Sūra 82 · 19v
Chapter 8219 verses

Al-Infitar

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
الإنفطار
الانفطار

سورہ انفطار

یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۱۹ آیتیں ہیں۔

سورہ انفطار کے مضامین

یہ سورہ قرآن مجید کے آخری پارے کی بہت سی سورتوں کی مانند قیامت سے متعلق مسائل کے بارے میں ہے اور اس کی آیتوں میں مججوعی طور پر اس تعلق کے پانچ موضوعات کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ ۱۔ اشراط الساعۃ یعنی وہ عظیم حوادث جو اس جہان کے اختتام اور قیامت کی ابتدا پر رونما ہوں گے۔ ۲۔ انسان کی توجہ خدا کی نعمتوں کی طرف جنہوں نے اس کے سارے وجود کو گھیر رکھا ہے، اور اس کے غرور کو توڑنے کی جانب، تاکہ وہ اپنے آپ کو معاد کے لیے تیار کرے۔ ۳۔ ان فرشتوں کی طرف اشارہ جو انسانوں کے اعمال کو ثبت کرنے پر مامور ہیں۔ ٤۔ قیامت میں نیک و بد لوگوں کی سرنوشت۔ ۵۔ اس عظیم دن کی سختیوں کا ایک گوشہ۔

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت

ایک حدیث امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ (من قرأ ھاتین السورتین "إِذَا السَّمَاءُ انفَطَرَتْ"، "و اذا السماء انشقت" و جعلھما نصب عینہ فی صلٰوة الفریضة و النافلة لم یحجبہ من اللہ حجاب و لم یحجزہ من اللہ حاجز و لم یزل ینظر الی اللہ و ینظر اللہ الیہ حتی یفرغ من حساب الناس) جو شخص ان دو سورتوں سورہٴ انفطار اور سورہٴ انشقاق کی تلاوت کرے اور دونوں کو نماز فریضہ و نافلہ میں اپنا نصب العین بنا لے تو کوئی حجاب اسے خدا سے محجوب نہیں کر سکے گا اور کوئی حائل اس کے اور خداوند تعالی کے درمیان حائل نہیں ہو گا اور جب تک وہ لوگوں کے حساب سے فارغ نہ ہو جائے گا اللہ تعالی اس کی طرف دیکھتا رہے گا۔ (بحوالہ: مجمع االبیان، جلد۱۰، ص ۴۴۷ و نور الثقلین، جلد۵، ص۵۲۰ (از کتاب ثواب الاعمال)۔ یقیناً سب سے بڑی نعمت بارگاہِ خداوندی میں حضوری ہے اور بندہ کے اور خدا کے درمیان سے حجابوں کا ہٹ جانا اس کے لئے ہے جو ان دونوں سورتوں کو اپنے دل و جان کی گہرائیوں میں جگہ دے اور اپنی اس بنیاد پر اصلاح کرے، نہ یہ کہ صرف زبانی جمع خرچ پر اکتفا کرے۔

1
82:1
إِذَا ٱلسَّمَآءُ ٱنفَطَرَتۡ
جس وقت (کرات آسمانی) پھٹ جائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
82:2
وَإِذَا ٱلۡكَوَاكِبُ ٱنتَثَرَتۡ
جس وقت ستارے پراگندہ ہو کر گر پڑیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
82:3
وَإِذَا ٱلۡبِحَارُ فُجِّرَتۡ
اور جس وقت سمندر ایک دوسرے سے مل جائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
82:4
وَإِذَا ٱلۡقُبُورُ بُعۡثِرَتۡ
اور جس وقت قبریں زیر و زبر ہوں گی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
82:5
عَلِمَتۡ نَفۡسٞ مَّا قَدَّمَتۡ وَأَخَّرَتۡ
اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے آگے کیا بھیجا ہے اور پیچھے کیا چھوڑا ہے۔

تفسیر جس وقت جہان کا نظام زیر و زبر ہو جائے گا۔

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

ہم پھر اس سورہ کے آغاز میں بعض ایسے وحشت ناک حوادث کا سامنا کر رہے ہیں جو آغازِ قیامت میں سارے جہان کو گھیر لیں گے ۔ پہلے فرماتا ہے: "جس وقت آسمان میں شگاف پڑ جائیں گے۔" (إِذَا السَّمَاءُ انفَطَرَتْ)۔ اور جس وقت ستارے پراگندہ ہو کر گرنے لگیں گے" (وَإِذَا الْكَوَاكِبُ انتَثَرَتْ)۔ عالم بالا کا نظام درہم برہم ہو جائے گا اور ہولناک دھماکے سارے آسمان کے کُروں کے گھیر لیں گے تمام منظومے اپنے نظام کھو بیٹھیں گے۔ اور ستارے اپنے مدار سے نکل جائیں گے، اور شدید تصادم کی وجہ سے ادھر ادھر بکھر جائیں گے۔ اس جہان کی عمر ختم ہو جائے گی اور عام چیزیں ویران ہو جائیں گی تاکہ ان کی ویرانی سے آخرت کا جہاں آباد ہو جائے۔ "انفطرت" انفطار کے مادہ سے شگافتہ ہونے کے معنوں میں ہے۔ اس تعبیر کی نظیر بہت سی آیات میں آئی ہے۔ منجملہ دیگر تعبیرات کہ سورہ انشقاق کی آیت ۱ میں پڑھتے ہیں (إِذَا السَّمَاءُ انشَقَّتْ) اور سورہ مزمل کی آیت ۱۸ میں فرماتا ہے: (السَّمَاءُ مُنفَطِرٌ بِهِ) "انتثرت" اصل میں مادہ نثر (بروزن نصر) سے پراگندہ کرنے اور ہونے کے معنی میں ہے اور چونکہ ستاروں کا پراگندہ ہونا (گلوبند کی طرح جس کا دھاگہ ٹوٹ جائے) سبب بنتا ہے کہ ہر ایک کسی گوشہ میں جا گرے۔ بعض مفسرین نے ستاروں کے سقوط اور ان کے گرنے سے تفسیر کی ہے اور یہ پراکندگی کے معنی کا لازمہ ہے۔ "کواکب" کوکب کی جمع عربی زبان میں بہت سے معانی میں آتی ہے۔ دوسرے ستارے بطورِ عام اور زہرہ ستارہ بطور خاص۔ وہ سفیدی جو آنکھ میں ظاہر ہوتی ہے، بلند گھاس، درخت کا شگوفہ، فولاد کی چمک، زیبا و خوبصورت نوجوان، تلوار، پانی اور کسی جمیعت کا رئیس۔ لیکن ظاہری طور پر اس کے حقیقی معنی وہی درخشاں اور فروزاں ستاروہ ہیں۔ باقی معانی مجازی شمار ہوتے ہیں جن میں اصلی معانی کی مشابہت پائی جاتی ہے۔ یہ کہ ستاروں کا پراگندہ ہونا اور آسمانی کواکب کا انفجار اور پھٹنا اور ان کے نظام کا درہم برہم ہونا کن عوامل و اسباب کے زیرِ اثر رونما ہو گا۔ کیا فطرت کا اعتدال درہم برہم ہو جائے گا یا کوئی عظیم مرموز قوت اسے اپنے تحت الشعاع قرار دے گی یا عالم کا عظیم تدریجی انبساط اور پھیلاؤ جو موجودہ زمانے میں ماہرین کے نقطہ نظر سے اثبات کے درجہ کو پہنچ گیا ہے۔ یہاں تک ہو جائے گا کہ جس کے بعد یہ نتیجہ برآمد ہو گا۔ کوئی شخص ٹھیک طرح نہیں جانتا۔ لیکن ہمیں اتنا معلوم ہے کہ جس وقت یہ عظیم آسمانی کُرے اس قسم کی صورت حال سے دوچار ہوں گے تو اس وقت کمزور، ضعیف انسان کا جو حال ہو گا وہ ظاہر ہے۔ یہ سب کچھ اس جہان کے فنا ہونے کے بارے میں انسان کو خبردار کرنا ہے اور اسے تنبیہ کرنا ہے تاکہ وہ اس دنیا کو ایسا جاودانی گھر نہ سمجھ بیٹھے جس میں اسے ہمیشہ رہنا ہے، اس سے دل نہ لگائے اور اس کے لئے ہزارہا گناہوں سے آلودہ نہ ہو۔ اس کے بعد آسمان سے ہٹ کر زمین کو موضوع بناتا ہے اور فرماتا ہے: "جس وقت سمندر اور دریا آپس میں مل جائیں" (وَإِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ)۔ اگرچہ اس وقت بھی روئے زمین کا سمندر، سوائے کچھ چھوٹے دریاؤں کے، ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں لیکن یوں نظر آتا ہے کہ ابتدائے قیامت میں شدید زلزلوں کی بناء پر یا پہاڑوں کے پراگندہ ہونے اور سمندر میں گر پڑنے کی وجہ سے سمندر اس طرح پُر ہو جائیں گے کہ پانی تمام خشکیوں کو گھیرے گا اور سارے دریا ایک وسیع تر سمندر کی شکل اختیار کر لیں گے جیسا کہ سورہ تکویر کی آیت۶ (وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ) کی ایک یہ بھی تفسیر ہے جس کی طرف ہم پہلے اشارہ کر چکے ہیں۔ دوسرا احتمال، جو اس آیت کی تفسیر میں اور اسی طرح سورہٴ تکویر کی آیت ۶ کی تفسیر میں پیش کیا گیا ہے، یہ ہے کہ فجرت اور سجرت وہی انفجار یعنی پھٹنا اور جلنا ہے جو تمام سمندروں اور دریاؤں کو آگ کے ایک عظیم ٹکڑے میں تبدیل کر دے گا۔ جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ہے پانی دو عناصر سے تشکیل پاتا ہے جو دونوں شدید طور پر قابل احتراق یعنی جلنے کے قابل ہے۔ اب اگر سمندروں کے پانی کا تجزیہ ہو اور وہ کچھ عوامل و اسباب کے زیر اثر آکسیجن اور ہائیڈروجن میں تبدیل ہو جائے تو ایک ہی شعلہ کے زیر اثر سب آگ میں تبدیل ہو جائیں۔ اس کے بعد قیامت کے دوسرے مرحلہ کے بارے میں جو اس جہان کی تجدیدِ حیات اور مُردوں کی زندگی کی تجدید کا مرحلہ ہے فرماتا ہے: "اور جس وقت قبریں زیر و زبر ہوں" (وَإِذَا الْقُبُورُ بُعْثِرَتْ)۔ اور مُردے باہر آ کر حساب کتاب کے لئے آمادہ ہوں۔ "بعثرت" کے معنی زیر و زبر ہونا اور منتشر ہونا ہے۔ راغب مفردات میں بعید نہیں سمجھا کہ یہ لفظ دو الفاظ سے مرکب ہو۔ "بعث" اور "اثرت" اسی لئے دونوں کے معنی اپنے اندر لئے ہوئے ہیں اور نتیجہ زیر و زبر ہونے کے معانی کی صورت میں نکلا ہے۔ (مثل بسملہ کے جو بسم اور اللہ سے لیا گیا)۔ بہرحال، جو اوپر والی آیات میں آیا ہے اس چیز کے مشابہ ہے جو ہم سورہ زلزال میں پڑھتے ہیں: (وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا) "زمین اپنے ذخائر باہر نکالے گی" (اس بناء پر اس سے مراد زمین دفن شدہ مردے ہوں گے جو اس آیت کی مشہور تفاسیر میں سے ایک ہے)۔ یا اس چیز کے مشابہ ہے جو سورہ نازعات کی آیت ۱۳ اور ۱۴ میں آئی ہے۔ (فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌO فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ) "صرف ایک ہی صحیفہ ہو گا جس کے بعد اچانک سب کے سب صحفہٴ زمین پر ظاہر ہوں گے۔ یہ سب تعبیریں بتاتی ہیں کہ مُردوں کا زندہ ہونا اور قبروں سے خارج ہونا نہایت تیزی سے ناگہانی طور پر صورت پذیر ہو گا۔ ان نشانیوں کو بیان کرنے کے بعد جو قیامت سے قبل اور اس کے بعد صورت پذیر ہوں گی آخری بات کو اس طرح بیان کرتا ہے: "اس دن ہر شخص جانتا ہے کہ اس نے آگے کیا بھیجا ہے اور پیچھے کیا رکھا ہے" (عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَأَخَّرَتْ)۔ جی ہاں! اس دن حجابات ہٹ جائیں گے، غرور و غفلت کے پردے چاک ہو جائیں گے اور حقائقِ جہاں آشکار ہو جائیں گے۔ اور چونکہ وہ دن یوم البروز ہے لہٰذا ہر چیز ظاہر ہو جائے گی اور یہ وہی وقت ہے کہ انسان اپنے تمام اعمال کو دیکھے گا اور اپنے نیک و بد سے آگاہ ہو گا، کون سے اعمال وہ آگے بھیج چکا ہے اور کون سے کام ہیں جن کے آثار ان کے بعد دنیا میں باقی رہ گئے ہیں اور اس کے نتائج اس تک پہنچے ہیں۔ خیرات اور صدقہ جاریہ کے مثل۔ اور وہ تعمیرات و آثار جو مقاصد رحمانی یا مقاصد شیطانی کے لئے اس نے بنائی ہیں اور پیچھے جھوڑ گیا ہے یا کتابیں اور دیگر علمی آثار وغیرہ۔ علمی آثار جو نیک و بد مقاصد کے لئے اس نے اپنے بعد چھوڑے ہیں اور وہ دوسروں کے لئے استفادہ کا باعث بنے ہیں۔ ایسے نیک و بد سنن و طرق جنہوں نے اقوام و ملل کو اپنی طرف کھینچا ہے یہ ہیں اُن کاموں کے نمونے جن کے نتائج انسان کے بعد اس تک پہنچے ہیں اور جو اوپر والی آیت ہیں "اخرت" کا مصداق ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ انسان اس دنیا میں بھی اجمالی طور پر اپنے اعمال سے باخبر ہے لیکن بھول جانا اور اپنے اعمال کی پرستش کرنا عام طور پر مانع ہوتا ہے کہ انسان ان سب کو اپنے دل میں جگہ دے اور اپنے اعمال کے آثار کی گہرائی اور عمق سے واقف ہو۔ لیکن اس دن ہر چیز میں انقلاب برپا ہو گا تو انسان کی روح اور جان بھی اس قسم کے انقلاب سے متاثر ہو گی۔ یہ وہ جگہ ہو گی جہاں انسان اپنے تمام اعمال کا تفصیلی علم حاصل کرے گا بلکہ سورہ آلِ عمران کی آیت ۳۰ (يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِن سُوءٍ) سب کو اپنے سامنے حاضر پائے گا۔ بعض مفسرین نے اس آیت کے لئے اور تفاسیر بھی بیان کی ہیں۔ منجملہ دیگر تفاسیر سے مراد وہ کام ہیں جنہیں ابتدائے عمر میں مقدم رکھتا تھا اور وہ کام جو اواخر عمر کے لئے چھوڑ رکھے تھے۔ لیکن پہلی تفسیر ہر جہت سے زیادہ مناسب ہے۔ نفس سے مراد یہاں نفسوس انسانی میں سے ہر فرد ہے اور اس میں تمام افرادِ بشر شامل ہیں۔

ایک نکتہ وہ آثار جو انسان کے بعد باقی رہ جاتے ہیں

علاوہ اس چیز کے جو اوپر والی آیات میں آئی ہے اسلامی روایت سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ ہو سکتا ہے کچھ آثار انسان کے بعد باقی رہ جائیں جن کی برکتیں یا بُرے نتائج سالہا سال تک حتیٰ کہ قیامت تک اس شخص کو پہنچتے رہیں۔ ایک حدیث امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے: (لیس یتبع الرجل بعد موتہ من الاجر الَّا ثلاث خصال: صدقة اجراھا فی حیاتہ فھی بعد موتہ و سنة ھدی سنّھا فھی تعمل بھا بعد موتہ وولد صالح یستغفر لہ) انسان کی موت کے بعد اس کے اعمال کی کتاب بند ہو جاتی ہے اور سزا یا جزا اسے نہیں ملتی لیکن تین طریقوں سے اجر یا سزا مل سکتی ہے۔ عمارتیں یا مفید چیزیں جو لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے وہ اپنی طرف سے بطور یادگار چھوڑ گیا ہے، جو اس کے بعد باقی ہیں، دوسرے ہدایت کرنے والی سنت جسے وہ وجود میں لایا ہے اور اس کی موت کے بعد اس پر عمل ہو رہا ہے اور تیسرے وہ نیک اور صالح بیٹا جو اس کے لئے استغفار کرتا ہے۔ (بحوالہ: بحار الانوار، جلد ۷۱، ص۲۵۷)۔ ایک دوسری روایت میں یہ چھ امور شمار کئے گئے ہیں جو مومنین کی حالت کے لئے ان کی موت کے بعد مفید ہیں، نیک بیٹا، وہ قرآن جس کی وہ تلاوت کرتا تھا، وہ کنواں جو اس نے کھودا، وہ درخت جو اس نے بویا، پانی مہیا کرنا سنت حسنہ جو اس کے بعد رہ جائے اور موردِ توجہ قرار پائے۔ (بحوالہ: بحار الانوار، جلد ۷۱، ص۲۵۷)۔ بعض روایات میں اس علم و دانش پر جو کسی کی جانب سے لوگوں میں رہ جائے انحصار کیا گیا ہے۔ (بحوالہ: منیة المرید، ص۱۱)۔ خصؤصیت کے ساتھ نیک یا بد سنت کے بارے میں کئی روایتیں ہمارے پاس ہیں جو لوگوں کو خبردار کرتی ہیں کہ وہ اس بات کا خیال رکھیں کہ ان کے اعمال کے نتیجئے میں کسی قسم کی سنت لوگوں کے درمیان باقی رہتی ہے۔ مرحوم طبرسی زیر بحث آیات کے ذیل میں اسی مضمون کی ایک حدیث نقل کرتے ہیں۔ ایک دن ایک شخص بارگاہِ پیغمبرؐ میں کھڑا ہو گیا اور اس نے لوگوں سے مدد طلب کی تو سب لوگ خاموش رہے۔ اس موقع پر ایک صحابی نے اس سائل کو کوئی چیز دے دی، باقی اصحاب نے بھی اس کی پیروی کی اور وہ بھی اس ضرورت مند کی مدد کرنے لگے۔ اس پر پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: (من استن خیرًا فاستن بہ فلہ اجرہ و مثل اجور من اتبعہ غیر منتقص من اجورھم و من استن شرًا فاستن بہ فعلیہ و زرہ و مثل اوزار من اتبعہ غیر منتقص من اوزارھم)۔ "جو شخص کوئی نیک سنت جاری کرے اور دوسرے اس کی پیروی کریں تو وہ اپنا اجر تو رکھتا ہی ہے، اس کے علاوہ ان لوگوں کے اجر کے برابر بھی جنہوں نے اس کی پیروی کی ہے، بغیر اس کے کہ ان کی پیروی کرنے والے لوگوں کے اجر میں کوئی کمی ہو، اور جو شخص بُری سنت جاری کرے اور لوگ اس کی پیروی کریں تو اس کا اپنا گناہ تو ہے ہی، اس کے علاوہ جن لوگوں نے اس کی پیروی کی ہے ان کے گناہوں کے برابر بھی اس کا گناہ ہے، بغیر اس کے کہ پیروی کرنے والوں کے گناہوں میں کچھ کمی ہو۔" یہ وہ مقام تھا جہاں اصحاب پیغمبر میں سے حذیفہ نے آیت (عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَأَخَّرَتْ) کی تلاوت کی۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱۰، ص۴۴۹)۔ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: (فکیف بکم لو تناھت بکم الامور و بعثرت القبور ھنالک تبلوا کل نفس ما اسلفت و ردوا الیٰ اللہ مولاھم الحق و ضل عنھم ما کانوا یفترون) تمہارا کیا حال ہو گا جس وقت تمام امور اختتام پذیر ہوں گے، قبریں زیر و زبر ہوں گی اور تم سب کے سب عرصہ محشر میں قیام پذیر ہوں گے۔ وہاں ہر شخص ہر عمل کو جسے اس نے پہلے انجام دیا ہو گا آزمائے گا اور سب کے سب خدا کی طرف پلٹ جائیں گے جو ان کا حقیقی مولا و سرپرست ہے اور جنہیں جھوٹ موٹ اس کی مثل قرار دیا تھا، ان کے دل سے محو ہو جائیں گے۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ۲۲۶)۔ یہ آیات و روایا ت انسان کی ذمہ داری کی حدود کو اس کے اعمال کے مقابلہ میں اسلامی نقطہٴ نظر سے معین کرتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ کس حد تک ہر انسان اپنے اعمال کے سلسلہ میں جواب دہ ہے، یہاں تک کہ ممکن ہے کہ ہزارہا سال گزرنے کے بعد اس کے لئے اچھا اجر حاصل کریں یا اس پر لعنت و گناہ کا بوجھ ڈالیں۔ اس سلسلہ میں جلد۱، ص۲۰۲ تا ۲۰۴ (سورہ نحل کی آیت ۲۵ کے ذیل میں) پر بھی ہم بحث کر چکے ہیں۔

6
82:6
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡإِنسَٰنُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ ٱلۡكَرِيمِ
اے انسان تجھے کس چیز نے اپنے کریم پروردگار کے مقابلہ میں (غافل و) مغرور کر دیا ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
82:7
ٱلَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّىٰكَ فَعَدَلَكَ
وہ اللہ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر تجھے منظم کیا، پھر تجھے اعتدال بخشا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
82:8
فِيٓ أَيِّ صُورَةٖ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَ
اور جس شکل میں چاہتا تھا تجھے مرکب کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
82:9
كَلَّا بَلۡ تُكَذِّبُونَ بِٱلدِّينِ
جیسا تم خیال کرتے ہو ویسا نہیں ہے بلکہ تم روز جزا کے منکر ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
82:10
وَإِنَّ عَلَيۡكُمۡ لَحَٰفِظِينَ
اور اس میں شک نہیں کہ تم پر نگہبان مقرر کئے گئے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
82:11
كِرَامٗا كَٰتِبِينَ
بلند منزلت والے اور (اعمال کو) لکھنے والے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
82:12
يَعۡلَمُونَ مَا تَفۡعَلُونَ
وہ جانتے ہیں کہ تم کیا کرتے ہو۔

تفسیر اے انسان تجھے کس چیز نے مغرور کر دیا ہے؟

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

گزشتہ آیتوں کے بعد جو قیامت کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں زیر بحث آیتوں میں انسان کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے اور اس کو خدا کے سامنے اس کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے پہلے اسے مخاطب کیا ہے اور تیز ڈانٹ ڈپت کے ساتھ، جس میں ایک طرح کا لطف و کرم بھی ملا ہوا ہے، فرماتا ہے: "اے انسان تجھے کس چیز نے تیرے کریم پروردگار سے غافل کیا ہے اور اس کے مقابلہ میں مغرور کیا ہے" (یاایھا الانسان ماغرک بربک الکریم)۔ یہاں انسان کا اس کی انسانیت کے لحاظ سے، جس میں اس جہان کے باقی موجودات کے مقابلہ میں تمام امتیازات کے ساتھ اس کا ذکر کیا ہے، مخاطب کیا ہے، اس کے بعد اس سے اس خدا کے سامنے پیش کیا ہے جو رب بھی ہے اور کریم بھی ہے، جس نے اپنی ربوبیت کے تقاضے سے ہمیشہ اسے اپنی رحمت سے نوازا ہے اور اس کی تربیت و تکامل و ارتقاء کا ذمہ لیا ہے اور اپنے تقاضائے کرم سے اپنے خوانِ نعمت پر جگہ دی ہے۔ اور اپنی تمام مادی و معنوی نعمتوں سے سرفراز کیا ہے، بغیر اس بات کے کہ اس سے کوئی توقع رکھتا ہو اور ان تمام نعمتوں کا اجر اس سے طلب کرے، حتیٰ کہ اس کی خطاؤں سے بھی چشم پوشی کرتا ہے اور اپنے لطف و کرم سے اسے مورد عفو و بخشش قرار دیتا ہے۔ کیا یہ مناسب ہے کہ قسم کا وجود ایسے پروردگار کے مقابلہ میں جسارت و غرور سے کام لے یا ایک لمحے کے لئے بھی اسے غافل ہو اور اس کے فرمان کی انجام دہی میں جو خود اس کی سعادت کا ضامن ہے، قصور و کوتاہی کا ارتکاب کرے۔ اسی لئے ایک حدیث میں پیغمبر اسلامؐ سے مروی ہے کہ آپؐ نے اس آیت کی تلاوت کے موقع پر فرمایا: (غرّہ جھلہ) اس کی جہالت و نادانی سے اسے مغرور و جاہل بنایا ہے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱۰، ص ۴۴۹۔ یہی حدیث در المنثور، روح البیان، روح المعانی اور قرطبی میں بھی زیر بحث آیت کے ذیل میں نقل ہوئی ہے)۔ یہاں واضح ہو جاتا ہے کہ مقصد یہ ہے کہ اپنی ربوبیت و کرم پر انحصار کرتے ہوئے وہ انسان کے غرور و غفلت کو ختم کرے۔ اس طرح سے جیسا کہ بعض نے خیال کیا ہے کہ مقصود کلام یہ ہے کہ آدمی کو تلقین کی جائے کہ خدا سے عذر خواہی کے سلسلہ میں وہ جواب میں کہے "تیرے کرم نے مجھے مغرور کیا ہے"۔ نیز جو کچھ فضل بن عیاض سے نقل ہوا ہے کہ ا س سے سوال کیا گیا کہ اگر تجھے خدا قیامت کے دن اپنے حضور میں طلب کرے اور تجھ سے سوال کرے۔ "مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ" تو جواب میں تو کیا کہے گا۔ اس نے کہا میں جواب میں کہوں گا "غرنی ستورک المرخاة" جو پردے تو نے میرے گناہ پر ڈالے ہوئے تھے انہوں نے مجھے غافل و مغرور کیا ہے۔ یہ سب مفہوم آیت کے ساتھ سازگار نہیں ہے بلکہ آیت کے مفہوم کے تضاد سے تعلق رکھتا ہے اس لئے کہ مقصودِ آیت غرور کو ختم کرنا ہے اور خواب غفلت سے بیدار کرنا ہے، نہ یہ کہ نیا پردہ غفلت کے پردوں پر ڈالنا ہے اس بناء پر مناسب نہیں ہے کہ آیت کو اس کے مقصد سے دُور لے جائیں اور اس کی متضاد کیفیت سے نتیجہٴ کلام اخذ کریں۔ "غرک" غرور کے مادہ سے اصل میں بیداری کے موقع پر غفلت کے معنی میں ہے دوسرے لفظوں میں ایسے مقام پر غفلت سے کام لینا جہاں غفلت کرنا بالکل نامناسب ہو، اور چونکہ غفلت بعض اوقات جسارت یا احساس برتری کا سبب بنتی ہے لہٰذا غرور کے لفظ کی ان معانی سے بھی تفسیر ہوئی ہے اور شیطان کو اسی وجہ سے غرور (بروزن شرور) کہتے ہیں وہ انسان کو اپنے وسوسوں سے فریب دیتا ہے اور اسے غافل و مغرور کر دیتا ہے۔ "کریم" کی تفسیر میں مفسرین نے انواع و اقسام کی تعبیریں پیش کی ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ کریم وہ بخشنے والا ہے جس کے تمام افعال احسن ہیں اور وہ کبھی اتنی بخشش کے ہوتے ہوئے نفع و نقصان کا خیال نہیں کرتا۔ بعض نے کہا کہ کریم وہ شخص جو طلب سے زیادہ بخش دے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ کریم وہ شخص ہے جو تھوڑی سی متاع کو قبول کر لیتا ہے اور اس کے مقابلہ میں زیادہ قیمت دیتا ہے لیکن حقیقت میں یہ سب چیزیں کریم کے مفہوم میں شامل ہیں۔ خدا کے کرم کے سلسلہ میں بس اتنا کافی ہے کہ وہ صرف گناہگاروں کو معاف کر کے راضی نہیں ہوتا بلکہ شائستہ افراد کے گناہوں کو حسنات میں تبدیل کر دیتا ہے۔ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام اس آیت کی تفسیر میں عجیب و غریب جملہ ارشاد فرماتے ہیں: یہ آیت سننے والے کے سامنے بہت مضبوط دلیل ہے اور ایسے شخص کے سامنے جسے جہالت و نادانی نے مغرور کر دیا ہو قاطع عذر ہے۔ خدا فرماتا ہے: "اے انسان تجھے کس چیز نے گناہ کرنے پر جراٴت دلائی ہے اور کس چیز نے تجھے تیرے پروردگار کے مقابلہ میں مغرور کر دیا ہے اور کس چیز نے اپنی ہلاکت کےساتھ تعلق پیدا کر دیا ہے؟ کیا تیری اس بیماری کے لئے صحت مند ہونا نہیں ہے، تیرے اس خواب کے لئے بیداری نہیں ہے۔ تو خود پر کم از کم اتنا تو رحم کر جتنا تو دوسروں پر کرتا ہے۔ تُو جب کسی کو جلانے والے سورج کی دھوپ میں دیکھے تو اس پر سایہ کرتا ہے، جب کسی بیمار کو دیکھے کہ درد و تکلیف نے اسے سخت نالاں کر دیا ہے تو توُ اس پر رحم کھا کر آنسو بہاتا ہے تو وہ کیا شئے ہے جس نے اپنی بیماری پر تجھے ایک طرح کا صبر کرنے والا بنا دیا ہے اور اپنی مصیبت پر مطمئن کر دیا ہے اور خود پر گریہ کرنے سے بعض رکھا ہے، حالانکہ تیرے نزدیک عزیز ترین افراد میں سے تُو خود ہے تو پھر کس طرح رات کو نزولِ بلا کے خوف نے تجھے بیدار نہیں کیا حالانکہ گناہ و مصیبت میں تُو غوطہ زن ہے اور اس کے غلبہ سے باہر بھی نہیں ہے۔ آ اور اس غفلت کی بیماری کا عزمِ صمیم کی دوا سے علاج کر اور اس خواب غفلت کو جس نے تیری آنکھوں کو گھیر رکھا ہے۔ بیداری سے بر طرف کر۔ آ خدا کا مطیع و فرمانبردار بن جا اور اس کی یاد سے مانوس ہو۔ اچھی طرح سے جان لے کہ تیرے خدا سے غفلت کرنے کے موقع پر وہ نعمتیں دینے پر تجھ سے عنایت کرتا ہے اور تجھے اپنے عفو و کرم کی طرف بلاتا ہے اور اپنی برکتوں کے زیر سایہ تجھے دیکھنا چاہتا ہے، حالانکہ تُو نے اس کی طرف پشت کر رکھی ہے اور دوسرے کی طرف رخ کر رکھا ہے۔ بزرگ و عظیم ہے وہ خدا جو باوجود اس عظیم قدرت کے کریم ہے لیکن تو باوجود اس ضعف و حقارت کے اس مصیبت پر کس قدر جری ہے۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ۲۲۳)۔ اس کے بعد اس غافل انسان کو بیدار کرنے کے لئے اپنے لطف و کرم کے ایک گوشہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "وہ خدا جس نے تجھے پیدا کیا ہے پھر تیرے وجود کی دستگاہ کو منظم کیا اور تجھے اعتدال بخشا" (الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ)۔ "اور جس شکل میں چاہتا تھا تیری ترکیب کی" (فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ)۔ (تشریحی نوٹ: "ماشاء" میں ما زائدہ ہے، بعض مفسرین نے پیش کیا ہے کہ ما شرطیہ ہے لیکن پہلا احتمال زیادہ مناسب ہے)۔ اور اس طرح خلقت کے چار مرحلوں کو یعنی اصل خلقت، پھر اس کی تنظیم، پھر اس میں اعتدال، آخر میں ترتیب بندی کو چار مختصر سی پُر معنی عبارتوں میں بیان کرتا ہے۔ پہلے مرحلے میں اصل خلقت انسانی قرار پائی ہے کہ اسے ناچیز و حقیر نطفہ سے رحم کے ظلمت کدے میں خلق کیا۔ بعد کے مرحلہ میں جو تسویہ و تنظیم کا مرحلہ ہے اس کے پیکر کے اعضاء میں ہر عضو کو تنظیم کے ساتھ موزوں کیا۔ آنکھ، کان، دل، رگیں اور باقی اعضاء جن میں سے اگر انسان ہر ایک کی ساخت، بناوٹ اور نظام پر غور و فکر کرے اور خدا کے لطف و کرم کو ان میں سے ایک ایک میں دیکھے تو علم و قدرت اور لطف و کرم کی ایک دنیا اپنی آنکھوں کے سامنے مجسم دیکھے گا۔ وہ نعمتیں کہ ہزارہا سال گزرنے کے بعد بھی ماہرین علوم طبعی ان کے بارے میں غور و فکر کرتے ہیں اور لکھتے ہیں لیکن ابھی آغازِ کار ہے اور وہ ابھی تحقیق کی ابتداء ہی میں ہیں۔ اس کے بعد ایک تیسری نعمت کو موضوع گفتگو بناتا ہے اور وہ اعضاء جسم انسانی کے درمیان اعتدال و ہم آہنگی ہے جسم انسانی دو حصوں پر مبنی پیدا کیا گیا ہے جو دونوں ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ ہاتھ، پاؤں، آنکھ، کان، استخواں، عروق و اعصاب و عضلات جسم کے دونوں حصوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے والے اور ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے ہیں۔ علاوہ ازیں، مختلف اعضاء بھی ایک دوسرے کے کام کی تکمیل کرتے ہیں۔ مثلاً سانس لینے کا نظام گردش خون کی مدد کرتا ہے اور گردش خون کا نظام تنفس کے ساتھ کر کے غذا کے لقمے کو نگلنے کے لئے اور دانت، زبان، لعابِ دہن کے غدود اور اطراف دہن کے عضلات اور گلا یہ سب ایک دوسرے کے دست بدست کام کرتے ہیں، یہاں تک لقمہ ہاضمہ کے نظام میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد بھی بہت سی ہم آہنگیاں صورت پذیر ہوتی ہیں تاکہ غذا جزوِ بدن ہو سکے اور قوت و حرکت و سعی کوشش کو پیدا کرے۔ یہ سب "فعدلک" کے جملہ میں پنہاں ہیں۔ بعض اس جملہ کو تمام انواع حیوانات میں سے انسان کے سیدھے قد کی طرف، جو اس کے بہت ہی فضیلت کا باعث ہے، اشارہ سمجھتے ہیں۔ یہ معانی بعد والے مرحلے کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں لیکن پہلے معانی زیادہ جامع ہیں۔ انجام کار آخری مرحلہ، دوسرے موجودات کے مقابلہ میں اس کی ترکیب اور صورت پذیری کا آن پہنچتا ہے۔ جی ہاں! خدا نے نوع انسان کو دوسرے حیوانات کے مقابلہ میں موزوں تر بنایا ہے اور اسے عمدہ شکل عنایت کی ہے اور ایسی سیرت دی ہے جس میں زیبائی و خوبصورتی کے ساتھ فطری بیداری بھی ہے اور ایسی ترکیب جو علم، آگاہی، تعلیم و تربیت کو قبول کرنے پر آمادہ ہے۔ اس سے قطع نظر افرادِ انسانی کی صورتیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور جیسا کہ سورہ روم کی آیت۲۲ میں آیا ہے: "تمہارے رنگوں اور زبانوں کا اختلاف خدا کی آیات میں سے ہے"۔ (وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ) اگر یہ اختلاف نہ ہوتا تو نوعِ بشر کی اجتماعی زندگی کا نظام معطل ہو جاتا۔ اس اختلافِ ظاہری کے علاوہ استعداد، ذوق اور سلیقے کے اختلاف قرار دئیے ہیں اور ان کی دو صورتیں بنائیں جن کا اس کی حکمت تقاضا کرتی تھی تاکہ ان کے مجموعہ سے ایک صحیح و سالم معاشرہ وجود میں آئے جو اپنی تمام ضرورتوں کو پورا کرے اور انسانوں کے ظاہری و باطنی قوہ ایک دوسرے کے تکمیل کنندہ بنیں۔ اور مجموعی طور پر، جیسا کہ سورہٴ "تین" کی آیت ۴ میں آیا ہے: (لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ) "خدا نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے۔" خلاصہ کلام یہ کہ ان آیتوں میں اور بہت سی دوسری قرآنی آیات کی طرح خدا اس بُھلا دینے والے اور مغرور انسان کو اپنی معرفت کی راہ دکھاتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ رحمِ مادر سے لے کر اپنے پیدا ہونے تک کے زمانے کا اور اس وقت سے لے کر مکمل نشو و نما کی منزل تک پہنچنے کے عہد کا بغور مطالعہ کرے اور یہ دیکھے کہ منعم حقیقی کی جانب سے ہر قدم پر ایک نئی نعمت اس کے پاس آئی ہے۔ اس طرح اس کو معلوم ہو گا کہ وہ سر سے پیر تک خالق کے احسانات کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ اس کو چاہئیے کہ غرور و غفلت کو خیرباد کہے اور پروردگار عالم کی محبت کا طوق اپنی گردن میں ڈالے۔ اس کے بعد قرآن ان کے غرور و غفلت کو موضوع گفتگو بنا کر کہتا ہے: "جیسا کہ تم گمان کرتے ہو ایسا نہیں ہے تم روز جزا کے منکر ہو۔" (كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُونَ بِالدِّينِ)۔ نہ تو خدا کا کرم تمہارے غرور کا سبب ہے اور نہ اس کی نعمتوں کا سلسلہ، بلکہ اس کا اصلی سبب تمہارا روز قیامت پر ایمان نہ لانا۔ (تشریحی نوٹ: "کلا" حرف روع ہے اور پہلے سے ذکر شدہ یا تو ہم شدہ مطلب کے انکار کے لئے ہے اور یہ کلّا اس آیت میں کس چیز کی نفی کرتا ہے، اس سلسلہ میں مفسرین نے کئی احتمال پیش کئے ہیں۔ سبب سے پہلے وہی احتمال ہے جس کا اوپر ذکر ہوا ہے یعنی یہاں کلّا غرور و غفلت کے تمام سرچشموں کی نفی کرتا ہے سوائے قیامت کی تکذیب اور انکار کے جس کا "بل" کے بعد ذکر ہوا ہے۔ راغب نے مفردات میں (بلکہ مادہ کے سلسلے میں) ان معانی کو منتخب کیا ہے اور اوپر والی آیت بیان کرنے کے بعد کہتا ہے (کانّہ قیل لیس ھھنا مایقضیٰ ان یغرھم بہ تعالیٰ و لکن تکذیبھم ھو الذی حملھم علی ما ارتکبوہ) گویا کہا گیا ہے کہ یہاں کوئی ایسی چیز نہیں جو انھیں اللہ کے مقابلہ میں مغرور کرے لیکن ان کا تکذیب کرنا وہ ہے جس نے اس کا ارتکاب کیا ہے)۔ جی ہاں اگر مغرور اور غافل افراد کی حالت پر غور کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ اصلی سبب یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے افراد کی روح کی گہرائیوں میں قیامت کے بارے میں شک یا اس کا انکار پوشیدہ ہے اور باقی امور تو صرف بہانے ہیں۔ لہٰذا اگر ان کے دلوں میں قیامت پر ایمان پیدا ہو جائے تو یہ غرور اور غفلت سب ختم ہو کر رہ جائے۔ دین سے مراد یہاں جزا اور روز جزا ہے اور یہ بعض مفسرین نے احتمال پیش کیا ہے کہ یہاں مراد دین اسلام ہے، بعید نظر آتا ہے اس لئے کہ ان آیتوں میں گفتگو کا جو محور ہے وہ معاد و قیامت ہے۔ اس کے بعد اسباب غرور و غفلت کو ختم کرنے اور قیامت پر ایمان تقویت دینے کے لئے مزید کہتا ہے: "اس میں شک نہیں ہے کہ تم پر نگراں مقرر کئے گئے ہیں" (و انّ علیکم لحافظین)۔ (تشریحی نوٹ: بعض مفسرین روح البیان اور روح المعانی کے مؤلف نے کہا ہے کہ "واؤ یہاں حالیہ ہے لیکن استینافیہ کا احتمال زیادہ مناسب ہے)۔ ایسے نگران و نگہبان جو پروردگار کی بارگاہ میں مقرب و محترم ہیں اور وہ ہمیشہ تمہارے اعمال کو تحریر کرتے ہیں (كِرَامًا كَاتِبِينَ)۔ اور جو کچھ تم انجام دیتے ہو اس سے آگاہ ہیں اور سب کچھ اچھی طرح جانتے ہیں۔ (يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ)۔ "حافظین" سے مراد یہاں وہ فرشتے ہیں جو انسانوں کے اعمال کی نگرانی پر مامور ہیں، اس سے قطع نظر کہ اعمال اچھے ہوں یا بُرے۔ ان فرشتوں کو سورہ ق کی آیت ۱۸ میں رقیب و عتید سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (مَا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ) انسان کوئی بات نہیں کرتا مگر یہ کہ اس کے پاس فرشتہ ہے جو نگرانی کا فرض انجام دینے کے لئے مستعد ہے۔ اسی سورہ ق کی اس سے پہلے کی آیت میں فرماتا ہے: (اذیتلق المتلقیان عن الیمین و عن الشمال قعید) "یاد کر اس وقت کو جب وہ دو فرشتے جو دائیں بائیں سے تجھے پکڑے ہوئے ہیں، تیرے اعمال ثبت کرتے ہیں"۔ قرآن کی دوسری آیتوں میں بھی ان فرشتوں کی طرف اشارہ ہوا ہے جو نگرانِ اعمال ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا ہر شخص سے پہلے اور ہر شخص سے بہتر اعمال انسانی کا شاہد و ناظر ہے لیکن اس نے مزید تاکید کے لئے اور زیادہ احساس ذمہ داری پیدا کرنے کے لئے نگران فرشتے مقرر کئے ہیں۔ ان کے علاوہ کچھ اور نگران بھی ہیں جو انسان کو ہر طرف سے گھیر ہوئے ہیں جن سب کا قیامت کی داد گاہ کے گواہوں کے عنوان کے ماتحت سات حصوں میں جلد ۱۱ کے صفحہ۴۰۵ تا ۴۱۰۹ پر ہم نے ذکر کیا ہے (سورہ حم سجدہ) کی آیت ۲۰ اور ۲۱ کے ذیل میں) یہاں کی طرف فہرست وار اشارہ کیا جاتا ہے۔ پہلا گواہ خدا ہے جو فرماتا ہے: "جو عمل انجام دیتے ہو ہم اس کے ناظر و شاہد ہیں" (یونس۔ ۶۱)۔ "اس کے بعد انبیاء و اوصیاء ہیں" (نساء۔۴۱)۔ اس کے بعد "زبان، ہاتھ، پاؤں اور پیکر انسان کے تمام اعضاؤ جوارح" (نور۔۲۴)۔ ایک گواہ جسم کی کھال ہے (حٰم سجدہ۔۲۱)۔ اور گواہ فرشتے ہیں (ق۔۲۱) اور زیر بحث آیت ۔۔۔۔ اس کے بعد وہ زمین جس پر انسان زندگی بسر کرتا ہے اور اس پر اطاعت کی جاتی ہے اور گناہ ہوتے ہیں (زلزال۔۴) اور آخر میں وہ وقت و زمانہ جس میں اعمال انجام پاتے ہیں (سفینة البحار، جلد ۲ مادہ یوم)۔ احتیاج طبرسی میں ہے ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام سے دریافت کیا کہ انسانوں کے نیک و بد اعمال تحریر کرنے پر جو فرشتے مامور ہیں ان کا کیا سبب ہے جبکہ ہمیں معلوم ہے کہ خداوند عالم السِروما ھو اخفی ہے یعنی وہ ہر چیز جس سے زیادہ پوشیدہ کوئی چیز نہیں ہے وہ اسے جانتا ہے تو امامؑ نے جواب میں فرمایا: استعبدھم بذالک و جعلھم شہوداً علیٰ خلقہ لیکون العباد لملازمتھم ایاھم اشد علی طاعة اللہ مواظبة و عن معصیہ اشد انقباضاً وکم من عبد یھُمّ بمعصیة فذکر مکانھما فارعوی وکف فیقول ربی یرانی و حفظنی علی بذالک تشھد و ان اللہ برأفتہ و لطفہ و کلھم بعبادہ یذبون عنھم مردة الشیاطین و ھو ام الارض و اٰفات کثیرة من حیث لایرون باذن اللہ الیٰ ان یجیء امر اللہ عزوجل۔ خدا نے فرشتوں کو اپنی عبادت کے لئے بلایا اور انہیں اپنے بندوں پر گواہ قرار دیا تاکہ بندے ان کی نگرانی کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ خدا کی اطاعت کریں اور اس کی نافرمانی سے انہیں زیادہ سے زیادہ پریشانی اور دکھ ہو۔ بہت ایسے بندے ہیں جو گناہ کا پختہ ارادہ کر لیتے ہیں اور پھر اس فرشتے کو یاد کرتے ہیں اور اپنے آپ کو گناہ سے باز رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار ہمیں دیکھتا ہے اور نگران فرشتے بھی گواہی دیں گے۔ اس کے علاوہ خدا نے ہمیں اپنی رحمت اور مہربانی سے انہیں بندوں پر مامور کیا ہے تاکہ حکم خدا نے سرکشی کرنے والے شیاطین کو ان سے دور رکھیں اور زمین کے جانوروں اور بہت سی آفات و بلیات کو جنہیں بندے اس وقت تک نہیں دیکھتے جب تک حکم خدا یعنی ان کی موت نہ آ جائے۔ (بحوالہ: نور الثقلین، جلد۵، ص۵۲۲)۔ اس روایت سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ وہ تحریر اعمال کی ذمہ داری کے علاوہ ناگوار حادثوں، مصیبتوں اور شیاطین کے وسوسوں سے انسانوں کو محفوظ رکھنے پر بھی مامور ہیں (خدا کے فرشتوں کی مختلف ذمہ داریوں کے بارے میں ایک تفصیلی بحث جلد۱۰ ص۱۶۸ تا ۱۷۲ سورہ فاطر کی آیت ۱ کے ذیل میں آ چکی ہے)۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ مذکورہ بالا آیات ان فرشتوں کی تعریف و توصیف میں کہتی ہں وہ کریم اور بزرگ فرشتے پروردگار کی بارگاہ میں بلند مقام کے حامل ہیں تاکہ انسان اپنے اعمال پر زیادہ توجہ دیں، اس لئے کہ انسان کے اعمال کی نگرانی کرنے والا جس قدر بلند شخصیت رکھتا ہے انسان اس کا زیادہ لحاظ کرتا ہے اور گناہ کے انجام دینے سے زیادہ شرمندہ ہوتا ہے۔ کاتبین کی تعبیر درحقیقت، اس بات کی تاکید ہے کہ وہ حافظہ پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ باریک بینی کے ساتھ لکھتے ہیں، اس انداز سے کہ کبھی کوئی چیز اس سے نظر انداز نہیں ہوتی اور ہر وہ چھوٹے بڑے عمل کو ضبط تحریر میں لاتے ہیں (يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ) "جو کچھ تم انجام دیتے ہو وہ اسے جانتے ہیں"۔ یہ اس حقیقت پر ایک مزید تاکید ہے کہ وہ تمہارے اعمال سے بغیر استثناء آگاہ ہں اور ان کا لکھنا اسی آگاہی کی بنیاد پر ہے۔ یہ تمام تعبیریں انسان کے اختیار اور ارادے کی آزادی کو بیان کرتی ہیں اس لئے کہ اگر انسان کو کوئی اختیار حاصل نہ ہوتا تو اعمال کے تحریر کرنے والے فرشتوں کے مقرر کرنے کا اور ان سب تنبیہوں کا کوئی صحیح مفہوم نہ ہوتا۔ اور پھر یہ سب چیزیں اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں کہ حساب و کتاب کا ہونا اور جزا و سزا کا ملنا قطعی اور حتمی ہے، اس لئے کہ خدا نے اسے حد سے زیادہ اہمیت دی ہے اور اس حقیقت کی طرف توجہ اور اس پر ایمان اس مقصد کے لئے ہے کہ انسان کی تربیت کرے اور اسے اس کی ذمہ داریوں سے آشنا کرے اور غلط کاموں پر حد سے زیادہ روکنے والا اثر ڈالے۔

ایک نکتہ ثبت اعمال کے مامورین

نہ صرف اوپر آیات میں بلکہ بہت سی دوسری قرآنی آیات میں اور اسلامی روایات میں ان معانی کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ خدا نے ہر انسان پر نگہبان و نگران مقرر کئے ہیں جو اس کے اعمال قطع نظر اس کے کہ وہ اچھے ہوں یا بُرے، تحریر کرتے ہیں اور اس کا اعمال نامہ روز جزا کے لئے تیار کرتے ہیں۔ ان فرشتوں کی خصوصیات کے بارے میں معنی خیز اور خبردار و ہشیار کرنے والی تعبیریں اسلامی رویات میں وارد ہوئی ہیں منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ کسی شخص نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے سوال کیا کہ جو انسان کے اعمال تحریر کرنے پر مامور ہیں کیا وہ انسان کے ارادہ اور نیک یا بد کام کرنے کے باطنی عزم سے بھی باخبر ہوتے ہیں تو امام نے جواب میں فرمایا: "کیا بچے کھچے اور گندے پانی کے کنویں کی بو اور عطر کی خوشبو ایک جیسی ہوتی ہے"۔ راوی نے عرض کیا نہیں تو امام علیہ السلام نے فرمایا: "کہ جب انسان کوئی اچھا کام کرنے کی نیت کرتا ہے تو اس کا سانس خوشبودار ہو جاتا ہے تو وہ فرشتہ جو دائیں طرف ہے (اور حسنات کے ثبت کرنے پر مامور ہے) بائیں طرف والے فرشتے سے کہتا، اٹھ کھڑا ہو کہ اس نے نیک کام کا ارادہ کیا ہے اور جب وہ اس کام کو انجام دے دیتا ہے تو اس انسان کی زبان اس فرشتے کا قلم بن جاتی ہے اور لعابِ دہن سیاہی بن جاتا ہے لیکن جب انسان گناہ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا سانس بدبودار ہو جاتا ہے۔ اس وقت بائیں طرف کا فرشتہ دائیں طرف والے فرشتے سے کہتا ہے، اٹھ کھڑا ہو کہ اس نے معصیت و نافرمانی کا ارادہ کیا ہے اور جب وہ نافرمانی انجام دیتا ہے تو اس کی زبان اس فرشتے کا قلم اور لعاب دہن سیاہی بن جاتا ہے اور وہ اسے لکھ دیتا ہے۔ (بحوالہ: اصول کافی، جلد ۲، باب من یہمّ بالحسنة او السیئة، حدیث ۳)۔ یہ حدیث اچھی طرح بتاتی ہے کہ انسان کی نیت اس کے وجود پر اچھی طرح اثر انداز ہوتی ہے اور فرشتے اس کے اندرونی اسرار سے باہر کے آثار کے ذریعہ آگاہ ہو جاتے ہیں اور اگر آگاہ نہ ہوں تو انسان کے اعمال کو اچھی طرح ضبط تحریر میں نہیں لا سکتے، اس لئے کہ نیت کی کیفیت عمل کی آلودگی اور خلوص کے سلسلہ میں حد سے زیادہ موثر ہوتی ہے یہاں تک کہ پیغمبر اسلامؐ نے مشہور حدیث میں فرمایا ہے: (انما الاعمال بالنیات)۔ اعمال نیتوں سے وابستہ ہیں۔ دوسرے یہ کہ فرشتہ خود انسان سے لیتے ہیں اور اسی پر خرچ کرتے ہیں۔ ہماری زبان ان کا قلم اور ہمارا لعاب دہن ان کی سیاہی ہے۔ ۲۔ وہ مامور ہیں کہ جب انسان نیک کام کی نیت کرے تو اسے ایک نیکی کی حیثیت سے تحریر کریں اور جس وقت اسے انجام دے دے تو دس نیکیاں لکھ دیں۔ لیکن جب انسان گناہ کا ارادہ کرتا ہے تو جب تک عمل نہ کرے کوئی چیز اس کے خلاف نہیں لکھتے اور گناہ کے ارتکاب کے بعد بھی صرف ایک ہی گناہ لکھتے ہیں۔ (بحوالہ: اصول کافی، جلد ۲، باب من یہم بالحسنة او السیئة، حدیث ۳)۔ یہ تعبیر انسان پر خدا کے انتہائی لطف و کرم کو بیان کرتی ہے کہ گناہ کی نیت کو وہ بخش دیتا ہے اور فعل گناہ کی عدل کے مطابق سزا دیتا ہے نہ کہ میزان عدل کے مطابق اور یہ نیک اعمال کی تشویق ہے۔ ۳۔ ایک اور روایت میں آیا ہے کہ ان دونوں فرشتوں کے موجود ہونے اور دس گنا حسنات کی سزا لکھنے کی طرف اشارہ کرنے کے بعد فرمایا: جب انسان کسی برے کام کو انجام دیتا ہے دائیں طرف کا فرشتہ بائیں طرف کے فرشتے سے کہتا ہے اس گناہ کے لکھنے میں جلدی نہ کر شاید اس کے بعد کوئی نیک کام انجام دے جو اس کے گناہ پر پردہ ڈال دے جیساکہ خدائے عظیم فرماتا ہے: (ان الحسنات یذھبن السیّئات) "نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں"۔ یا یہ کہ توبہ و استغفار کرے اور (گناہ کا اثر ختم ہو جائے)۔ گناہ کا فرشتہ سات گھنٹہ تک گناہ کے لکھنے سے رکا رہتا ہے، اگر اس گناہ کے بعد کوئی استغفار یا نیک کام نہ ہو تو پھر حسنات والا فرشتہ سیئات والے فرشتہ سے کہتا ہے کہ اس بدبخت محروم کا گناہ لکھ دے۔ (بحوالہ: اصول کافی، جلد ۲، باب من یہم بالحسنة او السیئة، حدیث ٤)۔ ۴۔ ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ جب مومنین کسی خصوصی مجلس میں ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں تو محافظین اعمال ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ ہم ان سے دور ہو جائیں۔ شاید ان کا کوئی راز ہے جسے خدا نے پوشیدہ رکھا ہے۔ (بحوالہ: اصول کافی،مطابق نقل نور الثقلین، جلد 5، ص 110)۔ ۵۔ حضرت علی علیہ السلام اپنے خطبہ میں جس میں لوگوں کو تقویٰ اور خوفِ خدا کی دعوت دیتے ہیں، فرماتے ہیں کہ: "اے بندگانِ خدا! جان لو کہ خود تم میں سے کچھ نگران تم پر مقرر کئے گئے ہیں، وہ تمہارے بدن کے اعضاء ہیں اور یہ بھی جان لو کہ سچے حساب کرنے والے تمہارے اعمال کو لکھتے ہیں یہاں تک کہ تمہارے سانسوں کی تعداد کو محفوظ کر لیتے ہیں۔ نہ شبِ تاریک کی سیاہی تمہیں ان سے پوشیدہ رکھ سکتی ہے اور نہ محکم اور بند دروازے۔ اور آج سے کل کس قدر قریب ہے۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ۱۵۷)۔

13
82:13
إِنَّ ٱلۡأَبۡرَارَ لَفِي نَعِيمٖ
یقیناً نیک افراد نعمت فراواں میں ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
82:14
وَإِنَّ ٱلۡفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٖ
اور بدکار دوزخ میں ہیں۔

تفسیر وہ دن جس میں کوئی شخص کسی کے لئے کوئی کام انجام نہیں دے گا

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

اس بحث کے بعد جو گزشتہ آیات میں فرشتوں کے ذریعہ انسانوں کے اعمال کے ثبت و ضبط کے سلسلہ میں آئی ہے ان آیتوں میں اس حساب و کتاب کے نیچے اور نیکیوں اور بُروں کی جو رہگذر ہے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پروردگار عالم فرماتا ہے: "یقیناً نیک اور صالح افراد خدا کی عظیم نعمت میں ہیں" (إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ)۔ "اور بدکار یقیناً جہنم میں ہیں" (وَإِنَّ الْفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٍ)۔ "ابرار"، "بار" اور "بر" (بروزن حق) کی جمع ہے جس کے معنی نیکوکار شخص کے ہیں۔ اور "بِر" (ب کے زیر کے ساتھ) ہر قسم کی نیکی کے معنی میں ہے۔ یہاں اچھے عقائد بھی مراد ہیں اور اچھی نیتیں اور اچھے اعمال بھی۔ "نعیم" مفرد ہے اور نعمت کے معنی میں ہے اور یہاں بہشتِ جاودانی کے معنی میں ہے اور نکرہ کی صورت میں آیا ہے اس نعمت کی اہمیت، وسعت اور عظمت کے بیان کے لئے ہے۔ خدا کے علاوہ کوئی اور اس کی وسعت و عظمت سے واقف نہیں ہے۔ "نعیم" جو یہاں صفت مشبہ ہے یہاں اس کی نعمت کی بقا اور اس کے استمرار کی تاکید کے لئے ہے۔ یہ مفہوم عام طور پر صفت مشبہ میں چھپا ہوتا ہے۔ "فجار" فاجر کی جمع ہے۔ اصل میں فجر کے معنی وسیع طور پر شگاف کرنے کے ہیں اور طلوع صبح کو اس لئے فجر کہتے ہیں کہ گویا رات کا سیاہ پردہ سپیدٴ سحری کے ہاتھوں کلی طور پر شگافتہ ہو جاتا ہے۔ اس بناء پر فجور کا لفظ ان لوگوں کے اعمال کے بارے میں دستیاب ہوتا ہے جو پاکدامنی اور تقویٰ کا پردہ چاک کرتے ہیں اور گناہ کے راستے میں قدم رکھتے ہیں۔ "جحیم"، "جحم" (بروزن فہم) کے مادہ سے آگ بھڑکانے معنی ہے۔ اس وجہ سے جحیم بھڑکتی ہوئی آگ کو کہتے ہیں۔ قرآنی تعبیر میں یہ لفظ عام طور پر دوزخ کے معنی میں آیا ہے اور یہ جو فرماتا ہے: "نیکوکار جنت میں اور بدکار دوزخ میں ہیں" ممکن ہے اس معنی میں ہو کہ وہ ابھی سے جنت اور دوزخ میں وارد ہو گئے ہیں اور اس دنیا ہی میں جنت کی نعمتوں اور جہنم کے عذاب نے انہیں گھیر رکھا ہے جیسا کہ سورہٴ عنکبوت کی آیت۵۴ میں پڑھتے ہیں: (وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ)۔ "دوزخ نے کافروں کا احاطہ کر رکھا ہے۔" لیکن ایک جماعت نے کہا کہ اس قسم کی تعبیریں حتمی اور یقینی طور پر مستقبل کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اس لئے کہ ادب عربی میں حتمی اور یقینی مستقبل اور متحقق الوقوع مضارع کو حال کی شکل میں اور کبھی ماضی کی شکل بیان کرتے ہیں۔ (آیت کے پہلے معنی ظاہر کے ساتھ سازگار ہیں لیکن مناسب دوسرے معنی ہیں)۔ بعد کی آیت میں فاجروں کی سرنوشت کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے مزید فرماتا ہے: "وہ روزِ جزا اور دوزخ میں داخل ہوں گے اور اس کی آگ میں جلیں گے۔" (يَصْلَوْنَهَا يَوْمَ الدِّينِ)۔ جب گزشتہ آیت کے معنی ایسے ہوں کہ وہ ابھی سے دوزخ میں داخل ہیں تو پھر یہ آیت بتاتی ہے کہ روز قیامت اس جلانے والی آگ میں ان کا داخلہ اور شدید ہو گا اور آگ کے اثر کو وہ اچھی طرح محسوس کریں گے۔ "یصلون"، "صلی" (بروزن سعی) کے مادہ سے آگ میں داخل ہونے، جلنے، بھن جانے اور اس کے درد و تکلیف کو برداشت کرنے کے معنی میں ہے اور اس بنا پر، کہ فعل مضارع ہے، استمرار پر دلالت کرتا ہے، مزید تاکید کے لئے فرماتا ہے: "وہ اس آگ سے کبھی دور اور مفقود نہیں ہیں" (وما ھم عنھا بغائبین)۔ بہت سے مفسرین نے اس جملہ کو فجار پر جو عذاب ہو گا اس کے جاوداں ہونے کی دلیل کے طور پر لیا ہے اور اس طرح نتیجہ نکالا ہے کہ فجار سے مراد ان آیات میں کفار ہیں، اس لئے کہ خلود اور ہمیشگی ان کے مورد کے علاوہ وجود نہیں رکھتی۔ اس آیت کی تعبیر زمانہ حال کی شکل میں اس چیز کی مزید تاکید ہے جس کی طرف پہلے اشارہ ہو چکا ہے کہ اس قسم کے افراد دنیا میں بھی کلی طور پر جہنم سے دور نہیں ہیں۔ ان کی زندگی خود دوزخ ہے۔ اور مشہور حدیث کے مطابق ان کی قبر جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے اور اس طرح دنیا کی دوزخ اور برزخ کی دوزخ اور قیامت کی دوزخ تینوں ان کے لئے موجود ہیں۔ مندرجہ بالا ضمنی طور پر اس حقیقت کو بھی بیان کرتی ہے کہ دوزخیوں کے عذاب میں کسی قسم کا وقفہ نہیں ہے، یہاں تک کہ ایک لمحہ کا وقفہ بھی نہیں ہو گا۔ اس کے بعد اس عظیم دن کی عظمت کو بیان کرنے کے لئے کہتا ہے: "تُو کیا جانے کہ روز جزا کیا ہے" (وَمَا أَدْرَاكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ)۔ "پھر تو کیا جانے کہ روز جزا کیا ہے۔" (ثُمَّ مَا أَدْرَاكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ)۔ جب پیغمبر اسلامؐ قیامت کے بارے میں اس وسیع آگاہی اور علم کے باوجود اس پر حکومت کرنے والے حوادث، اضطراب اور عظیم وحشت کو اچھی طرح نہیں جانتے تو باقی کا معاملہ واضح ہے۔ یہ گفتگو اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ قیامت کے ہولناک حوادث اس قدر وسیع و عظیم ہیں کہ جو قالبِ بیان میں نہیں سما سکتے اور جس طرح ہم عالم خاک کے اسیر جنت کی بےپایاں نعمتوں سے اچھی طرح آگاہ نہیں ہیں، جہنم کے عذاب اور اس کے حوادث سے کس طرح آگاہ ہو سکتے ہیں۔ اس کے بعد ایک مختصر اور پُرمعنی جملہ میں اس دن کی ایک اور خصوصیت جس میں درحقیقت تمام چیزیں چھپی ہوئی ہیں، پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "وہی دن جس دن کوئی شخص کسی دوسرے کے حق میں کوئی کام انجام نہیں دے سکے گا اور اس دن تمام امور خدا سے مختص ہیں" (يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْئًا وَالْأَمْرُ يَوْمَئِذٍ لِّلَّهِ)۔ کام تو اس جہان میں بھی سب اسی کے دستِ قدرت میں ہیں اور سب لوگ اسی کے نیاز مند ہیں لیکن پھر بھی یہاں کبھی کبھی بہرحال، مجازی مالک و حاکم اور فرماں روا موجود ہیں جہنیں میں سطحی نگاہ رکھنے والے افراد مستقل مبدا۔ قدرت خیال کرتے ہیں لیکن اس دن یہ مجازی مالکیت و حاکیمیت بھی ختم ہو جائے گی اور خدا کی حاکمیتِ مطلقہ ہر زمانہ کی بہ نسبت زیادہ واضح ہو گی۔ یہ چیز قرآن کی دوسری آیتوں میں بھی آئی ہے (لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ)۔ "آج کے دن حکومت کس کے لئے ہے غالب و یکتا خدا کے لئے ہے۔" (مومن ۔۱۶)۔ اصولی طور پر اس دن ہر شخص اس قدر اپنے آپ میں گرفتار ہو گا کہ اگر بالفرض اس میں قوت ہوتی بھی تب بھی دوسروں کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔ (لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ)۔ اس دن ان میں سے ہر ایک اس طرح مبتلا ہو گا جو اس کے لئے کافی ہو گا۔ (عبس ۔ ۳۷)۔ ایک حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے: (ان الامر یومئذ و الیوم کلمہ اللہ۔۔۔اذا کان یوم القیامة بادت الحکام فلم یبق حاکم الا اللہ) "اور آج اس دن تمام کام اللہ کے اختیار میں ہیں لیکن جب قیامت کا دن ہو گا تو تمام حاکم تباہ و برباد ہو جائیں گے اور خدا کی حکومت کے علاوہ کوئی حکومت باقی نہیں رہے گی۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱۰، ص۴۵۰)۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے کہ کیا یہ تعبیر انبیاء، اولیاء اور فرشتوں کی شفاعت کے سلسلہ سے متصادم نہیں ہے۔ اس سوال کا جواب ان مباحث سے جو ہم مسئلہ شفاعت کے سلسلہ میں تحریر کر چکے ہیں واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ قرآن مجید متعدد آیات میں تصریح کر چکا ہے کہ شفاعت خدا کے اذن اور اجازت سے ہو گی اور روزِ جزا کے شفیع اس کے رضا کے بغیر کسی کی شفاعت نہیں کریں گے۔ (وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَى) (انبیاء ۔ ۲۸)۔ خداوندا! اس ہولناک دن کے بارے میں سب کی نظریں تیری طرف لگی ہوئی ہیں۔ ہم ابھی سے تیری طرف نظریں لگائے ہوئے ہیں۔ پروردگارا! ہمیں اس جہان میں اور اُس جہان میں اپنے بےپایاں لطف و کرم سے محروم نہ کیجو۔ با الہٰا! ہر حالت میں حاکم مطلق تُو ہے ہمیں وادی شرک میں محشور ہونے سے بچا لے اور دوسروں کی پناہ لینے سے محفوظ رکھ۔ آمین یا رب العالمین

15
82:15
يَصۡلَوۡنَهَا يَوۡمَ ٱلدِّينِ
جزا کے روز دوزخ میں وارد ہوں گے اور جلیں گے۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

16
82:16
وَمَا هُمۡ عَنۡهَا بِغَآئِبِينَ
اور کبھی بھی اس سے غائب و دور نہیں ہوں گے۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

17
82:17
وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا يَوۡمُ ٱلدِّينِ
تو کیا جانے کہ قیامت کا دن کیا ہے؟

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

18
82:18
ثُمَّ مَآ أَدۡرَىٰكَ مَا يَوۡمُ ٱلدِّينِ
پھر تو کیا جانے کہ قیامت کا دن کیا ہے؟

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

19
82:19
يَوۡمَ لَا تَمۡلِكُ نَفۡسٞ لِّنَفۡسٖ شَيۡـٔٗاۖ وَٱلۡأَمۡرُ يَوۡمَئِذٖ لِّلَّهِ
ایسا دن ہے جس میں کوئی شخص کسی دوسرے کے حق میں کسی کام کے انجام دینے پر قدرت نہیں رکھتا اور اس دن سب امور اللہ سے مخصوص ہیں۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

end of chapter