں سے اکثر زہریلی گیسیں ہیں اس کے باوجود فضا میں کسی قسم کی آلودگی پیدا نہیں ہوتی اور یہ فضا ہمیشہ متوازن اور موزوں رہتی ہے تا کہ انسانی زندگی کے لئے مناسب ماحول مہیا رہے۔ جس مشینری نے اس عجیب و غریب توازن کو برقرار رکھا ہوا ہے وہ سمندر ہی تو ہیں جو خوراک، بارش، اعتدال ہوا، حیاتِ نباتات بلکہ خود انسان کے وجود کا منبع فیض ہیں۔ جو شخص ان مطالب کا ادراک کرتا ہے وہ سمندروں کی عظمت کا اعتراف کرتا ہے اور ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ "آکسیجن" اور "کاربن ڈائی آکسائڈ" کے درمیان عجیب تناسب اور صحیح توازن برقرار رکھا گیا ہے تا کہ حیوانات اور نباتات کی زندگی وجود پذیر ہو اور باقی رہے۔ اسی چیز نے تمام مفکرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرالی ہے اور انھیں سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ لیکن ابھی "کاربن ڈائی آکسائڈ" کی اہمیت بہت سے لوگوں پر مخفی ہے یاد رہے کاربن ڈائی آکسائڈ وہ گیس ہے جس سے گیس والے مشروبات تیار کئے جاتے ہیں۔ کاربن ڈائی آکسائڈ ایک بھاری اور بوجھل گیس ہوتی ہے جو خوش قسمتی سے زمین کی سطح کے بہت ہی نزدیک موجود رہتی ہے اور اسے آکسیجن سے بڑی مشکل کے ساتھ جدا کیا جاسکتا ہے۔ جب لکڑی سے آگ جلائی جاتی ہے تو لکڑی پر کیمیکل عمل ہوتا ہے۔ خود لکڑی آکسیجن، کاربن اور ہائیڈروجن کے مجموعہ کا نام ہے چنانچہ حرارت کی وجہ سے جب اس کا کیمیکل تجزیہ ہوتا ہے تو کاربن فوراً ہی آکسیجن سے مل کر ڈائی آکسائڈ بن جاتی ہے اور اسی تیزی سے ہائیڈروجن بھی آکسیجن کے ساتھ مل کر بخارات کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ دھواں درحقیقت خالص اور غیر مرکب کاربن ہوتا ہے۔ جب انسان سانس لیتا ہے تو اس سے کچھ مقدار آکسیجن اس کے اندر چلی جاتی ہے جو جا کر خون کو بدن کے تمام حصوں میں تقسیم کرتی ہے اور یہی آکسیجن غذا بدن کے مختلف خلیوں میں بھیج کر آہستہ آہستہ اور مدھم سے حرارت کے ساتھ اسے جلا دیتی ہے اور اس سے کاربن ڈائی آکسائڈ اور بخارات خارج ہوتے رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جب کسی کو مذاق میں کہا جاتا ہے کہ وہ "تنور" کی مانند آہیں بھر رہا ہے تو یہ ایک حقیقت ہوتی ہے۔ بدن کے مختلف خلیوں میں غذا کے جلنے سے کاربن ڈائی آکسائڈ پیدا ہوتی ہے اور سیدھی پھیپھڑوں میں چلی جاتی ہے اور بعد والی سانسوں کے ذریعہ پھیپھڑوں سے خارج ہو کر بیرونی فضا میں چلی جاتی ہے۔ اسی ترتیب کے ساتھ تمام ذی روح چیزیں آکسیجن لیتی اور کاربن ڈائی آکسائڈ خارج کرتی ہیں۔ اسی توازن کا نتیجہ ہے کہ فطرت نے حیوانات اور درندوں کو اس دنیا پر مسلط ہونے سے روک رکھا ہے اگر چہ وہ جسم اور جثّے اور طاقت کے لحاظ سے بہت ہی عظیم ہیں اور یہ صرف انسان ہی ہے جو فطرت کے توازن کو بگاڑ کر رکھ دیتا ہے اور حیوانات اور نباتات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتا رہتا ہے اور لطف کی بات یہ ہے کہ وہ اپنی اس ستم ظریفی کا بہت جلد مزہ بھی چکھ لیتا ہے کیونکہ نباتی آفات اور حیوانی بیماریاں اسے ایسا ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتی ہیں کہ اسے اس کا مدتوں خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ ذیل میں ہم ایک دلچسپ واقعہ پیش کرتے ہیں جس سے معلوم ہو گا کہ انسان کو اپنی بقاء کے لئے کیوں اس توازن اور کنٹرول کا لحاظ رکھنا چاہئیے۔ چند سال پہلے کی بات ہے کے آسٹریلیا میں "جیدار"(Cactus) [یہ ایک طرح کا تنے دار پودا ہے اس کی دو قسمیں ہوتی ہیں ایک رنگ برنگے پھولوں والی قسم ہے جسے باغیچوں وغیرہ میں لگایا جاتا ہے اور دوسری قسم بڑی اور درخت کی سی ہوتی ہے]۔ نامی پودے کی کھیتوں کی باڑوں پر کاشت کی گئی ہے اور چونکہ اس وقت اس پودے کا مخالف کیڑا آسٹریلیا میں موجود نہیں تھا۔ لہٰذا یہ پودا خوب پھلا پھولا اور پروان چڑھا اور تھوڑی سی مدّت میں ا س نے جزیرہٴ انگلستان کی سر زمین کے برابر کے خِطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا لوگوں کو مجبوراً دیہات اور قصبات چھوڑنے پڑے کھیتی باڑی ختم ہو کر رہ گئی۔ لوگوں نے اس کے خاتمہ کے لئے ہر قسم کی چارہ جوئی کی لیکن کوئی مثبت نتیجہ بر آمد نہیں ہوا بلکہ پورے آسٹریلیا کو اس سے خطرہ پیدا ہو گیا کہ اس پودے کا خاموش اور ضدی لشکر کسی نہ کسی دن سارے برّ اعظم پر اپنا تسلط قائم کر لے گا۔ تمام ماہرین اور دانشوروں نے اس خطرے کا مقابلہ کرنے کی تدبیریں سوچنا شروع کردیں۔ ساری دنیا کی خاک چھان ماری آخر کار انھیں ایک ایسا کیڑا مل گیا جس کی خوراک صرف اور صرف "جیدار" کے پتے اور ٹہنیاں ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی خوراک نہیں کھاتا۔ اس پر ہی اپنی نسل بڑھاتا ہے اور آسٹریلیا میں اس کا کوئی دشمن بھی نہیں۔ اس طرح سے حیوان نے نبات پر غلبہ پالیا اور آج پورے برّ اعظم میں "جیدار" کا خطرہ مکمل طور پر ٹل چکا ہے اور اس نبات کے خاتمے کے ساتھ ہی کیڑوں کا بھی خاتمہ ہو چکا ہے صرف چند ایک کیڑے زندہ بچے ہیں جو اس نبات کی نشو و نما کو کنٹرول کئے ہوئے ہیں۔ قدرت نے فطرت میں اس توازن اور اعتدال کو بر قرار رکھا ہوا ہے اور یہ نہایت مفید بھی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ملیریا کے مچھر نے روئے زمین کو اپنی لیٹ میں نہیں لیا اور نہ ہی نسلِ انسانی کو تباہی سے ہم کنار کیا ہے جبکہ قطبی علاقوں تک میں عام مچھر بہت بڑی تعداد میں پایا جاتا ہے۔ یا کیا وجہ ہے کہ تپ زرد(Yellow fever) کے مچھر نے جو ایک موقع پر نیویارک کے قریبی علاقوں میں آیا تھا اس نے دنیا کو تباہی کے خطرے سے دو چار نہیں کیا یا خواب آور مکھی نے جو زندہ ہی صرف استوائی گرم علاقوں میں رہ سکتی ہے۔ انسانی نسل کو روئے زمین سے ختم نہیں کیا؟ (ان سب کا تدارک صرف اور صرف ایک صحیح اور جچے تلے نظام اور کنٹرو ل کے ذریعے کیا گیا ہے)۔ اتنا بتا دینا ہی کافی ہے کہ انسانیت اپنی تاریخ کے دورانیے میں کیسی کیسی آفات و امراض سے دوچار رہی ہے اور کل تک اس کے پاس اپنی مدافعت کا کوئی ذریعہ نہیں تھا اور حفظان صحت کے کسی اصول سے باخبر بھی نہیں تھی۔ جب ان تمام باتوں پر غور کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ ہمارا وجود کس حیرت انگیز حد تک محفوظ و مامون رہا ہے۔ ["راز آفرینش انسان" نامی کتاب کے ص ۳۳ تا ۳۶، ۳۹ تا ۴۱، ۴۹ تا ۱۵۲ سے خلاصہ کیا گیا]۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
طرح طرح کی تہمتیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 4یہ آیات درحقیقت گزشتہ آیات میں ہونے والی گفتگو کا تتمّہ ہیں جس میں وہ شرک اور بت پرستی کے خلاف دلائل پیش کئے گئے ہیں۔ اسی طرح بتوں کے بارے میں بت پرستوں کے بے بنیاد دعووں اور قرآن مجید اور رسولِ پاک کی ذات پر جو تہمتیں لگائی ہیں ان سب کی قلعی کھولی گئی ہے۔ پہلی آیت درحقیقت مشرکین پر فردِ جرم عاید کر رہی ہے اور ان کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لئے واضح، آسان اور قاطع دلائل کے ساتھ ان سے مخاطب ہے۔ ان لوگوں نے اس خدا کے علاوہ جس کے اوصاف ابھی بیان ہو چکے ہیں، دوسروں کو خدا بنا لیا ہے وہ تو قطعاً کسی چیز کے خالق نہیں بلکہ خود مخلوق ہیں (وَاتَّخَذُوا مِن دُونِهِ آلِهَةً لَّا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ)۔ معبودِ حقیقی عالمِ ہستی کا خالق ہے جبکہ بت پرستوں کا اپنے خداوں کے بارے میں اعتراف ہے کہ وہ کسی چیز کے خالق نہیں بلکہ وہ انھیں خدا کی مخلوق سمجھتے ہیں۔ جب صورتِ حال ایسی ہو تو پھر کس بناء پر وہ بت پرستی کرتے ہیں۔ وہ بت جو اپنے نفع و نقصان، موت و حیات اور قیامت کے دن جی اٹھنے تک کے مالک نہیں، وہ دوسروں کو کیا دیں گے (وَلَا يَمْلِكُونَ لِأَنفُسِهِمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا وَلَا يَمْلِكُونَ مَوْتًا وَلَا حَيَاةً وَلَا نُشُورًا)۔ جو اصول کسی انسان کے لئے زبردست اہمیت کے حامل ہیں، یہی پانچ امور تو ہیں۔ نفع، نقصان، موت، زندگی اور دوبارہ جی اٹھنا۔ سچی بات یہ ہے کہ جو ہماری ان پانچ چیزوں کا مالک ہے وہی ہماری عبادت کے لائق ہے تو آیا یہ بت کسی بھی صورت میں خود اپنے ان پانچ امور کے مالک ہیں؟ چہ جائیکہ اپنے عبادت گزاروں کے ان امور کے مالک بنیں؟ یعنی جب یہ اپنے امور کے مالک نہیں ہیں وہ اپنے پوجنے والوں کے کس طر ح مالک بن سکتے ہیں؟ یہ کیسی رذیلانہ حرکت ہے کہ انسان ایسی چیزوں کے پیچھے بھاگتا پھرے اور ان کے سنگِ آستاں پر جبہ سائی کرے جو خود اپنے لئے کچھ نہیں رکھتیں چہ جائیکہ دوسروں کے لئے ان کے پاس کچھ ہو؟ یہ بت تو دنیا میں اپنے پوجنے والوں کی کسی مشکل کو حل نہیں کر سکتے قیامت کے دن کسی کی مشکل کیا حل کریں گے؟ اس تعبیر سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرکین کا یہ گروہ جو ان آیات میں مخاطب ہے کسی حد تک معاد (روحانی نہ کہ جسمانی) کا قائل ضرور تھا یا پھر یہ بات ہے کہ باوجود ان کے قیامت پر ایمان نہ ہونے کے قرآن مجید نے اس بات کو مسلم بنا کر ذکر کیا ہے اور دو ٹوک الفاظ میں ان کے ساتھ مخاطب ہے۔ عموماً طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ جب کبھی انسان کو کسی چیز کے منکر سے گفتگو کرنی پڑتی ہے تو وہ اس کے افکار کی پرواہ کئے بغیر اپنے مدعا کو دو ٹوک الفاظ میں بیان کر دیتا ہے۔ پھر اس آیت میں تو ضمنی طور پر معاد پر ایک دلیل بھی بیان کی گئی ہے کیونکہ جب خالق کسی مخلوق کو پیدا کرتا ہے اور اس کے سود وزیاں اور موت و حیات کا مالک ہوتا ہے تو اس تخلیق کا مقصد بھی اس کے پیش نظر ہوتا ہے اور جب تک قیامت تسلیم نہ کیا جائے تو یہ مقصد فوت ہو جاتا ہے کیونکہ اگر انسان کی موت کے ساتھ ہی سب کچھ ختم ہو جائے تو یہ زندگی بے فائدہ اور بے مقصد ہو گی اور اس بات کی دلیل ہو گی کہ انسان کا خالق صاحبِ حکمت نہیں ہے۔ آیت میں لفظ"ضرر"، "نفع" سے پہلے اس لئے ہے کہ انسان سب سے پہلے ضرر ہی سے خوف کھاتا ہے اور عقلائے عالم کا فیصلہ ہے کہ "ضرر کا دور کرنا نفع کے حصول سے بہتر ہے"۔ نیز اگر "ضرر"، "نفع"، "موت"، "حیات" اور"نشور" کے الفاظ نکرہ کی صورت میں ذکر ہوئے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بت تو ایک مرتبہ بھی یہ کام نہیں کر سکتے تمام دنیا کے بارے میں وہ کیا کریں گے؟ اور اگر "لایملکون" اور"لایخلقون" کو ذوی العقول کے لئے استعمال ہونے والے جمع مذکر کے صیغوں میں ذکر کیا گیا ہے (جبکہ لکڑی اور پتھر کے بت تو ذرہ بھر بھی عقل و شعور نہیں رکھتے) تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس گفتگو سے مراد صرف لکڑی اور پتھر کے بت ہی نہیں بلکہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو فرشتوں یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پرستش کرتے ہیں اور چونکہ اس جملے کے معنی میں عاقل اور غیر عاقل اکھٹے ذکر ہوئے ہیں لہٰذا سب کو عاقل کی صورت میں بیان کیا ہے۔ ادبی اصطلاح میں اسے "تغلیب" کا نام دیا جاتا ہے۔ یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مد مقابل کے عقیدے کے مطابق بات جا رہی ہو اور اس طرح سے ان بتوں کی عاجزی اور ناتوانی کو اجاگر کیا جانا مقصود ہو کہ جن چیزوں کو تم صاحبِ عقل و شعور سمجھتے ہو وہ اپنے سے ضرر کو دور کیوں نہیں کرسکتیں اور منفعت کو کیوں حاصل نہیں کرسکتیں۔ بعد والی آیت میں کفار کے تجزیہ و تحلیل یا بہتر الفاظ میں پیغمبرِ اسلام کی دعوتِ اسلام کے جواب میں ان کے حیلے بہانوں کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: کافروں نے کہا یہ تو صرف ان کا خود ساختہ جھوٹ ہے اور کچھ لوگوں نے اس بارے میں اس کی مدد کی ہے (وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا إِفْكٌ افْتَرَاهُ وَأَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمٌ آخَرُونَ)۔ درحقیقت انھوں نے اطاعتِ حق سے جان چھڑانے کے لئے یہ بات کی۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح تاریخ کے مطابق پہلے لوگ خدائی رہبروں کی اطاعت سے جان چھڑانے کے لیے ان کی مخالفت کرتے تھے۔ پہلے تو انھوں نے آنحضرت پر جھوٹ کی تہمت لگائی اور خاص کر قرآن مجید کی توہین کے لئے "ھٰذا" یعنی "یہ" کا کلمہ استعمال کیا۔ پھر اپنے اس دعوے کو سچا ثابت کرنے کے لئے کہ وہ تنہا ایسا کام نہیں کر سکتے کیونکہ مطالب سے بھر پور الفاظ کے لئے ایک زبردست علمی طاقت کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ اس پر آمادہ نہیں تھے کہ اس بات کا کھلم کھلا اعتراف کریں کہ یہ ایک با قاعدہ اساسی پروگرام ہے لہٰذا کہنے لگے کہ: وہ تنہا ایسا کام نہیں کر سکتا بلکہ کچھ لوگوں نے اس سلسلے میں اس کی مدد کی ہے اور ایک با قاعدہ سوچی سمجھی سازش ہے جس کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہئیے۔ بعض مفسّرین کہتے ہیں کہ "قوم اٰخرون" (دوسری قوم سے) ان کی مراد یہودیوں کا ایک گروہ تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ مراد اہلِ کتاب کے تین افراد تھے جن کا نام "عداس"، "یسار" اور"حبر" تھا (یا "جبر") ہے۔ بہر صورت چونکہ مشرکینِ مکہ اس قسم کی باتوں سے نا آشنا تھے اور انبیاء ماسلف کی کچھ تاریخی داستانیں اور اس قسم کے کئی دوسرے قصے تھے یہود اور اہلِ کتابکے پاس موجود تھے۔ لہٰذا اس بہتان تراشی میں انہوں نے زبردستی اہلِ کتابکو بھی ملوث کر دیا تا کہ اس طرح سے وہ لوگوں کے اس تاثر کو ختم کر سکیں جو وہ قرآنی آیات سننے سے لیتے تھے۔ لیکن قرآن مجید نے ان اتہامات کا جواب صرف ایک ہی جملے میں دے دیا ہے اور وہ یہ ہے: یہ کہہ کر وہ (کافر) ظلم اور بہت بڑے جھوٹ کے مرتکب ہوئے ہیں (فَقَدْ جَائُوا ظُلْمًا وَزُورًا)۔ ["جاء وا" "مجئی" کے مادہ سے ہے جو عام طور پر "آنے" کے معنی میں ہوتا ہے لیکن یہاں پر "لانے" کے معنی میں ہے جیسا کہ سورہ یونس کی آیت ۸۱ میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے جادوگروں سے فرمایا: ما جئتم بہ السحر یعنی: جو کچھ تم لائے ہو وہ جادو ہے]۔ "ظلم" اس لحاظ سے کہ انہوں نے ایک امین، پاکیزہ، مقدس اور حق و صداقت کے پتلے پر تہمت لگائی ہے (پیغمبر اسلام پر) کہ وہ (نعوذ باللہ) اہلِ کتابکے ایک ٹولے کی مدد سے خدا پر افترا پردازی اور جھوٹ کے مرتکب ہوتے ہیں اس طرح کا الزام لگا کر انھوں نے لوگوں پر بھی ظلم کیا اور اپنے اوپر بھی۔ "زور" یعنی جھوٹ اور باطل اس بناء پر کہ ان کی باتیں بالکل بے بنیاد تھیں کیونکہ پیغمبرِ اسلام نے انھیں ایک نہیں کئی بار چیلینج کیا تھا کہ اگر وہ اپنے دعووں میں سچے ہیں تو اس قرآن جیسی کوئی کتاب یا اس کی سورتوں اور آیات جیسی کچھ سورتیں یا آیتیں لے آئیں لیکن وہ ایسا کرنے سے عاجز آگئے تھے اور کچھ بھی پیش نہ کر سکے تھے۔ اس طرح سے واضح ہو گیا کہ یہ آیات کسی انسانی فکر کی اختراع نہیں بلکہ رب العالمین کا کلام ہیں کیونکہ اگر یہ انسان کا کلام ہوتا تو وہ بھی یہودیوں اور اہلِ کتابکی مدد سے اس طرح کی کتاب تیار کر لاتے۔ بنابریں، ان کا عجز ان کے جھوٹ کی اور ان کا جھوٹ ان کے ظلم کی دلیل ہے۔ لہٰذا "فقد جاء وا ظلماً و زوراً" ایک ایسا جامع اور مانع جواب ہے جو ان کے دعووں کو باطل کر دیتا ہے۔ "زور" (بر وزن "کود") اصل میں "زَور" (بر وزن "غور") سینے کے بالائی حصّہ کے معنیٰ سے لیا گیا ہے پھر اس کا اطلاق ہر اس چیز پر ہونے لگا جو حّدِ اعتدال سے ہٹی ہوئی ہوتی ہے۔ چونکہ جھوٹ حق سے ہٹ کر باطل کی طرف گیا ہوتا ہے لہٰذا اسے بھی "زور" کہتے ہیں۔ بعد والی آیت میں قرآن کے بارے میں کفار و مشرکین کی ایک اور رائے اور بے ہودہ بہانے کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: انھوں نے کہا یہ تو وہی گزشتہ لوگوں کے افسانے ہیں جسے اس نے قلمبند کیا ہے (وَقَالُوا اَسَاطِیرُ الْاَوَّلِینَ اکْتَتَبھَا)۔ وہ کہتے ہیں پیغمبر کے پاس اپنی طرف سے کچھ نہیں ہے خواہ وہ علم ہو یا دانش، ایجاد ہو یا اختراع، تو پھر وحی اور نبوت اس کے پاس کہاں سے آگئے۔ اس نے تو کچھ لوگوں کی مدد سے چند قصے کہانیوں کو اکٹھا کر کے اس کا نام وحی یا آسمانی کتاب رکھ دیا ہے۔ وہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ہر روز دوسرے لوگوں سے مدد حاصل کرتا ہے اور یہ کلمات صبح و شام اسے لکھوائے جاتے ہیں (فَھِیَ تُمْلَی عَلَیْہِ بُکْرَةً وَاَصِیلًا)۔ یعنی وہ ہر صبح و شام جبکہ لوگ بہت کم اپنے گھروں سے باہر نکلتے ہیں اپنے مقصد کو پانے کے لئے لوگوں سے مدد حاصل کرتا ہے۔ اس قسم کے کلمات درحقیقت گزشتہ آیت میں ان کے بیان شدہ اتہامات کی توضیح اور تشریح ہیں۔ اس طرح سے انہوں نے چند مختصر سے جملوں میں کچھ خامیاں اور کمزوریاں قرآن مجید کے سر مَنڈھ دی ہیں: ۱۔ قرآن میں کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ صرف گزشتہ لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ ۲۔ پیغمبرِ اسلام ایک دن بھی دوسرے لوگوں کی مدد کے بغیر اپنا کام انجام نہیں دے سکتے، بلکہ صبح و شام کچھ باتیں انھیں لکھوا دی جاتی ہیں۔ ۳۔ وہ لکھنا پڑھنا جانتے ہیں لہٰذا اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی سے سبق نہیں پڑھا تو خلاف حقیقت کہتے ہیں۔ درحقیقت وہ اس قسم کی دروغ گوئی اور ظاہری اتہامات کے ذریعہ لوگوں کو رسول اللہ کے پاس سے ہٹانا چاہتے تھے جبکہ تمام صاحبان عقل اور اس ماحول کے رہنے والوں کو اچھی طرح معلوم تھا کہ آپ نے کسی کے سامنے زانوئے تلمذ تہ نہیں کیا تھا۔ پھر یہ آپ کو نہ تو یہود سے کوئی سروکار تھا اور نہ کسی اور اہلِ کتاب سے، اگر واقعاً آپ صبح و شام کسی سے کچھ حاصل کرتے تو کیونکر ممکن تھا کہ کسی پر یہ بات مخفی رہتی؟ ان سب باتوں سے ہٹ کر قرآنی آیات تو سفر و حضر اور مجمع عام اور تنہائی میں آپ پر نازل ہوتی تھیں۔ ان سب سے قطع نظر قرآن مجید صرف انبیاء ماسلف کی داستانوں پر ہی مشتمل نہیں بلکہ اس میں اعتقادی تعلیمات، عملی احکام قوانینِ الہٰی اور کچھ انبیاء عظام کی سر گزشت بھی موجود ہے اور پھر گزشتہ اقوام کی جو داستانیں قرآن مجید میں موجود ہیں وہ عہدین (تحریف شدہ تورات اور انجیل) اور عربوں کے افسانوں سے بالکل مختلف ہیں۔ کیونکہ وہ تو خرافات اور فضول باتوں سے بھرپور تھے جبکہ قرآن مجید ان تمام خرافات سے بالکل پاک و پاکیزہ ہے۔ اس کا بہترین ثبوت یہ ہے کہ اگر دونوں کا باہمی موازنہ اور تقابل کیا جائے تو حقیقت امر بخوبی واضح ہو جائے گی۔ [بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ "اکتبتھا" سے مراد یہ ہے کہ رسول اللہ نے دوسرے لوگوں کو فرمایا کہ وہ یہ آیات آپ کو لکھوا دیں اور اسی طرح "تملیٰ علیہ" کا مفہوم یہ ہے کہ وہ لوگ آپ کے سامنے پڑھتے اور آپ یاد کر لیتے لیکن ہمارے پاس کوئی ایسی دلیل نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے ہم ان دونوں جملوں کی ظاہر کے خلاف تفسیر کریں لہٰذا جو تفسیر اوپر متن میں بیان کی گئی ہے زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ درحقیقت وہ یہ چاہتے تھے کہ آنحضرت کو اس طرح سے متہم کر سکیں کہ وہ تو پڑھے لکھے ہیں اور جان بوجھ کر اپنے آپ کو ان پڑھ بتاتے ہیں]۔ اسی بناء پر اس سلسلے کی آخری آیت میں ان بے بنیاد الزامات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: کہہ دیجیئے اسے تو اس نے نازل کیا ہے جو آسمانوں اور زمین کے اسرار و رموز سے اچھی طرح واقف ہے (قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ)۔ آیت کا یہ حصہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس کتابِ الٰہی کے مضامین اور مختلف اسرار و رموز جن میں علم و دانش بھی ہے اور گزشتہ قوموں کی تاریخ بھی، انسانی ضروریات کی راہنمائی اور قوانین حتیٰ کہ عالمِ فطرت کے اسرار و رموز اور آئندہ کی خبریں بھی، یہ سب کچھ اس بات کی دلیل ہے کہ نہ تو یہ انسانی ذہن کی اختراع ہے اور نہ ہی کسی ایرے غیرے کے تعاون سے اسے مرتب کیا گیا ہے بلکہ یہ تو اس ذات کے علم کا نتیجہ ہے جس کے پاس آسمان و زمین کے اسرار موجود ہیں اور جس کا علم ہر چیز پر حاوی ہے۔ ان کج اندیش مطلب کے بندوں اور جھوٹے دغا بازوں کی تمام خیانتوں اور الزام تراشیوں کے با وجود اللہ نے ان کے لئے توبہ کی راہ کھلی رکھی ہے۔ چنانچہ اسی آیت کے آخر میں فرمایا ہے کہ توبہ اور بازگشت کی راہیں ان سب پر کھلی ہوئی ہیں کیونکہ خدا ہر دور میں غفور و رحیم ہے (إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمً)۔ اس نے اپنی رحمت کی وجہ سے انبیاء عظام علیھم السلام کو مبعوث کیا اور آسمانی کتابوں کو نازل فرمایا ہے اور اپنے غفور ہونے کی بناء پر انسان کے ایمان اور توبہ کے پَرتو میں اس کے بے شمار گناہوں کو معاف فرماتا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 4حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام فرماتے ہیں:۔ میں نے اپنے والد (حضرت امام علی نقی علیہ السلام) سے پوچھا کہ آیا یہود اور مشرکین جب آنحضرت کے ساتھ کٹ حجتی اور کج بحثی کرتے تھے تو آپ بھی ان کے ساتھ استدلالی گفتگو فرماتے تھے یا نہیں؟ تو انھوں نے فرمایا ضرور فرماتے تھے اور کئی بار ایسا بھی ہوا ہے چنانچہ اسی سلسلے کا ایک واقعہ یہ بھی ہے کہ ایک دن آپ خانہ خدا کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ عبد اللہ بن ابی مخزومی آپ کے سامنے آ کر کہنے لگا: اے محمد! تم نے بہت بڑا دعویٰ کیا ہے اور بہت خطر ناک باتیں کرتے ہوئے اس طرح سے تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم پر وردگارِ عالم کے رسول ہو۔ لیکن مناسب نہیں کہ مخلوقات کا خالق اور عالمین کا پروردگار تم جیسے ایک عام آدمی کو رسول بنا کر بھیجے۔ تم بھی ہماری طرح کھانا کھاتے اور ہماری مانند بازار میں چلتے پھرتے ہو۔ یہ سن کر اللہ کے رسول نے (بارگاہ ایزدی میں) عرض کی:۔ بارالہٰا! تو سب باتوں کو سنتا ہے اور ہر چیز کو اچھی طرح جانتا ہے اور تیرے بندے جو کچھ کہتے ہیں تو انھیں بھی جانتا ہے (تو خود ہی ان کے اعتراضات کا جواب عنایت فرما) تو اس موقع پر مذکورہ بالا آیات نازل ہوئیں اور ان کے اعتراضات کے جواب دئیے۔ [تفسیر نور الثقلین جلد۴ ص۶]۔
خزانے اور باغات کیوں نہیں؟
جہاں تک گزشتہ آیات کی بات ہے ان میں قرآن مجید کے بارے میں کافروں کے کچھ اعتراضات کا تذکرہ ہے اور ان کا جواب بھی دے دیا گیا ہے۔ رہی زیرِ بحث آیات کی بات تو ان میں خود پیغمبر گرامی کی رسالت پر اعتراضات کا ذکر ہے اور ساتھ ہی ان اعتراضات کا جواب بھی دیا گیا ہے۔ خدا فرماتا ہے: انہوں نے کہا کیوں یہ رسول کھانا کھاتا ہے اور کیوں بازار میں چلتا ہے (وَقَالُوا مَالِ هَذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ)۔ یہ کیسا پیغمبر ہے جسے کھانے کی ضرورت ہوتی ہے اور لین دین یا اشیائے ضرورت کی خریداری کے لئے بازار میں آتا جاتا ہے؟ یہ نہ تو انبیاء کا طریقہ کار ہے اور نہ ہی بادشاہوں کا شیوہ! اس کے باوجود وہ خدائی احکام کی تبلیغ اور سب پر حکومت بھی کرنا چاہتا ہے۔ اصولی طور پر ان کا نظریہ یہ تھا کہ باحیثیت اور معزّز افراد اپنی ضروریات پورا کرنے کے لئے خود بازار نہ جایا کریں بلکہ ایسے کاموں کے لئے اپنے نوکروں چاکروں کو بھیج دیا کریں۔ وہ یہ بھی کہتے: اس پر فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا تاکہ وہ اس کی دعوت کی صداقت پر گواہ ہوتا اور اس کے ساتھ مل کر لوگوں کو ڈراتا (لَوْلاَ اُنزِلَ إِلَیْہِ مَلَکٌ فَیَکُونَ مَعَہُ نَذِیرًا)۔ چلو مان لیا کہ خدا کا رسول انسان بھی ہوسکتا ہے لیکن تہی دست اور نادار انسان ہی رسول کیوں ہو؟ آخر اللہ نے اس کے لئے آسمان سے کوئی خزانہ کیوں نہیں بھیجا یا کم از کم اس کا کوئی باغ کیوں نہیں ہے کہ جس سے وہ (پھل) کھاتا (اَوْ یُلْقَی إِلَیْہِ کَنزٌ اَوْ تَکُونُ لَہُ جَنَّةٌ یَاْکُلُ مِنْھَا)۔ پھر انہوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ غلط نتیجہ نکالتے ہوئے پیغمبر اکرم کو جنون کی تہمت دی جیسا کہ آیت کے آخر میں ہے اور ظالموں نے کہا: اے اس پر ایمان لانے والو! تم ایک دیوانے اور سحر زدہ شخص کی پیروی کر رہے ہو (وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلاَّ رَجُلًا مَسْحُورًا)۔ کیونکہ ان کا نظریہ تھا کہ جادوگر لوگ انسان کے ہوش و حواس اور عقل کو اپنے قابو میں لے سکتے ہیں اور اس کی عقل سلب کر سکتے ہیں۔ اوپر کی تمام آیات کو ملا کر جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ مشرکین کو پیغمبر اکرم کی ذات پر چند بے بنیاد اعتراض تھے، جن سے وہ قدم بقدم پیچھے ہٹتے گئے۔ ان کا پہلا اعتراض تو یہ تھا کہ رسول کو فرشتہ ہی ہونا چاہئیے یہ جو کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے یقینا فرشتہ نہیں ہے۔ پھر کہا: چلو مان لیا فرشتہ نہ سہی خدا کم از کم کوئی فرشتہ اس کی اعانت کے لئے بھیج دیتا۔ کچھ اور پیچھے ہٹے اور کہا: یہ بھی نہ سہی کم از کم اسے ایک غریب آدمی تو نہیں ہونا چاہئیے تھا ایک خوشحال زمیندار ہو اس کے پاس ایک باغ ہو جس سے اپنی گزر اوقات کرے۔ لیکن افسوس یہ چیز بھی اس کے پاس نہیں ہے اور پھر دعویٰ یہ کہ پیغمبر ہے!! آخر میں وہ ان سب باتوں کا نتیجہ یہ نکالتے تھے کہ ان حالات میں اس کا اتنا بڑا دعویٰ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی عقل ٹھیک نہیں (نعوذباللہ)۔ بعد والی آیت ان سب کا جواب ان الفاظ میں دیتی ہے: دیکھ تو سہی کہ انھوں نے تیرے لئے کس طرح کی مثالیں بیان کی ہیں۔ اب وہ اس حد تک گمراہ ہو چکے ہیں کہ انھیں تو راستہ بھی سجھائی نہیں دیتا (انظُرْ کَیْفَ ضَرَبُوا لَکَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلاَیَسْتَطِیعُونَ سَبِیلًا)۔ یہ جملہ اس حقیقت کی واضح تعبیر ہے کہ انھوں نے دعوتِ حق اور اس قرآن کے مقابلے میں چند بے بنیاد اور فضول باتیں گھڑ لی ہیں جبکہ قرآن کے مضامین خدا کے ساتھ تعلق اور ارتباط کے ناطق گواہ ہیں۔ اس طرح سے وہ حقیقت کے چہرے پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ اِدھر اُدھر کی کھوکھلی بے بنیاد باتیں کرتے ہیں اور منطقی دلیل کا جواب ایسی بے سر و پا باتوں کے ذریعے دینا چاہتے ہیں کیونکہ: ۱۔ آخر پیغمبر کو فرشتوں کی جنس سے کیوں ہونا چاہیئے جب کہ اس کے بالکل بر عکس عقل اور دانش کا تقاضا یہ ہے کہ انسانوں کا رہبر انسان ہی کو ہونا چاہئیے تاکہ وہ ان کے تمام دکھ درد، مشکلات، تکالیف، ضروریاتِ زندگی اور مسائلِ حیات کو اچھی طرح سمجھ سکے تمام مسائل میں ان کے لئے عملی نمونہ بن سکے اور لوگ ہر ہر قدم پر اس کی تاسی کر سکیں۔ فرشتہ نازل ہوتا تو یقینا یہ مقصد پورا نہ ہوتا کیونکہ اگر وہ زاہد اور دنیا سے بے نیازی کی باتیں کرتا تو وہ تو خود فرشتہ ہے اور ان چیزوں سے بے نیاز ہے اگر عفت اور پاکدامنی کی تبلیغ کرتا تو فرشتہ ہونے کی بناء پر قوتِ جنسی کے طوفان سے بے خبر ہوتا اسی طرح کے بیسیوں "اگر" پیدا ہو جاتے۔ ۲۔ یہ کیوں ضروری ہے کہ ا س کے ہمراہ فرشتہ آتا؟ آیا قرآن جیسے عظیم معجزے کے باوجود بھی اس کی ضرورت باقی رہ گئی تھی اور حقائق کے ادراک کے لئے قرآن نا کافی تھا؟ ۳۔دوسرے لوگوں کی طرح کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے تو اس طرح سے لوگوں کے ساتھ اس کے مراسم پیدا ہوتے ہیں، میل جول بڑھتا ہے اور ان کے دل کی گہرائیوں اور زندگی کی تہ تک پہنچتا ہے اور اپنا پیغام بہتر طور پر ان تک پہنچا سکتا ہے یہ بات اس کے لئے مضر نہیں بلکہ مفید اور معاون ہے۔ ۴۔پیغمبر کی عظمت اور ان کی شخصیت نہ تو خزانوں کی مرہونِ منت ہے اور نہ ہی سر سبز و شاداب باغوں اور پھلوں کی یہ تو کفار کی گمراہ کن منطق ہے کہ وہ کسی کی شخصیت بلکہ تقربِ خدا کا دار و مدار سرمایہ داری پر ہی سمجھتے ہیں جبکہ انبیاء علیھم السلام مبعوث ہی اس لئے ہوئے ہیں تاکہ انسان کو یہ بتائیں کہ اے انسان! تیرے وجود کی عظمت مادی چیزوں کے ساتھ نہیں بلکہ علم و ایمان او ر تقویٰ کے ساتھ ہے۔ ۵۔ وہ کس بناء پر آنحضرت کو "مسحور" اور "مجنون" سمجھتے تھے حالانکہ آپ کی تاریخِ زندگی بتاتی ہے کہ آپ کی عقل کی کوئی نظیر نہیں ہے۔ یہ آپ ہی کی عقل تھی جس کی وجہ سے دنیا میں ایک عظیم انقلاب برپا ہوا اور ایک اسلامی تمدن کی بنیاد ڈالی گئی پھر کیونکر ممکن ہے کہ آپ کو ناروا اور اتہامات کے ساتھ متہم کیا جائے ہاں البتہ چونکہ آپ نے بت شکنی کا کارنامہ انجام دیا اور گزشتہ لوگوں کی اندھا دھند پیروی نہیں کی لہٰذا آپ کو "مجنون" کہا گیا۔ اس گفتگو سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں پر "امثال" سے مراد (خاص کر آیت میں موجود قرآئن کی وجہ سے) کمزور اور بے بنیاد باتوں کو حق کا جامہ پہنا کر اور منطقی اور مدلل صورت میں تبدیل کرکے پیش کرتے جبکہ حقیقت کچھ اور ہوتی۔ [تشریحی نوٹ: بہت سے مفسّرین نے یہاں پر "امثال" کو "تشبیہات" کے معنی میں لیا ہے لیکن اس کی وضاحت نہیں کی کہ یہاں پر مشرکین نے کون سی تشبیہ دی ہے۔ بعض نے "امثال" کا معنی "صفات" کیا ہے کیونکہ "مفردات راغب" میں "مثل" کا ایک معنی "توصیف" بھی کیا گیا ہے اگر یہاں پر "امثال" سے مراد "صفات" ہوں تو بھی بے بنیاد اور بے پایہ صفات ہی ہوں گی۔ کیونکہ آیت کی ابتدا اور انتہا میں کچھ ایسے قرائن پائے جاتے ہیں جو اسی بات پر دلالت کرتے ہیں ایک طرف تو بطور تعجب کہتا ہے کہ ذرا دیکھئے تو سہی کہ وہ کیسی مثالیں بیان کرتے ہیں اور دوسری طرف فرماتا ہے "ایسی تو صیفات جو ان کی گمراہی کا سبب بن گئی ہیں اور وہ پھر پلٹ جانے کے قابل بھی نہیں رہے"]۔ یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ آپ کے دشمن کبھی آپ کو"ساحر" کہتے تھے یعنی جادوگر اور کبھی "مسحور" یعنی جس پر جادو کیا گیا ہو اگرچہ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ "مسحور" بمعنی "ساحر" کے ہو گا (کیونکہ کبھی کبھی اسمِ مفعول، اسمِ فاعل کے معنی میں بھی آتا ہے) لیکن ظاہر یہ ہے کہ ان دونوں کا آپس میں فرق ہے۔ اگر آپ کو ساحر کہا جاتا تھا تو اس کے لئے آپ کے کلام میں بہت زیادہ تاثیر تھی جو لوگوں کے دلوں میں گھر کر جاتی اور چونکہ وہ اس حقیقت کا اعتراف نہیں کرنا چاہتے تھے لہٰذا آپ پر جادوگر ہونے کی تہمت لگاتے تھے۔ لیکن "مسحور" کے معنی ہیں ایسا شخص جس کی عقل پر جادوگروں نے قبضہ کر کے اس کے حواس مختل کر دیئے ہوں یہ تہمت آپ پر ا س لئے لگائی جاتی تھی کہ آپ نے غلط رسومات، نا جائز عادات اور خود غرضیوں کے خلاف قدم اٹھایا۔ ان سب الزامات کا جواب پیچھے دیا جا چکا ہے۔ یہاں پر یہ سوال پیش آتا ہے کہ خدا نے یہ کیوں فرمایا ہے "فضلوا فلا یستطیعون سبیلا" یعنی وہ اس حد تک گمراہ ہو چکے ہیں کہ راہِ حق کی تلاش نہیں کر سکتے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان اس وقت راہِ حق کو تلاش کر پائے گا جب حق کا خواہش مند اور طلبگار ہو گا لیکن اگر کوئی شخص اپنی جہالت، ہٹ دھرمی اور دشمنی کی بناء پر اپنے غلط اور گمراہ کن اندازوں کے تحت فیصلے کر کے تو نہ صرف یہ کہ وہ راہِ حق کو تلاش نہیں کر سکے گا بلکہ حق کے مقابلے میں ڈٹ بھی جائے گا۔ سابقہ آیت کی طرح آخری آیت میں بھی خداوندِ عالم روئے سخن پیغمبر اکرم ص کی طرف فرماتے ہوئے کفار و مشرکین کی باتوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہوئے اور انھیں نا قابلِ اعتناء سمجھتے ہوئے کہتا ہے: بزرگ اور با برکت ہے وہ خدا کہ جو چاہے تو تجھے اس سے بھی بہتر چیزیں عطا فرما دے جو یہ لوگ کہتے ہیں۔ ایسے باغات جن کے نیچے نہریں جاری ہوں اور ایسے محلّات کہ جو عظیم ہوں (تَبَارَکَ الَّذِی إِنْ شَاءَ جَعَلَ لَکَ خَیْرًا مِنْ ذَلِکَ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْھَارُ وَیَجْعَلْ لَکَ قُصُورًا)۔ تو کیا دوسرے لوگوں کو خدا کے علاوہ کسی اور نے باغات اور محلات عطا فرمائے ہیں۔ اور کیا اس کائنات اور اس کی نعمتوں اور زیبائشوں کو سوائے پروردگار کے کسی اور نے تخلیق فرمایا ہے؟ نہیں ہرگز نہیں تو پھر کیا ان صفات کے مالک خدا کے لئے کوئی مشکل بات ہے کہ تجھے ان سے بہتر چیزیں عطا فرمائے؟ یقینا وہ ایسا کر سکتا ہے لیکن اس لئے ایسا نہیں کرتا کہ لوگ تیری شخصیت کو مال و دولت اور محلات و باغات کا مرہونِ منت سمجھ کر تیری حقیقتی شخصیت سے غافل نہ ہو جائیں خدا چاہتا ہے کہ تیری زندگی بھی عوام الناس، مستضعف اور محروم و مظلوم لوگوں کی سی ہوتا کہ تو ایسے لوگوں کے لئے جائے پناہ بن سکے۔ خدا یہ کیوں فرماتا ہے کہ اس کے پاس ایسے باغات اور محلات ہیں جو ان چیزوں سے بہتر ہیں جو کفار چاہتے ہیں کیونکہ خزانے بذاتہ مشکلات کو آسان نہیں کرتے بلکہ وہ بہت محنت اور زبردست کوشش کے بعد باغات اور محلات میں تبدیل ہوتے ہیں اس کے علاوہ وہ یہ کہتے تھے کہ رسول للہ کے پاس ایک ایسا باغ ہوتا جس سے وہ اپنی گزر اوقات کرتے لیکن قرآن کہتا ہے کہ خداوندِ عالم اپنے رسول کو باغات بھی عطا فرما سکتا ہے اور محلات بھی دے سکتا ہے لیکن ان کی بعثت اور رسالت کا مقصد کچھ اور ہے۔ نہج البلاغہ کے "خطبہ قاصعہ" میں اس بارے میں ایک نہایت عمدہ بیان آیا ہے۔ امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام بیان فرماتے ہیں: موسیٰ اپنے بھائی (ہارون) کے ساتھ فرعون کے دربار میں پہنچے دونوں کے بدن پر اونی لباس اور ہاتھوں میں عصا تھا اس حالت میں انہوں نے شرط پیش کی کہ اگر فرمانِ الہٰی کے سامنے جھک جائے تو اس کی حکومت اور ملک باقی اور اقتدار قائم و بر قرار رہے گا۔ لیکن فرعون نے حاضرین سے کہا: تمہیں ان کی باتوں پر تعجب نہیں ہوتا کہ میرے ساتھ شرط لگا رہے ہیں کہ میرے ملک کی بقاء اور میری عزت کا دوام ان کی مرضی کے ساتھ وابستہ ہے جبکہ ان کا اپنا حال یہ ہے کہ فقر و تنگدستی ان کی حالت اور صورت سے ٹپک رہی ہے (اگر یہ سچ کہتے ہیں تو) خود انھیں طلائی کنگن کیوں نہیں دئے گئے؟ فرعون نے یہ سب باتیں اس لئے کیں کہ وہ سونا اور اس جمع آوری کو عظمت کی اور ادنیٰ لباس پہنے کو حقارت کی علامت سمجھتا تھا۔ لیکن اگر خدا انبیاء کو مبعوث کرتے وقت خزانوں کے اور سونے چاندی کی کانوں کے دروازے ان کے لئے کھولنا چاہتا اور سرسبز و شاداب باغات ان کی ملکیت میں دینا چاہتا تو دے سکتا تھا اگر آسمان کے پرندے اور زمین کے وحشی جانور ان کے ساتھ بھیجنا چاہتا تو بھیج سکتا تھا لیکن ایسا کرنے سے امتحان اور آزمائش کا وجود ختم ہو جاتا۔ سزا اور جزاء کا کوئی فائدہ نہ ہوتا۔ خدا کے وعدے اور وعید بے اثر ہوتے۔ حق قبول کرنے والوں کے لئے آزمائے ہوئے لوگوں کا سا اجر نہ ہوتا۔ مومنین نیکو کاروں کے سے ثواب کے مستحق نہ ہوتے اور الفاظ اپنا معنیٰ اور مفہوم کھو دیتے۔ لیکن خداوندِ عالم نے اپنے انبیاء کو عزم و ارادہ کے لحاظ سے قوی اور ظاہری لحاظ سے غریب اور کمزور بنا کر بھیجا۔ ان کی غربت میں دل کی امیری اور آنکھوں کی قناعت شامل ہوتی ہے ہر چند کہ ظاہری تنگ دستی سے ان کی آنکھوں اور کانوں کو تکلیف ضرور ہوتی ہے۔ اگر انبیاء کے پاس بظاہر ایسی طاقت ہوتی جس سے کسی کو مخالفت کرنے کی جرات نہ ہوتی ان کے پاس اس قدر غلبہ ہوتا کہ کسی سے بھی مغلوب نہ ہوتے اور ایسی حکومت اور شان و شوکت کے مالک ہوتے کہ تمام دنیا کی آنکھیں انہی کی طرف لگی ہوتیں اور لوگ دور دراز سے رختِ سفر باندھ کر ان کی طرف کھنچے چلے آتے تو ان کی قدر و قیمت عام لوگوں کے لئے تو بہت ہوتی اور متکبریں ان کے آگے سرِ تعظیم جھکا دیتے اور اپنے ایمان کا اظہار کرتے لیکن ان کا یہ ایمان مقصد سے پیار اور دلچسپی کی بناء پر نہ ہوتا بلکہ اس خوف کی وجہ سے ہوتا جو ان پر غالب آتا یا مادیت سے محبت کی وجہ سے ہوتا ایسی صورت میں ان کی نیت ہر گز خالص نہ ہوتی بلکہ ان کے اعمال میں غیر خدا کی شرکت بھی ہوتی۔ [خطبہ ۱۹۲ نہج البلاغہ ( خطبہ قاصعہ )]۔ اس نکتے کی طرف توجہ بھی ضروری ہے کہ بعض مفسّرین نے کہا ہے کہ باغات اور محلات سے مراد آخرت کے باغات اور محل ہیں لیکن یہ تفسیر کسی بھی صورت میں آیت کے ظاہری مفہوم سے مطابقت نہیں رکھتی۔ [اس طرح کچھ لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ اس سے مراد دنیا کے محل اور آخرت کے باغات ہیں آیت میں فعل ماضی اور مضارع (جعل اور یجعل) کو ایسے توہمات کا سبب نہیں بننا چاہیئے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ عربی ادب کے قواعد کے تحت جب افعال جملہ شرطیہ میں استعمال ہوتے ہیں تو ان کا زمانی مفہوم ختم ہوجاتا ہے]۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
بہشت اور دوزخ کا موازنہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیات میں توحید اور حضرت رسالت مآب صلّی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی نبوت سے کفار کے انحراف کے بارے میں گفتگو تھی۔ ان آیات میں ان کے انحراف اور انکار کے ایک اور حصّے کو بیان کیا گیا ہے جو قیامت اور معاد کے بارے میں ہے۔ دراصل اس حِصّے کو بیان کرنے کے ساتھ یہ بات واضح ہو جائے گی کہ وہ تمام اصولِ دین میں تزلزل اور انحراف کا شکار تھے۔ خواہ وہ توحید ہو یا نبوت یا معاد اور قیامت ہو۔ گزشتہ آیات میں تو توحید اور نبوت کے بارے میں تفصیل سے گفتگو ہو چکی ہے اب تیسرے حصے کو تفصیلاً بیان کیا گیا ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: بلکہ انھوں قیامت کو جھٹلایا ہے (بَلْ کَذَّبُوا بِالسَّاعَةِ)۔ کلمہ "بل" کا ذکر جو اصطلاح میں "اضراب" کے لئے آتا ہے۔ اس لئے ہے کہ کفار توحید اور نبوت کی نفی میں جو کچھ کہتے ہیں وہ درحقیقت معاد کے انکار کی وجہ سے پیدا ہونے والے بہانے ہوتے ہیں کیونکہ جو شخص خدا کی اس قدر عظیم عدالت ثواب و جزاء پر ایمان رکھتا ہے وہ اس طرح بے پر واہ ہو کر حقائق کا منہ نہیں چڑاتا اور جس پیغمبر کی نبوت کے دلائل روزِ روشن کی طرح آشکار ہیں محض چند فضول اور بے بنیاد حیلے بہانوں کی وجہ سے اس کی دعوت کا انکار نہیں کرتا اور جن بتوں کو اپنے ہاتھوں سے بنایا سنوارا ہے ان کے آگے سرِ تسلیم خم نہیں کرتا۔ البتہ اس مقام پر قرآنِ مجید نے استدلالی جواب پیش نہیں کیا کیونکہ یہ لوگ تو اہلِ منطق تھے اور نہ قابل استدلال، بلکہ انہیں دل ہلا دینے والی تنبیہ کے ساتھ ان کے نحس اور درد ناک مستقبل کو ان کی آنکھوں کے سامنے مجسم کرتا ہے کیونکہ اس طرح کے لوگوں کے لئے ایسی ہی منطق کارگر ہوتی ہے۔ لہٰذا فرمایا گیا ہے: جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں ہم نے ان کے لئے جلا دینے والی آگ مہیا کر رکھی ہے (وَاَعْتَدْنَا لِمَنْ کَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیرًا)۔ [تشریحی نوٹ: "سعیراً"، "سعر" (بر وزن "قعر") کے مادہ سے ہے جس کے معنی ہیں آگ کا بھڑک اٹھنا۔ اِسی بناء پر"سعر" اس آگ کو کہتے ہیں جس میں شعلے بھی ہوں، وسعت بھی ہو، زبردست حرارت بھی]۔ پھر اس آتشِ سوزاں کی عجیب و غریب صفات بیان کرتے ہوئے قرآن فرماتا ہے: جب یہ آتش انھیں دور سے دیکھے گی تو اس طرح طیش میں آجائے گی کہ وہ اس کی وحشت ناک اور خشم آلود آواز کو سنیں گے جس میں جوش و خروش شامل ہو گا (إِذَا رَاَتْھُم مِنْ مَکَانٍ بَعِیدٍ سَمِعُوا لَھَا تَغَیُّظًا وَزَفِیرًا)۔ اس آیت میں کچھ ایسی منہ بولتی تعبیریں ہیں جو خدا کے اس عذاب کی شدت کی خبر دیتی ہیں۔ ۱۔ خدا یہ نہیں فرماتا ہے کہ جہنمی لوگ جہنم کی آگ کو دور سے دیکھیں گے بلکہ فرماتا ہے کہ آ گ انھیں دور سے دیکھے گی گویا اس کی آنکھیں اور کان ہیں اور وہ نہ ان گنہ گاروں کی چشم براہ ہے۔ ۲۔ اسے اس بات کی ضرورت نہیں کہ وہ لوگ اس کے نزدیک ہوں اور وہ طیش میں آئے بلکہ بعض روایات کے مطابق ایک سال کی راہ کے فاصلے سے انھیں دیکھے گی اور غضبناک ہو جائے گی۔ ۳۔ اس جلا دینے والی آگ کی توصیف "تغیظ" کے کلمہ کے ساتھ ہوئی اور "تغیظ" غصے کی اس حالت کو کہتے ہیں جسے انسان زور زور سے چیغ و پکار کر کے ظاہر کرتا ہے۔ ۴۔ دوزخ کی آگ کے لئے "زفیر" کا لفظ بیان فرمایا گیا ہے اور "زفیر" اس حالت کو کہتے ہیں جب انسان اپنی سانس اندر کی طرف لے جاتا ہے اور پسلیاں اوپر کو اٹھتی ہیں۔ یہ عموماً اس وقت ہوتا ہے جب انسان سخت غصے کی حالت میں ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ حالات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جہنم کی آتشِ سوزاں اس بھوکے درندے کی مانند ہے جو اپنے شکار کے انتظار میں ہوتا ہے جہنم بھی ایسے کافروں کے انتظار میں منہ کھولے ہوئے ہے(خدا کی پناہ)۔ یہ تو تھی دوزخ کی وہ کیفیت جب وہ انھیں دور سے دیکھے گی لیکن خود جہنمیوں کی کیا کیفیت ہو گی جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے؟ تو فرماتا ہے: جب وہ طوق اور زنجیروں میں جکڑے ہوئے آتشِ جہنم کی تنگ جگہ میں ڈالے جائیں گے تو ان کے واویلا کی چیخیں بلند ہوں گی(وَإِذَا اُلْقُوا مِنْھَا مَکَانًا ضَیِّقًا مُقَرَّنِینَ دَعَوْا ھُنَالِکَ ثُبُورًا)۔ [تشریحی نوٹ: "مقرنین"، "قرن" کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے دو یا چند چیزوں کا باہمی اجتماع۔ جس رسی سے کئی چیزوں کو باندھتے ہیں اسے بھی قرن کہتے ہیں لیکن جس شخص کو طوق اور زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے اسے بھی اسی مناسبت سے "مقرن" کہتے ہیں (لغت کی مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ کی دسویں جلد سورہٴ ابراہیم کی آیت ۴۹ کی طرف رجوع فرمائیں)]۔ یہ اس وجہ سے نہیں کہ جہنم کی جگہ بہت کم ہے کیونکہ سورہ "ق" کی آیت ۳۰ کے مطابق: یوم نقول لجھنم ھل امتلاٴت و تقول ھل من مزید بروز قیامت ہم جتنا بھی جہنم سے کہیں گے کہ کیا تو بھر گئی ہے تو وہ کہے گی کچھ اور ہے؟ بنابریں، جہنم تو وسیع ہو گی لیکن انھیں اس وسیع و عریض جگہ میں اس قدر تنگ کر دیا جائے گا کہ بعض روایات کی تصریح کے مطابق جیسے دیوار میں میخ گاڑی جاتی ہے۔ [مجمع البیان اسی آیت کے ذیل میں]۔ یہاں پر یہ بھی بتاتے چلیں کہ "ثبور" کا لفظ دراصل "ہلاکت" اور "گل سڑ جانے" کے معنی میں ہے۔ جب انسان کو کسی بھیانک اور مہلک چیز کے سامنے لایا جاتا ہے تو بسا اوقات "واثبورا" کہہ کر چیخ مارتا ہے جس کا معنیٰ ہے "ہائے میں مر گیا"۔ لیکن فوراً انھیں کہا جائے گا: آج صرف ایک مرتبہ "واثبورا" نہ کہو بلکہ کئی مرتبہ واثبورا کی آواز بلند کرو (لاَتَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا کَثِیرًا)۔ بہرحال، تمہاری یہ چیخ و پکار قطعاً کارگر ثابت نہیں ہو گی اور تمہیں ہرگز موت نہیں آئے گی بلکہ تمہیں وہاں زندہ رہ کر ہی عذاب کا مزہ چکھنا ہو گا۔ درحقیقت یہ آیت بالکل سورہ طور کی آیت ۱۶ کی مانند ہے جس میں ارشاد ہوتا ہے: اصلوھا فاصبروا اولاتصبروا سواء علیکم انما تجزون ماکنتم تعلمون۔ یعنی جہنم کی آگ میں جلتے رہو خواہ صبر کرو یا نہ کرو، تمہارے لئے دونوں صورتیں یکساں ہیں، تم اپنے کئے کی جزا پا رہے ہو۔ اب رہی یہ بات کہ کافروں سے یہ باتیں کون کرے گا؟ تو قرآئن یہ بتاتے ہیں کہ عذاب کے فرشتے ہی ہوں گے کیونکہ ان کے ساتھ فرشتے ہی سروکار رکھیں گے۔ انھیں کس لئے کہا جائے گا کہ "واثبورا" صرف ایک مرتبہ نہ کہو بلکہ کئی بار کہو۔ ہو سکتا ہے کہ یہ اس لئے ہو کہ ان کے لئے درد ناک عذاب عارضی اور محدود نہیں ہو گا کہ ایک بار واثبورا کہہ دینے سے ختم ہو جائے بلکہ وہ ہمیشہ اسی جملہ کو دہراتے رہیں اور پھر یہ کہ ان ظالموں کو خداوند عالم مختلف انداز میں عذاب دیتا رہے گا اور وہ ہر نئے عذاب کے موقع پر اپنی موت کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے اور واویلا کریں گے اور گویا وہ بار بار مارے اور جلائے جاتے رہیں گے۔ پھر روئے سخن رسول اللہ کی طر ف کر کے آنحضرت کے ذریعے کفار کو ایک بات کے فیصلے کی دعوت دیتا ہے اور فرماتا ہے: اے پیغمبر! کہہ دیجئے کہ یہ درد ناک انجام بہتر ہے یا وہ بہشتِ بریں جس کا پرہیز گار لوگوں سے وعدہ کیا جا چکا ہے۔ جو ان کے اعمال کی جزا بھی ہے اور رہائش گاہ بھی (قُلْ اَذَلِکَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِی وُعِدَ الْمُتَّقُونَ کَانَتْ لَھُمْ جَزَاءً وَمَصِیرًا)۔ وہی بہشت کہ جس میں ہر وہ چیز مہیا ہے جس کی وہ خواہش کریں گے (لَھُمْ فِیھَا مَا یَشَائُونَ)۔ وہی بہشت کہ جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے (خَالِدِینَ)۔ تمہارے پروردگار کا یہ حتمی اور مسلم وعدہ ہے جسے اس نے اپنے ذمّہ لے لیا ہے (کَانَ عَلَی رَبِّکَ وَعْدًا مَسْئُولًا)۔ انھیں فیصلے کی دعوت اس لئے نہیں ہے کہ اس میں کسی کو کوئی شک و شبہ ہے اور نہ ہی اس درد ناک اور وحشت ناک عذاب کا ان بے نظیر نعمتوں سے کوئی مقابلہ اور موازنہ کیا جا سکتا ہے بلکہ اس طرح کے سوالات اور فیصلہ جات کی دعوت صرف ان کے سوئے ہوئے ضمیروں کو بیدار کرنے کے لئے ہوتی ہے تا کہ اس طرح سے وہ بیدار ہو کر کسی واضح امر اور ایک دو راہے پر آ کھڑے ہوں۔ اگر تو وہ کہتے ہیں کہ وہی نعمتیں بہتر اور بر تر ہیں (اور یقینا کہنا بھی چاہئیے) تو خود اپنے خلاف فیصلہ دیں گے کیونکہ ان کے عمل ان کے برعکس ہیں اور اگر کہتے ہیں کہ نعمتوں سے عذاب بہتر ہے تو اپنی حماقت اور بے عقلی پر مہر تصدق ثبت کر دیں گے۔ یہ ٹھیک اسی طرح ہو گا جیسے ہم کسی سکول اور کالج سے بھاگنے والے طالبِ علم کو خبردار کرتے ہوئے کہیں کہ دیکھو! جو لوگ علم کے حصول سے فرار کرتے ہیں یقینا وہ تباہ و برباد ہو جاتے ہیں اور ان کا ٹھکانہ زندان ہوتا ہے آیا جیل بہتر ہے یا اعلیٰ منصب؟
چند ایک نکات:
۱۔ اس نکتے کی طرف بھی توجہ کرنا چاہیئے کہ مندرجہ بالا آیات میں ایک مقام پر تو "خلد" اور ہمیشگی کو بہشت کی صفات کے طور پر بیان فرمایا گیا ہے اور دوسری جگہ اہلِ بہشت کے "خالد" اور ہمیشہ رہنے کی حالت بیان کی گئی ہے اور یہ دونوں چیزیں ہمیں اس حقیقت کی غمّاز ہیں کہ بہشت بھی ہمیشہ کے لئے ہے اور اس میں رہنے والے بھی وہاں ہمیشہ رہیں گے۔ ۲۔ "لھم فیھامایشاء ون" (جو کچھ وہ چاہیں گے بہشت میں موجود ہو گا) کا جملہ جہنمیوں کے بارے میں آنے والے اس جملہ کے ٹھیک مقابل میں ہے: وحیل بینھم و بین مایشتھون جہنمیوں اور ان کی مطلوبہ چیزوں کے درمیان رکاوٹ کھڑی کر دی گئی ہے۔ [سبا۔۔۔۔54] ۳۔ بہشت کے بارے میں "مصیر" (ٹھکانا، لوٹ آنے کی جگہ) کو"جزاء" کے بعد ذکر کیا گیا ہے۔ درحقیقت جزا کے مفہوم میں جو کچھ آسکتا ہے یہ اسی کی تاکید ہے اور جہنمیوں کے ٹھکانے اور ان کی سزا کا متقابل نقطہ ہے جو سابقہ آیات میں ذکر ہو چکا ہے ان کے ہاتھ پاوٴں زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہوں گے اور خود ایک تنگ جگہ میں مقید ہوں گے۔ ۴۔"کان علی ربک وعداً مسئولاً" کا جملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مومنین اپنی دعا وٴں میں تمام نعمتوں سمیت بہشت کی درخواست کرتے ہیں گویا وہ "سائل" ہیں اور خداوندِ عالم "مسئول عنہ" ہے جیسا کہ خداوندِ عالم سورہٴ آل عمران کی آیت ۱۹۴ میں مومنین کا قول بیان کرتا ہے: ربنا اٰتنا ما وعدتناعلیٰ رسلک "اے ہمارے پروردگار! جو کچھ تو نے ہمارے بارے میں اپنے رسولوں سے وعدہ فرمایا ہے وہ ہمیں عنایت فرمایا"۔ نیز زبانِ حال سے یہ درخواست تمام مومنین کی ہے کیونکہ جو شخص بھی اس کے فرمان کی اطاعت کرتا ہے زبانِ حال کے ساتھ اس کی یہی درخواست ہے۔ اسی طرح فرشتے بھی مومنین کے بارے میں خدا سے یہی درخواست کرتے ہیں جیسا کہ سورہ مومن کی آیت ۸ میں ہے: ربنا و ادخلھم جنات عدن التی وعدتھم " اے ہمارے پروردگار! تو نے مونین کے ساتھ بہشت کے جن جاودانی باغات کا وعدہ فرمایا تھا ان میں انھیں داخل فرما"۔ یہاں پر ایک اور تفسیر بھی ملتی ہے اور وہ یہ کہ "مسئولا" کا کلمہ خداوندِ عالم کے حتمی وعدے کی تاکید ہے یعنی وہ وعدہ اس حتمی، قطعی اور یقینی ہے کہ مومنین اس کا مطالبہ خدا سے کر سکتے ہیں۔ یہ بعینہ ایسے ہے جیسے ہم کسی سے کوئی وعدہ کریں اور اسے یہ حق بھی دے دیں کہ جب چاہے ہم سے اس کا مطالبہ بھی کر سکتا ہے۔ البتہ اگر ان تمام معنی کو "مسئولا" کے وسیع مفہوم میں جمع کر دیں تو کوئی حرج نہیں۔ ۵۔"لھم فیھا مایشاوٴن" (جو کچھ وہ چاہیں گے وہاں موجود ہو گا) کے جملے کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے کچھ لوگوں کے لئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر جملے کے وسیع مفہوم کو سامنے رکھیں تو اس کا یہ نتیجہ نکلے گا کہ مثلا اگر بہشتی لوگ انبیاء اور اولیاء کے مقام کو بھی خواہش کریں تو وہ انھیں مِل جائے گا یا اگر اپنے گناہ گار دوستوں اور رشتہ داروں کی نجات کی خواہش کریں تو وہ بھی پوری ہو جائے گی یا اس قسم کے دوسرے سوالات۔ لیکن اگر ایک نکتہ کی طرف توجہ کی جائے تو اس سوال کا جواب واضح ہو جائے گا وہ یہ کہ اہلِ بہشت کی آنکھوں کے سامنے سے تمام پردوں کو ہٹا دیا جائے گا۔ وہ حقائق کو اچھی طرح سمجھ لیں گے اور باہمی تناسب ان کے لئے مکمل طور پر واضح ہو جائے گا۔ وہ کبھی اس بارے میں سوچیں گے بھی نہیں کہ خدا سے ایسی چیزوں کی درخواست کریں جیسے ہم دنیا میں اس بات کا تقاضا نہیں کر سکتے کہ پرائمری کلاس کا ایک طالبِ علم یونیورسٹی کا پروفیسر بن جائے۔ آیا اس طرح کی باتیں دنیا میں کسی عقل مند کے ذہن میں آ سکتی ہیں؟ اگر یہاں پر ایسا نہیں ہے تو وہاں پر بھی ایسا نہیں ہو سکتا۔ ان سب چیزوں سے قطعِ نظر ان کی خواہشات خداوند عالم کی مرضی کے تابع ہوں گی۔ وہ وہی کچھ چاہیں گے جو خدا چاہے گا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
معبودوں اور گمراہ پجاریوں کا مقدمہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیات میں قیامت کے دن مومنین اور مشرکین کے انجام کی بابت بات ہو رہی تھی۔ زیرِ بحث آیات اسی موضوع کو ایک اور صورت میں پیش کر رہی ہیں۔ خداوندِ عالم بروزِ قیامت "مشرکین کے معبودوں" سے جو سوال کرے گا اسے اور وہ جو جواب دیں گے اسے بھی ایک تنبیہ کی صورت میں بیان فرما رہا ہے۔ پہلے تو فرماتا ہے: اس دن کا سوچو جب خدا ان سب کو اور ان کے معبودوں کو کہ جن کی اللہ کے علاوہ یہ لوگ عبادت کرتے ہیں جمع اور محشور کرے گا (وَیَوْمَ یَحْشُرُھُمْ وَمَا یَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ)۔ اور ان سے سوال کرے گا "آیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا ہے یا یہ خود گمراہ ہوئے ہیں" (فَیَقُولُ اَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِی ھَؤُلَاءِ اَمْ ھُمْ ضَلُّوا السَّبِیلَ)۔ لیکن وہ جواب دیں گے پروردگارا تو پاک و منزہ ہے ہمارے لئے یہ مناسب نہیں تھا کہ تجھے چھوڑ کر دوسروں کو اپنا ولی بناتے (قَالُوا سُبْحَانَکَ مَا کَانَ یَنْبَغِی لَنَا اَنْ نَتَّخِذَ مِنْ دُونِکَ مِنْ اَوْلِیَاءَ)۔ نہ صرف یہ کہ ہم نے انھیں اپنی طرف دعوت نہیں دی بلکہ ہم تو تیری ولایت اور عبودیّت کے معترف بھی تھے اور تیرے علاوہ کسی اور کو نہ تو اپنا معبود سمجھا اور نہ ہی دوسروں کا۔ ان کی گمراہی کا سبب یہ تھا کہ تو نے انھیں اور ان کے آباوٴ اجداد کو دنیاوی نعمتوں سے نوازا (اور وہ تیری ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی بجائے عیش و عشرت اور دنیاوی لذّات میں کھو گئے) اور تجھے بھلا دیا (وَلَکِنْ مَتَّعْتَھُمْ وَآبَائَھُمْ حَتَّی نَسُواالذِّکْرَ)۔ اسی وجہ سے وہ تباہ و برباد ہو گئے(وَکَانُوا قَوْمًا بُورًا)۔ اب خدا کا روئے سخن مشرکین کی طرف ہے اور فرماتا ہے: تمہارے یہ معبود تو تمہاری تکذیب کر رہے ہیں (اور یہ جو تم کہتے ہو کہ انھوں نے تمہیں گمراہ کیا ہے اور اپنی عبادت کی طرف دعوت دی ہے اب صورتِ حال یہ ہے کہ وہ تمہیں جھٹلا رہے ہیں) (فَقَدْ کَذَّبُوکُمْ بِمَا تَقُولُونَ)۔ جب یہ صورتِ حال ہے اور تم خود ہی گمراہ ہوئے ہو تو اب تم عذابِ الٰہی کو اپنے سے برطرف نہیں کر سکتے ہو اور نہ ہی کسی دوسرے سے مدد طلب کر سکتے ہو (فَمَا تَسْتَطِیعُونَ صَرْفًا وَلاَنَصْرًا)۔ اور جو شخص بھی تم میں سے ظلم کا ارتکاب کرے گا ہم اسے بڑے سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے (وَمَنْ یَظْلِمْ مِنْکُمْ نُذِقْہُ عَذَابًا کَبِیرًا)۔ اس میں شک نہیں کہ ظلم کا ایک وسیع مفہوم ہے اگرچہ اس آیت میں موضوعِ بحث "شرک" ہے لیکن یہ بھی ظلم کا ایک واضح ترین مصداق ہے اس طرح سے مفہوم آیت کے کلّی ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ "من یظلم" فعلِ مضارع کی صورت میں آیا ہے اور اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ بحث کا ابتدائی حصہ اگرچہ قیامت سے متعلق ہے لیکن آخری جملہ انھیں دنیا میں خطاب کی صورت میں آیا ہے۔گویا قیامت کے دن گمراہ کاروں اور معبودوں کی گفتگو سن کر مشرکین کے دل اثر حاصل کرنے کے لئے تیار ہو چکے ہیں، لہٰذا روئے سخن آخرت سے دنیا کی طرف کر لیا اور فرمایا "تم میں سے جو شخص بھی ظلم کا مرتکب ہو گا ہم اسے بڑے سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ [تشریحی نوٹ: ایک احتمال یہ بھی ہے کہ یہ آخری جملہ شاید قیامت میں مشرکین کے ساتھ گفتگو کا ایک حصہ ہے اور فعلِ مضارع ہونے کی وجہ سے اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ "و من یظلم" کا جملہ ایک قاعدہ کلیہ کی صورت میں آیا ہے جو کہ "جملہ شرطیہ" کی صورت میں ہے اہلِ علم جانتے ہیں کہ جملہ شرطیہ میں افعال کا تعلق صرف شرط اور جزا کی حد تک ہوتا ہے زمانے کا مفہوم ختم ہو جاتا ہے]۔
چند ایک نکات: 1۔ معبود سے کیا مراد ہے؟
اس سوال کے جواب میں مفسّرین کے درمیان دو تفسیریں مشہور ہیں: پہلی تفسیر تو یہ ہے کہ ان سے مراد انسانی معبود (جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام) یا شیطانی معبود (جیسے جنّات) یا فرشتے ہیں ان میں سے ہر ایک کو مشرکین کے مختلف گروہوں نے انتخاب کیا ہوا تھا۔ چونکہ یہ صاحبانِ عقل و شعور ہیں لہٰذا ان سے پوچھ گچھ کی جائے گی کیونکہ مشرکین کہتے ہیں کہ ان معبودوں ہی نے ہمیں اپنی عبادت کی طرف بلایا ہے لہٰذا اتمامِ حجّت کے طور پر ان سے پوچھا جائے گا کہ آیا ان کی یہ بات صحیح ہے تو وہ بڑی صراحت کے ساتھ اس کی تردید کریں گے۔ دوسری تفسیر جسے کچھ اور مفسّرین نے ذکر کیا ہے یہ ہے کہ بروزِ قیامت خداوندِ عالم "بتوں" کو ایک طرح کی زندگی، ادراک اور شعور عطا فرمائے گا تا کہ ان سے جو باز پرس کی جائے تو وہ اس کا بہتر طریقے پر جواب دے سکیں کہ خداوندا! ہم نے انھیں گمراہ نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی خواہشاتِ نفسانی اور کبر و غرور کی وجہ سے گمراہ ہو چکے ہیں۔ یہ احتمال بھی ہے کہ یہ جملہ تمام معبودوں کے لئے ہو خواہ وہ صاحبانِ عقل و شعور ہیں اور جو اپنی زبان سے حقائق اور واقعات بیان کریں گے خواہ عقل و شعور سے عاری خدا کی مخلوق ہے اور جو زبانِ حال سے حقائق کو بیان کرے گی۔ لیکن آیت میں پائے جانے والے قرائن پہلی تفسیر سے زیادہ ہم آہنگ ہیں کیونکہ افعال اور ضمائر بتا رہے ہیں کہ یہاں صاحبانِ عقل و شعور کے بارے میں گفتگو ہو رہی ہے اور یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور فرشتوں جیسے معبودوں کے لئے زیادہ مناسب ہے۔ اس کے علاوہ "فقد کذّبوکم" (انھوں نے تمہیں جھٹلایا) کے جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین نے پہلے یہ دعویٰ کیا کہ ان معبودوں نے ہمیں گمراہ کیا ہے اور اپنی عبادت کی دعوت دی ہے اور یہ بعید ہے کہ وہ ایسا دعویٰ پتھر اور لکڑ کے بنے ہوئے بتوں کے بارے میں کریں کیونکہ جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام کی داستان میں مذکور ہے کہ انھیں اچھی طرح یقین ہے کہ بت بولا نہیں کرتے "لقد علمت ماھٰوٴلاء ینطقون" (سورہٴ انبیاء۶۵) جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہے کہ خدا عیسیٰ علیہ اسلام سے دریافت فرمائے گا: "ءانت قلت للناس اتخذونی و امی الٰھین من دون اللہ" آیا تم نے لوگوں سے کہا ہے کہ خدا کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں کا معبود بناوٴ؟ (مائدہ۱۱۶) معبودوں کی نوعیت خواہ کچھ بھی ہو یہ بات مسلم ہے کہ مشرکین اور بت پرستوں کے دعوے بے بنیاد اور فضول ہیں اور کسی معبود نے انھیں اپنی عبادت کی دعوت نہیں دی۔ پھر مزے کی بات یہ ہے کہ یہ معبود جواب میں یہ نہیں کہیں گے کہ خدایا ہم نے انھیں اپنی عبادت کی دعوت نہیں دی بلکہ یہ کہیں گے کہ ہم نے تو اپنی عبادت کے لئے تیری ہی ذات کا اتخاب کیا تھا، یعنی جب ہم خود تیری عبادت کرتے ہیں تو دوسروں کو تو بطریق اولیٰ تیرے غیر کی طرف راہنمائی نہیں کی۔ خاص کر یہ بات "سبحانک" (تو پاک ہے) اور "ما کان ینبغی لنا" (ہمارے لئے زیبا نہیں تھا) کے جملوں سے مربوط ہے جو ان کے ادب اور توحید کے اعتراف کو نمایاں کرتی ہے۔\
2۔ توحید سے انحراف کیوں؟
قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ یہ معبود، مشرک لوگوں کے انحراف کی وجہ سے ان کی آسودہ اور خوشحال زندگی بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خداوندا! تو نے انھیں اور ان کے آباوٴ اجدا کو اس زندگی کی نعمتوں سے نوازا جس وجہ سے انہوں نے تجھے بھلا دیا وہ نعمت عطا کرنے والے کی معرفت حاصل کرنے، اس کا شکر ادا کرنے اور اس کی اطاعت کرنے کی بجائے غفلت اور غرور کے چکر میں پھنس کر تجھے اور روزِ قیامت کو بھول گئے۔ سچی بات ہے کہ جن لوگوں کا ظرف چھوٹا اور ایمان کی بنیادیں کمزور ہیں ان کے لئے خوشحال زندگی ایک تو "غرور آفرین" ہے کیونکہ جب انھیں بے پناہ نعمتیں مل جاتی ہیں تو وہ اپنے قابوں میں نہیں رہتے اور خدا کو بھلا دیتے ہیں حتی کہ کبھی کبھی تو فرعون کی مانند "انا اللہ" (میں خدا ہوں) کا نعرہ لگانا بھی شروع کر دیتے ہیں۔ دوسرے یہ چاہتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ بے لگام اور آزاد ہوں اور ان کی عیش و عشرت اور خواہشات کی تکمیل کے آگے کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہ ہو اور حلال و حرام اور جائز و نا جائز نامی چیزیں انھیں اپنے مقصد پہنچنے سے نہ روکیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ شرعی قوانین اور روزِ جزاء کو تسلیم کرنے سے کنی کتراتے ہیں۔ اب بھی آسودہ حال لوگوں میں سے بہت کم ایسے ہیں جو خدا کے دین اور انبیاء کی تعلیمات کے طرفدار ہوں یہ تو مستضعف اور غریب لوگ ہی ہوتے ہیں جو دین اور مذہب کے طرفدار اور ایثار پیشہ وفا شعار ہوتے ہیں۔ البتہ استثناء تو دونوں طبقوں میں ہوتا ہی ہے لیکن بات اکثریت کی ہو رہی ہے اور اکثریت ان لوگوں کی ہے جو ابھی بتایا جا چکا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ آیت بالا میں صرف ان لوگوں کی امارت اور خوشحالی تک ہی بات محدود نہیں ہے بلکہ ان کے آباوٴ اجداد کی خوشحالی کا بھی ذکر ہے کیونکہ انسان جب بچپن ہی سے ناز و نعمت کی زندگی میں پرورش پائے گا تو فطری بات یہ ہے کہ وہ عموماً اپنے اور دوسرے میں فرق محسوس کرے گا اور آسانی کے ساتھ خوشحال زندگی کو خیر باد کہنے کے لئے تیار نہیں ہو گا۔ اس کے برعکس، خدائی احکام کی بجا آوری اور مذہبی مسائل کی پابندی کے لئے ایثار، ہجرت، جہاد بلکہ بعض اوقات شہادت تک کو بھی قبول کرنا پڑتا ہے۔ انواع و اقسام کی نعمتوں سے محروم ہونا پڑتا ہے اور دشمن کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کرنا پڑتا اور یہ بات امراء طبقہ کے مزاج کے بالکل خلاف ہے البتہ جن لوگوں کی شخصیت مادیت کے بندھنوں سے بالکل آزاد ہے اگر کبھی کچھ پاس ہوتا ہے تو خدا کا شکر بجا لاتے ہیں اور اگر نہیں ہوتا تو گھبرا نہیں جاتے دوسرے لفظوں میں وہ اپنی مادی زندگی پر حاکم ہوتے ہیں نہ کہ محکوم۔ اس وضاحت سے اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ "نسو الذکر" کے جملے سے مراد یادِ خدا کو فراموش کر دینا ہے جیسا کہ سورہ حشر آیہ ۱۹ میں اس جملے کی بجائے "ولا تکونوا کالذین نسوا اللہ" آیا ہے یا ذکر کی فراموشی سے مراد یومِ قیامت اور عدل الہٰی کی فراموشی ہے جیسا کہ سورہ ص کی آیہ ۲۶ میں ہے: لھم عذاب شدید بما نسوا یوم الحساب روزِ حساب کو فراموش کر دینے کی وجہ سے ان کے لئے سخت عذاب ہے۔ اور یا خدا اور قیامت دونوں کو فراموش کرنا مراد ہے۔
3۔ بور کیا ہے؟
"بور" کا لفظ "بوار" سے لیا گیا ہے جو اصل میں کسی چیز کی سخت کساد بازاری کے معنی میں ہے اور چونکہ کساد بازاری کی شدت اس کے فاسد ہونے کا سبب بن جاتی ہے جیسا کہ عربوں کی ضرب المثل ہے "کسد حتیٰ فسد" لہٰذا یہ کلمہ فاسد ہونے اور ہلاک ہو جانے کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بنجر زمین کو "بائر" کہتے ہیں جو درختوں، پھولوں اور سبزے سے خالی ہوتی ہے کیونکہ درحقیقت وہ مردہ اور فاسد ہو چکی ہوتی ہے۔ بنابریں، " کانوا قوماً بوراً" اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ امراء کا یہ گروہ خوشحال اور مادی زندگی میں مستغرق ہو کر خدا اور قیامت کو فراموش کر چکا ہے اور ان کے دل بنجر زمین کی مانند خشک ہو چکے ہیں اب ان سے نہ تو انسانیت کی سر بلندی کے لئے قیمتی پھولوں کی توقع ہے اور نہ ہی معنوی زندگی اور فضیلت کے میووں کی۔ ان قوموں کے حالات کا اگر غور سے مطالعہ کیا جائے جو آج ناز و نعمت میں غرق خدا اور خلقِ خدا سے بے خبر ہیں تو آیت کے عمیق معانی کا پتہ چل جاتا ہے کہ وہ کس طرح اخلاقی فساد کے سمندر میں غرق ہو چکی ہیں اور فضائلِ انسانی کے میوے ان کی بنجر زمین سے کس طرح نا پید ہو چکے ہیں۔ [بعض لوگ "بور" کو مصدر سمجھتے ہیں جو کبھی کبھار اس کے فاعل کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور واحد تثنیہ اور جمع کے صیغے کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے جبکہ بعض نے اسے "بائر" کی جمع مانا ہے]۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 4بعض مفسّرین نے مندرجہ بالا آیات میں سے پہلی آیت کی شانِ نزول کے بارے میں یہ روایت بیان کی ہے کہ مشرکین کے کچھ سرغنے آنحضرت کی خدمت میں آکر کہنے لگے اے محمد! تو ہم سے کیا چاہتا ہے؟ اگر حکومت کی ضرورت ہے تو ہم تجھے اپنا حاکم اور سرپرست بناتے ہیں اگر مال چاہتے ہو تو ہم تجھے مال دے دیتے ہیں وغیرہ۔ لیکن جب آپ نے ان کی کسی پیش کش کو بھی قبول نہ کیا اور نہ ہی ان کی خواہشات کے سامنے سرِ تسلیم خم کیا تو لگے وہ مختلف قسم کی الزام تراشی کرنے اور کہنے لگے کہ تو خدا کا رسول کیسے ہو سکتا ہے جبکہ تو کھانا کھاتا ہے اور بازار میں بھی آیا جاتا ہے؟ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو کھانا کھانے پر مطعون کرنے لگے کیونکہ ان کے خیال میں پیغمبر کو فرشتہ ہونا چاہیئے تھا وہ آپ کو بازار آنے جانے پر ملامت کرنے لگے کیونکہ وہ کسریٰ و قیصر اور دوسرے جابر بادشاہوں کے بارے میں جانتے تھے کہ انھوں کبھی بھی بازار میں قدم نہیں رکھا جبکہ آنحضرت کا عام لوگوں کے ساتھ بازار میں میل ملاپ اور اٹھنا بیٹھنا تھا۔ جس سے وہ لوگوں کو خدا کے امر و نہی کی تبلیغ فرمایا کرتے تھے چنانچہ مکّار لوگوں نے اعتراض کرنا شروع کر دیا کہ وہ ہم پر حکمرانی کے خواب دیکھ رہا ہے جبکہ اس کی روش اور طریقہ کار بادشاہوں کے برعکس ہے تو ایسے موقع پر اوپر والی آیت نازل ہوئی اور اس حقیقت کو واضح کردیا کہ پیغمبر اسلام کی سیرت سابقہ انبیاء جیسی ہے۔ [اگرچہ روایت بالا کا مضمون بہت سی تفاسیر میں آیا ہے لیکن ہم نے جو کچھ اوپر ذکر کیا ہے اس روایت کے مطابق ہے جسے قرطبی نے اپنی تفسیر کی جلد ۷ ص۷۲۱ پر درج کیا ہے]۔
تمام پیغمبر ایسے تھے
گزشتہ چند آیات میں مشرکین کی مکّاری اور اعتراضات کا ذکر ہے کہ پیغمبر کیوں کھانا کھاتا ہے اور کیوں بازاروں میں آتا جاتا ہے؟ پھر ان اعتراضات کا مجمل اور مختصر سا جواب بھی دیا گیا ہے لیکن اس آیت میں مندرجہ بالا اعتراضات کا واضح اور صریح تر جواب دیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: تجھ سے پہلے ہم نے کسی بھی رسول کو نہیں بھیجا مگر یہ کہ ان سب کا تعلّق نوعِ انسانی سے تھا وہ کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی آیا جایا کرتے تھے (اور لوگوں سے بھی ان کا میل ملاپ تھا) (وَما اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ مِنْ الْمُرْسَلِینَ إِلاَّ إِنَّھُمْ لَیَاْکُلُونَ الطَّعَامَ وَیَمْشُونَ فِی الْاَسْوَاقِ)۔ اس کے ساتھ ساتھ "ہم نے تم میں سے بعض کو دوسرے بعض لوگوں کے لئے آزمائش و امتحان کا ذریعہ قرار دیا" (وَجَعَلْنَا بَعْضَکُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً)۔ یہ آزمائش ممکن ہے کہ اس وجہ سے ہو کہ انبیاء کا انتخاب نوعِ انسانی سے کیا گیا ہے اور وہ بھی ان انسانوں سے جن کا تعلق معاشرے کے غریب اور محروم طبقے سے ہے اور یہ ایک بہت بڑی آزمائش ہے کیونکہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے ہم نوع افراد کا کہنا ماننے سے گھبراتے ہیں خاص کر ان لوگوں کا جو مالی لحاظ سے کمزور ہوتے ہیں اور ان کا اپنا تعلق معاشرتی لحاظ سے اونچے گھرانوں سے ہوتا ہے یا ان کی عمر زیادہ ہوتی ہے یا معاشرے میں خوب جانے پہچانے ہوتے ہیں۔ آزمائش سے متعلق یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد عام لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے آزمانا ہے کیونکہ جو افراد کام کرنے سے عاجز ہوتے ہیں، بیمار، یتیم اور مصیبت زدہ ہوتے ہیں وہ ضعیف و ناتواں افراد کے لئے آزمائش ہوتے ہیں کہ اوّل الذکر اپنے انسانی فریضے کو دوسرے گروہ کے ساتھ کیسے پورا کرتا ہے اور ثانی الذکر خدا کی رضا پر کیونکر راضی ہوتا ہے۔ جہاں تک ان دونوں تفاسیر کا تعلق ہے ان کا آپس میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور ہو سکتا ہے کہ دونوں تفسیریں آیت کے وسیع مفہوم میں جمع کی جائیں اور وہ مفہوم ہے لوگوں کی ایک دوسرے کے ذریعے آزمائش۔ اسی کے ساتھ ساتھ قرآن سب کو خطاب کرتے ہوئے سوال فرماتا ہے: آیا صبر کرو گے (اَتَصْبِرُونَ)۔ کیونکہ ایسی تمام آزمائشوں میں کامیابی کا اہم ترین عنصر صبر و شکیبائی ہے۔ ایسی سر کش خواہشات کا مقابلہ بھی صبر و استقامت ہی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے جو قبولِ حق میں مانع ہوتی ہیں اور صبر و استقامت ہی کے ذریعے ان مشکلات کا سامنا کیا جا سکتا ہے جو فرض کی ادائیگی میں حائل ہوتی ہیں۔ اسی طرح صبر ہی کے ذریعے ان مصائب اور سخت حوادث کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے جو قدم قدم پر ان کو در پیش ہوتے ہیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ صبر ہی کے ذریعے اس عظیم امتحان میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ [خدائی آزمائش کے بارے میں مزید وضاحت کے لئے ملاحظہ ہو تفسیر نمونہ جلد اول سورہ بقرہ کی آیت ۱۵۵کی تشریح]۔ آخر میں تنبیہ کی صورت میں ارشاد فرمایا گیا ہے: تمہارا پروردگار ہمیشہ سے اور ہمیشہ کے لئے بصیر اور دیکھنے والا ہے (وَکَانَ رَبُّکَ بَصِیرًا)۔ مبادا وہ یہ تصّور کر لیں کہ خدائی آزمائش کے سلسلے میں کوئی چیز اس کی دیدہٴ بینا اور علمِ مطلق سے پوشیدہ رہ گئی ہے نہیں نہیں وہ ہر ایک چیز کو اچھے طریقے سے جانتا ہے اور دیکھتا ہے۔ ایک سوال اور اس کا جواب: یہاں پر ایک سوال پیش آتا ہے کہ آیاتِ بالا میں قرآنِ مجید نے انبیاء کے بارے میں مشرکین کے جن اعتراضات کا یہ جواب دیا ہے کہ وہ سب نوعِ انسانی میں سے تھے اس سے نہ صرف مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ اشکال اور بھی بڑھ جاتا ہے کیونکہ اس طرح سے وہ اپنے اعتراض کو پیغمبرِ اسلام کی ذات تک محدود رکھنے کے بجائے تمام دوسرے انبیاء پر بھی اعتراض کر سکتے ہیں (کہ وہ کیسے پیغمبر تھے کہ کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی آتے جاتے تھے)۔ قرآنی آیات کی رو سے ان کا اعتراض صرف پیغمبرِ اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ذات گرامی تک ہی محدود نہیں تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ آپ نے یہ روش اور طریقہ کار اپنا رکھا ہے لہٰذا وہ کہتے تھے۔ مال ھٰذا الرسول یہ رسول اس طرح کیوں ہے؟ قرآن ان کے اعتاض کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ "یہ صرف تجھی پر منحصر نہیں کہ تو کھانا بھی کھاتا ہے اور بازاروں میں بھی آتا جاتا ہے بلکہ انبیاء ماسلف بھی یونہی کیا کرتے تھے بالفرض اگر وہ اپنے اعتراضات کا دائرہ تمام انبیاء علیہم السلام تک وسیع کرتے ہیں تو قرآن اس کا بھی جواب دے رہا ہے اور وہ یہ کہ: و لو جعلناہ ملکاً لجعلناہ رجلا ( انعام۹) فرض کر لیا کہ ہم پیغمبر کو فرشتہ بناتے تو پھر بھی نا گزیر تھا کہ ہم اسے انسانی صورت میں بھیجتے (تاکہ وہ تمام حالات میں بنی نوعِ انسان کے لئے ایک نمونہ عمل ہوتا)۔ اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسانوں کی رہبری اور پیشوائی صرف انسان ہی کر سکتا ہے جو ان کی ہر قسم کی ضروریات، مشکلات اور مسائل سے آگاہ ہوتا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔
بہت بڑے دعوے
Tafsīr Nemūna · Vol. 4ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ توحید اور قیامت پر عقیدہ رکھنے کے نتیجے میں انسان پر جو فرائض عائد ہوتے ہیں اور اسے جو ذمّہ داریاں نبھانا پڑتی ہیں ان سے جان چھڑانے کے لئے ہٹ دھرم مشرکین نے پیغمبرِ خدا کی ذات پر مختلف قسم کے اعتراضات شروع کر دیے جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ پیغمبر ہماری طرح کھاتا پیتا کیوں ہے اور کیوں ہماری طرح بازار میں آتا جاتا ہے؟ اس کا جواب ہم ابھی ابھی پڑھ چکے ہیں۔ ان آیات میں ان مشرکین کے دو اور اعتراضات کا تذکرہ ہے اور ساتھ ہی ان کا جواب بھی پیش کیا گیا ہے۔ پہلے تو فرمایا گیا ہے: جو لوگ ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے (اور قیامت کا انکار کرتے ہیں) کہتے ہیں کہ ہم پر فرشتے کیوں نہیں نازل ہوتے یا اپنے پروردگار کو ہم اپنی آنکھوں سے کیوں نہیں دیکھ پاتے (وَقَالَ الَّذِینَ لاَیَرْجُونَ لِقَائَنَا لَوْلاَاُنزِلَ عَلَیْنَا الْمَلَائِکَةُ اَوْ نَرَی رَبَّنَا)۔ بالفرض مان لیا کہ پیغمبر بھی ہماری طرح عمومی زندگی گزار سکتے ہیں لیکن یہ بات تو ماننے کے قابل نہیں ہے کہ وحی کا فرشتہ ان کے پاس آئے اور ہم نہ دیکھ پائیں اگر فرشتہ ظاہری طور پر ہمیں نظر آئے اور آپ کی نبّوت کی تصدیق کرے یا وحی کا کچھ حصہ ہمارے سامنے بیان کرے تو اس میں کیا حرج ہے؟ یا اگر ہم خدا کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں تو ہمارے شک و شبہ کی کوئی گنجائش ہی باقی نہ رہے۔ یہی باتیں بار بار سوال کی صورت میں ہمارے سامنے آتی رہتی ہیں اور محمد ص کی دعوت کو قبول کرنے سے روکتی رہتی ہیں۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ قرآنِ مجید ایسے معترضین کو "لاَیَرْجُونَ لِقَائَنَا" کے عنوان سے موصوف کرتا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان بے بنیاد باتوں کا سر چشمہ آخرت پر ایمان سے انکار اور خدا کی طرف سے عائد ہونے والی ذمّہ داریوں سے فرار ہے۔ سوہ حجر کی آیت ۷ میں بھی اسی سے ملتی جلتی گفتگو موجود ہے۔ کفار کہتے ہیں: لوما تاٴتینا بالملائکة ان کنت من الصادقین اگر تو اپنے قول میں سچا ہے تو ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں لاتا تاکہ وہ آکر تیری تصدیق کریں۔ اسی سورہ فرقان کے آغاز میں بھی ہم پڑھ چکے ہیں کہ مشرکین کہتے تھے:۔ لولا انزل الیہ ملک فیکون معلہ نذیراً تیرے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نازل نہیں کیا گیا تاکہ وہ بھی لوگوں کو ڈراتا۔ جبکہ ایک حق طلب انسان کسی بات کے ثبوت کے لئے صرف دلیل ہی طلب کرتا ہے اس دلیل کی نوعیت خواہ کچھ بھی ہو، جب اسلام کے عظیم الشّان پیغمبر نے قرآن سمیت متعدد معجزات پیش کر کے اپنی دعوت کی حقانیت اور صداقت کو روزِ روشن کی طرح ثابت کر دکھایا تو پھر ان بے بنیاد باتوں اور حیلے بہانوں کا کیا معنیٰ؟ پھر یہ کہ وہ لوگ نبوت کی تحقیق اور ثبوت کے بارے میں آپ سے ایسی باتیں نہیں کرتے تھے اس کی بہترین دلیل یہ ہے کہ انھوں نے خدا کو دیکھنے کا مطالبہ کر کے اسے ایک قابلِ رویت جسم کی حد تک گرا دیا۔ وہی بے بنیاد مطالبہ جو بنی اسرائیل کے مجرم لوگوں نے کیا تھا اور اس کا شافی جواب بھی سن لیا تھا اس کی تفصیل سورہ ٴ اعراف کی آیت ۱۴۳ میں گزر چکی ہے۔ لہٰذا قرآنِ مجید ایسے مطالبات کا جواب زیرِ بحث آیت میں دے رہا ہے: انھوں نے اپنے بارے میں تکبر سے کام لیا ہے اور غرور، تکبر اور خود پسندی کا شکار ہو گئے ہیں (لَقَدْ اسْتَکْبَرُوا فِی اَنفُسِھِمْ)۔ انھوں نے طغیان اور سرکشی کی، بہت بڑی سرکشی (وَعَتَوْا عُتُوًّا کَبِیرًا)۔ "عتو" ("غلو"کے وزن پر ہے) جس کا معنی ہے اطاعت سے ایسی روگردانی اور حکم کی خلاف ورزی کہ جس کے ساتھ دشمنی اور ہٹ دھرمی بھی شامل ہو۔ "فی انفسھم" کی تعبیر ممکن ہے اس معنی میں ہو کہ وہ خود اپنے بارے میں تکبّر اور خود پسندی کا شکار ہیں یہ معنیٰ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ تکبر اور غرور کو تو اپنے دل میں چھپاتے ہیں اور اس قسم کے حیلے بہانوں کو آشکار کرتے ہیں۔ ہمارے اس دور میں بھی کئی ایسے لوگ موجود ہیں جو اس زمانے کے مشرکین کی منطق کو دہرا رہے ہیں کہ جب تک ہم خدا کو اپنی آنکھوں سے اور روح کے آپریشن کے ذریعے نہ دیکھ لیں اس وقت تک نہیں مانیں گے دونوں کے خیالات کا ایک ہی سر چشمہ ہے اور وہ ہے تکبر اور سرکشی۔ اصولی طور پر جو لوگ شناخت کا معیار صرف حس اور تجربے ہی کو جانتے ہیں تقریباً ایسی ہی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ تمام مادہ پرست افراد (Melerialists) اسی گروہ میں شامل ہیں۔ حالانکہ ہماری حِس تو اس کائنات کے مادے کے صرف تھوڑے سے حصے کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کے بعد قرآن دھمکی کی صورت میں فرماتا ہے کہ جو فرشتوں کے دیکھنے کا مطالبہ کر رہے ہیں آخر کار انہیں دیکھ ہی لیں گے لیکن اس دن دیکھیں گے کہ جس دن مجرمین کے لئے خوشخبری نہیں ہو گی (کیونکہ وہ دن ان کے اعمال کی سخت سزا کا دن ہو گا) (یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلَائِکَةَ لاَبُشْرَی یَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِین)۔ [ممکن ہے کہ اس جگہ "لا" نفی کے معنی میں ہو جیسا کہ بہت سے مفسّرین کہتے ہیں۔ یہ احتمال بھی ہے کہ شاید یہ نفرین کے لئے استعمال ہوا ہو تو ایسی صورت میں اس جملہ کا معنی یہ ہو گا کہ "اس دن مجرمین کے لئے خوشخبری نہ ہو"]۔ یقینا اس دن فرشتوں کو دیکھ کر وہ خوش تو نہیں ہوں گے بلکہ جونہی وہ ان فرشتوں کے ہمراہ عذاب کی علامات دیکھیں گے تو اس قدر وحشت زدہ ہو جائیں گے کہ ایسے جملے زبان پر لائیں گے جو خطر ناک مواقع پر لوگوں کو دیکھ کر کہا کرتے تھے چنانچہ وہ کہیں گے کہ ہمیں امان دو، ہمیں معاف کر دو(وَیَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا)۔ لیکن اس میں شک نہیں ہے کہ انھیں اپنے حتمی برے انجام سے نہ تو یہ جملہ بچا سکے گا اور نہ ہی کوئی دوسرا جملہ کیونکہ جو آگ خود انہوں نے بھڑکائی ہے وہ انھیں ہر صورت میں اپنی طرف کھینچ لے گی اور جن برائیوں کا وہ دنیا میں ارتکاب کر چکے ہیں وہ مجسم ہو کر ان کے سامنے آجائیں گی اور خود کردہ را علاجے نیست۔ "حِجر" (بر وزن "قشر") اس علاقے کو کہا جاتا ہے جس کے اردگرد پتھر چن دیئے جائیں اور اس طرح سے اس کی حد بندی کر دی جائے کہ اس کی حدود میں کوئی شخص داخل نہ ہو سکے۔ "حجر اسماعیل" کو اس لئے حجر کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے اِردگرد دیوار بنا کر باقی جگہ سے اسے علیحدہ کر دیا گیا ہے۔ عقل کو بھی حجر کہتے ہیں کیونکہ انسان کو غلط کاموں سے روکتی ہے اسی لئے سورہٴ فجر کی آیت ۵ میں ہے:۔ ھل فی ذٰلک قسم لذی حجر آیا ان باتوں میں صاحبانِ عقل کے لئے قانع کرنے والی قسم ہے۔ نیز قومِ صالح کو "اصحابِ حجر" کہا گیا ہے جیسا کہ قرآن مجید کی سورہٴ حجر آیت ۸۰ میں ہے کیونکہ وہ پہاڑوں کے اندر اپنی رہائش کے لئے پتھروں کے بہت ہی پختہ مکانات تراش کر ان میں محفوظ ہو جایا کرتے تھے۔ یہ تو تھا لفظ "حجر" کے بارے میں۔ رہا "حجراً محجوراً" کے بارے میں، تو یہ عربوں کی ایک اصطلاح ہے کہ جب ان کا کسی ایسے شخص سے سامنا ہو جائے جس سے وہ ڈرتے ہوں تو امان حاصل کرنے کے لئے یہ جملہ کہتے ہیں۔ خصوصاً عربوں میں یہ رسم تھی کہ جن حرمت والے مہینوں میں جنگ ممنوع ہوتی تھی اگر کسی شخص کا سامنا کسی ایسے شخص سے ہو جاتا جس کے متعلق یہ احتمال ہوتا کہ شاید یہ شخص حرمت کی پابندی کو توڑ کر جنگ کا آغاز کر دے گا اور اس طرح سے دوسرے فریق کو صدمہ ہو گا تو دوسرا فریق یہی جملہ زبان پر لاتا تو اسے امان دے دی جاتی۔ اس طرح سے ہر قسم کی وحشت و پریشانی اور اضطراب دور ہو جاتا۔ بنابریں، "حجراً محجوراً" کا یہ معنی ہو گا "میں ایسی امان چاہتا ہوں جس میں کوئی تبدیلی نہ ہو"۔ [ادبی نکتہ نظر سے "حجراً" فعلِ مقدر کا مفعول ہے اور "محجوراً" اس مفعول کی تاکید کے طور پر ہے اس جملے کی اصل یوں ہو گی: اطلب منک منعاً لا سبیل الیٰ رفعہ و دفعہ] جو کچھ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں اس سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ "محجرا محجورا" کا یہ جملہ کہنے والے گناہ گار جہنمی لوگ ہوں گے۔ آیت میں موجود افعال کی مناسبت، جملے کا تاریخی سفر اور عربوں میں اس کا استعمال بھی اسی بات کا متقاضی ہے ہر چند کہ بعض لوگوں نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ یہ بات کہنے والے فرشتے ہوں گے جن کا مقصد"مشرکین کو رحمتِ الہٰی سے محروم کرنا" ہو گا۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ بات کہنے والے مجرم لوگ ہی ہوں گے جو ایک دوسرے سے حجراً محجوراً کہیں گے لیکن بہتر اور ظاہر وہی پہلا معنی ہے جسے بہت سے مفسّرین نے بھی اختیار کیا ہے یا پھر اسے اوّلین تفسیر کے نام سے یاد کیا ہے۔ [اسی آیت کے ذیل میں ملاحظہ ہو تفسیر المیزان، فخر رازی، تفسیر فی ظلال القرآن اور تفسیر ابوفتوح رازی]۔ رہی یہ بات کہ مجرمین کس دن فرشتوں سے ایسی ملاقات کریں گے تو مفسّرین نے اس بارے میں دو احتمال ظاہر کئے ہیں بعض کہتے ہیں کہ وہ موت کا دن ہے جب وہ موت کے فرشتے کو دیکھیں گے جیسا کہ سورہٴ انعام کی آیت ۹۳ میں ہے:۔ ولو تریٰ اذالظالموں فی غمرات الموت و الملائکة باسطوا ایدیھم اخرجوا انفسکم۔ اگر تم ظالموں کو دیکھو کہ جب وہ موت کی موجوں میں پھنسے ہوئے ہوں اور موت کے فرشتے اپنے ہاتھ پھیلائے ان سے کہہ رہے ہوں کہ نکالو اپنی جانیں۔۔۔۔ بعض مفسّرین نے اس دن سے قیامت کا دن مراد لیا ہے کیونکہ اس دن مجرم اور گناہ گار لوگ عذاب کے فرشتوں کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے اور اپنی آںکھوں سے ان کا مشاہدہ کریں گے۔ آیات میں قیامت کے ذکر کے پیشِ نظر اور خاص کر "یومئذٍ" کے جملے کو مدّ نظر رکھ کر یہی فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ اس دن سے مراد قیامت کا دن آیت کے مفہوم سے زیادہ نزدیک ہے۔ بعد والی آیت آخرت میں مجرمین کے اعمال کی کیفیت کو مجسم کر کے کہتی ہے: ہم ان کے ان اعمال کی طرف آگے بڑھیں گے جو وہ انجام دے چکے ہوں گے اور ان اعمال کو غبار کے ذرّوں کی مانند ہوا میں بکھیر دیں گے (وَقَدِمْنَا إِلَی مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاہُ ھَبَاءً مَنْثُورًا)۔ راغب نے مفردات میں لکھا ہے کہ "عمل" سے مراد ہر وہ کام ہے جو ارادے کے ساتھ انجام دیا جائے لیکن "فعل" کا معنیٰ عام ہے خواہ وہ ارادے سے انجام دیا جائے یا بغیر ارادے کے۔ یعنی عمل ارادی کاموں کا نام ہے اور فعل ارادی اورغیر ارادی دونوں کا نام ہے۔ [راغب نے یہ فرق "عمل"کے مادہ میں ذکر کیا ہے جبکہ "فعل"کے مادہ میں اِس کے بر عکس کہا ہے لیکن دونوں کلموں کے استعمال کے پیشِ نظر یہ فرق صحیح معلوم ہوتا ہے البتہ ممکن ہے کہ کچھ استثنائی موارد بھی ہوں جیسا کہ کام کرنے والے بیلوں کو "عوامل" کہا جاتا ہے]۔ "قدمنا"، "قدوم" سے ہے جس کا معنیٰ "وارد ہونا" یا "کسی چیز کی تلاش میں نکلنا" ہے یہاں پر موضوع کے یقینی اور تاکیدی ہونے پر دلیل ہے یعنی یہ بات مسلّم اور یقینی ہے کہ انھوں نے جو اعمال بھی اپنے ارادے اور اختیار سے انجام دیئے ہیں خواہ وہ ظاہرا کارِ خیر ہی کیوں نہ ہوں، ان کے کفر اور شرک کی وجہ سے ہم ان کے تمام اعمال کو غبار کے ذرّوں کی مانند ہوا میں بکھیر کر نیست و نابود کر دیں گے۔
اعمال صالح کی تباہی
لفظ "ھباء" کا معنی غبار کے وہ نہایت ہی باریک ذرّات ہیں جو عام حالات میں دیکھنے میں نہیں آتے لیکن جب سورج کی روشنی بند کمرے کے سوراخ سے کمرے کے اندر آتی ہے تو اس میں یہی ذرّات تیرتے نظر آتے ہیں۔ اس تعبیر سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کفار اور مشرکین کے اعمال اس قدر بے قیمت اور بے اثر ہوں گے کہ گویا ان کا کوئی وجود ہی نہیں ہو گا خواہ وہ اپنے اعمال کے لئے سالہا سال تک کوشش ہی کیوں نہ کرتے رہے ہوں۔ یہ آیت سورہ ابراہیم کی آیت ۱۸ کی مانند ہے جس میں خدا فرماتا ہے:۔ مثل الذین کفروا بربھم اعمالھم کرماد اشتدت بہ الریح فی یوم عاصف جن لوگوں نے پروردگار کا انکار کیا ہے ان کے اعمال کی سزا ایسی ہے جیسے کسی طوفانی دن میں تیز ہوا کے سامنے راکھ کا ڈھیر۔ اس کی منطقی دلیل بھی واضح ہے کیونکہ جو چیز انسان کے اعمال کو شکل و صورت، حیثیت اور قدر و منزلت عطا کرتی ہے وہ ہے انسان کی نیت اور اس کا قصد و ارادہ، کیونکہ مومنین کے اعمال میں رضائے خدا، توحید، پاکیزہ مقصد اور صحیح و سالم منصوبہ بندی پیشِ نظر ہوتی ہے جبکہ بے ایمان افراد کے پیشِ نظر ظاہر داری، ریا کاری، جھوٹ، فریب اور ذاتی مفادات ہوتے ہیں جن کی وجہ سے ان کے اعمالِ صالح بھی ان کی قدر و منزلت کھو دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم ایسی مساجد کو بھی جانتے ہیں۔ جو صدیوں پرانی ہیں۔ سینکڑوں سال گزر جانے کے بعد بھی ان میں ذرہ برابر فرق نہیں آیا جبکہ اس کے برعکس ایسے گھروں کو بھی جانتے ہیں جو ایک ماہ یا ایک سال گزر جانے کے بعد خراب ہونا شروع ہو گئے ہیں اور ان میں کوئی نہ کوئی نقص پیدا ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مساجد کی تعمیر کے سلسلے میں خدا کی خشنودی مطلوب ہوتی ہے لہٰذا انھیں ہر لحاظ سے پختہ اور تمام حوادث کو پیشِ نظر رکھ کر بہترین مٹیریل کے ساتھ تعمیر کیا گیا، جبکہ رہائشی مکانوں کے سلسلے میں ظاہر داری اور فریب کاری کے ذریعے مال و دولت کا جمع کرنا مقصود تھا صرف ان ظاہری آب و تاب اور نقش و نگار کی طرف توجہ دی گئی۔ [اس سلسلے میں ہم اس سے زیادہ مفصّل طریقے پر تفسیرِ نمونہ کی جلد نمبر 6 سورہ ابراہیم کی آیت ۱۸ کے ضمن میں بحث کر چکے ہیں]۔ اصولی طور پر اسلامی منطق کی رو سے اعمالِ صالح کے لئے کچھ آفتیں ہیں جن کی طرف زیادہ توجہ دینا چاہئیے کہ کبھی تو وہ اپنے آغاز ہی سے تباہ و برباد ہو جاتے ہیں جیسے وہ اعمال جو "ریا" کے طور پر انجام دیئے جائیں۔ کبھی ان اعمال کی انجام دہی کے دوران ہی انسان غرور، تکبر اور خود پسندی کا شکار ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے اس کے اعمال کی قدر و قیمت ضائع ہو جاتی ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اعمالِ خیر کی ادائیگی کے بعد انسان سے ایسے نا مناسب کام سر زد ہو جاتے ہیں جن سے ان اعمال کا اثر بالکل ختم ہو جاتا ہے مثلا راہِ خدا میں خرچ کرنے کے بعد احسان جتانا اس کے اثر کو زائل کر دیتا ہے یا جن نیک اعمال کی انجام دہی کے بعد انسان کافر یا مرتد ہو جائے۔ حتی کے بعض اسلامی روایات کے مطابق بعض اعمال ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی انجام دہی سے پہلے کے گناہ کی وجہ سے ان کا کوئی نتیجہ بر آمد نہیں ہوتا۔ جس طرح شراب خور کے بارے میں ہے کہ اس کے اعمال چالیس روز تک بارگاہ ایزدی میں قبول نہیں ہوتے۔ [سفینة البحار جلد ۱ ص۴۲۷ مادہ"خم"]۔ بہرحال، اسلام کے نزدیک عملِ صالح کا ایک بچا تلا اور منظّم معیار ہے۔ ایک روایت میں جو حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے: قیامت کے دن خداوندِ عالم ایک ایسے گروہ کو مبعوث فرمائے گا جن کے سامنے ان کے سفید لباس کی مانند روشنی چمک رہی ہو گی (یہ روشنی ان کے اعمال ہوں گے) پھر خدا ان کے اعمال کو حکم دے گا کہ ذرّات میں تبدیل ہو جاوٴ (تو وہ سب ذرّات میں تبدیل ہو جائیں گے)۔ وہ کون لوگ ہوں گے اس بارے میں امام علیہ السلام فرماتے ہیں:۔ انھم کانوا یصومون و یصلون و لٰکن کانوا اذا عرض لھم شیء من الحرام اخذوہ واذا ذکر لھم شیء من فضل امیرالموٴمنین انکروہ۔ وہ لوگ نماز و روزہ کی بھی ادائیگی کرتے تھے لیکن جب کوئی حرام چیز ان کے سامنے آجاتی تو وہ اس سے بھی چمٹ جاتے اور جب علی امیر المومنین علیہ اسلام کی کوئی فضیلت ان کے سامنے بیان کی جاتی تو وہ اس کا انکار کرتے۔ [تفسیر علی بن ابراہیم۔ منقول از تفسیر نور الثقلین جلد ۴ ص ۹]۔ جہاں تک قرآن مجید کا طریقہ کار ہے تو وہ نیک اور بد کو ایک ساتھ بیان فرماتا ہے تاکہ دونوں کا آپس میں موازنہ کرکے ہر ایک کی کیفیت کو اچھی طرح سمجھا جا سکے چنانچہ بعد والی آیت دوزخیوں کے بارے میں گفتگو کرتی ہے۔ خدا فرماتا ہے: اس دن بہشتیوں کا ٹھکانہ سب سے بہتر اور ان کی رہائش گاہ سب سے عمدہ ہو گی (اَصْحَابُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُسْتَقَرًّا وَاَحْسَنُ مَقِیلاً)۔ اس بات کا مقصد یہ نہیں ہے کہ دوزخیوں کی حالت اچھی ہو گی اور بہشتیوں کی حالت ان سے زیادہ اچھی ہو گی، کیونکہ، "افعل التفضیل" کا لفظ بعض اوقات ایسے مواقع پر بھی استعمال ہوتا ہے جن میں ایک فریق میں ایسی صفات پائی جاتی ہیں دوسرا فریق جن سے بالکل عاری ہوتا ہے جس طرح سورہٴ حٰم سجدہ کی آیت ۴۰ میں ہے: افمن یلقیٰ فی النار خیر ام من یاٴتی اٰمناً یوم القیامة آیا جو شخص جہنم کی آگ میں ڈالا جائے گا وہ بہتر ہے یا جو شخص بروز قیامت مطمئن ہو کر عرصہ محشر میں آئے گا۔ "مستقر" کے معنیٰ قرار گاہ اور ٹھکانا کے ہیں اور "مقیل" کا معنی دوپہر کے وقت آرام کرنے کی جگہ ہے ("قیلولہ" کے مادہ سے ہے جس کا معنیٰ ہے دوپہر کی نیند)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
آسمان بادلوں سمیت پھٹ جائے گا
Tafsīr Nemūna · Vol. 4ان آیات میں قیامت اور روزِ قیامت گناہ گاروں کے انجام کے بارے میں گفتگو کو آگے بڑھایا گیا ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: گناہ گاروں کے مصائب اور رنج و غم کا دن ہو گا کہ جب آسمان بادلوں سمیت پھٹ جائے گا اور فرشتے پے در پے اترنا شروع ہوں گے (وَیَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلَائِکَةُ تَنزِیلًا)۔ ["یوم تشقق السماء" درحقیقت "یوم یرون الملائکة" کے گزشتہ جملے پر عطف ہے۔ بنابریں، اس جملے میں بھی "یوم" کا تعلق اسی چیز سے ہو گا جس سے گزشتہ آیت میں تھا "لابشری یومئذٍ" والی آیت میں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس کا تعلق "اُذکر" فعلِ مقدر سے ہے پھر"با لغمام" میں یا تو "ملابست" کے معنی میں ہے اور پھر "سببیت" کے لئے جو آیاتِ بالا کی تفسیر میں منعکس ہو چکی ہے]۔ "غمام"، "غم"کے مادہ سے ہے جس کا معنی کسی چیز کو چھپانا چونکہ بادل آسمان کو چھپا دیتے ہیں لہٰذا انھیں غمام کہتے ہیں۔ اسی طرح رنج و اندوہ کو "غم" کہتے ہیں کیونکہ وہ دل کو چھپا دیتے ہیں۔ یہ آیت درحقیقت مشرکین کے ایک مطالبے اور ایک اور بہانے کا جواب ہے وہ اپنے افسانوں کے مطابق اس بات کے منتظر تھے کہ خدا اور اس کے فرشتے بادلوں میں بیٹھ کر آئیں اور نھیں حق کی دعوت دیں اسی طرح یہودیوں کے قصے کہانیوں میں بھی ہے کہ کبھی کبھی خدا بادلوں کے درمیان سے ظاہر ہو جاتا ہے۔ [تفسیر فی ظلال القرآن جلد۶ ص۱۵۴(اسی آیت کے ذیل میں)]۔ قرآنِ مجید انھیں اسی چیز کا جواب دے رہا ہے کہ ہاں (خدا تو نہیں البتہ) فرشتے ایک دن ان کے پاس ضرور آیں گے لیکن کس دن؟ جس دن ان کے عذاب اور سزا کا موقع آجائے گا اور آ کر ان کی بیہودہ باتوں کو ختم کر دے گا۔ اب دیکھتے ہیں کہ بادلوں سمیت آسمان کے پھٹ جانے سے کیا مراد ہے؟ جبکہ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ہمارے اطراف میں آسمان نام کی کوئی ایسی چیز موجود نہیں ہے جو پھٹ جانے کے قابل ہو۔ علامہ طبا طبائی (رضوان اللہ تعالیٰ) تفسیر المیزان میں فرماتے ہیں: آسمان کے شگافتہ ہو جانے سے مراد عالم شہود ہے اور جہالت اور نادانی کے حجابوں کا ہٹ جانا اور عالمِ غیب کا ظاہر ہو جانا ہے یعنی اس دن انسان کے اندر اس قدر بینائی پیدا ہو جائے گی جو آج کے دن سے بہت مختلف ہو گی، سب پردے ہٹ جائیں گے اور لوگ فرشتوں کو عالمِ بالا سے اترتا ہوا دیکھیں گے۔ ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ "سماء" سے مراد آسمانی کُرّے ہیں جو پے در پے پھٹ جائیں گے اور تباہ ہوتے جائیں گے، ان دھماکوں سے اٹھنے والا اور پہاڑوں کے تباہ برباد ہونے سے بلند ہونے والا دھواں صفحہ آسمانی کو لپیٹ میں لے لے گا۔ بنابریں، آسمانی کُرّات پھٹ جائیں گے اور ان کے ساتھ ساتھ ان سے اٹھنے والے دھویں کے بادل بھی۔ [تشریحی نوٹ: ادبی نقطہ نظر سے اس صورت میں "با" ملابست کے لئے ہو گی]۔ قرآنِ مجید کی بہت سی آیتیں خاص کر آخری پارے کی چھوٹی چھوٹی سورتوں کی آیات اس حقیقت کی وضاحت کر رہی ہیں کہ قیامت سے پہلے عالمِ ہستی میں عجیب و غریب تبدیلیاں رونما ہوں گی۔ پہاڑ دھنی ہوئی روئی کی طرح فضا میں پھیل جائیں گے سورج بے نور ہو جائے گا ستارے ماند پڑ جائیں گے حتی کہ چاند اور سورج کے فاصلے سمٹ جائیں گے ساری زمین پر سخت زلزلہ آئے گا۔ ہاں تو اس دن آسمان کا تباہ ہو جانا یعنی آسمانی کّروں کا گہرے بادلوں کی وجہ سے صفحہ آسمانی سے پوشیدہ ہو جانا ایک فطری امر ہو گا۔ اسی تفسیر کو ایک اور صورت میں بھی بیان کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ: کواکب اور سیاروں کے دھماکوں اور زبردست تبدیلیوں کی وجہ سے آسمان گہرے بادلوں سے ڈھک جائے گا لیکن چونکہ ان بادلوں میں کبھی کبھار کوئی شگاف پڑ جاتا ہے اور آسمان کو صحیح صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ بنابریں، یہ آسمان جو ان آنکھوں سے دیکھا جاتا ہے ان پھٹے ہوئے عظیم بادلوں کے ذریعے جدا ہو جائے گا۔ [اس صورت میں "بالغمام" میں "با" "سببیت" کے معنیٰ میں ہے]۔ اس آیت کی اور بھی بہت سی تفاسیر بیان ہوئی ہیں جو علمی اور منطقی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتیں جبکہ مندرجہ بالا تینوں تفسیروں کا آپس میں کوئی تضاد نہیں ہے ممکن ہے کہ اس مادی کائنات کے پردے انسان کی آنکھوں کے سامنے سے ہٹا دیئے جائیں اور وہ عالمِ طبیعت کا مشاہدہ کرے۔ دوسری طرف آسمانی کُرّے دھماکوں کے ساتھ تباہ و برباد ہو جائیں اور ان دھماکوں سے دھویں کے بادل اٹھیں گے ان بادلوں کے درمیان کہیں کہیں شگاف پڑ جائیں گے یہی دن اس جہاں کا آخری اور اس دوسری جہان کا پہلا دن ہو گا جو بے ایمان گناہ گار مجرمین اور ہٹ دھرم ظالموں کے لئے نہایت ہی درد ناک ہو گا۔ اس کے بعد اس دن کی اور نمایاں خصوصیات کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اس دن حکومت خداوندِ رحمن ہی کی ہو گی (الْمُلْکُ یَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَان)۔ حتی کہ اس دنیا کے مجازی، فانی، محدود اور جلد ختم ہو جانے والی حکومتوں کے تختے الٹ دیئے جائیں گے اور ہر لحاظ سے اور تمام جہات سے حاکمیت صرف اور صرف خداوندِ متعال ہی کی ہو گی۔ اِسی بناء پر وہ دن "کافروں کے لئے بہت ہی سخت ہو گا " (وَکَانَ یَوْمًا عَلَی الْکَافِرِینَ عَسِیرًا)۔ جی ہاں اس دن تمام خیالی اور تصوّراتی طاقتیں بالکل ختم ہو جائیں گی، حاکمیت اور اقتدار اعلیٰ صرف اور صرف خدا ہی کے لئے ہو گا، کافروں کی تمام پناہ گاہیں ملیامیٹ ہو جائیں گی اور تمام طاغوتی طاقتیں نابود ہو جائیں گی۔ اگرچہ اس جہان میں بھی ان طاقتوں کی خدا کے ارادے و مشیت کے سامنے کوئی حیثیت نہیں لیکن پھر بھی ظاہری طمطراق اور جھوٹا وقار تو ہے چونکہ عرصہ محشر میں صرف حقائق ہی نمایاں ہوں گے اور مجازی، خیالی اور تصوراتی امور کی حیثیت ختم ہو جائے گی۔ خداوندِ عالم کے عذاب سے بے ایمان افراد کو کوئی چیز نہیں بچا سکے گی لہٰذا وہ دن کفار کے لئے انتہائی سخت ہو گا جبکہ مومنین کے لئے بہت سہل اور نہایت آسان ہو گا۔ ایک حدیث میں ابو سعید خدری سے منقول ہے کہ ایک دن آنحضرت نے اس آیت کی تلاوت فرمائی "فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنة" یعنی قیامت کا دن بچاس ہزار سال کے برابر ہو گا تو میں نے عرض کیا! یہ دن کس قدر لمبا اور عجیب ہو گا؟ تو آپ نے فرمایا:۔ والذی نفسی بیدہ انہ لیخفف عن المومن حتی یکون اخف علیہ من صلوات مکتوبة یصلیھا فی الدنیا اس ذات کی قسم کہ جس کے قبضہٴ قدرت میں میری جان ہے وہ دن مومنین کے لئے اس قدر آسان ہو گا کہ جتنی دیر وہ دنیا میں ایک فرض نماز پڑھنے میں لگا دیتا ہے اس سے بھی زیادہ آسان۔ [تفسیر قرطبی جلد ۷ صفحہ ۳۹۔۴۷]۔ قرآن میں دوسری آیات میں غور و فکر کرنے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کا دن کافروں پر سخت ہو گا کیونکہ کہیں پر تو ہے:۔ تقطعت بھم الاسباب۔ (بقرہ ۱۶۶) اس دن تمام دنیاوی اسباب اور وسائل منقطع ہو جائیں گے۔ کسی جگہ ہے: ما اغنیٰ عنہ مالہ وماکسب (تبّت:۲) انھیں نہ تو ان کا مال اور نہ ہی انھوں نے جو کچھ کمایا ہے کوئی فائدہ پہنچائے گا۔ کسی مقام پر ہے: یوم لایغنی مولیً عن مولیً شیئاً( دُخان:۴۱) وہاں کوئی کسی کی داد و فریاد کو نہیں پہنچے گا۔ حتیٰ کہ شفاعت بھی جو کہ گناہگاروں کے لئے تنہا راہِ نجات ہے صرف ان لوگوں کے لئے ہو گی جن کا خدا اور اس کے دوستوں کے ساتھ تعلق ہو گا۔ من ذالذی یشفع عندہ الاّ باذنہ ( بقرہ:۲۵۵) نیز اس روز کسی کو عذر خواہی کی بھی خواہش نہیں ہو گی چہ جائیکہ کسی کے غیر معقول عذر کو قبول کیا جائے: ولا یوٴذن لھم فیعتذرون ( مرسلات: ۳۶)
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 4مفسّرین نے ان آیات کی جو شانِ نزول بیان کی ہے۔ مختصراً یوں ہے: پیغمبرِ اسلام کے دور میں مشرکین میں "عقبہ" اور "ابی" نامی دو شخص رہتے تھے جو ایک دوسرے کے دوست تھے جب بھی عقبہ کسی سفر سے گھر واپس لوٹتا تو اپنی قوم کے سرداروں کو کھانے کی دعوت دیتا۔ اگرچہ اس نے اسلام قبول نہیں کیا تھا لیکن اس کا جی چاہتا تھا کہ رسول اللہ کی بارگاہ میں بھی حاضر ہو۔ حسبِ معمول ایک دن جب سفر سے واپس آیا تو کھانے کا انتظام کیا اور دوستوں کو دعوت دی اور ساتھ ہی حضرت پیغمبر اسلام کو بھی کھانے پر بلا لیا۔ جب دسترخوان بچھا دیا گیا اور کھانا لایا گیا تو آنحضرت نے فرمایا میں تمہارا کھانا اس وقت تک نہیں کھاوں گا جب تک تم کلمہ شہادتین (اقرار توحید و رسالت) زبان پر جاری نہیں کرو گے۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ یہ خبر جب اس کے دوست "ابی" تک پہنچی تو اس نے کہا: "عقبہ! کیا تم اپنے دین سے پھر گئے ہو"؟ عقبہ نے جواب دیا: "بخدا میں دین سے منحرف نہیں ہوا لیکن چونکہ ایک ایسا شخص میرا مہمان تھا جو میرے شہادتین کے اقرار کئے بغیر کھانا کھانے کے لئے تیار نہیں تھا اور چونکہ مجھے اس بات سے شرم آئی تھی کہ وہ کھانا کھائے بغیر میرے دسترخوان سے اٹھ کر چلاجائے لہٰذا مجھے یہ کہنا پڑا"۔ ابی نے کہا: "میں اس وقت تک تم سے راضی نہیں ہوں گا جب تک کہ اس (پیغمبرِ اسلام)کے سامنے کھڑے ہو کر اس کی زبردست توہین نہ کرو"۔ چنانچہ عقبہ نے ایسا ہی کیا اور مرتد ہو گیا اور انجام کار جنگ بدر میں کفار کی صف میں مارا گیا اسی طرح اس کا دوست "ابی" بھی جنگ احد میں اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ [مجمع البیان انہی آیات کے ذیل میں]۔ مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں اور ان میں ایسے شخص کا انجام بیان کیا گیا جو اس دنیا میں اپنے گمراہ دوست کی دوستی کی وجہ سے گمراہ ہو جاتا ہے۔ ہم کئی مرتبہ بتا چکے ہیں کہ اگرچہ آیات کی شانِ نزول خاص ہوتی ہے لیکن اس سے آیات کا مفہوم ہرگز محدود نہیں ہوتا بلکہ ان کے کلیے اور قاعدے اس قسم کے تمام افراد کے لئے ہوتے ہیں۔
برے دوست نے گمراہ کیا
قیامت کے مناظر بھی عجیب و غریب ہوں گے جن کا کچھ حصہ ابھی گزشتہ آیات کی تفسیر میں بیان ہو چکا ہے اور ان آیات میں ان مناظر کا ایک اور پہلو اجاگر کیا جا رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ ظالم لوگ بروزِ قیامت اپنے گزشتہ کردار پر حد سے زیادہ حسرت اور افسوس کریں گے، چنانچہ خدا فرماتا ہے: "اس دن کو یاد کیجئے جب ظالم حسرت کی وجہ سے اپنے ہاتھ اپنے دانتوں سے کاٹے گا اور کہے گا اے کاش! میں نے رسول اللہ کا راستہ اپنایا ہوتا (وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَی یَدَیْہِ یَقُولُ یَالَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِیلًا)۔ ["یوم یعض" کا جملہ ادبی لحاظ سے "یوم یرون" پر عطف ہے جو سابق میں گزر چکا ہے بعض مفسرین نے "اذکر" کو مقدر سمجھا ہے اور اسے اس سے متعلق قرار دیا ہے]۔ "یعض"، "عض"(بر وزن "سد") کے مادہ سے ہے جس کا معنی دانتوں سے کاٹنا ہے۔ عموماً یہ تعبیر ان لوگوں کے لئے استعمال کی جاتی ہے جو افسوس اور حسرت کی وجہ سے سخت پریشان ہوتے ہیں جیسا کہ فارسی میں بھی ضرب المثل ہے کہ "کہ فلاں شخص حسرت کی وجہ سے اپنی انگلی دانتوں سے کاٹ رہا ہے" (لیکن عربی میں انگلی کے بجائے ہاتھ کا لفظ بولا جاتا ہے اور شاید یہ زیادہ فصیح بھی ہے کیوںکہ انسان عموماً ایسی حالت میں انگلیوں ہی کو نہیں کاٹتا بلکہ ہاتھ کی پشت کو بھی کاٹتا ہے خصوصاً عربی زبان میں ایسے مواقع پر لفظ "یدیہ" (دونوں ہاتھ) استعمال کیا جاتا ہے جو حسرت، یاس، ناکامی اور افسوس کو زیادہ بہتر صورت میں بیان کرتا ہے۔ [البتہ فارسی میں کبھی ہاتھ کو دانتوں سے کاٹنا بھی بولا جاتا ہے جیسا کہ شیخ سعدی نے ایک شعر میں اسی محاورے کو استعمال کیا ہے۔ حذر کن ز آنچہ دشمن گوید آن کن کہ بر دندان گزی دست تغابن (جو کچھ دشمن کہتا ہے اس کے کرنے سے بچو وگرنہ نقصان کے وقت ہاتھ کو دانتوں سے کاٹو گے)]۔ یہ شاید اس لئے کہ اس قماش کے لوگ جب اپنے ماضی پر نظر ڈالتے ہیں تو خود کو قصور وار ٹھہراتے ہیں اور اس قصور کا انتقام بھی خود سے لینے کی ٹھان لیتے ہیں تاکہ وہ اس طرح سے قدرے اطمینان حاصل کر سکیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس دن کو "یوم الحسرة" کہنا چاہیئے جیسا کہ خود قرآن نے بھی اسے اس نام سے یاد کیا ہے ملاحظہ ہو سورہٴ مریم آیت ۳۹ کیونکہ مجرم اور گناہگار لوگ اپنے آپ کو ایک ایسی زندگی بسر کرنے کے لئے مجبور پائیں گے جو کبھی بھی ختم نہیں ہو گی جبکہ وہ دنیا کی چند روزہ زندگی میں صبر و شکیبائی، خواہشاتِ نفسانی کی مخالفت، جہاد با نفس اور ایثار و قربانی کا مظاہرہ کر کے ہمیشہ کی عزت و افتخار اور سعادت کی زندگی حاصل کر سکتے تھے۔ حتی کہ قیامت کا دن نیک لوگوں کے لئے بھی حسرت اور ندامت کا دن ہو گا کیونکہ وہ اس بات کا فسوس کریں گے کہ انھوں نے دنیا میں اس سے زیادہ نیکی کیوں نہیں کی۔ قرآن آگے فرماتا ہے کہ یہ ظالم بڑے افسوس کے ساتھ کہے گا: "پٹھکار ہو مجھ پر کاش کہ میں نے فلاں گمراہ شخص کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا (یَاوَیْلَتِی لَیْتَنِی لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیلًا)۔ ["خلیل" اس خاص اور جگری دوست کو کہتے ہیں جسے انسان اپنے مشوروں میں شریک کرتا ہے البتہ خلیل کے اور بھی بہت سے معانی ہیں جن کی تفصیل تفسیر نمونہ جلد چہارم (سورہٴ نساء کی آیت ۱۲۵) میں گزر چکی ہے]۔ ظاہر ہے کہ "فلاں" سے مراد وہ شخص ہے جو اسے گمراہی کی طرف کھینچ لایا تھا خواہ وہ شیطان تھا یا برا دوست اور گمراہ رشتہ دار یا "عقبہ" جیسے لوگوں کے لئے "ابی" جیسے دوست و احباب۔ درحقیقت یہ آیت اور اس سے پہلے والی آیت نفی اور اثبات کی دو مختلف حالتیں بیان کر رہی ہیں ایک جگہ کہتا ہے اے کاش! میں نے پیغمبر کا رستہ اختیار کیا ہوتا اور دوسری جگہ کہتا ہے: اے کاش! میں نے فلاں شخص کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا۔ گویا وہ یہ کہنا چاہے گا کہ میری تمام بد بختی پیغمبر سے رابطہ ترک کرنے اور اس گمراہ دوست سے دوستی کی وجہ سے ہے۔ سلسلہ کلام جاری ہے آگے فرماتا ہے کہ وہ کہے گا: بیداری اور علم و آگہی میرے پاس آ چکی تھی (سعادت اور خوش بختی نے میرا دروازہ بھی کھٹکھٹایا تھا) لیکن اس بے ایمان دوست نے مجھے گمراہ کیا (لَقَدْ اَضَلَّنِی عَنْ الذِّکْرِ بَعْدَ إِذْ جَائَنِی)۔ اگر ایمان اور سعادت ابدی سے زیادہ دور ہوتا پھر تو افسوس کی ایسی کوئی بات ہی نہیں تھی لیکن میں اس سعادتِ جاودانی کی سرحد کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا صرف ایک قدم کا فاصلہ باقی تھا کہ اس ہٹ دھرم متعصب اور دل کے اندھے شخص نے مجھے چشمہ ٴ آبِ حیات کے کنارے سے پیاسا پلٹا کر بد بختی اور گمراہی کے دلدل میں ہمیشہ کے لئے پھنسا دیا۔ مندرجہ بالا جملے میں مذکورہ لفظ "ذکر" کے وسیع معنی ہیں اور آسمانی کتابوں کی تمام آیاتِ خداوندی اس کے مفہوم میں شامل ہیں بلکہ وہ ہر چیز جو انسان کی بیداری اور آگہی کا سبب بنتی ہے اس میں آ جاتی ہے۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: شیطان تو انسان کو ہمیشہ سے چھوڑتا آ رہا ہے (وَکَانَ الشَّیْطَانُ لِلْإِنسَانِ خَذُولًا)۔ کیونکہ وہ انسان کو کھینچ تان کر غلط راستے پر ڈال دیتا ہے اور خطر ناک مقام پر پہنچا کر اسے حیران و سر گرداں چھوڑ کر اپنی راہ لیتا ہے۔ توجہ رہے کہ "خذول" مبالغہ کا صیغہ ہے جس کا معنیٰ ہے بار بار چھوڑنے والا۔ "خذلان" کی حقیقت یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کی امداد کے لئے عہد کرے لیکن نہایت ہی حساس لمحات میں اس کی امداد سے ہاتھ اٹھالے۔ آیا اس آیت کا یہ آخری جملہ "وَکَانَ الشَّیْطَانُ لِلْإِنسَانِ خَذُولاً" قولِ خداوندی ہے جو کہ تمام ظالموں اور گمراہوں کو تنبیہ کی صورت میں بیان ہوا ہے یا بروزِ قیامت ان حسرت زدہ لوگوں کے قول کا ایک حصّہ ہے جو تتمّہ کے طور پر بیان ہوا ہے؟ اس بارے میں مفسّرین نے دو طرح کی تفسریں بیان کی ہیں اور دونوں ہی آیت سے مناسبت رکھتی ہیں۔ لیکن قولِ خدا ہونا زیادہ مناسب ہے۔
دوستی کا اثر
دوستی کا اثر: اس میں شک نہیں کہ انسان کی سیرت اور شخصیت کی تعمیری عوامل میں اس کے اپنے ارادے منشا اور خواہش کے بعد اور بھی بہت سے مختلف امور شامل ہوتے ہیں جن میں سب سے زیادہ اہم اور موثر عامل اس کا دوست اور ہم نشین ہوتا ہے کیونکہ انسان چار و نا چار اس کا اثر ضرور قبول کرتا ہے نیز اپنے اکثر و بیشتر افکار اور اخلاقی صفات اپنے دوستوں اور ہم نشینوں سے حاصل کرتا ہے اور یہ حقیقت علمی، تجرباتی اور مشاہداتی طور پر پایہ ثبوت تک بھی پہنچ چکی ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے دوستی کے اثر کی اہمیت تو اس حد تک ہے کہ اسلامی روایات میں خدا کے نبی جناب حضرت سلیمان علیہ السلام سے یوں منقول ہے: لاتحکموا علی رجل بشیء حتی تنظروا الیٰ من یصاحب، فانما یعرف الرجل باشکالہ و اقرانہ و ینسب الیٰ اصحابہ و اخدانہ جب تک کسی انسان کے دوستوں کو صحیح طرح نہ دیکھ لو تو اس وقت تک اس کے بارے میں کوئی رائے قائم نہ کرو کیونکہ انسان اپنے دوست و احباب اور یار و انصار سے پہچانا جاتا ہے۔ [سفینة البحار جلد ۲ ص ۲۷ (مادہ "صدق")]۔ امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا ایک فصیح و بلیغ ارشاد ہے:۔ و من اشتبہ علیکم امرہ ولم تعرفوا دینہ، فانظروا الیٰ خلطائہ فان کانوا اھل دین اللہ فھو علی دین اللہ، و ان کا نوا علی غیر اللہ فلاحظ لہ من دین اللہ۔ جب تک کسی شخص کی کیفیت اور حقیقتِ حال کو نہ پہچان سکو اور اس کے دین کے متعلق بھی تمھیں معلوم نہ ہو سکے تو اس کے دوست و احباب کو دیکھ لیا کرو اگر وہ خدا کے دین کے پابند ہیں تو وہ بھی دینِ الہٰی کا پیروکار ہو گا اور اگر وہ اہل دین نہیں ہیں تو اس کا بھی دین میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ [بحار الانوار جلد ۷۴ ص ۱۹۷]۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ بسا اوقات کسی شخص کی نیک بختی یا بد بختی کے لئے اس کے دوست کی دوستی سب عوامل سے موثر عامل ہوتی ہے۔ یا تو یہ دوستی اسے فنا کی سرحدوں تک لے جاتی ہے اور یا پھر اعزاز و افتخار کی بلندیوں تک جا پہنچاتی ہے۔ مذکورہ بالا آیات اور ان کی شانِ نزول سے صاف ظاہر ہے کہ انسان کیونکر سعادت اور خوش بختی کی بلندیوں کو چھو سکتا ہے لیکن ایک دوست کی طرف سے صرف ایک شیطانی وسوسہ کی طرح رجعت قہقری میں مبتلا کر کے اسے ہلاکت کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈال دیتا ہے کہ جس پر وہ حسرت کرے گا اور بروزِ قیامت اپنے ہاتھوں کو اپنے دانتوں سے کاٹے گا اور "یا ویلتی" کی فریادیں بلند کرے گا۔ "کتاب العشرہ" [آدابِ معاشرت] میں اس سلسلے میں بہت سی روایات ہیں جو بتاتی ہیں کہ اسلام نے دوست کے انتخاب کے سلسلے میں کس قدر شرائط اور کڑی پابندیاں لگائی ہیں۔ اس مختصر سی بحث کو دو حدیثیں بیان کر کے ہم ختم کرتے ہیں جو احباب بیشتر تفصیل کے خواہش مند ہیں وہ بحار الانوار جلد ۷۴ کتاب العشرة کا مطالعہ فرمائیں۔ اسلام کے نویں عظیم الشان پیشوا حضرت محمد تقی جواد علیہ السلام فرماتے ہیں:۔ ایاک و مصاحبة الشریر فانہ کالسیف المسلول یحسن منظرہ ویقبح اشرہ برے شخص کی ہم نشینی سے بچو کیونکہ وہ شمشیرِ برہنہ کی مانند ہوتا ہے جس کا ظاہر خوبصورت اور اثر بہت خطر ناک ہوتا ہے۔ [بحار الانوار جلد ۷۴ ص ۱۹۸]۔ پیامبر اکرم فرماتے ہیں: اربع یمتن القلب الذنب بالدنب ومجالسة الموتی، وقیل لہ یا رسول اللہ و ما الموتی؟ قال کل غنی مترف چار چیزیں انسانی دل کو مردہ کر دیتی ہیں، گناہ کا تکرار (یہاں تک کہ فرمایا) مردوں کے ساتھ ہم نشینی، کسی نے پوچھا حضور! وہ مردے کون ہیں؟ فرمایا وہ دولتمند جو اپنی دولت کے نشے میں مست ہوتے ہیں۔ [فصال صدوق (منقول از بحار الانوار جلد ۷۴ ص ۱۹۵)]۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 34 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 34 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 34 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 34 کے تحت ملاحظہ کریں۔
خداوندا! لوگوں نے قرآن کو چھوڑ دیا
Tafsīr Nemūna · Vol. 4چونکہ گزشتہ آیات میں ہٹ دھرم مشرکین اور بے ایمان لوگوں کے مختلف الزامات اور اعتراضات بیان ہوئے ہیں لہٰذا ان آیات میں سے پہلی آیت میں پیغمبرِ اسلام کی اس پریشانی اور شکایت کا تذکرہ ہے۔ جو لوگوں نے قرآن کے ساتھ رویہ اختیار کیا ہوا تھا انھوں نے بارگاہ خداوندی میں عرض کیا خداوندا! میری اس قوم نے قرآن کو چھوڑ دیا ہے اور اس سے دوری اختیار کر لی ہے (وَقَالَ الرَّسُولُ یَارَبِّ إِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوا ھَذَا الْقُرْآنَ مَھْجُورًا)۔ [تشریحی نوٹ: "قال" ظاہراً فعلِ ماضی ہے اور اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ آنحضرت نے یہ بات اسی دنیا میں شکایت کے طور پر کہی ہے اور اکثر مفسرین کا بھی یہی نظریہ ہے لیکن بعض دوسرے مفسرین مثلاً علامہ طباطبائی مرحوم نے "المیزان" میں یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ اس بات کا تعلق قیامت کے ساتھ ہے اور فعلِ ماضی یہاں پر فعلِ مضارع کے معنی میں ہے علامہ طبرسی مرحوم نے بھی مجمع البیان میں اسی چیز کو احتمال کے طور پر ذکر کیا ہے لیکن بعد والی آیت جو آپ کی دلجوئی کر رہی ہے اس بات کی دلیل ہے کہ مشہور تفسیر زیادہ صحیح ہے]۔ رسول اللہ کی یہ گفتگو اور شکایت آج بھی اسی طرح فضا میں گونج رہی ہے گویا آپ مسلمانوں کے ایک بہت بڑے گروہ کے خلاف بارگاہ ایزدی میں استغاثہ کر رہے ہیں: خدایا! ان لوگوں نے قرآن کو بالکل بھلا دیا ہے جو قرآن زندگی کی علامت اور نجات کا ذریعہ ہے۔ قرآن فتح و کامرانی، تحرک اور ترقی کا عامل ہے۔ جو قرآن ہر شعبہ زندگی کے لئے راہنما اصول رکھتا ہے۔ اسی قرآن کو ان لوگوں نے چھوڑ دیا ہے حتی کہ انہوں نے اپنے دیوانی اور فوجداری قوانین تک کے لئے دوسروں کی طرف گدائی کا ہاتھ پھیلایا ہوا ہے۔ اب بھی اگر ہم اکثر و بیشتر اسلامی ملکوں خاص کر ان ممالک کی طرف نظر کریں جو مشرقی یا مغربی کلچر اور ثقافت کے زیرِ تسلط ہیں تو معلوم ہو گا کہ وہاں پر قرآن مجید کو تکلّفاً ایک مقدس کتاب کا درجہ دیا گیا ہے اس کے صرف الفاظ کو خوبصورت آواز میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن جیسے نشریاتی اداروں سے نشر کر دیا جاتا ہے یا آیاتِ قرآنی کو فنِ تعمیر کے عنوان سے مسجدوں کی کاشی کاری میں جگہ دی جاتی ہے۔ نئے مکان کے افتتاح کے موقع پر یا مسافر کی جان کی حفاظت کے لئے یا بیماروں کی صحت یابی کے لئے یا زیادہ سے زیادہ حصولِ ثواب کی غرض سے اس کی تلاوت کی جاتی ہے۔ اگر کبھی قرآن مجید سے کسی بھی چیز کا استدلال بھی کیا جاتا ہے تو اس سے ان کا مقصود یہ ہوتا ہے کہ اپنے پہلے سے کئے ہوئے فیصلوں کی تائید میں تفسیر بالرائے کی جائے۔ بہت سے اسلامی ملکوں میں "حفظِ قرآن" کے نام سے لمبے چوڑے مدارس دیکھنے میں آتے ہیں جن میں لڑکے اور لڑکیوں کی بہت بڑی تعداد قرآن حفظ کرنے میں مصروف ہے جبکہ ان ملکوں کے آئین اور قوانین اسلام سے بے خبر ممالک سے درآمد شدہ ہیں اور ان کے افکار و نظریات یا تو مشرق سے لئے گئے ہیں یا مغرب سے اور اپنی ان غلط کاریوں پر پردہ ڈالنے کے لئے انہوں نے قرآن کا سہارا لیا ہوا ہے۔ ہاں ہاں اب بھی پیغمبر اکرم فریاد کر رہے ہیں: خداوندا! میری قوم نے قرآن کو چھوڑ دیا ہے۔ قرآن کی روح اور مطالب کو، اس کے طرزِ تفکر کو اور اس کے تعمیری منصوبوں پر عمل درآمد چھوڑ دیا ہے۔ چونکہ حضرت رسول گرامی کو دشمنوں کے اس قسم کے معاندانہ سلوک کا سامنا تھا۔ لہٰذا خداوندِ عالم ان کی دلجوئی کے لئے بعد والی آیت میں فرماتا ہے: اسی طرح کے گناہ گار اور مجرم دشمن ہم نے ہر پیغمبر کے لئے قرار دیئے ہیں (وَکَذَلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِنْ الْمُجْرِمِینَ)۔ تو ہی نہیں کہ جسے اس قسم کے دشمنوں کا سامنا ہے بلکہ سب انبیاء کا یہی حال تھا۔ مجرمین کا کوئی نہ کوئی ٹولہ ان کی مخالفت کرتا رہتا ہے اور ان کے ساتھ دشمنی پر ہمیشہ کمر باندھے رہتا ہے۔ لیکن تجھے معلوم ہونا چاہئیے کہ تو بے یار و مدد گار نہیں "یہی بات کافی ہے کہ خداوند عالم تیرا ہادی، راہنما اور یار و یاور ہے (وَکَفَی بِرَبِّکَ ھَادِیًا وَنَصِیرًا)۔ چونکہ تیرا ہادی خداوندِ عالم ذو الجلال ہے لہٰذا ان کے وسوسے تجھ پر اثر انداز نہیں ہو سکتے اور چونکہ تیرا ناصر و مددگار خدا ہے لہٰذا ان کی ہر طرح کی سازشین تیرا بال تک بیکا نہیں کر سکتیں کیونکہ اس کا علم تمام علوم سے برتر اور اس کی قدرت تمام قدرتوں اور طاقتوں سے بالا تر ہے۔ مختصر یہ کہ بلا جھجک کہہ دے: ہزار دشمنم از می کنند قصد ہلاک تو ام چو دوستی از دشمنان ندارم باک اگر میرے ہزاروں دشمن مجھے ہلاک کرنا چاہیں (تو وہ ایسا نہیں کر سکتے) کیونکہ جب تک تو میرا دوست ہے مجھے دشمن کی قطعاً کوئی پرواہ نہیں۔ بعد والی آیت میں مجرموں کی ایک اور بہانہ جوئی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: کافروں نے کہا کہ اس پر قرآن، ایک ہی مرتبہ کیوں نازل نہیں ہوتا (وَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا لَوْلاَ نُزِّلَ عَلَیْہِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً)۔ آیا یہ سب کا سب خدا کی طرف سے نہیں ہے؟ کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ اوّل سے لے کر آخر تک اپنے تمام مضامین سمیت ایک ہی مرتبہ یہ کتاب نازل ہو جائے تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ اس کی عظمت سے با خبر ہوں آخر کیا وجہ ہے کہ یہ آیات بتدریج اور وفقے وفقے کے بعد نازل ہوتی رہتی ہیں؟ سطحی فکر رکھنے والے افراد خاص کر جب وہ کسی بہانے کی تلاش میں بھی ہوں ان کے لئے نزولِ قرآن کی کیفیت کے بارے میں یہ اشکال پیدا ہو گا کہ دنیا جہاں کی اس قدر عظیم آسمانی کتاب بیک وقت کیوں نازل نہیں ہوئی جبکہ یہ مسلمانوں کے تمام امور کا سرمایہ اور ان کی بنیاد ہے اور اس میں تمام سیاسی، اجتماعی، معاشرتی اور عبادی قوانین موجود ہیں اس طرح سے لوگ ہمیشہ اسے اول سے آخر تک پڑھتے اور اس کے مضامین سے آگاہی حاصل کرتے۔ بہتر یہی ہے کہ خود آنحضرت بھی اس سے مجموعی طور پر با خبر ہوتے تاکہ جب بھی آپ سے لوگ کوئی سوال کرتے تو اس کا فوری طور پر جواب دیتے۔ لیکن اسی آیت میں انھیں اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے: ہم نے قرآن کو تدریجی طور پر نازل کیا ہے تاکہ تیرے دل کو محکم و استوار رکھیں اور اسے جداگانہ آیات کی صورت میں آہستہ آہستہ لیکن بطورِ مسلسل تجھ پر وحی کیا ہے (کَذَلِکَ لِنُثَبِّتَ بِہِ فُؤَادَکَ وَرَتَّلْنَاہُ تَرْتِیلًا)۔ چونکہ وہ لوگ اس حقیقت سے بے خبر ہیں لہٰذا اس قسم کے اعتراض کرتے ہیں۔ البتہ قرآن کے تدریجی نزول کا پیغمبر اسلام اور مومنین کے دل کی تقویت کے ساتھ کیا رابطہ ہے؟ یہ ایک مفصل اور دلچسپ گفتگو ہے جو انہی آیات کے آخر میں نکات کی بحث میں پیش کی جائے گی۔ پھر مندرجہ بالا جواب کومزید پختہ کرنے کے لئے ارشاد فرمایا گیا ہے: وہ تیرے لئے کوئی مثل نہیں لاتے اور تیری دعوت کو کمزور کرنے کے لئے کوئی بھی بات نہیں کرتے مگر یہ کہ ہم ایسی حق بات تجھے عطا کر دیتے ہیں جو دو ٹوک انداز میں ان کے بودے دلائل کو نا کام کر کے رکھ دیتی ہے اور بہتر تفسیر اور دلچسپ بیان تجھے عطا کرتے ہیں (وَلاَیَاْتُونَکَ بِمَثَلٍ إِلاَّ جِئْنَاکَ بِالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِیرًا)۔ ان کینہ پرور دشمنوں اور متعصب اور ہٹ دھرم مشرکوں نے اپنے چند اعتراضات کے ذریعے یہ نتیجہ نکال لیا تھا کہ ان اوصاف، اس کتاب اور ان پروگراموں کی وجہ سے (نعوذ باللہ) محمد اور اس کے ساتھی غلط ہیں اور کیونکہ ایسی بیہودہ سوچ اور گفتگو کا اسی انداز میں ذکر کرنا قرآن جیسی فصیح و بلیغ کتاب کے شایان ذکر نہیں تھا لہٰذا اس آخری آیت میں ان کی گفتگو کو ذکر کئے بغیر خداوندِ عالم اس کا یوں جواب دیتا ہے۔ جو لوگ منہ کے بل محشور کئے جائیں گے اور اسی حالت میں انہیں جہنم میں ڈالا جائے گا وہی ان کا بد ترین ٹھکانا ہو گا اور وہ خود گمراہ ترین افراد ہوں گے۔ (الَّذِینَ یُحْشَرُونَ عَلَی وُجُوھِھِمْ إِلَی جَھَنَّمَ اُوْلَئِکَ شَرٌّ مَکَانًا وَاَضَلُّ سَبِیلًا)۔ سچ بات تو یہ ہے کہ انسان کے منصوبوں کا نتیجہ تو وہاں جا کر واضح ہو گا کچھ لوگ وہ ہوں گے جو سرو قامت اور چاند جیسے نورانی چہرے کے مالک ہوں گے اور تیز قدموں کے ساتھ بہشت میں داخل ہوں گے۔ ان کے مقابلے میں وہ لوگ ہوں گے جن کے منہ پر خاک پڑی ہو گی اور عذاب کے فرشتے انہیں کشاں کشاں جہنم میں لے جائیں گے۔ یہ دو متضاد اور مختلف انجام ہی بتائیں گے کہ کون لوگ گمراہ اور شریر تھے اور کون نیک بخت اور ہدایت یافتہ۔
چند اہم نکات: ۱۔”جعلنا لکلّ نبی عدواً“ کی تفسیر:
1۔ "جعلنا یکّل نبی عدوا" کی تفسیر: ہو سکتا ہے مندرجہ بالا جملے سے یہ بات سمجھی جائے کہ خداوندِ عالم پیغمبر اسلام کی دلجوئی اور تسلّیِ خاطر کی غرض سے یہ فرما رہا ہے کہ "اے میرے حبیب! صرف تیرے ہی دشمن نہیں ہیں بلکہ ہماری طرف سے ہر پیغمبر کے دشمن بنائے گئے ہیں" یہاں پر دشمن بنانے کی نسبت خداوندِ عالم کی طرف ہے جو نہ تو حکمتِ خداوندی سے مطابقت رکھتی ہے اور نہ ہی انسان کے ارادہ و اختیار کی آزادی سے مناسبت رکھتی ہے۔ مفسّرین نے اس سوال کے کئی جواب دیئے ہیں۔ لیکن ہم کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ تمام انسانوں کے اعمال ایک لحاظ سے خدا کی ذات کی طرف سے ہیں۔بنابرین انبیاء کے دشمنوں کو بھی اس نظریہ کے تحت خدا کی طرف منسوب کیا جا سکتا ہے اور اس طرح سے نہ تو جبر کا مسئلہ پیش آتا ہے اور نہ ہی بے اختیاری کا، جیسے انبیاء کے کاموں کی ذمہ داری بھی مخدوش نہیں ہوتی (خوب غور کیجئے گا)۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی ہے کہ ان زبردست دشمنوں کا وجود، انبیائے کرام سے ان کی مخالفت اس بات کا سبب بنتی ہے کہ مومنین اپنے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور زیادہ پائیداری اور ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں اور اس ذریعہ سے سب لوگوں کے بارے میں خدا کی آزمائش بھی ہوتی رہتی ہے۔ درحقیقت یہ آیت بھی سورہ انعام کی آیت ۱۱۲ کی مانند ہے جس میں خدا فرماتا ہے: وکذلک جعلنا لکل نبی عدواً شیاطین الانس و الجن یوحی بعضھم الیٰ زخرف القول غروراً اسی طرح ہم نے پیغمبر کے لئے انسانوں اور جنوں میں سے شیطانوں کو بنایا ہے جو بے بنیاد اور دھوکے پر مبنی باتیں ایک دوسرے سے مخفی طور پر بیان کرتے ہیں۔ جہاں پھول ہوتے ہیں وہاں کانٹے بھی ہوتے ہیں اور جہاں نیک لوگ ہوتے ہیں وہاں بدکار بھی ہوتے ہیں اور ہر ایک اپنا اپنا کام کرتا رہتا ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ "جعلنا" (ہم نے بنایا ہے) سے مراد انبیاء کے اوامر، نواہی اور دوسرے تعمیری پروگرام ہیں جن سے چار و نا چار کچھ لوگوں کو دشمنی ہو جاتی ہے اور گمراہی کا شکار ہو جاتے ہیں اور اگر اس کی نسبت خدا کی طرف دی گئی ہے تو اس لئے ہے کہ یہ اوامر اور نواہی خدا کی طرف سے ہیں۔ ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ کچھ متعصب لوگ بھی ہیں جو اپنے تعصب، گناہوں پر اصرار اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے راہِ راست سے اس قدر بھٹک چکے ہیں کہ خداوندِ عالم نے ان کے دل پر مہر لگا دی ہے۔ ان کی آنکھوں کو اندھا اور کانوں کو بہرا کر دیا ہے جس کی وجہ سے وہ انبیاء کے دشمن ہو جاتے ہیں لیکن اس دشمنی کے اسباب انھوں نے خود ہی فراہم کئے ہیں۔ ان تینوں تفسیروں کا آپس میں کوئی تضاد نہیں ہے اور ان تینوں تفاسیر کو آیت کے ایک مفہوم میں جمع کیا جا سکتا ہے۔
۲۔ قرآن کا تد ریجی نزول کیوں ؟
قرآن کا تدریجی نزول کیوں؟ یہ ٹھیک ہے کہ بعض روایات (بلکہ بعض آیات کے ظاہر) کے مطابق قرآن دو مرتبہ نازل ہوا: ایک "دفعی نزول" کی صورت میں جو کہ شبِ قدر میں بیک وقت پیغمبر اکرم کے قلب پر نازل ہوا اور دوسرا "تدریجی نزول" کی صورت میں ۲۳ سال کے عرصہ میں نازل ہوتا رہا۔ اس میں بھی شک نہیں کہ جس نزول نے قبولیت کی سند حاصل کی ہے اور پیغمبرِ اسلام اور دوسرے لوگوں کو جس طرح سے واسطہ رہا ہے وہ یہی "تدریجی نزول" ہے یہی نزول حیلہ ساز دشمنوں کے اعتراض کا موجب بنا ہوا تھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ قرآن یک بارگی نازل نہیں ہوتا اور ایک ہی مرتبہ لوگوں کے پاس کیوں نہیں پہنچ جاتا تاکہ لوگوں کو مکمل آگاہی حاصل ہو اور ان کے لئے کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہے۔ لیکن جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ قرآن مجید نے "کذٰلک لنثبت بہ فوٴادک" کہہ کر انھیں ایک مختصر مگر جامع جواب دیا ہے۔ اس پر جتنا غور و فکر کیا جائے قرآن کے تدریجی نزول کے اثرات بیشتر واضح ہوتے جائیں گے۔ ۱۔ اس میں شک نہیں کہ "وحی کی وصولی" اور اسے لوگوں تک پہنچانے کے لحاظ سے اگر مطالبِ قرآنی تدریجی طور پر اور ضرورت کے مطابق نازل ہوں اور ہر مطلب کے لئے اس کا شاہد اور مصداق عینی پایا جائے تو نہایت ہی موٴثر ہو گا۔ تربیّت کے اصول بھی اسی بات کے متقاضی ہیں کہ زیرِ تربیت افراد کو قدم بقدم آگے بڑھانا چاہیئے اور ان کے لئے ہر روز کا علیحدہ پروگرام مرتب کیا جانا چاہئیے تاکہ وہ نچلے درجے سے شروع کر کے اعلیٰ مدارج تک جا پہنچیں اس طرح کا جو پروگرام تشکیل دیا جاتا ہے وہ بولنے والے کے لئے بھی بہت دلچسپ اور عمیق ہوتا ہے اور سننے والے کے لئے بھی۔ ۲۔ اصولی طور پر جو لوگ قرآن پر اس قسم کا اعتراض کرتے تھے وہ اس حقیقت سے بے خبر تھے کہ قرآن کوئی کلاسکی کتاب نہیں ہے جو کسی ایک موضوع یا کسی خاص علم کے بارے میں گفتگو کرے بلکہ وہ تو ایک انقلابی قوم کا ایک مکمل جامع نظامِ حیات ہے جس سے زندگی کے ہر شعبہ میں راہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔ بہت سی قرآنی آیات تاریخی مناسبت کے لحاظ سے نازل ہوتی رہیں۔ بدر، احد، احزاب اور حنین وغیرہ کی جنگوں کے موقع پر ایسا ہی ہوا ہے۔ ان مواقع پر نازل ہونے والی آیتوں میں جنگی دستور العمل یا ان کے نتائج کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے۔ تو کیا کوئی تُک بنتا ہے کہ ایسی آیات بھی ایک جگہ لکھ کر لوگوں کو پیش کر دی جائیں۔ با الفاظ دیگر قرآن مجید، اوامر و نواہی، احکام و قوانین، تاریخ و موعظہ اور امتِ مسلمہ کو مختلف حالات میں پیش آنے والے حربی و غیر حربی حوادث کے اسٹریٹیجک اور جنگی دستور العمل کا مجموعہ ہے۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جو اپنے تمام امور حتی کہ کلیہ قواعد کو موقع محل کی مناسبت سے بیان کرتی اور اس پر عمل در آمد کرنے کا حکم دیتی ہے۔ کیونکہ ممکن ہے کہ پہلے سے مرتب اور مدون ہو کر نازل ہو یہ تو ایسے ہی ہو گا کہ اپنے انقلاب کو کامیاب کرنے کے لئے ایک عظیم لیڈر اپنے تمام اعلانات، بیانات، اوامر اور نواہی کو ایک ہی دن پیش کر دے جبکہ انہیں مختلف موقعوں کی مناسبت سے ہونا چاہئیے۔ تو کیا ایسی صورت میں کوئی شخص اسے عاقلانہ اقدام تصور کر سکتا ہے؟ ۳۔ قرآن کا تدریجی نزول درحقیقت آنحضرت کے ساتھ وحی کے رابطہ کا ایک ذریعہ تھا اس مسلسل رابطے نے آپ کے دل کو قوی اور ارادے کو محکم و استوار بنا رکھا تھا جس کا اثر آپ کے تربیتی پروگراموں میں بہت نمایاں اور نا قابلِ انکار تھا۔ ۴۔ وحی کا تصور آنحضرت کی رسالت و سفارت کے تسلسل کو بیان کرتا ہے جس سے دشمنوں کے لئے یہ کہنے کی گنجائش باقی نہیں رہ گئی تھی کہ اللہ نے انھیں ایک دن مبعوث کر دیا ہے اور اب ان کی بات بھی نہیں پوچھتا جیسا کہ تاریخِ اسلام میں درج ہے کہ اوائلِ بعثت میں ایک مرتبہ وحی کے نزول میں دیر ہوگئی تو مخالف حلقوں میں مختلف چہ میگوئیاں ہونے لگیں جن کی تردید میں سورة "و الضحیٰ" نازل ہوئی۔ ۵۔ مان لیا کہ تمام قرآن کو یکجا نازل ہونا چاہئیے تھا تو اس کے ساتھ یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اس پر یکجا عملدر آمد بھی ہونا چاہئیے تھا ورنہ کوئی فائدہ نہ تھا اور نہ ہی اس کی کوئی اہمیت تھی اور اگر تمام احکام پر عمل در آمد کیا جاتا خواہ وہ نماز ہو یا زکواة، جہاد ہو یا دوسرا کوئی واجب یا تمام محرمات سے یکدم پرہیز کیا جاتا خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے تو نہایت ہی مشکل کام تھا جس کی وجہ سے بہت سے لوگ اسلام کو خیر باد کہہ جاتے۔ لہٰذا کیا ہی اچھی بات ہے کہ وہ تدریجی طور پر نازل ہو اور اس پر رفتہ رفتہ عمل در آمد کیا گیا۔ چاہئیے کہ ایسے پروگرام آہستہ آہستہ عملی جامہ پہنتے جائیں اور لوگوں کے لئے قابلِ قبول بنتے جائیں اور اس بارے میں کوئی سوال یا بحث ہو تو وہ بھی پیش ہو اور اس پر گفتگو کی جائے اور اس کا جواب بھی دیا جائے۔ ۶۔ تدریجی نزول کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ قرآن کی عظمت اور اس کے اعجاز روز بروز روشن تر ہو گئے کیونکہ جب کبھی بھی کسی موقع پر کوئی آیت نازل ہوئی تو یہ بذاتِ خود قرآن کی عظمت اور اعجاز پر دلیل تھی اور جوں جوں ایسے واقعات کا تکرار ہوتا گیا قرآن کی عظمت اور اعجاز کو چار چاند لگتے گئے اور لوگوں کے دلوں میں اس کا اثر اور بڑھتا گیا۔
۳۔ترتیل قرآن کامعنی:
ترتیل قرآن کا معنی: "ترتیل" کا لفظ "رتل" (بر وزن "قمر") کے مادہ سے ہے جس کا معنی منظم اور مرتب ہونا ہے یہی وجہ ہے کہ جس شخص کے دانت خوب منظم اور مرتب ہوتے ہیں، عرب اسے "رتل الاسنان" کہتے ہیں۔ اِسی بناء پر پے در پے اور ترتیب سے کی جانے والی گفتگو یا تنظیم اور ترتیب کے ساتھ آنے والی آیات پر بھی ترتیل کا لفظ بولا جاتا ہے۔ لہٰذا "و رتلناہ ترتیلا" کا جملہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اگرچہ قرآن مجید تدریجی طور پر ۲۳ سال کے عرصے میں نازل ہوتا رہا لیکن یہ تدریجی نزول ایک باقاعدہ حساب و کتاب اور تنظیم و ترتیب کے تحت تھا اور وہ دل و دماغ میں پہنچ کر انھیں اپنا والہ و شیدا بنا دیتا تھا۔ کلمہ "ترتیل" کی تفسیر میں دلچسپ روایات ذکر ہوئی ہیں جن میں سے ہم بعض کو ذیل میں نقل کئے دیتے ہیں۔ تفسیر مجمع البیان میں ہے کہ آنحضرت نے ابن عباس سے فرمایا:۔ اذا قراٴت القراٰن فرتلہ ترتیلا جب قرآن کی تلاوت کیا کرو تو اسے ترتیل کے ساتھ پڑھا کرو۔ ابن عباس کہتے ہیں "میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ترتیل کیا ہوتی ہے؟ تو آپ نے فرمایا: بینہ تبییناً، ولا تنثرہ نثر الدغل (الرمل) ولا تھذہ ھٰذا الشعر، قفوا عند عجائبہ، و حرکوا بہ القلوب، ولا یکونن ھم احدکم اٰخر السورة حروف اور کلمات کو صحیح طریقے پر ظاہر کرو، خشک کھجوروں (یا ریت کے ذروں) کی مانند اسے منتشر نہ کرو اور نہ ہی اشعار کی مانند اسے فرفر اور جلدی جلدی پڑھا کرو جب اس میں عجائبات کا تذکرہ آ جائے تو وہاں پر ٹھہر جاوٴ اور غور و فکر کرو، دلوں کو اس کے ذریعہ متحرک کرو، ہرگز تمہاری نیّت یہ نہیں ہونی چاہئیے کہ جلدی سے سورت کو ختم کرنا ہے (بلکہ اہم مقصد قرآن میں غور و فکر اور اس سے استفادہ کرنا ہے)۔ [مجمع البیان، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں]۔ بعینہ یہی چیز اصولِ کافی میں حضرت امیر المومنین سے منقول ہے۔ [اصولِ کافی جلد ۲ ص ۴۴۹ (باب ترتیل القرآن بالصوت الحسن)]۔ حضرت امام جعفرِ صادق علیہ السلام سے بھی اس طرح کی حدیث نقل ہوئی: الترتیل ان تتمکث بہ و تحسن بہ صوتک، واذا مررت باٰیة فیھا ذکر النار فتعوذ باللہ من النار و اذا مررت باٰیة فیھا ذکر الجنة فاسئل اللہ الجنة ترتیل یہ ہے کہ آیات کو ٹھہر ٹھہر کر اور اچھی آواز کے ساتھ پڑھو جب کسی ایسی آیت پر پہنچو جس میں جہنم کا تذکرہ ہے تو خدا کی پناہ مانگو اور جب کسی ایسی آیت پر پہنچو جس میں بہشت کا ذکر ہے تو خدا سے بہشت کی دعا مانگو (خود کو بہشتیوں کے اوصاف سے متصف کرو اور جہنمیوں کی صفات سے بچاوٴ)۔ [مجمع البحرین مادۂ "رتل"]۔
۴۔ ”یحشرون علی وجوھھم الیٰ جھنم" کی تفسیر:
یحشرون علی وجوھھم الیٰ جھنم" کی تفسیر: "گناہ گار ٹولہ کا منہ کے بل محشور ہونے" کا کیا مقصد ہے؟ اس بارے میں مفسرین نے بہت کچھ گفتگو کی ہے کچھ مفسرین نے تو اسے اس کے حقیقی معنیٰ سے تفسیر کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ مجرم ٹولہ منہ کے بل گرا ہوا ہو گا اور فرشتے انھیں کشاں کشاں جہنم میں لے جائیں گے ان کا یہ عذاب ایک طرف سے تو ان کی ذلت و رسوائی کی علامت ہو گا کیونکہ وہ دنیا میں انتہائی مغرور، متکبر اور خود پسند تھے دوسری طرف سے ان کی گمراہی مجسم ہو کر سامنے آجائے گی کیونکہ جس شخص کو ایسی حالت میں گھسیٹ کر لے جائیں گے وہ کسی بھی صورت میں اپنے سامنے نہیں دیکھ سکے گا اور نہ ہی وہ اپنے اطراف میں رونما ہونے والے واقعات سے با خبر ہو گا۔ لیکن بعض مفسرین نے اس جملے کو کنایہ کے معنیٰ میں لیا ہے کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ یہ جملہ ان گناہ گاروں کے دنیا کے ساتھ قلبی تعلق کے لئے کنایہ ہے یعنی کیونکہ ان کے دل اب بھی دنیا سے لو لگائے ہوئے ہوں گے لہٰذا وہ جہنم کی طرف گھسیٹے جائیں گے۔ [اس تفسیر کی رو سے "علی وجوھھم" کی تعبیر نے درحقیقت علت کی جگہ لی ہے اور اس جملے کا مفہوم یوں ہو گا: یحشرون الیٰ جھنم لتعلق وجوہ قلوبھم الیٰ الدنیا]۔ اور کچھ نے کہا ہے کہ یہ کنایہ اس مخصوص تعبیر کی مانند ہے جو ادبیاتِ عرب میں استعمال ہوتی ہے کہ: فلان مرّ علی وجھہ فلاں شخص منہ کے بل گزرا۔ (یعنی فلاں شخص کو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کہاں جا رہا ہے) لیکن ظاہر ہے کہ جب تک کنایہ کے معنی پر کوئی دلیل موجود نہ ہو وہی پہلے یعنی حقیقی معنی والی تفسیر مناسب ہو گی۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
درسِ عبرت سے لاپر وائی
Tafsīr Nemūna · Vol. 4درسِ عبرت سے لا پروائی ان آیات میں خداوندِ عالم ایک تو اپنے پیغمبر اور مومنین کی تسلی اور دلجوئی کے لئے، دوسرے ان حیلہ ساز مشرکین کی تنبیہ کے لئے جن کی باتیں ابھی بیان ہو چکی ہیں، گزشتہ اقوام کی تاریخ اور ان کے عبرت ناک انجام کی طرف اشارہ کر رہا ہے اور گزشتہ اقوام میں سے چھ قوموں کا خاص طور پر تذکرہ فرما رہا ہے (یعنی قوم فرعون، قوم نوح، قوم عاد، ثمود، اصحاب الرس اور قوم لوط) اور ان اقوام کے انجام کو بطورِ درسِ عبرت پیش فرماتا ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: ہم نے موسیٰ کو آسمانی کتاب دی اور ان کے بھائی ہارون کو مدد کے لئے ان کے ہمراہ کر دیا (وَلَقَدْ آتَیْنَا مُوسَی الْکِتَابَ وَجَعَلْنَا مَعَہُ اَخَاہُ ہَارُونَ وَزِیرًا)۔ کیونکہ انھوں نے فرعون کے ساتھ مقابلہ کی عظیم ذمّہ داری اٹھا رکھی تھی لہٰذا اس انقلابی کام کو انھیں مِل جل کر سر انجام دینا تھا تاکہ وہ اس انقلابی تحریک کو ساحلِ کامرانی تک پہنچا سکیں۔ "ہم نے (ان دونوں بھائیوں سے خطاب کرتے ہوئے) کہا: اس قوم کی طرف جائیے جس نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے" (فَقُلْنَا اذْہَبَا إِلَی الْقَوْمِ الَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا)۔ انھوں نے ایک تو آیات و انفس اور کائنات میں موجود آیاتِ خداوندی کی عملاً تکذیب کی اور شرک و بت پرستی کی راہ اپنائی اور دوسرے انبیاء ماسبق کی تعلیم کو نظر انداز ہی نہیں کر دیا بلکہ ان کی تکذیب بھی کی۔ لیکن جناب موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون علیہ اسلام کی تمام کوششوں کے با وجود اور عظیم اور روشن معجزات کے بعد بھی انھوں نے کفر اور انکار کا راستہ اپنایا "لہٰذا ہم نے انھیں ایسے سر کوب کیا کہ وہ نیست و نابود ہو گئے (فَدَمَّرْنَاھُمْ تَدْمِیرًا)۔ "تدمیر" کا لفظ "دمار" کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے تعجب خیز ہلاکت اور سچی بات ہے کہ دریائے نیل کی متلاطم موجوں میں قومِ فرعون کی ایسے انداز میں تباہی تاریخِ بشریت کے عجائبات میں شمار ہوتی ہے۔ اسی طرح جب قوم نوح نے پیغمبروں کی تکذیب کی تو ہم نے اسے بھی غرق کر دیا اور اس کے انجام کو عام لوگوں کے لئے ایک واضح اور روشن نشانی قرار دیا اور تمام ظالموں کے لئے ہم نے درد ناک عذاب مہیا کر رکھا ہے (وَقَوْمَ نُوحٍ لَمَّا کَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنَاھُمْ وَجَعَلْنَاھُمْ لِلنَّاسِ آیَةً وَاَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِینَ عَذَابًا اَلِیمًا)۔ اور یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ خدا فرماتا ہے کہ انھوں نے رسولوں کو جھٹلایا (صرف ایک رسول کو نہیں بلکہ کئی رسولوں کو جھٹلایا) کیونکہ خدا کے انبیاء اور رسولوں کے دعوتی اصولوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے لہٰذا ایک کی تکذیب گویا سب کی تکذیب ہے اور پھر یہ کہ اصولی طور پر قوم نوح کو تمام انبیاء کی دعوت سے مخالفت تھی اور وہ تمام ادیان کے منکر تھے۔ اِسی طرح "ہم نے قومِ عاد و ثمود، اصحابِ رس اور دوسری بہت سی قومیں جو ان میں موجود تھیں کو ہلاک کر دیا (وَعَادًا وَثَمُودَ وَاَصْحَابَ الرَّسِّ وَقُرُونًا بَیْنَ ذَلِکَ کَثِیرًا)۔ ["عاد و ثمود" کے کلمہ کا عطف "دمرنا ھم" میں موجود "ھم" کی ضمیر پر ہے بعض مفسرین کے نزدیک یہ ہے کہ "جعلناھم" میں "ھم" کی ضمیر پر ہو سکتا ہے یا پھر "الظالمین" پر بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن پہلا احتمال زیادہ مناسب ہے]۔ قومِ عاد وہی حضرت ہود علیہ السلام کی قوم ہے حضرت ہود علیہ اسلام کو اللہ نے احقاف (یا یمن) میں مبعوث فرمایا اور قومِ ثمود اللہ کے پیارے نبی جنابِ صالح علیہ السلام کی قوم ہے حضرت صالح علیہ اسلام کو خدا نے وادی القری (مدینہ اور شام کے علاقے) میں مبعوث فرمایا۔ البتہ اصحاب الرس کے بارے میں ہم آگے چل کر تفصیل سے بتائیں گے۔ "قرون" "قرن" کی جمع ہے جو اصل میں ایسی جماعت اور گروہ کے بارے میں بولا جاتا ہے۔ جس کے افراد ایک ہی زمانے میں باہم زندگی بسر کرتے ہوں، پھر ایک لمبے زمانے (مثلا چالیس سال یا سو سال) پر بھی اس کا اطلاق ہونے لگا۔ البتہ ہم نے انھیں غافل کر کے سزا نہیں دی بلکہ ہم نے ان میں سے ہر ایک کے لئے مثالیں بیان کیں (وَکُلًّا ضَرَبْنَا لَہُ الْاَمْثَالَ)۔ جس قسم کے اعتراضات یہ لوگ آپ پر کرتے ہیں اور ہم ان کا جواب دیتے ہیں، اِسی طرح کے اعتراض لوگوں نے ان پر بھی کئے تھے۔ اور ہم نے ان کا جواب بھی دیا۔ ان کے لئے احکام الٰہی کو واضح طور پر پیش کیا اور دینی حقائق کو ان کے سامنے کھول کر بیان کیا۔ انھیں خبردار کیا، ڈرایا اور سابق لوگوں کی داستانیں بیان کیں۔ لیکن جب کوئی چیز بھی کارگر نہ ہوئی تو "ہم نے ان میں سے ہر ایک کی شدّت کے ساتھ سر کوبی کی اور انھیں تباہ و برباد کر کے رکھ دیا" (وَکُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیرًا)۔ ["تتبیر" "تبر" (بر وزن "ضَرَر" یا "صَبر") ہلاک ہونے یا تباہ و بر باد ہونے کے معنیٰ میں ہے]۔ انجامِ کار اس سلسلے کی آخری آیت میں قومِ لوط کے شہروں کے کھنڈرات اور ویرانوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جو حجاز سے شام جانے والے لوگوں کی راہ میں پائے جاتے ہیں اور شرک و گناہ سے آلودہ لوگوں کی درد ناک تباہی و بر بادی کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں، خدا فرماتا ہے: وہ لوگ اس شہر کے پاس سے گزرے جس پر برائی اور بد بختی (ہلاک کر دینے والے پتھروں) کی بارش ہوئی، تو کیا انھوں نے (اپنے سفر شام کے دوران میں) ایسی صورتِ حال کو نہیں دیکھا اور ان کے انجام سے درس حاصل نہیں کیا (وَلَقَدْ اَتَوْا عَلَی الْقَرْیَةِ الَّتِی اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ اَفَلَمْ یَکُونُوا یَرَوْنَہَا)۔ انھوں نے اس کیفیت کو دیکھا تو ضرور ہے لیکن اس سے درسِ عبرت حاصل نہیں کیا کیونکہ وہ روزِ قیامت پر نہ تو ایمان رکھتے ہیں اور نہ ہی اس کی امید (بَلْ کَانُوا لاَیَرْجُونَ نُشُورًا)۔ وہ لوگ موت کو زندگی کا خاتمہ سمجھتے ہیں اور اگر دوسرے جہان کی زندگی کے بارے میں ان کا کچھ عقیدہ ہے بھی تو نہایت ہی کمزور اور بے بنیاد۔ جس طرح یہ عقیدہ ان کی روح میں موٴثر اور کارگر ثابت نہیں ہو سکتا ان کی معمول کی زندگی میں تو بطریق اولیٰ غیر موٴثر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دنیا کی ہر چیز کو بازیچہ اطفال سمجھتے ہیں اور چند روزہ زندگی کی ہوا و ہوس کے سوا کچھ سوچتے نہیں۔
چند اہم نکات: ۱۔ ”اصحاب الرس “ کو ن ہیں ؟
چند ایک نکات "اصحاب الرس" کون ہیں؟ "رس" کا لفظ دراصل مختصر اور تھوڑے سے اثر کے معنی میں ہے جیسے کہتے ہیں: "رس الحدیث فی نفسی" (مجھے اس کی تھوڑی سی بات یاد ہے) یا کہا جاتا ہے "وجدرساً من حمی" (اس نے اپنے اندر بخار کا تھوڑا سا اثر پایا)۔ [مفرداتِ راغب]۔ کچھ مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ "رس" کا معنی "کنواں" ہے۔ معنی خواہ کچھ بھی ہو اس قوم کو اس نام سے موسوم کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا اب تھوڑا اثر یا بہت ہی کم نام اور نشان باقی رہ گیا ہے یا اس وجہ سے انھیں "اصحاب الرس" کہتے ہیں کہ وہ بہت سے کنووٴں کے مالک تھے یا کنووٴں کا پانی خشک ہو جانے کی وجہ سے ہلاک و برباد ہو گئے۔ یہ کون لوگ تھے؟ موٴرخین اور مفسرین کی اس بارے میں مختلف آراء ہیں۔ (۱) بہت سے لوگوں کا نظریہ تو یہ ہے کہ اصحاب الرس "یمامہ" کے علاقے میں ایک قبیلہ تھا جس کے لئے حضرت "حنظلہ" نامی پیغمبر کو مبعوث کیا گیا ان لوگوں نے خدا کے اس نبی کی تکذب کی اور انھیں کنوئیں میں ڈال دیا بلکہ بعض نے تو یہ بھی لکھا ہے کہ انھوں نے اس کنوئیں کو نیزوں سے بھر دیا اور اس کا منہ پتھروں سے بند کر دیا۔ جس کی وجہ سے اللہ کے نبی جناب حنظلہ وہیں پر شہید ہو گئے۔ [اعلام القرآن، ص ۱۴۹]۔ (۲) کچھ موٴرخین کا نظریہ ہے کہ "اصحاب الرس" حضرت شعیب علیہ السلام کے زمانے کے لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو بت پرست تھے ان کے بڑی تعداد میں بھیڑ بکریوں کے ریوڑ ہوتے تھے اور بہت سے کنوئیں بھی اور "رس" نامی کنواں بہت بڑا تھا اس کا پانی خشک ہو گیا اور اس علاقے کے لوگوں کو بھی تباہی نے آن لیا۔ (۳) بعض کہتے ہیں کہ سرزمین "یمامہ" میں "رس" نامی ایک گاوٴں تھا، جہاں قومِ ثمود کے بچے کھچے لوگ رہ رہے تھے اور اپنی سرکشی کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔ (۴) بعض کہتے ہیں کہ پرانے زمانے کے کچھ عرب تھے جو شام اور حجاز کے درمیان رہتے تھے۔ [شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد ۱۰ ص ۹۴]۔ (۵) بعض تفسیریں عاد و ثمود کے بچے کھچے لوگوں کو "اصحاب الرس" کے نام سے موسوم کرتی ہیں اور سورہ حج کی آیت ۴۵ "و بئر معطلة و قصر مشید" کا تعلق انہیں لوگوں سے بتاتی ہیں اور "حضر موت" کا علاقہ ان کی جائے سکونت بتاتی ہیں چنانچہ "ثعلبی" نے "عرائس التیجان" میں اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ کچھ اور مفسرین جو "ارس" کے نام سے آشنا ہوئے ہیں انھوں نے "رس" کو "ارس" پر منطبق کیا ہے (جو آذربائیجان کے شمال کا علاقہ ہے)۔ (۶) مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں، فخر الدین رازی نے تفسیر کبیر میں اور آلوسی نے روح المعانی میں جو احتمالات نقل کیے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگ شام کے علاقے انطاکیہ سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے نبی کا نام "جیب بخار" تھا۔ (۷) عیون اخبار الر رضا میں امام علیہ السلام کے ذریعے امیر المومنین علی علیہ السلام سے اصحاب الرس کے بارے میں ایک طویل گفتگو نقل ہوئی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے:۔ "وہ ایسے لوگ تھے جو صنوبر درخت کی پوجا کرتے تھے اور اسے "درختوں کا بادشاہ" کہتے تھے یہ وہ درخت تھا جسے جناب نوح کے بیٹے "یافث" نے طوفان نوح کے بعد "روشن آب" کے کنارے کاشت کیا تھا "رس" نامی نہر کے کنارے انھوں نے بارہ شہر آباد کر رکھے تھے جن کے نام یہ ہیں: آبان، آذر، دی، بھمن، اسفند، فروردین، اردیبہشت، خرداد، تیر، مرداد، شہریور، اور مہر۔ ایرانیوں نے اپنے کلینڈر کے بارہ مہینوں کے نام انہی شہروں کے نام پر رکھے ہوئے ہیں۔ چونکہ وہ درخت صنوبر کا احترام کرتے تھے لہٰذ ا انھوں نے اس کے بیج کو دوسرے علاقوں میں بھی کاشت کیا اور آبپاشی کے لئے ایک نہر کو مختص کر دیا انہوں نے اس نہر کا پانی لوگوں کے لئے پینا ممنوع قرار دے دیا تھا۔حتیٰ کہ اگر کوئی شخص اس سے پی لیتا تو اسے قتل کر دیتے تھے۔ وہ کہتے تھے کیونکہ یہ ہمارے خداوٴں کا سرمایہ حیات ہے لہٰذا مناسب نہیں ہے کہ کوئی اس سے ایک گھونٹ پانی کم کر دے۔ وہ سال کے بارہ مہینوں میں سے ہر ماہ ایک ایک شہر میں ایک دن کے لئے عید منایا کرتے تھے اور شہر سے باہر صنوبر کے درخت کے پاس چلے جاتے اس کے لئے قربانی کرتے اور جانوروں کو ذبح کر کے آگ میں ڈال دیتے جب اس سے دھواں اٹھتا تو وہ درخت کے آگے سجدے میں گر پڑتے اور خوب گریہ کیا کرتے تھے۔ ہر مہینے ان کا یہی طریقہ کار تھا چنانچہ جب "اسفند" کی باری آتی تو تمام بارہ شہروں کے لوگ یہاں جمع ہوتے اور مسلسل بارہ دن تک عید منایا کرتے کیونکہ یہ ان کے بادشاہوں کا دار الحکومت تھا یہیں پر وہ مقدور بھر قربانی بھی کیا کرتے اور درخت کے آگے سجدہ بھی کیا کرتے۔ جب وہ کفر اور بت پرستی کی انتہا کو پہنچ گئے تو خداوند عالم نے بنی اسرائیل میں سے ایک نبی ان کی طرف بھیجا تاکہ وہ انھیں شرک سے روکے اور خدائے وحدہ لا شریک کی عبادت کی دعوت دے لیکن وہ اس نبی پر ایمان نہ لائے اب اس نبی نے فساد او ربت پرستی کی اصل جڑ یعنی اس درخت کے قلع قمع کرنے کی خدا سے دعا کی اور بڑا درخت خشک ہو گیا جب ان لوگوں نے یہ صورت حال دیکھی تو سخت پریشان ہو گئے اور کہنے لگے کہ اس شخص نے ہمارے خداوٴں پر جادو کر دیا ہے کچھ کہنے لگے کہ ہمارے خدا اس شخص کی وجہ سے ناراض ہو گئے ہیں کیونکہ وہ ہمیں کفر کی دعوت دیتا ہے۔ اس بحث مباحثہ کے بعد سب لوگوں نے اللہ کے اس نبی کو قتل کرنے کی ٹھان لی اور گہرا کنواں کھودا جس میں اسے ڈال دیا اور کنویں کا منھ بند کر کے اس کے اوپر بیٹھ گئے اور اس کے نالہ و فریاد کی آواز کو سنتے رہے یہاں تک کہ اس نے جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔ خداوندِ عالم نے انھیں ان برائیوں اور ظلم و ستم کی وجہ سے سخت عذاب میں مبتلا کر کے نیست و نابود کر دیا۔ ["عیون اخبار الرضا علیہ اسلام" (منقول و ملخص از تفسیر المیزان جلد ۱۵ ص ۲۳۷]۔ بہت سے قرائن اس حدیث کی تائید کرتے ہیں کیونکہ عاد و ثمود کے ذکر کے با وجود "اصحاب الرس" کا تذکرہ اس احتمال کی تردید کرتا ہے کہ یہ عاد اور ثمود کی قوم کے بچے کھچے لوگ تھے اور یہ بات بعید بھی معلوم ہوتی ہے۔ اسی طرح یہ احتمال بھی بعید معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ جزیرة العرب، شام اور ان علاقوں کے گرد و نواح میں رہتے تھے کیونکہ تاریخ عرب میں قاعدةً ان کا ذکر بھی ہونا چاہئیے جبکہ ایسا بہت کم دکھائی دیتا ہے۔ اس سے قطع نظر مندرجہ بالا حدیث بعض دوسری تفسیروں سے کسی حد تک مطابقت بھی رکھتی ہے۔ مثلا "ارس" ایک کنوئیں کا نام تھا (جس میں انہوں نے اللہ کے نبی کو ڈال دیا تھا) یا یہ کہ وہ زراعت پیشہ اور گلہ بان تھے وغیرہ۔ نیز امام جعفر صادق علیہ السلام کی حدیث میں یہ جو ہے کہ "ان کی عورتیں بے راہ روی کا شکار تھیں اور ہم جنس بازی کیا کرتی تھیں" یہ بھی مندرجہ بالا حدیث کے منافی نہیں ہے۔ [کافی (منقول از تفسیر نور الثقلین جلد ۴ ص ۱۹)]۔ البتہ نہج البلاغہ (کے خطبہ نمبر ۱۸۰) کی عبارت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے پاس صرف ایک نبی نہیں آیا کیونکہ امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:۔ این اصحاب مدائن الرس الذین قتلوا النبیین و اطفاٴ و ا سنن المرسلین و احیوا سنن الجبارین کہاں ہیں رس کے شہروں والے! جنھوں نے انبیاء کو قتل کر ڈالا، خدا کے رسولوں کی سنت کو مٹّا کر جباروں کے رسم و رواج کو فروغ دیا۔ اس تعبیر سے بھی روایت بالا کی نفی نہیں ہوتی کیونکہ ممکن ہے کہ روایت میں ان کی تاریخ کے صرف اس ایک حصے کی طرف اشارہ ہو جس میں پیغمبر بھیجا گیا تھا۔
۲۔ کچھ لرزا دینے والے درس
کچھ لرزا دینے والے درس: آیات بالا میں جن چھ گروہوں کا نام لیا گیا ہے یہ ہیں: فرعون کی قوم، نوح کی متعصب قوم، عاد اور ثمود کے زور آور لوگ، گناہوں سے آلودہ اصحاب الرس اور قومِ لوط ان میں سے ہر ایک قوم کسی نہ کسی فکری یا اخلاقی بے راہ روی کا شکار تھی جس کی وجہ سے اسے بد بختی کا سامنا کرنا پڑا۔ فرعونی لوگ ظالم، ستمگر، سامراجی، استعماری اور خود غرض تھے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں قومِ نوح بھی سخت جھگڑالو، متکبر اور احساسِ برتری کا شکار تھی۔ قوم عاد و ثمود کو اپنی طاقت پر گھمنڈ تھ۔ اصحاب الرس جنسی بے راہ روی کا شکار تھے خصوصاً ان کی عورتیں ہم جنس بازی کی مریض تھیں جبکہ قوم لوط لواطت ایسے فعلِ شنیع کی مرتکب تھی ان میں ہر ایک قوم جادہٴ توحید سے منحرف اور بے راہ روی میں سرگرداں تھی۔ قرآنِ مجید حضرت پیغمبر اسلام کے دور کے مشرکین بلکہ ہر عصر کے لوگوں کو خبردار کر رہا ہے کہ خواہ تم جس قدر بھی طاقت کے مالک بن جاو اور کتنا ہی اقتدار تمہارے ہاتھ میں کیوں نہ ہو جس قدر بھی مال و دولت اور خوشحال زندگی کے حامل کیوں نہ ہو جاوٴ، تمہاری شرک، ظلم اور فساد و گناہ سے آلودگی آخر کار تمہاری زندگی کا خاتمہ کر کے رکھ دے گی تمہاری کامیابی کے اسباب درحقیقت تمہاری موت کے اسباب بن جائیں گے۔ فرعون کے ماننے والے اور حضرت نوح علیہ اسلام کی قوم کے لوگ پانی کے ذریعے ہلاک ہوئے جو تمام ذی حیات چیزوں کی زندگی کا سرمایہ ہے۔ قوم عاد بھی طوفان اور آندھی کے ذریعے ہلاک ہوئی جو خاص صورتوں میں سر مایہٴ زندگی ہے۔ قوم ثمود کی تباہی بجلی گرانے والے بادل سے ہوئی اور قوم لوط کی ہلاکت پتھروں سے ہوئی جو آسمان سے بَرسے یا بقول بعض مفسرین آتش فشاں پہاڑ ان پر گرے اور قوم رس، اسی مندرجہ بالا روایت کے مطابق اس آگ کے ذریعے لقمہ اجل بنی جو زمین سے اٹھی اور آسمان سے ایک شعلہ زمین پر گرا تاکہ یہ مغرور انسان سنبھل کر خدا، عدالت اور تقویٰ کی راہ پر گامزن ہو جائے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔
جانوروں سے بھی گمراہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 4جانوروں سے بھی زیادہ گمراہ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ قرآن مجید نے اس سورت میں مشرکین کی باتوں کو ایک جگہ بیان نہیں کیا بلکہ کچھ حصہ بیان کیا پھر اس بات کا جواب دیا اور وعظ و نصیحت کی پھر دوسرا حصہ بیان کیا اسی طرح یہ سلسلہ چل رہا ہے۔ زیرِ نظر آیات میں مشرکین کی منطق اور آنحضرت کے ساتھ ان کے سلوک اور دعوت اسلام کے مقابلے میں ان کا ردّ عمل بیان کیا گیا ہے۔ پہلے فرمایا گیا: جب بھی وہ تجھے دیکھتے ہیں تو سب سے پہلا کام یہ انجام دیتے ہیں کہ آپ کا مذاق اڑانا شروع کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ وہی شخص ہے جسے خدا نے پیغمبر کے طور پر مبعوث کیا ہے (وَإِذَا رَاَوْکَ إِنْ یَتَّخِذُونَکَ إِلاَّ ھُزُوًا اٴھَذَا الَّذِی بَعَثَ اللهُ رَسُولًا)۔ ["ھزواً" مصدر ہے اور یہاں مفعول کے معنی میں آیا ہے نیز یہ احتمال بھی ہے کہ تقدیری طور پر مضاف کا مضاف الیہ ہو یعنی "موضع ھزو" اور "ھٰذا" کی تعبیر کفار کی طرف سے آنحضرت کی حقارت اور توہین کی طرف اشارہ ہے]۔ کتنا بڑا دعویٰ کر رہا ہے؟ کیا عجیب باتیں کر رہا ہے؟ واقعاً مضحکہ خیز باتیں کر رہا ہے؟ یہ بات قطعا فراموش نہیں کرنا چاہئیے کہ پیغمبرِ اسلام وہی تو ہیں جو قبل از اعلانِ رسالت چالیس سال تک ان میں رہ چکے ہیں، اس دوران میں آپ کی امانت، صداقت اور عقل و شعور کے ڈنکے بجتے تھے لیکن جب کفر کے سرداروں کے مفادات خطرے میں پڑ گئے تو انہوں نے آپ کی تمام خوبیان بھی بھلا دیں اور ٹھٹھا مذاق شروع کر دیا، آنحضرت کی دعوتِ اسلامی کا شواہد اور دلائل کے باوجود ہنسی مذاق کے ذریعہ انکار کرنے لگے یہاں تک کہ خود سرکارِ رسالت مآب کو جنون کی تہمت سے متہم کرنے لگ گئے۔ قرآنِ مجید مشرکین کی بات کو ان کی اپنی زبانی آگے بڑھتے ہوئے کہتا ہے: اگر ہم اپنے خداوٴں کی پرستش پر ڈٹے نہ رہیں تو اس بات کا خطرہ ہے کہ وہ ہمیں گمراہ کر ڈالے اور ہمارا رابطہ ان سے منقطع کر دے (إِنْ کَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ آلِھَتِنَا لَوْلاَاَنْ صَبَرْنَا عَلَیْھَا)۔ ["إِنْ کَادَ لَیُضِلُّنَا" میں "ان"مخففہ اور تاکید کے لئے ہے اور تقدیر میں"انہ کاد" تھا اور اس کی ضمیر شان ہے]۔ لیکن قرآن اس بات کا کئی طریقوں سے جواب دیتا ہے پہلے تو اس غیر منطقی ٹولے کو یوں سر توڑ جواب دیتا ہے: جب وہ عذابِ الہٰی کو دیکھیں گے تو انھیں فوراً پتہ چل جائے گا کہ کون گمراہ تھا (وَسَوْفَ یَعْلَمُونَ حِینَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِیلًا)۔ ہو سکتا ہے اس عذاب سے مراد قیامت کا عذاب ہو جیسا کہ طبرسی مرحوم کی مانند کئی مفسرین اس بات کے قائل ہیں اور طبرسی نے مجمع البیان میں یہی لکھا ہے یا دنیاوی عذاب ہو جیسا کہ بدر وغیرہ کے دن کی عبرتناک اور درد ناک شکست، جیسا کہ قرطبی نے اپنی مشہور تفسیر میں بیان کیا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہر دو طرف اشارہ ہو۔ پھر مزے کی بات یہ ہے کہ یہ گمراہ لوگ اپنی گفتگو میں متضاد باتیں کر رہے ہیں ایک طرف تو پیغمبر اسلام اور ان کی اسلامی دعوت کو حقیر سمجھ کر ان کا مذاق اڑا رہے ہیں جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آنحضرت کی شخصیت اور مشن کو کوئی اہمیت نہیں دے رہے ہیں دوسری طرف وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر اپنے باپ دادا کے طریقے پر مضبوطی سے کاربند نہ رہیں تو ممکن ہے کہ رسول اللہ کی باتیں انھیں اس راہ سے بھٹکا دیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آپ کی باتوں کو اہمیت دیتے تھے اور آپ کے کام کو نہایت ہی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اہم اقدام تصوّر کرتے تھے اور اس طرح کی پریشان خیالی اور تضاد گوئی اس سر پھرے اور ہٹ دھرم گروہ سے بعید بھی نہیں ہے۔ پھر عموماً دیکھنے میں آیا ہے کہ حق کے دشمنوں کو جب خدائی رہبروں کی منطق کا سامنا ہوتا ہے تو وہ ہنسی مذاق میں اس کو ٹال جاتے ہیں جو ان کی ایک قسم کی حکمت عملی ہوتی ہے تاکہ وہ اس طرح سے اسے حقیر اور نا قابل توجہ ظاہر کریں جبکہ در پردہ اس سے خائف ہوتے ہیں یا پھر اسے حقیقی خطرہ سمجھ کر کھلم کھلا اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔ ان کی گفتگو کا دوسرا جواب بعد والی آیت میں پیش کیا گیا ہے جس میں پیغمبر اکرم کو مخاطب کر کے ایک تو ان کی دلجوئی کی گئی ہے اور دوسرا مشرکین کی دعوت حق کو قبول نہ کرنے کی اصل وجہ بیان کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: آیا تو نے اسے دیکھا ہے جس میں اپنی خواہشاتِ نفسانی کو اپنا معبود مان لیا ہے (اَرَاَیْتَ مَنْ اتَّخَذَ إِلَھَہُ ھَوَاہُ)۔ تو کیا ایسی حالت میں تو اسے ہدایت کر سکتا ہے یا اس کا دفاع کر سکتا ہے (اَفَاَنْتَ تَکُونُ عَلَیْہِ وَکِیلًا)۔ یعنی اگر انہوں نے آپ کی دعوتِ اسلامی کے مقابلے میں استہزاء، انکار اور ہنسی مذاق کی پالیسی اپنا رکھی ہے تو اس لئے نہیں کہ آپ کی منطق کمزور اور دلائل قانع کنندہ نہیں یا آپ کے دین و آئین میں کسی قسم کا شک و شبہ ہے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ وہ عقلی اور منطقی بات کی پیروی نہیں کرتے ان کا معبود ان کی نفسانی خواہشات ہوتی ہیں تو کیا ایسے لوگوں سے اس بات کی امید کی جا سکتی ہے کہ وہ آپ کی دعوت کو قبول کریں یا آپ ان پر کوئی اثر و رسوخ استعمال کر سکیں۔ "اَرَاَیْتَ مَنْ اتَّخَذَ إِلَھَہُ ھَوَاہُ" کے بارے میں بعض بزرگ مفسرین کی مختلف آراء ہیں۔ کچھ مفسرین تو یہ کہتے ہیں جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ ان کا ایک بت ہے جسے خواہشاتِ نفسانی کہا جاتا ہے اور ان کے تمام کام اسی کے حکم سے انجام پاتے ہیں۔ جبکہ کچھ مفسرین کا نظریہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ کافر لوگ پرستش کے لئے بت کے انتخاب تک میں بھی عقل و خرد سے کام نہیں لیتے اور کسی منطقی دلیل کو مد نظر نہیں رکھتے بلکہ جب بھی ان کی نگاہ کسی پتھر یا اچھے سے درخت پر جا پڑتی ہے یا کسی ایسی چیز کو دیکھ لیتے ہیں جو دل لبھانے والی ہوتی ہے تو اسے اپنا معبود بنا لیتے ہیں ان کے آگے زانوئے ادب تہہ کرتے ہیں، قربانیاں پیش کرتے ہیں اور ان سے اپنی مشکل کشائی کی درخواست کرتے ہیں۔ اتفاق سے اس آیت کی شانِ نزول کے بارے میں مفسرین نے ایک روایت بیان کی ہے جو ہمارے اس مدعا کی تائید کرتی ہے روایت یہ ہے:۔ ایک مرتبہ قریش مکہ پر سخت قحط سالی کا دور آیا اور وہ اِدھر اُدھر منتشر ہو گئے کچھ لوگ ایسے تھے جو کسی خوبصورت پتھر یا کسی اچھے سے درخت کو دیکھ لیتے اس کی پوجا پاٹ شروع کر دیتے اگر وہ پتھر ہوتا تو اسے "سعادت کی چٹان" کا نام دیتے اس کے لئے قربانی کر کے، قربانی کے خون سے اسے رنگین کر دیتے حتی کہ اپنے جانوروں کی بیماری کے لئے دوا بھی اسی سے طلب کرتے۔ ایک دن اتفاق ایسا ہوا کہ ایک عربی اپنے اونٹ اس پتھر کے ساتھ مس کرنے اور برکت حاصل کرنے کی غرض سے لے آیا لیکن اونٹ بھاگ کر جنگل کو چلے گئے اور اِدھر اُدھر منتشر ہو گئے اس نے کچھ اشعار پڑھے جن کا مفہوم یہ تھا: میں "سعادت کی چٹان" کے پاس اس غرض سے آیا تھا کہ وہ ہمارے اندر موجود انتشار کو دور کرے لیکن اس نے تو ہمارے اجتماع میں انتشار ڈال دیا ہے۔ سعادت کا یہ پتھر کیا ہے؟ زمین کی طرح کا ایک ٹکڑا ہی تو ہے جو نہ تو انسان کو گمراہی کی طرف لے جا سکتا ہے اور نہ ہی ہدایت کی جانب۔ ایک اور عرب نے دیکھا کہ اس پتھر پر لومڑی پیشاب کر رہی ہے تو اس نے یہ شعر پڑھا: اَرب یبول الثعلبان براٴسہ لقد ذل ما بالت علیہ الثعالب آیا وہ چیز بھی معبود ہو سکتی ہے جس پر لومڑی پیشاب کرے؟ یقینا وہ چیز ذلیل ہے جس پر لومڑیاں پیشاب کریں۔ [تفسیر علی بن ابراہیم (منقول از تفسیر نور الثقلین جلد ۴ ص۲۰)]۔ اوپر والی دونوں تفسیروں میں کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ بت پرستی پیداوار ہی خرافات کی ہے جو خواہشاتِ نفسانی کی ایک قسم ہے کسی دلیل و منطق کے بغیر مختلف بتوں کا انتخاب بھی خواہشات کی تکمیل کا ایک حصہ ہے۔ "ہوا و ہوس" کے سلسلے میں نکات کی بحث میں تفصیل سے روشنی ڈالی جائے گی۔ انشاء اللہ۔ آخر میں قرآنِ مجید اس گمراہ گروہ کے اعتراض کا تیسرا جواب یوں دے رہا ہے: آیا تو سمجھتا ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے یا سمجھتے ہیں (اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَکْثَرَھُمْ یَسْمَعُونَ اَوْ یَعْقِلُونَ)۔ وہ چوپایوں کی مانند ہیں بلکہ ان سے بھی زیاد ہ گمراہ ہیں (إِنْ ھُمْ إِلاَّ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ سَبِیلًا)۔ یعنی اے پیغمبر! آپ ان کے ٹھٹھا، غیر منطقی اور ناگوار باتوں سے ہرگز پریشان نہ ہوں کیونکہ یا تو انسان کے پاس اپنی عقل ہونی چاہئیے جس سے وہ سوچ سکے اور "یعقلون" کا مصداق بنے اگر اس کے پاس اپنی عقل نہیں تو دانشوروں اور صاحبانِ عقل کی باتوں کو سنے اور "یسمعون" کا مصداق قرار پائے۔ لیکن یہ لوگ نہ تو پہلے زُمرے میں آتے ہیں اور نہ ہی دوسرے میں اسی لئے ان میں اور چوپایوں میں کوئی فرق نہیں ہے اور چوپایوں سے سوائے چیخنے چلانے، لاتیں مارے اور غیر معقول کام کے اور توقع ہی کیا کی جا سکتی ہے؟ بلکہ یہ دونوں جانوروں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ جانوروں سے عقل و اندیشہ کی تو توقع نہیں رکھی جا سکتی جبکہ ان میں عقل بھی ہے اور شعور بھی لیکن وہ اس سے کام نہیں لیتے لہٰذا انھیں یہ دن دیکھنا پڑے۔ پھر قابلِ غور یہ بات بھی ہے کہ قرآن نے یہاں پر "اکثرھم" کا لفظ استعمال کیا ہے اور حکم کو عمومیت نہیں دی، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ان میں کچھ فریب خوردہ لوگ بھی ہوں جب حق ان کے سامنے آجائے تو ان کی آنکھوں کے آگے سے غفلت اور غلط فہمی کے پردے ہٹ جائیں اور وہ حق کو قبول کر لیں اور یہ بات قرآن کی بحثوں میں اصولِ عدل مدّ نظر رکھنے پر ایک واضح دلیل ہے۔
چند اہم نکات: ۱۔ ہوس پرستی اور اس کا دردناک انجام:
ہوس پرستی اور اس کا درد ناک انجام اس میں شک نہیں کہ انسان کے اندر مختلف قسم کی خواہشات اور طرح طرح کی جبلتیں موجود ہیں جو سب کی سب اس کی زندگی کے لئے ضروری ہیں غیظ و غضب، اپنے کمال کے لئے ودیعت فرمایا ہے۔ جو چیز زیادہ اہم ہے وہ یہ ہے کہ چیزیں حد سے تجا وز کر جاتی ہیں اور عقل کے لئے ایک مطیع خدمتگذار کی بجائے اسے قید و بند میں ڈال کر بغاوت اور سر کشی پر اتر آتی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ انسان کے سارے وجود پر حاکم ہو کر زمامِ اختیار اپنے ہاتھوں میں لے لیتی ہیں۔ اسی صورتِ حال کو ہوس پرستی کہتے ہیں جو بت پرستی کا تمام اقام سے زیادہ خطر ناک ہے بلکہ بت پرستی بھی اسی سے پیدا ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے عظیم پیغمبر نے "ہوا و ہوس کے بت" کو سب سے بڑا اور سب سے بُرا بت شمار کیا ہے چنانچہ ارشاد فرماتے ہیں: ما تحت ظل السماء من اٰلہ یعبد من دون اللہ اعظم عند اللہ من ھوی متّبع آسمان کے نیچے کوئی بت اللہ کے نزدیک ہوا و ہوس کے بت سے بڑا نہیں ہے جس کی پرستش کی جاتی ہو۔ [تفسیر المیزان جلد ۱۵ ص۲۵۷بحوالہ تفسیر در منثور، اسی آیت کے ذیل میں]۔ ایک اور حدیث میں کسی پیشوائے اسلام کا ارشاد گرامی ہے: ابغض الہ عبد علی وجہ الارض الھویٰ سب سے بڑھ کر قابلِ نفرت بت جس کی روئے زمین پر پرستش کی جاتی ہے خواہشات کا بت ہے۔ اگر اس بارے میں مزید غور و فکر سے کام لیں تو اس حقیقت سے بخوبی واقف ہو جائیں گے کیونکہ ہوس پرستی غفلت اور بے خبری کا پیش خیمہ اور سر چشمہ ہے کیونکہ قرآن کہتا ہے:۔ ولا تطع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا و اتبع ھواہ اس شخص کی اطا عت نہ کرو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جو اپنی خواہشات کے تابع ہے۔ (کہف۔۲۸) ہوس پرستی کفر اور بے ایمانی کا سر چشمہ بھی ہے جیسا کہ قرآن فرماتا ہے: "فلا یصدنک عنھا من لا یوٴمن بھا و اتبع ھواہ" تمہیں قیامت پر ایمان لانے سے وہ شخص نہ روکے جو خود اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی ہوا و ہوس کا پیروکار ہے۔ ( طٰہٰ۔۱۶) تیسری بات یہ ہے کہ ہوا و ہوس پرستی بد ترین گمراہی بھی ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: و من اضل ممن اتبع ھواہ بغیر ھدی من اللہ اس شخص سے بڑھ کر اور کون شخص گمراہ ہو سکتا ہے جو اپنی خواہشاتِ نفسانی کی پیروی کرتا ہے اور خدا کا ہدایت یافتہ نہیں ہے۔ ( قصص۔۵۰) چوتھی بات یہ ہے کہ ہوس پرستی، حق طلبی کے مقابلے میں ہے اور انسان کو راہِ راست سے ہٹا دیتی ہے جیسا کہ قرآن مجید کی سورة ص آیت ۶۶ میں ارشاد ہوتا ہے: فاحکم بین الناس بالحق و لا تتبع الھوی فیضلک عن سبیل اللہ لوگوں کے درمیان حق اور انصاف کا فیصلہ کرو اور خواہشات کی پیروی مت کرو کیونکہ یہ تمہیں راہ خدا سے ہٹا دے گی۔ پانچویں بات یہ ہے کہ خواہشاتِ نفسانی کی اتباع عدل و انصاف سے روک دیتی ہے۔ قرآن فرماتا ہے: فلا تتبعوا الھویٰ ان تعدلوا خواہشاتِ نفسانی کی اتباع تمہیں عدل و انصاف سے نہ روک دے۔ ( نساء۔۱۳۵) چھٹی اور آخری بات یہ ہے کہ اگر زمین و آسمان کا نظام انسانوں کی خوا ہشات کے محور پر گردش کرنے لگ جائے تو ساری کائنات فساد کی لپیٹ میں آجائے، ارشاد ہوتا ہے: و لو اتبع الحق اھوائھم لفسدت السماوات والارض و من فیھن اگر حق ان لوگوں کی پیروی کرنے لگ جائے تو آسمان و زمین اور ان میں رہنے والے سب کے سب فاسد ہو جائیں۔ (موٴمنون۔۷۱) اسلامی روایات میں بھی اس سلسلے میں ہلا دینے والی تعبیرات ملتی ہیں۔ چنانچہ ایک روایت میں حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: اشقیٰ من انخدع لھواہ و غرورہ بدبخت ہے وہ انسان جو خواہشات اور غرور سے دھوکا کھا جائے۔ [نہج البلاغہ خطبہ ۸۶]۔ ایک اور روایت میں حضرت علی علیہ اسلام ہی سے منقول ہے کہ: الھویٰ عدوّ العقل خواہشاتِ نفسانی عقل کی دشمن ہوتی ہیں۔ [غرر الحکم جملہ ۲۶۵]۔ آپ علیہ اسلام ہی فرماتے ہیں:۔ الھوٰی اُسّ المحن ہوا و ہوس تمام رنجم و غم کی بنیاد ہیں۔ [غرر الحکم جملہ۔۱۰۴۸]۔ حضرت امیر علیہ السلام ہی فرماتے ہیں:۔ لا دین مع ھویٰ [غرر الحکم جملہ ۱۰۵۳۱]۔ اور ولا عقل مع ھویٰ۔ [غرر الحکم جملہ ۱۰۵۴۱]۔ کبھی بھی دین اور خواہشاتِ نفسانی، اور عقل اور خواہشاتِ نفسانی اکھٹے نہیں ہو سکتے۔ خلاصہ کلام یہ کہ جہاں خواہشاتِ نفسانی اور ہوا و ہوس ہیں وہاں پر دین ہے نہ عقل، وہاں پر بد بختی، رنج و غم اور بلائیں ہیں اور بس، وہاں پر یا بے چارگی ہے یا شقاوت اور فساد۔ ہماری اپنی اور دوسروں کی زندگی کے دوران جو تلخ تجربے حاصل ہوئے ہیں وہ ہوا و ہوس پرستی اور خواہشاتِ نفسانی کے بارے میں وارد ہونے والی آیات و روایات کے تمام نکات کا زندہ ثبوت ہیں۔ ہم ایسے افراد کو بھی جانتے ہیں جنہوں نے ایک گھڑی کے لئے ہوائے نفس کی اتباع کی اور ساری عمر اس کا خمیازہ بھگتتے رہے۔ ایسے نوجوانوں کو بھی دیکھا جائے جو ہوائے نفس کی پیروی میں ایسی خطر ناک عادتوں اور جنسی اور اخلاقی بے راہروی کا شکار ہو گئے جن کی وجہ سے اب وہ معاشرے اور خاندان والوں کے لئے وبالِ جان بن گئے ہیں اور اپنی قدر و قیمت کھو بیٹھے ہیں۔ اپنی تمام توانائیاں صلاحیتیں گنوا چکے ہیں۔ معاصر اور گزشتہ زمانے کی تاریخ میں ہمیں ایسے لوگوں کے نام بھی ملتے ہیں جنہوں نے اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے ہزاروں بلکہ لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور اپنے نام کا ہمیشہ کے لئے داخل دشنام کر دیا۔ یہ ایک اٹل اصول ہے اس میں استثناء کی کوئی گنجائش نہیں حتیٰ کہ عابد اور زاہد لوگ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ جیسا کہ "بلعم باعورا" جیسے لوگوں نے جب اپنی خواہشات کی اتباع کی تو عظمتِ انسانی کی بلندیوں سے یوں گرے کہ قرآن نے انھیں ہمیشہ بھوکنے والے نجس کتے کے ساتھ تشبیہ دی (ملاحظہ ہو اعراف ۱۷۶)۔ بنابریں، باعث تعجب نہیں ہو گا کہ جب پیغمبر اکرم اور حضرت علی علیہ اسلام ایسی بات فرمائیں کہ: ان اخوف ما اخاف علیکم اثنان اتباع الھوٰی و طول الامل۔ اما اتباع الھوٰی فیصد عن الحق و اما طول الامل فینسی الاٰخرة۔ [سفینة البحار جلد ۲ ص ۷۲۸ (مادہ ہویٰ کے ذیل میں) اور نہج البلاغہ خطبہ، ۴۲]۔ تمہاری سعادت کی راہ میں جو سب سے زیادہ خطرناک لغزش کا مقام ہے۔ وہ ہوائے نفس کی اتباع اور لمبی لمبی آرزوئیں ہیں کیونکہ ہوائے نفس کی تکمیل تمہیں حق سے روک دے گی اور لمبی آرزوئیں تمہیں آخرت سے بے خبر کر دیں گی۔ ہوائے نفس کے مد مقابل یعنی ترکِ خواہشات کے بارے میں میں قرآن و حدیث میں جو تعبیرات وارد ہوئی ہیں اسلامی نقطہ نظر سے اس مسئلے کی گہرائی اور گیرائی کو بخوبی واضح کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ خوفِ خدا اور نفس کی مخالفت کو جنت کی کنجی قرار دیا گیا ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: و اما من خاف مقام ربہ و نھی النفس عن الھوٰی فانّ الجنة ھی الماٴوٰی جو شخص اپنے پروردگار کی عظمت سے ڈرے اور اپنے آپ کو خواہشاتِ نفسانی سے روکے یقینا بہشت اس کا ٹھکانا ہے۔ ( نازعات۔ ۴۰،۴۱) حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:۔ اشجع الناس من غلب ھواہ شجاع ترین آدمی وہ ہے جو اپنی خواہشات پر غالب آجائے۔ [سفینة البحار جلد ۱ ص ۶۸۹( مادہ شجع)]۔ اللہ کے نیک بندوں، خدا کے دوستوں، علماء اور بزرگانِ دین کے بارے میں ایسے ایسے واقعات بیان ہوئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انھیں اس سے عظیم اور بلند مرتبہ صرف خواہشاتِ نفسانی کی مخالفت کی وجہ سے حاصل ہوا ہے جس کا حصول عام طریقوں سے نا ممکن ہے۔
۲۔ جانورں سے بڑھ کر گمراہ کیوں ؟
جانوروں سے بڑھ کر گمراہ کیوں؟ مندرجہ بالا آیات میں مطلب کی اہمیت کو بیان کرنے کے لئے پہلے ارشاد فرمایا گیا ہے: جن لوگوں کا معبود خواہشِ نفسانی ہیں وہ چوپایوں کی مانند ہیں۔ پھر اس سے بڑھ کر فرمایا گیا ہے: بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں۔ اس جیسی ایک تعبیر سورہ اعراف کی آیت ۱۷۲ میں بھی آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اہلِ جہنم آنکھ، کان اور عقل و خرد سے کام نہ لینے کی وجہ سے اس طرح کے انجام سے دوچار ہوں گے: اولٰئک کالانعام بل ھم اضلّ وہ لوگ جو چوپایوں کی مانند بلکہ ان سے بھی بڑھ کر گمراہ ہیں۔ اگرچہ اجمالی طور پر ان کا چوپایوں سے بھی بڑھ کر گمراہ ہونا واضح ہے لیکن اس بارے میں مفسرین نے دلچسپ وضاحت کی ہے جسے تجزیہ و تحلیل اور کچھ اضافوں کے ساتھ ہم ذیل میں پیش کرتے ہیں۔ ۱۔ اگر چوپائے کسی چیز کو نہیں سمجھ سکتے، گوش شنوا اور چشم بینا نہیں رکھتے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں یہ استعداد نہیں ہے لیکن کتنا بد بخت ہے انسان کہ جس میں تمام سعادتوں کی صلاحیت مخفی ہے اور خدا نے اسے اس قدر استعداد بخشی ہے کہ وہ زمین میں خدا کا نمائدہ اور خلیفة اللہ بن سکتا ہے لیکن اس کی حالت یہ ہے کہ خود کو اس قدر پست کر دیتا ہے کہ اپنے آپ کو ایک جانور کی حد تک گرا دیتا ہے اپنی تمام لیاقتوں کو ضائع کر دیتا ہے خود مسجود الملائکہ ہونے کی سر بلندی سے گرا کر شیاطین کے ذلّت آمیز گڑھوں میں ڈال دیتا ہے۔ کتنے درد کی بات ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا گمراہی ہو سکتی ہے۔ ۲۔ جانوروں سے تقریباً حساب و کتاب نہیں لیا جائے گا نہ ہی وہ کسی سزا اور جزا کے مستحق ہوں گے لیکن انسانوں کا حساب و کتاب بھی ہو گا اور گمراہ لوگوں کو اپنے گناہوں کا بوجھ اپنے شانوں پر اٹھانا ہو گا لیکن بغیر کسی کمی بیشی کے اپنے گناہوں کی سزا بھگتنا ہو گی۔ ۳۔ چوپائے، انسان کی بہت خدمت کرتے ہیں اور مختلف کام انجام دیتے ہیں لیکن سرکش اور باغی انسان نہ صرف کوئی کام نہیں کرتے بلکہ طرح طرح کے مصائب و آلام اور خطرات بھی پیدا کرتے رہتے ہیں۔ ۴۔ چوپائے کسی کے لئے خطرہ نہیں بنتے اگر بنیں بھی تو ان کا خطرہ محدود ہوتا ہے لیکن افسوس ہے بے ایمان، مستکبر اور ہوس پرست انسان پر جو کبھی جنگ کی ایسی آگ بھڑکا دیتا ہے کہ جس میں ہزاروں، لاکھوں انسان جل کر خاکستر ہو جاتے ہیں۔ ۵۔ اگرچہ جانوروں کا کوئی آئین اور قانون نہیں ہے لیکن فطرت نے جبلّت کی صورت میں ان کے لئے جو راستہ مقرر کر دیا ہے وہ اس پر گامزن ہیں، لیکن سرکش اور متکبر انسان نہ تو تکوینی قوانین کوکوئی اہمیت دیتا ہے اور نہ ہی تشریعی کو، بلکہ اپنی خواہشات کو سب چیزوں پر حاکم سمجھتا ہے۔ ۶۔ چوپایوں نے کبھی اپنے کاموں کی توجیہ پیش نہیں کی اگر خلافِ قانون کرتے ہیں تو بھی اور اگر قانون کے مطابق کرتے ہیں تو بھی وہ اپنی مستی میں مست اور مگن چلے جا رہے ہیں لیکن خود پرست ہوائے نفسانی کا پیروکار اور خونخوار انسان اپنے جرائم کی یوں توجیہ کرتا ہے گویا اس نے خدائی فریضے کی تکمیل اور شرعی ذمہ داری پر عمل در آمد کیا ہے۔ اس لحاظ سے دنیا کی کوئی چیز ہوا و ہوس کے پیروکار، بے ایمان اور سرکش انسان سے بڑھ کر خطر ناک اور نقصان دہ نہیں ہے۔ اِسی وجہ سے ایسے انسان کو سورہٴ انفال کی آیت ۲۲ میں "شرّ الدواب" (ہر چلنے والی چیز سے بد تر) کے عنوان سے موسوم کیا گیا ہے اور یہ کیا ہی عمدہ تعبیر ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
سائے کی حرکت
Tafsīr Nemūna · Vol. 4سائے کی حرکت ان آیات میں نعمتِ الہٰی کے بہت سے اہم حصّوں کو توحید اور خدا شناسی کے اسرار کے عنون سے بیان کیا گیا ہے۔ ایسے امور کا ذکر کیا گیا ہے جن میں غور و فکر ہمیں اپنے خالق سے بیشتر آشنا اور نزدیک تر کر دیتا ہے۔ گزشتہ آیات میں زیادہ تر گفتگو مشرکین کے بارے میں رہی ہے لہٰذا ان آیات کا گزشتہ آیات سے تعلق واضح ہو جاتا ہے۔ ان آیات میں سایے کی نعمت، پھر رات کے اثرات اور برکات، نیند اور آرام، دن کی روشنی، ہواوٴں کے چلنے، بارش کے نازل ہونے، مردہ زمینوں کے زندہ ہونے اور جانوروں اور انسانوں کے سیراب ہونے کی سی نعمتوں کو بیان کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: آیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے پروردگار نے سائے کو کیونکر پھیلایا ہے (اَلَمْ تَرَی إِلَی رَبِّکَ کَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ)۔ اگر چاہتا تو اسے روکے رکھتا (ہمیشہ سایہ ہی سایہ ہوتا) (وَلَوْ شَاءَ لَجَعَلَہُ سَاکِنًا)۔ اس میں شک نہیں کہ آیت کا یہ حصّہ متحرک اور پھیلنے والے سایہ جیسی نعمت کی طرف اشارہ ہے۔ سایہ ہمیشہ ایک حالت پر باقی نہیں رہتا بلکہ متحرک رہتا ہے اور نقل مکانی کرتا رہتا ہے اب یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سے مراد کون سا سایہ ہے؟ مفسّرین کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ پھیلنے والے اس سائے سے مراد وہ سایہ ہے جو صبح صادق اور طلوعِ آفتاب کے درمیانی وقت میں ہوتا ہے کیونکہ سب سے زیادہ سرور اس سائے میں ہوتا ہے اور سب سے زیادہ کیف کی وہی گھڑی ہوتی ہے۔ پھیکے رنگ کاسایہ ڈالنے والا یہ نور صبح صادق سے شروع ہوتا ہے اور طلوعِ آفتاب تک چلا جاتا ہے پھر اس کے بعد دن کی روشنی اس کی جگہ لے لیتی ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے مراد تمام رات کا سایہ ہے جو غروب سے شروع ہو کر طلوعِ آفتاب پر جا ختم ہوتا ہے کیونکہ ہر شخص جانتا ہے کہ رات درحقیقت زمین کے نصف کُرے کا سایہ ہوتی ہے جو آفتاب کے سامنے آ جاتا ہے۔ یہ سایہ مخروطی شکل کا ہوتا ہے جو فضا کو ڈھانپے رہتا ہے اور ہمیشہ چلتا پھرتا رہتا ہے جو طلوعِ آفتاب کے ساتھ اگر ایک علاقہ میں ختم ہوتا ہے تو دوسرے علاقہ میں جا ظاہر ہوتا ہے۔ بعض مفسّرین کہتے ہیں اس سے مراد وہ سایہ ہے جو زوالِ آفتاب کے بعد اشیاء کی طرف سے ظاہر ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ بڑھتا رہتا ہے۔ البتہ اگر بعد والے جملے نہ ہوتے تو ہم اس کا وسیع مفہوم سمجھتے جو تمام معانی کا جامع ہوتا لیکن جو قرائن اس کے بعد ذکر ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی تفسیر سب سے زیادہ مناسب ہے کیونکہ ارشاد ہوتا ہے: پھر ہم نے سورج کو اس پر دلیل بنایا ہے (ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْہِ دَلِیلًا)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر سورج نہ ہوتا، سائے کا مفہوم کبھی سمجھ میں نہیں آتا۔ اصولی طور پر سایہ، آفتاب کی پرچھائیوں کا نام ہے کیونکہ عموماً پھیکی اور کم رنگ تاریکی کو "سایہ" کہتے ہیں جو اجسام سے پیدا ہوتا ہے یہ اس وقت ہوتا ہے جب روشنی ایسے اجسام پر پڑے جن سے عبور نہ کر سکتی ہو تو روشنی کی مقابل طرف کو سایہ کہتے ہیں بنابریں، نہ صرف "تعرف الاشیاء باضدادھا" (ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے) کے قاعدے کے تحت سائے کو نور سے جدا کیا جا سکتا ہے بلکہ اس کا وجود بھی درحقیقت نور کا مرہونِ منت ہے۔ آگے فرمایا گیا ہے: پھر ہم اسے آہستہ آہستہ سمیٹ لیتے ہیں (ثُمَّ قَبَضْنَاہُ إِلَیْنَا قَبْضًا یَسِیرًا)۔ ہر ایک کو معلوم ہے کہ جب سورج طلوع ہوتا ہے تو سایہ بھی آہستہ آہستہ سمٹنا شروع ہو جاتا ہے حتیٰ دوپہر کے وقت بعض مقامات پر بالکل معدوم ہی ہو جاتا ہے کیونکہ اس وقت سورج ٹھیک ہر چیز کے سر پر ہوتا ہے اور دوسرے مقامات پر اپنی کم سے کم مقدار کو جا پہنچتا ہے اس طرح سے سایہ نہ تو ایک ہی مرتبہ ظاہر ہوتا ہے اور نہ ایک ہی دفعہ سمیٹ لیا جاتا ہے یہ کام بجائے خود پروردگارِ عالم کی ایک حکمت ہے کیونکہ اگر ایکدم سائے سے روشنی پیدا ہوتی یا روشنی سے سایہ پیدا ہوتا تو موجوداتِ عالم کے لئے نقصان دہ ہوتا۔ لیکن حالتِ انتقالی کا یہ تدریجی نظام اس قدر حکمت پر مبنی ہے کہ کسی چیز کو ضرر پہنچائے بغیر زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچاتا ہے۔ "یسیراً" کی تعبیر سائے کے آہستہ آہستہ سمٹنے کی طرف اشارہ ہے یا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نور اور ظلمت کا خصوصی نظام خداوندِ عالم کی قدرت کے لئے سادہ اور آسان سی بات ہے "الینا" بھی اسی قدرتِ خداوندی کی تاکید ہے۔ بات خواہ جو بھی ہو یہ یقینی ہے کہ جس طرح انسان اپنی زندگی کے لئے "نور" کا محتاج ہے اسی طرح توازن کو برقرار رکھنے اور شدّتِ نور کی مدت کے دوران اسے سائے کی بھی ضرورت ہے۔ نور کی یکساں تابندگی بھی زندگی کو اسی طرح درہم برہم کر دیتی ہے جس طرح سایہ کی ہمیشگی موت کا پیغام بن جاتی ہے کیونکہ پہلی صورت میں تمام موجودات جل کر بھسم ہو جائیں جبکہ دوسری صورت میں کائنات کی ہر چیز منجمد ہو کر رہ جائے "نور" اور "سایہ" کی باری باری آمد و رفت نے انسان کے لئے زندگی کو آسان اور خوشگوار بنایا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید کی دوسری آیات میں رات اور دن کو جو ایک دوسرے کے پیچھے آتے رہتے ہیں خدا کی عظیم نعمتوں میں شمار کیا گیا ہے۔ چنانچہ سورہٴ قصص آیہ ۷۱ میں فرمایا گیا ہے: قل اَرائیتم ان جعل اللہ علیکم اللیل سرمداً الیٰ یوم القیامةمن الہ غیر اللہ یاٴتیکم بضیاء افلا تسمعون اے پیغمبر! کہہ دیجئے کہ اگر خداوندِ عالم رات کو قیامت تک تمہارے لئے باقی رکھنا چاہتا تو سوائے خداوند عالم کے کوئی اور معبود ہے جو تمہارے لئے نور کی شعاع لے آتا؟ کیا سن نہیں رہے ہو؟ اور اس کے ساتھ ہی فوراً کہتا ہے: قل اراٴیتم ان جعل اللہ علیکم النھار سرمداً الیٰ یوم القیامة من الہ غیر اللہ یاٴتیکم بلیل تسکنون فیہ افلاتبصرون کہہ دیجئے! کہ اگر خداوندِ عالم دن کو تمہارے لئے قیامت تک باقی رکھنا چاہتا تو سوائے خداوندِ متعال کے کوئی معبود ہے جو تمہارے لئے رات لے آتا جس میں تم آرام کر سکتے؟ کیا دیکھ نہیں رہے ہو؟ ( قصص۔۷۲) اس کے ساتھ ہی آیت ۷۳ میں نتیجے کے طور پر فرمایا گیا ہے: ومن رحمتہ جعل لکم اللیل و النھار لتسکنوا فیہ ولتبتغوا من فضلہ و لعلکم تشکرون یہ خدا کی رحمت ہی تو ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات اور دن بنائے ہیں جن میں تم آرام بھی کر سکو اور حصول معاش کے لئے اس سے استفادہ بھی کر سکو شاید کہ اس کا شکر ادا کرو۔ یہی وجہ ہے کہ خداوندِ عالم نے "ظل ممدود" (پھیلے ہوئے سائے) کو بہشت کی نعمتوں میں شمار کیا ہے کیونکہ نہ تو اس قدر روشنی ہوتی ہے جس سے آنکھیں خیرہ ہو جائیں اور تھک جائیں اور نہ ہی تاریکی ہوتی ہے جس سے کسی کو وحشت محسوس ہو۔ سائے جیسی نعمت کا ذکر کرنے کے بعد قرآن دو اور نعمتوں کو تفصیل کے ساتھ بیان فرماتا ہے جو اس کے ساتھ مکمل طور پر مناسبت رکھتی ہیں ان دو نعمتوں کے ذکر کے ساتھ نظامِ ہستی کے کچھ اور اسرار سے پردہ اٹھاتا ہے جو وجودِ خدا پر دلالت کر رہی ہیں چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: اور خدا تو وہ ہے جس نے رات کو تمہارے لئے لباس بنایا ہے (وَھُوَ الَّذِی جَعَلَ لَکُمْ اللَّیْلَ لِبَاسًا)۔ "رات کو لباس بنایا ہے" کیسی دلچسپ تعبیر ہے یہ تاریک پردہ صرف انسانوں ہی کو نہیں بلکہ روئے زمین پر موجود تمام چیزوں کو اپنے اندر چھپا لیتا ہے اور انھیں لباس کی مانند محفوظ کر لیتا ہے جیسا کہ انسان سوتے وقت تاریکی اور آرام و استراحت کے لئے پردے سے کام لیتا ہے اسی طرح یہ تمام چیزوں کے لئے تاریکی اور پردے کا کام دیتی ہے۔ پھر نیند جیسی نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: اس نے نیند کو تمہارے لئے آرام کا ذریعہ بنایا ہے (وَالنَّوْمَ سُبَاتًا)۔ "سباتاً" "سبت" (بر وزن"وقت")کے مادہ سے ہے جس کا معنیٰ ہے "کاٹ دینا" پھر آرام کی غرض سے کام کاج کو روک دینے کے معنی میں استعمال ہونے لگا اور ہفتہ کے دن کو عربی میں "یوم السبت" کہتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نام کا انتخاب یہودیوں کے طرزِ عمل سے کیا گیا ہے کیونکہ ہفتے کا دن ان کی چھٹی اور آرام کا دن ہوتا ہے۔ درحقیقت یہی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب نیند آ جاتی ہے تو تمام جسمانی سرگرمیاں کم ہو جاتی ہیں تاکہ تھکاوٹ دور ہو جائے اور اعضاء کو از سرِ نو تازگی مل جائے اور اس دوران میں دل کے دھڑکنے اور سانس لینے کا عمل جاری رہتا ہے۔ بر وقت اور مناسب مقدار کی نیند سے بدن کی طاقتیں بحال ہو جاتی ہیں جسم کو تازگی مل جاتی ہے صرف شدہ قوت لوٹ آتی ہے نیند اعصاب کے سکون کا بہترین ذریعہ ہے اس کے برعکس نیند کا نہ آنا خاص طور پر ایک لمبے عرصے کی بے خوابی بہت ہی نقصان دہ اور موت کا سبب بن جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ جب کسی کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور سختی کی جاتی ہے تو جو اہم ترین حربہ اختیار کئے جاتے ہیں ان میں سے ایک یہی بے خوابی ہے جس سے انسان کی قوت مدافعت جواب دے جاتی ہے۔ آیت کے آخر میں "دن" جیسی نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے:۔ اور خداوندِ عالم نے دن کو تحرک اور زندگی کا سبب بنایا ہے (وَجَعَلَ النَّھَارَ نُشُورًا)۔ "نشور" "نشر" کے مادہ سے ہے اور کھولنے کے معنی میں ہے جو"لپیٹنے"کے مقابلے میں ہوتا ہے اس تعبیر سے ممکن ہے اس طرف اشارہ ہو کہ بیداری کے وقت روح، تمام بدن میں پھیل جاتی ہے جو تقریباً مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کے مشابہ ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ انسانوں کے پھیل جانے کی طرف اشارہ ہو جب وہ اجتماعی اور انفرادی صورت میں پھیل جاتے ہیں اور زندگی کے مختلف کاموں کے لئے روئے زمین پر اِدھر اُدھر چلنے لگ جاتے ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت رسالت مآب ہر روز صبح کے وقت یہ جملہ ادا فرمایا کرتے تھے:۔ الحمد للہ الذی احیانا بعد ما اماتنا و الیہ النشور حمد اس خدا کے لئے مخصوص ہے جس نے ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا اور نئی زندگی بخشی اور انجام کار ہم نے اسی کی طرف محشور ہونا ہے۔ [تفسیر قرطبی جلد ۷، ص ۴۴۵۵]۔ سچی بات تو یہ ہے کہ انسانی جسم اور روح کے لئے دن کی روشنی تحریک بخش ہے جبکہ تاریکی نیند لاتی ہے اور سکون عطا کرتی ہے۔ اس دنیا کی بھی یہی حالت ہے جب سورج کی پہلی کرن زمین پر پڑتی ہے تو زندہ اور جاندار چیزوں میں عجیب جوش و خروش پیدا ہو جاتا ہے۔ انھیں ایک نئی زندگی مل جاتی ہے۔ ہر چیز اپنے کام کاج میں مشغول ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ نباتات بھی سورج کی روشنی میں جلدی جلدی سانس لیانا، غذا حاصل کرنا اور نشو و نما پانا شروع کر دیتے ہیں جبکہ غروبِ آفتاب کے ساتھ گویا خاموشی کا ناقوس بج جاتا ہے جس سے پرندے تک اپنے گھونسلوں میں جاچھپتے ہیں اور ہر جاندار آرام اور نیند کا رخ کرتی ہے حتیٰ کہ نباتات بھی ایک طرح کی نیند کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ عظیم نعمتوں کے ذکر کے بعد جو تمام انسانوں کی سب سے بنیادی اور اہم ضرورت ہیں ایک اور اہم نعمت کو بیان فرماتے ہوئے قرآن کہتا ہے: خدا تو وہ ہے جس نے ہواوٴں کو اپنی رحمت سے پہلے خوشخبری دینے والا بنا کر بھیجا اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا نازل پانی کیا (وَھُوَ الَّذِی اَرْسَلَ الرِّیَاحَ بُشْرًا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِہِ وَاَنزَلْنَا مِنْ السَّمَاءِ مَاءً طَھُورًا)۔ رحمت الٰہی کے نزول سے پہلے ہواوٴں کے "مقدمة الجیش" کی حیثیت سے ہر شخص آگاہ ہے کیونکہ اگر یہ نہ ہوں تو کسی خشک زمین پر بارش کا ایک قطرہ بھی نہ برسے۔ یہ ٹھیک ہے کہ سورج کی گرمی سمندروں کے پانی کو بخارات میں تبدیل کر کے اوپر کو بھیجتی ہے اور یہی بخارات سرد فضا میں جاکر اکھٹا ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور بارش برسانے والے بادلوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، لیکن اگر یہ ہوائیں ان بھرے ہوئے بادلوں کو سمندروں سے خشک زمینوں کی طرف ہانک کر لے جائیں تو وہی بادل سمندروں پر ہی برسنا شروع کر دیں۔ گویا رحمت کی خوشخبری دینے والی ہواوٴں کا وجود جو ہمیشہ زمین کے ایک حصے سے دوسرے حصے کی طرف چلتی رہتی ہیں زمین کی تشنگی دور کرنے کا سبب بن جاتا ہے کیونکہ انہی سے حیات بخش بارشوں کا نزول ہوتا ہے جس سے دریا اور چشمے وجود میں آتے ہیں، کنویں پانی سے بھر جاتے ہیں اور مختلف نباتات کی نشو و نما ہوتی ہے۔ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ان ہواوٴں کا ایک حصّہ بادلوں کے آگے آگے چلتا رہتا ہے جن میں ملائم سی نمی کی آمیزش ہوتی ہے اِسی حصّہ سے نسیم روح افزاء وجود میں آتی ہے، جس کے اندر سے بارش کی سوندھی سوندھی خوشبو مشام تک پہنچتی ہے۔ اس کی حیثیت اس شخص کی سی ہوتی ہے جو کسی محبوب مسافر کے آنے کی خوشخبری لاتا ہے۔ "ریاح" (ہواوٴں) کی جمع کی صورت میں بیان کرنے کا مقصد شاید ان کی مختلف انواع کی طرف اِشارہ ہو کیونکہ کچھ شمالی ہوائیں ہوتی ہیں، کچھ جنوبی،کچھ مشرقی ہوتی ہیں اور کچھ مغربی اور طبیعی طور پر روئے زمین کے ہر حصّے تک بادلوں کے پھیل جانے کا سبب بن جاتی ہیں۔ [متوجہ رہنا چاہئیے کہ "بُشراً" (شین کے سکون کے ساتھ) "بُشُرا" (شین کے ضمہ کے ساتھ) کا مخفف ہے اور "بشور" (بر وزن "قبول") کی جمع ہے جو "مبشر" یعنی بشارت دینے والے کے معنی میں ہے]۔ قابلِ توجہ بات یہ بھی ہے کہ یہاں پر"ماء" (پانی) کی صفت"طہور" بیان کی گئی ہے جو طہارت (یعنی پاکیزگی) کا مبالغے کا صیغہ ہے اور اسی معنی کے لحاظ سے اس سے اس کا مفہوم پاک ہونا بھی ہے اور پاک کرنا بھی۔ یعنی پانی ذاتی طور پر بھی پاک ہے اور نجس چیزوں کو بھی پاک کرتا ہے۔ جبکہ پانی کے علاوہ بہت سے چیزیں ذاتی طور پر تو پاک ہیں لیکن نجس چیزوں کو پاک نہیں کر سکتیں۔ بہر صورت پانی میں زندہ رکھنے کے علاوہ ایک اور اہم خاصیت پائی جاتی ہے اور وہ ہے پاک کرنے کی خاصیت۔ گویا پانی نہ ہوتا تو ہمارا جسم اور جان بلکہ تمام زندگی ایک ہی دن میں غلیظو متعفن ہو کر رہ جاتی اگرچہ وہ بذاتِ خود جراثیم کش نہیں ہے لیکن چونکہ اس میں حل کرنے کی زبردست خاصیت پائی جاتی ہے لہٰذا انھیں اپنے اندر حل کر کے دھو ڈالتا ہے اور ہمیشہ کے لئے ختم کر دیتا ہے اس لحاظ سے وہ انسان کی سلامتی اور مختلف بیماریوں کے خلاف نبرد آزمائی میں بہت موٴثر طریقے پر ہماری معاونت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ روحانی اور باطنی طہارت جیسے غسل اور وضو وغیرہ میں بھی پانی ہی کام آتا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ پانی صرف ظاہری نجاستوں کو دور نہیں کرتا بلکہ باطنی نجاستوں کو بھی دور کرتا ہے۔ اگرچہ پاک کرنے کی یہ خاصیت زبردست اہمیت کی حامل ہے لیکن اسے دوسرا درجہ حاصل ہے لہٰذا بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے: ہمارے بارش برسانے کا مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے مردہ زمینوں کو زندہ کریں (لِنُحْیِیَ بِہِ بَلْدَةً مَیْتًا)۔ [توجہ رہے کہ یہاں پر"بلدة" بیابان اور صحرا کے معنی میں ہے۔ اگرچہ موٴنث کا صیغہ ہے لیکن اس کی صفت مذکر کے صیغے "میتاً" کے ساتھ لائی گئی ہے۔ کیونکہ "بلدة" مکان کے معنی میں ہے اور مکان مذکر ہے]۔ نیز ہم اس زندگی بخش پانی کو پینے کے لئے اپنی مخلوق یعنی بہت سے چوپایوں اور انسانوں کے اختیار میں دے دیتے ہیں (وَنُسْقِیَہُ مِمَّا خَلَقْنَا اَنْعَامًا وَاَنَاسِیَّ کَثِیرًا)۔
چند اہم نکات: ۱۔ بہت سے چوپائے اور انسان
بہت سے چوپائے اور انسان: یہاں چوپایوں اور بہت سے انسانوں کا ذکر آیا ہے ہر چند کہ تمام حیوان اور انسان بارش کے پانی سے استفادہ کرتے ہیں۔ یہ اس لئے کہ یہاں پر ان خانہ بدوش لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو جنگلوں اور بیابانوں میں رہتے ہیں جن کے پاس مطلقاً کوئی بھی پانی نہیں ہوتا اور وہ براہِ راست بارش کے پانی سے استفادہ کرتے ہیں۔ خدا کی یہ عظیم نعمت انھیں سب سے زیادہ محسوس ہوتی ہے جبکہ آسمان پر کوئی بادل ظاہر ہوتا ہے۔ موسلا دھار بارش برساتا ہے۔ گڑھے اور چشمے بارش کے آبِ زلال سے بھر جاتے ہیں ان کے جانور اور خود وہ اس پانی سے سیراب ہوتے ہیں زندگی کی روانی اپنے اور اپنے جانوروں کے اندر بخوبی محسوس کرتے ہیں۔
۲۔”نسقیہ“کامفہوم
یہ "اسقاء" کے مادہ سے ہے "اسقاء" اور "سقی" میں فرق ہے۔ جیسا کہ راغب نے مفردات میں اور کچھ دوسرے مفسّرین نے لکھا ہے کہ "اسقاء" کا معنی پانی تیار رکھنا اور اسے کسی کے اختیار میں دے دینا ہے کہ جب بھی انسان چاہے اس سے پی لے۔ جبکہ "سقی" کا معنی ہے کہ پانی کا برتن کسی ہاتھ میں دیا جائے تاکہ وہ اسے پئے۔ دوسرے لفظوں میں "اسقاء" کا ایک وسیع اور عام معنی ہے۔
۳۔ پہلے زمینوں کا ذکر
پہلے زمینوں کا ذکر: اس آیت میں پہلے مردہ زمینوں کا ذکر آیا ہے پھر جانوروں کا اور آخر میں انسانوں کا۔ شاید یہ اس لئے ہے کہ جب تک زمینیں بارش کی وجہ سے زندہ نہ ہوں جانوروں کو خوراک نہیں ملے گی اور جب تک جانوروں میں جان نہیں آئے گی انسان اس سے خوراک حاصل نہیں کر سکے گا۔
۴۔ پانی کا پہلا فائدہ
پانی کا پہلا فائدہ: پانی کے زندگی بخش ہونے کو اس کے پاک کرنے کے مسئلہ کے بعد ذکر کیا گیا ہے اور شاید اس طرف اشارہ ہو کہ ان دونوں کا نزدیکی تعلّق ہے (پانی کے زندگی بخش ہونے کے بارے میں ہم تفسیر نمونہ جلد ۱۳میں سورہٴ انبیاء کی آیت ۳۰ کے ذیل میں تفصیل سے بحث کر چکے ہیں)۔ زیرِ بحث آخری آیت میں قرآن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ہم نے ان آیات کو گوناگوں صورتوں میں ان سے بیان کیا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں لیکن اکثر لوگوں نے انکار اور کفر کے سوا کچھ نہیں کیا (وَلَقَدْ صَرَّفْنَاہُ بَیْنَھُمْ لِیَذَّکَّرُوا فَاَبَی اَکْثَرُ النَّاسِ إِلاَّ کُفُورًا)۔ اگرچہ بہت سے مفسرین جیسے مرحوم شیخ طوسی نے تفسیر تبیان میں، علامہ طباطبائی نے تفسیر المیزان میں اور بعض دوسرے مفسرین نے "صرفناہ" میں "ہ" کی ضمیر کو بارش کی طرف پلٹایا ہے جس کا مفہوم یہ ہو گا "ہم بارش کے قطروں کو زمین کی مختلف سمتوں اور علاقوں میں بھیجتے ہیں اور اسے لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیتے ہیں تاکہ وہ خدا کی اس عظیم نعمت کو یاد رکھیں"۔ لیکن حق یہ ہے کہ یہ ضمیر قرآن اور قرآنی آیات کی طرف لوٹ رہی ہے کیونکہ یہ تعبیر (فعل ماضی اور مضارع کی صورت میں) قرآنِ مجید کے دس مقامات پر آئی ہے جن میں سے نو جگہوں پر تو واضح طور پر قرآنی آیات اور بیانات کی طرف لوٹ رہی ہے اور بہت سے مقامات پر"لیذکروا" یا اس قسم کا لفظ اس کے فوراً بعد آیا ہے۔ بنابریں، یہ بعید معلوم ہوتا ہے کہ اس مقام پر اس تعبیر کا دوسرا مفہوم ہو۔ اصولی طور پر "تصرف" کا مادہ تبدیل کرنے اور الٹ پھیر کرنے کے معنی میں آتا ہے جس کی بارش کے پانی سے چنداں مناسبت نہیں ہے جبکہ آیاتِ قرآنی سے یہ زیادہ مناسبت رکھتا ہے کیونکہ یہ مختلف انداز میں بیان ہوئی ہیں، کبھی وعدے کی صورت میں، کہیں وعید کی حالت میں، کہیں پر امر ہے۔ کہیں پر نہی ہے اور کسی مقام پر گزشتہ دنوں کی سرگزشت کی صورت میں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔
دو مختلف سمندر ساتھ ساتھ:
Tafsīr Nemūna · Vol. 4پہلی آیت پیغمبرِ اسلام کے مقام کی عظمت کے بارے میں ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اگر ہم چاہتے تو ہر شہر اور گاوٴں میں پیغمبر بھیج دیتے (لیکن ایسا نہیں کیا اور تمام جہان والوں کی ہدایت کی ذمّہ داری تیرے شانوں پر ڈال دی) (وَلَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِی کُلِّ قَرْیَةٍ نَذِیرًا)۔ درحقیقت گزشتہ آیات کے مطابق جس طرح خدا اس بات پر قادر ہے کہ بارش کے حیات بخش قطرات کو مردہ زمینوں پر بھیج دیتا ہے۔ وہ یہ قدرت بھی رکھتا ہے کہ ہر شہر و دیار میں کسی پیغمبر پر وحی و نبوت نازل کرے اور ہر گروہ کے لئے "بشیر و نذیر" بھیجے لیکن خداوند کریم بندوں کی بہتری کے لئے ہی سب کچھ کرتا ہے کیونکہ ایک شخص کے اندر نبوت کا تمرکز دنیا کے لوگوں کی وحدت اور تحاد کا سبب بنتا ہے اور اس سے ہر قسم کے اختلاف و انتشار کا سدِ باب ہو جاتا ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ بعض مشرکین دوسرے حیلے بہانوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ آیا بہتر نہیں تھا کہ خداوندِ عالم ہر شہر اور بستی میں علیحدہ علیحدہ پیغمبر بھیج دیتا؟ قرآن نے ان کا جواب ان الفاظ میں دیا ہے: اگر خدا چاہتا تو ایسا کر سکتا تھا، لیکن اقوام و ملل کی بہتری انتشار میں نہیں تھی۔ بہرحال، یہ آیت بھی پیغمبرِ اسلام کے مقام معظّم پر ایک بیّن دلیل ہے اور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رہبر ایک ہی ہونا چاہئیے اور اس کی ذمہ داری بھی بہت بڑی ہوتی ہے۔ اِسی بناء پر بعد والی آیت میں انبیاء کے دو اساسی فرائض کے پیشِ نظر خداوندِ عالم دو اہم احکام جاری فرماتا ہے اور سب سے پہلے روئے سخن پیغمبر کی طرف کر کے کہتا ہے: پس تو کافروں کی اطاعت نہ کر (فَلاَتُطِعْ الْکَافِرِینَ)۔ کسی بھی صورت میں ان کی بے راہروی کے سلسلے میں ان سے سودے بازی نہ کر کیونکہ گمراہ لوگوں کے ساتھ سودے بازی تبلیغِ راہِ خدا اور دعوتِ حق کے لئے بہت بڑی آفت ہے بلکہ ان کے مقابلے میں ڈٹ جا اور ان کی اصلاح کر اور ان کی خواہشات کے سامنے ہرگز نہ جھکنا۔ رہا دوسرا حکم تو وہ یہ ہے کہ قرآن کے ذریعے ان کے ساتھ عظیم جہاد کر (وَجَاھدْھُمْ بِہِ جِہَادًا کَبِیرًا)۔ جس قدر تیری رسالت اور منصب عظیم ہے جہاد بھی اتنا عظیم ہونا چاہئیے جیسے انبیاء ماسبق کا عظیم جہاد رہا ہے یعنی ایسا عظیم جہاد جو لوگوں کی تمام روحانی و فکری اور مادی و معنوی پہلووٴں پر محیط ہو۔ اس میں بھی شک نہیں کہ اس جہاد سے فکری، ثقافتی اور تبلیغی جہاد مراد ہے مسلح جہاد مراد نہیں ہے کیونکہ یہ سورہ مکّی ہے اور ہر ایک کو معلوم ہے کہ مسلح جہاد کا حکم مکہ میں نازل نہیں ہوا تھا۔ مرحوم طبرسی نے "مجمع البیان" میں تحریر فرمایا ہے کہ یہ آیت گمراہ لوگوں کے وسوسوں اور دشمنانِ حق کے مقابلے میں فکری اور تبلیغی جہاد کی عظمت کے لئے بہت بڑی دلیل ہے حتیٰ کہ پیغمبرِ اسلام کی یہ مشہور و معروف حدیث: رجعنا من الجھاد الاصغر الیٰ الجھاد الاکبر ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف لوٹ آئے ہیں۔ اِسی جہاد اور تبلیغِ دین میں علماء کے کارناموں کی عظمت کی طرف اشارہ ہو سکتی ہے۔ یہ تعبیر قرآن کے مقام عظمت کو بھی بیان کر رہی ہے کیونکہ وہ اِسی "جہادِ کبیر" کا ایک ذریعہ اور نہایت ہی موٴثر ہتھیار ہے کہ جس کے بیان کی قدرت اور استدلال کی تاثیر اور جاذبیت انسانی قدرت اور تصور سے ماوراء ہے۔ یہ قرآن روزِ روشن کی طرح چمکتا، شبِ تاریک کی مانند تسکین دہ، ہواوٴں کی مانند متحرک، ابر کی مانند عظیم، بارش کے قطروں کی مانند حیات بخش ہتھیار ہے جس کی طرف گزشتہ آیات میں اشارہ ہو چکا ہے۔ ایک مختصر سے فاصلے کے بعد قرآنِ مجید نے کائنات کے تخلیقی نظام میں خداوندِ عالم کی نعمتوں کا ایک بار پھر تذکرہ شروع کیا ہے اور گزشتہ آیات میں بارش کے حیات بخش قطرات کی مناسبت سے ان آیات میں پہلے دو مختلف سمندروں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے: وہ خدا ایسا ہے جس نے دو مختلف سمندروں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا دیا ہے ایک خوش گوار اور شیریں ہے جبکہ دوسرا شور اور کڑوا ہے اور ان کے درمیان ایک آڑ مقرر کر دی ہے (تاکہ وہ آپس میں مل نہ جائیں گویا وہ ایک دوسرے سے کہہ رہے ہیں) دور ہو اور نزدیک نہ آوٴ (وَھُوَ الَّذِی مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ ہَذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَہَذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَجَعَلَ بَیْنَہُمَا بَرْزَخًا وَحِجْرًا مَحْجُورًا)۔ "مَرَجَ" "مرج" (بر وزن "فَلَجْ") کے مادہ سے مخلوط کرنے اور ملا دینے کے معنیٰ میں ہے یا کھلا چھوڑ دینے کے معنیٰ میں اور اس جگہ پر دو سمندروں کا پہلو اور ساتھ ساتھ رہنا مراد ہے۔ "عذب" کا معنیٰ ہے خوش گوار، پاک و پاکیزہ اور ٹھنڈا ہے۔ "فرات" کا معنی مزیدار اور میٹھا ہے۔ جبکہ "ملح" کا معنیٰ نمکین اور شور اور "اجاج" کا معنی کڑوا اور گرم ہے (بنابریں، ملح اور اجاج، عذب اور فرات کے الٹ ہیں)۔ "برزخ" کا معنیٰ "پردہ" ہے اور دو چیزوں کے درمیان حائل آڑ کو کہتے ہیں۔ جیسا کہ ہم پہلے (اِسی سورت کی آیت ۲۲ کے ضمن میں) بتا چکے ہیں کہ "حجراً محجوراً" اس بات کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ جب عربوں میں دو شخص آپس میں رو برو ہوتے ہیں ایک کو دوسرے سے خوف ہوتا ہے تو وہ حصولِ امان کے طور پر "حجراً محجوراً" کہنا یعنی ہمیں امان دے دیں اور معاف کر دیں اور ہم سے دور رہیں۔ بہرحال، یہ آیت کائنات میں قدرتِ خداوندی کے ایک عجیب و غریب شاہکار کی نقشہ کشی کر رہی ہے کہ کس طرح ایک ان دیکھا اور غیر مرئی حجاب دو میٹھے اور کڑوے سمندروں کے درمیان موجود ہے جو دونوں کو آپس میں مخلوط ہو جانے سے روک رہا ہوتا ہے۔ البتہ آج ہمیں یہی سمجھ آ رہا ہے کہ یہ دکھائی نہ دینے والی آڑ درحقیقت میٹھے اور کڑوے پانی کا ہلکے اور بھاری پن کا تفاوت ہے اصطلاح میں جسے "وزن مخصوص کا فرق" کہتے ہیں جس کی وجہ سے دو مختلف نوعیتوں کے پانی ایک لمبے عرصے تک ایک دوسرے میں مخلوط نہیں ہو سکتے۔ اگرچہ بہت سے مفسرین نے اس قسم کے سمندروں کی تلاش میں بڑی کاوش سے کام لیا ہے کہ دنیا کے کس خطے میں میٹھے اور کڑوے دونوں سمندر آپس میں مل رہے ہیں اور ایک دوسرے میں مخلوط بھی نہیں ہوتے لیکن آج کے دور میں یہ مشکل ہمارے لئے حل ہو چکی ہے کیونکہ جہاں پرمیٹھے پانی کے بڑے بڑے دریا سمندر میں گر رہے ہوتے ہیں تو وہیں پر ساحل پر ہی میٹھے پانی کا ایک سمندر بن رہا ہوتا ہے اور سمندر کے کڑوے پانی کو دور دھکیل کر دور دور تک آگے چلا جاتا ہے اور اپنے ہلکے اور بھاری پن کی وجہ سے وہ ایک دوسرے میں گڈ مڈ نہیں ہو پاتے گویا ایک دوسرے کو "حجراً محجوراً" کہہ رہے ہوتے ہیں۔ پھر مزیدار بات یہ ہے کہ سمندر کا پانی مدّ و جزر کی وجہ سے چوبیس گھنٹوں میں دو مرتبہ بڑی مقدار میں گھٹتا اور بڑھتا رہتا ہے۔ اِسی مقدار سے میٹھے پانی کا یہ سمندر بھی جب بڑھتا ہے تو پیچھے کو ہٹتا ہے اور خشکی پر پھیل جاتا ہے چنانچہ قدیم زمانے سے انسان نے فطرت کے اس عمل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں سے بہت سی نہریں نکالی ہیں جن سے بہت سے رقبے کی آبپاشی کی جاتی ہے۔ اب بھی جنوب ایران میں ساحلِ سمندر پر کھجور کے لاکھوں درخت ایسے ہیں جو اس میٹھے پانی سے سیراب ہوتے ہیں جن میں سے بہت سے درختوں کو ہم نے بھی بچشم خود ملاحظہ کیا ہے اور ان درختوں کی صرف اسی طریقے سے آبپاشی کی جاتی ہے اور وہ ساحلِ سمندر سے بہت فاصلے پر ہیں۔ جس سال بارش کم ہوتی ہے اور ان دریاوٴں کا پانی کم ہو جاتا ہے تو بعض اوقات کڑوا اور نمکین پانی آبِ شیرں پر غالب آجاتا ہے تو اس علاقے کے کسانوں کو پریشانی اور سخت خطرے کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے کیونکہ شور پانی ان کی زراعت کے لئے مضر ہوتا ہے۔ لیکن عام طور پر ایسا نہیں ہوتا اور یہ "عذب و فرات پانی" جس کے پہلو میں "ملح و اجاج پانی" ہوتا ہے اور اس میں مخلوط نہیں ہوتا ان کے لئے ایک عظیم نعمت شمار ہوتا ہے۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ اس قسم کے مسائل فطری اسباب کا وجود ان کی عظمت کو کبھی نہیں گھٹا سکتا، کیونکہ آخر فطرت کیا چیز ہے؟ کیا خدا کے فعل، ارادے اور مشیّت کے علاوہ کوئی اور چیز ہے؟ اور خدا کے علاوہ کسی اور نے اشیائے عالم کو یہ خاصیتیں عطا فرمائی ہیں۔ یہ بات بھی لائق توجہ ہے کہ جب انسان ہوائی جہاز کے ذریعے ایسے علاقوں کے اوپر سے گزرتا ہے تو آپس میں ملنے والے ان دونوں پانیوں کا منظر دلچسپ، دلکش اور عجیب ہوتا ہے جبکہ یہ دونوں اپنے مختلف رنگوں کے ساتھ شانہ بشانہ سمندر میں بہ رہے ہوتے ہیں تو انسان فوراً قرآن کے اس نکتے کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ ضمنی طور پر یہ بات بھی بیان کرتے جائیں کہ اس آیت کا "ایمان" اور " کفر" سے متعلق آیات کے درمیان واقع ہونا ممکن ہے اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ یہ ایک قسم کی تشبیہ ہے اور کفر و ایمان کے لئے کہ بعض اوقات ایک معاشرے، ایک شہر حتیٰ کہ ایک ہی خاندان کے مختلف افراد میں صاحبانِ ایمان لوگ "عذب و فرات" کی مانند "ملح و اجاج" جیسے بے ایمان اور کافر لوگوں کے ساتھ ساتھ رہ رہے ہوتے ہیں جن کی طرزِ فکر الگ، عقیدہ الگ، پاک اور نا پاک عمل کی نوعیت الگ ہوتی ہے اس کے با وجود وہ ایک دوسرے میں گڈ مڈ نہیں ہو پاتے۔ بعد والی آیت میں بارش کے نزول اور اِسی طرح میٹھے اور کڑوے پانی کی بحث کے پیشِ نظر انسان کی پانی سے تخلیق کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے: خدا تو وہ ہے جس نے پانی سے انسان کو پیدا کیا (وَھُوَ الَّذِی خَلَقَ مِنْ الْمَاءِ بَشَرًا)۔ سچ بات تو یہ ہے کہ پانی میں صورت کی تخلیق اور محیّر العقول نقش و نگاری پروردگارِ عالم کی بے انتہا قدرتِ کاملہ کی دلیل ہے گزشتہ آیات میں پانی سے نباتات کی آبپاشی کا تذکرہ تھا۔ اِس آیت میں اس سے اعلیٰ ترین مرحلے یعنی پانی سے انسان کی تخلیق سے متعلق گفتگو ہے۔ اب یہاں پر پانی سے کونسا پانی مراد ہے اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض لوگوں کا نظریہ ہے کہ "بشر" سے مراد سب سے پہلا انسان یعنی آدم علیہ السلام ہیں کیونکہ ان کی آفرینش مٹّی اور پانی کے مجموعہ سے ہوئی۔ اس کے علاوہ بعض اسلامی روایات کے مطابق اللہ کی سب سے پہلی مخلوق پانی ہے اور انسان کو اسی پانی سے خلق فرمایا گیا ہے اور "بشرا ً" کا نکرہ ہونا اسی بات کی دلیل ہے۔ بعض مفسرین کا یہ نظریہ ہے کہ "ماء" سے مراد نطفے کا پانی ہے۔ قدرتِ پروردگار کے مطابق تمام انسان جس سے معرضِ وجود میں آتے ہیں اور مرد کے نطفے (Sperm) اور عورت کے نطفے (Ovlim) کی باہمی آمیزش سے انسانی زندگی کے خاص خیلے وجود میں آتے ہیں۔ اگر کوئی شخص انعقادِ نطفہ کے مراحل کو آغاز سے اختتام تک مدِّ نظر رکھے اور اس پر غور و فکر کرے تو اسے عظمتِ حق کی آیات اور خالقِ اکبر کی قدرت اس قدر واضح طور پر نظر آئے گی جو اس کی ذات پاک کی معرفت کے لئے کافی ہوگی۔ اس بات کا گواہ وہ جملہ ہے جو آیت کے آخر میں آیا ہے اور جس کی تفصیل ہم آگے چل کر بیان کریں گے یعنی (فَجَعَلَہُ نَسَبًا وَصِہْرًا)۔ اِن سب باتوں سے ہٹ کر سوچا جائے تو معلوم ہوگا کہ انسانی وجود کا بیشتر حصہ پانی سے شکیل پاتا ہے دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہر انسان کے وجود کا اصلی جو ہر آب ہی ہے یہی وجہ ہے کہ انسان، پیاس کا زیادہ عرصے تک مقابلہ نہیں کر سکتا جبکہ بھوک کا مقابلہ کئی روز تو کیا کئی ہفتوں تک بھی کر سکتا ہے۔ البتہ یہ احتمال بھی ہے کہ یہ تمام معانی آیت کے مفہوم میں جمع ہوں یعنی سب سے پہلا انسان بھی پانی سے پیدا کیا گیا ہے تمام انسان بھی پانی کے نطفہ سے خلق کئے گئے ہیں اور پانی ہی سے انسانی وجود کا بیشتر حصہ تشکیل پاتا ہے۔ جو پانی کائنات کی سادہ ترین چیز شمار ہوتا ہے وہ اس قدر حیرت انگیز مخلوق کا مبداء کیونکر بن گیا؟ یہ خدا کی قدرت کی ایک نہایت روشن دلیل ہے۔ انسان کی تخلیق کے فوراً بعد نسلِ انسانی کے بڑھنے، پھلنے اور پھولنے کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: خداوندِ عالم نے اسی انسان کی دو طریقوں سے افزائش کی ایک نسب اور دوسرے صہر سے (فَجَعَلَہُ نَسَبًا وَصِہْرًا)۔ "نسب" سے مراد پیوند ہے جو اولاد کے ذریعہ لگتا ہے جیسے باپ اور اولاد کا یا بھائیوں کا باہمی رشتہ اور "صھر" جو در اصل "داماد" کے معنیٰ میں ہے وہ پیوند ہوتا ہے جو دامادی کے ذریعے دو قوموں یا دو قبیلوں کے درمیان وجود میں آتا ہے۔ یعنی کسی کا اپنے سسرال والوں سے رشتہ اور یہ دونوں (نسب اور صہر) وہی ہے جھنیں فقہاء اسلام نکاح کی مباحث میں "نسب" اور "سبب" کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔ قرآنِ مجید کے سورہٴ نسآء کے سات مقامات پر ان محارم کا ذکر ہے جو نسب کی وجہ سے معرضِ وجود میں آتے ہیں، یعنی ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی، خالہ، بھتیجی اور بھانجی۔ چار مقامات پر ان محارم کا تذکرہ ہے جو سبب اور صہر کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں یعنی بیوی کی بیٹی، ساس، بیٹے کی بیوی اور باپ کی بیوی۔ البتہ اس جملے کی تفسیر میں اور بھی بہت سے نظریات کا ذکر ملتا ہے جو دوسرے مفسرین کی طرف سے بیان کئے گئے ہیں لیکن زیادہ واضح اور قوی وہی نظر یے ہیں جو ہم ابھی بیان کر چکے ہیں۔ منجملہ اِن نظریات کے ایک یہ بھی ہے کہ بعض لوگوں نے "نسب" کا معنی بیٹے کی اولاد اور "صہر" کا معنی بیٹی کی اولاد کیا ہے کیونکہ نسبی رشتوں کا دار و مدار باپ پر ہوتا ہے نہ کہ ماں پر۔ لیکن جیسا کہ ہم تفسیر نمونہ کی دوسری جلد سورہٴ آلِ عمران کی آیت ۶۱ کے ذیل میں تفصیل سے بیان کر چکے ہیں یہ ایک بڑی غلط فہمی ہے جو زمانہ جاہلیت کے رسومات میں سے ہے کہ نسب کو صرف باپ کی طرف سے شمار کرتے تھے اور ماں کا اس میں کچھ بھی حصہ نہیں سمجھا جاتا تھاجبکہ اسلامی فقہ میں تمام مسلم دانشوروں کے درمیان مسلّم ہے کہ محرم نسبی باپ اور ماں دونوں کی طرف سے ہوتا ہے (مزید تشریح کے لئے تفسیر نمونہ کی دوسری جلد مذکورہ آیت کے ذیل میں دیکھیے)۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ اس مقام پر ہمیں ایک مشہور حدیث ملتی ہے جسے شیعہ اور سنی کتب میں نقل کیا گیا ہے کہ جس کے مطابق مندرجہ بالا آیت حضرت پیغمبر اکرم اور حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ کیونکہ آنحضرت نے اپنی دختر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کا عقد حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ کر دیا تھا اس طرح سے حضرت علی علیہ اسلام آنحضرت کے چچا زاد بھائی تو تھے ہی آپ کے داماد بھی بن گئے اور یہی معنی ہے "نسباً و صھراً " کا۔ [تفسیر مجمع البیان اور تفسیر روح المعانی، اسی آیت کے ذیل میں]۔ لیکن جیسا کہ ہم کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ اس قسم کی روایات، آیت کا روشن مصداق ہوا کرتی ہیں جو آیت کے عمومی مفہوم سے مانع نہیں ہوتیں یہ آیت بھی ہر قسم کی اس رشتہ داری پر محیط ہوگی جو نسب اور دامادی کی وجہ سے وجود میں آتی ہے جس کا ایک روشن مصداق حضرت علی علیہ اسلام کی دو طرح سے حضرت رسولِ پاک سے رشتہ داری ہے۔ آیت کے آخر میں تاکید کے طور پر ارشاد فرمایا گیا ہے: تمہارا پروردگار تو ہمیشہ قادر ہی ہے (وَکَانَ رَبُّکَ قَدِیرًا)۔ آخر کار آخری زیرِ بحث آیت میں مشرکین کے اصل توحید سے انکار اور انحراف کو بیان فرمایا گیا ہے اور بتوں کی قدرت کا خدا کی قدرت و طاقت سے موازنہ کیا گیا ہے جس کے کچھ نمونے گزشتہ آیات میں بیان ہو چکے ہیں فرماتا ہے: وہ لو گ خدا کے علاوہ دوسرے معبودوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ تو نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان (وَیَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ مَا لاَیَنفَعُھُمْ وَلاَیَضُرُّھُمْ)۔ یہ بات بھی مسلّم ہے کہ صرف نفع و نقصان ہی عبادت کا معیار نہیں لیکن یہ کہہ کر قرآن مجید نے اس نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان کے پاس بتوں کی عبادت کا کوئی جواز نہیں ہے کیونکہ بتوں میں قطعاً کسی کام کی کوئی خاصیّت نہیں پائی جاتی اور ہر طرح کی مثبت یا منفی تاثیر سے خالی ہیں۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: اور کافر لوگ (اپنے کفر کی راہ میں) خدا سے مقابلے کے لئے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں (وَکَانَ الْکَافِرُ عَلَی رَبِّہِ ظَہِیرًا)۔ وہ اپنی گمراہی میں اکیلے نہیں ہیں بلکہ بڑے دھڑلے کے ساتھ ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں جن طاقتوں کو راہِ خدا میں خرچ کرنا چاہئیے تھا انھیں وہ خدا، پیغمبر اور سچے موٴمنین کے خلاف خرچ کرتے ہیں۔ اگر اس موقع پر کسی تفسیر میں ہمیں "کافر" کا لفظ صرف "ابو جہل" کے بارے میں دکھائی دیتا ہے تو یہ اس کا ایک واضح مصداق ہے وگرنہ "کافر" کا ہر جگہ وسیع معنیٰ ہے جو تمام کفار کے لئے ہے۔
چند اہم نکات: ۱۔ صرف ایک قیادت
زیرِ نظر پہلی آیت میں خداوندِ عالم کا یہ فرمان ہے کہ "اگر ہم چاہتے تو ہر شہر اور دیار میں ڈرانے والا پیغمبر بھیج دیتے" لیکن ایسا نہیں کیا۔ یقینا یہ صرف اس لئے ہے کہ انبیاء امتوں کے راہبر اور راہنما ہوا کرتے ہیں اور یہ بھی معلوم ہے کہ کسی قوم کے مسئلہ قیادت میں تفرقہ اور انتشار اس قوم کی کمزوری کا سبب بن جاتا ہے خاص کر جب مسئلہ ختم نبوّت کو پیشِ نظر رکھا جائے تو اس کی حیثیت اور اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ ایسی قیادت کو تو تا قیامِ قیامت بر قرار رہنا ہے۔ ایک قائد اور رہبر تمام منتشر طاقتوں کو یکجا کرتا ہے انھیں وحدت اور اتحاد کا سبق دیتا ہے درحقیقت قیادت اور رہبری کی وحدت انسانی معاشرے میں توحید کی حقیقت کو منعکس کرتی ہے۔ جو ایک طرح سے شرک، تفرقہ اور نفاق کے بر عکس ہے۔ سورہٴ فاطر کی آیت ۲۴ میں ہے: و ان مّن اُمّة الّا خلا فیھا نذیر ہر امت میں ایک ڈرانے والا نبی گزرا ہے۔ یہ مندرجہ بالا بحث کے قطعاً متضاد نہیں ہے کیونکہ اس آیت میں ہر امّت کی بات ہو رہی ہے ہر شہر اور دیار کی نہیں۔ اگر انبیاء کے بارے میں صرف نظر کر کے نچلے درجے کی طرف نگاہ کریں تو وہاں بھی یہی اصول کارفرما نظر آتا ہے جو قومیں اپنے لیڈر کے لحاظ سے تشتت اور افتراق کا شکار ہوئی ہیں وہ اپنی طاقت اور توانائی کھو دینے کے علاوہ اور بھی بہت سی چیزوں میں انتشار کا شکار ہو چکی ہیں۔
۲۔ قرآن ذریعہ جہاد ہے
"جہادِ کبیر" کا لفظ ایک الٰہی تعمیری جدّوجہد اور نبرد آزمائی کے لئے واضح تعبیر ہے جو اس کی اہمیت کو اجاگر کر رہی ہے لائقِ توجہ بات یہ ہے کہ آیات بالا میں یہ عنوان قرآن مجید کو دیا گیا ہے یا دوسرے لفظوں میں ان لوگوں کو یہ عنوان دیا گیا ہے جو قرآن کے ذریعے ہر قسم کی لغزش، گمراہی، جرائم اور معاشرتی برائیوں کے خلاف بر سرِ پیکار ہیں۔ یہ تعبیر ایک طرف تو منطقی اور عقیدتی جد و جہد اور نبرد آزمائی کی اہمیت کو واضح کرتی ہے دوسری طرف قرآن کی عظمت کو۔ بعض روایتوں میں ہے کہ ایک شب ابو سفیان، ابو جہل اور مشرکین کے بہت سے دوسرے سردار جداگانہ طور پر اور ایک دوسرے سے چھپ کر آنحضرت سے قرآن سننے کے لئے آ گئے آپ اس وقت نماز پڑھنے میں مشغول تھے اور ہر ایک، ایک دوسرے سے بالکل بے خبر علیحدہ علیحدہ مقامات پر چھپ کر بیٹھ گیا چنانچہ وہ رات گئے تک قرآن سنتے رہے اور جب واپس پلٹنے لگے تو اس وقت صبح کی سفیدی نمودار ہو چکی تھی۔ اِتفّاق سے سب نے واپسی کے لئے ایک ہی راستے کا انتخاب کیا اور ان کی اچانک ایک دوسرے سے ملا قات ہو گئی اور ان کا بھانڈا وہیں پر پھوٹ گیا انہوں نے ایک دوسرے کو ملامت کی اور اس بات پر زور دیا کہ آئندہ ایسا کام نہیں کرنا چاہئیے، اگر نا سمجھ لوگوں کو پتہ چل گیا تو وہ شک و شبہ میں پڑ جائیں گے۔ دوسری اور تیسری رات بھی ایسا ہی اتفاق ہوا اور پھر وہی باتیں دہرائی گئیں اور آخری رات تو انھوں نے کہا جب تک اس بات پر پختہ عہد نہ کر لیں اپنی جگہ سے ہلیں نہیں چانچہ ایسا ہی کیا گیا اور پھر ہر ایک نے اپنی راہ لی۔ اسی رات کی صبح اخنس بن شریق نامی ایک مشرک اپنا عصا لے کر سیدھا ابو سفیان کے گھر پہنچا اور اسے کہا: تم نے جوکچھ محمد سے سنا ہے اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا:۔ خدا کی قسم! کچھ مطالب ایسے سنے ہیں جن کا معنی بخوبی سمجھ سکا ہوں اور کچھ مسائل کے مراد اور معنیٰ کو نہیں سمجھ سکا۔ اخنس وہاں سے سیدھا ابو جھل کے پاس پہنچا اس سے بھی وہی سوال کیا کہ: تم نے جو کچھ محمد سے سنا ہے اس کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ ابو جہل نے کہا: سنا کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری اور اولاد عبد مناف کی قدیم زمانے سے رقابت چلی آ رہی ہے۔ انھوں نے بھوکوں کو کھانا کھلایا، ہم نے بھی کھلایا، انھوں نے پیدل لوگوں کو سواریاں دیں، ہم نے بھی دیں، انھوں نے لوگوں پر خرچ کیا سو ہم نے بھی کیا۔ گویا ہم دوش بدوش آگے بڑھتے رہے۔ جب انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس وحی آسمانی بھی آتی ہے تو اس بارے میں ہم ان کے ساتھ کس طرح برابری کر سکتے ہیں؟ اب جبکہ صورتِ حال یہ ہے تو خدا کی قسم! ہم نہ تو کبھی اس پر ایمان لائیں گے اور نہ ہی اس کی تصدیق کریں گے۔ اخنس نے جب یہ بات سنی تو وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔ [سیرت ابن ہشام جلد اول ص ۳۳۷، اور تفسیر فی ظلال القرآن جلد ۶ ص ۱۷۲]۔ جی ہاں! قرآن کی کشش نے ان پر اس قدر اثر کر دیا کہ وہ سپیدہٴ صبح تک اس الہٰی کشش میں گم رہے لیکن خود خواہی تعصب اور مادی فوائد ان پر اس قدر غالب آ چکے تھے کہ انھوں نے حق قبول کرنے اسے انکار کر دیا۔ اس میں شک نہیں کہ اس نورِ الہٰی میں اس قدر طاقت ہے کہ ہر آمادہ دل کو وہ جہاں بھی ہو، اپنی طرف جذب کر لیتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس (قرآن) کا ان آیات میں "جہادِ کبیر" کہہ کر تعارف کروایا گیا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 59 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 59 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 59 کے تحت ملاحظہ کریں۔
میری اجرت تمہاری ہدایت ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 4جیسا کہ سابقہ آیات کے مطالعہ سے معلوم ہو چکا ہے کہ بت پرستوں کا ان بتوں کی پرستش پر اصرار رہا ہے جو نہ تو کسی قسم کا نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ لہٰذا زیرِ بحث آیات میں خداوندِ عالم ان ہٹ دھرم اور متعصب لوگوں کے مقابلے میں پیغمبر اکرم کے خدائی فریضے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے: ہم نے تو تجھے صرف خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے (وَمَا اَرْسَلْنَاکَ إِلاَّ مُبَشِّرًا وَنَذِیرًا)۔ [بعض مفسّرین کے نزدیک "نذیر" مبالغے کا صیغہ ہے جبکہ "مبشر" صرف اسمِ فاعل ہے۔ تعبیر کے اختلاف کا مقصد شاید یہ ہو کہ پیغمبر اکرم کو ایسے لوگوں کو سامنا تھا جو اپنی گمراہی پر سخت ڈٹّے ہوئے تھے فطری طور پر آپ کو انھیں ڈرانا ہی چاہئیے تھا (تفسیر روح المعانی اسی آیت کے ذیل میں)]۔ اگر ان لوگوں نے تیری دعوتِ اسلام کو قبول نہ کیا تو تیرا کوئی قصور نہیں کیونکہ تو نے اپنا بشارت اور نذارت کا فریضہ انجام دے دیا ہے اور آمادہ دلوں کو خدا کی طرف دعوت دے دی ہے۔ یہ فرمان ایک تو رسالتمآب کے خدائی فریضے کو نمایاں کر رہا ہے اور دوسرے آنحضرت کے دل کو تسلی دے رہا ہے اور ساتھ ہی گمراہ لوگوں کو ایک طرح کی تنبیہ بھی کی جاری ہے۔ اس کے بعد پیغمبرِ اکرم کو حکم دیا جا رہا ہے کہ ان سے کہہ دے کہ میں اس قرآن اور تبلیغِ دین کے بدلے میں کسی اجرت کا مطالبہ نہیں کرتا (قُلْ مَا اَسْاَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ)۔ قرآن مزید فرماتا ہے: جو اجرت میں ان سے چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ لوگ خدا کا راستہ اختیار کریں (إِلاَّ مَنْ شَاءَ اَنْ یَتَّخِذَ إِلَی رَبِّہِ سَبِیلًا)۔ یعنی اگر تم ہدایت پا جاوٴ تو بس میری یہی اجرت ہے اور یہ ہدایت بھی اپنے ارادے اور مرضی کے ساتھ نہ کہ کسی کے مجبور کرنے سے۔ یہ ایک دلچسپ تعبیر ہے جو آنحضرت کی پیروکاروں کے ساتھ دوستی اور محبت کی انتہا کو واضح کر رہی ہے کہ وہ اپنی اجرت اور مزدوری امت کی سعادت اور خوش بختی میں سمجھتے ہیں۔ [بنابریں، اس آیت میں "استثنائے متصل" ہے ہر چند کہ بادی النظر میں منقطع دکھائی دیتا ہے]۔ ظاہر ہے کہ امت کی ہدایت، پیغمبرِ اکرم کے بہت بڑے معنوی اجر کا سبب بنتی ہے کیونکہ "الدال علیٰ الخیر کفاعلہ" یعنی جو شخص نیکی کی ہدایت کرتا ہے گویا وہ نیکی کر رہا ہوتا ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں اور بھی بہت سے احتمال ذکر کئے گئے ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بہت سے مفسرین کا نظریہ ہے کہ آیت کا معنیٰ یوں ہے:۔ "میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا مگر یہ کہ تم خود اپنی مرضی کے مطابق اپنے اموال راہِ خدا میں ضرورت مندوں پر خرچ کرو۔ [ایسی صورت میں "استثنائے منقطع" ہو گا]۔ لیکن پہلی تفسیر آیت کے معنیٰ کے زیادہ نزدیک ہے۔ جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ "علیہ" کی ضمیر قرآن اور دینِ اسلام کی تبلیغ کی طرف لوٹ رہی ہے کیونکہ یہاں دعوت کی اجرت و مزدوری کے بارے میں گفتگو ہو رہی ہے۔ یہ جملہ جہاں پر مشرکین کے بہانوں کا توڑ پیش کر رہا ہے وہاں پر یہ بھی واضح کر رہا ہے کہ اس دعوتِ الہٰی کو قبولیت نہایت سادہ و آسان اور ہر شخص کے بغیر کسی تکلیف اور خرچے کے ممکن الحصول ہے۔ یہ بجائے خود آنحضرت کی سچائی اور پاکیزگی فکر کے لئے شاید ناطق ہے۔ کیونکہ جھوٹے مدعی یہ کام براہِ راست یا بالواسطہ اجر کے بغیر انجام نہیں دیتے۔ اس کے بعد والی آیت آنحضرت کی حقیقی پناہ گاہ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہتے ہے تو اس خدا پر توکّل کئے رکھ جو زندہ ہے اور جسے کبھی موت نہیں آئے گی (وَتَوَکَّلْ عَلَی الْحَیِّ الَّذِی لاَیَمُوتُ)۔ گویا جب آپ کی پناہ اور والی و سرپرست ایسی ذات ہے جو ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گی تو پھر نہ تو آپ کو کسی قسم کی اجرت کی ضرورت ہے اور نہ ہی دشمن کے نقصان پہنچانے اور ان کی چالوں سے خوف کھانے کی۔ اور جب صورتِ حال یہ ہے تو "اس کی تسبیح اور حمد بجا لا" اور اسے ہر قسم کے عیب و نقص سے مبرا اور منزہ سمجھ اور تمام کمالات پر اس کی حمد و ستائش کر(وَسَبِّحْ بِحَمْدِہِ)۔ درحقیقت اس جملے کو پہلے کی علت سمجھنا چاہئیے کیونکہ جب وہ ہر قسم کے عیب و نقص سے پاک اور ہر حسن و کمال سے آراستہ ہے تو وہی اس قابل ہے کہ اس پر توکل کیا جائے۔ پھر فرمایا گیا ہے: دشمنوں کی تخریب کاری اور سازشوں سے گھبرائیں نہیں کیونکہ یہ بات کوئی کم نہیں کہ خداوندِ عالم اپنے بندوں کے گناہوں سے آگاہ ہے اور جب بھی چاہے گا ان کی پکڑ کرے گا (وَکَفَی بِہِ بِذُنُوبِ عِبَادِہِ خَبِیرًا)۔ بعد والی آیت کائنات میں پروردگارِ عالم کی قدرت اور اس قابلِ اعتماد پناہ گاہ کی ایک اور صفت بیان کر رہی: وہ خدا وہ ہے جس نے آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان موجود ہے ان سب کو چھ دنوں (چھ مرحلوں) میں پیدا کیا ہے: (الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا فِی سِتَّةِ اَیَّامٍ)۔ پھر وہ عرشِ قدرت پر متمکن ہوا اور کائنات کا نظام چلانے لگا (ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْش)۔ جو ذات اس وسیع قدرت کی مالک ہے وہ اپنے اوپر توکل کرنے والوں کو ہر خطرے اور حادثے میں ہر طرح کی گزند سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ کیونکہ کائنات کی ہر چیز اسی نے پیدا کی ہے اور کائنات کا ہر قسم کا نظام بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ ضمنی طور پر اس بات کی وضاحت بھی کرتے چلیں کہ کائنات کی مرحلہ وار تخلیق اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ خداوندِ عالم کسی بھی کام میں جلدی نہیں کرتا۔ اگر تیرے دشمنوں کو فوراً سزا نہیں دیتا تو اس کی وجہ یہی ہے کہ انھیں مہلت دیتا ہے تاکہ وہ اپنی اصلاح کر لیں پھر یہ کہ عجلت تو وہ کرے جسے کسی چیز کے ضائع ہو جانے اور ہاتھ سے نکل جانے کا خطرہ ہو اور یہ بات خدائے قادر و متعال کے لئے فرض بھی نہیں کی جا سکتی۔ کائنات کی چھ دنوں میں تخلیق اور یہ کہ ایسے مقامات پر "دن" سے مراد "مرحلہ" ہے اور ممکن ہے یہ مرحلہ لاکھوں اور کروڑوں سال پر مشتمل ہو، اس سلسلے میں ہم نے تفسیر نمونہ کی چھٹی جلد میں سورہٴ اعراف کی آیت ۵۴ کی تفسیرکے ذیل میں عربی اور دوسری زبانوں کے ادب کی رو سے تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے اور ان چھ مراحل کو بھی واضح کیا ہے۔ نیز"عرش" کا معنیٰ اور "استویٰ علی العرش" کا مفہوم بھی وہاں بیان ہو چکا ہے۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: وہ خدا رحمن ہے (الرحمن)۔ وہ وہ خدا جس کی رحمتِ عامہ تمام کائنات پر محیط ہے اور فرماں بردار اور نافرمان، مومن اور کافر سب اس کے دسترخوانِ نعمت سے بہرہ ور ہو رہے ہیں۔ اب جب کہ تیرا خدا وہ ہے جو بخشنے والا، قدرت مند اور توانا ہے "اگر مانگنا چاہتا ہے تو اسی سے مانگ کیونکہ وہ اپنے بندوں کی ضروریات کو جانتا ہے (فَاسْاَلْ بِہِ خَبِیرًا)۔ درحقیقت یہ جملہ گزشتہ آیات کا ایک نتیجہ ہے جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اے رسول! تو انھیں بتا دے کہ میں تم سے اجر رسالت نہیں مانگتا اور اس خدا پر بھروسہ رکھ جو ان تمام صفات کا جامع ہے۔ وہ قادر بھی ہے اور رحمن بھی، علیم بھی ہے اور خبیر بھی اور جو خدا ان صفات کا مالک ہے اسی خدا سے سب کچھ طلب کر۔ مفسرین نے اس جملے کی کچھ اور تفسیریں بھی کی ہیں اور یہاں پر سوال کرنے کو پوچھنے کے معنی میں لیا ہے نہ کہ مانگنے اور درخواست کرنے کے معنیٰ میں۔ ان کے کہنے کے مطابق اس جملے کا مفہوم یہ ہو گا "اگر تخلیقِ کائنات اور قدرتِ پروردگار کے بارے میں سوال کرنا چاہتے ہو تو خود اسی سے پوچھو کیونکہ وہ ہر چیز سے با خبر ہے"۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ سوال کامعنیٰ پوچھنا ہے اور"خبیر" سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں یا حضرت محمد مصطفیٰ ہیں یعنی اگر خدا کی صفات کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو تو جبرائیل سے پوچھو یا حضرت رسالت مآب سے۔ البتہ یہ آخری تفسیر بہت ہی بعید معلوم ہوتی ہے اور اس سے پہلے والی تفسیر بھی گزشتہ آیات سے چنداں مناسبت نہیں رکھتی۔ سب سے پہلی تفسیر یعنی سوال سے مراد خدا سے مانگنے اور اس سے درخواست کرنے کے ہیں، یہی زیادہ مناسب ہے۔ [اس تفسیر کے مطابق "بہ" میں "ب" زائدہ ہے۔ لیکن دوسری تفاسیر کے مطابق "ب"، "عن" کے معنیٰ میں ہے]۔
چند اہم نکات: ۱۔ اجر رسالت
ہم قرآنِ مجید کی بہت سی آیات میں پڑھتے ہیں کہ خدا کے بھیجے ہوئے انبیاء کرام علیہم السلام نے بڑی صراحت کے ساتھ اس حقیقت کو بیان کیا ہے کہ ہم اپنی رسالت و نبوت کا اجر کسی سے نہیں چاہتے بلکہ ہمارا اجر تو خدا کے پاس ہے چنانچہ سورہٴ شعراء کی آیات ۱۰۹،۱۲۷،۱۴۵،۱۶۴، اور ۱۸۰ اور اسی طرح سورہ ہود کی آیات ۲۹، اور ۵۱، سورہ یونس کی آیت ۷۲ اور سورہ ٴ سبا کی آیت ۴۷، اس بات کی شاہد ہیں اس میں شک نہیں کہ ان کا اس طرح کا مطالبہ نہ کرنا انھیں ہر قسم کے الزام اور اتہام سے بری قرار دیتا ہے اور پھر یہ کہ وہ مکمل آزادی کے ساتھ اپنے ہر قسم کے فرائض منصبی کو ادا کر سکتے ہیں کیونکہ مادی فوائد کے پیشِ نظر ممکن ہے کہ ان کی زبان نہ کھل سکتی ہو اس طرح سے یہ بات بھی ختم ہو جائے گی۔ لیکن یہ بات لائق توجہ ہے کہ اس بارے میں حضرت پیغمبر اسلام کے متعلق تین تعبیریں نظر آتی ہیں۔ پہلی تعبیر تو وہ ہے جو آیاتِ بالا میں بیان ہوئی ہے کہ: تمہاری ہدایت ہی میری اجرت ہے۔ یہ نہایت ہی قیمتی با معنیٰ اور پر کشش تعبیر ہے۔ دوسری تعبیر وہ ہے جو سورہٴ شوریٰ کی آیت ۲۳ میں بیان ہوئی ہے کہ: قل لا اسئکم علیہ اجراً الّا المودّة فی القربیٰ میں تم سے کوئی اجر رسالت نہیں مانگتا مگر یہ کہ تم میرے قریبوں سے محبت رکھو۔ تیسری تعبیر وہ ہے جو سورہ سباکی آیت ۴۷ میں بیان ہوئی ہے:۔ قل ماسئلتکم من اجر فھو لکم ان اجری الا علی اللہ آپ ان سے کہہ دیجئے! میں نے جو اجر رسالت طلب کیا ہے وہ تمہارے ہی فائدے میں ہے میرا اجر تو صرف خدا پر ہے۔ اگر ان تینوں تعبیروں کو باہم ملایا جائے تو اس سے یہ نتیجہ نکلے گا کہ اگر رسالت مآب کے بارے میں ذوی القربیٰ کی مودت اجر رسالت قرار پائی ہے تو ایک تو اس کا مفاد خود مومنین کو ہی پہنچتا ہے نہ کہ پیغمبر کو اور دوسرے یہ محبت ان کی ہدایت کا سبب بنتی ہے۔ بنابریں، یہ تمام آیات مجموعی طور پر ظاہر کرتی ہیں کہ رسول خدا کے ذوی القربیٰ کی محبت درحقیقت آنحضرت کی رسالت اور رہبری کا تسلسل ہے دوسرے لفظوں میں حضرت رسول اکرم کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے اور آپ کی ہدایت اور راہبری کو دوام بخشنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ کے ذوی القربیٰ کا دامن مضبوطی سے پکڑا جائے اور ان کی راہبری سے بھر پور فائدہ اٹھایا جائے اور یہی وہ چیز ہے جس کی شیعہ حضرات مسئلہ امامت میں طرفداری کرتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ بعد از پیغمبر اکرم رہبری کا سلسلہ تا قیامت جاری ہے البتہ نبوت کی شکل میں نہیں بلکہ امامت کے عنوان سے۔ اس نکتے کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ اتباع اور پیروی کے لئے محبت ایک اہم اور موٴثر عامل ہے جیسا کہ سورہٴ آلِ عمران کی آیت ۳۱ میں ہے: قل ان کنتم تحبّون اللہ فاتبعونی "اے پیغمبر! آپ کہہ دیجئے کہ اگر خدا کو دوست رکھنا چاہتے تو میری اتباع کرو"۔ اس لئے کہ میں اس کے فرمان تم تک پہنچاتا ہوں۔ اصولی طور پر کسی شخص کے ساتھ محبت، انسان کو اس کے محبوب کی طرف کھینچ کے لے جاتی ہے اور محبت کا رشتہ جتنا قوی ہو گا یہ کشش بھی اسی قدر محکم ہو گی۔ خاص کر جس محبت کاسبب محبوب یہ کمال اس بات کا باعث ہو گا کہ انسان کوشش کر کے خود کو کمال کے اس مبداء تک پہنچائے گا اور محبوب کی ہر تمنا پوری کر کے خود کو اس کے زیادہ سے زیادہ نزدیک کر دے گا۔ [مزید وضاحت کے لیے تفسیر نمونہ جلد دوم سورہ آلِ عمران آیت 31 کے ذیل میں رجوع کریں]۔
2۔ کس پر بھروسہ کرنا چاہئیے؟
آیاتِ بالا میں جہاں خدا تعالیٰ اپنے پیغمبر کو دوسری تمام مخلوقات سے منہ پھیر کر صرف خدا کی ذات پر توکل کرنے کا حکم دے رہا ہے وہاں پر اس پاک ذات کی صفات کا بھی ذکر فرما رہا ہے جو دراصل اس ذات کی بنیادی شرائط ہیں جو انسانوں کے لئے حقیقی اور قابل اطمینان پناہ گاہ بن سکتی ہے۔جو دراصل، اس ذات کی بنیادی شرائط ہیں جو انسانوں کے لیے حقیقی اور قابلِ اطمینان پناہ گاہ بن سکتی ہے۔ پہلی شرط یہ ہے کہ وہ زندہ ہو، کیونکہ بتوں کی مانند مردہ چیز کسی کے لئے جائے پناہ نہیں ہو سکتی۔ دوسری شرط یہ ہے کہ یہ حیات جاودانی ہو تاکہ اس کی موت کا احتمال توکل کرنے والوں کے ذہن میں تزلزل پیدا نہ کر دے۔ تیسری شرط یہ ہے کہ اس کا علم تمام چیزوں پر حاوی ہو تاکہ وہ توکل کرنے والوں کی ضروریات سے با خبر رہے اور دشمنوں کی چالوں اور سازشوں سے بھی مطلع رہے۔ چوتھی شرط یہ ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہو تاکہ اس طرح سے کسی قسم کے عجز اور ناتوانی کا امکان باقی نہ رہے کیونکہ اس سے توکل کرنے والوں کے دل متزلزل ہو جاتے ہیں۔ پانچویں شرط یہ ہے کہ کائنات کی حاکمیت اور نظامِ امور اس کے قبضہ ٴ قدرت میں ہو۔ ہر ایک کو معلوم ہے کہ یہ صفات صرف اور صرف خداوندِ عالم کی ذاتِ والا صفات ہی میں جمع ہیں یہی وجہ ہے کہ ہر طوفانِ حوادث کے مقابلے میں قابلِ اطمینان اور غیر متزلزل جائے پناہ اور تکیہ گاہ صرف اور صرف اس کی ذات ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 62 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 62 کے تحت ملاحظہ کریں۔
آسمانی برج
Tafsīr Nemūna · Vol. 4چونکہ گزشتہ آیات میں خداوندِ عالم کی عظمت، قدرت اور وسعتِ رحمت کے بارے میں گفتگو تھی لہٰذا زیرِ نظر آیات میں فرمایا گیا ہے: جب ان سے کہا جاتا ہے: جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس رحمن خدا کو سجدہ کرو جس کی رحمت نے تمہارے سارے وجود کو ڈھانپا ہوا ہے تو وہ تکبّر اور غرور یا ٹھٹھا مذاق سے کہتے ہیں رحمن کیا چیز ہے؟ (وَإِذَا قِیلَ لَھُمْ اسْجُدُوا لِلرَّحْمَانِ قَالُوا وَمَا الرَّحْمَانُ)۔ "رحمن" کو قطعاً نہیں پہچانتے اس کلمہ کا مفہوم ہمارے لئے واضح نہیں ہے۔ "کیا ہم ایسی چیز کو سجدہ کریں جس کا تو ہمیں حکم دیتا ہے" (اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا)۔ ہم کسی کا حکم نہیں مانیں گے اور کسی ایسے ویسے کی اطاعت نہیں کریں گے۔ وہ یہ بات کرتے ہیں اور خداوندِ عالم سے ان کی نفرت اور دوری میں اضافہ ہو جاتا ہے (وَزَادَھُمْ نُفُورًا)۔ اس میں شک نہیں کہ خدا کے حضور خشوع و خضوع کے اظہار اور سجدہ کی ادائیگی کی دعوت کے لئے خدا کے ناموں میں سے بہترین اور پر کشش کام "رحمن" ہے۔ جس میں رحمت کا معنیٰ اپنے جامع اور وسیع مفہوم کے ساتھ پایا جاتا ہے لیکن یہ دل کے اندھے اور متعصب بجائے اس کے کہ اس دعوت کا کوئی مثبت جواب دیتے الٹا اس دعوت کا مذاق اڑانے لگے اور حقارت کے ساتھ کہنے لگے کہ رحمن کیا چیز ہے؟ (سورہ شعراء آیت ۲۳) ایسے لوگ اتنا بھی نہیں کرتے کہ کہیں "وہ کون ہے؟" اگرچہ بعض مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت کے عربوں کو اس بات کا قطعاً علم نہیں تھا کہ "رحمن" بھی خدا کے ناموں میں سے ایک نام ہے چنانچہ جب انھوں نے یہ نام آنحضرت کی زبان سے سنا تو تعجب سے کہنے لگے کہ "ہم کسی کو رحمن کے نام سے نہیں پہچانتے ہاں البتہ یمامہ میں ایک شخص رہتا ہے جس کا نام رحمن ہے۔ (ان کی مراد نبّوت کا جھوٹا مدعی مسیلہ کذّاب تھا جسے لوگ "رحمن" کہتے تھے)۔ لیکن یہ بات بہت ہی بعید نظر آتی ہے کیونکہ اس نام کا مادہ اور صیغہ دونوں عربی ہیں اور حضرت رسالتمآب ان کے سامنے ہر صورت کے آغاز میں "بسم اللہ الرحمن الرحیم" کہا کرتے تھے اور یہ کلمہ ان کے لئے کوئی اجنبی نہیں تھا لہٰذا ان کا مقصد بہانہ طرازی اور مذاق اڑانے کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔ بعد والا جملہ اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں: کیا ہم تیری اطاعت کریں اور تیرے کہنے کے مطابق سجدہ کریں (انسجد لما تاٴمرنا)۔ لیکن چونکہ خدائی رہبروں کی تبلیغ صرف آمادہ دلوں پر ہی اثر کرتی ہے اور دل کے اندھے اور متعصّب لوگ اس سے نہ صرف یہ کہ بہرہ اندوز نہیں ہوتے بلکہ ان کی نفرت میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے کیونکہ آیاتِ قرآنی بھی بارانِ نعمت کی طرح ہوتی ہیں جو باغ میں تو سبزہ اور پھولوں کی افزائش کا سبب بنتی ہے اور شورہ زار زمین میں خس و خاشاک کی روئیدگی کا۔ [بنابریں، "زاد" کا فاعل وہی سجدہ کا حکم دیتا ہے جس نے دل کے ان بیماروں پر الٹا اثر کیا ہے ہر چند کہ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس کے بعد پیغمبر اکرم اور مومنین نے سجدہ کیا اور یہ بات ان کی مزید دوری کا سبب بن گئی اس لئے "زاد" کا فاعل سجدہ ہے لیکن پہلا معنیٰ زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے]۔ بعد والی آیت درحقیقت ان کے اس سوال کا جواب ہے جو وہ کہتے تھے "رحمن" کیا چیز ہے؟ اگرچہ انھوں نے یہ بات تمسخر کے طور پر کہی تھی لیکن قرآن اس کا سنجیدگی سے جواب دیتے ہوئے کہتا ہے: با برکت اور صاحبِ عظمت ہے وہ خدا جس نے آسمانوں میں بُرج بنائے ہیں (تَبَارَکَ الَّذِی جَعَلَ فِی السَّمَاءِ بُرُوجًا)۔ "بروج" "برج" کی جمع ہے جو ظہور یعنی ظاہر ہونے کے معنیٰ میں ہے لہٰذا شہر کی چار دیواری یا فوجی مرکز کے اطراف کی دیوار میں جو جگہ سب سے بلند اور نمایاں ہوتی ہے اسے "برج" کہتے ہیں اِسی بناء پر جب عورت اپنی زینت اور آرائش کو نمایاں کرتی ہے تو اس وقت "تبرجت المراٴة" کہتے ہیں۔ اور یہی کلمہ بلند و بالا محلات کے لئے بھی بولا جاتا ہے۔ بہرحال، آسمانی بروج، فلک کی مخصوص صورتوں کی طرف اشارہ ہے کہ سال کے ہر موسم اور ہر موقع پر چاند اور سورج ان میں سے کسی نہ کسی کے مقابل ہوتے ہیں مثلاً جب کہا جاتا ہے کہ سورج بُرجِ حمل میں ہوتا ہے تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ مذکرہ بُرج کی صورت فلکی کے برابر واقع ہے یا جب کہتے ہیں کہ قمر در عقرب ہے تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ کرّہ ماہ عقرب کی صورت فلکی کے سامنے ہے (فلکی صورتیں ستاروں کے ان مجموعوں کو کہتے ہیں جو ہمیں خاص صورتوں میں دکھائی دیتے ہیں)۔ اس طرح سے یہ چاند اور سورج کی آسمانی منزلوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے اور اس کے بعد کہتی ہے: اور ان برجوں میں روشن چراغ اور ضیا پاش چاند بنایا ہے(وَجَعَلَ فِیھَا سِرَاجًا وَقَمَرًا مُنِیرًا)۔ [تفسیرِ بالا کے مطابق "فیھا" کی ضمیر "سماء" کی طرف لوٹ رہی ہے اور ہونا بھی ایسا ہی چاہئیے کیونکہ اہم موضوع تو ایک مخصوص نظام کے تحت بروج میں سورج اور چاند کی گردش ہے۔ نہ صرف آسمان میں برجوں کی موجودگی]۔ یہ آیت درحقیقت آسمان میں چاند اور سورج کی صحیح صحیح رفتار اور ان کے جچے تلے نظام کو واضح کر رہی ہے (البتہ ہماری نگاہ میں یہ تبدیلیاں درحقیقت سورج کے گرد زمین کے چکر لگانے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں) اور یہ نظام اس قدر صحیح اور منظّم ہے جو لاکھوں کروڑوں سال سے کسی کم و کاست کے بغیر اس کائنات پر حکم فرما ہے حتیٰ کہ با خبر منجمین آج سے سیکڑوں سال بعد تک کی سورج اور چاند کی حرکت کے بارے میں ایک مقررہ دن اور مقررہ ساعت کی پیشین گوئی کر سکتے ہیں، ان عظیم آسمانی کرّوں پر حکم فرمایہ نظامِ پروردگارِ عالم کے مدبر، عالم اور صاحبِ حکمت ہونے پر دلالت کر رہا ہے۔ آیا ان واضح نشانیوں اور چاند اور سورج کی حیرت انگیز منازل کے با وجود بھی اسے نہیں پہچانتے اور کہتے ہو "وما الرحمان"۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سورج کو "سراج" ایسے چراغ کے معنیٰ میں ہوتا ہے جس کی روشنی خود اس کے اندر سے پیدا ہوتی ہے اور یہ تعریف سورج کی کیفیت سے مطابقت رکھتی ہے۔ کیونکہ سائنسی تحقیقات کے مطابق سورج کا نور اس کے اپنے وجود سے ہے۔ بر خلاف چاند کے، کیونکہ اس کا نور سورج کی بدولت ہے۔ لہٰذا قمر کو منیر (روشنی دینے والا) کی صفت سے موصوف کیا گیا ہے ہر چند کہ اس کا نور دوسرے کامرہونِ منت ہے۔(اس بارے میں تفسیرِ نمونہ کی آٹھویں جلد میں سورہٴ یونس کی پانچویں اور چھٹی آیت کے ذیل میں تفصیل سے گفتگو کی جا چکی ہے)۔ زیرِ نظر آخری آیت میں ایک بار پھر خداوندِ عالم کی صفات کا تذکرہ کیا گیا ہے اور نظامِ کائنات کے ایک اور حصّے کو بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: "خدا تو وہ ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین مقرر فرمایا ہے یہ ان لوگوں کے لئے جو اللہ کو یاد کرنا چاہتے ہیں یا شکر بجا لانا چاہتے ہیں" (وَھُوَ الَّذِی جَعَلَ اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ خِلْفَةً لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یَذَّکَّرَ اَوْ اَرَادَ شُکُورًا)۔ شب و روز پر حاکم یہ عجیب اور حیرت انگیز نظام کہ ہمیشہ رات اور دن ایک دوسرے کے قائم مقام ہوتے ہیں لاکھوں کروڑوں سال سے چلا آ رہا ہے اگر یہ نظم و نسق نہ ہوتا تو نور اور حرارت یا تاریکی ظلمت کی وجہ سے انسانی زندگی تباہ اور برباد ہو کر رہ جاتی، جو لوگ خدا کی معرفت حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کے لئے یہ ایک اچھی اور عمدہ دلیل ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ سورج کے گرد زمین کی گردش کرنے کی وجہ سے رات اور دن پیدا ہوتے رہتے ہیں اور یہ تدریجی اور منظّم تبدیلی کہ جس سے دائماً ایک میں کمی اور دوسرے میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ زمین اپنے محور کے گرد اپنے مدار پر گھومتی رہتی ہے جس سے چار موسم پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ہماری زمین کا کرّہ اپنی موجودہ حرکت سے زیادہ تیز یا آہستہ حرکت کرتا تو پہلی صورت میں راتیں لمبی ہوتیں جس سے دنیا کی ہر چیز منجمد ہو کر رہ جاتی اور دن اس قدر طویل ہوتے کہ سورج کی چمک تمام چیزوں کو جلا کر رکھ دیتی اور دوسری صورت میں شب و روز کا مختصر فاصلہ ان کی تمام تاثیر کو بے اثر بنا دیتا۔ اس کے علاوہ مرکز سے گریز کی طاقت میں اس قدر اضافہ ہو جاتا کہ وہ روئے زمین پر موجود تمام چیزوں کو کرّہ ارضی سے باہر پھینک دیتی۔ خلاصہ کلام یہ کہ اس نظام کا مطالعہ ایک تو انسان کے اندر خدا شناسی کے فطرت کو بیدار کرتا ہے (شاید"یادِ خدا" کا اشارہ بھی اس حقیقت کی طرف ہے) دوسرے اس کے اندر شکر گزاری کی روح کو زندہ کرتا ہے جس کی طرف "او اراد شکوراً" کے جملے سے اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ اس آیت کی تفسیر میں حضرت رسالتمآب اور آئمہ اطہار علیہم السلام سے کچھ روایات ذکر ہوئی ہیں۔ ان میں سے کچھ یہ ہیں: رات اور دن کا ایک دوسرے کا جانشین ہونا، اس لئے ہے کہ اگر انسان ان میں سے کسی ایک میں اپنے عبادتِ الٰہی جیسے فریضے میں کوتاہی کرے تو دوسرے میں اس کی تلافی یا قضا کر لے۔ ممکن ہے کہ یہ آیت کی دوسری تفسیر ہو چونکہ قرآنی آیات کے کئی باطنی مفاہیم ہوتے ہیں لہٰذا اس کا پہلے معنیٰ سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک حدیث میں ہے: "جو عبادت یا اطاعت تم سے رات کو چھوٹ جائے اس کی دن میں قضا کر لیا کرو، کیونکہ خداوندِ عالم فرماتا ہے: وھو الذی جعل الیل و النھار خلفة لمن اراد ان یذکر او اراد شکوراً یعنی انسان اپنے رات کے چھوٹے ہوئے فرائض کو دن میں اور دن کے چھوٹے ہوئے فرائض کو رات کے وقت بجا لائے۔ [تفسیر نور الثقلین جلد ۳، اسی آیت کے ذیل میں بحوالہ "من لا یحضر الفقیہ"]۔ اِسی طرح کی روایت فخر الدین رازی نے بھی حضرت رسولِ پاک سے نقل کی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 67 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 67 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 67 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 67 کے تحت ملاحظہ کریں۔
خدا کے خاص بندوں کے صفات
Tafsīr Nemūna · Vol. 4ان آیات کے بعد "عباد الرحمن" کے عنوان کے تحت خداوندِ عالم کے خاص بندوں کی خاص خاص صفات کے بارے میں دلچسپ اور جامع گفتگو کی جا رہی ہے، جو در حقیقت گزشتہ آیات کی تکمیل کر رہی ہے کہ جب ہٹ دھرم مشرکین کے سامنے خداوندِ رحمن کا نام لیا جاتا تو وہ تمسخر اور استہزاء کے طور پر کہتے کہ "رحمن کیا چیز ہے؟" اور ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ قرآن مجید نے دو آیات میں انھیں خداوندِ رحمن کا تعارف کروایا ہے۔ اس مقام پر خداوندِ رحمن کے خاص بندوں کا ذکر ہے اور رحمن کے ان خاص بندوں کا تعارف کروایا جا رہا ہے اور جب اس کے بندے اس قدر عالم اور با عظمت مقام کے مالک ہیں تو خدائے رحمن کس قدر عظمت کا مالک ہوگا؟ اس طرح سے اس کی عظمت کو بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ آیات ان کی بارہ صفات بیان کر رہی ہیں جن میں سے کچھ کا تعلق تو عقائد سے ہے اور کچھ کا اخلاق سے۔ بعض کا تعلق معاشرتی صفات سے ہے اور بعض کا انفرادی سے۔ غرضیکہ مجموعی طور پر وہ اعلیٰ انسانی خصوصیات کا پیکر ہیں۔ پہلے فرمایا گیا ہے: خدا کے خاص بندے وہ ہیں جو آرام سے اور تکبّر کے بغیر زمین پر چلتے ہیں (وَعِبَادُ الرَّحْمَانِ الَّذِینَ یَمْشُونَ عَلَی الْاٴَرْضِ ھَوْنًا)۔ ["ھون" مصدر ہے جس کا معنیٰ ہے نرمی، آہستگی اور تکبّر نہ کرنا اور یہاں پر مصدر کو اسمِ فاعل کے معنی میں تاکید کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ یعنی رحمن کے بندے ایسے ہیں گویا بذات خود وہ نرمی اور تکبر کی نفی ہیں]۔ "عباد الرحمن" کی یہ جو سب سے پہلی صفت بیان کی گئی ہے در حقیقت وہ انسان کے تمام اعمال و کردار میں تکبّر، غرور اور خود خواہی کی نفی ہے۔ حتیٰ کہ زمین پر چلنے والے میں بھی یہ نا پسندیدہ صفات ان سے ظاہر نہیں ہوتیں۔ کیونکہ اخلاقی صفات خود بخود انسان کے اعمال، گفتار اور حرکات سے ظاہر ہو جاتی ہیں یہاں تک کہ کسی شخص کی چال ڈھال سے اس کی بہت سی اخلاقی صفات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ جی ہاں! وہ متواضع ہیں اور تواضع و انکساری ایمان کی چابی ہے جبکہ غرور اور تکبر کفر کی چابی ہوتی ہے ہم نے روز مرہ کی زندگی میں اپنی آنکھوں سے دیکھا اور قرآنی آیات میں متعدد بار پڑھا ہے کہ مغرور اور متکبر لوگ اس بات کے بھی روادار نہیں تھے کہ خدائی رہبروں کی باتوں کو سن ہی لیں وہ حقائق کا منہ چڑا کر ان کا تمسخر اڑاتے۔ جو لوگ صرف خود کو دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں ان کے لئے ایمان لانا ممکن نہیں۔ لیکن یہ خدائے رحمن کے مومن بندے ہیں جن کی بندگی کی سب سے پہلی علامت تواضع اور فروتنی ہے وہ اس قدر متواضع ہیں کہ تواضع ان کے بدن کے ہر حصے میں رچ بس چکی ہے یہاں تک کہ ان کے چلنے پھرنے میں بھی انکساری پائی جاتی ہے۔ اگر ہم دیکھتے ہیں کہ خداوندِ عالم ذیل کا اہم حکم اپنے پیغمبر کو دیتا ہے تو صرف اس لئے کہ تواضع ایمان کی جان ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے: لاتمش فی الارض مرحاً انّک لن تخرق الارض ولن تبلغ الجبال طولاً زمین پر اکڑ کر اور غرور و تکبر کے ساتھ مت چلو کیونکہ نہ تو زمین کو تم شگافتہ کر سکتے ہو اور نہ ہی تمہارے قد کی لمبائی پہاڑوں تک پہنچ سکتی ہے۔ (بنی سرائیل۔۳۷) حقیقت یہ ہے کہ اگر انسان اپنے اور کائنات کے بارے میں تھوڑی سی بھی معلومات رکھتا ہو تو اسے معلوم ہوگا کہ وہ اس قدر عظیم کائنات کے مقابلے میں کس قدر حقیر اور نا چیز ہے؟ حتی کہ اگر اس کی گردن پہاڑوں جتنی اونچی ہو جائے پھر بھی وہ زمین کے برابر نہیں ہو سکتی کیونکہ دنیا کے اونچے سے اونچے پہاڑ بھی زمین کے عظمت کے سامنے ایسے ہیں جیسے مالٹے کی نسبت اس کا چھلکا ہوتا ہے جبکہ اس عظیم کہکشاں کے مقابلے میں زمین کی حیثیت ایک ناچیز ذرّے کی سی ہے۔ تو کیا اس حالت میں انسان کا تکبّر اور غرور اس کی مطلق جہالت اور نادانی کی دلیل نہیں؟ پیغمبرِ اسلام کی ایک لائق توجہ حدیث ہے کہ آنحضرت ایک کوچہ سے گزر رہے تھے آپ نے دیکھا کہ ایک جگہ کچھ لوگ اکھٹے ہیں آپ نے ان سے اس اجتماع کا سبب دریافت کیا تو لوگوں نے عرض کی جناب! یہاں ایک دیوانہ ہے جس نے اپنی دیوانگی اور مجنونہ حرکات سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہوا ہے تو آپ نے سب لوگوں کو اپنی طرف بلا کر ارشاد فرمایا: "آیا چاہتے ہو کہ میں تمہیں حقیقی دیوانے سے متعارف کراوں؟" سب لوگ خا موش ہو گئے اور ہمہ تن گوش ہو کر آپ کا ارشاد سننے لگے، آپ نے فرمایا: المتبختر فی مشیہ الناظر فی عطفیہ، المحرک جنبیہ بمنکبیہ الذی لا یرجی خیرہ ولا یوٴمن شرہ، فذالک المجنون و ھٰذا مبتلی جو غرور کی بناء پر مٹک مٹک کر چلتا ہے بار بار دائیں بائیں دیکھتا ہے، پہلو اور کولہوں کو مٹکا مٹکا کر قدم اٹھاتا ہے (اپنے علاوہ کسی پر اس کی نگاہ نہیں اٹھتی، اپنے سوا کسی کے بارے سوچتا نہیں) لوگوں کو جس سے خیر کی امید نہ ہو، اس کی برائی سے محفوظ نہ ہوں، وہ ہوتا ہے حقیقی دیوانہ۔ رہا یہ شخص تو یہ بیچارہ بیمار ہے (دیوانہ نہیں)۔ "عباد الرحمن" کی دوسری صفت حلم اور بردباری ہے جیسا کہ قرآنِ مجید اسی آیت میں آگے چل کر کہتا ہے: جب جاہل لوگ انھیں مخاطب کرتے ہیں اور اپنی جہالت و نادانی کی وجہ سے نا شائستہ باتیں کرتے ہیں تو وہ جواب میں انھیں "سلام" کہتے ہیں۔ (وَإِذَا خَاطَبَھُمْ الْجَاھِلُونَ قَالُوا سَلَامًا)۔ ایسا سلام جو بے پروائی اور بزرگواری پر مشتمل ہوتا ہے نہ کہ کمزوری پر۔ ایسا سلام جو جاہلوں اور نادانوں کے ساتھ عدم مقابلہ کی دلیل ہوتا ہے۔ ایسا سلام جو ان کی بے مقصد باتوں کے جواب میں خاموشی پر مبنی ہوتا ہے۔ ایسا سلام نہیں جو محبت اور دوستی کی علامت ہوتا ہے۔ المختصر ایسا سلام جو حلم و بردباری اور عظمت و بزرگواری کی علامت ہوتا ہے۔ ہاں تو ان کی با عظمت روحانی صفات میں سے ایک صفت تحمل اور حوصلہ ہے جس کے بغیر کوئی بھی انسان خداوندِ عالم کی عبودیت اور بندگی کے نشیب و فراز پر مشتمل دشوار گزار راستہ طے نہیں کر سکتا۔ خا ص کر ایسے معاشروں میں جہاں فاسد اور مفسد، جاہل اور نادان افراد کی فراوانی ہو۔ دوسری آیت میں ان "عباد الرحمن" کی تیسری صفت بیان کی گئی ہے اور وہ ہے خداوندِ عالم کی خالص عبادت، ارشاد ہوتا ہے: وہ ایسے لوگ ہیں جو رات کے وقت اپنے پروردگار کے حضور سجدہ اور قیام کرتے ہیں (وَالَّذِینَ یَبِیتُونَ لِرَبِّھِمْ سُجَّدًا وَقِیَامًا)۔ رات کی تاریکی میں جبکہ غافلوں کی آنکھیں سوئی ہوتی ہیں، ظاہر داری اور ریا کاری کا کوئی موقع نہیں ہوتا میٹھی نیند کو اپنے اوپر حرام کر کے اس سے بھی شیریں چیز یعنی ذکرِ خدا، قیام اور اس کی با عظمت بارگاہ میں سجدہ کرنے میں مشغول ہو جاتے ہیں رات کا کچھ حصہ اپنے محبوب کے ساتھ راز و نیاز اور مناجات میں گزار دیتے ہیں اور اپنے قلب و روح کو اس کی یاد اور نام سے منور کرتے ہیں۔ اگرچہ "یبیتون" کا لفظ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ساری رات سجدے اور قیام میں گزار دیتے ہیں لیکن واضح ہے کہ اس سے مراد رات کا ایک بڑا حصہ ہے اور اگر تمام رات مراد ہو تو ایسا اتفاق کبھی ہو جاتا ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی بتاتے چلیں کہ "سجود" کو "قیام" پر مقدم کرنے کی وجہ اس کی اہمیت ہے اگرچہ نماز میں عملی طور پر قیام مقدم ہوتا ہے۔ [توجہ رہے کہ "سجّد"، "ساجد" کی جمع ہے اور "قیام"، "قائم" کی]۔ ان بندگان خدا کی چوتھی صفت عذابِ الہٰی سے خوف ہے "وہ ایسے لوگ ہیں جو ہمیشہ کہتے رہتے ہیں پروردگار! ہم سے جہنم کا عذاب دور رکھ کیونکہ اس کا عذاب سخت اور دائمی ہے" (وَالَّذِینَ یَقُولُونَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَھَنَّمَ إِنَّ عَذَابَھَا کَانَ غَرَامًا)۔ "کیونکہ جہنم برا ٹھکانا اور بد ترین اقامات گاہ ہے" (إِنَّھَا سَائَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا)۔ با وجودیکہ وہ لوگ رات کو عبادتِ خدا میں مشغول ہوتے ہیں اور دن کے وقت اپنے فرائض انجام دیتے رہتے ہیں پھر بھی ان کے دل احساسِ ذمّہ داری کی بناء پر خوفِ خدا سے معمور رہتے ہیں اور یہ خوف ایسا ہوتا ہے جس سے فریضے کی ادائیگی بہتر اور موٴثر انداز میں ہوتی ہے۔ وہ ایسا خوف ہوتا ہے جو ایک طاقتور پولیس کی مانند باطن سے انسان کو کنٹرول کرتا ہے چنانچہ اس خوف کی وجہ سے انسان کسی نگران کے بغیر اپنے فرائض احسن طور پر انجام دیتا رہتا ہے اور پھر بھی اپنے آپ کو بارگاہِ رب العزت میں قصور وار سجھتا ہے۔ "غرام" در اصل ایسی مصیبت اور سخت پریشانی کے معنیٰ میں آتا ہے جس سے چھٹکارا مشکل ہوتا ہے اگر قرض خواہ کو "غریم" کہتے ہیں تو اس کی وجہ بھی یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنا حق حاصل کرنے کے لئے ہمیشہ مقروض سے چمٹا رہتا ہے اس عشق اور قلبی تعلق کو بھی "غرام" کہتے ہیں جس کی وجہ سے انسان کسی کام یا کسی چیز کے پیچھے لگا رہتا ہے اور جہنم کے لئے اس لفظ کا اطلاق اس لئے ہوتا ہے کہ اس کا عذاب سخت، مسلسل اور دائمی ہوتا ہے۔ "مستقر" اور "مقام" کا فرق شاید اس وجہ سے ہے جہنم کفار کے لئے ہمیشہ کی اقامت گاہ (مقام) ہے اور مومنین کے لئے محدود عرصے کے لئے رہائش گاہ (مستقر) ہے۔ اس طرح سے دونوں قسم کے لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو جہنم میں وارد ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ دوزخ برا ٹھکانا اور بد ترین اقامت گاہ ہے، کہاں جلانے والی آگ اور کہاں آرام و اطمینان اور سکون؟ کہاں قاتل شعلے اور کہاں آرام و آسائش؟ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ "مستقر" اور "مقام" دونوں کا ایک ہی معنیٰ ہو جو دوزخ کے عذاب کے دوام اور ہمیشگی پر تاکیدی حیثیت رکھتا ہے ٹھیک بہشت کے مقابل جس کے بارے میں ہم انہی آیات ہی میں پڑھیں گے کہ: خالدین فیھا حسنت مستقراً و مقاماً مومنین ہمیشہ بہشتی محلات میں رہیں گے کیا بہترین ٹھکانا اور کیسی شاندار اقامت گاہ ہوگی۔ ( فرقان۔۷۶) زیرِ بحث آیات میں سے آخری آیت میں "عباد الرحمن" کی پانچویں صفت بتائی جا رہی ہے جو اعتدال پر مبنی اور ہر کام میں ہر قسم کے افراط و تفریط سے دوری ہے خاص کر خرچ کرنے کے معاملے میں اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: خدا کے بندے وہ ہیں جو خرچ کرتے وقت نہ تو اسراف کرتے ہیں نہ ہی سختی سے کام لیتے ہیں بلکہ ان دونوں حالتوں کے درمیان حد اعتدال قائم کرتے ہیں (وَالَّذِینَ إِذَا اَنفَقُوا لَمْ یُسْرِفُوا وَلَمْ یَقْتُرُوا وَکَانَ بَیْنَ ذَلِکَ قَوَامًا)۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ قرآن بذاتہ خرچ کرنے کو تسلیم کرتا ہے اور تسلیم بھی اس حد تک کہ اس کے ذکر کی بھی ضرورت محسوس نہیں کرتا کیونکہ اتفاق ہر انسان کو حتمی فریضہ ہے لہٰذا گفتگو میں خدا کے بندوں کے انفاق کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ان کا انفاق بھی اعتدال کی حد تک ہوتا ہے جس میں نہ تو فضول خرچی ہوتی ہے اور نہ سخت گیری۔ نہ تو اس قدر خرچ کر ڈالتے ہیں کہ خود ان کی بیوی بچے بھوکے رہ جاتے ہوں اور نہ ہی اس قدر سختی سے کام لیتے ہیں کہ دوسرے لوگ ان کی بخشش سے محروم رہ جاتے ہوں۔ "اسراف" اور "اقتار" جو ایک دوسرے کے متضاد ہیں کی تفسیر کے بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ ان سب کی بحث کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ "اسراف" یہ ہوتا ہے کہ کسی چیز کو حد سے زیادہ نا حق و بے جا خرچ کیا جائے اور "اقتار" یہ ہوتا ہے کہ کسی چیز کو اپنے حق اور ضروری مقدار سے کم خرچ کیا جائے۔ ایک روایت میں اسراف، اقتار اور اعتدال کے لئے بہترین اور دلکش تشبیہ بیان کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ:۔ ایک مرتبہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس آیت کی تلاوت فرمائی اور زمین سے ایک مٹھی میں سنگریزے لیے اور پھر مٹھی کو خوب بند کر لیا اور فرمایا یہ "اقتار" پھر ایک اور مٹھی میں سنگریزے لئے اور ہاتھ کو اس قدر کھول دیا کہ تمام سنگریزے ہاتھ سے جاتے رہے فرمایا: اسے اسراف کہتے ہیں اور تیسری مرتبہ مٹھی میں سنگریزے لئے اور تھوڑا سا اسے کھولا جس سے کچھ تو زمین پر آ گرے اور کچھ ہاتھ میں باقی رہ گئے، فرمایا: یہ "قوام" ہے۔ [تفسیر نور الثقلین جلد ۴، ص ۲۹، بحوالہ اصول کافی]۔ "قوام" ("عوام" کے وزن پر) کا لفظ لغت میں عدالت، استقامت اور کسی چیز کی حدّ وسط کے معنی میں ہے اور "قوام" (کتاب کے وزن پر) کا لفظ اس چیز کے معنیٰ میں ہے جو قیام اور استقرار کی وجہ بنتی ہے۔
چند اہم نکات: ۱۔ مومنین کا کردار
مندرجہ بالا آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ خدا کے خاص بندوں کی علامات میں سے ایک علامت "تواضع" بھی ہے ایسی تواضع جو ان کی روح پر بھی حکمران ہو حتیٰ کہ چلتے وقت ان کی رفتار سے بھی ظاہر ہو۔ ایسی تواضع جو انھیں حق کے سامنے سر جھکا دینے پر آمادہ کرے۔ ہو سکتا ہے کچھ غلط فہمی میں مبتلا ہو کر تواضع کو کمزوری، ناتوانی، سستی اور کاہلی سے تعبیر کریں جو یقینا خطر ناک طرزِ فکر ہو گی۔ چلنے میں تواضع کا مقصد یہ نہیں کہ قدم ڈھیلے اور سست اٹھائے جائیں بلکہ تواضع کے ساتھ اس انداز سے محکم قدم اٹھائے جائیں کہ جس سے مستقل مزاجی اور طاقت کا اظہار ہوتا ہو۔ حضرت رسالت مآب کی سوانح میں ہے کہ ایک صحابی کہتے ہیں:۔ ما راٴیت احد اسرع فی مشیتہ من رسول اللہ کانّما الار ض تطوی لہ و انا لنجھد انفسنا و انہ لغیر مکترث میں نے چلنے میں پیغمبر خدا سے تیز رفتار نہیں دیکھا گویا زمین آپ کے قدموں میں لپٹی جاتی تھی اور ہم مشکل سے اپنے آپ کو آنحضرت کے ساتھ چلاتے تھے حالانکہ آنجناب کو اس کی قطعاً پرواہ بھی نہیں ہوتی تھی۔ ["فی ظلال القرآن" مندرجہ بالا آیت کے ذیل میں۔ تفسیر قرطبی میں بھی اس بارے میں ایک اور روایت مذکور ہے جو اسی روایت کے مشابہ ہے]۔ ایک اور حدیث میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام "الذین یمشون علی الارض ھونا" کی تفسیر کے بارے میں فرماتے ہیں:۔ و الرجل یمشی بسجیتہ التی جبل علیھا، لا یتکلف و لا یتبختر اس سے مراد یہ ہے کہ انسان فطری طریقے پر قدم اٹھائے جس میں نہ تو تکلیف ہو اور نہ ہی تکبر۔ [تفسیر مجمع البیان، مندرجہ بالا آیت کے ضمن میں]۔ سرکار رسالت مآب کے حالات میں ہے کہ: قد کان یتکفاٴ فی مشیہ کانما یمشی فی صبب جب آپ چلتے تھے تو جلد بازی کے اظہار کے بغیر تیز تیز قدم اٹھاتے اس طرح سے کہ گویا ڈھلوان کی طرف جا رہے ہوں۔ [تفسیر روح المعانی اسی آیت کے ذیل میں]۔ بہرحال، جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ فقط چلنے کی کیفیت کے بارے میں بحث نہیں ہے بلکہ اس سے کسی انسان کے حالاتِ زندگی پر بہت حد تک روشنی پڑتی ہے اور یہ آیت درحقیقت عبادِ رحمن کی روح اور بدن میں تواضع اور فروتنی کی تاثیر کی طرف اشارہ ہے۔
۲۔ بخل اور فضول خرچی
اس میں شک نہیں کہ بخل اور فضول خرچی قرآن اور اسلام کی رو سے ایک نہایت مذموم عمل ہے جس کی آیات اور روایات میں زبردست مذمت کی گئی ہے کیونکہ "اسراف" ایک فرعونی طرزِ عمل ہے: قرآن کہتا ہے: وان فرعون لعال فی الارض و انہ لمن المسرفین (یونس:۸۳) اسراف کرنے والے جہنمی ہیں، ملاحظہ ہو: و ان المسرفین ھم اصحاب النار ( موٴمن:۴۳) آج کل کی تحقیقات سے جو بات ثابت ہو چکی ہے اگر اسے مدِّ نظر رکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ زمین کے وسائل انسانی آبادی کی نسبت اس قدر زیادہ نہیں ہیں کہ انھیں اللّوں تللّوں میں ضائع کر دیا جائے۔ کیونکہ اس کا اثر دوسرے بے گناہ لوگوں پر پڑتا ہے اور ساتھ ہی اسراف میں عموماً خود خواہی، خود پسندی اور خلقِ خدا سے بیگانگی کا عنصر بھی نمایاں ہوتا ہے۔ جبکہ بخل اور خسیس پن بھی اسی قدر بری اور نا پسنددیدہ عادت ہے۔ اصولی طور پر اگر توحیدی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو ہر چیز کا اصلی مالک خداوندِ متعال ہے اور ہم سب صرف اس کی دی ہوئی امانت کے امین ہیں اور اس کی اجازت کے بغیر ہمیں کسی قسم کے تصرف اور عمل دخل کا کوئی حق حاصل نہیں اور معلوم ہو کہ اس نے نہ تو فضول خرچی کی اجازت دی ہے اور نہ ہی بخل اور کنجوسی کی۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 71 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 71 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 71 کے تحت ملاحظہ کریں۔
"عباد الرحمن" کی کچھ اور صفات
Tafsīr Nemūna · Vol. 4"عباد الرحمن" کی چھٹی خصوصی صفت توحید پر ان کا خالص ایمان ہے جو انھیں دو یا کئی چیزوں کی پرستش پر مبنی شرک سے دور رکھتا ہے۔ چنانچہ قرآن فرماتا ہے: وہ ایسے لوگ ہیں جو خدا کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے (وَالَّذِینَ لاَیَدْعُونَ مَعَ اللهِ إِلَھًا آخَرَ)۔ توحید نے ان کے قلب اور ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو روشن کر رکھا ہے جس کی وجہ ان کے روح و فکر کے آسمان عظمت سے شرک کی ہر قسم کی تاریکی کافور ہو چکی ہے۔ ساتویں صفت یہ ہے کہ عباد الرحمن بے گناہوں کے خون میں اپنے ہاتھ نہیں رنگتے اور کسی ایسے انسان کو نا حق قتل نہیں کرتے جس کا خون اللہ تعالیٰ نے حرام کر دیا ہے (وَلاَیَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِی حَرَّمَ اللهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ)۔ [مندرجہ بالا جملے میں اصطلاحی طور پر "استثنائے مفرغ" ہے جس کی تقدیر یوں ہے "ولا یقتلون النفس التی حرم اللہ بسبب من الاسباب الا بالحق"]۔ اس آیت سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ بنیادی طور پر تمام انسانی نفوس قابلِ احترام ہیں اور ان کا خون بہانا ممنوع ہے مگر یہ کہ کچھ ایسے عوامل پیدا ہو جائیں جن سے یہ احترام ثانوی حیثیت اختیار کر جائے اور خون بہانا جا ئز ہو جائے۔ ان کی آٹھویں صفت یہ ہے کہ ان کا دامانِ عفت گناہ سے آلودہ نہیں ہوتا اور وہ زنا نہیں کرتے (وَلاَیَزْنُونَ)۔ اگر وہ کفر ایمان کے دوراہے پر کھڑے ہو جاتے ہیں تو ایمان کا انتخاب کرتے ہیں اور اگر جانوں کے لئے امن اور بد امنی کا سوال در پیش ہو تو امن کا انتخاب کرتے ہیں اگر پاکیزگی اور آلودگی کی بات ہو تو پاکیزگی اختیار کرتے ہیں وہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیتے ہیں جو ہر قسم کے شرک، بدامنی، بے عفتی اور آلودگی سے صاف اور پاک ہوتا ہے۔ اسی آیت کے ذیل میں اس بات پر زور دے کر فریا گیا ہے: جو شخص ان امور میں کسی ایک کو انجام دے تو وہ اپنی سزا اور انجام دیکھ لے گا (وَمَنْ یَفْعَلْ ذَلِکَ یَلْقَ اَثَامًا)۔ "اثم" اور "اثام" دراصل ان اعمال کو کہتے ہیں جو انسان کو ثواب تک پہنچنے نہیں دیتے۔ بعد ازاں اس لفظ کا ہر قسم کے گناہ پر اطلاق ہونے لگا لیکن اس مقام پر گناہ کی سزا کے معنیٰ میں ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ "اثم" کا معنیٰ ہے "گناہ" اور "اثام" کا معنیٰ ہے "گناہ کی سزا"۔ [تفسیر فخر رازی اسی آیت کے ذیل میں]۔ اگر بعض مفسرین نے اس کا معنیٰ جہنم میں بیابان یا پہاڑ یا کنوئیں کیا ہے تو یہ اس کا ایک واضح مصداق بیان کیا گیا ہے۔ زنا کی حرمت کے فلسفے میں تفسیر نمونہ کی جلد ۱۲ میں سورہ ٴ بنی اسرائیل کی آیت ۳۳ کے ذیل میں تفصیل سے گفتگو کی گئی ہے۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں سب سے پہلے شرک، پھر قتلِ نفس اور اس کے بعد کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے۔ بعض روایات کے مطابق ان تینوں گناہوں کی بالترتیب وہی اہمیت ہے جو آیت میں آئی ہے۔ ابن مسعود روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کی خدمت میں عرض کیا: ایّ الذنب اعظم؟ قال ان تجعل للہ نداً و ھو خلقک، قال قلت ثم ایّ؟ قال ان تقتل ولدک مخافة ان یطعم معک، قال قلت ثم ایّ؟ قال ان ترانی حلیلة جارک، فانزل اللہ تصدیقھا و الذین لا یدعون مع اللہ الٰھاً۔۔۔الی آخر الآیۃ۔ سب گناہوں سے بڑھ کر کون سا گناہ ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم خدا کا شریک ٹھہراو جب کہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے۔ عرض کیا اس کے بعد؟ فرمایا یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس لئے قتل کر ڈالو کہ تمہارے کھانے میں شریک ہو جائے گی۔ عرض کیا اس کے بعد؟ فرمایا یہ کہ اپنے ہمسایہ کی بیوی سے بد کاری کرو۔ اس موقع پر خدا نے اپنے پیغمبر کی تصدیق کے طور پر یہ آیت نازل کر دی (و الذین لا یدعون مع اللہ الٰھاً آخر)۔ [مجمع البیان، اسی آیت کے ذیل میں، بحوالہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم]۔ اگرچہ اس حدیث میں قتل اور زنا کی خاص قسموں کا ذکر آیا ہے لیکن اگر مفہوم کے اطلاق پر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ قتل اور زنا کی تمام اقسام کے بارے میں ہے اور روایت میں ان کا واضح مصداق بیان ہوا ہے۔ چونکہ یہ تینوں گناہ زبردست اہمیت کے حامل ہیں لہذا بعد والی آیت بھی انہیں کے بارے میں زور دیا گیا ہے کہ جو لوگ ان گناہوں کا ارتکاب کریں گے قیامت کے دن ان کا عذاب دگنا ہو گا اور بڑی ذلت و خواری کے ساتھ عذاب میں ہمیشہ کے لئے گرفتار رہیں گے (یُضَاعَفْ لَہُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَیَخْلُدْ فِیہِ مُھَانًا)۔ اس جگہ پر دو سوال پیش آتے ہیں ایک تو یہ کہ آخر ان لوگوں کا عذاب دگنا ہو گا اور گناہ کے برابر انھیں سزا کیوں نہیں ملے گی اور آیا یہ بات عدلِ الہٰی سے مطابقت رکھتی ہے؟ دوسرے یہ کہ یہاں پر ہمیشہ کے عذاب کی گفتگو ہو رہی ہے جبکہ ہمیشگی صرف کفار کے ساتھ مخصوص ہے اور آیت میں جو تین گناہ ذکر ہوئے ہیں ان میں سے صرف ایک یعنی پہلا گناہ کفر ہے لیکن قتلِ نفس اور زنا تو خلود کا سبب نہیں بن سکتے۔ پہلے سوال کے جواب کے بارے میں مفسرین نے بہت بحث کی ہے اور جو جواب سب سے زیادہ صحیح نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ عذاب کے دگنا ہونے سے مراد یہ ہے کہ آیت میں مذکور ان تینوں گناہوں کی سزائیں علیحدہ علیحدہ ہوں گی جو مجموعی صورت میں دگنی بن جائیں گی۔ اس سے قطع نظر یہ بات بھی ہے کہ بسا اوقات ایک گناہ کئی دوسرے گناہوں کا سر چشمہ بن جاتا ہے مثلاً کفر ہی کو لے لیجئے کہ ایک گناہ ہے لیکن یہی گناہ واجبات کے ترک اور محرمات کے انجام نہ دینے کا سبب بن جاتا ہے اور یہی چیز خداوندِ عالم کی سزا کے دوگنا ہونے کا سبب بن جاتی ہے۔ اسی لئے تو بعض مفسرین نے اس آیت کو اس مشہور مسئلے پر دلیل سمجھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جس طرح کفار اصولِ دین کے لئے مکلف ہیں اسی طرح فروعِ دین کے لئے بھی مکلف ہیں: الکفار مکلفون بالفروع کما انھم مکلفون بالاصول دوسرے سوال کے جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ بعض گناہ اس قدر سخت ہوتے ہیں کہ اس دنیا سے بے ایمان ہو کر مرنے کا سبب بن جاتے ہیں جیسا کہ ہم قتلِ نفس کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد 2 سورہ نساء کی آیت ۹۳ میں بیان کر چکے ہیں۔ زنا خاص طور پر جب محصنہ (شوہر دار عورت) کے ساتھ ہو تو ممکن ہے کہ وہ بے ایمان ہونے کا سبب بن جائے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں مذکور دائمی عذاب ان لوگوں کے لئے ہو جو مذکورہ تین گناہوں کا باہم ارتکاب کریں شرک کا بھی، قتل نفس اور زنا کا بھی اور اس بات کی گواہ بعد والی آیت ہے جس میں کہا گیا ہے:۔ الا من تاب و اٰمن و عمل عملاً صالحاً مگر وہ شخص جو توبہ کرے، ایمان لے آئے اور عملِ صالح بجا لائے۔ تو اس طرح سے یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔ بعض مفسرین نے یہاں پر ہمیشگی کو ایک لمبی مدت کے معنیٰ میں لیا ہے نہ کہ ہمیشہ کی مدت کے معنیٰ میں۔ لیکن پہلی اور دوسری تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ یہاں پر ایک اور بات بھی قابلِ غور ہے اور وہ یہ ہے کہ اس آیت میں معمول کی سزا کے علاوہ ایک دوسری سزا کا ذکر بھی ہے اور وہ ہے ان گناہ گاروں کی تحقیر اور توہین، جو ایک طرح کی باطنی سزا ہے اور یہ سزا کے دگنا ہونے کی تفسیر بھی ہو سکتی ہے کیونکہ انھیں جسمانی عذاب بھی دیا جائے گا اور روحانی عذاب بھی۔ چونکہ قرآنِ مجید نے مجرمین کے لئے واپس آجانے کا راستہ بند نہیں کیا اور گناہگاروں کو توبہ کی تشویق کرتا ہے اور دعوت دیتا ہے لہٰذا بعد والی آیت میں فرمایا گیا ہے: مگر جو شخص توبہ کرے، ایمان لے آئے اور عمل صالح بجا لائے تو خداوندِ عالم اس کے گناہوں کو بخش دے گا اور ان کے برے اعمال کو نیک اعمال میں تبدیل کر دے گا اور خداوندِ عالم بخشنے والا اور مہر بان ہے (إِلاَّ مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُوْلَئِکَ یُبَدِّلُ اللهُ سَیِّئَاتِھِمْ حَسَنَاتٍ وَکَانَ اللهُ غَفُورًا رَحِیمًا)۔ جیسا کہ ابھی گزشتہ آیت میں گناہانِ کبیرہ میں سے تین گناہوں کا ذکر ہوا ہے اور ان گناہوں کے مرتکب افراد کے لئے توبہ کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہر نادم اور پشیمان انسان، توبہ کے دروازے سے اپنے خالق اور مالک کے حضور لوٹ سکتا ہے بشرطیکہ اس کی توبہ حقیقی ہو اور جیسا کہ آیت میں بیان ہوا ہے۔ اس کی علامت عملِ صالح ہے جس سے گناہوں کی تلافی کی جا سکتی ہے ورنہ صرف زبان سے استغفار یا دل میں لمحہ بھر کی پشیمانی اور پھر وہی سابقہ حالت یہ توبہ کی دلیل ہرگز نہیں ہو سکتی۔ اس بارے میں اہم اور قابلِ غور مسئلہ یہ ہے کہ خداوندِ عالم ان کے "سیئات" کو "حسنات" میں تبدیل کرتا ہے؟
سیّئات کی حسنات میں تبدیلی
اس کے بارے میں چند ایک تفسیریں ہیں جو سب کی سب ماننے کے قابل ہیں۔ ا۔ جب انسان توبہ کرتا ہے اور خدا پر ایمان لے آتا ہے تو اس کے پورے وجود میں ایک گہری تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے اور اس اندرونی انقلاب اور تبدیلی کی وجہ سے اس کے برے اعمال مستقبل میں نیک اعمال میں تبدیل ہو جاتے ہیں اگر اس نے ماضی میں کسی کو قتل کیا تھا تو اب (حقیقی توبہ کی وجہ سے) مظلوم کا دفاع اور ظالم سے اس کی جگہ لے لیتی ہے اگر سابق میں وہ زانی اور بد کار تھا تو اب وہ پاکدامن بن جائے گا اور یہ خدائی توفیق اسے ایمان اور توبہ کی بدولت حاصل ہو گی۔ ۲۔ دوسری یہ کہ خداوندِ عالم اپنی مہربانی، فضل اور احسان کی وجہ سے توبہ کے بعد اس کے تمام برے اعمال کو مٹا کر نیک اعمال کو ان کی جگہ دے دے گا جیسا کہ حضرت ابوذر غفاری رۻی اللہ عنہ پیغمبر اکرم سے روایت کرتے ہیں کہ: بروزِ قیامت ایک شخص کو لایا جائے گا اور خداوندِ عالم حکم دے گا کہ اس کے صغیرہ گناہوں کو اس کے سامنے پیش کیا جائے اور کبیرہ کو چھپایا جائے پھر اس سے کہا جائے گا کہ تونے فلاں فلاں دن فلاں فلاں صغیرہ گناہ کیا تھا اور وہ اس کا اعتراف کرے گا لیکن اس کا دل کبیرہ گناہوں کے خوف سے کانپ رہا ہو گا۔ اس مقام پر خداوندِ عالم اپنی مہربانی کی وجہ سے حکم دے گا کہ اسے ہر گناہ کے بدلے ایک نیکی دی جائے۔ وہ شخص عرض کرے گا خدا وندا! میں نے تو بڑے بڑے گناہ کئے تھے جنھیں میں یہاں پر نہیں دیکھ رہا ہوں۔ ابوذر کہتے ہیں کہ اس موقع پر آنحضرت یوں مسکرائے کہ آپ کے مبارک دانتوں کی سفیدی نمودار ہو گئی اور آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: فاولٓک یبدّل اللہ سیئاتھم حسنات[تفسیر نور الثقلین جلد 4 ص 33]۔ ۳۔ تیسری تفسیر یہ ہے کہ "سیئات" سے مراد انسان کے خود اعمال نہیں ہیں جنہیں وہ انجام دیتا ہے بلکہ اس سے مراد ان کے برے اثرات ہیں جو انسان کے جسم اور روح پر چھا جاتے ہیں اور جب وہ توبہ کرتا ہے تو وہ برے اثرات دور ہو جاتے ہیں اور ان کی جگہ اچھے اثرات لے لیتے ہیں۔ البتہ ان تینوں تفسیروں کا آپس میں کوئی تضاد نہیں بلکہ ممکن ہے کہ تینوں کی تینوں ایک مفہوم میں جمع ہوں۔ بعد والی آیت صحیح توبہ کی حقیقت کی وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہے: جو شخص توبہ کر کے اعمالِ صالح بجا لاتا ہے وہ اپنے رب کی طرف لوٹ جائے گا (اور اسی سے اپنی جزا پائے گا) (وَمَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَإِنَّہُ یَتُوبُ إِلَی اللهِ مَتَابًا)۔ ["متاب" مصدر میمی اور توبہ کے معنی میں ہے چونکہ یہاں مفعول مطلق ہے لہٰذا تاکید کے معنیٰ دے رہا ہے]۔ یعنی توبہ اور گناہوں کا ترک کرنا صرف اس وجہ سے نہ ہو کہ گناہ بری چیز ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس کی نیّت خلوص اور خوفِ خدا پر مبنی ہو۔ بنابریں، (بطورِ مثال) شراب نوشی یا دروغ گوئی کو اس وجہ سے ترک کر دینا کہ یہ بری چیزیں ہیں اگرچہ ایک اچھی بات ہے لیکن اس کی حقیقی قدر و قیمت اس وقت ہو گی جب یہ کام صرف خدا کی خوشنودی کے لئے کیا جائے۔ بعض مفسرین نے مذکورہ بالا آیت کی ایک اور تفسیر بیان کی ہے جو یہ ہے: یہ آیت دراصل اس تعجب خیز سوال کا جواب ہے جو کبھی کبھار کچھ ذہنوں میں اٹھتا ہے کہ یہ کیونکر ممکن ہے کہ خداوندِ عالم برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کر دے گا تو یہ آیت اس سوال کا جواب دے رہی ہے کہ جب انسان اپنے رب کی طرف لوٹ جائے تو یہ امر باعثِ تعجب نہیں۔ اس سلسلے میں ایک تیسری تفسیر بھی ہے اور وہ یہ کہ جو شخص گناہوں سے توبہ کرتا ہے وہ خدا اور بے حد و حساب اجر کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ اگرچہ ان تفسیروں کا آپس میں کوئی تضاد نہیں لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے خاص طور پر وہ اس روایت سے زیادہ ہم آہنگ ہے جسے علی بن ابراہیم نے اسی آیت کے ذیل میں نقل کیا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 76 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 76 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 76 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 76 کے تحت ملاحظہ کریں۔
عباد الرحمن کی جزا
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیات میں رحمن کے خاص بندوں کی کچھ خصوصیات بیان کی گئی تھیں زیر نظر آیات میں ان کی بقیہ خصوصیات کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے۔ ان (عباد الرحمن) کی نویں اہم صفت دوسروں کے حقوق کا احترام اور ان کے حقوق کی حفاظت ہے "وہ ایسے لوگ ہیں جو کبھی بھی جھوٹی گواہی نہیں دیتے" (وَالَّذِینَ لاَیَشْھَدُونَ الزُّور)۔ بزرگ مفسرین نے اس آیت کی دو طرح سے تفسیر کی ہے۔ جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں بعض مفسرین نے "شہادتِ زور" کو "جھوٹی گواہی" کے معنیٰ میں لیا ہے۔کیونکہ لغت میں "زور" کا معنیٰ انحراف اور پھرنا ہے اور چونکہ جھوٹ، باطل اور ظلم کا تعلق بھی انحرافی امور سے ہوتا ہے لہٰذا انھیں "زور" کہتے ہیں۔ شہادتِ زور (یعنی جھوٹی گواہی) کی تعبیر ہماری فقہ کی کتابِ شہادت میں اسی عنوان سے موجود ہے اور بہت سی روایات میں جھوٹی گواہی سے منع کیا گیا ہے لیکن ان روایات میں اس آیت سے استدلال کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ "شہود" سے مراد حاضر اور موجود ہونا ہے لیکن خدا کے خاص بندے لغو، باطل اور بیہودہ محفلوں میں حاضر اور موجود نہیں ہوتے۔ اہلِ بیت اطہار علیہم السلام سے منقول بعض روایات میں "زور" کو "غناء کی محفل" سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی ایسی محفل جہاں گانے گائے جائیں خواہ آلاتِ موسیقی کے ساتھ یا ان کے بغیر۔ اس میں بھی شک نہیں کہ اس قسم کی روایات کا یہ مقصد نہیں ہے کہ وہ "زور" کے ویسع مفہوم کو صرف "غناء" تک محدود کر دیں بلکہ غناء بھی اس کے بہت سے مصادیق میں سے ایک ہے اور اس کے مفہوم میں لہو و لعب، شراب نوشی، جھوٹ اور غیبت وغیرہ کی محفلیں بھی شامل ہیں۔ یہ احتمال بھی بعید نہیں ہے کہ آیت کے معنیٰ دونوں تفسیریں جمع ہوں اس صورت میں مطلب یہ ہو گا کہ خدا کے خاص بندے نہ تو جھوٹی گواہی دیتے ہیں اور نہ ہی لہو و لعب باطل اور گناہ کی محفلوں میں شرکت کرتے ہیں کیونکہ ایسی محافل میں شرکت گناہ کی تائید کرنے کے علاوہ قلب اور روح کی آلودگی کے اسباب بھی فراہم کرتی ہے۔ پھر اسی آیت کے ذیل میں خدا کے خاص بندوں کی دسویں خاص صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جب وہ لغو اور بے ہودہ کاموں کو دیکھتے ہیں تو وقار کے ساتھ وہاں سے گزر جاتے ہیں (وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا کِرَامًا)۔ درحقیقت نہ تو وہ کسی باطل اور لغوی محفل میں شرکت کرتے ہیں اور نہ ہی لغو اور بے ہودہ چیزوں میں خود کو ملوث کرتے ہیں۔ "لغو" کے معنیٰ پر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس کا اطلاق ہر اس کام پر ہوتا ہے جس کا کوئی معقول ہدف نہ ہو اور اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کے یہ خالص بندے اپنی زندگی میں ہمیشہ معقول، مفید اور تعمیری کام انجام دیتے ہیں۔ بیہودہ کاموں اور بے ہودہ لوگوں سے متنفّر ہوتے ہیں اور اگر کبھی ایسا اتفاق ہو جائے کہ انھیں کسی قسم کی بے ہودہ باتوں کا سامنا کرنا پڑ جائے تو وہ بڑی اعتنائی کے ساتھ وہاں سے گزر جاتے ہیں اور یہ بے نیازی اور بے اعتنائی اس بات کی دلیل ہوتی ہے کہ وہ باطنی طور پر ایسے کاموں سے متنفّر ہیں وہ اس قدر با عظمت اور با کردار لوگ ہیں کہ ماحول کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ ماحول کے رنگ میں رنگے جا سکتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ایسے غلیظ ماحول سے اس طرح کی بے اعتنائی اسی صورت میں ہو گی جب بد کاری سے مقابلے اور نہی عن المنکر کے لئے اس سے بہتر چارہ نہ رہ گیا ہو ورنہ کسی شک و شبہ کے بغیر وہ مردانہ وار ڈٹ جاتے ہیں اور اپنے شرعی فریضے کو آخری مرحلے تک سر انجام دیتے ہیں۔ خدا کے خاص بندوں کی ایک اور صفت یہ ہے کہ آیاتِ الہٰی کی تلاوت اور یاد کے موقع پر چشم بینا اور گوش شنوا کے مالک ہوتے ہیں، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: وہ ایسے لوگ ہیں کہ جب انہیں ان کے پروردگار کی آیات یاد لائی جاتی ہیں تو وہ بہرے اور اندھے بن کر ان پر گر نہیں پڑتے (وَالَّذِینَ إِذَا ذُکِّرُوا بِآیَاتِ رَبِّھِمْ لَمْ یَخِرُّوا عَلَیْھَا صُمًّا وَعُمْیَانًا)۔ مسلّم بات یہ ہے کہ اس سے کفّار کے عمل کی طرف اشارہ کرنا مقصود نہیں ہے کیونکہ وہ تو آیات الہٰی کی قطعاً پرواہ ہی نہیں کرتے بلکہ یا تو منافق ٹولے کی طرف اشارہ مقصود ہے یا پھر سطحی مسلمانوں کی طرف جو کانوں اور آنکھوں کو بند کر کے آیاتِ الٰہی پر گر پڑتے ہیں یعنی ان کی حقیقت کو سمجھتے نہیں اور نہ ہی ان کی تہ تک پہنچتے ہیں اور خدا کے مقصود اور مطلوب کو جانے بغیر، ان آیات میں غور و فکر کئے بغیر اور اپنے اعمال میں ان آیات سے درس لئے بغیر ان پر گر پڑتے ہیں۔ راہِ خدا کو آنکھیں اور کان بند کر کے طے نہیں کیا جا سکتا سب سے پہلے اس راستے کو طے کرنے کے لئے سننے والے کان اور دیکھنے والی آنکھ کی ضرورت ہے۔ ایسی آنکھ جو باطن کو دیکھ سکتی ہو اور گہرائیوں تک پہنچ سکتی ہو اور ایسا کان جو حساس اور نکتہ شناس ہو۔ اگر خوب غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ آنکھ اور کان بند کر کے آیاتِ الٰہی پر گر پڑنے والے لوگوں کا نقصان ان دشمنوں سے کم نہیں جو جان پہچان کر دینِ حق کی بنیادوں پر کاری ضربیں لگاتے ہیں بلکہ کئی درجے زیادہ ہوتا ہے۔ اصولی طور پر یہ بات ہے کہ مذہب سے سچی آشنائی کی وجہ سے ہی پائیداری، مستقل مزاجی کے ساتھ حوادثات کے مقابلے اور مذہب کے لئے ڈٹ جانے کا درس ملتا ہے کیونکہ جو لوگ آنکھ اور کان بند کیے دین یا مذہب کی باتوں کو قبول کر لیتے ہیں انھیں جلدی ہی دھوکا دے کر ورغلایا جا سکتا ہے اور مذہب کی تحریف کر کے انھیں مذہب کے صحیح راستے سے ہٹایا جا سکتا ہے اور آسانی سے کفر، بے ایمانی اور گمراہی کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے۔ اس قسم کے لوگ دشمن کے آلہ کار اور شیطان کا بہترین شکار ہیں، صرف گہری نظر رکھنے والے، دور اندیش اور صاحبانِ بصیرت و بصارت مومنین ہی پہاڑ کی مانند ڈٹ جاتے ہیں اور ہر ایسے ویسے کو اہمیت نہیں دیتے۔ ایک حدیث میں ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا گیا تو امام علیہ اسلام نے فرمایا: مستبصرین لیسوا بشاکّ اس سے مراد ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر اپنا قدم آگے بڑھاتے ہیں نہ کہ شک و شبہ کے ساتھ۔ [تفسیر نور الثقلین جلد ۴ ص۴۳]۔ ان سچّے مومنین کی بارہویں خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال اور افرادِ خاندان کی تربیت پر خاص توجہ رکھتے ہیں اور اس امر کے بارے میں اپنے آپ کو جوابدہ سمجھتے ہیں وہ ہمیشہ خدا سے یہی دعا کرتے ہیں کہ پروردگارا! ہماری بیویوں اور اولاد کو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنا (وَالَّذِینَ یَقُولُونَ رَبَّنَا ھَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیَّاتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ)۔ ظاہر ہے کہ اس سے مراد نہیں ہے کہ وہ ایک کونے میں بیٹھ کر دعا کرتے ہیں بلکہ یہ دعا تو ان کے اندرونی جذبوں کی دلیل اور سعی و کوشش کی علامت ہے۔ مسلم ہے ایسے لوگ جتنا بھی ان کے بس میں ہوتا ہے اولاد اور ازواج کی تربیت، انھیں اسلام کے اصول و فروع سے مطلع کرنے اور حق و عدالت کی راہ دکھانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے اور جس چیز تک ان کی رسائی نہیں ہو سکتی، اس کا اپنے مالک سے سوال کرتے ہیں اور دعا مانگتے ہیں بلکہ اصولی طور پر ہر صحیح دعا کو ایسا ہی ہونا چاہیئے کہ پہلے تو تا حدِ امکان کوشش کرنا چاہئیے اور جہاں بس نہ چل سکتا ہو اس کے لئے دعا کرنا چاہئیے۔ "قرة عین" عربی کلمہ ہے جس کا متبادل لفظ فارسی "نورِ چشم" (آنکھوں کی ٹھنڈک) ہے اور یہ اس شخص کے لئے کنایہ ہے جس کسی کے لئے مسرت اور خوشی کا سبب بنتا ہے اور یہ تعبیر دراصل "قر" (بر وزن "حُر") سے ماخوذ ہے جس کا معنیٰ سردی اور خنکی ہوتا ہے اور ایک مشہور و معروف محاورہ بھی ہے (جس کی بہت سے مفسرین نے صراحت بھی کی ہے) اور محبت کے آنسوں ہمیشہ ٹھنڈے اور رنج و غم کے اشک ہمیشہ گرم ہوا کرتے ہیں لہٰذا "قرة العین" ایسی چیز کو کہیں گے جس سے انسان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ یہ جو محاورہ ہے کہ "محبت کے آنسوں اس کی آنکھوں سے ٹپک رہے ہیں" تو یہ خوشی اور سرور کے لئے ایک بہترین کنایہ ہے۔ [اس بات کا شاہد عرب کے ایک شاعر کا شعر ہے جسے قرطبی نے اپنی تفسیر میں بھی نقل کیا ہے: فکم سخنت بالامس عین قریرة و قرت عیون دمعھا الیوم ساکب کل ٹھنڈی آنکھیں گرم ہو گئیں لیکن آج پھر وہی آنکھیں ٹھنڈی ہو گئی ہیں کہ جن سے آنسو جاری ہیں]۔ اولاد کی تربیت، ازواج کی ہدایت و راہنمائی اور بچوں کے لئے ماں باپ کا فریضہ ایسے اہم ترین مسائل ہیں قرآن نے جن پر بہت زیادہ زور دیا ہے ہم ان مسائل کو انشاء اللہ العزیز سورہ تحریم کی آیت ۶ کی تشریح میں بیان کریں گے۔ آخر میں خدا کے ان خالص بندوں کی تیرھویں نمایاں صفت کو بیان کیا گیا ہے جو درحقیقت ایک لحاظ سے مذکورہ تمام اوصاف میں سے اہم تر ہے اور وہ یہ کہ وہ صرف اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ خود ہی حق کی راہ پر گامزن رہیں بلکہ ان کی ہمت اس قدر بالا ہے کہ وہ خدا سے خود کو مومنین کی جماعت کا امام اور پیشوا بنانے کی درخواست کر رہے ہیں تاکہ اس طرح سے وہ دوسرے لوگوں کو بھی راہِ حق و حقیقت کی طرف بلا سکیں۔ وہ ایک گوشہ نشین عابد اور زاہد کی مانند نہیں ہیں جو صرف اپنی پاکئی داماں کے لئے کوشاں رہتا ہے بلکہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے ساتھ دوسروں کو بھی راہِ نجات پر لے آئیں۔ لہٰذا اِسی آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: وہ ایسے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ خداوندا! تو ہمیں پرہیز گار لوگوں کا امام اور پیشوا بنا (وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِینَ إِمَامًا)۔ ایک بار پھر توجہ مبذول فرمائیں اور اس نکتے پر غور کریں کہ وہ صرف دعا پر اکتفا نہیں کرتے کہ اپنے اسلاف پر نازاں ہو کر باتیں ہی بناتے رہیں نہیں، بلکہ اپنے لئے بزرگواری، عظمت اور امامت کے ایسے اسباب فراہم کرتے ہیں کہ ایک سچے اور بر حق پیشوا کی عمدہ صفات ان میں جمع ہو جاتی ہیں اور یہ کام بہت مشکل اور نہایت ہی سنگین ہوتا ہے۔ آپ یقینا نہیں بھولے ہوں گے کہ یہ آیات تمام مومنین کی صفات بیان نہیں کر رہیں بلکہ مومنین کے ایک ممتاز گروہ کے اوصاف بیان کر رہی ہیں جو مومنین کی اگلی صفوں میں ہوتے ہیں جنہیں "عباد الرحمن" کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔ یقینا وہ خدا کے خاص بندے ہوتے ہیں جس طرح خدا کی عمومی رحمت تمام بندگانِ خدا کو اپنے دامن میں لئے ہوئے ہوتی ہے خدا کے ان خاص بندوں کی مہربانی اور حمدلی ایک لحاظ سے عمومی ہوتی ہے۔ ان کا علم و فکر، بیان و قلم، مال و قدرت ہمیشہ خلقِ خدا کی ہدایت کے کام آتی ہے۔ وہ انسانی معاشرے کے لئے اسوہ اور نمونہٴ عمل ہوتے ہیں۔ وہ پرہیزگاروں کے سرخیل شمار ہوتے ہیں۔ وہ سمندروں اور سحراوٴں میں چراغ کی مانند ہوتے ہیں جن سے بھٹکی ہوئی انسانیت ہدایت پا جاتی ہے اور گردابِ بلا میں پھنس جانے والے چھٹکارا حاصل کر جاتے ہیں۔ متعدد روایات میں ہے کہ یہ آیت حضرت علی اور اہلبیتِ اطہار علیہم السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے، ایک روایت میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: اس آیت سے مراد ہم ہیں۔ [ان روایات کو علی بن براہیم اور صاحب "نور الثقلین" نے اپنی تفسیروں میں اسی آیت کے ذیل میں تفصیل کے ساتھ لکھا ہے]۔ اس میں شک نہیں کہ آئمہ اہل بیت علیہم السلام اس آیت کے روشن مصداق ہیں اور یہ مصداق آیت کے مفہوم کی اس وسعت میں مانع نہیں ہے کہ دوسرے مومن بھی مختلف مراتب کے تحت دوسرے لوگوں کے پیشوا ہوں۔ بعض مفسرین نے اس آیت سے یہ استفادہ کیا ہے کہ معنوی، روحانی اور خدائی رہبری اور پیشوائی کی درخواست نہ صرف مذموم نہیں بلکہ ممدوح اور پسندیدہ بھی ہے۔ [ملاحظہ ہو تفسیر قرطبی اور تفسیر فخر رازی]۔ یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ لفظ "امام" اگرچہ مفرد ہے لیکن بعض اوقات جمع کے معنی میں بھی آتا ہے اور اس آیت میں بھی ایسا ہی ہے۔ ان تیرہ صفات کو مکمل کرنے کے بعد اللہ کے ان خاص بندوں کی مجموعی خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مختصر لفظوں میں ان کا اجر بیان فرمایا گیا ہے: یہی وہ لوگ ہیں جنہیں صبر و استقامت کے بدلے میں بہشت کے بلند درجات جزاء کے طور پر دیئے جائیں گے (اُوْلَئِکَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا)۔ "غرفة" "غرف" (بر وزن "حرف") کے مادہ سے ہے جس کا معنی کسی چیز کا اٹھانا اور حاصل کرنا ہوتا ہے اور غرفة اس چیز کو کہتے ہیں جسے اٹھائیں اور حاصل کریں (جیسے انسان پینے کے لئے چشمہ سے پانی حاصل کرتا ہے)۔ بعد ازاں اس کا اطلاق عمارت کے بالائی حصہ پر ہونے لگا اور اس آیت میں بہشتِ بریں کے بلند و بالا درجات کے لئے کنایہ ہے۔ چونکہ "عباد الرحمن" دنیا میں ان صفات کے حامل ہونے کی بناء پر مومنین کی اگلی صفّوں میں اور ان کے پیش پیش ہوتے ہیں لہٰذا آخرت میں بھی بہشت میں ان کے درجات دیگر مومنین سے بلند و بالا ہونے چاہئیں۔ یہ بات بھی قابلِ توجّہ ہے کہ انھیں یہ بلند درجات اس لئے عطا ہوں گے کہ وہ راہِ خدا میں صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ممکن ہے اس جگہ پر یہ سوال پیدا ہو کہ آیا صفت مذکورہ تیرہ صفات کے علاوہ ہے؟ لیکن حقیقت میں یہ کوئی نئی صفت نہیں بلکہ مذکورہ صفات کے نفاذ اور اجراء کی محافظ ہے آیا خدا کی بندگی، خواہشاتِ نفس سے نبرد آزمائی، جھوٹی شہادت کے نزدیک نہ جانا، تواضع اور فروتنی کو اپنانا اور اس قسم کی دیگر صفات، صبر اور استقامت کے بغیر امکان پذیر ہیں؟ جب ہم یہاں پر پہنچے ہیں تو ہمیں حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کا یہ مشہور فرمان یاد آجاتا ہے کہ: الصبر من الایمان کالراٴس من الجسد صبر و استقامت کو ایمان میں وہی درجہ حاصل ہے جو سر کو بدن میں ہوتا ہے۔ بدن کی بقا سر کی بقا پر منحصر ہے کیونکہ تمام اعضائے انسان کا مرکزی نقطہ اس کا مغز ہوتا ہے جو سر میں واقع ہے۔ بنابریں یہاں پر صبر کا مفہوم نہایت وسیع ہے۔ مشکلات کے مقابلے میں استقامت اور شکیبائی، پروردگارِ عالم کی اطاعت کی راہ، سرکش اور منہ زور ہوا و ہوس اور خواہشاتِ نفسانی کے ساتھ جہاد اور نبرد آزمائی، گناہ کے اسباب و عوامل کے سامنے ڈٹ جانا، غرض اس قسم کے تمام امور اس میں جمع ہیں۔ اگر بعض روایات میں صبر کا اطلاق صرف فقر و فاقہ پر ہوا ہے اور مالی محرومی سے اس کی تفسیر کی گئی ہے تو یقینا اس کا ایک یہ مصداق بیان ہوا ہے۔ پھر اضافہ فرمایا گیا ہے: بہشت کے ان بلند مقامات پر انھیں تحیہ اور سلام پیش کیا جائیگا (وَیُلَقَّوْنَ فِیھَا تَحِیَّةً وَسَلَامًا)۔ اہلِ بہشت، وہاں پر ایک دوسرے کو سلام اور تحیہ پیش کریں گے اور فرشتے بھی ان کا سلام و تحیہ سے استقبال کریں گے اور ان سب سے بڑھ کر خود خدا انھیں سلام اور تحیہ کہے گا۔ جیسا کہ سورہ ٴ یٰسٓ کی آیت ۵۸ میں ہے: سلام قولا من ربّ رحیم ان کے لئے ان کے رحیم پروردگار کی طرف سے سلام ہے۔ سورہ رعد کی آیت ۲۳، ۲۴ میں ہے: و الملائکة یدخلون علیھم من کل باب سلام علیکم فرشتے ان کے پاس ہر دَر سے داخل ہوں گے اور انھیں "سلام علیکم" کہیں گے۔ آیا اس مقام پر "تحیت" اور "سلام" کا ایک معنیٰ ہے یا مختلف معانی؟ مفسرین نے اس بارے میں مختلف آراء کا اظہار کیا ہے لیکن اگر ان میں ذرا سی توجہ کی جائے تو معلوم ہو گا کہ "تحیت" کسی کو زندگی کی دعا دینے کے معنی میں ہوتا ہے اور "سلام" کسی کو سلامتی کی دعا دینے کے معنی میں ہوتا ہے۔ بنابریں اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کریں گے کہ پہلا لفظ "تحیت" زندگی کی دعا کے عنوان سے ہے اور دوسرا لفظ "سلام" زندگی کے ساتھ سلامتی کے لئے ہے ہر چند کہ یہ دونوں کبھی ایک معنی میں بھی آتے ہیں۔ البتہ عرف میں "تحیت" نے زیادہ وسیع معنی پیدا کر لیا ہے اور وہ ہے ہر ایسی گفتگو جو کسی جگہ پر کسی کے داخل ہوتے ہی خوشی، احترام اور اس کے اظہارِ محبت کے طور پر کی جاتی ہے۔ پھر اس بات کی مزید تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے: وہ بہشت میں ہمیشہ رہیں گے اور وہ کیا ہی خوب ٹھکانا اور کیسی ہی بہترین اقامت گاہ ہے (خَالِدِینَ فِیھَا حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا)۔
دعا کی اہمیّت
Tafsīr Nemūna · Vol. 4یہ آیت سورہ فرقان کی آخری آیت ہے جودرحقیقت تمام سورت کا خلاصہ اور نتیجہ ہے۔ساتھ ہی «عباد رحمن“ کی صفات کا خلاصہ بھی ہے پیغمبر اکرمکو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ان سے کہہ دو کہ میرا پر وردگار تمہیں کوئی وزن اور اہمیت نہ دیتا اگر تم دعا نہیں کرتے (قُلْ مَا یَعْبَاُ بِکُمْ رَبِّی لَوْلاَ دُعَاؤُکُمْ)۔ «یعبوٴا“ کا صیغہ «عباٴ“ (بر وزن «عبد“) سے مشتق ہے جس کا معنی وزن اور بوجھ ہے بنابریں«لا یعبوٴا“ کا معنی بنے گا « کسی قسم کا وزن نہیں دیتا “جسے دوسرے لفظوں میں کہیں گے «پر واہ نہیں کرتا، اہمیت نہیں دیتا۔“ اگر چہ دعا کے معنیٰ کے سلسلے میں یہاں پر بہت سے احتمالات پائے جاتے ہیں لیکن ان کی بنیاد ایک ہی بنتی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ دعا کا معنیٰ وہی مشہور دعا ہے جو مانگی جاتی ہے بعض نے اسے ایمان کے معنی میںلیا ہے اور بعض نے عبادت،بعض نے توحید، بعض نے شکر اور بعض نے مشکلات میں خدا کو پکا رنے کے معنی میں لیا ہے لیکن ان سب کی بنیاد وہی خدا پر ایمان اور اس کی طرف توجہ ہے۔ بنابریں، آیت کامفہوم کچھ یوں ہو گا کہ جوچیز تمہیں وزن دے رہی ہے اور اللہ رب العزت کی بارگاہ میں تمہاری قدر و قیمت بنارہی ہے وہ خدا پر ایمان،اس کی ذات کی طرف توجہ اور ا س کی بندگی ہے۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے:تم نے خدا کی آیات اور اس کے پیغمبروں کی تکذیب کی یہی تکذیب تمہارا دامن پکڑے گی اور تمہیں کبھی نہیں چھوڑے گی(فَقَدْ کَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَکُونُ لِزَامًا)۔ ممکن ہے یہ سوال کیا جائے کہ اس آیت کے آغاز اور اختتام میں تضاد پایا جاتا ہے یا کم از کم ابتداء اور انتہاء میں کوئی باہمی رابطہ دکھائی نہیں دیتا لیکن اگر ذرا سا بھی غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اصل مقصد یہ ہے کہ تم گزشتہ زمانے میں آیات الہٰی کی تکذیب کر چکے ہو اور انبیاء کو جھٹلا چکے ہو۔اگر اب تم خد اکی طرف لوٹ کے نہیں آوٴگے اور ایمان اور بندگی کا راستہ اختیار نہیں کروگے تو خدا کے نزدیک تمہاری کوئی وقعت اور حیثیت نہیں ہو گی اور تمہارے جھٹلانے کی سزا تمہیں دامن گیر ہو گی۔ [تشریحی نوٹ: مندرجہ بالا آیت ان آیات میں شمار ہو تی ہے جن کے بارے میں مفسرین نے بہت کچھ گفتگو کی ہے اور ہم نے جو تفسیر اوپر بیان کی ہے وہ واضح ترین تفسیر ہے لیکن کچھ دوسرے مشہور مفسرین نے اس کی اور بھی تفسیریں بیان کی ہیں جن کاخلاصہ کچھ اس طرح بنتا ہے:۔ خدا کو تمہاری کوئی پرواہ نہیں ہے کیونکہ تم نے اس کی آیات کو جھٹلا یا ہے مگر یہ کہ وہ انہیں ایمان کی طرف بلاتا ہے (اس تفسیرکے مطابق مصدر کو مفعول کی طرف مضاف کیا گیا ہے اور اس کا فاعل ایک ضمیر ہے جو «ربی“ کی طرف لوٹ رہی ہے لیکن جس تفسیر کو ہم نے منتخب کیا ہے اس کے مطابق مصدر کو فاعل کی طرف مضاف کیا گیا ہے اور مصدر کو سہل کی ضمیر کی طرف بظاہر مضاف کیا جاتا ہے مگر یہ کہ اس کے خلاف کوئی قرینہ پایا جائے۔) یہاں پر ایک تیسری تفسیر بھی بیان کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس بیان کا مقصد یہ ہے کہ تم بنی نوعِ انسان نے غالب طور پر تکذیب کا راستہ اختیار کر رکھا ہے لہٰذا خدا کے نزدیک تمہاری کوئی قدر و قیمت نہیں ہے سوائے عباد الرحمن کی ایک مخصوص اقلیت کہ جو خدا کی طرف متوجہ ہیں اور اسے خلوصِ دل سے پکارتے ہیں (اگر چہ یہ تفسیر معنی اور مطلب کے لحاظ سے تو صحیح ہے لیکن آیت کے ظاہر کے ساتھ قطعاً ہم آہنگ نہیں ہے کیونکہ « دعاوٴ کم و کذبتم“ میں ضمیر ظاہراً ایک گروہ کی طرف لوٹتی ہے نہ کہ دو گروہوں کی طرف۔(غور کیجئے گا)]۔ ان واضح شواہد میں سے ایک شاہد جو اس تفسیرکی تائید کر رہا ہے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی ایک حدیث ہے کہ جب آنجناب علیہ اسلام سے سوال کیا گیا کہ: کثرة القرائة فضل او کثرة الدعاء قرآن مجید کی کثرت سے تلاوت افضل ہے یا کثرت سے دعا مانگنا ؟ تو آپعلیہ اسلام نے ارشاد فرمایا: کثرة الدعاء افضل کثرت سے دعا مانگنا فضیلت زیادہ رکھتا ہے۔ پھر آپ علیہ اسلام نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ [تشریحی نوٹ:«تفسیر صافی “اسی آیت کے ذیل میں۔ اس روایت کو تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ دوسری تفسیروں نے بھی نقل کیا ہے اس کے علاوہ اور روایات بھی ملتی ہیں جن میں سے بعض کو شیخ نے امالی میں اور بعض کو علی بن ابراہیم نے اپنی تفسیر میں اس آیت کے ذیل میں لکھا ہے۔]
ایک نکتہ: دعا، خود سازی اور خدا شناسی کا راستہ
دعا، خود سازی اور خدا شناسی کا راستہ: ہر کوئی جانتا ہے کہ مسئلہ دعا کو قرآنی آیات اور اسلامی روایات میں بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے جس کا ایک نمونہ یہی مندرجہ بالا آیت ہے۔ ہو سکتا ہے ابتداء میں یہ بات بعض لوگوں کے لئے قابلِ قبول نہ ہو اور وہ کہیں کہ دعا کرنا تو آسان سی بات ہے اور اسے ہر شخص انجام دے سکتا ہے یا اس سے بھی آگے بڑھ جائیں اور کہیں کہ دعا تو بے بس اور بیکار لوگوں کا کام ہے اس کی کیا اہمیت ہے۔ لیکن یہ غلط فہمی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دعا کو اس کی شرائط سے ہٹ کر دیکھیں لیکن اگر اس کی شرائط کو پیشِ نظر رکھا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو کر سامنے آجاتی ہے کہ دعا انسان کی خود سازی کا ایک موٴثر ذریعہ اور انسان اور خدا کے درمیان ایک مضبوط رابطہ ہے۔ سب سے پہلی شرط تو یہ ہے کہ انسان جس کو پکار رہا ہے اور جس سے دعا مانگ رہا ہے اس کی معرفت رکھتا ہو۔ دوسری شرط یہ ہے کہ انسان اپنے دل و دماغ کو ہر قسم کی آلائشوں سے پاک صاف کرے اور اس سے مانگنے کے لئے اپنی روح کو آمادہ کرے کیونکہ جب انسان کسی کو ملنے جاتا ہے تو اس کی ملاقات کے لئے تیار بھی ہونا چاہئیے۔ دعا کی تیسری شرط یہ ہے کہ انسان جس سے مانگ رہا ہے اس کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے کیونکہ اس کے بغیر دعا کی قبولیت کے آثار بہت کم نظر آتے ہیں۔ دعا کی قبولیت کی چوتھی اور آخری شرط یہ ہے کہ اس کام کے لئے انسان اپنی تمام توانائیاں صرف کر دے اور اس کے لئے تا حدِّ امکان سعی و کوشش کرے اور اس کے ماوراء کے لئے ہاتھوں کو دعا کے واسطے اٹھائے اور اپنی تمام قلبی توجہ اپنے خالق کی طرف مبذول کر دے۔ اسلامی روایات میں بڑی صراحت کے ساتھ آیا ہے کہ جو کام انسان خود انجام دے سکتا ہے اسے انجام دینے میں کوتاہی کرے اور دعا کے ذریعے اسے پورا ہونے کی خواہش کرے تو اس کی دعا قبول نہیں ہو گی۔ اس لحاظ سے دعا، خداوندِ عالم کی معرفت اور اس کی صفات، جلال و جمال کی پہچان کا ایک ذریعہ ہے اسی طرح گناہوں سے توبہ اور روح کی پاکیزگی کا بھی ایک ذریعہ ہے اور نیکیوں کی بجا آوری کے لئے ایک اہم موٴثر عامل ہے اور آخری حد تک تلاش و کوشش اور جد و جہد کا ایک سبب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دعا کے بارے میں ایسی اہم تعبیرات وارد ہوئی ہیں جو مندرجہ بالا تصریحات کو مد نظر رکھ کر ہی سمجھ میں آ سکتی ہیں مثلاً حضرت پیغمبر اکرم کا ارشاد ہے:۔ الدعا ء سلاح الموٴمن، وعمود الدین، ونور السمٰوٰت و الارض دعا مومن کا ہتھیار، دین کا ستون اور آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ [اصول کافی جلد ۲ ابواب الدعاء (باب الدعاء سلاح الموٴمن)]۔ ایک اور مقام پر حضرت امیر علیہ السلام فرماتے ہیں:۔ الدعاء مفاتیح النجاح، ومقالید الفلاح و خیر الدعاء ما صدر عن صدر نقی و قلب تقی دعا کامیابیوں کی دلیل ہے۔ فلاح اور کامرانیوں کی چابی ہے اور بہترین دعا وہ ہے جو پاک سینے اور پرہیز گار دل سے بلند ہو۔ [اصول کافی جلد ۲ ابواب الدعاء (باب الدعاء سلاح الموٴمن)]۔ ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: الدعا ء انفذ من السنان دعا نوکِ نیزہ سے بھی زیادہ تیز ہے۔ [اصول کافی جلد ۲ ابواب الدعاء (باب الدعاء سلاح الموٴمن)]۔ ان سب باتوں سے ہٹ کر اصولی طور پر ہر انسان کی زندگی میں حوادث رونما ہوتے رہتے ہیں اور ظاہری اسباب کے لحاظ سے اسے نا امیدی کی گہرائیوں میں لے جاتے ہیں لیکن یہ دعا ہی ہے جو اس کی کامیابی کی امید کا دریچہ کھول سکتی ہے اور نا امیدی اور مایوسی سے نبرد آزمائی کا موٴثر ذریعہ بن سکتی ہے۔ اِسی وجہ سے سخت ترین اور طاقت فرسا حوادث کے درمیان دعا ہی انسان کی ڈھارس بندھا سکتی ہے اور اسے قلبی تسکین مہیا کر سکتی ہے اور نفسیاتی اعتبار سے ناقابلِ تردید اثر رکھتی ہے۔ مسئلہ دعا، اس کے فلسفہ، اس کی شرائط اور نتائج کے بارے میں ہم نے تفسیر نمونہ کی جلد اول سورہ بقرہ کی آیت ۱۸۶ کے ضمن میں تفصیل سے گفتگو کی ہے مزید تشریح اور وضاحت کے لئے وہاں رجوع فرمائیں۔ پروردگارا! ہمیں خاص بندوں میں قرار دے اور توفیق عنایت فرما کہ ہم "عباد الرحمن" کی صفات کو اپنا سکیں۔ خداوندا! دعا کے دروازے ہم پر کھول دے اور اسے ہمارے وجود کی قدر و قیمت کا سبب بنا دے۔ خدایا! ہمیں ایسی دعا کی توفیق عطا فرما جو تیری پاک ذات کو مطلوب ہے اور اس کی قبولیت سے ہمیں محروم نہ فرما۔ انک علی کل شیء قدیر، وبالاجابة جدیر۔ سورہ فرقان کی تفسیر اختتام کو پہنچی