Al-Ankabut
سوره عنکبوت
یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اِس میں ۶۹ آیات ہیں
سُورہ عنکبوت کے مضامین
محققین کی ایک جماعت میں مشہور ہے کہ یہ کُل سُورت مکہ میں نازل ہوئی۔ اِس نہج سے اُس کے مضامین مکی سُورتوں کے مضامین سے ہم آہنگ ہیں۔ اِس سورة میں مبداء و معاد کا ذکر ہے، گزشتہ اولوا العزم انبیاء کے قیام اور مُشرکوں اور بُت پرستوں، جابروں اور ستمگروں سے اُن کی جنگ اور پھر فتح کا بیان ہے اور پھر نتیجہ ظالم گروہ کی تباہی اور بربادی کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ علاوہ بریں، اس سورہ میں یہ مضمون بھی ہے کہ انبیاء نے کس طرح منحرفین کی طرف دعوت دی اور اُنھیں اس راہ میں کیسی کیسی آزمائشوں سے سابقہ پڑا۔ نیز یہ کفار کس طرح مختلف بہانوں سے قبول حق سے اعراض کرتے رہے۔ مفسرین کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ اس سورہ کی ابتدائی گیارہ آیات باقی سُورہ سے مستثنٰی ہیں۔ اُن کا عقیدہ ہے کہ یہ گیارہ آیات مدینے میں نازل ہوئی تھیں۔ اِن مفسرین کے اس عقیدے کے محرک شاید وہ بعض شانہایٴ نزول ہیں، جن کا ہم بعد میں ذکر کریں گے اور جہاد کی وہ بحث ہے۔ جو اِن آیات میں وارد ہوئی ہے۔ اِسی طرح وہ اشارات بھی ہیں جو اِن آیات میں منافقین کے متعلق موجود ہیں۔ یہ تمام مضامین مدنی سورتوں سے مناسبت رکھتے ہیں۔ تاہم، ہم بعد میں اِس مطلب پر غور کریں گے کہ مفسرین کی یہ توجہیات اس سُورہ کے مکّی ہونے کے منافی نہیں ہیں۔ اِس سورہ کے نام "سُورہ عنکبوت" کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس سورہ کی آیت نمبر اکتالیس میں بُت پرستوں کے غیر خدا پر اعتقاد کو "عنکبوت (مکڑی) سے تشبیہہ دی گئی ہے کیونکہ اس کا بھروسہ بھی نازک تاروں پر ہوتا ہے اور یہ بھروسہ بےبنیاد ہے۔ بطور کلی کہا جا سکتا ہے کہ اس سورہ کے مضامین چار حصوں میں منقسم ہیں: اوّل: اس سُورہ کی ابتدا میں منافقین کی کیفت اور اُن کے مبتلائے امتحان ہونے کا ذکر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اِن دونوں امور کا ناقابل انقطاع تعلق ہے۔ کیونکہ منافقین کی شناخت اس وقت تک ہو ہی نہیں سکتی جب تک وہ امتحان و آزمائش میں مبتلا نہ ہوں۔ دوم: آیت کے مضامین کے دوسرے حصے میں پیغمبرؐ اور مومنین کی دلجوئی کے لیے پیمبرانِ اولوالعزم کی (مثلاً: حضر ت نوح علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت لوط علیہ السلام، اور حضرت شعیب علیہ السلام) کی زندگی کے کچھ حالات بیان کیے گئے ہیں اور یہ بتایا گیا ہے کہ انھوں نے اپنے اپنے عہد کے نمرود اور خود پرست اہل دولت کا کس طرح مقابلہ کیا ہے۔ اُن جنگ کے آلات کیا تھے، کیفیت جنگ کیا تھی اور پھر اس مُبارزہ کا نتیجہ کیا ہوا؟ اِس بیان کا مقصود یہ ہے کہ ایک طرف تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور مومنین کا دل قوی ہو اور دوسری طرف رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے کے سنگدل اور ظالم پرستوں کو تنبیہ ہو۔ سوم: اس سورہ کے مضامین کا تیسرا حصہ جو خصوصیّت سے آخر میں ہے، اُس میں توحید باری تعالیٰ، عالمِ آفرینش میں اُس کی آیات اور شرک سے مبارزة کا بیان ہے۔ اِس سلسلے میں انسان کی فطرت سلیم اور اس کے وجدان کو مُخاطب کیا گیا ہے۔ چہارم: اس سُورہ کے ایک اور حصہ میں متنوع قسم کے مضامین ہیں مثلاً: غیر حقیقی معبودوں اور اُن کے عنکبوت صفت پجاریوں کی ناتوانی کا ذکر ہے۔ اِسی طرح اس حصے میں قرآن کی عظمت، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حقانیت اور مخالفین کی سرکشی کا بیان ہے۔ علاوہ بریں، اس حصے میں مسائل تربیتی کا بھی ایک سلسلہ ہے۔ مثلاً: نماز، والدین کے ساتھ نیک سلوک، اعمالِ صالح اور مخالفین اسلام سے گفتگو اور بحث کا طریقہ تعلیم کیا گیا ہے۔
اس سورہ کی فضیلت
تفسیر مجمع البیان میں جناب رسالمتآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ قول درج ہے:۔ من قرہ سورة العنکبوت کان لہ من الاجر عشر حسنات بعدد کل الموٴمنین والمنافقین۔ جو آدمی سُورہ عنکبوت پڑھتا ہے اُس کے حصے میں تمام مومنین اور منافقین کی تعداد سے دس گنا حسنات لکھے جاتے ہیں۔ بالخصوص ماہِ رمضان کی تیئس (۲۳) تاریخ کی شب میں سورہ عنکبوت اور سُورہ روم کی تلاوت کے متعلق غیر معمولی فضیلت وارد ہوئی ہے یہاں تک کہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک حدیث منقول ہے: من قرء سورةُ العنکبوت والروم فی شھر رمضان لیلة ثلاث و عشرین فھو واللہ من اھل الجنة لا استثنی فیہ ابدا، ولا اخاف ان یکتب اللہ علی فی یمینی اثماً، و ان لھاتین السّورتین من اللہ مکانا۔ جو آدمی ماہِ رمضان کی تیس (۲۳) تاریخ کی شب میں سورہ عنکبوت اور سورہٴ روم کی تلاوت کرے، قسم بخدا وہ اہلِ بہشت میں سے ہے۔ میں اِس معاملے میں کسی کو مستثنی نہیں کرتا۔ اور اس بات سے بھی نہیں ڈرتا کہ اس قسم کے لئے میرے نامہ اعمال میں کوئی گناہ لکھ دے۔ بطور مسلم ان دونوں سورتوں کا خدا کے حضور میں بڑا مرتبہ ہے۔ (بحوالہ: ثواب عمال (مطابق تفسیر نور الثقلین جلد ۴ ص۱۴۷)۔ اس میں شک نہیں کہ ان دونوں سورتوں کے نہایت منفعت بخش مضامین، اُن کے توحید آموز اہم اسباق اور انسان کی عملی زندگی کے لیے باعث خیر و سعادت پروگرام اس امر کے لیے کافی ہیں کہ جو آدمی بھی صاحب فکر و عمل ہو گا، وہ اسے بہشت کا مستحق کر دیں۔ بلکہ اگر ہم صرف عنکبوت کے مضامین سے نورِ ایمان اور خلوص عمل کا سبق حاصل کریں تو ہم حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی قسم میں شامل ہو جائیں گے۔ ایک آیت میں انسانوں کے عام امتحان کا ذکر ہے اور یوں لکھا ہے کہ: بغیر استثنٰی تمام لوگ امتحان کی کُٹھالی میں تپائے جائیں گے تاکہ جو لوگ گناہ گار ہیں وہ سیاہ رُو ہو جائیں۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان اس عظیم آزمائش پر یقین کامل رکھتا ہو اور خُود کو اس امتحان کے لیے تیار نہ کرے اور وہ متقی اور پرہیزگار نہ بن جائے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 3 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 5بعض مفسرین نے ایک روایت نقل کی ہے جس کے مطابق اس سورہ کی ابتدائی گیارہ آیات مدینے میں نازل ہوئیں، اُن مسلمانوں کے متعلق جو مکہ میں تھے، اظہارِ اسلام کرتے تھے مگر مدینہ کو ہجرت کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ اُنھیں اپنے ان بھائیوں کی طرف سے جو مدینے میں تھے، ایک خط ملا جس میں تحریر تھا کہ: "تم جو ایمان کا اقرار کرتے ہو وہ خدا کو قبول نہیں ہے مگر یہ کہ ہجرت کرو اور ہمارے پاس آ جاؤ۔" یہ خط پا کر اُنھوں نے ہجرت کا ارادہ کر لیا اور مکہ سے نکلے۔ مشرکین کے ایک گروہ نے اُن کا تعاقب کیا اور اُن سے جنگ کی مہاجرین میں سے بعض تو مارے گئے اور بعض بچ گئے (اور احتمال یہ بھی ہے کہ بعض نے مشرکین کی اطاعت کر لی اور مکہ کو واپس ہو گئے)۔ بعض دیگر مفسرین نے دوسری آیت کے متعلق یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ عمّار یاسر اور دوسرے ابتدائی مسلمانوں کے متعلق ہے جو ایمان لے آئے تھے اور دُشمنانِ اسلام کے مظالم برداشت کر رہے تھے۔ بعض کا خیال ہے کہ اس سورہ کی آٹھویں آیت سعد ابن ابی وقاص کے اسلام لانے کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ لیکن اِن آیات کو دِقّتِ نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اِن آیات کا مسئلہ ہجرت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اِن میں تو صرف اُن مظالم کا ذکر ہے جو اُس زمانے میں دشمنانِ اسلام روا رکھتے تھے یہاں تک کہ وہ مظالم بھی کہ جو مُشرک والدین کی طرف سے اپنی اولاد پر بھی روا رکھے جاتے تھے۔ یہ آیات دُشمنانِ اسلام کی ستم کاریوں اور مظالم کے مقابلے میں مسلمانوں کو استقامت اور پامردی تعلیم دیتی ہیں اور اگر درمیان میں کسی مقام پر جہاد کا ذکر آ گیا ہے تو اُس اس کا مفہوم بھی اس امتحان میں ثباتِ قدم ہے نہ کہ مُسلمانوں کا مُسلح جہاد، جس کا حکم مدینے میں نازل ہوا تھا۔ اِس طرح اگر کہیں منافقین کا ذکر ہے تو ممکن ہے کہ اُس کا اشارہ اُن کمزور ایمان لوگوں کی طرف ہو جو مکہ میں مسلمانوں کے درمیان رہتے تھے۔ وہ کبھی مُسلمانوں سے مل جاتے تھے اور کبھی مشرکین سے۔ غرض جس کسی کا بلہ بھاری دیکھتے اُسی کے ساتھ ہو جاتے تھے۔ بہرحال، ان آیات کی ترتیب و تنظیم اس امر کی شاہد ہے کہ اُن سب کو مکی سمجھیں اور روایات بالا جن میں باہم توافق نہیں ہے وہ اس تنظیم کو ختم نہیں کر سکتیں۔
تفسیر آزمائش ایک دائمی سنتِ الہٰی ہے:
اِس سورہ کی ابتدا بھی (الف۔ لام۔ میم) حروفِ مقطعات سے ہوتی ہے۔ ہم نے بارہا مختلف زاویہ ہائے نظر سے اِن حروف کی تفسیر بیان کی ہے۔ (تشریحی نوٹ: اِن حروف کی تفسیر سورہ بقرہ جلد اوّل، سورہ آلِ عمران، جلد دوم اور سورہ اعراف جلد چہارم کے آغاز میں ملاحظہ کیجئے)۔ اِس سورہ میں حروفِ مقطعات کے بعد انسانی زندگی کے پیش آمدہ مسائل میں سے ایک اہم مسئلے کی طرف اشارہ ہے اور وہ ہے اللہ کی طرف سے بندے کا امتحان اور اُس کی آزمائش۔ سب سے پہلے یہ کہا گیا ہے کہ کیا لوگوں یہ گمان کرتے ہیں کہ اگر وہ صرف یہ کہنے پر اکتفا کریں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور توحید و رسالتِ پیمبر کی شہادت دیں تو وہ اپنے حال پر چھوڑ دیئے جائیں گے اور اُن کا امتحان نہ ہو گا: (أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: "یفتنون" کا مادہ "فتنہ" ہے جس کے معنی ہیں، سونے کو آگ میں تپانا، اُس کی اصلیت معلوم کرنے کے لیے، اس کے بعد مجازاً اس کلمہ کو ہر طرح کی ظاہری اور باطنی آزمائش کے لیے بولنے لگے۔ مزید توضیح کے لیے جلد ۱، صفحہ۴۲۹ (اُردو ترجمہ) دیکھئے)۔ اُس کے بعد بلافاصلہ اس حقیقت کا ذکر ہے کہ اہل ایمان کا امتحان اللہ کی ایک دائمی اور جاودانی سنت ہے۔ یہ امتحان صرف امت اسلام ہی کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ وہ سُنتِ الہٰی ہے جو گزشتہ آُمّتوں کے لیے بھی جاری رہی ہے۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے کہ: ہم نے گزشتہ اُمّتوں کی بھی آزمائش کی ہے: (ولقد فتنا الذین من قلبھم) ہم نے گزشتہ اُمّتوں کو بھی امتحان کی بھٹی میں ڈالا ہے۔ وہ بھی تمہاری طرح بےرحم، جاہل، متعصب، بےخبر اور جنگ پسند دشمنوں کے نرغے میں گرفتار تھیں۔ الغرض اُمّتوں کے لیے ہمیشہ میدان امتحان تیار رہا ہے اور اُنھیں اس میدان سے گزرنا پڑتا ہے۔ ایسا ہونا بھی چاہئے کیونکہ:۔ ہر آدمی برترین مومن، بالا ترین مجاہد اور فدا کار ترین انسان ہونے کا اِدّعا کر سکتا ہے۔ اِس لیے اِس اِدّعا کی حقیقت اور اُس کا وزن امتحان سے ثابت ہونا چاہیے۔ امتحان ہی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مدعی کے دعوے اور اُس کی ذہنی آمادگی اور باطنی خلوص میں ہم آہنگی ہے یا نہیں؟ امتحان کی اِس لیے بھی ضرورت ہے تاکہ اُن کے متعلق خدا کا یہ علم اِن میں کون سچا ہے اور کون جھوٹا، درست ثابت ہو: (فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ)۔ یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ خدا سب کے دلوں کا حال جانتا ہے۔ یہاں تک کہ بنی نوعِ انسانی کی خلقت سے پہلے بھی سب کچھ اس کے علم میں تھا۔ اِس مقام پر "علم الہٰی" سے مُراد یہ ہے کہ جو کچھ اُس کے علم میں ہے وجود خارجی میں بطور عین الیقین اُس کا ثبوت مل جائے۔ یعنی اس گروہ کے متعلق خدا کا جو علم ہے، لوگ اُسے خارج میں بھی دیکھ لیں اور جس شخص کے دل میں چو کچھ ہے وہ نمایاں اور آشکار ہو جائے۔ خُدا کے متعلق جہاں بھی کلمہ "علم" استعمال ہوا ہے اُس کا یہی مفہوم ہے۔ یہ حقیقت قطعی واضح ہے کہ انسان کی نیت اور اُس کا ارادہ جب تک عمل سے ظاہر نہ ہو تو اس کے لیے ثواب، جزا یا بدلے کا تعین نہیں ہو سکتا۔ آزمائش کا ہونا اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ انسان کی نیت اور اُس کی نفسانی کیفیت کا حال معلوم ہو جائے۔ اِس مفہوم کو ایک اور پہلو سے بھی سمجھنا چاہیے کہ:۔ اِس عالم کی مثال ایک یونیورسٹی یا ایک کھیت کی ہے (اسلامی احادیث میں یہ تشبیہات وارد ہوئی ہیں) جب ایک طالب علم یونیورسٹی میں تحصیل کے لیے آتا ہے تو دستور تعلیم یہ ہونا چاہیے کہ اُس کی فطری استعداد کی کلی کھل جائے۔ جس قسم کی لیاقت بھی اُس کی فطرت میں ودیعت کی گئی ہے، اس کی پرورش ہو اور اُس کی مخفی صلاحیتیں قوّت سے فعل میں آ جائیں۔ نیز یہ کہ عالم ایک کھیت ہے۔ اِس کھیت میں جو بیج بویا جائے تو اُس کی سرشت اور طینت کا اظہار ہونا چاہیے۔ اُس کے اندر سے انکھوا پُھوٹنا چاہیے، اُسے خاک سے سر اُبھارنا چاہیے۔ جب اُس کی پرورش ہو تو وہ چھوٹا سا پودا بن جائے پھر نشوونما پا کر ایک تنومند اور بار آور درخت بن جائے۔ افراد اور اقوام دونوں کو اپنی نشوونما کے لیے اِن امتحانات سے گُزرنا پڑتا ہے۔ اِس مقام پر یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ خدا کی طرف سے جو آزمائشیں آتی ہیں وہ محض افراد کی استعدادات کی شناخت کے لیے نہیں ہیں۔ بلکہ انسان کی مخفی صلاحیتوں کی پرورش کے لیے ہیں۔ یہ امر بھی محل لحاظ ہے کہ اگر ہم کسی شے یا کسی انسان کو آزماتے ہیں تووہ کسی مخفی یا مجہول صفت کو معلوم کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ مگر خدا کی آزمائش کشف مجہول کے لیے نہیں ہوتی۔ کیونکہ اُس کا علم تو ہر شے پر محیط ہے بلکہ خدا اس لیے آزماتا ہے تاکہ وہ انسانوں کی استعداد کی پرورش کرے اور جو صلاحیتیں اُس میں مخفی ہیں وہ قوت سے فعل میں آ جائیں۔ (تشریحی نوٹ: خدا کی آزمائش اور اُس کے مختلف جواب کی توضیح جلد اوّل آیت ۱۵۷، سورہ بقرہ کے ذیل میں بیان ہوئی ہے)۔
آزمائشیں مختلف رنگ میں:
اگرچہ جُملہ اقوام اور جماعتوں کے لیے امتحان کا عمومی ذکر، مکہ کے اُن مومنین کے لیے جو اُس زمانے میں اقلیت میں تھے نہایت موٴثر تھا۔ اِس حقیقت پر نظر کر کے اُن میں اپنے سخت ترین دشمن کے مقابلے میں صبر و استقامت کا جذبہ پیدا ہوتا تھا مگر یہ آزمائشیں صرف مومنین مکہ ہی کے لیے مخصوص نہ تھیں۔ بلکہ جہاں کہیں بھی مومنین کی جماعت ہے وہ اِس سُنّتِ الہٰی کی مصداق ہے۔ خدا اُن کا مختلف صورتوں سے امتحان لیتا ہے ___ مثلاً:۔ ۱۔ مومنین کی کوئی جماعت ایسے معاشرے میں محصور ہو جاتی ہے جو ہر جہت سے آلودہٴ مفاسد ہو۔ اُس معاشرے میں مومنین کو ہر جانب سے برائیوں کی دعوت گھیرے رہتی ہے۔ اُس وقت ان کا امتحان یہ ہے کہ وہ ایسے معاشرے کی بداخلاقیوں کا اثر قبول نہ کریں اور اپنی نیکی اور تقویٰ کو محفوظ رکھیں۔ ۲۔ کبھی مومنین کی کوئی جماعت افلاس اور محرومی میں مبتلا ہوتی ہے۔ جب کہ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ اگر وہ اپنی قدر مخصوص کو جو اُن کا حقیقی سرمایہ ہے فروخت کرنے کے لئے تیار ہو جائیں تو بہت جلد اُن کی محرومیت اور افلاس دفع ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ تونگری اُنہیں اِسی صُورت میں حاصل ہو گی جب وہ اپنا ایمان، تقویٰ، آزادی، عزت اور شرف کو ہاتھ سے دینے کے لیے تیار ہو جائیں۔ ۳۔ اِس کے برعکس مومنین کے امتحان کا ایک اور بھی رُخ ہے کہ:۔ مومنین کی کوئی جماعت دولت و ثروت میں مستغرق ہو جاتی ہے اور جملہ مادی وسائل اُس کے اختیار میں ہوتے ہیں۔ اندریں حال اُن کا امتحان یہ ہے کہ:۔ کیا وہ خدا کی نمات کا شکر ادا کرتے ہیں یا وہ دولت پا کر غفلت، غرور، خود غرضی اور لذّات و شہوات میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور پنے آپ کو برتر سمجھ کر اپنے برادران ایمانی سے منقطع ہو جاتے ہیں۔ ۴۔ ہمارے زمانے میں قوموں کو ایک اور شدید امتحان درپیش ہے اور وہ ہے "مشرق یا مغرب زدگی" وہ مشرق یا مغرب کی بعض اقوام کو دیکھتے ہیں کہ وہ خدا اور فضائلِ اخلاق سے برگشتہ ہو کر دُنیا میں خیرہ کُن مادہ تمدّن سے بہرہ مند ہیں اور اُن کا رفاہی اجتماعی نظام سلطنت بہت اچھا ہے۔ اُن اقوام متمدّن کی حالت کو دیکھ ک پسماندہ اقوام کر ایک قوی مگر عجیب سا جذبہ اِسی قسم کی زندگی اختیار کرنے کی طرف کھینچتا ہے۔ وہ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ وہ تمام اُصولِ اخلاق جن کے وہ معتقد رہے ہیں، اُنھیں پاؤں کے نیچے روند کر اور اُن متمدّن اقوام میں سے کسی ایک کے ساتھ وابستگی ذلّت برداشت کر کے، اپنے اور سارے معاشرے کے لیے اُسی قسم کے اسباب حیات مہیا کریں۔ درحقیقت، اِس عہد میں یہ بڑا امتحان ہے۔ ۵۔ اِس زمانے کے مصائب، درد و رنج، جنگیں اور نزاع، گرانی اور آئے دن قیمتوں میں اضافہ، اور وہ استحصال کرنے والی حکومتیں جو کمزور قوموں کو غلام بناتی ہیں اور اُنھیں اپنے طاغوتی نطام کی اطاعت پر مجبور کرتی ہیں۔ علاوہ بریں، انسانوں کی نفسانی خواہشات کی تند و تیز موجیں، اِن میں سے ہر ایک بندگانِ خدا کے لیے سخت امتحان ہے۔ اِن ہی حالات میں ایک شخص کے ایمان، تقویٰ، پاکیزگی، امانت اور آزادی کا امتیاز ہوتا ہے۔ لیکن ایسی سخت آزمائشوں میں کامیاب ہونے کے لیے صرف ایک ہی وسیلہ ہے کہ انسان میں استقامتِ ایمانی ہو اور خُدا کے لُطف خاص پر بھروسہ رکھے۔ اصولی کافی میں: أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ کی تفسیر میں بعض معصومین علیہ السلام سے یہ حدیث منقول ہے: یفتنون کما یفتن الذھب، ثم قال یخلصون کما یخلص الذّھب انھیں آمایا جاتا ہے جس طرح کے سونے کو بھٹی می تپایا جاتا ہے۔ وہ لوگ ہر قسم کی آلودگی سے صاف ہوتے ہیں جس طرح کہ آگ سونے کو پر قسم کے میل سے صاف کر دیتی ہے۔ (بحوالہ: (اصول کافی) طبق نقل تفسیر نورالثقلین، جلد، ۴، صفحہ ۱۴۸)۔ بہرحال، وہ عافیت طلب لوگ جو یہ گمان کرتے ہیں کہ صرف زبان سے اظہارِ ایمان کرنے سے وہ مومنین میں شمار ہونے لگیں گے اور اعلیٰ علیّن بہشت میں وہ پیمبروں، صدیقین اور شہدا کے ہم نشین ہو جائیں گے، سخت غلطی پر ہیں۔ امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا یہ قول نہج البلاغہ میں موجود ہے: والذّی بعثہ بالحق لتبلبلّن بلبلة، و لتغربلن غربلة، ولتساطن ولتساطن سوط القدر، حتّٰی یعود اسفلکم اعلاکم و اعلاکم اسفلکم قسم ہے اس ذات کی جس نے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حق پر مبعوث کیا کہ تم شدّت سے آزمائے جاؤ گے اور چھانے جاؤ گے اور جس طرح کہ ہانڈی میں پانی اُبلتے وقت اُوپر نیچے ہوتا ہے تم بھی منقلب ہو گے۔ اس طرح سے کہ تمہارے بلند لوگ پست اور پست لوگ بلند ہو جائیں گے۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ خطبہ ۱۶)۔ یہ بات امیر المومنین علیہ السلام نے اس وقت کہی جب نئے لوگوں نے آپ علیہ السلام سے بیعت کی تھی اور وہ اس بات کے منتظر تھے کہ آپ علیہ السلام بیت المال کے اموال کی تقسیم اور عہدوں کے عطا کرنے میں ان کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ وہ سوچ رہے تھے کہ کیا علی علیہ السلام کا طرزِ عمل بھی اُسی گزشتہ معیار پر ہو گا جس میں امتیاز اور تخصیص تھی یا آپ کا معیار عدلِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہو گا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر قُدرتِ خدا کی حدُود سے فرار ممکن نہیں:
Tafsīr Nemūna · Vol. 5گزشتہ آیات میں مومنین کے عام امتحان کا ذکر تھا۔ زیرِ نظر پہلی آیت میں کفّار اور گناہ گاروں کو شدید تہدید کی گئی ہے تاکہ وُہ یہ گمان نہ کریں کہ اگر اُنھوں نے مومنین پر ظلم و تعّدی کی اور خدا کا عذاب اُن پر فوراً نازل نہیں ہوا، تو خُدا اُن سے غافل ہے یا اُس میں اُن پر عذاب نازل کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ چنانچہ خدا فرماتا ہے: وہ لوگ جو گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں کیا اُن کا یہ گمان ہے کہ وہ ہم پر سبقت لے جائیں گے اور ہماری سزا کی گرفت سے بچ نکلیں گے؟ اُن کا خیال کتنا بُرا ہے: (أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَن يَسْبِقُونَا سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ)۔ خدا کی طرف سے دی ہوئی مہلت اُن کو مغرور نہ کر دے۔ کیونکہ یہ بھی اُن کے لیے ایک آزمائش ہے اور اُنھیں توبہ اور بازگشت کی مہلت دی گئی ہے۔ بعض مفسرین نے اِس آیت کا مصداق گنہگار مومنین کو سمجھا ہے۔ اُن کا یہ خیال کسی طرح سے بھی سیاق آیت سے مناسبت نہیں رکھتا ہے۔ بلکہ قرینہ اس امر کا شاہد ہے کہ اس آیت کا مصداق مشرکین اور کفار ہیں۔ اِس کے بعد قرآن میں بارِ دیگر مومنین کے دستورِ العمل اور اُن کے لیے نصیحت کا ذکر ہے یعنی "جو شخص بھی لقاء الہٰی کی اُمید رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اُس سے جہاں تک بھی ممکن ہو اُس کی اطاعت اور فرمان برداری سے سرتابی نہ کرے۔ کیونکہ خدا نے جو وقت مقرر کیا ہے وہ ضرور آ کر رہے گا: (مَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ اللَّهِ فَإِنَّ أَجَلَ اللَّهِ لَآتٍ)۔ (تشریحی نوٹ: اس آیت میں ایک فقرہ محذوف ہے۔ تقدیر میں اِس طرح ہے: من کان یرجو القاء اللہ فلیبادر بالطاعة قبل ان یلحقہ الاجل ۔ یا من کان یرجو القاءاللہ و یقول امنت باللہ فلیقلہ مستقیماً صابراً علیہ ... فانّ اجل اللہ لاٰت)۔ البتہ خدا کا یہ وعدہ حتمی ہے اور اس راہ پر ضرور چلنا پڑے گا۔ علاوہ بریں، خدا تمھاری باتوں کو سُنتا ہے اور وہ تمہارے اعمال اور نیّات سے آگاہ ہے کیونکہ وہ "سُننے والا اور جاننے ولا ہے" (وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ)۔ "لِقَاءَ اللَّهِ" سے کیا مراد ہے، اس سلسلے میں آراء مختلف ہیں۔ بعض مفسرین نے "ملائکہ مقرّبین" سے ملاقات مراد لی ہے، بعض نے "حساب و جزا" کا پیش آنا مراد لیا ہے، بعض نے اس کی تفسیر میں "حکم و فرمانِ حق" مراد لیا ہے اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ کنایہ ہے قیامت کے لیے۔ جبکہ اس آیت کے یہ مجازی معنٰی لینے کے لیے کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ کہنا یہ چاہیے کہ آیتَ بالا میں بروز قیامت "لقائے پروردگار" سے مراد "ملاقات حسّی" نہیں ہے۔ بلکہ لقائے رُوحانی اور ایک قسم کا شہود باطنی ہے۔ کیونکہ اُس روز انسان کی آنکھوں سے مادیات سے ضخیم پردے اٹھ جائیں گے اور انسان جلوہ ہائے شہود کو دیکھے گا۔ نیز جیسا کہ علامہ طباطبائی نے "المیزان" میں لکھا ہے: "لِقَاءَ اللَّهِ" کا مفہوم یہ ہے کہ بندگان خدا بروز قیامت ایک ایسی کیفیت میں ہوں گے کہ اُن کے۔ اور۔ خدا کے درمیان جو حجابات حائل ہیں وہ اُٹھ جائیں گے۔ کیونکہ روز قیامت کا مزاج یہ ہو گا کہ اُس روز اُن حقائق کا ظہور ہو گا جو عالمِ مادی میں انسان کی نظروں سے پہناں رہتے ہیں۔ چنانچہ خدا فرماتا ہے: وَيَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِينُ اُس روز انسان جان لیں گے کہ خدا "حقِ آشکار" ہے۔ (سورہ نور آیة ۲۵)۔ (تشریحی نوٹ: "لقاء اللہ" کی تفسیر کے لیے دیکھئے، جلد اوّل ذیل آیت ۴۶ سورہ بقرہ)۔ اگلی آیت اُس مضمون کی تعلیل ہے جو گزشتہ آیت میں گزر چکا ہے۔ یہ جو کہا گیا ہے کہ:۔ "مومنین لقاء الہٰی کے لیے جو کچھ اُن کی قدرت میں ہے اُس سے فرو گزار نہ کریں" وہ اس لیے ہے تاکہ ہر شخص زندگی میں جہاد کرے اور سعی و کوشش کرے اور مصائب و مشکلات کو برداشت کرے۔ درحقیقت، انسان کا یہ جہاد اُس کی تہذیب نفس ہی کے لیے ہے۔ کیونکہ خدا تو جملہ اہل جہان سے بےنیاز ہے: (وَمَن جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ)۔ انسان کے لیے خدا کی آزمائش کا یہ پروگرام کہ وہ ہوائے نفس کے خلاف جہاد کرے، اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے دشمنوں سے جنگ کرے۔ اور تقویٰ اور پاکیزگی اختیار کرے، درحقیقت، یہ سب کچھ انسان ہی کے فائدہ کے لیے ہے۔ وگرنہ "خدا" تو ہر حیثیت سے ایک وجُودِ لامتناہی ہے۔ اُس کی کوئی احتیاج بھی نہیں ہے جو اُس کے بندوں کی عبادت یا اطاعت سے پوری ہو جائے۔ اُس میں کسی قسم کا نقص یا کمی نہیں ہے جسے دوسرے پورا کر دیں۔ بلکہ ماسواء اللہ کے پاس کوئی چیز بھی اپنی ذاتی نہیں ہے۔ اِس بیان سے یہ واضح ہے کہ اِس آیت میں کلمہٴ جہاد سے مراد دُشمنان اسلام کے خلاف مسلح جہاد نہیں ہے۔ بلکہ یہ کلمہ اس مقام پر اپنے لغوی اور وضعی معنٰی میں استعمال ہوا ہے۔ جس کا مفہوم ہے حفظ ایمان اور تقویٰ کے لیے ہر قسم کی کوشش اور جدوجہد۔ اور ہر طرح کی سختی کو برداشت کرنا۔ نیز اس کلمہ کے مفہوم میں کینہ پرور اور جنگ پسند دشمن سے دفاع بھی شامل ہے۔ خلاصہٴ کلام یہ ہے کہ اس "جہاد" کے تمام منافع مجاہد کی ذات کو پہنچتے ہیں اور وہی اس جہاد کے نتیجے میں دُنیا اور آخرت کی سعادت حاصل کرتا ہے۔ اگر اُس کے ایسے "جہاد" سے معاشرے کو بھی فائدہ پہنچے تو وہ اُس کے اثرات مابعد ہوں گے۔ بنا پریں، جس کسی کو اس قسم کے جہاد کی توفیق عطا ہو اسے لازم ہے کہ وہ اس نعمت عظیم کے لیے خدا کا شکر ادا کرے۔ آیات زیر بحث میں سے آخری آیت اُس مضمون کی توضیح و تکمیل ہے جو آیت ماقبل میں عنوان جہاد کے تحت سربستہ طور پر بیان کیا گیا تھا۔ اِس آیت میں حقیقت جہاد کو واضح کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ: جو لوگ ایمان لائے ہیں اور اعمال صالح انجام دیتے ہیں ہم اُن کے گناہوں کو چھپاتے: (وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ)۔ بنا بریں، اس جہادِ عظیم (ایمان و عمل صالح) کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ خدا اُن کے گناہوں کو چھپا لیتا ہے اور یہ فائدہ انسان ہی کو پہنچتا ہے۔ اسی طرح جیسے اعمالِ خیر کا ثواب اُنھیں پہنچتا ہے۔ چنانچہ اس آیت کے آخر میں مذکورہ ہے: ہم اُنھیں اُن کے اُن اعمالِ صالح کی جو اُنھوں نے انجام دیئے، بہترین جزا دیتے ہیں: (وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَحْسَنَ الَّذِي كَانُوا يَعْمَلُونَ)۔ "نکفر" کا مصدر "تکفیر" ہے۔ اس کے وضعی معنٰی ہیں "چھپانا"۔ اِس مقام پر "گناہوں کو چھپانا" سے مُراد "عفود بخشش الہٰی" ہے۔ "أَحْسَنَ الَّذِي كَانُوا يَعْمَلُونَ" کی تعبیر یہ ہے کہ خدا جملہ اعمال کی جزا دے گا خواہ وہ "حسن" ہوں یا "احسن"۔ ممکن ہے اِس قول کا اشارہ یہ ہو کہ ہم اُن کے اعمال نیک ترین اور بہترین اعمال میں شمار کریں گے بعض اگر مومنین کے بعض اعمال عالی۔ بعضے خوب یا متوسط بھی ہوں تو ہم اُن سب کو عالی ہی شمار کریں گے۔ درحقیقت، یہ تفضّل الہٰی ہے، جس کی طرف قرآن دوسری آیات میں بھی (مثلاً: سورہ نور کی آیت ۳۸ میں) اشارہ ہوا ہے: لِيَجْزِيَهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَيَزِيدَهُم مِّن فَضْلِهِ خدا اُن کے بہترین اعمال کی جزا دیتا ہے اور اپنے فضل سے اُس پر اضافہ کرتا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 5مندرجہ بالا آیت کی شانِ نزول میں مختلف رویات بیان کی گئی ہیں۔ اُن تمام کا لُبِ لُباب یہ ہے کہ: کچھ افراد جو مکہ میں تھے اُنھوں نے اسلامی قبول کیا۔ مگر جب اُن کی ماں کو اس واقعے کا علم ہوا تو اس نے تہیہ کر لیا کہ نہ تو وہ غذا کھائے گی اور نہ پانی پئے گی تاوقتیکہ اُس کا فرزند اسلام کو ترک نہ کر دے گا۔ اگرچہ کوئی ماں بھی اپنے اس قول پر ثابت نہ رہی اور اُنھوں نے ترکِ عذا کے عہد کو توڑ دیا۔ مگر یہ آیت نازل ہوئی اور اس نے اس امر کو سب کے لیے وا ضح کر دیا کہ جب ایمان و کفر کا مسئلہ پیدا ہو تو والدین کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ (تشریحی نوٹ: ان رویات کے راوی کا نام سعد ابن ابی وقاص آیا ہے اور بعض جگہ پر عیاش بن ابی ربیعہ مخزومی بھی نام ہے)۔
تفسیر ماں باپ کی نست بہترین نصیحت
خدا کی ایک اہم آزمائش اُس تضاد سے عُہدہ برآ ہونا ہے جو راہِ ایمان و تقویٰ اور اعزّا و اقارب سے جذباتی تعلق میں ہے قرآن مجید میں اِس موضوع پر مسلمانوں کے فرض کے متعلق واضح ہدایت موجود ہے۔ قرآن میں سب سے پہلے اُس قانونِ کُلّی کو بیان کیا گیا ہے جس کی بنیاد انسانی جذبات اور حق شناسی ہے۔ اِس ضمن میں فرمایا گیا ہے: ہم نے انسان کو وصیّت کی ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرے: (وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا)۔ اگرچہ بظاہر یہ ایک حکم تشریعی ہے۔ مگر اِس سے پہلے یہ تصور ایک "قانون تکوینی" کے طور پر ہر شخص کی فطرت میں موجود ہے۔ بالخصوص ___ اِس مقام پر جو کلمہ "انسان" استعمال ہوا ہے وہ لائق توجہ ہے۔ اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ قانون صرف مومنین سے مخصوص نہیں ہے. بلکہ جس فرد پر بھی کلمہ "انسان" صادق آتا ہے، اسے لازم ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کے احسانات کا حق شناس ہو اور ساری عمر ان کے احترم و تکریم اور اُن کے ساتھ نیکی کرنے کو نہ بھولے۔ اگرچہ انسان اِن تمام اعمال کے باوجود اُن کے قرض کو ادا نہیں کر سکتا۔ اِس کے بعد ایک صریح استثناء کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ: اگر والدین یہ کوشش و اصرار کریں اور اولاد سے کہیں کہ: تو میرے لیے کسی شریک کا قائل ہو جب کہ تو اُس شریک کو جانتا بھی نہ ہو، تو اس حالت میں والدین کی اطاعت نہ کرنا: (وَإِن جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا)۔ یہ استثنا اس لیے ہے کہ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ ماں باپ سے جذباتی تعلق، انسان کے خدا سے تعلق پر فوقیت رکھتا ہے۔ اِس مقام پر کلمہ "جاھداک" کا مفہوم والدین کی کوشش اور اصرار ہے۔ اِس کے بعد "مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ" کہا گیا ہے۔ یعنی جس کا تجھے علم نہیں ہے۔ یہ اس جانب اشارہ ہے کہ شرک کوئی منطقی امر نہیں ہے۔ کیونکہ اگر شرک واقعی درست ہوتا تو اُس کے لیے کوئی دلیل بھی موجود ہوتی۔ اِس کی ایک اور تعبیر بھی ہو سکتی ہے کہ انسان کسی شی کا علم ہی نہ رکھتا ہو تو اُسے چاہیے کہ اُس کی پیروی بھی نہ کرے۔ کُجا یہ کہ انسان کسی شی کے باطل ہونے کا علم رکھتا ہو اور پھر بھی اُس کی پیروی کرے۔ ایسی شی کی پیروی تو جہالت پر مبنی ہے۔ اِس لیے اگر تیرے ماں باپ تجھے جہالت کی پیروی اختیار کرنے کی طرف مائل کریں تو اُن کی اطاعت نہ کر۔ اصولی طور پر اندھی تقلید تو ایمان کے معاملے میں بھی غلط ہے پھر شرک و کفر کے معاملے میں تو اِس کی ضلالت کی کوئی انتہا ہی نہیں۔ ماں اور باپ کے متعلق یہی نصیحت سورہٴ لقمان آیت ۱٥ میں بھی آئی ہے اِس میں یہ کلمات مزید ہیں: "وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا" اِس حالت میں کہ تو شرک کے معاملہ میں اُن کا کہا نہ مان۔ پھر بھی دُنیاوی معاملات میں اُن کے ساتھ مہربانی اور نرمی کا سلوک کر اور رہن سہن میں اُن کے ساتھ نیکی کر۔ یہ بات اِس لیے کہی گئی ہے کہ مبادا کوئی شخص اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جائے کہ شرک کی طرف دعوت دینے کے معاملے میں والدین کی مخالفت کے یہ معنٰی ہیں کہ اُن کے ساتھ معاملات دُنیا میں بھی کج خُلقی اور بُرا سلوک کیا جائے۔ اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ والدین کے احترام کی اِسلام میں کتنی تاکید ہے۔ اِس پُوری بحث سے ایک اصول کُلّی اخذ ہوتا ہے کہ خدا سے انسان کے تعلق پر کوئی سے بھی اثر انداز نہیں ہو سکتی کیونکہ تعلق بذاتِ الہٰی ہر شے پر مقّدم ہے۔ یہاں تک کہ وہ والدین کے ساتھ محبت پر بھی (جو قریب ترین رشتہ ہے) مقدم ہے۔ اِس سلسلے میں ایک مشہور حدیث ہے: لا طاعة لمخلوق فی معصیة الخالق مخلوق کی اطاعت میں خالق کی نافرمانی روا نہیں ہے۔ یہ حدیث امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے اور ایسے مسائل میں یہ ایک روشن معیار ہے۔ آیت کے اخیر میں یہ اضافہ ہے کہ "تم سب کی بازگشت میری طرف ہے۔ میں تم کو اُن اعمال سے آگاہ کروں گا جو تم انجام دیتے رہے ہو۔ اور ان اعمال کی جزا و سزا بےکم و کاست تمہیں ملے گی: (إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ)۔ درحقیقت، یہ جُملہ اُن لوگوں کے لیے ایک تہدید ہے جو شرک کی راہ اختیار کرتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے جو دوسروں کو بھی شرک کی طرف بلاتے ہیں۔ کیونکہ صریحاً کہا گیا ہے کہ: خدا اُن سب کے اعمال کا حساب اپنی نظروں میں رکھتا ہے اور موقع پر اُنھیں اُن سے باخبر کرے گا۔ آیت مابعد میں پھر اُس حقیقت کو اُن لوگوں کے متعلق جو ایمان لائے ہیں اور اعمال صالح بجا لاتے ہیں مکرر اور تاکیداً بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ اس آیت میں فرمایا گیا ہے: وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور اعمالِ صالح بجا لاتے ہیں ہم اُنھیں زمرہ صالحین میں داخل کریں گے: (وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِي الصَّالِحِينَ)۔ نفسیاتی نقظہٴ نظر سے انسان کے عمل کا اُس کی سیرت پر ردِّعمل ہوتا ہے۔ یعنی انسان کا عملِ صالح اُس کی سیرت کو صالح بناتا رہتا ہے۔ اِس طرح سے وہ زمرہٴ صالحین میں داخل ہو جاتا ہے اور اُس کا عملِ سُوء اُس کی سیرت کو ناپاک کر دیتا ہے اور وُہ بدوں اور غیر صالح لوگوں کے زمرے میں شامل ہو جاتا ہے۔ اَب سوال یہ ہے کہ: اِس آیت میں اِس مضمون کی تکرار سے کیا مقصود ہے؟ اِس کے متعلق بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ آیات ماقبل میں اُن لوگوں کی طرف اشارہ تھا جو راہِ حق پر گامزن ہیں اور اس آیت میں ہادیان دین اور رہنمایانِ طریقِ توحید کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ عموماً جب کلمہ"صالحین" استعمال ہوتا ہے تو اِس سے مراد "انبیاء" ہی ہوتے ہیں جو خدا سے دعا کرتے تھے کہ وہ اُنھیں صالحین سے ملحق کر دے۔ اِس مقام پر اِس احتمال کی بھی گنجایش ہے کہ آیات ماقبل میں مومنین کے لیے اُن کے گناہوں کی بخشش اور اُن کے اعمالِ صالحہ کی اچھی جزا کا ذکر تھا۔ لیکن اِس مقام پر اُن کے اعلیٰ مرتبہ کا ذکر ہے۔ جو بجائے خُود ایک قسم کی جزا ہے۔ وہ یہ کہ یہ لوگ صالحین، انبیاء، صدیقین اور شہداء کی صف میں شامل ہوں گے اور اُن کے ہمدم و ہم نشین ہوں گے۔
ماں باپ سے حُسنِ سلوک:
یہ کوئی پہلی بار نہیں ہے کہ قرآن مجید میں انسانی زندگی کے اِس اہم مسئلہ کو بیان کیا گیا ہے۔ اِس سے قبل بھی سورہ بنی اسرائیل کی آیت ۲۳ میں اس مسئلہ کی جانب اشارہ ہو چکا ہے اور آپ آئندہ سورہٴ لقمان کی آیت ۱۴، ۱۵ اور سورہٴ احقاف آیت ۱۵ میں بھی اس اہم موضوع کے متعلق بیانات پڑھیں گے۔ درحقیقت، اسلام ماں باپ دونوں کے لیے نہایت ہی احترام کا قائل ہے۔ یہاں تک کہ اِس صُورت میں بھی کہ وہ مُشرک ہوں اور وہ اولاد کو شرک کی طرف دعوت دیں (جو کہ اسلام کی نظر میں بدترین کام ہے) پھر بھی اُن کے حفظِ احترام کو ملحوظ رکھتا ہے۔ قرآن حُکم دیتا ہے کہ اُن کی دعوتِ شرک کو تو ہرگز قبول نہ کرو مگر اُن کے احترام کو واجب جانو۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی خدا کی طرف سے انسان کا ایک بہت بڑا امتحان ہے (جس طرف اس سورة کے آغاز میں اشارہ ہوا ہے) کیونکہ انسان بعض اوقات عمر کی ایسی منزل میں پہنچ جاتا ہے کہ پھر اس کی نگہداری بہت مُشکل ہو جاتی اور حالت پیری میں بوجہ ناتوانی اس کی احتیاجات کا پُورا کرنا بہت دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب اس کی اولاد اس کی حق شناسی اور اُس کے متعلق فرمانِ الہٰی کی اطاعت کر کے امتحان سے عہدہ برآ ہو۔ جناب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک حدیث اس طرح منقول ہے کہ: ایک شخص آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا: میں کس شخص کے ساتھ نیکی کروں؟ آپؐ نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ۔ اس نے دوبارہ سوال کیا: اس کے بعد کس کے ساتھ؟ آپؐ نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ۔ اس نے تیسری بار سوال کیا: اُس کے بعد کس کے ساتھ؟ آپؐ نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ۔ البتہ جس اُس نے بارِ چہارم سوال کیا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے باپ کے ساتھ نیکی کی ہدایت کی اور اُس کے بعد تمام رشتہ داروں کے ساتھ اُن کی قربت کی ترتیب کے لحاظ سے۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، ذیل آیات زیر بحث)۔ جناب رسالت مآبؐ کی ایک اور حدیث بہت سی کتابوں میں درج ہے کہ: الجنّة تحت اقدام الامّھات بہشت ماؤں کے کے پاؤں کے نیچے ہے۔ مُراد یہ ہے کہ ماں کی خدمت میں فروتنی اور عاجزی کرنے اور اُن کے حضور مثلِ خاک راہ ہونے ہی سے اؐنسان کو بہشت نصیب ہو سکتی ہے۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، ذیل آیات زیر بحث)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 13 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 13 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 13 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر وُہ لوگ جو کامیابیوں میں شریک ہیں مگر مشکلات میں نہیں:
Tafsīr Nemūna · Vol. 5گزشتہ آیات میں صالح مومنین اور مشرکین کا ذکر تھا۔ ان آیات زیر نظر میں ایک تیسرے گروہ "منافقین" کا ذکر ہے۔ چنانچہ مذکورہ ہے کہ: "بعض لوگ ایمان کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن مخالفین کی سختیوں اور مظالم کے مقابلے میں ان میں تحمل اور استقامت نہیں ہوتی۔ جس وقت راہِ خدا میں اُنہیں سختیاں پیش آتی ہیں تو وہ ایمان سے رُوگرواں ہو جاتے ہیں اور ان مصائب کو خدا کا عذاب سمجھتے ہیں۔ اور گھبرا جاتے ہیں: (وَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ فَإِذَا أُوذِيَ فِي اللَّهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللَّهِ)۔ مگر جس وقت تجھے تیرے رب کی مدد پہنچتی ہے اور تم کامیاب ہوتے ہو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ہی ساتھ اور تمہاری کامیابیوں میں شریک ہیں: (وَلَئِن جَاءَ نَصْرٌ مِّن رَّبِّكَ لَيَقُولُنَّ إِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ)۔ کیا یہ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ خُدا اُن کے دلوں کے خیالات سے باخبر نہیں ہے اور کیا ان باتوں سے آگاہ نہیں ہے جو دنیا کے لوگوں کے سینوں میں ہیں: (أَوَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِمَا فِي صُدُورِ الْعَالَمِينَ)۔ اِس آیت میں "امنا" جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے. جبکہ اِس کے بعد "جعل" صیغہٴ مفرد استعمال ہوا ہے۔ شاید صیغہٴ جمع اِس لیے آیا ہو کہ یہ منافقین چاہتے ہوں کہ اپنے آپ کو مومنین میں شمار کرائیں اس لیے وہ آمنا کہتے ہیں۔ یعنی ہم بھی دوسرے تمام مومنین کی طرح ایمان لائے ہیں۔ "أُوذِيَ فِي اللَّهِ" سے مراد "اوذی فی سبیل اللہ" ہے۔ یعنی وہ لوگ کبھی راہِ خدا اور راہِ ایمان میں دشمن کی طرف سے مورد آزار ہوتے ہیں۔ اُسے "فتنہ" کہا گیا ہے۔ آیت زیر نظر میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اہل ایمان کو لوگوں کی طرف جو آزار پہنچتا ہے وہ درحقیقت، عذاب نہیں ہے۔ بلکہ آزمائش ہے اور یہ آزمائش ان کے تکامل کا وسیلہ ہوتی ہے۔ اِس طرح یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لوگ "عذاب" اور "امتحان" میں فرق کرنا سیکھیں اور اس بہانے سے کہ مخالفین اُنھیں ستاتے ہیں، ایمان سے دست بردار نہ ہوں۔ کیونکہ مخالفین کی طرف سے ستایا جانا بھی خدا کی طرف سے دُنیاوی امتحان کے پروگرام میں شامل ہے۔ ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ جملہ فوق "شرطیہ" ہے اور یہ مسلّم ہے کہ جملہ شرطیہ کے لیے "وجود شرط " لازمی نہیں ہے۔ بلکہ اُس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر خدا آیندہ تم کو (اہل ایمان کو) کامیابیاں عطا کرے گا تو یہ کمزور ایمان منافقین اُن میں اپنے آپ کو شریک سمجھیں گے۔ علاوہ بریں، مکہ میں بھی مسلمانوں نے دشمنوں کے مقابلے میں کامیابیاں حاصل کی تھیں۔ اگرچہ وہ فوجی فتوحات نہ تھیں بلکہ وہ معنوی کامیابیاں تھیں مثلاً اسلامی تبلیغات عمومی افکار میں نفوذ کر رہی تھیں اور عوام میں اسلام کی پیش رفت ہو رہی تھی۔ اِن سب باتوں کے علاوہ، مومنین کے لیے اذیت و آزار صرف زندگی ہی تک تھا۔ مدینہ کی زندگی میں اس قسم کی تکالیف کا بہت ہی کم اتفاق ہوتا تھا۔ اِس آیت سے ضمناً یہ امر بھی واضح ہوا کہ "منافق" صرف وہی لوگ نہیں ہیں جن کے قلوب میں ایمان تو ہرگز نہیں ہوتا مگر وہ "ایمان" کا اظہار کرتے ہیں۔ بلکہ وہ کمزور ایمان لوگ بھی مخالفین کا ظلم برداشت نہیں کر سکتے اس لیے جلد ہی اپنے عقیدے سے منحرف ہو جاتے ہیں۔ منافقین میں شمار ہوتے ہیں۔ اور آیت زیر بحث میں بظاہر اسی قسم کے مناقفین کا ذکر ہے۔ اور یہ تصریح موجود ہے کہ خُدا ان کی نیتوں سے آگاہ ہے۔ اِس آیت کے بعد کی آیت میں پھر مزید تاکید کے لیے یہ اضافہ ہے کہ یقینی طور پر خدا مومنین کو پہچانتا ہے اور حتمی طور پر وہ منافقین کو بھی پہچانتا ہے: (وَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنَافِقِينَ)۔ اگر سادہ لوح لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ حقائق کو چُھپا کر احاطہٴ علم الہٰی سے باہر رہ سکتے ہیں تو بہت ہی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ ہم بار دیگر بطور تکرار یہ کہتے ہیں کہ "اس آیت میں کلمہ"، "منافق" کا وجود اِس امر کی دلیل نہیں ہے کہ یہ آیات مدینہ میں نازل ہوئی ہیں۔ یہ امر مسلم ہے کہ کسی جماعت میں نفاق اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ اقتدار میں آ کر حکومت اپنے ہاتھ میں لے لے۔ اس وقت مخالفین باقتدار جماعت سے مخرف ہو کر زیر زمین جماعت سازی شروع کر دیتے ہیں۔ مگر جیسا کہ ہم نے سطور مافوق میں کہا، نفاق کے بہت وسیع معنٰی ہیںک۔ اِن معنی میں وہ ضعیف الایمان لوگ بھی شامل ہیں جو تھوڑی سی تکلیف بھی پیش آنے پر اپنا عقیدہ بدل لیتے ہیں۔ آیت مابعد میں مشرکین کا ایک کمزور اور پوچ نقل کیا گیا ہے۔ جبکہ ابھی تک مشرکین کی تعداد زیادہ تھی۔ فرمایا گیا ہے: کافروں نے ایمان والوں سے کہا: تم آؤ! ہمارے مذہب کی پیروی کرو۔ اگر اس راہ میں تمہارا کوئی گناہ ہو گا تو ہم اسے اپنے کاندھوں پر اٹھا لیں گے: (وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا اتَّبِعُوا سَبِيلَنَا وَلْنَحْمِلْ خَطَايَاكُمْ)۔ (تشریحی نوٹ: جملہ "ولنحمل" فعل امر ہے۔ اِس پر بعض مفسرین نے اعتراض بھی کیا ہے۔ کہ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ انسان اپنے آپ ہی کو حکم دے؟ اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ یہ امر قضیہ شرطیہ کے حکم میں داخل ہے۔ یعنی پورا جملہ یوں ہے "اگر تم ہمارا اتباع کرو تو ہم تمہارے گناہوں کو اٹھا لیں گے۔ مگر ہمارا نظریہ یہ ہے کہ اِس امر میں کوئی مانع نہیں کہ انسان اپنے آپ کو حکم دے۔ یہ کہ آمرو مامور یہاں ایک ہی شخص ہے۔ لیکن دو اعتبار سے۔ (تفسیر فخر رازی))۔ ہم آج بھی بہت سے بداندیش لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ جب وہ کسی کو عملِ بد پر آمادہ کرتے ہیں تو کہتے ہیں، اگر اِس فعل میں کوئی گناہ ہے تو وہ ہماری گردن پر حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ کوئی آدمی بھی کسی دُوسرے شخص کا گناہ اپنے ذمّے نہیں لے سکتا ہے اور یہ بات ہرگز معقول نہیں ہے۔ (کیونکہ) خُدا عادل ہے۔ وہ کسی کو بھی دوسرے آدمی کے جُرم میں سزا نہیں دے گا۔ علاوہ بریں، اِن بےاساس باتوں سے کوئی آدمی بھی اعمال کی ذمّہ داری سے بری نہیں ہو جائے گا۔ نیز جیسا کہ بعض کوتاہ فکر لوگ خیال کرتے ہیں، اُن کی رائے کے برخلاف اِس قسم کی بےسروپا باتیں انسان کے گناہوں کی سزا میں سُوئی کی نوک سے بھی کمی نہیں کر سکتیں۔ اِس لیے کسی عدالت میں بھی اگر حج کے سامنے کوئی ایسی بات کہے کہ فلاں آدمی کا گناہ میں اپنے ذمّہ لیتا ہوں تو اس کی بات قبول نہیں کی جائے گی۔ یہ درست ہے کہ گناہ پر آمادہ کرنے والا شخص بھی گناہ گار کے جرم میں شریک ہے مگر یہ شرکت اس گناہ گار کی ذمّہ داری کو کسی طرح کم نہیں کر دیتی۔ لہذا دُوسری آیت میں بصراحت کہا گیا ہے: وہ لوگ دُوسروں کے گناہوں اور خطاؤں کو ہرگز اپنے کاندھوں پر نہ لیں گے: (وَمَا هُم بِحَامِلِينَ مِنْ خَطَايَاهُم مِّن شَيْءٍ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ)۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ صدق و کذب جملہ خبر یہ میں ہوتا ہے۔ حالانکہ جس جُملے پر بحث کر رہے ہیں۔ وہ جُملہ خبر یہ نہیں بلکہ جملہ انشائیہ ہے (یعنی فعل امر) اور ہم جانتے ہیں کہ جُملہ انشائیہ میں صدق و کذب نہیں ہوتا۔ پس قرآن یہ کیوں کہتا ہے کہ وہ "جھوٹ بولتے ہیں"؟ اِس سوال کا جواب، بیان سابق سے واضح ہو جاتا ہے۔ وہ یہ کہ جملہ اَمر یہ اس مقام پر ایک جُملہ شرطیہ خبریہ بن جاتا ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر تم ہمارے طریقے کی پیروی کرو تو ہم تمہارے گناہوں کی ذمّہ داری لیتے ہیں۔ اور ایسے جُملے میں احتمال صدق و کذب ہے۔ (تشریحی نوٹ: اِس سوال کا جواب ایک اور طرح بھی دیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جملہ انشائیہ میں صدق و کذب کا پہلو ہوتا ہے اور عرف عام میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ جب کوئی آدمی کسی کام کا حکم دیتا ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ آدمی اُس کام سے دلچسپی رکھتا ہے۔ اور جب ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ جھوٹ بولتا ہے تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ حقیقت میں یہ نہیں چاہتا)۔ اور اِس امر کے پیش نظر کے کہیں ایسا نہ سمجھ لیا جائے کہ یہ کفر و شرک، بت پرستی اور ظلم کی طرف دعوت دینے والے لوگ اپنے اعمال کی کوئی سزا نہیں پائیں گے، اِس لیے آیت مابعد میں یہ اضافہ کیا گیا: وہ لوگ اپنے گناہوں کا بار اٹھائیں گے اور اُن کے بار پر دُوسرے وزنی بار کا بھی اضافہ ہو گا: (وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًا مَّعَ أَثْقَالِهِمْ) یہ اضافی بار لوگوں کو گمراہ اور دُوسروں کو گناہ کی رغبت دلانے کا ہو گا۔ یہ ویسا ہی بار گناہ ہو گا جیسا کہ کسی رسم بد کی بنیاد ڈالنے کا ہوتا ہے۔ جیسا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: من سنّ سنة سیئة فعلیہ و زوھا ووزر من عمل بھا من غیر ان ینقص من وزرہ شیء جو آدمی کسی رسم بد کی بُنیاد رکھتا ہے تو اِس رسم بد اور اُن سب آدمیوں کا گناہ جو اس پر عمل کرتے ہیں اُس کی گردن پر ہے۔ بغیر اس کے کہ اُن پر عمل کرنے والوں کے گناہ میں سے ذرہ بھی کمی ہو۔ (بحوالہ: تفسیر فخر الدین رازی، جلد، ۲۵، ص۴٠) آیت کے اخیر میں یہ اضافہ کیا گیا ہے کہ بروز قیامت اُن سے یقینی طور پر اُن کے افتراٴت اور دروغ گوئیوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا اور انھیں ان کا جواب دینا ہو گا: (وَلَيُسْأَلُنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَمَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ)۔ یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جس افتراٴ کا قیامت میں جواب دینا ہو گا وہ کیا ہے؟ تو ممکن ہے اس افتراء کا مطلب وہ دروغ گوئیاں ہوں جو یہ مشرکین خدا کے متعلق کرتے تھے اور کہتے تھے کہ: خدا ہی نے ہمیں ان بُتوں کی پرستش کا حکم دیا ہے۔ یا اس سے یہ مُراد بھی ہو سکتی ہے کہ وہ لوگ جو یہ کہتے تھے کہ "تمہارے گناہوں کو ہم اپنی گردن پر لیتے ہیں۔ اِس قول سے اُن کفار کی یہ مراد ہو کہ "یہ اعمال ہرگز گناہ نہیں ہیں" اور یہ ایک جھوٹ ہے جس کا اُنھیں جواب دینا ہو گا۔ یا یہ کہ بروز قیامت اُن سے کہا جائے گا کہ آؤ اور اُن لوگوں کے گناہ اُٹھاؤ! تو وہ لوگ انکار کر دیں گے اور اپنے جھوٹ کو ظاہر کر دیں گے۔ یا یہ مُراد ہو سکتی ہے کہ اُن کے اقوال کا یہ مطلب تھا کہ ہر انسان دُوسرے انسان کے گناہوں کا ذمّہ داری لے سکتا ہے۔ حالانکہ یہ بات بھی دورغ ہے۔ کیونکہ ہر آدمی صرف اپنے ہی اعمال کا ذمہّ دار ہے۔
۲۔ ایک سوال کا جواب
اِس مقام پر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اِسلامی قوانین میں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان کا خون بہا دُوسرے کے ذمّہ ہوتا ہے مثلاً قتل کے معاملے میں خون بہا "عاقلہ" کے ذمّہ ہے۔ "عاقلہ" اصطلاحِ فقہ میں ایک باپ کی اولاد ذکور کو کہتے ہیں کہ خون کی رقم اُس اولاد ذکور پر تقسیم ہو جائے گا اور اُن میں سے ہر ایک اپنا حصہ ادا کرے گا۔ کیا یہ مسئلہ مندرجہ بالا آیات کے مضامین سے متضاد نہیں ہے؟ ہم اِس کے جواب میں کہتے ہیں کہ ہم نے فقہی مباحث میں یہ واضح کر دیا ہے کہ "عاقلہ" کا خون بہا کا ضامن ہونا، ایک قسم کا ایک خاندان کے افراد میں متقابل اور لازمی بیمہ ہے۔ اِسلام نے اس وجہ سے کہ کسی خطا کی دِیّت کا بار ایک فرد پر نہ رہے، پُورے خاندان کے افراد پر لازم کر دیا کہ وہ سب باہم "دیّت خطا" کے ضامن رہیں اور دیّت کی رقم کو آپس میں بانٹ لیں، ممکن ہے کہ آج ایک شخص خطا کا مرتکب ہو اور کل کو دُوسرا۔ (ہم اس مسئلے کے بارے میں مزید بحث کو فقہ کی کتاب پر چھوڑتے ہیں)۔ بہرحال، ادائے دیّت کا یہ نظام باہمی مفاد کے لیے ایک قسم کا تعاون اور امداد باہمی ہے. اور اس کا یہ مفہوم ہرگز نہیں ہے کہ کوئی شخص دوسرے آدمی کا گناہ اپنی گردن پر لے لے۔ بالخصوص قتل کا خون بہا حقیقت میں اس گناہ کا جرمانہ نہیں ہے بلکہ وہ "نقصان کی تلافی" ہے (یہ امر مستحق غور ہے)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
چند اہم نکات ۱۔ اچھی اور بُری رسمیں:
اگر کوئی شخص کس ایسے کام کی بنیاد رکھتا ہے جو اُس عہد کے پُورے معاشرے میں نفوذ کر جائے تو بُنیاد رکھنے والا شخص کل معاشرہ کے اعمال کا ذمہّ دار ہو گا۔ کیونکہ کسی عمل کی تحریک بھی اُس عمل کے اسباب میں سے ہے۔ یہ ثابت ہے کہ جو شخص بھی محّرکِ عمل ہے وہ اُس عمل کے خیر و شر میں شریک سمجھا جائے گا۔ خواہ وہ عمل کتنا ہی معمولی ہو۔ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک حدیث روایت کی گئی ہے جو ہمارے اس قول کی موید ہے۔ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک روز اپنے اصحاب کے ساتھ تشریف رکھتے تھے کہ ایک سائل آیا اور اُس نے مدد کے لیے سوال کیا۔ کسی نے بھی اُسے کچھ نہ دیا۔ اؐتنے میں اصحاب میں سے ایک شخص آگے بڑھا اور اُس فقیر کو کچھ دے دیا۔ یہ دیکھ کر دُوسروں کو بھی خیال پیدا ہوا اور اُنھوں نے بھی اُس سائل کی مدد کی اِس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "من سن خیراً فاسنن بہ کانہ لہ اجرہ و من اجور من تبعة، غیر منتقص من اجور ھم شیئا، ومن سنّ شراً فاسنن بہ کان علیہ و زرہ ومن اوزار من تبعہ،غیر منتقص من اوزار ھم شیئا"۔ جو آدمی کسی نیک کی بنیاد رکھتا ہے اور دُوسرے اس کی پیروی کرتے ہیں تو اُسے اس کے عملِ خیر اور دوسروں کے اعمال خیر کا بھی بدلہ ملے گا۔ بغیر اس کے کہ دُوسروں کی جزا میں کچھ کمی ہو اور کوئی رسم شرک کی بنیاد رکھتا ہے اور لوگ اٗس کی پیروی کرتے ہیں تو اُسے اس کے اپنے گناہ اور دُوسروں کے گناہوں کی بھی سزا ملے گی۔ اس کے بغیر کہ ان کی سزا میں کچھ تخفیف ہو۔ (بحوالہ: تفسیر درالمنشور)۔ اِس مطلب کی اور بھی حدیثیں شیعہ اور سُنی کتب احادیث میں مذکور ہیں۔ مگر اُن میں سے یہ مشہور ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر سرگذشت نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر:
Tafsīr Nemūna · Vol. 5گزشتہ آیات میں انسانوں کی عمومی آزمائش کا ذکر تھا۔ یہاں سے اور اس کے بعد ابنیاء اور گزشتہ اقوام کی آزمائشوں کا ذکر ہے کہ وہ انبیاء اور اُن کے ساتھی کس طرح دُشمنوں کے نرغے میں آزار و زحمات سے دوچار رہے، انھوں نے کس طرح صبر کیا اور پھر آخرکار اُنھیں حالات پر فتح نصیب ہوئی۔ یہ اذکار اصحابِ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دلجوئی کے لیے ہیں، جو اُن ایام میں مکّہ میں طاقتور دُشمنوں کے نرغے میں گِھر ے ہوئے تھے۔ نیز یہ دُشمنوں کے لیے تہدید بھی ہے کہ وہ جان لیں کہ اُن کا انجام بڑا درد ناک ہو گا۔ یہاں سب سے پہلے ایک اُولواالعزم پیغمبر حضرت نوحؑ کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ مختصر الفاظ میں اُن کی زندگی کا اتنا حصّہ بیان کیا گیا ہے جو اُس وقت مسلمانوں کی وضعِ زندگانی کے لیے مناسب تر تھا۔ خُدا فرماتا ہے: ہم نے نوح کو اس قوم کی طرف بھیجا اور وہ اُن کے درمیان پچاس سال کم ایک ہزار سال تک رہا: (وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا)۔ حضرت نوح علیہ السلام شب و روز تبلیغ کرنے اور توحید کی طرف دعوت دینے میں مشغول رہتے تھے۔ خواہ خلوت و تنہائی ہو یا آپ لوگوں کے مجمع میں ہوں۔ بہرکیف، آپ پر موقع سے فائدہ اُٹھا کر اپنی قوم کو نو سو پچاس سال کی طویل مدت تک خدا کی طرف بلاتے رہے۔ آپ اِس خستہ کن کوشش سے نہ تو تھکتے اور نہ اپنی طبیعت میں کی ضعف کو پیدا ہونے دیا۔ لیکن اس محنت کے باوجود ایک قلیل تعداد (تاریخ کے مطابق اسی افراد) کے سوا کوئی آپ کی تعلیم پر ایمان نہ لایا۔ "ضمنا" جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ آگاہ کیا گیا ہے کہ: تم اِن مُشرکین کو بجانب حق دعوت دیتے رہو اور ان کی سرکشی سے دل شکستہ نہ ہو۔ کیونکہ تمہارے سامنے جو مہم درپیش ہے وہ حضرت نوح علیہ السلام کی دشواریوں سے آسان تر ہے۔ مگر دیکھو کہ اس ستمگر اور جھگڑالو قوم (یعنی قومِ نوح علیہ السلام) کا انجام کیا ہوا۔ آخرکار اُنھیں ایک عظیم طوفان نے گھیر لیا اس لیے کہ وہ ظالم اور ستمگر تھے: (فَأَخَذَهُمُ الطُّوفَانُ وَهُمْ ظَالِمُونَ)۔ اِس طور سے ان کی شرمناک زندگیوں کا طومار لپیٹا گیا۔ اُن کے محلات اور حویلیاں اور اُن کے بےجان جسم سب کے سب امواج طوفان میں دفن ہو گئے۔ آیت میں جناب نوح علیہ السلام کی مدت تبلیغ کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: "ہزار سال مگر پچاس سال کم، حالانکہ ممکن تھا کہ خدا نو سو پچاس سال کہہ دیتا۔ یہ اُسلوب بیان طول زمان کی اہمیت کے اظہار کے لیے ہے، کیونکہ ایک ہزار کا عدد اور پھر وہ بھی "ہزار سال" کی صورت میں، تبلیغ کے لیے بہت بڑا عرصہ ہے۔ آیت فوق کے ظاہری معنی سے یہ مترشح ہوتا ہے۔ کہ حضرت نوح علیہ السلام کی کل عمر اتنی ہی نہ تھی۔ جب کہ موجودہ تورات میں حضرت نوح علیہ السلام کی کل عمر اتنی ہی لکھی ہے۔ (توریت سفر تکوین فصل نہم)۔ لیکن یہ بات درست نہیں بلکہ نو سو پچاس سال کا عرصہ ماقبل طوفان تبلیغ کا ہے۔ آپ طوفان کے بعد بھی طویل مدّت تک زندہ رہے۔ بعض مفسرین نے تین سو سال لکھے ہیں۔ اگر ہم اپنے زمانے کی عمروں کے معیار سے دیکھیں تو حضرت نوح علیہ السلام کی اتنی طولانی عمر بہت زیادہ معلوم ہوتی ہے اور ہرگز عمر طبیعی معلوم نہیں ہوتی۔ ممکن ہے اس زمانے میں لوگوں کی عمریں اِس زمانے کی عمروں سے مختلف ہوتی ہوں۔ بعض اسناد سے جو معلومات حاصل ہوئی ہیں اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم نوح علیہ السلام کی عمر طولانی ہوتی تھیں۔ اُن میں سے حضرت نوح علیہ السلام کی عمر غیر معمولی تھی۔ یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ انسان کے جسم کی بناوٹ میں بھی طول عمر کا امکان ہو سکتا ہے۔ اِس زمانے میں حکماء نے جو تحقیقات کی ہیں اُن سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کی حد عمر معین نہیں ہے اور جن لوگوں نے انسان کی عمر طبیعی ایک سو بیس سال یا اس سے کسی قدر کم یا زیادہ سمجھی ہے اُن کا خیال بے اساس ہے۔ بلکہ عین ممکن ہے کہ شرائط بقائے حیات کے ساتھ یہ قیاس بدل جائے۔ ہمارے اس زمانے میں سائنسدان تجربات کے وسیلہ سے اِس قابل ہو گئے ہیں کہ وہ بعض نباتات یا دیگر زندہ موجودات کی عمر کو اُن کی معمول کی مدّت حیات سے بارہ گنا زیادہ کر دیں۔ بلکہ بعض اوقات تو (اگر آپ تعجب نہ کریں) ۹۰۰ سو گنا تک مدّت حیات کو طویل کر دیا گیا ہے۔ اگر یہ تجربات کامیاب ہوتے رہے تو وہ انسان کی مدّت حیات کو بھی طول دینے میں کامیاب ہو جائیں گے (تشریحی نوٹ: طول عمر کے سلسلے کو بالوضاحت سمجھنے کے لیے، حضرت امام مہدی علیہ السلام کی طولانی عمر کی بحث کے سلسلہ میں "انقلابی بزرگ" کتاب کا مطالعہ کریں)۔ اور ممکن یہ ہو جائے گا کہ انسان ہزاروں سال تک زندہ رہ سکے۔ ضمناً یہ بھی ملحوظ رہے کہ کلمہ "طوفان" کا مادہ "طواف" ہے۔ اس کے حقیقی معنی ہر اس حادثے کے ہیں جو انسان کو گھیرے۔ مجازاً اس کلمہ کا اطلاق اس کثیر پانی یا سیل شدید پر ہونے لگا جو روئے زمین پر پھیل کر اُسے نگل لے۔ اِس کا اطلاق ہوا، آگ اور پانی سب پر ہو سکتا ہے۔ یہ کلمہ کبھی شدید تاریکی شب کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے (بحوالہ: مفردات راغب و فرہنگ عمید)۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ قوم نوح کو "وھم طالمون" کہا گیا ہے۔ مُراد یہ ہے کہ وقوعِ طوفان کے وقت بھی وہ لوگ اُسی طرح ظلم و ستم کے مرتکب ہو رہے تھے۔ ان کلمات کا اشارہ اس طرف بھی ہے کہ اگر وہ اِن اعمال سے باز آ جاتے اور خدا کی طرف رجوع کرتے تو ہرگز اِس عذاب میں مبتلا نہ ہوتے۔ اِس کے بعد یہ اضافہ کیا گیا ہے کہ ہم نے نوح اور اصحاب کشتی کو نجات دی اور اُسے اہل دُنیا کے لیے ایک نشانی قرار دیا: (فَأَنْجَيْنَاهُ وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ وَجَعَلْنَاهَا آيَةً لِّلْعَالَمِينَ)۔ (تشریحی نوٹ: اس امر میں کی "جعلنا ھا" کی ضمیر کا مرجع کون ہے، مفسرین میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ ضمیر "ھا" کا مرجع کل واقع اور حادثہ ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ اس کا اشارہ حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے اصحاب کی نجات کی طرف ہے۔ بعض نے اس ضمیر کا مرجع کشتی کو قرار دیا ہے۔ ہمارے نزدیک آیت کے ظاہری معنی کے لحاظ سے آخری خیال درست ہے۔ درحقیقت، یہ کشتی اس زمانے میں خدا کی عظیم آیات میں سے آیت تھی)۔ حضرت نوح علیہ السلام اور اُن کی قوم کے واقعے کے ذکر کے بعد دوسرے اولواالعزم پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حالات کا تذکرہ ہے: "ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو بھیجا۔ اور جب اُس نے اپنی قوم سے کہا کہ: خدائے واحد کی پرستش کرو اور اُس کے لیے تقوی اختیار کرو کیونکہ اگر تم جانو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے: (وَإِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: "ارسلنا" فعل ہے اور نوحاً معطوف علیہ اور ابراہیم معطوف ہے۔ دونوں مفعول ہوئے فعل "ارسلنا" کے، بعض نے ابراہیم کو فعل "انجینا" کے مفعو پر عطف سمجھا ہے۔ اور بعض نے فعل محذوف "اذکر" کا مفعول سمجھا ہے)۔ اِس مقام پر تبلغاِ انبیاء کے دو اہم "اعتقادی اور عملی" ارکان کا ایک ہی جگہ بیان ہے اور وہ ہیں "توحید" اور "تقویٰ" کی طرف دعوت (توحید کا تعلق اعتقاد سے اور تقویٰ کا ربط عمل سے ہے)، آخر میں کہا گیا ہے کہ اگر تم فکر صحیح رکھتے ہو تو ایمان بہ توحید اور تقویٰ تمہارے ہلیے بہتر ہے کیونکہ اس سے تمہاری دنیوی زندگی شرک و گناہ، بدبختی کی آلودگیوں سے نجات ملتی ہے اور تمہاری آخرت کے لئے بھی یہ سعادت جاوید قرار پائی ہے۔ اِس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام دلائل سے بت پرستی کا باطل ہونا ثابت کرتے ہیں۔ آپ نے اس دعویٰ کو مختلف دلائل سے ثابت کیا ہے اور اُن سے مشرکین کے معتقدات اور روش حیات کو نا درست ثابت کیا ہے۔ پہلی بات اُنھوں نے یہ فرمائی کہ: تم خُدا سے منحرف ہو کے بُتوں کی عبادت کرتے ہو: (إِنَّمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ أَوْثَانًا)۔ حالانکہ یہ بُت بے روح مجسمے ہیں۔ نہ یہ صاحب ارادہ ہیں، نہ صاحب عقل اور نہ صاحب شعور ہے۔ وُہ اِن تمام اوصاف سے محروم ہیں۔ اُن کی ہیت ہی بُت پرستی کے عقیدے کو باطل ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ توجہ رہے کہ "اوثان" جمع ہے وثن کی (بروزن صنم) وہ پتھر جنہیں بصورت انسان تراش کر اُن کی عبادت کی جاتی تھی۔ اِس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آگے پڑھتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ: صرف اُن بتوں کی وضع ہی یہ ثابت نہیں کرتی کہ یہ معبود نہیں ہیں، بلکہ تم بھی جانتے ہو کہ "تم دورغ بافی کرتے ہو اور اُن بتوں کو معبود کہتے ہو" (وَتَخْلُقُونَ إِفْكًا)۔ تمہارے پاس اس جھوٹ کو ثابت کرنے کی بجز چند اوہام خرافات کے اور کیا دلیل ہے۔ چونکہ ” تخلقون “ کا مادہ خلق ہے. یہ کلمہ کبھی پیداکرنے یا بنانے کے معنی دیتاہے اور کبھی بہ معنی جھوٹ بولنا، اِس لیے بعض مفسرین نے اِس جملے کی اس کے علاوہ، بھی تفسیر کی ہے جو ہم نے سطور بالا میں تحریر کی۔ اُنھوں نے کہا ہے کہ تخلقون سے مراد یہ ہے کہ تم اِن مصنوعی معبُودوں کو اپنے ہاتھ تراشتے ہو اورخلق کرتے ہو۔ اِس لحاظ سے کلمہ "افک" کے معنی "غیر حقیقی معبود" ہوئے اور "خلق" بمعنی "تراشیدن" (تشریحی نوٹ: "افک" ہر اُس چیز کو کہتے ہیں جس کی اصل صورت بدل جائے۔ اِس لیے دروغ، بالخصوص "بڑے جھوٹ" کو افک کہتے ہیں۔ اسی طرح باد مخالف کو بھی "افک" کہتے ہیں)۔ تراشنا۔ اِس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام تیسرے دلیل دیتے ہیں کہ اگر تم اِن بُتوں کو مادی منفعت کے لیے پوجتے ہو یا دُوسرے جہان میں فائدے کے لیے، دونوں صُورتوں میں تمہارا یہ خیال باطل ہے کیونکہ تم خدا کے علاوہ، جن کی پرستش کرتے ہو وہ تمہیں رزق اور روزی نہیں دے سکتے: (إِنَّ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ لَا يَمْلِكُونَ لَكُمْ رِزْقًا)۔ تم خٗود اقرار کرتے ہو کہ یہ بُت خالق نہیں ہیں بلکہ خالق حقیقی خدا ہے. اِس بناء پر روزی دینے والا بھی وہی ہے۔ لہذا تم روزی خُدا سے طلب کرو: (فَابْتَغُوا عِندَ اللَّهِ الرِّزْقَ)۔ اور چونکہ روزی دینے والا وہی ہے۔ لہذا اسی کی عبادت کرو اور اُس کا شکر بجا لاؤ: (وَاعْبُدُوهُ وَاشْكُرُوا لَهُ)۔ اِس فہوم کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ منعم حقیقی کے حضور میں "حسّ شکر گزاری" سے بھی عبادت کی تحریک ہوتی ہے۔ تم جانتے ہو کہ منعم حقیقی خدا ہی ہے. پس شکر اور عبادت بھی اُسی کی ذات کے لیے مخصوص ہے۔ نیز اگر تم سرائے آخرت کی زندگی کے خواستگار ہو تو سمجھ لو کہ ہم سب کی بازگشت اُسی طرف ہے نہ کہ بُتوں کی طرف (إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ)۔ یہ بُت نہ یہاں کچھ کام آ سکتے ہیں نہ وہاں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس طرح چند مختصر مگر واضح دلائل سے مشرکین کے بےبُنیاد عقائد کو ردٗ کر دیا۔ اِس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام تہدید کے طور پر اور اُن مشرکین کی سرکشی سے بےاعتنائی کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اگر تم میرے پیام کی تکذیب کرتے ہو تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ تم سے پہلے جو امتیں گزر چکی ہیں اُنھوں نے بھی اسی طرح اپنے پیغمبروں کی تکذیب کی ہے۔ اور آخرکار اُن کا انجام بڑا درد ناک ہوا: (وَإِن تُكَذِّبُوا فَقَدْ كَذَّبَ أُمَمٌ مِّن قَبْلِكُمْ)۔ رسُول اور فرستادہٴ خدا کا فرض واضح اِبلاغ اور کچھ نہیں خواہ لوگ اُسے قبول کریں یا نہ کریں: (وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ)۔ اِس مقام پر گزشتہ اُمّتوں سے مُراد قوم نوح اور وہ اقوام ہیں جو اُس کے بعد وجود میں آئیں۔ ارتباط آیات سے واضح ہوتا ہے کہ یہ قول حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی کا ہے اور بہت مفسرین نے بھی اسی تفسیر کو اختیار کیا ہے یا کم از کم بطور احتمال اس کا ذکر کیا ہے۔ اِس مقام پر ایک اور احتمال بھی ہے کہ اس آیت میں روئے سخن مشرکین مکہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے کے کافروں کی طرف ہو اور یہ جملہ: "كَذَّبَ أُمَمٌ مِّن قَبْلِكُمْ" اس احتمال سے بہت مناسب رکھتا ہے۔ اِس کے علاوہ، سورہٴ زمر کی آیت ۲۵ اور سورہٴ فاطر کی آیت ۲۵ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور مشرکین عرب کے متعلق جو ذکر آیا ہے، اِس آیت کا مفہوم بھی اُس کے مطابق ہے۔ بہرحال، مذکورہ بالا دونوں تفاسیر میں نتیجے کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہے۔ اِس مقام پر قرآن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قصّے کو مطلقاً چھوڑ دیا گیا ہے. اور حضرت ابراہیم علیہ السلام توحید باری تعالی اور اپنی رسالت کے اثبات میں جو دلائل دے رہے تھے اُنھیں معاد کے ذکر پر ختم کر دیتے ہیں: کیا یہ منکرین معاد نہیں دیکھتے کہ خدا آفرینش کا آغاز کرتا ہے اور پھر اُسے واپس لوٹاتا ہے: (أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ)۔ اِس مقام پر "روٴیت" یعنی دیکھنے سے مراد مشاہدہٴ قلبی اور علم ہے۔ یعنی کیا یہ لوگ آفرینش الہٰی کی کیفیت کو نہیں جانتے؟ وہ ذات جو بار اول ایجاد و آفرینش پر قدرت رکھتی ہے، اُس کے اعادہ پر بھی قادر ہے۔ کیونکہ ایک چیز پر قدرت رکھنا یہ معنی رکھتا ہے کہ اس کے امثال و اشباہ پر بھی اسے قدرت ہے۔ اس مقام پر اس احتمال کی بھی گنجائش ہے کہ "رویت" کے معنی "مشاہدہ بالعین" (آنکھ سے دیکھنا) ہو۔ کیونکہ انسان اس دنیا میں دیکھتا ہے کہ بارش کے فیض سے مردہ زمین زندہ ہو جاتی ہیں، زمین سے نباتات اُگتی ہیں۔ انسانی بچوں کی تولید ہوتی ہے۔ مرغی کے بچے انڈوں سے نکلتے ہیں۔ کیا وہ یہ نہیں سوچتا کہ جو ذات ان کاموں پر قدرت رکھتی ہے، وہ بعد مرگ، مردوں کو حیات نو بخش سکتی ہے۔ آیت کے اخیر میں تاکید کے عنوان سے یہ اضافہ ہے کہ یہ کام خدا کے لیے آسان ہے: (إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ)۔ کیونکہ بار اول ایجاد و آفرینش کے مقابلے میں تجدید حیات آسان تر ہے۔ ذات الہٰی کے لیے کلمات "آسان اور دشوار" کی تعبیرات انسان کے محدود دماغ اور مُحدود القدرت حالت کی اختراعات ہیں جو اُس نے اپنی فہم کے مطابق وضع کر لیے ہیں۔ کام کا آسان یا دُشوار ہونا تو مخلوق کے لیے ہے جس کا اختیار اور قُدرت مُحدود ہے نہ کہ خدا کے لیے کہ اُس کی قدرت کے لیے کسی حد کا تعین نہیں ہے۔ (غور کیجئے گا)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر خدا کی رحمت سے مایوس لوگ:
Tafsīr Nemūna · Vol. 5یہ آیات معاد کی بحث کے بعد آئی ہیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قصّے کے وسط میں جملہ معترضہ کے طور پر ہیں۔ یہ پہلی بار نہیں ہے۔ کہ ہم قرآن میں اس قسم کی طرز بحث کا سامنا کر رہے ہیں۔ قرآن کی روش یہ ہے کہ جس وقت کسی قصّے کا بیان ایک حساس مرحلے پر پہنچتا ہے تو اس قصے سے مفید نتائج اخذ کرنے کے لیے اصل قصّہ چھوڑ کر ان نتائج کا ذکر کرنے لگتا ہے۔ بہرحال، زیر بحث آیات میں سے پہلی آیت میں مسئلہ معاد کے سلسلے میں دنیا کی سیر کی دعوت دی گئی ہے۔ جب کہ اس سے پہلے کی آیت کا رخ "سیر انفس" کی طرف تھا۔ خدا فرماتا ہے: اِن سے کہو کہ روئے زمین کی سیر کریں۔ زندہ موجودات کی انواع کو دیکھیں۔ مختلیف اور متنوع قسم کی اقوام اور جماعتوں کو اُن کی خصوصیات کے ساتھ ملاحظہ کریں۔ اور دیکھیں کہ خُدا نے اُنھیں بار اوّل کس طرح ایجاد کیا ہے: (قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ)۔ وہی خدا جو رنگا رنگ موجودات اور مختلف اقوام کو پیدا کرنے کے قدرت رکھتا ہے، آخرت میں بھی زندہ کرے گا: (ثُمَّ اللَّهُ يُنشِئُ النَّشْأَةَ الْآخِرَةَ)ٴ۔ کیونکہ اُس نے پہلی بار خلق کر کے سب پر اپنی قدرت ثابت کر دی ہے۔ ٹھیک ہے کہ خدا ہر چیز پر قادر اور توانا ہے: (إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ)۔ یہ آیت اور اِس سے ماقبل کی آیت قدرت الہٰی کی وسعت دلیل سے معاد کے امکان کو ثابت کرتی ہیں: دونوں آیات میں فرق یہ ہے کہ آیت ماسبق میں خود انسان اور جو کچھ اُس کے اطراف و جوانب میں ہے اس کی خلقت اول کا ذکر ہے اور دوسری آیت میں انسان کو اقوام عالم اور دوسری موجودات کے مطالعے کی دعوت دی گئی ہے۔ تاکہ وہ خدا کی ایجاد اول کو مختلف مظاہر اور مختلف حالات و شرائط میں مشاہدہ کریں اور خدا کی لامحدود قدرت سے آشناہوں اور یہ سمجھیں کہ اُس میں اعادہٴ حیات کی طاقت بھی ہے۔ جس طرح سے کہ کبھی "آیات انفس" کے مشاہدے سے توحید کا اثبات ہوتا ہے۔ اور کبھی "آیات آفاتی" کے مشاہدے سے، اسی طرح ان دونوں طریقوں سے معاد کا بھی اثبات ہوتا ہے۔ اس زمانے میں یہ آیت سائنسدانوں کے لیے دقیق تر اور عمیق تر مفہوم رکھتی ہے۔ اور وہ یہ کہ وہ سیاحت کریں اور اُن موجودات ذی حیات کے آثار دیکھیں جو کبھی روئے زمین پر موجود تھے اور اب وہ سمندر کی گہرائیوں، پہاڑوں کی چٹانوں اور زمین کے طبقات میں ڈھانچوں وغیرہ کی شکل میں موجود ہیں۔ اس طرح وہ زمین پر آغاز حیات کے اسرار اور خدا کی عظمت و قدرت سے آگاہ ہوں اور یہ بھی جانیں کہ وہ اعادہٴ حیات پر قدرت رکھتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: ہم نے اس تفسیر کی جلد سوم میں سورہ آل عمران کی آیت ۱۳۷ کے ذیل میں سیراضِ کے متعلق مفصل بحث کی ہے لیکن وہ زیادہ تر گزشتہ فرمان قوموں کے انجام سے درس عبرت حاصل کرنے کے سلسلہ میں تھی)۔ کلمہ "نشاٴة" کے حقیقی کسی چیز کی ایجاد اور تربیت کے ہیں۔ کبھی دنیا کو "نشاة اولی" اور قیامت کو " نشاة آخرت" سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔ اِس مقام پر یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ آیت نمبر ۱۹ میں" إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ" آیا تھا۔ اور یہاں" إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ" آیا ہے۔ اظہار بیان کا یہ فرق ممکن ہے اس وجہ سے ہو کہ آیت ماقبل میں محدود مشاہدہ کا ذکر ہے اور اس آیت میں ایک وسیع مشاہدہ کائنات کی دعوت دی گئی ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں اُن مسائل میں سے جو معاد سے، متعلق ہیں، ایک مسئلے کا ذکر ہے اور وہ ہے رحمت اور عذاب کا مسئلہ۔ چنانچہ مذکور ہے کہ: "وہ قیامت میں جس شخص کو مستحق سزا سمجھے گا اسے سز دے گا اور جس شخص کو لائق رحمت سمجھے گا اس پر رحم فرمائے گا: اور تم سب اُسی کی طرف لوٹ جاؤ گے: (يُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ وَيَرْحَمُ مَن يَشَاءُ وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ)۔ باوجودیکہ خدا کی رحمت اس کے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔ لیکن اس آیت میں پہلے عذاب کا ذکر ہے اور پھر رحمت کا۔ کیونکہ یہ بطور تہدید ہے اور تہدید کے لیے یہی مناسب ہے۔ اس مقام پر ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اول عذاب و رحمت کا ذکر ہے اور اس کے بعد اس کی طرف بازگشت کا۔ ایسا کیوں ہے؟ جب کہ قضیہ اس کے برعکس ہے یعنی اول لوگ اس کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے اور اس کے بعد وہ مستحق عذاب و رحمت قرار پائیں گے۔ شاید اسی سبب سے بعض لوگ اس عذاب و رحمت کو دنیا کا عذاب اور رحمت سمجھے ہیں۔ ہم اُس کے جواب میں کہتے ہیں کہ آیات مابعد کے قرینے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جس عذاب و رحمت کا یہاں ذکر ہے اس کا تعلق روز قیامت ہی سے ہے اور "الیہ تقلبون" اسی مفہوم کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔ یعنی جب کہ ہم سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے اور یہی اعمال کا حساب لینے والا ہے۔ تو عذاب و رحمت بھی اسی کے اختیار میں اور اسی کے ارادے سے ہو گی۔ یہ بھی بعید نہیں ہے کہ اس آیت میں عذاب و رحمت وسیع تر معنی ہوں جن میں دُنیا و آخرت دونوں کا عذاب و رحمت شامل ہو۔ یہ نکتہ بھی روشن ہے کہ "من یشاء" (وہ جیسے چاہے گا) سے مراد وہ مشیت الہٰی ہے جو حکمت ہم آہنگ ہے۔ یعنی وہ جسے مستحق عذاب و رحمت سمجھے گا۔ کیونکہ مشیت الہٰی اندھی نہیں ہے بلکہ وہ ہر شخص کے استحقاق کے مطابق ہے۔ کلمہ "تقلبون" کا مادہ "قلب" ہے۔ اس کے وضعی معنی ہیں، کسی چیز کی صورت کو بدل دینا۔ چونکہ قیامت کے دن انسان خاک بے جاں کی صورت سے ایک ایسے زندہ موجود کی شکل اختیار کر لے گا جو ایک موجود مکمل ہو گا لہذا اُس کی تجدید آفرینش کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ ممکن ہے کہ کلمہ "تقلبون" سے اس نکتہ کی طرف اشارہ ہو کہ سرائے آخرت میں انسان اس طرح وگرگوں اور منقلب ہو جائے گا کہ اُس کا باطن ظاہر ہو جائے گا۔ اوراس کے دل کے بھید آشکارا ہو جائیں گے۔ سورہ طارق کی آیت۹ "یوم تبلی السرا ئر" (وہ دن جب کہ دل کے بھید کھل جائیں گے) ان معنی سے ہم آہنگ ہے۔ اس بحث کو مکمل کرتے ہوئے کہ عذاب اور رحمت خدا کے اختیار میں ہے اور سب لوگوں کو اسی کی طرف لوٹنا ہے، یہ اضافہ کیا گیا ہے: اگر تم یہ خیال کرو کہ تم خدا کی حکومت سے باہر نکل جاؤ گے اور اس کا دست عدالت تمہارا گریبان نہ پکڑے گا، تو تم سخت غلطی پر ہو۔ کیونکہ تم خدا کے ارادے پر ہرگز غالب نہیں آ سکتے اور اس کے دائرہٴ اختیار سے زمین آسمان میں فرار نہیں کر سکتے: (وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ) (تشریحی نوٹ: "معجزین" کا مادہ "عجا" ہے۔ اس کے معنی کسی چیز سے پیچھے رہ جانے کے ہیں۔ لہذا ناتوانی کے وقت (جو کہ پیچھے رہ جانے کا باعث ہوتی ہے) اس کلمہ کو استعمال کرتے ہیں۔ معجزہ وہ شخص ہے جو دوسرے کو عاجز کر دے اس لیے جو آدمی کسی قلم و قدرت سے بھاگ کر اسے اپنا پیچھا کرنے سے عاجز کر دیت اہے، اسے بھی معجز کہتے ہیں)۔ اور اگر تم سمجھتے ہو کہ کوئی سرپرست اور مددگار اس وقت تمہاری یا دری کرے گا تو یہ بھی محض غلط فہمی ہے۔ کیونکہ تمہارے لیے خدا کے علاوہ، کوئی ولی اور یادر نہیں ہے: (وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ)۔ درحقیقت، خدا کے عذاب سے اُسی وقت نجات مل سکتی ہے کہ یا اس کی حکومت سے باہر نکل جاؤ۔ یا اس کے دائرہٴ فرمان روائی میں رہ کر دوسروں کا سہارا لے کر اپنے آپ کو بچاؤ مگر نہ تو اس کی سلطنت سے باہر نکلنا ممکن ہے (کیونکہ ہر مقام پر اسی کی حکومت ہے اور تمام عالم ہستی اُسی کا وسیع ملک ہے) اور نہ کسی میں یہ صلاحیت ہے کہ اس کی قدرت کے مقابلے میں علم اختیار بلند کرے یا کوئی تمہاری مدافعت کر سکے۔
دوسوال اور ان کا جواب
پہلا سوال یہ ہے کہ اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ اس میں مشرکین اور کفار سے خطاب ہے اور یہ لوگ زمین کے ساکن ہیں تو یہ کہنا کہ " وَلَا فِي السَّمَاءِ" کیا معنی رکھتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تعبیر ایک طرح کی تاکید اور مبالغہ ہے۔ یعنی تم نہ تو حدود زمین میں خدا کے احاطہ قدرت سے نکل سکتے ہو اور نہ آسمانوں میں۔ یعنی بالفرض اگر تم اتنی قدرت رکھتے ہو کہ آسمان پر چڑھ جاؤ پھر بھی اس کے دائرہ قدرت ہی میں رہو گے۔ یا یہ کہ نہ تو تم اہل زمین کے وسیلہ سے خدا کو اس کی مشیت میں عاجز کر سکتے ہو اور نہ اپنے ان معبودوں کے وسیلے سے جنہیں تم سمجھتے ہو کہ وہ آسمانوں میں ہیں۔ جیسے فرشتے یا جنات (البتہ پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے)۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ "ولیّ" اور "نصیر" میں کیا فرق ہے؟ علامہ طبرسی مرحوم نے مجمع البیان میں لکھا ہے کہ "ولی" وہ ہے جو بغیر درخواست کے انسان کی مدد کرے۔ لیکن "نصیر" عمومیت رکھتا ہے۔ وہ کبھی درخواست پر اور کبھی بغیر درخواست کے مدد کرتا ہے۔ ان دونوں کلمات کے فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ "ولی" وہ سرپرست ہے جو بدون تقاضا مدد کرتا ہے اور "نصیر" اس فریادرس اور یا درس کو کہتے ہیں جو طلب اور درخواست کے بعد انسان کی مدد کرتا ہے۔ اس عنوان سے قرآن میں ان مجرموں کے لیے مجازات الہٰی سے فرار کے تمام دروازے بند کر دیئے گئے ہیں۔ خدا آیت مابعد میں بطور قطع فرماتا ہے کہ: جو لوگ آیات الہٰی اور اس کی بقا کے منکر ہوئے وہ میری رحمت سے مایوس ہیں: (وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ اللَّهِ وَلِقَائِهِ أُوْلَئِكَ يَئِسُوا مِن رَّحْمَتِي)۔ اس کے بعد تاکید کے طور پر یہ اضافہ کیا گیا ہے۔ ان کے لیے درد ناک عذاب ہے: (وَأُوْلَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ)۔ یہ عذاب الیم رحمت خدا سے مایوس ہونے کا لازمہ ہے۔ "ایات اللہ" یا "ایات تکوینی" سے نظامّ آفرینش میں عظمت الہٰی کے آثار مراد ہیں۔ اس صورت میں ان کلمات سے اشارہ مسئلہ توحید کی طرف ہو گا۔ جبکہ "لقائہ" سے اشارہ مسئلہ معاد کی طرف ہے۔ یعنی منکر مبداء بھی ہیں اور منکر معاد بھی۔ یا ... "ایات اللہ" سے آیات تشریعی مراد ہیں۔ یعنی وہ آیات جو خدا نے اپنے پیغمبروں پر نازل کیں۔ جن میں، مبداء و معاد اور نبوت کا ذکر ہے۔ اس صورت میں کلمہ "لقائہ" اسی طرح کی تعبیر ہے جیسے خاص کے بعد عام ذکر کیا جائے۔ اس کا امکان بھی ہے کہ "آیات اللہ" سے وہ تمام آیات الہٰی مراد ہوں جو عالم آفرینش اور احکامات تشریعی میں ہیں۔ اس نکتہ کا ذکر بھی لازم ہے کہ "یسئوا" (وہ مایوس ہو گئے) فعل ماضی ہے، ہر چند کہ مقصود کلام زمانہ آئندہ یعنی روز قیامت ہے کیونکہ عربوں کا شیوہٴ کلام یہ ہے کہ وہ حادثہٴ آئندہ، جو سو فیصد حتم الوقوع ہو اُس کے لیے فعل ماضی استعمال کرتے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 27 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 27 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 27 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مستکبرین کا طرز جواب:
Tafsīr Nemūna · Vol. 5اب ہم اس مقام پر ہیں کہ یہ دیکھیں کہ اُس گمراہ قوم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ان تین دلائل کا جو توحید نبوت اور معاد کے متعلق تھے کیا جواب دیا۔ اُن کے پاس کوئی مُدلّل جواب تو تھا نہیں لہذا اُنھوں نے دیگر تمام منہ زور بےمنطق بدمعاشوں کی طرح اپنی شیطانی طاقت کا سہارا لیا۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو قتل کرنے کا فیصلہ صادر کر دیا۔ جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا ہے: ابراہیمؑ کی قوم کے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہ تھا کہ اسے (ابراہیم کو) قتل کر دو یا جلا دو: (فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَن قَالُوا اقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّقُوهُ)۔ قرآن کے اِس طرز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں کی تو یہ رائے تھی کہ ابراہیم کو جلا دیا جائے اور کچھ یہ تجویز پیش کر رہے تھے کہ انھیں تلوار یا کسی اور ذریعے سے قتل کر دیا جائے۔ آخرکار، پہلے گروہ کی رائے مان لی گئی کیونکہ وہ قوم یہ سمجھتی تھی کہ کسی کو مارنے کا بدترین طریقہ یہی ہے کہ اسے جلا دیا جائے۔ اَس مقام پر یہ احتمال بھی موجود ہے کہ ابتداء میں اس قوم کے لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو عام طریقے سے قتل کرنا چاہیے تھے مگر بعد میں وہ سب اس پر متفق ہو گئے کہ اُنھیں شدید ترین عذاب دیا جائے۔ اِس آیت میں یہ ذکر نہیں آیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں کس طرح جلایا گیا تھا۔ ہم اس جگہ صرف یہ پڑھتے ہیں کہ خدا نے اُنھیں آگ سے نجات بخشی: (فَأَنْجَاهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ)۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے کی تفصیل سورہٴ ابنیاء کی آیات ۲۸ تا ۷۰ میں مذکور ہے۔ جس پر ہم نے تفسیر نمونہ کی تیرھویں جلد میں مفصل بحث کی ہے۔ آیت کے آخر میں یہ اضافہ ہے کہ اس ماجرے میں ایمان لانے والوں کے لیے نشانیاں ہیں: (إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ)۔ صرف ایک نشانی ہی نہیں بلکہ اس واقعے میں بہت سی نشانیاں موجود ہیں۔ کیونکہ ایک طرف تو یہ روشن معجزہ تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جسم پر آگ کا اثر نہ ہوا۔ (اور جیسا کہ مشہور ہے) آگ گلستان میں تبدیل ہو گئی۔ یہ دوسرا معجزہ تھا۔ تیسرا معجزہ یہ تھا کہ وہ زبردست اقتدار کے حامل لوگ ایک ایسے فرد کے مقابلے میں جس کا ہاتھ ہر وسیلہٴ ظاہری سے خالی تھا قطعی عاجز اور ناتواں ثابت ہوئے۔ اِس عجیب غیر معمولی حادثے کا ان سیاہ دلوں کو طبیعت پر کچھ اثر نہ ہونا، یہ بھی قدرت الہٰی کے ایک نشانی ہے۔ وہ یوں کہ خدا نے اِس مُعاند اور مخالف قوم کے افراد سے توفیق خیر کو اس طرح سلب کر لیا تھا کہ بڑی سے بڑی نشانیوں کا بھی اُن پر اثر نہ ہوتا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ۔ جس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھ پاؤں باندھ کر آگ میں پھینکا گیا تو جو چیز جلی وہ صرف وہی رسی تھی جس سے آپ کو باندھا گیا تھا۔ (بحوالہ: تفسیر رُوح المعانی جلد۲۰، صفحہ ۱۳۰)۔ ہاں، ٹھیک ہے کہ اُن دشمنان حق کی آتش جرم و جہالت نے ان چیزوں کو جلا دیا جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو قید کیا گیا تھا اور وہ آزاد ہو گئے اور یہ بھی ایک نشانی ہے۔ شاید ان وجود کی بناء پر۔ حضرت نوح علیہ السلام اور بذریعہ کشتی اُن کی نجات کے قصّے میں جعلناھا ایۃ" بصورت مفرد، کہا گیا ہے اور اِس مقام پر "لایات" بصُورت جمع آیا ہے۔ بہرحال، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس آگ سے بہ لطف الہٰی معجزانہ طور پر نجات پائی۔ اُس کے بعد صرف یہی نہیں ہوا کہ آپ اپنے مقاصد بنوت اور ہدایت کی تبلیغ سے دست بردار نہیں ہوئے بلکہ اس کے برعکس آپ نے اور بھی زیادہ جوش اور سرگرمی سے تبلیغ شروع کر دی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی مشرک قوم سے کہا: تم نے خدائے برحق کو چھوڑ کر اپنی عبادت کے لیے بتوں کو اختیار کر لیا ہے۔ تاکہ وہ دُنیاوی زندگی میں تمہارے درمیان دوستی اور محبت کا سبب بنیں لیکن تم متنبہ رہو کہ بروز قیامت تمہارا باہمی رشتہٴ محبت بالکل منقطع ہو جائے گا اور تم میں سے ہر ایک دوسرے کا انکار کر دے گا اور تم آپس میں ایک دوسرے پر لعنت اور نفرین کرو گے۔ پس تم سب کا مقام جہنم ہے۔ اُس روز تمہارا کوئی بھی مددگار نہ ہو گا: (وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّهِ أَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ)۔ (تشریحی نوٹ: "مودّة بینکم" کے منسوب ہونے کے وجہ یہ ہے کہ وہ "لاجلہ" کا مفعول ہے۔ اِس ضمن میں مفسرین نے اور بھی احتمالات بیان کیے ہیں)۔ بُتوں کا انتخاب بت پرستوں کے درمیان کا سبب کس طرح ہوتا تھا؟ اس سوال کا چند پہلوؤں سے جواب دیا جا سکتا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہرقوم یا قبیلہ جب ایک ہی بت کی پرستش کرتا تھا تو اُن میں باہمی وحدت اور یگانگت کا احساس پیدا ہوتا تھا۔ یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ اُس زمانے میں ہر قوم اور ہر قبیلے کا ایک مخصوص بُت ہوتا تھا۔ چنانچہ عرب میں زمانہٴ جاہلیت میں ہر بُت کسی شہر یا قبیلے سے منسوب تھا۔ "اُن میں سے بُت "عزّی" خصوصاً قریش سے منسوب تھا۔ "لات" قبیلہ تقیف کا۔ اور۔ "منات" اوس و خزرج کا تھا۔ (بحوالہ: سیرت ابن ہشام، جلد۱، صفحات ۸۶ ۔۸۷)۔ دُوسرے یہ کہ بُتوں کی پرستش اس قوم کا ان کے اجداد اور بزرگوں سے تعلق قائم رکھتی تھی۔ غالباً دین حق کو قبول نہ کرنے کے لیے اِسی وجہ سے وہ عذر کرتے تھے کہ یہ بُت ہمارے بزرگوں کی یادگاریں ہیں۔ اور ہم اُن ہی کی پیروی کرتے ہیں۔ علاوہ بریں، کفار کے سردار اور بزرگ اپنے پیروؤں کو بُتوں کی پرستش ترغیب دیتے تھے۔ اور اُن سردارانِ قوم اور ان کے پیروؤں کے درمیان یہی حلقہ اتصال تھا۔ لیکن قیامت میں یہ تمام پوچ اور کمزور رشتےٴ منقطع ہو جائیں گے اور ہر آدمی اپنا گناہ دوسرے کے سر ڈالے گا اور اُس پر لعنت اور نفرین کرے گا اور اس کے عمل سے اظہار بیزاری کرے گا۔ حتی کہ اُن کے وہ معبود (بُت) جن کے متعلق ان کا خیال خام یہ تھا کہ وہ اُن کے لیے خدا سے ارتباط کا وسیلہ ہیں اور جن کی بابت وہ یہ کہا کرتے تھے: مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى ہم تو اُن کی مخص اِس لیے پرستش کرتے تھے کہ وہ ہمیں خدا سے نزدیک کر دیں گے۔ (زمر آیت ۳)۔ بروز قیامت یہ پرستار اُن سے بھی اظہار بیزاری کریں گے۔ جیسا کہ سورہ مریم کی آیت ۸۲ میں ہے: كَلاَّ سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا وہ معبود ان باطل بہت جلد اپنے پجاریوں کی عبادت کا انکار کر دیں گے اور اُن کے مخالف ہو جائیں گے۔ اور بروز قیامت ایک دوسرے کے انکار، ایک دوسرے پر لعنت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اُس روز مشرکین ایک دوسرے سے بیزاری کریں گے اور وہ چیز جو دُنیا میں اُن کے بےاصل و بےبنیاد محبت کا سبب تھی وہ آخرت میں اُن کے لیے باہمی عداوت اور بغض کا باعث بن جائیں گی۔ جیسا کہ سُورہٴ زخرف کی آیت ۶۷ میں فرمایا گیا ہے: الْأَخِلَّاءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِينَ اُس روز دوست ایک دُوسرے کے دشمن ہو جائیں گے۔ مگر پرہیزگار (نہیں ہوں گے)۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم صرف بُت پرستوں ہی کے لیے نہیں ہے بلکہ وُہ تمام لوگ بھی اس میں شامل ہیں، جنھوں نے دُنیا میں باطل امام اور باطل پیشوا چُنا ہے اور اس کی پیروی کرتے ہیں اور اُس سے پیمانِ مودت باندھتے ہیں۔ یہ سب بھی قیامت میں ایک دُوسرے کے دشمن ہو جائیں گے اور ایک دُوسرے سے اظہار بیزاری کریں گے اور ایک دُوسرے پر لعنت کریں گے۔ (بحوالہ: اصول کافی نقل شدہ مطابق تفسیر نورالثلقین جلد۴ ص۱٥۴)۔ مومنین کا باہمی پیوندِ محبت جس کی بنیاد میں توحید، خدا پرستی اور اطاعت فرمان حق پر ہے، وہ ہمیشہ برقرار رہے گا اور وہاں اور زیادہ محکم ہو جائے گا۔ یہاں تک کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بروز قیامت مومنین ایک دُوسرے کے لیے استغفار و شفاعت کریں گے، جب کہ مشرکین ایک دُوسرے پر لعنت کرنے میں مشغول ہوں گے۔ (بحوالہ: کتاب توحید شیخ صدوق نقل شدہ مطابق نورالثقلین جلد۴، ص۱٥۴) اِس کے بعد کی آیت ۲۶ میں حضرت لوط علیہ السلام کے ایمان کا ذکر ہے۔ ارشاد ہوتا ہے، لُوط ابراہیم پر ایمان لائے: (فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ)۔ حضرت لُوط خُود پیغمبرانِ بزرگ میں سے تھے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قریبی رشتہ دار تھے (کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھانجے تھے)۔ اگر ایک مرد بزرگ کسی پیغمبر پر ایمان لائے اور اُس کے احکام کی پیروی کرے تو اس کا ایمان لانا ایک امت و ملت کے ایمان لانے کے مترادف ہے۔ خدا نے یہاں خصوصیت سے حضرت لُوط علیہ السلام کے ایمان لانے کا ذکر کیا ہے۔ جو ایک عظیم شخصیت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے معاصر تھے تاکہ یہ امر واضح ہو جائے کہ جب ایسا شخص ایمان لے آیا تو اول الناس کا ایمان نہ لانا کچھ اہمیت نہیں رکھتا۔ البتہ یہ قیاس ہوتا ہے کہ شہر بابل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے آمادہ دل موجود تھے۔ جنہوں نے اُس معجزہٴ عظیم کو دیکھ کر آپ کی اتباع کی۔ مگر یقیناً وہ لوگ اقلیت میں تھے۔ اِس کے بعد یہ اضافہ فرمایا گیا: ابراہیم علیہ السلام نے کہا میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کر رہا ہوں کیونکہ وہ عزیز و حکیم ہے: (وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَى رَبِّي إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ)۔ ظاہر ہے کہ جس وقت ربہرانِ الہٰی کسی مقام پر اپنا فرض رسالت انجام دیتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ وہ معاشرہ اور سارا ماحول اس قدر آلودہ بہ شرک و جہل ہے اور ظالموں کے دباؤ میں ہے کہ ان کی دعوت حق کا اس مقام پر پھیلنا ناممکن ہو گیا ہے تو وہ وہاں سے کسی اور جگہ ہجرت کر جاتے ہیں تاکہ اس مقام پر دعوت الہٰی کو پھیلائیں۔ اِس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی شہر بابل سے حضرت لوط علیہ السلام اور اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر "خطّہ انبیا و توحید" یعنی ملک شام کی طرف سفر کر گئے تاکہ آپ وہاں ایک جماعت پیدا کر سکیں اور دعوتِ توحید کو وسعت دے سکیں۔ (شریحی نوٹ: حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بابل سے ملک شام کو ہجرت کرنے کی تفصیل بحث سورہ انبیاء کی آیت نمبر ۷۱ کے ذیل میں تفسیر نمونہ کی جلد ۷ میں بیان ہوئی ہے)۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ جملہ کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں "قابل توجہ ہے آپ نے یہ جملہ اس لیے کہا کہ یہ راہ، راہ پروردگار، اُس کی رضا کی راہ اور راہ دین و آئیں تھی۔ اگر فعل "قال" (کہا) کا مرجع حضرت لُوط ہوں۔ یعنی یہ معنی ہوں کہ "لُوط نے کہا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں" تو سیاقِ عبادت اِس مفہوم سے مَربُوط ہے۔ مگر تاریخی اور قرآنی شواہد یہ بتاتے ہیں کہ "کہا" فعل میں ضمیر غایب کا مرجع حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی ہیں اور حضرت لُوط علیہ السلام نے ان کے "ساتھ" ہجرت کی تھی۔ اِس قول کی تائید سورہٴ صافات کی آیت ۹۹ سے بھی ہوتی ہے جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ قول موجود ہے: إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَى رَبِّي سَيَهْدِينِ میں اپنے ربّ کی طرف جا رہا ہوں اور وہ میری راہنمائی کرے گا۔ زیر بحث آیات میں سے آخری آیت میں اُن چار نعماتِ الہی کا ذکر ہے جو خدا نے ہجرت کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کو عطا کیں۔ پہلی نعمت لائق اور محترم بیٹے تھے۔ ایسے فرزند جنھیں یہ توفیق ارزانی ہوئی تھی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خاندان میں ایمان اور نبوت کا چراغ روشن رکھ سکیں۔ چنانچہ خدا فرماتا ہے: ہم نے اُسے اسحاق اور یعقوب بخشے: (وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَقَ وَيَعْقُوبَ)۔ یہ دونوں نہایت بزرگ اور لائق پیغمبر تھے۔ اِن میں سے ہر ایک حضرت ابراہیم علیہ السلام کی راہ بت شکنی پر چلتا رہا۔ دُوسری نعمت یہ کہ نبوت اور کتاب آسمانی خاندان ابراہیم علیہ السلام ہی کے اندر مخصوص ہو گئی: (وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ)۔ صرف اسحاق و یعقوب (یعقوب علیہ السلام اسحاق علیہ السلام کے بیٹے تھے) ہی پیغمبر نہ تھے بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خاندان میں رسالتمآب خاتم الانبیا تک رسالت کا سلسلہ جاری رہا۔ اسی خاندان میں یکے بعد دیگرے بزرگ پیغمبر پیدا ہوتے رہے جنھوں نے دنیا کو نُورِ توحید سے منور کیا۔ تیسرے یہ کہ "ہم نے اُسے دُنیا میں بھی بدلہ دیا": (وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا)۔ اِس دُنیاوی اجر کا ذکر اشارتًا ہوا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ مختلف اُمور کی طرف اشارہ ہو۔ مثلاً نام نیک اور تمام اُمّتوں میں آپ کا ذکرِ خیر بطور احترام۔ کیونکہ تمام اُمّتیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ایک اولوا العزم پیغمبر کے طور پر احترام کرتی ہیں اور آپ کے وجود پر فخر کرتی ہیں اور اُنھیں شیخ الانبیاء کہتی ہیں۔ نیز یہ کہ سر زمین مکہ آپ کی دُعا سے آباد ہوئی۔ اور ہر سال مراسم حج ادا کرتے ہوئے حج کے دل آپ کی طرف کھنچتے ہیں۔ اور سب لوگ آپ کے پُرشکوہ، ایمان آفرین اور نیک اراددوں کو یاد کرتے ہیں. (یعنی خانہٴ کعبہ کو دیکھ کر اُس کے بانی کی یاد آتی ہے)۔ گویا کہ یہ بھی ایک اجر ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دنیا میں ملا۔ چوتھا اجر یہ ہے جو آخرت میں اُن کا شمار صالحین میں ہو گا۔ (وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ)۔ اور یہ سب باتیں یکجا ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے باعث افتخار ہیں۔
چند اہم نکات ۱۔ عظیم ترین افتخار:
جیسا کہ قرآن کی بہت سی آیات سے ثابت ہوتا ہے۔ کسی انسان کا صالحین میں شُمار ہونا اُس کے لیے منتہائے افتخار ہے۔ اِس لیے پیغمبروں میں سے بہت سے خدا اسے تمنا کرتے تھے کہ وہ اُنھیں صالحین میں جگہ دے۔ حضرت یوسف علیہ السلام ظاہری شان و شوکت کے انتہائی مدارج پر پہنچنے کے بعد خدا سے یہ دعا کرتے تھے: (تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ)۔ اے خُدا تو مجھے اس حالت میں موت دے کر میں مسلمان ہوں اور بعد مرگ تو مجھے صالحین سے ملحق کر دے۔ (یوسف۔ ۱٠۱) حضرت سلمان علیہ السلام بھی اپنی پوری حشمت اور جاہ و جلال کے باوجود خدا سے یہ دعا کرتے ہیں: أَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ اے خدا! تو مجھے اپنی رحمت سے اپنے صالح بندوں میں داخل کر۔ (نمل۔ ۱۹)۔ حضرت شعیب علیہ السلام کا جب موسٰی سے عہد و پیمان ہوتا ہے تو فرماتے ہیں: سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّالِحِينَ اِن شاءاللہ تو مجھے صالحین سے پائے گا۔ (قصص۔ ۲۷)۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی خدا سے یہی دُعا کرتے ہیں کہ اُن کا شمار زمرہٴ صالحین میں ہو: رَبِّ هَبْ لِي حُكْمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ (شعراء۔ ۸۳)۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام یہ دُعا بھی کرتے ہیں کہ اُن کی اولاد صالح ہو: رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ (صافات۔۱۰۰)۔ قرآن شریف کی بہت سی آیات میں یہ مضمون ملتا ہے کہ جب خدا پیغمبرانِ بزرگ کی مَدح کرتا ہے تو اُن کی تعریف میں کہتا ہے کہ وہ صالحین میں سے ہیں۔ اِن کُل آیات کے مُطالعے سے یہ حاصل ہوتا ہے کہ انسان کا عالی ترین مرتبہ کمال صالح ہونا ہے۔ اَب سوال یہ ہے کہ "صالح ہونا" کیا معنی رکھتا ہے؟ اُس کے معنی ہیں: اعتقاد و ایمان کے لحاظ سے عظمت و پاکیزگی۔ اسی طرح عمل اور گفتار و اخلاق کے لحاظ سے بھی مُراد یہ ہے کہ مرد صالح وہ ہے کہ جو اپنی فکر، کردار اور گفتار غرض ہر طرح سے نیک ہو۔ "صالح" کی ضد "فاسد" ہے۔ یہ واضح ہے کہ زمین پر فساد کرنے میں تمام ظلم و ستم اور تمام بد اعمال شامل ہیں۔ قُرآن مجید میں کلمہ "صلاح"، "فساد" کے مقابلے میں استعمال ہوا ہے۔ اور کبھی "سیئة" کے مقابلہ میں بھی آیا ہے۔ جن کے معنی ہیں گناہ اور بدی۔
۲۔ حضرت ابراہیم (ع) پر خدا کی عظیم برکات:
بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اِس آیت میں ایک لطیف نکتہ موجود ہے اور وُہ یہ ہے کہ: خدا نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے تمام تکلیف دہ حالات کو اُن کی ضد میں تبدیل کر دیا۔ چنانچہ بابل کے بُت پرست یہ چاہتے تھے کہ اُنھیں آگ میں جلا دیں۔ مگر وہ آگ اُن کے لیے گلزار ہو گئی۔ وُہ مشرک یہ چاہتے تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا کوئی رفیق نہ ہو اور وہ تنہا رہیں۔ مگر خدا نے اُنھیں ایسی جمعیت اور کثر ت بخشی کہ دُنیا اُن کی نسل سے بھر گئی۔ اُن کے بعض نزدیک ترین رشتہ دار گم راہ اور بُت پرست تھے۔ اُن میں سے "آزر" بھی تھا۔ خدا نے اِس کے عوض اُنھیں ایسے فرزند عطا کیے جو خود ہدایت یافتہ اور دوسروں کے لیے ہادی بھی تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے ابتدائے حال میں مال و دولت نہ رکھتے تھے مگر اللہ نے انھیں عظیم مال و جاہ عطا کیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام شروع شروع میں ایک گمنام انسان تھے۔ یہاں تک کہ بابل کے مُشرک جب ان کا ذکر کرتے تھے تو کہتے تھے: سمعنا فتی یذکرھم یقال لہ ابراھیم ہم نے سُنا ہے کہ ایک نوجوان بتوں کی باتیں کرتا ہے۔ لوگ اُس کا نام ابراہیم بتاتے ہیں۔ مگر خدا نے اُن کا نام ایسا روشن کیا اور اُنھیں ایسی شہرت بخشی کہ اُنھیں سردارِ انبیاء اور سردارِ مرسلین کہا جاتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر فخر دین رازی، کچھ فرق کے ساتھ)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر بےشرم گناہ گار:
Tafsīr Nemūna · Vol. 5اللہ تعالی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مختصر سا واقعہ بیان کرنے کے بعد اُن کے ہم عصر پیغمبر حضرت لُوط علیہ السلام کا کچھ قصّہ بیان کرتا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے: ہم نے لُوط کو مبعوث کیا۔ اُس نے اپنی قوم سے کہا کہ تم بہت ہی بُرا کام کرتے ہو۔ دُنیا میں کسی نے بھی اس سے پہلے اِس گناہ کا کام نہیں کیا: (وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِّنَ الْعَالَمِينَ)۔ (تشریحی نوٹ: "لوطا" ممکن ہے کہ یہ "نوحا" پر عطف ہو۔ اِس بناء پر "ارسلنا" کا مفہوم ہو گا۔ بعض لوگوں نے لُوطا فعل مقدر "اذکر" کا مفعول سمجھا ہے)۔ "فاحشة" کا مادہ "فحش" ہے۔ اِس کے وضعی معنی ہر وہ کام یا بات ہے جو نہایت نازیبا اور ناپسندیدہ ہو۔ اِس مقام پر ہم جنسی اور لواطت کے لیے کنایہ ہے۔ "ما سبقکم بھامن احد من العالمین“ سے خوب واضح ہوتا ہے کہ یہ گھٹیا اور شرمناک عمل عمومی اور قومی خصلت کی صورت میں اس سے قبل کسی قوم و مِلّت میں بھی موجود نہ تھا۔ قوم لُوط کے حالات میں موٴرّخین نے لکھا ہے کہ اُن کے اِس گناہ میں مُبتلا ہونے کا سبب یہ تھا کہ وہ لوگ نہایت بخیل تھے۔ چونکہ اٗن کے شہر، شام کو جانے والے قافلوں کی راہ پر واقع تھے۔ اُنھوں نے بعض راہ گیروں اور مہمانوں کے ساتھ یہ عمل انجام دینے کی وجہ سے اُنھیں اپنے آپ سے متنفّر کر دیا۔ لیکن رفتہ رفتہ ہم جنسی کے میلانات خود اُن ہی میں قوی ہو گئے اور وہ لواطت کی دلدل میں پھنس گئے۔ بہرحال، وہ لوگ نہ صرف اپنے گناہہوں کا بار اٹھائیں گے بلکہ اُن کے گناہوں کا بھی جو آئندہ اُن کے عمل کی پیروی کریں گے (اس کے بغیر کہ اُن کے گناہ میں کوئی کمی ہو) کیونکہ جو آدمی بھی کسی گندی اور پلید رسم کی بنیاد رکھتا ہے، وہ اپنے مقلّدین کی بداعمالی میں حصّہ دار ہوتا ہے۔ اور وہ لوگ اس رسم بد کے بانی تھے۔ حضرت لُوط نے اس کے بعد اپنے مقصد کو نہایت واضح الفاظ میں بیان کیا اور کہا کہ آیا تم مردوں کے پیچھے جاتے ہو: (أَئِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ)۔ اور کیا تم نسلِ انسانی کی بقاء کی راہ کو قطع کرتے ہو: (وَتَقْطَعُونَ السَّبِيلَ)۔ (تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے "تَقْطَعُونَ السَّبِيلَ" کی تفسیر میں اور بھی احتمالات کا ذکر کیا ہے۔ اُس قوم کی تاریخ پر نظر کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ اس قوم نے قافلوں کا راستہ روک دیا تھا۔ کیونکہ اہل کاروان کے لیے اس قوم کے شر سے بچنے کے لیے سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہ تھا کہ غیر معروف راستے سے چلیں تاکہ اِن کے ہاتھ میں گرفتار نہ ہو جائیں۔ بعض مفسرین نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ وہ قافلوں کو لوٹتے تھے۔ لیکن ہم نے پہلے جو تفسیر بیان کی وہ مناسب تر ہے۔ کیونکہ تحریم لواطت کے مصالح میں سے ایک یہ بھی ہے کہ نسل انسانی کے قطع ہو جانے کا خطرہ ہے)۔ اور کیا تم اپنے اِن مقامات پر جہاں تم جمع ہوتے ہو بُرے اعمال کے مرتکب ہوتے ہو: (وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنكَرَ)۔ کلمہ "نادی" کا مادہ "ندا" ہے۔ اس کے معنی ہیں مجلسِ عمومی۔ اور کبھی تفریح گاہ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ کیونکہ جب ایسے مقام پر لوگ جمع ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کو آواز دیتے اور پکارتے ہیں۔ قرآن میں اس کی کوئی تفصیل موجود نہیں کہ وہ اپنی محفلوں میں کون سے بُرے اعمال کا ارتکاب کرتے تھے۔ لیکن بدون اظہار ہی یہ سمجھ میں آتا ہے کہ وہ کچھ ایسے کام تھے جو اُن کی بدکاریوں سے تعلق رکھتے تھے اور جیسا کہ بعض تاریخوں میں مذکور ہے کہ وہ آپس میں فحش اور رکیک الفاظ کا ردّ و بدل کرتے تھے۔ ایک دوسرے کی کمر ٹھونکتے تھے۔ جواء کھیلتے تھے۔ بچگانہ کھیلتے تھے۔ بالخصوص ایک دوسرے کو اور راہ گیروں کو سنگریزے مارے تھے، آلات موسیقی بجاتے تھے اور سارے مجمع کے سامنے برہنہ ہو جاتے تھے۔ (بحوالہ: سفینة البحار، جلد۲، صفحہ ۵۱۷)۔ جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک حدیث مروی ہے جس کی راوی ام ہانی ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے "وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنكَرَ" کا مفہوم پوچھا گیا توآپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کانو ایخذفون من یمرّ بھم و یسخرون منہ جو کوئی اُدھر سے گزرتا وہ اسے سنگریزے مارے تھے اور اس سے مذاق کرتے تھے۔ (تشریحی نوٹ: ۔تفسیر قرطبی، زیربحث آیات کے ذیل میں)۔ اب اس پر غور کیجئے کہ حضرت لوط علیہ السلام کے پیغام حق کے جواب میں اس گمراہ اور بےشرم قوم کا کیا جواب تھا؟ قرآن میں یہ ذکر ہے کہ: اُن کے پاس بجز اس کے کوئی جواب نہ تھا۔ اگر تو سچا ہے تو ہمارے لیے خدا کا عذاب لے آ: (فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَن قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللَّهِ إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ)۔ اُن ہوس بازوں نے (جو کہ عقل و شعور سے محروم تھے) یہ بات حضرت لوط علیہ السلام کی معقول اور مدلل دعوت کے جواب بطور مذاق کہی تھی۔ اس جواب سے یہ بھی مترشح ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام نے مُدلّل باتوں کے علاوہ، اُنھیں یہ بھی تنبیہ کی تھی کہ اگر تم اسی باطل روش پر چلتے رہے تو تم پر خدا کا درد ناک عذاب نازل ہو گا۔ لیکن اُنھوں نے راہ ہدایت کی باتوں کو تو چھوڑ دیا اور صرف اسی آخری بات کا جواب دینے لگے، اور وہ بھی استہزا اور تمسخر کے طور پر۔ سورہ قمر کی آیت ۳۶ میں اس مفہوم کے مانند بیان ہے: وَلَقَدْ أَنذَرَهُم بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ لُوط نے اپنی قوم کو ہمارے عذاب سے ڈرایا۔ مگر وہ ڈرانے والوں سے لڑنے لگے۔ اِس گم راہ قوم کا یہ قول یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ یہ چاہتے تھے، عذاب نازل نہ ہونے کی صورت میں یہ ثابت کریں کہ حضرت لُوط دورغ گو ہیں۔ حالانکہ یہ خدا کی رحمت ہے کہ وہ گناہ ترین اقوام کو بھی تجدید نظر اور اپنی اصلاح کی مہلت دیتا ہے۔ یہ وہ مقام تھا کہ حضرت لُوط علیہ السلام بالکل بےبس ہو گئے اور درگارہ الہٰی میں غم و اندوہ سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ عرض کی: خدا یا! تو مجھے اس مفسد قوم پر فتح عنایت فرما: (قَالَ رَبِّ انصُرْنِي عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ)۔ یہ وہ قوم ہے جس نے زمین کو فساد اور تباہی سے بھر دیا ہے۔ انھوں نے اخلاق اور تقویٰ کو برباد کر دیا ہے۔ عفت اور پاکدامنی سے منہ موڑ لیا ہے۔ عدل اجتماعی کو روند ڈالا ہے۔ شرک و بت پرستی میں فساد اخلاق اور ظلم و ستم بھی شامل کر لیا ہے اور نسل انسانی کو فنا اور نیستی کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ خدایا: تو اِن مفسدین پر مجھے کامیابی عنایت فرما۔
ہم جنسی کا رُجحان بدترین لعنت ہے:
ہم جنسی خواہ مردوں کے درمیان ہو (لواطت) یا عورتوں کے (مساحقہ) وہ ان بدترین انحرافِ اخلاقی میں سے ہے جو معاشرے میں فاسد کا سرچشمہ ہیں۔ اصولاً قدرت نے زن و مرد کے مزاج کو اس طرح خلق کیا ہے کہ اُنھیں جنس مخالف سے تعلق پیدا کرنے میں آسودگی اور نفسیاتی سکون حاصل ہوتا ہے۔ اِس صورت کے علاوہ، انسان میں جو بھی جنسی میلان پیدا ہوتا ہے وہ انسان کی طبع سلیم سے انحراف اور ایک قسم کی نفسیاتی بیماری ہے۔ اگر اس میلان کو روکا نہ جائے تو وہ روز بروز شدید تر ہوتا جاتا ہے۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کو اپنی جنس مخالف کی طرف میلان خاطر نہیں رہتا اور وہ پھر جنس موافق ہی سے غیر فطری آسودگی حاصل کرنے لگتا ہے۔ اس قسم کے باہمی نامشروع تعلقات انسان کے نظام جسمانی حتی کہ اس سلسلہٴ اعصاب اور اس کی نفسیاتی کیفیت کو متاثر کرتے ہیں اور جب یہ میلان عادت بن جاتا ہے تو مرد کو ایک کامل مرد اور عورت کو ایک کامل عورت بننے سے روک دیتا ہے. اس طرح سے کہ اس قسم کے ہم جنس باز مرد یا عورتیں شدید ضعف جنسی کا شکار ہو جاتے ہیں اور اپنی اولاد کے لیے اچھے ماں باپ ثابت نہیں ہوتے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان میں تولید نسل کی قابلیت ہی نہیں رہتی۔ ہم جنسی کے میلان سے لوگوں میں بتدریج یہ نفسیاتی مرض پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ خلوت پسند ہو جاتے ہیں۔ مجمع سے گھبرانے لگتے ہیں یہاں تک کہ وہ اپنی ذات سے بھی بیگانہ ہو جاتے ہیں۔ نیز یہ کہ ان میں نفسیاتی تضاد کا مرض پیدا ہو جاتا ہے۔ اگر یہ لوگ اپنی اصلاح کی طرف متوجہ نہ ہوں تو مختلف قسم کی جسمانی اور نفسیاتی امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسلام نے ان ہی اخلاقی اور اجتماعی دلائل کی بناء پر ہم جنسی کا ہر شکل اور ہر صورت میں حرام کیا ہے اور اُس کے لیے بڑی سخت سزا مقرر کی ہے (جس کی حد کبھی موت تک پہنچتی ہے)۔ اِس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ اس زمانے کی متمدّن دُنیا کی بےلگامی اور تنوع طلبی بہت سے لڑکوں اور لڑکیوں میں نفسیاتی فساد پید کر دیتی ہے۔ لڑکوں میں ناموزوں اور زنانہ لباس پہننے اور خود آرائی کا شوق پیدا ہوتا ہے اور لڑکیوں میں مردانہ لباس زیب تن کرنے کی خواہش ہوتی ہے۔ یہیں سے نفسیاتی انحراف اور میلان ہم جنسی جنم لیتا ہے۔ یہاں تک کہ اِس رُجحان اور ایسے قبیح ترین اعمال کو قانونی شکل دے دی جاتی ہے اور اِسے ہر قسم کی سزا اور تعقیب سے بری سمجھتے ہیں۔ ان حالات کے شرح لکھتے ہوئے قلم کو شرم آتی ہے۔ (تشریحی نوٹ: اسلام میں ہم جنس پرستی کی حرمت اور فلسفہٴ حرمت کے سلسلے میں تفصیلی بحث تفسیر نمونہ کی جلد ٥ میں سورہ ہود کی آیت ۸۱ کے ذیل میں کی جا چکی ہے)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر گناہ گاروں کا انجام:
Tafsīr Nemūna · Vol. 5آخرکار حضرت لوط علیہ السلام کی دعا مستجاب ہوئی اور خدا کی طرف سے اس قوم تباہ کار کے خلاف سخت سزا کا حکم صادر ہوا۔ وہ فرشتے جو عذاب نازل کرنے پر مامور تھے قبل اس کے کہ سرزمین لوط پر اپنا فرض ادا کرنے کے لیے جاتے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس ایک اور پیغام لے کر گئے اور وہ پیغام تھا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فرزند کی پیدائش کی خوشخبری۔ زیر نظر آیات میں اول فرشتوں کی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات کا ذکر ہے۔ چنانچہ کہا گہا ہے: جس وقت ہمارے ایلچی حضرت ابراہیمؑ کے پاس بشارت لے کر گئے (اُنھیں اسحاق اور یعقوب کے پیدا ہونے کی خوش خبری سنائی) اور پھر (قوم لُوط کی بستی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) کہا کہ ہم اِس شہر اور اس میں رہنے والوں کو ہلاک کر دیں گے کیونکہ یہ لوگ ظالم ہیں: (وَلَمَّا جَاءَتْ رُسُلُنَا إِبْرَاهِيمَ بِالْبُشْرَى قَالُوا إِنَّا مُهْلِكُواْ أَهْلِ هَذِهِ الْقَرْيَةِ إِنَّ أَهْلَهَا كَانُوا ظَالِمِينَ)۔ چونکہ فرشتوں نے "ھذہ القریة" کہا۔ اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ قوم لُوط کی آبادی اس مقام کے قرب و جوار ہی میں تھی جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام رہتے تھے۔ اور اُس قوم کو لفظ "ظالم" سے یاد کرنا اس وجہ سے تھا کہ وہ اپنے نفوس پر ظلم کرتے تھے کیونکہ اُنھوں نے شرک، فساد اخلاق اور بےعفتی کی راہِ اختیار کی تھی۔ نیز یہ کہ وُہ دُوسروں پر بھی ظلم کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اُس طرف سے گزرنے والے مُسافروں اور قافلوں پر بھی ستم کرتے تھے۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ بات سنی تو اُنھیں حضرت لُوط پیمبرِ خدا کی فکر ہوئی اور کہا: اس آبادی میں تو لوط بھی ہے: (قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا)۔ اُس پر کیا گزرے گی؟ مگر فرشتوں نے فوراً جواب دیا: آپ فکر نہ کریں ہم اُن سب لوگوں سے خوب واقف ہیں۔ جو اس بستی میں رہتے ہیں: (قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا)۔ ہم اندھا دُھند عذاب نازل نہیں کریں گے۔ ہمارا پروگرام نہایت سنجیدہ اور نپا تلا ہے۔ فرشتوں نے یہ بھی کہا کہ ہم لوط اور اس کے خاندان کو نجات دیں گے۔ بجز اُس کی بیوی کے کہ جو اُس قوم کے ساتھ ہی مبتلائے عذاب ہو گی: (لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ)۔ اِس آیت سے بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ اُس علاقے کی تمام آبادیوں اور بستیوں میں صرف ایک ہی خاندان مومن اور پاک نفس تھا اور خدا نے بھی اسے عذاب سے نجات دی۔ جیسا کہ سورہ ذاریات کی آیت ۳۶ میں مذکور ہے: فَمَا وَجَدْنَا فِيهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ ہم نے وہاں ایک خاندان کے سوا کوئی بھی مسلمان نہ پایا۔ یہاں تک کہ حضرت لوط علیہ السلام کی زوجہ بھی مومنین کی صف سے خارج تھی اِس لیے وہ بھی عذاب میں محشور ہوئی۔ کلمہ "غابرین"، "غابر" کی جمع ہے۔ اِس کے وضعی معنی یہ ہیں کہ راہ سفر میں کسی کے رفقائے کار سفر تو آگے نکل جائیں اور وہ پیچھے رہ جائے۔ وُہ عورت جو خانوادہٴ بنوت میں شامل تھی اسے تو "مؤمنین اور مُسلمین" سے جدا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ مگر وُہ اپنے کفر و شرک اور بُت پرستی کی وجہ سے اِس صنف سے جدا ہو گئی۔ اِس طرز کلام سے واضح ہوتا ہے کہ وہ عورت منحرف العقیدہ تھی۔ کچھ بعید نہیں کہ اس میں بدعقیدگی اس مشرک معاشرے کے اثر سے پیدا ہو گئی ہو اور ابتداء میں مومن و موحد ہو۔ اِس صورت میں حضرت لوط علیہ السلام پر یہ اعتراض نہیں ہوتا کہ اُنھوں نے ایسی مشرکہ سے نکاح ہی کیوں کیا تھا؟ یہ خیال بھی ہوتا ہے کہ اگر کچھ اور لوگ حضرت لُوط علیہ السلام پر ایمان لائے ہوں گے تو وہ حتماً نزول عذاب سے پہلے اس گناہ آلود زمین سے ہجرت کر گئے ہوں گے۔ تنہا حضرت لوط علیہ السلام اور ان کے عیال اُس مقام پر اِس توقع سے اخیر وقت تک ٹھہرے ہوں گے کہ ممکن ہے اُن کی تبلیغ اور ڈرانے کا لوگوں پر اثر ہو۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ شک تھا کہ عذابِ الہٰی حضرت لُوط علیہ السلام کو بھی گھیر لے گا؟ اِسی لیے تو اُنہوں نے فرشوں کے سامنے لوطؑ کے متعلق اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ اور اُنہوں نے اطمینان دلایا کہ لوط اِس بلا سے محفوظ رہیں گے۔ اِس سوال کا واضح جواب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جانتے تو سب کچھ تھے مگر اُنھوں نے ___ صرف اپنے اطمینان قلب کے لیے یہ سوال کیا تھا۔ چنانچہ اسی پیغمبر بزرگ کا ایک ایسا ہی اور واقعہ مسئلہ معاد کے متعلق ہے۔ جب کہ خدا نے پرندوں کو زندہ کر کے معاد کا منظر اُن کے سامنے پیش کر دیا تھا۔ لیکن مفسر بزرگ علامہ طباطبائی کا خیال یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مقصد یہ تھا کہ یہ کہہ کر کہ "لوط بھی اُن میں ہے" لوط کے وجود کو اُس قوم سے رفعِ عذاب کی دلیل قرار دیں۔ نیز سورہ ہود کی آیت ۷۴۔۷۶ سے بھی اِس مطلب کی تائید ہوتی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام چاہتے تھے کہ اس قوم کی سزا میں تاخیر ہو جائے تو ممکن ہے کہ ان کے قلوب نور ہدایت سے منور ہو جائیں۔ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ جواب ملا کہ آپ اس امر میں اصرار نہ کیجئے۔ اُن کی حالت اس لیت و لعل سے گزر چکی ہے اور اُن کی سزا کا قطعی وقت آ گیا ہے۔ (بحوالہ: المیزان، جلد۱۶، صفحہ ۱۲۹)۔ لیکن ہمارا نظریہ یہ ہے کہ اِس مقام پر فرشتوں نے حضرت لوط علیہ السلام اور اُن کے خاندان کی نجات کے متعلق جو جواب دیا، اِس سے واضح ہوتا ہے کہ ان آیات کا موضوع سخن صرف حضرت لوط علیہ السلام کی ذات ہی تھی لیکن رہیں سورہٴ ہود کی آیات تو ان کا مطلب کچھ اور ہی ہے جیسا کہ ہم نے کہا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ سوال محض اپنے مزید اطیمنان کے لیے کیا تھا۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے فرشتوں کی گفتگو ختم ہو گئی اور وہ حضرت لوط علیہ السلام کے علاقے کی طرف روانہ ہو گئے۔ قرآن میں مذکور ہے کہ جس وقت ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ انھیں دیکھ کر غمگین اور پریشان ہو گیا: (وَلَمَّا أَن جَاءَتْ رُسُلُنَا لُوطًا سِيءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا)۔ حضرت لوط علیہ السلام کا یہ اضطراب اس وجہ سے تھا کہ وہ انھیں پیچانتے نہ تھے۔ وہ فرشتے خوبصورت جوانی کی صورت میں آئے تھے اور ایسے آلودہ معاشرہ میں ایسے مہمانوں کا آنا ممکن تھا کہ حضرت لوط علیہ السلام کے لیے پریشانی اور ان مہمانوں کے سامنے ہم بےآبروئی کا باعث ہوتا۔ لہذا آپ کو سخت فکر دامن گیر ہوئی کہ دیکھئے اس گم راہ، بےحیا اور بےشرم قوم کا ان مہانوں کا دیکھ کر کیا ردّعمل ہوتا ہے؟ کلمہ "سیء" کا مادہ "ساء" ہے بہمعنی بدحال ہونا اور "ذرع" کے معنی دل یا خلق کے ہیں۔ اِس لیے "ضاق بھم ذرعا" کے معنی ہوں گے کہ حضرت لوط علیہ السلام پریشان اور بےچین ہو گئے۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ کلمہ "ضادق" کے معنی ہیں: "راستہ طے کرتے وقت اُونٹ کے دو قدموں کا فاصلہ" اور جس وقت اُس کی پشت پر بھاری بوجھ لدا ہوتا ہے تو اونٹ کے قدموں کا فاصلہ تنگ تر اور کم تر ہو جاتا ہے۔ لہذا "ضاق ذرعا" کسی سنگین اور طاقت فرسا واقعے کے لیے بطور کنایہ استعمال ہوتا ہے۔ مگر ان مہمانوں نے جب حضرت لوط علیہ السلام کے اضطراب کو دیکھا تو فوراً اپنا تعارف کروایا اور ان کی پریشانی کو ختم کر دیا۔ اُنھوں نے کہا کہ آپ نہ تو خوف زدہ ہوں اور نہ غم کریں۔ یہ بےشرم ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ بہت ہی جلد یہ سب کے سب نابود ہو جائیں گے۔ ہم آپ کو اور آپ کے خاندان کو بچا لیں گے۔ سوائے آپ کی بیوی کے کہ وہ ان گناہ گاروں کے درمیان رہے گی اور ہلاک ہو جائے گی: (وَقَالُوا لَا تَخَفْ وَلَا تَحْزَنْ إِنَّا مُنَجُّوكَ وَأَهْلَكَ إِلَّا امْرَأَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ)۔ البتہ سورہٴ ہود کی آیات سے خوب معلوم ہوتا ہے کہ جب اُس بےشرم قوم کو حضرت لوط علیہ السلام کے مہمانوں کا علم ہوا تو بہت جلد ان کے پاس آئے۔ اُن کا ارادہ تھا کہ وہ اُن مہمانوں پردست درازی کریں۔ حضرت لوط علیہ السلام (جنھوں نے ابھی فرشتوں کو پہچانا نہ تھا) یہ حال دیکھ کر بہت پریشان ہوئے اُنھوں نے ان بےشرموں کو کبھی تو بذریعہ نصیحت، کبھی دھمکی کے ذریعہ اور کبھی ان کے ضمیر کو اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کیا تم میں ایک آدمی بھی راست باز نہیں ہے؟ اور کبھی ان کے سامنے یہ تجویز پیش کی کہ میں تمہارے ساتھ اپنی دختر کا نکاح کر دوں گا، انھیں برے ارادے سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ مگر وہ بے شرم کسی طرح باز نہ آئے۔ اُن کے پیش نظر تو صرف اُن کا بےشرمانہ مقصد تھا۔ لیکن پروردگار کے ایلچیوں نے حضرت لوط علیہ السلام سے اپنا تعارف کروایا اور بطریق اعجاز اُن ہجوم آور لوگوں کو اندھا کر دیا۔ اِس طرح اس عظم نبی علیہ السلام کا دل مطمئن کر دیا۔ (تشریحی نوٹ: اس واقعے کی تفصیل جلد ٥ میں سُورہ ہود کی آیات ۷۷ تا ۸۱ کے ذیل میں بیان ہو چکی ہے)۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ ان فرستادگان پروردگار نے حضرت لوط علیہ السلام سے دو لفظ کہے، ایک تو "نہ ڈرو" دوسرے "غمگین نہ ہو" دیکھنا یہ ہے کہ ان دو کلمات "خوف اور حزن" میں کیا فرق ہے۔ تفسیرالمیزان میں لکھا ہے کہ: "خوف" اُس حادثے کا ہوتا ہے جس کے پیش آنے کا احتمال ہو اور "حزن" حادثے کے لازمی ہونے کا خوف ہوتا ہے۔ بعض اہل لغت نے خوف اور غم میں یہ فرق کیا ہے کہ "خوف" کا تعلق آئندہ ہونے والے حادثے سے ہے اور غم کا تعلق ایسے حادثے سے ہے جو گزر چکا ہو۔ اور ان دونوں کلمات کے مفہوم میں یہ احتمال بھی ہے کہ "خوف" خطرناک باتوں کا ہوتا ہے اور "غم" درد ناک واقعات کا خواہ ان میں کوئی خطرہ نہ ہو۔ اس مقام پر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ سورہٴ ہود کی آیات کا تاثر یہ ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام کی پریشانی اپنی ذات کے لیے نہ تھی بلکہ اس لیے تھی کہ یہ بدکردار لوگ مہمانوں پر دست درازی کریں گے۔ لیکن فرشتوں نے جو جواب دیا وہ حضرت لوط علیہ السلام اور اُن کے خاندان سے متعلق تھا اور اِن دونوں باتوں میں ہم آہنگی نہیں ہے۔ اِس سوال کا جواب سورہ ہود کی آیت ۸۱ سے مل سکتا ہے۔ کیونکہ جب وہ بےشرم لوگ مہمانوں پر دست درازی کرنے آئے تو فرشتوں نے لوط سے کہا کہ "یہ قوم آپ کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتی۔" یعنی ہم تو ہم ہیں یہ تو تجھے بھی کچھ آزار نہیں پہنچا سکتے۔ اس بناء پر فرشتوں نے اپنے تحفظ کو تو مُسلّم قرار دیا۔ اور حق یہ ہے کہ اُن کا تحفظ مسلم بھی تھا۔ اور اُنھوں نے بشارت نجات کو حضرت لوط علیہ السلام اور ان کے خاندان تک محدود کر دیا۔ اِس کے بعد اُن فرشتوں نے اس وجہ سے کہ اُس بےشرم قوم کے متعلق اُن پر جو فرض عائد کیا گیا تھا اس کی وضاحت کریں، یہ اضافہ کیا: چونکہ یہ قوم نہایت فاسق اور گناہ گار ہے اِس وجہ سے ہم اس بستی اور اس کے باسیوں پر آسمان سے عذاب نازل کریں گے: (إِنَّا مُنْزِلُونَ عَلَى أَهْلِ هَذِهِ الْقَرْيَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ) اس مقام پر "قریة" سے مُراد وہی شہر سدوم اور اُس کے اطراف و جوانب کے شہر اور آبادیاں مُراد ہیں جن میں قوم لوط آباد تھی بعض لوگوں نے اُن کی مردم شماری ستر لاکھ لکھی ہے۔ (بحوالہ: رُوح البیان، جلد ۶، صفحہ ۴۶۷)۔ کلمہ "رجز" سے "عذاب" مُراد ہے۔ "رجز" کے حقیقی معنی اضطراب کے ہیں۔ مجازاً ہر وہ امر جو موجبِ اضطراب ہو اُسے رجز کہتے لگے۔ عربوں نے اس کلمہ کے معنی کو وسیع کر لیا اور سخت بلاؤں، طاعون، برف اور ژالہ باری، شیطانی وساوس اور عذاب الہی کے معنی میں بولنے لگے۔ جملہ "بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ" سے اُن پر درد ناک عذاب نازل ہونے کی یہ علت واضح ہوتی ہے کہ وہ فسق اور خدا کی نافرمانی میں مبتلا تھے۔ اور فعل "یفسقون" جو کہ فعل مضارع ہے وہ اِس امر کی دلیل ہے کہ وہ اِس گناہ میں مسلسل اور دائمی طور پر مبتلا تھے۔ اِس اندازِ کلام سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر وہ اِس گناہ کے مسلسل ارتکاب سے باز آ جاتے اور حق پرستی، تقویٰ اور پاکیزگی کی راہ اختیار کر لیتے تو اللہ نے اُن کے گذشتہ گناہوں کو معاف کر دیتا اور اُن پر یہ عذاب نازل نہ ہوتا۔ اِس مقام پر قرآن شریف میں اُس دردناک عذاب کی نوعیت کا جو اُس قوم پر نازل ہوا تفصیلی ذکر نہیں ہے۔ صرف اتنا ہی فرمایا گیا ہے کہ: ہم نے اُن آبادیوں کے (ویرانوں، کھنڈرات اور آثار بلادیدہ) کو اُن لوگوں کے لیے جو عقل و فہم سے کام لیتے ہیں باقی رکھا ہے: (وَلَقَد تَّرَكْنَا مِنْهَا آيَةً بَيِّنَةً لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ)۔ لیکن سُورہ ہود کی آیت ۲۸ اور سورہ اعراف کی آیت ۸۴ میں اُن پر نازل شدہ عذاب کی تشریح کی گئی ہے کہ اوّل تو شدید زلزلے نے اُن کے شہروں کو کلیتہ زیر و زبر کر دیا۔ اِس کے بعد اُن پر اسمان سے پتھر برسے، اِتنی کثیر مقدار میں کہ اُن کے بدن اور ویران شدہ مکانات و محلات اُن کے نیچے دفن ہو گئے۔ کلمہ "ایة بینة" (روشن نشانی) سے اشارہ ہے شہر سدوم کے باقی ماندہ کھنڈرات کی طرف جو آیات قرآنی کے مطابق حجازی قافلوں کی راہ آمد و رفت میں واقع اور یہ آثار ظہور پیغمبر اسلام اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وقت تک باقی تھے۔ چنانچہ سورہٴ حجر کی آیت ۷۶ میں مذکوز ہے: وَإِنَّهَا لَبِسَبِيلٍ مُّقيمٍ اُس کے آثار اہل قافلہ کی راہ کے کنارے موجود ہیں۔ اور اس سورہٴ صافات کی آیت ۱۳۷، ۱۳۸ میں یوں آیا ہے۔ وَإِنَّكُمْ لَتَمُرُّونَ عَلَيْهِم مُّصْبِحِينَ وَبِاللَّيْلِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ تم صبح و شام اُن مقامات کے قریب سے گزرتے ہو کیا تم غور نہیں کرتے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر ظالموں کے ہر گروہ کی سزا مختلف تھی:
Tafsīr Nemūna · Vol. 5حضرت لوط علیہ السلام اور اُن کی قوم کے تذکرے کے بعد دُوسری قوموں کا ذکر آتا ہے مثلاً: قوم شعیب، عاد ثمود، قارون اور فرعون زیر نظر آیات میں اِن میں سے ہر ایک کی طرف مختصر اور نتیجہ خیز اشارہ ہے۔ پہلے یہ کہا ہے: ہم نے اُن کے بھائی شعیب کو مدین کی طرف بھیجا: (وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا)۔ (تشریحی نوٹ: یہ جُملہ "ولقد ارسلنا نوحا" کے جُملہ اور اس کے بعد کے جملہ پر عطف ہے)۔ حضرت شعیب علیہ السلام کو "بھائی" کہا گیا ہے۔ ہم نے اس کے متعلق بارہا کہا ہے کہ اس کلمہ کی وجہ استعمال یہ ہے کہ اِن پیغمبروں کو اپنی امتوں سے انتہائی محبت تھی اور وُہ اُن پر تفوق حاصل کرنا نہیں چاہتے تھے۔ نیز یہ کہ اِن پیغمبروں کی اپنی قوموں سے رشتہ داری بھی تھی۔ "مَدیَن" اُردن کے جنوب مغرب میں ایک شہر ہے. آجکل اُس کا نام "معان" ہے۔ یہ شہر خلیج عقبہ کے مشرق میں ہے۔ حضرت شعیب اور اُن کی قوم وہیں رہتی تھی۔ (تشریحی نوٹ: "مدین" کے متعلق سورہ قصص کی آیت ۲۳ کے ذیل میں تشریح کی گئی ہے)۔ حضرت شعیب علیہ السلام پیغمبرانِ بزرگ کی طرح مبداء و معاد کے اعتقاد سے (جو کہ ہر دین کی اساس ہے) اپنی دعوت کا آغاز کیا۔ اور کہا: اے میری قوم! تم خدا کی عبادت کرو اور روزِ قیامت کی اُمید رکھو: (فَقَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَارْجُوا الْيَوْمَ الْآخِرَ)۔ "مبداء" پر ایمان رکھنے سے انسان کو یہ احساس رہتا ہے کہ خدا دائمی طور پر اور مسلسل میرے اعمال کی نگرانی کر رہا ہے۔ اور معاد پر ایمان رکھنے سے انسان کو پر وقت یہ خیال رہتا ہے کہ اُس روز بے کم و کاست میرے جملہ اعمال کے متعلق باز پُرس ہو گی۔ اِن باتوں کا اعتقاد انسان کی اخلاقی تربیت اور اصلاح میں غیر معمولی اثر رکھتا ہے۔ حضرت شعیب علیہ السلام کی تبلیغ کا تیسرا حکم جامع عملی اصول تھا جس میں معاشرتی اور اجتماعی پروگرام شامل تھے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا زمین پر فساد کرنے کی کوشش مت کرو: (وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ)۔ فساد کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ اس میں ہر قسم کی تخریب کاری، ویران گری، راہِ راست سے انحراف اور ظلم شامل ہے۔ اِس تصور کی ضد "صلاح و اصلاح" ہے کہ جس کے مفہوم میں ہر وہ عمل شامل ہے جو تعمیری اور بنی نوع انسان کی منفعت کے لیے ہو۔ کلمہ "تعثوا" کا مادہ "عثی" ہے۔ جس کے معنی ہیں دُنیا میں فساد برپا کرنا مگر یہ کلمہ زیادہ تر مفاسد اخلاقی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اِسی لیے اس کے بعد کلمہ "مفسدین" کا استعمال بطور تاکید ہے۔ مگر قوم شعیب نے اِس کے بجائے کہ اُس مصلح بزرگ کی نصائح کو گوش دل سے سنتے، اُلٹی اُن کی تکذیب کرنی شروع کر دی: (فَكَذَّبُوهُ)۔ اُن کی یہ بدعملی اِس بات کا سبب ہوئی کہ اُنھیں شدید زلزلے نے آ پکڑا: (فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ)۔ اور وہ لوگ اس حادثے سے اپنے گھروں میں اندھے منہ گر گئے اور مر گئے (فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ)۔ کلمہ "جاثم" کا مادہ "جثم" ہے (برورزن چشم) اس کے معنی میں گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھنا۔ اور ایک مقام پر ٹھہرنا۔ کچھ بعید نہیں کہ اس کلمہ کے استعمال کرنے سے یہ مراد ہو کہ جب یہ زلزلہ آیا تو وہ سو رہے تھے۔ جھٹکا محسوس کر کے وہ ناگہانی طور پر اٹھے جیسے ہی وہ گھٹنوں کے بل بیٹھے تو حادثے نے اُنھیں جان بچانے کی مہلت نہ دی۔ دیواریں گر بڑیں اور بجلی جو اُس زلزلہٴ مرگ بار کے ساتھ ہی چمک رہی تھی گرتی رہی اور وہ سب لوگ مر گئے۔ (تشریحی نوٹ: قوم شعیب کی تباہی کا درد ناک حال تفصیل سورہٴ ھود کی آہات ۸۴ تا ۹۵، جلد نہم میں آیا ہے)۔ اس کے بعد کی آیت میں قوم عاد ثمود کا ذکر ہے۔ مگر اُن اقوام سے اُن کے پیغام کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اِس لیے کہ یہ وہ قومیں تھیں جنھیں اُس وقت کے مخاطبین قرآن خوب جانتے تھے۔ نیز یہ کہ قرآن کی دُوسری آیات میں اُن کے پیغمبروں کا ذکر مکرر آیا ہے۔ خدا تعالی فرماتا ہے کہ ہم نے عاد و ثمود کو ہلاک کر دیا: (وَعَادًا وَثَمُودَ)۔ (تشریحی نوٹ: "عاداً و ثموداً" فعل "اھلکنا" کا مفعول ہے جو کہ مقدر ہے، یہ بات آیت ماقبل سے سمجھ میں آتی ہے۔ بعض مفسرین نے اسے (اذکر) کا مفعول سمجھا ہے)۔ اِس کے بعد یہ اضافہ ہے کہ اُن اقوام کی بستیوں اور اُن کے مقامات کو تم خوب جانتے ہو (اُن کے شہروں کے ویرانے سرزمین حجر اور یمن میں تمہاری راہوں کے کنارے واقع ہیں) (وَقَد تَّبَيَّنَ لَكُم مِّن مَّسَاكِنِهِمْ)۔ تم ہر سال اپنے تجارتی قافلوں کے ساتھ یمن اور ملک شام کی طرف سفر کرتے ہو۔ سر زمین "حجر" سے جو کہ جزیزة العرب کے شمال میں ہے اور احقاف سے جو کہ یمن کے قریب بجانب جنوب ہے گزرتے ہو اور عاد و ثمود کے شہروں کے کھنڈرات کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو۔ پس تم اِن کے انجام سے کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے؟ اِس کے بعد اُن اقوام کی اصل بدبختی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ شیطان نے اُن کے اعمال کو اُن کی نظروں مُزین کر دیا تھا اور انجام کار اُنھیں راہِ حق اختیار کرنے سے روک دیا تھا: (وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ)۔ حالانکہ وہ اقوام چشم بنیاد اور عقل و خرد رکھتی تھیں اور توحید تقویٰ اُن کی فطرت میں تھا اور پیامبرانِ الہٰی نے بھی اُنھیں اچھی طرح راہ راست کی طرف رہبری کی تھی: (وَكَانُوا مُسْتَبْصِرِينَ)۔ بعض مفسرین نے "و کانو امستبصرین" کے معنی یہ سمجھے ہیں کہ وہ اقوام چشم بنیاد اور عقل و فہم رکھتی تھیں۔ بعض نے خیال کیا ہے کہ وہ فطرتِ سلیم کی مالک تھیں۔ بعض نے یہ معنی سمجھے ہیں کہ اُنھیں پیغمبروں کی رہنمائی میسر آئی تھی۔ اگر اِس آیت سے مذکورہ تمام معانی اخذ کیے جائیں تو کوئی امر مانع نہیں ہے۔ آیت کا مطلب ہے کہ وہ لوگ قطعی جاہل نہ تھے بلکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ حق کیا ہے۔ اُن کا وجدان بیدار تھا، عقل و خرد سے بھی بہرہ مند تھے اور پیمبران الہٰی اُن پر اتمام حجت کر چکے تھے۔ لیکن ... اِن تمام باتوں کے باوجود اُنھوں نے عقل ضمیر کی آواز کی طرف سے کان بند کر لیے اور انبیاء کی دعوت سے منہ موڑ لیا اور شیطانی وساوس کی پیروی کرنے لگے۔ اور روز بروز اُنھیں اپنے غلط اعمال زیبا تر نظر آنے لگے۔ یہاں تک کہ وُہ عصیان کی اُس منزل پر پہنچ گئے جہاں سے لوٹنا ناممکن ہو گیا۔ اب قانون فطرت نے ان بےبار و بےثمر خشک لکڑیوں کو پُھونک دیا۔ ہر وہ درخت جو پھل نہیں لاتا اُس کی سزا یہی ہے۔ اِس کے بعد کی آیت میں ان تین نافرمانوں کا ذکر ہے جن میں سے ہر ایک شیطانی طاقت کا واضح نمونہ تھا۔ وہ تھے قارون، فرعون اور ہامان __ فرمایا گیا ہے: ہم نے قارون، فرعون اور ہامان کو بھی ہلاک کر دیا: (وَقَارُونَ وَفِرْعَوْنَ وَهَامَانَ)۔ (تشریحی نوٹ: یہ تینوں کلمات بھی فعل مقددر "اھلکنا" کا مفعول ہیں۔ جیسا کہ گزشتہ آیات سے معلوم ہوتا ہے۔ بعض نے اُنھیں فعل "اذکر" کا مفعول سمجھا ہے)۔ قارون اُس ثروت کا مظہر ہے جس میں غرور، غفلت اور خود غرضی بھی پائی جاتی تھی۔ فرعون ایسی متکبرانہ طاقت کا مظہر ہے جس میں شیطان آمیختہ تھی اور ہارون مُستکبر ظالموں کی معاونت کا نمونہ ہے۔ اُس کے بعد مذکورہ ہے کہ: مُوسٰی اِن تینوں کے پاس روشن دلائل لے کر آئے اور اُن پر اتمام حجت کی: (وَلَقَدْ جَاءَهُم مُّوسَى بِالْبَيِّنَاتِ)۔ مگر اُنھوں نے زمین پر غرور، تکبر اور سرکشی کی راہ اختیار کی: (فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ)۔ فارون اپنی دولت، خزانوں، علم و ہنر پر بھروسہ کرتا تھا۔ فرعون و ہامان اپنے لشکر، فوجی طاقت، اور جاہل عوام میں اپنے پروپیگنڈے پر بھروسا کرتے تھے۔ مگر وہ لوگ ان اسباب ظاہری کے باوجود خدا پر سبقت نہ لے جا سکے اور اس کی قدرت کے پنجے سے نکل کے کہیں فرار نہ کر سکے (وَمَا كَانُوا سَابِقِينَ)۔ خدا نے اسی زمین کو قارون کو فنا کرنے کا حکم دیا جو اس کے آرام و راحت کا گہوارہ تھی اور فرعون اور ہامان کو نابود کرنے کا حکم اس پانی کو دیا جو انسان کے لیے سبب حیات ہے۔ خدا نے ان سرکشوں نابود کرنے کے لیے زمین و آسمان کے لشکر جمع نہیں کیے بلکہ ان ہی چیزوں کو جو اُن کی بقائے حیات کا موجب تھیں اُنھیں نیست کرنے پر مقرر کر دیا۔ (تشریحی نوٹ: قارون کی زندگی کے حالات سورہ قصص کی آیتوں ۷۴ تا ۸۱ میں مفصل ذکر ہو چکے ہیں۔ اور فرعون اور اُس کے ساتھیوں کی ہلاکت کا واقعہ سورة قصص کی تفسیر میں اسی جلد میں اور سورہٴ اعراف کی تفسیر، جلد چہارم میں بیان کیا جا چکا ہے)۔ "سابقین" جمع ہے "سابق" کی۔ اس کا معنی ہے وہ آدمی جو کسی سے آگے بڑھ کر پیش قدمی اختیار کرے۔ اگر خدا یہ فرماتا ہے کہ وہ لوگ آگے نہ بڑھ سکے۔ تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ اپنی پوری امکانی طاقت کے باوجود خدا کے دئراہ قدرت سے باہر نہ نکل سکے اور خدا کے عذاب سے نہ بچ سکے بلکہ جیسے ہی خدا نے ارادہ کیا اُسی وقت اُنہیں نہایت ذلّت و رُسوائی کے ساتھ دیارِ عدم کو بھیج دیا۔ جیسا کہ خدا اس کے بعد کی آیت میں فرماتا ہے: ہم نے اُن میں سے ہر ایک کو اُس کے گناہ کی پاداش میں پکڑ لیا: (فَكُلًّا أَخَذْنَا بِذَنبِهِ)۔ چونکہ ماقبل کی دو آیات میں چار قسم کے لوگوں کا ذکر ہوا تھا۔ مگر اُن کی سزاؤں کا ذکر نہ تھا۔ وہ تھے "قوم عاد و ثمود، قارون، فرعون اور ہامان۔" اس لیے اس آیت کے اخیر میں بالترتیب ان کی سزاؤں کا ذکر ہوا ہے چنانچہ فرماتا ہے: ہم نے اُن میں سے بعض پر شدید تباہ کن طوفان سنگریزوں کے ساتھ بھیجا۔ (فَمِنْهُم مَّنْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا)۔ "حاصب" کا معنی وہ طوفان ہے جس میں سنگریزوں کی بارش ہو۔ "حصباء" کے معنی ہیں سنگریزہ۔ اِس گروہ سے قومِ عاد مُراد ہے۔ سورہ ذاریات، سورہ حاقۃ اور سورہ قمر کے مطابق ان پر سات روز اور آٹھ راتوں تک شدید تباہ کن طوفان مسلط رہا۔ اس طوفان نے ان کے گھروں کو بالکل کھنڈر کر دیا اور ان کے جسموں کو پت جھڑ کے پتوں کی طرح پراگندہ کر دیا۔ (حاقہ ٥ تا ۷) اُن میں سے دُوسروں کو آسمانی کڑک نے گھیر لیا۔ (وَمِنْهُم مَّنْ أَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ)۔ ہم نے کہا کہ صیحہ آسمانی بجلی کا وہ کوندا ہے جس کے ساتھ ہی زمین میں زلزلہ آ جاتا ہے۔ یہ وہ عذاب تھا جو قوم ثمود اور بعض دیگر اقوام پر نازل ہوا۔ جیسا کہ خدا سورہ ہود کی آیت ۶۷ میں فرماتا ہے: وَأَخَذَ الَّذِينَ ظَلَمُواْ الصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُواْ فِي دِيَارِهِمْ جَاثِمِينَ اور ہم نے ان میں سے بعض کو زمین میں غرق کر دیا: (وَمِنْهُم مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْأَرْضَ)۔ یہ وہ سزا تھی جو بنی اسرائیل کے مغرور و مستکبر قارون کو دی گئی تھی جس کا سورہ قصص کی آیت ۸۱ میں ذکر گزر چکا ہے۔ آخرکار ان میں سے بعض کو ہم نے غرق کر دیا: (وَمِنْهُم مَّنْ أَغْرَقْنَا)۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ فرعون و ہامان اور ان کے ساتھیوں کی طرف اشارہ ہے۔ جن کا قرآن کی مختلف سورتوں میں ذکر آیا ہے۔ بہرکیف اس بیان سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ چار قسم کی سزائیں چار ہی قسم کے لوگوں کو دی گئی تھیں جن کی گمراہی، گناہوں اور انحراف کا گزشتہ دو آیات میں ذکر آ چکا ہے۔ مگر اس مقام پر ان کی سزاؤں کا ذکر نہیں تھا۔ لیکن ___ بعض مفسرین نے اس مقام پر جو یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ ان سزاؤں میں دُوسری اقوام بھی شامل ہو سکتی ہیں (مثلاً: کلمہٴ "غرق" میں قوم نوح بھی شامل ہے اور قوم لوط بھی سنگ باری ہوئی تھی)، ان مفسرین کا یہ خیال حقیقت سے بہت بعید ہے۔ کیونکہ قرآن میں جس مقام پر ان کا حال بیان کیا گیا ہے، وہیں ان کی سزاؤں کا ذکر بھی ہے۔ تو پھر سزاؤں کے ذکر کی تکرار کی ضرورت نہ تھی۔ زیرنظر سلسلہٴ آیات میں جس چیز کا ذکر نہ تھا وہ ان چار گردہوں کی سزائیں ہیں۔ جنہیں آخری دو آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ آیت کے آخیر میں اس حقیقت کی تاکید کے لیے یہ لوگ اپنے ہی اعمال سیہٴ کے ردّعمل کے طور پر ان عذابوں میں مبتلا ہوئے۔ اور اُنھوں نے جو بیج بویا تھا۔ اس کی فصل کاٹی۔ خدا فرماتا ہے: خدا نے ہرگز اُن پر ظلم و ستم نہیں کیا۔ بلکہ لوگوں نے خود ہی اپنے اوپر ظلم کیا تھا: (وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ)۔ گناہ گاروں کو خواہ اس دنیا میں سزا دی جائے۔ یا اس دنیا میں، درحقیقت وہ ان ہی کے گناہوں کا ردّعمل ہو گا اور اُس مقام پر جہاں اصلاح احوال اور بازگشت کی تمام راہیں ان پر بند ہو جائیں گی وہ بداعمالیاں اُن کے سامنے مجسم ہو جائیں گی۔ خدا اس سے کہیں زیادہ عادل ہے کہ وہ انسانوں پر حقیر سے حقیر ترین ظلم بھی نہیں روا رکھے۔ قرآن کی دیگر متعدد آیات کی طرح اس آیت سے بھی انسان کی آزادیٴ ارادہ اور آزادیٴ اختیار ثابت ہوتی ہے۔ اور یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ فیصلہٴ عمل خود انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔ خدا نے انسان کو آزاد پیدا کیا ہے اور اسے آزاد ہی دیکھنا چاہتا ہے۔ اِس بناء پر جو لوگ کہ "جبر" کے معتقد ہیں (افسوس ہے کہ مسلمانوں میں بھی اس عقیدے کے لوگ موجود ہیں) قرآن کے اس توانا استدلال سے اُن کا عقیدہ باطل ٹھہرتا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر مکڑی کے جالے کی مانند کمزور اُمید گاہیں:
Tafsīr Nemūna · Vol. 5گزشتہ آیات میں مُفسد، مستکبر، ہٹ دھرم اور ناانصاف ظالم مشرکین کے حلات بیان ہوئے ہیں۔ زیر بحث آیات میں اِسی مناسبت سے ایک قابل توجہ اور ناطق مثال ان لوگوں کے لیے ہے جو غیر خدا کو اپنا معبود اور ولی قرار دیتے ہیں۔ ہم اِس مثال پر جتنا بھی غور کریں اتنے ہی زیادہ نکات ہماری سمجھ میں آتے ہیں۔ چنانچہ خدا فرماتا ہے: جو لوگ غیر خدا کو اپنا معبود اور ولی بناتے ہیں وہ مکڑی کی مانند ہیں جو اپنے لیے جالا تنتی ہے۔ جب کہ مکڑی کا گھر سب سے کمزور ہوتا ہے، اے کاش وہ یہ جانتے: (مَثَلُ الَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّهِ أَوْلِيَاءَ كَمَثَلِ الْعَنكَبُوتِ اتَّخَذَتْ بَيْتًا وَإِنَّ أَوْهَنَ الْبُيُوتِ لَبَيْتُ الْعَنكَبُوتِ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ)۔ سبحان اللہ! یہ کیسی رسا اور جاذب مثال اور کیسی دقیق اور ناطق تشبیہ ہے۔ ذرا غور کیجئے کہ ہر حیوان اور ہر کیڑا مکوڑا اپنے لیے گھر یا آشیانہ بناتا ہے۔ مگر ان میں سے کسی کا گھر بھی مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور نہیں ہوتا۔ اصولاً مکان ایسا ہونا چاہیے جس میں دیواریں، چھت اور دروازہ ہو جو اپنے مکین حوادث اور موسموں کے تغیرات سے حفاظت کرے۔ اس کی غذا، خوراک اور دنیاوی ضرورت کی چیزیں اس میں محفوظ رہیں۔ بعض عمارتوں کی چھت نہیں ہوتی۔ مگر کم از کم دیواریں تو ہوتی ہیں۔ یا اگر دیواریں نہیں تو چھت ہوتی ہے۔ لیکن مکڑی کے جالے میں چو نہایت ہی نازک تاروں سے بنایا ہوا ہوتا ہے نہ دیوار ہوتی ہے نہ چھت، نہ صحن، نہ دروازہ۔ یہ چیزیں تو رہیں ایک طرف، دوسری طرف دیکھئے تو اس کی ساخت کا مٹیریل اس قدر کمزور اور ناپائیدار ہوتا ہے کہ وہ کسی حادثے کے مقابلے میں ٹھہر نہیں سکتا۔ اگر نرم رفتار ہوا بھی چلے تو اس کے تانے بانے کو درہم برہم کر دے۔ اگر اس پر بارش کے چند قطرے گر جائیں تو اسے برباد کر دیں۔ اگر آگ کے معمولی سے شعلے کی گرمی بھی پہنچے تو اسے نابود کر دے۔ حتی کہ اگر اس پر گرد غبار بھی بیٹھ جائے تو بھی پارہ پارہ ہو کر مکان کی چھت سے لٹک جاتا ہے۔ اِس گروہ کے باطل معبودوں کا بھی یہی حال ہے۔ یہ نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، نہ کسی مشکل کو حل کر سکتے ہیں اور نہ مصیبت کے وقت کسی کی پناہ گاہ بن سکتے ہیں۔ ہاں __ یہ ٹھیک ہے کہ یہ گھر دراز پا مکڑی کے لیے مرکز استراحت بھی ہے اور اس کے حصول غذا کے لیے حشرات کو شکار کرنے کا جال بھی ہے۔ لیکن اگر اُس کا دوسرے حیوانات اور حشرات کے گھروں سے مقابلہ کیا جائے تو نہایت کمزور اور ناپائیدار ہے۔ جن لوگوں نے خدا کے علاوہ، کسی غیر کو اپنا معبود قرار دیا ہے، ان کا بھروسہ بھی تار عنکبوت پر ہے۔ مثلاً: فرعونوں کے تخت و تاج، قارونوں کا بے شمار مال و زر، بادشاہوں کے خزانے اور محلات۔ یہ سب تارہائی عنکبوت ہیں اور یہ سب اسباب نمائش طوفان حوادث کے مقابلے میں۔ ناپائیدار۔ ضعیف، ناقابل اعتماد اور فنا پذیر ہیں۔ تاریخ کے انقلاب ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ درحقیقت، انسان میں سے کسی چیز پر بھی بھروسہ نہیں کر سکتا۔ لیکن ___ جن لوگوں نے ایمان اور خدا پر توکل اپنی پناہ گاہ بنایا ہے۔ حقیقت میں اُن کا تکیہ مضبوط دیوار پر ہے۔ اس مقام پر اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ باوجودیکہ مکڑی کا جالا اور اس کے تار کمزوری کے لیے ضرب المثل ہیں۔ لیکن وہ عجائب آفرینش میں سے بھی ہے۔ اگر انسان اس پر غور کرے تو وہ خالق حقیقی کی عظمت سے اور بھی زیادہ آشنا ہو جائے۔ مکڑی کے تار ایک چپکنے والے مادہ سے بنائے جاتے ہیں۔ یہ مادہ مکڑی کے پیٹ کے نیچے سوئی کے ناکے کے برابر نہایت چھوٹے چھوٹے خلیوں میں ہوتا ہے۔ اس کی ساخت ایک خاص ترکیب سے ہوئی ہے کہ وہ ہوا لگتے ہی سخت ہو جاتا ہے۔ مکڑی اس مادّے کو اپنی خاص طرح کی انگلیوں سے ان خلیوں میں سے باہر نکالتی ہے اور اُس سے اپنا جالا بناتی ہے۔ علم الحیات کے ماہرین کہتے ہیں مکڑی اس قلیل ترین مادہ سے پانچ سو میڑ تار بنا سکتی ہے۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ مکڑی کا تار اپنی غیر معمولی نزاکت کی وجہ سے کمزور ہوتا ہے وگرنہ اگر اتنا ہی باریک تار فولاد کا ہو تو اس سے مضبوط تر ہو۔ عجیب بات یہ ہے کہ مکڑی کے جالے کا ہر تار، چار تاروں سے مل کر بنا ہوتا ہے۔ پھر ان چار تاروں میں سے ہر ایک ہزار تاروں سے مل کر بنا ہوتا ہے۔ جن میں سے تار اُس کے بدن کے نہایت چھوٹے سے سورخ میں سے نکلتا ہے۔ غور طلب یہ امر ہے کہ ان بافتوں کا ہر فرعی تار کس قدر باریک، لطیف اور نازک ہوتا ہو گا۔ مکڑی کے جالے کی ساخت میں جو مٹیریل استعمال ہوتا ہے، اس کے عجیب ہونے کے علاوہ، اس کی ساخت اور مہندسی شکل بھی قابل توجہ ہے۔ اگر ہم کسی مکڑی کے سالم گھر کو غور سے دیکھیں تو ان ہی نازک تاروں میں ہمیں آفتاب درخشاں کی طرح کا ایک دلچسپ منظر نظر آئے گا۔ البتہ مکڑی کے لیے یہ گھر نہایت مناسب اور آئیڈیل ہے۔ لیکن بحثییت مجموعی اس سے زیادہ کمزور مکان کا تصور بھی نہیں ہو سکتا اور وہ معبود بھی جن کی خدا کے علاوہ، پرستش کی جاتی ہے ایسے ہی ہیں۔ اِس چھوٹی سی مخلوق کی تخلیق میں قدرت الہی کی عظمت اس وقت اور بھی زیادہ آشکار ہوتی ہے، جب یہ دیکھا جاتا ہے کہ مکڑی صرف ایک ہی قسم کی نہیں ہوتی۔ بلکہ بعض ماہرین علم الحیات کا دعویٰ ہے کہ اب تک بیس ہزار قسم کی مکڑیاں پائی گئی ہیں اور ان میں سے ہر نوع کی خصوصیات الگ الگ ہیں۔ آیت میں "اصنام" (بتوں) کے بجائے کلمہ "اولیاء" (جمع "ولی") استعمال ہوا ہے۔ شاید اس کلمے کے استعمال میں یہ حکمت ہے کہ نہ صرف انسان کے خود ساختہ معبود (بُت) بلکہ خدا کے مقرر شدہ پیشوا اور رہبر کو چھوڑ کر جسے بھی پیشوا اور رہبر بنایا جائے وہ سب اسی حکم میں شامل ہیں۔ جملہ "لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ" (اگر وہ جانتے ہوں)، آیت کے اخیر میں آیا ہے۔ اس کا تعلق نہ تو باطل معبودوں سے ہے اور نہ خانہٴ عنکبوت کی کمزوری سے۔ کیونکہ اس کی کمزوری کو تو سب ہی جانتے ہیں۔ اس بناء پر اس جملہ کے معنی یہ ہوں گے کہ اگر وہ لوگ اپنے باطل معبودوں اور ان ہستیوں کی جن پر وہ تکیہ کرتے ہیں ناپائیداری اور بےبقائی کو سمجھتے تو وہ جان لیتے کہ یہ سب اپنے ضعف اور عدم قدرت میں تار عنکبوت کی مانند ہیں۔ اس کے بعد کی آیت میں غافل اور بےخبر مُشرکین کو تہدید آمیز تنبیہ کی گئی ہے۔ چنانچہ کہا گیا ہے، خدا ہر اُس شے کو جسے وہ خدا کے علاوہ، پکارتے ہیں جانتا ہے: (إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا يَدْعُونَ مِن دُونِهِ مِن شَيْءٍ)۔ ان کا شرک جلی ہو یا شرک خفی ہوئی بھی خدا سے پوشیدہ نہیں ہے۔ وہی خدا قادر مطلق، (لازوال اور حکم علی الاطلاق ہے (وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ)۔ اگر خدا نے ان کفار کو مہلت دے رکھی ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ ان کے اعمال کو جانتا نہیں یا اس کی قدرت محدود ہے بلکہ یہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ انھیں کافی مہلت دے تاکہ ان سب پر اتمام حجت ہو جائے۔ اور ان میں سے جن افراد میں ہدایت پانے کا صلاحیت ہے وہ ہدایت یافتہ ہو جائیں۔ بعض مفسرین نے اس جملے کو مشرکین کے ان بہانوں کی طرف اشارہ سمجھا ہے جو وہ اپنی بت پرستی کے لیے تراشتے رہتے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ: ۔ہم ان بتوں کی پرستش ان کی وجہ سے نہیں کرتے۔ بلکہ درحقیقت، بت تو آسمان کے ستاروں، پیمبروں اور فرشتوں کے مظہر اور علاوہ، ہیں اور سجدہ کرتے وقت ہمارے تصور میں وہی ہستیاں ہوئی ہیں۔ یہ تو ہم انہی کے احترام میں کرتے ہیں اور ہمارا سود و زبان بھی ان ہی کے اختیار میں ہے۔ مگر قرآن یہ کہتا ہے کہ تم جن ذاتوں کو پکارتے ہو خدا انھیں خوب جانتا ہے۔ خواہ وہ کچھ بھی ہوں __ مگر خدا کے حکم اور قدرت کے مقابلہ میں تار عنکبوت کی مانند ہیں۔ ان کے پاس تمھیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ زیر نظر آیات میں سے تیسری آیت دشمنان پیغمبر کے ان اعتراضات کا جواب ہے جو وہ اس قسم کی مثالوں پر کیا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ خدا جو زمین و آسمان کا خالق ہے، مکڑی، مکھی اور اسی طرح کے حشرات کی مثالیں دے۔ قرآن میں اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ ہم لوگوں کے لیے یہ مثالیں بیان کرتے ہیں اور اہل علم کے سوا انھیں کوئی نہیں سمجھتا: (وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ)۔ کسی مثال کی اہمیت یا الطافت اس کے عظیم یا حقیر ہونے میں نہیں ہے۔ بلکہ اس میں ہے کہ وہ اپنے مقصود پر کس طرح منطبق ہوتی ہے۔ بعض اوقات حقیر سی مثال سے اہم نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ بطور مثال ___ جس وقت کمزور اور بےاساس سہاروں کی بابت گفتگو ہو تو اس وقت مثال کے لیے "تار عنکبوت" کا انتخاب عین فصاحت و بلاغت ہے۔ کیونکہ یہ مثال اس بےاساس و ناپائیدار سہارے کو بہترین انداز سے واضح کرتی ہے۔ اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ اہل علم ہی قرآن میں بیان کردہ مثالوں کی لطافت و نزاکت کا ادراک کرتے ہیں۔ زیر بحث آیات میں سے آخری آیت میں یہ اضافہ کیا گیا ہے کہ: خدا نے آسمان اور زمین کو حق پر خلق کیا ہے۔ اس میں ایمان لانے والوں کے لیے عظیم نشانی ہے: (خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّلْمُؤْمِنِينَ)۔ خدا کا کوئی کام بھی باطل اور عبث نہیں ہے۔ اگر خدا کسی وقت مکڑی اور اس کے کمزور اور بےبنیاد گھر کی مثال دیتا ہے تو درست ہے اور اگر وہ مثال کے لیے کسی حقیر سے وجود کا انتخاب کرتا ہے تو حق کو بیان کرنے کے لیے ہے۔ وگرنہ اس کے لیے کسی بڑی چیز کی مثال کرنا کونسا مشکل تھا کیونکہ وہ تو عظیم کہکشاؤں اور نظام مہائے آسمانی کا خالق ہے۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ ان چند آیات کے آخیر میں آیات الہٰی کے ادراک کا معیار علم و ایمان کو قرار دیا گیا ہے۔ ایک جگہ فرماتا ہے کہ "لو کانوا یعلمون" (اگر وہ جانتے) دوسری جگہ فرماتا ہے: "ما یعقلھا الا العالمون" (ان مثالوں کی نزاکت کا بجز عالمان آگاہ کے کوئی ادراک نہیں کر سکتا)۔ اس آخری آیت میں فرماتا ہے: " إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّلْمُؤْمِنِينَ" اس میں اہل ایمان کے لیے بڑی نشانی ہے۔ ان تمام معیارات سے مراد یہ ہے کہ حق تو جمال آفتاب کی طرح روشن ہے مگر اہل اور بیدار دل ہی اس کی کرنوں سے مستفید ہوتے ہیں۔ وہ قلوب جو آگاہ ہیں اور جو جستجوئے حق رکھتے ہیں۔ حق کو قبول کرنے کے لیے بیدار روح اور قلب سلیم کی ضرورت ہے۔ اگر یہ کور دل مشرک جمال حق کو نہیں دیکھتے تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ مخفی ہے بلکہ سبب یہ ہے کہ وہ بصیرت سے عادی ہیں۔
تفسیر نماز اعمال قبیح سے روکتی ہے:
Tafsīr Nemūna · Vol. 5پیمبران اُولوالعزم اور اقوامِ گزشتہ سرگذشت کے حصّے، اور اِن رہبران الہٰی سے ان کا نامناسب و ناسزا سلوک اور اُن اقوام کی زندگی کے غم انگیز انجام کے بعد، خداوند عالم کا رُوئے سخن بجانب پیمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اُن کی دل جوئی، تسلی خاطر، تقویت روح اور اُنھیں ایک کلی اور جامع و ستور العمل دینے کے لیے منعطف ہوتا ہے۔ اُنھیں دو حکم دیئے گئے ہیں: اوّل یہ کہ: کتاب الہٰی کا جتنا حصّہ تمھیں وحی کیا گیا ہے اُس کی تلاوت کرو: (اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ)۔ تم اِن آیات کو پڑھو کیونکہ تم جو چاہتے ہو وہ ان میں ہے۔ علم و حکمت، نصیحت، معیار شناختِ حق و باطل، وسیلہ تنویر روح و قلب اور ہر گروہ اور ہر جماعت کے لیے زندگی کا پروگرام اِن آیات میں موجود ہے۔ تم ان آیات کو پڑھو اور اُن پر عمل کرو۔ اُنھیں پڑھو اور اُن سے ہدایت حاصل کرو۔ پڑھو اور اُن کی تلاوت سے اپنا قلب روشن کرو۔ پہلے حکم کے بعد جس میں تعلیم کا پہلو ہے۔ دُوسرا حکم یہ ہے کہ: نماز قائم کرو۔ (وَأَقِمِ الصَّلَاةَ)۔ اِس کے بعد نماز کے عظیم فوائد کا ذکر ہوا ہے۔ اور وہ یہ ہیں۔ نماز انسان کو اعمالِ فحش اور منکرات سے باز رکھتی ہے: (إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ)۔ (تشریحی نوٹ: "فحشاء" اور "منکر" کا فرق جلد ۶ میں سورہ نحل کی آیت ۹۰ کے تحت بیان کیا گیا ہے۔ مختصراً یوں کہا جا سکتا ہے کہ "فحشاء" سے مراد مخفی گناہان کبیرہ ہیں اور منکر آشکار گناہاں کبیرہ کی طرف اشارہ ہے۔ یا "فحشا" وہ گناہ ہیں جو قوائے شہویہ کے تحت کیے جائیں اور منکر وہ گناہ ہے جو قوت عقلیہ کے تحت کیا جائے)۔ چونکہ نماز کی خوبی ہی یہ ہے کہ وہ انسان کو مبداء و معاد کی یاد دلاتی ہے جو کہ کج روی سے بچے رہنے کا قوی ترین سبب ہے۔ اِس لیے وہ اسے اعمال فحش اور منکرات سے باز رکھتی ہے۔ جب کوئی آدمی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو ___ تکبیر کہتا ہے۔ یعنی خدا کے ہر شے سے برتر و بالا ہونے کا اقرار کرتا ہے، اُس کی نعمتوں کو یاد کرتا ہے، اُس کی حمد ثنا کرتا ہے، اُس کی رحمانیت اور رحیمیت کی تعریف کرتا ہے، روز جزا کو یاد کرتا ہے، اُس کی بندگی کا اعتراف کرتا ہے، اُس سے صراط مستقیم کی ہدایت کا خواست گار ہوتا ہے اور گمراہوں اور مغضوب لوگوں کی پیروی سے خدا کی پناہ مانگتا ہے۔ (مضمون سورہ حمد) بدونِ شک ایسے انسان کے قلب اور رُوح میں جو پابند صلوة ہو قبول حق کی تحریک، پاکیزگی کا خیال اور تقویٰ کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے۔ نماز پڑھتے ہوئے آدمی رکوع کرتا ہے اور اپنے خالق کے حضور پیشانی خاک پر رکھتا ہے اور اُس کی عظمت کے تصوّر میں ڈوب جاتا ہے، تو اُس کے دل سے خود غرضی اور تکبر کے جذبات محو ہو جاتے ہیں۔ وُہ توحید الہٰی کی شہادت دیتا ہے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کا اقرار کرتا ہے۔ اِس حالت میں وہ جناب رسالت مآب پر درود بھیجتا ہے اور خدا کے حضور میں دونوں ہاتھ اٹھا کر دُعا کرتا ہے کہ وہ اُسے صالح بندوں میں شمار کرے۔ (تشہدو سلام)۔ یہ تمام امور پابندِ صلوة انسان کے نفس میں رُوحانی لہریں بیدا کر دیتے ہیں اور اُس کی قوت روحانی گناہ کے مقابلے میں مستحکم دیوار بن جاتی ہے۔ اس عمل کی شب و روز میں چند بار تکرار ہوتی ہے۔ چنانچہ جب انسان صبح کو نیند سے بیدار ہوتا ہے تو وہ اپنے ربّ کی یاد میں غرق ہو جاتا ہے۔ وسط روز میں جس وقت آدمی دُنیاوی کاروبار میں مصروف ہوتا ہے، ناگہاں موٴذن کی صدائے تکبیر سنتا ہے تو اپنی مصروفیات کو چھوڑ کر درگاہ الہٰی کی طرف رخ کرتا ہے۔ حتی کہ دن کے ختم ہونے اور رات کے شروع ہوتے وقت اپنے بستر استراحت پر جانے سے پہلے بارگاہِ ایزدی میں حاضر ہو کر اپنے دل کو مرکز انوار بناتا ہے۔ علاوہ بریں، جس وقت کوئی آدمی نماز کی تیاری کرتا ہے تو پہلے نہاتا دھوتا اور اپنے آپ کو پاک کرتا ہے۔ ہر حرام اور غصب کردہ شے کو اپنے آپ سے دور کرتا ہے۔ پھر بارگاہ ربّ العزّت میں حاضر ہوتا ہے۔ یہ تمام امور اُسے فحشاء اور منکر سے باز رکھتے ہیں۔ بہ لحاظِ شرائط کمال اخلاص اور رُوحِ عبادت جس نمازی کا جتنا معیار ہے وہ اُسی قدر فحشاء اور منکر سے رُور رہتا ہے۔ بمناسبت معیار کبھی تو مکمل طور پر انسان بچا رہتا ہے. اور کبھی محدُود طور پر۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی آدمی نماز پڑھے اور اس پر کوئی اثر نہ ہو خواہ اس کی نماز دکھادے ہی کی کیوں نہ ہو۔ یا وہ شخص آلودہ گناہ ہی کیوں نہ ہو۔ البتہ ایسی نماز کے نفس پر اثرات کم ہوتے ہیں۔ مگر یہ بات بھی ہے کہ یہ لوگ دکھادے کی نماز بھی نہ پڑھتے تو اور زیادہ گناہوں میں آلودہ ہوتے۔ ہم اس مطلب کو قدرے واضح طور پر یوں بیان کر سکتے ہیں کہ فحشاء اور منکر سے پرہیز کرنے کے بھی بہت سے مراتب و درجات ہیں۔ اور ہر نمازی کا مرتبہ و مقام اُس کے رُوحانی مدارج کمال کے مطابق ہے۔ اِس آیت کے متعلق ہم نے جو کچھ سطور بالا میں کہا ہے، اُس سے واضح ہوتا ہے کہ بعض مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں لاحاصل زحمت اٹھائی ہے اور نامناسب تفاسیر کے انتخاب میں بیکار محنت کی ہے۔ شاید اُنھوں نے یہ دیکھ کہ بعض لوگ نماز پڑھتے ہیں اور مرتکب گناہ بھی ہوتے ہیں اس لیے اُنھوں نے آیت کے مطلق معنی پر نظر ڈالی اور سلسلہ مراتب کا لحاظ نہیں کیا۔ لہذا وہ شک میں پڑ گئے اور آیت کی تفسیر کے لیے دوسری راہیں اختیار کر لیں۔ مثلا ___ بعض نے کہا ہے کہ نماز انسان کو فحشاء اور منکر سے اتنی ہی دیر کے لیے باز رکھتی ہے جب تک وہ مشغولِ نماز ہوتا ہے۔ یہ کیا عجیب بات ہے۔ یہ کچھ نماز ہی کی خصوصیت نہیں ہے۔ بہت سے اعمال ایسے ہیں کہ ان میں بحالتِ مشغولیت انسان مرتکب گناہ نہیں ہوتا۔ بعض اور لوگوں نے کہا ہے کہ نماز کے اعمال و اذکار ایسے جملے ہیں جن میں سے ہر ایک انسان کو فحشاء اور منکر سے باز رکھتا ہے۔ مثلاً تکبیر و تسبیح و تہلیل کہتی ہے کہ گناہ نہ کر۔ یہ اور بات ہے کہ انسان اس صدائے نہی کو سنتا بھی ہے یا نہیں۔ اِسی طرح بعض نے اس آیت کی اس عنوان سے تفسیر کی ہے کہ اِس مقام پر کلمہ "نہی" صرف "نہی تشریعی" ہے وہ اس حقیقت سے غافل رہے ہیں کہ یہاں نہی تکوینی مراد ہے۔ آیت کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ: ۔نماز کی تاثیر ہی انسان کو ارتکاب گناہ سے باز رکھنے والی ہے۔ اس لیے آیت زیر نظر کی اصلی تفسیر وہی ہے جو ہم نے سطور بالا میں بیان کی البتہ اِس امر میں کوئی مانع نہیں کہ نماز فحشاء اور مُنکر سے نہی تکوینی بھی کرتی ہے اور نہی تشریعی بھی۔
چند توجہ طلب احادیث
(۱) ایک حدیث میں جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مروی ہے: من لم تنھہ صلاتہ عن الفحشاء و المنکر لم یزدد من اللہ الا بعداً جس آدمی کی نماز اُسے فحشاء اور مُنکر سے نہیں روکتی اسے نماز سے خدا سے دُوری کے علاوہ، اور کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ (تشریحی نوٹ: مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں (دوسری حدیث میں نہی تشریعی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے))۔ (۲) آنحضرت صلی علیہ و آلہ وسلم سے ایک اور حدیث میں اس طرح منقول ہے: لاصلوة لمن لم یطع الصلوة۔ و طاعة الصلوة ان ینتھی عن الفحشآء و المنکر۔ جو آدمی نماز کے حکم کی اطاعت نہیں کرتا اُس کی نماز نماز نہیں ہے۔ اور اطاعتِ نماز یہ ہے کہ فحشاء اور منکر سے اُس کی نہی پر عمل کرے۔ (تشریحی نوٹ: مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں (دوسری حدیث میں نہی تشریعی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے))۔ (۳) آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مروی ہم ایک اور حدیث میں یوں پڑھتے ہیں کہ: انصار میں سے ایک جوان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھا کرتا تھا۔ مگر وہ قبیح گناہوں میں مبتلا تھا۔ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ بات بیان کی تو آپؐ نے فرمایا: ان صلاتہ تنھاہ یوماً آخرکار اُس کی نماز کسی دن اُسے اِن اعمال سے روک دے گی۔ (تشریحی نوٹ: مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ (۴) نماز کا یہ اثر اس قدر اہم ہے کہ بعض روایات میں اسے نماز کے مقبول یا نامقبول ہونے کا معیار قرار دیا گیا ہے۔ جیسا کہ جناب امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے: من احبّ ان یعلم اقبلت صلوتہ ام لم تقبل؟ فلینظر ھل منعت صلوتہ عن الفحشآء و المنکر؟ فبقدر ما منعتہ قبلت منہ جو آدمی یہ جانتا چاہے کہ اُس کی نماز خدا کے حضور میں مقبول ہوئی یا انہیں تو اُسے چاہیے کہ یہ دیکھے کہ کیا اس کی نماز نے اسے فحشاء اور منکرات سے روکا ہے یا نہیں بس اس کی نماز نے جس قدر اسے ان افعال سے روکا ہے اُسی قدر اس کی نماز مقبول ہوئی ہے۔ (تشریحی نوٹ: مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ آیت کے آخر میں یہ الفاظ ہیں (وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ)۔ "ذکر خدا اس سے بھی زیادہ برتر و بالا ہے۔" اِس جملے میں نماز کا ایک اہم ترین فلسفہ بیان کیا گیا ہے۔ یعنی نماز کی برکات و آثار میں سے نہی عن الفحشاء و المنکر سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ نماز انسان کو خدا کی یاد میں مشغول کر دیتی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو ہر خیر و سعادت کی بنیاد ہے۔ یہاں تک کہ انسان کے فحشاء اور منکر سے بچے رہنے کا اصل عامل بھی ذکر اللہ ہی ہے۔ اور حقیقت میں نماز کی جملہ برکات میں سے اس کی برتری کا باعث یہ ہے کہ یہی ہر خیر و سعادت کی بنیاد ہے۔ یاد خدا اصولاً باعث حیات دل اور راحت القلوب ہے۔ اور کوئی شے بھی اس مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتی۔ الا بذکر اللہ تطمئن القلوب آگاہ رہو کہ یادِ خُدا ہی دلوں کے اطمینان کا سبب ہے۔ (رعد۔ ۲۸) اصولی طور پر تمام عبادات خواہ وہ نماز ہو یا کوئی اور عبادت سب کی روح ذکر خدا ہی ہے۔ نماز کے الفاظ، افعال نماز، مقدماتِ نماز، اور تعقیباب نماز یہ سب کی سب چیزیں درحقیقت، انسان کے دل میں یاد خدا کو زندہ کر دیتی ہیں۔ یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ سورہٴ طہ کی آیت ۱۴ میں نماز کے اس بنیادی فلسفے کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ چنانچہ موسٰی کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے: أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي نماز کو میری یاد کے لیے قائم کرو۔ بررگ مفسرین نے جُملہ بالا (وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ) کی اِس سے مختلف تفاسیر بھی لکھی ہیں۔ جن میں سے بعض کے متعلق رویات اسلامی میں بھی اشارات ملتے ہیں۔ منجملہ اُن کے ایک یہ ہے کہ: خدا تمہیں اپنی رحمت کے وسیلے سے یاد کرتا ہے اور تم اسے اطاعت کے وسیلہ سے یاد کرتے ہو۔ (تشریحی نوٹ: اس تفسیر کے مطابق اس مقام پر اللہ فاعل ہے۔ لیکن گزشتہ تفسیر کے مطابق آیت میں مذکور فعل کا فاعل ہے)۔ دوسرے یہ کہ: ذکرِ خدا نماز سے بھی برتر و بالاتر ہے کیونکہ ہر عبادت کی رُوح ذکر خدا ہی ہے۔ مذکورہ بالا تفاسیر جن میں سے بعض کا ذکر روایات اسلامی میں بھی ہے۔ ممکن ہے کہ ان کا مقصود بطونِ آیت ہو۔ وگرنہ آیت کا ظاہری مفہوم تو وہی ہے جو ہم نے پہلے بیان کیا ہے کیونکہ اکثر مقامات پر جہاں کلمہٴ ذکر اللہ آیا ہے اس سے مراد بندوں کا خدا کو یاد کرنا ہے۔ آیت بالا سے بھی ذہن اسی مفہوم کی طرف مائل ہوتا ہے۔ لیکن یہ خیال کہ خدا بندوں کو یاد کرتا ہے، تو ہو سکتا ہے کہ یہ براہ راست نتیجہ ہو، اس بات کا کہ بندے خدا کو یاد کرتے ہیں۔ اس طر ح سے ان دونوں معانی کا تضاد برطرف ہو جاتا ہے۔ معاذ بن جبل سے منقول ایک حدیث کے مطابق عذاب الہٰی سے نجات کے لیے انسان کا کوئی عمل بھی "ذکراللہ" سے بہتر نہیں ہے تو اس کے بارے میں لوگوں نے ان سے سوال کیا کہ کیا راہِ خدا میں جہاد بھی اس سے بہتر نہیں ہے۔ تو معاذ بن جبل نے جواب دیا ہاں۔ کیوں خدا فرماتا ہے: وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ ظاہراً یوں لگتا ہے کہ معاذ بن جبل نے یہ بات رسول اللہ صلی للہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی تھی کیونکہ وہ خود بیان کرتے ہیں کہ میں نے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا کہ تمام اعمال میں کونسا عمل برتر ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اِن تموت ولسانک رطب من ذکر اللہ عزّوجل یہ کہ مرتے وقت تیری زبان ذکر الہٰی میں مشغول ہو۔ انسان کی نیت اور اس کے حضور قلب کی کیفیت و کمیت نماز اور دیگر تمام عبادات میں مختلف رہتی ہے اس لیے آیت کے آخر میں ان الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے: (وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ)۔ یعنی خدا جانتا ہے کہ تم کیا کام کرتے ہو۔ تم کونسے اعمال مخفی طور پر اور کون سے آشکار طور پر انجام دیتے ہو۔ تمہاری کیا کیا نیتیں ہوتی ہیں اور تم زبان سے کیا کچھ کہتے ہو۔ خدا ان سب باتوں کو جانتا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔
فرد اور جماعت کی تربیت میں نماز کا اثر:
اگرچہ نماز ایسی چیز نہیں کہ اس کا فلسفہ کسی سے مخفی ہو۔ لیکن جب ہم متون آیات اور روایات اسلامی کو دقت نظر سے دیکھتے ہیں تو بہت سی باریکیاں اور نکات ہمارے سامنے آتے ہیں، مثلا: ۱۔ نماز کا فلسفہ اس کی روح اساس، مقصد و عمل اور نتیجہ غرض سب کچھ یاد خدا ہے۔ یعنی وہی ذکر اللہ جسے آیت حدیث میں "برترین" کہا گیا ہے۔ البتہ "ذکر" ایسا ہونا چاہیے جو تمہید فکر ہو اور فکر وہ کہ جو محرک عمل ہو۔ جیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک حدیث " وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ" کی تفسیر میں منقول ہے۔ آپ علیہ اسلام نے فرمایا: و ذکر اللہ عندما احل و حرم افعال حلال و حرام کے بارے میں خدا کو یاد کرنا (یعنی خدا کا ذکر ایسا ہونا چاہیے کہ انسان حلال کام انجام دے اور حرام سے بچے۔ (بحوالہ: بحارالاانوار، جلد ۸۲، ص ۲۰۰)۔ ۲۔ نماز گناہوں کو دھو دیتی ہے اور خدا کی مغفرت بخشش کا وسیلہ ہے۔ کیونکہ نماز انسان کو توبہ اور اصلاح عمل پر آمادہ کرتی ہے۔ اس لیے ایک حدیث میں ہے کہ جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اصحاب سے سوال کیا: لو کان علی باب دار احدکم نھر واغتسل فی کل یوم منہ خمس مرات اکان یبقی فی جسدہ من الدرن شیء؟ قلت لا۔ قال:۔۔ فانّ مثل الصلوة کمثل النھر الجاری کلما صلی کفرت ما بینھما من الذنوب۔ اگر تم میں سے کسی کے مکان کے دروازہ کے سامنے صاف و پاکیزہ پانی نہر ہو اور وہ آدمی دن میں پانچ دفعہ اس نہر میں غسل کرے تو کیا اس آدمی کے جسم پر کسی قسم کی کثافت اور میل باقی رہ جائے گا؟ جواب میں عرض کیا گیا۔ نہیں۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نماز بھی اسی آب جاری کی مانند ہے۔ جس وقت بھی انسان نماز پڑھتا ہے تو وہ گناہ جو دو نمازوں کے درمیان اس نے انجام دیئے ہوتے ہیں، محو ہو جاتے ہیں۔ (بحوالہ: وسائل اشیعہ، جلد ۳، سفحہ ۷ (باب ۲ از ابواب اعداد الفرائض حدیث ۳))۔ اِس طرح انسان روح پر گناہوں سے جو زخم لگ جاتے ہیں نماز کی مرہم سے بھر جاتے ہیں اور دل پر جو زنگ لگ جاتا ہے وہ صاف ہو جاتا ہے۔ ۳۔ نماز آئندہ گناہوں کے مقابلے میں دیوار بن جاتی ہے کیونکہ وہ انسان کے اندر روح ایمانی کو قوی کرتی ہے اور دل میں تقویٰ کے پودے کی پرورش کرتی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ایمان و تقویٰ گناہوں کو روکنے کے لیے مضبوط ترین دیوار ہیں اور یہی وہ چیز ہے جسے زیربحث آیت میں "تنھی عن الفحشاء و المنکر" کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے۔ اس مطلب کی متعدد احادیث کے مطابق پیشوایان اسلام کے سامنے بعض گناہ گار لوگوں کا حال بیان کیا گیا تو انھوں نے فرمایا: فکر نہ کرو۔ نماز اُن کی اصلاح کر دے گی۔ ۴۔ نماز غفلت کو دور کر دیتی ہے۔ راہ حق کے راہیوں کے لیے سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ وہ اپنے مقصد تخلیق کو بھول جائیں اور زندگی کی مادہ راحتوں اور زود گزر لذتوں میں غرق ہو جائیں۔ مگر ... نماز ... جو کہ وقت کے مختلف فاصلوں سے ہر شب و روز میں پانچ بار ادا کی جاتی ہے۔ مسلسل انسان کو آگاہ اور متنبہ کرتی رہتی ہے۔ وہ انسان کو اس کا مقصد آفرینش سمجھاتی رہتی ہے اور دنیا میں اس کی حیثیت اور فرض سے آگاہ کرتی رہتی ہے۔ انسان کے لیے یہ ایک بڑی نعمت ہے کہ "اس کے پاس ایک ایسا وسیلہ ہے جو ہر رات دن میں اسے چند مرتبہ خواب غفلت سے جگاتا رہتا ہے۔" ۵۔ نماز تکبر اور خود بینی کو دور کر دیتی ہے۔ کیونکہ انسان ہر شب و روز میں سترہ رکعت نماز پڑھتا ہے اور ہر رکعت میں دوبار خدا کے سامنے خاک پرپیشانی رکھتا ہے۔ اس حدیث میں اپنے آپ کو اس کی عظمت کے سامنے صرف ایک ذرہ ناچیز ہی نہیں بلکہ اس کی لامحدودیت کے مقابلے میں ایک صفر سمجھتا ہے۔ نماز انسان کے غرور اور خود پرستی کو دور کر دیتی ہے نیز تکبر اور احساس برتری کو ختم کر دیتی ہے۔ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے اپنی اس معروف حدیث میں جس میں عباداتِ الہی کا فلسفہ بیان کیا گیا ہے، ایمان کے بعد نماز کہ جو افضل عبادات ہے، کی یہی غایت بیان فرمائی ہے: فرض االلہ الاایمان تطھیراً من الشرک والصلوة تنز یھا عن الکبر خدا نے ایمان کو شرک کی نجاست سے پاک کرنے کے لیے فرض کیا اور نماز کو تکبر سے پاک کرنے کے لیےْ۔ (نہج البلاغہ کلمات قصار ۲۵۲۱)۔ ۶۔ نماز انسان کے فضائل اخلاق اور اس کے کمال رُوحانی کی پرورش کا وسیلہ ہے کیونکہ وہ انسان کو عالم مادی اور عالم طبیعت کی چار دیواری سے آزاد کرتی ہے اور اُسے ملکوت آسمانی کی طرف بلاتی ہے۔ اُسے فرشتوں کے ساتھ ہم صدا اور ہم راز کر دیتی ہے۔ انسان حالتِ نماز میں اپنے آپ کو بلا واسطہ خدا کے سامنے محسوس کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میں اس سے باتیں کر رہا ہوں۔ شب و روز میں انسان کئی مرتبہ اس عمل کی تکرار کرتا ہے۔ اس صورت میں کہ انسان خُدا کی صفاتِ رحمانیت و رحیمت اور اس کی عظمت کو پیش نظر رکھتا ہے۔ اور سورہ الحمد کو جو نیکی اور پاکبازی کی بہترین رہبر ہے، کے بعد قرآن کی دُوسری آیات کی تلاوت کرتا ہے۔ یہ عمل نفسِ انسانی میں بہترین فضائل اخلاق کی پرورش کرتا ہے۔ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام فلسفہٴ نماز کی متعلق ایک حدیث میں فرمایا: الصلوة قربان کل تقی نماز ہر پرہیزگار کے لیے تقرب الہٰی کا وسیلہ ہے۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، کلمات قصار، جملہ۱۳۶)۔ ۷۔ نماز انسان کے تمام اعمال کو قدر و قیمت اور رُوح عطا کرتی ہے۔ کیونکہ نماز انسان کے اندر روح اخلاص کو زندہ کرتی ہے، نماز نیت خالص، گفتار پاک اور اعمال صالح کا مجموعہ ہے۔ رات دن میں تمام چیزوں کی تکرار انسان کی روح میں تمام اعمال خیر کا بیج بو دیتی ہے۔ اور نفس کی کیفیت اخلاص کو تقویت بخشتی ہے۔ ایک مشہور روایت میں ہے کہ جب امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا سر اقدس ظالم بن ملجم کی تلوار سے شگافتہ ہو چکا تھا تو آپ علیہ السلام نے اپنی وصیتوں میں یہ بھی فرمایا: اللہ اللہ فی الصلوة فانھا عمود دینکم نماز کے بارے میں خدا سے ڈرو، خدا سے ڈرو کیونکہ وہ تمہارے دین کا ستون ہے۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، وصیت ۴۷)۔ یہ مسلم ہے کہ اگر چوب خیمہ ٹوٹ جائے یا گر پڑے تو خیمے کی طنا میں یا میخیں خواہ کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہوں وہ بےفائدہ ہیں۔ اسی طرح اگر نماز کے وسیلے سے بندوں کا خدا سے تعلق باق نہ رہے، تو دوسرے اعمال بے اثر ہو جاتے ہیں۔ امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک حدیث مروی ہے: اوّل ما یحاسب بہ العبد الصلوة فان قبلت قبل سائر عملہ و ان ردّت ردّ علیہ سائر عملہ۔ قیامت میں جس چیز کا سب سے پہلے بندوں سے حساب لیا جائے گا وہ نماز ہے۔ اگر خدا نے نماز کو قبول کر لیا تو دیگر اعمال بھی مقبول ہو جائیں گے اور اگر وہ ردّ کر دی گئی تو تمام اعمال ردّ ہو جائیں گے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ نماز خالق و مخلوق کے درمیان ایک راز ارتباط ہے۔ اگر نماز اپنی شرائط کے ساتھ صحیح طور پر ادا ہو جائے تو اس میں قربت اور اخلاص کے جذبات کہ جو جملہ اعمال کی قبولیت کی بنیاد ہیں، فطرتا پیدا ہو جاتے ہیں اور اگر اخلاص اور نیت صادق نہ ہو تو تمام بیکار اور غیر نتیجہ بخش ہیں اور اعتبار کے درجے سے ساقط ہو جاتے ہیں۔ ۸۔ مشتملات نماز سے قطع نظر اگر نماز اپنی شرائط کے ساتھ توجہ سے ادا کی جائے تو وہ انسان کو تقویٰ کا عادی بناتی ہے۔ کیونکہ ___ ہم جانتے ہیں کہ صحتِ صلوة کی شرائط میں یہ اُمور شامل ہیں کہ نماز گزار کا مکان اُس کا لباس، وہ فرش جس پر وہ نماز پڑھتا ہے، وہ پانی جس سے وضو اور غسل کرتا ہے اور وہ مقام جہاں وہ غسل اور وضو کرتا ہے، اُن سب کو غضب سے مبرا اور دوسروں کے حقوق پر تجاوز سے پاک ہونا چاہیے۔ جس آدمی کا کردار تجاوز، ظلم، سود خوری، غصب، کم فروشی، رشوت خوری اور کسب اموالِ حرام سے آلودہ ہو تو وہ ادائے نماز کی شرائط کو کیونکر پورا کر سکتا ہے۔ اِس بناء پر رات دن میں پانچ مرتبہ نماز کی تکرار بنی نوع انسان کے حقوق کا احترام کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔ ۹۔ نماز کے لیے، ان شرائط کی صحت کے علاوہ، جو اُس کی قبولیت کے لیے لازمی ہیں کچھ اور شرائط کمال بھی ہیں کہ ان کا لحاظ رکھنا بہت سے گناہوں کے ترک کرنے کے لیے موٴثر ہے۔ علم فقہ اور حدیث کی کتابوں میں ایسے بہت سے امور کا ذکر ہے۔ جن کی وجہ سے نماز قبول نہیں ہوتی۔ ان میں سے ایک شراب خوری بھی ہے۔ روایات میں ذکر ہے:۔ لاتقبل صلوة شارب الخمر اربعین یوماً الا ان یتوب شراب خوار کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں ہوتی مگر اس شرط کے ساتھ کہ وہ توبہ کرے۔ (بحوالہ: بحارالانوار، ج ۸۴، ص ۳۱۷تا ۳۲۰)۔ متعدد روایات میں ہے کہ جن لوگوں کی نماز قبول نہیں ہو گی اُن میں سے ظالم رہنما بھی ہے۔ (بحوالہ: بحارالانوار، ج۸۴، ص٣۱۸)۔ بعض دوسری روایات میں یہ تصریح موجود ہے کہ جو آدمی زکوة ادا نہیں کرتا اس کی نماز قبول نہیں ہو گی اسی طرح اور روایات میں آیا ہے کہ حرام غذا کھانے، غرور، تکبر اور خود بینی سے بھی نماز قبول نہیں ہوتی۔ ظاہر ہے کہ قبولیت نماز کی تمام شرائط کو ملحوظ رکھنے سے کیسی تربیت اخلاق ہوتی ہے۔ ۱۰۔ نماز انسان میں نظم و ضبط کی عادت پیدا کرتی ہے کیونکہ اس سے لازماً معین وقت پر ادا کرنا ہوتا ہے۔ ہر نماز کی ادائیگی میں تقدیم یا تاخیر دونوں سے نماز باطل ہوتی ہے اسی طرح سے نماز کے دیگر آداب و احکام ہیں، مثلاً نیت، قیام و قعود رکوع و سجود وغیرہ کہ جب انسان سب کو پوری توجہ کے ساتھ ٹھیک ٹھیک ادا کرتا ہے تو اس کے کردار اور اس کی زندگی کے نظام میں نظم و ضبط کا پیدا ہو جانا آسان ہو جاتا ہے۔ نماز باجماعت سے قطع نظر کرتے ہوئے فرادی نمازمیں یہ تمام فوائد مضمر ہیں۔ اور ہم ان پر خصوصیت جماعت کا اضافہ کریں کہ جو روح نماز کا تقاضہ ہے تو نماز میں اور بھی بےشمار برکات ہیں، جن کے تفصیلی ذکر کا یہاں موقع نہیں ہے۔ علاوہ بریں، ہم سب ہی کم و بیش انھیں جانتے ہیں۔ فلسفہ و اسرار نماز کے متعلق امام علی ابن موسی رضا علیہ السلام کی ایک جامع حدیث نقل کر کے ہم اپنے بیان کو ختم کرتے ہیں۔ امام علیہ السلام کی خدمت میں ایک خط آیا جس میں فلسفہ نماز کے متعلق سوال کیا گیا تھا تو اس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ: نماز کے واجب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اٗس کی ادائیگی کے دوران میں انسان کو توجہ اللہ کی طرف رہتی ہے اور وہ اپنے پروردگار کی ربویت کا اقرار کرتا رہتا ہے۔ نمازی آدمی شرک و بُت پرستی کے خلاف جنگ کرتا ہے، اپنے پروردگار کے حضور نہایت خضوع و خشوع سے کھڑا ہوتا ہے، وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہے، اپنے گذشتہ گناہوں کی خدا سے بخشش طلب کرتا ہے۔ اور ہر روز خدا کی تعظیم کے لیے زمین پر پیشانی رکھتا ہے۔ نماز کا مقصود یہ بھی ہے کہ انسان ہمیشہ ہوشیار رہتا ہے اور اس بات کو یاد رکھتا ہے کہ خدا سے غفلت کا گرد و غبار اس کے دل پر نہ بیٹھنے پائے، وُہ دنیا کی دولت پر مست و مغرور نہ ہو جائے، بلکہ ہمیشہ خدا کے حضور میں خضوع و خشوع کی حالت میں رہے اور اُسی سے دُنیا کی دولت اور دین کی نعمات میں اضافے کا طالب ہو۔ علاوہ بریں، ذکر خدا کا تسلسل کہ جو نماز کے سبب سے حاصل ہوتا ہے، اِس امر کا مُوجب ہوتا ہے کہ انسان اپنے مولا، مُدبّر اور خالق کو فراموش نہیں کرتا اور اس پر سرکشی کے جذبات کا غلبہ نہیں ہوتا۔ خدا کی طرف یہی توجہ اور اس کی درگاہ میں حاضری انسان کو گناہوں سے باز رکھتی ہے اور طرح طرح کی برائیوں سے بچاتی ہے۔ (بحوالہ: وسائل اشیعہ، جلد ۳، ص۴)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر بحث کے لیے بہترین روش اختیار کرو:
Tafsīr Nemūna · Vol. 5گزشتہ آیات میں جاہل اور آمادہ بجنگ بت پرستوں کے متعلق گفتگو تھی، جس کا لہجہ مقتضائے حال کے مطابق اور سخت تھا۔ ان میں ان کے معبودوں کو تار عنکبوت سے بھی زیادہ گمزور بتایا گیا تھا۔ لیکن آیات زیر بحث میں اہل کتاب سے بحث و مباحثہ کا ذکر ہے کہ وہ عمدہ طریقہ سے ہونا چاہیے۔ کیونکہ انھوں نے کتب آسمانی اور انبیاء کے احکامات کچھ تو سنے تھے۔ اور مدلل بات سننے کے لیے وہ کچھ زیادہ آمادہ تھے۔ یوں بھی ہر آدمی سے اس کی عقل و علم اور اخلاق کے معیار کے مطابق گفتگو کرنی چاہیے۔ اِس سلسلے میں پہلے یہ فرمایا گیا ہے کہ بجز اس روش جو سب سے بہتر ہے اہل کتاب سے بحث نہ کرو (وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ)۔ (تشریحی نوٹ: اَلَّتی موصوف مقدّر کی صفت ہے مثلاً "الطریقۃ")۔ "لاتجادلوا" کا مادہ "جدال" ہے۔ اس کے حقیقی معنی رسی کو بٹنے، بل دینے اور اسے مضبوط کرنے کے ہیں۔ یہ کلمہ مضبوط عمارت وغیرہ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ جب دو آدمی کسی موضوع پر بحث کرتے ہیں۔ تو ہر ایک کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ دوسرے کو اس کے عقیدے سے موڑ دے اس وجہ سے اس عمل کو "مجادلہ" کہتے ہیں۔ کشتی لڑنے کو بھی "جدال" کہتے ہیں۔ بہرکیف، اس مقام پر "تجادلوا" سے مراد مدلل گفتگو ہے۔ اس مقام پر "التی ھی احسن" کہنا نہایت جامع تعبیر ہے کیونکہ یہ الفاظ مباحثے میں ہر لحاظ سے صحیح اور مناسب طریقہ اختیار کرنے کا مفہوم لیے ہوئے ہیں، خواہ وہ الفاظ کا استعمال ہو، خواہ گفتگو کے مشمولات ہوں، خواہ طرز گفتگو ہو، خواہ گفتگو کے دوران میں دیگر امور ہوں۔ بنابریں، اس جملے کا مفہوم یہ ہے کہ بدوران مباحثہ، تمہارے الفاظ مُودبانہ ہوں، گفتگو کا لہجہ دوستانہ ہو اور مضمون مُدلّل ہو۔ آہنگ صدا میں شور و غل، خشونت اور ہتکِ احترام کا شائبہ نہ ہو۔ اِسی طرح ہاتھوں اور چشم و ابرو کی حرکات جن سے انسان اپنا مطلب واضح کرتا ہے نہایت مہذب ہوں۔ تعبیراتِ قرآن بھی کسی جامع ہیں کہ ایک مختصر سے جملے میں معنی کی ایک دنیا، پوشیدہ ہے۔ یہ نصیحت اس وجہ سے کی گئی ہے کہ اسلامی نقطہ نگاہ کی طرف ثانی کے دل میں ہمارے کلام کا اثر ہو اور حق اس کی روح کی گہرائی میں اتر جائے۔ یہ مقصود بہترین طور پر اسی انداز گفتگو سے حاصل ہو سکتا ہے جس کی قرآن میں نصیحت کی گئی ہے۔ حتی کہ ایسا کرنا ہوتا ہے کہ انسان کسی کے سامنے قول حق کو اگر اس طرح پیش کرے کہ طرف ثانی کو خیال پیدا ہو کہ یہ تو میری ہی دل کی بات ہے، تو وہ حق کی طرف بہت جلد مائل ہو جاتا ہے کیونکہ انسان اپنے افکار سے ااپنی اولاد کی طرف پیار کرتا ہے۔ اسی وجہ سے کہ قرآن مجید میں بہت سے مسائل سوالیہ انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔ تاکہ سوال کا جواب مخاطب کے دل سے موج زن ہو اور وہ اسے اپنی ہی بات سمجھے۔ مگر ہر قانون میں استثناء بھی ہوتا ہے۔ مثلاً اسی اسلامی بحث کے تحت نرم گفتار اور حسن تکلم کو بعض اوقات فریق مخالف مئوقف کی کمزوری پر محمول کر سکتا ہے یا ممکن ہے کہ یہ مبنی برانسانیت شیوئہ گفتار طرف مقابل کی جرائت اور جسارت میں اضافہ کر دے۔ اسی لیے آیت کے آخری میں ان الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ مگر ان لوگوں کے ساتھ یہ اسلوب گفتگو اختیار کرو جنہوں نے ان میں سے ظلم کیا ہے: (إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ)۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے اوپر اور دوسروں پر ظلم کیا اور انھوں نے بہت سی آیات الہٰی کو چھپایا تاکہ لوگ پیمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اوصاف سے آشنا نہ ہوں۔ وہ لوگ کہ جنھوں نے ظلم کیا۔ اور۔ خدا کے اُن احکامات کی توہین و تحقیر کی جو ان کے مفادات دنیا کے خلاف تھے۔ وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا اور مشرکین کی طرح دین میں خرافات شامل کر لیں مثلاً: حضرت مسیح یا عزیز کو خدا کا بیٹا کہنے لگے۔ مختصر یہ کہ ___ اُن لوگوں کے ساتھ نرم گفتاری لاحاصل ہے کہ جنہوں نے ظلم کیا ہے اور استدلال گفتگو کی بجائے تلوار کھینچ لی اور دلیل کی بجائے طاقت پر بھروسہ کیا اور امن و صلح کی بجائے شیطنت اور شرارت پر اتر آئے۔ آیت کے آخر میں "مجادلہ احسن" کی ایک ایسی مثال پیش کی گئی ہے کہ وہ اس قسم کی بحثوں کے لیے ہمیشہ ایک نادر نمونہ ہے۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے: تم ان سے کہو کہ ہم اس پر جو خدا کی طرف سے ہم پر اور تم پر نازل ہوا ہے، ایمان رکھتے ہیں، تمہارا اور ہمارا معبود ایک ہے اور ہم اس کی اطاعت کرتے ہیں: (وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِي أُنزِلَ إِلَيْنَا وَأُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَإِلَهُنَا وَإِلَهُكُمْ وَاحِدٌ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ)۔ اِس آیت میں گفتگو کا کیا ہی دلچسپ اسلوب اور کیسا ہی پیارا طرز ہے۔ اُس شے پر جو خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہے ایمان اور عقیدہ کی ہم آہنگی ہے۔ تمام تعصبات کو دور کر دیا گیا۔ ہم اور تم کا تفرقہ مٹا دیا گیا ہے اور آخر میں توحید باری تعالی کا اقرار ہے اور غیر مشروط طور پر اس کی اطاعت کا اقرار ہے۔ "مجادلہ احسن" کا یہ ایک نمونہ ہے کہ جو کوئی اسے سنتا ہے وہ طبعاً پسند کرتا ہے۔ یہ اسلوب گفتگو ثابت کرتا ہے کہ اسلام "گروہ بندی" نہیں چاہتا ہے اور نہ وہ بنی نوع میں تفرقہ اندازی کو پسند کرتا ہے۔ اسلام تو صرف وحدت کی دعوت دیتا ہے اور ہر حق بات کو مان لینے کی نصیحت کرتا ہے۔ اس قسم کی بحث کے نمونے قرآن میں بکثرت ہیں۔ ان میں سے ایک وہ ہے جس کی طرف امام صادق علیہ اسلام نے ایک حدیث میں اشارہ کیا ہے۔ چنانچہ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: "مجادلہ احسن" کی مثال وہ گفتگو ہے جو "سورہ یسین" کے آخر میں منکرین معاد کے سلسلے میں آئی ہے۔ وہ منکرین جب ایک بوسیدہ ہڈی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے لائے اور کہا کہ کس میں یہ قدرت ہے کہ اسے دوبارہ زندہ کر دے؟ تو جواب میں آنحضرتؐ نے فرمایا: "یحییھا الّذی انشاءھا اوّل مرة..." وہی خدا جس نے پہلے پیدا کیا تھا زندہ کرے گا۔ وہی خدا جو سبز درخت سے تمہارے لیے آگ پیدا کرتا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر نورالثقلین، جلد ۲، ص ۱۶۳)۔ اس کے بعد کی آیت ان چار اصولوں کی تاکید کے طور پر آئی ہے جو آیت ماقبل میں بیان ہوئے ہیں۔ چنانچہ خدا فرماتا ہے: ہم نے تم پر اس طرح کتاب نازل کی ہے: (وَكَذَلِكَ أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ)۔ اس قرآن کے نزول کی اساس یہ ہے کہ ذات معبود واحد یکتا ہے، تمام پیمبرانِ برحق کی دعوت کی غایت ایک ہی تھی، فرمان الہٰی کی بے چون و چرا اطاعت کی جائے اور لوگوں سے مجادلہ و مباحثہ بہترین طریقہ پر کیا جائے۔ بعض مفسرین کی رائے یہ ہے کہ اِس جملے میں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نزول قرآن کو، انبیاء ماقبل پر نازل ہونے والی کتابوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ یعنی جس طرح ہم نے گزشتہ پیمبروں پر آسمانی کتابیں نازل کیں اسی طرح تم پر بھی قرآن نازل کیا ہے۔ مگر پہلی تفسیر زیادہ معنی معلوم ہوتی ہے۔ ہر چند کہ دونوں تفاسیر کو قبول کر لینا بھی ممکن ہے۔ اس کے بعد قرآن اضافہ کرتا ہے: وہ لوگ جنہیں ہم نے اس سے قبل آسمانی کتاب دی تھی (اور وہ واقعی اس کی اتباع کرتے ہیں) وُہ اس کتاب پر ایمان لے آئیں گے: (فَالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يُؤْمِنُونَ بِهِ)۔ کیونکہ انھوں نے اس کتاب کی صداقت کی نشانیاں اپنی کتاب میں دیکھی ہیں۔ نیز یہ کہ وہ اصولی طور پر اس کتاب کے مضامین کو اپنی کتاب کے مضامین سے ہم آہنگ چاتے ہیں۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ تمام اہل کتاب (یہودی و نصاری) پیمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان نہیں لائے۔ اس بناء پر یہ جملہ ان حقیقی اور طالبان حق مومنین کے لیے آیا ہے جو ہر قسم کے تعصبات سے پاک تھے اور جن کے لیے درحقیقت، "اہل کتاب" کی صفت موزون تھی۔ اس کے بعد مزید کہا گیا ہے: ان میں سے بھی ایک گروہ (اہل مکہ و مشرکین عرب) اس (قرآن) پر ایمان لے آئیں گے۔ (مِنْ هَؤُلَاءِ مَن يُؤْمِنُ بِهِ) (تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے جملہ "الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ" کا اشارہ مسلمانوں کی طرف سمجھا ہے اور "مِنْ هَؤُلَاءِ مَن يُؤْمِنُ بِهِ" سے اہل کتاب مراد لی ہے۔ مگر یہ تفسیر بہت بعید نظر آتی ہے۔ کیونکہ "الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ " اور اسی جیسی تعبیرات قرآن میں یہود و نصاری کے سوا کسی اور کے لیے استعمال نہیں ہوئیں)۔ آیت کے آخر میں دونوں قسم کے کفار کے متعلق کہا گیا ہے: ہماری آیات کا کفار کے علاوہ، کوئی بھی انکار نہیں کرتا۔ (وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلَّا الْكَافِرُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: راغب، مفردات میں کہتے ہیں "جحود" کے معنی ہیں اُس بات کی نفی جس کا دل میں اثبات ہو اور اس بات کا اثبات جس کی دل میں نفی ہو)۔ "جحد" کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کسی چیز کا معتقد تو ہو مگر بظاہر اس کا انکار کرتا ہو۔ لہذا مذکورہ بالا جملے کا مفہوم یہ ہو گا کہ درحقیقت، کفار اپنے دل میں ان آیات کی عظمت کے معترف تو ہیں اور وہ اس کلام صداقت و راستی کی علامات کا ادراک بھی کرتے ہیں۔ نیز جناب رسالت ماب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پاکیزہ سیرت اور ان کے پیروکاروں کے مخلصانہ کردار کو دیکھ کر وہ اس کلام کی حقانیت کے قائل ہیں مگر بزرگوں کی کورانہ تقلید، جاہلانہ تعصب، اور نا مشروع اور وقتی دنیاوی مفاد کا خیال انھیں انکار پر آمادہ کر دیتا ہے۔ اور کلمتہ الحق کہنے سے روکے رکھتا ہے۔ اس ترتیب سے خدا نے قرآن کے مقابلہ میں مختلف اقوام کے مواقف کو بیان کیا ہے۔ اُن میں سے ایک صف میں اہل ایمان ہیں چاہے وہ علمائے اہل کتاب اور ان میں سے راست باز مومنین ہوں۔ یا وہ مشرک ہوں، جو تشنہٴ حق تھے مگر جب انھوں نے حق کو پا لیا تو اس سے دل لگا لیا۔ دُوسری صف میں ہٹ دھرم منکرین ہیں۔ جنھوں نے حق کو دیکھا مگر چمگادڑ کی طرح اس نور سے چھپ گئے کیونکہ ان کے تاروپود میں کفر کی ظلمت سمائی ہوتی تھی، اِس لیے انھیں نور ایمان سے وحشت تھی۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ گروہ ثانی نزول آیات سے پہلے بھی کافر ہی تھا۔ لیکن ان کے کفر پر تاکید مزید ممکن ہے کہ اس وجہ سے ہو کہ اِس سے قبل ان پر اتمام حجت کے بعد ان کا کفر حقیقی ثابت ہو گیا ہے۔ وہ یہ کہ علم و آگاہی کے باوجود وہ راہِ مستقیم کو چھوڑ کر دانستہ گمراہ ہوئے ہیں۔ اِس کے بعد پیمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دعویٰ کی حقانیت کو ثابت کرنے کے لیے (جو حقیقت میں آیہٴ گزشتہ کے مضمون پر تاکید ہے) فرمایا گیا ہے: اے رسولؐ! تم نے قرآن نازل ہونے سے قبل کوئی کتاب نہیں پڑھی اور تم ہرگز اپنے ہاتھ سے کچھ نہ لکھتے تھے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ تمہارے وہ دشمن جو ہر وقت تمہاری دعوت کے تکذیب کی فکر میں رہتے ہیں، اُنھیں شک و تردّد کا موقع مل جائے اور وہ کہیں کہ جو کچھ یہ شخص کہتا ہے۔ وہ پرانی کتابوں کے مطالعے اور ان سے اخذ و نقل کا نتیجہ ہے: (وَمَا كُنتَ تَتْلُواْ مِن قَبْلِهِ مِن كِتَابٍ وَلَا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ إِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: "من قبلہ" میں چو ضمیر ہے اس کا مرجع قرآن ہے اور کلمہ "یمین" (دایاں ہاتھ) اس لیے اس کہا کہ عام طور پر انسان داہنے ہاتھ سے لکھتے ہیں "مُبصلون" "مبطل" کی جمع ہے اور یہ اس آدمی کو کہتے ہیں جو کسی چیز کو باطل کرنے کے درپے ہو)۔ اے رسولؐ! تم ہرگز مکتب میں نہیں گئے اور کبھی عبارت نہیں لکھی لیکن وحی الہٰی کے ذریعے مدرسین کو پڑھانے والا معاملہ ہو گیا۔ بھلا اس بات کا کیسے یقین کیا جا سکتا ہے کہ ایک شخص نے نہ تو کبھی سبق پڑھا ہو۔ نہ کبھی کسی استاد اور مکتب کی شکل دیکھی ہو اور وہ اپنی طرف سے ایک کتاب تصنیف کر کے لے آئے اور تمام بنی نوع انسان کو مقابلہ کا چیلنچ کر دے اور سب لوگ اس جیسی کتاب تصنیف کرنے سے عاجز ہو جائیں؟ کیا ___ رسول کا یہ اعجاز اس امر کی دلیل نہیں ہے کہ یہ سب کچھ خدا کی لامحدود قدرت کی وجہ سے ظہور میں آ رہا ہے اور انہوں نے جو کتاب پیش کی ہے وہ آسمانی ہے جو کہ خدا کی طرف سے ان پر نازل ہوئی ہے۔ اگر کوئی شخص بطور اعتراض یہ کہے کہ ہم یہ کیونکر جانیں کہ پیمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہ کبھی کسی مکتب میں گئے اور نہ لکھنا ہی سیکھا؟ تو اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ وہ ایک ایسے معاشرے میں رہتے تھے جس میں لکھے پڑھے لوگ بہت ہی محدود اور گنے چنے تھے۔ چنانچہ کہتے ہیں کہ تمام شہر مکہ میں سترہ آدمیوں سے زیادہ لکھنے پڑھنے کے قابل نہ تھے۔ ایسے معاشرے میں آگر کوئی مکتب میں جائے اور پڑھنا لکھنا سیکھے تو وہ اپنے آپ کو نہیں چھپا سکتا۔ وہ تو ہر طرف مشہور ہو جائے گا اور اسے تعلیم دینے والے استاد کو بھی لوگ جانتے ہوں گے۔ بھلا ایسا آدمی کیونکر یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ میں پیمبر برحق ہوں اور کیونکہ ایسا سفید جھوٹ بول سکتا ہے؟ بالخصوص یہ آیات مکہ میں نازل ہوئی تھیں جہاں پیمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پلے بڑھے تھے اور وہ بھی ان ہٹ دھرم دشمنوں کے سامنے جن کی نظرسے چھوٹی سے چھوٹی غلطی بھی چھپی نہیں رہ سکتی تھی۔ اس کے بعد کی آیت میں حقانیت قرآن کے اور دلائل بیان کئے گئے ہیں۔ چنانچہ کہا گیا ہے: یہ کتاب آسمانی ایسی آیات بینات مجموعہ جن کی جگہ اہل علم کے سینوں میں ہے: (بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ)۔ کلمہ "ایات بینات" اس امر کا مظہر ہے کہ حقانیت قرآن کے دلائل خود اسی میں موجود ہیں، وہ آیات ہی سے روشن ہیں اور یہ آیات خود اپنی صداقت کی دلیل ہیں۔ یہ آیات قرآن خدا کی آیات تکوینی کی طرح ہیں کہ انسان جن کے مطالعے سے کسی دوسری چیز کی احتیاج کے بغیر حقیقت کو پا لیتا ہے۔ یہ آیات تشریعی اگر انھیں بغور دیکھا جائے تو اپنے مشمولات کے لحاظ سے خود ہی اپنی صداقت کی دلیل ہیں۔ علاوہ، بریں آیات کے طرف دار اور گرویدہ وہ لوگ ہیں جنھیں علم و معرفت حاصل ہے۔ ہر چند کہ وہ تہی دست اور پابرہنہ ہیں۔ زیادہ واضح الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کسی فکر و خیال کی وقعت اور قدر کی شناخت کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ اس مکتب فکر کے حامی کون لوگ ہیں۔ اگر اس کے بانی کے گرد نادان یا چالاک و عیار لوگ جمع ہو گئے ہیں تو ظاہر ہے کہ وہ بھی اسی قماش کا ہو گا۔ لیکن اس مکتب فکر کے حامی وہ لوگ ہیں جن کے سینے میں اسرار علوم پوشیدہ ہیں تو یہ اُس فکر کی حقانیت کی دلیل ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ صداقت قرآن کے حامیوں اور عاشقوں میں علمائے اہل کتاب کا ایک گروہ اور حضرت ابوذر، حضرت سلیمان، حضرت مقدار، حضرت عمار یاسر اور حضرت علی علیہ السلام جیسی بلند شخصیتیں تھیں۔ اہل بیت علیہم السلام سے جو روایات مروی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت اہل بیت علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے مگر آیت کا مفہوم اسے مخصر نہیں کرتا اس لیے یہ روایات "الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ" کا واضح مصداق بتاتی ہیں۔ (تشریحی نوٹ: یہ روایات تفصیلی طور پر تفسیر برہان کی جلد ۳، ص ۲۵۴ پر مذ کور ہیں)۔ اگرچہ بعض رویات میں یہ تصریح موجود ہے کہ اس آیت میں "الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ" سے خصوصیت سے مراد آئمہ معصومین علیہم السلام ہیں۔ درحقیقت، یہ قرآن کے علم کامل کے مرحلے کی طرف اشارہ ہے جو انھیں عطا ہوا ہے۔ لیکن اس امر میں کوئی مانع نہیں ہے کہ دیگر علماء اور صاحبان عقل و خرد بھی علوم قرآنی سے بہرہ ور ہوں۔ ضمناً: اس آیت سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ علم و دانش کا انحصار صرف کسی استاد کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرنے اور کتاب پڑھنے پر نہیں ہے کیونکہ آیات گزشتہ سے صریحاً یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کبھی کسی مکتب میں نہیں گئے تھے اور انھوں نے کسی سے لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا مگر پھر بھی وہ "الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ" کے بہترین اور افضل ترین مصداق ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ علم رسمی کے ماورا ایک برتر علم ہے جو خدا کی طرف سے انسان کے قلب میں بصورت نور و دیعت کیا جاتا ہے: العلم نور یقذفہ اللہ قلب من یشاء اور درحقیقت، جو ہر علم یہی ہے۔ باقی تو پوست اور چھلکا ہے۔ اس آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے۔ عناد پیشہ ستمگروں کے علاوہ، کوئی بھی ہماری آیات کا انکار نہیں کرتا (وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلَّا الظَّالِمُونَ)۔ کیونکہ اُن آیات کے معانی و مفاہیم روشن ہیں اور وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انھیں لایا ہے۔ جس نے کبھی سبق پڑھا اور اُمّی ہے۔ اور صاحبان فکر اہل علم پر ایمان لائے ہیں۔ علاوہ بریں، مجموعی طور پر ان آیات کے مضامین اور مشمولات روشن و آشکارا ہیں۔ اسی وجہ سے انھیں بینات کہتے ہیں اور گزشتہ آسمانی کتابوں میں بھی ان کے مضامین آئے ہیں۔ اِن سب باتوں کے باوجود کیا سوائے اُن لوگوں کے جو نہ صرف اپنے آپ پر بلکہ معاشرے پر ظلم کرتے ہیں، کوئی شخص بھی ان کا انکار کر سکتا ہے؟ (بطور تکرار تحریر ہے کہ کلمہ "جحد" اُس مقام پر بولا جاتا ہے کہ انسان کسی چیز کا جان بُوجھ کر انکار کرے)۔
چند اہم نکات: ۱۔ ہمارے محبوب پیغمبر جو کبھی مکتب میں نہیں گئے:
یہ درست ہے کہ لکھنا پڑھنا ہر انسان کے لیے باعث کمال سمجھا جاتا ہے مگر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ لکھنے پڑھنے سے عدم واقفیت ہی کمال بن جاتا ہے۔ یہ اصول حضرت خاتم الابنیا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بالخصوص صادق آتا ہے۔ کیونکہ، بالفرض اگر کوئی تعلیم یافتہ عالم یا کوئی آگاہِ علوم اور کثیر المطالعہ فلسفی نبّوت کا دعویٰ کرے اور قوم کے سامنے کوئی کتاب یہ کہ کرپیش کرے کہ "یہ کتاب آسمانی ہے" تو اس صورت میں قوم کی طرف سے شکوت پیش آنے کا امکان ہے کیونکہ وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ یہ کتاب خود اسی شخص نے تصنیف کر لی ہو۔ لیکن ___ اگر ہم یہ دیکھیں کہ ایک علمی لحاظ سے پس ماندہ قوم میں سے ایک ایسا انسان اٹھتا ہے جس نے کبھی کسی استاد کے سامنے زانوئے تلمند تہ نہیں کیا، کوئی کتاب نہیں پڑھی اور نہ کبھی کوئی صفحہ لکھا اور وہ ایک ایسی عظیم المرتبت کتاب پیش کرتا ہے جو نہایت بلند اور عالی مضامین پر مشتمل ہے تو یہ ادراک کرنا قطعی آسان ہے کہ یہ کتاب اس کی تصنیف یا تخلیق فکر نہیں ہے۔ بلکہ وحی آسمانی اور تعلیم الہٰی کا نتیجہ ہے۔ قرآن کی دوسری آیات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے "اُمّی" استعمال ہوا ہے۔ چنانچہ ہم نے سورہ اعراف کی آیت ۱۵۷ کے تحت اس کلمہ کی تین تفسیریں لکھی ہیں۔ اُن میں سے بہتر تفسیر "درس ناخواندہ" ہے۔ درحقیقت، حجاز میں کوئی مدرسہ نہ تھا کہ جہاں پیمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تعلیم حاصل کرتے اور نہ کوئی معلم تھا جس سے علم استفادہ کر سکتے۔ ہم نے اِس سے پہلے یہ کہا ہے کہ مکہ میں ایسے لوگ جو لکھ پڑھ سکتے تھے، سترہ (۱۷) سے زیادہ نہ تھے۔ کہا جاتا ہے کہ عورت صرف ایک ہی تھی جو لکھنا پڑھنا جانتی تھی۔ (بحوالہ: فتوح البدان بلاذری طبع مصر ص ۴٥٩) یہ امر خلاف فطرت ہے کہ ایسے معاشرے میں جہاں مبادی علم سے آشنا لوگ بھی اس قدر کمیاب اور انگشت شمار ہوں اگر کوئی آدمی صاحب علم و معرفت ہو اور لوگ اسے نہ جانتے ہوں۔ ان میں سے اگر کسی نے قطعی طور پر یہ کہا ہو کہ میں نے ذرا بھی تعلیم حاصل نہیں کی اور اس کے اس دعویٰ پر کسی نے بھی شک نہ کیا ہو تو یہ واقعہ مدعی کے صدق قول پر دلیل ہے۔ بہرحال، آیات زیر بحث میں جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جو کیفیّت بیان ہوئی ہے وہ اعجاز قرآن کو ثابت کرنے اور بہانہ جو لوگوں کی بہانہ شکنی کے لیے نہایت مؤثر اور کافی ہے۔ جی ہاں! رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بےنظیر اور عظیم عالم تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف مکتب وحی میں تحصیل علم کی تھی۔ بعض لوگ کے لیے جو ایک بہانہ باقی رہ گیا ہے وہ یہ ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بعثت نبّوت سے پہلے ملک شام کے ایک دو سفر کیے تھے۔ (وہ بھی قلیل مدت کے لیے جس میں آپ تجارتی کاروبار میں مصروف رہے تھے) تو ممکن ہے اُن ایک دو سفروں میں آپؐ علمائے اہل کتاب سے ملے ہوں اور اُن سے دینی مسائل تحصیل کیے ہوں۔ اِس اِدّعا کے ضُعف کی دلیل خود اسی میں پوشیدہ ہے۔ بھلا یہ کیونکر ممکن ہے کہ ایسا انسان جس نے کبھی مکتب کا منہ نہیں دیکھا نہ کوئی حرف پڑھا وہ پیمبران گزشتہ کی تمام تاریخ، احکام و قوانین اور معارف عالی کو لوگوں سے سن کر اتنی جلد یاد کر لے اور اُنھیں تئیس سال کی مدّت میں بروئے کار لائے اور جب اسے ایسے مسائل سے سابقہ پڑے جن کے پیش آنے کا کبھی گمان بھی نہ ہو تو اس کا ردّعمل نہایت حق بجانب ہو۔ یہ بات ٹھیک ویسی ہی ہے کہ ہم یہ کہیں کہ فلاں شخص نے تمام طبّی علوم چند روز میں ازبر کر لیے ہیں کیونکہ وہ فلاں ہسپتال میں ڈاکٹروں کو بیماروں کا علاج کرتے دیکھتا رہا تھا۔ یہ بات تو باکل مذاق معلوم ہوتی ہے۔ اس نکتے کی طرف بھی توجہ لازمی ہے کہ یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نبوّت پر فائز ہونے کے بعد تعلیمات الہٰی کے ذریعے پڑھنے لکھنے پر قدرت حاصل ہو گئی ہے۔ اگرچہ کسی تاریخ میں بھی یہ نہیں لکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رسمی طور پر تحصیل علم کی ہو، آپؐ کوئی تحریر پڑھ سکتے ہوں یا اپنے ہاتھ سے خط بھی لکھ سکتے ہوں۔ اور ہو سکتا ہے یہ بھی کہا جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام عمر جو اس کام سے پرہیز فرماتے رہے، شاید اس وجہ سے تھا کہ بہانہ جو لوگوں کے ہاتھ کوئی ثبوت نہ آ جائے۔ کُتب تاریخ اور حدیث میں صرف ایک موقع کا ذکر ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے لکھا اور وہ ہے صلح حدیبیہ کا واقعہ۔ مسند احمد میں یہ لکھا ہے کہ آن جناب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ میں قلم پکڑا اور صلح نامہ لکھا۔ (بحوالہ: ۔ مسند احمد، جلد۴، صفحہ ۲۹۸)۔ لیکن علمائے اسلام کی ایک جماعت نے اس حدیث کا انکار کیا ہے کہ اور یہ کہا ہے کہ یہ قول زیر بحث آیات قرآنی کے صریحاً خلاف ہے۔ ہر چند کہ بعض حضرات کا عقیدہ ہے کہ آیت میں صراحت نہیں ہے۔ کیونکہ بقول ان کے ان آیات میں پیمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبل الز نبوّت کی حالت کو بیان کیا گیا ہے۔ لہذا اس امر میں کوئی مانع نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مقام نبوّت پر فائز ہونے کے بعد بطور استثناء ایک موقع پر کچھ لکھا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فعل بھی معجزہ شمار ہو گا۔ بہرکیف، ایسے مسئلے میں خبرواحد پربھروسہ کرنا حزم و احتیاط کے خلاف ہے اور علم اصول میں جو بات طے شدہ ہے اُس کے بھی خلاف ہے۔ ہر چند کے اس حدیث کے صحیح مان لینے سے کوئی مشکل پیدا نہیں ہوتی۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر نمونہ کی جلد۴، سورہ اعراف کی آیت ۱۵۷ کے تحت پمبر اُمّی کی تشریح ملاحظ ہو)۔
۲۔ دُوسروں کے دلوں میں نفوذ کا طریقہ:
دلوں کو مسخر کرنے اور دوسروں کے افکار میں کلمتہ الحق کے نفوذ کے لیے صرف قومی اور مستحکم استدلال ہی کافی نہیں ہے۔ بلکہ مدّمقابل سے رُو در رُو ہونے اور اُس سے گفتگو کرنے کے اسلوب کو بھی عمیق ترین اثر پیدا کرنے میں دخل ہے۔ کیونکہ بہت سے لوگ ہیں جو نہایت دقیق اور موشگاف بحث کر سکتے ہیں اور مسائل علمی سے باخبر اور ماہر ہیں۔ لیکن چونکہ وہ بطور احسن اور نتیجہ بخش بحث کرنے کے اسلوب سے واقف نہیں ہیں اس لیے ان کی گفتگو دوسروں کے دلوں میں بہت کم اثر کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسرے کو قائل کرنے کے لیے صرف اس کی عقل و فکر کو مطمئن کرنا یا اسے لاجواب کر دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ کلمئہ حق کے کسی کی شخصیت میں اُترنے کے لیے اس کی تسکین جذبات ضروری ہے کیونکہ انسان نصف شخصیت کی تعمیر جذبات و احساسات سے ہوئی ہے۔ اس بات کو دوسرے الفاظ میں بوں کہا جا سکتا ہے کہ مطالبِ گفتگو کا صرف کیفیت شعور میں اترنا کافی نہیں ہے بلکہ انھیں نفس کے تحت شعور کا حصہ بن جانا چاہیے۔ ابنیاء کرام اور بالخصوص پیمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آئمہ ہدیٰ کے حالات پر غور کرنے سے خوب واضح ہوتا ہے دکہ یہ بزرگوار اپنے تبلیغی اور تربیتّی مقاصد کو حاصل کرنے اور لوگوں کے قلوب میں کلمئہ حق کے نفوذ کے لیے اخلاق اجتماعی اور نفسیاتی اصولی کو پیش نظر رکھتے تھے۔ اُن کا لوگوں سے گفتگو کرنے کا طریقہ ایسا تھا کہ وہ بہت جلد انہیں اپنے مقصد کی طرف متوجہ اور جذب کر لیتے تھے۔ اگرچہ بعض حضرات آئمہ کے ایسے اثرات کو معجزہ قرار دینا چاہتے ہیں لیکن حقیقت یہ نہیں ہے۔ اگر ہم بھی لوگوں سے گفتگو کرنے میں ان ہی کے شیوہ بحث اور سنّت و روش کو اختیار کریں تو بہت جلد انھیں متاثر کر سکتے ہیں اور ان کی روح گہرائی میں نفوذ کر سکتے ہیں۔ پمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متعلق قرآن میں بصراحت مذکور ہے۔ فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لاَنفَضُّواْ مِنْ حَوْلِكَ۔ یہ رحمتِ الہٰی ہے کہ تُو ان کے لیے نرم خو ہے اگر تو سخت اور سنگدل ہوتا تو یہ لوگ تیرے پاس سے منتشر ہو جاتے۔ (آل عمران۔ ۱۵۹)۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ گھنٹوں بحث اور گفتگو کے بعد نہ صرف یہ کہ اپنے مذاکرات میں کامیاب نہیں ہوتے بلکہ اس کے برعکس مدّمقابل اپنے عقیدئہ باطل میں سخت تر اور زیادہ متعصب ہو جاتا ہے۔ محض اس وجہ سے کہ انھوں نے اپنی بحث میں "روش احسن" کو ملحوظ نہیں رکھا۔ بحث میں سختی، اپنی برتری کا اثبات، دوسرے کی تحقیر، اظہار کبر و غرور، دوسروں کے عقاید و خیالات کا عدم احترام اور بحث میں خلوص کا فقدان یہ سب باتیں مباحثہ میں انسان کی شکست کا باعث ہوتی ہیں۔ لیکن اخلاق اسلامی کے مباحث میں "جدال" اور "مراء" کی تحریم کے تحت ایک بحث کا ذکر آتا ہے۔ اُس سے مراد ایسی بحث ہے جس میں حق جوئی اور حق طلبی کی نیت نہ ہو بلکہ اس کی عابت لفظی جنگ، اپنی برتری کا اثبات اور اپنی بات کی پچ ہو۔ "جدال" اور "مراء" کی حرمت ان کے اخلاقی اور معنوی کے علاوہ، اس لیے بھی ہے کہ اس قسم کے بحثوں سے فکری ارتقا نہیں ہوتا۔ "جدال" اور "مراء" کی حرمت تو یکساں ہے۔ مگر علمائے اسلام نے اِن دونوں میں فرق کیا ہے۔ اُنھوں نے "مراء" کو بمعنی اظہار فضل و کمال اور "جدال" کو ایسا وتیرہ کہا ہے جو دوسرے کی تحقیر کے ہو۔ نیز "جدال" بحث میں ابتدائی حملے کو کہتے ہیں اور "مراء" دفاعی حملے کو کہتے ہیں۔ علاوہ ازیں، __ علمی مسائل میں بحث کرنے کو "جدال" کہتے ہیں۔ اور "مراء" عام ہے خواہ بحث علمی ہو یا غیر علمی۔ البتہ "جدال و مراء" کی ان تفاسیر میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ بہرحال، مخالفین سے بحث و مجادلہ کبھی تو "جدال بہ احسن" کے اصول پر کیا جاتا ہے۔ اور وہ ایسی بحث ہوتی ہے، جس میں اُن شرائط کو ملحوظ رکھا جاتا ہے جن کا ہم نے سطور بالا میں ذکر کیا ہے اور کبھی وہ بحث "غیراحسن" ہوتی ہے۔ اور وہ ایسی بحث ہے جس میں شرائط مذکورہ کو فراموش کر دیا جاتا ہے۔ اب ہم اس گفتگو کو چند آموز اور ناطق روایات لکھ کر ختم کرتے ہیں۔ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک حدیث مروی ہے آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: لایستکمل عبد حقیقة الایمان حتّی یدع المراء و ان کان محقا۔ کوئی آدمی بھی بطور کمال حقیقت ایمان کو نہیں پاتا تاوقتیکہ وہ "مراء" کو ترک نہ کرے۔ خواہ وُہ حق پر ہی ہو۔ (تشریحی نوٹ: سفینتہ البحار مادہ "مراء")۔ ایک اور روایت میں مذکور ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام پیغمبر نے اپنے فرزند سے کہا: "یابُنّی ایاک و المراء فانّہ لیست فیہ منفعة و ھو یھیج بین الاخوان العداوة" اے میرے بیٹے! تو "مراء" سے پرہیز کر کیونکہ صرف یہی نہیں کہ اس میں کوئی منفعت نہیں بلکہ دو بھائیوں کے درمیان دشمنی کی آگ بھڑکاتا ہے۔ (بحوالہ: احیاء العلوم)۔ ماضلّ قوم بعد ان ھداھم الآ اوتوا الجدال کوئی قوم ہدایت یافتہ ہونے کے بعد گمراہ نہیں ہوئی۔ مگر یہ کہ وہ آپس میں جنگ جُویانہ اور اثبات برتری کی ایسی بحثیں کرنے لگے جن میں کوئی حقیقت نہ ہو (بحوالہ: احیاء العلوم)۔
۳۔ کفار اور ظالمین:
آیات زیر بحث میں ایک مرتبہ ہمیں یہ جملہ نظر آتا ہے: ہماری آیات کا کوئی انکار نہیں کرتا مگر کفار کہ وُہ از رُوی عناد انکار کرتے ہیں۔ یہی جملہ بار دیگر قدرے تفاوت کے ساتھ نظر آتا ہے۔ جس میں کافروں کے بجائے ظالمون استعمال ہوا ہے: "ہماری آیات کا ظالموں کے سوا کوئی انکار نہیں کرتا" ان دونوں آیات کے تقابل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ تکرار مطلب نہیں ہے بلکہ ان میں دو مختلف مطالب بیان کیے گئے ہیں۔ آیت ۴۷ میں جہاں کافرون استعمال ہوا ہے یہاں اشارہ منکرین کے عقیدے کی طرف ہے اور آیت ۴۹ میں جہاں ظالموں کہا گیا ہے یہاں اہل انکار کا عمل مراد ہے۔ اوّل یہ فرمایا گیا ہے کہ وہ لوگ جنھوں نے اپنی رائے اور تجویز یا اپنے بزرگوں کی کورانہ تقلید کی وجہ سے کفر و شرِک کو اختیار کر لیا ہے، وہ ہر منزل من اللہ آیت کا انکار کرتے ہیں۔ خواہ اُن کی عقل اُسے درست اور حق ہی سمجھتی ہو۔ دُوسرے مقام پر یہ فرمایا گیا ہے کہ وہ لوگ جنہیں نے اپنی ذات پر اور معاشرے پر ظلم کی راہ اختیار کی ہے، اسی طرز عمل میں اپنے ناجائز مفادات دیکھتے ہیں اور اس ظلم کو جاری رکھنے کا مصمم ارادہ کیے ہوئے ہیں۔ تو یہ فطری امر ہے کہ وہ ہماری آیات کو قبول نہیں کرتے کیونکہ ہماری آیات جس طرح ان کے اسلوب فکر سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ اُن کے شیوئہ عمل سے بھی مطابقت نہیں رکھتیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر کیا قرآن بطور معجزہ کافی نہیں ہے؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 5جو لوگ اپنی ہٹ دھرمی اور باطل پر اصرار کی وجہ سے اس بات پرآمادہ نہیں تھے کہ قرآن کے استدلال اور منطقی بیان کو بہ اطاعت قبول کر لیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حقانیت کی اس جہت سے پذیرائی کریں کہ وہ تحصیل علم نہ کرنے کے بعد باوجود ایسی کتاب لائے۔ اُنھوں نے ایک نیا بہانہ تلاش کر لیا۔ چنانچہ قرآن کی زیر بحث میں سے پہلی آیت میں اس کا ذکر ہے کہ: اُنھوں نے بطور تمسخر کہا کہ اس پر (موسٰی اور عیسٰی کی طرح) خدا کی طرف سے معجزات کیوں نازل نہیں ہوئے: (وَقَالُوا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ آيَاتٌ مِّن رَّبِّهِ)۔ اُس کے پاس عصائے موسٰی، ید بیضا اور دم مسیحا جیسے معجزات معجزات کیوں نہیں ہیں؟ وُہ اپنے دشمنوں کو اپنے عظیم معجزات کے ذریعے نابود کیوں نہیں کر دیتا۔ جس طرح کہ موسٰی علیہ السلام، شعیب علیہ السلام، ہود علیہ السلام، اور نوح علیہ السلام و ثمود نے نابود کر دیا تھا۔ یا جس طرح کہ سورئہ بنی اسرائیل میں اس گروہ کا قول پایا جاتا ہے کہ (اُنھوں نے کہا) پیمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ کے خشک بیابان میں پانی کے چشمے کیوں جاری نہیں کر دیتا، اس کے پاس سونے کا محل کیوں نہیں ہے وہ آسمان پر کیوں چڑھ نہیں جاتا اور ان کے لیے خدا کی طرف سے آسمان سے ایک خط کیوں نہیں لاتا؟ (بحوالہ: سورہ بنی اسرائیل آیت، ۹۰ تا ۹۳)۔ تواریخ میں بصراحت یہ واقعات موجود ہیں کہ پیمبرؐ اسلام قرآن کے علاوہ، اور بھی معجزات رکھتے تھے۔ مگر کفار ان باتوں سے درحقیقت، طلب گار معجزہ نہ تھے۔ بلکہ وہ ان بہانہ سازیوں سے ایک طرف تو اعجاز قرآن سے صرف نظر کرنا چاہتے تھے۔ دُوسری طرف وہ منہ مانگے معجزے کے خواہش مند تھے۔ من پسند معجزات کا تو مطلب یہ ہے کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر شخص کی خواہش کے مطابق، وہ جس قسم کے بھی معجزے کا طلب گار ہو۔ کر دیکھائیں مثلاً: ان میں سے ایک آدمی کہے کہ "آپ آب شیریں کا چشمہ جاری کر دیجئے۔ دوسرا کہے کہ مجھے تو یہ معجزہ پسند نہیں، آپ مکہ کے پہاڑوں کو سونے کا بنا دیجئے۔ تیسرا کہے کہ یہ معجزات کافی نہیں ہیں، آپ ہمارے سامنے ہی آسمان پر چڑھ جائیں۔ اس صورت سے یہ لوگ معجزات کو بےقدر بازیچہ اطفال بنا دیں۔ اور پھر انجام یہ ہو کہ معجزات دیکھنے کے بعد بھی کہیں کہ تو جادو گر ہے۔ لہذا قرآن میں سورہٴ انعام کی آیت ۱۱۱ میں بیان کیا گیا ہے: وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَآئِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَى وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلاً مَّا كَانُواْ لِيُؤْمِنُواْ اگر ہم ان کی طرف فرشتوں کو بھیجتے اور مردے ان سے باتیں کرتے اور تمام چیزوں کو ان کے سامنے موجود کر دیتے تو وہ پھر بھی ایمان نہ لاتے۔ بہرحال، قرآن میں ان ہت دھرم بہانہ ساز لوگوں کو دو طرح سے جواب دیا گیا ہے۔ اوّل یہ کہ اے رسول ان سے کہہ دو کہ معجزہ میرا کام نہیں جو تمہاری خواہش کے مطابق صادر ہوتا رہے بلکہ تمام معجزات خدا کے اختیار میں ہیں: (قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِندَ اللَّه)۔ خدا ہی اس مصلحت کو بہتر جانتا ہے کہ کس قوم کے لیے، کس وقت اور کونسا معجزہ مناسب ہے۔ وہی جانتا ہے کہ کون لوگ جو یائے حق اور ذوق تحقیق رکھتے ہیں۔ تو وہ معجزہ بھی ان ہی کو دیکھاتا ہے نیز وہ جانتا ہے کہ کون سے لوگ بہانہ ساز اور اپنی خواہشات نفس کے غلام ہیں۔ اور ان سے کہہ دو کہ میں فقط ڈرانے والا اور خبردار کرنے والا ہوں: (وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌ)۔ میرا فرض تو صرف ڈرانا، تبلیغ کرنا اور تمہیں کلام خدا سنانا ہے۔ رہا معجزات اور خوارق عادات کا دکھانا، سو یہ خدا کے اختیار میں ہے۔ دُوسرا جواب یہ ہے کہ کیا اُن کے لیے یہی کافی نہیں ہے کہ ہم نے تجھ پر یہ کتاب آسمانی نازل کی ہے جو ہمیشہ انھیں پڑھ کر سنائی جاتی ہے: (أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَى عَلَيْهِمْ)۔ یہ لوگ مادی معجزات کا تقاضا کرتے ہیں، درآن حالیکہ قرآن برترین رُوحانی معجزہ ہے۔ یہ لوگ زُود گزر معجزہ کا تقاضا کرتے ہیں جبکہ قرآن جاودانی معجزہ ہے اور رات دن اُس کی آیات اُنھیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک ناخواندہ انسان (اور اگر بالفرض اُس نے پڑھا بھی ہو) ایسی کتاب پیش کرے جس کے مشمولات اور مضامین ایسے عجیب ہیں اور جس کی فصاحت میں ایسا جذبہ ہے جو انسان کی طاقت سے بالا ہے۔ اور وہ جملہ اہل عالم کو مقابلہ کا چیلنچ کر دے۔ اور سب لوگ اس کتاب کا جواب پیش کرنے سے عاجز اور درماندہ رہ جائیں۔ اگر ___ وہ واقعاً معجزے کے طلب گار ہیں تو ہم قرآن نازل کر کے ان کے مطالبے سے بھی بڑا معجزہ ان کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ مگر نہیں __ وہ لوگ حق طلب نہیں ہیں بلکہ بہانہ ساز ہیں۔ یہ امر مدّنظر رہے کہ جملہٴ "اولم یکفھم" (کیا ان کے لیے کافی نہیں ہے) معمولا ایسے موقع پر بولا جاتا ہے کہ جب انسان کوئی کام ایسا کرے جو طرف مقابل کی توقع اور امید سے کہیں بالاہو اور مدّمقابل اس کی قدر و دقعت سے غافل ہو یا تجاہل عارفانہ سے کام لے۔ مثلا مدّمقابل یہ اعتراض کرے کہ تو نے میری فلاں خدمت کیوں نہیں کی؟ اور ہم اس کی خواہش سے بھی عظیم ترخدمت کی نشان دہی کریں (جیسے اُس نے نظر انداز کر رکھا ہو) اور کہیں کہ کیا یہ کافی نہیں کہ ہم نے تیری انتی بڑی خدمت کی ہے؟ ان سب باتوں سے قطع نظر معجزہ کو پیغمبر کی دعوت کی کیفیت اور زمان و مکان کی شرائط سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ اس لیے جس پیمبر کی شریعت جاودانی ہے، اُس کا معجزہ بھی جاودانی ہی ہونا چاہیے۔ جس پیغمبر کی دعوت جہاں گیر ہے اور آئندہ زمانوں پر بھی حاوی ہو اس کا معجزہ بھی روحانی اور عقلی اسلوب کا ہونا چاہیے۔ جو تمام اہل فکر اور اہل خرد کے لیے موجب جذب و کشش ہو۔ یقیناً قرآن ہی اس مقصد کو پورا کرتا ہے نہ کہ عصائے موسٰی اور ید بیضا۔ آیت کے آخر میں مزید توضیح و تاکید کے لیے کہا گیا ہے: اس آسمانی کتاب میں ایمان لانے والوں کے لیے عظیم رحمت اور نصیحت موجود ہے: (إِنَّ فِي ذَلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَى لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ)۔ واقعاً قرآن رحمت بھی اور پند و نصیحت حاصل کا وسیلہ بھی ہے لیکن صرف اہل ایمان کے لیے، صرف ان لوگوں کے جنھوں نے حقیقت کو خوش آمدید کہنے کے لیے اپنے دلوں کے دروازے کھول دئے ہیں، صرف ان لوگوں کے لیے جو طالب نور ہیں اور راہ مستقیم کے جویا ہیں۔ ایسے لوگ اس رحمت کا اپنی پوری شخصیت کے ساتھ ادارک کرتے ہیں اور اُس کے سائے میں راحت پاتے ہیں۔ یہ لوگ آیاتِ قرآنی کو جتنی مرتبہ بھی پڑھتے ہیں ان کے قلوب پر ان کے نئے معانی روشن ہو جاتے ہیں۔ ممکن ہے کہ "رحمت" اور "ذکری" میں یہ فرق ہو کہ قرآن صرف ایک معجزہ اور دفتر نصیحت ہی نہیں ہے بلکہ ان باتوں کے علاوہ، وہ حیاتِ انسانی کے لئے ایسے قوانین اور اصول عمل سے پُر ہے جن کی اتباع انسان کے لئے باعث نزول رحمت ہوتی ہے۔ نیز یہ کہ اس میں انسان کی اخلاقی اور رُوحانی تربیت اور تکمیل انسانیت کے قواعد اور نصائح موجود ہیں۔ اس کے موازنہ میں عصائے موسیٰ ایک معجزہ تو تھا مگر لوگوں کی روز مرہ کی زندگی میں تو اس کا کچھ اثر نہ تھا۔ برخلاف اس کے قرآن اپنے اسلوب کے لحاظ سے معجزہ تو ہے ہی مگر اس میں انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے مکمل پروگرام بھی ہے اور باعث رحمت الہٰی ہے۔ چونکہ ہر مُدّعی کو اپنے اثبات دعویٰ کے لیے شاہد گواہ کی ضرورت ہے، اس لیے آیہٴ مابعد میں فرمایا گیا ہے: اے رسول ان سے کہہ دو کہ یہی کافی ہے کہ: میرے اور تمہارے درمیان خدا گواہ ہے: (قُلْ كَفَى بِاللَّهِ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ شَهِيدًا)۔ یہ امر واضح ہے کہ کوئی گواہ جس قدر بھی حقیقت قضیہ سے زیادہ باخبر ہو گا، اس کی گواہی کی قدر اسی نسبت سے زیادہ ہو گی۔ لہذا جملہ مابعد میں یہ اضافہ کیا گیا ہے: وُہ خدا جو میرا گواہ ہے آسمان اور زمین میں چو کچھ ہے اس سب کو جانتا ہے: (يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ)۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ خدا نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حقانیت پر کس طرح گواہی دی ہے۔ ممکن ہے کہ صداقت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ گواہی عمل ہو۔ جب خدا نے قرآن جیسا عظیم معجزہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عطا کیا تو گویا عملاً ان کی حقانیت کی سند بھی جاری کر دی کیونکہ کیا یہ ممکن ہے کہ خدائے حکیم و عادل جیسا معجزہ (العیاذ باللہ) کسی دروغ گو کو عطا کر دیے؟ اِس بناء پر کسی کو ایسا معجزہ عطا کرنا ہی اس کی بوت کی صداقت پر خدا کی بہترین گواہی ہے۔ مذکورہٴ بالا عملی گواہی کے علاوہ، قرآن مجید کی متعدد آیات میں خدا کی قولی شہادت بھی موجود ہے۔ چنانچہ سورہ احزاب کی آیت ۴۰ میں مذکورہ ہے: مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ محمد (ص) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں وہ تو اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ اور سورہ فتح کی آیت ۲۹ میں ہے: مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ محمد (ص) رسول خدا ہیں اور جو لوگ اس کے ساتھ ہیں وہ کفار کے مقابلہ میں سخت ہیں اور باہم ایک دوسرے پر رحیم اور مہربان ہیں۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ آیت مدینہ کے بعض اشراف یہود کے جواب میں نازل ہوئی ہے جیسے کعب ابن اشرف اور اس کے متبعین تھے. انھوں نے کہا تھا کہ اے محمد صلی للہ علیہ و آلہ و سلم کیا کوئی شخص اس بات کا گواہ ہے کہ تم خدا کے رسول ہو؟ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی اور کہا کہ یہ گواہی خدا دیتا ہے۔ اس کی تفسیر یہ بھی ہو سکتی ہے کہ شہادت خدا سے مراد یہ ہے کہ سابق آسمانی کتابوں میں یہ شہادت موجود ہے جیسے اہل کتاب کے علماء اچھی طرح جانتے ہیں. بہرکیف، ان تینوں تفاسیر میں کوئی تضاد نہیں ہے اور ممکن ہے کہ اس آیت میں یہ تمام مفاہیم جمع ہوں۔ آیت کے آخیر میں بطور تہدید و تنبیہ فرمایا گیا ہے: جو لوگ باطل ایمان لائے اور انہوں نے خدا کا انکار کیا، وہ درحقیقت، خسارے میں ہیں: (وَالَّذِينَ آمَنُوا بِالْبَاطِلِ وَكَفَرُوا بِاللَّهِ أُوْلَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ)۔ اس سے بڑا اور کون سا خسارہ ہو گا کہ انسان اپنی شخصیت کے تمام کو کسی ناچیز اور بےقدر شے کے لیے گنوادے۔ جیسا کہ مشرکین کا عمل تھا کہ انھوں نے اپنا دل و جان بتوں کے حوالے کر دیا تھا اور نھوں نے اپنی تمام جمسانی قوتیں اور جملہ انفرادی اور اجتماعی و سائل کو آئیں بت پرستی کی ترویج و تبلیغ اور نام خدا کو محو کر دینے میں صرف کر دیا تھا۔ مگر انھیں خسران و زیان کے علاوہ، اس کا کچھ بھی پھل نہ ملا۔ غالباً آیات فرآنی میں اِسی عظیم خسران کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ کبھی کلمہ "اخسر" کہہ کر بھی اس حقیقت کی نشان دہی کی گئی ہے۔ یعنی اس سے بڑا اور کوئی نقصان نہیں ہے۔ (ہود۔۲۲، نمل۔۵، کھف۔۱۰۳) یہ بات بھی اہم ہے کہ انسان کو کسی تجارت میں نقصان ہو جاتا ہے اور وہ اپنا سرمایہ گنوا بیٹھتا ہے اور اس کا دیوالیہ نکل جاتا ہے مگر کبھی اس سے بھی زیادہ نقصان ہوتا ہے کہ اس کے تاجر کے شانوں پر قرض کا بار رہ جاتا ہے اور دیوالیہ ہونے کی بدترین شکل ہے۔ مشرکین کا بالکل یہی حال تھا۔ بلکہ دوسروں کی گمراہی اور ایمان کے دیوالیہ پن کا باعث ہوتے تھے۔ (تشریحی نوٹ: اِس موضوع پر تفصیلی بحث جلد۷ میں سورہ کہف کی آیت ۱٠٣ کے تحت درج کی جا چکی ہے)۔ گذشتہ آیات میں جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت الی الحق کے مقابلے میں کفار کی دو بہانہ تراشیوں اور ان کے جوابات کا ذکر ہوا تھا۔ اوّل یہ کہ وہ کہتے تھے کہ پیغمبر کوئی معجزہ کیوں نہیں دیکھاتا؟ قرآن میں اس کا یہ جواب دیا گیا تھا کہ یہ کتاب آسمانی خود برترین معجزہ ہے۔ دُوسرے یہ کہ اس پیغمبر کی حقانیت کا گواہ کون ہے؟ قرآن میں یہ جواب دیا گیا کہ وہ خدا گواہ ہے جو عالم کل ہے۔ زیر بحث آیت میں کفار کی ایک تیسری بہانہ ساز کا ذکر ہے کہ: یہ لوگ عذاب الہٰی کے بارے میں عجلت کرتے ہیں۔ اور اسے تجھ سے بہت جلدی چاہتے ہیں: (وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ)۔ وُہ کہتے ہیں کہ اگر عذاب الہٰی حق ہے اوروُہ کُفّار پر نازل ہوتا ہے تو وہ ہم پر کیوں نازل نہیں ہوتا؟ قرآن میں اس سوال کے تین جواب دئے گئے ہیں: اوّل یہ کہ: اگر وقت موجود متعین نہ ہوتا تو اُن پر فوراً خدا کا عذاب نازل ہو جاتا: (وَلَوْلَا أَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَاءَهُمُ الْعَذَابُ)۔ وقت اِس مقرر کیا گیا ہے کہ منشائے الہٰی یہ ہے کہ اوّل تو یہ خوابِ کفر سے بیدار ہوں اور اگر ایسا نہ ہو تو مہلتِ وقت سے ان پر اتمام حجت ہو جائے۔ کیونکہ خدا اپنے کاموں میں بخلاف حکمت جلد بازی نہیں کرتا۔ دُوسرے یہ کہ: جو لوگ یہ بات کہتے ہیں، اُنھیں اس کا کیا اطمینان ہے کہ ان کے طلب کرتے ہی ان پر عذاب نازل ہو جائے گا؟ کیونکہ یہ عذاب تو اس حالت میں کہ وہ بےخبر ہوں گے اُن پر ناگہاں اور بدون آثار نازل ہو جائے گا: (وَلَيَأْتِيَنَّهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: "بغتة" کا مادہ "بغت" (بروزن "وقت" ہے اس کا معنی ہے کسی حادثہ کا ناگہاں اور بلاانتظار ہونا)۔ اگرچہ عذاب کا وقت موعود، مُعتیّن و مقرر ہے۔ مگر اُس کی تاخیر میں مصلحت یہ ہے کہ کفار اس سے آگاہ نہ ہوں اور وہ ابتدائی آثار کے بغیر انھیں آ پکڑے۔ کیونکہ اگر اس وقت کا اعلان کر دیا جاتا تو گنہگاروں کی جراٴت و جسارت اور بھی بڑھ جاتی۔ وُہ وقت موعود کے آخری لحظے تک اپنے گناہ و کفر کو جاری رکھتے اور جب دیکھتے کہ وقت موعود کے مطابق عذاب کی گھڑیاں نزدیک ہیں تو آخری لمحات میں سب تو بہ کر لیتے اور خدا کی طرف رجوع کرتے۔ قوموں کی تربیت اخلاقی میں اس قسم کی سزاؤں کا تقاضہ یہ ہے کہ ان کا وقت مقررہ نامعلوم رہے۔ تاکہ ان کا خوف اور ڈر اُنھیں گناہوں سے باز رکھنے کا ایک مؤثر عامل ثابت ہو اور ہر گھڑی اپنا اثر دکھاتا رہے۔ ہم نے نزول عذاب کی جس حکمت تاخیر کا ذکر کیا ہے، اُس سے ثابت ہے کہ جملہ " وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ" سے یہ مراد نہیں ہے کہ انھیں اصلاً وجود عذاب ہی کا ادراک نہ ہو گا اگر ایسا ہوتا تو عذاب میں کوئی حکمت ہی باقی نہ رہتی۔ بلکہ اس جملے کا مقصود یہ ہے کہ انھیں وقوع عذاب کے وقت اور اس کے آثار نزول کے مطلق خبردار نہ ہو گا۔ بالفاظ دیگر، اُن پر عذاب بحالبِ غفلت بجلی کا مانند ٹوٹ پڑے گا۔ قرآن کی مختلف آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہانہ جوئی صرف کفار مکہ ہی تک منحصر نہ تھی بلکہ قبل از آن دوسری قومیں بھی تعمیل عذاب پر اصرار کرتی رہی تھیں۔ تیسرا جواب قرآن کی آیت مابعد میں دیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ: اے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ کفار تم سے عذاب الہٰی میں تعمیل کا تقاضا کرتے ہیں جب کہ جہنم نے ان کافروں کا احاطہ کیا ہوا ہے: (يَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ)۔ مُراد یہ ہے کہ اگر عذاب دینا میں خیر ہو جائے تو عذاب آخرت تو ان کے لیے سو فیصد قطعی اور یقینی ہے اور ایسا مسلم ہے کہ قرآن میں اس کا ذکر ایک امر و قوعی کے طور پر کیا گیا ہے۔ باین الفاظ کو جہنم گویا اب بھی ان کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اِس آیت کی ایک دقیق تر تفسیر بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ بہ معنی حقیقی دو جہتوں سے جہنم اب بھی انھیں گھیرے ہوئے ہے۔ اوّل تو دنیا وہی جہنم ہے۔ وہ یہ کہ یہ لوگ شرک اور گناہوں کی جہنم میں مبتلا ہیں جو اُنھوں نے اپنے جلنے کے لیے خود فراہم کی ہے۔ وہ جنگ و خُوں ریزی، نزاع و اختلاف باہمی، بدامنی اور عدم سکون و بیداد گری اور ہوا و ہوس اور سرکشی کی جہنم میں گھرے ہوئے ہیں۔ دُوسرے یہ کہ آیات قرآنی کے ظاہری مفہوم کے مطابق ان کفار کے لیے جہنم اب بھی موجود ہے اور جیسا کہ ہم نے سطور ماقبل میں تشریح کی ہے اسی دنیا کے باطن میں ہے۔ اور اُس نے درحقیقت، کفار کو گھیر رکھا ہے۔ چنانچہ سورہ تکاثر کی آیات، ۵، ۶، ۷، میں اس کا ذکر موجود ہے۔ كَلَّا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِOلَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَOثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِO ایسا نہیں ہے اگر تمہیں علم الیقین ہوتا تو جہنم کا مشاہدہ کرتے اور پھر اس کو عین الیقین سے دیکھتے۔ (تشریحی نوٹ: اس موضوع کی توضیح کے لیے تفسیر نمونہ کی جلد۲ میں آل عمران کی آیت ۱۳۳ کی تفسیر دیکھیے)۔ اُس کے بعد فرمایا گیا ہے: وہ روز بڑا سخت اور دررناک ہو گا۔ جب عذاب الہٰی انھیں سر کے اوپر اور پاؤں کے نیچے سے گھیر لے گا اور اُن سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم کرتے تھے آج اس کا مزہ چکھو: (يَوْمَ يَغْشَاهُمُ الْعَذَابُ مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ وَيَقُولُ ذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے "یوم" کو فعل مقدر کا ظرف سمجھا ہے اور بعض نے "محیطة" سے متعلق جانا ہے)۔ یہ آیت ممکن ہے بروز قیامت کفار کے لیے احاطہٴ عذاب جہنم کے لیے ہو۔ نیز ممکن ہے کہ اس درد ناک عذاب کا بیان ہو جس نے ان کے اعمال کی وجہ سے انھیں آج گھیرا ہوا اور کل کو ظاہر و آشکار ہو گا۔ بہرحال، قرآن کے الفاظ یہ ہیں کہ یہ عذاب ان کے سر کے اوپر اور پاؤں کے نیچے سے آئے گا اور بقیہ اطراف و جوانب کا ذکر نہیں کیا گیا۔ یہ بیان اِس مطلب پر حادی ہے کہ جب آگ کے شعلے پاؤں کے نیچے سے باہر ہوں گے اور سر کے اوپر سے نازل ہوں گے تو وہ اُن کفار کے تمام اطراف و جوانب کو گھیر لیں گے۔ اصولاً فارسی اور عربی دونوں زبانوں میں یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص سر سے پاؤں تک بےعفتی کی دلدل میں ڈوبا ہوا ہے یعنی اس کا تمام وجود اس گناہ میں غرق ہو گیا ہے۔ اِس طرح سے بعض مفسرین کو جو یہ مشکل پیش آئی کہ انھوں نے یہ غور کیا کہ قرآن میں بالا و پائیں کا ذکر تو ہوا ہے باقی چار اطراف کو کیوں چھوڑ دیا ہے، وُہ حل ہو جاتی ہے۔ یہ واضح ہے کہ جملہ "ذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ" کا کہنے والا خدا ہے۔ علاوہ برایں، یہ اس قسم کے لوگوں کے لیے ایک نفسیاتی سزا ہے۔ اِس سے یہ حقیقت بھی آشکار ہوتی ہے کہ آخرت کی زندگی میں عذاب الہٰی انسان کی دنیاوی بد اعمالیوں کے ردِّعمل، انعکاس اور تجسم کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔
چند اہم نکات: ۱۔ دلائل اعجاز قرآن:
اِس میں شک نہیں کہ قرآن پیغمبر اسلام کا عظیم ترین معجزہ ہے اور یہ معجزہ جاودانی، اپنی دلیل آپ، منہ بولتا، محسوس اور ہر زمانہ کے لیے مناسب اور انسانوں کے ہر طبقہ کے لیے ہے۔ ہم نے اعجازِ قرآن کے متعلق مشرح اور توضیحی بحث جلد اوّل میں سورہ بقرہ کی آیت ۲۴ کے تحت تحریر کی ہے۔ اس مقام پر اس کی تکرار کی حاجب نہیں ہے۔
۲۔ انکارِ معجزات کا ثبوت:
بعض مغرب زدہ دانشور چاہتے ہیں کہ پیمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے معجزات کا انکار کر دیں۔ اُن کا اصرار ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے قرآن کے علاوہ، کوئی اور معجزہ صادر نہیں ہوا اِن حضرات کے مزاج سے یہ بھی امکان ہے کہ وہ قرآن کو بھی معجزہ نہ سمجھیں حالانکہ ان کا انکار معجزات آیات قرآنی، روایات متواتر اور اسلام کی مسلمہ تاریخ کے خلاف ہے۔ ہم نے اس موضوع کو جلد ۶ میں سورہ بنی اسرائیل کی آیات ۹۰ تا ۹۳ کے تحت بیان کیا ہے۔
۳۔ من پسند کے معجزات:
پیمبروں کے مخالفین کی ہمیشہ ایک روش یہ بھی رہی ہے کہ وہ معجزات کو ایک ایسا عمل بتاتے رہے ہیں جو پیغمبروں سے فی البدیہہ ارتجالاً سرزد ہوتا ہے۔ وہ اپنے اس عمل سے ایک طرف تو معجزے کی اہمیت کم کر کے اسے بےقدر اور مبتذل ثابت کرنا چاہتے تھے۔ دُوسری طرف وہ اس بہانے سے انبیاء کی دعوت کو ردّ کرنا چاہتے تھے۔ لیکن ابنیاء کبھی بھی ان کی اس سازش کا شکار نہیں ہوئے۔ جیسا کہ آیات بالا میں مذکورہ ہے۔ وُہ ان کے جواب میں کہتے تھے کہ: "معجزات ہمارے اختیار میں نہیں ہیں کہ جنہیں تمہاری مرضی اور خواہش کے مطابق ہر روز گھڑی دکھایا جائے بلکہ معجزہ تو صرف حکم خدا سے صادر ہوتا ہے اور ہمارے اختیار سے باہر ہے۔" معجزاتِ اقتراحی کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد ٥ میں سورہ یونس کی آیت ۲۰ کے تحت تفصیل بیان ہو چکی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 5بہت سے مفسرین کا نظریہ ہے کہ زیر نظر پہلی آیت اُن مومنین کے بارے میں نازل ہوئی جو مکہ میں کفار کا ظلم برداشت کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ وہ فرائضِ اسلامی کو بھی ادا نہ کر سکتے تھے۔ اِس لیے انھیں حکم دیا گیا کہ اس سرزمین سے ہجرت کر جائیں۔ نیز بعض مفسرین کا خیال ہے کہ آخری زیر نظر آیت یعنی "وَكَأَيِّن مِن دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا" اُن مومنین کی شان میں ہے جو مکہ میں دشمنوں کے ستم سہہ رہے تھے اور کہتے تھے کہ اگر ہم مدینہ کو ہجرت کر جائیں تو وہاں نہ ہمارا کوئی گھر ہو گا نہ زمین۔ وہاں ہمیں کون آب و غذا دے گا؟ تب یہ آیت نازل ہوئی جس میں ہے کہ زمین پر تمام حرکت کرنے والے خدا کے خوان نعمت سے روزی کھاتے ہیں۔ تم بھی اپنی روزی کی فکر نہ کرو۔
تفسیر ہجرت کرنی چاہیے:
گزشتہ آیات میں یہ ذکر تھا کہ مشرکین نے اسلام اور مسلمانوں کے مقابلہ میں کیا کیا مختلف مواقف اختیار کیے مگر زیر بحث آیات میں خود مسلمانوں کی حالت بیان کی گئی ہے یعنی ان مشکلات کی حالت میں جو مسلمانوں کو کفار کے نرغے میں ان کی طرف سے اذیّت و آزار کی صورت میں پیش آ رہی ہیں، مسلمانوں کا کیا فرض ہے۔ خداوند عالم فرماتا ہے: اے میرے بندو کہ جو ایمان لائے ہو اور دُشمنانِ اسلام کے نرغے میں فرائض دینی ادا نہیں کر سکتے، تو میری زمین وسیع ہے۔ تم دوسرے مقام کو ہجرت کر جاؤ اور وہاں میری عبادت کرو: (يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ أَرْضِي وَاسِعَةٌ فَإِيَّايَ فَاعْبُدُونِ)۔ یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ یہ حکم اس زمانے کے صرف مومنین مکہ ہی کے لیے مخصوص نہ تھا اور آیت کی شان نزول اس کے وسیع اور دراز دامنِ معنی کو جو قرآن کی دوسری آیات سے ہم آہنگ ہے مُحدود نہیں کرتی۔ اِس جہت سے یہ آیت ایک اصولی کلی کی حامل ہے کہ جس زمانے میں اور جس معاشرہ و مقام میں مسلمانوں کی آزادی کاملاً سلب ہو جائے، وہاں رہنے سے ذلت و خواری کے سوا کچھ حاصل نہ ہو اور وہاں رہ کر الہٰی پروگرام پر عمل نہ ہو سکے تو مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہاں سے ایسے مقامات کی طرف ہجرت کر جائیں جہاں وہ مطلق آزادی یا نسبتاً آزادی کے ساتھ اپنے فرائض دینی ادا کر سکیں۔ بہ الفاظ دیگر ___ آفرینش انسان کا مقصود خدا کی عبادت ہے۔ وہ عبادت جس میں زندگی کے ہر میدان میں انسان کی آزادی، سرفرازی اور کامیابی کا راز مخفی ہے۔ "فَإِيَّايَ فَاعْبُدُونِ" میں اِسی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ نیز سورہ ذاریات کی آیت ۵۶ میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ جب یہ بنیادی اور آخری مقصد انسان کے پیش نظر ہو تو ہجرت کے سوا اور کوئی راہ نہیں رہتی۔ خدا کی زمین وسیع ہے۔ اِس لیے کسی اور جگہ قدم رکھنا چاہیے۔ ایسے مواقع پر قبیلہ و قوم، وطن اور گھربار کے تعصبات میں مقید رہ کر کسی قسم کی ذالت کو برداشت نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ ان چیزوں کا احترام اسی وقت تک جائز ہے جب تک مقصود حقیقی کو کوئی خطرہ نہ ہو۔ امیر المومنین حضرت علی علیہ اسلام نے ایسے ہی مواقع کے لیے فرمایا ہے: لیس بلد باحق بک من بلد خیر البلاد ما حملک تیرے لیے کوئی شہر بھی دوسرے شہر سے بہتر نہیں ہے۔ بس بہترین شہر وہی ہے جو تجھے قبول کر لے اور تیری ترقی کے اسباب فراہم کر دے۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، کلمات قصار، کلمہ نمبر۴۴۲)۔ یہ مُسلّم ہے کہ حُبِّ وطن اور اپنی جائے ولادت سے ذہنی تعلق انسان کی شرشت میں داخل ہے۔ مگر زندگی میں کبھی ایسے مسائل بھی پیش آ جاتے ہیں کہ یہ چیزیں حقیر اور بےمقدار ہو جاتی ہیں۔ ہجرت کے متعلق اسلام کا نقطہٴ نظر کیا ہے۔ اِس سلسلے میں جو روایات ہم تک پہنچی ہیں ہم نے اُنھیں سورہٴ نساء کی آیت ۱۰۰ کے تحت جلد چہارم میں بیان کیا ہے۔ خُدا نے اپنے بندوں کو یا "عبادی" کہا ہے۔ یہ اُس کی طرف سے نہایت ہی محبت آمیز خطاب ہے۔ درحقیقت، یہ انسان کے لیے تاج افتخار ہے جو مقام رسالت سے بھی برتر ہے۔ جیسا کہ تشہد میں ہمیشہ "عبد" کو شہادت رسالت سے پہلے ادا کرتے ہوئے ہم کہتے ہیں: "اشھد انّ محمّدًا عبدہ و رسولہ" یہ اَمر جالب توجہ ہے کہ جب خدا نے آدم کو پیدا کیا تو اسے "خلیفة اللہ" کے لقب سے عزت بخشی۔ مگر شیطان پھر بھی اُسے بہکانے سے مایوس نہ ہوا۔ وہ آدم کے پاس آیا اور پھر جو ہونا تھا وہ ہوا۔ مگر خدا نے آدم کو مقام عبودیت پر سرفراز کیا تو شیطان نے اس کے مقابلہ میں ہارمان لی اور کہا: قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَOإِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَO مجھے قسم ہے تیری عزت کی کہ میں تمام فرزندان آدم کو بہکاؤں گا۔ مگر اُن میں سے تیرے مُخلص بندوں کو نہیں بہکا سکتا۔ (ص۔۸۲۔ ۸۳) إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ تو ہرگز میرے بندوں پر تسلط حاصل نہ کر سکے گا۔ (حجر۔۴۲)۔ اِس بناء پر عبودیت خالص کا مقام زمین پر خلافت الہٰی کے مقام سے بھی برتر و بالاتر ہے۔ ہم نے جو کچھ کہا اس سے یہ خوب واضح ہوتا ہے کہ آیت زیر بحث میں کلمہ "عباد" سے تمام انسان مراد نہیں ہیں بلکہ صرف وہ انسان مراد ہیں جو مومن ہیں اور آیت میں جملہ "الَّذِينَ آمَنُوا" تاکید اور توضیح کے لیے استعمال ہوا ہے۔ (تشریحی نوٹ: "فَإِيَّايَ فَاعْبُدُونِ" کا جملہ درحقیقت، جزائے جملہ شرطیہ پر عطف ہے جو محذوف ہے اور جملہ مقدّر یہ ہے: انّ ضاقت بکم الارض فاھجر وامنھاالی الاخرٰی و ایای اعبدون)۔ چونکہ __ وہ لوگ جو مشرکین کے شہروں میں رہتے تھے۔ اور ہجرت کے لیے آمادہ نہ تھے، ان کے دیگر عذروں میں سے ایک یہ تھا کہ ہم اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اپنے شہروں سے نکل جائیں اور دشمنوں کی طرف سے موت یا بھوک اور دیگر خطرات سے دوچار ہو جائیں۔ علاوہ ازیں، ہم اپنے خویش و اقارب، اولاد اور شہر و دیار سے جدائی کے غم میں مبتلا ہو جائیں۔ قرآن میں اٗن کے خطرات کا ایک جامع جواب دیا گیا ہے: آخرکار سب انسانوں کا انجام موت ہے اور ہر شخص موت کا مزہ چکھنے گا۔ پھر تم ہماری طرف لوٹ آؤ گے: (كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ)۔ یہ جہان کسی کے لیے بھی "دار البقا" نہیں ہے۔ یہاں سے بعض لوگ جلد اور بعض دیر میں چلے جائیں گے۔ بہرحال، ہر شخص کو دوستوں، اعزّا و اقارب اور اولاد کی جدائی کا صدمہ سہنا ہے۔ تو پھر انسان ان زُود گُزر مسائل کے لیے شرک اور کفر کی آبادییوں میں رہ کر کیوں ذلّت و قید کو برداشت کرے؟ کیا صرف اس لیے کہ چند روز اور زندہ رہ جائے؟ ان سب باتوں کے علاوہ، ڈرنا اِس بات سے چاہیے کہ قبل اس کے کہ تم ایمان و اسلام کی زمین میں پہنچو تمہیں شرک و کفر کی جگہ موت آ جائے۔ سوچو کہ ایسی موت کتنی خوفناک اور دردناک ہے۔ پھر یہ بھی گمان نہ کرو کہ موت ہی ہر چیز کی انتہا ہے۔ موت تو درحقیقت، انسان کی اصلی زندگی کا آغاز ہے۔ کیونکہ تم سب ہماری طرف لوٹ آؤ گے۔ یعنی خدائے بزرگ اور اس کی بےپایاں نعمتوں کی طرف۔ اس کے بعد کی آیت میں، چند نعمتوں کا اس طرح ذکر ہے: جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے صالح انجام دیے، ہم اُنھیں بہشت کے بالا خانوں میں جگہیں دیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی: (وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُبَوِّئَنَّهُم مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ)۔ (تشریحی نوٹ: "لَنُبَوِّئَنَّهُم" کا مادہ نبوئہ (بروزن تذکرہ) ہے اس کا معنی ہے، بغرض بقائے دوام کسی کو سکونت دینا)۔ وہ لوگ ایسے محلات میں سکونت اختیار کریں گے جنہیں ہر طرف سے جنت کے درخت گھیرے ہوں گے اور طرح طرح کی نہریں، جن کے پانی کا ذائقہ اور اس کا منظر مختلف ہو گا۔ جیسا کہ قرآن کی دوسری آیات سے ثابت ہے، درختوں کے جھرمٹ میں سے نکل کر ان محلات کے نیچے رواں ہوں گی۔ یہ ملحوظ رہے کہ "عرف" جمع ہے "غرفہ" کی اس کے معنی ہیں: بلند عمارت اور بالا خانہ کہ جو اپنے اطراف سے ممتاز ہو۔ بہشتی بالاخانوں کا امتیاز یہ ہے کہ وہ دنیاوی مکانات اور محلات کے مانند نہ ہوں گے کہ جن میں انسان تھوڑی دیر بھی آرام نہیں کر پاتا کہ کوچ کا نقارہ گونجنے لگتا ہے بلکہ اہل ایمان اور صالحین ان میں ہمیشہ رہیں گے: (خَالِدِينَ فِيهَا)۔ آیت کے اخیر میں یہ اضافہ کیا گیا ہے: کیا اچھا اجر ہے ان لوگوں کا جو صرف خوشنودیٴ خدا کے لیے عمل کرتے ہیں: (نِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ)۔ اِس آیت میں مومنین اور صالحین کے اجر کے کا جو ذکر ہے اس سے گزشتہ آیات میں کفار اور گناہ گاروں کے متعلق جو کچھ کہا گیا ہے اگر سادہ سا موازنہ بھی کیا جائے تو مومنین اور صالحین کے اجر کی عظمت روشن ہو جاتی ہے۔ گزشتہ آیات کے مضمون میں کفار کے آگ اور ایسے عذاب میں مبتلا ہونے کا ذکر تھا کہ جس نے انھیں سر سے پاؤں تک گھیر ہوا ہے۔ اور اُن سے بطور سرزنش یہ کہا جاتا ہے کہ تم جو کچھ کرتے تھے اب اس کا مزہ چکھو۔ لیکن یہ آیت کہتی ہے کہ مومنین نعمات بہشتی میں غوطہ در ہیں اور رحمت پروردگار ہر طرف سے ان کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ ملامت بار جملوں کے بجائے ایسے کلمات سنتے ہیں جن سے سراسر خداوند کریم کے لطف و محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ اُن سے کہا جاتا ہے: "عمل کرنے والوں کا اجر کتنا اچھا ہے"! ظاہر ہے کہ "عاملین" جملہ ہائے ماقبل کے قرینے کے مطابق وہ لوگ ہیں جن سے یہ کیفیت ایمان عمل صالح سرزد ہوتا ہے۔ ہر چند کہ کلمہ "عاملین" اپنے لغوی معنی میں محدود نہیں ہے بلکہ مطلق ہے۔ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک حدیث مروی ہے: انّ فی الجنّة لغرفاً یری ظھورھا من بطونھا، و بطونھا من ظھور ھا۔ بہشت میں ایسے شفاف محلّات ہیں کہ ان کے اندر کے حصہ باہر سے اور باہر کا منظر اندر سے نظر آتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فرمایا تو ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ محلّات کس کی ملکیت ہوں گے؟ آنحضرت (ص) نے جواب دیا: ھی لمن اطاب الکلام و اطعم الطعام و ادام الصیام و صلی اللہ بالّلیل و النّاس نیام یہ محلّات اُس شخص کے لیے ہیں جو اپنی گفتگو کو پاکیزہ کرے، بھوکوں کو کھانا کھلائے، بکثرت روزے رکھے اور وقت شب جب سب لوگ محو خواب ہوں تو وہ اللہ کے لیے نماز پڑھے۔ (بحوالہ: تفسیر قرطبی، ذیل آیت زیر بحث، جلد۷، صفحہ۷۵،۵۰)۔ اِس کے بعد کی آیت مومنین عامل کے اہم اوصاف کو بیان کرتی ہے۔ یعنی: یہ وہ لوگ ہیں جو مشکلات کے مقابلے میں صبر و استقامت کا اظہار کرتے ہیں اور اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہیں: (الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ)۔ یہ لوگ اپنے بیوی بچوں، دوستوں، عزیزوں اور گھر بار سے جدا ہوتے ہیں اور صبر کرتے ہیں۔ یہ مومنین غربت کی تلخیاں، وطن سے نکل کر بےوطنی سختیاں سہتے ہیں اور صبر کرتے ہیں، اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے دشمنوں کے آزار کو جان و دل سے برداشت کرتے ہیں اور اپنے نفس سے جہاد کی راہ میں، جو جہاد اکبر اور اپنے سے قوی دُشمنوں سے لڑائی میں جو کہ جہاد اصغر ہے، طرح طرح کی مشکلات برداشت کرتے ہیں اور صبر کرتے ہیں۔ بےشک اِس صبر و استقامت ہی میں اُن کی کامیابی کا راز ہے اور یہی اُن کے شرف کا باعث ہے، کیونکہ صبر و استقامت کے بغیر زندگی میں کوئی تخلیقی اور مثبت عمل نہیں ہو سکتا۔ علاوہ، بریں وہ مومنین نہ اپنے مال و دولت پر بھروسہ کرتے ہیں، نہ اپنے دوستوں اور عزیزوں پر۔ اُن کا توکل صرف خدا پر ہے اور صرف اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اگر ایک ہزار دشمن بھی انھیں ہلاک کرنے کا ارادہ کریں تو وہ یہ کہتے ہیں: اے خدا! اگر تو میرا دوست ہے تومجھے دشمنوں سے کچھ خوف نہیں۔ اگر ہم سچ مچ غور کریں تو صبر توکل ہی جملہ فضائل انسانی کی جڑ ہے۔ "صبر" انسان کو موانع اور مشکلات کے مقابلے میں استقامت بخشتا ہے اور "توکل" اس راہ پر نشیب و فراز میں انسان کو آمادہ بہ عمل رکھتا ہے۔ درحقیقت، اعمال صالح انجام دینے کے لیے ان دو فضائل اخلاقی یعنی صبر و توکل سے مدد لینی چاہیے۔ کیونکہ صبر و توکل کے بغیر وسیع پیمانے پر اعمال صالح کا انجام دینا ممکن ہی نہیں ہے۔ (تشریحی نوٹ: توکل کی حقیقت اور اس کے فلسفہ کے بارے میں مفصل بحث جلد ۶ میں سورہٴ ابراہیم کی آیت ۱۲ کے ذیل میں مذکور ہے اور صبر کے بارے میں جلد۶ صفحہ ۶۷۷، اور جلد ۶ میں صفحہ ۲۶۴ (اردو ترجمہ) دیکھئے)۔ زیربحث آیات میں سے آخری آیت میں ان لوگوں کے شکوک و شبہات کا جواب ہے جو اپنی زبان قال یا زبان حال سے یہ کہتے ہیں کہ: اگر ہم اپنے شہر سے ہجرت کریں گے تو ہمیں روزی کون دے گا۔ قرآن میں ان کے اس خوف کا یہ جواب دیا گیا ہے: تم روزی کی فکر نہ کرو اور ذلت و اسارت کے عیب و عار کو برداشت نہ کرو__ روزی رساں خدا ہے نہ کہ تم بلکہ زمین پر چلنے والے بہت سے جاندار ایسے بھی ہیں جو اپنا رزق اٹھا نہیں سکتے اور نہ اپنے گھونسلوں اور بلوں میں عذا کا ذخیرہ کرتے ہیں اور ہر روز انہیں روز کی طلب ہوتی ہے مگر خدا انہیں بھوکا نہیں چھوڑتا اور انہیں رزق دیتا ہے۔ وہی خدا تمہیں بھی رزق دے گا: (وَكَأَيِّن مِن دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ)۔ انسان سے قطع نظر زمین پر حرکت کرنے والوں اور حیوانات و حشرات میں، بہت ہی کم ایسی انواع ہیں جو چیونٹیوں اور شہد کی مکھیوں کی طرح اپنی عذا صحر و بیابان سے لا کر اپنے بل یا چھتے میں ذخیرہ کرتی ہوں۔ اکثر مخلوقات "قانع الیوم" ہیں۔ یعنی وہ ہر روز اپنے لیے تازہ رزق حاصل کرتی ہیں۔ اور جو کمایا سو کھایا کے طرز عمل پر زندگی گزارتی ہیں۔ اس قسم کی کروڑوں مخلوقات ہمارے اطراف و جوانب میں دُور و نزدیک، بیابانوں، سمندروں کی گہرائیوں، پہاڑوں کی بلندیوں اور دردں میں موجود ہیں۔ یہ سب اپنے پروردگار کے خوان بےدریغ سے اپنا رزق کھاتے ہیں۔ لہذا ___ تو اے انسان جو کہ ایسی مخلوق کے مقابلہ میں اپنی روزی حاصل کرنے اور اسے ذخیرہ کرنے کے لیے زیادہ باہوش اور توانا ہے، اپنی قطع روزی کے خوف سے ایسی مکروہ اور شرمناک زندگی سے کیوں چمٹا ہوا ہے؟ اور دنیا میں ہر قسم کے ظلم و ستم اور ذلت و خواری کو کیوں برداشت کرتا ہے؟ تو ابھی اس تنگ و تاریک زندگی کے دائرہ سے باہر نکل اور اپنے پروردگار کے وسیع و دستر خوان پر بیٹھ اور روزی کی فکر نہ کر۔ اُس حالت میں جب کہ تو اپنی ماں کے شکم میں ایک ناتوان جنین کی شکل میں تھا اور کوئی شخص بھی یہاں تک کہ تیرے باپ اور تیری مادر مہربان کا دست شفقت بھی تجھ تک نہ پہنچ سکتا تھا، تیرے خدا نے تجھے فراموش نہیں کیا اور جس چیز کی تجھے ضرورت تھی وہ بہم پہنچائی۔ اس وقت تو تو ایک توانا اور طاقتور وجود ہے۔ نیز چونکہ حاجت مندوں کو روزی پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ روزی رساں ان کی ضرورت سے آگاہ ہو، اِسی لیے آیت کے آخر میں: (وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ) فرمایا گیا ہے۔ یعنی وہی سننے والا اور جاننے والا ہے۔ وہ تم سب کی باتیں سنتا ہے یہاں تک کہ تمہاری اور تمام حرکت کرنے والے جانداروں کی زبان حال کو بھی سنتا اور جانتا ہے، تم سب کی ضرورت سے خوب آگاہ ہے اور کوئی چیز اس کے بےپایاں علم سے پنہاں نہیں ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 66 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 66 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 66 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 66 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 66 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر دل میں خدا زبان پر بت:
Tafsīr Nemūna · Vol. 5آیات گزشتہ میں روئے سخن اب مُشرکین کی طرف تھا جنھوں نے حقانیت اسلام سمجھ تو لیا تھا لیکن اس خوف سے کہ ان کی بسر اوقات کے ذرائع منقطع ہو جائیں گے وہ ایمان کو قبول کرنے اور ہجرت کرنے کے لیے آمادہ نہ تھے۔ آیات زیر بحث میں روئے سخن بجانب پمبر السلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور درحقیقت، تمام مومنین کی طرف ہے۔ اِن آیات میں دلائل توحید کو "خلقت" ربوبیت اور "فطرت" کی بنیاد پر تین مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے۔ ان دلائل کے ذریعے یہ بات ان کے دل نشین کی گئی ہے کہ ان کی تقدیر اس خدا کے ہاتھ ہے جس کی قدر کے آثار تم انفس و آفاق میں دیکھتے ہو، نہ کہ بتوں کے اختیار میں کیونکہ اس معاملے میں ان کا کچھ دخل نہیں ہے۔ سب سے پہلے خلقت زمین و آسمان کا ذکر کیا گیا ہے اور مشرکین کے باطنی اعتقادات کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اگر تم ان سے یہ سوال کرو کہ آسمان اور زمین کو کس نے خلق کیا ہے؟ اور کس نے بندوں کے مفاد میں سورج اور چاند کو اپنے زیر فرمان مسخر کر رکھا ہے، تو سب کے سب بیک زبان جواب دیں گے، "اللہ: نے: (وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ)۔ کیونکہ یہ مسلّم ہے کہ بت پرست یاان کے علاوہ، کوئی آدمی بھی یہ نہیں کہتا کہ خالق زمین و آسمان اور تسخیر کنندہٴ خور شیدو ماہ یہ حقیر سے پتھر اور لکڑی کے بت ہیں جنہیں انسانوں نے اپنے سے تراشا ہے۔ بہ الفاظ دیگر بت پرست بھی خدا کی توحید میں کوئی شک نہ کرتے تھے۔ البتہ وہ لوگ عبادت میں مشرک تھے. وہ کہتے تھے: "ہم بتوں کو اس پوچتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے اور خدا کے درمیان واسطہ ہیں۔ جیسا کہ سورہٴ یونس کی آیت ۱۸ میں مذکور ہے: وَيَقُولُونَ هَـؤُلاَءِ شُفَعَاؤُنَا عِندَ اللّهِ (اُن کا قول تھا) ہم اس لائق نہیں ہیں کہ براہ راست خدا سے ارتباط حاصل کریں۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ بتوں کے ذریعہ سے رابط برقرار رکھیں: مانعبدوھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی ہم ان کی پرستش نہیں کرتے مگر اس وجہ سے تاکہ ہمیں ان کے وسیلہ سے خدا کی قربت حاصل ہو جائے۔ (زمر۔۳) وہ لوگ اس حقیقت سے غافل تھے کہ خالق اور خلق کے درمیان کوئی فاصلہ موجود نہیں ہے اور وہ ہم سے رگ جاں سے بھی زیادہ نزدیک ہے۔ علاوہ ازیں، چونکہ انسان موجوداتِ عالم کل سر سبد اور شاہکار ہے، وہی اس قابل ہے کہ خدا سے بلاواسطہ رابط پیدا کر سکے۔ کوئی اور مخلوق اس کے لیے واسط نہیں بن سکتی۔ بہرحال، اس روشن دلیل کے بعد، آیت کے اخیر میں فرمایا گیا ہے: جب حقیقت یہ ہے تو یہ کفّار خدا کی عبادت سے منہ موڑ کے پتھر اور لکڑی سے تراشے ہوئے ناچیز بتوں کی پرستش کیوں کرتے ہیں: (فَأَنَّى يُؤْفَكُونَ)۔ "یئوفکون" مادہ افک (بروزن "فکر") سے بنا ہے۔ اس کے معنی ہیں کسی چیز کی واقعی اور حقیقی شکل کو بدل دینا۔ اسی مناسبت سے اس کا اطلاق دروغ اور بادمخالف پر بھی ہوتا ہے۔ اس مقام پر "يُؤْفَكُونَ" صیغہٴ مجہول استعمال ہوا ہے۔ اس سے مراد ہے کہ مشرکین بحالت شعور استدلال عقلی کے ساتھ ایسا نہیں کرتے بلکہ بلا ارادہ بت پرستی کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں۔ تسخیر شمس و ماہ سے مراد نظامت ہیں جو خدا نے ان کے لیے مقرر کر دئے ہیں اور یہ نظامات بہ اعتبار نتائج اسانوں کے لیے منفعت بخش ہیں۔ اِس کے بعد اس مفہوم کی تاکید کے لیے خالق و رازق وہی ہے، یہ اضافہ کیا گیا ہے: خدا اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی کو فراخ کر دیتا ہے۔ اور جس کے لیے چاہتا ہے محدود اور تنگ کر دیتا ہے: (اللَّهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ لَهُ)۔ روزی کی کلید اسی کے ہاتھ میں ہے نہ کہ انسانوں اور بتوں کے ہاتھ میں۔ آیات ماقبل میں یہ جو کہا گیا ہے کہ "راست باز مومنین صرف اسی پر توکل کرتے ہیں" اسی وجہ سے ہے کہ جب کہ ہر چیز کا کلی اختیار اسی کو حاصل ہے، تو وہ پھر اظہار ایمان سے کیوں ڈریں اور یہ کیوں کہ ہماری زندگیاں دشمنوں کی طرف سے خطرہ میں ہیں۔ اگر مومنین یہ تصور کریں کہ خدا قدرت تو رکھتا ہے مگر ان کے حال سے آگاہ نہیں ہے تو یہ بہت بڑی غلطی ہے۔ کیونکہ خدا عالم کل ہے: (إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ)۔ یہ بات ہرگز قابل تصور نہیں کہ خدا خالق و مدبر عالم ہو اور اس کا فیض بہ تسلسل لمحات موجودات کو پہنچ رہا ہو اور وہ ان کی حالت سے آگاہ نہ ہو۔ دُوسرے مرحلے میں خدا کی ربوبیت اور اس کی طرف رزق کے چشمے جاری ہونے کا ذکر ہے۔ چنانچہ خدا فرماتا ہے: اگر اُن مشرکین سے تم یہ سوال کرو کہ آسمان سے پانی کون برساتا ہے۔ اور زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد اس کے وسیلہ سے کون زندہ کرتا ہے؟ تو وہ سب بیک زبان کہیں گے، "اللہ": (وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّن نَّزَّلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ مِن بَعْدِ مَوْتِهَا لَيَقُولُنَّ اللَّهُ)۔ بُت پرستوں کا یہ باطنی اعتقاد ہے۔ یہاں تک کہ اُنھیں اس کی زبان سے اقرار کرنے سے بھی انکار نہ تھا۔ کیونکہ وہ بھی خدا ہی کو خالق اور رب سمجھتے تھے اور اسی کو مدبر عالم سمجھتے تھے۔ اُس کے بعد فرمایا گیا ہے: کہو کہ حمد و ستائش صرف اللہ ہی کے لیے ہے: (قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ)۔ حمد و سپاس اس ذات کے لیے ہے جو تمام نعمتوں کا بخشنے والا ہے۔ کیونکہ پانی (جو کہ اصل شرچشمہٴ حیات ہے اور سب جانداروں کے لیے باعث حیات ہے) اُس کی طرف سے نازل ہوتا ہے۔ تو ظاہر ہے کہ ہر قسم کا رزق بھی اسی کی طرف سے آتا ہے۔ اِس بناء پر حمد و ستائش بھی اسی کے لیے مخصوص ہونی چاہیے۔ اور دُوسرے معبودوں کا اس میں کچھ حصہ نہیں ہے۔ تم خدا کا شکر کرو کہ مشرکین کو بھی ان حقائق کا اعتراف ہے۔ نیز اس بات کا بھی شکریہ ادا کرو کہ ہمارا استدلال اس قدر مستحکم اور ناطق ہے کہ کسی شخص میں بھی اس کے ابطال کی قدرت نہیں ہے۔ اور چونکہ مشرکین کی گفتگو اور ان کے عمل میں تناقص تھا اس لیے آیت کے اخیر میں ان کلمات کا اضافہ کیا گیا ہے: (بل اکثرھم لایعقلون)۔ اِن میں سے اکثر عقل سے کام نہیں لیتے۔ وگرنہ کیونکہ ممکن ہے کہ ایک عاقل و فہمیدہ انسان اس قدر پراگندہ گوئی کرے کہ ایک طرف تو وہ اس ذات کو خدا کہے جو خالق و رازق و مدبّر عالم ہے اور دوسری طرف بتوں کوسجدہ کرے۔ جنہیں اُس کے احوال حیات میں کوئی دخل ہی نہیں ہے۔ ایک طرف تووہ "خالق" و "رب" کی توحید کو قائل ہو اور دوسری طرف عبادت میں شرک کرے۔ یہ الفاظ لائق توجہ ہیں کہ یہ نہیں کہا کہ وہ عقل نہیں رکھتے۔ بلکہ یہ کہا ہے کہ وہ عقل سے کام نہیں لیتے۔ یعنی عقل ہے تو سہی مگر اس سے کام نہیں لیتے۔ اور اس غرض سے کہ ان (مشرکین) کے خیالات و افکار کو اِس محدود زندگی کے افق سے بلند کرے اور ان کی عقول کے سامنے ایک واسیع ترین عالم کا منظر پیش کرے، خدا اس کے بعد کی آیت میں اس دنیا کی زندگی کی کیفیت کو سرائے آخرت کی حیات جاودان کے مقابلے میں ایک بلیغ اور پُر معنی عبارت میں اس طرح بیان کرتا ہے: اس دنیا کی زندگی لہو و لعب کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس زندگی میں کھیل کود اور لایعنی مشاغل کے سوا اور کوئی مقصد نہیں: (وَمَا هَذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ)۔ حقیقی زندگی دار آخرت ہی کی ہے۔ کاش کہ وہ لوگ اس بات کو جانتے؛ (وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ)۔ یہ الفاظ کتنے جاذب اور مؤثر ہیں۔ کیونکہ "لھو" کے معنی ایسا ہر مشغلہ اور ایسا ہر کام ہے جو انسان کو زندگی کے بنیادی مسائل سے منحرف کر دیتا ہے اور "لعب" خیالی مقصد کے لیے خیالی پلاؤ پکانے کو کہتے ہیں۔ کھیل کو بھی لعب کہتے ہیں۔ جب بچّے کوئی کھیل کھیلتے ہیں تو ان میں سے ایک بادشاہ بنتا ہے، دُوسرا وزیر بنتا ہے، تیسرا سپہ سالارِ فوج بنتا ہے۔ کوئی ان میں قافلہ سالار بنتا ہے اور کوئی راہ زن بنتا ہے۔ جنگ کے بعد جب کھیل ختم ہو جاتا ہے تو یہ تمام عہدے خواب و خیال بن کر رہ جاتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ دنیا کی زندگی ایک قسم کا مشغلہ اور کھیل ہے۔ اِس دنیا میں لوگ جمع ہوتے ہیں۔ اپنے اپنے تصورات سے دل لگاتے ہیں، چند روز کے بعد پراگندہ ہو جاتے ہیں۔ پھر زیر خاک پنہاں ہو جاتے ہیں۔ اُس کے بعد اُن کی زندگی اور اُن کے مشاغل کے متعلق لوگ سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ لیکن حقیقی زندگی جس کو نہ فنا ہے، نہ اس میں درد و رنج ہے، نہ خوف و اضطراب ہے اور نہ تضاد و تزاھم ہے وہ حیاتِ آخرت ہی ہے۔ مگر ___ کاش کہ انسان اس حقیقت کو جانے اور نظر دقیق اور تحقیق سے کام لے۔ جو لوگ کہ اس دنیا سے دل لگاتے ہیں اور اس کی ظاہری سج دھج پر فریفتہ ہو جاتے ہیں وہ بچوں کی طرح ہیں۔ خواہ اُن کی عمر کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو۔ ضمناً یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ کلمہ "حیوان" (بروزن "ضربان") بہت سے مفسرین اور اہل لغت کے نزدیک بمعنی "حیات" کا مفہوم رکھتا ہے۔ (معنی مصدری رکھتا ہے)۔ (تشریحی نوٹ: یہ کلمہ دراصل "حی" سے ماخوذ ہے اور "حییان" تھا۔ حرف یا "واؤ" سے تبدیل ہو گیا اور "حیوان" ہو گیا)۔ آیت میں اشارہ اس طرف ہے کہ سرائے آخرت ہی عین حیات ہے۔ گویا اس میں ہرطرف سے زندگی کے چشمے پھوٹتے ہیں۔ وہاں بجز زندگی کچھ اور نہیں ہے۔ یہ اظہر من الشمس ہے کہ قرآن کا ہرگز یہ منشاء نہیں ہے کہ خدا حیاتِ سرائے آخرت کے ذکر سے ان نعمات کی قدر کم کرے جو اس نے اپنے بندوں کو اس دنیا میں عنایب کی ہیں بلکہ اس موازنہ سے مقصود صرف یہ ہے کہ خدا انسان کے سامنے دونوں جہان کی زندگیوں کی قدر وحیثیت کو پیش کرنا چاہتا ہے۔ علاوہ بریں، یہ بھی پیش نظر ہے کہ وہ انسان کو متنبہ کرے کہ وہ ان نعمات دنیاوی کا اسیر نہ ہو جائے بلکہ ان کا حاکم ہو اور اپنی شخصیت کے جواہر اصلی کو ان کے عوض ضائع نہ کر دے۔ تیسرے مرحلے میں انسان کی فطرت و سرشت کا بیان ہے اور یہ فرمایا گیا ہے کہ بحرانی ترین حالات میں انسان کے دل میں نور توحید چمکنے لگتا ہے۔ اس حقیقت کو ایک نہایت ہی واضح مثال سے روشن کیا گیا ہے۔ جس وقت وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خدا کو اخلاص کامل سے یاد کرتے ہیں۔ اُس وقت غیر خدا ان کے ذہن سے قطعی محو ہو جاتا ہے۔ لیکن جب خدا انہیں طوفان اور گرداب سے رہائی بخش دیتا ہے اور بسلامت خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو وہ پھر مشرک ہو جاتے ہیں: (فَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ)۔ یہ درست ہے کہ شدائد زندگی اور طوفان حوادث ہی میں انسان کی فطرت کے جوہر کھلتے ہیں۔ کیونکہ ہر انسان کی روح میں توحید کا نور چھپا ہوا ہے مگر معاشرت کے لایعنی آداب و رسوم، غلط تربیت اور شرّ و فساد آگیں تعلیم اس پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ مگر جب ہر طرف سے مصیبتوں کے طوفان اٹھتے ہیں اور انسان مشکلات کے گرداب میں پھنس جاتا ہے تو پھر وہ تمام وسائل ظاہری سے دست کش ہو جاتا ہے۔ پھر اس کی فطرت اسے مادرائی عالم کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ اس وقت اس کے دل سے شرک آلودہ خیالات محو ہو جاتے ہیں اور وہ ان حوادث کی بھٹی میں تپ کر بہ مصداق "مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ" ہر کھوٹ سے صاف ہو جاتا ہے۔ خلاصہٴ گفتگو یہ ہے کہ انسان کے قلب میں ایک نقط نورانی موجود ہے۔ جس کا تعلق اس عالم سے ہے جو جہان مادی سے ماوراء ہے اور ذات الہٰی سے اُس کا نزدیک ترین ربط ہے۔ غلط تعلیمات، غفلت و غرور بالخصوص ہر جہت سے سلامتی اور فراوانیٴ دولت کی حالت میں اس نقطہٴ نورانی پر پردے پڑ جاتے ہیں مگر حوادث کے طوفان ان پر پردہ کو چاک کر دیتے ہیں، غفلت کی گرد جھڑ جاتی ہے اور نقطہ نورانی پھر چمکنے لگتا ہے۔ عظیم ہادیان اسلام منکرین خدا کو اسی طریقہ سے راہ راست پر لاتے تھے۔ ہم سب نے اس شکی کی داستان سنی ہے جو معرفت الہٰی کے معاملہ میں سخت شک میں مبتلا تھا اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے اسی لاشعور جذبے کے حوالے سے اس کو ہدایت فرمائی۔ اُس آدمی نے امام کی خدمت میں عرض کی: یابن رسول اللہ دلّنی علی اللہ ماھو؟ فقد اکثر علی المجادلون و حیرونی فقال لہ الامام (ع): یا عبداللہ! ھل رکبت سفینة قط؟ قال: نعم قال: فھل کسّر بک حیث لاسفینة تنجیک ولا سباحة تغنیک؟ قال: نعم قال: فھل تعلق قلبک ھنالک ان شیئا من الاشیاء قادر علی ان یخلصک من ورطتک؟ قال: نعم قال الصادق (ع): فذالک الشیء ھو اللہ القادر علی الانجاء حیث لامنبحی، و علی الاغاثة حیث لا مغیث۔ اے فرزند رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم! آپ میری رہنمائی فرمائیں کہ خدا کون ہے؟ کیونکہ مجھے ایک عظیم وسوسہ نے حیران کر دیا ہے۔ امام (ع) نے فرمایا: اے بندہٴ خدا! کیا تو کبھی کشتی میں سوار ہوا ہے؟ اُس نے عرض کیا: ہاں۔ آپ (ع) نے فرمایا: کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ تیری کشتی ایسی جگہ ٹوٹی ہو کہ وہاں تجھے بچانے کے لیے کوئی کشتی موجود نہ ہو اور تُو تیر بھی نہ سکتا ہو؟ اُس نے عرض کیا: ہاں۔ آپ (ع) نے فرمایا : کیا اُس حالت میں تیرے دل میں یہ خیال آتا تھا کہ کوئی ہستی ایسی ہے جو تجھے اِس مصیبت سے بچا سکتی ہے؟ اُس نے عرض کیا: ہاں۔ امام (ع) نے فرمایا: وہ خدا ہی ہے جو اس حالت میں نجات دینے پر قدرت رکھتا ہے۔ جب کوئی نجات دہندہ اور فریاد رس نہ ہو۔ (بحوالہ: بحارالانوار جلد۳، طبع جدید صفحہ ۴۱)۔ زیر بحث آیات میں سے آخری آیت میں خدا پرستی اور توحید باری تعالیٰ پر ان تمام استدلال کے بعد مخالفین اسلام خستہ کن تہدید شدید کے بعد، ارشاد خدا وندی ہے: وُہ لوگ ہماری آیات کا انکار کرتے ہیں اور ہماری عطا کروہ نعمات کے ناشکر گزار ہیں۔ وہ چند روز ان زود گزر لذات سے لطف اٹھالیں۔ لیکن وہ جلد سمجھ جائیں گے کہ کفر و شرک کا نجام کیا ہو گا اور وہ انھیں کن آفات میں مبتلا کر دے گا: (لِيَكْفُرُوا بِمَا آتَيْنَاهُمْ وَلِيَتَمَتَّعُوا فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ)۔ اگرچہ اس آیت میں کفر اور انکار آیات کا ذکر ہے لیکن یہ اظہر من الشمس ہے کہ ان الفاظ کا مقصد تہدید ہے بالکل اسی طرح جیسے کسی جرائم پیشہ انسان سے کہا جائے کہ تم جو گناہ اور جرم بھی ہو سکتا ہے کر لو لیکن اپنے اعمال کا نتیجہ جلد ہی بھگتو گے۔ اگرچہ عبارت میں صیغہٴ امر استعمال ہوا ہے۔ مگر اس سے کی شے کی طلب مراد نہیں بلکہ تہدید مراد ہے۔ نیز یہ کہ "فسوف یعلمون" مطلق صورت میں آیا ہے اور یہ وضاحت نہیں ہے کہ وہ کیا جان لیں گے۔ یہ شیوہٴ کلام صرف اس لیے ہے کہ اس کا مفہوم جتنا بھی زیادہ وسیع ہو گا، سننے والے کا ذہن کسی حد میں محدود نہ رہے گا۔ بداعمالیوں کا نتیجہ عذاب الہٰی، دونوں جہان میں رسوائی اور ہر قسم کی بدبختی ہے۔
سختیوں میں انسانی فطرت کے جوہر کھلتے ہیں:
ہم ان شاءاللہ سورہٴ روم کی آیت ۳۰ کے ذیل میں اصل توحید و خدا شناسی کے امر فطری ہونے کے متعلق تفصیل سے بحث کریں گے۔ اِس مقام پر جس بات کا ذکر ضروری ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کی متعدد آیات میں زندگی کی مشکلات اور سختیوں کا ذکر اس عنوان سے کیا گیا ہے کہ وہ انسان کی اس فطرت کے ظہور کا وسیلہ بن جاتی ہیں۔ ایک مقام پر فرمایا گیا ہے: وَمَا بِكُم مِّن نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّهِ ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَإِلَيْهِ تَجْأَرُونَ ثُمَّ إِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنكُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِّنكُم بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ تمہارے پاس جتنی بھی نعمات ہیں وہ سب خدا کی عطا کردہ ہیں اور جب تم پر کوئی بلا نازل ہوتی ہے تو تم اس کی درگاہ میں فریاد کرتے ہو۔ مگر جب خدا وہ بلا تم سے ٹال دیتا ہے تو تم میں سے ایک گروہ پھر مشرک ہو جاتا ہے۔ (نحل ۵۳ .۵۴)۔ سورہ یونس میں یہ بات ایک اور طرح بیان ہوئی ہے: " وَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنبِهِ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَآئِمًا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَأَن لَّمْ يَدْعُنَا إِلَى ضُرٍّ مَّسَّهُ" جب انسان کو مصیبت آ لیتی ہے تو سونے، بیٹھنے اور کھڑے ہونے کی حالت میں ہمیں پکارتا ہے۔ لیکن جب ہم وہ مشکل دور کر دیتے ہیں تو وہ اپنی پہلی غفلت میں جا پڑتا ہے __ گویا کہ اس نے اپنی مشکل کے حل کے لیے ہمیں پکارا ہی نہ تھا۔ (یونس۔ ۱۲)۔ سورہ روم کی آیت ٣٣، سورہ زمر کی آیت ۴٩ اور سورہ بنی اسرائیل کی آیات ۶۷۔۶٩ میں یہی مطلب عبارات و دیگر اشارات پر معنی کے ساتھ آیا ہے۔ ہم نے آیات زیر بحث میں بھی یہ پڑھا ہے کہ مُشرکین کا یہ گروہ جب ان کے دل نجاست کفر سے آلودہ ہوتے ہیں، تو بتوں کے پاس جاتا ہے مگر جب یہ سمندر سفر پر روانہ ہوتے ہیں اور وہاں انھیں طوفان، بھنور اور مخالف ہوائیں گھیر لیتی ہیں اور ان کی کشتیاں سطح امواج پر گھاس کے تنکے کی طرح حرکت کرنے لگتی ہیں اور وہ ہر طرف سے مایوس ہو جاتے ہیں تو ان کے قلب میں نور توحید چمکنے لگتا ہے اور تمام خود ساختہ معبود غائب ہو جاتے ہیں۔ اُس وقت ان کے دل میں "خلوص کامل" پیدا ہوتا ہے (مگر یہ خلوص مجبوراً پیدا ہوتا ہے اور بے قدر ہوتا ہے)۔ لیکن جیسے ہی طوفان ٹل جاتا ہے اور حالات پھر معتدل ہو جاتے ہیں تو ان کے دل پر پھر پردے پڑ جاتے ہیں اور کل توحید کے اطراف میں شرک اور بت پرستی کے کانٹے اگ آتے ہیں۔ ممکن ہے کہ کفار کی اس قلبی کیفیت کے لیے عذر پیش کیا جائے کہ ان کی یہ حالت شعور میں ان تہہ نشین خیالات اور ان اثرات کی وجہ سے ہے، جو اُنھوں نے اپنے معاشرے اور تہذیب سے حاصل کر لیے ہیں۔ مگر یہ عذر اس صورت میں قابل قبول ہو سکتا ہے کہ یہ حالت صرف ان مذہبی لوگوں کی ہوتی جو مذہبی ماحول میں رہتے ہیں لیکن تجربہ یہ ہے کہ غیر مذہبی معاشرے میں سخت ترین منکرین خدا کی بھی یہی حالت ہوتی ہے۔ اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ نور توحید کا راز کہیں اور مخفی ہے۔ یعنی وہ انسان کے لاشعور اور اس کی فطرت و سرشت میں داخل ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 69 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 69 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر "درالمنثور" میں زیر بحث آیت کے متعلق ابن عباس سے یہ روایت منقول ہے۔ مشرکین کے ایک گروہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ کہا: اے محمد! ہم آپ کے دین میں اس وجہ سے داخل نہیں ہوتے کہ ہم ڈرتے ہیں کہ لوگ (مخالفین) ہمیں اٹھا کر لے جائیں گے (اور جلد ہی موت کے گھاٹ اتار دیں گے کیونکہ ہماری تعداد کم ہے۔ اور مشرکین عرب کی جمعیت زیادہ ہے۔ جیسے ہی انھیں یہ اطلاع ملے گی کہ ہم نے آپ کا دین قبول کر لیا ہے تو وہ ہمیں اٹھا کر لے جائیں گے ہم ان میں سے صرف ایک ہی شخص کو خوراک ہیں۔ اِس مقام پر آیت "اولم یروا۔۔۔" نازل ہوئی۔
چند اہم نکات: ۱۔ جہاد و اخلاق:
آیات ماقبل سے یہ مطلب بخوبی اخذ ہوتا ہے کہ ہمیں جو بھی شکست و ناکامی پیش آتی ہے، وہ ان دو اسباب میں سے کسی ایک کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یا تو ہم نے جہاد میں کوتاہی کی ہے یا ہمارے عمل میں خلوص نہ تھا۔ اگر یہ دونوں شرائط (جہاد و اخلاص) باہم ہو جائیں تو اللہ کے تاکیدی وعدے کے مطابق اُن کے لیے مقاصد میں کامیابی اور صراط مستقیم کی طرف ہدایت یقینی ہے۔ اگر ہماری منہاج فکر درست ہو تو ہم اسلامی معاشروں کو پیش آنے والی مشکلات اور مصائب کے اسباب معلوم کر سکتے ہیں اور جان سکتے ہیں کہ جو مسلمان کل تک رہنمائے عالم تھے، آج پس ماندہ کیوں ہو گئے ہیں؟ وُہ زندگی کے ہر پہلو یہاں تک کہ ثقافت، کلچر اور اپنے قوانین کے لیے بھی دوسروں کی طرف دست نیاز کیوں دراز کرتے ہیں؟ وُہ سیاسی طوفانوں اور بیرونی جی حملوں کی صورت میں دوسروں پر بھروسہ کیوں کرتے ہیں؟ ایک وقت وہ تھا کہ دوسرے ان کے خوان علم و ثقافت کے ریزہ چیں تھے۔ اور آج وہ دوسروں کے دستر خوان سے رفع احتیاج کرتے ہیں۔ وہ کیوں اغیار کے دست ہوس میں گرفتار ہیں اور اُن کے ملک دوسروں کے تصرف میں کیوں ہیں؟ اِن تمام سوالات کا ایک ہی جواب ہے وہ یہ کہ تو ہم نے جہاد کو فراموش کر دیا ہے یا ہماری نیتوں خلوص باقی نہیں رہا۔ ہاں ___ بالکل درست ہے کہ علمی و ادبی، سیاسی و اقتصادی اور فوجی محاذوں پر ہم نے جہاد کو قطعی فرموش کر دیا ہے۔ اس کے بجائے مسلمانوں پر حب نفس، دنیا کی محبت، راحت طلبی خیالی اور اغراض شخصی غالب آ گئی ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے اپنے ہاتھ کے مقتولین کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جتنی کہ دُشمن نے قتل کی ہے۔ ایک مغرب زدہ یا مشرق زدہ گروہ ہے جس نے اپنی عزت نفس اور اپنی خودی کو اُن اقوام کے مقابل ہار دیا ہے۔ اسلامی ممالک کے صاحبان اقتدار اور رہنمایانِ قوم نے اپنے آپ کو غیر اقوام کے ہاتھ فروخت کر دیا ہے۔ اہل دانش اور صاحبان فکر و تدبیر نے مایوس ہو کر خلوت نشینی اختیار کر لی ہے۔ اِن سب اسباب نے جذبہٴ جہاد اور اخلاص کو محور کر دیا ہے۔ جس وقت بھی ہمارے اندر تھوڑا سا اخلاص بھی پیدا ہو جائے گا اور ہمارے مجاہدین میں حرکت عمل پیدا ہو گی تو یکے بعد دیگر کامیابیاں حاصل ہوتی جائیں گی۔ غلامی کو زنجیریں ٹوٹ جائیں گی۔ مایوسیاں امید سے اور ناکامیابی سے، ذلت عزّت و سربلندی سے، ذلت عزت و سربلندی سے، انتشار و نفاق وحدت تنظیم باہمی سے بدل جائے گی۔ قرآن کتنا باعظمت و الہام بخش ہے کہ اُس نے ایک مختصر جملے میں درد و درمان دونوں کو بیان کر دیا ہے۔ درست ہے کہ جو لوگ راہ خدا میں جہاد کرتے ہیں ہداایتِ الہٰی ان کے شامل حال رہتی ہے اور یہ اظہر من الشمس ہے کہ ہدایت الہٰی کے ہوتے ہوئے گم راہی اور شکت کبھی پیش نہیں آ سکتی۔ اہل بیت علیہ السلام کی بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کا مرجع آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے پیرو ہیں۔ تو درحقیقت، وہ اس مفہوم کے مصداق کامل ہیں کیونکہ یہ حضرات طریقِ جہاد اور راہ اخلاص میں پیش قدم اور پیش رو تھے۔ اس تفسیر سے آیت کا مفہوم محدود نہیں ہوتا۔ بہرحال، ہر شخص اپنی جدوجہد کے دوران میں اس حقیقت قرآنی کو واضح طور پر محسوس کرتا ہے کہ جس وقت بھی وہ راہ خدا میں سعی و کوشش اور جہاد کے لیے آمادہ ہوتا ہے تو اس کے لیے آسانیوں کے درواز ے کھل جاتے ہیں اور مشکلات آسان ہو جاتی ہیں اور اس کے لیے سختیاں قابل تحمل ہو جاتی ہیں اور وہ ان پر غالب آ جاتا ہے۔
چند اہم نکات: ۱۔ جہاد و اخلاق:
۱۔ ایک گروہ ہٹ دھرم منکرین کا ہے کہ کوئی ہدایت بھی ان کے لئے سود مند نہیں ہے۔ ۲۔ دوسرا گروہ ان مخلصین کا ہے جو حق کی جستجو میں رہتے ہیں اور نتیجتا حق کو پا لیتے ہیں۔ ۳۔ تیسرا گروہ ان سے بھی برتر ہے۔ وہ لوگ حق سے دور نہیں ہیں کہ کوشش کے نزدیک ہوں۔ وُہ حق سے جدا نہیں ہیں کہ کوشش کر کے اس سے جا ملیں بلکہ وہ ہمیشہ حق کے ساتھ ہیں۔ آیت ۶۸ میں " وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى" کا اشارہ گروہ اول کی طرف تھا۔ اور۔ آیت ۶۹ میں "وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا" سے فروہ دوم مراد ہے۔ اور اسی آیت میں "ان اللہ لمع المحسنین" سے گروہ سوم کے لیے ہے۔ ان الفاظ سے یہ مفہوم بھی اخذ ہوتا ہے کہ "محسنین" کا مقام مجاہدین سے ارفع ہے۔ کیونکہ یہ لوگ جہاد اور اپنی نجات کے لیے کوشاں رہنے کے علاوہ، مقام ایثار و احسان پر بھی فائز ہیں اور دٗوسروں کے لیے اپنے آپ کو خطرات میں ڈالنے سے پہلوتہی نہیں کرتے۔ اے پروردگار! تو ہمیں ایسی توفیق عنایت فرما کہ تمام عمر تیری راہ میں سعی و کوشش سے دست برادرنہ ہوں۔ خدا وندا! ___ تو ہمیں ایسا اخلاص مرحمت فرما کہ ہمیں تیرے سوا کسی غیر کا خیال بھی نہ آئے اور کسی غیر کی طرف ہمارا قدم نہ اٹھے۔ بار الہٰا! تو ہمارا مقام مجاہدین سے بلند کر دے اور ہمیں محسنین کے مقام احسان و ایثار پر فائز کر دے اور تمام عمر تو ہمارے سروں پر اپنی ہدایت کا سایہ رکھ۔ آمین یا رب العالمین۔