Sūra 48 · 29v
Chapter 4829 verses

Al-Fath

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
الفتح
الفتح

سورہ فتح

یہ سورہ مدینہ میں نازل ہوئی اس میں ٢٩ آیات ہیں

سورہ فتح کے مطالب

یہ سورت جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے فتح و کامیابی کا پیغام لانے والی ہے، دشمنان اسلام پر کامیابی، قطعی اور نظر آنے والی کامیابی، (خواہ وہ کامیابی فتح مکہ کے ساتھ مربوط ہو یا صلح حدیبیہ کے ساتھ یا فتح خیبر سے، یا مطلق طور سے کامیابی) اس سورہ کے مطالب کو معلوم کرنے کے لئے، ہر چیز سے پہلے ضروری ہے کہ ہم یہ جانیں کہ یہ سورہ حدیبیہ کے واقعہ کے بعد ہجرت کے چھٹے سال نازل ہوئی ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ: پیغمبر اسلامؐ نے ہجرت کے چھٹے سال مہاجرین و انصار اور باقی مسلمانوں کو ساتھ لے کر مراسم "عمرہ" کے عنوان سے مکہ کی طرف روانہ ہونے کا ارادہ کیا، اور اس سے پہلے وہ مسلمانوں کو بتا چکے تھے کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں اپنے اصحاب و انصار کے ساتھ مسجدالحرام میں داخل ہوا ہوں اور مناسک عمرہ ادا کرنے میں مشغول ہوں۔ مُسلمانوں نے "ڈی اکلیفہ" میں مدینہ کے قریب احرام باندھا، اور بہت زیادہ اونٹ قربانی کے لیے لے کر چلے۔ پیغمبرؐ کے چلنے کی کیفیت سے اس بات کی اچھی طرح نشاندہی ہو رہی تھی کہ اس عظیم عبادت کو انجام دینے کے علاوہ آپ کا اور کوئی مقصد نہیں ہے، یہاں تک کہ پیغمبرؐ سر زمین "حدیبیہ" میں وارد ہوئے، (حدیبیہ مکہ کے قریب ایک ایسی بستی تھی جو کہ مکہ سے ٢٠ کلو میٹر فاصلہ پر تھی) لیکن یہاں قریش کو پتہ چل گیا اور انھوں نے پیغمبرؐ کا راستہ روکا اور وہ ان کے مکہ میں وارد ہونے سے مانع ہوئے، اور حقیقت میں انہوں نے ان تمام سنتوں کو جو وو ماہ حرام میں زائرین خانہ خدا کے امن و امان کے سلسلہ میں ادا کرتے تھے پاؤں تلے روند ڈالا۔ کیونکہ انکا عقیدہ یہ تھا، کہ حرمت والے مہینوں میں (منجملہ ماہِ ذیقعدہ جس میں پیغمبر عمدہ کاارادہ رکھتے تھے، خصوصاً حالت احرام میں کسی شخص سے مانع نہیں ہونا چاہیے، یہاں تک کہ اگر کوئی شخص اپنے باپ کے قاتل کو بھی ان دنوں اور ان مراسم میں دیکھ لیتا تو ہرگز اس سے متعرض نہ ہوتا۔ یہاں ایک اہم واقعہ پیش آیا جو پیغمبرؐ اور مشرکین مکہ کے درمیان "صلح حدیبیہ" کے نام سے ایک صلح کی قرار داد کی صورت میں منتہی ہوا، جس کو ہم بعد میں بیان کریں گے، لیکن بہرصورت انہوں نےاس سال پیغمبر کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیا، مجبوراً پیغمبر نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ اپنے اونٹوں کی اسی جگہ قربانی کریںاور اپنے سرمنڈوائیں اور احرام سےباہر نکل آئیں، اور مدینہ کی طرف لوٹ جائیں۔ یہاں غم و اندوہ کےایک طوفان نے مسلمانوں کو گھیر لیا، اور ضعیف الایمان لوگوں پر شکو تردد غالب آگیا۔ جس وقت پیغمبرؐ حدیبیہ سے مدینہ کی طرف آ رہے تھے۔ تو آپ کی سواری بوجھل ہو گئی اور چلنے سے رُک گئی، اور اسی حالت میں آپ کا چہرہ مبارک کسی بظار وجہ کے بغیر سرور و شادمانی میں ڈوب گیا، اور فرمایا: بس ابھی ابھی سورہ فتح کی آیات مجھ پر نازل ہوئی ہیں۔ (بحوالہ: تلخیص از تفسیر قمی، مجمع البیان اور فی طلال)۔ اور یہاں سے اس سورہ پر چھائی ہوئی ایک خاص فضاء کامل طور پر نمایاں ہوجاتی ہے۔ ایک اجمالی مطالعہ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس سورہ کے سات حصے ہیں۔ ١۔ یہ سُورت، فتح کی بشارت سے شروع ہوتی ہے، اور اس کے اختتام کی آیات بھی اسی مسئلہ سے مربوط ہیں، اور پیغمبرؐ کے مکہ میں وارد ہونے اور اس میں مناسک عمرہ انجام دینے کے خواب کےپورا ہونے کی تاکید ہے۔ ٢۔ اس سورت کا دوسرا حصہ "صلح حدیبیہ" و "نزول سکینہ" اور مومنین کے دلوں کے لیے تسلی سے مربوط واقعات، اور بیعت رضوان کے مسئلہ کو بیان کرتا ہے۔ ٣۔ ایک اور حصہ میں پیغمبر کے مرتبہ، اور ان کے بلند و بالا مقصد کو بیان کیا گیا ہے۔ ۴۔ ایک دوسرے حصہ میں منافقوں کی کارشکنیوں، اور میدانِ جہاد میں ان کے شرکت نہ کرنے کے لیے بےہودہ غدروں سے پردہ اُٹھایا گیا ہے۔ ٥۔ ایک اور حصہ میں منافقین کے کچھ نامناسب تقاضوں کا بیان ہے۔ ٦۔ اس کے بعد یہ سورہ ان لوگوں کا تعارف کراتا ہے جو میدانِ جہاد میں شرکت کرنے سے معذور ہیں۔ ٧۔ آخری حصہ میں پیغمبر اسلامؐ کے دین کی راہ کے پیروکاروں کی خصوصیات اور مخصوص صفات کا بیان ہے۔ اس سورہ کی آیات، مجموعی طور پر حد سے زیادہ حساس، و مقدر ساز ہیں اور خاص طور سے ان گوناں گوں حوادث کے مقابلہ میں، جن میں اسلامی معاشرہ الجھا ہوا ہے، آج کے مسلمانوں کے لیے الہام آفرین ہیں۔

سورہ فتح کی تلاوت کی فضیلت

منابع اسلامی میں اس سورہ کے بارے میں کچھ عجیب روایات نظر آتی ہیں. ایک حدیث انس سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: جب ہم "حدیبیہ" سے واپس آ رہے تھے، درحالیکہ مشرکین نے نہ تو ہمیں مکہ میں داخل ہونے دیا تھا اور نہ ہی عمرہ کرنے دیا تھا، تو ہم انتہائی غم و اندوہ میں ڈوبے ہوئے تھے، کہ اچانک خدا نے آیہ "إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا" نازل فرمائی۔ پیغمبرؐ اکرم نے فرمایا! لقد أنزلت على آية هى أحبّ إلىّ مِنَ الدّنيا كلّها۔" مجھ پر ایک آیت نازل ہوئی ہے، جو مجھے تمام دنیا سے زیادہ محبوب ہے" (بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ ایک سُورہ مجھ پر نازل ہوا ہے۔۔۔۔) (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد٩ صفحہ ١٠٨)۔ "عبداللہ بن مسعود" کہتا ہے: "حدیبیہ سے واپسی کے موقع پر جب پیغمبرؐ پر "إِنَّا فَتَحْنَا۔۔۔" نازل ہوئی تو آپؐ اس قدر خوش ہوئے کہ خدا ہی جانتا ہے۔ (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد٩ صفحہ ١٠٩)۔ ایک دوسری حدیث میں پیغمبرؐ سے منقول ہوا ہے۔ من قرأها فكأنّما شهد مع محمدٍ (ص) فتح مكّه، و فى رواية اخرىٰ فَكَأَنَّمَا كان مع من بايع محمدًا تحتَ الشّجرةِ۔" "جو شخص اس سُورہ کو پڑھے وہ اس شخص کے مانند ہے جو فتح مکہ کے موقع پر پیغمبر کے ساتھ اور ان کے لشکر میں تھا، اور دوسری روایت میں یہ آیا ہے، کہ وہ اس شخص کے مانند ہے جس نے اس درخت کے نیچے جو حدیبیہ میں تھا محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بیعت کی۔" (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ٩ صفحہ ١٠٨)۔ اور آخر میں ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے یہ منقول ہے۔ "حصنوا أَموالكم وَنِسائكم وَمَا مَلَكت ايمانكم مِنَ التّلف بقرائة" إِنَّا فَتَحْنا لَكَ" فانّه إذا كان ممن يدمن قراءتها نادىٰ منادٍ يومَ القيامة حتى يسمعَ الخلائق، أنت من عبادى المخلصين، ألحقوه بالصّالحين من عبادى، وَادخلوه جنّاتِ النّعيم، وَاسقوه من رحيق مختوم بمزاجِ الكافور" "اپنے مالوں، عورتوں، اور جو کچھ تمہاری ملک میں ہے، اُسے إِنَّا فَتَحْنَا کی قراءت سے محفوظ کر لو، جو شخص مسلسل اس کی تلاوت کرے تو قیامت کے دن ایک منادی اس طرح ندا کرے گا کہ اُسے تمام مخلوق سُنے گی: یہ میرے مخلص بندوں میں سے ہے، اسے میرے صالح بندوں کے ساتھ ملا دو، اور بہشت کے نمعتوں بھرے باغات میں اسے داخل کر دو اور بہشتوں کے مخصوص مشروب سے اُسے سیراب کرو۔" (نور الثقلین، جلد٥، صفحہ۴٦ بحوالہ ثواب الاعمال)۔ یہ بات کہے بغیر ظآہر ہے کہ یہ سب فضیلت و افتخار، غور و فکر اور عمل سے خالی تلاوت سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ تلاوت کا اصل مقصد اپنے عادات واخلاق و اعمال کو ان آیات کے مفاد کے مطابق ڈھالنا ہے۔

1
48:1
إِنَّا فَتَحۡنَا لَكَ فَتۡحٗا مُّبِينٗا
ہم نے تیرے لئے واضح کامیابی فراہم کر دی ہے۔

تفسیر فتح المبین

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

اس سورہ کی پہلی آیت میں پیغمبرؐ کو اعظیم بشارت دی گئی ہے، ایسی بشارت جو بعض روایات کے مطابق پیغمبر کے نزدیک تمام دُنیا سے زیادہ محبوب تھی۔ فرماتا ہے: "ہم نے تجھے آشکار اور نمایاں فتح دی (إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا)۔ ایسی نمایاں کامیابی، جس کے آثار اسلام کی پیش رفت، اور مسلمانوں کی زندگی میں، مختصر سے عرصہ میں ظاہر ہو گئے، اور طویل مدّت تک ظاہر ہوتے رہیں گے، ایسی فتح جو طول تاریخ اسلام میں کم مثال بےنظیر تھی۔ یہاں مفسرین کے درمیان ایک عظیم بحث ہوئی ہے کہ اس فتح سے مراد کون سی فتح ہے؟ اکثر مفسرین اس کو اس عظیم کامیابی کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جو "صلح حدیبیہ" سے مسلمانوں کو نصیب ہوئی۔ (تشریحی نوٹ: یہ تفسیر ابوالفتوح رازی نے اور آلوسی نے روح المعانی میں، علامہ طباطبائی نے المیزان میں، فی ظلال کے مؤلف نے اپنی تفسیر میں، اور فیض کاشانی صافی میں اختیار کی ہے، جبکہ تفسیر تبیان، کشاف، فخر رازی اور بعض دوسرے علماء نے دوسری تفسیر (فتح مکہ) کو ترجیح دی ہے، مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں دونوں قول دوسرے اقوال کے ساتھ شمار کیے ہیں، لیکن فتح مکہ کو پہلا قول ذکر کیا ہے، جس کی ترجیح ان کی نظر میں ہے)۔ ایک جماعت نے اسے فتح مکّہ کے مسئلہ کی طرف بھی اشارہ سمجھا ہے۔ اور بعض دوسروں نے اس سے "فتح خیبر" مراد لی ہے۔ اور بعض نے قدرت منطق، دلائل کی برتری اور آشکار معجزات کے طریقہ سے تمام دشمنوں پر اسلام کی کامیابی سمجھا ہے۔ آخر میں بعض اس کو پیغمبرؐ کے لیے اسرار علوم کے کھلنے کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں۔ لیکن ہمارے پاس بہت زیادہ قرائن موجود ہیں جو صلح حدیبیہ کے مسئلہ کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن ان آیات کی تفسیر کے واضح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہر چیز سے پہلے یہاں مختصراً حدیبیہ کی داستان پیش کریں، جو ان کی شان نزول ہے۔

داستان صُلح حدیبیہ

چھٹی ہجری کے ماہ ذی قعدہ میں پیغمبر اکرمؐ عمرہ کے قصد سے مکّہ کی طرف روانہ ہُوئے، اور تمام مسلمانوں کو اس سفر میں شرکت کا شوق دلایا، اگرچہ ایک گروہ کنارہ کش ہو گیا، مگر مہاجرین و انصار اور بادیہ نشین اعراب کی ایک کثیر جماعت آپ کے ساتھ مکّہ کی طرف روانہ ہو گئی۔ یہ جمعیت جو تقریباً ایک ہزار چار سو افراد پر مشتمل تھی، سب کے سب نے لباس احرام پہنا ہوا تھا، اور تلوار کے علاوہ، جو مسافروں کا اسلحہ شمار ہوتی تھی۔ کوئی جنگی ہتھیار اپنے ساتھ نہ لیاتھا۔ جب پیغمبر مکہ کے نزدیکی مقام عسفان پہنچے تو آپ کو اطلاع ملی کہ قریش نے یہ پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ آپ کو مکّہ میں داخل نہ ہونے دیں گے، یہاں تک کہ پیغمبرؐ حدیبیہ میں پہنچ گئے (حدیبیہ مکّہ سے بیس کلو میڑ کے فاصلہ پر ایک بستی ہے، جو ایک کنویں یا درخت کی مناسبت سے اس نام سے موسوم تھی) حضرتؐ نے فرمایا کہ تم سب اسی جگہ رُک جاؤ، لوگوں نے عرض کیا کہ یہاں تو کوئی پانی نہیں ہے، پیغمبرؐ نے معجزنہ طور پر اس کنویں سے جو وہاں تھا، اپنے اصحاب کے لیے پانی فراہم کیا۔ اسی مقام پر قریش اور پیغمبر کے دمیان سفراء آتے جاتے رہے تاکہ کسِی طرح سے مشکل حل ہو جائے، آخرکار "عروہ ابن مسعود ثقفی" جو ایک ہوشیار آدمی تھا، قریش کی طرف سے پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہوا، پیغمبر نے فرمایا میں جنگ کے ارادہ سے نہیں آیا اور میرا مقصد صرف خانۂ خدا کی زیارت ہے. ضمناً عروہ نے اس ملاقات میں پیغمبرؐ کے وضوء کرنے کا منظر بھی دیکھا کہ صحابۂ آپ کے وضو کے پانی کا ایک قطرہ بھی زمین پر گرنے نہیں دیتے تھے، جب وہ واپس لوٹا تو اس نے قریش سے کہا: میں قیصر و کسرٰیٰ اور نجاشی کے دربار میں گیا ہوں۔ میں نے کسی سربراہ مملکت کو اس کی قوم کے درمیان اتنا باعظمت نہیں دیکھا، جتنا محمدؐ کی عظمت کو ان کے اصحاب میں دیکھا ہے۔ اگر تم یہ خیال کرتے ہو کہ وہ محمد کو چھوڑ جائیں گے تو یہ بہت بڑی غلطی ہو گی، دیکھ لو تمہارا مقابلہ ایسے ایثار کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ یہ تمہارے لیے غور و فکر کا مقام ہے۔ اسی دوران پیغمبرؐ نے عمر سے فرمایا کہ وہ مکّہ جائیں، اور اشراف قریش کو اس سفر کے مقصد سے آگاہ کریں، عمر نے کہا کہ قریش مجھ سے شدید دشمنی رکھتے ہیں، لہٰذا مجھے ان سے خطرہ ہے، بہتر یہ ہے کہ عثمان کو اس کام کے لیے بھیجا جائے، عثمان مکّہ کی طرف آئے، تھوڑی دیر نہ گزری تھی کہ مسلمانوں کے درمیان یہ افواہ پھیل گئی کہ ان کو قتل کر دیا ہے۔ اس موقع پر پیغمبر نے شدّتِ عمل کا ارادہ کیا اور ایک درخت کے نیچے جو وہاں پر موجُود تھا، اپنے اصحاب سے بیعت لی، جو "بیعت رضوان" کے نام سے مشہور ہوئی، اور اُن کے ساتھ یہ عہد و پیمان کیا کہ آخری سانس تک ڈٹیں گے، لیکن تھوڑی دیر نہ گزری تھی کہ عثمان صحیح و سالم واپس لوٹ آئے اور اُن کے پیچھے پیچھے قریش نے سہل بن عمر کو مصالحت کے لیے پیغمبر کی خدمت میں بھیجا، لیکن تاکید کی کہ اس سال کسی طرح بھی آپ کا مکّہ میں ورود ممکن نہیں ہے۔ بہت زیادہ بحث و گفتگو کے بعد صلح کا عہد و پیمان ہوا، جس کی ایک شق یہ تھی کہ مسلمان اس سال عمرہ سے باز رہیں اور آ آئندہ سال مکّہ میں آئیں، اس شرط کے ساتھ کہ تین دن سے زیادہ مکّہ میں نہ رہیں، اور مسافرت کے عام ہتھیار کے علاوہ اور کوئی اسلحہ اپنے ساتھ نہ لائیں، اور دوسرے متعدد مواد جن کا دار و مدار ان مسلمانوں کی جان و مال کی امنیّت پر تھا، جو مدینہ سے مکّہ میں وارد ہوں اور اسی طرح مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان سال جنگ نہ کرنے اور مکہ میں رہنے والے مُسلمانوں کے لیے مذہبی فرائض کی انجام دہی بھی اس میں شامل کی گئی تھی۔ یہ پیمان حقیقت میں ہر جہت سے ایک عدم تعرض کا عہد و پیمان تھا، جس نے مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان مسلسل اور بار بار کی جنگوں کو وقتی طور پر ختم کر دیا۔ "صلح کے عہد و پیمان کا متن" اس طرح تھا کہ پیغمبرؐ نے علیؑ کو حکم دیا کہ لکھو: " بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحيم": سہل بن عمرو نے، جو مشرکین کا نمائندہ تھا، کہا: میں اس قسم کے جملہ سے آشنا نہیں ہوں، لہذا، بِسمِكَ اللّٰھم لکھو! پیغمبرؐ نے فرمایا: لکھو: "بِسمِكَ اللّٰھم۔" اس کے بعد فرمایا: لکھو! یہ وہ چیز ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سہل بن عمرو سے مصالحت کی "سہل" نے کہا: ہم اگر آپ کو "رسول اللہ" سمجھتے تو آپ سے جنگ نہ کرتے، صرف اپنا اور اپنے والد کا نام لکھیئے، پیغمبرؐ نے فرمایا کوئی حرج نہیں لکھو، "یہ وہ چیز ہے جس پر محمدؐ بن عبداللہ نے سہل بن عمرو سے صلح کی، کہ دس سال تک دونوں طرف سے جنگ متروک رہے گی تاکہ لوگوں کو امن و امان کی صورت دوبارہ میسر آئے۔ علاوہ ازیں, جو شخص قریش میں سے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر محمدؐ کے پاس آئے (اور مسلمان ہو جائے) اسے واپس کر دیں اور جو شخص ان افراد میں سے جو محمد کے پاس ہیں، قریش کی طرف پلٹ جائے تو اس کی واپس لوٹانا ضروری نہیں ہے۔ تمام لوگ آزاد ہیں جو چاہے محمدؐ کے عہد و پیمان میں داخل ہو اور جو چاہے قریش کے عہد و پیمان میں داخل ہو، طرفین اس بات کے پابند ہیں کہ ایک دوسرے سے خیانت نہ کریں (اور ایک دوسرے کے جان و مال کو محترم شمار کریں۔ اس کے علاوہ, محمدؐ اس سال واپس چلے جائیں اور مکّہ میں داخل نہ ہوں، لیکن آیندہ سال ہم تین دن کے لیے مکّہ سے باہر چلے جائیں گے اور ان کے اصحاب آ جائیں، لیکن تین دن سے زیادہ نہ ٹھہریں، (اور مراسم عمرہ کو انجام دے کر واپس چلے جائیں) اس شرط کے ساتھ کہ سوائے مسافر کے ہتھیار یعنی تلوار کے۔ وہ بھی غلاف میں۔ کوئی اور ہتھیار ساتھ نہ لائیں۔ اس پیمان پر مسلمانوں اور مشرکین کے ایک گروہ نے گواہی دی اور اس عہد نامہ کے کاتب علی بن ابی طالب علیہ السلام تھے (بحوالہ: تاریخ طبری جلد ٢، صفحہ ٢٨١ (کچھ تلخیص کے ساتھ)۔ مرحوم "علامہ مجلسی" نے بحار الانوار میں کُچھ اور امور بھی نقل کیے ہیں، منجملہ ان کے یہ کہ: "اسلام مکّہ میں آشکار ہو گا اور کسی کو کسی مذہب کے انتخاب کرنے پر مجبور نہیں کریں گے، اور مسلمانوں کی اذیت و آزار نہیں پہنچائیں گے۔" (بحوالہ: بحار الانوار، جلد ۴٠، صفحہ ٣٥٢)۔ اس موقع پر پیغمبر نے حکم دیا کہ قربانی کے وہ اونٹ جو وہ اپنے ہمراہ لائے تھے، اسی جگہ قربان کر دیں اور اپنے سروں کو منڈوائیں، اور احرام سے باہر نکل آئیں، لیکن یہ بات کچھ مسلمانوں کو سخت ناگوار معلوم ہوئی،کیونکہ عمرہ کے مناسک کی انجام دہی کے بغیر ان کی نظر میں احرام سے باہر نکل آنا ممکن نہیں تھا، لیکن پیغمبرؐ نے ذاتی طور پر خود پیش قدمی کی اور قربانی کے اونٹوں کو نحر کیا اور احرام سے باہر نکل آئے اور مسلمانوں کو سمجھایا کہ یہ احرام و قربانی کے قانون میں ایک استثناء ہے جو خدا کی طرف سے قرار دیا گیا ہے۔ مُسلمانوں نے جب یہ دیکھا تو سر تسلیم خم کر دیا، اور پیغمبر کا حکم کامِل طور سے مان لیا، اور وہیں سے مدینہ کی راہ لی، لیکن غم و اندوہ کا ایک پہاڑ ان کے دلوں پر بوجھ ڈال رہا تھا، کیونکہ ظاہر میں یہ سارے کا سارا سفر ایک ناکامی اور شکست تھی، لیکن اس بات کی خبر نہیں تھی کہ صلح حدیبیہ کی داستان کے پیچھے مسلمانوں اور اسلام کے لیے کتنی کامیابیاں چھپی ہوئی ہیں۔ اسی وقت سورۂ فتح نازل ہوئی اور پیغمبر گرامی اسلام کو فتح عظیم کی بشارت مِلی، (بحوالہ: سیرة ابن ہشام: ج ٣، ص ٣٢١، ٣٢٤، "تفسیر مجمع البیان"، "تفسیر فی ظلال"، "کامل ابن اثیر جلد ٢ اور دوسرے مدارک بہت زیادہ تلخیص کے ساتھ)۔

صلح حدیبیہ کے سیاسی، اجتماعی اور مذہبی نتائج

ہجرت کے چھٹے سال (صلح حدیبیہ کے وقت) مسلمانوں کی حالت میں اور دو سال بعد کی حالت میں فرق نمایاں تھا۔ جب وہ دس ہزار کے مسلح لشکر کے ساتھ فتح مکّہ کے لیے چلے تاکہ مشرکین کو پیمان شکنی کا داندان شکن جواب دیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے فوجوں کو معمولی سی جھڑپ کے بغیر ہی مکّہ کو فتح کر لیا، اس وقت قریش اپنے اندر مقابلہ کرنے کی معمولی سی قدرت بھی نہیں رکھتے تھے۔ ایک اجمالی موازنہ اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ صلح حدیبیہ کا عکس العمل کس قدر وسیع تھا۔ خلاصہ کے طور پر مسلمانوں نے اس صلح سے چند امتیاز اور اہم کامیابیاں حاصل کیں، جنکی تفصیل حسب ذیل ہے۔ ١۔ عملی طور پر مکّہ کے فریب خوردہ لوگوں کو یہ بتا دیا کہ وہ جنگ و جدال کا ارادہ نہیں رکھتے، اور مکّہ کے مقدس شہر اور خانہ ٔخدا کے لیے بہت زیادہ احترام کے قائل ہیں، یہی بات ایک کثیر جماعت کے دلوں کے لیے اسلام کی طرف کشش کا سبب بن گئی۔ ٢۔ قریش نے پہلی مرتبہ اسلام اور مسلمانوں کو رسمی طور پر تسلیم کیا، یہی وہ چیز تھی جو جزیرة العرب میں مسلمانوں کی حیثیت کو ثابت کرنے کی دلیل بنی۔ ٣۔ صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان سکون و اطمینان کے ساتھ ہر جگہ آ جا سکتے تھے اور ان کا جان و مال محفوظ ہو گیا تھا، اور عملی طور پر مشرکین کے ساتھ قریبی تعلق اور میل جول پیدا ہوا، ایسے تعلقات جس کے نتیجہ میں مشرکین کو اسلام کی زیادہ سے زیادہ پہچان کے ساتھ ان کی توجہ اسلام کی طرف مائل ہوئی۔ ٤۔ صلح حدیبیہ کے بعد اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے سارے جزیرة العرب میں راستہ کھل گیا، اور پیغمبر کی صلح طلبی کی شہرت نے مختلف اقوام کو۔ جو پیغمبر کی ذات اور اسلام کے متعلق غلط نظریہ رکھتے تھے۔ تجدید نظر پر آمادہ کیا، اور تبلیغاتی نقطۂ نظر سے بہت سے وسیع امکانات و وسائل مسلمانوں کے ہاتھ آئے۔ ٥۔ صلح حدیبیہ نے خیبر کو فتح کرنے اور یہودیوں کے اس سرطانی عدّہ کو نکال پھینکنے کے لیے، جو بالفعل اور بالقوّہ اسلام اور مسلمانوں کے لیے ایک اہم خطرہ تھا۔ راستہ ہموار کر دیا۔ ٦۔ اصولی طور پر پیغمبر کی ایک ہزار چار سو افراد کی فوج سے ٹکر لینے سے قریش کو وحشت۔ جن کے پاس کسی قسم کے اہم جنگی ہتھیار بھی نہیں تھے۔ اور شرائط صلح کو قبول کر لینا، اسلام کے طرف داروں کے دلوں کی تقو یت، اور مخالفین کی شکست کے لیے جنہوں نے مسلمانوں کو ستایا تھا خود ایک اہم عامل تھا۔ ٧۔ واقعہ حدیبیہ کے بعد پیغمبرؐ نے بڑے بڑے ملکوں، ایران و روم و حبشہ کے سربراہوں اور دُنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں کو متعدد خطوط لکھے اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دی اور یہ چیز اچھی طرح سے اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صلح حدیبیہ نے مسلمانوں میں کِس قدر خود اعتمادی پیدا کر دی تھی، کہ نہ صرف جزیرہ عرب میں بلکہ اس زمانہ کی بڑی دُنیا میں ان کی راہ کو کھول دیا۔ اب ہم آیات کی تفسیر کی طرف لوٹتے ہیں۔ اب تک جو کچھ بیان کیا گیا ہے، اس سے یہ بخوبی معلوم کیا جا سکتا ہے، کہ واقعہً صلح حدیبیہ اسلام اور مُسلمانوں کے لیے ایک عظیم فتح اور کامیابی تھی، اور یہ تعجب کی بات نہیں ہے کہ قرآن مجید سے فتح مبین کے عنوان سے یاد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سے قرائن ہمارے پاس ہیں جو اس تفسیر کی تائید کرتے ہیں۔ ١۔ "فتحنا" کا جُملہ فعل ماضی کی صورت میں ہے، یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ امر ان آیات کے نزول کے وقت پورا ہو چکا تھا، جبکہ اس وقت صلح حدیبیہ کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں ہوئی تھی۔ ٢۔ان آیات کے نزول کا زمانہ جس کی طرف اوپر اشارہ ہو چکا ہے، اور اس سورہ کی دوسری آیات، جو صلح حدیبیہ کے سلسلہ میں مومنین کی مدح اور منافقین و مشرکین کی مذمت کر رہی ہیں اس مطلب کے لیے ایک دوسری تائید ہے۔ اس سورہ کی آ یت ٢٧ جو پیغمبرؐ کے رُویائے صادقہ (سچّے خواب) کی تاکید کر رہی ہے، وہ یہ کہتی ہے: "یقینا تم عنقریب مسجد الحرام میں انتہائی امن و سکون کے ساتھ داخل ہو گئے اور آخر مناسک عمرہ بجا لاؤ گے" یہ اس بات کی ایک شاہد ہے کہ یہ سورہ اور اس کا مضمون حدیبیہ کے بعد اور فتح مکّہ سے پہلے کا تھا۔ ٣۔ بہت سی روایات میں "صلح حدیبیہ" کا "فتح مبین" کے عنوان سے تعارف ہوا ہے، منجملہ ان کے یہ ہے: تفسیر "جوامع الجوامع" میں آیا ہے کہ جس وقت پیغمبرؐ حدیبیہ سے واپس لوٹے (اور سورۂ فتح نازل ہوئی) تو ایک صحابی نے عرض کیا: "مَا ھذا الفَتح لقد صَدَدنا عن البیت وصدّ ھدینا۔" یہ کیا فتح ہے کہ ہمسیں خانۂ خدا کی زیارت سے بھی روک دیا ہے اور ہماری قربانی میں بھی رکاوٹ ڈال دی؟! پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: " بئس الكلام هذا، بل هو أعظم الفتوح، قد رضى المشركون أن يَدفعوكُم عَن بلادهم بِالراع، وَيَسئَلوكُم القضيّة، وَرَغَبُوا إِلَيكُم فِى الأمان وَقَد رَأَوا منكم مَا كَرِهُوا!: "تو نے بہت بُری بات کہی ہے، بلکہ یہ تو ہماری عظیم ترین فتح ہے کہ مشرکین اس بات پر راضی ہو گئے ہیں کہ تمہیں خشونت آمیز طریقہ سے ٹکر لیے بغیر اپنے سرزمین سے دُور کریں اور تمہارے سامنے صلح کی پیش کش کریں اور ان تمام تکالیف اور رنج و غم کے باوجود جو تمہاری طرف سے انہوں نے اٹھائے ہیں، ترکِ تعرض کے لیے تمہاری طرف مائل ہُوئے ہیں۔" (بحوالہ: "جوامع الجوامع" (نور الثقلین، جلد ٥، صفحہ ٤٨۔ حدیث ٩ کے مطابق)۔ اس کے بعد پیغمبرؐ نے وہ تکالیف جو انہوں نے بدر و احزاب میں جھیلی تھیں انہیں یاد دلائیں، تو مسلمانوں نے تصدیق کی یہ سب سے بڑی فتح تھی اور انہوں نے لاعلمی کی بناء پر یہ فیصلہ کیا تھا۔ (بحوالہ: "تفسیر دُر المنثور" جلد ٦، صفحہ ٦٨)۔ "زھری" جو ایک مشہور تابعی ہے، کہتا ہے: کوئی بھی فتح "صلح حدیبیہ" سے زیادہ عظیم نہیں تھی، کیونکہ مشرکین نے مسلمانوں کے ساتھ ارتباط اور تعلق پیدا کیا، اور اسلام ان کے دلوں میں جاں گزیں ہوا، اور تین ہی سال کے عرصہ میں ایک عظیم گروہ اسلام لے آیا اور مسلمانوں میں ان کی وجہ سے اضافہ ہوا۔ (بحوالہ: "مذکورہ مدرک صفحہ ١٠٩)۔ ان احادیث میں، ان امتیازات کے ایک گوشہ کی طرف، جو صلح حدیبیہ کی برکت سے مسلمانوں کو نصیب ہوئے اشارہ ہوا ہے۔ صرف ایک ہی حدیث میں امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام سے آیا ہے کہ "إِنَّا فَتَحْنا"، "فتح مکہ" کے بعد نازل ہوئی۔ (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ٥، صفحہ ٤٨)۔ لیکن چونکہ "صلح حدیبیہ" دو سال بعد مکّہ کی فتح کے لیے ایک مقدمہ اور تمہید تھی لہذا اس حدیث کی توجیہ میں کوئی مشکل نہیں ہو گی۔ یا دوسرے لفظوں میں صلح حدیبیہ مختصر سی مدّت میں فتح خیبر کا سبب بنی (جو ہجرت کے ساتویں سال ہوئی) اور اس سے تھوڑا سا آگے فتح مکّہ کا سبب بنی، اور دُنیا کے تمام علاقوں میں لوگوں کے دلوں میں نفوذ کرنے کے لحاظ سے اسلام کی کامیابی کا سبب ہوئی۔ گویا اس طرح سے چاروں تفاسیر کو جمع کیا جا سکتا ہے، اس شرط کے ساتھ کہ ان سب کا محور اصلی "صلح حدیبیہ" ہی کو قرار دیا جائے۔

2
48:2
لِّيَغۡفِرَ لَكَ ٱللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنۢبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعۡمَتَهُۥ عَلَيۡكَ وَيَهۡدِيَكَ صِرَٰطٗا مُّسۡتَقِيمٗا
مقصد یہ تھا کہ خدا تیرے گذ شتہ و آئندہ کے وہ گناہ جن کی وہ تیر ی طرف نسبت دیتے تھے، بخش دے، اور تجھ پر اپنی نعمت کو تمام کر دے، اور تجھے راہ راست کی طرف ہدایت کرے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 3 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
48:3
وَيَنصُرَكَ ٱللَّهُ نَصۡرًا عَزِيزًا
اور شکست نا پذیر کا میابی کو تیرے نصیب کرے۔

تفسیر فتح مبین کے عظیم نتائج

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

ان دو آیات میں "فَتحٌ مُبینٌ" (صلح حدیبیہ) جو گزشتہ آیت میں بیان ہوئی تھی، اُس کے پُر برکت نتائج کے ایک حِصّہ کی تشریح ہوئی ہے، فرماتا ہے: مقصد یہ تھا کہ خدا تیرے پہلے اور بعد کے گناہ بخشش دے۔ اور اپنی نعمت کو تجھ پر تمام کر دے اور تجھے راہ راست کی ہدایت کرے۔" (لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ ما تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِراطاً مُسْتَقِيماً)۔ "اور تجھے شکست ناپذیر فتح تک پہنچائے" :(وَيَنصُرَكَ اللهُ نَصْرًا عَزِيزًا)۔ اور اس طرح سے خدا نے اپنے پیغمبر کو فتح مبین کے سائے میں چار عظیم نعمتیں عطا فرمائیں: مغفرت، تکمیل نعمت، ہدایت و نصرت۔

چند اہم نکات ١۔ چند اہم سوالات کے جواب

یہاں بہت سے سوالات پیش ہُوئے ہیں اور قدیم ترین زمانہ سے لے کر اب تک مفسرین ان سوالات کے جواب دے رہے ہیں۔ خصوصاً پہلی خدائی نعمت "یعنی گزشتہ اور آیندہ کے گناہوں کی مغفرت" کے بارے میں ذیل کے متین سوال پیش ہُوئے ہیں۔ ١۔جب کہ پیغمبر مقامِ عصمت کی بنا پر ہر گناہ سے پاک ہیں تو پھر اس جُملہ سے کیا مراد ہے؟ ٢۔بالفرض اگر ہم اعتراض سے صرف نظر بھی کر لیں تو "فتح حدیبیہ" اور گناہوں کی آمرزش کے درمیان کون سا ربط ہے۔ ٣۔اگر "مَا تَأَخَّرَ" سے مراد آیندہ کے گناہ ہیں تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ جو گناہ ابھی واقع ہی نہیں ہُوا اُسے معاف کیا جائے؟ کیا یہ آیندہ کے لیے ارتکاب گناہ کی اجازت نہیں ہے؟ مفسرین میں سے ہر ایک نے کسی نہ کسی صورت میں ان اعتراضات کا جواب دیا ہے، لیکن جامع ترین جواب اور ان آیات کی دقیق تفسیر کی تہ تک پہنچنے کے لیے ایک بات کا ذِکر کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ اور وہ اہم بات یہ ہے کہ ہم "فتح حدیبیہ" کا آمرزش گناہ، کے مسئلہ کے ساتھ ربط معلوم کریں، کیونکہ اُوپر کے تینوں سوالات کے اصل جواب کی چابی اسی میں چھپی ہوئی ہے۔ تاریخی واقعات اور حوادث پر غور و فکر کرنے سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ: جس وقت کوئی سچا مذہب یا مکتبِ خیال ظاہر ہوتا ہے، اور وہ قائم ہونے کی کوشش کرتا ہے، تو بےہودہ رسم و رواج کے وفادار۔جو اپنے وجود کو خطرے میں پاتے ہیں۔ ہر قسم کی تہمت اور ناروا نسبت اس کے سر تھوپتے ہیں، افواہیں پھیلاتے ہیں، جھوٹی باتیں کرتے ہیں، اس کے مختلف نقص گنواتے ہیں اور اس انتظار میں رہتے ہیں کہ دیکھیں اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ اگر یہ مکتب اپنی پیش رفت کی راہ میں شکست سے دوچار ہو جائے، تو مخالفین کے ہاتھ میں، ناروا نسبتوں کی۔ ایک محکم دستاویز آ جاتی ہے، اور وہ چیخنے چلانے لگتے ہیں۔ ہم نے کہا نہیں تھا کہ اس طرح ہے، ہم کہتے ہیں تھے کہ یہ بات ہے؟۔ لیکن جب وہ کامیابی سے ہم کنار ہو جائے، اور اپنے پروگراموں کو کٹھن آزمائش سے گزرتے ہُوئے پورا کر لے، تو تمام ناروا نسبتیں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں اور تمام اس طرح کے فقرے ہم نے نہیں کہا تھا؟ افسوس و ندامت میں بدل جاتے ہیں، اور اس کی جگہ، ہم نہیں جانتے تھے، ہمیں معلوم نہیں تھا جیسے فقرے آ جاتے ہیں۔ خصوصاً پیغمبر اسلامؐ کے بارے میں یہ ناروا نسبتیں اور خیالی گناہ بہت زیادہ تھے، آپ کو جنگ طلب، آگ بھڑکانے والا، سچے رسم و رواج کی پرواہ نہ کرنے والا، افہام و تفہیم کے ناقابِل، اور اسی قسم کی دوسری باتوں کا مرتکب سمجھتے تھے۔ صلح حدیبیہ نے اچھی طرح سے نشاندہی کر دی کہ آپ کا دین۔ دشمنوں کے خیال کے برخلاف۔ ایک ترقی کرنے والا اور خدائی دین ہے، اور آپ کے قرآن کی آیات انسانوں کے نفوس کی تربیت کی ضامن، اور ظلم و ستم و خونریزی کو ختم کرنے والی ہیں۔ وہ خانۂ خدا کا احترام کرتے ہیں، بلاوجہ کسی قوم و قبیلہ پر حملہ نہیں کرتے، دلیل کے ساتھ جچی تلی بات کرتے ہیں، اُن کے پیروکار اُن کے عاشق ہیں، وہ واقعاً تمام انسانوں کو ان کے محبُوب اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں اور اگر اس کے دشمن جنگ کو اس کے اوپر سوار ہی نہ کر دیں، تو وہ صلح اور امن و سلامتی کے طالب ہیں۔ اس طرح سے صلح حدیبیہ نے، وہ تمام الزام جن کی ہجرت سے پہلے اور ہجرت کے بعد، یا وہ تمام تہمتیں جن کی اس ماجرے سے پہلے یہاں تک کہ وہ گناہ بھی جن کے آپ کی طرف آیندہ نسبت دینے کا امکان تھا، ان سب کو دھو دیا۔ اور چونکہ خدا نے پیغمبر کو یہ کامیابی نصیب فرمائی، لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ خدا نے ان سب کو دھو دیا۔ نتیجہ اس کا یہ ہے کہ یہ الزامات واقعی الزام نہیں تھے، بلکہ ایسے الزام تھے جو خیالی لوگوں کے افکار میں تھے، جنہیں انہوں نے باور کر لیا تھا، جیسا کہ سورۂ شعراء کی آیت ١٤ میں مُوسیٰ علیہ السلام کی داستان میں بیان ہوا ہے کہ مُوسیٰ علیہ السلام نے بارگاہِ خدا میں عرض کیا۔ وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنْبٌ فَأَخافُ أَنْ يَقْتُلُونِ: "فرعونیوں کا میرے اوپر ایک گناہ ہے، میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے اس گناہ کے جُرم میں قتل کر دیں گے" حالانکہ آپ کا گناہ بنی اسرائیل کے ایک مظلوم آدمی کی مدد کرنے اور فرعونیوںمیں سے ایک ستمگر کی سرکوبی کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ یہ بات واضح ہے کہ یہ نہ صرف گناہ نہیں تھا، بلکہ مظلوم کی حمایت تھی، لیکن فرعونیوں کی نظر میں وہ گناہ شمار ہوتا تھا۔ دوسرے لفظوں میں "ذنب" لغت میں کسِی کام کے بُرے آثار اور اس کے پیچھے آنے والے نتائج کے معنی میں ہے، ظہورِ اسلام نے آغاز میں مشرکین کی زندگی کو درہم برہم کر کے رکھ دیا۔لیکن بعد کی کامیابیاں اس بات کا سبب بن گئیں کہ وہ نتائج فراموشی کے سپرد کر دیئے جائیں۔ اگر لوگ ہمارے پرانے اور فرسودہ گھر کو جو اس وقت ہماری پناہ گاہ کا کام دیتا ہے اور ہم اس سے دل بستگی رکھتے ہیں خراب کر دیں، تو ممکن ہے کہ ہم اس کام کو ان کی خطا اور غلطی کہیں اور اُسے ان کا ایک گناہ سمجھیں، لیکن جب ایک محکم اور آراستہ عمارت اس کی جگہ بنا دی جائے اور ہماری تمام پریشانیاں دور کر دی جائیں، تو پھر ہمارا فیصلہ کلی طور پر بدل جائے گا۔ مشرکین مکّہ ہجرت سے پہلے بھی اور ہجرت کے بعد بھی اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں غلط قسم کے خیالات و تصور رکھتے تھے، بعد والی کامیابیوں نے اُن سب پر خط بطلان کھینچ دیا۔ ہاں! اگر ہم ان گناہوں کی آمرزش کا فتح حدیبیہ کے ساتھ تعلق نظر میں رکھیں تو مطلب مکمل طور پر واضح ہو جائے گا۔ وہ رابط جو " لِيَغْفِرَ لَكَ الله" کی لام سے معلوم ہوتا ہے اور آیت کے معنی کھولنے کے لیے کلید رمز ہے۔ لیکن جنہوں نے اس نکتہ کی طرف توجہ نہیں کی وہ یہاں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام عصمت کو زیر سوال لے آتے ہیں۔ اور آپ کے لیے (نَعوذُ بِاللہ) گناہوں کے قائل ہُوئے ہیں۔ جنہیں خدا نے فتح حدیبیہ کے سائے میں بخش دیا ہے، یا پھر آیت کا ظاہر کے برخلاف معنی کیا ہے۔ ان میں سے بعض نے تو یہ کہا ہے کہ اس سے مراد گناہ ہی ہیں۔ اور بعض نے یہ کہا ہے کہ اس سے مراد وہ گناہ ہیں جن کے لوگ پیغمبر کے بارے میں مرتکب ہُوئے تھے، مثلاً اذیت اور تکلیفیں جو صلح حدیبیہ کے بعد ختم ہو گئیں (اس صورت میں) (ذنب کی مفعول کی طرف اضافت ہوئی نہ کہ فاعل کی طرف)۔ اور یا اُسے ترکِ اولیٰ کے معنی میں لیا ہے۔ یا فرضی گناہوں کے معنی سے تفسیر کیا ہے کہ فرض کرو اگر تو آیندہ یا گزشتہ زمانے میں گناہ کا مرتکب ہوا ہوتا تو ہم اُسے بخش دیتے۔ علاوہ ازیں، وہ خود ایک رہبر و رہنما کا محتاج ہو گا جو اُسے ہدایت کرے۔ اور بہت سی دوسری تفسیریں بھی ہیں، جو ظاہر کے خلاف ہیں، اور ان میں اہم اشکال یہ ہیں۔ کہ وہ آ مرزش گناہ کا ارتباط صلح حدیبیہ کے مسئلہ سے منقطع کر دیتی ہیں، بہترین تفسیر وہی ہے جس کی طرف اُوپر اشارہ ہوا ہے، جو تینوں سوالات کا یکجا جواب دیتی ہے۔ اور آیت کے جُملوں کے ارتباط کو مشخص کرتی ہے۔ یہ سب بحث تو ان چاروں نعمتوں میں سے پہلی نعمت کے بارے میں ہے، اور جو خدا نے صلح حدیبیہ کے سائے میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دی تھیں۔ اب باقی رہ گیا پروردگار کی نعمت کی تکمیل، صاف اور مستقیم راستے کی طرف ہدایت، اور شکست ناپذیر خدائی نصرت، تو حدیبیہ کی کامیابی کے بعد یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے، جو کسِی پر مخفی رہی ہو، اسلام نے تیز ی کے ساتھ وسعت پیدا کی، آمادہ دلوں کو تسخیر کیا، اس کی تعلیمات کی عظمت سب پر آشکار ہوئی، زہریلے پروپیگنڈوں کو ناکارہ کر دیا اور خدا کی نعمت کو کامل کر دیا، اور عظیم کامیابیوں کی طرف راہِ مستقیم کو اس طرح سے ہموار کیا، کہ فتح مکّہ کے واقعہ میں لشکرِ اسلام نے بغیر کسی مذاحمت کے دشمن کا اہم ترین قلعہ فتح کر لیا۔

٢۔ "ماتقدم" اور "ماتأخّر" سے کیا مراد ہے؟

زیر بحث آیت میں یہ بیان ہُوا ہے کہ خدا فرماتا ہے: فتح مبین کے سایے میں تیرے پہلے گناہ بھی اور آیندہ کے گناہ بھی بخشش دیئے ہیں، اس بارے میں کہ متقدم اور متأخر (پہلے اور آیندہ کے) سے کیا مراد ہے، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض نے "ما تَقَدَّمَ" کو آدم و حوا کے عصیان اور ترکِ اولیٰ کی طرف اشارہ سمجھا ہے،اور "ما تأخّر" کو امت کے گناہوں کی طرف۔ بعض دوسروں نے "ما تَقَدَّمَ" کو نبوّت سے قبل کے مسائل سے مربُوط جانا ہے اور "مَا تَأَخَّر" کو نبوّت سے بعد کے ساتھ مربوط سمجھا ہے۔ بعض نے "ما تَقَدَّمَ" کو ان ( گناہوں) سے جو صلح حدیبیہ سے پہلے ہُوئے تھے، اور "مَا تَأَخَّر" کو اُن سے جو صلح کے بعد ہُوئے، مربُوط سمجھا ہے۔ لیکن اس تفسیر کی طرف توجہ کرتے ہُوئے، جو ہم نے آیت کے اصل معنٰی کے بارے میں خاص طور پر صلح حدیبیہ کے مسئلہ کے ربط میں۔ بیان کی ہے، یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اس سے مراد وہ تمام ناروا نسبتیں اور گناہ ہیں جو وہ اپنے گمان کے مطابق پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گزشتہ زمانے میں منسُوب کرتے رہتے تھے یا آیندہ کرتے، اور اگر یہ عظیم کامیابی نصیب نہ ہوئی ہوتی تو وہ ان تمام گناہوں کو قطعی و یقینی خیال کر لیتے، لیکن اس کامیابی کے حصول کے ساتھ گزشتہ ناروا نسبتیں بھی ختم ہو گئیں، اور وہ بھی جن کے بارے میں ممکن تھا کہ آیندہ نسبت دیتے۔ اس تفسیر کا ایک دوسرا شاہد وہ روایت ہے، جو امام علی ابن مُوسیٰ الرضا علیہ السلام سے منقول ہوئی ہے کہ مامون نے جس وقت اس آیت کے متعلق سوال کیا تو امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: مشرکین مکّہ کے نزدیک کسی شخص کا گناہ رسول اللہؐ سے زیادہ سنگین نہیں تھا، کیونکہ وہ ٣٣٠ بتوں کی پرستش کیا کرتے تھے، جس وقت پیغمبرؐ نے انہیں توحید کی طرف دعوت دی تو ان پر بہت گراں گزرا، اور انہوں نے کہا: کیا اس نے ہمارے سب خداؤں کو ایک خدا میں تبدیل کر دیا ہے؟ یہ تو ایک عجیب بات ہے ... ہم نے ہرگز اس قسم کی کوئی بات اپنے آباؤ اجداد سے نہیں سُنی، یہ تو ایک بہت بڑا جُھوٹ ہے۔ لیکن جس وقت خدا نے (صلح حدیبیہ کے بعد) اپنے پیغمبرؐ کے لیے فتح کر دیا، تو خدا نے فرمایا، اسے محمد ہم نے تیرے لیے فتح مبین فراہم کی ہے تاکہ توحید کی طرف دعوت دینے کی بناء پر مشرکین عرب کے نزدیک جتنے گناہ تو نے پہلے کیے تھے یا آیندہ کرے گا ان سب کو بخش دیا،کیونکہ بعض مشرکین مکّہ تو اس دن ایمان لا چکے تھے، اور بعض مکّہ سے باہر نکل گئے تھے۔ اور ایمان نہیں لائے تھے، لیکن ان میں اب توحید کا انکار کرنے کی جرأت باقی نہیں رہی تھی، لہٰذا پیغمبرؐ کا گناہ ان کی نظر میں بھی کامیابی کی بناء پر بخشا گیا، جس وقت مامون نے یہ سُنا تو کہا بارک اللہ، اے ابوالحسن! (نور الثلقین، جلد ٥، صفحہ ٥٦)۔

4
48:4
هُوَ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ ٱلسَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ لِيَزۡدَادُوٓاْ إِيمَٰنٗا مَّعَ إِيمَٰنِهِمۡۗ وَلِلَّهِ جُنُودُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمٗا
وہی تو ہے جس نے مومنین کے دلوں میں سکون و اطمینان نازل فرمایا۔ تاکہ ان کے ایمان میں مزید ایمان کا اضافہ ہو، نیز آسمانوں اور زمین کے لشکر خدا ہی کے لئے ہیں اور خدا دانا وحکیم ہے۔

تفسیر مؤمنین کے دلوں پر نزول سکینہ

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

گزشتہ آیات میں جو کچھ بیان ہُوا ہے، وہ اتنی عظیم نعمتیں تھیں جو خدا نے فتح مبین (صلح حدیبیہ) کے سایے میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطا فرمائی تھیں، لیکن زیر بحث آیت میں اس عظیم نعمت کے بارے میں بحث کر رہا ہے جو اس نے تمام مومنین کو مرحمت فرمائی ہے، فرماتاہے: وہی تو ہے، جس نے مومنین کے دلوں میں سکون اور اطمینان نازل کیا، تاکہ ان کے ایمان میں مزید ایمان کا اضافہ کرے۔" (هُوَ الَّذِي أَنزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ لِيَزْدَادُوا إِيْمَانًا مَّعَ إِيْمَانِهِمْ)۔ اور سکون و اطمیان ان کے ذیل دلوں پر نازل کیوں نہ ہو، درآنحالیکہ آسمانوں اور زمین کے لشکر خدا کے لیے ہیں۔ اور خدا دانا و حکیم ہے۔" (وَلِلهِ جُنُودُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَكَانَ اللهُ عَلِيمًا حَكِيمًا)۔

یہ سکینہ کیا تھا؟

ضروری ہے کہ ہم پھر صلح حدیبیہ کی داستان کی طرف لوٹیں اور اپنے آپ کو "صلح حدیبیہ" کی فضا میں اور اس فضاء میں جو صلح کے بعد پیدا ہوئی، تصور کریں تاکہ آیت کے مفہوم کی گہرائی سے آشنا ہو سکیں۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ایک خواب دیکھا تھا۔ "ایک رؤیائے الہٰی و رحمانی۔" کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ مسجد الحرام میں داخل ہو رہے ہیں۔ اور اس کے بعد خانۂ خدا کی زیارت کے عزم کے ساتھ چل پڑے زیادہ تر صحابہ یہی خیال کرتے تھے کہ اس خواب اور رؤیائے صالحہ کی تعبیر اس سفر میں واقع ہو گی، حالانکہ مقدر میں ایک دوسری چیز تھی یہ بات تو ایک ہوئی۔ دوسری طرف مسلمانوں نے احرام باندھا ہوا تھا، اور وہ قربانی کے جانور اپنے ساتھ لائے تھے، لیکن ان کی توقع کے برخلاف خانۂ خدا کی زیارت کی سعادت تک نصیب نہ ہوئی، اور پیغمبرؐ نے حکم دے دیا کہ مقامِ حدیبیہ میں ہی قربانی کے اونٹوں کو نحر کر دیں۔ کیونکہ ان کے آداب و سنن کا بھی اور اسلامی احکام و دستور کا بھی یہی تقاضا تھا کہ جب تک مناسک عمرہ کو انجام نہ دے لیں احرام سے باہر نہ نکلیں۔ تیسری طرف حدیبیہ کے صلح نامہ میں کچھ ایسے امور تھے جن کے مطالب کو قبول کرنا بہت ہی دشوار تھا، منجملہ ان کے یہ کہ اگر قریش میں سے کوئی شخص مسلمان ہو جائے اور مدینہ میں پناہ لے لے تو مسلمان اُسے اس کے گھر والوں کے سپرد کر دیں گے، لیکن اس کے برعکس لازم نہیں تھا۔ چوتھی طرف صلح نامہ کی تحریر کے موقع پر قریش اس بات پر تیار نہ ہُوئے کہ لفظ "رسول اللہ" محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام کے ساتھ لکھا جائے، اور قریش کے نمائندے "سہیل" نے اصرار کر کے اسے حذف کرایا، یہاں تک کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کے لکھنے کی بھی موافقت نہ کی، اور وہ یہی اصرار کرتا رہا کہ اس کے بجائے " بسمك اللّٰھم" لکھا جائے، جو اہل مکہ کی عادت اور طریقہ کے مطابق تھا، واضح رہے کہ ان امور میں سے ہر ایک علیٰحدہ علیٰحدہ ایک ناگوار امر تھا، چہ جائیکہ وہ سب کے سب مجموعی طور پر سے۔ اسی لیے ضعیف الایمان لوگوں کے دل ڈگمگا گئے، یہاں تک کہ جب سورہ فتح نازل ہوئی تو بعض نے تعجب کے ساتھ پوچھا: کون سی فتح؟! یہی وہ موقع ہے جب نصرت الہٰی کو مسلمانوں کے شامل حال ہونا چاہئے تھا، اور سکون و اطمینان ان کے دلوں میں داخل ہوتا تھا۔ نہ یہ کہ کوئی فتور اور کمزوری ان میں پیدا ہوتی تھی، بلکہ "لِيَزْدَادُوا إِيْمَانًا مَّعَ إِيْمَانِهِمْ" کے مصداق ان کی قدرتِ ایمانی میں اضافہ ہونا چاہیے تھا۔ اوپر والی آیت ایسے حالات میں نازل ہوئی۔ "سکینہ" اصل میں "سکون" کے مادہ سے ولی آ رام و اطمینان کے معنی میں ہے، جو ہر قسم کے شک و تردد اور وحشت کو انسان سے زائل کر دیتا ہے، اور اس کو طوفان حوادث میں ثابت قدم رکھتا ہے۔ ممکن ہے اس سکون میں اعتقادی پہلو ہو، اور وہ اعتقاد میں ڈگمگانے سے بچائے، یا اس میں عملی پہلو ہو اس طرح سے کہ وہ انسان کو ثبات قدم، مقاومت اور صبر و شکیبائی بخشے. البتہ گزشتہ مباحث کی مناسبت سے اور خود آیت کی تعبیر یںیہایں، یہاں زیادہ تر پہلے معنی کی طرف نظر جاتی ہے، جبکہ سورۂ بقرہ کی آ یہ ٢٤٨ داستان طالوت و جالوت میں زیادہ تر عملی پہلوؤں پر تکیہ کرتی ہے۔ مفسرین کی ایک جماعت نے سکینہ کے لیے کچھ اور معنی بھی ذکر کیے ہیں۔ جن کی بازگشت آخر کار اسی تفسیر کی طرف ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ بعض روایات میں سکینہ کی ایمان کے ساتھ تفسیر ہوئی۔ (بحوالہ: تفسیر برہان، جلد ٢، صفحہ ١١٤) اور بعض دوسری روایات میں نسیم جنت سے جو ایک خاص صورت میں ظاہر ہوتی ہے اور مومنین کو سکون و آرام بخشتی ہے۔ (بحوالہ: تفسیر برہان، جلد ٢، صفحہ ١١٤)۔ جو کُچھ بیان ہوا ہے، یہ بھی ان کے لیے ایک تائید ہے، کیونکہ سکینہ ایمان کی پیداوار ہے اور نسیم بہشتی کی طرح آرام بخشش ہوتی ہے۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے،کہ "سکینہ" کے بارے میں إنزال (نازل کرنے)کی تعبیر ہوئی، اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں۔ یہ تعبیر قرآن مجید میں بعض اوقات، ایجاد، و خلقت اور بخشش کے معنی میں آتی ہے اور چونکہ ایک عالی مقام سے ایک پست مقام کی طرف سے اس لیے اس تعبیر کی خوبی واضح ہے۔

چند اہم نکات ١۔ بےمثال آرام و سکون

اگر ایمان کا ثمر اور نتیجہ اسی سکون و آرام کے مسئلہ کے سوا اور کچھ نہ ہوتا، تو یہی کافی تھا کہ انسان اپنے پُورے وجود کے ساتھ اس کا استقبال کرے، جبکہ اس میں دوسرے ثمرات و برکات بھی موجود ہیں۔ مؤمنین اور بےایمان لوگوں کی حالت کا مطالعہ اس حقیقت کو واضح کر دیتا ہے، کہ دوسرا گروہ ایک دائمی اضطراب اور پریشانی کی حالت میں بسر کرتا ہے، جب کہ پہلا گروہ بمیثال اطمینانِ قلب سے بہرہ مند ہے، اور اس کے سائے میں ہے۔ ہرگز خدا کے سوا کسِی سے نہیں ڈرتا: "وَلَا يَخْشَوْنَ أَحَدًا إِلَّا اللهَ۔" (احزاب۔ ٣٩)۔ ان کے آہنی ارادے میں اس کی اور اُس کی ملامت و سرزنش ہرگز اثر انداز نہیں ہوتی،: وَلاَ يَخَافُونَ لَوْمَةَ لاَئِمٍ: (مائدہ۔٥٤)۔ جو کچھ ہاتھ سے چلا جائے اس پر ہرگز غمگین نہیں ہوتے اور جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے اس سے زیادہ دل بستگی نہیں رکھتے، اور یہ دونوں اصول اس بات کا سبب بنتے ہیں کہ گزشتہ اور آیندہ کے لحاظ سے ان کا وحی سُکون متزلزل نہ ہو، "للِكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ۔" (حدید۔ ٢٣)۔ اور بالآخر سخت اور شدید حوادث کے مقابلہ میں ہرگز بھی سست اور کمزور نہیں ہوتے، اور کسی غم کو اپنے پاس بھٹکنے نہیں دیتے۔ گویا مومنین ہمیشہ اپنے دشمن سے برتر رہتے ہیں: "وَلاَ تَهِنُوا وَلاَ تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ": (آل عمران۔ ١٣٩)۔ مؤمن میدانِ حوادث میں خود کو تنہا نہیں سمجھتا، خدا کے لطف و حمایت کے ہاتھ کو ہمیشہ اپنے سر پر محسوس کرتا ہے اور فرشتوں کی مدد و نصرت کو اپنے وجود میں محسُوس کرتا ہے۔ جب کہ بےایمان لوگوں پر چھائی ہوئی بےچینی اور اضطراب ان کی گفتار و رفتار سے۔ خصوصاً جب حوادث کے طوفان چل رہے ہوں۔ پورے طور پر محسوس ہوتا ہے۔

٢۔ مراتب ایمان کا سلسلہ

ایمان چاہے علم و آگاہی اور معرفت کے معنی میں ہو، اور چاہے حق کے سامنے تسلیم و قبولیّت کی رُوح کے معنی میں، کئی درجے اور سلسلہ، مراتب رکھتا ہے، کیونکہ علم کے کئی درجے ہوتے ہیں اور قبول کرنے اور سر تسلیم خم کرنے کے بھی مختلف مراتب ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ عشق کے لگاؤ اور ایمان سے تو أم محبت میں بھی فرق ہوتا ہے۔ زیر بحث آیت جو یہ کہتی ہے: لِيَزْدَادُوا إِيْمَانًا مَّعَ إِيْمَانِهِمْ: بھی اسی حقیقت پر ایک تاکید ہے، اسی بناء پر ایک مومن آدمی کو ایمان کے کسِی ایک مرحلہ پر ہرگز رکنا نہیں چاہیے، وہ ہمیشہ خود گری کرتے ہُوئے علم اور عمل کے ذریعہ بالاتر درجات کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: "إنّ الإيمَانَ عَشرَ درجاتٍ بِمنزلةِ السّلم يَصعَد منهُ مرقاة بَعدَ مرقاة۔ ایمان کے دس درجے ہیں، مثل سیڑھی کے، جس کے ایک درجہ پر اُس سے اُوپر جاتے ہیں۔ (بحوالہ: بحار الانوار، جلد ٦٩، صفحہ ١٦٥)۔ ایک دوسری حدیث میں آپؑ ہی سے منقول ہے: "خدا نے ایمان کو سات حصّوں پر تقسیم کیا ہے، نیکی، صدق، یقین، رضا، وفا، علم اور حِلم۔ پھر اسے لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیا، جو شخص ان تمام ساتوں حِصّوں کا حامل ہے، وہ کامل و معتمد مؤمن ہے۔ لوگوں میں سے بعض تو ایک حِصّہ رکھتے ہیں، بعض دو اور بعض تین، یہاں تک کہ بعض سات تک پہنچ جاتے ہیں۔" اس کے بعد امامؑ نے مزید فرمایا: جو وظیفہ اور ذمہ داری دو حصوں والے کی ہے۔ اسے ایک حصّہ والے کے کندھے پر نہ رکھو، اور جو بات تین حصّوں والے سے مربُوط ہے اسے دو حصّوں والے کے دوش پر نہ ڈالو، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کا بار زیادہ ہو جائے اور وہ زحمت میں جا پڑیں۔ (بحوالہ: "کافی" جلد ٣ باب درجات الاایمان، حدیث ١)۔ یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ وہ چیز جو بعض سے نقل کی گئی ہے کہ ایمان میں کمی و زیادتی نہیں ہے، بہت ہی بےبنیاد سی بات ہے کیونکہ وہ تو وہ علمی واقعات کے ساتھ سازگار ہے اور نہ ہی اسلامی روایات کے ساتھ، لگاّ کھاتی ہے۔

٣۔ سکون کے دو اہم وسیلے

زیر بحث آیت کے ذیل میں ہم نے دو جُملے پڑھے ہیں، جن میں سے ہر ایک سکینہ اور مؤمنین کے آرام و اطمینان کے عوامل کو بیان کرتا ہے،: پہلا تو " وَلِلهِ جُنُودُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ" (آسمانوں اور زمین کا لشکر خدا کے لیے ہے اور اس کے حکم کے ماتحت ہے) کا جُملہ ہے۔ اور اس کے بعد دوسرا "وَكَانَ اللهُ عَلِيمًا حَكِيمًا۔" (خدا علیم و حکیم ہے) کا جملہ ہے۔ پہلا جُملہ انسان سے کہتا ہے کہ اگر تو خدا کے ساتھ ہو تو زمین و آسمان کی ساری قوتیں تیرے ساتھ ہیں، اور دوسرا جُملہ اس سے یہ کہتا ہے کہ خدا تیرے احتیاجات، مشکلات اور مصیبتوں کو بھی جانتا ہے اور تیری جدّ و جہد تیری کوششوں اور اطاعت و بندگی سے بھی باخبر ہے اور ان دونوں اصولوں کے ہوتے ہُوئے کیسے ممکن ہے کہ انسان کو سکون قلب اور اطمینان خاطر حاصل نہ ہو۔

5
48:5
لِّيُدۡخِلَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا وَيُكَفِّرَ عَنۡهُمۡ سَيِّـَٔاتِهِمۡۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عِندَ ٱللَّهِ فَوۡزًا عَظِيمٗا
(اس فتح مبین سے ایک اور) مقصد یہ تھا کہ صاحب ایمان مردوں اور صاحب ایمان عورتوں کو( بہشت کے) باغوں میں داخل کر ے، جن کے( درختوں کے) نیچے نہریں جاری ہیں اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے ،وہ ان کے گناہوں کو بخش دے اور یہ خدا کے نزدیک بہت بڑی کامیابی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
48:6
وَيُعَذِّبَ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ وَٱلۡمُنَٰفِقَٰتِ وَٱلۡمُشۡرِكِينَ وَٱلۡمُشۡرِكَٰتِ ٱلظَّآنِّينَ بِٱللَّهِ ظَنَّ ٱلسَّوۡءِۚ عَلَيۡهِمۡ دَآئِرَةُ ٱلسَّوۡءِۖ وَغَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِمۡ وَلَعَنَهُمۡ وَأَعَدَّ لَهُمۡ جَهَنَّمَۖ وَسَآءَتۡ مَصِيرٗا
اور (اس کے علاوہ) منافق مردوں، منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو، جو خدا کے بارے میں برے برے گمان رکھتے ہیں۔ عذاب کرے اوروہ برے حادثات (جن کے وہ مومنین پر نازل ہو نے کے منتظر ہیں )صرف انہی پر نازل ہوں گے۔ خدا نے ان پر غضب فرمایا ہے، انہیں اپنی رحمت سے دور رکھتا ہے، اور جہنم ان کے لئے آمادہ و تیار ہے اور یہ کتنا برا انجام ہے!

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
48:7
وَلِلَّهِ جُنُودُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا
آسمانوں اور زمین کے لشکر صرف خدا کے لئے ہیں اور خدا شکست نا پذیر اور حکیم ہے۔

تفسیر فتح مبین کا ایک اور نتیجہ

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

شیعہ اور اہل سنّت مفسرین کی ایک جماعت نے نقل کیا ہے، کہ جس وقت اس سُورہ کی ابتدائی آیات میں پیغمبر اسلام کو فتح مبین، اتمام نعمت، ہدایت اور نصرت کی بشارت دی گئی، تو بعض مسلمانوں نے جو حوادث حدیبیہ سے دل تنگ اور پریشان تھے، عرض کیا۔ هنيئًا لك يَا رسولَ اللہ! لقد بين اللہ لك ماذا يفعل بك، فما ذا يفعل بنا؟ فنزلت: لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَ الْمُؤْمِناتِ ...۔" اے خدا کے رسول یہ تمام خدائی نعمتیں آپ کو مبارک، خدا نے جو کچھ آپ کو دیا ہے یا دے گا اُسے تو اس نے بیان کر دیا ہے، ہمیں وہ کیا دے گا؟ اس موقع پر پہلی زِیر بحث آیت نازل ہوئی، اور مومین کو بشارت دی کہ ان کے لیے بھی بڑا ثواب اور اجر عظیم ہے (بحوالہ: تفسیر "مراغی"، "جلد ٢٦، صفحہ ٨٥ و تفسیر ابو الفتوح رازی، جلد ١٠، صفحہ ٢٦ و تفسیر روح المعانی، جلد ٢٦ صفحہ ٨٦)۔ بہرحال، یہ آیات اس طرح صلح حدیبیہ سے مربوط لوگوں کے افکار میں مختلف عمل، اور اس کے وزنی نتائج کے بارے میں گفتگو کر رہی ہیں، اور ہر گروہ کی سرنوشت کو اس عظیم آزمائش کی بھٹی میں مشخص کرتی ہیں۔ پہلے فرماتا ہے کہ اس عظیم فتح کا دوسرا مقصد یہ تھا کہ صاحب ایمان مردوں اور عورتوں کو جنت میں داخل کرے، جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں۔"(لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِناتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهارُ)۔ “وہ ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے، اور یہ عظیم نعمت ہرگز ان سے چھینی نہیں جائے گی(خالِدِينَ فِيها)۔ اس کے علاوہ یہ مقصد بھی تھا کہ ان کے بُرے اعمال پر پردہ ڈال دے اور انہیں معاف کر دے (وَيُكَفِّرَعَنْهُمْ سَيِّئاتِهِم)۔ اور یہ خدا کے نزدیک ایک عظیم کامیابی ہے (وَکَانَ ذلِکَ عِنْدَاللہِ فَوْزاً عَظیماً )۔ (تشریحی نوٹ: اس بیان کے مطابق "لِيُدْخِلَ" اور اسی طرح "یعذب" کا جُملہ جو بعد والی آیت میں آئے گا، "لیغفر" کے جُملہ پر عطف ہے۔ مفسر ین کے ایک گروہ نے منجملہ: شیخ طوسی نے "تبیان" میں اور "طبرسی" نے "مجمع البیان" میں اور ابو الفتوح رازی نے اپنی تفسیر میں اسی معنی کو انتخاب کیا ہے، جبکہ ایک دوسرے گروہ نے " لِيَزْدادُوا إِيمانًا" پر عطف سمجھا ہے، حالانکہ نہ وہ اوپر والے شان نزول ہے ہم آہنگ ہے اور نہ ہی کفّار کی سزا اور مجازات کے ساتھ)۔ اس طرح سے خدا نے ان چار نعمتوں کے مقابلہ میں، جو فتح مبین میں اپنے پیغمبر کو دیں۔ دو عظیم نعمتیں مومنین پر بھی ارزانی فرمائیں، بہشت جاودانی اپنی تمام نعمتوں کے ساتھ، اور عفو و درگزر ان کی لغزشوں سے، یہ اس روحانی اطمینان اور سکون کے علاوہ ہے، جو انہیں اس دنیا میں عطا فرمایا ہے، اور ان تینوں نعمتوں کا مجموعہ ایک فوز عظیم یعنی بہت بڑی کامیابی ہے، ان لوگوں کے لیے جو اس امتحان کی کٹھالی سے صحیح و سالم باہر نکل آئے۔ لفظ "فوز" جس کا قرآن مجید میں عام طور پر عظیم کی صفت کے ساتھ ذکر ہوا ہے، اور بعض اوقات "مبین" اور "کبیر" کے ساتھ بھی آیا ہے، مفردات میں راغب کے قول کے مطابق کامیابی اور خیرات کا سلامتی کے ساتھ حصُول ہے۔ اور یہ اُسی صورت میں ہے کہ اس میں آخرت کی نجات بھی ہو، اگرچہ مادی دنیا کی نعمتوں کے کھو بیٹھنے کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو۔ ایک مشہور روایت کے مطابق جب امیر المؤمنین علی علیہ السلام کا فرقِ مبارک محرب عبادت میں خطا کار زمانہ "عبدالرحمن بن ملجم کی شمشیر سے شگافتہ ہوا تو آپ نے بأواز بلند فرمایا: "فزتُ وَربِّ الکعبة:" "کعبہ کے رب کی قسم میں کامیاب ہوا۔" (اور میرے سعادت نامہ پر میرے خون سے دستخط ہو گئے ہیں)۔ ہاں بعض اوقات پروردگار کے امتحانات ایسے سخت اور طاقت فرسا ہوتے ہیں جو کمزور ایمان والوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دیتے ہیں اور ان کے دلوں کو اُلٹ دیتے ہیں۔ صرف سچے مومنین ہی جو سکینہ اور اطمینان کی نعمت سے بہرہ مند ہوتے ہیں مقابلہ میں ڈٹتے ہیں، اور وہ قیامت میں اس کے ثمرات و نتائج سے بھی بہرہ مند ہوں گے، اور واقعاً یہ ایک فوز عظیم ہے۔ لیکن اس گروہ کے مقابلہ میں بےایمان منافقین و مشرکین کا ایک گروہ تھا۔ جن کی سرنوشت کی بعد والی آیت میں اس طرح تصویر کشی ہوئی ہے،:" دوسرا مقصد یہ ہے کہ خدا منافق مردوں اور عورتوں اور مشرک مردوں اور عورتوں کو سزا دے:" (وَیُعَذِّبَ الْمُنافِقینَ وَالْمُنافِقاتِ وَالْمُشْرِکینَ وَالْمُشْرِکات)۔ "وہی کہ جو خدا کے متعلق بُرا گمان کرتے تھے:(الظَّانِّینَ بِاللہِ ظَنَّ السَّوْءِ)۔ ہاں! پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور مومنین کی مدینہ سے روانگی کے وقت یہ گمان رکھتے تھے کہ یہ گروہ ہرگز صحیح و سالم مدینہ پلٹ کر نہیں آئے گا، جیسا کہ اسی سُورہ ٔ کی آیہ ١٢ میں بیان ہوا ہے۔ " بَلْ ظَنَنْتُمْ أَنْ لَنْ يَنْقَلِبَ الرَّسُولُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلى‏ أَهْلِيهِمْ أَبَداً۔ اور مشرکین بھی یہی گمان رکھتے تھے کہ محمد اس تھوڑی سی جمعیّت کے ساتھ، اور کافی اسلحہ نہ رکھنے کی وجہ سے صحیح و سالم مدینہ کی طرف نہیں لوٹیں گیے، اور اسلام کا ستارہ بہت جلد غروب ہو جائے گا۔ اس کے بعد عذاب اور سزا کی وضاحت کرتے ہُوئے چار عنوانوں کے تحت اس کی تشریح کرتا ہے۔ فرماتا ہے، حوادث اور بُرے اثرت و نتائج صرف اسی گروہ پر نازل ہوں گے (عَلَیْهِمْ دائِرَةُ السَّوْء)۔ (تشریحی نوٹ: "سوء" بر وزن "نوع"، "صحاح اللغتہ" کے قول کے مطابق مصدری معنی رکھتا ہے، اور "سوء" بروزن " کور" اسمِ مصدر کے معنی میں ہے۔ لیکن بقول کشاف دونوں کا ایک ہی معنی ہے)۔ "دائرة" لغت میں حوادث اور ان روئیدادوں کے معنی میں ہے جو انسان کو پیش آتی ہیں۔ چاہے وہ اچھی ہوں یا بُری، لیکن یہاں لفظ سوء کے ذکر کرنے کی وجہ سے نامطلوب حوادث ہی مراد ہیں۔ دوسرے یہ کہ خدا نے ان پر غضب کیا ہے (وغَضِبَ اللَّہُ عَلَیْهِمْ)۔ اور انہیں خدا نے اپنی رحمت سے بھی دور کر دیا ہے (وَلَعَنَهُمْ)۔ اور آخر میں ان کے لیے ابھی سے جہنم فراہم کر رکھی ہے اور وہ کیا ہی بُرا انجام ہے (وَأَعَدَّلَهُمْ جَهَنَّمَ وَساَتْ مَصیراً)۔ (تشریحی نوٹ: "مصیرا" مختلف حالات کے معنی میں ہے، جس تک انسان یکے بعد دیگر سے پہنچتا ہے)۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ میدان حدیبیہ میں زیادہ تر مسلمان مرد تھے، اور ان کے مقابل میں بھی منافق و مشرک مرد تھے، لیکن اوپر والی آیات میں قرآن نے اس فوزِ عظیم اور اس عذاب الیم میں عورتوں اور مردوں کو مشترک شمار کیا ہے، یہ اس بناء پر ہے کہ باایمان مرد جو میدان جنگ میں حاضر ہوتے ہیں، صاحبِ ایمان عورتوں کی پشتیبانی کے بغیر اور اسی طرح منافق مرد منافق عورتوں کی ہمکاری کے بغیر اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اصولی طور پر اسلام مردوں ہی کا دین نہیں ہے، کہ عورتوں کی شخصیّت کو نظر انداز کر دے، لہٰذا ہر اس مقام پر جہاں عورتوں کے نام کا نہ ہونا کلام میں انحصاری مفہوم پیدا کرتا ہو وہاں عورتوں کا ذکر صراحت کے ساتھ پیش کرتا ہے، تاکہ معلوم ہو جائے کہ اسلام کا تعلق تمام انسانوں سے ہے۔ آخری زیر بحث آیت میں ایک مرتبہ پھر خدا کی قدرت کی عظمت کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے کہتا ہے آسمانوں و زمین کے لشکر اور فوجیں خدا ہی کے لیے ہیں۔ اور خدا عزیز و حکیم ہے (وَلِلہِ جُنُودُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ وَکانَ اللہُ عَزیزاً حَکیماً)۔ یہ بات ایک مرتبہ اہل ایمان کے مقامات اور نعمتوں کے ذیل میں بیان ہو چکی ہے، اور ایک مرتبہ یہاں منافقین اور مشرکین کے عذاب اور سزاؤں کے ذیل میں آئی ہیں تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ وہ خدا جس کے زیر فرمان آسمانوں اور زمین کے سارے لشکر ہیں وہ اس پر بھی قدرت رکھتا ہے اور اس پر بھی اسے توانائی حاصل ہے۔ جس وقت اس کا دریائے رحمت موجزن ہوتا ہے تو جن میں لیاقت و شائستگی ہوتی ہے، وہ جہاں کہیں بھی ہوں ان کے شامل حال ہوتا ہے، اور جس وقت اس کے قہر و عضب کی آگ شعلہ زن ہو تو پھر کسی مجرم میں یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ فرار کر سکے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ مومنین کے ذکر کے وقت خدا کی "علم و حکمت" کے ساتھ توصیف ہوئی ہے، جو مقامِ رحمت کے ساتھ مناسب ہے، لیکن منافق و مشرک لوگوں کے لیے خدا کی قدرت و حکمت کے ساتھ توصیف ہوئی ہے، جو مقام عذاب کے ساتھ مناسب ہے۔ "آسمانوں اور زمین کے لشکروں" سے کیا مراد ہے؟ یہ لفظ ایک وسیع معنی رکھتا ہے، جو خدا کے فرشتوں کے لشکروں کو بھی شامل ہے، اور "صاعقہ" "زلزلوں"، "طوفان"، "سیلابوں"، "امواج " اور دوسری غیر مرئی طاقتوں کے لشکروں کو بھی، جن سے ہم آگاہی نہیں رکھتے، کیونکہ یہ سب اللہ کے لشکر ہیں اور ان کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں۔

ایک نکتہ خدا کے بارے میں سوء ظن کون لوگ رکھتے ہیں؟

"سوء ظن" کی کبھی تو اپنی طرف نسبت ہوتی ہے اور کبھی دوسرں کی طرف اور کبھی خدا کی طرف؛ جیسا کہ "حسن ظن" بھی تین ہی حصّوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ اپنے متعلق جو سوء ظن ہوتا ہے کہ اگر وہ افراط کی حد تک نہ پہنچے تو وہ تکامل و ارتقاء کی سیڑھی ہے اور وہ اس بات کا سبب بن جاتا ہے کہ انسان اپنے اعمال کی نسبت سخت گیر اور بال کھال نکالنے والا بن جائے، اور نیک اعمال سے پیدا ہونے والے عجب و غرور کو روک دے۔ اسی بناء پر علی علیہ السلام مشہور خُطبہ "جام" میں پرہیزگاروں کی تعریف و توصیف میں فرماتے ہیں۔ " فهم لِأنفسهم مُتهمون، وَمِن أعمالِهم مشفقون، إذا زكى أحد منهم خَاف مِمّا يقال له، فيقول: إنا أعلم بِنَفسى من غيرى، وَرَبِّى أعلم بى منّى بنفسى، اللّهم لا تؤاخذنى بِمَا يقولون، وَاجعَلنى أفضل مِمَّا يَظنون، وَاغفر لِى مَا لايعلمون۔" "وہ اپنے آپ کو متہم کرتے ہیں، اور اپنے اعمال سے ڈرتے ہیں، جس وقت ان میں سے کسی ایک کا تزکیہ و تعریف کی جائے، تو جو کچھ اس کے بارے میں کہا گیا ہے، اُس سے ڈرتا ہے، اور کہتاہے: میں اپنے بارے میں دوسروں کی نسبت زیادہ آگاہ ہوں اور میرا پروردگار میرے اعمال کو مجھ سے بھی زیادہ جانتا ہے، خداوندا! جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں اس پر میرا مؤاخذہ کرنا اور مجھے اس چیز سے، جو وہ میرے بارے میں خیال کرتے ہیں، برتر قرار دے اور میری جن باتوں کا انہیں علم نہیں ہے وہ مجھے بخش دے۔" لیکن اگر یہ " سوء ظنّ" لوگوں کے بارے میں ہو تو ممنوع ہے، مگر ایسے مواقع پر جبکہ فساد اور خرابی معاشرے پر غلبہ کرے، تو پھر خوش فہمی ٹھیک نہیں ہے، (إن شاء اللہ اس کی تشریح و تنزیل سورۂ حجر کی آ یت ١٢ کے ذیل میں آ ئے گی)۔ باقی رہا خدا کے بارے میں سوء ظن یعنی اس کے وعدہ کے بارے میں، اس کی بےپایاں رحمت و کرم کے بارے میں، تو وہ بہت ہی بُرا اور تباہ کر دینے والا ہے، اور ایمان کی کمزوری کی نشانی، بلکہ بعض اوقات تو ایمان کے نہ ہونے کی علامت ہے۔ قرآن بےایمان افراد یا ضعیف الایمان لوگوں کے سوء ظن کو خصوصاً اجتماعی سخت قسم کے حوادث اور آزمائش کے طوفانوں کے ظہور کے موقع پر۔ بار بار ذکر کرتا ہے،کہ مومنین ایسے مواقع پر کس طرح پورے حسنِ ظن کے ساتھ، اور پروردگار کے لطف کی داستان میں منافقین اور ان کے ہم خیال لوگوں نے بھی سوء ظن کیا اور کہا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے یار و انصار اس سفر میں جا تو رہے ہیں لیکن وہ اس سے واپس نہیں لوٹیں گے۔گویا انہوں نے خدا کے وعدوں کو فراموش کر دیا، یا اُس کے بارے میں بدگمان تھے۔ اس کا ایک واضح نمونہ خصوصیّت کے ساتھ جنگِ احزاب میں۔ جبکہ مسلمان سخت دباؤ کی حالت میں تھے۔ ظاہر ہُوا، خدا نے ایک گروہ کے بُرے گمانوں کی سخت مذمت کی۔ "إِذْ جَاؤُوكُم مِّن فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللهِ الظُّنُونَا هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا" "وہ وقت یاد کرو جب (لشکر احزاب) اُوپر کی طرف سے بھی اور نیچے کی طرف سے بھی شہر میں داخل ہو گیا (اور مدینہ کا محاصرہ کر لیا) اور اس وقت کو(یاد کرو ) جب شدّت ِوحشت سے آنکھیں خیرہ ہو گئیں، اور جانیں لبوں تک آ گئی تھیں، اور تم خدا کے بارے میں بُرے بُرے گمان کر رہے تھے، اس موقع پر مومنین کی آزمائش ہو گئی اور وہ ہل کر رہ گئے۔" (احزاب: آیت ١٠۔١١)۔ یہاں تک کہ سورۂ آل عمران کی آیت ١٥٤ میں ایسے گمانوں کو ظن الجاھلیة (زمانہ جاہلیّت کے گمان) کہا ہے۔ بہرحال، خدا سے اور اس کے رحمت و کرم اور لطف و عنایت کے وعدہ کے متعلق حسن ظن ایمان کی اہم نشانی، اور نجات و سعادت کے مؤثر وسائل میں سے ہے۔ یہاں تک کہ رسولؐ خدا سے ایک حدیث میں آیا ہے۔ " ليس من عبد يظن بالله خيراً إلّا كان عندَ ظنّه به: کوئی بندہ خدا کے بارے میں حسن ظن نہیں رکھتا مگر یہ کہ خدا اس کے گمان کے مطابق اس سے سلوک کرتا ہے۔ (بحوالہ: بحار الانوار، جلد ٧٠، صفحہ ٢٨٥)۔ ایک دوسری حدیث میں امام علی ابن موسی الرّضا علیہ السلام سے آیا ہے۔ " أحسن بالله الظّن، فإن الله عزّوجلّ يقول إنّا عند ظنّ عبدى المؤمن بى، إن خير فخير وَإن شرّ فشرّ": "خدا کے ساتھ اپنے ظن و گمان کو اچھا رکھو کیونکہ خداوند عزوجل فرماتا ہے، میں اپنے بندۂ مومن کے ظن و گمان کے پاس ہوتا ہوں، اگر وہ میرے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہو تو میں اس سے اچھا سلوک کرتا ہوں اور اگر وہ بُرا گمان رکھتا ہو، تو بُرا سُلوک ہو گا۔ (بحوالہ: بحار الانوار، جلد ٧٠، صفحہ ٣٨٥)۔ "آخر میں ایک دوسری حدیث میں پیغمبر اکرمؐ سے آیا ہے۔ "إنّ حُسنَ الظنّ باللہ عزّوجلّ ثَمَنُ الجنّة" "خدا کے ساتھ حسن ظن رکھنا جنّت کی قیمت ہے۔" (بحوالہ: بحار الانوار، جلد ٧٠، صفحہ ٣٨٥)۔ اس سے زیادہ سہل اور آسان قیمت اور کیا ہو گی؟ اور اس سے زیادہ قیمتی مال و متاع اور کون سا ہو گا۔

8
48:8
إِنَّآ أَرۡسَلۡنَٰكَ شَٰهِدٗا وَمُبَشِّرٗا وَنَذِيرٗا
ہم نے تجھے ایک گواہ، بشارت دینے والے اور ڈرانے والے کے عنوان سے بھیجا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
48:9
لِّتُؤۡمِنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُۚ وَتُسَبِّحُوهُ بُكۡرَةٗ وَأَصِيلًا
تاکہ تم لوگ خدا اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ، اور اس کا دفاع کر و ، اس کا احترام کر وا ور صبح و شام خدا کی تسبیح کرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
48:10
إِنَّ ٱلَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ ٱللَّهَ يَدُ ٱللَّهِ فَوۡقَ أَيۡدِيهِمۡۚ فَمَن نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنكُثُ عَلَىٰ نَفۡسِهِۦۖ وَمَنۡ أَوۡفَىٰ بِمَا عَٰهَدَ عَلَيۡهُ ٱللَّهَ فَسَيُؤۡتِيهِ أَجۡرًا عَظِيمٗا
جو لوگ تیری بیعت کرتے ہیں وہ حقیقت میں خدا ہی کی بیعت کرتے ہیں خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے اوپر ہے، پس جو شخص بھی پیمان شکنی کرے گاوہ اپنے ہی نقصان میں پیمان شکنی کر ے گا اور جو شخص اس عہد کو، جو اس نے خدا سے باندھا ہے، وفا کرے گا تو وہ (اللہ) اسے بہت جلد ایک عظیم اجر عطافرمائیگا۔

تفسیر پیغمبرؐ کی حیثیت کا استحکام اور لوگوں کی اس کے بارے میں ذمہ داریاں

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

ہم بیان کر چکے ہیں کہ صلح حدیبیہ پر بعض نادانوں نے سخت تنقید کی، یہاں تک کہ پیغمبر کے بارے میں ان کے سامنے ایسی باتیں کی گئیں، جن سے آپ کی بےحرمتی ہوتی تھی، ان باتوں کا مجموعی طور پر تقاضا یہی تھا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت و مقام اور مرتبہ و حیثیت کے بارے میں دوبارہ تاکید کی جائے۔ لہٰذا پہلی زیر بحث آیت میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کرتے ہُوئے کہتا ہے: "ہم نے تجھے ایک گواہ اور بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے (إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا)۔ یہ تین عظیم اوصاف اور تین عمدہ مقامات پیغمبر کے اہم ترین مراتب اور مقامات میں سے ہیں، "گواہ ہونا بشیر ہونا اور نذیر ہونا گواہ تمام اُمّت مسلمہ پر، بلکہ ایک معنی کے لحاظ سے تمام امتوں پر گواہ، جیسا کہ سورہ نساء کی آیت ٤١ میں آ یا ہے: فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَـؤُلاَءِ شَهِيدًا: اس دن کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت میں سے ان کے اعمال پر گواہ لائیں گے، اور تجھے ان سب گواہوں پر گواہ بنائیں گے۔" اور سورہ ٔ توبہ کی آیت ١٠٥ میں فرماتا ہے: وَقُلِ اعْمَلُواْ فَسَيَرَى اللّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ: کہہ دے کہ عمل کرو، خدا اور اس کا رسول اور مومنین (ائمہ معصوم) تمہارے عمل کو دیکھتے ہیں۔ اصولی طور پر ہر انسان بہت سے گواہ رکھتا ہے۔ سب سے پہلے تو خداوند عالم ہے جو عالم الغیب والشہادہ ہے، وہ ہمارے تمام اعمال اور تمہاری نیتوں تک کو دیکھ رہا ہے۔ اس کے بعد وہ فرشتے ہیں جو انسان کے اعمال کو لکھنے پر مامور ہیں، جیسا کہ سورٔہ ق کی آیت ٢١ میں ارشارہ ہوا ہے وَجَاءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَائِقٌ وَشَهِيدٌ: اس کے بعد انسانی جسم کے اعضاء و جوارح ہیں، یہاں تک کہ اس بدن کی جِلد بھی گواہی دے گی: "يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ۔" "اس دن ان کی زبانیں، ہاتھ اور پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔" (سورہ، نور ٢٤)۔ "وَقَالُوا لِجُلُودِهِمْ لِمَ شَهِدتُّمْ عَلَيْنَا قَالُوا أَنطَقَنَا اللهُ الَّذِي أَنطَقَ كُلَّ شَيْءٍ۔" "وہ اپنے بدن کی جلد سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی، تو وہ کہیں گے وہ خدا جس نے ہر موجود کو قوت گویائی عطا کی ہے، اُسی نے ہمیں بھی گویائی دی ہے، تاکہ ہم گواہی دیں۔" (حٰم سجدہ ۔ ٢١)۔ زمین بھی گواہوں میں سے ایک گواہ ہے جیسا کہ سورۂ زلزال میں آیا ہے۔ "يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا۔" بعض روایات کے مطابق "زمانہ" بھی اس دن گواہوں کی صف میں ہو گا۔ ایک روایت میں علی علیہ السلام سے منقول ہے۔ "ما من يوم يَمُرّ على بنى آدم إلّا قال له ذلك اليوم إنّا يوم جديد وإنّا عليك شهيد، فافعل فى خيرًا، وَ اعمَل فِى خيرًا، أشهد لك به يوم القيامة، فانك لن ترانى بعد هذا أبدا۔" "کوئی دن آدم کے بیٹے پر نہیں گزرتا مگر یہ کہ وہ اس سے کہتا ہے: میں نیا دن ہوں، میں تیرے بارے میں گواہی دوں گا، تو مجھ میں نیک کام کر اور عمل خیر بجالا، تاکہ میں قیامت کے دن تیرے فائدے میں گواہی دوں، کیونکہ تو اس کے بعد مجھے کبھی بھی نہیں دیکھے گا۔" ( بحوالہ: نور الثقلین، جلد ٤، صفحہ ١١٢) (تشریحی نوٹ: "قیامت کی عدالت کے گواہوں" کے بارے میں ایک بحث ہم نے سورۂ حٰم سجدہ کی آیت ٢٠ ۔٢١ کے ذیل میں بھی کی ہے)۔ بلاشک خدا کی تنہا گواہی ہی کافی ہے، لیکن گواہوں کا متعدد ہونا مزید اتمامِ حجت کا باعث بھی ہے اور انسانوں میں زیادہ قوی تربیتی اثر بھی رکھتا ہے۔ بہرحال، قرآن مجید نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امور کو جو کہ مسئلہ شہادت و بشارت و نذارت ہیں۔ تین عمدہ اوصاف کے عنوانوں کے ساتھ بیان کیا ہے، تاکہ یہ ان وظائف اور ذمہ داریوں کے لیے ایک مقدمہ اور تمہید ہو، جو بعد والی آیت میں بیان ہوئی ہیں۔ بعد والی آیت میں پیغمبر کے گزشتہ بیان کردہ اوصاف کے ایک مقصد اور نتیجہ کے عنوان سے پانچ اہم احکام بیان ہوئے ہیں، جن سے دو حکم تو خدا کی اطاعت اور اس قسم کی تسبیح و تنزیہ میں ہیں، اور تین احکام مقامِ پیغمبر کی تعظیم، اور ان کی اطاعت و دفاع کے بارے میں ہیں، فرماتا ہے: "مقصد یہ ہے کہ خدا اور اس کے رسُول پر ایمان لے آ ؤ، اور دشمنوں کے مقابلہ میں اس کا دفاع کرو، اور اس کی عزّت و احترام و تکریم کرو اور صبح و شام خدا کی تسبیح و تقدیس کرو۔" (لِتُؤْمِنُوا بِاللہِ وَ رَسُولِهِ وَ تُعَزِّرُوہُ وَ تُوَقِّرُوہُ وَتُسَبِّحُوہُ بُکْرَةً وَأَصیلاً)۔ "تعزّروہ"، "تعزیر"کے مادہ سے دراصل منع کے معنی میں ہے، اس کے بعد دشمن کے مقابلہ میں ہر قسم کے دفاع اور نصرت و مدد کرنے کرنے پر اطلاق ہونے لگا، بعض سزاؤں کوبھی، جو گناہ سے روکتی ہیں، تعزیر کہا جاتا ہے۔ "توقّروہ" توقیر کے مادہ سے جس کی اصل "وقر" ہے سنگینی کے معنی میں ہے، اس بناء پر یہاں "توقیر" تعظیم و تکریم کے معنی میں ہے۔ اس تفسیر کے مطابق وہ ضمیریں جو "تعزّروہ" اور "تو قّروہ" میں آئی ہیں وہ پیغمبرؐ کی ذات کی طرف لوٹتی ہیں۔ اور اس کا مقصد دشمن کے مقابلہ میں آپؐ کی حمایت اور دفاع کرنا اور آپؐ کی تعظیم و تکریم کرنا ہے، (اس تفسیر کو "شیخ طوسی" نے "تبیان" میں اور "قرطبی" نے مجمع البیان میں اور بعض دوسرے علماء نے اختیار کیا ہے۔ لیکن مفسرین کی ایک جماعت (تشریحی نوٹ: "زمخشری" نے "کشاف " میں "آلوسی" نے "رُوح المعانی" میں "فیض کاشانی" نے "صافی" میں اور "علامہ طباطبائی" نے "المیزان" میں اس تفسیر کو قبول کیا ہے)۔ کا نظریہ یہ ہے، کہ آیت کی تمام ضمیریں خدا کی طرف لوٹتی ہیں، اور تعزیر و توقیر سے مراد یہاں خدا کے دین کی نصرت و مدد کرنا ہے اور اس کی اور اس کے دین کی تعظیم و تکریم کرنا ہے، اس تفسیر کے اختیار کرنے میں اِن کی دلیل آیت میں موجُود تمام ضمیروں کا ہم آہنگ ہونا ہے۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے، کیونکہ اوّلاً: "تعزیر" کا اصلی معنی دشمنی کے مقابلہ میں دفاع کرنا اور اُسے روکنا ہے، جو خدا کے بارے میں مجازی صورت کے علاوہ صحیح نہیں ہے، اور اس سے زیادہ اہم آیت کا شأن نزول ہے، جو حدیبیہ کے واقعہ کے بعد نازل ہوئی ہے، جبکہ بعض لوگوں نے پیغمبر کے اعلیٰ مقام اور مرتبہ کے سلسلے میں بےحرمتی کی تھی، اور آیت پیغمبر کے سامنے مسلمانوں کو ان کے وظائف اور ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرنے کے لیے نازل ہوئی تھی۔ علاوہ ازیں، اس بات کو بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ یہ آیت گزشتہ آیت کے ایک نتیجہ کے عنوان سے ہے، جو پیغمبر کی "شاھد و بشیر و نذیر" کے عنوان سے تعریف و توصیف کرتی ہے، اور یہ امران احکام کے لیے۔جو بعد والی آیت میں بیان ہُوئے ہیں۔ زمین ہموار کرتی ہے گویا تمہید کے طور پر ہے۔ آخر ی زیر بحث آیت میں "بیعت رضوان" کے مسئلہ کی طرف ایک مختصر سا اشارہ ہے، جو اسی سُورہ کی آیت ١٨ میں زیادہ تفصیل کے طور پر آیا ہے۔ اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ: جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ مشہور تاریخوں کے مطابق آپؐ اس خواب کے بعد جو آپؐ نے دیکھا تھا ١٤٠٠ افراد کے ساتھ عمرہ انجام دینے کے ارادہ سے مدینہ سے نکلے، لیکن مکّہ کے قریب مشرکین نے آپؐ کو اور آپ کے اصحاب کو مکّہ میں داخل ہونے سے روکنے کا مصمم ارادہ کر لیا، پیغمبرؐ اور آپ کے اصحاب سرزمین "حدیبیہ" میں ٹھہر گئے اور آپؐ کے اور قریش کے درمیان سفیروں کا آنا جانا ہوا یہاں تک کہ صلح حدیبیہ کی قرار داد انجام پائی۔ ان امور میں ایک مرتبہ عثمان مامور ہُوئے کہ وہ اہل مکّہ تک یہ پیغام پہنچائیں کہ آپ جنگ کے ارادہ سے نہیں آئے اور آپ کا ارادہ صرف خانۂ خدا کی زیارت ہے، لیکن مشرکین نے وقتی طور پر عثمان کو روک لیا، اور اسی سبب سے مسلمانوں کے درمیان قتل عثمان کی خبر پھیل گئی، اور اگر اس طرح کی بات صحیح ہوتی تو یہ قریش کی طرف سے اعلانِ جنگ کی دلیل ہوتی، لہٰذا پیغمبرؐ نے فرمایا کہ جب تک ہم اس قوم سے نمٹ نہ لیں ہم یہاں سے نہیں جائیں گے، اور اس اہم امر پر تاکید کے لیے لوگوں کو دعوت دی کہ آپ سے تجدید بیعت کریں، مسلمان وہاں پر موجود ایک درخت کے نیچے جمع ہُوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کی، کہ ہرگز میدان سے نہیں بھاگیں گے، اور جس حد تک ان میں تاب و تواں ہے، دشمن کے قطع قمع کرنے میں کوششیں کریں گے۔ اس بات کی خبر مشرکین مکّہ کے کانوں تک پہنچی تو اس نے ان کے دلوں میں ایک رعب اور وحشت پیدا کر دی اور اسی سبب سے وہ اس ناپسندیدہ صلح کے لیے تیار ہو گئے۔ اس بیعت کو اس بناء پر "بیعت رضوان" کہا جاتا ہے۔ کیونکہ اسی سُورہ کی آیت ١٨ میں آ یا ہے: "لَقَدْ رَضِيَ اللهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ۔" "خدا مؤمنین سے جب وہ اس درخت کے نیچے تیری بیعت کر رہے تھے۔ راضی ہو گیا۔ بہرحال، قرآن مجید زیر بحث آیت میں کہتا ہے: "جو لوگ تیری بیعت کرتے ہیں حقیقت میں وہ خدا کی بیعت کرتے ہیں، اور خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے اُوپر ہے، (إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللهَ يَدُ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ)۔ "بیعت" کسی شخص کی فرمانبرداری اور اطاعت کے لیے عہد و پیمان باندھنے کے معنی میں ہے، اور یہ رسم چلی آ رہی تھی کہ جو شخص اطاعت کا عہد و پیمان باندھتا تھا تو وہ اپنا ہاتھ پیشوا اور رہبر کے ہاتھ میں دے دیتا تھا، اور وفاداری کے عہد و پیمان کا اس طریقہ سے اظہار کیا کرتا تھا۔ اور چونکہ معاملہ اور بیع کے وقت بھی ہاتھ میں ہاتھ دیتے تھے، اور معاملہ کی قرار داد باندھتے تھے، اس لیے "بیعت" کا لفظ ان عہد و پیمان پر اطلاق ہونے لگا۔ خصوصاً یہ کہ وہ اپنے عہد و پیمان میں گویا اپنی جان کا اس شخص کے ساتھ معاملہ کر رہے ہیں۔ اور یہیں سے (خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے اُوپر ہے ) کا معنی واضح ہو جاتا ہے، یہ تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پیغمبر کی بیعت ایک بیعت الہٰی ہے،گویا خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے اوپر قرار پایا، نہ صرف پیغمبر سے بلکہ انہوں نے یہ خدا سے بیعت کی ہے اور اس قسم کے کنایے عربی زبان میں معمولات میں سے ہیں۔ اس بناء پر جن لوگوں نے اس جُملہ کی اس طرح تفسیر کی ہے کہ خدا کی قدرت ان کی قدرت سے مافوق ہے یا خدا کی نصرت و مدد لوگوں کی نصرت و مدد سے برتر ہے اور اسی قسم کی دوسری تفسیریں آیت کے شانِ نزول اور اس کے مفاد سے کوئی مناسبت نہیں رکھتیں، اگرچہ یہ مطلب بذاتِ خود ایک صحیح مطلب ہے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے، جو شخص نقض عہد اور پیمان شکنی کرے گا، اور حقیقت وہ اپنے ہی نقصان میں پیمان شکنی کرے گا اور اپنے عہد و پیمان کو توڑے گا (فَمَن نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنكُثُ عَلَى نَفْسِهِ)۔ اور جو شخص اس عہد و پیمان کے مقابلہ میں جو اس نے خدا کے ساتھ باندھا ہے، وفادار رہے گا اور بیعت کا حق ادا کرے گا تو خدا اُسے اجرِ عظیم دے گا (وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا)۔ (تشریحی نوٹ: اس بات پر توجہ رکھنی چاہیئے کہ اوپر والی آیت میں "علیه" خلاف معمول "ھا" کی پیش کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ بعض مفسرین نے اس کی توجیہ میں اس طرح بیان کیا ہے، کہ یہ وہی "ھو" کی"ھا" ہے۔ جو اصل میں مفہوم ہے اور "واؤ" کے حذف ہونے کے بعد کبھی مضموم آتی ہے۔ جیسے "له" اور "عنه" اور کبھی اس بناء پر کہ اس کے پہلے "یا" ہے مکسور آتی ہے مثلاً "علیه" لیکن چونکہ زیر بحث آیت میں اس کے بعد لفظ "اللہ" آیا ہے اس لیے مضمون پڑھی گئی ہے تاکہ "اللہ" میں جو "لام" ہے۔ اس کی تضخیم کے ساتھ زیادہ سازگار ہو)۔ "نکث"، "نکث" (بروزن مکث) کے مادہ سے کھولنے اور اُلٹا ہٹا دینے کے معنی میں ہے۔ اس کے بعد پیمان شکنی، اور نقضِ عہد کے لیے استعمال ہونے لگا۔ (تشریحی نوٹ: "نکث" نون کی زبر کے ساتھ مصدری رکھتا ہے اور "نکث" نون کسرہ کے ساتھ اسم مصدر کے معنی رکھتا ہے)۔ اس آیت میں قرآن مجید تمام بیعت کرنے والوں کو خبردار کر رہا ہے، کہ اگر وہ اپنے عہد و پیمان پر برقرار رہیں تو ان کے لیے اجر عظیم ہو گا، لیکن اگر وہ اس کو توڑ دیں، تو اس کا نقصان خود انہیں کو ہو گا وہ یہ خیال نہ کر لیں کہ وہ خدا کو کوئی نقصان پہنچاتے ہیں، بلکہ معاشرے کی بقاء اور اپنی عظمت و قدرت و قوّت یہاں تک کہ پیمان شکنی کی وجہ سے اپنے وجود کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ ایک حدیث میں امیر المومنین علی علیہ السلام سے روایت ہے: "إنّ فى النّار لمدينة يقال لها الحصينة، أَفَلَا تَسئلونى ما فيها؟ فقيل له: ما فيها يا أميرالمُؤمنين؟ قال فيها أيدِى النّاكثين!:" "جہنم میں "حصینہ" نامی ایک شہر ہے کیا تم مجھ سے نہیں پوچھو گے کہ اس شہر میں کیا ہے؟ کسی نے عرض کیا: اے امیر المومنین اس شہر میں کیا ہے؟ فرمایا: پیمان شکنی کرنے والوں اور عہد توڑنے والوں کے ہاتھ ہیں۔ اسی سے واضح ہے کہ عہد شکنی و نقص بیعت اسلام میں کس قدر قبیح ہے۔ (بحوالہ: بحارالانوار، جلد ٦٧، ص١٨٦)۔ اسلام میں بیعت کا موضوع یہاں تک کہ قبل از اسلام اس کا وجود اس کی کیفیت اور اس کے بارے میں شرعی احکام ایک طویل بحث چاہتے ہیں جو إن شاءاللہ اسی سورہ کی آ یت ١٨ میں آئے گی۔

11
48:11
سَيَقُولُ لَكَ ٱلۡمُخَلَّفُونَ مِنَ ٱلۡأَعۡرَابِ شَغَلَتۡنَآ أَمۡوَٰلُنَا وَأَهۡلُونَا فَٱسۡتَغۡفِرۡ لَنَاۚ يَقُولُونَ بِأَلۡسِنَتِهِم مَّا لَيۡسَ فِي قُلُوبِهِمۡۚ قُلۡ فَمَن يَمۡلِكُ لَكُم مِّنَ ٱللَّهِ شَيۡـًٔا إِنۡ أَرَادَ بِكُمۡ ضَرًّا أَوۡ أَرَادَ بِكُمۡ نَفۡعَۢاۚ بَلۡ كَانَ ٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرَۢا
عنقریب بادیہ نشین اعراب میں سے پیچھے رہ جانے والے (عذر تراشی کرتے ہوئے) کہیں گے کہ ہمارے اموال اور گھروالوں کی حفاظت نے ہمیں اپنی طرف مشغول رکھا (اور ہم سفر حدیبیہ میں آپ کے ہمراہ نہ جا سکے)۔ پس آپ ہمارے لئے طلب مغفرت کیجئے۔ یہ اپنی زبان سے وہ بات کہہ رہے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہے۔ کہہ دو: کون ایسا ہے جو خدا سے تمہیں بچا سکے اگر وہ تمہارے لئے نقصان کا ارادہ کرے ،یا کون ہے جو اس نفع کو روک سکے جسے پہنچانے کا وہ ارادہ کرے، اور خدا ان تمام اعمال سے جو تم انجام دیتے ہو آگاہ ہے۔!

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
48:12
بَلۡ ظَنَنتُمۡ أَن لَّن يَنقَلِبَ ٱلرَّسُولُ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَ إِلَىٰٓ أَهۡلِيهِمۡ أَبَدٗا وَزُيِّنَ ذَٰلِكَ فِي قُلُوبِكُمۡ وَظَنَنتُمۡ ظَنَّ ٱلسَّوۡءِ وَكُنتُمۡ قَوۡمَۢا بُورٗا
بلکہ تم نے یہ گمان کر لیا تھا کہ پیغمبر اورمومنین ہر گز اپنے گھروالوں کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے ،اور یہ غلط خیال تمہارے دلوں میں زینت پاگیا تھا، تم نے بدگمانی سے کام لیا اور آخر کا رتم ہلاک ہوئے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
48:13
وَمَن لَّمۡ يُؤۡمِنۢ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ فَإِنَّآ أَعۡتَدۡنَا لِلۡكَٰفِرِينَ سَعِيرٗا
اور وہ شخص جو خدا اور اس کے پیغمبر پر ایمان نہیں لایا (اس کی سر نو شت دوزخ ہے) کیونکہ ہم نے کافروں کے لئے بھٹرکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
48:14
وَلِلَّهِ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ يَغۡفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمٗا
آسمانوں اور زمین کی مالکیت اور حاکمیت خدا ہی کے لئے ہے۔ جسے وہ چاہتا ہے (اور شائستہ دیکھتا ہے)بخش دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے عذاب کرتا ہے ،اور خدا غفور ورحیم ہے۔

تفسیر پیچھے رہ جانے والوں کی عذر تراشی

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

گزشتہ آیات کی تفسیر میں ہم بیان کر چکے ہیں کہ پیغمبرؐ ایک ہزار چار سو مسلمانوں کے ساتھ مدینہ سے عمرہ کے ارادہ سے مکّہ کی طرف روانہ ہُوئے۔ پیغمبرؐ کی طرف سے بادیہ نشین قبائل میں اعلان ہوا کہ وہ بھی سب کے سب اس سفر میں آپؐ کے ساتھ چلیں، لیکن ضعیف الایمان لوگوں کے ایک گروہ نے اس حکم سے روگردانی کی، اور ان کا تجزیہ یہ تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ مسلمان اس سفر سے صحیح و سالم بچ کر نکل آئیں، حالانکہ کفّار قریش پہلے ہی ہیجان و اشتعال میں تھے، اور انہوں نے اُحد و احزاب کی جنگیں مدینہ کے قریب مسلمانوں پر تھوپ دی تھیں، اب جبکہ یہ جھوٹا سا گروہ بغیر ہتھیاروں کے اپنے پاؤں سے چل کر مکّہ کی طرف جا رہا ہے، گویا بھڑوں کے چھتہ کے پاس خود پہنچ رہا ہے، تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ اپنے گھروں کی طرف واپس لوٹ آئیں گے؟! لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمان کامیابی کے ساتھ اور قابلِ ملاحظہ امتیازات کے ہمراہ جو انہوں نے صُلح حدیبیہ کے عہد و پیمان سے حاصل کیے تھے، صحیح و سالم مدینہ کی طرف پلٹ آئے ہیں۔ اور کسی کے تکسیر تک بھی نہیں پھوٹی، تو انہوں نے اپنی عظیم غلطی کا احساس کیا اور پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہُوئے تاکہ کسی طرح کی عذر خواہی کر کے اپنے فعل کی توجیہ کریں، اور پیغمبر سے إستغفار کا تقاضا کریں۔ لیکن اوپر والی آیات نازل ہوئیں اور ان کے اعمال سے پردہ اٹھا دیا اور انہیں رسوا کیا۔ اس طرح سے پہلی آیات میں منافقین اور مشرکین کی سرنوشت کا ذکر کرنے کے بعد، یہاں پیچھے رہ جانے والے ضعیف الایمان لوگوں کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے، تاکہ اس بحث کی کڑیاں مکمل ہو جائیں۔ فرماتا ہے: عنقریب بادیہ نشین اعراب میں سے پیچھے جانے والے عذر تراشی کرتے ہُوئے کہیں گے: ہمارے مال و متاع اور بال بچّوں کی حفاظت کرتے ہُوئے ہمارے لیے طلب بخشش کیجئے (سَيَقُولُ لَكَ الْمُخَلَّفُونَ مِنَ الْأَعْرَابِ شَغَلَتْنَا أَمْوَالُنَا وَأَهْلُونَا فَاسْتَغْفِرْلَنَا)۔ "وہ اپنی زبان سے ایسی چیز کہہ رہے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہے (يَقُولُونَ بِأَلْسِنَتِهِم مَّا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ)۔ وہ تو اپنی توبہ تک میں بھی مخلص نہیں ہیں۔ لیکن ان سے کہہ دے: خدا کے مقابلہ میں۔ اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہے تو کس کی مجال ہے کہ وہ تمہارا دفاع کر سکے، اور اگر وہ تمہیں کچھ نفع پہنچانا چاہے تو کس میں طاقت ہے، کہ اُسے روک سکے: (قُلْ فَمَن يَمْلِكُ لَكُم مِّنَ اللهِ شَيْئًا إِنْ أَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا أَوْ أَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا)۔ خدا کے لیے یہ بات کسی طرح بھی مشکل نہیں ہے، کہ تمہیں تمہارے امن و امان کے گھروں میں، بیوی بچّوں اور مال و متال کے پاس، انواع و اقسام کی بلاؤں اور مصائب میں گرفتار کر دے، اور اس کے لیے یہ بھی کوئی مشکل کام نہیں ہے کہ دشمنوں کے مرکز میں اور مخالفین کے گڑھ میں تمہیں ہر قسم کے گزند سے محفوظ رکھے، یہ تمہاری قدرت خدا کے بارے میں جہالت اور بےخبری ہے جو تمہاری نظر میں اس قسم کے افکار کو جگہ دیتی ہے۔ ہاں! "خدا ان تمام اعمال سے جنہیں تم انجام دیتے ہو باخبر اور آگاہ ہے۔" (بَلْ كَانَ اللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا)۔ بلکہ وہ تو تمہارے سینوں کے اندر کے اسرار اور تمہاری نیتوں سے بھی اچھی طرح باخبر ہے، وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ عُذر اور بہانے واقعیت اور حقیقت نہیں رکھتے اور جو اصل حقیقت اور واقعیّت ہے، وہ تمہارا شک و تردد، خوف و خطر اور ضعف ایمان ہے، اور یہ عذر تراشیاں خدا سے مخفی نہیں رہتیں، اور یہ ہرگز تمہاری سزا کو نہیں روکیں گی۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ آیت کے لب و لہجہ سے بھی اور تواریخ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات پیغمبرؐ کی مدینہ کی طرف بازگشت کے دوران نازل ہوئیں، یعنی اس سے پہلے کہ پیچھے رہ جانے والے آئیں اور عذر تراشی کریں، ان کے کام سے پردہ اٹھا دیا گیا اور انہیں رسوا کر دیا۔ اس کے بعد مزید وضاحت کے لیے مکمل طور پر پردے ہٹا کر مزید کہتا ہے: بلکہ تم نے تو یہ گمان کر لیا تھا کہ پیغمبر اور مومنین ہرگز اپنے گھر والوں کی طرف پلٹ کر نہیں آئیں گے": (بَلْ ظَنَنتُمْ أَن لَّن يَنقَلِبَ الرَّسُولُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ أَبَدًا)۔ ہاں! اس تاریخی سفر میں تمہارے شریک نہ ہونے کا سبب، اموال اور بیوی بچّوں کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ اس کا اصلی عامل وہ سوء ظن تھا جو تم خدا کے بارے میں رکھتے تھے، اور اپنے غلط اندازوں کی وجہ سے یہ سوچتے تھے کہ یہ سفر پیغمبر اور مومنین کے ختم ہونے کا سفر ہے اور اس سے کنارہ کشی کرنی چاہیے۔ ہاں! "یہ غلط خیال اور شیطانی وسوسے تمہارے دلوں میں زینت پا چکے تھے" (وَزُيِّنَ ذَلِكَ فِي قُلُوبِكُمْ)۔ "اور یہ تم نے بُرا گمان کیا" (وَظَنَنتُمْ ظَنَّ السَّوْء)۔ کیونکہ تم یہ سوچ رہے تھے کہ خدا نے پیغمبر کو اس سفر میں بھیج کر انہیں دشمن کے چنگل میں دے دیا ہے، اور ان کی حمایت نہیں کرے گا! "اور انجام کار تم ہلاک ہو گئے" (وَكُنتُمْ قَوْمًا بُورًا)۔ اس سے بدتر ہلاکت اور کیا ہو گی کہ تم اس تاریخی سفر میں شرکت، بیعتِ رضوان، اور دوسرے افتخارات و اعزازات سے محروم رہ گئے، اور اس کے پیچھے رسوائی تھی اور آئندہ کے لیے آخرت کا درد ناک عذاب ہے، ہاں تمہارے دِل مردہ تھے اس لیے تم اس قسم کی صورتِ احوال میں گرفتار ہُوئے۔ چونکہ یہ ضعیف الایمان یا منافق ایسے ڈرپوک، آرام طلب اور طبعاً جنگ اور ہر قسم کے مقابلہ سے بھاگنے والے آدمی ہیں لہٰذا وہ حوادث کے بارے میں جو بھی تجزیہ و تحلیل کرتے ہیں وہ کسی طرح بھی واقعیّت کے مطابق نہیں ہوتی۔ اس کے باوجود وہ ان کی نظروں میں بہت ہی کشش رکھتی ہے۔ اور اس طرح سے خوف اور عافیت طلبی، اور ذمہ داریوں کو قبول کرنے سے فرار، بُرے گمانوں کو ان کی نظر میں حقیقت واقعیّت کے طور پر جگہ دیتے ہیں، وہ تمام چیزوں کے بارے میں بدبین ہیں، یہاں تک کہ پیغمبر خُدا اور خدا کے بارے میں بھی۔ نہج البلاغہ میں "مالک اشتر" کے نام حکم میں یہ آیا ہے: أنّ البخل والجبن والحرص غرائز شتّی یَجمعھا سُوء الظّنّ باللہ: "بخل" بزدلی، اور حرص ایسی مختلف قسم کی مذموم صفات ہیں جو سب کی سب خدا کے بارے میں سوء ظن میں جمع ہیں (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ نمبر ٥٣)۔ رُو داد حدیبیہ اور زیر بحث آیات اسی معنی کا ظہور عینی ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں،کہ پروردگار کے بارے میں سوء ظن، کِس طرح سے بخل و حرص اور خوف جیسے بُرے صفات کو حاصل کر لیتا ہے۔ چونکہ اس قسم کی غلط صفات کا سرچشمہ بعض اوقات عدم ایمان ہوتا ہے لہٰذا بعد والی آیت میں کہتا ہے: "جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر پر ایمان نہیں لایا اس کی تقدیر جہنم کی آگ ہے، کیونکہ ہم نے کافروں کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے" (وَمَن لَّمْ يُؤْمِن بِاللهِ وَرَسُولِهِ فَإِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ سَعِيرًا)۔ (تشریحی نوٹ: آیت کے الفاظ کی روانی کا تقاضا یہ ہے کہ إِنّا أَعتَدنَا لَھُم سَعِیرًا" کہا جائے لیکن خاص طور پر ضمیر کی ہٹا کر اس کی بجائے اسمِ ظاہر یعنی "الکافرین" کہا گیا ہے تاکہ اس خرابی کو بیان کیا جائے جو مسئلہ کفر ہے)۔ انجام کار آخری زیر بحث میں کفار اور منافقین پر خدا کے عذاب دینے کی قدرت کے ثبات لیے فرماتا ہے: آسمانوں اور زمین کی مالکیّت اور حاکمیت خدا کے لیے ہے، جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جسے چاہے عذاب کرتا ہے، اور خدا غفور ورحیم ہے (وَلِلهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَّحِيمًا)۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہاں مغفرت اور بخشش کے مسئلہ کو عذاب کے مسئلہ پر مقدم رکھا ہے، اور آیت کے آخر میں پھر دوبارہ غفران اور رحمت الہٰی پر تاکید کی گئی ہے، کیونکہ ان تمام دھمکیوں اور ڈراووں کا مقصد تربیّت ہے اور مسئلہ تربیّت کا تقاضا یہ ہے کہ گناہگاروں اور کافروں تک کے لیے بازگشت کی راہ کُھلی رہے، خاص طور پر جبکہ ان منفی اعتراضات اور تنقیدوں میں سے زیادہ کا سرچشمہ جہالت اور بےخبری ہے اس قسم کے افراد کے سامنے بخشش کی امید میں اضافہ کرنا چاہیے کہ شاید وہ راہ راست پر آ جائیں۔

ایک نکتہ گناہ کی توجیہ کرنا ایک عام بیماری ہے

گناہ چاہے جتنا بھی سنگین ہو وہ گناہ کی جواز تراشی جتنی سنگینی نہیں رکھتا، کیونکہ وہ گنہگار جو گناہ کا معترف ہو وہ اکثر توبہ کی طرف مائل ہوتا ہے، لیکن مصیبت اس وقت شروع ہوتی ہے جب گنہگار، گناہ کا جواز تراشنے لگ جاتا ہے، جو نہ صرف انسان کے سامنے توبہ کے راستے کو بند کر دیتا ہے بلکہ اُسے ہر گناہ کرنے میں اور بھی زیادہ راسخ اور زیادہ جری بنا دیتا ہے۔ یہ جواز تراشیاں بعض اوقات عزت و آبرو کی حفاظت اور لوگوں کے سامنے رسوائی سے بچنے کے لیے ہوتی ہیں لیکن اس سے بھی بدتر اس وقت ہوتی ہیں جب وجدان کو دھوکہ دینے کے لیے کی جائیں۔ یہ جواز تراشیاں کوئی نئی بات نہیں ہے، اس کے مختلف نمونے انسان کی پوری تاریخ میں دیکھے جا سکتے ہیں، کہ تاریخ کے بڑے بڑے بدکار اپنے آپ کو یاد دوسروں کو دھوکہ دینے کے لیے کس طرح سے مضحکہ خیز جواز تراشیاں کیا کرتے تھے جس سے ہر انسان حیران رہ جاتا ہے۔ قرآن مجید نے جو تربیت اور انسان سازی کا ایک عظیم درس ہے اس بارے میں بہت سے مباحث پیش کیئے ہیں جس کا ایک نمونہ تو ہم اوپر والی آیات میں ملاحظہ کر چکے ہیں۔ اس بحث کی تکمیل کے لیے دوسرے نمونے بھی غور و مطالعہ کے لیے پیش کر دیئے جائیں تو مناسب نہ ہو گا۔ ١۔مشرکین عرب بعض اوقات اپنے شرک کی توجیہ کے لیے اپنے بڑوں کی رسم سے متوسل ہوتے تھے اور کہتے تھے: إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَى أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَى آثَارِهِم مُّقْتَدُونَ:یعنی ہم نے اپنے باپ داداؤں کو ایک طریقے پر پایا اور ہم نے ان کے آثار کو اپنایا ہوا ہے اور ہم انہیں کے آثار کی پیروی کر رہے ہیں۔ "إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَى أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَى آثَارِهِم مُّقْتَدُونَ۔" "ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایک دین پر پایا ہے اور ہم انہیں کے آثار کی پیروی کر رہے ہیں۔ (زخرف۔ ٢٣)۔ اور بعض اوقات جبر کی ایک قسم کے ساتھ متوسل ہوتے ہوئے کہتے تھے: "لَوْ شَاءَ اللهُ مَا أَشْرَكْنَا وَلاَ آبَاؤُنَا۔" "اگر خدا چاہتا تو نہ تو ہم ہی شرک کرتے اور نہ ہی ہمارے آباؤ اجداد مشرک ہوتے۔" (انعام: ١٤٨)۔ ٢۔ اور کبھی کمزور ایمان والے مُسلمان جنگ سے فرار کرنے کے لیے پیغمبر کی خدمت میں آتے تھے، اور اس عنوان سے میدان کو خالی چھوڑ جاتے تھے کہ ہمارے گھروں کے در و دیوار ٹھیک طرح کے نہیں ہیں لہٰذا ہمیں نقصان کا خطرہ ہے: " وَيَسْتَأْذِنُ فَرِيقٌ مِّنْهُمُ النَّبِيَّ يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ وَمَا هِيَ بِعَوْرَةٍ إِن يُرِيدُونَ إِلَّا فِرَارًا" (احزاب۔١٣) ان میں سے ایک گروہ پیغمبر سے اجازت طلب کرتا اور کہتا ہمارے گھر آسیب پذیر ہیں، حالانکہ وہ آسیب پذیر نہیں تھے، وہ تو صرف قرار کرنا چاہتے تھے۔ ٣۔ اور کبھی اس بہانہ سے، کہ اگر ہم رومیوں سے جنگ کرنے کے لیے جائیں تو ممکن ہے کہ خوبصورت رومی عورتیں ہمیں فریفتہ کر لیں اور ہم حرام میں مبتلا ہو جائیں، لہٰذا پیغمبر سے جنگ میں شرکت نہ کرنے کی اجازت مانگتے،: وَمِنْهُم مَّن يَقُولُ ائْذَن لِّي وَلاَ تَفْتِنِّي (توبہ۔ ٤٩) "ان میں سے بعض یہ کہتے ہیں کہ ہمیں تو رہنے ہی دیں اور گناہ میں نہ ڈالیں۔" ۴۔ اور کبھی اس عنوان سے کہ ہمارے اموال اور بیوی بچّوں کے خیال نے ہمیں روکے رکّھا۔ پیغمبر کے فرمان کی اطاعت سے فرار کرنے جیسے عظیم گناہ کی توجیہ کرتے (آیات زیر بحث)۔ ٥۔ شیطان نے بھی ایک غلط قیاس کے ذریعے اپنی صریح نافرمانی کی خدا کے سامنے توجیہ کی اور کہا: تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے، اور آدم کو مٹی سے! یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک زیادہ شریف موجود ایک پست تر موجود کو سجدہ کرے! (أَنَاْ خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ) (اعراف۔١٢)۔ ۶۔ زمانۂ جاہلیّت میں بھی "دختر کشی" جیسے عظیم جرم کی توجیہ کے لیے یہ کیا کرتے تھے کہ ہم اس چیز سے ڈرتے ہیں کہ جنگوں میں ہماری بیٹیاں دشمنوں کے ہاتھ لگ جائیں گی، لہٰذا ہماری غیرت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم نئی پیدا ہونے والی لڑکیوں کو "زندہ" زمین میں دفن کر دیں، اور کبھی یہ کہتے کہ اگر ہماری اولاد زندہ رہ جائے تو ہم ان کی زندگی کی تامین پر قادر نہیں ہیں! (اسراء۔٣١)۔ یہاں تک کہ بعض آیات قرآنی سے پتہ چلتا ہے کہ گنہگار اپنے گناہوں کو توجیہ کے لیے قیامت میں بھی ان امور سے تمسک کریں گے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہم نے اپنے قوم کے بزرگوں کی پیروی کی تھی اور وہی لوگ تھے جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا، اور ہماری راہنمائی کا ذمہ لیا تھا۔ "رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا" (احزاب۔٦٧)۔ خلاصہ یہ ہے کہ، توجیہ کرنے کی بلا ایک ایسی مصیبت ہے، جو ہمہ گیر ہے، جس نے لوگوں کے ایک بہت بڑے گروہ کو، خواہ وہ عام ہوں یا خواص، اپنے گھیرے میں لے لیا ہے، اور اس کا عظیم خطرہ یہ ہے کہ یہ گنہگاروں کے سامنے اصلاح کی راہیں بند کر دیتی ہے اور بعض اوقات حقیقتوں اور واقیعتوں کو خدا انسان کی نظر میں گرگوں کر کے دکھانا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنے "خوف اور بزدلی" کی "احتیاط" اور "حرص" کی "مستقبل کی تأمین" سے اور "تہور" کی "قاطعیت" سے اور "ضعف نفس" کی "حیا و شرم" سے اور "بدحالی" کی "زہد" سے اور "إرتکابِ حرام" کی "کلاہ شرعی" سے اور "ذمہ داری" کے زیر بار جانے سے فرار کی موضع کے ثابت نہ ہونے" سے اور اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کی قضا و قدر سے توجیہ کرتے ہیں۔ اور کس قدر درد ناک ہے یہ امر کہ انسان اپنے ہاتھ سے راہ نجات کو اپنے سامنے بند کر دے۔ اگرچہ یہ مفاہیم ہر ایک اپنی جگوں پر صحیح ہیں۔ لیکن اعتراض کی بات یہ ہے کہ وہ اس کو تحریف کر کے اُلٹا نتیجہ نکالتے ہیں، انسانی معاشروں، خانوادوں اور افراد کو اس رہ گزرے سے کتنے عظیم نقصانات پہنچے ہیں؟! خد وند عالم ہم سب کو اس عظیم اور گھروں کو تباہ کرنے والی بلا اور مصیبت سے محفوظ رکھے، (آمین)۔

15
48:15
سَيَقُولُ ٱلۡمُخَلَّفُونَ إِذَا ٱنطَلَقۡتُمۡ إِلَىٰ مَغَانِمَ لِتَأۡخُذُوهَا ذَرُونَا نَتَّبِعۡكُمۡۖ يُرِيدُونَ أَن يُبَدِّلُواْ كَلَٰمَ ٱللَّهِۚ قُل لَّن تَتَّبِعُونَا كَذَٰلِكُمۡ قَالَ ٱللَّهُ مِن قَبۡلُۖ فَسَيَقُولُونَ بَلۡ تَحۡسُدُونَنَاۚ بَلۡ كَانُواْ لَا يَفۡقَهُونَ إِلَّا قَلِيلٗا
جب تم آئندہ چل کر مال غنیمت حاصل کر نے کے لئے روانہ ہو گے تو پیچھے رہ جانے والے کہیں گے ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دیں (تاکہ اس جہاد میں شرکت کریں )۔وہ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے کلام کو بدل دیں۔ کہہ دو: تمہیں ہر گز ہمارے ساتھ چلنے کی اجازت نہیں ہے۔خدا نے پہلے ہی سے یہ کہہ دیا ہے لیکن عنقریب وہ یہ کہیں گے تم ہمارے بارے میں حسد کر رہے ہو۔لیکن وہ اس بات کو سمجھتے ہی نہیں مگر تھوڑا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
48:16
قُل لِّلۡمُخَلَّفِينَ مِنَ ٱلۡأَعۡرَابِ سَتُدۡعَوۡنَ إِلَىٰ قَوۡمٍ أُوْلِي بَأۡسٖ شَدِيدٖ تُقَٰتِلُونَهُمۡ أَوۡ يُسۡلِمُونَۖ فَإِن تُطِيعُواْ يُؤۡتِكُمُ ٱللَّهُ أَجۡرًا حَسَنٗاۖ وَإِن تَتَوَلَّوۡاْ كَمَا تَوَلَّيۡتُم مِّن قَبۡلُ يُعَذِّبۡكُمۡ عَذَابًا أَلِيمٗا
اعراب میں سے پیچھے رہ جانے والوں کو کہدو تمہیں عنقریب ایک جنگجو قوم کی طرف جانے کی دعوت دی جائے گی تاکہ تم ان سے جنگ کر ویا وہ اسلام لے آئیں، اگر تم نے اطاعت کی تو خدا تمہیں اچھی جزا دے گا اور اگر تم نے اسی طرح سے رو گردانی کی جیسے کہ پہلے بھی روگردانی کر چکے ہو تو وہ تمہیں دردناک عذاب دے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔

17
48:17
لَّيۡسَ عَلَى ٱلۡأَعۡمَىٰ حَرَجٞ وَلَا عَلَى ٱلۡأَعۡرَجِ حَرَجٞ وَلَا عَلَى ٱلۡمَرِيضِ حَرَجٞۗ وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ يُدۡخِلۡهُ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۖ وَمَن يَتَوَلَّ يُعَذِّبۡهُ عَذَابًا أَلِيمٗا
’’نابینا‘‘، ’’لنگڑے ‘‘ا ور’’ بیمار‘‘پر( اگر وہ میدان جہاد میں شرکت نہ کریں کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کر ے گا خدا اسے بہشت کے باغات میں داخل فرمائیگا جن کے( درختوں کے) نیچے نہریں جاری ہیں۔لیکن جو شخص روگردانی کرے گا تواللہ اسے دردناک عذاب میں گرفتار کرے گا۔

تفسیر پیچھے رہ جانے والے آمادہ ٔ طلب!

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

اکثر مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ یہ آیات فتح خیبر کے بارے میں ہیں، جو صلح حدیبیہ کے بعد اور ہجرت کے ساتویں سال کے شروع میں واقع ہوئی۔ اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ: روایات کے مطابق جس وقت پیغمبر حدیبیہ سے پلٹ رہے تھے تو حکمِ خدا سے آپ نے حدیبیہ میں شرکت کرنے والے مسلمانوں کو فتح خیبر کی بشارت دی، اور تصریح فرمائی کہ اس جنگ میں صرف وہی شرکت کریں گے، اور جنگ میں حاصل شدہ مال غنیمت بھی انہیں کے ساتھ مخصوص ہو گا، تخلف کرنے والوں کو ان غنائم میں سے کچھ نہ ملے گا۔ لیکن جونہی ان ڈرپوک دُنیا پرستوں نے قرآن سے یہ سمجھ لیا کہ پیغمبر اس جنگ میں جو انہیں درپیش ہے یقینی طور پر کامیاب ہوں گے اور سپاہ اسلام کو بہت سا مالِ غنیمت ہاتھ آئے گا، تو وقت سے فائدہ اُٹھاتے ہُوئے پیغمبرؐ کی خدمت میں حاضر ہُوئے اور میدان خیبر میں شرکت کی اجازت چاہی اور شاید اس عذر کو بھی ساتھ لیا کہ ہم گزشتہ غلطی کی تلافی کرنے، اپنی ذمہ داری کے بوجھ کو ہلکا کرنے، گناہ سے توبہ کرنے اور اسلام و قرآن کی مخلصانہ خدمت کرنے کے لیے یہ چاہتے ہیں کہ ہم میدان جہاد میں آپ کے ساتھ شرکت کریں! وہ اس بات سے غافل تھے کہ قرآنی آیات پہلے ہی نازل ہو چکی تھی اور ان کے راز کو فاش کر چکی تھی، جیسا کہ پہلی زیر بحث آیت میں بیان ہوا ہے۔ "جس وقت تم کچُھ غنیمت حاصل کرنے کے لیے چلو گے تو اس وقت پیچھے رہ جانے والے کہیں گے: ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے کی اجازت دیں اور جہاد میں شرکت کرنے کا شرف بخشیں! (سَيَقُولُ الْمُخَلَّفُونَ إِذَا انْطَلَقْتُمْ إِلى‏ مَغانِمَ لِتَأْخُذُوها ذَرُونا نَتَّبِعْكُم)۔ نہ صرف اسی موقع پر بلکہ دوسرے موقعوں پر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ: یہ تن پردر، لالچی، کم تکلیف اٹھانے والے، تر لقموں کے پیچھے تو جاتے، لیکن سخت خطرناک اور دور دراز کے میدانوں سے گریز کرتے تھے، جیسا کہ سورۂ توبہ کی آیت ۴٢ میں بیان ہوا ہے، جس وقت کوئی غنیمت نزدیک اور سفر سہل اور آسان ہو تو اس وقت تو یہ تیری پیروی کرتے ہیں، لیکن (اب جبکہ میدان تبوک کے لیے) راستہ دُور اور پُر مشقت ہے تو روگردانی کر رہے ہیں اور عنقریب وہ قسم کھا کر کہیں گے: کہ اگر ہم میں تاب و تواں ہوتی تو ہم بھی تمہارے ساتھ چلتے": (لَوْ کانَ عَرَضاً قَریباً وَسَفَراً قاصِداً لاَتَّبَعُوکَ وَلکِنْ بَعُدَتْ عَلَیْهِمُ الشُّقَّةُ وَسَیَحْلِفُونَ بِاللہِ لَوِ اسْتَطَعْنا لَخَرَجْنا مَعَکُم)۔ بہرحال، قرآن زیر بحث آیات میں اس منفعت جو اور فرصت طلب گروہ کے جواب میں کہتا ہے "وہ یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے کلام کو بدل دیں" (یُریدُونَ أَنْ یُبَدِّلُوا کَلامَ اللہِ)۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے : ان سے کہہ دے : تم ہرگز ہمارے پیچھے نہ آنا تمہیں اس میدان میں شرکت کرنے کا حق نہیں ہے: (قُلْ لَنْ تَتَّبِعُونا )۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جو میں اپنی طرف سے کہہ رہا ہوں۔ "یہ تو وہ بات ہے جو خدا نے پہلے سے ہی کہہ دی ہے۔" اور ہمیں تمہارے مستقبل (کے بارے میں) باخبر کر دیا ہے،: (کَذلِکُمْ قالَ اللہُ مِنْ قَبْلُ)۔ خدا نے حکم دیا ہے کہ "غنائم خیبر"، "اہل حدیبیہ" کے لیے مخصوص ہیں، اور اس چیز میں کوئی بھی ان کے ساتھ شرکت نہ کرے، لیکن یہ بے شرم اور پُرا دعا پیچھے رہ جانے والے پھر بھی میدان سے نہیں ہٹتے اور تمہیں حسد کے ساتھ متہم کرتے ہیں، اور عنقریب وہ یہ کہیں گے: کہ معاملہ اس طرح نہیں ہے بلکہ تم ہم سے حسد کر رہے ہو"! (فَسَیَقُولُونَ بَلْ تَحْسُدُونَنا)۔ اور اس طرح سے وہ ضمنی طور پر پیغمبر کی بھی تکذیب کرتے ہیں اور جنگ خیبر میں انہیں شرکت سے منع کرنے کی اصل حسد کو شمار کرتے ہیں۔ قرآن آخری جملہ میں کہتا ہے: لیکن وہ کچھ بھی تو نہیں سمجھتے مگر تھوڑا" (بَلْ كانُوا لا يَفْقَهُونَ إِلَّا قَلِيلًا)۔ ہاں! ان کی تمام بدبختیوں کی اصل، جہالت، نادانی اور بےخبری ہے، جو ہمیشہ ان کے دامن گیر رہی ہے، خدا کے بارے میں جہالت، اور مقام پیغمبرؐ کی عدم معرفت، اور انسانوں کی سرنوشت سے بےخبری اور دُنیا کی دولت و ثروت کے ناپائیدار ہونے کی طرف سے عدم توجہ۔ یہ درست ہے کہ مالی مسائل اور شخصی وہ منافع کے سلسلے میں باہوش، دقیق اور باریک بین تھے، لیکن اس سے بڑھ کر جہالت اور کہا ہو گی کہ انسان تھوڑی سی دولت کے لیے اپنی تمام چیزوں کو بدلے میں دے ڈالے؟! آخرکار پیغمبؐر نے۔ تواریخ کی نقل کے مطابق، غنائم خیبر صرف اہل حدیبیہ پر تقسیم کیے، یہاں تک کہ ان لوگوں کے لیے بھی جو حدیبیہ میں موجود تھے اور کسی وجہ سے جنگِ خیبر میں شریک نہ ہو سکے ان کے لیے بھی ایک حِصّہ قرار دیا، البتہ ایسا آدمی صرف ایک ہی تھا، اور وہ "جابر بن عبداللہ" تھا (بحوالہ: سیرت ابن ہشام، جلد ٣، صفحہ ٣٦٤)۔ اسی بحث کو جاری رکھتے ہُوئے حدیبیہ میں پیچھے رہ جانے والوں سے گفتگو میں، بعد والی آیت میں ایک پیش نہاد کرتا ہے اور ان سامنے بازگشت کی راہ کو اس طرح سے کھلی رکھتے ہوئے فرماتا ہے: "بادیہ نشین اعراب میں سے پیچھے رہ جانے والوں سے کہہ دو: عنقریب تمہیں ایک جنگجو اور طاقتور قوم سے مقابلہ کے لیے نکلنے اور ان سے جنگ کرنے کی دعوت دی جائے گی یہاں تک کہ وہ اسلام قبول کر لیں"( (قُلْ لِلْمُخَلَّفِينَ مِنَ الْأَعْرابِ سَتُدْعَوْنَ إِلى‏ قَوْمٍ أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ تُقاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُون)۔ "اگر تم اطاعت کرو گے تو خدا تمہیں نیک اجر دے گا، اور اگر تم نے روگردانی کی، جس طرح سے پہلے تم نے روگردانی کی تھی، تو خدا تمہیں دردناک عذاب دے گا":(فَإِن تُطِيعُوا يُؤْتِكُمُ اللهُ أَجْرًا حَسَنًا وَإِن تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّيْتُم مِّن قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا)۔ اگر تم واقعاً اپنے پہلے عمل سے پشیمان ہو گئے ہو اور راحت طلبی اور دُنیا پرستی سے ہاتھ اُٹھا لیا ہے تو پھر اپنی صداقت کا امتحان ایک دوسرے سخت اور خوف ناک میدان میں دو، ورنہ سخت میدانوں سے اجتناب کرنا، اور راحت و آرام اور صرف غنیمت کے لیے لڑائی کے میدانوں میں شرکت کرنا کسی طرح ممکن نہیں ہے۔ اور یہ چیز تمہارے نفاق، ضعفِ ایمان، بُزدلی، اور خوف پر ایک دلیل ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن نے ان آیات میں بار بار پیچھے رہ جانے والوں (مخلّفین) کا تذکرہ کیا ہے اور اصطلاح کے مطابق ضمیر کے بجائے اسم ظاہر کو استعمال کرتا ہے۔ یہ تعبیر خصوصیت کے ساتھ صیغہ اسم مفعول کی صُورت میں آئی ہے، یعنی پیچھے چھوڑے ہوئے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس وقت صاحبِ ایمان مسلمانوں نے اس گروہ کی سُستی اور بہانہ جوئیوں کا مشاہدہ کیا تو انہیں پیچھے چھوڑتے ہُوئے اور ان کی حالت و کیفیت کی پرواہ کیے بغیر میدانِ جہاد کی طرف چل پڑے۔ لیکن اس بارے میں کہ یہ جو جنگ جُو اور طاقت ور قوم جس کی طرف اس آیت میں اشارہ ہوا ہے، کون سی جمعیّت تھی؟ مفسرین کے درمیان اخلاف ہے۔ "تُقاتِلُونَهُمْ أَوْ یُسْلِمُون" (ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ وہ مسلمان ہو جائیں) کا جُملہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اہل کتاب نہیں تھے،کیونکہ انہیں اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے، بلکہ انہیں اس بات کا اختیار دیا جاتا ہے کہ یا تو وہ اسلام لے آئیں یا اہلِ ذمہ کی شرائط قبول کرتے ہُوئے مسلمانوں کے ساتھ صحیح طریقہ سے زندگی گزاریں اور جزیہ دیتے رہیں، صرف مشرکین اور بُت بُت پرست ہی ہیں جن سے سوائے اسلام کے کوئی چیز قابلِ قبول نہیں۔ کیونکہ اسلام بُت پرستی کو ایک دین کے طور پر قبول نہیں کرتا، اور بُت پرستی ترک کرنے کے لیئے مجبور کرنا جائز ہے۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ زمانہ ٔ پیغمبرؐ میں واقعہ "حدیبیہ" اور "فتح خیبر" کے بعد مشرکین کے ساتھ اہم جنگ سوائے "فتح مکہ" اور "جنگ حنین" کے اور کوئی نہیں تھی۔ لہٰذا اوپر والی آیت انہیں کی طرف اشارہ ہو سکتی ہے، خصوصاً جنگ حنین جس میں قبیلہ "ہوازن" اور "بنی سعد" کی سخت کوشش اور جنگ جُو قوم کے لوگ شریک تھے۔ لیکن بعض نے جو یہ احتمال دیا ہے کہ یہ "عزوۂ موتہ" کی طرف اشارہ ہے جو رومیوں کے ساتھ انجام پائی تھی، تو یہ بات بعید نظر آتی ہے کیونکہ وہ تو اہل کتاب تھے۔ اور یہ احتمال کہ اس سے پیغمبرؐ کے بعد کی جنگیں مراد ہیں، جن میں سے "اہل فارس" و "یمامہ" کی جنگیں ہیں، تو یہ بات بہت ہی زیادہ بعید ہے، کیونکہ آیات کا لب و لہجہ یہ بتاتا ہے، کہ یہ مسئلہ زمانہ پیغمبرؐ کے ساتھ مربوط ہے، اور ہمارے لیے کوئی ضرورت نہیں ہے کہ اسے زمانہ پیغمبر سے بعد کی جنگوں پر منطبق کریں۔ ظاہر ایسا ہوتا ہے کہ بعض مفسرین کی فکر و نظر میں کُچھ سیاسی اسباب تھے جن کی وجہ سے انہوں نے اس مسئلہ پر زور دیا ہے۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ پیغمبرؐ ان سے وعدہ نہیں کرتے کہ تمہاری آئندہ کی جنگوں میں تمہیں کچھ مال غنیمت ملے گا، کیونکہ جہاد کا مقصد غنیمت کا حصول نہیں ہے، بلکہ وہ صرف یہ بتانا ہی کافی سمجھتا ہے کہ خدا تمہیں اچھا اجر دے گا اور عام طور پر یہ تعبیر آخرت کے اجر کے بارے میں ہے۔ یہاں پر ایک سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ سورۂ توبہ کی آیہ ٨٣ میں ان نامحروموں کو کلی طور پر رد کرتے ہُوئے کہتا ہے: "فَقُلْ لَنْ تَخْرُجُوا مَعِيَ أَبَداً وَلَنْ تُقاتِلُوا مَعِيَ عَدُوًّا إِنَّكُمْ رَضِيتُمْ بِالْقُعُودِ أَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوا مَعَ الْخالِفِين" تم ہرگز کسی جنگ میں بھی میرے ساتھ باہر نہیں نکلو گے اور تم میرے ساتھ رہ کر دشمن کے ساتھ جنگ کرنے کے مجاز نہیں ہو، کیونکہ تم پہلی مرتبہ بھی جنگ سے کنارہ کشی پر راضی ہو گئے تھے، اب بھی تم پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ ہی بیٹھے رہو۔ درحالیکہ زیر بحث آیت انہیں ایک اور سخت اور خطرناک میدان میں جنگ کی دعوت دے رہی ہے۔ لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہُوئے کہ سُورۂ توبہ کی آیت تو جنگ تبوک سے پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ مربوط ہے، کہ پیغمبرؐ اُن سے قطع امید کر چکے تھے اور زیر بحث آیت حدیبیہ سے پیچھے رہ جانے والوں کے بارے میں گفتگو کر رہی ہے کہ ابھی تک ان کی طرف سے امید منقطع نہیں ہوئی تھی۔ اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے: اور چونکہ پیچھے رہ جانے والوں کے درمیان ایسے افراد بھی تھے جو کسی عضو کے ناقص ہونے کی وجہ سے یا بیماری کی بناء پر واقعاً جہاد میں شرکت کی قدرت نہیں رکھتے تھے، لہٰذا ان کا حق یہاں نظر انداز نہیں ہونا چاہیئے، اس لیے آخری زیر بحث آیت میں ان کے معذور ہونے کو واضح کرتا ہے۔ خاص طور پر یہ بات جو بعض مفسرین نے نقل کی ہے کہ گزشتہ آیت کے نزول اور پیچھے رہ جانے والوں کو عذابِ الیم کی دھکمی دینے کے بعد معذوروں اور بیماروں کی ایک جماعت پیغمبرؐ کی خدمت میں حاضر ہوئی اورعرض کیا: اے خدا کے رسُولؐ اس حالت میں ہماری ذمہ داری کیا ہے؟ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی، اوران کے لیے اس طرح حکم بیان کیا: "نابینا، لنگڑے اور بیمار پر کوئی گناہ نہیں ہے، اگر وہ میدان جہاد میں شرکت نہ کریں": (لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَى حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ)۔ صرف جہاد ہی نہیں ہے کہ جو قدرت و توانائی کے ساتھ مشروط ہے بلکہ تمام شرعی ذمہ داریاں عمومی شرائط کے ایک سلسلہ کے ساتھ مشروط ہیں، جن میں سے ایک توانائی اور قدرت ہے اور آیاتِ قرآن میں بارہا اس معنی کی طرف اشارہ ہوا ہے، سورۂ بقرہ کی آیت ٢٨٦ میں ایک کُلیہ کی صورت میں اس طرح بیان ہوا ہے: (لاَ يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَهَا): خدا کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا"۔ یہ شرط منقول دلیلوں سے بھی ثابت ہے اور عقلی دلیلوں سے بھی۔ لیکن یہ گروہ اگرچہ میدانِ جہاد میں شرکت سے معاف رکھا گیا ہے، مگر انہیں بھی اپنے مقدور بھر قوائے اسلام کو طاقت پہنچانے اور اہداف الہٰی کو آگے بڑھانے کے لیے کوشش کرنی چاہیئے، جیسا کہ سورۂ توبہ کی آیت ٩١ میں بیان ہوا ہے: لَّيْسَ عَلَى الضُّعَفَاءِ وَلاَ عَلَى الْمَرْضَى وَلاَ عَلَى الَّذِينَ لاَ يَجِدُونَ مَا يُنفِقُونَ حَرَجٌ إِذَا نَصَحُواْ لِلهِ وَرَسُولِهِ: "کمزوروں، بیماروں اور ان لوگوں پر جو (جہاد کے لیے) کچھ خرچ کرنے کا بھی ذریعہ نہیں رکھتے، کوئی گناہ نہیں ہے، ( کہ وہ میدان میں حاضر نہ ہوں) مگر شرط یہ ہے کہ وہ خدا اور اس کے رسول سے خیر خواہی کریں"۔ یعنی اگر وہ ہاتھ سے کوئی کام انجام دینے پر قادر نہیں ہیں، تو حسب مقدور زبان سے تو گریز نہ کریں، اور یہ ایک عمدہ تعبیر ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے، کہ جو شخص توانائی رکھتا ہے اتنی فرو گذاشت نہ کرے، دوسروں لفظوں میں اگر کوئی محاذِ جنگ میں شرکت نہیں کر سکتا تو کم از کم محاذ کی پشت کو ہی مضبُوط کرے۔ اور شاید زیر بحث آیت کا آخری جُملہ بھی اسی معنی کی طرف اشارہ ہو، جس میں فرماتا ہے: جو شخص خدا اور اس کے رسُول کی اطاعت کرے گا وہ اس کو بہشت کے اُن باغات میں داخل کرے گا، جس کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں، اور جو شخص روگرانی کرے گا وہ اُسے درد ناک عذاب میں گرفتار کرے گا" (وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ وَمَن يَتَوَلَّ يُعَذِّبْهُ عَذَابًا أَلِيمًا)۔ یہ احتمال بھی ہے کہ جن مواقع پر کسی حکم میں کوئی استثناء ہوتا ہے تو کچھ لوگ غلط فائدہ اٹھاتے ہُوئے اپنے آپ کو معذوروں کی صف میں کھڑا کر لیتے ہیں، تو قرآن انہیں خبردار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر وہ واقعاً وہ معذور نہ ہُوئے تو وہ درد ناک عذاب میں گرفتار ہوں گے۔ یہ نکتہ قابلِ توجہ ہے کہ معذور ہونے، نابینا، لنگڑے اور سخت بیماروں کا مسئلہ "جبار" ہی کے لیے مخصوص ہے لیکن "دفاع" کے مسئلہ میں ہر شخص کو مقدور بھر کیان اسلام، وطنِ اسلامی اور جان کا دفاع کرنا چاہیئے اور اس سلسلہ میں کوئی استثناء نہیں ہے۔

18
48:18
۞لَّقَدۡ رَضِيَ ٱللَّهُ عَنِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ إِذۡ يُبَايِعُونَكَ تَحۡتَ ٱلشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمۡ فَأَنزَلَ ٱلسَّكِينَةَ عَلَيۡهِمۡ وَأَثَٰبَهُمۡ فَتۡحٗا قَرِيبٗا
خدا ان مومنین سے جنہوں نے درخت کے نیچے تیر ی بیعت کی ‘راضی اور خوش ہو ا۔ خدا اس کو جو( صداقت و ایمان سے) ان کے دلوں میں چھپا ہو اتھا جانتا تھا۔ لہٰذا اس نے ان کے دل پر سکون و اطمینان نازل کیا اور اجر و پاداش کے عنوان سے ایک نزدیکی فتح انہیں نصیب فرمائی

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔

19
48:19
وَمَغَانِمَ كَثِيرَةٗ يَأۡخُذُونَهَاۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمٗا
اور بہت سے غنائم جنہیں وہی حا صل کریں گے۔ اور خدا عزیز وحکیم ہے

تفسیر بیعتِ رضوان میں شریک ہونے والوں سے خدا کی خوشنودی

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

ہم بیان کر چکے ہیں کہ واقعہ حدیبیہ میں "پیغمبرؐ" اور "قریش" کے درمیان سفیروں کا تبادلہ ہوا تھا، ان میں سے پیغمبرؐ نے "عثمان بن عفّان" کو (جو ابوسفیان) کے عزیزوں میں سے تھا، اور یہ رابط ظاہراً اس کے انتخاب میں اثر رکھتا تھا) نمائندے کے طور پر مشرکین مکّہ اور اشراف قریش کے پاس بھیجا تھا تاکہ وہ انہیں اس حقیقت سے آگاہ کرے کہ مسلمان جنگ کے ارادے سے نہیں آئے، بلکہ ان کا ہدف و مقصد تھا خانہ خدا کی زیارت اور کعبہ کا احترام ہے، لیکن قریش نے وقتی طور پر عثمان کو روک لیا، اور اس کے بعد مسلمانوں میں یہ افوا پھیل گئی کہ عثمان مارا گیا ہے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمنے فرمایا: میں یہاں سے نہیں ہٹوں گا جب تک اس گروہ سے جنگ نہ کروں۔ اس کے بعد آپ اُس درخت کے نیچے تشریف لائے جو وہاں پر موجود تھا، اور لوگوں کے ساتھ تجدید بیعت کی اور ان سے خواہش ظاہر کی کہ مشرکین کے ساتھ جنگ کرنے میں کوتاہی نہیں کریں گے، اور کوئی شخص میدان جہاد سے فرار نہیں کرے گا۔ (بحوالہ: "مجمع البیان" زیر بحث آیات کے ذیل میں)۔ اس بیعت کی شہرت مکّہ میں پھیل گئی اور قریش سخت وحشت زدہ ہو گئے اور انہوں نے عثمان کو آزاد کر دیا۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں یہ بیعت "بیعتِ رضوان" (خوشنودیِ خدا کی بیعت) کے عنوان سے مشہور ہوئی اور مشرکین کو لرزہ براندام کر دیا اور یہ تاریخ اسلام کا ایک اہم موڑ تھا۔ زیر بحث آیات اسی ماجرے کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں۔ پہلے فرماتا ہے: خدا ان مومنین سے جنہوں نے درخت کے نیچے تجھ سے بیعت کی راضی اور خوشنود ہوا" (لَقَدْ رَضِيَ اللهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ)۔ اس بیعت کا مقصد توانائیوں کو زیادہ سے زیادہ منظم کرنا، روحانی تقویت، جنگی آمادگی کی تجدید، افکار کی آزمائش اور وفادار دوستوں کی فدا کاری کے وزن کو آزمانا تھا۔ اس بیعت نے مسلمانوں کے جسم میں ایک نئی رُوح پھونک دی چونکہ انہوں نے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیا تھا۔ اور صمیم قلب کے ساتھ وفاداری کا اظہار کر رہے تھے۔ خدا نے ان فدا کار اور ایثار پیشہ مومنین کو جنہوں نے اس حساس لمحہ میں پیغمبر سے بیعت کی تھی چار عظیم اجر عطا فرمائے۔ جن میں سب سے زیادہ اہم اس کی رضا و خوشنودی تھی، جیسا کہ سورۂ توبہ کی آیت ٧٢ میں بیان ہوا ہے: وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللهِ أَكْبَرُ: "اور خدا کی رضا اور خوشنودی بہشت کی سب نعمتوں سے برتر ہے۔" اس کے بعد مزید کہتا ہے: "خدا اس عہد و پیمان کے بارے میں ان کی وفاداری پر آمادگی اور ان کے دلوں میں چُھپے ہُوئے ایمان اور صداقت کو جانتا تھا، اس لیے ان پر سکون و آرام نازل کیا" (فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ)۔ ایسا سکون و اطمینان کہ: دشمنوں کے انبوہ کے درمیان، اپنے وطن اور شہر و دیار سے دُور دراز مقام پر، ان کے آمادہ و تیار ہتھیاروں کے درمیان، کافی اسلحہ پاس نہ ہونے کے باوجود (چونکہ زیارت کے لیے آئے تھے نہ کہ جنگ کے لیے) کسی قسم کا خوف اور گھبراہٹ محسوس نہ کی، اور مضبوط پہاڑ کی طرح اپنے پاؤں پر کھڑے رہے اور یہ ان کے لیے خدا کی دوسری نعمت تھی۔ اصولی طور پر الطاف خاص اور خدائی امدادیں ایسے اشخاص کے شاملِ حال ہوتی ہیں جو خلوصِ نیت اور باطنی صدق و صفا کے حامل ہوں۔ لہٰذا ایک حدیث امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: " إن العبد المؤمن الفقير ليقول يا ربّ أُرزُقنِى حتى إفعل كذا وَكذا مِنَ البِرّ ووُجُوهُ الخَير، فَإذا علمَ الله عزّوَجَلّ ذلك منه بصدق نيّته كتب الله له من الأجر مثل ما يكتب له لو عمله، إن الله واسعٌ كريمٌ۔ "فقیر بندۂ مومن جب کبھی یہ کہتا ہے: خداوندا مجھے توفیق عطا فرما کہ میں ایسے ایسے اچھے اور نیک کام کروں، جب خدا اس کی صدق نیّت کو جان لیتا ہے تو وہ اس کے لیے وہی اجر و صلہ لکھ دیتا ہے جو اُسے عمل کرنے کی صورت میں عطا کرتا، کیونکہ خدا وسیع رحمت والا کریم ہے۔" (بحوالہ: "بحار الانوار" جلد ٧٠، صفحہ ١٩٩)۔ آیت کے آخر میں تیسری نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے فرماتا ہے: اور انہیں اجر کے طور پر قریب کی فتح نصیب کی": (وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا)۔ ہاں! یہ فتح جو اکثر مفسرین کے قول کے مطابق فتح خیبر تھی (اگرچہ بعض نے اسے فتح مکّہ شمار کیا ہے) ایثار پیشہ مؤمنین کے لیے خدا تیسری نعمت تھی۔ "قریباً" کی تعبیر اس چیز کی ایک تائید ہے کہ اس سے مراد "فتح خیبر" ہے کیونکہ یہ فتح ہجرت کے ساتویں سال کی ابتداء میں، حدیبیہ کے واقعہ سے چند ماہ کے فاصلہ پر حاصل ہوئی۔ چوتھی نعمت جو بیعت رضوان کے بعد مسلمانوں کو نصیب ہوئی فراواں مادی غنائم تھے، جیسا کہ بعد والی آیت میں فرماتاہے: "اور دوسرا اجر وہ بکثرت غنائم ہیں جو اُن کے ہاتھ آئیں گے (وَمَغَانِمَ كَثِيرَةً يَأْخُذُونَهَا)۔ ان غنائم میں سے ایک وہی خیبر کے غنائم تھے جو مسلمانوں کو ایک مختصر سے عرصہ میں نصیب ہُوئے، اور خیبر کے یہودیوں کی بےحساب ثروت کی طرف توجہ کرتے ہُوئے یہ غنائم حد سے زیادہ اہمیّت کے حامل تھے۔ لیکن غنائم کو خیبر کے غنائم میں محدُود کرنے کی کوئی قطعی دلیل نہیں ہے۔ لہٰذا باقی اسلامی جنگوں کے غنائم بھی جو فتح حدیبیہ کے بعد حاصل ہُوئے اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اور چونکہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس وعدہ الہٰی پر مکمل اطمینان رکھیں، آیت کے آخر میں مزید کہتا ہے: "خدا شکست ناپذیر اور حکیم ہے" (وَکانَ اللہُ عَزیزاً حَکیماً)۔ اگر تمہیں یہ حکم دیا ہے کہ حدیبیہ کے مقام پر صلح کر لو، تو وہ حکمت کی اساس پر تھا، وہ حکمت کہ وقت کے گزرنے نے اس کے اسرار سے پردہ اٹھا دیا ہے، اور اگر وہ تمہیں فتح قریب اور غنائم کثیرہ کا وعدہ دیتا ہے، تو وہ اس بات پر قادر ہے کہ اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنائے۔ اس طرح سے صاحب ایمان اور ایثار پیشہ مسلمانوں نے بیعت رضوان کے سایہ میں، اور ان حساس لمحات میں پیغمبر سے وفاداری کا اعلان کر کے دُنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کر لی، جبکہ بےخبر اور ضعیف الایمان ڈرپوک منافق حسرت کی آگ میں جلتے رہے۔ ہم اس گفتگو کو امیر المومنین علی علیہ السلام کی گفتگو پر ختم کرتے ہیں۔ جبکہ آپ صدر اوّل کے مسلمانوں کی پامردی اور دشمن سے بےنظیر جہاد کے بارے میں بات کرتے ہیں، اور سست و کمزور عنصر مخاطبین کی مذمت کرتے ہُوئے فرماتے ہیں: " فلمّا راى الله صدقنا أنزل بعدونا الكبت، وأنزل علينا النصر، حتى استقر الإسلام ملقيا جرانه، ومتبوءًا أوطانه، وَلِعُمرى لَو كنّا نَأتِى ما أتيتُم، مَا قام لِلدّين عمودٌ، وَلَا أخضر لِلإيمان عود، وَأيمُ الله لِتحتلبنها دَمًا، لتتبعنها نَدِمًا۔"! "جس وقت خدا نے ہمارے صدق و خلوص کو دیکھا تو ذلّت و خواری کو دشمن پر اور کامیابی و نصرت کو ہم پر نازل فرمایا، یہاں تک کہ اسلام صفحۂ زمین پر پھیل گیا، اور وسیع علاقے اپنے لیے چن لیے، مجھے میری جان کی قسم ہے کہ اگر ہم مبارزہ میں تمہاری طرح ہوتے تو ہرگز دین کا ستون قائم نہ ہوتا، اور ایمان کے درخت کی شاخ سرسبز نہ ہوتی، اور خدا کی قسم تم دودھ کے بدلے خون دوہو گے اور پشیمان ہوں گے۔ (بحوالہ: "نہج البلاغہ" خطبہ ٥٦)۔

ایک نکتہ بیعت اور اس کی خصوصیات

بیعت، "بیع" کے مادہ سے اصل قرار داد معاملہ کے وقت ہاتھ میں دینے کے معنی میں ہے، اس کے بعد اطاعت کے عہد و پیمان کے لیے ہاتھ میں ہاتھ دینے پر اس کا اطلاق ہونے لگا، اور وہ اس طرح ہوتا تھا کہ جب کوئی کسی سے وفاداری کا اعلان کرنا چاہتا تھا اور اسے رسمی طور پر قبول کرنا اور اس کے فرمان کی اطاعت کرنا چاہتا تھا، تو اس سے بیعت کیا کرتا تھا، اور شاید اس لفظ کا اطلاق اس معنی میں ایک وجہ سے ہوتا تھا، کہ دونوں طرف سے ہر ایک دوسرے کے ساتھ ایک عہد کرتا تھا جو دو معاملہ کرنے والوں کے عہد و پیمان کے مانند ہوتا تھا، بیعت کرنے والا بعض اوقات جان کی حد تک اور کبھی مال و اولاد کی حد تک اس کی اطاعت کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار کرتا تھا، اور بیعت لینے والا بھی اس کی حمایت اور اس کے دفاع کو اپنے ذمہ لیتا تھا۔ ابنِ خلدون اپنی تاریخ کے مقدمہ میں کہتا ہے: " كانوا إذا بايع الأميرجعل أيديهِم فى يده تاكيدًا فَأشبه ذلك فِعلَ البايع وَالمشترى: جب لوگ کسی امیر سے بیعت کرتے تھے تو تاکید کے لیے اپنے ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیتے تھے، اور یہ کام بیچنے اور خریدنے والے کے کام کے مشابہ تھا۔" (بحوالہ: مقدمہ ابن خلدون، صفحہ ١٧٤)۔ قرائن بتلاتے ہیں کہ بیعت مسلمانوں کی ایجادات میں سے نہیں ہے، بلکہ یہ اسلام سے پہلے عربوں میں ایک رسم کے طور پر رائج تھی، اسی بناء پر آغازِ اسلام میں جب قبیلہ اوس اور "خزرج" حج کے موقع پر مدینہ سے مکّہ آئے تو انہوں نے عقبہ میں پیغمبرؐ اسلام بیعت کی تھی، مسئلہ بیعت کے سلسلہ میں ان کا یہ عمل ایک جانے پہچانے کام پر عمل تھا، اس کے بعد پیغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مختلف مواقع پر مسلمانوں سے تجدید بیعت کی، کہ اُن سے ایک موقع یہی حدیبیہ میں بیعتِ رضوان کا تھا اور اس سے زیادہ وسیع وہ بیعت تھی جو فتح مکّہ کے بعد انجام پاتی، جس کی تفصیل ان شاءاللہ سورۂ ممتحنہ کی تفسیر میں بیان ہو گی۔ باقی رہی "بیعت" کی کیفیت تو وہ کلی طور پر اس طرح سے تھی کہ بیعت کرنے والا اپنا ہاتھ بیعت لینے والے کے ہاتھ پر رکھتا، اور زبان حال یا زبان مقال کے ساتھ اطاعت و وفاداری کا اعلان کرتا، اور بعض اوقات بیعت کے ضمن میں اس کے لیے شرائط و حدُود کا قائل ہوتا تھا، مثلاً مال کی حد تک بیعت یا جان کی حد تک یا ہر چیز کی حد تک، یہاں تک کہ بیوی بچّے تک قربان کر دینے کی حد تک۔ اور بعض اوقات فرار نہ کرنے کی حد تک اور کبھی موت کی حد تک بیعت ہوتی تھی، (اتفاق کی بات یہ ہے کہ یہ دونوں معنی بیعت رضوان کے سلسلے میں تواریخ میں بیان ہُوئے ہیں)۔ پیغمبر اسلامؐ عورتوں کی بیعت کو بھی قبول کرتے تھے، لیکن وہ ہاتھ میں ہاتھ دینے کے طریقہ سے نہیں ہوتی تھی، بلکہ جیسا کہ تواریخ میں آیا ہے۔ آپ پانی کا ایک بڑا برتن لانے کا حکم فرماتے تھے اور اپنا ہاتھ برتن کی ایک طرف ڈبو دیتے تھے، اور بیعت کرنے والی عورتیں اپنے ہاتھ دوسری طرف ڈبو دیا کرتی تھیں۔ کبھی "بیعت" کے ضمن میں کسی کام کو انجام دینے یا کچھ کاموں کو ترک کرنے کی شرط کرتے تھے، جیسا کہ پیغمبرؐ نے فتح مکہ کے بعد عورتوں سے بیعت لیتے وقت شرط کی کہ "وہ شرک نہ کریں، اور بےعقلی سے آلودہ نہ ہوں، اور چوری نہ کریں اور اپنے بچّوں کو قتل نہ کریں اور دیگر امور" (سورہ ممتحنہ، آیت ١٢)۔ ١۔ بیعت کی ماہیّت یہ ایک طرف بیعت کرنے والے کی جانب سے اور دوسری طرف بیعت لینے والے کی جانب سے ایک قسم کی قرار داد اور معاہدہ ہے، اور اس کا مضمون و مطلب بیعت لینے والے کی اطاعت و پیروی اور دفاع و حمایت ہے اور ان شرائط کے مطابق جو اس میں بیان کیے جاتے ہیں، بیعت کے مختلف درجے ہوتے ہیں۔ آیاتِ قرآنی اور احادیث کے لب و لہجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بیعت، بیعت کرنے والے کی طرف سے ایک ضروری لازمی عہد ہوتا ہے، جس کے مطابق عمل کرنا واجب ہوتا ہے، اور اس بناء پر یہ "أَوْفُوا بِالْعُقُود" کے قانون کا کلی طور پر شمول ہے۔ (مائدہ۔ ١)۔ اس بناء پر بیعت کرنے والا فسخ کرنے کا حق نہیں رکھتا، لیکن بیعت لینے والا اگر مصلحت دیکھے تو اپنی بعیت اُٹھا سکتا ہے، اور اُسے فسخ کر سکتا ہے، اور اس صورت میں بیعت کرنے والا اپنے فرض اور عہد سے آزاد ہو جاتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: واقعہ کربلا میں ہم پڑھتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام نے شب عاشور خُطبہ پڑھا اور اپنے اصحاب کی قدردانی کے اظہار کے ضمن میں اپنی بیعت ان سے اُٹھالی، تاکہ وہ جہاں ان کا دل چاہے چلے جائیں (لیکن وہ اسی طرح سے وفادار رہے) اور فرمایا: فانطلقوا فِی حلّ لیس علیکم منّی زَمام: (کامل ابن اثیر، جلد ٢، صفحہ ٥٧)۔ ٢۔ بعض لوگ بیعت کو "انتخابات" کے مشابہ یا اس کی ایک نوع سمجھتے ہیں، حالانکہ "انتخابات" کا مسئلہ ٹھیک اس کے برعکس ہے۔ یعنی اس کی ماہیّت منتخب ہونے والے کے لیے ایک قسم کی مسئولیّت وظیفہ و ذمہ داری اور مرتبہ و مقام کا عطا کرنا ہے، یا دوسرے لفظوں میں کسی کام کے انجام دینے میں وکیل بنانا ہے، اگرچہ اس انتخاب میں انتخاب کرنے والوں کے لیے بھی کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں، (تمام وکالتوں کی طرح) جب کہ بیعت ایسی چیز نہیں ہے۔ دوسے لفظوں میں: انتخابات مقام کی عطائیگی ہے، جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے کہ وہ وکالت کے مشابہ ہے، جبکہ بیعت "اطاعت کا عہد" ہے۔ اگرچہ یہ ممکن ہے کہ یہ دونوں بعض باتوں میں ایک دوسرے سے مشابہت پیدا کر لیں، لیکن یہ شباہت ہرگز ان کے مفہوم و ماہیّت کی وحدت کے معنی میں نہیں ہے، اسی لیے بیعت کے سلسلے میں بیعت کرنے والا فتح کرنے کا حق اور اختیار نہیں رکھتا، جب کہ انتخابات میںبہت سے مواقع پر انتخاب کرنے والے فسخ کرنے کا حق رکھتے ہیں، کہ انتخاب ہونے والے شخص کو سب مل کر اس کے مقام سے معزول کر دیں۔ (غور کیجیے)۔ ٣۔ پیغمبرؐ اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے لیے، جو خدا کی طرف سے منصوب ہوتے ہیں۔ کسِی قسم کی بیعت کی ضرورت نہیں ہوتی، یعنی پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت اور امامِ معصوم علیہ السلام اور ان کی طرف سے نصب شدہ فرد کی اطاعت واجب ہے، خواہ کسی نے بیعت کی ہو یا کسی نے بیعت نہ کی ہو۔ دوسرے لفظوں میں نبوّت و امامت کا مقام ہی وجوب اطاعت کو لازم و ضروری قرار دیتا ہے، جیسا کہ قرآن کہتا ہے: (أَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الْأَمْرِ مِنكُمْ) (نساء۔ ٥٩)۔ لیکن یہ سوال سامنے آتا ہے کہ اگر ایسا ہی ہے تو پھر پیغمبرؐ نے بارہا اپنے صحابہ سے اور تازہ مسلمانوں سے بیعت کیوں لی، جس کے دو نمونے صراحت کے ساتھ قرآن میں آئے ہیں، (بیعتِ رضوان تو اسی سُورہ میں ہے اور اہل مکّہ سے جو بیعت لی اس کی طرف سورۂ ممتحنہ میں اشارہ ہوا ہے)۔ اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ بلاشک و شبہ وفاداری پر ایک قسم کی تاکید تھیں، جو خاص خاص موقعوں پر انجام پائی تھیں، خاص طور پر سخت قسم کے بحرانوں اور حوادث کے مقابلہ کے لیے ان سے استفادہ کیا گیا ہے، تاکہ اس کے سایہ میں لوگوں کے جسموں میں تازہ روح پھونکی جائے، جیسا کہ ہم گزشتہ بحثوں میں بیعتِ رضوان کے عجیب و غریب اثرات کا مشاہدہ کر چکے ہیں۔ لیکن وہ بیعتیں جو خلفاء کے لیے لیتے تھے وہ ان کے مقام خلافت کو قبول کرنے کے طور پر ہوتی تھیں، اگرچہ ہمارے عقیدہ کے مطابق پیغمبرؐ کی خلافت کوئی ایسی چیز نہیں جو لوگوں کی بیعت کے طریقہ سے انجام پائے، بلکہ وہ صرف خدا کی طرف سے اور خود پیغمبر یا سابق امام کے ذریعہ منعقد ہوتی ہے۔ اور اسی بناء پر بیعت جو مُسلمانوں نے علیؑ یا امام حسنؑ یا امام حسینؑ، کی تھی، وہ بھی وفاداری پر تاکیدی پہلو رکھتی تھی، اور پیغمبرؐ کی بیعتوں کے ساتھ مشابہت رکھتی تھی۔ ٤۔ کیا موجودہ حالات میں بھی بیعت ایک اسلامی اصل کے طور پر قابل قبول ہے؟ دوسرے لفظوں میں، کیا آج بھی بیعت کو عام کیا جا سکتا ہے، مثلاً کوئی قوم کسی لائق اور حامل شرائطِ شرعی فرد کو انتخاب کرے (اور لشکر کے کمانڈر اچیف، رئیس قوم یا رئیس حکومت کے عنوان سے) اس کی بیعت کر لیں؟ تو کیا اس قسم کی بیعتیں احکام شرعی کی مشمول بیعت ہو سکتی ہے؟ کیونکہ اصطلاح کے مطابق بیعت کے بارے میں قرآن و سُنّت سے کوئی عموم اور اطلاق ہمارے پاس نہیں ہے، لہٰذا اس مسئلہ کو عمومیّت دنیا مشکل نظر آتا ہے، اگرچہ " أَوْفُوا بِالْعُقُودِ" والی آیت کے عموم سے استدلال کرنا چنداں بعید نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود ابہام بیعت سے مربوط مسائل میں پایا جاتا ہے، اس بات سے مانع ہے کہ ہم قطعی اور یقینی طور پر " أَوْفُوا بِالْعُقُودِ" پر تکیہ کریں، خاص طور پر جبکہ ہماری فقہ میں بیعت کے لیے پیغمبرؐ اور امامِ معصومؑ کے علاوہ کوئی مقام نظر نہیں آتا۔ اس نکتہ کی طرف توجہ بھی ضروری کہ ولی فقیہ کی نیابت کا مقام ہماری نظر میں ایسا مقام ہے جو ائمہ معصومینؑ کی طرف سے معین ہوا ہے، اور اس کے لیے کسی قسم کی بیعت کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ لوگوں کا ولی فقیہ کی اطاعت و پیروی کرنا اس کے اس مقام سے استفادہ کا امکان اور اصطلاح کے مطابق "بسط ید" دینا ہے۔ لیکن یہ اس معنی میں نہیں ہے کہ اس کا مقام لوگوں کے اتباع اور پیروی کا مرہون، اور پھر لوگوں کے پیروی کرنے کا مسئلہ بیعت کے مسئلہ سے کوئی ربط نہیں رکھتا، بلکہ ولایت فقیہ کے بارے میں حکم الہٰی پر عمل کرنا ہے، (غور کیجئے)۔ ٥۔ بہرحال، "بیعت" مسائل اجرائی سے مربوط ہے، اور اس کا احکام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، یعنی کسی شخص کی بیعت کر لیتا ہے گز اسے "تشریح اور قانون وضع کرنے" کا حق نہیں دیتا، بلکہ قوانین کو کتاب و سنت سے لینا چاہیے، اور پھر انہیں جاری کرنا چاہیے، اور اس میں کسی کو اختلاف نہیں ہے۔ ٦۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ امام اور معصوم پیشوا کی بیعت خدا کے لیے ہونی چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں بیعت ایسے امور میں سے ہے جس میں قصد قربت ضروری ہے۔ ایک حدیث میں پیغمبر گرامی اسلام سے آیا ہے۔ " ثلاثة لايكلمهم اللہ عزّوجلّ يوم القيامة ولاينظر إليهم ولايُزَكِّيهِم وَلهُم عَذَابٌ اليمٌ: رجلٌ بايع إماما لايبايعه إلّا للدّنيا، إن أعطاه ما يريده وفى له، وإلّا كفّ، ورجل بايع رجلا بسلعته بعد العصر مخلف بالله عزّوجلّ لقد أعطى بها كذا وكذا فصدقه وأخذها ولم يعط فيها ما قال، و رجل على فضل ماء بالفلات يمنعه إبن السبيل۔" تین شخص ایسے ہیں جن سے خدا بات نہیں کرے گا، اور نہ ہی انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے، ایک تو وہ شخص جو امام کی بیعت کرے اور اس سے اس کا مقصد دُنیا کے علاوہ اور کُچھ نہ ہو، کہ اگر وہ اس کی مطلوبہ چیز اسے دے دے تو پھر تو وہ اپنی بیعت کو پورا کرے گا، ورنہ علیحدہ ہو جائے گا، اور ایک وہ شخص جو عصر کے وقت کے بعد جنس بیچتا ہے، اور قسم کھا کر کہے کہ میں نے جنس اتنی رقم دے خریدی ہے، اور مُشتری سچ سمجھ کر اُسے خرید لیتا ہے، حالانکہ ایسا نہیں تھا، تیسرا وہ شخص جس کے پاس بیابان میں فالتو پانی موجود ہے، لیکن وہ مسافر کو نہیں دیتا۔ (تشریحی نوٹ: "خصال" باب الثلاثہ حدیث٧٠)۔ عصر کی تعبیر یا تو اس وقت کی شرافت کی وجہ سے ہے، اور یا اس بناء پر ہے کہ بہت سے جنس بیچنے والے اس موقع پر اپنی جنس کو جس قیمت پر خریدتے ہیں اسی قیمت پر بیچ دیتے ہیں۔ ٧۔ بیعت توڑنا گناہان کبیرہ میں سے ہے ایک حدیث میں امام مُوسیٰ بن جعفر علیہ السلام سے منقول ہے: "ثلاثة موبقاتٍ: نکث الصّفقة وترک االسّنّة وفراقُ الجماعة" تین گناہ ایسے ہیں جو انسان کو ہلاک کر دیتے ہیں (اور خدا کے شدید عذاب میں اُسے پھینک دیتے ہیں) بیعت توڑنا، سُنّت کو ترک کرنا، اور جماعت سے جدائی اور علیحدگی اختیار کرنا۔ (بحوالہ: بحارالانوار، جلد ٦٧ صفحہ ١٨٥)۔ ترکِ سنت ظاہراً ان قوانین کی طرف اشارہ ہے، جو پیغمبر اسلامؐ لائے ہیں، اور جماعت سے جدائی کا معنی اس سے اعراض کرنا اور پشت پھیرنا ہے کہ صرف جماعت میں شریک نہ ہونا۔ ٨۔ "بیعت" علی علیہ السلام کے ارشادات میں نہج البلاغہ کے خطبوں میں بارہا بیعت کے مسئلہ پر گفتگو ہوئی ہے، اور امامؑ نے بارہا اس بیعت کا جو لوگوں نے آپ سے کی تھی، ذکر کیا ہے۔ ان میں سے ایک موقع پر فرماتے ہیں: اے لوگو! تمہارا مجھ پر ایک حق ہے، اور میرا تم پر ایک حق ہے۔ اب رہا تمہارا حق مجھ پر تو وہ یہ ہے کہ میں تمہارا ہمدرد اور خیر خواہ رہوں اور تمہارے بیت المال کو تمہارے ہی لیے خرچ کروں، تمہیں تعلیم دوں تاکہ تم جہالت سے نجات پاؤ اور تمہیں تادیب کروں تاکہ تمہیں آگاہی حاصل ہو۔ اس کے بعد مزید فرماتے ہیں: " وأما حقّى عليكم فالوفاء بالبيعة، والنّصيحة فى المشهد والمغيب، وَالإجابة حِينَ ادعوكم، والطّاعة حين آمركم۔" باقی رہا میرا حق تمہارے اوپر تو وہ یہ ہے کہ اپنی بیعت میں وفادار رہو، اور آشکار و پنہاں خیر خواہی کرو جس وقت تمہیں پکاروں تو لبیک کہو، اور جس وقت تمہیں حکم دوں تو اطاعت کرو ۔(بحوالہ: نہج البلاغہ خُطبہ ٣٤)۔ دوسری جگہ فرماتے ہیں: "لم تکن بیعتکم إیّای فلتة" تمہاری بیعت مُجھ سے بغیر سوچے سمجھے اور اچانک انجام نہیں پائی (تاکہ معمولی سے معمولی شک و تردید بھی میری اطاعت کے بارے میں اختیار کرو )۔(بحوالہ: نہج البلاغہ خُطبہ، ١٣٦)۔ اور اس خُطبہ میں جو جنگ جمل سے پہلے اور مدینہ سے بصرہ کی طرف جاتے وقت ارشاد فرمایا، لوگوں کو ان کی بیعت پر پائیداری کی طرف توجہ دلاتے ہُوئے فرماتے ہیں: "وبایعنی النّاس غیرمستکرھین، ولا مجبرین، بل طائعین مخیّرین" "لوگوں نے بغیر کسی جبر و اکراہ کے اطاعت و اختیار کے ساتھ میری بیعت کی تھی" (بحوالہ: نہج البلاغہ خط نمبر١)۔ اور آخر میں معاویہ کے مقابلہ میں، جس نے امام علیہ السلام کی بیعت سے سرتابی کی تھی اور کسی نہ کسی طرح سے اس پر نکتہ چینی کرنا چاہتا تھا، فرمایا: بايعنى القوم الّذين بايعوا أبابكر وعمر وعثمان على ما بايعوهم عليه، فلم يكن للشاهد إن يختار، ولا للغائب إن يرد" "انہیں لوگوں نے جنہوں نے ابوبکر و عمر و عثمان کی بیعت کی تھی، میری انہیں شرائط اور کیفیت میں بیعت کی ہے، اس بناء پر نہ تو کسی حاضر کو یہ اختیار ہے کہ بیعت کو فسخ کر دے اور نہ ہی کسی غائب کو رد کرنے کی اجازت ہے۔" (بحوالہ و تشریحی نوٹ: نہج البلاغہ خط نمبر٦۔ "توجہ رکھنا چاہیے کہ گزشتہ خلفاء کی بیعت پر اس لیے تکیہ کیا گیا تھا، چونکہ معاویہ انہیں کی طرف سے منصوب ہوا تھا، اور ان کی حمایت کا دم بھرتاتھا، لہٰذا جو کچھ خُطبہ شقشقیہ میں بیان ہوا ہے امیہ اس کے ساتھ منافات نہیں رکھتا)۔ نہج البلاغہ کی بعض عبارتوں سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے، کہ بیعت ایک بارسے زیادہ نہیں ہوتی، اس میں تجدید نظر نہیں ہو سکتی، اور نہ ہی اس میں فتح کا اختیار ہوتا ہے، اور جو شخص اس سے سرتابی کرے وہ طعنہ زن اور عیب جو شمار ہوتا ہے، اور جو شخص اس کے قبول یا رد کرنے کے بارے میں غور و فکر کرے یا شک و تردد کرے وہ منافق ہے! " إنّها بيعة واحدة، لا يثنى فيها النّظر، ولا يستانف فيها الخيار، الخارج منها طاعن، والمروى فيها مداهن! (بحوالہ: نہج البلاغہ خط نمبر ٧)۔ ان تعبیرات کے مجموعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ امام علیہ السلام ان لوگوں کے سامنے جو پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی طرف سے آپ کی امامت منصوصہ پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور بہانہ جوئی کرتی تھے، بیعت کے مسئلہ کے ساتھ جو ان کے نزدیک مسلم تھا استدلال کرتے تھے، تاکہ امام علیہ السلام کی اطاعت سے روگردانی کی انہیں گنجائش نہ ہو، اور معاویہ اور اس کے مانند لوگوں کے گوش گذار فرماتے تھے کہ جس طرح وہ خلفاء ثلاثہ کی خلافت کی مشروعیت کا قائل ہے۔ اسی طرح اسے امام علیہ السلام کی خلافت کا بھی قائل ہونا چاہیے، اور ان کے لیے سرتسلیم خم کرنا چاہیے (بلکہ آپ کی خلافت تو زیادہ مشروع ہے، چونکہ آپ کی بیعت زیادہ وسیع اور عام لوگوں کی رضا و رغبت سے انجام پائی تھی)۔ اس بناء پر بیعت کے ساتھ استدلال کرنا، امام کے خدا و پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعہ منصوب ہونے کے مسئلہ اور بیعت کے تاکیدی ہونے کے ساتھ کوئی منافات نہیں رکھتا۔ لہٰذا اسی نہج البلاغہ میں ایک موقع پر امام علیہ السلام حدیث ثقلین کے ساتھ، جو امامت کے نصوص میں سے ہے۔ اشارہ فرماتے ہیں (بحوالہ: نہج البلاغہ خطبہ نمبر ٨٧)۔ اور دوسری جگہ مسئلہ وصیّت و وراثت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ خطبہ، نمبر ٢)۔ (غور کیجئے) اور اپنی دوسری عبارتوں میں بیعت کے لیے وفاداری کے لازم و ضروری ہونے، اور اس کے دوام اور فسخ تجدید نظر کے عدم امکان اور تکرار کی احتیاج کے نہ ہونے کی طرف اشارہ فرمایا ہے، کہ یہ بھی ایسے مسائل ہیں جو بیت کے سلسلہ میں قابل قبول ہیں۔ ضمنی طور پر ان سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ اگر بیعت جبر و اکراہ کا پہلو رکھتی ہو یا لوگوں کو غفلت میں رکھنے کی صُورت میں انجام پائے تو اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے بلکہ وہی بیعت قابلِ قدرت ہے جو ارادہ و فکر کی آزادی اختیار اور مطالعہ کے بعد انجام پائے (پھر بھی غور کیجئے)۔

20
48:20
وَعَدَكُمُ ٱللَّهُ مَغَانِمَ كَثِيرَةٗ تَأۡخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمۡ هَٰذِهِۦ وَكَفَّ أَيۡدِيَ ٱلنَّاسِ عَنكُمۡ وَلِتَكُونَ ءَايَةٗ لِّلۡمُؤۡمِنِينَ وَيَهۡدِيَكُمۡ صِرَٰطٗا مُّسۡتَقِيمٗا
خد انے بہت سے غنائم کا تمہیں وعدہ فرمایا ہے جو تم حاصل کر وگے لیکن ان میں سے یہ ایک تمہارے لئے جلدی فراہم کر دی ہے اور لوگوں (دشمنوں )کے دست ظلم کو تم سے روک دیا تاکہ یہ مومنین کے لئے ایک نشانی ہو اور تمہیں سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 21 کے تحت ملاحظہ کریں۔

21
48:21
وَأُخۡرَىٰ لَمۡ تَقۡدِرُواْ عَلَيۡهَا قَدۡ أَحَاطَ ٱللَّهُ بِهَاۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٗا
علاوہ ازیں دوسرے غنائم و فتوحات‘ جن پر تمہیں قدرت نہیں ہے لیکن خدا کی قدرت ان پر احاطہ رکھتی ہے، اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

تفسیر صلح حدیبیہ کی مزید برکات

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

یہ آیات اسی سے "صلح حدیبیہ" سے مربوط مباحث اور اس کے بعد کے واقعات کو بیان کر رہی ہیں، اور ان برکات و فوائد کی۔ جو اس رہ گزر سے مسلمانوں کو نصیب ہُوئے۔ تشریح کر رہی ہیں۔ پہلے فرماتا ہے خدا نے بہت سے غنائم کا تم سے وعدہ کیا ہے، جنہیں تم حاصل کرو گے، لیکن یہ ایک بہت جلدی تمہارے لیے فراہم کر دی ہے۔" (وَعَدَكُمُ اللهُ مَغَانِمَ كَثِيرَةً تَأْخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هَذِهِ)۔ آیت کا لب و لہجہ بتاتا ہے کہ یہاں غنائم کثیرہ سے مراد وہ تمام غنائم ہیں جو خدا نے مسلمانوں کو عطا کیے تھے، چاہے تھوڑی مُدّت میں اور چاہے طویل مدت میں، یہاں تک کہ مفسرین کی ایک جماعت کا نظریہ، یہ ہے کہ وہ غنائم جو دامن قیامت تک مسلمانوں کے ہاتھ آتے رہیں گے وہ بھی اس عبارت میں داخل ہیں۔ اور یہ جو وہ کہتا ہے ان میں سے یہ ایک بہت جلدی تمہارے لیے فراہم کی ہے، تو غالباً اسے غنائم خیبر کی طرف اشارہ سمجھا ہے جو مختصر سے فاصلہ میں فتح حدیبیہ کے بعد فراہم ہوئی۔ لیکن بعض نے یہ احتمال دیا ہے کہ ھذہ فتح حدیبیہ کی طرف اشارہ ہے، جو عظیم ترین معنوی فتح تھی۔ اس کے بعد اس ماجرہ میں مسلمانوں کے لیے خدا کے الطاف میں سے ایک دوسرے لُطف کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے مزید فرماتاہے: "اور لوگوں کے دست تعدی کو تم سے روک دیا" (وَكَفَّ أَيْدِيَ النَّاسِ عَنكُمْ)۔ یہ ایک بڑا لطف تھا کہ وہ افراد کی کمی اور کافی مقدار میں آلاتِ جنگ کے نہ ہونے کے باوجود وہ بھی وطن سے دور دراز کے علاقہ میں اور دشمن کے عین گڑھ میں حملے سے بچے رہے، اور دشمن کے دل میں اس طرح کا رعب ڈالا کہ جس کی وجہ سے وہ ہر قسم کا حملہ کرنے سے رُکے رہے۔ مفسرین کی ایک جماعت اس جملہ کو خیبر کے ماجرے کی طرف اشارہ سمجھتی ہے کہ "بنی اسد" اور "بنی غطفان" کے قبائل نے یہ مصمم ارادہ کیا ہوا تھا کہ مسلمانوں کے پیچھے مدینہ پر حملہ کر دیں اور مسلمانوں کے اموال کو لُوٹ کرلے جائیں اور ان کی خواتین کو قید کر لیں۔ یا ان دونوں قبیلوں کی ایک جماعت کے مصمم ارادہ کی طرف اشارہ سمجھا ہے۔ جن کا ارادہ یہ تھا کہ یہودیوں کی مدد کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں، لیکن خدا نے ان کے دلوں میں رعب اور وحشت ڈال دی اور وہ اپنے ارادہ سے باز آ گئے۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ نظر آتی ہے، چونکہ بعد کی چند آیات میں ہم اسی تعبیر کو مشاہدہ کرتے ہیں جو اہل مکّہ کے بارے میں گفتگو کر رہی ہے اور ایک تفصیل و تشریح کے مانند ہے، اِس مطلب کے لیے جو زیر بحث آیت میں آیا ہے۔ اور قرآن کی روش کے ساتھ جو اجمال و تفصیل کی روش ہے سازگار ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ مشہور روایات کے مطابق ساری سورۂ فتح ماجرائے حدیبیہ کے بعد اور پیغمبرؐ کی مکّہ سے مدینہ کی طرف بازگشت کی راہ میں نازل ہوئی۔ اس کے بعد اس آیت کو جاری رکھتے ہُوئے خدا کی نعمتوں میں سے دو دوسری عظیم نعمتوں کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے فرماتا ہے، مقصد یہ تھا کہ یہ واقعات مومنین کے لیے (تیری دعوت کی حقانیت پر) نشانی بنیں، اور خدا تمہیں صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت کرے" (وَلِتَكُونَ آيَةً لِّلْمُؤْمِنِينَ وَيَهْدِيَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا)۔ اگرچہ بعض مفسرین "تمکون" کی ضمیر کو غنائم موعود کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں اور بعض دوسرے مسلمانوں کو دشمنوں کے حملے سے محفوظ رکھنے کی طرف، لیکن مناسب یہ ہے کہ یہ ضمیر حدیبیہ کے تمام حوادث اور اس کے بعد کے واقعات کی طرف لوٹے، کیونکہ ان میں سے ہر ایک خدا کی آیتوں میں سے ایک آیت، اور پیغمبرؐ کی صداقت پر ایک دلیل، اور لوگوں کے لیے صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت کا ایک وسیلہ تھا، اور ان کا ایک حِصّہ تو پیشین گوئی اور خبر غیبی کا پہلو رکھتا تھا اور ان میں سے بعض عام قسم کے حالات و اسباب کے ساتھ سازگار نہ تھے اور مجموعی طور سے یہ سب پیغمبرؐ کے معجزات میں سے واضح معجزہ شمار ہوتے تھے۔ بعد والی آیت میں مسلمانوں کو مزید بشارت دہتے ہُوئے کہتا ہے: "خدا نے تمہیں اور دوسری فتوحات اور غنیمتوں کا وعدہ دیا، جن پر تمہیں نہ پہلے قدرت تھی نہ اب ہے، لیکن خدا کی قدرت ان سب پر احاطہ کیے ہُوئے ہے، اور خدا ہر چیز پر قادر ہے"(وَأُخْرَى لَمْ تَقْدِرُوا عَلَيْهَا قَدْ أَحَاطَ اللهُ بِهَا وَكَانَ اللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرًا)۔ اس بارے میں کہ یہ وعدہ کون سی غنیمت اور کون سی کامیابی کی طرف اشارہ ہے، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض تو اسے فتح مکّہ اور حنین اور غنیمتوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں اور بعض ان فتوحات اور غنیمتوں کی طرف، جو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد اُمّت اسلامی کی نصیب ہوئیں۔ (مثل فتح ایران و روم و مصر)۔ یہ احتمال بھی ہے کہ ان تمام ہی کی طرف اشارہ ہو۔ (تشریحی نوٹ: "اخرٰی"، " مَغَانِم" کی صفت ہے جو محذوف ہے، اور تقدیر میں " مَغَانِم أُخرٰی" ہے ، جو منصوب ہے"مَغَانِمَ كَثِيرَةً" پر عطف کی بناء پر)۔ "لَمْ تَقْدِرُوا عَلَيْها" کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسلمان اس سے پہلے ہرگز اس قسم کے فتوحات و غنائم خیال تک نہ دیتے تھے، لیکن اسلام کی برکت اور خدائی امدا دوں کی بناء پر ان میں یہ قدرت پیدا ہو گئی۔ بعض نے اس جُملہ سے یہ مطلب نکالا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان پہلے سے ان فتوحات کے بارے میں بحث چلی ہوئی تھی، لیکن وہ ان کو انجام دینے کے لیے خود کونا تواں اورکمزور سمجھتے تھے، خصوصاً وہ حدیث جو جنگِ احزاب کے واقعہ میں منقول ہے اس میں یہ بیان ہوا ہے کہ: اس دن جب کہ پیغمبرؐ نے مسلمانوں کو ایران و روم و یمن کی فتح کی بشارت دی تو منافقین نے اس کا مذاق اڑایا۔ "قَدْأَحاطَ اللہُ" بِها (خدا نے ان کا احاطہ فرمایا) کا جملہ ان غنائم یا فتوحات پر، پروردگار کی قدرت کے احاطہ کی طرف اشارہ ہے، لیکن بعض نے اسے اس کے احاطہ عملی کی طرف اشارہ سمجھا ہے، لیکن پہلا معنی آیت کے دوسرے جُملوں کے ساتھ زیادہ سازگار ہے۔ البتہ دونوں معانی کو جمع کرنے میں بھی کوئی امر مانع نہیں ہے۔ اور آخر میں آیت کا آخری جُملہ یعنی "وَ کانَ اللہُ عَلی کُلِّ شَیْء ٍ قَدیرًا۔" درحقیقت، پہلے جُملہ کے لیے علّت کے بیان کے طور پر ہے۔ جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا کی ہر چیز پر قدرت کی بناء پر اس قسم کی فتوحات مسلمانوں کے لیے عجیب نہیں ہیں۔ بہرحال، یہ آیت اخبار غینی، اور قرآن مجید کی آئندہ کے بارے میں پیشن گوئیوں میں سے ہے، یہ کامیابیاں تھوڑی سی مدّت میں وقوع پذیر ہوئیں، اور ان آیات کی عظمت کو واضح کیا۔

ایک نکتہ جنگِ خیبر کا ماجرا

جب پیغمبرؐ حدیبیہ سے واپس لوٹے تو تمام ماہ ذی الحجہ اور ہجرت کے ساتویں سال کے محرم کا کچھ حِصّہ مدینہ میں توقف کیا، اس کے بعد اپنے اصحاب میں سے اُسے ایک ہزار چار سوا افراد کو جنہوں نے حدیبیہ میں شرکت کی تھی ساتھ لے کر خیبر کی طرف روانہ ہُوئے، (جہاں اسلام کے خلاف تحریکوں کا مرکز تھا، اور پیغمبرؐ کسی مناسب فرصت کے لیے گن گن کر دن گزار رہے تھے کہ اس مرکز فساد کو ختم کریں)۔ "غطفان" کے قبیلہ نے شروع میں تو خیبر کے یہودیوں کی حمایت کرنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن بعد میں ڈر گئے اور اس سے رُک گئے۔ پیغمبرؐ جس وقت "خیبر" کے قلعوں کے نزدیک پہنچے تو آپؐ نے اپنے صحابہ کو رُکنے کا حکم دیا، اس کے بعد آسمان کی طرف سربلند کیا اور یہ دُعا پڑھی۔ " اللّهُمّ رَبِّ السَّماواتِ وَمَا أظللن، وَربّ الأرضِينَ وَمَا أقللن ... نسألك خير هذه القَريَة، وَخير أهلها، وَنَعُوذُ بِكَ مِن شرّها وَشرّ أهلها، وَشرّ مَا فِيهَا۔" "خداوندا! اسے آسمانوں کے پروردگار اور جن پر انہوں نے سایہ ڈالا ہے، اور اے زمینوں کے پروردگار اور جن چیزوں کو انہوں نے اُٹھا رکھتا ہے، میں تجھ سے اس آبادی اور اس کے اہل میں جو خیر ہے اس کا طلب گار ہوں، اور تجھ سے اس شر اور اس میں رہنے والوں کے شر اور جو کچھ اس میں ہے اس کے شر سے پناہ مانگتا ہوں۔ اس کے بعد فرمایا: "بسم اللہ" آگے بڑھو! اور اس طرح سے رات کے وقت "خیبر" کے پاس جا پہنچے، اور صبح کے وقت جب اہل خیبر اس ماجرے سے باخبر ہُوئے تو خود کو لشکرِ اسلام کے محاصرہ میں دیکھا، اس کے بعد پیغمبرؐ نے یکے بعد دیگرے ان قلعوں کو فتح کیا، یہاں تک کہ آخری قلعہ تک، جو سب سے زیادہ مضبوط اور طاقتور تھا، اور مشہور یہودی کمانڈر "مرحب" اس میں رہتا تھا، پہنچ گئے۔ اُنہیں دنوں میں ایک سخت قسم کا درد سر، جو کبھی کبھی پیغمبرؐ کو عارض ہوا کرتا تھا، آپؐ کو عارض ہو گیا، اس طرح سے کہ ایک دو دن آپ اپنے خیمہ سے باہر نہ آ سکے تو اس موقع پر(مشہور اسلام تواریخ کے مطابق) حضرت ابوبکر، نے علم سنبھالا اور مسلمانوں کو ساتھ لے کر یہودیوں کے لشکر پر حملہ آور ہُوئے، لیکن نتیجہ حاصل کیے بغیر واپس پلٹ آئے دوسری دفعہ "حضرت عمر" نے علم اُٹھایا، اور مسلمان پہلے دن کی نسبت زیادہ شدت سے لڑے، لیکن بغیر کسی نتیجہ کے واپس پلٹ آئے۔ یہ خبر رسولؐ کے کانوں تک پہنچی تو آپؐ نے فرمایا: "أما والله لأعطيها غَدًا رجلًا يحبّ الله وَرسوله، وَيحبّه الله ورسوله، يأخُذُها عنوة" "خدا کی قسم کل یہ علم ایسے مرد کو دوں گا جو خدا اور کے رسول کو دوست رکھتا ہے، اور خدا اور پیغمبر اس کو دوست رکھتے ہیں، اور وہ اس قلعہ کو طاقت کے زور سے فتح کرے گا۔" ہر طرف سے گردنیں اٹھنے لگیں کہ اس سے مراد کون شخص ہے؟ کچھ لوگوں کا اندازہ تھا کہ پیغمبرؐ کی مراد علی علیہ السلام ہیں، لیکن علی علیہ السلام ابھی وہاں موجود نہیں تھے، کیونکہ شدید آشوب چشم انہیں لشکر میں حاضر ہونے سے مانع تھا، لیکن صبح کے وقت علی علیہ السلام اونٹ پر سوار ہو کر وارد ہُوئے، اور پیغمبرؐ کے خیمہ کے پاس اُترے درحالانکہ آپ علیہ السلام کی آنکھیں شدّت کے ساتھ درد کر رہی تھیں۔ پیغمبرؐ نے فرمایا: میرے نزدیک آؤ! آپ قریب تو آپ نے اپنے دہن مبارک کا لعاب علی علیہ السلام کی آنکھوں پر ملا اور اس معجزہ کی برکت سے آپ کی آ نکھیں ٹھیک ہو گئیں اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علم ان کے ہاتھ میں دیا۔ علی علیہ السلام لشکرِ اسلام کو ساتھ لے کر خیبر کے سب سے بڑے قلعہ کی طرف بڑھے تو یہودیوں میں سے ایک شخص نے قلعہ کے اُوپر سے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: "میں علی بن ابی طالب" ہوں۔ اس یہودی نے پکار کر کہا۔ اے یہودیو! اب تمہاری شکست کا وقت آن پہنچا ہے! اس وقت اس قلعہ کا کمانڈر مرحب یہودی، علی علیہ السلام سے مقابلہ کے لیے نکلا، اور کچھ دیر نہ گزری تھی کہ ایک ہی کار ی ضرب سے زمین پر گر پڑا۔ مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان شدید جنگ شروع ہو گئی، علی علیہ السلام قلعہ کے دروازے کے قریب آئے، اور ایک قوی اور پُر قدرت حرکت کے ساتھ دروازے کو اکھاڑا اور ایک طرف پھینک دیا، اور اس طرح سے قلعہ کُھل گیا اور مسلمان اس میں داخل ہو گئے اور اُسے فتح کر لیا۔ یہودیوں نے اطاعت قبول کر لی، اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی کہ اس اطاعت کے عوض ان کی جان بخشی کی جائے، پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی درخواست کو قبول کر لیا، منقول غنائم اسلامی لشکر کے ہاتھ آئے اور وہاں کی زمینیں اور باغات آپؐ نے یہودیوں کو اس شرط کے ساتھ سپرد کر دیئے کہ اس کی آمدنی کا آدھا حِصّہ وہ مسلمانوں کو دیا کریں گے۔ (بحوالہ: کامل ابن اثیر (اہل سنت کے مشہور مورخ)، جلد٢، صفحہ ٢١٦۔ ٢٢١ (کچھ تلخیص کے ساتھ)۔

22
48:22
وَلَوۡ قَٰتَلَكُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَوَلَّوُاْ ٱلۡأَدۡبَٰرَ ثُمَّ لَا يَجِدُونَ وَلِيّٗا وَلَا نَصِيرٗا
اگر کفار (سر زمین حدیبیہ میں )تم سے جنگ کرتے تو بہت جلد بھاگ کھڑے ہوتے اور پھر کوئی اپناولی اور یارو یاور نہ پاتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

23
48:23
سُنَّةَ ٱللَّهِ ٱلَّتِي قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلُۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ ٱللَّهِ تَبۡدِيلٗا
یہ سنت الٰہی ہے جو پہلے بھی تھی اور تو کبھی بھی سنت الٰہی میں تغیر وتبدیلی نہ پائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

24
48:24
وَهُوَ ٱلَّذِي كَفَّ أَيۡدِيَهُمۡ عَنكُمۡ وَأَيۡدِيَكُمۡ عَنۡهُم بِبَطۡنِ مَكَّةَ مِنۢ بَعۡدِ أَنۡ أَظۡفَرَكُمۡ عَلَيۡهِمۡۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرًا
اوراللہ وہی تو ہے جس نے ان کاہاتھ تم سے اور تمہارا ہاتھ ان سے مکہ میں روک دیئے بعد اس کے کہ تمہیں ان پر فتح یاب کر دیا تھا، جو کچھ تم کرتے ہو خدا اسے دیکھ لیا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

25
48:25
هُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَصَدُّوكُمۡ عَنِ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ وَٱلۡهَدۡيَ مَعۡكُوفًا أَن يَبۡلُغَ مَحِلَّهُۥۚ وَلَوۡلَا رِجَالٞ مُّؤۡمِنُونَ وَنِسَآءٞ مُّؤۡمِنَٰتٞ لَّمۡ تَعۡلَمُوهُمۡ أَن تَطَـُٔوهُمۡ فَتُصِيبَكُم مِّنۡهُم مَّعَرَّةُۢ بِغَيۡرِ عِلۡمٖۖ لِّيُدۡخِلَ ٱللَّهُ فِي رَحۡمَتِهِۦ مَن يَشَآءُۚ لَوۡ تَزَيَّلُواْ لَعَذَّبۡنَا ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡهُمۡ عَذَابًا أَلِيمًا
وہ ایسے لوگ ہیں جو کافرہوگئے ہیں ‘(انہوں نے )تمہیں مسجد الحرام( کی زیارت )سے روکا ہے، تمہاری قربانیوں کے قربان گاہ کی جگہ تک پہنچنے سے مانع ہوئے، اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ صاحب ایمان مرد اور عورتیں تمہاری بے خبری میں تمہارے پاؤں تلے روندے جائیں گے اور اس طرح سے ایک عار اور عیب لاشعوری طور پر تمہیں لگ جائے گا( تو خدا ہر گز اس جنگ سے مانع نہ ہوتا)۔مقصد یہ تھا کہ خدا جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کر ے ۔اور اگر مومنین اور کفار( مکہ میں ) ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے تو ہم کا فروں پر دردناک عذاب کرتے۔

تفسیر اگر حدیبیہ میں جنگ ہو جاتی

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

یہ آیات اسی طرح سے "حدیبیہ" کے عظیم ماجرے کے کُچھ دوسرے پہلوؤں کو بیان کر رہی ہیں، اور اِس سلسلہ میں دو اہم نکتوں کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ پہلا یہ کہ خیال نہ کرو سرزمین "حدیبیہ" میں تمہارے اور مشرکین مکہ کے درمیان جنگ چھڑ جاتی تو مشرکین جنگ میں بازی لے جاتے، ایسا نہیں ہے؛ اکثر کفار تمہارے ساتھ وہاں جنگ کرتے تو بہت جلد پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے اور پھر کوئی ولی و یاور نہ پاتے۔" (وَلَوْ قَاتَلَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوَلَّوُا الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يَجِدُونَ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا)۔ اور یہ بات صرف تم تک ہی منحصر نہیں ہے، تو ایک سُنت الہٰی ہے، جو پہلے بھی یہی تھی اور تم سنت الہٰی میں ہرگز تغیر و تبدیلی نہ پاؤ گے" (سُنَّةَ اللهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلُ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَبْدِيلًا)۔ یہ خدا کا ایک دائمی قانون ہے کہ اگر مومنین جہاد کے معاملہ میں کمزوری اور سُستی نہ دکھائیں اور پاکیزہ دل اور خالص نیت کے ساتھ دشمنوں سے جنگ کرنے کے لیے کھڑے ہو جائیں، تو خدا انہیں کامیابی عطا کرتا ہے، یہ ہو سکتا ہے کہ بعض اوقات اس امر میں امتحان کے طور پر یا دوسرے مقاصد کے ماتحت دیر یا جلدی ہو جائے، لیکن آخری کامیابی یقیناً انہیں کے لیے ہو گی۔ لیکن ایسے مواقع پر جیسا کہ میدان "احد" میں ہوا کہ ایک گروہ نے پیغمبرؐ خدا کے حکم سے سرپیچی کی، اور ایک گروہ نے اپنی نیات کو عشق دُنیا سے آلودہ کیا، اور غنائم جمع کرنے میں لگ گئے، انجام کار انہیں ایک تلخ شکست کا سامنا کرنا پڑا، اور بعد میں بھی معاملہ ایسا ہی ہے۔ وہ اہم نکتہ جو یہ آیات خاص طور پر بیان کر رہی ہیں یہ ہے کہ کہیں قریش بیٹھ کر یہ نہ کہنے لگیں، کہ افسوس ہم نے جنگ کیوں نہ کی اور اس چھوٹے سے گروہ کی سرکوبی کیوں نہ کی، افسوس کہ شکار ہمارے گھر میں آیا، اور اس سے ہم نے غفلت برتی، افسوس، افسوس۔ ہرگز ایسا نہیں ہے کہ اگرچہ مسلمان ان کی نسبت تھوڑے تھے، اور وطن اور امن کی جگہ سے بھی دُور تھے، اسلحہ بھی ان کے پاس کافی مقدار میں نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود اگر جنگ چھڑ جاتی تو پھر بھی قوت ایمانی اور نصرت الہٰی کی برکت سے کامیابی انہیں ہی حاصل ہوتی، کیاجنگ "بدر" اور "احزاب" میں ان کی تعداد بہت کم اور دشمن کا ساز و سامان اور لشکر زیادہ نہ تھا؟ ان دونوں مواقع پر دشمن کو کیسے شکست ہو گئی۔ بہرحال، اس حقیقت کا بیان مومنین کے دل کی تقویت اور دشمن کے دل کی کمزوری اور منافقین کے اگر اور مگر کے ختم ہونے کا سبب بن گئی اور اس نے اس بات کی نشاندہی کر دی کہ ظاہری طور پر حالات کے برابر نہ ہونے کے باوجود اگر جنگ چھڑ جائے تو کامیابی مُخلص ہی کو نصیب ہوتی ہے۔ دوسرا نکتہ جو ان آیات میں بیان ہوا ہے یہ ہے کہ فرماتا ہے وہی تو ہے جس نے کفّار کے ہاتھ کو مکّہ میں تم سے باز رکھّا اور تمہارے ہاتھ کو اُن سے، یہ اس وقت ہوا جبکہ تمہیں ان پر کامیابی حاصل ہو گئی تھی، اور خدا وہ سب کچھ جو تم انجام دے رہے ہو دیکھ رہا ہے": (وَ هُوَ الَّذی کَفَّ أَیْدِیَهُمْ عَنْکُمْ وَأَیْدِیَکُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَکَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَکُمْ عَلَیْهِمْ وَ کانَ اللَّہُ بِما تَعْمَلُونَ بَصیراً)۔ واقعاً یہ ماجرا "فتح المبین" کا واضح مصداق تھا، وہی تعریف جو قرآن نے اس کے لیے انتخاب کی تھی، ایک محدُود جمیّعت،کافی جنگی ساز و سامان کے بغیر دشمن کی سر زمین میں داخل ہو جائے، ایسا دشمن جس نے کئی بار مدینہ پر لشکر کشی کی تھی اور انہیں درہم برہم کرنے کے لیے ایک عجیب کوشش میں لگا ہوا تھا، لیکن اب جبکہ اس نے ان کے شہر و دیار میں قدم رکھ دیا ہے، تو اس طرح سے مرعوب ہوا کہ صلح کی پیش نہاد کرتا ہے، اس سے بڑھ کر اور کامیابی کیا ہو گی کہ بغیر اس کے کہ کسی کی نکسیر پھوٹے، دشمن پر اس قسم کی برتری حاصل ہو جائے؟! اس میں شک نہیں کہ "صلح حدیبیہ" کا ماجرا پورے جزیرہ عرب میں قریش کی شکست اور مسلمانوں کی فتح شمار ہوتا تھا، اور وہ اس حد تک پہنچ گئے تھے کہ دشمن سے اس کا رعب و دبدبہ ختم کر دیں۔ مفسرین کی ایک جماعت نے اس آیت کے لیئے ایک شان نزول بیان کی ہے اور وہ یہ ہے کہ: مشرکین مکّہ نے "حدیبیہ" کے واقعہ میں چالیس افراد کو مسلمانوں پر ضرب لگانے کے لیے مخفی طور پر حملہ کے لیے تیار کیا، لیکن ان کی یہ سازش مُسلمانوں کی ہوشیاری سے نقش برآپ ہو گئی، اور مُسلمان ان سب کو گرفتار کر کے پیغمبرؐ کی خدمت میں لے آئے، اور پیغمبرؐ نے انہیں رہا کر دیا۔ بعض نے ان کی تعداد ٨٠، افراد لکھی ہے، جو تنعیم پہاڑ سے صبح کی نماز کے وقت تاریکی سے فائدہ اُٹھاتے ہُوئے یہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں پر حملہ کریں۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ جس وقت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم درخت کے سائے میں بیٹھے ہُوئے تھے۔ تاکہ قریش کے نمائندہ کے ساتھ صلح کے معاہدہ کو ترتیب دیں، اور علی علیہ السلام لکھنے میں مصروف تھے، تو جوانانِ مکّہ میں سے٣٠ افراد اسلحہ کے ساتھ آپ پر حملہ آور ہُوئے، اور معجزانہ طور پر ان کی یہ سازش بےکار ہو گئی اور وہ سب کے سب گرفتار ہو گئے اور حضرتؐ نے انہیں آزاد کر دیا۔ (تشریحی نوٹ: "مجمع البیان" جلد ٩، صفحہ ١٢٣۔ اس شانِ نزول کو تھوڑے سے فرق کے ساتھ "قرطبی" ابو الفتوح رازی"، "آلوسی" نے "رُوح المعانی" میں "شیخ طوسی" نے "تبیان" میں "مراغی" اور دوسروں نے بھی نقل کیا ہے)۔ اس شان نزول کے مطابق مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِم کا جُملہ اس گروہ پر کامیابی کی طرف اشارہ ہے، جبکہ سابقہ تفسیر کے مطابق کل لشکر اسلام کی کلی مشرکین پر کامیابی مراد ہے اور یہ آیت کے معانی کے ساتھ زیادہ سازگار ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن مکّہ کے اندر نہ لڑنے پر یکیہ کرتا ہے، یہ تعبیر ممکن ہے، دو نکتوں کی طرف اشارہ ہو: پہلا یہ کہ: "مکّہ" دشمن کی قدرت کا مرکز تھا، اور قاعدے کے مطابق انہیں اس مناسب موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے تھا اور مسلمانوں پر حملہ کر دینا چاہیے تھا، کیونکہ ایک ضرب المثل کے مطابق وہ تو مسلمانوں کو آسمان میں ڈھونڈ رہے تھے، جبکہ انہوں نے انہیں اپنی ہی زمین پر پا لیا تھا، تو انہیں آسانی کے ساتھ چھوڑنا نہیں چاہیے تھا، لیکن خدا نے ان سے قدرت چھین لی۔ دوسرا یہ کہ مکّہ امن کا حرم تھا، اگر اس میں جنگ اور خون ریزی واقع ہو جاتی تو ایک طرف تو حرم کا احترام محذوش ہو جاتا دوسری طرف مسلمانوں کے لیے عیب و عار کی بات تھی کہ انہوں نے اس مقدس سرزمین کے سنتی امن کو درہم برہم کر دیا، لہٰذا پیغمبرؐ اور مسلمانوں پر خدا کی ایک عظیم نعمت یہ تھی کہ اس ماجرے کے دو سال بعد "مکہ" فتح ہو گیا اور ہوا بھی کسی خون ریزی کے بغیر۔ آخری زیر بحث آیت میں صلح حدیبیہ کے مسئلہ اور اس فلسفہ سے مربوط ایک دوسرے نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے فرماتا ہے۔ وہ (تمہارے دشمن) ایسے لوگ ہیں جو کافر ہو گئے ہیں اور انہوں نے تمہیں مسجد حرام کی زیارت سے روک دیا ہے، اور تمہاری قربانیوں کی قربان گاہ کے مقام تک پہنچنے میں مانع ہُوئے ہیں: (هُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْهَدْيَ مَعْكُوفًا أَن يَبْلُغَ مَحِلَّهُ)۔ ان کا ایک گناہ تو ان کا کُفر تھا اور دوسرا گناہ یہ کہ تمہیں انہوںنے مراسم عمرہ اور طواف خانہ خدا سے روک دیا، اور تمہیں قربانی کے اونٹوں کو ان کے محل یعنی مکہ میں قربانی کی جازت نہ دی۔ (محل قربانی عمرہ کے لیے مکّہ میں اور حج کے لیے سرزمین معنی) حالانکہ خانۂ خدا کو تمام اہل ایمان کے لیے آزاد ہونا چاہیے اور اس سے روکنا بہت ہی بڑا گناہ ہے، جیسا کہ قرآن ایک دوسری جگہ پر کہتا ہے۔ "وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللهَ أَن يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ": اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو گا جو لوگوں کو خدا کی مساجد میں خدا کا نام لینے سے باز رکھے"؟! (بقرہ ۔ ١١٤)۔ ان گناہوں کا تقاضا یہ تھا کہ خدا انہیں تمہارے ہاتھ سے سزا دیتا اور سخت عذاب کرتا۔ لیکن ایسا کیوں نہ کیا؟ آیت کے متن نے اس کی دلیل کو واضح کر دیا ہے فرماتا ہے: "اگر یہ وجہ نہ ہوتی کہ صاحب ایمان مرد اور عورتیں اسی دوران میں تمہاری لاعلمی اور بےخبری میں تمہارے رگڑے میں آ کر ہلاک ہو جاتے، اور اس طریقہ سے بغیر اطلاع کے عیب و عار تمہارے دامن گیر ہو جاتا، تو خداوند عالم ہرگزا س جنگ سے مانع نہ ہوتا، اور تمہیں ان پر مسلط کر دیتا تاکہ وہ اپنے کیفرِ کردار کو پہنچ جائیں۔ (وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مُّؤْمِنَاتٌ لَّمْ تَعْلَمُوهُمْ أَن تَطَؤُوهُمْ فَتُصِيبَكُم مِّنْهُم مَّعَرَّةٌ بِغَيْرِ عِلْمٍ)۔ (تشریحی نوٹ: "لَولَا" کا جواب اوپر والے جُملہ میں محذوف ہے، اور تقدیر میں اس طرح تھا: لمّا كف أيديكم عَنهُم- يا- لَوطئتم رِقاب المشركين بنصرنا إيّاكُم: ہماری نصرت سے تم مشرکین کی گردنیں مروڑ د یتے)۔ یہ آیت مسلمان مردوں اور عورتوں کے اس گروہ کی طرف اشارہ ہے، جو اسلام تو لے آ یاتھا، لیکن کئی ایک علل و اسباب کی بناء پر وہ ہجرت کرنے پر قادر ہُوئے تھے، اور مکہ ہی میں رہ گئے تھے۔ اگر مسلمان مکّہ پر حملہ کرتے تو مسلمانوں کے اس کمزور گروہ کی جان مکّہ میں خطرے میں پڑ جاتی اور مشرکین کی زبان کُھل جاتی جاتی اور وہ یہ کہتے کہ لشکر اسلام نہ اپنے مخالفین پر رحم کرتا ہے اور نہ ہی اپنے پیروکاروں اور موافقت کرنے والوں پر، اور یہ ایک بہت بڑا عیب اور عار ہونا۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس عیب سے مراد کفّارہ اور قتل خطاء کی دیت کا واجب و لازم ہوتا ہے، لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب نظر آتاہے۔ "معرة"، "عر" (بروزن شر) کے مادہ سے اور "عر" (بروزن حر) اصل میں کھجلی اور خارش کی بیماری کے معنی میں ہے جو ایک قسم کا جلد کا شدید عارضہ ہے، جو انسان یا حیوانات کو عارض ہوتا ہے اس کے بعد اس کو وسعت دے دی گئی، اور ہر قسم کے زیان و ضرر پر، جو انسان کو پہنچتا ہے، اس کا اطلاق ہوا ہے۔ اس کے بعد اس بات کی تکمیل کے لیے مزید کہتا ہے، "مقصد یہ تھا کہ خدا جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کرے": (لِيُدْخِلَ اللهُ فِي رَحْمَتِهِ مَن يَشَاءُ)۔ ہاں! خدا چاہتا تھا کہ مکہ کے کمزور و ناتواں مومنین کو اپنی رحمت کا مشمول کرے اور انہیں کوئی صدمہ نہ پہنچے۔ یہ احتمال بھی دیا گیا ہے، کہ "صلح حدیبیہ" سے ایک مقصد یہ تھا کہ مشرکین کا ایک گروہ جو ہدایت کے قابل تھا ان کی ہدایت ہو جائے اور وہ رحمت خدا میں داخل ہو جائے۔ "من یشاء" (جسے چاہے) کی تعبیر ان لوگوں کے معنی میں ہے جو شائستگی اور لیاقت رکھتے ہیں، کیونکہ مشیت الہٰی کا سرچشمہ ہمیشہ اس کی حکمت ہوتی ہے، اور حکیم بغیر دلیل کے ارادہ نہیں کرتا، اور بغیر حساب کے کوئی کام انجام نہیں دیتا۔ اور آیت کے آخر میں مزید تاکید کے لیے فرماتا ہے اگر مومنین کی صفیں مکّہ میں کفار سے جدا ہو جاتیں، اور مکّہ کے مومنین کے ختم ہو جانے کا خوف نہ ہوتا، تو ہم کفّار کو درد ناک عذاب کی سزا دیتے اور انہیں تمہارے ہاتھ سے سخت سزا دیتے" (لَوْ تَزَيَّلُوا لَعَذَّبْنَا الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا)۔ یہ ٹھیک ہے کہ خدا معجزانہ طور پر اس گروہ کو دوسروں سے جدا کر سکتا تھا، لیکن پروردگار کی سُنّت، استثنائی موقعوں کے سوا کاموں کو عادی اسباب سے انجام دینا ہے۔ "تَزَيَّلُوا" زوال کے مادہ سے یہاں جُدا اور متفرق ہونے کے معنی میں ہے۔ متعدد روایات سے جو شیعہ اور اہل سنّت کے طرق سے اس آیت کے ذیل میں نقل ہوئی ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد وہ صاحب ایمان افراد تھے جو کفّار کی صلب میں موجود تھے، خدا نے ان کی وجہ سے کفّار کو عذاب نہیں کیا۔ منجملہ ایک حدیث میں امام صادق علیہ اسلام سے منقول ہے۔ کسی نے امام علیہ السلام سے سوال کیا، کیا علی علیہ السلام دین خدا میں قوی اور باقدرت نہ تھے؟ امام علی علیہ السلام نے فرمایا: ہاں قوی تھے، اس نے عرض کیا: تو پھر ان (بے ایمان اور منافق) اقوام پر مسلط ہو جانے کے باوجود انہیں نابود کیوں نہ کیا؟ اس میں کون سی چیز مانع تھی؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: قرآن مجید کی ایک آیت! اس نے سوال کیا، کونسی آیت؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ آیت جس میں خدا فرماتا ہے: "لَوْ تَزَيَّلُوا لَعَذَّبْنَا الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا۔" "اگر وہ جدا ہو جاتے تو ہم کافروں کو درد ناک عذاب کرتے۔" پھر آپ علیہ السلام نے مزید فرمایا: " إنّه كان لله عزّوَجَلّ ودائع مؤمنون فى أصلاب قوم كافرين ومنافقين، وَلَم يَكُن عَلى (ع) لِيقتلَ الآباء حتى تخرج الودائع! ... و كذلك قائمنا أهل البيت لن يظهرَ ابدًا حتى تظهرَ ودائع اللَّه عزّوَجَلّ!: "خدا کی کُچھ ایمان والی امانتیں کفار اور منافقین کے صلبوں میں تھیں، اور علی علیہ السلام ان آباء قتل نہیں کرتے تھے جب تک کہ یہ امانتیں ظاہر نہ ہو لیں ... اور اسی طرح ہم اہل بیت کے قائم ظاہر نہیں ہوں گے جب تک کہ یہ امانتیں ظاہر نہ ہو جائیں۔ (بحوالہ: تفسیر نورالثقلین، جلد ٥، صفحہ ٧٠ دیگر متعدد روایات بھی)۔ یعنی خدا جانتا ہے کہ ان کی اولاد میں سے ایک گروہ اپنے ارادہ و اختیار سے ایمان قبول کرے گا اور انہیں کی وجہ سے ان کے باپ دادا کو جلدی کے عذاب سے معاف کیے ہُوئے ہے۔ اس معنی کو "قرطبی"نے ایک دوسری عبارت کے ساتھ اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے۔ اس میں کوئی مانع نہیں ہے کہ اوپر والی آیت مومنین مکّہ کے کفار سے اختلاط کے معنی میں بھی ہو اور ان مومنین کے بارے میں بھی ہو جو ان کی صلب میں موجود تھے۔

26
48:26
إِذۡ جَعَلَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فِي قُلُوبِهِمُ ٱلۡحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ ٱلۡجَٰهِلِيَّةِ فَأَنزَلَ ٱللَّهُ سَكِينَتَهُۥ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ وَعَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَأَلۡزَمَهُمۡ كَلِمَةَ ٱلتَّقۡوَىٰ وَكَانُوٓاْ أَحَقَّ بِهَا وَأَهۡلَهَاۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٗا
اس وقت کو یاد کر و جب کا فر اپنے دلوں میں جاہلیت کا غصہ اور نخوت رکھتے تھے (اس کے مقابل ) خدا نے اپنے رسول اورمومنین پرسکون اورواطمینان نازل فرمایا اوران کے لئے تقویٰ کو لازم قرار دیاکیونکہ وہ ہر شخص سے زیادہ شائستہ، لائق اور اس کے حق دار اور اہل تھے ۔اور خدا ہر چیز کو جانتا ہے۔

تفسیر تعصب اور حمیت جاہلیت، کفّار کے لیے بزرگ ترین سدّ راہ

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

ان آیات میں پھر حدیبیہ کے ماجرے سے مربوط مسائل بیان کیے جا رہے ہیں اور اس عظیم ماجرے کے دوسرے مناظر کو مجسم کر رہا ہے۔ پہلے کفار کو خدا و پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے اور حق و عدالت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے روکنے والے ایک اہم ترین عامل کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے کہتا ہے: "اس وقت کو یاد کرو جب کافر اپنے دلوں میں جاہلیّت کا غصّہ اور لخوت رکھتے تھے" (إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ)۔ (تشریحی نوٹ: "جَعَلَ" کبھی ایک مفعول لیتا ہے: اور یہ اس موقع پر ہوتا ہے، جہاں ایجاد کے معنی میں ہو، جیسا کہ زیر بحث آیت میں کہ اس کا فاعل "الّذین کفرُوا" ہے، اور اس کا مفعول "الْحَمِيَّةَ" ہے، اور یہاں ایجاد سے مراد اس حالت کی حفاظت، اور اس کی پابند ی اور لازم بنانا ہے، اور کبھی دو مفعول لیتا ہے، اور وہ اس جگہ ہوتا ہے جہاں ہو نے کے معنی میں ہو)۔ اور اس کی وجہ سے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومنین کے خانۂ خدا میں داخل ہونے، اور عمرہ و قربانی کے مراسم کے انجام دینے سے مانع ہُوئے، اور یہ کہا کہ اگر یہ لوگ جنہوں نے میدان جنگ میں ہمارے آباء و اجداد اور بھائیوں کو قتل کیا ہے۔ ہماری سر زمین اور ہمارے گھروں میں وارد ہوں اور صحیح و سالم پلٹ جائیں تو عرب ہمارے بارے میں کیا کہیں گے اور ہماری کیا حیثیت اور اعتبار باقی رہ جائے گا؟ یہی کبر و غرور و تعصّب اور خشم جاہلی، اس بات تک سے مانع ہوا کہ حدیبیہ کے صلح نامہ کی ترتیب و تنظیم کے وقت خدا کا نام بسم اللہ الرّحمن الرحیم کی صورت میں لکھا جانا قبول کریں، حالانکہ ان کے آداب و سنن کہتے تھے کہ خانہ خدا کی زیارت سب کے لیے جائز ہے اور سر زمین مکہ حرم امن ہے، یہاں تک کہ اگر کوئی شخص اپنے باپ کے قاتل کو اس سر زمین میں یا حج و عمرہ کے مراسم میں دیکھتا تھا تو اس سے مزاحم نہ ہوتا تھا۔ انہوں نے اس عمل کے ذریعہ خانہ خدا اور اس کے حرم امن کے احترام کو بھی توڑا، اور اپنے سُنن و آداب کو بھی زیرپا رندا، اور اپنے اور حقیقت کے درمیان ایک ضخیم پردہ بھی کھینچ دیا، اور جاہلیّت کی حمیتوں کے مرگبار اثرات ایسے ہی ہوتے ہیں۔ "حمیّت" اصل میں "حمی" (بروزن حمد) کے مادہ سے، اُس حرارت کے معنی میں ہے، جو آگ یا سُورج یا انسان بدن اور اسی طرح کی دوسری چیزوں سے پیدا ہوتی ہے، اسی بناء پر "بخار" کی حالت کو "حمی" (بروزن کبری) کہا جاتا ہے، اور غیض و غضب کی حالت کو، اسی طرح نخوت اور "خشم آلود تعصب" کو بھی "حمیّت" کہتے ہیں۔ یہ ایسی حالت ہے جو جہالت،کوتاہی فکر اور علمی انحطاط کے زیر اثر خصوصیّت کے ساتھ جاہل قوموں میں بہت زیادہ ہوتی ہے اور ان کی بہت سی جنگوں اور خُون ریزیوں کا سبب بنتی ہے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: اس کے مقابلہ میں "خدا نے اپنے رسُول اور مومنین پر اپنا اطمینان اور قرار نازل فرمایا" (فَأَنزَلَ اللهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ)۔ اس آرام و سکون نے، جو خدا پر ایمان اور اعتقاد اور اس کے لُطف سے پیدا ہوا تھا، انہیں ضبط اور نفس پر تسلط کی دعوت دی اور ان کے غصّہ کی آگ کو ٹھنڈا کر دیا، یہاں تک کہ اپنے بزرگ مقاصد کی حفاظت کے لیے تیار ہو گئے۔ اور بسم اللہ الرحمن الرحیم کے جُملہ کو ہٹا کر جو کاموں کے شروع کرنے کے لیے اسلام کی نشانی تھا۔ اس کی جگہ "بسمکَ اللّھم" جو عربوں کے ماضی دور کی یاد گار تھی، حدیبیہ کے صلح نامہ کے آغاز میں لکھنے پر آمادہ ہو گئے یہاں تک کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محترم نامہ کے ہمراہ "رسُولُ اللہ" کا لقب حذف کرنے پر بھی تیار ہو گئے اور اس عشق اور دلی تعلق کے برخلاف۔ جو وہ خانہ خدا کی زیارت اور مراسم عمرہ سے رکھتے تھے، اسی "حدیبیہ" سے مدینہ کی طرف لوٹ جانے پر آمادہ ہو گئے اور اپنے قربانی کے اُونٹ حج و عمرہ کی سُنت کے برخلاف اسی جگہ قربان کرنے اور انجام مناسک کے بغیر ہی احرام سے باہر نکل آنے پر تیار ہو گئے۔ ہاں! وہ ضبطِ نفس کرنے، اور ان تمام خوشگوار اور خلافِ طبیعت امور کے مقابلہ میں صبر و شکیبائی اختیار کرنے، پر آمادہ و تیار ہو گئے، حالانکہ اگر "حمیّت جاہلیّت" ان پر غالب آ جاتی، تو ان میں سے ہر ایک چیز اس سر زمین میں جنگ کی آگ بھڑکانے کے لیے کافی تھی۔ ہاں! جاہلیت کا تمدن "حمیت" و تعصب" اور جاہلانہ غیض و غضب" کی دعوت دیتا ہے، لیکن اسلام کی تہذیب و "تمدّن"، "قرار" و "آرام" اور "ضبط نفس" کی طرف بلاتا ہے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: خدا نے ان کے لیے تقویٰ کو لازم و واجب قرار دے دیا، اور وہ ہر شخص سے زیادہ اس کے حقدار، لائق شائستہ اور اصل تھے (وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى وَكَانُوا أَحَقَّ بِهَا وَأَهْلَهَا)۔ "کلمة" یہاں "روح" کے معنی میں ہے، یعنی خدا نے تقویٰ کی رُوح ان کے دلوں میں ڈال دی اور ان کے ہمراہ کر دی، جیسا کہ سُورہ نساء کی آیہ ١٧١ میں عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں آیا ہے: إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقاها إِلى‏ مَرْيَمَ وَ رُوحٌ مِنْهُ: مسیح علیہ السلام صرف خدا کے بھیجے ہُوئے (رسول) اور اس کا کلمہ اور اس کی طرف سے ایک روح ہے جسے مریم پر القاء فرمایا ہے۔ بعض نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ "کلمہ تقویٰ" سے مراد وہ دستور و فرقان ہے، جو خدا نے اس سلسلہ میں مومنین کو دیا ہے، لیکن مناسب وہی رُوح تقویٰ ہے جو تکوینی پہلو رکھتا ہے اور ایمان و قرار اور احکامِ خداوندی سے تعلق قلبی کی پیداوار ہے۔ لہٰذا بعض روایات میں جو پیغمبر گرامی اسلامؐ سے نقل ہوتی ہیں، "کلمۂ"، "تقویٰ" کی "لا إلهٰ إلّا اللہ" کے ساتھ ( بحوالہ: دُرِ المنثور، جلد ٦، صفحہ ٨٠)۔ اور ایک روایت میں جو امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے ایمان کے ساتھ تفسیر ہوئی ہے۔ (بحوالہ: "اصول کافی" مطابق نقل نور الثقلین، جلد ٥، صفحہ ٧٣)۔ پیغمبر گرامیؐ کے ایک خُطبہ میں یہ آیا ہے: "نحن کلمةُ التقوٰی وسبیلُ الھُدٰی!" ہم تقویٰ کا کلمہ اور ہدایت کی راہ ہیں۔" (بحوالہ: خصال صدوق نور الثقلین، جلد ٥، صفحہ٧٣)۔ اسی معنی کے مشابہ امام علی بن موسٰی رضا علیہ السلام سے بھی نقل ہوا ہے۔ آپؑ نے فرمایا: "نَحنُ کلمةُ التقوٰی والعُروةُ الوُثقٰی": "ہم کلمہ تقویٰ اور خدا کی مضبوط رسّی ہیں۔" (بحوالہ: خصال صدوق نور الثقلین، جلد ٥، صفحہ٧٣)۔ یہ بات واضح ہے کہ “نبوّت” و “ولایت” پر ایمان لانا، اصل توحید اور معرفتِ خداوندی کی تکمیل کرتا ہے، کیونکہ وہ سب ہستیاں اللہ کی طرف دعوت دینے والی، اور توحید کی منادی کرنے والی ہیں۔ بہرحال، مُسلمان ان حساس لمحات میں، خشم و عصبانیت اور تعصب و نحوت میں گرفتار نہیں ہُوئے، اور وہ درخشاں سرنوشت جو خدا نے ماجرائے حدیبیہ میں ان کے لیے رقم کی تھی، اُسے اُنہوں نے جہالت اور غصّہ کی آگ سے نہیں جلایا۔ کیونکہ وہ کہتا ہے، مسلمان تقویٰ کے سب سے زیادہ سزاوار اور لائق تھے، اور اس کے اہل اور حق دار تھے۔ یہ بات ظاہر و واضح ہے کہ مُٹھی بھر بےہُودہ، نادان اور بت پرست جمیعت سے جاہلیّت کی حمیت کے سوا اور کسی چیز کی توقع نہیں تھی، لیکن ان موحد مسلمانوں سے جو ایک عرصہ سے مکتب قرآن میں تربیت پا چکے تھے، اس قسم کی عادت اور جاہلانہ خلق کی امید نہ تھی۔ ان سے جس چیز کی توقع تھی وہ وہی وقار و تقویٰ اور صبر و قرار تھا، جس کا انہوں نے حدیبیہ میں اظہار کیا، اگرچہ قریب تھا کہ بعض بےصبرے تند مزاج، جو شاید گزشتہ زمانہ کی رسُوم و عادات کے عادی تھے۔ اس سد کو توڑ دیں اور کوئی جھگڑا کھڑا کر دیں، لیکن پیغمبرؐ کا اطمینان اور وقار پانی کی طرح اُس آگ پر پڑا، اور اُسے خاموش کر دیا۔ آیت کے آخر میں فرماتا ہے۔ "اور خدا ہر چیز سے آگاہ اور اس کا عالم تھا اور ہے": (وَكَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمً)۔ وہ کفار کی بُری نیتوں کو بھی جانتا ہے، اور سچے مومنین کے دلوں کی پاکیزگی کو بھی، یہاں پر تو وہ اطمینان و تقویٰ کو نازل کرتا ہے اور وہاں جاہلیت کی حمیّت کو مسلط کر دیتا ہے کیونکہ خدا ہر قوم و ملّت کو ان کی لیاقت و قابلیت کے مطابق ہی اپنے لطف و رحمت کا مشمول قرار دیتا ہے یا اپنے خشم و غضب کا۔

ایک نکتہ حمیّت جاہلیت کیا ہے؟

ہم بیان کر چکے ہیں کہ "حمیت" اصل میں "حمی" کے مادہ سے حرارت کے معنی میں ہے، اور اس کے بعد غضب کے معنی میں اور بھر نحوت و غضب کی آمیزش رکھنے والے تعصب کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یہ لفظ کبھی تو اسی مذموم معنی میں (جاہلیّت کی قید کے ساتھ یا اس کے بغیر) اور بعض اوقات ممدوح اور پسندیدہ معنی میں استعمال ہوتا ہے اور منطقی غیرت اور مثبت اور اصلاح امور میں ڈٹ جانے کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ امیرالمومنین علیؑ اپنے سست عنصر اور سرکش ساتھیوں پر تنقید کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "منيت بمن لايطيع إذا أمرت ولايجيب إذا دعوت ... أما دين يجمعكم ولاحمية تحمشكم" "میں ایسے لوگوں میں پھنس گیا ہوں، جنہیں اگر حُکم دیتا ہوں تو وہ اطاعت نہیں کرتے، اور اگر دعوت دیتا ہوں تو قبول نہیں کرتے ... کیا تم دین نہیں رکھتے ہو، جو تمہیں اکٹھا رکھے؟ یا ایسی غیرت جو تمہیں غصّہ میں لے آئے (اور تمہیں اپنی ذمہ داری پورا کرنے پر آمادہ کر دے )۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ٣٩)۔ لیکن یہ عام طور پر اسی مذموم معنی میں استعمال ہوا ہے، جیسا کہ امیر المومنین علی علیہ السلام نے خُطبہ "قاصعہ" میں بارہا اس معنی میں استعمال کیا ہے اور ابلیس کی مذمت میں جو مستکبرین کا پیشوا تھا۔ فرماتے ہیں: " صدقه به أبناء الحمية وَإخوان العصبية وَفرسان الكبر وَالجاهلية۔" "اس کی نحوت و حمیّت کے بیٹوں اور عصبیت کے بھائیوں اور کبر و جہالت کے مرکب کے سواروں نے تصدیق کی ہے۔" ( بحوالہ: "نہج البلاغہ" خطبہ ١٩٢ (خطبۂ قاصعہ)۔ اسی خُطبہ میں ایک دوسری جگہ، جہاں آ پ لوگوں کو جاہلیّت کے تعصبات سے ڈرا رہے ہیں، فرماتے ہیں: فاطفئوا ما كمن فى قلوبكم من نيران العصبيّة وأحقاد الجاهلية، فانّما تلك الحميّة تكون فى المسلم من خطرات الشّيطان ونخواته ونزغاته ونفثاته!۔!" "تعصّب کے وہ شرارے اور جاہلیّت کے وہ کینے جو تمہارے دلوں میں ہیں انہیں بجھا دو، کیونکہ یہ نخوت وحمیّت اور ناروا تعصب مسلمانوں میں شیطان کی نحوت اور وسوسوں میں سے ہے۔" (بحوالہ: نہج البلاغہ خُطبہ۔ ١٩٢ (خطبہ قاصعہ)۔ بہرحال، اس میں شک نہیں ہے کہ کسی فرد جماعت میں اس قسم کی حالت کا ہونا اُس معاشرے کی پسماندگی اور گراوٹ کا باعث ہے۔ یہ انسان کی عقلی و فکر پر سنگین پردے ڈال دیتا ہے، اور اُسے صحیح اوراک اور کامل سُوجھ بُوجھ سے باز رکھتا ہے اور بعض اوقات اس کے تمام مصائح کو بادفنا کے سپرد کر دیتا ہے۔ اصولی طور پر ایک قوم سے دوسری قوم کی طرف غلط رسومات اور طریقوں کا منتقل ہونا اس طرفداری ٔ جاہلیّت کے منحوس سائے میں صورت پذیر ہوتا ہے، اور انبیاء اور خدائی رہبروں اور پیشواؤں کے مقابلہ میں منحرف اقوام کی مخالفت بھی عام طور پر راستہ سے ہوتی ہے۔ ایک حدیث میں امام علی بن الحسین علیہ السلام سے بیان ہوا ہے کہ جب آپؐ سے کسی نے "عصبیت" کے بار ے میں سوال کیا تو آپؑ نے فرمایا: " العصبية التي ياثم عليها صاحبها أن يرى الرجل شِرار قومه خيرا عن خيار قوم آخرين و ليس من العصبيّة أن يحبّ الرّجل قومه ولكن من العصبية أن يعين قومه على الظّلم۔" "وہ تعصب جو گناہ کا موجب ہے یہ ہے کہ اس کی وجہ سے اپنی قوم کے بُرے افراد کو دوسری قوم کے نیک اور اچھے افراد سے برتر مجھے، لیکن اپنی قوم سے محبت کرنا اور انہیں دوست رکھنا تعصب نہیں ہے۔ تعصب یہ ہے کہ ظلم و ستم میں ان کی مدد کرے۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ٥، صفحہ ٧٣ حدیث ٧٠)۔ اس بُری عادت کے لڑنے، اور اس عظیم مہلکہ سے نجات حاصل کرنے کا بہترین راستہ، ہر قوم اور ہر معاشرے کی فکر و ایمان، اور تہذیب و تمدن کی سطح کو اُونچا کرنے کے لیے کوشش کرنا ہے۔ درحقیقت، قرآن مجید نے اس درد کی دوا اسی زیر بحث آیت میں یبان کی ہے، جہاں وہ اس کے نُقطۂ مقابل میں مؤمنین کے بارے میں بحث کرتا ہے، کہ وہ اطمیان وقار اور رُوح تقویٰ کے حامل ہیں اور اس بناء پر جہان، اطمینان اور تقویٰ ہے، وہاں حمیّت جاہلیّت نہیں ہے، اور جہاں حمیّت جاہلیّت ہے، وہاں ایمان، اطمینان اور تقویٰ نہیں ہے۔

27
48:27
لَّقَدۡ صَدَقَ ٱللَّهُ رَسُولَهُ ٱلرُّءۡيَا بِٱلۡحَقِّۖ لَتَدۡخُلُنَّ ٱلۡمَسۡجِدَ ٱلۡحَرَامَ إِن شَآءَ ٱللَّهُ ءَامِنِينَ مُحَلِّقِينَ رُءُوسَكُمۡ وَمُقَصِّرِينَ لَا تَخَافُونَۖ فَعَلِمَ مَا لَمۡ تَعۡلَمُواْ فَجَعَلَ مِن دُونِ ذَٰلِكَ فَتۡحٗا قَرِيبًا
خد انے جو کچھ اپنے رسول کو خواب کے عالم میں دکھایا وہ سچ تھا ۔انشاء اللہ تم سب کے سب قطعی طور پر انتہائی امن وا مان کے ساتھ، اس حالت میں کہ تم اپنے سروں کو منڈوائے ہوئے گے، یا اپنے ناخنوں کو کٹوائے ہوئے ہوگے، مسجد الحرام میں داخل ہوگے اور کسی شخص سے تمہیں کوئی خوف و وحشت نہ ہوگی لیکن خدا کچھ ایسی چیزوں کو جانتا ہے جنہیں تم نہیں جانتے ۔اس سے پہلے اس نے( تمہارے لئے) ایک قریب کی فتح قراردی۔

تفسیر پیغمبرؐ کا سچا خواب

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

یہ آیت بھی داستان "حدیبیہ" کے ایک اور گوشہ کی تصدیر کشی کر رہی ہے۔ قصّہ یہ تھا: پیغمبرؐ نے مدینہ میں ایک خواب دیکھا کہ آپ اپنے صحابہ کے ساتھ عمرہ کے مناسک ادا کرنے کے لیے مکّہ میں داخل ہو رہے ہیں اور اس خواب کو صحابہ کے سامنے بیان کر دیا، وہ سب کے سب شاد و خوش حال ہُوئے، لیکن چونکہ ایک جماعت یہ خیال کرتی تھی کہ اس خواب کی تعبیر اسی سال پوری ہو گی، تو جس وقت قریش نے مکّہ میں ان کے داخل ہونے کا راستہ حدیبیہ میں ان کے آگے بند کر دیا تو وہ شک و تردید میں مبتلا ہو گئے، کہ کیا پیغمبرؐ کا خواب غلط بھی ہو سکتا ہے، کیا اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ہم خانہ خدا کی زیارت سے مشرف ہوں گے؟ پس اس وعدہ کا کیا ہوا؟ اور وہ رحمانی خواب کہاں چلا گیا؟ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سوال کے جواب میں فرمایا، کیا میں نے تمہیں یہ کہا تھا کہ یہ خواب اسی سال پورا ہو گا؟ اوپر والی آیت اسی بارے میں مدینہ کی طرف بازگشت کی راہ میں نازل ہوئی، اور تاکید کی کہ یہ خواب سچا تھا، اور ایسا مسئلہ حتمی و قطعی اور انجام پا جانے والا ہے۔ فرماتا ہے: "خدا نے اپنے پیغمبر کو خواب میں کچھ دکھلایا تھا وہ سچ اور حق تھا": (لَقَدْ صَدَقَ اللهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيَا بِالْحَقِّ)۔ (تشریحی نوٹ: "صدق" فعل ماضی ہے۔ جس کے بعض اوقات دو مفعول ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اوپر والی آیت میں "رسوله" مفعول اول ہے، اور "رؤیا" مفعول دوم ہے، لیکن عام طور پر مفعول دوم "فی" کے واسط سے ہوتا ہے۔ مثلاً "صدقته فی حدیثه" میں نے اس کی گفتگو میں تصدیق کی)۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "ان شاءاللہ تم سب کے سب قطعی طور پر، انتہائی امن و امان کے ساتھ، اس حالت میں کہ تم اپنے سروں کو منڈوائے ہُوئے ہوں گے۔ یا اپنے ناخنوں کو کٹوائے ہُوئے ہوں گے مسجد الحرام میں داخل ہوں گے۔ اور کسی شخص سے تمہیں کوئی خوف و وحشت نہ ہو گی" (لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِن شَاءَ اللهُ آمِنِينَ مُحَلِّقِينَ رُؤُوسَكُمْ وَمُقَصِّرِينَ لَا تَخَافُونَ)۔ "لیکن خدا اس چیز کو جانتا ہے جسے تم نہیں جانتے": (فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا)۔ اس تاخیر میں ایک حکمت تھی اس سے پہلے ایک قریب کی فتح قرار دے دی" (فَجَعَلَ مِن دُونِ ذَلِكَ فَتْحًا قَرِيبًا)۔

اس آیت میں کچھ قابل توجہ نکات

١۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ "لتدخلنّ" میں "لام"، "قسم کا لام ہے۔" اور اس کے آخر "نون" تاکید کے لیے، یہ آئندہ کے بارے میں ایک قطعی و یقینی وعدہ ہے اور انتہائی امن و امان کے ساتھ مراسم عمرہ کے انجام دینے کے بارے میں ایک صریح معجزانہ پیشین گوئی ہے، اور جیسا کہ ہم بیان کریں گے، ٹھیک آئندہ سال اسی ماہ ذی القعدہ میں یہ پیشین گوئی پوری ہو گئی، اور مسلمانوں نے عمرہ کے مراسم اسی صورت میں انجام دیئے۔ ٢۔ "إن شَاءَ اللہ" کا جُملہ یہاں ممکن ہے بندوں کے لیے ایک قسم کی تعلیم ہو، کہ وہ آئندہ کے بارے میں کُچھ کہتے وقت خدا کی مشیت و ارادہ پر تکیہ کرنے کو فراموش نہ کریں اور اپنے آپ کو اپنے کاموں میں مستقل اور اس کے لطف سے بےنیاز نہ سمجھیں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ایسے افراد کی طرف اشارہ ہو، جو خدا نے اس موفقیّت (مستقبل قریب میں خانہ خدا کی زیارت کی توفیق) کے لیے قرار دیئے ہیں، اور وہ توحید و اطمینان اور وقار تقویٰ پر باقی رہنے کا طریقہ ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ایسے افراد کی طرف اشارہ ہو، جن کی عمر کی مدّت اس دوران میں ختم ہو جائے گی، اور وہ اس زیارت کے انجام دینے پر موقق ہوں گے اور ان معانی کے درمیان جمع کرنا پورے طور پر ممکن ہے۔ ٣۔ بہت سے مفسرین کے نظریہ کے مطابق " فَتْحاً قَرِيباً" کی تعبیر اسی صلح حدیبیہ کی طرف ہی اشارہ ہے، جس کو قرآن نے "فتح مبین" کہا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یہی فتح بعد والے سال میں مسجد الحرام میں داخل ہونے کی تمہید بنی۔ جبکہ ایک دوسرا گروہ اسے "فتح خیبر" کی طرف اشارہ سمجھتا ہے۔ البتہ قریبًا کا لفظ فتح خیبر کے ساتھ زیادہ مناسب ہے۔ کیونکہ وہ اس خواب کے پورا ہونے میں بہت کم فاصلہ رکھتا تھا۔ اس کے علاوہ اسی سُورہ کی آیت ١٨ میں جِس میں "بیعت رضوان" کا بیان ہے؛ یہ آیا ہے: "فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا۔" اور جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے اور اکثر مفسرین کا نظریہ بھی یہی ہے کہ اس سے مراد "فتح خیبر" ہے، آیت میں موجود قرائن بھی یہی بات حکایت کرتے ہیں، اور اس بات کی طرف توجہ کرتے ہُوئے کہ زیر بحث آیت اس کے ہم آہنگ ہو گی، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ایک ہی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: "من دون ذالک" کی تعبیر یا تو "قبل ذالک" کے معنی میں ہے۔ یعنی بعد والے سال میں عمرہ سے پہلے خدا مومنین کو ایک فتح قریب نصیب کرے گا، یا "غیر ذالک" کے معنی میں ہے۔ یعنی خانہ خدا کی زیارت کی توفیق کے علاوہ ان کے لیے ایک فتح قریب بھی قرار دے گا)۔ تفسیر علی بن ابراہیم میں بھی اسی معنی کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ (بحوالہ: "نور الثقلین" جلد ٥، صفحہ ٧٦)۔ ٤۔ "مُحَلِّقینَ رُؤُسَکُمْ وَ مُقَصِّرین" (درآں حالیکہ سروں کو منڈوائے ہوئے اور ناخن کٹوائے ہوئے ہو گے) کا جُملہ مراسم عمرہ کے آداب میں سے ایک طرف اشارہ ہے، جسے "تقصیر" کہتے ہیں اور اس کے ذریعہ محرم، احرام سے باہر نکل آتا ہے اور بعض اس آیت کو مسئلہ تقصیر اور احرام سے باہر نکلنے میں "تخییر" کی دلیل سمجھتے ہیں، کیونکہ محرم سر بھی منڈوا سکتا ہے یا اپنے ناخن کٹوا سکتا ہے، ان دونوں کے درمیان جمع قطعاً اور یقیناً واجب نہیں ہے۔ ٥۔ "فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا" (خدا ان باتوں کو جانتا تھا، جو تمہیں معلوم نہیں تھیں) کا جُملہ ان اہم اسرار کی طرف اشارہ ہے جو صلح حدیبیہ میں چھُپے ہُوئے تھے اور زمانے کے گزرنے کے ساتھ آشکار ہُوئے، اسلام کی بنیادیں مضبوط ہوئیں اور اسلام کی شہرت ہر جگہ پھیل گئی، اور مسلمانوں پر جنگ کے طالب ہونے اور اسی طرح کی دوسری تہمتیں ختم ہو گئیں، اور مُسلمان فارغ البالی کے ساتھ خیبر کو فتح کرنے اپنے مبلغین "جزیرة العرب" کے اطراف میں بھیجنے اور پیغمبرؐ اپنے تاریخی خطوط اس زمانہ کی دُنیا کے بڑے بڑے حاحبان اقتدار کو ارسال کرنے پر قادر ہو گئے۔ یہ ایسے مطالب تھے جن سے عام لوگ آگاہی نہیں رکھتے تھے اور صرف خدا ہی اس سے آگاہ تھا۔ ٦۔ ہمارا اس آیت میں مسئلہ "رؤیا" سے سامنا ہوتا ہے۔ پیغمبرؐ کا وہی رویائے صادقہ جو دحی کی ایک شاخ ہے، اسی کے مشابہ جو ابراہیم علیہ السلام اور ان کے فرزند اسماعیل علیہ السلام کے ذبح ہونے کے بارے میں آیا ہے ( صافات آیہ ٠٢٠ ١) ارئویا اور خواب دیکھنے کے بارے میں مزید تشریح جلد نہم میں یوسف علیہ السلام کی داستان میں صفحہ ٢٨٥ پر مطالعہ فرمائیں)۔ ٧۔ زیر بحث آیت قرآن کے غیبی اخبار میں سے ایک، اور ایک کتاب کے آسمانی ہونے کے شواہد میں سے ہے، اور پیغمبر گرامی اسلامؐ کے معجزات میں سے بھی ہے۔ جو اِس قاطعیّت اور تاکید کے ساتھ مسجد الحرام میں داخل ہونے اور مستقبل قریب میں مراسم عمرہ بجا لانے کی خبر دیتی ہے، اور اس سے پہلے فتح قریب اور نزدیکی کامیابی کی خبر بھی دیتی ہے۔ جیساکہ ہم جانتے ہیں یہ دونوں پیشین گوئیاں پوری ہو گئیں، فتح خیبر کی داستان آپ پہلے سُن چکے ہیں، اب "عمرة القضاء" کی داستان بھی سُن لیں۔

عمرۃ القضاء

"عمرة القضاء" وہی عمرہ ہے جو پیغمبرؐ نے حدیبیہ سے ایک سال بعد یعنی ہجرت کے ساتویں سال کے ماہ ذی القعدہ میں (اس سے ٹھیک ایک سال بعد جب مشرکین نے آپ کو مسجد الحرام میں داخل ہونے سے روکا تھا) اپنے اصحاب کے ساتھ انجام دیا، اور اس کا یہ نام اس وجہ سے ہے، چونکہ یہ حقیقت میں گزشتہ سال کی قضاء شمار ہوتا تھا۔ اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ: قرار داد حدیبیہ کی شقوں میں سے ایک شق کے مطابق پروگرام یہ تھا کہ مُسلمان آئندہ سال مراسم عمرہ اور خانہ خدا کی زیارت آزادانہ طور پر انجام دیں لیکن تین دن سے زیادہ مکّہ میں توقف نہ کریں اور اس مدت میں قریش کے سردار مشرکین کے جانے پہچانے افراد شہر سے باہر چلے جائیں گے (تاکہ ایک تو احتمالی ٹکراؤ سے بچ جائیں۔ اور کنبہ پروری اور تعصب کی وجہ سے جو لوگ مسلمانوں کی عبادت توحیدی کے منظر کو دیکھنے کا یارا اور قدرت نہیں رکھتے، وہ بھی اُسے نہ دیکھیں)۔ بعض تواریخ میں آیا ہے کہ پیغمبرؐ نے اپنے صحابہ کے ساتھ احرام باندھا اور قربانی کے اونٹ لے کر چل پڑے اور "ظہران" کے قریب پہنچ گئے اس موقع پر پیغمبر نے اپنے ایک صحابی کو جس کا نام "محمد بن مسلمہ" تھا، عمدہ سواری کے گھوڑوں اور اسلحہ کے ساتھ اپنے آگے بھیج دیا، جب مشرکین نے اس پروگرام کو دیکھا تو وہ سخت خوف زدہ ہُوئے اور انہوں نے یہ گمان کر لیا کہ حضرت ان سے جنگ کرنا اور اپنی دس سالہ صلح کی قرار داد کو توڑنا چاہتے ہیں، لوگوں نے یہ خبر اہل مکّہ تک پہنچا دی لیکن جب پیغمبرؐ مکّہ کے قریب پہنچے تو آپؐ نے حکم دیا کہ تمام تیر اور نیزے اور دوسرے سارے ہتھیار اس سر زمین میں جس کا نام "یاجج" ہے، منتقل کر دیں، اور آپ خود اور آپ کے صحابہ صرف نیام میں رکھی ہوئی تلواروں کے ساتھ مکّہ میں وارد ہُوئے ہیں۔ اہل مکّہ نے جب یہ عمل دیکھا تو بہت خوش ہُوئے کہ وعدہ پُورا ہو گیا، (گویا پیغمبر کا یہ اقدام مشرکین کے لیے ایک تنبیہ تھا، کہ اگر وہ نقص عہد کرنا چاہئیں اور مسلمانوں کے خلاف سازش کریں، تو وہ ان کے مقابلہ کی قدرت رکھتے ہیں)۔ رُؤسائے مکّہ، مکّہ سے باہر چلے گئے، تاکہ ان مناظر کو جو ان کے لیے دل خراش تھے نہ دیکھیں، لیکن باقی اہل مکہ مرد، عورتیں اور بچے سب ہی راستوں میں، چھتوں کے اُوپر، اور خانہ خدا کے اطراف میں جمع ہو گئے تھے، تاکہ مسلمانوں اور ان کے مراسم عمرہ کو دیکھیں۔ پیغمبرؐ ایک خاص رعب اور دبدبے کے ساتھ مکّہ میں وارد ہُوئے اور قربانی کے بہت سے اونٹ آپؐ کے ساتھ تھے، اور آپؐ نے انتہائی محبت اور ادب کے ساتھ مکّہ والوں سے سلوک کیا، اور یہ حکم دیا کہ مُسلمان طواف کرتے وقت تیزی کے ساتھ چلیں، اور احرام کو ذرا سا جسم سے ہٹا لیں تاکہ ان کے قوی اور طاقتور اور موٹے تازے شانے آشکار ہوں، اور یہ منظر مکہ کے لوگوں کی رُوح اور فکر میں، مسلمانوں کی قدرت و قوت و طاقت کی زندہ دلیل کے طور پر اثر انداز ہو۔ مجمُوعی طور سے عمرة القضاء عبادت بھی تھا اور قدرت کی نمائش بھی : یہ کہنا چاہیے ٔ کہ "فتح مکّہ" جو بعد والے سال میں حاصل ہوئی، اس کا بیج انہیں دنوں میں بویا گیا، اور اسلام کے مقابلہ میں اہل مکہ کے سر تسلیم خم کرنے کے سلسلے میں، مکمل طور پر زمین ہموار کر دی۔ یہ وضع و کیفیت قریش کے سرداروں کے لیے اس قدر ناگوار تھی کہ تین دن گزرنے کے بعد کسی کو پیغمبرؐ کی خدمت میں بھیجا کہ قرار داد کے مطابق جتنا جلدی ہو مکّہ کو چھوڑ دیجیۓ۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے، کہ پیغمبرؐ نے مکہ کی عورتوں میں سے ایک بیوہ عورت کو، جو قریش کے بعض سرداروں کی رشتہ دار تھی، اپنی زوجیّت میں لے لیا، تاکہ عربوں کی رسم کے مطابق، اپنے تعلق اور رشتے کو اُن سے مستحکم کر کے ان کی عداوت اور مخالفت میں کمی کریں۔ جس وقت پیغمبرؐ نے مکہ سے باہر نکل جانے کی تجویز سُنی تو آپؐ نے فرمایا : میں اس ازدواج کے مراسم کے لیے کھانا کھلانا چاہتا ہوں اور تمہاری بھی دعوت کرنا چاہتا ہوں، یہ ایسا کام تھا کہ اگر یہ انجام پا جاتا، تو ان کے دلوں میں پیغمبرؐ کے ضمن میں ایک مؤثر نقش، چھوڑتا، لیکن انہوں نے قبول نہ کیا اور یہ دعوت رسمی طور پر رد کر دی گئی (بحوالہ: "مجمع البیان طبرسی" جلد٩، صفحہ ١٢٧، "فی ضلال القرآن" جلد٧، صفحہ ٥١١، اور "تاریخ طبری" جلد ٢، صفحہ ٣١٠ (اختصار اور خلاصے کے ساتھ)۔

28
48:28
هُوَ ٱلَّذِيٓ أَرۡسَلَ رَسُولَهُۥ بِٱلۡهُدَىٰ وَدِينِ ٱلۡحَقِّ لِيُظۡهِرَهُۥ عَلَى ٱلدِّينِ كُلِّهِۦۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدٗا
وہ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام دنیوں پر غلبہ اور کامیابی فرمائے اور اس بات کے لئے خدا کی گواہی کا فی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

29
48:29
مُّحَمَّدٞ رَّسُولُ ٱللَّهِۚ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥٓ أَشِدَّآءُ عَلَى ٱلۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡۖ تَرَىٰهُمۡ رُكَّعٗا سُجَّدٗا يَبۡتَغُونَ فَضۡلٗا مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضۡوَٰنٗاۖ سِيمَاهُمۡ فِي وُجُوهِهِم مِّنۡ أَثَرِ ٱلسُّجُودِۚ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمۡ فِي ٱلتَّوۡرَىٰةِۚ وَمَثَلُهُمۡ فِي ٱلۡإِنجِيلِ كَزَرۡعٍ أَخۡرَجَ شَطۡـَٔهُۥ فَـَٔازَرَهُۥ فَٱسۡتَغۡلَظَ فَٱسۡتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِۦ يُعۡجِبُ ٱلزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ ٱلۡكُفَّارَۗ وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ مِنۡهُم مَّغۡفِرَةٗ وَأَجۡرًا عَظِيمَۢا
محمد خدا کے رسول ہیں، جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار کے مقابلہ میں سخت ، آپس میں مہربان ہیں تو انہیں ہمیشہ رکوع اور سجدے میں دیکھتا ہے ۔وہ ہمیشہ خدا کے فضل اور اس کی رضا کو طلب کرتے ہیں۔ان کی نشانی ان کی پیشانیوں پرسجدہ کے اثر سے نمایاں ہے۔ یہ تعریف و توصیف تو ان کی تورات میں ہے اور انجیل میں ان کی توصیف یہ ہے کہ وہ ایسی زراعت کے مانند ہیں جس نے اپنی کونپلیں نکالی ہیں ‘ پھر وہ قوت حاصل کرکے مضبوط اور محکم ہو گئیں، اپنے پاؤں پر کھڑی ہو گئیں اور اس قدر نشوونما کی کہ زراعت کرنے والوں کو حیران کر دیا۔ یہ اس بنا پر ہے کہ کافروں کو غصہ دلائے۔ خدا نے ان میں سے ایسے لوگوں سے، جو ایمان اور عمل صالح بجا لائے، بخشش اور اجر عظیم کاوعدہ کیا ہے۔

تفسیر دشمنوں کے مقابلہ میں سخت گیر اور دوستوں کے لیے مہربان

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

ان دو آیات میں جو سُورہ فتح کی آخری آیات ہیں "فتح المبین" یعنی "صلح حدیبیہ" سے مربوط دو دوسرے ہم مسائل کی طرف اشارہ کرتا ہے، جن میں سے ایک تو اسلام کے عالمگیر ہونے کے ساتھ مربوط ہے اور دوسرے میں پیغمبرؐ کے اصحاب کے اوصاف اور ان کی خصوصیات، اور ان کے بارے میں خدائی وعدہ کو بیان کرتا ہے۔ پہلے کہتا ہے "وہ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے، تاکہ اُسے تمام دینوں پر غالب کر دے اور اس بات کے لیے خدا کی گواہی کافی ہے ،: (هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدى‏ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَكَفى‏ بِاللهِ شَهِيداً)۔ یہ خداوند قادر متعال کی جانب سے صریح اور دو ٹوک وعدہ ہے۔ اسلام کے تمام دینوں پر غالب ہونے کے بارے میں یعنی اگر خدا نے پیغمبر کے خواب کے ذریعہ تمہیں کامیابی اور فتح کی خبر دی ہے کہ تم انتہائی امن اور امان کے ساتھ مسجد حرام میں داخل ہو گے اور مراسم عمرہ بجا لاؤ گے، اور کسی میں تم سے مزاحمت کرنے کی جرأت نہ ہو گی علاوہ ازیں، اگر خدا تمہیں "فتح قریب" (خیبر کی کامیابی) کی خبر دے رہا ہے تو اس پر تعجب نہ کرو، یہ تو ابتدا ہے انجام کار اسلام عالمگیر ہو جائے گا اور تمام ادیان پر کامیا ب و کامران ہو گا۔ ایسا کیوں نہ ہو، جبکہ رسول خدا کی دعوت کا مطلب ہدایت ہے: (أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى) اور اس کا دین حق ہے: ، (وَدِينِ الْحَقِّ) اور ہر غیر جانب دار ناظر اس کی حقانیت کو، اس قرآن کی آیات میں اور اسلام کے انفرادی و اجتماعی اور قضائی و سیاسی احکام اور اسی طرح اس کی اخلاقی و انسانی تعلیمات میں دیکھ سکتا ہے، اور ان دقیق و صریح پیشین گوئیوں سے جو مستقبل کے بارے میں ہیں، اور بالکل ٹھیک واقع ہوئی ہیں۔ اس پیغمبر کے خدا سے ارتباط کو قطعی طور پر جان سکتا ہے۔ ہاں اسلام کی قوی منطق اور اس کے بار آور مطالب کا تقاضا یہی ہے کہ آخر کار وہ تمام شرک آلود مذاہب کا صفایا کر دے گا اور تحریف شدہ آسمانی دینوں کو اپنے سامنے جُھکا دے گا، اور اپنی عمیق کشش کے ساتھ دلوں کو اس خالص دین کی طرف کھینچ لے گا۔ اس بارے میں کہ اس کامیابی سے منطقی کامیابی "مراد ہے یا فوجی و لشکری کامیابی" مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ ایک جماعت کا نظریہ یہ ہے کہ یہ کامیابی صرف منطقی و استدلالی کامیابی ہے اور یہ امر حاصل ہو چکا ہے۔ کیونکہ اسلام منطق اور استدلال کی قدرت کے لحاظ سے تمام موجودہ ادیان پر برتری رکھتا ہے۔ جبکہ "ایک دوسری جماعت" کامیابی کو ظاہری غلبہ اور غلبۂ اقتدار کے معنی میں سمجھتی ہے، اور اس لفظ "یظہر" کا موقع استعمال بھی خارجی غلبہ کی دلیل ہے، اور اسی بناء پر کہا جا سکتا ہے، کہ ان بہت سے وسیع علاقوں کے علاوہ جو دُنیا کے مشرق و مغرب اور شمال و جنوب میں اسلام کی قلمرو میں داخل ہیں، اور اس وقت بھی ۴٠ سے زیادہ اسلامی ممالک میں مجموعی طور پر تقریباً ایک ارب افراد پرچم اسلام کے زیر سایہ سانس لے رہے ہیں۔ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ ساری دنیا رسمی طور پر بھی اس پرچم کے نیچے آ جائے گی، اور یہ امر قیام مہدی (أرواحُنا فِداه)کے ذریعہ تکمیل کو پہنچے گا۔ جیسا کہ ایک حدیث پیغمبر گرامی اسلامؐ سے منقول ہوا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: "لا يبقى على ظَهرِ الأرض بيت مدر وَلا وبر إلّا أدخله الله كلمةَ الإسلام۔" "پورے روئے زمین پر کوئی پتھر اور مٹی کا گھر یا اون اور بالوں کا خیمہ باقی نہ رہے گا۔ مگر یہ کہ خدا اسلام کو اس میں داخل کر دے گا۔ (تشریحی نوٹ: "تفسیر مجمع البیان" جلد ٥، صفحہ ٢٥، "قرطبی" نے بھی اس روایت کو پیغمبرؐ اسلام سے سُورۂ نور کی آ یہ ٥٥ کے ذیل میں نقل کیا ہے (جلد ٧، صفحہ ٤٦٩٢)۔ اس سلسلہ میں ہم سُورہ ٔتوبہ کی آیہ ٣٣ میں جو اس آیت کے مشابہ ہے ایک تفصیلی بحث کر چکے ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر نمونہ کی جلد ٤، صفحہ ٥٧٦)۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ بعض نے "الھدٰی" کی تعبیر کو "عقائد" اسلامی کے استحکام کی طرف اشارہ سمجھا ہے، جبکہ "دین الحق" کو "فروع دین" سے متعلق جانا ہے، لیکن اس تقسیم بندی پر کوئی دلیل ہمارے پاس نہیں ہے ویسے ظاہر یہ ہے کہ ہدایت و حقانیّت اصول میں بھی ہے اور فروع میں بھی۔ اس بارے میں "لیظھرہ" کی ضمیر کا مرجع "اسلام" ہے یا "پیغمبرؐ" مفسرین نے دو احتمال دیئے ہیں۔ لیکن قرائن اچھی طرح گواہی دے رہے ہیں کہ اس سے مراد وہی دین حق ہے، کیونکہ جُملہ بندی کے لحاظ سے بھی ضمیر کے ساتھ زیادہ نزدیک ہے اور دین کی دین پر کامیابی کے ساتھ بھی مناسبت رکھتا ہے، نہ کہ شخص کی دین پر۔ آیت کے بارے میں آخری بات یہ ہے کہ کفٰی باللہ شھیدًا کا جُملہ اس واقعیّت کی طرف اشارہ ہے کہ اس پیشین گوئی کے لیے کسی شاہد اور گواہ کی ضرورت نہیں ہے۔کیونکہ اس کا شاہد اور گواہ اللہ ہے اور "رسولِ خدا" کی رسالت بھی کسی دوسرے گواہ کی محتاج نہیں ہے، کیونک اس کا گواہ بھی اللہ ہی ہے اور "سہیل بن عمرو" اور اس کے مانند دوسرے لوگ اس بات پر تیار نہ ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام کے ساتھ "رسول اللہ" لکھا جائے تو وہ خود اپنا نقصان کرتے ہیں۔ اور اس میں ہمارے لیے کوئی زحمت نہیں! آخری آیت میں قرآن پیغمبرؐ کے مخصوص اصحاب و انصار کی اور ان افراد کی جو آپؐ کے طریقہ پر تھے، تورات و انجیل کسی زبان سے ایک بہت ہی واضح تصویر پیش کرتا ہے اور اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے "حدیبیہ" اور دوسرے مراحل میں پامردی دکھاتی ہے، ایک فخر اور مباہات کی بات بھی ہے، اور تمام قرون اعصار میں تمام مسلمانوں کے لیے ایک سبق آموز درس بھی ہے۔ ابتداء میں فرماتا ہے: محمد خدا کا بھیجا ہوا رسول ہے": (مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ)۔ چاہے سہیل بن عمرو جیسی چمگادڑیں اسے پسند کریں یا نہ کریں؟ اور خود کو اس آفتاب عالمتاب سے پنہاں کر لیں یا نہ کریں؟ خدا نے اس کی رسالت کی گواہی دی ہے اور تمام صاحبان علم و آگاہی بھی اس بات کے گواہ ہیں۔ اس کے بعد آپؐ کے اصحاب و انصار کی تعریف و توصیف کا آغاز کرتے ہُوئے ان کے ظاہر و باطن اوصاف اور عواطف و افکار و اعمال کو پانچ صفات کے ضمن میں بیان کرتا ہے وہ لوگ جو اُس کے ساتھ ہیں کفار کے مقابلہ میں زیادہ سخت اور محکم ہیں": (وَالَّذینَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّارِ)۔ اور دوسری صفت یہ بیان کرتا ہے: لیکن آپس میں رحم دِل اور مہربان ہیں" (رُحَماءُ بَیْنَهُمْ)۔ ہاں وہ اپنے بھائیوں، دوستوں اور ہم مذہب افراد کے لیے تو عطوفت و محبت کا مرکز اور خزانہ ہیں اور دشمنوں کے مقابلہ میں سخت اور جلانے والی آگ اور مضبوط فولادی دیوار ہیں۔ درحقیقت، ان کے عواطف و رجمانات کا خلاصہ یہ "مہر" اور "قہر" ہی ہیں۔ لیکن ان دونوں کا ان کے وجود میں جمع ہونا کوئی تضاد نہیں رکھتا، اور دشمن کے مقابلہ میں ان کا قہر، اور دوستوں کیے لیے ان کا مہر و محبت اس بات کا سبب نہیں بنتا کہ وہ راہِ حق و عدالت سے قدم باہر رکھیں تیری صفت میں جوان کے اعمال کے بارے میں ہے مزید کہتا ہے۔ تو انہیں ہمیشہ رکوع و سجود کی حالت میں دیکھے گا اور وہ ہر وقت عبادت خُدا میں مشغول رہتے ہیں۔ (تَراهُمْ رُکَّعاً سُجَّدا)۔ یہ تعبیر خدا کی عبادت و بندگی کو جو اس کے دو اصلی ارکان "رکوع" و "سجود" کے ساتھ بیان ہوئی ہے، ان کی دائمی اور ہمیشہ کی حالت کے طور پر ذکر کرتی ہے، ایسی عبادت، جو حق تعالیٰ کے فرمان کے سامنے سر تسلیم خم کرنے، اور کبر و غرُور اور خود خواہی کی ان کے وجود سے نفی کی رمز ہے۔ چوتھی توصیف و تعریف میں جو ان کی پاک اور خالص نیّت سے بحث کرتی ہے، فرماتا ہے۔" وہ ہمیشہ خدا کے فضل اور اس کی رضا کو طلب کرتے ہیں،: (يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللهِ وَرِضْوَانًا)۔ نہ تو وہ دکھاوے اور ریاکاری کے لیے قدم اُٹھاتے ہیں، اور نہ ہی مخلوق خدا سے اجر و پاداش کی توقع رکھتے ہیں۔ بلکہ ان کی نظر صرف اس کی رضا و فضل پر لگی ہوئی ہے، اور تمام زندگی میں ان کے عمل کا محرک صرف یہی امر ہے۔اور بس،۔ یہاں تک کہ "فضل" کی تعبیر یہ بتاتی ہے کہ وہ اپنی کوتاہی کے معترف ہیں، اور اپنے اعمال کو کمتر سمجھتے ہیں کہ ان کے مقابلہ میں خدا کا اجر و پاداش طلب کریں، بلکہ وہ پوری سعی و کوشش کے باوجود پھر بھی یہ کہتے ہیں، خداوندا ! اگر تیرا فضل و کرم ہماری مدد و نصرت نہ کرے تو وائے ہے ہم پر۔ پانچویں اور آخری توصیف میں ان کے آراستہ اور نورانی پیکر ظاہر کے بارے میں بحث کرتے ہُوئے کہتا ہے۔ "ان کی نشانی ان کے چہرے میں سجدہ کے اثر سے نمایاں ہے": (سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ)۔ (تشریحی نوٹ: "سیماھم"، "مبتدا اور "فی وجوھھم" اس کی خبر ہے اور "من اثر السجود" یا "سیما"، " کا بیان ہے یا "سیما" کے لیے حال ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ "من" کو "نشویہ" جانیں اور جُملہ کا معنی اس طرح ہو گا ان کی علامت ان کے چہرے میں ہے اور یہ علامت سجود کے اثر سے ہے")۔ "سیما" اصل میں علامت و ہیٔت کے معنی میں ہے۔ چاہے یہ علامت چہرے میں ہو یا بدن کی کسی دوسری جگہ، اگرچہ فارسی کے روز مرّہ کے استعمال میں چہرے کی نشانیوں اور چہرہ کی ظاہری وضع و کیفیت کے لیے بولا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ان کا "قیافہ" اچھی طرح سے اس بات کی نشاندہی کرتا ہے، کہ وہ خدا، حق قانون اور عدالت کے سامنے ایک خاضع انسان ہیں، نہ صرف ان کے چہرے میں ہی بلکہ ان کے سارے وجُود اور زندگی میں یہ علامت منعکس ہوتی ہے۔ اگرچہ بعض مفسرین نے پیشانی پر سجدہ کے ظاہری اثر یا سجدہ گاہ کی جگہ پر مٹی کے اثر سے تفسیر کی ہے۔ لیکن ظاہراً آیت اس سے زیادہ وسیع مفہوم رکھتی ہے جو ان مردانِ خدا کے چہرہ کی مکمل طور پر تصویر کشی کرتی ہے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت قیامت میں ان کے سجدہ گاہ کی طرف اشارہ ہے، جو چودھویں کے چاند کی طرح چمکے گی۔ البتہ مُمکن ہے کہ قیامت میں ان کی پیشانی اسی طرح ہو، لیکن یہاں آیت دنیاوی زندگی میں ان کی ظاہری وضع و کیفیّت کی خبر دے رہی ہے۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے بھی آیا ہے کہ آپؑ نے اس جُملہ کی تفسیر میں فرمایا،: ھو السّھرُ فِی الصّلوٰة : "اس سے مراد رات کو نماز پڑھنے کے لیے بیدار رہنا ہے۔" جس کے آثار دن کے وقت ان کے چہروں سے نمایاں ہوتے ہیں۔ (بحوالہ: "من لا یحضرہ الفقیه"، "روضة الواعظین" مطابق نقل تفسیر نورالثقلین، جلد٥، صفحہ ٧٨)۔" البتہ ان معانی کو جمع کرنا پُورے طور پر ممکن ہے۔ بہرحال، قرآن ان تمام اوصاف کو بیان کرنے کے بعد مزید کہتا ہے: یہ ان (اصحاب محمدؐ) کی توصیف توارت میں ہے"ؒ (ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ)۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے۔ جس کا بیان پہلے سے آ چکا ہے، اور ایسی توصیف و تعریف ہے جو ایک عظیم آسمانی کتاب میں ہے، جو ایک ہزار سال سے پہلے نازل ہوئی تھی۔ لیکن اس بات کو نہیں بھولنا چاہیئے کہ "والّذینَ مَعَهُ" (اور وہ جو اس کے ساتھ ہیں) کی تعبیر ایسے افراد کے بارے میں گفتگو کرتی ہے، جو ہر چیز میں پیغمبرؐ کے ساتھ تھے، فکر و نظر میں، عقیدہ و اخلاق میں اور عمل میں، نہ کہ صرف وہ لوگ جو آپؑ کے ساتھ ہم عصر اور ہم زبان تھے، چاہے ان کا طریقہ اور راستہ آپؑ سے جدا ہی کیوں نہ ہو ،۔ اس کے بعد ان کی ایک اور آسمانی عظیم کتاب یعنی انجیل میں، توصیف کو پیش کرتے ہُوئے اس طرح کہتا ہے: ان کی توصیف انجیل میں اس زراعت کی طرح ہے، جس نے اپنی کونپلوں کو باہر نکالا ہو، پھر انہیں تقویت دی ہو۔" یہاں تک کہ وہ مضبوط اور مستحکم ہو کر اپنے پاؤں پر کھڑی ہے، اور اس قدر نشو و نما کی ہے اور پُر برکت ہوئی ہے۔ کہ زراعت کرنے والوں کو تعجب میں ڈال دیتی ہے۔" (وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ)۔ (تشریحی نوٹ: اس بارے میں کہ "وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ" ایک مستقل جُملہ ہے اور اصحاب پیغمبرؐ کی ایک الگ توصیف و تعریف کرتا ہے جو اس تعریف کے علاوہ ہے جو تورات میں آئی ہے یا یہ ذلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْراة" کے جملہ پر عطف ہے اس طرح سے کہ دونوں اوصاف کی دونوں آسمانی کتابوں سے خبر دیتا ہے، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ لیکن آیت کا ظاہر یہ ہے کہ یہ دونوں اوصاف الگ الگ جداگانہ طور پر ان دو آسمانی کتابوں میں لکھے ہُوئے موجود تھے، اسی لیے لفظ "مثل" کا تکرار ہوا ہے، درحالیکہ اگر یہ ایک دوسرے پر عطف ہوتے تو فصاحت کا تقاضا یہ تھا کہ یوں کہا جاتا: ("ذلِكَ مَثَلُھُم فِی التّوراة والإنجیل")۔ "شطأ" ٹہنی اور چوزے کے معنی میں ہے۔ایسی ٹہنیاں جو تنے کے نیچے اور جڑوں کے قریب سے باہر نکلتی ہیں۔ "اٰزر"، "موازرہ" کے مادہ سے معاونت کے معنی میں ہے۔ "استغلظ"، "غلظت" کے مادہ سے سخت اور مستحکم ہونے کے معنی میں ہے۔ "إستوٰی عَلی سوقِهِ" کے جملہ کا مفہوم یہ ہے کہ وہ اس قدر مستحکم ہو گیا ہے کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہے، (اس بات پر توجہ رکھیے کہ "سوق"، "ساق" کی جمع ہے)۔ "يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ" کی تعبیر، یعنی وہ اتنی تیزی کے ساتھ اُگی اور اتنی زیادہ ٹہنیاں اور شاخیں نکلیں اور اس کے پیداوار اس حد کو پہنچی کہ خود کسانوں تک کو، جو ہمیشہ ان مسائل سے سروکار رکھتے ہیں، بہت زیادہ حیرت اور تعجب ہو رہا ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ دوسری توصیف میں بھی، جو انجیل میں آئی ہے، مومنین اور محمد کے صحابہ کے پانچ عمدہ اوصاف بیان ہُوئے ہیں۔ (کوپنل نکالنا، پرورش کے لیے مدد کرنا، محکم ہونا، اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا، حیرت انگیز دکھائی دینے والی نشوونما)۔ حقیقت میں تورات میں جو اوصاف ان کے لیے بیان ہُوئے ہیں وہ ایسے اوصاف ہیں، جو حالات، مقاصد، اعمال اور ظاہری صورت کے لحاظ سے ان کے وجود کے پہلوؤں کو بیان کرتے ہیں۔ لیکن وہ اوصاف جو انجیل میں بیان ہُوئے ہیں وہ ان کے مختلف پہلوؤں میں ترقی اور نشو ونما کو بیان کرتے ہیں (غور کیجئے)۔ ہاں! وہ ایسے بلند صفات ہیں جو ایک آن کے لیے بھی حرکت و عمل سے نہیں رُکتے، وہ ہمیشہ کونپلیں نکالتے رہتے ہیں، وہ کونپلیں پرورش پاتی ہیں۔ اور بار آور ہوتی ہیں۔ وہ اپنے قول و عمل کے ذریعہ اسلام کو دُنیا میں پھیلاتے رہتے ہیں۔ اور روز بروز نئے دستوں کا اسلامی معاشرے میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ ہاں! وہ کبھی بھی بےکار ہو کر نہیں بیٹھتے، اور ہمیشہ آگے کی طرف بڑھتے رہتے ہیں، عابد ہونے کے ساتھ مجاہد ہیں، اور جہاد کے ساتھ ساتھ عبادت کرتے ہیں، ان کا ظاہر آراستہ ہے اور باطن پیراستہ ہے، ان کے عواطف قوی اور نیتیں پاکیزہ ہیں۔ حق کے دشمنوں کے مقابلہ میں خدا کے غضب کے مظہر ہیں، اور حق کے دوستوں کے ساتھ اس کے لطف و رحمت کو نمایاں کرتے ہیں۔ اس کے بعد آیت کے آخر میں مزید کہتا ہے: یہ عالی اوصاف، یہ تیزی کے ساتھ بڑھنے والی نشوونما، اور یہ پر برکت حرکت و ترقی جتنی دوستوں میں شوق اور نشاط پیدا کرتی ہے، اتنا ہی کفار کے لیے غیض و غضب کا سبب بنتی ہے: "یہ اس بناء پر ہے تاکہ کافروں کا غصّہ دلائے": (لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ)۔ (تشریحی نوٹ: "لِيَغِيظَ"، "کے جمُلہ میں جو "لام" ہے۔ بہت سے مفسرین اسے علت کا "لام" سمجھتے ہیں، اس بناء پر اس جملہ کا مفہوم یہ ہو گا۔" پیش رفت کی یہ قوت و قدرت خدا نے اصحاب محمدؐ کو نصیب کی ہے تاکہ کفار کی غصّہ میں لے آئے")۔ اور آیت کے آخر میں فرماتا ہے،: خدا نے ان میں سے اُن لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں، اور ساتھ میں عمل صالح انجام دیئے ہیں، بخشش اور اجرِ عظیم کا وعدہ کیا ہے": (وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًاعَظِيمًا)۔ یہ بات واضح ہے کہ وہ اوصاف جو آیت کی ابتداء میں بیان کئے گئے ہیں، ان میں ایمان اور عمل صالح جمع تھا، اس بناء پر ان دو اوصاف کی تکرار ان کے دوام اور ہمیشہ برقرار رہنے کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی خدا نے یہ وعدہ صرف اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے اس گروہ سے کیا ہے جو آپؐ کے راستہ اور طریقہ پر باقی رہیں گے، اور ایمان و عمل صالح کو دوام بخشیں گے، ورنہ وہ لوگ جو ایک دن تو اس کے دوستوں اور اصحاب و انصار کے زمرہ میں شامل تھے۔ اور دوسرے دن آنحضرت سے جدا ہو گئے، اور ان کے برخلاف راستے پر چل پڑے، وہ اس قسم کے وعدہ میں ہرگز شاملِ نہیں ہیں۔ "منھم" کی تعبیر۔ (اس نکتہ کی طرف توجہ کرتے ہُوئے کہ لفظ "مِن" ایسے مواقع پر "تبعیض" کے لیے ہوتا ہے اور آیت کا ظاہر بھی یہی معنی دیتا ہے)۔ اس بات کی دلیل ہے کہ آپؐ کے صحابہ دو گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے: ایک گروہ ایمان اور عمل صالح کو جاری رکھے گا، اور حق تعالیٰ کی رحمت واسعہ اور اجرِ عظیم میں شامل ہو گا، لیکن ایک گروہ اس سے الگ ہو کر اس عظیم فیض و برکت سے محروم ہو جائے گا۔ معلوم نہیں مفسرین کا ایک گروہ اس بات پر کیوں اصرار کرتا ہے۔کہ اوپر والی آیت میں "مِنْهُم" کا "من" حتماً بیانیہ ہے۔ حالانکہ بالفرض اگر ہم خلاف ظاہر کے مرتکب بھی ہوں اور "من" کو بیان کے لیے ہی لے لیں، تو ان قرائن عقلی کو جو یہاں موجود ہیں، انہیں کیسے ایک طرف کریں گے، کیونکہ کوئی شخص بھی اس بات کا مدعی نہیں ہے کہ پیغمبرؐ کے تمام صحابہ معصوم تھے تو اس صُورت میں راہ ِایمان اور عمل صالح پر باقی نہ رہنے کا احتمال ان میں سے ہر ایک کے بارے میں جائے گا۔ تو ان حالات میں یہ کیسے ممکن ہے کہ خدا مغفرت اور اجرِ عظیم کا وعدہ بغیر کسِی قید و شرط کے اُن سب کو دے دے، عام اس سے کہ وہ ایمان و صلاح کی راہ طے کریں یا آدھی راہ سے پلٹ جائیں اور منحرف ہو جائیں۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ: "وَالَّذِينَ مَعَه" (وہ لوگ جو اس کے ساتھ ہیں) کے جُملہ کا مفہوم آپؐ کے پاس بیٹھنا اور آپؐ سے جسمانی مصاحبت نہیں ہے، کیونکہ ایسی مصاحبت تو منافقین بھی رکھتے تھے، بلکہ "معه" سے مراد قطعی طور پر اصول ایمان اور تقوٰی کے لحاظ سے ہمراہ ہونا ہے۔ اس بناء پر ہم اوپر والی آیت سے پیغمبرؐ کے تمام ہم نشینوں اور معاصرین کے لیے ہرگز ایک حکم کلی کا استفادہ نہیں کر سکتے۔

چند اہم نکات ١۔ تنزیہ صحابہ کی داستان:

اہل سُنّت کے علماء اور دانشمندوں میں مشہور یہ ہے کہ صحابۂ رسُولؐ اُمت کے تمام دوسرے افراد سے ایک خاص امتیاز رکھتے ہیں کہ وہ سب کے سب پاک و پاکیزہ ہیں، اور وہ آلودگیوں سے دُور ہیں، اور ہمیں ان میں سے کسی پر تنقید و اعتراض کا حق نہیں ہے، اور انہیں بُرا بھلا کہنا مطلقا ممنُوع ہے، یہاں تک کہ بعض کے قول کے مطابق موجب کُفر ہے، اور اس مقصد کو ثابت کرنے کے لیے انہوں نے قرآن مجید کی کُچھ آیات سے استناد کیا ہے، منجملہ ان کے ایک زیر بحث آیت ہے جو یہ کہتی ہے کہ: خدا نے اُن میں سے اُن لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے عمل صالح انجام دیا ہے مغفرت اور اجرِ عظیم کا وعدہ کیا ہے اور اسی طرح سورۂ توبہ کی آیہ ١٠٠ جو مہاجرین و انصار کا ذکر کرنے کے بعد کہتی ہے: " رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ" "خدا ان سے خوش ہو گیا اور وہ خدا سے خوش ہو گئے۔ لیکن اگر ہم اپنے آپ کو پہلے سے کئے ہُوئے فیصلوں سے خالی کر لیں تو ایسے واضح قرائن ہمارے سامنے موجود ہیں جو اس مشہور عقیدہ اور نظریہ کو متزلزل کر دیتے ہیں۔ ١۔ سورۂ توبہ میں "رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ " کا جُملہ صرف مہاجرین و انصار کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ کیونکہ اس آیت میں مہاجرین و انصار کے ساتھ "الَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسانٍ‏" کا جُملہ بھی موجُود ہے، جس کا مفہوم تمام ان افراد کو شامل ہے، جو دامن قیامت تک نیکی میں ان کی پیروی کریں گے۔ جس طرح سے "تابعین" اگر ایک دن خط ایمان و احسان میں ہوں اور دوسرے دن کُفر و اساء (بدی کرنے) کے خط میں قرار پاتے ہیں تو وہ رضایت الہٰی کے چتر کے نیچے سے نکل جائیں گے، بعینہ یہی مطلب صحابہ کے بارے میں بھی ہو گا، کیونکہ انہیں بھی سُورۂ فتح کی آخری آیت میں ایمان و عمل صالح کے ساتھ مقید کیا ہے کہ اگر کسی دن یہ صفت اُن سے سلب ہو جائے تو وہ رضایت الہٰی کے دائرہ سے باہر نکل جائیں گے۔ دوسرے لفظوں میں احسان کی تعبیر "تابعین" کے لیے بھی ہے، اور "متبوعین" کے بارے میں بھی، اس بناء پر ان دونوں میں سے جو کوئی بھی خط احسان کو چھوڑ دے گا وہ رضایت خدا میں شامل نہیں رہے گا۔ ٢۔ روایات اسلامی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اصحابِ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگرچہ آنحضرتؐ کی مصاحبت کا اعزاز و امتیاز رکھتے تھے۔ لیکن وہ لوگ جو بعد کے زمانوں میں آئیں گے، اور ایمان راسخ اور عمل صالح سے متصف ہوں گے وہ ایک لحاظ سے صحابہ سے افضل ہیں۔ جیسا کہ ایک حدیث میں پیغمبر اکرمؐ سے بیان ہؤا ہے، کہ صحابہ نے آپؐ سے عرض کیا: " نحن أخوانك يا رسول الله؟! قال: لا أنتم أصحابى، وإخوانى الّذين يَاتون بعدى، آمنوا بِى وَلَم يرونى، وقال: للعامل منهم أجر خمسين منكم، قالوا بل منهم يا رسول الله؟ قال: بل مِنكم! ردّوها ثلاثا، ثم قال: لِأنّكم تجدون على الخير أعوانا!""یا رسول اللہ! کیا ہم آپ کے بھائی ہیں؟! فرمایا: نہیں! تم تو میرے اصحاب ہو، لیکن میرے بھائی تو وہ لوگ ہیں جو میرے بعد آئیں گے، اور مُجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انہوں نے مجھے نہیں دیکھا! اس کے بعد آپؑ نے مزید فرمایا: ان میں سے وہ افراد جو عمل صالح کرنے والے ہوں گے وہ تم میں سے پچاس افراد کا اجر رکھتے ہیں، صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا وہ اپنے میں سے پچاس افراد کا (اجر رکھیں گے) فرمایا نہیں: تم میں سے پچاس افراد کا اور انہوں نے اس بات کو تین مرتبہ دہرایا، (اور پیغمبر نے تینوں مرتبہ یہی کہا) اس کے بعد آپؐ نے فرمایا، یہ اس بنا پر ہے کہ تمہارے پاس ایسے شرائط و حالات موجود ہیں جو تمہاری اچھے کاموں میں مدد کرتے ہیں۔ (بحوالہ: "تفسیر رُوح البیان" جلد ٩، صفحہ ٦١")۔ صحیح مسلم میں بھی رسولؐ خدا سے اس طرح نقل ہوا ہے کہ ایک دن آپؐ نے فرمایا: " وددت أنّا قد رأينا أخواننا۔" "میں دوست رکھتا ہوں کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھتے۔" " قالوا: أَ وَلسنا أخوانك يا رسول الله؟!: انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں"؟! آپؐ نے فرمایا: "أنتم أصحابى وأخواننا الّذين لم يَاتوا بعد: "تم تو میرے اصحاب ہو لیکن ہمارے بھائی ابھی تک نہیں آئے۔" (بحوالہ: "صحیح مُسلم" جلد اوّل کتاب الطہارة حدیث ٣٩")۔ عقل و منطق بھی یہی کہتی ہے، کہ دوسرے لوگ جو شب و روز پیغمبرؐ کی دائمی تعلیمات کے سایہ میں نہیں تھے لیکن اس کے باوجود وہ پیغمبرؐ کے صحابہ کے مانند یا ان سے زیادہ ایمان و عمل صالح رکھتے تھے۔ وہ ان سے برتر و افضل ہیں۔ ٣۔ یہ بات تاریخی طور پر بھی صحیح نہیں ہے، کیونکہ بعض صحابہ کو ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے پیغمبر اکرمؐ کے بعد یا خود پیغمبر کے زمانہ میں ہی غلط راستہ اختیار کر لیا تھا۔ ہم ان لوگوں کو جنہوں نے جنگِ جمل کی آگ بھڑکائی، اور اتنے سارے مسلمانوں کو قتل کرایا، اور پیغمبرؐکے برحق خلیفہ کے سامنے تلوار کھینچی،گناہ سے کیسے بری قرار دے سکتے ہیں؟ یا وہ لوگ جو "صفین" و "نہروان" میں اکھٹے ہونے اور پیغمبرؐ کے وصی و جانشین اور مسلمانوں کے منتخب خلیفہ کے مقابلہ جنگ کھڑی کر دی، اور بےحساب خون بہائے، انہیں رضائے خدا کا مشمول جان لیں، اور کہنے لگیں کہ گناہ و عصیان کا گرد و غبار بھی ان کے دامن پر نہیں بیٹھا۔ اور اس سے بھی عجیب تر ان لوگوں کا عذر ہے جو ان تمام مخالفتوں کو اس عنوان سے کہ وہ "مجتہد" تھے اور "مجتہد" معذور ہے توجیہ کرتے ہیں۔ اگر اس قسم کے عظیم گناہوں کی اجتہاد کے ذریعہ توجیہ کی جا سکتی ہو تو پھر کسی قاتل کو ملامت نہیں کی جا سکتی، یا حدودِ الہٰی کا اس میں اجراء نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ممکن ہے کہ اس نے اجتہاد کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں میدان جمل یا صفین یا نہروان میں دو گروہ ایک دوسرے کے مقابلہ میں کھڑے ہُوئے ہیں، اور یقینی طور پر وہ دونوں کے دونوں حق پر نہیں تھے، کیونکہ ضدین کاجمع ہونا محال ہے۔ اس حالت میں دونوں کو رضائے خُدا کا مشمول کیسے سمجھا جا سکتا ہے، جبکہ یہ مسئلہ کوئی مشکل اور ایسے پیچیدہ مسائل میں سے نہیں تھا، جس کی تشخیص ممکن نہ ہو؟ کیونکہ سب کو معلوم تھا کہ علی علیہ السلام یا تو پیغمبرؐ کی نص کے مطابق اور یا مسلمانوں کے انتخاب کے ذریعہ برحق خلیفہ تھے، اس کے باوجود ان کے خلاف تلوار کھینچی، اس کام کی اجتہاد کے طریقہ سے کیسے توجیہ کی جا سکتی ہے؟! "اصحابِ ردہ" کی شورش کو جو ابوبکر کے زمانہ میں ہوئی اس کی طریق اجتہاد سے توجیہ کیوں نہیں کرتے، اور انہیں رسمی و قانونی طور پر مرتد کیوں شمار کرتے ہیں، لیکن "جمل"، "وصفین" و "نہروان" کے شورش کرنے والوں کو ہر قسم کے گناہ سے مبّرا سمجھتے ہیں۔ بہرحال، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تنزیہ اصحاب کا مسئلہ مُطلق طور پر ایک سیاسی مسئلہ تھا، ایک گروہ نے پیغمبرؐ کے بعد اپنی حیثیت کی حفاظت کے لیے اس پر تکیہ کیا تاکہ اپنے آپ کو ہر قسم کی تنقید و اعتراض سے بچالے اور محفوظ کر لے، اور یہ ایک ایسا مطلب ہے جو نہ تو عقل کے ساتھ سازگار ہے اور نہ ہی مُسلمہ اسلامی تاریخوں کے ساتھ، اور یہ ایک ایسا شعر ہے جو ہمیں اپنے قافیہ میں گرفتار کر لے گا۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہم صحابۂ رسولؐ خدا اور ان لوگوں کا جو ہمیشہ آپؐ کے طریقہ اور راستہ پر چلتے رہے، احترام کرنے کے باوجود ان کے بارے میں معیارِ حیات، ان کی زندگی میں آغاز سے لے کر انجام تک ان کے عقائد و اعمال کو اُسی معیار سے سمجھیں جو معیار کہ ہمیں قرآن سے معلوم ہوا ہے، یعنی وہی معیار کہ جس کے ساتھ پیغمبرؐ اپنے صحابہ کو پرکھتے تھے۔

٢۔ اسلامی باہمی محبت:

اسلامی روایات میں جو آخری آیہ کی تفسیر میں منقول ہوئی ہیں، "رُحَمَاءُ بَینَھُم" کی اصل پر بہت زیادہ تاکید نظر آتی ہے، منجملہ ان کے ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے بیان ہوا ہے: " المُسلِمُ أَخُو المُسلِمُ، لَا يظلمه، وَلَا يخذلُه، وَلَا يخوفه، وَيحقّ عَلى المُسلِمُ الإِجتِهَادُ فِى التّواصل، وَالتّعاون على التّعاطِف، وَالمُواسَاة لِأهل الحاجة، وَتَعاطِف بَعضُهُم على بعضٍ، حتّى تكونوا كَمَا أَمَركُم الله عزّوَجلّ: رُحَمَاءُ بَینَھُم، متراحمين، مغتمين لما غاب عنكم من أمرهم، على ما مضى عليه معشر الأنصارعلى عهد رسول الله (ص): "مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، اس پر ظلم نہیں کرتا، اُسے تنہا نہیں چھوڑتا، اُسے ڈراتا دھمکاتا نہیں، اور ضروری ہے کہ مُسلمان حاجت مندوں سے ربط، تعلق، تعاون، محبت اور اُنسیت میں کوشش کرے، اور ایک دوسرے کے ساتھ مہربان ہو۔ تاکہ ارشادِ خداوندی "رُحَمَاءُ بَینَھُم" کے مطابق ایک دوسرے سے محبت اور پیار کا سلوک رواج پائے، یہاں تک کہ ان کے پیٹھ پیچھے ان کے امور کے بارے میں دل سوزی سے کام لیں۔ جیسا کہ رسولؐ اللہ کے زمانہ میں انصار تھے۔ (بحوالہ: "اصول کافی" مطابق نقل نور الثقلین جلد ٥، صفحہ ٧٧ حدیث ٩١")۔ لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے اس آیت کی مؤثر رہنمائی اور اُن خصوصیات سے، جو سچے مومنین اور رسول اللہ کے صحابہ کی مثال بنتی ہیں، دوری اختیار کرلی ہے، اور بعض اوقات تو اس طرح سے ایک دوسرے کے جان لیوا بن جاتے ہیں اور ایسی کینہ پروری اور خونریزی کرتے ہیں،کہ دشمنانِ اسلام کے لیے بھی کبھی ایسی نہ کی ہو گی۔ بعض اوقات کفار کے ساتھ دوستی کا ایسا قائم کرتے ہیں۔ جیسے کہ وہ ایک ہی اصل و نسب کے بھائی ہیں۔ نہ اس رکوع و سجُود کا کوئی پتہ ہے، نہ وہ پاکیزہ نیتیں اور "ابتغاء فضل اللہ" (اللہ کے فضل کا طالب ہونا)۔ اور نہ ہی چہروں پر سجدوں کے وہ آثار نمایاں ہیں، نہ وہ نشوونما، نہ کونپلیں نکالنا، نہ قوی ہونا اور نہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے ہم جتنا ان قرآنی اصولوں سے دُور ہوتے ہیں اتنا ہی زیادہ درد و رنج اور ذلت و نبکت میں گرفتار ہوتے ہیں، لیکن پھر بھی توجہ نہیں کرتے کہ ہمیں یہ ضرب کہاں سے پڑی ہے؟ پھر وہی جاہلیّت کی طرفداریاں غور و فکر کرنے تجدید نظر اور قرآن کی طرف لوٹنے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں، خدایا ہمیں اس گہری اور خطرناک نیند سے بیدار کر دے۔ خداوندا! ہمیں توفیق مرحمت فرما کہ ہم پیغمبرؐ کے سچے اصحاب و انصار کی اخلاقی خصوصیات کو، جو ان آیات میں آئی ہیں اپنے اندر زندہ کریں۔ بارالہٰا! ہمیں دشمنوں کے مقابلہ میں شدّت، دوستوں کے ساتھ محبت، تیرے فرمان کے لیے تسلیم و رضا، تیری خاص عنایات کی طرف توجہ، اور اسلامی معاشرے کو بارور کرنے کے لیے سعی و کوشش اور اس کو ترقی دینے اور پھیلانے کی توفیق عنایت فرما۔ پروردگارا! ہم تجھ سے فتح مبین کے طلب گار ہیں، جس کے سائے میں ہمارا اسلامی معاشرہ حرکت میں آ جائے اور اس عصر اور زمانہ میں جس میں ہر دوسرے وقت سے زیادہ معنویت و روحانیّت کی احتیاج و ضرورت ہے، ہم اس دین کی حیات بخش تعلیمات کو لوگوں کے سامنے پیش کریں او رہر روز نئے دلوں کو اسلام کی تسخیر و اطاعت میں داخل کر لیں اور دلوں کے ممالک میں سے ایک نیا مُلک فتح کرلیں۔ (آمین یا ربّ العالمین)

end of chapter
Al-Fath (48) — Tafseer e Namoona